آل عمران — Al imran
Ayah 181 / 200 • Medinan
108
181
Al imran
آل عمران • Medinan
لَّقَدۡ سَمِعَ ٱللَّهُ قَوۡلَ ٱلَّذِينَ قَالُوٓاْ إِنَّ ٱللَّهَ فَقِيرٞ وَنَحۡنُ أَغۡنِيَآءُۘ سَنَكۡتُبُ مَا قَالُواْ وَقَتۡلَهُمُ ٱلۡأَنۢبِيَآءَ بِغَيۡرِ حَقّٖ وَنَقُولُ ذُوقُواْ عَذَابَ ٱلۡحَرِيقِ
Undoubtedly Allah heard them who said, “Allah is needy, and we are the wealthy”; We shall keep recorded their saying and their wrongfully martyring of the Prophets; and We shall say, “Taste the punishment of the fire!”
بیشک اللہ نے ان لوگوں کی بات سن لی جو کہتے ہیں کہ اللہ محتاج ہے اور ہم غنی ہیں، اب ہم ان کی ساری باتیں اور ان کا انبیاءکو ناحق قتل کرنا (بھی) لکھ رکھیں گے، اور (روزِ قیامت) فرمائیں گے کہ (اب تم) جلا ڈالنے والے عذاب کا مزہ چکھو
Tafsir Ibn Kathir
Allah Warns the Idolators
Sa`id bin Jubayr said that Ibn `Abbas said, "When Allah's statement,
مَّن ذَا الَّذِى يُقْرِضُ اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا فَيُضَاعِفَهُ لَهُ أَضْعَافًا كَثِيرَةً
(Who is he that will lend to Allah a goodly loan so that He may multiply it to him many times) 2:245 was revealed, the Jews said, `O Muhammad! Has your Lord become poor so that He asks His servants to give Him a loan' Allah sent down,
لَّقَدْ سَمِعَ اللَّهُ قَوْلَ الَّذِينَ قَالُواْ إِنَّ اللَّهَ فَقِيرٌ وَنَحْنُ أَغْنِيَآءُ
(Indeed, Allah has heard the statement of those (Jews) who say: "Truly, Allah is poor and we are rich!") 3:181."
This Hadith was collected by Ibn Marduwyah and Ibn Abi Hatim.
Allah's statement,
سَنَكْتُبُ مَا قَالُواْ
(We shall record what they have said) contains a threat and a warning that Allah followed with His statement,
وَقَتْلِهِمُ الاٌّنْبِيَآءَ بِغَيْرِ حَقٍّ
(and their killing of the Prophets unjustly,)
This is what they say about Allah and this is how they treat His Messengers. Allah will punish them for these deeds in the worst manner,
لَّقَدْ سَمِعَ اللَّهُ قَوْلَ الَّذِينَ قَالُواْ إِنَّ اللَّهَ فَقِيرٌ وَنَحْنُ أَغْنِيَآءُ سَنَكْتُبُ مَا قَالُواْ وَقَتْلَهُمُ الاٌّنبِيَاءَ بِغَيْرِ حَقٍّ وَنَقُولُ ذُوقُواْ عَذَابَ الْحَرِيقِ - ذلِكَ بِمَا قَدَّمَتْ أَيْدِيكُمْ وَأَنَّ اللَّهَ لَيْسَ بِظَلَّـمٍ لِّلْعَبِيدِ
(and We shall say: "Taste you the torment of the burning (Fire)." This is because of that which your hands have sent before you. And certainly, Allah is never unjust to (His) servants.)
They will be addressed like this as a way of chastising, criticism, disgrace and humiliation.
Allah said,
الَّذِينَ قَالُواْ إِنَّ اللَّهَ عَهِدَ إِلَيْنَا أَلاَّ نُؤْمِنَ لِرَسُولٍ حَتَّى يَأْتِيَنَا بِقُرْبَانٍ تَأْكُلُهُ النَّارُ
(Those (Jews) who said: "Verily, Allah has taken our promise not to believe in any Messenger unless he brings to us an offering which the fire (from heaven) shall devour.")
Allah refuted their claim that in their Books, Allah took a covenant from them to only believe in the Messenger whose miracles include fire coming down from the sky that consumes the charity offered by a member of the Messenger's nation, as Ibn `Abbas and Al-Hasan stated. Allah replied,
قُلْ قَدْ جَآءَكُمْ رُسُلٌ مِّن قَبْلِى بِالْبَيِّنَـتِ
(Say: "Verily, there came to you Messengers before me, with Al-Bayinat...") with proofs and evidence,
وَبِالَّذِى قُلْتُمْ
(and even with what you speak of) a fire that consumes the accepted charity, as you asked,
فَلِمَ قَتَلْتُمُوهُمْ
(why then did you kill them) Why did you meet these Prophets with denial, defiance, stubbornness and even murder,
إِن كُنتُمْ صَـدِقِينَ
(if you are truthful), if you follow the truth and obey the Messengers.
Allah then comforts His Prophet Muhammad ,
فَإِن كَذَّبُوكَ فَقَدْ كُذِّبَ رُسُلٌ مِّن قَبْلِكَ جَآءُوا بِالْبَيِّنَـتِ وَالزُّبُرِ وَالْكِتَـبِ الْمُنِيرِ
(Then if they reject you, so were Messengers rejected before you, who came with Al-Baiyyinat and the Scripture, and the Book of Enlightenment.) meaning, do not be sad because they deny you, for you have an example in the Messengers who came before you. These Messengers were rejected although they brought clear proofs, plain evidence and unequivocal signs,
وَالزُّبُرِ
(and the Zubur), the divinely revealed Books that were sent down to the Messengers,
وَالْكِتَـبِ الْمُنِيرِ
(and the Book of Enlightenment) meaning the clarification and best explanation.
کافروں کا قرض حسنہ پر احمقانہ تبصرہ اور ان کی ہٹ دھرمی پہ مجوزہ سزا حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت اتری کہ کون ہے جو اللہ کو قرض حسنہ دے اور وہ اسے زیادہ در زیادہ کر کے دے تو یہود کہنے لگے کہ اے نبی تمہارا رب فقیر ہوگیا ہے اور اپنے بندوں سے قرض مانگ رہا ہے اس پر یہ آیت (لَقَدْ سَمِعَ اللّٰهُ قَوْلَ الَّذِيْنَ قَالُوْٓا اِنَّ اللّٰهَ فَقِيْرٌ وَّنَحْنُ اَغْنِيَاۗءُ) 3۔ آل عمران :181) نازل ہوئی۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ یہودیوں کے مدرسے میں گئے یہاں کا بڑا معلم فخاص تھا اور اس کے ماتحت ایک بہت بڑا عالم اشیع تھا لوگوں کا مجمع تھا اور وہ ان سے مذہبی باتیں سن رہے تھے آپ نے فرمایا فخاص اللہ سے ڈر اور مسلمان ہوجا اللہ کی قسم تجھے خوب معلوم ہے کہ آنحضرت ﷺ اللہ تعالیٰ کے سچے رسول ہیں وہ اس کے پاس سے حق لے کر آئے ہیں ان کی صفتیں توراۃ و انجیل میں تمہارے ہاتھوں میں موجود ہیں تو فخاص نے جواب میں کہا ابوبکر سن اللہ کی قسم اللہ ہمارا محتاج ہے ہم اس کے محتاج نہیں اس کی طرف اس طرح نہیں گڑگڑاتے جیسے وہ ہماری جانب عاجزی کرتا ہے بلکہ ہم تو اس سے بےپرواہ ہیں ہم غنی اور تونگر ہیں اگر وہ غنی ہوتا تو ہم سے قرض طلب نہ کرتا جیسے کہ تمہارا پیغمبر ﷺ کہہ رہا ہے ہمیں تو سود سے روکتا ہے اور خود سود دیتا ہے اگر غنی ہوتا تو ہمیں سود کیوں دیتا، اس پر حضرت صدیق اکبر کو سخت غصہ آیا اور فخاص کے منہ پر زور سے مارا اور فرمایا اللہ کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر تم یہود سے معاہدہ نہ ہوتا تو میں تجھ اللہ کے دشمن کا سر کاٹ دیتا جاؤ بدنصیبو جھٹلاتے ہی رہو اگر سچے ہو۔ فخصاص نے جا کر اس کی شکایت سرکار محمدی ﷺ میں کی آپ نے صدیق اکبر سے پوچھا کہ اسے کیوں مارا ؟ حضرت صدیق نے واقعہ بیان کیا لیکن فخاص اپنے قول سے مکر گیا کہ میں نے تو ایسا کہا ہی نہیں۔ اس بارے میں یہ آیت اتری۔ پھر اللہ تعالیٰ انہیں اپنے عذاب کلی خبر دیتا ہے کہ ان کا یہ قول اور ساتھ ہی اسی جیسا ان کا بڑا گناہ یعنی قتل انبیاء ہم نے ان کے نامہ اعمال میں لکھ لیا ہے۔ ایک طرف ان کا جناب باری تعالیٰ کی شان میں بےادبی کرنا دوسری جانب نبیوں کو مار ڈالنا ان کاموں کی وجہ انہیں سخت تر سزا ملے گی۔ ان کو ہم کہیں گے کہ جلنے والے عذاب کا ذائقہ چکھو، اور ان سے کہا جائے گا کہ یہ تمہارے پہلے کے کرتوت کا بدلہ ہے یہ کہہ کر انہیں ذلیل و رسوا کن عذاب پر عذاب ہوں گے، یہ سراسر عدل و انصاف ہے اور ظاہر ہے کہ مالک اپنے غلاموں پر ظلم کرنے والا نہیں ہے۔ پھر ان کے اس خیال میں جھوٹا ثابت کیا جا رہا ہے جو یہ کہتے تھے کہ آسمانی کتابیں جو پہلے نازل ہوئیں ان میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ حکم دے رکھا ہے کہ جب تک کوئی رسول ہمیں یہ معجزہ نہ دکھائے کہ اس کی امت میں سے جو شخص قربانی کرے اس کی قربانی کو کھا جانے کے لئے آسمان سے قدرتی آگ آئے اور کھاجائے ان کی اس قول کے جواب میں ارشاد ہوتا ہے کہ پھر اس معجزے والے پیغمبروں کو جو اپنے ساتھ دلائل اور براہین لے کر آئے تھے تم نے کیوں مار ڈالا ؟ انہیں تو اللہ تعالیٰ نے یہ معجزہ بھی دے رکھا تھا کہ ہر ایک قبول شدہ قربانی آسمانی آگ کھا جاتی تھی لیکن تم نے انہیں بھی سچا نہ جانا ان کی بھی مخالفت اور دشمنی کی بلکہ انہیں قتل کر ڈالا، اس سے صاف ظاہر ہے کہ تمہیں تمہاری اپنی بات کا بھی پاس ولحاظ نہیں لہذا تم حق کے ساتھی نہ ہو نہ کسی نبی کے ماننے والے ہو۔ تم یقینا جھوٹے ہو۔ پھر اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کو تسلی دیتا ہے کہ ان کے جھٹلانے سے آپ تنگ دل اور غمناک نہ ہوں اگلے اولوالعزم پیغمبروں کے واقعات کو اپنے لئے باعث تسلی بنائیں کہ وہ بھی باوجود دلیلیں ظاہر کردینے کے اور باوجود اپنی حقانیت کو بخوبی واضح کردینے کے پھر بھی جھٹلائے گئے زبر سے مراد آسمانی کتابیں ہیں جو ان صحیفوں کی طرح آسمان سے آئیں جو رسولوں پر اتاری گئی تھیں اور " منیر " سے مراد واضح جلی اور روشن اور چمکیلی ہے۔
الٓمٓ
Alif-Laam-Meem. (Alphabets of the Arabic language; Allah and to whomever He reveals, know their precise meanings.)
الف لام میم (حقیقی معنی اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی بہتر جانتے ہیں)
Tafsir Ibn Kathir
Which was revealed in Al-Madina
Surah Al `Imran was revealed in Al-Madinah, as evident by the fact that the first eighty-three Ayat in it relate to the delegation from Najran that arrived in Al-Madinah on the ninth year of Hijrah (632 CE). We will elaborate on this subject when we explain the Ayah about the Mubahalah 3:61 in this Surah, Allah willing. We should also state that we mentioned the virtues of Surah Al `Imran along with the virtues of Surat Al-Baqarah in the beginning of the Tafsir of Surat Al-Baqarah.
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـنِ الرَّحِيمِ
In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
We mentioned the Hadith in the Tafsir of Ayat Al-Kursi 2:255 that mentions that Allah's Greatest Name is contained in these two Ayat,
اللَّهُ لاَ إِلَـهَ إِلاَّ هُوَ الْحَىُّ الْقَيُّومُ
(Allah! None has the right to be worshipped but He, the Ever Living, the One Who sustains and protects all that exists) and,
الم١اللَّهُ لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ
(Alif-Lam-Mim. Allah! None has the right to be worshipped but He, the Ever Living, the One Who sustains and protects all that exists.)
We also explained the Tafsir of,
الم
(Alif-Lam-Mim) in the beginning of Surat Al-Baqarah, and the meaning of,
اللَّهُ لاَ إِلَـهَ إِلاَّ هُوَ الْحَىُّ الْقَيُّومُ
(Allah! La ilaha illa Huwa, Al-Hayyul-Qayyum) in the Tafsir of Ayat Al-Kursi. Allah's statement,
نَزَّلَ عَلَيْكَ الْكِتَـبَ بِالْحَقِّ
(It is He Who has sent down the Book to you with truth, ) means, revealed the Qur'an to you, O Muhammad, in truth, meaning there is no doubt or suspicion that it is revealed from Allah. Verily, Allah revealed the Qur'an with His knowledge, and the angels testify to this fact, Allah is sufficient as a Witness. Allah's statement,
مُصَدِّقاً لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ
(Confirming what came before it) means, from the previous divinely revealed Books, sent to the servants and Prophets of Allah. These Books testify to the truth of the Qur'an, and the Qur'an also testifies to the truth these Books contained, including the news and glad tidings of Muhammad's ﷺ prophethood and the revelation of the Glorious Qur'an.
Allah said,
وَأَنزَلَ التَّوْرَاةَ
(And He sent down the Tawrah) to Musa (Musa) son of `Imran,
وَالإِنجِيلَ
(And the Injil), to `Isa, son of Mary,
مِن قَبْلُ
(Aforetime) meaning, before the Qur'an was revealed,
هُدًى لِّلنَّاسِ
(As a guidance to mankind) in their time.
وَأَنزَلَ الْفُرْقَانَ
(And He sent down the criterion) which is the distinction between misguidance, falsehood and deviation on one hand, and guidance, truth and piety on the other hand. This is because of the indications, signs, plain evidences and clear proofs that it contains, and because of its explanations, clarifications, etc.
Allah's statement,
إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُواْ بِأيَـتِ اللَّهِ
(Truly, those who disbelieve in the Ayat of Allah) means they denied, refused and unjustly rejected them,
لَهُمْ عَذَابٌ شَدِيدٌ
(For them there is a severe torment) on the Day of Resurrection,
وَاللَّهُ عَزِيزٌ
(And Allah is All-Mighty) meaning, His grandeur is invincible and His sovereignty is infinite,
ذُو انتِقَامٍ
(All-Able of Retribution.) from those who reject His Ayat and defy His honorable Messengers and great Prophets.
بقرہ کی آخری آیات اور ان کی فضیلت ان دونوں آیتوں کی حدیثیں سنئے، صحیح بخاری میں ہے جو شخص ان دونوں آیتوں کو رات کو پڑھ لے اسے یہ دونوں کافی ہیں۔ مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا سورة بقرہ کی آخری آیتیں عرش تلے کے خزانہ سے دیا گیا ہوں مجھ سے پہلے کسی نبی کو یہ نہیں دی گئیں۔ صحیح مسلم شریف میں ہے کہ جب حضور ﷺ کو معراج کرائی گئی اور آپ سدرۃ المنتہیٰ تک پہنچے جو ساتویں آسمان میں ہے، جو چیز آسمان کی طرف چڑھتی ہے وہ یہیں تک ہی پہنچتی ہے اور یہاں سے ہی لے جائی جاتی ہے اور جو چیز اوپر سے نازل ہوتی ہے وہ بھی یہیں تک پہنچتی ہے، پھر یہاں سے آگے لے جائی جاتی ہے اور اسے سونے کی ٹڈیاں ڈھکے ہوئے تھیں، وہاں حضور ﷺ کو تین چیزیں دی گئیں۔ پانچ وقت کی نمازیں، سورة بقرہ کے خاتمہ کی آیتیں اور توحید والوں کے تمام گناہوں کی بخشش۔ مسند میں ہے کہ حضرت عقبہ بن عامر سے رسول اکرم ﷺ نے فرمایا سورة بقرہ کی ان دونوں آخری آیتوں کو پڑھتے رہا کرو، میں انہیں عرش کے نیچے کے خزانوں سے دیا گیا ہوں، ابن مردویہ میں ہے کہ ہمیں لوگوں پر تین فضیلتیں دی گئی ہیں، میں سورة بقرہ کی یہ آخری آیتیں عرش تلے کے خزانوں سے دیا گیا ہوں جو نہ میرے پہلے کسی کو دی گئیں نہ میرے بعد کسی کو دی جائیں گی، ابن مردویہ میں ہے حضرت علی فرماتے ہیں میں نہیں جانتا کہ اسلام کے جاننے والوں میں سے کوئی شخص آیت الکرسی اور سورة بقرہ کی آخری آیتیں پڑھے بغیر سو جائے، یہ وہ خزانہ ہے جو تمہارے نبی ﷺ عرش تلے کے خزانہ سے دئیے گئے ہیں، اور حدیث ترمذی میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کے پیدا کرنے سے دو ہزار برس پہلے تک ایک کتاب لکھی جس میں سے دو آیتیں اتار کر سورة بقرہ ختم کی، جس گھر میں یہ تین راتوں تک پڑھی جائیں اس گھر کے قریب بھی شیطان نہیں جاسکتا۔ امام ترمذی اسے غریب بتاتے ہیں لیکن حاکم اپنی مستدرک میں اسے صحیح کہتے ہیں، ابن مردویہ میں ہے کہ جب حضور ﷺ سورة بقرہ کا خاتمہ اور آیت الکرسی پڑھتے تو ہنس دیتے اور فرماتے یہ دونوں رحمن کے عرش تلے کا خزانہ ہیں اور جب آیت (وَمَنْ يَّعْمَلْ سُوْۗءًا اَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهٗ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللّٰهَ يَجِدِ اللّٰهَ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا) 4۔ النسآء :110) اور آیت (وَاَنْ لَّيْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلَّا مَا سَعٰى 39ۙ وَاَنَّ سَعْيَهٗ سَوْفَ يُرٰى 40۠ ثُمَّ يُجْزٰىهُ الْجَزَاۗءَ الْاَوْفٰى 41ۙ) 53۔ النجم :39) پڑھتے تو زبان سے اناللہ نکل جاتا اور سست ہوجاتے، ابن مردویہ میں ہے کہ مجھے سورة فاتحہ اور سورة بقر کی آخری آیتیں عرش کے نیچے سے دی گئی ہیں، اور مزید مفصل کی سورتیں بھی وہاں سے ہی دی گئی ہیں۔ ایک اور حدیث میں ہے کہ ہم حضور ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے جہاں حضرت جبرائیل بھی تھے کہ اچانک ایک دہشت ناک بہت بڑے دھما کے کی آواز کے ساتھ آسمان کا وہ دروازہ کھلا جو آج تک کبھی نہیں کھلا تھا، اس سے ایک فرشتہ اترا، اس نے آنحضرت ﷺ سے کہا آپ کو خوشی مبارک ہو، آپ کو وہ دو نور دئیے جاتے ہیں جو آپ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دئیے گئے سورة فاتحہ اور سورة بقرہ کی آخری آیتیں۔ ان کے ایک ایک حرف پر آپ کو نور دیا جائے گا (مسلم) پس یہ دس حدیثیں ان مبارک آیتوں کی فضیلت ہیں۔ مطلب آیت کا یہ ہے کہ رسول یعنی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ اس پر ایمان لائے جو انکی طرف سے ان کے رب کی جانب سے نازل ہوا، اسے سن کر آپ کے فرمایا وہ ایمان لانے کا پورا مستحق ہے، اور دوسرے ایماندار بھی ایمان لائے، ان سب نے مان لیا کہ اللہ ایک ہے، وہ وحدانیت کا مالک ہے، وہ تنہا ہے، وہ بےنیاز ہے، اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، نہ اس کے سوا کوئی پالنے والا ہے، یہ (ایمان والے) تمام انبیاء کی تصدیق کرتے ہیں، تمام رسولوں پر ایمان رکھتے ہیں، آسمانی کتابوں کو انبیاء کرام پر جو اتری ہیں سچی جانتے ہیں۔ وہ نبیوں میں فرق نہیں سمجھتے کہ ایک کو مانیں دوسرے کو نہ مانیں بلکہ سب کو سچا جانتے ہیں اور ایمان رکھتے ہیں کہ وہ پاکباز طبقہ رشد و ہدایت والا اور لوگوں کی خیر کی طرف رہبری کرنے والا ہے، گو بعض احکام ہر نبی کے زمانہ میں تبدیل ہوتے رہے یہاں تک کہ حضور ﷺ کی شریعت سب کی ناسخ ٹھہری، خاتم الانبیاء ومرسلین آپ تھے، قیامت تک آپ کی شریعت باقی رہے گی اور ایک جماعت اس کی اتباع بھی کرتی رہے گی۔ انہوں نے اقرار بھی کیا کہ ہم نے اللہ کا کلام سنا اور احکام الہی ہمیں تسلیم ہیں، انہوں نے کہا کہ ہمارے رب ہمیں مغفرت رحمت اور لطف عنایت فرما، تیری ہی طرف ہمیں لوٹنا ہے یعنی حساب والے دِن۔ حضرت جبرائیل نے فرمایا اے اللہ کے رسول ﷺ آپ کی اور آپ کی تابعدار امت کے یہاں ثناء و صفت بیان ہو رہی ہے، آپ اس موقع پر دعا کیجئے قبول کی جائے گی، مانگئے کہ اللہ کسی کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہ دے۔ پھر فرمایا اللہ کسی کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا یہ اس کا لطف و کرم اور احسان و انعام ہے۔ صحابہ کو جو کھٹکا ہوا تھا اور ان پر جو یہ فرمان گراں گزرا تھا کہ دل کے خطرات پر بھی حساب لیا جائے گا وہ دھڑکا اس آیت سے اٹھ گیا۔ مطلب یہ کہ گو حساب ہو، سوال ہو لیکن جو چیز طاقت سے باہر ہے اس پر عذاب نہیں کیونکہ دل میں کسی خیال کا دفعتاً آجانا روکے رک نہیں سکتا بلکہ حدیث سے یہ بھی معلوم ہوچکا ہے کہ ایسے وسوسوں کو برا جاننا دلیل ایمان ہے، بلکہ اپنی اپنی کرنی اپنی اپنی بھرنی، اعمال صالحہ کرو گے جزا پاؤ گے، برے اعمال کرو گے تو سزا بھگتو گے۔ پھر دعا کی تعلیم دی اور اس کی قبولیت کا وعدہ فرمایا، کہ اے اللہ بھولے چوکے جو احکام ہم سے چھوٹ گئے ہوں یا جو برے کام ہوگئے ہوں یا شرعی احکام میں غلطی کرکے جو خلاف شرع کام ہم سے ہوئے ہوں وہ معاف فرما، پہلے صحیح مسلم کے حوالے سے حدیث گزر چکی ہے کہ اس دعا کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا، میں نے اسے قبول فرمایا، حدیث میں بھی ہے کہ میں یکسوئی والا اور آسان دین دے کر بھیجا گیا ہوں۔ اے اللہ تکلیفیں بلائیں اور مشقتیں ہم پر نہ ڈال جن کی برداشت کی طاقت ہم میں نہ ہو، حضرت مکحول فرماتے ہیں اس سے مراد فریب اور غلبہ شہوت ہے، اس کے جواب میں بھی قبولیت کا اعلان رب عالم کی طرف سے کیا گیا۔ اور ہماری تقصیروں کو معاف فرما جو تیری نافرمانی کا کوئی کام نہ ہو، اس لئے بزرگوں کا قول ہے کہ گنہگار کو تین باتوں کی ضرورت ہے۔ ایک تو اللہ کی معافی تاکہ عذاب سے نجات پائے، دوسرے پردہ پوشی تاکہ رسوائی سے بچے، تیسرے عصمت کی تاکہ دوسری بار گناہ میں مبتلا نہ ہو، اس پر بھی جناب باری نے قبولیت کا اعلان کیا۔ تو ہمارا ولی و ناصر ہے، تجھی پر بھروسہ ہے، تجھی سے ہم مدد طلب کرتے ہیں، تو ہی ہمارا سہارا ہے، تیری مدد کے سوا نہ تو ہم کسی نفع کے حاصل کرنے پر قادر ہیں نہ کسی برائی سے بچ سکتے ہیں، تو ہماری ان لوگوں پر مدد فرما جو تیرے دین کے منکر ہیں تیری وحدانیت کو نہیں مانتے، تیرے نبی کی رسالت کو تسلیم نہیں کرتے، تیرے ساتھ دوسروں کی عبادت کرتے ہیں، مشرک ہیں اے اللہ تو ہمیں ان پر غالب کردینا اور دین میں ہم ہی ان پر فاتح رہیں، اللہ تعالیٰ نے اس کے جواب میں بھی فرمایا ہاں میں نے یہ بھی دعا قبول فرمائی۔ حضرت معاذ جب اس آیت کو ختم کرتے آمین کہتے۔ (ابن جریر)
ٱللَّهُ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ ٱلۡحَيُّ ٱلۡقَيُّومُ
Allah – none is worthy of worship, except Him, He is Alive (eternally, on His own) and the Upholder (keeps others established).
اللہ، اس کے سوا کوئی لائقِ عبادت نہیں (وہ) ہمیشہ زندہ رہنے والا ہے (سارے عالم کو اپنی تدبیر سے) قائم رکھنے والا ہے
Tafsir Ibn Kathir
Which was revealed in Al-Madina
Surah Al `Imran was revealed in Al-Madinah, as evident by the fact that the first eighty-three Ayat in it relate to the delegation from Najran that arrived in Al-Madinah on the ninth year of Hijrah (632 CE). We will elaborate on this subject when we explain the Ayah about the Mubahalah 3:61 in this Surah, Allah willing. We should also state that we mentioned the virtues of Surah Al `Imran along with the virtues of Surat Al-Baqarah in the beginning of the Tafsir of Surat Al-Baqarah.
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـنِ الرَّحِيمِ
In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
We mentioned the Hadith in the Tafsir of Ayat Al-Kursi 2:255 that mentions that Allah's Greatest Name is contained in these two Ayat,
اللَّهُ لاَ إِلَـهَ إِلاَّ هُوَ الْحَىُّ الْقَيُّومُ
(Allah! None has the right to be worshipped but He, the Ever Living, the One Who sustains and protects all that exists) and,
الم١اللَّهُ لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ
(Alif-Lam-Mim. Allah! None has the right to be worshipped but He, the Ever Living, the One Who sustains and protects all that exists.)
We also explained the Tafsir of,
الم
(Alif-Lam-Mim) in the beginning of Surat Al-Baqarah, and the meaning of,
اللَّهُ لاَ إِلَـهَ إِلاَّ هُوَ الْحَىُّ الْقَيُّومُ
(Allah! La ilaha illa Huwa, Al-Hayyul-Qayyum) in the Tafsir of Ayat Al-Kursi. Allah's statement,
نَزَّلَ عَلَيْكَ الْكِتَـبَ بِالْحَقِّ
(It is He Who has sent down the Book to you with truth, ) means, revealed the Qur'an to you, O Muhammad, in truth, meaning there is no doubt or suspicion that it is revealed from Allah. Verily, Allah revealed the Qur'an with His knowledge, and the angels testify to this fact, Allah is sufficient as a Witness. Allah's statement,
مُصَدِّقاً لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ
(Confirming what came before it) means, from the previous divinely revealed Books, sent to the servants and Prophets of Allah. These Books testify to the truth of the Qur'an, and the Qur'an also testifies to the truth these Books contained, including the news and glad tidings of Muhammad's ﷺ prophethood and the revelation of the Glorious Qur'an.
Allah said,
وَأَنزَلَ التَّوْرَاةَ
(And He sent down the Tawrah) to Musa (Musa) son of `Imran,
وَالإِنجِيلَ
(And the Injil), to `Isa, son of Mary,
مِن قَبْلُ
(Aforetime) meaning, before the Qur'an was revealed,
هُدًى لِّلنَّاسِ
(As a guidance to mankind) in their time.
وَأَنزَلَ الْفُرْقَانَ
(And He sent down the criterion) which is the distinction between misguidance, falsehood and deviation on one hand, and guidance, truth and piety on the other hand. This is because of the indications, signs, plain evidences and clear proofs that it contains, and because of its explanations, clarifications, etc.
Allah's statement,
إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُواْ بِأيَـتِ اللَّهِ
(Truly, those who disbelieve in the Ayat of Allah) means they denied, refused and unjustly rejected them,
لَهُمْ عَذَابٌ شَدِيدٌ
(For them there is a severe torment) on the Day of Resurrection,
وَاللَّهُ عَزِيزٌ
(And Allah is All-Mighty) meaning, His grandeur is invincible and His sovereignty is infinite,
ذُو انتِقَامٍ
(All-Able of Retribution.) from those who reject His Ayat and defy His honorable Messengers and great Prophets.
آیت الکرسی اور اسم اعظم آیت الکرسی کی تفسیر میں پہلے بھی یہ حدیث گزر چکی ہے کہ اسم اعظم اس آیت اور آیت الکرسی میں ہے اور الم کی تفسیر سورة بقرہ کے شروع میں بیان ہوچکی ہے جسے دوبارہ یہاں لکھنے کی ضرورت نہیں، آیت (اَللّٰهُ لَآ اِلٰهَ اِلَّا ھُوَ ۚ اَلْـحَيُّ الْقَيُّوْمُ ڬ لَا تَاْخُذُهٗ سِـنَةٌ وَّلَا نَوْمٌ ۭ لَهٗ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الْاَرْضِ ۭ مَنْ ذَا الَّذِيْ يَشْفَعُ عِنْدَهٗٓ اِلَّا بِاِذْنِهٖ ۭ يَعْلَمُ مَا بَيْنَ اَيْدِيْهِمْ وَمَا خَلْفَھُمْ ۚ وَلَا يُحِيْطُوْنَ بِشَيْءٍ مِّنْ عِلْمِهٖٓ اِلَّا بِمَا شَاۗءَ ۚ وَسِعَ كُرْسِـيُّهُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ ۚ وَلَا يَـــــُٔـــوْدُهٗ حِفْظُهُمَا ۚ وَھُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيْمُ) 2۔ البقرۃ :255) کی تفسیر بھی آیت الکرسی کی تفسیر میں ہم لکھ آئے ہیں۔ پھر فرمایا اللہ تعالیٰ نے تجھ پر اے محمد ﷺ قرآن کریم کو حق کے ساتھ نازل فرمایا ہے جس میں کوئی شک نہیں بلکہ یقینا وہ اللہ کی طرف سے ہے، جسے اس نے اپنے علم کی وسعتوں کے ساتھ اتارا ہے، فرشتے اس پر گواہ ہیں اور اللہ کی شہادت کافی وافی ہے۔ یہ قرآن اپنے سے پہلے کی تمام آسمانی کتابوں کی تصدیق کرنے والا ہے اور وہ کتابیں بھی اس قرآن کی سچائی پر گواہ ہیں، اس لئے کہ ان میں جو اس نبی ﷺ کے آنے اور اس کتاب کے اترنے کی خبر تھی وہ سچی ثابت ہوئی۔ اسی نے حضرت موسیٰ بن عمران پر توراۃ اور عیسیٰ بن مریم پر انجیل اتاری، وہ دونوں کتابیں بھی اس زمانے کے لوگوں کیلئے ہدایت دینے والی تھیں۔ اس نے فرقان اتارا جو حق و باطل، ہدایت و ضلالت، گمراہی اور راہ راست میں فرق کرنے والا ہے، اس کی واضح روشن دلیلیں اور زبردست ثبوت ہر معترض کیلئے مثبت جواب ہیں، حضرت قتادہ حضرت ربیع بن انس کا بیان ہے کہ فرقان سے مراد یہاں قرآن ہے، گو یہ مصدر ہے لیکن چونکہ قرآن کا ذکر اس سے پہلے گزر چکا ہے اس لئے یہاں فرقان فرمایا، ابو صالح سے یہ بھی مروی ہے کہ مراد اس سے توراۃ ہے مگر یہ ضعیف ہے اس لئے کہ توراۃ کا ذکر اس سے پہلے گزر چکا ہے واللہ اعلم۔ قیامت کے دن منکروں اور باطل پرستوں کو سخت عذاب ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ غالب ہے بڑی شان والا ہے اعلیٰ سلطنت والا ہے، انبیاء کرام اور محترم رسولوں کے مخالفوں سے اور اللہ تعالیٰ کی آیتوں کی تکذیب کرنے والوں سے جناب باری تعالیٰ زبردست انتقام لے گا۔
نَزَّلَ عَلَيۡكَ ٱلۡكِتَٰبَ بِٱلۡحَقِّ مُصَدِّقٗا لِّمَا بَيۡنَ يَدَيۡهِ وَأَنزَلَ ٱلتَّوۡرَىٰةَ وَٱلۡإِنجِيلَ
He has sent down to you (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him) this true Book (the Holy Qur’an), confirming the Books before it, and He sent down the Taurat (Torah) and the Injeel (Bible). –
(اے حبیب!) اُسی نے (یہ) کتاب آپ پر حق کے ساتھ نازل فرمائی ہے (یہ) اُن (سب کتابوں) کی تصدیق کرنے والی ہے جو اِس سے پہلے اتری ہیں اور اُسی نے تورات اور اِنجیل (بھی) نازل فرمائی ہے
Tafsir Ibn Kathir
Which was revealed in Al-Madina
Surah Al `Imran was revealed in Al-Madinah, as evident by the fact that the first eighty-three Ayat in it relate to the delegation from Najran that arrived in Al-Madinah on the ninth year of Hijrah (632 CE). We will elaborate on this subject when we explain the Ayah about the Mubahalah 3:61 in this Surah, Allah willing. We should also state that we mentioned the virtues of Surah Al `Imran along with the virtues of Surat Al-Baqarah in the beginning of the Tafsir of Surat Al-Baqarah.
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـنِ الرَّحِيمِ
In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
We mentioned the Hadith in the Tafsir of Ayat Al-Kursi 2:255 that mentions that Allah's Greatest Name is contained in these two Ayat,
اللَّهُ لاَ إِلَـهَ إِلاَّ هُوَ الْحَىُّ الْقَيُّومُ
(Allah! None has the right to be worshipped but He, the Ever Living, the One Who sustains and protects all that exists) and,
الم١اللَّهُ لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ
(Alif-Lam-Mim. Allah! None has the right to be worshipped but He, the Ever Living, the One Who sustains and protects all that exists.)
We also explained the Tafsir of,
الم
(Alif-Lam-Mim) in the beginning of Surat Al-Baqarah, and the meaning of,
اللَّهُ لاَ إِلَـهَ إِلاَّ هُوَ الْحَىُّ الْقَيُّومُ
(Allah! La ilaha illa Huwa, Al-Hayyul-Qayyum) in the Tafsir of Ayat Al-Kursi. Allah's statement,
نَزَّلَ عَلَيْكَ الْكِتَـبَ بِالْحَقِّ
(It is He Who has sent down the Book to you with truth, ) means, revealed the Qur'an to you, O Muhammad, in truth, meaning there is no doubt or suspicion that it is revealed from Allah. Verily, Allah revealed the Qur'an with His knowledge, and the angels testify to this fact, Allah is sufficient as a Witness. Allah's statement,
مُصَدِّقاً لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ
(Confirming what came before it) means, from the previous divinely revealed Books, sent to the servants and Prophets of Allah. These Books testify to the truth of the Qur'an, and the Qur'an also testifies to the truth these Books contained, including the news and glad tidings of Muhammad's ﷺ prophethood and the revelation of the Glorious Qur'an.
Allah said,
وَأَنزَلَ التَّوْرَاةَ
(And He sent down the Tawrah) to Musa (Musa) son of `Imran,
وَالإِنجِيلَ
(And the Injil), to `Isa, son of Mary,
مِن قَبْلُ
(Aforetime) meaning, before the Qur'an was revealed,
هُدًى لِّلنَّاسِ
(As a guidance to mankind) in their time.
وَأَنزَلَ الْفُرْقَانَ
(And He sent down the criterion) which is the distinction between misguidance, falsehood and deviation on one hand, and guidance, truth and piety on the other hand. This is because of the indications, signs, plain evidences and clear proofs that it contains, and because of its explanations, clarifications, etc.
Allah's statement,
إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُواْ بِأيَـتِ اللَّهِ
(Truly, those who disbelieve in the Ayat of Allah) means they denied, refused and unjustly rejected them,
لَهُمْ عَذَابٌ شَدِيدٌ
(For them there is a severe torment) on the Day of Resurrection,
وَاللَّهُ عَزِيزٌ
(And Allah is All-Mighty) meaning, His grandeur is invincible and His sovereignty is infinite,
ذُو انتِقَامٍ
(All-Able of Retribution.) from those who reject His Ayat and defy His honorable Messengers and great Prophets.
آیت الکرسی اور اسم اعظم آیت الکرسی کی تفسیر میں پہلے بھی یہ حدیث گزر چکی ہے کہ اسم اعظم اس آیت اور آیت الکرسی میں ہے اور الم کی تفسیر سورة بقرہ کے شروع میں بیان ہوچکی ہے جسے دوبارہ یہاں لکھنے کی ضرورت نہیں، آیت (اَللّٰهُ لَآ اِلٰهَ اِلَّا ھُوَ ۚ اَلْـحَيُّ الْقَيُّوْمُ ڬ لَا تَاْخُذُهٗ سِـنَةٌ وَّلَا نَوْمٌ ۭ لَهٗ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الْاَرْضِ ۭ مَنْ ذَا الَّذِيْ يَشْفَعُ عِنْدَهٗٓ اِلَّا بِاِذْنِهٖ ۭ يَعْلَمُ مَا بَيْنَ اَيْدِيْهِمْ وَمَا خَلْفَھُمْ ۚ وَلَا يُحِيْطُوْنَ بِشَيْءٍ مِّنْ عِلْمِهٖٓ اِلَّا بِمَا شَاۗءَ ۚ وَسِعَ كُرْسِـيُّهُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ ۚ وَلَا يَـــــُٔـــوْدُهٗ حِفْظُهُمَا ۚ وَھُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيْمُ) 2۔ البقرۃ :255) کی تفسیر بھی آیت الکرسی کی تفسیر میں ہم لکھ آئے ہیں۔ پھر فرمایا اللہ تعالیٰ نے تجھ پر اے محمد ﷺ قرآن کریم کو حق کے ساتھ نازل فرمایا ہے جس میں کوئی شک نہیں بلکہ یقینا وہ اللہ کی طرف سے ہے، جسے اس نے اپنے علم کی وسعتوں کے ساتھ اتارا ہے، فرشتے اس پر گواہ ہیں اور اللہ کی شہادت کافی وافی ہے۔ یہ قرآن اپنے سے پہلے کی تمام آسمانی کتابوں کی تصدیق کرنے والا ہے اور وہ کتابیں بھی اس قرآن کی سچائی پر گواہ ہیں، اس لئے کہ ان میں جو اس نبی ﷺ کے آنے اور اس کتاب کے اترنے کی خبر تھی وہ سچی ثابت ہوئی۔ اسی نے حضرت موسیٰ بن عمران پر توراۃ اور عیسیٰ بن مریم پر انجیل اتاری، وہ دونوں کتابیں بھی اس زمانے کے لوگوں کیلئے ہدایت دینے والی تھیں۔ اس نے فرقان اتارا جو حق و باطل، ہدایت و ضلالت، گمراہی اور راہ راست میں فرق کرنے والا ہے، اس کی واضح روشن دلیلیں اور زبردست ثبوت ہر معترض کیلئے مثبت جواب ہیں، حضرت قتادہ حضرت ربیع بن انس کا بیان ہے کہ فرقان سے مراد یہاں قرآن ہے، گو یہ مصدر ہے لیکن چونکہ قرآن کا ذکر اس سے پہلے گزر چکا ہے اس لئے یہاں فرقان فرمایا، ابو صالح سے یہ بھی مروی ہے کہ مراد اس سے توراۃ ہے مگر یہ ضعیف ہے اس لئے کہ توراۃ کا ذکر اس سے پہلے گزر چکا ہے واللہ اعلم۔ قیامت کے دن منکروں اور باطل پرستوں کو سخت عذاب ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ غالب ہے بڑی شان والا ہے اعلیٰ سلطنت والا ہے، انبیاء کرام اور محترم رسولوں کے مخالفوں سے اور اللہ تعالیٰ کی آیتوں کی تکذیب کرنے والوں سے جناب باری تعالیٰ زبردست انتقام لے گا۔
مِن قَبۡلُ هُدٗى لِّلنَّاسِ وَأَنزَلَ ٱلۡفُرۡقَانَۗ إِنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ بِـَٔايَٰتِ ٱللَّهِ لَهُمۡ عَذَابٞ شَدِيدٞۗ وَٱللَّهُ عَزِيزٞ ذُو ٱنتِقَامٍ
Before this, a guidance to mankind; and sent down the Judgement (Criterion to judge between right and wrong); indeed for those who disbelieved in the verses of Allah, is a severe punishment; and Allah is the Almighty, the Avenger (of the wrong).
(جیسے) اس سے قبل لوگوں کی رہنمائی کے لئے (کتابیں اتاری گئیں) اور (اب اسی طرح) اس نے حق اور باطل میں امتیاز کرنے والا (قرآن) نازل فرمایا ہے، بیشک جو لوگ اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے ہیں ان کے لئے سنگین عذاب ہے، اور اللہ بڑا غالب انتقام لینے والا ہے
Tafsir Ibn Kathir
Which was revealed in Al-Madina
Surah Al `Imran was revealed in Al-Madinah, as evident by the fact that the first eighty-three Ayat in it relate to the delegation from Najran that arrived in Al-Madinah on the ninth year of Hijrah (632 CE). We will elaborate on this subject when we explain the Ayah about the Mubahalah 3:61 in this Surah, Allah willing. We should also state that we mentioned the virtues of Surah Al `Imran along with the virtues of Surat Al-Baqarah in the beginning of the Tafsir of Surat Al-Baqarah.
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـنِ الرَّحِيمِ
In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
We mentioned the Hadith in the Tafsir of Ayat Al-Kursi 2:255 that mentions that Allah's Greatest Name is contained in these two Ayat,
اللَّهُ لاَ إِلَـهَ إِلاَّ هُوَ الْحَىُّ الْقَيُّومُ
(Allah! None has the right to be worshipped but He, the Ever Living, the One Who sustains and protects all that exists) and,
الم١اللَّهُ لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ
(Alif-Lam-Mim. Allah! None has the right to be worshipped but He, the Ever Living, the One Who sustains and protects all that exists.)
We also explained the Tafsir of,
الم
(Alif-Lam-Mim) in the beginning of Surat Al-Baqarah, and the meaning of,
اللَّهُ لاَ إِلَـهَ إِلاَّ هُوَ الْحَىُّ الْقَيُّومُ
(Allah! La ilaha illa Huwa, Al-Hayyul-Qayyum) in the Tafsir of Ayat Al-Kursi. Allah's statement,
نَزَّلَ عَلَيْكَ الْكِتَـبَ بِالْحَقِّ
(It is He Who has sent down the Book to you with truth, ) means, revealed the Qur'an to you, O Muhammad, in truth, meaning there is no doubt or suspicion that it is revealed from Allah. Verily, Allah revealed the Qur'an with His knowledge, and the angels testify to this fact, Allah is sufficient as a Witness. Allah's statement,
مُصَدِّقاً لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ
(Confirming what came before it) means, from the previous divinely revealed Books, sent to the servants and Prophets of Allah. These Books testify to the truth of the Qur'an, and the Qur'an also testifies to the truth these Books contained, including the news and glad tidings of Muhammad's ﷺ prophethood and the revelation of the Glorious Qur'an.
Allah said,
وَأَنزَلَ التَّوْرَاةَ
(And He sent down the Tawrah) to Musa (Musa) son of `Imran,
وَالإِنجِيلَ
(And the Injil), to `Isa, son of Mary,
مِن قَبْلُ
(Aforetime) meaning, before the Qur'an was revealed,
هُدًى لِّلنَّاسِ
(As a guidance to mankind) in their time.
وَأَنزَلَ الْفُرْقَانَ
(And He sent down the criterion) which is the distinction between misguidance, falsehood and deviation on one hand, and guidance, truth and piety on the other hand. This is because of the indications, signs, plain evidences and clear proofs that it contains, and because of its explanations, clarifications, etc.
Allah's statement,
إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُواْ بِأيَـتِ اللَّهِ
(Truly, those who disbelieve in the Ayat of Allah) means they denied, refused and unjustly rejected them,
لَهُمْ عَذَابٌ شَدِيدٌ
(For them there is a severe torment) on the Day of Resurrection,
وَاللَّهُ عَزِيزٌ
(And Allah is All-Mighty) meaning, His grandeur is invincible and His sovereignty is infinite,
ذُو انتِقَامٍ
(All-Able of Retribution.) from those who reject His Ayat and defy His honorable Messengers and great Prophets.
آیت الکرسی اور اسم اعظم آیت الکرسی کی تفسیر میں پہلے بھی یہ حدیث گزر چکی ہے کہ اسم اعظم اس آیت اور آیت الکرسی میں ہے اور الم کی تفسیر سورة بقرہ کے شروع میں بیان ہوچکی ہے جسے دوبارہ یہاں لکھنے کی ضرورت نہیں، آیت (اَللّٰهُ لَآ اِلٰهَ اِلَّا ھُوَ ۚ اَلْـحَيُّ الْقَيُّوْمُ ڬ لَا تَاْخُذُهٗ سِـنَةٌ وَّلَا نَوْمٌ ۭ لَهٗ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الْاَرْضِ ۭ مَنْ ذَا الَّذِيْ يَشْفَعُ عِنْدَهٗٓ اِلَّا بِاِذْنِهٖ ۭ يَعْلَمُ مَا بَيْنَ اَيْدِيْهِمْ وَمَا خَلْفَھُمْ ۚ وَلَا يُحِيْطُوْنَ بِشَيْءٍ مِّنْ عِلْمِهٖٓ اِلَّا بِمَا شَاۗءَ ۚ وَسِعَ كُرْسِـيُّهُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ ۚ وَلَا يَـــــُٔـــوْدُهٗ حِفْظُهُمَا ۚ وَھُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيْمُ) 2۔ البقرۃ :255) کی تفسیر بھی آیت الکرسی کی تفسیر میں ہم لکھ آئے ہیں۔ پھر فرمایا اللہ تعالیٰ نے تجھ پر اے محمد ﷺ قرآن کریم کو حق کے ساتھ نازل فرمایا ہے جس میں کوئی شک نہیں بلکہ یقینا وہ اللہ کی طرف سے ہے، جسے اس نے اپنے علم کی وسعتوں کے ساتھ اتارا ہے، فرشتے اس پر گواہ ہیں اور اللہ کی شہادت کافی وافی ہے۔ یہ قرآن اپنے سے پہلے کی تمام آسمانی کتابوں کی تصدیق کرنے والا ہے اور وہ کتابیں بھی اس قرآن کی سچائی پر گواہ ہیں، اس لئے کہ ان میں جو اس نبی ﷺ کے آنے اور اس کتاب کے اترنے کی خبر تھی وہ سچی ثابت ہوئی۔ اسی نے حضرت موسیٰ بن عمران پر توراۃ اور عیسیٰ بن مریم پر انجیل اتاری، وہ دونوں کتابیں بھی اس زمانے کے لوگوں کیلئے ہدایت دینے والی تھیں۔ اس نے فرقان اتارا جو حق و باطل، ہدایت و ضلالت، گمراہی اور راہ راست میں فرق کرنے والا ہے، اس کی واضح روشن دلیلیں اور زبردست ثبوت ہر معترض کیلئے مثبت جواب ہیں، حضرت قتادہ حضرت ربیع بن انس کا بیان ہے کہ فرقان سے مراد یہاں قرآن ہے، گو یہ مصدر ہے لیکن چونکہ قرآن کا ذکر اس سے پہلے گزر چکا ہے اس لئے یہاں فرقان فرمایا، ابو صالح سے یہ بھی مروی ہے کہ مراد اس سے توراۃ ہے مگر یہ ضعیف ہے اس لئے کہ توراۃ کا ذکر اس سے پہلے گزر چکا ہے واللہ اعلم۔ قیامت کے دن منکروں اور باطل پرستوں کو سخت عذاب ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ غالب ہے بڑی شان والا ہے اعلیٰ سلطنت والا ہے، انبیاء کرام اور محترم رسولوں کے مخالفوں سے اور اللہ تعالیٰ کی آیتوں کی تکذیب کرنے والوں سے جناب باری تعالیٰ زبردست انتقام لے گا۔
إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَخۡفَىٰ عَلَيۡهِ شَيۡءٞ فِي ٱلۡأَرۡضِ وَلَا فِي ٱلسَّمَآءِ
Indeed nothing is hidden from Allah, neither in the earth nor in the heavens.
یقینا اللہ پر زمین اور آسمان کی کوئی بھی چیز مخفی نہیں
Tafsir Ibn Kathir
Allah states that He has perfect knowledge in the heavens and earth and that nothing in them is hidden from His watch.
هُوَ الَّذِي يُصَوِّرُكُمْ فِي الاٌّرْحَامِ كَيْفَ يَشَآءُ
(He it is Who shapes you in the wombs as He wills.) meaning, He creates you in the wombs as He wills, whether male or female, handsome or otherwise, happy or miserable.
لاَ إِلَـهَ إِلاَّ هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ
(La ilaha illa Huwa (none has the right to be worshipped but He), the Almighty, the All-Wise.) meaning, He is the Creator and thus is the only deity worthy of worship, without partners, and His is the perfect might, wisdom and decision. This Ayah refers to the fact that `Isa, son of Mary, is a created servant, just as Allah created the rest of mankind. Allah created `Isa in the womb (of his mother) and shaped him as He willed. Therefore, how could `Isa be divine, as the Christians, may Allah's curses descend on them, claim `Isa was created in the womb and his creation changed from stage to stage, just as Allah said,
يَخْلُقُكُمْ فِى بُطُونِ أُمَّهَـتِكُـمْ خَلْقاً مِّن بَعْدِ خَلْقٍ فِى ظُلُمَـتٍ ثَلَـثٍ
(He creates you in the wombs of your mothers, creation after creation in three veils of darkness.) 39:6.
خالقِ کل اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ آسمان و زمین کے غیب کو وہ بخوبی جانتا ہے اس پر کوئی چیز مخفی نہیں، وہ تمہیں تمہاری ماں کے پیٹ میں جس طرح کی چاہتا ہے اچھی، بری نیک اور بد صورتیں عنایت فرماتا ہے، اس کے سوا عبادت کے لائق کوئی نہیں وہ غالب ہے حکمت والا ہے، جبکہ صرف اسی ایک نے تمہیں بنایا، پیدا کیا، پھر تم دوسرے کی عبادت کیوں کرو ؟ وہ لازوال عزتوں والا غیرفانی حکمتوں والا، اٹل احکام والا ہے۔ اس میں اشارہ بلکہ تصریح ہے کہ حضرت عیسیٰ بھی اللہ عزوجل ہی کے پیدا کئے ہوئے اور اسی کی چوکھٹ پر جھکنے والے تھے، جس طرح تمام انسان اس کے پیدا کردہ ہیں انہی انسانوں میں سے ایک آپ بھی ہیں، وہ بھی ماں کے رحم میں بنائے گئے ہیں اور میرے پیدا کرنے سے پیدا ہوئے، پھر وہ اللہ کیسے بن گئے ؟ جیسا کہ اس لعنتی جماعت نصاریٰ نے سمجھ رکھا ہے، حالانکہ وہ تو ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف رگ و ریشہ کی صورت ادھراُدھر پھرتے پھراتے رہے، جیسے اور جگہ ہے آیت (يَخْلُقُكُمْ فِيْ بُطُوْنِ اُمَّهٰتِكُمْ خَلْقًا مِّنْۢ بَعْدِ خَلْقٍ فِيْ ظُلُمٰتٍ ثَلٰثٍ) 39۔ الزمر :6) وہ اللہ جو تمہیں ماؤں کے پیٹوں میں پیدا کرتا ہے، ہر ایک کی پیدائش طرح طرح کے مرحلوں سے گزرتی ہے۔
هُوَ ٱلَّذِي يُصَوِّرُكُمۡ فِي ٱلۡأَرۡحَامِ كَيۡفَ يَشَآءُۚ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ ٱلۡعَزِيزُ ٱلۡحَكِيمُ
It is He Who fashions (moulds) you in your mothers’ wombs as He wills; none is worthy of worship except Him, the Almighty (the Most Honourable), the Wise.
وہی ہے جو (ماؤں کے) رحموں میں تمہاری صورتیں جس طرح چاہتا ہے بناتا ہے، اس کے سوا کوئی لائقِ پرستش نہیں (وہ) بڑا غالب بڑی حکمت والا ہے
Tafsir Ibn Kathir
Allah states that He has perfect knowledge in the heavens and earth and that nothing in them is hidden from His watch.
هُوَ الَّذِي يُصَوِّرُكُمْ فِي الاٌّرْحَامِ كَيْفَ يَشَآءُ
(He it is Who shapes you in the wombs as He wills.) meaning, He creates you in the wombs as He wills, whether male or female, handsome or otherwise, happy or miserable.
لاَ إِلَـهَ إِلاَّ هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ
(La ilaha illa Huwa (none has the right to be worshipped but He), the Almighty, the All-Wise.) meaning, He is the Creator and thus is the only deity worthy of worship, without partners, and His is the perfect might, wisdom and decision. This Ayah refers to the fact that `Isa, son of Mary, is a created servant, just as Allah created the rest of mankind. Allah created `Isa in the womb (of his mother) and shaped him as He willed. Therefore, how could `Isa be divine, as the Christians, may Allah's curses descend on them, claim `Isa was created in the womb and his creation changed from stage to stage, just as Allah said,
يَخْلُقُكُمْ فِى بُطُونِ أُمَّهَـتِكُـمْ خَلْقاً مِّن بَعْدِ خَلْقٍ فِى ظُلُمَـتٍ ثَلَـثٍ
(He creates you in the wombs of your mothers, creation after creation in three veils of darkness.) 39:6.
خالقِ کل اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ آسمان و زمین کے غیب کو وہ بخوبی جانتا ہے اس پر کوئی چیز مخفی نہیں، وہ تمہیں تمہاری ماں کے پیٹ میں جس طرح کی چاہتا ہے اچھی، بری نیک اور بد صورتیں عنایت فرماتا ہے، اس کے سوا عبادت کے لائق کوئی نہیں وہ غالب ہے حکمت والا ہے، جبکہ صرف اسی ایک نے تمہیں بنایا، پیدا کیا، پھر تم دوسرے کی عبادت کیوں کرو ؟ وہ لازوال عزتوں والا غیرفانی حکمتوں والا، اٹل احکام والا ہے۔ اس میں اشارہ بلکہ تصریح ہے کہ حضرت عیسیٰ بھی اللہ عزوجل ہی کے پیدا کئے ہوئے اور اسی کی چوکھٹ پر جھکنے والے تھے، جس طرح تمام انسان اس کے پیدا کردہ ہیں انہی انسانوں میں سے ایک آپ بھی ہیں، وہ بھی ماں کے رحم میں بنائے گئے ہیں اور میرے پیدا کرنے سے پیدا ہوئے، پھر وہ اللہ کیسے بن گئے ؟ جیسا کہ اس لعنتی جماعت نصاریٰ نے سمجھ رکھا ہے، حالانکہ وہ تو ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف رگ و ریشہ کی صورت ادھراُدھر پھرتے پھراتے رہے، جیسے اور جگہ ہے آیت (يَخْلُقُكُمْ فِيْ بُطُوْنِ اُمَّهٰتِكُمْ خَلْقًا مِّنْۢ بَعْدِ خَلْقٍ فِيْ ظُلُمٰتٍ ثَلٰثٍ) 39۔ الزمر :6) وہ اللہ جو تمہیں ماؤں کے پیٹوں میں پیدا کرتا ہے، ہر ایک کی پیدائش طرح طرح کے مرحلوں سے گزرتی ہے۔
هُوَ ٱلَّذِيٓ أَنزَلَ عَلَيۡكَ ٱلۡكِتَٰبَ مِنۡهُ ءَايَٰتٞ مُّحۡكَمَٰتٌ هُنَّ أُمُّ ٱلۡكِتَٰبِ وَأُخَرُ مُتَشَٰبِهَٰتٞۖ فَأَمَّا ٱلَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمۡ زَيۡغٞ فَيَتَّبِعُونَ مَا تَشَٰبَهَ مِنۡهُ ٱبۡتِغَآءَ ٱلۡفِتۡنَةِ وَٱبۡتِغَآءَ تَأۡوِيلِهِۦۖ وَمَا يَعۡلَمُ تَأۡوِيلَهُۥٓ إِلَّا ٱللَّهُۗ وَٱلرَّـٰسِخُونَ فِي ٱلۡعِلۡمِ يَقُولُونَ ءَامَنَّا بِهِۦ كُلّٞ مِّنۡ عِندِ رَبِّنَاۗ وَمَا يَذَّكَّرُ إِلَّآ أُوْلُواْ ٱلۡأَلۡبَٰبِ
It is He Who has sent down to you (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him) this Book (the Qur’an) containing the verses that have a clear meaning – they are the core of the Book – and other verses the meanings of which are indistinct; those in whose hearts is deviation pursue the verses having indistinct meanings, in order to cause turmoil and seeking its (wrongful) interpretation; and only Allah knows its proper interpretation; and those having sound knowledge say, “We believe in it, all of it is from our Lord”; and none accept guidance except the men of understanding.
وہی ہے جس نے آپ پر کتاب نازل فرمائی جس میں سے کچھ آیتیں محکم (یعنی ظاہراً بھی صاف اور واضح معنی رکھنے والی) ہیں وہی (احکام) کتاب کی بنیاد ہیں اور دوسری آیتیں متشابہ (یعنی معنی میں کئی احتمال اور اشتباہ رکھنے والی) ہیں، سو وہ لوگ جن کے دلوں میں کجی ہے اس میں سے صرف متشابہات کی پیروی کرتے ہیں (فقط) فتنہ پروری کی خواہش کے زیرِ اثر اور اصل مراد کی بجائے من پسند معنی مراد لینے کی غرض سے، اور اس کی اصل مراد کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا، اور علم میں کامل پختگی رکھنے والے کہتے ہیں کہ ہم اس پر ایمان لائے، ساری (کتاب) ہمارے رب کی طرف سے اتری ہے، اور نصیحت صرف اہلِ دانش کو ہی نصیب ہوتی ہے
Tafsir Ibn Kathir
The Mutashabihat and Muhkamat Ayat
Allah states that in the Qur'an, there are Ayat that are Muhkamat, entirely clear and plain, and these are the foundations of the Book which are plain for everyone. And there are Ayat in the Qur'an that are Mutashabihat not entirely clear for many, or some people. So those who refer to the Muhkam Ayat to understand the Mutashabih Ayat, will have acquired the correct guidance, and vice versa. This is why Allah said,
هُنَّ أُمُّ الْكِتَـبِ
(They are the foundations of the Book), meaning, they are the basis of the Qur'an, and should be referred to for clarification, when warranted,
وَأُخَرُ مُتَشَـبِهَـتٌ
(And others not entirely clear) as they have several meanings, some that agree with the Muhkam and some that carry other literal indications, although these meaning might not be desired.
The Muhkamat are the Ayat that explain the abrogating rulings, the allowed, prohibited, laws, limits, obligations and rulings that should be believed in and implemented. As for the Mutashabihat Ayat, they include the abrogated Ayat, parables, oaths, and what should be believed in, but not implemented.
Muhammad bin Ishaq bin Yasar commented on,
مِنْهُ آيَـتٌ مُّحْكَمَـتٌ
(In it are verses that are entirely clear) as "Containing proof of the Lord, immunity for the servants and a refutation of opponents and of falsehood. They cannot be changed or altered from what they were meant for." He also said, "As for the unclear Ayat, they can (but must not) be altered and changed, and this is a test from Allah to the servants, just as He tested them with the allowed and prohibited things. So these Ayat must not be altered to imply a false meaning or be distorted from the truth."
Therefore, Allah said,
فَأَمَّا الَّذِينَ فى قُلُوبِهِمْ زَيْغٌ
(So as for those in whose hearts there is a deviation) meaning, those who are misguided and deviate from truth to falsehood,
فَيَتَّبِعُونَ مَا تَشَـبَهَ مِنْهُ
(they follow that which is not entirely clear thereof) meaning, they refer to the Mutashabih, because they are able to alter its meanings to conform with their false interpretation since the wordings of the Mutashabihat encompass such a wide area of meanings. As for the Muhkam Ayat, they cannot be altered because they are clear and, thus, constitute unequivocal proof against the misguided people. This is why Allah said,
ابْتِغَآءَ الْفِتْنَةِ
(seeking Al-Fitnah) meaning, they seek to misguide their following by pretending to prove their innovation by relying on the Qur'an -- the Mutashabih of it -- but, this is proof against and not for them. For instance, Christians might claim that `Isa is divine because the Qur'an states that he is Ruhullah and His Word, which He gave to Mary, all the while ignoring Allah's statements,
إِنْ هُوَ إِلاَّ عَبْدٌ أَنْعَمْنَا عَلَيْهِ
(He `Isa was not more than a servant. We granted Our favor to him.) 43:59, and,
إِنَّ مَثَلَ عِيسَى عِندَ اللَّهِ كَمَثَلِ ءَادَمَ خَلَقَهُ مِن تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهُ كُن فَيَكُونُ
(Verily, the likeness of `Isa before Allah is the likeness of Adam. He created him from dust, then (He) said to him: "Be!" and he was.) 3:59.
There are other Ayat that clearly assert that `Isa is but one of Allah's creatures and that he is the servant and Messenger of Allah ﷺ, among other Messengers.
Allah's statement,
وَابْتِغَآءَ تَأْوِيلِهِ
(And seeking for its Ta'wil,) to alter them as they desire. Imam Ahmad recorded that `A'ishah said, "The Messenger of Allah ﷺ recited,
هُوَ الَّذِى أَنزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَـبَ مِنْهُ آيَـتٌ مُّحْكَمَـتٌ هُنَّ أُمُّ الْكِتَـبِ وَأُخَرُ مُتَشَـبِهَـتٌ
(It is He Who has sent down to you the Book. In it are verses that are entirely clear, they are the foundations of the Book; and others not entirely clear,), until,
أُوْلُواْ الأَلْبَـبِ
(Men of understanding) and he said,
«فَإِذَا رَأَيْتُمُ الَّذِين يُجَادِلُونَ فِيهِ، فَهُمُ الَّذِينَ عَنَى اللهُ، فَاحْذَرُوهُم»
(When you see those who argue in it (using the Mutashabihat), then they are those whom Allah meant. Therefore, beware of them.)"
Al-Bukhari recorded a similar Hadith in the Tafsir of this Ayah 3:7, as did Muslim in the book of Qadar (the Divine Will) in his Sahih, and Abu Dawud in the Sunnah section of his Sunan, from `A'ishah; "The Messenger of Allah ﷺ recited this Ayah,
هُوَ الَّذِى أَنزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَـبَ مِنْهُ آيَـتٌ مُّحْكَمَـتٌ
(It is He Who has sent down to you the Book. In it are verses that are entirely clear,) until,
وَمَا يَذَّكَّرُ إِلاَّ أُوْلُواْ الأَلْبَـبِ
(And none receive admonition except men of understanding.)
He then said,
«فَإِذَا رَأَيْتِ الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ؛ فَأُولئِكَ الَّذِينَ سَمَّى اللهُ، فَاحْذَرُوهُم»
(When you see those who follow what is not so clear of the Qur'an, then they are those whom Allah described, so beware of them.)"
This is the wording recorded by Al-Bukhari.
Only Allah Knows the True Ta'wil (Interpretation) of the Mutashabihat
Allah said,
وَمَا يَعْلَمُ تَأْوِيلَهُ إِلاَّ اللَّهُ
(But none knows its Ta'wil except Allah.)
Similarly, as preceded in what has been reported from Ibn `Abbas, "Tafsir is of four types: Tafsir that the Arabs know in their language; Tafsir that no one is excused of being ignorant of; Tafsir that the scholars know; and Tafsir that only Allah knows." Scholars of Qur'an recitation have different opinions about pausing at Allah's Name in this Ayah. This stop was reported from `A'ishah, `Urwah, Abu Ash-Sha`tha' and Abu Nahik.
Some pause after reciting,
وَالرَسِخُونَ فِي الْعِلْمِ
(And those who are firmly grounded in knowledge) saying that the Qur'an does not address the people with what they cannot understand. Ibn Abi Najih said that Mujahid said that Ibn `Abbas said, "I am among those who are firmly grounded in its Ta'wil interpretation." The Messenger of Allah ﷺ supplicated for the benefit of Ibn `Abbas,
«اللَّهُمَّ فَقِّهْهُ فِي الدِّينِ وَعَلِّمْهُ التَّأْوِيل»
(O Allah! Bestow on him knowledge in the religion and teach him the Ta'wil (interpretation).)
Ta'wil has two meanings in the Qur'an, the true reality of things, and what they will turn out to be. For instance, Allah said,
وَقَالَ يأَبَتِ هَـذَا تَأْوِيلُ رُؤْيَـى مِن قَبْلُ
(And he said: "O my father! This is the Ta'wil of my dream aforetime!".) 12:100, and,
هَلْ يَنظُرُونَ إِلاَّ تَأْوِيلَهُ يَوْمَ يَأْتِى تَأْوِيلُهُ
(Await they just for it's Ta'wil On the Day (Day of Resurrection) it's Ta'wil is finally fulfillled.)(7:53) refers to the true reality of Resurrection that they were told about. If this is the meaning desired in the Ayah above 3:7, then pausing after reciting Allah's Name is warranted, because only Allah knows the true reality of things. In this case, Allah's statement,
وَالرَسِخُونَ فِي الْعِلْمِ
(And those who are firmly grounded in knowledge) is connected to His statement,
يَقُولُونَ ءَامَنَّا بِهِ
(say: "We believe in it") If the word Ta'wil means the second meaning, that is, explaining and describing, such as what Allah said,
نَبِّئْنَا بِتَأْوِيلِهِ
((They said): "Inform us of the Ta'wil of this") meaning its explanation, then pausing after reciting,
وَالرَسِخُونَ فِي الْعِلْمِ
(And those who are firmly grounded in knowledge) is warranted. This is because the scholars have general knowledge in, and understand what they were addressed with, even though they do not have knowledge of the true reality of things. Therefore, Allah's statement,
يَقُولُونَ ءَامَنَّا بِهِ
(say: "We believe in it") describes the conduct of the scholars. Similarly, Allah said,
وَجَآءَ رَبُّكَ وَالْمَلَكُ صَفّاً صَفّاً
(And your Lord comes, and the angels, in rows.) 89:22 means, your Lord will come, and the angels will come in rows.
Allah's statement that the knowledgeable people proclaim,
يَقُولُونَ ءَامَنَّا بِهِ
(We believe in it) means, they believe in the Mutashabih.
كُلٌّ مِّنْ عِندِ رَبِّنَا
(all of it is from our Lord) meaning, both the Muhkam and the Mutashabih are true and authentic, and each one of them testifies to the truth of the other. This is because they both are from Allah and nothing that comes from Allah is ever met by contradiction or discrepancy. Allah said,
أَفَلاَ يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْءَانَ وَلَوْ كَانَ مِنْ عِندِ غَيْرِ اللَّهِ لَوَجَدُواْ فِيهِ اخْتِلَـفاً كَثِيراً
(Do they not then consider the Qur'an carefully Had it been from other than Allah, they would surely have found therein many a contradiction.) 4:82.
Allah said in his Ayah 3:7,
وَمَا يَذَّكَّرُ إِلاَّ أُوْلُواْ الأَلْبَـبِ
(And none receive admonition except men of understanding. ) meaning, those who have good minds and sound comprehension, understand, contemplate and comprehend the meaning in the correct manner. Further, Ibn Al-Mundhir recorded in his Tafsir that Nafi` bin Yazid said, "Those firmly grounded in knowledge are those who are modest for Allah's sake, humbly seek His pleasure, and do not exaggerate regarding those above them, or belittle those below them."
Allah said that they supplicate to their Lord,
رَبَّنَا لاَ تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا
(Our Lord! Let not our hearts deviate (from the truth) after You have guided us.) meaning, "Do not deviate our hearts from the guidance after You allowed them to acquire it. Do not make us like those who have wickedness in their hearts, those who follow the Mutashabih in the Qur'an. Rather, make us remain firmly on Your straight path and true religion."
وَهَبْ لَنَا مِن لَّدُنكَ
(And grant us from Ladunka) meaning, from You,
رَحْمَةً
(Mercy) with which You make our hearts firm, and increase in our Faith and certainty,
إِنَّكَ أَنتَ الْوَهَّابُ
(Truly, You are the Bestower)
Ibn Abi Hatim and Ibn Jarir recorded that Umm Salamah said that the Prophet used to supplicate,
«يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَى دِينِك»
(O You Who changes the hearts, make my heart firm on Your religion.)
He then recited,
رَبَّنَا لاَ تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِن لَّدُنكَ رَحْمَةً إِنَّكَ أَنتَ الْوَهَّابُ
("Our Lord! Let not our hearts deviate (from the truth) after You have guided us, and grant us mercy from You. Truly, You are the Bestower.") The Ayah continues,
رَبَّنَآ إِنَّكَ جَامِعُ النَّاسِ لِيَوْمٍ لاَّ رَيْبَ فِيهِ
("Our Lord! Verily, it is You Who will gather mankind together on the Day about which there is no doubt") meaning, they say in their supplication: O our Lord! You will gather Your creation on the Day of Return, judge between them and decide over what they disputed about. Thereafter, You will reward or punish each according to the deeds they did in this life.
ہماری سمجھ سے بلند آیات یہاں یہ بیان ہو رہا ہے کہ قرآن میں ایسی آیتیں بھی ہیں جن کا بیان بہت واضح بالکل صاف اور سیدھا ہے۔ ہر شخص اس کے مطلب کو سمجھ سکتا ہے، اور بعض آیتیں ایسی بھی ہیں جن کے مطلب تک عام ذہنوں کی رسائی نہیں ہوسکتی، اب جو لوگ نہ سمجھ میں آنے والی آیتوں کے مفہوم کو پہلی قسم کی آیتوں کی روشنی میں سمجھ لیں یعنی جس مسئلہ کی صراحت جس آیت میں پائیں لے لیں، وہ تو راستی پر ہیں اور جو صاف اور صریح آیتوں کو چھوڑ کر ایسی آیتوں کو دلیل بنائیں جو ان کے فہم سے بالاتر ہیں، ان میں الجھ جائیں تو منہ کے بل گرپڑیں، ام الکتاب یعنی کتاب اللہ اصل اصولوں کی وہ صاف اور واضح آیتیں ہیں، شک و شبہ میں نہ پڑو اور کھلے احکام پر عمل کرو انہی کو فیصلہ کرنے والی مانو اور جو نہ سمجھ میں آئے اسے بھی ان سے ہی سمجھو، بعض اور آیتیں ایسی بھی ہیں کہ ایک معنی تو ان کا ایسا نکلتا ہے جو ظاہر آیتوں کے مطابق ہو اور اس کے سوا اور معانی بھی نکلتے ہیں، گو وہ حرف لفظ اور ترکیب کے اعتبار سے واقعی طور پر نہ ہو تو ان غیر ظاہر معنوں میں نہ پھنسو، محکم اور متشابہ کے بہت سے معنی اسلاف سے منقول ہیں، حضرت ابن عباس تو فرماتے ہیں کہ محکمات وہ ہیں جو ناسخ ہوں جن میں حلال حرام احکام حکم ممنوعات حدیں اور اعمال کا بیان ہو، اسی طرح آپ سے یہ بھی مروی ہے (آیت قل تعالوا اتل ما حرم ربکم علیکم الخ،) اور اس کے بعد کے احکامات والی اور (آیت وقضی ربک ان لا تبعدوا الخ،) اور اس کے بعد کی تین آیتیں محکمات سے ہیں، حضرت ابو فاختہ فرماتے ہیں سورتوں کے شروع میں فرائض اور احکام اور روک ٹوک اور حلال و حرام کی آیتیں ہیں، سعید بن جبیر کہتے ہیں انہیں اصل کتاب اس لئے کہا جاتا ہے کہ یہ تمام کتابوں میں ہیں، حضرت مقاتل کہتے ہیں اس لئے کہ تمام مذہب والے انہیں مانتے ہیں، متشابہات ان آیتوں کو کہتے ہیں جو منسوخ ہیں اور جو پہلے اور بعد کی ہیں اور جن میں مثالیں دی گئیں ہیں اور قسمیں کھائی گئی ہیں اور جن پر صرف ایمان لایا جاتا ہے اور عمل کیلئے وہ احکام نہیں، حضرت ابن عباس کا بھی یہی فرمان ہے حضرت مقاتل فرماتے ہیں اس سے مراد سورتوں کے شروع کے حروف مقطعات ہیں۔ حضرت مجاہد کا قول یہ ہے کہ ایک دوسرے کی تصدیق کرنے والی ہیں، جیسے اور جگہ ہے آیت (كِتٰبًا مُّتَشَابِهًا مَّثَانِيَ) 39۔ الزمر :23) اور مثانی وہ ہے جہاں دو مقابل کی چیزوں کا ذکر ہو جیسے جنت دوزخ کی صفت، نیکوں اور بدوں کا حال وغیرہ وغیرہ۔ اس آیت میں متشابہ محکم کے مقابلہ میں اس لئے ٹھیک مطلب وہی ہے جو ہم نے پہلے بیان کیا اور حضرت محمد بن اسحاق بن یسار کا یہی فرمان ہے، فرماتے ہیں یہ رب کی حجت ہے ان میں بندوں کا بچاؤ ہے، جھگڑوں کا فیصلہ ہے، باطل کا خاتمہ ہے، انہیں ان کے صحیح اور اصل مطلب سے کوئی گھما نہیں سکتا نہ ان کے معنی میں ہیرپھیر کرسکتا ہے۔ متشابہات کی سچائی میں کلام نہیں ان میں تصرف و تاویل نہیں کرنی چاہئے۔ ان سے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے ایمان کو آزماتا ہے جیسے حلال حرام سے آزماتا ہے، انہیں باطل کی طرف لے جانا اور حق سے پھیرنا چاہئے۔ پھر فرماتا ہے کہ جن کے دلوں میں کجی ٹیڑھ پن گمراہی اور حق سے باطل کی طرف ہی ہے وہ تو متشابہ آیتوں کو لے کر اپنے بدترین مقاصد کو پورا کرنا چاہتے ہیں اور لفظی اختلاف سے ناجائز فائدہ اٹھا کر اپنے مذموم مقاصد کی طرف موڑ لیتے ہیں اور جو محکم آیتیں ان میں ان کا وہ مقصد پورا نہیں ہوتا۔ کیونکہ ان کے الفاظ بالکل صاف اور کھلے ہوئے ہوتے ہیں نہ وہ انہیں ہٹا سکتے ہیں نہ ان سے اپنے لئے کوئی دلیل حاصل کرسکتے ہیں۔ اسی لئے فرمان ہے کہ اس سے ان کا مقصد فتنہ کی تلاش ہوتی ہے تاکہ اپنے ماننے والوں کو بہکائیں، اپنی بدعتوں کی مدافعت کریں جیسا کہ عیسائیوں نے قرآن کے الفاظ روح اللہ اور کلمۃ اللہ سے حضرت عیسیٰ کے اللہ کا لڑکا ہونے کی دلیل لی ہے۔ پس اس متشابہ آیت کو لے کر صاف آیت جس میں یہ لفظ ہیں کہ (آیت ان ھو الا عبد الخ، یعنی حضرت عیسیٰ اللہ کے غلام ہیں، جن پر اللہ کا انعام ہے، اور جگہ ہے آیت (اِنَّ مَثَلَ عِيْسٰى عِنْدَ اللّٰهِ كَمَثَلِ اٰدَمَ) 3۔ آل عمران :59) یعنی حضرت عیسیٰ کی مثال اللہ تعالیٰ کے نزدیک حضرت آدم کی طرح ہے کہ انہیں اللہ نے مٹی سے پیدا کیا پھر اسے کہا کہ ہوجا، وہ ہوگیا، چناچہ اسی طرح کی اور بھی بہت سی صریح آیتیں ہیں ان سب کو چھوڑ دیا اور متشابہ آیتوں سے حضرت عیسیٰ کے اللہ کا بیٹا ہونے پر دلیل لے لی حالانکہ آپ اللہ کی مخلوق ہیں، اللہ کے بندے ہیں، اس کے رسول ہیں۔ پھر فرماتا ہے کہ ان کی دوسری غرض آیت کی تحریف ہوتی ہے تاکہ اسے اپنی جگہ سے ہٹا کر مفہوم بدل لیں، حضور ﷺ نے یہ آیت پڑھ کر فرمایا کہ جب تم ان لوگوں کو دیکھو جو متشابہ آیتوں میں جھگڑتے ہیں تو انہیں چھوڑ دو ، ایسے ہی لوگ اس آیت میں مراد لئے گئے ہیں۔ یہ حدیث مختلف طریق سے بہت سی کتابوں میں مروی ہے، صحیح بخاری شریف میں بھی یہ حدیث اس آیت کی تفسیر میں مروی ہے، ملاحظہ ہو کتاب القدر، ایک اور حدیث میں ہے یہ لوگ خوارج ہیں (مسند احمد) پس اس حدیث کو زیادہ سے زیادہ موقوف سمجھ لیا جائے تاہم اس کا مضمون صحیح ہے اس لئے کہ پہلے بدعت خوارج نے ہی پھیلائی ہے، فرقہ محض دنیاوی رنج کی وجہ سے مسلمانوں سے الگ ہوا۔ حضور ﷺ نے جس وقت حنین کی غنیمت کا مال تقسیم کیا اس وقت ان لوگوں نے اسے خلاف عدل سمجھا اور ان میں سے ایک نے جسے ذواخویصرہ کہا جاتا ہے اس نے حضور ﷺ کے سامنے آکر صاف کہا کہ حضرت عدل کیجئے، آپ نے اس تقسیم میں انصاف نہیں کیا، آپ ﷺ نے فرمایا مجھے اللہ نے امین بنا کر بھیجا تھا، اگر میں بھی عدل نہیں کروں تو پھر برباد ہو اور نقصان اٹھائے، جب وہ پلٹا تو حضرت عمر فاروق نے درخواست کی کہ مجھے اجازت دی جائے کہ میں اسے مار ڈالوں، آپ ﷺ نے فرمایا چھوڑ دو ، اس کے ہم خیال ایک ایسی قوم پیدا ہوگی کہ تم لوگ اپنی نمازوں کو ان کی نمازوں کے مقابلہ اور اپنی قرآن خوانی کو ان کی قرآن خوانی کے مقابلہ میں حقیر سمجھو گے لیکن دراصل وہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جس طرح تیر کمان سے نکل جاتا ہے، تم جہاں انہیں پاؤ گے قتل کرو گے، انہیں قتل کرنے والے کو بڑا ثواب ملے گا، حضرت علی کی خلافت کے زمانہ میں ان کا ظہور ہوا اور آپ نے انہیں نہروان میں قتل کیا پھر ان میں پھوٹ پڑی تو ان کے مختلف الخیال فرقے پیدا ہوگئے، نئی نئی بدعتیں دین میں جاری ہوگئیں اور اللہ کی راہ سے بہت دور چلے گئے، ان کے بعد قدریہ فرقے کا ظہور ہوا، پھر معتزلہ پھر جہمیہ وغیرہ پیدا ہوئے اور حضور ﷺ کی پیشنگوئی پوری ہوئی کہ میری امت میں عنقریب تہتر فرقے ہوں گے سب جہنمی ہوں گے سوائے ایک جماعت کے۔ صحابہ نے پوچھا وہ کون لوگ ہوں گے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا وہ جو اس چیز پر ہوں جس پر میں ہوں اور میرے اصحاب (مستدرک حاکم) ایویعلیٰ کی حدیث میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا میری امت میں سے ایک قوم پیدا ہوگی جو قرآن تو پڑھے گی لیکن اسے اس طرح پھینکے گی جیسے کوئی کھجور کی گٹھلیاں پھینکتا ہو، اس کے غلط مطالب بیان کرے گی، پھر فرمایا اس کی حقیقی تاویل اور واقعی مطلب اللہ ہی جانتا ہے، لفظ اللہ پر وقف ہے یا نہیں ؟ اس میں اختلاف ہے، حضرت عبداللہ بن عباس تو فرماتے ہیں تفسیر چار قسم کی ہے، ایک وہ جس کے سمجھنے میں کسی کو مشکل نہیں، ایک وہ جسے عرب اپنے لغت سے سمجھتے ہیں، ایک وہ جسے جید علماء اور پورے علم والے ہی جانتے ہیں اور ایک وہ جسے بجزذات الہٰی کے اور کوئی نہیں جانتا۔ یہ روایت پہلے بھی گزر چکی ہے، حضرت عائشہ کا بھی یہی قول ہے، معجم کبیر میں حدیث ہے کہ مجھے اپنی امت پر صرف تین باتوں کا ڈر ہے۔ مال کی کثرت کا جس سے حسد و بغض پیدا ہوگا اور آپس کی لڑائی شروع ہوگی، دوسرا یہ کہ کتاب اللہ کی تاویل کا سلسلہ شروع ہوگا حالانکہ اصلی مطلب ان کا اللہ ہی جانتا ہے اور اہل علم والے کہیں گے کہ ہمارا اس پر ایمان ہے۔ تیسرے یہ کہ علم حاصل کرنے کے بعد اسے بےپرواہی سے ضائع کردیں گے، یہ حدیث بالکل غریب ہے اور حدیث میں ہے کہ قرآن اس لئے نہیں اترا کہ ایک آیت دوسری آیت کی مخالف ہو، جس کا تمہیں علم ہو اور اس پر عمل کرو اور جو متشابہ ہوں ان پر ایمان لاؤ (ابن مردویہ) ابن عباس حضرت عمر بن عبدالعزیز اور حضرت مالک بن انس سے بھی یہی مروی ہے کہ بڑے سے بڑے عالم بھی اس کی حقیقت سے آگاہ نہیں ہوتے، ہاں اس پر ایمان رکھتے ہیں۔ ابن مسعود فرماتے ہیں کہ پختہ علم والے یہی کہتے ہیں اس کی تاویل کا علم اللہ ہی کو ہے کہ اس پر ہمارا ایمان ہے۔ ابی بن کعب بھی یہی فرماتے ہیں، امام ابن جریر بھی اسی سے اتفاق کرتے ہیں، یہ تو تھی وہ جماعت جو الا اللہ پر وقف کرتی تھی اور بعد کے جملہ کو اس سے الگ کرتی تھی، کچھ لوگ یہاں نہیں ٹھہرتے اور فی العلم پر وقف کرتے ہیں، اکثر مفسرین اور اہل اصول بھی یہی کہتے ہیں، ان کی بڑی دلیل یہ ہے کہ جو سمجھ میں نہ آئے اس بات کا ٹھیک نہیں، حضرت ابن عباس فرمایا کرتے تھے میں ان راسخ علماء میں ہوں جو تاویل جانتے ہیں، مجاہد فرماتے ہیں راسخ علم والے تفسیر جانتے ہیں، حضرت محمد بن جعفر بن زبیر فرماتے ہیں کہ اصل تفسیر اور مراد اللہ ہی جانتا ہے اور مضبوط علم والے کہتے ہیں کہ ہم اس پر ایمان لائے پھر متشابہات آیتوں کی تفسیر محکمات کی روشنی کرتے ہیں جن میں کسی کو بات کرنے کی گنجائش نہیں رہتی، قرآن کے مضامین ٹھیک ٹھاک سمجھ میں آتے ہیں دلیل واضح ہوتی ہے، عذر ظاہر ہوجاتا ہے، باطل چھٹ جاتا ہے اور کفر دفع ہوجاتا ہے، حدیث میں ہے کہ حضور ﷺ نے حضرت عبداللہ بن عباس کیلئے دعا کی کہ اے اللہ انہیں دین کی سمجھ دے اور تفسیر کا علم تھے، بعض علماء نے تفصیل سے بات کرتے ہوئے کہا ہے، قرآن کریم میں تاویل دو معنی میں آئی ہے، ایک معنی جن سے مفہوم کی اصلی حقیقت اور اصلیت کی نشاندہی ہوتی ہے، جیسے قرآن میں ہے (يٰٓاَبَتِ هٰذَا تَاْوِيْلُ رُءْيَايَ مِنْ قَبْلُ ۡ قَدْ جَعَلَهَا رَبِّيْ حَقًّا) 12۔ یوسف :100) میرے باپ میرے خواب کی یہی تعبیر ہے، اور جگہ ہے آیت (هَلْ يَنْظُرُوْنَ اِلَّا تَاْوِيْلَهٗ ۭ يَوْمَ يَاْتِيْ تَاْوِيْلُهٗ يَقُوْلُ الَّذِيْنَ نَسُوْهُ مِنْ قَبْلُ قَدْ جَاۗءَتْ رُسُلُ رَبِّنَا بالْحَقِّ) 7۔ الاعراف :53) کافروں کے انتظار کی حد حقیقت کے ظاہر ہونے تک ہے اور یہ دن وہ ہوگا جب حقیقت سچائی کی گواہ بن کر نمودار ہوگی، پس ان دونوں جگہ پر تاویل سے مراد حقیقت ہے، اگر اس آیت مبارکہ میں تاویل سے مراد یہی تاویل لی جائے تو الا اللہ پر وقف ضروری ہے اس لئے کہ تمام کاموں کی حقیقت اور اصلیت بجز ذات پاک کے اور کوئی نہیں جانتا تو راسخون فی العلم مبتدا ہوگا اور یقولون امنابہ خبر ہوگی اور یہ جملہ بالکل الگ ہوگا اور تاویل کے دوسرے معنی تفسیر اور بیان اور ہے اور ایک شئی کی تعبیر دوسری شے ہے، جیسے قرآن میں ہے آیت (نَبِّئْنَا بِتَاْوِيْـلِهٖ) 12۔ یوسف :36) ہمیں اس کی تاویل بتاؤ یعنی تفسیر اور بیان، اگر آیت مذکورہ میں تاویل سے یہ مراد لی جائے تو فی العلم پر وقف کرنا چاہئے، اس لئے کہ پختہ علم والے علماء جانتے ہیں اور سمجھتے ہیں کیونکہ خطاب انہی سے ہے، گو حقائق کا علم انہیں بھی نہیں، تو اس بنا پر امنا بہ حال ہوگا اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ بغیر معطوف علیہ کے معطوف ہو، جیسے اور جگہ ہے آیت (لِلْفُقَرَاۗءِ الْمُهٰجِرِيْنَ الَّذِيْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِيَارِهِمْ) 59۔ الحشر :8) سے (يَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِاِخْوَانِنَا الَّذِيْنَ سَبَقُوْنَا بالْاِيْمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِيْ قُلُوْبِنَا غِلًّا لِّلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا رَبَّنَآ اِنَّكَ رَءُوْفٌ رَّحِيْمٌ) 59۔ الحشر :10) تک دوسری جگہ ہے آیت (وَّجَاۗءَ رَبُّكَ وَالْمَلَكُ صَفًّا صَفًّا) 89۔ الفجر :22) یعنی وجاء الملائکۃ صفوفا صفوفا اور ان کی طرف سے یہ خبر کہ ہم اس پر ایمان لائے اس کے یہ معنی ہوں گے کہ متشابہ پر ایمان لائے، پھر اقرار کرتے ہیں کہ یہ سب یعنی محکم اور متشابہ حق اور سچ ہے اور یعنی ہر ایک دوسرے کی تصدیق کرتا ہے اور گواہی دیتا ہے کہ یہ سب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اس میں کوئی اختلاف اور تضاد نہیں، جیسے اور جگہ ہے آیت (اَفَلَا يَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ ۭوَلَوْ كَانَ مِنْ عِنْدِ غَيْرِ اللّٰهِ لَوَجَدُوْا فِيْهِ اخْتِلَافًا كَثِيْرًا) 4۔ النسآء :82) یعنی کیا یہ لوگ قرآن میں غور و فکر نہیں کرتے، اگر یہ اللہ کے سوا کسی اور کی طرف سے ہوتا تو اس میں بہت سا اختلاف ہوتا، اسی لئے یہاں بھی فرمایا کہ اسے صرف عقلمند ہی سمجھتے ہیں جو اس پر غور و تدبر کریں، جو صحیح سالم عقل والے ہوں جن کے دماغ درست ہوں، حضور ﷺ سے سوال ہوتا ہے کہ پختہ علم والے کون ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا جس کی قسم سچی ہو، جس کی زبان راست گو ہو، جس کا دل سلامت ہو، جس کا پیٹ حرام سے بچا ہو اور جس کی شرم گاہ زناکاری سے محفوظ ہو، وہ مضبوط علم والے ہیں (ابن ابی حاتم) اور حدیث میں ہے کہ آپ نے چند لوگوں کو دیکھا کہ وہ قرآن شریف کے بارے میں لڑ جھگڑ رہے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا سنو تم سے پہلے لوگ بھی اسی میں ہلاک ہوئے کہ انہوں نے کتاب اللہ کی آیتوں کو ایک دوسرے کیخلاف بتا کر اختلاف کیا حالانکہ کتاب اللہ کی ہر آیت ایک دوسرے کی تصدیق کرتی ہے، تم ان میں اختلاف پیدا کرکے ایک کو دوسری کے متضاد نہ کہو، جو جانو وہی کہو اور جو نہیں جانو اسے جاننے والوں کو سونپ دو (مسند احمد) اور حدیث میں ہے کہ قرآن سات حرفوں پر اترا، قرآن میں جھگڑنا کفر ہے، قرآن میں اختلاف اور تضاد پیدا کرنا کفر ہے، جو جانو اس پر عمل کرو، جو نہ جانو اسے جاننے والے کی طرف سونپو جل جلالہ (ایویعلی) راسخ فی العلم کون ؟نافع بن یزید کہتے ہیں راسخ فی العلم وہ لوگ ہیں جو متواضح ہوں جو عاجزی کرنے والے ہوں، رب کی رضا کے طالب ہوں، اپنے سے بڑوں سے مرعوب نہ ہوں، اپنے سے چھوٹے کو حقیر سمجھنے والے نہ ہوں۔ پھر فرمایا کہ یہ سب دعا کرتے ہیں کہ ہمارے دلوں کو ہدایت پر جمانے کے بعد انہیں ان لوگوں کے دلوں کی طرح نہ کر جو متشابہ کے پیچھے پڑ کر برباد ہوجاتے ہیں بلکہ ہمیں اپنی صراط مستقیم پر قائم رکھ اور اپنے مضبوط دین پر دائم رکھ، ہم پر اپنی رحمت نازل فرما، ہمارے دلوں کو قرار دے، ہم سے گندگی کو دور کر، ہمارے ایمان و یقین کو بڑھا تو بہت بڑا دینے والا ہے، رسول اللہ ﷺ دعا مانگا کرتے تھے حدیث (یا مقلب القلوب ثبت قلبی علی دینک) اے دلوں کے پھیرنے والے میرے دل کو اپنے دین پر جما ہوا رکھ، پھر یہ دعا ربنا لاتزغ پڑھتے اور حدیث میں ہے کہ آپ بکثرت یہ دعا پڑھتے تھے حدیث (اللھم مقلب القلوب ثبت قلبی علی دینک حضرت اسماء نے ایک دن پوچھا کیا دل الٹ پلٹ ہوجاتا ہے ؟ آپ نے فرمایا ہاں ہر انسان کا دل اللہ تعالیٰ کی انگلیوں میں سے دو انگلیوں کے درمیان ہے، اگر چاہے قائم رکھے اگر چاہے پھیر دے، ہماری دعا ہے ہمارا رب دلوں کو ہدایت کے بعد ٹیڑھا نہ کر دے اور ہمیں اپنے پاس سے رحمتیں عنایت فرمائے، وہ بہت زیادہ دینے والا ہے۔ ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ میں نے کہا یارسول اللہ ﷺ مجھے کوئی ایسی دعا سکھائیے کہ میں اپنے لئے مانگا کروں، آپ نے فرمایا یہ دعا مانگ (حدیث اللھم رب محمد النبی اغفرلی ذنبی و اذھب غیظ قلبی و اجرنی من مضلات الفتن) اے اللہ اے محمد نبی ﷺ کے رب میرے گناہ معاف فرما، میرے دل کا غصہ اور رنج اور سختی دور کر اور مجھے گمراہ کرنے والے فتنوں سے بچا لے، حضرت عائشہ صدیقہ نے بھی آپ کی دعا یا مقلب القلوب سن کر حضرت اسماء کی طرح میں نے بھی یہی سوال کیا اور آپ نے وہی جواب دیا اور پھر قرآن کی یہ دعا سنائی، یہ حدیث غریب ہے لیکن قرآنی آیت کی تلاوت کے بغیر یہی بخاری مسلم میں بھی مروی ہے، اور نسائی میں ہے کہ حضور ﷺ جب رات کو جاگتے تو یہ دعا پڑھتے (حدیث لا الہ الا انت سبحانک استغفرک لذنبی واسئلک رحمۃ اللھم زدنی علما ولا تزغ بعد اذ ھدیتنی وھب لی من لدنک رحمۃ انک انت الوھاب) اے اللہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں، میں تجھ سے اپنے گناہوں کی بخشش مانگتا ہوں اور تجھ سے تیری رحمت کا سوال کرتا ہوں، اللہ میرے علم میں زیادتی فرما اور میرے دل کو تو نے ہدایت دے دی ہے اسے گمراہ نہ کرنا اور مجھے اپنے پاس کی رحمت بخش تو بہت زیادہ دینے والا۔ حضرت ابوبکر صدیق نے مغرب کی نماز پڑھائی، پہلی دو رکعتوں میں الحمدشریف کے بعد مفصل کی چھوٹی سی دو سورتیں پڑھیں اور تیسری رکعت میں سورة الحمد شریف کے بعد یہی آیت پڑھی۔ ابو عبد اللہ صبالجی فرماتے ہیں میں اس وقت ان کے قریب چلا گیا تھا، یہاں تک کہ میرے کپڑے ان کے کپڑوں سے مل گئے تھے اور میں نے خود اپنے کان سے ابوبکر صدیق کو یہ پڑھتے ہوئے سنا (عبدالرزاق) حضرت عمر بن عبدالعزیز نے جب تک یہ حدیث نہیں سنی تھی آپ اس رکعت میں قل ھو اللہ پڑھا کرتے تھے لیکن یہ حدیث سننے کے بعد امیرالمومنین نے بھی اسی کو پڑھنا شروع کیا اور کبھی ترک نہیں کیا۔ پھر فرمایا وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ اے اللہ تو قیامت کے دن اپنی تمام مخلوق کو جمع کرنے والا ہے اور ان میں فیصلے اور حکم کرنے والا ہے، ان کے اختلافات کو سمیٹنے والا ہے اور ہر ایک کو بھلے برے عمل کا بدلہ دینے والا ہے اس دن کے آنے میں اور تیرے وعدوں کے سچے ہونے میں کوئی شک نہیں۔
رَبَّنَا لَا تُزِغۡ قُلُوبَنَا بَعۡدَ إِذۡ هَدَيۡتَنَا وَهَبۡ لَنَا مِن لَّدُنكَ رَحۡمَةًۚ إِنَّكَ أَنتَ ٱلۡوَهَّابُ
“Our Lord! Do not deviate our hearts after You have guided us, and bestow mercy on us from Yourself; indeed You only are the Great Bestower.”
(اور عرض کرتے ہیں:) اے ہمارے رب! ہمارے دلوں میں کجی پیدا نہ کر اس کے بعد کہ تو نے ہمیں ہدایت سے سرفراز فرمایا ہے اور ہمیں خاص اپنی طرف سے رحمت عطا فرما، بیشک تو ہی بہت عطا فرمانے والا ہے
Tafsir Ibn Kathir
The Mutashabihat and Muhkamat Ayat
Allah states that in the Qur'an, there are Ayat that are Muhkamat, entirely clear and plain, and these are the foundations of the Book which are plain for everyone. And there are Ayat in the Qur'an that are Mutashabihat not entirely clear for many, or some people. So those who refer to the Muhkam Ayat to understand the Mutashabih Ayat, will have acquired the correct guidance, and vice versa. This is why Allah said,
هُنَّ أُمُّ الْكِتَـبِ
(They are the foundations of the Book), meaning, they are the basis of the Qur'an, and should be referred to for clarification, when warranted,
وَأُخَرُ مُتَشَـبِهَـتٌ
(And others not entirely clear) as they have several meanings, some that agree with the Muhkam and some that carry other literal indications, although these meaning might not be desired.
The Muhkamat are the Ayat that explain the abrogating rulings, the allowed, prohibited, laws, limits, obligations and rulings that should be believed in and implemented. As for the Mutashabihat Ayat, they include the abrogated Ayat, parables, oaths, and what should be believed in, but not implemented.
Muhammad bin Ishaq bin Yasar commented on,
مِنْهُ آيَـتٌ مُّحْكَمَـتٌ
(In it are verses that are entirely clear) as "Containing proof of the Lord, immunity for the servants and a refutation of opponents and of falsehood. They cannot be changed or altered from what they were meant for." He also said, "As for the unclear Ayat, they can (but must not) be altered and changed, and this is a test from Allah to the servants, just as He tested them with the allowed and prohibited things. So these Ayat must not be altered to imply a false meaning or be distorted from the truth."
Therefore, Allah said,
فَأَمَّا الَّذِينَ فى قُلُوبِهِمْ زَيْغٌ
(So as for those in whose hearts there is a deviation) meaning, those who are misguided and deviate from truth to falsehood,
فَيَتَّبِعُونَ مَا تَشَـبَهَ مِنْهُ
(they follow that which is not entirely clear thereof) meaning, they refer to the Mutashabih, because they are able to alter its meanings to conform with their false interpretation since the wordings of the Mutashabihat encompass such a wide area of meanings. As for the Muhkam Ayat, they cannot be altered because they are clear and, thus, constitute unequivocal proof against the misguided people. This is why Allah said,
ابْتِغَآءَ الْفِتْنَةِ
(seeking Al-Fitnah) meaning, they seek to misguide their following by pretending to prove their innovation by relying on the Qur'an -- the Mutashabih of it -- but, this is proof against and not for them. For instance, Christians might claim that `Isa is divine because the Qur'an states that he is Ruhullah and His Word, which He gave to Mary, all the while ignoring Allah's statements,
إِنْ هُوَ إِلاَّ عَبْدٌ أَنْعَمْنَا عَلَيْهِ
(He `Isa was not more than a servant. We granted Our favor to him.) 43:59, and,
إِنَّ مَثَلَ عِيسَى عِندَ اللَّهِ كَمَثَلِ ءَادَمَ خَلَقَهُ مِن تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهُ كُن فَيَكُونُ
(Verily, the likeness of `Isa before Allah is the likeness of Adam. He created him from dust, then (He) said to him: "Be!" and he was.) 3:59.
There are other Ayat that clearly assert that `Isa is but one of Allah's creatures and that he is the servant and Messenger of Allah ﷺ, among other Messengers.
Allah's statement,
وَابْتِغَآءَ تَأْوِيلِهِ
(And seeking for its Ta'wil,) to alter them as they desire. Imam Ahmad recorded that `A'ishah said, "The Messenger of Allah ﷺ recited,
هُوَ الَّذِى أَنزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَـبَ مِنْهُ آيَـتٌ مُّحْكَمَـتٌ هُنَّ أُمُّ الْكِتَـبِ وَأُخَرُ مُتَشَـبِهَـتٌ
(It is He Who has sent down to you the Book. In it are verses that are entirely clear, they are the foundations of the Book; and others not entirely clear,), until,
أُوْلُواْ الأَلْبَـبِ
(Men of understanding) and he said,
«فَإِذَا رَأَيْتُمُ الَّذِين يُجَادِلُونَ فِيهِ، فَهُمُ الَّذِينَ عَنَى اللهُ، فَاحْذَرُوهُم»
(When you see those who argue in it (using the Mutashabihat), then they are those whom Allah meant. Therefore, beware of them.)"
Al-Bukhari recorded a similar Hadith in the Tafsir of this Ayah 3:7, as did Muslim in the book of Qadar (the Divine Will) in his Sahih, and Abu Dawud in the Sunnah section of his Sunan, from `A'ishah; "The Messenger of Allah ﷺ recited this Ayah,
هُوَ الَّذِى أَنزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَـبَ مِنْهُ آيَـتٌ مُّحْكَمَـتٌ
(It is He Who has sent down to you the Book. In it are verses that are entirely clear,) until,
وَمَا يَذَّكَّرُ إِلاَّ أُوْلُواْ الأَلْبَـبِ
(And none receive admonition except men of understanding.)
He then said,
«فَإِذَا رَأَيْتِ الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ؛ فَأُولئِكَ الَّذِينَ سَمَّى اللهُ، فَاحْذَرُوهُم»
(When you see those who follow what is not so clear of the Qur'an, then they are those whom Allah described, so beware of them.)"
This is the wording recorded by Al-Bukhari.
Only Allah Knows the True Ta'wil (Interpretation) of the Mutashabihat
Allah said,
وَمَا يَعْلَمُ تَأْوِيلَهُ إِلاَّ اللَّهُ
(But none knows its Ta'wil except Allah.)
Similarly, as preceded in what has been reported from Ibn `Abbas, "Tafsir is of four types: Tafsir that the Arabs know in their language; Tafsir that no one is excused of being ignorant of; Tafsir that the scholars know; and Tafsir that only Allah knows." Scholars of Qur'an recitation have different opinions about pausing at Allah's Name in this Ayah. This stop was reported from `A'ishah, `Urwah, Abu Ash-Sha`tha' and Abu Nahik.
Some pause after reciting,
وَالرَسِخُونَ فِي الْعِلْمِ
(And those who are firmly grounded in knowledge) saying that the Qur'an does not address the people with what they cannot understand. Ibn Abi Najih said that Mujahid said that Ibn `Abbas said, "I am among those who are firmly grounded in its Ta'wil interpretation." The Messenger of Allah ﷺ supplicated for the benefit of Ibn `Abbas,
«اللَّهُمَّ فَقِّهْهُ فِي الدِّينِ وَعَلِّمْهُ التَّأْوِيل»
(O Allah! Bestow on him knowledge in the religion and teach him the Ta'wil (interpretation).)
Ta'wil has two meanings in the Qur'an, the true reality of things, and what they will turn out to be. For instance, Allah said,
وَقَالَ يأَبَتِ هَـذَا تَأْوِيلُ رُؤْيَـى مِن قَبْلُ
(And he said: "O my father! This is the Ta'wil of my dream aforetime!".) 12:100, and,
هَلْ يَنظُرُونَ إِلاَّ تَأْوِيلَهُ يَوْمَ يَأْتِى تَأْوِيلُهُ
(Await they just for it's Ta'wil On the Day (Day of Resurrection) it's Ta'wil is finally fulfillled.)(7:53) refers to the true reality of Resurrection that they were told about. If this is the meaning desired in the Ayah above 3:7, then pausing after reciting Allah's Name is warranted, because only Allah knows the true reality of things. In this case, Allah's statement,
وَالرَسِخُونَ فِي الْعِلْمِ
(And those who are firmly grounded in knowledge) is connected to His statement,
يَقُولُونَ ءَامَنَّا بِهِ
(say: "We believe in it") If the word Ta'wil means the second meaning, that is, explaining and describing, such as what Allah said,
نَبِّئْنَا بِتَأْوِيلِهِ
((They said): "Inform us of the Ta'wil of this") meaning its explanation, then pausing after reciting,
وَالرَسِخُونَ فِي الْعِلْمِ
(And those who are firmly grounded in knowledge) is warranted. This is because the scholars have general knowledge in, and understand what they were addressed with, even though they do not have knowledge of the true reality of things. Therefore, Allah's statement,
يَقُولُونَ ءَامَنَّا بِهِ
(say: "We believe in it") describes the conduct of the scholars. Similarly, Allah said,
وَجَآءَ رَبُّكَ وَالْمَلَكُ صَفّاً صَفّاً
(And your Lord comes, and the angels, in rows.) 89:22 means, your Lord will come, and the angels will come in rows.
Allah's statement that the knowledgeable people proclaim,
يَقُولُونَ ءَامَنَّا بِهِ
(We believe in it) means, they believe in the Mutashabih.
كُلٌّ مِّنْ عِندِ رَبِّنَا
(all of it is from our Lord) meaning, both the Muhkam and the Mutashabih are true and authentic, and each one of them testifies to the truth of the other. This is because they both are from Allah and nothing that comes from Allah is ever met by contradiction or discrepancy. Allah said,
أَفَلاَ يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْءَانَ وَلَوْ كَانَ مِنْ عِندِ غَيْرِ اللَّهِ لَوَجَدُواْ فِيهِ اخْتِلَـفاً كَثِيراً
(Do they not then consider the Qur'an carefully Had it been from other than Allah, they would surely have found therein many a contradiction.) 4:82.
Allah said in his Ayah 3:7,
وَمَا يَذَّكَّرُ إِلاَّ أُوْلُواْ الأَلْبَـبِ
(And none receive admonition except men of understanding. ) meaning, those who have good minds and sound comprehension, understand, contemplate and comprehend the meaning in the correct manner. Further, Ibn Al-Mundhir recorded in his Tafsir that Nafi` bin Yazid said, "Those firmly grounded in knowledge are those who are modest for Allah's sake, humbly seek His pleasure, and do not exaggerate regarding those above them, or belittle those below them."
Allah said that they supplicate to their Lord,
رَبَّنَا لاَ تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا
(Our Lord! Let not our hearts deviate (from the truth) after You have guided us.) meaning, "Do not deviate our hearts from the guidance after You allowed them to acquire it. Do not make us like those who have wickedness in their hearts, those who follow the Mutashabih in the Qur'an. Rather, make us remain firmly on Your straight path and true religion."
وَهَبْ لَنَا مِن لَّدُنكَ
(And grant us from Ladunka) meaning, from You,
رَحْمَةً
(Mercy) with which You make our hearts firm, and increase in our Faith and certainty,
إِنَّكَ أَنتَ الْوَهَّابُ
(Truly, You are the Bestower)
Ibn Abi Hatim and Ibn Jarir recorded that Umm Salamah said that the Prophet used to supplicate,
«يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَى دِينِك»
(O You Who changes the hearts, make my heart firm on Your religion.)
He then recited,
رَبَّنَا لاَ تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِن لَّدُنكَ رَحْمَةً إِنَّكَ أَنتَ الْوَهَّابُ
("Our Lord! Let not our hearts deviate (from the truth) after You have guided us, and grant us mercy from You. Truly, You are the Bestower.") The Ayah continues,
رَبَّنَآ إِنَّكَ جَامِعُ النَّاسِ لِيَوْمٍ لاَّ رَيْبَ فِيهِ
("Our Lord! Verily, it is You Who will gather mankind together on the Day about which there is no doubt") meaning, they say in their supplication: O our Lord! You will gather Your creation on the Day of Return, judge between them and decide over what they disputed about. Thereafter, You will reward or punish each according to the deeds they did in this life.
ہماری سمجھ سے بلند آیات یہاں یہ بیان ہو رہا ہے کہ قرآن میں ایسی آیتیں بھی ہیں جن کا بیان بہت واضح بالکل صاف اور سیدھا ہے۔ ہر شخص اس کے مطلب کو سمجھ سکتا ہے، اور بعض آیتیں ایسی بھی ہیں جن کے مطلب تک عام ذہنوں کی رسائی نہیں ہوسکتی، اب جو لوگ نہ سمجھ میں آنے والی آیتوں کے مفہوم کو پہلی قسم کی آیتوں کی روشنی میں سمجھ لیں یعنی جس مسئلہ کی صراحت جس آیت میں پائیں لے لیں، وہ تو راستی پر ہیں اور جو صاف اور صریح آیتوں کو چھوڑ کر ایسی آیتوں کو دلیل بنائیں جو ان کے فہم سے بالاتر ہیں، ان میں الجھ جائیں تو منہ کے بل گرپڑیں، ام الکتاب یعنی کتاب اللہ اصل اصولوں کی وہ صاف اور واضح آیتیں ہیں، شک و شبہ میں نہ پڑو اور کھلے احکام پر عمل کرو انہی کو فیصلہ کرنے والی مانو اور جو نہ سمجھ میں آئے اسے بھی ان سے ہی سمجھو، بعض اور آیتیں ایسی بھی ہیں کہ ایک معنی تو ان کا ایسا نکلتا ہے جو ظاہر آیتوں کے مطابق ہو اور اس کے سوا اور معانی بھی نکلتے ہیں، گو وہ حرف لفظ اور ترکیب کے اعتبار سے واقعی طور پر نہ ہو تو ان غیر ظاہر معنوں میں نہ پھنسو، محکم اور متشابہ کے بہت سے معنی اسلاف سے منقول ہیں، حضرت ابن عباس تو فرماتے ہیں کہ محکمات وہ ہیں جو ناسخ ہوں جن میں حلال حرام احکام حکم ممنوعات حدیں اور اعمال کا بیان ہو، اسی طرح آپ سے یہ بھی مروی ہے (آیت قل تعالوا اتل ما حرم ربکم علیکم الخ،) اور اس کے بعد کے احکامات والی اور (آیت وقضی ربک ان لا تبعدوا الخ،) اور اس کے بعد کی تین آیتیں محکمات سے ہیں، حضرت ابو فاختہ فرماتے ہیں سورتوں کے شروع میں فرائض اور احکام اور روک ٹوک اور حلال و حرام کی آیتیں ہیں، سعید بن جبیر کہتے ہیں انہیں اصل کتاب اس لئے کہا جاتا ہے کہ یہ تمام کتابوں میں ہیں، حضرت مقاتل کہتے ہیں اس لئے کہ تمام مذہب والے انہیں مانتے ہیں، متشابہات ان آیتوں کو کہتے ہیں جو منسوخ ہیں اور جو پہلے اور بعد کی ہیں اور جن میں مثالیں دی گئیں ہیں اور قسمیں کھائی گئی ہیں اور جن پر صرف ایمان لایا جاتا ہے اور عمل کیلئے وہ احکام نہیں، حضرت ابن عباس کا بھی یہی فرمان ہے حضرت مقاتل فرماتے ہیں اس سے مراد سورتوں کے شروع کے حروف مقطعات ہیں۔ حضرت مجاہد کا قول یہ ہے کہ ایک دوسرے کی تصدیق کرنے والی ہیں، جیسے اور جگہ ہے آیت (كِتٰبًا مُّتَشَابِهًا مَّثَانِيَ) 39۔ الزمر :23) اور مثانی وہ ہے جہاں دو مقابل کی چیزوں کا ذکر ہو جیسے جنت دوزخ کی صفت، نیکوں اور بدوں کا حال وغیرہ وغیرہ۔ اس آیت میں متشابہ محکم کے مقابلہ میں اس لئے ٹھیک مطلب وہی ہے جو ہم نے پہلے بیان کیا اور حضرت محمد بن اسحاق بن یسار کا یہی فرمان ہے، فرماتے ہیں یہ رب کی حجت ہے ان میں بندوں کا بچاؤ ہے، جھگڑوں کا فیصلہ ہے، باطل کا خاتمہ ہے، انہیں ان کے صحیح اور اصل مطلب سے کوئی گھما نہیں سکتا نہ ان کے معنی میں ہیرپھیر کرسکتا ہے۔ متشابہات کی سچائی میں کلام نہیں ان میں تصرف و تاویل نہیں کرنی چاہئے۔ ان سے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے ایمان کو آزماتا ہے جیسے حلال حرام سے آزماتا ہے، انہیں باطل کی طرف لے جانا اور حق سے پھیرنا چاہئے۔ پھر فرماتا ہے کہ جن کے دلوں میں کجی ٹیڑھ پن گمراہی اور حق سے باطل کی طرف ہی ہے وہ تو متشابہ آیتوں کو لے کر اپنے بدترین مقاصد کو پورا کرنا چاہتے ہیں اور لفظی اختلاف سے ناجائز فائدہ اٹھا کر اپنے مذموم مقاصد کی طرف موڑ لیتے ہیں اور جو محکم آیتیں ان میں ان کا وہ مقصد پورا نہیں ہوتا۔ کیونکہ ان کے الفاظ بالکل صاف اور کھلے ہوئے ہوتے ہیں نہ وہ انہیں ہٹا سکتے ہیں نہ ان سے اپنے لئے کوئی دلیل حاصل کرسکتے ہیں۔ اسی لئے فرمان ہے کہ اس سے ان کا مقصد فتنہ کی تلاش ہوتی ہے تاکہ اپنے ماننے والوں کو بہکائیں، اپنی بدعتوں کی مدافعت کریں جیسا کہ عیسائیوں نے قرآن کے الفاظ روح اللہ اور کلمۃ اللہ سے حضرت عیسیٰ کے اللہ کا لڑکا ہونے کی دلیل لی ہے۔ پس اس متشابہ آیت کو لے کر صاف آیت جس میں یہ لفظ ہیں کہ (آیت ان ھو الا عبد الخ، یعنی حضرت عیسیٰ اللہ کے غلام ہیں، جن پر اللہ کا انعام ہے، اور جگہ ہے آیت (اِنَّ مَثَلَ عِيْسٰى عِنْدَ اللّٰهِ كَمَثَلِ اٰدَمَ) 3۔ آل عمران :59) یعنی حضرت عیسیٰ کی مثال اللہ تعالیٰ کے نزدیک حضرت آدم کی طرح ہے کہ انہیں اللہ نے مٹی سے پیدا کیا پھر اسے کہا کہ ہوجا، وہ ہوگیا، چناچہ اسی طرح کی اور بھی بہت سی صریح آیتیں ہیں ان سب کو چھوڑ دیا اور متشابہ آیتوں سے حضرت عیسیٰ کے اللہ کا بیٹا ہونے پر دلیل لے لی حالانکہ آپ اللہ کی مخلوق ہیں، اللہ کے بندے ہیں، اس کے رسول ہیں۔ پھر فرماتا ہے کہ ان کی دوسری غرض آیت کی تحریف ہوتی ہے تاکہ اسے اپنی جگہ سے ہٹا کر مفہوم بدل لیں، حضور ﷺ نے یہ آیت پڑھ کر فرمایا کہ جب تم ان لوگوں کو دیکھو جو متشابہ آیتوں میں جھگڑتے ہیں تو انہیں چھوڑ دو ، ایسے ہی لوگ اس آیت میں مراد لئے گئے ہیں۔ یہ حدیث مختلف طریق سے بہت سی کتابوں میں مروی ہے، صحیح بخاری شریف میں بھی یہ حدیث اس آیت کی تفسیر میں مروی ہے، ملاحظہ ہو کتاب القدر، ایک اور حدیث میں ہے یہ لوگ خوارج ہیں (مسند احمد) پس اس حدیث کو زیادہ سے زیادہ موقوف سمجھ لیا جائے تاہم اس کا مضمون صحیح ہے اس لئے کہ پہلے بدعت خوارج نے ہی پھیلائی ہے، فرقہ محض دنیاوی رنج کی وجہ سے مسلمانوں سے الگ ہوا۔ حضور ﷺ نے جس وقت حنین کی غنیمت کا مال تقسیم کیا اس وقت ان لوگوں نے اسے خلاف عدل سمجھا اور ان میں سے ایک نے جسے ذواخویصرہ کہا جاتا ہے اس نے حضور ﷺ کے سامنے آکر صاف کہا کہ حضرت عدل کیجئے، آپ نے اس تقسیم میں انصاف نہیں کیا، آپ ﷺ نے فرمایا مجھے اللہ نے امین بنا کر بھیجا تھا، اگر میں بھی عدل نہیں کروں تو پھر برباد ہو اور نقصان اٹھائے، جب وہ پلٹا تو حضرت عمر فاروق نے درخواست کی کہ مجھے اجازت دی جائے کہ میں اسے مار ڈالوں، آپ ﷺ نے فرمایا چھوڑ دو ، اس کے ہم خیال ایک ایسی قوم پیدا ہوگی کہ تم لوگ اپنی نمازوں کو ان کی نمازوں کے مقابلہ اور اپنی قرآن خوانی کو ان کی قرآن خوانی کے مقابلہ میں حقیر سمجھو گے لیکن دراصل وہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جس طرح تیر کمان سے نکل جاتا ہے، تم جہاں انہیں پاؤ گے قتل کرو گے، انہیں قتل کرنے والے کو بڑا ثواب ملے گا، حضرت علی کی خلافت کے زمانہ میں ان کا ظہور ہوا اور آپ نے انہیں نہروان میں قتل کیا پھر ان میں پھوٹ پڑی تو ان کے مختلف الخیال فرقے پیدا ہوگئے، نئی نئی بدعتیں دین میں جاری ہوگئیں اور اللہ کی راہ سے بہت دور چلے گئے، ان کے بعد قدریہ فرقے کا ظہور ہوا، پھر معتزلہ پھر جہمیہ وغیرہ پیدا ہوئے اور حضور ﷺ کی پیشنگوئی پوری ہوئی کہ میری امت میں عنقریب تہتر فرقے ہوں گے سب جہنمی ہوں گے سوائے ایک جماعت کے۔ صحابہ نے پوچھا وہ کون لوگ ہوں گے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا وہ جو اس چیز پر ہوں جس پر میں ہوں اور میرے اصحاب (مستدرک حاکم) ایویعلیٰ کی حدیث میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا میری امت میں سے ایک قوم پیدا ہوگی جو قرآن تو پڑھے گی لیکن اسے اس طرح پھینکے گی جیسے کوئی کھجور کی گٹھلیاں پھینکتا ہو، اس کے غلط مطالب بیان کرے گی، پھر فرمایا اس کی حقیقی تاویل اور واقعی مطلب اللہ ہی جانتا ہے، لفظ اللہ پر وقف ہے یا نہیں ؟ اس میں اختلاف ہے، حضرت عبداللہ بن عباس تو فرماتے ہیں تفسیر چار قسم کی ہے، ایک وہ جس کے سمجھنے میں کسی کو مشکل نہیں، ایک وہ جسے عرب اپنے لغت سے سمجھتے ہیں، ایک وہ جسے جید علماء اور پورے علم والے ہی جانتے ہیں اور ایک وہ جسے بجزذات الہٰی کے اور کوئی نہیں جانتا۔ یہ روایت پہلے بھی گزر چکی ہے، حضرت عائشہ کا بھی یہی قول ہے، معجم کبیر میں حدیث ہے کہ مجھے اپنی امت پر صرف تین باتوں کا ڈر ہے۔ مال کی کثرت کا جس سے حسد و بغض پیدا ہوگا اور آپس کی لڑائی شروع ہوگی، دوسرا یہ کہ کتاب اللہ کی تاویل کا سلسلہ شروع ہوگا حالانکہ اصلی مطلب ان کا اللہ ہی جانتا ہے اور اہل علم والے کہیں گے کہ ہمارا اس پر ایمان ہے۔ تیسرے یہ کہ علم حاصل کرنے کے بعد اسے بےپرواہی سے ضائع کردیں گے، یہ حدیث بالکل غریب ہے اور حدیث میں ہے کہ قرآن اس لئے نہیں اترا کہ ایک آیت دوسری آیت کی مخالف ہو، جس کا تمہیں علم ہو اور اس پر عمل کرو اور جو متشابہ ہوں ان پر ایمان لاؤ (ابن مردویہ) ابن عباس حضرت عمر بن عبدالعزیز اور حضرت مالک بن انس سے بھی یہی مروی ہے کہ بڑے سے بڑے عالم بھی اس کی حقیقت سے آگاہ نہیں ہوتے، ہاں اس پر ایمان رکھتے ہیں۔ ابن مسعود فرماتے ہیں کہ پختہ علم والے یہی کہتے ہیں اس کی تاویل کا علم اللہ ہی کو ہے کہ اس پر ہمارا ایمان ہے۔ ابی بن کعب بھی یہی فرماتے ہیں، امام ابن جریر بھی اسی سے اتفاق کرتے ہیں، یہ تو تھی وہ جماعت جو الا اللہ پر وقف کرتی تھی اور بعد کے جملہ کو اس سے الگ کرتی تھی، کچھ لوگ یہاں نہیں ٹھہرتے اور فی العلم پر وقف کرتے ہیں، اکثر مفسرین اور اہل اصول بھی یہی کہتے ہیں، ان کی بڑی دلیل یہ ہے کہ جو سمجھ میں نہ آئے اس بات کا ٹھیک نہیں، حضرت ابن عباس فرمایا کرتے تھے میں ان راسخ علماء میں ہوں جو تاویل جانتے ہیں، مجاہد فرماتے ہیں راسخ علم والے تفسیر جانتے ہیں، حضرت محمد بن جعفر بن زبیر فرماتے ہیں کہ اصل تفسیر اور مراد اللہ ہی جانتا ہے اور مضبوط علم والے کہتے ہیں کہ ہم اس پر ایمان لائے پھر متشابہات آیتوں کی تفسیر محکمات کی روشنی کرتے ہیں جن میں کسی کو بات کرنے کی گنجائش نہیں رہتی، قرآن کے مضامین ٹھیک ٹھاک سمجھ میں آتے ہیں دلیل واضح ہوتی ہے، عذر ظاہر ہوجاتا ہے، باطل چھٹ جاتا ہے اور کفر دفع ہوجاتا ہے، حدیث میں ہے کہ حضور ﷺ نے حضرت عبداللہ بن عباس کیلئے دعا کی کہ اے اللہ انہیں دین کی سمجھ دے اور تفسیر کا علم تھے، بعض علماء نے تفصیل سے بات کرتے ہوئے کہا ہے، قرآن کریم میں تاویل دو معنی میں آئی ہے، ایک معنی جن سے مفہوم کی اصلی حقیقت اور اصلیت کی نشاندہی ہوتی ہے، جیسے قرآن میں ہے (يٰٓاَبَتِ هٰذَا تَاْوِيْلُ رُءْيَايَ مِنْ قَبْلُ ۡ قَدْ جَعَلَهَا رَبِّيْ حَقًّا) 12۔ یوسف :100) میرے باپ میرے خواب کی یہی تعبیر ہے، اور جگہ ہے آیت (هَلْ يَنْظُرُوْنَ اِلَّا تَاْوِيْلَهٗ ۭ يَوْمَ يَاْتِيْ تَاْوِيْلُهٗ يَقُوْلُ الَّذِيْنَ نَسُوْهُ مِنْ قَبْلُ قَدْ جَاۗءَتْ رُسُلُ رَبِّنَا بالْحَقِّ) 7۔ الاعراف :53) کافروں کے انتظار کی حد حقیقت کے ظاہر ہونے تک ہے اور یہ دن وہ ہوگا جب حقیقت سچائی کی گواہ بن کر نمودار ہوگی، پس ان دونوں جگہ پر تاویل سے مراد حقیقت ہے، اگر اس آیت مبارکہ میں تاویل سے مراد یہی تاویل لی جائے تو الا اللہ پر وقف ضروری ہے اس لئے کہ تمام کاموں کی حقیقت اور اصلیت بجز ذات پاک کے اور کوئی نہیں جانتا تو راسخون فی العلم مبتدا ہوگا اور یقولون امنابہ خبر ہوگی اور یہ جملہ بالکل الگ ہوگا اور تاویل کے دوسرے معنی تفسیر اور بیان اور ہے اور ایک شئی کی تعبیر دوسری شے ہے، جیسے قرآن میں ہے آیت (نَبِّئْنَا بِتَاْوِيْـلِهٖ) 12۔ یوسف :36) ہمیں اس کی تاویل بتاؤ یعنی تفسیر اور بیان، اگر آیت مذکورہ میں تاویل سے یہ مراد لی جائے تو فی العلم پر وقف کرنا چاہئے، اس لئے کہ پختہ علم والے علماء جانتے ہیں اور سمجھتے ہیں کیونکہ خطاب انہی سے ہے، گو حقائق کا علم انہیں بھی نہیں، تو اس بنا پر امنا بہ حال ہوگا اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ بغیر معطوف علیہ کے معطوف ہو، جیسے اور جگہ ہے آیت (لِلْفُقَرَاۗءِ الْمُهٰجِرِيْنَ الَّذِيْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِيَارِهِمْ) 59۔ الحشر :8) سے (يَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِاِخْوَانِنَا الَّذِيْنَ سَبَقُوْنَا بالْاِيْمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِيْ قُلُوْبِنَا غِلًّا لِّلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا رَبَّنَآ اِنَّكَ رَءُوْفٌ رَّحِيْمٌ) 59۔ الحشر :10) تک دوسری جگہ ہے آیت (وَّجَاۗءَ رَبُّكَ وَالْمَلَكُ صَفًّا صَفًّا) 89۔ الفجر :22) یعنی وجاء الملائکۃ صفوفا صفوفا اور ان کی طرف سے یہ خبر کہ ہم اس پر ایمان لائے اس کے یہ معنی ہوں گے کہ متشابہ پر ایمان لائے، پھر اقرار کرتے ہیں کہ یہ سب یعنی محکم اور متشابہ حق اور سچ ہے اور یعنی ہر ایک دوسرے کی تصدیق کرتا ہے اور گواہی دیتا ہے کہ یہ سب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اس میں کوئی اختلاف اور تضاد نہیں، جیسے اور جگہ ہے آیت (اَفَلَا يَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ ۭوَلَوْ كَانَ مِنْ عِنْدِ غَيْرِ اللّٰهِ لَوَجَدُوْا فِيْهِ اخْتِلَافًا كَثِيْرًا) 4۔ النسآء :82) یعنی کیا یہ لوگ قرآن میں غور و فکر نہیں کرتے، اگر یہ اللہ کے سوا کسی اور کی طرف سے ہوتا تو اس میں بہت سا اختلاف ہوتا، اسی لئے یہاں بھی فرمایا کہ اسے صرف عقلمند ہی سمجھتے ہیں جو اس پر غور و تدبر کریں، جو صحیح سالم عقل والے ہوں جن کے دماغ درست ہوں، حضور ﷺ سے سوال ہوتا ہے کہ پختہ علم والے کون ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا جس کی قسم سچی ہو، جس کی زبان راست گو ہو، جس کا دل سلامت ہو، جس کا پیٹ حرام سے بچا ہو اور جس کی شرم گاہ زناکاری سے محفوظ ہو، وہ مضبوط علم والے ہیں (ابن ابی حاتم) اور حدیث میں ہے کہ آپ نے چند لوگوں کو دیکھا کہ وہ قرآن شریف کے بارے میں لڑ جھگڑ رہے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا سنو تم سے پہلے لوگ بھی اسی میں ہلاک ہوئے کہ انہوں نے کتاب اللہ کی آیتوں کو ایک دوسرے کیخلاف بتا کر اختلاف کیا حالانکہ کتاب اللہ کی ہر آیت ایک دوسرے کی تصدیق کرتی ہے، تم ان میں اختلاف پیدا کرکے ایک کو دوسری کے متضاد نہ کہو، جو جانو وہی کہو اور جو نہیں جانو اسے جاننے والوں کو سونپ دو (مسند احمد) اور حدیث میں ہے کہ قرآن سات حرفوں پر اترا، قرآن میں جھگڑنا کفر ہے، قرآن میں اختلاف اور تضاد پیدا کرنا کفر ہے، جو جانو اس پر عمل کرو، جو نہ جانو اسے جاننے والے کی طرف سونپو جل جلالہ (ایویعلی) راسخ فی العلم کون ؟نافع بن یزید کہتے ہیں راسخ فی العلم وہ لوگ ہیں جو متواضح ہوں جو عاجزی کرنے والے ہوں، رب کی رضا کے طالب ہوں، اپنے سے بڑوں سے مرعوب نہ ہوں، اپنے سے چھوٹے کو حقیر سمجھنے والے نہ ہوں۔ پھر فرمایا کہ یہ سب دعا کرتے ہیں کہ ہمارے دلوں کو ہدایت پر جمانے کے بعد انہیں ان لوگوں کے دلوں کی طرح نہ کر جو متشابہ کے پیچھے پڑ کر برباد ہوجاتے ہیں بلکہ ہمیں اپنی صراط مستقیم پر قائم رکھ اور اپنے مضبوط دین پر دائم رکھ، ہم پر اپنی رحمت نازل فرما، ہمارے دلوں کو قرار دے، ہم سے گندگی کو دور کر، ہمارے ایمان و یقین کو بڑھا تو بہت بڑا دینے والا ہے، رسول اللہ ﷺ دعا مانگا کرتے تھے حدیث (یا مقلب القلوب ثبت قلبی علی دینک) اے دلوں کے پھیرنے والے میرے دل کو اپنے دین پر جما ہوا رکھ، پھر یہ دعا ربنا لاتزغ پڑھتے اور حدیث میں ہے کہ آپ بکثرت یہ دعا پڑھتے تھے حدیث (اللھم مقلب القلوب ثبت قلبی علی دینک حضرت اسماء نے ایک دن پوچھا کیا دل الٹ پلٹ ہوجاتا ہے ؟ آپ نے فرمایا ہاں ہر انسان کا دل اللہ تعالیٰ کی انگلیوں میں سے دو انگلیوں کے درمیان ہے، اگر چاہے قائم رکھے اگر چاہے پھیر دے، ہماری دعا ہے ہمارا رب دلوں کو ہدایت کے بعد ٹیڑھا نہ کر دے اور ہمیں اپنے پاس سے رحمتیں عنایت فرمائے، وہ بہت زیادہ دینے والا ہے۔ ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ میں نے کہا یارسول اللہ ﷺ مجھے کوئی ایسی دعا سکھائیے کہ میں اپنے لئے مانگا کروں، آپ نے فرمایا یہ دعا مانگ (حدیث اللھم رب محمد النبی اغفرلی ذنبی و اذھب غیظ قلبی و اجرنی من مضلات الفتن) اے اللہ اے محمد نبی ﷺ کے رب میرے گناہ معاف فرما، میرے دل کا غصہ اور رنج اور سختی دور کر اور مجھے گمراہ کرنے والے فتنوں سے بچا لے، حضرت عائشہ صدیقہ نے بھی آپ کی دعا یا مقلب القلوب سن کر حضرت اسماء کی طرح میں نے بھی یہی سوال کیا اور آپ نے وہی جواب دیا اور پھر قرآن کی یہ دعا سنائی، یہ حدیث غریب ہے لیکن قرآنی آیت کی تلاوت کے بغیر یہی بخاری مسلم میں بھی مروی ہے، اور نسائی میں ہے کہ حضور ﷺ جب رات کو جاگتے تو یہ دعا پڑھتے (حدیث لا الہ الا انت سبحانک استغفرک لذنبی واسئلک رحمۃ اللھم زدنی علما ولا تزغ بعد اذ ھدیتنی وھب لی من لدنک رحمۃ انک انت الوھاب) اے اللہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں، میں تجھ سے اپنے گناہوں کی بخشش مانگتا ہوں اور تجھ سے تیری رحمت کا سوال کرتا ہوں، اللہ میرے علم میں زیادتی فرما اور میرے دل کو تو نے ہدایت دے دی ہے اسے گمراہ نہ کرنا اور مجھے اپنے پاس کی رحمت بخش تو بہت زیادہ دینے والا۔ حضرت ابوبکر صدیق نے مغرب کی نماز پڑھائی، پہلی دو رکعتوں میں الحمدشریف کے بعد مفصل کی چھوٹی سی دو سورتیں پڑھیں اور تیسری رکعت میں سورة الحمد شریف کے بعد یہی آیت پڑھی۔ ابو عبد اللہ صبالجی فرماتے ہیں میں اس وقت ان کے قریب چلا گیا تھا، یہاں تک کہ میرے کپڑے ان کے کپڑوں سے مل گئے تھے اور میں نے خود اپنے کان سے ابوبکر صدیق کو یہ پڑھتے ہوئے سنا (عبدالرزاق) حضرت عمر بن عبدالعزیز نے جب تک یہ حدیث نہیں سنی تھی آپ اس رکعت میں قل ھو اللہ پڑھا کرتے تھے لیکن یہ حدیث سننے کے بعد امیرالمومنین نے بھی اسی کو پڑھنا شروع کیا اور کبھی ترک نہیں کیا۔ پھر فرمایا وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ اے اللہ تو قیامت کے دن اپنی تمام مخلوق کو جمع کرنے والا ہے اور ان میں فیصلے اور حکم کرنے والا ہے، ان کے اختلافات کو سمیٹنے والا ہے اور ہر ایک کو بھلے برے عمل کا بدلہ دینے والا ہے اس دن کے آنے میں اور تیرے وعدوں کے سچے ہونے میں کوئی شک نہیں۔
رَبَّنَآ إِنَّكَ جَامِعُ ٱلنَّاسِ لِيَوۡمٖ لَّا رَيۡبَ فِيهِۚ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يُخۡلِفُ ٱلۡمِيعَادَ
“Our Lord! Indeed You will gather all mankind for a Day about which there is no doubt"; indeed Allah’s promise does not change.
اے ہمارے رب! بیشک تو اس دن کہ جس میں کوئی شک نہیں سب لوگوں کو جمع فرمانے والا ہے، یقینا اللہ (اپنے) وعدہ کے خلاف نہیں کرتا
Tafsir Ibn Kathir
The Mutashabihat and Muhkamat Ayat
Allah states that in the Qur'an, there are Ayat that are Muhkamat, entirely clear and plain, and these are the foundations of the Book which are plain for everyone. And there are Ayat in the Qur'an that are Mutashabihat not entirely clear for many, or some people. So those who refer to the Muhkam Ayat to understand the Mutashabih Ayat, will have acquired the correct guidance, and vice versa. This is why Allah said,
هُنَّ أُمُّ الْكِتَـبِ
(They are the foundations of the Book), meaning, they are the basis of the Qur'an, and should be referred to for clarification, when warranted,
وَأُخَرُ مُتَشَـبِهَـتٌ
(And others not entirely clear) as they have several meanings, some that agree with the Muhkam and some that carry other literal indications, although these meaning might not be desired.
The Muhkamat are the Ayat that explain the abrogating rulings, the allowed, prohibited, laws, limits, obligations and rulings that should be believed in and implemented. As for the Mutashabihat Ayat, they include the abrogated Ayat, parables, oaths, and what should be believed in, but not implemented.
Muhammad bin Ishaq bin Yasar commented on,
مِنْهُ آيَـتٌ مُّحْكَمَـتٌ
(In it are verses that are entirely clear) as "Containing proof of the Lord, immunity for the servants and a refutation of opponents and of falsehood. They cannot be changed or altered from what they were meant for." He also said, "As for the unclear Ayat, they can (but must not) be altered and changed, and this is a test from Allah to the servants, just as He tested them with the allowed and prohibited things. So these Ayat must not be altered to imply a false meaning or be distorted from the truth."
Therefore, Allah said,
فَأَمَّا الَّذِينَ فى قُلُوبِهِمْ زَيْغٌ
(So as for those in whose hearts there is a deviation) meaning, those who are misguided and deviate from truth to falsehood,
فَيَتَّبِعُونَ مَا تَشَـبَهَ مِنْهُ
(they follow that which is not entirely clear thereof) meaning, they refer to the Mutashabih, because they are able to alter its meanings to conform with their false interpretation since the wordings of the Mutashabihat encompass such a wide area of meanings. As for the Muhkam Ayat, they cannot be altered because they are clear and, thus, constitute unequivocal proof against the misguided people. This is why Allah said,
ابْتِغَآءَ الْفِتْنَةِ
(seeking Al-Fitnah) meaning, they seek to misguide their following by pretending to prove their innovation by relying on the Qur'an -- the Mutashabih of it -- but, this is proof against and not for them. For instance, Christians might claim that `Isa is divine because the Qur'an states that he is Ruhullah and His Word, which He gave to Mary, all the while ignoring Allah's statements,
إِنْ هُوَ إِلاَّ عَبْدٌ أَنْعَمْنَا عَلَيْهِ
(He `Isa was not more than a servant. We granted Our favor to him.) 43:59, and,
إِنَّ مَثَلَ عِيسَى عِندَ اللَّهِ كَمَثَلِ ءَادَمَ خَلَقَهُ مِن تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهُ كُن فَيَكُونُ
(Verily, the likeness of `Isa before Allah is the likeness of Adam. He created him from dust, then (He) said to him: "Be!" and he was.) 3:59.
There are other Ayat that clearly assert that `Isa is but one of Allah's creatures and that he is the servant and Messenger of Allah ﷺ, among other Messengers.
Allah's statement,
وَابْتِغَآءَ تَأْوِيلِهِ
(And seeking for its Ta'wil,) to alter them as they desire. Imam Ahmad recorded that `A'ishah said, "The Messenger of Allah ﷺ recited,
هُوَ الَّذِى أَنزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَـبَ مِنْهُ آيَـتٌ مُّحْكَمَـتٌ هُنَّ أُمُّ الْكِتَـبِ وَأُخَرُ مُتَشَـبِهَـتٌ
(It is He Who has sent down to you the Book. In it are verses that are entirely clear, they are the foundations of the Book; and others not entirely clear,), until,
أُوْلُواْ الأَلْبَـبِ
(Men of understanding) and he said,
«فَإِذَا رَأَيْتُمُ الَّذِين يُجَادِلُونَ فِيهِ، فَهُمُ الَّذِينَ عَنَى اللهُ، فَاحْذَرُوهُم»
(When you see those who argue in it (using the Mutashabihat), then they are those whom Allah meant. Therefore, beware of them.)"
Al-Bukhari recorded a similar Hadith in the Tafsir of this Ayah 3:7, as did Muslim in the book of Qadar (the Divine Will) in his Sahih, and Abu Dawud in the Sunnah section of his Sunan, from `A'ishah; "The Messenger of Allah ﷺ recited this Ayah,
هُوَ الَّذِى أَنزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَـبَ مِنْهُ آيَـتٌ مُّحْكَمَـتٌ
(It is He Who has sent down to you the Book. In it are verses that are entirely clear,) until,
وَمَا يَذَّكَّرُ إِلاَّ أُوْلُواْ الأَلْبَـبِ
(And none receive admonition except men of understanding.)
He then said,
«فَإِذَا رَأَيْتِ الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ؛ فَأُولئِكَ الَّذِينَ سَمَّى اللهُ، فَاحْذَرُوهُم»
(When you see those who follow what is not so clear of the Qur'an, then they are those whom Allah described, so beware of them.)"
This is the wording recorded by Al-Bukhari.
Only Allah Knows the True Ta'wil (Interpretation) of the Mutashabihat
Allah said,
وَمَا يَعْلَمُ تَأْوِيلَهُ إِلاَّ اللَّهُ
(But none knows its Ta'wil except Allah.)
Similarly, as preceded in what has been reported from Ibn `Abbas, "Tafsir is of four types: Tafsir that the Arabs know in their language; Tafsir that no one is excused of being ignorant of; Tafsir that the scholars know; and Tafsir that only Allah knows." Scholars of Qur'an recitation have different opinions about pausing at Allah's Name in this Ayah. This stop was reported from `A'ishah, `Urwah, Abu Ash-Sha`tha' and Abu Nahik.
Some pause after reciting,
وَالرَسِخُونَ فِي الْعِلْمِ
(And those who are firmly grounded in knowledge) saying that the Qur'an does not address the people with what they cannot understand. Ibn Abi Najih said that Mujahid said that Ibn `Abbas said, "I am among those who are firmly grounded in its Ta'wil interpretation." The Messenger of Allah ﷺ supplicated for the benefit of Ibn `Abbas,
«اللَّهُمَّ فَقِّهْهُ فِي الدِّينِ وَعَلِّمْهُ التَّأْوِيل»
(O Allah! Bestow on him knowledge in the religion and teach him the Ta'wil (interpretation).)
Ta'wil has two meanings in the Qur'an, the true reality of things, and what they will turn out to be. For instance, Allah said,
وَقَالَ يأَبَتِ هَـذَا تَأْوِيلُ رُؤْيَـى مِن قَبْلُ
(And he said: "O my father! This is the Ta'wil of my dream aforetime!".) 12:100, and,
هَلْ يَنظُرُونَ إِلاَّ تَأْوِيلَهُ يَوْمَ يَأْتِى تَأْوِيلُهُ
(Await they just for it's Ta'wil On the Day (Day of Resurrection) it's Ta'wil is finally fulfillled.)(7:53) refers to the true reality of Resurrection that they were told about. If this is the meaning desired in the Ayah above 3:7, then pausing after reciting Allah's Name is warranted, because only Allah knows the true reality of things. In this case, Allah's statement,
وَالرَسِخُونَ فِي الْعِلْمِ
(And those who are firmly grounded in knowledge) is connected to His statement,
يَقُولُونَ ءَامَنَّا بِهِ
(say: "We believe in it") If the word Ta'wil means the second meaning, that is, explaining and describing, such as what Allah said,
نَبِّئْنَا بِتَأْوِيلِهِ
((They said): "Inform us of the Ta'wil of this") meaning its explanation, then pausing after reciting,
وَالرَسِخُونَ فِي الْعِلْمِ
(And those who are firmly grounded in knowledge) is warranted. This is because the scholars have general knowledge in, and understand what they were addressed with, even though they do not have knowledge of the true reality of things. Therefore, Allah's statement,
يَقُولُونَ ءَامَنَّا بِهِ
(say: "We believe in it") describes the conduct of the scholars. Similarly, Allah said,
وَجَآءَ رَبُّكَ وَالْمَلَكُ صَفّاً صَفّاً
(And your Lord comes, and the angels, in rows.) 89:22 means, your Lord will come, and the angels will come in rows.
Allah's statement that the knowledgeable people proclaim,
يَقُولُونَ ءَامَنَّا بِهِ
(We believe in it) means, they believe in the Mutashabih.
كُلٌّ مِّنْ عِندِ رَبِّنَا
(all of it is from our Lord) meaning, both the Muhkam and the Mutashabih are true and authentic, and each one of them testifies to the truth of the other. This is because they both are from Allah and nothing that comes from Allah is ever met by contradiction or discrepancy. Allah said,
أَفَلاَ يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْءَانَ وَلَوْ كَانَ مِنْ عِندِ غَيْرِ اللَّهِ لَوَجَدُواْ فِيهِ اخْتِلَـفاً كَثِيراً
(Do they not then consider the Qur'an carefully Had it been from other than Allah, they would surely have found therein many a contradiction.) 4:82.
Allah said in his Ayah 3:7,
وَمَا يَذَّكَّرُ إِلاَّ أُوْلُواْ الأَلْبَـبِ
(And none receive admonition except men of understanding. ) meaning, those who have good minds and sound comprehension, understand, contemplate and comprehend the meaning in the correct manner. Further, Ibn Al-Mundhir recorded in his Tafsir that Nafi` bin Yazid said, "Those firmly grounded in knowledge are those who are modest for Allah's sake, humbly seek His pleasure, and do not exaggerate regarding those above them, or belittle those below them."
Allah said that they supplicate to their Lord,
رَبَّنَا لاَ تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا
(Our Lord! Let not our hearts deviate (from the truth) after You have guided us.) meaning, "Do not deviate our hearts from the guidance after You allowed them to acquire it. Do not make us like those who have wickedness in their hearts, those who follow the Mutashabih in the Qur'an. Rather, make us remain firmly on Your straight path and true religion."
وَهَبْ لَنَا مِن لَّدُنكَ
(And grant us from Ladunka) meaning, from You,
رَحْمَةً
(Mercy) with which You make our hearts firm, and increase in our Faith and certainty,
إِنَّكَ أَنتَ الْوَهَّابُ
(Truly, You are the Bestower)
Ibn Abi Hatim and Ibn Jarir recorded that Umm Salamah said that the Prophet used to supplicate,
«يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَى دِينِك»
(O You Who changes the hearts, make my heart firm on Your religion.)
He then recited,
رَبَّنَا لاَ تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِن لَّدُنكَ رَحْمَةً إِنَّكَ أَنتَ الْوَهَّابُ
("Our Lord! Let not our hearts deviate (from the truth) after You have guided us, and grant us mercy from You. Truly, You are the Bestower.") The Ayah continues,
رَبَّنَآ إِنَّكَ جَامِعُ النَّاسِ لِيَوْمٍ لاَّ رَيْبَ فِيهِ
("Our Lord! Verily, it is You Who will gather mankind together on the Day about which there is no doubt") meaning, they say in their supplication: O our Lord! You will gather Your creation on the Day of Return, judge between them and decide over what they disputed about. Thereafter, You will reward or punish each according to the deeds they did in this life.
ہماری سمجھ سے بلند آیات یہاں یہ بیان ہو رہا ہے کہ قرآن میں ایسی آیتیں بھی ہیں جن کا بیان بہت واضح بالکل صاف اور سیدھا ہے۔ ہر شخص اس کے مطلب کو سمجھ سکتا ہے، اور بعض آیتیں ایسی بھی ہیں جن کے مطلب تک عام ذہنوں کی رسائی نہیں ہوسکتی، اب جو لوگ نہ سمجھ میں آنے والی آیتوں کے مفہوم کو پہلی قسم کی آیتوں کی روشنی میں سمجھ لیں یعنی جس مسئلہ کی صراحت جس آیت میں پائیں لے لیں، وہ تو راستی پر ہیں اور جو صاف اور صریح آیتوں کو چھوڑ کر ایسی آیتوں کو دلیل بنائیں جو ان کے فہم سے بالاتر ہیں، ان میں الجھ جائیں تو منہ کے بل گرپڑیں، ام الکتاب یعنی کتاب اللہ اصل اصولوں کی وہ صاف اور واضح آیتیں ہیں، شک و شبہ میں نہ پڑو اور کھلے احکام پر عمل کرو انہی کو فیصلہ کرنے والی مانو اور جو نہ سمجھ میں آئے اسے بھی ان سے ہی سمجھو، بعض اور آیتیں ایسی بھی ہیں کہ ایک معنی تو ان کا ایسا نکلتا ہے جو ظاہر آیتوں کے مطابق ہو اور اس کے سوا اور معانی بھی نکلتے ہیں، گو وہ حرف لفظ اور ترکیب کے اعتبار سے واقعی طور پر نہ ہو تو ان غیر ظاہر معنوں میں نہ پھنسو، محکم اور متشابہ کے بہت سے معنی اسلاف سے منقول ہیں، حضرت ابن عباس تو فرماتے ہیں کہ محکمات وہ ہیں جو ناسخ ہوں جن میں حلال حرام احکام حکم ممنوعات حدیں اور اعمال کا بیان ہو، اسی طرح آپ سے یہ بھی مروی ہے (آیت قل تعالوا اتل ما حرم ربکم علیکم الخ،) اور اس کے بعد کے احکامات والی اور (آیت وقضی ربک ان لا تبعدوا الخ،) اور اس کے بعد کی تین آیتیں محکمات سے ہیں، حضرت ابو فاختہ فرماتے ہیں سورتوں کے شروع میں فرائض اور احکام اور روک ٹوک اور حلال و حرام کی آیتیں ہیں، سعید بن جبیر کہتے ہیں انہیں اصل کتاب اس لئے کہا جاتا ہے کہ یہ تمام کتابوں میں ہیں، حضرت مقاتل کہتے ہیں اس لئے کہ تمام مذہب والے انہیں مانتے ہیں، متشابہات ان آیتوں کو کہتے ہیں جو منسوخ ہیں اور جو پہلے اور بعد کی ہیں اور جن میں مثالیں دی گئیں ہیں اور قسمیں کھائی گئی ہیں اور جن پر صرف ایمان لایا جاتا ہے اور عمل کیلئے وہ احکام نہیں، حضرت ابن عباس کا بھی یہی فرمان ہے حضرت مقاتل فرماتے ہیں اس سے مراد سورتوں کے شروع کے حروف مقطعات ہیں۔ حضرت مجاہد کا قول یہ ہے کہ ایک دوسرے کی تصدیق کرنے والی ہیں، جیسے اور جگہ ہے آیت (كِتٰبًا مُّتَشَابِهًا مَّثَانِيَ) 39۔ الزمر :23) اور مثانی وہ ہے جہاں دو مقابل کی چیزوں کا ذکر ہو جیسے جنت دوزخ کی صفت، نیکوں اور بدوں کا حال وغیرہ وغیرہ۔ اس آیت میں متشابہ محکم کے مقابلہ میں اس لئے ٹھیک مطلب وہی ہے جو ہم نے پہلے بیان کیا اور حضرت محمد بن اسحاق بن یسار کا یہی فرمان ہے، فرماتے ہیں یہ رب کی حجت ہے ان میں بندوں کا بچاؤ ہے، جھگڑوں کا فیصلہ ہے، باطل کا خاتمہ ہے، انہیں ان کے صحیح اور اصل مطلب سے کوئی گھما نہیں سکتا نہ ان کے معنی میں ہیرپھیر کرسکتا ہے۔ متشابہات کی سچائی میں کلام نہیں ان میں تصرف و تاویل نہیں کرنی چاہئے۔ ان سے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے ایمان کو آزماتا ہے جیسے حلال حرام سے آزماتا ہے، انہیں باطل کی طرف لے جانا اور حق سے پھیرنا چاہئے۔ پھر فرماتا ہے کہ جن کے دلوں میں کجی ٹیڑھ پن گمراہی اور حق سے باطل کی طرف ہی ہے وہ تو متشابہ آیتوں کو لے کر اپنے بدترین مقاصد کو پورا کرنا چاہتے ہیں اور لفظی اختلاف سے ناجائز فائدہ اٹھا کر اپنے مذموم مقاصد کی طرف موڑ لیتے ہیں اور جو محکم آیتیں ان میں ان کا وہ مقصد پورا نہیں ہوتا۔ کیونکہ ان کے الفاظ بالکل صاف اور کھلے ہوئے ہوتے ہیں نہ وہ انہیں ہٹا سکتے ہیں نہ ان سے اپنے لئے کوئی دلیل حاصل کرسکتے ہیں۔ اسی لئے فرمان ہے کہ اس سے ان کا مقصد فتنہ کی تلاش ہوتی ہے تاکہ اپنے ماننے والوں کو بہکائیں، اپنی بدعتوں کی مدافعت کریں جیسا کہ عیسائیوں نے قرآن کے الفاظ روح اللہ اور کلمۃ اللہ سے حضرت عیسیٰ کے اللہ کا لڑکا ہونے کی دلیل لی ہے۔ پس اس متشابہ آیت کو لے کر صاف آیت جس میں یہ لفظ ہیں کہ (آیت ان ھو الا عبد الخ، یعنی حضرت عیسیٰ اللہ کے غلام ہیں، جن پر اللہ کا انعام ہے، اور جگہ ہے آیت (اِنَّ مَثَلَ عِيْسٰى عِنْدَ اللّٰهِ كَمَثَلِ اٰدَمَ) 3۔ آل عمران :59) یعنی حضرت عیسیٰ کی مثال اللہ تعالیٰ کے نزدیک حضرت آدم کی طرح ہے کہ انہیں اللہ نے مٹی سے پیدا کیا پھر اسے کہا کہ ہوجا، وہ ہوگیا، چناچہ اسی طرح کی اور بھی بہت سی صریح آیتیں ہیں ان سب کو چھوڑ دیا اور متشابہ آیتوں سے حضرت عیسیٰ کے اللہ کا بیٹا ہونے پر دلیل لے لی حالانکہ آپ اللہ کی مخلوق ہیں، اللہ کے بندے ہیں، اس کے رسول ہیں۔ پھر فرماتا ہے کہ ان کی دوسری غرض آیت کی تحریف ہوتی ہے تاکہ اسے اپنی جگہ سے ہٹا کر مفہوم بدل لیں، حضور ﷺ نے یہ آیت پڑھ کر فرمایا کہ جب تم ان لوگوں کو دیکھو جو متشابہ آیتوں میں جھگڑتے ہیں تو انہیں چھوڑ دو ، ایسے ہی لوگ اس آیت میں مراد لئے گئے ہیں۔ یہ حدیث مختلف طریق سے بہت سی کتابوں میں مروی ہے، صحیح بخاری شریف میں بھی یہ حدیث اس آیت کی تفسیر میں مروی ہے، ملاحظہ ہو کتاب القدر، ایک اور حدیث میں ہے یہ لوگ خوارج ہیں (مسند احمد) پس اس حدیث کو زیادہ سے زیادہ موقوف سمجھ لیا جائے تاہم اس کا مضمون صحیح ہے اس لئے کہ پہلے بدعت خوارج نے ہی پھیلائی ہے، فرقہ محض دنیاوی رنج کی وجہ سے مسلمانوں سے الگ ہوا۔ حضور ﷺ نے جس وقت حنین کی غنیمت کا مال تقسیم کیا اس وقت ان لوگوں نے اسے خلاف عدل سمجھا اور ان میں سے ایک نے جسے ذواخویصرہ کہا جاتا ہے اس نے حضور ﷺ کے سامنے آکر صاف کہا کہ حضرت عدل کیجئے، آپ نے اس تقسیم میں انصاف نہیں کیا، آپ ﷺ نے فرمایا مجھے اللہ نے امین بنا کر بھیجا تھا، اگر میں بھی عدل نہیں کروں تو پھر برباد ہو اور نقصان اٹھائے، جب وہ پلٹا تو حضرت عمر فاروق نے درخواست کی کہ مجھے اجازت دی جائے کہ میں اسے مار ڈالوں، آپ ﷺ نے فرمایا چھوڑ دو ، اس کے ہم خیال ایک ایسی قوم پیدا ہوگی کہ تم لوگ اپنی نمازوں کو ان کی نمازوں کے مقابلہ اور اپنی قرآن خوانی کو ان کی قرآن خوانی کے مقابلہ میں حقیر سمجھو گے لیکن دراصل وہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جس طرح تیر کمان سے نکل جاتا ہے، تم جہاں انہیں پاؤ گے قتل کرو گے، انہیں قتل کرنے والے کو بڑا ثواب ملے گا، حضرت علی کی خلافت کے زمانہ میں ان کا ظہور ہوا اور آپ نے انہیں نہروان میں قتل کیا پھر ان میں پھوٹ پڑی تو ان کے مختلف الخیال فرقے پیدا ہوگئے، نئی نئی بدعتیں دین میں جاری ہوگئیں اور اللہ کی راہ سے بہت دور چلے گئے، ان کے بعد قدریہ فرقے کا ظہور ہوا، پھر معتزلہ پھر جہمیہ وغیرہ پیدا ہوئے اور حضور ﷺ کی پیشنگوئی پوری ہوئی کہ میری امت میں عنقریب تہتر فرقے ہوں گے سب جہنمی ہوں گے سوائے ایک جماعت کے۔ صحابہ نے پوچھا وہ کون لوگ ہوں گے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا وہ جو اس چیز پر ہوں جس پر میں ہوں اور میرے اصحاب (مستدرک حاکم) ایویعلیٰ کی حدیث میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا میری امت میں سے ایک قوم پیدا ہوگی جو قرآن تو پڑھے گی لیکن اسے اس طرح پھینکے گی جیسے کوئی کھجور کی گٹھلیاں پھینکتا ہو، اس کے غلط مطالب بیان کرے گی، پھر فرمایا اس کی حقیقی تاویل اور واقعی مطلب اللہ ہی جانتا ہے، لفظ اللہ پر وقف ہے یا نہیں ؟ اس میں اختلاف ہے، حضرت عبداللہ بن عباس تو فرماتے ہیں تفسیر چار قسم کی ہے، ایک وہ جس کے سمجھنے میں کسی کو مشکل نہیں، ایک وہ جسے عرب اپنے لغت سے سمجھتے ہیں، ایک وہ جسے جید علماء اور پورے علم والے ہی جانتے ہیں اور ایک وہ جسے بجزذات الہٰی کے اور کوئی نہیں جانتا۔ یہ روایت پہلے بھی گزر چکی ہے، حضرت عائشہ کا بھی یہی قول ہے، معجم کبیر میں حدیث ہے کہ مجھے اپنی امت پر صرف تین باتوں کا ڈر ہے۔ مال کی کثرت کا جس سے حسد و بغض پیدا ہوگا اور آپس کی لڑائی شروع ہوگی، دوسرا یہ کہ کتاب اللہ کی تاویل کا سلسلہ شروع ہوگا حالانکہ اصلی مطلب ان کا اللہ ہی جانتا ہے اور اہل علم والے کہیں گے کہ ہمارا اس پر ایمان ہے۔ تیسرے یہ کہ علم حاصل کرنے کے بعد اسے بےپرواہی سے ضائع کردیں گے، یہ حدیث بالکل غریب ہے اور حدیث میں ہے کہ قرآن اس لئے نہیں اترا کہ ایک آیت دوسری آیت کی مخالف ہو، جس کا تمہیں علم ہو اور اس پر عمل کرو اور جو متشابہ ہوں ان پر ایمان لاؤ (ابن مردویہ) ابن عباس حضرت عمر بن عبدالعزیز اور حضرت مالک بن انس سے بھی یہی مروی ہے کہ بڑے سے بڑے عالم بھی اس کی حقیقت سے آگاہ نہیں ہوتے، ہاں اس پر ایمان رکھتے ہیں۔ ابن مسعود فرماتے ہیں کہ پختہ علم والے یہی کہتے ہیں اس کی تاویل کا علم اللہ ہی کو ہے کہ اس پر ہمارا ایمان ہے۔ ابی بن کعب بھی یہی فرماتے ہیں، امام ابن جریر بھی اسی سے اتفاق کرتے ہیں، یہ تو تھی وہ جماعت جو الا اللہ پر وقف کرتی تھی اور بعد کے جملہ کو اس سے الگ کرتی تھی، کچھ لوگ یہاں نہیں ٹھہرتے اور فی العلم پر وقف کرتے ہیں، اکثر مفسرین اور اہل اصول بھی یہی کہتے ہیں، ان کی بڑی دلیل یہ ہے کہ جو سمجھ میں نہ آئے اس بات کا ٹھیک نہیں، حضرت ابن عباس فرمایا کرتے تھے میں ان راسخ علماء میں ہوں جو تاویل جانتے ہیں، مجاہد فرماتے ہیں راسخ علم والے تفسیر جانتے ہیں، حضرت محمد بن جعفر بن زبیر فرماتے ہیں کہ اصل تفسیر اور مراد اللہ ہی جانتا ہے اور مضبوط علم والے کہتے ہیں کہ ہم اس پر ایمان لائے پھر متشابہات آیتوں کی تفسیر محکمات کی روشنی کرتے ہیں جن میں کسی کو بات کرنے کی گنجائش نہیں رہتی، قرآن کے مضامین ٹھیک ٹھاک سمجھ میں آتے ہیں دلیل واضح ہوتی ہے، عذر ظاہر ہوجاتا ہے، باطل چھٹ جاتا ہے اور کفر دفع ہوجاتا ہے، حدیث میں ہے کہ حضور ﷺ نے حضرت عبداللہ بن عباس کیلئے دعا کی کہ اے اللہ انہیں دین کی سمجھ دے اور تفسیر کا علم تھے، بعض علماء نے تفصیل سے بات کرتے ہوئے کہا ہے، قرآن کریم میں تاویل دو معنی میں آئی ہے، ایک معنی جن سے مفہوم کی اصلی حقیقت اور اصلیت کی نشاندہی ہوتی ہے، جیسے قرآن میں ہے (يٰٓاَبَتِ هٰذَا تَاْوِيْلُ رُءْيَايَ مِنْ قَبْلُ ۡ قَدْ جَعَلَهَا رَبِّيْ حَقًّا) 12۔ یوسف :100) میرے باپ میرے خواب کی یہی تعبیر ہے، اور جگہ ہے آیت (هَلْ يَنْظُرُوْنَ اِلَّا تَاْوِيْلَهٗ ۭ يَوْمَ يَاْتِيْ تَاْوِيْلُهٗ يَقُوْلُ الَّذِيْنَ نَسُوْهُ مِنْ قَبْلُ قَدْ جَاۗءَتْ رُسُلُ رَبِّنَا بالْحَقِّ) 7۔ الاعراف :53) کافروں کے انتظار کی حد حقیقت کے ظاہر ہونے تک ہے اور یہ دن وہ ہوگا جب حقیقت سچائی کی گواہ بن کر نمودار ہوگی، پس ان دونوں جگہ پر تاویل سے مراد حقیقت ہے، اگر اس آیت مبارکہ میں تاویل سے مراد یہی تاویل لی جائے تو الا اللہ پر وقف ضروری ہے اس لئے کہ تمام کاموں کی حقیقت اور اصلیت بجز ذات پاک کے اور کوئی نہیں جانتا تو راسخون فی العلم مبتدا ہوگا اور یقولون امنابہ خبر ہوگی اور یہ جملہ بالکل الگ ہوگا اور تاویل کے دوسرے معنی تفسیر اور بیان اور ہے اور ایک شئی کی تعبیر دوسری شے ہے، جیسے قرآن میں ہے آیت (نَبِّئْنَا بِتَاْوِيْـلِهٖ) 12۔ یوسف :36) ہمیں اس کی تاویل بتاؤ یعنی تفسیر اور بیان، اگر آیت مذکورہ میں تاویل سے یہ مراد لی جائے تو فی العلم پر وقف کرنا چاہئے، اس لئے کہ پختہ علم والے علماء جانتے ہیں اور سمجھتے ہیں کیونکہ خطاب انہی سے ہے، گو حقائق کا علم انہیں بھی نہیں، تو اس بنا پر امنا بہ حال ہوگا اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ بغیر معطوف علیہ کے معطوف ہو، جیسے اور جگہ ہے آیت (لِلْفُقَرَاۗءِ الْمُهٰجِرِيْنَ الَّذِيْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِيَارِهِمْ) 59۔ الحشر :8) سے (يَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِاِخْوَانِنَا الَّذِيْنَ سَبَقُوْنَا بالْاِيْمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِيْ قُلُوْبِنَا غِلًّا لِّلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا رَبَّنَآ اِنَّكَ رَءُوْفٌ رَّحِيْمٌ) 59۔ الحشر :10) تک دوسری جگہ ہے آیت (وَّجَاۗءَ رَبُّكَ وَالْمَلَكُ صَفًّا صَفًّا) 89۔ الفجر :22) یعنی وجاء الملائکۃ صفوفا صفوفا اور ان کی طرف سے یہ خبر کہ ہم اس پر ایمان لائے اس کے یہ معنی ہوں گے کہ متشابہ پر ایمان لائے، پھر اقرار کرتے ہیں کہ یہ سب یعنی محکم اور متشابہ حق اور سچ ہے اور یعنی ہر ایک دوسرے کی تصدیق کرتا ہے اور گواہی دیتا ہے کہ یہ سب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اس میں کوئی اختلاف اور تضاد نہیں، جیسے اور جگہ ہے آیت (اَفَلَا يَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ ۭوَلَوْ كَانَ مِنْ عِنْدِ غَيْرِ اللّٰهِ لَوَجَدُوْا فِيْهِ اخْتِلَافًا كَثِيْرًا) 4۔ النسآء :82) یعنی کیا یہ لوگ قرآن میں غور و فکر نہیں کرتے، اگر یہ اللہ کے سوا کسی اور کی طرف سے ہوتا تو اس میں بہت سا اختلاف ہوتا، اسی لئے یہاں بھی فرمایا کہ اسے صرف عقلمند ہی سمجھتے ہیں جو اس پر غور و تدبر کریں، جو صحیح سالم عقل والے ہوں جن کے دماغ درست ہوں، حضور ﷺ سے سوال ہوتا ہے کہ پختہ علم والے کون ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا جس کی قسم سچی ہو، جس کی زبان راست گو ہو، جس کا دل سلامت ہو، جس کا پیٹ حرام سے بچا ہو اور جس کی شرم گاہ زناکاری سے محفوظ ہو، وہ مضبوط علم والے ہیں (ابن ابی حاتم) اور حدیث میں ہے کہ آپ نے چند لوگوں کو دیکھا کہ وہ قرآن شریف کے بارے میں لڑ جھگڑ رہے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا سنو تم سے پہلے لوگ بھی اسی میں ہلاک ہوئے کہ انہوں نے کتاب اللہ کی آیتوں کو ایک دوسرے کیخلاف بتا کر اختلاف کیا حالانکہ کتاب اللہ کی ہر آیت ایک دوسرے کی تصدیق کرتی ہے، تم ان میں اختلاف پیدا کرکے ایک کو دوسری کے متضاد نہ کہو، جو جانو وہی کہو اور جو نہیں جانو اسے جاننے والوں کو سونپ دو (مسند احمد) اور حدیث میں ہے کہ قرآن سات حرفوں پر اترا، قرآن میں جھگڑنا کفر ہے، قرآن میں اختلاف اور تضاد پیدا کرنا کفر ہے، جو جانو اس پر عمل کرو، جو نہ جانو اسے جاننے والے کی طرف سونپو جل جلالہ (ایویعلی) راسخ فی العلم کون ؟نافع بن یزید کہتے ہیں راسخ فی العلم وہ لوگ ہیں جو متواضح ہوں جو عاجزی کرنے والے ہوں، رب کی رضا کے طالب ہوں، اپنے سے بڑوں سے مرعوب نہ ہوں، اپنے سے چھوٹے کو حقیر سمجھنے والے نہ ہوں۔ پھر فرمایا کہ یہ سب دعا کرتے ہیں کہ ہمارے دلوں کو ہدایت پر جمانے کے بعد انہیں ان لوگوں کے دلوں کی طرح نہ کر جو متشابہ کے پیچھے پڑ کر برباد ہوجاتے ہیں بلکہ ہمیں اپنی صراط مستقیم پر قائم رکھ اور اپنے مضبوط دین پر دائم رکھ، ہم پر اپنی رحمت نازل فرما، ہمارے دلوں کو قرار دے، ہم سے گندگی کو دور کر، ہمارے ایمان و یقین کو بڑھا تو بہت بڑا دینے والا ہے، رسول اللہ ﷺ دعا مانگا کرتے تھے حدیث (یا مقلب القلوب ثبت قلبی علی دینک) اے دلوں کے پھیرنے والے میرے دل کو اپنے دین پر جما ہوا رکھ، پھر یہ دعا ربنا لاتزغ پڑھتے اور حدیث میں ہے کہ آپ بکثرت یہ دعا پڑھتے تھے حدیث (اللھم مقلب القلوب ثبت قلبی علی دینک حضرت اسماء نے ایک دن پوچھا کیا دل الٹ پلٹ ہوجاتا ہے ؟ آپ نے فرمایا ہاں ہر انسان کا دل اللہ تعالیٰ کی انگلیوں میں سے دو انگلیوں کے درمیان ہے، اگر چاہے قائم رکھے اگر چاہے پھیر دے، ہماری دعا ہے ہمارا رب دلوں کو ہدایت کے بعد ٹیڑھا نہ کر دے اور ہمیں اپنے پاس سے رحمتیں عنایت فرمائے، وہ بہت زیادہ دینے والا ہے۔ ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ میں نے کہا یارسول اللہ ﷺ مجھے کوئی ایسی دعا سکھائیے کہ میں اپنے لئے مانگا کروں، آپ نے فرمایا یہ دعا مانگ (حدیث اللھم رب محمد النبی اغفرلی ذنبی و اذھب غیظ قلبی و اجرنی من مضلات الفتن) اے اللہ اے محمد نبی ﷺ کے رب میرے گناہ معاف فرما، میرے دل کا غصہ اور رنج اور سختی دور کر اور مجھے گمراہ کرنے والے فتنوں سے بچا لے، حضرت عائشہ صدیقہ نے بھی آپ کی دعا یا مقلب القلوب سن کر حضرت اسماء کی طرح میں نے بھی یہی سوال کیا اور آپ نے وہی جواب دیا اور پھر قرآن کی یہ دعا سنائی، یہ حدیث غریب ہے لیکن قرآنی آیت کی تلاوت کے بغیر یہی بخاری مسلم میں بھی مروی ہے، اور نسائی میں ہے کہ حضور ﷺ جب رات کو جاگتے تو یہ دعا پڑھتے (حدیث لا الہ الا انت سبحانک استغفرک لذنبی واسئلک رحمۃ اللھم زدنی علما ولا تزغ بعد اذ ھدیتنی وھب لی من لدنک رحمۃ انک انت الوھاب) اے اللہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں، میں تجھ سے اپنے گناہوں کی بخشش مانگتا ہوں اور تجھ سے تیری رحمت کا سوال کرتا ہوں، اللہ میرے علم میں زیادتی فرما اور میرے دل کو تو نے ہدایت دے دی ہے اسے گمراہ نہ کرنا اور مجھے اپنے پاس کی رحمت بخش تو بہت زیادہ دینے والا۔ حضرت ابوبکر صدیق نے مغرب کی نماز پڑھائی، پہلی دو رکعتوں میں الحمدشریف کے بعد مفصل کی چھوٹی سی دو سورتیں پڑھیں اور تیسری رکعت میں سورة الحمد شریف کے بعد یہی آیت پڑھی۔ ابو عبد اللہ صبالجی فرماتے ہیں میں اس وقت ان کے قریب چلا گیا تھا، یہاں تک کہ میرے کپڑے ان کے کپڑوں سے مل گئے تھے اور میں نے خود اپنے کان سے ابوبکر صدیق کو یہ پڑھتے ہوئے سنا (عبدالرزاق) حضرت عمر بن عبدالعزیز نے جب تک یہ حدیث نہیں سنی تھی آپ اس رکعت میں قل ھو اللہ پڑھا کرتے تھے لیکن یہ حدیث سننے کے بعد امیرالمومنین نے بھی اسی کو پڑھنا شروع کیا اور کبھی ترک نہیں کیا۔ پھر فرمایا وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ اے اللہ تو قیامت کے دن اپنی تمام مخلوق کو جمع کرنے والا ہے اور ان میں فیصلے اور حکم کرنے والا ہے، ان کے اختلافات کو سمیٹنے والا ہے اور ہر ایک کو بھلے برے عمل کا بدلہ دینے والا ہے اس دن کے آنے میں اور تیرے وعدوں کے سچے ہونے میں کوئی شک نہیں۔
10
View Single
إِنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ لَن تُغۡنِيَ عَنۡهُمۡ أَمۡوَٰلُهُمۡ وَلَآ أَوۡلَٰدُهُم مِّنَ ٱللَّهِ شَيۡـٔٗاۖ وَأُوْلَـٰٓئِكَ هُمۡ وَقُودُ ٱلنَّارِ
Indeed for those who disbelieve, neither their wealth nor their offspring will help to save them in the least from Allah; and it is they who are fuel for the fire.
بیشک جنہوں نے کفر کیا نہ ان کے مال انہیں اللہ (کے عذاب) سے کچھ بھی بچا سکیں گے اور نہ ان کی اولاد، اور وہی لوگ دوزخ کا ایندھن ہیں
Tafsir Ibn Kathir
On the Day of Resurrection, No Wealth or Offspring Shall Avail
Allah states that the disbelievers shall be fuel for the Fire,
يَوْمَ لاَ يَنفَعُ الظَّـلِمِينَ مَعْذِرَتُهُمْ وَلَهُمُ الْلَّعْنَةُ وَلَهُمْ سُوءُ الدَّارِ
(The Day when their excuses will be of no profit to wrongdoers. Theirs will be the curse, and theirs will be the evil abode (i.e. painful torment in Hell-fire).) 40:52.
Further, what they were granted in this life of wealth and offspring shall not avail them with Allah, or save them from His punishment and severe torment. Similarly, Allah said,
فَلاَ تُعْجِبْكَ أَمْوَلُهُمْ وَلاَ أَوْلَـدُهُمْ إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُعَذِّبَهُمْ بِهَا فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَتَزْهَقَ أَنفُسُهُمْ وَهُمْ كَـفِرُونَ
(So let not their wealth nor their children amaze you; in reality Allah's plan is to punish them with these things in the life of this world, and that their souls shall depart (die) while they are disbelievers.) 9:55, and,
لاَ يَغُرَّنَّكَ تَقَلُّبُ الَّذِينَ كَفَرُواْ فِى الْبِلَـدِ - مَتَـعٌ قَلِيلٌ ثُمَّ مَأْوَاهُمْ جَهَنَّمُ وَبِئْسَ الْمِهَادُ
(Let not the free disposal (and affluence) of the disbelievers throughout the land deceive you. A brief enjoyment; then, their ultimate abode is Hell; and worst indeed is that place for rest.) 3:196, 197.
Allah said in this Ayah 3:10,
إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُواْ
(Verily, those who disbelieve) meaning, disbelieved in Allah's Ayat, denied His Messengers, defied His Books and did not benefit from His revelation to His Prophets,
لَن تُغْنِىَ عَنْهُمْ أَمْوَلُهُمْ وَلاَ أَوْلـدُهُم مِّنَ اللَّهِ شَيْئًا وَأُولَـئِكَ هُمْ وَقُودُ النَّارِ
(Neither their properties nor their offspring will avail them whatsoever against Allah; and it is they who will be fuel of the Fire.) meaning, they will be the wood with which the Fire is kindled and fed. Similarly, Allah said,
إِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ
(Certainly you (disbelievers) and that which you are worshipping now besides Allah, are (but) fuel for Hell!) 21:98.
Allah said next,
كَدَأْبِ ءَالِ فِرْعَوْنَ
(Like the Da'b of the people of Fira`wn.) Ad-Dahhak said that Ibn `Abbas said that the Ayah means, "Like the behavior of the people of Fir`awn." This is the same Tafsir of `Ikrimah, Mujahid, Abu Malik, Ad-Dahhak, and others. Other scholars said that the Ayah means, "Like the practice, conduct, likeness of the people of Fir`awn." These meanings are all plausible, for the Da'b means practice, behavior, tradition and habit. The Ayah indicates that the disbelievers will not benefit from their wealth or offspring. Rather, they will perish and be punished. This is the same end the people of Fir`awn and the previous nations met, those who rejected the Messengers, the Ayat, and proofs of Allah that they were sent with.
وَاللَّهُ شَدِيدُ الْعِقَابِ
(And Allah is severe in punishment.) meaning, His punishment is severe and His torment is painful. None can escape Allah's grasp, nor does anything escape His knowledge. Allah does what He wills and prevails over all things, it is He to Whom everything is humbled and there is no deity worthy of worship, nor any Lord except Him.
جہنم کا ایندھن کون لوگ ؟ فرماتا ہے کہ کافر جہنم کی بھٹیاں اور اس میں جلنے والی لکڑیاں ہیں، ان ظالموں کو اس دن کوئی عذر معذرت ان کے کام نہ آئے گی، ان پر لعنت ہے، اور ان کیلئے برا گھر ہے، ان کے مال ان کی اولادیں بھی انہیں کچھ فائدہ نہیں پہنچا سکیں گی، اللہ کے عذاب سے نہیں بچا سکیں گے، جیسا اور جگہ فرمایا آیت (اَفَلَا يَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ ۭوَلَوْ كَانَ مِنْ عِنْدِ غَيْرِ اللّٰهِ لَوَجَدُوْا فِيْهِ اخْتِلَافًا كَثِيْرًا) 4۔ النسآء :82) تو ان کے مال و اولاد پر تعجب نہ کرنا اس کی وجہ سے اللہ کا ارادہ انہیں دنیا میں بھی عذاب دینا ہے، ان کی جانیں کفر میں ہی نکلیں گی، اسی طرح ارشاد ہے کافروں کا شہروں میں گھومنا گھامنا تجھے فریب میں نہ ڈال دے، یہ تو مختصر سا فائدہ ہے، پھر ان کی جگہ جہنم ہی ہے جو بدترین بچھونا ہے، اسی طرح یہاں بھی فرمان ہے کہ اللہ کی کتابوں کو جھٹلانے والے اس کے رسولوں کے منکر اس کی کتاب کے مخالف اس کی وحی کے نافرمان اپنی اولاد اور اپنے مال سے کوئی بھلائی کی توقع نہ رکھیں، یہ جہنم کی لکڑیاں ہیں جن سے جہنم سلگائی اور بھڑکائی جائے گی، جیسے اور جگہ ہے آیت (اِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ) 21۔ الانبیاء :98) تم اور تمہارے معبود جہنم کی لکڑیاں ہو، ابن ابی حاتم میں ہے حضرت عبداللہ بن عباس عنہما کی والدہ صاحبہ حضرت ام فضل کا بیان ہے کہ مکہ شریف میں ایک رات رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوگئے اور باآواز بلند فرمانے لگے، لوگو ! کیا میں نے اللہ کی باتیں تم تک پہنچا دیں ؟ لوگو ! کیا میں نے تبلیغ کا حق ادا کردیا ؟ لوگو ! کیا میں وحدانیت و رسالت کا مطلب تمہیں سمجھا چکا ؟ حضرت عمر فرمانے لگے ہاں حضور ﷺ بیشک آپ نے اللہ کا دین ہمیں پہنچایا پھر جب صبح ہوئی تو آپ نے فرمایا سنو اللہ کی قسم اسلام غالب ہوگا اور خوب پھیلے گا، یہاں تک کہ کفر اپنی جگہ جا چھپے گا، مسلمان اسلام اپنے قول و عمل میں لئے سمندروں کو چیرتے پھاڑتے نکل جائیں گے اور اسلام کی اشاعت کریں گے، یاد رکھو وہ زمانہ بھی آنے والا ہے کہ لوگ قرآن کو سیکھیں گے پڑھیں گے (پھر تکبر برائی اور اندھے پن کے طور پر) کہنے لگیں گے ہم قاری ہیں، عالم ہیں، کون ہے جو ہم سے بڑھ چڑھ کر ہو ؟ کیا ان لوگوں میں کچھ بھی بھلائی ہوگی ؟ لوگوں نے پوچھا حضور ﷺ وہ کون لوگ ہیں، آپ نے فرمایا وہ تم ہی مسلمانوں میں سے ہوں گے لیکن خیال رہے کہ وہ جہنم کا ایندھن ہیں، ابن مردویہ میں بھی یہ حدیث ہے، اس میں یہ بھی ہے کہ حضرت عمر نے جواب میں کہا ہاں ہاں اللہ کی قسم آپ نے بڑی حرص اور چاہت سے تبلیغ کی، آپ نے پوری جدوجہد اور دوڑ دھوپ کی، آپ نے ہماری زبردست خیرخواہی کی اور بہتری چاہی۔ پھر فرماتا ہے جیسا حال فرعونوں کا تھا اور جیسے کرتوت ان کے تھے، لفظ داب ہمزہ کے جزم سے بھی آتا ہے اور ہمزہ کے زبر سے بھی آتا ہے، جیسا نہر اور نہر، اس کے معنی شان عدالت حال طریقے کے آتے ہیں، امرا القیس کے شعروں میں بھی یہ لفظ اسی معنی میں آیا ہے، مطلب اس آیت شریف کا یہ ہے کہ کفار کا مال و اولاد اللہ کے ہاں کچھ کام نہ آئے گا جیسے فرعونوں اور ان سے اگلے کفار کو کچھ کام نہ آیا، اللہ کی پکڑ سخت ہے اس کا عذاب دردناک ہے، کوئی کسی طاقت سے بھی اس سے بچ نہیں سکتا نہ اسے روک سکتا ہے، وہ اللہ جو چاہے کرتا ہے، ہر چیز اس کے سامنے حقیر ہے، نہ اس کے سوا کوئی معبود نہ رَب۔
11
View Single
كَدَأۡبِ ءَالِ فِرۡعَوۡنَ وَٱلَّذِينَ مِن قَبۡلِهِمۡۚ كَذَّبُواْ بِـَٔايَٰتِنَا فَأَخَذَهُمُ ٱللَّهُ بِذُنُوبِهِمۡۗ وَٱللَّهُ شَدِيدُ ٱلۡعِقَابِ
Like the way of Firaun’s people, and those before them; they denied Our signs; so Allah seized them because of their sins; and Allah’s punishment is severe.
(ان کا بھی) قومِ فرعون اور ان سے پہلی قوموں جیسا طریقہ ہے، جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا تو اللہ نے ان کے گناہوں کے باعث انہیں پکڑ لیا، اور اللہ سخت عذاب دینے والا ہے
Tafsir Ibn Kathir
On the Day of Resurrection, No Wealth or Offspring Shall Avail
Allah states that the disbelievers shall be fuel for the Fire,
يَوْمَ لاَ يَنفَعُ الظَّـلِمِينَ مَعْذِرَتُهُمْ وَلَهُمُ الْلَّعْنَةُ وَلَهُمْ سُوءُ الدَّارِ
(The Day when their excuses will be of no profit to wrongdoers. Theirs will be the curse, and theirs will be the evil abode (i.e. painful torment in Hell-fire).) 40:52.
Further, what they were granted in this life of wealth and offspring shall not avail them with Allah, or save them from His punishment and severe torment. Similarly, Allah said,
فَلاَ تُعْجِبْكَ أَمْوَلُهُمْ وَلاَ أَوْلَـدُهُمْ إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُعَذِّبَهُمْ بِهَا فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَتَزْهَقَ أَنفُسُهُمْ وَهُمْ كَـفِرُونَ
(So let not their wealth nor their children amaze you; in reality Allah's plan is to punish them with these things in the life of this world, and that their souls shall depart (die) while they are disbelievers.) 9:55, and,
لاَ يَغُرَّنَّكَ تَقَلُّبُ الَّذِينَ كَفَرُواْ فِى الْبِلَـدِ - مَتَـعٌ قَلِيلٌ ثُمَّ مَأْوَاهُمْ جَهَنَّمُ وَبِئْسَ الْمِهَادُ
(Let not the free disposal (and affluence) of the disbelievers throughout the land deceive you. A brief enjoyment; then, their ultimate abode is Hell; and worst indeed is that place for rest.) 3:196, 197.
Allah said in this Ayah 3:10,
إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُواْ
(Verily, those who disbelieve) meaning, disbelieved in Allah's Ayat, denied His Messengers, defied His Books and did not benefit from His revelation to His Prophets,
لَن تُغْنِىَ عَنْهُمْ أَمْوَلُهُمْ وَلاَ أَوْلـدُهُم مِّنَ اللَّهِ شَيْئًا وَأُولَـئِكَ هُمْ وَقُودُ النَّارِ
(Neither their properties nor their offspring will avail them whatsoever against Allah; and it is they who will be fuel of the Fire.) meaning, they will be the wood with which the Fire is kindled and fed. Similarly, Allah said,
إِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ
(Certainly you (disbelievers) and that which you are worshipping now besides Allah, are (but) fuel for Hell!) 21:98.
Allah said next,
كَدَأْبِ ءَالِ فِرْعَوْنَ
(Like the Da'b of the people of Fira`wn.) Ad-Dahhak said that Ibn `Abbas said that the Ayah means, "Like the behavior of the people of Fir`awn." This is the same Tafsir of `Ikrimah, Mujahid, Abu Malik, Ad-Dahhak, and others. Other scholars said that the Ayah means, "Like the practice, conduct, likeness of the people of Fir`awn." These meanings are all plausible, for the Da'b means practice, behavior, tradition and habit. The Ayah indicates that the disbelievers will not benefit from their wealth or offspring. Rather, they will perish and be punished. This is the same end the people of Fir`awn and the previous nations met, those who rejected the Messengers, the Ayat, and proofs of Allah that they were sent with.
وَاللَّهُ شَدِيدُ الْعِقَابِ
(And Allah is severe in punishment.) meaning, His punishment is severe and His torment is painful. None can escape Allah's grasp, nor does anything escape His knowledge. Allah does what He wills and prevails over all things, it is He to Whom everything is humbled and there is no deity worthy of worship, nor any Lord except Him.
جہنم کا ایندھن کون لوگ ؟ فرماتا ہے کہ کافر جہنم کی بھٹیاں اور اس میں جلنے والی لکڑیاں ہیں، ان ظالموں کو اس دن کوئی عذر معذرت ان کے کام نہ آئے گی، ان پر لعنت ہے، اور ان کیلئے برا گھر ہے، ان کے مال ان کی اولادیں بھی انہیں کچھ فائدہ نہیں پہنچا سکیں گی، اللہ کے عذاب سے نہیں بچا سکیں گے، جیسا اور جگہ فرمایا آیت (اَفَلَا يَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ ۭوَلَوْ كَانَ مِنْ عِنْدِ غَيْرِ اللّٰهِ لَوَجَدُوْا فِيْهِ اخْتِلَافًا كَثِيْرًا) 4۔ النسآء :82) تو ان کے مال و اولاد پر تعجب نہ کرنا اس کی وجہ سے اللہ کا ارادہ انہیں دنیا میں بھی عذاب دینا ہے، ان کی جانیں کفر میں ہی نکلیں گی، اسی طرح ارشاد ہے کافروں کا شہروں میں گھومنا گھامنا تجھے فریب میں نہ ڈال دے، یہ تو مختصر سا فائدہ ہے، پھر ان کی جگہ جہنم ہی ہے جو بدترین بچھونا ہے، اسی طرح یہاں بھی فرمان ہے کہ اللہ کی کتابوں کو جھٹلانے والے اس کے رسولوں کے منکر اس کی کتاب کے مخالف اس کی وحی کے نافرمان اپنی اولاد اور اپنے مال سے کوئی بھلائی کی توقع نہ رکھیں، یہ جہنم کی لکڑیاں ہیں جن سے جہنم سلگائی اور بھڑکائی جائے گی، جیسے اور جگہ ہے آیت (اِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ) 21۔ الانبیاء :98) تم اور تمہارے معبود جہنم کی لکڑیاں ہو، ابن ابی حاتم میں ہے حضرت عبداللہ بن عباس عنہما کی والدہ صاحبہ حضرت ام فضل کا بیان ہے کہ مکہ شریف میں ایک رات رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوگئے اور باآواز بلند فرمانے لگے، لوگو ! کیا میں نے اللہ کی باتیں تم تک پہنچا دیں ؟ لوگو ! کیا میں نے تبلیغ کا حق ادا کردیا ؟ لوگو ! کیا میں وحدانیت و رسالت کا مطلب تمہیں سمجھا چکا ؟ حضرت عمر فرمانے لگے ہاں حضور ﷺ بیشک آپ نے اللہ کا دین ہمیں پہنچایا پھر جب صبح ہوئی تو آپ نے فرمایا سنو اللہ کی قسم اسلام غالب ہوگا اور خوب پھیلے گا، یہاں تک کہ کفر اپنی جگہ جا چھپے گا، مسلمان اسلام اپنے قول و عمل میں لئے سمندروں کو چیرتے پھاڑتے نکل جائیں گے اور اسلام کی اشاعت کریں گے، یاد رکھو وہ زمانہ بھی آنے والا ہے کہ لوگ قرآن کو سیکھیں گے پڑھیں گے (پھر تکبر برائی اور اندھے پن کے طور پر) کہنے لگیں گے ہم قاری ہیں، عالم ہیں، کون ہے جو ہم سے بڑھ چڑھ کر ہو ؟ کیا ان لوگوں میں کچھ بھی بھلائی ہوگی ؟ لوگوں نے پوچھا حضور ﷺ وہ کون لوگ ہیں، آپ نے فرمایا وہ تم ہی مسلمانوں میں سے ہوں گے لیکن خیال رہے کہ وہ جہنم کا ایندھن ہیں، ابن مردویہ میں بھی یہ حدیث ہے، اس میں یہ بھی ہے کہ حضرت عمر نے جواب میں کہا ہاں ہاں اللہ کی قسم آپ نے بڑی حرص اور چاہت سے تبلیغ کی، آپ نے پوری جدوجہد اور دوڑ دھوپ کی، آپ نے ہماری زبردست خیرخواہی کی اور بہتری چاہی۔ پھر فرماتا ہے جیسا حال فرعونوں کا تھا اور جیسے کرتوت ان کے تھے، لفظ داب ہمزہ کے جزم سے بھی آتا ہے اور ہمزہ کے زبر سے بھی آتا ہے، جیسا نہر اور نہر، اس کے معنی شان عدالت حال طریقے کے آتے ہیں، امرا القیس کے شعروں میں بھی یہ لفظ اسی معنی میں آیا ہے، مطلب اس آیت شریف کا یہ ہے کہ کفار کا مال و اولاد اللہ کے ہاں کچھ کام نہ آئے گا جیسے فرعونوں اور ان سے اگلے کفار کو کچھ کام نہ آیا، اللہ کی پکڑ سخت ہے اس کا عذاب دردناک ہے، کوئی کسی طاقت سے بھی اس سے بچ نہیں سکتا نہ اسے روک سکتا ہے، وہ اللہ جو چاہے کرتا ہے، ہر چیز اس کے سامنے حقیر ہے، نہ اس کے سوا کوئی معبود نہ رَب۔
12
View Single
قُل لِّلَّذِينَ كَفَرُواْ سَتُغۡلَبُونَ وَتُحۡشَرُونَ إِلَىٰ جَهَنَّمَۖ وَبِئۡسَ ٱلۡمِهَادُ
Say (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him) to the disbelievers, “Very soon you shall be overcome and driven towards hell; and that is a wretched resting-place.”
کافروں سے فرما دیں: تم عنقریب مغلوب ہو جاؤ گے اور جہنم کی طرف ہانکے جاؤ گے، اور وہ بہت ہی برا ٹھکانا ہے
Tafsir Ibn Kathir
Threatening the Jews With Defeat and Encouraging Them to Learn a Lesson From the Battle of Badr
Allah commanded the Prophet Muhammad ﷺ to proclaim to the disbelievers,
سَتُغْلَبُونَ
(You will be defeated) in this life,
وَتُحْشَرُونَ
(And gathered together) on the Day of Resurrection,
إِلَى جَهَنَّمَ وَبِئْسَ الْمِهَادُ
(to Hell, and worst indeed is that place of rest)
Muhammad bin Ishaq bin Yasar recorded that `Asim bin `Umar bin Qatadah said that when the Messenger of Allah ﷺ gained victory in the battle of Badr and went back to Al-Madinah, he gathered the Jews in the marketplace of Bani Qaynuqa`.
Therefore, Allah said,
قَدْ كَانَ لَكُمْ ءَايَةٌ
(There has already been a sign for you) meaning, O Jews, who said what you said! You have an Ayah, meaning proof, that Allah will make His religion prevail, award victory to His Messenger, make His Word apparent and His religion the highest.
فِي فِئَتَيْنِ
(In the two armies) meaning, two camps,
الْتَقَتَا
(that met) in combat (in Badr),
فِئَةٌ تُقَـتِلُ فِى سَبِيلِ اللَّهِ
(One was fighting in the Cause of Allah) the Muslims,
وَأُخْرَى كَافِرَةٌ
(And as for the other, in disbelief) meaning, the idolators of Quraysh at Badr. Allah's statement,
يَرَوْنَهُمْ مِّثْلَيْهِمْ رَأْىَ الْعَيْنِ
(They saw them with their own eyes twice their number) means, the idolators thought that the Muslims were twice as many as they were, for Allah made this illusion a factor in the victory that Islam had over them.
It was said that the meaning of Allah's statement,
يَرَوْنَهُمْ مِّثْلَيْهِمْ رَأْىَ الْعَيْنِ
(They saw them with their own eyes twice their number) is that the Muslims saw twice as many idolators as they were, yet Allah gave them victory over the disbelievers. `Abdullah bin Mas`ud said, "When we looked at the disbelievers' forces, we found that they were twice as many as we were. When we looked at them again, we thought they did not have one man more than we had. So Allah's statement,
وَإِذْ يُرِيكُمُوهُمْ إِذِ الْتَقَيْتُمْ فِى أَعْيُنِكُمْ قَلِيلاً وَيُقَلِّلُكُمْ فِى أَعْيُنِهِمْ
(And (remember) when you met, He showed them to you as few in your eyes and He made you appear as few in their eyes.) 8:44".
When the two camps saw each other, the Muslims thought that the idolators were twice as many as they were, so that they would trust in Allah and seek His help. The idolators thought that the believers were twice as many as they were, so that they would feel fear, horror, fright and despair. When the two camps stood in lines and met in battle, Allah made each camp look smaller in the eyes of the other camp, so that they would be encouraged to fight each other,
لِّيَقْضِيَ اللَّهُ أَمْراً كَانَ مَفْعُولاً
(so that Allah might accomplish a matter already ordained.) 8:42 meaning, so that the truth and falsehood are distinguishable, and thus the word of faith prevails over disbelief and deviation, so that the believers prevail and the disbelievers are humiliated. In a similar statement, Allah said;
وَلَقَدْ نَصَرَكُمُ اللَّهُ بِبَدْرٍ وَأَنتُمْ أَذِلَّةٌ
(And Allah has already made you victorious at Badr, when you were a weak little force) 3:123. In this Ayah 3:13 Allah said,
وَاللَّهُ يُؤَيِّدُ بِنَصْرِهِ مَن يَشَآءُ إِنَّ فِى ذَلِكَ لَعِبْرَةً لاوْلِى الاٌّبْصَـرِ
(And Allah supports with His victory whom He wills. Verily, in this is a lesson for those who understand.) meaning, this should be an example for those who have intelligence and sound comprehension. They should contemplate about Allah's wisdom, decisions and decree, that He gives victory to His believing servants in this life and on the Day the witnesses stand up to testify.
اولین معرکہ حق و باطل اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے محمد ﷺ کافروں سے کہہ دیجئے کہ تم دنیا میں بھی ذلیل و مغلوب کئے جاؤ گے، ہارو گے، ماتحت بنو گے اور قیامت کے دن بھی ہانک کر جہنم میں جمع کئے جاؤ گے جو بدترین بچھونا ہے۔ سیرت ابن اسحاق میں ہے کہ جب بدر کی جنگ سے حضور ﷺ مظفر و منصور واپس ہوئے تو بنوقینقاع کے بازار میں یہودیوں کو جمع کیا اور فرمایا ! اس سے پہلے کہ قریش کی طرح تمہیں بھی ذلت و پستی دیکھنا پڑے اسلام قبول کرلو، تو اس سرکش جماعت نے جواب دیا کہ چند قریشیوں کو جو فنون جنگ سے ناآشنا تھے، آپ نے انہیں ہرا لیا اور دماغ میں غرور سما گیا، اگر ہم سے لڑائی ہوئی تو ہم بتادیں گے کہ لڑنے والے ایسے ہوتے ہیں، آپ کو ابھی تک ہم سے پالا ہی نہیں پڑا۔ اس پر یہ آیت اتری اور فرمایا گیا فتح بدر نے ظاہر کردیا ہے کہ اللہ اپنے سچے اچھے اور پسندیدہ دین کو اور اس دین والوں کو عزت و حرمت عطا فرمانے والا ہے، وہ اپنے رسول ﷺ کا اور آپ کی اطاعت گزار امت کا خود مددگار ہے۔ وہ اپنی باتوں کو ظاہر اور غالب کرنے والا ہے۔ دو جماعتیں لڑائی میں گھتم گتھا ہوگئی تھیں، ایک صحابہ کرام کی اور دوسری مشرکین قریش کی، یہ واقعہ جنگ بدر کا ہے، اس دن مشرکین پر اس قدر رعب غالب آیا اور اللہ نے اپنے بندوں کی اس طرح مدد کی گو مسلمان گنتی میں مشرکین سے کہیں کم تھے لیکن مشرکوں کو اپنے سے دگنے نظر آتے تھے، مشرکوں نے لڑائی شروع ہونے سے پہلے ہی جاسوسی کیلئے عمیر بن سعد کو بھیجا تھا جس نے آکر اطلاع دی تھی کہ تین سو ہیں، کچھ کم یا زائد ہوں اور واقعہ بھی یہی تھا کہ صرف تین سو دَس اور کچھ تھے لیکن لڑائی کے شروع ہوتے ہی اللہ عزوجل نے اپنے خاص اور چیدہ فرشتے ایک ہزار بھیجے۔ ایک معنی تو یہ ہیں، دوسرا مطلب یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ مسلمان دیکھتے تھے اور جانتے تھے کہ کافر ہم سے دوچند ہیں، پھر بھی اللہ عزوجل نے انہی کی مدد کی۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ بدری صحابہ تین سو تیرہ تھے اور مشرکین چھ سو سولہ تھے۔ لیکن تواریخ کی کتابوں میں مشرکین کی تعداد نو سو سے ایک ہزار تک بیان کی گئی ہے، ہوسکتا ہے حضرت عبداللہ کا قرآن کے الفاظ سے یہ استدلال ہو کہ ابن الحجاج قبلیہ کا جو سیاہ فام غلام پکڑا ہوا آیا تھا اس سے جب حضور نے پوچھا کہ قریش کی تعداد کتنی ہے ؟ اس نے کہا بہت ہیں، آپ نے پھر پوچھا اچھا روز کتنے اونٹ کٹتے ہیں، اس نے کہا ایک دن نو دوسرے دن دس، آپ نے فرمایا بس تو ان کی گنتی نو سو اور ایک ہزار کے درمیان ہے۔ پس مشرکین مسلمانوں سے تین گنے تھے واللہ اعلم، لیکن یہ یاد رہے کہ عرب کہہ دیا کرتے ہیں کہ میرے پاس ایک ہزار تو ہیں لیکن مجھے ضرورت ایسے ہی دوگنا کی ہے اس سے مراد ان کی تین ہزار ہوتی ہے۔ اب کوئی مشکل باقی نہ رہی، لیکن ایک اور سوال ہے وہ یہ کہ قرآن کریم میں اور جگہ ہے آیت (وَاِذْ يُرِيْكُمُوْهُمْ اِذِ الْتَقَيْتُمْ فِيْٓ اَعْيُنِكُمْ قَلِيْلًا وَّ يُقَلِّلُكُمْ فِيْٓ اَعْيُنِهِمْ لِيَقْضِيَ اللّٰهُ اَمْرًا كَانَ مَفْعُوْلًا) 8۔ الانفال :44) یعنی جب آمنے سامنے آگئے تو اللہ نے انہیں تمہاری نگاہوں کے سامنے کم کرکے دکھایا اور تمہیں ان کی نگاہوں میں زیادہ کرکے دکھایا تاکہ جو کام کرنے کا فیصلہ اللہ کرچکا تھا وہ ہوجائے۔ پس اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اصل تعداد سے بھی کم نظر آئے اور مندرجہ بالا آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ زیادہ بلکہ دگنے نظر آئے۔ تو دونوں آیتوں میں تطبیق کیا ہوگی ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اس آیت کا شان نزول اور تھا اور اس کا وقت اور تھا، حضرت ابن مسعود فرماتے ہیں کہ بدر والے دن ہمیں مشرکین کچھ زیادہ نہیں لگے، ہم نے غور سے دیکھا پھر بھی یہی معلوم ہوا کہ ہم سے ان کی گنتی زیادہ نہیں، دوسری روایت میں ہے کہ مشرکین کی تعداد اس قدر کم معلوم ہوئی کہ میں نے اپنے پاس کے ایک شخص سے کہا کہ یہ لوگ تو کوئی ستر ہوں گے، اس نے کہا نہیں نہیں سو ہوں گے، جب ان میں سے ایک شخص پکڑا گیا تو ہم نے اس سے مشرکین کی گنتی پوچھی، اس نے کہا ایک ہزار ہیں۔ اب جبکہ دونوں فریق ایک دوسرے کے سامنے صفیں باندھ کر کھڑے ہوگئے تو مسلمانوں کو یہ معلوم ہونے لگا کہ مشرکین ہم سے دوگنے ہیں۔ یہ اس لئے کہ انہیں اپنی کمزوری کا یقین ہوجائے اور یہ اللہ پر پورا بھروسہ کرلیں اور تمام تر توجہ اللہ کی جانب پھیر لیں اور اپنے رب عزوجل سے اعانت اور امداد کی دعائیں کرنے لگیں، ٹھیک اسی طرح مشرکین کو مسلمانوں کی تعداد دوگنی معلوم ہونے لگی تاکہ ان کے دلوں میں رعب اور خوف بیٹھ جائے اور گھبراہٹ اور پریشانی بڑھ جائے، پھر جب دونوں بھڑ گئے اور لڑائی ہونے لگی تو ہر فریق دوسرے کو اپنی نسبت کم نظر آنے لگا تاکہ ایک دل کھول کر حوصلہ نکالے اور اللہ تعالیٰ حق و باطل کا صاف فیصلہ کردے، ایمان و کفر و طغیان پر غالب آجائے۔ مومنوں کو عزت اور کافروں کو ذلت مل جائے، جیسے اور جگہ ہے آیت (وَلَقَدْ نَصَرَكُمُ اللّٰهُ بِبَدْرٍ وَّاَنْتُمْ اَذِلَّةٌ) 3۔ آل عمران :123) یعنی البتہ اللہ تعالیٰ نے بدر والے دن تمہاری مدد کی حالانکہ تم اس وقت کمزور تھے۔ اسی لئے یہاں بھی فرمایا اللہ جسے چاہے اپنی مدد سے طاقتور بنا دے، پھر فرماتا ہے اس میں عبرت و نصیحت ہے اس شخص کیلئے جو آنکھوں والا ہو جس کا دماغ صحیح وسالم ہو، وہ اللہ کے احکام کی بجا آوری میں لگ جائے گا اور سمجھ لے گا کہ اللہ اپنے پسندیدہ بندوں کو اس جہان میں بھی مدد کرتا ہے اور قیامت کے دن بھی ان کا بچاؤ کرے گا۔
13
View Single
قَدۡ كَانَ لَكُمۡ ءَايَةٞ فِي فِئَتَيۡنِ ٱلۡتَقَتَاۖ فِئَةٞ تُقَٰتِلُ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِ وَأُخۡرَىٰ كَافِرَةٞ يَرَوۡنَهُم مِّثۡلَيۡهِمۡ رَأۡيَ ٱلۡعَيۡنِۚ وَٱللَّهُ يُؤَيِّدُ بِنَصۡرِهِۦ مَن يَشَآءُۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَعِبۡرَةٗ لِّأُوْلِي ٱلۡأَبۡصَٰرِ
Indeed there was a sign for you in the two groups that clashed; one army fighting in Allah's cause, against the other of disbelievers, whom they (the Muslims) saw with their eyes, as twice their own number; and Allah strengthens with His help whomever He wills; indeed in this is a lesson for the intelligent, to be learnt by observing.
بیشک تمہارے لئے ان دو جماعتوں میں ایک نشانی ہے (جو میدانِ بدر میں) آپس میں مقابل ہوئیں، ایک جماعت (یعنی اہل ایمان) نے اللہ کی راہ میں (دفاعی) جنگ کی اور دوسری کافر تھی (یعنی کفار مکہ جنہوں نے مدینہ کے پُر امن مسلمانوں پر فوج کشی کی) وہ انہیں (اپنی) آنکھوں سے اپنے سے دوگنا دیکھ رہے تھے، اور اللہ اپنی مدد کے ذریعے جسے چاہتا ہے تقویت دیتا ہے، یقینا اس واقعہ میں آنکھ والوں کے لئے (بڑی) عبرت ہے
Tafsir Ibn Kathir
Threatening the Jews With Defeat and Encouraging Them to Learn a Lesson From the Battle of Badr
Allah commanded the Prophet Muhammad ﷺ to proclaim to the disbelievers,
سَتُغْلَبُونَ
(You will be defeated) in this life,
وَتُحْشَرُونَ
(And gathered together) on the Day of Resurrection,
إِلَى جَهَنَّمَ وَبِئْسَ الْمِهَادُ
(to Hell, and worst indeed is that place of rest)
Muhammad bin Ishaq bin Yasar recorded that `Asim bin `Umar bin Qatadah said that when the Messenger of Allah ﷺ gained victory in the battle of Badr and went back to Al-Madinah, he gathered the Jews in the marketplace of Bani Qaynuqa`.
Therefore, Allah said,
قَدْ كَانَ لَكُمْ ءَايَةٌ
(There has already been a sign for you) meaning, O Jews, who said what you said! You have an Ayah, meaning proof, that Allah will make His religion prevail, award victory to His Messenger, make His Word apparent and His religion the highest.
فِي فِئَتَيْنِ
(In the two armies) meaning, two camps,
الْتَقَتَا
(that met) in combat (in Badr),
فِئَةٌ تُقَـتِلُ فِى سَبِيلِ اللَّهِ
(One was fighting in the Cause of Allah) the Muslims,
وَأُخْرَى كَافِرَةٌ
(And as for the other, in disbelief) meaning, the idolators of Quraysh at Badr. Allah's statement,
يَرَوْنَهُمْ مِّثْلَيْهِمْ رَأْىَ الْعَيْنِ
(They saw them with their own eyes twice their number) means, the idolators thought that the Muslims were twice as many as they were, for Allah made this illusion a factor in the victory that Islam had over them.
It was said that the meaning of Allah's statement,
يَرَوْنَهُمْ مِّثْلَيْهِمْ رَأْىَ الْعَيْنِ
(They saw them with their own eyes twice their number) is that the Muslims saw twice as many idolators as they were, yet Allah gave them victory over the disbelievers. `Abdullah bin Mas`ud said, "When we looked at the disbelievers' forces, we found that they were twice as many as we were. When we looked at them again, we thought they did not have one man more than we had. So Allah's statement,
وَإِذْ يُرِيكُمُوهُمْ إِذِ الْتَقَيْتُمْ فِى أَعْيُنِكُمْ قَلِيلاً وَيُقَلِّلُكُمْ فِى أَعْيُنِهِمْ
(And (remember) when you met, He showed them to you as few in your eyes and He made you appear as few in their eyes.) 8:44".
When the two camps saw each other, the Muslims thought that the idolators were twice as many as they were, so that they would trust in Allah and seek His help. The idolators thought that the believers were twice as many as they were, so that they would feel fear, horror, fright and despair. When the two camps stood in lines and met in battle, Allah made each camp look smaller in the eyes of the other camp, so that they would be encouraged to fight each other,
لِّيَقْضِيَ اللَّهُ أَمْراً كَانَ مَفْعُولاً
(so that Allah might accomplish a matter already ordained.) 8:42 meaning, so that the truth and falsehood are distinguishable, and thus the word of faith prevails over disbelief and deviation, so that the believers prevail and the disbelievers are humiliated. In a similar statement, Allah said;
وَلَقَدْ نَصَرَكُمُ اللَّهُ بِبَدْرٍ وَأَنتُمْ أَذِلَّةٌ
(And Allah has already made you victorious at Badr, when you were a weak little force) 3:123. In this Ayah 3:13 Allah said,
وَاللَّهُ يُؤَيِّدُ بِنَصْرِهِ مَن يَشَآءُ إِنَّ فِى ذَلِكَ لَعِبْرَةً لاوْلِى الاٌّبْصَـرِ
(And Allah supports with His victory whom He wills. Verily, in this is a lesson for those who understand.) meaning, this should be an example for those who have intelligence and sound comprehension. They should contemplate about Allah's wisdom, decisions and decree, that He gives victory to His believing servants in this life and on the Day the witnesses stand up to testify.
اولین معرکہ حق و باطل اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے محمد ﷺ کافروں سے کہہ دیجئے کہ تم دنیا میں بھی ذلیل و مغلوب کئے جاؤ گے، ہارو گے، ماتحت بنو گے اور قیامت کے دن بھی ہانک کر جہنم میں جمع کئے جاؤ گے جو بدترین بچھونا ہے۔ سیرت ابن اسحاق میں ہے کہ جب بدر کی جنگ سے حضور ﷺ مظفر و منصور واپس ہوئے تو بنوقینقاع کے بازار میں یہودیوں کو جمع کیا اور فرمایا ! اس سے پہلے کہ قریش کی طرح تمہیں بھی ذلت و پستی دیکھنا پڑے اسلام قبول کرلو، تو اس سرکش جماعت نے جواب دیا کہ چند قریشیوں کو جو فنون جنگ سے ناآشنا تھے، آپ نے انہیں ہرا لیا اور دماغ میں غرور سما گیا، اگر ہم سے لڑائی ہوئی تو ہم بتادیں گے کہ لڑنے والے ایسے ہوتے ہیں، آپ کو ابھی تک ہم سے پالا ہی نہیں پڑا۔ اس پر یہ آیت اتری اور فرمایا گیا فتح بدر نے ظاہر کردیا ہے کہ اللہ اپنے سچے اچھے اور پسندیدہ دین کو اور اس دین والوں کو عزت و حرمت عطا فرمانے والا ہے، وہ اپنے رسول ﷺ کا اور آپ کی اطاعت گزار امت کا خود مددگار ہے۔ وہ اپنی باتوں کو ظاہر اور غالب کرنے والا ہے۔ دو جماعتیں لڑائی میں گھتم گتھا ہوگئی تھیں، ایک صحابہ کرام کی اور دوسری مشرکین قریش کی، یہ واقعہ جنگ بدر کا ہے، اس دن مشرکین پر اس قدر رعب غالب آیا اور اللہ نے اپنے بندوں کی اس طرح مدد کی گو مسلمان گنتی میں مشرکین سے کہیں کم تھے لیکن مشرکوں کو اپنے سے دگنے نظر آتے تھے، مشرکوں نے لڑائی شروع ہونے سے پہلے ہی جاسوسی کیلئے عمیر بن سعد کو بھیجا تھا جس نے آکر اطلاع دی تھی کہ تین سو ہیں، کچھ کم یا زائد ہوں اور واقعہ بھی یہی تھا کہ صرف تین سو دَس اور کچھ تھے لیکن لڑائی کے شروع ہوتے ہی اللہ عزوجل نے اپنے خاص اور چیدہ فرشتے ایک ہزار بھیجے۔ ایک معنی تو یہ ہیں، دوسرا مطلب یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ مسلمان دیکھتے تھے اور جانتے تھے کہ کافر ہم سے دوچند ہیں، پھر بھی اللہ عزوجل نے انہی کی مدد کی۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ بدری صحابہ تین سو تیرہ تھے اور مشرکین چھ سو سولہ تھے۔ لیکن تواریخ کی کتابوں میں مشرکین کی تعداد نو سو سے ایک ہزار تک بیان کی گئی ہے، ہوسکتا ہے حضرت عبداللہ کا قرآن کے الفاظ سے یہ استدلال ہو کہ ابن الحجاج قبلیہ کا جو سیاہ فام غلام پکڑا ہوا آیا تھا اس سے جب حضور نے پوچھا کہ قریش کی تعداد کتنی ہے ؟ اس نے کہا بہت ہیں، آپ نے پھر پوچھا اچھا روز کتنے اونٹ کٹتے ہیں، اس نے کہا ایک دن نو دوسرے دن دس، آپ نے فرمایا بس تو ان کی گنتی نو سو اور ایک ہزار کے درمیان ہے۔ پس مشرکین مسلمانوں سے تین گنے تھے واللہ اعلم، لیکن یہ یاد رہے کہ عرب کہہ دیا کرتے ہیں کہ میرے پاس ایک ہزار تو ہیں لیکن مجھے ضرورت ایسے ہی دوگنا کی ہے اس سے مراد ان کی تین ہزار ہوتی ہے۔ اب کوئی مشکل باقی نہ رہی، لیکن ایک اور سوال ہے وہ یہ کہ قرآن کریم میں اور جگہ ہے آیت (وَاِذْ يُرِيْكُمُوْهُمْ اِذِ الْتَقَيْتُمْ فِيْٓ اَعْيُنِكُمْ قَلِيْلًا وَّ يُقَلِّلُكُمْ فِيْٓ اَعْيُنِهِمْ لِيَقْضِيَ اللّٰهُ اَمْرًا كَانَ مَفْعُوْلًا) 8۔ الانفال :44) یعنی جب آمنے سامنے آگئے تو اللہ نے انہیں تمہاری نگاہوں کے سامنے کم کرکے دکھایا اور تمہیں ان کی نگاہوں میں زیادہ کرکے دکھایا تاکہ جو کام کرنے کا فیصلہ اللہ کرچکا تھا وہ ہوجائے۔ پس اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اصل تعداد سے بھی کم نظر آئے اور مندرجہ بالا آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ زیادہ بلکہ دگنے نظر آئے۔ تو دونوں آیتوں میں تطبیق کیا ہوگی ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اس آیت کا شان نزول اور تھا اور اس کا وقت اور تھا، حضرت ابن مسعود فرماتے ہیں کہ بدر والے دن ہمیں مشرکین کچھ زیادہ نہیں لگے، ہم نے غور سے دیکھا پھر بھی یہی معلوم ہوا کہ ہم سے ان کی گنتی زیادہ نہیں، دوسری روایت میں ہے کہ مشرکین کی تعداد اس قدر کم معلوم ہوئی کہ میں نے اپنے پاس کے ایک شخص سے کہا کہ یہ لوگ تو کوئی ستر ہوں گے، اس نے کہا نہیں نہیں سو ہوں گے، جب ان میں سے ایک شخص پکڑا گیا تو ہم نے اس سے مشرکین کی گنتی پوچھی، اس نے کہا ایک ہزار ہیں۔ اب جبکہ دونوں فریق ایک دوسرے کے سامنے صفیں باندھ کر کھڑے ہوگئے تو مسلمانوں کو یہ معلوم ہونے لگا کہ مشرکین ہم سے دوگنے ہیں۔ یہ اس لئے کہ انہیں اپنی کمزوری کا یقین ہوجائے اور یہ اللہ پر پورا بھروسہ کرلیں اور تمام تر توجہ اللہ کی جانب پھیر لیں اور اپنے رب عزوجل سے اعانت اور امداد کی دعائیں کرنے لگیں، ٹھیک اسی طرح مشرکین کو مسلمانوں کی تعداد دوگنی معلوم ہونے لگی تاکہ ان کے دلوں میں رعب اور خوف بیٹھ جائے اور گھبراہٹ اور پریشانی بڑھ جائے، پھر جب دونوں بھڑ گئے اور لڑائی ہونے لگی تو ہر فریق دوسرے کو اپنی نسبت کم نظر آنے لگا تاکہ ایک دل کھول کر حوصلہ نکالے اور اللہ تعالیٰ حق و باطل کا صاف فیصلہ کردے، ایمان و کفر و طغیان پر غالب آجائے۔ مومنوں کو عزت اور کافروں کو ذلت مل جائے، جیسے اور جگہ ہے آیت (وَلَقَدْ نَصَرَكُمُ اللّٰهُ بِبَدْرٍ وَّاَنْتُمْ اَذِلَّةٌ) 3۔ آل عمران :123) یعنی البتہ اللہ تعالیٰ نے بدر والے دن تمہاری مدد کی حالانکہ تم اس وقت کمزور تھے۔ اسی لئے یہاں بھی فرمایا اللہ جسے چاہے اپنی مدد سے طاقتور بنا دے، پھر فرماتا ہے اس میں عبرت و نصیحت ہے اس شخص کیلئے جو آنکھوں والا ہو جس کا دماغ صحیح وسالم ہو، وہ اللہ کے احکام کی بجا آوری میں لگ جائے گا اور سمجھ لے گا کہ اللہ اپنے پسندیدہ بندوں کو اس جہان میں بھی مدد کرتا ہے اور قیامت کے دن بھی ان کا بچاؤ کرے گا۔
14
View Single
زُيِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ ٱلشَّهَوَٰتِ مِنَ ٱلنِّسَآءِ وَٱلۡبَنِينَ وَٱلۡقَنَٰطِيرِ ٱلۡمُقَنطَرَةِ مِنَ ٱلذَّهَبِ وَٱلۡفِضَّةِ وَٱلۡخَيۡلِ ٱلۡمُسَوَّمَةِ وَٱلۡأَنۡعَٰمِ وَٱلۡحَرۡثِۗ ذَٰلِكَ مَتَٰعُ ٱلۡحَيَوٰةِ ٱلدُّنۡيَاۖ وَٱللَّهُ عِندَهُۥ حُسۡنُ ٱلۡمَـَٔابِ
Beautified is for mankind the love of these desires – women, and sons, and heaps of gold and piled up silver, and branded horses, and cattle and fields; this is the wealth of the life of this world; and it is Allah, with Whom is the excellent abode.
لوگوں کے لئے ان خواہشات کی محبت (خوب) آراستہ کر دی گئی ہے (جن میں) عورتیں اور اولاد اور سونے اور چاندی کے جمع کئے ہوئے خزانے اور نشان کئے ہوئے خوبصورت گھوڑے اور مویشی اور کھیتی (شامل ہیں)، یہ (سب) دنیوی زندگی کا سامان ہے، اور اللہ کے پاس بہتر ٹھکانا ہے
Tafsir Ibn Kathir
The True Value of This Earthly Life
Allah mentions the delights that He put in this life for people, such as women and children, and He started with women, because the test with them is more tempting. For instance, the Sahih recorded that the Messenger ﷺ said,
«مَا تَرَكْتُ بَعْدِي فِتْنَةً أَضَرَّ عَلَى الرِّجَالِ مِنَ النِّسَاء»
(I did not leave behind me a test more tempting to men than women.)
When one enjoys women for the purpose of having children and preserving his chastity, then he is encouraged to do so. There are many Hadiths that encourage getting married, such as,
«وَإِنَّ خَيْرَ هذِهِ الْأُمَّةِ مَنْ كَانَ أَكْثَرَهَا نِسَاء»
(Verily, the best members of this Ummah are those who have the most wives) He also said,
«الدُّنْيَا مَتَاعٌ، وَخَيْرُ مَتَاعِهَا الْمَرْأَةُ الصَّالِحَة»
(This life is a delight, and the best of its delight is a righteous wife)
The Prophet said in another Hadith,
«حُبِّبَ إِلَيَّ النِّسَاءُ وَالطِّيبُ، وَجُعِلَتْ قُرَّةُ عَيْنِي فِي الصَّلَاة»
(I was made to like women and perfume, and the comfort of my eye is the prayer.)
`A'ishah, may Allah be pleased with her, said, "Nothing was more beloved to the Messenger of Allah ﷺ than women, except horses," and in another narration, "...than horses except women."
The desire to have children is sometimes for the purpose of pride and boasting, and as such, is a temptation. When the purpose for having children is to reproduce and increase the Ummah of Muhammad with those who worship Allah alone without partners, then it is encouraged and praised. A Hadith states,
«تَزَوَّجُوا الْوَدُودَ الْوَلُودَ، فَإِنِّي مُكَاثِرٌ بِكُمُ الْأُمَمَ يَوْمَ الْقِيَامَة»
(Marry the Wadud (kind) and Walud (fertile) woman, for I will compare your numbers to the rest of the nations on the Day of Resurrection.)
The desire of wealth sometimes results out of arrogance, and the desire to dominate the weak and control the poor, and this conduct is prohibited. Sometimes, the want for more money is for the purpose of spending it on acts of worship, being kind to the family, the relatives, and spending on various acts of righteousness and obedience; this behavior is praised and encouraged in the religion.
Scholars of Tafsir have conflicting opinions about the amount of the Qintar, all of which indicate that the Qintar is a large amount of money, as Ad-Dahhak and other scholars said. Abu Hurayrah said "The Qintar is twelve thousand Uwqiyah, each Uwqiyah is better than what is between the heavens and earth." This was recorded by Ibn Jarir .
The desire to have horses can be one of three types. Sometimes, owners of horses collect them to be used in the cause of Allah, and when warranted, they use their horses in battle. This type of owner shall be rewarded for this good action. Another type collects horses to boast, and out of enmity to the people of Islam, and this type earns a burden for his behavior. Another type collects horses to fulfill their needs and to collect their offspring, and they do not forget Allah's right due on their horses. This is why in this case, these horses provide a shield of sufficiency for their owner, as evident by a Hadith that we will mention, Allah willing, when we explain Allah's statement,
وَأَعِدُّواْ لَهُمْ مَّا اسْتَطَعْتُم مّن قُوَّةٍ وَمِن رّبَاطِ الْخَيْلِ
(And make ready against them all you can of power, including steeds of war.) 8:60.
As for the Musawwamah horses, Ibn `Abbas said that they are the branded, beautiful horses. This is the same explanation of Mujahid, `Ikrimah, Sa`id bin Jubayr, `Abdur-Rahman bin `Abdullah bin Abza, As-Suddi, Ar-Rabi` bin Anas and Abu Sinan and others. Makhul said the Musawwamah refers to the horse with a white spotted faced, and the horse with white feet. Imam Ahmad recorded that Abu Dharr said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«لَيْسَ مِنْ فَرَسٍ عَرَبِيَ إِلَّا يُؤْذَنُ لَهُ مَعَ كُلِّ فَجْرٍ يَدْعُو بِدَعْوَتَيْنِ يَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنَّكَ خَوَّلْتَنِي مِنْ بَنِي آدَمَ، فَاجْعَلْنِي مِنْ أَحَبِّ مَالِهِ وَأَهْلِهِ إِلَيْهِ أَوْ أَحَبَّ أَهْلِهِ وَمَالِهِ إِلَيْه»
(Every Arabian horse is allowed to have two supplications every dawn, and the horse supplicates, `O Allah! You made me subservient to the son of Adam. Therefore, make me among the dearest of his wealth and household to him, or, ...make me the dearest of his household and wealth to him.)
Allah's statement,
وَالاٌّنْعَـمُ
(Cattle) means, camels, cows and sheep.
وَالْحَرْثِ
(And fertile land) meaning, the land that is used to farm and grow plants.
Allah then said,
ذَلِكَ مَتَـعُ الْحَيَوةِ الدُّنْيَا
(This is the pleasure of the present world's life) meaning, these are the delights of this life and its short lived joys,
وَاللَّهُ عِندَهُ حُسْنُ الْمَأَبِ
(But Allah has the excellent return with Him) meaning, the best destination and reward.
The Reward of the Those Who Have Taqwa is Better Than All Joys of This World
This is why Allah said,
قُلْ أَؤُنَبِّئُكُمْ بِخَيْرٍ مِّن ذَلِكُمْ
(Say: "Shall I inform you of things far better than those")
This Ayah means, "Say, O Muhammad, to the people, `Should I tell you about what is better than the delights and joys of this life that will soon perish"' Allah informed them of what is better when He said,
لِلَّذِينَ اتَّقَوْاْ عِندَ رَبِّهِمْ جَنَّـتٌ تَجْرِى مِن تَحْتِهَا الاٌّنْهَارُ
(For those who have Taqwa there are Gardens (Paradise) with their Lord, underneath which rivers flow) meaning, rivers run throughout it. These rivers carry various types of drinks: honey, milk, wine and water such that no eye has ever seen, no ear has ever heard, and no heart has ever imagined,
خَـلِدِينَ فِيهَآ
(Therein (is their) eternal (home)) meaning, they shall remain in it forever and ever and will not want to be removed from it.
وَأَزْوَجٌ مُّطَهَّرَةٌ
(And Azwajun Mutahharatun (purified mates or wives)) meaning, from filth, dirt, harm, menstruation, post birth bleeding, and other things that affect women in this world.
وَرِضْوَنٌ مِّنَ اللَّهِ
(And Allah will be pleased with them) meaning, Allah's pleasure will descend on them and He shall never be angry with them after that. This is why Allah said in in Surah Bara`ah,
وَرِضْوَنٌ مِّنَ اللَّهِ أَكْبَرُ
(But the pleasure of Allah is greater) 9:72, meaning, greater than the eternal delight that He has granted them. Allah then said,
وَاللَّهُ بَصِيرٌ بِالْعِبَادِ
(And Allah is All-Seer of the (His) servants) and, He gives each provisions according to what they deserve.
دنیا کے حسن اور آخرت کے جمال کا تقابل اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ دنیا کی زندگی کو طرح طرح کی لذتوں سے سجایا گیا ہے ان سب چیزوں میں سب سے پہلے عورتوں کو بیان فرمایا، اس لئے کہ ان کا فتنہ بڑا زبردست ہے۔ صحیح حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں میں نے اپنے بعد مردوں کیلئے عورتوں سے زیادہ نقصان دہ اور کوئی فتنہ نہیں چھوڑا، ہاں جب کسی شخص کی نیت نکاح کرکے زنا سے بچنے کی اور اولاد کی کثرت سے ہو تو بیشک یہ نیک کام ہے اس کی رغبت شریعت نے دلائی ہے اور اس کا حکم دیا ہے اور بہت سی حدیثیں نکاح کرنے بلکہ کثرت نکاح کرنے کی فضیلت میں آئی ہیں اور اس امت میں سب سے بہتر وہ ہے جو سب سے زیادہ بیویوں والا ہو، نبی ﷺ فرماتے ہیں دنیا کا ایک فائدہ ہے اور اس کا بہترین فائدہ نیک بیوی ہے کہ خاوند اگر اس کی طرف دیکھے تو یہ اسے خوش کردے اور اگر حکم دے تو بجا لائے اور اگر کہیں چلا جائے تو اپنے نفس کی اور خاوند کے مال کی حفاظت کرے۔ دوسری حدیث میں ہے مجھے عورتیں اور خوشبو بہت پسند ہے اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں ہے۔ حضرت عائشہ فرماتی ہیں رسول اللہ ﷺ کو سب سے زیادہ محبوب عورتیں تھیں، ہاں گھوڑے ان سے بھی زیادہ پسند تھے، ایک اور روایت میں ہے گھوڑوں سے زیادہ آپ کی چاہت کی چیز کوئی اور نہ تھی ہاں صرف عورتیں۔ ثابت ہوا عورتوں کی محبت بھلی بھی ہے اور بری بھی۔ اسی طرح اولاد کی اگر ان کی کثرت اس لئے چاہتا ہے کہ وہ فخر و غرور کرے تو بری چیز ہے اور اگر اس لئے ان کی زیادتی چاہتا ہے کہ نسل بڑھے اور موحد مسلمانوں کی گنتی امت محمد ﷺ میں زیادہ ہو تو بیشک یہ بھلائی کی چیز ہے۔ حدیث شریف میں ہے محبت کرنے والیوں اور زیادہ اولاد پیدا کرنے والی عورتوں سے نکاح کرو، قیامت کے دن میں تمہاری زیادتی سے اور امتوں پر فخر کرنے والا ہوں۔ ٹھیک اسی طرح مال بھی ہے کہ اگر ان کی محبت گرے پڑے لوگوں کو حقیر سمجھنے اور مسکینوں غریبوں پر فخر کرنے کیلئے ہے تو بیحد بری چیز ہے، اور اگر مال کی چاہت اپنوں اور غیروں سے سلوک کرنے، نیکیاں کرنے اور اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کیلئے ہے تو ہر طرح وہ شرعاً اچھی اور بہت اچھی چیز ہے۔ قنطار کی مقدار میں مفسرین کا اختلاف ہے، ماحصل یہ ہے کہ بہت زیادہ مال کو قنطار کہتے ہیں، جیسے حضرت ضحاک کا قول ہے، اوراقوال بھی ملاحظہ ہوں، ایک ہزار دینار، بارہ ہزار چالیس ہزار ساٹھ ہزار، ستر ہزار، اسی ہزار وغیرہ وغیرہ۔ مسند احمد کی ایک مرفوع حدیث میں ہے، ایک قنطار بارہ ہزار اوقیہ کا ہے اور ہر اوقیہ بہتر ہے زمین و آسمان سے، غالباً یہاں مقدار ثواب کی بیان ہوئی ہے جو ایک قنطار ملے گا (واللہ اعلم) حضرت ابوہریرہ سے بھی ایسی ہی ایک موقوف روایت بھی مروی ہے اور یہی زیادہ صحیح ہے۔ اسی طرح ابن جریر میں حضرت معاذ بن جبل اور حضرت ابن عمر سے بھی مروی ہے، اور ابن ابی حاتم میں حضرت ابوہریرہ اور حضرت ابو الدرداء سے مروی ہے کہ قنطار بارہ سو اوقیہ ہیں، ابن جریر کی ایک مرفوع حدیث میں سو اوقیہ آئے ہیں لیکن وہ حدیث بھی منکر ہے، ممکن ہے کہ وہ حضرت ابی بن کعب کا قول ہو جیسے اور صحابہ کا بھی یہی فرمان ہے۔ ابن مردویہ میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جو شخص سو آیتیں پڑھ لے غافلوں میں نہیں لکھا جائے گا اور جس نے سو سے ہزار تک پڑھ لیں اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک قنطار اجر ملے گا، اور قنطار بڑے پہاڑ کے برابر ہے، مستدرک حاکم میں ہی اس آیت کے اس لفظ کا مطلب رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا دو ہزار اوقیہ، امام حاکم اسے صحیح اور شرط شیخین پر بتلاتے ہیں۔ بخاری مسلم نے اسے نقل نہیں کیا، طبرانی وغیرہ میں ہے ایک ہزار دینار، حضرت حسن بصری سے موقوفاً یا مرسلاً مروی ہے کہ بارہ سو دینار، حضرت ابن عباس سے بھی مروی ہے، ضحاک فرماتے ہیں بعض عرب قنطار کو بارہ سو کا بتاتے ہیں، بعض بارہ ہزار کا، حضرت ابو سعید خدری فرماتے ہیں بیل کی کھال کے بھر جانے کے برابر سونے کو قنطار کہتے ہیں۔ یہ مرفوعاً بھی مروی ہے لیکن زیادہ صحیح موقوفاً ہے، گھوڑوں کی محبت تین قسم کی ہے، ایک تو وہ لوگ جو گھوڑوں کو پالتے ہیں اور اللہ کی راہ میں ان پر سوار ہو کر جہاد کرنے کیلئے نکلتے ہیں، ان کیلئے تو یہ بہت ہی اجر وثواب کا سبب ہیں۔ دوسرے وہ جو فخر و غرور کے طور پر پالتے ہیں، ان کیلئے وبال ہے، تیسرے وہ جو سوال سے بچنے اور ان کی نسل کی حفاظت کیلئے پالتے ہیں اور اللہ کا حق نہیں بھولتے، یہ نہ اجر نہ عذاب کے مستحق ہیں۔ اسی مضمون کی حدیث آیت واعدولھم الخ، کی تفسیر میں آئے گی انشاء اللہ۔ " مسومہ " کے معنی چرنے والا اور پنج کلیان (یعنی پیشانی اور چار قدموں پر نشان) وغیرہ کے ہیں، رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں ہر عربی گھوڑا فجر کے وقت اللہ کی اجازت سے دو دعائیں کرتا ہے، کہتا ہے اے اللہ جس کے قبضہ میں تو نے مجھے دیا ہے تو اس کے دل میں اس کے اہل و مال سے زیادہ میری محبت دے، انعام سے مراد اونٹ گائیں بکریاں ہیں۔ حرث سے مراد وہ زمین ہے جو کھیتی بونے یا باغ لگانے کیلئے تیار کی جائے، مسند احمد کی حدیث میں ہی انسان کا بہترین مال زیادہ نسل والا گھوڑا ہے اور زیادہ پھلدار درخت کھجور ہے۔ پھر فرمایا کہ یہ سب دنیاوی فائدہ کی چیزیں ہیں، یہاں کی زینت اور یہاں ہی کی دلکشی کے سامان ہیں جو فانی اور زوال پالنے والے ہیں، اچھی لوٹنے کی جگہ اور بہترین ثواب کا مرکز اللہ کے پاس ہے، مسند احمد میں ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو حضرت عمر بن خطاب نے فرمایا اے اللہ جبکہ تو نے اسے زینت دے دی تو اس کے بعد کیا ؟ اس پر اس کے بعد والی آیت اتری کہ اے نبی ﷺ آپ ان سے کہہ دیجئے کہ میں تمہیں اس سے بہترین چیزیں بتاتا ہوں، یہ تو ایک نہ ایک روز زائل ہونے والی ہیں اور میں جن کی طرف تمہیں بلا رہا ہوں وہ صرف دیرپا ہی نہیں بلکہ ہمیشہ رہنے والی ہیں، سنو اللہ سے ڈرنے والوں کیلئے جنت ہے جس کے کنارے کنارے اور جس کے درختوں کے درمیان قسم قسم کی نہریں بہہ رہی ہیں، کہیں شہد کی، کہیں دودھ کی، کہیں پاک شراب کی، کہیں نفیس پانی کی، اور وہ نعمتیں ہیں جو نہ کسی کان نے سنی ہوں نہ کسی آنکھ نے دیکھی ہوں نہ کسی دل میں خیال بھی گزرا ہو، ان جنتوں میں یہ متقی لوگ ابدالآباد رہیں گے نہ یہ نکالے جائیں نہ انہیں دی ہوئی نعمتیں گم ہوں گی نہ فنا ہوں گی، پھر وہاں بیویاں ملیں گی جو میل کچیل سے خباثت اور برائی سے حیض اور نفاس سے گندگی اور پلیدی سے پاک ہیں، ہر طرح ستھری اور پاکیزہ، ان سب سے بڑھ کر یہ کہ اللہ کی رضامندی انہیں حاصل ہوجائے گی اور ایسی کہ اس کے بعد ناراضگی کا کھٹکا ہی نہیں، اسی لئے سورة برات کی آیت میں فرمایا ورضوان من اللہ اکبر اللہ کی تھوڑی سی رضامندی کا حاصل ہوجانا بھی سب سے بڑی چیز ہے، یعنی تمام نعمتوں سے اعلیٰ نعمت رضائے رب اور مرضی مولا ہے۔ تمام بندے اللہ کی نگاہ میں ہیں وہ بخوبی جانتا ہے کہ کون مہربانی کا مستحق ہے۔
15
View Single
۞قُلۡ أَؤُنَبِّئُكُم بِخَيۡرٖ مِّن ذَٰلِكُمۡۖ لِلَّذِينَ ٱتَّقَوۡاْ عِندَ رَبِّهِمۡ جَنَّـٰتٞ تَجۡرِي مِن تَحۡتِهَا ٱلۡأَنۡهَٰرُ خَٰلِدِينَ فِيهَا وَأَزۡوَٰجٞ مُّطَهَّرَةٞ وَرِضۡوَٰنٞ مِّنَ ٱللَّهِۗ وَٱللَّهُ بَصِيرُۢ بِٱلۡعِبَادِ
Say (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), “Shall I inform you of something better than that? For the pious, with their Lord, are Gardens beneath which rivers flow – they will abide in it forever – and pure wives, and Allah’s pleasure”; and Allah sees the bondmen.
(اے حبیب!) آپ فرما دیں: کیا میں تمہیں ان سب سے بہترین چیز کی خبر دوں؟ (ہاں) پرہیزگاروں کے لئے ان کے رب کے پاس (ایسی) جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے (ان کے لئے) پاکیزہ بیویاں ہوں گی اور (سب سے بڑی بات یہ کہ) اللہ کی طرف سے خوشنودی نصیب ہوگی، اور اللہ بندوں کو خوب دیکھنے والا ہے
Tafsir Ibn Kathir
The True Value of This Earthly Life
Allah mentions the delights that He put in this life for people, such as women and children, and He started with women, because the test with them is more tempting. For instance, the Sahih recorded that the Messenger ﷺ said,
«مَا تَرَكْتُ بَعْدِي فِتْنَةً أَضَرَّ عَلَى الرِّجَالِ مِنَ النِّسَاء»
(I did not leave behind me a test more tempting to men than women.)
When one enjoys women for the purpose of having children and preserving his chastity, then he is encouraged to do so. There are many Hadiths that encourage getting married, such as,
«وَإِنَّ خَيْرَ هذِهِ الْأُمَّةِ مَنْ كَانَ أَكْثَرَهَا نِسَاء»
(Verily, the best members of this Ummah are those who have the most wives) He also said,
«الدُّنْيَا مَتَاعٌ، وَخَيْرُ مَتَاعِهَا الْمَرْأَةُ الصَّالِحَة»
(This life is a delight, and the best of its delight is a righteous wife)
The Prophet said in another Hadith,
«حُبِّبَ إِلَيَّ النِّسَاءُ وَالطِّيبُ، وَجُعِلَتْ قُرَّةُ عَيْنِي فِي الصَّلَاة»
(I was made to like women and perfume, and the comfort of my eye is the prayer.)
`A'ishah, may Allah be pleased with her, said, "Nothing was more beloved to the Messenger of Allah ﷺ than women, except horses," and in another narration, "...than horses except women."
The desire to have children is sometimes for the purpose of pride and boasting, and as such, is a temptation. When the purpose for having children is to reproduce and increase the Ummah of Muhammad with those who worship Allah alone without partners, then it is encouraged and praised. A Hadith states,
«تَزَوَّجُوا الْوَدُودَ الْوَلُودَ، فَإِنِّي مُكَاثِرٌ بِكُمُ الْأُمَمَ يَوْمَ الْقِيَامَة»
(Marry the Wadud (kind) and Walud (fertile) woman, for I will compare your numbers to the rest of the nations on the Day of Resurrection.)
The desire of wealth sometimes results out of arrogance, and the desire to dominate the weak and control the poor, and this conduct is prohibited. Sometimes, the want for more money is for the purpose of spending it on acts of worship, being kind to the family, the relatives, and spending on various acts of righteousness and obedience; this behavior is praised and encouraged in the religion.
Scholars of Tafsir have conflicting opinions about the amount of the Qintar, all of which indicate that the Qintar is a large amount of money, as Ad-Dahhak and other scholars said. Abu Hurayrah said "The Qintar is twelve thousand Uwqiyah, each Uwqiyah is better than what is between the heavens and earth." This was recorded by Ibn Jarir .
The desire to have horses can be one of three types. Sometimes, owners of horses collect them to be used in the cause of Allah, and when warranted, they use their horses in battle. This type of owner shall be rewarded for this good action. Another type collects horses to boast, and out of enmity to the people of Islam, and this type earns a burden for his behavior. Another type collects horses to fulfill their needs and to collect their offspring, and they do not forget Allah's right due on their horses. This is why in this case, these horses provide a shield of sufficiency for their owner, as evident by a Hadith that we will mention, Allah willing, when we explain Allah's statement,
وَأَعِدُّواْ لَهُمْ مَّا اسْتَطَعْتُم مّن قُوَّةٍ وَمِن رّبَاطِ الْخَيْلِ
(And make ready against them all you can of power, including steeds of war.) 8:60.
As for the Musawwamah horses, Ibn `Abbas said that they are the branded, beautiful horses. This is the same explanation of Mujahid, `Ikrimah, Sa`id bin Jubayr, `Abdur-Rahman bin `Abdullah bin Abza, As-Suddi, Ar-Rabi` bin Anas and Abu Sinan and others. Makhul said the Musawwamah refers to the horse with a white spotted faced, and the horse with white feet. Imam Ahmad recorded that Abu Dharr said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«لَيْسَ مِنْ فَرَسٍ عَرَبِيَ إِلَّا يُؤْذَنُ لَهُ مَعَ كُلِّ فَجْرٍ يَدْعُو بِدَعْوَتَيْنِ يَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنَّكَ خَوَّلْتَنِي مِنْ بَنِي آدَمَ، فَاجْعَلْنِي مِنْ أَحَبِّ مَالِهِ وَأَهْلِهِ إِلَيْهِ أَوْ أَحَبَّ أَهْلِهِ وَمَالِهِ إِلَيْه»
(Every Arabian horse is allowed to have two supplications every dawn, and the horse supplicates, `O Allah! You made me subservient to the son of Adam. Therefore, make me among the dearest of his wealth and household to him, or, ...make me the dearest of his household and wealth to him.)
Allah's statement,
وَالاٌّنْعَـمُ
(Cattle) means, camels, cows and sheep.
وَالْحَرْثِ
(And fertile land) meaning, the land that is used to farm and grow plants.
Allah then said,
ذَلِكَ مَتَـعُ الْحَيَوةِ الدُّنْيَا
(This is the pleasure of the present world's life) meaning, these are the delights of this life and its short lived joys,
وَاللَّهُ عِندَهُ حُسْنُ الْمَأَبِ
(But Allah has the excellent return with Him) meaning, the best destination and reward.
The Reward of the Those Who Have Taqwa is Better Than All Joys of This World
This is why Allah said,
قُلْ أَؤُنَبِّئُكُمْ بِخَيْرٍ مِّن ذَلِكُمْ
(Say: "Shall I inform you of things far better than those")
This Ayah means, "Say, O Muhammad, to the people, `Should I tell you about what is better than the delights and joys of this life that will soon perish"' Allah informed them of what is better when He said,
لِلَّذِينَ اتَّقَوْاْ عِندَ رَبِّهِمْ جَنَّـتٌ تَجْرِى مِن تَحْتِهَا الاٌّنْهَارُ
(For those who have Taqwa there are Gardens (Paradise) with their Lord, underneath which rivers flow) meaning, rivers run throughout it. These rivers carry various types of drinks: honey, milk, wine and water such that no eye has ever seen, no ear has ever heard, and no heart has ever imagined,
خَـلِدِينَ فِيهَآ
(Therein (is their) eternal (home)) meaning, they shall remain in it forever and ever and will not want to be removed from it.
وَأَزْوَجٌ مُّطَهَّرَةٌ
(And Azwajun Mutahharatun (purified mates or wives)) meaning, from filth, dirt, harm, menstruation, post birth bleeding, and other things that affect women in this world.
وَرِضْوَنٌ مِّنَ اللَّهِ
(And Allah will be pleased with them) meaning, Allah's pleasure will descend on them and He shall never be angry with them after that. This is why Allah said in in Surah Bara`ah,
وَرِضْوَنٌ مِّنَ اللَّهِ أَكْبَرُ
(But the pleasure of Allah is greater) 9:72, meaning, greater than the eternal delight that He has granted them. Allah then said,
وَاللَّهُ بَصِيرٌ بِالْعِبَادِ
(And Allah is All-Seer of the (His) servants) and, He gives each provisions according to what they deserve.
دنیا کے حسن اور آخرت کے جمال کا تقابل اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ دنیا کی زندگی کو طرح طرح کی لذتوں سے سجایا گیا ہے ان سب چیزوں میں سب سے پہلے عورتوں کو بیان فرمایا، اس لئے کہ ان کا فتنہ بڑا زبردست ہے۔ صحیح حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں میں نے اپنے بعد مردوں کیلئے عورتوں سے زیادہ نقصان دہ اور کوئی فتنہ نہیں چھوڑا، ہاں جب کسی شخص کی نیت نکاح کرکے زنا سے بچنے کی اور اولاد کی کثرت سے ہو تو بیشک یہ نیک کام ہے اس کی رغبت شریعت نے دلائی ہے اور اس کا حکم دیا ہے اور بہت سی حدیثیں نکاح کرنے بلکہ کثرت نکاح کرنے کی فضیلت میں آئی ہیں اور اس امت میں سب سے بہتر وہ ہے جو سب سے زیادہ بیویوں والا ہو، نبی ﷺ فرماتے ہیں دنیا کا ایک فائدہ ہے اور اس کا بہترین فائدہ نیک بیوی ہے کہ خاوند اگر اس کی طرف دیکھے تو یہ اسے خوش کردے اور اگر حکم دے تو بجا لائے اور اگر کہیں چلا جائے تو اپنے نفس کی اور خاوند کے مال کی حفاظت کرے۔ دوسری حدیث میں ہے مجھے عورتیں اور خوشبو بہت پسند ہے اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں ہے۔ حضرت عائشہ فرماتی ہیں رسول اللہ ﷺ کو سب سے زیادہ محبوب عورتیں تھیں، ہاں گھوڑے ان سے بھی زیادہ پسند تھے، ایک اور روایت میں ہے گھوڑوں سے زیادہ آپ کی چاہت کی چیز کوئی اور نہ تھی ہاں صرف عورتیں۔ ثابت ہوا عورتوں کی محبت بھلی بھی ہے اور بری بھی۔ اسی طرح اولاد کی اگر ان کی کثرت اس لئے چاہتا ہے کہ وہ فخر و غرور کرے تو بری چیز ہے اور اگر اس لئے ان کی زیادتی چاہتا ہے کہ نسل بڑھے اور موحد مسلمانوں کی گنتی امت محمد ﷺ میں زیادہ ہو تو بیشک یہ بھلائی کی چیز ہے۔ حدیث شریف میں ہے محبت کرنے والیوں اور زیادہ اولاد پیدا کرنے والی عورتوں سے نکاح کرو، قیامت کے دن میں تمہاری زیادتی سے اور امتوں پر فخر کرنے والا ہوں۔ ٹھیک اسی طرح مال بھی ہے کہ اگر ان کی محبت گرے پڑے لوگوں کو حقیر سمجھنے اور مسکینوں غریبوں پر فخر کرنے کیلئے ہے تو بیحد بری چیز ہے، اور اگر مال کی چاہت اپنوں اور غیروں سے سلوک کرنے، نیکیاں کرنے اور اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کیلئے ہے تو ہر طرح وہ شرعاً اچھی اور بہت اچھی چیز ہے۔ قنطار کی مقدار میں مفسرین کا اختلاف ہے، ماحصل یہ ہے کہ بہت زیادہ مال کو قنطار کہتے ہیں، جیسے حضرت ضحاک کا قول ہے، اوراقوال بھی ملاحظہ ہوں، ایک ہزار دینار، بارہ ہزار چالیس ہزار ساٹھ ہزار، ستر ہزار، اسی ہزار وغیرہ وغیرہ۔ مسند احمد کی ایک مرفوع حدیث میں ہے، ایک قنطار بارہ ہزار اوقیہ کا ہے اور ہر اوقیہ بہتر ہے زمین و آسمان سے، غالباً یہاں مقدار ثواب کی بیان ہوئی ہے جو ایک قنطار ملے گا (واللہ اعلم) حضرت ابوہریرہ سے بھی ایسی ہی ایک موقوف روایت بھی مروی ہے اور یہی زیادہ صحیح ہے۔ اسی طرح ابن جریر میں حضرت معاذ بن جبل اور حضرت ابن عمر سے بھی مروی ہے، اور ابن ابی حاتم میں حضرت ابوہریرہ اور حضرت ابو الدرداء سے مروی ہے کہ قنطار بارہ سو اوقیہ ہیں، ابن جریر کی ایک مرفوع حدیث میں سو اوقیہ آئے ہیں لیکن وہ حدیث بھی منکر ہے، ممکن ہے کہ وہ حضرت ابی بن کعب کا قول ہو جیسے اور صحابہ کا بھی یہی فرمان ہے۔ ابن مردویہ میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جو شخص سو آیتیں پڑھ لے غافلوں میں نہیں لکھا جائے گا اور جس نے سو سے ہزار تک پڑھ لیں اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک قنطار اجر ملے گا، اور قنطار بڑے پہاڑ کے برابر ہے، مستدرک حاکم میں ہی اس آیت کے اس لفظ کا مطلب رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا دو ہزار اوقیہ، امام حاکم اسے صحیح اور شرط شیخین پر بتلاتے ہیں۔ بخاری مسلم نے اسے نقل نہیں کیا، طبرانی وغیرہ میں ہے ایک ہزار دینار، حضرت حسن بصری سے موقوفاً یا مرسلاً مروی ہے کہ بارہ سو دینار، حضرت ابن عباس سے بھی مروی ہے، ضحاک فرماتے ہیں بعض عرب قنطار کو بارہ سو کا بتاتے ہیں، بعض بارہ ہزار کا، حضرت ابو سعید خدری فرماتے ہیں بیل کی کھال کے بھر جانے کے برابر سونے کو قنطار کہتے ہیں۔ یہ مرفوعاً بھی مروی ہے لیکن زیادہ صحیح موقوفاً ہے، گھوڑوں کی محبت تین قسم کی ہے، ایک تو وہ لوگ جو گھوڑوں کو پالتے ہیں اور اللہ کی راہ میں ان پر سوار ہو کر جہاد کرنے کیلئے نکلتے ہیں، ان کیلئے تو یہ بہت ہی اجر وثواب کا سبب ہیں۔ دوسرے وہ جو فخر و غرور کے طور پر پالتے ہیں، ان کیلئے وبال ہے، تیسرے وہ جو سوال سے بچنے اور ان کی نسل کی حفاظت کیلئے پالتے ہیں اور اللہ کا حق نہیں بھولتے، یہ نہ اجر نہ عذاب کے مستحق ہیں۔ اسی مضمون کی حدیث آیت واعدولھم الخ، کی تفسیر میں آئے گی انشاء اللہ۔ " مسومہ " کے معنی چرنے والا اور پنج کلیان (یعنی پیشانی اور چار قدموں پر نشان) وغیرہ کے ہیں، رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں ہر عربی گھوڑا فجر کے وقت اللہ کی اجازت سے دو دعائیں کرتا ہے، کہتا ہے اے اللہ جس کے قبضہ میں تو نے مجھے دیا ہے تو اس کے دل میں اس کے اہل و مال سے زیادہ میری محبت دے، انعام سے مراد اونٹ گائیں بکریاں ہیں۔ حرث سے مراد وہ زمین ہے جو کھیتی بونے یا باغ لگانے کیلئے تیار کی جائے، مسند احمد کی حدیث میں ہی انسان کا بہترین مال زیادہ نسل والا گھوڑا ہے اور زیادہ پھلدار درخت کھجور ہے۔ پھر فرمایا کہ یہ سب دنیاوی فائدہ کی چیزیں ہیں، یہاں کی زینت اور یہاں ہی کی دلکشی کے سامان ہیں جو فانی اور زوال پالنے والے ہیں، اچھی لوٹنے کی جگہ اور بہترین ثواب کا مرکز اللہ کے پاس ہے، مسند احمد میں ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو حضرت عمر بن خطاب نے فرمایا اے اللہ جبکہ تو نے اسے زینت دے دی تو اس کے بعد کیا ؟ اس پر اس کے بعد والی آیت اتری کہ اے نبی ﷺ آپ ان سے کہہ دیجئے کہ میں تمہیں اس سے بہترین چیزیں بتاتا ہوں، یہ تو ایک نہ ایک روز زائل ہونے والی ہیں اور میں جن کی طرف تمہیں بلا رہا ہوں وہ صرف دیرپا ہی نہیں بلکہ ہمیشہ رہنے والی ہیں، سنو اللہ سے ڈرنے والوں کیلئے جنت ہے جس کے کنارے کنارے اور جس کے درختوں کے درمیان قسم قسم کی نہریں بہہ رہی ہیں، کہیں شہد کی، کہیں دودھ کی، کہیں پاک شراب کی، کہیں نفیس پانی کی، اور وہ نعمتیں ہیں جو نہ کسی کان نے سنی ہوں نہ کسی آنکھ نے دیکھی ہوں نہ کسی دل میں خیال بھی گزرا ہو، ان جنتوں میں یہ متقی لوگ ابدالآباد رہیں گے نہ یہ نکالے جائیں نہ انہیں دی ہوئی نعمتیں گم ہوں گی نہ فنا ہوں گی، پھر وہاں بیویاں ملیں گی جو میل کچیل سے خباثت اور برائی سے حیض اور نفاس سے گندگی اور پلیدی سے پاک ہیں، ہر طرح ستھری اور پاکیزہ، ان سب سے بڑھ کر یہ کہ اللہ کی رضامندی انہیں حاصل ہوجائے گی اور ایسی کہ اس کے بعد ناراضگی کا کھٹکا ہی نہیں، اسی لئے سورة برات کی آیت میں فرمایا ورضوان من اللہ اکبر اللہ کی تھوڑی سی رضامندی کا حاصل ہوجانا بھی سب سے بڑی چیز ہے، یعنی تمام نعمتوں سے اعلیٰ نعمت رضائے رب اور مرضی مولا ہے۔ تمام بندے اللہ کی نگاہ میں ہیں وہ بخوبی جانتا ہے کہ کون مہربانی کا مستحق ہے۔
16
View Single
ٱلَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَآ إِنَّنَآ ءَامَنَّا فَٱغۡفِرۡ لَنَا ذُنُوبَنَا وَقِنَا عَذَابَ ٱلنَّارِ
Those who say, “Our Lord! we have accepted faith, so forgive us our sins and save us from the punishment of fire.”
(یہ وہ لوگ ہیں) جو کہتے ہیں: اے ہمارے رب! ہم یقینا ایمان لے آئے ہیں سو ہمارے گناہ معاف فرما دے اور ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا لے
Tafsir Ibn Kathir
The Supplication and Description of Al-Muttaqin
Allah describes the Muttaqin, His pious servants, whom He promised tremendous rewards,
الَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَآ إِنَّنَآ ءَامَنَّا
(Those who say: "Our Lord! We have indeed believed") in You, Your Book and Your Messenger.
فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا
(so forgive us our sins) because of our faith in You and in what You legislated for us. Therefore, forgive us our errors and shortcomings, with Your bounty and mercy,
وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ
(and save us from the punishment of the Fire.)
Allah then said,
الصَّـبِرِينَ
((They are) those who are patient) while performing acts of obedience and abandoning the prohibitions.
وَالصَّـدِقِينَ
(those who are true) concerning their proclamation of faith, by performing the difficult deeds.
وَالْقَـنِتِينَ
(and obedient) meaning, they submit and obey Allah,
وَالْمُنَـفِقِينَ
(those who spend) from their wealth on all the acts of obedience they were commanded, being kind to kith and kin, helping the needy, and comforting the destitute.
وَالْمُسْتَغْفِرِينَ بِالاٌّسْحَارِ
(and those who pray and beg Allah's pardon in the last hours of the night) and this testifies to the virtue of seeking Allah's forgiveness in the latter part of the night. It was reported that when Ya`qub said to his children,
سَوْفَ أَسْتَغْفِرُ لَكُمْ رَبِّى
(I will ask my Lord for forgiveness for you) 12:98 he waited until the latter part of the night to say his supplication.
Furthermore, the Two Sahihs, the Musnad and Sunan collections recorded through several Companions that the Messenger of Allah ﷺ said,
«يَنْزِلُ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالى فِي كُلِّ لَيْلَةٍ إِلى سَمَاءِ الدُّنْيَا حِينَ يَبْقَى ثُلُثُ اللَّيْلِ الْآخِرُ، فَيَقُولُ: هَلْ مِنْ سَائِلٍ فَأُعْطِيَهُ؟ هَلْ مِنْ دَاعٍ فَأَسْتَجِيبَ لَهُ؟ هَلْ مِنْ مُسْتَغْفِرٍ فَأَغْفِرَ لَهُ؟»
(Every night, when the last third of it remains, our Lord, the Blessed, the Superior, descends to the lowest heaven saying, "Is there anyone to ask Me, so that I may grant him his request Is there anyone to invoke Me, so that I may respond to his invocation Is there anyone seeking My forgiveness, so that I may forgive him")
The Two Sahihs recorded that `A'ishah said, "The Messenger of Allah ﷺ performed Witr during the first part, the middle and latter parts of the night. Then, later (in his life), he would perform it (only) during the latter part." `Abdullah bin `Umar used to pray during the night and would ask, "O Nafi`! Is it the latter part of the night yet" and if Nafi` said, "Yes," Ibn `Umar would start supplicating to Allah and seeking His forgiveness until dawn. This Hadith was collected by Ibn Abi Hatim.
متقیوں کا تعارف اللہ تعالیٰ اپنے متقی بندوں کے اوصاف بیان فرماتا ہے کہ وہ کہتے ہیں اے پروردگار ہم تجھ پر اور تیری کتاب پر اور تیرے رسول ﷺ پر ایمان لائے، ہمارے اس ایمان کے باعث جو تیری ذات اور تیری شریعت پر ہے تو ہمارے گناہوں کو اپنے فضل و کرم سے معاف فرما اور ہمیں جہنم کے عذاب سے نجات دے، یہ متقی لوگ اللہ کی اطاعت بجا لاتے ہیں اور حرام چیزوں سے الگ رہتے ہیں، صبر کے سہارے کام لیتے ہیں اور اپنے ایمان کے دعوے میں بھی سچے ہیں، کل اچھے اعمال بجا لاتے ہیں خواہ وہ ان کے نفس کو کتنے بھاری پڑیں، اطاعت اور خشوع خضوع والے ہیں، اپنے مال اللہ کی راہ میں جہاں جہاں حکم ہے خرچ کرتے ہیں، صلہ رحمی میں رشتہ داری کا پاس رکھنے میں برائیوں کے روکنے آپس میں ہمدردی اور خیرخواہی کرنے میں حاجت مندوں، مسکینوں اور فقیروں کے ساتھ احسان کرنے میں سخاوت سے کام لیتے ہیں اور سحری کے وقت پچھلی رات کو اٹھ اٹھ کر استغفار کرتے ہیں، اس سے معلوم ہوا کہ اس وقت استغفار افضل ہے، یہ بھی کہا گیا ہے کہ قرآن کریم کی اس آیت میں حضرت یعقوب نے اپنے بیٹوں سے یہی فرمایا تھا کہ آیت (سَوْفَ اَسْتَغْفِرُ لَكُمْ رَبِّيْ) 12۔ یوسف :98) رب میں ابھی تھوڑی دیر میں تمہارے لئے اپنے رب سے بخشش طلب کروں گا، اس سے مراد بھی سحری کا وقت ہے، اپنی اولاد سے فرماتے ہیں کہ سحری کے وقت میں تمہارے لئے استغفار کروں گا، بخاری و مسلم وغیرہ کی حدیث میں جو بہت سے صحابیوں سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا یہ فرمان موجود ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ ہر رات آخری تہائی باقی رہتے ہوئے آسمان دنیا پر اترتا ہے اور فرماتا ہے کہ کوئی سائل ہے ؟ جسے میں دوں، کوئی دعا مانگنے والا ہے کہ میں اس کی دعا قبول کروں، کوئی استغفار کرنے والا ہے کہ میں اسے بخشوں، حافظ ابو الحسن دارقطنی نے تو اس مسئلہ پر ایک مستقل کتاب لکھی ہے اور اس میں حدیث کی تمام سندوں کو اور اس کے کل الفاظ کو وارد کیا ہے۔ بخاری و مسلم میں حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اول رات درمیانی اور آخری رات میں وتر پڑھے ہیں، سب سے آخری وقت حضور ﷺ کے وتر پڑھنے کا سحری تک تھا، حضرت عبداللہ بن عمر رات کو تہجذ پڑھتے رہتے اور اپنے غلام حضرت نافع سے پوچھتے کیا سحر ہوگئی، جب وہ کہتے ہاں تو آپ صبح صادق کے نکلنے کی دعا استغفار میں مشغول رہتے، حضرت حاطب فرماتے ہیں سحری کے وقت میں نے سنا کہ کوئی شخص مسجد کے کسی گوشہ میں کہہ رہا ہے اے اللہ تو نے مجھے حکم کیا میں بجا لایا، یہ سحر کا وقت ہے مجھے بخش دے، میں نے دیکھا تو وہ حضرت عبداللہ بن مسعود تھے۔ حضرت انس بن مالک فرماتے ہیں ہمیں حکم کیا جاتا تھا کہ ہم جب تہجد کی نماز پڑھیں تو سحری کے آخری وقت ستر مرتبہ استغفار کریں اللہ سے بخشش کی دعا کریں۔
17
View Single
ٱلصَّـٰبِرِينَ وَٱلصَّـٰدِقِينَ وَٱلۡقَٰنِتِينَ وَٱلۡمُنفِقِينَ وَٱلۡمُسۡتَغۡفِرِينَ بِٱلۡأَسۡحَارِ
The steadfast, and the truthful, and the reverent, and who spend in Allah's cause, and who seek forgiveness in the last hours of the night (before dawn).
(یہ لوگ) صبر کرنے والے ہیں اور قول و عمل میں سچائی والے ہیں اور ادب و اطاعت میں جھکنے والے ہیں اور اللہ کی راہ میں خرچ کرنے والے ہیں اور رات کے پچھلے پہر (اٹھ کر) اللہ سے معافی مانگنے والے ہیں
Tafsir Ibn Kathir
The Supplication and Description of Al-Muttaqin
Allah describes the Muttaqin, His pious servants, whom He promised tremendous rewards,
الَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَآ إِنَّنَآ ءَامَنَّا
(Those who say: "Our Lord! We have indeed believed") in You, Your Book and Your Messenger.
فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا
(so forgive us our sins) because of our faith in You and in what You legislated for us. Therefore, forgive us our errors and shortcomings, with Your bounty and mercy,
وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ
(and save us from the punishment of the Fire.)
Allah then said,
الصَّـبِرِينَ
((They are) those who are patient) while performing acts of obedience and abandoning the prohibitions.
وَالصَّـدِقِينَ
(those who are true) concerning their proclamation of faith, by performing the difficult deeds.
وَالْقَـنِتِينَ
(and obedient) meaning, they submit and obey Allah,
وَالْمُنَـفِقِينَ
(those who spend) from their wealth on all the acts of obedience they were commanded, being kind to kith and kin, helping the needy, and comforting the destitute.
وَالْمُسْتَغْفِرِينَ بِالاٌّسْحَارِ
(and those who pray and beg Allah's pardon in the last hours of the night) and this testifies to the virtue of seeking Allah's forgiveness in the latter part of the night. It was reported that when Ya`qub said to his children,
سَوْفَ أَسْتَغْفِرُ لَكُمْ رَبِّى
(I will ask my Lord for forgiveness for you) 12:98 he waited until the latter part of the night to say his supplication.
Furthermore, the Two Sahihs, the Musnad and Sunan collections recorded through several Companions that the Messenger of Allah ﷺ said,
«يَنْزِلُ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالى فِي كُلِّ لَيْلَةٍ إِلى سَمَاءِ الدُّنْيَا حِينَ يَبْقَى ثُلُثُ اللَّيْلِ الْآخِرُ، فَيَقُولُ: هَلْ مِنْ سَائِلٍ فَأُعْطِيَهُ؟ هَلْ مِنْ دَاعٍ فَأَسْتَجِيبَ لَهُ؟ هَلْ مِنْ مُسْتَغْفِرٍ فَأَغْفِرَ لَهُ؟»
(Every night, when the last third of it remains, our Lord, the Blessed, the Superior, descends to the lowest heaven saying, "Is there anyone to ask Me, so that I may grant him his request Is there anyone to invoke Me, so that I may respond to his invocation Is there anyone seeking My forgiveness, so that I may forgive him")
The Two Sahihs recorded that `A'ishah said, "The Messenger of Allah ﷺ performed Witr during the first part, the middle and latter parts of the night. Then, later (in his life), he would perform it (only) during the latter part." `Abdullah bin `Umar used to pray during the night and would ask, "O Nafi`! Is it the latter part of the night yet" and if Nafi` said, "Yes," Ibn `Umar would start supplicating to Allah and seeking His forgiveness until dawn. This Hadith was collected by Ibn Abi Hatim.
متقیوں کا تعارف اللہ تعالیٰ اپنے متقی بندوں کے اوصاف بیان فرماتا ہے کہ وہ کہتے ہیں اے پروردگار ہم تجھ پر اور تیری کتاب پر اور تیرے رسول ﷺ پر ایمان لائے، ہمارے اس ایمان کے باعث جو تیری ذات اور تیری شریعت پر ہے تو ہمارے گناہوں کو اپنے فضل و کرم سے معاف فرما اور ہمیں جہنم کے عذاب سے نجات دے، یہ متقی لوگ اللہ کی اطاعت بجا لاتے ہیں اور حرام چیزوں سے الگ رہتے ہیں، صبر کے سہارے کام لیتے ہیں اور اپنے ایمان کے دعوے میں بھی سچے ہیں، کل اچھے اعمال بجا لاتے ہیں خواہ وہ ان کے نفس کو کتنے بھاری پڑیں، اطاعت اور خشوع خضوع والے ہیں، اپنے مال اللہ کی راہ میں جہاں جہاں حکم ہے خرچ کرتے ہیں، صلہ رحمی میں رشتہ داری کا پاس رکھنے میں برائیوں کے روکنے آپس میں ہمدردی اور خیرخواہی کرنے میں حاجت مندوں، مسکینوں اور فقیروں کے ساتھ احسان کرنے میں سخاوت سے کام لیتے ہیں اور سحری کے وقت پچھلی رات کو اٹھ اٹھ کر استغفار کرتے ہیں، اس سے معلوم ہوا کہ اس وقت استغفار افضل ہے، یہ بھی کہا گیا ہے کہ قرآن کریم کی اس آیت میں حضرت یعقوب نے اپنے بیٹوں سے یہی فرمایا تھا کہ آیت (سَوْفَ اَسْتَغْفِرُ لَكُمْ رَبِّيْ) 12۔ یوسف :98) رب میں ابھی تھوڑی دیر میں تمہارے لئے اپنے رب سے بخشش طلب کروں گا، اس سے مراد بھی سحری کا وقت ہے، اپنی اولاد سے فرماتے ہیں کہ سحری کے وقت میں تمہارے لئے استغفار کروں گا، بخاری و مسلم وغیرہ کی حدیث میں جو بہت سے صحابیوں سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا یہ فرمان موجود ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ ہر رات آخری تہائی باقی رہتے ہوئے آسمان دنیا پر اترتا ہے اور فرماتا ہے کہ کوئی سائل ہے ؟ جسے میں دوں، کوئی دعا مانگنے والا ہے کہ میں اس کی دعا قبول کروں، کوئی استغفار کرنے والا ہے کہ میں اسے بخشوں، حافظ ابو الحسن دارقطنی نے تو اس مسئلہ پر ایک مستقل کتاب لکھی ہے اور اس میں حدیث کی تمام سندوں کو اور اس کے کل الفاظ کو وارد کیا ہے۔ بخاری و مسلم میں حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اول رات درمیانی اور آخری رات میں وتر پڑھے ہیں، سب سے آخری وقت حضور ﷺ کے وتر پڑھنے کا سحری تک تھا، حضرت عبداللہ بن عمر رات کو تہجذ پڑھتے رہتے اور اپنے غلام حضرت نافع سے پوچھتے کیا سحر ہوگئی، جب وہ کہتے ہاں تو آپ صبح صادق کے نکلنے کی دعا استغفار میں مشغول رہتے، حضرت حاطب فرماتے ہیں سحری کے وقت میں نے سنا کہ کوئی شخص مسجد کے کسی گوشہ میں کہہ رہا ہے اے اللہ تو نے مجھے حکم کیا میں بجا لایا، یہ سحر کا وقت ہے مجھے بخش دے، میں نے دیکھا تو وہ حضرت عبداللہ بن مسعود تھے۔ حضرت انس بن مالک فرماتے ہیں ہمیں حکم کیا جاتا تھا کہ ہم جب تہجد کی نماز پڑھیں تو سحری کے آخری وقت ستر مرتبہ استغفار کریں اللہ سے بخشش کی دعا کریں۔
18
View Single
شَهِدَ ٱللَّهُ أَنَّهُۥ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ وَٱلۡمَلَـٰٓئِكَةُ وَأُوْلُواْ ٱلۡعِلۡمِ قَآئِمَۢا بِٱلۡقِسۡطِۚ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ ٱلۡعَزِيزُ ٱلۡحَكِيمُ
Allah has given witness that there is none worthy of worship (God) except Him – and the angels and the scholars also give witness, established with justice (with truth) – there is no God except Him, the Almighty, the Wise.
اللہ نے اس بات پر گواہی دی کہ اس کے سوا کوئی لائقِ عبادت نہیں اور فرشتوں نے اور علم والوں نے بھی (اور ساتھ یہ بھی) کہ وہ ہر تدبیر عدل کے ساتھ فرمانے والا ہے، اس کے سوا کوئی لائقِ پرستش نہیں وہی غالب حکمت والا ہے
Tafsir Ibn Kathir
The Testimony of Tawhid
Allah bears witness, and verily, Allah is sufficient as a Witness, and He is the Most Truthful and Just Witness there is; His statement is the absolute truth,
أَنَّهُ لاَ إِلَـهَ إِلاَّ هُوَ
(that La ilaha illa Huwa) meaning, He Alone is the Lord and God of all creation; everyone and everything are His servants, creation and in need of Him. Allah is the Most Rich, Free from needing anyone or anything. Allah said in another Ayah,
لَّـكِنِ اللَّهُ يَشْهَدُ بِمَآ أَنزَلَ إِلَيْكَ
(But Allah bears witness to that which He has sent down (the Qur'an) unto you (O Muhammad )) 4:166.
Allah then mentioned the testimony of His angels and those who have knowledge after he mentioned His own testimony,
شَهِدَ اللَّهُ أَنَّهُ لاَ إِلَـهَ إِلاَّ هُوَ وَالْمَلَـئِكَةُ وَأُوْلُواْ الْعِلْمِ
(Allah bears witness that none has the right to be worshipped but He), and the angels, and those having knowledge (also bear witness to this)). This Ayah emphasizes the great virtue of those who have knowledge.
قَآئِمَاً بِالْقِسْطِ
((He) maintains His creation in justice) in all that He does,
لاَ إِلَـهَ إِلاَّ هُوَ
(None has the right to be worshipped but He) thus emphasizing this fact,
العَزِيزُ الحَكِيمُ
(the Almighty, the All-Wise.) the Mighty that does not submit to weakness due to His might and greatness, the Wise in all His statements, actions, legislation and decrees.
The Religion with Allah is Islam
Allah said,
إِنَّ الدِّينَ عِندَ اللَّهِ الإِسْلَـمُ
(Truly, the religion with Allah is Islam.) Allah states that there is no religion accepted with Him from any person, except Islam. Islam includes obeying all of the Messengers until Muhammad who finalized their commission, thus closing all paths to Allah except through Muhammad . Therefore, after Allah sent Muhammad , whoever meets Allah following a path other than Muhammad's, it will not be accepted of him. In another Ayah, Allah said,
وَمَن يَبْتَغِ غَيْرَ الإِسْلَـمِ دِينًا فَلَن يُقْبَلَ مِنْهُ
(And whoever seeks a religion other than Islam, it will never be accepted of him) 3:85.
In this Ayah 3:19, Allah said, asserting that the only religion accepted with Him is Islam,
إِنَّ الدِّينَ عِندَ اللَّهِ الإِسْلَـمُ
(Truly, the religion with Allah is Islam.)
Allah then states that those who were given the Scripture beforehand divided in the religion after Allah sent the Messengers and revealed the Books to them providing them the necessary proofs to not do so. Allah said,
وَمَا اخْتَلَفَ الَّذِينَ أُوتُواْ الْكِتَـبَ إِلاَّ مِن بَعْدِ مَا جَآءَهُمُ الْعِلْمُ بَغْيًا بَيْنَهُمْ
(Those who were given the Scripture (Jews and Christians) did not differ except out of rivalry, after knowledge had come to them.) meaning, some of them wronged others. Therefore, they differed over the truth, out of envy, hatred and enmity for each other. This hatred made some of them defy those whom they hated even if they were correct. Allah then said,
وَمَن يَكْفُرْ بِآيَـتِ اللَّهِ
(And whoever disbelieves in the Ayat of Allah) meaning, whoever rejects what Allah sent down in His Book,
فَإِنَّ اللَّهِ سَرِيعُ الْحِسَابِ
(then surely, Allah is Swift in reckoning.) Allah will punish him for his rejection, reckon him for his denial, and torment him for defying His Book. Thereafter, Allah said.
فَإنْ حَآجُّوكَ
(So if they dispute with you (Muhammad )) so if they argue with you about Tawhid,
فَقُلْ أَسْلَمْتُ وَجْهِىَ للَّهِ وَمَنِ اتَّبَعَنِ
(Say: "I have submitted myself to Allah (in Islam), and (so have) those who follow me") meaning, Say, `I have made my worship sincere for Allah Alone without partners, rivals, offspring or companion,
وَمَنِ اتَّبَعَنِ
(and those who follow me) who followed my religion and embraced my creed.' In another Ayah, Allah said,
قُلْ هَـذِهِ سَبِيلِى أَدْعُو إِلَى اللَّهِ عَلَى بَصِيرَةٍ أَنَاْ وَمَنِ اتَّبَعَنِى
(Say (O Muhammad ): "This is my way; I invite unto Allah with sure knowledge, I and whosoever follows me...") 12:108.
Islam is the Religion of Mankind and the Prophet Was Sent to all Mankind
Allah commanded His servant and Messenger, Muhammad , to call the People of the Two Scriptures and the unlettered idolators to his religion, way, Law and all that Allah sent him with. Allah said,
وَقُلْ لِّلَّذِينَ أُوتُواْ الْكِتَـبَ وَالاٍّمِّيِّينَ ءَأَسْلَمْتُمْ فَإِنْ أَسْلَمُواْ فَقَدِ اهْتَدَواْ وَّإِن تَوَلَّوْاْ فَإِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلَـغُ
(And say to those who were given the Scripture (Jews and Christians) and to those who are illiterates (Arab pagans): "Do you (also) submit yourselves" If they do, they are rightly guided; but if they turn away, your duty is only to convey the Message.) meaning, their reckoning is with Allah and their return and final destination is to Him. It is He Who guides whom He wills and allows whom He wills to stray, and He has the perfect wisdom and the unequivocal proof for all of this. This is why Allah said,
وَاللَّهُ بَصِيرٌ بِالْعِبَادِ
(And Allah sees the servants.) for He has perfect knowledge of who deserves to be guided and who does not deserve to be guided. Verily,
لاَ يُسْأَلُ عَمَّا يَفْعَلُ وَهُمْ يُسْـَلُونَ
(He cannot be questioned for what He does, while they will be questioned.) 21:23 because of His perfect wisdom and mercy. This and similar Ayat are clear proofs that the Message of Muhammad is universal to all creation, as it is well established in the religion, according to the various texts of the Book and Sunnah. For instance, Allah said,
قُلْ يَأَيُّهَا النَّاسُ إِنِّى رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا
(Say (O Muhammad ): "O mankind! Verily, I am sent to you all as the Messenger of Allah.") 7:158, and,
تَبَارَكَ الَّذِى نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلَى عَبْدِهِ لِيَكُونَ لِلْعَـلَمِينَ نَذِيراً
(Blessed be He Who sent down the criterion to His servant that he may be a warner to the `Alamin (mankind and Jinn).) 25:1.
The Two Sahihs and other collections of Hadith recorded that the Prophet sent letters to the kings of the earth during his time and to different peoples, Arabs and non-Arabs, People of the Book and the unlettered, just as Allah had commanded him. `Abdur-Razzaq recorded that Ma`mar said, that Hammam said that Abu Hurayrah said that the Prophet said,
«وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَا يَسْمَعُ بِي أَحَدٌ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ: يَهُودِيٌّ وَلَا نَصْرَانِيٌّ، وَمَاتَ وَلَمْ يُؤْمِنْ بِالَّذِي أُرْسِلْتُ بِهِ، إِلَّا كَانَ مِنْ أَهْلِ النَّار»
(By He in Whose Hand is my soul! No member of this Ummah, no Jew or Christian, hears of me but dies without believing in what I was sent with, but will be among the people of the Fire.) Muslim recorded this Hadith.
The Prophet said,
«بُعِثْتُ إِلَى الْأَحْمَرِ وَالْأَسْوَد»
(I was sent to the red and black. ) and,
«كَانَ النَّبِيُّ يُبْعَثُ إِلى قَوْمِهِ خَاصَّةً، وَبُعِثْتُ إِلَى النَّاسِ عَامَّة»
(A Prophet used to be sent to his people, but I was sent to all mankind.)
اللہ وحدہ لاشریک اپنی وحدت کا خود شاہد اللہ تعالیٰ خود شہادت دیتا ہے بس اس کی شہادت کافی ہے وہ سب سے زیادہ سچا گواہ ہے، سب سے زیادہ سچی بات اسی کی ہے، وہ فرماتا ہے کہ تمام مخلوق اس کی غلام ہے اور اسی کی پیدا کی ہوئی ہے۔ اور اسی کی طرف محتاج ہے، وہ سب سے بےنیاز ہے، الوہیت میں اللہ ہونے میں وہ یکتا اور لاشریک ہے، اس کے سوا کوئی پوجے جانے کے لائق نہیں، جیسے فرمان ہے آیت (لٰكِنِ اللّٰهُ يَشْهَدُ بِمَآ اَنْزَلَ اِلَيْكَ اَنْزَلَهٗ بِعِلْمِهٖ) 4۔ النسآء :166) یعنی لیکن اللہ تعالیٰ بذریعہ اس کتاب کے جو وہ تیری طرف اپنے علم سے اتار رہا ہے، گواہی دے رہا ہے اور فرشتے بھی گواہی دیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی شہادت کافی ہے، پھر اپنی شہادت کے ساتھ فرشتوں کی شہادت پر علماء کی گواہی کو ملا رہا ہے۔ یہاں سے علماء کی بہت بڑی فضیلت ثابت ہوتی ہے بلکہ خصوصی قائما کا نصب حال ہونے کی وجہ سے ہے وہ اللہ ہر وقت اور حال میں ایسا ہی ہے، پھر تاکیداً دوبارہ ارشاد ہوتا ہے کہ معبود حقیقی صرف وہی ہے، وہ غالب ہے، عظمت اور کبریائی والی اس کی بارگاہ ہے، وہ اپنے اقوال افعال اور شریعت قدرت و تقدیر میں حکمتوں والا ہے۔ مسند احمد میں ہے کہ نبی ﷺ نے عرفات میں اس آیت کی تلاوت کی اور الحکیم تک پڑھ کر فرمایا وانا علی ذالک من الشاھدین یا رب، ابن ابی حاتم میں ہے آپ نے یوں فرمایا وانا اشھدای رب طبرانی میں ہے حضرت غالب قطان فرماتے ہیں میں کوفے میں تجارتی غرض سے گیا اور حضرت اعمش کے قریب ٹھہرا، رات کو حضرت اعمش تہجد کیلئے کھڑے ہوئے پڑھتے پڑھتے جب اس آیت تک پہنچے اور آیت (اِنَّ الدِّيْنَ عِنْدَ اللّٰهِ الْاِسْلَامُ) 3۔ آل عمران :19) پڑھا تو فرمایا وانا اشھد بما شھد اللہ بہ واستودع اللہ ھذہ الشھادۃ وھی لی عند اللہ ودیعتہ یعنی میں بھی شہادت دیتا ہوں اس کی جس کی شہادت اللہ نے دی اور میں اس شہادت کو اللہ کے سپرد کرتا ہوں، یہ میری امانت اللہ کے پاس ہے، پھر کئی دفعہ آیت (اِنَّ الدِّيْنَ عِنْدَ اللّٰهِ الْاِسْلَامُ) 3۔ آل عمران :19) پڑھا، میں نے اپنے دل میں خیال کیا کہ شاید اس بارے میں کوئی حدیث سنی ہوگی، صبح ہی صبح میں حاضر خدمت ہوا اور عرض کیا کہ ابو محمد کیا بات تھی جو آپ اس آیت کو بار بار پڑھتے رہے ؟ کہا کیا اس کی فضیلت تمہیں معلوم نہیں ؟ میں نے کہا حضرت میں تو مہینہ بھر سے آپ کی خدمت میں ہوں لیکن آپ نے حدیث بیان ہی نہیں کی، کہنے لگے اللہ کی قسم میں تو سال بھر تک بیان نہ کروں گا، اب میں اس حدیث کے سننے کی خاطر سال بھر تک ٹھہرا رہا اور ان کے دروازے پر پڑا رہا جب سال کامل گزر چکا تو میں نے کہا اے ابو محمد سال گزر چکا ہے، سُن مجھ سے ابو وائل نے حدیث بیان کی، اس نے عبداللہ سے سنا، وہ فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس کے پڑھنے والے کو قیامت کے دن لایا جائے گا اور اللہ عزوجل فرمائے گا میرے اس بندے نے میرا عہد لیا ہے اور میں عہد کو پورا کرنے میں سب سے افضل و اعلیٰ ہوں، میرے اس بندے کو جنت میں لے جاؤ۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے وہ صرف اسلام ہی کو قبول فرماتا ہے، اسلام ہر زمانے کے پیغمبر کی وحی کی تابعداری کا نام ہے، اور سب سے آخر اور سب رسولوں کو ختم کرنے والے ہمارے پیغمبر حضرت محمد ﷺ ہیں، آپ کی نبوت کے بعد نبوت کے سب راستے بند ہوگئے اب جو شخص آپ کی شریعت کے سوا کسی چیز پر عمل کرے اللہ کے نزدیک وہ صاحب ایمان نہیں جیسے اور جگہ ہے آیت (وَمَنْ يَّبْتَـغِ غَيْرَ الْاِسْلَامِ دِيْنًا فَلَنْ يُّقْبَلَ مِنْهُ) 3۔ آل عمران :85) جو شخص اسلام کے سوا اور دین کی تلاش کرے وہ اس سے قبول نہیں کیا جائے گا، اسی طرح اس آیت میں دین کا انحصار اسلام میں کردیا ہے۔ حضرت ابن عباس کی قرأت میں (آیت شھد اللہ انہ) ہے اور ان الاسلام ہے، تو معنی یہ ہوں گے، خود اللہ کی گواہی ہے اور اس کے فرشتوں اور ذی علم انسانوں کے نزدیک مقبول ہونے والا دین صرف اسلام ہی ہے، جمہور کی قرأت میں ان زیر کے ساتھ ہے اور معنی کے لحاظ سے دونوں ہی ٹھیک ہیں، لیکن جمہور کا قول زیادہ ظاہر ہے واللہ اعلم۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ پہلی کتاب والوں نے اپنے پاک اللہ کے پیغمبروں کے آنے اور اللہ کی کتابیں نازل ہونے کے بعد بھی اختلاف کیا، جس کی وجہ سے صرف ان کا آپس کا بغض وعناد تھا کہ میں اس کیخلاف ہی چلوں چاہے وہ حق پر ہی کیوں نہ ہو، پھر ارشاد ہے کہ جب اللہ کی آیتیں اتر چکی، اب جو ان کا انکار کرے انہیں نہ مانے تو اللہ تعالیٰ بھی اس سے اس کی تکذیب کا بہت جلد حساب لے گا اور کتاب اللہ کی مخالفت کی وجہ سے اسے سخت عذاب دے گا اور اسے اس کی اس شرارت کا لطف چکھائے گا۔ پھر فرمایا اگر یہ لوگ تجھ سے توحید باری تعالیٰ کے بارے میں جھگڑیں تو کہہ دو کہ میں تو خالص اللہ ہی کی عبادت کروں گا جس کا نہ کوئی شریک ہے نہ اس جیسا کوئی ہے، نہ اس کی اولاد ہے نہ بیوی اور جو میرے امتی ہیں میرے دین پر ہیں۔ ان سب کا قول بھی یہی ہے، جیسے اور جگہ فرمایا آیت (قُلْ هٰذِهٖ سَبِيْلِيْٓ اَدْعُوْٓا اِلَى اللّٰهِ007عَلٰي بَصِيْرَةٍ اَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِيْ ۭ وَسُبْحٰنَ اللّٰهِ وَمَآ اَنَا مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ) 12۔ یوسف :108) یعنی میری راہ یہی ہے میں خوب سوچ سمجھ کر دیکھ بھال کر تمہیں اللہ کی طرف بلا رہا ہوں، میں بھی اور میرے تابعدار بھی یہی دعوے دے رہے ہیں، پھر حکم دیتا ہے کہ اے نبی ﷺ یہود و نصاریٰ جن کے ہاتھوں میں اللہ کی کتاب ہے اور مشرکین سے جو اَن پڑھ ہیں کہہ دو کہ تم سب کی ہدایت اسلام میں ہی ہے اور اگر یہ نہ مانیں تو کوئی بات نہیں، آپ اپنا فرض تبلیغ ادا کرچکے، اللہ خود ان سے سمجھ لے گا، ان سب کو لوٹ کر اسی کے پاس جانا ہے وہ جسے سیدھا راستہ دکھائے جسے چاہے گمراہ کر دے، اپنی حکمت کو وہی خوب جانتا ہے اس کی حجت تو پوری ہو کر ہی رہتی ہے، اس کی اپنے بندوں پر نظر ہے اسے خوب معلوم ہے کہ ہدایت کا مستحق کون ہے اور کون ضلالت کا مستحق ہے ؟ اس سے کوئی باز پرس نہیں کرسکتا۔ دوسری آیتوں میں بھی صاف صراحت ہے کہ رسول اللہ ﷺ تمام مخلوق کی طرف اللہ کے نبی بن کر آئے ہیں، اور خود آپ کے دین کے احکام بھی اس پر دلالت کرتے ہیں اور کتاب و سنت میں بھی بہت سی آیتیں اور حدیثیں اسی مفہوم کی ہیں، قرآن پاک میں ایک جگہ ہے آیت (قُلْ يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ اِنِّىْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَيْكُمْ جَمِيْعَۨا الَّذِيْ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ) 7۔ الاعراف :158) لوگو میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں۔ اور آیت میں ہے آیت (تَبٰرَكَ الَّذِيْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلٰي عَبْدِهٖ لِيَكُوْنَ لِلْعٰلَمِيْنَ نَذِيْرَۨا) 25۔ الفرقان :1) بابرکت ہے وہ اللہ جس نے اپنے بندوں پر قرآن نازل فرمایا تاکہ وہ تمام دنیا والوں کیلئے تنبیہ کرنے والا بن جائے۔ بخاری و مسلم وغیرہ میں کئی کئی واقعات سے تواتر کے ساتھ ثابت ہے کہ نبی ﷺ نے عرب و عجم کے تمام بادشاہوں کو اور دوسرے اطراف کے لوگوں کو خطوط بھجوائے جن میں انہیں اللہ کی طرف آنے کی دعوت دی خواہ وہ عرب ہوں عجم ہوں اہل کتاب ہوں مذہب والے ہوں اور اس طرح آپ ﷺ نے تبلیغ کے فرض کو تمام و کمال تک پہنچا دیا۔ مسند عبدالرزاق میں حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا اس اللہ کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اس امت میں سے جس کے کان میں میری نسبت کی آواز پہنچے اور وہ میری لائی ہوئی چیز پر ایمان نہ لائے خواہ یہودی ہو خواہ نصرانی ہو مگر مجھ پر ایمان لائے بغیر مرجائے گا تو قطعاً جہنمی ہوگا، مسلم شریف میں بھی یہ حدیث مروی ہے اور آنحضرت ﷺ کا یہ فرمان بھی ہے کہ میں ہر ایک سرخ و سیاہ کی طرف اللہ کا نبی بنا کر بھیجا گیا ہوں، ایک اور حدیث میں ہے ہر نبی صرف اپنی قوم کی طرف بھیجا جاتا رہا اور میں تمام انسانوں کیلئے نبی بنا کر بھیجا گیا ہوں، مسند احمد میں حضرت انس سے مروی ہے کہ ایک یہودی لڑکا جو نبی ﷺ کیلئے وضو کا پانی رکھا کرتا تھا اور جوتیاں لا کر رکھ دیتا تھا، بیمار پڑا گیا۔ آنحضرت ﷺ اس کی بیمار پرسی کیلئے تشریف لائے، اس وقت اس کا باپ اس کے سرہانے بیٹھا ہوا تھا، آپ ﷺ نے فرمایا اے فلاں لا الہ الا اللہ کہہ، اس نے اپنے باپ کی طرف دیکھا اور باپ کو خاموش دیکھ کر خود بھی چپکا ہوگیا۔ حضور ﷺ نے دوبارہ یہی فرمایا اس نے پھر اپنے باپ کی طرف دیکھا باپ نے کہا ابو القاسم کی مان لے ﷺ پس اس بچے نے کہا اشھد ان لا الہ الا اللہ وانک رسول اللہ وہاں سے یہ فرماتے ہوئے اٹھے کہ اللہ کا شکر ہے جس نے میری وجہ سے اسے جہنم سے بچا لیا، یہی حدیث صحیح بخاری میں حضرت امام بخاری بھی لائے ہیں، ان کے سوا اور بھی بہت سی صحیح حدیثیں بھی اور قرآن کریم کی آیتیں ہیں۔
19
View Single
إِنَّ ٱلدِّينَ عِندَ ٱللَّهِ ٱلۡإِسۡلَٰمُۗ وَمَا ٱخۡتَلَفَ ٱلَّذِينَ أُوتُواْ ٱلۡكِتَٰبَ إِلَّا مِنۢ بَعۡدِ مَا جَآءَهُمُ ٱلۡعِلۡمُ بَغۡيَۢا بَيۡنَهُمۡۗ وَمَن يَكۡفُرۡ بِـَٔايَٰتِ ٱللَّهِ فَإِنَّ ٱللَّهَ سَرِيعُ ٱلۡحِسَابِ
Indeed the only true religion in the sight of Allah is Islam; those who had received the Books differed only after the knowledge came to them, due to their hearts’ envy; and whoever disbelieves in the signs of Allah, then Allah is Swift At Taking Account.
بیشک دین اللہ کے نزدیک اسلام ہی ہے، اور اہلِ کتاب نے جو اپنے پاس علم آجانے کے بعد اختلاف کیا وہ صرف باہمی حسد و عناد کے باعث تھا، اور جو کوئی اللہ کی آیتوں کا انکار کرے تو بیشک اللہ حساب میں جلدی فرمانے والا ہے
Tafsir Ibn Kathir
The Testimony of Tawhid
Allah bears witness, and verily, Allah is sufficient as a Witness, and He is the Most Truthful and Just Witness there is; His statement is the absolute truth,
أَنَّهُ لاَ إِلَـهَ إِلاَّ هُوَ
(that La ilaha illa Huwa) meaning, He Alone is the Lord and God of all creation; everyone and everything are His servants, creation and in need of Him. Allah is the Most Rich, Free from needing anyone or anything. Allah said in another Ayah,
لَّـكِنِ اللَّهُ يَشْهَدُ بِمَآ أَنزَلَ إِلَيْكَ
(But Allah bears witness to that which He has sent down (the Qur'an) unto you (O Muhammad )) 4:166.
Allah then mentioned the testimony of His angels and those who have knowledge after he mentioned His own testimony,
شَهِدَ اللَّهُ أَنَّهُ لاَ إِلَـهَ إِلاَّ هُوَ وَالْمَلَـئِكَةُ وَأُوْلُواْ الْعِلْمِ
(Allah bears witness that none has the right to be worshipped but He), and the angels, and those having knowledge (also bear witness to this)). This Ayah emphasizes the great virtue of those who have knowledge.
قَآئِمَاً بِالْقِسْطِ
((He) maintains His creation in justice) in all that He does,
لاَ إِلَـهَ إِلاَّ هُوَ
(None has the right to be worshipped but He) thus emphasizing this fact,
العَزِيزُ الحَكِيمُ
(the Almighty, the All-Wise.) the Mighty that does not submit to weakness due to His might and greatness, the Wise in all His statements, actions, legislation and decrees.
The Religion with Allah is Islam
Allah said,
إِنَّ الدِّينَ عِندَ اللَّهِ الإِسْلَـمُ
(Truly, the religion with Allah is Islam.) Allah states that there is no religion accepted with Him from any person, except Islam. Islam includes obeying all of the Messengers until Muhammad who finalized their commission, thus closing all paths to Allah except through Muhammad . Therefore, after Allah sent Muhammad , whoever meets Allah following a path other than Muhammad's, it will not be accepted of him. In another Ayah, Allah said,
وَمَن يَبْتَغِ غَيْرَ الإِسْلَـمِ دِينًا فَلَن يُقْبَلَ مِنْهُ
(And whoever seeks a religion other than Islam, it will never be accepted of him) 3:85.
In this Ayah 3:19, Allah said, asserting that the only religion accepted with Him is Islam,
إِنَّ الدِّينَ عِندَ اللَّهِ الإِسْلَـمُ
(Truly, the religion with Allah is Islam.)
Allah then states that those who were given the Scripture beforehand divided in the religion after Allah sent the Messengers and revealed the Books to them providing them the necessary proofs to not do so. Allah said,
وَمَا اخْتَلَفَ الَّذِينَ أُوتُواْ الْكِتَـبَ إِلاَّ مِن بَعْدِ مَا جَآءَهُمُ الْعِلْمُ بَغْيًا بَيْنَهُمْ
(Those who were given the Scripture (Jews and Christians) did not differ except out of rivalry, after knowledge had come to them.) meaning, some of them wronged others. Therefore, they differed over the truth, out of envy, hatred and enmity for each other. This hatred made some of them defy those whom they hated even if they were correct. Allah then said,
وَمَن يَكْفُرْ بِآيَـتِ اللَّهِ
(And whoever disbelieves in the Ayat of Allah) meaning, whoever rejects what Allah sent down in His Book,
فَإِنَّ اللَّهِ سَرِيعُ الْحِسَابِ
(then surely, Allah is Swift in reckoning.) Allah will punish him for his rejection, reckon him for his denial, and torment him for defying His Book. Thereafter, Allah said.
فَإنْ حَآجُّوكَ
(So if they dispute with you (Muhammad )) so if they argue with you about Tawhid,
فَقُلْ أَسْلَمْتُ وَجْهِىَ للَّهِ وَمَنِ اتَّبَعَنِ
(Say: "I have submitted myself to Allah (in Islam), and (so have) those who follow me") meaning, Say, `I have made my worship sincere for Allah Alone without partners, rivals, offspring or companion,
وَمَنِ اتَّبَعَنِ
(and those who follow me) who followed my religion and embraced my creed.' In another Ayah, Allah said,
قُلْ هَـذِهِ سَبِيلِى أَدْعُو إِلَى اللَّهِ عَلَى بَصِيرَةٍ أَنَاْ وَمَنِ اتَّبَعَنِى
(Say (O Muhammad ): "This is my way; I invite unto Allah with sure knowledge, I and whosoever follows me...") 12:108.
Islam is the Religion of Mankind and the Prophet Was Sent to all Mankind
Allah commanded His servant and Messenger, Muhammad , to call the People of the Two Scriptures and the unlettered idolators to his religion, way, Law and all that Allah sent him with. Allah said,
وَقُلْ لِّلَّذِينَ أُوتُواْ الْكِتَـبَ وَالاٍّمِّيِّينَ ءَأَسْلَمْتُمْ فَإِنْ أَسْلَمُواْ فَقَدِ اهْتَدَواْ وَّإِن تَوَلَّوْاْ فَإِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلَـغُ
(And say to those who were given the Scripture (Jews and Christians) and to those who are illiterates (Arab pagans): "Do you (also) submit yourselves" If they do, they are rightly guided; but if they turn away, your duty is only to convey the Message.) meaning, their reckoning is with Allah and their return and final destination is to Him. It is He Who guides whom He wills and allows whom He wills to stray, and He has the perfect wisdom and the unequivocal proof for all of this. This is why Allah said,
وَاللَّهُ بَصِيرٌ بِالْعِبَادِ
(And Allah sees the servants.) for He has perfect knowledge of who deserves to be guided and who does not deserve to be guided. Verily,
لاَ يُسْأَلُ عَمَّا يَفْعَلُ وَهُمْ يُسْـَلُونَ
(He cannot be questioned for what He does, while they will be questioned.) 21:23 because of His perfect wisdom and mercy. This and similar Ayat are clear proofs that the Message of Muhammad is universal to all creation, as it is well established in the religion, according to the various texts of the Book and Sunnah. For instance, Allah said,
قُلْ يَأَيُّهَا النَّاسُ إِنِّى رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا
(Say (O Muhammad ): "O mankind! Verily, I am sent to you all as the Messenger of Allah.") 7:158, and,
تَبَارَكَ الَّذِى نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلَى عَبْدِهِ لِيَكُونَ لِلْعَـلَمِينَ نَذِيراً
(Blessed be He Who sent down the criterion to His servant that he may be a warner to the `Alamin (mankind and Jinn).) 25:1.
The Two Sahihs and other collections of Hadith recorded that the Prophet sent letters to the kings of the earth during his time and to different peoples, Arabs and non-Arabs, People of the Book and the unlettered, just as Allah had commanded him. `Abdur-Razzaq recorded that Ma`mar said, that Hammam said that Abu Hurayrah said that the Prophet said,
«وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَا يَسْمَعُ بِي أَحَدٌ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ: يَهُودِيٌّ وَلَا نَصْرَانِيٌّ، وَمَاتَ وَلَمْ يُؤْمِنْ بِالَّذِي أُرْسِلْتُ بِهِ، إِلَّا كَانَ مِنْ أَهْلِ النَّار»
(By He in Whose Hand is my soul! No member of this Ummah, no Jew or Christian, hears of me but dies without believing in what I was sent with, but will be among the people of the Fire.) Muslim recorded this Hadith.
The Prophet said,
«بُعِثْتُ إِلَى الْأَحْمَرِ وَالْأَسْوَد»
(I was sent to the red and black. ) and,
«كَانَ النَّبِيُّ يُبْعَثُ إِلى قَوْمِهِ خَاصَّةً، وَبُعِثْتُ إِلَى النَّاسِ عَامَّة»
(A Prophet used to be sent to his people, but I was sent to all mankind.)
اللہ وحدہ لاشریک اپنی وحدت کا خود شاہد اللہ تعالیٰ خود شہادت دیتا ہے بس اس کی شہادت کافی ہے وہ سب سے زیادہ سچا گواہ ہے، سب سے زیادہ سچی بات اسی کی ہے، وہ فرماتا ہے کہ تمام مخلوق اس کی غلام ہے اور اسی کی پیدا کی ہوئی ہے۔ اور اسی کی طرف محتاج ہے، وہ سب سے بےنیاز ہے، الوہیت میں اللہ ہونے میں وہ یکتا اور لاشریک ہے، اس کے سوا کوئی پوجے جانے کے لائق نہیں، جیسے فرمان ہے آیت (لٰكِنِ اللّٰهُ يَشْهَدُ بِمَآ اَنْزَلَ اِلَيْكَ اَنْزَلَهٗ بِعِلْمِهٖ) 4۔ النسآء :166) یعنی لیکن اللہ تعالیٰ بذریعہ اس کتاب کے جو وہ تیری طرف اپنے علم سے اتار رہا ہے، گواہی دے رہا ہے اور فرشتے بھی گواہی دیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی شہادت کافی ہے، پھر اپنی شہادت کے ساتھ فرشتوں کی شہادت پر علماء کی گواہی کو ملا رہا ہے۔ یہاں سے علماء کی بہت بڑی فضیلت ثابت ہوتی ہے بلکہ خصوصی قائما کا نصب حال ہونے کی وجہ سے ہے وہ اللہ ہر وقت اور حال میں ایسا ہی ہے، پھر تاکیداً دوبارہ ارشاد ہوتا ہے کہ معبود حقیقی صرف وہی ہے، وہ غالب ہے، عظمت اور کبریائی والی اس کی بارگاہ ہے، وہ اپنے اقوال افعال اور شریعت قدرت و تقدیر میں حکمتوں والا ہے۔ مسند احمد میں ہے کہ نبی ﷺ نے عرفات میں اس آیت کی تلاوت کی اور الحکیم تک پڑھ کر فرمایا وانا علی ذالک من الشاھدین یا رب، ابن ابی حاتم میں ہے آپ نے یوں فرمایا وانا اشھدای رب طبرانی میں ہے حضرت غالب قطان فرماتے ہیں میں کوفے میں تجارتی غرض سے گیا اور حضرت اعمش کے قریب ٹھہرا، رات کو حضرت اعمش تہجد کیلئے کھڑے ہوئے پڑھتے پڑھتے جب اس آیت تک پہنچے اور آیت (اِنَّ الدِّيْنَ عِنْدَ اللّٰهِ الْاِسْلَامُ) 3۔ آل عمران :19) پڑھا تو فرمایا وانا اشھد بما شھد اللہ بہ واستودع اللہ ھذہ الشھادۃ وھی لی عند اللہ ودیعتہ یعنی میں بھی شہادت دیتا ہوں اس کی جس کی شہادت اللہ نے دی اور میں اس شہادت کو اللہ کے سپرد کرتا ہوں، یہ میری امانت اللہ کے پاس ہے، پھر کئی دفعہ آیت (اِنَّ الدِّيْنَ عِنْدَ اللّٰهِ الْاِسْلَامُ) 3۔ آل عمران :19) پڑھا، میں نے اپنے دل میں خیال کیا کہ شاید اس بارے میں کوئی حدیث سنی ہوگی، صبح ہی صبح میں حاضر خدمت ہوا اور عرض کیا کہ ابو محمد کیا بات تھی جو آپ اس آیت کو بار بار پڑھتے رہے ؟ کہا کیا اس کی فضیلت تمہیں معلوم نہیں ؟ میں نے کہا حضرت میں تو مہینہ بھر سے آپ کی خدمت میں ہوں لیکن آپ نے حدیث بیان ہی نہیں کی، کہنے لگے اللہ کی قسم میں تو سال بھر تک بیان نہ کروں گا، اب میں اس حدیث کے سننے کی خاطر سال بھر تک ٹھہرا رہا اور ان کے دروازے پر پڑا رہا جب سال کامل گزر چکا تو میں نے کہا اے ابو محمد سال گزر چکا ہے، سُن مجھ سے ابو وائل نے حدیث بیان کی، اس نے عبداللہ سے سنا، وہ فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس کے پڑھنے والے کو قیامت کے دن لایا جائے گا اور اللہ عزوجل فرمائے گا میرے اس بندے نے میرا عہد لیا ہے اور میں عہد کو پورا کرنے میں سب سے افضل و اعلیٰ ہوں، میرے اس بندے کو جنت میں لے جاؤ۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے وہ صرف اسلام ہی کو قبول فرماتا ہے، اسلام ہر زمانے کے پیغمبر کی وحی کی تابعداری کا نام ہے، اور سب سے آخر اور سب رسولوں کو ختم کرنے والے ہمارے پیغمبر حضرت محمد ﷺ ہیں، آپ کی نبوت کے بعد نبوت کے سب راستے بند ہوگئے اب جو شخص آپ کی شریعت کے سوا کسی چیز پر عمل کرے اللہ کے نزدیک وہ صاحب ایمان نہیں جیسے اور جگہ ہے آیت (وَمَنْ يَّبْتَـغِ غَيْرَ الْاِسْلَامِ دِيْنًا فَلَنْ يُّقْبَلَ مِنْهُ) 3۔ آل عمران :85) جو شخص اسلام کے سوا اور دین کی تلاش کرے وہ اس سے قبول نہیں کیا جائے گا، اسی طرح اس آیت میں دین کا انحصار اسلام میں کردیا ہے۔ حضرت ابن عباس کی قرأت میں (آیت شھد اللہ انہ) ہے اور ان الاسلام ہے، تو معنی یہ ہوں گے، خود اللہ کی گواہی ہے اور اس کے فرشتوں اور ذی علم انسانوں کے نزدیک مقبول ہونے والا دین صرف اسلام ہی ہے، جمہور کی قرأت میں ان زیر کے ساتھ ہے اور معنی کے لحاظ سے دونوں ہی ٹھیک ہیں، لیکن جمہور کا قول زیادہ ظاہر ہے واللہ اعلم۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ پہلی کتاب والوں نے اپنے پاک اللہ کے پیغمبروں کے آنے اور اللہ کی کتابیں نازل ہونے کے بعد بھی اختلاف کیا، جس کی وجہ سے صرف ان کا آپس کا بغض وعناد تھا کہ میں اس کیخلاف ہی چلوں چاہے وہ حق پر ہی کیوں نہ ہو، پھر ارشاد ہے کہ جب اللہ کی آیتیں اتر چکی، اب جو ان کا انکار کرے انہیں نہ مانے تو اللہ تعالیٰ بھی اس سے اس کی تکذیب کا بہت جلد حساب لے گا اور کتاب اللہ کی مخالفت کی وجہ سے اسے سخت عذاب دے گا اور اسے اس کی اس شرارت کا لطف چکھائے گا۔ پھر فرمایا اگر یہ لوگ تجھ سے توحید باری تعالیٰ کے بارے میں جھگڑیں تو کہہ دو کہ میں تو خالص اللہ ہی کی عبادت کروں گا جس کا نہ کوئی شریک ہے نہ اس جیسا کوئی ہے، نہ اس کی اولاد ہے نہ بیوی اور جو میرے امتی ہیں میرے دین پر ہیں۔ ان سب کا قول بھی یہی ہے، جیسے اور جگہ فرمایا آیت (قُلْ هٰذِهٖ سَبِيْلِيْٓ اَدْعُوْٓا اِلَى اللّٰهِ007عَلٰي بَصِيْرَةٍ اَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِيْ ۭ وَسُبْحٰنَ اللّٰهِ وَمَآ اَنَا مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ) 12۔ یوسف :108) یعنی میری راہ یہی ہے میں خوب سوچ سمجھ کر دیکھ بھال کر تمہیں اللہ کی طرف بلا رہا ہوں، میں بھی اور میرے تابعدار بھی یہی دعوے دے رہے ہیں، پھر حکم دیتا ہے کہ اے نبی ﷺ یہود و نصاریٰ جن کے ہاتھوں میں اللہ کی کتاب ہے اور مشرکین سے جو اَن پڑھ ہیں کہہ دو کہ تم سب کی ہدایت اسلام میں ہی ہے اور اگر یہ نہ مانیں تو کوئی بات نہیں، آپ اپنا فرض تبلیغ ادا کرچکے، اللہ خود ان سے سمجھ لے گا، ان سب کو لوٹ کر اسی کے پاس جانا ہے وہ جسے سیدھا راستہ دکھائے جسے چاہے گمراہ کر دے، اپنی حکمت کو وہی خوب جانتا ہے اس کی حجت تو پوری ہو کر ہی رہتی ہے، اس کی اپنے بندوں پر نظر ہے اسے خوب معلوم ہے کہ ہدایت کا مستحق کون ہے اور کون ضلالت کا مستحق ہے ؟ اس سے کوئی باز پرس نہیں کرسکتا۔ دوسری آیتوں میں بھی صاف صراحت ہے کہ رسول اللہ ﷺ تمام مخلوق کی طرف اللہ کے نبی بن کر آئے ہیں، اور خود آپ کے دین کے احکام بھی اس پر دلالت کرتے ہیں اور کتاب و سنت میں بھی بہت سی آیتیں اور حدیثیں اسی مفہوم کی ہیں، قرآن پاک میں ایک جگہ ہے آیت (قُلْ يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ اِنِّىْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَيْكُمْ جَمِيْعَۨا الَّذِيْ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ) 7۔ الاعراف :158) لوگو میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں۔ اور آیت میں ہے آیت (تَبٰرَكَ الَّذِيْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلٰي عَبْدِهٖ لِيَكُوْنَ لِلْعٰلَمِيْنَ نَذِيْرَۨا) 25۔ الفرقان :1) بابرکت ہے وہ اللہ جس نے اپنے بندوں پر قرآن نازل فرمایا تاکہ وہ تمام دنیا والوں کیلئے تنبیہ کرنے والا بن جائے۔ بخاری و مسلم وغیرہ میں کئی کئی واقعات سے تواتر کے ساتھ ثابت ہے کہ نبی ﷺ نے عرب و عجم کے تمام بادشاہوں کو اور دوسرے اطراف کے لوگوں کو خطوط بھجوائے جن میں انہیں اللہ کی طرف آنے کی دعوت دی خواہ وہ عرب ہوں عجم ہوں اہل کتاب ہوں مذہب والے ہوں اور اس طرح آپ ﷺ نے تبلیغ کے فرض کو تمام و کمال تک پہنچا دیا۔ مسند عبدالرزاق میں حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا اس اللہ کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اس امت میں سے جس کے کان میں میری نسبت کی آواز پہنچے اور وہ میری لائی ہوئی چیز پر ایمان نہ لائے خواہ یہودی ہو خواہ نصرانی ہو مگر مجھ پر ایمان لائے بغیر مرجائے گا تو قطعاً جہنمی ہوگا، مسلم شریف میں بھی یہ حدیث مروی ہے اور آنحضرت ﷺ کا یہ فرمان بھی ہے کہ میں ہر ایک سرخ و سیاہ کی طرف اللہ کا نبی بنا کر بھیجا گیا ہوں، ایک اور حدیث میں ہے ہر نبی صرف اپنی قوم کی طرف بھیجا جاتا رہا اور میں تمام انسانوں کیلئے نبی بنا کر بھیجا گیا ہوں، مسند احمد میں حضرت انس سے مروی ہے کہ ایک یہودی لڑکا جو نبی ﷺ کیلئے وضو کا پانی رکھا کرتا تھا اور جوتیاں لا کر رکھ دیتا تھا، بیمار پڑا گیا۔ آنحضرت ﷺ اس کی بیمار پرسی کیلئے تشریف لائے، اس وقت اس کا باپ اس کے سرہانے بیٹھا ہوا تھا، آپ ﷺ نے فرمایا اے فلاں لا الہ الا اللہ کہہ، اس نے اپنے باپ کی طرف دیکھا اور باپ کو خاموش دیکھ کر خود بھی چپکا ہوگیا۔ حضور ﷺ نے دوبارہ یہی فرمایا اس نے پھر اپنے باپ کی طرف دیکھا باپ نے کہا ابو القاسم کی مان لے ﷺ پس اس بچے نے کہا اشھد ان لا الہ الا اللہ وانک رسول اللہ وہاں سے یہ فرماتے ہوئے اٹھے کہ اللہ کا شکر ہے جس نے میری وجہ سے اسے جہنم سے بچا لیا، یہی حدیث صحیح بخاری میں حضرت امام بخاری بھی لائے ہیں، ان کے سوا اور بھی بہت سی صحیح حدیثیں بھی اور قرآن کریم کی آیتیں ہیں۔
20
View Single
فَإِنۡ حَآجُّوكَ فَقُلۡ أَسۡلَمۡتُ وَجۡهِيَ لِلَّهِ وَمَنِ ٱتَّبَعَنِۗ وَقُل لِّلَّذِينَ أُوتُواْ ٱلۡكِتَٰبَ وَٱلۡأُمِّيِّـۧنَ ءَأَسۡلَمۡتُمۡۚ فَإِنۡ أَسۡلَمُواْ فَقَدِ ٱهۡتَدَواْۖ وَّإِن تَوَلَّوۡاْ فَإِنَّمَا عَلَيۡكَ ٱلۡبَلَٰغُۗ وَٱللَّهُ بَصِيرُۢ بِٱلۡعِبَادِ
Then if they argue with you, (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him) say, “I have submitted my face (self) to Allah and likewise have my followers”; and say to the People given the Book(s) and the illiterate, “Have you submitted (accepted Islam)?” If they submit, they have attained the right path – and if they turn away (reject), then your duty is only to convey this command; and Allah is seeing the bondmen.
(اے حبیب!) اگر پھر بھی آپ سے جھگڑا کریں تو فرما دیں کہ میں نے اور جس نے (بھی) میری پیروی کی اپنا روئے نیاز اللہ کے حضور جھکا دیا ہے، اور آپ اہلِ کتاب اور اَن پڑھ لوگوں سے فرما دیں: کیا تم بھی اللہ کے حضور جھکتے ہو (یعنی اسلام قبول کرتے ہو)؟ پھر اگر وہ فرمانبرداری اختیار کر لیں تو وہ حقیقتاً ہدایت پا گئے، اور اگر منہ پھیر لیں تو آپ کے ذمہ فقط حکم پہنچا دینا ہی ہے، اور اللہ بندوں کو خوب دیکھنے والا ہے
Tafsir Ibn Kathir
The Testimony of Tawhid
Allah bears witness, and verily, Allah is sufficient as a Witness, and He is the Most Truthful and Just Witness there is; His statement is the absolute truth,
أَنَّهُ لاَ إِلَـهَ إِلاَّ هُوَ
(that La ilaha illa Huwa) meaning, He Alone is the Lord and God of all creation; everyone and everything are His servants, creation and in need of Him. Allah is the Most Rich, Free from needing anyone or anything. Allah said in another Ayah,
لَّـكِنِ اللَّهُ يَشْهَدُ بِمَآ أَنزَلَ إِلَيْكَ
(But Allah bears witness to that which He has sent down (the Qur'an) unto you (O Muhammad )) 4:166.
Allah then mentioned the testimony of His angels and those who have knowledge after he mentioned His own testimony,
شَهِدَ اللَّهُ أَنَّهُ لاَ إِلَـهَ إِلاَّ هُوَ وَالْمَلَـئِكَةُ وَأُوْلُواْ الْعِلْمِ
(Allah bears witness that none has the right to be worshipped but He), and the angels, and those having knowledge (also bear witness to this)). This Ayah emphasizes the great virtue of those who have knowledge.
قَآئِمَاً بِالْقِسْطِ
((He) maintains His creation in justice) in all that He does,
لاَ إِلَـهَ إِلاَّ هُوَ
(None has the right to be worshipped but He) thus emphasizing this fact,
العَزِيزُ الحَكِيمُ
(the Almighty, the All-Wise.) the Mighty that does not submit to weakness due to His might and greatness, the Wise in all His statements, actions, legislation and decrees.
The Religion with Allah is Islam
Allah said,
إِنَّ الدِّينَ عِندَ اللَّهِ الإِسْلَـمُ
(Truly, the religion with Allah is Islam.) Allah states that there is no religion accepted with Him from any person, except Islam. Islam includes obeying all of the Messengers until Muhammad who finalized their commission, thus closing all paths to Allah except through Muhammad . Therefore, after Allah sent Muhammad , whoever meets Allah following a path other than Muhammad's, it will not be accepted of him. In another Ayah, Allah said,
وَمَن يَبْتَغِ غَيْرَ الإِسْلَـمِ دِينًا فَلَن يُقْبَلَ مِنْهُ
(And whoever seeks a religion other than Islam, it will never be accepted of him) 3:85.
In this Ayah 3:19, Allah said, asserting that the only religion accepted with Him is Islam,
إِنَّ الدِّينَ عِندَ اللَّهِ الإِسْلَـمُ
(Truly, the religion with Allah is Islam.)
Allah then states that those who were given the Scripture beforehand divided in the religion after Allah sent the Messengers and revealed the Books to them providing them the necessary proofs to not do so. Allah said,
وَمَا اخْتَلَفَ الَّذِينَ أُوتُواْ الْكِتَـبَ إِلاَّ مِن بَعْدِ مَا جَآءَهُمُ الْعِلْمُ بَغْيًا بَيْنَهُمْ
(Those who were given the Scripture (Jews and Christians) did not differ except out of rivalry, after knowledge had come to them.) meaning, some of them wronged others. Therefore, they differed over the truth, out of envy, hatred and enmity for each other. This hatred made some of them defy those whom they hated even if they were correct. Allah then said,
وَمَن يَكْفُرْ بِآيَـتِ اللَّهِ
(And whoever disbelieves in the Ayat of Allah) meaning, whoever rejects what Allah sent down in His Book,
فَإِنَّ اللَّهِ سَرِيعُ الْحِسَابِ
(then surely, Allah is Swift in reckoning.) Allah will punish him for his rejection, reckon him for his denial, and torment him for defying His Book. Thereafter, Allah said.
فَإنْ حَآجُّوكَ
(So if they dispute with you (Muhammad )) so if they argue with you about Tawhid,
فَقُلْ أَسْلَمْتُ وَجْهِىَ للَّهِ وَمَنِ اتَّبَعَنِ
(Say: "I have submitted myself to Allah (in Islam), and (so have) those who follow me") meaning, Say, `I have made my worship sincere for Allah Alone without partners, rivals, offspring or companion,
وَمَنِ اتَّبَعَنِ
(and those who follow me) who followed my religion and embraced my creed.' In another Ayah, Allah said,
قُلْ هَـذِهِ سَبِيلِى أَدْعُو إِلَى اللَّهِ عَلَى بَصِيرَةٍ أَنَاْ وَمَنِ اتَّبَعَنِى
(Say (O Muhammad ): "This is my way; I invite unto Allah with sure knowledge, I and whosoever follows me...") 12:108.
Islam is the Religion of Mankind and the Prophet Was Sent to all Mankind
Allah commanded His servant and Messenger, Muhammad , to call the People of the Two Scriptures and the unlettered idolators to his religion, way, Law and all that Allah sent him with. Allah said,
وَقُلْ لِّلَّذِينَ أُوتُواْ الْكِتَـبَ وَالاٍّمِّيِّينَ ءَأَسْلَمْتُمْ فَإِنْ أَسْلَمُواْ فَقَدِ اهْتَدَواْ وَّإِن تَوَلَّوْاْ فَإِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلَـغُ
(And say to those who were given the Scripture (Jews and Christians) and to those who are illiterates (Arab pagans): "Do you (also) submit yourselves" If they do, they are rightly guided; but if they turn away, your duty is only to convey the Message.) meaning, their reckoning is with Allah and their return and final destination is to Him. It is He Who guides whom He wills and allows whom He wills to stray, and He has the perfect wisdom and the unequivocal proof for all of this. This is why Allah said,
وَاللَّهُ بَصِيرٌ بِالْعِبَادِ
(And Allah sees the servants.) for He has perfect knowledge of who deserves to be guided and who does not deserve to be guided. Verily,
لاَ يُسْأَلُ عَمَّا يَفْعَلُ وَهُمْ يُسْـَلُونَ
(He cannot be questioned for what He does, while they will be questioned.) 21:23 because of His perfect wisdom and mercy. This and similar Ayat are clear proofs that the Message of Muhammad is universal to all creation, as it is well established in the religion, according to the various texts of the Book and Sunnah. For instance, Allah said,
قُلْ يَأَيُّهَا النَّاسُ إِنِّى رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا
(Say (O Muhammad ): "O mankind! Verily, I am sent to you all as the Messenger of Allah.") 7:158, and,
تَبَارَكَ الَّذِى نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلَى عَبْدِهِ لِيَكُونَ لِلْعَـلَمِينَ نَذِيراً
(Blessed be He Who sent down the criterion to His servant that he may be a warner to the `Alamin (mankind and Jinn).) 25:1.
The Two Sahihs and other collections of Hadith recorded that the Prophet sent letters to the kings of the earth during his time and to different peoples, Arabs and non-Arabs, People of the Book and the unlettered, just as Allah had commanded him. `Abdur-Razzaq recorded that Ma`mar said, that Hammam said that Abu Hurayrah said that the Prophet said,
«وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَا يَسْمَعُ بِي أَحَدٌ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ: يَهُودِيٌّ وَلَا نَصْرَانِيٌّ، وَمَاتَ وَلَمْ يُؤْمِنْ بِالَّذِي أُرْسِلْتُ بِهِ، إِلَّا كَانَ مِنْ أَهْلِ النَّار»
(By He in Whose Hand is my soul! No member of this Ummah, no Jew or Christian, hears of me but dies without believing in what I was sent with, but will be among the people of the Fire.) Muslim recorded this Hadith.
The Prophet said,
«بُعِثْتُ إِلَى الْأَحْمَرِ وَالْأَسْوَد»
(I was sent to the red and black. ) and,
«كَانَ النَّبِيُّ يُبْعَثُ إِلى قَوْمِهِ خَاصَّةً، وَبُعِثْتُ إِلَى النَّاسِ عَامَّة»
(A Prophet used to be sent to his people, but I was sent to all mankind.)
اللہ وحدہ لاشریک اپنی وحدت کا خود شاہد اللہ تعالیٰ خود شہادت دیتا ہے بس اس کی شہادت کافی ہے وہ سب سے زیادہ سچا گواہ ہے، سب سے زیادہ سچی بات اسی کی ہے، وہ فرماتا ہے کہ تمام مخلوق اس کی غلام ہے اور اسی کی پیدا کی ہوئی ہے۔ اور اسی کی طرف محتاج ہے، وہ سب سے بےنیاز ہے، الوہیت میں اللہ ہونے میں وہ یکتا اور لاشریک ہے، اس کے سوا کوئی پوجے جانے کے لائق نہیں، جیسے فرمان ہے آیت (لٰكِنِ اللّٰهُ يَشْهَدُ بِمَآ اَنْزَلَ اِلَيْكَ اَنْزَلَهٗ بِعِلْمِهٖ) 4۔ النسآء :166) یعنی لیکن اللہ تعالیٰ بذریعہ اس کتاب کے جو وہ تیری طرف اپنے علم سے اتار رہا ہے، گواہی دے رہا ہے اور فرشتے بھی گواہی دیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی شہادت کافی ہے، پھر اپنی شہادت کے ساتھ فرشتوں کی شہادت پر علماء کی گواہی کو ملا رہا ہے۔ یہاں سے علماء کی بہت بڑی فضیلت ثابت ہوتی ہے بلکہ خصوصی قائما کا نصب حال ہونے کی وجہ سے ہے وہ اللہ ہر وقت اور حال میں ایسا ہی ہے، پھر تاکیداً دوبارہ ارشاد ہوتا ہے کہ معبود حقیقی صرف وہی ہے، وہ غالب ہے، عظمت اور کبریائی والی اس کی بارگاہ ہے، وہ اپنے اقوال افعال اور شریعت قدرت و تقدیر میں حکمتوں والا ہے۔ مسند احمد میں ہے کہ نبی ﷺ نے عرفات میں اس آیت کی تلاوت کی اور الحکیم تک پڑھ کر فرمایا وانا علی ذالک من الشاھدین یا رب، ابن ابی حاتم میں ہے آپ نے یوں فرمایا وانا اشھدای رب طبرانی میں ہے حضرت غالب قطان فرماتے ہیں میں کوفے میں تجارتی غرض سے گیا اور حضرت اعمش کے قریب ٹھہرا، رات کو حضرت اعمش تہجد کیلئے کھڑے ہوئے پڑھتے پڑھتے جب اس آیت تک پہنچے اور آیت (اِنَّ الدِّيْنَ عِنْدَ اللّٰهِ الْاِسْلَامُ) 3۔ آل عمران :19) پڑھا تو فرمایا وانا اشھد بما شھد اللہ بہ واستودع اللہ ھذہ الشھادۃ وھی لی عند اللہ ودیعتہ یعنی میں بھی شہادت دیتا ہوں اس کی جس کی شہادت اللہ نے دی اور میں اس شہادت کو اللہ کے سپرد کرتا ہوں، یہ میری امانت اللہ کے پاس ہے، پھر کئی دفعہ آیت (اِنَّ الدِّيْنَ عِنْدَ اللّٰهِ الْاِسْلَامُ) 3۔ آل عمران :19) پڑھا، میں نے اپنے دل میں خیال کیا کہ شاید اس بارے میں کوئی حدیث سنی ہوگی، صبح ہی صبح میں حاضر خدمت ہوا اور عرض کیا کہ ابو محمد کیا بات تھی جو آپ اس آیت کو بار بار پڑھتے رہے ؟ کہا کیا اس کی فضیلت تمہیں معلوم نہیں ؟ میں نے کہا حضرت میں تو مہینہ بھر سے آپ کی خدمت میں ہوں لیکن آپ نے حدیث بیان ہی نہیں کی، کہنے لگے اللہ کی قسم میں تو سال بھر تک بیان نہ کروں گا، اب میں اس حدیث کے سننے کی خاطر سال بھر تک ٹھہرا رہا اور ان کے دروازے پر پڑا رہا جب سال کامل گزر چکا تو میں نے کہا اے ابو محمد سال گزر چکا ہے، سُن مجھ سے ابو وائل نے حدیث بیان کی، اس نے عبداللہ سے سنا، وہ فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس کے پڑھنے والے کو قیامت کے دن لایا جائے گا اور اللہ عزوجل فرمائے گا میرے اس بندے نے میرا عہد لیا ہے اور میں عہد کو پورا کرنے میں سب سے افضل و اعلیٰ ہوں، میرے اس بندے کو جنت میں لے جاؤ۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے وہ صرف اسلام ہی کو قبول فرماتا ہے، اسلام ہر زمانے کے پیغمبر کی وحی کی تابعداری کا نام ہے، اور سب سے آخر اور سب رسولوں کو ختم کرنے والے ہمارے پیغمبر حضرت محمد ﷺ ہیں، آپ کی نبوت کے بعد نبوت کے سب راستے بند ہوگئے اب جو شخص آپ کی شریعت کے سوا کسی چیز پر عمل کرے اللہ کے نزدیک وہ صاحب ایمان نہیں جیسے اور جگہ ہے آیت (وَمَنْ يَّبْتَـغِ غَيْرَ الْاِسْلَامِ دِيْنًا فَلَنْ يُّقْبَلَ مِنْهُ) 3۔ آل عمران :85) جو شخص اسلام کے سوا اور دین کی تلاش کرے وہ اس سے قبول نہیں کیا جائے گا، اسی طرح اس آیت میں دین کا انحصار اسلام میں کردیا ہے۔ حضرت ابن عباس کی قرأت میں (آیت شھد اللہ انہ) ہے اور ان الاسلام ہے، تو معنی یہ ہوں گے، خود اللہ کی گواہی ہے اور اس کے فرشتوں اور ذی علم انسانوں کے نزدیک مقبول ہونے والا دین صرف اسلام ہی ہے، جمہور کی قرأت میں ان زیر کے ساتھ ہے اور معنی کے لحاظ سے دونوں ہی ٹھیک ہیں، لیکن جمہور کا قول زیادہ ظاہر ہے واللہ اعلم۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ پہلی کتاب والوں نے اپنے پاک اللہ کے پیغمبروں کے آنے اور اللہ کی کتابیں نازل ہونے کے بعد بھی اختلاف کیا، جس کی وجہ سے صرف ان کا آپس کا بغض وعناد تھا کہ میں اس کیخلاف ہی چلوں چاہے وہ حق پر ہی کیوں نہ ہو، پھر ارشاد ہے کہ جب اللہ کی آیتیں اتر چکی، اب جو ان کا انکار کرے انہیں نہ مانے تو اللہ تعالیٰ بھی اس سے اس کی تکذیب کا بہت جلد حساب لے گا اور کتاب اللہ کی مخالفت کی وجہ سے اسے سخت عذاب دے گا اور اسے اس کی اس شرارت کا لطف چکھائے گا۔ پھر فرمایا اگر یہ لوگ تجھ سے توحید باری تعالیٰ کے بارے میں جھگڑیں تو کہہ دو کہ میں تو خالص اللہ ہی کی عبادت کروں گا جس کا نہ کوئی شریک ہے نہ اس جیسا کوئی ہے، نہ اس کی اولاد ہے نہ بیوی اور جو میرے امتی ہیں میرے دین پر ہیں۔ ان سب کا قول بھی یہی ہے، جیسے اور جگہ فرمایا آیت (قُلْ هٰذِهٖ سَبِيْلِيْٓ اَدْعُوْٓا اِلَى اللّٰهِ007عَلٰي بَصِيْرَةٍ اَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِيْ ۭ وَسُبْحٰنَ اللّٰهِ وَمَآ اَنَا مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ) 12۔ یوسف :108) یعنی میری راہ یہی ہے میں خوب سوچ سمجھ کر دیکھ بھال کر تمہیں اللہ کی طرف بلا رہا ہوں، میں بھی اور میرے تابعدار بھی یہی دعوے دے رہے ہیں، پھر حکم دیتا ہے کہ اے نبی ﷺ یہود و نصاریٰ جن کے ہاتھوں میں اللہ کی کتاب ہے اور مشرکین سے جو اَن پڑھ ہیں کہہ دو کہ تم سب کی ہدایت اسلام میں ہی ہے اور اگر یہ نہ مانیں تو کوئی بات نہیں، آپ اپنا فرض تبلیغ ادا کرچکے، اللہ خود ان سے سمجھ لے گا، ان سب کو لوٹ کر اسی کے پاس جانا ہے وہ جسے سیدھا راستہ دکھائے جسے چاہے گمراہ کر دے، اپنی حکمت کو وہی خوب جانتا ہے اس کی حجت تو پوری ہو کر ہی رہتی ہے، اس کی اپنے بندوں پر نظر ہے اسے خوب معلوم ہے کہ ہدایت کا مستحق کون ہے اور کون ضلالت کا مستحق ہے ؟ اس سے کوئی باز پرس نہیں کرسکتا۔ دوسری آیتوں میں بھی صاف صراحت ہے کہ رسول اللہ ﷺ تمام مخلوق کی طرف اللہ کے نبی بن کر آئے ہیں، اور خود آپ کے دین کے احکام بھی اس پر دلالت کرتے ہیں اور کتاب و سنت میں بھی بہت سی آیتیں اور حدیثیں اسی مفہوم کی ہیں، قرآن پاک میں ایک جگہ ہے آیت (قُلْ يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ اِنِّىْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَيْكُمْ جَمِيْعَۨا الَّذِيْ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ) 7۔ الاعراف :158) لوگو میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں۔ اور آیت میں ہے آیت (تَبٰرَكَ الَّذِيْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلٰي عَبْدِهٖ لِيَكُوْنَ لِلْعٰلَمِيْنَ نَذِيْرَۨا) 25۔ الفرقان :1) بابرکت ہے وہ اللہ جس نے اپنے بندوں پر قرآن نازل فرمایا تاکہ وہ تمام دنیا والوں کیلئے تنبیہ کرنے والا بن جائے۔ بخاری و مسلم وغیرہ میں کئی کئی واقعات سے تواتر کے ساتھ ثابت ہے کہ نبی ﷺ نے عرب و عجم کے تمام بادشاہوں کو اور دوسرے اطراف کے لوگوں کو خطوط بھجوائے جن میں انہیں اللہ کی طرف آنے کی دعوت دی خواہ وہ عرب ہوں عجم ہوں اہل کتاب ہوں مذہب والے ہوں اور اس طرح آپ ﷺ نے تبلیغ کے فرض کو تمام و کمال تک پہنچا دیا۔ مسند عبدالرزاق میں حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا اس اللہ کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اس امت میں سے جس کے کان میں میری نسبت کی آواز پہنچے اور وہ میری لائی ہوئی چیز پر ایمان نہ لائے خواہ یہودی ہو خواہ نصرانی ہو مگر مجھ پر ایمان لائے بغیر مرجائے گا تو قطعاً جہنمی ہوگا، مسلم شریف میں بھی یہ حدیث مروی ہے اور آنحضرت ﷺ کا یہ فرمان بھی ہے کہ میں ہر ایک سرخ و سیاہ کی طرف اللہ کا نبی بنا کر بھیجا گیا ہوں، ایک اور حدیث میں ہے ہر نبی صرف اپنی قوم کی طرف بھیجا جاتا رہا اور میں تمام انسانوں کیلئے نبی بنا کر بھیجا گیا ہوں، مسند احمد میں حضرت انس سے مروی ہے کہ ایک یہودی لڑکا جو نبی ﷺ کیلئے وضو کا پانی رکھا کرتا تھا اور جوتیاں لا کر رکھ دیتا تھا، بیمار پڑا گیا۔ آنحضرت ﷺ اس کی بیمار پرسی کیلئے تشریف لائے، اس وقت اس کا باپ اس کے سرہانے بیٹھا ہوا تھا، آپ ﷺ نے فرمایا اے فلاں لا الہ الا اللہ کہہ، اس نے اپنے باپ کی طرف دیکھا اور باپ کو خاموش دیکھ کر خود بھی چپکا ہوگیا۔ حضور ﷺ نے دوبارہ یہی فرمایا اس نے پھر اپنے باپ کی طرف دیکھا باپ نے کہا ابو القاسم کی مان لے ﷺ پس اس بچے نے کہا اشھد ان لا الہ الا اللہ وانک رسول اللہ وہاں سے یہ فرماتے ہوئے اٹھے کہ اللہ کا شکر ہے جس نے میری وجہ سے اسے جہنم سے بچا لیا، یہی حدیث صحیح بخاری میں حضرت امام بخاری بھی لائے ہیں، ان کے سوا اور بھی بہت سی صحیح حدیثیں بھی اور قرآن کریم کی آیتیں ہیں۔
21
View Single
إِنَّ ٱلَّذِينَ يَكۡفُرُونَ بِـَٔايَٰتِ ٱللَّهِ وَيَقۡتُلُونَ ٱلنَّبِيِّـۧنَ بِغَيۡرِ حَقّٖ وَيَقۡتُلُونَ ٱلَّذِينَ يَأۡمُرُونَ بِٱلۡقِسۡطِ مِنَ ٱلنَّاسِ فَبَشِّرۡهُم بِعَذَابٍ أَلِيمٍ
Those who disbelieve in the signs of Allah, and wrongfully martyr the Prophets, and slay people who enjoin justice – so give them the glad tidings of a painful punishment.
یقینا جو لوگ اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے ہیں اور انبیاء کو ناحق قتل کرتے ہیں اور لوگوں میں سے بھی انہیں قتل کرتے ہیں جو عدل و انصاف کا حکم دیتے ہیں سو آپ انہیں دردناک عذاب کی خبر سنا دیں
Tafsir Ibn Kathir
Chastising the Jews for Their Disbelief and for Killing the Prophets and Righteous People
This Ayah chastises the People of the Book for the transgression and prohibitions they committed by their denials in the past and more recent times, of Allah's Ayat and the Messengers. They did this due to their defiance and rejection of the Messengers, denial of the truth and refusal to follow it. They also killed many Prophets when they conveyed to them what Allah legislated for them, without cause or criminal behavior committed by these Prophets, for they only called them to the truth,
وَيَقْتُلُونَ الَّذِينَ يَأْمُرُونَ بِالْقِسْطِ مِنَ النَّاسِ
(And kill those men who order just dealings) thus, demonstrating the worst type of arrogance. Indeed, the Prophet said,
«الْكِبْرُ بَطَرُ الْحَقِّ وَغَمْطُ النَّاس»
(Kibr (arrogance) is refusing the truth and degrading people)
This is why when they rejected the truth and acted arrogantly towards the creation, Allah punished them with humiliation and disgrace in this life, and humiliating torment in the Hereafter. Allah said,
فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ أَلِيمٍ
(then announce to them a painful torment) meaning, painful and humiliating,
أُولَـئِكَ الَّذِينَ حَبِطَتْ أَعْمَـلُهُمْ فِي الدُّنْيَا وَالاٌّخِرَةِ وَمَا لَهُم مِّن نَّـصِرِينَ
(They are those whose works will be lost in this world and in the Hereafter, and they will have no helpers. ).
انبیاء کے قاتل بنو اسرائیل یہاں ان اہل کتاب کی مذمت بیان ہو رہی ہے جو گناہ اور حرام کام کرتے رہتے تھے اور اللہ کی پہلی اور بعد کی باتوں کو جو اس نے اپنے رسولوں کے ذریعہ پہنچائیں جھٹلاتے رہتے تھے، اتنا ہی نہیں بلکہ پیغمبروں کو مار ڈالتے بلکہ اس قدر سرکش تھے کہ جو لوگ انہیں عدل و انصاف کی بات کہیں انہیں بےدریغ تہ تیغ کردیا کرتے تھے، حدیث میں ہے حق کو نہ ماننا اور حق والوں کو ذلیل جاننا یہی کبر و غرور ہے کہ مسند ابو حاتم میں ہے حضرت ابو عبیدہ بن جراح ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کہ سب سے زیادہ سخت عذاب کسے ہوگا ؟ آپ نے فرمایا جو کسی نبی کو مار ڈالے یا کسی ایسے شخص کو جو بھلائی کا بتانے والا اور برائی سے بچانے والا ہو تکبر و غرور ہے، پھر حضور ﷺ نے اس آیت کی تلاوت فرمائی اور فرمایا اے ابو عبیدہ بنو اسرائیل نے تینتالیس نبیوں کو دن کے اول حصہ میں ایک ہی ساعت میں قتل کیا پھر ایک سو ستر بنو اسرائیل کے وہ ایماندار جو انہیں روکنے کے لئے کھڑے ہوئے تھے انہیں بھلائی کا حکم دے رہے تھے اور برائی سے روک رہے تھے ان سب کو بھی اسی دن کے آخری حصہ میں مار ڈالا اس آیت میں اللہ تعالیٰ انہی کا ذکر کر رہا ہے، ابن جریر میں ہے حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں۔ بنو اسرائیل نے تین سو نبیوں کو دن کے شروع میں قتل کیا اور شام کو سبزی پالک بیچنے بیٹھ گئے، پس ان لوگوں کی اس سرکشی تکبر اور خود پسندی نے ذلیل کردیا اور آخرت میں بھی رسوا کن بدترین عذاب ان کے لئے تیار ہیں، اسی لئے فرمایا کہ انہیں دردناک ذلت والے عذاب کی خبر پہنچا دو ، ان کے اعمال دنیا میں بھی غارت اور آخرت میں بھی برباد اور ان کا کوئی مددگار اور سفارشی بھی نہ ہوگا۔
22
View Single
أُوْلَـٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ حَبِطَتۡ أَعۡمَٰلُهُمۡ فِي ٱلدُّنۡيَا وَٱلۡأٓخِرَةِ وَمَا لَهُم مِّن نَّـٰصِرِينَ
They are those whose deeds are wasted in this world and in the Hereafter; and they do not have any aides.
یہ وہ لوگ ہیں جن کے اعمال دنیا اور آخرت (دونوں) میں غارت ہوگئے اور ان کا کوئی مددگار نہیں ہوگا
Tafsir Ibn Kathir
Chastising the Jews for Their Disbelief and for Killing the Prophets and Righteous People
This Ayah chastises the People of the Book for the transgression and prohibitions they committed by their denials in the past and more recent times, of Allah's Ayat and the Messengers. They did this due to their defiance and rejection of the Messengers, denial of the truth and refusal to follow it. They also killed many Prophets when they conveyed to them what Allah legislated for them, without cause or criminal behavior committed by these Prophets, for they only called them to the truth,
وَيَقْتُلُونَ الَّذِينَ يَأْمُرُونَ بِالْقِسْطِ مِنَ النَّاسِ
(And kill those men who order just dealings) thus, demonstrating the worst type of arrogance. Indeed, the Prophet said,
«الْكِبْرُ بَطَرُ الْحَقِّ وَغَمْطُ النَّاس»
(Kibr (arrogance) is refusing the truth and degrading people)
This is why when they rejected the truth and acted arrogantly towards the creation, Allah punished them with humiliation and disgrace in this life, and humiliating torment in the Hereafter. Allah said,
فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ أَلِيمٍ
(then announce to them a painful torment) meaning, painful and humiliating,
أُولَـئِكَ الَّذِينَ حَبِطَتْ أَعْمَـلُهُمْ فِي الدُّنْيَا وَالاٌّخِرَةِ وَمَا لَهُم مِّن نَّـصِرِينَ
(They are those whose works will be lost in this world and in the Hereafter, and they will have no helpers. ).
انبیاء کے قاتل بنو اسرائیل یہاں ان اہل کتاب کی مذمت بیان ہو رہی ہے جو گناہ اور حرام کام کرتے رہتے تھے اور اللہ کی پہلی اور بعد کی باتوں کو جو اس نے اپنے رسولوں کے ذریعہ پہنچائیں جھٹلاتے رہتے تھے، اتنا ہی نہیں بلکہ پیغمبروں کو مار ڈالتے بلکہ اس قدر سرکش تھے کہ جو لوگ انہیں عدل و انصاف کی بات کہیں انہیں بےدریغ تہ تیغ کردیا کرتے تھے، حدیث میں ہے حق کو نہ ماننا اور حق والوں کو ذلیل جاننا یہی کبر و غرور ہے کہ مسند ابو حاتم میں ہے حضرت ابو عبیدہ بن جراح ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کہ سب سے زیادہ سخت عذاب کسے ہوگا ؟ آپ نے فرمایا جو کسی نبی کو مار ڈالے یا کسی ایسے شخص کو جو بھلائی کا بتانے والا اور برائی سے بچانے والا ہو تکبر و غرور ہے، پھر حضور ﷺ نے اس آیت کی تلاوت فرمائی اور فرمایا اے ابو عبیدہ بنو اسرائیل نے تینتالیس نبیوں کو دن کے اول حصہ میں ایک ہی ساعت میں قتل کیا پھر ایک سو ستر بنو اسرائیل کے وہ ایماندار جو انہیں روکنے کے لئے کھڑے ہوئے تھے انہیں بھلائی کا حکم دے رہے تھے اور برائی سے روک رہے تھے ان سب کو بھی اسی دن کے آخری حصہ میں مار ڈالا اس آیت میں اللہ تعالیٰ انہی کا ذکر کر رہا ہے، ابن جریر میں ہے حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں۔ بنو اسرائیل نے تین سو نبیوں کو دن کے شروع میں قتل کیا اور شام کو سبزی پالک بیچنے بیٹھ گئے، پس ان لوگوں کی اس سرکشی تکبر اور خود پسندی نے ذلیل کردیا اور آخرت میں بھی رسوا کن بدترین عذاب ان کے لئے تیار ہیں، اسی لئے فرمایا کہ انہیں دردناک ذلت والے عذاب کی خبر پہنچا دو ، ان کے اعمال دنیا میں بھی غارت اور آخرت میں بھی برباد اور ان کا کوئی مددگار اور سفارشی بھی نہ ہوگا۔
23
View Single
أَلَمۡ تَرَ إِلَى ٱلَّذِينَ أُوتُواْ نَصِيبٗا مِّنَ ٱلۡكِتَٰبِ يُدۡعَوۡنَ إِلَىٰ كِتَٰبِ ٱللَّهِ لِيَحۡكُمَ بَيۡنَهُمۡ ثُمَّ يَتَوَلَّىٰ فَرِيقٞ مِّنۡهُمۡ وَهُم مُّعۡرِضُونَ
Did you not see them who have received a part of the Book – when called towards the Book of Allah for judging between them, a group of them opposes it and turns away?
کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنہیں (علمِ) کتاب میں سے ایک حصہ دیا گیا وہ کتابِ الٰہی کی طرف بلائے جاتے ہیں تاکہ وہ (کتاب) ان کے درمیان (نزاعات کا) فیصلہ کر دے تو پھر ان میں سے ایک طبقہ منہ پھیر لیتا ہے اور وہ روگردانی کرنے والے ہی ہیں
Tafsir Ibn Kathir
Chastising the People of the Book for Not Referring to the Book of Allah for Judgment
Allah criticizes the Jews and Christians who claim to follow their Books, the Tawrah and the Injil, because when they are called to refer to these Books where Allah commanded them to follow Muhammad , they turn away with aversion. This censure and criticism from Allah was all because of their defiance and rejection. Allah said next,
ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ قَالُواْ لَن تَمَسَّنَا النَّارُ إِلاَ أَيَّامًا مَّعْدُودَتٍ
(This is because they say: "The Fire shall not touch us but for a number of days.") meaning, what made them dare to challenge and defy the truth is their false claim that Allah will only punish them for seven days in the Fire, a day for every one thousand years in this life. We mentioned this subject in the Tafsir of Surat Al-Baqarah.
Allah then said,
وَغَرَّهُمْ فِى دِينِهِم مَّا كَانُواْ يَفْتَرُونَ
(And that which they used to invent regarding their religion has deceived them.) meaning, what caused them to remain on their false creed is that they deceived themselves, believing that the Fire will only touch them for a few days for their errors. However, it is they who have invented this notion, and Allah did not grant them authority to support this claim. Allah said, while threatening and warning them,
فَكَيْفَ إِذَا جَمَعْنَـهُمْ لِيَوْمٍ لاَّ رَيْبَ فِيهِ
(How (will it be) when We gather them together on the Day about which there is no doubt (i. e. the Day of Resurrection).) meaning, what will their condition be like after they have uttered this lie about Allah, rejected His Messengers and killed His Prophets and their scholars who enjoined righteousness and forbade evil Allah will ask them about all this and punish them for what they have done. This is why Allah said,
فَكَيْفَ إِذَا جَمَعْنَـهُمْ لِيَوْمٍ لاَّ رَيْبَ فِيهِ
(How (will it be) when We gather them together on the Day about which there is no doubt.) meaning, there is no doubt that this Day will come,
وَوُفِّيَتْ كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَهُمْ لاَ يُظْلَمُونَ
(And each person will be paid in full what he has earned And they will not be dealt with unjustly.).
جھوٹے دعوے یہاں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ یہود و نصاریٰ اپنے اس دعوے میں بھی جھوٹے ہیں کہ ان کا توراۃ و انجیل پر ایمان ہے کیونکہ ان کتابوں کی ہدایت کے مطابق جب انہیں اس نبی آخرالزمان کی اطاعت کی طرف بلایا جاتا ہے تو یہ منہ پھیر کے بھاگتے دکھائی دیتے ہیں، اس سے ان کی اعلیٰ درجہ کی سرکشی تکبر اور عناد و مخالفت ظاہر ہو رہی ہے، اس مخالفت حق اور بےجا سرکشی پر انہیں اس چیز نے دلیر کردیا ہے کہ انہوں نے اللہ کی کتاب میں نہ ہونے کے باوجود اپنی طرف سے جھوٹ بنا کر کے یہ بات بنا لی ہے کہ ہم تو صرف چند روز ہی آگ میں رہیں گے یعنی فقط سات روز، دنیا کے حساب کے ہر ہزار سال کے پیچھے ایک دن، اس کی پوری تفسیر سورة بقرہ میں گذر چکی ہے، اسی واہی اور بےسروپا خیال نے انہیں باطل دین پر انہیں جما دیا ہے بلکہ یہ خود اللہ نے ایسی بات نہیں کہی ان کا خیال ہے نہ اس کی کوئی کتابی دلیل ان کے پاس ہے، پھر اللہ تبارک و تعالیٰ انہیں ڈانٹتا اور دھمکاتا ہے اور فرماتا ہے ان کا قیامت والے دن بدتر حال ہوگا ؟ کہ انہوں نے اللہ پر جھوٹ باندھا رسولوں کو جھٹلایا انبیاء کو اور علماء حق کو قتل کیا، ایک ایک بات کا اللہ کو جواب دینا پڑے گا اور ایک ایک گناہ کی سزا بھگتنی پڑے گی، اس دن کے آنے میں کوئی شک و شبہ نہیں اس دن ہر شخص پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور کسی پر بھی کسی طرح کا ظلم روانہ رکھا جائے گا۔
24
View Single
ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمۡ قَالُواْ لَن تَمَسَّنَا ٱلنَّارُ إِلَّآ أَيَّامٗا مَّعۡدُودَٰتٖۖ وَغَرَّهُمۡ فِي دِينِهِم مَّا كَانُواْ يَفۡتَرُونَ
They dared to do this because they say, “The fire will definitely not touch us except for a certain number of days”; and they are deceived in their religion by the lies they fabricated.
یہ (روگردانی کی جرات) اس لئے کہ وہ کہتے ہیں کہ ہمیں گنتی کے چند دنوں کے سوا دوزخ کی آگ مَس نہیں کرے گی، اور وہ (اللہ پر) جو بہتان باندھتے رہتے ہیں اس نے ان کو اپنے دین کے بارے میں فریب میں مبتلا کر دیا ہے
Tafsir Ibn Kathir
Chastising the People of the Book for Not Referring to the Book of Allah for Judgment
Allah criticizes the Jews and Christians who claim to follow their Books, the Tawrah and the Injil, because when they are called to refer to these Books where Allah commanded them to follow Muhammad , they turn away with aversion. This censure and criticism from Allah was all because of their defiance and rejection. Allah said next,
ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ قَالُواْ لَن تَمَسَّنَا النَّارُ إِلاَ أَيَّامًا مَّعْدُودَتٍ
(This is because they say: "The Fire shall not touch us but for a number of days.") meaning, what made them dare to challenge and defy the truth is their false claim that Allah will only punish them for seven days in the Fire, a day for every one thousand years in this life. We mentioned this subject in the Tafsir of Surat Al-Baqarah.
Allah then said,
وَغَرَّهُمْ فِى دِينِهِم مَّا كَانُواْ يَفْتَرُونَ
(And that which they used to invent regarding their religion has deceived them.) meaning, what caused them to remain on their false creed is that they deceived themselves, believing that the Fire will only touch them for a few days for their errors. However, it is they who have invented this notion, and Allah did not grant them authority to support this claim. Allah said, while threatening and warning them,
فَكَيْفَ إِذَا جَمَعْنَـهُمْ لِيَوْمٍ لاَّ رَيْبَ فِيهِ
(How (will it be) when We gather them together on the Day about which there is no doubt (i. e. the Day of Resurrection).) meaning, what will their condition be like after they have uttered this lie about Allah, rejected His Messengers and killed His Prophets and their scholars who enjoined righteousness and forbade evil Allah will ask them about all this and punish them for what they have done. This is why Allah said,
فَكَيْفَ إِذَا جَمَعْنَـهُمْ لِيَوْمٍ لاَّ رَيْبَ فِيهِ
(How (will it be) when We gather them together on the Day about which there is no doubt.) meaning, there is no doubt that this Day will come,
وَوُفِّيَتْ كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَهُمْ لاَ يُظْلَمُونَ
(And each person will be paid in full what he has earned And they will not be dealt with unjustly.).
جھوٹے دعوے یہاں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ یہود و نصاریٰ اپنے اس دعوے میں بھی جھوٹے ہیں کہ ان کا توراۃ و انجیل پر ایمان ہے کیونکہ ان کتابوں کی ہدایت کے مطابق جب انہیں اس نبی آخرالزمان کی اطاعت کی طرف بلایا جاتا ہے تو یہ منہ پھیر کے بھاگتے دکھائی دیتے ہیں، اس سے ان کی اعلیٰ درجہ کی سرکشی تکبر اور عناد و مخالفت ظاہر ہو رہی ہے، اس مخالفت حق اور بےجا سرکشی پر انہیں اس چیز نے دلیر کردیا ہے کہ انہوں نے اللہ کی کتاب میں نہ ہونے کے باوجود اپنی طرف سے جھوٹ بنا کر کے یہ بات بنا لی ہے کہ ہم تو صرف چند روز ہی آگ میں رہیں گے یعنی فقط سات روز، دنیا کے حساب کے ہر ہزار سال کے پیچھے ایک دن، اس کی پوری تفسیر سورة بقرہ میں گذر چکی ہے، اسی واہی اور بےسروپا خیال نے انہیں باطل دین پر انہیں جما دیا ہے بلکہ یہ خود اللہ نے ایسی بات نہیں کہی ان کا خیال ہے نہ اس کی کوئی کتابی دلیل ان کے پاس ہے، پھر اللہ تبارک و تعالیٰ انہیں ڈانٹتا اور دھمکاتا ہے اور فرماتا ہے ان کا قیامت والے دن بدتر حال ہوگا ؟ کہ انہوں نے اللہ پر جھوٹ باندھا رسولوں کو جھٹلایا انبیاء کو اور علماء حق کو قتل کیا، ایک ایک بات کا اللہ کو جواب دینا پڑے گا اور ایک ایک گناہ کی سزا بھگتنی پڑے گی، اس دن کے آنے میں کوئی شک و شبہ نہیں اس دن ہر شخص پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور کسی پر بھی کسی طرح کا ظلم روانہ رکھا جائے گا۔
25
View Single
فَكَيۡفَ إِذَا جَمَعۡنَٰهُمۡ لِيَوۡمٖ لَّا رَيۡبَ فِيهِ وَوُفِّيَتۡ كُلُّ نَفۡسٖ مَّا كَسَبَتۡ وَهُمۡ لَا يُظۡلَمُونَ
So what will be (their state) when We bring all of them together for the Day (of Resurrection) about which there is no doubt; and every soul will be paid back in full for what it has earned, and they will not be wronged.
سو کیا حال ہو گا جب ہم ان کو اس دن جس (کے بپا ہونے) میں کوئی شک نہیں جمع کریں گے، اور جس جان نے جو کچھ بھی (اعمال میں سے) کمایا ہو گا اسے اس کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر کوئی ظلم نہیں کیا جائے گا
Tafsir Ibn Kathir
Chastising the People of the Book for Not Referring to the Book of Allah for Judgment
Allah criticizes the Jews and Christians who claim to follow their Books, the Tawrah and the Injil, because when they are called to refer to these Books where Allah commanded them to follow Muhammad , they turn away with aversion. This censure and criticism from Allah was all because of their defiance and rejection. Allah said next,
ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ قَالُواْ لَن تَمَسَّنَا النَّارُ إِلاَ أَيَّامًا مَّعْدُودَتٍ
(This is because they say: "The Fire shall not touch us but for a number of days.") meaning, what made them dare to challenge and defy the truth is their false claim that Allah will only punish them for seven days in the Fire, a day for every one thousand years in this life. We mentioned this subject in the Tafsir of Surat Al-Baqarah.
Allah then said,
وَغَرَّهُمْ فِى دِينِهِم مَّا كَانُواْ يَفْتَرُونَ
(And that which they used to invent regarding their religion has deceived them.) meaning, what caused them to remain on their false creed is that they deceived themselves, believing that the Fire will only touch them for a few days for their errors. However, it is they who have invented this notion, and Allah did not grant them authority to support this claim. Allah said, while threatening and warning them,
فَكَيْفَ إِذَا جَمَعْنَـهُمْ لِيَوْمٍ لاَّ رَيْبَ فِيهِ
(How (will it be) when We gather them together on the Day about which there is no doubt (i. e. the Day of Resurrection).) meaning, what will their condition be like after they have uttered this lie about Allah, rejected His Messengers and killed His Prophets and their scholars who enjoined righteousness and forbade evil Allah will ask them about all this and punish them for what they have done. This is why Allah said,
فَكَيْفَ إِذَا جَمَعْنَـهُمْ لِيَوْمٍ لاَّ رَيْبَ فِيهِ
(How (will it be) when We gather them together on the Day about which there is no doubt.) meaning, there is no doubt that this Day will come,
وَوُفِّيَتْ كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَهُمْ لاَ يُظْلَمُونَ
(And each person will be paid in full what he has earned And they will not be dealt with unjustly.).
جھوٹے دعوے یہاں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ یہود و نصاریٰ اپنے اس دعوے میں بھی جھوٹے ہیں کہ ان کا توراۃ و انجیل پر ایمان ہے کیونکہ ان کتابوں کی ہدایت کے مطابق جب انہیں اس نبی آخرالزمان کی اطاعت کی طرف بلایا جاتا ہے تو یہ منہ پھیر کے بھاگتے دکھائی دیتے ہیں، اس سے ان کی اعلیٰ درجہ کی سرکشی تکبر اور عناد و مخالفت ظاہر ہو رہی ہے، اس مخالفت حق اور بےجا سرکشی پر انہیں اس چیز نے دلیر کردیا ہے کہ انہوں نے اللہ کی کتاب میں نہ ہونے کے باوجود اپنی طرف سے جھوٹ بنا کر کے یہ بات بنا لی ہے کہ ہم تو صرف چند روز ہی آگ میں رہیں گے یعنی فقط سات روز، دنیا کے حساب کے ہر ہزار سال کے پیچھے ایک دن، اس کی پوری تفسیر سورة بقرہ میں گذر چکی ہے، اسی واہی اور بےسروپا خیال نے انہیں باطل دین پر انہیں جما دیا ہے بلکہ یہ خود اللہ نے ایسی بات نہیں کہی ان کا خیال ہے نہ اس کی کوئی کتابی دلیل ان کے پاس ہے، پھر اللہ تبارک و تعالیٰ انہیں ڈانٹتا اور دھمکاتا ہے اور فرماتا ہے ان کا قیامت والے دن بدتر حال ہوگا ؟ کہ انہوں نے اللہ پر جھوٹ باندھا رسولوں کو جھٹلایا انبیاء کو اور علماء حق کو قتل کیا، ایک ایک بات کا اللہ کو جواب دینا پڑے گا اور ایک ایک گناہ کی سزا بھگتنی پڑے گی، اس دن کے آنے میں کوئی شک و شبہ نہیں اس دن ہر شخص پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور کسی پر بھی کسی طرح کا ظلم روانہ رکھا جائے گا۔
26
View Single
قُلِ ٱللَّهُمَّ مَٰلِكَ ٱلۡمُلۡكِ تُؤۡتِي ٱلۡمُلۡكَ مَن تَشَآءُ وَتَنزِعُ ٱلۡمُلۡكَ مِمَّن تَشَآءُ وَتُعِزُّ مَن تَشَآءُ وَتُذِلُّ مَن تَشَآءُۖ بِيَدِكَ ٱلۡخَيۡرُۖ إِنَّكَ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ قَدِيرٞ
Invoke (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), “O Allah! Owner Of The Kingdom – You bestow the kingdom on whomever You will, and You take back the kingdom from whomever You will; and You give honour to whomever You will, and You humiliate whomever You will; only in Your Hand (control) lies all goodness; indeed, You are Able to do all things.”
(اے حبیب! یوں) عرض کیجئے: اے اللہ، سلطنت کے مالک! تُو جسے چاہے سلطنت عطا فرما دے اور جس سے چاہے سلطنت چھین لے اور تُو جسے چاہے عزت عطا فرما دے اور جسے چاہے ذلّت دے، ساری بھلائی تیرے ہی دستِ قدرت میں ہے، بیشک تُو ہر چیز پر بڑی قدرت والا ہے
Tafsir Ibn Kathir
Encouraging Gratitude
Allah said,
قُلْ
(Say) O Muhammad , while praising your Lord, thanking Him, relying in all matters upon Him and trusting in Him.
اللَّهُمَّ مَـلِكَ الْمُلْكِ
(O Allah! Possessor of the power) meaning, all sovereignty is Yours,
تُؤْتِى الْمُلْكَ مَن تَشَآءُ وَتَنزِعُ الْمُلْكَ مِمَّن تَشَآءُ وَتُعِزُّ مَن تَشَآءُ وَتُذِلُّ مَن تَشَآءُ
(You give power to whom You will, and You take power from whom You will, and You endue with honor whom You will, and You humiliate whom You will.) meaning, You are the Giver, You are the Taker, it is Your will that occurs and whatever You do not will, does not occur. This Ayah encourages thanking Allah for the favors He granted His Messenger and his Ummah. Allah transferred the prophethood from the Children of Israel to the Arab, Qurashi, Makkan, unlettered Prophet, the Final and Last of all Prophets and the Messenger of Allah ﷺ to all mankind and Jinn. Allah endowed the Prophet with the best of qualities from the prophets before him. Allah also granted him extra qualities that no other Prophet or Messenger before him was endowed with, such as granting him (more) knowledge of Allah and His Law, knowledge of more of the matters of the past and the future, such as what will occur in the Hereafter. Allah allowed Muhammad's ﷺ Ummah to reach the eastern and western parts of the world and gave dominance to his religion and Law over all other religions and laws. May Allah's peace and blessings be on the Prophet until the Day of Judgment, and as long as the day and night succeed each other. This is why Allah said,
قُلِ اللَّهُمَّ مَـلِكَ الْمُلْكِ
(Say: "O Allah! Possessor of the power,") meaning, You decide what You will concerning Your creation and You do what you will. Allah refutes those who thought that they could decide for Allah,
وَقَالُواْ لَوْلاَ نُزِّلَ هَـذَا الْقُرْءَانُ عَلَى رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْيَتَيْنِ عَظِيمٍ
(And they say: "Why is not this Qur'an sent down to some great man of the two towns (Makkah and Ta'if)") 43:31.
Allah refuted them by saying,
أَهُمْ يَقْسِمُونَ رَحْمَةَ رَبِّكَ
(Is it they who would portion out the Mercy of your Lord) 43:32, meaning, "We decide for Our creation what We will, without resistance or hindrance by anyone. We have the perfect wisdom and the unequivocal proof in all of this, and We give the prophethood to whom We will." Similarly, Allah said,
اللَّهُ أَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهُ
(Allah knows best with whom to place His Message) and,
انظُرْ كَيْفَ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ
(See how We prefer one above another (in this world)) 17: 21
Allah said,
تُولِجُ الَّيْلَ فِى الْنَّهَارِ وَتُولِجُ النَّهَارَ فِى الَّيْلِ
(You make the night enter into the day, and You make the day enter into the night) meaning, You take from the length of one of them and add it to the shortness of the other, so that they become equal, and take from the length of one of them and add it to the other so that they are not equal. This occurs throughout the seasons of the year: spring, summer, fall and winter. Allah's statement,
وَتُخْرِجُ الْحَىَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَتُخْرِجُ الَمَيِّتَ مِنَ الْحَىِّ
(You bring the living out of the dead, and You bring the dead out of the living.) means, You bring out the seed from the plant and the plant from the seed; the date from its seed and the date's seed from the date; the faithful from the disbeliever and the disbeliever from the faithful; the chicken from the egg and the egg from the chicken, etc.
وَتَرْزُقُ مَن تَشَآءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ
(And You give wealth and sustenance to whom You will, without limit.) meaning, You give whomever You will innumerable amounts of wealth while depriving others from it, out of wisdom, and justice.
مالک الملک کی حمد وثناء اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے محمد ﷺ اپنے رب کی تعظیم کرنے اور اس کا شکریہ بجا لانے اور اسے اپنے تمام کام سونپنے اور اس کی ذات پاک پر پورے بھروسہ کا اظہار کرنے کے لئے ان الفاظ میں اس کی اعلیٰ صفات بیان کیجئے جو اوپر بیان ہوئی ہیں۔ یعنی اے اللہ تو مالک الملک ہے، تیری ملکیت میں تمام ملک ہے، جسے تو چاہے حکومت دے اور جس سے چاہے اپنا دیا ہوا واپس لے لے، تو ہی دینے اور لینے والا ہے تو جو چاہتا ہے ہوجاتا ہے اور جو نہ چاہے ہو ہی نہیں سکتا، اس آیت میں اس بات کی بھی تنبیہہ اور اس نعمت کے شکر کا بھی حکم ہے جو آنحضرت ﷺ اور آپ کی امت کو مرحمت فرمائی گئی کہ بنی اسرائیل سے ہٹا کر نبوت نبی عربی قریشی امی مکی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو دے دی گئی اور آپ کو مطلقاً نبیوں کے ختم کرنے والے اور تمام انس و جن کی طرف رسول بن کر آنے والے بنا کر بھیجا، تمام سابقہ انبیاء کی خوبیاں آپ میں جمع کردیں بلکہ ایسی فضیلتیں آپ کو دی گئیں جن سے اور تمام انبیاء بھی محروم رہے خواہ وہ اللہ کے علم کی بابت ہوں یا اس رب کی شریعت کے معاملہ میں ہوں یا گذشتہ اور آنے والی خبروں کے متعلق ہوں، آپ پر اللہ تعالیٰ نے آخرت کے کل حقائق کھول دئیے، آپ کی امت کو مشرق مغرب تک پھیلا دیا آپ نے دن اور آپ کی شریعت کو تمام دینوں اور کل مذہبوں پر غالب کردیا، اللہ تعالیٰ کا درود وسلام آپ پر نازل ہو اب سے لے کر قیامت تک جب تک رات دن کی گردش بھی رہے اللہ آپ پر اپنی رحمتیں دوام کے ساتھ نازل فرماتا رہے۔ آمین، پس فرمایا کہو اے اللہ تو ہی اپنی خلق میں ہیر پھیر کرتا رہتا ہے جو چاہے کر گزرتا ہے، جو لوگ کہتے تھے کہ ان دو بستیوں میں سے کسی بہت بڑے شخص پر اللہ نے اپنا کلام کیوں نازل نہ کیا اس کی تردید کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا آیت (اَهُمْ يَــقْسِمُوْنَ رَحْمَتَ رَبِّكَ) 43۔ الزخرف :32) کیا تیرے رب کی رحمت کو بانٹنے والے یہ لوگ ہیں، جب ان کے رزق تک کے مالک ہم ہیں جسے چاہیں کم دیں جسے چاہیں زیادہ دیں تو پھر ہم پر حکومت کرنے والے یہ کون ؟ کہ فلاں کو نبی کیوں نہ بنایا ؟ نبوت بھی ہماری ملکیت کی چیز ہے ہم ہی جانتے ہیں کہ اس کے دئیے جانے کے قابل کون ہے ؟ جیسے اور جگہ ہے آیت (اَللّٰهُ اَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهٗ) 6۔ الانعام :124) جہاں کہیں اللہ تعالیٰ اپنی رسالت نازل فرماتا ہے اسے وہی سب سے بہتر جانتا ہے، اور جگہ فرمایا (آیت انظر کیف فضلنا بعضھم علی بعض) دیکھ لے کہ ہم نے کسی طرح ان میں آپس میں ایک کو دوسرے پر برتری دے رکھی ہے، پھر فرماتا ہے کہ تو ہی رات کی زیادتی کو دن کے نقصان میں بڑھا کر دن رات کو برابر کردیتا ہے، زمین و آسمان پر سورج چاند پر پورا پورا قبضہ اور تمام تر تصرف تیرا ہی ہے، اسی طرح جاڑے کی گرمی اور گرمی کو جاڑے سے بدلنا بھی تیری قدرت میں ہے، بہارو خزاں پر قادر تو ہی ہے۔ تو ہی ہے کہ زندہ سے مردہ کو اور مردہ سے زندہ کو نکالے کھیتی سے دانے اگاتا ہے اور دانہ سے کھیتوں کو لہلہاتا ہے، کھجور گٹھلی سے اور گٹھلی کھجور سے تو ہی پیدا کرتا ہے مومن کو کافر کے ہاں اور کافر کو مومن کے ہاں تو ہی پیدا کرتا ہے، مرغی انڈے سے اور انڈا مرغی سے اور اسی طرح کی تمام تر چیزیں تیرے ہی قبضہ میں ہیں، تو جسے چاہے اتنا مال دے دے جو نہ گنا جائے نہ احاطہ کیا جائے اور جسے چاہے بھوک کے برابر روٹی بھی نہ دے، ہم مانتے ہیں کہ یہ کام حکمت سے پر ہیں اور تیرے ارادے اور تیری چاہت سے ہی ہوتے ہیں، طبرانی کی حدیث میں ہے اللہ کا اسم اعظم اس (آیت قل اللھم الخ،) میں ہے کہ جب اس نام سے اس سے دعا کی جائے تو وہ قبول فرما لیتا ہے۔
27
View Single
تُولِجُ ٱلَّيۡلَ فِي ٱلنَّهَارِ وَتُولِجُ ٱلنَّهَارَ فِي ٱلَّيۡلِۖ وَتُخۡرِجُ ٱلۡحَيَّ مِنَ ٱلۡمَيِّتِ وَتُخۡرِجُ ٱلۡمَيِّتَ مِنَ ٱلۡحَيِّۖ وَتَرۡزُقُ مَن تَشَآءُ بِغَيۡرِ حِسَابٖ
“You cause part of the night to pass into the day, and You cause part of the day to pass into the night; and You bring forth the living from the dead, and You bring forth the dead from the living; and You give to whomever You will, without account.”
تو ہی رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے اور تُو ہی زندہ کو مُردہ سے نکالتا ہے اورمُردہ کو زندہ سے نکالتا ہے اور جسے چاہتا ہے بغیر حساب کے (اپنی نوازشات سے) بہرہ اندوز کرتا ہے
Tafsir Ibn Kathir
Encouraging Gratitude
Allah said,
قُلْ
(Say) O Muhammad , while praising your Lord, thanking Him, relying in all matters upon Him and trusting in Him.
اللَّهُمَّ مَـلِكَ الْمُلْكِ
(O Allah! Possessor of the power) meaning, all sovereignty is Yours,
تُؤْتِى الْمُلْكَ مَن تَشَآءُ وَتَنزِعُ الْمُلْكَ مِمَّن تَشَآءُ وَتُعِزُّ مَن تَشَآءُ وَتُذِلُّ مَن تَشَآءُ
(You give power to whom You will, and You take power from whom You will, and You endue with honor whom You will, and You humiliate whom You will.) meaning, You are the Giver, You are the Taker, it is Your will that occurs and whatever You do not will, does not occur. This Ayah encourages thanking Allah for the favors He granted His Messenger and his Ummah. Allah transferred the prophethood from the Children of Israel to the Arab, Qurashi, Makkan, unlettered Prophet, the Final and Last of all Prophets and the Messenger of Allah ﷺ to all mankind and Jinn. Allah endowed the Prophet with the best of qualities from the prophets before him. Allah also granted him extra qualities that no other Prophet or Messenger before him was endowed with, such as granting him (more) knowledge of Allah and His Law, knowledge of more of the matters of the past and the future, such as what will occur in the Hereafter. Allah allowed Muhammad's ﷺ Ummah to reach the eastern and western parts of the world and gave dominance to his religion and Law over all other religions and laws. May Allah's peace and blessings be on the Prophet until the Day of Judgment, and as long as the day and night succeed each other. This is why Allah said,
قُلِ اللَّهُمَّ مَـلِكَ الْمُلْكِ
(Say: "O Allah! Possessor of the power,") meaning, You decide what You will concerning Your creation and You do what you will. Allah refutes those who thought that they could decide for Allah,
وَقَالُواْ لَوْلاَ نُزِّلَ هَـذَا الْقُرْءَانُ عَلَى رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْيَتَيْنِ عَظِيمٍ
(And they say: "Why is not this Qur'an sent down to some great man of the two towns (Makkah and Ta'if)") 43:31.
Allah refuted them by saying,
أَهُمْ يَقْسِمُونَ رَحْمَةَ رَبِّكَ
(Is it they who would portion out the Mercy of your Lord) 43:32, meaning, "We decide for Our creation what We will, without resistance or hindrance by anyone. We have the perfect wisdom and the unequivocal proof in all of this, and We give the prophethood to whom We will." Similarly, Allah said,
اللَّهُ أَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهُ
(Allah knows best with whom to place His Message) and,
انظُرْ كَيْفَ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ
(See how We prefer one above another (in this world)) 17: 21
Allah said,
تُولِجُ الَّيْلَ فِى الْنَّهَارِ وَتُولِجُ النَّهَارَ فِى الَّيْلِ
(You make the night enter into the day, and You make the day enter into the night) meaning, You take from the length of one of them and add it to the shortness of the other, so that they become equal, and take from the length of one of them and add it to the other so that they are not equal. This occurs throughout the seasons of the year: spring, summer, fall and winter. Allah's statement,
وَتُخْرِجُ الْحَىَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَتُخْرِجُ الَمَيِّتَ مِنَ الْحَىِّ
(You bring the living out of the dead, and You bring the dead out of the living.) means, You bring out the seed from the plant and the plant from the seed; the date from its seed and the date's seed from the date; the faithful from the disbeliever and the disbeliever from the faithful; the chicken from the egg and the egg from the chicken, etc.
وَتَرْزُقُ مَن تَشَآءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ
(And You give wealth and sustenance to whom You will, without limit.) meaning, You give whomever You will innumerable amounts of wealth while depriving others from it, out of wisdom, and justice.
مالک الملک کی حمد وثناء اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے محمد ﷺ اپنے رب کی تعظیم کرنے اور اس کا شکریہ بجا لانے اور اسے اپنے تمام کام سونپنے اور اس کی ذات پاک پر پورے بھروسہ کا اظہار کرنے کے لئے ان الفاظ میں اس کی اعلیٰ صفات بیان کیجئے جو اوپر بیان ہوئی ہیں۔ یعنی اے اللہ تو مالک الملک ہے، تیری ملکیت میں تمام ملک ہے، جسے تو چاہے حکومت دے اور جس سے چاہے اپنا دیا ہوا واپس لے لے، تو ہی دینے اور لینے والا ہے تو جو چاہتا ہے ہوجاتا ہے اور جو نہ چاہے ہو ہی نہیں سکتا، اس آیت میں اس بات کی بھی تنبیہہ اور اس نعمت کے شکر کا بھی حکم ہے جو آنحضرت ﷺ اور آپ کی امت کو مرحمت فرمائی گئی کہ بنی اسرائیل سے ہٹا کر نبوت نبی عربی قریشی امی مکی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو دے دی گئی اور آپ کو مطلقاً نبیوں کے ختم کرنے والے اور تمام انس و جن کی طرف رسول بن کر آنے والے بنا کر بھیجا، تمام سابقہ انبیاء کی خوبیاں آپ میں جمع کردیں بلکہ ایسی فضیلتیں آپ کو دی گئیں جن سے اور تمام انبیاء بھی محروم رہے خواہ وہ اللہ کے علم کی بابت ہوں یا اس رب کی شریعت کے معاملہ میں ہوں یا گذشتہ اور آنے والی خبروں کے متعلق ہوں، آپ پر اللہ تعالیٰ نے آخرت کے کل حقائق کھول دئیے، آپ کی امت کو مشرق مغرب تک پھیلا دیا آپ نے دن اور آپ کی شریعت کو تمام دینوں اور کل مذہبوں پر غالب کردیا، اللہ تعالیٰ کا درود وسلام آپ پر نازل ہو اب سے لے کر قیامت تک جب تک رات دن کی گردش بھی رہے اللہ آپ پر اپنی رحمتیں دوام کے ساتھ نازل فرماتا رہے۔ آمین، پس فرمایا کہو اے اللہ تو ہی اپنی خلق میں ہیر پھیر کرتا رہتا ہے جو چاہے کر گزرتا ہے، جو لوگ کہتے تھے کہ ان دو بستیوں میں سے کسی بہت بڑے شخص پر اللہ نے اپنا کلام کیوں نازل نہ کیا اس کی تردید کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا آیت (اَهُمْ يَــقْسِمُوْنَ رَحْمَتَ رَبِّكَ) 43۔ الزخرف :32) کیا تیرے رب کی رحمت کو بانٹنے والے یہ لوگ ہیں، جب ان کے رزق تک کے مالک ہم ہیں جسے چاہیں کم دیں جسے چاہیں زیادہ دیں تو پھر ہم پر حکومت کرنے والے یہ کون ؟ کہ فلاں کو نبی کیوں نہ بنایا ؟ نبوت بھی ہماری ملکیت کی چیز ہے ہم ہی جانتے ہیں کہ اس کے دئیے جانے کے قابل کون ہے ؟ جیسے اور جگہ ہے آیت (اَللّٰهُ اَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهٗ) 6۔ الانعام :124) جہاں کہیں اللہ تعالیٰ اپنی رسالت نازل فرماتا ہے اسے وہی سب سے بہتر جانتا ہے، اور جگہ فرمایا (آیت انظر کیف فضلنا بعضھم علی بعض) دیکھ لے کہ ہم نے کسی طرح ان میں آپس میں ایک کو دوسرے پر برتری دے رکھی ہے، پھر فرماتا ہے کہ تو ہی رات کی زیادتی کو دن کے نقصان میں بڑھا کر دن رات کو برابر کردیتا ہے، زمین و آسمان پر سورج چاند پر پورا پورا قبضہ اور تمام تر تصرف تیرا ہی ہے، اسی طرح جاڑے کی گرمی اور گرمی کو جاڑے سے بدلنا بھی تیری قدرت میں ہے، بہارو خزاں پر قادر تو ہی ہے۔ تو ہی ہے کہ زندہ سے مردہ کو اور مردہ سے زندہ کو نکالے کھیتی سے دانے اگاتا ہے اور دانہ سے کھیتوں کو لہلہاتا ہے، کھجور گٹھلی سے اور گٹھلی کھجور سے تو ہی پیدا کرتا ہے مومن کو کافر کے ہاں اور کافر کو مومن کے ہاں تو ہی پیدا کرتا ہے، مرغی انڈے سے اور انڈا مرغی سے اور اسی طرح کی تمام تر چیزیں تیرے ہی قبضہ میں ہیں، تو جسے چاہے اتنا مال دے دے جو نہ گنا جائے نہ احاطہ کیا جائے اور جسے چاہے بھوک کے برابر روٹی بھی نہ دے، ہم مانتے ہیں کہ یہ کام حکمت سے پر ہیں اور تیرے ارادے اور تیری چاہت سے ہی ہوتے ہیں، طبرانی کی حدیث میں ہے اللہ کا اسم اعظم اس (آیت قل اللھم الخ،) میں ہے کہ جب اس نام سے اس سے دعا کی جائے تو وہ قبول فرما لیتا ہے۔
28
View Single
لَّا يَتَّخِذِ ٱلۡمُؤۡمِنُونَ ٱلۡكَٰفِرِينَ أَوۡلِيَآءَ مِن دُونِ ٱلۡمُؤۡمِنِينَۖ وَمَن يَفۡعَلۡ ذَٰلِكَ فَلَيۡسَ مِنَ ٱللَّهِ فِي شَيۡءٍ إِلَّآ أَن تَتَّقُواْ مِنۡهُمۡ تُقَىٰةٗۗ وَيُحَذِّرُكُمُ ٱللَّهُ نَفۡسَهُۥۗ وَإِلَى ٱللَّهِ ٱلۡمَصِيرُ
The Muslims must not befriend the disbelievers, in preference over the Muslims; whoever does that has no connection whatsoever with Allah, except if you fear them; Allah warns you of His wrath; and towards Allah only is the return.
مسلمانوں کو چاہئے کہ اہلِ ایمان کو چھوڑ کر کافروں کو دوست نہ بنائیں اور جو کوئی ایسا کرے گا اس کے لئے اللہ (کی دوستی میں) سے کچھ نہیں ہوگا سوائے اس کے کہ تم ان (کے شر) سے بچنا چاہو، اور اللہ تمہیں اپنی ذات (کے غضب) سے ڈراتا ہے، اور اللہ ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے
Tafsir Ibn Kathir
The Prohibition of Supporting the Disbelievers
Allah prohibited His believing servants from becoming supporters of the disbelievers, or to take them as comrades with whom they develop friendships, rather than the believers. Allah warned against such behavior when He said,
وَمَن يَفْعَلْ ذَلِكَ فَلَيْسَ مِنَ اللَّهِ فِي شَىْءٍ
(And whoever does that, will never be helped by Allah in any way) meaning, whoever commits this act that Allah has prohibited, then Allah will discard him. Similarly, Allah said,
يأَيُّهَا الَّذِينَ ءَامَنُواْ لاَ تَتَّخِذُواْ عَدُوِّى وَعَدُوَّكُمْ أَوْلِيَآءَ تُلْقُونَ إِلَيْهِمْ بِالْمَوَدَّةِ
(O you who believe! Take not My enemies and your enemies as friends, showing affection towards them), until,
وَمَن يَفْعَلْهُ مِنكُمْ فَقَدْ ضَلَّ سَوَآءَ السَّبِيلِ
(And whosoever of you does that, then indeed he has gone astray from the straight path.) 60:1. Allah said,
يَـأَيُّهَا الَّذِينَ ءَامَنُواْ لاَ تَتَّخِذُواْ الْكَـفِرِينَ أَوْلِيَآءَ مِن دُونِ الْمُؤْمِنِينَ أَتُرِيدُونَ أَن تَجْعَلُواْ للَّهِ عَلَيْكُمْ سُلْطَاناً مُّبِيناً
(O you who believe! Take not for friends disbelievers instead of believers. Do you wish to offer Allah a manifest proof against yourselves) 4:144, and,
يَـأَيُّهَا الَّذِينَ ءَامَنُواْ لاَ تَتَّخِذُواْ الْيَهُودَ وَالنَّصَـرَى أَوْلِيَآءَ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَآءُ بَعْضٍ وَمَن يَتَوَلَّهُمْ مِّنكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ
(O you who believe! Take not the Jews and the Christians as friends, they are but friends of each other. And whoever befriends them, then surely, he is one of them.) 5:51.
Allah said, after mentioning the fact that the faithful believers gave their support to the faithful believers among the Muhajirin, Ansar and Bedouins,
وَالَّذينَ كَفَرُواْ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَآءُ بَعْضٍ إِلاَّ تَفْعَلُوهُ تَكُنْ فِتْنَةٌ فِى الاٌّرْضِ وَفَسَادٌ كَبِيرٌ
(And those who disbelieve are allies of one another, (and) if you do not behave the same, there will be Fitnah and oppression on the earth, and a great mischief and corruption.) 8:73.
Allah said next,
إِلاَ أَن تَتَّقُواْ مِنْهُمْ تُقَـةً
(unless you indeed fear a danger from them) meaning, except those believers who in some areas or times fear for their safety from the disbelievers. In this case, such believers are allowed to show friendship to the disbelievers outwardly, but never inwardly. For instance, Al-Bukhari recorded that Abu Ad-Darda' said, "We smile in the face of some people although our hearts curse them." Al-Bukhari said that Al-Hasan said, "The Tuqyah is allowed until the Day of Resurrection." Allah said,
وَيُحَذِّرُكُمُ اللَّهُ نَفْسَهُ
(And Allah warns you against Himself.) meaning, He warns you against His anger and the severe torment He prepared for those who give their support to His enemies, and those who have enmity with His friends,
وَإِلَى اللَّهِ الْمَصِيرُ
(And to Allah is the final return) meaning, the return is to Him and He will reward or punish each person according to their deeds.
ترک موالات کی وضاحت یہاں اللہ تعالیٰ ترک موالات کا حکم دیتے ہوئے فرماتا ہے مسلمانوں کو کفار سے دوستی اور محض محبت کرنا مناسب نہیں بلکہ انہیں آپس میں ایمان داروں سے میل ملاپ اور محبت رکھنی چاہیے، پھر انہیں حکم سناتا ہے کہ جو ایسا کرے گا اس سے اللہ بالکل بیزار ہوجائے گا، جیسے اور جگہ ہے آیت (يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْا عَدُوِّيْ وَعَدُوَّكُمْ اَوْلِيَاۗءَ تُلْقُوْنَ اِلَيْهِمْ بالْمَوَدَّةِ وَقَدْ كَفَرُوْا بِمَا جَاۗءَكُمْ مِّنَ الْحَقِّ ۚ يُخْرِجُوْنَ الرَّسُوْلَ وَاِيَّاكُمْ اَنْ تُؤْمِنُوْا باللّٰهِ رَبِّكُمْ) 60۔ الممتحنہ :1) یعنی مسلمانو میرے اور اپنے دشمنوں سے دوستی نہ کیا کرو اور جگہ فرمایا مومنو یہ یہود و نصاریٰ آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں تم میں سے جو بھی ان سے دوستی کرے گا وہ انہی سے ہے، دوسری جگہ پروردگار عالم نے مہاجر انصار اور دوسرے مومنوں کے بھائی چارے کا ذکر کر کے فرمایا کہ کافر آپس میں ایک دوسرے کے خیرخواہ اور دوست ہیں تم بھی آپس میں اگر ایسا نہ کرو گے تو زمین میں فتنہ پھیل جائے گا اور زبردست فساد برپا ہوگا۔ البتہ ان لوگوں کو رخصت دے دی گئی جو کسی شہر میں کسی وقت ان کی بدی اور برائی سے ڈر کر دفع الوقتی کے لئے بظاہر کچھ میل ملاپ ظاہر کریں لیکن دل میں ان کی طرف رغبت اور ان سے حقیقی محبت نہ ہو، جیسے صحیح بخاری شریف میں حضرت ابو درداء ؓ سے مروی ہے کہ ہم بعض قوموں سے کشادہ پیشانی سے ملتے ہیں لیکن ہمارے دل ان پر لعنت بھیجتے رہتے ہیں، حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ صرف زبان سے اظہار کرے لیکن عمل میں ان کا ساتھ ایسے وقت میں بھی ہرگز نہ دے، یہی بات اور مفسرین سے بھی مروی ہے اور اسی کی تائید اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان بھی کرتا ہے۔ آیت (مَنْ كَفَرَ باللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ اِيْمَانِهٖٓ اِلَّا مَنْ اُكْرِهَ وَقَلْبُهٗ مُطْمَـﭟ بِالْاِيْمَانِ وَلٰكِنْ مَّنْ شَرَحَ بالْكُفْرِ صَدْرًا فَعَلَيْهِمْ غَضَبٌ مِّنَ اللّٰهِ ۚ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيْمٌ) 16۔ النحل :106) جو شخص اپنے ایمان کے بعد اللہ سے کفر کرے سوائے ان مسلمانوں کے جن پر زبردستی کی جائے مگر ان کا دل ایمان کے ساتھ مطمئن ہو، بخاری میں ہے حضرت حسن فرماتے ہیں یہ حکم قیامت تک کے لئے ہے۔ پھر فرمایا اللہ تمہیں اپنے آپ سے ڈراتا ہے۔ یعنی اپنے دبدبے اور اپنے عذاب سے اس شخص کو خبردار کئے دیتا ہے جو اس کے فرمان کی مخالفت کر کے اس کے دشمنوں سے دوستی رکھے اور اس کے دوستوں سے دشمنی کرے۔ پھر فرمایا اللہ کی طرف لوٹنا ہے ہر عمل کرنے والے کو اس کے عمل کا بدلہ وہیں ملے گا۔ حضرت معاذ ؓ نے کھڑے ہو کر فرمایا اے بنی اود میں اللہ کے رسول ﷺ کا قاصد ہو کر تمہاری طرف آیا ہوں جان لو کہ اللہ کی طرف پھر کر سب کو جانا ہے پھر یا تو جنت ٹھکانا ہوگا یا جہنم۔
29
View Single
قُلۡ إِن تُخۡفُواْ مَا فِي صُدُورِكُمۡ أَوۡ تُبۡدُوهُ يَعۡلَمۡهُ ٱللَّهُۗ وَيَعۡلَمُ مَا فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَا فِي ٱلۡأَرۡضِۗ وَٱللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ قَدِيرٞ
Say, (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), “Whether you hide or reveal whatever is in your hearts, Allah knows it all; and He knows all whatever is in the heavens and all whatever is in the earth; and Allah has control over all things.”
آپ فرما دیں کہ جو تمہارے سینوں میں ہے خواہ تم اسے چھپاؤ یا اسے ظاہر کر دو اللہ اسے جانتا ہے، اور جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے وہ خوب جانتا ہے، اور اللہ ہر چیز پر بڑا قادر ہے
Tafsir Ibn Kathir
Allah Knows What the Hearts Conceal
Allah tells His servants that He knows the secrets and apparent matters and that nothing concerning them escapes His observation. Rather, His knowledge encompasses them in all conditions, time frames, days and instances. His knowledge encompasses all that is in heaven and earth, and nothing not even the weight of an atom, or what is smaller than that in the earth, seas and mountains, escapes His observation. Indeed,
وَاللَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ
(And Allah is able to do all things.) and His ability encompasses everything. This Ayah alerts Allah's servants that they should fear Him enough to not commit what He prohibits and dislikes, for He has perfect knowledge in all they do and is able to punish them promptly. And He gives respite to some of them, then He punishes them, and He is Swift and Mighty in taking account. This is why Allah said afterwards,
يَوْمَ تَجِدُ كُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ مِنْ خَيْرٍ مُّحْضَرًا
(On the Day when every person will be confronted with all the good he has done,) meaning, on the Day of Resurrection, Allah brings the good and evil deeds before the servant, just as He said,
يُنَبَّأُ الإِنسَـنُ يَوْمَئِذِ بِمَا قَدَّمَ وَأَخَّرَ
(On that Day man will be informed of what he sent forward, and what he left behind.) 75:13.
When the servant sees his good deeds, he becomes happy and delighted. When he sees the evil deeds he committed, he becomes sad and angry. Then he will wish that he could disown his evil work and that a long distance separated it from him. He will also say to the devil who used to accompany him in this life, and who used to encourage him to do evil;
يلَيْتَ بَيْنِي وَبَيْنَكَ بُعْدَ الْمَشْرِقَيْنِ فَبِئْسَ الْقَرِينُ
("Would that between me and you were the distance of the two easts ـ a horrible companion (indeed)!) 43:38.
Allah then said, while threatening and warning,
وَيُحَذِّرُكُمُ اللَّهُ نَفْسَهُ
(And Allah warns you against Himself) meaning, He warns you against His punishment. Allah then said, while bringing hope to His servants, so that they do not despair from His mercy or feel hopeless of His kindness,
وَاللَّهُ رَءُوفٌ بِالْعِبَادِ
(And Allah is full of kindness with the servants)
Al-Hasan Al-Basri said, "Allah is so kind with them that He warns them against Himself." Others commented, "He is merciful with His creation and likes for them to remain on His straight path and chosen religion, and to follow His honorable Messenger."
اللہ تعالیٰ سے ڈر ہمارے لئے بہتر ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وہ پوشیدہ کو اور چھپی ہوئی باتوں کو اور ظاہر باتوں کو بخوبی جانتا ہے کوئی چھوٹی سے چھوٹی بات بھی اس پر پوشیدہ نہیں اس کا علم سب چیزوں کو ہر وقت اور ہر لحظہ گھیرے ہوئے ہے۔ زمین کے گوشوں میں پہاڑوں کے سمندروں میں آسمانوں میں ہواؤں میں سوراخوں میں غرض جو کچھ جہاں کہیں ہے سب اس کے علم میں ہے پھر ان سب پر اس کی قدرت ہے جس طرح چاہے رکھے جو چاہے جزا سزا دے، پس اتنے بڑے وسیع علم والے اتنی بڑی زبردست قدرت والے سے ہر شخص کو ڈرتے ہوئے رہنا چاہیے۔ اس کی فرمانبرداری میں مشغول رہنا چاہیے اور اس کی نافرمانیوں سے علیحدہ رہنا چاہیے، وہ عالم بھی ہے اور قادر بھی ہے ممکن ہے کسی کو ڈھیل دے دے لیکن جب پکڑے گا تب دبوچ لے گا پھر نہ مہلت ملے گی نہ رخصت، ایک دن آنے والا ہے جس دن تمام عمر کے برے بھلے سب کام سامنے رکھ دئیے جائیں گے، نیکیوں کو دیکھ کر خوشی ہوگی اور برائیوں پر نظریں ڈال کر دانت پیسے گا اور حسرت و افسوس کرے گا اور چاہے گا کہ میں ان سے کوسوں دور رہتا اور پرے ہی پرے رہتا قرآن نے اور جگہ فرمایا آیت (يُنَبَّؤُا الْاِنْسَانُ يَوْمَىِٕذٍۢ بِمَا قَدَّمَ وَاَخَّرَ) 75۔ القیامہ :1) سب گزری ہوئی باتیں اس دن پیش کردی جائیں گی، شیطان جو اس کے ساتھ دنیا میں رہتا تھا اور اسے برائیوں پر اکساتا تھا اس سے بھی اس دن بیزاری کرے گا اور کہے گا آیت (يٰلَيْتَ بَيْنِيْ وَبَيْنَكَ بُعْدَ الْمَشْرِقَيْنِ فَبِئْسَ الْقَرِيْنُ) 43۔ الزخرف :31) کیا اچھا ہوتا کہ اے شیطان میرے اور تیرے درمیان مشرق و مغرب کا فاصلہ ہوتا وہ تو بڑا برا ساتھ ہے پھر فرمایا اللہ تمہیں اپنے یعنی اپنے عذاب سے ڈرا دھمکا رہا ہے، پھر فرمایا اللہ تمہیں اپنے یعنی اپنے عذاب سے ڈرا دھمکا رہا ہے، پھر اللہ تعالیٰ جل جلالہ اپنے نیک بندوں کو خوشخبری دیتا ہے کہ وہ اس کے لطف و کرم سے کبھی ناامید نہ ہوں وہ نہایت ہی مہربان بہت رحم اور پیار رکھنے والا ہے، امام حسن بصری ؒ فرماتے ہیں یہ بھی اس کی سراسر مہربانی و لطف و محبت ہے کہ اس نے اپنے سے نہیں بلکہ اپنے عذاب سے اپنے بندوں کو ڈرایا، یہ بھی مطلب ہے کہ اللہ اپنے بندوں پر رحیم بندوں کو بھی چاہے کہ صراط مستقیم سے قدم نہ ہٹائیں دین پاک کو نہ چھوڑیں رسول کریم کی فرمانبرداری سے منہ نہ موڑیں۔
30
View Single
يَوۡمَ تَجِدُ كُلُّ نَفۡسٖ مَّا عَمِلَتۡ مِنۡ خَيۡرٖ مُّحۡضَرٗا وَمَا عَمِلَتۡ مِن سُوٓءٖ تَوَدُّ لَوۡ أَنَّ بَيۡنَهَا وَبَيۡنَهُۥٓ أَمَدَۢا بَعِيدٗاۗ وَيُحَذِّرُكُمُ ٱللَّهُ نَفۡسَهُۥۗ وَٱللَّهُ رَءُوفُۢ بِٱلۡعِبَادِ
On the Day when every soul will be confronted with all the good that it has done; and all the evil that it has done – it will wish that perhaps there would have been a great distance between itself and the punishment; and Allah warns you of His punishment; and Allah is Most Compassionate towards His bondmen.
جس دن ہر جان ہر اس نیکی کو بھی (اپنے سامنے) حاضر پا لے گی جو اس نے کی تھی اور ہر برائی کو بھی جو اس نے کی تھی، تو وہ آرزو کرے گی: کاش! میرے اور اس برائی (یا اس دن) کے درمیان بہت زیادہ فاصلہ ہوتا، اور اللہ تمہیں اپنی ذات (کے غضب) سے ڈراتا ہے، اور اللہ بندوں پر بہت مہربان ہے
Tafsir Ibn Kathir
Allah Knows What the Hearts Conceal
Allah tells His servants that He knows the secrets and apparent matters and that nothing concerning them escapes His observation. Rather, His knowledge encompasses them in all conditions, time frames, days and instances. His knowledge encompasses all that is in heaven and earth, and nothing not even the weight of an atom, or what is smaller than that in the earth, seas and mountains, escapes His observation. Indeed,
وَاللَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ
(And Allah is able to do all things.) and His ability encompasses everything. This Ayah alerts Allah's servants that they should fear Him enough to not commit what He prohibits and dislikes, for He has perfect knowledge in all they do and is able to punish them promptly. And He gives respite to some of them, then He punishes them, and He is Swift and Mighty in taking account. This is why Allah said afterwards,
يَوْمَ تَجِدُ كُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ مِنْ خَيْرٍ مُّحْضَرًا
(On the Day when every person will be confronted with all the good he has done,) meaning, on the Day of Resurrection, Allah brings the good and evil deeds before the servant, just as He said,
يُنَبَّأُ الإِنسَـنُ يَوْمَئِذِ بِمَا قَدَّمَ وَأَخَّرَ
(On that Day man will be informed of what he sent forward, and what he left behind.) 75:13.
When the servant sees his good deeds, he becomes happy and delighted. When he sees the evil deeds he committed, he becomes sad and angry. Then he will wish that he could disown his evil work and that a long distance separated it from him. He will also say to the devil who used to accompany him in this life, and who used to encourage him to do evil;
يلَيْتَ بَيْنِي وَبَيْنَكَ بُعْدَ الْمَشْرِقَيْنِ فَبِئْسَ الْقَرِينُ
("Would that between me and you were the distance of the two easts ـ a horrible companion (indeed)!) 43:38.
Allah then said, while threatening and warning,
وَيُحَذِّرُكُمُ اللَّهُ نَفْسَهُ
(And Allah warns you against Himself) meaning, He warns you against His punishment. Allah then said, while bringing hope to His servants, so that they do not despair from His mercy or feel hopeless of His kindness,
وَاللَّهُ رَءُوفٌ بِالْعِبَادِ
(And Allah is full of kindness with the servants)
Al-Hasan Al-Basri said, "Allah is so kind with them that He warns them against Himself." Others commented, "He is merciful with His creation and likes for them to remain on His straight path and chosen religion, and to follow His honorable Messenger."
اللہ تعالیٰ سے ڈر ہمارے لئے بہتر ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وہ پوشیدہ کو اور چھپی ہوئی باتوں کو اور ظاہر باتوں کو بخوبی جانتا ہے کوئی چھوٹی سے چھوٹی بات بھی اس پر پوشیدہ نہیں اس کا علم سب چیزوں کو ہر وقت اور ہر لحظہ گھیرے ہوئے ہے۔ زمین کے گوشوں میں پہاڑوں کے سمندروں میں آسمانوں میں ہواؤں میں سوراخوں میں غرض جو کچھ جہاں کہیں ہے سب اس کے علم میں ہے پھر ان سب پر اس کی قدرت ہے جس طرح چاہے رکھے جو چاہے جزا سزا دے، پس اتنے بڑے وسیع علم والے اتنی بڑی زبردست قدرت والے سے ہر شخص کو ڈرتے ہوئے رہنا چاہیے۔ اس کی فرمانبرداری میں مشغول رہنا چاہیے اور اس کی نافرمانیوں سے علیحدہ رہنا چاہیے، وہ عالم بھی ہے اور قادر بھی ہے ممکن ہے کسی کو ڈھیل دے دے لیکن جب پکڑے گا تب دبوچ لے گا پھر نہ مہلت ملے گی نہ رخصت، ایک دن آنے والا ہے جس دن تمام عمر کے برے بھلے سب کام سامنے رکھ دئیے جائیں گے، نیکیوں کو دیکھ کر خوشی ہوگی اور برائیوں پر نظریں ڈال کر دانت پیسے گا اور حسرت و افسوس کرے گا اور چاہے گا کہ میں ان سے کوسوں دور رہتا اور پرے ہی پرے رہتا قرآن نے اور جگہ فرمایا آیت (يُنَبَّؤُا الْاِنْسَانُ يَوْمَىِٕذٍۢ بِمَا قَدَّمَ وَاَخَّرَ) 75۔ القیامہ :1) سب گزری ہوئی باتیں اس دن پیش کردی جائیں گی، شیطان جو اس کے ساتھ دنیا میں رہتا تھا اور اسے برائیوں پر اکساتا تھا اس سے بھی اس دن بیزاری کرے گا اور کہے گا آیت (يٰلَيْتَ بَيْنِيْ وَبَيْنَكَ بُعْدَ الْمَشْرِقَيْنِ فَبِئْسَ الْقَرِيْنُ) 43۔ الزخرف :31) کیا اچھا ہوتا کہ اے شیطان میرے اور تیرے درمیان مشرق و مغرب کا فاصلہ ہوتا وہ تو بڑا برا ساتھ ہے پھر فرمایا اللہ تمہیں اپنے یعنی اپنے عذاب سے ڈرا دھمکا رہا ہے، پھر فرمایا اللہ تمہیں اپنے یعنی اپنے عذاب سے ڈرا دھمکا رہا ہے، پھر اللہ تعالیٰ جل جلالہ اپنے نیک بندوں کو خوشخبری دیتا ہے کہ وہ اس کے لطف و کرم سے کبھی ناامید نہ ہوں وہ نہایت ہی مہربان بہت رحم اور پیار رکھنے والا ہے، امام حسن بصری ؒ فرماتے ہیں یہ بھی اس کی سراسر مہربانی و لطف و محبت ہے کہ اس نے اپنے سے نہیں بلکہ اپنے عذاب سے اپنے بندوں کو ڈرایا، یہ بھی مطلب ہے کہ اللہ اپنے بندوں پر رحیم بندوں کو بھی چاہے کہ صراط مستقیم سے قدم نہ ہٹائیں دین پاک کو نہ چھوڑیں رسول کریم کی فرمانبرداری سے منہ نہ موڑیں۔
31
View Single
قُلۡ إِن كُنتُمۡ تُحِبُّونَ ٱللَّهَ فَٱتَّبِعُونِي يُحۡبِبۡكُمُ ٱللَّهُ وَيَغۡفِرۡ لَكُمۡ ذُنُوبَكُمۡۚ وَٱللَّهُ غَفُورٞ رَّحِيمٞ
Proclaim, (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), “O mankind! If you love Allah, follow me – Allah will love you and forgive you your sins”; and Allah is Oft Forgiving, Most Merciful.
(اے حبیب!) آپ فرما دیں: اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو تب اللہ تمہیں (اپنا) محبوب بنا لے گا اور تمہارے لئے تمہارے گناہ معاف فرما دے گا، اور اللہ نہایت بخشنے والا مہربان ہے
Tafsir Ibn Kathir
Allah's Love is Attained by Following the Messenger
This honorable Ayah judges against those who claim to love Allah, yet do not follow the way of Muhammad . Such people are not true in their claim until they follow the Shari`ah (Law) of Muhammad and his religion in all his statements, actions and conditions. It is recorded in the Sahih that the Messenger of Allah ﷺ said,
«مَنْ عَمِلَ عَمَلًا لَيْسَ عَلَيْهِ أَمْرُنَا فَهُوَ رَد»
(Whoever commits an act that does not conform with our matter (religion), then it will be rejected of him.)
This is why Allah said here,
قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِى يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ
(Say (O Muhammad to mankind): "If you (really) love Allah, then follow me, Allah will love you...") meaning, what you will earn is much more than what you sought in loving Him, for Allah will love you. Al-Hasan Al-Basri and several scholars among the Salaf commented, "Some people claimed that they love Allah. So Allah tested them with this Ayah;
قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِى يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ
(Say (O Muhammad to mankind): "If you (really) love Allah, then follow me, Allah will love you..."). "
Allah then said,
وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ
("And forgive you your sins. And Allah is Oft-Forgiving, Most Merciful.") meaning, by your following the Messenger , you will earn all this with the blessing of his mission. Allah next commands everyone,
قُلْ أَطِيعُواْ اللَّهَ وَالرَّسُولَ فإِن تَوَلَّوْاْ
(Say: "Obey Allah and the Messenger." But if they turn away) by defying the Prophet)
فَإِنَّ اللَّهَ لاَ يُحِبُّ الْكَـفِرِينَ
(then Allah does not like the disbelievers.) thus, testifying that defiance of the Messenger's way constitutes Kufr. Indeed, Allah does not like whoever does this, even if he claims that he loves Allah and seeks a means of approach to Him, unless, and until, he follows the unlettered Prophet, the Final Messenger from Allah to the two creations: mankind and the Jinn. This is the Prophet who, if the previous Prophets and mighty Messengers were to have been alive during his time, they would have no choice but to follow, obey him, and to abide by his Law. We will mention this fact when we explain the Ayah,
وَإِذْ أَخَذَ اللَّهُ مِيثَـقَ النَّبِيِّيْنَ
(And (remember) when Allah took the Covenant of the Prophets) 3:81, Allah willing.
جھوٹا دعویٰاس آیت نے فیصلہ کردیا جو شخص اللہ کی محبت کا دعویٰ کرے اور اس کے اعمال افعال عقائد فرمان نبوی ﷺ کے مطابق نہ ہوں، طریقہ محمدیہ پر وہ کار بند نہ ہو تو وہ اپنے اس دعوے میں جھوٹا ہے صحیح حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جو شخص کوئی ایسا عمل کرے جس پر ہمارا حکم نہ ہو وہ مردود ہے، اسی لئے یہاں بھی ارشاد ہوتا ہے کہ اگر تم اللہ سے محبت رکھنے کے دعوے میں سچے ہو تو میری سنتوں پر عمل کرو اس وقت تمہاری چاہت سے زیادہ اللہ تمہیں دے گا یعنی وہ خود تمہارا چاہنے والا بن جائے گا۔ جیسے کہ بعض حکیم علماء نے کہا ہے کہ تیرا چاہنا کوئی چیز نہیں لطف تو اس وقت ہے کہ اللہ تجھے چاہنے لگ جائے۔ غرض اللہ کی محبت کی نشانی یہی ہے کہ ہر کام میں اتباع سنت مدنظر ہو۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا دین صرف اللہ کے لئے محبت اور اسی کے لئے دشمنی کا نام ہے، پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت کی، لیکن یہ حدیث سنداً منکر ہے، پھر فرماتا ہے کہ حدیث پر چلنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ تمہارے تمام تر گناہوں کو بھی معاف فرما دے گا۔ پھر ہر عام خاص کو حکم ملتا ہے کہ سب اللہ و رسول کے فرماں بردار رہیں جو نافرمان ہوجائیں یعنی اللہ رسول کی اطاعت سے ہٹ جائیں تو وہ کافر ہیں اور اللہ ان سے محبت نہیں رکھتا۔ اس سے واضح ہوگیا کہ رسول اللہ ﷺ کے طریقہ کی مخالفت کفر ہے، ایسے لوگ اللہ کے دوست نہیں ہوسکتے گو ان کا دعویٰ ہو، لیکن جب تک اللہ کے سچے نبی امی خاتم الرسل رسول جن و بشر کی تابعداری پیروی اور اتباع سنت نہ کریں وہ اپنے اس دعوے میں جھوٹے ہیں، حضرت رسول اللہ ﷺ تو وہ ہیں کہ اگر آج انبیاء اور رسول بلکہ بہترین اور اولوالعزم پیغمبر بھی زندہ ہوتے تو انہیں بھی آپ کے مانے بغیر اور آپ کی شریعت پر کاربند ہوئے بغیر چارہ ہی نہ تھا، اس کا بیان تفصیل کے ساتھ آیت (وَاِذْ اَخَذَ اللّٰهُ مِيْثَاق النَّبِيّٖنَ) 3۔ آل عمران :81) کی تفسیر میں آئے گا۔ انشاء اللہ تعالیٰ۔
32
View Single
قُلۡ أَطِيعُواْ ٱللَّهَ وَٱلرَّسُولَۖ فَإِن تَوَلَّوۡاْ فَإِنَّ ٱللَّهَ لَا يُحِبُّ ٱلۡكَٰفِرِينَ
Proclaim, “Obey Allah and the Noble Messenger”; so if they turn away – then Allah is not pleased with the disbelievers.
آپ فرما دیں کہ اللہ اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت کرو پھر اگر وہ روگردانی کریں تو اللہ کافروں کو پسند نہیں کرتا
Tafsir Ibn Kathir
Allah's Love is Attained by Following the Messenger
This honorable Ayah judges against those who claim to love Allah, yet do not follow the way of Muhammad . Such people are not true in their claim until they follow the Shari`ah (Law) of Muhammad and his religion in all his statements, actions and conditions. It is recorded in the Sahih that the Messenger of Allah ﷺ said,
«مَنْ عَمِلَ عَمَلًا لَيْسَ عَلَيْهِ أَمْرُنَا فَهُوَ رَد»
(Whoever commits an act that does not conform with our matter (religion), then it will be rejected of him.)
This is why Allah said here,
قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِى يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ
(Say (O Muhammad to mankind): "If you (really) love Allah, then follow me, Allah will love you...") meaning, what you will earn is much more than what you sought in loving Him, for Allah will love you. Al-Hasan Al-Basri and several scholars among the Salaf commented, "Some people claimed that they love Allah. So Allah tested them with this Ayah;
قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِى يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ
(Say (O Muhammad to mankind): "If you (really) love Allah, then follow me, Allah will love you..."). "
Allah then said,
وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ
("And forgive you your sins. And Allah is Oft-Forgiving, Most Merciful.") meaning, by your following the Messenger , you will earn all this with the blessing of his mission. Allah next commands everyone,
قُلْ أَطِيعُواْ اللَّهَ وَالرَّسُولَ فإِن تَوَلَّوْاْ
(Say: "Obey Allah and the Messenger." But if they turn away) by defying the Prophet)
فَإِنَّ اللَّهَ لاَ يُحِبُّ الْكَـفِرِينَ
(then Allah does not like the disbelievers.) thus, testifying that defiance of the Messenger's way constitutes Kufr. Indeed, Allah does not like whoever does this, even if he claims that he loves Allah and seeks a means of approach to Him, unless, and until, he follows the unlettered Prophet, the Final Messenger from Allah to the two creations: mankind and the Jinn. This is the Prophet who, if the previous Prophets and mighty Messengers were to have been alive during his time, they would have no choice but to follow, obey him, and to abide by his Law. We will mention this fact when we explain the Ayah,
وَإِذْ أَخَذَ اللَّهُ مِيثَـقَ النَّبِيِّيْنَ
(And (remember) when Allah took the Covenant of the Prophets) 3:81, Allah willing.
جھوٹا دعویٰاس آیت نے فیصلہ کردیا جو شخص اللہ کی محبت کا دعویٰ کرے اور اس کے اعمال افعال عقائد فرمان نبوی ﷺ کے مطابق نہ ہوں، طریقہ محمدیہ پر وہ کار بند نہ ہو تو وہ اپنے اس دعوے میں جھوٹا ہے صحیح حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جو شخص کوئی ایسا عمل کرے جس پر ہمارا حکم نہ ہو وہ مردود ہے، اسی لئے یہاں بھی ارشاد ہوتا ہے کہ اگر تم اللہ سے محبت رکھنے کے دعوے میں سچے ہو تو میری سنتوں پر عمل کرو اس وقت تمہاری چاہت سے زیادہ اللہ تمہیں دے گا یعنی وہ خود تمہارا چاہنے والا بن جائے گا۔ جیسے کہ بعض حکیم علماء نے کہا ہے کہ تیرا چاہنا کوئی چیز نہیں لطف تو اس وقت ہے کہ اللہ تجھے چاہنے لگ جائے۔ غرض اللہ کی محبت کی نشانی یہی ہے کہ ہر کام میں اتباع سنت مدنظر ہو۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا دین صرف اللہ کے لئے محبت اور اسی کے لئے دشمنی کا نام ہے، پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت کی، لیکن یہ حدیث سنداً منکر ہے، پھر فرماتا ہے کہ حدیث پر چلنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ تمہارے تمام تر گناہوں کو بھی معاف فرما دے گا۔ پھر ہر عام خاص کو حکم ملتا ہے کہ سب اللہ و رسول کے فرماں بردار رہیں جو نافرمان ہوجائیں یعنی اللہ رسول کی اطاعت سے ہٹ جائیں تو وہ کافر ہیں اور اللہ ان سے محبت نہیں رکھتا۔ اس سے واضح ہوگیا کہ رسول اللہ ﷺ کے طریقہ کی مخالفت کفر ہے، ایسے لوگ اللہ کے دوست نہیں ہوسکتے گو ان کا دعویٰ ہو، لیکن جب تک اللہ کے سچے نبی امی خاتم الرسل رسول جن و بشر کی تابعداری پیروی اور اتباع سنت نہ کریں وہ اپنے اس دعوے میں جھوٹے ہیں، حضرت رسول اللہ ﷺ تو وہ ہیں کہ اگر آج انبیاء اور رسول بلکہ بہترین اور اولوالعزم پیغمبر بھی زندہ ہوتے تو انہیں بھی آپ کے مانے بغیر اور آپ کی شریعت پر کاربند ہوئے بغیر چارہ ہی نہ تھا، اس کا بیان تفصیل کے ساتھ آیت (وَاِذْ اَخَذَ اللّٰهُ مِيْثَاق النَّبِيّٖنَ) 3۔ آل عمران :81) کی تفسیر میں آئے گا۔ انشاء اللہ تعالیٰ۔
33
View Single
۞إِنَّ ٱللَّهَ ٱصۡطَفَىٰٓ ءَادَمَ وَنُوحٗا وَءَالَ إِبۡرَٰهِيمَ وَءَالَ عِمۡرَٰنَ عَلَى ٱلۡعَٰلَمِينَ
Indeed Allah chose Adam, and Nooh, and the Family of Ibrahim, and the Family of Imran over the creation.
بیشک اللہ نے آدم (علیہ السلام) کو اور نوح (علیہ السلام) کو اور آلِ ابراہیم کو اور آلِ عمران کو سب جہان والوں پر (بزرگی میں) منتخب فرما لیا
Tafsir Ibn Kathir
The Chosen Ones Among the People of the Earth
Allah states that He has chosen these households over the people of the earth. For instance, Allah chose Adam, created him with His Hand and blew life into him. Allah commanded the angels to prostrate before Adam, taught him the names of everything and allowed him to dwell in Paradise, but then sent him down from it out of His wisdom. Allah chose Nuh and made him the first Messenger to the people of the earth, when the people worshipped idols and associated others with Allah in worship. Allah avenged the way Nuh was treated, for he kept calling his people day and night, in public and in secret, for a very long time. However, his calling them only made them shun him more, and this is when Nuh supplicated against them. So Allah caused them to drown, and none among them was saved, except those who followed the religion that Allah sent to Nuh. Allah also chose the household of Ibrahim, including the master of all mankind, and the Final Prophet, Muhammad, peace be upon him. Allah also chose the household of `Imran, the father of Marym bint `Imran, the mother of `Isa, peace be upon them. So `Isa is from the offspring of Ibrahim, as we will mention in the Tafsir of Surat Al-An`am, Allah willing, and our trust is in Him.
سب سے پہلے نبی یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان بزرگ ہستیوں کو تمام جہان پر فضیلت عنایت فرمائی، حضرت آدم کو اپنے ہاتھ سے پیدا کیا۔ اپنی روح ان میں پھونکی ہر چیز کے نام انہیں بتلائے، جنت میں انہیں بسایا پھر اپنی حکمت کے اظہار کے لئے زمین پر اتارا، جب زمین پر بت پرستی قائم ہوگئی تو حضرت نوح ؑ کو سب سے پہلا رسول بنا کر بھیجا پھر جب ان کی قوم نے سرکشی کی پیغمبر کی ہدایت پر عمل نہ کیا، حضرت نوح نے دن رات پوشیدہ اور ظاہر اللہ کی طرف دعوت دی لیکن قوم نے ایک نہ سنی تو نوح ؑ کے فرماں برداروں کے سوا باقی سب کو پانی کے عذاب یعنی مشہور طوفان نوح بھیج کر ڈبو دیا۔ خاندان خلیل اللہ علیہ صلوات اللہ کو اللہ تعالیٰ نے برگزیدگی عنایت فرمائی اسی خاندان میں سے سیدالبشر خاتم الانبیاء حضرت محمد ﷺ ہیں، عمران کے خاندان کو بھی اس نے منتخب کرلیا، عمران نام ہے حضرت مریم کے والد صاحب کا جو حضرت عیسیٰ ؑ کی والدہ ہیں، ان کا نسب نامہ بقول محمد بن اسحاق یہ ہے، عمران بن ہاشم بن میثا بن خرقیا بن اسیث بن ایازبن رخیعم بن سلیمان بن داؤد علیہما السلام، پس عیسیٰ ؑ بھی حضرت ابراہیم ؑ کی نسل سے ہیں اس کا مفصل بیان سورة انعام کی تفسیر میں آئے گا۔ انشاء اللہ الرحمن
34
View Single
ذُرِّيَّةَۢ بَعۡضُهَا مِنۢ بَعۡضٖۗ وَٱللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ
They are the descendants one of another; and Allah is the All Hearing, the All Knowing.
یہ ایک ہی نسل ہے ان میں سے بعض بعض کی اولاد ہیں، اور اللہ خوب سننے والا خوب جاننے والا ہے
Tafsir Ibn Kathir
The Chosen Ones Among the People of the Earth
Allah states that He has chosen these households over the people of the earth. For instance, Allah chose Adam, created him with His Hand and blew life into him. Allah commanded the angels to prostrate before Adam, taught him the names of everything and allowed him to dwell in Paradise, but then sent him down from it out of His wisdom. Allah chose Nuh and made him the first Messenger to the people of the earth, when the people worshipped idols and associated others with Allah in worship. Allah avenged the way Nuh was treated, for he kept calling his people day and night, in public and in secret, for a very long time. However, his calling them only made them shun him more, and this is when Nuh supplicated against them. So Allah caused them to drown, and none among them was saved, except those who followed the religion that Allah sent to Nuh. Allah also chose the household of Ibrahim, including the master of all mankind, and the Final Prophet, Muhammad, peace be upon him. Allah also chose the household of `Imran, the father of Marym bint `Imran, the mother of `Isa, peace be upon them. So `Isa is from the offspring of Ibrahim, as we will mention in the Tafsir of Surat Al-An`am, Allah willing, and our trust is in Him.
سب سے پہلے نبی یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان بزرگ ہستیوں کو تمام جہان پر فضیلت عنایت فرمائی، حضرت آدم کو اپنے ہاتھ سے پیدا کیا۔ اپنی روح ان میں پھونکی ہر چیز کے نام انہیں بتلائے، جنت میں انہیں بسایا پھر اپنی حکمت کے اظہار کے لئے زمین پر اتارا، جب زمین پر بت پرستی قائم ہوگئی تو حضرت نوح ؑ کو سب سے پہلا رسول بنا کر بھیجا پھر جب ان کی قوم نے سرکشی کی پیغمبر کی ہدایت پر عمل نہ کیا، حضرت نوح نے دن رات پوشیدہ اور ظاہر اللہ کی طرف دعوت دی لیکن قوم نے ایک نہ سنی تو نوح ؑ کے فرماں برداروں کے سوا باقی سب کو پانی کے عذاب یعنی مشہور طوفان نوح بھیج کر ڈبو دیا۔ خاندان خلیل اللہ علیہ صلوات اللہ کو اللہ تعالیٰ نے برگزیدگی عنایت فرمائی اسی خاندان میں سے سیدالبشر خاتم الانبیاء حضرت محمد ﷺ ہیں، عمران کے خاندان کو بھی اس نے منتخب کرلیا، عمران نام ہے حضرت مریم کے والد صاحب کا جو حضرت عیسیٰ ؑ کی والدہ ہیں، ان کا نسب نامہ بقول محمد بن اسحاق یہ ہے، عمران بن ہاشم بن میثا بن خرقیا بن اسیث بن ایازبن رخیعم بن سلیمان بن داؤد علیہما السلام، پس عیسیٰ ؑ بھی حضرت ابراہیم ؑ کی نسل سے ہیں اس کا مفصل بیان سورة انعام کی تفسیر میں آئے گا۔ انشاء اللہ الرحمن
35
View Single
إِذۡ قَالَتِ ٱمۡرَأَتُ عِمۡرَٰنَ رَبِّ إِنِّي نَذَرۡتُ لَكَ مَا فِي بَطۡنِي مُحَرَّرٗا فَتَقَبَّلۡ مِنِّيٓۖ إِنَّكَ أَنتَ ٱلسَّمِيعُ ٱلۡعَلِيمُ
(Remember) When the wife of Imran said, “My Lord! I pledge to you what is in my womb – that it shall be dedicated purely in Your service, so accept it from me; indeed You only are the All Hearing, the All Knowing.”
اور (یاد کریں) جب عمران کی بیوی نے عرض کیا: اے میرے رب! جو میرے پیٹ میں ہے میں اسے (دیگر ذمہ داریوں سے) آزاد کر کے خالص تیری نذر کرتی ہوں سو تو میری طرف سے (یہ نذرانہ) قبول فرما لے، بیشک تو خوب سننے خوب جاننے والا ہے
Tafsir Ibn Kathir
The Story of Maryam's Birth
The wife of `Imran mentioned here is the mother of Maryam, and her name is Hannah bint Faqudh. Muhammad bin Ishaq mentioned that Hannah could not have children and that one day, she saw a bird feeding its chick. She wished she could have children and supplicated to Allah to grant her offspring. Allah accepted her supplication, and when her husband slept with her, she became pregnant. She vowed to make her child concentrate on worship and serving Bayt Al-Maqdis (the Masjid in Jerusalem), when she became aware that she was pregnant. She said,
رَبِّ إِنِّي نَذَرْتُ لَكَ مَا فِي بَطْنِي مُحَرَّرًا فَتَقَبَّلْ مِنِّي إِنَّكَ أَنتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ
(O my Lord! I have vowed to You what is in my womb to be dedicated for Your services, so accept this from me. Verily, You are the All-Hearer, the All-Knowing.) meaning, You hear my supplication and You know my intention. She did not know then what she would give birth to, a male or a female.
فَلَمَّا وَضَعَتْهَا قَالَتْ رَبِّ إِنِّى وَضَعْتُهَآ أُنثَى وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا وَضَعَتْ
(Then when she gave birth to her, she said: "O my Lord! I have given birth to a female child, ـ and Allah knew better what she bore.)
وَلَيْسَ الذَّكَرُ كَالاٍّنثَى
(And the male is not like the female,) in strength and the commitment to worship Allah and serve the Masjid in Jerusalem.
وَإِنِّى سَمَّيْتُهَا مَرْيَمَ
(And I have named her Maryam,) thus, testifying to the fact that it is allowed to give a name to the newly born the day it is born, as is apparent from the Ayah, which is also a part of the law of those who were before us. Further, the Sunnah of the Messenger of Allah ﷺ mentioned that the Prophet said,
«وُلِدَ لِيَ اللَّيْلَةَ وَلَدٌ، سَمَّيْتُهُ بِاسْمِ أَبِي إِبْرَاهِيم»
(This night, a son was born for me and I called him by my father's name, Ibrahim.) Al-Bukhari and Muslim collected this Hadith.
They also recorded that Anas bin Malik brought his newborn brother to the Messenger of Allah ﷺ who chewed a piece of date and put it in the child's mouth and called him `Abdullah. Other new born infants were also given names on the day they were born.
Qatadah narrated that Al-Hasan Al-Basri said, that Samurah bin Jundub said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«كُلُّ غُلَامٍ رَهِينٌ بِعَقِيقَتِهِ، يُذْبَحُ عَنْهُ يَوْمَ سَابِعِهِ، وَيُسَمَّى وَيُحْلَقُ رَأَسُه»
(Every new born boy held in security by his `Aqiqah, until his seventh day, a sacrifice is offered on his behalf, he is given a name, and the hair on his head is shaved.)
This Hadith was collected by Ahmad and the collectors of the Sunan, and was graded Sahih by At-Tirmidhi. We should mention that another narration for this Hadith contained the wording, "and blood is offered on his behalf," which is more famous and established than the former narration, and Allah knows best.
Allah's statement that Maryam's mother said,
وِإِنِّى أُعِيذُهَا بِكَ وَذُرِّيَّتَهَا مِنَ الشَّيْطَـنِ الرَّجِيمِ
("...And I seek refuge with You for her and for her offspring from Shaytan, the outcast.") means, that she sought refuge with Allah from the evil of Shaytan, for her and her offspring, i.e., `Isa, peace be upon him. Allah accepted her supplication, for `Abdur-Razzaq recorded that Abu Hurayrah said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«مَا مِنْ مَوْلُودٍ يُولَدُ إِلَّا مَسَّهُ الشَّيْطَانُ حِينَ يُولَدُ، فَيَسْتَهِلُّ صَارِخًا مِنْ مَسِّهِ إِيَّاهُ، إِلَّا مَرْيَمَ وَابْنَهَا»
(Every newly born baby is touched by Shaytan when it is born, and the baby starts crying because of this touch, except Maryam and her son.)
Abu Hurayrah then said, "Read if you will,
وِإِنِّى أُعِيذُهَا بِكَ وَذُرِّيَّتَهَا مِنَ الشَّيْطَـنِ الرَّجِيمِ
(And I seek refuge with You for her and for her offspring from Shaytan, the outcast)." The Two Sahihs recorded this Hadith.
مریم بنت عمران حضرت عمران کی بیوی صاحبہ کا نام حسنہ بنت فاقوذ تھا حضرت مریم (علیہما السلام) کی والدہ تھیں حضرت محمد اسحاق فرماتے ہیں انہیں اولاد نہیں ہوتی تھی ایک دن ایک چڑیا کو دیکھا کہ وہ اپنے بچوں کو چوغہ دے رہی ہے تو انہیں ولولہ اٹھا اور اللہ تعالیٰ سے اسی وقت دعا کی اور خلوص کے ساتھ اللہ کو پکارا، اللہ تعالیٰ نے بھی ان کی دعا قبول فرما لی اور اسی رات انہیں حمل ٹھہر گیا جب حمل کا یقین ہوگیا تو نذر مانی کہ اللہ تعالیٰ مجھے جو اولاد دے گا اسے بیت المقدس کی خدمت کے لئے اللہ کے نام پر آزاد کر دوں گی، پھر اللہ سے دعا کی کہ پروردگار تو میری اس مخلصانہ نذر کو قبول فرما تو میری دعا کو سن رہا ہے اور تو میری نیت کو بھی خوب جان رہا ہے، اب یہ معلوم نہ تھا لڑکا ہوگا یا لڑکی جب پیدا ہوا تو دیکھا کہ وہ لڑکی ہے اور لڑکی تو اس قابل نہیں کہ وہ مسجد مقدس کی خدمت انجام دے سکے اس کے لئے تو لڑکا ہونا چاہئے تو عاجزی کے طور پر اپنی مجبوری جناب باری میں ظاہر کی کہ اے اللہ میں تو اسے تیرے نام پر وقف کرچکی تھی لیکن مجھے تو لڑکی ہوئی ہے، واللہ اعلم بما وضعت بھی پڑھا گیا یعنی یہ قول بھی حضرت حسنہ کا تھا کہ اللہ خوب جانتا ہے کہ میرے ہاں لڑکی ہوئی اور " تا " کے جزم کے ساتھ بھی آیا ہے، یعنی اللہ کا یہ فرمان ہے کہ اللہ تعالیٰ کو بخوبی معلوم ہے کہ کیا اولاد ہوئی ہے، اور فرماتی ہے کہ مرد عورت برابر نہیں، میں اس کا نام مریم رکھتی ہوں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ جس دن بچہ ہوا اسی دن نام رکھنا بھی جائز ہے، کیونکہ ہم سے پہلے لوگوں کی شریعت ہماری شریعت ہے اور یہاں یہ بیان کیا گیا اور تردید نہیں کی گئی بلکہ اسے ثابت اور مقرر رکھا گیا، اسی طرح حدیث شریف میں بھی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا آج رات میرے ہاں لڑکا ہوا اور میں نے اس کا نام اپنے باپ حضرت ابراہیم کے نام پر ابراہیم رکھا ملاحظہ ہو بخاری مسلم، حضرت انس بن مالک ؓ اپنے بھائی کو جبکہ وہ تولد ہوئے لے کر حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے آپ نے انہیں اپنے ہاتھ سے گھٹی دی اور ان کا نام عبداللہ رکھا، یہ حدیث بھی بخاری و مسلم میں موجود ہے ایک اور حدیث میں ہے کہ ایک شخص نے آکر کہا یا رسول اللہ ﷺ میرے ہاں رات کو بچہ ہوا ہے کیا نام رکھوں ؟ فرمایا عبدالرحمن نام رکھو (بخاری) ایک اور صحیح حدیث میں ہے کہ حضرت ابو سید ؓ کے ہاں بچہ ہوا جسے لے کر آپ حاضر خدمت نبوی ہوئے تاکہ آپ اپنے دست مبارک سے اس بچے کو گھٹی دیں آپ اور طرف متوجہ ہوگئے بچہ کا خیال نہ رہا۔ حضرت ابو اسید نے بچے کو واپس گھر بھیج دیا جب آپ فارغ ہوئے بچے کی طرف نظر ڈالی تو اسے نہ پایا گھبرا کر پوچھا اور معلوم کر کے کہا اس کا نام منذر رکھو (یعنی ڈرا دینے والا) مسند احمد اور سنن میں ایک اور حدیث مروی ہے جسے امام ترمذی صحیح کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہر بچہ اپنے عقیقہ میں گروی ہے ساتویں دن عقیقہ کرے یعنی جانور ذبح کرے اور نام رکھے، اور بچہ کا سر منڈوائے، ایک روایت میں ہے اور خون بہایا جائے اور یہ زیادہ ثبوت والی اور زیادہ حفظ والی روایت ہے واللہ اعلم، لیکن زبیر بن بکار کی روایت جس میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے صاحبزادے حضرت ابراہیم کا عقیقہ کیا اور نام ابراہیم رکھا یہ حدیث سنداً ثابت نہیں اور صحیح حدیث اس کے خلاف موجود ہے اور یہ تطبیق بھی ہوسکتی ہے کہ اس نام کی شہرت اس دن ہوئی واللہ اعلم۔ حضرت مریم (علیہما السلام) کی اس دعا کو قبول فرمایا، چناچہ مسند عبدالرزاق میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں ہر بچے کو شیطان اس کی پیدائش کے وقت ٹہوکا دیتا ہے اسی سے وہ چیخ کر رونے لگتا ہے لیکن حضرت مریم اور حضرت عیسیٰ اس سے بچے رہے، اس حدیث کو بیان فرما کر حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں اگر تم چاہو تو اس آیت کو پڑھ لو آیت (وَاِنِّىْٓ اُعِيْذُھَابِكَ وَذُرِّيَّتَهَا مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ) 3۔ آل عمران :36) یہ حدیث بخاری مسلم میں بھی موجود ہے، یہ حدیث اور بھی بہت سی کتابوں میں مختلف الفاظ سے مروی ہے کسی میں ہے ایک یا دو دھچکے مارتا ہے، ایک حدیث میں صرف عیسیٰ کا ہی ذکر ہے کہ شیطان نے انہیں بھی دھچکا مارنا چاہا لیکن انہیں دیا ہوا ٹہوکا پردے میں لگ کر رہ گیا۔
36
View Single
فَلَمَّا وَضَعَتۡهَا قَالَتۡ رَبِّ إِنِّي وَضَعۡتُهَآ أُنثَىٰ وَٱللَّهُ أَعۡلَمُ بِمَا وَضَعَتۡ وَلَيۡسَ ٱلذَّكَرُ كَٱلۡأُنثَىٰۖ وَإِنِّي سَمَّيۡتُهَا مَرۡيَمَ وَإِنِّيٓ أُعِيذُهَا بِكَ وَذُرِّيَّتَهَا مِنَ ٱلشَّيۡطَٰنِ ٱلرَّجِيمِ
So when she gave birth to it, she said, “My Lord! I have indeed given birth to a girl!” And Allah well knows what she gave birth to; and the boy she had prayed for is not like this girl; “And I have named her Maryam and I give her and her offspring in Your protection, against Satan the outcast.”
پھر جب اس نے لڑکی جنی تو عرض کرنے لگی: مولا! میں نے تو یہ لڑکی جنی ہے، حالانکہ جو کچھ اس نے جنا تھا اللہ اسے خوب جانتا تھا، (وہ بولی:) اور لڑکا (جو میں نے مانگا تھا) ہرگز اس لڑکی جیسا نہیں (ہو سکتا) تھا (جو اللہ نے عطا کی ہے)، اور میں نے اس کا نام ہی مریم (عبادت گزار) رکھ دیا ہے اور بیشک میں اس کو اور اس کی اولاد کو شیطان مردود (کے شر) سے تیری پناہ میں دیتی ہوں
Tafsir Ibn Kathir
The Story of Maryam's Birth
The wife of `Imran mentioned here is the mother of Maryam, and her name is Hannah bint Faqudh. Muhammad bin Ishaq mentioned that Hannah could not have children and that one day, she saw a bird feeding its chick. She wished she could have children and supplicated to Allah to grant her offspring. Allah accepted her supplication, and when her husband slept with her, she became pregnant. She vowed to make her child concentrate on worship and serving Bayt Al-Maqdis (the Masjid in Jerusalem), when she became aware that she was pregnant. She said,
رَبِّ إِنِّي نَذَرْتُ لَكَ مَا فِي بَطْنِي مُحَرَّرًا فَتَقَبَّلْ مِنِّي إِنَّكَ أَنتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ
(O my Lord! I have vowed to You what is in my womb to be dedicated for Your services, so accept this from me. Verily, You are the All-Hearer, the All-Knowing.) meaning, You hear my supplication and You know my intention. She did not know then what she would give birth to, a male or a female.
فَلَمَّا وَضَعَتْهَا قَالَتْ رَبِّ إِنِّى وَضَعْتُهَآ أُنثَى وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا وَضَعَتْ
(Then when she gave birth to her, she said: "O my Lord! I have given birth to a female child, ـ and Allah knew better what she bore.)
وَلَيْسَ الذَّكَرُ كَالاٍّنثَى
(And the male is not like the female,) in strength and the commitment to worship Allah and serve the Masjid in Jerusalem.
وَإِنِّى سَمَّيْتُهَا مَرْيَمَ
(And I have named her Maryam,) thus, testifying to the fact that it is allowed to give a name to the newly born the day it is born, as is apparent from the Ayah, which is also a part of the law of those who were before us. Further, the Sunnah of the Messenger of Allah ﷺ mentioned that the Prophet said,
«وُلِدَ لِيَ اللَّيْلَةَ وَلَدٌ، سَمَّيْتُهُ بِاسْمِ أَبِي إِبْرَاهِيم»
(This night, a son was born for me and I called him by my father's name, Ibrahim.) Al-Bukhari and Muslim collected this Hadith.
They also recorded that Anas bin Malik brought his newborn brother to the Messenger of Allah ﷺ who chewed a piece of date and put it in the child's mouth and called him `Abdullah. Other new born infants were also given names on the day they were born.
Qatadah narrated that Al-Hasan Al-Basri said, that Samurah bin Jundub said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«كُلُّ غُلَامٍ رَهِينٌ بِعَقِيقَتِهِ، يُذْبَحُ عَنْهُ يَوْمَ سَابِعِهِ، وَيُسَمَّى وَيُحْلَقُ رَأَسُه»
(Every new born boy held in security by his `Aqiqah, until his seventh day, a sacrifice is offered on his behalf, he is given a name, and the hair on his head is shaved.)
This Hadith was collected by Ahmad and the collectors of the Sunan, and was graded Sahih by At-Tirmidhi. We should mention that another narration for this Hadith contained the wording, "and blood is offered on his behalf," which is more famous and established than the former narration, and Allah knows best.
Allah's statement that Maryam's mother said,
وِإِنِّى أُعِيذُهَا بِكَ وَذُرِّيَّتَهَا مِنَ الشَّيْطَـنِ الرَّجِيمِ
("...And I seek refuge with You for her and for her offspring from Shaytan, the outcast.") means, that she sought refuge with Allah from the evil of Shaytan, for her and her offspring, i.e., `Isa, peace be upon him. Allah accepted her supplication, for `Abdur-Razzaq recorded that Abu Hurayrah said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«مَا مِنْ مَوْلُودٍ يُولَدُ إِلَّا مَسَّهُ الشَّيْطَانُ حِينَ يُولَدُ، فَيَسْتَهِلُّ صَارِخًا مِنْ مَسِّهِ إِيَّاهُ، إِلَّا مَرْيَمَ وَابْنَهَا»
(Every newly born baby is touched by Shaytan when it is born, and the baby starts crying because of this touch, except Maryam and her son.)
Abu Hurayrah then said, "Read if you will,
وِإِنِّى أُعِيذُهَا بِكَ وَذُرِّيَّتَهَا مِنَ الشَّيْطَـنِ الرَّجِيمِ
(And I seek refuge with You for her and for her offspring from Shaytan, the outcast)." The Two Sahihs recorded this Hadith.
مریم بنت عمران حضرت عمران کی بیوی صاحبہ کا نام حسنہ بنت فاقوذ تھا حضرت مریم (علیہما السلام) کی والدہ تھیں حضرت محمد اسحاق فرماتے ہیں انہیں اولاد نہیں ہوتی تھی ایک دن ایک چڑیا کو دیکھا کہ وہ اپنے بچوں کو چوغہ دے رہی ہے تو انہیں ولولہ اٹھا اور اللہ تعالیٰ سے اسی وقت دعا کی اور خلوص کے ساتھ اللہ کو پکارا، اللہ تعالیٰ نے بھی ان کی دعا قبول فرما لی اور اسی رات انہیں حمل ٹھہر گیا جب حمل کا یقین ہوگیا تو نذر مانی کہ اللہ تعالیٰ مجھے جو اولاد دے گا اسے بیت المقدس کی خدمت کے لئے اللہ کے نام پر آزاد کر دوں گی، پھر اللہ سے دعا کی کہ پروردگار تو میری اس مخلصانہ نذر کو قبول فرما تو میری دعا کو سن رہا ہے اور تو میری نیت کو بھی خوب جان رہا ہے، اب یہ معلوم نہ تھا لڑکا ہوگا یا لڑکی جب پیدا ہوا تو دیکھا کہ وہ لڑکی ہے اور لڑکی تو اس قابل نہیں کہ وہ مسجد مقدس کی خدمت انجام دے سکے اس کے لئے تو لڑکا ہونا چاہئے تو عاجزی کے طور پر اپنی مجبوری جناب باری میں ظاہر کی کہ اے اللہ میں تو اسے تیرے نام پر وقف کرچکی تھی لیکن مجھے تو لڑکی ہوئی ہے، واللہ اعلم بما وضعت بھی پڑھا گیا یعنی یہ قول بھی حضرت حسنہ کا تھا کہ اللہ خوب جانتا ہے کہ میرے ہاں لڑکی ہوئی اور " تا " کے جزم کے ساتھ بھی آیا ہے، یعنی اللہ کا یہ فرمان ہے کہ اللہ تعالیٰ کو بخوبی معلوم ہے کہ کیا اولاد ہوئی ہے، اور فرماتی ہے کہ مرد عورت برابر نہیں، میں اس کا نام مریم رکھتی ہوں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ جس دن بچہ ہوا اسی دن نام رکھنا بھی جائز ہے، کیونکہ ہم سے پہلے لوگوں کی شریعت ہماری شریعت ہے اور یہاں یہ بیان کیا گیا اور تردید نہیں کی گئی بلکہ اسے ثابت اور مقرر رکھا گیا، اسی طرح حدیث شریف میں بھی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا آج رات میرے ہاں لڑکا ہوا اور میں نے اس کا نام اپنے باپ حضرت ابراہیم کے نام پر ابراہیم رکھا ملاحظہ ہو بخاری مسلم، حضرت انس بن مالک ؓ اپنے بھائی کو جبکہ وہ تولد ہوئے لے کر حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے آپ نے انہیں اپنے ہاتھ سے گھٹی دی اور ان کا نام عبداللہ رکھا، یہ حدیث بھی بخاری و مسلم میں موجود ہے ایک اور حدیث میں ہے کہ ایک شخص نے آکر کہا یا رسول اللہ ﷺ میرے ہاں رات کو بچہ ہوا ہے کیا نام رکھوں ؟ فرمایا عبدالرحمن نام رکھو (بخاری) ایک اور صحیح حدیث میں ہے کہ حضرت ابو سید ؓ کے ہاں بچہ ہوا جسے لے کر آپ حاضر خدمت نبوی ہوئے تاکہ آپ اپنے دست مبارک سے اس بچے کو گھٹی دیں آپ اور طرف متوجہ ہوگئے بچہ کا خیال نہ رہا۔ حضرت ابو اسید نے بچے کو واپس گھر بھیج دیا جب آپ فارغ ہوئے بچے کی طرف نظر ڈالی تو اسے نہ پایا گھبرا کر پوچھا اور معلوم کر کے کہا اس کا نام منذر رکھو (یعنی ڈرا دینے والا) مسند احمد اور سنن میں ایک اور حدیث مروی ہے جسے امام ترمذی صحیح کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہر بچہ اپنے عقیقہ میں گروی ہے ساتویں دن عقیقہ کرے یعنی جانور ذبح کرے اور نام رکھے، اور بچہ کا سر منڈوائے، ایک روایت میں ہے اور خون بہایا جائے اور یہ زیادہ ثبوت والی اور زیادہ حفظ والی روایت ہے واللہ اعلم، لیکن زبیر بن بکار کی روایت جس میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے صاحبزادے حضرت ابراہیم کا عقیقہ کیا اور نام ابراہیم رکھا یہ حدیث سنداً ثابت نہیں اور صحیح حدیث اس کے خلاف موجود ہے اور یہ تطبیق بھی ہوسکتی ہے کہ اس نام کی شہرت اس دن ہوئی واللہ اعلم۔ حضرت مریم (علیہما السلام) کی اس دعا کو قبول فرمایا، چناچہ مسند عبدالرزاق میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں ہر بچے کو شیطان اس کی پیدائش کے وقت ٹہوکا دیتا ہے اسی سے وہ چیخ کر رونے لگتا ہے لیکن حضرت مریم اور حضرت عیسیٰ اس سے بچے رہے، اس حدیث کو بیان فرما کر حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں اگر تم چاہو تو اس آیت کو پڑھ لو آیت (وَاِنِّىْٓ اُعِيْذُھَابِكَ وَذُرِّيَّتَهَا مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ) 3۔ آل عمران :36) یہ حدیث بخاری مسلم میں بھی موجود ہے، یہ حدیث اور بھی بہت سی کتابوں میں مختلف الفاظ سے مروی ہے کسی میں ہے ایک یا دو دھچکے مارتا ہے، ایک حدیث میں صرف عیسیٰ کا ہی ذکر ہے کہ شیطان نے انہیں بھی دھچکا مارنا چاہا لیکن انہیں دیا ہوا ٹہوکا پردے میں لگ کر رہ گیا۔
37
View Single
فَتَقَبَّلَهَا رَبُّهَا بِقَبُولٍ حَسَنٖ وَأَنۢبَتَهَا نَبَاتًا حَسَنٗا وَكَفَّلَهَا زَكَرِيَّاۖ كُلَّمَا دَخَلَ عَلَيۡهَا زَكَرِيَّا ٱلۡمِحۡرَابَ وَجَدَ عِندَهَا رِزۡقٗاۖ قَالَ يَٰمَرۡيَمُ أَنَّىٰ لَكِ هَٰذَاۖ قَالَتۡ هُوَ مِنۡ عِندِ ٱللَّهِۖ إِنَّ ٱللَّهَ يَرۡزُقُ مَن يَشَآءُ بِغَيۡرِ حِسَابٍ
So her Lord fully accepted her (Maryam), and gave her an excellent development; and gave her in Zakaria’s guardianship; whenever Zakaria visited her at her place of prayer, he found new food with her; he said, “O Maryam! From where did this come to you?” She answered, “It is from Allah; indeed Allah gives to whomever He wills, without limit account.” (Miracles occur through the friends of Allah.)
سو اس کے رب نے اس (مریم) کو اچھی قبولیت کے ساتھ قبول فرما لیا اور اسے اچھی پرورش کے ساتھ پروان چڑھایا اور اس کی نگہبانی زکریا (علیہ السلام) کے سپرد کر دی، جب بھی زکریا (علیہ السلام) اس کے پاس عبادت گاہ میں داخل ہوتے تو وہ اس کے پاس (نئی سے نئی) کھانے کی چیزیں موجود پاتے، انہوں نے پوچھا: اے مریم! یہ چیزیں تمہارے لئے کہاں سے آتی ہیں؟ اس نے کہا: یہ (رزق) اللہ کے پاس سے آتا ہے، بیشک اللہ جسے چاہتا ہے بے حساب رزق عطا کرتا ہے
Tafsir Ibn Kathir
Maryam Grows Up; Her Honor is with Allah
Allah states that He has accepted Maryam as a result of her mother's vow and that He,
وَأَنبَتَهَا نَبَاتًا حَسَنًا
(made her grow in a good manner) meaning, made her conduct becoming, her mannerism delightful and He made her well liked among people. He also made her accompany the righteous people, so that she learned righteousness, knowledge and religion.
وَكَفَّلَهَا زَكَرِيَّا
(And put her under the care of Zakariyya) meaning, Allah made Zakariyya her sponsor. Allah made Zakariyya Maryam's guardian for her benefit, so that she would learn from his tremendous knowledge and righteous conduct. He was the husband of her maternal aunt, as Ibn Ishaq and Ibn Jarir stated, or her brother-in-law, as mentioned in the Sahih,
«فَإِذَا بِيَحْيَى وَعِيسى، وَهُمَا ابْنَا الْخَالَة»
(I saw John and `Isa, who are maternal cousins.)
We should state that in general terms, what Ibn Ishaq said is plausible, and in this case, Maryam was under the care of her maternal aunt. The Two Sahihs recorded that the Messenger of Allah ﷺ decided that `Amarah, the daughter of Hamzah, be raised by her maternal aunt, the wife of Ja`far bin Abi Talib, saying,
«الْخَالَةُ بِمَنْزِلَةِ الْأُم»
(The maternal aunt is just like the mother.)
Allah then emphasizes Maryam's honor and virtue at the place of worship she attended,
كُلَّمَا دَخَلَ عَلَيْهَا زَكَرِيَّا الْمِحْرَابَ وَجَدَ عِندَهَا رِزْقًا
(Every time he entered the Mihrab to (visit) her, he found her supplied with sustenance.)
Mujahid, `Ikrimah, Sa`id bin Jubayr, Abu Ash-Sha`tha, Ibrahim An-Nakha`i, Ad-Dahhak, Qatadah, Ar-Rabi` bin Anas, `Atiyah Al-`Awfi and As-Suddi said, "He would find with her the fruits of the summer during winter, and the fruits of the winter during summer." When Zakariyya would see this; d
قَالَ يمَرْيَمُ أَنَّى لَكِ هَـذَا
(He said: "O Maryam! From where have you gotten this") meaning, where did you get these fruits from
قَالَتْ هُوَ مِنْ عِندِ اللَّهِ إنَّ اللَّهَ يَرْزُقُ مَن يَشَآءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ
(She said, "This is from Allah." Verily, Allah provides sustenance to whom He wills, without limit.)
زکریا ؑ کا تعارف اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ حضرت حفصہ کی نذر کو اللہ تعالیٰ نے بخوشی قبول فرما لیا اور اسے بہترین طور سے نشوونما بخشی، ظاہری خوبی بھی عطا فرمائی اور باطنی خوبی سے بھرپور کردیا اور اپنے نیک بندوں میں ان کی پرورش کرائی تاکہ علم اور خیر اور دین سیکھ لیں، حضرت زکریا کو ان کا کفیل بنادیا ابن اسحاق تو فرماتے ہیں یہ اس لئے کہ حضرت مریم (علیہما السلام) یتیم ہوگئی تھیں، لیکن دوسرے بزرگ فرماتے ہیں کہ قحط سالی کی وجہ سے ان کی کفالت کا بوجھ حضرت زکریا نے اپنے ذمہ لے لیا تھا، ہوسکتا ہے کہ دونوں وجوہات اتفاقاً آپس میں مل گئی ہوں واللہ اعلم، حضرت ابن اسحاق وغیرہ کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت زکریا ؑ ان کے خالو تھے، اور بعض لوگ کہتے ہیں ان کے بہنوئی تھے، جیسے معراج والی صحیح حدیث میں ہے کہ آپ نے حضرت یحییٰ اور حضرت عیسیٰ (علیہم السلام) سے ملاقات کی جو دونوں خالہ زاد بھائی ہیں، ابن اسحاق کے قول پر یہ حدیث ٹھیک ہے کیونکہ اصلاح عرب میں ماں کی خالہ کے لڑکے کو بھی خالہ زاد بھائی کہہ دیتے ہیں پس ثابت ہوا کہ حضرت مریم اپنی خالہ کی پرورش میں تھیں۔ صحیح حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت حمزہ ؓ کی یتیم صاحبزادی عمرہ کو ان کی خالہ حضرت جعفر بن ابو طالب ؓ کی بیوی صاحبہ کے سپرد کیا تھا اور فرمایا تھا کہ خالہ قائم مقام ماں کے ہے، اب اللہ تعالیٰ حضرت مریم کی بزرگی اور ان کی کرامت بیان فرماتا ہے کہ حضرت زکریا ؑ جب کبھی ان کے پاس ان کے حجرے میں جاتے تو بےموسمی میوے ان کے پاس پاتے مثلاً جاڑوں میں گرمیوں کے میوے اور گرمیوں میں جاڑے کے میوے۔ حضرت مجاہد، حضرت عکرمہ، حضرت سعید بن جبیر، حضرت ابو الشعشاء، حضرت ابراہیم نخعی، حضرت ضحاک، حضرت قتادہ، حضرت ربیع بن انس، حضرت عطیہ عوفی، حضرت سدی اس آیت کی تفسیر میں یہی فرماتے ہیں، حضرت مجاہد سے یہ بھی مروی ہے کہ یہاں رزق سے مراد علم اور وہ صحیفے ہیں جن میں علمی باتیں ہوتی تھیں لیکن اول قول ہی زیادہ صحیح ہے، اس آیت میں اولیاء اللہ کی کرامات کی دلیل ہے اور اس کے ثبوت میں بہت سی حدیثیں بھی آتی ہیں۔ حضرت زکریا ؑ ایک دن پوچھ بیٹھے کہ مریم تمہارے پاس یہ رزق کہاں سے آتا ہے ؟ صدیقہ نے جواب دیا کہ اللہ کے پاس سے، وہ جسے چاہے بےحساب روزی دیتا ہے، مسند حافظ ابو یعلیٰ میں حدیث ہے کہ حضور ﷺ پر کئی دن بغیر کچھ کھائے گذر گئے بھوک سے آپ کو تکلیف ہونے لگی اپنی سب بیویوں کے گھر ہو آئے لیکن کہیں بھی کچھ نہ پایا۔ حضرت فاطمہ ؓ کے پاس آئے اور دریافت فرمایا کہ بچی تمہارے پاس کچھ ہے ؟ کہ میں کھا لوں مجھے بہت بھوک لگ رہی ہے، وہاں سے بھی یہی جواب ملا کہ حضور ﷺ پر میرے باپ صدقے ہوں کچھ بھی نہیں، اللہ کے نبی ﷺ وہاں سے نکلے ہی تھے کہ حضرت فاطمہ کی لونڈی نے دو روٹیاں اور ٹکڑا گوشت حضرت فاطمہ کے پاس بھیجا آپ نے اسے لے کر برتن میں رکھ لیا اور فرمانے لگیں گو مجھے، میرے خاوند اور بچوں کو بھوک ہے لیکن ہم سب فاقے ہی سے گذار دیں گے اور اللہ کی قسم آج تو یہ رسول اللہ ﷺ ہی کو دوں گی، پھر حضرت حسن یا حسین کو آپ کی خدمت میں بھیجا کہ آپ کو بلا لائیں، حضور ﷺ راستے ہی میں ملے اور ساتھ ہو لئے، آپ آئے تو کہنے لگیں میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں اللہ نے کچھ بھجوا دیا ہے جسے میں نے آپ کے لئے چھپا کر رکھ دیا ہے، آپ نے فرمایا میری پیاری بچی لے آؤ، اب جو طشت کھولا تو دیکھتی ہے کہ روٹی سالن سے ابل رہا ہے دیکھ کر حیران ہوگئیں لیکن فوراً سمجھ گئیں کہ اللہ کی طرف سے اس میں برکت نازل ہوگئی ہے، اللہ کا شکر کیا نبی ﷺ اللہ پر درود پڑھا اور آپ کے پاس لا کر پیش کردیا آپ نے بھی اسے دیکھ کر اللہ کی تعریف کی اور دریافت فرمایا کہ بیٹی یہ کہاں سے آیا ؟ جواب دیا کہ ابا جان اللہ کے پاس سے وہ جسے چاہے بےحساب روزی دے، آپ نے فرمایا اللہ کا شکر ہے کہ اے پیاری بچی تجھے بھی اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کی تمام عورتوں کی سردار جیسا کردیا، انہیں جب کبھی اللہ تعالیٰ کوئی چیز عطا فرماتا اور ان سے پوچھا جاتا تو یہی جواب دیا کرتی تھیں کہ اللہ کے پاس سے ہے اللہ جسے چاہے بےحساب رزق دیتا ہے، پھر حضور ﷺ نے حضرت علی ؓ کو بلایا اور آپ نے حضرت علی نے اور حضرت فاطمہ نے اور حضرت حسین نے اور آپ کی سب ازواج مطہرات اور اہل بیت نے خوب شکم سیر ہو کر کھایا پھر بھی اتنا ہی باقی رہا جتنا پہلے تھا جو آس پاس کے پڑوسیوں کے ہاں بھیجا گیا یہ خیر کثیر اور برکت اللہ تعالیٰ کی طرف سے تھی۔
38
View Single
هُنَالِكَ دَعَا زَكَرِيَّا رَبَّهُۥۖ قَالَ رَبِّ هَبۡ لِي مِن لَّدُنكَ ذُرِّيَّةٗ طَيِّبَةًۖ إِنَّكَ سَمِيعُ ٱلدُّعَآءِ
It is here that Zakaria prayed to his Lord; he said, “My Lord! Give me from Yourself a righteous child; indeed You only are the Listener Of Prayer.”
اسی جگہ زکریا (علیہ السلام) نے اپنے رب سے دعا کی، عرض کیا: میرے مولا! مجھے اپنی جناب سے پاکیزہ اولاد عطا فرما، بیشک تو ہی دعا کا سننے والا ہے
Tafsir Ibn Kathir
The Supplication of Zakariyya, and the Good News of Yahya's Birth
When Zakariyya saw that Allah provided sustenance for Maryam by giving her the fruits of winter in summer and the fruits of summer in winter, he was eager to have a child of his own. By then, Zakariyya had become an old man, his bones feeble and his head full of gray hair. His wife was an old women who was barren. Yet, he still supplicated to Allah and called Him in secret,
رَبِّ هَبْ لِى مِن لَّدُنْكَ
(O my Lord! Grant me from Ladunka,) from You,
ذُرِّيَّةً طَيِّبَةً
(A good offspring) meaning, a righteous offspring,
إِنَّكَ سَمِيعُ الدُّعَآءِ
(You are indeed the All-Hearer of invocation.) Allah said,
فَنَادَتْهُ الْمَلَـئِكَةُ وَهُوَ قَائِمٌ يُصَلِّى فِى الْمِحْرَابِ
(Then the angels called him, while he was standing in prayer in the Mihrab,) meaning, the angels spoke to him directly while he was secluded, standing in prayer at his place of worship. Allah told us about the good news that the angels delivered to Zakariyya,
أَنَّ اللَّهَ يُبَشِّرُكَ بِيَحْيَـى
(Allah gives you glad tidings of Yahya, ) of a child from your offspring, his name is Yahya. Qatadah and other scholars said that he was called Yahya (literally, `he lives') because Allah filled his life with faith.
Allah said next,
مُصَدِّقاً بِكَلِمَةٍ مِّنَ اللَّهِ
(believing in the Word from Allah) Al-`Awfi reported that Ibn `Abbas said, and also Al-Hasan, Qatadah, `Ikrimah, Mujahid, Abu Ash-Sha`tha, As-Suddi, Ar-Rabi` bin Anas, Ad-Dahhak, and several others said that the Ayah,
مُصَدِّقاً بِكَلِمَةٍ مِّنَ اللَّهِ
(believing in the Word from Allah) means, "Believing in `Isa, son of Maryam."
Abu Al-`Aliyah, Ar-Rabi` bin Anas, Qatadah and Sa`id bin Jubayr said that Allah's statement,
وَسَيِّدًا
(And Sayyidan) means, a wise man. Ibn `Abbas, Ath-Thawri and Ad-Dahhak said that Sayyidan means, "The noble, wise and pious man." Sa`id bin Al-Musayyib said that Sayyid is the scholar and Faqih. `Atiyah said that Sayyid is the man noble in behavior and piety. `Ikrimah said that it refers to a person who is not overcome by anger, while Ibn Zayd said that it refers to the noble man. Mujahid said that Sayyidan means, honored by Allah.
Allah's statement,
وَحَصُورًا
(And Hasuran) does not mean he refrains from sexual relations with women, but that he is immune from illegal sexual relations. This does not mean that he does not marry women and have legal sexual relations with them, for Zakariyya said in his supplication for the benefit of Yahya,
هَبْ لِى مِن لَّدُنْكَ ذُرِّيَّةً طَيِّبَةً
(Grant me from You, a good offspring), meaning, grant me a son who will have offspring, and Allah knows best.
Allah's statement,
وَنَبِيًّا مِّنَ الصَّـلِحِينَ
(A Prophet, from among the righteous) delivers more good news of sending Yahya as Prophet after the good news that he will be born. This good news was even better than the news of Yahya's birth. In a similar statement, Allah said to the mother of Musa,
إِنَّا رَآدُّوهُ إِلَيْكِ وَجَـعِلُوهُ مِنَ الْمُرْسَلِينَ
(Verily, We shall bring him back to you, and shall make him one of the Messengers.) 28:7
When Zakariyya heard the good news, he started contemplating about having children at his age. He said,
قَالَ رَبِّ أَنَّى يَكُونُ لِي غُلَـمٌ وَقَدْ بَلَغَنِي الْكِبَرُ وَامْرَأَتِى عَاقِرٌ قَالَ
("O my Lord! How can I have a son when I am very old, and my wife is barren" (He) said...) meaning the angel said,
كَذَلِكَ اللَّهُ يَفْعَلُ مَا يَشَآءُ
("Thus Allah does what He wills.") meaning, this is Allah's matter, He is so Mighty that nothing escapes His power, nor is anything beyond His ability.
قَالَ رَبِّ اجْعَل لِّى ءَايَةً
(He said: "O my Lord! Make a sign for me") meaning make a sign that alerts me that the child will come,
قَالَ ءَايَتُكَ أَلاَّ تُكَلِّمَ النَّاسَ ثَلَـثَةَ أَيَّامٍ إِلاَّ رَمْزًا
((Allah) said: "Your sign is that you shall not speak to the people for three days except by signals.") meaning, you will not be able to speak except with signals, although you are not mute. In another Ayah, Allah said,
ثَلَـثَ لَيَالٍ سَوِيّاً
(For three nights, though having no bodily defect.) 19:10
Allah then commanded Zakariyya to supplicate, thank and praise Him often in that condition,
وَاذْكُر رَّبَّكَ كَثِيرًا وَسَبِّحْ بِالْعَشِىِّ وَالإِبْكَـرِ
(And remember your Lord much and glorify (Him) in the afternoon and in the morning. )
We will elaborate more on this subject in the beginning of Surah Maryam (chapter 19), Allah willing.
حاصل دعا یحییٰ ؑ حضرت زکریا ؑ نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ حضرت مریم (علیہما السلام) کو بےموسم میوہ دیتا ہے جاڑوں میں گرمیوں کے پھل اور گرمی میں جاڑوں کے میوے ان کے پاس رکھے رہتے ہیں تو باوجود اپنے پورے بڑھاپے کے اور باوجود اپنی بیوی کے بانجھ ہونے کے علم کے آپ بھی بےموسم میوہ یعنی نیک اولاد طلب کرنے لگے، اور چونکہ یہ طلب بظاہر ایک ناممکن چیز کی طلب تھی اس لئے نہایت پوشیدگی سے یہ دعا مانگی جیسے اور جگہ ہے نداء خفیا یہ اپنے عبادت خانے میں ہی تھے جو فرشتوں نے انہیں آواز دی اور انہیں سنا کر کہا کہ آپ کے ہاں ایک لڑکا ہوگا جس کا نام یحییٰ رکھنا، ساتھ ہی یہ بھی فرما دیا کہ یہ بشارت ہماری طرف سے نہیں بلکہ اللہ کی طرف سے ہے۔ یحییٰ نام کی وجہ سے یہ ہے کہ ان کی حیاۃ ایمان کے ساتھ ہوگی، وہ اللہ کے کلمہ کے یعنی حضرت عیسیٰ بن مریم کی تصدیق کریں گے، حضرت ربیع بن انس فرماتے ہیں سب سے پہلے حضرت عیسیٰ کی نبوت کو تسلیم کرنے والے بھی حضرت یحییٰ ؑ ہیں، جو حضرت عیسیٰ کی روش اور آپ کے طریق پر تھے، حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ یہ دونوں خالہ زاد بھائی تھے۔ حضرت یحییٰ کی والدہ حضرت مریم سے اکثر ذکر کیا کرتی تھیں کہ میں اپنے پیٹ کی چیز کو تیرے پیٹ کی چیز کو سجدہ کرتی ہوئی پاتی ہوں، یہ تھی حضرت یحییٰ کی تصدیق دنیا میں آنے سے پیشتر سب سے پہلے حضرت عیسیٰ کی سچائی کو انہوں نے ہی پہچانا یہ حضرت عیسیٰ سے عمر میں بڑے تھے، سید کے معنی حلیم، بردبار، علم و عبادت میں بڑھا ہوا، متقی، پرہیزگار، فقیہ، عالم، خلق و دین میں سب سے افضل جسے غصہ اور غضب مغلوب نہ کرسکے، شریف اور کریم کے ہیں، حضور کے معنی ہیں جو عورتوں کے پاس نہ آسکے جس کے ہاں نہ اولاد ہو نہ جس میں شہوت کا پانی ہو، اس معنی کی ایک مرفوع حدیث بھی ابن ابی حاتم میں ہے، کہ آنحضرت ﷺ نے یہ لفظ تلاوت کر کے زمین سے کچھ اٹھا کر فرمایا اس کا عضو اس جیسا تھا، حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ فرماتے ہیں کہ ساری مخلوق میں صرف حضرت یحییٰ ہی اللہ سے بےگناہ ملیں گے پھر آپ نے یہ الفاظ پڑھے اور زمین سے کچھ اٹھایا اور فرمایا حضور اسے کہتے ہیں جس کا عضو اس جیسا ہو، اور حضرت یحییٰ بن سعید قطان نے اپنی کلمہ کی انگلی سے اشارہ کیا، یہ روایت جو مرفوع بیان ہوئی ہے اس کی حوالے سے اس موقوف کی سند زیادہ صحیح ہے، اور مرفوع روایت میں ہے کہ حضور ﷺ نے اپنے کپڑے کے پھندے کی طرف اشارہ کر کے فرمایا ایسا تھا، اور روایت میں یہ بھی ہے کہ آپ نے زمین سے ایک مرجھایا ہوا تنکا اٹھا کر اس کی طرف اشارہ کر کے یہی فرمایا، اس کے بعد حضرت زکریا کو دوسری بشارت دی جاتی ہے کہ تمہارا لڑکا نبی ہوگا یہ بشارت پہلی خوشخبری سے بھی بڑھ گئی، جب بشارت آچکی تب حضرت زکریا کو خیال پیدا ہوا کہ بظاہر اسباب سے تو اس کا ہونا محال ہے تو کہنے لگے اللہ میری ہاں بچہ کیسے ہوسکتا ہے ؟ میں بوڑھا ہوں میری بیوی بالکل بانجھ، فرشتے نے اسی وقت جواب دیا کہ اللہ کا امر سب سے بڑا ہے اس کے پاس کوئی چیز ان ہونی نہیں، نہ اسے کوئی کام کرنا مشکل نہ وہ کسی کام سے عاجز، اس کا ارادہ ہوچکا وہ اسی طرح کرے گا، اب حضرت زکریا اللہ سے اس کی علامت طلب کرنے لگے تو ذات باری سبحانہ و تعالیٰ کی طرف سے اشارہ کیا گیا کہ نشان یہ ہے کہ تو تین دن تک لوگوں سے بات نہ کرسکے گا، رہے گا تندرست صحیح سالم لیکن زبان سے لوگوں سے بات چیت نہ کی جائے گی صرف اشاروں سے کام لینا پڑے گا، جیسے اور جگہ ہے آیت (ثَلٰثَ لَيَالٍ سَوِيًّا) 19۔ مریم :10) یعنی تین راتیں تندرستی کی حالت پھر حکم دیا کہ اس حال میں تمہیں چاہئے کہ ذکر اور تکبیر اور تسبیح میں زیادہ مشغول رہو، صبح شام اسی میں لگے رہو، اس کا دوسرا حصہ اور پورا بیان تفصیل کے ساتھ سورة مریم کے شروع میں آئے گا، انشاء اللہ تعالیٰ۔
39
View Single
فَنَادَتۡهُ ٱلۡمَلَـٰٓئِكَةُ وَهُوَ قَآئِمٞ يُصَلِّي فِي ٱلۡمِحۡرَابِ أَنَّ ٱللَّهَ يُبَشِّرُكَ بِيَحۡيَىٰ مُصَدِّقَۢا بِكَلِمَةٖ مِّنَ ٱللَّهِ وَسَيِّدٗا وَحَصُورٗا وَنَبِيّٗا مِّنَ ٱلصَّـٰلِحِينَ
And the angels called out to him while he was standing, offering prayer at his place of worship, “Indeed Allah gives you glad tidings of Yahya (John), who will confirm a Word (or sign) from Allah, – a leader, always refraining from women, a Prophet from one of Our devoted ones.”
ابھی وہ حجرے میں کھڑے نماز ہی پڑھ رہے تھے (یا دعا ہی کر رہے تھے) کہ انہیں فرشتوں نے آواز دی: بیشک اللہ آپ کو (فرزند) یحیٰی (علیہ السلام) کی بشارت دیتا ہے جو کلمۃ اللہ (یعنی عیسٰی علیہ السلام) کی تصدیق کرنے والا ہو گا اور سردار ہو گا اور عورتوں (کی رغبت) سے بہت محفوظ ہو گا اور (ہمارے) خاص نیکوکار بندوں میں سے نبی ہو گا
Tafsir Ibn Kathir
The Supplication of Zakariyya, and the Good News of Yahya's Birth
When Zakariyya saw that Allah provided sustenance for Maryam by giving her the fruits of winter in summer and the fruits of summer in winter, he was eager to have a child of his own. By then, Zakariyya had become an old man, his bones feeble and his head full of gray hair. His wife was an old women who was barren. Yet, he still supplicated to Allah and called Him in secret,
رَبِّ هَبْ لِى مِن لَّدُنْكَ
(O my Lord! Grant me from Ladunka,) from You,
ذُرِّيَّةً طَيِّبَةً
(A good offspring) meaning, a righteous offspring,
إِنَّكَ سَمِيعُ الدُّعَآءِ
(You are indeed the All-Hearer of invocation.) Allah said,
فَنَادَتْهُ الْمَلَـئِكَةُ وَهُوَ قَائِمٌ يُصَلِّى فِى الْمِحْرَابِ
(Then the angels called him, while he was standing in prayer in the Mihrab,) meaning, the angels spoke to him directly while he was secluded, standing in prayer at his place of worship. Allah told us about the good news that the angels delivered to Zakariyya,
أَنَّ اللَّهَ يُبَشِّرُكَ بِيَحْيَـى
(Allah gives you glad tidings of Yahya, ) of a child from your offspring, his name is Yahya. Qatadah and other scholars said that he was called Yahya (literally, `he lives') because Allah filled his life with faith.
Allah said next,
مُصَدِّقاً بِكَلِمَةٍ مِّنَ اللَّهِ
(believing in the Word from Allah) Al-`Awfi reported that Ibn `Abbas said, and also Al-Hasan, Qatadah, `Ikrimah, Mujahid, Abu Ash-Sha`tha, As-Suddi, Ar-Rabi` bin Anas, Ad-Dahhak, and several others said that the Ayah,
مُصَدِّقاً بِكَلِمَةٍ مِّنَ اللَّهِ
(believing in the Word from Allah) means, "Believing in `Isa, son of Maryam."
Abu Al-`Aliyah, Ar-Rabi` bin Anas, Qatadah and Sa`id bin Jubayr said that Allah's statement,
وَسَيِّدًا
(And Sayyidan) means, a wise man. Ibn `Abbas, Ath-Thawri and Ad-Dahhak said that Sayyidan means, "The noble, wise and pious man." Sa`id bin Al-Musayyib said that Sayyid is the scholar and Faqih. `Atiyah said that Sayyid is the man noble in behavior and piety. `Ikrimah said that it refers to a person who is not overcome by anger, while Ibn Zayd said that it refers to the noble man. Mujahid said that Sayyidan means, honored by Allah.
Allah's statement,
وَحَصُورًا
(And Hasuran) does not mean he refrains from sexual relations with women, but that he is immune from illegal sexual relations. This does not mean that he does not marry women and have legal sexual relations with them, for Zakariyya said in his supplication for the benefit of Yahya,
هَبْ لِى مِن لَّدُنْكَ ذُرِّيَّةً طَيِّبَةً
(Grant me from You, a good offspring), meaning, grant me a son who will have offspring, and Allah knows best.
Allah's statement,
وَنَبِيًّا مِّنَ الصَّـلِحِينَ
(A Prophet, from among the righteous) delivers more good news of sending Yahya as Prophet after the good news that he will be born. This good news was even better than the news of Yahya's birth. In a similar statement, Allah said to the mother of Musa,
إِنَّا رَآدُّوهُ إِلَيْكِ وَجَـعِلُوهُ مِنَ الْمُرْسَلِينَ
(Verily, We shall bring him back to you, and shall make him one of the Messengers.) 28:7
When Zakariyya heard the good news, he started contemplating about having children at his age. He said,
قَالَ رَبِّ أَنَّى يَكُونُ لِي غُلَـمٌ وَقَدْ بَلَغَنِي الْكِبَرُ وَامْرَأَتِى عَاقِرٌ قَالَ
("O my Lord! How can I have a son when I am very old, and my wife is barren" (He) said...) meaning the angel said,
كَذَلِكَ اللَّهُ يَفْعَلُ مَا يَشَآءُ
("Thus Allah does what He wills.") meaning, this is Allah's matter, He is so Mighty that nothing escapes His power, nor is anything beyond His ability.
قَالَ رَبِّ اجْعَل لِّى ءَايَةً
(He said: "O my Lord! Make a sign for me") meaning make a sign that alerts me that the child will come,
قَالَ ءَايَتُكَ أَلاَّ تُكَلِّمَ النَّاسَ ثَلَـثَةَ أَيَّامٍ إِلاَّ رَمْزًا
((Allah) said: "Your sign is that you shall not speak to the people for three days except by signals.") meaning, you will not be able to speak except with signals, although you are not mute. In another Ayah, Allah said,
ثَلَـثَ لَيَالٍ سَوِيّاً
(For three nights, though having no bodily defect.) 19:10
Allah then commanded Zakariyya to supplicate, thank and praise Him often in that condition,
وَاذْكُر رَّبَّكَ كَثِيرًا وَسَبِّحْ بِالْعَشِىِّ وَالإِبْكَـرِ
(And remember your Lord much and glorify (Him) in the afternoon and in the morning. )
We will elaborate more on this subject in the beginning of Surah Maryam (chapter 19), Allah willing.
حاصل دعا یحییٰ ؑ حضرت زکریا ؑ نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ حضرت مریم (علیہما السلام) کو بےموسم میوہ دیتا ہے جاڑوں میں گرمیوں کے پھل اور گرمی میں جاڑوں کے میوے ان کے پاس رکھے رہتے ہیں تو باوجود اپنے پورے بڑھاپے کے اور باوجود اپنی بیوی کے بانجھ ہونے کے علم کے آپ بھی بےموسم میوہ یعنی نیک اولاد طلب کرنے لگے، اور چونکہ یہ طلب بظاہر ایک ناممکن چیز کی طلب تھی اس لئے نہایت پوشیدگی سے یہ دعا مانگی جیسے اور جگہ ہے نداء خفیا یہ اپنے عبادت خانے میں ہی تھے جو فرشتوں نے انہیں آواز دی اور انہیں سنا کر کہا کہ آپ کے ہاں ایک لڑکا ہوگا جس کا نام یحییٰ رکھنا، ساتھ ہی یہ بھی فرما دیا کہ یہ بشارت ہماری طرف سے نہیں بلکہ اللہ کی طرف سے ہے۔ یحییٰ نام کی وجہ سے یہ ہے کہ ان کی حیاۃ ایمان کے ساتھ ہوگی، وہ اللہ کے کلمہ کے یعنی حضرت عیسیٰ بن مریم کی تصدیق کریں گے، حضرت ربیع بن انس فرماتے ہیں سب سے پہلے حضرت عیسیٰ کی نبوت کو تسلیم کرنے والے بھی حضرت یحییٰ ؑ ہیں، جو حضرت عیسیٰ کی روش اور آپ کے طریق پر تھے، حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ یہ دونوں خالہ زاد بھائی تھے۔ حضرت یحییٰ کی والدہ حضرت مریم سے اکثر ذکر کیا کرتی تھیں کہ میں اپنے پیٹ کی چیز کو تیرے پیٹ کی چیز کو سجدہ کرتی ہوئی پاتی ہوں، یہ تھی حضرت یحییٰ کی تصدیق دنیا میں آنے سے پیشتر سب سے پہلے حضرت عیسیٰ کی سچائی کو انہوں نے ہی پہچانا یہ حضرت عیسیٰ سے عمر میں بڑے تھے، سید کے معنی حلیم، بردبار، علم و عبادت میں بڑھا ہوا، متقی، پرہیزگار، فقیہ، عالم، خلق و دین میں سب سے افضل جسے غصہ اور غضب مغلوب نہ کرسکے، شریف اور کریم کے ہیں، حضور کے معنی ہیں جو عورتوں کے پاس نہ آسکے جس کے ہاں نہ اولاد ہو نہ جس میں شہوت کا پانی ہو، اس معنی کی ایک مرفوع حدیث بھی ابن ابی حاتم میں ہے، کہ آنحضرت ﷺ نے یہ لفظ تلاوت کر کے زمین سے کچھ اٹھا کر فرمایا اس کا عضو اس جیسا تھا، حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ فرماتے ہیں کہ ساری مخلوق میں صرف حضرت یحییٰ ہی اللہ سے بےگناہ ملیں گے پھر آپ نے یہ الفاظ پڑھے اور زمین سے کچھ اٹھایا اور فرمایا حضور اسے کہتے ہیں جس کا عضو اس جیسا ہو، اور حضرت یحییٰ بن سعید قطان نے اپنی کلمہ کی انگلی سے اشارہ کیا، یہ روایت جو مرفوع بیان ہوئی ہے اس کی حوالے سے اس موقوف کی سند زیادہ صحیح ہے، اور مرفوع روایت میں ہے کہ حضور ﷺ نے اپنے کپڑے کے پھندے کی طرف اشارہ کر کے فرمایا ایسا تھا، اور روایت میں یہ بھی ہے کہ آپ نے زمین سے ایک مرجھایا ہوا تنکا اٹھا کر اس کی طرف اشارہ کر کے یہی فرمایا، اس کے بعد حضرت زکریا کو دوسری بشارت دی جاتی ہے کہ تمہارا لڑکا نبی ہوگا یہ بشارت پہلی خوشخبری سے بھی بڑھ گئی، جب بشارت آچکی تب حضرت زکریا کو خیال پیدا ہوا کہ بظاہر اسباب سے تو اس کا ہونا محال ہے تو کہنے لگے اللہ میری ہاں بچہ کیسے ہوسکتا ہے ؟ میں بوڑھا ہوں میری بیوی بالکل بانجھ، فرشتے نے اسی وقت جواب دیا کہ اللہ کا امر سب سے بڑا ہے اس کے پاس کوئی چیز ان ہونی نہیں، نہ اسے کوئی کام کرنا مشکل نہ وہ کسی کام سے عاجز، اس کا ارادہ ہوچکا وہ اسی طرح کرے گا، اب حضرت زکریا اللہ سے اس کی علامت طلب کرنے لگے تو ذات باری سبحانہ و تعالیٰ کی طرف سے اشارہ کیا گیا کہ نشان یہ ہے کہ تو تین دن تک لوگوں سے بات نہ کرسکے گا، رہے گا تندرست صحیح سالم لیکن زبان سے لوگوں سے بات چیت نہ کی جائے گی صرف اشاروں سے کام لینا پڑے گا، جیسے اور جگہ ہے آیت (ثَلٰثَ لَيَالٍ سَوِيًّا) 19۔ مریم :10) یعنی تین راتیں تندرستی کی حالت پھر حکم دیا کہ اس حال میں تمہیں چاہئے کہ ذکر اور تکبیر اور تسبیح میں زیادہ مشغول رہو، صبح شام اسی میں لگے رہو، اس کا دوسرا حصہ اور پورا بیان تفصیل کے ساتھ سورة مریم کے شروع میں آئے گا، انشاء اللہ تعالیٰ۔
40
View Single
قَالَ رَبِّ أَنَّىٰ يَكُونُ لِي غُلَٰمٞ وَقَدۡ بَلَغَنِيَ ٱلۡكِبَرُ وَٱمۡرَأَتِي عَاقِرٞۖ قَالَ كَذَٰلِكَ ٱللَّهُ يَفۡعَلُ مَا يَشَآءُ
He said, “My Lord! How can I have a son when old age has reached me and my wife is barren?” He said, “This is how Allah brings about, whatever He wills.”
(زکریاعلیہ السلام نے) عرض کیا: اے میرے رب! میرے ہاں لڑکا کیسے ہو گا؟ درآنحالیکہ مجھے بڑھاپا پہنچ چکا ہے اور میری بیوی (بھی) بانجھ ہے، فرمایا: اسی طرح اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے
Tafsir Ibn Kathir
The Supplication of Zakariyya, and the Good News of Yahya's Birth
When Zakariyya saw that Allah provided sustenance for Maryam by giving her the fruits of winter in summer and the fruits of summer in winter, he was eager to have a child of his own. By then, Zakariyya had become an old man, his bones feeble and his head full of gray hair. His wife was an old women who was barren. Yet, he still supplicated to Allah and called Him in secret,
رَبِّ هَبْ لِى مِن لَّدُنْكَ
(O my Lord! Grant me from Ladunka,) from You,
ذُرِّيَّةً طَيِّبَةً
(A good offspring) meaning, a righteous offspring,
إِنَّكَ سَمِيعُ الدُّعَآءِ
(You are indeed the All-Hearer of invocation.) Allah said,
فَنَادَتْهُ الْمَلَـئِكَةُ وَهُوَ قَائِمٌ يُصَلِّى فِى الْمِحْرَابِ
(Then the angels called him, while he was standing in prayer in the Mihrab,) meaning, the angels spoke to him directly while he was secluded, standing in prayer at his place of worship. Allah told us about the good news that the angels delivered to Zakariyya,
أَنَّ اللَّهَ يُبَشِّرُكَ بِيَحْيَـى
(Allah gives you glad tidings of Yahya, ) of a child from your offspring, his name is Yahya. Qatadah and other scholars said that he was called Yahya (literally, `he lives') because Allah filled his life with faith.
Allah said next,
مُصَدِّقاً بِكَلِمَةٍ مِّنَ اللَّهِ
(believing in the Word from Allah) Al-`Awfi reported that Ibn `Abbas said, and also Al-Hasan, Qatadah, `Ikrimah, Mujahid, Abu Ash-Sha`tha, As-Suddi, Ar-Rabi` bin Anas, Ad-Dahhak, and several others said that the Ayah,
مُصَدِّقاً بِكَلِمَةٍ مِّنَ اللَّهِ
(believing in the Word from Allah) means, "Believing in `Isa, son of Maryam."
Abu Al-`Aliyah, Ar-Rabi` bin Anas, Qatadah and Sa`id bin Jubayr said that Allah's statement,
وَسَيِّدًا
(And Sayyidan) means, a wise man. Ibn `Abbas, Ath-Thawri and Ad-Dahhak said that Sayyidan means, "The noble, wise and pious man." Sa`id bin Al-Musayyib said that Sayyid is the scholar and Faqih. `Atiyah said that Sayyid is the man noble in behavior and piety. `Ikrimah said that it refers to a person who is not overcome by anger, while Ibn Zayd said that it refers to the noble man. Mujahid said that Sayyidan means, honored by Allah.
Allah's statement,
وَحَصُورًا
(And Hasuran) does not mean he refrains from sexual relations with women, but that he is immune from illegal sexual relations. This does not mean that he does not marry women and have legal sexual relations with them, for Zakariyya said in his supplication for the benefit of Yahya,
هَبْ لِى مِن لَّدُنْكَ ذُرِّيَّةً طَيِّبَةً
(Grant me from You, a good offspring), meaning, grant me a son who will have offspring, and Allah knows best.
Allah's statement,
وَنَبِيًّا مِّنَ الصَّـلِحِينَ
(A Prophet, from among the righteous) delivers more good news of sending Yahya as Prophet after the good news that he will be born. This good news was even better than the news of Yahya's birth. In a similar statement, Allah said to the mother of Musa,
إِنَّا رَآدُّوهُ إِلَيْكِ وَجَـعِلُوهُ مِنَ الْمُرْسَلِينَ
(Verily, We shall bring him back to you, and shall make him one of the Messengers.) 28:7
When Zakariyya heard the good news, he started contemplating about having children at his age. He said,
قَالَ رَبِّ أَنَّى يَكُونُ لِي غُلَـمٌ وَقَدْ بَلَغَنِي الْكِبَرُ وَامْرَأَتِى عَاقِرٌ قَالَ
("O my Lord! How can I have a son when I am very old, and my wife is barren" (He) said...) meaning the angel said,
كَذَلِكَ اللَّهُ يَفْعَلُ مَا يَشَآءُ
("Thus Allah does what He wills.") meaning, this is Allah's matter, He is so Mighty that nothing escapes His power, nor is anything beyond His ability.
قَالَ رَبِّ اجْعَل لِّى ءَايَةً
(He said: "O my Lord! Make a sign for me") meaning make a sign that alerts me that the child will come,
قَالَ ءَايَتُكَ أَلاَّ تُكَلِّمَ النَّاسَ ثَلَـثَةَ أَيَّامٍ إِلاَّ رَمْزًا
((Allah) said: "Your sign is that you shall not speak to the people for three days except by signals.") meaning, you will not be able to speak except with signals, although you are not mute. In another Ayah, Allah said,
ثَلَـثَ لَيَالٍ سَوِيّاً
(For three nights, though having no bodily defect.) 19:10
Allah then commanded Zakariyya to supplicate, thank and praise Him often in that condition,
وَاذْكُر رَّبَّكَ كَثِيرًا وَسَبِّحْ بِالْعَشِىِّ وَالإِبْكَـرِ
(And remember your Lord much and glorify (Him) in the afternoon and in the morning. )
We will elaborate more on this subject in the beginning of Surah Maryam (chapter 19), Allah willing.
حاصل دعا یحییٰ ؑ حضرت زکریا ؑ نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ حضرت مریم (علیہما السلام) کو بےموسم میوہ دیتا ہے جاڑوں میں گرمیوں کے پھل اور گرمی میں جاڑوں کے میوے ان کے پاس رکھے رہتے ہیں تو باوجود اپنے پورے بڑھاپے کے اور باوجود اپنی بیوی کے بانجھ ہونے کے علم کے آپ بھی بےموسم میوہ یعنی نیک اولاد طلب کرنے لگے، اور چونکہ یہ طلب بظاہر ایک ناممکن چیز کی طلب تھی اس لئے نہایت پوشیدگی سے یہ دعا مانگی جیسے اور جگہ ہے نداء خفیا یہ اپنے عبادت خانے میں ہی تھے جو فرشتوں نے انہیں آواز دی اور انہیں سنا کر کہا کہ آپ کے ہاں ایک لڑکا ہوگا جس کا نام یحییٰ رکھنا، ساتھ ہی یہ بھی فرما دیا کہ یہ بشارت ہماری طرف سے نہیں بلکہ اللہ کی طرف سے ہے۔ یحییٰ نام کی وجہ سے یہ ہے کہ ان کی حیاۃ ایمان کے ساتھ ہوگی، وہ اللہ کے کلمہ کے یعنی حضرت عیسیٰ بن مریم کی تصدیق کریں گے، حضرت ربیع بن انس فرماتے ہیں سب سے پہلے حضرت عیسیٰ کی نبوت کو تسلیم کرنے والے بھی حضرت یحییٰ ؑ ہیں، جو حضرت عیسیٰ کی روش اور آپ کے طریق پر تھے، حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ یہ دونوں خالہ زاد بھائی تھے۔ حضرت یحییٰ کی والدہ حضرت مریم سے اکثر ذکر کیا کرتی تھیں کہ میں اپنے پیٹ کی چیز کو تیرے پیٹ کی چیز کو سجدہ کرتی ہوئی پاتی ہوں، یہ تھی حضرت یحییٰ کی تصدیق دنیا میں آنے سے پیشتر سب سے پہلے حضرت عیسیٰ کی سچائی کو انہوں نے ہی پہچانا یہ حضرت عیسیٰ سے عمر میں بڑے تھے، سید کے معنی حلیم، بردبار، علم و عبادت میں بڑھا ہوا، متقی، پرہیزگار، فقیہ، عالم، خلق و دین میں سب سے افضل جسے غصہ اور غضب مغلوب نہ کرسکے، شریف اور کریم کے ہیں، حضور کے معنی ہیں جو عورتوں کے پاس نہ آسکے جس کے ہاں نہ اولاد ہو نہ جس میں شہوت کا پانی ہو، اس معنی کی ایک مرفوع حدیث بھی ابن ابی حاتم میں ہے، کہ آنحضرت ﷺ نے یہ لفظ تلاوت کر کے زمین سے کچھ اٹھا کر فرمایا اس کا عضو اس جیسا تھا، حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ فرماتے ہیں کہ ساری مخلوق میں صرف حضرت یحییٰ ہی اللہ سے بےگناہ ملیں گے پھر آپ نے یہ الفاظ پڑھے اور زمین سے کچھ اٹھایا اور فرمایا حضور اسے کہتے ہیں جس کا عضو اس جیسا ہو، اور حضرت یحییٰ بن سعید قطان نے اپنی کلمہ کی انگلی سے اشارہ کیا، یہ روایت جو مرفوع بیان ہوئی ہے اس کی حوالے سے اس موقوف کی سند زیادہ صحیح ہے، اور مرفوع روایت میں ہے کہ حضور ﷺ نے اپنے کپڑے کے پھندے کی طرف اشارہ کر کے فرمایا ایسا تھا، اور روایت میں یہ بھی ہے کہ آپ نے زمین سے ایک مرجھایا ہوا تنکا اٹھا کر اس کی طرف اشارہ کر کے یہی فرمایا، اس کے بعد حضرت زکریا کو دوسری بشارت دی جاتی ہے کہ تمہارا لڑکا نبی ہوگا یہ بشارت پہلی خوشخبری سے بھی بڑھ گئی، جب بشارت آچکی تب حضرت زکریا کو خیال پیدا ہوا کہ بظاہر اسباب سے تو اس کا ہونا محال ہے تو کہنے لگے اللہ میری ہاں بچہ کیسے ہوسکتا ہے ؟ میں بوڑھا ہوں میری بیوی بالکل بانجھ، فرشتے نے اسی وقت جواب دیا کہ اللہ کا امر سب سے بڑا ہے اس کے پاس کوئی چیز ان ہونی نہیں، نہ اسے کوئی کام کرنا مشکل نہ وہ کسی کام سے عاجز، اس کا ارادہ ہوچکا وہ اسی طرح کرے گا، اب حضرت زکریا اللہ سے اس کی علامت طلب کرنے لگے تو ذات باری سبحانہ و تعالیٰ کی طرف سے اشارہ کیا گیا کہ نشان یہ ہے کہ تو تین دن تک لوگوں سے بات نہ کرسکے گا، رہے گا تندرست صحیح سالم لیکن زبان سے لوگوں سے بات چیت نہ کی جائے گی صرف اشاروں سے کام لینا پڑے گا، جیسے اور جگہ ہے آیت (ثَلٰثَ لَيَالٍ سَوِيًّا) 19۔ مریم :10) یعنی تین راتیں تندرستی کی حالت پھر حکم دیا کہ اس حال میں تمہیں چاہئے کہ ذکر اور تکبیر اور تسبیح میں زیادہ مشغول رہو، صبح شام اسی میں لگے رہو، اس کا دوسرا حصہ اور پورا بیان تفصیل کے ساتھ سورة مریم کے شروع میں آئے گا، انشاء اللہ تعالیٰ۔
41
View Single
قَالَ رَبِّ ٱجۡعَل لِّيٓ ءَايَةٗۖ قَالَ ءَايَتُكَ أَلَّا تُكَلِّمَ ٱلنَّاسَ ثَلَٰثَةَ أَيَّامٍ إِلَّا رَمۡزٗاۗ وَٱذۡكُر رَّبَّكَ كَثِيرٗا وَسَبِّحۡ بِٱلۡعَشِيِّ وَٱلۡإِبۡكَٰرِ
He said, “My Lord! Determine a sign for me”; He said, “The sign is that you shall not be able to speak to mankind for three days except by signs; and remember your Lord profusely, and proclaim His Purity before sunset and at dawn.”
عرض کیا: اے میرے رب! میرے لئے کوئی نشانی مقرر فرما، فرمایا: تمہارے لئے نشانی یہ ہے کہ تم تین دن تک لوگوں سے سوائے اشارے کے بات نہیں کر سکو گے، اور اپنے رب کو کثرت سے یاد کرو اور شام اور صبح اس کی تسبیح کرتے رہو
Tafsir Ibn Kathir
The Supplication of Zakariyya, and the Good News of Yahya's Birth
When Zakariyya saw that Allah provided sustenance for Maryam by giving her the fruits of winter in summer and the fruits of summer in winter, he was eager to have a child of his own. By then, Zakariyya had become an old man, his bones feeble and his head full of gray hair. His wife was an old women who was barren. Yet, he still supplicated to Allah and called Him in secret,
رَبِّ هَبْ لِى مِن لَّدُنْكَ
(O my Lord! Grant me from Ladunka,) from You,
ذُرِّيَّةً طَيِّبَةً
(A good offspring) meaning, a righteous offspring,
إِنَّكَ سَمِيعُ الدُّعَآءِ
(You are indeed the All-Hearer of invocation.) Allah said,
فَنَادَتْهُ الْمَلَـئِكَةُ وَهُوَ قَائِمٌ يُصَلِّى فِى الْمِحْرَابِ
(Then the angels called him, while he was standing in prayer in the Mihrab,) meaning, the angels spoke to him directly while he was secluded, standing in prayer at his place of worship. Allah told us about the good news that the angels delivered to Zakariyya,
أَنَّ اللَّهَ يُبَشِّرُكَ بِيَحْيَـى
(Allah gives you glad tidings of Yahya, ) of a child from your offspring, his name is Yahya. Qatadah and other scholars said that he was called Yahya (literally, `he lives') because Allah filled his life with faith.
Allah said next,
مُصَدِّقاً بِكَلِمَةٍ مِّنَ اللَّهِ
(believing in the Word from Allah) Al-`Awfi reported that Ibn `Abbas said, and also Al-Hasan, Qatadah, `Ikrimah, Mujahid, Abu Ash-Sha`tha, As-Suddi, Ar-Rabi` bin Anas, Ad-Dahhak, and several others said that the Ayah,
مُصَدِّقاً بِكَلِمَةٍ مِّنَ اللَّهِ
(believing in the Word from Allah) means, "Believing in `Isa, son of Maryam."
Abu Al-`Aliyah, Ar-Rabi` bin Anas, Qatadah and Sa`id bin Jubayr said that Allah's statement,
وَسَيِّدًا
(And Sayyidan) means, a wise man. Ibn `Abbas, Ath-Thawri and Ad-Dahhak said that Sayyidan means, "The noble, wise and pious man." Sa`id bin Al-Musayyib said that Sayyid is the scholar and Faqih. `Atiyah said that Sayyid is the man noble in behavior and piety. `Ikrimah said that it refers to a person who is not overcome by anger, while Ibn Zayd said that it refers to the noble man. Mujahid said that Sayyidan means, honored by Allah.
Allah's statement,
وَحَصُورًا
(And Hasuran) does not mean he refrains from sexual relations with women, but that he is immune from illegal sexual relations. This does not mean that he does not marry women and have legal sexual relations with them, for Zakariyya said in his supplication for the benefit of Yahya,
هَبْ لِى مِن لَّدُنْكَ ذُرِّيَّةً طَيِّبَةً
(Grant me from You, a good offspring), meaning, grant me a son who will have offspring, and Allah knows best.
Allah's statement,
وَنَبِيًّا مِّنَ الصَّـلِحِينَ
(A Prophet, from among the righteous) delivers more good news of sending Yahya as Prophet after the good news that he will be born. This good news was even better than the news of Yahya's birth. In a similar statement, Allah said to the mother of Musa,
إِنَّا رَآدُّوهُ إِلَيْكِ وَجَـعِلُوهُ مِنَ الْمُرْسَلِينَ
(Verily, We shall bring him back to you, and shall make him one of the Messengers.) 28:7
When Zakariyya heard the good news, he started contemplating about having children at his age. He said,
قَالَ رَبِّ أَنَّى يَكُونُ لِي غُلَـمٌ وَقَدْ بَلَغَنِي الْكِبَرُ وَامْرَأَتِى عَاقِرٌ قَالَ
("O my Lord! How can I have a son when I am very old, and my wife is barren" (He) said...) meaning the angel said,
كَذَلِكَ اللَّهُ يَفْعَلُ مَا يَشَآءُ
("Thus Allah does what He wills.") meaning, this is Allah's matter, He is so Mighty that nothing escapes His power, nor is anything beyond His ability.
قَالَ رَبِّ اجْعَل لِّى ءَايَةً
(He said: "O my Lord! Make a sign for me") meaning make a sign that alerts me that the child will come,
قَالَ ءَايَتُكَ أَلاَّ تُكَلِّمَ النَّاسَ ثَلَـثَةَ أَيَّامٍ إِلاَّ رَمْزًا
((Allah) said: "Your sign is that you shall not speak to the people for three days except by signals.") meaning, you will not be able to speak except with signals, although you are not mute. In another Ayah, Allah said,
ثَلَـثَ لَيَالٍ سَوِيّاً
(For three nights, though having no bodily defect.) 19:10
Allah then commanded Zakariyya to supplicate, thank and praise Him often in that condition,
وَاذْكُر رَّبَّكَ كَثِيرًا وَسَبِّحْ بِالْعَشِىِّ وَالإِبْكَـرِ
(And remember your Lord much and glorify (Him) in the afternoon and in the morning. )
We will elaborate more on this subject in the beginning of Surah Maryam (chapter 19), Allah willing.
حاصل دعا یحییٰ ؑ حضرت زکریا ؑ نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ حضرت مریم (علیہما السلام) کو بےموسم میوہ دیتا ہے جاڑوں میں گرمیوں کے پھل اور گرمی میں جاڑوں کے میوے ان کے پاس رکھے رہتے ہیں تو باوجود اپنے پورے بڑھاپے کے اور باوجود اپنی بیوی کے بانجھ ہونے کے علم کے آپ بھی بےموسم میوہ یعنی نیک اولاد طلب کرنے لگے، اور چونکہ یہ طلب بظاہر ایک ناممکن چیز کی طلب تھی اس لئے نہایت پوشیدگی سے یہ دعا مانگی جیسے اور جگہ ہے نداء خفیا یہ اپنے عبادت خانے میں ہی تھے جو فرشتوں نے انہیں آواز دی اور انہیں سنا کر کہا کہ آپ کے ہاں ایک لڑکا ہوگا جس کا نام یحییٰ رکھنا، ساتھ ہی یہ بھی فرما دیا کہ یہ بشارت ہماری طرف سے نہیں بلکہ اللہ کی طرف سے ہے۔ یحییٰ نام کی وجہ سے یہ ہے کہ ان کی حیاۃ ایمان کے ساتھ ہوگی، وہ اللہ کے کلمہ کے یعنی حضرت عیسیٰ بن مریم کی تصدیق کریں گے، حضرت ربیع بن انس فرماتے ہیں سب سے پہلے حضرت عیسیٰ کی نبوت کو تسلیم کرنے والے بھی حضرت یحییٰ ؑ ہیں، جو حضرت عیسیٰ کی روش اور آپ کے طریق پر تھے، حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ یہ دونوں خالہ زاد بھائی تھے۔ حضرت یحییٰ کی والدہ حضرت مریم سے اکثر ذکر کیا کرتی تھیں کہ میں اپنے پیٹ کی چیز کو تیرے پیٹ کی چیز کو سجدہ کرتی ہوئی پاتی ہوں، یہ تھی حضرت یحییٰ کی تصدیق دنیا میں آنے سے پیشتر سب سے پہلے حضرت عیسیٰ کی سچائی کو انہوں نے ہی پہچانا یہ حضرت عیسیٰ سے عمر میں بڑے تھے، سید کے معنی حلیم، بردبار، علم و عبادت میں بڑھا ہوا، متقی، پرہیزگار، فقیہ، عالم، خلق و دین میں سب سے افضل جسے غصہ اور غضب مغلوب نہ کرسکے، شریف اور کریم کے ہیں، حضور کے معنی ہیں جو عورتوں کے پاس نہ آسکے جس کے ہاں نہ اولاد ہو نہ جس میں شہوت کا پانی ہو، اس معنی کی ایک مرفوع حدیث بھی ابن ابی حاتم میں ہے، کہ آنحضرت ﷺ نے یہ لفظ تلاوت کر کے زمین سے کچھ اٹھا کر فرمایا اس کا عضو اس جیسا تھا، حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ فرماتے ہیں کہ ساری مخلوق میں صرف حضرت یحییٰ ہی اللہ سے بےگناہ ملیں گے پھر آپ نے یہ الفاظ پڑھے اور زمین سے کچھ اٹھایا اور فرمایا حضور اسے کہتے ہیں جس کا عضو اس جیسا ہو، اور حضرت یحییٰ بن سعید قطان نے اپنی کلمہ کی انگلی سے اشارہ کیا، یہ روایت جو مرفوع بیان ہوئی ہے اس کی حوالے سے اس موقوف کی سند زیادہ صحیح ہے، اور مرفوع روایت میں ہے کہ حضور ﷺ نے اپنے کپڑے کے پھندے کی طرف اشارہ کر کے فرمایا ایسا تھا، اور روایت میں یہ بھی ہے کہ آپ نے زمین سے ایک مرجھایا ہوا تنکا اٹھا کر اس کی طرف اشارہ کر کے یہی فرمایا، اس کے بعد حضرت زکریا کو دوسری بشارت دی جاتی ہے کہ تمہارا لڑکا نبی ہوگا یہ بشارت پہلی خوشخبری سے بھی بڑھ گئی، جب بشارت آچکی تب حضرت زکریا کو خیال پیدا ہوا کہ بظاہر اسباب سے تو اس کا ہونا محال ہے تو کہنے لگے اللہ میری ہاں بچہ کیسے ہوسکتا ہے ؟ میں بوڑھا ہوں میری بیوی بالکل بانجھ، فرشتے نے اسی وقت جواب دیا کہ اللہ کا امر سب سے بڑا ہے اس کے پاس کوئی چیز ان ہونی نہیں، نہ اسے کوئی کام کرنا مشکل نہ وہ کسی کام سے عاجز، اس کا ارادہ ہوچکا وہ اسی طرح کرے گا، اب حضرت زکریا اللہ سے اس کی علامت طلب کرنے لگے تو ذات باری سبحانہ و تعالیٰ کی طرف سے اشارہ کیا گیا کہ نشان یہ ہے کہ تو تین دن تک لوگوں سے بات نہ کرسکے گا، رہے گا تندرست صحیح سالم لیکن زبان سے لوگوں سے بات چیت نہ کی جائے گی صرف اشاروں سے کام لینا پڑے گا، جیسے اور جگہ ہے آیت (ثَلٰثَ لَيَالٍ سَوِيًّا) 19۔ مریم :10) یعنی تین راتیں تندرستی کی حالت پھر حکم دیا کہ اس حال میں تمہیں چاہئے کہ ذکر اور تکبیر اور تسبیح میں زیادہ مشغول رہو، صبح شام اسی میں لگے رہو، اس کا دوسرا حصہ اور پورا بیان تفصیل کے ساتھ سورة مریم کے شروع میں آئے گا، انشاء اللہ تعالیٰ۔
42
View Single
وَإِذۡ قَالَتِ ٱلۡمَلَـٰٓئِكَةُ يَٰمَرۡيَمُ إِنَّ ٱللَّهَ ٱصۡطَفَىٰكِ وَطَهَّرَكِ وَٱصۡطَفَىٰكِ عَلَىٰ نِسَآءِ ٱلۡعَٰلَمِينَ
And when the angels said, “O Maryam! Indeed Allah has chosen you and purified you, and has this day, chosen you among all the women of the world.”
اور جب فرشتوں نے کہا: اے مریم! بیشک اللہ نے تمہیں منتخب کر لیا ہے اور تمہیں پاکیزگی عطا کی ہے اور تمہیں آج سارے جہان کی عورتوں پر برگزیدہ کر دیا ہے
Tafsir Ibn Kathir
The Virtue of Maryam Over the Women of Her Time
Allah states that the angels spoke to Maryam by His command and told her that He chose her because of her service to Him, because of her modesty, honor, innocence, and conviction. Allah also chose her because of her virtue over the women of the world. At-Tirmidhi recorded that `Ali bin Abi Talib said, "I heard the Messenger of Allah ﷺ say,
«خَيْرُ نِسَائِهَا مَرْيَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ، وَخَيْرُ نِسَائِهَا خَدِيجَةُ بِنْتُ خُوَيْلِد»
(The best woman (in her time) was Maryam, daughter of `Imran, and the best woman (of the Prophet's time) is Khadijah (his wife), daughter of Khuwaylid.)"
The Two Sahihs recorded this Hadith. Ibn Jarir recorded that Abu Musa Al-Ash`ari said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«كَمُلَ مِنَ الرِّجَالِ كَثِيرٌ، وَلَمْ يَكْمُلْ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا مَرْيَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ وَ آسِيَةُ امْرَأَةُ فِرْعَوْن»
(Many men achieved perfection, but among women, only Maryam the daughter of `Imran and Asiah, the wife of Fir`awn, achieved perfection.)
The Six -- with the exception of Abu Dawud - recorded it. Al-Bukhari's wording for it reads,
«كَمُلَ مِنَ الرِّجَالِ كَثِيرٌ، وَلَمْ يَكْمُلْ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا آسِيَةُ امْرَأَةُ فِرْعَوْنَ، وَمَرْيَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ، وَإِنَّ فَضْلَ عَائِشَةَ عَلَى النِّسَاءِ كَفَضْلِ الثَّرِيدِ عَلى سَائِرِ الطَّعَام»
(Many men reached the level of perfection, but no woman reached such a level except Asiah, the wife of Fir`awn, and Maryam, the daughter of `Imran. The superiority of `A'ishah (his wife) to other women, is like the superiority of Tharid (meat and bread dish) to other meals.)
We mentioned the various chains of narration and wordings for this Hadith in the story of `Isa, son of Maryam, in our book, Al-Bidayah wan-Nihayah, all the thanks are due to Allah.
Allah states that the angels commanded Maryam to increase acts of worship, humbleness, submission, prostration, bowing, and so forth, so that she would acquire what Allah had decreed for her, as a test for her. Yet, this test also earned her a higher grade in this life and the Hereafter, for Allah demonstrated His might by creating a son inside her without male intervention. Allah said,
يمَرْيَمُ اقْنُتِى لِرَبِّكِ وَاسْجُدِى وَارْكَعِى مَعَ الرَكِعِينَ
("O Maryam! Submit yourself with obedience (Aqnuti) and prostrate yourself, and bow down along with Ar-Raki`in.")
As for Qunut (Aqnuti in the Ayah), it means to submit with humbleness. In another Ayah, Allah said,
بَل لَّهُ مَا فِي السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ كُلٌّ لَّهُ قَـنِتُونَ
(Nay, to Him belongs all that is in the heavens and on earth, and all surrender with obedience (Qanitun) to Him.) 2:116
Allah next said to His Messenger after He mentioned Maryam's story,
ذَلِكَ مِنْ أَنبَآءِ الْغَيْبِ نُوحِيهِ إِلَيْكَ
(This is a part of the news of the Ghayb which We reveal.) "and narrate to you (O Muhammad ), "
وَمَا كُنتَ لَدَيْهِمْ إِذْ يُلْقُون أَقْلَـمَهُمْ أَيُّهُمْ يَكْفُلُ مَرْيَمَ وَمَا كُنتَ لَدَيْهِمْ إِذْ يَخْتَصِمُونَ
(You were not with them, when they cast lots with their pens as to which of them should be charged with the care of Maryam; nor were you with them when they disputed.) meaning, "You were not present, O Muhammad, when this occurred, so you cannot narrate what happened to the people as an eye witness. Rather, Allah disclosed these facts to you as if you were a witness, when they conducted a lottery to choose the custodian of Maryam, seeking the reward of this good deed."
Ibn Jarir recorded that `Ikrimah said, "Maryam's mother left with Maryam, carrying her in her infant cloth, and took her to the rabbis from the offspring of Aaron, the brother of Musa. They were responsible for taking care of Bayt Al-Maqdis (the Masjid) at that time, just as there were those who took care of the Ka`bah. Maryam's mother said to them, `Take this child whom I vowed to serve the Masjid, I have set her free, since she is my daughter, for no menstruating woman should enter the Masjid, and I shall not take her back home.' They said, `She is the daughter of our Imam,' as `Imran used to lead them in prayer, `who took care of our sacrificial rituals.' Zakariyya said, `Give her to me, for her maternal aunt is my wife.' They said, `Our hearts cannot bear that you take her, for she is the daughter of our Imam.' So they conducted a lottery with the pens with which they wrote the Tawrah, and Zakariyya won the lottery and took Maryam into his care."'. `Ikrimah, As-Suddi, Qatadah, Ar-Rabi` bin Anas, and several others said that the rabbis went into the Jordan river and conducted a lottery there, deciding to throw their pens into the river. The pen that remained afloat and idle would indicate that its owner would take care of Maryam. When they threw their pens into the river, the water took all the pens under, except Zakariyya's pen, which remained afloat in its place. Zakariyya was also their master, chief, scholar, Imam and Prophet, may Allah's peace and blessings be on him and the rest of the Prophets.
تین افضل ترین عورتیں یہاں بیان ہو رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے مریم (علیہما السلام) کو فرشتوں نے خبر پہنچائی کہ اللہ نے انہیں ان کی کثرت عبادت ان کی دنیا کی بےرغبتی کی شرافت اور شیطانی وسو اس سے دوری کی وجہ سے اپنے قرب خاص عنایت فرمادیا ہے، اور تمام جہان کی عورتوں پر انہیں خاص فضیلت دے رکھی ہے، صحیح مسلم شریف وغیرہ میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جنتی عورتیں اونٹ پر سوار ہونے والیاں ہیں ان میں سے بہتر عورتیں قریش کی ہیں جو اپنے چھوٹے بچوں پر بہت ہی شفقت اور پیار کرنے والی اور اپنے خاوند کی چیزوں کی پوری حفاظت کرنے والی ہیں، حضرت مریم بنت عمران اونٹ پر کبھی سوار نہیں ہوئی، بخاری و مسلم کی ایک حدیث میں ہے عورتوں میں سے بہتر عورت حضرت مریم بنت عمران ہیں اور عورتوں میں سے بہتر عورت حضرت خدیجہ بنت خویلد ہیں ؓ ترمذی کی صحیح حدیث میں ہے ساری دنیا کی عورتوں میں سے تجھے مریم بنت عمران، خدیجہ بنت خویلد، فاطمہ بنت محمد، آسیہ فرعون کی بیوی ہیں ؓ اور حدیث میں ہے یہ چاروں عورتیں تمام عالم کی عورتوں سے افضل اور بہتر ہیں اور حدیث میں ہے مردوں میں سے کامل مرد بہت سے ہیں لیکن عورتوں میں کمال والی عورتیں صرف تین ہیں، مریم بنت عمران، آسیہ فرعون کی بیوی اور خدیجہ بنت خویلد اور عائشہ کی فضیلت عورتوں پر ایسی ہے جیسے ثرید یعنی گوشت کے شوربے میں بھگوئی ہوئی روٹی کی تمام کھانوں پر یہ حدیث ابو داؤد کے علاوہ اور سب کتابوں میں ہے، صحیح بخاری شریف کی اس حدیث میں حضرت خدیجہ کا ذکر نہیں، میں نے اس حدیث کی تمام سندیں اور ہر سند کے الفاظ اپنی کتاب البدایہ والنہایہ میں حضرت عیسیٰ کے ذکر میں جمع کر دئیے ہیں وللہ الحمد والمنۃ پھر فرشتے فرماتے ہیں کہ اے مریم تو خشوع و خضوع رکوع و سجود میں رہا کر اللہ تبارک وتعالیٰ تجھے اپنی قدرت کا ایک عظیم الشان نشان بنانے والا ہے اس لئے تجھے رب کی طرف پوری رغبت رکھنی چاہئے، قنوت کے معنی اطاعت کے ہیں جو عاجزی اور دل کی حاضری کے ساتھ ہو، جیسے ارشاد آیت (وَلَهٗ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ كُلٌّ لَّهٗ قٰنِتُوْنَ) 30۔ الروم :26) یعنی اس کی ماتحتی اور ملکیت میں زمین و آسمان کی ہر چیز ہے سب کے سب اس کے محکوم اور تابع فرمان ہیں، ابن ابی حاتم کی ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ قرآن میں جہاں کہیں قنوت کا لفظ ہے اس سے مراد اطاعت گذاری ہے، یہی حدیث ابن جریر میں بھی ہے لیکن سند میں نکارت ہے، حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ حضرت مریم (علیہما السلام) نماز میں اتنا لمبا قیام کرتی تھیں کہ دونوں ٹخنوں پر ورم آجاتا تھا، قنوت سے مراد نماز میں لمبے لمبے رکوع کرنا ہے، حسن بصری ؒ کا قول ہے کہ اس سے یہ مراد ہے کہ اپنے رب کی عبادت میں مشغول رہ اور رکوع سجدہ کرنے والوں میں سے ہوجا، حضرت اوزاعی فرماتے ہیں کہ مریم صدیقہ اپنے عبادت خانے میں اس قدر بکثرت باخشوع اور لمبی نمازیں پڑھا کرتی تھیں کہ دونوں پیروں میں زرد پانی اتر آیا، ؓ و رضاہا۔ یہ اہم خبریں بیان کر کے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے نبی ﷺ ان باتوں کا علم تمہیں صرف میری وحی سے ہوا ورنہ تمہیں کیا خبر ؟ تم کچھ اس وقت ان کے پاس تھوڑے ہی موجود تھے جو ان واقعات کی خبر لوگوں کو پہنچاتے ؟ لیکن اپنی وحی سے ہم نے ان واقعات کو اس طرح آپ پر کھول دیا گویا آپ اس وقت خود موجود تھے جبکہ حضرت مریم کی پرورش کے بارے میں ہر ایک دوسرے پر سبقت کرتا تھا سب کی چاہت تھی کہ اس دولت سے مالا مال ہوجاؤں اور یہ اجر مجھے مل جائے، جب آپ کی والدہ صاحبہ آپ کو لے کر بیت المقدس کی مسجد سلیمانی میں تشریف لائیں اور وہاں کے خادموں سے جو حضرت موسیٰ کے بھائی اور حضرت ہارون کی نسل میں سے تھے کہا کہ میں انہیں اپنی نذر کے مطابق نام اللہ پر آزاد کرچکی ہوں تم اسے سنبھالو، یہ ظاہر ہے کہ لڑکی ہے اور یہ بھی معلوم ہے کہ حیض کی حالت میں عورتیں مسجد میں نہیں آسکتیں اب تم جانو تمہارا کام، میں تو اسے گھر واپس نہیں لے جاسکتی کیونکہ نام اللہ اسے نذر کرچکی ہوں، حضرت عمران یہاں کے امام نماز تھے اور قربانیوں کے مہتمم تھے اور یہ ان کی صاحبزادی تھیں تو ہر ایک نے بڑی چاہت سے ان کے لئے ہاتھ پھیلا دئیے ادھر سے حضرت زکریا نے اپنا ایک حق اور جتایا کہ میں رشتہ میں بھی ان کا خالو ہوتا ہوں تو یہ لڑکی مجھ ہی کو ملنی چاہیے اور لوگ راضی نہ ہوئے آخر قرعہ ڈالا گیا اور قرعہ میں ان سب نے اپنی وہ قلمیں ڈالیں جن سے توراۃ لکھتے تھے، تو قرعہ حضرت زکریا کے نام نکلا اور یہی اس سعادت سے مشرف ہوئے دوسری مفصل روایتوں میں یہ بھی ہے کہ نہر اردن پر جا کر یہ قلمیں ڈالی گئیں کہ پانی کے بہاؤ کے ساتھ جو قلم نکل جائے وہ نہیں اور جس کا قلم ٹھہر جائے وہ حضرت مریم کا کفیل بنے، چناچہ سب کی قلمیں تو پانی بہا کرلے گیا صرف حضرت زکریا کا قلم ٹھہر گیا بلکہ الٹا اوپر کو چڑھنے لگا تو ایک تو قرعے میں ان کا نام نکلا دوسرے قریب کے رشتہ داری تھے پھر یہ خود ان تمام کے سردار امام مالک نبی تھے صلوات اللہ وسلامہ علیہ پس انہی کو حضرت مریم سونپ دی گئیں۔
43
View Single
يَٰمَرۡيَمُ ٱقۡنُتِي لِرَبِّكِ وَٱسۡجُدِي وَٱرۡكَعِي مَعَ ٱلرَّـٰكِعِينَ
“O Maryam! Stand in reverence before your Lord, prostrate yourself and bow along with those who bow.”
اے مریم! تم اپنے رب کی بڑی عاجزی سے بندگی بجا لاتی رہو اور سجدہ کرو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کیا کرو
Tafsir Ibn Kathir
The Virtue of Maryam Over the Women of Her Time
Allah states that the angels spoke to Maryam by His command and told her that He chose her because of her service to Him, because of her modesty, honor, innocence, and conviction. Allah also chose her because of her virtue over the women of the world. At-Tirmidhi recorded that `Ali bin Abi Talib said, "I heard the Messenger of Allah ﷺ say,
«خَيْرُ نِسَائِهَا مَرْيَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ، وَخَيْرُ نِسَائِهَا خَدِيجَةُ بِنْتُ خُوَيْلِد»
(The best woman (in her time) was Maryam, daughter of `Imran, and the best woman (of the Prophet's time) is Khadijah (his wife), daughter of Khuwaylid.)"
The Two Sahihs recorded this Hadith. Ibn Jarir recorded that Abu Musa Al-Ash`ari said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«كَمُلَ مِنَ الرِّجَالِ كَثِيرٌ، وَلَمْ يَكْمُلْ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا مَرْيَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ وَ آسِيَةُ امْرَأَةُ فِرْعَوْن»
(Many men achieved perfection, but among women, only Maryam the daughter of `Imran and Asiah, the wife of Fir`awn, achieved perfection.)
The Six -- with the exception of Abu Dawud - recorded it. Al-Bukhari's wording for it reads,
«كَمُلَ مِنَ الرِّجَالِ كَثِيرٌ، وَلَمْ يَكْمُلْ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا آسِيَةُ امْرَأَةُ فِرْعَوْنَ، وَمَرْيَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ، وَإِنَّ فَضْلَ عَائِشَةَ عَلَى النِّسَاءِ كَفَضْلِ الثَّرِيدِ عَلى سَائِرِ الطَّعَام»
(Many men reached the level of perfection, but no woman reached such a level except Asiah, the wife of Fir`awn, and Maryam, the daughter of `Imran. The superiority of `A'ishah (his wife) to other women, is like the superiority of Tharid (meat and bread dish) to other meals.)
We mentioned the various chains of narration and wordings for this Hadith in the story of `Isa, son of Maryam, in our book, Al-Bidayah wan-Nihayah, all the thanks are due to Allah.
Allah states that the angels commanded Maryam to increase acts of worship, humbleness, submission, prostration, bowing, and so forth, so that she would acquire what Allah had decreed for her, as a test for her. Yet, this test also earned her a higher grade in this life and the Hereafter, for Allah demonstrated His might by creating a son inside her without male intervention. Allah said,
يمَرْيَمُ اقْنُتِى لِرَبِّكِ وَاسْجُدِى وَارْكَعِى مَعَ الرَكِعِينَ
("O Maryam! Submit yourself with obedience (Aqnuti) and prostrate yourself, and bow down along with Ar-Raki`in.")
As for Qunut (Aqnuti in the Ayah), it means to submit with humbleness. In another Ayah, Allah said,
بَل لَّهُ مَا فِي السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ كُلٌّ لَّهُ قَـنِتُونَ
(Nay, to Him belongs all that is in the heavens and on earth, and all surrender with obedience (Qanitun) to Him.) 2:116
Allah next said to His Messenger after He mentioned Maryam's story,
ذَلِكَ مِنْ أَنبَآءِ الْغَيْبِ نُوحِيهِ إِلَيْكَ
(This is a part of the news of the Ghayb which We reveal.) "and narrate to you (O Muhammad ), "
وَمَا كُنتَ لَدَيْهِمْ إِذْ يُلْقُون أَقْلَـمَهُمْ أَيُّهُمْ يَكْفُلُ مَرْيَمَ وَمَا كُنتَ لَدَيْهِمْ إِذْ يَخْتَصِمُونَ
(You were not with them, when they cast lots with their pens as to which of them should be charged with the care of Maryam; nor were you with them when they disputed.) meaning, "You were not present, O Muhammad, when this occurred, so you cannot narrate what happened to the people as an eye witness. Rather, Allah disclosed these facts to you as if you were a witness, when they conducted a lottery to choose the custodian of Maryam, seeking the reward of this good deed."
Ibn Jarir recorded that `Ikrimah said, "Maryam's mother left with Maryam, carrying her in her infant cloth, and took her to the rabbis from the offspring of Aaron, the brother of Musa. They were responsible for taking care of Bayt Al-Maqdis (the Masjid) at that time, just as there were those who took care of the Ka`bah. Maryam's mother said to them, `Take this child whom I vowed to serve the Masjid, I have set her free, since she is my daughter, for no menstruating woman should enter the Masjid, and I shall not take her back home.' They said, `She is the daughter of our Imam,' as `Imran used to lead them in prayer, `who took care of our sacrificial rituals.' Zakariyya said, `Give her to me, for her maternal aunt is my wife.' They said, `Our hearts cannot bear that you take her, for she is the daughter of our Imam.' So they conducted a lottery with the pens with which they wrote the Tawrah, and Zakariyya won the lottery and took Maryam into his care."'. `Ikrimah, As-Suddi, Qatadah, Ar-Rabi` bin Anas, and several others said that the rabbis went into the Jordan river and conducted a lottery there, deciding to throw their pens into the river. The pen that remained afloat and idle would indicate that its owner would take care of Maryam. When they threw their pens into the river, the water took all the pens under, except Zakariyya's pen, which remained afloat in its place. Zakariyya was also their master, chief, scholar, Imam and Prophet, may Allah's peace and blessings be on him and the rest of the Prophets.
تین افضل ترین عورتیں یہاں بیان ہو رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے مریم (علیہما السلام) کو فرشتوں نے خبر پہنچائی کہ اللہ نے انہیں ان کی کثرت عبادت ان کی دنیا کی بےرغبتی کی شرافت اور شیطانی وسو اس سے دوری کی وجہ سے اپنے قرب خاص عنایت فرمادیا ہے، اور تمام جہان کی عورتوں پر انہیں خاص فضیلت دے رکھی ہے، صحیح مسلم شریف وغیرہ میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جنتی عورتیں اونٹ پر سوار ہونے والیاں ہیں ان میں سے بہتر عورتیں قریش کی ہیں جو اپنے چھوٹے بچوں پر بہت ہی شفقت اور پیار کرنے والی اور اپنے خاوند کی چیزوں کی پوری حفاظت کرنے والی ہیں، حضرت مریم بنت عمران اونٹ پر کبھی سوار نہیں ہوئی، بخاری و مسلم کی ایک حدیث میں ہے عورتوں میں سے بہتر عورت حضرت مریم بنت عمران ہیں اور عورتوں میں سے بہتر عورت حضرت خدیجہ بنت خویلد ہیں ؓ ترمذی کی صحیح حدیث میں ہے ساری دنیا کی عورتوں میں سے تجھے مریم بنت عمران، خدیجہ بنت خویلد، فاطمہ بنت محمد، آسیہ فرعون کی بیوی ہیں ؓ اور حدیث میں ہے یہ چاروں عورتیں تمام عالم کی عورتوں سے افضل اور بہتر ہیں اور حدیث میں ہے مردوں میں سے کامل مرد بہت سے ہیں لیکن عورتوں میں کمال والی عورتیں صرف تین ہیں، مریم بنت عمران، آسیہ فرعون کی بیوی اور خدیجہ بنت خویلد اور عائشہ کی فضیلت عورتوں پر ایسی ہے جیسے ثرید یعنی گوشت کے شوربے میں بھگوئی ہوئی روٹی کی تمام کھانوں پر یہ حدیث ابو داؤد کے علاوہ اور سب کتابوں میں ہے، صحیح بخاری شریف کی اس حدیث میں حضرت خدیجہ کا ذکر نہیں، میں نے اس حدیث کی تمام سندیں اور ہر سند کے الفاظ اپنی کتاب البدایہ والنہایہ میں حضرت عیسیٰ کے ذکر میں جمع کر دئیے ہیں وللہ الحمد والمنۃ پھر فرشتے فرماتے ہیں کہ اے مریم تو خشوع و خضوع رکوع و سجود میں رہا کر اللہ تبارک وتعالیٰ تجھے اپنی قدرت کا ایک عظیم الشان نشان بنانے والا ہے اس لئے تجھے رب کی طرف پوری رغبت رکھنی چاہئے، قنوت کے معنی اطاعت کے ہیں جو عاجزی اور دل کی حاضری کے ساتھ ہو، جیسے ارشاد آیت (وَلَهٗ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ كُلٌّ لَّهٗ قٰنِتُوْنَ) 30۔ الروم :26) یعنی اس کی ماتحتی اور ملکیت میں زمین و آسمان کی ہر چیز ہے سب کے سب اس کے محکوم اور تابع فرمان ہیں، ابن ابی حاتم کی ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ قرآن میں جہاں کہیں قنوت کا لفظ ہے اس سے مراد اطاعت گذاری ہے، یہی حدیث ابن جریر میں بھی ہے لیکن سند میں نکارت ہے، حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ حضرت مریم (علیہما السلام) نماز میں اتنا لمبا قیام کرتی تھیں کہ دونوں ٹخنوں پر ورم آجاتا تھا، قنوت سے مراد نماز میں لمبے لمبے رکوع کرنا ہے، حسن بصری ؒ کا قول ہے کہ اس سے یہ مراد ہے کہ اپنے رب کی عبادت میں مشغول رہ اور رکوع سجدہ کرنے والوں میں سے ہوجا، حضرت اوزاعی فرماتے ہیں کہ مریم صدیقہ اپنے عبادت خانے میں اس قدر بکثرت باخشوع اور لمبی نمازیں پڑھا کرتی تھیں کہ دونوں پیروں میں زرد پانی اتر آیا، ؓ و رضاہا۔ یہ اہم خبریں بیان کر کے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے نبی ﷺ ان باتوں کا علم تمہیں صرف میری وحی سے ہوا ورنہ تمہیں کیا خبر ؟ تم کچھ اس وقت ان کے پاس تھوڑے ہی موجود تھے جو ان واقعات کی خبر لوگوں کو پہنچاتے ؟ لیکن اپنی وحی سے ہم نے ان واقعات کو اس طرح آپ پر کھول دیا گویا آپ اس وقت خود موجود تھے جبکہ حضرت مریم کی پرورش کے بارے میں ہر ایک دوسرے پر سبقت کرتا تھا سب کی چاہت تھی کہ اس دولت سے مالا مال ہوجاؤں اور یہ اجر مجھے مل جائے، جب آپ کی والدہ صاحبہ آپ کو لے کر بیت المقدس کی مسجد سلیمانی میں تشریف لائیں اور وہاں کے خادموں سے جو حضرت موسیٰ کے بھائی اور حضرت ہارون کی نسل میں سے تھے کہا کہ میں انہیں اپنی نذر کے مطابق نام اللہ پر آزاد کرچکی ہوں تم اسے سنبھالو، یہ ظاہر ہے کہ لڑکی ہے اور یہ بھی معلوم ہے کہ حیض کی حالت میں عورتیں مسجد میں نہیں آسکتیں اب تم جانو تمہارا کام، میں تو اسے گھر واپس نہیں لے جاسکتی کیونکہ نام اللہ اسے نذر کرچکی ہوں، حضرت عمران یہاں کے امام نماز تھے اور قربانیوں کے مہتمم تھے اور یہ ان کی صاحبزادی تھیں تو ہر ایک نے بڑی چاہت سے ان کے لئے ہاتھ پھیلا دئیے ادھر سے حضرت زکریا نے اپنا ایک حق اور جتایا کہ میں رشتہ میں بھی ان کا خالو ہوتا ہوں تو یہ لڑکی مجھ ہی کو ملنی چاہیے اور لوگ راضی نہ ہوئے آخر قرعہ ڈالا گیا اور قرعہ میں ان سب نے اپنی وہ قلمیں ڈالیں جن سے توراۃ لکھتے تھے، تو قرعہ حضرت زکریا کے نام نکلا اور یہی اس سعادت سے مشرف ہوئے دوسری مفصل روایتوں میں یہ بھی ہے کہ نہر اردن پر جا کر یہ قلمیں ڈالی گئیں کہ پانی کے بہاؤ کے ساتھ جو قلم نکل جائے وہ نہیں اور جس کا قلم ٹھہر جائے وہ حضرت مریم کا کفیل بنے، چناچہ سب کی قلمیں تو پانی بہا کرلے گیا صرف حضرت زکریا کا قلم ٹھہر گیا بلکہ الٹا اوپر کو چڑھنے لگا تو ایک تو قرعے میں ان کا نام نکلا دوسرے قریب کے رشتہ داری تھے پھر یہ خود ان تمام کے سردار امام مالک نبی تھے صلوات اللہ وسلامہ علیہ پس انہی کو حضرت مریم سونپ دی گئیں۔
44
View Single
ذَٰلِكَ مِنۡ أَنۢبَآءِ ٱلۡغَيۡبِ نُوحِيهِ إِلَيۡكَۚ وَمَا كُنتَ لَدَيۡهِمۡ إِذۡ يُلۡقُونَ أَقۡلَٰمَهُمۡ أَيُّهُمۡ يَكۡفُلُ مَرۡيَمَ وَمَا كُنتَ لَدَيۡهِمۡ إِذۡ يَخۡتَصِمُونَ
These are tidings of the hidden, which We secretly reveal to you (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him); and you were not present with them when they threw their pens to draw lots, to know who should be the guardian of Maryam; nor were you present with them when they were quarrelling. (Yet you know of these things – this is a proof of your being a Prophet.)
(اے محبوب!) یہ غیب کی خبریں ہیں جو ہم آپ کی طرف وحی فرماتے ہیں، حالانکہ آپ (اس وقت) ان کے پاس نہ تھے جب وہ (قرعہ اندازی کے طور پر) اپنے قلم پھینک رہے تھے کہ ان میں سے کون مریم (علیہا السلام) کی کفالت کرے اور نہ آپ اس وقت ان کے پاس تھے جب وہ آپس میں جھگڑ رہے تھے
Tafsir Ibn Kathir
The Virtue of Maryam Over the Women of Her Time
Allah states that the angels spoke to Maryam by His command and told her that He chose her because of her service to Him, because of her modesty, honor, innocence, and conviction. Allah also chose her because of her virtue over the women of the world. At-Tirmidhi recorded that `Ali bin Abi Talib said, "I heard the Messenger of Allah ﷺ say,
«خَيْرُ نِسَائِهَا مَرْيَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ، وَخَيْرُ نِسَائِهَا خَدِيجَةُ بِنْتُ خُوَيْلِد»
(The best woman (in her time) was Maryam, daughter of `Imran, and the best woman (of the Prophet's time) is Khadijah (his wife), daughter of Khuwaylid.)"
The Two Sahihs recorded this Hadith. Ibn Jarir recorded that Abu Musa Al-Ash`ari said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«كَمُلَ مِنَ الرِّجَالِ كَثِيرٌ، وَلَمْ يَكْمُلْ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا مَرْيَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ وَ آسِيَةُ امْرَأَةُ فِرْعَوْن»
(Many men achieved perfection, but among women, only Maryam the daughter of `Imran and Asiah, the wife of Fir`awn, achieved perfection.)
The Six -- with the exception of Abu Dawud - recorded it. Al-Bukhari's wording for it reads,
«كَمُلَ مِنَ الرِّجَالِ كَثِيرٌ، وَلَمْ يَكْمُلْ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا آسِيَةُ امْرَأَةُ فِرْعَوْنَ، وَمَرْيَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ، وَإِنَّ فَضْلَ عَائِشَةَ عَلَى النِّسَاءِ كَفَضْلِ الثَّرِيدِ عَلى سَائِرِ الطَّعَام»
(Many men reached the level of perfection, but no woman reached such a level except Asiah, the wife of Fir`awn, and Maryam, the daughter of `Imran. The superiority of `A'ishah (his wife) to other women, is like the superiority of Tharid (meat and bread dish) to other meals.)
We mentioned the various chains of narration and wordings for this Hadith in the story of `Isa, son of Maryam, in our book, Al-Bidayah wan-Nihayah, all the thanks are due to Allah.
Allah states that the angels commanded Maryam to increase acts of worship, humbleness, submission, prostration, bowing, and so forth, so that she would acquire what Allah had decreed for her, as a test for her. Yet, this test also earned her a higher grade in this life and the Hereafter, for Allah demonstrated His might by creating a son inside her without male intervention. Allah said,
يمَرْيَمُ اقْنُتِى لِرَبِّكِ وَاسْجُدِى وَارْكَعِى مَعَ الرَكِعِينَ
("O Maryam! Submit yourself with obedience (Aqnuti) and prostrate yourself, and bow down along with Ar-Raki`in.")
As for Qunut (Aqnuti in the Ayah), it means to submit with humbleness. In another Ayah, Allah said,
بَل لَّهُ مَا فِي السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ كُلٌّ لَّهُ قَـنِتُونَ
(Nay, to Him belongs all that is in the heavens and on earth, and all surrender with obedience (Qanitun) to Him.) 2:116
Allah next said to His Messenger after He mentioned Maryam's story,
ذَلِكَ مِنْ أَنبَآءِ الْغَيْبِ نُوحِيهِ إِلَيْكَ
(This is a part of the news of the Ghayb which We reveal.) "and narrate to you (O Muhammad ), "
وَمَا كُنتَ لَدَيْهِمْ إِذْ يُلْقُون أَقْلَـمَهُمْ أَيُّهُمْ يَكْفُلُ مَرْيَمَ وَمَا كُنتَ لَدَيْهِمْ إِذْ يَخْتَصِمُونَ
(You were not with them, when they cast lots with their pens as to which of them should be charged with the care of Maryam; nor were you with them when they disputed.) meaning, "You were not present, O Muhammad, when this occurred, so you cannot narrate what happened to the people as an eye witness. Rather, Allah disclosed these facts to you as if you were a witness, when they conducted a lottery to choose the custodian of Maryam, seeking the reward of this good deed."
Ibn Jarir recorded that `Ikrimah said, "Maryam's mother left with Maryam, carrying her in her infant cloth, and took her to the rabbis from the offspring of Aaron, the brother of Musa. They were responsible for taking care of Bayt Al-Maqdis (the Masjid) at that time, just as there were those who took care of the Ka`bah. Maryam's mother said to them, `Take this child whom I vowed to serve the Masjid, I have set her free, since she is my daughter, for no menstruating woman should enter the Masjid, and I shall not take her back home.' They said, `She is the daughter of our Imam,' as `Imran used to lead them in prayer, `who took care of our sacrificial rituals.' Zakariyya said, `Give her to me, for her maternal aunt is my wife.' They said, `Our hearts cannot bear that you take her, for she is the daughter of our Imam.' So they conducted a lottery with the pens with which they wrote the Tawrah, and Zakariyya won the lottery and took Maryam into his care."'. `Ikrimah, As-Suddi, Qatadah, Ar-Rabi` bin Anas, and several others said that the rabbis went into the Jordan river and conducted a lottery there, deciding to throw their pens into the river. The pen that remained afloat and idle would indicate that its owner would take care of Maryam. When they threw their pens into the river, the water took all the pens under, except Zakariyya's pen, which remained afloat in its place. Zakariyya was also their master, chief, scholar, Imam and Prophet, may Allah's peace and blessings be on him and the rest of the Prophets.
تین افضل ترین عورتیں یہاں بیان ہو رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے مریم (علیہما السلام) کو فرشتوں نے خبر پہنچائی کہ اللہ نے انہیں ان کی کثرت عبادت ان کی دنیا کی بےرغبتی کی شرافت اور شیطانی وسو اس سے دوری کی وجہ سے اپنے قرب خاص عنایت فرمادیا ہے، اور تمام جہان کی عورتوں پر انہیں خاص فضیلت دے رکھی ہے، صحیح مسلم شریف وغیرہ میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جنتی عورتیں اونٹ پر سوار ہونے والیاں ہیں ان میں سے بہتر عورتیں قریش کی ہیں جو اپنے چھوٹے بچوں پر بہت ہی شفقت اور پیار کرنے والی اور اپنے خاوند کی چیزوں کی پوری حفاظت کرنے والی ہیں، حضرت مریم بنت عمران اونٹ پر کبھی سوار نہیں ہوئی، بخاری و مسلم کی ایک حدیث میں ہے عورتوں میں سے بہتر عورت حضرت مریم بنت عمران ہیں اور عورتوں میں سے بہتر عورت حضرت خدیجہ بنت خویلد ہیں ؓ ترمذی کی صحیح حدیث میں ہے ساری دنیا کی عورتوں میں سے تجھے مریم بنت عمران، خدیجہ بنت خویلد، فاطمہ بنت محمد، آسیہ فرعون کی بیوی ہیں ؓ اور حدیث میں ہے یہ چاروں عورتیں تمام عالم کی عورتوں سے افضل اور بہتر ہیں اور حدیث میں ہے مردوں میں سے کامل مرد بہت سے ہیں لیکن عورتوں میں کمال والی عورتیں صرف تین ہیں، مریم بنت عمران، آسیہ فرعون کی بیوی اور خدیجہ بنت خویلد اور عائشہ کی فضیلت عورتوں پر ایسی ہے جیسے ثرید یعنی گوشت کے شوربے میں بھگوئی ہوئی روٹی کی تمام کھانوں پر یہ حدیث ابو داؤد کے علاوہ اور سب کتابوں میں ہے، صحیح بخاری شریف کی اس حدیث میں حضرت خدیجہ کا ذکر نہیں، میں نے اس حدیث کی تمام سندیں اور ہر سند کے الفاظ اپنی کتاب البدایہ والنہایہ میں حضرت عیسیٰ کے ذکر میں جمع کر دئیے ہیں وللہ الحمد والمنۃ پھر فرشتے فرماتے ہیں کہ اے مریم تو خشوع و خضوع رکوع و سجود میں رہا کر اللہ تبارک وتعالیٰ تجھے اپنی قدرت کا ایک عظیم الشان نشان بنانے والا ہے اس لئے تجھے رب کی طرف پوری رغبت رکھنی چاہئے، قنوت کے معنی اطاعت کے ہیں جو عاجزی اور دل کی حاضری کے ساتھ ہو، جیسے ارشاد آیت (وَلَهٗ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ كُلٌّ لَّهٗ قٰنِتُوْنَ) 30۔ الروم :26) یعنی اس کی ماتحتی اور ملکیت میں زمین و آسمان کی ہر چیز ہے سب کے سب اس کے محکوم اور تابع فرمان ہیں، ابن ابی حاتم کی ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ قرآن میں جہاں کہیں قنوت کا لفظ ہے اس سے مراد اطاعت گذاری ہے، یہی حدیث ابن جریر میں بھی ہے لیکن سند میں نکارت ہے، حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ حضرت مریم (علیہما السلام) نماز میں اتنا لمبا قیام کرتی تھیں کہ دونوں ٹخنوں پر ورم آجاتا تھا، قنوت سے مراد نماز میں لمبے لمبے رکوع کرنا ہے، حسن بصری ؒ کا قول ہے کہ اس سے یہ مراد ہے کہ اپنے رب کی عبادت میں مشغول رہ اور رکوع سجدہ کرنے والوں میں سے ہوجا، حضرت اوزاعی فرماتے ہیں کہ مریم صدیقہ اپنے عبادت خانے میں اس قدر بکثرت باخشوع اور لمبی نمازیں پڑھا کرتی تھیں کہ دونوں پیروں میں زرد پانی اتر آیا، ؓ و رضاہا۔ یہ اہم خبریں بیان کر کے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے نبی ﷺ ان باتوں کا علم تمہیں صرف میری وحی سے ہوا ورنہ تمہیں کیا خبر ؟ تم کچھ اس وقت ان کے پاس تھوڑے ہی موجود تھے جو ان واقعات کی خبر لوگوں کو پہنچاتے ؟ لیکن اپنی وحی سے ہم نے ان واقعات کو اس طرح آپ پر کھول دیا گویا آپ اس وقت خود موجود تھے جبکہ حضرت مریم کی پرورش کے بارے میں ہر ایک دوسرے پر سبقت کرتا تھا سب کی چاہت تھی کہ اس دولت سے مالا مال ہوجاؤں اور یہ اجر مجھے مل جائے، جب آپ کی والدہ صاحبہ آپ کو لے کر بیت المقدس کی مسجد سلیمانی میں تشریف لائیں اور وہاں کے خادموں سے جو حضرت موسیٰ کے بھائی اور حضرت ہارون کی نسل میں سے تھے کہا کہ میں انہیں اپنی نذر کے مطابق نام اللہ پر آزاد کرچکی ہوں تم اسے سنبھالو، یہ ظاہر ہے کہ لڑکی ہے اور یہ بھی معلوم ہے کہ حیض کی حالت میں عورتیں مسجد میں نہیں آسکتیں اب تم جانو تمہارا کام، میں تو اسے گھر واپس نہیں لے جاسکتی کیونکہ نام اللہ اسے نذر کرچکی ہوں، حضرت عمران یہاں کے امام نماز تھے اور قربانیوں کے مہتمم تھے اور یہ ان کی صاحبزادی تھیں تو ہر ایک نے بڑی چاہت سے ان کے لئے ہاتھ پھیلا دئیے ادھر سے حضرت زکریا نے اپنا ایک حق اور جتایا کہ میں رشتہ میں بھی ان کا خالو ہوتا ہوں تو یہ لڑکی مجھ ہی کو ملنی چاہیے اور لوگ راضی نہ ہوئے آخر قرعہ ڈالا گیا اور قرعہ میں ان سب نے اپنی وہ قلمیں ڈالیں جن سے توراۃ لکھتے تھے، تو قرعہ حضرت زکریا کے نام نکلا اور یہی اس سعادت سے مشرف ہوئے دوسری مفصل روایتوں میں یہ بھی ہے کہ نہر اردن پر جا کر یہ قلمیں ڈالی گئیں کہ پانی کے بہاؤ کے ساتھ جو قلم نکل جائے وہ نہیں اور جس کا قلم ٹھہر جائے وہ حضرت مریم کا کفیل بنے، چناچہ سب کی قلمیں تو پانی بہا کرلے گیا صرف حضرت زکریا کا قلم ٹھہر گیا بلکہ الٹا اوپر کو چڑھنے لگا تو ایک تو قرعے میں ان کا نام نکلا دوسرے قریب کے رشتہ داری تھے پھر یہ خود ان تمام کے سردار امام مالک نبی تھے صلوات اللہ وسلامہ علیہ پس انہی کو حضرت مریم سونپ دی گئیں۔
45
View Single
إِذۡ قَالَتِ ٱلۡمَلَـٰٓئِكَةُ يَٰمَرۡيَمُ إِنَّ ٱللَّهَ يُبَشِّرُكِ بِكَلِمَةٖ مِّنۡهُ ٱسۡمُهُ ٱلۡمَسِيحُ عِيسَى ٱبۡنُ مَرۡيَمَ وَجِيهٗا فِي ٱلدُّنۡيَا وَٱلۡأٓخِرَةِ وَمِنَ ٱلۡمُقَرَّبِينَ
And remember when the angels said, “O Maryam! Allah gives you glad tidings of a Word from Him, whose name is the Messiah, Eisa the son of Maryam – he will be honourable in this world and in the Hereafter, and among the close ones (to Allah).”
جب فرشتوں نے کہا: اے مریم! بیشک اللہ تمہیں اپنے پاس سے ایک کلمۂ (خاص) کی بشارت دیتا ہے جس کا نام مسیح عیسٰی بن مریم (علیھما السلام) ہوگا وہ دنیا اور آخرت (دونوں) میں قدر و منزلت والا ہو گا اور اللہ کے خاص قربت یافتہ بندوں میں سے ہوگا
Tafsir Ibn Kathir
Delivering the Good News to Maryam of `Isa's Birth
This Ayah contains the glad tidings the angels brought to Maryam that she would give birth to a mighty son who will have a great future. Allah said,
إِذْ قَالَتِ الْمَلَـئِكَةُ يمَرْيَمُ إِنَّ اللَّهَ يُبَشِّرُكِ بِكَلِمَةٍ مِّنْهُ
((Remember) when the angels said: "O Maryam! Verily, Allah gives you the glad tidings of a Word from Him,) a son who will come into existence with a word from Allah, `Be', and he was. This is the meaning of Allah's statement (about Yahya)
مُصَدِّقاً بِكَلِمَةٍ مِّنَ اللَّهِ
(Believing in the Word from Allah.) 3:39, according to the majority of the scholars.
اسْمُهُ الْمَسِيحُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ
(His name will be Al-Masih, `Isa, the son of Maryam) and he will be known by this name in this life, especially by the believers. `Isa was called "Al-Masih" (the Messiah) because when he touched (Mash) those afflicted with an illness, they would be healed by Allah's leave. Allah's statement,
عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ
(`Isa, the son of Maryam) relates `Isa to his mother, because he did not have a father.
وَجِيهًا فِي الدُّنْيَا وَالاٌّخِرَةِ وَمِنَ الْمُقَرَّبِينَ
(Held in honor in this world and in the Hereafter, and will be one of those who are near to Allah.) meaning, he will be a leader and honored by Allah in this life, because of the Law that Allah will reveal to him, sending down the Scripture to him, along with the other bounties that Allah will grant him with. `Isa will be honored in the Hereafter and will intercede with Allah, by His leave, on behalf of some people, just as is the case with his brethren the mighty Messengers of Allah ﷺ, peace be upon them all.
`Isa Spoke When He was Still in the Cradle
Allah said,
وَيُكَلِّمُ النَّاسَ فِى الْمَهْدِ وَكَهْلاً
(He will speak to the people, in the cradle and in manhood,) calling to the worship of Allah Alone without partners, while still in the cradle, as a miracle from Allah, and when he is a man, by Allah's revelation to him.
Muhammad bin Ishaq recorded that Abu Hurayrah said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«مَا تَكَلَّمَ مَوْلُودٌ فِي صِغَرِهِ إِلَّا عِيسَى وَصَاحِبُ جُرَيْج»
(No infant spoke in the cradle except `Isa and the companion of Jurayj.)
Ibn Abi Hatim recorded that Abu Hurayrah said that the Prophet said,
«لَمْ يَتَكَلَّمْ فِي الْمَهْدِ إِلَّا ثَلَاثَةٌ: عِيسَى، وَصَبِيٌّ كَانَ فِي زَمَنِ جُرَيْجٍ، وَصَبِيٌّ آخَر»
(No infant spoke in the cradle except three, `Isa, the boy during the time of Jurayj, and another boy.)
وَمِنَ الصَّـلِحِينَ
(And he will be one of the righteous.) in his statements and actions, for he will possess, pure knowledge and righteous works.
`Isa was Created Without a Father
When Maryam heard the good news that the angels conveyed from Allah, she said;
رَبِّ أَنَّى يَكُونُ لِى وَلَدٌ وَلَمْ يَمْسَسْنِى بَشَرٌ
("O my Lord! How shall I have a son when no man has touched me.")
Mary said, "How can I have a son while I did not marry, nor intend to marry, nor am I an indecent woman, may Allah forbid" The angel conveyed to Maryam, Allah's answer,
كَذَلِكَ اللَّهُ يَخْلُقُ مَا يَشَآءُ
(So (it will be) for Allah creates what He wills.)
He is Mighty in power and nothing escapes His ability. Allah used the word `create' here instead of the word `does' as in the tale about Zakariyya 3:40, to eradicate any evil thought concerning `Isa. Allah next emphasized this fact when He said,
إِذَا قَضَى أَمْرًا فَإِنَّمَا يَقُولُ لَهُ كُن فَيَكُونُ
(When He has decreed something, He says to it only: "Be! ـ and it is.) meaning, what Allah wills, comes into existence instantly and without delay. In another Ayah, Allah said,
وَمَآ أَمْرُنَآ إِلاَّ وَحِدَةٌ كَلَمْحٍ بِالْبَصَرِ
(And Our commandment is but one as the twinkling of an eye.) 54:50, meaning, "We only issue the command once, and it comes into existence instantly, as fast as, and faster than, a blink of the eye. "
مسیح ابن مریم ؑ یہ خوشخبری حضرت مریم کو فرشتے سنا رہے ہیں کہ ان سے ایک لڑکا ہوگا جو بڑی شان والا اور صرف اللہ کے کلمہ " کن " کے کہنے سے ہوگا یہی تفسیر اللہ تعالیٰ کے فرمان آیت (مُصَدِّقًۢـا بِكَلِمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ وَسَيِّدًا وَّحَصُوْرًا وَّنَبِيًّا مِّنَ الصّٰلِحِيْنَ) 3۔ آل عمران :39) کی بھی ہے، جیسے کہ جمہور نے ذکر کیا اور جس کا بیان اس سے پہلے گذر چکا، اس کا نام مسیح ہوگا، عیسیٰ بیٹا مریم ؑ کا، ہر مومن اسے اسی نام سے پہچانے گا، مسیح نام ہونے کی وجہ یہ ہے کہ زمین میں وہ بکثرت سیاحت کریں گے، ماں کی طرف منسوب کرنے کی وجہ یہ ہے کہ ان کا باپ کوئی نہ تھا۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ دونوں جہان میں برگزیدہ ہیں اور مقربان خاص میں سے ہیں، ان پر اللہ عزوجل کی شریعت اور کتاب اترے گی اور بڑی بڑی مہربانیاں ان پر دنیا میں نازل ہوں گی اور آخرت میں بھی اور اولوالعزم پیغمبروں کی طرح اللہ کے حکم سے جس کے لئے اللہ چاہے گا وہ شفاعت کریں گے جو قبول ہوجائیں گی صلوات اللہ وسلامہ علیہ وعلیھم اجمعین وہ اپنے جھولے میں اور ادھیڑ عمر میں باتیں کریں گے یعنی اللہ وحدہ لا شریک لہ کی عبادت کی لوگوں کو بچنے ہی میں دعوت دیں گے جو ان کا معجزہ ہوگا اور بڑی عمر میں بھی جب اللہ ان کی طرف وحی کرے گا، وہ اپنے قول و فعل میں علم صحیح رکھنے والے اور عمل صالح کرنے والے ہوں گے، ایک حدیث میں ہے کہ بچپن میں کلام صرف حضرت عیسیٰ اور جریج کے ساتھی نے کیا اور ان کے علاوہ حدیث میں ایک اور بچے کا کلام کرنا بھی مروی ہے تو یہ تین ہوئے حضرت مریم اس بشارت کو سن کر اپنی مناجات میں کہنے لگیں اللہ مجھے بچہ کیسے ہوگا ؟ میں نے تو نکاح نہیں کیا اور نہ میرا ارادہ نکاح کرنے کا ہے اور نہ میں ایسی بدکار عورت ہوں ماشاء اللہ، اللہ عزوجل کی طرف سے فرشتے نے جواب میں کہا کہ اللہ کا امر بہت بڑا ہے اسے کوئی چیز عاجز نہیں کرسکتی وہ جو چاہے پیدا کر دے، اس نکتے کو خیال میں رکھنا چاہئے کہ حضرت زکریا کے اس سوال کے جواب میں اس جگہ لفظ یفعل تھا یہاں لفظ یخلق ہے یعنی پیدا کرتا ہے۔ اس لئے کہ کسی باطل پرست کو کسی شبہ کا موقع باقی نہ رہے اور صاف لفظوں میں حضرت عیسیٰ کا اللہ جل شانہ کی مخلوق ہونا معلوم ہوجائے۔ پھر اس کی مزید تاکید کی اور فرمایا وہ جس کسی کام کو جب کبھی کرنا چاہتا ہے تو صرف اتنا فرما دیتا ہے کہ ہوجا، بس وہ وہیں ہوجاتا ہے اس کے حکم کے بعد ڈھیل اور دیر نہیں لگتی، جیسے اور جگہ ہے آیت (وَمَآ اَمْرُنَآ اِلَّا وَاحِدَةٌ كَلَمْحٍۢ بِالْبَصَرِ) 54۔ القمر :50) یعنی ہمارے صرف ایک مرتبہ کے حکم سے ہی بلاتاخیر فی الفور آنکھ جھپکتے ہی وہ کام ہوجاتا ہے ہمیں دوبارہ اسے کہنا نہیں پڑتا۔
46
View Single
وَيُكَلِّمُ ٱلنَّاسَ فِي ٱلۡمَهۡدِ وَكَهۡلٗا وَمِنَ ٱلصَّـٰلِحِينَ
“He will speak to people while he is in the cradle and in his adulthood, and will be of the devoted ones.”
اور وہ لوگوں سے گہوارے میں اور پختہ عمر میں (یکساں) گفتگو کرے گا اور وہ (اللہ کے) نیکوکار بندوں میں سے ہو گا
Tafsir Ibn Kathir
Delivering the Good News to Maryam of `Isa's Birth
This Ayah contains the glad tidings the angels brought to Maryam that she would give birth to a mighty son who will have a great future. Allah said,
إِذْ قَالَتِ الْمَلَـئِكَةُ يمَرْيَمُ إِنَّ اللَّهَ يُبَشِّرُكِ بِكَلِمَةٍ مِّنْهُ
((Remember) when the angels said: "O Maryam! Verily, Allah gives you the glad tidings of a Word from Him,) a son who will come into existence with a word from Allah, `Be', and he was. This is the meaning of Allah's statement (about Yahya)
مُصَدِّقاً بِكَلِمَةٍ مِّنَ اللَّهِ
(Believing in the Word from Allah.) 3:39, according to the majority of the scholars.
اسْمُهُ الْمَسِيحُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ
(His name will be Al-Masih, `Isa, the son of Maryam) and he will be known by this name in this life, especially by the believers. `Isa was called "Al-Masih" (the Messiah) because when he touched (Mash) those afflicted with an illness, they would be healed by Allah's leave. Allah's statement,
عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ
(`Isa, the son of Maryam) relates `Isa to his mother, because he did not have a father.
وَجِيهًا فِي الدُّنْيَا وَالاٌّخِرَةِ وَمِنَ الْمُقَرَّبِينَ
(Held in honor in this world and in the Hereafter, and will be one of those who are near to Allah.) meaning, he will be a leader and honored by Allah in this life, because of the Law that Allah will reveal to him, sending down the Scripture to him, along with the other bounties that Allah will grant him with. `Isa will be honored in the Hereafter and will intercede with Allah, by His leave, on behalf of some people, just as is the case with his brethren the mighty Messengers of Allah ﷺ, peace be upon them all.
`Isa Spoke When He was Still in the Cradle
Allah said,
وَيُكَلِّمُ النَّاسَ فِى الْمَهْدِ وَكَهْلاً
(He will speak to the people, in the cradle and in manhood,) calling to the worship of Allah Alone without partners, while still in the cradle, as a miracle from Allah, and when he is a man, by Allah's revelation to him.
Muhammad bin Ishaq recorded that Abu Hurayrah said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«مَا تَكَلَّمَ مَوْلُودٌ فِي صِغَرِهِ إِلَّا عِيسَى وَصَاحِبُ جُرَيْج»
(No infant spoke in the cradle except `Isa and the companion of Jurayj.)
Ibn Abi Hatim recorded that Abu Hurayrah said that the Prophet said,
«لَمْ يَتَكَلَّمْ فِي الْمَهْدِ إِلَّا ثَلَاثَةٌ: عِيسَى، وَصَبِيٌّ كَانَ فِي زَمَنِ جُرَيْجٍ، وَصَبِيٌّ آخَر»
(No infant spoke in the cradle except three, `Isa, the boy during the time of Jurayj, and another boy.)
وَمِنَ الصَّـلِحِينَ
(And he will be one of the righteous.) in his statements and actions, for he will possess, pure knowledge and righteous works.
`Isa was Created Without a Father
When Maryam heard the good news that the angels conveyed from Allah, she said;
رَبِّ أَنَّى يَكُونُ لِى وَلَدٌ وَلَمْ يَمْسَسْنِى بَشَرٌ
("O my Lord! How shall I have a son when no man has touched me.")
Mary said, "How can I have a son while I did not marry, nor intend to marry, nor am I an indecent woman, may Allah forbid" The angel conveyed to Maryam, Allah's answer,
كَذَلِكَ اللَّهُ يَخْلُقُ مَا يَشَآءُ
(So (it will be) for Allah creates what He wills.)
He is Mighty in power and nothing escapes His ability. Allah used the word `create' here instead of the word `does' as in the tale about Zakariyya 3:40, to eradicate any evil thought concerning `Isa. Allah next emphasized this fact when He said,
إِذَا قَضَى أَمْرًا فَإِنَّمَا يَقُولُ لَهُ كُن فَيَكُونُ
(When He has decreed something, He says to it only: "Be! ـ and it is.) meaning, what Allah wills, comes into existence instantly and without delay. In another Ayah, Allah said,
وَمَآ أَمْرُنَآ إِلاَّ وَحِدَةٌ كَلَمْحٍ بِالْبَصَرِ
(And Our commandment is but one as the twinkling of an eye.) 54:50, meaning, "We only issue the command once, and it comes into existence instantly, as fast as, and faster than, a blink of the eye. "
مسیح ابن مریم ؑ یہ خوشخبری حضرت مریم کو فرشتے سنا رہے ہیں کہ ان سے ایک لڑکا ہوگا جو بڑی شان والا اور صرف اللہ کے کلمہ " کن " کے کہنے سے ہوگا یہی تفسیر اللہ تعالیٰ کے فرمان آیت (مُصَدِّقًۢـا بِكَلِمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ وَسَيِّدًا وَّحَصُوْرًا وَّنَبِيًّا مِّنَ الصّٰلِحِيْنَ) 3۔ آل عمران :39) کی بھی ہے، جیسے کہ جمہور نے ذکر کیا اور جس کا بیان اس سے پہلے گذر چکا، اس کا نام مسیح ہوگا، عیسیٰ بیٹا مریم ؑ کا، ہر مومن اسے اسی نام سے پہچانے گا، مسیح نام ہونے کی وجہ یہ ہے کہ زمین میں وہ بکثرت سیاحت کریں گے، ماں کی طرف منسوب کرنے کی وجہ یہ ہے کہ ان کا باپ کوئی نہ تھا۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ دونوں جہان میں برگزیدہ ہیں اور مقربان خاص میں سے ہیں، ان پر اللہ عزوجل کی شریعت اور کتاب اترے گی اور بڑی بڑی مہربانیاں ان پر دنیا میں نازل ہوں گی اور آخرت میں بھی اور اولوالعزم پیغمبروں کی طرح اللہ کے حکم سے جس کے لئے اللہ چاہے گا وہ شفاعت کریں گے جو قبول ہوجائیں گی صلوات اللہ وسلامہ علیہ وعلیھم اجمعین وہ اپنے جھولے میں اور ادھیڑ عمر میں باتیں کریں گے یعنی اللہ وحدہ لا شریک لہ کی عبادت کی لوگوں کو بچنے ہی میں دعوت دیں گے جو ان کا معجزہ ہوگا اور بڑی عمر میں بھی جب اللہ ان کی طرف وحی کرے گا، وہ اپنے قول و فعل میں علم صحیح رکھنے والے اور عمل صالح کرنے والے ہوں گے، ایک حدیث میں ہے کہ بچپن میں کلام صرف حضرت عیسیٰ اور جریج کے ساتھی نے کیا اور ان کے علاوہ حدیث میں ایک اور بچے کا کلام کرنا بھی مروی ہے تو یہ تین ہوئے حضرت مریم اس بشارت کو سن کر اپنی مناجات میں کہنے لگیں اللہ مجھے بچہ کیسے ہوگا ؟ میں نے تو نکاح نہیں کیا اور نہ میرا ارادہ نکاح کرنے کا ہے اور نہ میں ایسی بدکار عورت ہوں ماشاء اللہ، اللہ عزوجل کی طرف سے فرشتے نے جواب میں کہا کہ اللہ کا امر بہت بڑا ہے اسے کوئی چیز عاجز نہیں کرسکتی وہ جو چاہے پیدا کر دے، اس نکتے کو خیال میں رکھنا چاہئے کہ حضرت زکریا کے اس سوال کے جواب میں اس جگہ لفظ یفعل تھا یہاں لفظ یخلق ہے یعنی پیدا کرتا ہے۔ اس لئے کہ کسی باطل پرست کو کسی شبہ کا موقع باقی نہ رہے اور صاف لفظوں میں حضرت عیسیٰ کا اللہ جل شانہ کی مخلوق ہونا معلوم ہوجائے۔ پھر اس کی مزید تاکید کی اور فرمایا وہ جس کسی کام کو جب کبھی کرنا چاہتا ہے تو صرف اتنا فرما دیتا ہے کہ ہوجا، بس وہ وہیں ہوجاتا ہے اس کے حکم کے بعد ڈھیل اور دیر نہیں لگتی، جیسے اور جگہ ہے آیت (وَمَآ اَمْرُنَآ اِلَّا وَاحِدَةٌ كَلَمْحٍۢ بِالْبَصَرِ) 54۔ القمر :50) یعنی ہمارے صرف ایک مرتبہ کے حکم سے ہی بلاتاخیر فی الفور آنکھ جھپکتے ہی وہ کام ہوجاتا ہے ہمیں دوبارہ اسے کہنا نہیں پڑتا۔
47
View Single
قَالَتۡ رَبِّ أَنَّىٰ يَكُونُ لِي وَلَدٞ وَلَمۡ يَمۡسَسۡنِي بَشَرٞۖ قَالَ كَذَٰلِكِ ٱللَّهُ يَخۡلُقُ مَا يَشَآءُۚ إِذَا قَضَىٰٓ أَمۡرٗا فَإِنَّمَا يَقُولُ لَهُۥ كُن فَيَكُونُ
She said, “My Lord! How can I bear a child when no man has ever touched me?” He said, “This is how Allah creates whatever He wills; when He wills a thing, He only says to it, ‘Be’ – and it happens immediately.”
(مریم علیہا السلام نے) عرض کیا: اے میرے رب! میرے ہاں کیسے لڑکا ہوگا درآنحالیکہ مجھے تو کسی شخص نے ہاتھ تک نہیں لگایا، ارشاد ہوا: اسی طرح اللہ جو چاہتا ہے پیدا فرماتا ہے، جب کسی کام (کے کرنے) کا فیصلہ فرما لیتا ہے تو اس سے فقط اتنا فرماتا ہے کہ ’ہو جا‘ وہ ہو جاتا ہے
Tafsir Ibn Kathir
Delivering the Good News to Maryam of `Isa's Birth
This Ayah contains the glad tidings the angels brought to Maryam that she would give birth to a mighty son who will have a great future. Allah said,
إِذْ قَالَتِ الْمَلَـئِكَةُ يمَرْيَمُ إِنَّ اللَّهَ يُبَشِّرُكِ بِكَلِمَةٍ مِّنْهُ
((Remember) when the angels said: "O Maryam! Verily, Allah gives you the glad tidings of a Word from Him,) a son who will come into existence with a word from Allah, `Be', and he was. This is the meaning of Allah's statement (about Yahya)
مُصَدِّقاً بِكَلِمَةٍ مِّنَ اللَّهِ
(Believing in the Word from Allah.) 3:39, according to the majority of the scholars.
اسْمُهُ الْمَسِيحُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ
(His name will be Al-Masih, `Isa, the son of Maryam) and he will be known by this name in this life, especially by the believers. `Isa was called "Al-Masih" (the Messiah) because when he touched (Mash) those afflicted with an illness, they would be healed by Allah's leave. Allah's statement,
عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ
(`Isa, the son of Maryam) relates `Isa to his mother, because he did not have a father.
وَجِيهًا فِي الدُّنْيَا وَالاٌّخِرَةِ وَمِنَ الْمُقَرَّبِينَ
(Held in honor in this world and in the Hereafter, and will be one of those who are near to Allah.) meaning, he will be a leader and honored by Allah in this life, because of the Law that Allah will reveal to him, sending down the Scripture to him, along with the other bounties that Allah will grant him with. `Isa will be honored in the Hereafter and will intercede with Allah, by His leave, on behalf of some people, just as is the case with his brethren the mighty Messengers of Allah ﷺ, peace be upon them all.
`Isa Spoke When He was Still in the Cradle
Allah said,
وَيُكَلِّمُ النَّاسَ فِى الْمَهْدِ وَكَهْلاً
(He will speak to the people, in the cradle and in manhood,) calling to the worship of Allah Alone without partners, while still in the cradle, as a miracle from Allah, and when he is a man, by Allah's revelation to him.
Muhammad bin Ishaq recorded that Abu Hurayrah said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«مَا تَكَلَّمَ مَوْلُودٌ فِي صِغَرِهِ إِلَّا عِيسَى وَصَاحِبُ جُرَيْج»
(No infant spoke in the cradle except `Isa and the companion of Jurayj.)
Ibn Abi Hatim recorded that Abu Hurayrah said that the Prophet said,
«لَمْ يَتَكَلَّمْ فِي الْمَهْدِ إِلَّا ثَلَاثَةٌ: عِيسَى، وَصَبِيٌّ كَانَ فِي زَمَنِ جُرَيْجٍ، وَصَبِيٌّ آخَر»
(No infant spoke in the cradle except three, `Isa, the boy during the time of Jurayj, and another boy.)
وَمِنَ الصَّـلِحِينَ
(And he will be one of the righteous.) in his statements and actions, for he will possess, pure knowledge and righteous works.
`Isa was Created Without a Father
When Maryam heard the good news that the angels conveyed from Allah, she said;
رَبِّ أَنَّى يَكُونُ لِى وَلَدٌ وَلَمْ يَمْسَسْنِى بَشَرٌ
("O my Lord! How shall I have a son when no man has touched me.")
Mary said, "How can I have a son while I did not marry, nor intend to marry, nor am I an indecent woman, may Allah forbid" The angel conveyed to Maryam, Allah's answer,
كَذَلِكَ اللَّهُ يَخْلُقُ مَا يَشَآءُ
(So (it will be) for Allah creates what He wills.)
He is Mighty in power and nothing escapes His ability. Allah used the word `create' here instead of the word `does' as in the tale about Zakariyya 3:40, to eradicate any evil thought concerning `Isa. Allah next emphasized this fact when He said,
إِذَا قَضَى أَمْرًا فَإِنَّمَا يَقُولُ لَهُ كُن فَيَكُونُ
(When He has decreed something, He says to it only: "Be! ـ and it is.) meaning, what Allah wills, comes into existence instantly and without delay. In another Ayah, Allah said,
وَمَآ أَمْرُنَآ إِلاَّ وَحِدَةٌ كَلَمْحٍ بِالْبَصَرِ
(And Our commandment is but one as the twinkling of an eye.) 54:50, meaning, "We only issue the command once, and it comes into existence instantly, as fast as, and faster than, a blink of the eye. "
مسیح ابن مریم ؑ یہ خوشخبری حضرت مریم کو فرشتے سنا رہے ہیں کہ ان سے ایک لڑکا ہوگا جو بڑی شان والا اور صرف اللہ کے کلمہ " کن " کے کہنے سے ہوگا یہی تفسیر اللہ تعالیٰ کے فرمان آیت (مُصَدِّقًۢـا بِكَلِمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ وَسَيِّدًا وَّحَصُوْرًا وَّنَبِيًّا مِّنَ الصّٰلِحِيْنَ) 3۔ آل عمران :39) کی بھی ہے، جیسے کہ جمہور نے ذکر کیا اور جس کا بیان اس سے پہلے گذر چکا، اس کا نام مسیح ہوگا، عیسیٰ بیٹا مریم ؑ کا، ہر مومن اسے اسی نام سے پہچانے گا، مسیح نام ہونے کی وجہ یہ ہے کہ زمین میں وہ بکثرت سیاحت کریں گے، ماں کی طرف منسوب کرنے کی وجہ یہ ہے کہ ان کا باپ کوئی نہ تھا۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ دونوں جہان میں برگزیدہ ہیں اور مقربان خاص میں سے ہیں، ان پر اللہ عزوجل کی شریعت اور کتاب اترے گی اور بڑی بڑی مہربانیاں ان پر دنیا میں نازل ہوں گی اور آخرت میں بھی اور اولوالعزم پیغمبروں کی طرح اللہ کے حکم سے جس کے لئے اللہ چاہے گا وہ شفاعت کریں گے جو قبول ہوجائیں گی صلوات اللہ وسلامہ علیہ وعلیھم اجمعین وہ اپنے جھولے میں اور ادھیڑ عمر میں باتیں کریں گے یعنی اللہ وحدہ لا شریک لہ کی عبادت کی لوگوں کو بچنے ہی میں دعوت دیں گے جو ان کا معجزہ ہوگا اور بڑی عمر میں بھی جب اللہ ان کی طرف وحی کرے گا، وہ اپنے قول و فعل میں علم صحیح رکھنے والے اور عمل صالح کرنے والے ہوں گے، ایک حدیث میں ہے کہ بچپن میں کلام صرف حضرت عیسیٰ اور جریج کے ساتھی نے کیا اور ان کے علاوہ حدیث میں ایک اور بچے کا کلام کرنا بھی مروی ہے تو یہ تین ہوئے حضرت مریم اس بشارت کو سن کر اپنی مناجات میں کہنے لگیں اللہ مجھے بچہ کیسے ہوگا ؟ میں نے تو نکاح نہیں کیا اور نہ میرا ارادہ نکاح کرنے کا ہے اور نہ میں ایسی بدکار عورت ہوں ماشاء اللہ، اللہ عزوجل کی طرف سے فرشتے نے جواب میں کہا کہ اللہ کا امر بہت بڑا ہے اسے کوئی چیز عاجز نہیں کرسکتی وہ جو چاہے پیدا کر دے، اس نکتے کو خیال میں رکھنا چاہئے کہ حضرت زکریا کے اس سوال کے جواب میں اس جگہ لفظ یفعل تھا یہاں لفظ یخلق ہے یعنی پیدا کرتا ہے۔ اس لئے کہ کسی باطل پرست کو کسی شبہ کا موقع باقی نہ رہے اور صاف لفظوں میں حضرت عیسیٰ کا اللہ جل شانہ کی مخلوق ہونا معلوم ہوجائے۔ پھر اس کی مزید تاکید کی اور فرمایا وہ جس کسی کام کو جب کبھی کرنا چاہتا ہے تو صرف اتنا فرما دیتا ہے کہ ہوجا، بس وہ وہیں ہوجاتا ہے اس کے حکم کے بعد ڈھیل اور دیر نہیں لگتی، جیسے اور جگہ ہے آیت (وَمَآ اَمْرُنَآ اِلَّا وَاحِدَةٌ كَلَمْحٍۢ بِالْبَصَرِ) 54۔ القمر :50) یعنی ہمارے صرف ایک مرتبہ کے حکم سے ہی بلاتاخیر فی الفور آنکھ جھپکتے ہی وہ کام ہوجاتا ہے ہمیں دوبارہ اسے کہنا نہیں پڑتا۔
48
View Single
وَيُعَلِّمُهُ ٱلۡكِتَٰبَ وَٱلۡحِكۡمَةَ وَٱلتَّوۡرَىٰةَ وَٱلۡإِنجِيلَ
“And Allah will teach him the Book and wisdom, and the Taurat (Torah) and the Injeel (Bible).”
اور اللہ اسے کتاب اور حکمت اور تورات اور انجیل (سب کچھ) سکھائے گا
Tafsir Ibn Kathir
The Description of `Isa and the Miracles He Performed
Allah states that the good news brought to Maryam about `Isa was even better because Allah would teach him,
الْكِتَـبَ وَالْحِكْمَةَ
(the Book and Al-Hikmah). It appears that the `Book' the Ayah mentioned here refers to writing. We explained the meaning of Al-Hikmah in the Tafsir of Surat Al-Baqarah.
التَّوْرَاةَ وَالإِنجِيلَ
(the Tawrah and the Injil). The Tawrah is the Book that Allah sent down to Musa, son of `Imran, while the Injil is what Allah sent down to `Isa, son of Maryam, peace be upon them, and `Isa memorized both Books. Allah's statement,
وَرَسُولاً إِلَى بَنِى إِسْرَءِيلَ
(And will make him a Messenger to the Children of Israel) means, that Allah will send `Isa as a Messenger to the Children of Israel, proclaiming to them,
أَنِّى قَدْ جِئْتُكُمْ بِآيَةٍ مِّن رَّبِّكُمْ أَنِى أَخْلُقُ لَكُمْ مِّنَ الطِّينِ كَهَيْئَةِ الطَّيْرِ فَأَنفُخُ فِيهِ فَيَكُونُ طَيْرًا بِإِذْنِ اللَّهِ
(I have come to you with a sign from your Lord, that I design for you out of clay, a figure like that of a bird, and breathe into it, and it becomes a bird by Allah's leave). These are the miracles that `Isa performed; he used to make the shape of a bird from clay and blow into it, and it became a bird by Allah's leave. Allah made this a miracle for `Isa to testify that He had sent him.
وَأُبْرِىءُ الاٌّكْمَهَ
(And I heal him who is Akmah) meaning, `a person who was born blind,' which perfects this miracle and makes the challenge more daring.
وَالاٌّبْرَصَ
(And the leper) which is a known disease,
وَأُحْىِ الْمَوْتَى بِإِذْنِ اللَّهِ
(And I bring the dead to life by Allah's leave).
Many scholars stated that Allah sent every Prophet with a miracle suitable to his time. For instance, in the time of Musa, magic was the trade of the time, and magicians held a high position. So Allah sent Musa with a miracle that captured the eyes and bewildered every magician. When the magicians realized that Musa's miracle came from the Almighty, Most Great, they embraced Islam and became pious believers. As for `Isa, he was sent during a time when medicine and knowledge in physics were advancing. `Isa brought them the types of miracles that could not be performed, except by one sent by Allah. How can any physician bring life to clay, cure blindness and leprosy and bring back to life those entrapped in the grave Muhammad ﷺ was sent during the time of eloquent people and proficient poets. He brought them a Book from Allah; if mankind and the Jinn tried to imitate ten chapters, or even one chapter of it, they will utterly fail in this task, even if they tried to do it by collective cooperation. This is because the Qur'an is the Word of Allah and is nothing like that of the creatures.
`Isa's statement,
وَأُنَبِّئُكُم بِمَا تَأْكُلُونَ وَمَا تَدَّخِرُونَ فِى بُيُوتِكُمْ
(And I inform you of what you eat, and what you store in your houses) means, I tell you about what one of you has just eaten and what he is keeping in his house for tomorrow.
إِنَّ فِى ذَلِكَ
(Surely, therein), all these miracles,
لأَيَةً لَّكُمْ
(is a sign for you) testifying to the truth of what I was sent to you with,
إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَوَمُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيَّ مِنَ التَّوْرَاةِ
(If you believe. And I have come confirming that which was before me of the Tawrah,) affirming the Tawrah and upholding it,
وَلاٌّحِلَّ لَكُم بَعْضَ الَّذِي حُرِّمَ عَلَيْكُمْ
(and to make lawful to you part of what was forbidden to you.)
This part of the Ayah indicates that `Isa abrogated some of the Laws of the Tawrah and informed the Jews of the truth regarding some issues that they used to dispute about. In another Ayah;
وَلأُبَيِّنَ لَكُم بَعْضَ الَّذِى تَخْتَلِفُونَ فِيهِ
(And in order to make clear to you some of the (points) in which you differ) 43:63.
`Isa said next,
وَجِئْتُكُمْ بِأَيَةٍ مِّن رَّبِّكُمْ
(And I have come to you with a proof from your Lord.) "Containing affirmation and evidence to the truth of what I am conveying to you."
فَاتَّقُواْ اللَّهَ وَأَطِيعُونِ إِنَّ اللَّهَ رَبِّى وَرَبُّكُمْ فَاعْبُدُوهُ
(So have Taqwa of Allah and obey me. Truly, Allah is my Lord and your Lord, so worship Him (Alone).) for I and you are equal in our servitude, submission and humbleness to Him,
هَـذَا صِرَطٌ مُّسْتَقِيمٌ
(This is the straight path.)
فرشتوں کا مریم سے خطاب فرشتے حضرت مریم سے کہتے ہیں کہ تیرے اس لڑکے یعنی حضرت عیسیٰ ؑ کو پروردگار عالم لکھنا سکھائے گا حکمت سکھائے گا لفظ حکمت کی تفسیر سورة بقرہ میں گذر چکی ہے، اور اسے توراۃ سکھائے گا جو حضرت موسیٰ بن عمران پر اتری تھی اور انجیل سکھائے گا جو حضرت عیسیٰ ہی پر اتری، چناچہ آپ کو یہ دونوں کتابیں حفظ تھیں، انہیں بنی اسرائیل کی طرف اپنا رسول بنا کر بھیجے گا، اور اس بات کو کہنے کے لئے کہ میرا یہ معجزہ دیکھو کہ مٹی لی اس کا پرندہ بنایا پھر پھونک مارتے ہی وہ سچ مچ کا جیتا جاگتا پرند بن کر سب کے سامنے اڑنے لگا، یہ اللہ کے حکم اور اس کی زبان سے نکلے ہوئے الفاظ کے سبب تھا، حضرت عیسیٰ کی اپنی قدرت سے نہیں یہ ایک معجزہ تھا جو آپ کی نبوت کا نشان تھا، اکمہ اس اندھے کو کہتے ہیں جسے دن کے وقت دکھائی نہ دے اور رات کو دکھائی دے، بعض نے کہا اکمہ اس نابینا کو کہتے ہیں جسے دن کو دکھائی دے اور رات کو دکھائی نہ دے، بعض کہتے ہیں بھینگا اور ترچھا اور کانا مراد ہے، بعض کا قول یہ بھی ہے کہ جو ماں کے پیٹ سے بالکل اندھا پیدا ہوا ہو، یہاں یہی ترجمہ زیادہ مناسب ہے کیونکہ اس میں معجزے کا کمال یہی ہے اور مخالفین کو عاجز کرنے کے لئے اس کی یہ صورت اور صورتوں سے اعلیٰ ہے، ابرص سفید دانے والے کوڑھی کو کہتے ہیں ایسے بیمار بھی اللہ جل شانہ کے حکم سے حضرت عیسیٰ اچھے کردیتے تھے اور مردوں کو بھی اللہ عزوجل کے حکم سے آپ زندہ کردیا کرتے تھے، اکثر علماء کا قول ہے کہ ہر ہر زمانے کے نبی کو اس زمانے والوں کی مناسبت سے خاص خاص معجزات حضرت باری غراسمہ نے عطا فرمائے ہیں، حضرت موسیٰ ؑ کے زمانے میں جادو کا بڑا چرچا تھا اور جادو گروں کی بڑی قدرو تعظیم تھی تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو وہ معجزہ دیا جس سے تمام جادوگروں کی آنکھیں کھل گئیں اور ان پر حیرت طاری ہوگئی اور انہیں کامل یقین ہوگیا کہ یہ تو الہ واحد وقہار کی طرف سے عطیہ ہے جادو ہرگز نہیں چناچہ ان کی گردنیں جھک گئیں اور یک لخت وہ حلقہ بگوش اسلام ہوگئے اور بالاخر اللہ کے مقرب بندے بن گئے، حضرت عیسیٰ ؑ کے زمانہ میں طبیبوں اور حکیموں کا دور دورہ تھا۔ کامل اطباء اور ماہر حکیم علم طب کے پورے عالم اور لاجواب کامل الفن استاد موجود تھے پس آپ کو وہ معجزے دے گئے جس سے وہ سب عاجز تھے بھلا مادر زاد اندھوں کو بالکل بینا کردینا اور کوڑھیوں کو اس مہلک بیماری سے اچھا کردینا اتنا ہی نہیں بلکہ جمادات جو محض بےجان چیز ہے اس میں روح ڈال دینا اور قبروں میں سے مردوں کو زندہ کردینا یہ کسی کے بس کی بات نہیں ؟ صرف اللہ سبحانہ کے حکم سے بطور معجزہ یہ باتیں آپ سے ظاہر ہوئیں، ٹھیک اسی طرح جب ہمارے نبی اکرم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ تشریف لائے اس وقت فصاحت بلاغت نکتہ رسی اور بلند خیالی بول چال میں نزانت و لطافت کا زمانہ تھا اس فن میں بلند پایہ شاعروں نے وہ کمال حاصل کرلیا تھا کہ دنیا ان کے قدموں پر جھکتی تھی پس حضور ﷺ کو کتاب اللہ ایسی عطا فرمائی گئی کہ ان سب کی کوندتی ہوئی بجلیاں ماند پڑگئیں اور کلام اللہ کے نور نے انہیں نیچا دکھایا اور یقین کامل ہوگیا کہ یہ انسانی کلام نہیں، تمام دنیا سے کہہ دیا گیا اور جتا جتا کر بتا بتا کر سنا سنا کر منادی کر کے بار بار اعلان کیا گیا کہ ہے کوئی ؟ جو اس جیسا کلام کہہ سکے ؟ اکیلے اکیلے نہیں سب مل جاؤ اور انسان ہی نہیں جنات کو بھی اپنے ساتھ شامل کرلو پھر سارے قرآن کے برابر بھی نہیں صرف دس سورتوں کے برابر سہی، اور اچھا یہ بھی نہ سہی ایک ہی سورت اس کی مانند تو بنا کر لاؤ لیکن سب کمریں ٹوٹ گئیں ہمتیں پست ہوگئیں گلے خشک ہوگئے زبان گنگ ہوگئی اور آج تک ساری دنیا سے نہ بن پڑا اور نہ کبھی ہو سکے گا بھلا کہاں اللہ جل شانہ کا کلام اور کہاں مخلوق ؟ پس اس زمانہ کے اعتبار سے اس معجزے نے اپنا اثر کیا اور مخالفین کو ہتھیار ڈالتے ہی بن پڑی اور جوق درجوق اسلامی حلقے بڑھتے گئے۔ پھر حضرت مسیح کا اور معجزہ بیان ہو رہا ہے کہ آپ نے فرمایا بھی اور کر کے بھی دکھایا بھی، کہ جو کوئی تم میں سے آج اپنے گھر سے جو کچھ کھا کر آیا ہو میں اسے بھی اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی اطلاع بتادوں گا یہی نہیں بلکہ کل کے لئے بھی اس نے جو تیاری کی ہوگی مجھے اللہ تعالیٰ کے معلوم کرانے پر معلوم ہوجاتا ہے، یہ سب میری سچائی کی دلیل ہے کہ میں جو تعلیم تمہیں دے رہا ہوں وہ برحق ہے ہاں اگر تم میں ایمان ہی نہیں تو پھر کیا ؟ میں اپنے سے پہلی کتاب توراۃ کو بھی ماننے والا اس کی سچائی کا دنیا میں اعلان کرنے والا ہوں، میں تم پر بعض وہ چیزیں حلال کرنے آیا ہوں جو مجھ سے پہلے تم پر حرام کی گئی ہیں، اس سے ثابت ہوا کہ حضرت عیسیٰ ؑ نے توراۃ کے بعض احکام منسوخ کئے ہیں، گو اس کے خلاف بھی مفسرین کا خیال ہے، لیکن درست بات یہی ہے کہ بعض حضرات فرماتے ہیں کہ تورات کا کوئی حکم آپ نے منسوخ نہیں کیا البتہ بعض حلال چیزوں میں جو اختلاف تھا اور بڑھتے بڑھتے گویا ان کی حرمت پر اجماع ہوچکا تھا۔ حضرت عیسیٰ ؑ نے ان کی حقیقت بیان فرما دی اور ان کے حلال ہونے پر مہر کردی، جیسے قرآن حکیم نے اور جگہ فرمایا ولا بین لکم بعض الذی تختلفون فیہ میں تمہارے بعض آپس کے اختلاف میں صاف فیصلہ کر دونگا واللہ اعلم، پھر فرمایا کہ میرے پاس اپنی سچائی کی اللہ جل شانہ کی دلیلیں موجود ہیں تم اللہ سے ڈرو اور میرا کہا مانو، جس کا خلاصہ صرف اسی قدر ہے کہ اسے پوجو جو میرا اور تمہارا پالنہار ہے سیدھی اور سچی راہ تو صرف یہی ہے۔
49
View Single
وَرَسُولًا إِلَىٰ بَنِيٓ إِسۡرَـٰٓءِيلَ أَنِّي قَدۡ جِئۡتُكُم بِـَٔايَةٖ مِّن رَّبِّكُمۡ أَنِّيٓ أَخۡلُقُ لَكُم مِّنَ ٱلطِّينِ كَهَيۡـَٔةِ ٱلطَّيۡرِ فَأَنفُخُ فِيهِ فَيَكُونُ طَيۡرَۢا بِإِذۡنِ ٱللَّهِۖ وَأُبۡرِئُ ٱلۡأَكۡمَهَ وَٱلۡأَبۡرَصَ وَأُحۡيِ ٱلۡمَوۡتَىٰ بِإِذۡنِ ٱللَّهِۖ وَأُنَبِّئُكُم بِمَا تَأۡكُلُونَ وَمَا تَدَّخِرُونَ فِي بُيُوتِكُمۡۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَةٗ لَّكُمۡ إِن كُنتُم مُّؤۡمِنِينَ
“And he will be a Noble Messenger towards the Descendants of Israel saying, ‘I have come to you with a sign from your Lord, for I mould a birdlike sculpture from clay for you, and I blow into it and it instantly becomes a (living) bird, by Allah’s command; and I heal him who was born blind, and the leper, and I revive the dead, by Allah’s command; and I tell you what you eat and what you store in your houses; undoubtedly in these (miracles) is a great sign for you, if you are believers.’ (Several miracles bestowed to Prophet Eisa are mentioned here.)
اور وہ بنی اسرائیل کی طرف رسول ہو گا (ان سے کہے گا) کہ بیشک میں تمہارے پاس تمہارے رب کی جانب سے ایک نشانی لے کر آیا ہوں میں تمہارے لئے مٹی سے پرندے کی شکل جیسا (ایک پُتلا) بناتا ہوں پھر میں اس میں پھونک مارتا ہوں سو وہ اللہ کے حکم سے فوراً اڑنے والا پرندہ ہو جاتا ہے، اور میں مادرزاد اندھے اور سفید داغ والے کو شفایاب کرتا ہوں اور میں اللہ کے حکم سے مُردے کو زندہ کر دیتا ہوں، اور جو کچھ تم کھا کر آئے ہو اور جو کچھ تم اپنے گھروں میں جمع کرتے ہو میں تمہیں (وہ سب کچھ) بتا دیتا ہوں، بیشک اس میں تمہارے لئے نشانی ہے اگر تم ایمان رکھتے ہو
Tafsir Ibn Kathir
The Description of `Isa and the Miracles He Performed
Allah states that the good news brought to Maryam about `Isa was even better because Allah would teach him,
الْكِتَـبَ وَالْحِكْمَةَ
(the Book and Al-Hikmah). It appears that the `Book' the Ayah mentioned here refers to writing. We explained the meaning of Al-Hikmah in the Tafsir of Surat Al-Baqarah.
التَّوْرَاةَ وَالإِنجِيلَ
(the Tawrah and the Injil). The Tawrah is the Book that Allah sent down to Musa, son of `Imran, while the Injil is what Allah sent down to `Isa, son of Maryam, peace be upon them, and `Isa memorized both Books. Allah's statement,
وَرَسُولاً إِلَى بَنِى إِسْرَءِيلَ
(And will make him a Messenger to the Children of Israel) means, that Allah will send `Isa as a Messenger to the Children of Israel, proclaiming to them,
أَنِّى قَدْ جِئْتُكُمْ بِآيَةٍ مِّن رَّبِّكُمْ أَنِى أَخْلُقُ لَكُمْ مِّنَ الطِّينِ كَهَيْئَةِ الطَّيْرِ فَأَنفُخُ فِيهِ فَيَكُونُ طَيْرًا بِإِذْنِ اللَّهِ
(I have come to you with a sign from your Lord, that I design for you out of clay, a figure like that of a bird, and breathe into it, and it becomes a bird by Allah's leave). These are the miracles that `Isa performed; he used to make the shape of a bird from clay and blow into it, and it became a bird by Allah's leave. Allah made this a miracle for `Isa to testify that He had sent him.
وَأُبْرِىءُ الاٌّكْمَهَ
(And I heal him who is Akmah) meaning, `a person who was born blind,' which perfects this miracle and makes the challenge more daring.
وَالاٌّبْرَصَ
(And the leper) which is a known disease,
وَأُحْىِ الْمَوْتَى بِإِذْنِ اللَّهِ
(And I bring the dead to life by Allah's leave).
Many scholars stated that Allah sent every Prophet with a miracle suitable to his time. For instance, in the time of Musa, magic was the trade of the time, and magicians held a high position. So Allah sent Musa with a miracle that captured the eyes and bewildered every magician. When the magicians realized that Musa's miracle came from the Almighty, Most Great, they embraced Islam and became pious believers. As for `Isa, he was sent during a time when medicine and knowledge in physics were advancing. `Isa brought them the types of miracles that could not be performed, except by one sent by Allah. How can any physician bring life to clay, cure blindness and leprosy and bring back to life those entrapped in the grave Muhammad ﷺ was sent during the time of eloquent people and proficient poets. He brought them a Book from Allah; if mankind and the Jinn tried to imitate ten chapters, or even one chapter of it, they will utterly fail in this task, even if they tried to do it by collective cooperation. This is because the Qur'an is the Word of Allah and is nothing like that of the creatures.
`Isa's statement,
وَأُنَبِّئُكُم بِمَا تَأْكُلُونَ وَمَا تَدَّخِرُونَ فِى بُيُوتِكُمْ
(And I inform you of what you eat, and what you store in your houses) means, I tell you about what one of you has just eaten and what he is keeping in his house for tomorrow.
إِنَّ فِى ذَلِكَ
(Surely, therein), all these miracles,
لأَيَةً لَّكُمْ
(is a sign for you) testifying to the truth of what I was sent to you with,
إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَوَمُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيَّ مِنَ التَّوْرَاةِ
(If you believe. And I have come confirming that which was before me of the Tawrah,) affirming the Tawrah and upholding it,
وَلاٌّحِلَّ لَكُم بَعْضَ الَّذِي حُرِّمَ عَلَيْكُمْ
(and to make lawful to you part of what was forbidden to you.)
This part of the Ayah indicates that `Isa abrogated some of the Laws of the Tawrah and informed the Jews of the truth regarding some issues that they used to dispute about. In another Ayah;
وَلأُبَيِّنَ لَكُم بَعْضَ الَّذِى تَخْتَلِفُونَ فِيهِ
(And in order to make clear to you some of the (points) in which you differ) 43:63.
`Isa said next,
وَجِئْتُكُمْ بِأَيَةٍ مِّن رَّبِّكُمْ
(And I have come to you with a proof from your Lord.) "Containing affirmation and evidence to the truth of what I am conveying to you."
فَاتَّقُواْ اللَّهَ وَأَطِيعُونِ إِنَّ اللَّهَ رَبِّى وَرَبُّكُمْ فَاعْبُدُوهُ
(So have Taqwa of Allah and obey me. Truly, Allah is my Lord and your Lord, so worship Him (Alone).) for I and you are equal in our servitude, submission and humbleness to Him,
هَـذَا صِرَطٌ مُّسْتَقِيمٌ
(This is the straight path.)
فرشتوں کا مریم سے خطاب فرشتے حضرت مریم سے کہتے ہیں کہ تیرے اس لڑکے یعنی حضرت عیسیٰ ؑ کو پروردگار عالم لکھنا سکھائے گا حکمت سکھائے گا لفظ حکمت کی تفسیر سورة بقرہ میں گذر چکی ہے، اور اسے توراۃ سکھائے گا جو حضرت موسیٰ بن عمران پر اتری تھی اور انجیل سکھائے گا جو حضرت عیسیٰ ہی پر اتری، چناچہ آپ کو یہ دونوں کتابیں حفظ تھیں، انہیں بنی اسرائیل کی طرف اپنا رسول بنا کر بھیجے گا، اور اس بات کو کہنے کے لئے کہ میرا یہ معجزہ دیکھو کہ مٹی لی اس کا پرندہ بنایا پھر پھونک مارتے ہی وہ سچ مچ کا جیتا جاگتا پرند بن کر سب کے سامنے اڑنے لگا، یہ اللہ کے حکم اور اس کی زبان سے نکلے ہوئے الفاظ کے سبب تھا، حضرت عیسیٰ کی اپنی قدرت سے نہیں یہ ایک معجزہ تھا جو آپ کی نبوت کا نشان تھا، اکمہ اس اندھے کو کہتے ہیں جسے دن کے وقت دکھائی نہ دے اور رات کو دکھائی دے، بعض نے کہا اکمہ اس نابینا کو کہتے ہیں جسے دن کو دکھائی دے اور رات کو دکھائی نہ دے، بعض کہتے ہیں بھینگا اور ترچھا اور کانا مراد ہے، بعض کا قول یہ بھی ہے کہ جو ماں کے پیٹ سے بالکل اندھا پیدا ہوا ہو، یہاں یہی ترجمہ زیادہ مناسب ہے کیونکہ اس میں معجزے کا کمال یہی ہے اور مخالفین کو عاجز کرنے کے لئے اس کی یہ صورت اور صورتوں سے اعلیٰ ہے، ابرص سفید دانے والے کوڑھی کو کہتے ہیں ایسے بیمار بھی اللہ جل شانہ کے حکم سے حضرت عیسیٰ اچھے کردیتے تھے اور مردوں کو بھی اللہ عزوجل کے حکم سے آپ زندہ کردیا کرتے تھے، اکثر علماء کا قول ہے کہ ہر ہر زمانے کے نبی کو اس زمانے والوں کی مناسبت سے خاص خاص معجزات حضرت باری غراسمہ نے عطا فرمائے ہیں، حضرت موسیٰ ؑ کے زمانے میں جادو کا بڑا چرچا تھا اور جادو گروں کی بڑی قدرو تعظیم تھی تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو وہ معجزہ دیا جس سے تمام جادوگروں کی آنکھیں کھل گئیں اور ان پر حیرت طاری ہوگئی اور انہیں کامل یقین ہوگیا کہ یہ تو الہ واحد وقہار کی طرف سے عطیہ ہے جادو ہرگز نہیں چناچہ ان کی گردنیں جھک گئیں اور یک لخت وہ حلقہ بگوش اسلام ہوگئے اور بالاخر اللہ کے مقرب بندے بن گئے، حضرت عیسیٰ ؑ کے زمانہ میں طبیبوں اور حکیموں کا دور دورہ تھا۔ کامل اطباء اور ماہر حکیم علم طب کے پورے عالم اور لاجواب کامل الفن استاد موجود تھے پس آپ کو وہ معجزے دے گئے جس سے وہ سب عاجز تھے بھلا مادر زاد اندھوں کو بالکل بینا کردینا اور کوڑھیوں کو اس مہلک بیماری سے اچھا کردینا اتنا ہی نہیں بلکہ جمادات جو محض بےجان چیز ہے اس میں روح ڈال دینا اور قبروں میں سے مردوں کو زندہ کردینا یہ کسی کے بس کی بات نہیں ؟ صرف اللہ سبحانہ کے حکم سے بطور معجزہ یہ باتیں آپ سے ظاہر ہوئیں، ٹھیک اسی طرح جب ہمارے نبی اکرم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ تشریف لائے اس وقت فصاحت بلاغت نکتہ رسی اور بلند خیالی بول چال میں نزانت و لطافت کا زمانہ تھا اس فن میں بلند پایہ شاعروں نے وہ کمال حاصل کرلیا تھا کہ دنیا ان کے قدموں پر جھکتی تھی پس حضور ﷺ کو کتاب اللہ ایسی عطا فرمائی گئی کہ ان سب کی کوندتی ہوئی بجلیاں ماند پڑگئیں اور کلام اللہ کے نور نے انہیں نیچا دکھایا اور یقین کامل ہوگیا کہ یہ انسانی کلام نہیں، تمام دنیا سے کہہ دیا گیا اور جتا جتا کر بتا بتا کر سنا سنا کر منادی کر کے بار بار اعلان کیا گیا کہ ہے کوئی ؟ جو اس جیسا کلام کہہ سکے ؟ اکیلے اکیلے نہیں سب مل جاؤ اور انسان ہی نہیں جنات کو بھی اپنے ساتھ شامل کرلو پھر سارے قرآن کے برابر بھی نہیں صرف دس سورتوں کے برابر سہی، اور اچھا یہ بھی نہ سہی ایک ہی سورت اس کی مانند تو بنا کر لاؤ لیکن سب کمریں ٹوٹ گئیں ہمتیں پست ہوگئیں گلے خشک ہوگئے زبان گنگ ہوگئی اور آج تک ساری دنیا سے نہ بن پڑا اور نہ کبھی ہو سکے گا بھلا کہاں اللہ جل شانہ کا کلام اور کہاں مخلوق ؟ پس اس زمانہ کے اعتبار سے اس معجزے نے اپنا اثر کیا اور مخالفین کو ہتھیار ڈالتے ہی بن پڑی اور جوق درجوق اسلامی حلقے بڑھتے گئے۔ پھر حضرت مسیح کا اور معجزہ بیان ہو رہا ہے کہ آپ نے فرمایا بھی اور کر کے بھی دکھایا بھی، کہ جو کوئی تم میں سے آج اپنے گھر سے جو کچھ کھا کر آیا ہو میں اسے بھی اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی اطلاع بتادوں گا یہی نہیں بلکہ کل کے لئے بھی اس نے جو تیاری کی ہوگی مجھے اللہ تعالیٰ کے معلوم کرانے پر معلوم ہوجاتا ہے، یہ سب میری سچائی کی دلیل ہے کہ میں جو تعلیم تمہیں دے رہا ہوں وہ برحق ہے ہاں اگر تم میں ایمان ہی نہیں تو پھر کیا ؟ میں اپنے سے پہلی کتاب توراۃ کو بھی ماننے والا اس کی سچائی کا دنیا میں اعلان کرنے والا ہوں، میں تم پر بعض وہ چیزیں حلال کرنے آیا ہوں جو مجھ سے پہلے تم پر حرام کی گئی ہیں، اس سے ثابت ہوا کہ حضرت عیسیٰ ؑ نے توراۃ کے بعض احکام منسوخ کئے ہیں، گو اس کے خلاف بھی مفسرین کا خیال ہے، لیکن درست بات یہی ہے کہ بعض حضرات فرماتے ہیں کہ تورات کا کوئی حکم آپ نے منسوخ نہیں کیا البتہ بعض حلال چیزوں میں جو اختلاف تھا اور بڑھتے بڑھتے گویا ان کی حرمت پر اجماع ہوچکا تھا۔ حضرت عیسیٰ ؑ نے ان کی حقیقت بیان فرما دی اور ان کے حلال ہونے پر مہر کردی، جیسے قرآن حکیم نے اور جگہ فرمایا ولا بین لکم بعض الذی تختلفون فیہ میں تمہارے بعض آپس کے اختلاف میں صاف فیصلہ کر دونگا واللہ اعلم، پھر فرمایا کہ میرے پاس اپنی سچائی کی اللہ جل شانہ کی دلیلیں موجود ہیں تم اللہ سے ڈرو اور میرا کہا مانو، جس کا خلاصہ صرف اسی قدر ہے کہ اسے پوجو جو میرا اور تمہارا پالنہار ہے سیدھی اور سچی راہ تو صرف یہی ہے۔
50
View Single
وَمُصَدِّقٗا لِّمَا بَيۡنَ يَدَيَّ مِنَ ٱلتَّوۡرَىٰةِ وَلِأُحِلَّ لَكُم بَعۡضَ ٱلَّذِي حُرِّمَ عَلَيۡكُمۡۚ وَجِئۡتُكُم بِـَٔايَةٖ مِّن رَّبِّكُمۡ فَٱتَّقُواْ ٱللَّهَ وَأَطِيعُونِ
‘And I come confirming the Taurat (Torah) – the Book before me – and to make lawful for you some of the things which were forbidden to you, and I have come to you with a sign from your Lord – therefore fear Allah and obey me.’
اور میں اپنے سے پہلے اتری ہوئی (کتاب) تورات کی تصدیق کرنے والا ہوں اور یہ اس لئے کہ تمہاری خاطر بعض ایسی چیزیں حلال کر دوں جو تم پر حرام کر دی گئی تھیں اور تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے نشانی لے کر آیا ہوں، سو اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت اختیار کر لو
Tafsir Ibn Kathir
The Description of `Isa and the Miracles He Performed
Allah states that the good news brought to Maryam about `Isa was even better because Allah would teach him,
الْكِتَـبَ وَالْحِكْمَةَ
(the Book and Al-Hikmah). It appears that the `Book' the Ayah mentioned here refers to writing. We explained the meaning of Al-Hikmah in the Tafsir of Surat Al-Baqarah.
التَّوْرَاةَ وَالإِنجِيلَ
(the Tawrah and the Injil). The Tawrah is the Book that Allah sent down to Musa, son of `Imran, while the Injil is what Allah sent down to `Isa, son of Maryam, peace be upon them, and `Isa memorized both Books. Allah's statement,
وَرَسُولاً إِلَى بَنِى إِسْرَءِيلَ
(And will make him a Messenger to the Children of Israel) means, that Allah will send `Isa as a Messenger to the Children of Israel, proclaiming to them,
أَنِّى قَدْ جِئْتُكُمْ بِآيَةٍ مِّن رَّبِّكُمْ أَنِى أَخْلُقُ لَكُمْ مِّنَ الطِّينِ كَهَيْئَةِ الطَّيْرِ فَأَنفُخُ فِيهِ فَيَكُونُ طَيْرًا بِإِذْنِ اللَّهِ
(I have come to you with a sign from your Lord, that I design for you out of clay, a figure like that of a bird, and breathe into it, and it becomes a bird by Allah's leave). These are the miracles that `Isa performed; he used to make the shape of a bird from clay and blow into it, and it became a bird by Allah's leave. Allah made this a miracle for `Isa to testify that He had sent him.
وَأُبْرِىءُ الاٌّكْمَهَ
(And I heal him who is Akmah) meaning, `a person who was born blind,' which perfects this miracle and makes the challenge more daring.
وَالاٌّبْرَصَ
(And the leper) which is a known disease,
وَأُحْىِ الْمَوْتَى بِإِذْنِ اللَّهِ
(And I bring the dead to life by Allah's leave).
Many scholars stated that Allah sent every Prophet with a miracle suitable to his time. For instance, in the time of Musa, magic was the trade of the time, and magicians held a high position. So Allah sent Musa with a miracle that captured the eyes and bewildered every magician. When the magicians realized that Musa's miracle came from the Almighty, Most Great, they embraced Islam and became pious believers. As for `Isa, he was sent during a time when medicine and knowledge in physics were advancing. `Isa brought them the types of miracles that could not be performed, except by one sent by Allah. How can any physician bring life to clay, cure blindness and leprosy and bring back to life those entrapped in the grave Muhammad ﷺ was sent during the time of eloquent people and proficient poets. He brought them a Book from Allah; if mankind and the Jinn tried to imitate ten chapters, or even one chapter of it, they will utterly fail in this task, even if they tried to do it by collective cooperation. This is because the Qur'an is the Word of Allah and is nothing like that of the creatures.
`Isa's statement,
وَأُنَبِّئُكُم بِمَا تَأْكُلُونَ وَمَا تَدَّخِرُونَ فِى بُيُوتِكُمْ
(And I inform you of what you eat, and what you store in your houses) means, I tell you about what one of you has just eaten and what he is keeping in his house for tomorrow.
إِنَّ فِى ذَلِكَ
(Surely, therein), all these miracles,
لأَيَةً لَّكُمْ
(is a sign for you) testifying to the truth of what I was sent to you with,
إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَوَمُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيَّ مِنَ التَّوْرَاةِ
(If you believe. And I have come confirming that which was before me of the Tawrah,) affirming the Tawrah and upholding it,
وَلاٌّحِلَّ لَكُم بَعْضَ الَّذِي حُرِّمَ عَلَيْكُمْ
(and to make lawful to you part of what was forbidden to you.)
This part of the Ayah indicates that `Isa abrogated some of the Laws of the Tawrah and informed the Jews of the truth regarding some issues that they used to dispute about. In another Ayah;
وَلأُبَيِّنَ لَكُم بَعْضَ الَّذِى تَخْتَلِفُونَ فِيهِ
(And in order to make clear to you some of the (points) in which you differ) 43:63.
`Isa said next,
وَجِئْتُكُمْ بِأَيَةٍ مِّن رَّبِّكُمْ
(And I have come to you with a proof from your Lord.) "Containing affirmation and evidence to the truth of what I am conveying to you."
فَاتَّقُواْ اللَّهَ وَأَطِيعُونِ إِنَّ اللَّهَ رَبِّى وَرَبُّكُمْ فَاعْبُدُوهُ
(So have Taqwa of Allah and obey me. Truly, Allah is my Lord and your Lord, so worship Him (Alone).) for I and you are equal in our servitude, submission and humbleness to Him,
هَـذَا صِرَطٌ مُّسْتَقِيمٌ
(This is the straight path.)
فرشتوں کا مریم سے خطاب فرشتے حضرت مریم سے کہتے ہیں کہ تیرے اس لڑکے یعنی حضرت عیسیٰ ؑ کو پروردگار عالم لکھنا سکھائے گا حکمت سکھائے گا لفظ حکمت کی تفسیر سورة بقرہ میں گذر چکی ہے، اور اسے توراۃ سکھائے گا جو حضرت موسیٰ بن عمران پر اتری تھی اور انجیل سکھائے گا جو حضرت عیسیٰ ہی پر اتری، چناچہ آپ کو یہ دونوں کتابیں حفظ تھیں، انہیں بنی اسرائیل کی طرف اپنا رسول بنا کر بھیجے گا، اور اس بات کو کہنے کے لئے کہ میرا یہ معجزہ دیکھو کہ مٹی لی اس کا پرندہ بنایا پھر پھونک مارتے ہی وہ سچ مچ کا جیتا جاگتا پرند بن کر سب کے سامنے اڑنے لگا، یہ اللہ کے حکم اور اس کی زبان سے نکلے ہوئے الفاظ کے سبب تھا، حضرت عیسیٰ کی اپنی قدرت سے نہیں یہ ایک معجزہ تھا جو آپ کی نبوت کا نشان تھا، اکمہ اس اندھے کو کہتے ہیں جسے دن کے وقت دکھائی نہ دے اور رات کو دکھائی دے، بعض نے کہا اکمہ اس نابینا کو کہتے ہیں جسے دن کو دکھائی دے اور رات کو دکھائی نہ دے، بعض کہتے ہیں بھینگا اور ترچھا اور کانا مراد ہے، بعض کا قول یہ بھی ہے کہ جو ماں کے پیٹ سے بالکل اندھا پیدا ہوا ہو، یہاں یہی ترجمہ زیادہ مناسب ہے کیونکہ اس میں معجزے کا کمال یہی ہے اور مخالفین کو عاجز کرنے کے لئے اس کی یہ صورت اور صورتوں سے اعلیٰ ہے، ابرص سفید دانے والے کوڑھی کو کہتے ہیں ایسے بیمار بھی اللہ جل شانہ کے حکم سے حضرت عیسیٰ اچھے کردیتے تھے اور مردوں کو بھی اللہ عزوجل کے حکم سے آپ زندہ کردیا کرتے تھے، اکثر علماء کا قول ہے کہ ہر ہر زمانے کے نبی کو اس زمانے والوں کی مناسبت سے خاص خاص معجزات حضرت باری غراسمہ نے عطا فرمائے ہیں، حضرت موسیٰ ؑ کے زمانے میں جادو کا بڑا چرچا تھا اور جادو گروں کی بڑی قدرو تعظیم تھی تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو وہ معجزہ دیا جس سے تمام جادوگروں کی آنکھیں کھل گئیں اور ان پر حیرت طاری ہوگئی اور انہیں کامل یقین ہوگیا کہ یہ تو الہ واحد وقہار کی طرف سے عطیہ ہے جادو ہرگز نہیں چناچہ ان کی گردنیں جھک گئیں اور یک لخت وہ حلقہ بگوش اسلام ہوگئے اور بالاخر اللہ کے مقرب بندے بن گئے، حضرت عیسیٰ ؑ کے زمانہ میں طبیبوں اور حکیموں کا دور دورہ تھا۔ کامل اطباء اور ماہر حکیم علم طب کے پورے عالم اور لاجواب کامل الفن استاد موجود تھے پس آپ کو وہ معجزے دے گئے جس سے وہ سب عاجز تھے بھلا مادر زاد اندھوں کو بالکل بینا کردینا اور کوڑھیوں کو اس مہلک بیماری سے اچھا کردینا اتنا ہی نہیں بلکہ جمادات جو محض بےجان چیز ہے اس میں روح ڈال دینا اور قبروں میں سے مردوں کو زندہ کردینا یہ کسی کے بس کی بات نہیں ؟ صرف اللہ سبحانہ کے حکم سے بطور معجزہ یہ باتیں آپ سے ظاہر ہوئیں، ٹھیک اسی طرح جب ہمارے نبی اکرم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ تشریف لائے اس وقت فصاحت بلاغت نکتہ رسی اور بلند خیالی بول چال میں نزانت و لطافت کا زمانہ تھا اس فن میں بلند پایہ شاعروں نے وہ کمال حاصل کرلیا تھا کہ دنیا ان کے قدموں پر جھکتی تھی پس حضور ﷺ کو کتاب اللہ ایسی عطا فرمائی گئی کہ ان سب کی کوندتی ہوئی بجلیاں ماند پڑگئیں اور کلام اللہ کے نور نے انہیں نیچا دکھایا اور یقین کامل ہوگیا کہ یہ انسانی کلام نہیں، تمام دنیا سے کہہ دیا گیا اور جتا جتا کر بتا بتا کر سنا سنا کر منادی کر کے بار بار اعلان کیا گیا کہ ہے کوئی ؟ جو اس جیسا کلام کہہ سکے ؟ اکیلے اکیلے نہیں سب مل جاؤ اور انسان ہی نہیں جنات کو بھی اپنے ساتھ شامل کرلو پھر سارے قرآن کے برابر بھی نہیں صرف دس سورتوں کے برابر سہی، اور اچھا یہ بھی نہ سہی ایک ہی سورت اس کی مانند تو بنا کر لاؤ لیکن سب کمریں ٹوٹ گئیں ہمتیں پست ہوگئیں گلے خشک ہوگئے زبان گنگ ہوگئی اور آج تک ساری دنیا سے نہ بن پڑا اور نہ کبھی ہو سکے گا بھلا کہاں اللہ جل شانہ کا کلام اور کہاں مخلوق ؟ پس اس زمانہ کے اعتبار سے اس معجزے نے اپنا اثر کیا اور مخالفین کو ہتھیار ڈالتے ہی بن پڑی اور جوق درجوق اسلامی حلقے بڑھتے گئے۔ پھر حضرت مسیح کا اور معجزہ بیان ہو رہا ہے کہ آپ نے فرمایا بھی اور کر کے بھی دکھایا بھی، کہ جو کوئی تم میں سے آج اپنے گھر سے جو کچھ کھا کر آیا ہو میں اسے بھی اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی اطلاع بتادوں گا یہی نہیں بلکہ کل کے لئے بھی اس نے جو تیاری کی ہوگی مجھے اللہ تعالیٰ کے معلوم کرانے پر معلوم ہوجاتا ہے، یہ سب میری سچائی کی دلیل ہے کہ میں جو تعلیم تمہیں دے رہا ہوں وہ برحق ہے ہاں اگر تم میں ایمان ہی نہیں تو پھر کیا ؟ میں اپنے سے پہلی کتاب توراۃ کو بھی ماننے والا اس کی سچائی کا دنیا میں اعلان کرنے والا ہوں، میں تم پر بعض وہ چیزیں حلال کرنے آیا ہوں جو مجھ سے پہلے تم پر حرام کی گئی ہیں، اس سے ثابت ہوا کہ حضرت عیسیٰ ؑ نے توراۃ کے بعض احکام منسوخ کئے ہیں، گو اس کے خلاف بھی مفسرین کا خیال ہے، لیکن درست بات یہی ہے کہ بعض حضرات فرماتے ہیں کہ تورات کا کوئی حکم آپ نے منسوخ نہیں کیا البتہ بعض حلال چیزوں میں جو اختلاف تھا اور بڑھتے بڑھتے گویا ان کی حرمت پر اجماع ہوچکا تھا۔ حضرت عیسیٰ ؑ نے ان کی حقیقت بیان فرما دی اور ان کے حلال ہونے پر مہر کردی، جیسے قرآن حکیم نے اور جگہ فرمایا ولا بین لکم بعض الذی تختلفون فیہ میں تمہارے بعض آپس کے اختلاف میں صاف فیصلہ کر دونگا واللہ اعلم، پھر فرمایا کہ میرے پاس اپنی سچائی کی اللہ جل شانہ کی دلیلیں موجود ہیں تم اللہ سے ڈرو اور میرا کہا مانو، جس کا خلاصہ صرف اسی قدر ہے کہ اسے پوجو جو میرا اور تمہارا پالنہار ہے سیدھی اور سچی راہ تو صرف یہی ہے۔
51
View Single
إِنَّ ٱللَّهَ رَبِّي وَرَبُّكُمۡ فَٱعۡبُدُوهُۚ هَٰذَا صِرَٰطٞ مُّسۡتَقِيمٞ
‘Undoubtedly Allah is the Lord of all – mine and yours – so worship Him only; this is the Straight Path.’”
بیشک اللہ میرا رب ہے اور تمہارا بھی (وہی) رب ہے پس اسی کی عبادت کرو، یہی سیدھا راستہ ہے
Tafsir Ibn Kathir
The Description of `Isa and the Miracles He Performed
Allah states that the good news brought to Maryam about `Isa was even better because Allah would teach him,
الْكِتَـبَ وَالْحِكْمَةَ
(the Book and Al-Hikmah). It appears that the `Book' the Ayah mentioned here refers to writing. We explained the meaning of Al-Hikmah in the Tafsir of Surat Al-Baqarah.
التَّوْرَاةَ وَالإِنجِيلَ
(the Tawrah and the Injil). The Tawrah is the Book that Allah sent down to Musa, son of `Imran, while the Injil is what Allah sent down to `Isa, son of Maryam, peace be upon them, and `Isa memorized both Books. Allah's statement,
وَرَسُولاً إِلَى بَنِى إِسْرَءِيلَ
(And will make him a Messenger to the Children of Israel) means, that Allah will send `Isa as a Messenger to the Children of Israel, proclaiming to them,
أَنِّى قَدْ جِئْتُكُمْ بِآيَةٍ مِّن رَّبِّكُمْ أَنِى أَخْلُقُ لَكُمْ مِّنَ الطِّينِ كَهَيْئَةِ الطَّيْرِ فَأَنفُخُ فِيهِ فَيَكُونُ طَيْرًا بِإِذْنِ اللَّهِ
(I have come to you with a sign from your Lord, that I design for you out of clay, a figure like that of a bird, and breathe into it, and it becomes a bird by Allah's leave). These are the miracles that `Isa performed; he used to make the shape of a bird from clay and blow into it, and it became a bird by Allah's leave. Allah made this a miracle for `Isa to testify that He had sent him.
وَأُبْرِىءُ الاٌّكْمَهَ
(And I heal him who is Akmah) meaning, `a person who was born blind,' which perfects this miracle and makes the challenge more daring.
وَالاٌّبْرَصَ
(And the leper) which is a known disease,
وَأُحْىِ الْمَوْتَى بِإِذْنِ اللَّهِ
(And I bring the dead to life by Allah's leave).
Many scholars stated that Allah sent every Prophet with a miracle suitable to his time. For instance, in the time of Musa, magic was the trade of the time, and magicians held a high position. So Allah sent Musa with a miracle that captured the eyes and bewildered every magician. When the magicians realized that Musa's miracle came from the Almighty, Most Great, they embraced Islam and became pious believers. As for `Isa, he was sent during a time when medicine and knowledge in physics were advancing. `Isa brought them the types of miracles that could not be performed, except by one sent by Allah. How can any physician bring life to clay, cure blindness and leprosy and bring back to life those entrapped in the grave Muhammad ﷺ was sent during the time of eloquent people and proficient poets. He brought them a Book from Allah; if mankind and the Jinn tried to imitate ten chapters, or even one chapter of it, they will utterly fail in this task, even if they tried to do it by collective cooperation. This is because the Qur'an is the Word of Allah and is nothing like that of the creatures.
`Isa's statement,
وَأُنَبِّئُكُم بِمَا تَأْكُلُونَ وَمَا تَدَّخِرُونَ فِى بُيُوتِكُمْ
(And I inform you of what you eat, and what you store in your houses) means, I tell you about what one of you has just eaten and what he is keeping in his house for tomorrow.
إِنَّ فِى ذَلِكَ
(Surely, therein), all these miracles,
لأَيَةً لَّكُمْ
(is a sign for you) testifying to the truth of what I was sent to you with,
إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَوَمُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيَّ مِنَ التَّوْرَاةِ
(If you believe. And I have come confirming that which was before me of the Tawrah,) affirming the Tawrah and upholding it,
وَلاٌّحِلَّ لَكُم بَعْضَ الَّذِي حُرِّمَ عَلَيْكُمْ
(and to make lawful to you part of what was forbidden to you.)
This part of the Ayah indicates that `Isa abrogated some of the Laws of the Tawrah and informed the Jews of the truth regarding some issues that they used to dispute about. In another Ayah;
وَلأُبَيِّنَ لَكُم بَعْضَ الَّذِى تَخْتَلِفُونَ فِيهِ
(And in order to make clear to you some of the (points) in which you differ) 43:63.
`Isa said next,
وَجِئْتُكُمْ بِأَيَةٍ مِّن رَّبِّكُمْ
(And I have come to you with a proof from your Lord.) "Containing affirmation and evidence to the truth of what I am conveying to you."
فَاتَّقُواْ اللَّهَ وَأَطِيعُونِ إِنَّ اللَّهَ رَبِّى وَرَبُّكُمْ فَاعْبُدُوهُ
(So have Taqwa of Allah and obey me. Truly, Allah is my Lord and your Lord, so worship Him (Alone).) for I and you are equal in our servitude, submission and humbleness to Him,
هَـذَا صِرَطٌ مُّسْتَقِيمٌ
(This is the straight path.)
فرشتوں کا مریم سے خطاب فرشتے حضرت مریم سے کہتے ہیں کہ تیرے اس لڑکے یعنی حضرت عیسیٰ ؑ کو پروردگار عالم لکھنا سکھائے گا حکمت سکھائے گا لفظ حکمت کی تفسیر سورة بقرہ میں گذر چکی ہے، اور اسے توراۃ سکھائے گا جو حضرت موسیٰ بن عمران پر اتری تھی اور انجیل سکھائے گا جو حضرت عیسیٰ ہی پر اتری، چناچہ آپ کو یہ دونوں کتابیں حفظ تھیں، انہیں بنی اسرائیل کی طرف اپنا رسول بنا کر بھیجے گا، اور اس بات کو کہنے کے لئے کہ میرا یہ معجزہ دیکھو کہ مٹی لی اس کا پرندہ بنایا پھر پھونک مارتے ہی وہ سچ مچ کا جیتا جاگتا پرند بن کر سب کے سامنے اڑنے لگا، یہ اللہ کے حکم اور اس کی زبان سے نکلے ہوئے الفاظ کے سبب تھا، حضرت عیسیٰ کی اپنی قدرت سے نہیں یہ ایک معجزہ تھا جو آپ کی نبوت کا نشان تھا، اکمہ اس اندھے کو کہتے ہیں جسے دن کے وقت دکھائی نہ دے اور رات کو دکھائی دے، بعض نے کہا اکمہ اس نابینا کو کہتے ہیں جسے دن کو دکھائی دے اور رات کو دکھائی نہ دے، بعض کہتے ہیں بھینگا اور ترچھا اور کانا مراد ہے، بعض کا قول یہ بھی ہے کہ جو ماں کے پیٹ سے بالکل اندھا پیدا ہوا ہو، یہاں یہی ترجمہ زیادہ مناسب ہے کیونکہ اس میں معجزے کا کمال یہی ہے اور مخالفین کو عاجز کرنے کے لئے اس کی یہ صورت اور صورتوں سے اعلیٰ ہے، ابرص سفید دانے والے کوڑھی کو کہتے ہیں ایسے بیمار بھی اللہ جل شانہ کے حکم سے حضرت عیسیٰ اچھے کردیتے تھے اور مردوں کو بھی اللہ عزوجل کے حکم سے آپ زندہ کردیا کرتے تھے، اکثر علماء کا قول ہے کہ ہر ہر زمانے کے نبی کو اس زمانے والوں کی مناسبت سے خاص خاص معجزات حضرت باری غراسمہ نے عطا فرمائے ہیں، حضرت موسیٰ ؑ کے زمانے میں جادو کا بڑا چرچا تھا اور جادو گروں کی بڑی قدرو تعظیم تھی تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو وہ معجزہ دیا جس سے تمام جادوگروں کی آنکھیں کھل گئیں اور ان پر حیرت طاری ہوگئی اور انہیں کامل یقین ہوگیا کہ یہ تو الہ واحد وقہار کی طرف سے عطیہ ہے جادو ہرگز نہیں چناچہ ان کی گردنیں جھک گئیں اور یک لخت وہ حلقہ بگوش اسلام ہوگئے اور بالاخر اللہ کے مقرب بندے بن گئے، حضرت عیسیٰ ؑ کے زمانہ میں طبیبوں اور حکیموں کا دور دورہ تھا۔ کامل اطباء اور ماہر حکیم علم طب کے پورے عالم اور لاجواب کامل الفن استاد موجود تھے پس آپ کو وہ معجزے دے گئے جس سے وہ سب عاجز تھے بھلا مادر زاد اندھوں کو بالکل بینا کردینا اور کوڑھیوں کو اس مہلک بیماری سے اچھا کردینا اتنا ہی نہیں بلکہ جمادات جو محض بےجان چیز ہے اس میں روح ڈال دینا اور قبروں میں سے مردوں کو زندہ کردینا یہ کسی کے بس کی بات نہیں ؟ صرف اللہ سبحانہ کے حکم سے بطور معجزہ یہ باتیں آپ سے ظاہر ہوئیں، ٹھیک اسی طرح جب ہمارے نبی اکرم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ تشریف لائے اس وقت فصاحت بلاغت نکتہ رسی اور بلند خیالی بول چال میں نزانت و لطافت کا زمانہ تھا اس فن میں بلند پایہ شاعروں نے وہ کمال حاصل کرلیا تھا کہ دنیا ان کے قدموں پر جھکتی تھی پس حضور ﷺ کو کتاب اللہ ایسی عطا فرمائی گئی کہ ان سب کی کوندتی ہوئی بجلیاں ماند پڑگئیں اور کلام اللہ کے نور نے انہیں نیچا دکھایا اور یقین کامل ہوگیا کہ یہ انسانی کلام نہیں، تمام دنیا سے کہہ دیا گیا اور جتا جتا کر بتا بتا کر سنا سنا کر منادی کر کے بار بار اعلان کیا گیا کہ ہے کوئی ؟ جو اس جیسا کلام کہہ سکے ؟ اکیلے اکیلے نہیں سب مل جاؤ اور انسان ہی نہیں جنات کو بھی اپنے ساتھ شامل کرلو پھر سارے قرآن کے برابر بھی نہیں صرف دس سورتوں کے برابر سہی، اور اچھا یہ بھی نہ سہی ایک ہی سورت اس کی مانند تو بنا کر لاؤ لیکن سب کمریں ٹوٹ گئیں ہمتیں پست ہوگئیں گلے خشک ہوگئے زبان گنگ ہوگئی اور آج تک ساری دنیا سے نہ بن پڑا اور نہ کبھی ہو سکے گا بھلا کہاں اللہ جل شانہ کا کلام اور کہاں مخلوق ؟ پس اس زمانہ کے اعتبار سے اس معجزے نے اپنا اثر کیا اور مخالفین کو ہتھیار ڈالتے ہی بن پڑی اور جوق درجوق اسلامی حلقے بڑھتے گئے۔ پھر حضرت مسیح کا اور معجزہ بیان ہو رہا ہے کہ آپ نے فرمایا بھی اور کر کے بھی دکھایا بھی، کہ جو کوئی تم میں سے آج اپنے گھر سے جو کچھ کھا کر آیا ہو میں اسے بھی اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی اطلاع بتادوں گا یہی نہیں بلکہ کل کے لئے بھی اس نے جو تیاری کی ہوگی مجھے اللہ تعالیٰ کے معلوم کرانے پر معلوم ہوجاتا ہے، یہ سب میری سچائی کی دلیل ہے کہ میں جو تعلیم تمہیں دے رہا ہوں وہ برحق ہے ہاں اگر تم میں ایمان ہی نہیں تو پھر کیا ؟ میں اپنے سے پہلی کتاب توراۃ کو بھی ماننے والا اس کی سچائی کا دنیا میں اعلان کرنے والا ہوں، میں تم پر بعض وہ چیزیں حلال کرنے آیا ہوں جو مجھ سے پہلے تم پر حرام کی گئی ہیں، اس سے ثابت ہوا کہ حضرت عیسیٰ ؑ نے توراۃ کے بعض احکام منسوخ کئے ہیں، گو اس کے خلاف بھی مفسرین کا خیال ہے، لیکن درست بات یہی ہے کہ بعض حضرات فرماتے ہیں کہ تورات کا کوئی حکم آپ نے منسوخ نہیں کیا البتہ بعض حلال چیزوں میں جو اختلاف تھا اور بڑھتے بڑھتے گویا ان کی حرمت پر اجماع ہوچکا تھا۔ حضرت عیسیٰ ؑ نے ان کی حقیقت بیان فرما دی اور ان کے حلال ہونے پر مہر کردی، جیسے قرآن حکیم نے اور جگہ فرمایا ولا بین لکم بعض الذی تختلفون فیہ میں تمہارے بعض آپس کے اختلاف میں صاف فیصلہ کر دونگا واللہ اعلم، پھر فرمایا کہ میرے پاس اپنی سچائی کی اللہ جل شانہ کی دلیلیں موجود ہیں تم اللہ سے ڈرو اور میرا کہا مانو، جس کا خلاصہ صرف اسی قدر ہے کہ اسے پوجو جو میرا اور تمہارا پالنہار ہے سیدھی اور سچی راہ تو صرف یہی ہے۔
52
View Single
۞فَلَمَّآ أَحَسَّ عِيسَىٰ مِنۡهُمُ ٱلۡكُفۡرَ قَالَ مَنۡ أَنصَارِيٓ إِلَى ٱللَّهِۖ قَالَ ٱلۡحَوَارِيُّونَ نَحۡنُ أَنصَارُ ٱللَّهِ ءَامَنَّا بِٱللَّهِ وَٱشۡهَدۡ بِأَنَّا مُسۡلِمُونَ
So when Eisa sensed their disbelief he said, “Who will be my aides towards (in the cause of) Allah?” The disciples said, “We are the aides of Allah’s religion; we believe in Allah, and you bear witness that we are Muslims.”
پھر جب عیسٰی (علیہ السلام) نے ان کا کفر محسوس کیا تو اس نے کہا: اللہ کی طرف کون لوگ میرے مددگار ہیں؟ تو اس کے مخلص ساتھیوں نے عرض کیا: ہم اللہ (کے دین) کے مددگار ہیں، ہم اللہ پر ایمان لائے ہیں، اور آپ گواہ رہیں کہ ہم یقیناً مسلمان ہیں
Tafsir Ibn Kathir
The Disciples Give Their Support to `Isa
Allah said,
فَلَمَّآ أَحَسَّ عِيسَى
(Then when `Isa came to know), meaning, `Isa felt that they were adamant in disbelief and continuing in misguidance. He said to them,
مَنْ أَنصَارِى إِلَى اللَّهِ
(Who will be my helper in Allah's cause) Mujahid commented, "Meaning, who would follow me to Allah" However, it appears that `Isa was asking, "Who would help me convey the Message of Allah ﷺ"
The Prophet said during the Hajj season, before the Hijrah,
«مَنْ رَجُلٌ يُؤْوِينِي حَتَّى أُبَلِّغَ كَلَامَ رَبِّي؟، فَإِنَّ قُرَيْشًا قَدْ مَنَعُونِي أَنْ أُبَلِّغَ كَلَامَ رَبِّي»
(Who will give me asylum so that I can convey the Speech of my Lord, for the Quraysh have prevented me from conveying the Speech of my Lord.) until he found the Ansar. The Ansar helped the Prophet and gave him refuge. He later migrated to them, they comforted the Prophet and protected him from all his enemies, may Allah be pleased with them all. This is similar to what happened with `Isa, for some of the Children of Israel believed in him, gave him their aid and support and followed the light that was sent with him. This is why Allah said about them;
فَلَمَّآ أَحَسَّ عِيسَى مِنْهُمُ الْكُفْرَ قَالَ مَنْ أَنصَارِى إِلَى اللَّهِ قَالَ الْحَوَارِيُّونَ نَحْنُ أَنْصَارُ اللَّهِ ءَامَنَّا بِاللَّهِ وَاشْهَدْ بِأَنَّا مُسْلِمُونَ - رَبَّنَآ ءَامَنَّا بِمَآ أَنزَلَتْ وَاتَّبَعْنَا الرَّسُولَ فَاكْتُبْنَا مَعَ الشَّـهِدِينَ
(Al-Hawariyyun said: "We are the helpers of Allah; we believe in Allah, and bear witness that we are Muslims. Our Lord! We believe in what You have sent down, and we follow the Messenger; so write us down among those who bear witness.") Hawari in Arabic - means `support'. The Two Sahihs recorded that when the Prophet encouraged the people to fight during the battle of Al-Ahzab, Az-Zubayr came forward, and again, when the Prophet asked for fighters a second time. The Prophet said,
«إِنَّ لِكُلِّ نَبِيَ حَوَارِيًّا، وَحَوَارِيِّي الزُّبَيْر»
(Every Prophet has a Hawari, and Az-Zubayr is my Hawari)
Ibn Abi Hatim recorded that Ibn `Abbas said about,
فَاكْتُبْنَا مَعَ الشَّـهِدِينَ
(so write us down among those who bear witness) "Meaning among the Ummah of Muhammad ﷺ." This Hadith has a good chain of narration.
The Jews Plot to Kill `Isa
Allah states that the Children of Israel tried to kill `Isa by conspiring to defame him and crucify him. They complained about him to the king who was a disbeliever. They claimed that `Isa was a man who misguided people, discouraged them from obeying the king, caused division, and separated between man and his own son. They also said other lies about `Isa, which they will carry on their necks, including accusing him of being an illegitimate son. The king became furious and sent his men to capture `Isa to torture and crucify him. When they surrounded `Isa's home and he thought that they would surely capture him, Allah saved him from them, raising him up from the house to heaven. Allah put the image of `Isa on a man who was in the house; when the unjust people went in the house while it was still dark, they thought that he was `Isa. They captured that man, humiliated and crucified him. They also placed thorns on his head. However, Allah deceived these people. He saved and raised His Prophet from them, leaving them in disarray in the darkness of their transgression, thinking that they had successfully achieved their goal. Allah made their hearts hard, and defiant of the truth, disgracing them in such disgrace that it will remain with them until the Day of Resurrection. This is why Allah said,
وَمَكَرُواْ وَمَكَرَ اللَّهُ وَاللَّهُ خَيْرُ الْمَـكِرِينَ
(And they plotted, and Allah planned too. And Allah is the Best of those who plot.)
پھانسی کون چڑھا ؟ جب حضرت عیسیٰ ؑ نے ان کی ضد اور ہٹ دھرمی کو دیکھ لیا کہ اپنی گمراہی کج روی اور کفر و انکار سے یہ لوگ ہٹتے ہی نہیں، تو فرمانے لگے کہ کوئی ایسا بھی ہے ؟ جو اللہ تعالیٰ کی طرف پہنچنے کے لئے میری تابعداری کرے اس کا یہ مطلب بھی لیا گیا ہے کہ کوئی ہے جو اللہ جل شانہ کے ساتھ میرا مددگار بنے ؟ لیکن پہلا قول زیادہ قریب ہے، بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے فرمایا اللہ جل شانہ کی طرف پکارنے میں میرا ہاتھ بٹانے والا کون ہے ؟ جیسے کہ نبی اللہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ مکہ شریف سے ہجرت کرنے کے پہلے موسم حج کے موقع پر فرمایا کرتے تھے کہ کوئی ہے جو مجھے اللہ جل شانہ کا کلام پہنچانے کے لئے جگہ دے ؟ قریش تو کلام الٰہی کی تبلیغ سے مجھے روک رہے ہیں یہاں تک کہ مدینہ شریف کے باشندے انصار کرام اس خدمت کے لئے کمربستہ ہوئے آپ کو جگہ بھی دی آپ کی مدد بھی کی اور جب آپ ان کے ہاں تشریف لے گئے تو پوری خیرخواہی اور بےمثال ہمدردی کا مظاہرہ کیا، ساری دنیا کے مقابلہ میں اپنا سینہ سپر کردیا اور حضور ﷺ کی حفاظت خیرخواہی اور آپ کے مقاصد کی کامیابی میں ہمہ تن مصروف ہوگئے ؓ وارضاھم اسی طرح حضرت عیسیٰ ؑ کی اس آواز پر بھی چند بنی اسرائیلیوں نے لبیک کہی آپ پر ایمان لائے آپ کی تائید کی تصدیق کی اور پوری مدد پہنچائی اور اس نور کی اطاعت میں لگ گئے جو اللہ ذوالجلال نے ان پر اتارا تھا یعنی انجیل یہ لوگ دھوبی تھے اور حواری انہیں ان کے کپڑوں کی سفیدی کی وجہ سے کہا گیا ہے، بعض کہتے ہیں یہ شکاری تھے، صحیح یہ ہے کہ حواری کہتے ہیں مددگار کو، جیسے کہ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ جنگ خندق کے موقع پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کوئی جو سینہ سپر ہوجائے ؟ اس آواز کو سنتے ہی حضرت زبیر تیار ہوگئے آپ نے دوبارہ یہی فرمایا پھر بھی حضرت زبیر نے ہی قدم اٹھایا پسحضور ﷺ نے فرمایا ہر نبی کے حواری ہوتے ہیں اور میرا حواری زبیر ہے ؓ پھر یہ لوگ اپنی دعا میں کہتے ہیں ہمیں شاہدوں میں لکھ لے، اس سے مراد حضرت ابن عباس کے نزدیک امت محمد ﷺ میں لکھ لینا ہے، اس تفسیر کی روایت سنداً بہت عمدہ ہے، پھر بنی اسرائیل کے اس ناپاک گروہ کا ذکر ہو رہا ہے جو حضرت عیسیٰ کی طرف سے بھرے تھے کہ یہ شخص لوگوں کو بہکاتا پھرتا ہے ملک میں بغاوت پھیلا رہا ہے اور رعایا کو بگاڑ رہا ہے، باپ بیٹوں میں فساد برپا کر رہا ہے، بلکہ اپنی خباثت خیانت کذب و جھوٹ (دروغ) میں یہاں تک بڑھ گئے کہ آپ کو زانیہ کا بیٹا کہا اور آپ پر بڑے بڑے بہتان باندھے، یہاں تک کہ بادشاہ بھی دشمن جان بن گیا اور اپنی فوج کو بھیجا تاکہ اسے گرفتار کر کے سخت سزا کے ساتھ پھانسی دے دو ، چناچہ یہاں سے فوج جاتی ہے اور جس گھر میں آپ تھے اسے چاروں طرف سے گھیر لیتی ہے ناکہ بندی کر کے گھر میں گھستی ہے، لیکن اللہ تعالیٰ آپ کو ان مکاروں کے ہاتھ سے صاف بچا لیتا ہے اس گھر کے روزن (روشن دان) سے آپ کو آسمان کی طرف اٹھا لیتا ہے اور آپ کی شباہت ایک اور شخص پر ڈال دی جاتی ہے جو اسی گھر میں تھا، یہ لوگ رات کے اندھیرے میں اس کو عیسیٰ سمجھ لیتے ہیں گرفتار کر کے لے جاتے ہیں سخت توہین کرتے ہیں اور سر پر کانٹوں کو تاج رکھ کر اسے صلیب پر چڑھا دیتے ہیں، یہی ان کے ساتھ اللہ کا مکر تھا کہ وہ تو اپنے نزدیک یہ سمجھتے رہے کہ ہم نے اللہ کے نبی کو پھانسی پر لٹکا دیا حالانکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو تو نجات دے دی تھی، اس بدبختی اور بدنیتی کا ثمرہ انہیں یہ ملا کہ ان کے دل ہمیشہ کے لئے سخت ہوگئے باطل پر اڑ گئے اور دنیا میں ذلیل و خوار ہوگئے اور آخر دنیا تک اس ذلت میں ہی ڈوبے رہے۔ اس کا بیان اس آیت میں ہے کہ اگر انہیں خفیہ تدبیریں کرنی آتی ہیں تو کیا ہم خفیہ تدبیر کرنا نہیں جانتے بلکہ ہم تو ان سے بہتر خفیہ تدبیریں کرنے والے ہیں۔
53
View Single
رَبَّنَآ ءَامَنَّا بِمَآ أَنزَلۡتَ وَٱتَّبَعۡنَا ٱلرَّسُولَ فَٱكۡتُبۡنَا مَعَ ٱلشَّـٰهِدِينَ
“Our Lord! We have believed in what You have sent down and we follow the Noble Messenger, therefore record us among the witnesses of the truth.”
اے ہمارے رب! ہم اس کتاب پر ایمان لائے جو تو نے نازل فرمائی اور ہم نے اس رسول کی اتباع کی سو ہمیں (حق کی) گواہی دینے والوں کے ساتھ لکھ لے
Tafsir Ibn Kathir
The Disciples Give Their Support to `Isa
Allah said,
فَلَمَّآ أَحَسَّ عِيسَى
(Then when `Isa came to know), meaning, `Isa felt that they were adamant in disbelief and continuing in misguidance. He said to them,
مَنْ أَنصَارِى إِلَى اللَّهِ
(Who will be my helper in Allah's cause) Mujahid commented, "Meaning, who would follow me to Allah" However, it appears that `Isa was asking, "Who would help me convey the Message of Allah ﷺ"
The Prophet said during the Hajj season, before the Hijrah,
«مَنْ رَجُلٌ يُؤْوِينِي حَتَّى أُبَلِّغَ كَلَامَ رَبِّي؟، فَإِنَّ قُرَيْشًا قَدْ مَنَعُونِي أَنْ أُبَلِّغَ كَلَامَ رَبِّي»
(Who will give me asylum so that I can convey the Speech of my Lord, for the Quraysh have prevented me from conveying the Speech of my Lord.) until he found the Ansar. The Ansar helped the Prophet and gave him refuge. He later migrated to them, they comforted the Prophet and protected him from all his enemies, may Allah be pleased with them all. This is similar to what happened with `Isa, for some of the Children of Israel believed in him, gave him their aid and support and followed the light that was sent with him. This is why Allah said about them;
فَلَمَّآ أَحَسَّ عِيسَى مِنْهُمُ الْكُفْرَ قَالَ مَنْ أَنصَارِى إِلَى اللَّهِ قَالَ الْحَوَارِيُّونَ نَحْنُ أَنْصَارُ اللَّهِ ءَامَنَّا بِاللَّهِ وَاشْهَدْ بِأَنَّا مُسْلِمُونَ - رَبَّنَآ ءَامَنَّا بِمَآ أَنزَلَتْ وَاتَّبَعْنَا الرَّسُولَ فَاكْتُبْنَا مَعَ الشَّـهِدِينَ
(Al-Hawariyyun said: "We are the helpers of Allah; we believe in Allah, and bear witness that we are Muslims. Our Lord! We believe in what You have sent down, and we follow the Messenger; so write us down among those who bear witness.") Hawari in Arabic - means `support'. The Two Sahihs recorded that when the Prophet encouraged the people to fight during the battle of Al-Ahzab, Az-Zubayr came forward, and again, when the Prophet asked for fighters a second time. The Prophet said,
«إِنَّ لِكُلِّ نَبِيَ حَوَارِيًّا، وَحَوَارِيِّي الزُّبَيْر»
(Every Prophet has a Hawari, and Az-Zubayr is my Hawari)
Ibn Abi Hatim recorded that Ibn `Abbas said about,
فَاكْتُبْنَا مَعَ الشَّـهِدِينَ
(so write us down among those who bear witness) "Meaning among the Ummah of Muhammad ﷺ." This Hadith has a good chain of narration.
The Jews Plot to Kill `Isa
Allah states that the Children of Israel tried to kill `Isa by conspiring to defame him and crucify him. They complained about him to the king who was a disbeliever. They claimed that `Isa was a man who misguided people, discouraged them from obeying the king, caused division, and separated between man and his own son. They also said other lies about `Isa, which they will carry on their necks, including accusing him of being an illegitimate son. The king became furious and sent his men to capture `Isa to torture and crucify him. When they surrounded `Isa's home and he thought that they would surely capture him, Allah saved him from them, raising him up from the house to heaven. Allah put the image of `Isa on a man who was in the house; when the unjust people went in the house while it was still dark, they thought that he was `Isa. They captured that man, humiliated and crucified him. They also placed thorns on his head. However, Allah deceived these people. He saved and raised His Prophet from them, leaving them in disarray in the darkness of their transgression, thinking that they had successfully achieved their goal. Allah made their hearts hard, and defiant of the truth, disgracing them in such disgrace that it will remain with them until the Day of Resurrection. This is why Allah said,
وَمَكَرُواْ وَمَكَرَ اللَّهُ وَاللَّهُ خَيْرُ الْمَـكِرِينَ
(And they plotted, and Allah planned too. And Allah is the Best of those who plot.)
پھانسی کون چڑھا ؟ جب حضرت عیسیٰ ؑ نے ان کی ضد اور ہٹ دھرمی کو دیکھ لیا کہ اپنی گمراہی کج روی اور کفر و انکار سے یہ لوگ ہٹتے ہی نہیں، تو فرمانے لگے کہ کوئی ایسا بھی ہے ؟ جو اللہ تعالیٰ کی طرف پہنچنے کے لئے میری تابعداری کرے اس کا یہ مطلب بھی لیا گیا ہے کہ کوئی ہے جو اللہ جل شانہ کے ساتھ میرا مددگار بنے ؟ لیکن پہلا قول زیادہ قریب ہے، بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے فرمایا اللہ جل شانہ کی طرف پکارنے میں میرا ہاتھ بٹانے والا کون ہے ؟ جیسے کہ نبی اللہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ مکہ شریف سے ہجرت کرنے کے پہلے موسم حج کے موقع پر فرمایا کرتے تھے کہ کوئی ہے جو مجھے اللہ جل شانہ کا کلام پہنچانے کے لئے جگہ دے ؟ قریش تو کلام الٰہی کی تبلیغ سے مجھے روک رہے ہیں یہاں تک کہ مدینہ شریف کے باشندے انصار کرام اس خدمت کے لئے کمربستہ ہوئے آپ کو جگہ بھی دی آپ کی مدد بھی کی اور جب آپ ان کے ہاں تشریف لے گئے تو پوری خیرخواہی اور بےمثال ہمدردی کا مظاہرہ کیا، ساری دنیا کے مقابلہ میں اپنا سینہ سپر کردیا اور حضور ﷺ کی حفاظت خیرخواہی اور آپ کے مقاصد کی کامیابی میں ہمہ تن مصروف ہوگئے ؓ وارضاھم اسی طرح حضرت عیسیٰ ؑ کی اس آواز پر بھی چند بنی اسرائیلیوں نے لبیک کہی آپ پر ایمان لائے آپ کی تائید کی تصدیق کی اور پوری مدد پہنچائی اور اس نور کی اطاعت میں لگ گئے جو اللہ ذوالجلال نے ان پر اتارا تھا یعنی انجیل یہ لوگ دھوبی تھے اور حواری انہیں ان کے کپڑوں کی سفیدی کی وجہ سے کہا گیا ہے، بعض کہتے ہیں یہ شکاری تھے، صحیح یہ ہے کہ حواری کہتے ہیں مددگار کو، جیسے کہ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ جنگ خندق کے موقع پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کوئی جو سینہ سپر ہوجائے ؟ اس آواز کو سنتے ہی حضرت زبیر تیار ہوگئے آپ نے دوبارہ یہی فرمایا پھر بھی حضرت زبیر نے ہی قدم اٹھایا پسحضور ﷺ نے فرمایا ہر نبی کے حواری ہوتے ہیں اور میرا حواری زبیر ہے ؓ پھر یہ لوگ اپنی دعا میں کہتے ہیں ہمیں شاہدوں میں لکھ لے، اس سے مراد حضرت ابن عباس کے نزدیک امت محمد ﷺ میں لکھ لینا ہے، اس تفسیر کی روایت سنداً بہت عمدہ ہے، پھر بنی اسرائیل کے اس ناپاک گروہ کا ذکر ہو رہا ہے جو حضرت عیسیٰ کی طرف سے بھرے تھے کہ یہ شخص لوگوں کو بہکاتا پھرتا ہے ملک میں بغاوت پھیلا رہا ہے اور رعایا کو بگاڑ رہا ہے، باپ بیٹوں میں فساد برپا کر رہا ہے، بلکہ اپنی خباثت خیانت کذب و جھوٹ (دروغ) میں یہاں تک بڑھ گئے کہ آپ کو زانیہ کا بیٹا کہا اور آپ پر بڑے بڑے بہتان باندھے، یہاں تک کہ بادشاہ بھی دشمن جان بن گیا اور اپنی فوج کو بھیجا تاکہ اسے گرفتار کر کے سخت سزا کے ساتھ پھانسی دے دو ، چناچہ یہاں سے فوج جاتی ہے اور جس گھر میں آپ تھے اسے چاروں طرف سے گھیر لیتی ہے ناکہ بندی کر کے گھر میں گھستی ہے، لیکن اللہ تعالیٰ آپ کو ان مکاروں کے ہاتھ سے صاف بچا لیتا ہے اس گھر کے روزن (روشن دان) سے آپ کو آسمان کی طرف اٹھا لیتا ہے اور آپ کی شباہت ایک اور شخص پر ڈال دی جاتی ہے جو اسی گھر میں تھا، یہ لوگ رات کے اندھیرے میں اس کو عیسیٰ سمجھ لیتے ہیں گرفتار کر کے لے جاتے ہیں سخت توہین کرتے ہیں اور سر پر کانٹوں کو تاج رکھ کر اسے صلیب پر چڑھا دیتے ہیں، یہی ان کے ساتھ اللہ کا مکر تھا کہ وہ تو اپنے نزدیک یہ سمجھتے رہے کہ ہم نے اللہ کے نبی کو پھانسی پر لٹکا دیا حالانکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو تو نجات دے دی تھی، اس بدبختی اور بدنیتی کا ثمرہ انہیں یہ ملا کہ ان کے دل ہمیشہ کے لئے سخت ہوگئے باطل پر اڑ گئے اور دنیا میں ذلیل و خوار ہوگئے اور آخر دنیا تک اس ذلت میں ہی ڈوبے رہے۔ اس کا بیان اس آیت میں ہے کہ اگر انہیں خفیہ تدبیریں کرنی آتی ہیں تو کیا ہم خفیہ تدبیر کرنا نہیں جانتے بلکہ ہم تو ان سے بہتر خفیہ تدبیریں کرنے والے ہیں۔
54
View Single
وَمَكَرُواْ وَمَكَرَ ٱللَّهُۖ وَٱللَّهُ خَيۡرُ ٱلۡمَٰكِرِينَ
And the disbelievers conspired (to kill Eisa), and Allah covertly planned to destroy them; and Allah is the best of secret planners.
پھر (یہودی) کافروں نے (عیسٰی علیہ السلام کے قتل کے لئے) خفیہ سازش کی اور اللہ نے (عیسٰی علیہ السلام کو بچانے کے لئے) مخفی تدبیر فرمائی، اور اللہ سب سے بہتر مخفی تدبیر فرمانے والا ہے
Tafsir Ibn Kathir
The Disciples Give Their Support to `Isa
Allah said,
فَلَمَّآ أَحَسَّ عِيسَى
(Then when `Isa came to know), meaning, `Isa felt that they were adamant in disbelief and continuing in misguidance. He said to them,
مَنْ أَنصَارِى إِلَى اللَّهِ
(Who will be my helper in Allah's cause) Mujahid commented, "Meaning, who would follow me to Allah" However, it appears that `Isa was asking, "Who would help me convey the Message of Allah ﷺ"
The Prophet said during the Hajj season, before the Hijrah,
«مَنْ رَجُلٌ يُؤْوِينِي حَتَّى أُبَلِّغَ كَلَامَ رَبِّي؟، فَإِنَّ قُرَيْشًا قَدْ مَنَعُونِي أَنْ أُبَلِّغَ كَلَامَ رَبِّي»
(Who will give me asylum so that I can convey the Speech of my Lord, for the Quraysh have prevented me from conveying the Speech of my Lord.) until he found the Ansar. The Ansar helped the Prophet and gave him refuge. He later migrated to them, they comforted the Prophet and protected him from all his enemies, may Allah be pleased with them all. This is similar to what happened with `Isa, for some of the Children of Israel believed in him, gave him their aid and support and followed the light that was sent with him. This is why Allah said about them;
فَلَمَّآ أَحَسَّ عِيسَى مِنْهُمُ الْكُفْرَ قَالَ مَنْ أَنصَارِى إِلَى اللَّهِ قَالَ الْحَوَارِيُّونَ نَحْنُ أَنْصَارُ اللَّهِ ءَامَنَّا بِاللَّهِ وَاشْهَدْ بِأَنَّا مُسْلِمُونَ - رَبَّنَآ ءَامَنَّا بِمَآ أَنزَلَتْ وَاتَّبَعْنَا الرَّسُولَ فَاكْتُبْنَا مَعَ الشَّـهِدِينَ
(Al-Hawariyyun said: "We are the helpers of Allah; we believe in Allah, and bear witness that we are Muslims. Our Lord! We believe in what You have sent down, and we follow the Messenger; so write us down among those who bear witness.") Hawari in Arabic - means `support'. The Two Sahihs recorded that when the Prophet encouraged the people to fight during the battle of Al-Ahzab, Az-Zubayr came forward, and again, when the Prophet asked for fighters a second time. The Prophet said,
«إِنَّ لِكُلِّ نَبِيَ حَوَارِيًّا، وَحَوَارِيِّي الزُّبَيْر»
(Every Prophet has a Hawari, and Az-Zubayr is my Hawari)
Ibn Abi Hatim recorded that Ibn `Abbas said about,
فَاكْتُبْنَا مَعَ الشَّـهِدِينَ
(so write us down among those who bear witness) "Meaning among the Ummah of Muhammad ﷺ." This Hadith has a good chain of narration.
The Jews Plot to Kill `Isa
Allah states that the Children of Israel tried to kill `Isa by conspiring to defame him and crucify him. They complained about him to the king who was a disbeliever. They claimed that `Isa was a man who misguided people, discouraged them from obeying the king, caused division, and separated between man and his own son. They also said other lies about `Isa, which they will carry on their necks, including accusing him of being an illegitimate son. The king became furious and sent his men to capture `Isa to torture and crucify him. When they surrounded `Isa's home and he thought that they would surely capture him, Allah saved him from them, raising him up from the house to heaven. Allah put the image of `Isa on a man who was in the house; when the unjust people went in the house while it was still dark, they thought that he was `Isa. They captured that man, humiliated and crucified him. They also placed thorns on his head. However, Allah deceived these people. He saved and raised His Prophet from them, leaving them in disarray in the darkness of their transgression, thinking that they had successfully achieved their goal. Allah made their hearts hard, and defiant of the truth, disgracing them in such disgrace that it will remain with them until the Day of Resurrection. This is why Allah said,
وَمَكَرُواْ وَمَكَرَ اللَّهُ وَاللَّهُ خَيْرُ الْمَـكِرِينَ
(And they plotted, and Allah planned too. And Allah is the Best of those who plot.)
پھانسی کون چڑھا ؟ جب حضرت عیسیٰ ؑ نے ان کی ضد اور ہٹ دھرمی کو دیکھ لیا کہ اپنی گمراہی کج روی اور کفر و انکار سے یہ لوگ ہٹتے ہی نہیں، تو فرمانے لگے کہ کوئی ایسا بھی ہے ؟ جو اللہ تعالیٰ کی طرف پہنچنے کے لئے میری تابعداری کرے اس کا یہ مطلب بھی لیا گیا ہے کہ کوئی ہے جو اللہ جل شانہ کے ساتھ میرا مددگار بنے ؟ لیکن پہلا قول زیادہ قریب ہے، بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے فرمایا اللہ جل شانہ کی طرف پکارنے میں میرا ہاتھ بٹانے والا کون ہے ؟ جیسے کہ نبی اللہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ مکہ شریف سے ہجرت کرنے کے پہلے موسم حج کے موقع پر فرمایا کرتے تھے کہ کوئی ہے جو مجھے اللہ جل شانہ کا کلام پہنچانے کے لئے جگہ دے ؟ قریش تو کلام الٰہی کی تبلیغ سے مجھے روک رہے ہیں یہاں تک کہ مدینہ شریف کے باشندے انصار کرام اس خدمت کے لئے کمربستہ ہوئے آپ کو جگہ بھی دی آپ کی مدد بھی کی اور جب آپ ان کے ہاں تشریف لے گئے تو پوری خیرخواہی اور بےمثال ہمدردی کا مظاہرہ کیا، ساری دنیا کے مقابلہ میں اپنا سینہ سپر کردیا اور حضور ﷺ کی حفاظت خیرخواہی اور آپ کے مقاصد کی کامیابی میں ہمہ تن مصروف ہوگئے ؓ وارضاھم اسی طرح حضرت عیسیٰ ؑ کی اس آواز پر بھی چند بنی اسرائیلیوں نے لبیک کہی آپ پر ایمان لائے آپ کی تائید کی تصدیق کی اور پوری مدد پہنچائی اور اس نور کی اطاعت میں لگ گئے جو اللہ ذوالجلال نے ان پر اتارا تھا یعنی انجیل یہ لوگ دھوبی تھے اور حواری انہیں ان کے کپڑوں کی سفیدی کی وجہ سے کہا گیا ہے، بعض کہتے ہیں یہ شکاری تھے، صحیح یہ ہے کہ حواری کہتے ہیں مددگار کو، جیسے کہ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ جنگ خندق کے موقع پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کوئی جو سینہ سپر ہوجائے ؟ اس آواز کو سنتے ہی حضرت زبیر تیار ہوگئے آپ نے دوبارہ یہی فرمایا پھر بھی حضرت زبیر نے ہی قدم اٹھایا پسحضور ﷺ نے فرمایا ہر نبی کے حواری ہوتے ہیں اور میرا حواری زبیر ہے ؓ پھر یہ لوگ اپنی دعا میں کہتے ہیں ہمیں شاہدوں میں لکھ لے، اس سے مراد حضرت ابن عباس کے نزدیک امت محمد ﷺ میں لکھ لینا ہے، اس تفسیر کی روایت سنداً بہت عمدہ ہے، پھر بنی اسرائیل کے اس ناپاک گروہ کا ذکر ہو رہا ہے جو حضرت عیسیٰ کی طرف سے بھرے تھے کہ یہ شخص لوگوں کو بہکاتا پھرتا ہے ملک میں بغاوت پھیلا رہا ہے اور رعایا کو بگاڑ رہا ہے، باپ بیٹوں میں فساد برپا کر رہا ہے، بلکہ اپنی خباثت خیانت کذب و جھوٹ (دروغ) میں یہاں تک بڑھ گئے کہ آپ کو زانیہ کا بیٹا کہا اور آپ پر بڑے بڑے بہتان باندھے، یہاں تک کہ بادشاہ بھی دشمن جان بن گیا اور اپنی فوج کو بھیجا تاکہ اسے گرفتار کر کے سخت سزا کے ساتھ پھانسی دے دو ، چناچہ یہاں سے فوج جاتی ہے اور جس گھر میں آپ تھے اسے چاروں طرف سے گھیر لیتی ہے ناکہ بندی کر کے گھر میں گھستی ہے، لیکن اللہ تعالیٰ آپ کو ان مکاروں کے ہاتھ سے صاف بچا لیتا ہے اس گھر کے روزن (روشن دان) سے آپ کو آسمان کی طرف اٹھا لیتا ہے اور آپ کی شباہت ایک اور شخص پر ڈال دی جاتی ہے جو اسی گھر میں تھا، یہ لوگ رات کے اندھیرے میں اس کو عیسیٰ سمجھ لیتے ہیں گرفتار کر کے لے جاتے ہیں سخت توہین کرتے ہیں اور سر پر کانٹوں کو تاج رکھ کر اسے صلیب پر چڑھا دیتے ہیں، یہی ان کے ساتھ اللہ کا مکر تھا کہ وہ تو اپنے نزدیک یہ سمجھتے رہے کہ ہم نے اللہ کے نبی کو پھانسی پر لٹکا دیا حالانکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو تو نجات دے دی تھی، اس بدبختی اور بدنیتی کا ثمرہ انہیں یہ ملا کہ ان کے دل ہمیشہ کے لئے سخت ہوگئے باطل پر اڑ گئے اور دنیا میں ذلیل و خوار ہوگئے اور آخر دنیا تک اس ذلت میں ہی ڈوبے رہے۔ اس کا بیان اس آیت میں ہے کہ اگر انہیں خفیہ تدبیریں کرنی آتی ہیں تو کیا ہم خفیہ تدبیر کرنا نہیں جانتے بلکہ ہم تو ان سے بہتر خفیہ تدبیریں کرنے والے ہیں۔
55
View Single
إِذۡ قَالَ ٱللَّهُ يَٰعِيسَىٰٓ إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَيَّ وَمُطَهِّرُكَ مِنَ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ وَجَاعِلُ ٱلَّذِينَ ٱتَّبَعُوكَ فَوۡقَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوٓاْ إِلَىٰ يَوۡمِ ٱلۡقِيَٰمَةِۖ ثُمَّ إِلَيَّ مَرۡجِعُكُمۡ فَأَحۡكُمُ بَيۡنَكُمۡ فِيمَا كُنتُمۡ فِيهِ تَخۡتَلِفُونَ
Remember when Allah said, “O Eisa! I will keep you alive till your full age, and raise you towards Me, and cleanse you of the disbelievers and give your followers dominance over the disbelievers until the Day of Resurrection; then you will all return to Me, so I shall judge between you concerning the matter in which you dispute.”
جب اللہ نے فرمایا: اے عیسٰی! بیشک میں تمہیں پوری عمر تک پہنچانے والا ہوں اور تمہیں اپنی طرف (آسمان پر) اٹھانے والا ہوں اور تمہیں کافروں سے نجات دلانے والا ہوں اور تمہارے پیروکاروں کو (ان) کافروں پر قیامت تک برتری دینے والا ہوں، پھر تمہیں میری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے سو جن باتوں میں تم جھگڑتے تھے میں تمہارے درمیان ان کا فیصلہ کر دوں گا
Tafsir Ibn Kathir
Meaning of `Take You
Allah said,
إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَىَّ
(I will take you and raise you to Myself) while you are asleep. Allah said in a similar Ayat,
وَهُوَ الَّذِى يَتَوَفَّـكُم بِالَّيْلِ
(It is He Who takes your souls by night (when you are asleep).) 6:60, and,
اللَّهُ يَتَوَفَّى الاٌّنفُسَ حِينَ مِوْتِـهَا وَالَّتِى لَمْ تَمُتْ فِى مَنَامِـهَا
(It is Allah Who takes away the souls at the time of their death, and those that die not during their sleep.) 39:42.
The Messenger of Allah ﷺ used to recite the following words when he would awaken;
«الْحَمْدُ للهِ الَّذِي أَحْيَانَا بَعْدَ مَا أَمَاتَنَا، وَإِلَيْهِ النُّشُور»
(All the thanks are due to Allah Who brought us back to life after He had caused us to die (sleep), and the Return is to Him).
Allah said,
وَبِكُفْرِهِمْ وَقَوْلِهِمْ عَلَى مَرْيَمَ بُهْتَـناً عَظِيماً وَقَوْلِهِمْ إِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِيحَ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ رَسُولَ اللَّهِ وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ وَلَـكِن شُبِّهَ لَهُمْ
(And because of their disbelief and allegations against Maryam and because of their saying "We killed Al-Masih `Isa, son of Maryam, the Messenger of Allah ﷺ, ـ but they killed him not, nor crucified him, but it appeared that way to them) until,
وَقَوْلِهِمْ إِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِيحَ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ رَسُولَ اللَّهِ وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ وَلَـكِن شُبِّهَ لَهُمْ وَإِنَّ الَّذِينَ اخْتَلَفُواْ فِيهِ لَفِى شَكٍّ مِّنْهُ مَا لَهُمْ بِهِ مِنْ عِلْمٍ إِلاَّ اتِّبَاعَ الظَّنِّ وَمَا قَتَلُوهُ يَقِيناً - بَل رَّفَعَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ وَكَانَ اللَّهُ عَزِيزاً حَكِيماً
وَإِن مِّنْ أَهْلِ الْكِتَـبِ إِلاَّ لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ وَيَوْمَ الْقِيَـمَةِ يَكُونُ عَلَيْهِمْ شَهِيداً
(For surely; they killed him not But Allah raised him up unto Himself. And Allah is Ever All-Powerful, All-Wise. And there is none of the people of the Scripture (Jews and Christians) but must believe in him before his death. And on the Day of Resurrection, he `Isa will be a witness against them.) 4:156-159
`His death' refers to `Isa, and the Ayah means that the People of the Book will believe in `Isa, before `Isa dies. This will occur when `Isa comes back to this world before the Day of Resurrection, as we will explain. By that time, all the People of the Book will believe in `Isa, for he will annul the Jizyah and he will only accept Islam from people. Ibn Abi Hatim recorded that Al-Hasan said that Allah's statement,
إِنِّي مُتَوَفِّيكَ
(I will take you) is in reference to sleep, for Allah raised `Isa while he was asleep.
Altering the Religion of `Isa
Allah said,
وَمُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِينَ كَفَرُواْ
(And purify save you from those who disbelieve) by raising you to heaven,
وَجَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِينَ كَفَرُواْ إِلَى يَوْمِ الْقِيَـمَةِ
(And I will make those who follow you superior to those who disbelieve, till the Day of Resurrection)
This is what happened. When Allah raised `Isa to heaven, his followers divided into sects and groups. Some of them believed in what Allah sent `Isa as, a servant of Allah, His Messenger, and the son of His female-servant.
However, some of them went to the extreme over `Isa, believing that he was the son of Allah. Some of them said that `Isa was Allah Himself, while others said that he was one of a Trinity. Allah mentioned these false creeds in the Qur'an and refuted them. The Christians remained like this until the third century CE, when a Greek king called, Constantine, became a Christian for the purpose of destroying Christianity. Constantine was either a philosopher, or he was just plain ignorant. Constantine changed the religion of `Isa by adding to it and deleting from it. He established the rituals of Christianity and the so-called Great Trust, which is in fact the Great Treachery. He also allowed them to eat the meat of swine, changed the direction of the prayer that `Isa established to the east, built churches for `Isa, and added ten days to the fast as compensation for a sin that he committed, as claimed. So the religion of `Isa became the religion of Constantine, who built more then twelve thousand churches, temples and monasteries for the Christians as well as the city that bears his name, Constantinople (Istanbul). Throughout this time, the Christians had the upper hand and dominated the Jews. Allah aided them against the Jews because they used to be closer to the truth than the Jews, even though both groups were and still are disbelievers, may Allah's curse descend on them.
When Allah sent Muhammad , those who believed in him also believed in Allah, His Angels, Books and Messengers in the correct manner. So they were the true followers of every Prophet who came to earth. They believed in the unlettered Prophet , the Final Messenger and the master of all mankind, who called them to believe in the truth in its entirety. This is why they had more right to every Prophet than his own nation, especially those who claim to follow their Prophet's way and religion, yet change and alter his religion. Furthermore, Allah abrogated all the laws that were sent down to the Prophets with the Law He sent Muhammad with, which consists of the true religion that shall never change or be altered until the commencement of the Last Hour. Muhammad's religion shall always be dominant and victorious over all other religions. This is why Allah allowed Muslims to conquer the eastern and western parts of the world and the kingdoms of the earth. Furthermore, all countries submitted to them; they demolished Kisra (king of Persia) and destroyed the Czar, ridding them of their treasures and spending these treasures for Allah's sake. All this occurred just as their Prophet told them it would, when he conveyed Allah's statement,
وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ ءامَنُواْ مِنْكُمْ وَعَمِلُواْ الصَّـلِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِى الاْرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِى ارْتَضَى لَهُمْ وَلَيُبَدّلَنَّهُمْ مّن بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْناً يَعْبُدُونَنِى لاَ يُشْرِكُونَ بِى شَيْئاً
(Allah has promised those among you who believe and do righteous good deeds, that He will certainly grant them succession in the land, as He granted it to those before them, and that He will grant them the authority to practice their religion which He has chosen for them. And He will surely give them in exchange a safe security after their fear (provided) they worship Me and do not associate anything with Me.) 24:55.
Therefore, Muslims are the true believers in `Isa. The Muslims then acquired Ash-Sham from the Christians, causing them to evacuate to Asia Minor, to their fortified city in Constantinople. The Muslims will be above them until the Day of Resurrection. Indeed, he, Muhammad , who is truthful and who received the true news, has conveyed to Muslims that they will conquer Constantinople in the future, and seize its treasures.
Threatening the Disbelievers with Torment in This Life and the Hereafter
Allah said,
إِذْ قَالَ اللَّهُ يعِيسَى إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَىَّ وَمُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِينَ كَفَرُواْ وَجَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِينَ كَفَرُواْ إِلَى يَوْمِ الْقِيَـمَةِ ثُمَّ إِلَيَّ مَرْجِعُكُمْ فَأَحْكُمُ بَيْنَكُمْ فِيمَا كُنتُمْ فِيهِ تَخْتَلِفُونَ - فَأَمَّا الَّذِينَ كَفَرُواْ فَأُعَذِّبُهُمْ عَذَاباً شَدِيداً فِي الدُّنْيَا وَالاٌّخِرَةِ وَمَا لَهُمْ مِّن نَّـصِرِينَ
(And I will make those who follow you superior to those who disbelieve till the Day of Resurrection. Then you will return to Me and I will judge between you in the matters in which you used to dispute. As to those who disbelieve, I will punish them with a severe torment in this world and in the Hereafter, and they will have no helpers.)
This is what Allah did to the Jews who disbelieved in `Isa and the Christians who went to the extreme over him. Allah tormented them in this life; they were killed, captured, and lost their wealth and kingdoms. Their torment in the Hereafter is even worse and more severe,
وَمَا لَهُم مِّنَ اللَّهِ مِن وَاقٍ
(And they have no Waq (defender or protector) against Allah) 13:34.
وَأَمَّا الَّذِينَ ءَامَنُوا وَعَمِلُواْ الصَّـلِحَاتِ فَيُوَفِّيهِمْ أُجُورَهُمْ
(And as for those who believe and do righteous good deeds, Allah will pay them their reward in full) in this life, with victory and domination, and in the Hereafter, with Paradise and high grades,
وَاللَّهُ لاَ يُحِبُّ الظَّـلِمِينَ
(And Allah does not like the wrongdoers.)
Allah then said,
ذَلِكَ نَتْلُوهُ عَلَيْكَ مِنَ الآيَـتِ وَالذِّكْرِ الْحَكِيمِ
(This is what We recite to you of the verses and the Wise Reminder.) meaning, "What We narrated to you, O Muhammd, regarding `Isa, his birth and his life, is what Allah conveyed and revealed to you, sent down from the Al-Lawh Al-Mahfuz (The Preserved Tablet). So there is no doubt in it. Similarly, Allah said in Surah Maryam;
ذلِكَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ قَوْلَ الْحَقِّ الَّذِى فِيهِ يَمْتُرُونَ - مَا كَانَ للَّهِ أَن يَتَّخِذَ مِن وَلَدٍ سُبْحَـنَهُ إِذَا قَضَى أَمْراً فَإِنَّمَا يَقُولُ لَهُ كُن فَيَكُونُ
(Such is `Isa, son of Maryam. (It is) a statement of truth, about which they doubt (or dispute). It befits not Allah that He should beget a son. Glorified be He. When He decrees a thing, He only says to it: "Be!" and it is.)
اظہارخو دمختاری قتادہ وغیرہ بعض مفسرین تو فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ میں تجھے اپنی طرف اٹھا لوں گا پھر اس کے بعد تجھے فوت کروں گا، ابن عباس فرماتے ہیں یعنی میں تجھے مارنے والا ہوں، وہب بن منبہ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے آپ کو اٹھاتے وقت دن کے شروع میں تین ساعت تک فوت کردیا تھا، ابن اسحاق کہتے ہیں نصاریٰ کا خیال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو سات ساعت تک فوت رکھا پھر زندہ کردیا، وہب فرماتے ہیں تین دن تک موت کے بعد پھر زندہ کر کے اٹھا لیا، مطر وراق فرماتے ہیں یعنی میں تجھے دنیا میں پورا پورا کردینے والا ہوں یہاں وفات موت مراد نہیں، اسی طرح ابن جریر فرماتے ہیں تو فی سے یہاں مراد ان کا رفع ہے اور اکثر مفسرین کا قول ہے کہ وفات سے مراد یہاں نیند ہے، جیسے اور جگہ قرآن حکیم میں ہے آیت (وَهُوَ الَّذِيْ يَتَوَفّٰىكُمْ بالَّيْلِ) 6۔ الانعام :60) وہ اللہ ذوالمنن جو تمہیں رات کو فوت کردیتا ہے یعنی سلا دیتا ہے اور جگہ ہے آیت (اَللّٰهُ يَتَوَفَّى الْاَنْفُسَ حِيْنَ مَوْتِهَا وَالَّتِيْ لَمْ تَمُتْ فِيْ مَنَامِهَا) 39۔ الزمر :42) یعنی اللہ تعالیٰ ان کی موت کے وقت جانوں کو فوت کرتا ہے اور جو نہیں مرتیں انہیں ان کی نیند کے وقت، رسول اللہ ﷺ جب نیند سے بیدار ہوتے تو فرماتے (حدیث الحمد للہ الذی احیانا بعدما اماتنا) یعنی اللہ عزوجل کا شکر ہے جس نے ہمیں مار ڈالنے کے بعد پھر زندہ کردیا، اور جگہ فرمان باری تعالیٰ وبکفرھم سے شیھدا تک پڑھو جہاں فرمایا گیا ہے ان کے کفر کی وجہ سے اور حضرت مریم پر بہتان عظیم باندھ لینے کی بنا پر اور اس باعث کہ وہ کہتے ہیں ہم نے مسیح عیسیٰ بن مریم رسول اللہ ﷺ کو قتل کردیا حالانکہ نہ قتل کیا ہے اور نہ صلیب دی لیکن ان کو شبہ میں ڈال دیا گیا موتہ کی ضمیر کا مرجع حضرت عیسیٰ ؑ ہیں یعنی تمام اہل کتاب حضرت عیسیٰ پر ایمان لائیں گے جبکہ وہ قیامت سے پہلے زمین پر اتریں گے اس کا تفصیلی بیان عنقریب آرہا ہے۔ انشاء اللہ، پس اس وقت تمام اہل کتاب ان پر ایمان لائیں گے کیونکہ نہ وہ جزیہ لیں گے نہ سوائے اسلام کے اور کوئی بات قبول کریں گے، ابن ابی حاتم میں حضرت حسن سے (آیت انی متوفیک) کی تفسیر یہ مروی ہے کہ ان پر نیند ڈالی گئی اور نیند کی حالت میں ہی اللہ تعالیٰ نے انہیں اٹھا لیا، حضرت حسن فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے یہودیوں سے فرمایا کہ حضرت عیسیٰ مرے نہیں وہ تمہاری طرف قیامت سے پہلے لوٹنے والے ہیں۔ پھر فرماتا ہے میں تجھے اپنی طرف اٹھا کر کافروں کی گرفت سے آزاد کرنے والا ہوں، اور تیرے تابعداروں کو کافروں پر غالب رکھنے والا ہوں قیامت تک، چناچہ ایسا ہی ہوا، جب اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ کو آسمان پر چڑھا لیا تو ان کے بعد ان کے ساتھیوں کے کئی فریق ہوگئے ایک فرقہ تو آپ کی بعثت پر ایمان رکھنے والا تھا کہ آپ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں اور اس کی ایک بندی کے لڑکے ہیں بعض وہ تھے جنہوں نے غلو سے کام لیا اور بڑھ گئے اور آپ کو اللہ تعالیٰ کا بیٹا کہنے لگے، اوروں نے آپ کو اللہ کہا، دوسروں نے تین میں کا ایک آپ کو بتایا، اللہ تعالیٰ ان کے ان عقائد کا ذکر قرآن مجید میں فرماتا ہے پھر ان کی تردید بھی کردی ہے تین سو سال تک تو یہ اسی طرح رہے، پھر یونان کے بادشاہوں میں سے ایک بادشاہ جو بڑا فیلسوف تھا جس کا نام اسطفلین تھا کہا جاتا ہے کہ صرف اس دین کو بگڑانے کے لئے منافقانہ انداز سے اس دین میں داخل ہوا یا جہالت سے داخل ہوا ہو، بہر صورت اس نے دین مسیح کو بالکل بدل ڈالا اور بڑی تحریف اور تفسیر کی اس دین میں اور کمی زیادہ بھی کر ڈالی، بہت سے قانون ایجاد کئے اور امانت کبریٰ بھی اسی کی ایجاد ہے جو دراصل کمینہ پن کی خیانت ہے، اسی نے اپنے زمانہ میں سور کو حلال کیا اسی کے حکم سے عیسائی مشرق کی طرف نمازیں پڑھنے لگے اسی نے گرجاؤں اور کلیساؤں میں عبادت خانوں اور خانقاہوں میں تصویریں بنوائیں اور اپنے ایک گناہ کے باعث دس روزے روزوں میں بڑھوا دئیے، غرض اس کے زمانہ سے دین مسیح مسیحی دین نہ رہا بلکہ دین اسطفلین ہوگیا، اس نے ظاہری رونق تو خوب دی بارہ ہزار سے زاید تو عبادت گاہیں بنوا دیں اور ایک شہر اپنے نام سے بسایا، ملکیہ گروہ نے اس کی تمام باتیں مان لیں لیکن باوجود ان سب سیاہ کاریوں کے یہودی ان کے ہاتھ تلے رہے اور دراصل نسبتاً حق سے زیادہ قریب یہی تھے گو فی الواقع سارے کے سارے کفار تھے اللہ خالق کل کی ان پر پھٹکار ہو، اب جبکہ ہمارے نبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے اپنا برگزیدہ بنا کر دنیا میں بھیجا تو آپ پر جو لوگ ایمان لائے ان کا ایمان اللہ تعالیٰ کی ذات پر بھی تھا اس کے فرشتوں پر بھی تھا اس کی کتابوں پر بھی تھا اور اس کے تمام رسولوں پر بھی تھا پس حقیقت میں نبیوں کے سچے تابع فرمان یہی لوگ تھے یعنی امت محمد ﷺ ، اس لئے کہ یہ نبی امی عربی خاتم الرسول سید اولاد آدم کے ماننے والے تھے اور حضور ﷺ کی تعلیم برحق تعلیم کو سچا ماننے کی تھی، لہذا دراصل ہر نبی کے سچے تابعدار اور صحیح معنی میں امتی کہلانے کے مستحق یہی لوگ تھے کیونکہ ان لوگوں نے جو اپنے تئیں عیسیٰ کی امت کہتے تھے تو دین عیسوی کو بالکل مسخ اور فسخ کردیا تھا، علاوہ ازیں پیغمبر آخرالزمان کا دین بھی اور تمام اگلی شریعتوں کا ناسخ تھا پھر محفوظ رہنے والا تھا جس کا ایک شوشہ بھی قیامت تک بدلنے والا نہیں اس لئے اس آیت کے وعدے کے مطابق اللہ تعالیٰ نے کافروں پر اس امت کو غالب کر اور یہ مشرق سے لے کر مغرب تک چھا گئے ملک کو اپنے پاؤں تلے روند دیا اور بڑے بڑے جابر اور کٹر کافروں کی گردنیں مروڑ دیں دولتیں ان کے پیروں میں آگئیں فتح و غنیمت ان کی رکابیں چومنے لگی مدتوں کی پرانی سلطنتوں کے تحت انہوں نے الٹ دئیے، کسریٰ کی عظیم الشان پر شان سلطنت اور ان کے بھڑکتے ہوئے آتش کدے ان کے ہاتھوں ویران اور سرد ہوگئے، قیصر کا تاج و تخت ان اللہ والوں نے تاخت و تاراج کیا اور انہیں مسیح پرستی کا خوب مزا چکھایا اور ان کے خزانوں کو اللہ واحد کی رضامندی میں اور اس کے سچے نبی کے دین کی اشاعت میں دل کھول کر خرچ کئے اور اللہ کے لکھے اور نبی کے وعدے چڑھے ہوئے سورج اور چودھویں کے روشن چاند کی طرح سچے ہوئے لوگوں نے دیکھ لئے، مسیح ؑ کے نام کو بدنام کرنے والے مسیح کے نام شیطانوں کو پوجنے والے ان پاکباز اللہ پرستوں کے ہاتھوں مجبور ہو کر شام کے لہلہاتے ہوئے باغات اور آباد شہروں کو ان کے حوالے کر کے بدحواس بھاگتے ہوئے روم میں جا بسے پھر وہاں سے بھی یہ بےعزت کر کے نکالے گئے اور اپنے بادشاہ کے خاص شہر قسطنطنیہ میں پہنچے لیکن پھر وہاں سے بھی ذلیل خوار کر کے نکال دئیے گئے اور انشاء اللہ العزیز اسلام اور اہل اسلام قیامت تک ان پر غالب ہی رہیں گے۔ سب سچوں کے سردار جن کی سچائی پر مہر الٰہی لگ چکی ہے یعنی آنحضرت ﷺ خبر دے چکے ہیں جو اٹل ہے نہ کاٹے کٹے نہ توڑے ٹوٹے، نہ ٹالے ٹلے، فرماتے ہیں کہ آپ کی امت کا آخری گروہ قسطنطنیہ کو فتح کرے گا اور وہاں کے تمام خزانے اپنے قبضے میں لے گا اور رومیوں سے ان کی گھمسان کی لڑائی ہوگی کہ اس کی نظیر سے دنیا خالی ہو (ہماری دعا ہے کہ ہر زمانے میں اللہ قادر کل اس امت کا حامی و ناصر رہے اور روئے زمین کے کفار پر انہیں غالب رکھے اور انہیں سمجھ دے تاکہ یہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی عبادت کریں نہ محمد ﷺ کے سوا کسی اور کی اطاعت کریں، یہی اسلام کی اصل ہے اور یہی عروج دینوی کا گر ہے میں نے سب کو علیحدہ کتاب میں جمع کردیا ہے، آگے اللہ تعالیٰ کے قول پر نظر ڈالیے کہ مسیح ؑ کے ساتھ کفر کرنے والے یہود اور آپ کی شان میں بڑھ چڑھ کر باتیں بنا کر بہکنے والے نصرانیوں کو قتل و قید کی مار اور سلطنت کے تباہ ہوجانے کی یہاں بھی سزا دی اور آخرت کا عذاب وہاں دیکھ لیں گے جہاں نہ کوئی بچا سکے نہ مدد کرسکے گا لیکن برخلاف ان کے ایمانداروں کو پورا اجر اللہ تعالیٰ عطا فرمائے گا دنیا میں بھی فتح اور نصرت عزت و حرمت عطا ہوگی اور آخرت میں بھی خاص رحمتیں اور نعمتیں ملیں گی، اللہ تعالیٰ ظالموں کو ناپسند رکھتا ہے۔ پھر فرمایا اے نبی ﷺ یہ تھی حقیقت حضرت عیسیٰ کی ابتداء پیدائش کی اور ان کے امر کی جو اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ سے آپ کی طرف بذریعہ اپنی خاص وحی کے اتار دی جس میں کوئی شک و شبہ نہیں جیسے سورة مریم میں فرمایا، عیسیٰ بن مریم یہی ہیں یہی سچی حقیقت ہے جس میں تم شک و شبہ میں پڑے ہو، اللہ تعالیٰ کو تو لائق ہی نہیں کہ اس کی اولاد ہو وہ اس سے بالکل پاک ہے وہ جو کرنا چاہے کہہ دیتا ہے ہوجا، بس وہ ہوجاتا ہے، اب یہاں بھی اس کے بعد بیان ہو رہا ہے۔
56
View Single
فَأَمَّا ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ فَأُعَذِّبُهُمۡ عَذَابٗا شَدِيدٗا فِي ٱلدُّنۡيَا وَٱلۡأٓخِرَةِ وَمَا لَهُم مِّن نَّـٰصِرِينَ
“So I shall mete a severe punishment to those who disbelieve, in this world and in the Hereafter; and they will not have any supporters.”
پھر جو لوگ کافر ہوئے انہیں دنیا اور آخرت (دونوں میں) سخت عذاب دوں گا اور ان کا کوئی مددگار نہ ہو گا
Tafsir Ibn Kathir
Meaning of `Take You
Allah said,
إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَىَّ
(I will take you and raise you to Myself) while you are asleep. Allah said in a similar Ayat,
وَهُوَ الَّذِى يَتَوَفَّـكُم بِالَّيْلِ
(It is He Who takes your souls by night (when you are asleep).) 6:60, and,
اللَّهُ يَتَوَفَّى الاٌّنفُسَ حِينَ مِوْتِـهَا وَالَّتِى لَمْ تَمُتْ فِى مَنَامِـهَا
(It is Allah Who takes away the souls at the time of their death, and those that die not during their sleep.) 39:42.
The Messenger of Allah ﷺ used to recite the following words when he would awaken;
«الْحَمْدُ للهِ الَّذِي أَحْيَانَا بَعْدَ مَا أَمَاتَنَا، وَإِلَيْهِ النُّشُور»
(All the thanks are due to Allah Who brought us back to life after He had caused us to die (sleep), and the Return is to Him).
Allah said,
وَبِكُفْرِهِمْ وَقَوْلِهِمْ عَلَى مَرْيَمَ بُهْتَـناً عَظِيماً وَقَوْلِهِمْ إِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِيحَ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ رَسُولَ اللَّهِ وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ وَلَـكِن شُبِّهَ لَهُمْ
(And because of their disbelief and allegations against Maryam and because of their saying "We killed Al-Masih `Isa, son of Maryam, the Messenger of Allah ﷺ, ـ but they killed him not, nor crucified him, but it appeared that way to them) until,
وَقَوْلِهِمْ إِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِيحَ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ رَسُولَ اللَّهِ وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ وَلَـكِن شُبِّهَ لَهُمْ وَإِنَّ الَّذِينَ اخْتَلَفُواْ فِيهِ لَفِى شَكٍّ مِّنْهُ مَا لَهُمْ بِهِ مِنْ عِلْمٍ إِلاَّ اتِّبَاعَ الظَّنِّ وَمَا قَتَلُوهُ يَقِيناً - بَل رَّفَعَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ وَكَانَ اللَّهُ عَزِيزاً حَكِيماً
وَإِن مِّنْ أَهْلِ الْكِتَـبِ إِلاَّ لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ وَيَوْمَ الْقِيَـمَةِ يَكُونُ عَلَيْهِمْ شَهِيداً
(For surely; they killed him not But Allah raised him up unto Himself. And Allah is Ever All-Powerful, All-Wise. And there is none of the people of the Scripture (Jews and Christians) but must believe in him before his death. And on the Day of Resurrection, he `Isa will be a witness against them.) 4:156-159
`His death' refers to `Isa, and the Ayah means that the People of the Book will believe in `Isa, before `Isa dies. This will occur when `Isa comes back to this world before the Day of Resurrection, as we will explain. By that time, all the People of the Book will believe in `Isa, for he will annul the Jizyah and he will only accept Islam from people. Ibn Abi Hatim recorded that Al-Hasan said that Allah's statement,
إِنِّي مُتَوَفِّيكَ
(I will take you) is in reference to sleep, for Allah raised `Isa while he was asleep.
Altering the Religion of `Isa
Allah said,
وَمُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِينَ كَفَرُواْ
(And purify save you from those who disbelieve) by raising you to heaven,
وَجَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِينَ كَفَرُواْ إِلَى يَوْمِ الْقِيَـمَةِ
(And I will make those who follow you superior to those who disbelieve, till the Day of Resurrection)
This is what happened. When Allah raised `Isa to heaven, his followers divided into sects and groups. Some of them believed in what Allah sent `Isa as, a servant of Allah, His Messenger, and the son of His female-servant.
However, some of them went to the extreme over `Isa, believing that he was the son of Allah. Some of them said that `Isa was Allah Himself, while others said that he was one of a Trinity. Allah mentioned these false creeds in the Qur'an and refuted them. The Christians remained like this until the third century CE, when a Greek king called, Constantine, became a Christian for the purpose of destroying Christianity. Constantine was either a philosopher, or he was just plain ignorant. Constantine changed the religion of `Isa by adding to it and deleting from it. He established the rituals of Christianity and the so-called Great Trust, which is in fact the Great Treachery. He also allowed them to eat the meat of swine, changed the direction of the prayer that `Isa established to the east, built churches for `Isa, and added ten days to the fast as compensation for a sin that he committed, as claimed. So the religion of `Isa became the religion of Constantine, who built more then twelve thousand churches, temples and monasteries for the Christians as well as the city that bears his name, Constantinople (Istanbul). Throughout this time, the Christians had the upper hand and dominated the Jews. Allah aided them against the Jews because they used to be closer to the truth than the Jews, even though both groups were and still are disbelievers, may Allah's curse descend on them.
When Allah sent Muhammad , those who believed in him also believed in Allah, His Angels, Books and Messengers in the correct manner. So they were the true followers of every Prophet who came to earth. They believed in the unlettered Prophet , the Final Messenger and the master of all mankind, who called them to believe in the truth in its entirety. This is why they had more right to every Prophet than his own nation, especially those who claim to follow their Prophet's way and religion, yet change and alter his religion. Furthermore, Allah abrogated all the laws that were sent down to the Prophets with the Law He sent Muhammad with, which consists of the true religion that shall never change or be altered until the commencement of the Last Hour. Muhammad's religion shall always be dominant and victorious over all other religions. This is why Allah allowed Muslims to conquer the eastern and western parts of the world and the kingdoms of the earth. Furthermore, all countries submitted to them; they demolished Kisra (king of Persia) and destroyed the Czar, ridding them of their treasures and spending these treasures for Allah's sake. All this occurred just as their Prophet told them it would, when he conveyed Allah's statement,
وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ ءامَنُواْ مِنْكُمْ وَعَمِلُواْ الصَّـلِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِى الاْرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِى ارْتَضَى لَهُمْ وَلَيُبَدّلَنَّهُمْ مّن بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْناً يَعْبُدُونَنِى لاَ يُشْرِكُونَ بِى شَيْئاً
(Allah has promised those among you who believe and do righteous good deeds, that He will certainly grant them succession in the land, as He granted it to those before them, and that He will grant them the authority to practice their religion which He has chosen for them. And He will surely give them in exchange a safe security after their fear (provided) they worship Me and do not associate anything with Me.) 24:55.
Therefore, Muslims are the true believers in `Isa. The Muslims then acquired Ash-Sham from the Christians, causing them to evacuate to Asia Minor, to their fortified city in Constantinople. The Muslims will be above them until the Day of Resurrection. Indeed, he, Muhammad , who is truthful and who received the true news, has conveyed to Muslims that they will conquer Constantinople in the future, and seize its treasures.
Threatening the Disbelievers with Torment in This Life and the Hereafter
Allah said,
إِذْ قَالَ اللَّهُ يعِيسَى إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَىَّ وَمُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِينَ كَفَرُواْ وَجَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِينَ كَفَرُواْ إِلَى يَوْمِ الْقِيَـمَةِ ثُمَّ إِلَيَّ مَرْجِعُكُمْ فَأَحْكُمُ بَيْنَكُمْ فِيمَا كُنتُمْ فِيهِ تَخْتَلِفُونَ - فَأَمَّا الَّذِينَ كَفَرُواْ فَأُعَذِّبُهُمْ عَذَاباً شَدِيداً فِي الدُّنْيَا وَالاٌّخِرَةِ وَمَا لَهُمْ مِّن نَّـصِرِينَ
(And I will make those who follow you superior to those who disbelieve till the Day of Resurrection. Then you will return to Me and I will judge between you in the matters in which you used to dispute. As to those who disbelieve, I will punish them with a severe torment in this world and in the Hereafter, and they will have no helpers.)
This is what Allah did to the Jews who disbelieved in `Isa and the Christians who went to the extreme over him. Allah tormented them in this life; they were killed, captured, and lost their wealth and kingdoms. Their torment in the Hereafter is even worse and more severe,
وَمَا لَهُم مِّنَ اللَّهِ مِن وَاقٍ
(And they have no Waq (defender or protector) against Allah) 13:34.
وَأَمَّا الَّذِينَ ءَامَنُوا وَعَمِلُواْ الصَّـلِحَاتِ فَيُوَفِّيهِمْ أُجُورَهُمْ
(And as for those who believe and do righteous good deeds, Allah will pay them their reward in full) in this life, with victory and domination, and in the Hereafter, with Paradise and high grades,
وَاللَّهُ لاَ يُحِبُّ الظَّـلِمِينَ
(And Allah does not like the wrongdoers.)
Allah then said,
ذَلِكَ نَتْلُوهُ عَلَيْكَ مِنَ الآيَـتِ وَالذِّكْرِ الْحَكِيمِ
(This is what We recite to you of the verses and the Wise Reminder.) meaning, "What We narrated to you, O Muhammd, regarding `Isa, his birth and his life, is what Allah conveyed and revealed to you, sent down from the Al-Lawh Al-Mahfuz (The Preserved Tablet). So there is no doubt in it. Similarly, Allah said in Surah Maryam;
ذلِكَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ قَوْلَ الْحَقِّ الَّذِى فِيهِ يَمْتُرُونَ - مَا كَانَ للَّهِ أَن يَتَّخِذَ مِن وَلَدٍ سُبْحَـنَهُ إِذَا قَضَى أَمْراً فَإِنَّمَا يَقُولُ لَهُ كُن فَيَكُونُ
(Such is `Isa, son of Maryam. (It is) a statement of truth, about which they doubt (or dispute). It befits not Allah that He should beget a son. Glorified be He. When He decrees a thing, He only says to it: "Be!" and it is.)
اظہارخو دمختاری قتادہ وغیرہ بعض مفسرین تو فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ میں تجھے اپنی طرف اٹھا لوں گا پھر اس کے بعد تجھے فوت کروں گا، ابن عباس فرماتے ہیں یعنی میں تجھے مارنے والا ہوں، وہب بن منبہ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے آپ کو اٹھاتے وقت دن کے شروع میں تین ساعت تک فوت کردیا تھا، ابن اسحاق کہتے ہیں نصاریٰ کا خیال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو سات ساعت تک فوت رکھا پھر زندہ کردیا، وہب فرماتے ہیں تین دن تک موت کے بعد پھر زندہ کر کے اٹھا لیا، مطر وراق فرماتے ہیں یعنی میں تجھے دنیا میں پورا پورا کردینے والا ہوں یہاں وفات موت مراد نہیں، اسی طرح ابن جریر فرماتے ہیں تو فی سے یہاں مراد ان کا رفع ہے اور اکثر مفسرین کا قول ہے کہ وفات سے مراد یہاں نیند ہے، جیسے اور جگہ قرآن حکیم میں ہے آیت (وَهُوَ الَّذِيْ يَتَوَفّٰىكُمْ بالَّيْلِ) 6۔ الانعام :60) وہ اللہ ذوالمنن جو تمہیں رات کو فوت کردیتا ہے یعنی سلا دیتا ہے اور جگہ ہے آیت (اَللّٰهُ يَتَوَفَّى الْاَنْفُسَ حِيْنَ مَوْتِهَا وَالَّتِيْ لَمْ تَمُتْ فِيْ مَنَامِهَا) 39۔ الزمر :42) یعنی اللہ تعالیٰ ان کی موت کے وقت جانوں کو فوت کرتا ہے اور جو نہیں مرتیں انہیں ان کی نیند کے وقت، رسول اللہ ﷺ جب نیند سے بیدار ہوتے تو فرماتے (حدیث الحمد للہ الذی احیانا بعدما اماتنا) یعنی اللہ عزوجل کا شکر ہے جس نے ہمیں مار ڈالنے کے بعد پھر زندہ کردیا، اور جگہ فرمان باری تعالیٰ وبکفرھم سے شیھدا تک پڑھو جہاں فرمایا گیا ہے ان کے کفر کی وجہ سے اور حضرت مریم پر بہتان عظیم باندھ لینے کی بنا پر اور اس باعث کہ وہ کہتے ہیں ہم نے مسیح عیسیٰ بن مریم رسول اللہ ﷺ کو قتل کردیا حالانکہ نہ قتل کیا ہے اور نہ صلیب دی لیکن ان کو شبہ میں ڈال دیا گیا موتہ کی ضمیر کا مرجع حضرت عیسیٰ ؑ ہیں یعنی تمام اہل کتاب حضرت عیسیٰ پر ایمان لائیں گے جبکہ وہ قیامت سے پہلے زمین پر اتریں گے اس کا تفصیلی بیان عنقریب آرہا ہے۔ انشاء اللہ، پس اس وقت تمام اہل کتاب ان پر ایمان لائیں گے کیونکہ نہ وہ جزیہ لیں گے نہ سوائے اسلام کے اور کوئی بات قبول کریں گے، ابن ابی حاتم میں حضرت حسن سے (آیت انی متوفیک) کی تفسیر یہ مروی ہے کہ ان پر نیند ڈالی گئی اور نیند کی حالت میں ہی اللہ تعالیٰ نے انہیں اٹھا لیا، حضرت حسن فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے یہودیوں سے فرمایا کہ حضرت عیسیٰ مرے نہیں وہ تمہاری طرف قیامت سے پہلے لوٹنے والے ہیں۔ پھر فرماتا ہے میں تجھے اپنی طرف اٹھا کر کافروں کی گرفت سے آزاد کرنے والا ہوں، اور تیرے تابعداروں کو کافروں پر غالب رکھنے والا ہوں قیامت تک، چناچہ ایسا ہی ہوا، جب اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ کو آسمان پر چڑھا لیا تو ان کے بعد ان کے ساتھیوں کے کئی فریق ہوگئے ایک فرقہ تو آپ کی بعثت پر ایمان رکھنے والا تھا کہ آپ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں اور اس کی ایک بندی کے لڑکے ہیں بعض وہ تھے جنہوں نے غلو سے کام لیا اور بڑھ گئے اور آپ کو اللہ تعالیٰ کا بیٹا کہنے لگے، اوروں نے آپ کو اللہ کہا، دوسروں نے تین میں کا ایک آپ کو بتایا، اللہ تعالیٰ ان کے ان عقائد کا ذکر قرآن مجید میں فرماتا ہے پھر ان کی تردید بھی کردی ہے تین سو سال تک تو یہ اسی طرح رہے، پھر یونان کے بادشاہوں میں سے ایک بادشاہ جو بڑا فیلسوف تھا جس کا نام اسطفلین تھا کہا جاتا ہے کہ صرف اس دین کو بگڑانے کے لئے منافقانہ انداز سے اس دین میں داخل ہوا یا جہالت سے داخل ہوا ہو، بہر صورت اس نے دین مسیح کو بالکل بدل ڈالا اور بڑی تحریف اور تفسیر کی اس دین میں اور کمی زیادہ بھی کر ڈالی، بہت سے قانون ایجاد کئے اور امانت کبریٰ بھی اسی کی ایجاد ہے جو دراصل کمینہ پن کی خیانت ہے، اسی نے اپنے زمانہ میں سور کو حلال کیا اسی کے حکم سے عیسائی مشرق کی طرف نمازیں پڑھنے لگے اسی نے گرجاؤں اور کلیساؤں میں عبادت خانوں اور خانقاہوں میں تصویریں بنوائیں اور اپنے ایک گناہ کے باعث دس روزے روزوں میں بڑھوا دئیے، غرض اس کے زمانہ سے دین مسیح مسیحی دین نہ رہا بلکہ دین اسطفلین ہوگیا، اس نے ظاہری رونق تو خوب دی بارہ ہزار سے زاید تو عبادت گاہیں بنوا دیں اور ایک شہر اپنے نام سے بسایا، ملکیہ گروہ نے اس کی تمام باتیں مان لیں لیکن باوجود ان سب سیاہ کاریوں کے یہودی ان کے ہاتھ تلے رہے اور دراصل نسبتاً حق سے زیادہ قریب یہی تھے گو فی الواقع سارے کے سارے کفار تھے اللہ خالق کل کی ان پر پھٹکار ہو، اب جبکہ ہمارے نبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے اپنا برگزیدہ بنا کر دنیا میں بھیجا تو آپ پر جو لوگ ایمان لائے ان کا ایمان اللہ تعالیٰ کی ذات پر بھی تھا اس کے فرشتوں پر بھی تھا اس کی کتابوں پر بھی تھا اور اس کے تمام رسولوں پر بھی تھا پس حقیقت میں نبیوں کے سچے تابع فرمان یہی لوگ تھے یعنی امت محمد ﷺ ، اس لئے کہ یہ نبی امی عربی خاتم الرسول سید اولاد آدم کے ماننے والے تھے اور حضور ﷺ کی تعلیم برحق تعلیم کو سچا ماننے کی تھی، لہذا دراصل ہر نبی کے سچے تابعدار اور صحیح معنی میں امتی کہلانے کے مستحق یہی لوگ تھے کیونکہ ان لوگوں نے جو اپنے تئیں عیسیٰ کی امت کہتے تھے تو دین عیسوی کو بالکل مسخ اور فسخ کردیا تھا، علاوہ ازیں پیغمبر آخرالزمان کا دین بھی اور تمام اگلی شریعتوں کا ناسخ تھا پھر محفوظ رہنے والا تھا جس کا ایک شوشہ بھی قیامت تک بدلنے والا نہیں اس لئے اس آیت کے وعدے کے مطابق اللہ تعالیٰ نے کافروں پر اس امت کو غالب کر اور یہ مشرق سے لے کر مغرب تک چھا گئے ملک کو اپنے پاؤں تلے روند دیا اور بڑے بڑے جابر اور کٹر کافروں کی گردنیں مروڑ دیں دولتیں ان کے پیروں میں آگئیں فتح و غنیمت ان کی رکابیں چومنے لگی مدتوں کی پرانی سلطنتوں کے تحت انہوں نے الٹ دئیے، کسریٰ کی عظیم الشان پر شان سلطنت اور ان کے بھڑکتے ہوئے آتش کدے ان کے ہاتھوں ویران اور سرد ہوگئے، قیصر کا تاج و تخت ان اللہ والوں نے تاخت و تاراج کیا اور انہیں مسیح پرستی کا خوب مزا چکھایا اور ان کے خزانوں کو اللہ واحد کی رضامندی میں اور اس کے سچے نبی کے دین کی اشاعت میں دل کھول کر خرچ کئے اور اللہ کے لکھے اور نبی کے وعدے چڑھے ہوئے سورج اور چودھویں کے روشن چاند کی طرح سچے ہوئے لوگوں نے دیکھ لئے، مسیح ؑ کے نام کو بدنام کرنے والے مسیح کے نام شیطانوں کو پوجنے والے ان پاکباز اللہ پرستوں کے ہاتھوں مجبور ہو کر شام کے لہلہاتے ہوئے باغات اور آباد شہروں کو ان کے حوالے کر کے بدحواس بھاگتے ہوئے روم میں جا بسے پھر وہاں سے بھی یہ بےعزت کر کے نکالے گئے اور اپنے بادشاہ کے خاص شہر قسطنطنیہ میں پہنچے لیکن پھر وہاں سے بھی ذلیل خوار کر کے نکال دئیے گئے اور انشاء اللہ العزیز اسلام اور اہل اسلام قیامت تک ان پر غالب ہی رہیں گے۔ سب سچوں کے سردار جن کی سچائی پر مہر الٰہی لگ چکی ہے یعنی آنحضرت ﷺ خبر دے چکے ہیں جو اٹل ہے نہ کاٹے کٹے نہ توڑے ٹوٹے، نہ ٹالے ٹلے، فرماتے ہیں کہ آپ کی امت کا آخری گروہ قسطنطنیہ کو فتح کرے گا اور وہاں کے تمام خزانے اپنے قبضے میں لے گا اور رومیوں سے ان کی گھمسان کی لڑائی ہوگی کہ اس کی نظیر سے دنیا خالی ہو (ہماری دعا ہے کہ ہر زمانے میں اللہ قادر کل اس امت کا حامی و ناصر رہے اور روئے زمین کے کفار پر انہیں غالب رکھے اور انہیں سمجھ دے تاکہ یہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی عبادت کریں نہ محمد ﷺ کے سوا کسی اور کی اطاعت کریں، یہی اسلام کی اصل ہے اور یہی عروج دینوی کا گر ہے میں نے سب کو علیحدہ کتاب میں جمع کردیا ہے، آگے اللہ تعالیٰ کے قول پر نظر ڈالیے کہ مسیح ؑ کے ساتھ کفر کرنے والے یہود اور آپ کی شان میں بڑھ چڑھ کر باتیں بنا کر بہکنے والے نصرانیوں کو قتل و قید کی مار اور سلطنت کے تباہ ہوجانے کی یہاں بھی سزا دی اور آخرت کا عذاب وہاں دیکھ لیں گے جہاں نہ کوئی بچا سکے نہ مدد کرسکے گا لیکن برخلاف ان کے ایمانداروں کو پورا اجر اللہ تعالیٰ عطا فرمائے گا دنیا میں بھی فتح اور نصرت عزت و حرمت عطا ہوگی اور آخرت میں بھی خاص رحمتیں اور نعمتیں ملیں گی، اللہ تعالیٰ ظالموں کو ناپسند رکھتا ہے۔ پھر فرمایا اے نبی ﷺ یہ تھی حقیقت حضرت عیسیٰ کی ابتداء پیدائش کی اور ان کے امر کی جو اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ سے آپ کی طرف بذریعہ اپنی خاص وحی کے اتار دی جس میں کوئی شک و شبہ نہیں جیسے سورة مریم میں فرمایا، عیسیٰ بن مریم یہی ہیں یہی سچی حقیقت ہے جس میں تم شک و شبہ میں پڑے ہو، اللہ تعالیٰ کو تو لائق ہی نہیں کہ اس کی اولاد ہو وہ اس سے بالکل پاک ہے وہ جو کرنا چاہے کہہ دیتا ہے ہوجا، بس وہ ہوجاتا ہے، اب یہاں بھی اس کے بعد بیان ہو رہا ہے۔
57
View Single
وَأَمَّا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّـٰلِحَٰتِ فَيُوَفِّيهِمۡ أُجُورَهُمۡۗ وَٱللَّهُ لَا يُحِبُّ ٱلظَّـٰلِمِينَ
“And for those who believed and did good deeds, Allah will give them their full reward; and Allah does not like the unjust.”
اور جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کئے تو (اللہ) انہیں ان کا بھرپور اجر دے گا، اور اللہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا
Tafsir Ibn Kathir
Meaning of `Take You
Allah said,
إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَىَّ
(I will take you and raise you to Myself) while you are asleep. Allah said in a similar Ayat,
وَهُوَ الَّذِى يَتَوَفَّـكُم بِالَّيْلِ
(It is He Who takes your souls by night (when you are asleep).) 6:60, and,
اللَّهُ يَتَوَفَّى الاٌّنفُسَ حِينَ مِوْتِـهَا وَالَّتِى لَمْ تَمُتْ فِى مَنَامِـهَا
(It is Allah Who takes away the souls at the time of their death, and those that die not during their sleep.) 39:42.
The Messenger of Allah ﷺ used to recite the following words when he would awaken;
«الْحَمْدُ للهِ الَّذِي أَحْيَانَا بَعْدَ مَا أَمَاتَنَا، وَإِلَيْهِ النُّشُور»
(All the thanks are due to Allah Who brought us back to life after He had caused us to die (sleep), and the Return is to Him).
Allah said,
وَبِكُفْرِهِمْ وَقَوْلِهِمْ عَلَى مَرْيَمَ بُهْتَـناً عَظِيماً وَقَوْلِهِمْ إِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِيحَ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ رَسُولَ اللَّهِ وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ وَلَـكِن شُبِّهَ لَهُمْ
(And because of their disbelief and allegations against Maryam and because of their saying "We killed Al-Masih `Isa, son of Maryam, the Messenger of Allah ﷺ, ـ but they killed him not, nor crucified him, but it appeared that way to them) until,
وَقَوْلِهِمْ إِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِيحَ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ رَسُولَ اللَّهِ وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ وَلَـكِن شُبِّهَ لَهُمْ وَإِنَّ الَّذِينَ اخْتَلَفُواْ فِيهِ لَفِى شَكٍّ مِّنْهُ مَا لَهُمْ بِهِ مِنْ عِلْمٍ إِلاَّ اتِّبَاعَ الظَّنِّ وَمَا قَتَلُوهُ يَقِيناً - بَل رَّفَعَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ وَكَانَ اللَّهُ عَزِيزاً حَكِيماً
وَإِن مِّنْ أَهْلِ الْكِتَـبِ إِلاَّ لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ وَيَوْمَ الْقِيَـمَةِ يَكُونُ عَلَيْهِمْ شَهِيداً
(For surely; they killed him not But Allah raised him up unto Himself. And Allah is Ever All-Powerful, All-Wise. And there is none of the people of the Scripture (Jews and Christians) but must believe in him before his death. And on the Day of Resurrection, he `Isa will be a witness against them.) 4:156-159
`His death' refers to `Isa, and the Ayah means that the People of the Book will believe in `Isa, before `Isa dies. This will occur when `Isa comes back to this world before the Day of Resurrection, as we will explain. By that time, all the People of the Book will believe in `Isa, for he will annul the Jizyah and he will only accept Islam from people. Ibn Abi Hatim recorded that Al-Hasan said that Allah's statement,
إِنِّي مُتَوَفِّيكَ
(I will take you) is in reference to sleep, for Allah raised `Isa while he was asleep.
Altering the Religion of `Isa
Allah said,
وَمُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِينَ كَفَرُواْ
(And purify save you from those who disbelieve) by raising you to heaven,
وَجَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِينَ كَفَرُواْ إِلَى يَوْمِ الْقِيَـمَةِ
(And I will make those who follow you superior to those who disbelieve, till the Day of Resurrection)
This is what happened. When Allah raised `Isa to heaven, his followers divided into sects and groups. Some of them believed in what Allah sent `Isa as, a servant of Allah, His Messenger, and the son of His female-servant.
However, some of them went to the extreme over `Isa, believing that he was the son of Allah. Some of them said that `Isa was Allah Himself, while others said that he was one of a Trinity. Allah mentioned these false creeds in the Qur'an and refuted them. The Christians remained like this until the third century CE, when a Greek king called, Constantine, became a Christian for the purpose of destroying Christianity. Constantine was either a philosopher, or he was just plain ignorant. Constantine changed the religion of `Isa by adding to it and deleting from it. He established the rituals of Christianity and the so-called Great Trust, which is in fact the Great Treachery. He also allowed them to eat the meat of swine, changed the direction of the prayer that `Isa established to the east, built churches for `Isa, and added ten days to the fast as compensation for a sin that he committed, as claimed. So the religion of `Isa became the religion of Constantine, who built more then twelve thousand churches, temples and monasteries for the Christians as well as the city that bears his name, Constantinople (Istanbul). Throughout this time, the Christians had the upper hand and dominated the Jews. Allah aided them against the Jews because they used to be closer to the truth than the Jews, even though both groups were and still are disbelievers, may Allah's curse descend on them.
When Allah sent Muhammad , those who believed in him also believed in Allah, His Angels, Books and Messengers in the correct manner. So they were the true followers of every Prophet who came to earth. They believed in the unlettered Prophet , the Final Messenger and the master of all mankind, who called them to believe in the truth in its entirety. This is why they had more right to every Prophet than his own nation, especially those who claim to follow their Prophet's way and religion, yet change and alter his religion. Furthermore, Allah abrogated all the laws that were sent down to the Prophets with the Law He sent Muhammad with, which consists of the true religion that shall never change or be altered until the commencement of the Last Hour. Muhammad's religion shall always be dominant and victorious over all other religions. This is why Allah allowed Muslims to conquer the eastern and western parts of the world and the kingdoms of the earth. Furthermore, all countries submitted to them; they demolished Kisra (king of Persia) and destroyed the Czar, ridding them of their treasures and spending these treasures for Allah's sake. All this occurred just as their Prophet told them it would, when he conveyed Allah's statement,
وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ ءامَنُواْ مِنْكُمْ وَعَمِلُواْ الصَّـلِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِى الاْرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِى ارْتَضَى لَهُمْ وَلَيُبَدّلَنَّهُمْ مّن بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْناً يَعْبُدُونَنِى لاَ يُشْرِكُونَ بِى شَيْئاً
(Allah has promised those among you who believe and do righteous good deeds, that He will certainly grant them succession in the land, as He granted it to those before them, and that He will grant them the authority to practice their religion which He has chosen for them. And He will surely give them in exchange a safe security after their fear (provided) they worship Me and do not associate anything with Me.) 24:55.
Therefore, Muslims are the true believers in `Isa. The Muslims then acquired Ash-Sham from the Christians, causing them to evacuate to Asia Minor, to their fortified city in Constantinople. The Muslims will be above them until the Day of Resurrection. Indeed, he, Muhammad , who is truthful and who received the true news, has conveyed to Muslims that they will conquer Constantinople in the future, and seize its treasures.
Threatening the Disbelievers with Torment in This Life and the Hereafter
Allah said,
إِذْ قَالَ اللَّهُ يعِيسَى إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَىَّ وَمُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِينَ كَفَرُواْ وَجَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِينَ كَفَرُواْ إِلَى يَوْمِ الْقِيَـمَةِ ثُمَّ إِلَيَّ مَرْجِعُكُمْ فَأَحْكُمُ بَيْنَكُمْ فِيمَا كُنتُمْ فِيهِ تَخْتَلِفُونَ - فَأَمَّا الَّذِينَ كَفَرُواْ فَأُعَذِّبُهُمْ عَذَاباً شَدِيداً فِي الدُّنْيَا وَالاٌّخِرَةِ وَمَا لَهُمْ مِّن نَّـصِرِينَ
(And I will make those who follow you superior to those who disbelieve till the Day of Resurrection. Then you will return to Me and I will judge between you in the matters in which you used to dispute. As to those who disbelieve, I will punish them with a severe torment in this world and in the Hereafter, and they will have no helpers.)
This is what Allah did to the Jews who disbelieved in `Isa and the Christians who went to the extreme over him. Allah tormented them in this life; they were killed, captured, and lost their wealth and kingdoms. Their torment in the Hereafter is even worse and more severe,
وَمَا لَهُم مِّنَ اللَّهِ مِن وَاقٍ
(And they have no Waq (defender or protector) against Allah) 13:34.
وَأَمَّا الَّذِينَ ءَامَنُوا وَعَمِلُواْ الصَّـلِحَاتِ فَيُوَفِّيهِمْ أُجُورَهُمْ
(And as for those who believe and do righteous good deeds, Allah will pay them their reward in full) in this life, with victory and domination, and in the Hereafter, with Paradise and high grades,
وَاللَّهُ لاَ يُحِبُّ الظَّـلِمِينَ
(And Allah does not like the wrongdoers.)
Allah then said,
ذَلِكَ نَتْلُوهُ عَلَيْكَ مِنَ الآيَـتِ وَالذِّكْرِ الْحَكِيمِ
(This is what We recite to you of the verses and the Wise Reminder.) meaning, "What We narrated to you, O Muhammd, regarding `Isa, his birth and his life, is what Allah conveyed and revealed to you, sent down from the Al-Lawh Al-Mahfuz (The Preserved Tablet). So there is no doubt in it. Similarly, Allah said in Surah Maryam;
ذلِكَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ قَوْلَ الْحَقِّ الَّذِى فِيهِ يَمْتُرُونَ - مَا كَانَ للَّهِ أَن يَتَّخِذَ مِن وَلَدٍ سُبْحَـنَهُ إِذَا قَضَى أَمْراً فَإِنَّمَا يَقُولُ لَهُ كُن فَيَكُونُ
(Such is `Isa, son of Maryam. (It is) a statement of truth, about which they doubt (or dispute). It befits not Allah that He should beget a son. Glorified be He. When He decrees a thing, He only says to it: "Be!" and it is.)
اظہارخو دمختاری قتادہ وغیرہ بعض مفسرین تو فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ میں تجھے اپنی طرف اٹھا لوں گا پھر اس کے بعد تجھے فوت کروں گا، ابن عباس فرماتے ہیں یعنی میں تجھے مارنے والا ہوں، وہب بن منبہ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے آپ کو اٹھاتے وقت دن کے شروع میں تین ساعت تک فوت کردیا تھا، ابن اسحاق کہتے ہیں نصاریٰ کا خیال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو سات ساعت تک فوت رکھا پھر زندہ کردیا، وہب فرماتے ہیں تین دن تک موت کے بعد پھر زندہ کر کے اٹھا لیا، مطر وراق فرماتے ہیں یعنی میں تجھے دنیا میں پورا پورا کردینے والا ہوں یہاں وفات موت مراد نہیں، اسی طرح ابن جریر فرماتے ہیں تو فی سے یہاں مراد ان کا رفع ہے اور اکثر مفسرین کا قول ہے کہ وفات سے مراد یہاں نیند ہے، جیسے اور جگہ قرآن حکیم میں ہے آیت (وَهُوَ الَّذِيْ يَتَوَفّٰىكُمْ بالَّيْلِ) 6۔ الانعام :60) وہ اللہ ذوالمنن جو تمہیں رات کو فوت کردیتا ہے یعنی سلا دیتا ہے اور جگہ ہے آیت (اَللّٰهُ يَتَوَفَّى الْاَنْفُسَ حِيْنَ مَوْتِهَا وَالَّتِيْ لَمْ تَمُتْ فِيْ مَنَامِهَا) 39۔ الزمر :42) یعنی اللہ تعالیٰ ان کی موت کے وقت جانوں کو فوت کرتا ہے اور جو نہیں مرتیں انہیں ان کی نیند کے وقت، رسول اللہ ﷺ جب نیند سے بیدار ہوتے تو فرماتے (حدیث الحمد للہ الذی احیانا بعدما اماتنا) یعنی اللہ عزوجل کا شکر ہے جس نے ہمیں مار ڈالنے کے بعد پھر زندہ کردیا، اور جگہ فرمان باری تعالیٰ وبکفرھم سے شیھدا تک پڑھو جہاں فرمایا گیا ہے ان کے کفر کی وجہ سے اور حضرت مریم پر بہتان عظیم باندھ لینے کی بنا پر اور اس باعث کہ وہ کہتے ہیں ہم نے مسیح عیسیٰ بن مریم رسول اللہ ﷺ کو قتل کردیا حالانکہ نہ قتل کیا ہے اور نہ صلیب دی لیکن ان کو شبہ میں ڈال دیا گیا موتہ کی ضمیر کا مرجع حضرت عیسیٰ ؑ ہیں یعنی تمام اہل کتاب حضرت عیسیٰ پر ایمان لائیں گے جبکہ وہ قیامت سے پہلے زمین پر اتریں گے اس کا تفصیلی بیان عنقریب آرہا ہے۔ انشاء اللہ، پس اس وقت تمام اہل کتاب ان پر ایمان لائیں گے کیونکہ نہ وہ جزیہ لیں گے نہ سوائے اسلام کے اور کوئی بات قبول کریں گے، ابن ابی حاتم میں حضرت حسن سے (آیت انی متوفیک) کی تفسیر یہ مروی ہے کہ ان پر نیند ڈالی گئی اور نیند کی حالت میں ہی اللہ تعالیٰ نے انہیں اٹھا لیا، حضرت حسن فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے یہودیوں سے فرمایا کہ حضرت عیسیٰ مرے نہیں وہ تمہاری طرف قیامت سے پہلے لوٹنے والے ہیں۔ پھر فرماتا ہے میں تجھے اپنی طرف اٹھا کر کافروں کی گرفت سے آزاد کرنے والا ہوں، اور تیرے تابعداروں کو کافروں پر غالب رکھنے والا ہوں قیامت تک، چناچہ ایسا ہی ہوا، جب اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ کو آسمان پر چڑھا لیا تو ان کے بعد ان کے ساتھیوں کے کئی فریق ہوگئے ایک فرقہ تو آپ کی بعثت پر ایمان رکھنے والا تھا کہ آپ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں اور اس کی ایک بندی کے لڑکے ہیں بعض وہ تھے جنہوں نے غلو سے کام لیا اور بڑھ گئے اور آپ کو اللہ تعالیٰ کا بیٹا کہنے لگے، اوروں نے آپ کو اللہ کہا، دوسروں نے تین میں کا ایک آپ کو بتایا، اللہ تعالیٰ ان کے ان عقائد کا ذکر قرآن مجید میں فرماتا ہے پھر ان کی تردید بھی کردی ہے تین سو سال تک تو یہ اسی طرح رہے، پھر یونان کے بادشاہوں میں سے ایک بادشاہ جو بڑا فیلسوف تھا جس کا نام اسطفلین تھا کہا جاتا ہے کہ صرف اس دین کو بگڑانے کے لئے منافقانہ انداز سے اس دین میں داخل ہوا یا جہالت سے داخل ہوا ہو، بہر صورت اس نے دین مسیح کو بالکل بدل ڈالا اور بڑی تحریف اور تفسیر کی اس دین میں اور کمی زیادہ بھی کر ڈالی، بہت سے قانون ایجاد کئے اور امانت کبریٰ بھی اسی کی ایجاد ہے جو دراصل کمینہ پن کی خیانت ہے، اسی نے اپنے زمانہ میں سور کو حلال کیا اسی کے حکم سے عیسائی مشرق کی طرف نمازیں پڑھنے لگے اسی نے گرجاؤں اور کلیساؤں میں عبادت خانوں اور خانقاہوں میں تصویریں بنوائیں اور اپنے ایک گناہ کے باعث دس روزے روزوں میں بڑھوا دئیے، غرض اس کے زمانہ سے دین مسیح مسیحی دین نہ رہا بلکہ دین اسطفلین ہوگیا، اس نے ظاہری رونق تو خوب دی بارہ ہزار سے زاید تو عبادت گاہیں بنوا دیں اور ایک شہر اپنے نام سے بسایا، ملکیہ گروہ نے اس کی تمام باتیں مان لیں لیکن باوجود ان سب سیاہ کاریوں کے یہودی ان کے ہاتھ تلے رہے اور دراصل نسبتاً حق سے زیادہ قریب یہی تھے گو فی الواقع سارے کے سارے کفار تھے اللہ خالق کل کی ان پر پھٹکار ہو، اب جبکہ ہمارے نبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے اپنا برگزیدہ بنا کر دنیا میں بھیجا تو آپ پر جو لوگ ایمان لائے ان کا ایمان اللہ تعالیٰ کی ذات پر بھی تھا اس کے فرشتوں پر بھی تھا اس کی کتابوں پر بھی تھا اور اس کے تمام رسولوں پر بھی تھا پس حقیقت میں نبیوں کے سچے تابع فرمان یہی لوگ تھے یعنی امت محمد ﷺ ، اس لئے کہ یہ نبی امی عربی خاتم الرسول سید اولاد آدم کے ماننے والے تھے اور حضور ﷺ کی تعلیم برحق تعلیم کو سچا ماننے کی تھی، لہذا دراصل ہر نبی کے سچے تابعدار اور صحیح معنی میں امتی کہلانے کے مستحق یہی لوگ تھے کیونکہ ان لوگوں نے جو اپنے تئیں عیسیٰ کی امت کہتے تھے تو دین عیسوی کو بالکل مسخ اور فسخ کردیا تھا، علاوہ ازیں پیغمبر آخرالزمان کا دین بھی اور تمام اگلی شریعتوں کا ناسخ تھا پھر محفوظ رہنے والا تھا جس کا ایک شوشہ بھی قیامت تک بدلنے والا نہیں اس لئے اس آیت کے وعدے کے مطابق اللہ تعالیٰ نے کافروں پر اس امت کو غالب کر اور یہ مشرق سے لے کر مغرب تک چھا گئے ملک کو اپنے پاؤں تلے روند دیا اور بڑے بڑے جابر اور کٹر کافروں کی گردنیں مروڑ دیں دولتیں ان کے پیروں میں آگئیں فتح و غنیمت ان کی رکابیں چومنے لگی مدتوں کی پرانی سلطنتوں کے تحت انہوں نے الٹ دئیے، کسریٰ کی عظیم الشان پر شان سلطنت اور ان کے بھڑکتے ہوئے آتش کدے ان کے ہاتھوں ویران اور سرد ہوگئے، قیصر کا تاج و تخت ان اللہ والوں نے تاخت و تاراج کیا اور انہیں مسیح پرستی کا خوب مزا چکھایا اور ان کے خزانوں کو اللہ واحد کی رضامندی میں اور اس کے سچے نبی کے دین کی اشاعت میں دل کھول کر خرچ کئے اور اللہ کے لکھے اور نبی کے وعدے چڑھے ہوئے سورج اور چودھویں کے روشن چاند کی طرح سچے ہوئے لوگوں نے دیکھ لئے، مسیح ؑ کے نام کو بدنام کرنے والے مسیح کے نام شیطانوں کو پوجنے والے ان پاکباز اللہ پرستوں کے ہاتھوں مجبور ہو کر شام کے لہلہاتے ہوئے باغات اور آباد شہروں کو ان کے حوالے کر کے بدحواس بھاگتے ہوئے روم میں جا بسے پھر وہاں سے بھی یہ بےعزت کر کے نکالے گئے اور اپنے بادشاہ کے خاص شہر قسطنطنیہ میں پہنچے لیکن پھر وہاں سے بھی ذلیل خوار کر کے نکال دئیے گئے اور انشاء اللہ العزیز اسلام اور اہل اسلام قیامت تک ان پر غالب ہی رہیں گے۔ سب سچوں کے سردار جن کی سچائی پر مہر الٰہی لگ چکی ہے یعنی آنحضرت ﷺ خبر دے چکے ہیں جو اٹل ہے نہ کاٹے کٹے نہ توڑے ٹوٹے، نہ ٹالے ٹلے، فرماتے ہیں کہ آپ کی امت کا آخری گروہ قسطنطنیہ کو فتح کرے گا اور وہاں کے تمام خزانے اپنے قبضے میں لے گا اور رومیوں سے ان کی گھمسان کی لڑائی ہوگی کہ اس کی نظیر سے دنیا خالی ہو (ہماری دعا ہے کہ ہر زمانے میں اللہ قادر کل اس امت کا حامی و ناصر رہے اور روئے زمین کے کفار پر انہیں غالب رکھے اور انہیں سمجھ دے تاکہ یہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی عبادت کریں نہ محمد ﷺ کے سوا کسی اور کی اطاعت کریں، یہی اسلام کی اصل ہے اور یہی عروج دینوی کا گر ہے میں نے سب کو علیحدہ کتاب میں جمع کردیا ہے، آگے اللہ تعالیٰ کے قول پر نظر ڈالیے کہ مسیح ؑ کے ساتھ کفر کرنے والے یہود اور آپ کی شان میں بڑھ چڑھ کر باتیں بنا کر بہکنے والے نصرانیوں کو قتل و قید کی مار اور سلطنت کے تباہ ہوجانے کی یہاں بھی سزا دی اور آخرت کا عذاب وہاں دیکھ لیں گے جہاں نہ کوئی بچا سکے نہ مدد کرسکے گا لیکن برخلاف ان کے ایمانداروں کو پورا اجر اللہ تعالیٰ عطا فرمائے گا دنیا میں بھی فتح اور نصرت عزت و حرمت عطا ہوگی اور آخرت میں بھی خاص رحمتیں اور نعمتیں ملیں گی، اللہ تعالیٰ ظالموں کو ناپسند رکھتا ہے۔ پھر فرمایا اے نبی ﷺ یہ تھی حقیقت حضرت عیسیٰ کی ابتداء پیدائش کی اور ان کے امر کی جو اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ سے آپ کی طرف بذریعہ اپنی خاص وحی کے اتار دی جس میں کوئی شک و شبہ نہیں جیسے سورة مریم میں فرمایا، عیسیٰ بن مریم یہی ہیں یہی سچی حقیقت ہے جس میں تم شک و شبہ میں پڑے ہو، اللہ تعالیٰ کو تو لائق ہی نہیں کہ اس کی اولاد ہو وہ اس سے بالکل پاک ہے وہ جو کرنا چاہے کہہ دیتا ہے ہوجا، بس وہ ہوجاتا ہے، اب یہاں بھی اس کے بعد بیان ہو رہا ہے۔
58
View Single
ذَٰلِكَ نَتۡلُوهُ عَلَيۡكَ مِنَ ٱلۡأٓيَٰتِ وَٱلذِّكۡرِ ٱلۡحَكِيمِ
These are some verses that We recite to you, and advice full of wisdom.
یہ جو ہم آپ کو پڑھ کر سناتے ہیں (یہ) نشانیاں ہیں اور حکمت والی نصیحت ہے
Tafsir Ibn Kathir
Meaning of `Take You
Allah said,
إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَىَّ
(I will take you and raise you to Myself) while you are asleep. Allah said in a similar Ayat,
وَهُوَ الَّذِى يَتَوَفَّـكُم بِالَّيْلِ
(It is He Who takes your souls by night (when you are asleep).) 6:60, and,
اللَّهُ يَتَوَفَّى الاٌّنفُسَ حِينَ مِوْتِـهَا وَالَّتِى لَمْ تَمُتْ فِى مَنَامِـهَا
(It is Allah Who takes away the souls at the time of their death, and those that die not during their sleep.) 39:42.
The Messenger of Allah ﷺ used to recite the following words when he would awaken;
«الْحَمْدُ للهِ الَّذِي أَحْيَانَا بَعْدَ مَا أَمَاتَنَا، وَإِلَيْهِ النُّشُور»
(All the thanks are due to Allah Who brought us back to life after He had caused us to die (sleep), and the Return is to Him).
Allah said,
وَبِكُفْرِهِمْ وَقَوْلِهِمْ عَلَى مَرْيَمَ بُهْتَـناً عَظِيماً وَقَوْلِهِمْ إِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِيحَ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ رَسُولَ اللَّهِ وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ وَلَـكِن شُبِّهَ لَهُمْ
(And because of their disbelief and allegations against Maryam and because of their saying "We killed Al-Masih `Isa, son of Maryam, the Messenger of Allah ﷺ, ـ but they killed him not, nor crucified him, but it appeared that way to them) until,
وَقَوْلِهِمْ إِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِيحَ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ رَسُولَ اللَّهِ وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ وَلَـكِن شُبِّهَ لَهُمْ وَإِنَّ الَّذِينَ اخْتَلَفُواْ فِيهِ لَفِى شَكٍّ مِّنْهُ مَا لَهُمْ بِهِ مِنْ عِلْمٍ إِلاَّ اتِّبَاعَ الظَّنِّ وَمَا قَتَلُوهُ يَقِيناً - بَل رَّفَعَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ وَكَانَ اللَّهُ عَزِيزاً حَكِيماً
وَإِن مِّنْ أَهْلِ الْكِتَـبِ إِلاَّ لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ وَيَوْمَ الْقِيَـمَةِ يَكُونُ عَلَيْهِمْ شَهِيداً
(For surely; they killed him not But Allah raised him up unto Himself. And Allah is Ever All-Powerful, All-Wise. And there is none of the people of the Scripture (Jews and Christians) but must believe in him before his death. And on the Day of Resurrection, he `Isa will be a witness against them.) 4:156-159
`His death' refers to `Isa, and the Ayah means that the People of the Book will believe in `Isa, before `Isa dies. This will occur when `Isa comes back to this world before the Day of Resurrection, as we will explain. By that time, all the People of the Book will believe in `Isa, for he will annul the Jizyah and he will only accept Islam from people. Ibn Abi Hatim recorded that Al-Hasan said that Allah's statement,
إِنِّي مُتَوَفِّيكَ
(I will take you) is in reference to sleep, for Allah raised `Isa while he was asleep.
Altering the Religion of `Isa
Allah said,
وَمُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِينَ كَفَرُواْ
(And purify save you from those who disbelieve) by raising you to heaven,
وَجَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِينَ كَفَرُواْ إِلَى يَوْمِ الْقِيَـمَةِ
(And I will make those who follow you superior to those who disbelieve, till the Day of Resurrection)
This is what happened. When Allah raised `Isa to heaven, his followers divided into sects and groups. Some of them believed in what Allah sent `Isa as, a servant of Allah, His Messenger, and the son of His female-servant.
However, some of them went to the extreme over `Isa, believing that he was the son of Allah. Some of them said that `Isa was Allah Himself, while others said that he was one of a Trinity. Allah mentioned these false creeds in the Qur'an and refuted them. The Christians remained like this until the third century CE, when a Greek king called, Constantine, became a Christian for the purpose of destroying Christianity. Constantine was either a philosopher, or he was just plain ignorant. Constantine changed the religion of `Isa by adding to it and deleting from it. He established the rituals of Christianity and the so-called Great Trust, which is in fact the Great Treachery. He also allowed them to eat the meat of swine, changed the direction of the prayer that `Isa established to the east, built churches for `Isa, and added ten days to the fast as compensation for a sin that he committed, as claimed. So the religion of `Isa became the religion of Constantine, who built more then twelve thousand churches, temples and monasteries for the Christians as well as the city that bears his name, Constantinople (Istanbul). Throughout this time, the Christians had the upper hand and dominated the Jews. Allah aided them against the Jews because they used to be closer to the truth than the Jews, even though both groups were and still are disbelievers, may Allah's curse descend on them.
When Allah sent Muhammad , those who believed in him also believed in Allah, His Angels, Books and Messengers in the correct manner. So they were the true followers of every Prophet who came to earth. They believed in the unlettered Prophet , the Final Messenger and the master of all mankind, who called them to believe in the truth in its entirety. This is why they had more right to every Prophet than his own nation, especially those who claim to follow their Prophet's way and religion, yet change and alter his religion. Furthermore, Allah abrogated all the laws that were sent down to the Prophets with the Law He sent Muhammad with, which consists of the true religion that shall never change or be altered until the commencement of the Last Hour. Muhammad's religion shall always be dominant and victorious over all other religions. This is why Allah allowed Muslims to conquer the eastern and western parts of the world and the kingdoms of the earth. Furthermore, all countries submitted to them; they demolished Kisra (king of Persia) and destroyed the Czar, ridding them of their treasures and spending these treasures for Allah's sake. All this occurred just as their Prophet told them it would, when he conveyed Allah's statement,
وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ ءامَنُواْ مِنْكُمْ وَعَمِلُواْ الصَّـلِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِى الاْرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِى ارْتَضَى لَهُمْ وَلَيُبَدّلَنَّهُمْ مّن بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْناً يَعْبُدُونَنِى لاَ يُشْرِكُونَ بِى شَيْئاً
(Allah has promised those among you who believe and do righteous good deeds, that He will certainly grant them succession in the land, as He granted it to those before them, and that He will grant them the authority to practice their religion which He has chosen for them. And He will surely give them in exchange a safe security after their fear (provided) they worship Me and do not associate anything with Me.) 24:55.
Therefore, Muslims are the true believers in `Isa. The Muslims then acquired Ash-Sham from the Christians, causing them to evacuate to Asia Minor, to their fortified city in Constantinople. The Muslims will be above them until the Day of Resurrection. Indeed, he, Muhammad , who is truthful and who received the true news, has conveyed to Muslims that they will conquer Constantinople in the future, and seize its treasures.
Threatening the Disbelievers with Torment in This Life and the Hereafter
Allah said,
إِذْ قَالَ اللَّهُ يعِيسَى إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَىَّ وَمُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِينَ كَفَرُواْ وَجَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِينَ كَفَرُواْ إِلَى يَوْمِ الْقِيَـمَةِ ثُمَّ إِلَيَّ مَرْجِعُكُمْ فَأَحْكُمُ بَيْنَكُمْ فِيمَا كُنتُمْ فِيهِ تَخْتَلِفُونَ - فَأَمَّا الَّذِينَ كَفَرُواْ فَأُعَذِّبُهُمْ عَذَاباً شَدِيداً فِي الدُّنْيَا وَالاٌّخِرَةِ وَمَا لَهُمْ مِّن نَّـصِرِينَ
(And I will make those who follow you superior to those who disbelieve till the Day of Resurrection. Then you will return to Me and I will judge between you in the matters in which you used to dispute. As to those who disbelieve, I will punish them with a severe torment in this world and in the Hereafter, and they will have no helpers.)
This is what Allah did to the Jews who disbelieved in `Isa and the Christians who went to the extreme over him. Allah tormented them in this life; they were killed, captured, and lost their wealth and kingdoms. Their torment in the Hereafter is even worse and more severe,
وَمَا لَهُم مِّنَ اللَّهِ مِن وَاقٍ
(And they have no Waq (defender or protector) against Allah) 13:34.
وَأَمَّا الَّذِينَ ءَامَنُوا وَعَمِلُواْ الصَّـلِحَاتِ فَيُوَفِّيهِمْ أُجُورَهُمْ
(And as for those who believe and do righteous good deeds, Allah will pay them their reward in full) in this life, with victory and domination, and in the Hereafter, with Paradise and high grades,
وَاللَّهُ لاَ يُحِبُّ الظَّـلِمِينَ
(And Allah does not like the wrongdoers.)
Allah then said,
ذَلِكَ نَتْلُوهُ عَلَيْكَ مِنَ الآيَـتِ وَالذِّكْرِ الْحَكِيمِ
(This is what We recite to you of the verses and the Wise Reminder.) meaning, "What We narrated to you, O Muhammd, regarding `Isa, his birth and his life, is what Allah conveyed and revealed to you, sent down from the Al-Lawh Al-Mahfuz (The Preserved Tablet). So there is no doubt in it. Similarly, Allah said in Surah Maryam;
ذلِكَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ قَوْلَ الْحَقِّ الَّذِى فِيهِ يَمْتُرُونَ - مَا كَانَ للَّهِ أَن يَتَّخِذَ مِن وَلَدٍ سُبْحَـنَهُ إِذَا قَضَى أَمْراً فَإِنَّمَا يَقُولُ لَهُ كُن فَيَكُونُ
(Such is `Isa, son of Maryam. (It is) a statement of truth, about which they doubt (or dispute). It befits not Allah that He should beget a son. Glorified be He. When He decrees a thing, He only says to it: "Be!" and it is.)
اظہارخو دمختاری قتادہ وغیرہ بعض مفسرین تو فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ میں تجھے اپنی طرف اٹھا لوں گا پھر اس کے بعد تجھے فوت کروں گا، ابن عباس فرماتے ہیں یعنی میں تجھے مارنے والا ہوں، وہب بن منبہ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے آپ کو اٹھاتے وقت دن کے شروع میں تین ساعت تک فوت کردیا تھا، ابن اسحاق کہتے ہیں نصاریٰ کا خیال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو سات ساعت تک فوت رکھا پھر زندہ کردیا، وہب فرماتے ہیں تین دن تک موت کے بعد پھر زندہ کر کے اٹھا لیا، مطر وراق فرماتے ہیں یعنی میں تجھے دنیا میں پورا پورا کردینے والا ہوں یہاں وفات موت مراد نہیں، اسی طرح ابن جریر فرماتے ہیں تو فی سے یہاں مراد ان کا رفع ہے اور اکثر مفسرین کا قول ہے کہ وفات سے مراد یہاں نیند ہے، جیسے اور جگہ قرآن حکیم میں ہے آیت (وَهُوَ الَّذِيْ يَتَوَفّٰىكُمْ بالَّيْلِ) 6۔ الانعام :60) وہ اللہ ذوالمنن جو تمہیں رات کو فوت کردیتا ہے یعنی سلا دیتا ہے اور جگہ ہے آیت (اَللّٰهُ يَتَوَفَّى الْاَنْفُسَ حِيْنَ مَوْتِهَا وَالَّتِيْ لَمْ تَمُتْ فِيْ مَنَامِهَا) 39۔ الزمر :42) یعنی اللہ تعالیٰ ان کی موت کے وقت جانوں کو فوت کرتا ہے اور جو نہیں مرتیں انہیں ان کی نیند کے وقت، رسول اللہ ﷺ جب نیند سے بیدار ہوتے تو فرماتے (حدیث الحمد للہ الذی احیانا بعدما اماتنا) یعنی اللہ عزوجل کا شکر ہے جس نے ہمیں مار ڈالنے کے بعد پھر زندہ کردیا، اور جگہ فرمان باری تعالیٰ وبکفرھم سے شیھدا تک پڑھو جہاں فرمایا گیا ہے ان کے کفر کی وجہ سے اور حضرت مریم پر بہتان عظیم باندھ لینے کی بنا پر اور اس باعث کہ وہ کہتے ہیں ہم نے مسیح عیسیٰ بن مریم رسول اللہ ﷺ کو قتل کردیا حالانکہ نہ قتل کیا ہے اور نہ صلیب دی لیکن ان کو شبہ میں ڈال دیا گیا موتہ کی ضمیر کا مرجع حضرت عیسیٰ ؑ ہیں یعنی تمام اہل کتاب حضرت عیسیٰ پر ایمان لائیں گے جبکہ وہ قیامت سے پہلے زمین پر اتریں گے اس کا تفصیلی بیان عنقریب آرہا ہے۔ انشاء اللہ، پس اس وقت تمام اہل کتاب ان پر ایمان لائیں گے کیونکہ نہ وہ جزیہ لیں گے نہ سوائے اسلام کے اور کوئی بات قبول کریں گے، ابن ابی حاتم میں حضرت حسن سے (آیت انی متوفیک) کی تفسیر یہ مروی ہے کہ ان پر نیند ڈالی گئی اور نیند کی حالت میں ہی اللہ تعالیٰ نے انہیں اٹھا لیا، حضرت حسن فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے یہودیوں سے فرمایا کہ حضرت عیسیٰ مرے نہیں وہ تمہاری طرف قیامت سے پہلے لوٹنے والے ہیں۔ پھر فرماتا ہے میں تجھے اپنی طرف اٹھا کر کافروں کی گرفت سے آزاد کرنے والا ہوں، اور تیرے تابعداروں کو کافروں پر غالب رکھنے والا ہوں قیامت تک، چناچہ ایسا ہی ہوا، جب اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ کو آسمان پر چڑھا لیا تو ان کے بعد ان کے ساتھیوں کے کئی فریق ہوگئے ایک فرقہ تو آپ کی بعثت پر ایمان رکھنے والا تھا کہ آپ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں اور اس کی ایک بندی کے لڑکے ہیں بعض وہ تھے جنہوں نے غلو سے کام لیا اور بڑھ گئے اور آپ کو اللہ تعالیٰ کا بیٹا کہنے لگے، اوروں نے آپ کو اللہ کہا، دوسروں نے تین میں کا ایک آپ کو بتایا، اللہ تعالیٰ ان کے ان عقائد کا ذکر قرآن مجید میں فرماتا ہے پھر ان کی تردید بھی کردی ہے تین سو سال تک تو یہ اسی طرح رہے، پھر یونان کے بادشاہوں میں سے ایک بادشاہ جو بڑا فیلسوف تھا جس کا نام اسطفلین تھا کہا جاتا ہے کہ صرف اس دین کو بگڑانے کے لئے منافقانہ انداز سے اس دین میں داخل ہوا یا جہالت سے داخل ہوا ہو، بہر صورت اس نے دین مسیح کو بالکل بدل ڈالا اور بڑی تحریف اور تفسیر کی اس دین میں اور کمی زیادہ بھی کر ڈالی، بہت سے قانون ایجاد کئے اور امانت کبریٰ بھی اسی کی ایجاد ہے جو دراصل کمینہ پن کی خیانت ہے، اسی نے اپنے زمانہ میں سور کو حلال کیا اسی کے حکم سے عیسائی مشرق کی طرف نمازیں پڑھنے لگے اسی نے گرجاؤں اور کلیساؤں میں عبادت خانوں اور خانقاہوں میں تصویریں بنوائیں اور اپنے ایک گناہ کے باعث دس روزے روزوں میں بڑھوا دئیے، غرض اس کے زمانہ سے دین مسیح مسیحی دین نہ رہا بلکہ دین اسطفلین ہوگیا، اس نے ظاہری رونق تو خوب دی بارہ ہزار سے زاید تو عبادت گاہیں بنوا دیں اور ایک شہر اپنے نام سے بسایا، ملکیہ گروہ نے اس کی تمام باتیں مان لیں لیکن باوجود ان سب سیاہ کاریوں کے یہودی ان کے ہاتھ تلے رہے اور دراصل نسبتاً حق سے زیادہ قریب یہی تھے گو فی الواقع سارے کے سارے کفار تھے اللہ خالق کل کی ان پر پھٹکار ہو، اب جبکہ ہمارے نبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے اپنا برگزیدہ بنا کر دنیا میں بھیجا تو آپ پر جو لوگ ایمان لائے ان کا ایمان اللہ تعالیٰ کی ذات پر بھی تھا اس کے فرشتوں پر بھی تھا اس کی کتابوں پر بھی تھا اور اس کے تمام رسولوں پر بھی تھا پس حقیقت میں نبیوں کے سچے تابع فرمان یہی لوگ تھے یعنی امت محمد ﷺ ، اس لئے کہ یہ نبی امی عربی خاتم الرسول سید اولاد آدم کے ماننے والے تھے اور حضور ﷺ کی تعلیم برحق تعلیم کو سچا ماننے کی تھی، لہذا دراصل ہر نبی کے سچے تابعدار اور صحیح معنی میں امتی کہلانے کے مستحق یہی لوگ تھے کیونکہ ان لوگوں نے جو اپنے تئیں عیسیٰ کی امت کہتے تھے تو دین عیسوی کو بالکل مسخ اور فسخ کردیا تھا، علاوہ ازیں پیغمبر آخرالزمان کا دین بھی اور تمام اگلی شریعتوں کا ناسخ تھا پھر محفوظ رہنے والا تھا جس کا ایک شوشہ بھی قیامت تک بدلنے والا نہیں اس لئے اس آیت کے وعدے کے مطابق اللہ تعالیٰ نے کافروں پر اس امت کو غالب کر اور یہ مشرق سے لے کر مغرب تک چھا گئے ملک کو اپنے پاؤں تلے روند دیا اور بڑے بڑے جابر اور کٹر کافروں کی گردنیں مروڑ دیں دولتیں ان کے پیروں میں آگئیں فتح و غنیمت ان کی رکابیں چومنے لگی مدتوں کی پرانی سلطنتوں کے تحت انہوں نے الٹ دئیے، کسریٰ کی عظیم الشان پر شان سلطنت اور ان کے بھڑکتے ہوئے آتش کدے ان کے ہاتھوں ویران اور سرد ہوگئے، قیصر کا تاج و تخت ان اللہ والوں نے تاخت و تاراج کیا اور انہیں مسیح پرستی کا خوب مزا چکھایا اور ان کے خزانوں کو اللہ واحد کی رضامندی میں اور اس کے سچے نبی کے دین کی اشاعت میں دل کھول کر خرچ کئے اور اللہ کے لکھے اور نبی کے وعدے چڑھے ہوئے سورج اور چودھویں کے روشن چاند کی طرح سچے ہوئے لوگوں نے دیکھ لئے، مسیح ؑ کے نام کو بدنام کرنے والے مسیح کے نام شیطانوں کو پوجنے والے ان پاکباز اللہ پرستوں کے ہاتھوں مجبور ہو کر شام کے لہلہاتے ہوئے باغات اور آباد شہروں کو ان کے حوالے کر کے بدحواس بھاگتے ہوئے روم میں جا بسے پھر وہاں سے بھی یہ بےعزت کر کے نکالے گئے اور اپنے بادشاہ کے خاص شہر قسطنطنیہ میں پہنچے لیکن پھر وہاں سے بھی ذلیل خوار کر کے نکال دئیے گئے اور انشاء اللہ العزیز اسلام اور اہل اسلام قیامت تک ان پر غالب ہی رہیں گے۔ سب سچوں کے سردار جن کی سچائی پر مہر الٰہی لگ چکی ہے یعنی آنحضرت ﷺ خبر دے چکے ہیں جو اٹل ہے نہ کاٹے کٹے نہ توڑے ٹوٹے، نہ ٹالے ٹلے، فرماتے ہیں کہ آپ کی امت کا آخری گروہ قسطنطنیہ کو فتح کرے گا اور وہاں کے تمام خزانے اپنے قبضے میں لے گا اور رومیوں سے ان کی گھمسان کی لڑائی ہوگی کہ اس کی نظیر سے دنیا خالی ہو (ہماری دعا ہے کہ ہر زمانے میں اللہ قادر کل اس امت کا حامی و ناصر رہے اور روئے زمین کے کفار پر انہیں غالب رکھے اور انہیں سمجھ دے تاکہ یہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی عبادت کریں نہ محمد ﷺ کے سوا کسی اور کی اطاعت کریں، یہی اسلام کی اصل ہے اور یہی عروج دینوی کا گر ہے میں نے سب کو علیحدہ کتاب میں جمع کردیا ہے، آگے اللہ تعالیٰ کے قول پر نظر ڈالیے کہ مسیح ؑ کے ساتھ کفر کرنے والے یہود اور آپ کی شان میں بڑھ چڑھ کر باتیں بنا کر بہکنے والے نصرانیوں کو قتل و قید کی مار اور سلطنت کے تباہ ہوجانے کی یہاں بھی سزا دی اور آخرت کا عذاب وہاں دیکھ لیں گے جہاں نہ کوئی بچا سکے نہ مدد کرسکے گا لیکن برخلاف ان کے ایمانداروں کو پورا اجر اللہ تعالیٰ عطا فرمائے گا دنیا میں بھی فتح اور نصرت عزت و حرمت عطا ہوگی اور آخرت میں بھی خاص رحمتیں اور نعمتیں ملیں گی، اللہ تعالیٰ ظالموں کو ناپسند رکھتا ہے۔ پھر فرمایا اے نبی ﷺ یہ تھی حقیقت حضرت عیسیٰ کی ابتداء پیدائش کی اور ان کے امر کی جو اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ سے آپ کی طرف بذریعہ اپنی خاص وحی کے اتار دی جس میں کوئی شک و شبہ نہیں جیسے سورة مریم میں فرمایا، عیسیٰ بن مریم یہی ہیں یہی سچی حقیقت ہے جس میں تم شک و شبہ میں پڑے ہو، اللہ تعالیٰ کو تو لائق ہی نہیں کہ اس کی اولاد ہو وہ اس سے بالکل پاک ہے وہ جو کرنا چاہے کہہ دیتا ہے ہوجا، بس وہ ہوجاتا ہے، اب یہاں بھی اس کے بعد بیان ہو رہا ہے۔
59
View Single
إِنَّ مَثَلَ عِيسَىٰ عِندَ ٱللَّهِ كَمَثَلِ ءَادَمَۖ خَلَقَهُۥ مِن تُرَابٖ ثُمَّ قَالَ لَهُۥ كُن فَيَكُونُ
The example of Eisa with Allah is like that of Adam; He created him (Adam) from clay and then said to him, “Be” – and it thereupon happens!
بیشک عیسٰی (علیہ السلام) کی مثال اللہ کے نزدیک آدم (علیہ السلام) کی سی ہے، جسے اس نے مٹی سے بنایا پھر (اسے) فرمایا ’ہو جا‘ وہ ہو گیا
Tafsir Ibn Kathir
The Similarities Between the Creation of Adam and the Creation of `Isa
Allah said,
إِنَّ مَثَلَ عِيسَى عِندَ اللَّهِ
(Verily, the likeness of `Isa before Allah) regarding Allah's ability, since He created him without a father,
كَمَثَلِ ءَادَمَ
(is the likeness of Adam), for Allah created Adam without a father or a mother. Rather,
خَلَقَهُ مِن تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهُ كُن فَيَكُونُ
(He created him from dust, then (He) said to him: "Be!" and he was.)
Therefore, He Who created Adam without a father or a mother is able to create `Isa, as well, without a father. If the claim is made that `Isa is Allah's son because he was created without a father, then the same claim befits Adam even more. However, since such a claim regarding Adam is obviously false, then making the same claim about `Isa is even more false.
Furthermore, by mentioning these facts, Allah emphasizes His ability, by creating Adam without a male or female, Hawa' from a male without a female, and `Isa from a mother without a father, compared to His creating the rest of creation from male and female. This is why Allah said in Surah Maryam,
وَلِنَجْعَلَهُ ءَايَةً لِّلْنَّاسِ
(And We made him a sign for mankind) 19: 21.
Allah said in this Ayah,
الْحَقُّ مِن رَّبِّكَ فَلاَ تَكُنْ مِّن الْمُمْتَرِينَ
((This is) the truth from your Lord, so be not of those who doubt.) meaning, this is the only true story about `Isa, and what is beyond truth save falsehood Allah next commands His Messenger to call those who defy the truth, regarding `Isa, to the Mubahalah (the curse).
The Challenge to the Mubahalah
فَمَنْ حَآجَّكَ فِيهِ مِن بَعْدِ مَا جَآءَكَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعَالَوْاْ نَدْعُ أَبْنَآءَنَا وَأَبْنَآءَكُمْ وَنِسَآءَنَا وَنِسَآءَكُمْ وَأَنفُسَنَا وأَنفُسَكُمْ
(Then whoever disputes with you concerning him after the knowledge that has come to you, say: "Come, let us call our sons and your sons, our women and your women, ourselves and yourselves") for the Mubahalah,
ثُمَّ نَبْتَهِلْ
(then we pray), supplicate,
فَنَجْعَل لَّعْنَتُ اللَّهِ عَلَى الْكَـذِبِينَ
(and we invoke Allah's curse upon the liars) among the two of us.
The reason for the call to Mubahalah and the revelation of the Ayat from the beginning of this Surah until here, is that a delegation from the Christians of Najran (in Yemen) came to Al-Madinah to argue about `Isa, claiming that he was divine and the son of Allah. Allah sent down the beginning of this Surah until here, to refute their claims, as Imam Muhammad bin Ishaq bin Yasar and other scholars stated.
Muhammad bin Ishaq bin Yasar said in his famous Sirah, "The delegation of Christians from Najran came to the Messenger of Allah ﷺ . The delegation consisted of sixty horsemen, including fourteen of their chiefs who make decisions. These men were Al-`Aqib, also known as `Abdul-Masih, As-Sayyid, also known as Al-Ayham, Abu Harithah bin `Alqamah, of the family of Bakr bin Wa`il and Uways bin Al-Harith. They also included, Zayd, Qays, Yazid, Nabih, Khuwaylid, `Amr, Khalid, `Abdullah and Yuhannas. Three of these men were chiefs of this delegation, Al-`Aqib, their leader and to whom they referred for advice and decision; As-Sayyid, their scholar and leader in journeys and social gatherings; and Abu Harithah bin `Alqamah, their patriarch, priest and religious leader. Abu Harithah was an Arab man from the family of Bakr bin Wa`il, but when he embraced Christianity, the Romans and their kings honored him and built churches for him (or in his honor). They also supported him financially and gave him servants, because they knew how firm his faith in their religion was." Abu Harithah knew the description of the Messenger of Allah ﷺ from what he read in earlier divine Books. However, his otherwise ignorance led him to insist on remaining a Christian, because he was honored and had a high position with the Christians. Ibn Ishaq said, "Muhammad bin Ja`far bin Az-Zubayr said that, `The (Najran) delegation came to the Messenger of Allah ﷺ in Al-Madinah, entered his Masjid wearing robes and garments, after the Prophet had prayed the `Asr prayer. They accompanied a caravan of camels led by Bani Al-Harith bin Ka`b. The Companions of the Messenger of Allah ﷺ who saw them said that they never saw a delegation like them after that... Then Abu Harithah bin `Alqamah and Al-`Aqib `Abdul-Masih or As-Sayyid Al-Ayham spoke to the Messenger of Allah ﷺ, and they were Christians like the king (Roman King). However, they disagreed about `Isa; some of them said, `He is Allah,' while some said, `He is the son of Allah,' and some others said, `He is one of a trinity.' Allah is far from what they attribute to Him."
Indeed, these are the creeds of the Christians. They claim that `Isa is God, since he brought the dead back to life, healed blindness, leprosy and various illnesses, told about matters of the future, created the shape of birds and blew life into them, bringing them to life. However, all these miracles occurred by Allah's leave, so that `Isa would be a sign from Allah for people.
They also claim that `Isa is the son of Allah, since he did not have a father and he spoke when he was in the cradle, a miracle which had not occurred by any among the Children of Adam before him, so they claim. They also claim that `Isa is one of a trinity, because Allah would say, `We did, command, create and demand.' They said, `If Allah were one, he would have said, `I did, command, create and decide.' This is why they claim that `Isa and Allah are one (Trinity). Allah is far from what they attribute to Him, and we should mention that the Qur'an refuted all these false Christian claims.
Ibn Ishaq continued, "When these Ayat came to the Messenger from Allah ﷺ, thus judging between him and the People of the Book, Allah also commanded the Prophet to call them to the Mubahalah if they still refused the truth. The Prophet called them to the Mubahalah. They said, `O Abu Al-Qasim! Let us think about this matter and get back to you with our decision to what we want to do.' They left the Prophet and conferred with Al-`Aqib, to whom they referred to for advice. They said to him, `O `Abdul-Masih! What is your advice' He said, `By Allah, O Christian fellows! You know that Muhammad is a Messenger and that he brought you the final word regarding your fellow (`Isa). You also know that no Prophet conducted Mubahalah with any people, and the old persons among them remained safe and the young people grew up. Indeed, it will be the end of you if you do it. If you have already decided that you will remain in your religion and your creed regarding your fellow (`Isa), then conduct a treaty with the man (Muhammad) and go back to your land.' They came to the Prophet and said, `O Abu Al-Qasim! We decided that we cannot do Mubahalah with you and that you remain on your religion, while we remain on our religion. However, send with us a man from your Companions whom you are pleased with to judge between us regarding our monetary disputes, for you are acceptable to us in this regard."'
Al-Bukhari recorded that Hudhayfah said, "Al-`Aqib and As-Sayyid, two leaders from Najran, came to the Messenger of Allah ﷺ seeking to invoke Allah for curses (against whoever is unjust among them), and one of them said to the other, `Let us not do that. By Allah, if he were truly a Prophet and we invoke Allah for curses, we and our offspring shall never succeed afterwards.' So they said, `We will give you what you asked and send a trusted man with us, just a trusted man.' The Messenger of Allah ﷺ said;
«لَأَبْعَثَنَّ مَعَكُمْ رَجُلًا أَمِينًا حَقَّ أَمِين»
فاستشرف لها أصحاب رسول اللهصلى الله عليه وسلّم، فقال:
«قُمْ يَا أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاح»
فلما قام، قال رسول اللهصلى الله عليه وسلّم:
«هَذَا أَمِينُ هذِهِ الْأُمَّة»
("Verily, I will send a trusted man with you, a truly trustworthy man." The Companions of the Messenger of Allah ﷺ all felt eager to be that man. The Messenger said, "O Abu `Ubaydah bin Al-Jarrah! Stand up." When Abu `Ubaydah stood up, the Messenger of Allah ﷺ said, "This is the trustee of this Ummah."')
Al-Bukhari recorded that Anas said that the Messenger of Allah ﷺ said on another occasion,
«لِكُلِّ أُمَّةٍ أَمِينٌ، وَأَمِينُ هذِهِ الْأُمَّةِ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاح»
(Every Ummah has a trustee, and the trustee of this Ummah is Abu `Ubaydah bin Al-Jarrah.)
Imam Ahmad recorded that Ibn `Abbas said, "Abu Jahl, may Allah curse him, said, `If I see Muhammad praying next to the Ka`bah, I will step on his neck.' The Prophet later said,
«لَوْ فَعَلَ لَأَخَذَتْهُ الْمَلَائِكَةُ عِيَانًا، ولو أن اليهود تمنوا الموت لماتوا، ورأوا مقاعدهم من النار، ولو خرج الذين يباهلون رسول اللهصلى الله عليه وسلّم لرجعوا لا يجدون مالًا ولا أهلًا»
(Had he tried to do it, the angels would have taken him publicly. Had the Jews wished for death, they would have perished and would have seen their seats in the Fire. Had those who sought Mubahalah with the Messenger of Allah ﷺ, went ahead with it, they would not have found estates or families when they returned home)." Al-Bukhari, At-Tirmidhi and An-Nasa'i also recorded this Hadith, which At-Tirmidhi graded Hasan Sahih.
Allah then said,
إِنَّ هَـذَا لَهُوَ الْقَصَصُ الْحَقُّ
(Verily, this is the true narrative) meaning, what we narrated to you, O Muhammad, about `Isa is the plain truth that cannot be avoided,
وَمَا مِنْ إِلَـهٍ إِلاَّ اللَّهُ وَإِنَّ اللَّهَ لَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُفَإِن تَوَلَّوْاْ
(and none has the right to be worshipped but Allah. And indeed, Allah is the All-Mighty, the All-Wise. And if they turn away,) by abandoning this truth,
فَإِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ بِالْمُفْسِدِينَ
(then surely, Allah is All-Aware of those who do mischief.) for those who abandon the truth for falsehood commit mischief, and Allah has full knowledge of them and will subject them to the worst punishment. Verily, Allah is able to control everything, all praise and thanks are due to Him, and we seek refuge with Him from His revenge.
اختیارات کی وضاحت اور نجرانی وفد کی روداد حضرت باری جل اسمہ وعلا قدرہ اپنی قدرت کاملہ کا بیان فرما رہا ہے کہ حضرت عیسیٰ کا تو صرف باپ نہ تھا اور میں نے انہیں پیدا کردیا تو کیا کون سی حیرانی بات ہے ؟ میں نے حضرت آدم کو تو ان سے پہلے پیدا کیا تھا ان کا بھی باپ نہ تھا بلکہ ماں بھی نہ تھی، مٹی سے پتلا بنایا اور کہہ دیا آدم ہوجا اسی وقت ہوگیا، پھر میرے لئے صرف ماں سے پیدا کرنا کون سا مشکل ہوسکتا جبکہ بغیر ماں اور باپ کے بھی میں نے پیدا کردیا، پس اگر صرف باپ نہ ہونے کی وجہ سے حضرت عیسیٰ کو تو سب سے پہلے اس مرتبہ سے ہٹا دینا چاہئے، کیونکہ ان کے دعوے کا جھوٹا ہونا اور خرابی اس سے بھی زیادہ یہاں ظاہر ہے یہاں ماں تو ہے وہاں تو نہ ماں تھی نہ باپ، یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ جل جلالہ کی قدرت کاملہ کا ظہور ہے کہ آدم کو بغیر مرد و عورت کے پیدا کیا اور حوا کو صرف مرد سے بغیر عورت کے پیدا کیا، اور عیسیٰ کو صرف عورت سے بغیر مرد کے پیدا کردیا اور باقی مخلوق کو مرد و عورت سے پیدا کیا اسی لئے سورة مریم میں فرمایا (وَلِنَجْعَلَهٗٓ اٰيَةً لِّلنَّاسِ وَرَحْمَةً مِّنَّا ۚ وَكَانَ اَمْرًا مَّقْضِيًّا) 19۔ مریم :21) ہم نے عیسیٰ کو لوگوں کے لئے اپنی قدرت کا نشان بنایا اور یہاں فرمایا ہے۔ عیسیٰ کے بارے میں اللہ کا سچا فیصلہ یہی ہے اس کے سوا اور کچھ کسی کمی یا زیادتی کی گنجائش ہی نہیں ہے کیونکہ حق کے بعد گمراہی ہی ہوتی ہے پس تجھے اے نبی ہرگز ان شکی لوگوں میں نہ ہونا چاہئے، اللہ رب العالمین اس کے بعد اپنے نبی کو حکم دیتا ہے کہ اگر اس قدر واضح اور کامل بیان کے بعد بھی کوئی شخص تجھ سے امر عیسیٰ کے بارے میں جھگڑے تو تو انہیں مباہلہ کی دعوت دے کہ ہم فریقین مع اپنے بیٹوں اور بیویوں کے مباہلہ کے لئے نکلیں اور اللہ جل شانہ سے عاجزی کے ساتھ کہیں کہ اے اللہ ہم دونوں میں جو بھی جھوٹا ہو اس پر تو اپنی لعنت نازل فرما، اس مباہلہ کے نازل ہونے اور سورت کی ابتداء سے یہاں تک کی ان تمام آیتوں کے نازل ہونے کا سبب نجران کے نصاریٰ کا وفد تھا یہ لوگ یہاں آکر حضور ﷺ سے حضرت عیسیٰ کے بارے میں گفتگو کر رہے تھے، ان کا عقیدہ تھا کہ حضرت عیسیٰ حکمرانی کے حصہ دار اور اللہ جل شانہ کے بیٹے ہیں پس ان کی تردید اور ان کے جواب میں یہ سب آیتیں نازل ہوئیں، ابن اسحاق اپنی مشہور عام سیرت میں لکھتے ہیں ان کے علاوہ دوسرے مؤرخین نے بھی اپنی کتابوں میں لکھا ہے کہ نجران کے نصرانیوں نے بطور وفد حضور ﷺ کی خدمت میں اپنے ساٹھ آدمی بھیجے تھے جن میں چودہ شخص ان کے سردار تھے جن کے نام یہ ہیں، عاقب جس کا نام عبدالمسیح تھا، سید جس کا نام ایہم تھا، ابو حارثہ بن علقمہ جو بکر بن وائل کا بھائی تھا، اور اوث بن حارث، زید، قیس، یزید اور اس کے دونوں لڑکے، اور خویلد اور عمرو، خالد، عبداللہ اور محسن یہ سب چودہ سردار تھے لیکن پھر ان میں بڑے سردار تین شخص تھے عاقب جو امیر قوم تھا اور عقلمند سمجھا جاتا تھا اور صاحب مشورہ تھا اور اسی کی رائے پر یہ لوگ مطمئن ہوجاتے تھے اور سید جو ان کا لاٹ پادری تھا اور مدرس اعلیٰ تھا یہ بنوبکر بن وائل کے عرب قبیلے میں سے تھا لیکن نصرانی بن گیا تھا اور رومیوں کے ہاں اس کی بڑی آؤ بھگت تھی اس کے لئے انہوں نے بڑے بڑے گرجے بنا دئیے تھے اور اس کے دین کی مضبوطی دیکھ کر اس کی بہت کچھ خاطر و مدارات اور خدمت و عزت کرتے رہتے تھے یہ شخص حضور ﷺ کی صفت و شان سے واقف تھا اور اگلی کتابوں میں آپ کی صفتیں پڑھ چکا تھا دل سے آپ کی نبوت کا قائل تھا لیکن نصرانیوں میں جو اس کی تکریم و تعظیم تھی اور وہاں جو جاہ و منصب اسے حاصل تھا اس کے چھن جانے کے خوف سے راہ حق کی طرف نہیں آتا تھا، غرض یہ وفد مدینہ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں مسجد نبوی میں حاضر ہوا آپ اس وقت عصر کی نماز سے فارغ ہو کر بیٹھے ہی تھے یہ لوگ نفیس پوشاکیں پہنے ہوئے اور خوبصورت نرم چادریں اوڑھے ہوئے تھے ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے بنو حارث بن کعب کے خاندان کے لوگ ہوں صحابہ کہتے ہیں ان کے بعد ان جیسا باشوکت وفد کوئی نہیں آیا، ان کی نماز کا وقت آگیا تو آپ کی اجازت سے انہوں نے مشرق کی طرف منہ کر کے مسجد نبوی میں ہی اپنے طریق پر نماز ادا کرلی۔ بعد نماز کے حضور ﷺ سے ان کی گفتگو ہوئی ادھر سے بولنے والے یہ تین شخص تھے حارثہ بن علقمہ عاقب یعنی عبدالمسیح اور سید یعنی ایہم یہ گو شاہی مذہب پر تھے لیکن کچھ امور میں اختلاف رکھتے تھے۔ حضرت مسیح کی نسبت ان کے تینوں خیال تھے یعنی وہ خود اللہ جل شانہ ہے اور اللہ کا لڑکا ہے اور تین میں کا تیسرا ہے اللہ ان کے اس ناپاک قول سے مبرا ہے اور بہت ہی بلند وبالا، تقریباً تمام نصاریٰ کا یہی عقیدہ ہے، مسیح کے اللہ ہونے کی دلیل تو ان کے پاس یہ تھی کہ وہ مردوں کو زندہ کردیتا تھا اور اندھوں اور کوڑھیوں اور بیماروں کو شفا دیتا تھا، غیب کی خبریں دیتا تھا اور مٹی کی چڑیا بنا کر پھونک مار کر اڑا دیا کرتا تھا اور جواب اس کا یہ ہے کہ یہ ساری باتیں اس سے اللہ کے حکم سے سرزد ہوتی تھیں اس لئے کہ اللہ کی نشانیاں اللہ کی باتوں کے سچ ہونے پر اور حضرت عیسیٰ کی نبوت پر مثبت دلیل ہوجائیں، اللہ کا لڑکا ماننے والوں کی حجت یہ تھی کہ ان کا بہ ظاہر کوئی باپ نہ تھا اور گہوارے میں ہی بولنے لگے تھے، یہ باتیں بھی ایسی ہیں کہ ان سے پہلے دیکھنے میں ہی نہیں آئی تھیں (اس کا جواب یہ ہے کہ یہ بھی اللہ کی قدرت کی نشانیاں تھیں تاکہ لوگ اللہ کو اسباب کا محکوم اور عادت کا محتاج نہ سمجھیں وغیرہ۔ مترجم) اور تین میں تیسرا اس لئے کہتے تھے کہ اس نے اپنے کلام میں فرمایا ہے ہم نے کیا ہمارا امر ہماری مخلوق ہم نے فیصلہ کیا وغیرہ پس اگر اللہ اکیلا ایک ہی ہوتا تو یوں نہ فرماتا بلکہ فرماتا میں نے کیا میرا امر میری مخلوق میں نے فیصلہ کیا وغیرہ پس ثابت ہوا کہ اللہ تین ہیں خود اللہ رب کعبہ اور عیسیٰ اور مریم (جس کا جواب یہ ہے کہ ہم کا لفظ صرف بڑائی کے لئے اور عظمت کے لئے ہے۔ مترجم) اللہ تعالیٰ ان ظالموں منکروں کعے قول سے پاک و بلند ہے، ان کے تمام عقائد کی تردید قرآن کریم میں نازل ہوئی، جب یہ دونوں پادری حضور ﷺ سے بات چیت کرچکے تو آپ نے فرمایا تم مسلمان ہوجاؤ انہوں نے کہا ہم تو ماننے والے ہیں ہی، آپ نے فرمایا نہیں نہیں تمہیں چاہئے کہ اسلام قبول کرلو وہ کہنے لگے ہم تو آپ سے پہلے کے مسلمان ہیں فرمایا نہیں تمہارا یہاسلامق بول نہیں اس لئے کہ تم اللہ کی اولاد مانتے ہو صلیب کی پوجا کرتے ہو خنزیر کھاتے ہو۔ انہوں نے کہا اچھا پھر یہ تو فرمائے کہ حضرت عیسیٰ کا باپ کون تھا ؟ حضور ﷺ تو اس پر خاموش رہے اور سورة آل عمرانھ کی شروع سے لے کر اوپر تک کی آیتیں ان کے جواب میں نازل ہوئیں، ابن اسحاق ان سب کی مختصر سی تفسیر بیان کر کے پھر لکھتے ہیں آپ نے یہ سب تلاوت کر کے انہیں سمجھا دیں۔ اس مباہلہ کی آیت کو پڑھ کر آپ نے فرمایا اگر نہیں مانتے تو آؤ مباہلہ کا نکلو یہ سن کر وہ کہنے لگے اے ابو القاسم ہمیں مہلت دیجئے کہ ہم آپس میں مشورہ کرلیں پھر تمہیں اس کا جواب دیں گے اب تنہائی میں بیٹھ کر انہوں نے عاقب سے مشورہ لیا جو بڑا دانا اور عقلمند سمجھا جاتا تھا اس نے اپنا حتمی فیصلہ ان الفاظ میں سنایا کہ اے جماعت نصاریٰ تم نے یقین کے ساتھ اتنا تو معلوم کرلیا ہے کہ حضرت محمد ﷺ اللہ کے سچے رسول ہیں اور یہ بھی تم جانتے ہو کہ حضرت عیسیٰ کی حقیت وہی ہے جو محمد ﷺ کی زبانی تم سن چکے ہو اور تمہیں بخوبی علم ہے کہ جو قوم نبی کے ساتھ ملاعنہ کرتی ہے نہ ان کے بڑے باقی رہتے ہیں نہ چھوٹے بڑے ہوتے ہیں بلکہ سب کے سب جڑ بنیاد سے اکھیڑ کر پھینک دئیے جاتے ہیں یاد رکھو کہ اگر تم نے مباہلہ کے لئے قدم بڑھایا تو تمہارا ستیاناس ہوجائے گا، پس یا تو تم اسی دین کو قبول کرلو اور اگر کسی طرح نہیں ماننا چاہتے ہو اور اپنے دین پر اور حضرت عیسیٰ کے متعلق اپنے ہی خیالات پر قائم رہنا چاہتے ہو تو آپ سے صلح کرلو اور اپنے وطن کو لوٹ جاؤ، چناچہ یہ لوگ صلاح مشورہ کر کے پھر دربار نبوی میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے اے ابو القاسم ﷺ ہم آپ سے ملاعنہ کرنے کے لئے تیار نہیں آپ اپنے دین پر رہئے اور ہم اپنے خیالات پر ہیں لیکن آپ ہمارے ساتھ اپنے صحابیوں میں سے کیسی ایسے شخص کو بھیج دیجئے جن سے آپ خوش ہوں کہ وہ ہمارے مالی جھگڑوں کا ہم میں فیصلہ کردیں آپ لوگ ہماری نظروں میں بہت ہی پسندیدہ ہیں۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا اچھا تم دوپہر کو پھر آنا میں تمہارے ساتھ کسی مضبوط امانت دار کو کر دوں گا، حضرت عمر بن خطاب ؓ فرماتے ہیں میں نے کسی دن بھی سردار بننے کی خواہش نہیں کی لیکن اس دن صرف اس خیال ہے سے کہ حضور ﷺ نے جو تعریف کی ہے اس کا تصدیق کرنے والا اللہ کے نزدیک میں بن جاؤں، اسی لئے میں اس روز سویرے سویرے ظہر کی نماز کے لئے چل پڑا، حضور ﷺ تشریف لائے نماز ظہر پڑھائی پھر دائیں بائیں نظریں دوڑانے لگے میں بار بار اپنی جگہ اونچا ہوتا تھا تاکہ آپ کی نگاہیں مجھ پر پڑھیں، آپ برابر بغور دیکھتے ہی رہے یہاں تک کہ نگاہیں حضرت ابو عبید بن جراح ؓ پر پڑیں انہیں طلب فرمایا اور کہا کہ ان کے ساتھ جاؤ اور ان کے اختلافات کا فیصلہ حق سے کردو چناچہ حضرت ابو عبیدہ ؓ ان کے ساتھ تشریف لے گئے ابن مردویہ میں بھی یہ واقعہ اسی طرح منقول ہے لیکن وہاں سرداروں کی گنتی بارہ کی ہے اور اس واقعہ میں بھی قدرے طوالت ہے اور کچھ زائد باتیں بھی ہیں، صحیح بخاری شریف میں بروایت حضرت حذیفہ ؓ مروی ہے نجرانی سردار عاقب اور سید مباحلہ کے ارادے سے حضور ﷺ کے پاس آئے لیکن ایک نے دوسرے سے کہا یہ نہ کر اللہ کی قسم اگر یہ نبی ہیں اور ہم نے ان سے مباہلہ کیا تو ہم اپنی اولادوں سمیت تباہ ہوجائیں گے چناچہ پھر دونوں نے متفق ہو کر کہا حضرت آپ ہم سے جو طلب فرماتے ہیں ہم وہ سب ادا کردیں گے (یعنی جزیہ دینا قبول کرلیا) آپ کسی امین شخص کو ہمارے ساتھ کر دیجئے اور امین کو ہی بھیجنا، آپ نے فرمایا بہتر میں تمہارے ساتھ کامل امین کو ہی کروں گا اصحاب رسول ﷺ ایک دوسرے کو تکنے لگے یہ دیکھیں حضور ﷺ کس کا انتخاب کرتے ہیں آپ نے فرمایا اے ابو عبیدہ بن جراح تم کھڑے ہوجاؤ جب یہ کھڑے ہوئے تو آپ نے فرمایا یہ ہیں اس امت کے امین، صحیح بخاری شریف کی اور حدیث میں ہے ہر امت کا امین ہوتا ہے اور اس امت کا امین ابو عبیدہ بن جراح ہے ؓ مسند احمد میں حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ ابو جہل ملعون نے کہا۔ اگر میں محمد ﷺ کو کعبہ میں نماز پڑھتے دیکھ لوں گا تو اس کی گردن کچل دوں گا فرماتے ہیں کہ آپ نے فرمایا اگر وہ ایسا کرتا تو سب کے سب دیکھتے کہ فرشتے اسے دبوچ لیتے، اور یہودیوں سے جب قرآن نے کہا تھا کہ آؤ جھوٹوں کے لئے موت مانگو اگر وہ مانگتے تو یقینا سب کے سب مرجاتے اور اپنی جگہیں جہنم کی آگ میں دیکھ لیتے اور جن نصرانیوں کو مباہلہ کی دعوت دی گئی تھی اگر وہ حضور ﷺ کے مقابلہ میں مباہلے کے لئے نکلتے تو لوٹ کر اپنے مالوں کو اور اپنے بال بچوں کو نہ پاتے، صحیح بخاری ترمذی اور نسائی میں بھی یہ حدیث ہے، امام ترمذی اسے حسن کہتے ہیں، امام بیہقی نے اپنی کتاب دلائل النبوۃ میں بھی وفد بحران کے قصے کو طویل تر بیان کیا ہے، ہم اسے یہاں نقل کرتے ہیں کیونکہ اس میں بہت سے فوائد ہیں گو اس میں غرابت بھی ہے اور اس مقام سے وہ نہایت مناسبت رکھتا ہے، سلمہ بن عبدیسوع اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں جو پہلے نصرانی تھے پھر مسلمان ہوگئے کہ رسول اللہ ﷺ نے سورة طس قرآن میں نازل ہونے سے پیشتر اہل نجران کو نامہ مبارک لکھا جس کی عبارت یہ تھی بسم الہ ابراہیم واسحاق و یعقوب من محمد النبی رسول اللہ الی اسقف نجران واھل نجران اسلم انتم فانی احمد الیکم الہ ابراہیم واسحاق ویعقوب۔ امام بعد فانی ادعوکم الی عبادۃ اللہ من عبادۃ العباد وادعوکم الی ولایتہ اللہ من ولایتہ العباد فان اییتم فالجزیتہ فان ابیتم فقد اذنتکم بحرب والسلام یعنی اس خط کو میں شروع کرتا ہوں حضرت ابراہیم حضرت اسحاق اور حضرت یعقوب کے اللہ تعالیٰ کے نام سے، یہ خط ہے محمد ﷺ کی طرف سے جو اللہ رب العزت کے نبی اور رسول نجران کے سردار کی طرف ہیں اللہ تعالیٰ کی تمہارے سامنے حمدو ثناء بیان کرتا ہوں جو حضرت ابراہیم، حضرت اسحاق اور حضرت یعقوب کا معبود ہے، پھر میں تمہیں دعوت دیتا ہوں کہ بندوں کی عبادت کو چھوڑ کر اللہ کی عبادت کی طرف آؤ اور بندوں کے والی اپنے کو چھوڑ کر اللہ کی ولایت کی طرف آجاؤ، اگر تم اسے نہ مانو تو جزیہ دو اور ماتحتی اختیار کرو اگر اس سے بھی انکار ہو تو تمہیں لڑائی کا اعلان ہے والسلام، جب یہ خط اسقف کو پہنچا اور اس نے اسے پڑھایا تو بڑا سٹ پٹایا گھبرا گیا اور تھرانے لگا، جھٹ سے شرحیل بن وداعہ کو بلوایا جو ہمدان قبیلہ کا تھا سب سے بڑا مشیر سلطنت یہی تھا جب کبھی کوئی اہم کام آپڑتا تو سب سے پہلے یعنی ایہم اور سید اور عاقب سے بھی پیشر اس سے مشورہ ہوتا جب یہ آگیا تو اسقف نے حضور ﷺ کا خط اسے دیا جب اس نے پڑھ لیا تو اسقف نے پوچھا بتاؤ کیا خیال ہے ؟ شرحیل نے کہا بادشاہ کو خوب علم ہے کہ حضرت اسماعیل کو اولاد میں سے اللہ کے ایک نبی کے آنے کا وعدہ اللہ کی کتاب میں ہے کیا عجب کہ وہ نبی یہی ہو، امر نبوت میں کیا رائے دے سکتا ہوں ہاں اگر امور سلطنت کی کوئی بات ہوتی تو بیشک میں اپنے دماغ پر زور ڈال کر کوئی بات نکال لیتا، اسقف نے انہیں تو الگ بٹھا دیا اور عبداللہ بن شرحیل کو بلایا یہ بھی مشیر سلطنت تھا اور حمیر کے قبیلے میں سے تھا اسے خط دیا پڑھایا رائے پوچھی تو اس نے بھی ٹھیک وہی بات کہی جو پہلا مشیر کہہ چکا تھا اسے بھی بادشاہ نے دور بٹھا دیا پھر جبار بن فیض کو بلایا جو بنو حارث میں سے تھا اس نے بھی یہی کہا جو ان دونوں نے کہا تھا، بادشاہ نے جب دیکھا کہ ان تینوں کی رائے متفق ہے تو حکم دیا گیا کہ ناقوس بجائے جائیں آگ جلا دی جائے اور گرجوں میں جھنڈے بلند کر دئیے جائیں وہاں کا یہ دستور تھا کہ جب سلطنت کا کوئی اہم کام ہوتا تو رات کو جمع کرنا مقصود ہوتا تو یہی کرتے اور اگر دن کا وقت ہوتا تو گرجوں میں آگ جلا دی جاتی اور ناقوس زور زور سے بجائے جاتے، اس حکم کے ہوتے ہی چاروں طرف آگ جلا دی گئی اور ناقوس کی آواز نے ہر ایک کو ہوشیار کردیا اور جھنڈے اونچے دیکھ دیکھ کر آس پاس کے وادی کے تمام لوگ جمع ہوگئے اس وادی کا طول اتنا تھا کہ تیز سوار صبح سے شام تک دوسرے کنارے پہنچتا تھا اس میں تہتر گاؤں آباد تھے اور ایک لاکھ بیس ہزار تلوار چلانے والے یہاں آباد تھے جب یہ سب لوگ آگئے تو اسقف نے انہیں رسول اللہ ﷺ کا نامہ مبارک پڑھ کر سنایا اور پوچھا بتاؤ تمہاری کیا رائے ہے ؟ تو تمام عقلمندوں نے کہا کہ شرحیل بن وداعہ ہمدانی عبداللہ بن شرحیل اصبحی اور جبار بن فیض حارثی کو بطور وفد کے بھیجا جائے، یہ وہاں سے پختہ خبر لائیں، اب یہاں سے یہ وفد ان تینوں کی سرداری کے ماتحت روانہ ہوا مدینہ پہنچ کر انہوں نے سفری لباس اتار ڈالا اور نقش بنے ہوئے ریشمی لمبے لمبے حلے پہن لئے اور سونے کی انگوٹھیاں انگلیوں میں ڈال لیں اور اپنی چادروں کے پلے تھامے ہوئے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، سلام کیا لیکن آپ نے جواب نہ دیا بہت دیر تک انتظار کیا حضور ﷺ کچھ بات کریں لیکن ان ریشمی حلوں اور سونے کی انگوٹھیوں کی وجہ سے آپ نے ان سے کلام بھی نہ کیا اب یہ لوگ حضرت عثمان بن عفان ؓ اور حضرت عبدالرحمن بن عوف ؓ کی تلاش میں نکلے اور ان دونوں بزرگوں سے ان کی پہلی ملاقات تھی مہاجرین اور انصار کے ایک مجمع میں ان دونوں حضرات کو پا لیا ان سے واقعہ بیان کیا تمہارے نبی ﷺ نے ہمیں خط لکھا ہم اس کا جواب دینے کے لئے خود حاضر ہوئے آپ کے پاس گئے سلام کیا لیکن جواب نہ دیا پھر بہت دیر تک انتظار میں بیٹھے رہے کہ آپ سے کچھ باتیں ہوجاتیں لیکن آپ نے ہم سے کوئی بات نہ کی آخر ہم لوگ تھک کر چلے آئے اب آپ حضرات فرمائے کہ کیا ہم یونہی واپس چلے جائیں، ان دونوں نے حضرت علی بن ابو طالب سے کہا کہ آپ ہی انہیں جواب دیجئے حضرت علی نے فرمایا میرا خیال ہے کہ یہ لوگ اپنے حلے اور اپنی انگوٹھیاں اتار دیں اور وہی سفری معمولی لباس پہن کر حضور ﷺ کی خدمت میں دوبارہ جائیں چناچہ انہوں نے یہی کیا اور اسی معمولی لباس میں گئے سلام کیا آپ نے جواب دیا پھر فرمایا اس اللہ کی قسم جس نے مجھے حق کے ساتھ بھیجا ہے یہ جب میرے پاس پہلی مرتبہ آئے تھے تو ان کے ساتھ ابلیس تھا، اب سوال جواب بات چیت شروع ہوئی حضور ﷺ بھی پوچھتے تھے اور وہ جواب دیتے تھے اسی طرح وہ بھی سوال کرتے اور جواب پاتے، آخر میں انہوں نے پوچھا آپ حضرت عیسیٰ کی بابت کیا فرماتے ہیں ؟ تاکہ ہم اپنی قوم کے پاس جا کر وہ کہیں ہمیں اس کی خوشی ہے کہ اگر آپ نبی ہیں تو آپ کی زبانیں سنیں کہ آپ کا ان کی بابت کیا خیال ہے ؟ تو آپ نے فرمایا میرے پاس اس کا جواب آج تو نہیں تم ٹھہرو تو میرا رب مجھ سے اس کی بابت جو فرمائے گا وہ میں تمہیں سنا دوں گا، دوسرے دن وہ پھر آئے تو آپ نے اسی وقت کی اتری ہوئی اس آیت (اِنَّ مَثَلَ عِيْسٰى عِنْدَ اللّٰهِ كَمَثَلِ اٰدَمَ ۭخَلَقَهٗ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهٗ كُنْ فَيَكُوْنُ 59 اَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُنْ مِّنَ الْمُمْتَرِيْنَ 60 فَمَنْ حَاۗجَّكَ فِيْهِ مِنْۢ بَعْدِ مَا جَاۗءَكَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ اَبْنَاۗءَنَا وَاَبْنَاۗءَكُمْ وَنِسَاۗءَنَا وَنِسَاۗءَكُمْ وَاَنْفُسَنَا وَاَنْفُسَكُمْ ۣ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَلْ لَّعْنَتَ اللّٰهِ عَلَي الْكٰذِبِيْنَ 61) 3۔ آل عمران :596061) تلاوت کر سنائی انہوں نے اس بات کا اقرار کرنے سے انکار کردیا، دوسرے دن صبح ہی صبح رسول اللہ ﷺ ملاعنہ کے لئے حضرت حسن کو اور حضرت حسین کو اپنی چادر میں لئے ہوئے تشریف لائے پیچھے پیچھے حضرت فاطمہآرہی تھیں اس وقت آپ کی کئی ایک بیویاں تھیں، شرحیل یہ دیکھتے ہی اپنے دونوں ساتھیوں سے کہنے لگا تم جانتے ہو کہ نجران کی ساری وادی میری بات کو مانتی ہے اور میری رائے پر کاربند ہوتی ہے، سنو اللہ کی قسم یہ معاملہ بڑا بھاری ہے اگر یہ شخص ﷺ مبعوث کیا گیا ہے تو سب سے پہلے اس کی نگاہوں میں ہم ہی مطعون ہوں گے اور سب سے پہلے اس کی تردید کرنے والے ہم ہی ٹھہریں گے یہ بات اس کے اور اس کے ساتھیوں کے دلوں میں نہیں جائے گی اور ہم پر کوئی نہ کوئی مصیبت و آفت آئے گی عرب بھر میں سب سے زیادہ قریب ان سے میں ہی ہوں اور سنو اگر یہ شخص بنی مرسل ہے تو مباہلہ کرتے ہی روئے زمین پر ایک بال یا ایک ناخن بھی ہمارا نہ رہے گا، اس کے دونوں ساتھیوں نے کہا پھر اے ابو ویہم آپ کی کیا رائے ہے ؟ اس نے کہا میری رائے یہ ہے کہ اسی کو ہم حاکم بنادیں جو کچھ یہ حکم دے ہم اسے منظور کرلیں یہ کبھی بھی خلاف عدل حکم نہ دے گا، ان دونوں نے اس بات کو تسلیم کرلیا، اب شرجیل نے حضور ﷺ سے کہا کہ میں اس ملاعنہ سے بہتر چیز جناب کے سامنے پیش کرتا ہوں آپ نے دریافت فرمایا وہ کیا ؟ کہا آج کا دن آنے والی رات اور کل کی صبح تک آپ ہمارے بارے میں جو حکم کریں ہمیں منظور ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا شاید اور لوگ تمہارے اس فیصلے کو نہ مانیں، شرحیل نے کہا اس کی بابت میرے ان دونوں ساتھیوں سے دریافت فرما لیجئے آپ نے ان دونوں سے پوچھا انہوں نے جواب دیا کہ سارے وادی کے لوگ انہی کی رائے پر چلتے ہیں وہاں ایک بھی ایسا نہیں جو ان کے فیصلے کو ٹال سکے، پس حضور ﷺ نے یہ درخواست قبول فرمائی۔ مباہلہ نہ کیا اور واپس لوٹ گئے دوسرے دن صبح ہی وہ حاضر خدمت ہوئے تو آپ نے ایک تحریر انہیں لکھ دی کہ جس میں بسم اللہ کے بعد یہ مضمون تھا کہ " تحریر اللہ کے نبی محمد رسول اللہ ﷺ کی طرف سے نجرانیوں کے لئے ہے ان پر اللہ کے رسول ﷺ کا حکم جاری تھا ہر پھل، ہر سیاہ وسفید اور ہر غلام پر لیکن اللہ کے رسول ﷺ یہ سب انہی کو دیتے ہیں یہ ہر سال صرف دو ہزار حلے دے دیا کریں ایک ہزار رجب میں اور ایک ہزار صفر میں وغیرہ وغیرہ، پورا عہد نامہ انہیں عطا فرمایا، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کا یہ وفد سن009ہجری میں آیا تھا اس لئے کہ حضرت زہری فرماتے ہیں سب سے پہلے جزیہ انہی اہل نجران نے حضور ﷺ کو ادا کیا، اور جزیہ کی آیت فتح مکہ کے بعد اتری ہے جو یہ ہے (قَاتِلُوا الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ باللّٰهِ وَلَا بالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَلَا يُحَرِّمُوْنَ مَا حَرَّمَ اللّٰهُ وَرَسُوْلُهٗ وَلَا يَدِيْنُوْنَ دِيْنَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ حَتّٰي يُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَنْ يَّدٍ وَّهُمْ صٰغِرُوْنَ) 9۔ التوبہ :29) اس آیت میں اہل کتاب سے جزیہ لینے کا حکم ہوا ہے، ابن مردویہ میں ہے کہ عاقب اور طیب آنحضرت ﷺ کے پاس آئے آپ نے انہیں ملاعنہ کے لئے کہا اور صبح کو حضرت علی اور حضرت فاطمہ اور حضرت حسن اور حضرت حسین کو لئے ہوئے آپ تشریف لائے اور انہیں کہلا بھیجا انہوں نے قبول نہ کیا اور خراج دینا منظور کرلیا، آپ نے فرمایا اس کی قسم جس نے مجھے حق کے ساتھ بھیجا ہے اگر یہ دونوں " نہیں " کہتے تو ان پر یہی وادی آگ برساتی، حضرت جابر فرماتے ہیں ندع ابنائنا الخ، والی آیت انہی کے بارے میں نازل ہوئی ہے انفسنا سے مراد خود رسول کریم ﷺ اور حضرت علی ابنائنا سے مراد حسن اور حسین نسائنا سے مراد حضرت فاطمۃ الزہرا ؓ مستدرک حاکم وغیرہ میں بھی اس معنی کی حدیث مروی ہے۔ پھر جناب باری کا ارشاد ہے یہ جو ہم نے عیسیٰ کی شان فرمائی ہے حق اور سچ ہے اس میں بال برابر کمی بیشی نہیں، اللہ قابل عبادت ہے کوئی اور نہیں اور وہی غلبہ والا اور حکمت والا ہے، اب بھی اگر یہ منہ پھیر لیں اور دوسری باتوں میں پڑیں تو اللہ بھی ایسے باطل پسندوں کو اور مفسدوں کو بخوبی جانتا ہے انہیں بدترین سزا دے گا اس میں پوری قدرت ہے کوئی اس سے نہ بھاگ سکے نہ اس کا مقابلہ کرسکے، وہ پاک ہے اور تعریفوں والا ہے ہم اس کے عذاب سے اسی کی پناہ چاہتے ہیں۔
60
View Single
ٱلۡحَقُّ مِن رَّبِّكَ فَلَا تَكُن مِّنَ ٱلۡمُمۡتَرِينَ
O listener! (followers of this Prophet) This is the Truth from your Lord, so never be of those who doubt.
(امت کی تنبیہ کے لئے فرمایا:) یہ تمہارے رب کی طرف سے حق ہے پس شک کرنے والوں میں سے نہ ہو جانا
Tafsir Ibn Kathir
The Similarities Between the Creation of Adam and the Creation of `Isa
Allah said,
إِنَّ مَثَلَ عِيسَى عِندَ اللَّهِ
(Verily, the likeness of `Isa before Allah) regarding Allah's ability, since He created him without a father,
كَمَثَلِ ءَادَمَ
(is the likeness of Adam), for Allah created Adam without a father or a mother. Rather,
خَلَقَهُ مِن تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهُ كُن فَيَكُونُ
(He created him from dust, then (He) said to him: "Be!" and he was.)
Therefore, He Who created Adam without a father or a mother is able to create `Isa, as well, without a father. If the claim is made that `Isa is Allah's son because he was created without a father, then the same claim befits Adam even more. However, since such a claim regarding Adam is obviously false, then making the same claim about `Isa is even more false.
Furthermore, by mentioning these facts, Allah emphasizes His ability, by creating Adam without a male or female, Hawa' from a male without a female, and `Isa from a mother without a father, compared to His creating the rest of creation from male and female. This is why Allah said in Surah Maryam,
وَلِنَجْعَلَهُ ءَايَةً لِّلْنَّاسِ
(And We made him a sign for mankind) 19: 21.
Allah said in this Ayah,
الْحَقُّ مِن رَّبِّكَ فَلاَ تَكُنْ مِّن الْمُمْتَرِينَ
((This is) the truth from your Lord, so be not of those who doubt.) meaning, this is the only true story about `Isa, and what is beyond truth save falsehood Allah next commands His Messenger to call those who defy the truth, regarding `Isa, to the Mubahalah (the curse).
The Challenge to the Mubahalah
فَمَنْ حَآجَّكَ فِيهِ مِن بَعْدِ مَا جَآءَكَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعَالَوْاْ نَدْعُ أَبْنَآءَنَا وَأَبْنَآءَكُمْ وَنِسَآءَنَا وَنِسَآءَكُمْ وَأَنفُسَنَا وأَنفُسَكُمْ
(Then whoever disputes with you concerning him after the knowledge that has come to you, say: "Come, let us call our sons and your sons, our women and your women, ourselves and yourselves") for the Mubahalah,
ثُمَّ نَبْتَهِلْ
(then we pray), supplicate,
فَنَجْعَل لَّعْنَتُ اللَّهِ عَلَى الْكَـذِبِينَ
(and we invoke Allah's curse upon the liars) among the two of us.
The reason for the call to Mubahalah and the revelation of the Ayat from the beginning of this Surah until here, is that a delegation from the Christians of Najran (in Yemen) came to Al-Madinah to argue about `Isa, claiming that he was divine and the son of Allah. Allah sent down the beginning of this Surah until here, to refute their claims, as Imam Muhammad bin Ishaq bin Yasar and other scholars stated.
Muhammad bin Ishaq bin Yasar said in his famous Sirah, "The delegation of Christians from Najran came to the Messenger of Allah ﷺ . The delegation consisted of sixty horsemen, including fourteen of their chiefs who make decisions. These men were Al-`Aqib, also known as `Abdul-Masih, As-Sayyid, also known as Al-Ayham, Abu Harithah bin `Alqamah, of the family of Bakr bin Wa`il and Uways bin Al-Harith. They also included, Zayd, Qays, Yazid, Nabih, Khuwaylid, `Amr, Khalid, `Abdullah and Yuhannas. Three of these men were chiefs of this delegation, Al-`Aqib, their leader and to whom they referred for advice and decision; As-Sayyid, their scholar and leader in journeys and social gatherings; and Abu Harithah bin `Alqamah, their patriarch, priest and religious leader. Abu Harithah was an Arab man from the family of Bakr bin Wa`il, but when he embraced Christianity, the Romans and their kings honored him and built churches for him (or in his honor). They also supported him financially and gave him servants, because they knew how firm his faith in their religion was." Abu Harithah knew the description of the Messenger of Allah ﷺ from what he read in earlier divine Books. However, his otherwise ignorance led him to insist on remaining a Christian, because he was honored and had a high position with the Christians. Ibn Ishaq said, "Muhammad bin Ja`far bin Az-Zubayr said that, `The (Najran) delegation came to the Messenger of Allah ﷺ in Al-Madinah, entered his Masjid wearing robes and garments, after the Prophet had prayed the `Asr prayer. They accompanied a caravan of camels led by Bani Al-Harith bin Ka`b. The Companions of the Messenger of Allah ﷺ who saw them said that they never saw a delegation like them after that... Then Abu Harithah bin `Alqamah and Al-`Aqib `Abdul-Masih or As-Sayyid Al-Ayham spoke to the Messenger of Allah ﷺ, and they were Christians like the king (Roman King). However, they disagreed about `Isa; some of them said, `He is Allah,' while some said, `He is the son of Allah,' and some others said, `He is one of a trinity.' Allah is far from what they attribute to Him."
Indeed, these are the creeds of the Christians. They claim that `Isa is God, since he brought the dead back to life, healed blindness, leprosy and various illnesses, told about matters of the future, created the shape of birds and blew life into them, bringing them to life. However, all these miracles occurred by Allah's leave, so that `Isa would be a sign from Allah for people.
They also claim that `Isa is the son of Allah, since he did not have a father and he spoke when he was in the cradle, a miracle which had not occurred by any among the Children of Adam before him, so they claim. They also claim that `Isa is one of a trinity, because Allah would say, `We did, command, create and demand.' They said, `If Allah were one, he would have said, `I did, command, create and decide.' This is why they claim that `Isa and Allah are one (Trinity). Allah is far from what they attribute to Him, and we should mention that the Qur'an refuted all these false Christian claims.
Ibn Ishaq continued, "When these Ayat came to the Messenger from Allah ﷺ, thus judging between him and the People of the Book, Allah also commanded the Prophet to call them to the Mubahalah if they still refused the truth. The Prophet called them to the Mubahalah. They said, `O Abu Al-Qasim! Let us think about this matter and get back to you with our decision to what we want to do.' They left the Prophet and conferred with Al-`Aqib, to whom they referred to for advice. They said to him, `O `Abdul-Masih! What is your advice' He said, `By Allah, O Christian fellows! You know that Muhammad is a Messenger and that he brought you the final word regarding your fellow (`Isa). You also know that no Prophet conducted Mubahalah with any people, and the old persons among them remained safe and the young people grew up. Indeed, it will be the end of you if you do it. If you have already decided that you will remain in your religion and your creed regarding your fellow (`Isa), then conduct a treaty with the man (Muhammad) and go back to your land.' They came to the Prophet and said, `O Abu Al-Qasim! We decided that we cannot do Mubahalah with you and that you remain on your religion, while we remain on our religion. However, send with us a man from your Companions whom you are pleased with to judge between us regarding our monetary disputes, for you are acceptable to us in this regard."'
Al-Bukhari recorded that Hudhayfah said, "Al-`Aqib and As-Sayyid, two leaders from Najran, came to the Messenger of Allah ﷺ seeking to invoke Allah for curses (against whoever is unjust among them), and one of them said to the other, `Let us not do that. By Allah, if he were truly a Prophet and we invoke Allah for curses, we and our offspring shall never succeed afterwards.' So they said, `We will give you what you asked and send a trusted man with us, just a trusted man.' The Messenger of Allah ﷺ said;
«لَأَبْعَثَنَّ مَعَكُمْ رَجُلًا أَمِينًا حَقَّ أَمِين»
فاستشرف لها أصحاب رسول اللهصلى الله عليه وسلّم، فقال:
«قُمْ يَا أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاح»
فلما قام، قال رسول اللهصلى الله عليه وسلّم:
«هَذَا أَمِينُ هذِهِ الْأُمَّة»
("Verily, I will send a trusted man with you, a truly trustworthy man." The Companions of the Messenger of Allah ﷺ all felt eager to be that man. The Messenger said, "O Abu `Ubaydah bin Al-Jarrah! Stand up." When Abu `Ubaydah stood up, the Messenger of Allah ﷺ said, "This is the trustee of this Ummah."')
Al-Bukhari recorded that Anas said that the Messenger of Allah ﷺ said on another occasion,
«لِكُلِّ أُمَّةٍ أَمِينٌ، وَأَمِينُ هذِهِ الْأُمَّةِ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاح»
(Every Ummah has a trustee, and the trustee of this Ummah is Abu `Ubaydah bin Al-Jarrah.)
Imam Ahmad recorded that Ibn `Abbas said, "Abu Jahl, may Allah curse him, said, `If I see Muhammad praying next to the Ka`bah, I will step on his neck.' The Prophet later said,
«لَوْ فَعَلَ لَأَخَذَتْهُ الْمَلَائِكَةُ عِيَانًا، ولو أن اليهود تمنوا الموت لماتوا، ورأوا مقاعدهم من النار، ولو خرج الذين يباهلون رسول اللهصلى الله عليه وسلّم لرجعوا لا يجدون مالًا ولا أهلًا»
(Had he tried to do it, the angels would have taken him publicly. Had the Jews wished for death, they would have perished and would have seen their seats in the Fire. Had those who sought Mubahalah with the Messenger of Allah ﷺ, went ahead with it, they would not have found estates or families when they returned home)." Al-Bukhari, At-Tirmidhi and An-Nasa'i also recorded this Hadith, which At-Tirmidhi graded Hasan Sahih.
Allah then said,
إِنَّ هَـذَا لَهُوَ الْقَصَصُ الْحَقُّ
(Verily, this is the true narrative) meaning, what we narrated to you, O Muhammad, about `Isa is the plain truth that cannot be avoided,
وَمَا مِنْ إِلَـهٍ إِلاَّ اللَّهُ وَإِنَّ اللَّهَ لَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُفَإِن تَوَلَّوْاْ
(and none has the right to be worshipped but Allah. And indeed, Allah is the All-Mighty, the All-Wise. And if they turn away,) by abandoning this truth,
فَإِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ بِالْمُفْسِدِينَ
(then surely, Allah is All-Aware of those who do mischief.) for those who abandon the truth for falsehood commit mischief, and Allah has full knowledge of them and will subject them to the worst punishment. Verily, Allah is able to control everything, all praise and thanks are due to Him, and we seek refuge with Him from His revenge.
اختیارات کی وضاحت اور نجرانی وفد کی روداد حضرت باری جل اسمہ وعلا قدرہ اپنی قدرت کاملہ کا بیان فرما رہا ہے کہ حضرت عیسیٰ کا تو صرف باپ نہ تھا اور میں نے انہیں پیدا کردیا تو کیا کون سی حیرانی بات ہے ؟ میں نے حضرت آدم کو تو ان سے پہلے پیدا کیا تھا ان کا بھی باپ نہ تھا بلکہ ماں بھی نہ تھی، مٹی سے پتلا بنایا اور کہہ دیا آدم ہوجا اسی وقت ہوگیا، پھر میرے لئے صرف ماں سے پیدا کرنا کون سا مشکل ہوسکتا جبکہ بغیر ماں اور باپ کے بھی میں نے پیدا کردیا، پس اگر صرف باپ نہ ہونے کی وجہ سے حضرت عیسیٰ کو تو سب سے پہلے اس مرتبہ سے ہٹا دینا چاہئے، کیونکہ ان کے دعوے کا جھوٹا ہونا اور خرابی اس سے بھی زیادہ یہاں ظاہر ہے یہاں ماں تو ہے وہاں تو نہ ماں تھی نہ باپ، یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ جل جلالہ کی قدرت کاملہ کا ظہور ہے کہ آدم کو بغیر مرد و عورت کے پیدا کیا اور حوا کو صرف مرد سے بغیر عورت کے پیدا کیا، اور عیسیٰ کو صرف عورت سے بغیر مرد کے پیدا کردیا اور باقی مخلوق کو مرد و عورت سے پیدا کیا اسی لئے سورة مریم میں فرمایا (وَلِنَجْعَلَهٗٓ اٰيَةً لِّلنَّاسِ وَرَحْمَةً مِّنَّا ۚ وَكَانَ اَمْرًا مَّقْضِيًّا) 19۔ مریم :21) ہم نے عیسیٰ کو لوگوں کے لئے اپنی قدرت کا نشان بنایا اور یہاں فرمایا ہے۔ عیسیٰ کے بارے میں اللہ کا سچا فیصلہ یہی ہے اس کے سوا اور کچھ کسی کمی یا زیادتی کی گنجائش ہی نہیں ہے کیونکہ حق کے بعد گمراہی ہی ہوتی ہے پس تجھے اے نبی ہرگز ان شکی لوگوں میں نہ ہونا چاہئے، اللہ رب العالمین اس کے بعد اپنے نبی کو حکم دیتا ہے کہ اگر اس قدر واضح اور کامل بیان کے بعد بھی کوئی شخص تجھ سے امر عیسیٰ کے بارے میں جھگڑے تو تو انہیں مباہلہ کی دعوت دے کہ ہم فریقین مع اپنے بیٹوں اور بیویوں کے مباہلہ کے لئے نکلیں اور اللہ جل شانہ سے عاجزی کے ساتھ کہیں کہ اے اللہ ہم دونوں میں جو بھی جھوٹا ہو اس پر تو اپنی لعنت نازل فرما، اس مباہلہ کے نازل ہونے اور سورت کی ابتداء سے یہاں تک کی ان تمام آیتوں کے نازل ہونے کا سبب نجران کے نصاریٰ کا وفد تھا یہ لوگ یہاں آکر حضور ﷺ سے حضرت عیسیٰ کے بارے میں گفتگو کر رہے تھے، ان کا عقیدہ تھا کہ حضرت عیسیٰ حکمرانی کے حصہ دار اور اللہ جل شانہ کے بیٹے ہیں پس ان کی تردید اور ان کے جواب میں یہ سب آیتیں نازل ہوئیں، ابن اسحاق اپنی مشہور عام سیرت میں لکھتے ہیں ان کے علاوہ دوسرے مؤرخین نے بھی اپنی کتابوں میں لکھا ہے کہ نجران کے نصرانیوں نے بطور وفد حضور ﷺ کی خدمت میں اپنے ساٹھ آدمی بھیجے تھے جن میں چودہ شخص ان کے سردار تھے جن کے نام یہ ہیں، عاقب جس کا نام عبدالمسیح تھا، سید جس کا نام ایہم تھا، ابو حارثہ بن علقمہ جو بکر بن وائل کا بھائی تھا، اور اوث بن حارث، زید، قیس، یزید اور اس کے دونوں لڑکے، اور خویلد اور عمرو، خالد، عبداللہ اور محسن یہ سب چودہ سردار تھے لیکن پھر ان میں بڑے سردار تین شخص تھے عاقب جو امیر قوم تھا اور عقلمند سمجھا جاتا تھا اور صاحب مشورہ تھا اور اسی کی رائے پر یہ لوگ مطمئن ہوجاتے تھے اور سید جو ان کا لاٹ پادری تھا اور مدرس اعلیٰ تھا یہ بنوبکر بن وائل کے عرب قبیلے میں سے تھا لیکن نصرانی بن گیا تھا اور رومیوں کے ہاں اس کی بڑی آؤ بھگت تھی اس کے لئے انہوں نے بڑے بڑے گرجے بنا دئیے تھے اور اس کے دین کی مضبوطی دیکھ کر اس کی بہت کچھ خاطر و مدارات اور خدمت و عزت کرتے رہتے تھے یہ شخص حضور ﷺ کی صفت و شان سے واقف تھا اور اگلی کتابوں میں آپ کی صفتیں پڑھ چکا تھا دل سے آپ کی نبوت کا قائل تھا لیکن نصرانیوں میں جو اس کی تکریم و تعظیم تھی اور وہاں جو جاہ و منصب اسے حاصل تھا اس کے چھن جانے کے خوف سے راہ حق کی طرف نہیں آتا تھا، غرض یہ وفد مدینہ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں مسجد نبوی میں حاضر ہوا آپ اس وقت عصر کی نماز سے فارغ ہو کر بیٹھے ہی تھے یہ لوگ نفیس پوشاکیں پہنے ہوئے اور خوبصورت نرم چادریں اوڑھے ہوئے تھے ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے بنو حارث بن کعب کے خاندان کے لوگ ہوں صحابہ کہتے ہیں ان کے بعد ان جیسا باشوکت وفد کوئی نہیں آیا، ان کی نماز کا وقت آگیا تو آپ کی اجازت سے انہوں نے مشرق کی طرف منہ کر کے مسجد نبوی میں ہی اپنے طریق پر نماز ادا کرلی۔ بعد نماز کے حضور ﷺ سے ان کی گفتگو ہوئی ادھر سے بولنے والے یہ تین شخص تھے حارثہ بن علقمہ عاقب یعنی عبدالمسیح اور سید یعنی ایہم یہ گو شاہی مذہب پر تھے لیکن کچھ امور میں اختلاف رکھتے تھے۔ حضرت مسیح کی نسبت ان کے تینوں خیال تھے یعنی وہ خود اللہ جل شانہ ہے اور اللہ کا لڑکا ہے اور تین میں کا تیسرا ہے اللہ ان کے اس ناپاک قول سے مبرا ہے اور بہت ہی بلند وبالا، تقریباً تمام نصاریٰ کا یہی عقیدہ ہے، مسیح کے اللہ ہونے کی دلیل تو ان کے پاس یہ تھی کہ وہ مردوں کو زندہ کردیتا تھا اور اندھوں اور کوڑھیوں اور بیماروں کو شفا دیتا تھا، غیب کی خبریں دیتا تھا اور مٹی کی چڑیا بنا کر پھونک مار کر اڑا دیا کرتا تھا اور جواب اس کا یہ ہے کہ یہ ساری باتیں اس سے اللہ کے حکم سے سرزد ہوتی تھیں اس لئے کہ اللہ کی نشانیاں اللہ کی باتوں کے سچ ہونے پر اور حضرت عیسیٰ کی نبوت پر مثبت دلیل ہوجائیں، اللہ کا لڑکا ماننے والوں کی حجت یہ تھی کہ ان کا بہ ظاہر کوئی باپ نہ تھا اور گہوارے میں ہی بولنے لگے تھے، یہ باتیں بھی ایسی ہیں کہ ان سے پہلے دیکھنے میں ہی نہیں آئی تھیں (اس کا جواب یہ ہے کہ یہ بھی اللہ کی قدرت کی نشانیاں تھیں تاکہ لوگ اللہ کو اسباب کا محکوم اور عادت کا محتاج نہ سمجھیں وغیرہ۔ مترجم) اور تین میں تیسرا اس لئے کہتے تھے کہ اس نے اپنے کلام میں فرمایا ہے ہم نے کیا ہمارا امر ہماری مخلوق ہم نے فیصلہ کیا وغیرہ پس اگر اللہ اکیلا ایک ہی ہوتا تو یوں نہ فرماتا بلکہ فرماتا میں نے کیا میرا امر میری مخلوق میں نے فیصلہ کیا وغیرہ پس ثابت ہوا کہ اللہ تین ہیں خود اللہ رب کعبہ اور عیسیٰ اور مریم (جس کا جواب یہ ہے کہ ہم کا لفظ صرف بڑائی کے لئے اور عظمت کے لئے ہے۔ مترجم) اللہ تعالیٰ ان ظالموں منکروں کعے قول سے پاک و بلند ہے، ان کے تمام عقائد کی تردید قرآن کریم میں نازل ہوئی، جب یہ دونوں پادری حضور ﷺ سے بات چیت کرچکے تو آپ نے فرمایا تم مسلمان ہوجاؤ انہوں نے کہا ہم تو ماننے والے ہیں ہی، آپ نے فرمایا نہیں نہیں تمہیں چاہئے کہ اسلام قبول کرلو وہ کہنے لگے ہم تو آپ سے پہلے کے مسلمان ہیں فرمایا نہیں تمہارا یہاسلامق بول نہیں اس لئے کہ تم اللہ کی اولاد مانتے ہو صلیب کی پوجا کرتے ہو خنزیر کھاتے ہو۔ انہوں نے کہا اچھا پھر یہ تو فرمائے کہ حضرت عیسیٰ کا باپ کون تھا ؟ حضور ﷺ تو اس پر خاموش رہے اور سورة آل عمرانھ کی شروع سے لے کر اوپر تک کی آیتیں ان کے جواب میں نازل ہوئیں، ابن اسحاق ان سب کی مختصر سی تفسیر بیان کر کے پھر لکھتے ہیں آپ نے یہ سب تلاوت کر کے انہیں سمجھا دیں۔ اس مباہلہ کی آیت کو پڑھ کر آپ نے فرمایا اگر نہیں مانتے تو آؤ مباہلہ کا نکلو یہ سن کر وہ کہنے لگے اے ابو القاسم ہمیں مہلت دیجئے کہ ہم آپس میں مشورہ کرلیں پھر تمہیں اس کا جواب دیں گے اب تنہائی میں بیٹھ کر انہوں نے عاقب سے مشورہ لیا جو بڑا دانا اور عقلمند سمجھا جاتا تھا اس نے اپنا حتمی فیصلہ ان الفاظ میں سنایا کہ اے جماعت نصاریٰ تم نے یقین کے ساتھ اتنا تو معلوم کرلیا ہے کہ حضرت محمد ﷺ اللہ کے سچے رسول ہیں اور یہ بھی تم جانتے ہو کہ حضرت عیسیٰ کی حقیت وہی ہے جو محمد ﷺ کی زبانی تم سن چکے ہو اور تمہیں بخوبی علم ہے کہ جو قوم نبی کے ساتھ ملاعنہ کرتی ہے نہ ان کے بڑے باقی رہتے ہیں نہ چھوٹے بڑے ہوتے ہیں بلکہ سب کے سب جڑ بنیاد سے اکھیڑ کر پھینک دئیے جاتے ہیں یاد رکھو کہ اگر تم نے مباہلہ کے لئے قدم بڑھایا تو تمہارا ستیاناس ہوجائے گا، پس یا تو تم اسی دین کو قبول کرلو اور اگر کسی طرح نہیں ماننا چاہتے ہو اور اپنے دین پر اور حضرت عیسیٰ کے متعلق اپنے ہی خیالات پر قائم رہنا چاہتے ہو تو آپ سے صلح کرلو اور اپنے وطن کو لوٹ جاؤ، چناچہ یہ لوگ صلاح مشورہ کر کے پھر دربار نبوی میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے اے ابو القاسم ﷺ ہم آپ سے ملاعنہ کرنے کے لئے تیار نہیں آپ اپنے دین پر رہئے اور ہم اپنے خیالات پر ہیں لیکن آپ ہمارے ساتھ اپنے صحابیوں میں سے کیسی ایسے شخص کو بھیج دیجئے جن سے آپ خوش ہوں کہ وہ ہمارے مالی جھگڑوں کا ہم میں فیصلہ کردیں آپ لوگ ہماری نظروں میں بہت ہی پسندیدہ ہیں۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا اچھا تم دوپہر کو پھر آنا میں تمہارے ساتھ کسی مضبوط امانت دار کو کر دوں گا، حضرت عمر بن خطاب ؓ فرماتے ہیں میں نے کسی دن بھی سردار بننے کی خواہش نہیں کی لیکن اس دن صرف اس خیال ہے سے کہ حضور ﷺ نے جو تعریف کی ہے اس کا تصدیق کرنے والا اللہ کے نزدیک میں بن جاؤں، اسی لئے میں اس روز سویرے سویرے ظہر کی نماز کے لئے چل پڑا، حضور ﷺ تشریف لائے نماز ظہر پڑھائی پھر دائیں بائیں نظریں دوڑانے لگے میں بار بار اپنی جگہ اونچا ہوتا تھا تاکہ آپ کی نگاہیں مجھ پر پڑھیں، آپ برابر بغور دیکھتے ہی رہے یہاں تک کہ نگاہیں حضرت ابو عبید بن جراح ؓ پر پڑیں انہیں طلب فرمایا اور کہا کہ ان کے ساتھ جاؤ اور ان کے اختلافات کا فیصلہ حق سے کردو چناچہ حضرت ابو عبیدہ ؓ ان کے ساتھ تشریف لے گئے ابن مردویہ میں بھی یہ واقعہ اسی طرح منقول ہے لیکن وہاں سرداروں کی گنتی بارہ کی ہے اور اس واقعہ میں بھی قدرے طوالت ہے اور کچھ زائد باتیں بھی ہیں، صحیح بخاری شریف میں بروایت حضرت حذیفہ ؓ مروی ہے نجرانی سردار عاقب اور سید مباحلہ کے ارادے سے حضور ﷺ کے پاس آئے لیکن ایک نے دوسرے سے کہا یہ نہ کر اللہ کی قسم اگر یہ نبی ہیں اور ہم نے ان سے مباہلہ کیا تو ہم اپنی اولادوں سمیت تباہ ہوجائیں گے چناچہ پھر دونوں نے متفق ہو کر کہا حضرت آپ ہم سے جو طلب فرماتے ہیں ہم وہ سب ادا کردیں گے (یعنی جزیہ دینا قبول کرلیا) آپ کسی امین شخص کو ہمارے ساتھ کر دیجئے اور امین کو ہی بھیجنا، آپ نے فرمایا بہتر میں تمہارے ساتھ کامل امین کو ہی کروں گا اصحاب رسول ﷺ ایک دوسرے کو تکنے لگے یہ دیکھیں حضور ﷺ کس کا انتخاب کرتے ہیں آپ نے فرمایا اے ابو عبیدہ بن جراح تم کھڑے ہوجاؤ جب یہ کھڑے ہوئے تو آپ نے فرمایا یہ ہیں اس امت کے امین، صحیح بخاری شریف کی اور حدیث میں ہے ہر امت کا امین ہوتا ہے اور اس امت کا امین ابو عبیدہ بن جراح ہے ؓ مسند احمد میں حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ ابو جہل ملعون نے کہا۔ اگر میں محمد ﷺ کو کعبہ میں نماز پڑھتے دیکھ لوں گا تو اس کی گردن کچل دوں گا فرماتے ہیں کہ آپ نے فرمایا اگر وہ ایسا کرتا تو سب کے سب دیکھتے کہ فرشتے اسے دبوچ لیتے، اور یہودیوں سے جب قرآن نے کہا تھا کہ آؤ جھوٹوں کے لئے موت مانگو اگر وہ مانگتے تو یقینا سب کے سب مرجاتے اور اپنی جگہیں جہنم کی آگ میں دیکھ لیتے اور جن نصرانیوں کو مباہلہ کی دعوت دی گئی تھی اگر وہ حضور ﷺ کے مقابلہ میں مباہلے کے لئے نکلتے تو لوٹ کر اپنے مالوں کو اور اپنے بال بچوں کو نہ پاتے، صحیح بخاری ترمذی اور نسائی میں بھی یہ حدیث ہے، امام ترمذی اسے حسن کہتے ہیں، امام بیہقی نے اپنی کتاب دلائل النبوۃ میں بھی وفد بحران کے قصے کو طویل تر بیان کیا ہے، ہم اسے یہاں نقل کرتے ہیں کیونکہ اس میں بہت سے فوائد ہیں گو اس میں غرابت بھی ہے اور اس مقام سے وہ نہایت مناسبت رکھتا ہے، سلمہ بن عبدیسوع اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں جو پہلے نصرانی تھے پھر مسلمان ہوگئے کہ رسول اللہ ﷺ نے سورة طس قرآن میں نازل ہونے سے پیشتر اہل نجران کو نامہ مبارک لکھا جس کی عبارت یہ تھی بسم الہ ابراہیم واسحاق و یعقوب من محمد النبی رسول اللہ الی اسقف نجران واھل نجران اسلم انتم فانی احمد الیکم الہ ابراہیم واسحاق ویعقوب۔ امام بعد فانی ادعوکم الی عبادۃ اللہ من عبادۃ العباد وادعوکم الی ولایتہ اللہ من ولایتہ العباد فان اییتم فالجزیتہ فان ابیتم فقد اذنتکم بحرب والسلام یعنی اس خط کو میں شروع کرتا ہوں حضرت ابراہیم حضرت اسحاق اور حضرت یعقوب کے اللہ تعالیٰ کے نام سے، یہ خط ہے محمد ﷺ کی طرف سے جو اللہ رب العزت کے نبی اور رسول نجران کے سردار کی طرف ہیں اللہ تعالیٰ کی تمہارے سامنے حمدو ثناء بیان کرتا ہوں جو حضرت ابراہیم، حضرت اسحاق اور حضرت یعقوب کا معبود ہے، پھر میں تمہیں دعوت دیتا ہوں کہ بندوں کی عبادت کو چھوڑ کر اللہ کی عبادت کی طرف آؤ اور بندوں کے والی اپنے کو چھوڑ کر اللہ کی ولایت کی طرف آجاؤ، اگر تم اسے نہ مانو تو جزیہ دو اور ماتحتی اختیار کرو اگر اس سے بھی انکار ہو تو تمہیں لڑائی کا اعلان ہے والسلام، جب یہ خط اسقف کو پہنچا اور اس نے اسے پڑھایا تو بڑا سٹ پٹایا گھبرا گیا اور تھرانے لگا، جھٹ سے شرحیل بن وداعہ کو بلوایا جو ہمدان قبیلہ کا تھا سب سے بڑا مشیر سلطنت یہی تھا جب کبھی کوئی اہم کام آپڑتا تو سب سے پہلے یعنی ایہم اور سید اور عاقب سے بھی پیشر اس سے مشورہ ہوتا جب یہ آگیا تو اسقف نے حضور ﷺ کا خط اسے دیا جب اس نے پڑھ لیا تو اسقف نے پوچھا بتاؤ کیا خیال ہے ؟ شرحیل نے کہا بادشاہ کو خوب علم ہے کہ حضرت اسماعیل کو اولاد میں سے اللہ کے ایک نبی کے آنے کا وعدہ اللہ کی کتاب میں ہے کیا عجب کہ وہ نبی یہی ہو، امر نبوت میں کیا رائے دے سکتا ہوں ہاں اگر امور سلطنت کی کوئی بات ہوتی تو بیشک میں اپنے دماغ پر زور ڈال کر کوئی بات نکال لیتا، اسقف نے انہیں تو الگ بٹھا دیا اور عبداللہ بن شرحیل کو بلایا یہ بھی مشیر سلطنت تھا اور حمیر کے قبیلے میں سے تھا اسے خط دیا پڑھایا رائے پوچھی تو اس نے بھی ٹھیک وہی بات کہی جو پہلا مشیر کہہ چکا تھا اسے بھی بادشاہ نے دور بٹھا دیا پھر جبار بن فیض کو بلایا جو بنو حارث میں سے تھا اس نے بھی یہی کہا جو ان دونوں نے کہا تھا، بادشاہ نے جب دیکھا کہ ان تینوں کی رائے متفق ہے تو حکم دیا گیا کہ ناقوس بجائے جائیں آگ جلا دی جائے اور گرجوں میں جھنڈے بلند کر دئیے جائیں وہاں کا یہ دستور تھا کہ جب سلطنت کا کوئی اہم کام ہوتا تو رات کو جمع کرنا مقصود ہوتا تو یہی کرتے اور اگر دن کا وقت ہوتا تو گرجوں میں آگ جلا دی جاتی اور ناقوس زور زور سے بجائے جاتے، اس حکم کے ہوتے ہی چاروں طرف آگ جلا دی گئی اور ناقوس کی آواز نے ہر ایک کو ہوشیار کردیا اور جھنڈے اونچے دیکھ دیکھ کر آس پاس کے وادی کے تمام لوگ جمع ہوگئے اس وادی کا طول اتنا تھا کہ تیز سوار صبح سے شام تک دوسرے کنارے پہنچتا تھا اس میں تہتر گاؤں آباد تھے اور ایک لاکھ بیس ہزار تلوار چلانے والے یہاں آباد تھے جب یہ سب لوگ آگئے تو اسقف نے انہیں رسول اللہ ﷺ کا نامہ مبارک پڑھ کر سنایا اور پوچھا بتاؤ تمہاری کیا رائے ہے ؟ تو تمام عقلمندوں نے کہا کہ شرحیل بن وداعہ ہمدانی عبداللہ بن شرحیل اصبحی اور جبار بن فیض حارثی کو بطور وفد کے بھیجا جائے، یہ وہاں سے پختہ خبر لائیں، اب یہاں سے یہ وفد ان تینوں کی سرداری کے ماتحت روانہ ہوا مدینہ پہنچ کر انہوں نے سفری لباس اتار ڈالا اور نقش بنے ہوئے ریشمی لمبے لمبے حلے پہن لئے اور سونے کی انگوٹھیاں انگلیوں میں ڈال لیں اور اپنی چادروں کے پلے تھامے ہوئے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، سلام کیا لیکن آپ نے جواب نہ دیا بہت دیر تک انتظار کیا حضور ﷺ کچھ بات کریں لیکن ان ریشمی حلوں اور سونے کی انگوٹھیوں کی وجہ سے آپ نے ان سے کلام بھی نہ کیا اب یہ لوگ حضرت عثمان بن عفان ؓ اور حضرت عبدالرحمن بن عوف ؓ کی تلاش میں نکلے اور ان دونوں بزرگوں سے ان کی پہلی ملاقات تھی مہاجرین اور انصار کے ایک مجمع میں ان دونوں حضرات کو پا لیا ان سے واقعہ بیان کیا تمہارے نبی ﷺ نے ہمیں خط لکھا ہم اس کا جواب دینے کے لئے خود حاضر ہوئے آپ کے پاس گئے سلام کیا لیکن جواب نہ دیا پھر بہت دیر تک انتظار میں بیٹھے رہے کہ آپ سے کچھ باتیں ہوجاتیں لیکن آپ نے ہم سے کوئی بات نہ کی آخر ہم لوگ تھک کر چلے آئے اب آپ حضرات فرمائے کہ کیا ہم یونہی واپس چلے جائیں، ان دونوں نے حضرت علی بن ابو طالب سے کہا کہ آپ ہی انہیں جواب دیجئے حضرت علی نے فرمایا میرا خیال ہے کہ یہ لوگ اپنے حلے اور اپنی انگوٹھیاں اتار دیں اور وہی سفری معمولی لباس پہن کر حضور ﷺ کی خدمت میں دوبارہ جائیں چناچہ انہوں نے یہی کیا اور اسی معمولی لباس میں گئے سلام کیا آپ نے جواب دیا پھر فرمایا اس اللہ کی قسم جس نے مجھے حق کے ساتھ بھیجا ہے یہ جب میرے پاس پہلی مرتبہ آئے تھے تو ان کے ساتھ ابلیس تھا، اب سوال جواب بات چیت شروع ہوئی حضور ﷺ بھی پوچھتے تھے اور وہ جواب دیتے تھے اسی طرح وہ بھی سوال کرتے اور جواب پاتے، آخر میں انہوں نے پوچھا آپ حضرت عیسیٰ کی بابت کیا فرماتے ہیں ؟ تاکہ ہم اپنی قوم کے پاس جا کر وہ کہیں ہمیں اس کی خوشی ہے کہ اگر آپ نبی ہیں تو آپ کی زبانیں سنیں کہ آپ کا ان کی بابت کیا خیال ہے ؟ تو آپ نے فرمایا میرے پاس اس کا جواب آج تو نہیں تم ٹھہرو تو میرا رب مجھ سے اس کی بابت جو فرمائے گا وہ میں تمہیں سنا دوں گا، دوسرے دن وہ پھر آئے تو آپ نے اسی وقت کی اتری ہوئی اس آیت (اِنَّ مَثَلَ عِيْسٰى عِنْدَ اللّٰهِ كَمَثَلِ اٰدَمَ ۭخَلَقَهٗ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهٗ كُنْ فَيَكُوْنُ 59 اَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُنْ مِّنَ الْمُمْتَرِيْنَ 60 فَمَنْ حَاۗجَّكَ فِيْهِ مِنْۢ بَعْدِ مَا جَاۗءَكَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ اَبْنَاۗءَنَا وَاَبْنَاۗءَكُمْ وَنِسَاۗءَنَا وَنِسَاۗءَكُمْ وَاَنْفُسَنَا وَاَنْفُسَكُمْ ۣ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَلْ لَّعْنَتَ اللّٰهِ عَلَي الْكٰذِبِيْنَ 61) 3۔ آل عمران :596061) تلاوت کر سنائی انہوں نے اس بات کا اقرار کرنے سے انکار کردیا، دوسرے دن صبح ہی صبح رسول اللہ ﷺ ملاعنہ کے لئے حضرت حسن کو اور حضرت حسین کو اپنی چادر میں لئے ہوئے تشریف لائے پیچھے پیچھے حضرت فاطمہآرہی تھیں اس وقت آپ کی کئی ایک بیویاں تھیں، شرحیل یہ دیکھتے ہی اپنے دونوں ساتھیوں سے کہنے لگا تم جانتے ہو کہ نجران کی ساری وادی میری بات کو مانتی ہے اور میری رائے پر کاربند ہوتی ہے، سنو اللہ کی قسم یہ معاملہ بڑا بھاری ہے اگر یہ شخص ﷺ مبعوث کیا گیا ہے تو سب سے پہلے اس کی نگاہوں میں ہم ہی مطعون ہوں گے اور سب سے پہلے اس کی تردید کرنے والے ہم ہی ٹھہریں گے یہ بات اس کے اور اس کے ساتھیوں کے دلوں میں نہیں جائے گی اور ہم پر کوئی نہ کوئی مصیبت و آفت آئے گی عرب بھر میں سب سے زیادہ قریب ان سے میں ہی ہوں اور سنو اگر یہ شخص بنی مرسل ہے تو مباہلہ کرتے ہی روئے زمین پر ایک بال یا ایک ناخن بھی ہمارا نہ رہے گا، اس کے دونوں ساتھیوں نے کہا پھر اے ابو ویہم آپ کی کیا رائے ہے ؟ اس نے کہا میری رائے یہ ہے کہ اسی کو ہم حاکم بنادیں جو کچھ یہ حکم دے ہم اسے منظور کرلیں یہ کبھی بھی خلاف عدل حکم نہ دے گا، ان دونوں نے اس بات کو تسلیم کرلیا، اب شرجیل نے حضور ﷺ سے کہا کہ میں اس ملاعنہ سے بہتر چیز جناب کے سامنے پیش کرتا ہوں آپ نے دریافت فرمایا وہ کیا ؟ کہا آج کا دن آنے والی رات اور کل کی صبح تک آپ ہمارے بارے میں جو حکم کریں ہمیں منظور ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا شاید اور لوگ تمہارے اس فیصلے کو نہ مانیں، شرحیل نے کہا اس کی بابت میرے ان دونوں ساتھیوں سے دریافت فرما لیجئے آپ نے ان دونوں سے پوچھا انہوں نے جواب دیا کہ سارے وادی کے لوگ انہی کی رائے پر چلتے ہیں وہاں ایک بھی ایسا نہیں جو ان کے فیصلے کو ٹال سکے، پس حضور ﷺ نے یہ درخواست قبول فرمائی۔ مباہلہ نہ کیا اور واپس لوٹ گئے دوسرے دن صبح ہی وہ حاضر خدمت ہوئے تو آپ نے ایک تحریر انہیں لکھ دی کہ جس میں بسم اللہ کے بعد یہ مضمون تھا کہ " تحریر اللہ کے نبی محمد رسول اللہ ﷺ کی طرف سے نجرانیوں کے لئے ہے ان پر اللہ کے رسول ﷺ کا حکم جاری تھا ہر پھل، ہر سیاہ وسفید اور ہر غلام پر لیکن اللہ کے رسول ﷺ یہ سب انہی کو دیتے ہیں یہ ہر سال صرف دو ہزار حلے دے دیا کریں ایک ہزار رجب میں اور ایک ہزار صفر میں وغیرہ وغیرہ، پورا عہد نامہ انہیں عطا فرمایا، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کا یہ وفد سن009ہجری میں آیا تھا اس لئے کہ حضرت زہری فرماتے ہیں سب سے پہلے جزیہ انہی اہل نجران نے حضور ﷺ کو ادا کیا، اور جزیہ کی آیت فتح مکہ کے بعد اتری ہے جو یہ ہے (قَاتِلُوا الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ باللّٰهِ وَلَا بالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَلَا يُحَرِّمُوْنَ مَا حَرَّمَ اللّٰهُ وَرَسُوْلُهٗ وَلَا يَدِيْنُوْنَ دِيْنَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ حَتّٰي يُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَنْ يَّدٍ وَّهُمْ صٰغِرُوْنَ) 9۔ التوبہ :29) اس آیت میں اہل کتاب سے جزیہ لینے کا حکم ہوا ہے، ابن مردویہ میں ہے کہ عاقب اور طیب آنحضرت ﷺ کے پاس آئے آپ نے انہیں ملاعنہ کے لئے کہا اور صبح کو حضرت علی اور حضرت فاطمہ اور حضرت حسن اور حضرت حسین کو لئے ہوئے آپ تشریف لائے اور انہیں کہلا بھیجا انہوں نے قبول نہ کیا اور خراج دینا منظور کرلیا، آپ نے فرمایا اس کی قسم جس نے مجھے حق کے ساتھ بھیجا ہے اگر یہ دونوں " نہیں " کہتے تو ان پر یہی وادی آگ برساتی، حضرت جابر فرماتے ہیں ندع ابنائنا الخ، والی آیت انہی کے بارے میں نازل ہوئی ہے انفسنا سے مراد خود رسول کریم ﷺ اور حضرت علی ابنائنا سے مراد حسن اور حسین نسائنا سے مراد حضرت فاطمۃ الزہرا ؓ مستدرک حاکم وغیرہ میں بھی اس معنی کی حدیث مروی ہے۔ پھر جناب باری کا ارشاد ہے یہ جو ہم نے عیسیٰ کی شان فرمائی ہے حق اور سچ ہے اس میں بال برابر کمی بیشی نہیں، اللہ قابل عبادت ہے کوئی اور نہیں اور وہی غلبہ والا اور حکمت والا ہے، اب بھی اگر یہ منہ پھیر لیں اور دوسری باتوں میں پڑیں تو اللہ بھی ایسے باطل پسندوں کو اور مفسدوں کو بخوبی جانتا ہے انہیں بدترین سزا دے گا اس میں پوری قدرت ہے کوئی اس سے نہ بھاگ سکے نہ اس کا مقابلہ کرسکے، وہ پاک ہے اور تعریفوں والا ہے ہم اس کے عذاب سے اسی کی پناہ چاہتے ہیں۔
61
View Single
فَمَنۡ حَآجَّكَ فِيهِ مِنۢ بَعۡدِ مَا جَآءَكَ مِنَ ٱلۡعِلۡمِ فَقُلۡ تَعَالَوۡاْ نَدۡعُ أَبۡنَآءَنَا وَأَبۡنَآءَكُمۡ وَنِسَآءَنَا وَنِسَآءَكُمۡ وَأَنفُسَنَا وَأَنفُسَكُمۡ ثُمَّ نَبۡتَهِلۡ فَنَجۡعَل لَّعۡنَتَ ٱللَّهِ عَلَى ٱلۡكَٰذِبِينَ
Therefore say to those who dispute with you (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him) concerning Eisa after the knowledge has come to you, “Come! Let us summon our sons and your sons, and our women and your women, and ourselves and yourselves – then pray humbly, thereby casting the curse of Allah upon the liars!” (The Christians did not accept this challenge.)
پس آپ کے پاس علم آجانے کے بعد جو شخص عیسٰی (علیہ السلام) کے معاملے میں آپ سے جھگڑا کرے تو آپ فرما دیں کہ آجاؤ ہم (مل کر) اپنے بیٹوں کو اور تمہارے بیٹوں کو اور اپنی عورتوں کو اور تمہاری عورتوں کو اور اپنے آپ کو بھی اور تمہیں بھی (ایک جگہ پر) بلا لیتے ہیں، پھر ہم مباہلہ (یعنی گڑگڑا کر دعا) کرتے ہیں اور جھوٹوں پر اللہ کی لعنت بھیجتے ہیں
Tafsir Ibn Kathir
The Similarities Between the Creation of Adam and the Creation of `Isa
Allah said,
إِنَّ مَثَلَ عِيسَى عِندَ اللَّهِ
(Verily, the likeness of `Isa before Allah) regarding Allah's ability, since He created him without a father,
كَمَثَلِ ءَادَمَ
(is the likeness of Adam), for Allah created Adam without a father or a mother. Rather,
خَلَقَهُ مِن تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهُ كُن فَيَكُونُ
(He created him from dust, then (He) said to him: "Be!" and he was.)
Therefore, He Who created Adam without a father or a mother is able to create `Isa, as well, without a father. If the claim is made that `Isa is Allah's son because he was created without a father, then the same claim befits Adam even more. However, since such a claim regarding Adam is obviously false, then making the same claim about `Isa is even more false.
Furthermore, by mentioning these facts, Allah emphasizes His ability, by creating Adam without a male or female, Hawa' from a male without a female, and `Isa from a mother without a father, compared to His creating the rest of creation from male and female. This is why Allah said in Surah Maryam,
وَلِنَجْعَلَهُ ءَايَةً لِّلْنَّاسِ
(And We made him a sign for mankind) 19: 21.
Allah said in this Ayah,
الْحَقُّ مِن رَّبِّكَ فَلاَ تَكُنْ مِّن الْمُمْتَرِينَ
((This is) the truth from your Lord, so be not of those who doubt.) meaning, this is the only true story about `Isa, and what is beyond truth save falsehood Allah next commands His Messenger to call those who defy the truth, regarding `Isa, to the Mubahalah (the curse).
The Challenge to the Mubahalah
فَمَنْ حَآجَّكَ فِيهِ مِن بَعْدِ مَا جَآءَكَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعَالَوْاْ نَدْعُ أَبْنَآءَنَا وَأَبْنَآءَكُمْ وَنِسَآءَنَا وَنِسَآءَكُمْ وَأَنفُسَنَا وأَنفُسَكُمْ
(Then whoever disputes with you concerning him after the knowledge that has come to you, say: "Come, let us call our sons and your sons, our women and your women, ourselves and yourselves") for the Mubahalah,
ثُمَّ نَبْتَهِلْ
(then we pray), supplicate,
فَنَجْعَل لَّعْنَتُ اللَّهِ عَلَى الْكَـذِبِينَ
(and we invoke Allah's curse upon the liars) among the two of us.
The reason for the call to Mubahalah and the revelation of the Ayat from the beginning of this Surah until here, is that a delegation from the Christians of Najran (in Yemen) came to Al-Madinah to argue about `Isa, claiming that he was divine and the son of Allah. Allah sent down the beginning of this Surah until here, to refute their claims, as Imam Muhammad bin Ishaq bin Yasar and other scholars stated.
Muhammad bin Ishaq bin Yasar said in his famous Sirah, "The delegation of Christians from Najran came to the Messenger of Allah ﷺ . The delegation consisted of sixty horsemen, including fourteen of their chiefs who make decisions. These men were Al-`Aqib, also known as `Abdul-Masih, As-Sayyid, also known as Al-Ayham, Abu Harithah bin `Alqamah, of the family of Bakr bin Wa`il and Uways bin Al-Harith. They also included, Zayd, Qays, Yazid, Nabih, Khuwaylid, `Amr, Khalid, `Abdullah and Yuhannas. Three of these men were chiefs of this delegation, Al-`Aqib, their leader and to whom they referred for advice and decision; As-Sayyid, their scholar and leader in journeys and social gatherings; and Abu Harithah bin `Alqamah, their patriarch, priest and religious leader. Abu Harithah was an Arab man from the family of Bakr bin Wa`il, but when he embraced Christianity, the Romans and their kings honored him and built churches for him (or in his honor). They also supported him financially and gave him servants, because they knew how firm his faith in their religion was." Abu Harithah knew the description of the Messenger of Allah ﷺ from what he read in earlier divine Books. However, his otherwise ignorance led him to insist on remaining a Christian, because he was honored and had a high position with the Christians. Ibn Ishaq said, "Muhammad bin Ja`far bin Az-Zubayr said that, `The (Najran) delegation came to the Messenger of Allah ﷺ in Al-Madinah, entered his Masjid wearing robes and garments, after the Prophet had prayed the `Asr prayer. They accompanied a caravan of camels led by Bani Al-Harith bin Ka`b. The Companions of the Messenger of Allah ﷺ who saw them said that they never saw a delegation like them after that... Then Abu Harithah bin `Alqamah and Al-`Aqib `Abdul-Masih or As-Sayyid Al-Ayham spoke to the Messenger of Allah ﷺ, and they were Christians like the king (Roman King). However, they disagreed about `Isa; some of them said, `He is Allah,' while some said, `He is the son of Allah,' and some others said, `He is one of a trinity.' Allah is far from what they attribute to Him."
Indeed, these are the creeds of the Christians. They claim that `Isa is God, since he brought the dead back to life, healed blindness, leprosy and various illnesses, told about matters of the future, created the shape of birds and blew life into them, bringing them to life. However, all these miracles occurred by Allah's leave, so that `Isa would be a sign from Allah for people.
They also claim that `Isa is the son of Allah, since he did not have a father and he spoke when he was in the cradle, a miracle which had not occurred by any among the Children of Adam before him, so they claim. They also claim that `Isa is one of a trinity, because Allah would say, `We did, command, create and demand.' They said, `If Allah were one, he would have said, `I did, command, create and decide.' This is why they claim that `Isa and Allah are one (Trinity). Allah is far from what they attribute to Him, and we should mention that the Qur'an refuted all these false Christian claims.
Ibn Ishaq continued, "When these Ayat came to the Messenger from Allah ﷺ, thus judging between him and the People of the Book, Allah also commanded the Prophet to call them to the Mubahalah if they still refused the truth. The Prophet called them to the Mubahalah. They said, `O Abu Al-Qasim! Let us think about this matter and get back to you with our decision to what we want to do.' They left the Prophet and conferred with Al-`Aqib, to whom they referred to for advice. They said to him, `O `Abdul-Masih! What is your advice' He said, `By Allah, O Christian fellows! You know that Muhammad is a Messenger and that he brought you the final word regarding your fellow (`Isa). You also know that no Prophet conducted Mubahalah with any people, and the old persons among them remained safe and the young people grew up. Indeed, it will be the end of you if you do it. If you have already decided that you will remain in your religion and your creed regarding your fellow (`Isa), then conduct a treaty with the man (Muhammad) and go back to your land.' They came to the Prophet and said, `O Abu Al-Qasim! We decided that we cannot do Mubahalah with you and that you remain on your religion, while we remain on our religion. However, send with us a man from your Companions whom you are pleased with to judge between us regarding our monetary disputes, for you are acceptable to us in this regard."'
Al-Bukhari recorded that Hudhayfah said, "Al-`Aqib and As-Sayyid, two leaders from Najran, came to the Messenger of Allah ﷺ seeking to invoke Allah for curses (against whoever is unjust among them), and one of them said to the other, `Let us not do that. By Allah, if he were truly a Prophet and we invoke Allah for curses, we and our offspring shall never succeed afterwards.' So they said, `We will give you what you asked and send a trusted man with us, just a trusted man.' The Messenger of Allah ﷺ said;
«لَأَبْعَثَنَّ مَعَكُمْ رَجُلًا أَمِينًا حَقَّ أَمِين»
فاستشرف لها أصحاب رسول اللهصلى الله عليه وسلّم، فقال:
«قُمْ يَا أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاح»
فلما قام، قال رسول اللهصلى الله عليه وسلّم:
«هَذَا أَمِينُ هذِهِ الْأُمَّة»
("Verily, I will send a trusted man with you, a truly trustworthy man." The Companions of the Messenger of Allah ﷺ all felt eager to be that man. The Messenger said, "O Abu `Ubaydah bin Al-Jarrah! Stand up." When Abu `Ubaydah stood up, the Messenger of Allah ﷺ said, "This is the trustee of this Ummah."')
Al-Bukhari recorded that Anas said that the Messenger of Allah ﷺ said on another occasion,
«لِكُلِّ أُمَّةٍ أَمِينٌ، وَأَمِينُ هذِهِ الْأُمَّةِ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاح»
(Every Ummah has a trustee, and the trustee of this Ummah is Abu `Ubaydah bin Al-Jarrah.)
Imam Ahmad recorded that Ibn `Abbas said, "Abu Jahl, may Allah curse him, said, `If I see Muhammad praying next to the Ka`bah, I will step on his neck.' The Prophet later said,
«لَوْ فَعَلَ لَأَخَذَتْهُ الْمَلَائِكَةُ عِيَانًا، ولو أن اليهود تمنوا الموت لماتوا، ورأوا مقاعدهم من النار، ولو خرج الذين يباهلون رسول اللهصلى الله عليه وسلّم لرجعوا لا يجدون مالًا ولا أهلًا»
(Had he tried to do it, the angels would have taken him publicly. Had the Jews wished for death, they would have perished and would have seen their seats in the Fire. Had those who sought Mubahalah with the Messenger of Allah ﷺ, went ahead with it, they would not have found estates or families when they returned home)." Al-Bukhari, At-Tirmidhi and An-Nasa'i also recorded this Hadith, which At-Tirmidhi graded Hasan Sahih.
Allah then said,
إِنَّ هَـذَا لَهُوَ الْقَصَصُ الْحَقُّ
(Verily, this is the true narrative) meaning, what we narrated to you, O Muhammad, about `Isa is the plain truth that cannot be avoided,
وَمَا مِنْ إِلَـهٍ إِلاَّ اللَّهُ وَإِنَّ اللَّهَ لَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُفَإِن تَوَلَّوْاْ
(and none has the right to be worshipped but Allah. And indeed, Allah is the All-Mighty, the All-Wise. And if they turn away,) by abandoning this truth,
فَإِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ بِالْمُفْسِدِينَ
(then surely, Allah is All-Aware of those who do mischief.) for those who abandon the truth for falsehood commit mischief, and Allah has full knowledge of them and will subject them to the worst punishment. Verily, Allah is able to control everything, all praise and thanks are due to Him, and we seek refuge with Him from His revenge.
اختیارات کی وضاحت اور نجرانی وفد کی روداد حضرت باری جل اسمہ وعلا قدرہ اپنی قدرت کاملہ کا بیان فرما رہا ہے کہ حضرت عیسیٰ کا تو صرف باپ نہ تھا اور میں نے انہیں پیدا کردیا تو کیا کون سی حیرانی بات ہے ؟ میں نے حضرت آدم کو تو ان سے پہلے پیدا کیا تھا ان کا بھی باپ نہ تھا بلکہ ماں بھی نہ تھی، مٹی سے پتلا بنایا اور کہہ دیا آدم ہوجا اسی وقت ہوگیا، پھر میرے لئے صرف ماں سے پیدا کرنا کون سا مشکل ہوسکتا جبکہ بغیر ماں اور باپ کے بھی میں نے پیدا کردیا، پس اگر صرف باپ نہ ہونے کی وجہ سے حضرت عیسیٰ کو تو سب سے پہلے اس مرتبہ سے ہٹا دینا چاہئے، کیونکہ ان کے دعوے کا جھوٹا ہونا اور خرابی اس سے بھی زیادہ یہاں ظاہر ہے یہاں ماں تو ہے وہاں تو نہ ماں تھی نہ باپ، یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ جل جلالہ کی قدرت کاملہ کا ظہور ہے کہ آدم کو بغیر مرد و عورت کے پیدا کیا اور حوا کو صرف مرد سے بغیر عورت کے پیدا کیا، اور عیسیٰ کو صرف عورت سے بغیر مرد کے پیدا کردیا اور باقی مخلوق کو مرد و عورت سے پیدا کیا اسی لئے سورة مریم میں فرمایا (وَلِنَجْعَلَهٗٓ اٰيَةً لِّلنَّاسِ وَرَحْمَةً مِّنَّا ۚ وَكَانَ اَمْرًا مَّقْضِيًّا) 19۔ مریم :21) ہم نے عیسیٰ کو لوگوں کے لئے اپنی قدرت کا نشان بنایا اور یہاں فرمایا ہے۔ عیسیٰ کے بارے میں اللہ کا سچا فیصلہ یہی ہے اس کے سوا اور کچھ کسی کمی یا زیادتی کی گنجائش ہی نہیں ہے کیونکہ حق کے بعد گمراہی ہی ہوتی ہے پس تجھے اے نبی ہرگز ان شکی لوگوں میں نہ ہونا چاہئے، اللہ رب العالمین اس کے بعد اپنے نبی کو حکم دیتا ہے کہ اگر اس قدر واضح اور کامل بیان کے بعد بھی کوئی شخص تجھ سے امر عیسیٰ کے بارے میں جھگڑے تو تو انہیں مباہلہ کی دعوت دے کہ ہم فریقین مع اپنے بیٹوں اور بیویوں کے مباہلہ کے لئے نکلیں اور اللہ جل شانہ سے عاجزی کے ساتھ کہیں کہ اے اللہ ہم دونوں میں جو بھی جھوٹا ہو اس پر تو اپنی لعنت نازل فرما، اس مباہلہ کے نازل ہونے اور سورت کی ابتداء سے یہاں تک کی ان تمام آیتوں کے نازل ہونے کا سبب نجران کے نصاریٰ کا وفد تھا یہ لوگ یہاں آکر حضور ﷺ سے حضرت عیسیٰ کے بارے میں گفتگو کر رہے تھے، ان کا عقیدہ تھا کہ حضرت عیسیٰ حکمرانی کے حصہ دار اور اللہ جل شانہ کے بیٹے ہیں پس ان کی تردید اور ان کے جواب میں یہ سب آیتیں نازل ہوئیں، ابن اسحاق اپنی مشہور عام سیرت میں لکھتے ہیں ان کے علاوہ دوسرے مؤرخین نے بھی اپنی کتابوں میں لکھا ہے کہ نجران کے نصرانیوں نے بطور وفد حضور ﷺ کی خدمت میں اپنے ساٹھ آدمی بھیجے تھے جن میں چودہ شخص ان کے سردار تھے جن کے نام یہ ہیں، عاقب جس کا نام عبدالمسیح تھا، سید جس کا نام ایہم تھا، ابو حارثہ بن علقمہ جو بکر بن وائل کا بھائی تھا، اور اوث بن حارث، زید، قیس، یزید اور اس کے دونوں لڑکے، اور خویلد اور عمرو، خالد، عبداللہ اور محسن یہ سب چودہ سردار تھے لیکن پھر ان میں بڑے سردار تین شخص تھے عاقب جو امیر قوم تھا اور عقلمند سمجھا جاتا تھا اور صاحب مشورہ تھا اور اسی کی رائے پر یہ لوگ مطمئن ہوجاتے تھے اور سید جو ان کا لاٹ پادری تھا اور مدرس اعلیٰ تھا یہ بنوبکر بن وائل کے عرب قبیلے میں سے تھا لیکن نصرانی بن گیا تھا اور رومیوں کے ہاں اس کی بڑی آؤ بھگت تھی اس کے لئے انہوں نے بڑے بڑے گرجے بنا دئیے تھے اور اس کے دین کی مضبوطی دیکھ کر اس کی بہت کچھ خاطر و مدارات اور خدمت و عزت کرتے رہتے تھے یہ شخص حضور ﷺ کی صفت و شان سے واقف تھا اور اگلی کتابوں میں آپ کی صفتیں پڑھ چکا تھا دل سے آپ کی نبوت کا قائل تھا لیکن نصرانیوں میں جو اس کی تکریم و تعظیم تھی اور وہاں جو جاہ و منصب اسے حاصل تھا اس کے چھن جانے کے خوف سے راہ حق کی طرف نہیں آتا تھا، غرض یہ وفد مدینہ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں مسجد نبوی میں حاضر ہوا آپ اس وقت عصر کی نماز سے فارغ ہو کر بیٹھے ہی تھے یہ لوگ نفیس پوشاکیں پہنے ہوئے اور خوبصورت نرم چادریں اوڑھے ہوئے تھے ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے بنو حارث بن کعب کے خاندان کے لوگ ہوں صحابہ کہتے ہیں ان کے بعد ان جیسا باشوکت وفد کوئی نہیں آیا، ان کی نماز کا وقت آگیا تو آپ کی اجازت سے انہوں نے مشرق کی طرف منہ کر کے مسجد نبوی میں ہی اپنے طریق پر نماز ادا کرلی۔ بعد نماز کے حضور ﷺ سے ان کی گفتگو ہوئی ادھر سے بولنے والے یہ تین شخص تھے حارثہ بن علقمہ عاقب یعنی عبدالمسیح اور سید یعنی ایہم یہ گو شاہی مذہب پر تھے لیکن کچھ امور میں اختلاف رکھتے تھے۔ حضرت مسیح کی نسبت ان کے تینوں خیال تھے یعنی وہ خود اللہ جل شانہ ہے اور اللہ کا لڑکا ہے اور تین میں کا تیسرا ہے اللہ ان کے اس ناپاک قول سے مبرا ہے اور بہت ہی بلند وبالا، تقریباً تمام نصاریٰ کا یہی عقیدہ ہے، مسیح کے اللہ ہونے کی دلیل تو ان کے پاس یہ تھی کہ وہ مردوں کو زندہ کردیتا تھا اور اندھوں اور کوڑھیوں اور بیماروں کو شفا دیتا تھا، غیب کی خبریں دیتا تھا اور مٹی کی چڑیا بنا کر پھونک مار کر اڑا دیا کرتا تھا اور جواب اس کا یہ ہے کہ یہ ساری باتیں اس سے اللہ کے حکم سے سرزد ہوتی تھیں اس لئے کہ اللہ کی نشانیاں اللہ کی باتوں کے سچ ہونے پر اور حضرت عیسیٰ کی نبوت پر مثبت دلیل ہوجائیں، اللہ کا لڑکا ماننے والوں کی حجت یہ تھی کہ ان کا بہ ظاہر کوئی باپ نہ تھا اور گہوارے میں ہی بولنے لگے تھے، یہ باتیں بھی ایسی ہیں کہ ان سے پہلے دیکھنے میں ہی نہیں آئی تھیں (اس کا جواب یہ ہے کہ یہ بھی اللہ کی قدرت کی نشانیاں تھیں تاکہ لوگ اللہ کو اسباب کا محکوم اور عادت کا محتاج نہ سمجھیں وغیرہ۔ مترجم) اور تین میں تیسرا اس لئے کہتے تھے کہ اس نے اپنے کلام میں فرمایا ہے ہم نے کیا ہمارا امر ہماری مخلوق ہم نے فیصلہ کیا وغیرہ پس اگر اللہ اکیلا ایک ہی ہوتا تو یوں نہ فرماتا بلکہ فرماتا میں نے کیا میرا امر میری مخلوق میں نے فیصلہ کیا وغیرہ پس ثابت ہوا کہ اللہ تین ہیں خود اللہ رب کعبہ اور عیسیٰ اور مریم (جس کا جواب یہ ہے کہ ہم کا لفظ صرف بڑائی کے لئے اور عظمت کے لئے ہے۔ مترجم) اللہ تعالیٰ ان ظالموں منکروں کعے قول سے پاک و بلند ہے، ان کے تمام عقائد کی تردید قرآن کریم میں نازل ہوئی، جب یہ دونوں پادری حضور ﷺ سے بات چیت کرچکے تو آپ نے فرمایا تم مسلمان ہوجاؤ انہوں نے کہا ہم تو ماننے والے ہیں ہی، آپ نے فرمایا نہیں نہیں تمہیں چاہئے کہ اسلام قبول کرلو وہ کہنے لگے ہم تو آپ سے پہلے کے مسلمان ہیں فرمایا نہیں تمہارا یہاسلامق بول نہیں اس لئے کہ تم اللہ کی اولاد مانتے ہو صلیب کی پوجا کرتے ہو خنزیر کھاتے ہو۔ انہوں نے کہا اچھا پھر یہ تو فرمائے کہ حضرت عیسیٰ کا باپ کون تھا ؟ حضور ﷺ تو اس پر خاموش رہے اور سورة آل عمرانھ کی شروع سے لے کر اوپر تک کی آیتیں ان کے جواب میں نازل ہوئیں، ابن اسحاق ان سب کی مختصر سی تفسیر بیان کر کے پھر لکھتے ہیں آپ نے یہ سب تلاوت کر کے انہیں سمجھا دیں۔ اس مباہلہ کی آیت کو پڑھ کر آپ نے فرمایا اگر نہیں مانتے تو آؤ مباہلہ کا نکلو یہ سن کر وہ کہنے لگے اے ابو القاسم ہمیں مہلت دیجئے کہ ہم آپس میں مشورہ کرلیں پھر تمہیں اس کا جواب دیں گے اب تنہائی میں بیٹھ کر انہوں نے عاقب سے مشورہ لیا جو بڑا دانا اور عقلمند سمجھا جاتا تھا اس نے اپنا حتمی فیصلہ ان الفاظ میں سنایا کہ اے جماعت نصاریٰ تم نے یقین کے ساتھ اتنا تو معلوم کرلیا ہے کہ حضرت محمد ﷺ اللہ کے سچے رسول ہیں اور یہ بھی تم جانتے ہو کہ حضرت عیسیٰ کی حقیت وہی ہے جو محمد ﷺ کی زبانی تم سن چکے ہو اور تمہیں بخوبی علم ہے کہ جو قوم نبی کے ساتھ ملاعنہ کرتی ہے نہ ان کے بڑے باقی رہتے ہیں نہ چھوٹے بڑے ہوتے ہیں بلکہ سب کے سب جڑ بنیاد سے اکھیڑ کر پھینک دئیے جاتے ہیں یاد رکھو کہ اگر تم نے مباہلہ کے لئے قدم بڑھایا تو تمہارا ستیاناس ہوجائے گا، پس یا تو تم اسی دین کو قبول کرلو اور اگر کسی طرح نہیں ماننا چاہتے ہو اور اپنے دین پر اور حضرت عیسیٰ کے متعلق اپنے ہی خیالات پر قائم رہنا چاہتے ہو تو آپ سے صلح کرلو اور اپنے وطن کو لوٹ جاؤ، چناچہ یہ لوگ صلاح مشورہ کر کے پھر دربار نبوی میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے اے ابو القاسم ﷺ ہم آپ سے ملاعنہ کرنے کے لئے تیار نہیں آپ اپنے دین پر رہئے اور ہم اپنے خیالات پر ہیں لیکن آپ ہمارے ساتھ اپنے صحابیوں میں سے کیسی ایسے شخص کو بھیج دیجئے جن سے آپ خوش ہوں کہ وہ ہمارے مالی جھگڑوں کا ہم میں فیصلہ کردیں آپ لوگ ہماری نظروں میں بہت ہی پسندیدہ ہیں۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا اچھا تم دوپہر کو پھر آنا میں تمہارے ساتھ کسی مضبوط امانت دار کو کر دوں گا، حضرت عمر بن خطاب ؓ فرماتے ہیں میں نے کسی دن بھی سردار بننے کی خواہش نہیں کی لیکن اس دن صرف اس خیال ہے سے کہ حضور ﷺ نے جو تعریف کی ہے اس کا تصدیق کرنے والا اللہ کے نزدیک میں بن جاؤں، اسی لئے میں اس روز سویرے سویرے ظہر کی نماز کے لئے چل پڑا، حضور ﷺ تشریف لائے نماز ظہر پڑھائی پھر دائیں بائیں نظریں دوڑانے لگے میں بار بار اپنی جگہ اونچا ہوتا تھا تاکہ آپ کی نگاہیں مجھ پر پڑھیں، آپ برابر بغور دیکھتے ہی رہے یہاں تک کہ نگاہیں حضرت ابو عبید بن جراح ؓ پر پڑیں انہیں طلب فرمایا اور کہا کہ ان کے ساتھ جاؤ اور ان کے اختلافات کا فیصلہ حق سے کردو چناچہ حضرت ابو عبیدہ ؓ ان کے ساتھ تشریف لے گئے ابن مردویہ میں بھی یہ واقعہ اسی طرح منقول ہے لیکن وہاں سرداروں کی گنتی بارہ کی ہے اور اس واقعہ میں بھی قدرے طوالت ہے اور کچھ زائد باتیں بھی ہیں، صحیح بخاری شریف میں بروایت حضرت حذیفہ ؓ مروی ہے نجرانی سردار عاقب اور سید مباحلہ کے ارادے سے حضور ﷺ کے پاس آئے لیکن ایک نے دوسرے سے کہا یہ نہ کر اللہ کی قسم اگر یہ نبی ہیں اور ہم نے ان سے مباہلہ کیا تو ہم اپنی اولادوں سمیت تباہ ہوجائیں گے چناچہ پھر دونوں نے متفق ہو کر کہا حضرت آپ ہم سے جو طلب فرماتے ہیں ہم وہ سب ادا کردیں گے (یعنی جزیہ دینا قبول کرلیا) آپ کسی امین شخص کو ہمارے ساتھ کر دیجئے اور امین کو ہی بھیجنا، آپ نے فرمایا بہتر میں تمہارے ساتھ کامل امین کو ہی کروں گا اصحاب رسول ﷺ ایک دوسرے کو تکنے لگے یہ دیکھیں حضور ﷺ کس کا انتخاب کرتے ہیں آپ نے فرمایا اے ابو عبیدہ بن جراح تم کھڑے ہوجاؤ جب یہ کھڑے ہوئے تو آپ نے فرمایا یہ ہیں اس امت کے امین، صحیح بخاری شریف کی اور حدیث میں ہے ہر امت کا امین ہوتا ہے اور اس امت کا امین ابو عبیدہ بن جراح ہے ؓ مسند احمد میں حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ ابو جہل ملعون نے کہا۔ اگر میں محمد ﷺ کو کعبہ میں نماز پڑھتے دیکھ لوں گا تو اس کی گردن کچل دوں گا فرماتے ہیں کہ آپ نے فرمایا اگر وہ ایسا کرتا تو سب کے سب دیکھتے کہ فرشتے اسے دبوچ لیتے، اور یہودیوں سے جب قرآن نے کہا تھا کہ آؤ جھوٹوں کے لئے موت مانگو اگر وہ مانگتے تو یقینا سب کے سب مرجاتے اور اپنی جگہیں جہنم کی آگ میں دیکھ لیتے اور جن نصرانیوں کو مباہلہ کی دعوت دی گئی تھی اگر وہ حضور ﷺ کے مقابلہ میں مباہلے کے لئے نکلتے تو لوٹ کر اپنے مالوں کو اور اپنے بال بچوں کو نہ پاتے، صحیح بخاری ترمذی اور نسائی میں بھی یہ حدیث ہے، امام ترمذی اسے حسن کہتے ہیں، امام بیہقی نے اپنی کتاب دلائل النبوۃ میں بھی وفد بحران کے قصے کو طویل تر بیان کیا ہے، ہم اسے یہاں نقل کرتے ہیں کیونکہ اس میں بہت سے فوائد ہیں گو اس میں غرابت بھی ہے اور اس مقام سے وہ نہایت مناسبت رکھتا ہے، سلمہ بن عبدیسوع اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں جو پہلے نصرانی تھے پھر مسلمان ہوگئے کہ رسول اللہ ﷺ نے سورة طس قرآن میں نازل ہونے سے پیشتر اہل نجران کو نامہ مبارک لکھا جس کی عبارت یہ تھی بسم الہ ابراہیم واسحاق و یعقوب من محمد النبی رسول اللہ الی اسقف نجران واھل نجران اسلم انتم فانی احمد الیکم الہ ابراہیم واسحاق ویعقوب۔ امام بعد فانی ادعوکم الی عبادۃ اللہ من عبادۃ العباد وادعوکم الی ولایتہ اللہ من ولایتہ العباد فان اییتم فالجزیتہ فان ابیتم فقد اذنتکم بحرب والسلام یعنی اس خط کو میں شروع کرتا ہوں حضرت ابراہیم حضرت اسحاق اور حضرت یعقوب کے اللہ تعالیٰ کے نام سے، یہ خط ہے محمد ﷺ کی طرف سے جو اللہ رب العزت کے نبی اور رسول نجران کے سردار کی طرف ہیں اللہ تعالیٰ کی تمہارے سامنے حمدو ثناء بیان کرتا ہوں جو حضرت ابراہیم، حضرت اسحاق اور حضرت یعقوب کا معبود ہے، پھر میں تمہیں دعوت دیتا ہوں کہ بندوں کی عبادت کو چھوڑ کر اللہ کی عبادت کی طرف آؤ اور بندوں کے والی اپنے کو چھوڑ کر اللہ کی ولایت کی طرف آجاؤ، اگر تم اسے نہ مانو تو جزیہ دو اور ماتحتی اختیار کرو اگر اس سے بھی انکار ہو تو تمہیں لڑائی کا اعلان ہے والسلام، جب یہ خط اسقف کو پہنچا اور اس نے اسے پڑھایا تو بڑا سٹ پٹایا گھبرا گیا اور تھرانے لگا، جھٹ سے شرحیل بن وداعہ کو بلوایا جو ہمدان قبیلہ کا تھا سب سے بڑا مشیر سلطنت یہی تھا جب کبھی کوئی اہم کام آپڑتا تو سب سے پہلے یعنی ایہم اور سید اور عاقب سے بھی پیشر اس سے مشورہ ہوتا جب یہ آگیا تو اسقف نے حضور ﷺ کا خط اسے دیا جب اس نے پڑھ لیا تو اسقف نے پوچھا بتاؤ کیا خیال ہے ؟ شرحیل نے کہا بادشاہ کو خوب علم ہے کہ حضرت اسماعیل کو اولاد میں سے اللہ کے ایک نبی کے آنے کا وعدہ اللہ کی کتاب میں ہے کیا عجب کہ وہ نبی یہی ہو، امر نبوت میں کیا رائے دے سکتا ہوں ہاں اگر امور سلطنت کی کوئی بات ہوتی تو بیشک میں اپنے دماغ پر زور ڈال کر کوئی بات نکال لیتا، اسقف نے انہیں تو الگ بٹھا دیا اور عبداللہ بن شرحیل کو بلایا یہ بھی مشیر سلطنت تھا اور حمیر کے قبیلے میں سے تھا اسے خط دیا پڑھایا رائے پوچھی تو اس نے بھی ٹھیک وہی بات کہی جو پہلا مشیر کہہ چکا تھا اسے بھی بادشاہ نے دور بٹھا دیا پھر جبار بن فیض کو بلایا جو بنو حارث میں سے تھا اس نے بھی یہی کہا جو ان دونوں نے کہا تھا، بادشاہ نے جب دیکھا کہ ان تینوں کی رائے متفق ہے تو حکم دیا گیا کہ ناقوس بجائے جائیں آگ جلا دی جائے اور گرجوں میں جھنڈے بلند کر دئیے جائیں وہاں کا یہ دستور تھا کہ جب سلطنت کا کوئی اہم کام ہوتا تو رات کو جمع کرنا مقصود ہوتا تو یہی کرتے اور اگر دن کا وقت ہوتا تو گرجوں میں آگ جلا دی جاتی اور ناقوس زور زور سے بجائے جاتے، اس حکم کے ہوتے ہی چاروں طرف آگ جلا دی گئی اور ناقوس کی آواز نے ہر ایک کو ہوشیار کردیا اور جھنڈے اونچے دیکھ دیکھ کر آس پاس کے وادی کے تمام لوگ جمع ہوگئے اس وادی کا طول اتنا تھا کہ تیز سوار صبح سے شام تک دوسرے کنارے پہنچتا تھا اس میں تہتر گاؤں آباد تھے اور ایک لاکھ بیس ہزار تلوار چلانے والے یہاں آباد تھے جب یہ سب لوگ آگئے تو اسقف نے انہیں رسول اللہ ﷺ کا نامہ مبارک پڑھ کر سنایا اور پوچھا بتاؤ تمہاری کیا رائے ہے ؟ تو تمام عقلمندوں نے کہا کہ شرحیل بن وداعہ ہمدانی عبداللہ بن شرحیل اصبحی اور جبار بن فیض حارثی کو بطور وفد کے بھیجا جائے، یہ وہاں سے پختہ خبر لائیں، اب یہاں سے یہ وفد ان تینوں کی سرداری کے ماتحت روانہ ہوا مدینہ پہنچ کر انہوں نے سفری لباس اتار ڈالا اور نقش بنے ہوئے ریشمی لمبے لمبے حلے پہن لئے اور سونے کی انگوٹھیاں انگلیوں میں ڈال لیں اور اپنی چادروں کے پلے تھامے ہوئے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، سلام کیا لیکن آپ نے جواب نہ دیا بہت دیر تک انتظار کیا حضور ﷺ کچھ بات کریں لیکن ان ریشمی حلوں اور سونے کی انگوٹھیوں کی وجہ سے آپ نے ان سے کلام بھی نہ کیا اب یہ لوگ حضرت عثمان بن عفان ؓ اور حضرت عبدالرحمن بن عوف ؓ کی تلاش میں نکلے اور ان دونوں بزرگوں سے ان کی پہلی ملاقات تھی مہاجرین اور انصار کے ایک مجمع میں ان دونوں حضرات کو پا لیا ان سے واقعہ بیان کیا تمہارے نبی ﷺ نے ہمیں خط لکھا ہم اس کا جواب دینے کے لئے خود حاضر ہوئے آپ کے پاس گئے سلام کیا لیکن جواب نہ دیا پھر بہت دیر تک انتظار میں بیٹھے رہے کہ آپ سے کچھ باتیں ہوجاتیں لیکن آپ نے ہم سے کوئی بات نہ کی آخر ہم لوگ تھک کر چلے آئے اب آپ حضرات فرمائے کہ کیا ہم یونہی واپس چلے جائیں، ان دونوں نے حضرت علی بن ابو طالب سے کہا کہ آپ ہی انہیں جواب دیجئے حضرت علی نے فرمایا میرا خیال ہے کہ یہ لوگ اپنے حلے اور اپنی انگوٹھیاں اتار دیں اور وہی سفری معمولی لباس پہن کر حضور ﷺ کی خدمت میں دوبارہ جائیں چناچہ انہوں نے یہی کیا اور اسی معمولی لباس میں گئے سلام کیا آپ نے جواب دیا پھر فرمایا اس اللہ کی قسم جس نے مجھے حق کے ساتھ بھیجا ہے یہ جب میرے پاس پہلی مرتبہ آئے تھے تو ان کے ساتھ ابلیس تھا، اب سوال جواب بات چیت شروع ہوئی حضور ﷺ بھی پوچھتے تھے اور وہ جواب دیتے تھے اسی طرح وہ بھی سوال کرتے اور جواب پاتے، آخر میں انہوں نے پوچھا آپ حضرت عیسیٰ کی بابت کیا فرماتے ہیں ؟ تاکہ ہم اپنی قوم کے پاس جا کر وہ کہیں ہمیں اس کی خوشی ہے کہ اگر آپ نبی ہیں تو آپ کی زبانیں سنیں کہ آپ کا ان کی بابت کیا خیال ہے ؟ تو آپ نے فرمایا میرے پاس اس کا جواب آج تو نہیں تم ٹھہرو تو میرا رب مجھ سے اس کی بابت جو فرمائے گا وہ میں تمہیں سنا دوں گا، دوسرے دن وہ پھر آئے تو آپ نے اسی وقت کی اتری ہوئی اس آیت (اِنَّ مَثَلَ عِيْسٰى عِنْدَ اللّٰهِ كَمَثَلِ اٰدَمَ ۭخَلَقَهٗ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهٗ كُنْ فَيَكُوْنُ 59 اَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُنْ مِّنَ الْمُمْتَرِيْنَ 60 فَمَنْ حَاۗجَّكَ فِيْهِ مِنْۢ بَعْدِ مَا جَاۗءَكَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ اَبْنَاۗءَنَا وَاَبْنَاۗءَكُمْ وَنِسَاۗءَنَا وَنِسَاۗءَكُمْ وَاَنْفُسَنَا وَاَنْفُسَكُمْ ۣ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَلْ لَّعْنَتَ اللّٰهِ عَلَي الْكٰذِبِيْنَ 61) 3۔ آل عمران :596061) تلاوت کر سنائی انہوں نے اس بات کا اقرار کرنے سے انکار کردیا، دوسرے دن صبح ہی صبح رسول اللہ ﷺ ملاعنہ کے لئے حضرت حسن کو اور حضرت حسین کو اپنی چادر میں لئے ہوئے تشریف لائے پیچھے پیچھے حضرت فاطمہآرہی تھیں اس وقت آپ کی کئی ایک بیویاں تھیں، شرحیل یہ دیکھتے ہی اپنے دونوں ساتھیوں سے کہنے لگا تم جانتے ہو کہ نجران کی ساری وادی میری بات کو مانتی ہے اور میری رائے پر کاربند ہوتی ہے، سنو اللہ کی قسم یہ معاملہ بڑا بھاری ہے اگر یہ شخص ﷺ مبعوث کیا گیا ہے تو سب سے پہلے اس کی نگاہوں میں ہم ہی مطعون ہوں گے اور سب سے پہلے اس کی تردید کرنے والے ہم ہی ٹھہریں گے یہ بات اس کے اور اس کے ساتھیوں کے دلوں میں نہیں جائے گی اور ہم پر کوئی نہ کوئی مصیبت و آفت آئے گی عرب بھر میں سب سے زیادہ قریب ان سے میں ہی ہوں اور سنو اگر یہ شخص بنی مرسل ہے تو مباہلہ کرتے ہی روئے زمین پر ایک بال یا ایک ناخن بھی ہمارا نہ رہے گا، اس کے دونوں ساتھیوں نے کہا پھر اے ابو ویہم آپ کی کیا رائے ہے ؟ اس نے کہا میری رائے یہ ہے کہ اسی کو ہم حاکم بنادیں جو کچھ یہ حکم دے ہم اسے منظور کرلیں یہ کبھی بھی خلاف عدل حکم نہ دے گا، ان دونوں نے اس بات کو تسلیم کرلیا، اب شرجیل نے حضور ﷺ سے کہا کہ میں اس ملاعنہ سے بہتر چیز جناب کے سامنے پیش کرتا ہوں آپ نے دریافت فرمایا وہ کیا ؟ کہا آج کا دن آنے والی رات اور کل کی صبح تک آپ ہمارے بارے میں جو حکم کریں ہمیں منظور ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا شاید اور لوگ تمہارے اس فیصلے کو نہ مانیں، شرحیل نے کہا اس کی بابت میرے ان دونوں ساتھیوں سے دریافت فرما لیجئے آپ نے ان دونوں سے پوچھا انہوں نے جواب دیا کہ سارے وادی کے لوگ انہی کی رائے پر چلتے ہیں وہاں ایک بھی ایسا نہیں جو ان کے فیصلے کو ٹال سکے، پس حضور ﷺ نے یہ درخواست قبول فرمائی۔ مباہلہ نہ کیا اور واپس لوٹ گئے دوسرے دن صبح ہی وہ حاضر خدمت ہوئے تو آپ نے ایک تحریر انہیں لکھ دی کہ جس میں بسم اللہ کے بعد یہ مضمون تھا کہ " تحریر اللہ کے نبی محمد رسول اللہ ﷺ کی طرف سے نجرانیوں کے لئے ہے ان پر اللہ کے رسول ﷺ کا حکم جاری تھا ہر پھل، ہر سیاہ وسفید اور ہر غلام پر لیکن اللہ کے رسول ﷺ یہ سب انہی کو دیتے ہیں یہ ہر سال صرف دو ہزار حلے دے دیا کریں ایک ہزار رجب میں اور ایک ہزار صفر میں وغیرہ وغیرہ، پورا عہد نامہ انہیں عطا فرمایا، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کا یہ وفد سن009ہجری میں آیا تھا اس لئے کہ حضرت زہری فرماتے ہیں سب سے پہلے جزیہ انہی اہل نجران نے حضور ﷺ کو ادا کیا، اور جزیہ کی آیت فتح مکہ کے بعد اتری ہے جو یہ ہے (قَاتِلُوا الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ باللّٰهِ وَلَا بالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَلَا يُحَرِّمُوْنَ مَا حَرَّمَ اللّٰهُ وَرَسُوْلُهٗ وَلَا يَدِيْنُوْنَ دِيْنَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ حَتّٰي يُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَنْ يَّدٍ وَّهُمْ صٰغِرُوْنَ) 9۔ التوبہ :29) اس آیت میں اہل کتاب سے جزیہ لینے کا حکم ہوا ہے، ابن مردویہ میں ہے کہ عاقب اور طیب آنحضرت ﷺ کے پاس آئے آپ نے انہیں ملاعنہ کے لئے کہا اور صبح کو حضرت علی اور حضرت فاطمہ اور حضرت حسن اور حضرت حسین کو لئے ہوئے آپ تشریف لائے اور انہیں کہلا بھیجا انہوں نے قبول نہ کیا اور خراج دینا منظور کرلیا، آپ نے فرمایا اس کی قسم جس نے مجھے حق کے ساتھ بھیجا ہے اگر یہ دونوں " نہیں " کہتے تو ان پر یہی وادی آگ برساتی، حضرت جابر فرماتے ہیں ندع ابنائنا الخ، والی آیت انہی کے بارے میں نازل ہوئی ہے انفسنا سے مراد خود رسول کریم ﷺ اور حضرت علی ابنائنا سے مراد حسن اور حسین نسائنا سے مراد حضرت فاطمۃ الزہرا ؓ مستدرک حاکم وغیرہ میں بھی اس معنی کی حدیث مروی ہے۔ پھر جناب باری کا ارشاد ہے یہ جو ہم نے عیسیٰ کی شان فرمائی ہے حق اور سچ ہے اس میں بال برابر کمی بیشی نہیں، اللہ قابل عبادت ہے کوئی اور نہیں اور وہی غلبہ والا اور حکمت والا ہے، اب بھی اگر یہ منہ پھیر لیں اور دوسری باتوں میں پڑیں تو اللہ بھی ایسے باطل پسندوں کو اور مفسدوں کو بخوبی جانتا ہے انہیں بدترین سزا دے گا اس میں پوری قدرت ہے کوئی اس سے نہ بھاگ سکے نہ اس کا مقابلہ کرسکے، وہ پاک ہے اور تعریفوں والا ہے ہم اس کے عذاب سے اسی کی پناہ چاہتے ہیں۔
62
View Single
إِنَّ هَٰذَا لَهُوَ ٱلۡقَصَصُ ٱلۡحَقُّۚ وَمَا مِنۡ إِلَٰهٍ إِلَّا ٱللَّهُۚ وَإِنَّ ٱللَّهَ لَهُوَ ٱلۡعَزِيزُ ٱلۡحَكِيمُ
This undoubtedly is the true narrative; there is none worthy of worship except Allah; and Allah is the Almighty, the Wise.
بیشک یہی سچا بیان ہے، اور کوئی بھی اللہ کے سوا لائقِ عبادت نہیں، اور بیشک اللہ ہی تو بڑا غالب حکمت والا ہے
Tafsir Ibn Kathir
The Similarities Between the Creation of Adam and the Creation of `Isa
Allah said,
إِنَّ مَثَلَ عِيسَى عِندَ اللَّهِ
(Verily, the likeness of `Isa before Allah) regarding Allah's ability, since He created him without a father,
كَمَثَلِ ءَادَمَ
(is the likeness of Adam), for Allah created Adam without a father or a mother. Rather,
خَلَقَهُ مِن تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهُ كُن فَيَكُونُ
(He created him from dust, then (He) said to him: "Be!" and he was.)
Therefore, He Who created Adam without a father or a mother is able to create `Isa, as well, without a father. If the claim is made that `Isa is Allah's son because he was created without a father, then the same claim befits Adam even more. However, since such a claim regarding Adam is obviously false, then making the same claim about `Isa is even more false.
Furthermore, by mentioning these facts, Allah emphasizes His ability, by creating Adam without a male or female, Hawa' from a male without a female, and `Isa from a mother without a father, compared to His creating the rest of creation from male and female. This is why Allah said in Surah Maryam,
وَلِنَجْعَلَهُ ءَايَةً لِّلْنَّاسِ
(And We made him a sign for mankind) 19: 21.
Allah said in this Ayah,
الْحَقُّ مِن رَّبِّكَ فَلاَ تَكُنْ مِّن الْمُمْتَرِينَ
((This is) the truth from your Lord, so be not of those who doubt.) meaning, this is the only true story about `Isa, and what is beyond truth save falsehood Allah next commands His Messenger to call those who defy the truth, regarding `Isa, to the Mubahalah (the curse).
The Challenge to the Mubahalah
فَمَنْ حَآجَّكَ فِيهِ مِن بَعْدِ مَا جَآءَكَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعَالَوْاْ نَدْعُ أَبْنَآءَنَا وَأَبْنَآءَكُمْ وَنِسَآءَنَا وَنِسَآءَكُمْ وَأَنفُسَنَا وأَنفُسَكُمْ
(Then whoever disputes with you concerning him after the knowledge that has come to you, say: "Come, let us call our sons and your sons, our women and your women, ourselves and yourselves") for the Mubahalah,
ثُمَّ نَبْتَهِلْ
(then we pray), supplicate,
فَنَجْعَل لَّعْنَتُ اللَّهِ عَلَى الْكَـذِبِينَ
(and we invoke Allah's curse upon the liars) among the two of us.
The reason for the call to Mubahalah and the revelation of the Ayat from the beginning of this Surah until here, is that a delegation from the Christians of Najran (in Yemen) came to Al-Madinah to argue about `Isa, claiming that he was divine and the son of Allah. Allah sent down the beginning of this Surah until here, to refute their claims, as Imam Muhammad bin Ishaq bin Yasar and other scholars stated.
Muhammad bin Ishaq bin Yasar said in his famous Sirah, "The delegation of Christians from Najran came to the Messenger of Allah ﷺ . The delegation consisted of sixty horsemen, including fourteen of their chiefs who make decisions. These men were Al-`Aqib, also known as `Abdul-Masih, As-Sayyid, also known as Al-Ayham, Abu Harithah bin `Alqamah, of the family of Bakr bin Wa`il and Uways bin Al-Harith. They also included, Zayd, Qays, Yazid, Nabih, Khuwaylid, `Amr, Khalid, `Abdullah and Yuhannas. Three of these men were chiefs of this delegation, Al-`Aqib, their leader and to whom they referred for advice and decision; As-Sayyid, their scholar and leader in journeys and social gatherings; and Abu Harithah bin `Alqamah, their patriarch, priest and religious leader. Abu Harithah was an Arab man from the family of Bakr bin Wa`il, but when he embraced Christianity, the Romans and their kings honored him and built churches for him (or in his honor). They also supported him financially and gave him servants, because they knew how firm his faith in their religion was." Abu Harithah knew the description of the Messenger of Allah ﷺ from what he read in earlier divine Books. However, his otherwise ignorance led him to insist on remaining a Christian, because he was honored and had a high position with the Christians. Ibn Ishaq said, "Muhammad bin Ja`far bin Az-Zubayr said that, `The (Najran) delegation came to the Messenger of Allah ﷺ in Al-Madinah, entered his Masjid wearing robes and garments, after the Prophet had prayed the `Asr prayer. They accompanied a caravan of camels led by Bani Al-Harith bin Ka`b. The Companions of the Messenger of Allah ﷺ who saw them said that they never saw a delegation like them after that... Then Abu Harithah bin `Alqamah and Al-`Aqib `Abdul-Masih or As-Sayyid Al-Ayham spoke to the Messenger of Allah ﷺ, and they were Christians like the king (Roman King). However, they disagreed about `Isa; some of them said, `He is Allah,' while some said, `He is the son of Allah,' and some others said, `He is one of a trinity.' Allah is far from what they attribute to Him."
Indeed, these are the creeds of the Christians. They claim that `Isa is God, since he brought the dead back to life, healed blindness, leprosy and various illnesses, told about matters of the future, created the shape of birds and blew life into them, bringing them to life. However, all these miracles occurred by Allah's leave, so that `Isa would be a sign from Allah for people.
They also claim that `Isa is the son of Allah, since he did not have a father and he spoke when he was in the cradle, a miracle which had not occurred by any among the Children of Adam before him, so they claim. They also claim that `Isa is one of a trinity, because Allah would say, `We did, command, create and demand.' They said, `If Allah were one, he would have said, `I did, command, create and decide.' This is why they claim that `Isa and Allah are one (Trinity). Allah is far from what they attribute to Him, and we should mention that the Qur'an refuted all these false Christian claims.
Ibn Ishaq continued, "When these Ayat came to the Messenger from Allah ﷺ, thus judging between him and the People of the Book, Allah also commanded the Prophet to call them to the Mubahalah if they still refused the truth. The Prophet called them to the Mubahalah. They said, `O Abu Al-Qasim! Let us think about this matter and get back to you with our decision to what we want to do.' They left the Prophet and conferred with Al-`Aqib, to whom they referred to for advice. They said to him, `O `Abdul-Masih! What is your advice' He said, `By Allah, O Christian fellows! You know that Muhammad is a Messenger and that he brought you the final word regarding your fellow (`Isa). You also know that no Prophet conducted Mubahalah with any people, and the old persons among them remained safe and the young people grew up. Indeed, it will be the end of you if you do it. If you have already decided that you will remain in your religion and your creed regarding your fellow (`Isa), then conduct a treaty with the man (Muhammad) and go back to your land.' They came to the Prophet and said, `O Abu Al-Qasim! We decided that we cannot do Mubahalah with you and that you remain on your religion, while we remain on our religion. However, send with us a man from your Companions whom you are pleased with to judge between us regarding our monetary disputes, for you are acceptable to us in this regard."'
Al-Bukhari recorded that Hudhayfah said, "Al-`Aqib and As-Sayyid, two leaders from Najran, came to the Messenger of Allah ﷺ seeking to invoke Allah for curses (against whoever is unjust among them), and one of them said to the other, `Let us not do that. By Allah, if he were truly a Prophet and we invoke Allah for curses, we and our offspring shall never succeed afterwards.' So they said, `We will give you what you asked and send a trusted man with us, just a trusted man.' The Messenger of Allah ﷺ said;
«لَأَبْعَثَنَّ مَعَكُمْ رَجُلًا أَمِينًا حَقَّ أَمِين»
فاستشرف لها أصحاب رسول اللهصلى الله عليه وسلّم، فقال:
«قُمْ يَا أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاح»
فلما قام، قال رسول اللهصلى الله عليه وسلّم:
«هَذَا أَمِينُ هذِهِ الْأُمَّة»
("Verily, I will send a trusted man with you, a truly trustworthy man." The Companions of the Messenger of Allah ﷺ all felt eager to be that man. The Messenger said, "O Abu `Ubaydah bin Al-Jarrah! Stand up." When Abu `Ubaydah stood up, the Messenger of Allah ﷺ said, "This is the trustee of this Ummah."')
Al-Bukhari recorded that Anas said that the Messenger of Allah ﷺ said on another occasion,
«لِكُلِّ أُمَّةٍ أَمِينٌ، وَأَمِينُ هذِهِ الْأُمَّةِ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاح»
(Every Ummah has a trustee, and the trustee of this Ummah is Abu `Ubaydah bin Al-Jarrah.)
Imam Ahmad recorded that Ibn `Abbas said, "Abu Jahl, may Allah curse him, said, `If I see Muhammad praying next to the Ka`bah, I will step on his neck.' The Prophet later said,
«لَوْ فَعَلَ لَأَخَذَتْهُ الْمَلَائِكَةُ عِيَانًا، ولو أن اليهود تمنوا الموت لماتوا، ورأوا مقاعدهم من النار، ولو خرج الذين يباهلون رسول اللهصلى الله عليه وسلّم لرجعوا لا يجدون مالًا ولا أهلًا»
(Had he tried to do it, the angels would have taken him publicly. Had the Jews wished for death, they would have perished and would have seen their seats in the Fire. Had those who sought Mubahalah with the Messenger of Allah ﷺ, went ahead with it, they would not have found estates or families when they returned home)." Al-Bukhari, At-Tirmidhi and An-Nasa'i also recorded this Hadith, which At-Tirmidhi graded Hasan Sahih.
Allah then said,
إِنَّ هَـذَا لَهُوَ الْقَصَصُ الْحَقُّ
(Verily, this is the true narrative) meaning, what we narrated to you, O Muhammad, about `Isa is the plain truth that cannot be avoided,
وَمَا مِنْ إِلَـهٍ إِلاَّ اللَّهُ وَإِنَّ اللَّهَ لَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُفَإِن تَوَلَّوْاْ
(and none has the right to be worshipped but Allah. And indeed, Allah is the All-Mighty, the All-Wise. And if they turn away,) by abandoning this truth,
فَإِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ بِالْمُفْسِدِينَ
(then surely, Allah is All-Aware of those who do mischief.) for those who abandon the truth for falsehood commit mischief, and Allah has full knowledge of them and will subject them to the worst punishment. Verily, Allah is able to control everything, all praise and thanks are due to Him, and we seek refuge with Him from His revenge.
اختیارات کی وضاحت اور نجرانی وفد کی روداد حضرت باری جل اسمہ وعلا قدرہ اپنی قدرت کاملہ کا بیان فرما رہا ہے کہ حضرت عیسیٰ کا تو صرف باپ نہ تھا اور میں نے انہیں پیدا کردیا تو کیا کون سی حیرانی بات ہے ؟ میں نے حضرت آدم کو تو ان سے پہلے پیدا کیا تھا ان کا بھی باپ نہ تھا بلکہ ماں بھی نہ تھی، مٹی سے پتلا بنایا اور کہہ دیا آدم ہوجا اسی وقت ہوگیا، پھر میرے لئے صرف ماں سے پیدا کرنا کون سا مشکل ہوسکتا جبکہ بغیر ماں اور باپ کے بھی میں نے پیدا کردیا، پس اگر صرف باپ نہ ہونے کی وجہ سے حضرت عیسیٰ کو تو سب سے پہلے اس مرتبہ سے ہٹا دینا چاہئے، کیونکہ ان کے دعوے کا جھوٹا ہونا اور خرابی اس سے بھی زیادہ یہاں ظاہر ہے یہاں ماں تو ہے وہاں تو نہ ماں تھی نہ باپ، یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ جل جلالہ کی قدرت کاملہ کا ظہور ہے کہ آدم کو بغیر مرد و عورت کے پیدا کیا اور حوا کو صرف مرد سے بغیر عورت کے پیدا کیا، اور عیسیٰ کو صرف عورت سے بغیر مرد کے پیدا کردیا اور باقی مخلوق کو مرد و عورت سے پیدا کیا اسی لئے سورة مریم میں فرمایا (وَلِنَجْعَلَهٗٓ اٰيَةً لِّلنَّاسِ وَرَحْمَةً مِّنَّا ۚ وَكَانَ اَمْرًا مَّقْضِيًّا) 19۔ مریم :21) ہم نے عیسیٰ کو لوگوں کے لئے اپنی قدرت کا نشان بنایا اور یہاں فرمایا ہے۔ عیسیٰ کے بارے میں اللہ کا سچا فیصلہ یہی ہے اس کے سوا اور کچھ کسی کمی یا زیادتی کی گنجائش ہی نہیں ہے کیونکہ حق کے بعد گمراہی ہی ہوتی ہے پس تجھے اے نبی ہرگز ان شکی لوگوں میں نہ ہونا چاہئے، اللہ رب العالمین اس کے بعد اپنے نبی کو حکم دیتا ہے کہ اگر اس قدر واضح اور کامل بیان کے بعد بھی کوئی شخص تجھ سے امر عیسیٰ کے بارے میں جھگڑے تو تو انہیں مباہلہ کی دعوت دے کہ ہم فریقین مع اپنے بیٹوں اور بیویوں کے مباہلہ کے لئے نکلیں اور اللہ جل شانہ سے عاجزی کے ساتھ کہیں کہ اے اللہ ہم دونوں میں جو بھی جھوٹا ہو اس پر تو اپنی لعنت نازل فرما، اس مباہلہ کے نازل ہونے اور سورت کی ابتداء سے یہاں تک کی ان تمام آیتوں کے نازل ہونے کا سبب نجران کے نصاریٰ کا وفد تھا یہ لوگ یہاں آکر حضور ﷺ سے حضرت عیسیٰ کے بارے میں گفتگو کر رہے تھے، ان کا عقیدہ تھا کہ حضرت عیسیٰ حکمرانی کے حصہ دار اور اللہ جل شانہ کے بیٹے ہیں پس ان کی تردید اور ان کے جواب میں یہ سب آیتیں نازل ہوئیں، ابن اسحاق اپنی مشہور عام سیرت میں لکھتے ہیں ان کے علاوہ دوسرے مؤرخین نے بھی اپنی کتابوں میں لکھا ہے کہ نجران کے نصرانیوں نے بطور وفد حضور ﷺ کی خدمت میں اپنے ساٹھ آدمی بھیجے تھے جن میں چودہ شخص ان کے سردار تھے جن کے نام یہ ہیں، عاقب جس کا نام عبدالمسیح تھا، سید جس کا نام ایہم تھا، ابو حارثہ بن علقمہ جو بکر بن وائل کا بھائی تھا، اور اوث بن حارث، زید، قیس، یزید اور اس کے دونوں لڑکے، اور خویلد اور عمرو، خالد، عبداللہ اور محسن یہ سب چودہ سردار تھے لیکن پھر ان میں بڑے سردار تین شخص تھے عاقب جو امیر قوم تھا اور عقلمند سمجھا جاتا تھا اور صاحب مشورہ تھا اور اسی کی رائے پر یہ لوگ مطمئن ہوجاتے تھے اور سید جو ان کا لاٹ پادری تھا اور مدرس اعلیٰ تھا یہ بنوبکر بن وائل کے عرب قبیلے میں سے تھا لیکن نصرانی بن گیا تھا اور رومیوں کے ہاں اس کی بڑی آؤ بھگت تھی اس کے لئے انہوں نے بڑے بڑے گرجے بنا دئیے تھے اور اس کے دین کی مضبوطی دیکھ کر اس کی بہت کچھ خاطر و مدارات اور خدمت و عزت کرتے رہتے تھے یہ شخص حضور ﷺ کی صفت و شان سے واقف تھا اور اگلی کتابوں میں آپ کی صفتیں پڑھ چکا تھا دل سے آپ کی نبوت کا قائل تھا لیکن نصرانیوں میں جو اس کی تکریم و تعظیم تھی اور وہاں جو جاہ و منصب اسے حاصل تھا اس کے چھن جانے کے خوف سے راہ حق کی طرف نہیں آتا تھا، غرض یہ وفد مدینہ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں مسجد نبوی میں حاضر ہوا آپ اس وقت عصر کی نماز سے فارغ ہو کر بیٹھے ہی تھے یہ لوگ نفیس پوشاکیں پہنے ہوئے اور خوبصورت نرم چادریں اوڑھے ہوئے تھے ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے بنو حارث بن کعب کے خاندان کے لوگ ہوں صحابہ کہتے ہیں ان کے بعد ان جیسا باشوکت وفد کوئی نہیں آیا، ان کی نماز کا وقت آگیا تو آپ کی اجازت سے انہوں نے مشرق کی طرف منہ کر کے مسجد نبوی میں ہی اپنے طریق پر نماز ادا کرلی۔ بعد نماز کے حضور ﷺ سے ان کی گفتگو ہوئی ادھر سے بولنے والے یہ تین شخص تھے حارثہ بن علقمہ عاقب یعنی عبدالمسیح اور سید یعنی ایہم یہ گو شاہی مذہب پر تھے لیکن کچھ امور میں اختلاف رکھتے تھے۔ حضرت مسیح کی نسبت ان کے تینوں خیال تھے یعنی وہ خود اللہ جل شانہ ہے اور اللہ کا لڑکا ہے اور تین میں کا تیسرا ہے اللہ ان کے اس ناپاک قول سے مبرا ہے اور بہت ہی بلند وبالا، تقریباً تمام نصاریٰ کا یہی عقیدہ ہے، مسیح کے اللہ ہونے کی دلیل تو ان کے پاس یہ تھی کہ وہ مردوں کو زندہ کردیتا تھا اور اندھوں اور کوڑھیوں اور بیماروں کو شفا دیتا تھا، غیب کی خبریں دیتا تھا اور مٹی کی چڑیا بنا کر پھونک مار کر اڑا دیا کرتا تھا اور جواب اس کا یہ ہے کہ یہ ساری باتیں اس سے اللہ کے حکم سے سرزد ہوتی تھیں اس لئے کہ اللہ کی نشانیاں اللہ کی باتوں کے سچ ہونے پر اور حضرت عیسیٰ کی نبوت پر مثبت دلیل ہوجائیں، اللہ کا لڑکا ماننے والوں کی حجت یہ تھی کہ ان کا بہ ظاہر کوئی باپ نہ تھا اور گہوارے میں ہی بولنے لگے تھے، یہ باتیں بھی ایسی ہیں کہ ان سے پہلے دیکھنے میں ہی نہیں آئی تھیں (اس کا جواب یہ ہے کہ یہ بھی اللہ کی قدرت کی نشانیاں تھیں تاکہ لوگ اللہ کو اسباب کا محکوم اور عادت کا محتاج نہ سمجھیں وغیرہ۔ مترجم) اور تین میں تیسرا اس لئے کہتے تھے کہ اس نے اپنے کلام میں فرمایا ہے ہم نے کیا ہمارا امر ہماری مخلوق ہم نے فیصلہ کیا وغیرہ پس اگر اللہ اکیلا ایک ہی ہوتا تو یوں نہ فرماتا بلکہ فرماتا میں نے کیا میرا امر میری مخلوق میں نے فیصلہ کیا وغیرہ پس ثابت ہوا کہ اللہ تین ہیں خود اللہ رب کعبہ اور عیسیٰ اور مریم (جس کا جواب یہ ہے کہ ہم کا لفظ صرف بڑائی کے لئے اور عظمت کے لئے ہے۔ مترجم) اللہ تعالیٰ ان ظالموں منکروں کعے قول سے پاک و بلند ہے، ان کے تمام عقائد کی تردید قرآن کریم میں نازل ہوئی، جب یہ دونوں پادری حضور ﷺ سے بات چیت کرچکے تو آپ نے فرمایا تم مسلمان ہوجاؤ انہوں نے کہا ہم تو ماننے والے ہیں ہی، آپ نے فرمایا نہیں نہیں تمہیں چاہئے کہ اسلام قبول کرلو وہ کہنے لگے ہم تو آپ سے پہلے کے مسلمان ہیں فرمایا نہیں تمہارا یہاسلامق بول نہیں اس لئے کہ تم اللہ کی اولاد مانتے ہو صلیب کی پوجا کرتے ہو خنزیر کھاتے ہو۔ انہوں نے کہا اچھا پھر یہ تو فرمائے کہ حضرت عیسیٰ کا باپ کون تھا ؟ حضور ﷺ تو اس پر خاموش رہے اور سورة آل عمرانھ کی شروع سے لے کر اوپر تک کی آیتیں ان کے جواب میں نازل ہوئیں، ابن اسحاق ان سب کی مختصر سی تفسیر بیان کر کے پھر لکھتے ہیں آپ نے یہ سب تلاوت کر کے انہیں سمجھا دیں۔ اس مباہلہ کی آیت کو پڑھ کر آپ نے فرمایا اگر نہیں مانتے تو آؤ مباہلہ کا نکلو یہ سن کر وہ کہنے لگے اے ابو القاسم ہمیں مہلت دیجئے کہ ہم آپس میں مشورہ کرلیں پھر تمہیں اس کا جواب دیں گے اب تنہائی میں بیٹھ کر انہوں نے عاقب سے مشورہ لیا جو بڑا دانا اور عقلمند سمجھا جاتا تھا اس نے اپنا حتمی فیصلہ ان الفاظ میں سنایا کہ اے جماعت نصاریٰ تم نے یقین کے ساتھ اتنا تو معلوم کرلیا ہے کہ حضرت محمد ﷺ اللہ کے سچے رسول ہیں اور یہ بھی تم جانتے ہو کہ حضرت عیسیٰ کی حقیت وہی ہے جو محمد ﷺ کی زبانی تم سن چکے ہو اور تمہیں بخوبی علم ہے کہ جو قوم نبی کے ساتھ ملاعنہ کرتی ہے نہ ان کے بڑے باقی رہتے ہیں نہ چھوٹے بڑے ہوتے ہیں بلکہ سب کے سب جڑ بنیاد سے اکھیڑ کر پھینک دئیے جاتے ہیں یاد رکھو کہ اگر تم نے مباہلہ کے لئے قدم بڑھایا تو تمہارا ستیاناس ہوجائے گا، پس یا تو تم اسی دین کو قبول کرلو اور اگر کسی طرح نہیں ماننا چاہتے ہو اور اپنے دین پر اور حضرت عیسیٰ کے متعلق اپنے ہی خیالات پر قائم رہنا چاہتے ہو تو آپ سے صلح کرلو اور اپنے وطن کو لوٹ جاؤ، چناچہ یہ لوگ صلاح مشورہ کر کے پھر دربار نبوی میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے اے ابو القاسم ﷺ ہم آپ سے ملاعنہ کرنے کے لئے تیار نہیں آپ اپنے دین پر رہئے اور ہم اپنے خیالات پر ہیں لیکن آپ ہمارے ساتھ اپنے صحابیوں میں سے کیسی ایسے شخص کو بھیج دیجئے جن سے آپ خوش ہوں کہ وہ ہمارے مالی جھگڑوں کا ہم میں فیصلہ کردیں آپ لوگ ہماری نظروں میں بہت ہی پسندیدہ ہیں۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا اچھا تم دوپہر کو پھر آنا میں تمہارے ساتھ کسی مضبوط امانت دار کو کر دوں گا، حضرت عمر بن خطاب ؓ فرماتے ہیں میں نے کسی دن بھی سردار بننے کی خواہش نہیں کی لیکن اس دن صرف اس خیال ہے سے کہ حضور ﷺ نے جو تعریف کی ہے اس کا تصدیق کرنے والا اللہ کے نزدیک میں بن جاؤں، اسی لئے میں اس روز سویرے سویرے ظہر کی نماز کے لئے چل پڑا، حضور ﷺ تشریف لائے نماز ظہر پڑھائی پھر دائیں بائیں نظریں دوڑانے لگے میں بار بار اپنی جگہ اونچا ہوتا تھا تاکہ آپ کی نگاہیں مجھ پر پڑھیں، آپ برابر بغور دیکھتے ہی رہے یہاں تک کہ نگاہیں حضرت ابو عبید بن جراح ؓ پر پڑیں انہیں طلب فرمایا اور کہا کہ ان کے ساتھ جاؤ اور ان کے اختلافات کا فیصلہ حق سے کردو چناچہ حضرت ابو عبیدہ ؓ ان کے ساتھ تشریف لے گئے ابن مردویہ میں بھی یہ واقعہ اسی طرح منقول ہے لیکن وہاں سرداروں کی گنتی بارہ کی ہے اور اس واقعہ میں بھی قدرے طوالت ہے اور کچھ زائد باتیں بھی ہیں، صحیح بخاری شریف میں بروایت حضرت حذیفہ ؓ مروی ہے نجرانی سردار عاقب اور سید مباحلہ کے ارادے سے حضور ﷺ کے پاس آئے لیکن ایک نے دوسرے سے کہا یہ نہ کر اللہ کی قسم اگر یہ نبی ہیں اور ہم نے ان سے مباہلہ کیا تو ہم اپنی اولادوں سمیت تباہ ہوجائیں گے چناچہ پھر دونوں نے متفق ہو کر کہا حضرت آپ ہم سے جو طلب فرماتے ہیں ہم وہ سب ادا کردیں گے (یعنی جزیہ دینا قبول کرلیا) آپ کسی امین شخص کو ہمارے ساتھ کر دیجئے اور امین کو ہی بھیجنا، آپ نے فرمایا بہتر میں تمہارے ساتھ کامل امین کو ہی کروں گا اصحاب رسول ﷺ ایک دوسرے کو تکنے لگے یہ دیکھیں حضور ﷺ کس کا انتخاب کرتے ہیں آپ نے فرمایا اے ابو عبیدہ بن جراح تم کھڑے ہوجاؤ جب یہ کھڑے ہوئے تو آپ نے فرمایا یہ ہیں اس امت کے امین، صحیح بخاری شریف کی اور حدیث میں ہے ہر امت کا امین ہوتا ہے اور اس امت کا امین ابو عبیدہ بن جراح ہے ؓ مسند احمد میں حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ ابو جہل ملعون نے کہا۔ اگر میں محمد ﷺ کو کعبہ میں نماز پڑھتے دیکھ لوں گا تو اس کی گردن کچل دوں گا فرماتے ہیں کہ آپ نے فرمایا اگر وہ ایسا کرتا تو سب کے سب دیکھتے کہ فرشتے اسے دبوچ لیتے، اور یہودیوں سے جب قرآن نے کہا تھا کہ آؤ جھوٹوں کے لئے موت مانگو اگر وہ مانگتے تو یقینا سب کے سب مرجاتے اور اپنی جگہیں جہنم کی آگ میں دیکھ لیتے اور جن نصرانیوں کو مباہلہ کی دعوت دی گئی تھی اگر وہ حضور ﷺ کے مقابلہ میں مباہلے کے لئے نکلتے تو لوٹ کر اپنے مالوں کو اور اپنے بال بچوں کو نہ پاتے، صحیح بخاری ترمذی اور نسائی میں بھی یہ حدیث ہے، امام ترمذی اسے حسن کہتے ہیں، امام بیہقی نے اپنی کتاب دلائل النبوۃ میں بھی وفد بحران کے قصے کو طویل تر بیان کیا ہے، ہم اسے یہاں نقل کرتے ہیں کیونکہ اس میں بہت سے فوائد ہیں گو اس میں غرابت بھی ہے اور اس مقام سے وہ نہایت مناسبت رکھتا ہے، سلمہ بن عبدیسوع اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں جو پہلے نصرانی تھے پھر مسلمان ہوگئے کہ رسول اللہ ﷺ نے سورة طس قرآن میں نازل ہونے سے پیشتر اہل نجران کو نامہ مبارک لکھا جس کی عبارت یہ تھی بسم الہ ابراہیم واسحاق و یعقوب من محمد النبی رسول اللہ الی اسقف نجران واھل نجران اسلم انتم فانی احمد الیکم الہ ابراہیم واسحاق ویعقوب۔ امام بعد فانی ادعوکم الی عبادۃ اللہ من عبادۃ العباد وادعوکم الی ولایتہ اللہ من ولایتہ العباد فان اییتم فالجزیتہ فان ابیتم فقد اذنتکم بحرب والسلام یعنی اس خط کو میں شروع کرتا ہوں حضرت ابراہیم حضرت اسحاق اور حضرت یعقوب کے اللہ تعالیٰ کے نام سے، یہ خط ہے محمد ﷺ کی طرف سے جو اللہ رب العزت کے نبی اور رسول نجران کے سردار کی طرف ہیں اللہ تعالیٰ کی تمہارے سامنے حمدو ثناء بیان کرتا ہوں جو حضرت ابراہیم، حضرت اسحاق اور حضرت یعقوب کا معبود ہے، پھر میں تمہیں دعوت دیتا ہوں کہ بندوں کی عبادت کو چھوڑ کر اللہ کی عبادت کی طرف آؤ اور بندوں کے والی اپنے کو چھوڑ کر اللہ کی ولایت کی طرف آجاؤ، اگر تم اسے نہ مانو تو جزیہ دو اور ماتحتی اختیار کرو اگر اس سے بھی انکار ہو تو تمہیں لڑائی کا اعلان ہے والسلام، جب یہ خط اسقف کو پہنچا اور اس نے اسے پڑھایا تو بڑا سٹ پٹایا گھبرا گیا اور تھرانے لگا، جھٹ سے شرحیل بن وداعہ کو بلوایا جو ہمدان قبیلہ کا تھا سب سے بڑا مشیر سلطنت یہی تھا جب کبھی کوئی اہم کام آپڑتا تو سب سے پہلے یعنی ایہم اور سید اور عاقب سے بھی پیشر اس سے مشورہ ہوتا جب یہ آگیا تو اسقف نے حضور ﷺ کا خط اسے دیا جب اس نے پڑھ لیا تو اسقف نے پوچھا بتاؤ کیا خیال ہے ؟ شرحیل نے کہا بادشاہ کو خوب علم ہے کہ حضرت اسماعیل کو اولاد میں سے اللہ کے ایک نبی کے آنے کا وعدہ اللہ کی کتاب میں ہے کیا عجب کہ وہ نبی یہی ہو، امر نبوت میں کیا رائے دے سکتا ہوں ہاں اگر امور سلطنت کی کوئی بات ہوتی تو بیشک میں اپنے دماغ پر زور ڈال کر کوئی بات نکال لیتا، اسقف نے انہیں تو الگ بٹھا دیا اور عبداللہ بن شرحیل کو بلایا یہ بھی مشیر سلطنت تھا اور حمیر کے قبیلے میں سے تھا اسے خط دیا پڑھایا رائے پوچھی تو اس نے بھی ٹھیک وہی بات کہی جو پہلا مشیر کہہ چکا تھا اسے بھی بادشاہ نے دور بٹھا دیا پھر جبار بن فیض کو بلایا جو بنو حارث میں سے تھا اس نے بھی یہی کہا جو ان دونوں نے کہا تھا، بادشاہ نے جب دیکھا کہ ان تینوں کی رائے متفق ہے تو حکم دیا گیا کہ ناقوس بجائے جائیں آگ جلا دی جائے اور گرجوں میں جھنڈے بلند کر دئیے جائیں وہاں کا یہ دستور تھا کہ جب سلطنت کا کوئی اہم کام ہوتا تو رات کو جمع کرنا مقصود ہوتا تو یہی کرتے اور اگر دن کا وقت ہوتا تو گرجوں میں آگ جلا دی جاتی اور ناقوس زور زور سے بجائے جاتے، اس حکم کے ہوتے ہی چاروں طرف آگ جلا دی گئی اور ناقوس کی آواز نے ہر ایک کو ہوشیار کردیا اور جھنڈے اونچے دیکھ دیکھ کر آس پاس کے وادی کے تمام لوگ جمع ہوگئے اس وادی کا طول اتنا تھا کہ تیز سوار صبح سے شام تک دوسرے کنارے پہنچتا تھا اس میں تہتر گاؤں آباد تھے اور ایک لاکھ بیس ہزار تلوار چلانے والے یہاں آباد تھے جب یہ سب لوگ آگئے تو اسقف نے انہیں رسول اللہ ﷺ کا نامہ مبارک پڑھ کر سنایا اور پوچھا بتاؤ تمہاری کیا رائے ہے ؟ تو تمام عقلمندوں نے کہا کہ شرحیل بن وداعہ ہمدانی عبداللہ بن شرحیل اصبحی اور جبار بن فیض حارثی کو بطور وفد کے بھیجا جائے، یہ وہاں سے پختہ خبر لائیں، اب یہاں سے یہ وفد ان تینوں کی سرداری کے ماتحت روانہ ہوا مدینہ پہنچ کر انہوں نے سفری لباس اتار ڈالا اور نقش بنے ہوئے ریشمی لمبے لمبے حلے پہن لئے اور سونے کی انگوٹھیاں انگلیوں میں ڈال لیں اور اپنی چادروں کے پلے تھامے ہوئے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، سلام کیا لیکن آپ نے جواب نہ دیا بہت دیر تک انتظار کیا حضور ﷺ کچھ بات کریں لیکن ان ریشمی حلوں اور سونے کی انگوٹھیوں کی وجہ سے آپ نے ان سے کلام بھی نہ کیا اب یہ لوگ حضرت عثمان بن عفان ؓ اور حضرت عبدالرحمن بن عوف ؓ کی تلاش میں نکلے اور ان دونوں بزرگوں سے ان کی پہلی ملاقات تھی مہاجرین اور انصار کے ایک مجمع میں ان دونوں حضرات کو پا لیا ان سے واقعہ بیان کیا تمہارے نبی ﷺ نے ہمیں خط لکھا ہم اس کا جواب دینے کے لئے خود حاضر ہوئے آپ کے پاس گئے سلام کیا لیکن جواب نہ دیا پھر بہت دیر تک انتظار میں بیٹھے رہے کہ آپ سے کچھ باتیں ہوجاتیں لیکن آپ نے ہم سے کوئی بات نہ کی آخر ہم لوگ تھک کر چلے آئے اب آپ حضرات فرمائے کہ کیا ہم یونہی واپس چلے جائیں، ان دونوں نے حضرت علی بن ابو طالب سے کہا کہ آپ ہی انہیں جواب دیجئے حضرت علی نے فرمایا میرا خیال ہے کہ یہ لوگ اپنے حلے اور اپنی انگوٹھیاں اتار دیں اور وہی سفری معمولی لباس پہن کر حضور ﷺ کی خدمت میں دوبارہ جائیں چناچہ انہوں نے یہی کیا اور اسی معمولی لباس میں گئے سلام کیا آپ نے جواب دیا پھر فرمایا اس اللہ کی قسم جس نے مجھے حق کے ساتھ بھیجا ہے یہ جب میرے پاس پہلی مرتبہ آئے تھے تو ان کے ساتھ ابلیس تھا، اب سوال جواب بات چیت شروع ہوئی حضور ﷺ بھی پوچھتے تھے اور وہ جواب دیتے تھے اسی طرح وہ بھی سوال کرتے اور جواب پاتے، آخر میں انہوں نے پوچھا آپ حضرت عیسیٰ کی بابت کیا فرماتے ہیں ؟ تاکہ ہم اپنی قوم کے پاس جا کر وہ کہیں ہمیں اس کی خوشی ہے کہ اگر آپ نبی ہیں تو آپ کی زبانیں سنیں کہ آپ کا ان کی بابت کیا خیال ہے ؟ تو آپ نے فرمایا میرے پاس اس کا جواب آج تو نہیں تم ٹھہرو تو میرا رب مجھ سے اس کی بابت جو فرمائے گا وہ میں تمہیں سنا دوں گا، دوسرے دن وہ پھر آئے تو آپ نے اسی وقت کی اتری ہوئی اس آیت (اِنَّ مَثَلَ عِيْسٰى عِنْدَ اللّٰهِ كَمَثَلِ اٰدَمَ ۭخَلَقَهٗ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهٗ كُنْ فَيَكُوْنُ 59 اَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُنْ مِّنَ الْمُمْتَرِيْنَ 60 فَمَنْ حَاۗجَّكَ فِيْهِ مِنْۢ بَعْدِ مَا جَاۗءَكَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ اَبْنَاۗءَنَا وَاَبْنَاۗءَكُمْ وَنِسَاۗءَنَا وَنِسَاۗءَكُمْ وَاَنْفُسَنَا وَاَنْفُسَكُمْ ۣ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَلْ لَّعْنَتَ اللّٰهِ عَلَي الْكٰذِبِيْنَ 61) 3۔ آل عمران :596061) تلاوت کر سنائی انہوں نے اس بات کا اقرار کرنے سے انکار کردیا، دوسرے دن صبح ہی صبح رسول اللہ ﷺ ملاعنہ کے لئے حضرت حسن کو اور حضرت حسین کو اپنی چادر میں لئے ہوئے تشریف لائے پیچھے پیچھے حضرت فاطمہآرہی تھیں اس وقت آپ کی کئی ایک بیویاں تھیں، شرحیل یہ دیکھتے ہی اپنے دونوں ساتھیوں سے کہنے لگا تم جانتے ہو کہ نجران کی ساری وادی میری بات کو مانتی ہے اور میری رائے پر کاربند ہوتی ہے، سنو اللہ کی قسم یہ معاملہ بڑا بھاری ہے اگر یہ شخص ﷺ مبعوث کیا گیا ہے تو سب سے پہلے اس کی نگاہوں میں ہم ہی مطعون ہوں گے اور سب سے پہلے اس کی تردید کرنے والے ہم ہی ٹھہریں گے یہ بات اس کے اور اس کے ساتھیوں کے دلوں میں نہیں جائے گی اور ہم پر کوئی نہ کوئی مصیبت و آفت آئے گی عرب بھر میں سب سے زیادہ قریب ان سے میں ہی ہوں اور سنو اگر یہ شخص بنی مرسل ہے تو مباہلہ کرتے ہی روئے زمین پر ایک بال یا ایک ناخن بھی ہمارا نہ رہے گا، اس کے دونوں ساتھیوں نے کہا پھر اے ابو ویہم آپ کی کیا رائے ہے ؟ اس نے کہا میری رائے یہ ہے کہ اسی کو ہم حاکم بنادیں جو کچھ یہ حکم دے ہم اسے منظور کرلیں یہ کبھی بھی خلاف عدل حکم نہ دے گا، ان دونوں نے اس بات کو تسلیم کرلیا، اب شرجیل نے حضور ﷺ سے کہا کہ میں اس ملاعنہ سے بہتر چیز جناب کے سامنے پیش کرتا ہوں آپ نے دریافت فرمایا وہ کیا ؟ کہا آج کا دن آنے والی رات اور کل کی صبح تک آپ ہمارے بارے میں جو حکم کریں ہمیں منظور ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا شاید اور لوگ تمہارے اس فیصلے کو نہ مانیں، شرحیل نے کہا اس کی بابت میرے ان دونوں ساتھیوں سے دریافت فرما لیجئے آپ نے ان دونوں سے پوچھا انہوں نے جواب دیا کہ سارے وادی کے لوگ انہی کی رائے پر چلتے ہیں وہاں ایک بھی ایسا نہیں جو ان کے فیصلے کو ٹال سکے، پس حضور ﷺ نے یہ درخواست قبول فرمائی۔ مباہلہ نہ کیا اور واپس لوٹ گئے دوسرے دن صبح ہی وہ حاضر خدمت ہوئے تو آپ نے ایک تحریر انہیں لکھ دی کہ جس میں بسم اللہ کے بعد یہ مضمون تھا کہ " تحریر اللہ کے نبی محمد رسول اللہ ﷺ کی طرف سے نجرانیوں کے لئے ہے ان پر اللہ کے رسول ﷺ کا حکم جاری تھا ہر پھل، ہر سیاہ وسفید اور ہر غلام پر لیکن اللہ کے رسول ﷺ یہ سب انہی کو دیتے ہیں یہ ہر سال صرف دو ہزار حلے دے دیا کریں ایک ہزار رجب میں اور ایک ہزار صفر میں وغیرہ وغیرہ، پورا عہد نامہ انہیں عطا فرمایا، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کا یہ وفد سن009ہجری میں آیا تھا اس لئے کہ حضرت زہری فرماتے ہیں سب سے پہلے جزیہ انہی اہل نجران نے حضور ﷺ کو ادا کیا، اور جزیہ کی آیت فتح مکہ کے بعد اتری ہے جو یہ ہے (قَاتِلُوا الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ باللّٰهِ وَلَا بالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَلَا يُحَرِّمُوْنَ مَا حَرَّمَ اللّٰهُ وَرَسُوْلُهٗ وَلَا يَدِيْنُوْنَ دِيْنَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ حَتّٰي يُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَنْ يَّدٍ وَّهُمْ صٰغِرُوْنَ) 9۔ التوبہ :29) اس آیت میں اہل کتاب سے جزیہ لینے کا حکم ہوا ہے، ابن مردویہ میں ہے کہ عاقب اور طیب آنحضرت ﷺ کے پاس آئے آپ نے انہیں ملاعنہ کے لئے کہا اور صبح کو حضرت علی اور حضرت فاطمہ اور حضرت حسن اور حضرت حسین کو لئے ہوئے آپ تشریف لائے اور انہیں کہلا بھیجا انہوں نے قبول نہ کیا اور خراج دینا منظور کرلیا، آپ نے فرمایا اس کی قسم جس نے مجھے حق کے ساتھ بھیجا ہے اگر یہ دونوں " نہیں " کہتے تو ان پر یہی وادی آگ برساتی، حضرت جابر فرماتے ہیں ندع ابنائنا الخ، والی آیت انہی کے بارے میں نازل ہوئی ہے انفسنا سے مراد خود رسول کریم ﷺ اور حضرت علی ابنائنا سے مراد حسن اور حسین نسائنا سے مراد حضرت فاطمۃ الزہرا ؓ مستدرک حاکم وغیرہ میں بھی اس معنی کی حدیث مروی ہے۔ پھر جناب باری کا ارشاد ہے یہ جو ہم نے عیسیٰ کی شان فرمائی ہے حق اور سچ ہے اس میں بال برابر کمی بیشی نہیں، اللہ قابل عبادت ہے کوئی اور نہیں اور وہی غلبہ والا اور حکمت والا ہے، اب بھی اگر یہ منہ پھیر لیں اور دوسری باتوں میں پڑیں تو اللہ بھی ایسے باطل پسندوں کو اور مفسدوں کو بخوبی جانتا ہے انہیں بدترین سزا دے گا اس میں پوری قدرت ہے کوئی اس سے نہ بھاگ سکے نہ اس کا مقابلہ کرسکے، وہ پاک ہے اور تعریفوں والا ہے ہم اس کے عذاب سے اسی کی پناہ چاہتے ہیں۔
63
View Single
فَإِن تَوَلَّوۡاْ فَإِنَّ ٱللَّهَ عَلِيمُۢ بِٱلۡمُفۡسِدِينَ
So if they turn away, then indeed Allah knows those who cause turmoil.
پھر اگر وہ لوگ روگردانی کریں تو یقینا اللہ فساد کرنے والوں کو خوب جانتا ہے
Tafsir Ibn Kathir
The Similarities Between the Creation of Adam and the Creation of `Isa
Allah said,
إِنَّ مَثَلَ عِيسَى عِندَ اللَّهِ
(Verily, the likeness of `Isa before Allah) regarding Allah's ability, since He created him without a father,
كَمَثَلِ ءَادَمَ
(is the likeness of Adam), for Allah created Adam without a father or a mother. Rather,
خَلَقَهُ مِن تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهُ كُن فَيَكُونُ
(He created him from dust, then (He) said to him: "Be!" and he was.)
Therefore, He Who created Adam without a father or a mother is able to create `Isa, as well, without a father. If the claim is made that `Isa is Allah's son because he was created without a father, then the same claim befits Adam even more. However, since such a claim regarding Adam is obviously false, then making the same claim about `Isa is even more false.
Furthermore, by mentioning these facts, Allah emphasizes His ability, by creating Adam without a male or female, Hawa' from a male without a female, and `Isa from a mother without a father, compared to His creating the rest of creation from male and female. This is why Allah said in Surah Maryam,
وَلِنَجْعَلَهُ ءَايَةً لِّلْنَّاسِ
(And We made him a sign for mankind) 19: 21.
Allah said in this Ayah,
الْحَقُّ مِن رَّبِّكَ فَلاَ تَكُنْ مِّن الْمُمْتَرِينَ
((This is) the truth from your Lord, so be not of those who doubt.) meaning, this is the only true story about `Isa, and what is beyond truth save falsehood Allah next commands His Messenger to call those who defy the truth, regarding `Isa, to the Mubahalah (the curse).
The Challenge to the Mubahalah
فَمَنْ حَآجَّكَ فِيهِ مِن بَعْدِ مَا جَآءَكَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعَالَوْاْ نَدْعُ أَبْنَآءَنَا وَأَبْنَآءَكُمْ وَنِسَآءَنَا وَنِسَآءَكُمْ وَأَنفُسَنَا وأَنفُسَكُمْ
(Then whoever disputes with you concerning him after the knowledge that has come to you, say: "Come, let us call our sons and your sons, our women and your women, ourselves and yourselves") for the Mubahalah,
ثُمَّ نَبْتَهِلْ
(then we pray), supplicate,
فَنَجْعَل لَّعْنَتُ اللَّهِ عَلَى الْكَـذِبِينَ
(and we invoke Allah's curse upon the liars) among the two of us.
The reason for the call to Mubahalah and the revelation of the Ayat from the beginning of this Surah until here, is that a delegation from the Christians of Najran (in Yemen) came to Al-Madinah to argue about `Isa, claiming that he was divine and the son of Allah. Allah sent down the beginning of this Surah until here, to refute their claims, as Imam Muhammad bin Ishaq bin Yasar and other scholars stated.
Muhammad bin Ishaq bin Yasar said in his famous Sirah, "The delegation of Christians from Najran came to the Messenger of Allah ﷺ . The delegation consisted of sixty horsemen, including fourteen of their chiefs who make decisions. These men were Al-`Aqib, also known as `Abdul-Masih, As-Sayyid, also known as Al-Ayham, Abu Harithah bin `Alqamah, of the family of Bakr bin Wa`il and Uways bin Al-Harith. They also included, Zayd, Qays, Yazid, Nabih, Khuwaylid, `Amr, Khalid, `Abdullah and Yuhannas. Three of these men were chiefs of this delegation, Al-`Aqib, their leader and to whom they referred for advice and decision; As-Sayyid, their scholar and leader in journeys and social gatherings; and Abu Harithah bin `Alqamah, their patriarch, priest and religious leader. Abu Harithah was an Arab man from the family of Bakr bin Wa`il, but when he embraced Christianity, the Romans and their kings honored him and built churches for him (or in his honor). They also supported him financially and gave him servants, because they knew how firm his faith in their religion was." Abu Harithah knew the description of the Messenger of Allah ﷺ from what he read in earlier divine Books. However, his otherwise ignorance led him to insist on remaining a Christian, because he was honored and had a high position with the Christians. Ibn Ishaq said, "Muhammad bin Ja`far bin Az-Zubayr said that, `The (Najran) delegation came to the Messenger of Allah ﷺ in Al-Madinah, entered his Masjid wearing robes and garments, after the Prophet had prayed the `Asr prayer. They accompanied a caravan of camels led by Bani Al-Harith bin Ka`b. The Companions of the Messenger of Allah ﷺ who saw them said that they never saw a delegation like them after that... Then Abu Harithah bin `Alqamah and Al-`Aqib `Abdul-Masih or As-Sayyid Al-Ayham spoke to the Messenger of Allah ﷺ, and they were Christians like the king (Roman King). However, they disagreed about `Isa; some of them said, `He is Allah,' while some said, `He is the son of Allah,' and some others said, `He is one of a trinity.' Allah is far from what they attribute to Him."
Indeed, these are the creeds of the Christians. They claim that `Isa is God, since he brought the dead back to life, healed blindness, leprosy and various illnesses, told about matters of the future, created the shape of birds and blew life into them, bringing them to life. However, all these miracles occurred by Allah's leave, so that `Isa would be a sign from Allah for people.
They also claim that `Isa is the son of Allah, since he did not have a father and he spoke when he was in the cradle, a miracle which had not occurred by any among the Children of Adam before him, so they claim. They also claim that `Isa is one of a trinity, because Allah would say, `We did, command, create and demand.' They said, `If Allah were one, he would have said, `I did, command, create and decide.' This is why they claim that `Isa and Allah are one (Trinity). Allah is far from what they attribute to Him, and we should mention that the Qur'an refuted all these false Christian claims.
Ibn Ishaq continued, "When these Ayat came to the Messenger from Allah ﷺ, thus judging between him and the People of the Book, Allah also commanded the Prophet to call them to the Mubahalah if they still refused the truth. The Prophet called them to the Mubahalah. They said, `O Abu Al-Qasim! Let us think about this matter and get back to you with our decision to what we want to do.' They left the Prophet and conferred with Al-`Aqib, to whom they referred to for advice. They said to him, `O `Abdul-Masih! What is your advice' He said, `By Allah, O Christian fellows! You know that Muhammad is a Messenger and that he brought you the final word regarding your fellow (`Isa). You also know that no Prophet conducted Mubahalah with any people, and the old persons among them remained safe and the young people grew up. Indeed, it will be the end of you if you do it. If you have already decided that you will remain in your religion and your creed regarding your fellow (`Isa), then conduct a treaty with the man (Muhammad) and go back to your land.' They came to the Prophet and said, `O Abu Al-Qasim! We decided that we cannot do Mubahalah with you and that you remain on your religion, while we remain on our religion. However, send with us a man from your Companions whom you are pleased with to judge between us regarding our monetary disputes, for you are acceptable to us in this regard."'
Al-Bukhari recorded that Hudhayfah said, "Al-`Aqib and As-Sayyid, two leaders from Najran, came to the Messenger of Allah ﷺ seeking to invoke Allah for curses (against whoever is unjust among them), and one of them said to the other, `Let us not do that. By Allah, if he were truly a Prophet and we invoke Allah for curses, we and our offspring shall never succeed afterwards.' So they said, `We will give you what you asked and send a trusted man with us, just a trusted man.' The Messenger of Allah ﷺ said;
«لَأَبْعَثَنَّ مَعَكُمْ رَجُلًا أَمِينًا حَقَّ أَمِين»
فاستشرف لها أصحاب رسول اللهصلى الله عليه وسلّم، فقال:
«قُمْ يَا أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاح»
فلما قام، قال رسول اللهصلى الله عليه وسلّم:
«هَذَا أَمِينُ هذِهِ الْأُمَّة»
("Verily, I will send a trusted man with you, a truly trustworthy man." The Companions of the Messenger of Allah ﷺ all felt eager to be that man. The Messenger said, "O Abu `Ubaydah bin Al-Jarrah! Stand up." When Abu `Ubaydah stood up, the Messenger of Allah ﷺ said, "This is the trustee of this Ummah."')
Al-Bukhari recorded that Anas said that the Messenger of Allah ﷺ said on another occasion,
«لِكُلِّ أُمَّةٍ أَمِينٌ، وَأَمِينُ هذِهِ الْأُمَّةِ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاح»
(Every Ummah has a trustee, and the trustee of this Ummah is Abu `Ubaydah bin Al-Jarrah.)
Imam Ahmad recorded that Ibn `Abbas said, "Abu Jahl, may Allah curse him, said, `If I see Muhammad praying next to the Ka`bah, I will step on his neck.' The Prophet later said,
«لَوْ فَعَلَ لَأَخَذَتْهُ الْمَلَائِكَةُ عِيَانًا، ولو أن اليهود تمنوا الموت لماتوا، ورأوا مقاعدهم من النار، ولو خرج الذين يباهلون رسول اللهصلى الله عليه وسلّم لرجعوا لا يجدون مالًا ولا أهلًا»
(Had he tried to do it, the angels would have taken him publicly. Had the Jews wished for death, they would have perished and would have seen their seats in the Fire. Had those who sought Mubahalah with the Messenger of Allah ﷺ, went ahead with it, they would not have found estates or families when they returned home)." Al-Bukhari, At-Tirmidhi and An-Nasa'i also recorded this Hadith, which At-Tirmidhi graded Hasan Sahih.
Allah then said,
إِنَّ هَـذَا لَهُوَ الْقَصَصُ الْحَقُّ
(Verily, this is the true narrative) meaning, what we narrated to you, O Muhammad, about `Isa is the plain truth that cannot be avoided,
وَمَا مِنْ إِلَـهٍ إِلاَّ اللَّهُ وَإِنَّ اللَّهَ لَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُفَإِن تَوَلَّوْاْ
(and none has the right to be worshipped but Allah. And indeed, Allah is the All-Mighty, the All-Wise. And if they turn away,) by abandoning this truth,
فَإِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ بِالْمُفْسِدِينَ
(then surely, Allah is All-Aware of those who do mischief.) for those who abandon the truth for falsehood commit mischief, and Allah has full knowledge of them and will subject them to the worst punishment. Verily, Allah is able to control everything, all praise and thanks are due to Him, and we seek refuge with Him from His revenge.
اختیارات کی وضاحت اور نجرانی وفد کی روداد حضرت باری جل اسمہ وعلا قدرہ اپنی قدرت کاملہ کا بیان فرما رہا ہے کہ حضرت عیسیٰ کا تو صرف باپ نہ تھا اور میں نے انہیں پیدا کردیا تو کیا کون سی حیرانی بات ہے ؟ میں نے حضرت آدم کو تو ان سے پہلے پیدا کیا تھا ان کا بھی باپ نہ تھا بلکہ ماں بھی نہ تھی، مٹی سے پتلا بنایا اور کہہ دیا آدم ہوجا اسی وقت ہوگیا، پھر میرے لئے صرف ماں سے پیدا کرنا کون سا مشکل ہوسکتا جبکہ بغیر ماں اور باپ کے بھی میں نے پیدا کردیا، پس اگر صرف باپ نہ ہونے کی وجہ سے حضرت عیسیٰ کو تو سب سے پہلے اس مرتبہ سے ہٹا دینا چاہئے، کیونکہ ان کے دعوے کا جھوٹا ہونا اور خرابی اس سے بھی زیادہ یہاں ظاہر ہے یہاں ماں تو ہے وہاں تو نہ ماں تھی نہ باپ، یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ جل جلالہ کی قدرت کاملہ کا ظہور ہے کہ آدم کو بغیر مرد و عورت کے پیدا کیا اور حوا کو صرف مرد سے بغیر عورت کے پیدا کیا، اور عیسیٰ کو صرف عورت سے بغیر مرد کے پیدا کردیا اور باقی مخلوق کو مرد و عورت سے پیدا کیا اسی لئے سورة مریم میں فرمایا (وَلِنَجْعَلَهٗٓ اٰيَةً لِّلنَّاسِ وَرَحْمَةً مِّنَّا ۚ وَكَانَ اَمْرًا مَّقْضِيًّا) 19۔ مریم :21) ہم نے عیسیٰ کو لوگوں کے لئے اپنی قدرت کا نشان بنایا اور یہاں فرمایا ہے۔ عیسیٰ کے بارے میں اللہ کا سچا فیصلہ یہی ہے اس کے سوا اور کچھ کسی کمی یا زیادتی کی گنجائش ہی نہیں ہے کیونکہ حق کے بعد گمراہی ہی ہوتی ہے پس تجھے اے نبی ہرگز ان شکی لوگوں میں نہ ہونا چاہئے، اللہ رب العالمین اس کے بعد اپنے نبی کو حکم دیتا ہے کہ اگر اس قدر واضح اور کامل بیان کے بعد بھی کوئی شخص تجھ سے امر عیسیٰ کے بارے میں جھگڑے تو تو انہیں مباہلہ کی دعوت دے کہ ہم فریقین مع اپنے بیٹوں اور بیویوں کے مباہلہ کے لئے نکلیں اور اللہ جل شانہ سے عاجزی کے ساتھ کہیں کہ اے اللہ ہم دونوں میں جو بھی جھوٹا ہو اس پر تو اپنی لعنت نازل فرما، اس مباہلہ کے نازل ہونے اور سورت کی ابتداء سے یہاں تک کی ان تمام آیتوں کے نازل ہونے کا سبب نجران کے نصاریٰ کا وفد تھا یہ لوگ یہاں آکر حضور ﷺ سے حضرت عیسیٰ کے بارے میں گفتگو کر رہے تھے، ان کا عقیدہ تھا کہ حضرت عیسیٰ حکمرانی کے حصہ دار اور اللہ جل شانہ کے بیٹے ہیں پس ان کی تردید اور ان کے جواب میں یہ سب آیتیں نازل ہوئیں، ابن اسحاق اپنی مشہور عام سیرت میں لکھتے ہیں ان کے علاوہ دوسرے مؤرخین نے بھی اپنی کتابوں میں لکھا ہے کہ نجران کے نصرانیوں نے بطور وفد حضور ﷺ کی خدمت میں اپنے ساٹھ آدمی بھیجے تھے جن میں چودہ شخص ان کے سردار تھے جن کے نام یہ ہیں، عاقب جس کا نام عبدالمسیح تھا، سید جس کا نام ایہم تھا، ابو حارثہ بن علقمہ جو بکر بن وائل کا بھائی تھا، اور اوث بن حارث، زید، قیس، یزید اور اس کے دونوں لڑکے، اور خویلد اور عمرو، خالد، عبداللہ اور محسن یہ سب چودہ سردار تھے لیکن پھر ان میں بڑے سردار تین شخص تھے عاقب جو امیر قوم تھا اور عقلمند سمجھا جاتا تھا اور صاحب مشورہ تھا اور اسی کی رائے پر یہ لوگ مطمئن ہوجاتے تھے اور سید جو ان کا لاٹ پادری تھا اور مدرس اعلیٰ تھا یہ بنوبکر بن وائل کے عرب قبیلے میں سے تھا لیکن نصرانی بن گیا تھا اور رومیوں کے ہاں اس کی بڑی آؤ بھگت تھی اس کے لئے انہوں نے بڑے بڑے گرجے بنا دئیے تھے اور اس کے دین کی مضبوطی دیکھ کر اس کی بہت کچھ خاطر و مدارات اور خدمت و عزت کرتے رہتے تھے یہ شخص حضور ﷺ کی صفت و شان سے واقف تھا اور اگلی کتابوں میں آپ کی صفتیں پڑھ چکا تھا دل سے آپ کی نبوت کا قائل تھا لیکن نصرانیوں میں جو اس کی تکریم و تعظیم تھی اور وہاں جو جاہ و منصب اسے حاصل تھا اس کے چھن جانے کے خوف سے راہ حق کی طرف نہیں آتا تھا، غرض یہ وفد مدینہ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں مسجد نبوی میں حاضر ہوا آپ اس وقت عصر کی نماز سے فارغ ہو کر بیٹھے ہی تھے یہ لوگ نفیس پوشاکیں پہنے ہوئے اور خوبصورت نرم چادریں اوڑھے ہوئے تھے ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے بنو حارث بن کعب کے خاندان کے لوگ ہوں صحابہ کہتے ہیں ان کے بعد ان جیسا باشوکت وفد کوئی نہیں آیا، ان کی نماز کا وقت آگیا تو آپ کی اجازت سے انہوں نے مشرق کی طرف منہ کر کے مسجد نبوی میں ہی اپنے طریق پر نماز ادا کرلی۔ بعد نماز کے حضور ﷺ سے ان کی گفتگو ہوئی ادھر سے بولنے والے یہ تین شخص تھے حارثہ بن علقمہ عاقب یعنی عبدالمسیح اور سید یعنی ایہم یہ گو شاہی مذہب پر تھے لیکن کچھ امور میں اختلاف رکھتے تھے۔ حضرت مسیح کی نسبت ان کے تینوں خیال تھے یعنی وہ خود اللہ جل شانہ ہے اور اللہ کا لڑکا ہے اور تین میں کا تیسرا ہے اللہ ان کے اس ناپاک قول سے مبرا ہے اور بہت ہی بلند وبالا، تقریباً تمام نصاریٰ کا یہی عقیدہ ہے، مسیح کے اللہ ہونے کی دلیل تو ان کے پاس یہ تھی کہ وہ مردوں کو زندہ کردیتا تھا اور اندھوں اور کوڑھیوں اور بیماروں کو شفا دیتا تھا، غیب کی خبریں دیتا تھا اور مٹی کی چڑیا بنا کر پھونک مار کر اڑا دیا کرتا تھا اور جواب اس کا یہ ہے کہ یہ ساری باتیں اس سے اللہ کے حکم سے سرزد ہوتی تھیں اس لئے کہ اللہ کی نشانیاں اللہ کی باتوں کے سچ ہونے پر اور حضرت عیسیٰ کی نبوت پر مثبت دلیل ہوجائیں، اللہ کا لڑکا ماننے والوں کی حجت یہ تھی کہ ان کا بہ ظاہر کوئی باپ نہ تھا اور گہوارے میں ہی بولنے لگے تھے، یہ باتیں بھی ایسی ہیں کہ ان سے پہلے دیکھنے میں ہی نہیں آئی تھیں (اس کا جواب یہ ہے کہ یہ بھی اللہ کی قدرت کی نشانیاں تھیں تاکہ لوگ اللہ کو اسباب کا محکوم اور عادت کا محتاج نہ سمجھیں وغیرہ۔ مترجم) اور تین میں تیسرا اس لئے کہتے تھے کہ اس نے اپنے کلام میں فرمایا ہے ہم نے کیا ہمارا امر ہماری مخلوق ہم نے فیصلہ کیا وغیرہ پس اگر اللہ اکیلا ایک ہی ہوتا تو یوں نہ فرماتا بلکہ فرماتا میں نے کیا میرا امر میری مخلوق میں نے فیصلہ کیا وغیرہ پس ثابت ہوا کہ اللہ تین ہیں خود اللہ رب کعبہ اور عیسیٰ اور مریم (جس کا جواب یہ ہے کہ ہم کا لفظ صرف بڑائی کے لئے اور عظمت کے لئے ہے۔ مترجم) اللہ تعالیٰ ان ظالموں منکروں کعے قول سے پاک و بلند ہے، ان کے تمام عقائد کی تردید قرآن کریم میں نازل ہوئی، جب یہ دونوں پادری حضور ﷺ سے بات چیت کرچکے تو آپ نے فرمایا تم مسلمان ہوجاؤ انہوں نے کہا ہم تو ماننے والے ہیں ہی، آپ نے فرمایا نہیں نہیں تمہیں چاہئے کہ اسلام قبول کرلو وہ کہنے لگے ہم تو آپ سے پہلے کے مسلمان ہیں فرمایا نہیں تمہارا یہاسلامق بول نہیں اس لئے کہ تم اللہ کی اولاد مانتے ہو صلیب کی پوجا کرتے ہو خنزیر کھاتے ہو۔ انہوں نے کہا اچھا پھر یہ تو فرمائے کہ حضرت عیسیٰ کا باپ کون تھا ؟ حضور ﷺ تو اس پر خاموش رہے اور سورة آل عمرانھ کی شروع سے لے کر اوپر تک کی آیتیں ان کے جواب میں نازل ہوئیں، ابن اسحاق ان سب کی مختصر سی تفسیر بیان کر کے پھر لکھتے ہیں آپ نے یہ سب تلاوت کر کے انہیں سمجھا دیں۔ اس مباہلہ کی آیت کو پڑھ کر آپ نے فرمایا اگر نہیں مانتے تو آؤ مباہلہ کا نکلو یہ سن کر وہ کہنے لگے اے ابو القاسم ہمیں مہلت دیجئے کہ ہم آپس میں مشورہ کرلیں پھر تمہیں اس کا جواب دیں گے اب تنہائی میں بیٹھ کر انہوں نے عاقب سے مشورہ لیا جو بڑا دانا اور عقلمند سمجھا جاتا تھا اس نے اپنا حتمی فیصلہ ان الفاظ میں سنایا کہ اے جماعت نصاریٰ تم نے یقین کے ساتھ اتنا تو معلوم کرلیا ہے کہ حضرت محمد ﷺ اللہ کے سچے رسول ہیں اور یہ بھی تم جانتے ہو کہ حضرت عیسیٰ کی حقیت وہی ہے جو محمد ﷺ کی زبانی تم سن چکے ہو اور تمہیں بخوبی علم ہے کہ جو قوم نبی کے ساتھ ملاعنہ کرتی ہے نہ ان کے بڑے باقی رہتے ہیں نہ چھوٹے بڑے ہوتے ہیں بلکہ سب کے سب جڑ بنیاد سے اکھیڑ کر پھینک دئیے جاتے ہیں یاد رکھو کہ اگر تم نے مباہلہ کے لئے قدم بڑھایا تو تمہارا ستیاناس ہوجائے گا، پس یا تو تم اسی دین کو قبول کرلو اور اگر کسی طرح نہیں ماننا چاہتے ہو اور اپنے دین پر اور حضرت عیسیٰ کے متعلق اپنے ہی خیالات پر قائم رہنا چاہتے ہو تو آپ سے صلح کرلو اور اپنے وطن کو لوٹ جاؤ، چناچہ یہ لوگ صلاح مشورہ کر کے پھر دربار نبوی میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے اے ابو القاسم ﷺ ہم آپ سے ملاعنہ کرنے کے لئے تیار نہیں آپ اپنے دین پر رہئے اور ہم اپنے خیالات پر ہیں لیکن آپ ہمارے ساتھ اپنے صحابیوں میں سے کیسی ایسے شخص کو بھیج دیجئے جن سے آپ خوش ہوں کہ وہ ہمارے مالی جھگڑوں کا ہم میں فیصلہ کردیں آپ لوگ ہماری نظروں میں بہت ہی پسندیدہ ہیں۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا اچھا تم دوپہر کو پھر آنا میں تمہارے ساتھ کسی مضبوط امانت دار کو کر دوں گا، حضرت عمر بن خطاب ؓ فرماتے ہیں میں نے کسی دن بھی سردار بننے کی خواہش نہیں کی لیکن اس دن صرف اس خیال ہے سے کہ حضور ﷺ نے جو تعریف کی ہے اس کا تصدیق کرنے والا اللہ کے نزدیک میں بن جاؤں، اسی لئے میں اس روز سویرے سویرے ظہر کی نماز کے لئے چل پڑا، حضور ﷺ تشریف لائے نماز ظہر پڑھائی پھر دائیں بائیں نظریں دوڑانے لگے میں بار بار اپنی جگہ اونچا ہوتا تھا تاکہ آپ کی نگاہیں مجھ پر پڑھیں، آپ برابر بغور دیکھتے ہی رہے یہاں تک کہ نگاہیں حضرت ابو عبید بن جراح ؓ پر پڑیں انہیں طلب فرمایا اور کہا کہ ان کے ساتھ جاؤ اور ان کے اختلافات کا فیصلہ حق سے کردو چناچہ حضرت ابو عبیدہ ؓ ان کے ساتھ تشریف لے گئے ابن مردویہ میں بھی یہ واقعہ اسی طرح منقول ہے لیکن وہاں سرداروں کی گنتی بارہ کی ہے اور اس واقعہ میں بھی قدرے طوالت ہے اور کچھ زائد باتیں بھی ہیں، صحیح بخاری شریف میں بروایت حضرت حذیفہ ؓ مروی ہے نجرانی سردار عاقب اور سید مباحلہ کے ارادے سے حضور ﷺ کے پاس آئے لیکن ایک نے دوسرے سے کہا یہ نہ کر اللہ کی قسم اگر یہ نبی ہیں اور ہم نے ان سے مباہلہ کیا تو ہم اپنی اولادوں سمیت تباہ ہوجائیں گے چناچہ پھر دونوں نے متفق ہو کر کہا حضرت آپ ہم سے جو طلب فرماتے ہیں ہم وہ سب ادا کردیں گے (یعنی جزیہ دینا قبول کرلیا) آپ کسی امین شخص کو ہمارے ساتھ کر دیجئے اور امین کو ہی بھیجنا، آپ نے فرمایا بہتر میں تمہارے ساتھ کامل امین کو ہی کروں گا اصحاب رسول ﷺ ایک دوسرے کو تکنے لگے یہ دیکھیں حضور ﷺ کس کا انتخاب کرتے ہیں آپ نے فرمایا اے ابو عبیدہ بن جراح تم کھڑے ہوجاؤ جب یہ کھڑے ہوئے تو آپ نے فرمایا یہ ہیں اس امت کے امین، صحیح بخاری شریف کی اور حدیث میں ہے ہر امت کا امین ہوتا ہے اور اس امت کا امین ابو عبیدہ بن جراح ہے ؓ مسند احمد میں حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ ابو جہل ملعون نے کہا۔ اگر میں محمد ﷺ کو کعبہ میں نماز پڑھتے دیکھ لوں گا تو اس کی گردن کچل دوں گا فرماتے ہیں کہ آپ نے فرمایا اگر وہ ایسا کرتا تو سب کے سب دیکھتے کہ فرشتے اسے دبوچ لیتے، اور یہودیوں سے جب قرآن نے کہا تھا کہ آؤ جھوٹوں کے لئے موت مانگو اگر وہ مانگتے تو یقینا سب کے سب مرجاتے اور اپنی جگہیں جہنم کی آگ میں دیکھ لیتے اور جن نصرانیوں کو مباہلہ کی دعوت دی گئی تھی اگر وہ حضور ﷺ کے مقابلہ میں مباہلے کے لئے نکلتے تو لوٹ کر اپنے مالوں کو اور اپنے بال بچوں کو نہ پاتے، صحیح بخاری ترمذی اور نسائی میں بھی یہ حدیث ہے، امام ترمذی اسے حسن کہتے ہیں، امام بیہقی نے اپنی کتاب دلائل النبوۃ میں بھی وفد بحران کے قصے کو طویل تر بیان کیا ہے، ہم اسے یہاں نقل کرتے ہیں کیونکہ اس میں بہت سے فوائد ہیں گو اس میں غرابت بھی ہے اور اس مقام سے وہ نہایت مناسبت رکھتا ہے، سلمہ بن عبدیسوع اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں جو پہلے نصرانی تھے پھر مسلمان ہوگئے کہ رسول اللہ ﷺ نے سورة طس قرآن میں نازل ہونے سے پیشتر اہل نجران کو نامہ مبارک لکھا جس کی عبارت یہ تھی بسم الہ ابراہیم واسحاق و یعقوب من محمد النبی رسول اللہ الی اسقف نجران واھل نجران اسلم انتم فانی احمد الیکم الہ ابراہیم واسحاق ویعقوب۔ امام بعد فانی ادعوکم الی عبادۃ اللہ من عبادۃ العباد وادعوکم الی ولایتہ اللہ من ولایتہ العباد فان اییتم فالجزیتہ فان ابیتم فقد اذنتکم بحرب والسلام یعنی اس خط کو میں شروع کرتا ہوں حضرت ابراہیم حضرت اسحاق اور حضرت یعقوب کے اللہ تعالیٰ کے نام سے، یہ خط ہے محمد ﷺ کی طرف سے جو اللہ رب العزت کے نبی اور رسول نجران کے سردار کی طرف ہیں اللہ تعالیٰ کی تمہارے سامنے حمدو ثناء بیان کرتا ہوں جو حضرت ابراہیم، حضرت اسحاق اور حضرت یعقوب کا معبود ہے، پھر میں تمہیں دعوت دیتا ہوں کہ بندوں کی عبادت کو چھوڑ کر اللہ کی عبادت کی طرف آؤ اور بندوں کے والی اپنے کو چھوڑ کر اللہ کی ولایت کی طرف آجاؤ، اگر تم اسے نہ مانو تو جزیہ دو اور ماتحتی اختیار کرو اگر اس سے بھی انکار ہو تو تمہیں لڑائی کا اعلان ہے والسلام، جب یہ خط اسقف کو پہنچا اور اس نے اسے پڑھایا تو بڑا سٹ پٹایا گھبرا گیا اور تھرانے لگا، جھٹ سے شرحیل بن وداعہ کو بلوایا جو ہمدان قبیلہ کا تھا سب سے بڑا مشیر سلطنت یہی تھا جب کبھی کوئی اہم کام آپڑتا تو سب سے پہلے یعنی ایہم اور سید اور عاقب سے بھی پیشر اس سے مشورہ ہوتا جب یہ آگیا تو اسقف نے حضور ﷺ کا خط اسے دیا جب اس نے پڑھ لیا تو اسقف نے پوچھا بتاؤ کیا خیال ہے ؟ شرحیل نے کہا بادشاہ کو خوب علم ہے کہ حضرت اسماعیل کو اولاد میں سے اللہ کے ایک نبی کے آنے کا وعدہ اللہ کی کتاب میں ہے کیا عجب کہ وہ نبی یہی ہو، امر نبوت میں کیا رائے دے سکتا ہوں ہاں اگر امور سلطنت کی کوئی بات ہوتی تو بیشک میں اپنے دماغ پر زور ڈال کر کوئی بات نکال لیتا، اسقف نے انہیں تو الگ بٹھا دیا اور عبداللہ بن شرحیل کو بلایا یہ بھی مشیر سلطنت تھا اور حمیر کے قبیلے میں سے تھا اسے خط دیا پڑھایا رائے پوچھی تو اس نے بھی ٹھیک وہی بات کہی جو پہلا مشیر کہہ چکا تھا اسے بھی بادشاہ نے دور بٹھا دیا پھر جبار بن فیض کو بلایا جو بنو حارث میں سے تھا اس نے بھی یہی کہا جو ان دونوں نے کہا تھا، بادشاہ نے جب دیکھا کہ ان تینوں کی رائے متفق ہے تو حکم دیا گیا کہ ناقوس بجائے جائیں آگ جلا دی جائے اور گرجوں میں جھنڈے بلند کر دئیے جائیں وہاں کا یہ دستور تھا کہ جب سلطنت کا کوئی اہم کام ہوتا تو رات کو جمع کرنا مقصود ہوتا تو یہی کرتے اور اگر دن کا وقت ہوتا تو گرجوں میں آگ جلا دی جاتی اور ناقوس زور زور سے بجائے جاتے، اس حکم کے ہوتے ہی چاروں طرف آگ جلا دی گئی اور ناقوس کی آواز نے ہر ایک کو ہوشیار کردیا اور جھنڈے اونچے دیکھ دیکھ کر آس پاس کے وادی کے تمام لوگ جمع ہوگئے اس وادی کا طول اتنا تھا کہ تیز سوار صبح سے شام تک دوسرے کنارے پہنچتا تھا اس میں تہتر گاؤں آباد تھے اور ایک لاکھ بیس ہزار تلوار چلانے والے یہاں آباد تھے جب یہ سب لوگ آگئے تو اسقف نے انہیں رسول اللہ ﷺ کا نامہ مبارک پڑھ کر سنایا اور پوچھا بتاؤ تمہاری کیا رائے ہے ؟ تو تمام عقلمندوں نے کہا کہ شرحیل بن وداعہ ہمدانی عبداللہ بن شرحیل اصبحی اور جبار بن فیض حارثی کو بطور وفد کے بھیجا جائے، یہ وہاں سے پختہ خبر لائیں، اب یہاں سے یہ وفد ان تینوں کی سرداری کے ماتحت روانہ ہوا مدینہ پہنچ کر انہوں نے سفری لباس اتار ڈالا اور نقش بنے ہوئے ریشمی لمبے لمبے حلے پہن لئے اور سونے کی انگوٹھیاں انگلیوں میں ڈال لیں اور اپنی چادروں کے پلے تھامے ہوئے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، سلام کیا لیکن آپ نے جواب نہ دیا بہت دیر تک انتظار کیا حضور ﷺ کچھ بات کریں لیکن ان ریشمی حلوں اور سونے کی انگوٹھیوں کی وجہ سے آپ نے ان سے کلام بھی نہ کیا اب یہ لوگ حضرت عثمان بن عفان ؓ اور حضرت عبدالرحمن بن عوف ؓ کی تلاش میں نکلے اور ان دونوں بزرگوں سے ان کی پہلی ملاقات تھی مہاجرین اور انصار کے ایک مجمع میں ان دونوں حضرات کو پا لیا ان سے واقعہ بیان کیا تمہارے نبی ﷺ نے ہمیں خط لکھا ہم اس کا جواب دینے کے لئے خود حاضر ہوئے آپ کے پاس گئے سلام کیا لیکن جواب نہ دیا پھر بہت دیر تک انتظار میں بیٹھے رہے کہ آپ سے کچھ باتیں ہوجاتیں لیکن آپ نے ہم سے کوئی بات نہ کی آخر ہم لوگ تھک کر چلے آئے اب آپ حضرات فرمائے کہ کیا ہم یونہی واپس چلے جائیں، ان دونوں نے حضرت علی بن ابو طالب سے کہا کہ آپ ہی انہیں جواب دیجئے حضرت علی نے فرمایا میرا خیال ہے کہ یہ لوگ اپنے حلے اور اپنی انگوٹھیاں اتار دیں اور وہی سفری معمولی لباس پہن کر حضور ﷺ کی خدمت میں دوبارہ جائیں چناچہ انہوں نے یہی کیا اور اسی معمولی لباس میں گئے سلام کیا آپ نے جواب دیا پھر فرمایا اس اللہ کی قسم جس نے مجھے حق کے ساتھ بھیجا ہے یہ جب میرے پاس پہلی مرتبہ آئے تھے تو ان کے ساتھ ابلیس تھا، اب سوال جواب بات چیت شروع ہوئی حضور ﷺ بھی پوچھتے تھے اور وہ جواب دیتے تھے اسی طرح وہ بھی سوال کرتے اور جواب پاتے، آخر میں انہوں نے پوچھا آپ حضرت عیسیٰ کی بابت کیا فرماتے ہیں ؟ تاکہ ہم اپنی قوم کے پاس جا کر وہ کہیں ہمیں اس کی خوشی ہے کہ اگر آپ نبی ہیں تو آپ کی زبانیں سنیں کہ آپ کا ان کی بابت کیا خیال ہے ؟ تو آپ نے فرمایا میرے پاس اس کا جواب آج تو نہیں تم ٹھہرو تو میرا رب مجھ سے اس کی بابت جو فرمائے گا وہ میں تمہیں سنا دوں گا، دوسرے دن وہ پھر آئے تو آپ نے اسی وقت کی اتری ہوئی اس آیت (اِنَّ مَثَلَ عِيْسٰى عِنْدَ اللّٰهِ كَمَثَلِ اٰدَمَ ۭخَلَقَهٗ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهٗ كُنْ فَيَكُوْنُ 59 اَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُنْ مِّنَ الْمُمْتَرِيْنَ 60 فَمَنْ حَاۗجَّكَ فِيْهِ مِنْۢ بَعْدِ مَا جَاۗءَكَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ اَبْنَاۗءَنَا وَاَبْنَاۗءَكُمْ وَنِسَاۗءَنَا وَنِسَاۗءَكُمْ وَاَنْفُسَنَا وَاَنْفُسَكُمْ ۣ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَلْ لَّعْنَتَ اللّٰهِ عَلَي الْكٰذِبِيْنَ 61) 3۔ آل عمران :596061) تلاوت کر سنائی انہوں نے اس بات کا اقرار کرنے سے انکار کردیا، دوسرے دن صبح ہی صبح رسول اللہ ﷺ ملاعنہ کے لئے حضرت حسن کو اور حضرت حسین کو اپنی چادر میں لئے ہوئے تشریف لائے پیچھے پیچھے حضرت فاطمہآرہی تھیں اس وقت آپ کی کئی ایک بیویاں تھیں، شرحیل یہ دیکھتے ہی اپنے دونوں ساتھیوں سے کہنے لگا تم جانتے ہو کہ نجران کی ساری وادی میری بات کو مانتی ہے اور میری رائے پر کاربند ہوتی ہے، سنو اللہ کی قسم یہ معاملہ بڑا بھاری ہے اگر یہ شخص ﷺ مبعوث کیا گیا ہے تو سب سے پہلے اس کی نگاہوں میں ہم ہی مطعون ہوں گے اور سب سے پہلے اس کی تردید کرنے والے ہم ہی ٹھہریں گے یہ بات اس کے اور اس کے ساتھیوں کے دلوں میں نہیں جائے گی اور ہم پر کوئی نہ کوئی مصیبت و آفت آئے گی عرب بھر میں سب سے زیادہ قریب ان سے میں ہی ہوں اور سنو اگر یہ شخص بنی مرسل ہے تو مباہلہ کرتے ہی روئے زمین پر ایک بال یا ایک ناخن بھی ہمارا نہ رہے گا، اس کے دونوں ساتھیوں نے کہا پھر اے ابو ویہم آپ کی کیا رائے ہے ؟ اس نے کہا میری رائے یہ ہے کہ اسی کو ہم حاکم بنادیں جو کچھ یہ حکم دے ہم اسے منظور کرلیں یہ کبھی بھی خلاف عدل حکم نہ دے گا، ان دونوں نے اس بات کو تسلیم کرلیا، اب شرجیل نے حضور ﷺ سے کہا کہ میں اس ملاعنہ سے بہتر چیز جناب کے سامنے پیش کرتا ہوں آپ نے دریافت فرمایا وہ کیا ؟ کہا آج کا دن آنے والی رات اور کل کی صبح تک آپ ہمارے بارے میں جو حکم کریں ہمیں منظور ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا شاید اور لوگ تمہارے اس فیصلے کو نہ مانیں، شرحیل نے کہا اس کی بابت میرے ان دونوں ساتھیوں سے دریافت فرما لیجئے آپ نے ان دونوں سے پوچھا انہوں نے جواب دیا کہ سارے وادی کے لوگ انہی کی رائے پر چلتے ہیں وہاں ایک بھی ایسا نہیں جو ان کے فیصلے کو ٹال سکے، پس حضور ﷺ نے یہ درخواست قبول فرمائی۔ مباہلہ نہ کیا اور واپس لوٹ گئے دوسرے دن صبح ہی وہ حاضر خدمت ہوئے تو آپ نے ایک تحریر انہیں لکھ دی کہ جس میں بسم اللہ کے بعد یہ مضمون تھا کہ " تحریر اللہ کے نبی محمد رسول اللہ ﷺ کی طرف سے نجرانیوں کے لئے ہے ان پر اللہ کے رسول ﷺ کا حکم جاری تھا ہر پھل، ہر سیاہ وسفید اور ہر غلام پر لیکن اللہ کے رسول ﷺ یہ سب انہی کو دیتے ہیں یہ ہر سال صرف دو ہزار حلے دے دیا کریں ایک ہزار رجب میں اور ایک ہزار صفر میں وغیرہ وغیرہ، پورا عہد نامہ انہیں عطا فرمایا، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کا یہ وفد سن009ہجری میں آیا تھا اس لئے کہ حضرت زہری فرماتے ہیں سب سے پہلے جزیہ انہی اہل نجران نے حضور ﷺ کو ادا کیا، اور جزیہ کی آیت فتح مکہ کے بعد اتری ہے جو یہ ہے (قَاتِلُوا الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ باللّٰهِ وَلَا بالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَلَا يُحَرِّمُوْنَ مَا حَرَّمَ اللّٰهُ وَرَسُوْلُهٗ وَلَا يَدِيْنُوْنَ دِيْنَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ حَتّٰي يُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَنْ يَّدٍ وَّهُمْ صٰغِرُوْنَ) 9۔ التوبہ :29) اس آیت میں اہل کتاب سے جزیہ لینے کا حکم ہوا ہے، ابن مردویہ میں ہے کہ عاقب اور طیب آنحضرت ﷺ کے پاس آئے آپ نے انہیں ملاعنہ کے لئے کہا اور صبح کو حضرت علی اور حضرت فاطمہ اور حضرت حسن اور حضرت حسین کو لئے ہوئے آپ تشریف لائے اور انہیں کہلا بھیجا انہوں نے قبول نہ کیا اور خراج دینا منظور کرلیا، آپ نے فرمایا اس کی قسم جس نے مجھے حق کے ساتھ بھیجا ہے اگر یہ دونوں " نہیں " کہتے تو ان پر یہی وادی آگ برساتی، حضرت جابر فرماتے ہیں ندع ابنائنا الخ، والی آیت انہی کے بارے میں نازل ہوئی ہے انفسنا سے مراد خود رسول کریم ﷺ اور حضرت علی ابنائنا سے مراد حسن اور حسین نسائنا سے مراد حضرت فاطمۃ الزہرا ؓ مستدرک حاکم وغیرہ میں بھی اس معنی کی حدیث مروی ہے۔ پھر جناب باری کا ارشاد ہے یہ جو ہم نے عیسیٰ کی شان فرمائی ہے حق اور سچ ہے اس میں بال برابر کمی بیشی نہیں، اللہ قابل عبادت ہے کوئی اور نہیں اور وہی غلبہ والا اور حکمت والا ہے، اب بھی اگر یہ منہ پھیر لیں اور دوسری باتوں میں پڑیں تو اللہ بھی ایسے باطل پسندوں کو اور مفسدوں کو بخوبی جانتا ہے انہیں بدترین سزا دے گا اس میں پوری قدرت ہے کوئی اس سے نہ بھاگ سکے نہ اس کا مقابلہ کرسکے، وہ پاک ہے اور تعریفوں والا ہے ہم اس کے عذاب سے اسی کی پناہ چاہتے ہیں۔
64
View Single
قُلۡ يَـٰٓأَهۡلَ ٱلۡكِتَٰبِ تَعَالَوۡاْ إِلَىٰ كَلِمَةٖ سَوَآءِۭ بَيۡنَنَا وَبَيۡنَكُمۡ أَلَّا نَعۡبُدَ إِلَّا ٱللَّهَ وَلَا نُشۡرِكَ بِهِۦ شَيۡـٔٗا وَلَا يَتَّخِذَ بَعۡضُنَا بَعۡضًا أَرۡبَابٗا مِّن دُونِ ٱللَّهِۚ فَإِن تَوَلَّوۡاْ فَقُولُواْ ٱشۡهَدُواْ بِأَنَّا مُسۡلِمُونَ
Say (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), “O People given the Book(s)! Come towards a word which is common between us and you, that we shall worship no one except Allah, and that we shall not ascribe any partner to Him, and that none of us shall take one another as lords besides Allah”; then if they do not accept say, “Be witness that (only) we are Muslims.”
آپ فرما دیں: اے اہلِ کتاب! تم اس بات کی طرف آجاؤ جو ہمارے اور تمہارے درمیان یکساں ہے، (وہ یہ) کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہیں کریں گے اور ہم اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے اور ہم میں سے کوئی ایک دوسرے کو اللہ کے سوا رب نہیں بنائے گا، پھر اگر وہ روگردانی کریں تو کہہ دو کہ گواہ ہو جاؤ کہ ہم تو اللہ کے تابع فرمان (مسلمان) ہیں
Tafsir Ibn Kathir
Every Person Knows about Tawhid
This Ayah includes the People of the Book, the Jews and Christians, and those who follow their ways.
قُلْ يأَهْلَ الْكِتَـبِ تَعَالَوْاْ إِلَى كَلِمَةٍ
(Say: "O people of the Scripture! Come to a word")
`Word' - in Arabic - also means a complete sentence, as evident from this Ayah. Allah described this word as being one,
سَوَآءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ
(that is the same between us and you), an honest and righteous word that is fair to both parties. Allah then explained this word,
أَلاَّ نَعْبُدَ إِلاَّ اللَّهَ وَلاَ نُشْرِكَ بِهِ شَيْئاً
(that we worship none but Allah (Alone), and that we associate no partners with Him,) we worship neither a statue, cross, idol, Taghut (false gods), fire or anything else. Rather, we worship Allah Alone without partners, and this is the message of all of Allah's Messengers. Allah said,
وَمَآ أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ مِن رَّسُولٍ إِلاَّ نُوحِى إِلَيْهِ أَنَّهُ لا إِلَـهَ إِلاَّ أَنَاْ فَاعْبُدُونِ
(And We did not send any Messenger before you but We revealed to him (saying): "None has the right to be worshipped but I (Allah), so worship Me (Alone and none else).") 21:25 and,
وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِى كُلِّ أُمَّةٍ رَّسُولاً أَنِ اعْبُدُواْ اللَّهَ وَاجْتَنِبُواْ الْطَّـغُوتَ
(And verily, We have sent among every Ummah a Messenger (proclaiming): "Worship Allah (Alone), and avoid (or keep away from) Taghut (all false deities).") 16:36. Allah said next,
وَلاَ يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا أَرْبَابًا مِّن دُونِ اللَّهِ
("and that none of us shall take others as lords besides Allah.") Ibn Jurayj commented, "We do not obey each other in disobedience to Allah."
فَإِن تَوَلَّوْاْ فَقُولُواْ اشْهَدُواْ بِأَنَّا مُسْلِمُونَ
(Then, if they turn away, say: "Bear witness that we are Muslims.") if they abandon this fair call, then let them know that you will remain in Islam as Allah has legislated for you.
We should mention that the letter that the Prophet sent to Heraclius reads, "In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful. From Muhammad, the Messenger of Allah ﷺ, to Heraclius, Leader of the Romans: peace be upon those who follow the true guidance. Embrace Islam and you will acquire safety, embrace Islam and Allah will grant you a double reward. However, if you turn away from it, then you will carry the burden of the peasants, and,
يأَهْلَ الْكِتَـبِ تَعَالَوْاْ إِلَى كَلِمَةٍ سَوَآءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ أَلاَّ نَعْبُدَ إِلاَّ اللَّهَ وَلاَ نُشْرِكَ بِهِ شَيْئاً وَلاَ يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا أَرْبَابًا مِّن دُونِ اللَّهِ فَإِن تَوَلَّوْاْ فَقُولُواْ اشْهَدُواْ بِأَنَّا مُسْلِمُونَ
("O people of the Scripture: Come to a word that is the same between us and you, that we worship none but Allah (Alone), and that we associate no partners with Him, and that none of us shall take others as lords besides Allah." Then, if they turn away, say: "Bear witness that we are Muslims.")"
Muhammad bin Ishaq and other scholars said that the beginning of Surah Al `Imran, and more than eighty verses thereafter; were revealed about the delegation of Najran. Az-Zuhri stated that the people of Najran were the first people to pay the Jizyah (tax money paid to the Muslim State). However, there is no disagreement that the Ayah that ordained the Jizyah 9:29 was revealed after the Fath (conquering Makkah, and therefore, after the delegation of Najran came to Al-Madinah). So, how can this Ayah 3:64 be contained in the Prophet's letter to Heraclius before the victory of Makkah, and how can we harmonize between the statements of Muhammad bin Ishaq and Az-Zuhri The answer is that the delegation of Najran came before Al-Hudaybiyyah (before the victory of Makkah), and what they paid was in lieu of the Mubahalah; not as Jizyah. The Ayah about the Jizyah was later revealed, and its ruling supported what occurred with the Najran people. In support of this opinion, we should mention that in another instance, the ruling on dividing the booty into one - fifth (for the Prophet ) and four-fifths (for the fighters) agreed with the practice of `Abdullah bin Jahsh during the raid that he led before Badr. An Ayah later on upheld the way `Abdullah divided the booty. Therefore, it is possible that the Prophet wrote this statement (Say, "O People of the Scripture. ..") in his letter to Heraclius before the Ayah was revealed. Later on, the Qur'an agreed with the Prophet's statement, word by word. It is also a fact that the Qur'an was revealed in agreement with what `Umar said regarding the captured disbelievers at Badr, the Hijab (Muslim woman code of dress), refraining from performing prayer for the hypocrites, and regarding his statements:
وَاتَّخِذُواْ مِن مَّقَامِ إِبْرَهِيمَ مُصَلًّى
(And take you the Maqam (place) of Ibrahim as a place of prayer.) 2:125, and,
عَسَى رَبُّهُ إِن طَلَّقَكُنَّ أَن يُبْدِلَهُ أَزْوَجاً خَيْراً مِّنكُنَّ
(It may be if he divorced you (all) that his Lord will give him instead of you, wives better than you.) 66:5.
یہودیوں اور نصرانیوں سے خطاب یہودیوں نصرانیوں اور انہی جیسے لوگوں سے یہاں خطاب ہو رہا ہے، کلمہ کا اطلاق مفید جملے پر ہوتا ہے، جیسے یہاں کلمہ کہہ کر پھر سوآء الخ کے ساتھ اس کی تعریف یوں کی گئی ہے۔ سواء کے معنی عدل و انصاف جیسے ہم کہیں ہم تم برابر ہیں، پھر اس کی تفسیر کی خاص بات یہ ہے کہ ہم ایک اللہ تعالیٰ ہی کی عبادت کریں اس کے ساتھ کسی بت کو نہ پوجیں صلیب، تصویر، اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور نہ آگ کو نہ اور کسی چیز کو بلکہ تنہا اللہ وحدہ لاشریک کی عبادت کریں، یہی عبادت تمام انبیاء کرام کی تھی، جیسے فرمان ہے آیت (وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا نُوْحِيْٓ اِلَيْهِ اَنَّهٗ لَآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنَا فَاعْبُدُوْنِ) 21۔ الانبیآء :25) یعنی تجھ سے پہلے جس جس رسول کو ہم نے بھیجا سب کی طرف یہی وحی کہ میرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں پس تم سب میری ہی عبادت کیا کرو اور جگہ ارشاد ہے آیت (وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِيْ كُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَ) 16۔ النحل :36) یعنی ہر امت میں رسول بھیج کر ہم نے یہ اعلان کروایا کہ صرف اللہ کی عبادت کرو اور اس کے سوا سب سے بچو۔ پھر فرماتا ہے کہ آپس میں بھی ہم اللہ جل جلالہ کو چھوڑ کر ایک دوسرے کو رب بنائیں، ابن جریج فرماتے ہیں یعنی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں ایک دوسرے کی اطاعت نہ کریں۔ عکرمہ فرماتے ہیں کسی کو سوائے اللہ تعالیٰ کے سجدہ نہ کریں، پھر اگر یہ لوگ اس حق اور عدل دعوت کو بھی قبول نہ کریں تو انہیں تم اپنے مسلمان ہونے کا گواہ بنا لو، ہم نے بخاری کی شرح میں اس واقعہ کا مفصل ذکر کردیا ہے جس میں ہے کہ ابو سفیان جبکہ دربار قیصر میں بلوائے گئے اور شاہ قیصر روم نے حضور ﷺ کے نسب کا حال پوچھا تو انہیں کافر اور دشمن رسول ﷺ ہونے کے باوجود آپ کی خاندانی شرافت کا اقرار کرنا پڑا اور اسی طرح ہر سوال کا صاف اور سچا جواب دینا پڑا یہ واقعہ صلح حدیبیہ کے بعد کا اور فتح مکہ سے پہلے کا ہے اسی باعث قیصر کے اس سوال کے جواب میں کہ کیا وہ (یعنی رسول اللہ ﷺ بدعہدی کرتے ہیں ؟ ابو سفیان نے کہا نہیں کرتے لیکن اب ایک معاہدہ ہمارا ان سے ہوا ہے نہیں معلوم اس میں وہ کیا کریں ؟ یہاں صرف یہ مقصد ہے کہ ان تمام باتوں کے بعد حضور ﷺ کا نامہ مبارک پیش کیا جاتا ہے جس میں بسم اللہ کے بعد یہ لکھا ہوتا ہے کہ یہ خط محمد ﷺ کی طرف سے ہے جو اللہ کے رسول ہیں ﷺ ہرقل کی طرف جو روم کا شاہ ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے سلام ہو اسے جو ہدایت کا تابعدار ہو اس کے بعد اسلام قبول کر سلامت رہے گا، اسلام قبول کر اللہ تعالیٰ تجھے دوہرا اجر دے گا اور اگر تو نے منہ موڑا تو تمام رئیسوں کے گناہوں کا بوجھ تجھ پر پڑے گا پھر یہی آیت لکھی تھی، امام محمد بن اسحاق وغیرہ نے لکھا ہے کہ اس سورت یعنی سورة آل عمران کو شروع سے لے کر " اننی " سے کچھ اوپر تک آیتیں وفد نجران کے بارے میں نازل ہوئی ہیں، امام زہری فرماتے ہیں سب سے پہلے جزیہ انہی لوگوں نے ادا کیا ہے اور اس بات میں بھی مطلقاً اختلاف نہیں ہے کہ آیت جزیہ فتح مکہ کے بعد اتری ہے پس یہ اعتراض ہوتا ہے کہ جب یہ آیت فتح مکہ کے بعد نازل ہوئی ہے تو پھر فتح سے پہلے حضور ﷺ نے اپنے خط میں ہرقل کو یہ آیت کیسے لکھی ؟ اس کے جواب کئی ہوسکتے ہیں ایک تو یہ کہ ممکن ہے یہ آیت دو مرتبہ اتری ہو اول حدیبیہ سے پہلے اور فتح مکہ کے بعد، دوسرا جواب یہ ہے کہ ممکن ہے شروع سورت سے لے کر اس آیت تک وفد نجران کے بارے میں اتری ہو یا یہ آیت اس سے پہلے اتر چکی ہو اس صورت میں ابن اسحاق کا یہ فرمانا کہ اسی کے اوپر کی کچھ آیتیں اسی وفد کے بارے میں اتری ہیں یہ محفوظ نہ ہو کیونکہ ابو سفیان والا واقعہ سراسر اس کے خلاف ہے، تیسرا جواب یہ ہے کہ ممکن ہے وفد نجران حدیبیہ سے پہلے آیا ہو اور انہوں نے جو کچھ دینا منظور کیا ہو یہ صرف مباہلہ سے بچنے کے لئے بطور مصالحت کے ہو نہ کہ جزیہ دیا ہو اور یہ اتفاق کی بات ہو کہ آیت جزیہ اس واقعہ کے بعد اتری جس سے اس کا اتفاقاً الحاق ہوگیا۔ جیسے کہ حضرت عبداللہ بن حجش ؓ نے بدر سے پہلے غزوے کے مال غنیمت کو پانچ حصوں میں تقسیم کیا اور پانچواں حصہ باقی رکھ کر دوسرے حصے لشکر میں تقسیم کردیئے، پھر اس کے بعد مال غنیمت کی تقسیم کی آیتیں بھی اسی کے مطابق اتریں اور یہی حکم ہوا۔ چوتھا جواب یہ ہے کہ احتمال ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے خط میں جو ہرقل کو بھیجا اس میں یہ بات اسی طرح بطور خود لکھی ہو پھر آنحضرت کے الفاظ ہی میں وحی نازل ہوئی ہو جیسے کہ حضرت عمر بن خطاب ؓ کے پردے کے حکم کے بارے میں اسی طرح آیت اتری، اور بدوی قیدیوں کے بارے میں انہی کے ہم خیال فرمان باری نازل ہوا اسی طرح منافقوں کا جنازہ پڑھنے کی بابت بھی انہی کی بات قائم رکھی گئی، چناچہ مقام ابراہیم کے مصلے بنانے سے متعلق بھی اسی طرح وحی نازل ہوئی اور آیت (عَسٰى رَبُّهٗٓ اِنْ طَلَّقَكُنَّ اَنْ يُّبْدِلَهٗٓ اَزْوَاجًا خَيْرًا مِّنْكُنَّ مُسْلِمٰتٍ مُّؤْمِنٰتٍ قٰنِتٰتٍ تٰۗىِٕبٰتٍ عٰبِدٰتٍ سٰۗىِٕحٰتٍ ثَيِّبٰتٍ وَّاَبْكَارًا) 66۔ التحریم :5) بھی انہی کے خیال سے متعلق آیت اتری، پس یہ آیت بھی اسی طرح رسول اللہ ﷺ کے فرمان کے مطابق ہی اتری ہو، یہ بہت ممکن ہے۔
65
View Single
يَـٰٓأَهۡلَ ٱلۡكِتَٰبِ لِمَ تُحَآجُّونَ فِيٓ إِبۡرَٰهِيمَ وَمَآ أُنزِلَتِ ٱلتَّوۡرَىٰةُ وَٱلۡإِنجِيلُ إِلَّا مِنۢ بَعۡدِهِۦٓۚ أَفَلَا تَعۡقِلُونَ
O People given the Book(s)! Why do you argue about Ibrahim, whereas the Taurat (Torah) and the Injeel (Bible) were not sent down until after him? So do you not have sense?
اے اہلِ کتاب! تم ابراہیم (علیہ السلام) کے بارے میں کیوں جھگڑتے ہو (یعنی انہیں یہودی یا نصرانی کیوں ٹھہراتے ہو) حالانکہ تورات اور انجیل (جن پر تمہارے دونوں مذہبوں کی بنیاد ہے) تو نازل ہی ان کے بعد کی گئی تھیں، کیا تم (اتنی بھی) عقل نہیں رکھتے
Tafsir Ibn Kathir
Disputing with the Jews and Christians About the Religion of Ibrahim
Allah censures the Jews and Christians for their dispute with Muslims over Ibrahim Al-Khalil and the claim each group made that he was one of them. Muhammad bin Ishaq bin Yasar reported that Ibn `Abbas said, "The Christians of Najran and Jewish rabbis gathered before the Messenger of Allah ﷺ and disputed in front of him. The rabbis said, `Ibrahim was certainly Jewish.' The Christians said, `Certainly, Ibrahim was Christian.' So Allah sent down,
يأَهْلَ الْكِتَـبِ لِمَ تُحَآجُّونَ فِى إِبْرَهِيمَ
(O people of the Scripture (Jews and Christians)! Why do you dispute about Ibrahim,) meaning, `How is it that you, Jews, claim that Ibrahim was Jew, although he lived before Allah sent down the Tawrah to Musa How is it that you, Christians, claim that Ibrahim was Christian, although Christianity came after his time" This is why Allah said,
أَفَلاَ تَعْقِلُونَ
(Have you then no sense)
Allah then said,
هأَنتُمْ هَـؤُلاءِ حَـجَجْتُمْ فِيمَا لَكُم بِهِ عِلمٌ فَلِمَ تُحَآجُّونَ فِيمَا لَيْسَ لَكُمْ بِهِ عِلْمٌ
(Verily, you are those who have disputed about that of which you have knowledge. Why do you then dispute concerning that of which you have no knowledge)
This Ayah criticizes those who argue and dispute without knowledge, just as the Jews and Christians did concerning Ibrahim. Had they disputed about their religions, which they had knowledge of, and about the Law that was legislated for them until Muhammad ﷺ was sent, it would have been better for them. Rather, they disputed about what they had no knowledge of, so Allah criticized them for this behavior. Allah commanded them to refer what they have no knowledge of to He Who knows the seen and unseen matters and Who knows the true reality of all things. This is why Allah said,
وَاللَّهُ يَعْلَمُ وَأَنتُمْ لاَ تَعْلَمُونَ
(It is Allah Who knows, and you know not.)
Allah said,
مَا كَانَ إِبْرَهِيمُ يَهُودِيًّا وَلاَ نَصْرَانِيًّا وَلَكِن كَانَ حَنِيفًا مُّسْلِمًا
(Ibrahim was neither a Jew nor a Christian, but he was a true Muslim Hanifa), shunning Shirk and living in Iman,
وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ
(and he was not of the Mushrikin.)
This Ayah is similar to the Ayah in Surat Al-Baqarah,
وَقَالُواْ كُونُواْ هُودًا أَوْ نَصَـرَى تَهْتَدُواْ
(And they say, "Be Jews or Christians, then you will be guided...") 2:135.
Allah said next,
إِنَّ أَوْلَى النَّاسِ بِإِبْرَهِيمَ لَلَّذِينَ اتَّبَعُوهُ وَهَـذَا النَّبِىُّ وَالَّذِينَ ءَامَنُواْ وَاللَّهُ وَلِىُّ الْمُؤْمِنِينَ
(Verily, among mankind who have the best claim to Ibrahim are those who followed him, and this Prophet and those who have believed. And Allah is the Wali (Protector and Helper) of the believers.)
This Ayah means, "The people who have the most right to be followers of Ibrahim are those who followed his religion and this Prophet, Muhammad ﷺ , and his Companions from the Muhajirin, Ansar and those who followed their lead." Sa`id bin Mansur recorded that Ibn Mas`ud said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«إِنَّ لِكُلِّ نَبِيَ وُلَاةً مِنَ النَّبِيِّينَ، وَإِنَّ وَلِيِّي مِنْهُمْ أَبِي وَخَلِيلُ رَبِّي عَزَّ وَجَل»
(Every Prophet had a Wali (supporter, best friend) from among the Prophets. My Wali among them is my father Ibrahim, the Khalil (intimate friend) of my Lord, the Exalted and Most Honored)
The Prophet then recited,
إِنَّ أَوْلَى النَّاسِ بِإِبْرَهِيمَ لَلَّذِينَ اتَّبَعُوهُ
(Verily, among mankind who have the best claim to Ibrahim are those who followed him...)
Allah's statement,
وَاللَّهُ وَلِىُّ الْمُؤْمِنِينَ
(And Allah is the Wali (Protector and Helper) of the believers.) means, Allah is the Protector of all those who believe in His Messengers.
حضرت ابراہیم ؑ سے متعلق یہودی اور نصرانی دعوے کی تردید یہودی حضرت ابراہیم کو اپنے میں سے اور نصرانی بھی حضرت ابراہیم کو اپنے میں سے کہتے تھے اور آپس میں اس پر بحث مباحثے کرتے رہتے تھے اللہ تعالیٰ ان آیتوں میں دونوں کے دعوے کی تردید کرتا ہے، حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ نجران کے نصرانیوں کے پاس یہودیوں کے علماء آئے اور حضور ﷺ کے سامنے ان کا جھگڑا شروع ہوگیا، ہر فریق اس بات کا مدعی تھا کہ حضرت خلیل اللہ ہم میں سے تھے اس پر یہ آیت اتری کہ اے یہودیو تم خلیل اللہ کو اپنے میں سے کیسے بتاتے ہو ؟ حالانکہ ان کے زمانے میں نہ موسیٰ تھے نہ توراۃ، حضرت موسیٰ ؑ اور کتاب تورات شریف تو خلیل اللہ ؑ کے بعد آئے، اسی طرح اے نصرانیو حضرت ابراہیم ؑ کو نصرانی کیسے کہہ سکتے ہو ؟ حالانکہ نصرانیت تو ان کے صدیوں بعد ظہور میں آئی کیا تم اتنی موٹی بات کے سمجھنے کی عقل بھی نہیں رکھتے ؟ پھر ان دونوں فرقوں کی اس بےعلمی کے جھگڑے پر رب دو عالم انہیں ملامت کرتا ہے اگر تم بحث و مباحثہ دینی امور میں جو تمہارے پاس ہیں کرتے تو بھی خیر ایک بات تھی تم تو اس بارے میں گفتگو کرتے ہو جس کا دونوں کو مطلق علم ہی نہیں، تمہیں چاہئے کہ جس چیز کا علم نہ ہو اسے اس علیم اللہ کے حوالے کرو جو ہر چیز کی حقیقت کو جانتا ہے اور چھپی کھلی تمام چیزوں کا علم رکھتا ہے، اسی لئے فرمایا اللہ جانتا ہے اور تم محض بیخبر ہو۔ دراصل اللہ کے خلیل اللہ حضرت ابراہیم ؑ نہ تو یہودی تھے نہ نصرانی تھے وہ شرک سے بیزار مشرکوں سے الگ صحیح اور کامل ایمان کے مالک تھے اور ہرگز مشرک نہ تھے، یہ آیت اس آیت کی مثل ہے جو سورة بقرہ میں گذر چکی آیت (وَقَالُوْا كُوْنُوْا ھُوْدًا اَوْ نَصٰرٰى تَهْتَدُوْا) 2۔ البقرۃ :135) یعنی یہ لوگ کہتے ہیں یہودی یا نصرانی بننے میں ہدایت ہے۔ پھر فرمایا کہ سب سے زیادہ حضرت ابراہیم ؑ کی تابعداری کے حقدار ان کے دین پر ان کے زمانے میں چلنے والے تھے اور اب یہ نبی محمد مصطفیٰ ﷺ ہیں اور آپ کے ساتھ کے ایمانداروں کی جماعت جو مہاجرین و انصار ہیں اور پھر جو بھی ان کی پیروی کرتے رہیں قیامت تک، رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں ہر نبی کے ولی دوست نبیوں میں سے ہوتے ہیں میرے ولی دوست انبیاء میں سے میرے باپ اور اللہ کے خلیل حضرت ابراہیم ؑ الصلوٰۃ والسلام ہیں، پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی (ترمذی وغیرہ) پھر فرمایا جو بھی اللہ کے رسول پر ایمان رکھے وہی ان کا ولی اللہ ہے۔
66
View Single
هَـٰٓأَنتُمۡ هَـٰٓؤُلَآءِ حَٰجَجۡتُمۡ فِيمَا لَكُم بِهِۦ عِلۡمٞ فَلِمَ تُحَآجُّونَ فِيمَا لَيۡسَ لَكُم بِهِۦ عِلۡمٞۚ وَٱللَّهُ يَعۡلَمُ وَأَنتُمۡ لَا تَعۡلَمُونَ
Listen! This was what you argued about – of which you have some knowledge – why do you then argue about the matter you do not have any knowledge of? And Allah knows whereas you do not know.
سن لو! تم وہی لوگ ہو جو ان باتوں میں بھی جھگڑتے رہے ہو جن کا تمہیں (کچھ نہ کچھ) علم تھا مگر ان باتوں میں کیوں تکرار کرتے ہو جن کا تمہیں (سرے سے) کوئی علم ہی نہیں، اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے
Tafsir Ibn Kathir
Disputing with the Jews and Christians About the Religion of Ibrahim
Allah censures the Jews and Christians for their dispute with Muslims over Ibrahim Al-Khalil and the claim each group made that he was one of them. Muhammad bin Ishaq bin Yasar reported that Ibn `Abbas said, "The Christians of Najran and Jewish rabbis gathered before the Messenger of Allah ﷺ and disputed in front of him. The rabbis said, `Ibrahim was certainly Jewish.' The Christians said, `Certainly, Ibrahim was Christian.' So Allah sent down,
يأَهْلَ الْكِتَـبِ لِمَ تُحَآجُّونَ فِى إِبْرَهِيمَ
(O people of the Scripture (Jews and Christians)! Why do you dispute about Ibrahim,) meaning, `How is it that you, Jews, claim that Ibrahim was Jew, although he lived before Allah sent down the Tawrah to Musa How is it that you, Christians, claim that Ibrahim was Christian, although Christianity came after his time" This is why Allah said,
أَفَلاَ تَعْقِلُونَ
(Have you then no sense)
Allah then said,
هأَنتُمْ هَـؤُلاءِ حَـجَجْتُمْ فِيمَا لَكُم بِهِ عِلمٌ فَلِمَ تُحَآجُّونَ فِيمَا لَيْسَ لَكُمْ بِهِ عِلْمٌ
(Verily, you are those who have disputed about that of which you have knowledge. Why do you then dispute concerning that of which you have no knowledge)
This Ayah criticizes those who argue and dispute without knowledge, just as the Jews and Christians did concerning Ibrahim. Had they disputed about their religions, which they had knowledge of, and about the Law that was legislated for them until Muhammad ﷺ was sent, it would have been better for them. Rather, they disputed about what they had no knowledge of, so Allah criticized them for this behavior. Allah commanded them to refer what they have no knowledge of to He Who knows the seen and unseen matters and Who knows the true reality of all things. This is why Allah said,
وَاللَّهُ يَعْلَمُ وَأَنتُمْ لاَ تَعْلَمُونَ
(It is Allah Who knows, and you know not.)
Allah said,
مَا كَانَ إِبْرَهِيمُ يَهُودِيًّا وَلاَ نَصْرَانِيًّا وَلَكِن كَانَ حَنِيفًا مُّسْلِمًا
(Ibrahim was neither a Jew nor a Christian, but he was a true Muslim Hanifa), shunning Shirk and living in Iman,
وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ
(and he was not of the Mushrikin.)
This Ayah is similar to the Ayah in Surat Al-Baqarah,
وَقَالُواْ كُونُواْ هُودًا أَوْ نَصَـرَى تَهْتَدُواْ
(And they say, "Be Jews or Christians, then you will be guided...") 2:135.
Allah said next,
إِنَّ أَوْلَى النَّاسِ بِإِبْرَهِيمَ لَلَّذِينَ اتَّبَعُوهُ وَهَـذَا النَّبِىُّ وَالَّذِينَ ءَامَنُواْ وَاللَّهُ وَلِىُّ الْمُؤْمِنِينَ
(Verily, among mankind who have the best claim to Ibrahim are those who followed him, and this Prophet and those who have believed. And Allah is the Wali (Protector and Helper) of the believers.)
This Ayah means, "The people who have the most right to be followers of Ibrahim are those who followed his religion and this Prophet, Muhammad ﷺ , and his Companions from the Muhajirin, Ansar and those who followed their lead." Sa`id bin Mansur recorded that Ibn Mas`ud said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«إِنَّ لِكُلِّ نَبِيَ وُلَاةً مِنَ النَّبِيِّينَ، وَإِنَّ وَلِيِّي مِنْهُمْ أَبِي وَخَلِيلُ رَبِّي عَزَّ وَجَل»
(Every Prophet had a Wali (supporter, best friend) from among the Prophets. My Wali among them is my father Ibrahim, the Khalil (intimate friend) of my Lord, the Exalted and Most Honored)
The Prophet then recited,
إِنَّ أَوْلَى النَّاسِ بِإِبْرَهِيمَ لَلَّذِينَ اتَّبَعُوهُ
(Verily, among mankind who have the best claim to Ibrahim are those who followed him...)
Allah's statement,
وَاللَّهُ وَلِىُّ الْمُؤْمِنِينَ
(And Allah is the Wali (Protector and Helper) of the believers.) means, Allah is the Protector of all those who believe in His Messengers.
حضرت ابراہیم ؑ سے متعلق یہودی اور نصرانی دعوے کی تردید یہودی حضرت ابراہیم کو اپنے میں سے اور نصرانی بھی حضرت ابراہیم کو اپنے میں سے کہتے تھے اور آپس میں اس پر بحث مباحثے کرتے رہتے تھے اللہ تعالیٰ ان آیتوں میں دونوں کے دعوے کی تردید کرتا ہے، حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ نجران کے نصرانیوں کے پاس یہودیوں کے علماء آئے اور حضور ﷺ کے سامنے ان کا جھگڑا شروع ہوگیا، ہر فریق اس بات کا مدعی تھا کہ حضرت خلیل اللہ ہم میں سے تھے اس پر یہ آیت اتری کہ اے یہودیو تم خلیل اللہ کو اپنے میں سے کیسے بتاتے ہو ؟ حالانکہ ان کے زمانے میں نہ موسیٰ تھے نہ توراۃ، حضرت موسیٰ ؑ اور کتاب تورات شریف تو خلیل اللہ ؑ کے بعد آئے، اسی طرح اے نصرانیو حضرت ابراہیم ؑ کو نصرانی کیسے کہہ سکتے ہو ؟ حالانکہ نصرانیت تو ان کے صدیوں بعد ظہور میں آئی کیا تم اتنی موٹی بات کے سمجھنے کی عقل بھی نہیں رکھتے ؟ پھر ان دونوں فرقوں کی اس بےعلمی کے جھگڑے پر رب دو عالم انہیں ملامت کرتا ہے اگر تم بحث و مباحثہ دینی امور میں جو تمہارے پاس ہیں کرتے تو بھی خیر ایک بات تھی تم تو اس بارے میں گفتگو کرتے ہو جس کا دونوں کو مطلق علم ہی نہیں، تمہیں چاہئے کہ جس چیز کا علم نہ ہو اسے اس علیم اللہ کے حوالے کرو جو ہر چیز کی حقیقت کو جانتا ہے اور چھپی کھلی تمام چیزوں کا علم رکھتا ہے، اسی لئے فرمایا اللہ جانتا ہے اور تم محض بیخبر ہو۔ دراصل اللہ کے خلیل اللہ حضرت ابراہیم ؑ نہ تو یہودی تھے نہ نصرانی تھے وہ شرک سے بیزار مشرکوں سے الگ صحیح اور کامل ایمان کے مالک تھے اور ہرگز مشرک نہ تھے، یہ آیت اس آیت کی مثل ہے جو سورة بقرہ میں گذر چکی آیت (وَقَالُوْا كُوْنُوْا ھُوْدًا اَوْ نَصٰرٰى تَهْتَدُوْا) 2۔ البقرۃ :135) یعنی یہ لوگ کہتے ہیں یہودی یا نصرانی بننے میں ہدایت ہے۔ پھر فرمایا کہ سب سے زیادہ حضرت ابراہیم ؑ کی تابعداری کے حقدار ان کے دین پر ان کے زمانے میں چلنے والے تھے اور اب یہ نبی محمد مصطفیٰ ﷺ ہیں اور آپ کے ساتھ کے ایمانداروں کی جماعت جو مہاجرین و انصار ہیں اور پھر جو بھی ان کی پیروی کرتے رہیں قیامت تک، رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں ہر نبی کے ولی دوست نبیوں میں سے ہوتے ہیں میرے ولی دوست انبیاء میں سے میرے باپ اور اللہ کے خلیل حضرت ابراہیم ؑ الصلوٰۃ والسلام ہیں، پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی (ترمذی وغیرہ) پھر فرمایا جو بھی اللہ کے رسول پر ایمان رکھے وہی ان کا ولی اللہ ہے۔
67
View Single
مَا كَانَ إِبۡرَٰهِيمُ يَهُودِيّٗا وَلَا نَصۡرَانِيّٗا وَلَٰكِن كَانَ حَنِيفٗا مُّسۡلِمٗا وَمَا كَانَ مِنَ ٱلۡمُشۡرِكِينَ
Ibrahim was neither a Jew nor a Christian; but he was a Muslim, free from all falsehood; and was not of the polytheists.
ابراہیم (علیہ السلام) نہ یہودی تھے اور نہ نصرانی وہ ہر باطل سے جدا رہنے والے (سچے) مسلمان تھے، اور وہ مشرکوں میں سے بھی نہ تھے
Tafsir Ibn Kathir
Disputing with the Jews and Christians About the Religion of Ibrahim
Allah censures the Jews and Christians for their dispute with Muslims over Ibrahim Al-Khalil and the claim each group made that he was one of them. Muhammad bin Ishaq bin Yasar reported that Ibn `Abbas said, "The Christians of Najran and Jewish rabbis gathered before the Messenger of Allah ﷺ and disputed in front of him. The rabbis said, `Ibrahim was certainly Jewish.' The Christians said, `Certainly, Ibrahim was Christian.' So Allah sent down,
يأَهْلَ الْكِتَـبِ لِمَ تُحَآجُّونَ فِى إِبْرَهِيمَ
(O people of the Scripture (Jews and Christians)! Why do you dispute about Ibrahim,) meaning, `How is it that you, Jews, claim that Ibrahim was Jew, although he lived before Allah sent down the Tawrah to Musa How is it that you, Christians, claim that Ibrahim was Christian, although Christianity came after his time" This is why Allah said,
أَفَلاَ تَعْقِلُونَ
(Have you then no sense)
Allah then said,
هأَنتُمْ هَـؤُلاءِ حَـجَجْتُمْ فِيمَا لَكُم بِهِ عِلمٌ فَلِمَ تُحَآجُّونَ فِيمَا لَيْسَ لَكُمْ بِهِ عِلْمٌ
(Verily, you are those who have disputed about that of which you have knowledge. Why do you then dispute concerning that of which you have no knowledge)
This Ayah criticizes those who argue and dispute without knowledge, just as the Jews and Christians did concerning Ibrahim. Had they disputed about their religions, which they had knowledge of, and about the Law that was legislated for them until Muhammad ﷺ was sent, it would have been better for them. Rather, they disputed about what they had no knowledge of, so Allah criticized them for this behavior. Allah commanded them to refer what they have no knowledge of to He Who knows the seen and unseen matters and Who knows the true reality of all things. This is why Allah said,
وَاللَّهُ يَعْلَمُ وَأَنتُمْ لاَ تَعْلَمُونَ
(It is Allah Who knows, and you know not.)
Allah said,
مَا كَانَ إِبْرَهِيمُ يَهُودِيًّا وَلاَ نَصْرَانِيًّا وَلَكِن كَانَ حَنِيفًا مُّسْلِمًا
(Ibrahim was neither a Jew nor a Christian, but he was a true Muslim Hanifa), shunning Shirk and living in Iman,
وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ
(and he was not of the Mushrikin.)
This Ayah is similar to the Ayah in Surat Al-Baqarah,
وَقَالُواْ كُونُواْ هُودًا أَوْ نَصَـرَى تَهْتَدُواْ
(And they say, "Be Jews or Christians, then you will be guided...") 2:135.
Allah said next,
إِنَّ أَوْلَى النَّاسِ بِإِبْرَهِيمَ لَلَّذِينَ اتَّبَعُوهُ وَهَـذَا النَّبِىُّ وَالَّذِينَ ءَامَنُواْ وَاللَّهُ وَلِىُّ الْمُؤْمِنِينَ
(Verily, among mankind who have the best claim to Ibrahim are those who followed him, and this Prophet and those who have believed. And Allah is the Wali (Protector and Helper) of the believers.)
This Ayah means, "The people who have the most right to be followers of Ibrahim are those who followed his religion and this Prophet, Muhammad ﷺ , and his Companions from the Muhajirin, Ansar and those who followed their lead." Sa`id bin Mansur recorded that Ibn Mas`ud said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«إِنَّ لِكُلِّ نَبِيَ وُلَاةً مِنَ النَّبِيِّينَ، وَإِنَّ وَلِيِّي مِنْهُمْ أَبِي وَخَلِيلُ رَبِّي عَزَّ وَجَل»
(Every Prophet had a Wali (supporter, best friend) from among the Prophets. My Wali among them is my father Ibrahim, the Khalil (intimate friend) of my Lord, the Exalted and Most Honored)
The Prophet then recited,
إِنَّ أَوْلَى النَّاسِ بِإِبْرَهِيمَ لَلَّذِينَ اتَّبَعُوهُ
(Verily, among mankind who have the best claim to Ibrahim are those who followed him...)
Allah's statement,
وَاللَّهُ وَلِىُّ الْمُؤْمِنِينَ
(And Allah is the Wali (Protector and Helper) of the believers.) means, Allah is the Protector of all those who believe in His Messengers.
حضرت ابراہیم ؑ سے متعلق یہودی اور نصرانی دعوے کی تردید یہودی حضرت ابراہیم کو اپنے میں سے اور نصرانی بھی حضرت ابراہیم کو اپنے میں سے کہتے تھے اور آپس میں اس پر بحث مباحثے کرتے رہتے تھے اللہ تعالیٰ ان آیتوں میں دونوں کے دعوے کی تردید کرتا ہے، حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ نجران کے نصرانیوں کے پاس یہودیوں کے علماء آئے اور حضور ﷺ کے سامنے ان کا جھگڑا شروع ہوگیا، ہر فریق اس بات کا مدعی تھا کہ حضرت خلیل اللہ ہم میں سے تھے اس پر یہ آیت اتری کہ اے یہودیو تم خلیل اللہ کو اپنے میں سے کیسے بتاتے ہو ؟ حالانکہ ان کے زمانے میں نہ موسیٰ تھے نہ توراۃ، حضرت موسیٰ ؑ اور کتاب تورات شریف تو خلیل اللہ ؑ کے بعد آئے، اسی طرح اے نصرانیو حضرت ابراہیم ؑ کو نصرانی کیسے کہہ سکتے ہو ؟ حالانکہ نصرانیت تو ان کے صدیوں بعد ظہور میں آئی کیا تم اتنی موٹی بات کے سمجھنے کی عقل بھی نہیں رکھتے ؟ پھر ان دونوں فرقوں کی اس بےعلمی کے جھگڑے پر رب دو عالم انہیں ملامت کرتا ہے اگر تم بحث و مباحثہ دینی امور میں جو تمہارے پاس ہیں کرتے تو بھی خیر ایک بات تھی تم تو اس بارے میں گفتگو کرتے ہو جس کا دونوں کو مطلق علم ہی نہیں، تمہیں چاہئے کہ جس چیز کا علم نہ ہو اسے اس علیم اللہ کے حوالے کرو جو ہر چیز کی حقیقت کو جانتا ہے اور چھپی کھلی تمام چیزوں کا علم رکھتا ہے، اسی لئے فرمایا اللہ جانتا ہے اور تم محض بیخبر ہو۔ دراصل اللہ کے خلیل اللہ حضرت ابراہیم ؑ نہ تو یہودی تھے نہ نصرانی تھے وہ شرک سے بیزار مشرکوں سے الگ صحیح اور کامل ایمان کے مالک تھے اور ہرگز مشرک نہ تھے، یہ آیت اس آیت کی مثل ہے جو سورة بقرہ میں گذر چکی آیت (وَقَالُوْا كُوْنُوْا ھُوْدًا اَوْ نَصٰرٰى تَهْتَدُوْا) 2۔ البقرۃ :135) یعنی یہ لوگ کہتے ہیں یہودی یا نصرانی بننے میں ہدایت ہے۔ پھر فرمایا کہ سب سے زیادہ حضرت ابراہیم ؑ کی تابعداری کے حقدار ان کے دین پر ان کے زمانے میں چلنے والے تھے اور اب یہ نبی محمد مصطفیٰ ﷺ ہیں اور آپ کے ساتھ کے ایمانداروں کی جماعت جو مہاجرین و انصار ہیں اور پھر جو بھی ان کی پیروی کرتے رہیں قیامت تک، رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں ہر نبی کے ولی دوست نبیوں میں سے ہوتے ہیں میرے ولی دوست انبیاء میں سے میرے باپ اور اللہ کے خلیل حضرت ابراہیم ؑ الصلوٰۃ والسلام ہیں، پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی (ترمذی وغیرہ) پھر فرمایا جو بھی اللہ کے رسول پر ایمان رکھے وہی ان کا ولی اللہ ہے۔
68
View Single
إِنَّ أَوۡلَى ٱلنَّاسِ بِإِبۡرَٰهِيمَ لَلَّذِينَ ٱتَّبَعُوهُ وَهَٰذَا ٱلنَّبِيُّ وَٱلَّذِينَ ءَامَنُواْۗ وَٱللَّهُ وَلِيُّ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ
Undoubtedly among all mankind who have the best claim to Ibrahim are those who followed him, and this Prophet (Mohammed – peace and blessings be upon him) and the believers; and Allah is the Guardian of the believers.
بیشک سب لوگوں سے بڑھ کر ابراہیم (علیہ السلام) کے قریب (اور حق دار) تو وہی لوگ ہیں جنہوں نے ان (کے دین) کی پیروی کی ہے اور (وہ) یہی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور (ان پر) ایمان لانے والے ہیں، اور اللہ ایمان والوں کا مددگار ہے
Tafsir Ibn Kathir
Disputing with the Jews and Christians About the Religion of Ibrahim
Allah censures the Jews and Christians for their dispute with Muslims over Ibrahim Al-Khalil and the claim each group made that he was one of them. Muhammad bin Ishaq bin Yasar reported that Ibn `Abbas said, "The Christians of Najran and Jewish rabbis gathered before the Messenger of Allah ﷺ and disputed in front of him. The rabbis said, `Ibrahim was certainly Jewish.' The Christians said, `Certainly, Ibrahim was Christian.' So Allah sent down,
يأَهْلَ الْكِتَـبِ لِمَ تُحَآجُّونَ فِى إِبْرَهِيمَ
(O people of the Scripture (Jews and Christians)! Why do you dispute about Ibrahim,) meaning, `How is it that you, Jews, claim that Ibrahim was Jew, although he lived before Allah sent down the Tawrah to Musa How is it that you, Christians, claim that Ibrahim was Christian, although Christianity came after his time" This is why Allah said,
أَفَلاَ تَعْقِلُونَ
(Have you then no sense)
Allah then said,
هأَنتُمْ هَـؤُلاءِ حَـجَجْتُمْ فِيمَا لَكُم بِهِ عِلمٌ فَلِمَ تُحَآجُّونَ فِيمَا لَيْسَ لَكُمْ بِهِ عِلْمٌ
(Verily, you are those who have disputed about that of which you have knowledge. Why do you then dispute concerning that of which you have no knowledge)
This Ayah criticizes those who argue and dispute without knowledge, just as the Jews and Christians did concerning Ibrahim. Had they disputed about their religions, which they had knowledge of, and about the Law that was legislated for them until Muhammad ﷺ was sent, it would have been better for them. Rather, they disputed about what they had no knowledge of, so Allah criticized them for this behavior. Allah commanded them to refer what they have no knowledge of to He Who knows the seen and unseen matters and Who knows the true reality of all things. This is why Allah said,
وَاللَّهُ يَعْلَمُ وَأَنتُمْ لاَ تَعْلَمُونَ
(It is Allah Who knows, and you know not.)
Allah said,
مَا كَانَ إِبْرَهِيمُ يَهُودِيًّا وَلاَ نَصْرَانِيًّا وَلَكِن كَانَ حَنِيفًا مُّسْلِمًا
(Ibrahim was neither a Jew nor a Christian, but he was a true Muslim Hanifa), shunning Shirk and living in Iman,
وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ
(and he was not of the Mushrikin.)
This Ayah is similar to the Ayah in Surat Al-Baqarah,
وَقَالُواْ كُونُواْ هُودًا أَوْ نَصَـرَى تَهْتَدُواْ
(And they say, "Be Jews or Christians, then you will be guided...") 2:135.
Allah said next,
إِنَّ أَوْلَى النَّاسِ بِإِبْرَهِيمَ لَلَّذِينَ اتَّبَعُوهُ وَهَـذَا النَّبِىُّ وَالَّذِينَ ءَامَنُواْ وَاللَّهُ وَلِىُّ الْمُؤْمِنِينَ
(Verily, among mankind who have the best claim to Ibrahim are those who followed him, and this Prophet and those who have believed. And Allah is the Wali (Protector and Helper) of the believers.)
This Ayah means, "The people who have the most right to be followers of Ibrahim are those who followed his religion and this Prophet, Muhammad ﷺ , and his Companions from the Muhajirin, Ansar and those who followed their lead." Sa`id bin Mansur recorded that Ibn Mas`ud said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«إِنَّ لِكُلِّ نَبِيَ وُلَاةً مِنَ النَّبِيِّينَ، وَإِنَّ وَلِيِّي مِنْهُمْ أَبِي وَخَلِيلُ رَبِّي عَزَّ وَجَل»
(Every Prophet had a Wali (supporter, best friend) from among the Prophets. My Wali among them is my father Ibrahim, the Khalil (intimate friend) of my Lord, the Exalted and Most Honored)
The Prophet then recited,
إِنَّ أَوْلَى النَّاسِ بِإِبْرَهِيمَ لَلَّذِينَ اتَّبَعُوهُ
(Verily, among mankind who have the best claim to Ibrahim are those who followed him...)
Allah's statement,
وَاللَّهُ وَلِىُّ الْمُؤْمِنِينَ
(And Allah is the Wali (Protector and Helper) of the believers.) means, Allah is the Protector of all those who believe in His Messengers.
حضرت ابراہیم ؑ سے متعلق یہودی اور نصرانی دعوے کی تردید یہودی حضرت ابراہیم کو اپنے میں سے اور نصرانی بھی حضرت ابراہیم کو اپنے میں سے کہتے تھے اور آپس میں اس پر بحث مباحثے کرتے رہتے تھے اللہ تعالیٰ ان آیتوں میں دونوں کے دعوے کی تردید کرتا ہے، حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ نجران کے نصرانیوں کے پاس یہودیوں کے علماء آئے اور حضور ﷺ کے سامنے ان کا جھگڑا شروع ہوگیا، ہر فریق اس بات کا مدعی تھا کہ حضرت خلیل اللہ ہم میں سے تھے اس پر یہ آیت اتری کہ اے یہودیو تم خلیل اللہ کو اپنے میں سے کیسے بتاتے ہو ؟ حالانکہ ان کے زمانے میں نہ موسیٰ تھے نہ توراۃ، حضرت موسیٰ ؑ اور کتاب تورات شریف تو خلیل اللہ ؑ کے بعد آئے، اسی طرح اے نصرانیو حضرت ابراہیم ؑ کو نصرانی کیسے کہہ سکتے ہو ؟ حالانکہ نصرانیت تو ان کے صدیوں بعد ظہور میں آئی کیا تم اتنی موٹی بات کے سمجھنے کی عقل بھی نہیں رکھتے ؟ پھر ان دونوں فرقوں کی اس بےعلمی کے جھگڑے پر رب دو عالم انہیں ملامت کرتا ہے اگر تم بحث و مباحثہ دینی امور میں جو تمہارے پاس ہیں کرتے تو بھی خیر ایک بات تھی تم تو اس بارے میں گفتگو کرتے ہو جس کا دونوں کو مطلق علم ہی نہیں، تمہیں چاہئے کہ جس چیز کا علم نہ ہو اسے اس علیم اللہ کے حوالے کرو جو ہر چیز کی حقیقت کو جانتا ہے اور چھپی کھلی تمام چیزوں کا علم رکھتا ہے، اسی لئے فرمایا اللہ جانتا ہے اور تم محض بیخبر ہو۔ دراصل اللہ کے خلیل اللہ حضرت ابراہیم ؑ نہ تو یہودی تھے نہ نصرانی تھے وہ شرک سے بیزار مشرکوں سے الگ صحیح اور کامل ایمان کے مالک تھے اور ہرگز مشرک نہ تھے، یہ آیت اس آیت کی مثل ہے جو سورة بقرہ میں گذر چکی آیت (وَقَالُوْا كُوْنُوْا ھُوْدًا اَوْ نَصٰرٰى تَهْتَدُوْا) 2۔ البقرۃ :135) یعنی یہ لوگ کہتے ہیں یہودی یا نصرانی بننے میں ہدایت ہے۔ پھر فرمایا کہ سب سے زیادہ حضرت ابراہیم ؑ کی تابعداری کے حقدار ان کے دین پر ان کے زمانے میں چلنے والے تھے اور اب یہ نبی محمد مصطفیٰ ﷺ ہیں اور آپ کے ساتھ کے ایمانداروں کی جماعت جو مہاجرین و انصار ہیں اور پھر جو بھی ان کی پیروی کرتے رہیں قیامت تک، رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں ہر نبی کے ولی دوست نبیوں میں سے ہوتے ہیں میرے ولی دوست انبیاء میں سے میرے باپ اور اللہ کے خلیل حضرت ابراہیم ؑ الصلوٰۃ والسلام ہیں، پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی (ترمذی وغیرہ) پھر فرمایا جو بھی اللہ کے رسول پر ایمان رکھے وہی ان کا ولی اللہ ہے۔
69
View Single
وَدَّت طَّآئِفَةٞ مِّنۡ أَهۡلِ ٱلۡكِتَٰبِ لَوۡ يُضِلُّونَكُمۡ وَمَا يُضِلُّونَ إِلَّآ أَنفُسَهُمۡ وَمَا يَشۡعُرُونَ
A group among the People given the Book(s) desire that if only they could lead you astray; and they only make themselves astray, and they do not have sense.
(اے مسلمانو!) اہلِ کتاب میں سے ایک گروہ تو (شدید) خواہش رکھتا ہے کہ کاش وہ تمہیں گمراہ کر سکیں، مگر وہ فقط اپنے آپ ہی کو گمراہی میں مبتلا کئے ہوئے ہیں اور انہیں (اس بات کا) شعور نہیں
Tafsir Ibn Kathir
The Envy the Jews Feel Towards Muslims; Their Wicked Plots Against Muslims
Allah states that the Jews envy the faithful and wish they could misguide them. Allah states that the punishment of this behavior will fall back upon them, while they are unaware. Allah criticizes them,
يأَهْلَ الْكِتَـبِ لِمَ تَكْفُرُونَ بِأَيَـتِ اللَّهِ وَأَنتُمْ تَشْهَدُونَ
(O People of the Scripture!: Why do you disbelieve in the Ayat of Allah, while you bear witness.)
You know for certain that Allah's Ayat are true and authentic,
يأَهْلَ الْكِتَـبِ لِمَ تَلْبِسُونَ الْحَقَّ بِالْبَـطِلِ وَتَكْتُمُونَ الْحَقَّ وَأَنتُمْ تَعْلَمُونَ
(O People of the Scripture: Why do you mix truth with falsehood and conceal the truth while you know) by hiding what is in your Books about the description of Muhammad , while you know what you do.
وَقَالَت طَّآئِفَةٌ مِّنْ أَهْلِ الْكِتَـبِ ءَامِنُواْ بِالَّذِي أُنزِلَ عَلَى الَّذِينَ ءَامَنُواْ وَجْهَ النَّهَارِ وَاكْفُرُواْ ءَاخِرَهُ
(And a party of the People of the Scripture say: "Believe in the morning in that which is revealed to the believers, and reject it at the end of the day,)
This is a wicked plan from the People of the Book to deceive Muslims who are weak in the religion. They decided that they would pretend to be believers in the beginning of the day, by attending the dawn prayer with the Muslims. However, when the day ended, they would revert to their old religion so that the ignorant people would say, "They reverted to their old religion because they uncovered some shortcomings in the Islamic religion." This is why they said next.
لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ
(so that they may turn back.) Ibn Abi Najih said that Mujahid commented about this Ayah, which refers to the Jews, "They attended the dawn prayer with the Prophet and disbelieved in the end of the day in order to misguide the people. This way, people would think that they have uncovered shortcomings in the religion that they briefly followed."
وَلاَ تُؤْمِنُواْ إِلاَّ لِمَن تَبِعَ دِينَكُمْ
("And believe no one except the one who follows your religion.")
They said, do not trust anyone with your secret knowledge, except those who follow your religion. Therefore, they say, do not expose your knowledge to Muslims in order to prevent them from believing in it and, thus, use it as proof against you. Allah replied,
قُلْ إِنَّ الْهُدَى هُدَى اللَّهِ
(Say: (O Prophet) "Verily, right guidance is the guidance of Allah.")
Allah guides the hearts of the faithful to the perfect faith through the clear Ayat, plain proofs and unequivocal evidence that He has sent down to His servant and Messenger Muhammad ﷺ. This occurs, O you Jews, even though you hide the description of Muhammad . the unlettered Prophet whom you find in your Books that you received from the earlier Prophets. Allah's statement;
أَن يُؤْتَى أَحَدٌ مِّثْلَ مَآ أُوتِيتُمْ أَوْ يُحَآجُّوكُمْ عِندَ رَبِّكُمْ
((And they say: ) "Do not believe that anyone can receive like that which you have received, otherwise they would engage you in argument before your Lord.")
They say, "Do not disclose the knowledge that you have to the Muslims, to prevent them from learning it and thus becoming your equals. They will be even better because they will believe in it or will use it against you as evidence with your Lord, and thus establish Allah's proof against you in this life and the Hereafter." Allah said,
قُلْ إِنَّ الْفَضْلَ بِيَدِ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَن يَشَآءُ
(Say: "All the bounty is in the Hand of Allah; He grants to whom He wills.) meaning, all affairs are under His control, and He gives and takes. Verily, Allah gives faith, knowledge and sound comprehension to whomever He wills. He also misguides whomever He wills by blinding his sight, mind, sealing his heart, hearing and stamping his eyes closed. Allah has the perfect wisdom and the unequivocal proofs.
وَاللَّهُ وَسِعٌ عَلِيمٌيَخْتَصُّ بِرَحْمَتِهِ مَن يَشَآءُ وَاللَّهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ
(And Allah is All-Sufficient for His creatures' needs, All-Knower." He selects for His mercy whom He wills and Allah is the Owner of great bounty.) meaning, He has endowed you, O believers, with tremendous virtue, in that He honored your Prophet Muhammad ﷺ over all other prophets, and by directing you to the best Shari`ah there is.
یہودیوں کا حسد یہاں بیان ہو رہا ہے کہ ان یہودیوں کے حسد کو دیکھو کہ مسلمانوں کیسے جل بھن رہے ہیں۔ انہیں بہکانے کی کیا کیا پوشیدہ ترکیبیں کر رہے ہیں کیسے کیسے مکرو فریب کے جال بچھاتے ہیں، حالانکہ دراصل ان تمام چیزوں کا وبال خود ان کی جانوں پر ہے لیکن انہیں اس کا بھی شعور نہیں۔ پھر انہیں ان کی یہ ذلیل حرکت یاد دلائی جا رہی ہے کہ تم سچائی جانتے ہوئے بھی حق کو پہچانتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی آیات سے یہ منکر ہو رہے ہو۔ علم کے باوجود یہ بدخصلت بھی ان میں ہے۔ کہ حق و باطل کو ملا دیتے ہیں، اور ان کی کتابوں میں جو صفیں رسول اللہ ﷺ کی ہیں ان کو چھپالیتے ہیں۔ بہکانے کی جو صورتیں بناتے ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ آپس میں مشورے کرتے ہیں کہ صبح جا کر ایمان لے آؤ مسلمانوں کے ساتھ نمازیں پڑھو اور شام کو پھر مرتد بن جاؤ تاکہ جاہل لوگوں کے دل میں بھی خیال گذرے کہ آخر یہ لوگ جو پلٹ گئے تو ظاہر ہے کہ انہوں نے اس دین میں کوئی خرابی یا برائی ہی دیکھی ہوگی تو کیا عجب کہ ان میں سے کوئی ہماری طرف ٹوٹ آئے، غرض یہ ایک حیلہ جوئی تھی کہ شاید اس سے کوئی کمزور ایمان والا لوٹ جائے اور کچھ سمجھ لے کہ یہ جاننے بوجھنے والے لوگ جب اس دین میں آئے نمازیں پڑھیں اس کے بعد اسے چھوڑ دیا تو ضرور یہاں کوئی خرابی اور نقصان دیکھا ہوگا۔ یہ لوگ کہتے ہیں کہ بھروسہ اپنے والوں پر کرو مسلمانوں پر نہ کرو نہ اپنے بھید ان پر ظاہر ہونے دو نہ اپنی کتابیں انہیں بتاؤ جس سے یہ ان پر ایمان لائیں اور اللہ تعالیٰ کے ہاں بھی ان کے لئے ہم پر حجت بن جائیں۔ تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تو اے نبی کہہ دے کہ ہدایت تو اللہ ہی کے ہاتھ ہے وہ مومنوں کے دلوں کو ہر اس چیز پر ایمان لانے کے لئے آمادہ کردیتا ہے جسے اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا ہو انہیں ان دلائل پر کامل ایمان نصیب ہوتا ہے چاہے تم نبی امی ﷺ کی صفتیں چھپاتے پھرو لیکن پھر بھی خوش قسمت لوگ تو آپ کی نبوت کے ظاہری نشان کو بیک نگاہ پہچان لیں گے۔ اسی طرح کہتے تھے کہ تمہارے پاس جو علم ہے اسے مسلمانوں پر ظاہر نہ کرو کہ وہ اسے سیکھ کر تم جیسے ہوجائیں بلکہ اپنی ایمانی قوت کی وجہ سے تم سے بھی بڑھ جائیں، یا اللہ کے سامنے ان کی حجت و دلیل قائم ہوجائے یعنی خود تمہاری کتابوں سے وہ تمہیں الزام دیں، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم کہہ دو فضل تو اللہ عزوجل کے ہاتھ ہے جسے چاہے دے، سب کام اسی کے قبضے میں ہیں وہی دینے والا ہے جسے چاہے ایمان عمل اور علم و فضل کی دولت سے مالامال کر دے اور جسے چاہے راہ حق سے اندھا اور کلمہ اسلام سے بہرا اور صحیح سمجھ سے محروم کر دے اس کے سب کام حکمت سے ہی ہوتے ہیں وہ وسیع علم والا ہے۔ جسے چاہے اپنی رحمت کے ساتھ خاص کر دے وہ بڑے فضل والا ہے، اے مسلمانو ! اس نے تم پر بےپایاں احسانات کئے ہیں تمہارے نبی کو تم انبیاء پر فضیلت دی اور بہت ہی کامل اور ہر حیثیت سے پوری شریعت اس نے تمہیں دی
70
View Single
يَـٰٓأَهۡلَ ٱلۡكِتَٰبِ لِمَ تَكۡفُرُونَ بِـَٔايَٰتِ ٱللَّهِ وَأَنتُمۡ تَشۡهَدُونَ
O People given the Book(s)! Why do you disbelieve in the signs of Allah, whereas you yourselves are witnesses?
اے اہلِ کتاب! تم اللہ کی آیتوں کا انکار کیوں کر رہے ہو حالانکہ تم خود گواہ ہو (یعنی تم اپنی کتابوں میں سب کچھ پڑھ چکے ہو)
Tafsir Ibn Kathir
The Envy the Jews Feel Towards Muslims; Their Wicked Plots Against Muslims
Allah states that the Jews envy the faithful and wish they could misguide them. Allah states that the punishment of this behavior will fall back upon them, while they are unaware. Allah criticizes them,
يأَهْلَ الْكِتَـبِ لِمَ تَكْفُرُونَ بِأَيَـتِ اللَّهِ وَأَنتُمْ تَشْهَدُونَ
(O People of the Scripture!: Why do you disbelieve in the Ayat of Allah, while you bear witness.)
You know for certain that Allah's Ayat are true and authentic,
يأَهْلَ الْكِتَـبِ لِمَ تَلْبِسُونَ الْحَقَّ بِالْبَـطِلِ وَتَكْتُمُونَ الْحَقَّ وَأَنتُمْ تَعْلَمُونَ
(O People of the Scripture: Why do you mix truth with falsehood and conceal the truth while you know) by hiding what is in your Books about the description of Muhammad , while you know what you do.
وَقَالَت طَّآئِفَةٌ مِّنْ أَهْلِ الْكِتَـبِ ءَامِنُواْ بِالَّذِي أُنزِلَ عَلَى الَّذِينَ ءَامَنُواْ وَجْهَ النَّهَارِ وَاكْفُرُواْ ءَاخِرَهُ
(And a party of the People of the Scripture say: "Believe in the morning in that which is revealed to the believers, and reject it at the end of the day,)
This is a wicked plan from the People of the Book to deceive Muslims who are weak in the religion. They decided that they would pretend to be believers in the beginning of the day, by attending the dawn prayer with the Muslims. However, when the day ended, they would revert to their old religion so that the ignorant people would say, "They reverted to their old religion because they uncovered some shortcomings in the Islamic religion." This is why they said next.
لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ
(so that they may turn back.) Ibn Abi Najih said that Mujahid commented about this Ayah, which refers to the Jews, "They attended the dawn prayer with the Prophet and disbelieved in the end of the day in order to misguide the people. This way, people would think that they have uncovered shortcomings in the religion that they briefly followed."
وَلاَ تُؤْمِنُواْ إِلاَّ لِمَن تَبِعَ دِينَكُمْ
("And believe no one except the one who follows your religion.")
They said, do not trust anyone with your secret knowledge, except those who follow your religion. Therefore, they say, do not expose your knowledge to Muslims in order to prevent them from believing in it and, thus, use it as proof against you. Allah replied,
قُلْ إِنَّ الْهُدَى هُدَى اللَّهِ
(Say: (O Prophet) "Verily, right guidance is the guidance of Allah.")
Allah guides the hearts of the faithful to the perfect faith through the clear Ayat, plain proofs and unequivocal evidence that He has sent down to His servant and Messenger Muhammad ﷺ. This occurs, O you Jews, even though you hide the description of Muhammad . the unlettered Prophet whom you find in your Books that you received from the earlier Prophets. Allah's statement;
أَن يُؤْتَى أَحَدٌ مِّثْلَ مَآ أُوتِيتُمْ أَوْ يُحَآجُّوكُمْ عِندَ رَبِّكُمْ
((And they say: ) "Do not believe that anyone can receive like that which you have received, otherwise they would engage you in argument before your Lord.")
They say, "Do not disclose the knowledge that you have to the Muslims, to prevent them from learning it and thus becoming your equals. They will be even better because they will believe in it or will use it against you as evidence with your Lord, and thus establish Allah's proof against you in this life and the Hereafter." Allah said,
قُلْ إِنَّ الْفَضْلَ بِيَدِ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَن يَشَآءُ
(Say: "All the bounty is in the Hand of Allah; He grants to whom He wills.) meaning, all affairs are under His control, and He gives and takes. Verily, Allah gives faith, knowledge and sound comprehension to whomever He wills. He also misguides whomever He wills by blinding his sight, mind, sealing his heart, hearing and stamping his eyes closed. Allah has the perfect wisdom and the unequivocal proofs.
وَاللَّهُ وَسِعٌ عَلِيمٌيَخْتَصُّ بِرَحْمَتِهِ مَن يَشَآءُ وَاللَّهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ
(And Allah is All-Sufficient for His creatures' needs, All-Knower." He selects for His mercy whom He wills and Allah is the Owner of great bounty.) meaning, He has endowed you, O believers, with tremendous virtue, in that He honored your Prophet Muhammad ﷺ over all other prophets, and by directing you to the best Shari`ah there is.
یہودیوں کا حسد یہاں بیان ہو رہا ہے کہ ان یہودیوں کے حسد کو دیکھو کہ مسلمانوں کیسے جل بھن رہے ہیں۔ انہیں بہکانے کی کیا کیا پوشیدہ ترکیبیں کر رہے ہیں کیسے کیسے مکرو فریب کے جال بچھاتے ہیں، حالانکہ دراصل ان تمام چیزوں کا وبال خود ان کی جانوں پر ہے لیکن انہیں اس کا بھی شعور نہیں۔ پھر انہیں ان کی یہ ذلیل حرکت یاد دلائی جا رہی ہے کہ تم سچائی جانتے ہوئے بھی حق کو پہچانتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی آیات سے یہ منکر ہو رہے ہو۔ علم کے باوجود یہ بدخصلت بھی ان میں ہے۔ کہ حق و باطل کو ملا دیتے ہیں، اور ان کی کتابوں میں جو صفیں رسول اللہ ﷺ کی ہیں ان کو چھپالیتے ہیں۔ بہکانے کی جو صورتیں بناتے ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ آپس میں مشورے کرتے ہیں کہ صبح جا کر ایمان لے آؤ مسلمانوں کے ساتھ نمازیں پڑھو اور شام کو پھر مرتد بن جاؤ تاکہ جاہل لوگوں کے دل میں بھی خیال گذرے کہ آخر یہ لوگ جو پلٹ گئے تو ظاہر ہے کہ انہوں نے اس دین میں کوئی خرابی یا برائی ہی دیکھی ہوگی تو کیا عجب کہ ان میں سے کوئی ہماری طرف ٹوٹ آئے، غرض یہ ایک حیلہ جوئی تھی کہ شاید اس سے کوئی کمزور ایمان والا لوٹ جائے اور کچھ سمجھ لے کہ یہ جاننے بوجھنے والے لوگ جب اس دین میں آئے نمازیں پڑھیں اس کے بعد اسے چھوڑ دیا تو ضرور یہاں کوئی خرابی اور نقصان دیکھا ہوگا۔ یہ لوگ کہتے ہیں کہ بھروسہ اپنے والوں پر کرو مسلمانوں پر نہ کرو نہ اپنے بھید ان پر ظاہر ہونے دو نہ اپنی کتابیں انہیں بتاؤ جس سے یہ ان پر ایمان لائیں اور اللہ تعالیٰ کے ہاں بھی ان کے لئے ہم پر حجت بن جائیں۔ تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تو اے نبی کہہ دے کہ ہدایت تو اللہ ہی کے ہاتھ ہے وہ مومنوں کے دلوں کو ہر اس چیز پر ایمان لانے کے لئے آمادہ کردیتا ہے جسے اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا ہو انہیں ان دلائل پر کامل ایمان نصیب ہوتا ہے چاہے تم نبی امی ﷺ کی صفتیں چھپاتے پھرو لیکن پھر بھی خوش قسمت لوگ تو آپ کی نبوت کے ظاہری نشان کو بیک نگاہ پہچان لیں گے۔ اسی طرح کہتے تھے کہ تمہارے پاس جو علم ہے اسے مسلمانوں پر ظاہر نہ کرو کہ وہ اسے سیکھ کر تم جیسے ہوجائیں بلکہ اپنی ایمانی قوت کی وجہ سے تم سے بھی بڑھ جائیں، یا اللہ کے سامنے ان کی حجت و دلیل قائم ہوجائے یعنی خود تمہاری کتابوں سے وہ تمہیں الزام دیں، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم کہہ دو فضل تو اللہ عزوجل کے ہاتھ ہے جسے چاہے دے، سب کام اسی کے قبضے میں ہیں وہی دینے والا ہے جسے چاہے ایمان عمل اور علم و فضل کی دولت سے مالامال کر دے اور جسے چاہے راہ حق سے اندھا اور کلمہ اسلام سے بہرا اور صحیح سمجھ سے محروم کر دے اس کے سب کام حکمت سے ہی ہوتے ہیں وہ وسیع علم والا ہے۔ جسے چاہے اپنی رحمت کے ساتھ خاص کر دے وہ بڑے فضل والا ہے، اے مسلمانو ! اس نے تم پر بےپایاں احسانات کئے ہیں تمہارے نبی کو تم انبیاء پر فضیلت دی اور بہت ہی کامل اور ہر حیثیت سے پوری شریعت اس نے تمہیں دی
71
View Single
يَـٰٓأَهۡلَ ٱلۡكِتَٰبِ لِمَ تَلۡبِسُونَ ٱلۡحَقَّ بِٱلۡبَٰطِلِ وَتَكۡتُمُونَ ٱلۡحَقَّ وَأَنتُمۡ تَعۡلَمُونَ
O People given the Book(s)! Why do you mix the truth with falsehood and conceal the truth, whereas you know?
اے اہلِ کتاب! تم حق کو باطل کے ساتھ کیوں خلط ملط کرتے ہو اور حق کو کیوں چھپاتے ہو حالانکہ تم جانتے ہو
Tafsir Ibn Kathir
The Envy the Jews Feel Towards Muslims; Their Wicked Plots Against Muslims
Allah states that the Jews envy the faithful and wish they could misguide them. Allah states that the punishment of this behavior will fall back upon them, while they are unaware. Allah criticizes them,
يأَهْلَ الْكِتَـبِ لِمَ تَكْفُرُونَ بِأَيَـتِ اللَّهِ وَأَنتُمْ تَشْهَدُونَ
(O People of the Scripture!: Why do you disbelieve in the Ayat of Allah, while you bear witness.)
You know for certain that Allah's Ayat are true and authentic,
يأَهْلَ الْكِتَـبِ لِمَ تَلْبِسُونَ الْحَقَّ بِالْبَـطِلِ وَتَكْتُمُونَ الْحَقَّ وَأَنتُمْ تَعْلَمُونَ
(O People of the Scripture: Why do you mix truth with falsehood and conceal the truth while you know) by hiding what is in your Books about the description of Muhammad , while you know what you do.
وَقَالَت طَّآئِفَةٌ مِّنْ أَهْلِ الْكِتَـبِ ءَامِنُواْ بِالَّذِي أُنزِلَ عَلَى الَّذِينَ ءَامَنُواْ وَجْهَ النَّهَارِ وَاكْفُرُواْ ءَاخِرَهُ
(And a party of the People of the Scripture say: "Believe in the morning in that which is revealed to the believers, and reject it at the end of the day,)
This is a wicked plan from the People of the Book to deceive Muslims who are weak in the religion. They decided that they would pretend to be believers in the beginning of the day, by attending the dawn prayer with the Muslims. However, when the day ended, they would revert to their old religion so that the ignorant people would say, "They reverted to their old religion because they uncovered some shortcomings in the Islamic religion." This is why they said next.
لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ
(so that they may turn back.) Ibn Abi Najih said that Mujahid commented about this Ayah, which refers to the Jews, "They attended the dawn prayer with the Prophet and disbelieved in the end of the day in order to misguide the people. This way, people would think that they have uncovered shortcomings in the religion that they briefly followed."
وَلاَ تُؤْمِنُواْ إِلاَّ لِمَن تَبِعَ دِينَكُمْ
("And believe no one except the one who follows your religion.")
They said, do not trust anyone with your secret knowledge, except those who follow your religion. Therefore, they say, do not expose your knowledge to Muslims in order to prevent them from believing in it and, thus, use it as proof against you. Allah replied,
قُلْ إِنَّ الْهُدَى هُدَى اللَّهِ
(Say: (O Prophet) "Verily, right guidance is the guidance of Allah.")
Allah guides the hearts of the faithful to the perfect faith through the clear Ayat, plain proofs and unequivocal evidence that He has sent down to His servant and Messenger Muhammad ﷺ. This occurs, O you Jews, even though you hide the description of Muhammad . the unlettered Prophet whom you find in your Books that you received from the earlier Prophets. Allah's statement;
أَن يُؤْتَى أَحَدٌ مِّثْلَ مَآ أُوتِيتُمْ أَوْ يُحَآجُّوكُمْ عِندَ رَبِّكُمْ
((And they say: ) "Do not believe that anyone can receive like that which you have received, otherwise they would engage you in argument before your Lord.")
They say, "Do not disclose the knowledge that you have to the Muslims, to prevent them from learning it and thus becoming your equals. They will be even better because they will believe in it or will use it against you as evidence with your Lord, and thus establish Allah's proof against you in this life and the Hereafter." Allah said,
قُلْ إِنَّ الْفَضْلَ بِيَدِ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَن يَشَآءُ
(Say: "All the bounty is in the Hand of Allah; He grants to whom He wills.) meaning, all affairs are under His control, and He gives and takes. Verily, Allah gives faith, knowledge and sound comprehension to whomever He wills. He also misguides whomever He wills by blinding his sight, mind, sealing his heart, hearing and stamping his eyes closed. Allah has the perfect wisdom and the unequivocal proofs.
وَاللَّهُ وَسِعٌ عَلِيمٌيَخْتَصُّ بِرَحْمَتِهِ مَن يَشَآءُ وَاللَّهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ
(And Allah is All-Sufficient for His creatures' needs, All-Knower." He selects for His mercy whom He wills and Allah is the Owner of great bounty.) meaning, He has endowed you, O believers, with tremendous virtue, in that He honored your Prophet Muhammad ﷺ over all other prophets, and by directing you to the best Shari`ah there is.
یہودیوں کا حسد یہاں بیان ہو رہا ہے کہ ان یہودیوں کے حسد کو دیکھو کہ مسلمانوں کیسے جل بھن رہے ہیں۔ انہیں بہکانے کی کیا کیا پوشیدہ ترکیبیں کر رہے ہیں کیسے کیسے مکرو فریب کے جال بچھاتے ہیں، حالانکہ دراصل ان تمام چیزوں کا وبال خود ان کی جانوں پر ہے لیکن انہیں اس کا بھی شعور نہیں۔ پھر انہیں ان کی یہ ذلیل حرکت یاد دلائی جا رہی ہے کہ تم سچائی جانتے ہوئے بھی حق کو پہچانتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی آیات سے یہ منکر ہو رہے ہو۔ علم کے باوجود یہ بدخصلت بھی ان میں ہے۔ کہ حق و باطل کو ملا دیتے ہیں، اور ان کی کتابوں میں جو صفیں رسول اللہ ﷺ کی ہیں ان کو چھپالیتے ہیں۔ بہکانے کی جو صورتیں بناتے ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ آپس میں مشورے کرتے ہیں کہ صبح جا کر ایمان لے آؤ مسلمانوں کے ساتھ نمازیں پڑھو اور شام کو پھر مرتد بن جاؤ تاکہ جاہل لوگوں کے دل میں بھی خیال گذرے کہ آخر یہ لوگ جو پلٹ گئے تو ظاہر ہے کہ انہوں نے اس دین میں کوئی خرابی یا برائی ہی دیکھی ہوگی تو کیا عجب کہ ان میں سے کوئی ہماری طرف ٹوٹ آئے، غرض یہ ایک حیلہ جوئی تھی کہ شاید اس سے کوئی کمزور ایمان والا لوٹ جائے اور کچھ سمجھ لے کہ یہ جاننے بوجھنے والے لوگ جب اس دین میں آئے نمازیں پڑھیں اس کے بعد اسے چھوڑ دیا تو ضرور یہاں کوئی خرابی اور نقصان دیکھا ہوگا۔ یہ لوگ کہتے ہیں کہ بھروسہ اپنے والوں پر کرو مسلمانوں پر نہ کرو نہ اپنے بھید ان پر ظاہر ہونے دو نہ اپنی کتابیں انہیں بتاؤ جس سے یہ ان پر ایمان لائیں اور اللہ تعالیٰ کے ہاں بھی ان کے لئے ہم پر حجت بن جائیں۔ تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تو اے نبی کہہ دے کہ ہدایت تو اللہ ہی کے ہاتھ ہے وہ مومنوں کے دلوں کو ہر اس چیز پر ایمان لانے کے لئے آمادہ کردیتا ہے جسے اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا ہو انہیں ان دلائل پر کامل ایمان نصیب ہوتا ہے چاہے تم نبی امی ﷺ کی صفتیں چھپاتے پھرو لیکن پھر بھی خوش قسمت لوگ تو آپ کی نبوت کے ظاہری نشان کو بیک نگاہ پہچان لیں گے۔ اسی طرح کہتے تھے کہ تمہارے پاس جو علم ہے اسے مسلمانوں پر ظاہر نہ کرو کہ وہ اسے سیکھ کر تم جیسے ہوجائیں بلکہ اپنی ایمانی قوت کی وجہ سے تم سے بھی بڑھ جائیں، یا اللہ کے سامنے ان کی حجت و دلیل قائم ہوجائے یعنی خود تمہاری کتابوں سے وہ تمہیں الزام دیں، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم کہہ دو فضل تو اللہ عزوجل کے ہاتھ ہے جسے چاہے دے، سب کام اسی کے قبضے میں ہیں وہی دینے والا ہے جسے چاہے ایمان عمل اور علم و فضل کی دولت سے مالامال کر دے اور جسے چاہے راہ حق سے اندھا اور کلمہ اسلام سے بہرا اور صحیح سمجھ سے محروم کر دے اس کے سب کام حکمت سے ہی ہوتے ہیں وہ وسیع علم والا ہے۔ جسے چاہے اپنی رحمت کے ساتھ خاص کر دے وہ بڑے فضل والا ہے، اے مسلمانو ! اس نے تم پر بےپایاں احسانات کئے ہیں تمہارے نبی کو تم انبیاء پر فضیلت دی اور بہت ہی کامل اور ہر حیثیت سے پوری شریعت اس نے تمہیں دی
72
View Single
وَقَالَت طَّآئِفَةٞ مِّنۡ أَهۡلِ ٱلۡكِتَٰبِ ءَامِنُواْ بِٱلَّذِيٓ أُنزِلَ عَلَى ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَجۡهَ ٱلنَّهَارِ وَٱكۡفُرُوٓاْ ءَاخِرَهُۥ لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُونَ
And a group among the People given the Book(s) said, “Believe in what has been sent down to the believers in the morning and deny it by evening – perhaps they (the Muslims) may turn back (disbelieve).”
اور اہلِ کتاب کا ایک گروہ (لوگوں سے) کہتا ہے کہ تم اس کتاب (قرآن) پر جو مسلمانوں پر نازل کی گئی ہے دن چڑھے (یعنی صبح) ایمان لایا کرو اور شام کو انکار کر دیا کرو تاکہ (تمہیں دیکھ کر) وہ بھی برگشتہ ہو جائیں
Tafsir Ibn Kathir
The Envy the Jews Feel Towards Muslims; Their Wicked Plots Against Muslims
Allah states that the Jews envy the faithful and wish they could misguide them. Allah states that the punishment of this behavior will fall back upon them, while they are unaware. Allah criticizes them,
يأَهْلَ الْكِتَـبِ لِمَ تَكْفُرُونَ بِأَيَـتِ اللَّهِ وَأَنتُمْ تَشْهَدُونَ
(O People of the Scripture!: Why do you disbelieve in the Ayat of Allah, while you bear witness.)
You know for certain that Allah's Ayat are true and authentic,
يأَهْلَ الْكِتَـبِ لِمَ تَلْبِسُونَ الْحَقَّ بِالْبَـطِلِ وَتَكْتُمُونَ الْحَقَّ وَأَنتُمْ تَعْلَمُونَ
(O People of the Scripture: Why do you mix truth with falsehood and conceal the truth while you know) by hiding what is in your Books about the description of Muhammad , while you know what you do.
وَقَالَت طَّآئِفَةٌ مِّنْ أَهْلِ الْكِتَـبِ ءَامِنُواْ بِالَّذِي أُنزِلَ عَلَى الَّذِينَ ءَامَنُواْ وَجْهَ النَّهَارِ وَاكْفُرُواْ ءَاخِرَهُ
(And a party of the People of the Scripture say: "Believe in the morning in that which is revealed to the believers, and reject it at the end of the day,)
This is a wicked plan from the People of the Book to deceive Muslims who are weak in the religion. They decided that they would pretend to be believers in the beginning of the day, by attending the dawn prayer with the Muslims. However, when the day ended, they would revert to their old religion so that the ignorant people would say, "They reverted to their old religion because they uncovered some shortcomings in the Islamic religion." This is why they said next.
لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ
(so that they may turn back.) Ibn Abi Najih said that Mujahid commented about this Ayah, which refers to the Jews, "They attended the dawn prayer with the Prophet and disbelieved in the end of the day in order to misguide the people. This way, people would think that they have uncovered shortcomings in the religion that they briefly followed."
وَلاَ تُؤْمِنُواْ إِلاَّ لِمَن تَبِعَ دِينَكُمْ
("And believe no one except the one who follows your religion.")
They said, do not trust anyone with your secret knowledge, except those who follow your religion. Therefore, they say, do not expose your knowledge to Muslims in order to prevent them from believing in it and, thus, use it as proof against you. Allah replied,
قُلْ إِنَّ الْهُدَى هُدَى اللَّهِ
(Say: (O Prophet) "Verily, right guidance is the guidance of Allah.")
Allah guides the hearts of the faithful to the perfect faith through the clear Ayat, plain proofs and unequivocal evidence that He has sent down to His servant and Messenger Muhammad ﷺ. This occurs, O you Jews, even though you hide the description of Muhammad . the unlettered Prophet whom you find in your Books that you received from the earlier Prophets. Allah's statement;
أَن يُؤْتَى أَحَدٌ مِّثْلَ مَآ أُوتِيتُمْ أَوْ يُحَآجُّوكُمْ عِندَ رَبِّكُمْ
((And they say: ) "Do not believe that anyone can receive like that which you have received, otherwise they would engage you in argument before your Lord.")
They say, "Do not disclose the knowledge that you have to the Muslims, to prevent them from learning it and thus becoming your equals. They will be even better because they will believe in it or will use it against you as evidence with your Lord, and thus establish Allah's proof against you in this life and the Hereafter." Allah said,
قُلْ إِنَّ الْفَضْلَ بِيَدِ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَن يَشَآءُ
(Say: "All the bounty is in the Hand of Allah; He grants to whom He wills.) meaning, all affairs are under His control, and He gives and takes. Verily, Allah gives faith, knowledge and sound comprehension to whomever He wills. He also misguides whomever He wills by blinding his sight, mind, sealing his heart, hearing and stamping his eyes closed. Allah has the perfect wisdom and the unequivocal proofs.
وَاللَّهُ وَسِعٌ عَلِيمٌيَخْتَصُّ بِرَحْمَتِهِ مَن يَشَآءُ وَاللَّهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ
(And Allah is All-Sufficient for His creatures' needs, All-Knower." He selects for His mercy whom He wills and Allah is the Owner of great bounty.) meaning, He has endowed you, O believers, with tremendous virtue, in that He honored your Prophet Muhammad ﷺ over all other prophets, and by directing you to the best Shari`ah there is.
یہودیوں کا حسد یہاں بیان ہو رہا ہے کہ ان یہودیوں کے حسد کو دیکھو کہ مسلمانوں کیسے جل بھن رہے ہیں۔ انہیں بہکانے کی کیا کیا پوشیدہ ترکیبیں کر رہے ہیں کیسے کیسے مکرو فریب کے جال بچھاتے ہیں، حالانکہ دراصل ان تمام چیزوں کا وبال خود ان کی جانوں پر ہے لیکن انہیں اس کا بھی شعور نہیں۔ پھر انہیں ان کی یہ ذلیل حرکت یاد دلائی جا رہی ہے کہ تم سچائی جانتے ہوئے بھی حق کو پہچانتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی آیات سے یہ منکر ہو رہے ہو۔ علم کے باوجود یہ بدخصلت بھی ان میں ہے۔ کہ حق و باطل کو ملا دیتے ہیں، اور ان کی کتابوں میں جو صفیں رسول اللہ ﷺ کی ہیں ان کو چھپالیتے ہیں۔ بہکانے کی جو صورتیں بناتے ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ آپس میں مشورے کرتے ہیں کہ صبح جا کر ایمان لے آؤ مسلمانوں کے ساتھ نمازیں پڑھو اور شام کو پھر مرتد بن جاؤ تاکہ جاہل لوگوں کے دل میں بھی خیال گذرے کہ آخر یہ لوگ جو پلٹ گئے تو ظاہر ہے کہ انہوں نے اس دین میں کوئی خرابی یا برائی ہی دیکھی ہوگی تو کیا عجب کہ ان میں سے کوئی ہماری طرف ٹوٹ آئے، غرض یہ ایک حیلہ جوئی تھی کہ شاید اس سے کوئی کمزور ایمان والا لوٹ جائے اور کچھ سمجھ لے کہ یہ جاننے بوجھنے والے لوگ جب اس دین میں آئے نمازیں پڑھیں اس کے بعد اسے چھوڑ دیا تو ضرور یہاں کوئی خرابی اور نقصان دیکھا ہوگا۔ یہ لوگ کہتے ہیں کہ بھروسہ اپنے والوں پر کرو مسلمانوں پر نہ کرو نہ اپنے بھید ان پر ظاہر ہونے دو نہ اپنی کتابیں انہیں بتاؤ جس سے یہ ان پر ایمان لائیں اور اللہ تعالیٰ کے ہاں بھی ان کے لئے ہم پر حجت بن جائیں۔ تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تو اے نبی کہہ دے کہ ہدایت تو اللہ ہی کے ہاتھ ہے وہ مومنوں کے دلوں کو ہر اس چیز پر ایمان لانے کے لئے آمادہ کردیتا ہے جسے اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا ہو انہیں ان دلائل پر کامل ایمان نصیب ہوتا ہے چاہے تم نبی امی ﷺ کی صفتیں چھپاتے پھرو لیکن پھر بھی خوش قسمت لوگ تو آپ کی نبوت کے ظاہری نشان کو بیک نگاہ پہچان لیں گے۔ اسی طرح کہتے تھے کہ تمہارے پاس جو علم ہے اسے مسلمانوں پر ظاہر نہ کرو کہ وہ اسے سیکھ کر تم جیسے ہوجائیں بلکہ اپنی ایمانی قوت کی وجہ سے تم سے بھی بڑھ جائیں، یا اللہ کے سامنے ان کی حجت و دلیل قائم ہوجائے یعنی خود تمہاری کتابوں سے وہ تمہیں الزام دیں، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم کہہ دو فضل تو اللہ عزوجل کے ہاتھ ہے جسے چاہے دے، سب کام اسی کے قبضے میں ہیں وہی دینے والا ہے جسے چاہے ایمان عمل اور علم و فضل کی دولت سے مالامال کر دے اور جسے چاہے راہ حق سے اندھا اور کلمہ اسلام سے بہرا اور صحیح سمجھ سے محروم کر دے اس کے سب کام حکمت سے ہی ہوتے ہیں وہ وسیع علم والا ہے۔ جسے چاہے اپنی رحمت کے ساتھ خاص کر دے وہ بڑے فضل والا ہے، اے مسلمانو ! اس نے تم پر بےپایاں احسانات کئے ہیں تمہارے نبی کو تم انبیاء پر فضیلت دی اور بہت ہی کامل اور ہر حیثیت سے پوری شریعت اس نے تمہیں دی
73
View Single
وَلَا تُؤۡمِنُوٓاْ إِلَّا لِمَن تَبِعَ دِينَكُمۡ قُلۡ إِنَّ ٱلۡهُدَىٰ هُدَى ٱللَّهِ أَن يُؤۡتَىٰٓ أَحَدٞ مِّثۡلَ مَآ أُوتِيتُمۡ أَوۡ يُحَآجُّوكُمۡ عِندَ رَبِّكُمۡۗ قُلۡ إِنَّ ٱلۡفَضۡلَ بِيَدِ ٱللَّهِ يُؤۡتِيهِ مَن يَشَآءُۗ وَٱللَّهُ وَٰسِعٌ عَلِيمٞ
“And do not believe in anyone except him who follows your religion”; say (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), “Only Allah’s guidance is the true guidance” – (so why not believe in it) if someone has been given similar to what was given to you, or if someone may be able to evidence it against you before your Lord; say (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), “Undoubtedly the munificence lies only in Allah’s Hand (control); He may bestow upon whomever He wills; and Allah is Most Capable, All Knowing.”
اور کسی کی بات نہ مانو سوائے اس شخص کے جو تمہارے (ہی) دین کا پیرو ہو، فرما دیں کہ بیشک ہدایت تو (فقط) ہدایتِ الٰہی ہے (اور اپنے لوگوں سے مزید کہتے ہیں کہ یہ بھی ہرگز نہ ماننا) کہ جیسی کتاب (یا دِین) تمہیں دیا گیا اس جیسا کسی اور کو بھی دیا جائے گا یا یہ کہ کوئی تمہارے رب کے پاس تمہارے خلاف حجت لا سکے گا، فرما دیں: بیشک فضل تو اللہ کے ہاتھ میں ہے، جسے چاہتا ہے عطا فرماتا ہے، اور اللہ وسعت والا بڑے علم والا ہے
Tafsir Ibn Kathir
The Envy the Jews Feel Towards Muslims; Their Wicked Plots Against Muslims
Allah states that the Jews envy the faithful and wish they could misguide them. Allah states that the punishment of this behavior will fall back upon them, while they are unaware. Allah criticizes them,
يأَهْلَ الْكِتَـبِ لِمَ تَكْفُرُونَ بِأَيَـتِ اللَّهِ وَأَنتُمْ تَشْهَدُونَ
(O People of the Scripture!: Why do you disbelieve in the Ayat of Allah, while you bear witness.)
You know for certain that Allah's Ayat are true and authentic,
يأَهْلَ الْكِتَـبِ لِمَ تَلْبِسُونَ الْحَقَّ بِالْبَـطِلِ وَتَكْتُمُونَ الْحَقَّ وَأَنتُمْ تَعْلَمُونَ
(O People of the Scripture: Why do you mix truth with falsehood and conceal the truth while you know) by hiding what is in your Books about the description of Muhammad , while you know what you do.
وَقَالَت طَّآئِفَةٌ مِّنْ أَهْلِ الْكِتَـبِ ءَامِنُواْ بِالَّذِي أُنزِلَ عَلَى الَّذِينَ ءَامَنُواْ وَجْهَ النَّهَارِ وَاكْفُرُواْ ءَاخِرَهُ
(And a party of the People of the Scripture say: "Believe in the morning in that which is revealed to the believers, and reject it at the end of the day,)
This is a wicked plan from the People of the Book to deceive Muslims who are weak in the religion. They decided that they would pretend to be believers in the beginning of the day, by attending the dawn prayer with the Muslims. However, when the day ended, they would revert to their old religion so that the ignorant people would say, "They reverted to their old religion because they uncovered some shortcomings in the Islamic religion." This is why they said next.
لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ
(so that they may turn back.) Ibn Abi Najih said that Mujahid commented about this Ayah, which refers to the Jews, "They attended the dawn prayer with the Prophet and disbelieved in the end of the day in order to misguide the people. This way, people would think that they have uncovered shortcomings in the religion that they briefly followed."
وَلاَ تُؤْمِنُواْ إِلاَّ لِمَن تَبِعَ دِينَكُمْ
("And believe no one except the one who follows your religion.")
They said, do not trust anyone with your secret knowledge, except those who follow your religion. Therefore, they say, do not expose your knowledge to Muslims in order to prevent them from believing in it and, thus, use it as proof against you. Allah replied,
قُلْ إِنَّ الْهُدَى هُدَى اللَّهِ
(Say: (O Prophet) "Verily, right guidance is the guidance of Allah.")
Allah guides the hearts of the faithful to the perfect faith through the clear Ayat, plain proofs and unequivocal evidence that He has sent down to His servant and Messenger Muhammad ﷺ. This occurs, O you Jews, even though you hide the description of Muhammad . the unlettered Prophet whom you find in your Books that you received from the earlier Prophets. Allah's statement;
أَن يُؤْتَى أَحَدٌ مِّثْلَ مَآ أُوتِيتُمْ أَوْ يُحَآجُّوكُمْ عِندَ رَبِّكُمْ
((And they say: ) "Do not believe that anyone can receive like that which you have received, otherwise they would engage you in argument before your Lord.")
They say, "Do not disclose the knowledge that you have to the Muslims, to prevent them from learning it and thus becoming your equals. They will be even better because they will believe in it or will use it against you as evidence with your Lord, and thus establish Allah's proof against you in this life and the Hereafter." Allah said,
قُلْ إِنَّ الْفَضْلَ بِيَدِ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَن يَشَآءُ
(Say: "All the bounty is in the Hand of Allah; He grants to whom He wills.) meaning, all affairs are under His control, and He gives and takes. Verily, Allah gives faith, knowledge and sound comprehension to whomever He wills. He also misguides whomever He wills by blinding his sight, mind, sealing his heart, hearing and stamping his eyes closed. Allah has the perfect wisdom and the unequivocal proofs.
وَاللَّهُ وَسِعٌ عَلِيمٌيَخْتَصُّ بِرَحْمَتِهِ مَن يَشَآءُ وَاللَّهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ
(And Allah is All-Sufficient for His creatures' needs, All-Knower." He selects for His mercy whom He wills and Allah is the Owner of great bounty.) meaning, He has endowed you, O believers, with tremendous virtue, in that He honored your Prophet Muhammad ﷺ over all other prophets, and by directing you to the best Shari`ah there is.
یہودیوں کا حسد یہاں بیان ہو رہا ہے کہ ان یہودیوں کے حسد کو دیکھو کہ مسلمانوں کیسے جل بھن رہے ہیں۔ انہیں بہکانے کی کیا کیا پوشیدہ ترکیبیں کر رہے ہیں کیسے کیسے مکرو فریب کے جال بچھاتے ہیں، حالانکہ دراصل ان تمام چیزوں کا وبال خود ان کی جانوں پر ہے لیکن انہیں اس کا بھی شعور نہیں۔ پھر انہیں ان کی یہ ذلیل حرکت یاد دلائی جا رہی ہے کہ تم سچائی جانتے ہوئے بھی حق کو پہچانتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی آیات سے یہ منکر ہو رہے ہو۔ علم کے باوجود یہ بدخصلت بھی ان میں ہے۔ کہ حق و باطل کو ملا دیتے ہیں، اور ان کی کتابوں میں جو صفیں رسول اللہ ﷺ کی ہیں ان کو چھپالیتے ہیں۔ بہکانے کی جو صورتیں بناتے ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ آپس میں مشورے کرتے ہیں کہ صبح جا کر ایمان لے آؤ مسلمانوں کے ساتھ نمازیں پڑھو اور شام کو پھر مرتد بن جاؤ تاکہ جاہل لوگوں کے دل میں بھی خیال گذرے کہ آخر یہ لوگ جو پلٹ گئے تو ظاہر ہے کہ انہوں نے اس دین میں کوئی خرابی یا برائی ہی دیکھی ہوگی تو کیا عجب کہ ان میں سے کوئی ہماری طرف ٹوٹ آئے، غرض یہ ایک حیلہ جوئی تھی کہ شاید اس سے کوئی کمزور ایمان والا لوٹ جائے اور کچھ سمجھ لے کہ یہ جاننے بوجھنے والے لوگ جب اس دین میں آئے نمازیں پڑھیں اس کے بعد اسے چھوڑ دیا تو ضرور یہاں کوئی خرابی اور نقصان دیکھا ہوگا۔ یہ لوگ کہتے ہیں کہ بھروسہ اپنے والوں پر کرو مسلمانوں پر نہ کرو نہ اپنے بھید ان پر ظاہر ہونے دو نہ اپنی کتابیں انہیں بتاؤ جس سے یہ ان پر ایمان لائیں اور اللہ تعالیٰ کے ہاں بھی ان کے لئے ہم پر حجت بن جائیں۔ تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تو اے نبی کہہ دے کہ ہدایت تو اللہ ہی کے ہاتھ ہے وہ مومنوں کے دلوں کو ہر اس چیز پر ایمان لانے کے لئے آمادہ کردیتا ہے جسے اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا ہو انہیں ان دلائل پر کامل ایمان نصیب ہوتا ہے چاہے تم نبی امی ﷺ کی صفتیں چھپاتے پھرو لیکن پھر بھی خوش قسمت لوگ تو آپ کی نبوت کے ظاہری نشان کو بیک نگاہ پہچان لیں گے۔ اسی طرح کہتے تھے کہ تمہارے پاس جو علم ہے اسے مسلمانوں پر ظاہر نہ کرو کہ وہ اسے سیکھ کر تم جیسے ہوجائیں بلکہ اپنی ایمانی قوت کی وجہ سے تم سے بھی بڑھ جائیں، یا اللہ کے سامنے ان کی حجت و دلیل قائم ہوجائے یعنی خود تمہاری کتابوں سے وہ تمہیں الزام دیں، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم کہہ دو فضل تو اللہ عزوجل کے ہاتھ ہے جسے چاہے دے، سب کام اسی کے قبضے میں ہیں وہی دینے والا ہے جسے چاہے ایمان عمل اور علم و فضل کی دولت سے مالامال کر دے اور جسے چاہے راہ حق سے اندھا اور کلمہ اسلام سے بہرا اور صحیح سمجھ سے محروم کر دے اس کے سب کام حکمت سے ہی ہوتے ہیں وہ وسیع علم والا ہے۔ جسے چاہے اپنی رحمت کے ساتھ خاص کر دے وہ بڑے فضل والا ہے، اے مسلمانو ! اس نے تم پر بےپایاں احسانات کئے ہیں تمہارے نبی کو تم انبیاء پر فضیلت دی اور بہت ہی کامل اور ہر حیثیت سے پوری شریعت اس نے تمہیں دی
74
View Single
يَخۡتَصُّ بِرَحۡمَتِهِۦ مَن يَشَآءُۗ وَٱللَّهُ ذُو ٱلۡفَضۡلِ ٱلۡعَظِيمِ
“He chooses by His mercy, whomever He wills; and Allah is the Owner of Great Munificence.”
وہ جسے چاہتا ہے اپنی رحمت کے ساتھ خاص فرما لیتا ہے، اور اللہ بڑے فضل والا ہے
Tafsir Ibn Kathir
The Envy the Jews Feel Towards Muslims; Their Wicked Plots Against Muslims
Allah states that the Jews envy the faithful and wish they could misguide them. Allah states that the punishment of this behavior will fall back upon them, while they are unaware. Allah criticizes them,
يأَهْلَ الْكِتَـبِ لِمَ تَكْفُرُونَ بِأَيَـتِ اللَّهِ وَأَنتُمْ تَشْهَدُونَ
(O People of the Scripture!: Why do you disbelieve in the Ayat of Allah, while you bear witness.)
You know for certain that Allah's Ayat are true and authentic,
يأَهْلَ الْكِتَـبِ لِمَ تَلْبِسُونَ الْحَقَّ بِالْبَـطِلِ وَتَكْتُمُونَ الْحَقَّ وَأَنتُمْ تَعْلَمُونَ
(O People of the Scripture: Why do you mix truth with falsehood and conceal the truth while you know) by hiding what is in your Books about the description of Muhammad , while you know what you do.
وَقَالَت طَّآئِفَةٌ مِّنْ أَهْلِ الْكِتَـبِ ءَامِنُواْ بِالَّذِي أُنزِلَ عَلَى الَّذِينَ ءَامَنُواْ وَجْهَ النَّهَارِ وَاكْفُرُواْ ءَاخِرَهُ
(And a party of the People of the Scripture say: "Believe in the morning in that which is revealed to the believers, and reject it at the end of the day,)
This is a wicked plan from the People of the Book to deceive Muslims who are weak in the religion. They decided that they would pretend to be believers in the beginning of the day, by attending the dawn prayer with the Muslims. However, when the day ended, they would revert to their old religion so that the ignorant people would say, "They reverted to their old religion because they uncovered some shortcomings in the Islamic religion." This is why they said next.
لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ
(so that they may turn back.) Ibn Abi Najih said that Mujahid commented about this Ayah, which refers to the Jews, "They attended the dawn prayer with the Prophet and disbelieved in the end of the day in order to misguide the people. This way, people would think that they have uncovered shortcomings in the religion that they briefly followed."
وَلاَ تُؤْمِنُواْ إِلاَّ لِمَن تَبِعَ دِينَكُمْ
("And believe no one except the one who follows your religion.")
They said, do not trust anyone with your secret knowledge, except those who follow your religion. Therefore, they say, do not expose your knowledge to Muslims in order to prevent them from believing in it and, thus, use it as proof against you. Allah replied,
قُلْ إِنَّ الْهُدَى هُدَى اللَّهِ
(Say: (O Prophet) "Verily, right guidance is the guidance of Allah.")
Allah guides the hearts of the faithful to the perfect faith through the clear Ayat, plain proofs and unequivocal evidence that He has sent down to His servant and Messenger Muhammad ﷺ. This occurs, O you Jews, even though you hide the description of Muhammad . the unlettered Prophet whom you find in your Books that you received from the earlier Prophets. Allah's statement;
أَن يُؤْتَى أَحَدٌ مِّثْلَ مَآ أُوتِيتُمْ أَوْ يُحَآجُّوكُمْ عِندَ رَبِّكُمْ
((And they say: ) "Do not believe that anyone can receive like that which you have received, otherwise they would engage you in argument before your Lord.")
They say, "Do not disclose the knowledge that you have to the Muslims, to prevent them from learning it and thus becoming your equals. They will be even better because they will believe in it or will use it against you as evidence with your Lord, and thus establish Allah's proof against you in this life and the Hereafter." Allah said,
قُلْ إِنَّ الْفَضْلَ بِيَدِ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَن يَشَآءُ
(Say: "All the bounty is in the Hand of Allah; He grants to whom He wills.) meaning, all affairs are under His control, and He gives and takes. Verily, Allah gives faith, knowledge and sound comprehension to whomever He wills. He also misguides whomever He wills by blinding his sight, mind, sealing his heart, hearing and stamping his eyes closed. Allah has the perfect wisdom and the unequivocal proofs.
وَاللَّهُ وَسِعٌ عَلِيمٌيَخْتَصُّ بِرَحْمَتِهِ مَن يَشَآءُ وَاللَّهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ
(And Allah is All-Sufficient for His creatures' needs, All-Knower." He selects for His mercy whom He wills and Allah is the Owner of great bounty.) meaning, He has endowed you, O believers, with tremendous virtue, in that He honored your Prophet Muhammad ﷺ over all other prophets, and by directing you to the best Shari`ah there is.
یہودیوں کا حسد یہاں بیان ہو رہا ہے کہ ان یہودیوں کے حسد کو دیکھو کہ مسلمانوں کیسے جل بھن رہے ہیں۔ انہیں بہکانے کی کیا کیا پوشیدہ ترکیبیں کر رہے ہیں کیسے کیسے مکرو فریب کے جال بچھاتے ہیں، حالانکہ دراصل ان تمام چیزوں کا وبال خود ان کی جانوں پر ہے لیکن انہیں اس کا بھی شعور نہیں۔ پھر انہیں ان کی یہ ذلیل حرکت یاد دلائی جا رہی ہے کہ تم سچائی جانتے ہوئے بھی حق کو پہچانتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی آیات سے یہ منکر ہو رہے ہو۔ علم کے باوجود یہ بدخصلت بھی ان میں ہے۔ کہ حق و باطل کو ملا دیتے ہیں، اور ان کی کتابوں میں جو صفیں رسول اللہ ﷺ کی ہیں ان کو چھپالیتے ہیں۔ بہکانے کی جو صورتیں بناتے ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ آپس میں مشورے کرتے ہیں کہ صبح جا کر ایمان لے آؤ مسلمانوں کے ساتھ نمازیں پڑھو اور شام کو پھر مرتد بن جاؤ تاکہ جاہل لوگوں کے دل میں بھی خیال گذرے کہ آخر یہ لوگ جو پلٹ گئے تو ظاہر ہے کہ انہوں نے اس دین میں کوئی خرابی یا برائی ہی دیکھی ہوگی تو کیا عجب کہ ان میں سے کوئی ہماری طرف ٹوٹ آئے، غرض یہ ایک حیلہ جوئی تھی کہ شاید اس سے کوئی کمزور ایمان والا لوٹ جائے اور کچھ سمجھ لے کہ یہ جاننے بوجھنے والے لوگ جب اس دین میں آئے نمازیں پڑھیں اس کے بعد اسے چھوڑ دیا تو ضرور یہاں کوئی خرابی اور نقصان دیکھا ہوگا۔ یہ لوگ کہتے ہیں کہ بھروسہ اپنے والوں پر کرو مسلمانوں پر نہ کرو نہ اپنے بھید ان پر ظاہر ہونے دو نہ اپنی کتابیں انہیں بتاؤ جس سے یہ ان پر ایمان لائیں اور اللہ تعالیٰ کے ہاں بھی ان کے لئے ہم پر حجت بن جائیں۔ تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تو اے نبی کہہ دے کہ ہدایت تو اللہ ہی کے ہاتھ ہے وہ مومنوں کے دلوں کو ہر اس چیز پر ایمان لانے کے لئے آمادہ کردیتا ہے جسے اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا ہو انہیں ان دلائل پر کامل ایمان نصیب ہوتا ہے چاہے تم نبی امی ﷺ کی صفتیں چھپاتے پھرو لیکن پھر بھی خوش قسمت لوگ تو آپ کی نبوت کے ظاہری نشان کو بیک نگاہ پہچان لیں گے۔ اسی طرح کہتے تھے کہ تمہارے پاس جو علم ہے اسے مسلمانوں پر ظاہر نہ کرو کہ وہ اسے سیکھ کر تم جیسے ہوجائیں بلکہ اپنی ایمانی قوت کی وجہ سے تم سے بھی بڑھ جائیں، یا اللہ کے سامنے ان کی حجت و دلیل قائم ہوجائے یعنی خود تمہاری کتابوں سے وہ تمہیں الزام دیں، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم کہہ دو فضل تو اللہ عزوجل کے ہاتھ ہے جسے چاہے دے، سب کام اسی کے قبضے میں ہیں وہی دینے والا ہے جسے چاہے ایمان عمل اور علم و فضل کی دولت سے مالامال کر دے اور جسے چاہے راہ حق سے اندھا اور کلمہ اسلام سے بہرا اور صحیح سمجھ سے محروم کر دے اس کے سب کام حکمت سے ہی ہوتے ہیں وہ وسیع علم والا ہے۔ جسے چاہے اپنی رحمت کے ساتھ خاص کر دے وہ بڑے فضل والا ہے، اے مسلمانو ! اس نے تم پر بےپایاں احسانات کئے ہیں تمہارے نبی کو تم انبیاء پر فضیلت دی اور بہت ہی کامل اور ہر حیثیت سے پوری شریعت اس نے تمہیں دی
75
View Single
۞وَمِنۡ أَهۡلِ ٱلۡكِتَٰبِ مَنۡ إِن تَأۡمَنۡهُ بِقِنطَارٖ يُؤَدِّهِۦٓ إِلَيۡكَ وَمِنۡهُم مَّنۡ إِن تَأۡمَنۡهُ بِدِينَارٖ لَّا يُؤَدِّهِۦٓ إِلَيۡكَ إِلَّا مَا دُمۡتَ عَلَيۡهِ قَآئِمٗاۗ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمۡ قَالُواْ لَيۡسَ عَلَيۡنَا فِي ٱلۡأُمِّيِّـۧنَ سَبِيلٞ وَيَقُولُونَ عَلَى ٱللَّهِ ٱلۡكَذِبَ وَهُمۡ يَعۡلَمُونَ
Among the People given the Book(s) is one who, if you trust him with a heap of treasure, will return it to you; and among them is one who, if you trust him with (just) one coin, will not return it to you unless you constantly stand over him (keep demanding); that is because they say, “We are not obliged in any way, in the case of illiterates”; and they purposely fabricate lies against Allah.
اور اہلِ کتاب میں ایسے بھی ہیں کہ اگر آپ اس کے پاس مال کا ڈھیر امانت رکھ دیں تو وہ آپ کو لوٹا دے گا اور انہی میں ایسے بھی ہیں کہ اگر اس کے پاس ایک دینار امانت رکھ دیں تو آپ کو وہ بھی نہیں لوٹائے گا سوائے اس کے کہ آپ اس کے سر پر کھڑے رہیں، یہ اس لئے کہ وہ کہتے ہیں کہ اَن پڑھوں کے معاملہ میں ہم پر کوئی مؤاخذہ نہیں، اور اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں اور انہیں خود (بھی) معلوم ہے
Tafsir Ibn Kathir
How Trustworthy Are the Jews
Allah states that there are deceitful people among the Jews. He also warns the faithful against being deceived by them, because some of them,
مَنْ إِن تَأْمَنْهُ بِقِنْطَارٍ
(if entrusted with a Qintar (a great amount)) of money,
يُؤَدِّهِ إِلَيْكَ
(will readily pay it back;) This Ayah indicates that this type would likewise give what is less than a Qintar, as is obvious. However,
وَمِنْهُمْ مَّنْ إِن تَأْمَنْهُ بِدِينَارٍ لاَّ يُؤَدِّهِ إِلَيْكَ إِلاَّ مَا دُمْتَ عَلَيْهِ قَآئِمًا
(and among them there is he who, if entrusted with a single silver coin, will not repay it unless you constantly stand demanding,) and insisting on acquiring your rightful property. If this is what he would do with one Dinar, then what about what is more than a Dinar We mentioned the meaning of Qintar in the beginning of this Surah, while the value of Dinar is well known. Allah's statement,
ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ قَالُواْ لَيْسَ عَلَيْنَا فِى الأُمِّيِّينَ سَبِيلٌ
(because they say: "There is no blame on us to betray and take the properties of the illiterates (Arabs).") means, what made them reject the truth (or what they owed) is that they said, "There is no harm in our religion if we eat up the property of the unlettered ones, the Arabs, for Allah has allowed it for us." Allah replied,
وَيَقُولُونَ عَلَى اللَّهِ الْكَذِبَ وَهُمْ يَعْلَمُونَ
(But they tell a lie against Allah while they know it.) for they invented this lie and word of misguidance. Rather, Allah would not allow this money for them unless they had a right to it.
`Abdur-Razzaq recorded that Sa`sa`ah bin Yazid said that a man asked Ibn `Abbas, "During battle, we capture some property belonging to Ahl Adh-Dhimmah, such as chickens and sheep." Ibn `Abbas said, "What do you do in this case" The man said, "We say that there is no sin (if we confiscate them) in this case." He said, "That is what the People of the Book said,
لَيْسَ عَلَيْنَا فِى الأُمِّيِّينَ سَبِيلٌ
(There is no blame on us to betray and take the properties of the illiterates (Arabs).)
Verily, if they pay the Jizyah, then you are not allowed their property, except when they willingly give it up."
Allah then said,
بَلَى مَنْ أَوْفَى بِعَهْدِهِ وَاتَّقَى
(Yes, whoever fulfills his pledge and fears Allah much,) fulfills his promise and fears Allah among you, O People of the Book, regarding the covenant Allah took from you to believe in Muhammad ﷺ when he is sent, just as He took the same covenant from all Prophets and their nations. Whoever avoids Allah's prohibitions, obeys Him and adheres to the Shari`ah that He sent with His Final Messenger and the master of all mankind.
فَإِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُتَّقِينَ
(verily, then Allah loves the Muttaqin.)
بددیانت یہودی اللہ تعالیٰ مومنوں کو یہودیوں کی خیانت پر تنبیہہ کرتا ہے کہ ان کے دھوکے میں نہ آجائیں ان میں بعض تو امانتدار ہیں اور بعض بڑے خائن ہیں بعض تو ایسے ہیں کہ خزانے کا خزانہ ان کی امانت میں ہو تو جوں کا توں حوالے کردیں گے پھر چھوٹی موٹی چیز میں وہ بددیانتی کیسے کریں گے ؟ اور بعض ایسے بددیانت ہیں کہ ایک دینار بھی واپس نہ دیں گے ہاں اگر ان کے سر ہوجاؤ تقاضا برابر جاری رکھو اور حق طلب کرتے رہو تو شاید امانت نکل بھی آئے ورنہ ہضم بھی کر جائیں جب ایک دینار تو مشہور ہی ہے، ابن ابی حاتم میں حضرت مالک بن دینار کا قول مروی ہے کہ دینار کو اس لئے دینار کہتے ہیں کہ وہ دین یعنی ایمان بھی ہے اور نار یعنی آگ بھی ہے، مطلب یہ ہے کہ حق کے ساتھ لو تو دین ناحق لو تو نار یعنی آتش دوزخ، اس موقع پر اس حدیث کا بیان کرنا بھی مناسب معلوم ہوتا ہے جو صحیح بخاری شریف میں کئی جگہ ہے اور کتاب الکفالہ میں بہت پوری ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بنی اسرائیل میں ایک شخص تھا جس نے کسی اور شخص سے ایک ہزار دینار قرض مانگے اس نے کہا گواہ لاؤ کہا اللہ کی گواہی کافی ہے اس نے کہا ضامن لاؤ اس نے کہا ضمانت بھی اللہ ہی دیتا ہوں وہ اس پر راضی ہوگیا اور وقت ادائیگی مقرر کر کے رقم دے دی وہ اپنے دریائی سفر میں نکل گیا جب کام کاج سے نپٹ گیا تو دریا کنارے کسی جہاز کا انتظار کرنے لگا تاکہ جا کر اس کا قرض ادا کر دے لیکن سواری نہ ملی تو اس نے ایک لکڑی لی اور اسے بیچ میں سے کھوکھلا کر کے اس میں ایک ہزار دینار رکھ دئیے اور ایک خط بھی اس کے نام رکھ دیا پھر منہ بند کر کے اسے دریا میں ڈال دیا اور کہا اے اللہ تو بخوبی جانتا ہے کہ میں نے فلاں شخص سے ایک ہزار دینار قرض لئے تیری شہادت پر اور تیری ضمانت پر اور اس نے بھی اس پر خوش ہو کر مجھے دے دئیے اب میں نے ہرچند کشتی ڈھونڈی کہ جا کر اس کا حق مدت کے اندر ہی اندر دے دوں لیکن نہ ملی پس اب عاجز آکر تجھ پر بھروسہ کر کے میں اسے دریا میں ڈال دیتا ہوں تو اسے اس تک پہنچا دے یہ دعا کر کے لکڑی کو سمندر میں ڈال کر چلا آیا لکڑی پانی میں ڈوب گئی، یہ پھر بھی تلاش میں رہا کہ کوئی سواری ملے تو جائے اور اس کا حق ادا کر آئے ادھر قرض خواہ شخص دریا کے کنارے یا کہ شاید مقروض کسی کشتی میں اس کی رقم لے کر آرہا ہو جب دیکھا کہ کوئی کشتی نہیں آئی اور جانے لگا تو ایک لکڑی کو جو کنارے پر پڑی ہوئی تھی یہ سمجھ کر اٹھا لیا کہ جلانے کے کام آئے گی گھر جا کر اسے چیرا تو مال اور خط نکلا کچھ دنوں بعد قرض دینے والا شخص آیا اور کہا اللہ تعالیٰ جانتا ہے میں نے ہرچند کوشش کی کہ کوئی سواری ملے تو آپ کے پاس آؤں اور مدت گذرنے سے پہلے ہی آپ کا قرض ادا کر دوں لیکن کوئی سواری نہ ملی اس لئے دیر لگ گئی اس نے کہا تو نے جو رقم بھیج دی تھی وہ اللہ نے مجھے پہنچا دی ہے تو اب اپنی یہ رقم واپس لے جا اور راضی خوشی لوٹا جا، یہ حدیث بخاری شریف میں تعلیق کے ساتھ بھی ہے لیکن جزم کے صیغے کے ساتھ اور بعض جگہ اسناد کے حوالوں کے ساتھ بھی ہے۔ علاوہ ازیں اور کتابوں میں بھی یہ روایت موجود ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ امانت میں خیانت کرنے حقدار کے حق کو نہ ادا کرنے پر آمادہ کرنے والا سبب ان کا یہ غلط خیال ہے کہ ان بددینوں ان پڑھوں کا مال کھا جانے میں ہمیں کوئی حرج نہیں ہم پر یہ مال حلال ہے، جس پر اللہ فرماتا ہے کہ یہ اللہ پر الزام ہے اور اس کا علم خود انہیں بھی ہے کیونکہ ان کی کتابوں میں بھی ناحق مال کو اللہ نے حرام قرار دیا ہے۔ لیکن یہ بیوقوف خود اپنی من مانی اور دل پسند باتیں گھڑ کر شریعت کے رنگ میں انہیں رنگ لیتے ہیں، حضرت ابن عباس ؓ سے لوگ مسئلہ پوچھتے ہیں کہ ذمی یا کفار کی مرغی بکری وغیرہ کبھی غزوے کی حالت میں ہمیں مل جاتی ہے تو ہم تو سمجھتے ہیں کہ اسے لینے میں کوئی حرج نہیں تو آپ نے فرمایا ٹھیک یہی اہل کتاب بھی کہتے تھے کہ امتیوں کا مال لینے میں کوئی حرج نہیں، سنو جب وہ جزیہ ادا کر رہے ہیں تو ان کا کوئی مال تم پر حلال نہیں ہاں وہ اپنی خوشی سے دے دیں تو اور بات ہے (عبدالرزاق) سعید بن جبیر فرماتے ہیں جب اہل کتاب سےحضور ﷺ نے یہ بات سنی تو فرمایا دشمنان الہ جھوٹے ہیں جاہلیت کی تمام رسمیں میرے قدموں تلے مٹ گئیں اور امانت تو ہر فاسق و فاجر کی بھی ادا کرنی پڑے گی۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ لیکن جو شخص اپنے عہد کو پورا کرے اور اہل کتاب ہو کر ڈرتا رہے پھر اپنی کتاب کی ہدایت کے مطابق آنحضرت ﷺ پر ایمان لائے اس عہد کے مطابق جو تمام انبیاء سے بھی ہوچکا ہے اور جس عہد کی پابندی ان کی امتوں پر بھی لازم ہے اللہ کی حرام کردہ چیزوں سے اجتناب کرے اس کی شریعت کی اطاعت کرے رسولوں کے خاتم اور انبیاء کے سردار حضرت محمد ﷺ کی پوری تابعداری کرے وہ متقی ہے اور متقی اللہ تعالیٰ کے دوست ہیں۔
76
View Single
بَلَىٰۚ مَنۡ أَوۡفَىٰ بِعَهۡدِهِۦ وَٱتَّقَىٰ فَإِنَّ ٱللَّهَ يُحِبُّ ٱلۡمُتَّقِينَ
Yes, why not? Whoever fulfilled his pledge and practised piety – and indeed Allah loves the pious.
ہاں جو اپنا وعدہ پورا کرے اور تقویٰ اختیار کرے (اس پر واقعی کوئی مؤاخذہ نہیں) سو بیشک اللہ پرہیز گاروں سے محبت فرماتا ہے
Tafsir Ibn Kathir
How Trustworthy Are the Jews
Allah states that there are deceitful people among the Jews. He also warns the faithful against being deceived by them, because some of them,
مَنْ إِن تَأْمَنْهُ بِقِنْطَارٍ
(if entrusted with a Qintar (a great amount)) of money,
يُؤَدِّهِ إِلَيْكَ
(will readily pay it back;) This Ayah indicates that this type would likewise give what is less than a Qintar, as is obvious. However,
وَمِنْهُمْ مَّنْ إِن تَأْمَنْهُ بِدِينَارٍ لاَّ يُؤَدِّهِ إِلَيْكَ إِلاَّ مَا دُمْتَ عَلَيْهِ قَآئِمًا
(and among them there is he who, if entrusted with a single silver coin, will not repay it unless you constantly stand demanding,) and insisting on acquiring your rightful property. If this is what he would do with one Dinar, then what about what is more than a Dinar We mentioned the meaning of Qintar in the beginning of this Surah, while the value of Dinar is well known. Allah's statement,
ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ قَالُواْ لَيْسَ عَلَيْنَا فِى الأُمِّيِّينَ سَبِيلٌ
(because they say: "There is no blame on us to betray and take the properties of the illiterates (Arabs).") means, what made them reject the truth (or what they owed) is that they said, "There is no harm in our religion if we eat up the property of the unlettered ones, the Arabs, for Allah has allowed it for us." Allah replied,
وَيَقُولُونَ عَلَى اللَّهِ الْكَذِبَ وَهُمْ يَعْلَمُونَ
(But they tell a lie against Allah while they know it.) for they invented this lie and word of misguidance. Rather, Allah would not allow this money for them unless they had a right to it.
`Abdur-Razzaq recorded that Sa`sa`ah bin Yazid said that a man asked Ibn `Abbas, "During battle, we capture some property belonging to Ahl Adh-Dhimmah, such as chickens and sheep." Ibn `Abbas said, "What do you do in this case" The man said, "We say that there is no sin (if we confiscate them) in this case." He said, "That is what the People of the Book said,
لَيْسَ عَلَيْنَا فِى الأُمِّيِّينَ سَبِيلٌ
(There is no blame on us to betray and take the properties of the illiterates (Arabs).)
Verily, if they pay the Jizyah, then you are not allowed their property, except when they willingly give it up."
Allah then said,
بَلَى مَنْ أَوْفَى بِعَهْدِهِ وَاتَّقَى
(Yes, whoever fulfills his pledge and fears Allah much,) fulfills his promise and fears Allah among you, O People of the Book, regarding the covenant Allah took from you to believe in Muhammad ﷺ when he is sent, just as He took the same covenant from all Prophets and their nations. Whoever avoids Allah's prohibitions, obeys Him and adheres to the Shari`ah that He sent with His Final Messenger and the master of all mankind.
فَإِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُتَّقِينَ
(verily, then Allah loves the Muttaqin.)
بددیانت یہودی اللہ تعالیٰ مومنوں کو یہودیوں کی خیانت پر تنبیہہ کرتا ہے کہ ان کے دھوکے میں نہ آجائیں ان میں بعض تو امانتدار ہیں اور بعض بڑے خائن ہیں بعض تو ایسے ہیں کہ خزانے کا خزانہ ان کی امانت میں ہو تو جوں کا توں حوالے کردیں گے پھر چھوٹی موٹی چیز میں وہ بددیانتی کیسے کریں گے ؟ اور بعض ایسے بددیانت ہیں کہ ایک دینار بھی واپس نہ دیں گے ہاں اگر ان کے سر ہوجاؤ تقاضا برابر جاری رکھو اور حق طلب کرتے رہو تو شاید امانت نکل بھی آئے ورنہ ہضم بھی کر جائیں جب ایک دینار تو مشہور ہی ہے، ابن ابی حاتم میں حضرت مالک بن دینار کا قول مروی ہے کہ دینار کو اس لئے دینار کہتے ہیں کہ وہ دین یعنی ایمان بھی ہے اور نار یعنی آگ بھی ہے، مطلب یہ ہے کہ حق کے ساتھ لو تو دین ناحق لو تو نار یعنی آتش دوزخ، اس موقع پر اس حدیث کا بیان کرنا بھی مناسب معلوم ہوتا ہے جو صحیح بخاری شریف میں کئی جگہ ہے اور کتاب الکفالہ میں بہت پوری ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بنی اسرائیل میں ایک شخص تھا جس نے کسی اور شخص سے ایک ہزار دینار قرض مانگے اس نے کہا گواہ لاؤ کہا اللہ کی گواہی کافی ہے اس نے کہا ضامن لاؤ اس نے کہا ضمانت بھی اللہ ہی دیتا ہوں وہ اس پر راضی ہوگیا اور وقت ادائیگی مقرر کر کے رقم دے دی وہ اپنے دریائی سفر میں نکل گیا جب کام کاج سے نپٹ گیا تو دریا کنارے کسی جہاز کا انتظار کرنے لگا تاکہ جا کر اس کا قرض ادا کر دے لیکن سواری نہ ملی تو اس نے ایک لکڑی لی اور اسے بیچ میں سے کھوکھلا کر کے اس میں ایک ہزار دینار رکھ دئیے اور ایک خط بھی اس کے نام رکھ دیا پھر منہ بند کر کے اسے دریا میں ڈال دیا اور کہا اے اللہ تو بخوبی جانتا ہے کہ میں نے فلاں شخص سے ایک ہزار دینار قرض لئے تیری شہادت پر اور تیری ضمانت پر اور اس نے بھی اس پر خوش ہو کر مجھے دے دئیے اب میں نے ہرچند کشتی ڈھونڈی کہ جا کر اس کا حق مدت کے اندر ہی اندر دے دوں لیکن نہ ملی پس اب عاجز آکر تجھ پر بھروسہ کر کے میں اسے دریا میں ڈال دیتا ہوں تو اسے اس تک پہنچا دے یہ دعا کر کے لکڑی کو سمندر میں ڈال کر چلا آیا لکڑی پانی میں ڈوب گئی، یہ پھر بھی تلاش میں رہا کہ کوئی سواری ملے تو جائے اور اس کا حق ادا کر آئے ادھر قرض خواہ شخص دریا کے کنارے یا کہ شاید مقروض کسی کشتی میں اس کی رقم لے کر آرہا ہو جب دیکھا کہ کوئی کشتی نہیں آئی اور جانے لگا تو ایک لکڑی کو جو کنارے پر پڑی ہوئی تھی یہ سمجھ کر اٹھا لیا کہ جلانے کے کام آئے گی گھر جا کر اسے چیرا تو مال اور خط نکلا کچھ دنوں بعد قرض دینے والا شخص آیا اور کہا اللہ تعالیٰ جانتا ہے میں نے ہرچند کوشش کی کہ کوئی سواری ملے تو آپ کے پاس آؤں اور مدت گذرنے سے پہلے ہی آپ کا قرض ادا کر دوں لیکن کوئی سواری نہ ملی اس لئے دیر لگ گئی اس نے کہا تو نے جو رقم بھیج دی تھی وہ اللہ نے مجھے پہنچا دی ہے تو اب اپنی یہ رقم واپس لے جا اور راضی خوشی لوٹا جا، یہ حدیث بخاری شریف میں تعلیق کے ساتھ بھی ہے لیکن جزم کے صیغے کے ساتھ اور بعض جگہ اسناد کے حوالوں کے ساتھ بھی ہے۔ علاوہ ازیں اور کتابوں میں بھی یہ روایت موجود ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ امانت میں خیانت کرنے حقدار کے حق کو نہ ادا کرنے پر آمادہ کرنے والا سبب ان کا یہ غلط خیال ہے کہ ان بددینوں ان پڑھوں کا مال کھا جانے میں ہمیں کوئی حرج نہیں ہم پر یہ مال حلال ہے، جس پر اللہ فرماتا ہے کہ یہ اللہ پر الزام ہے اور اس کا علم خود انہیں بھی ہے کیونکہ ان کی کتابوں میں بھی ناحق مال کو اللہ نے حرام قرار دیا ہے۔ لیکن یہ بیوقوف خود اپنی من مانی اور دل پسند باتیں گھڑ کر شریعت کے رنگ میں انہیں رنگ لیتے ہیں، حضرت ابن عباس ؓ سے لوگ مسئلہ پوچھتے ہیں کہ ذمی یا کفار کی مرغی بکری وغیرہ کبھی غزوے کی حالت میں ہمیں مل جاتی ہے تو ہم تو سمجھتے ہیں کہ اسے لینے میں کوئی حرج نہیں تو آپ نے فرمایا ٹھیک یہی اہل کتاب بھی کہتے تھے کہ امتیوں کا مال لینے میں کوئی حرج نہیں، سنو جب وہ جزیہ ادا کر رہے ہیں تو ان کا کوئی مال تم پر حلال نہیں ہاں وہ اپنی خوشی سے دے دیں تو اور بات ہے (عبدالرزاق) سعید بن جبیر فرماتے ہیں جب اہل کتاب سےحضور ﷺ نے یہ بات سنی تو فرمایا دشمنان الہ جھوٹے ہیں جاہلیت کی تمام رسمیں میرے قدموں تلے مٹ گئیں اور امانت تو ہر فاسق و فاجر کی بھی ادا کرنی پڑے گی۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ لیکن جو شخص اپنے عہد کو پورا کرے اور اہل کتاب ہو کر ڈرتا رہے پھر اپنی کتاب کی ہدایت کے مطابق آنحضرت ﷺ پر ایمان لائے اس عہد کے مطابق جو تمام انبیاء سے بھی ہوچکا ہے اور جس عہد کی پابندی ان کی امتوں پر بھی لازم ہے اللہ کی حرام کردہ چیزوں سے اجتناب کرے اس کی شریعت کی اطاعت کرے رسولوں کے خاتم اور انبیاء کے سردار حضرت محمد ﷺ کی پوری تابعداری کرے وہ متقی ہے اور متقی اللہ تعالیٰ کے دوست ہیں۔
77
View Single
إِنَّ ٱلَّذِينَ يَشۡتَرُونَ بِعَهۡدِ ٱللَّهِ وَأَيۡمَٰنِهِمۡ ثَمَنٗا قَلِيلًا أُوْلَـٰٓئِكَ لَا خَلَٰقَ لَهُمۡ فِي ٱلۡأٓخِرَةِ وَلَا يُكَلِّمُهُمُ ٱللَّهُ وَلَا يَنظُرُ إِلَيۡهِمۡ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِ وَلَا يُزَكِّيهِمۡ وَلَهُمۡ عَذَابٌ أَلِيمٞ
Those who accept abject prices in exchange of Allah’s covenant and their oaths, do not have a portion in the Hereafter – Allah will neither speak to them nor look towards them on the Day of Resurrection, nor will He purify them; and for them is a painful punishment.
بیشک جو لوگ اللہ کے عہد اور اپنی قَسموں کا تھوڑی سی قیمت کے عوض سودا کر دیتے ہیں یہی وہ لوگ ہیں جن کے لئے آخرت میں کوئی حصہ نہیں اور نہ قیامت کے دن اللہ ان سے کلام فرمائے گا اور نہ ہی ان کی طرف نگاہ فرمائے گا اور نہ انہیں پاکیزگی دے گا اور ان کے لئے دردناک عذاب ہو گا
Tafsir Ibn Kathir
There is No Share in the Hereafter for Those Who Break Allah's Covenant
Allah states that whoever prefers the small things of this short, soon to end life, instead of fulfilling what they have promised Allah by following Muhammad , announcing his description from their books to people and affirming his truth, then,
أُوْلَـئِكَ لاَ خَلَـقَ لَهُمْ فِى الاٌّخِرَةِ
(they shall have no portion in the Hereafter.)
They will not have a share or part in the Hereafter's rewards,
وَلاَ يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ وَلاَ يَنظُرُ إِلَيْهِمْ يَوْمَ الْقِيَـمَةِ
(Neither will Allah speak to them nor look at them on the Day of Resurrection) with His mercy. This Ayah indicates that Allah will not speak words of kindness nor look at them with any mercy,
وَلاَ يُزَكِّيهِمْ
(nor will He purify them) from sins and impurities. Rather, He will order them to the Fire,
وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ
(and they shall have a painful torment.)
There are several Hadiths on the subject of this Ayah, some of which follow. The First Hadith
Imam Ahmad recorded that Abu Dharr said, "The Messenger of Allah ﷺ said, c
«ثَلَاثَةٌ لَا يُكَلِّمُهُمُ اللهُ، وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَلَا يُزَكِّيهِمْ، وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيم»
قلت: يا رسول الله، من هم؟ خابوا وخسروا قال: وأعاده رسول اللهصلى الله عليه وسلّم ثلاث مرات، قال:
«الْمُسْبِلُ، وَالْمُنَفِّقُ سِلْعَتَهُ بِالْحَلِفِ الْكَاذِبِ، وَالْمَنَّان»
(There are three persons whom Allah will not speak to, look at on the Day of Resurrection or purify, and they shall taste a painful torment. I said, `O Messenger of Allah! Who are they, may they gain failure and loss' He said, repeating this statement thrice, `The Musbil (man whose clothes reach below the ankles), he who swears while lying so as to sell his merchandize and the one who gives charity and reminds people of it).')" This was also recorded by Muslim, and the collectors of the Sunan. Another Hadith
Imam Ahmad recorded that `Adi bin `Amirah Al-Kindi said, "Imru' Al-Qays bin `Abis, a man from Kindah, disputed with a man from Hadramut in front of the Messenger of Allah ﷺ concerning a piece of land. The Prophet required the man from Hadramut to present his evidence, but he did not have any. The Prophet required Imru' Al-Qays to swear to his truthfulness, but the man from Hadramut said, `O Messenger of Allah! If you only require him to swear, then by the Lord of the Ka`bah (Allah), my land is lost.' The Messenger of Allah ﷺ said,
«مَنْ حَلَفَ عَلى يَمِينٍ كَاذِبَةٍ لِيَقْتَطِعَ بِهَا مَالَ أَحَدٍ، لَقِيَ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَان»
(Whoever swears while lying to acquire the property of others, will meet Allah while He is angry with him.)" Raja' one of the narrators of the Hadith, said that the Messenger of Allah ﷺ then recited,
إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَـنِهِمْ ثَمَنًا قَلِيًلا
(Verily, those who purchase a small gain at the cost of Allah's covenant and their oaths...)
Imru' Al-Qays said, `What if one forfeits this dispute, what will he gain, O Messenger of Allah' The Prophet answered, `Paradise.' Imru' Al-Qays said, `Bear witness that I forfeit all the land for him."' An-Nasa'i also recorded this Hadith. Another Hadith
Imam Ahmad recorded that `Abdullah said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«مَنْ حَلَفَ عَلى يَمِينٍ هُوَ فِيهَا فَاجِرٌ، لِيَقْتَطِعَ بِهَا مَالَ امْرِى مُسْلِمٍ، لَقِيَ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَان»
(Whoever takes a false oath to deprive a Muslim of his property will meet Allah while He is angry with him.)
Al-Ash`ath said, "By Allah! This verse was revealed concerning me. I owned some land with a Jewish man who denied my right, and I complained against him to the Messenger of Allah ﷺ. The Prophet asked me, `Do you have evidence' I said, `I don't have evidence.' He said to the Jew, `Take an oath then.' I said, `O Allah's Messenger! He will take a (false) oath immediately, and I will lose my property.' Allah revealed the verse,
إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَـنِهِمْ ثَمَنًا قَلِيًلا
(Verily, those who purchase a small gain at the cost of Allah's covenant and their oaths...)"
The Two Sahihs recorded this Hadith. Another Hadith
Imam Ahmad recorded that Abu Hurayrah said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«ثَلَاثَةٌ لَا يُكَلِّمُهُمُ اللهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ، وَلَا يُزَكِّيهِمْ، وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ: رَجُلٌ مَنَعَ ابْنَ السَّبِيلِ فَضْلَ مَاءٍ عِنْدَهُ، وَرَجُلٌ حَلَفَ عَلى سِلْعَةٍ بَعْدَ الْعَصْرِ يَعْنِي كَاذِبًا وَرَجُلٌ بَايَعَ إِمَامًا، فَإِنْ أَعْطَاهُ وَفَى لَهُ، وَإِنْ لَمْ يُعْطِهِ لَمْ يَفِ لَه»
(Three persons whom Allah shall not speak to on the Day of Resurrection, or look at, or purify them, and they shall taste a painful torment. (They are) a man who does not give the wayfarer some of the water that he has; a man who swears, while lying, in order to complete a sales transaction after the `Asr prayer; and a man who gives his pledge of allegiance to an Imam (Muslim Ruler), and if the Imam gives him (something), he fulfills the pledge, but if the Imam does not give him, he does not fulfill the pledge).
Abu Dawud and At-Tirmidhi also recorded this Hadith, and At-Tirmidhi graded it Hasan Sahih.
جھوٹی قسم کھانے والے یعنی جو اہل کتاب اللہ کے عہد کا پاس نہیں کرتے نہ حضور ﷺ کی اتباع کرتے ہیں نہ آپ کی صفتوں کا ذکر لوگوں سے کرتے ہیں نہ آپ کے متعلق بیان کرتے ہیں اور اسی طرح جھوٹی قسمیں کھاتے ہیں اور ان بدکاریوں سے وہ اس ذلیل اور فانی دنیا کا فائدہ حاصل کرتے ہیں ان کے لئے آخرت میں کوئی حصہ نہیں نہ ان سے اللہ تعالیٰ کوئی پیار محبت کی بات کرے گا نہ ان پر رحمت کی نظر ڈالے گا نہ انہیں ان کے گناہوں سے پاک صاف کرے گا بلکہ انہیں جہنم میں داخل کرنے کا حکم دے گا اور وہاں وہ دردناک سزائیں بھگتتے رہیں گے، اس آیت کے متعلق بہت سی حدیثیں بھی ہیں جن میں سے کچھ یہاں بھی ہم بیان کرتے ہیں 001 مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں تین قسم کے لوگ ہیں جن سے تو نہ اللہ جل شانہ کلام کرے گا اور نہ ان کی طرف قیامت کے دن نظر رحمت سے دیکھے گا، اور نہ انہیں پاک کرے گا، حضرت ابوذر نے یہ سن کر کہا یہ کون لوگ ہیں یا رسول اللہ یہ تو بڑے گھاٹے اور نقصان میں پڑے حضور ﷺ نے تین مرتبہ یہی فرمایا پھر جواب دیا کہ ٹخنوں سے نیچے کپڑا لٹکانے والا، جھوٹی قسم سے اپنا سودا بیچنے والا، دے کر احسان جتانے والا، مسلم وغیرہ میں بھی یہ حدیث ہے 002 مسند احمد میں ہے ابو احمس فرماتے ہیں میں حضرت ابوذر سے ملا اور ان سے کہا کہ میں نے سنا ہے کہ آپ رسول اللہ ﷺ سے ایک حدیث بیان فرماتے ہیں تو فرمایا سنو میں رسول اللہ ﷺ پر جھوٹ تو بول نہیں سکتا جبکہ میں نے حضور ﷺ سے سن لیا ہو تو کہئے وہ حدیث کیا ہے ؟ جواب دیا یہ کہ تین قسم کے لوگوں کو اللہ ذوالکرم دوست رکھتا ہے اور تین قسم کے لوگوں کو دشمن تو فرمانے لگے ہاں یہ حدیث میں نے بیان کی ہے اور میں نے حضور ﷺ سے سنی بھی ہے میں نے پوچھا کس کس کو دوست رکھتا ہے فرمایا ایک تو وہ جو مردانگی سے دشمنان اللہ سبحانہ کے مقابلے میں میدان جہاد میں کھڑا ہوجائے یا تو اپنا سینہ چھلنی کروا لے یا فتح کر کے لوٹے، دوسرا وہ شخص جو کسی قافلے کے ساتھ سفر میں ہے بہت رات گئے تک قافلہ چلتا رہا جب تھک کر چور ہوگئے پڑاؤ ڈالا تو سب سو گئے اور یہ جاگتا رہا اور نماز میں مشغول رہا یہاں تک کہ کوچ کے وقت سب کو جگا دیا۔ تیسرا وہ شخص جس کا پڑوسی اسے ایذاء پہنچاتا ہو اور وہ اس پر صبر و ضبط کرے یہاں تک کہ موت یا سفر ان دونوں میں جدائی کرے، میں نے کہا اور وہ تین کون ہیں جن سے اللہ تعالیٰ ناخوش ہے فرمایا بہت قسمیں کھانے والا تاجر، اور تکبر کرنے والا فقیر اور وہ بخیل جس سے کبھی احسان ہوگیا ہو تو جتانے بیٹھے، یہ حدیث اس سند سے غریب ہے 003 مسند احمد میں ہے کندہ قبیلے کے ایک شخص امروالقیس بن عامر کا جھگڑا ایک حضرمی شخص سے زمین کے بارے میں تھا جو حضور ﷺ کے سامنے پیش ہوا تو آپ نے فرمایا کہ حضرمی اپنا ثبوت پیش کرے اس کے پاس کوئی ثبوت نہ تھا تو آپ نے فرمایا اب کندی قسم کھالے تو حضرمی کہنے لگا یا رسول اللہ ﷺ جب اس کی قسم پر ہی فیصلہ ٹھہرا تو رب کعبہ کی قسم یہ میری زمین لے جائے گا آپ نے فرمایا جو شخص جھوٹی قسم سے کسی کا مال اپنا کرلے گا تو جب وہ اللہ تعالیٰ سے ملے گا اللہ اس سے ناخوش ہوگا پھر آنحضرت ﷺ نے اس آیت کی تلاوت فرمائی تو امروالقیس نے کہا یا رسول اللہ اگر تو کوئی چھوڑ دے تو اسے اجر کیا ملے گا ؟ آپ نے فرمایا جنت تو کہنے لگے یا رسول اللہ ﷺ گواہ رہئے کہ میں نے وہ ساری زمین اس کے نام چھوڑی، یہ حدیث نسائی میں بھی ہے 004 مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جو شخص جھوٹی قسم کھائے تاکہ اس سے کسی مسلمان کا مال چھین لے تو اللہ جل جلالہ سے جب ملے گا تو اللہ عزوجل اس پر سخت غضبناک ہوگا، حضرت اشعث فرماتے ہیں اللہ کی قسم میرے ہی بارے میں یہ ہے ایک یہودی اور میری شرکت میں ایک زمین تھی اس نے میرے حصہ کی زمین کا انکار کردیا میں اسے خدمت نبوی میں لایا حضور ﷺ نے مجھ سے فرمایا تیرے پاس کچھ ثبوت ہے میں نے کہا نہیں آپ نے یہودی سے فرمایا تو قسم کھالے میں نے کہا حضور ﷺ یہ تو قسم کھالے گا اور میرا مال لے جائے گا پس اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی، یہ حدیث بخاری مسلم میں بھی ہے۔ 005 مسند احمد میں ہے حضرت ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے جو شخص کسی مرد مسلم کا مال بغیر حق کے لے لے وہ اللہ ذوالجلال سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ تعالیٰ اس سے ناراض ہوگا، وہیں حضرت اشعث بن قیس ؓ آگے آئے اور فرمانے لگے ابو عبدالرحمن آپ کوئی سی حدیث بیان کرتے ہیں ؟ ہم نے دوہرا دی تو فرمایا یہ حدیث میرے ہی بارے میں حضور ﷺ نے ارشاد فرمائی ہے، میرا اپنے چچا کے لڑکے سے ایک کنوئیں کے بارے میں جھگڑا تھا جو اس کے قبضے میں تھا حضور ﷺ کے پاس جب ہم اپنا مقدمہ لے گئے تو آپ نے فرمایا تو اپنی دلیل اور ثبوت لا کہ یہ کنواں تیرا ہے ورنہ اس کی قسم پر فیصلہ ہوگا میں نے کہا یا حضرت میرے پاس تو کوئی دلیل نہیں اور اگر اس قسم پر معاملہ رہا تو یہ تو میرا کنواں لے جائے گا میرا مقابل تو فاجر شخص ہے اس وقت حضور ﷺ نے یہ حدیث بھی بیان فرمائی اور اس آیت کی بھی تلاوت کی 006 مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ کے کچھ بندے ایسے بھی ہیں جن سے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن بات نہ کرے گا نہ ان کی طرف دیکھے گا، پوچھا گیا کہ یا رسول اللہ ﷺ وہ کون ہیں ؟ فرمایا اپنے ماں باپ سے بیزار ہونے والے اور ان سے بےرغبتی کرنے والی لڑکی اور اپنی اولاد سے بیزار اور الگ ہونے والا باپ اور وہ شخص کہ جس پر کسی قوم کا احسان ہے وہ اس سے انکار کر جائے اور آنکھیں پھیر لے اور ان سے یکسوئی کرے 007 ابن ابی حاتم میں ہے حضرت عبداللہ بن ابی اوفی ؓ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے اپنا سودا بازار میں رکھا اور قسم کھائی کہ وہ اتنا بھاؤ دیا جاتا تھا تاکہ کوئی مسلمان اس میں پھنس جائے، پس یہ آیت نازل ہوئی، صحیح بخاری میں بھی یہ روایت مروی ہے۔ 008 مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں تین شخصوں سے جناب باری تقدس و تعالیٰ قیامت والے دن بات نہ کرے گا نہ ان کی طرف دیکھے گا نہ انہیں پاک کرے گا اور ان کے لئے دکھ درد کے عذاب ہیں ایک وہ جس کے پاس بچا ہوا پانی ہے پھر وہ کسی مسافر کو نہیں دیتا دوسرا وہ جو عصر کے بعد جھوٹی قسم کھا کر اپنا مال فروخت کرتا ہے تیسرا وہ بادشاہ مسلمان سے بیعت کرتا ہے اس کے بعد اگر وہ اسے مال دے تو پوری کرتا ہے اگر نہیں دیتا تو نہیں کرتا ہے یہ حدیث ابو داؤد اور ترمذی میں بھی ہے اور امام ترمذی اسے حسن صحیح کہتے ہیں۔
78
View Single
وَإِنَّ مِنۡهُمۡ لَفَرِيقٗا يَلۡوُۥنَ أَلۡسِنَتَهُم بِٱلۡكِتَٰبِ لِتَحۡسَبُوهُ مِنَ ٱلۡكِتَٰبِ وَمَا هُوَ مِنَ ٱلۡكِتَٰبِ وَيَقُولُونَ هُوَ مِنۡ عِندِ ٱللَّهِ وَمَا هُوَ مِنۡ عِندِ ٱللَّهِۖ وَيَقُولُونَ عَلَى ٱللَّهِ ٱلۡكَذِبَ وَهُمۡ يَعۡلَمُونَ
And amongst them are some who distort (change words of) the Book with their tongues, so that you may think that this also is in the Book whereas it is not in the Book; and they say, “This is from Allah” whereas it is not from Allah; and they fabricate lies against Allah, whereas they know.
اور بیشک ان میں ایک گروہ ایسا بھی ہے جو کتاب پڑھتے ہوئے اپنی زبانوں کو مروڑ لیتے ہیں تاکہ تم ان کی الٹ پھیر کو بھی کتاب (کا حصّہ) سمجھو حالانکہ وہ کتاب میں سے نہیں ہے، اور کہتے ہیں: یہ (سب) اللہ کی طرف سے ہے، اور وہ (ہرگز) اللہ کی طرف سے نہیں ہے، اور وہ اللہ پر جھوٹ گھڑتے ہیں اور (یہ) انہیں خود بھی معلوم ہے
Tafsir Ibn Kathir
The Jews Alter Allah's Words
Allah states that some Jews, may Allah's curses descend on them, distort Allah's Words with their tongues, change them from their appropriate places, and alter their intended meanings. They do this to deceive the ignorant people by making it appear that their words are in the Book of Allah. They attribute their own lies to Allah, even though they know that they have lied and invented falsehood. Therefore, Allah said,
وَيَقُولُونَ عَلَى اللَّهِ الْكَذِبَ وَهُمْ يَعْلَمُونَ
(and they speak a lie against Allah while they know it.)
Mujahid, Ash-Sha`bi, Al-Hasan, Qatadah and Ar-Rabi` bin Anas said that,
يَلْوُونَ أَلْسِنَتَهُم بِالْكِتَـبِ
(who distort the Book with their tongues,) means, "They alter them (Allah's Words)."
Al-Bukhari reported that Ibn `Abbas said that the Ayah means they alter and add although none among Allah's creation can remove the Words of Allah from His Books, they alter and distort their apparent meanings. Wahb bin Munabbih said, "The Tawrah and the Injil remain as Allah revealed them, and no letter in them was removed. However, the people misguide others by addition and false interpretation, relying on books that they wrote themselves. Then,
وَيَقُولُونَ هُوَ مِنْ عِندِ اللَّهِ وَمَا هُوَ مِنْ عِندِ اللَّهِ
(they say: "This is from Allah," but it is not from Allah;)
As for Allah's Books, they are still preserved and cannot be changed." Ibn Abi Hatim recorded this statement. However, if Wahb meant the books that are currently in the hands of the People of the Book, then we should state that there is no doubt that they altered, distorted, added to and deleted from them. For instance, the Arabic versions of these books contain tremendous error, many additions and deletions and enormous misinterpretation. Those who rendered these translations have incorrect comprehension in most, rather, all of these translations. If Wahb meant the Books of Allah that He has with Him, then indeed, these Books are preserved and were never changed.
غلط تاویل اور تحریف کرنے والے لوگ یہاں بھی انہی ملعون یہودیوں کا ذکر ہو رہا ہے کہ ان کا ایک گروہ یہ بھی کرتا ہے کہ عبارت کو اس کی اصل جگہ سے ہٹا دیتا ہے، یعنی اللہ کی کتاب بدل دیتا ہے، اصل مطلب اور صحیح معنی خبط کردیتا ہے اور جاہلوں کو اس چکر میں ڈال دیتا ہے کہ کتاب اللہ یہی ہے پھر یہ خود اپنی زبان سے بھی اسے کتاب اللہ کہہ کر جاہلوں کے اس خیال کو اور مضبوط کردیتا ہے اور جان بوجھ کر اللہ تعالیٰ پر افترا کرتا ہے اور جھوٹ بکتا ہے، زبان موڑنے سے مطلب یہاں تحریف کرنا ہے۔ حضرت ابن عباس سے صحیح بخاری شریف میں مروی ہے کہ یہ لوگ تحریف اور ازالہ کردیتے تھے مخلوق میں ایسا تو کوئی نہیں جو کسی اللہ کی کتاب کا لفظ بدل دے مگر یہ لوگ تحریف اور بےجا تاویل کرتے تھے، وہب بن منبہ فرماتے ہیں کہ توراۃ و انجیل اسی طرح ہیں جس طرح اللہ تعالیٰ نے اتاریں ایک حرف بھی ان میں سے اللہ نے نہیں بدلا لیکن یہ لوگ تحریف اور تاویل سے لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں اور جو کتابیں انہوں نے اپنی طرف سے لکھ لی ہیں اور جسے وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مشہور کر رہے ہیں اور لوگوں کو بہکاتے ہیں حالانکہ دراصل وہ اللہ کی طرف سے نہیں اللہ کی اصلی کتابیں تو محفوظ ہیں جو بدلتی نہیں (ابن ابی حاتم) حضرت وہب کے اس فرمان کا اگر یہ مطلب ہو کہ ان کے پاس اب جو کتاب ہے تو ہم بالیقین کہتے ہیں کہ وہ بدلی ہوئی ہے اور محرف ہے اور زیادتی اور نقصان سے ہرگز پاک نہیں اور پھر جو عربی زبان میں ہمارے ہاتھوں میں ہے اس میں تو بڑی غلطیاں ہیں کہیں مضمون کو کم کردیا گیا ہے کہیں بڑھا دیا گیا ہے اور صاف صاف غلطیاں موجود ہیں بلکہ دراصل اسے ترجمہ کہنا زیبا ہی نہیں وہ تو تفسیر اور وہ بھی بےاعتبار تفسیر ہے اور پھر ان سمجھداروں کی لکھی ہوئی تفسیر ہے جن میں اکثر بلکہ کل کے کل دراصل محض الٹی سمجھ والے ہیں اور اگر حضرت وہب کے فرمان کا یہ مطلب ہو کہ اللہ تعالیٰ کی کتاب جو درحقیقت اللہ کی کتاب ہے پس وہ بیشک محفوظ وسالم ہے اس میں کمی زیادتی ناممکن ہے۔
79
View Single
مَا كَانَ لِبَشَرٍ أَن يُؤۡتِيَهُ ٱللَّهُ ٱلۡكِتَٰبَ وَٱلۡحُكۡمَ وَٱلنُّبُوَّةَ ثُمَّ يَقُولَ لِلنَّاسِ كُونُواْ عِبَادٗا لِّي مِن دُونِ ٱللَّهِ وَلَٰكِن كُونُواْ رَبَّـٰنِيِّـۧنَ بِمَا كُنتُمۡ تُعَلِّمُونَ ٱلۡكِتَٰبَ وَبِمَا كُنتُمۡ تَدۡرُسُونَ
It is not for any human to whom Allah has given the Book and wisdom and Prophethood, that he should afterwards say to the people, “Leave (the worship of) Allah and be my worshippers” – but he will surely say, “Be sincere worshippers of Allah, because you teach the Book and you preach from it.”
کسی بشر کو یہ حق نہیں کہ اللہ اسے کتاب اور حکمت اور نبوت عطا فرمائے پھر وہ لوگوں سے یہ کہنے لگے کہ تم اللہ کو چھوڑ کر میرے بندے بن جاؤ بلکہ (وہ تو یہ کہے گا) تم اللہ والے بن جاؤ اس سبب سے کہ تم کتاب سکھاتے ہو اور اس وجہ سے کہ تم خود اسے پڑھتے بھی ہو
Tafsir Ibn Kathir
No Prophet Ever Called People to Worship him or to Worship Other Than Allah
This Ayah 3:79 means, it is not for a person whom Allah has given the Book, knowledge in the Law and prophethood to proclaim to the people, "Worship me instead of Allah," meaning, along with Allah. If this is not the right of a Prophet or a Messenger, then indeed, it is not the right of anyone else to issue such a claim.
This criticism refers to the ignorant rabbis, priests and teachers of misguidance, unlike the Messengers and their sincere knowledgeable followers who implement their knowledge; for they only command what Allah commands them, as their honorable Messengers conveyed to them. They also forbid what Allah forbade for them, by the words of His honorable Messengers. The Messengers, may Allah's peace and blessings be on all of them, are the emissaries between Allah and His creation, conveying Allah's Message and Trust. The messengers indeed fulfilled their mission, gave sincere advice to creation and conveyed the truth to them. Allah's statement,
وَلَـكِن كُونُواْ رَبَّـنِيِّينَ بِمَا كُنتُمْ تُعَلِّمُونَ الْكِتَـبَ وَبِمَا كُنتُمْ تَدْرُسُونَ
(On the contrary (he would say), "Be you Rabbaniyyun, because you are teaching the Book, and you are studying it.") means, the Messenger recommends the people to be Rabbaniyyun. Ibn `Abbas, Abu Razin and several others said that Rabbaniyyun means, "Wise, learned, and forbearing." Ad-Dahhak commented concerning Allah's statement,
بِمَا كُنتُمْ تُعَلِّمُونَ الْكِتَـبَ وَبِمَا كُنتُمْ تَدْرُسُونَ
(because you are teaching the Book, and you are studying it.) "Whoever learns the Qur'an deserves to become a Faqih (learned)."
وَبِمَا كُنتُمْ تَدْرُسُونَ
(and you are studying it), preserving its words.
Allah then said,
وَلاَ يَأْمُرَكُمْ أَن تَتَّخِذُواْ الْمَلَـئِكَةَ وَالنَّبِيِّيْنَ أَرْبَابًا
(Nor would he order you to take angels and Prophets for lords.) The Prophet does not command worshipping other than Allah, whether a sent Messenger or an angel.
أَيَأْمُرُكُم بِالْكُفْرِ بَعْدَ إِذْ أَنتُم مُّسْلِمُونَ
(Would he order you to disbelieve after you have submitted to Allah's will) meaning, he would not do that, for whoever calls to worshipping other than Allah, will have called to Kufr. The Prophets only call to Iman which commands worshipping Allah Alone without partners. Allah said in other Ayat,
وَمَآ أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ مِن رَّسُولٍ إِلاَّ نُوحِى إِلَيْهِ أَنَّهُ لا إِلَـهَ إِلاَّ أَنَاْ فَاعْبُدُونِ
(And We did not send any Messenger before you (O Muhammad ) but We revealed to him (saying): "None has the right to be worshipped but I, so worship Me".) 21:25,
وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِى كُلِّ أُمَّةٍ رَّسُولاً أَنِ اعْبُدُواْ اللَّهَ وَاجْتَنِبُواْ الْطَّـغُوتَ
(And verily, We have sent among every Ummah a Messenger (proclaiming): "Worship Allah (Alone), and avoid Taghut (all false deities).") 16:36, and,
وَاسْئلْ مَنْ أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ مِن رُّسُلِنَآ أَجَعَلْنَا مِن دُونِ الرَّحْمَـنِ ءَالِهَةً يُعْبَدُونَ
(And ask those of Our Messengers whom We sent before you: "Did We ever appoint gods to be worshipped besides the Most Gracious (Allah)") 43:45
Allah said concerning the angels,
وَمَن يَقُلْ مِنْهُمْ إِنِّى إِلَـهٌ مِّن دُونِهِ فَذلِكَ نَجْزِيهِ جَهَنَّمَ كَذَلِكَ نَجْزِى الظَّـلِمِينَ
(And if any of them should say: "Verily, I am a god besides Him (Allah)," such a one We should recompense with Hell. Thus We recompense the wrongdoers.) 21:29.
مقصد نبوت رسول اللہ ﷺ کے پاس جب یہودیوں اور نجرانی نصرانیوں کے علماء جمع ہوئے اور آپ نے انہیں اسلام قبول کرنے کی دعوت دی تھی تو ابو راقم قرظی کہنے لگا کہ کیا آپ یہ چاہتے ہیں کہ جس طرح نصرانیوں نے حضرت عیسیٰ بن مریم کی عبادت کی ہم بھی آپ کی عبادت کریں ؟ تو نجران کے ایک نصرانی نے بھی جسے " آئیس " کہا جاتا تھا یہی کہا کہ کیا آپ کی یہی خواہش ہے ؟ اور یہی دعوت ہے ؟ توحضور ﷺ نے فرمایا معاذ اللہ نہ ہم خود اللہ وحدہ لاشریک کے سوا دوسرے کی پوجا نہ کریں کسی اور کو اللہ کے سوا دوسرے کی عبادت کی تعلیم دیں نہ میری پیغمبری کا یہ مقصد نہ مجھے اللہ حاکم اعلیٰ کا یہ حکم، اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں، کہ کسی انسان کو کتاب و حکمت اور نبوت و رسالت پالینے کے بعد یہ لائق ہی نہیں کہ اپنی پرستش کی طرف لوگوں کو بلائے، جب انبیائے کرام کا جو اتنی بڑی بزرگی فضیلت اور مرتبے والے ہیں یہ منصب نہیں تو کسی اور کو کب لائق ہے کہ اپنی پوجا پاٹ کرائے، اور اپنی بندگی کی تلقین لوگوں کو کرے، امام حسن بصری فرماتے ہیں ادنی مومن سے بھی یہ نہیں ہوسکتا کہ وہ لوگوں کو اپنی بندگی کی دعوت دے، یہاں یہ اس لئے فرمایا یہ یہود و نصاریٰ آپس میں ہی ایک دوسرے کو پوجتے تھے قرآن شاہد ہے جو فرماتا ہے (آیت اتخذوا احبارھم ورھبانھم اربابا من دون اللہ الخ،) یعنی ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کو چھوڑ اپنے عالموں اور درویشوں کو اپنا رب بنا لیا ہے۔ مسند ترمذی کی وہ حدیث بھی آرہی ہے کہ حضرت عدی بن حاتم نے رسول مقبول ﷺ کی خدمت میں عرض کیا کہ وہ تو ان کی عبادت نہیں کرتے تھے تو آپ نے فرمایا کیوں نہیں ؟ وہ ان پر حرام کو حلال اور حلال کو حرام کردیتے تھے اور یہ ان کی مانتے چلے جاتے تھے یہی ان کی عبادت تھی، پس جاہل درویش اور بےسمجھ علماء اور مشائخ اس مذمت اور ڈانٹ ڈپٹ میں داخل ہیں رسول ﷺ اور ان کی اتباع کرنے والے علماء کرام اس سے یکسو ہیں اس لئے کہ وہ تو صرف اللہ تعالیٰ کے فرمان اور کلام رسول ﷺ کی تبلیغ کرتے ہیں اور ان کاموں سے روکتے ہیں جن سے انبیاء کرام روک گئے ہیں، اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے حضرت انبیاء تو خالق و مخلوق کے درمیان سفیر ہیں حق رسالت ادا کرتے ہیں اور اللہ کی امانت احتیاط کے ساتھ بندگان رب عالم کو پہنچا دیتے ہیں نہایت بیداری، مکمل ہوشیاری، کمال نگرانی اور پوری حفاظت کے ساتھ وہ ساری مخلوق کے خیر خواہ ہوتے ہیں وہ احکام رب رحمن کے پہچاننے والے ہوتے ہیں۔ رسولوں کی ہدایت تو لوگوں کو ربانی بننے کی ہوتی ہے کہ وہ حکمتوں والے علم والے اور حلم والے بن جائیں سمجھدار، عابد و زاہد، متقی اور پارسا ہیں۔ حضرت ضحاک فرماتے ہیں کہ قرآن سیکھنے والوں پر حق ہے کہ وہ با سمجھ ہوں تعملون اور تعلمون دونوں قرأت ہیں پہلے کے معنی ہیں معنی سمجھنے کے دوسرے کے معنی ہیں تعلیم حاصل کرنے کے، تدرسون کے معنی ہیں الفاظ یاد کرنے کے۔ پھر ارشاد ہے کہ وہ یہ حکم نہیں کرتے کہ اللہ کے سوا کسی اور کی عبادت کرو خواہ وہ نبی ہو بھیجا ہوا خواہ فرشتہ ہو قرب الہ والا، یہ تو وہی کرسکتا ہے جو اللہ کے سوا دوسرے کی عبادت کی دعوت دے اور جو ایسا کرے وہ کافر ہو اور کفر نبیوں کا کام نہیں ان کا کام تو ایمان لانا ہے اور ایمان نام ہے اللہ واحد کی عبادت اور پرستش کا، اور یہی نبیوں کی دعوت ہے، جیسے خود قرآن فرماتا ہے (آیت وما ارسلنا من قبلک من رسول الا نوحی الیہ انہ لا الہ الا انا فاعبدون) یعنی تجھ سے پہلے بھی ہم نے جتنے رسول بھیجے سب پر یہی وحی نازل کی کہ میرے سوا کوئی معبود ہے ہی نہیں تم سب میری عبادت کرتے رہو اور فرمایا (آیت ولقد بعثنا فی کل امتہ رسولا ان اعبدوا اللہ واجتنبوا الطاغوت) یعنی ہم نے ہر امت میں رسول بھیجا کہ تم اللہ کی عبادت کرو اور اللہ کے سوا ہر کسی کی عبادت سے بچو، ارشاد ہے تجھ سے پہلے تمام رسولوں سے پوچھ لو کیا ہم نے اپنی ذات رحمان کے سوا ان کی عبادت کے لئے کسی اور کو مقرر کیا تھا ؟ فرشتوں کی طرف سے خبر دیتا ہے کہ (آیت من یقل منھم الخ) ان میں سے اگر کوئی کہہ دے کہ میں معبود ہوں بجز اللہ تو اسے بھی جہنم کی سزا دیں اور اسی طرح ہم ظالموں کو بدلہ دیتے ہیں۔
80
View Single
وَلَا يَأۡمُرَكُمۡ أَن تَتَّخِذُواْ ٱلۡمَلَـٰٓئِكَةَ وَٱلنَّبِيِّـۧنَ أَرۡبَابًاۚ أَيَأۡمُرُكُم بِٱلۡكُفۡرِ بَعۡدَ إِذۡ أَنتُم مُّسۡلِمُونَ
And nor will he command you to appoint the angels and the Prophets as Gods; would he (a Prophet) command you to disbelieve after you have become Muslims?
اور وہ پیغمبر تمہیں یہ حکم کبھی نہیں دیتا کہ تم فرشتوں اور پیغمبروں کو رب بنا لو، کیا وہ تمہارے مسلمان ہو جانے کے بعد (اب) تمہیں کفر کا حکم دے گا
Tafsir Ibn Kathir
No Prophet Ever Called People to Worship him or to Worship Other Than Allah
This Ayah 3:79 means, it is not for a person whom Allah has given the Book, knowledge in the Law and prophethood to proclaim to the people, "Worship me instead of Allah," meaning, along with Allah. If this is not the right of a Prophet or a Messenger, then indeed, it is not the right of anyone else to issue such a claim.
This criticism refers to the ignorant rabbis, priests and teachers of misguidance, unlike the Messengers and their sincere knowledgeable followers who implement their knowledge; for they only command what Allah commands them, as their honorable Messengers conveyed to them. They also forbid what Allah forbade for them, by the words of His honorable Messengers. The Messengers, may Allah's peace and blessings be on all of them, are the emissaries between Allah and His creation, conveying Allah's Message and Trust. The messengers indeed fulfilled their mission, gave sincere advice to creation and conveyed the truth to them. Allah's statement,
وَلَـكِن كُونُواْ رَبَّـنِيِّينَ بِمَا كُنتُمْ تُعَلِّمُونَ الْكِتَـبَ وَبِمَا كُنتُمْ تَدْرُسُونَ
(On the contrary (he would say), "Be you Rabbaniyyun, because you are teaching the Book, and you are studying it.") means, the Messenger recommends the people to be Rabbaniyyun. Ibn `Abbas, Abu Razin and several others said that Rabbaniyyun means, "Wise, learned, and forbearing." Ad-Dahhak commented concerning Allah's statement,
بِمَا كُنتُمْ تُعَلِّمُونَ الْكِتَـبَ وَبِمَا كُنتُمْ تَدْرُسُونَ
(because you are teaching the Book, and you are studying it.) "Whoever learns the Qur'an deserves to become a Faqih (learned)."
وَبِمَا كُنتُمْ تَدْرُسُونَ
(and you are studying it), preserving its words.
Allah then said,
وَلاَ يَأْمُرَكُمْ أَن تَتَّخِذُواْ الْمَلَـئِكَةَ وَالنَّبِيِّيْنَ أَرْبَابًا
(Nor would he order you to take angels and Prophets for lords.) The Prophet does not command worshipping other than Allah, whether a sent Messenger or an angel.
أَيَأْمُرُكُم بِالْكُفْرِ بَعْدَ إِذْ أَنتُم مُّسْلِمُونَ
(Would he order you to disbelieve after you have submitted to Allah's will) meaning, he would not do that, for whoever calls to worshipping other than Allah, will have called to Kufr. The Prophets only call to Iman which commands worshipping Allah Alone without partners. Allah said in other Ayat,
وَمَآ أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ مِن رَّسُولٍ إِلاَّ نُوحِى إِلَيْهِ أَنَّهُ لا إِلَـهَ إِلاَّ أَنَاْ فَاعْبُدُونِ
(And We did not send any Messenger before you (O Muhammad ) but We revealed to him (saying): "None has the right to be worshipped but I, so worship Me".) 21:25,
وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِى كُلِّ أُمَّةٍ رَّسُولاً أَنِ اعْبُدُواْ اللَّهَ وَاجْتَنِبُواْ الْطَّـغُوتَ
(And verily, We have sent among every Ummah a Messenger (proclaiming): "Worship Allah (Alone), and avoid Taghut (all false deities).") 16:36, and,
وَاسْئلْ مَنْ أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ مِن رُّسُلِنَآ أَجَعَلْنَا مِن دُونِ الرَّحْمَـنِ ءَالِهَةً يُعْبَدُونَ
(And ask those of Our Messengers whom We sent before you: "Did We ever appoint gods to be worshipped besides the Most Gracious (Allah)") 43:45
Allah said concerning the angels,
وَمَن يَقُلْ مِنْهُمْ إِنِّى إِلَـهٌ مِّن دُونِهِ فَذلِكَ نَجْزِيهِ جَهَنَّمَ كَذَلِكَ نَجْزِى الظَّـلِمِينَ
(And if any of them should say: "Verily, I am a god besides Him (Allah)," such a one We should recompense with Hell. Thus We recompense the wrongdoers.) 21:29.
مقصد نبوت رسول اللہ ﷺ کے پاس جب یہودیوں اور نجرانی نصرانیوں کے علماء جمع ہوئے اور آپ نے انہیں اسلام قبول کرنے کی دعوت دی تھی تو ابو راقم قرظی کہنے لگا کہ کیا آپ یہ چاہتے ہیں کہ جس طرح نصرانیوں نے حضرت عیسیٰ بن مریم کی عبادت کی ہم بھی آپ کی عبادت کریں ؟ تو نجران کے ایک نصرانی نے بھی جسے " آئیس " کہا جاتا تھا یہی کہا کہ کیا آپ کی یہی خواہش ہے ؟ اور یہی دعوت ہے ؟ توحضور ﷺ نے فرمایا معاذ اللہ نہ ہم خود اللہ وحدہ لاشریک کے سوا دوسرے کی پوجا نہ کریں کسی اور کو اللہ کے سوا دوسرے کی عبادت کی تعلیم دیں نہ میری پیغمبری کا یہ مقصد نہ مجھے اللہ حاکم اعلیٰ کا یہ حکم، اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں، کہ کسی انسان کو کتاب و حکمت اور نبوت و رسالت پالینے کے بعد یہ لائق ہی نہیں کہ اپنی پرستش کی طرف لوگوں کو بلائے، جب انبیائے کرام کا جو اتنی بڑی بزرگی فضیلت اور مرتبے والے ہیں یہ منصب نہیں تو کسی اور کو کب لائق ہے کہ اپنی پوجا پاٹ کرائے، اور اپنی بندگی کی تلقین لوگوں کو کرے، امام حسن بصری فرماتے ہیں ادنی مومن سے بھی یہ نہیں ہوسکتا کہ وہ لوگوں کو اپنی بندگی کی دعوت دے، یہاں یہ اس لئے فرمایا یہ یہود و نصاریٰ آپس میں ہی ایک دوسرے کو پوجتے تھے قرآن شاہد ہے جو فرماتا ہے (آیت اتخذوا احبارھم ورھبانھم اربابا من دون اللہ الخ،) یعنی ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کو چھوڑ اپنے عالموں اور درویشوں کو اپنا رب بنا لیا ہے۔ مسند ترمذی کی وہ حدیث بھی آرہی ہے کہ حضرت عدی بن حاتم نے رسول مقبول ﷺ کی خدمت میں عرض کیا کہ وہ تو ان کی عبادت نہیں کرتے تھے تو آپ نے فرمایا کیوں نہیں ؟ وہ ان پر حرام کو حلال اور حلال کو حرام کردیتے تھے اور یہ ان کی مانتے چلے جاتے تھے یہی ان کی عبادت تھی، پس جاہل درویش اور بےسمجھ علماء اور مشائخ اس مذمت اور ڈانٹ ڈپٹ میں داخل ہیں رسول ﷺ اور ان کی اتباع کرنے والے علماء کرام اس سے یکسو ہیں اس لئے کہ وہ تو صرف اللہ تعالیٰ کے فرمان اور کلام رسول ﷺ کی تبلیغ کرتے ہیں اور ان کاموں سے روکتے ہیں جن سے انبیاء کرام روک گئے ہیں، اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے حضرت انبیاء تو خالق و مخلوق کے درمیان سفیر ہیں حق رسالت ادا کرتے ہیں اور اللہ کی امانت احتیاط کے ساتھ بندگان رب عالم کو پہنچا دیتے ہیں نہایت بیداری، مکمل ہوشیاری، کمال نگرانی اور پوری حفاظت کے ساتھ وہ ساری مخلوق کے خیر خواہ ہوتے ہیں وہ احکام رب رحمن کے پہچاننے والے ہوتے ہیں۔ رسولوں کی ہدایت تو لوگوں کو ربانی بننے کی ہوتی ہے کہ وہ حکمتوں والے علم والے اور حلم والے بن جائیں سمجھدار، عابد و زاہد، متقی اور پارسا ہیں۔ حضرت ضحاک فرماتے ہیں کہ قرآن سیکھنے والوں پر حق ہے کہ وہ با سمجھ ہوں تعملون اور تعلمون دونوں قرأت ہیں پہلے کے معنی ہیں معنی سمجھنے کے دوسرے کے معنی ہیں تعلیم حاصل کرنے کے، تدرسون کے معنی ہیں الفاظ یاد کرنے کے۔ پھر ارشاد ہے کہ وہ یہ حکم نہیں کرتے کہ اللہ کے سوا کسی اور کی عبادت کرو خواہ وہ نبی ہو بھیجا ہوا خواہ فرشتہ ہو قرب الہ والا، یہ تو وہی کرسکتا ہے جو اللہ کے سوا دوسرے کی عبادت کی دعوت دے اور جو ایسا کرے وہ کافر ہو اور کفر نبیوں کا کام نہیں ان کا کام تو ایمان لانا ہے اور ایمان نام ہے اللہ واحد کی عبادت اور پرستش کا، اور یہی نبیوں کی دعوت ہے، جیسے خود قرآن فرماتا ہے (آیت وما ارسلنا من قبلک من رسول الا نوحی الیہ انہ لا الہ الا انا فاعبدون) یعنی تجھ سے پہلے بھی ہم نے جتنے رسول بھیجے سب پر یہی وحی نازل کی کہ میرے سوا کوئی معبود ہے ہی نہیں تم سب میری عبادت کرتے رہو اور فرمایا (آیت ولقد بعثنا فی کل امتہ رسولا ان اعبدوا اللہ واجتنبوا الطاغوت) یعنی ہم نے ہر امت میں رسول بھیجا کہ تم اللہ کی عبادت کرو اور اللہ کے سوا ہر کسی کی عبادت سے بچو، ارشاد ہے تجھ سے پہلے تمام رسولوں سے پوچھ لو کیا ہم نے اپنی ذات رحمان کے سوا ان کی عبادت کے لئے کسی اور کو مقرر کیا تھا ؟ فرشتوں کی طرف سے خبر دیتا ہے کہ (آیت من یقل منھم الخ) ان میں سے اگر کوئی کہہ دے کہ میں معبود ہوں بجز اللہ تو اسے بھی جہنم کی سزا دیں اور اسی طرح ہم ظالموں کو بدلہ دیتے ہیں۔
81
View Single
وَإِذۡ أَخَذَ ٱللَّهُ مِيثَٰقَ ٱلنَّبِيِّـۧنَ لَمَآ ءَاتَيۡتُكُم مِّن كِتَٰبٖ وَحِكۡمَةٖ ثُمَّ جَآءَكُمۡ رَسُولٞ مُّصَدِّقٞ لِّمَا مَعَكُمۡ لَتُؤۡمِنُنَّ بِهِۦ وَلَتَنصُرُنَّهُۥۚ قَالَ ءَأَقۡرَرۡتُمۡ وَأَخَذۡتُمۡ عَلَىٰ ذَٰلِكُمۡ إِصۡرِيۖ قَالُوٓاْ أَقۡرَرۡنَاۚ قَالَ فَٱشۡهَدُواْ وَأَنَا۠ مَعَكُم مِّنَ ٱلشَّـٰهِدِينَ
And remember when Allah took a covenant from the Prophets; “If I give you the Book and knowledge and the (promised) Noble Messenger (Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him) comes to you, confirming the Books you possess, you shall positively, definitely believe in him and you shall positively, definitely help him”; He said, “Do you agree, and accept My binding responsibility in this matter?” They all answered, “We agree”; He said, “Then bear witness amongst yourselves, and I Myself am a witness with you.”
اور (اے محبوب! وہ وقت یاد کریں) جب اللہ نے انبیاء سے پختہ عہد لیا کہ جب میں تمہیں کتاب اور حکمت عطا کر دوں پھر تمہارے پاس وہ (سب پر عظمت والا) رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے جو ان کتابوں کی تصدیق فرمانے والا ہو جو تمہارے ساتھ ہوں گی تو ضرور بالضرور ان پر ایمان لاؤ گے اور ضرور بالضرور ان کی مدد کرو گے، فرمایا: کیا تم نے اِقرار کیا اور اس (شرط) پر میرا بھاری عہد مضبوطی سے تھام لیا؟ سب نے عرض کیا: ہم نے اِقرار کر لیا، فرمایا کہ تم گواہ ہو جاؤ اور میں بھی تمہارے ساتھ گواہوں میں سے ہوں
Tafsir Ibn Kathir
Taking a Pledge From the Prophets to Believe in Our Prophet, Muhammad ﷺ
Allah states that He took a pledge from every Prophet whom He sent from Adam until `Isa, that when Allah gives them the Book and the Hikmah, thus acquiring whatever high grades they deserve, then a Messenger came afterwards, they would believe in and support him. Even though Allah has given the Prophets the knowledge and the prophethood, this fact should not make them refrain from following and supporting the Prophet who comes after them. This is why Allah, the Most High, Most Honored, said
وَإِذْ أَخَذَ اللَّهُ مِيثَـقَ النَّبِيِّيْنَ لَمَآ ءَاتَيْتُكُم مِّن كِتَـبٍ وَحِكْمَةٍ
(And (remember) when Allah took the covenant of the Prophets, saying: "Take whatever I gave you from the Book and Hikmah.") meaning, if I give you the Book and the Hikmah,
ثُمَّ جَآءَكُمْ رَسُولٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَكُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِهِ وَلَتَنصُرُنَّهُ قَالَ ءَأَقْرَرْتُمْ وَأَخَذْتُمْ عَلَى ذلِكُمْ إِصْرِى
("and afterwards there will come to you a Messenger confirming what is with you; you must, then, believe in him and help him." Allah said, "Do you agree (to it) and will you take up Isri")
Ibn `Abbas, Mujahid, Ar-Rabi`, Qatadah and As-Suddi said that `Isri' means, "My covenant." Muhammad bin Ishaq said that,
إِصْرِى
(Isri) means, "The responsibility of My covenant that you took," meaning, the ratified pledge that you gave Me.
قَالُواْ أَقْرَرْنَا قَالَ فَاشْهَدُواْ وَأَنَاْ مَعَكُمْ مِّنَ الشَّـهِدِينَفَمَنْ تَوَلَّى بَعْدَ ذَلِكَ
(They said: "We agree." He said: "Then bear witness; and I am with you among the witnesses." then whoever turns away after this,") from fulfilling this pledge and covenant, c
فَأُوْلَـئِكَ هُمُ الْفَـسِقُونَ
(they are the rebellious.) `Ali bin Abi Talib and his cousin `Abdullah bin `Abbas said, "Allah never sent a Prophet but after taking his pledge that if Muhammad ﷺ were sent in his lifetime, he would believe in and support him." Allah commanded each Prophet to take a pledge from his nation that if Muhammad were sent in their time, they would believe in and support him. Tawus, Al-Hasan Al-Basri and Qatadah said, "Allah took the pledge from the Prophets that they would believe in each other", and this statement does not contradict what `Ali and Ibn `Abbas stated.
Therefore, Muhammad ﷺ is the Final Prophet until the Day of Resurrection. He is the greatest Imam, who if he existed in any time period, deserves to be obeyed, rather than all other Prophets. This is why Muhammad ﷺ led the Prophets in prayer during the night of Isra' when they gathered in Bayt Al-Maqdis (Jerusalem). He is the intercessor on the Day of Gathering, when the Lord comes to judge between His servants. This is Al-Maqam Al-Mahmud (the praised station) refer to 17:79 that only Muhammad ﷺ deserves, a responsibility which the mighty Prophets and Messengers will decline to assume. However, Muhammad ﷺ will carry the task of intercession, may Allah's peace and blessings be on him.
انبیاء سے عہد و میثاق یہاں بیان ہو رہا ہے کہ حضرت آدم سے لے کر حضرت عیسیٰ تک کے تمام انبیاء کرام سے اللہ تعالیٰ نے وعدہ لیا کہ جب کبھی ان میں سے کسی کو بھی اللہ تبارک وتعالیٰ کتاب و حکمت دے اور وہ بڑے مرتبے تک پہنچ جائے پھر اس کے بعد اسی کے زمانے میں رسول ﷺ آجائے تو اس پر ایمان لانا اور اس کی نصرت و امداد کرنا اس کا فرض ہوگا یہ نہ ہو کہ اپنے علم و نبوت کی وجہ سے اپنے بعد والے نبی کی اتباع اور امداد سے رک جائے، پھر ان سے پوچھا کہ کیا تم اقرار کرتے ہو ؟ اور اسی عہد و میثاق پر مجھے ضامن ٹھہراتے ہو۔ سب نے کہا ہاں ہمارا اقرار ہے تو فرمایا گواہ رہو اور میں خود بھی گواہ ہوں۔ اب اس عہد و میثاق سے جو پھرجائے وہ قطعی فاسق، بےحکم اور بدکار ہے، حضرت علی بن ابو طالب ؓ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہر نبی سے عہد لیا کہ اس کی زندگی میں اگر اللہ تعالیٰ اپنے نبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو بھیجے تو اس پر فرض ہے کہ وہ آپ پر ایمان لائے اور آپ کی امداد کرے اور اپنی امت کو بھی وہ یہی تلقین کرے کہ وہ بھی حضور ﷺ پر ایمان لائے اور آپ کی تابعداری میں لگ جائے، طاؤس حسن بصری اور قتادہ فرماتے ہیں نبیوں سے اللہ نے عہد لیا کہ ایک دوسرے کی تصدیق کریں، کوئی یہ نہ سمجھے کہ یہ تفسیر اوپر کی تفسیر کے خلاف ہے بلکہ یہ اس کی تائید ہے اسی لئے حضرت طاؤس ؒ سے ان کے لڑکے کی روایت مثل روایت حضرت علی اور ابن عباس کے بھی مروی ہے۔ مسند احمد کی روایت میں ہے کہ حضرت عمر بن خطاب ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے کہا یا رسول اللہ میں نے ایک دوست قریظی یہودی سے کہا تھا کہ وہ تورات کی جامع باتیں مجھے لکھ دے اگر آپ فرمائیں تو میں انہیں پیش کروں حضور ﷺ کا چہرہ متغیر ہوگیا۔ حضرت عبداللہ ثابت نے کہا کہ تم نہیں دیکھتے کہ آپ کے چہرہ کا کیا حال ہے ؟ تو حضرت عمر کہنے لگے میں اللہ کے رب ہونے پر اسلام کے دین ہونے پر محمد کے رسول ہونے پر خوش ہوں ﷺ اس وقت حضور ﷺ کا غصہ دور ہوا اور فرمایا قسم ہے اس اللہ تعالیٰ کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اگر حضرت موسیٰ تم میں آجائیں اور تم ان کی تابعداری میں لگ جاؤ اور مجھے چھوڑ دو تو تم سب گمراہ ہوجاؤ تمام امتوں میں سے میرے حصے کی امت تم ہو اور تمام نبیوں میں سے تمہارے حصے کا نبی میں ہوں، مسند ابو یعلی میں لکھا ہے اہل کتاب سے کچھ نہ پوچھو وہ خود گمراہ ہیں تو تمہیں راہ راست کیسے دکھائیں گے بلکہ ممکن ہے تم کسی باطل کی تصدیق کرلو یا حق کی تکذیب کر بیٹھو اللہ کی قسم اگر موسیٰ بھی تم میں زندہ موجود ہوتے تو انہیں بھی بجز میری تابعداری کے اور کچھ حلال نہ تھا، بعض احادیث میں ہے اگر موسیٰ اور عیسیٰ زندہ ہوتے تو انہیں بھی میری اتباع کے سوا چارہ نہ تھا، پس ثابت ہوا کہ ہمارے رسول حضرت محمد ﷺ خاتم الانبیاء ہیں اور امام اعظم ہیں جس زمانے میں بھی آپ کی نبوت ہوتی آپ واجب الاطاعت تھے اور تمام انبیاء کی تابعداری پر جو اس وقت ہوں آپ کی فرمانبرداری مقدم رہتی، یہی وجہ تھی کہ معراج والی رات بیت المقدس میں تمام انبیاء کے امام آپ ہی بنائے گئے، اسی طرح میدان محشر میں بھی اللہ تعالیٰ کی فیصلوں کو انجام تک پہنچانے میں آپ ہی شفیع ہوں گے یہی وہ مقام محمود ہے جو آپ کے سوا اور کو حاصل نہیں تمام انبیاء اور کل رسول اس دن اس کام سے منہ پھیر لیں گے بالاخر آپ ہی خصوصیت کے ساتھ اس مقام میں کھڑے ہوں گے، اللہ تعالیٰ اپنے درود وسلام آپ پر ہمیشہ ہمیشہ بھیجتا رہے قیامت کے دن تک آمین۔
82
View Single
فَمَن تَوَلَّىٰ بَعۡدَ ذَٰلِكَ فَأُوْلَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡفَٰسِقُونَ
So those who turn away after this – it is they who are the sinners.
(اب پوری نسل آدم کے لئے تنبیہاً فرمایا:) پھر جس نے اس (اقرار) کے بعد روگردانی کی پس وہی لوگ نافرمان ہوں گے
Tafsir Ibn Kathir
Taking a Pledge From the Prophets to Believe in Our Prophet, Muhammad ﷺ
Allah states that He took a pledge from every Prophet whom He sent from Adam until `Isa, that when Allah gives them the Book and the Hikmah, thus acquiring whatever high grades they deserve, then a Messenger came afterwards, they would believe in and support him. Even though Allah has given the Prophets the knowledge and the prophethood, this fact should not make them refrain from following and supporting the Prophet who comes after them. This is why Allah, the Most High, Most Honored, said
وَإِذْ أَخَذَ اللَّهُ مِيثَـقَ النَّبِيِّيْنَ لَمَآ ءَاتَيْتُكُم مِّن كِتَـبٍ وَحِكْمَةٍ
(And (remember) when Allah took the covenant of the Prophets, saying: "Take whatever I gave you from the Book and Hikmah.") meaning, if I give you the Book and the Hikmah,
ثُمَّ جَآءَكُمْ رَسُولٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَكُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِهِ وَلَتَنصُرُنَّهُ قَالَ ءَأَقْرَرْتُمْ وَأَخَذْتُمْ عَلَى ذلِكُمْ إِصْرِى
("and afterwards there will come to you a Messenger confirming what is with you; you must, then, believe in him and help him." Allah said, "Do you agree (to it) and will you take up Isri")
Ibn `Abbas, Mujahid, Ar-Rabi`, Qatadah and As-Suddi said that `Isri' means, "My covenant." Muhammad bin Ishaq said that,
إِصْرِى
(Isri) means, "The responsibility of My covenant that you took," meaning, the ratified pledge that you gave Me.
قَالُواْ أَقْرَرْنَا قَالَ فَاشْهَدُواْ وَأَنَاْ مَعَكُمْ مِّنَ الشَّـهِدِينَفَمَنْ تَوَلَّى بَعْدَ ذَلِكَ
(They said: "We agree." He said: "Then bear witness; and I am with you among the witnesses." then whoever turns away after this,") from fulfilling this pledge and covenant, c
فَأُوْلَـئِكَ هُمُ الْفَـسِقُونَ
(they are the rebellious.) `Ali bin Abi Talib and his cousin `Abdullah bin `Abbas said, "Allah never sent a Prophet but after taking his pledge that if Muhammad ﷺ were sent in his lifetime, he would believe in and support him." Allah commanded each Prophet to take a pledge from his nation that if Muhammad were sent in their time, they would believe in and support him. Tawus, Al-Hasan Al-Basri and Qatadah said, "Allah took the pledge from the Prophets that they would believe in each other", and this statement does not contradict what `Ali and Ibn `Abbas stated.
Therefore, Muhammad ﷺ is the Final Prophet until the Day of Resurrection. He is the greatest Imam, who if he existed in any time period, deserves to be obeyed, rather than all other Prophets. This is why Muhammad ﷺ led the Prophets in prayer during the night of Isra' when they gathered in Bayt Al-Maqdis (Jerusalem). He is the intercessor on the Day of Gathering, when the Lord comes to judge between His servants. This is Al-Maqam Al-Mahmud (the praised station) refer to 17:79 that only Muhammad ﷺ deserves, a responsibility which the mighty Prophets and Messengers will decline to assume. However, Muhammad ﷺ will carry the task of intercession, may Allah's peace and blessings be on him.
انبیاء سے عہد و میثاق یہاں بیان ہو رہا ہے کہ حضرت آدم سے لے کر حضرت عیسیٰ تک کے تمام انبیاء کرام سے اللہ تعالیٰ نے وعدہ لیا کہ جب کبھی ان میں سے کسی کو بھی اللہ تبارک وتعالیٰ کتاب و حکمت دے اور وہ بڑے مرتبے تک پہنچ جائے پھر اس کے بعد اسی کے زمانے میں رسول ﷺ آجائے تو اس پر ایمان لانا اور اس کی نصرت و امداد کرنا اس کا فرض ہوگا یہ نہ ہو کہ اپنے علم و نبوت کی وجہ سے اپنے بعد والے نبی کی اتباع اور امداد سے رک جائے، پھر ان سے پوچھا کہ کیا تم اقرار کرتے ہو ؟ اور اسی عہد و میثاق پر مجھے ضامن ٹھہراتے ہو۔ سب نے کہا ہاں ہمارا اقرار ہے تو فرمایا گواہ رہو اور میں خود بھی گواہ ہوں۔ اب اس عہد و میثاق سے جو پھرجائے وہ قطعی فاسق، بےحکم اور بدکار ہے، حضرت علی بن ابو طالب ؓ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہر نبی سے عہد لیا کہ اس کی زندگی میں اگر اللہ تعالیٰ اپنے نبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو بھیجے تو اس پر فرض ہے کہ وہ آپ پر ایمان لائے اور آپ کی امداد کرے اور اپنی امت کو بھی وہ یہی تلقین کرے کہ وہ بھی حضور ﷺ پر ایمان لائے اور آپ کی تابعداری میں لگ جائے، طاؤس حسن بصری اور قتادہ فرماتے ہیں نبیوں سے اللہ نے عہد لیا کہ ایک دوسرے کی تصدیق کریں، کوئی یہ نہ سمجھے کہ یہ تفسیر اوپر کی تفسیر کے خلاف ہے بلکہ یہ اس کی تائید ہے اسی لئے حضرت طاؤس ؒ سے ان کے لڑکے کی روایت مثل روایت حضرت علی اور ابن عباس کے بھی مروی ہے۔ مسند احمد کی روایت میں ہے کہ حضرت عمر بن خطاب ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے کہا یا رسول اللہ میں نے ایک دوست قریظی یہودی سے کہا تھا کہ وہ تورات کی جامع باتیں مجھے لکھ دے اگر آپ فرمائیں تو میں انہیں پیش کروں حضور ﷺ کا چہرہ متغیر ہوگیا۔ حضرت عبداللہ ثابت نے کہا کہ تم نہیں دیکھتے کہ آپ کے چہرہ کا کیا حال ہے ؟ تو حضرت عمر کہنے لگے میں اللہ کے رب ہونے پر اسلام کے دین ہونے پر محمد کے رسول ہونے پر خوش ہوں ﷺ اس وقت حضور ﷺ کا غصہ دور ہوا اور فرمایا قسم ہے اس اللہ تعالیٰ کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اگر حضرت موسیٰ تم میں آجائیں اور تم ان کی تابعداری میں لگ جاؤ اور مجھے چھوڑ دو تو تم سب گمراہ ہوجاؤ تمام امتوں میں سے میرے حصے کی امت تم ہو اور تمام نبیوں میں سے تمہارے حصے کا نبی میں ہوں، مسند ابو یعلی میں لکھا ہے اہل کتاب سے کچھ نہ پوچھو وہ خود گمراہ ہیں تو تمہیں راہ راست کیسے دکھائیں گے بلکہ ممکن ہے تم کسی باطل کی تصدیق کرلو یا حق کی تکذیب کر بیٹھو اللہ کی قسم اگر موسیٰ بھی تم میں زندہ موجود ہوتے تو انہیں بھی بجز میری تابعداری کے اور کچھ حلال نہ تھا، بعض احادیث میں ہے اگر موسیٰ اور عیسیٰ زندہ ہوتے تو انہیں بھی میری اتباع کے سوا چارہ نہ تھا، پس ثابت ہوا کہ ہمارے رسول حضرت محمد ﷺ خاتم الانبیاء ہیں اور امام اعظم ہیں جس زمانے میں بھی آپ کی نبوت ہوتی آپ واجب الاطاعت تھے اور تمام انبیاء کی تابعداری پر جو اس وقت ہوں آپ کی فرمانبرداری مقدم رہتی، یہی وجہ تھی کہ معراج والی رات بیت المقدس میں تمام انبیاء کے امام آپ ہی بنائے گئے، اسی طرح میدان محشر میں بھی اللہ تعالیٰ کی فیصلوں کو انجام تک پہنچانے میں آپ ہی شفیع ہوں گے یہی وہ مقام محمود ہے جو آپ کے سوا اور کو حاصل نہیں تمام انبیاء اور کل رسول اس دن اس کام سے منہ پھیر لیں گے بالاخر آپ ہی خصوصیت کے ساتھ اس مقام میں کھڑے ہوں گے، اللہ تعالیٰ اپنے درود وسلام آپ پر ہمیشہ ہمیشہ بھیجتا رہے قیامت کے دن تک آمین۔
83
View Single
أَفَغَيۡرَ دِينِ ٱللَّهِ يَبۡغُونَ وَلَهُۥٓ أَسۡلَمَ مَن فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ طَوۡعٗا وَكَرۡهٗا وَإِلَيۡهِ يُرۡجَعُونَ
So do they desire a religion other than the religion of Allah, whereas to Him has submitted whoever is in the heavens and the earth, willingly or grudgingly, and it is to Him they will return?
کیا یہ اللہ کے دین کے سوا کوئی اور دین چاہتے ہیں اور جو کوئی بھی آسمانوں اور زمین میں ہے اس نے خوشی سے یا لاچاری سے (بہرحال) اسی کی فرمانبرداری اختیار کی ہے اور سب اسی کی طرف لوٹائے جائیں گے
Tafsir Ibn Kathir
The Only Valid Religion To Allah is Islam
Allah rebukes those who prefer a religion other than the religion that He sent His Books and Messengers with, which is the worship of Allah Alone without partners, to Whom,
وَلَهُ أَسْلَمَ مَن فِى السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ
(submitted all creatures in the heavens and the earth,) Willingly, or not. Allah said in other Ayat,
وَللَّهِ يَسْجُدُ مَن فِى السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ طَوْعًا وَكَرْهًا
(And unto Allah (Alone) falls in prostration whoever is in the heavens and the earth, willingly or unwillingly.) 13:15, and,
أَوَ لَمْيَرَوْاْ إِلَىخَلَقَ اللَّهُ مِن شَىْءٍ يَتَفَيَّأُ ظِلَـلُهُ عَنِ الْيَمِينِ وَالْشَّمَآئِلِ سُجَّدًا لِلَّهِ وَهُمْوَلِلَّهِ يَسْجُدُ مَا فِى السَّمَـوَتِ وَمَا فِى الاٌّرْضِ مِن دَآبَّةٍ وَالْمَلَـئِكَةُ وَهُمْ لاَ يَسْتَكْبِرُونَ يَخَـفُونَ رَبَّهُمْ مِّن فَوْقِهِمْ وَيَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ
(Have they not observed things that Allah has created: (how) their shadows incline to the right and to the left, making prostration unto Allah, and they are lowly And to Allah prostrate all that is in the heavens and all that is in the earth, of the moving creatures and the angels, and they are not proud. They fear their Lord above them, and they do what they are commanded) 16: 48-50.
Therefore, the faithful believer submits to Allah in heart and body, while the disbeliever unwillingly submits to Him in body only, since he is under Allah's power, irresistible control and mighty kingship that cannot be repelled or resisted. Waki` reported that Mujahid said that the Ayah,
وَلَهُ أَسْلَمَ مَن فِى السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ طَوْعًا وَكَرْهًا
(While to Him submitted all creatures in the heavens and the earth, willingly or unwillingly), is similar to the Ayah,
وَلَئِن سَأَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضَ لَيَقُولُنَّ اللَّهُ
(And verily, if you ask them: "Who created the heavens and the earth" Surely, they will say: "Allah") 39:38.
He also reported that Ibn `Abbas said about,
وَلَهُ أَسْلَمَ مَن فِى السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ طَوْعًا وَكَرْهًا
(while to Him submitted all creatures in the heavens and the earth, willingly or unwillingly.)
"When He took the covenant from them."
وَإِلَيْهِ يُرْجَعُونَ
(And to Him shall they all be returned) on the Day of Return, when He will reward or punish each person according to his or her deeds.
Allah then said,
قُلْ ءَامَنَّا بِاللَّهِ وَمَآ أُنزِلَ عَلَيْنَا
(Say: "We believe in Allah and in what has been sent down to us) the Qur'an,
وَمَآ أُنزِلَ عَلَى إِبْرَهِيمَ وَإِسْمَـعِيلَ وَإِسْحَـقَ وَيَعْقُوبَ
(and what was sent down to Ibrahim, Ismai`0l, Ishaq, Ya`qub) the scriptures and revelation,
وَالأَسْبَاطَ
(and the Asbat,) the Asbat are the twelve tribes who originated from the twelve children of Israel (Ya`qub).
وَمَا أُوتِىَ مُوسَى وَعِيسَى
(and what was given to Musa, `Isa) the Tawrah and the Injil,
وَالنَّبِيُّونَ مِن رَّبِّهِمْ
(and the Prophets from their Lord.) and this encompasses all of Allah's Prophets.
لاَ نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِّنْهُمْ
(We make no distinction between one another among them) we believe in all of them,
وَنَحْنُ لَهُ مُسْلِمُونَ
(And to Him (Allah) we have submitted (in Islam))
Therefore, faithful Muslims believe in every Prophet whom Allah has sent and in every Book He revealed, and never disbelieve in any of them. Rather, they believe in what was revealed by Allah, and in every Prophet sent by Allah. Allah said next,
وَمَن يَبْتَغِ غَيْرَ الإِسْلَـمِ دِينًا فَلَن يُقْبَلَ مِنْهُ
(And whoever seeks a religion other than Islam, it will never be accepted of him,) whoever seeks other than what Allah has legislated, it will not be accepted from him,
وَهُوَ فِى الاٌّخِرَةِ مِنَ الْخَـسِرِينَ
(and in the Hereafter he will be one of the losers.)
As the Prophet said in an authentic Hadith,
«مَنْ عَمِلَ عَمَلًا لَيْسَ عَلَيْهِ أَمْرُنَا، فَهُوَ رَد»
(Whoever commits an action that does not conform to our matter (religion) then it is rejected).
اسلامی اصول اور روز جزا اللہ تعالیٰ کے سچے دین کے سوا جو اس نے اپنی کتابوں میں اپنے رسولوں کی معرفت نازل فرمایا ہے یعنی صرف اللہ وحدہ لا شریک ہی کی عبادت کرنا کوئی شخص کسی اور دین کی تلاش کرے اور اسے مانے اس کی تردید یہاں بیان ہو رہی ہے پھر فرمایا کہ آسمان و زمین کی تمام چیزیں اس کی مطیع ہیں خواہ خوشی سے ہوں یا ناخوشی سے جیسے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے آیت (وَلِلّٰهِ يَسْجُدُ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ طَوْعًا وَّكَرْهًا وَّظِلٰلُهُمْ بالْغُدُوِّ وَالْاٰصَالِ) 13۔ الرعد :15) یعنی زمین و آسمان کی تمام تر مخلوق اللہ کے سامنے سجدے کرتی ہے اپنی خوشی سے یا جبراً اور جگہ ہے آیت (اَوَلَمْ يَرَوْا اِلٰى مَا خَلَقَ اللّٰهُ مِنْ شَيْءٍ يَّتَفَيَّؤُا ظِلٰلُهٗ عَنِ الْيَمِيْنِ وَالشَّمَاۗىِٕلِ سُجَّدًا لِّلّٰهِ وَهُمْ دٰخِرُوْنَ) 16۔ النحل :48) کیا وہ نہیں دیکھتے کہ تمام مخلوق کے سائے دائیں بائیں جھک جھک کر اللہ تعالیٰ کو سجدہ کرتے ہیں اور اللہ ہی کے لئے سجدہ کرتی ہیں آسمانوں کی سب چیزیں اور زمینوں کے کل جاندار اور سب فرشتے کوئی بھی تکبر نہیں کرتا سب کے سب اپنے اوپر والے رب سے ڈرتے رہتے ہیں اور جو حکم دے جائیں بجا لاتے ہیں، پس مومنوں کا تو ظاہر باطن قلب و جسم دونوں اللہ تعالیٰ کے مطیع اور اس کے فرمانبردار ہوتے ہیں اور کافر بھی اللہ کے قبضے میں ہے اور جبراً اللہ کی جانب جھکا ہوا ہے اس کے تمام فرمان اس پر جاری رہیں اور وہ ہر طرح قدرت و مشیت اللہ کے ماتحت ہے کوئی چیز بھی اس کے غلبے اور قدرت سے باہر نہیں، اس آیت کی تفسیر میں ایک غریب حدیث یہ بھی وارد ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا آسمانوں والے تو فرشتے ہیں جو بخوشی اللہ کے فرمان گذار ہیں اور زمین والے وہ ہیں جو اسلام پر پیدا ہوئے ہیں یہ بھی بہ شوق تمام اللہ کے زیر فرمان ہیں، اور ناخوشی سے فرماں بردار وہ ہیں جو لوگ مسلمان مجاہدین کے ہاتھوں میدان جنگ میں قید ہوتے ہیں اور طوق و زنجیر میں جکڑے ہوئے لائے جاتے ہیں یہ لوگ جنت کی طرف گھسیٹے جاتے ہیں اور وہ نہیں چاہتے، ایک صحیح حدیث میں ہے تیرے رب کو ان لوگوں سے تعجب ہوتا ہے جو زنجیروں اور رسیوں سے باندھ کر جنت کی طرف کھینچے جاتے ہیں۔ اس حدیث کی اور سند بھی ہے، لیکن اس آیت کے معنی تو وہی زیادہ قوی ہیں جو پہلے بیان ہوئے، حضرت مجاہد فرماتے ہیں یہ آیت اس آیت جیسی ہے آیت (وَلَىِٕنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ لَيَقُوْلُنَّ اللّٰهُ) 31۔ لقمان :25) اگر تو ان سے پوچھ کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا ؟ تو یقینا وہ یہی جواب دیں گے کہ اللہ تعالیٰ نے، ابن عباس ؓ فرماتے ہیں اس سے مراد وہ وقت ہے جب روز ازل ان سب سے میثاق اور عہد لیا تھا اور آخر کار سب اسی کی طرف لوٹ جائیں گے یعنی قیامت والے دن اور ہر ایک کو وہ اس کے عمل کا بدلہ دے گا۔ پھر فرماتا ہے تو کہہ ہم اللہ اور قرآن پر ایمان لائے اور ابراہیم اسماعیل اسحاق اور یعقوب (علیہم السلام) پر جو صحیفے اور وحی اتری ہم اس پر بھی ایمان لائے اور ان کی اولاد پر جو اترا اس پر بھی ہمارا ایمان ہے، اسباط سے مراد بنو اسرائیل کے قبائل ہیں جو حضرت یعقوب کی نسل میں سے تھے یہ حضرت یعقوب کے بارہ بیٹوں کی اولاد تھے، حضرت موسیٰ کو توراۃ دی گئی تھی اور حضرت عیسیٰ کو انجیل اور بھی جتنے انبیاء کرام اللہ کی طرف سے جو کچھ لائے ہمارا ان سب پر ایمان ہے ہم ان میں کوئی تفریق اور جدائی نہیں کرتے یعنی کسی کو مانیں کسی کو نہ مانیں بلکہ ہمارا سب پر ایمان ہے اور ہم اللہ کے فرمان بردار ہیں پس اس امت کے مومن تمام انبیاء اور کل اللہ تعالیٰ کی کتابوں کو مانتے ہیں کسی کے ساتھ کفر نہیں کرتے، ہر کتاب اور ہر نبی کے سچا ماننے والے ہیں۔ پھر فرمایا کہ دین اللہ کے سوا جو شخص کسی اور راہ چلے وہ قبول نہیں ہوگا اور آخرت میں وہ نقصان میں رہے گا جیسے صحیح حدیث رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں قیامت کے دن اعمال حاضر ہوں گے نماز آکر کہے گی کہ اے اللہ میں نماز ہوں اللہ تعالیٰ فرمائے گا تو اچھی چیز ہے صدقہ آئے گا اور کہے گا پروردگار میں صدقہ ہوں جواب ملے گا تو بھی خیر پر ہے، روزہ آکر کہے گا میں روزہ ہوں اللہ تعالیٰ فرمائے گا تو بھی بہتری پر ہے پھر اسی طرح اور اعمال بھی آتے جائیں گے اور سب کو یہی جواب ملتا رہے گا پھر اسلام حاضر ہوگا اور کہے گا اے اللہ تو سلام ہے اور میں اسلام ہوں اللہ فرمائے گا تو خیر پر ہے آج تیرے ہی اصولوں پر سب کو جانچوں گا۔ پھر سزا یا انعام دوں گا اللہ تعالیٰ اپنی کتاب میں فرماتا ہے آیت (وَمَنْ يَّبْتَـغِ غَيْرَ الْاِسْلَامِ دِيْنًا فَلَنْ يُّقْبَلَ مِنْهُ) 3۔ آل عمران :85) یہ حدیث صرف مسند احمد میں ہے اور اس کے راوی حسن کا حضرت ابوہریرہ سے سننا ثابت نہیں۔
84
View Single
قُلۡ ءَامَنَّا بِٱللَّهِ وَمَآ أُنزِلَ عَلَيۡنَا وَمَآ أُنزِلَ عَلَىٰٓ إِبۡرَٰهِيمَ وَإِسۡمَٰعِيلَ وَإِسۡحَٰقَ وَيَعۡقُوبَ وَٱلۡأَسۡبَاطِ وَمَآ أُوتِيَ مُوسَىٰ وَعِيسَىٰ وَٱلنَّبِيُّونَ مِن رَّبِّهِمۡ لَا نُفَرِّقُ بَيۡنَ أَحَدٖ مِّنۡهُمۡ وَنَحۡنُ لَهُۥ مُسۡلِمُونَ
Say, “We believe in Allah and what is sent down to us and what was sent down to Ibrahim, and Ismael, and Ishaq, and Yaqub (Jacob) and their sons, and that which came to Moosa and Eisa and the Prophets, from their Lord; we do not make any distinction, in belief, between any of them, and to Him we have submitted ourselves.”
آپ فرمائیں: ہم اللہ پر ایمان لائے ہیں اور جو کچھ ہم پر اتارا گیا ہے اور جو کچھ ابراہیم اور اسماعیل اور اسحاق اور یعقوب (علیھم السلام) اور ان کی اولاد پر اتارا گیا ہے اور جو کچھ موسٰی اور عیسٰی اور جملہ انبیاء (علیھم السلام) کو ان کے رب کی طرف سے عطا کیا گیا ہے (سب پر ایمان لائے ہیں)، ہم ان میں سے کسی پر بھی ایمان میں فرق نہیں کرتے اور ہم اسی کے تابع فرمان ہیں
Tafsir Ibn Kathir
The Only Valid Religion To Allah is Islam
Allah rebukes those who prefer a religion other than the religion that He sent His Books and Messengers with, which is the worship of Allah Alone without partners, to Whom,
وَلَهُ أَسْلَمَ مَن فِى السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ
(submitted all creatures in the heavens and the earth,) Willingly, or not. Allah said in other Ayat,
وَللَّهِ يَسْجُدُ مَن فِى السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ طَوْعًا وَكَرْهًا
(And unto Allah (Alone) falls in prostration whoever is in the heavens and the earth, willingly or unwillingly.) 13:15, and,
أَوَ لَمْيَرَوْاْ إِلَىخَلَقَ اللَّهُ مِن شَىْءٍ يَتَفَيَّأُ ظِلَـلُهُ عَنِ الْيَمِينِ وَالْشَّمَآئِلِ سُجَّدًا لِلَّهِ وَهُمْوَلِلَّهِ يَسْجُدُ مَا فِى السَّمَـوَتِ وَمَا فِى الاٌّرْضِ مِن دَآبَّةٍ وَالْمَلَـئِكَةُ وَهُمْ لاَ يَسْتَكْبِرُونَ يَخَـفُونَ رَبَّهُمْ مِّن فَوْقِهِمْ وَيَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ
(Have they not observed things that Allah has created: (how) their shadows incline to the right and to the left, making prostration unto Allah, and they are lowly And to Allah prostrate all that is in the heavens and all that is in the earth, of the moving creatures and the angels, and they are not proud. They fear their Lord above them, and they do what they are commanded) 16: 48-50.
Therefore, the faithful believer submits to Allah in heart and body, while the disbeliever unwillingly submits to Him in body only, since he is under Allah's power, irresistible control and mighty kingship that cannot be repelled or resisted. Waki` reported that Mujahid said that the Ayah,
وَلَهُ أَسْلَمَ مَن فِى السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ طَوْعًا وَكَرْهًا
(While to Him submitted all creatures in the heavens and the earth, willingly or unwillingly), is similar to the Ayah,
وَلَئِن سَأَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضَ لَيَقُولُنَّ اللَّهُ
(And verily, if you ask them: "Who created the heavens and the earth" Surely, they will say: "Allah") 39:38.
He also reported that Ibn `Abbas said about,
وَلَهُ أَسْلَمَ مَن فِى السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ طَوْعًا وَكَرْهًا
(while to Him submitted all creatures in the heavens and the earth, willingly or unwillingly.)
"When He took the covenant from them."
وَإِلَيْهِ يُرْجَعُونَ
(And to Him shall they all be returned) on the Day of Return, when He will reward or punish each person according to his or her deeds.
Allah then said,
قُلْ ءَامَنَّا بِاللَّهِ وَمَآ أُنزِلَ عَلَيْنَا
(Say: "We believe in Allah and in what has been sent down to us) the Qur'an,
وَمَآ أُنزِلَ عَلَى إِبْرَهِيمَ وَإِسْمَـعِيلَ وَإِسْحَـقَ وَيَعْقُوبَ
(and what was sent down to Ibrahim, Ismai`0l, Ishaq, Ya`qub) the scriptures and revelation,
وَالأَسْبَاطَ
(and the Asbat,) the Asbat are the twelve tribes who originated from the twelve children of Israel (Ya`qub).
وَمَا أُوتِىَ مُوسَى وَعِيسَى
(and what was given to Musa, `Isa) the Tawrah and the Injil,
وَالنَّبِيُّونَ مِن رَّبِّهِمْ
(and the Prophets from their Lord.) and this encompasses all of Allah's Prophets.
لاَ نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِّنْهُمْ
(We make no distinction between one another among them) we believe in all of them,
وَنَحْنُ لَهُ مُسْلِمُونَ
(And to Him (Allah) we have submitted (in Islam))
Therefore, faithful Muslims believe in every Prophet whom Allah has sent and in every Book He revealed, and never disbelieve in any of them. Rather, they believe in what was revealed by Allah, and in every Prophet sent by Allah. Allah said next,
وَمَن يَبْتَغِ غَيْرَ الإِسْلَـمِ دِينًا فَلَن يُقْبَلَ مِنْهُ
(And whoever seeks a religion other than Islam, it will never be accepted of him,) whoever seeks other than what Allah has legislated, it will not be accepted from him,
وَهُوَ فِى الاٌّخِرَةِ مِنَ الْخَـسِرِينَ
(and in the Hereafter he will be one of the losers.)
As the Prophet said in an authentic Hadith,
«مَنْ عَمِلَ عَمَلًا لَيْسَ عَلَيْهِ أَمْرُنَا، فَهُوَ رَد»
(Whoever commits an action that does not conform to our matter (religion) then it is rejected).
اسلامی اصول اور روز جزا اللہ تعالیٰ کے سچے دین کے سوا جو اس نے اپنی کتابوں میں اپنے رسولوں کی معرفت نازل فرمایا ہے یعنی صرف اللہ وحدہ لا شریک ہی کی عبادت کرنا کوئی شخص کسی اور دین کی تلاش کرے اور اسے مانے اس کی تردید یہاں بیان ہو رہی ہے پھر فرمایا کہ آسمان و زمین کی تمام چیزیں اس کی مطیع ہیں خواہ خوشی سے ہوں یا ناخوشی سے جیسے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے آیت (وَلِلّٰهِ يَسْجُدُ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ طَوْعًا وَّكَرْهًا وَّظِلٰلُهُمْ بالْغُدُوِّ وَالْاٰصَالِ) 13۔ الرعد :15) یعنی زمین و آسمان کی تمام تر مخلوق اللہ کے سامنے سجدے کرتی ہے اپنی خوشی سے یا جبراً اور جگہ ہے آیت (اَوَلَمْ يَرَوْا اِلٰى مَا خَلَقَ اللّٰهُ مِنْ شَيْءٍ يَّتَفَيَّؤُا ظِلٰلُهٗ عَنِ الْيَمِيْنِ وَالشَّمَاۗىِٕلِ سُجَّدًا لِّلّٰهِ وَهُمْ دٰخِرُوْنَ) 16۔ النحل :48) کیا وہ نہیں دیکھتے کہ تمام مخلوق کے سائے دائیں بائیں جھک جھک کر اللہ تعالیٰ کو سجدہ کرتے ہیں اور اللہ ہی کے لئے سجدہ کرتی ہیں آسمانوں کی سب چیزیں اور زمینوں کے کل جاندار اور سب فرشتے کوئی بھی تکبر نہیں کرتا سب کے سب اپنے اوپر والے رب سے ڈرتے رہتے ہیں اور جو حکم دے جائیں بجا لاتے ہیں، پس مومنوں کا تو ظاہر باطن قلب و جسم دونوں اللہ تعالیٰ کے مطیع اور اس کے فرمانبردار ہوتے ہیں اور کافر بھی اللہ کے قبضے میں ہے اور جبراً اللہ کی جانب جھکا ہوا ہے اس کے تمام فرمان اس پر جاری رہیں اور وہ ہر طرح قدرت و مشیت اللہ کے ماتحت ہے کوئی چیز بھی اس کے غلبے اور قدرت سے باہر نہیں، اس آیت کی تفسیر میں ایک غریب حدیث یہ بھی وارد ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا آسمانوں والے تو فرشتے ہیں جو بخوشی اللہ کے فرمان گذار ہیں اور زمین والے وہ ہیں جو اسلام پر پیدا ہوئے ہیں یہ بھی بہ شوق تمام اللہ کے زیر فرمان ہیں، اور ناخوشی سے فرماں بردار وہ ہیں جو لوگ مسلمان مجاہدین کے ہاتھوں میدان جنگ میں قید ہوتے ہیں اور طوق و زنجیر میں جکڑے ہوئے لائے جاتے ہیں یہ لوگ جنت کی طرف گھسیٹے جاتے ہیں اور وہ نہیں چاہتے، ایک صحیح حدیث میں ہے تیرے رب کو ان لوگوں سے تعجب ہوتا ہے جو زنجیروں اور رسیوں سے باندھ کر جنت کی طرف کھینچے جاتے ہیں۔ اس حدیث کی اور سند بھی ہے، لیکن اس آیت کے معنی تو وہی زیادہ قوی ہیں جو پہلے بیان ہوئے، حضرت مجاہد فرماتے ہیں یہ آیت اس آیت جیسی ہے آیت (وَلَىِٕنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ لَيَقُوْلُنَّ اللّٰهُ) 31۔ لقمان :25) اگر تو ان سے پوچھ کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا ؟ تو یقینا وہ یہی جواب دیں گے کہ اللہ تعالیٰ نے، ابن عباس ؓ فرماتے ہیں اس سے مراد وہ وقت ہے جب روز ازل ان سب سے میثاق اور عہد لیا تھا اور آخر کار سب اسی کی طرف لوٹ جائیں گے یعنی قیامت والے دن اور ہر ایک کو وہ اس کے عمل کا بدلہ دے گا۔ پھر فرماتا ہے تو کہہ ہم اللہ اور قرآن پر ایمان لائے اور ابراہیم اسماعیل اسحاق اور یعقوب (علیہم السلام) پر جو صحیفے اور وحی اتری ہم اس پر بھی ایمان لائے اور ان کی اولاد پر جو اترا اس پر بھی ہمارا ایمان ہے، اسباط سے مراد بنو اسرائیل کے قبائل ہیں جو حضرت یعقوب کی نسل میں سے تھے یہ حضرت یعقوب کے بارہ بیٹوں کی اولاد تھے، حضرت موسیٰ کو توراۃ دی گئی تھی اور حضرت عیسیٰ کو انجیل اور بھی جتنے انبیاء کرام اللہ کی طرف سے جو کچھ لائے ہمارا ان سب پر ایمان ہے ہم ان میں کوئی تفریق اور جدائی نہیں کرتے یعنی کسی کو مانیں کسی کو نہ مانیں بلکہ ہمارا سب پر ایمان ہے اور ہم اللہ کے فرمان بردار ہیں پس اس امت کے مومن تمام انبیاء اور کل اللہ تعالیٰ کی کتابوں کو مانتے ہیں کسی کے ساتھ کفر نہیں کرتے، ہر کتاب اور ہر نبی کے سچا ماننے والے ہیں۔ پھر فرمایا کہ دین اللہ کے سوا جو شخص کسی اور راہ چلے وہ قبول نہیں ہوگا اور آخرت میں وہ نقصان میں رہے گا جیسے صحیح حدیث رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں قیامت کے دن اعمال حاضر ہوں گے نماز آکر کہے گی کہ اے اللہ میں نماز ہوں اللہ تعالیٰ فرمائے گا تو اچھی چیز ہے صدقہ آئے گا اور کہے گا پروردگار میں صدقہ ہوں جواب ملے گا تو بھی خیر پر ہے، روزہ آکر کہے گا میں روزہ ہوں اللہ تعالیٰ فرمائے گا تو بھی بہتری پر ہے پھر اسی طرح اور اعمال بھی آتے جائیں گے اور سب کو یہی جواب ملتا رہے گا پھر اسلام حاضر ہوگا اور کہے گا اے اللہ تو سلام ہے اور میں اسلام ہوں اللہ فرمائے گا تو خیر پر ہے آج تیرے ہی اصولوں پر سب کو جانچوں گا۔ پھر سزا یا انعام دوں گا اللہ تعالیٰ اپنی کتاب میں فرماتا ہے آیت (وَمَنْ يَّبْتَـغِ غَيْرَ الْاِسْلَامِ دِيْنًا فَلَنْ يُّقْبَلَ مِنْهُ) 3۔ آل عمران :85) یہ حدیث صرف مسند احمد میں ہے اور اس کے راوی حسن کا حضرت ابوہریرہ سے سننا ثابت نہیں۔
85
View Single
وَمَن يَبۡتَغِ غَيۡرَ ٱلۡإِسۡلَٰمِ دِينٗا فَلَن يُقۡبَلَ مِنۡهُ وَهُوَ فِي ٱلۡأٓخِرَةِ مِنَ ٱلۡخَٰسِرِينَ
And if one seeks a religion other than Islam, it will never be accepted from him; and he is among the losers in the Hereafter.
اور جو کوئی اسلام کے سوا کسی اور دین کو چاہے گا تو وہ اس سے ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا، اور وہ آخرت میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوگا
Tafsir Ibn Kathir
The Only Valid Religion To Allah is Islam
Allah rebukes those who prefer a religion other than the religion that He sent His Books and Messengers with, which is the worship of Allah Alone without partners, to Whom,
وَلَهُ أَسْلَمَ مَن فِى السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ
(submitted all creatures in the heavens and the earth,) Willingly, or not. Allah said in other Ayat,
وَللَّهِ يَسْجُدُ مَن فِى السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ طَوْعًا وَكَرْهًا
(And unto Allah (Alone) falls in prostration whoever is in the heavens and the earth, willingly or unwillingly.) 13:15, and,
أَوَ لَمْيَرَوْاْ إِلَىخَلَقَ اللَّهُ مِن شَىْءٍ يَتَفَيَّأُ ظِلَـلُهُ عَنِ الْيَمِينِ وَالْشَّمَآئِلِ سُجَّدًا لِلَّهِ وَهُمْوَلِلَّهِ يَسْجُدُ مَا فِى السَّمَـوَتِ وَمَا فِى الاٌّرْضِ مِن دَآبَّةٍ وَالْمَلَـئِكَةُ وَهُمْ لاَ يَسْتَكْبِرُونَ يَخَـفُونَ رَبَّهُمْ مِّن فَوْقِهِمْ وَيَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ
(Have they not observed things that Allah has created: (how) their shadows incline to the right and to the left, making prostration unto Allah, and they are lowly And to Allah prostrate all that is in the heavens and all that is in the earth, of the moving creatures and the angels, and they are not proud. They fear their Lord above them, and they do what they are commanded) 16: 48-50.
Therefore, the faithful believer submits to Allah in heart and body, while the disbeliever unwillingly submits to Him in body only, since he is under Allah's power, irresistible control and mighty kingship that cannot be repelled or resisted. Waki` reported that Mujahid said that the Ayah,
وَلَهُ أَسْلَمَ مَن فِى السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ طَوْعًا وَكَرْهًا
(While to Him submitted all creatures in the heavens and the earth, willingly or unwillingly), is similar to the Ayah,
وَلَئِن سَأَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضَ لَيَقُولُنَّ اللَّهُ
(And verily, if you ask them: "Who created the heavens and the earth" Surely, they will say: "Allah") 39:38.
He also reported that Ibn `Abbas said about,
وَلَهُ أَسْلَمَ مَن فِى السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ طَوْعًا وَكَرْهًا
(while to Him submitted all creatures in the heavens and the earth, willingly or unwillingly.)
"When He took the covenant from them."
وَإِلَيْهِ يُرْجَعُونَ
(And to Him shall they all be returned) on the Day of Return, when He will reward or punish each person according to his or her deeds.
Allah then said,
قُلْ ءَامَنَّا بِاللَّهِ وَمَآ أُنزِلَ عَلَيْنَا
(Say: "We believe in Allah and in what has been sent down to us) the Qur'an,
وَمَآ أُنزِلَ عَلَى إِبْرَهِيمَ وَإِسْمَـعِيلَ وَإِسْحَـقَ وَيَعْقُوبَ
(and what was sent down to Ibrahim, Ismai`0l, Ishaq, Ya`qub) the scriptures and revelation,
وَالأَسْبَاطَ
(and the Asbat,) the Asbat are the twelve tribes who originated from the twelve children of Israel (Ya`qub).
وَمَا أُوتِىَ مُوسَى وَعِيسَى
(and what was given to Musa, `Isa) the Tawrah and the Injil,
وَالنَّبِيُّونَ مِن رَّبِّهِمْ
(and the Prophets from their Lord.) and this encompasses all of Allah's Prophets.
لاَ نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِّنْهُمْ
(We make no distinction between one another among them) we believe in all of them,
وَنَحْنُ لَهُ مُسْلِمُونَ
(And to Him (Allah) we have submitted (in Islam))
Therefore, faithful Muslims believe in every Prophet whom Allah has sent and in every Book He revealed, and never disbelieve in any of them. Rather, they believe in what was revealed by Allah, and in every Prophet sent by Allah. Allah said next,
وَمَن يَبْتَغِ غَيْرَ الإِسْلَـمِ دِينًا فَلَن يُقْبَلَ مِنْهُ
(And whoever seeks a religion other than Islam, it will never be accepted of him,) whoever seeks other than what Allah has legislated, it will not be accepted from him,
وَهُوَ فِى الاٌّخِرَةِ مِنَ الْخَـسِرِينَ
(and in the Hereafter he will be one of the losers.)
As the Prophet said in an authentic Hadith,
«مَنْ عَمِلَ عَمَلًا لَيْسَ عَلَيْهِ أَمْرُنَا، فَهُوَ رَد»
(Whoever commits an action that does not conform to our matter (religion) then it is rejected).
اسلامی اصول اور روز جزا اللہ تعالیٰ کے سچے دین کے سوا جو اس نے اپنی کتابوں میں اپنے رسولوں کی معرفت نازل فرمایا ہے یعنی صرف اللہ وحدہ لا شریک ہی کی عبادت کرنا کوئی شخص کسی اور دین کی تلاش کرے اور اسے مانے اس کی تردید یہاں بیان ہو رہی ہے پھر فرمایا کہ آسمان و زمین کی تمام چیزیں اس کی مطیع ہیں خواہ خوشی سے ہوں یا ناخوشی سے جیسے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے آیت (وَلِلّٰهِ يَسْجُدُ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ طَوْعًا وَّكَرْهًا وَّظِلٰلُهُمْ بالْغُدُوِّ وَالْاٰصَالِ) 13۔ الرعد :15) یعنی زمین و آسمان کی تمام تر مخلوق اللہ کے سامنے سجدے کرتی ہے اپنی خوشی سے یا جبراً اور جگہ ہے آیت (اَوَلَمْ يَرَوْا اِلٰى مَا خَلَقَ اللّٰهُ مِنْ شَيْءٍ يَّتَفَيَّؤُا ظِلٰلُهٗ عَنِ الْيَمِيْنِ وَالشَّمَاۗىِٕلِ سُجَّدًا لِّلّٰهِ وَهُمْ دٰخِرُوْنَ) 16۔ النحل :48) کیا وہ نہیں دیکھتے کہ تمام مخلوق کے سائے دائیں بائیں جھک جھک کر اللہ تعالیٰ کو سجدہ کرتے ہیں اور اللہ ہی کے لئے سجدہ کرتی ہیں آسمانوں کی سب چیزیں اور زمینوں کے کل جاندار اور سب فرشتے کوئی بھی تکبر نہیں کرتا سب کے سب اپنے اوپر والے رب سے ڈرتے رہتے ہیں اور جو حکم دے جائیں بجا لاتے ہیں، پس مومنوں کا تو ظاہر باطن قلب و جسم دونوں اللہ تعالیٰ کے مطیع اور اس کے فرمانبردار ہوتے ہیں اور کافر بھی اللہ کے قبضے میں ہے اور جبراً اللہ کی جانب جھکا ہوا ہے اس کے تمام فرمان اس پر جاری رہیں اور وہ ہر طرح قدرت و مشیت اللہ کے ماتحت ہے کوئی چیز بھی اس کے غلبے اور قدرت سے باہر نہیں، اس آیت کی تفسیر میں ایک غریب حدیث یہ بھی وارد ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا آسمانوں والے تو فرشتے ہیں جو بخوشی اللہ کے فرمان گذار ہیں اور زمین والے وہ ہیں جو اسلام پر پیدا ہوئے ہیں یہ بھی بہ شوق تمام اللہ کے زیر فرمان ہیں، اور ناخوشی سے فرماں بردار وہ ہیں جو لوگ مسلمان مجاہدین کے ہاتھوں میدان جنگ میں قید ہوتے ہیں اور طوق و زنجیر میں جکڑے ہوئے لائے جاتے ہیں یہ لوگ جنت کی طرف گھسیٹے جاتے ہیں اور وہ نہیں چاہتے، ایک صحیح حدیث میں ہے تیرے رب کو ان لوگوں سے تعجب ہوتا ہے جو زنجیروں اور رسیوں سے باندھ کر جنت کی طرف کھینچے جاتے ہیں۔ اس حدیث کی اور سند بھی ہے، لیکن اس آیت کے معنی تو وہی زیادہ قوی ہیں جو پہلے بیان ہوئے، حضرت مجاہد فرماتے ہیں یہ آیت اس آیت جیسی ہے آیت (وَلَىِٕنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ لَيَقُوْلُنَّ اللّٰهُ) 31۔ لقمان :25) اگر تو ان سے پوچھ کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا ؟ تو یقینا وہ یہی جواب دیں گے کہ اللہ تعالیٰ نے، ابن عباس ؓ فرماتے ہیں اس سے مراد وہ وقت ہے جب روز ازل ان سب سے میثاق اور عہد لیا تھا اور آخر کار سب اسی کی طرف لوٹ جائیں گے یعنی قیامت والے دن اور ہر ایک کو وہ اس کے عمل کا بدلہ دے گا۔ پھر فرماتا ہے تو کہہ ہم اللہ اور قرآن پر ایمان لائے اور ابراہیم اسماعیل اسحاق اور یعقوب (علیہم السلام) پر جو صحیفے اور وحی اتری ہم اس پر بھی ایمان لائے اور ان کی اولاد پر جو اترا اس پر بھی ہمارا ایمان ہے، اسباط سے مراد بنو اسرائیل کے قبائل ہیں جو حضرت یعقوب کی نسل میں سے تھے یہ حضرت یعقوب کے بارہ بیٹوں کی اولاد تھے، حضرت موسیٰ کو توراۃ دی گئی تھی اور حضرت عیسیٰ کو انجیل اور بھی جتنے انبیاء کرام اللہ کی طرف سے جو کچھ لائے ہمارا ان سب پر ایمان ہے ہم ان میں کوئی تفریق اور جدائی نہیں کرتے یعنی کسی کو مانیں کسی کو نہ مانیں بلکہ ہمارا سب پر ایمان ہے اور ہم اللہ کے فرمان بردار ہیں پس اس امت کے مومن تمام انبیاء اور کل اللہ تعالیٰ کی کتابوں کو مانتے ہیں کسی کے ساتھ کفر نہیں کرتے، ہر کتاب اور ہر نبی کے سچا ماننے والے ہیں۔ پھر فرمایا کہ دین اللہ کے سوا جو شخص کسی اور راہ چلے وہ قبول نہیں ہوگا اور آخرت میں وہ نقصان میں رہے گا جیسے صحیح حدیث رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں قیامت کے دن اعمال حاضر ہوں گے نماز آکر کہے گی کہ اے اللہ میں نماز ہوں اللہ تعالیٰ فرمائے گا تو اچھی چیز ہے صدقہ آئے گا اور کہے گا پروردگار میں صدقہ ہوں جواب ملے گا تو بھی خیر پر ہے، روزہ آکر کہے گا میں روزہ ہوں اللہ تعالیٰ فرمائے گا تو بھی بہتری پر ہے پھر اسی طرح اور اعمال بھی آتے جائیں گے اور سب کو یہی جواب ملتا رہے گا پھر اسلام حاضر ہوگا اور کہے گا اے اللہ تو سلام ہے اور میں اسلام ہوں اللہ فرمائے گا تو خیر پر ہے آج تیرے ہی اصولوں پر سب کو جانچوں گا۔ پھر سزا یا انعام دوں گا اللہ تعالیٰ اپنی کتاب میں فرماتا ہے آیت (وَمَنْ يَّبْتَـغِ غَيْرَ الْاِسْلَامِ دِيْنًا فَلَنْ يُّقْبَلَ مِنْهُ) 3۔ آل عمران :85) یہ حدیث صرف مسند احمد میں ہے اور اس کے راوی حسن کا حضرت ابوہریرہ سے سننا ثابت نہیں۔
86
View Single
كَيۡفَ يَهۡدِي ٱللَّهُ قَوۡمٗا كَفَرُواْ بَعۡدَ إِيمَٰنِهِمۡ وَشَهِدُوٓاْ أَنَّ ٱلرَّسُولَ حَقّٞ وَجَآءَهُمُ ٱلۡبَيِّنَٰتُۚ وَٱللَّهُ لَا يَهۡدِي ٱلۡقَوۡمَ ٱلظَّـٰلِمِينَ
Why should Allah will guidance for the people who disbelieved, after their having accepted faith and bearing witness that the Noble Messenger is a true one, and after clear signs had come to them? And Allah does not guide the unjust.
اللہ ان لوگوں کو کیونکر ہدایت فرمائے جو ایمان لانے کے بعد کافر ہو گئے حالانکہ وہ اس امر کی گواہی دے چکے تھے کہ یہ رسول سچا ہے اور ان کے پاس واضح نشانیاں بھی آچکی تھیں، اور اللہ ظالم قوم کو ہدایت نہیں فرماتا
Tafsir Ibn Kathir
Allah Does Not Guide People Who Disbelieve After they Believed, Unless They Repent
Ibn Jarir recorded that Ibn `Abbas said, "A man from the Ansar embraced Islam, but later reverted and joined the polytheists. He later on became sorry and sent his people to, `Ask the Messenger of Allah ﷺ for me, if I can repent.' Then,
كَيْفَ يَهْدِى اللَّهُ قَوْمًا كَفَرُواْ بَعْدَ إِيمَـنِهِمْ
(How shall Allah guide a people who disbelieved after their belief) until,
فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ
(Verily, Allah is Oft-Forgiving, Most Merciful.) was revealed and his people sent word to him and he re-embraced Islam."
This is the wording recorded by An-Nasa'i, Al-Hakim and Ibn Hibban. Al-Hakim said, "Its chain is Sahih and they did not record it."
Allah's statement,
كَيْفَ يَهْدِى اللَّهُ قَوْمًا كَفَرُواْ بَعْدَ إِيمَـنِهِمْ وَشَهِدُواْ أَنَّ الرَّسُولَ حَقٌّ وَجَآءَهُمُ الْبَيِّنَـتُ
(How shall Allah guide a people who disbelieved after their belief and after they bore witness that the Messenger is true and after clear proofs came to them)
means, the proofs and evidences were established, testifying to the truth of what the Messenger was sent with. The truth was thus explained to them, but they reverted to the darkness of polytheism. Therefore, how can such people deserve guidance after they willingly leapt into utter blindness This is why Allah said,
وَاللَّهُ لاَ يَهْدِى الْقَوْمَ الظَّـلِمِينَ
(And Allah guides not the people who are wrongdoers.)
He then said,
أُوْلَـئِكَ جَزَآؤُهُمْ أَنَّ عَلَيْهِمْ لَعْنَةَ اللَّهِ وَالْمَلَـئِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ
(They are those whose recompense is that on them (rests) the curse of Allah, of the angels and of all mankind.)
Allah curses them and His creation also curses them.
خَـلِدِينَ فِيهَآ
(They will abide therein) in the curse,
لاَ يُخَفَّفُ عَنْهُمُ الْعَذَابُ وَلاَ هُمْ يُنظَرُونَ
(Neither will their torment be lightened nor will it be delayed or postponed.) for, the torment will not be lessened, not even for an hour. After that, Allah said,
إِلاَّ الَّذِينَ تَابُواْ مِن بَعْدِ ذَلِكَ وَأَصْلَحُواْ فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ
(Except for those who repent after that and do righteous deeds. Verily, Allah is Oft-Forgiving, Most Merciful.)
This Ayah indicates Allah's kindness, graciousness, compassion, mercy and favor on His creatures when they repent to Him, for He forgives them in this case.
توبہ اور قبولیت حضرت عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں ایک انصار مرتد ہو کر مشرکین میں جا ملا پھر پچھتانے لگا اور اپنی قوم سے کہلوایا کہ رسول اللہ صلعم سے دریافت کرو کہ کیا میری توبہ قبول ہوسکتی ہے ؟ ان کے دریافت کرنے پر یہ آیتیں اتریں اس کی قوم نے اسے کہلوا بھیجا وہ پھر توبہ کر کے نئے سرے سے مسلمان ہو کر حاضر ہوگیا (ابن جریر) نسائی حاکم اور ابن حبان میں بھی یہ روایت موجود ہے امام حاکم اسے صحیح الاسناد کہتے ہیں، مسند عبدالرزاق میں ہے کہ حارث بن سوید نے اسلام قبول کیا پھر قوم میں مل گیا اور اسلام سے پھر گیا اس کے بارے میں یہ آیتیں اتریں اس کی قوم کے ایک شخص نے یہ آیتیں اسے پڑھ کر سنائیں تو اس نے کہا جہاں تک میرا خیال ہے اللہ کی قسم تو سچا ہے اور اللہ کے نبی تو تجھ سے بہت ہی زیادہ سچے ہیں اور اللہ تعالیٰ سب سچوں سے زیادہ سچا ہے پھر وہ حضور ﷺ کی طرف لوٹ آئے اسلام لائے اور بہت اچھی طرح اسلام کو نبھایا بینات سے مراد رسول ﷺ کی تصدیق پر حجتوں اور دلیلوں کا بالکل واضح ہوجانا ہے پس جو لوگ ایمان لائے رسول کی حقانیت مان چکے دلیلیں دیکھ چکے پھر شرک کے اندھیروں میں جا چھپے یہ لوگ مستحق ہدایت نہیں کیونکہ آنکھوں کے ہوتے ہوئے اندھے پن کو انہوں نے پسند کیا اللہ تعالیٰ ناانصاف لوگوں میں رہبری نہیں کرتا، انہیں اللہ لعنت کرتا ہے اور اس کی مخلوق بھی ہمیشہ لعنت کرتی ہے نہ تو کسی وقت ان کے عذاب میں تخفیف ہوگی نہ موقوفی۔ پھر اپنا لطف و احسان رافت و رحمت کا بیان فرماتا ہے کہ اس بدترین جرم کے بعد بھی جو میری طرف جھکے اور اپنے بداعمال کی اصلاح کرلے میں بھی اس سے درگذر کرلیتا ہوں۔
87
View Single
أُوْلَـٰٓئِكَ جَزَآؤُهُمۡ أَنَّ عَلَيۡهِمۡ لَعۡنَةَ ٱللَّهِ وَٱلۡمَلَـٰٓئِكَةِ وَٱلنَّاسِ أَجۡمَعِينَ
The recompense of such is that on them is the curse of Allah and of the angels and of men combined.
ایسے لوگوں کی سزا یہ ہے کہ ان پر اللہ کی اور فرشتوں کی اور تمام انسانوں کی لعنت پڑتی رہے
Tafsir Ibn Kathir
Allah Does Not Guide People Who Disbelieve After they Believed, Unless They Repent
Ibn Jarir recorded that Ibn `Abbas said, "A man from the Ansar embraced Islam, but later reverted and joined the polytheists. He later on became sorry and sent his people to, `Ask the Messenger of Allah ﷺ for me, if I can repent.' Then,
كَيْفَ يَهْدِى اللَّهُ قَوْمًا كَفَرُواْ بَعْدَ إِيمَـنِهِمْ
(How shall Allah guide a people who disbelieved after their belief) until,
فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ
(Verily, Allah is Oft-Forgiving, Most Merciful.) was revealed and his people sent word to him and he re-embraced Islam."
This is the wording recorded by An-Nasa'i, Al-Hakim and Ibn Hibban. Al-Hakim said, "Its chain is Sahih and they did not record it."
Allah's statement,
كَيْفَ يَهْدِى اللَّهُ قَوْمًا كَفَرُواْ بَعْدَ إِيمَـنِهِمْ وَشَهِدُواْ أَنَّ الرَّسُولَ حَقٌّ وَجَآءَهُمُ الْبَيِّنَـتُ
(How shall Allah guide a people who disbelieved after their belief and after they bore witness that the Messenger is true and after clear proofs came to them)
means, the proofs and evidences were established, testifying to the truth of what the Messenger was sent with. The truth was thus explained to them, but they reverted to the darkness of polytheism. Therefore, how can such people deserve guidance after they willingly leapt into utter blindness This is why Allah said,
وَاللَّهُ لاَ يَهْدِى الْقَوْمَ الظَّـلِمِينَ
(And Allah guides not the people who are wrongdoers.)
He then said,
أُوْلَـئِكَ جَزَآؤُهُمْ أَنَّ عَلَيْهِمْ لَعْنَةَ اللَّهِ وَالْمَلَـئِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ
(They are those whose recompense is that on them (rests) the curse of Allah, of the angels and of all mankind.)
Allah curses them and His creation also curses them.
خَـلِدِينَ فِيهَآ
(They will abide therein) in the curse,
لاَ يُخَفَّفُ عَنْهُمُ الْعَذَابُ وَلاَ هُمْ يُنظَرُونَ
(Neither will their torment be lightened nor will it be delayed or postponed.) for, the torment will not be lessened, not even for an hour. After that, Allah said,
إِلاَّ الَّذِينَ تَابُواْ مِن بَعْدِ ذَلِكَ وَأَصْلَحُواْ فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ
(Except for those who repent after that and do righteous deeds. Verily, Allah is Oft-Forgiving, Most Merciful.)
This Ayah indicates Allah's kindness, graciousness, compassion, mercy and favor on His creatures when they repent to Him, for He forgives them in this case.
توبہ اور قبولیت حضرت عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں ایک انصار مرتد ہو کر مشرکین میں جا ملا پھر پچھتانے لگا اور اپنی قوم سے کہلوایا کہ رسول اللہ صلعم سے دریافت کرو کہ کیا میری توبہ قبول ہوسکتی ہے ؟ ان کے دریافت کرنے پر یہ آیتیں اتریں اس کی قوم نے اسے کہلوا بھیجا وہ پھر توبہ کر کے نئے سرے سے مسلمان ہو کر حاضر ہوگیا (ابن جریر) نسائی حاکم اور ابن حبان میں بھی یہ روایت موجود ہے امام حاکم اسے صحیح الاسناد کہتے ہیں، مسند عبدالرزاق میں ہے کہ حارث بن سوید نے اسلام قبول کیا پھر قوم میں مل گیا اور اسلام سے پھر گیا اس کے بارے میں یہ آیتیں اتریں اس کی قوم کے ایک شخص نے یہ آیتیں اسے پڑھ کر سنائیں تو اس نے کہا جہاں تک میرا خیال ہے اللہ کی قسم تو سچا ہے اور اللہ کے نبی تو تجھ سے بہت ہی زیادہ سچے ہیں اور اللہ تعالیٰ سب سچوں سے زیادہ سچا ہے پھر وہ حضور ﷺ کی طرف لوٹ آئے اسلام لائے اور بہت اچھی طرح اسلام کو نبھایا بینات سے مراد رسول ﷺ کی تصدیق پر حجتوں اور دلیلوں کا بالکل واضح ہوجانا ہے پس جو لوگ ایمان لائے رسول کی حقانیت مان چکے دلیلیں دیکھ چکے پھر شرک کے اندھیروں میں جا چھپے یہ لوگ مستحق ہدایت نہیں کیونکہ آنکھوں کے ہوتے ہوئے اندھے پن کو انہوں نے پسند کیا اللہ تعالیٰ ناانصاف لوگوں میں رہبری نہیں کرتا، انہیں اللہ لعنت کرتا ہے اور اس کی مخلوق بھی ہمیشہ لعنت کرتی ہے نہ تو کسی وقت ان کے عذاب میں تخفیف ہوگی نہ موقوفی۔ پھر اپنا لطف و احسان رافت و رحمت کا بیان فرماتا ہے کہ اس بدترین جرم کے بعد بھی جو میری طرف جھکے اور اپنے بداعمال کی اصلاح کرلے میں بھی اس سے درگذر کرلیتا ہوں۔
88
View Single
خَٰلِدِينَ فِيهَا لَا يُخَفَّفُ عَنۡهُمُ ٱلۡعَذَابُ وَلَا هُمۡ يُنظَرُونَ
Remaining in it forever; their punishment will not be lightened, nor will they get any respite.
وہ اس پھٹکار میں ہمیشہ (گرفتار) رہیں گے اور ان سے اس عذاب میں کمی نہیں کی جائے گی اور نہ انہیں مہلت دی جائے گے
Tafsir Ibn Kathir
Allah Does Not Guide People Who Disbelieve After they Believed, Unless They Repent
Ibn Jarir recorded that Ibn `Abbas said, "A man from the Ansar embraced Islam, but later reverted and joined the polytheists. He later on became sorry and sent his people to, `Ask the Messenger of Allah ﷺ for me, if I can repent.' Then,
كَيْفَ يَهْدِى اللَّهُ قَوْمًا كَفَرُواْ بَعْدَ إِيمَـنِهِمْ
(How shall Allah guide a people who disbelieved after their belief) until,
فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ
(Verily, Allah is Oft-Forgiving, Most Merciful.) was revealed and his people sent word to him and he re-embraced Islam."
This is the wording recorded by An-Nasa'i, Al-Hakim and Ibn Hibban. Al-Hakim said, "Its chain is Sahih and they did not record it."
Allah's statement,
كَيْفَ يَهْدِى اللَّهُ قَوْمًا كَفَرُواْ بَعْدَ إِيمَـنِهِمْ وَشَهِدُواْ أَنَّ الرَّسُولَ حَقٌّ وَجَآءَهُمُ الْبَيِّنَـتُ
(How shall Allah guide a people who disbelieved after their belief and after they bore witness that the Messenger is true and after clear proofs came to them)
means, the proofs and evidences were established, testifying to the truth of what the Messenger was sent with. The truth was thus explained to them, but they reverted to the darkness of polytheism. Therefore, how can such people deserve guidance after they willingly leapt into utter blindness This is why Allah said,
وَاللَّهُ لاَ يَهْدِى الْقَوْمَ الظَّـلِمِينَ
(And Allah guides not the people who are wrongdoers.)
He then said,
أُوْلَـئِكَ جَزَآؤُهُمْ أَنَّ عَلَيْهِمْ لَعْنَةَ اللَّهِ وَالْمَلَـئِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ
(They are those whose recompense is that on them (rests) the curse of Allah, of the angels and of all mankind.)
Allah curses them and His creation also curses them.
خَـلِدِينَ فِيهَآ
(They will abide therein) in the curse,
لاَ يُخَفَّفُ عَنْهُمُ الْعَذَابُ وَلاَ هُمْ يُنظَرُونَ
(Neither will their torment be lightened nor will it be delayed or postponed.) for, the torment will not be lessened, not even for an hour. After that, Allah said,
إِلاَّ الَّذِينَ تَابُواْ مِن بَعْدِ ذَلِكَ وَأَصْلَحُواْ فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ
(Except for those who repent after that and do righteous deeds. Verily, Allah is Oft-Forgiving, Most Merciful.)
This Ayah indicates Allah's kindness, graciousness, compassion, mercy and favor on His creatures when they repent to Him, for He forgives them in this case.
توبہ اور قبولیت حضرت عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں ایک انصار مرتد ہو کر مشرکین میں جا ملا پھر پچھتانے لگا اور اپنی قوم سے کہلوایا کہ رسول اللہ صلعم سے دریافت کرو کہ کیا میری توبہ قبول ہوسکتی ہے ؟ ان کے دریافت کرنے پر یہ آیتیں اتریں اس کی قوم نے اسے کہلوا بھیجا وہ پھر توبہ کر کے نئے سرے سے مسلمان ہو کر حاضر ہوگیا (ابن جریر) نسائی حاکم اور ابن حبان میں بھی یہ روایت موجود ہے امام حاکم اسے صحیح الاسناد کہتے ہیں، مسند عبدالرزاق میں ہے کہ حارث بن سوید نے اسلام قبول کیا پھر قوم میں مل گیا اور اسلام سے پھر گیا اس کے بارے میں یہ آیتیں اتریں اس کی قوم کے ایک شخص نے یہ آیتیں اسے پڑھ کر سنائیں تو اس نے کہا جہاں تک میرا خیال ہے اللہ کی قسم تو سچا ہے اور اللہ کے نبی تو تجھ سے بہت ہی زیادہ سچے ہیں اور اللہ تعالیٰ سب سچوں سے زیادہ سچا ہے پھر وہ حضور ﷺ کی طرف لوٹ آئے اسلام لائے اور بہت اچھی طرح اسلام کو نبھایا بینات سے مراد رسول ﷺ کی تصدیق پر حجتوں اور دلیلوں کا بالکل واضح ہوجانا ہے پس جو لوگ ایمان لائے رسول کی حقانیت مان چکے دلیلیں دیکھ چکے پھر شرک کے اندھیروں میں جا چھپے یہ لوگ مستحق ہدایت نہیں کیونکہ آنکھوں کے ہوتے ہوئے اندھے پن کو انہوں نے پسند کیا اللہ تعالیٰ ناانصاف لوگوں میں رہبری نہیں کرتا، انہیں اللہ لعنت کرتا ہے اور اس کی مخلوق بھی ہمیشہ لعنت کرتی ہے نہ تو کسی وقت ان کے عذاب میں تخفیف ہوگی نہ موقوفی۔ پھر اپنا لطف و احسان رافت و رحمت کا بیان فرماتا ہے کہ اس بدترین جرم کے بعد بھی جو میری طرف جھکے اور اپنے بداعمال کی اصلاح کرلے میں بھی اس سے درگذر کرلیتا ہوں۔
89
View Single
إِلَّا ٱلَّذِينَ تَابُواْ مِنۢ بَعۡدِ ذَٰلِكَ وَأَصۡلَحُواْ فَإِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٞ رَّحِيمٌ
Except those who repented thereafter and reformed themselves; then indeed Allah is Oft Forgiving, Most Merciful.
سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے اس کے بعد توبہ کر لی اور (اپنی) اصلاح کر لی، تو بیشک اللہ بڑا بخشنے والا مہربان ہے
Tafsir Ibn Kathir
Allah Does Not Guide People Who Disbelieve After they Believed, Unless They Repent
Ibn Jarir recorded that Ibn `Abbas said, "A man from the Ansar embraced Islam, but later reverted and joined the polytheists. He later on became sorry and sent his people to, `Ask the Messenger of Allah ﷺ for me, if I can repent.' Then,
كَيْفَ يَهْدِى اللَّهُ قَوْمًا كَفَرُواْ بَعْدَ إِيمَـنِهِمْ
(How shall Allah guide a people who disbelieved after their belief) until,
فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ
(Verily, Allah is Oft-Forgiving, Most Merciful.) was revealed and his people sent word to him and he re-embraced Islam."
This is the wording recorded by An-Nasa'i, Al-Hakim and Ibn Hibban. Al-Hakim said, "Its chain is Sahih and they did not record it."
Allah's statement,
كَيْفَ يَهْدِى اللَّهُ قَوْمًا كَفَرُواْ بَعْدَ إِيمَـنِهِمْ وَشَهِدُواْ أَنَّ الرَّسُولَ حَقٌّ وَجَآءَهُمُ الْبَيِّنَـتُ
(How shall Allah guide a people who disbelieved after their belief and after they bore witness that the Messenger is true and after clear proofs came to them)
means, the proofs and evidences were established, testifying to the truth of what the Messenger was sent with. The truth was thus explained to them, but they reverted to the darkness of polytheism. Therefore, how can such people deserve guidance after they willingly leapt into utter blindness This is why Allah said,
وَاللَّهُ لاَ يَهْدِى الْقَوْمَ الظَّـلِمِينَ
(And Allah guides not the people who are wrongdoers.)
He then said,
أُوْلَـئِكَ جَزَآؤُهُمْ أَنَّ عَلَيْهِمْ لَعْنَةَ اللَّهِ وَالْمَلَـئِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ
(They are those whose recompense is that on them (rests) the curse of Allah, of the angels and of all mankind.)
Allah curses them and His creation also curses them.
خَـلِدِينَ فِيهَآ
(They will abide therein) in the curse,
لاَ يُخَفَّفُ عَنْهُمُ الْعَذَابُ وَلاَ هُمْ يُنظَرُونَ
(Neither will their torment be lightened nor will it be delayed or postponed.) for, the torment will not be lessened, not even for an hour. After that, Allah said,
إِلاَّ الَّذِينَ تَابُواْ مِن بَعْدِ ذَلِكَ وَأَصْلَحُواْ فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ
(Except for those who repent after that and do righteous deeds. Verily, Allah is Oft-Forgiving, Most Merciful.)
This Ayah indicates Allah's kindness, graciousness, compassion, mercy and favor on His creatures when they repent to Him, for He forgives them in this case.
توبہ اور قبولیت حضرت عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں ایک انصار مرتد ہو کر مشرکین میں جا ملا پھر پچھتانے لگا اور اپنی قوم سے کہلوایا کہ رسول اللہ صلعم سے دریافت کرو کہ کیا میری توبہ قبول ہوسکتی ہے ؟ ان کے دریافت کرنے پر یہ آیتیں اتریں اس کی قوم نے اسے کہلوا بھیجا وہ پھر توبہ کر کے نئے سرے سے مسلمان ہو کر حاضر ہوگیا (ابن جریر) نسائی حاکم اور ابن حبان میں بھی یہ روایت موجود ہے امام حاکم اسے صحیح الاسناد کہتے ہیں، مسند عبدالرزاق میں ہے کہ حارث بن سوید نے اسلام قبول کیا پھر قوم میں مل گیا اور اسلام سے پھر گیا اس کے بارے میں یہ آیتیں اتریں اس کی قوم کے ایک شخص نے یہ آیتیں اسے پڑھ کر سنائیں تو اس نے کہا جہاں تک میرا خیال ہے اللہ کی قسم تو سچا ہے اور اللہ کے نبی تو تجھ سے بہت ہی زیادہ سچے ہیں اور اللہ تعالیٰ سب سچوں سے زیادہ سچا ہے پھر وہ حضور ﷺ کی طرف لوٹ آئے اسلام لائے اور بہت اچھی طرح اسلام کو نبھایا بینات سے مراد رسول ﷺ کی تصدیق پر حجتوں اور دلیلوں کا بالکل واضح ہوجانا ہے پس جو لوگ ایمان لائے رسول کی حقانیت مان چکے دلیلیں دیکھ چکے پھر شرک کے اندھیروں میں جا چھپے یہ لوگ مستحق ہدایت نہیں کیونکہ آنکھوں کے ہوتے ہوئے اندھے پن کو انہوں نے پسند کیا اللہ تعالیٰ ناانصاف لوگوں میں رہبری نہیں کرتا، انہیں اللہ لعنت کرتا ہے اور اس کی مخلوق بھی ہمیشہ لعنت کرتی ہے نہ تو کسی وقت ان کے عذاب میں تخفیف ہوگی نہ موقوفی۔ پھر اپنا لطف و احسان رافت و رحمت کا بیان فرماتا ہے کہ اس بدترین جرم کے بعد بھی جو میری طرف جھکے اور اپنے بداعمال کی اصلاح کرلے میں بھی اس سے درگذر کرلیتا ہوں۔
90
View Single
إِنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ بَعۡدَ إِيمَٰنِهِمۡ ثُمَّ ٱزۡدَادُواْ كُفۡرٗا لَّن تُقۡبَلَ تَوۡبَتُهُمۡ وَأُوْلَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلضَّآلُّونَ
Indeed those who disbelieve after having accepted faith, and advance further in their disbelief – their repentance will never be accepted; and it is they who are the astray.
بیشک جن لوگوں نے اپنے ایمان کے بعد کفر کیا پھر وہ کفر میں بڑھتے گئے ان کی توبہ ہرگز قبول نہیں کی جائے گے، اور وہی لوگ گمراہ ہیں
Tafsir Ibn Kathir
Neither Repentance of the Disbeliever Upon Death, Nor His Ransoming Himself on the Day of Resurrection Shall be Accepted
Allah threatens and warns those who revert to disbelief after they believed and who thereafter insist on disbelief until death. He states that in this case, no repentance shall be accepted from them upon their death. Similarly, Allah said,
وَلَيْسَتِ التَّوْبَةُ لِلَّذِينَ يَعْمَلُونَ السَّيِّئَـتِ حَتَّى إِذَا حَضَرَ أَحَدَهُمُ الْمَوْتُ
(And of no effect is the repentance of those who continue to do evil deeds until death faces one of them) 4:18.
This is why Allah said,
لَّن تُقْبَلَ تَوْبَتُهُمْ وَأُوْلَـئِكَ هُمُ الضَّآلُّونَ
(never will their repentance be accepted. And they are those who went astray.) to those who abandon the path of truth for the path of wickedness. Al-Hafiz Abu Bakr Al-Bazzar recorded that Ibn `Abbas said that some people embraced Islam, reverted to disbelief, became Muslims again, then reverted from Islam. They sent their people inquiring about this matter and they asked the Messenger of Allah . On that, this Ayah was revealed,
إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُواْ بَعْدَ إِيمَـنِهِمْ ثُمَّ ازْدَادُواْ كُفْرًا لَّن تُقْبَلَ تَوْبَتُهُمْ
(Verily, those who disbelieved after their belief and then went on increasing in their disbelief never will their repentance be accepted). The chain of narration is satisfactory. Thereafter, Allah said,
إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُواْ وَمَاتُواْ وَهُمْ كُفَّارٌ فَلَن يُقْبَلَ مِنْ أَحَدِهِم مِّلْءُ الاٌّرْضِ ذَهَبًا وَلَوِ افْتَدَى بِهِ
(Verily, those who disbelieved, and died while they were disbelievers, the (whole) earth full of gold will not be accepted from anyone of them even if they offered it as a ransom.)
Those who die while disbelievers, shall have no good deed ever accepted from them, even if they spent the earth's fill of gold in what was perceived to be an act of obedience. The Prophet was asked about `Abdullah bin Jud`an, who used to be generous to guests, helpful to the indebted and who gave food (to the poor); will all that benefit him The Prophet said,
«لَا، إِنَّهُ لَمْ يَقُلْ يَوْمًا مِنَ الدَّهْرِ: رَبِّ اغْفِر لِي خَطِيئَتِي يَوْمَ الدِّين»
(No, for not even one day during his life did he pronounce, `O my Lord! Forgive my sins on the Day of Judgment.)
Similarly, if the disbeliever gave the earth's full of gold as ransom, it will not be accepted from him. Allah said,
وَلاَ يُقْبَلُ مِنْهَا عَدْلٌ وَلاَ تَنفَعُهَا شَفَـعَةٌ
(...nor shall compensation be accepted from him, nor shall intercession be of use to him,)2:123, and
لاَّ بَيْعٌ فِيهِ وَلاَ خِلَـلٌ
(...on which there will be neither mutual bargaining nor befriending.) 14:31, and,
إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُواْ لَوْ أَنَّ لَهُمْ مَّا فِى الاٌّرْضِ جَمِيعاً وَمِثْلَهُ مَعَهُ لِيَفْتَدُواْ بِهِ مِنْ عَذَابِ يَوْمِ الْقِيَـمَةِ مَا تُقُبِّلَ مِنْهُمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ
(Verily, those who disbelieve, if they had all that is in the earth, and as much again therewith to ransom themselves thereby from the torment on the Day of Resurrection, it would never be accepted of them, and theirs would be a painful torment) 5:36.
This is why Allah said here,
إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُواْ وَمَاتُواْ وَهُمْ كُفَّارٌ فَلَن يُقْبَلَ مِنْ أَحَدِهِم مِّلْءُ الاٌّرْضِ ذَهَبًا وَلَوِ افْتَدَى بِهِ
,(Verily, those who disbelieved, and died while they were disbelievers, the (whole) earth full of gold will not be accepted from anyone of them if they offered it as a ransom).
The implication of this Ayah is that the disbeliever shall never avoid the torment of Allah, even if he spent the earth's fill of gold, or if he ransoms himself with the earth's fill of gold, - all of its mountains, hills, sand, dust, valleys, forests, land and sea.
Imam Ahmad recorded that Anas said that the Messenger of Allah said,
«يُؤْتَى بِالرَّجُلِ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَيَقُولُ لَهُ: يَا ابْنَ آدَمَ، كَيْفَ وَجَدْتَ مَنْزِلَكَ؟ فَيَقُولُ: أَيْ رَبِّ خَيْرَ مَنْزِلٍ، فَيَقُولُ: سَلْ وَتَمَنَّ، فَيَقُولُ: مَا أَسْأَلُ وَلَا أَتَمَنَّى إِلَّا أَنْ تَرُدَّنِي إِلَى الدُّنْيَا فَأُقْتَلَ فِي سَبِيلِكَ عَشْرَ مِرَارٍ، لِمَا يَرَى مِنْ فَضْلِ الشَّهَادَةِ، وَيُؤْتَى بِالرَّجُلِ مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَيَقُولُ لَهُ: يَا ابْنَ آدَمَ، كَيْفَ وَجَدْتَ مَنْزِلَكَ؟ فَيَقُولُ: يَا رَبِّ شَرَّ مَنْزِلٍ، فَيَقُولُ لَهُ: تَفْتَدِي مِنِّي بِطِلَاعِ الْأَرْضِ ذَهَبًا؟ فَيَقُولُ: أَيْ رَبِّ نَعَمْ، فَيَقُولُ: كَذَبْتَ، قَدْ سَأَلْتُكَ أَقَلَّ مِنْ ذَلِكَ وَأَيْسَرَ فَلَمْ تَفْعَلْ، فَيُرَدُّ إِلَى النَّار»
(A man from among the people of Paradise will be brought and Allah will ask him, "O son of Adam! How did you find your dwelling" He will say, "O Lord, it is the best dwelling." Allah will say, "Ask and wish." The man will say, "I only ask and wish that You send me back to the world so that I am killed ten times in Your cause," because of the honor of martyrdom he would experience. A man from among the people of the Fire will be brought, and Allah will say to him, "O son of Adam! How do you find your dwelling" He will say, "It is the worst dwelling, O Lord." Allah will ask him, "Would you ransom yourself from Me with the earth's fill of gold" He will say, "Yes, O Lord." Allah will say, "You have lied. I asked you to do what is less and easier than that, but you did not do it," and he will be sent back to the Fire.)
This is why Allah said,
أُوْلَـئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ وَمَا لَهُمْ مِّن نَّـصِرِينَ
(For them is a painful torment and they will have no helpers.) for they shall not have anyone who will save them from the torment of Allah or rescue them from His painful punishment.
جب سانس ختم ہونے کو ہوں تو توبہ قبول نہیں ہوگی ایمان کے بعد پھر اسی کفر پر مرنے والوں کو پروردگار عالم ڈرا رہا ہے کہ موت کے وقت تمہاری توبہ قبول نہیں ہوگی جیسے اور جگہ ہے آیت (وَلَيْسَتِ التَّوْبَةُ لِلَّذِيْنَ يَعْمَلُوْنَ السَّـيِّاٰتِ ۚ حَتّٰى اِذَا حَضَرَ اَحَدَھُمُ الْمَوْتُ قَالَ اِنِّىْ تُبْتُ الْــٰٔنَ وَلَا الَّذِيْنَ يَمُوْتُوْنَ وَھُمْ كُفَّارٌ ۭاُولٰۗىِٕكَ اَعْتَدْنَا لَھُمْ عَذَابًا اَلِـــيْمًا) 4۔ النسآء :18) آخر دم تک یعنی موت کے وقت تک گناہوں میں مبتلا رہنے والے موت کو دیکھ کر جو توبہ کریں وہ اللہ کے ہاں قبول نہیں اور یہی یہاں ہے کہ ان کی توبہ ہرگز مقبول نہ ہوگی اور یہی لوگ وہ ہیں جو راہ حق سے بھٹک کر باطل راہ پر لگ گئے، حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ کچھ لوگ مسلمان ہوئے پھر مرتد ہوگئے پھر اسلام لائے پھر مرتد ہوگئے پھر اپنی قوم کے پاس آدمی بھیج کر بچھوایا کہ کیا اب ہماری توبہ ہے ؟ انہوں نے حضور ﷺ سے سوال کیا اس پر یہ آیت اتری (بزار) اس کی اسناد بہت عمدہ ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ کفر پر مرنے والوں کی کوئی نیکی قبول نہیں گو اس نے زمین بھر کر سونا اللہ کی راہ میں خرچ کیا ہو، نبی ﷺ سے پوچھا گیا کہ عبداللہ بن جذعان جو بڑا مہمان نواز غلام آزاد کرنے والا اور کھانا پینا دینے والا شخص تھا کیا اسے اس کی یہ نیکی کام آئے گی ؟ تو آپ نے فرمایا نہیں اس نے ساری عمر میں ایک دفعہ بھی (اَنْ يَّغْفِرَ لِيْ خَطِيْۗـــــَٔــتِيْ يَوْمَ الدِّيْنِ) 26۔ الشعراء :82) نہیں کیا یعنی اے میرے رب میری خطاؤں کو قیامت والے دن بخش جس طرح اس کی خیرات نامقبول ہے اسی طرح فدیہ اور معاوضہ بھی، جیسے اور جگہ ہے (وَّلَا يُقْبَلُ مِنْهَا عَدْلٌ وَّلَا تَنْفَعُهَا شَفَاعَةٌ وَّلَا ھُمْ يُنْصَرُوْنَ) 2۔ البقرۃ :123) ان سے نہ بدلہ مقبول نہ انہیں سفارش کا نفع اور فرمایا (قُلْ لِّعِبَادِيَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا يُقِيْمُوا الصَّلٰوةَ وَيُنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ سِرًّا وَّعَلَانِيَةً مِّنْ قَبْلِ اَنْ يَّاْتِيَ يَوْمٌ لَّا بَيْعٌ فِيْهِ وَلَا خِلٰلٌ) 14۔ ابراہیم :31) اس دن نہ خرید فروخت نہ موت و محبت اور جگہ ارشاد ہے (اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَوْ اَنَّ لَهُمْ مَّا فِي الْاَرْضِ جَمِيْعًا) 5۔ المائدہ :36) یعنی اگر کافروں کے پاس زمین میں جو کچھ ہے اور اتنا ہی اور بھی ہو پھر وہ اس سب کو قیامت کے عذابوں کے بدلے فدیہ دیں تو بھی نامقبول ہے ان تکلیف والے الم ناک عذابوں کو سہنا پڑے گا، یہی مضمون یہاں بھی بیان فرمایا گیا ہے بعض نے افتدی کی واؤ کو زائد کہا ہے لیکن واؤ کو عطف کی ماننا اور وہ تفسیر کرنا جو ہم نے کی بہت بہتر ہے واللہ اعلم، پس ثابت ہوا کہ اللہ کے عذاب سے کفار کو کوئی چیز نہیں چھڑا سکتی چاہے وہ بڑے نیک اور نہایت سخی ہوں گو زمین بھر بھر کر سونا راہ اللہ لٹائیں یا پہاڑوں اور ٹیلوں کی مٹی اور ریت نرم زمین اور سخت زمین کی خشکی اور تری کے ہم وزن سونا عذاب کے بدلے دینا چاہیں یا دیں، مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جہنمی سے قیامت کے دن کہا جائے گا کہ زمین پر جو کچھ ہے اگر تیرا ہوجائے تو کیا تو اس کو ان سزاؤں کے بدلے اپنے فدیے میں دے ڈالے گا۔ وہ کہے گا ہاں تو جناب باری کا ارشاد ہوگا کہ میں نے تجھ سے بہ نسبت اس کے بہت ہی کم چاہا تھا، میں نے تجھ سے اس وقت وعدہ لیا تھا جب تو اپنے باپ آدم کی پیٹھ میں تھا کہ میرے ساتھ کسی کو شرک نہ بنانا لیکن تو شرک کئے بغیر نہ رہا۔ یہ حدیث بخاری مسلم میں بھی دوسری سند کے ساتھ ہے، مسند احمد کی ایک اور حدیث میں ہے حضرت انس بن مالک ؓ فرماتے ہیں رسول اکرم ﷺ نے فرمایا ایک ایسے جنتی کو لایا جائے گا جس سے اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہو تم نے کیسی جگہ پائی ؟ وہ جواب دے گا اللہ بہت ہی بہتر۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا اچھا اور کچھ مانگنا ہو تو مانگو دل میں جو تمنا ہو کہو تو یہ کہے گا باری تعالیٰ میری صرف یہی تمنا ہے اور میرا یہی ایک سوال ہے کہ مجھے دنیا میں پھر بھیج دیا جائے میں تیری راہ میں جہاد کروں اور پھر شہید کیا جاؤں پھر زندہ ہوجاؤں پھر شہید کیا جاؤں دس مرتبہ ایسا ہی ہو کیونکہ وہ شہادت کی فضیلت اور شہید کے مرتبے دیکھ چکا ہوگا اسی طرح ایک جہنمی کو بلایا جائے گا اور اس سے اللہ تعالیٰ فرمائے گا۔ اے ابن آدم تو نے اپنی جگہ کیسی پائی ؟ وہ کہے گا اللہ بہت ہی بری۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کیا ساری زمین بھر کر سونا دے کر ان عذابوں سے چھوٹنا تجھے پسند ہے ؟ وہ کہے گا ہاں اے باری تعالیٰ اس وقت جناب باری تعالیٰ فرمائے گا تو جھوٹا ہے میں نے تو اس سے بہت ہی کم اور بالکل آسان چیز تجھ سے طلب کی تھی لیکن تو نے اسے بھی نہ کیا چناچہ وہ جہنم میں بھیج دیا جائے گا، پس یہاں فرمایا ان کے لئے تکلیف دہ عذاب ہیں اور ایسا نہیں جو ان عذابوں سے اپنے آپ کو چھڑا سکے یا کوئی ان کی کس طرح مدد کرسکے (اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے عذاب سے نجات دے۔ آمین)
91
View Single
إِنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ وَمَاتُواْ وَهُمۡ كُفَّارٞ فَلَن يُقۡبَلَ مِنۡ أَحَدِهِم مِّلۡءُ ٱلۡأَرۡضِ ذَهَبٗا وَلَوِ ٱفۡتَدَىٰ بِهِۦٓۗ أُوْلَـٰٓئِكَ لَهُمۡ عَذَابٌ أَلِيمٞ وَمَا لَهُم مِّن نَّـٰصِرِينَ
Those who disbelieved and died as disbelievers – an earth full of gold will never be accepted from any one of them, even if he offers it, for his freedom; for them is a painful punishment and they do not have any aides.
بیشک جو لوگ کافر ہوئے اور حالتِ کفر میں ہی مر گئے سو ان میں سے کوئی شخص اگر زمین بھر سونا بھی (اپنی نجات کے لئے) معاوضہ میں دینا چاہے تو اس سے ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا، انہی لوگوں کے لئے دردناک عذاب ہے اور ان کا کوئی مددگار نہیں ہو سکے گا
Tafsir Ibn Kathir
Neither Repentance of the Disbeliever Upon Death, Nor His Ransoming Himself on the Day of Resurrection Shall be Accepted
Allah threatens and warns those who revert to disbelief after they believed and who thereafter insist on disbelief until death. He states that in this case, no repentance shall be accepted from them upon their death. Similarly, Allah said,
وَلَيْسَتِ التَّوْبَةُ لِلَّذِينَ يَعْمَلُونَ السَّيِّئَـتِ حَتَّى إِذَا حَضَرَ أَحَدَهُمُ الْمَوْتُ
(And of no effect is the repentance of those who continue to do evil deeds until death faces one of them) 4:18.
This is why Allah said,
لَّن تُقْبَلَ تَوْبَتُهُمْ وَأُوْلَـئِكَ هُمُ الضَّآلُّونَ
(never will their repentance be accepted. And they are those who went astray.) to those who abandon the path of truth for the path of wickedness. Al-Hafiz Abu Bakr Al-Bazzar recorded that Ibn `Abbas said that some people embraced Islam, reverted to disbelief, became Muslims again, then reverted from Islam. They sent their people inquiring about this matter and they asked the Messenger of Allah . On that, this Ayah was revealed,
إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُواْ بَعْدَ إِيمَـنِهِمْ ثُمَّ ازْدَادُواْ كُفْرًا لَّن تُقْبَلَ تَوْبَتُهُمْ
(Verily, those who disbelieved after their belief and then went on increasing in their disbelief never will their repentance be accepted). The chain of narration is satisfactory. Thereafter, Allah said,
إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُواْ وَمَاتُواْ وَهُمْ كُفَّارٌ فَلَن يُقْبَلَ مِنْ أَحَدِهِم مِّلْءُ الاٌّرْضِ ذَهَبًا وَلَوِ افْتَدَى بِهِ
(Verily, those who disbelieved, and died while they were disbelievers, the (whole) earth full of gold will not be accepted from anyone of them even if they offered it as a ransom.)
Those who die while disbelievers, shall have no good deed ever accepted from them, even if they spent the earth's fill of gold in what was perceived to be an act of obedience. The Prophet was asked about `Abdullah bin Jud`an, who used to be generous to guests, helpful to the indebted and who gave food (to the poor); will all that benefit him The Prophet said,
«لَا، إِنَّهُ لَمْ يَقُلْ يَوْمًا مِنَ الدَّهْرِ: رَبِّ اغْفِر لِي خَطِيئَتِي يَوْمَ الدِّين»
(No, for not even one day during his life did he pronounce, `O my Lord! Forgive my sins on the Day of Judgment.)
Similarly, if the disbeliever gave the earth's full of gold as ransom, it will not be accepted from him. Allah said,
وَلاَ يُقْبَلُ مِنْهَا عَدْلٌ وَلاَ تَنفَعُهَا شَفَـعَةٌ
(...nor shall compensation be accepted from him, nor shall intercession be of use to him,)2:123, and
لاَّ بَيْعٌ فِيهِ وَلاَ خِلَـلٌ
(...on which there will be neither mutual bargaining nor befriending.) 14:31, and,
إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُواْ لَوْ أَنَّ لَهُمْ مَّا فِى الاٌّرْضِ جَمِيعاً وَمِثْلَهُ مَعَهُ لِيَفْتَدُواْ بِهِ مِنْ عَذَابِ يَوْمِ الْقِيَـمَةِ مَا تُقُبِّلَ مِنْهُمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ
(Verily, those who disbelieve, if they had all that is in the earth, and as much again therewith to ransom themselves thereby from the torment on the Day of Resurrection, it would never be accepted of them, and theirs would be a painful torment) 5:36.
This is why Allah said here,
إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُواْ وَمَاتُواْ وَهُمْ كُفَّارٌ فَلَن يُقْبَلَ مِنْ أَحَدِهِم مِّلْءُ الاٌّرْضِ ذَهَبًا وَلَوِ افْتَدَى بِهِ
,(Verily, those who disbelieved, and died while they were disbelievers, the (whole) earth full of gold will not be accepted from anyone of them if they offered it as a ransom).
The implication of this Ayah is that the disbeliever shall never avoid the torment of Allah, even if he spent the earth's fill of gold, or if he ransoms himself with the earth's fill of gold, - all of its mountains, hills, sand, dust, valleys, forests, land and sea.
Imam Ahmad recorded that Anas said that the Messenger of Allah said,
«يُؤْتَى بِالرَّجُلِ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَيَقُولُ لَهُ: يَا ابْنَ آدَمَ، كَيْفَ وَجَدْتَ مَنْزِلَكَ؟ فَيَقُولُ: أَيْ رَبِّ خَيْرَ مَنْزِلٍ، فَيَقُولُ: سَلْ وَتَمَنَّ، فَيَقُولُ: مَا أَسْأَلُ وَلَا أَتَمَنَّى إِلَّا أَنْ تَرُدَّنِي إِلَى الدُّنْيَا فَأُقْتَلَ فِي سَبِيلِكَ عَشْرَ مِرَارٍ، لِمَا يَرَى مِنْ فَضْلِ الشَّهَادَةِ، وَيُؤْتَى بِالرَّجُلِ مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَيَقُولُ لَهُ: يَا ابْنَ آدَمَ، كَيْفَ وَجَدْتَ مَنْزِلَكَ؟ فَيَقُولُ: يَا رَبِّ شَرَّ مَنْزِلٍ، فَيَقُولُ لَهُ: تَفْتَدِي مِنِّي بِطِلَاعِ الْأَرْضِ ذَهَبًا؟ فَيَقُولُ: أَيْ رَبِّ نَعَمْ، فَيَقُولُ: كَذَبْتَ، قَدْ سَأَلْتُكَ أَقَلَّ مِنْ ذَلِكَ وَأَيْسَرَ فَلَمْ تَفْعَلْ، فَيُرَدُّ إِلَى النَّار»
(A man from among the people of Paradise will be brought and Allah will ask him, "O son of Adam! How did you find your dwelling" He will say, "O Lord, it is the best dwelling." Allah will say, "Ask and wish." The man will say, "I only ask and wish that You send me back to the world so that I am killed ten times in Your cause," because of the honor of martyrdom he would experience. A man from among the people of the Fire will be brought, and Allah will say to him, "O son of Adam! How do you find your dwelling" He will say, "It is the worst dwelling, O Lord." Allah will ask him, "Would you ransom yourself from Me with the earth's fill of gold" He will say, "Yes, O Lord." Allah will say, "You have lied. I asked you to do what is less and easier than that, but you did not do it," and he will be sent back to the Fire.)
This is why Allah said,
أُوْلَـئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ وَمَا لَهُمْ مِّن نَّـصِرِينَ
(For them is a painful torment and they will have no helpers.) for they shall not have anyone who will save them from the torment of Allah or rescue them from His painful punishment.
جب سانس ختم ہونے کو ہوں تو توبہ قبول نہیں ہوگی ایمان کے بعد پھر اسی کفر پر مرنے والوں کو پروردگار عالم ڈرا رہا ہے کہ موت کے وقت تمہاری توبہ قبول نہیں ہوگی جیسے اور جگہ ہے آیت (وَلَيْسَتِ التَّوْبَةُ لِلَّذِيْنَ يَعْمَلُوْنَ السَّـيِّاٰتِ ۚ حَتّٰى اِذَا حَضَرَ اَحَدَھُمُ الْمَوْتُ قَالَ اِنِّىْ تُبْتُ الْــٰٔنَ وَلَا الَّذِيْنَ يَمُوْتُوْنَ وَھُمْ كُفَّارٌ ۭاُولٰۗىِٕكَ اَعْتَدْنَا لَھُمْ عَذَابًا اَلِـــيْمًا) 4۔ النسآء :18) آخر دم تک یعنی موت کے وقت تک گناہوں میں مبتلا رہنے والے موت کو دیکھ کر جو توبہ کریں وہ اللہ کے ہاں قبول نہیں اور یہی یہاں ہے کہ ان کی توبہ ہرگز مقبول نہ ہوگی اور یہی لوگ وہ ہیں جو راہ حق سے بھٹک کر باطل راہ پر لگ گئے، حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ کچھ لوگ مسلمان ہوئے پھر مرتد ہوگئے پھر اسلام لائے پھر مرتد ہوگئے پھر اپنی قوم کے پاس آدمی بھیج کر بچھوایا کہ کیا اب ہماری توبہ ہے ؟ انہوں نے حضور ﷺ سے سوال کیا اس پر یہ آیت اتری (بزار) اس کی اسناد بہت عمدہ ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ کفر پر مرنے والوں کی کوئی نیکی قبول نہیں گو اس نے زمین بھر کر سونا اللہ کی راہ میں خرچ کیا ہو، نبی ﷺ سے پوچھا گیا کہ عبداللہ بن جذعان جو بڑا مہمان نواز غلام آزاد کرنے والا اور کھانا پینا دینے والا شخص تھا کیا اسے اس کی یہ نیکی کام آئے گی ؟ تو آپ نے فرمایا نہیں اس نے ساری عمر میں ایک دفعہ بھی (اَنْ يَّغْفِرَ لِيْ خَطِيْۗـــــَٔــتِيْ يَوْمَ الدِّيْنِ) 26۔ الشعراء :82) نہیں کیا یعنی اے میرے رب میری خطاؤں کو قیامت والے دن بخش جس طرح اس کی خیرات نامقبول ہے اسی طرح فدیہ اور معاوضہ بھی، جیسے اور جگہ ہے (وَّلَا يُقْبَلُ مِنْهَا عَدْلٌ وَّلَا تَنْفَعُهَا شَفَاعَةٌ وَّلَا ھُمْ يُنْصَرُوْنَ) 2۔ البقرۃ :123) ان سے نہ بدلہ مقبول نہ انہیں سفارش کا نفع اور فرمایا (قُلْ لِّعِبَادِيَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا يُقِيْمُوا الصَّلٰوةَ وَيُنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ سِرًّا وَّعَلَانِيَةً مِّنْ قَبْلِ اَنْ يَّاْتِيَ يَوْمٌ لَّا بَيْعٌ فِيْهِ وَلَا خِلٰلٌ) 14۔ ابراہیم :31) اس دن نہ خرید فروخت نہ موت و محبت اور جگہ ارشاد ہے (اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَوْ اَنَّ لَهُمْ مَّا فِي الْاَرْضِ جَمِيْعًا) 5۔ المائدہ :36) یعنی اگر کافروں کے پاس زمین میں جو کچھ ہے اور اتنا ہی اور بھی ہو پھر وہ اس سب کو قیامت کے عذابوں کے بدلے فدیہ دیں تو بھی نامقبول ہے ان تکلیف والے الم ناک عذابوں کو سہنا پڑے گا، یہی مضمون یہاں بھی بیان فرمایا گیا ہے بعض نے افتدی کی واؤ کو زائد کہا ہے لیکن واؤ کو عطف کی ماننا اور وہ تفسیر کرنا جو ہم نے کی بہت بہتر ہے واللہ اعلم، پس ثابت ہوا کہ اللہ کے عذاب سے کفار کو کوئی چیز نہیں چھڑا سکتی چاہے وہ بڑے نیک اور نہایت سخی ہوں گو زمین بھر بھر کر سونا راہ اللہ لٹائیں یا پہاڑوں اور ٹیلوں کی مٹی اور ریت نرم زمین اور سخت زمین کی خشکی اور تری کے ہم وزن سونا عذاب کے بدلے دینا چاہیں یا دیں، مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جہنمی سے قیامت کے دن کہا جائے گا کہ زمین پر جو کچھ ہے اگر تیرا ہوجائے تو کیا تو اس کو ان سزاؤں کے بدلے اپنے فدیے میں دے ڈالے گا۔ وہ کہے گا ہاں تو جناب باری کا ارشاد ہوگا کہ میں نے تجھ سے بہ نسبت اس کے بہت ہی کم چاہا تھا، میں نے تجھ سے اس وقت وعدہ لیا تھا جب تو اپنے باپ آدم کی پیٹھ میں تھا کہ میرے ساتھ کسی کو شرک نہ بنانا لیکن تو شرک کئے بغیر نہ رہا۔ یہ حدیث بخاری مسلم میں بھی دوسری سند کے ساتھ ہے، مسند احمد کی ایک اور حدیث میں ہے حضرت انس بن مالک ؓ فرماتے ہیں رسول اکرم ﷺ نے فرمایا ایک ایسے جنتی کو لایا جائے گا جس سے اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہو تم نے کیسی جگہ پائی ؟ وہ جواب دے گا اللہ بہت ہی بہتر۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا اچھا اور کچھ مانگنا ہو تو مانگو دل میں جو تمنا ہو کہو تو یہ کہے گا باری تعالیٰ میری صرف یہی تمنا ہے اور میرا یہی ایک سوال ہے کہ مجھے دنیا میں پھر بھیج دیا جائے میں تیری راہ میں جہاد کروں اور پھر شہید کیا جاؤں پھر زندہ ہوجاؤں پھر شہید کیا جاؤں دس مرتبہ ایسا ہی ہو کیونکہ وہ شہادت کی فضیلت اور شہید کے مرتبے دیکھ چکا ہوگا اسی طرح ایک جہنمی کو بلایا جائے گا اور اس سے اللہ تعالیٰ فرمائے گا۔ اے ابن آدم تو نے اپنی جگہ کیسی پائی ؟ وہ کہے گا اللہ بہت ہی بری۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کیا ساری زمین بھر کر سونا دے کر ان عذابوں سے چھوٹنا تجھے پسند ہے ؟ وہ کہے گا ہاں اے باری تعالیٰ اس وقت جناب باری تعالیٰ فرمائے گا تو جھوٹا ہے میں نے تو اس سے بہت ہی کم اور بالکل آسان چیز تجھ سے طلب کی تھی لیکن تو نے اسے بھی نہ کیا چناچہ وہ جہنم میں بھیج دیا جائے گا، پس یہاں فرمایا ان کے لئے تکلیف دہ عذاب ہیں اور ایسا نہیں جو ان عذابوں سے اپنے آپ کو چھڑا سکے یا کوئی ان کی کس طرح مدد کرسکے (اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے عذاب سے نجات دے۔ آمین)
92
View Single
لَن تَنَالُواْ ٱلۡبِرَّ حَتَّىٰ تُنفِقُواْ مِمَّا تُحِبُّونَۚ وَمَا تُنفِقُواْ مِن شَيۡءٖ فَإِنَّ ٱللَّهَ بِهِۦ عَلِيمٞ
You can never attain virtue until you spend in Allah's cause the things you love; and Allah is Aware of whatever you spend.
تم ہرگز نیکی کو نہیں پہنچ سکو گے جب تک تم (اللہ کی راہ میں) اپنی محبوب چیزوں میں سے خرچ نہ کرو، اور تم جو کچھ بھی خرچ کرتے ہو بیشک اللہ اسے خوب جاننے والا ہے
Tafsir Ibn Kathir
Al-Birr is Spending from the Best of One's Wealth
In his Tafsir, Waki` reported, that `Amr bin Maymun said that
لَن تَنَالُواْ الْبِرَّ
(By no means shall you attain Al-Birr) is in reference to attaining Paradise.
Imam Ahmad reported that Anas bin Malik said, "Abu Talhah had more property than any other among the Ansar in Al-Madinah, and the most beloved of his property to him was Bayruha' garden, which was in front of the (Messenger's) Masjid. Sometimes, Allah's Messenger ﷺ used to go to the garden and drink its fresh water." Anas added, "When these verses were revealed,
لَن تَنَالُواْ الْبِرَّ حَتَّى تُنفِقُواْ مِمَّا تُحِبُّونَ
(By no means shall you attain Al-Birr unless You spend of that which you love,)
Abu Talhah said, `O Allah's Messenger! Allah says,
لَن تَنَالُواْ الْبِرَّ حَتَّى تُنفِقُواْ مِمَّا تُحِبُّونَ
(By no means shall you attain Al-Birr, unless you spend of that which you love;) No doubt, Bayruha' garden is the most beloved of all my property to me. So I want to give it in charity in Allah's cause, and I expect its reward and compensation from Allah. O Allah's Messenger! Spend it where Allah makes you think is feasible. ' On that, Allah's Messenger ﷺ said,
«بَخٍ بَخٍ، ذَاكَ مَالٌ رَابِحٌ، ذَاكَ مَالٌ رَابِحٌ، وَقَدْ سَمِعْتُ، وَأَنَا أَرَى أَنْ تَجْعَلَهَا فِي الْأَقْرَبِين»
(Well-done! It is profitable property, it is profitable property. I have heard what you have said, and I think it would be proper if you gave it to your kith and kin.)
Abu Talhah said, `I will do so, O Allah's Messenger.' Then Abu Talhah distributed that garden among his relatives and cousins."
This Hadith was recorded in the Two Sahihs. They also recorded that `Umar said, "O Messenger of Allah! I never gained possession of a piece of property more precious to me than my share in Khaybar. Therefore, what do you command me to do with it" The Prophet said,
«حَبِّسِ الْأَصْلَ وَسَبِّلِ الثَّمَرَة»
(Retain the land to give its fruits in Allah's cause.)
سب سے زیادہ پیاری چیز اور صدقہ حضرت عمرو بن میمون فرماتے ہیں بر سے مراد جنت ہے، یعنی اگر تم اپنی پسند کی چیزیں اللہ تعالیٰ کی راہ میں صدقہ کرتے رہو گے تو تمہیں جنت ملے گی، مسند احمد میں ہے کہ حضرت ابو طلحہ مالدار صحابی تھے مسجد کے سامنے ہی بیئرحا نامی آپ کا ایک باغ تھا جس میں کبھی کبھی آنحضرت ﷺ بھی تشریف لے جایا کرتے تھے اور یہاں کا خوش ذائقہ پانی پیا کرتے تھے جب یہ آیت اتری تو حضرت ابو طلحہ ؓ بارگاہ نبوی میں حاضر ہو کر عرض کرنے لگے کہ یا رسول اللہ میرا تو سب سے زیادہ پیارا مال یہی باغ ہے میں آپ کو گواہ کرتا ہوں کہ میں نے اسے اللہ کی راہ میں صدقہ کیا اللہ تعالیٰ مجھے بھلائی عطا فرمائے اور اپنے پاس اسے میرے لئے ذخیرہ کرے آپ کو اختیار ہے جس طرح چاہیں اسے تقسیم کردیں آپ بہت ہی خوش ہوئے اور فرمانے لگے مسلمانوں کو اس سے بہت فائدہ پہنچے گا تم اسے اپنے قرابت داروں میں تقسیم کردو چناچہ حضرت ابو طلحہ نے اسے اپنے رشتہ داروں اور چچا زاد بھائیوں میں بانٹ دیا، بخاری و مسلم میں ہے کہ حضرت عمر فاروق ؓ بھی خدمت رسول ﷺ میں حاضر ہوئے اور کہا کہ حضور ﷺ مجھے اپنے تمام مال میں سب سے زیاد مرغوب مال خیبر کی زمین کا حصہ ہے میں اسے راہ اللہ دینا چاہتا ہوں فرمائیے کیا کروں ؟ آپ نے فرمایا اسے وقف کردو اصل روک لو اور پھل وغیرہ راہ اللہ کردو۔ مسند بزاز میں ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ فرماتے ہیں میں نے اس آیت کی تلاوت کر کے سوچا تو مجھے کوئی چیز ایک کنیز سے زیادہ پیاری نہ تھی۔ میں نے اس لونڈی کو راہ للہ آزاد کردیا، اب تک بھی میرے دل میں اس کی ایسی محبت ہے کہ اگر کسی چیز کو اللہ تعالیٰ کے نام پردے کر پھر لوٹا لینا جائز ہو تو میں کم از کم اس سے نکاح کرلیتا۔
93
View Single
۞كُلُّ ٱلطَّعَامِ كَانَ حِلّٗا لِّبَنِيٓ إِسۡرَـٰٓءِيلَ إِلَّا مَا حَرَّمَ إِسۡرَـٰٓءِيلُ عَلَىٰ نَفۡسِهِۦ مِن قَبۡلِ أَن تُنَزَّلَ ٱلتَّوۡرَىٰةُۚ قُلۡ فَأۡتُواْ بِٱلتَّوۡرَىٰةِ فَٱتۡلُوهَآ إِن كُنتُمۡ صَٰدِقِينَ
All food was lawful for the Descendants of Israel (Jacob), except what Israel forbade for himself, before the Taurat (Torah) was sent down; say, “Bring the Taurat and read it, if you are truthful.”
تورات کے اترنے سے پہلے بنی اسرائیل کے لئے ہر کھانے کی چیز حلال تھی سوائے ان (چیزوں) کے جو یعقوب (علیہ السلام) نے خود اپنے اوپر حرام کر لی تھیں، فرما دیں: تورات لاؤ اور اسے پڑھو اگر تم سچے ہو
Tafsir Ibn Kathir
The Questions that the Jews Asked Our Prophet
Imam Ahmad recorded that Ibn `Abbas said, "A group of Jews came to Allah's Prophet and said, `Talk to us about some things we will ask you and which only a Prophet would know.' He said, `Ask me about whatever you wish. However, give your pledge to Allah, similar to the pledge that Ya`qub took from his children, that if I tell you something and you recognize its truth, you will follow me in Islam.' They said, `Agreed.' The Prophet said, `Ask me about whatever you wish.' They said, `Tell us about four matters: 1. What kinds of food did Isra'il prohibit for himself 2. What about the sexual discharge of the woman and the man, and what role does each play in producing male or female offspring 3. Tell us about the condition of the unlettered Prophet during sleep, 4. And who is his Wali (supporter) among the angels' The Prophet took their covenant that they will follow him if he answers these questions, and they agreed. He said, `I ask you by He Who sent down the Tawrah to Musa, do you not know that Isra'il once became very ill When his illness was prolonged, he vowed to Allah that if He cures His illness, he would prohibit the best types of drink and food for himself. Was not the best food to him camel meat and the best drink camel milk' They said, `Yes, by Allah.' The Messenger said, `O Allah, be Witness against them.' The Prophet then said, `I ask you by Allah, other than Whom there is no deity (worthy of worship), Who sent down the Tawrah to Musa, do you not know that man's discharge is thick and white and woman's is yellow and thin If any of these fluids becomes dominant, the offspring will take its sex and resemblance by Allah's leave. Hence, if the man's is more than the woman's, the child will be male, by Allah's leave. If the woman's discharge is more than the man's, then the child will be female, by Allah's leave.' They said, `Yes.' He said, `O Allah, be Witness against them.' He then said, `I ask you by He Who sent down the Tawrah to Musa, do you not know that the eyes of this unlettered Prophet sleep, but his heart does not sleep' They said, `Yes, by Allah!' He said, `O Allah, be Witness.' They said, `Tell us now about your Wali among the angels, for this is when we either follow or shun you.' He said, `My Wali (who brings down the revelation from Allah) is Jibril, and Allah never sent a Prophet, but Jibril is his Wali.' They said, `We then shun you. Had you a Wali other than Jibril, we would have followed you.' On that, Allah, the Exalted revealed,
قُلْ مَن كَانَ عَدُوًّا لِّجِبْرِيلَ
(Say: "Whoever is an enemy to Jibril...") 2:97."
Allah's statement,
نَفْسِهِ مِن قَبْلِ أَن تُنَزَّلَ
(before the Tawrah was revealed) 3:93, means, Isra'il forbade that for himself before the Tawrah was revealed. There are two objectives behind revealing this segment of the Ayah. First, he forbade himself the most delightful things for Allah's sake. This practice was allowed during his period of Law, and is, thus, suitable that it is mentioned after Allah's statement,
لَن تَنَالُواْ الْبِرَّ حَتَّى تُنفِقُواْ مِمَّا تُحِبُّونَ
(By no means shall you attain Al-Birr, unless you spend of that which you love) 3: 92.
What we are allowed in our Law is to spend in Allah's obedience from what we like and covet but not to prohibit what Allah has allowed. Allah said in other Ayat;
وَءَاتَى الْمَالَ عَلَى حُبِّهِ
(And gives his wealth, in spite of love for it,) 2:177, and;
وَيُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَى حُبِّهِ
(And they give food, in spite of their love for it,) 76:8.
The second reason is that after Allah refuted the false Christian beliefs and allegations about `Isa and his mother. Allah started refuting the Jews here, may Allah curse them, by stating that the abrogation of the Law, that they denied occurs, already occurred in their Law. For instance, Allah has stated in their Book, the Tawrah, that when Nuh departed from the ark, Allah allowed him to eat the meat of all types of animals. Afterwards, Isra'il forbade the meat and milk of camels for himself, and his children imitated this practice after him. The Tawrah later on prohibited this type of food, and added several more types of prohibitions. Allah allowed Adam to marry his daughters to his sons, and this practice was later forbidden. The Law of Ibrahim allowed the man to take female servants as companions along with his wife, as Ibrahim did when he took Hajar, while he was married to Sarah. Later on, the Tawrah prohibited this practice. It was previously allowed to take two sisters as wives at the same time, as Ya`qub married two sisters at the same time. Later on, this practice was prohibited in the Tawrah. All these examples are in the Tawrah and constitute a Naskh (abrogation) of the Law. Therefore, let the Jews consider what Allah legislated for `Isa and if such legislation falls under the category of abrogation or not. Why do they not then follow `Isa in this regard Rather, the Jews defied and rebelled against `Isa and against the correct religion that Allah sent Muhammad ﷺ with.
This is why Allah said,
كُلُّ الطَّعَامِ كَانَ حِـلاًّ لِّبَنِى إِسْرَءِيلَ إِلاَّ مَا حَرَّمَ إِسْرَءِيلُ عَلَى نَفْسِهِ مِن قَبْلِ أَن تُنَزَّلَ التَّوْرَاةُ
(All food was lawful to the Children of Israel, except what Isra'il made unlawful for himself before the Tawrah was revealed) 3:93 meaning, before the Tawrah was revealed, all types of foods were allowed, except what Isra'il prohibited for himself. Allah then said,
التَّوْرَاةُ قُلْ فَأْتُواْ بِالتَّوْرَاةِ فَاتْلُوهَا إِن كُنتُمْ
(Say: "Bring here the Tawrah and recite it, if you are truthful."),
for the Tawrah affirms what we are stating here. Allah said next,
فَمَنِ افْتَرَى عَلَى اللَّهِ الْكَذِبَ مِن بَعْدِ ذَلِكَ فَأُوْلَـئِكَ هُمُ الظَّـلِمُونَ
(Then after that, whosoever shall invent a lie against Allah, then these it is that are the wrongdoers.) 3:94, in reference to those who lie about Allah and claim that He made the Sabbath and the Tawrah eternal. They are those who claim that Allah did not send another Prophet calling to Allah with the proofs and evidences, although evidence indicates that abrogation, as we have described, occurred before in the Tawrah,
فَأُوْلَـئِكَ هُمُ الظَّـلِمُونَ
(then these it is that are the wrongdoers.)
Allah then said,
قُلْ صَدَقَ اللَّهُ
(Say, "Allah has spoken the truth;") 3:95 meaning, O Muhammad, say that Allah has said the truth in what He conveyed and legislated in the Qur'an,
فَاتَّبِعُواْ مِلَّةَ إِبْرَهِيمَ حَنِيفاً وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ
(follow the religion of Ibrahim the Hanif, and he was not of the idolators.") 3:95.
Therefore, follow the religion of Ibrahim that Allah legislated in the Qur'an. Indeed, this is the truth, there is no doubt in it, and the perfect way, and no Prophet has brought a more complete, clear, plain and perfect way than he did. Allah said in other Ayat,
قُلْ إِنَّنِى هَدَانِى رَبِّى إِلَى صِرَطٍ مُّسْتَقِيمٍ دِينًا قِيَمًا مِّلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ
(Say: "Truly, my Lord has guided me to a straight path, a right religion, the religion of Ibrahim, the Hanif, and he was not of the idolators.") 6:161
and,
ثُمَّ أَوْحَيْنَآ إِلَيْكَ أَنِ اتَّبِعْ مِلَّةَ إِبْرَهِيمَ حَنِيفًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ
(Then, We have sent the revelation to you (saying): "Follow the religion of Ibrahim, the Hanif, and he was not of the idolaters.) 16:123.
بارگاہ رسالت ﷺ میں یہودی وفد مسند احمد میں ہے کہ یہودیوں کی ایک جماعت حضور ﷺ کے پاس آئی اور کہنے لگی کہ ہم آپ سے چند سوال کرنا چاہتے ہیں جن کے جواب نبیوں کے سوا اور کوئی نہیں آپ نے فرمایا پوچھو لیکن پہلے تم لوگ وعدہ کرو اگر میں صحیح صحیح جواب دے دوں تو تمہیں میری نبوت کے تسلیم کرلینے میں کوئی عذر نہ ہوگا انہوں نے اس شرط کو منظور کرلیا کہ اگر آپ نے سچے جواب دے تو ہم اسلام قبول کرلیں گے ساتھ ہی انہوں نے بڑی بڑی قسمیں بھی کھائیں پھر پوچھا کہ بتائیے۔ حضرت اسرائیل نے کیا چیز اپنے اوپر حرام کی تھی ؟ عورت مرد کے پانی کی کیا کیفیت ہے ؟ اور کیوں کبھی لڑکا ہوتا ہے اور کبھی لڑکی ؟ اور نبی امی کی نیند کیسی ہے ؟ اور فرشتوں میں سے کونسا فرشتہ اس کے پاس وحی لے کر آتا ہے ؟ آپ نے فرمایا جب حضرت اسرائیل سخت بیمار ہوئے تو نذر مانی کہ اگر اللہ تعالیٰ مجھے شفا دے گا تو میں سب سے زیادہ پیاری چیز کھانے پینے کی چھوڑ دوں گا جب شفا یاب ہوگئے تو اونٹ کا گوشت اور دودھ چھوڑ دیا، مرد کا پانی سفید رنگ اور گاڑھا ہوتا ہے اور عورت کا پانی زردی مائل پتلا ہوتا ہے دونوں سے جو اوپر آجائے اس پر اولاد نر مادہ ہوتی ہے، اور شکل و شباہت میں بھی اسی پر جاتی ہے۔ اس نبی امی ﷺ کی نیند میں اس کی آنکھیں سوتی ہیں لیکن دل جاگتا رہتا ہے۔ میرے پاس وحی لے کر وہی فرشتہ آتا ہے جو تمام انبیاء کے پاس بھی آتا رہا یعنی جبرائیل علیہ السلام، بس اس پر وہ چیخ اٹھے اور کہنے لگے کوئی اور فرشتہ آپ کا ولی ہوتا تو ہمیں آپ کی نبوت تسلیم کرنے میں کوئی عذر نہ رہتا۔ ہر سوال کے جواب کے وقت آپ انہیں قسم دیتے اور ان سے دریافت فرماتے اور وہ اقرار کرتے کہ ہاں جواب صحیح ہے انہیں کے بارے میں آیت (قُلْ مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِّجِبْرِيْلَ فَاِنَّهٗ نَزَّلَهٗ عَلٰي قَلْبِكَ بِاِذْنِ اللّٰهِ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ وَھُدًى وَّبُشْرٰى لِلْمُؤْمِنِيْنَ) 2۔ البقرۃ :97) نازل ہوئی اور روایت میں ہے کہ حضرت اسرائیل کو عرق النساء کی بیماری تھی اور اس میں ان کا ایک پانچواں سوال یہ بھی ہے کہ یہ رعد کیا چیز ہے ؟ آپ نے فرمایا اللہ عزوجل کے فرشتوں میں سے ایک فرشتہ جو بادلوں پر مقرر ہے اس کے ہاتھ میں آگ کا کوڑا ہے جس سے بادلوں کا جہاں اللہ تعالیٰ کا حکم ہو لے جاتا ہے اور یہ گرج کی آواز اسی کی آواز ہے۔ جبرائیل کا نام سن کر یہ کہنے لگے وہ تو عذاب اور جنگ وجدال کا فرشتہ ہے اور ہمارا دشمن ہے، اگر پیداوار اور بارش کے فرشتے حضرت میکائیل آپ کے رفیق ہوتے تو ہم مان لیتے۔ حضرت یعقوب کی روش پر ان کی اولاد بھی رہی اور وہ بھی اونٹ کے گوشت سے پرہیز کرتی رہی، اس آیت کو اگلی آیت سے مناسبت ایک تو یہ ہے کہ جس طرح حضرت اسرائیل نے اپنی چہیتی چیز اللہ کی نذر کردی اسی طرح تم بھی کیا کرو۔ لیکن یعقوب کی شریعت میں اس کا طریقہ یہ تھا کہ اپنی پسندیدہ اور مرغوب چیز کا نام اللہ پر ترک کردیتے تھے اور ہماری شریعت میں یہ طریقہ نہیں بلکہ ہمیں یہ فرمایا گیا ہے کہ ہم اپنی چاہت کی چیزیں اللہ کے نام پر خرچ کردیا کریں، جیسے فرمایا آیت (وَاٰتَى الْمَالَ عَلٰي حُبِّهٖ ذَوِي الْقُرْبٰى وَالْيَـتٰمٰى وَالْمَسٰكِيْنَ وَابْنَ السَّبِيْلِ) 2۔ البقرۃ :177) اور فرمایا آیت (وَيُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰي حُبِّهٖ مِسْكِيْنًا وَّيَـتِـيْمًا وَّاَسِيْرًا) 76۔ الدہر :8) باوجود محبت اور چاہت کے وہ ہماری راہ میں مال خرچ کرتے اور مسکینوں کو کھانا دیتے ہیں، دوسری مناسبت یہ بھی ہے کہ پہلی آیتوں میں نصرانیوں کی تردید تھی تو یہاں یہودیوں کا رد ہو رہا ہے ان کے رد میں حضرت عیسیٰ کی پیدائش کا صحیح واقعہ بتا کر ان کے عقیدے کا رد کیا تھا، یہاں نسک کا صاف بیان کر کے ان کی اولاد بھی اسے حرام جانتی رہی چناچہ توراۃ میں بھی اس کی حرمت نازل ہوئی، اسی طرح اور بھی بعض چیزیں حرام کی گئیں یہ نسخ نہیں تو اور کیا ہے ؟ حضرت آدم ؑ کی صلبی اولاد کا آپس میں بہن بھائی کا نکاح ابتداء جائز ہوتا تھا لیکن بعد میں حرام کردیا، عورتوں پر لونڈیوں سے نکاح کرنا شریعت ابراہیمی میں مباح تھا خود حضرت ابراہیم حضرت سارہ پر حضرت ہاجرہ کو لائے، لیکن پھر توراۃ میں اس سے روکا گیا، دو بہنوں سے ایک ساتھ نکاح کرنا حضرت یعقوب کے زمانہ میں جائز تھا بلکہ خود حضرت یعقوب کے گھر میں بیک وقت دو سگی بہنیں تھیں لیکن پھر توراۃ میں یہ حرام ہوگیا اسی کو نسخ کہتے ہیں اسے وہ دیکھ رہے ہیں اپنی کتاب میں پڑھ رہے ہیں لیکن پھر نسخ کا انکار کر کے انجیل کو اور حضرت عیسیٰ کو نہیں مانتے اور ان کے بعد ختم المرسلین ﷺ کے ساتھ بھی یہی سلوک کرتے ہیں، تو یہاں فرمایا کہ توراۃ کے نازل ہونے سے پہلے تمام کھانے حلال تھے سوائے اس کے جسے اسرائیل ؑ نے اپنی جان پر حرام کرلیا تھا تم توراۃ لاؤ اور پڑھو اس میں موجود ہے، پھر اس کے باوجود تمہاری یہ بہتان بازی اور افتراء پردازی کہ اللہ نے ہمارے لئے ہفتہ ہی کے دن کو ہمیشہ کے لئے عید کا دن مقرر کیا ہے اور ہم سے عہد لیا ہے کہ ہم ہمیشہ توراۃ ہی کے عامل رہیں اور کسی اور نبی کو نہ مانیں یہ کس قدر ظلم و ستم ہے، تمہاری یہ باتیں اور تمہاری یہ روش یقینا تمہیں ظالم و جابر ٹھہراتی ہے۔ اللہ نے سچی خبر دے دی ابراہیمی دین وہی ہے جسے قرآن بیان کر رہا ہے تم اس کتاب اور اس نبی کی پیروی کرو ان سے اعلیٰ کوئی نبی ہے نہ اس سے بہتر اور زیادہ واضح کوئی اور شریعت ہے، جیسے اور جگہ ہے آیت (قُلْ اِنَّنِيْ هَدٰىنِيْ رَبِّيْٓ اِلٰي صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ) 6۔ الانعام :161) اے نبی تم کہہ دو کہ مجھے میرے رب نے موحد ابراہیم حنیف کے مضبوط دین کی سیدھی راہ دکھا دی ہے۔ اور جگہ ہے ہم نے تیری طرف وحی کی کہ موحد ابراہیم حنیف کے دین کی تابعداری کر۔
94
View Single
فَمَنِ ٱفۡتَرَىٰ عَلَى ٱللَّهِ ٱلۡكَذِبَ مِنۢ بَعۡدِ ذَٰلِكَ فَأُوْلَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلظَّـٰلِمُونَ
So henceforth whoever fabricates lies against Allah – it is they who are the unjust.
پھر اس کے بعد بھی جو شخص اللہ پر جھوٹ گھڑے تو وہی لوگ ظالم ہیں
Tafsir Ibn Kathir
The Questions that the Jews Asked Our Prophet
Imam Ahmad recorded that Ibn `Abbas said, "A group of Jews came to Allah's Prophet and said, `Talk to us about some things we will ask you and which only a Prophet would know.' He said, `Ask me about whatever you wish. However, give your pledge to Allah, similar to the pledge that Ya`qub took from his children, that if I tell you something and you recognize its truth, you will follow me in Islam.' They said, `Agreed.' The Prophet said, `Ask me about whatever you wish.' They said, `Tell us about four matters: 1. What kinds of food did Isra'il prohibit for himself 2. What about the sexual discharge of the woman and the man, and what role does each play in producing male or female offspring 3. Tell us about the condition of the unlettered Prophet during sleep, 4. And who is his Wali (supporter) among the angels' The Prophet took their covenant that they will follow him if he answers these questions, and they agreed. He said, `I ask you by He Who sent down the Tawrah to Musa, do you not know that Isra'il once became very ill When his illness was prolonged, he vowed to Allah that if He cures His illness, he would prohibit the best types of drink and food for himself. Was not the best food to him camel meat and the best drink camel milk' They said, `Yes, by Allah.' The Messenger said, `O Allah, be Witness against them.' The Prophet then said, `I ask you by Allah, other than Whom there is no deity (worthy of worship), Who sent down the Tawrah to Musa, do you not know that man's discharge is thick and white and woman's is yellow and thin If any of these fluids becomes dominant, the offspring will take its sex and resemblance by Allah's leave. Hence, if the man's is more than the woman's, the child will be male, by Allah's leave. If the woman's discharge is more than the man's, then the child will be female, by Allah's leave.' They said, `Yes.' He said, `O Allah, be Witness against them.' He then said, `I ask you by He Who sent down the Tawrah to Musa, do you not know that the eyes of this unlettered Prophet sleep, but his heart does not sleep' They said, `Yes, by Allah!' He said, `O Allah, be Witness.' They said, `Tell us now about your Wali among the angels, for this is when we either follow or shun you.' He said, `My Wali (who brings down the revelation from Allah) is Jibril, and Allah never sent a Prophet, but Jibril is his Wali.' They said, `We then shun you. Had you a Wali other than Jibril, we would have followed you.' On that, Allah, the Exalted revealed,
قُلْ مَن كَانَ عَدُوًّا لِّجِبْرِيلَ
(Say: "Whoever is an enemy to Jibril...") 2:97."
Allah's statement,
نَفْسِهِ مِن قَبْلِ أَن تُنَزَّلَ
(before the Tawrah was revealed) 3:93, means, Isra'il forbade that for himself before the Tawrah was revealed. There are two objectives behind revealing this segment of the Ayah. First, he forbade himself the most delightful things for Allah's sake. This practice was allowed during his period of Law, and is, thus, suitable that it is mentioned after Allah's statement,
لَن تَنَالُواْ الْبِرَّ حَتَّى تُنفِقُواْ مِمَّا تُحِبُّونَ
(By no means shall you attain Al-Birr, unless you spend of that which you love) 3: 92.
What we are allowed in our Law is to spend in Allah's obedience from what we like and covet but not to prohibit what Allah has allowed. Allah said in other Ayat;
وَءَاتَى الْمَالَ عَلَى حُبِّهِ
(And gives his wealth, in spite of love for it,) 2:177, and;
وَيُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَى حُبِّهِ
(And they give food, in spite of their love for it,) 76:8.
The second reason is that after Allah refuted the false Christian beliefs and allegations about `Isa and his mother. Allah started refuting the Jews here, may Allah curse them, by stating that the abrogation of the Law, that they denied occurs, already occurred in their Law. For instance, Allah has stated in their Book, the Tawrah, that when Nuh departed from the ark, Allah allowed him to eat the meat of all types of animals. Afterwards, Isra'il forbade the meat and milk of camels for himself, and his children imitated this practice after him. The Tawrah later on prohibited this type of food, and added several more types of prohibitions. Allah allowed Adam to marry his daughters to his sons, and this practice was later forbidden. The Law of Ibrahim allowed the man to take female servants as companions along with his wife, as Ibrahim did when he took Hajar, while he was married to Sarah. Later on, the Tawrah prohibited this practice. It was previously allowed to take two sisters as wives at the same time, as Ya`qub married two sisters at the same time. Later on, this practice was prohibited in the Tawrah. All these examples are in the Tawrah and constitute a Naskh (abrogation) of the Law. Therefore, let the Jews consider what Allah legislated for `Isa and if such legislation falls under the category of abrogation or not. Why do they not then follow `Isa in this regard Rather, the Jews defied and rebelled against `Isa and against the correct religion that Allah sent Muhammad ﷺ with.
This is why Allah said,
كُلُّ الطَّعَامِ كَانَ حِـلاًّ لِّبَنِى إِسْرَءِيلَ إِلاَّ مَا حَرَّمَ إِسْرَءِيلُ عَلَى نَفْسِهِ مِن قَبْلِ أَن تُنَزَّلَ التَّوْرَاةُ
(All food was lawful to the Children of Israel, except what Isra'il made unlawful for himself before the Tawrah was revealed) 3:93 meaning, before the Tawrah was revealed, all types of foods were allowed, except what Isra'il prohibited for himself. Allah then said,
التَّوْرَاةُ قُلْ فَأْتُواْ بِالتَّوْرَاةِ فَاتْلُوهَا إِن كُنتُمْ
(Say: "Bring here the Tawrah and recite it, if you are truthful."),
for the Tawrah affirms what we are stating here. Allah said next,
فَمَنِ افْتَرَى عَلَى اللَّهِ الْكَذِبَ مِن بَعْدِ ذَلِكَ فَأُوْلَـئِكَ هُمُ الظَّـلِمُونَ
(Then after that, whosoever shall invent a lie against Allah, then these it is that are the wrongdoers.) 3:94, in reference to those who lie about Allah and claim that He made the Sabbath and the Tawrah eternal. They are those who claim that Allah did not send another Prophet calling to Allah with the proofs and evidences, although evidence indicates that abrogation, as we have described, occurred before in the Tawrah,
فَأُوْلَـئِكَ هُمُ الظَّـلِمُونَ
(then these it is that are the wrongdoers.)
Allah then said,
قُلْ صَدَقَ اللَّهُ
(Say, "Allah has spoken the truth;") 3:95 meaning, O Muhammad, say that Allah has said the truth in what He conveyed and legislated in the Qur'an,
فَاتَّبِعُواْ مِلَّةَ إِبْرَهِيمَ حَنِيفاً وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ
(follow the religion of Ibrahim the Hanif, and he was not of the idolators.") 3:95.
Therefore, follow the religion of Ibrahim that Allah legislated in the Qur'an. Indeed, this is the truth, there is no doubt in it, and the perfect way, and no Prophet has brought a more complete, clear, plain and perfect way than he did. Allah said in other Ayat,
قُلْ إِنَّنِى هَدَانِى رَبِّى إِلَى صِرَطٍ مُّسْتَقِيمٍ دِينًا قِيَمًا مِّلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ
(Say: "Truly, my Lord has guided me to a straight path, a right religion, the religion of Ibrahim, the Hanif, and he was not of the idolators.") 6:161
and,
ثُمَّ أَوْحَيْنَآ إِلَيْكَ أَنِ اتَّبِعْ مِلَّةَ إِبْرَهِيمَ حَنِيفًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ
(Then, We have sent the revelation to you (saying): "Follow the religion of Ibrahim, the Hanif, and he was not of the idolaters.) 16:123.
بارگاہ رسالت ﷺ میں یہودی وفد مسند احمد میں ہے کہ یہودیوں کی ایک جماعت حضور ﷺ کے پاس آئی اور کہنے لگی کہ ہم آپ سے چند سوال کرنا چاہتے ہیں جن کے جواب نبیوں کے سوا اور کوئی نہیں آپ نے فرمایا پوچھو لیکن پہلے تم لوگ وعدہ کرو اگر میں صحیح صحیح جواب دے دوں تو تمہیں میری نبوت کے تسلیم کرلینے میں کوئی عذر نہ ہوگا انہوں نے اس شرط کو منظور کرلیا کہ اگر آپ نے سچے جواب دے تو ہم اسلام قبول کرلیں گے ساتھ ہی انہوں نے بڑی بڑی قسمیں بھی کھائیں پھر پوچھا کہ بتائیے۔ حضرت اسرائیل نے کیا چیز اپنے اوپر حرام کی تھی ؟ عورت مرد کے پانی کی کیا کیفیت ہے ؟ اور کیوں کبھی لڑکا ہوتا ہے اور کبھی لڑکی ؟ اور نبی امی کی نیند کیسی ہے ؟ اور فرشتوں میں سے کونسا فرشتہ اس کے پاس وحی لے کر آتا ہے ؟ آپ نے فرمایا جب حضرت اسرائیل سخت بیمار ہوئے تو نذر مانی کہ اگر اللہ تعالیٰ مجھے شفا دے گا تو میں سب سے زیادہ پیاری چیز کھانے پینے کی چھوڑ دوں گا جب شفا یاب ہوگئے تو اونٹ کا گوشت اور دودھ چھوڑ دیا، مرد کا پانی سفید رنگ اور گاڑھا ہوتا ہے اور عورت کا پانی زردی مائل پتلا ہوتا ہے دونوں سے جو اوپر آجائے اس پر اولاد نر مادہ ہوتی ہے، اور شکل و شباہت میں بھی اسی پر جاتی ہے۔ اس نبی امی ﷺ کی نیند میں اس کی آنکھیں سوتی ہیں لیکن دل جاگتا رہتا ہے۔ میرے پاس وحی لے کر وہی فرشتہ آتا ہے جو تمام انبیاء کے پاس بھی آتا رہا یعنی جبرائیل علیہ السلام، بس اس پر وہ چیخ اٹھے اور کہنے لگے کوئی اور فرشتہ آپ کا ولی ہوتا تو ہمیں آپ کی نبوت تسلیم کرنے میں کوئی عذر نہ رہتا۔ ہر سوال کے جواب کے وقت آپ انہیں قسم دیتے اور ان سے دریافت فرماتے اور وہ اقرار کرتے کہ ہاں جواب صحیح ہے انہیں کے بارے میں آیت (قُلْ مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِّجِبْرِيْلَ فَاِنَّهٗ نَزَّلَهٗ عَلٰي قَلْبِكَ بِاِذْنِ اللّٰهِ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ وَھُدًى وَّبُشْرٰى لِلْمُؤْمِنِيْنَ) 2۔ البقرۃ :97) نازل ہوئی اور روایت میں ہے کہ حضرت اسرائیل کو عرق النساء کی بیماری تھی اور اس میں ان کا ایک پانچواں سوال یہ بھی ہے کہ یہ رعد کیا چیز ہے ؟ آپ نے فرمایا اللہ عزوجل کے فرشتوں میں سے ایک فرشتہ جو بادلوں پر مقرر ہے اس کے ہاتھ میں آگ کا کوڑا ہے جس سے بادلوں کا جہاں اللہ تعالیٰ کا حکم ہو لے جاتا ہے اور یہ گرج کی آواز اسی کی آواز ہے۔ جبرائیل کا نام سن کر یہ کہنے لگے وہ تو عذاب اور جنگ وجدال کا فرشتہ ہے اور ہمارا دشمن ہے، اگر پیداوار اور بارش کے فرشتے حضرت میکائیل آپ کے رفیق ہوتے تو ہم مان لیتے۔ حضرت یعقوب کی روش پر ان کی اولاد بھی رہی اور وہ بھی اونٹ کے گوشت سے پرہیز کرتی رہی، اس آیت کو اگلی آیت سے مناسبت ایک تو یہ ہے کہ جس طرح حضرت اسرائیل نے اپنی چہیتی چیز اللہ کی نذر کردی اسی طرح تم بھی کیا کرو۔ لیکن یعقوب کی شریعت میں اس کا طریقہ یہ تھا کہ اپنی پسندیدہ اور مرغوب چیز کا نام اللہ پر ترک کردیتے تھے اور ہماری شریعت میں یہ طریقہ نہیں بلکہ ہمیں یہ فرمایا گیا ہے کہ ہم اپنی چاہت کی چیزیں اللہ کے نام پر خرچ کردیا کریں، جیسے فرمایا آیت (وَاٰتَى الْمَالَ عَلٰي حُبِّهٖ ذَوِي الْقُرْبٰى وَالْيَـتٰمٰى وَالْمَسٰكِيْنَ وَابْنَ السَّبِيْلِ) 2۔ البقرۃ :177) اور فرمایا آیت (وَيُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰي حُبِّهٖ مِسْكِيْنًا وَّيَـتِـيْمًا وَّاَسِيْرًا) 76۔ الدہر :8) باوجود محبت اور چاہت کے وہ ہماری راہ میں مال خرچ کرتے اور مسکینوں کو کھانا دیتے ہیں، دوسری مناسبت یہ بھی ہے کہ پہلی آیتوں میں نصرانیوں کی تردید تھی تو یہاں یہودیوں کا رد ہو رہا ہے ان کے رد میں حضرت عیسیٰ کی پیدائش کا صحیح واقعہ بتا کر ان کے عقیدے کا رد کیا تھا، یہاں نسک کا صاف بیان کر کے ان کی اولاد بھی اسے حرام جانتی رہی چناچہ توراۃ میں بھی اس کی حرمت نازل ہوئی، اسی طرح اور بھی بعض چیزیں حرام کی گئیں یہ نسخ نہیں تو اور کیا ہے ؟ حضرت آدم ؑ کی صلبی اولاد کا آپس میں بہن بھائی کا نکاح ابتداء جائز ہوتا تھا لیکن بعد میں حرام کردیا، عورتوں پر لونڈیوں سے نکاح کرنا شریعت ابراہیمی میں مباح تھا خود حضرت ابراہیم حضرت سارہ پر حضرت ہاجرہ کو لائے، لیکن پھر توراۃ میں اس سے روکا گیا، دو بہنوں سے ایک ساتھ نکاح کرنا حضرت یعقوب کے زمانہ میں جائز تھا بلکہ خود حضرت یعقوب کے گھر میں بیک وقت دو سگی بہنیں تھیں لیکن پھر توراۃ میں یہ حرام ہوگیا اسی کو نسخ کہتے ہیں اسے وہ دیکھ رہے ہیں اپنی کتاب میں پڑھ رہے ہیں لیکن پھر نسخ کا انکار کر کے انجیل کو اور حضرت عیسیٰ کو نہیں مانتے اور ان کے بعد ختم المرسلین ﷺ کے ساتھ بھی یہی سلوک کرتے ہیں، تو یہاں فرمایا کہ توراۃ کے نازل ہونے سے پہلے تمام کھانے حلال تھے سوائے اس کے جسے اسرائیل ؑ نے اپنی جان پر حرام کرلیا تھا تم توراۃ لاؤ اور پڑھو اس میں موجود ہے، پھر اس کے باوجود تمہاری یہ بہتان بازی اور افتراء پردازی کہ اللہ نے ہمارے لئے ہفتہ ہی کے دن کو ہمیشہ کے لئے عید کا دن مقرر کیا ہے اور ہم سے عہد لیا ہے کہ ہم ہمیشہ توراۃ ہی کے عامل رہیں اور کسی اور نبی کو نہ مانیں یہ کس قدر ظلم و ستم ہے، تمہاری یہ باتیں اور تمہاری یہ روش یقینا تمہیں ظالم و جابر ٹھہراتی ہے۔ اللہ نے سچی خبر دے دی ابراہیمی دین وہی ہے جسے قرآن بیان کر رہا ہے تم اس کتاب اور اس نبی کی پیروی کرو ان سے اعلیٰ کوئی نبی ہے نہ اس سے بہتر اور زیادہ واضح کوئی اور شریعت ہے، جیسے اور جگہ ہے آیت (قُلْ اِنَّنِيْ هَدٰىنِيْ رَبِّيْٓ اِلٰي صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ) 6۔ الانعام :161) اے نبی تم کہہ دو کہ مجھے میرے رب نے موحد ابراہیم حنیف کے مضبوط دین کی سیدھی راہ دکھا دی ہے۔ اور جگہ ہے ہم نے تیری طرف وحی کی کہ موحد ابراہیم حنیف کے دین کی تابعداری کر۔
95
View Single
قُلۡ صَدَقَ ٱللَّهُۗ فَٱتَّبِعُواْ مِلَّةَ إِبۡرَٰهِيمَ حَنِيفٗاۖ وَمَا كَانَ مِنَ ٱلۡمُشۡرِكِينَ
Say (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), “Allah is truthful; so follow the religion of Ibrahim, who was free from all falsehood; and he was not of the polytheists.”
فرما دیں کہ اللہ نے سچ فرمایا ہے، سو تم ابراہیم (علیہ السلام) کے دین کی پیروی کرو جو ہر باطل سے منہ موڑ کر صرف اللہ کے ہوگئے تھے، اور وہ مشرکوں میں سے نہیں تھے
Tafsir Ibn Kathir
The Questions that the Jews Asked Our Prophet
Imam Ahmad recorded that Ibn `Abbas said, "A group of Jews came to Allah's Prophet and said, `Talk to us about some things we will ask you and which only a Prophet would know.' He said, `Ask me about whatever you wish. However, give your pledge to Allah, similar to the pledge that Ya`qub took from his children, that if I tell you something and you recognize its truth, you will follow me in Islam.' They said, `Agreed.' The Prophet said, `Ask me about whatever you wish.' They said, `Tell us about four matters: 1. What kinds of food did Isra'il prohibit for himself 2. What about the sexual discharge of the woman and the man, and what role does each play in producing male or female offspring 3. Tell us about the condition of the unlettered Prophet during sleep, 4. And who is his Wali (supporter) among the angels' The Prophet took their covenant that they will follow him if he answers these questions, and they agreed. He said, `I ask you by He Who sent down the Tawrah to Musa, do you not know that Isra'il once became very ill When his illness was prolonged, he vowed to Allah that if He cures His illness, he would prohibit the best types of drink and food for himself. Was not the best food to him camel meat and the best drink camel milk' They said, `Yes, by Allah.' The Messenger said, `O Allah, be Witness against them.' The Prophet then said, `I ask you by Allah, other than Whom there is no deity (worthy of worship), Who sent down the Tawrah to Musa, do you not know that man's discharge is thick and white and woman's is yellow and thin If any of these fluids becomes dominant, the offspring will take its sex and resemblance by Allah's leave. Hence, if the man's is more than the woman's, the child will be male, by Allah's leave. If the woman's discharge is more than the man's, then the child will be female, by Allah's leave.' They said, `Yes.' He said, `O Allah, be Witness against them.' He then said, `I ask you by He Who sent down the Tawrah to Musa, do you not know that the eyes of this unlettered Prophet sleep, but his heart does not sleep' They said, `Yes, by Allah!' He said, `O Allah, be Witness.' They said, `Tell us now about your Wali among the angels, for this is when we either follow or shun you.' He said, `My Wali (who brings down the revelation from Allah) is Jibril, and Allah never sent a Prophet, but Jibril is his Wali.' They said, `We then shun you. Had you a Wali other than Jibril, we would have followed you.' On that, Allah, the Exalted revealed,
قُلْ مَن كَانَ عَدُوًّا لِّجِبْرِيلَ
(Say: "Whoever is an enemy to Jibril...") 2:97."
Allah's statement,
نَفْسِهِ مِن قَبْلِ أَن تُنَزَّلَ
(before the Tawrah was revealed) 3:93, means, Isra'il forbade that for himself before the Tawrah was revealed. There are two objectives behind revealing this segment of the Ayah. First, he forbade himself the most delightful things for Allah's sake. This practice was allowed during his period of Law, and is, thus, suitable that it is mentioned after Allah's statement,
لَن تَنَالُواْ الْبِرَّ حَتَّى تُنفِقُواْ مِمَّا تُحِبُّونَ
(By no means shall you attain Al-Birr, unless you spend of that which you love) 3: 92.
What we are allowed in our Law is to spend in Allah's obedience from what we like and covet but not to prohibit what Allah has allowed. Allah said in other Ayat;
وَءَاتَى الْمَالَ عَلَى حُبِّهِ
(And gives his wealth, in spite of love for it,) 2:177, and;
وَيُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَى حُبِّهِ
(And they give food, in spite of their love for it,) 76:8.
The second reason is that after Allah refuted the false Christian beliefs and allegations about `Isa and his mother. Allah started refuting the Jews here, may Allah curse them, by stating that the abrogation of the Law, that they denied occurs, already occurred in their Law. For instance, Allah has stated in their Book, the Tawrah, that when Nuh departed from the ark, Allah allowed him to eat the meat of all types of animals. Afterwards, Isra'il forbade the meat and milk of camels for himself, and his children imitated this practice after him. The Tawrah later on prohibited this type of food, and added several more types of prohibitions. Allah allowed Adam to marry his daughters to his sons, and this practice was later forbidden. The Law of Ibrahim allowed the man to take female servants as companions along with his wife, as Ibrahim did when he took Hajar, while he was married to Sarah. Later on, the Tawrah prohibited this practice. It was previously allowed to take two sisters as wives at the same time, as Ya`qub married two sisters at the same time. Later on, this practice was prohibited in the Tawrah. All these examples are in the Tawrah and constitute a Naskh (abrogation) of the Law. Therefore, let the Jews consider what Allah legislated for `Isa and if such legislation falls under the category of abrogation or not. Why do they not then follow `Isa in this regard Rather, the Jews defied and rebelled against `Isa and against the correct religion that Allah sent Muhammad ﷺ with.
This is why Allah said,
كُلُّ الطَّعَامِ كَانَ حِـلاًّ لِّبَنِى إِسْرَءِيلَ إِلاَّ مَا حَرَّمَ إِسْرَءِيلُ عَلَى نَفْسِهِ مِن قَبْلِ أَن تُنَزَّلَ التَّوْرَاةُ
(All food was lawful to the Children of Israel, except what Isra'il made unlawful for himself before the Tawrah was revealed) 3:93 meaning, before the Tawrah was revealed, all types of foods were allowed, except what Isra'il prohibited for himself. Allah then said,
التَّوْرَاةُ قُلْ فَأْتُواْ بِالتَّوْرَاةِ فَاتْلُوهَا إِن كُنتُمْ
(Say: "Bring here the Tawrah and recite it, if you are truthful."),
for the Tawrah affirms what we are stating here. Allah said next,
فَمَنِ افْتَرَى عَلَى اللَّهِ الْكَذِبَ مِن بَعْدِ ذَلِكَ فَأُوْلَـئِكَ هُمُ الظَّـلِمُونَ
(Then after that, whosoever shall invent a lie against Allah, then these it is that are the wrongdoers.) 3:94, in reference to those who lie about Allah and claim that He made the Sabbath and the Tawrah eternal. They are those who claim that Allah did not send another Prophet calling to Allah with the proofs and evidences, although evidence indicates that abrogation, as we have described, occurred before in the Tawrah,
فَأُوْلَـئِكَ هُمُ الظَّـلِمُونَ
(then these it is that are the wrongdoers.)
Allah then said,
قُلْ صَدَقَ اللَّهُ
(Say, "Allah has spoken the truth;") 3:95 meaning, O Muhammad, say that Allah has said the truth in what He conveyed and legislated in the Qur'an,
فَاتَّبِعُواْ مِلَّةَ إِبْرَهِيمَ حَنِيفاً وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ
(follow the religion of Ibrahim the Hanif, and he was not of the idolators.") 3:95.
Therefore, follow the religion of Ibrahim that Allah legislated in the Qur'an. Indeed, this is the truth, there is no doubt in it, and the perfect way, and no Prophet has brought a more complete, clear, plain and perfect way than he did. Allah said in other Ayat,
قُلْ إِنَّنِى هَدَانِى رَبِّى إِلَى صِرَطٍ مُّسْتَقِيمٍ دِينًا قِيَمًا مِّلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ
(Say: "Truly, my Lord has guided me to a straight path, a right religion, the religion of Ibrahim, the Hanif, and he was not of the idolators.") 6:161
and,
ثُمَّ أَوْحَيْنَآ إِلَيْكَ أَنِ اتَّبِعْ مِلَّةَ إِبْرَهِيمَ حَنِيفًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ
(Then, We have sent the revelation to you (saying): "Follow the religion of Ibrahim, the Hanif, and he was not of the idolaters.) 16:123.
بارگاہ رسالت ﷺ میں یہودی وفد مسند احمد میں ہے کہ یہودیوں کی ایک جماعت حضور ﷺ کے پاس آئی اور کہنے لگی کہ ہم آپ سے چند سوال کرنا چاہتے ہیں جن کے جواب نبیوں کے سوا اور کوئی نہیں آپ نے فرمایا پوچھو لیکن پہلے تم لوگ وعدہ کرو اگر میں صحیح صحیح جواب دے دوں تو تمہیں میری نبوت کے تسلیم کرلینے میں کوئی عذر نہ ہوگا انہوں نے اس شرط کو منظور کرلیا کہ اگر آپ نے سچے جواب دے تو ہم اسلام قبول کرلیں گے ساتھ ہی انہوں نے بڑی بڑی قسمیں بھی کھائیں پھر پوچھا کہ بتائیے۔ حضرت اسرائیل نے کیا چیز اپنے اوپر حرام کی تھی ؟ عورت مرد کے پانی کی کیا کیفیت ہے ؟ اور کیوں کبھی لڑکا ہوتا ہے اور کبھی لڑکی ؟ اور نبی امی کی نیند کیسی ہے ؟ اور فرشتوں میں سے کونسا فرشتہ اس کے پاس وحی لے کر آتا ہے ؟ آپ نے فرمایا جب حضرت اسرائیل سخت بیمار ہوئے تو نذر مانی کہ اگر اللہ تعالیٰ مجھے شفا دے گا تو میں سب سے زیادہ پیاری چیز کھانے پینے کی چھوڑ دوں گا جب شفا یاب ہوگئے تو اونٹ کا گوشت اور دودھ چھوڑ دیا، مرد کا پانی سفید رنگ اور گاڑھا ہوتا ہے اور عورت کا پانی زردی مائل پتلا ہوتا ہے دونوں سے جو اوپر آجائے اس پر اولاد نر مادہ ہوتی ہے، اور شکل و شباہت میں بھی اسی پر جاتی ہے۔ اس نبی امی ﷺ کی نیند میں اس کی آنکھیں سوتی ہیں لیکن دل جاگتا رہتا ہے۔ میرے پاس وحی لے کر وہی فرشتہ آتا ہے جو تمام انبیاء کے پاس بھی آتا رہا یعنی جبرائیل علیہ السلام، بس اس پر وہ چیخ اٹھے اور کہنے لگے کوئی اور فرشتہ آپ کا ولی ہوتا تو ہمیں آپ کی نبوت تسلیم کرنے میں کوئی عذر نہ رہتا۔ ہر سوال کے جواب کے وقت آپ انہیں قسم دیتے اور ان سے دریافت فرماتے اور وہ اقرار کرتے کہ ہاں جواب صحیح ہے انہیں کے بارے میں آیت (قُلْ مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِّجِبْرِيْلَ فَاِنَّهٗ نَزَّلَهٗ عَلٰي قَلْبِكَ بِاِذْنِ اللّٰهِ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ وَھُدًى وَّبُشْرٰى لِلْمُؤْمِنِيْنَ) 2۔ البقرۃ :97) نازل ہوئی اور روایت میں ہے کہ حضرت اسرائیل کو عرق النساء کی بیماری تھی اور اس میں ان کا ایک پانچواں سوال یہ بھی ہے کہ یہ رعد کیا چیز ہے ؟ آپ نے فرمایا اللہ عزوجل کے فرشتوں میں سے ایک فرشتہ جو بادلوں پر مقرر ہے اس کے ہاتھ میں آگ کا کوڑا ہے جس سے بادلوں کا جہاں اللہ تعالیٰ کا حکم ہو لے جاتا ہے اور یہ گرج کی آواز اسی کی آواز ہے۔ جبرائیل کا نام سن کر یہ کہنے لگے وہ تو عذاب اور جنگ وجدال کا فرشتہ ہے اور ہمارا دشمن ہے، اگر پیداوار اور بارش کے فرشتے حضرت میکائیل آپ کے رفیق ہوتے تو ہم مان لیتے۔ حضرت یعقوب کی روش پر ان کی اولاد بھی رہی اور وہ بھی اونٹ کے گوشت سے پرہیز کرتی رہی، اس آیت کو اگلی آیت سے مناسبت ایک تو یہ ہے کہ جس طرح حضرت اسرائیل نے اپنی چہیتی چیز اللہ کی نذر کردی اسی طرح تم بھی کیا کرو۔ لیکن یعقوب کی شریعت میں اس کا طریقہ یہ تھا کہ اپنی پسندیدہ اور مرغوب چیز کا نام اللہ پر ترک کردیتے تھے اور ہماری شریعت میں یہ طریقہ نہیں بلکہ ہمیں یہ فرمایا گیا ہے کہ ہم اپنی چاہت کی چیزیں اللہ کے نام پر خرچ کردیا کریں، جیسے فرمایا آیت (وَاٰتَى الْمَالَ عَلٰي حُبِّهٖ ذَوِي الْقُرْبٰى وَالْيَـتٰمٰى وَالْمَسٰكِيْنَ وَابْنَ السَّبِيْلِ) 2۔ البقرۃ :177) اور فرمایا آیت (وَيُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰي حُبِّهٖ مِسْكِيْنًا وَّيَـتِـيْمًا وَّاَسِيْرًا) 76۔ الدہر :8) باوجود محبت اور چاہت کے وہ ہماری راہ میں مال خرچ کرتے اور مسکینوں کو کھانا دیتے ہیں، دوسری مناسبت یہ بھی ہے کہ پہلی آیتوں میں نصرانیوں کی تردید تھی تو یہاں یہودیوں کا رد ہو رہا ہے ان کے رد میں حضرت عیسیٰ کی پیدائش کا صحیح واقعہ بتا کر ان کے عقیدے کا رد کیا تھا، یہاں نسک کا صاف بیان کر کے ان کی اولاد بھی اسے حرام جانتی رہی چناچہ توراۃ میں بھی اس کی حرمت نازل ہوئی، اسی طرح اور بھی بعض چیزیں حرام کی گئیں یہ نسخ نہیں تو اور کیا ہے ؟ حضرت آدم ؑ کی صلبی اولاد کا آپس میں بہن بھائی کا نکاح ابتداء جائز ہوتا تھا لیکن بعد میں حرام کردیا، عورتوں پر لونڈیوں سے نکاح کرنا شریعت ابراہیمی میں مباح تھا خود حضرت ابراہیم حضرت سارہ پر حضرت ہاجرہ کو لائے، لیکن پھر توراۃ میں اس سے روکا گیا، دو بہنوں سے ایک ساتھ نکاح کرنا حضرت یعقوب کے زمانہ میں جائز تھا بلکہ خود حضرت یعقوب کے گھر میں بیک وقت دو سگی بہنیں تھیں لیکن پھر توراۃ میں یہ حرام ہوگیا اسی کو نسخ کہتے ہیں اسے وہ دیکھ رہے ہیں اپنی کتاب میں پڑھ رہے ہیں لیکن پھر نسخ کا انکار کر کے انجیل کو اور حضرت عیسیٰ کو نہیں مانتے اور ان کے بعد ختم المرسلین ﷺ کے ساتھ بھی یہی سلوک کرتے ہیں، تو یہاں فرمایا کہ توراۃ کے نازل ہونے سے پہلے تمام کھانے حلال تھے سوائے اس کے جسے اسرائیل ؑ نے اپنی جان پر حرام کرلیا تھا تم توراۃ لاؤ اور پڑھو اس میں موجود ہے، پھر اس کے باوجود تمہاری یہ بہتان بازی اور افتراء پردازی کہ اللہ نے ہمارے لئے ہفتہ ہی کے دن کو ہمیشہ کے لئے عید کا دن مقرر کیا ہے اور ہم سے عہد لیا ہے کہ ہم ہمیشہ توراۃ ہی کے عامل رہیں اور کسی اور نبی کو نہ مانیں یہ کس قدر ظلم و ستم ہے، تمہاری یہ باتیں اور تمہاری یہ روش یقینا تمہیں ظالم و جابر ٹھہراتی ہے۔ اللہ نے سچی خبر دے دی ابراہیمی دین وہی ہے جسے قرآن بیان کر رہا ہے تم اس کتاب اور اس نبی کی پیروی کرو ان سے اعلیٰ کوئی نبی ہے نہ اس سے بہتر اور زیادہ واضح کوئی اور شریعت ہے، جیسے اور جگہ ہے آیت (قُلْ اِنَّنِيْ هَدٰىنِيْ رَبِّيْٓ اِلٰي صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ) 6۔ الانعام :161) اے نبی تم کہہ دو کہ مجھے میرے رب نے موحد ابراہیم حنیف کے مضبوط دین کی سیدھی راہ دکھا دی ہے۔ اور جگہ ہے ہم نے تیری طرف وحی کی کہ موحد ابراہیم حنیف کے دین کی تابعداری کر۔
96
View Single
إِنَّ أَوَّلَ بَيۡتٖ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِي بِبَكَّةَ مُبَارَكٗا وَهُدٗى لِّلۡعَٰلَمِينَ
Indeed the first house that was appointed as a place of worship for mankind, is the one at Mecca (the Holy Ka’aba), blessed and a guidance to the whole world;
بیشک سب سے پہلا گھر جو لوگوں (کی عبادت) کے لئے بنایا گیا وہی ہے جو مکہّ میں ہے، برکت والا ہے اور سارے جہان والوں کے لئے (مرکزِ) ہدایت ہے
Tafsir Ibn Kathir
The Ka`bah is the First House of Worship
Allah said,
إِنَّ أَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ
(Verily, the first House appointed for mankind) for all people, for their acts of worship and religious rituals. They go around the House in Tawaf, pray in its vicinity and remain in its area in I`tikaf.
لَلَّذِى بِبَكَّةَ
(was that at Bakkah,) meaning, the Ka`bah that was built by Ibrahim Al-Khalil, whose religion the Jews and Christians claim they follow. However, they do not perform Hajj to the house that Ibrahim built by Allah's command, and to which he invited the people to perform Hajj. Allah said next, i
مُبَارَكاً
(full of blessing), sanctified,
وَهُدًى لِّلْعَـلَمِينَ
(and a guidance for Al-`Alamin.)
Imam Ahmad recorded that Abu Dharr said; "I said, `O Allah's Messenger! Which Masjid was the first to be built on the surface of the earth' He said, `Al-Masjid Al-Haram (in Makkah).' I said, `Which was built next' He replied `Al-Masjid Al-Aqsa (in Jerusalem).' I said, `What was the period of time between building the two' He said, `Forty years.' He added,
«ثُمَّ حَيْثُ أَدْرَكْتَ الصَّلَاةَ فَصَلِّ، فَكُلُّهَا مَسْجِد»
(Wherever (you may be, and) the prayer becomes due, perform the prayer there, for the whole earth was made a Masjid.)" Al-Bukhari and Muslim also collected this Hadith.
The Names of Makkah, Such As `Bakkah
Allah said,
لَلَّذِى بِبَكَّةَ
(was that at Bakkah), where Bakkah is one of the names of Makkah. Bakkah means, `it brings Buka' (crying, weeping) to the tyrants and arrogant, meaning they cry and become humble in its vicinity. It was also said that Makkah was called Bakkah because people do Buka next to it, meaning they gather around it. There are many names for Makkah, such as Bakkah, Al-Bayt Al-`Atiq (the Ancient House), Al-Bayt Al-Haram (the Sacred House), Al-Balad Al-Amin (the City of Safety) and Al-Ma'mun (Security). Makkah's names include Umm Rahm (Mother of Mercy), Umm Al-Qura (Mother of the Towns), Salah, as well as others.
The Station of Ibrahim
Allah's statement,
فِيهِ ءَايَـتٌ بَيِّـنَـتٌ
(In it are manifest signs) 3:97, means, clear signs that Ibrahim built the Ka`bah and that Allah has honored and blessed it. Allah then said,
مَّقَامِ إِبْرَهِيمَ
(the Maqam (station) of Ibrahim) When the building the Ka`bah was raised, Ibrahim stood on; the Maqam so that he could raise the walls higher, while his son Isma`il was handing the stones to him. We should mention that the Maqam used to be situated right next to the House. Later, and during his reign, `Umar bin Al-Khattab moved the Maqam farther to the east, so that those who go around the House in Tawaf are able to perform it easily, without disturbing those who pray next to the Maqam after finishing their Tawaf. Allah commanded us to pray next to the Maqam;
وَاتَّخِذُواْ مِن مَّقَامِ إِبْرَهِيمَ مُصَلًّى
(And take you (people) the Maqam (station) of Ibrahim as a place of prayer) 2:125.
We mentioned the Hadiths about this subject before, and all the thanks are due to Allah. Al-`Awfi said that, Ibn `Abbas commented on Allah's statement,
فِيهِ ءَايَـتٌ بَيِّـنَـتٌ مَّقَامُ إِبْرَهِيمَ
(In it are manifest signs, the Maqam of Ibrahim;)
"Such as the Maqam and Al-Mash`ar Al-Haram." Mujahid said, "The impression of Ibrahim's feet remains on the Maqam as a clear sign." It was reported that `Umar bin `Abdul-`Aziz, Al-Hasan, Qatadah, As-Suddi, Muqatil bin Hayyan and others said similarly.
Al-Haram, the Sacred Area, is a Safe Area
Allah said,
وَمَن دَخَلَهُ كَانَ ءَامِناً
(whosoever enters it, he attains security,) 3:97 meaning, the Haram of Makkah is a safe refuge for those in a state of fear. There in its vicinity, they will be safe, just as was the case during the time of Jahiliyyah. Al-Hasan Al-Basri said, "(During the time of Jahiliyyah) a man would commit murder, then wear a piece of wool around his neck and enter the Haram. And even when the son of the murdered person would meet him, he would not make a move against him, until he left the sanctuary." Allah said,
أَوَلَمْ يَرَوْاْ أَنَّا جَعَلْنَا حَرَماً ءامِناً وَيُتَخَطَّفُ النَّاسُ مِنْ حَوْلِهِمْ
(Have they not seen that We have made (Makkah) a secure sanctuary, while men are being snatched away from all around them) 29:67, and,
فَلْيَعْبُدُواْ رَبَّ هَـذَا الْبَيْتِ - الَّذِى أَطْعَمَهُم مِّن جُوعٍ وَءَامَنَهُم مِّنْ خوْفٍ
(So let them worship (Allah) the Lord of this House (the Ka`bah). (He) Who has fed them against hunger, and has made them safe from fear) 106:3-4.
It is not allowed for anyone to hunt in the Haram or to drive game out of its den to be hunted, or cut the trees in its vicinity, or pick its grass, as the Hadiths of the Prophet and the statements of the Companions testify. The Two Sahihs recorded (this being the wording of Muslim) that Ibn `Abbas said, "On the day of the conquest of Makkah, the Messenger of Allah ﷺ said,
«لَا هِجْرَةَ، وَلــكِنْ جِهَادٌ وَنِيَّـةٌ، وَإِذَا اسْتُنْفِرْتُمْ فَانْفِرُوا»
(There is no more Hijrah (migration to Makkah), only Jihad and good intention. If you were mobilized, then march forth.)
He also said on the day of the conquest of Makkah,
«إِنَّ هَذَا الْبَلَدَ حَرَّمَهُ اللهُ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَواتِ وَالْأَرْضَ، فَهُوَ حَرَامٌ بِحُرْمَةِ اللهِ إِلى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَإِنَّهُ لَمْ يَحِلَّ الْقِتَالُ فِيهِ لأَحَدٍ قَبْلِي، وَلَمْ يَحِلَّ لِي إِلَّا فِي سَاعَةٍ مِنْ نَهَارٍ، فَهُوَ حَرَامٌ بِحُرْمَةِ اللهِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، لَا يُعْضَدُ شَوْكُهُ، وُلَا يُنَفَّرُ صَيْدُهُ، وَلَا يَلْتَقِطُ لُقَطَتَهَا إِلَّا مَنْ عَرَّفَهَا، وَلَا يُخْتَلَى خَلَاهَا»
(Beware! Allah made this town (Makkah) a sanctuary when He created the heavens and earth, and it is sacred by Allah's decree until the Day of Resurrection. Fighting in Makkah was not permitted for anyone before me, and it was made legal for me for only a few hours or so on that day. No doubt it is at this moment a sanctuary by Allah's decree until the Day of Resurrection. It is not allowed to uproot its thorny shrubs, hunt its game, pick up its lost objects, except by announcing it, or to uproot its trees.)
Al-`Abbas said, `Except the lemon grass, O Allah's Messenger, as they use it in their houses and graves.' The Prophet said:
«إِلَّا الْإِذْخِر»
(Except lemongrass)."
The Two Sahihs also recorded that Abu Shurayh Al-`Adawi said that he said to `Amr bin Sa`id while he was sending the troops to Makkah (to fight `Abdullah bin Az-Zubayr), "O Commander! Allow me to tell you what Allah's Messenger ﷺ said on the day following the conquest of Makkah. My ears heard it and my heart memorized it thoroughly, and I saw the Prophet with my own eyes when he, after glorifying and praising Allah, said,
«إِنَّ مَكَّةَ حَرَّمَهَا اللهُ، وَلَمْ يُحَرِّمْهَا النَّاسُ، فَلَا يَحِلُّ لِامْرِى يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ يَسْفِكَ بِهَا دَمًا، وَلَا يَعْضِدَ بِهَا شَجَرَةً، فَإِنْ أَحَدٌ تَرَخَّصَ بِقِتَالِ رَسُولِ اللهِصلى الله عليه وسلّم فِيهَا فَقُولُوا لَهُ: إِنَّ اللهَ أَذِنَ لِرَسُولِهِ وَلَمْ يَأْذَنْ لَكُمْ، وَإِنَّمَا أَذِنَ لِي فِيهَا سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ، وَقَدْ عَادَتْ حُرْمَتُهَا الْيَوْمَ كَحُرْمَتِهَا بِالْأَمْسِ فَلْيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ الْغَائِب»
(Allah, not the people, made Makkah a sanctuary. Therefore, anybody who has belief in Allah and the Last Day, should neither shed blood in it nor cut down its trees. If anybody argues that fighting in it is permissible on the basis that Allah's Messenger ﷺ fought in Makkah, say to him, `Allah allowed His Messenger and did not allow you.' Allah allowed me only for a few hours on that day (of the conquest), and today its sanctity is as valid as it was before. So, those who are present, should inform those who are absent of this fact.)."
Abu Shurayh was asked, "What did `Amr reply" He said that `Amr said, "O Abu Shurayh! I know better than you in this respect; Makkah does not give protection to a sinner, a murderer or a thief."
Jabir bin `Abdullah said, "I heard the Messenger of Allah ﷺ saying,
«لَا يَحِلُّ لِأَحَدِكُمْ أَنْ يَحْمِلَ بِمَكَّةَ السِّلَاح»
(None of you is allowed to carry a weapon in Makkah.) Muslim recorded this Hadith.
`Abdullah bin `Adi bin Al-Hamra' Az-Zuhri said that he heard the Messenger of Allah ﷺ say while standing at Al-Hazwarah in the marketplace of Makkah,
«وَاللهِ إِنَّكِ لَخَيْرُ أَرْضِ اللهِ، وَأَحَبُّ أَرْضِ اللهِ إِلَى اللهِ، وَلَوْلَا أَنِّي أُخْرِجْتُ مِنْكِ مَا خَرَجْت»
(By Allah! You are the best of Allah's land and the most beloved land to Allah. Had it not been for the fact that I was driven out of you, I would not have left you.)
Imam Ahmad collected this Hadith and this is his wording. At-Tirmidhi, An-Nasa'i and Ibn Majah also collected it. At-Tirmidhi said, "Hasan Sahih."
The Necessity of Performing Hajj
Allah said,
وَللَّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَـعَ إِلَيْهِ سَبِيلاً
(And Hajj to the House is a duty that mankind owes to Allah, for those who are able to undertake the journey) 3:97.
This Ayah established the obligation of performing Hajj. There are many Hadiths that mention it as one of the pillars and fundamentals of Islam, and this is agreed upon by the Muslims. According to texts and the consensus of the scholars, it is only obligatory for the adult Muslim to perform it once during his lifetime. Imam Ahmad recorded that Abu Hurayrah said that the Messenger of Allah ﷺ once gave a speech in which he said,
«أَيُّهَا النَّاسُ قَدْ فُرِضَ عَلَيْكُمُ الْحَجُّ فَحُجُّوا»
(O people! Hajj has been enjoined on you, therefore, perform Hajj.)
A man asked, "Is it every year, O Allah's Messenger" The Prophet remained silent until the man repeated the question three times and he then said,
«لَوْ قُلْتُ: نَعَمْ لَوَجَبَتْ وَلَمَا اسْتَطَعْتُم»
(Had I said yes, it would have become an obligation and you would not have been able to fulfill it.) He said next,
«ذَرُونِي مَا تَرَكْتُكُمْ فَإِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِكَثْرَةِ سُؤَالِهِمْ وَاخْتِلَافِهِمْ عَلى أَنْبِيَائِهِمْ، وَإِذَا أَمَرْتُكُمْ بِشَيْءٍ فَأْتُوا مِنْهُ مَا اسْتَطَعْتُمْ، وَإِذَا نَهَيْتُكُمْ عَنْ شَيْءٍ فَدَعُوه»
(Leave me as I leave you, those before you were destroyed because of their many questions and disputing with their Prophets. If I command you with something, perform it as much as you can. If I forbid something for you, then refrain from it.) Muslim recorded similarly.
Meaning of `Afford' in the Ayah
There are several categories of "the ability to under take the journey". There is the physical ability of the person himself and the ability that is related to other things as mentioned in the books of jurisprudence. Abu `Isa At-Tirmidhi recorded that Ibn `Umar said, "A man stood up and asked the Messenger of Allah ﷺ `O Messenger of Allah! Who is the pilgrim' He said, `He who has untidy hair and clothes.' Another man asked, `Which Hajj is better, O Messenger of Allah' He said, `The noisy (with supplication to Allah) and bloody (with sacrifice).' Another man asked, `What is the ability to undertake the journey, O Messenger of Allah' He said, `Having provision and a means of transportation."' This is the narration that Ibn Majah collected. Al-Hakim narrated that Anas said that the Messenger of Allah ﷺ was asked about Allah's statement,
مَنِ اسْتَطَـعَ إِلَيْهِ سَبِيلاً
(for those who are able to undertake the journey;) 3:97 "What does `able to undertake the journey' mean" The Prophet answered, "Having sufficient provision and a means of transportation." Al-Hakim stated that this Hadith's chain of narration is authentic, following the guidelines of Muslim in his Sahih, but the Two Sahihs did not collect it. Ahmad recorded that Ibn `Abbas said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«مَنْ أَرَادَ الْحَجَّ فَلْيَتَعَجَّل»
(Whoever intends to perform Hajj, let him rush to perform it.) Abu Dawud also collected this Hadith.
The One who Denies the Necessity of Hajj Becomes a Disbeliever
Allah said,
وَمَن كَفَرَ فَإِنَّ الله غَنِىٌّ عَنِ الْعَـلَمِينَ
(...and whoever disbelieves, then Allah stands not in need of any of the `Alamin) 3:97.
Ibn `Abbas, Mujahid and several others commented on this Ayah, "Whoever denies the necessity of Hajj becomes disbeliever, and Allah is far Richer than to need him." Al-Hafiz Abu Bakr Al-Isma`ili recorded that `Umar bin Al-Khattab said, "Whoever can afford Hajj but did not perform it, there is no difference in his case if he dies while Jew or Christian." This has an authentic chain of narration leading to `Umar.
ذکر بیت اللہ اور احکامات حج یعنی لوگوں کی عبادت قربانی طواف نماز اعتکاف وغیرہ کے لئے اللہ تعالیٰ کا گھر ہے جس کے بانی حضرت ابراہیم خلیل ہیں، جن کی تابعداری کا دعویٰ یہود و نصاریٰ مشرکین اور مسلمان سب کو ہے وہ اللہ کا گھر جو سب سے پہلے مکہ میں بنایا گیا ہے، اور بلاشبہ خلیل اللہ ہی حج کے پہلے منادی کرنے والے ہیں تو پھر ان پر تعجب اور افسوس ہے جو ملت حنیفی کا دعویٰ کریں اور اس گھر کا احترام نہ کریں حج کو یہاں نہ آئیں بلکہ اپنے قبلہ اور کعبہ الگ الگ بناتے پھریں۔ اس بیت اللہ کی بنیادوں میں ہی برکت و ہدایت ہے اور تمام جہان والوں کے لئے ہے، حضرت ابوذر ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کہ سب سے پہلے کونسی مسجد بنائی گئی ہے ؟ آپ نے فرمایا مسجد حرام، پوچھا پھر کونسی ؟ فرمایا مسجد بیت المقدس پوچھا ان دونوں کے درمیان کتنا وقت ہے ؟ فرمایا چالیس سال پوچھا پھر کونسی ؟ آپ نے فرمایا جہاں کہیں نماز کا وقت آجائے نماز پڑھ لیا کرو ساری زمین مسجد ہے (مسند) احمد و بخاری مسلم) حضرت علی فرماتے ہیں گھر تو پہلے بہت سے تھے لیکن خاص اللہ تعالیٰ کی عبادت کا گھر سب سے پہلا یہی ہے، کسی شخص نے آپ سے پوچھا کہ زمین پر پہلا گھر یہی بنا ہے تو آپ نے فرمایا نہیں ہاں برکتوں اور مقام ابراہیم اور امن والا گھر یہی پہلا ہے، بیت اللہ شریف کے بنانے کی پوری کیفیت سورة بقرہ کی آیت (وَعَهِدْنَآ اِلٰٓى اِبْرٰهٖمَ وَاِسْمٰعِيْلَ اَنْ طَهِّرَا بَيْتِىَ للطَّاۗىِٕفِيْنَ وَالْعٰكِفِيْنَ وَالرُّكَّعِ السُّجُوْدِ) 2۔ البقرۃ :125) کی تفسیر میں پہلے گذر چکی ہے وہیں ملاحظہ فرما لیجئے یہاں دوبارہ بیان کرنے کی ضرورت نہیں، سدی کہتے ہیں سب سے پہلے روئے زمین پر یہی گھر بنا، لیکن صحیح قول حضرت علی کا ہی ہے اور وہ حدیث جو ییہقی میں ہے جس میں ہے کہ آدم و حوا نے بحکم الہ بیت اللہ بنایا اور طواف کیا اور اللہ تعالیٰ نے کہا کہ تو سب سے پہلا انسان ہے اور یہ سب سے پہلا گھر ہے یہ حدیث ابن لہیعہ کی روایت سے ہے اور وہ ضعیف راوی ہیں، ممکن ہے یہ حضرت عبداللہ بن عمر کا اپنا قول ہو اور یرموک والے دن انہیں جو دو پورے اہل کتاب کی کتابوں کے ملے تھے انہی میں یہ بھی لکھا ہوا ہو۔ " مکہ " مکہ شریف کا مشہور نام ہے چونکہ بڑے بڑے جابر شخصوں کی گردنیں یہاں ٹوٹ جاتی تھیں ہر بڑائی والا یہاں پست ہوجاتا تھا، اس لئے اسے مکہ کہا گیا اور اس لئے بھی کہ لوگوں کی بھیڑ بھاڑ یہاں ہوتی ہے اور ہر وقت کھچا کھچ بھرا رہتا ہے اور اس لئے بھی کہ یہاں لوگ خلط ملط ہوجاتے ہیں یہاں تک کہ کبھی عورتیں آگے نماز پڑھتی ہوتی ہیں اور مرد ان کے پیچھے ہوتے ہیں جو اور کہیں نہیں ہوتا، حضرت ابن عباس فرماتے ہیں " فج " سے " تنعیم " تک مکہ ہے بیت اللہ سے بطحا تک بکہ ہے بیت اللہ اور مسجد کو بکہ کہا گیا ہے، بیت اللہ اور اس آس پاس کی جگہ کو بکہ اور باقی شہر کو مکہ بھی کہا گیا ہے، اس کے اور بھی بہت سے نام ہیں مثلاً بیت العتیق، بیت الحرام، بلد الامین، بلد المامون، ام رحم، ام القری، صلاح، عرش، قادس، مقدس، ناسبہ، ناسسہ، حاطمہ، راس، کو ثا البلدہ البینۃ العکبہ۔ اس میں ظاہر نشانیاں ہیں جو اس کی عظمت و شرافت کی دلیل ہیں اور جن سے ظاہر ہے کہ خلیل اللہ کی بنا یہی ہے اس میں مقام ابراہیم بھی ہے جس پر کھڑے ہو کر حضرت اسماعیل سے پتھر لے کر حضرت ابراہیم کعبہ کی دیواریں اونچی کر رہے تھے، یہ پہلے تو بیت اللہ شریف کی دیوار سے لگا ہوا تھا لیکن حضرت عمر ؓ نے اپنی خلافت کے زمانہ میں اسے ذرا ہٹا کر مشرق رخ کردیا تھا کہ پوری طرح طواف ہو سکے اور جو لوگ طواف کے بعد مقام ابراہیم کے پیچھے نماز پڑھتے ہیں ان کے لئے پریشانی اور بھیڑ بھاڑ نہ ہو، اسی کی طرف نماز پڑھنے کا حکم ہوا ہے اور اس کے متعلق بھی پوری تفسیر آیت (وَاتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ اِبْرٰهٖمَ مُصَلًّى) 2۔ البقرۃ :125) کی تفسیر میں پہلے گذر چکی ہے فالحمد للہ۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں آیات بینات میں سے ایک مقام ابراہیم بھی ہے باقی اور بھی ہیں، حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ خلیل اللہ کے قدموں کے نشان جو مقام ابراہیم پر تھے یہ بھی آیات بینات میں سے ہیں، کل حرم کو اور حطیم کو اور سارے ارکان حج کو بھی مکہ امن والا رہا باپ کے قاتل کو بھی یہاں پاتے تو نہ چھیڑتے ابن عباس فرماتے ہیں بیت اللہ پناہ چاہنے والے کو پناہ دیتا ہے لیکن جگہ اور کھانا پینا نہیں دیتا اور جگہ ہے آیت (اولم یروا انا جعلنا حرما امنا) الخ، کیا یہ نہیں دیکھتے کہ ہم نے حرم کو امن کی جگہ بنایا اور جگہ ہے آیت (اَوَلَمْ يَرَوْا اَنَّا جَعَلْنَا حَرَمًا اٰمِنًا وَّيُتَخَطَّفُ النَّاسُ مِنْ حَوْلِهِمْ ۭ اَفَبِالْبَاطِلِ يُؤْمِنُوْنَ وَبِنِعْمَةِ اللّٰهِ يَكْفُرُوْنَ) 29۔ العنکبوت :67) ہم نے انہیں خوف سے امن دیا نہ صرف انسان کے لئے امن ہے بلکہ شکار کرنا بلکہ شکار کو بھگانا اسے خوف زدہ کرنا اسے اس کے ٹھکانے یا گھونسلے سے ہٹانا اور اڑانا بھی منع ہے اس کے درخت کاٹنا یہاں کی گھاس اکھیڑنا بھی ناجائز ہے اس مضمون کی بہت سی حدیثیں پورے بسط کے ساتھ آیت وعھدنا الخ، کی تفسیر میں سورة بقرہ میں گذر چکی ہیں، مسند احمد ترمذی اور نسائی میں حدیث ہے جسے امام ترمذی نے حسن صحیح کہا ہے کہ نبی ﷺ نے مکہ کے بازار حرورہ میں کھڑے ہو کر فرمایا کہ اے مکہ تو اللہ تعالیٰ کو ساری زمین سے بہتر اور پیارا ہے اگر میں زبردستی تجھ سے نہ نکالا جاتا تو ہرگز تجھے نہ چھوڑتا، اور اس آیت کے ایک معنی یہ بھی ہیں کہ جو اس گھر میں داخل ہوا وہ جہنم سے بچ گیا، بیہقی کی ایک مرفوع حدیث میں ہے جو بیت اللہ میں داخل ہوا وہ نیکی میں آیا اور برائیوں سے دور ہوا، اور گناہ بخش دیا گیا لیکن اس کے ایک راوی عبداللہ بن تو مل قوی نہیں ہیں۔ آیت کا یہ آخری حصہ حج کی فرضیت کی دلیل ہے بعض کہتے ہیں آیت (وَاَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ لِلّٰهِ ۭ فَاِنْ اُحْصِرْتُمْ فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْي) 2۔ البقرۃ :196) والی آیت دلیل فرضیت ہے لیکن پہلی بات زیادہ واضح ہے، کئی ایک احادیث میں وارد ہے کہ حج ارکان اسلام میں سے ایک رکن ہے، اس کی فرضیت پر مسلمانوں کا اجماع ہے، اور یہ بات بھی ثابت ہے کہ عمر بھر میں ایک مرتبہ استطاعت والے مسلمان پر حج فرض ہے، نبی ﷺ نے اپنے خطبہ میں فرمایا لوگو تم پر اللہ تعالیٰ نے حج فرض کیا ہے تم حج کرو ایک شخص نے پوچھا حضور کیا ہر سال ؟ آپ خاموش رہے اس نے تین مرتبہ یہی سوال کیا آپ نے فرمایا اگر میں ہاں کہ دیتا تو فرض ہوجاتا پھر بجا نہ لاسکتے میں جب خاموش رہوں تو تم کرید کر پوچھا نہ کرو تم سے اگلے لوگ اپنے انبیاء سے سوالوں کی بھر مار اور نبیوں پر اختلاف کرنے کی وجہ سے ہلاک ہوگئے میرے حکموں کو طاقت بھر بجا لاؤ۔ اور جس چیز میں منع کروں اس سے رک جاؤ (مسند احمد) صحیح مسلم شریف کی اس حدیث شریف میں اتنی زیادتی ہے کہ یہ پوچھنے والے اقرع بن حابس تھے اور حضور ﷺ نے جواب یہ بھی فرمایا کہ عمر میں ایک مرتبہ فرض ہے اور پھر نفل۔ ایک روایت میں ہے کہ اسی سوال کے بارے میں آیت (يٰٓاَيُّھَاالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَسْــــَٔـلُوْا عَنْ اَشْيَاۗءَ اِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ) 5۔ المائدہ :101) یعنی زیادتی سوال سے بچو نازل ہوئی (مسند احمد) ایک اور روایت میں ہے اگر میں ہاں کہتا تو ہر سال حج واجب ہوتا تم بجا نہ لاسکتے تو عذاب نازل ہوتا (ابن ماجہ) ہاں حج میں تمتع کرنے کا جواز حضور ﷺ نے ایک سائل کے سوال پر ہمیشہ کے لئے جائز فرمایا تھا، ایک اور حدیث میں ہے کہ نبی ﷺ نے حجۃ الوداع میں امہات المومنین یعنی اپنی بیویوں سے فرمایا تھا حج ہوچکا اب گھر سے نہ نکلنا، رہی استطاعت اور طاقت سو وہ کبھی تو خود انسان کو بغیر کسی ذریعہ کے ہوتی ہے کبھی کسی اور کے واسطے سے جیسے کہ کتب احکام میں اس کی تفصیل موجود ہے، ترمذی میں ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ حاجی کون ہے ؟ آپ نے فرمایا پراگندہ بالوں اور میلے کچیلے کپڑوں والا ایک اور نے پوچھا یا رسول اللہ کونسا حج افضل ہے، آپ نے فرمایا جس میں قربانیاں کثرت سے کی جائیں اور لبیک زیادہ پکارا جائے ایک اور شخص نے سوال کیا حضور ﷺ سبیل سے کیا مراد ہے ؟ آپ نے فرمایا توشہ بھتہ کھانے پینے کے لائق سامان خرچ اور سواری، اس حدیث کا ایک راوی گو ضعیف ہے مگر حدیث کی متابعت اور سند بہت سے صحابیوں سے مختلف سندوں سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے آیت (مَنِ اسْـتَـطَاعَ اِلَيْهِ سَبِيْلًا) 3۔ آل عمران :97) کی تفسیر میں زادو راحلہ یعنی توشہ اور سواری بتائی ہے۔ مسند کی ایک اور حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں فرض حج جلدی ادا کرلیا کرو نہ معلوم کل کیا پیش آئے، ابو داؤد وغیرہ میں ہے حج کا ارادہ کرنے والے کو جلد اپنا ارادہ پورا کرلینا چاہئے۔ ابن عباس فرماتے ہیں جس کے پاس تین سو درہم ہوں وہ طاقت والا ہے، عکرمہ فرماتے ہیں مراد صحت جسمانی ہے پھر فرمایا جو کفر کرے یعنی فرضیت حج کا انکار کرے، حضرت عکرمہ فرماتے ہیں جب یہ آیت اتری کہ دین اسلام کے سوا جو شخص کوئی اور دین پسند کرے اس سے قبول نہ کیا جائے گا تو یہودی کہنے لگے ہم بھی مسلمان ہیں، نبی ﷺ نے فرمایا پھر مسلمانوں پر تو حج فرض ہے تم بھی حج کرو تو وہ صاف انکار بیٹھے جس پر یہ آیت اتری کہ اس کا انکاری کافر ہے اور اللہ تعالیٰ تمام جہان والوں سے بےپرواہ ہے، حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص کھانے پینے اور سواری پر قدرت رکھتا ہو اور اتنا مال بھی اس کے پاس ہو پھر حج نہ کرے تو اس کی موت یہودیت یا نصرانیت پر ہوگی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اللہ کے لئے لوگوں پر حج بیت اللہ ہے جو اس کے راستہ کی طاقت رکھیں اور جو کفر کرے تو اللہ تعالیٰ تمام جہان والوں سے بےپرواہ ہے، اس کے راوی پر بھی کلام ہے، حضرت عمر فاروق فرماتے ہیں طاقت رکھ کر حج نہ کرنے والا یہودی ہو کر مرے گا یا نصرانی ہو کر، اس کی سند بالکل صحیح ہے (حافظ ابوبکر اسماعیلی) مسند سعید بن منصور میں ہے کہ فاروق اعظم ؓ نے فرمایا میرا مقصد ہے کہ میں لوگوں کو مختلف شہروں میں بھیجوں وہ دیکھیں جو لوگ باوجود مال رکھنے کے حج نہ کرتے ہوں ان پر جزیہ لگا دیں وہ مسلمان نہیں ہیں وہ مسلمان نہیں ہیں۔
97
View Single
فِيهِ ءَايَٰتُۢ بَيِّنَٰتٞ مَّقَامُ إِبۡرَٰهِيمَۖ وَمَن دَخَلَهُۥ كَانَ ءَامِنٗاۗ وَلِلَّهِ عَلَى ٱلنَّاسِ حِجُّ ٱلۡبَيۡتِ مَنِ ٱسۡتَطَاعَ إِلَيۡهِ سَبِيلٗاۚ وَمَن كَفَرَ فَإِنَّ ٱللَّهَ غَنِيٌّ عَنِ ٱلۡعَٰلَمِينَ
In it are clear signs – the place where Ibrahim stood (is one of them); and whoever enters it shall be safe; and performing the Hajj (pilgrimage) of this house, for the sake of Allah, is a duty upon mankind, for those who can reach it; and whoever disbelieves – then Allah is Independent (Unwanting) of the entire creation!
اس میں کھلی نشانیاں ہیں (ان میں سے ایک) ابراہیم (علیہ السلام) کی جائے قیام ہے، اور جو اس میں داخل ہوگیا امان پا گیا، اور اللہ کے لئے لوگوں پر اس گھر کا حج فرض ہے جو بھی اس تک پہنچنے کی استطاعت رکھتا ہو، اور جو (اس کا) منکر ہو تو بیشک اللہ سب جہانوں سے بے نیاز ہے
Tafsir Ibn Kathir
The Ka`bah is the First House of Worship
Allah said,
إِنَّ أَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ
(Verily, the first House appointed for mankind) for all people, for their acts of worship and religious rituals. They go around the House in Tawaf, pray in its vicinity and remain in its area in I`tikaf.
لَلَّذِى بِبَكَّةَ
(was that at Bakkah,) meaning, the Ka`bah that was built by Ibrahim Al-Khalil, whose religion the Jews and Christians claim they follow. However, they do not perform Hajj to the house that Ibrahim built by Allah's command, and to which he invited the people to perform Hajj. Allah said next, i
مُبَارَكاً
(full of blessing), sanctified,
وَهُدًى لِّلْعَـلَمِينَ
(and a guidance for Al-`Alamin.)
Imam Ahmad recorded that Abu Dharr said; "I said, `O Allah's Messenger! Which Masjid was the first to be built on the surface of the earth' He said, `Al-Masjid Al-Haram (in Makkah).' I said, `Which was built next' He replied `Al-Masjid Al-Aqsa (in Jerusalem).' I said, `What was the period of time between building the two' He said, `Forty years.' He added,
«ثُمَّ حَيْثُ أَدْرَكْتَ الصَّلَاةَ فَصَلِّ، فَكُلُّهَا مَسْجِد»
(Wherever (you may be, and) the prayer becomes due, perform the prayer there, for the whole earth was made a Masjid.)" Al-Bukhari and Muslim also collected this Hadith.
The Names of Makkah, Such As `Bakkah
Allah said,
لَلَّذِى بِبَكَّةَ
(was that at Bakkah), where Bakkah is one of the names of Makkah. Bakkah means, `it brings Buka' (crying, weeping) to the tyrants and arrogant, meaning they cry and become humble in its vicinity. It was also said that Makkah was called Bakkah because people do Buka next to it, meaning they gather around it. There are many names for Makkah, such as Bakkah, Al-Bayt Al-`Atiq (the Ancient House), Al-Bayt Al-Haram (the Sacred House), Al-Balad Al-Amin (the City of Safety) and Al-Ma'mun (Security). Makkah's names include Umm Rahm (Mother of Mercy), Umm Al-Qura (Mother of the Towns), Salah, as well as others.
The Station of Ibrahim
Allah's statement,
فِيهِ ءَايَـتٌ بَيِّـنَـتٌ
(In it are manifest signs) 3:97, means, clear signs that Ibrahim built the Ka`bah and that Allah has honored and blessed it. Allah then said,
مَّقَامِ إِبْرَهِيمَ
(the Maqam (station) of Ibrahim) When the building the Ka`bah was raised, Ibrahim stood on; the Maqam so that he could raise the walls higher, while his son Isma`il was handing the stones to him. We should mention that the Maqam used to be situated right next to the House. Later, and during his reign, `Umar bin Al-Khattab moved the Maqam farther to the east, so that those who go around the House in Tawaf are able to perform it easily, without disturbing those who pray next to the Maqam after finishing their Tawaf. Allah commanded us to pray next to the Maqam;
وَاتَّخِذُواْ مِن مَّقَامِ إِبْرَهِيمَ مُصَلًّى
(And take you (people) the Maqam (station) of Ibrahim as a place of prayer) 2:125.
We mentioned the Hadiths about this subject before, and all the thanks are due to Allah. Al-`Awfi said that, Ibn `Abbas commented on Allah's statement,
فِيهِ ءَايَـتٌ بَيِّـنَـتٌ مَّقَامُ إِبْرَهِيمَ
(In it are manifest signs, the Maqam of Ibrahim;)
"Such as the Maqam and Al-Mash`ar Al-Haram." Mujahid said, "The impression of Ibrahim's feet remains on the Maqam as a clear sign." It was reported that `Umar bin `Abdul-`Aziz, Al-Hasan, Qatadah, As-Suddi, Muqatil bin Hayyan and others said similarly.
Al-Haram, the Sacred Area, is a Safe Area
Allah said,
وَمَن دَخَلَهُ كَانَ ءَامِناً
(whosoever enters it, he attains security,) 3:97 meaning, the Haram of Makkah is a safe refuge for those in a state of fear. There in its vicinity, they will be safe, just as was the case during the time of Jahiliyyah. Al-Hasan Al-Basri said, "(During the time of Jahiliyyah) a man would commit murder, then wear a piece of wool around his neck and enter the Haram. And even when the son of the murdered person would meet him, he would not make a move against him, until he left the sanctuary." Allah said,
أَوَلَمْ يَرَوْاْ أَنَّا جَعَلْنَا حَرَماً ءامِناً وَيُتَخَطَّفُ النَّاسُ مِنْ حَوْلِهِمْ
(Have they not seen that We have made (Makkah) a secure sanctuary, while men are being snatched away from all around them) 29:67, and,
فَلْيَعْبُدُواْ رَبَّ هَـذَا الْبَيْتِ - الَّذِى أَطْعَمَهُم مِّن جُوعٍ وَءَامَنَهُم مِّنْ خوْفٍ
(So let them worship (Allah) the Lord of this House (the Ka`bah). (He) Who has fed them against hunger, and has made them safe from fear) 106:3-4.
It is not allowed for anyone to hunt in the Haram or to drive game out of its den to be hunted, or cut the trees in its vicinity, or pick its grass, as the Hadiths of the Prophet and the statements of the Companions testify. The Two Sahihs recorded (this being the wording of Muslim) that Ibn `Abbas said, "On the day of the conquest of Makkah, the Messenger of Allah ﷺ said,
«لَا هِجْرَةَ، وَلــكِنْ جِهَادٌ وَنِيَّـةٌ، وَإِذَا اسْتُنْفِرْتُمْ فَانْفِرُوا»
(There is no more Hijrah (migration to Makkah), only Jihad and good intention. If you were mobilized, then march forth.)
He also said on the day of the conquest of Makkah,
«إِنَّ هَذَا الْبَلَدَ حَرَّمَهُ اللهُ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَواتِ وَالْأَرْضَ، فَهُوَ حَرَامٌ بِحُرْمَةِ اللهِ إِلى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَإِنَّهُ لَمْ يَحِلَّ الْقِتَالُ فِيهِ لأَحَدٍ قَبْلِي، وَلَمْ يَحِلَّ لِي إِلَّا فِي سَاعَةٍ مِنْ نَهَارٍ، فَهُوَ حَرَامٌ بِحُرْمَةِ اللهِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، لَا يُعْضَدُ شَوْكُهُ، وُلَا يُنَفَّرُ صَيْدُهُ، وَلَا يَلْتَقِطُ لُقَطَتَهَا إِلَّا مَنْ عَرَّفَهَا، وَلَا يُخْتَلَى خَلَاهَا»
(Beware! Allah made this town (Makkah) a sanctuary when He created the heavens and earth, and it is sacred by Allah's decree until the Day of Resurrection. Fighting in Makkah was not permitted for anyone before me, and it was made legal for me for only a few hours or so on that day. No doubt it is at this moment a sanctuary by Allah's decree until the Day of Resurrection. It is not allowed to uproot its thorny shrubs, hunt its game, pick up its lost objects, except by announcing it, or to uproot its trees.)
Al-`Abbas said, `Except the lemon grass, O Allah's Messenger, as they use it in their houses and graves.' The Prophet said:
«إِلَّا الْإِذْخِر»
(Except lemongrass)."
The Two Sahihs also recorded that Abu Shurayh Al-`Adawi said that he said to `Amr bin Sa`id while he was sending the troops to Makkah (to fight `Abdullah bin Az-Zubayr), "O Commander! Allow me to tell you what Allah's Messenger ﷺ said on the day following the conquest of Makkah. My ears heard it and my heart memorized it thoroughly, and I saw the Prophet with my own eyes when he, after glorifying and praising Allah, said,
«إِنَّ مَكَّةَ حَرَّمَهَا اللهُ، وَلَمْ يُحَرِّمْهَا النَّاسُ، فَلَا يَحِلُّ لِامْرِى يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ يَسْفِكَ بِهَا دَمًا، وَلَا يَعْضِدَ بِهَا شَجَرَةً، فَإِنْ أَحَدٌ تَرَخَّصَ بِقِتَالِ رَسُولِ اللهِصلى الله عليه وسلّم فِيهَا فَقُولُوا لَهُ: إِنَّ اللهَ أَذِنَ لِرَسُولِهِ وَلَمْ يَأْذَنْ لَكُمْ، وَإِنَّمَا أَذِنَ لِي فِيهَا سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ، وَقَدْ عَادَتْ حُرْمَتُهَا الْيَوْمَ كَحُرْمَتِهَا بِالْأَمْسِ فَلْيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ الْغَائِب»
(Allah, not the people, made Makkah a sanctuary. Therefore, anybody who has belief in Allah and the Last Day, should neither shed blood in it nor cut down its trees. If anybody argues that fighting in it is permissible on the basis that Allah's Messenger ﷺ fought in Makkah, say to him, `Allah allowed His Messenger and did not allow you.' Allah allowed me only for a few hours on that day (of the conquest), and today its sanctity is as valid as it was before. So, those who are present, should inform those who are absent of this fact.)."
Abu Shurayh was asked, "What did `Amr reply" He said that `Amr said, "O Abu Shurayh! I know better than you in this respect; Makkah does not give protection to a sinner, a murderer or a thief."
Jabir bin `Abdullah said, "I heard the Messenger of Allah ﷺ saying,
«لَا يَحِلُّ لِأَحَدِكُمْ أَنْ يَحْمِلَ بِمَكَّةَ السِّلَاح»
(None of you is allowed to carry a weapon in Makkah.) Muslim recorded this Hadith.
`Abdullah bin `Adi bin Al-Hamra' Az-Zuhri said that he heard the Messenger of Allah ﷺ say while standing at Al-Hazwarah in the marketplace of Makkah,
«وَاللهِ إِنَّكِ لَخَيْرُ أَرْضِ اللهِ، وَأَحَبُّ أَرْضِ اللهِ إِلَى اللهِ، وَلَوْلَا أَنِّي أُخْرِجْتُ مِنْكِ مَا خَرَجْت»
(By Allah! You are the best of Allah's land and the most beloved land to Allah. Had it not been for the fact that I was driven out of you, I would not have left you.)
Imam Ahmad collected this Hadith and this is his wording. At-Tirmidhi, An-Nasa'i and Ibn Majah also collected it. At-Tirmidhi said, "Hasan Sahih."
The Necessity of Performing Hajj
Allah said,
وَللَّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَـعَ إِلَيْهِ سَبِيلاً
(And Hajj to the House is a duty that mankind owes to Allah, for those who are able to undertake the journey) 3:97.
This Ayah established the obligation of performing Hajj. There are many Hadiths that mention it as one of the pillars and fundamentals of Islam, and this is agreed upon by the Muslims. According to texts and the consensus of the scholars, it is only obligatory for the adult Muslim to perform it once during his lifetime. Imam Ahmad recorded that Abu Hurayrah said that the Messenger of Allah ﷺ once gave a speech in which he said,
«أَيُّهَا النَّاسُ قَدْ فُرِضَ عَلَيْكُمُ الْحَجُّ فَحُجُّوا»
(O people! Hajj has been enjoined on you, therefore, perform Hajj.)
A man asked, "Is it every year, O Allah's Messenger" The Prophet remained silent until the man repeated the question three times and he then said,
«لَوْ قُلْتُ: نَعَمْ لَوَجَبَتْ وَلَمَا اسْتَطَعْتُم»
(Had I said yes, it would have become an obligation and you would not have been able to fulfill it.) He said next,
«ذَرُونِي مَا تَرَكْتُكُمْ فَإِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِكَثْرَةِ سُؤَالِهِمْ وَاخْتِلَافِهِمْ عَلى أَنْبِيَائِهِمْ، وَإِذَا أَمَرْتُكُمْ بِشَيْءٍ فَأْتُوا مِنْهُ مَا اسْتَطَعْتُمْ، وَإِذَا نَهَيْتُكُمْ عَنْ شَيْءٍ فَدَعُوه»
(Leave me as I leave you, those before you were destroyed because of their many questions and disputing with their Prophets. If I command you with something, perform it as much as you can. If I forbid something for you, then refrain from it.) Muslim recorded similarly.
Meaning of `Afford' in the Ayah
There are several categories of "the ability to under take the journey". There is the physical ability of the person himself and the ability that is related to other things as mentioned in the books of jurisprudence. Abu `Isa At-Tirmidhi recorded that Ibn `Umar said, "A man stood up and asked the Messenger of Allah ﷺ `O Messenger of Allah! Who is the pilgrim' He said, `He who has untidy hair and clothes.' Another man asked, `Which Hajj is better, O Messenger of Allah' He said, `The noisy (with supplication to Allah) and bloody (with sacrifice).' Another man asked, `What is the ability to undertake the journey, O Messenger of Allah' He said, `Having provision and a means of transportation."' This is the narration that Ibn Majah collected. Al-Hakim narrated that Anas said that the Messenger of Allah ﷺ was asked about Allah's statement,
مَنِ اسْتَطَـعَ إِلَيْهِ سَبِيلاً
(for those who are able to undertake the journey;) 3:97 "What does `able to undertake the journey' mean" The Prophet answered, "Having sufficient provision and a means of transportation." Al-Hakim stated that this Hadith's chain of narration is authentic, following the guidelines of Muslim in his Sahih, but the Two Sahihs did not collect it. Ahmad recorded that Ibn `Abbas said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«مَنْ أَرَادَ الْحَجَّ فَلْيَتَعَجَّل»
(Whoever intends to perform Hajj, let him rush to perform it.) Abu Dawud also collected this Hadith.
The One who Denies the Necessity of Hajj Becomes a Disbeliever
Allah said,
وَمَن كَفَرَ فَإِنَّ الله غَنِىٌّ عَنِ الْعَـلَمِينَ
(...and whoever disbelieves, then Allah stands not in need of any of the `Alamin) 3:97.
Ibn `Abbas, Mujahid and several others commented on this Ayah, "Whoever denies the necessity of Hajj becomes disbeliever, and Allah is far Richer than to need him." Al-Hafiz Abu Bakr Al-Isma`ili recorded that `Umar bin Al-Khattab said, "Whoever can afford Hajj but did not perform it, there is no difference in his case if he dies while Jew or Christian." This has an authentic chain of narration leading to `Umar.
ذکر بیت اللہ اور احکامات حج یعنی لوگوں کی عبادت قربانی طواف نماز اعتکاف وغیرہ کے لئے اللہ تعالیٰ کا گھر ہے جس کے بانی حضرت ابراہیم خلیل ہیں، جن کی تابعداری کا دعویٰ یہود و نصاریٰ مشرکین اور مسلمان سب کو ہے وہ اللہ کا گھر جو سب سے پہلے مکہ میں بنایا گیا ہے، اور بلاشبہ خلیل اللہ ہی حج کے پہلے منادی کرنے والے ہیں تو پھر ان پر تعجب اور افسوس ہے جو ملت حنیفی کا دعویٰ کریں اور اس گھر کا احترام نہ کریں حج کو یہاں نہ آئیں بلکہ اپنے قبلہ اور کعبہ الگ الگ بناتے پھریں۔ اس بیت اللہ کی بنیادوں میں ہی برکت و ہدایت ہے اور تمام جہان والوں کے لئے ہے، حضرت ابوذر ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کہ سب سے پہلے کونسی مسجد بنائی گئی ہے ؟ آپ نے فرمایا مسجد حرام، پوچھا پھر کونسی ؟ فرمایا مسجد بیت المقدس پوچھا ان دونوں کے درمیان کتنا وقت ہے ؟ فرمایا چالیس سال پوچھا پھر کونسی ؟ آپ نے فرمایا جہاں کہیں نماز کا وقت آجائے نماز پڑھ لیا کرو ساری زمین مسجد ہے (مسند) احمد و بخاری مسلم) حضرت علی فرماتے ہیں گھر تو پہلے بہت سے تھے لیکن خاص اللہ تعالیٰ کی عبادت کا گھر سب سے پہلا یہی ہے، کسی شخص نے آپ سے پوچھا کہ زمین پر پہلا گھر یہی بنا ہے تو آپ نے فرمایا نہیں ہاں برکتوں اور مقام ابراہیم اور امن والا گھر یہی پہلا ہے، بیت اللہ شریف کے بنانے کی پوری کیفیت سورة بقرہ کی آیت (وَعَهِدْنَآ اِلٰٓى اِبْرٰهٖمَ وَاِسْمٰعِيْلَ اَنْ طَهِّرَا بَيْتِىَ للطَّاۗىِٕفِيْنَ وَالْعٰكِفِيْنَ وَالرُّكَّعِ السُّجُوْدِ) 2۔ البقرۃ :125) کی تفسیر میں پہلے گذر چکی ہے وہیں ملاحظہ فرما لیجئے یہاں دوبارہ بیان کرنے کی ضرورت نہیں، سدی کہتے ہیں سب سے پہلے روئے زمین پر یہی گھر بنا، لیکن صحیح قول حضرت علی کا ہی ہے اور وہ حدیث جو ییہقی میں ہے جس میں ہے کہ آدم و حوا نے بحکم الہ بیت اللہ بنایا اور طواف کیا اور اللہ تعالیٰ نے کہا کہ تو سب سے پہلا انسان ہے اور یہ سب سے پہلا گھر ہے یہ حدیث ابن لہیعہ کی روایت سے ہے اور وہ ضعیف راوی ہیں، ممکن ہے یہ حضرت عبداللہ بن عمر کا اپنا قول ہو اور یرموک والے دن انہیں جو دو پورے اہل کتاب کی کتابوں کے ملے تھے انہی میں یہ بھی لکھا ہوا ہو۔ " مکہ " مکہ شریف کا مشہور نام ہے چونکہ بڑے بڑے جابر شخصوں کی گردنیں یہاں ٹوٹ جاتی تھیں ہر بڑائی والا یہاں پست ہوجاتا تھا، اس لئے اسے مکہ کہا گیا اور اس لئے بھی کہ لوگوں کی بھیڑ بھاڑ یہاں ہوتی ہے اور ہر وقت کھچا کھچ بھرا رہتا ہے اور اس لئے بھی کہ یہاں لوگ خلط ملط ہوجاتے ہیں یہاں تک کہ کبھی عورتیں آگے نماز پڑھتی ہوتی ہیں اور مرد ان کے پیچھے ہوتے ہیں جو اور کہیں نہیں ہوتا، حضرت ابن عباس فرماتے ہیں " فج " سے " تنعیم " تک مکہ ہے بیت اللہ سے بطحا تک بکہ ہے بیت اللہ اور مسجد کو بکہ کہا گیا ہے، بیت اللہ اور اس آس پاس کی جگہ کو بکہ اور باقی شہر کو مکہ بھی کہا گیا ہے، اس کے اور بھی بہت سے نام ہیں مثلاً بیت العتیق، بیت الحرام، بلد الامین، بلد المامون، ام رحم، ام القری، صلاح، عرش، قادس، مقدس، ناسبہ، ناسسہ، حاطمہ، راس، کو ثا البلدہ البینۃ العکبہ۔ اس میں ظاہر نشانیاں ہیں جو اس کی عظمت و شرافت کی دلیل ہیں اور جن سے ظاہر ہے کہ خلیل اللہ کی بنا یہی ہے اس میں مقام ابراہیم بھی ہے جس پر کھڑے ہو کر حضرت اسماعیل سے پتھر لے کر حضرت ابراہیم کعبہ کی دیواریں اونچی کر رہے تھے، یہ پہلے تو بیت اللہ شریف کی دیوار سے لگا ہوا تھا لیکن حضرت عمر ؓ نے اپنی خلافت کے زمانہ میں اسے ذرا ہٹا کر مشرق رخ کردیا تھا کہ پوری طرح طواف ہو سکے اور جو لوگ طواف کے بعد مقام ابراہیم کے پیچھے نماز پڑھتے ہیں ان کے لئے پریشانی اور بھیڑ بھاڑ نہ ہو، اسی کی طرف نماز پڑھنے کا حکم ہوا ہے اور اس کے متعلق بھی پوری تفسیر آیت (وَاتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ اِبْرٰهٖمَ مُصَلًّى) 2۔ البقرۃ :125) کی تفسیر میں پہلے گذر چکی ہے فالحمد للہ۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں آیات بینات میں سے ایک مقام ابراہیم بھی ہے باقی اور بھی ہیں، حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ خلیل اللہ کے قدموں کے نشان جو مقام ابراہیم پر تھے یہ بھی آیات بینات میں سے ہیں، کل حرم کو اور حطیم کو اور سارے ارکان حج کو بھی مکہ امن والا رہا باپ کے قاتل کو بھی یہاں پاتے تو نہ چھیڑتے ابن عباس فرماتے ہیں بیت اللہ پناہ چاہنے والے کو پناہ دیتا ہے لیکن جگہ اور کھانا پینا نہیں دیتا اور جگہ ہے آیت (اولم یروا انا جعلنا حرما امنا) الخ، کیا یہ نہیں دیکھتے کہ ہم نے حرم کو امن کی جگہ بنایا اور جگہ ہے آیت (اَوَلَمْ يَرَوْا اَنَّا جَعَلْنَا حَرَمًا اٰمِنًا وَّيُتَخَطَّفُ النَّاسُ مِنْ حَوْلِهِمْ ۭ اَفَبِالْبَاطِلِ يُؤْمِنُوْنَ وَبِنِعْمَةِ اللّٰهِ يَكْفُرُوْنَ) 29۔ العنکبوت :67) ہم نے انہیں خوف سے امن دیا نہ صرف انسان کے لئے امن ہے بلکہ شکار کرنا بلکہ شکار کو بھگانا اسے خوف زدہ کرنا اسے اس کے ٹھکانے یا گھونسلے سے ہٹانا اور اڑانا بھی منع ہے اس کے درخت کاٹنا یہاں کی گھاس اکھیڑنا بھی ناجائز ہے اس مضمون کی بہت سی حدیثیں پورے بسط کے ساتھ آیت وعھدنا الخ، کی تفسیر میں سورة بقرہ میں گذر چکی ہیں، مسند احمد ترمذی اور نسائی میں حدیث ہے جسے امام ترمذی نے حسن صحیح کہا ہے کہ نبی ﷺ نے مکہ کے بازار حرورہ میں کھڑے ہو کر فرمایا کہ اے مکہ تو اللہ تعالیٰ کو ساری زمین سے بہتر اور پیارا ہے اگر میں زبردستی تجھ سے نہ نکالا جاتا تو ہرگز تجھے نہ چھوڑتا، اور اس آیت کے ایک معنی یہ بھی ہیں کہ جو اس گھر میں داخل ہوا وہ جہنم سے بچ گیا، بیہقی کی ایک مرفوع حدیث میں ہے جو بیت اللہ میں داخل ہوا وہ نیکی میں آیا اور برائیوں سے دور ہوا، اور گناہ بخش دیا گیا لیکن اس کے ایک راوی عبداللہ بن تو مل قوی نہیں ہیں۔ آیت کا یہ آخری حصہ حج کی فرضیت کی دلیل ہے بعض کہتے ہیں آیت (وَاَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ لِلّٰهِ ۭ فَاِنْ اُحْصِرْتُمْ فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْي) 2۔ البقرۃ :196) والی آیت دلیل فرضیت ہے لیکن پہلی بات زیادہ واضح ہے، کئی ایک احادیث میں وارد ہے کہ حج ارکان اسلام میں سے ایک رکن ہے، اس کی فرضیت پر مسلمانوں کا اجماع ہے، اور یہ بات بھی ثابت ہے کہ عمر بھر میں ایک مرتبہ استطاعت والے مسلمان پر حج فرض ہے، نبی ﷺ نے اپنے خطبہ میں فرمایا لوگو تم پر اللہ تعالیٰ نے حج فرض کیا ہے تم حج کرو ایک شخص نے پوچھا حضور کیا ہر سال ؟ آپ خاموش رہے اس نے تین مرتبہ یہی سوال کیا آپ نے فرمایا اگر میں ہاں کہ دیتا تو فرض ہوجاتا پھر بجا نہ لاسکتے میں جب خاموش رہوں تو تم کرید کر پوچھا نہ کرو تم سے اگلے لوگ اپنے انبیاء سے سوالوں کی بھر مار اور نبیوں پر اختلاف کرنے کی وجہ سے ہلاک ہوگئے میرے حکموں کو طاقت بھر بجا لاؤ۔ اور جس چیز میں منع کروں اس سے رک جاؤ (مسند احمد) صحیح مسلم شریف کی اس حدیث شریف میں اتنی زیادتی ہے کہ یہ پوچھنے والے اقرع بن حابس تھے اور حضور ﷺ نے جواب یہ بھی فرمایا کہ عمر میں ایک مرتبہ فرض ہے اور پھر نفل۔ ایک روایت میں ہے کہ اسی سوال کے بارے میں آیت (يٰٓاَيُّھَاالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَسْــــَٔـلُوْا عَنْ اَشْيَاۗءَ اِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ) 5۔ المائدہ :101) یعنی زیادتی سوال سے بچو نازل ہوئی (مسند احمد) ایک اور روایت میں ہے اگر میں ہاں کہتا تو ہر سال حج واجب ہوتا تم بجا نہ لاسکتے تو عذاب نازل ہوتا (ابن ماجہ) ہاں حج میں تمتع کرنے کا جواز حضور ﷺ نے ایک سائل کے سوال پر ہمیشہ کے لئے جائز فرمایا تھا، ایک اور حدیث میں ہے کہ نبی ﷺ نے حجۃ الوداع میں امہات المومنین یعنی اپنی بیویوں سے فرمایا تھا حج ہوچکا اب گھر سے نہ نکلنا، رہی استطاعت اور طاقت سو وہ کبھی تو خود انسان کو بغیر کسی ذریعہ کے ہوتی ہے کبھی کسی اور کے واسطے سے جیسے کہ کتب احکام میں اس کی تفصیل موجود ہے، ترمذی میں ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ حاجی کون ہے ؟ آپ نے فرمایا پراگندہ بالوں اور میلے کچیلے کپڑوں والا ایک اور نے پوچھا یا رسول اللہ کونسا حج افضل ہے، آپ نے فرمایا جس میں قربانیاں کثرت سے کی جائیں اور لبیک زیادہ پکارا جائے ایک اور شخص نے سوال کیا حضور ﷺ سبیل سے کیا مراد ہے ؟ آپ نے فرمایا توشہ بھتہ کھانے پینے کے لائق سامان خرچ اور سواری، اس حدیث کا ایک راوی گو ضعیف ہے مگر حدیث کی متابعت اور سند بہت سے صحابیوں سے مختلف سندوں سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے آیت (مَنِ اسْـتَـطَاعَ اِلَيْهِ سَبِيْلًا) 3۔ آل عمران :97) کی تفسیر میں زادو راحلہ یعنی توشہ اور سواری بتائی ہے۔ مسند کی ایک اور حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں فرض حج جلدی ادا کرلیا کرو نہ معلوم کل کیا پیش آئے، ابو داؤد وغیرہ میں ہے حج کا ارادہ کرنے والے کو جلد اپنا ارادہ پورا کرلینا چاہئے۔ ابن عباس فرماتے ہیں جس کے پاس تین سو درہم ہوں وہ طاقت والا ہے، عکرمہ فرماتے ہیں مراد صحت جسمانی ہے پھر فرمایا جو کفر کرے یعنی فرضیت حج کا انکار کرے، حضرت عکرمہ فرماتے ہیں جب یہ آیت اتری کہ دین اسلام کے سوا جو شخص کوئی اور دین پسند کرے اس سے قبول نہ کیا جائے گا تو یہودی کہنے لگے ہم بھی مسلمان ہیں، نبی ﷺ نے فرمایا پھر مسلمانوں پر تو حج فرض ہے تم بھی حج کرو تو وہ صاف انکار بیٹھے جس پر یہ آیت اتری کہ اس کا انکاری کافر ہے اور اللہ تعالیٰ تمام جہان والوں سے بےپرواہ ہے، حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص کھانے پینے اور سواری پر قدرت رکھتا ہو اور اتنا مال بھی اس کے پاس ہو پھر حج نہ کرے تو اس کی موت یہودیت یا نصرانیت پر ہوگی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اللہ کے لئے لوگوں پر حج بیت اللہ ہے جو اس کے راستہ کی طاقت رکھیں اور جو کفر کرے تو اللہ تعالیٰ تمام جہان والوں سے بےپرواہ ہے، اس کے راوی پر بھی کلام ہے، حضرت عمر فاروق فرماتے ہیں طاقت رکھ کر حج نہ کرنے والا یہودی ہو کر مرے گا یا نصرانی ہو کر، اس کی سند بالکل صحیح ہے (حافظ ابوبکر اسماعیلی) مسند سعید بن منصور میں ہے کہ فاروق اعظم ؓ نے فرمایا میرا مقصد ہے کہ میں لوگوں کو مختلف شہروں میں بھیجوں وہ دیکھیں جو لوگ باوجود مال رکھنے کے حج نہ کرتے ہوں ان پر جزیہ لگا دیں وہ مسلمان نہیں ہیں وہ مسلمان نہیں ہیں۔
98
View Single
قُلۡ يَـٰٓأَهۡلَ ٱلۡكِتَٰبِ لِمَ تَكۡفُرُونَ بِـَٔايَٰتِ ٱللَّهِ وَٱللَّهُ شَهِيدٌ عَلَىٰ مَا تَعۡمَلُونَ
Say (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), “O People given the Book(s)! Why do you not believe in the verses (or signs) of Allah, whereas your deeds are being witnessed by Allah?”
فرما دیں: اے اہلِ کتاب! تم اللہ کی آیتوں کا انکار کیوں کرتے ہو؟ اور اللہ تمہارے کاموں کا مشاہدہ فرما رہا ہے
Tafsir Ibn Kathir
Chastising the People of the Book for Their Disbelief and Blocking the Path of Allah
In this Ayah Allah criticizes the disbelieving People of the Book for refusing the truth, rejecting Allah's Ayat and hindering those who seek to believe from His path, although they know that what the Messenger was sent with is the truth from Allah. They learned this from the previous Prophets and honorable Messengers, may Allah's peace and blessings be on them all. They all brought the glad tidings and the good news of the coming of the unlettered, Arab, Hashimi Prophet from Makkah, the master of the Children of Adam, the Final Prophet and the Messenger of the Lord of heavens and earth. Allah has warned the People of the Book against this behavior, stating that He is Witness over what they do, indicating their defiance of the knowledge conveyed to them by the Prophets. They rejected, denied and refused the very Messenger whom they were ordered to convey the glad tidings about his coming. Allah states that He is never unaware of what they do, and He will hold them responsible for their actions, R
يَوْمَ لاَ يَنفَعُ مَالٌ وَلاَ بَنُونَ
(The Day whereon neither wealth nor sons will avail) 26:88.
کافروں کا انجام اہل کتاب کے کافروں کو اللہ تعالیٰ دھمکاتا ہے جو حق سے دشمنی کرتے اور اللہ تعالیٰ کی آیتوں سے کفر کرتے دوسرے لوگوں کو بھی پورے زور سے اسلام سے روکتے تھے باوجود یکہ رسول کی حقانیت کا انہیں یقینی علم تھا اگلے انبیاء اور رسولوں کی پیش گوئیاں اور ان کی بشارتیں ان کے پاس موجود تھیں نبی امی ہاشمی عربی مکی مدنی سید الولد آدم خاتم الانبیاء رسول رب ارض و سماء ﷺ کا ذکر ان کتابوں میں موجود تھا پھر بھی اپنی بےایمانی پر بضد تھے اس لئے ان سے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں خوب دیکھ رہا ہوں تم کس طرح میرے نبیوں کی تکذیب کرتے ہو اور کس طرح خاتم الانبیاء کو ستاتے ہو اور کس طرح میرے مخلص بندوں کی راہ میں روڑے اٹکا رہے ہو میں تمہارے اعمال سے غافل نہیں ہوں تمام برائیوں کا بدلہ دوں گا اس دن پکڑوں گا جس دن تمہیں کوئی سفارشی اور مددگار نہ ملے۔
99
View Single
قُلۡ يَـٰٓأَهۡلَ ٱلۡكِتَٰبِ لِمَ تَصُدُّونَ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ مَنۡ ءَامَنَ تَبۡغُونَهَا عِوَجٗا وَأَنتُمۡ شُهَدَآءُۗ وَمَا ٱللَّهُ بِغَٰفِلٍ عَمَّا تَعۡمَلُونَ
Say (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), “O People given the Book(s)! Why do you prevent those who have accepted faith from the way of Allah, seeking to cause deviation in it, whereas you yourselves are witnesses to it? And Allah is not unaware of your deeds!”
فرما دیں: اے اہلِ کتاب! جو شخص ایمان لے آیا ہے تم اسے اللہ کی راہ سے کیوں روکتے ہو؟ تم ان کی راہ میں بھی کجی چاہتے ہو حالانکہ تم (اس کے حق ہونے پر) خود گواہ ہو، اور اللہ تمہارے اعمال سے بے خبر نہیں
Tafsir Ibn Kathir
Chastising the People of the Book for Their Disbelief and Blocking the Path of Allah
In this Ayah Allah criticizes the disbelieving People of the Book for refusing the truth, rejecting Allah's Ayat and hindering those who seek to believe from His path, although they know that what the Messenger was sent with is the truth from Allah. They learned this from the previous Prophets and honorable Messengers, may Allah's peace and blessings be on them all. They all brought the glad tidings and the good news of the coming of the unlettered, Arab, Hashimi Prophet from Makkah, the master of the Children of Adam, the Final Prophet and the Messenger of the Lord of heavens and earth. Allah has warned the People of the Book against this behavior, stating that He is Witness over what they do, indicating their defiance of the knowledge conveyed to them by the Prophets. They rejected, denied and refused the very Messenger whom they were ordered to convey the glad tidings about his coming. Allah states that He is never unaware of what they do, and He will hold them responsible for their actions, R
يَوْمَ لاَ يَنفَعُ مَالٌ وَلاَ بَنُونَ
(The Day whereon neither wealth nor sons will avail) 26:88.
کافروں کا انجام اہل کتاب کے کافروں کو اللہ تعالیٰ دھمکاتا ہے جو حق سے دشمنی کرتے اور اللہ تعالیٰ کی آیتوں سے کفر کرتے دوسرے لوگوں کو بھی پورے زور سے اسلام سے روکتے تھے باوجود یکہ رسول کی حقانیت کا انہیں یقینی علم تھا اگلے انبیاء اور رسولوں کی پیش گوئیاں اور ان کی بشارتیں ان کے پاس موجود تھیں نبی امی ہاشمی عربی مکی مدنی سید الولد آدم خاتم الانبیاء رسول رب ارض و سماء ﷺ کا ذکر ان کتابوں میں موجود تھا پھر بھی اپنی بےایمانی پر بضد تھے اس لئے ان سے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں خوب دیکھ رہا ہوں تم کس طرح میرے نبیوں کی تکذیب کرتے ہو اور کس طرح خاتم الانبیاء کو ستاتے ہو اور کس طرح میرے مخلص بندوں کی راہ میں روڑے اٹکا رہے ہو میں تمہارے اعمال سے غافل نہیں ہوں تمام برائیوں کا بدلہ دوں گا اس دن پکڑوں گا جس دن تمہیں کوئی سفارشی اور مددگار نہ ملے۔
100
View Single
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ إِن تُطِيعُواْ فَرِيقٗا مِّنَ ٱلَّذِينَ أُوتُواْ ٱلۡكِتَٰبَ يَرُدُّوكُم بَعۡدَ إِيمَٰنِكُمۡ كَٰفِرِينَ
O People who Believe! If you obey some of People given the Book(s), they will definitely turn you into disbelievers after your having accepted faith.
اے ایمان والو! اگر تم اہلِ کتاب میں سے کسی گروہ کا بھی کہنا مانو گے تو وہ تمہارے ایمان (لانے) کے بعد پھر تمہیں کفر کی طرف لوٹا دیں گے
Tafsir Ibn Kathir
Warning Muslims Against Imitating People of the Scriptures
Allah warns His believing servants against obeying the People of the Book, who envy the believers for the favor that Allah gave them by sending His Messenger . Similarly, Allah said,
وَدَّ كَثِيرٌ مِّنْ أَهْلِ الْكِتَـبِ لَوْ يَرُدُّونَكُم مِن بَعْدِ إِيمَـنِكُمْ كُفَّارًا حَسَدًا مِّنْ عِنْدِ أَنْفُسِهِمْ
(Many of the People of the Scripture (Jews and Christians) wish that they could turn you away as disbelievers after you have believed, out of their own envy) 2:109.
In this Ayah 3:100, Allah said,
إِن تُطِيعُواْ فَرِيقاً مِّنَ الَّذِينَ أُوتُواْ الْكِتَـبَ يَرُدُّوكُم بَعْدَ إِيمَـنِكُمْ كَـفِرِينَ
(If you obey a group of those who were given the Scripture (Jews and Christians), they would (indeed) render you disbelievers after you have believed!), then said,
وَكَيْفَ تَكْفُرُونَ وَأَنْتُمْ تُتْلَى عَلَيْكُمْ ءَايَـتُ اللَّهِ وَفِيكُمْ رَسُولُهُ
(And how would you disbelieve, while unto you are recited the verses of Allah, and among you is His Messenger), meaning, disbelief is far from touching you, since the Ayat of Allah are being sent down on His Messenger day and night, and he recites and conveys them to you. Similarly, Allah said,
وَمَا لَكُمْ لاَ تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالرَّسُولُ يَدْعُوكُمْ لِتُؤْمِنُواْ بِرَبِّكُمْ وَقَدْ أَخَذَ مِيثَـقَكُمْ إِن كُنتُمْ مُّؤْمِنِينَ
(And what is the matter with you that you believe not in Allah! While the Messenger invites you to believe in your Lord; and He has indeed taken your covenant, if you are real believers) 57:8. A Hadith states that one day, the Prophet said to his Companions,
«أَيُّ الْمُؤْمِنِينَ أَعْجَبُ إِلَيْكُمْ إِيمَانًا؟»
قالوا: الملائكة. قال:
«وَكَيْفَ لَا يُؤْمِنُونَ وَهُمْ عِنْدَ رَبِّهِم»
؟ وذكروا الأنبياء، قال:
«وَكَيْفَ لَا يُؤْمِنُونَ وَالْوَحْيُ يَنْزِلُ عَلَيْهِمْ؟»
قالوا: فنحن. قال:
«وَكَيْفَ لَا تُؤْمِنُونَ وَأَنَا بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ؟»
قالوا: فأي الناس أعجب إيمانًا؟ قال:
«قَوْمٌ يَجِيئُونَ مِنْ بَعْدِكُمْ يَجِدُونَ صُحُفًا يُؤْمِنُونَ بِمَا فِيهَا»
("Who among the faithful believers do you consider has the most amazing faith" They said, "The angels." He said, "Why would they not believe, since they are with their Lord" They mentioned the Prophets, and the Prophet said, "Why would they not believe while the revelation is sent down to them" They said, "Then, we are." He said, "Why would not you believe when I am among you" They asked, "Who has the most amazing faith" The Prophet said, "A people who will come after you and who will find only books that they will believe in.")
Allah said next,
وَمَن يَعْتَصِم بِاللَّهِ فَقَدْ هُدِىَ إِلَى صِرَطٍ مّسْتَقِيمٍ
(And whoever depends upon Allah, then he is indeed guided to the right path) 3:101 for trusting and relying on Allah are the basis of achieving the right guidance and staying away from the path of wickedness. They also represent the tool to acquiring guidance and truth and achieving the righteous aims.
کامیابی کا انحصار کس پر ہے اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو اہل کتاب کے اس بدباطن فرقہ کی اتباع کرنے سے روک رہا ہے کیونکہ یہ حاسد ایمان کے دشمن ہیں اور عرب کی رسالت انہیں ایک آنکھ نہیں بھاتی، جیسے اور جگہ ہے آیت (ودکثیر) الخ، یہ لوگ جل بھن رہے ہیں۔ اور تمہیں ایمان سے ہٹانا چاہتے ہیں تم ان کے کھوکھلے دباؤ میں نہ آجانا، گو کفر تم سے بہت دور ہے لیکن پھر بھی میں تمہیں آگاہ کئے دیتا ہوں، اللہ تعالیٰ کی آیتیں دن رات تم میں پڑھی جا رہی ہیں اور اللہ تعالیٰ کا سچا رسول ﷺ تم میں موجود ہے جیسے اور جگہ ہے آیت (مالکم لا تو منون باللہ) تم ایمان کیسے نہ لاؤ رسول ﷺ تمہیں تمہارے رب کی طرف بلا رہے ہیں اور تم سے عہد بھی لیا جا چکا ہے، حدیث شریف میں ہے کہ حضور ﷺ نے ایک روز اپنے اصحاب سے پوچھا تمہارے نزدیک سب سے بڑا ایمان والا کون ہے ؟ انہوں نے کہا فرشتے آپ نے فرمایا بھلا وہ ایمان کیوں نہ لاتے ؟ انہیں تو اللہ تعالیٰ کی وحی سے براہ راست تعلق ہے، صحابہ نے کہا پھر ہم، فرمایا تم ایمان کیوں نہ لاتے تم میں تو میں خود موجود ہوں صحابہ نے کہا پھر حضور ﷺ خود ہی ارشاد فرمائیں فرمایا کہ تمام لوگوں سے زیادہ عجیب ایمان والے وہ ہوں گے جو تمہارے بعد آئیں گے وہ کتابوں میں لکھا پائیں گے اور اس پر ایمان لائیں گے (امام ابن کثیر نے اس حدیث کی سندوں کا اور اس کے معنی کا پورا بیان شرح صحیح بخاری میں کردیا ہے فالحمد للہ) پھر فرمایا کہ باوجود اس کے تمہارا مضبوطی سے اللہ کے دین کو تھام رکھنا اور اللہ تعالیٰ کی پاک ذات پر پورا توکل رکھنا ہی موجب ہدایت ہے اسی سے گمراہی دور ہوتی ہے یہی شیوہ رضا کا باعث ہے اسی سے صحیح راستہ حاصل ہوتا ہے اور کامیابی اور مراد ملتی ہے۔
101
View Single
وَكَيۡفَ تَكۡفُرُونَ وَأَنتُمۡ تُتۡلَىٰ عَلَيۡكُمۡ ءَايَٰتُ ٱللَّهِ وَفِيكُمۡ رَسُولُهُۥۗ وَمَن يَعۡتَصِم بِٱللَّهِ فَقَدۡ هُدِيَ إِلَىٰ صِرَٰطٖ مُّسۡتَقِيمٖ
And how can you disbelieve, whereas Allah’s verses are recited to you and His Noble Messenger is present amongst you?! And whoever takes the support of Allah is indeed guided to the right path.
اور تم (اب) کس طرح کفر کرو گے حالانکہ تم وہ (خوش نصیب) ہو کہ تم پر اللہ کی آیتیں تلاوت کی جاتی ہیں اور تم میں (خود) اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) موجود ہیں، اور جو شخص اللہ (کے دامن) کو مضبوط پکڑ لیتا ہے تو اسے ضرور سیدھی راہ کی طرف ہدایت کی جاتی ہے
Tafsir Ibn Kathir
Warning Muslims Against Imitating People of the Scriptures
Allah warns His believing servants against obeying the People of the Book, who envy the believers for the favor that Allah gave them by sending His Messenger . Similarly, Allah said,
وَدَّ كَثِيرٌ مِّنْ أَهْلِ الْكِتَـبِ لَوْ يَرُدُّونَكُم مِن بَعْدِ إِيمَـنِكُمْ كُفَّارًا حَسَدًا مِّنْ عِنْدِ أَنْفُسِهِمْ
(Many of the People of the Scripture (Jews and Christians) wish that they could turn you away as disbelievers after you have believed, out of their own envy) 2:109.
In this Ayah 3:100, Allah said,
إِن تُطِيعُواْ فَرِيقاً مِّنَ الَّذِينَ أُوتُواْ الْكِتَـبَ يَرُدُّوكُم بَعْدَ إِيمَـنِكُمْ كَـفِرِينَ
(If you obey a group of those who were given the Scripture (Jews and Christians), they would (indeed) render you disbelievers after you have believed!), then said,
وَكَيْفَ تَكْفُرُونَ وَأَنْتُمْ تُتْلَى عَلَيْكُمْ ءَايَـتُ اللَّهِ وَفِيكُمْ رَسُولُهُ
(And how would you disbelieve, while unto you are recited the verses of Allah, and among you is His Messenger), meaning, disbelief is far from touching you, since the Ayat of Allah are being sent down on His Messenger day and night, and he recites and conveys them to you. Similarly, Allah said,
وَمَا لَكُمْ لاَ تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالرَّسُولُ يَدْعُوكُمْ لِتُؤْمِنُواْ بِرَبِّكُمْ وَقَدْ أَخَذَ مِيثَـقَكُمْ إِن كُنتُمْ مُّؤْمِنِينَ
(And what is the matter with you that you believe not in Allah! While the Messenger invites you to believe in your Lord; and He has indeed taken your covenant, if you are real believers) 57:8. A Hadith states that one day, the Prophet said to his Companions,
«أَيُّ الْمُؤْمِنِينَ أَعْجَبُ إِلَيْكُمْ إِيمَانًا؟»
قالوا: الملائكة. قال:
«وَكَيْفَ لَا يُؤْمِنُونَ وَهُمْ عِنْدَ رَبِّهِم»
؟ وذكروا الأنبياء، قال:
«وَكَيْفَ لَا يُؤْمِنُونَ وَالْوَحْيُ يَنْزِلُ عَلَيْهِمْ؟»
قالوا: فنحن. قال:
«وَكَيْفَ لَا تُؤْمِنُونَ وَأَنَا بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ؟»
قالوا: فأي الناس أعجب إيمانًا؟ قال:
«قَوْمٌ يَجِيئُونَ مِنْ بَعْدِكُمْ يَجِدُونَ صُحُفًا يُؤْمِنُونَ بِمَا فِيهَا»
("Who among the faithful believers do you consider has the most amazing faith" They said, "The angels." He said, "Why would they not believe, since they are with their Lord" They mentioned the Prophets, and the Prophet said, "Why would they not believe while the revelation is sent down to them" They said, "Then, we are." He said, "Why would not you believe when I am among you" They asked, "Who has the most amazing faith" The Prophet said, "A people who will come after you and who will find only books that they will believe in.")
Allah said next,
وَمَن يَعْتَصِم بِاللَّهِ فَقَدْ هُدِىَ إِلَى صِرَطٍ مّسْتَقِيمٍ
(And whoever depends upon Allah, then he is indeed guided to the right path) 3:101 for trusting and relying on Allah are the basis of achieving the right guidance and staying away from the path of wickedness. They also represent the tool to acquiring guidance and truth and achieving the righteous aims.
کامیابی کا انحصار کس پر ہے اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو اہل کتاب کے اس بدباطن فرقہ کی اتباع کرنے سے روک رہا ہے کیونکہ یہ حاسد ایمان کے دشمن ہیں اور عرب کی رسالت انہیں ایک آنکھ نہیں بھاتی، جیسے اور جگہ ہے آیت (ودکثیر) الخ، یہ لوگ جل بھن رہے ہیں۔ اور تمہیں ایمان سے ہٹانا چاہتے ہیں تم ان کے کھوکھلے دباؤ میں نہ آجانا، گو کفر تم سے بہت دور ہے لیکن پھر بھی میں تمہیں آگاہ کئے دیتا ہوں، اللہ تعالیٰ کی آیتیں دن رات تم میں پڑھی جا رہی ہیں اور اللہ تعالیٰ کا سچا رسول ﷺ تم میں موجود ہے جیسے اور جگہ ہے آیت (مالکم لا تو منون باللہ) تم ایمان کیسے نہ لاؤ رسول ﷺ تمہیں تمہارے رب کی طرف بلا رہے ہیں اور تم سے عہد بھی لیا جا چکا ہے، حدیث شریف میں ہے کہ حضور ﷺ نے ایک روز اپنے اصحاب سے پوچھا تمہارے نزدیک سب سے بڑا ایمان والا کون ہے ؟ انہوں نے کہا فرشتے آپ نے فرمایا بھلا وہ ایمان کیوں نہ لاتے ؟ انہیں تو اللہ تعالیٰ کی وحی سے براہ راست تعلق ہے، صحابہ نے کہا پھر ہم، فرمایا تم ایمان کیوں نہ لاتے تم میں تو میں خود موجود ہوں صحابہ نے کہا پھر حضور ﷺ خود ہی ارشاد فرمائیں فرمایا کہ تمام لوگوں سے زیادہ عجیب ایمان والے وہ ہوں گے جو تمہارے بعد آئیں گے وہ کتابوں میں لکھا پائیں گے اور اس پر ایمان لائیں گے (امام ابن کثیر نے اس حدیث کی سندوں کا اور اس کے معنی کا پورا بیان شرح صحیح بخاری میں کردیا ہے فالحمد للہ) پھر فرمایا کہ باوجود اس کے تمہارا مضبوطی سے اللہ کے دین کو تھام رکھنا اور اللہ تعالیٰ کی پاک ذات پر پورا توکل رکھنا ہی موجب ہدایت ہے اسی سے گمراہی دور ہوتی ہے یہی شیوہ رضا کا باعث ہے اسی سے صحیح راستہ حاصل ہوتا ہے اور کامیابی اور مراد ملتی ہے۔
102
View Single
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ ٱتَّقُواْ ٱللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِۦ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنتُم مُّسۡلِمُونَ
O People who Believe! Fear Allah in the manner He should rightfully be feared, and do not die except as Muslims.
اے ایمان والو! اللہ سے ڈرا کرو جیسے اس سے ڈرنے کا حق ہے اور تمہاری موت صرف اسی حال پر آئے کہ تم مسلمان ہو
Tafsir Ibn Kathir
Meaning of `Taqwa of Allah
Ibn Abi Hatim recorded that `Abdullah bin Mas`ud commented on the Ayah,
اتَّقُواْ اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ
(Have Taqwa of Allah as is His due,)
"That He is obeyed and not defied, remembered and not forgotten and appreciated and not unappreciated." This has an authentic chain of narration to `Abdullah bin Mas`ud. Al-Hakim collected this Hadith in his Mustadrak, from Ibn Mas`ud, who related it to the Prophet . Al-Hakim said, "It is authentic according to the criteria of the Two Shaykhs Al-Bukhari and Muslim, and they did not record it." This is what he said, but it appears that it is only a statement of `Abdullah bin Mas`ud, and Allah knows best. It was also reported that Anas said, "The servant will not have Taqwa of Allah as is His due until he keeps his tongue idle." Allah's statement,
وَلاَ تَمُوتُنَّ إِلاَّ وَأَنتُم مُّسْلِمُونَ
(and die not except as (true) Muslims) 3:102, means, preserve your Islam while you are well and safe, so that you die as a Muslim. The Most Generous Allah has made it His decision that whatever state one lives in, that is what he dies upon and is resurrected upon. We seek refuge from dying on other than Islam.
Imam Ahmad recorded that Mujahid said, "The people were circling around the Sacred House when Ibn `Abbas was sitting, holding a bent-handled walking stick. Ibn `Abbas said, The Messenger of Allah ﷺ recited,
يأَيُّهَا الَّذِينَ ءَامَنُواْ اتَّقُواْ اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلاَ تَمُوتُنَّ إِلاَّ وَأَنتُم مُّسْلِمُونَ
(Have Taqwa of Allah as is His due, die not except as (true) Muslims.) 3:102, then he said;
«وَلَوْ أَنَّ قَطْرَةً مِنَ الزَّقُّومِ قُطِرَتْ لَأَمَرَّتْ عَلى أَهْلِ الْأرْضِ عِيشَتَهُمْ، فَكَيْفَ بِمَنْ لَيْسَ لَهُ طَعَامٌ إِلَّا الزَّقُّومُ؟»
(Verily, if a drop of Zaqqum (a tree in Hell) falls, it will spoil life for the people of earth. What about those whose food is only from Zaqqum)"
This was recorded by At-Tirmidhi, An-Nasa'i, Ibn Majah, Ibn Hibban in his Sahih and Al-Hakim his Mustadrak. At-Tirmidhi said, "Hasan Sahih"' while Al-Hakim said; "It meets the conditions of the Two Sahihs and they did not record it."
Imam Ahmad recorded that Jabir said that three nights before the Messenger of Allah ﷺ died he heard him saying;
«لَا يَمُوتَنَّ أَحَدُكُمْ إِلَّا وَهُوَ يُحْسِنُ الظَّنَّ بِاللهِ عَزَّ وَجَل»
(None of you should die except while having sincere trust in Allah, the Exalted and Most Honorable.) Muslim also recorded it. The Two Sahihs record that Abu Hurayrah said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«يَقُولُ اللهُ: أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي»
(Allah said, "I am as My servant thinks of Me.")
The Necessity of Holding to the Path of Allah and the Community of the Believers
Allah said next,
وَاعْتَصِمُواْ بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعاً وَلاَ تَفَرَّقُواْ
(And hold fast, all of you together, to the Rope of Allah, and be not divided among yourselves.) It was said that,
بِحَبْلِ اللَّهِ
(to the Rope of Allah) refers to Allah's covenant, just as Allah said in the following Ayah,
ضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الذِّلَّةُ أَيْنَ مَا ثُقِفُواْ إِلاَّ بِحَبْلٍ مِّنْ اللَّهِ وَحَبْلٍ مِّنَ النَّاسِ
(Indignity is put over them wherever they may be, except when under a covenant (of protection) from Allah, and from men;) 3:112, in reference to pledges and peace treaties.
Allah's statement
وَلاَ تَفَرَّقُواْ
(and be not divided among yourselves), orders sticking to the community of the believers and forbids division. There are several Hadiths that require adhering to the Jama`ah (congregation of believers) and prohibit division. Muslim recorded that Abu Hurayrah said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«إِنَّ اللهَ يَرْضَى لَكُمْ ثَلَاثًا، وَيَسْخَطُ لَكُمْ ثَلَاثًا: يَرْضَى لَكُمْ أَنْ تَعْبُدُوهُ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا، وَأَنْ تَعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا،وَأَنْ تَنَاصَحُوا مَنْ وَلَّاهُ اللهُ أَمْرَكُمْ. وَيَسْخَطُ لَكُمْ ثَلَاثًا: قِيلَ وَقَالَ، وَكَثْرَةَ السُّؤَالِ، وَإِضَاعَةَ الْمَال»
(It pleases Allah for you to acquire three qualities and displeases Him that you acquire three characteristics. It pleases Him that you worship Him Alone and not associate anything or anyone with Him in worship, that you hold on to the Rope of Allah altogether and do not divide, and that you advise whoever Allah appoints as your Leader. The three that displease Him are that you say, `It was said,' and, `So-and-so said,' asking many unnecessary questions and wasting money.)
Allah said,
وَاذْكُرُواْ نِعْمَةَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ كُنتُم أَعْدَآءً فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ فَأَصْبَحْتُم بِنِعْمَتِهِ إِخْوَاناً
(and remember Allah's favor on you, for you were enemies one to another but He joined your hearts together, so that, by His grace, you became brethren) 3:103.
This was revealed about the Aws and Khazraj. During the time of Jahiliyyah, the Aws and Khazraj were at war and had great hatred, enmity and ill feelings towards each other, causing long conflicts and battles to occur between them. When Allah brought Islam, those among them who embraced it became brothers who loved each other by Allah's grace, having good ties for Allah's sake and helping each other in righteousness and piety. Allah said,
هُوَ الَّذِى أَيَّدَكَ بِنَصْرِهِ وَبِالْمُؤْمِنِينَوَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ لَوْ أَنفَقْتَ مَا فِى الاٌّرْضِ جَمِيعاً مَّآ أَلَّفْتَ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ وَلَـكِنَّ اللَّهَ أَلَّفَ بَيْنَهُمْ
(He it is Who has supported you with His Help and with the believers. And He has united their hearts. If you had spent all that is in the earth, you could not have united their hearts, but Allah has united them)8:62,63, until the end of the Ayah. Before Islam, their disbelief had them standing at the edge of a pit of the Fire, but Allah saved them from it and delivered them to faith. The Messenger of Allah ﷺ reminded the Ansar from both Aws and Khazraj of this bounty when he was dividing the war booty of Hunayn. During that time, some Ansar did not like the way the booty was divided, since they did not get what the others did, although that was what Allah directed His Prophet to do. The Messenger of Allah ﷺ gave them a speech, in which he said,
«يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ أَلَمْ أَجِدْكُمْ ضُلَّالًا فَهَدَاكُمُ اللهُ بِي، وَكُنْتُمْ مُتَفَرِّقِينَ فَأَلَّفَكُمُ اللهُ بِي، وَعَالَةً فَأَغْنَاكُمُ اللهُ بِي؟»
(O Ansar! Did I not find you misguided and Allah directed you to guidance because of me Were you not divided beforehand and Allah united you around me Were you not poor and Allah enriched you because of me)
Whenever the Prophet asked them a question, they would answer, "Indeed, Allah and His Messenger have granted us bounty."
اللہ تعالیٰ کی رسی قرآن حکیم ہے اللہ تعالیٰ سے پورا پورا ڈرنا یہ ہے کہ اس کی اطاعت کی جائے نافرمانی نہ کی جائے اس کا ذکر کیا جائے اور اس کی یاد نہ بھلائی جائے اس کا شکر کیا جائے کفر نہ کیا جائے، بعض روایتوں میں یہ تفسیر مرفوع بھی مروی ہے لیکن ٹھیک بات یہی ہے کہ یہ موقوف ہے یعنی حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کا قول ہے واللہ اعلم۔ حضرت انس کا فرمان ہے کہ انسان اللہ عزوجل سے ڈرنے کا حق نہیں بجا لاسکتا جب تک اپنی زبان کو محفوظ نہ رکھے، اکثر مفسرین نے کہا ہے کہ یہ آیت (فَاتَّقُوا اللّٰهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ وَاسْمَعُوْا وَاَطِيْعُوْا وَاَنْفِقُوْا خَيْرًا لِّاَنْفُسِكُمْ ۭ وَمَنْ يُّوْقَ شُحَّ نَفْسِهٖ فَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ) 64۔ التغابن :16) کی آیت سے منسوخ ہے اس دوسری آیت میں فرما دیا ہے کہ اپنی طاقت کے مطابق اس سے ڈرتے رہا کرو، حضرت ابن عباس فرماتے ہیں منسوخ نہیں بلکہ مطلب یہ ہے کہ اللہ کی راہ میں جہاد کرتے رہو اس کے کاموں میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کا خیال نہ کرو عدل پر جم جاؤ یہاں تک کہ خود اپنے نفس پر عدل کے احکام جاری کرو اپنے ماں باپ اور اپنی اولاد کے بارے میں بھی عدل و انصاف برتا کرو۔ پھر فرمایا کہ اسلام پر ہی مرنا یعنی تمام زندگی اس پر قائم رہنا تاکہ موت بھی اسی پر آئے، اس رب کریم کا اصول یہی ہے کہ انسان اپنی زندگی جیسی رکھے ویسی ہی اسے موت آتی ہے اور جیسی موت مرے اسی پر قیامت کے دن اٹھایا جاتا ہے واللہ تعالیٰ اللہ تعالیٰ کی ناپسند موت سے ہمیں اپنی پناہ میں رکھے آمین۔ مسند احمد میں ہے کہ لوگ بیت اللہ شریف کا طواف کر رہے تھے اور حضرت ابن عباس بھی وہاں تھے ان کے ہاتھ میں لکڑی تھی بیان فرمانے لگی کہ رسول اللہ ﷺ نے اس آیت کی تلاوت کی پھر فرمایا کہ اگر زقوم کا ایک قطرہ بھی دنیا میں گرا دیا جائے تو دنیا والوں کی ہر کھانے والی چیز خراب ہوجائے کوئی چیز کھا پی نہ سکیں پھر خیال کرو کہ ان جہنمیوں کا کیا حال ہوگا جن کا کھانا پینا ہی یہ زقوم ہوگا اور حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جو شخص جہنم سے الگ ہوتا اور جنت میں جانا چاہتا ہو اسے چاہئے کہ مرتے دم تک اللہ تعالیٰ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھے اور لوگوں سے وہ برتاؤ کرے جسے وہ خود اپنے لئے چاہتا ہو (مسند احمد) حضرت جابر ؓ فرماتے ہیں میں نے نبی ﷺ کی زبانی آپ کے انتقال کے تین روز پہلے سنا کہ دیکھو موت کے وقت اللہ تعالیٰ سے نیک گمان رکھنا (مسلم) رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ میرا بندہ میرے ساتھ جیسا گمان رکھے میں اس کے گمان کے پاس ہی ہوں اگر اس کا میرے ساتھ حسن ظن ہے تو میں اس کے ساتھ اچھائی کروں گا اور اگر وہ میرے ساتھ بدگمانی کرے گا تو میں اس سے اسی طرح پیش آؤں گا (مسند احمد) اس حدیث کا اگلا حصہ بخاری مسلم میں بھی ہے، مسند بزار میں ہے کہ ایک بیمار انصاری کی بیمار پرسی کے لئے آنحضرت ﷺ تشریف لے گئے اور سلام کر کے فرمانے لگے کہ کیسے مزاج ہیں ؟ اس نے کہا الحمد للہ اچھا ہوں رب کی رحمت کا امیدوار ہوں اور اس نے عذابوں سے ڈر رہا ہوں، آپ نے فرمایا سنو ایسے وقت جس دل میں خوف و طمع دونوں ہوں اللہ اس کی امید کی چیز اسے دیتا ہے اور ڈر خوف کی چیز سے بچاتا ہے، مسند احمد کی ایک حدیث میں ہے کہ حضرت حکیم بن حزام ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے بیعت کی اور کہا کہ میں کھڑے کھڑے ہی کروں، اس کا مطلب امام نسائی نے تو سنن نسائی میں باب باندھ کر یہ بیان کیا ہے کہ سجدے میں اس طرح جان چاہئے، اور یہ معنی بھی بیان کئے گئے ہیں کہ میں مسلمان ہوئے بغیر نہ مروں، اور یہ بھی مطلب بیان کیا گیا ہے کہ جہاد پیٹھ دکھاتا ہوا نہ مارا جاؤں۔ پھر فرمایا باہم اتفاق رکھو اختلاف سے بچو۔ حبل اللہ سے مراد عہد الہ ہے، جیسے الا یحبل من اللہ الخ، میں " حبل " سے مراد قرآن ہے، ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ قرآن اللہ کریم کی مضبوطی رسی ہے اور اس کی سیدھی راہ ہے، اور روایت میں ہے کہ کتاب اللہ اللہ تعالیٰ کی آسمان سے زمین کی طرف لٹکائی ہوئی رسی ہے، اور حدیث میں ہے کہ یہ قرآن اللہ سبحانہ کی مضبوط رسی ہے یہ ظاہر نور ہے، یہ سراسر شفا دینے والا اور نفع بخش ہے اس پر عمل کرنے والے کے لئے یہ بچاؤ ہے اس کی تابعداری کرنے والے کے لئے یہ نجات ہے۔ حضرت عبداللہ فرماتے ہیں ان راستوں میں تو شیاطین چل پھر رہے ہیں تم اللہ کے راستے پر آجاؤ تم اللہ کی رسی کو مضبوط تھام لو وہ رسی قرآن کریم ہے۔ اختلاف نہ کرو پھوٹ نہ ڈالو جدائی نہ کرو، علیحدگی سے بچو، صحیح مسلم میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں تین باتوں سے اللہ رحیم خوش ہوتا ہے اور تین باتوں سے ناخوش ہوتا ہے ایک تو یہ کہ اسی کے عبادت کرو اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو دوسرے اللہ کی رسی کو اتفاق سے پکڑو، تفرقہ نہ ڈالو، تیسرے مسلمان بادشاہوں کی خیر خواہی کرو، فضول بکواس، زیادتی سوال اور بربادی مال یہ تینوں چیزیں رب کی ناراضگی کا سبب ہیں، بہت سی روایتیں ایسی بھی ہیں جن میں سے کہ اتفاق کے وقت وہ خطا سے بچ جائیں گے اور بہت سی احادیث میں نااتفاقی سے ڈرایا بھی ہے، ان ہدایات کے باوجود امت میں اختلافات ہوئے اور تہتر فرقے ہوگئے جن میں سے ایک نجات پا کر جنتی ہوگا اور جہنم کے عذابوں سے بچ رہے گا اور یہ وہ لوگ ہیں جو اس پر قائم ہوں جس پر رسول اللہ ﷺ اور آپ کے اصحاب تھے۔ پھر اپنی نعمت یاد دلائی، جاہلیت کے زمانے میں اوس و خزرج کے درمیان بڑی لڑائیاں اور سخت عداوت تھی آپس میں برابر جنگ جاری رہتی تھی جب دونوں قبیلے اسلام لائے تو اللہ کریم کے فضل سے بالکل ایک ہوگئے سب حسد بغض جاتا رہا اور آپس میں بھائی بھائی بن گئے اور نیکی اور بھلائی کے کاموں میں ایک دوسرے کے مددگار اور اللہ تعالیٰ کے دین میں ایک دوسرے کے ساتھ متفق ہوگئے، جیسے اور جگہ ہے آیت (ۭهُوَ الَّذِيْٓ اَيَّدَكَ بِنَصْرِهٖ وَبِالْمُؤْمِنِيْنَ 62ۙ وَاَلَّفَ بَيْنَ قُلُوْبِهِمْ) 8۔ الانفال :62) وہ اللہ جس نے تیری تائید کی اپنی مدد کے ساتھ اور مومنوں کے ساتھ اور ان کے دلوں میں الفت ڈال دی۔ اپنا دوسرا احسان ذکر کرتا ہے کہ تم آگ کے کنارے پہنچ چکے تھے اور تمہارا کفر تمہیں اس میں دھکیل دیتا لیکن ہم نے تمہیں اسلام کی توفیق عطا فرما کر اس سے بھی الگ کرلیا، حنین کی فتح کے بعد جب مال غنیمت تقسیم کرتے ہوئے مصلحت دینی کے مطابقحضور ﷺ نے بعض لوگوں کو زیادہ مال دیا تو کسی شخص نے کچھ ایسے ہی نامناسب الفاظ زبان سے نکال دئیے جس پر حضور ﷺ نے جماعت انصار کو جمع کر کے ایک خطبہ پڑھا اس میں یہ بھی فرمایا تھا کہ اے جماعت انصار کیا تم گمراہ نہ تھے ؟ پھر اللہ تعالیٰ نے میری وجہ سے تمہیں ہدایت دی ؟ کیا تم متفرق نہ تھے پھر رب دو عالم نے میری وجہ سے تمہارے دلوں میں الفت ڈال دی کیا تم فقیر نہ تھے اللہ تعالیٰ نے تمہیں میری وجہ سے غنی کردیا ؟ ہر ہر سوال کے جواب میں یہ پاکباز، جماعت یہ اللہ والا گروہ کہتا جاتا تھا کہ ہم پر اللہ تعالیٰ اور رسول ﷺ کے احسان اور بھی بہت سے ہیں اور بہت بڑے بڑے ہیں، حضرت محمد بن اسحاق فرماتے ہیں کہ جب اوس و خزرج جیسے صدیوں کے آپس کے دشنوں کو یوں بھائی بھائی بنا ہوا دیکھا تو یہودیوں کی آنکھوں میں کانٹا کھٹکنے لگا انہوں نے آدمی مقرر کئے کہ وہ ان کی محفلوں اور مجلس میں جایا کریں اور اگلی لڑائیاں اور پرانی عداوتیں انہیں یاد دلائیں ان کے مقتولوں کی یاد تازہ کرائیں اور اس طرح انہیں بھڑکائیں۔ چناچہ ان کا یہ داؤ ایک مرتبہ چل بھی گیا اور دونوں قبیلوں میں پرانی آگ بھڑک اٹھی یہاں تک کہ تلواریں کھچ گئیں ٹھیک دو جماعتیں ہوگئیں اور وہی جاہلیت کے نعرے لگنے لگے ہتھیار سجنے لگے اور ایک دوسرے کے خون کے پیاسے بن گئے اور یہ ٹھہر گیا کہ حرہ کے میدان میں جا کر ان سے دل کھول کر لڑیں اور مردانگی کے جوہر دکھائیں پیاسی زمین کو اپنے خون سے سیراب کریں لیکنحضور ﷺ کو پتہ چل گیا آپ فوراً موقع پر تشریف لائے اور دونوں گروہ کو ٹھکڈا کیا اور فرمانے لگے پھر جاہلیت کے نعرے تم لگانے لگے میری موجودگی میں ہی تم نے پھر جنگ وجدال شروع کردیا ؟ پھر آپ نے یہی آیت پڑھ کر سنائی سب نادم ہوئے اور اپنی دو گھڑی پہلے کی حرکت پر افسوس کرنے لگے اور آپس میں نئے سرے سے معانقہ مصافحہ کیا اور پھر بھائیوں کی طرح گلے مل گئے ہتھیار ڈال دئیے اور صلح صفائی ہوگئی، حضرت عکرمہ ؒ فرماتے ہیں کہ یہ آیت اس وقت نازل ہوئی جب حضرت صدیقہ ؓ پر منافقوں نے تہمت لگائی تھی اور آپ کی برات نازل ہوئی تھی تب ایک دوسرے کے مقابلہ میں تن گئے تھے، فاللہ اعلم
103
View Single
وَٱعۡتَصِمُواْ بِحَبۡلِ ٱللَّهِ جَمِيعٗا وَلَا تَفَرَّقُواْۚ وَٱذۡكُرُواْ نِعۡمَتَ ٱللَّهِ عَلَيۡكُمۡ إِذۡ كُنتُمۡ أَعۡدَآءٗ فَأَلَّفَ بَيۡنَ قُلُوبِكُمۡ فَأَصۡبَحۡتُم بِنِعۡمَتِهِۦٓ إِخۡوَٰنٗا وَكُنتُمۡ عَلَىٰ شَفَا حُفۡرَةٖ مِّنَ ٱلنَّارِ فَأَنقَذَكُم مِّنۡهَاۗ كَذَٰلِكَ يُبَيِّنُ ٱللَّهُ لَكُمۡ ءَايَٰتِهِۦ لَعَلَّكُمۡ تَهۡتَدُونَ
And hold fast to the rope of Allah, all of you together, and do not be divided; and remember Allah’s favour on you, that when there was enmity between you, He created affection between your hearts, so due to His grace you became like brothers to each other; and you were on the edge of a pit of fire (hell), so He saved you from it; this is how Allah explains His verses to you, so that you may be guided.
اور تم سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ مت ڈالو، اور اپنے اوپر اللہ کی اس نعمت کو یاد کرو جب تم (ایک دوسرے کے) دشمن تھے تو اس نے تمہارے دلوں میں الفت پیدا کردی اور تم اس کی نعمت کے باعث آپس میں بھائی بھائی ہوگئے، اور تم (دوزخ کی) آگ کے گڑھے کے کنارے پر(پہنچ چکے) تھے پھر اس نے تمہیں اس گڑھے سے بچا لیا، یوں ہی اللہ تمہارے لئے اپنی نشانیاں کھول کر بیان فرماتا ہے تاکہ تم ہدایت پا جاؤ
Tafsir Ibn Kathir
Meaning of `Taqwa of Allah
Ibn Abi Hatim recorded that `Abdullah bin Mas`ud commented on the Ayah,
اتَّقُواْ اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ
(Have Taqwa of Allah as is His due,)
"That He is obeyed and not defied, remembered and not forgotten and appreciated and not unappreciated." This has an authentic chain of narration to `Abdullah bin Mas`ud. Al-Hakim collected this Hadith in his Mustadrak, from Ibn Mas`ud, who related it to the Prophet . Al-Hakim said, "It is authentic according to the criteria of the Two Shaykhs Al-Bukhari and Muslim, and they did not record it." This is what he said, but it appears that it is only a statement of `Abdullah bin Mas`ud, and Allah knows best. It was also reported that Anas said, "The servant will not have Taqwa of Allah as is His due until he keeps his tongue idle." Allah's statement,
وَلاَ تَمُوتُنَّ إِلاَّ وَأَنتُم مُّسْلِمُونَ
(and die not except as (true) Muslims) 3:102, means, preserve your Islam while you are well and safe, so that you die as a Muslim. The Most Generous Allah has made it His decision that whatever state one lives in, that is what he dies upon and is resurrected upon. We seek refuge from dying on other than Islam.
Imam Ahmad recorded that Mujahid said, "The people were circling around the Sacred House when Ibn `Abbas was sitting, holding a bent-handled walking stick. Ibn `Abbas said, The Messenger of Allah ﷺ recited,
يأَيُّهَا الَّذِينَ ءَامَنُواْ اتَّقُواْ اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلاَ تَمُوتُنَّ إِلاَّ وَأَنتُم مُّسْلِمُونَ
(Have Taqwa of Allah as is His due, die not except as (true) Muslims.) 3:102, then he said;
«وَلَوْ أَنَّ قَطْرَةً مِنَ الزَّقُّومِ قُطِرَتْ لَأَمَرَّتْ عَلى أَهْلِ الْأرْضِ عِيشَتَهُمْ، فَكَيْفَ بِمَنْ لَيْسَ لَهُ طَعَامٌ إِلَّا الزَّقُّومُ؟»
(Verily, if a drop of Zaqqum (a tree in Hell) falls, it will spoil life for the people of earth. What about those whose food is only from Zaqqum)"
This was recorded by At-Tirmidhi, An-Nasa'i, Ibn Majah, Ibn Hibban in his Sahih and Al-Hakim his Mustadrak. At-Tirmidhi said, "Hasan Sahih"' while Al-Hakim said; "It meets the conditions of the Two Sahihs and they did not record it."
Imam Ahmad recorded that Jabir said that three nights before the Messenger of Allah ﷺ died he heard him saying;
«لَا يَمُوتَنَّ أَحَدُكُمْ إِلَّا وَهُوَ يُحْسِنُ الظَّنَّ بِاللهِ عَزَّ وَجَل»
(None of you should die except while having sincere trust in Allah, the Exalted and Most Honorable.) Muslim also recorded it. The Two Sahihs record that Abu Hurayrah said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«يَقُولُ اللهُ: أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي»
(Allah said, "I am as My servant thinks of Me.")
The Necessity of Holding to the Path of Allah and the Community of the Believers
Allah said next,
وَاعْتَصِمُواْ بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعاً وَلاَ تَفَرَّقُواْ
(And hold fast, all of you together, to the Rope of Allah, and be not divided among yourselves.) It was said that,
بِحَبْلِ اللَّهِ
(to the Rope of Allah) refers to Allah's covenant, just as Allah said in the following Ayah,
ضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الذِّلَّةُ أَيْنَ مَا ثُقِفُواْ إِلاَّ بِحَبْلٍ مِّنْ اللَّهِ وَحَبْلٍ مِّنَ النَّاسِ
(Indignity is put over them wherever they may be, except when under a covenant (of protection) from Allah, and from men;) 3:112, in reference to pledges and peace treaties.
Allah's statement
وَلاَ تَفَرَّقُواْ
(and be not divided among yourselves), orders sticking to the community of the believers and forbids division. There are several Hadiths that require adhering to the Jama`ah (congregation of believers) and prohibit division. Muslim recorded that Abu Hurayrah said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«إِنَّ اللهَ يَرْضَى لَكُمْ ثَلَاثًا، وَيَسْخَطُ لَكُمْ ثَلَاثًا: يَرْضَى لَكُمْ أَنْ تَعْبُدُوهُ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا، وَأَنْ تَعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا،وَأَنْ تَنَاصَحُوا مَنْ وَلَّاهُ اللهُ أَمْرَكُمْ. وَيَسْخَطُ لَكُمْ ثَلَاثًا: قِيلَ وَقَالَ، وَكَثْرَةَ السُّؤَالِ، وَإِضَاعَةَ الْمَال»
(It pleases Allah for you to acquire three qualities and displeases Him that you acquire three characteristics. It pleases Him that you worship Him Alone and not associate anything or anyone with Him in worship, that you hold on to the Rope of Allah altogether and do not divide, and that you advise whoever Allah appoints as your Leader. The three that displease Him are that you say, `It was said,' and, `So-and-so said,' asking many unnecessary questions and wasting money.)
Allah said,
وَاذْكُرُواْ نِعْمَةَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ كُنتُم أَعْدَآءً فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ فَأَصْبَحْتُم بِنِعْمَتِهِ إِخْوَاناً
(and remember Allah's favor on you, for you were enemies one to another but He joined your hearts together, so that, by His grace, you became brethren) 3:103.
This was revealed about the Aws and Khazraj. During the time of Jahiliyyah, the Aws and Khazraj were at war and had great hatred, enmity and ill feelings towards each other, causing long conflicts and battles to occur between them. When Allah brought Islam, those among them who embraced it became brothers who loved each other by Allah's grace, having good ties for Allah's sake and helping each other in righteousness and piety. Allah said,
هُوَ الَّذِى أَيَّدَكَ بِنَصْرِهِ وَبِالْمُؤْمِنِينَوَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ لَوْ أَنفَقْتَ مَا فِى الاٌّرْضِ جَمِيعاً مَّآ أَلَّفْتَ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ وَلَـكِنَّ اللَّهَ أَلَّفَ بَيْنَهُمْ
(He it is Who has supported you with His Help and with the believers. And He has united their hearts. If you had spent all that is in the earth, you could not have united their hearts, but Allah has united them)8:62,63, until the end of the Ayah. Before Islam, their disbelief had them standing at the edge of a pit of the Fire, but Allah saved them from it and delivered them to faith. The Messenger of Allah ﷺ reminded the Ansar from both Aws and Khazraj of this bounty when he was dividing the war booty of Hunayn. During that time, some Ansar did not like the way the booty was divided, since they did not get what the others did, although that was what Allah directed His Prophet to do. The Messenger of Allah ﷺ gave them a speech, in which he said,
«يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ أَلَمْ أَجِدْكُمْ ضُلَّالًا فَهَدَاكُمُ اللهُ بِي، وَكُنْتُمْ مُتَفَرِّقِينَ فَأَلَّفَكُمُ اللهُ بِي، وَعَالَةً فَأَغْنَاكُمُ اللهُ بِي؟»
(O Ansar! Did I not find you misguided and Allah directed you to guidance because of me Were you not divided beforehand and Allah united you around me Were you not poor and Allah enriched you because of me)
Whenever the Prophet asked them a question, they would answer, "Indeed, Allah and His Messenger have granted us bounty."
اللہ تعالیٰ کی رسی قرآن حکیم ہے اللہ تعالیٰ سے پورا پورا ڈرنا یہ ہے کہ اس کی اطاعت کی جائے نافرمانی نہ کی جائے اس کا ذکر کیا جائے اور اس کی یاد نہ بھلائی جائے اس کا شکر کیا جائے کفر نہ کیا جائے، بعض روایتوں میں یہ تفسیر مرفوع بھی مروی ہے لیکن ٹھیک بات یہی ہے کہ یہ موقوف ہے یعنی حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کا قول ہے واللہ اعلم۔ حضرت انس کا فرمان ہے کہ انسان اللہ عزوجل سے ڈرنے کا حق نہیں بجا لاسکتا جب تک اپنی زبان کو محفوظ نہ رکھے، اکثر مفسرین نے کہا ہے کہ یہ آیت (فَاتَّقُوا اللّٰهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ وَاسْمَعُوْا وَاَطِيْعُوْا وَاَنْفِقُوْا خَيْرًا لِّاَنْفُسِكُمْ ۭ وَمَنْ يُّوْقَ شُحَّ نَفْسِهٖ فَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ) 64۔ التغابن :16) کی آیت سے منسوخ ہے اس دوسری آیت میں فرما دیا ہے کہ اپنی طاقت کے مطابق اس سے ڈرتے رہا کرو، حضرت ابن عباس فرماتے ہیں منسوخ نہیں بلکہ مطلب یہ ہے کہ اللہ کی راہ میں جہاد کرتے رہو اس کے کاموں میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کا خیال نہ کرو عدل پر جم جاؤ یہاں تک کہ خود اپنے نفس پر عدل کے احکام جاری کرو اپنے ماں باپ اور اپنی اولاد کے بارے میں بھی عدل و انصاف برتا کرو۔ پھر فرمایا کہ اسلام پر ہی مرنا یعنی تمام زندگی اس پر قائم رہنا تاکہ موت بھی اسی پر آئے، اس رب کریم کا اصول یہی ہے کہ انسان اپنی زندگی جیسی رکھے ویسی ہی اسے موت آتی ہے اور جیسی موت مرے اسی پر قیامت کے دن اٹھایا جاتا ہے واللہ تعالیٰ اللہ تعالیٰ کی ناپسند موت سے ہمیں اپنی پناہ میں رکھے آمین۔ مسند احمد میں ہے کہ لوگ بیت اللہ شریف کا طواف کر رہے تھے اور حضرت ابن عباس بھی وہاں تھے ان کے ہاتھ میں لکڑی تھی بیان فرمانے لگی کہ رسول اللہ ﷺ نے اس آیت کی تلاوت کی پھر فرمایا کہ اگر زقوم کا ایک قطرہ بھی دنیا میں گرا دیا جائے تو دنیا والوں کی ہر کھانے والی چیز خراب ہوجائے کوئی چیز کھا پی نہ سکیں پھر خیال کرو کہ ان جہنمیوں کا کیا حال ہوگا جن کا کھانا پینا ہی یہ زقوم ہوگا اور حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جو شخص جہنم سے الگ ہوتا اور جنت میں جانا چاہتا ہو اسے چاہئے کہ مرتے دم تک اللہ تعالیٰ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھے اور لوگوں سے وہ برتاؤ کرے جسے وہ خود اپنے لئے چاہتا ہو (مسند احمد) حضرت جابر ؓ فرماتے ہیں میں نے نبی ﷺ کی زبانی آپ کے انتقال کے تین روز پہلے سنا کہ دیکھو موت کے وقت اللہ تعالیٰ سے نیک گمان رکھنا (مسلم) رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ میرا بندہ میرے ساتھ جیسا گمان رکھے میں اس کے گمان کے پاس ہی ہوں اگر اس کا میرے ساتھ حسن ظن ہے تو میں اس کے ساتھ اچھائی کروں گا اور اگر وہ میرے ساتھ بدگمانی کرے گا تو میں اس سے اسی طرح پیش آؤں گا (مسند احمد) اس حدیث کا اگلا حصہ بخاری مسلم میں بھی ہے، مسند بزار میں ہے کہ ایک بیمار انصاری کی بیمار پرسی کے لئے آنحضرت ﷺ تشریف لے گئے اور سلام کر کے فرمانے لگے کہ کیسے مزاج ہیں ؟ اس نے کہا الحمد للہ اچھا ہوں رب کی رحمت کا امیدوار ہوں اور اس نے عذابوں سے ڈر رہا ہوں، آپ نے فرمایا سنو ایسے وقت جس دل میں خوف و طمع دونوں ہوں اللہ اس کی امید کی چیز اسے دیتا ہے اور ڈر خوف کی چیز سے بچاتا ہے، مسند احمد کی ایک حدیث میں ہے کہ حضرت حکیم بن حزام ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے بیعت کی اور کہا کہ میں کھڑے کھڑے ہی کروں، اس کا مطلب امام نسائی نے تو سنن نسائی میں باب باندھ کر یہ بیان کیا ہے کہ سجدے میں اس طرح جان چاہئے، اور یہ معنی بھی بیان کئے گئے ہیں کہ میں مسلمان ہوئے بغیر نہ مروں، اور یہ بھی مطلب بیان کیا گیا ہے کہ جہاد پیٹھ دکھاتا ہوا نہ مارا جاؤں۔ پھر فرمایا باہم اتفاق رکھو اختلاف سے بچو۔ حبل اللہ سے مراد عہد الہ ہے، جیسے الا یحبل من اللہ الخ، میں " حبل " سے مراد قرآن ہے، ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ قرآن اللہ کریم کی مضبوطی رسی ہے اور اس کی سیدھی راہ ہے، اور روایت میں ہے کہ کتاب اللہ اللہ تعالیٰ کی آسمان سے زمین کی طرف لٹکائی ہوئی رسی ہے، اور حدیث میں ہے کہ یہ قرآن اللہ سبحانہ کی مضبوط رسی ہے یہ ظاہر نور ہے، یہ سراسر شفا دینے والا اور نفع بخش ہے اس پر عمل کرنے والے کے لئے یہ بچاؤ ہے اس کی تابعداری کرنے والے کے لئے یہ نجات ہے۔ حضرت عبداللہ فرماتے ہیں ان راستوں میں تو شیاطین چل پھر رہے ہیں تم اللہ کے راستے پر آجاؤ تم اللہ کی رسی کو مضبوط تھام لو وہ رسی قرآن کریم ہے۔ اختلاف نہ کرو پھوٹ نہ ڈالو جدائی نہ کرو، علیحدگی سے بچو، صحیح مسلم میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں تین باتوں سے اللہ رحیم خوش ہوتا ہے اور تین باتوں سے ناخوش ہوتا ہے ایک تو یہ کہ اسی کے عبادت کرو اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو دوسرے اللہ کی رسی کو اتفاق سے پکڑو، تفرقہ نہ ڈالو، تیسرے مسلمان بادشاہوں کی خیر خواہی کرو، فضول بکواس، زیادتی سوال اور بربادی مال یہ تینوں چیزیں رب کی ناراضگی کا سبب ہیں، بہت سی روایتیں ایسی بھی ہیں جن میں سے کہ اتفاق کے وقت وہ خطا سے بچ جائیں گے اور بہت سی احادیث میں نااتفاقی سے ڈرایا بھی ہے، ان ہدایات کے باوجود امت میں اختلافات ہوئے اور تہتر فرقے ہوگئے جن میں سے ایک نجات پا کر جنتی ہوگا اور جہنم کے عذابوں سے بچ رہے گا اور یہ وہ لوگ ہیں جو اس پر قائم ہوں جس پر رسول اللہ ﷺ اور آپ کے اصحاب تھے۔ پھر اپنی نعمت یاد دلائی، جاہلیت کے زمانے میں اوس و خزرج کے درمیان بڑی لڑائیاں اور سخت عداوت تھی آپس میں برابر جنگ جاری رہتی تھی جب دونوں قبیلے اسلام لائے تو اللہ کریم کے فضل سے بالکل ایک ہوگئے سب حسد بغض جاتا رہا اور آپس میں بھائی بھائی بن گئے اور نیکی اور بھلائی کے کاموں میں ایک دوسرے کے مددگار اور اللہ تعالیٰ کے دین میں ایک دوسرے کے ساتھ متفق ہوگئے، جیسے اور جگہ ہے آیت (ۭهُوَ الَّذِيْٓ اَيَّدَكَ بِنَصْرِهٖ وَبِالْمُؤْمِنِيْنَ 62ۙ وَاَلَّفَ بَيْنَ قُلُوْبِهِمْ) 8۔ الانفال :62) وہ اللہ جس نے تیری تائید کی اپنی مدد کے ساتھ اور مومنوں کے ساتھ اور ان کے دلوں میں الفت ڈال دی۔ اپنا دوسرا احسان ذکر کرتا ہے کہ تم آگ کے کنارے پہنچ چکے تھے اور تمہارا کفر تمہیں اس میں دھکیل دیتا لیکن ہم نے تمہیں اسلام کی توفیق عطا فرما کر اس سے بھی الگ کرلیا، حنین کی فتح کے بعد جب مال غنیمت تقسیم کرتے ہوئے مصلحت دینی کے مطابقحضور ﷺ نے بعض لوگوں کو زیادہ مال دیا تو کسی شخص نے کچھ ایسے ہی نامناسب الفاظ زبان سے نکال دئیے جس پر حضور ﷺ نے جماعت انصار کو جمع کر کے ایک خطبہ پڑھا اس میں یہ بھی فرمایا تھا کہ اے جماعت انصار کیا تم گمراہ نہ تھے ؟ پھر اللہ تعالیٰ نے میری وجہ سے تمہیں ہدایت دی ؟ کیا تم متفرق نہ تھے پھر رب دو عالم نے میری وجہ سے تمہارے دلوں میں الفت ڈال دی کیا تم فقیر نہ تھے اللہ تعالیٰ نے تمہیں میری وجہ سے غنی کردیا ؟ ہر ہر سوال کے جواب میں یہ پاکباز، جماعت یہ اللہ والا گروہ کہتا جاتا تھا کہ ہم پر اللہ تعالیٰ اور رسول ﷺ کے احسان اور بھی بہت سے ہیں اور بہت بڑے بڑے ہیں، حضرت محمد بن اسحاق فرماتے ہیں کہ جب اوس و خزرج جیسے صدیوں کے آپس کے دشنوں کو یوں بھائی بھائی بنا ہوا دیکھا تو یہودیوں کی آنکھوں میں کانٹا کھٹکنے لگا انہوں نے آدمی مقرر کئے کہ وہ ان کی محفلوں اور مجلس میں جایا کریں اور اگلی لڑائیاں اور پرانی عداوتیں انہیں یاد دلائیں ان کے مقتولوں کی یاد تازہ کرائیں اور اس طرح انہیں بھڑکائیں۔ چناچہ ان کا یہ داؤ ایک مرتبہ چل بھی گیا اور دونوں قبیلوں میں پرانی آگ بھڑک اٹھی یہاں تک کہ تلواریں کھچ گئیں ٹھیک دو جماعتیں ہوگئیں اور وہی جاہلیت کے نعرے لگنے لگے ہتھیار سجنے لگے اور ایک دوسرے کے خون کے پیاسے بن گئے اور یہ ٹھہر گیا کہ حرہ کے میدان میں جا کر ان سے دل کھول کر لڑیں اور مردانگی کے جوہر دکھائیں پیاسی زمین کو اپنے خون سے سیراب کریں لیکنحضور ﷺ کو پتہ چل گیا آپ فوراً موقع پر تشریف لائے اور دونوں گروہ کو ٹھکڈا کیا اور فرمانے لگے پھر جاہلیت کے نعرے تم لگانے لگے میری موجودگی میں ہی تم نے پھر جنگ وجدال شروع کردیا ؟ پھر آپ نے یہی آیت پڑھ کر سنائی سب نادم ہوئے اور اپنی دو گھڑی پہلے کی حرکت پر افسوس کرنے لگے اور آپس میں نئے سرے سے معانقہ مصافحہ کیا اور پھر بھائیوں کی طرح گلے مل گئے ہتھیار ڈال دئیے اور صلح صفائی ہوگئی، حضرت عکرمہ ؒ فرماتے ہیں کہ یہ آیت اس وقت نازل ہوئی جب حضرت صدیقہ ؓ پر منافقوں نے تہمت لگائی تھی اور آپ کی برات نازل ہوئی تھی تب ایک دوسرے کے مقابلہ میں تن گئے تھے، فاللہ اعلم
104
View Single
وَلۡتَكُن مِّنكُمۡ أُمَّةٞ يَدۡعُونَ إِلَى ٱلۡخَيۡرِ وَيَأۡمُرُونَ بِٱلۡمَعۡرُوفِ وَيَنۡهَوۡنَ عَنِ ٱلۡمُنكَرِۚ وَأُوْلَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡمُفۡلِحُونَ
And there should be a group among you that invites to goodness, and enjoins good deeds and forbids immorality; it is they who are the successful.
اور تم میں سے ایسے لوگوں کی ایک جماعت ضرور ہونی چاہئے جو لوگوں کو نیکی کی طرف بلائیں اور بھلائی کا حکم دیں اور برائی سے روکیں، اور وہی لوگ بامراد ہیں
Tafsir Ibn Kathir
The Command to Establish the Invitation to Allah
Allah said,
وَلْتَكُن مِّنْكُمْ أُمَّةٌ
(Let there arise out of you a group of people)
that calls to righteousness, enjoins all that is good and forbids evil in the manner Allah commanded,
وَأُوْلَـئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ
(And it is they who are the successful.)
Ad-Dahhak said, "They are a special group of the Companions and a special group of those after them, that is those who perform Jihad and the scholars."
The objective of this Ayah is that there should be a segment of this Muslim Ummah fulfilling this task, even though it is also an obligation on every member of this Ummah, each according to his ability. Muslim recorded that Abu Hurayrah said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«مَنْ رَأَى مِنْكُمْ مُنْكَرًا فَلْيُغَيِّرْهُ بِيَدِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِع فَبِقَلْبِهِ، وَذلِكَ أَضْعَفُ الْإِيمَان»
(Whoever among you witnesses an evil, let him change it with his hand. If he is unable, then let him change it with his tongue. If he is unable, then let him change it with his heart, and this is the weakest faith.) In another narration, The Prophet said,
«وَلَيْسَ وَرَاءَ ذَلِكَ مِنَ الْإِيمَانِ حَبَّةُ خَرْدَل»
(There is no faith beyond that, not even the weight of a mustard seed.)
Imam Ahmad recorded that Hudhayfah bin Al-Yaman said that the Prophet said,
«وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِه، لَتَأْمُرُنَّ بِالْمَعْرُوفِ، وَلَتَنْهَوُنَّ عَنِ الْمُنْكَرِ، أَوْ لَيُوشِكَنَّ اللهُ أَنْ يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عِقَابًا مِنْ عِنْدِهِ، ثُمَّ لتَدْعُنَّــهُ فَلَا يَسْتَجِيبَ لَكُم»
(By He in Whose Hand is my soul! You will enjoin righteousness and forbid evil, or Allah shall send down a punishment from Him to you. Then, you will supplicate to Him, but He will not accept your supplication.)
At-Tirmidhi also collected this Hadith and said, "Hasan". There are many other Hadiths and Ayat on this subject, which will be explained later.
The Prohibition of Division
Allah said,
وَلاَ تَكُونُواْ كَالَّذِينَ تَفَرَّقُواْ وَاخْتَلَفُواْ مِن بَعْدِ مَا جَآءَهُمُ الْبَيِّنَـتُ
(And be not as those who divided and differed among themselves after the clear proofs had come to them) 3:105.
In this Ayah, Allah forbids this Ummah from imitating the division and discord of the nations that came before them. These nations also abandoned enjoining righteousness and forbidding evil, although they had proof of its necessity.
Imam Ahmad recorded that Abu `Amir `Abdullah bin Luhay said, "We performed Hajj with Mu`awiyah bin Abi Sufyan. When we arrived at Makkah, he stood up after praying Zuhr and said, `The Messenger of Allah ﷺ said,
«إِنَّ أَهْلَ الْكِتَابَيْنِ افْتَرَقُوا فِي دِينِهِمْ عَلى ثِنْتَيْنِ وَسَبْعِينَ مِلَّةً، وَإِنَّ هذِهِ الْأُمَّةَ سَتَفْتَرِقُ عَلى ثَلَاثٍ وَسَبْعِينَ مِلَّةً يَعْنِي الْأَهْوَاءَ كُلُّهَا فِي النَّارِ إِلَّا وَاحِدَةً وَهِيَ الْجَمَاعَةُ وَإِنَّهُ سَيَخْرُجُ فِي أُمَّتِي أَقْوَامٌ تَجَارَى بِهِمْ تِلْكَ الْأَهْوَاءُ كَمَا يَتَجَارَى الْكَلَبُ بِصَاحِبِه، لَا يَبْقَى مِنْهُ عِرْقٌ وَلَا مَفْصِلٌ إِلَّا دَخَلَه»
(The People of the Two Scriptures divided into seventy-two sects. This Ummah will divide into seventy-three sects, all in the Fire except one, that is, the Jama`ah. Some of my Ummah will be guided by desire, like one who is infected by rabies; no vein or joint will be saved from these desires.)
Mu`awiyah said next: By Allah, O Arabs! If you do not adhere to what came to you from your Prophet then other people are even more prone not to adhere to it. " Similar was recorded by Abu Dawud from Ahmad bin Hanbal and Muhammad bin Yahya.
The Benefits of Brotherly Ties and Unity and the Consequence of Division on the Day of the Gatherin
Allah said next,
يَوْمَ تَبْيَضُّ وُجُوهٌ وَتَسْوَدُّ وُجُوهٌ
(On the Day when some faces will become white and some faces will become black;) 3:106 on the Day of Resurrection. This is when the faces of followers of the Sunnah and the Jama`ah will radiate with whiteness, and the faces of followers of Bid`ah (innovation) and division will be darkened, as has been reported from Ibn `Abbas. Allah said,
فَأَمَّا الَّذِينَ اسْوَدَّتْ وُجُوهُهُمْ أَكْفَرْتُمْ بَعْدَ إِيمَـنِكُمْ
(As for those whose faces will become black (to them will be said): "Did you reject faith after accepting it")
Al-Hasan Al-Basri said, "They are the hypocrites."
فَذُوقُواْ الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُونَ
(Then taste the torment (in Hell) for rejecting faith,) and this description befits every disbeliever.
وَأَمَّا الَّذِينَ ابْيَضَّتْ وُجُوهُهُمْ فَفِى رَحْمَةِ اللَّهِ هُمْ فِيهَا خَـلِدُونَ
(And for those whose faces will become white, they will be in Allah's mercy (Paradise), therein they shall dwell forever.) in Paradise, where they will reside for eternity and shall never desire to be removed. Abu `Isa At-Tirmidhi recorded that Abu Ghalib said, "Abu Umamah saw heads (of the Khawarij sect) hanging on the streets of Damascus. He commented, `The Dogs of the Fire and the worst dead people under the cover of the sky. The best dead men are those whom these have killed.' He then recited,
يَوْمَ تَبْيَضُّ وُجُوهٌ وَتَسْوَدُّ وُجُوهٌ
(On the Day (i.e. the Day of Resurrection) when some faces will become white and some faces will become black;) until the end of the Ayah. I said to Abu Umamah, `Did you hear this from the Messenger of Allah ﷺ' He said, `If I only heard it from the Messenger of Allah ﷺ once, twice, thrice, four times, or seven times, I would not have narrated it to you.' " At-Tirmidhi said, "This Hadith is Hasan." Ibn Majah and Ahmad recorded similarly.
Allah said,
تِلْكَ آيَـتُ اللَّهِ نَتْلُوهَا عَلَيْكَ
(These are the Ayat of Allah. We recite them to you) meaning, `These are the verses of Allah, His proofs and signs that We reveal to you, O Muhammad,'
بِالْحَقِّ
(in truth) making known the true reality of this world and the Hereafter.
وَمَا اللَّهُ يُرِيدُ ظُلْماً لِّلْعَـلَمِينَ
(and Allah wills no injustice to the `Alamin. ) for He never treats them with injustice. Rather, He is the Just Ruler Who is able to do everything and has knowledge of everything. Therefore, He does not need to treat any of His creatures with injustice, and this is why He said next,
وَللَّهِ مَا فِى السَّمَـوَتِ وَمَا فِى الاٌّرْضِ
(and to Allah belongs all that is in the heavens and all that is in the Earth.),
they are all His servants and His property,
وَإِلَى اللَّهِ تُرْجَعُ الأُمُورُ
(And all matters go back to Allah,) for His is the decision concerning the affairs of this life and the Hereafter, and His is the Supreme Authority in this life and the Hereafter.
یوم آخرت منافق اور مومن کی پہچان حضرت ضحاک فرماتے ہیں اس جماعت سے مراد خاص صحابہ اور خاص راویان حدیث ہیں یعنی مجاہد اور علماء امام ابو جعفر باقر ؒ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اس آیت کی تلاوت کی پھر فرمایا صبر سے مراد قرآن و حدیث کی اتباع ہے، یاد رہے کہ ہر ہر متنفس پر تبلیغ حق فرض ہے لیکن تاہم ایک جماعت تو خاص اسی کام میں مشغول رہنی چاہئے، رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں تم میں سے جو کوئی کسی برائی کو دیکھے اسے ہاتھ سے دفع کر دے اگر اس کی طاقت نہ ہو تو زبان سے روکے اگر یہ بھی نہ کرسکتا ہو تو اپنے دل سے نفرت کرے یہ ضعیف ایمان ہے، ایک اور روایت میں اس کے بعد یہ بھی ہے کہ اس کے بعد رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان نہیں، (صحیح مسلم) مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تم اچھائی کا حکم اور برائیوں سے مخالفت کرتے رہو ورنہ عنقریب اللہ تعالیٰ تم پر اپنا عذاب نازل فرما دے گا پھر تم دعائیں کرو گے لیکن قبول نہ ہوں گی۔ اس مضمون کی اور بھی بہت سی حدیثیں ہیں جو کسی اور مقام پر ذکر کی جائیں گی انشاء اللہ تعالیٰ۔ پھر فرماتا ہے کہ تم سابقہ لوگوں کی طرح افتراق و اختلاف نہ کرنا تم نیک باتوں کا حکم اور خلاف شرع باتوں سے روکنا نہ چھوڑنا، مسند احمد میں ہے حضرت معاویہ بن ابو سفیان ؓ حج کیلئے جب مکہ شریف میں آئے تو ظہر کی نماز کے بعد کھڑے ہو کر فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے اہل کتاب اپنے دین میں اختلاف کر کے بہتر گروہ بن گئے اور اس میری امت کے تہتر فرقے ہوجائیں گے خواہشات نفسانی اور خوش فہمی میں ہوں گے بلکہ میری امت میں ایسے لوگ بھی ہوں گے جن کی رگ رگ میں نفسانی خواہشیں اس طرح گھس جائیں گی جس طرح کتے کے کاٹے ہوئے انسان کی ایک ایک رگ اور ایک ایک جوڑ میں اس کا اثر پہنچ جاتا ہے اے عرب کے لوگو اگر تم ہی اپنے نبی کی لائی ہوئی چیز پر قائم نہ رہو گے تو اور لوگ تو بہت دور ہوجائیں گے۔ اس حدیث کی بہت سی سندیں ہیں پھر فرمایا اس دن سفید چہرے اور سیاہ منہ بھی ہونگے۔ ابن عباس کا فرمان ہے کہ اہل سنت والجماعت کے منہ سفید اور نورانی ہونگے مگر اہل بدعت و منافقت کے کالے منہ ہونگے، حسن بصری فرماتے ہیں یہ کالے منہ والے منافق ہونگے جن سے کہا جائے گا کہ تم نے ایمان کے بعد کفر کیوں کیا اب اس کا مزہ چکھو۔ اور سفید منہ والے اللہ رحیم و کریم کی رحمت میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ حضرت ابو امامہ ؓ نے جب خارجیوں کے سر دمشق کی مسجد کے زینوں پر لٹکے ہوئے دیکھے تو فرمانے لگے یہ جہنم کے کتے ہیں ان سے بدر مقتول روئے زمین پر کوئی نہیں انہیں قتل کرنے والے بہترین مجاہدین پھر آیت (يَّوْمَ تَبْيَضُّ وُجُوْهٌ وَّتَسْوَدُّ وُجُوْهٌ) 3۔ آل عمران :106) تلاوت فرمائی، ابو غالب نے کہا کہ جناب نے رسول اللہ ﷺ سے یہ سنا ہے ؟ فرمایا ایک دو دفعہ نہیں بلکہ سات مرتبہ اگر ایسا نہ ہوتا تو میں اپنی زبان سے یہ الفاظ نکالتا ہی نہیں، ابن مردویہ نے یہاں حضرت ابوذر کی روایت سے ایک لمبی حدیث نقل کی ہے جو بہت ہی عجیب ہے لیکن سنداً غریب ہے۔ دنیا اور آخرت کی یہ باتیں ہم تم پر اے نبی کھول رہے ہیں اللہ عادل حاکم ہے وہ ظالم نہیں اور ہر چیز کو آپ خوب جانتا ہے اور ہر چیز پر قدرت بھی رکھتا ہے پھر ناممکن ہے کہ وہ کسی پر ظلم کرے (جن کے کالے منہ ہوئے وہ اسی لائق تھے) زمین اور آسمان کی کل چیزیں اس کی ملکیت میں ہیں اور اسی کی غلامی میں اور ہر کام کا آخری حکم اسی کی طرف ہے متصرف اور با اختیار حکم دنیا اور آخرت کا مالک وہی ہے۔
105
View Single
وَلَا تَكُونُواْ كَٱلَّذِينَ تَفَرَّقُواْ وَٱخۡتَلَفُواْ مِنۢ بَعۡدِ مَا جَآءَهُمُ ٱلۡبَيِّنَٰتُۚ وَأُوْلَـٰٓئِكَ لَهُمۡ عَذَابٌ عَظِيمٞ
And do not be like those who became divided and disputed after the clear signs had come to them; and for them is a terrible punishment.
اور ان لوگوں کی طرح نہ ہو جانا جو فرقوں میں بٹ گئے تھے اور جب ان کے پاس واضح نشانیاں آچکیں اس کے بعد بھی اختلاف کرنے لگے، اور انہی لوگوں کے لئے سخت عذاب ہے
Tafsir Ibn Kathir
The Command to Establish the Invitation to Allah
Allah said,
وَلْتَكُن مِّنْكُمْ أُمَّةٌ
(Let there arise out of you a group of people)
that calls to righteousness, enjoins all that is good and forbids evil in the manner Allah commanded,
وَأُوْلَـئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ
(And it is they who are the successful.)
Ad-Dahhak said, "They are a special group of the Companions and a special group of those after them, that is those who perform Jihad and the scholars."
The objective of this Ayah is that there should be a segment of this Muslim Ummah fulfilling this task, even though it is also an obligation on every member of this Ummah, each according to his ability. Muslim recorded that Abu Hurayrah said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«مَنْ رَأَى مِنْكُمْ مُنْكَرًا فَلْيُغَيِّرْهُ بِيَدِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِع فَبِقَلْبِهِ، وَذلِكَ أَضْعَفُ الْإِيمَان»
(Whoever among you witnesses an evil, let him change it with his hand. If he is unable, then let him change it with his tongue. If he is unable, then let him change it with his heart, and this is the weakest faith.) In another narration, The Prophet said,
«وَلَيْسَ وَرَاءَ ذَلِكَ مِنَ الْإِيمَانِ حَبَّةُ خَرْدَل»
(There is no faith beyond that, not even the weight of a mustard seed.)
Imam Ahmad recorded that Hudhayfah bin Al-Yaman said that the Prophet said,
«وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِه، لَتَأْمُرُنَّ بِالْمَعْرُوفِ، وَلَتَنْهَوُنَّ عَنِ الْمُنْكَرِ، أَوْ لَيُوشِكَنَّ اللهُ أَنْ يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عِقَابًا مِنْ عِنْدِهِ، ثُمَّ لتَدْعُنَّــهُ فَلَا يَسْتَجِيبَ لَكُم»
(By He in Whose Hand is my soul! You will enjoin righteousness and forbid evil, or Allah shall send down a punishment from Him to you. Then, you will supplicate to Him, but He will not accept your supplication.)
At-Tirmidhi also collected this Hadith and said, "Hasan". There are many other Hadiths and Ayat on this subject, which will be explained later.
The Prohibition of Division
Allah said,
وَلاَ تَكُونُواْ كَالَّذِينَ تَفَرَّقُواْ وَاخْتَلَفُواْ مِن بَعْدِ مَا جَآءَهُمُ الْبَيِّنَـتُ
(And be not as those who divided and differed among themselves after the clear proofs had come to them) 3:105.
In this Ayah, Allah forbids this Ummah from imitating the division and discord of the nations that came before them. These nations also abandoned enjoining righteousness and forbidding evil, although they had proof of its necessity.
Imam Ahmad recorded that Abu `Amir `Abdullah bin Luhay said, "We performed Hajj with Mu`awiyah bin Abi Sufyan. When we arrived at Makkah, he stood up after praying Zuhr and said, `The Messenger of Allah ﷺ said,
«إِنَّ أَهْلَ الْكِتَابَيْنِ افْتَرَقُوا فِي دِينِهِمْ عَلى ثِنْتَيْنِ وَسَبْعِينَ مِلَّةً، وَإِنَّ هذِهِ الْأُمَّةَ سَتَفْتَرِقُ عَلى ثَلَاثٍ وَسَبْعِينَ مِلَّةً يَعْنِي الْأَهْوَاءَ كُلُّهَا فِي النَّارِ إِلَّا وَاحِدَةً وَهِيَ الْجَمَاعَةُ وَإِنَّهُ سَيَخْرُجُ فِي أُمَّتِي أَقْوَامٌ تَجَارَى بِهِمْ تِلْكَ الْأَهْوَاءُ كَمَا يَتَجَارَى الْكَلَبُ بِصَاحِبِه، لَا يَبْقَى مِنْهُ عِرْقٌ وَلَا مَفْصِلٌ إِلَّا دَخَلَه»
(The People of the Two Scriptures divided into seventy-two sects. This Ummah will divide into seventy-three sects, all in the Fire except one, that is, the Jama`ah. Some of my Ummah will be guided by desire, like one who is infected by rabies; no vein or joint will be saved from these desires.)
Mu`awiyah said next: By Allah, O Arabs! If you do not adhere to what came to you from your Prophet then other people are even more prone not to adhere to it. " Similar was recorded by Abu Dawud from Ahmad bin Hanbal and Muhammad bin Yahya.
The Benefits of Brotherly Ties and Unity and the Consequence of Division on the Day of the Gatherin
Allah said next,
يَوْمَ تَبْيَضُّ وُجُوهٌ وَتَسْوَدُّ وُجُوهٌ
(On the Day when some faces will become white and some faces will become black;) 3:106 on the Day of Resurrection. This is when the faces of followers of the Sunnah and the Jama`ah will radiate with whiteness, and the faces of followers of Bid`ah (innovation) and division will be darkened, as has been reported from Ibn `Abbas. Allah said,
فَأَمَّا الَّذِينَ اسْوَدَّتْ وُجُوهُهُمْ أَكْفَرْتُمْ بَعْدَ إِيمَـنِكُمْ
(As for those whose faces will become black (to them will be said): "Did you reject faith after accepting it")
Al-Hasan Al-Basri said, "They are the hypocrites."
فَذُوقُواْ الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُونَ
(Then taste the torment (in Hell) for rejecting faith,) and this description befits every disbeliever.
وَأَمَّا الَّذِينَ ابْيَضَّتْ وُجُوهُهُمْ فَفِى رَحْمَةِ اللَّهِ هُمْ فِيهَا خَـلِدُونَ
(And for those whose faces will become white, they will be in Allah's mercy (Paradise), therein they shall dwell forever.) in Paradise, where they will reside for eternity and shall never desire to be removed. Abu `Isa At-Tirmidhi recorded that Abu Ghalib said, "Abu Umamah saw heads (of the Khawarij sect) hanging on the streets of Damascus. He commented, `The Dogs of the Fire and the worst dead people under the cover of the sky. The best dead men are those whom these have killed.' He then recited,
يَوْمَ تَبْيَضُّ وُجُوهٌ وَتَسْوَدُّ وُجُوهٌ
(On the Day (i.e. the Day of Resurrection) when some faces will become white and some faces will become black;) until the end of the Ayah. I said to Abu Umamah, `Did you hear this from the Messenger of Allah ﷺ' He said, `If I only heard it from the Messenger of Allah ﷺ once, twice, thrice, four times, or seven times, I would not have narrated it to you.' " At-Tirmidhi said, "This Hadith is Hasan." Ibn Majah and Ahmad recorded similarly.
Allah said,
تِلْكَ آيَـتُ اللَّهِ نَتْلُوهَا عَلَيْكَ
(These are the Ayat of Allah. We recite them to you) meaning, `These are the verses of Allah, His proofs and signs that We reveal to you, O Muhammad,'
بِالْحَقِّ
(in truth) making known the true reality of this world and the Hereafter.
وَمَا اللَّهُ يُرِيدُ ظُلْماً لِّلْعَـلَمِينَ
(and Allah wills no injustice to the `Alamin. ) for He never treats them with injustice. Rather, He is the Just Ruler Who is able to do everything and has knowledge of everything. Therefore, He does not need to treat any of His creatures with injustice, and this is why He said next,
وَللَّهِ مَا فِى السَّمَـوَتِ وَمَا فِى الاٌّرْضِ
(and to Allah belongs all that is in the heavens and all that is in the Earth.),
they are all His servants and His property,
وَإِلَى اللَّهِ تُرْجَعُ الأُمُورُ
(And all matters go back to Allah,) for His is the decision concerning the affairs of this life and the Hereafter, and His is the Supreme Authority in this life and the Hereafter.
یوم آخرت منافق اور مومن کی پہچان حضرت ضحاک فرماتے ہیں اس جماعت سے مراد خاص صحابہ اور خاص راویان حدیث ہیں یعنی مجاہد اور علماء امام ابو جعفر باقر ؒ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اس آیت کی تلاوت کی پھر فرمایا صبر سے مراد قرآن و حدیث کی اتباع ہے، یاد رہے کہ ہر ہر متنفس پر تبلیغ حق فرض ہے لیکن تاہم ایک جماعت تو خاص اسی کام میں مشغول رہنی چاہئے، رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں تم میں سے جو کوئی کسی برائی کو دیکھے اسے ہاتھ سے دفع کر دے اگر اس کی طاقت نہ ہو تو زبان سے روکے اگر یہ بھی نہ کرسکتا ہو تو اپنے دل سے نفرت کرے یہ ضعیف ایمان ہے، ایک اور روایت میں اس کے بعد یہ بھی ہے کہ اس کے بعد رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان نہیں، (صحیح مسلم) مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تم اچھائی کا حکم اور برائیوں سے مخالفت کرتے رہو ورنہ عنقریب اللہ تعالیٰ تم پر اپنا عذاب نازل فرما دے گا پھر تم دعائیں کرو گے لیکن قبول نہ ہوں گی۔ اس مضمون کی اور بھی بہت سی حدیثیں ہیں جو کسی اور مقام پر ذکر کی جائیں گی انشاء اللہ تعالیٰ۔ پھر فرماتا ہے کہ تم سابقہ لوگوں کی طرح افتراق و اختلاف نہ کرنا تم نیک باتوں کا حکم اور خلاف شرع باتوں سے روکنا نہ چھوڑنا، مسند احمد میں ہے حضرت معاویہ بن ابو سفیان ؓ حج کیلئے جب مکہ شریف میں آئے تو ظہر کی نماز کے بعد کھڑے ہو کر فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے اہل کتاب اپنے دین میں اختلاف کر کے بہتر گروہ بن گئے اور اس میری امت کے تہتر فرقے ہوجائیں گے خواہشات نفسانی اور خوش فہمی میں ہوں گے بلکہ میری امت میں ایسے لوگ بھی ہوں گے جن کی رگ رگ میں نفسانی خواہشیں اس طرح گھس جائیں گی جس طرح کتے کے کاٹے ہوئے انسان کی ایک ایک رگ اور ایک ایک جوڑ میں اس کا اثر پہنچ جاتا ہے اے عرب کے لوگو اگر تم ہی اپنے نبی کی لائی ہوئی چیز پر قائم نہ رہو گے تو اور لوگ تو بہت دور ہوجائیں گے۔ اس حدیث کی بہت سی سندیں ہیں پھر فرمایا اس دن سفید چہرے اور سیاہ منہ بھی ہونگے۔ ابن عباس کا فرمان ہے کہ اہل سنت والجماعت کے منہ سفید اور نورانی ہونگے مگر اہل بدعت و منافقت کے کالے منہ ہونگے، حسن بصری فرماتے ہیں یہ کالے منہ والے منافق ہونگے جن سے کہا جائے گا کہ تم نے ایمان کے بعد کفر کیوں کیا اب اس کا مزہ چکھو۔ اور سفید منہ والے اللہ رحیم و کریم کی رحمت میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ حضرت ابو امامہ ؓ نے جب خارجیوں کے سر دمشق کی مسجد کے زینوں پر لٹکے ہوئے دیکھے تو فرمانے لگے یہ جہنم کے کتے ہیں ان سے بدر مقتول روئے زمین پر کوئی نہیں انہیں قتل کرنے والے بہترین مجاہدین پھر آیت (يَّوْمَ تَبْيَضُّ وُجُوْهٌ وَّتَسْوَدُّ وُجُوْهٌ) 3۔ آل عمران :106) تلاوت فرمائی، ابو غالب نے کہا کہ جناب نے رسول اللہ ﷺ سے یہ سنا ہے ؟ فرمایا ایک دو دفعہ نہیں بلکہ سات مرتبہ اگر ایسا نہ ہوتا تو میں اپنی زبان سے یہ الفاظ نکالتا ہی نہیں، ابن مردویہ نے یہاں حضرت ابوذر کی روایت سے ایک لمبی حدیث نقل کی ہے جو بہت ہی عجیب ہے لیکن سنداً غریب ہے۔ دنیا اور آخرت کی یہ باتیں ہم تم پر اے نبی کھول رہے ہیں اللہ عادل حاکم ہے وہ ظالم نہیں اور ہر چیز کو آپ خوب جانتا ہے اور ہر چیز پر قدرت بھی رکھتا ہے پھر ناممکن ہے کہ وہ کسی پر ظلم کرے (جن کے کالے منہ ہوئے وہ اسی لائق تھے) زمین اور آسمان کی کل چیزیں اس کی ملکیت میں ہیں اور اسی کی غلامی میں اور ہر کام کا آخری حکم اسی کی طرف ہے متصرف اور با اختیار حکم دنیا اور آخرت کا مالک وہی ہے۔
106
View Single
يَوۡمَ تَبۡيَضُّ وُجُوهٞ وَتَسۡوَدُّ وُجُوهٞۚ فَأَمَّا ٱلَّذِينَ ٱسۡوَدَّتۡ وُجُوهُهُمۡ أَكَفَرۡتُم بَعۡدَ إِيمَٰنِكُمۡ فَذُوقُواْ ٱلۡعَذَابَ بِمَا كُنتُمۡ تَكۡفُرُونَ
On the Day (of Resurrection) when some faces will be shining and some faces black; so, (to) those whose faces are blackened, “What! You disbelieved after you had accepted faith! Therefore now taste the punishment, the result of your disbelief.”
جس دن کئی چہرے سفید ہوں گے اور کئی چہرے سیاہ ہوں گے، تو جن کے چہرے سیاہ ہو جائیں گے (ان سے کہا جائے گا:) کیا تم نے ایمان لانے کے بعد کفر کیا؟ تو جو کفر تم کرتے رہے تھے سواس کے عذاب (کا مزہ) چکھ لو
Tafsir Ibn Kathir
The Command to Establish the Invitation to Allah
Allah said,
وَلْتَكُن مِّنْكُمْ أُمَّةٌ
(Let there arise out of you a group of people)
that calls to righteousness, enjoins all that is good and forbids evil in the manner Allah commanded,
وَأُوْلَـئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ
(And it is they who are the successful.)
Ad-Dahhak said, "They are a special group of the Companions and a special group of those after them, that is those who perform Jihad and the scholars."
The objective of this Ayah is that there should be a segment of this Muslim Ummah fulfilling this task, even though it is also an obligation on every member of this Ummah, each according to his ability. Muslim recorded that Abu Hurayrah said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«مَنْ رَأَى مِنْكُمْ مُنْكَرًا فَلْيُغَيِّرْهُ بِيَدِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِع فَبِقَلْبِهِ، وَذلِكَ أَضْعَفُ الْإِيمَان»
(Whoever among you witnesses an evil, let him change it with his hand. If he is unable, then let him change it with his tongue. If he is unable, then let him change it with his heart, and this is the weakest faith.) In another narration, The Prophet said,
«وَلَيْسَ وَرَاءَ ذَلِكَ مِنَ الْإِيمَانِ حَبَّةُ خَرْدَل»
(There is no faith beyond that, not even the weight of a mustard seed.)
Imam Ahmad recorded that Hudhayfah bin Al-Yaman said that the Prophet said,
«وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِه، لَتَأْمُرُنَّ بِالْمَعْرُوفِ، وَلَتَنْهَوُنَّ عَنِ الْمُنْكَرِ، أَوْ لَيُوشِكَنَّ اللهُ أَنْ يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عِقَابًا مِنْ عِنْدِهِ، ثُمَّ لتَدْعُنَّــهُ فَلَا يَسْتَجِيبَ لَكُم»
(By He in Whose Hand is my soul! You will enjoin righteousness and forbid evil, or Allah shall send down a punishment from Him to you. Then, you will supplicate to Him, but He will not accept your supplication.)
At-Tirmidhi also collected this Hadith and said, "Hasan". There are many other Hadiths and Ayat on this subject, which will be explained later.
The Prohibition of Division
Allah said,
وَلاَ تَكُونُواْ كَالَّذِينَ تَفَرَّقُواْ وَاخْتَلَفُواْ مِن بَعْدِ مَا جَآءَهُمُ الْبَيِّنَـتُ
(And be not as those who divided and differed among themselves after the clear proofs had come to them) 3:105.
In this Ayah, Allah forbids this Ummah from imitating the division and discord of the nations that came before them. These nations also abandoned enjoining righteousness and forbidding evil, although they had proof of its necessity.
Imam Ahmad recorded that Abu `Amir `Abdullah bin Luhay said, "We performed Hajj with Mu`awiyah bin Abi Sufyan. When we arrived at Makkah, he stood up after praying Zuhr and said, `The Messenger of Allah ﷺ said,
«إِنَّ أَهْلَ الْكِتَابَيْنِ افْتَرَقُوا فِي دِينِهِمْ عَلى ثِنْتَيْنِ وَسَبْعِينَ مِلَّةً، وَإِنَّ هذِهِ الْأُمَّةَ سَتَفْتَرِقُ عَلى ثَلَاثٍ وَسَبْعِينَ مِلَّةً يَعْنِي الْأَهْوَاءَ كُلُّهَا فِي النَّارِ إِلَّا وَاحِدَةً وَهِيَ الْجَمَاعَةُ وَإِنَّهُ سَيَخْرُجُ فِي أُمَّتِي أَقْوَامٌ تَجَارَى بِهِمْ تِلْكَ الْأَهْوَاءُ كَمَا يَتَجَارَى الْكَلَبُ بِصَاحِبِه، لَا يَبْقَى مِنْهُ عِرْقٌ وَلَا مَفْصِلٌ إِلَّا دَخَلَه»
(The People of the Two Scriptures divided into seventy-two sects. This Ummah will divide into seventy-three sects, all in the Fire except one, that is, the Jama`ah. Some of my Ummah will be guided by desire, like one who is infected by rabies; no vein or joint will be saved from these desires.)
Mu`awiyah said next: By Allah, O Arabs! If you do not adhere to what came to you from your Prophet then other people are even more prone not to adhere to it. " Similar was recorded by Abu Dawud from Ahmad bin Hanbal and Muhammad bin Yahya.
The Benefits of Brotherly Ties and Unity and the Consequence of Division on the Day of the Gatherin
Allah said next,
يَوْمَ تَبْيَضُّ وُجُوهٌ وَتَسْوَدُّ وُجُوهٌ
(On the Day when some faces will become white and some faces will become black;) 3:106 on the Day of Resurrection. This is when the faces of followers of the Sunnah and the Jama`ah will radiate with whiteness, and the faces of followers of Bid`ah (innovation) and division will be darkened, as has been reported from Ibn `Abbas. Allah said,
فَأَمَّا الَّذِينَ اسْوَدَّتْ وُجُوهُهُمْ أَكْفَرْتُمْ بَعْدَ إِيمَـنِكُمْ
(As for those whose faces will become black (to them will be said): "Did you reject faith after accepting it")
Al-Hasan Al-Basri said, "They are the hypocrites."
فَذُوقُواْ الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُونَ
(Then taste the torment (in Hell) for rejecting faith,) and this description befits every disbeliever.
وَأَمَّا الَّذِينَ ابْيَضَّتْ وُجُوهُهُمْ فَفِى رَحْمَةِ اللَّهِ هُمْ فِيهَا خَـلِدُونَ
(And for those whose faces will become white, they will be in Allah's mercy (Paradise), therein they shall dwell forever.) in Paradise, where they will reside for eternity and shall never desire to be removed. Abu `Isa At-Tirmidhi recorded that Abu Ghalib said, "Abu Umamah saw heads (of the Khawarij sect) hanging on the streets of Damascus. He commented, `The Dogs of the Fire and the worst dead people under the cover of the sky. The best dead men are those whom these have killed.' He then recited,
يَوْمَ تَبْيَضُّ وُجُوهٌ وَتَسْوَدُّ وُجُوهٌ
(On the Day (i.e. the Day of Resurrection) when some faces will become white and some faces will become black;) until the end of the Ayah. I said to Abu Umamah, `Did you hear this from the Messenger of Allah ﷺ' He said, `If I only heard it from the Messenger of Allah ﷺ once, twice, thrice, four times, or seven times, I would not have narrated it to you.' " At-Tirmidhi said, "This Hadith is Hasan." Ibn Majah and Ahmad recorded similarly.
Allah said,
تِلْكَ آيَـتُ اللَّهِ نَتْلُوهَا عَلَيْكَ
(These are the Ayat of Allah. We recite them to you) meaning, `These are the verses of Allah, His proofs and signs that We reveal to you, O Muhammad,'
بِالْحَقِّ
(in truth) making known the true reality of this world and the Hereafter.
وَمَا اللَّهُ يُرِيدُ ظُلْماً لِّلْعَـلَمِينَ
(and Allah wills no injustice to the `Alamin. ) for He never treats them with injustice. Rather, He is the Just Ruler Who is able to do everything and has knowledge of everything. Therefore, He does not need to treat any of His creatures with injustice, and this is why He said next,
وَللَّهِ مَا فِى السَّمَـوَتِ وَمَا فِى الاٌّرْضِ
(and to Allah belongs all that is in the heavens and all that is in the Earth.),
they are all His servants and His property,
وَإِلَى اللَّهِ تُرْجَعُ الأُمُورُ
(And all matters go back to Allah,) for His is the decision concerning the affairs of this life and the Hereafter, and His is the Supreme Authority in this life and the Hereafter.
یوم آخرت منافق اور مومن کی پہچان حضرت ضحاک فرماتے ہیں اس جماعت سے مراد خاص صحابہ اور خاص راویان حدیث ہیں یعنی مجاہد اور علماء امام ابو جعفر باقر ؒ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اس آیت کی تلاوت کی پھر فرمایا صبر سے مراد قرآن و حدیث کی اتباع ہے، یاد رہے کہ ہر ہر متنفس پر تبلیغ حق فرض ہے لیکن تاہم ایک جماعت تو خاص اسی کام میں مشغول رہنی چاہئے، رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں تم میں سے جو کوئی کسی برائی کو دیکھے اسے ہاتھ سے دفع کر دے اگر اس کی طاقت نہ ہو تو زبان سے روکے اگر یہ بھی نہ کرسکتا ہو تو اپنے دل سے نفرت کرے یہ ضعیف ایمان ہے، ایک اور روایت میں اس کے بعد یہ بھی ہے کہ اس کے بعد رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان نہیں، (صحیح مسلم) مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تم اچھائی کا حکم اور برائیوں سے مخالفت کرتے رہو ورنہ عنقریب اللہ تعالیٰ تم پر اپنا عذاب نازل فرما دے گا پھر تم دعائیں کرو گے لیکن قبول نہ ہوں گی۔ اس مضمون کی اور بھی بہت سی حدیثیں ہیں جو کسی اور مقام پر ذکر کی جائیں گی انشاء اللہ تعالیٰ۔ پھر فرماتا ہے کہ تم سابقہ لوگوں کی طرح افتراق و اختلاف نہ کرنا تم نیک باتوں کا حکم اور خلاف شرع باتوں سے روکنا نہ چھوڑنا، مسند احمد میں ہے حضرت معاویہ بن ابو سفیان ؓ حج کیلئے جب مکہ شریف میں آئے تو ظہر کی نماز کے بعد کھڑے ہو کر فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے اہل کتاب اپنے دین میں اختلاف کر کے بہتر گروہ بن گئے اور اس میری امت کے تہتر فرقے ہوجائیں گے خواہشات نفسانی اور خوش فہمی میں ہوں گے بلکہ میری امت میں ایسے لوگ بھی ہوں گے جن کی رگ رگ میں نفسانی خواہشیں اس طرح گھس جائیں گی جس طرح کتے کے کاٹے ہوئے انسان کی ایک ایک رگ اور ایک ایک جوڑ میں اس کا اثر پہنچ جاتا ہے اے عرب کے لوگو اگر تم ہی اپنے نبی کی لائی ہوئی چیز پر قائم نہ رہو گے تو اور لوگ تو بہت دور ہوجائیں گے۔ اس حدیث کی بہت سی سندیں ہیں پھر فرمایا اس دن سفید چہرے اور سیاہ منہ بھی ہونگے۔ ابن عباس کا فرمان ہے کہ اہل سنت والجماعت کے منہ سفید اور نورانی ہونگے مگر اہل بدعت و منافقت کے کالے منہ ہونگے، حسن بصری فرماتے ہیں یہ کالے منہ والے منافق ہونگے جن سے کہا جائے گا کہ تم نے ایمان کے بعد کفر کیوں کیا اب اس کا مزہ چکھو۔ اور سفید منہ والے اللہ رحیم و کریم کی رحمت میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ حضرت ابو امامہ ؓ نے جب خارجیوں کے سر دمشق کی مسجد کے زینوں پر لٹکے ہوئے دیکھے تو فرمانے لگے یہ جہنم کے کتے ہیں ان سے بدر مقتول روئے زمین پر کوئی نہیں انہیں قتل کرنے والے بہترین مجاہدین پھر آیت (يَّوْمَ تَبْيَضُّ وُجُوْهٌ وَّتَسْوَدُّ وُجُوْهٌ) 3۔ آل عمران :106) تلاوت فرمائی، ابو غالب نے کہا کہ جناب نے رسول اللہ ﷺ سے یہ سنا ہے ؟ فرمایا ایک دو دفعہ نہیں بلکہ سات مرتبہ اگر ایسا نہ ہوتا تو میں اپنی زبان سے یہ الفاظ نکالتا ہی نہیں، ابن مردویہ نے یہاں حضرت ابوذر کی روایت سے ایک لمبی حدیث نقل کی ہے جو بہت ہی عجیب ہے لیکن سنداً غریب ہے۔ دنیا اور آخرت کی یہ باتیں ہم تم پر اے نبی کھول رہے ہیں اللہ عادل حاکم ہے وہ ظالم نہیں اور ہر چیز کو آپ خوب جانتا ہے اور ہر چیز پر قدرت بھی رکھتا ہے پھر ناممکن ہے کہ وہ کسی پر ظلم کرے (جن کے کالے منہ ہوئے وہ اسی لائق تھے) زمین اور آسمان کی کل چیزیں اس کی ملکیت میں ہیں اور اسی کی غلامی میں اور ہر کام کا آخری حکم اسی کی طرف ہے متصرف اور با اختیار حکم دنیا اور آخرت کا مالک وہی ہے۔
107
View Single
وَأَمَّا ٱلَّذِينَ ٱبۡيَضَّتۡ وُجُوهُهُمۡ فَفِي رَحۡمَةِ ٱللَّهِۖ هُمۡ فِيهَا خَٰلِدُونَ
And those whose faces will be shining, are in the mercy of Allah; they will abide in it forever.
اور جن لوگوں کے چہرے سفید (روشن) ہوں گے تو وہ اللہ کی رحمت میں ہوں گے اور وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے
Tafsir Ibn Kathir
The Command to Establish the Invitation to Allah
Allah said,
وَلْتَكُن مِّنْكُمْ أُمَّةٌ
(Let there arise out of you a group of people)
that calls to righteousness, enjoins all that is good and forbids evil in the manner Allah commanded,
وَأُوْلَـئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ
(And it is they who are the successful.)
Ad-Dahhak said, "They are a special group of the Companions and a special group of those after them, that is those who perform Jihad and the scholars."
The objective of this Ayah is that there should be a segment of this Muslim Ummah fulfilling this task, even though it is also an obligation on every member of this Ummah, each according to his ability. Muslim recorded that Abu Hurayrah said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«مَنْ رَأَى مِنْكُمْ مُنْكَرًا فَلْيُغَيِّرْهُ بِيَدِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِع فَبِقَلْبِهِ، وَذلِكَ أَضْعَفُ الْإِيمَان»
(Whoever among you witnesses an evil, let him change it with his hand. If he is unable, then let him change it with his tongue. If he is unable, then let him change it with his heart, and this is the weakest faith.) In another narration, The Prophet said,
«وَلَيْسَ وَرَاءَ ذَلِكَ مِنَ الْإِيمَانِ حَبَّةُ خَرْدَل»
(There is no faith beyond that, not even the weight of a mustard seed.)
Imam Ahmad recorded that Hudhayfah bin Al-Yaman said that the Prophet said,
«وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِه، لَتَأْمُرُنَّ بِالْمَعْرُوفِ، وَلَتَنْهَوُنَّ عَنِ الْمُنْكَرِ، أَوْ لَيُوشِكَنَّ اللهُ أَنْ يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عِقَابًا مِنْ عِنْدِهِ، ثُمَّ لتَدْعُنَّــهُ فَلَا يَسْتَجِيبَ لَكُم»
(By He in Whose Hand is my soul! You will enjoin righteousness and forbid evil, or Allah shall send down a punishment from Him to you. Then, you will supplicate to Him, but He will not accept your supplication.)
At-Tirmidhi also collected this Hadith and said, "Hasan". There are many other Hadiths and Ayat on this subject, which will be explained later.
The Prohibition of Division
Allah said,
وَلاَ تَكُونُواْ كَالَّذِينَ تَفَرَّقُواْ وَاخْتَلَفُواْ مِن بَعْدِ مَا جَآءَهُمُ الْبَيِّنَـتُ
(And be not as those who divided and differed among themselves after the clear proofs had come to them) 3:105.
In this Ayah, Allah forbids this Ummah from imitating the division and discord of the nations that came before them. These nations also abandoned enjoining righteousness and forbidding evil, although they had proof of its necessity.
Imam Ahmad recorded that Abu `Amir `Abdullah bin Luhay said, "We performed Hajj with Mu`awiyah bin Abi Sufyan. When we arrived at Makkah, he stood up after praying Zuhr and said, `The Messenger of Allah ﷺ said,
«إِنَّ أَهْلَ الْكِتَابَيْنِ افْتَرَقُوا فِي دِينِهِمْ عَلى ثِنْتَيْنِ وَسَبْعِينَ مِلَّةً، وَإِنَّ هذِهِ الْأُمَّةَ سَتَفْتَرِقُ عَلى ثَلَاثٍ وَسَبْعِينَ مِلَّةً يَعْنِي الْأَهْوَاءَ كُلُّهَا فِي النَّارِ إِلَّا وَاحِدَةً وَهِيَ الْجَمَاعَةُ وَإِنَّهُ سَيَخْرُجُ فِي أُمَّتِي أَقْوَامٌ تَجَارَى بِهِمْ تِلْكَ الْأَهْوَاءُ كَمَا يَتَجَارَى الْكَلَبُ بِصَاحِبِه، لَا يَبْقَى مِنْهُ عِرْقٌ وَلَا مَفْصِلٌ إِلَّا دَخَلَه»
(The People of the Two Scriptures divided into seventy-two sects. This Ummah will divide into seventy-three sects, all in the Fire except one, that is, the Jama`ah. Some of my Ummah will be guided by desire, like one who is infected by rabies; no vein or joint will be saved from these desires.)
Mu`awiyah said next: By Allah, O Arabs! If you do not adhere to what came to you from your Prophet then other people are even more prone not to adhere to it. " Similar was recorded by Abu Dawud from Ahmad bin Hanbal and Muhammad bin Yahya.
The Benefits of Brotherly Ties and Unity and the Consequence of Division on the Day of the Gatherin
Allah said next,
يَوْمَ تَبْيَضُّ وُجُوهٌ وَتَسْوَدُّ وُجُوهٌ
(On the Day when some faces will become white and some faces will become black;) 3:106 on the Day of Resurrection. This is when the faces of followers of the Sunnah and the Jama`ah will radiate with whiteness, and the faces of followers of Bid`ah (innovation) and division will be darkened, as has been reported from Ibn `Abbas. Allah said,
فَأَمَّا الَّذِينَ اسْوَدَّتْ وُجُوهُهُمْ أَكْفَرْتُمْ بَعْدَ إِيمَـنِكُمْ
(As for those whose faces will become black (to them will be said): "Did you reject faith after accepting it")
Al-Hasan Al-Basri said, "They are the hypocrites."
فَذُوقُواْ الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُونَ
(Then taste the torment (in Hell) for rejecting faith,) and this description befits every disbeliever.
وَأَمَّا الَّذِينَ ابْيَضَّتْ وُجُوهُهُمْ فَفِى رَحْمَةِ اللَّهِ هُمْ فِيهَا خَـلِدُونَ
(And for those whose faces will become white, they will be in Allah's mercy (Paradise), therein they shall dwell forever.) in Paradise, where they will reside for eternity and shall never desire to be removed. Abu `Isa At-Tirmidhi recorded that Abu Ghalib said, "Abu Umamah saw heads (of the Khawarij sect) hanging on the streets of Damascus. He commented, `The Dogs of the Fire and the worst dead people under the cover of the sky. The best dead men are those whom these have killed.' He then recited,
يَوْمَ تَبْيَضُّ وُجُوهٌ وَتَسْوَدُّ وُجُوهٌ
(On the Day (i.e. the Day of Resurrection) when some faces will become white and some faces will become black;) until the end of the Ayah. I said to Abu Umamah, `Did you hear this from the Messenger of Allah ﷺ' He said, `If I only heard it from the Messenger of Allah ﷺ once, twice, thrice, four times, or seven times, I would not have narrated it to you.' " At-Tirmidhi said, "This Hadith is Hasan." Ibn Majah and Ahmad recorded similarly.
Allah said,
تِلْكَ آيَـتُ اللَّهِ نَتْلُوهَا عَلَيْكَ
(These are the Ayat of Allah. We recite them to you) meaning, `These are the verses of Allah, His proofs and signs that We reveal to you, O Muhammad,'
بِالْحَقِّ
(in truth) making known the true reality of this world and the Hereafter.
وَمَا اللَّهُ يُرِيدُ ظُلْماً لِّلْعَـلَمِينَ
(and Allah wills no injustice to the `Alamin. ) for He never treats them with injustice. Rather, He is the Just Ruler Who is able to do everything and has knowledge of everything. Therefore, He does not need to treat any of His creatures with injustice, and this is why He said next,
وَللَّهِ مَا فِى السَّمَـوَتِ وَمَا فِى الاٌّرْضِ
(and to Allah belongs all that is in the heavens and all that is in the Earth.),
they are all His servants and His property,
وَإِلَى اللَّهِ تُرْجَعُ الأُمُورُ
(And all matters go back to Allah,) for His is the decision concerning the affairs of this life and the Hereafter, and His is the Supreme Authority in this life and the Hereafter.
یوم آخرت منافق اور مومن کی پہچان حضرت ضحاک فرماتے ہیں اس جماعت سے مراد خاص صحابہ اور خاص راویان حدیث ہیں یعنی مجاہد اور علماء امام ابو جعفر باقر ؒ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اس آیت کی تلاوت کی پھر فرمایا صبر سے مراد قرآن و حدیث کی اتباع ہے، یاد رہے کہ ہر ہر متنفس پر تبلیغ حق فرض ہے لیکن تاہم ایک جماعت تو خاص اسی کام میں مشغول رہنی چاہئے، رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں تم میں سے جو کوئی کسی برائی کو دیکھے اسے ہاتھ سے دفع کر دے اگر اس کی طاقت نہ ہو تو زبان سے روکے اگر یہ بھی نہ کرسکتا ہو تو اپنے دل سے نفرت کرے یہ ضعیف ایمان ہے، ایک اور روایت میں اس کے بعد یہ بھی ہے کہ اس کے بعد رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان نہیں، (صحیح مسلم) مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تم اچھائی کا حکم اور برائیوں سے مخالفت کرتے رہو ورنہ عنقریب اللہ تعالیٰ تم پر اپنا عذاب نازل فرما دے گا پھر تم دعائیں کرو گے لیکن قبول نہ ہوں گی۔ اس مضمون کی اور بھی بہت سی حدیثیں ہیں جو کسی اور مقام پر ذکر کی جائیں گی انشاء اللہ تعالیٰ۔ پھر فرماتا ہے کہ تم سابقہ لوگوں کی طرح افتراق و اختلاف نہ کرنا تم نیک باتوں کا حکم اور خلاف شرع باتوں سے روکنا نہ چھوڑنا، مسند احمد میں ہے حضرت معاویہ بن ابو سفیان ؓ حج کیلئے جب مکہ شریف میں آئے تو ظہر کی نماز کے بعد کھڑے ہو کر فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے اہل کتاب اپنے دین میں اختلاف کر کے بہتر گروہ بن گئے اور اس میری امت کے تہتر فرقے ہوجائیں گے خواہشات نفسانی اور خوش فہمی میں ہوں گے بلکہ میری امت میں ایسے لوگ بھی ہوں گے جن کی رگ رگ میں نفسانی خواہشیں اس طرح گھس جائیں گی جس طرح کتے کے کاٹے ہوئے انسان کی ایک ایک رگ اور ایک ایک جوڑ میں اس کا اثر پہنچ جاتا ہے اے عرب کے لوگو اگر تم ہی اپنے نبی کی لائی ہوئی چیز پر قائم نہ رہو گے تو اور لوگ تو بہت دور ہوجائیں گے۔ اس حدیث کی بہت سی سندیں ہیں پھر فرمایا اس دن سفید چہرے اور سیاہ منہ بھی ہونگے۔ ابن عباس کا فرمان ہے کہ اہل سنت والجماعت کے منہ سفید اور نورانی ہونگے مگر اہل بدعت و منافقت کے کالے منہ ہونگے، حسن بصری فرماتے ہیں یہ کالے منہ والے منافق ہونگے جن سے کہا جائے گا کہ تم نے ایمان کے بعد کفر کیوں کیا اب اس کا مزہ چکھو۔ اور سفید منہ والے اللہ رحیم و کریم کی رحمت میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ حضرت ابو امامہ ؓ نے جب خارجیوں کے سر دمشق کی مسجد کے زینوں پر لٹکے ہوئے دیکھے تو فرمانے لگے یہ جہنم کے کتے ہیں ان سے بدر مقتول روئے زمین پر کوئی نہیں انہیں قتل کرنے والے بہترین مجاہدین پھر آیت (يَّوْمَ تَبْيَضُّ وُجُوْهٌ وَّتَسْوَدُّ وُجُوْهٌ) 3۔ آل عمران :106) تلاوت فرمائی، ابو غالب نے کہا کہ جناب نے رسول اللہ ﷺ سے یہ سنا ہے ؟ فرمایا ایک دو دفعہ نہیں بلکہ سات مرتبہ اگر ایسا نہ ہوتا تو میں اپنی زبان سے یہ الفاظ نکالتا ہی نہیں، ابن مردویہ نے یہاں حضرت ابوذر کی روایت سے ایک لمبی حدیث نقل کی ہے جو بہت ہی عجیب ہے لیکن سنداً غریب ہے۔ دنیا اور آخرت کی یہ باتیں ہم تم پر اے نبی کھول رہے ہیں اللہ عادل حاکم ہے وہ ظالم نہیں اور ہر چیز کو آپ خوب جانتا ہے اور ہر چیز پر قدرت بھی رکھتا ہے پھر ناممکن ہے کہ وہ کسی پر ظلم کرے (جن کے کالے منہ ہوئے وہ اسی لائق تھے) زمین اور آسمان کی کل چیزیں اس کی ملکیت میں ہیں اور اسی کی غلامی میں اور ہر کام کا آخری حکم اسی کی طرف ہے متصرف اور با اختیار حکم دنیا اور آخرت کا مالک وہی ہے۔
108
View Single
تِلۡكَ ءَايَٰتُ ٱللَّهِ نَتۡلُوهَا عَلَيۡكَ بِٱلۡحَقِّۗ وَمَا ٱللَّهُ يُرِيدُ ظُلۡمٗا لِّلۡعَٰلَمِينَ
These are the verses of Allah, which We recite to you (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), with truth; and Allah does not wish any injustice to the creation.
یہ اللہ کی آیتیں ہیں جنہیں ہم آپ پر حق کے ساتھ پڑھتے ہیں، اور اللہ جہان والوں پر ظلم نہیں چاہتا
Tafsir Ibn Kathir
The Command to Establish the Invitation to Allah
Allah said,
وَلْتَكُن مِّنْكُمْ أُمَّةٌ
(Let there arise out of you a group of people)
that calls to righteousness, enjoins all that is good and forbids evil in the manner Allah commanded,
وَأُوْلَـئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ
(And it is they who are the successful.)
Ad-Dahhak said, "They are a special group of the Companions and a special group of those after them, that is those who perform Jihad and the scholars."
The objective of this Ayah is that there should be a segment of this Muslim Ummah fulfilling this task, even though it is also an obligation on every member of this Ummah, each according to his ability. Muslim recorded that Abu Hurayrah said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«مَنْ رَأَى مِنْكُمْ مُنْكَرًا فَلْيُغَيِّرْهُ بِيَدِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِع فَبِقَلْبِهِ، وَذلِكَ أَضْعَفُ الْإِيمَان»
(Whoever among you witnesses an evil, let him change it with his hand. If he is unable, then let him change it with his tongue. If he is unable, then let him change it with his heart, and this is the weakest faith.) In another narration, The Prophet said,
«وَلَيْسَ وَرَاءَ ذَلِكَ مِنَ الْإِيمَانِ حَبَّةُ خَرْدَل»
(There is no faith beyond that, not even the weight of a mustard seed.)
Imam Ahmad recorded that Hudhayfah bin Al-Yaman said that the Prophet said,
«وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِه، لَتَأْمُرُنَّ بِالْمَعْرُوفِ، وَلَتَنْهَوُنَّ عَنِ الْمُنْكَرِ، أَوْ لَيُوشِكَنَّ اللهُ أَنْ يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عِقَابًا مِنْ عِنْدِهِ، ثُمَّ لتَدْعُنَّــهُ فَلَا يَسْتَجِيبَ لَكُم»
(By He in Whose Hand is my soul! You will enjoin righteousness and forbid evil, or Allah shall send down a punishment from Him to you. Then, you will supplicate to Him, but He will not accept your supplication.)
At-Tirmidhi also collected this Hadith and said, "Hasan". There are many other Hadiths and Ayat on this subject, which will be explained later.
The Prohibition of Division
Allah said,
وَلاَ تَكُونُواْ كَالَّذِينَ تَفَرَّقُواْ وَاخْتَلَفُواْ مِن بَعْدِ مَا جَآءَهُمُ الْبَيِّنَـتُ
(And be not as those who divided and differed among themselves after the clear proofs had come to them) 3:105.
In this Ayah, Allah forbids this Ummah from imitating the division and discord of the nations that came before them. These nations also abandoned enjoining righteousness and forbidding evil, although they had proof of its necessity.
Imam Ahmad recorded that Abu `Amir `Abdullah bin Luhay said, "We performed Hajj with Mu`awiyah bin Abi Sufyan. When we arrived at Makkah, he stood up after praying Zuhr and said, `The Messenger of Allah ﷺ said,
«إِنَّ أَهْلَ الْكِتَابَيْنِ افْتَرَقُوا فِي دِينِهِمْ عَلى ثِنْتَيْنِ وَسَبْعِينَ مِلَّةً، وَإِنَّ هذِهِ الْأُمَّةَ سَتَفْتَرِقُ عَلى ثَلَاثٍ وَسَبْعِينَ مِلَّةً يَعْنِي الْأَهْوَاءَ كُلُّهَا فِي النَّارِ إِلَّا وَاحِدَةً وَهِيَ الْجَمَاعَةُ وَإِنَّهُ سَيَخْرُجُ فِي أُمَّتِي أَقْوَامٌ تَجَارَى بِهِمْ تِلْكَ الْأَهْوَاءُ كَمَا يَتَجَارَى الْكَلَبُ بِصَاحِبِه، لَا يَبْقَى مِنْهُ عِرْقٌ وَلَا مَفْصِلٌ إِلَّا دَخَلَه»
(The People of the Two Scriptures divided into seventy-two sects. This Ummah will divide into seventy-three sects, all in the Fire except one, that is, the Jama`ah. Some of my Ummah will be guided by desire, like one who is infected by rabies; no vein or joint will be saved from these desires.)
Mu`awiyah said next: By Allah, O Arabs! If you do not adhere to what came to you from your Prophet then other people are even more prone not to adhere to it. " Similar was recorded by Abu Dawud from Ahmad bin Hanbal and Muhammad bin Yahya.
The Benefits of Brotherly Ties and Unity and the Consequence of Division on the Day of the Gatherin
Allah said next,
يَوْمَ تَبْيَضُّ وُجُوهٌ وَتَسْوَدُّ وُجُوهٌ
(On the Day when some faces will become white and some faces will become black;) 3:106 on the Day of Resurrection. This is when the faces of followers of the Sunnah and the Jama`ah will radiate with whiteness, and the faces of followers of Bid`ah (innovation) and division will be darkened, as has been reported from Ibn `Abbas. Allah said,
فَأَمَّا الَّذِينَ اسْوَدَّتْ وُجُوهُهُمْ أَكْفَرْتُمْ بَعْدَ إِيمَـنِكُمْ
(As for those whose faces will become black (to them will be said): "Did you reject faith after accepting it")
Al-Hasan Al-Basri said, "They are the hypocrites."
فَذُوقُواْ الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُونَ
(Then taste the torment (in Hell) for rejecting faith,) and this description befits every disbeliever.
وَأَمَّا الَّذِينَ ابْيَضَّتْ وُجُوهُهُمْ فَفِى رَحْمَةِ اللَّهِ هُمْ فِيهَا خَـلِدُونَ
(And for those whose faces will become white, they will be in Allah's mercy (Paradise), therein they shall dwell forever.) in Paradise, where they will reside for eternity and shall never desire to be removed. Abu `Isa At-Tirmidhi recorded that Abu Ghalib said, "Abu Umamah saw heads (of the Khawarij sect) hanging on the streets of Damascus. He commented, `The Dogs of the Fire and the worst dead people under the cover of the sky. The best dead men are those whom these have killed.' He then recited,
يَوْمَ تَبْيَضُّ وُجُوهٌ وَتَسْوَدُّ وُجُوهٌ
(On the Day (i.e. the Day of Resurrection) when some faces will become white and some faces will become black;) until the end of the Ayah. I said to Abu Umamah, `Did you hear this from the Messenger of Allah ﷺ' He said, `If I only heard it from the Messenger of Allah ﷺ once, twice, thrice, four times, or seven times, I would not have narrated it to you.' " At-Tirmidhi said, "This Hadith is Hasan." Ibn Majah and Ahmad recorded similarly.
Allah said,
تِلْكَ آيَـتُ اللَّهِ نَتْلُوهَا عَلَيْكَ
(These are the Ayat of Allah. We recite them to you) meaning, `These are the verses of Allah, His proofs and signs that We reveal to you, O Muhammad,'
بِالْحَقِّ
(in truth) making known the true reality of this world and the Hereafter.
وَمَا اللَّهُ يُرِيدُ ظُلْماً لِّلْعَـلَمِينَ
(and Allah wills no injustice to the `Alamin. ) for He never treats them with injustice. Rather, He is the Just Ruler Who is able to do everything and has knowledge of everything. Therefore, He does not need to treat any of His creatures with injustice, and this is why He said next,
وَللَّهِ مَا فِى السَّمَـوَتِ وَمَا فِى الاٌّرْضِ
(and to Allah belongs all that is in the heavens and all that is in the Earth.),
they are all His servants and His property,
وَإِلَى اللَّهِ تُرْجَعُ الأُمُورُ
(And all matters go back to Allah,) for His is the decision concerning the affairs of this life and the Hereafter, and His is the Supreme Authority in this life and the Hereafter.
یوم آخرت منافق اور مومن کی پہچان حضرت ضحاک فرماتے ہیں اس جماعت سے مراد خاص صحابہ اور خاص راویان حدیث ہیں یعنی مجاہد اور علماء امام ابو جعفر باقر ؒ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اس آیت کی تلاوت کی پھر فرمایا صبر سے مراد قرآن و حدیث کی اتباع ہے، یاد رہے کہ ہر ہر متنفس پر تبلیغ حق فرض ہے لیکن تاہم ایک جماعت تو خاص اسی کام میں مشغول رہنی چاہئے، رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں تم میں سے جو کوئی کسی برائی کو دیکھے اسے ہاتھ سے دفع کر دے اگر اس کی طاقت نہ ہو تو زبان سے روکے اگر یہ بھی نہ کرسکتا ہو تو اپنے دل سے نفرت کرے یہ ضعیف ایمان ہے، ایک اور روایت میں اس کے بعد یہ بھی ہے کہ اس کے بعد رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان نہیں، (صحیح مسلم) مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تم اچھائی کا حکم اور برائیوں سے مخالفت کرتے رہو ورنہ عنقریب اللہ تعالیٰ تم پر اپنا عذاب نازل فرما دے گا پھر تم دعائیں کرو گے لیکن قبول نہ ہوں گی۔ اس مضمون کی اور بھی بہت سی حدیثیں ہیں جو کسی اور مقام پر ذکر کی جائیں گی انشاء اللہ تعالیٰ۔ پھر فرماتا ہے کہ تم سابقہ لوگوں کی طرح افتراق و اختلاف نہ کرنا تم نیک باتوں کا حکم اور خلاف شرع باتوں سے روکنا نہ چھوڑنا، مسند احمد میں ہے حضرت معاویہ بن ابو سفیان ؓ حج کیلئے جب مکہ شریف میں آئے تو ظہر کی نماز کے بعد کھڑے ہو کر فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے اہل کتاب اپنے دین میں اختلاف کر کے بہتر گروہ بن گئے اور اس میری امت کے تہتر فرقے ہوجائیں گے خواہشات نفسانی اور خوش فہمی میں ہوں گے بلکہ میری امت میں ایسے لوگ بھی ہوں گے جن کی رگ رگ میں نفسانی خواہشیں اس طرح گھس جائیں گی جس طرح کتے کے کاٹے ہوئے انسان کی ایک ایک رگ اور ایک ایک جوڑ میں اس کا اثر پہنچ جاتا ہے اے عرب کے لوگو اگر تم ہی اپنے نبی کی لائی ہوئی چیز پر قائم نہ رہو گے تو اور لوگ تو بہت دور ہوجائیں گے۔ اس حدیث کی بہت سی سندیں ہیں پھر فرمایا اس دن سفید چہرے اور سیاہ منہ بھی ہونگے۔ ابن عباس کا فرمان ہے کہ اہل سنت والجماعت کے منہ سفید اور نورانی ہونگے مگر اہل بدعت و منافقت کے کالے منہ ہونگے، حسن بصری فرماتے ہیں یہ کالے منہ والے منافق ہونگے جن سے کہا جائے گا کہ تم نے ایمان کے بعد کفر کیوں کیا اب اس کا مزہ چکھو۔ اور سفید منہ والے اللہ رحیم و کریم کی رحمت میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ حضرت ابو امامہ ؓ نے جب خارجیوں کے سر دمشق کی مسجد کے زینوں پر لٹکے ہوئے دیکھے تو فرمانے لگے یہ جہنم کے کتے ہیں ان سے بدر مقتول روئے زمین پر کوئی نہیں انہیں قتل کرنے والے بہترین مجاہدین پھر آیت (يَّوْمَ تَبْيَضُّ وُجُوْهٌ وَّتَسْوَدُّ وُجُوْهٌ) 3۔ آل عمران :106) تلاوت فرمائی، ابو غالب نے کہا کہ جناب نے رسول اللہ ﷺ سے یہ سنا ہے ؟ فرمایا ایک دو دفعہ نہیں بلکہ سات مرتبہ اگر ایسا نہ ہوتا تو میں اپنی زبان سے یہ الفاظ نکالتا ہی نہیں، ابن مردویہ نے یہاں حضرت ابوذر کی روایت سے ایک لمبی حدیث نقل کی ہے جو بہت ہی عجیب ہے لیکن سنداً غریب ہے۔ دنیا اور آخرت کی یہ باتیں ہم تم پر اے نبی کھول رہے ہیں اللہ عادل حاکم ہے وہ ظالم نہیں اور ہر چیز کو آپ خوب جانتا ہے اور ہر چیز پر قدرت بھی رکھتا ہے پھر ناممکن ہے کہ وہ کسی پر ظلم کرے (جن کے کالے منہ ہوئے وہ اسی لائق تھے) زمین اور آسمان کی کل چیزیں اس کی ملکیت میں ہیں اور اسی کی غلامی میں اور ہر کام کا آخری حکم اسی کی طرف ہے متصرف اور با اختیار حکم دنیا اور آخرت کا مالک وہی ہے۔
109
View Single
وَلِلَّهِ مَا فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَا فِي ٱلۡأَرۡضِۚ وَإِلَى ٱللَّهِ تُرۡجَعُ ٱلۡأُمُورُ
And to Allah only belongs all whatever is in the heavens and all whatever is in the earth; and towards Allah only is the return of all matters.
اور اللہ ہی کے لئے ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اور سب کام اللہ ہی کی طرف لوٹائے جائیں گے
Tafsir Ibn Kathir
The Command to Establish the Invitation to Allah
Allah said,
وَلْتَكُن مِّنْكُمْ أُمَّةٌ
(Let there arise out of you a group of people)
that calls to righteousness, enjoins all that is good and forbids evil in the manner Allah commanded,
وَأُوْلَـئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ
(And it is they who are the successful.)
Ad-Dahhak said, "They are a special group of the Companions and a special group of those after them, that is those who perform Jihad and the scholars."
The objective of this Ayah is that there should be a segment of this Muslim Ummah fulfilling this task, even though it is also an obligation on every member of this Ummah, each according to his ability. Muslim recorded that Abu Hurayrah said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«مَنْ رَأَى مِنْكُمْ مُنْكَرًا فَلْيُغَيِّرْهُ بِيَدِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِع فَبِقَلْبِهِ، وَذلِكَ أَضْعَفُ الْإِيمَان»
(Whoever among you witnesses an evil, let him change it with his hand. If he is unable, then let him change it with his tongue. If he is unable, then let him change it with his heart, and this is the weakest faith.) In another narration, The Prophet said,
«وَلَيْسَ وَرَاءَ ذَلِكَ مِنَ الْإِيمَانِ حَبَّةُ خَرْدَل»
(There is no faith beyond that, not even the weight of a mustard seed.)
Imam Ahmad recorded that Hudhayfah bin Al-Yaman said that the Prophet said,
«وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِه، لَتَأْمُرُنَّ بِالْمَعْرُوفِ، وَلَتَنْهَوُنَّ عَنِ الْمُنْكَرِ، أَوْ لَيُوشِكَنَّ اللهُ أَنْ يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عِقَابًا مِنْ عِنْدِهِ، ثُمَّ لتَدْعُنَّــهُ فَلَا يَسْتَجِيبَ لَكُم»
(By He in Whose Hand is my soul! You will enjoin righteousness and forbid evil, or Allah shall send down a punishment from Him to you. Then, you will supplicate to Him, but He will not accept your supplication.)
At-Tirmidhi also collected this Hadith and said, "Hasan". There are many other Hadiths and Ayat on this subject, which will be explained later.
The Prohibition of Division
Allah said,
وَلاَ تَكُونُواْ كَالَّذِينَ تَفَرَّقُواْ وَاخْتَلَفُواْ مِن بَعْدِ مَا جَآءَهُمُ الْبَيِّنَـتُ
(And be not as those who divided and differed among themselves after the clear proofs had come to them) 3:105.
In this Ayah, Allah forbids this Ummah from imitating the division and discord of the nations that came before them. These nations also abandoned enjoining righteousness and forbidding evil, although they had proof of its necessity.
Imam Ahmad recorded that Abu `Amir `Abdullah bin Luhay said, "We performed Hajj with Mu`awiyah bin Abi Sufyan. When we arrived at Makkah, he stood up after praying Zuhr and said, `The Messenger of Allah ﷺ said,
«إِنَّ أَهْلَ الْكِتَابَيْنِ افْتَرَقُوا فِي دِينِهِمْ عَلى ثِنْتَيْنِ وَسَبْعِينَ مِلَّةً، وَإِنَّ هذِهِ الْأُمَّةَ سَتَفْتَرِقُ عَلى ثَلَاثٍ وَسَبْعِينَ مِلَّةً يَعْنِي الْأَهْوَاءَ كُلُّهَا فِي النَّارِ إِلَّا وَاحِدَةً وَهِيَ الْجَمَاعَةُ وَإِنَّهُ سَيَخْرُجُ فِي أُمَّتِي أَقْوَامٌ تَجَارَى بِهِمْ تِلْكَ الْأَهْوَاءُ كَمَا يَتَجَارَى الْكَلَبُ بِصَاحِبِه، لَا يَبْقَى مِنْهُ عِرْقٌ وَلَا مَفْصِلٌ إِلَّا دَخَلَه»
(The People of the Two Scriptures divided into seventy-two sects. This Ummah will divide into seventy-three sects, all in the Fire except one, that is, the Jama`ah. Some of my Ummah will be guided by desire, like one who is infected by rabies; no vein or joint will be saved from these desires.)
Mu`awiyah said next: By Allah, O Arabs! If you do not adhere to what came to you from your Prophet then other people are even more prone not to adhere to it. " Similar was recorded by Abu Dawud from Ahmad bin Hanbal and Muhammad bin Yahya.
The Benefits of Brotherly Ties and Unity and the Consequence of Division on the Day of the Gatherin
Allah said next,
يَوْمَ تَبْيَضُّ وُجُوهٌ وَتَسْوَدُّ وُجُوهٌ
(On the Day when some faces will become white and some faces will become black;) 3:106 on the Day of Resurrection. This is when the faces of followers of the Sunnah and the Jama`ah will radiate with whiteness, and the faces of followers of Bid`ah (innovation) and division will be darkened, as has been reported from Ibn `Abbas. Allah said,
فَأَمَّا الَّذِينَ اسْوَدَّتْ وُجُوهُهُمْ أَكْفَرْتُمْ بَعْدَ إِيمَـنِكُمْ
(As for those whose faces will become black (to them will be said): "Did you reject faith after accepting it")
Al-Hasan Al-Basri said, "They are the hypocrites."
فَذُوقُواْ الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُونَ
(Then taste the torment (in Hell) for rejecting faith,) and this description befits every disbeliever.
وَأَمَّا الَّذِينَ ابْيَضَّتْ وُجُوهُهُمْ فَفِى رَحْمَةِ اللَّهِ هُمْ فِيهَا خَـلِدُونَ
(And for those whose faces will become white, they will be in Allah's mercy (Paradise), therein they shall dwell forever.) in Paradise, where they will reside for eternity and shall never desire to be removed. Abu `Isa At-Tirmidhi recorded that Abu Ghalib said, "Abu Umamah saw heads (of the Khawarij sect) hanging on the streets of Damascus. He commented, `The Dogs of the Fire and the worst dead people under the cover of the sky. The best dead men are those whom these have killed.' He then recited,
يَوْمَ تَبْيَضُّ وُجُوهٌ وَتَسْوَدُّ وُجُوهٌ
(On the Day (i.e. the Day of Resurrection) when some faces will become white and some faces will become black;) until the end of the Ayah. I said to Abu Umamah, `Did you hear this from the Messenger of Allah ﷺ' He said, `If I only heard it from the Messenger of Allah ﷺ once, twice, thrice, four times, or seven times, I would not have narrated it to you.' " At-Tirmidhi said, "This Hadith is Hasan." Ibn Majah and Ahmad recorded similarly.
Allah said,
تِلْكَ آيَـتُ اللَّهِ نَتْلُوهَا عَلَيْكَ
(These are the Ayat of Allah. We recite them to you) meaning, `These are the verses of Allah, His proofs and signs that We reveal to you, O Muhammad,'
بِالْحَقِّ
(in truth) making known the true reality of this world and the Hereafter.
وَمَا اللَّهُ يُرِيدُ ظُلْماً لِّلْعَـلَمِينَ
(and Allah wills no injustice to the `Alamin. ) for He never treats them with injustice. Rather, He is the Just Ruler Who is able to do everything and has knowledge of everything. Therefore, He does not need to treat any of His creatures with injustice, and this is why He said next,
وَللَّهِ مَا فِى السَّمَـوَتِ وَمَا فِى الاٌّرْضِ
(and to Allah belongs all that is in the heavens and all that is in the Earth.),
they are all His servants and His property,
وَإِلَى اللَّهِ تُرْجَعُ الأُمُورُ
(And all matters go back to Allah,) for His is the decision concerning the affairs of this life and the Hereafter, and His is the Supreme Authority in this life and the Hereafter.
یوم آخرت منافق اور مومن کی پہچان حضرت ضحاک فرماتے ہیں اس جماعت سے مراد خاص صحابہ اور خاص راویان حدیث ہیں یعنی مجاہد اور علماء امام ابو جعفر باقر ؒ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اس آیت کی تلاوت کی پھر فرمایا صبر سے مراد قرآن و حدیث کی اتباع ہے، یاد رہے کہ ہر ہر متنفس پر تبلیغ حق فرض ہے لیکن تاہم ایک جماعت تو خاص اسی کام میں مشغول رہنی چاہئے، رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں تم میں سے جو کوئی کسی برائی کو دیکھے اسے ہاتھ سے دفع کر دے اگر اس کی طاقت نہ ہو تو زبان سے روکے اگر یہ بھی نہ کرسکتا ہو تو اپنے دل سے نفرت کرے یہ ضعیف ایمان ہے، ایک اور روایت میں اس کے بعد یہ بھی ہے کہ اس کے بعد رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان نہیں، (صحیح مسلم) مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تم اچھائی کا حکم اور برائیوں سے مخالفت کرتے رہو ورنہ عنقریب اللہ تعالیٰ تم پر اپنا عذاب نازل فرما دے گا پھر تم دعائیں کرو گے لیکن قبول نہ ہوں گی۔ اس مضمون کی اور بھی بہت سی حدیثیں ہیں جو کسی اور مقام پر ذکر کی جائیں گی انشاء اللہ تعالیٰ۔ پھر فرماتا ہے کہ تم سابقہ لوگوں کی طرح افتراق و اختلاف نہ کرنا تم نیک باتوں کا حکم اور خلاف شرع باتوں سے روکنا نہ چھوڑنا، مسند احمد میں ہے حضرت معاویہ بن ابو سفیان ؓ حج کیلئے جب مکہ شریف میں آئے تو ظہر کی نماز کے بعد کھڑے ہو کر فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے اہل کتاب اپنے دین میں اختلاف کر کے بہتر گروہ بن گئے اور اس میری امت کے تہتر فرقے ہوجائیں گے خواہشات نفسانی اور خوش فہمی میں ہوں گے بلکہ میری امت میں ایسے لوگ بھی ہوں گے جن کی رگ رگ میں نفسانی خواہشیں اس طرح گھس جائیں گی جس طرح کتے کے کاٹے ہوئے انسان کی ایک ایک رگ اور ایک ایک جوڑ میں اس کا اثر پہنچ جاتا ہے اے عرب کے لوگو اگر تم ہی اپنے نبی کی لائی ہوئی چیز پر قائم نہ رہو گے تو اور لوگ تو بہت دور ہوجائیں گے۔ اس حدیث کی بہت سی سندیں ہیں پھر فرمایا اس دن سفید چہرے اور سیاہ منہ بھی ہونگے۔ ابن عباس کا فرمان ہے کہ اہل سنت والجماعت کے منہ سفید اور نورانی ہونگے مگر اہل بدعت و منافقت کے کالے منہ ہونگے، حسن بصری فرماتے ہیں یہ کالے منہ والے منافق ہونگے جن سے کہا جائے گا کہ تم نے ایمان کے بعد کفر کیوں کیا اب اس کا مزہ چکھو۔ اور سفید منہ والے اللہ رحیم و کریم کی رحمت میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ حضرت ابو امامہ ؓ نے جب خارجیوں کے سر دمشق کی مسجد کے زینوں پر لٹکے ہوئے دیکھے تو فرمانے لگے یہ جہنم کے کتے ہیں ان سے بدر مقتول روئے زمین پر کوئی نہیں انہیں قتل کرنے والے بہترین مجاہدین پھر آیت (يَّوْمَ تَبْيَضُّ وُجُوْهٌ وَّتَسْوَدُّ وُجُوْهٌ) 3۔ آل عمران :106) تلاوت فرمائی، ابو غالب نے کہا کہ جناب نے رسول اللہ ﷺ سے یہ سنا ہے ؟ فرمایا ایک دو دفعہ نہیں بلکہ سات مرتبہ اگر ایسا نہ ہوتا تو میں اپنی زبان سے یہ الفاظ نکالتا ہی نہیں، ابن مردویہ نے یہاں حضرت ابوذر کی روایت سے ایک لمبی حدیث نقل کی ہے جو بہت ہی عجیب ہے لیکن سنداً غریب ہے۔ دنیا اور آخرت کی یہ باتیں ہم تم پر اے نبی کھول رہے ہیں اللہ عادل حاکم ہے وہ ظالم نہیں اور ہر چیز کو آپ خوب جانتا ہے اور ہر چیز پر قدرت بھی رکھتا ہے پھر ناممکن ہے کہ وہ کسی پر ظلم کرے (جن کے کالے منہ ہوئے وہ اسی لائق تھے) زمین اور آسمان کی کل چیزیں اس کی ملکیت میں ہیں اور اسی کی غلامی میں اور ہر کام کا آخری حکم اسی کی طرف ہے متصرف اور با اختیار حکم دنیا اور آخرت کا مالک وہی ہے۔
110
View Single
كُنتُمۡ خَيۡرَ أُمَّةٍ أُخۡرِجَتۡ لِلنَّاسِ تَأۡمُرُونَ بِٱلۡمَعۡرُوفِ وَتَنۡهَوۡنَ عَنِ ٱلۡمُنكَرِ وَتُؤۡمِنُونَ بِٱللَّهِۗ وَلَوۡ ءَامَنَ أَهۡلُ ٱلۡكِتَٰبِ لَكَانَ خَيۡرٗا لَّهُمۚ مِّنۡهُمُ ٱلۡمُؤۡمِنُونَ وَأَكۡثَرُهُمُ ٱلۡفَٰسِقُونَ
You are the best among all the nations that were raised among mankind – you enjoin good deeds and forbid immorality and you believe in Allah; and if the People given the Book(s) believed it would be better for them; some of them are believers (Muslims) and most of them are disbelievers. (The best Ummah is that of Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him.)
تم بہترین اُمّت ہو جو سب لوگوں (کی رہنمائی) کے لئے ظاہر کی گئی ہے، تم بھلائی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے منع کرتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو، اور اگر اہلِ کتاب بھی ایمان لے آتے تو یقیناً ان کے لئے بہتر ہوتا، ان میں سے کچھ ایمان والے بھی ہیں اور ان میں سے اکثر نافرمان ہیں
Tafsir Ibn Kathir
Virtues of the Ummah of Muhammad ﷺ , the Best Nation Ever
Allah states that the Ummah of Muhammad ﷺ is the best nation ever,
كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ
(You are the best of peoples ever raised up for mankind) 3:110.
Al-Bukhari recorded that Abu Hurayrah commented on this Ayah, "(You, Muslims, are) the best nation of people for the people, you bring them tied in chains on their necks (capture them in war) and they later embrace Islam." Similar was said by Ibn `Abbas, Mujahid, `Atiyah Al-`Awfi, `Ikrimah, `Ata' and Ar-Rabi` bin Anas that,
كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ
(You are the best of peoples ever raised up for mankind;) means, the best of peoples for the people.
The meaning of the Ayah is that the Ummah of Muhammad ﷺ is the most righteous and beneficial nation for mankind. Hence Allah's description of them,
تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ
(you enjoin Al-Ma`ruf and forbid Al-Munkar and believe in Allah) 3:110.
Ahmad, At-Tirmidhi, Ibn Majah, and Al-Hakim recorded that Hakim bin Mu`awiyah bin Haydah narrated that his father said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«أَنْتُمْ تُوَفُّون سَبْعِينَ أُمَّةً، أَنْتُمْ خَيْرُهَا، وَأَنْتُمْ أَكْرَمُ عَلَى اللهِ عَزَّ وَجَل»
(You are the final of seventy nations, you are the best and most honored among them to Allah.)
This is a well-known Hadith about which At-Tirmidhi said, "Hasan", and which is also narrated from Mu`adh bin Jabal and Abu Sa`id. The Ummah of Muhammad ﷺ achieved this virtue because of its Prophet, Muhammad ﷺ, peace be upon him, the most regarded of Allah's creation and the most honored Messenger with Allah. Allah sent Muhammad ﷺ with the perfect and complete Law that was never given to any Prophet or Messenger before him. In Muhammad's ﷺ Law, few deeds take the place of the many deeds that other nations performed. For instance, Imam Ahmad recorded that `Ali bin Abi Talib said, "The Messenger of Allah ﷺ said,
«أُعْطِيتُ مَا لَمْ يُعْطَ أَحَدٌ مِنَ الْأَنْبِيَاء»
(I was given what no other Prophet before me was given.)
We said, `O Messenger of Allah! What is it' He said,
«نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ، وَأُعْطِيتُ مَفَاتِيحَ الْأَرْضِ، وَسُمِّيتُ أَحْمَدَ، وَجُعِلَ التُّرَابُ لِي طَهُورًا، وَجُعِلَتْ أُمَّتِي خَيْرَ الْأُمَم»
(I was given victory by fear, I was given the keys of the earth, I was called Ahmad, the earth was made a clean place for me (to pray and perform Tayammum with it) and my Ummah was made the best Ummah.)."
The chain of narration for this Hadith is Hasan. There are several Hadiths that we should mention here.
The Two Sahihs recorded that Az-Zuhri said that, Sa`id bin Al-Musayyib said that Abu Hurayrah narrated to him, "I heard the Messenger of Allah ﷺ saying,
«يَدْخُلُ الْجَنَّــةَ مِنْ أُمَّتِي زُمْرَةٌ وَهُمْ سَبْعُونَ أَلْفًا، تُضِيءُ وُجُوهُهُمْ إِضَاءَةَ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْر»
فقال أبو هريرة: فقام عكاشة بن محصن الأسدي يرفع نمرة عليه، فقال: يا رسول الله، ادع الله أن يجعلني منهم، فقال رسول اللهصلى الله عليه وسلّم:
«اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ مِنْهُم»
ثم قام رجل من الأنصار فقال: يا رسول الله ادع الله أن يجعلني منهم، فقال:
«سَبقَكَ بِهَا عُكَّاشَة»
(A group of seventy thousand from my Ummah will enter Paradise, while their faces are radiating, just like the moon when it is full.'`Ukkashah bin Mihsan Al-Asadi stood up, saying, `O Messenger of Allah! Supplicate to Allah that I am one of them.' The Messenger of Allah ﷺ said, `O Allah! Make him one of them.' A man from the Ansar also stood and said, `O Messenger of Allah! Supplicate to Allah that I am one of them.' The Messenger said, `Ukkashah has beaten you to it.')
Another Hadith that Establishes the Virtues of the Ummah of Muhammad in this Life and the Hereafter
Imam Ahmad recorded that Jabir said, "I heard the Messenger of Allah saying,
«إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ يَكُونَ مَنْ يَتَّبِعُنِي مِنْ أُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ رُبُعَ الْجَنَّــة»
قال: فكبرنا، ثم قال:
«أَرْجُو أَنْ يَكُونُوا ثُلُثَ النَّاس»
قال: فكبرنا، ثم قال:
«أَرْجُو أَنْ تَكُونُوا الشَّطْر»
(`I hope that those who follow me will be one-fourth of the residents of Paradise on the Day of Resurrection.' We said, `Allahu Akbar'. He then said, `I hope that they will be one-third of the people.' We said, `Allahu Akbar'. He then said, `I hope that you will be one-half.')"
Imam Ahmad recorded the same Hadith with another chain of narration, and this Hadith meets the criteria of Muslim in his Sahih. In the Two Sahihs, it is recorded that `Abdullah bin Mas`ud said, "The Messenger of Allah ﷺ said to us,
«أَمَا تَرْضَوْنَ أَنْ تَكُونُوا رُبُعَ أَهْلِ الْجَنَّـةِ؟»
(Does it please you that you will be one-fourth of the people of Paradise)
We said, `Allahu Akbar!' He added,
«أَمَا تَرْضَوْنَ أَنْ تَكُونُوا ثُلُثَ أَهْلِ الْجَنَّـةِ؟»
(Does it please you that you will be one-third of the people of Paradise) We said, `Allahu Akbar!' He said,
«إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ تَكُونُوا شَطْرَ أَهْلِ الْجَنَّـةِ؟»
(I hope that you will be half of the people of Paradise.)" Another Hadith
Imam Ahmad recorded that Buraydah said that the Prophet said,
«أَهْلُ الْجَنَّةِ عِشْرُونَ وَمِائَةُ صَفَ، هذِهِ الْأُمَّةُ مِنْ ذلِكَ ثَمَانُونَ صَفًّا»
(The people of Paradise are one hundred and twenty rows, this Ummah takes up eighty of them.)
Imam Ahmad also collected this Hadith through another chain of narration. At-Tirmidhi and Ibn Majah also collected this Hadith, and At-Tirmidhi said, `This Hadith is Hasan. `Abdur-Razzaq recorded that Abu Hurayrah said that, the Prophet said,
«نَحْنُ الْآخِرُونَ الْأَوَّلُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، نَحْنُ أَوَّلُ النَّاسِ دُخُولًا الْجَنَّــةَ، بَيْدَ أَنَّهُمْ أُوتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِنَا وَأُوتِينَاهُ مِنْ بَعْدِهِمْ، فَهَدَانَا اللهُ لِمَا اخْتَلَفُوا فِيهِ مِنَ الْحَقِّ، فَهَذَا الْيَوْمُ الَّذِي اخْتَلَفُوا فِيهِ، النَّاسُ لَنَا فِيهِ تَبَعٌ، غَدًا لِلْيَهُودِ، وَلِلنَّصَارَى بَعْدَ غَد»
(We (Muslims) are the last to come, but the foremost on the Day of Resurrection, and the first people to enter Paradise, although the former nations were given the Scriptures before us and we after them. Allah gave us the guidance of truth that they have been disputing about. This (Friday) is the Day that they have been disputing about, and all the other people are behind us in this matter: the Jews' (day of congregation is) tomorrow (Saturday) and the Christians' is the day after tomorrow (Sunday). )
Al-Bukhari and Muslim collected this Hadith. Muslim recorded Abu Hurayrah saying that the Messenger of Allah ﷺ said,
«نَحْنُ الْآخِرُونَ الْأَوَّلُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، نَحْنُ أَوَّلُ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّــة»
(We (Muslims) are the last (to come), but (will be) the foremost on the Day of Resurrection, and will be the first people to enter Paradise...) until the end of the Hadith.
These and other Hadiths conform to the meaning of the Ayah,
كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ
(You are the best of peoples ever raised up for mankind; you enjoin Al-Ma`ruf (all that Islam has ordained) and forbid Al-Munkar (all that Islam has forbidden), and you believe in Allah).
Therefore, whoever among this Ummah acquires these qualities, will have a share in this praise. Qatadah said, "We were told that `Umar bin Al-Khattab recited this Ayah 3:110 during a Hajj that he performed, when he saw that the people were rushing. He then said, `Whoever likes to be among this praised Ummah, let him fulfill the condition that Allah set in this Ayah.
"'
Ibn Jarir recorded this. Those from this Ummah who do not acquire these qualities will be just like the People of the Scriptures whom Allah criticized, when He said,
كَانُواْ لاَ يَتَنَـهَوْنَ عَن مُّنكَرٍ فَعَلُوهُ
(They did not forbid one another from the Munkar which they committed. ..)
5:79.
This is the reason why, after Allah praised the Muslim Ummah with the qualities that He mentioned, He criticized the People of the Scriptures and chastised them, saying,
وَلَوْ ءَامَنَ أَهْلُ الْكِتَـبِ
(And had the People of the Scripture (Jews and Christians) believed)
3:110
,
in what was sent down to Muhammad ,
لَكَانَ خَيْراً لَّهُمْ مِّنْهُمُ الْمُؤْمِنُونَ وَأَكْثَرُهُمُ الْفَـسِقُونَ
(it would have been better for them; among them are some who have faith, but most of them are Fasiqun (rebellious).)
Therefore only a few of them believe in Allah and in what was sent down to you and to them. The majority of them follow deviation, disbelief, sin and rebellion.
The Good News that Muslims will Dominate the People of the Book
While delivering the good news to His believing servants that victory and dominance will be theirs against the disbelieving, atheistic People of the Scriptures, Allah then said,
لَن يَضُرُّوكُمْ إِلاَّ أَذًى وَإِن يُقَـتِلُوكُمْ يُوَلُّوكُمُ الاٌّدُبَارَ ثُمَّ لاَ يُنصَرُونَ
(They will do you no harm, barring a trifling annoyance; and if they fight against you, they will show you their backs, and they will not be helped.) 3:111
This is what occurred, for at the battle of Khaybar, Allah brought humiliation and disgrace to the Jews. Before that, the Jews in Al-Madinah, the tribes of Qaynuqa`, Nadir and Qurayzah, were also humiliated by Allah. Such was the case with the Christians in the area of Ash-Sham later on, when the Companions defeated them in many battles and took over the leadership of Ash-Sham forever. There shall always be a group of Muslims in Ash-Sham area until `Isa, son of Maryam, descends while they are like this on the truth, apparent and victorious. `Isa will at that time rule according to the Law of Muhammad , break the cross, kill the swine, banish the Jizyah and only accept Islam from the people.
Allah said next,
ضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الذِّلَّةُ أَيْنَ مَا ثُقِفُواْ إِلاَّ بِحَبْلٍ مِّنْ اللَّهِ وَحَبْلٍ مِّنَ النَّاسِ
(Indignity is put over them wherever they may be, except when under a covenant (of protection) from Allah, and a covenant from men;) meaning, Allah has placed humiliation and disgrace on them wherever they may be, and they will never be safe,
إِلاَّ بِحَبْلٍ مِّنْ اللَّهِ
(except when under a covenant from Allah,) under the Dhimmah (covenant of protection) from Allah that requires them to pay the Jizyah (tax, to Muslims,) and makes them subservient to Islamic Law.
وَحَبْلٍ مِّنَ النَّاسِ
(and a covenant from men;) meaning, covenant from men, such as pledges of protection and safety offered to them by Muslim men and women, and even a slave, according to one of the sayings of the scholars. Ibn `Abbas said that,
إِلاَّ بِحَبْلٍ مِّنْ اللَّهِ وَحَبْلٍ مِّنَ النَّاسِ
(except when under a covenant from Allah, and a covenant from men;) refers to a covenant of protection from Allah and a pledge of safety from people. Similar was said by Mujahid, `Ikrimah, `Ata', Ad-Dahhak, Al-Hasan, Qatadah, As-Suddi and Ar-Rabi` bin Anas. Allah's statement,
وَبَآءُوا بِغَضَبٍ مِّنَ اللَّهِ
(they have drawn on themselves the wrath of Allah,) means, they earned Allah's anger, which they deserved,
وَضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الْمَسْكَنَةُ
(and destitution is put over them), meaning they deserve it by decree and legislatively.
Allah said next,
ذلِكَ بِأَنَّهُمْ كَانُواْ يَكْفُرُونَ بِـَايَـتِ اللَّهِ وَيَقْتُلُونَ الاٌّنْبِيَآءَ بِغَيْرِ حَقٍّ
(This is because they disbelieved in the Ayat of Allah and killed the Prophets without right.) meaning, what drove them to this was their arrogance, transgression and envy, earning them humiliation, degradation and disgrace throughout this life and the Hereafter. Allah said,
ذلِكَ بِمَا عَصَواْ وَّكَانُواْ يَعْتَدُونَ
(This is because they disobeyed and used to transgress (the limits set by Allah).) meaning, what lured them to disbelieve in Allah's Ayat and kill His Messengers, is the fact that they often disobeyed Allah's commands, committed His prohibitions and transgressed His set limits. We seek refuge from this behavior, and Allah Alone is sought for each and every type of help.
سب سے بہتر شخص کون ؟ اور سب سے بہتر امت کا اعزاز کس کو ملا ؟ اللہ تعالیٰ خبر دے رہا ہے کہ امت محمدیہ تمام امتوں پر بہتر ہے صحیح بخاری شریف میں ہے حضرت ابوہریرہ ؓ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں تم اوروں کے حق میں سب سے بہتر ہو تو لوگوں کی گردنیں پکڑ پکڑ کر اسلام کی طرف جھکاتے ہو، اور مفسرین بھی یہی فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ تم تمام امتوں سے بہتر ہو اور سب سے زیادہ لوگوں کو نفع پہنچانے والے ہو، ابو لہب کی بیٹی حضرت درہ ؓ فرماتی ہیں ایک مرتبہ کسی نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا آپ اس وقت منبر پر تھے کہ حضور ﷺ کونسا شخص بہتر ہے ؟ آپ نے فرمایا سب لوگوں سے بہتر وہ شخص ہے جو سب سے زیادہ قاری قرآن ہو سب سے زیادہ پرہیزگار ہو، سب سے زیادہ اچھائیوں کا حکم کرنے والا سب سے زیادہ برائیوں سے روکنے والا سب سے زیادہ رشتے ناتے ملانے والا ہو۔ (مسند احمد) حضرت ابن عباس فرماتے ہیں یہ وہ صحابہ ہیں جنہوں نے مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کی، صحیح بات یہ ہے کہ یہ آیت ساری امت پر مشتمل ہے، بیشک یہ حدیث میں بھی ہے کہ سب سے بہتر میرا زمانہ ہے پھر اس کے بعد اس سے ملا ہوا زمانہ پھر اس کے بعد والا، ایک اور روایت میں ہے آیت (وَكَذٰلِكَ جَعَلْنٰكُمْ اُمَّةً وَّسَطًا لِّتَكُوْنُوْا شُهَدَاۗءَ عَلَي النَّاسِ وَيَكُـوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَيْكُمْ شَهِيْدًا) 2۔ البقرۃ :143) ہم نے تمہیں بہتر امت بنایا ہے تاہم تم لوگوں پر گواہ بنو، رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں تم نے اگلی امتوں کی تعداد ستر تک پہنچا دی ہے، اللہ کے نزدیک تم ان سب سے بہتر اور زیادہ بزرگ ہو، یہ مشہور حدیث ہے امام ترمذی نے اسے حسن کہا ہے، اس امت کی افضلیت کی ایک بڑی دلیل اس امت کے نبی کی افضلیت ہے، آپ تمام مخلوق کے سردار تمام رسولوں سے زیادہ اکرام و عزت والے ہیں، آپ کی شرع اتنی کامل اور اتنی پوری ہے کہ ایسی شریعت کسی نبی کو نہیں تو ظاہر بات ہے کہ ان فضائل کو سمیٹتے والی امت بھی سب سے اعلیٰ و افضل ہے، اس شریعت کا تھوڑا سا عمل بھی اور امتوں کے زیادہ عمل سے بہتر و افضل ہے، حضرت علی بن ابو طالب رضلی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں وہ وہ نعمتیں دیا گیا ہوں جو مجھ سے پہلے کوئی نہیں دیا گیا لوگوں نے پوچھا وہ کیا باتیں ہیں، آپ نے فرمایا میری مدد رعب سے کی گئی ہے میں زمین کی کنجیاں دیا گیا ہوں، میرا نام احمد رکھا گیا ہے، میرے لئے مٹی پاک کی گئی ہے، میری امت سب امتوں سے بہتر بنائی گئی ہے (مسند احمد) اس حدیث کی اسناد حسن ہے، حضرت ابو الدرداء ؓ فرماتے ہیں میں نے ابو القاسم ﷺ سے سنا آپ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ ؑ سے فرمایا کہ میں تمہارے بعد ایک امت پیدا کرنے والا ہوں جو راحت پر حمدو شکر کریں گے اور مصیبت پر طلب ثواب اور صبر کریں گے حالانکہ انہیں حلم و علم نہ ہوگا آپ نے تعجب سے پوچھا کہ بغیر بردباری اور دور اندیشی اور پختہ علم کے یہ کیسے ممکن ہے ؟ رب العالمین نے فرمایا میں انہیں اپنا حلم و علم عطا فرماؤں گا، میں چاہتا ہوں یہاں پر بعض وہ حدیثیں بھی بیان کر دوں جن کا ذکر یہاں مناسب ہے سنئے۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں میری امت میں سے ستر ہزار شخص بغیر حساب کتاب کے جنت میں جائیں گے جن کے چہرے چودھویں رات کے چاند کی طرح روشن ہوں گے سب یک رنگ ہونگے، میں نے اپنے رب سے گزارش کی کہ اے اللہ اس تعداد میں اور اضافہ فرما اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ہر ایک کے ساتھ ستر ہزار اور بھی، حضرت صدیق اکبر ؓ یہ حدیث بیان کر کے فرمایا کرتے تھے کہ پھر تو اس تعداد میں گاؤں اور دیہاتوں والے بلکہ بادیہ نشین بھی آجائیں گے (مسند احمد) حضور ﷺ فرماتے ہیں مجھے میرے رب نے ستر ہزار آدمیوں کو میری امت میں سے بغیر حساب کے جنت میں داخل ہونے کی خوشخبری دی، حضرت عمر نے یہ سن کر فرمایا حضور ﷺ کچھ اور زیادتی طلب کرتے آپ نے فرمایا میں نے اپنے رب سے سوال کیا تو مجھے خوشخبری ملی کے ہر شخص کے ساتھ ستر ستر ہزار کا وعدہ ہوا۔ حضرت عمر نے پھر گزارش کی کہ اللہ کے نبی اور کچھ بھی مانگتے آپ نے فرمایا مانگا تو مجھے اتنی زیادتی اور ملی اور پھر دونوں ہاتھ پھیلا کر بتایا کہ اس طرح، راوی حدیث کہتے ہیں اس طرح جب اللہ تعالیٰ سمیٹے تو اللہ عزوجل ہی جانتا ہے کہ کس قدر مخلوق اس میں آئے گی (فسبحان اللہ وبحمدہ) (مسند احمد) حضرت ثوبان ؓ حمص میں بیمار ہوگئے عبداللہ بن قرط وہاں کے امیر تھے وہ عیادت کو نہ آسکے ایک کلاعی شخص جب آپ کی بیمار پرسی کیلئے گیا تو آپ نے اس سے دریافت کیا کہ لکھنا جانتے ہو اس نے کہا ہاں فرمایا لکھو یہ خط ثوبان کی طرف سے امیر عبداللہ بن قرط کی طرف سے ہے جو رسول اللہ ﷺ کے خادم ہیں بعد حمد و صلوٰۃ کے واضح ہو کہ اگر حضرت عیسیٰ یا حضرت موسیٰ کا کوئی خادم یہاں ہوتا اور بیمار پڑتا تو تم عیادت کیلئے جاتے پھر کہا یہ خط لے جاؤ اور امیر کو پہنچا دو جب یہ خط امیر حمص کے پاس پہنچا تو گھبرا کر اٹھ کھڑے ہوئے اور سیدھے یہاں تشریف لائے کچھ دیر بیٹھ کر عیادت کر کے جب جانے کا ارادہ کیا تو حضرت ثوبان نے ان کی چادر پکڑ روکا اور فرمایا ایک حدیث سنتے جائیں میں نے آنحضرت ﷺ کی زبان مبارک سے سنا ہے آپ نے فرمایا میری امت میں سے ستر ہزار شخص بغیر حساب و عذاب کے جنت میں جائیں گے ہر ہزار کے ساتھ ستر ہزار اور ہوں گے (مسند احمد) یہ حدیث بھی صحیح ہے، حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں ایک رات ہم خدمت نبوی میں دیر تک باتیں کرتے رہے پھر صبح جب حاضر خدمت ہوئے تو حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا سنو آج رات انبیاء اپنی اپنی امت سمیت مجھے دکھائے گئے بعض انبیاء کے ساتھ صرف تین شخص تھے بعض کے ساتھ مختصر سا گروہ بعض کے ساتھ ایک جماعت کسی کے ساتھ کوئی بھی نہ تھا جب موسیٰ ؑ آئے تو ان کے ساتھ بہت سے لوگ تھے مجھے یہ جماعت پسند آئی میں نے پوچھایہ کون ہیں تو جواب ملا کہ یہ آپ کے بھائی موسیٰ ؑ ہیں اور ان کے ساتھ بنی اسرائیل ہیں میں نے کہا پھر میری امت کہاں ہے جواب ملا اپنی داہنی طرف دیکھو اب جو دیکھتا ہوں تو بیشمار مجمع ہے جس سے پہاڑیاں بھی ڈھک گئی ہیں اب مجھ سے پوچھا گیا کہو خوش ہو میں نے کہا میرے رب میں راضی ہوگیا، فرمایا گیا سنو ! ان کے ساتھ ستر ہزار اور ہیں جو بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوں گے، اب نبی ﷺ نے فرمایا تم پر میرے میں باپ فدا ہوں اگر ہو سکے تو ان ستر ہزار میں سے ہی ہونا اگر یہ نہ ہو سکے تو ان میں سے ہو جو پہاڑیوں کو چھپائے ہوئے تھے اگر یہ بھی نہ ہو سکے تو ان میں سے ہونا جو آسمان کے کناروں کناروں پر تھے، حضرت عکاش بن محصن نے کھڑے ہو کر کہا حضور ﷺ میرے لئے دعا کیجئے کہ اللہ تعالیٰ مجھے ان ستر ہزار میں سے کرے آپ نے دعا کی تو ایک دوسرے صحابی نے بھی اٹھ کر یہی گزارش کی تو آپ نے فرمایا تم پر حضرت عکاشہ سبقت کر گئے، ہم اب آپس میں کہنے لگے کہ شاید یہ ستر ہزار لوگ ہوں گے جو اسلام پر ہی پیدا ہوئے ہوں اور پوری عمر میں کبھی اللہ کے ساتھ شرک کیا ہی نہ ہو آپ کو جب یہ معلوم ہوا تو فرمایا یہ وہ لوگ ہیں جو دم جھاڑا نہیں کراتے آگ کے داغ نہیں لگواتے شگون نہیں لیتے اور اپنے رب پر پورا بھروسہ رکھتے ہیں (مسند احمد) ایک اور سند سے اتنی زیادتی اس میں اور بھی ہے جب میں نے اپنی رضامندی ظاہر کی تو مجھ سے کہا گیا اب اپنی بائیں جانب دیکھو میں نے دیکھا تو بیشمار مجمع ہے جس نے آسمان کے کناروں کو بھی ڈھک لیا ہے ایک اور روایت میں ہے کہ موسم حج کا یہ واقعہ ہے آپ فرماتے ہیں مجھے اپنی امت کی یہ کثرت بہت پسند آئی تمام پہاڑیاں اور میدان ان سے پُر تھے (مسند احمد) ایک اور روایت میں ہے کہ حضرت عکاشہ کے بعد کھڑے ہونے والے ایک انصاری تھے ؓ (طبرانی) ایک اور روایت میں ہے کہ میری امت میں سے ستر ہزار یا ساٹھ لاکھ آدمی جنت میں جائیں گے جو ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے ہوئے ہوں گے سب ایک ساتھ جنت میں جائیں گے چمکتے ہوئے چودھویں رات کے چاند جیسے ان کے چہرے ہوں گے۔ (بخاری مسلم طبرانی) حصین بن عبدالرحمن کہتے ہیں کہ سعید بن جیبر کے پاس تھا تو آپ نے دریافت کیا رات کو جو ستارہ ٹوٹا تھا تم میں سے کسی نے دیکھا تھا میں نے کہا ہاں حضرت میں نے دیکھا تھا یہ نہ سمجھئے گا کہ میں نماز میں تھا بلکہ مجھے بچھو نے کاٹ کھایا تھا حضرت سعید نے پوچھا پھر تم نے کیا کیا میں نے کہا دم کردیا تھا کہا کیوں میں نے کہا حضرت شعبی نے بریدہ بن حصیب کی روایت سے حدیث بیان کی ہے کہ نظربد اور زہریلے جانوروں کا دم جھاڑا کرانا ہے کہنے لگے خیر جسے جو پہنچے اس پر عمل کرے ہمیں تو حضرت ابن عباس نے سنایا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مجھ پر امتیں پیش کی گئیں کسی نبی کے ساتھ ایک جماعت تھی کسی کے ساتھ ایک شخص اور دو شخص اور کسی نبی کے ساتھ کوئی نہ تھا اب جو دیکھا کہ ایک بڑی پر جماعت نظر پڑی میں سمجھا یہ تو میری امت ہوگی پھر معلوم ہوا کہ موسیٰ ؑ کی امت ہے مجھ سے کہا گیا آسمان کے کناروں کی طرف دیکھو میں نے دیکھا تو وہاں بیشمار لوگ تھے مجھ سے کہا گیا یہ آپ کی امت ہے اور ان کے ساتھ ستر ہزار اور ہیں جو بےحساب اور بےعذاب جنت میں جائیں گے یہ حدیث بیان فرما کر حضور ﷺ تو مکان پر چلے گئے اور صحابہ آپس میں کہنے لگے شاید یہ حضور ﷺ کے صحابی ہوں گے کسی نے کہا نہیں اسلام میں پیدا ہونے والے اور اسلام پر ہی مرنے والے ہوں گے وغیرہ وغیرہ آپ تشریف لائے اور پوچھا کیا باتیں کر رہے ہو ہم نے ذکر کیا تو آپ نے فرمایا نہیں یہ وہ لوگ ہیں جو نہ دم جھاڑا کریں نہ کرائیں، نہ داغ لگوائیں نہ شگون لیں بلکہ اپنے رب پر بھروسہ رکھیں حضرت عکاشہ ؓ نے دعا کی درخواست کی آپ نے دعا کی یا اللہ تو اسے ان میں سے ہی بنا۔ پھر دوسرے شخص نے بھی یہی کہا آپ نے فرمایا عکاشہ آگے بڑھ گئے، یہ حدیث بخاری میں ہے لیکن اس میں دم جھاڑا نہیں کرنے کا لفظ نہیں صحیح مسلم میں یہ لفظ بھی ہے۔ ایک اور مطول حدیث میں ہے کہ پہلی جماعت تو نجات پائے گی ان کے چہرے چودھویں رات کے چاند کی طرح روشن ہوں گے ان سے حساب بھی نہ لیا جائے گا پھر ان کے بعد والے سب سے زیادہ روشن ستارے جیسے چمکدار چہرے والے ہوں گے (مسلم) آپ فرماتے ہیں مجھ سے میرے رب کا وعدہ ہے کہ میری امت میں سے ستر ہزار شخص بغیر حساب و عذاب کے داخل بہشت ہوں گے ہر ہزار کے ساتھ ستر ہزار ہوں گے اور تین لپیں اور میرے رب عزوجل کی لپوں سے (کتاب السنن لحافظ ابی بکر بن عاصم) اس کی اسناد بہت عمدہ ہے ایک اور حدیث میں ہے کہ آپ سے ستر ہزار کی تعداد سن کر یزید بن اخنس نے کہا حضور ﷺ یہ تو آپ کی امت کی تعداد کے مقابلہ میں بہت ہی تھوڑے ہیں تو آپ نے فرمایا ہر ہزار کے ساتھ ستر ہزار ہیں اور پھر اللہ نے تین لپیں (ہتھیلیوں کا کشکول) بھر کر اور بھی عطا فرمائے ہیں، اسکی اسناد بھی حسن ہے (کتاب السنن اور ایک اور حدیث میں ہے کہ میرے رب نے جو عزت اور جلال والا ہے مجھ سے وعدہ کیا ہے کہ میری امت میں سے ستر ہزار کو بلا حساب جنت میں لے جائے گا پھر ایک ایک ہزار کی شفاعت سے ستر ستر ہزار آدمی اور جائیں گے پھر میرا رب اپنے دونوں ہاتھوں سے تین لپیں (دونوں ہاتھوں کی ہھتیلیوں کو ملا کر کٹورا بنانا) بھر کر اور ڈالے گا حضرت عمر نے یہ سن کر خوش ہو کر اللہ اکبر کہا اور فرمایا کہ ان کی شفاعت ان کے باپ دادوں اور بیٹوں اور بیٹیوں اور خاندان و قبیلہ میں ہوگی اللہ کرے میں تو ان میں سے ہوجاؤں جنہیں اللہ تعالیٰ اپنی لپوں میں بھر کر آخر میں جنت میں لے جائے گا (طبرانی) اس حدیث کی سند میں بھی کوئی علت نہیں، واللہ اعلم، کرید میں حضور ﷺ نے ایک حدیث فرمائی جس میں جنت میں یہ بھی فرمایا یہ ستر ہزار جو بلا حساب جنت میں داخل کئے جائیں گے میرا خیال ہے کہ ان کے آتے آتے تو تم اپنے لئے اور اپنے بال بچوں اور بیویوں کیلئے جنت میں جگہ مقرر کرچکے ہونگے (مسند احمد) اس کی سند میں شرط مسلم پر ہے، ایک اور حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ کا وعدہ ہے کہ میری امت میں سے چار لاکھ آدمی جنت میں جائیں گے، حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے کہا حضور ﷺ کچھ اور زیادہ کیجئے اسے سن کر حضرت عمر نے فرمایا ابوبکر بس کرو صدیق نے جواب دیا کیوں صاحب اگر ہم سب کے سب جنت میں چلے جائیں گے تو آپ کو کیا نقصان ہے حضرت عمر نے فرمایا اگر اللہ چاہے تو ایک ہی ہاتھ میں ساری مخلوق کو جنت میں ڈال دےحضور ﷺ نے فرمایا عمر سچ کہتے ہیں (مسند عبدالرزاق) اسی حدیث کی اور سند سے بھی بیان ہے اس میں تعداد ایک لاکھ آئی ہے (اصبہانی) ایک اور روایت میں ہے کہ جب صحابہ نے ستر ہزار اور پھر ہر ایک کے ساتھ ستر ہزار پھر اللہ کی لپ بھر کر جنتی بنانا سنا تو کہنے لگے پھر تو اس کی بدنصیبی میں کیا شک رہ گیا جو باوجود اس کے بھی جہنم میں جائے (ابولیلی) اوپر والی حدیث ایک اور سند سے بھی بیان ہوئی ہے اس میں تعداد تین لاکھ کی ہے پھر حضرت عمر نے فرمایا میری امت کے سارے مہاجر تو اس میں آہی جائیں گے پھر باقی تعداد اعرابیوں سے پوری ہوگی (محمد بن سہل) حضرت ابو سعید کہتے ہیں حضور ﷺ کے سامنے حساب کیا گیا تو جملہ تعداد چار کروڑ نوے ہزار ہوئی، ایک اور حسن حدیث طبرانی میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قسم ہے اس ذات کی کہ جان محمد ﷺ کی اس کے ہاتھ میں ہے تم ایک اندھیری رات کی طرح بیشمار ایک ساتھ جنت کی طرف بڑھو گے، زمین تم سے پر ہوجائے گی تمام فرشتے پکار اٹھیں گے کہ محمد ﷺ کے ساتھ جو جماعت آئی وہ تمام نبیوں کی جماعت سے بہت زیادہ ہے، حضرت جابر ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ نے فرمایا صرف میری تابعدار امت اہل جنت کی چوتھائی ہوگی صحابہ نے خوش ہو کر نعرہ تکبیر بلند کیا پھر فرمایا کہ مجھے تو امید ہے کہ تم اہل جنت کا تیسرا حصہ ہوجاؤ ہم نے پھر تکبیر کہی پھر فرمایا میں امید کرتا ہوں کہ تم آدھوں آدھ ہوجاؤ (مسند احمد) اور حدیث میں ہے کہ آپ نے صحابہ سے فرمایا کہ تم راضی نہیں ہو کہ تم تمام جنتوں کے چوتھائی ہو ہم نے خوش ہو کر اللہ کی بڑائی بیان کی پھر فرمایا کہ تم راضی نہیں ہو کہ تمام اہل جنت کی تہائی ہو ہم نے پھر تکبیر کہی آپ نے فرمایا مجھے تو امید ہے کہ تم جنتیوں کے آدھوں آدھ ہو گے (بخاری مسلم) طبرانی میں یہ روایت حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا کہتے ہو تم جنتیوں کا چوتھائی حصہ بننا چاہتے ہو کہ چوتھائی جنت تمہارے پاس ہو اور تین اور چوتھائیوں میں تمام امتیں ہوں ؟ ہم نے کہا اللہ اور اس کا رسول خوب جانتا ہے آپ نے فرمایا اچھا تہائی حصہ ہو تو ہم نے کہا یہ بہت ہے فرمایا اگر آدھوں آدھ ہو تو، انہوں نے کہا حضور ﷺ پھر تو بہت ہی زیادہ ہے آپ نے فرمایا سنو ! کل اہل جنت کی ایک سو بیس صفیں ہیں جن میں سے اسی صفیں صرف اس میری امت کی ہیں، مسند احمد میں بھی ہے کہ اہل جنت کی ایک سو بیس صفیں ان میں اسی صفیں صرف اس امت کی ہیں یہ حدیث طبرانی ترمذی وغیرہ میں بھی ہے، طبرانی ایک اور روایت میں ہے کہ جب آیت (ثُلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِيْنَ 39 ۙ وَثُلَّةٌ مِّنَ الْاٰخِرِيْنَ 40ۭ) 56۔ الواقعہ :39۔ 40) اتری تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم اہل جنت کی چوتھائی ہو پھر فرمایا بلکہ ثلث ہو پھر فرمایا بلکہ نصف ہو پھر فرمایا دو تہائی ہو (اے وسیع رحمتوں والے اور بےروک نعمتوں والے اللہ ہم تیرا بےانتہا شکر ادا کرتے ہیں کہ تو نے ہمیں ایسے معزز و محترم رسول ﷺ کی امت میں پیدا کیا تیرے سچے رسول ﷺ کی سچی زبان سے تیرے اس بڑھے چڑھے فضل و کرم کا حال سن کر ہم گنہگاروں کے منہ میں پانی بھر آیا، اے ماں باپ سے زیادہ مہربان اللہ ہماری آس نہ توڑ اور ہمیں بھی ان نیک ہستیوں کے ساتھ جنت میں داخل فرما۔ باری تعالیٰ تیری رحمت کی ان گنت اور بیشمار بندوں میں سے اگر ایک قطرہ بھی ہم گنہگاروں پر برس جائے تو ہمارے گناہوں کو دھو ڈالنے اور ہمیں تیری رحمت و رضوان کے لائق بنانے کیلئے کافی ہے، اللہ اس پاک ذکر کے موقعہ پر ہم ہاتھ اٹھا کر دامن پھیلا کر آنسو بہا کر امیدوں بھرے دل سے تیری رحمت کا سہارا لے کر تیرے کرم کا دامن تھام کر تجھ سے بھیک مانگتے ہیں تو قبول فرما اور اپنی رحمت سے ہمیں بھی اپنی رضامندی کا گھر جنت الفردوس عطا فرما۔ (آمین الہ الحق آمین) صحیح بخاری مسلم میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں ہم دنیا میں سب سے آخر آئے اور جنت میں سب سے پہلے جائیں گے اور ان کو کتاب اللہ پہلے ملی ہمیں بعد میں ملی جن باتوں میں انہوں نے اختلاف کیا ان میں اللہ نے ہمیں صحیح طریق کی توفیق دی، جمعہ کا دن بھی ایسا ہی ہے کہ یہود ہمارے پیچھے ہیں ہفتہ کے دن اور نصرانی ان کے پیچھے اتوار کے دن دار قطنی میں ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تک میں جنت میں داخل نہ ہوجاؤں انبیاء پر دخول جنت حرام ہے اور جب تک میری امت نہ داخل ہو دوسری امتوں پر دخول جنت حرام ہے۔ یہ وہ حدیثیں تھیں جنہیں ہم اس آیت کے تحت وارد کرنا چاہتے تھے فالحمد للہ۔ امت کو بھی چاہئے کہ یہاں اس آیت میں جتنی صفیں ہیں ان پر مضبوطی کے ساتھ قائم ثابت رہیں یعنی امر بالمعروف اور نہی عن المنکر اور ایمان باللہ حضرت عمر بن خطاب ؓ نے اپنے حج میں اس آیت کی تلاوت فرما کر لوگوں سے کہا کہ اگر تم اس آیت کی تعریف میں داخل ہونا چاہتے ہو تو یہ اوصاف بھی اپنے میں پیدا کرو، امام ابن جرید فرماتے، اہل کتاب ان کاموں کو چھوڑ بیٹھے تھے جن کی مذمت کلام اللہ نے کی، فرمایا آیت (كَانُوْا لَا يَتَنَاهَوْنَ عَنْ مُّنْكَرٍ فَعَلُوْهُ ۭلَبِئْسَ مَا كَانُوْا يَفْعَلُوْنَ) 5۔ المائدہ :79) وہ لوگ برائی کی باتوں سے لوگوں کو روکتے نہ تھے چونکہ مندرجہ بالا آیت میں ایمان داروں کی تعریف و توصیف بیان ہوئی تو اس کے بعد اہل کتاب کی مذمت بیان ہو رہی ہے، تو فرمایا کہ اگر یہ لوگ بھی میرے نبی آخر الزمان پر ایمان لاتے تو انہیں بھی یہ فضیلتیں ملتیں لیکن ان میں سے کفرو فسق اور گناہوں پر جمے ہوئے ہیں ہاں کچھ لوگ باایمان بھی ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو بشارت دیتا ہے کہ تم نہ گھبرانا اللہ تمہیں تمہارے مخالفین پر غالب رکھے گا چناچہ خیبر والے دن اللہ تعالیٰ نے انہیں ذلیل کیا اور ان سے پہلے بنو قینقاع، بنو نضیر اور بنو قریظہ کو بھی اللہ نے ذلیل و رسوا کیا، اسی طرح شام کے نصرانی صحابہ کے وقت میں مغلوب ہوئے اور ملک شام ان کے ہاتھوں سے نکل گیا اور ہمیشہ کیلئے مسلمانوں کے قبضہ میں آگیا اور وہاں ایک حق والی جماعت حضرت عیسیٰ ؑ کے آنے تک حق پر قائم رہے گی، حضرت عیسیٰ آ کر ملت اسلام اور شریعت محمد کے مطابق حکم کریں گے صلیب توڑیں گے خنزیر کو قتل کریں گے جزیہ قبول نہ کریں گے صرف اسلام ہی قبول فرمائیں گے پھر فرمایا کہ ان کے اوپر ذلت اور پستی ڈال دی گئی ہاں اللہ کی پناہ کے علاوہ کہیں بھی امن وامان اور عزت نہیں یعنی جزیہ دینا اور مسلم بادشاہ کی اطاعت کرنا قبول کرلیں اور لوگوں کی پناہ یعنی عقد ذمہ مقرر ہوجائے یا کوئی مسلمان امن دے دے اگرچہ کوئی عورت ہو یا کوئی غلام ہو، علماء کا ایک قول یہ بھی ہے، حضرت ابن عباس کا قول ہے کہ حبل سے مراد ہے جو غضب کے مستحق ہوئے اور مسکینی چپکا دی گئی، ان کے کفر اور انبیاء کے تکبر، حسد، سرکشی وغیرہ کا بدلہ ہے۔ اسی باعث ان پر ذلت پستی اور مسکینی ہمیشہ کیلئے ڈال دی گئی ان کی نافرمانیوں اور تجاوز حق کا یہ بدلہ ہے العیاذ باللہ، ابو داؤد طیالسی میں حدیث ہے کہ بنی اسرائیل ایک ایک دن میں تین تین سو نبیوں کو قتل کر ڈالتے تھے اور دن کے آخری حصہ میں اپنے اپنے کاموں پر بازاروں میں لگ جاتے تھے۔
111
View Single
لَن يَضُرُّوكُمۡ إِلَّآ أَذٗىۖ وَإِن يُقَٰتِلُوكُمۡ يُوَلُّوكُمُ ٱلۡأَدۡبَارَ ثُمَّ لَا يُنصَرُونَ
They cannot harm you except cause some trouble; and if they fight against you, they will turn their backs on you; then they will not be helped.
یہ لوگ ستانے کے سوا تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے، اور اگر یہ تم سے جنگ کریں تو تمہارے سامنے پیٹھ پھیر جائیں گے، پھر ان کی مدد (بھی) نہیں کی جائے گے
Tafsir Ibn Kathir
Virtues of the Ummah of Muhammad ﷺ , the Best Nation Ever
Allah states that the Ummah of Muhammad ﷺ is the best nation ever,
كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ
(You are the best of peoples ever raised up for mankind) 3:110.
Al-Bukhari recorded that Abu Hurayrah commented on this Ayah, "(You, Muslims, are) the best nation of people for the people, you bring them tied in chains on their necks (capture them in war) and they later embrace Islam." Similar was said by Ibn `Abbas, Mujahid, `Atiyah Al-`Awfi, `Ikrimah, `Ata' and Ar-Rabi` bin Anas that,
كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ
(You are the best of peoples ever raised up for mankind;) means, the best of peoples for the people.
The meaning of the Ayah is that the Ummah of Muhammad ﷺ is the most righteous and beneficial nation for mankind. Hence Allah's description of them,
تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ
(you enjoin Al-Ma`ruf and forbid Al-Munkar and believe in Allah) 3:110.
Ahmad, At-Tirmidhi, Ibn Majah, and Al-Hakim recorded that Hakim bin Mu`awiyah bin Haydah narrated that his father said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«أَنْتُمْ تُوَفُّون سَبْعِينَ أُمَّةً، أَنْتُمْ خَيْرُهَا، وَأَنْتُمْ أَكْرَمُ عَلَى اللهِ عَزَّ وَجَل»
(You are the final of seventy nations, you are the best and most honored among them to Allah.)
This is a well-known Hadith about which At-Tirmidhi said, "Hasan", and which is also narrated from Mu`adh bin Jabal and Abu Sa`id. The Ummah of Muhammad ﷺ achieved this virtue because of its Prophet, Muhammad ﷺ, peace be upon him, the most regarded of Allah's creation and the most honored Messenger with Allah. Allah sent Muhammad ﷺ with the perfect and complete Law that was never given to any Prophet or Messenger before him. In Muhammad's ﷺ Law, few deeds take the place of the many deeds that other nations performed. For instance, Imam Ahmad recorded that `Ali bin Abi Talib said, "The Messenger of Allah ﷺ said,
«أُعْطِيتُ مَا لَمْ يُعْطَ أَحَدٌ مِنَ الْأَنْبِيَاء»
(I was given what no other Prophet before me was given.)
We said, `O Messenger of Allah! What is it' He said,
«نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ، وَأُعْطِيتُ مَفَاتِيحَ الْأَرْضِ، وَسُمِّيتُ أَحْمَدَ، وَجُعِلَ التُّرَابُ لِي طَهُورًا، وَجُعِلَتْ أُمَّتِي خَيْرَ الْأُمَم»
(I was given victory by fear, I was given the keys of the earth, I was called Ahmad, the earth was made a clean place for me (to pray and perform Tayammum with it) and my Ummah was made the best Ummah.)."
The chain of narration for this Hadith is Hasan. There are several Hadiths that we should mention here.
The Two Sahihs recorded that Az-Zuhri said that, Sa`id bin Al-Musayyib said that Abu Hurayrah narrated to him, "I heard the Messenger of Allah ﷺ saying,
«يَدْخُلُ الْجَنَّــةَ مِنْ أُمَّتِي زُمْرَةٌ وَهُمْ سَبْعُونَ أَلْفًا، تُضِيءُ وُجُوهُهُمْ إِضَاءَةَ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْر»
فقال أبو هريرة: فقام عكاشة بن محصن الأسدي يرفع نمرة عليه، فقال: يا رسول الله، ادع الله أن يجعلني منهم، فقال رسول اللهصلى الله عليه وسلّم:
«اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ مِنْهُم»
ثم قام رجل من الأنصار فقال: يا رسول الله ادع الله أن يجعلني منهم، فقال:
«سَبقَكَ بِهَا عُكَّاشَة»
(A group of seventy thousand from my Ummah will enter Paradise, while their faces are radiating, just like the moon when it is full.'`Ukkashah bin Mihsan Al-Asadi stood up, saying, `O Messenger of Allah! Supplicate to Allah that I am one of them.' The Messenger of Allah ﷺ said, `O Allah! Make him one of them.' A man from the Ansar also stood and said, `O Messenger of Allah! Supplicate to Allah that I am one of them.' The Messenger said, `Ukkashah has beaten you to it.')
Another Hadith that Establishes the Virtues of the Ummah of Muhammad in this Life and the Hereafter
Imam Ahmad recorded that Jabir said, "I heard the Messenger of Allah saying,
«إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ يَكُونَ مَنْ يَتَّبِعُنِي مِنْ أُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ رُبُعَ الْجَنَّــة»
قال: فكبرنا، ثم قال:
«أَرْجُو أَنْ يَكُونُوا ثُلُثَ النَّاس»
قال: فكبرنا، ثم قال:
«أَرْجُو أَنْ تَكُونُوا الشَّطْر»
(`I hope that those who follow me will be one-fourth of the residents of Paradise on the Day of Resurrection.' We said, `Allahu Akbar'. He then said, `I hope that they will be one-third of the people.' We said, `Allahu Akbar'. He then said, `I hope that you will be one-half.')"
Imam Ahmad recorded the same Hadith with another chain of narration, and this Hadith meets the criteria of Muslim in his Sahih. In the Two Sahihs, it is recorded that `Abdullah bin Mas`ud said, "The Messenger of Allah ﷺ said to us,
«أَمَا تَرْضَوْنَ أَنْ تَكُونُوا رُبُعَ أَهْلِ الْجَنَّـةِ؟»
(Does it please you that you will be one-fourth of the people of Paradise)
We said, `Allahu Akbar!' He added,
«أَمَا تَرْضَوْنَ أَنْ تَكُونُوا ثُلُثَ أَهْلِ الْجَنَّـةِ؟»
(Does it please you that you will be one-third of the people of Paradise) We said, `Allahu Akbar!' He said,
«إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ تَكُونُوا شَطْرَ أَهْلِ الْجَنَّـةِ؟»
(I hope that you will be half of the people of Paradise.)" Another Hadith
Imam Ahmad recorded that Buraydah said that the Prophet said,
«أَهْلُ الْجَنَّةِ عِشْرُونَ وَمِائَةُ صَفَ، هذِهِ الْأُمَّةُ مِنْ ذلِكَ ثَمَانُونَ صَفًّا»
(The people of Paradise are one hundred and twenty rows, this Ummah takes up eighty of them.)
Imam Ahmad also collected this Hadith through another chain of narration. At-Tirmidhi and Ibn Majah also collected this Hadith, and At-Tirmidhi said, `This Hadith is Hasan. `Abdur-Razzaq recorded that Abu Hurayrah said that, the Prophet said,
«نَحْنُ الْآخِرُونَ الْأَوَّلُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، نَحْنُ أَوَّلُ النَّاسِ دُخُولًا الْجَنَّــةَ، بَيْدَ أَنَّهُمْ أُوتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِنَا وَأُوتِينَاهُ مِنْ بَعْدِهِمْ، فَهَدَانَا اللهُ لِمَا اخْتَلَفُوا فِيهِ مِنَ الْحَقِّ، فَهَذَا الْيَوْمُ الَّذِي اخْتَلَفُوا فِيهِ، النَّاسُ لَنَا فِيهِ تَبَعٌ، غَدًا لِلْيَهُودِ، وَلِلنَّصَارَى بَعْدَ غَد»
(We (Muslims) are the last to come, but the foremost on the Day of Resurrection, and the first people to enter Paradise, although the former nations were given the Scriptures before us and we after them. Allah gave us the guidance of truth that they have been disputing about. This (Friday) is the Day that they have been disputing about, and all the other people are behind us in this matter: the Jews' (day of congregation is) tomorrow (Saturday) and the Christians' is the day after tomorrow (Sunday). )
Al-Bukhari and Muslim collected this Hadith. Muslim recorded Abu Hurayrah saying that the Messenger of Allah ﷺ said,
«نَحْنُ الْآخِرُونَ الْأَوَّلُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، نَحْنُ أَوَّلُ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّــة»
(We (Muslims) are the last (to come), but (will be) the foremost on the Day of Resurrection, and will be the first people to enter Paradise...) until the end of the Hadith.
These and other Hadiths conform to the meaning of the Ayah,
كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ
(You are the best of peoples ever raised up for mankind; you enjoin Al-Ma`ruf (all that Islam has ordained) and forbid Al-Munkar (all that Islam has forbidden), and you believe in Allah).
Therefore, whoever among this Ummah acquires these qualities, will have a share in this praise. Qatadah said, "We were told that `Umar bin Al-Khattab recited this Ayah 3:110 during a Hajj that he performed, when he saw that the people were rushing. He then said, `Whoever likes to be among this praised Ummah, let him fulfill the condition that Allah set in this Ayah.
"'
Ibn Jarir recorded this. Those from this Ummah who do not acquire these qualities will be just like the People of the Scriptures whom Allah criticized, when He said,
كَانُواْ لاَ يَتَنَـهَوْنَ عَن مُّنكَرٍ فَعَلُوهُ
(They did not forbid one another from the Munkar which they committed. ..)
5:79.
This is the reason why, after Allah praised the Muslim Ummah with the qualities that He mentioned, He criticized the People of the Scriptures and chastised them, saying,
وَلَوْ ءَامَنَ أَهْلُ الْكِتَـبِ
(And had the People of the Scripture (Jews and Christians) believed)
3:110
,
in what was sent down to Muhammad ,
لَكَانَ خَيْراً لَّهُمْ مِّنْهُمُ الْمُؤْمِنُونَ وَأَكْثَرُهُمُ الْفَـسِقُونَ
(it would have been better for them; among them are some who have faith, but most of them are Fasiqun (rebellious).)
Therefore only a few of them believe in Allah and in what was sent down to you and to them. The majority of them follow deviation, disbelief, sin and rebellion.
The Good News that Muslims will Dominate the People of the Book
While delivering the good news to His believing servants that victory and dominance will be theirs against the disbelieving, atheistic People of the Scriptures, Allah then said,
لَن يَضُرُّوكُمْ إِلاَّ أَذًى وَإِن يُقَـتِلُوكُمْ يُوَلُّوكُمُ الاٌّدُبَارَ ثُمَّ لاَ يُنصَرُونَ
(They will do you no harm, barring a trifling annoyance; and if they fight against you, they will show you their backs, and they will not be helped.) 3:111
This is what occurred, for at the battle of Khaybar, Allah brought humiliation and disgrace to the Jews. Before that, the Jews in Al-Madinah, the tribes of Qaynuqa`, Nadir and Qurayzah, were also humiliated by Allah. Such was the case with the Christians in the area of Ash-Sham later on, when the Companions defeated them in many battles and took over the leadership of Ash-Sham forever. There shall always be a group of Muslims in Ash-Sham area until `Isa, son of Maryam, descends while they are like this on the truth, apparent and victorious. `Isa will at that time rule according to the Law of Muhammad , break the cross, kill the swine, banish the Jizyah and only accept Islam from the people.
Allah said next,
ضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الذِّلَّةُ أَيْنَ مَا ثُقِفُواْ إِلاَّ بِحَبْلٍ مِّنْ اللَّهِ وَحَبْلٍ مِّنَ النَّاسِ
(Indignity is put over them wherever they may be, except when under a covenant (of protection) from Allah, and a covenant from men;) meaning, Allah has placed humiliation and disgrace on them wherever they may be, and they will never be safe,
إِلاَّ بِحَبْلٍ مِّنْ اللَّهِ
(except when under a covenant from Allah,) under the Dhimmah (covenant of protection) from Allah that requires them to pay the Jizyah (tax, to Muslims,) and makes them subservient to Islamic Law.
وَحَبْلٍ مِّنَ النَّاسِ
(and a covenant from men;) meaning, covenant from men, such as pledges of protection and safety offered to them by Muslim men and women, and even a slave, according to one of the sayings of the scholars. Ibn `Abbas said that,
إِلاَّ بِحَبْلٍ مِّنْ اللَّهِ وَحَبْلٍ مِّنَ النَّاسِ
(except when under a covenant from Allah, and a covenant from men;) refers to a covenant of protection from Allah and a pledge of safety from people. Similar was said by Mujahid, `Ikrimah, `Ata', Ad-Dahhak, Al-Hasan, Qatadah, As-Suddi and Ar-Rabi` bin Anas. Allah's statement,
وَبَآءُوا بِغَضَبٍ مِّنَ اللَّهِ
(they have drawn on themselves the wrath of Allah,) means, they earned Allah's anger, which they deserved,
وَضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الْمَسْكَنَةُ
(and destitution is put over them), meaning they deserve it by decree and legislatively.
Allah said next,
ذلِكَ بِأَنَّهُمْ كَانُواْ يَكْفُرُونَ بِـَايَـتِ اللَّهِ وَيَقْتُلُونَ الاٌّنْبِيَآءَ بِغَيْرِ حَقٍّ
(This is because they disbelieved in the Ayat of Allah and killed the Prophets without right.) meaning, what drove them to this was their arrogance, transgression and envy, earning them humiliation, degradation and disgrace throughout this life and the Hereafter. Allah said,
ذلِكَ بِمَا عَصَواْ وَّكَانُواْ يَعْتَدُونَ
(This is because they disobeyed and used to transgress (the limits set by Allah).) meaning, what lured them to disbelieve in Allah's Ayat and kill His Messengers, is the fact that they often disobeyed Allah's commands, committed His prohibitions and transgressed His set limits. We seek refuge from this behavior, and Allah Alone is sought for each and every type of help.
سب سے بہتر شخص کون ؟ اور سب سے بہتر امت کا اعزاز کس کو ملا ؟ اللہ تعالیٰ خبر دے رہا ہے کہ امت محمدیہ تمام امتوں پر بہتر ہے صحیح بخاری شریف میں ہے حضرت ابوہریرہ ؓ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں تم اوروں کے حق میں سب سے بہتر ہو تو لوگوں کی گردنیں پکڑ پکڑ کر اسلام کی طرف جھکاتے ہو، اور مفسرین بھی یہی فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ تم تمام امتوں سے بہتر ہو اور سب سے زیادہ لوگوں کو نفع پہنچانے والے ہو، ابو لہب کی بیٹی حضرت درہ ؓ فرماتی ہیں ایک مرتبہ کسی نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا آپ اس وقت منبر پر تھے کہ حضور ﷺ کونسا شخص بہتر ہے ؟ آپ نے فرمایا سب لوگوں سے بہتر وہ شخص ہے جو سب سے زیادہ قاری قرآن ہو سب سے زیادہ پرہیزگار ہو، سب سے زیادہ اچھائیوں کا حکم کرنے والا سب سے زیادہ برائیوں سے روکنے والا سب سے زیادہ رشتے ناتے ملانے والا ہو۔ (مسند احمد) حضرت ابن عباس فرماتے ہیں یہ وہ صحابہ ہیں جنہوں نے مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کی، صحیح بات یہ ہے کہ یہ آیت ساری امت پر مشتمل ہے، بیشک یہ حدیث میں بھی ہے کہ سب سے بہتر میرا زمانہ ہے پھر اس کے بعد اس سے ملا ہوا زمانہ پھر اس کے بعد والا، ایک اور روایت میں ہے آیت (وَكَذٰلِكَ جَعَلْنٰكُمْ اُمَّةً وَّسَطًا لِّتَكُوْنُوْا شُهَدَاۗءَ عَلَي النَّاسِ وَيَكُـوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَيْكُمْ شَهِيْدًا) 2۔ البقرۃ :143) ہم نے تمہیں بہتر امت بنایا ہے تاہم تم لوگوں پر گواہ بنو، رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں تم نے اگلی امتوں کی تعداد ستر تک پہنچا دی ہے، اللہ کے نزدیک تم ان سب سے بہتر اور زیادہ بزرگ ہو، یہ مشہور حدیث ہے امام ترمذی نے اسے حسن کہا ہے، اس امت کی افضلیت کی ایک بڑی دلیل اس امت کے نبی کی افضلیت ہے، آپ تمام مخلوق کے سردار تمام رسولوں سے زیادہ اکرام و عزت والے ہیں، آپ کی شرع اتنی کامل اور اتنی پوری ہے کہ ایسی شریعت کسی نبی کو نہیں تو ظاہر بات ہے کہ ان فضائل کو سمیٹتے والی امت بھی سب سے اعلیٰ و افضل ہے، اس شریعت کا تھوڑا سا عمل بھی اور امتوں کے زیادہ عمل سے بہتر و افضل ہے، حضرت علی بن ابو طالب رضلی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں وہ وہ نعمتیں دیا گیا ہوں جو مجھ سے پہلے کوئی نہیں دیا گیا لوگوں نے پوچھا وہ کیا باتیں ہیں، آپ نے فرمایا میری مدد رعب سے کی گئی ہے میں زمین کی کنجیاں دیا گیا ہوں، میرا نام احمد رکھا گیا ہے، میرے لئے مٹی پاک کی گئی ہے، میری امت سب امتوں سے بہتر بنائی گئی ہے (مسند احمد) اس حدیث کی اسناد حسن ہے، حضرت ابو الدرداء ؓ فرماتے ہیں میں نے ابو القاسم ﷺ سے سنا آپ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ ؑ سے فرمایا کہ میں تمہارے بعد ایک امت پیدا کرنے والا ہوں جو راحت پر حمدو شکر کریں گے اور مصیبت پر طلب ثواب اور صبر کریں گے حالانکہ انہیں حلم و علم نہ ہوگا آپ نے تعجب سے پوچھا کہ بغیر بردباری اور دور اندیشی اور پختہ علم کے یہ کیسے ممکن ہے ؟ رب العالمین نے فرمایا میں انہیں اپنا حلم و علم عطا فرماؤں گا، میں چاہتا ہوں یہاں پر بعض وہ حدیثیں بھی بیان کر دوں جن کا ذکر یہاں مناسب ہے سنئے۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں میری امت میں سے ستر ہزار شخص بغیر حساب کتاب کے جنت میں جائیں گے جن کے چہرے چودھویں رات کے چاند کی طرح روشن ہوں گے سب یک رنگ ہونگے، میں نے اپنے رب سے گزارش کی کہ اے اللہ اس تعداد میں اور اضافہ فرما اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ہر ایک کے ساتھ ستر ہزار اور بھی، حضرت صدیق اکبر ؓ یہ حدیث بیان کر کے فرمایا کرتے تھے کہ پھر تو اس تعداد میں گاؤں اور دیہاتوں والے بلکہ بادیہ نشین بھی آجائیں گے (مسند احمد) حضور ﷺ فرماتے ہیں مجھے میرے رب نے ستر ہزار آدمیوں کو میری امت میں سے بغیر حساب کے جنت میں داخل ہونے کی خوشخبری دی، حضرت عمر نے یہ سن کر فرمایا حضور ﷺ کچھ اور زیادتی طلب کرتے آپ نے فرمایا میں نے اپنے رب سے سوال کیا تو مجھے خوشخبری ملی کے ہر شخص کے ساتھ ستر ستر ہزار کا وعدہ ہوا۔ حضرت عمر نے پھر گزارش کی کہ اللہ کے نبی اور کچھ بھی مانگتے آپ نے فرمایا مانگا تو مجھے اتنی زیادتی اور ملی اور پھر دونوں ہاتھ پھیلا کر بتایا کہ اس طرح، راوی حدیث کہتے ہیں اس طرح جب اللہ تعالیٰ سمیٹے تو اللہ عزوجل ہی جانتا ہے کہ کس قدر مخلوق اس میں آئے گی (فسبحان اللہ وبحمدہ) (مسند احمد) حضرت ثوبان ؓ حمص میں بیمار ہوگئے عبداللہ بن قرط وہاں کے امیر تھے وہ عیادت کو نہ آسکے ایک کلاعی شخص جب آپ کی بیمار پرسی کیلئے گیا تو آپ نے اس سے دریافت کیا کہ لکھنا جانتے ہو اس نے کہا ہاں فرمایا لکھو یہ خط ثوبان کی طرف سے امیر عبداللہ بن قرط کی طرف سے ہے جو رسول اللہ ﷺ کے خادم ہیں بعد حمد و صلوٰۃ کے واضح ہو کہ اگر حضرت عیسیٰ یا حضرت موسیٰ کا کوئی خادم یہاں ہوتا اور بیمار پڑتا تو تم عیادت کیلئے جاتے پھر کہا یہ خط لے جاؤ اور امیر کو پہنچا دو جب یہ خط امیر حمص کے پاس پہنچا تو گھبرا کر اٹھ کھڑے ہوئے اور سیدھے یہاں تشریف لائے کچھ دیر بیٹھ کر عیادت کر کے جب جانے کا ارادہ کیا تو حضرت ثوبان نے ان کی چادر پکڑ روکا اور فرمایا ایک حدیث سنتے جائیں میں نے آنحضرت ﷺ کی زبان مبارک سے سنا ہے آپ نے فرمایا میری امت میں سے ستر ہزار شخص بغیر حساب و عذاب کے جنت میں جائیں گے ہر ہزار کے ساتھ ستر ہزار اور ہوں گے (مسند احمد) یہ حدیث بھی صحیح ہے، حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں ایک رات ہم خدمت نبوی میں دیر تک باتیں کرتے رہے پھر صبح جب حاضر خدمت ہوئے تو حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا سنو آج رات انبیاء اپنی اپنی امت سمیت مجھے دکھائے گئے بعض انبیاء کے ساتھ صرف تین شخص تھے بعض کے ساتھ مختصر سا گروہ بعض کے ساتھ ایک جماعت کسی کے ساتھ کوئی بھی نہ تھا جب موسیٰ ؑ آئے تو ان کے ساتھ بہت سے لوگ تھے مجھے یہ جماعت پسند آئی میں نے پوچھایہ کون ہیں تو جواب ملا کہ یہ آپ کے بھائی موسیٰ ؑ ہیں اور ان کے ساتھ بنی اسرائیل ہیں میں نے کہا پھر میری امت کہاں ہے جواب ملا اپنی داہنی طرف دیکھو اب جو دیکھتا ہوں تو بیشمار مجمع ہے جس سے پہاڑیاں بھی ڈھک گئی ہیں اب مجھ سے پوچھا گیا کہو خوش ہو میں نے کہا میرے رب میں راضی ہوگیا، فرمایا گیا سنو ! ان کے ساتھ ستر ہزار اور ہیں جو بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوں گے، اب نبی ﷺ نے فرمایا تم پر میرے میں باپ فدا ہوں اگر ہو سکے تو ان ستر ہزار میں سے ہی ہونا اگر یہ نہ ہو سکے تو ان میں سے ہو جو پہاڑیوں کو چھپائے ہوئے تھے اگر یہ بھی نہ ہو سکے تو ان میں سے ہونا جو آسمان کے کناروں کناروں پر تھے، حضرت عکاش بن محصن نے کھڑے ہو کر کہا حضور ﷺ میرے لئے دعا کیجئے کہ اللہ تعالیٰ مجھے ان ستر ہزار میں سے کرے آپ نے دعا کی تو ایک دوسرے صحابی نے بھی اٹھ کر یہی گزارش کی تو آپ نے فرمایا تم پر حضرت عکاشہ سبقت کر گئے، ہم اب آپس میں کہنے لگے کہ شاید یہ ستر ہزار لوگ ہوں گے جو اسلام پر ہی پیدا ہوئے ہوں اور پوری عمر میں کبھی اللہ کے ساتھ شرک کیا ہی نہ ہو آپ کو جب یہ معلوم ہوا تو فرمایا یہ وہ لوگ ہیں جو دم جھاڑا نہیں کراتے آگ کے داغ نہیں لگواتے شگون نہیں لیتے اور اپنے رب پر پورا بھروسہ رکھتے ہیں (مسند احمد) ایک اور سند سے اتنی زیادتی اس میں اور بھی ہے جب میں نے اپنی رضامندی ظاہر کی تو مجھ سے کہا گیا اب اپنی بائیں جانب دیکھو میں نے دیکھا تو بیشمار مجمع ہے جس نے آسمان کے کناروں کو بھی ڈھک لیا ہے ایک اور روایت میں ہے کہ موسم حج کا یہ واقعہ ہے آپ فرماتے ہیں مجھے اپنی امت کی یہ کثرت بہت پسند آئی تمام پہاڑیاں اور میدان ان سے پُر تھے (مسند احمد) ایک اور روایت میں ہے کہ حضرت عکاشہ کے بعد کھڑے ہونے والے ایک انصاری تھے ؓ (طبرانی) ایک اور روایت میں ہے کہ میری امت میں سے ستر ہزار یا ساٹھ لاکھ آدمی جنت میں جائیں گے جو ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے ہوئے ہوں گے سب ایک ساتھ جنت میں جائیں گے چمکتے ہوئے چودھویں رات کے چاند جیسے ان کے چہرے ہوں گے۔ (بخاری مسلم طبرانی) حصین بن عبدالرحمن کہتے ہیں کہ سعید بن جیبر کے پاس تھا تو آپ نے دریافت کیا رات کو جو ستارہ ٹوٹا تھا تم میں سے کسی نے دیکھا تھا میں نے کہا ہاں حضرت میں نے دیکھا تھا یہ نہ سمجھئے گا کہ میں نماز میں تھا بلکہ مجھے بچھو نے کاٹ کھایا تھا حضرت سعید نے پوچھا پھر تم نے کیا کیا میں نے کہا دم کردیا تھا کہا کیوں میں نے کہا حضرت شعبی نے بریدہ بن حصیب کی روایت سے حدیث بیان کی ہے کہ نظربد اور زہریلے جانوروں کا دم جھاڑا کرانا ہے کہنے لگے خیر جسے جو پہنچے اس پر عمل کرے ہمیں تو حضرت ابن عباس نے سنایا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مجھ پر امتیں پیش کی گئیں کسی نبی کے ساتھ ایک جماعت تھی کسی کے ساتھ ایک شخص اور دو شخص اور کسی نبی کے ساتھ کوئی نہ تھا اب جو دیکھا کہ ایک بڑی پر جماعت نظر پڑی میں سمجھا یہ تو میری امت ہوگی پھر معلوم ہوا کہ موسیٰ ؑ کی امت ہے مجھ سے کہا گیا آسمان کے کناروں کی طرف دیکھو میں نے دیکھا تو وہاں بیشمار لوگ تھے مجھ سے کہا گیا یہ آپ کی امت ہے اور ان کے ساتھ ستر ہزار اور ہیں جو بےحساب اور بےعذاب جنت میں جائیں گے یہ حدیث بیان فرما کر حضور ﷺ تو مکان پر چلے گئے اور صحابہ آپس میں کہنے لگے شاید یہ حضور ﷺ کے صحابی ہوں گے کسی نے کہا نہیں اسلام میں پیدا ہونے والے اور اسلام پر ہی مرنے والے ہوں گے وغیرہ وغیرہ آپ تشریف لائے اور پوچھا کیا باتیں کر رہے ہو ہم نے ذکر کیا تو آپ نے فرمایا نہیں یہ وہ لوگ ہیں جو نہ دم جھاڑا کریں نہ کرائیں، نہ داغ لگوائیں نہ شگون لیں بلکہ اپنے رب پر بھروسہ رکھیں حضرت عکاشہ ؓ نے دعا کی درخواست کی آپ نے دعا کی یا اللہ تو اسے ان میں سے ہی بنا۔ پھر دوسرے شخص نے بھی یہی کہا آپ نے فرمایا عکاشہ آگے بڑھ گئے، یہ حدیث بخاری میں ہے لیکن اس میں دم جھاڑا نہیں کرنے کا لفظ نہیں صحیح مسلم میں یہ لفظ بھی ہے۔ ایک اور مطول حدیث میں ہے کہ پہلی جماعت تو نجات پائے گی ان کے چہرے چودھویں رات کے چاند کی طرح روشن ہوں گے ان سے حساب بھی نہ لیا جائے گا پھر ان کے بعد والے سب سے زیادہ روشن ستارے جیسے چمکدار چہرے والے ہوں گے (مسلم) آپ فرماتے ہیں مجھ سے میرے رب کا وعدہ ہے کہ میری امت میں سے ستر ہزار شخص بغیر حساب و عذاب کے داخل بہشت ہوں گے ہر ہزار کے ساتھ ستر ہزار ہوں گے اور تین لپیں اور میرے رب عزوجل کی لپوں سے (کتاب السنن لحافظ ابی بکر بن عاصم) اس کی اسناد بہت عمدہ ہے ایک اور حدیث میں ہے کہ آپ سے ستر ہزار کی تعداد سن کر یزید بن اخنس نے کہا حضور ﷺ یہ تو آپ کی امت کی تعداد کے مقابلہ میں بہت ہی تھوڑے ہیں تو آپ نے فرمایا ہر ہزار کے ساتھ ستر ہزار ہیں اور پھر اللہ نے تین لپیں (ہتھیلیوں کا کشکول) بھر کر اور بھی عطا فرمائے ہیں، اسکی اسناد بھی حسن ہے (کتاب السنن اور ایک اور حدیث میں ہے کہ میرے رب نے جو عزت اور جلال والا ہے مجھ سے وعدہ کیا ہے کہ میری امت میں سے ستر ہزار کو بلا حساب جنت میں لے جائے گا پھر ایک ایک ہزار کی شفاعت سے ستر ستر ہزار آدمی اور جائیں گے پھر میرا رب اپنے دونوں ہاتھوں سے تین لپیں (دونوں ہاتھوں کی ہھتیلیوں کو ملا کر کٹورا بنانا) بھر کر اور ڈالے گا حضرت عمر نے یہ سن کر خوش ہو کر اللہ اکبر کہا اور فرمایا کہ ان کی شفاعت ان کے باپ دادوں اور بیٹوں اور بیٹیوں اور خاندان و قبیلہ میں ہوگی اللہ کرے میں تو ان میں سے ہوجاؤں جنہیں اللہ تعالیٰ اپنی لپوں میں بھر کر آخر میں جنت میں لے جائے گا (طبرانی) اس حدیث کی سند میں بھی کوئی علت نہیں، واللہ اعلم، کرید میں حضور ﷺ نے ایک حدیث فرمائی جس میں جنت میں یہ بھی فرمایا یہ ستر ہزار جو بلا حساب جنت میں داخل کئے جائیں گے میرا خیال ہے کہ ان کے آتے آتے تو تم اپنے لئے اور اپنے بال بچوں اور بیویوں کیلئے جنت میں جگہ مقرر کرچکے ہونگے (مسند احمد) اس کی سند میں شرط مسلم پر ہے، ایک اور حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ کا وعدہ ہے کہ میری امت میں سے چار لاکھ آدمی جنت میں جائیں گے، حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے کہا حضور ﷺ کچھ اور زیادہ کیجئے اسے سن کر حضرت عمر نے فرمایا ابوبکر بس کرو صدیق نے جواب دیا کیوں صاحب اگر ہم سب کے سب جنت میں چلے جائیں گے تو آپ کو کیا نقصان ہے حضرت عمر نے فرمایا اگر اللہ چاہے تو ایک ہی ہاتھ میں ساری مخلوق کو جنت میں ڈال دےحضور ﷺ نے فرمایا عمر سچ کہتے ہیں (مسند عبدالرزاق) اسی حدیث کی اور سند سے بھی بیان ہے اس میں تعداد ایک لاکھ آئی ہے (اصبہانی) ایک اور روایت میں ہے کہ جب صحابہ نے ستر ہزار اور پھر ہر ایک کے ساتھ ستر ہزار پھر اللہ کی لپ بھر کر جنتی بنانا سنا تو کہنے لگے پھر تو اس کی بدنصیبی میں کیا شک رہ گیا جو باوجود اس کے بھی جہنم میں جائے (ابولیلی) اوپر والی حدیث ایک اور سند سے بھی بیان ہوئی ہے اس میں تعداد تین لاکھ کی ہے پھر حضرت عمر نے فرمایا میری امت کے سارے مہاجر تو اس میں آہی جائیں گے پھر باقی تعداد اعرابیوں سے پوری ہوگی (محمد بن سہل) حضرت ابو سعید کہتے ہیں حضور ﷺ کے سامنے حساب کیا گیا تو جملہ تعداد چار کروڑ نوے ہزار ہوئی، ایک اور حسن حدیث طبرانی میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قسم ہے اس ذات کی کہ جان محمد ﷺ کی اس کے ہاتھ میں ہے تم ایک اندھیری رات کی طرح بیشمار ایک ساتھ جنت کی طرف بڑھو گے، زمین تم سے پر ہوجائے گی تمام فرشتے پکار اٹھیں گے کہ محمد ﷺ کے ساتھ جو جماعت آئی وہ تمام نبیوں کی جماعت سے بہت زیادہ ہے، حضرت جابر ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ نے فرمایا صرف میری تابعدار امت اہل جنت کی چوتھائی ہوگی صحابہ نے خوش ہو کر نعرہ تکبیر بلند کیا پھر فرمایا کہ مجھے تو امید ہے کہ تم اہل جنت کا تیسرا حصہ ہوجاؤ ہم نے پھر تکبیر کہی پھر فرمایا میں امید کرتا ہوں کہ تم آدھوں آدھ ہوجاؤ (مسند احمد) اور حدیث میں ہے کہ آپ نے صحابہ سے فرمایا کہ تم راضی نہیں ہو کہ تم تمام جنتوں کے چوتھائی ہو ہم نے خوش ہو کر اللہ کی بڑائی بیان کی پھر فرمایا کہ تم راضی نہیں ہو کہ تمام اہل جنت کی تہائی ہو ہم نے پھر تکبیر کہی آپ نے فرمایا مجھے تو امید ہے کہ تم جنتیوں کے آدھوں آدھ ہو گے (بخاری مسلم) طبرانی میں یہ روایت حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا کہتے ہو تم جنتیوں کا چوتھائی حصہ بننا چاہتے ہو کہ چوتھائی جنت تمہارے پاس ہو اور تین اور چوتھائیوں میں تمام امتیں ہوں ؟ ہم نے کہا اللہ اور اس کا رسول خوب جانتا ہے آپ نے فرمایا اچھا تہائی حصہ ہو تو ہم نے کہا یہ بہت ہے فرمایا اگر آدھوں آدھ ہو تو، انہوں نے کہا حضور ﷺ پھر تو بہت ہی زیادہ ہے آپ نے فرمایا سنو ! کل اہل جنت کی ایک سو بیس صفیں ہیں جن میں سے اسی صفیں صرف اس میری امت کی ہیں، مسند احمد میں بھی ہے کہ اہل جنت کی ایک سو بیس صفیں ان میں اسی صفیں صرف اس امت کی ہیں یہ حدیث طبرانی ترمذی وغیرہ میں بھی ہے، طبرانی ایک اور روایت میں ہے کہ جب آیت (ثُلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِيْنَ 39 ۙ وَثُلَّةٌ مِّنَ الْاٰخِرِيْنَ 40ۭ) 56۔ الواقعہ :39۔ 40) اتری تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم اہل جنت کی چوتھائی ہو پھر فرمایا بلکہ ثلث ہو پھر فرمایا بلکہ نصف ہو پھر فرمایا دو تہائی ہو (اے وسیع رحمتوں والے اور بےروک نعمتوں والے اللہ ہم تیرا بےانتہا شکر ادا کرتے ہیں کہ تو نے ہمیں ایسے معزز و محترم رسول ﷺ کی امت میں پیدا کیا تیرے سچے رسول ﷺ کی سچی زبان سے تیرے اس بڑھے چڑھے فضل و کرم کا حال سن کر ہم گنہگاروں کے منہ میں پانی بھر آیا، اے ماں باپ سے زیادہ مہربان اللہ ہماری آس نہ توڑ اور ہمیں بھی ان نیک ہستیوں کے ساتھ جنت میں داخل فرما۔ باری تعالیٰ تیری رحمت کی ان گنت اور بیشمار بندوں میں سے اگر ایک قطرہ بھی ہم گنہگاروں پر برس جائے تو ہمارے گناہوں کو دھو ڈالنے اور ہمیں تیری رحمت و رضوان کے لائق بنانے کیلئے کافی ہے، اللہ اس پاک ذکر کے موقعہ پر ہم ہاتھ اٹھا کر دامن پھیلا کر آنسو بہا کر امیدوں بھرے دل سے تیری رحمت کا سہارا لے کر تیرے کرم کا دامن تھام کر تجھ سے بھیک مانگتے ہیں تو قبول فرما اور اپنی رحمت سے ہمیں بھی اپنی رضامندی کا گھر جنت الفردوس عطا فرما۔ (آمین الہ الحق آمین) صحیح بخاری مسلم میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں ہم دنیا میں سب سے آخر آئے اور جنت میں سب سے پہلے جائیں گے اور ان کو کتاب اللہ پہلے ملی ہمیں بعد میں ملی جن باتوں میں انہوں نے اختلاف کیا ان میں اللہ نے ہمیں صحیح طریق کی توفیق دی، جمعہ کا دن بھی ایسا ہی ہے کہ یہود ہمارے پیچھے ہیں ہفتہ کے دن اور نصرانی ان کے پیچھے اتوار کے دن دار قطنی میں ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تک میں جنت میں داخل نہ ہوجاؤں انبیاء پر دخول جنت حرام ہے اور جب تک میری امت نہ داخل ہو دوسری امتوں پر دخول جنت حرام ہے۔ یہ وہ حدیثیں تھیں جنہیں ہم اس آیت کے تحت وارد کرنا چاہتے تھے فالحمد للہ۔ امت کو بھی چاہئے کہ یہاں اس آیت میں جتنی صفیں ہیں ان پر مضبوطی کے ساتھ قائم ثابت رہیں یعنی امر بالمعروف اور نہی عن المنکر اور ایمان باللہ حضرت عمر بن خطاب ؓ نے اپنے حج میں اس آیت کی تلاوت فرما کر لوگوں سے کہا کہ اگر تم اس آیت کی تعریف میں داخل ہونا چاہتے ہو تو یہ اوصاف بھی اپنے میں پیدا کرو، امام ابن جرید فرماتے، اہل کتاب ان کاموں کو چھوڑ بیٹھے تھے جن کی مذمت کلام اللہ نے کی، فرمایا آیت (كَانُوْا لَا يَتَنَاهَوْنَ عَنْ مُّنْكَرٍ فَعَلُوْهُ ۭلَبِئْسَ مَا كَانُوْا يَفْعَلُوْنَ) 5۔ المائدہ :79) وہ لوگ برائی کی باتوں سے لوگوں کو روکتے نہ تھے چونکہ مندرجہ بالا آیت میں ایمان داروں کی تعریف و توصیف بیان ہوئی تو اس کے بعد اہل کتاب کی مذمت بیان ہو رہی ہے، تو فرمایا کہ اگر یہ لوگ بھی میرے نبی آخر الزمان پر ایمان لاتے تو انہیں بھی یہ فضیلتیں ملتیں لیکن ان میں سے کفرو فسق اور گناہوں پر جمے ہوئے ہیں ہاں کچھ لوگ باایمان بھی ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو بشارت دیتا ہے کہ تم نہ گھبرانا اللہ تمہیں تمہارے مخالفین پر غالب رکھے گا چناچہ خیبر والے دن اللہ تعالیٰ نے انہیں ذلیل کیا اور ان سے پہلے بنو قینقاع، بنو نضیر اور بنو قریظہ کو بھی اللہ نے ذلیل و رسوا کیا، اسی طرح شام کے نصرانی صحابہ کے وقت میں مغلوب ہوئے اور ملک شام ان کے ہاتھوں سے نکل گیا اور ہمیشہ کیلئے مسلمانوں کے قبضہ میں آگیا اور وہاں ایک حق والی جماعت حضرت عیسیٰ ؑ کے آنے تک حق پر قائم رہے گی، حضرت عیسیٰ آ کر ملت اسلام اور شریعت محمد کے مطابق حکم کریں گے صلیب توڑیں گے خنزیر کو قتل کریں گے جزیہ قبول نہ کریں گے صرف اسلام ہی قبول فرمائیں گے پھر فرمایا کہ ان کے اوپر ذلت اور پستی ڈال دی گئی ہاں اللہ کی پناہ کے علاوہ کہیں بھی امن وامان اور عزت نہیں یعنی جزیہ دینا اور مسلم بادشاہ کی اطاعت کرنا قبول کرلیں اور لوگوں کی پناہ یعنی عقد ذمہ مقرر ہوجائے یا کوئی مسلمان امن دے دے اگرچہ کوئی عورت ہو یا کوئی غلام ہو، علماء کا ایک قول یہ بھی ہے، حضرت ابن عباس کا قول ہے کہ حبل سے مراد ہے جو غضب کے مستحق ہوئے اور مسکینی چپکا دی گئی، ان کے کفر اور انبیاء کے تکبر، حسد، سرکشی وغیرہ کا بدلہ ہے۔ اسی باعث ان پر ذلت پستی اور مسکینی ہمیشہ کیلئے ڈال دی گئی ان کی نافرمانیوں اور تجاوز حق کا یہ بدلہ ہے العیاذ باللہ، ابو داؤد طیالسی میں حدیث ہے کہ بنی اسرائیل ایک ایک دن میں تین تین سو نبیوں کو قتل کر ڈالتے تھے اور دن کے آخری حصہ میں اپنے اپنے کاموں پر بازاروں میں لگ جاتے تھے۔
112
View Single
ضُرِبَتۡ عَلَيۡهِمُ ٱلذِّلَّةُ أَيۡنَ مَا ثُقِفُوٓاْ إِلَّا بِحَبۡلٖ مِّنَ ٱللَّهِ وَحَبۡلٖ مِّنَ ٱلنَّاسِ وَبَآءُو بِغَضَبٖ مِّنَ ٱللَّهِ وَضُرِبَتۡ عَلَيۡهِمُ ٱلۡمَسۡكَنَةُۚ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمۡ كَانُواْ يَكۡفُرُونَ بِـَٔايَٰتِ ٱللَّهِ وَيَقۡتُلُونَ ٱلۡأَنۢبِيَآءَ بِغَيۡرِ حَقّٖۚ ذَٰلِكَ بِمَا عَصَواْ وَّكَانُواْ يَعۡتَدُونَ
Disgrace has been destined for them – wherever they are they shall not find peace, except by a rope from Allah and a rope from men – and they have deserved the wrath of Allah, and misery is destined for them; that is because they used to disbelieve in the signs of Allah, and unjustly martyr the Prophets; that was for their disobedience and transgression.
وہ جہاں کہیں بھی پائے جائیں ان پر ذلّت مسلط کر دی گئی ہے سوائے اس کے کہ انہیں کہیں اللہ کے عہد سے یا لوگوں کے عہد سے (پناہ دے دی جائے) اور وہ اللہ کے غضب کے سزاوار ہوئے ہیں اور ان پر محتاجی مسلط کی گئی ہے، یہ اس لئے کہ وہ اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے تھے اور انبیاء کو ناحق قتل کرتے تھے، کیونکہ وہ نافرمان ہو گئے تھے اور (سرکشی میں) حد سے بڑھ گئے تھے
Tafsir Ibn Kathir
Virtues of the Ummah of Muhammad ﷺ , the Best Nation Ever
Allah states that the Ummah of Muhammad ﷺ is the best nation ever,
كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ
(You are the best of peoples ever raised up for mankind) 3:110.
Al-Bukhari recorded that Abu Hurayrah commented on this Ayah, "(You, Muslims, are) the best nation of people for the people, you bring them tied in chains on their necks (capture them in war) and they later embrace Islam." Similar was said by Ibn `Abbas, Mujahid, `Atiyah Al-`Awfi, `Ikrimah, `Ata' and Ar-Rabi` bin Anas that,
كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ
(You are the best of peoples ever raised up for mankind;) means, the best of peoples for the people.
The meaning of the Ayah is that the Ummah of Muhammad ﷺ is the most righteous and beneficial nation for mankind. Hence Allah's description of them,
تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ
(you enjoin Al-Ma`ruf and forbid Al-Munkar and believe in Allah) 3:110.
Ahmad, At-Tirmidhi, Ibn Majah, and Al-Hakim recorded that Hakim bin Mu`awiyah bin Haydah narrated that his father said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«أَنْتُمْ تُوَفُّون سَبْعِينَ أُمَّةً، أَنْتُمْ خَيْرُهَا، وَأَنْتُمْ أَكْرَمُ عَلَى اللهِ عَزَّ وَجَل»
(You are the final of seventy nations, you are the best and most honored among them to Allah.)
This is a well-known Hadith about which At-Tirmidhi said, "Hasan", and which is also narrated from Mu`adh bin Jabal and Abu Sa`id. The Ummah of Muhammad ﷺ achieved this virtue because of its Prophet, Muhammad ﷺ, peace be upon him, the most regarded of Allah's creation and the most honored Messenger with Allah. Allah sent Muhammad ﷺ with the perfect and complete Law that was never given to any Prophet or Messenger before him. In Muhammad's ﷺ Law, few deeds take the place of the many deeds that other nations performed. For instance, Imam Ahmad recorded that `Ali bin Abi Talib said, "The Messenger of Allah ﷺ said,
«أُعْطِيتُ مَا لَمْ يُعْطَ أَحَدٌ مِنَ الْأَنْبِيَاء»
(I was given what no other Prophet before me was given.)
We said, `O Messenger of Allah! What is it' He said,
«نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ، وَأُعْطِيتُ مَفَاتِيحَ الْأَرْضِ، وَسُمِّيتُ أَحْمَدَ، وَجُعِلَ التُّرَابُ لِي طَهُورًا، وَجُعِلَتْ أُمَّتِي خَيْرَ الْأُمَم»
(I was given victory by fear, I was given the keys of the earth, I was called Ahmad, the earth was made a clean place for me (to pray and perform Tayammum with it) and my Ummah was made the best Ummah.)."
The chain of narration for this Hadith is Hasan. There are several Hadiths that we should mention here.
The Two Sahihs recorded that Az-Zuhri said that, Sa`id bin Al-Musayyib said that Abu Hurayrah narrated to him, "I heard the Messenger of Allah ﷺ saying,
«يَدْخُلُ الْجَنَّــةَ مِنْ أُمَّتِي زُمْرَةٌ وَهُمْ سَبْعُونَ أَلْفًا، تُضِيءُ وُجُوهُهُمْ إِضَاءَةَ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْر»
فقال أبو هريرة: فقام عكاشة بن محصن الأسدي يرفع نمرة عليه، فقال: يا رسول الله، ادع الله أن يجعلني منهم، فقال رسول اللهصلى الله عليه وسلّم:
«اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ مِنْهُم»
ثم قام رجل من الأنصار فقال: يا رسول الله ادع الله أن يجعلني منهم، فقال:
«سَبقَكَ بِهَا عُكَّاشَة»
(A group of seventy thousand from my Ummah will enter Paradise, while their faces are radiating, just like the moon when it is full.'`Ukkashah bin Mihsan Al-Asadi stood up, saying, `O Messenger of Allah! Supplicate to Allah that I am one of them.' The Messenger of Allah ﷺ said, `O Allah! Make him one of them.' A man from the Ansar also stood and said, `O Messenger of Allah! Supplicate to Allah that I am one of them.' The Messenger said, `Ukkashah has beaten you to it.')
Another Hadith that Establishes the Virtues of the Ummah of Muhammad in this Life and the Hereafter
Imam Ahmad recorded that Jabir said, "I heard the Messenger of Allah saying,
«إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ يَكُونَ مَنْ يَتَّبِعُنِي مِنْ أُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ رُبُعَ الْجَنَّــة»
قال: فكبرنا، ثم قال:
«أَرْجُو أَنْ يَكُونُوا ثُلُثَ النَّاس»
قال: فكبرنا، ثم قال:
«أَرْجُو أَنْ تَكُونُوا الشَّطْر»
(`I hope that those who follow me will be one-fourth of the residents of Paradise on the Day of Resurrection.' We said, `Allahu Akbar'. He then said, `I hope that they will be one-third of the people.' We said, `Allahu Akbar'. He then said, `I hope that you will be one-half.')"
Imam Ahmad recorded the same Hadith with another chain of narration, and this Hadith meets the criteria of Muslim in his Sahih. In the Two Sahihs, it is recorded that `Abdullah bin Mas`ud said, "The Messenger of Allah ﷺ said to us,
«أَمَا تَرْضَوْنَ أَنْ تَكُونُوا رُبُعَ أَهْلِ الْجَنَّـةِ؟»
(Does it please you that you will be one-fourth of the people of Paradise)
We said, `Allahu Akbar!' He added,
«أَمَا تَرْضَوْنَ أَنْ تَكُونُوا ثُلُثَ أَهْلِ الْجَنَّـةِ؟»
(Does it please you that you will be one-third of the people of Paradise) We said, `Allahu Akbar!' He said,
«إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ تَكُونُوا شَطْرَ أَهْلِ الْجَنَّـةِ؟»
(I hope that you will be half of the people of Paradise.)" Another Hadith
Imam Ahmad recorded that Buraydah said that the Prophet said,
«أَهْلُ الْجَنَّةِ عِشْرُونَ وَمِائَةُ صَفَ، هذِهِ الْأُمَّةُ مِنْ ذلِكَ ثَمَانُونَ صَفًّا»
(The people of Paradise are one hundred and twenty rows, this Ummah takes up eighty of them.)
Imam Ahmad also collected this Hadith through another chain of narration. At-Tirmidhi and Ibn Majah also collected this Hadith, and At-Tirmidhi said, `This Hadith is Hasan. `Abdur-Razzaq recorded that Abu Hurayrah said that, the Prophet said,
«نَحْنُ الْآخِرُونَ الْأَوَّلُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، نَحْنُ أَوَّلُ النَّاسِ دُخُولًا الْجَنَّــةَ، بَيْدَ أَنَّهُمْ أُوتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِنَا وَأُوتِينَاهُ مِنْ بَعْدِهِمْ، فَهَدَانَا اللهُ لِمَا اخْتَلَفُوا فِيهِ مِنَ الْحَقِّ، فَهَذَا الْيَوْمُ الَّذِي اخْتَلَفُوا فِيهِ، النَّاسُ لَنَا فِيهِ تَبَعٌ، غَدًا لِلْيَهُودِ، وَلِلنَّصَارَى بَعْدَ غَد»
(We (Muslims) are the last to come, but the foremost on the Day of Resurrection, and the first people to enter Paradise, although the former nations were given the Scriptures before us and we after them. Allah gave us the guidance of truth that they have been disputing about. This (Friday) is the Day that they have been disputing about, and all the other people are behind us in this matter: the Jews' (day of congregation is) tomorrow (Saturday) and the Christians' is the day after tomorrow (Sunday). )
Al-Bukhari and Muslim collected this Hadith. Muslim recorded Abu Hurayrah saying that the Messenger of Allah ﷺ said,
«نَحْنُ الْآخِرُونَ الْأَوَّلُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، نَحْنُ أَوَّلُ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّــة»
(We (Muslims) are the last (to come), but (will be) the foremost on the Day of Resurrection, and will be the first people to enter Paradise...) until the end of the Hadith.
These and other Hadiths conform to the meaning of the Ayah,
كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ
(You are the best of peoples ever raised up for mankind; you enjoin Al-Ma`ruf (all that Islam has ordained) and forbid Al-Munkar (all that Islam has forbidden), and you believe in Allah).
Therefore, whoever among this Ummah acquires these qualities, will have a share in this praise. Qatadah said, "We were told that `Umar bin Al-Khattab recited this Ayah 3:110 during a Hajj that he performed, when he saw that the people were rushing. He then said, `Whoever likes to be among this praised Ummah, let him fulfill the condition that Allah set in this Ayah.
"'
Ibn Jarir recorded this. Those from this Ummah who do not acquire these qualities will be just like the People of the Scriptures whom Allah criticized, when He said,
كَانُواْ لاَ يَتَنَـهَوْنَ عَن مُّنكَرٍ فَعَلُوهُ
(They did not forbid one another from the Munkar which they committed. ..)
5:79.
This is the reason why, after Allah praised the Muslim Ummah with the qualities that He mentioned, He criticized the People of the Scriptures and chastised them, saying,
وَلَوْ ءَامَنَ أَهْلُ الْكِتَـبِ
(And had the People of the Scripture (Jews and Christians) believed)
3:110
,
in what was sent down to Muhammad ,
لَكَانَ خَيْراً لَّهُمْ مِّنْهُمُ الْمُؤْمِنُونَ وَأَكْثَرُهُمُ الْفَـسِقُونَ
(it would have been better for them; among them are some who have faith, but most of them are Fasiqun (rebellious).)
Therefore only a few of them believe in Allah and in what was sent down to you and to them. The majority of them follow deviation, disbelief, sin and rebellion.
The Good News that Muslims will Dominate the People of the Book
While delivering the good news to His believing servants that victory and dominance will be theirs against the disbelieving, atheistic People of the Scriptures, Allah then said,
لَن يَضُرُّوكُمْ إِلاَّ أَذًى وَإِن يُقَـتِلُوكُمْ يُوَلُّوكُمُ الاٌّدُبَارَ ثُمَّ لاَ يُنصَرُونَ
(They will do you no harm, barring a trifling annoyance; and if they fight against you, they will show you their backs, and they will not be helped.) 3:111
This is what occurred, for at the battle of Khaybar, Allah brought humiliation and disgrace to the Jews. Before that, the Jews in Al-Madinah, the tribes of Qaynuqa`, Nadir and Qurayzah, were also humiliated by Allah. Such was the case with the Christians in the area of Ash-Sham later on, when the Companions defeated them in many battles and took over the leadership of Ash-Sham forever. There shall always be a group of Muslims in Ash-Sham area until `Isa, son of Maryam, descends while they are like this on the truth, apparent and victorious. `Isa will at that time rule according to the Law of Muhammad , break the cross, kill the swine, banish the Jizyah and only accept Islam from the people.
Allah said next,
ضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الذِّلَّةُ أَيْنَ مَا ثُقِفُواْ إِلاَّ بِحَبْلٍ مِّنْ اللَّهِ وَحَبْلٍ مِّنَ النَّاسِ
(Indignity is put over them wherever they may be, except when under a covenant (of protection) from Allah, and a covenant from men;) meaning, Allah has placed humiliation and disgrace on them wherever they may be, and they will never be safe,
إِلاَّ بِحَبْلٍ مِّنْ اللَّهِ
(except when under a covenant from Allah,) under the Dhimmah (covenant of protection) from Allah that requires them to pay the Jizyah (tax, to Muslims,) and makes them subservient to Islamic Law.
وَحَبْلٍ مِّنَ النَّاسِ
(and a covenant from men;) meaning, covenant from men, such as pledges of protection and safety offered to them by Muslim men and women, and even a slave, according to one of the sayings of the scholars. Ibn `Abbas said that,
إِلاَّ بِحَبْلٍ مِّنْ اللَّهِ وَحَبْلٍ مِّنَ النَّاسِ
(except when under a covenant from Allah, and a covenant from men;) refers to a covenant of protection from Allah and a pledge of safety from people. Similar was said by Mujahid, `Ikrimah, `Ata', Ad-Dahhak, Al-Hasan, Qatadah, As-Suddi and Ar-Rabi` bin Anas. Allah's statement,
وَبَآءُوا بِغَضَبٍ مِّنَ اللَّهِ
(they have drawn on themselves the wrath of Allah,) means, they earned Allah's anger, which they deserved,
وَضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الْمَسْكَنَةُ
(and destitution is put over them), meaning they deserve it by decree and legislatively.
Allah said next,
ذلِكَ بِأَنَّهُمْ كَانُواْ يَكْفُرُونَ بِـَايَـتِ اللَّهِ وَيَقْتُلُونَ الاٌّنْبِيَآءَ بِغَيْرِ حَقٍّ
(This is because they disbelieved in the Ayat of Allah and killed the Prophets without right.) meaning, what drove them to this was their arrogance, transgression and envy, earning them humiliation, degradation and disgrace throughout this life and the Hereafter. Allah said,
ذلِكَ بِمَا عَصَواْ وَّكَانُواْ يَعْتَدُونَ
(This is because they disobeyed and used to transgress (the limits set by Allah).) meaning, what lured them to disbelieve in Allah's Ayat and kill His Messengers, is the fact that they often disobeyed Allah's commands, committed His prohibitions and transgressed His set limits. We seek refuge from this behavior, and Allah Alone is sought for each and every type of help.
سب سے بہتر شخص کون ؟ اور سب سے بہتر امت کا اعزاز کس کو ملا ؟ اللہ تعالیٰ خبر دے رہا ہے کہ امت محمدیہ تمام امتوں پر بہتر ہے صحیح بخاری شریف میں ہے حضرت ابوہریرہ ؓ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں تم اوروں کے حق میں سب سے بہتر ہو تو لوگوں کی گردنیں پکڑ پکڑ کر اسلام کی طرف جھکاتے ہو، اور مفسرین بھی یہی فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ تم تمام امتوں سے بہتر ہو اور سب سے زیادہ لوگوں کو نفع پہنچانے والے ہو، ابو لہب کی بیٹی حضرت درہ ؓ فرماتی ہیں ایک مرتبہ کسی نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا آپ اس وقت منبر پر تھے کہ حضور ﷺ کونسا شخص بہتر ہے ؟ آپ نے فرمایا سب لوگوں سے بہتر وہ شخص ہے جو سب سے زیادہ قاری قرآن ہو سب سے زیادہ پرہیزگار ہو، سب سے زیادہ اچھائیوں کا حکم کرنے والا سب سے زیادہ برائیوں سے روکنے والا سب سے زیادہ رشتے ناتے ملانے والا ہو۔ (مسند احمد) حضرت ابن عباس فرماتے ہیں یہ وہ صحابہ ہیں جنہوں نے مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کی، صحیح بات یہ ہے کہ یہ آیت ساری امت پر مشتمل ہے، بیشک یہ حدیث میں بھی ہے کہ سب سے بہتر میرا زمانہ ہے پھر اس کے بعد اس سے ملا ہوا زمانہ پھر اس کے بعد والا، ایک اور روایت میں ہے آیت (وَكَذٰلِكَ جَعَلْنٰكُمْ اُمَّةً وَّسَطًا لِّتَكُوْنُوْا شُهَدَاۗءَ عَلَي النَّاسِ وَيَكُـوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَيْكُمْ شَهِيْدًا) 2۔ البقرۃ :143) ہم نے تمہیں بہتر امت بنایا ہے تاہم تم لوگوں پر گواہ بنو، رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں تم نے اگلی امتوں کی تعداد ستر تک پہنچا دی ہے، اللہ کے نزدیک تم ان سب سے بہتر اور زیادہ بزرگ ہو، یہ مشہور حدیث ہے امام ترمذی نے اسے حسن کہا ہے، اس امت کی افضلیت کی ایک بڑی دلیل اس امت کے نبی کی افضلیت ہے، آپ تمام مخلوق کے سردار تمام رسولوں سے زیادہ اکرام و عزت والے ہیں، آپ کی شرع اتنی کامل اور اتنی پوری ہے کہ ایسی شریعت کسی نبی کو نہیں تو ظاہر بات ہے کہ ان فضائل کو سمیٹتے والی امت بھی سب سے اعلیٰ و افضل ہے، اس شریعت کا تھوڑا سا عمل بھی اور امتوں کے زیادہ عمل سے بہتر و افضل ہے، حضرت علی بن ابو طالب رضلی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں وہ وہ نعمتیں دیا گیا ہوں جو مجھ سے پہلے کوئی نہیں دیا گیا لوگوں نے پوچھا وہ کیا باتیں ہیں، آپ نے فرمایا میری مدد رعب سے کی گئی ہے میں زمین کی کنجیاں دیا گیا ہوں، میرا نام احمد رکھا گیا ہے، میرے لئے مٹی پاک کی گئی ہے، میری امت سب امتوں سے بہتر بنائی گئی ہے (مسند احمد) اس حدیث کی اسناد حسن ہے، حضرت ابو الدرداء ؓ فرماتے ہیں میں نے ابو القاسم ﷺ سے سنا آپ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ ؑ سے فرمایا کہ میں تمہارے بعد ایک امت پیدا کرنے والا ہوں جو راحت پر حمدو شکر کریں گے اور مصیبت پر طلب ثواب اور صبر کریں گے حالانکہ انہیں حلم و علم نہ ہوگا آپ نے تعجب سے پوچھا کہ بغیر بردباری اور دور اندیشی اور پختہ علم کے یہ کیسے ممکن ہے ؟ رب العالمین نے فرمایا میں انہیں اپنا حلم و علم عطا فرماؤں گا، میں چاہتا ہوں یہاں پر بعض وہ حدیثیں بھی بیان کر دوں جن کا ذکر یہاں مناسب ہے سنئے۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں میری امت میں سے ستر ہزار شخص بغیر حساب کتاب کے جنت میں جائیں گے جن کے چہرے چودھویں رات کے چاند کی طرح روشن ہوں گے سب یک رنگ ہونگے، میں نے اپنے رب سے گزارش کی کہ اے اللہ اس تعداد میں اور اضافہ فرما اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ہر ایک کے ساتھ ستر ہزار اور بھی، حضرت صدیق اکبر ؓ یہ حدیث بیان کر کے فرمایا کرتے تھے کہ پھر تو اس تعداد میں گاؤں اور دیہاتوں والے بلکہ بادیہ نشین بھی آجائیں گے (مسند احمد) حضور ﷺ فرماتے ہیں مجھے میرے رب نے ستر ہزار آدمیوں کو میری امت میں سے بغیر حساب کے جنت میں داخل ہونے کی خوشخبری دی، حضرت عمر نے یہ سن کر فرمایا حضور ﷺ کچھ اور زیادتی طلب کرتے آپ نے فرمایا میں نے اپنے رب سے سوال کیا تو مجھے خوشخبری ملی کے ہر شخص کے ساتھ ستر ستر ہزار کا وعدہ ہوا۔ حضرت عمر نے پھر گزارش کی کہ اللہ کے نبی اور کچھ بھی مانگتے آپ نے فرمایا مانگا تو مجھے اتنی زیادتی اور ملی اور پھر دونوں ہاتھ پھیلا کر بتایا کہ اس طرح، راوی حدیث کہتے ہیں اس طرح جب اللہ تعالیٰ سمیٹے تو اللہ عزوجل ہی جانتا ہے کہ کس قدر مخلوق اس میں آئے گی (فسبحان اللہ وبحمدہ) (مسند احمد) حضرت ثوبان ؓ حمص میں بیمار ہوگئے عبداللہ بن قرط وہاں کے امیر تھے وہ عیادت کو نہ آسکے ایک کلاعی شخص جب آپ کی بیمار پرسی کیلئے گیا تو آپ نے اس سے دریافت کیا کہ لکھنا جانتے ہو اس نے کہا ہاں فرمایا لکھو یہ خط ثوبان کی طرف سے امیر عبداللہ بن قرط کی طرف سے ہے جو رسول اللہ ﷺ کے خادم ہیں بعد حمد و صلوٰۃ کے واضح ہو کہ اگر حضرت عیسیٰ یا حضرت موسیٰ کا کوئی خادم یہاں ہوتا اور بیمار پڑتا تو تم عیادت کیلئے جاتے پھر کہا یہ خط لے جاؤ اور امیر کو پہنچا دو جب یہ خط امیر حمص کے پاس پہنچا تو گھبرا کر اٹھ کھڑے ہوئے اور سیدھے یہاں تشریف لائے کچھ دیر بیٹھ کر عیادت کر کے جب جانے کا ارادہ کیا تو حضرت ثوبان نے ان کی چادر پکڑ روکا اور فرمایا ایک حدیث سنتے جائیں میں نے آنحضرت ﷺ کی زبان مبارک سے سنا ہے آپ نے فرمایا میری امت میں سے ستر ہزار شخص بغیر حساب و عذاب کے جنت میں جائیں گے ہر ہزار کے ساتھ ستر ہزار اور ہوں گے (مسند احمد) یہ حدیث بھی صحیح ہے، حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں ایک رات ہم خدمت نبوی میں دیر تک باتیں کرتے رہے پھر صبح جب حاضر خدمت ہوئے تو حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا سنو آج رات انبیاء اپنی اپنی امت سمیت مجھے دکھائے گئے بعض انبیاء کے ساتھ صرف تین شخص تھے بعض کے ساتھ مختصر سا گروہ بعض کے ساتھ ایک جماعت کسی کے ساتھ کوئی بھی نہ تھا جب موسیٰ ؑ آئے تو ان کے ساتھ بہت سے لوگ تھے مجھے یہ جماعت پسند آئی میں نے پوچھایہ کون ہیں تو جواب ملا کہ یہ آپ کے بھائی موسیٰ ؑ ہیں اور ان کے ساتھ بنی اسرائیل ہیں میں نے کہا پھر میری امت کہاں ہے جواب ملا اپنی داہنی طرف دیکھو اب جو دیکھتا ہوں تو بیشمار مجمع ہے جس سے پہاڑیاں بھی ڈھک گئی ہیں اب مجھ سے پوچھا گیا کہو خوش ہو میں نے کہا میرے رب میں راضی ہوگیا، فرمایا گیا سنو ! ان کے ساتھ ستر ہزار اور ہیں جو بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوں گے، اب نبی ﷺ نے فرمایا تم پر میرے میں باپ فدا ہوں اگر ہو سکے تو ان ستر ہزار میں سے ہی ہونا اگر یہ نہ ہو سکے تو ان میں سے ہو جو پہاڑیوں کو چھپائے ہوئے تھے اگر یہ بھی نہ ہو سکے تو ان میں سے ہونا جو آسمان کے کناروں کناروں پر تھے، حضرت عکاش بن محصن نے کھڑے ہو کر کہا حضور ﷺ میرے لئے دعا کیجئے کہ اللہ تعالیٰ مجھے ان ستر ہزار میں سے کرے آپ نے دعا کی تو ایک دوسرے صحابی نے بھی اٹھ کر یہی گزارش کی تو آپ نے فرمایا تم پر حضرت عکاشہ سبقت کر گئے، ہم اب آپس میں کہنے لگے کہ شاید یہ ستر ہزار لوگ ہوں گے جو اسلام پر ہی پیدا ہوئے ہوں اور پوری عمر میں کبھی اللہ کے ساتھ شرک کیا ہی نہ ہو آپ کو جب یہ معلوم ہوا تو فرمایا یہ وہ لوگ ہیں جو دم جھاڑا نہیں کراتے آگ کے داغ نہیں لگواتے شگون نہیں لیتے اور اپنے رب پر پورا بھروسہ رکھتے ہیں (مسند احمد) ایک اور سند سے اتنی زیادتی اس میں اور بھی ہے جب میں نے اپنی رضامندی ظاہر کی تو مجھ سے کہا گیا اب اپنی بائیں جانب دیکھو میں نے دیکھا تو بیشمار مجمع ہے جس نے آسمان کے کناروں کو بھی ڈھک لیا ہے ایک اور روایت میں ہے کہ موسم حج کا یہ واقعہ ہے آپ فرماتے ہیں مجھے اپنی امت کی یہ کثرت بہت پسند آئی تمام پہاڑیاں اور میدان ان سے پُر تھے (مسند احمد) ایک اور روایت میں ہے کہ حضرت عکاشہ کے بعد کھڑے ہونے والے ایک انصاری تھے ؓ (طبرانی) ایک اور روایت میں ہے کہ میری امت میں سے ستر ہزار یا ساٹھ لاکھ آدمی جنت میں جائیں گے جو ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے ہوئے ہوں گے سب ایک ساتھ جنت میں جائیں گے چمکتے ہوئے چودھویں رات کے چاند جیسے ان کے چہرے ہوں گے۔ (بخاری مسلم طبرانی) حصین بن عبدالرحمن کہتے ہیں کہ سعید بن جیبر کے پاس تھا تو آپ نے دریافت کیا رات کو جو ستارہ ٹوٹا تھا تم میں سے کسی نے دیکھا تھا میں نے کہا ہاں حضرت میں نے دیکھا تھا یہ نہ سمجھئے گا کہ میں نماز میں تھا بلکہ مجھے بچھو نے کاٹ کھایا تھا حضرت سعید نے پوچھا پھر تم نے کیا کیا میں نے کہا دم کردیا تھا کہا کیوں میں نے کہا حضرت شعبی نے بریدہ بن حصیب کی روایت سے حدیث بیان کی ہے کہ نظربد اور زہریلے جانوروں کا دم جھاڑا کرانا ہے کہنے لگے خیر جسے جو پہنچے اس پر عمل کرے ہمیں تو حضرت ابن عباس نے سنایا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مجھ پر امتیں پیش کی گئیں کسی نبی کے ساتھ ایک جماعت تھی کسی کے ساتھ ایک شخص اور دو شخص اور کسی نبی کے ساتھ کوئی نہ تھا اب جو دیکھا کہ ایک بڑی پر جماعت نظر پڑی میں سمجھا یہ تو میری امت ہوگی پھر معلوم ہوا کہ موسیٰ ؑ کی امت ہے مجھ سے کہا گیا آسمان کے کناروں کی طرف دیکھو میں نے دیکھا تو وہاں بیشمار لوگ تھے مجھ سے کہا گیا یہ آپ کی امت ہے اور ان کے ساتھ ستر ہزار اور ہیں جو بےحساب اور بےعذاب جنت میں جائیں گے یہ حدیث بیان فرما کر حضور ﷺ تو مکان پر چلے گئے اور صحابہ آپس میں کہنے لگے شاید یہ حضور ﷺ کے صحابی ہوں گے کسی نے کہا نہیں اسلام میں پیدا ہونے والے اور اسلام پر ہی مرنے والے ہوں گے وغیرہ وغیرہ آپ تشریف لائے اور پوچھا کیا باتیں کر رہے ہو ہم نے ذکر کیا تو آپ نے فرمایا نہیں یہ وہ لوگ ہیں جو نہ دم جھاڑا کریں نہ کرائیں، نہ داغ لگوائیں نہ شگون لیں بلکہ اپنے رب پر بھروسہ رکھیں حضرت عکاشہ ؓ نے دعا کی درخواست کی آپ نے دعا کی یا اللہ تو اسے ان میں سے ہی بنا۔ پھر دوسرے شخص نے بھی یہی کہا آپ نے فرمایا عکاشہ آگے بڑھ گئے، یہ حدیث بخاری میں ہے لیکن اس میں دم جھاڑا نہیں کرنے کا لفظ نہیں صحیح مسلم میں یہ لفظ بھی ہے۔ ایک اور مطول حدیث میں ہے کہ پہلی جماعت تو نجات پائے گی ان کے چہرے چودھویں رات کے چاند کی طرح روشن ہوں گے ان سے حساب بھی نہ لیا جائے گا پھر ان کے بعد والے سب سے زیادہ روشن ستارے جیسے چمکدار چہرے والے ہوں گے (مسلم) آپ فرماتے ہیں مجھ سے میرے رب کا وعدہ ہے کہ میری امت میں سے ستر ہزار شخص بغیر حساب و عذاب کے داخل بہشت ہوں گے ہر ہزار کے ساتھ ستر ہزار ہوں گے اور تین لپیں اور میرے رب عزوجل کی لپوں سے (کتاب السنن لحافظ ابی بکر بن عاصم) اس کی اسناد بہت عمدہ ہے ایک اور حدیث میں ہے کہ آپ سے ستر ہزار کی تعداد سن کر یزید بن اخنس نے کہا حضور ﷺ یہ تو آپ کی امت کی تعداد کے مقابلہ میں بہت ہی تھوڑے ہیں تو آپ نے فرمایا ہر ہزار کے ساتھ ستر ہزار ہیں اور پھر اللہ نے تین لپیں (ہتھیلیوں کا کشکول) بھر کر اور بھی عطا فرمائے ہیں، اسکی اسناد بھی حسن ہے (کتاب السنن اور ایک اور حدیث میں ہے کہ میرے رب نے جو عزت اور جلال والا ہے مجھ سے وعدہ کیا ہے کہ میری امت میں سے ستر ہزار کو بلا حساب جنت میں لے جائے گا پھر ایک ایک ہزار کی شفاعت سے ستر ستر ہزار آدمی اور جائیں گے پھر میرا رب اپنے دونوں ہاتھوں سے تین لپیں (دونوں ہاتھوں کی ہھتیلیوں کو ملا کر کٹورا بنانا) بھر کر اور ڈالے گا حضرت عمر نے یہ سن کر خوش ہو کر اللہ اکبر کہا اور فرمایا کہ ان کی شفاعت ان کے باپ دادوں اور بیٹوں اور بیٹیوں اور خاندان و قبیلہ میں ہوگی اللہ کرے میں تو ان میں سے ہوجاؤں جنہیں اللہ تعالیٰ اپنی لپوں میں بھر کر آخر میں جنت میں لے جائے گا (طبرانی) اس حدیث کی سند میں بھی کوئی علت نہیں، واللہ اعلم، کرید میں حضور ﷺ نے ایک حدیث فرمائی جس میں جنت میں یہ بھی فرمایا یہ ستر ہزار جو بلا حساب جنت میں داخل کئے جائیں گے میرا خیال ہے کہ ان کے آتے آتے تو تم اپنے لئے اور اپنے بال بچوں اور بیویوں کیلئے جنت میں جگہ مقرر کرچکے ہونگے (مسند احمد) اس کی سند میں شرط مسلم پر ہے، ایک اور حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ کا وعدہ ہے کہ میری امت میں سے چار لاکھ آدمی جنت میں جائیں گے، حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے کہا حضور ﷺ کچھ اور زیادہ کیجئے اسے سن کر حضرت عمر نے فرمایا ابوبکر بس کرو صدیق نے جواب دیا کیوں صاحب اگر ہم سب کے سب جنت میں چلے جائیں گے تو آپ کو کیا نقصان ہے حضرت عمر نے فرمایا اگر اللہ چاہے تو ایک ہی ہاتھ میں ساری مخلوق کو جنت میں ڈال دےحضور ﷺ نے فرمایا عمر سچ کہتے ہیں (مسند عبدالرزاق) اسی حدیث کی اور سند سے بھی بیان ہے اس میں تعداد ایک لاکھ آئی ہے (اصبہانی) ایک اور روایت میں ہے کہ جب صحابہ نے ستر ہزار اور پھر ہر ایک کے ساتھ ستر ہزار پھر اللہ کی لپ بھر کر جنتی بنانا سنا تو کہنے لگے پھر تو اس کی بدنصیبی میں کیا شک رہ گیا جو باوجود اس کے بھی جہنم میں جائے (ابولیلی) اوپر والی حدیث ایک اور سند سے بھی بیان ہوئی ہے اس میں تعداد تین لاکھ کی ہے پھر حضرت عمر نے فرمایا میری امت کے سارے مہاجر تو اس میں آہی جائیں گے پھر باقی تعداد اعرابیوں سے پوری ہوگی (محمد بن سہل) حضرت ابو سعید کہتے ہیں حضور ﷺ کے سامنے حساب کیا گیا تو جملہ تعداد چار کروڑ نوے ہزار ہوئی، ایک اور حسن حدیث طبرانی میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قسم ہے اس ذات کی کہ جان محمد ﷺ کی اس کے ہاتھ میں ہے تم ایک اندھیری رات کی طرح بیشمار ایک ساتھ جنت کی طرف بڑھو گے، زمین تم سے پر ہوجائے گی تمام فرشتے پکار اٹھیں گے کہ محمد ﷺ کے ساتھ جو جماعت آئی وہ تمام نبیوں کی جماعت سے بہت زیادہ ہے، حضرت جابر ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ نے فرمایا صرف میری تابعدار امت اہل جنت کی چوتھائی ہوگی صحابہ نے خوش ہو کر نعرہ تکبیر بلند کیا پھر فرمایا کہ مجھے تو امید ہے کہ تم اہل جنت کا تیسرا حصہ ہوجاؤ ہم نے پھر تکبیر کہی پھر فرمایا میں امید کرتا ہوں کہ تم آدھوں آدھ ہوجاؤ (مسند احمد) اور حدیث میں ہے کہ آپ نے صحابہ سے فرمایا کہ تم راضی نہیں ہو کہ تم تمام جنتوں کے چوتھائی ہو ہم نے خوش ہو کر اللہ کی بڑائی بیان کی پھر فرمایا کہ تم راضی نہیں ہو کہ تمام اہل جنت کی تہائی ہو ہم نے پھر تکبیر کہی آپ نے فرمایا مجھے تو امید ہے کہ تم جنتیوں کے آدھوں آدھ ہو گے (بخاری مسلم) طبرانی میں یہ روایت حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا کہتے ہو تم جنتیوں کا چوتھائی حصہ بننا چاہتے ہو کہ چوتھائی جنت تمہارے پاس ہو اور تین اور چوتھائیوں میں تمام امتیں ہوں ؟ ہم نے کہا اللہ اور اس کا رسول خوب جانتا ہے آپ نے فرمایا اچھا تہائی حصہ ہو تو ہم نے کہا یہ بہت ہے فرمایا اگر آدھوں آدھ ہو تو، انہوں نے کہا حضور ﷺ پھر تو بہت ہی زیادہ ہے آپ نے فرمایا سنو ! کل اہل جنت کی ایک سو بیس صفیں ہیں جن میں سے اسی صفیں صرف اس میری امت کی ہیں، مسند احمد میں بھی ہے کہ اہل جنت کی ایک سو بیس صفیں ان میں اسی صفیں صرف اس امت کی ہیں یہ حدیث طبرانی ترمذی وغیرہ میں بھی ہے، طبرانی ایک اور روایت میں ہے کہ جب آیت (ثُلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِيْنَ 39 ۙ وَثُلَّةٌ مِّنَ الْاٰخِرِيْنَ 40ۭ) 56۔ الواقعہ :39۔ 40) اتری تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم اہل جنت کی چوتھائی ہو پھر فرمایا بلکہ ثلث ہو پھر فرمایا بلکہ نصف ہو پھر فرمایا دو تہائی ہو (اے وسیع رحمتوں والے اور بےروک نعمتوں والے اللہ ہم تیرا بےانتہا شکر ادا کرتے ہیں کہ تو نے ہمیں ایسے معزز و محترم رسول ﷺ کی امت میں پیدا کیا تیرے سچے رسول ﷺ کی سچی زبان سے تیرے اس بڑھے چڑھے فضل و کرم کا حال سن کر ہم گنہگاروں کے منہ میں پانی بھر آیا، اے ماں باپ سے زیادہ مہربان اللہ ہماری آس نہ توڑ اور ہمیں بھی ان نیک ہستیوں کے ساتھ جنت میں داخل فرما۔ باری تعالیٰ تیری رحمت کی ان گنت اور بیشمار بندوں میں سے اگر ایک قطرہ بھی ہم گنہگاروں پر برس جائے تو ہمارے گناہوں کو دھو ڈالنے اور ہمیں تیری رحمت و رضوان کے لائق بنانے کیلئے کافی ہے، اللہ اس پاک ذکر کے موقعہ پر ہم ہاتھ اٹھا کر دامن پھیلا کر آنسو بہا کر امیدوں بھرے دل سے تیری رحمت کا سہارا لے کر تیرے کرم کا دامن تھام کر تجھ سے بھیک مانگتے ہیں تو قبول فرما اور اپنی رحمت سے ہمیں بھی اپنی رضامندی کا گھر جنت الفردوس عطا فرما۔ (آمین الہ الحق آمین) صحیح بخاری مسلم میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں ہم دنیا میں سب سے آخر آئے اور جنت میں سب سے پہلے جائیں گے اور ان کو کتاب اللہ پہلے ملی ہمیں بعد میں ملی جن باتوں میں انہوں نے اختلاف کیا ان میں اللہ نے ہمیں صحیح طریق کی توفیق دی، جمعہ کا دن بھی ایسا ہی ہے کہ یہود ہمارے پیچھے ہیں ہفتہ کے دن اور نصرانی ان کے پیچھے اتوار کے دن دار قطنی میں ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تک میں جنت میں داخل نہ ہوجاؤں انبیاء پر دخول جنت حرام ہے اور جب تک میری امت نہ داخل ہو دوسری امتوں پر دخول جنت حرام ہے۔ یہ وہ حدیثیں تھیں جنہیں ہم اس آیت کے تحت وارد کرنا چاہتے تھے فالحمد للہ۔ امت کو بھی چاہئے کہ یہاں اس آیت میں جتنی صفیں ہیں ان پر مضبوطی کے ساتھ قائم ثابت رہیں یعنی امر بالمعروف اور نہی عن المنکر اور ایمان باللہ حضرت عمر بن خطاب ؓ نے اپنے حج میں اس آیت کی تلاوت فرما کر لوگوں سے کہا کہ اگر تم اس آیت کی تعریف میں داخل ہونا چاہتے ہو تو یہ اوصاف بھی اپنے میں پیدا کرو، امام ابن جرید فرماتے، اہل کتاب ان کاموں کو چھوڑ بیٹھے تھے جن کی مذمت کلام اللہ نے کی، فرمایا آیت (كَانُوْا لَا يَتَنَاهَوْنَ عَنْ مُّنْكَرٍ فَعَلُوْهُ ۭلَبِئْسَ مَا كَانُوْا يَفْعَلُوْنَ) 5۔ المائدہ :79) وہ لوگ برائی کی باتوں سے لوگوں کو روکتے نہ تھے چونکہ مندرجہ بالا آیت میں ایمان داروں کی تعریف و توصیف بیان ہوئی تو اس کے بعد اہل کتاب کی مذمت بیان ہو رہی ہے، تو فرمایا کہ اگر یہ لوگ بھی میرے نبی آخر الزمان پر ایمان لاتے تو انہیں بھی یہ فضیلتیں ملتیں لیکن ان میں سے کفرو فسق اور گناہوں پر جمے ہوئے ہیں ہاں کچھ لوگ باایمان بھی ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو بشارت دیتا ہے کہ تم نہ گھبرانا اللہ تمہیں تمہارے مخالفین پر غالب رکھے گا چناچہ خیبر والے دن اللہ تعالیٰ نے انہیں ذلیل کیا اور ان سے پہلے بنو قینقاع، بنو نضیر اور بنو قریظہ کو بھی اللہ نے ذلیل و رسوا کیا، اسی طرح شام کے نصرانی صحابہ کے وقت میں مغلوب ہوئے اور ملک شام ان کے ہاتھوں سے نکل گیا اور ہمیشہ کیلئے مسلمانوں کے قبضہ میں آگیا اور وہاں ایک حق والی جماعت حضرت عیسیٰ ؑ کے آنے تک حق پر قائم رہے گی، حضرت عیسیٰ آ کر ملت اسلام اور شریعت محمد کے مطابق حکم کریں گے صلیب توڑیں گے خنزیر کو قتل کریں گے جزیہ قبول نہ کریں گے صرف اسلام ہی قبول فرمائیں گے پھر فرمایا کہ ان کے اوپر ذلت اور پستی ڈال دی گئی ہاں اللہ کی پناہ کے علاوہ کہیں بھی امن وامان اور عزت نہیں یعنی جزیہ دینا اور مسلم بادشاہ کی اطاعت کرنا قبول کرلیں اور لوگوں کی پناہ یعنی عقد ذمہ مقرر ہوجائے یا کوئی مسلمان امن دے دے اگرچہ کوئی عورت ہو یا کوئی غلام ہو، علماء کا ایک قول یہ بھی ہے، حضرت ابن عباس کا قول ہے کہ حبل سے مراد ہے جو غضب کے مستحق ہوئے اور مسکینی چپکا دی گئی، ان کے کفر اور انبیاء کے تکبر، حسد، سرکشی وغیرہ کا بدلہ ہے۔ اسی باعث ان پر ذلت پستی اور مسکینی ہمیشہ کیلئے ڈال دی گئی ان کی نافرمانیوں اور تجاوز حق کا یہ بدلہ ہے العیاذ باللہ، ابو داؤد طیالسی میں حدیث ہے کہ بنی اسرائیل ایک ایک دن میں تین تین سو نبیوں کو قتل کر ڈالتے تھے اور دن کے آخری حصہ میں اپنے اپنے کاموں پر بازاروں میں لگ جاتے تھے۔
113
View Single
۞لَيۡسُواْ سَوَآءٗۗ مِّنۡ أَهۡلِ ٱلۡكِتَٰبِ أُمَّةٞ قَآئِمَةٞ يَتۡلُونَ ءَايَٰتِ ٱللَّهِ ءَانَآءَ ٱلَّيۡلِ وَهُمۡ يَسۡجُدُونَ
All of them are not alike; among the People given the Book(s) are some who are firm on the truth – they recite the verses of Allah in the night hours and prostrate (before Him).
یہ سب برابر نہیں ہیں، اہلِ کتاب میں سے کچھ لوگ حق پر (بھی) قائم ہیں وہ رات کی ساعتوں میں اللہ کی آیات کی تلاوت کرتے ہیں اور سر بسجود رہتے ہیں
Tafsir Ibn Kathir
Virtues of the People of the Scriptures Who Embrace Islam
Muhammad bin Ishaq and others, including Al-Awfi who reported it from Ibn Abbas, said;"These Ayat were revealed about the clergy of the People of the Scriptures who embraced the faith. For instance, there is Abdullah bin Salam, Asad bin Ubayd, Tha`labah bin Sa`yah, Usayd bin Sa`yah, and so forth.
This Ayah means that those among the People of the Book whom Allah rebuked earlier are not at all the same as those among them who embraced Islam.Hence Allah's statement,
لَيْسُواْ سَوَاء ...
Not all of them are alike."Therefore, these two types of people are not equal, and indeed, there are believers and also criminals among the People of the Book, just as Allah said,
... مِّنْ أَهْلِ الْكِتَابِ أُمَّةٌ قَآئِمَةٌ ...
a party of the People of the Scripture stand for the right,for they implement the Book of Allah, adhere to His Law and follow His Prophet Muhammad ﷺ.
Therefore, this type is on the straight path,
... يَتْلُونَ آيَاتِ اللّهِ آنَاء اللَّيْلِ وَهُمْ يَسْجُدُونَ
they recite the verses of Allah during the hours of the night, prostrating themselves in prayer.They often stand in prayer at night for Tahajjud, and recite the Qur'an in their prayer.
يُؤْمِنُونَ بِاللّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ وَيُسَارِعُونَ فِي الْخَيْرَاتِ وَأُوْلَـئِكَ مِنَ الصَّالِحِينَ
They believe in Allah and the Last Day; they enjoin Al-Ma`ruf and forbid Al-Munkar; and they hasten in (all) good works; and they are among the righteous. (3: 114)This is the same type of people mentioned at the end of the Surah;
وَإِنَّ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ لَمَن يُؤْمِنُ بِاللّهِ وَمَا أُنزِلَ إِلَيْكُمْ وَمَآ أُنزِلَ إِلَيْهِمْ خَاشِعِينَ لِلّهِ
And there are, certainly, among the People of the Scripture (Jews and Christians), those who believe in Allah and in that which has been revealed to you, and in that which has been revealed to them, humbling themselves before Allah. (3:199)Allah said here,
وَمَا يَفْعَلُواْ مِنْ خَيْرٍ فَلَن يُكْفَرُوْهُ ...
And whatever good they do, nothing will be rejected of them;meaning, their good deeds will not be lost with Allah. Rather, He will award them the best rewards.
... وَاللّهُ عَلِيمٌ بِالْمُتَّقِينَ
for Allah knows well the Muttaqin (the pious).for no deed performed by any person ever escapes His knowledge, nor is any reward for those who do good deeds ever lost with Him.
إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُواْ ...
Surely, those who disbelieve,Allah mentions the disbelieving polytheists:
... لَن تُغْنِيَ عَنْهُمْ أَمْوَالُهُمْ وَلاَ أَوْلاَدُهُم مِّنَ اللّهِ شَيْئًا ...
neither their properties nor their offspring will avail them against Allah,meaning, nothing can avert Allah's torment and punishment from striking them.
... وَأُوْلَـئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ
They are the dwellers of the Fire, therein they will abide.
The Parable of What the Disbelievers Spend in This Life
Allah gave a parable for what the disbelievers spend in this life, as Mujahid, Al-Hasan and As-Suddi said.
مَثَلُ مَا يُنْفِقُونَ فِى هِـذِهِ الْحَيَوةِ الدُّنْيَا كَمَثَلِ رِيحٍ فِيهَا صِرٌّ
(The likeness of what they spend in this world is the likeness of a wind of Sir;) a frigid wind, as Ibn `Abbas, `Ikrimah, Sa`id bin Jubayr, Al-Hasan, Qatadah, Ad-Dahhak, Ar-Rabi` bin Anas and others have said. `Ata' said that Sir, means, `cold and snow.' Ibn `Abbas and Mujahid are also reported to have said that Sir means, `fire'. This latter meaning does not contradict the meanings we mentioned above, because extreme cold weather, especially when accompanied by snow, burns plants and produce, and has the same effect fire has on such growth.
أَصَابَتْ حَرْثَ قَوْمٍ ظَلَمُواْ أَنفُسَهُمْ فَأَهْلَكَتْهُ
(It struck the harvest of a people who did wrong against themselves and destroyed it) 3:117, by burning. This Ayah mentions a calamity that strikes produce that is ready to harvest, destroying it by burning and depriving its owner of it when he needs it the most. Such is the case with the disbelievers, for Allah destroys the rewards for their good deeds in this life, just as He destroyed the produce of the sinner because of his sins. Both types did not build their work on firm foundations,
وَمَا ظَلَمَهُمُ اللَّهُ وَلَـكِنْ أَنفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ
(And Allah wronged them not, but they wronged themselves.)
ظلم نہیں سزا حضرت ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں اہل کتاب اور اصحاب محمد ﷺ برابر نہیں، مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ نے عشاء کی نماز میں ایک مرتبہ دیر لگا دی پھر جب آئے تو جو اصحاب منتظر تھے ان سے فرمایا کسی دین والا اس وقت تک اللہ کا ذکر نہیں کر رہا مگر صرف تم ہی اللہ کے ذکر میں ہو اس پر یہ آیت نازل ہوئی لیکن اکثر مفسرین کا قول ہے کہ اہل کتاب کے علماء مثلاً حضرت عبداللہ بن سلام حضرت اسد بن عبید، حضرت ثعلبہ بن شعبہ وغیرہ کے بارے میں یہ آیت آئی کہ یہ لوگ ان اہل کتاب میں شامل نہیں جن کی مذمت پہلے گزاری، بلکہ یہ باایمان جماعت امر اللہ پر قائم شریعت محمدیہ کی تابع ہے استقامت و یقین اس میں ہے یہ پاکباز لوگ راتوں کے وقت تہجد کی نماز میں بھی اللہ کے کلام کی تلاوت کرتے رہتے ہیں اللہ پر قیامت پر ایمان رکھتے ہیں اور لوگوں کو بھی انہی باتوں کا حکم کرتے ہیں ان کے خلاف سے روکتے ہیں نیک کاموں میں پیش پیش رہا کرتے ہیں اب اللہ تعالیٰ انہیں خطاب عطا فرماتا ہے کہ یہ صالح لوگ ہیں اور سورت کے آخر میں بھی فرمایا آیت (وَاِنَّ مِنْ اَھْلِ الْكِتٰبِ لَمَنْ يُّؤْمِنُ باللّٰهِ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَيْكُمْ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَيْھِمْ خٰشِعِيْنَ لِلّٰهِ) 3۔ آل عمران :199) بعض اہل کتاب اللہ تعالیٰ پر اس قرآن پر اور توراۃ و انجیل پر بھی ایمان رکھتے ہیں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہتے ہیں یہاں بھی فرمایا کہ ان کے یہ نیک اعمال ضائع نہ ہوں بلکہ پورا بدلہ ملے گا، تمام پرہیزگار لوگ اللہ کی نظروں میں ہیں وہ کسی کے اچھے عمل کو برباد نہیں کرتا۔ وہاں ان بےدین لوگوں کو اللہ کے ہاں نہ مال نفع دے گا نہ اولاد یہ تو جہنمی ہیں۔ صر کے معنی سخت سردی کے ہیں جو کھیتوں کو جلا دیتی ہے، غرض جس طرح کسی کی تیار کھیتی پر برف پڑے اور وہ جل کر خاکستر ہوجائے نفع چھوڑ اصل بھی غارت ہوجائے اور امیدوں پر پانی پھرجائے اسی طرح یہ کفار ہیں جو کچھ یہ خرچ کرتے ہیں اس کا نیک بدلہ تو کہاں اور عذاب ہوگا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ظلم نہیں بلکہ یہ ان کی بداعمالیوں کی سزا ہے۔
114
View Single
يُؤۡمِنُونَ بِٱللَّهِ وَٱلۡيَوۡمِ ٱلۡأٓخِرِ وَيَأۡمُرُونَ بِٱلۡمَعۡرُوفِ وَيَنۡهَوۡنَ عَنِ ٱلۡمُنكَرِ وَيُسَٰرِعُونَ فِي ٱلۡخَيۡرَٰتِۖ وَأُوْلَـٰٓئِكَ مِنَ ٱلصَّـٰلِحِينَ
They accept faith in Allah and the Last Day, and enjoin good deeds and forbid immorality, and hasten to perform good deeds; and they are the righteous.
وہ اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان لاتے ہیں اور بھلائی کا حکم دیتے ہیں اور برائی سے منع کرتے ہیں اور نیک کاموں میں تیزی سے بڑھتے ہیں، اور یہی لوگ نیکوکاروں میں سے ہیں
Tafsir Ibn Kathir
Virtues of the People of the Scriptures Who Embrace Islam
Muhammad bin Ishaq and others, including Al-Awfi who reported it from Ibn Abbas, said;"These Ayat were revealed about the clergy of the People of the Scriptures who embraced the faith. For instance, there is Abdullah bin Salam, Asad bin Ubayd, Tha`labah bin Sa`yah, Usayd bin Sa`yah, and so forth.
This Ayah means that those among the People of the Book whom Allah rebuked earlier are not at all the same as those among them who embraced Islam.Hence Allah's statement,
لَيْسُواْ سَوَاء ...
Not all of them are alike."Therefore, these two types of people are not equal, and indeed, there are believers and also criminals among the People of the Book, just as Allah said,
... مِّنْ أَهْلِ الْكِتَابِ أُمَّةٌ قَآئِمَةٌ ...
a party of the People of the Scripture stand for the right,for they implement the Book of Allah, adhere to His Law and follow His Prophet Muhammad ﷺ.
Therefore, this type is on the straight path,
... يَتْلُونَ آيَاتِ اللّهِ آنَاء اللَّيْلِ وَهُمْ يَسْجُدُونَ
they recite the verses of Allah during the hours of the night, prostrating themselves in prayer.They often stand in prayer at night for Tahajjud, and recite the Qur'an in their prayer.
يُؤْمِنُونَ بِاللّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ وَيُسَارِعُونَ فِي الْخَيْرَاتِ وَأُوْلَـئِكَ مِنَ الصَّالِحِينَ
They believe in Allah and the Last Day; they enjoin Al-Ma`ruf and forbid Al-Munkar; and they hasten in (all) good works; and they are among the righteous. (3: 114)This is the same type of people mentioned at the end of the Surah;
وَإِنَّ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ لَمَن يُؤْمِنُ بِاللّهِ وَمَا أُنزِلَ إِلَيْكُمْ وَمَآ أُنزِلَ إِلَيْهِمْ خَاشِعِينَ لِلّهِ
And there are, certainly, among the People of the Scripture (Jews and Christians), those who believe in Allah and in that which has been revealed to you, and in that which has been revealed to them, humbling themselves before Allah. (3:199)Allah said here,
وَمَا يَفْعَلُواْ مِنْ خَيْرٍ فَلَن يُكْفَرُوْهُ ...
And whatever good they do, nothing will be rejected of them;meaning, their good deeds will not be lost with Allah. Rather, He will award them the best rewards.
... وَاللّهُ عَلِيمٌ بِالْمُتَّقِينَ
for Allah knows well the Muttaqin (the pious).for no deed performed by any person ever escapes His knowledge, nor is any reward for those who do good deeds ever lost with Him.
إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُواْ ...
Surely, those who disbelieve,Allah mentions the disbelieving polytheists:
... لَن تُغْنِيَ عَنْهُمْ أَمْوَالُهُمْ وَلاَ أَوْلاَدُهُم مِّنَ اللّهِ شَيْئًا ...
neither their properties nor their offspring will avail them against Allah,meaning, nothing can avert Allah's torment and punishment from striking them.
... وَأُوْلَـئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ
They are the dwellers of the Fire, therein they will abide.
The Parable of What the Disbelievers Spend in This Life
Allah gave a parable for what the disbelievers spend in this life, as Mujahid, Al-Hasan and As-Suddi said.
مَثَلُ مَا يُنْفِقُونَ فِى هِـذِهِ الْحَيَوةِ الدُّنْيَا كَمَثَلِ رِيحٍ فِيهَا صِرٌّ
(The likeness of what they spend in this world is the likeness of a wind of Sir;) a frigid wind, as Ibn `Abbas, `Ikrimah, Sa`id bin Jubayr, Al-Hasan, Qatadah, Ad-Dahhak, Ar-Rabi` bin Anas and others have said. `Ata' said that Sir, means, `cold and snow.' Ibn `Abbas and Mujahid are also reported to have said that Sir means, `fire'. This latter meaning does not contradict the meanings we mentioned above, because extreme cold weather, especially when accompanied by snow, burns plants and produce, and has the same effect fire has on such growth.
أَصَابَتْ حَرْثَ قَوْمٍ ظَلَمُواْ أَنفُسَهُمْ فَأَهْلَكَتْهُ
(It struck the harvest of a people who did wrong against themselves and destroyed it) 3:117, by burning. This Ayah mentions a calamity that strikes produce that is ready to harvest, destroying it by burning and depriving its owner of it when he needs it the most. Such is the case with the disbelievers, for Allah destroys the rewards for their good deeds in this life, just as He destroyed the produce of the sinner because of his sins. Both types did not build their work on firm foundations,
وَمَا ظَلَمَهُمُ اللَّهُ وَلَـكِنْ أَنفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ
(And Allah wronged them not, but they wronged themselves.)
ظلم نہیں سزا حضرت ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں اہل کتاب اور اصحاب محمد ﷺ برابر نہیں، مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ نے عشاء کی نماز میں ایک مرتبہ دیر لگا دی پھر جب آئے تو جو اصحاب منتظر تھے ان سے فرمایا کسی دین والا اس وقت تک اللہ کا ذکر نہیں کر رہا مگر صرف تم ہی اللہ کے ذکر میں ہو اس پر یہ آیت نازل ہوئی لیکن اکثر مفسرین کا قول ہے کہ اہل کتاب کے علماء مثلاً حضرت عبداللہ بن سلام حضرت اسد بن عبید، حضرت ثعلبہ بن شعبہ وغیرہ کے بارے میں یہ آیت آئی کہ یہ لوگ ان اہل کتاب میں شامل نہیں جن کی مذمت پہلے گزاری، بلکہ یہ باایمان جماعت امر اللہ پر قائم شریعت محمدیہ کی تابع ہے استقامت و یقین اس میں ہے یہ پاکباز لوگ راتوں کے وقت تہجد کی نماز میں بھی اللہ کے کلام کی تلاوت کرتے رہتے ہیں اللہ پر قیامت پر ایمان رکھتے ہیں اور لوگوں کو بھی انہی باتوں کا حکم کرتے ہیں ان کے خلاف سے روکتے ہیں نیک کاموں میں پیش پیش رہا کرتے ہیں اب اللہ تعالیٰ انہیں خطاب عطا فرماتا ہے کہ یہ صالح لوگ ہیں اور سورت کے آخر میں بھی فرمایا آیت (وَاِنَّ مِنْ اَھْلِ الْكِتٰبِ لَمَنْ يُّؤْمِنُ باللّٰهِ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَيْكُمْ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَيْھِمْ خٰشِعِيْنَ لِلّٰهِ) 3۔ آل عمران :199) بعض اہل کتاب اللہ تعالیٰ پر اس قرآن پر اور توراۃ و انجیل پر بھی ایمان رکھتے ہیں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہتے ہیں یہاں بھی فرمایا کہ ان کے یہ نیک اعمال ضائع نہ ہوں بلکہ پورا بدلہ ملے گا، تمام پرہیزگار لوگ اللہ کی نظروں میں ہیں وہ کسی کے اچھے عمل کو برباد نہیں کرتا۔ وہاں ان بےدین لوگوں کو اللہ کے ہاں نہ مال نفع دے گا نہ اولاد یہ تو جہنمی ہیں۔ صر کے معنی سخت سردی کے ہیں جو کھیتوں کو جلا دیتی ہے، غرض جس طرح کسی کی تیار کھیتی پر برف پڑے اور وہ جل کر خاکستر ہوجائے نفع چھوڑ اصل بھی غارت ہوجائے اور امیدوں پر پانی پھرجائے اسی طرح یہ کفار ہیں جو کچھ یہ خرچ کرتے ہیں اس کا نیک بدلہ تو کہاں اور عذاب ہوگا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ظلم نہیں بلکہ یہ ان کی بداعمالیوں کی سزا ہے۔
115
View Single
وَمَا يَفۡعَلُواْ مِنۡ خَيۡرٖ فَلَن يُكۡفَرُوهُۗ وَٱللَّهُ عَلِيمُۢ بِٱلۡمُتَّقِينَ
And they will not be denied the reward of whatever good they do; and Allah knows the pious.
اور یہ لوگ جو نیک کام بھی کریں اس کی ناقدری نہیں کی جائے گی اور اللہ پرہیزگاروں کو خوب جاننے والا ہے
Tafsir Ibn Kathir
Virtues of the People of the Scriptures Who Embrace Islam
Muhammad bin Ishaq and others, including Al-Awfi who reported it from Ibn Abbas, said;"These Ayat were revealed about the clergy of the People of the Scriptures who embraced the faith. For instance, there is Abdullah bin Salam, Asad bin Ubayd, Tha`labah bin Sa`yah, Usayd bin Sa`yah, and so forth.
This Ayah means that those among the People of the Book whom Allah rebuked earlier are not at all the same as those among them who embraced Islam.Hence Allah's statement,
لَيْسُواْ سَوَاء ...
Not all of them are alike."Therefore, these two types of people are not equal, and indeed, there are believers and also criminals among the People of the Book, just as Allah said,
... مِّنْ أَهْلِ الْكِتَابِ أُمَّةٌ قَآئِمَةٌ ...
a party of the People of the Scripture stand for the right,for they implement the Book of Allah, adhere to His Law and follow His Prophet Muhammad ﷺ.
Therefore, this type is on the straight path,
... يَتْلُونَ آيَاتِ اللّهِ آنَاء اللَّيْلِ وَهُمْ يَسْجُدُونَ
they recite the verses of Allah during the hours of the night, prostrating themselves in prayer.They often stand in prayer at night for Tahajjud, and recite the Qur'an in their prayer.
يُؤْمِنُونَ بِاللّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ وَيُسَارِعُونَ فِي الْخَيْرَاتِ وَأُوْلَـئِكَ مِنَ الصَّالِحِينَ
They believe in Allah and the Last Day; they enjoin Al-Ma`ruf and forbid Al-Munkar; and they hasten in (all) good works; and they are among the righteous. (3: 114)This is the same type of people mentioned at the end of the Surah;
وَإِنَّ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ لَمَن يُؤْمِنُ بِاللّهِ وَمَا أُنزِلَ إِلَيْكُمْ وَمَآ أُنزِلَ إِلَيْهِمْ خَاشِعِينَ لِلّهِ
And there are, certainly, among the People of the Scripture (Jews and Christians), those who believe in Allah and in that which has been revealed to you, and in that which has been revealed to them, humbling themselves before Allah. (3:199)Allah said here,
وَمَا يَفْعَلُواْ مِنْ خَيْرٍ فَلَن يُكْفَرُوْهُ ...
And whatever good they do, nothing will be rejected of them;meaning, their good deeds will not be lost with Allah. Rather, He will award them the best rewards.
... وَاللّهُ عَلِيمٌ بِالْمُتَّقِينَ
for Allah knows well the Muttaqin (the pious).for no deed performed by any person ever escapes His knowledge, nor is any reward for those who do good deeds ever lost with Him.
إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُواْ ...
Surely, those who disbelieve,Allah mentions the disbelieving polytheists:
... لَن تُغْنِيَ عَنْهُمْ أَمْوَالُهُمْ وَلاَ أَوْلاَدُهُم مِّنَ اللّهِ شَيْئًا ...
neither their properties nor their offspring will avail them against Allah,meaning, nothing can avert Allah's torment and punishment from striking them.
... وَأُوْلَـئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ
They are the dwellers of the Fire, therein they will abide.
The Parable of What the Disbelievers Spend in This Life
Allah gave a parable for what the disbelievers spend in this life, as Mujahid, Al-Hasan and As-Suddi said.
مَثَلُ مَا يُنْفِقُونَ فِى هِـذِهِ الْحَيَوةِ الدُّنْيَا كَمَثَلِ رِيحٍ فِيهَا صِرٌّ
(The likeness of what they spend in this world is the likeness of a wind of Sir;) a frigid wind, as Ibn `Abbas, `Ikrimah, Sa`id bin Jubayr, Al-Hasan, Qatadah, Ad-Dahhak, Ar-Rabi` bin Anas and others have said. `Ata' said that Sir, means, `cold and snow.' Ibn `Abbas and Mujahid are also reported to have said that Sir means, `fire'. This latter meaning does not contradict the meanings we mentioned above, because extreme cold weather, especially when accompanied by snow, burns plants and produce, and has the same effect fire has on such growth.
أَصَابَتْ حَرْثَ قَوْمٍ ظَلَمُواْ أَنفُسَهُمْ فَأَهْلَكَتْهُ
(It struck the harvest of a people who did wrong against themselves and destroyed it) 3:117, by burning. This Ayah mentions a calamity that strikes produce that is ready to harvest, destroying it by burning and depriving its owner of it when he needs it the most. Such is the case with the disbelievers, for Allah destroys the rewards for their good deeds in this life, just as He destroyed the produce of the sinner because of his sins. Both types did not build their work on firm foundations,
وَمَا ظَلَمَهُمُ اللَّهُ وَلَـكِنْ أَنفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ
(And Allah wronged them not, but they wronged themselves.)
ظلم نہیں سزا حضرت ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں اہل کتاب اور اصحاب محمد ﷺ برابر نہیں، مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ نے عشاء کی نماز میں ایک مرتبہ دیر لگا دی پھر جب آئے تو جو اصحاب منتظر تھے ان سے فرمایا کسی دین والا اس وقت تک اللہ کا ذکر نہیں کر رہا مگر صرف تم ہی اللہ کے ذکر میں ہو اس پر یہ آیت نازل ہوئی لیکن اکثر مفسرین کا قول ہے کہ اہل کتاب کے علماء مثلاً حضرت عبداللہ بن سلام حضرت اسد بن عبید، حضرت ثعلبہ بن شعبہ وغیرہ کے بارے میں یہ آیت آئی کہ یہ لوگ ان اہل کتاب میں شامل نہیں جن کی مذمت پہلے گزاری، بلکہ یہ باایمان جماعت امر اللہ پر قائم شریعت محمدیہ کی تابع ہے استقامت و یقین اس میں ہے یہ پاکباز لوگ راتوں کے وقت تہجد کی نماز میں بھی اللہ کے کلام کی تلاوت کرتے رہتے ہیں اللہ پر قیامت پر ایمان رکھتے ہیں اور لوگوں کو بھی انہی باتوں کا حکم کرتے ہیں ان کے خلاف سے روکتے ہیں نیک کاموں میں پیش پیش رہا کرتے ہیں اب اللہ تعالیٰ انہیں خطاب عطا فرماتا ہے کہ یہ صالح لوگ ہیں اور سورت کے آخر میں بھی فرمایا آیت (وَاِنَّ مِنْ اَھْلِ الْكِتٰبِ لَمَنْ يُّؤْمِنُ باللّٰهِ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَيْكُمْ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَيْھِمْ خٰشِعِيْنَ لِلّٰهِ) 3۔ آل عمران :199) بعض اہل کتاب اللہ تعالیٰ پر اس قرآن پر اور توراۃ و انجیل پر بھی ایمان رکھتے ہیں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہتے ہیں یہاں بھی فرمایا کہ ان کے یہ نیک اعمال ضائع نہ ہوں بلکہ پورا بدلہ ملے گا، تمام پرہیزگار لوگ اللہ کی نظروں میں ہیں وہ کسی کے اچھے عمل کو برباد نہیں کرتا۔ وہاں ان بےدین لوگوں کو اللہ کے ہاں نہ مال نفع دے گا نہ اولاد یہ تو جہنمی ہیں۔ صر کے معنی سخت سردی کے ہیں جو کھیتوں کو جلا دیتی ہے، غرض جس طرح کسی کی تیار کھیتی پر برف پڑے اور وہ جل کر خاکستر ہوجائے نفع چھوڑ اصل بھی غارت ہوجائے اور امیدوں پر پانی پھرجائے اسی طرح یہ کفار ہیں جو کچھ یہ خرچ کرتے ہیں اس کا نیک بدلہ تو کہاں اور عذاب ہوگا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ظلم نہیں بلکہ یہ ان کی بداعمالیوں کی سزا ہے۔
116
View Single
إِنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ لَن تُغۡنِيَ عَنۡهُمۡ أَمۡوَٰلُهُمۡ وَلَآ أَوۡلَٰدُهُم مِّنَ ٱللَّهِ شَيۡـٔٗاۖ وَأُوْلَـٰٓئِكَ أَصۡحَٰبُ ٱلنَّارِۖ هُمۡ فِيهَا خَٰلِدُونَ
Indeed those who disbelieve – neither their wealth nor their offspring will help save them in the least, from Allah; and they are the people of fire; remaining in it forever.
یقینا جن لوگوں نے کفر کیا ہے نہ ان کے مال انہیں اللہ (کے عذاب) سے کچھ بچا سکیں گے اور نہ ان کی اولاد، اور وہی لوگ جہنمی ہیں، جو اس میں ہمیشہ رہیں گے
Tafsir Ibn Kathir
Virtues of the People of the Scriptures Who Embrace Islam
Muhammad bin Ishaq and others, including Al-Awfi who reported it from Ibn Abbas, said;"These Ayat were revealed about the clergy of the People of the Scriptures who embraced the faith. For instance, there is Abdullah bin Salam, Asad bin Ubayd, Tha`labah bin Sa`yah, Usayd bin Sa`yah, and so forth.
This Ayah means that those among the People of the Book whom Allah rebuked earlier are not at all the same as those among them who embraced Islam.Hence Allah's statement,
لَيْسُواْ سَوَاء ...
Not all of them are alike."Therefore, these two types of people are not equal, and indeed, there are believers and also criminals among the People of the Book, just as Allah said,
... مِّنْ أَهْلِ الْكِتَابِ أُمَّةٌ قَآئِمَةٌ ...
a party of the People of the Scripture stand for the right,for they implement the Book of Allah, adhere to His Law and follow His Prophet Muhammad ﷺ.
Therefore, this type is on the straight path,
... يَتْلُونَ آيَاتِ اللّهِ آنَاء اللَّيْلِ وَهُمْ يَسْجُدُونَ
they recite the verses of Allah during the hours of the night, prostrating themselves in prayer.They often stand in prayer at night for Tahajjud, and recite the Qur'an in their prayer.
يُؤْمِنُونَ بِاللّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ وَيُسَارِعُونَ فِي الْخَيْرَاتِ وَأُوْلَـئِكَ مِنَ الصَّالِحِينَ
They believe in Allah and the Last Day; they enjoin Al-Ma`ruf and forbid Al-Munkar; and they hasten in (all) good works; and they are among the righteous. (3: 114)This is the same type of people mentioned at the end of the Surah;
وَإِنَّ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ لَمَن يُؤْمِنُ بِاللّهِ وَمَا أُنزِلَ إِلَيْكُمْ وَمَآ أُنزِلَ إِلَيْهِمْ خَاشِعِينَ لِلّهِ
And there are, certainly, among the People of the Scripture (Jews and Christians), those who believe in Allah and in that which has been revealed to you, and in that which has been revealed to them, humbling themselves before Allah. (3:199)Allah said here,
وَمَا يَفْعَلُواْ مِنْ خَيْرٍ فَلَن يُكْفَرُوْهُ ...
And whatever good they do, nothing will be rejected of them;meaning, their good deeds will not be lost with Allah. Rather, He will award them the best rewards.
... وَاللّهُ عَلِيمٌ بِالْمُتَّقِينَ
for Allah knows well the Muttaqin (the pious).for no deed performed by any person ever escapes His knowledge, nor is any reward for those who do good deeds ever lost with Him.
إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُواْ ...
Surely, those who disbelieve,Allah mentions the disbelieving polytheists:
... لَن تُغْنِيَ عَنْهُمْ أَمْوَالُهُمْ وَلاَ أَوْلاَدُهُم مِّنَ اللّهِ شَيْئًا ...
neither their properties nor their offspring will avail them against Allah,meaning, nothing can avert Allah's torment and punishment from striking them.
... وَأُوْلَـئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ
They are the dwellers of the Fire, therein they will abide.
The Parable of What the Disbelievers Spend in This Life
Allah gave a parable for what the disbelievers spend in this life, as Mujahid, Al-Hasan and As-Suddi said.
مَثَلُ مَا يُنْفِقُونَ فِى هِـذِهِ الْحَيَوةِ الدُّنْيَا كَمَثَلِ رِيحٍ فِيهَا صِرٌّ
(The likeness of what they spend in this world is the likeness of a wind of Sir;) a frigid wind, as Ibn `Abbas, `Ikrimah, Sa`id bin Jubayr, Al-Hasan, Qatadah, Ad-Dahhak, Ar-Rabi` bin Anas and others have said. `Ata' said that Sir, means, `cold and snow.' Ibn `Abbas and Mujahid are also reported to have said that Sir means, `fire'. This latter meaning does not contradict the meanings we mentioned above, because extreme cold weather, especially when accompanied by snow, burns plants and produce, and has the same effect fire has on such growth.
أَصَابَتْ حَرْثَ قَوْمٍ ظَلَمُواْ أَنفُسَهُمْ فَأَهْلَكَتْهُ
(It struck the harvest of a people who did wrong against themselves and destroyed it) 3:117, by burning. This Ayah mentions a calamity that strikes produce that is ready to harvest, destroying it by burning and depriving its owner of it when he needs it the most. Such is the case with the disbelievers, for Allah destroys the rewards for their good deeds in this life, just as He destroyed the produce of the sinner because of his sins. Both types did not build their work on firm foundations,
وَمَا ظَلَمَهُمُ اللَّهُ وَلَـكِنْ أَنفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ
(And Allah wronged them not, but they wronged themselves.)
ظلم نہیں سزا حضرت ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں اہل کتاب اور اصحاب محمد ﷺ برابر نہیں، مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ نے عشاء کی نماز میں ایک مرتبہ دیر لگا دی پھر جب آئے تو جو اصحاب منتظر تھے ان سے فرمایا کسی دین والا اس وقت تک اللہ کا ذکر نہیں کر رہا مگر صرف تم ہی اللہ کے ذکر میں ہو اس پر یہ آیت نازل ہوئی لیکن اکثر مفسرین کا قول ہے کہ اہل کتاب کے علماء مثلاً حضرت عبداللہ بن سلام حضرت اسد بن عبید، حضرت ثعلبہ بن شعبہ وغیرہ کے بارے میں یہ آیت آئی کہ یہ لوگ ان اہل کتاب میں شامل نہیں جن کی مذمت پہلے گزاری، بلکہ یہ باایمان جماعت امر اللہ پر قائم شریعت محمدیہ کی تابع ہے استقامت و یقین اس میں ہے یہ پاکباز لوگ راتوں کے وقت تہجد کی نماز میں بھی اللہ کے کلام کی تلاوت کرتے رہتے ہیں اللہ پر قیامت پر ایمان رکھتے ہیں اور لوگوں کو بھی انہی باتوں کا حکم کرتے ہیں ان کے خلاف سے روکتے ہیں نیک کاموں میں پیش پیش رہا کرتے ہیں اب اللہ تعالیٰ انہیں خطاب عطا فرماتا ہے کہ یہ صالح لوگ ہیں اور سورت کے آخر میں بھی فرمایا آیت (وَاِنَّ مِنْ اَھْلِ الْكِتٰبِ لَمَنْ يُّؤْمِنُ باللّٰهِ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَيْكُمْ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَيْھِمْ خٰشِعِيْنَ لِلّٰهِ) 3۔ آل عمران :199) بعض اہل کتاب اللہ تعالیٰ پر اس قرآن پر اور توراۃ و انجیل پر بھی ایمان رکھتے ہیں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہتے ہیں یہاں بھی فرمایا کہ ان کے یہ نیک اعمال ضائع نہ ہوں بلکہ پورا بدلہ ملے گا، تمام پرہیزگار لوگ اللہ کی نظروں میں ہیں وہ کسی کے اچھے عمل کو برباد نہیں کرتا۔ وہاں ان بےدین لوگوں کو اللہ کے ہاں نہ مال نفع دے گا نہ اولاد یہ تو جہنمی ہیں۔ صر کے معنی سخت سردی کے ہیں جو کھیتوں کو جلا دیتی ہے، غرض جس طرح کسی کی تیار کھیتی پر برف پڑے اور وہ جل کر خاکستر ہوجائے نفع چھوڑ اصل بھی غارت ہوجائے اور امیدوں پر پانی پھرجائے اسی طرح یہ کفار ہیں جو کچھ یہ خرچ کرتے ہیں اس کا نیک بدلہ تو کہاں اور عذاب ہوگا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ظلم نہیں بلکہ یہ ان کی بداعمالیوں کی سزا ہے۔
117
View Single
مَثَلُ مَا يُنفِقُونَ فِي هَٰذِهِ ٱلۡحَيَوٰةِ ٱلدُّنۡيَا كَمَثَلِ رِيحٖ فِيهَا صِرٌّ أَصَابَتۡ حَرۡثَ قَوۡمٖ ظَلَمُوٓاْ أَنفُسَهُمۡ فَأَهۡلَكَتۡهُۚ وَمَا ظَلَمَهُمُ ٱللَّهُ وَلَٰكِنۡ أَنفُسَهُمۡ يَظۡلِمُونَ
The example of what they spend in this worldly life is similar to the freezing cold wind which struck the fields of a nation who wronged themselves, and destroyed it completely; and Allah did not oppress them, but it is they who wronged themselves.
(یہ لوگ) جو مال (بھی) اس دنیا کی زندگی میں خرچ کرتے ہیں اس کی مثال اس ہوا جیسی ہے جس میں سخت پالا ہو (اور) وہ ایسی قوم کی کھیتی پر جا پڑے جو اپنی جانوں پر ظلم کرتی ہو اور وہ اسے تباہ کر دے، اور اللہ نے ان پر کوئی ظلم نہیں کیا بلکہ وہ خود اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں
Tafsir Ibn Kathir
Virtues of the People of the Scriptures Who Embrace Islam
Muhammad bin Ishaq and others, including Al-Awfi who reported it from Ibn Abbas, said;"These Ayat were revealed about the clergy of the People of the Scriptures who embraced the faith. For instance, there is Abdullah bin Salam, Asad bin Ubayd, Tha`labah bin Sa`yah, Usayd bin Sa`yah, and so forth.
This Ayah means that those among the People of the Book whom Allah rebuked earlier are not at all the same as those among them who embraced Islam.Hence Allah's statement,
لَيْسُواْ سَوَاء ...
Not all of them are alike."Therefore, these two types of people are not equal, and indeed, there are believers and also criminals among the People of the Book, just as Allah said,
... مِّنْ أَهْلِ الْكِتَابِ أُمَّةٌ قَآئِمَةٌ ...
a party of the People of the Scripture stand for the right,for they implement the Book of Allah, adhere to His Law and follow His Prophet Muhammad ﷺ.
Therefore, this type is on the straight path,
... يَتْلُونَ آيَاتِ اللّهِ آنَاء اللَّيْلِ وَهُمْ يَسْجُدُونَ
they recite the verses of Allah during the hours of the night, prostrating themselves in prayer.They often stand in prayer at night for Tahajjud, and recite the Qur'an in their prayer.
يُؤْمِنُونَ بِاللّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ وَيُسَارِعُونَ فِي الْخَيْرَاتِ وَأُوْلَـئِكَ مِنَ الصَّالِحِينَ
They believe in Allah and the Last Day; they enjoin Al-Ma`ruf and forbid Al-Munkar; and they hasten in (all) good works; and they are among the righteous. (3: 114)This is the same type of people mentioned at the end of the Surah;
وَإِنَّ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ لَمَن يُؤْمِنُ بِاللّهِ وَمَا أُنزِلَ إِلَيْكُمْ وَمَآ أُنزِلَ إِلَيْهِمْ خَاشِعِينَ لِلّهِ
And there are, certainly, among the People of the Scripture (Jews and Christians), those who believe in Allah and in that which has been revealed to you, and in that which has been revealed to them, humbling themselves before Allah. (3:199)Allah said here,
وَمَا يَفْعَلُواْ مِنْ خَيْرٍ فَلَن يُكْفَرُوْهُ ...
And whatever good they do, nothing will be rejected of them;meaning, their good deeds will not be lost with Allah. Rather, He will award them the best rewards.
... وَاللّهُ عَلِيمٌ بِالْمُتَّقِينَ
for Allah knows well the Muttaqin (the pious).for no deed performed by any person ever escapes His knowledge, nor is any reward for those who do good deeds ever lost with Him.
إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُواْ ...
Surely, those who disbelieve,Allah mentions the disbelieving polytheists:
... لَن تُغْنِيَ عَنْهُمْ أَمْوَالُهُمْ وَلاَ أَوْلاَدُهُم مِّنَ اللّهِ شَيْئًا ...
neither their properties nor their offspring will avail them against Allah,meaning, nothing can avert Allah's torment and punishment from striking them.
... وَأُوْلَـئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ
They are the dwellers of the Fire, therein they will abide.
The Parable of What the Disbelievers Spend in This Life
Allah gave a parable for what the disbelievers spend in this life, as Mujahid, Al-Hasan and As-Suddi said.
مَثَلُ مَا يُنْفِقُونَ فِى هِـذِهِ الْحَيَوةِ الدُّنْيَا كَمَثَلِ رِيحٍ فِيهَا صِرٌّ
(The likeness of what they spend in this world is the likeness of a wind of Sir;) a frigid wind, as Ibn `Abbas, `Ikrimah, Sa`id bin Jubayr, Al-Hasan, Qatadah, Ad-Dahhak, Ar-Rabi` bin Anas and others have said. `Ata' said that Sir, means, `cold and snow.' Ibn `Abbas and Mujahid are also reported to have said that Sir means, `fire'. This latter meaning does not contradict the meanings we mentioned above, because extreme cold weather, especially when accompanied by snow, burns plants and produce, and has the same effect fire has on such growth.
أَصَابَتْ حَرْثَ قَوْمٍ ظَلَمُواْ أَنفُسَهُمْ فَأَهْلَكَتْهُ
(It struck the harvest of a people who did wrong against themselves and destroyed it) 3:117, by burning. This Ayah mentions a calamity that strikes produce that is ready to harvest, destroying it by burning and depriving its owner of it when he needs it the most. Such is the case with the disbelievers, for Allah destroys the rewards for their good deeds in this life, just as He destroyed the produce of the sinner because of his sins. Both types did not build their work on firm foundations,
وَمَا ظَلَمَهُمُ اللَّهُ وَلَـكِنْ أَنفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ
(And Allah wronged them not, but they wronged themselves.)
ظلم نہیں سزا حضرت ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں اہل کتاب اور اصحاب محمد ﷺ برابر نہیں، مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ نے عشاء کی نماز میں ایک مرتبہ دیر لگا دی پھر جب آئے تو جو اصحاب منتظر تھے ان سے فرمایا کسی دین والا اس وقت تک اللہ کا ذکر نہیں کر رہا مگر صرف تم ہی اللہ کے ذکر میں ہو اس پر یہ آیت نازل ہوئی لیکن اکثر مفسرین کا قول ہے کہ اہل کتاب کے علماء مثلاً حضرت عبداللہ بن سلام حضرت اسد بن عبید، حضرت ثعلبہ بن شعبہ وغیرہ کے بارے میں یہ آیت آئی کہ یہ لوگ ان اہل کتاب میں شامل نہیں جن کی مذمت پہلے گزاری، بلکہ یہ باایمان جماعت امر اللہ پر قائم شریعت محمدیہ کی تابع ہے استقامت و یقین اس میں ہے یہ پاکباز لوگ راتوں کے وقت تہجد کی نماز میں بھی اللہ کے کلام کی تلاوت کرتے رہتے ہیں اللہ پر قیامت پر ایمان رکھتے ہیں اور لوگوں کو بھی انہی باتوں کا حکم کرتے ہیں ان کے خلاف سے روکتے ہیں نیک کاموں میں پیش پیش رہا کرتے ہیں اب اللہ تعالیٰ انہیں خطاب عطا فرماتا ہے کہ یہ صالح لوگ ہیں اور سورت کے آخر میں بھی فرمایا آیت (وَاِنَّ مِنْ اَھْلِ الْكِتٰبِ لَمَنْ يُّؤْمِنُ باللّٰهِ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَيْكُمْ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَيْھِمْ خٰشِعِيْنَ لِلّٰهِ) 3۔ آل عمران :199) بعض اہل کتاب اللہ تعالیٰ پر اس قرآن پر اور توراۃ و انجیل پر بھی ایمان رکھتے ہیں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہتے ہیں یہاں بھی فرمایا کہ ان کے یہ نیک اعمال ضائع نہ ہوں بلکہ پورا بدلہ ملے گا، تمام پرہیزگار لوگ اللہ کی نظروں میں ہیں وہ کسی کے اچھے عمل کو برباد نہیں کرتا۔ وہاں ان بےدین لوگوں کو اللہ کے ہاں نہ مال نفع دے گا نہ اولاد یہ تو جہنمی ہیں۔ صر کے معنی سخت سردی کے ہیں جو کھیتوں کو جلا دیتی ہے، غرض جس طرح کسی کی تیار کھیتی پر برف پڑے اور وہ جل کر خاکستر ہوجائے نفع چھوڑ اصل بھی غارت ہوجائے اور امیدوں پر پانی پھرجائے اسی طرح یہ کفار ہیں جو کچھ یہ خرچ کرتے ہیں اس کا نیک بدلہ تو کہاں اور عذاب ہوگا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ظلم نہیں بلکہ یہ ان کی بداعمالیوں کی سزا ہے۔
118
View Single
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا تَتَّخِذُواْ بِطَانَةٗ مِّن دُونِكُمۡ لَا يَأۡلُونَكُمۡ خَبَالٗا وَدُّواْ مَا عَنِتُّمۡ قَدۡ بَدَتِ ٱلۡبَغۡضَآءُ مِنۡ أَفۡوَٰهِهِمۡ وَمَا تُخۡفِي صُدُورُهُمۡ أَكۡبَرُۚ قَدۡ بَيَّنَّا لَكُمُ ٱلۡأٓيَٰتِۖ إِن كُنتُمۡ تَعۡقِلُونَ
O People who Believe! Do not share your secrets with others – they do all they can to ruin you; they desire the maximum harm for you; enmity has been revealed from their speech, and what they hide in their breasts is greater; we have explained the signs clearly to you, if you have intelligence.
اے ایمان والو! تم غیروں کو (اپنا) راز دار نہ بناؤ وہ تمہاری نسبت فتنہ انگیزی میں (کبھی) کمی نہیں کریں گے، وہ تمہیں سخت تکلیف پہنچنے کی خواہش رکھتے ہیں، بغض تو ان کی زبانوں سے خود ظاہر ہو چکا ہے، اور جو (عداوت) ان کے سینوں نے چھپا رکھی ہے وہ اس سے (بھی) بڑھ کر ہے۔ ہم نے تمہارے لئے نشانیاں واضح کر دی ہیں اگر تمہیں عقل ہو
Tafsir Ibn Kathir
Prohibition of Taking Allies From Disbelievers Who Ridicule Islam
Allah forbids His believing servants from taking the hypocrites as allies, so that the hypocrites do not have the opportunity to expose the secrets of the believers and their plans against their enemies. The hypocrites try their very best to confuse, oppose and harm the believers any way they can, and by using any wicked, evil means at their disposal. They wish the very worst and difficult conditions for the believers. Allah said,
لاَ تَتَّخِذُواْ بِطَانَةً مِّن دُونِكُمْ
(Take not as (your) Bitanah those other than your own) 3:118, in reference to taking followers of other religions as consultants and allies, for advisors of a certain person have access to his most secret affairs. Al-Bukhari and An-Nasa'i recorded that, Abu Sa`id said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«مَا بَعَثَ اللهُ مِنْ نَبِيَ وَلَا اسْتَخْلَفَ مِنْ خَلِيفَةٍ إِلَّا كَانَتْ لَهُ بِطَانَتَانِ: بِطَانَةٌ تَأْمُرُهُ بِالْخَيْرِ وَتَحُضُّهُ عَلَيْهِ، وَبِطَانَةٌ تَأْمُرُهُ بِالسُّوءِ وَتَحُضُّهُ عَلَيْهِ، وَالْمَعْصُومُ مَنْ عَصَمَ الله»
(Allah has not sent any Prophet nor was there any Khalifah but they have two types of allies, one that commands him with righteousness and advises it, and another that commands him with evil and advises him with it. Only those whom Allah gives immunity are immune.)
Ibn Abi Hatim reported that Ibn Abi Ad-Dahqanah said, "`Umar bin Al-Khattab was told, `There is young man here from the people of Hirah (in Iraq, who were Christians) who is a proficient scribe. Why do you not appoint him as a scribe' `Umar said, `I would then be taking advisors from among the disbelievers."' This Ayah and the story about `Umar testify to the fact that Muslims are not allowed to use Ahl Adh-Dhimmah to be scribes in matters that affect the affairs of Muslims and expose their secrets, for they might convey these secrets to combatant disbelievers. This is why Allah said,
لاَ يَأْلُونَكُمْ خَبَالاً وَدُّواْ مَا عَنِتُّمْ
(since they will not fail to do their best to corrupt you. They desire to harm you severely.)
Allah then said,
قَدْ بَدَتِ الْبَغْضَآءُ مِنْ أَفْوَهِهِمْ وَمَا تُخْفِى صُدُورُهُمْ أَكْبَرُ
(Hatred has already appeared from their mouths, but what their breasts conceal is far worse.) meaning, enmity appears on their faces and in what they sometimes utter, as well as, the enmity they have against Islam and its people in their hearts. Since this fact is apparent to every person who has sound comprehension, therefore,
قَدْ بَيَّنَّا لَكُمُ الاٌّيَـتِ إِنْ كُنتُمْ تَعْقِلُونَ
(Indeed We have made plain to you the Ayat if you understand.)
Allah said next,
هَآأَنتُمْ أُوْلاءِ تُحِبُّونَهُمْ وَلاَ يُحِبُّونَكُمْ
(O! You are the ones who love them but they love you not), meaning, O believers! You like the hypocrites because you think they are believers, for they pretend to be so, but they do not like you publicly or secretly.
وَتُؤْمِنُونَ بِالْكِتَـبِ كُلِّهِ
(And you believe in all the Scriptures) meaning, you have no doubt in any part of Allah's Book, while the hypocrites have deep doubts, confusion and reservations about it.
Muhammad bin Ishaq reported that Ibn `Abbas said that,
وَتُؤْمِنُونَ بِالْكِتَـبِ كُلِّهِ
(and you believe in all the Scriptures,) means, you believe in your Book, their Book, and the previous Books, while the hypocrites disbelieve in your Book, and this is why they deserve that you dislike them instead of them disliking you. Ibn Jarir collected this statement.
وَإِذَا لَقُوكُمْ قَالُواْ ءَامَنَّا وَإِذَا خَلَوْاْ عَضُّواْ عَلَيْكُمُ الاٌّنَامِلَ مِنَ الْغَيْظِ
(And when they meet you, they say, "We believe." But when they are alone, they bite their Anamil at you in rage.)
The word Anamil, means the tips of the fingers, as Qatadah stated. This is the behavior of the hypocrites who pretend to be believers and kind when they are with the believers, all the while concealing the opposite in their hearts in every respect. This is the exact situation that Allah describes,
وَإِذَا خَلَوْاْ عَضُّواْ عَلَيْكُمُ الاٌّنَامِلَ مِنَ الْغَيْظِ
(But when they are alone, they bite their Anamil at you in rage) and rage is extreme anger and fury. Allah said to them,
قُلْ مُوتُواْ بِغَيْظِكُمْ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ
(Say: "Perish in your rage. Certainly, Allah knows what is in the breasts (all the secrets).") for no matter how much you envy the believers and feel rage towards them, know that Allah shall perfect His favor on His believing servants, complete His religion, raise high His Word and give dominance to His religion. Therefore, O hypocrites, die in rage,
إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ
(Allah knows what is in the breasts.)
Allah has perfect knowledge of what you conceal in your hearts and chests and in the rage, envy and hatred you have against the believers. Allah will punish you for all this in this life, and they will have the good that you dislike for them. In the Hereafter, you will suffer severe torment in the Fire where you will remain for eternity.
Thereafter, Allah said,
إِن تَمْسَسْكُمْ حَسَنَةٌ تَسُؤْهُمْ وَإِن تُصِبْكُمْ سَيِّئَةٌ يَفْرَحُواْ بِهَا
(If a good befalls you, it grieves them, but if some evil overtakes you, they rejoice at it) 3:120. This only emphasizes the severity of the enmity that the hypocrites feel against the believers. If the believers enjoy fertile years, victories, support and their numbers and following increase, the hypocrites become displeased. When the Muslims suffer a drought or their enemies gain the upper hand against them, by Allah's decree, just as occurred during the battle of Uhud, the hypocrites become pleased. Allah said to His believing servants,
وَإِن تَصْبِرُواْ وَتَتَّقُواْ لاَ يَضُرُّكُمْ كَيْدُهُمْ شَيْئاً
(But if you remain patient and have Taqwa, not the least harm will their cunning do to you.)
Allah directs the believers to safety from the wickedness of evil people and the plots of the sinners, by recommending them to revert to patience and by having fear of Allah and trusting Him. Allah encompasses the enemies of the believers, all the while the believers have no power or strength except from Him. Whatever Allah wills, occurs, and whatever He does not will, does not occur. Nothing happens in His Kingdom except with His decision and according to His decrees. Verily, whoever relies on Allah, Allah shall suffice for him.
Allah then mentions the story of Uhud, the defeat that He tested the believers with, His distinguishing the believers from the hypocrites and their patience.
کافر اور منافق مسلمان کے دوست نہیں انہیں اپنا ہم راز نہ بناؤ اللہ تعالیٰ ایمانداروں کو کافروں اور منافقوں کی دوستی اور ہم راز ہونے سے روکتا ہے کہ یہ تو تمہارے دشمن ہیں ان کی چکنی چپڑی باتوں میں خوش نہ ہوجانا اور ان کے مکر کے پھندے میں پھنس نہ جانا ورنہ موقعہ پا کر یہ تمہیں سخت ضرر پہنچائیں گے اور اپنی باطنی عداوت نکالیں گے تم انہیں اپنا راز دار ہرگز نہ سمجھنا راز کی باتیں ان کے کانوں تک ہرگز نہ پہنچانا بطانہ کہتے ہیں انسان کے راز دار دوست کو اور من دو نکم سے مراد جس خلیفہ کو مقرر کیا اس کیلئے دو بطانہ مقرر کئے ایک تو بھلائی کی بات سمجھانے والا اور اس پر رغبت دینے والا اور دوسرا برائی کی رہبری کرنے والا اور اس پر آمادہ کرنے والا بس اللہ جسے بچائے وہی بچ سکتا ہے، حضرت عمر بن خطاب ؓ سے کہا گیا کہ یہاں پر حیرہ کا ایک شخص بڑا اچھا لکھنے والا اور بہت اچھے حافظہ والا ہے آپ اسے اپنا محرر اور منشی مقرر کرلیں آپ نے فرمایا اس کا مطلب یہ ہوگا کہ غیر مومن کو بطانہ بنا لوں گا جو اللہ نے منع کیا ہے، اس واقعہ کو اور اس آیت کو سامنے رکھ کر ذہن اس نتیجہ پر پہنچتا ہے کہ ذمی کفار کو بھی ایسے کاموں میں نہ لگانا چاہئے ایسا نہ ہو کہ وہ مخالفین کو مسلمانوں کے پوشیدہ ارادوں سے واقف کر دے اور ان کے دشمنوں کو ان سے ہوشیار کر دے کیونکہ انکی تو چاہت ہی مسلمانوں کو نیچا دکھانے کی ہوتی ہے، ازہر بن راشد کہتے ہیں کہ لوگ حضرت انس ؓ سے حدیثیں سنتے تھے اگر کسی حدیث کا مطلب سمجھ میں نہ آتا تو حضرت حسن بصری سے جا کر مطلب حل کرلیتے تھے ایک دن حضرت انس ؓ نے یہ حدیث بیان کی کہ مشرکوں کی آگ سے روشنی طلب نہ کرو اور اپنی انگوٹھی میں عربی نقش نہ کرو انہوں نے آکر حسن بصری سے اس کی تشریح دریافت کی تو آپ نے فرمایا کہ پچھلے جملہ کا تو یہ مطلب ہے کہ انگوٹھی پر محمد ﷺ نہ کھدواؤ اور پہلے جملہ کا یہ مطلب ہے کہ مشرکوں سے اپنے کاموں میں مشورہ نہ لو، دیکھو کتاب اللہ میں بھی ہے کہ ایمان دارو اپنے سوا دوسروں کو ہمراز نہ بناؤ لیکن حسن بصری کی یہ تشریح قابل غور ہے حدیث کا ٹھیک مطلب غالباً یہ ہے کہ محمد رسول اللہ عربی خط میں اپنی انگوٹھیوں پر نقش نہ کراؤ، چناچہ اور حدیث میں صاف ممانعت موجود ہے یہ اس لئے تھا کہ حضور ﷺ کی مہر کے ساتھ مشابہت نہ ہو اور اول جملے کا مطلب یہ ہے کہ مشرکوں کی بستی کے پاس نہ رہو اس کے پڑوس سے دور رہو ان کے شہروں سے ہجرت کر جاؤ جیسے ابو داؤد میں ہے کہ مسلمانوں اور مشرکوں کے درمیان کی لڑائی کی آگ کو کیا تم نہیں دیکھتے اور حدیث میں ہے جو مشرکوں سے میل جول کرے یا ان کے ساتھ رہے بسے وہ بھی انہی جیسا ہے پھر فرمایا ان کی باتوں سے بھی ان کی عداوت ٹپک رہی ہے ان کے چہروں سے بھی قیافہ شناس ان کی باطنی خباثتوں کو معلوم کرسکتا ہے پھر جو ان کے دلوں میں تباہ کن شرارتیں ہیں وہ تو تم سے مخفی ہیں لیکن ہم نے تو صاف صاف بیان کردیا ہے عاقل لوگ ایسے مکاروں کی مکاری میں نہیں آتے پھر فرمایا دیکھو کتنی کمزوری کی بات ہے کہ تم ان سے محبت رکھو اور وہ تمہیں نہ چاہیں، تمہارا ایمان کل کتاب پر ہو اور یہ شک شبہ میں ہی پڑے ہوئے ہیں ان کی کتاب کو تم تو مانو لیکن یہ تمہاری کتاب کا انکار کریں تو چاہئے تو یہ تھا کہ تم خود انہیں کڑی نظروں سے دیکھتے لیکن برخلاف اس کے یہ تمہاری عداوت کی آگ میں جل رہے ہیں۔ سامنا ہوجائے تو اپنی ایمانداری کی داستان بیان کرنے بیٹھ جاتے ہیں لیکن جب ذرا الگ ہوتے ہیں تو غیظ و غضب سے جلن اور حسد سے اپنی انگلیاں چباتے ہیں پس مسلمانوں کو بھی ان کی ظاہرداری سے دھوکہ نہیں کھانا چاہئے یہ چاہے جلتے بھنتے رہیں لیکن اللہ تعالیٰ اسلام اور مسلمانوں کو ترقی دیتا رہے گا مسلمان دن رات ہر حیثیت میں بڑھتے ہی رہیں گے گو وہ مارے غصے کے مرجائیں۔ اللہ ان کے دلوں کے بھیدوں سے بخوبی واقف ہے ان کے تمام منصوبوں پر خاک پڑے گی یہ اپنی شرارتوں میں کامیاب نہ ہوسکیں گے اپنی چاہت کے خلاف مسلمانوں کی دن دوگنی ترقی دیکھیں گے اور آخرت میں بھی انہیں نعمتوں والی جنت حاصل کرتے دیکھیں گے برخلاف ان کے یہ خود یہاں بھی رسوا ہوں گے اور وہاں بھی جہنم کا ایندھن بنیں گے، ان کی شدت عداوت کی یہ کتنی بڑی دلیل ہے کہ جہاں تمہیں کوئی نفع پہنچتا ہے یہ کلیجہ مسوسنے لگے اور اگر (اللہ نہ کرے) تمہیں کوئی نقصان پہنچ گیا تو ان کی باچھیں کھل جاتی ہیں بغلیں بجانے اور خوشیاں منانے لگتے ہیں، اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے مومنوں کی مدد ہوئی یہ کفار پر غالب آئے انہیں غنیمت کا مال ملا یہ تعداد میں بڑھ گے تو وہ جل بجھے اور اگر مسلمانوں پر تنگی آگئی یا دشمنوں میں گھر گئے تو ان کے ہاں عید منائی جانے لگی۔ اب اللہ تعالیٰ ایمانداروں کو خطاب کر کے فرماتا ہے کہ ان شریروں کی شرارت اور ان بدبختوں کے مکر سے اگر نجات چاہتے ہو تو صبرو تقویٰ اور توکل کرو اللہ عزوجل خود تمہارے دشمنوں کو گھیر لے گا کسی بھلائی کے حاصل کرنے کسی برائی سے بچنے کی کسی میں طاقت نہیں جو اللہ تعالیٰ چاہتا ہے ہوتا ہے اور جو نہیں چاہتا نہیں ہوسکتا جو اس پر توکل کرے اسے وہ کافی ہے۔ اسی مناسبت سے اب جنگ احد کا ذکر شروع ہوتا ہے جس پر مسلمانوں کے صبرو تحمل کا بیان ہے اور جس میں اللہ تعالیٰ کی آزمائش کا پورا نقشہ ہے اور جس میں مومن و منافق کی ظاہری تمیز ہے سنئے ارشاد ہوتا ہے
119
View Single
هَـٰٓأَنتُمۡ أُوْلَآءِ تُحِبُّونَهُمۡ وَلَا يُحِبُّونَكُمۡ وَتُؤۡمِنُونَ بِٱلۡكِتَٰبِ كُلِّهِۦ وَإِذَا لَقُوكُمۡ قَالُوٓاْ ءَامَنَّا وَإِذَا خَلَوۡاْ عَضُّواْ عَلَيۡكُمُ ٱلۡأَنَامِلَ مِنَ ٱلۡغَيۡظِۚ قُلۡ مُوتُواْ بِغَيۡظِكُمۡۗ إِنَّ ٱللَّهَ عَلِيمُۢ بِذَاتِ ٱلصُّدُورِ
Listen! It is you who love them and they do not love you, whereas the fact is that you believe in all the Books; when they meet you they say, “We believe”; and when they are alone they chew their fingers at you with rage; say, “Die in your frenzy!” Allah knows well what lies within the hearts.
آگاہ ہو جاؤ! تم وہ لوگ ہو کہ ان سے محبت رکھتے ہو اور وہ تمہیں پسند (تک) نہیں کرتے حالانکہ تم سب کتابوں پر ایمان رکھتے ہو، اور جب وہ تم سے ملتے ہیں (تو) کہتے ہیں: ہم ایمان لے آئے ہیں، اور جب اکیلے ہوتے ہیں تو تم پر غصے سے انگلیاں چباتے ہیں، فرما دیں: مر جاؤ اپنی گھٹن میں، بیشک اللہ دلوں کی (پوشیدہ) باتوں کو خوب جاننے والا ہے
Tafsir Ibn Kathir
Prohibition of Taking Allies From Disbelievers Who Ridicule Islam
Allah forbids His believing servants from taking the hypocrites as allies, so that the hypocrites do not have the opportunity to expose the secrets of the believers and their plans against their enemies. The hypocrites try their very best to confuse, oppose and harm the believers any way they can, and by using any wicked, evil means at their disposal. They wish the very worst and difficult conditions for the believers. Allah said,
لاَ تَتَّخِذُواْ بِطَانَةً مِّن دُونِكُمْ
(Take not as (your) Bitanah those other than your own) 3:118, in reference to taking followers of other religions as consultants and allies, for advisors of a certain person have access to his most secret affairs. Al-Bukhari and An-Nasa'i recorded that, Abu Sa`id said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«مَا بَعَثَ اللهُ مِنْ نَبِيَ وَلَا اسْتَخْلَفَ مِنْ خَلِيفَةٍ إِلَّا كَانَتْ لَهُ بِطَانَتَانِ: بِطَانَةٌ تَأْمُرُهُ بِالْخَيْرِ وَتَحُضُّهُ عَلَيْهِ، وَبِطَانَةٌ تَأْمُرُهُ بِالسُّوءِ وَتَحُضُّهُ عَلَيْهِ، وَالْمَعْصُومُ مَنْ عَصَمَ الله»
(Allah has not sent any Prophet nor was there any Khalifah but they have two types of allies, one that commands him with righteousness and advises it, and another that commands him with evil and advises him with it. Only those whom Allah gives immunity are immune.)
Ibn Abi Hatim reported that Ibn Abi Ad-Dahqanah said, "`Umar bin Al-Khattab was told, `There is young man here from the people of Hirah (in Iraq, who were Christians) who is a proficient scribe. Why do you not appoint him as a scribe' `Umar said, `I would then be taking advisors from among the disbelievers."' This Ayah and the story about `Umar testify to the fact that Muslims are not allowed to use Ahl Adh-Dhimmah to be scribes in matters that affect the affairs of Muslims and expose their secrets, for they might convey these secrets to combatant disbelievers. This is why Allah said,
لاَ يَأْلُونَكُمْ خَبَالاً وَدُّواْ مَا عَنِتُّمْ
(since they will not fail to do their best to corrupt you. They desire to harm you severely.)
Allah then said,
قَدْ بَدَتِ الْبَغْضَآءُ مِنْ أَفْوَهِهِمْ وَمَا تُخْفِى صُدُورُهُمْ أَكْبَرُ
(Hatred has already appeared from their mouths, but what their breasts conceal is far worse.) meaning, enmity appears on their faces and in what they sometimes utter, as well as, the enmity they have against Islam and its people in their hearts. Since this fact is apparent to every person who has sound comprehension, therefore,
قَدْ بَيَّنَّا لَكُمُ الاٌّيَـتِ إِنْ كُنتُمْ تَعْقِلُونَ
(Indeed We have made plain to you the Ayat if you understand.)
Allah said next,
هَآأَنتُمْ أُوْلاءِ تُحِبُّونَهُمْ وَلاَ يُحِبُّونَكُمْ
(O! You are the ones who love them but they love you not), meaning, O believers! You like the hypocrites because you think they are believers, for they pretend to be so, but they do not like you publicly or secretly.
وَتُؤْمِنُونَ بِالْكِتَـبِ كُلِّهِ
(And you believe in all the Scriptures) meaning, you have no doubt in any part of Allah's Book, while the hypocrites have deep doubts, confusion and reservations about it.
Muhammad bin Ishaq reported that Ibn `Abbas said that,
وَتُؤْمِنُونَ بِالْكِتَـبِ كُلِّهِ
(and you believe in all the Scriptures,) means, you believe in your Book, their Book, and the previous Books, while the hypocrites disbelieve in your Book, and this is why they deserve that you dislike them instead of them disliking you. Ibn Jarir collected this statement.
وَإِذَا لَقُوكُمْ قَالُواْ ءَامَنَّا وَإِذَا خَلَوْاْ عَضُّواْ عَلَيْكُمُ الاٌّنَامِلَ مِنَ الْغَيْظِ
(And when they meet you, they say, "We believe." But when they are alone, they bite their Anamil at you in rage.)
The word Anamil, means the tips of the fingers, as Qatadah stated. This is the behavior of the hypocrites who pretend to be believers and kind when they are with the believers, all the while concealing the opposite in their hearts in every respect. This is the exact situation that Allah describes,
وَإِذَا خَلَوْاْ عَضُّواْ عَلَيْكُمُ الاٌّنَامِلَ مِنَ الْغَيْظِ
(But when they are alone, they bite their Anamil at you in rage) and rage is extreme anger and fury. Allah said to them,
قُلْ مُوتُواْ بِغَيْظِكُمْ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ
(Say: "Perish in your rage. Certainly, Allah knows what is in the breasts (all the secrets).") for no matter how much you envy the believers and feel rage towards them, know that Allah shall perfect His favor on His believing servants, complete His religion, raise high His Word and give dominance to His religion. Therefore, O hypocrites, die in rage,
إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ
(Allah knows what is in the breasts.)
Allah has perfect knowledge of what you conceal in your hearts and chests and in the rage, envy and hatred you have against the believers. Allah will punish you for all this in this life, and they will have the good that you dislike for them. In the Hereafter, you will suffer severe torment in the Fire where you will remain for eternity.
Thereafter, Allah said,
إِن تَمْسَسْكُمْ حَسَنَةٌ تَسُؤْهُمْ وَإِن تُصِبْكُمْ سَيِّئَةٌ يَفْرَحُواْ بِهَا
(If a good befalls you, it grieves them, but if some evil overtakes you, they rejoice at it) 3:120. This only emphasizes the severity of the enmity that the hypocrites feel against the believers. If the believers enjoy fertile years, victories, support and their numbers and following increase, the hypocrites become displeased. When the Muslims suffer a drought or their enemies gain the upper hand against them, by Allah's decree, just as occurred during the battle of Uhud, the hypocrites become pleased. Allah said to His believing servants,
وَإِن تَصْبِرُواْ وَتَتَّقُواْ لاَ يَضُرُّكُمْ كَيْدُهُمْ شَيْئاً
(But if you remain patient and have Taqwa, not the least harm will their cunning do to you.)
Allah directs the believers to safety from the wickedness of evil people and the plots of the sinners, by recommending them to revert to patience and by having fear of Allah and trusting Him. Allah encompasses the enemies of the believers, all the while the believers have no power or strength except from Him. Whatever Allah wills, occurs, and whatever He does not will, does not occur. Nothing happens in His Kingdom except with His decision and according to His decrees. Verily, whoever relies on Allah, Allah shall suffice for him.
Allah then mentions the story of Uhud, the defeat that He tested the believers with, His distinguishing the believers from the hypocrites and their patience.
کافر اور منافق مسلمان کے دوست نہیں انہیں اپنا ہم راز نہ بناؤ اللہ تعالیٰ ایمانداروں کو کافروں اور منافقوں کی دوستی اور ہم راز ہونے سے روکتا ہے کہ یہ تو تمہارے دشمن ہیں ان کی چکنی چپڑی باتوں میں خوش نہ ہوجانا اور ان کے مکر کے پھندے میں پھنس نہ جانا ورنہ موقعہ پا کر یہ تمہیں سخت ضرر پہنچائیں گے اور اپنی باطنی عداوت نکالیں گے تم انہیں اپنا راز دار ہرگز نہ سمجھنا راز کی باتیں ان کے کانوں تک ہرگز نہ پہنچانا بطانہ کہتے ہیں انسان کے راز دار دوست کو اور من دو نکم سے مراد جس خلیفہ کو مقرر کیا اس کیلئے دو بطانہ مقرر کئے ایک تو بھلائی کی بات سمجھانے والا اور اس پر رغبت دینے والا اور دوسرا برائی کی رہبری کرنے والا اور اس پر آمادہ کرنے والا بس اللہ جسے بچائے وہی بچ سکتا ہے، حضرت عمر بن خطاب ؓ سے کہا گیا کہ یہاں پر حیرہ کا ایک شخص بڑا اچھا لکھنے والا اور بہت اچھے حافظہ والا ہے آپ اسے اپنا محرر اور منشی مقرر کرلیں آپ نے فرمایا اس کا مطلب یہ ہوگا کہ غیر مومن کو بطانہ بنا لوں گا جو اللہ نے منع کیا ہے، اس واقعہ کو اور اس آیت کو سامنے رکھ کر ذہن اس نتیجہ پر پہنچتا ہے کہ ذمی کفار کو بھی ایسے کاموں میں نہ لگانا چاہئے ایسا نہ ہو کہ وہ مخالفین کو مسلمانوں کے پوشیدہ ارادوں سے واقف کر دے اور ان کے دشمنوں کو ان سے ہوشیار کر دے کیونکہ انکی تو چاہت ہی مسلمانوں کو نیچا دکھانے کی ہوتی ہے، ازہر بن راشد کہتے ہیں کہ لوگ حضرت انس ؓ سے حدیثیں سنتے تھے اگر کسی حدیث کا مطلب سمجھ میں نہ آتا تو حضرت حسن بصری سے جا کر مطلب حل کرلیتے تھے ایک دن حضرت انس ؓ نے یہ حدیث بیان کی کہ مشرکوں کی آگ سے روشنی طلب نہ کرو اور اپنی انگوٹھی میں عربی نقش نہ کرو انہوں نے آکر حسن بصری سے اس کی تشریح دریافت کی تو آپ نے فرمایا کہ پچھلے جملہ کا تو یہ مطلب ہے کہ انگوٹھی پر محمد ﷺ نہ کھدواؤ اور پہلے جملہ کا یہ مطلب ہے کہ مشرکوں سے اپنے کاموں میں مشورہ نہ لو، دیکھو کتاب اللہ میں بھی ہے کہ ایمان دارو اپنے سوا دوسروں کو ہمراز نہ بناؤ لیکن حسن بصری کی یہ تشریح قابل غور ہے حدیث کا ٹھیک مطلب غالباً یہ ہے کہ محمد رسول اللہ عربی خط میں اپنی انگوٹھیوں پر نقش نہ کراؤ، چناچہ اور حدیث میں صاف ممانعت موجود ہے یہ اس لئے تھا کہ حضور ﷺ کی مہر کے ساتھ مشابہت نہ ہو اور اول جملے کا مطلب یہ ہے کہ مشرکوں کی بستی کے پاس نہ رہو اس کے پڑوس سے دور رہو ان کے شہروں سے ہجرت کر جاؤ جیسے ابو داؤد میں ہے کہ مسلمانوں اور مشرکوں کے درمیان کی لڑائی کی آگ کو کیا تم نہیں دیکھتے اور حدیث میں ہے جو مشرکوں سے میل جول کرے یا ان کے ساتھ رہے بسے وہ بھی انہی جیسا ہے پھر فرمایا ان کی باتوں سے بھی ان کی عداوت ٹپک رہی ہے ان کے چہروں سے بھی قیافہ شناس ان کی باطنی خباثتوں کو معلوم کرسکتا ہے پھر جو ان کے دلوں میں تباہ کن شرارتیں ہیں وہ تو تم سے مخفی ہیں لیکن ہم نے تو صاف صاف بیان کردیا ہے عاقل لوگ ایسے مکاروں کی مکاری میں نہیں آتے پھر فرمایا دیکھو کتنی کمزوری کی بات ہے کہ تم ان سے محبت رکھو اور وہ تمہیں نہ چاہیں، تمہارا ایمان کل کتاب پر ہو اور یہ شک شبہ میں ہی پڑے ہوئے ہیں ان کی کتاب کو تم تو مانو لیکن یہ تمہاری کتاب کا انکار کریں تو چاہئے تو یہ تھا کہ تم خود انہیں کڑی نظروں سے دیکھتے لیکن برخلاف اس کے یہ تمہاری عداوت کی آگ میں جل رہے ہیں۔ سامنا ہوجائے تو اپنی ایمانداری کی داستان بیان کرنے بیٹھ جاتے ہیں لیکن جب ذرا الگ ہوتے ہیں تو غیظ و غضب سے جلن اور حسد سے اپنی انگلیاں چباتے ہیں پس مسلمانوں کو بھی ان کی ظاہرداری سے دھوکہ نہیں کھانا چاہئے یہ چاہے جلتے بھنتے رہیں لیکن اللہ تعالیٰ اسلام اور مسلمانوں کو ترقی دیتا رہے گا مسلمان دن رات ہر حیثیت میں بڑھتے ہی رہیں گے گو وہ مارے غصے کے مرجائیں۔ اللہ ان کے دلوں کے بھیدوں سے بخوبی واقف ہے ان کے تمام منصوبوں پر خاک پڑے گی یہ اپنی شرارتوں میں کامیاب نہ ہوسکیں گے اپنی چاہت کے خلاف مسلمانوں کی دن دوگنی ترقی دیکھیں گے اور آخرت میں بھی انہیں نعمتوں والی جنت حاصل کرتے دیکھیں گے برخلاف ان کے یہ خود یہاں بھی رسوا ہوں گے اور وہاں بھی جہنم کا ایندھن بنیں گے، ان کی شدت عداوت کی یہ کتنی بڑی دلیل ہے کہ جہاں تمہیں کوئی نفع پہنچتا ہے یہ کلیجہ مسوسنے لگے اور اگر (اللہ نہ کرے) تمہیں کوئی نقصان پہنچ گیا تو ان کی باچھیں کھل جاتی ہیں بغلیں بجانے اور خوشیاں منانے لگتے ہیں، اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے مومنوں کی مدد ہوئی یہ کفار پر غالب آئے انہیں غنیمت کا مال ملا یہ تعداد میں بڑھ گے تو وہ جل بجھے اور اگر مسلمانوں پر تنگی آگئی یا دشمنوں میں گھر گئے تو ان کے ہاں عید منائی جانے لگی۔ اب اللہ تعالیٰ ایمانداروں کو خطاب کر کے فرماتا ہے کہ ان شریروں کی شرارت اور ان بدبختوں کے مکر سے اگر نجات چاہتے ہو تو صبرو تقویٰ اور توکل کرو اللہ عزوجل خود تمہارے دشمنوں کو گھیر لے گا کسی بھلائی کے حاصل کرنے کسی برائی سے بچنے کی کسی میں طاقت نہیں جو اللہ تعالیٰ چاہتا ہے ہوتا ہے اور جو نہیں چاہتا نہیں ہوسکتا جو اس پر توکل کرے اسے وہ کافی ہے۔ اسی مناسبت سے اب جنگ احد کا ذکر شروع ہوتا ہے جس پر مسلمانوں کے صبرو تحمل کا بیان ہے اور جس میں اللہ تعالیٰ کی آزمائش کا پورا نقشہ ہے اور جس میں مومن و منافق کی ظاہری تمیز ہے سنئے ارشاد ہوتا ہے
120
View Single
إِن تَمۡسَسۡكُمۡ حَسَنَةٞ تَسُؤۡهُمۡ وَإِن تُصِبۡكُمۡ سَيِّئَةٞ يَفۡرَحُواْ بِهَاۖ وَإِن تَصۡبِرُواْ وَتَتَّقُواْ لَا يَضُرُّكُمۡ كَيۡدُهُمۡ شَيۡـًٔاۗ إِنَّ ٱللَّهَ بِمَا يَعۡمَلُونَ مُحِيطٞ
If some good reaches you, they feel unhappy; and if misfortune befalls you, they will rejoice; and if you remain steadfast and pious, their evil scheme will not harm you in the least; undoubtedly all what they do is encompassed by Allah.
اگر تمہیں کوئی بھلائی پہنچے تو انہیں بری لگتی ہے اور تمہیں کوئی رنج پہنچے تو وہ اس سے خوش ہوتے ہیں، اور اگر تم صبر کرتے رہو اور تقوٰی اختیار کئے رکھو تو ان کا فریب تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گا، جو کچھ وہ کر رہے ہیں بیشک اللہ اس پر احاطہ فرمائے ہوئے ہے
Tafsir Ibn Kathir
Prohibition of Taking Allies From Disbelievers Who Ridicule Islam
Allah forbids His believing servants from taking the hypocrites as allies, so that the hypocrites do not have the opportunity to expose the secrets of the believers and their plans against their enemies. The hypocrites try their very best to confuse, oppose and harm the believers any way they can, and by using any wicked, evil means at their disposal. They wish the very worst and difficult conditions for the believers. Allah said,
لاَ تَتَّخِذُواْ بِطَانَةً مِّن دُونِكُمْ
(Take not as (your) Bitanah those other than your own) 3:118, in reference to taking followers of other religions as consultants and allies, for advisors of a certain person have access to his most secret affairs. Al-Bukhari and An-Nasa'i recorded that, Abu Sa`id said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«مَا بَعَثَ اللهُ مِنْ نَبِيَ وَلَا اسْتَخْلَفَ مِنْ خَلِيفَةٍ إِلَّا كَانَتْ لَهُ بِطَانَتَانِ: بِطَانَةٌ تَأْمُرُهُ بِالْخَيْرِ وَتَحُضُّهُ عَلَيْهِ، وَبِطَانَةٌ تَأْمُرُهُ بِالسُّوءِ وَتَحُضُّهُ عَلَيْهِ، وَالْمَعْصُومُ مَنْ عَصَمَ الله»
(Allah has not sent any Prophet nor was there any Khalifah but they have two types of allies, one that commands him with righteousness and advises it, and another that commands him with evil and advises him with it. Only those whom Allah gives immunity are immune.)
Ibn Abi Hatim reported that Ibn Abi Ad-Dahqanah said, "`Umar bin Al-Khattab was told, `There is young man here from the people of Hirah (in Iraq, who were Christians) who is a proficient scribe. Why do you not appoint him as a scribe' `Umar said, `I would then be taking advisors from among the disbelievers."' This Ayah and the story about `Umar testify to the fact that Muslims are not allowed to use Ahl Adh-Dhimmah to be scribes in matters that affect the affairs of Muslims and expose their secrets, for they might convey these secrets to combatant disbelievers. This is why Allah said,
لاَ يَأْلُونَكُمْ خَبَالاً وَدُّواْ مَا عَنِتُّمْ
(since they will not fail to do their best to corrupt you. They desire to harm you severely.)
Allah then said,
قَدْ بَدَتِ الْبَغْضَآءُ مِنْ أَفْوَهِهِمْ وَمَا تُخْفِى صُدُورُهُمْ أَكْبَرُ
(Hatred has already appeared from their mouths, but what their breasts conceal is far worse.) meaning, enmity appears on their faces and in what they sometimes utter, as well as, the enmity they have against Islam and its people in their hearts. Since this fact is apparent to every person who has sound comprehension, therefore,
قَدْ بَيَّنَّا لَكُمُ الاٌّيَـتِ إِنْ كُنتُمْ تَعْقِلُونَ
(Indeed We have made plain to you the Ayat if you understand.)
Allah said next,
هَآأَنتُمْ أُوْلاءِ تُحِبُّونَهُمْ وَلاَ يُحِبُّونَكُمْ
(O! You are the ones who love them but they love you not), meaning, O believers! You like the hypocrites because you think they are believers, for they pretend to be so, but they do not like you publicly or secretly.
وَتُؤْمِنُونَ بِالْكِتَـبِ كُلِّهِ
(And you believe in all the Scriptures) meaning, you have no doubt in any part of Allah's Book, while the hypocrites have deep doubts, confusion and reservations about it.
Muhammad bin Ishaq reported that Ibn `Abbas said that,
وَتُؤْمِنُونَ بِالْكِتَـبِ كُلِّهِ
(and you believe in all the Scriptures,) means, you believe in your Book, their Book, and the previous Books, while the hypocrites disbelieve in your Book, and this is why they deserve that you dislike them instead of them disliking you. Ibn Jarir collected this statement.
وَإِذَا لَقُوكُمْ قَالُواْ ءَامَنَّا وَإِذَا خَلَوْاْ عَضُّواْ عَلَيْكُمُ الاٌّنَامِلَ مِنَ الْغَيْظِ
(And when they meet you, they say, "We believe." But when they are alone, they bite their Anamil at you in rage.)
The word Anamil, means the tips of the fingers, as Qatadah stated. This is the behavior of the hypocrites who pretend to be believers and kind when they are with the believers, all the while concealing the opposite in their hearts in every respect. This is the exact situation that Allah describes,
وَإِذَا خَلَوْاْ عَضُّواْ عَلَيْكُمُ الاٌّنَامِلَ مِنَ الْغَيْظِ
(But when they are alone, they bite their Anamil at you in rage) and rage is extreme anger and fury. Allah said to them,
قُلْ مُوتُواْ بِغَيْظِكُمْ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ
(Say: "Perish in your rage. Certainly, Allah knows what is in the breasts (all the secrets).") for no matter how much you envy the believers and feel rage towards them, know that Allah shall perfect His favor on His believing servants, complete His religion, raise high His Word and give dominance to His religion. Therefore, O hypocrites, die in rage,
إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ
(Allah knows what is in the breasts.)
Allah has perfect knowledge of what you conceal in your hearts and chests and in the rage, envy and hatred you have against the believers. Allah will punish you for all this in this life, and they will have the good that you dislike for them. In the Hereafter, you will suffer severe torment in the Fire where you will remain for eternity.
Thereafter, Allah said,
إِن تَمْسَسْكُمْ حَسَنَةٌ تَسُؤْهُمْ وَإِن تُصِبْكُمْ سَيِّئَةٌ يَفْرَحُواْ بِهَا
(If a good befalls you, it grieves them, but if some evil overtakes you, they rejoice at it) 3:120. This only emphasizes the severity of the enmity that the hypocrites feel against the believers. If the believers enjoy fertile years, victories, support and their numbers and following increase, the hypocrites become displeased. When the Muslims suffer a drought or their enemies gain the upper hand against them, by Allah's decree, just as occurred during the battle of Uhud, the hypocrites become pleased. Allah said to His believing servants,
وَإِن تَصْبِرُواْ وَتَتَّقُواْ لاَ يَضُرُّكُمْ كَيْدُهُمْ شَيْئاً
(But if you remain patient and have Taqwa, not the least harm will their cunning do to you.)
Allah directs the believers to safety from the wickedness of evil people and the plots of the sinners, by recommending them to revert to patience and by having fear of Allah and trusting Him. Allah encompasses the enemies of the believers, all the while the believers have no power or strength except from Him. Whatever Allah wills, occurs, and whatever He does not will, does not occur. Nothing happens in His Kingdom except with His decision and according to His decrees. Verily, whoever relies on Allah, Allah shall suffice for him.
Allah then mentions the story of Uhud, the defeat that He tested the believers with, His distinguishing the believers from the hypocrites and their patience.
کافر اور منافق مسلمان کے دوست نہیں انہیں اپنا ہم راز نہ بناؤ اللہ تعالیٰ ایمانداروں کو کافروں اور منافقوں کی دوستی اور ہم راز ہونے سے روکتا ہے کہ یہ تو تمہارے دشمن ہیں ان کی چکنی چپڑی باتوں میں خوش نہ ہوجانا اور ان کے مکر کے پھندے میں پھنس نہ جانا ورنہ موقعہ پا کر یہ تمہیں سخت ضرر پہنچائیں گے اور اپنی باطنی عداوت نکالیں گے تم انہیں اپنا راز دار ہرگز نہ سمجھنا راز کی باتیں ان کے کانوں تک ہرگز نہ پہنچانا بطانہ کہتے ہیں انسان کے راز دار دوست کو اور من دو نکم سے مراد جس خلیفہ کو مقرر کیا اس کیلئے دو بطانہ مقرر کئے ایک تو بھلائی کی بات سمجھانے والا اور اس پر رغبت دینے والا اور دوسرا برائی کی رہبری کرنے والا اور اس پر آمادہ کرنے والا بس اللہ جسے بچائے وہی بچ سکتا ہے، حضرت عمر بن خطاب ؓ سے کہا گیا کہ یہاں پر حیرہ کا ایک شخص بڑا اچھا لکھنے والا اور بہت اچھے حافظہ والا ہے آپ اسے اپنا محرر اور منشی مقرر کرلیں آپ نے فرمایا اس کا مطلب یہ ہوگا کہ غیر مومن کو بطانہ بنا لوں گا جو اللہ نے منع کیا ہے، اس واقعہ کو اور اس آیت کو سامنے رکھ کر ذہن اس نتیجہ پر پہنچتا ہے کہ ذمی کفار کو بھی ایسے کاموں میں نہ لگانا چاہئے ایسا نہ ہو کہ وہ مخالفین کو مسلمانوں کے پوشیدہ ارادوں سے واقف کر دے اور ان کے دشمنوں کو ان سے ہوشیار کر دے کیونکہ انکی تو چاہت ہی مسلمانوں کو نیچا دکھانے کی ہوتی ہے، ازہر بن راشد کہتے ہیں کہ لوگ حضرت انس ؓ سے حدیثیں سنتے تھے اگر کسی حدیث کا مطلب سمجھ میں نہ آتا تو حضرت حسن بصری سے جا کر مطلب حل کرلیتے تھے ایک دن حضرت انس ؓ نے یہ حدیث بیان کی کہ مشرکوں کی آگ سے روشنی طلب نہ کرو اور اپنی انگوٹھی میں عربی نقش نہ کرو انہوں نے آکر حسن بصری سے اس کی تشریح دریافت کی تو آپ نے فرمایا کہ پچھلے جملہ کا تو یہ مطلب ہے کہ انگوٹھی پر محمد ﷺ نہ کھدواؤ اور پہلے جملہ کا یہ مطلب ہے کہ مشرکوں سے اپنے کاموں میں مشورہ نہ لو، دیکھو کتاب اللہ میں بھی ہے کہ ایمان دارو اپنے سوا دوسروں کو ہمراز نہ بناؤ لیکن حسن بصری کی یہ تشریح قابل غور ہے حدیث کا ٹھیک مطلب غالباً یہ ہے کہ محمد رسول اللہ عربی خط میں اپنی انگوٹھیوں پر نقش نہ کراؤ، چناچہ اور حدیث میں صاف ممانعت موجود ہے یہ اس لئے تھا کہ حضور ﷺ کی مہر کے ساتھ مشابہت نہ ہو اور اول جملے کا مطلب یہ ہے کہ مشرکوں کی بستی کے پاس نہ رہو اس کے پڑوس سے دور رہو ان کے شہروں سے ہجرت کر جاؤ جیسے ابو داؤد میں ہے کہ مسلمانوں اور مشرکوں کے درمیان کی لڑائی کی آگ کو کیا تم نہیں دیکھتے اور حدیث میں ہے جو مشرکوں سے میل جول کرے یا ان کے ساتھ رہے بسے وہ بھی انہی جیسا ہے پھر فرمایا ان کی باتوں سے بھی ان کی عداوت ٹپک رہی ہے ان کے چہروں سے بھی قیافہ شناس ان کی باطنی خباثتوں کو معلوم کرسکتا ہے پھر جو ان کے دلوں میں تباہ کن شرارتیں ہیں وہ تو تم سے مخفی ہیں لیکن ہم نے تو صاف صاف بیان کردیا ہے عاقل لوگ ایسے مکاروں کی مکاری میں نہیں آتے پھر فرمایا دیکھو کتنی کمزوری کی بات ہے کہ تم ان سے محبت رکھو اور وہ تمہیں نہ چاہیں، تمہارا ایمان کل کتاب پر ہو اور یہ شک شبہ میں ہی پڑے ہوئے ہیں ان کی کتاب کو تم تو مانو لیکن یہ تمہاری کتاب کا انکار کریں تو چاہئے تو یہ تھا کہ تم خود انہیں کڑی نظروں سے دیکھتے لیکن برخلاف اس کے یہ تمہاری عداوت کی آگ میں جل رہے ہیں۔ سامنا ہوجائے تو اپنی ایمانداری کی داستان بیان کرنے بیٹھ جاتے ہیں لیکن جب ذرا الگ ہوتے ہیں تو غیظ و غضب سے جلن اور حسد سے اپنی انگلیاں چباتے ہیں پس مسلمانوں کو بھی ان کی ظاہرداری سے دھوکہ نہیں کھانا چاہئے یہ چاہے جلتے بھنتے رہیں لیکن اللہ تعالیٰ اسلام اور مسلمانوں کو ترقی دیتا رہے گا مسلمان دن رات ہر حیثیت میں بڑھتے ہی رہیں گے گو وہ مارے غصے کے مرجائیں۔ اللہ ان کے دلوں کے بھیدوں سے بخوبی واقف ہے ان کے تمام منصوبوں پر خاک پڑے گی یہ اپنی شرارتوں میں کامیاب نہ ہوسکیں گے اپنی چاہت کے خلاف مسلمانوں کی دن دوگنی ترقی دیکھیں گے اور آخرت میں بھی انہیں نعمتوں والی جنت حاصل کرتے دیکھیں گے برخلاف ان کے یہ خود یہاں بھی رسوا ہوں گے اور وہاں بھی جہنم کا ایندھن بنیں گے، ان کی شدت عداوت کی یہ کتنی بڑی دلیل ہے کہ جہاں تمہیں کوئی نفع پہنچتا ہے یہ کلیجہ مسوسنے لگے اور اگر (اللہ نہ کرے) تمہیں کوئی نقصان پہنچ گیا تو ان کی باچھیں کھل جاتی ہیں بغلیں بجانے اور خوشیاں منانے لگتے ہیں، اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے مومنوں کی مدد ہوئی یہ کفار پر غالب آئے انہیں غنیمت کا مال ملا یہ تعداد میں بڑھ گے تو وہ جل بجھے اور اگر مسلمانوں پر تنگی آگئی یا دشمنوں میں گھر گئے تو ان کے ہاں عید منائی جانے لگی۔ اب اللہ تعالیٰ ایمانداروں کو خطاب کر کے فرماتا ہے کہ ان شریروں کی شرارت اور ان بدبختوں کے مکر سے اگر نجات چاہتے ہو تو صبرو تقویٰ اور توکل کرو اللہ عزوجل خود تمہارے دشمنوں کو گھیر لے گا کسی بھلائی کے حاصل کرنے کسی برائی سے بچنے کی کسی میں طاقت نہیں جو اللہ تعالیٰ چاہتا ہے ہوتا ہے اور جو نہیں چاہتا نہیں ہوسکتا جو اس پر توکل کرے اسے وہ کافی ہے۔ اسی مناسبت سے اب جنگ احد کا ذکر شروع ہوتا ہے جس پر مسلمانوں کے صبرو تحمل کا بیان ہے اور جس میں اللہ تعالیٰ کی آزمائش کا پورا نقشہ ہے اور جس میں مومن و منافق کی ظاہری تمیز ہے سنئے ارشاد ہوتا ہے
121
View Single
وَإِذۡ غَدَوۡتَ مِنۡ أَهۡلِكَ تُبَوِّئُ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ مَقَٰعِدَ لِلۡقِتَالِۗ وَٱللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ
And remember O dear Prophet (Mohammed – peace and blessings be upon him) when you came forth from your house in the morning, appointing the believers on positions of battle; and Allah is All Hearing, All Knowing.
اور (وہ وقت یاد کیجئے) جب آپ صبح سویرے اپنے درِ دولت سے روانہ ہو کر مسلمانوں کو (غزوۂ احد کے موقع پر اہلِ مکہ کی جارح فوجوں کے خلاف دفاعی) جنگ کے لئے مورچوں پر ٹھہرا رہے تھے، اور اللہ خوب سننے والا جاننے والا ہے
Tafsir Ibn Kathir
The Battle of Uhud
According to the majority of scholars, these Ayat are describing the battle of Uhud, as Ibn `Abbas, Al-Hasan, Qatadah, As-Suddi and others said. The battle of Uhud occurred on a Saturday, in the month of Shawwal on the third year of Hijrah. `Ikrimah said that Uhud occurred in the middle of the month of Shawwal, and Allah knows best.
The Reason Behind the Battle of Uhud
The idolators suffered many casualties among their noble men at the battle of Badr. The caravan that Abu Sufyan led (before Badr) returned safely to Makkah, prompting the remaining Makkan leaders and the children of those who were killed at Badr to demand from Abu Sufyan to, "Spend this money on fighting Muhammad!" Consequently, they spent the money from the caravan on warfare expenses and mobilized their forces including the Ahabish tribes (tribes living around the city). They gathered three thousand soldiers and marched until they camped near Uhud facing Al-Madinah. The Messenger of Allah ﷺ led the Friday prayer and when he finished with it, he performed the funeral prayer for a man from Bani An-Najjar called Malik bin `Amr. The Prophet then asked the Muslims for advice, if they should march to meet the disbelievers, or fortify themselves in Al-Madinah. `Abdullah bin Ubayy (the chief hypocrite) advised that they should remain in Al-Madinah, saying that if the disbelievers lay siege to Al-Madinah, the siege would be greatly disadvantageous to them. He added that if they decide to attack Al-Madinah, its men would face off with them, while women and children could throw rocks at them from above their heads; and if they decide to return to Makkah, they would return with failure. However, some companions who did not attend the battle of Badr advised that the Muslims should go out to Uhud to meet the disbelievers.
The Messenger of Allah ﷺ went to his home, put on his shield and came out. The companions were weary then and said to each other, "Did we compel the Messenger of Allah ﷺ to go out" They said, "O Messenger of Allah! If you wish, we will remain in Al-Madinah. " The Messenger of Allah ﷺ said,
«مَا يَنْبَغِي لِنَبِيَ إِذَا لَبِسَ لَأْمَتَهُ أَنْ يَرْجِعَ حَتَّى يَحْكُمَ اللهُ لَه»
(It is not for a Prophet to wear his shield for war then lay down his arms before Allah decides in his favor.)
The Messenger of Allah ﷺ marched with a thousand of his Companions. When they reached the Shawt area, `Abdullah bin Ubayy went back to Al-Madinah with a third of the army, claiming he was angry the Prophet did not listen to his advice. He and his supporters said, "If we knew that you would fight today, we would have accompanied you. However, we do not think that you will fight today." The Messenger of Allah ﷺ marched until he reached the hillside in the area of Uhud, where they camped in the valley with Mount Uhud behind them. The Messenger of Allah ﷺ said,
«لَا يُقَاتِلَنَّ أَحَدٌ حَتَّى نَأْمُرَهُ بِالْقِتَال»
(No one starts fighting until I issue the command to fight.)
The Messenger prepared his forces for battle, and his army was seven hundred men. He appointed `Abdullah bin Jubayr, from Bani `Amr bin `Awf, to lead the archers who were fifty men. The Prophet said to them,
«انْضَحُوا الْخَيْلَ عَنَّا، وَلَا نُؤْتَيَنَّ مِنْ قِبَلِكُمْ، وَالْزَمُوا مَكَانَكُمْ، إِنْ كَانَتِ النَّوْبَةُ لَنَا أَوْ عَلَيْنَا، وَإِنْ رَأَيْتُمُونَا تَخْطَفُنَا الطَّيْرُ فَلَا تَبْرَحُوا مَكَانَكُم»
(Keep the horsemen away from us, and be aware that we might be attacked from your direction. If victory was for or against us, remain in your positions. And even if you see us being picked up by birds, do not abandon your positions.)
The Prophet wore two protective shields and gave the flag to Mus`ab bin `Umayr of Bani `Abd Ad-Dar. The Prophet also allowed some young men to participate in fighting, but not others, whom he allowed to participate in the battle of Al-Khandaq two years later. The Quraysh mobilized their forces of three thousand men with two hundred horsemen on each flank. They appointed Khalid bin Al-Walid to lead the right side of the horsemen and `Ikrimah Ibn Abi Jahl on the left side. They also gave their grand flag to the tribe of Bani `Abd Ad-Dar. Allah willing, we will mention the details of this battle later on, if Allah wills. Allah said here,
وَإِذْ غَدَوْتَ مِنْ أَهْلِكَ تُبَوِّىءُ الْمُؤْمِنِينَ مَقَاعِدَ لِلْقِتَالِ
(And (remember) when you left your household in the morning to post the believers at their stations for the battle) 3:121, designating them to various positions, dividing the army to the left and right sides and placing them wherever you command them.
وَاللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ
(And Allah is All-Hearer, All-Knower), He hears what you say and knows what you conceal in your hearts. Allah said next,
إِذْ هَمَّتْ طَّآئِفَتَانِ مِنكُمْ أَن تَفْشَلاَ
(When two parties from among you were about to lose heart,) 3:122.
Al-Bukhari recorded that Jabir bin `Abdullah said, "The Ayah,
إِذْ هَمَّتْ طَّآئِفَتَانِ مِنكُمْ أَن تَفْشَلاَ
(When two parties from among you were about to lose heart) was revealed about us, the two Muslim tribes of Bani Harithah and Bani Salamah. I (or we) would not be pleased if it was not revealed, because Allah said in it,
وَاللَّهُ وَلِيُّهُمَا
(but Allah was their Wali (Supporter and Protector)) 3:122."
Muslim recorded this Hadith from Sufyan bin `Uyaynah.
Reminding the Believers of Their Victory at Badr
Allah said,
وَلَقَدْ نَصَرَكُمُ اللّهُ بِبَدْرٍ ...
And Allah has already made you victorious at Badr,meaning, during the battle of Badr, which occurred on a Friday, the seventeenth of Ramadan, in the second year of Hijrah.The day of Badr is known as Yawm Al-Furqan (the Day of the Clarification), by which Allah gave victory and dominance to Islam and its people and disgraced and destroyed Shirk, even though the Muslims were few. The Muslims numbered three hundred and thirteen men, with two horses and seventy camels. The rest were foot soldiers without enough supplies for the battle. The enemy army consisted of nine hundred to a thousand men, having enough shields and supplies, battle-ready horses and even various adornments.However, Allah gave victory to His Messenger, supported His revelation, and illuminated success on the faces of the Prophet and his following.Allah also brought disgrace to Shaytan and his army. This is why Allah reminded His believing servants and pious party of this favor,
وَلَقَدْ نَصَرَكُمُ اللّهُ بِبَدْرٍ وَأَنتُمْ أَذِلَّةٌ ...
And Allah has already made you victorious at Badr, when you were a weak little force,when you were few then.
This Ayah reminds them that victory is only from Allah, not because of a large army and adequate supplies. This is why Allah said in another Ayah,
لَقَدْ نَصَرَكُمُ اللّهُ فِي مَوَاطِنَ كَثِيرَةٍ وَيَوْمَ حُنَيْنٍ إِذْ أَعْجَبَتْكُمْ كَثْرَتُكُمْ فَلَمْ تُغْنِ عَنكُمْ شَيْئًا ...
and on the day of Hunayn (battle) when you rejoiced at your great number, but it availed you naught... until,
وَاللّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ ...
and Allah is Oft-Forgiving, Most Merciful (9:25-27).
Badr is an area between Makkah and Al-Madinah and is known by the well that bears its name, which in turn was so named after Badr bin An-Narayn, the person who dug the well.
فَاتَّقُواْ اللّهَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ
So have Taqwa of Allah that you may be grateful.means, fulfill the obligations of His obedience.
غزوہ احد کی افتاد یہ احد کے واقعہ کا ذکر ہے بعض مفسرین نے اسے جنگ خندق کا قصہ بھی کہا ہے لیکن ٹھیک یہ ہے کہ واقعہ جنگ احد کا ہے جو سن 3 ہجری 11 شوال بروز ہفتہ پیش آیا تھا، جنگ بدر میں مشرکین کو کامل شکست ہوئی تھی انکے سردار موت کے گھاٹ اترے تھے، اب اس کا بدلہ لینے کیلئے مشرکین نے بڑی بھاری تیاری کی تھی وہ تجارتی مال جو بدر والی لڑائی کے موقعہ پر دوسرے راستے سے بچ کر آگیا تھا وہ سب اس لڑائی کیلئے روک رکھا تھا اور چاروں طرف سے لوگوں کو جمع کرکے تین ہزار کا ایک لشکر جرار تیار کیا اور پورے سازو سامان کے ساتھ مدینہ پر چڑھائی کی، ادھر رسول اللہ ﷺ نے جمعہ کی نماز کے بعد مالک بن عمرو کے جنازے کی نماز پڑھائی جو قبیلہ بنی النجار میں سے تھے پھر لوگوں سے مشورہ کیا کہ ان کی مدافعت کی کیا صورت تمہارے نزدیک بہتر ہے ؟ تو عبداللہ بن ابی نے کہا کہ ہمیں مدینہ سے باہر نہ نکلنا چاہئے اگر وہ آئے اور ٹھہرے تو گویا ہمارے جیل خانہ میں آگئے رکے اور کھڑے رہیں اور اگر مدینہ میں گھسے تو ایک طرف سے ہمارے بہادروں کی تلواریں ہوں گی دوسری جانب تیر اندازوں کے بےپناہ تیر ہوں گے پھر اوپر سے عورتوں اور بچوں کی سنگ باری ہوگی اور اگر یونہی لوٹ گئے تو بربادی اور خسارے کے ساتھ لوٹیں گے لیکن اس کے برخلاف بعض صحابہ جو جنگ بدر میں شریک نہ ہو سکے تھے ان کی رائے تھی کہ مدینہ کے باہر میدان میں جا کر خوب دل کھول کر ان کا مقابلہ کرنا چاہئے، رسول اللہ ﷺ گھر میں تشریف لے گئے اور ہتھیار لگا کر باہر آئے ان صحابہ کو اب خیال ہوا کہ کہیں ہم نے اللہ کے نبی کی خلاف منشاء تو میدان کی لڑائی پر زور نہیں دیا اس لئے یہ کہنے لگے کہ حضور ﷺ اگر یہیں ٹھہر کر لڑنے کا ارادہ ہو تو یونہی کیجئے ہماری جانب سے کوئی اصرار نہیں، آپ نے فرمایا اللہ کے نبی کو لائق نہیں کہ وہ ہتھیار پہن کر اتارے اب تو میں نہ لوٹوں گا جب تک کہ وہ نہ جائے جو اللہ عزوجل کو منظور ہو چنانجہ ایک ہزار کا لشکر لے کر آپ مدینہ شریف سے نکل کھڑے ہوئے، شوط پر پہنچ کر اس منافق عبداللہ بن ابی نے دغا بازی کی اور اپنی تین سو کی جماعت کو لے کر واپس مڑ گیا یہ لوگ کہنے لگے ہم جانتے ہیں کہ لڑائی تو ہونے کی نہیں خواہ مخواہ زحمت کیوں اٹھائیں ؟ آنحضرت ﷺ نے اس کی کوئی پرواہ نہ کی اور صرف سات سو صحابہ کرام کو لے کر میدان میں اترے اور حکم دیا کہ جب تک میں نہ کہوں لڑائی شروع نہ کرنا پچاس تیر انداز صحابیوں کو الگ کر کے ان کا امیر حضرت عبداللہ بن جبیر کو بنایا اور ان سے فرما دیا کہ پہاڑی پر چڑھ جاؤ اور اس بات کا خیال رکھو کہ دشمن پیچھے سے حملہ آور نہ ہو دیکھو ہم غالب آجائیں یا (اللہ نہ کرے) مغلوب ہوجائیں تم ہرگز اپنی جگہ سے نہ ہٹنا، یہ انتظامات کر کے خود آپ بھی تیار ہوگئے دوہری زرہ پہنی حضرت مصعب بن عمیر ؓ کو جھنڈا دیا آج چند لڑکے بھی لشکر محمدی میں نظر آتے تھے یہ چھوٹے سپاہی بھی جانبازی کیلئے ہمہ تن مستعد تھے بعض اور بچوں کو حضور ﷺ نے ساتھ لیا تھا انہیں جنگ خندق کے لشکر میں بھرتی کیا گیا جنگ خندق اس کے دو سال بعد ہوئی تھی، قریشی کا لشکر بڑے ٹھاٹھے سے مقابلہ پر آڈٹا یہ تین ہزار سپاہیوں کا گروہ تھا ان کے ساتھ دو سو کو تل گھوڑے تھے جنہیں موقعہ پر کام آنے کیلئے ساتھ رکھا تھا ان کے داہنے حصہ پر خالد بن ولید تھا اور بائیں حصہ پر عکرمہ بن ابو جہل تھا (یہ دونوں سردار بعد میں مسلمان ہوگئے تھے ؓ ان کا جھنڈے بردار قبیلہ بنو عبدالدار تھا، پھر لڑائی شروع ہوئی جس کے تفصیلی واقعات انہی آیتوں کی موقعہ بہ موقعہ تفسیر کے ساتھ آتے رہیں گے انشاء اللہ تعالیٰ۔ الغرض اس آیت میں اسی کا بیان ہو رہا ہے کہ حضور ﷺ مدینہ شریف سے نکلے اور لوگوں کو لڑائی کے مواقعہ کی جگہ مقرر کرنے لگے میمنہ میسرہ لشکر کا مقرر کیا اللہ تعالیٰ تمام باتوں کو سننے والا اور سب کے دلوں کے بھید جاننے والا ہے، روایتوں میں یہ آچکا ہے کہحضور ﷺ جمعہ کے دن مدینہ شریف سے لڑائی کیلئے نکلے اور قرآن فرماتا ہے صبح ہی صبح تم لشکریوں کی جگہ مقرر کرتے تھے تو مطلب یہ ہے کہ جمعہ کے دن تو جا کر پڑاؤ ڈال دیا باقی کاروائی ہفتہ کی صبح شروع ہوئی۔ حضرت جابر بن عبداللہ ؓ فرماتے ہیں ہمارے بارے میں یعنی بنو حارثہ اور بنو سلمہ کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی ہے کہ تمہارے دو گروہوں بزدلی کا ارادہ کیا تھا گو اس میں ہماری ایک کمزوری کا بیان ہے لیکن ہم اپنے حق میں اس آیت کو بہت بہتر جانتے ہیں کیونکہ اس میں یہ بھی فرما دیا گیا ہے کہ اللہ ان دونوں کا ولی ہے پھر فرمایا کہ دیکھو میں نے بدر والے دن بھی تمہیں غالب کیا حالانکہ تم سب ہی کم اور بےسرد سامان تھے، بدر کی لڑائی سن 2 ہجری 17 رمضان بروز جمعہ ہوئی تھی۔ اسی کا نام یوم الفرقان رکھا گیا اس دن اسلام اور اہل اسلام کی عزت ملی شرک برباد ہوا محل شرک ویران ہوا حالانکہ اس دن مسلمان صرف تین سو تیرہ تھے ان کے پاس صرف دو گھوڑے تھے فقط ستر اونٹ تھے باقی سب پیدل تھے ہتھیار بھی اتنے کم تھے کہ گویا نہ تھے اور دشمن کی تعداد اس دن تین گنہ تھی ایک ہزار میں کچھ ہی کم تھے ہر ایک زرہ بکتر لگائے ہوئے ضرورت سے زیادہ وافر ہتھیار عمدہ عمدہ کافی سے زیادہ مالداری گھوڑے نشان زدہ جن کو سونے کے زیور پہنائے گئے تھے اس موقعہ پر اللہ نے اپنے نبی ﷺ کو عزت اور غلبہ دیا حالات کے بارے میں ظاہر و باطن وحی کی اپنے نبی اور آپ کے ساتھیوں کو سرخرو کیا اور شیطان اور اس کے لشکریوں کو ذلیل و خوار کیا اب اپنے مومن بندوں اور جنتی لشکریوں کو اس آیت میں یہ احسان یاد دلاتا ہے کہ تمہاری تعداد کی کمی اور ظاہری اسباب کی غیر موجودگی کے باوجود تم ہی کو غالب رکھا تاکہ تم معلوم کرلو کہ غلبہ ظاہری اسباب پر موقوف نہیں، اسی لئے دوسری آیت میں صاف فرما دیا کہ جنگ حنین میں تم نے ظاہری اسباب پر نظر ڈالی اور اپنی زیادتی دیکھ کر خوش ہوئے لیکن اس زیادتی تعداد اور اسباب کی موجودگی نے تمہیں کچھ فائدہ نہ دیا، حضرت عیاض اشعری فرماتے ہیں کہ جنگ یرموک میں ہمارے پانچ سردار تھے حضرت ابو عبیدہ، حضرت یزید بن ابو سفیان حضرت ابن حسنہ حضرت خالد بن ولید اور حضرت عیاض اور خلیفتہ المسلمین حضرت عمر ؓ کا حکم تھا کہ لڑائی کے وقت حضرت ابو عبیدہ سردار ہوں گے اس لڑائی میں ہمیں چاروں طرف سے شکست کے آثار نظر آنے لگے تو ہم نے خلیفہ وقت کو خط لکھا کہ ہمیں موت نے گھیر رکھا ہے امداد کیجئے، فاروق کا مکتوب گرامی ہماری گزارش کے جواب میں آیا جس میں تحریر تھا کہ تمہارا طلب امداد کا خط پہنچائیں تمہیں ایک ایسی ذات بتاتا ہوں جو سب سے زیادہ مددگار اور سب سے زیادہ مضبوط لشکر والی ہے وہ ذات اللہ تبارک و تعالیٰ کی ہے جس نے اپنے بندے اور رسول حضرت محمد ﷺ کی مدد بدر والے دن کی تھی بدری لشکر تو تم سے بہت ہی کم تھا میرا یہ خط پڑھتے ہی جہاد شروع کردو اور اب مجھے کچھ نہ لکھنا نہ کچھ پوچھنا، اس خط سے ہماری جراتیں بڑھ گئیں ہمتیں بلند ہوگئیں پھر ہم نے جم کر لڑنا شروع کیا الحمد اللہ دشمن کو شکست ہوئی اور وہ بھاگے ہم نے بارہ میل تک انکا تعاقب کیا بہت سا مال غنیمت ہمیں ملا جو ہم نے آپس میں بانٹ لیا پھر حضرت ابو عبیدہ کہنے لگے میرے ساتھ دوڑ کون لگائے گا ؟ ایک نوجوان نے کہا اگر آپ ناراض نہ ہوں تو میں حاضر ہوں چناچہ دوڑنے میں وہ آگے نکل گئے میں نے دیکھا ان کی دونوں زلفیں ہوا میں اڑ رہی تھیں اور وہ اس نوجوان کے پیچھے گھوڑا دوڑائے چلے جا رہے تھے، بدر بن نارین ایک شخص تھا اسکے نام سے ایک کنواں مشہور تھا اور اس میدان کا جس میں یہ کنواں تھا یہی نام ہوگیا تھا بدر کی جنگ بھی اسی نام سے مشہور ہوگئی یہ جگہ مکہ اور مدینہ کے درمیان ہے پھر فرمایا کہ اللہ سے ڈرتے رہا کرو تاکہ شکر کی توفیق ملے اور اطاعت گزاری کرسکو۔
122
View Single
إِذۡ هَمَّت طَّآئِفَتَانِ مِنكُمۡ أَن تَفۡشَلَا وَٱللَّهُ وَلِيُّهُمَاۗ وَعَلَى ٱللَّهِ فَلۡيَتَوَكَّلِ ٱلۡمُؤۡمِنُونَ
When two groups among you almost decided to show cowardice – and Allah is their Protector; and in Allah only should the believers trust.
جب تم میں سے (بنو سلمہ خزرج اور بنوحارثہ اوس) دو گروہوں کا ارادہ ہوا کہ بزدلی کر جائیں، حالانکہ اللہ ان دونوں کا مدد گار تھا، اور ایمان والوں کو اللہ ہی پر بھروسہ کرنا چاہئے
Tafsir Ibn Kathir
The Battle of Uhud
According to the majority of scholars, these Ayat are describing the battle of Uhud, as Ibn `Abbas, Al-Hasan, Qatadah, As-Suddi and others said. The battle of Uhud occurred on a Saturday, in the month of Shawwal on the third year of Hijrah. `Ikrimah said that Uhud occurred in the middle of the month of Shawwal, and Allah knows best.
The Reason Behind the Battle of Uhud
The idolators suffered many casualties among their noble men at the battle of Badr. The caravan that Abu Sufyan led (before Badr) returned safely to Makkah, prompting the remaining Makkan leaders and the children of those who were killed at Badr to demand from Abu Sufyan to, "Spend this money on fighting Muhammad!" Consequently, they spent the money from the caravan on warfare expenses and mobilized their forces including the Ahabish tribes (tribes living around the city). They gathered three thousand soldiers and marched until they camped near Uhud facing Al-Madinah. The Messenger of Allah ﷺ led the Friday prayer and when he finished with it, he performed the funeral prayer for a man from Bani An-Najjar called Malik bin `Amr. The Prophet then asked the Muslims for advice, if they should march to meet the disbelievers, or fortify themselves in Al-Madinah. `Abdullah bin Ubayy (the chief hypocrite) advised that they should remain in Al-Madinah, saying that if the disbelievers lay siege to Al-Madinah, the siege would be greatly disadvantageous to them. He added that if they decide to attack Al-Madinah, its men would face off with them, while women and children could throw rocks at them from above their heads; and if they decide to return to Makkah, they would return with failure. However, some companions who did not attend the battle of Badr advised that the Muslims should go out to Uhud to meet the disbelievers.
The Messenger of Allah ﷺ went to his home, put on his shield and came out. The companions were weary then and said to each other, "Did we compel the Messenger of Allah ﷺ to go out" They said, "O Messenger of Allah! If you wish, we will remain in Al-Madinah. " The Messenger of Allah ﷺ said,
«مَا يَنْبَغِي لِنَبِيَ إِذَا لَبِسَ لَأْمَتَهُ أَنْ يَرْجِعَ حَتَّى يَحْكُمَ اللهُ لَه»
(It is not for a Prophet to wear his shield for war then lay down his arms before Allah decides in his favor.)
The Messenger of Allah ﷺ marched with a thousand of his Companions. When they reached the Shawt area, `Abdullah bin Ubayy went back to Al-Madinah with a third of the army, claiming he was angry the Prophet did not listen to his advice. He and his supporters said, "If we knew that you would fight today, we would have accompanied you. However, we do not think that you will fight today." The Messenger of Allah ﷺ marched until he reached the hillside in the area of Uhud, where they camped in the valley with Mount Uhud behind them. The Messenger of Allah ﷺ said,
«لَا يُقَاتِلَنَّ أَحَدٌ حَتَّى نَأْمُرَهُ بِالْقِتَال»
(No one starts fighting until I issue the command to fight.)
The Messenger prepared his forces for battle, and his army was seven hundred men. He appointed `Abdullah bin Jubayr, from Bani `Amr bin `Awf, to lead the archers who were fifty men. The Prophet said to them,
«انْضَحُوا الْخَيْلَ عَنَّا، وَلَا نُؤْتَيَنَّ مِنْ قِبَلِكُمْ، وَالْزَمُوا مَكَانَكُمْ، إِنْ كَانَتِ النَّوْبَةُ لَنَا أَوْ عَلَيْنَا، وَإِنْ رَأَيْتُمُونَا تَخْطَفُنَا الطَّيْرُ فَلَا تَبْرَحُوا مَكَانَكُم»
(Keep the horsemen away from us, and be aware that we might be attacked from your direction. If victory was for or against us, remain in your positions. And even if you see us being picked up by birds, do not abandon your positions.)
The Prophet wore two protective shields and gave the flag to Mus`ab bin `Umayr of Bani `Abd Ad-Dar. The Prophet also allowed some young men to participate in fighting, but not others, whom he allowed to participate in the battle of Al-Khandaq two years later. The Quraysh mobilized their forces of three thousand men with two hundred horsemen on each flank. They appointed Khalid bin Al-Walid to lead the right side of the horsemen and `Ikrimah Ibn Abi Jahl on the left side. They also gave their grand flag to the tribe of Bani `Abd Ad-Dar. Allah willing, we will mention the details of this battle later on, if Allah wills. Allah said here,
وَإِذْ غَدَوْتَ مِنْ أَهْلِكَ تُبَوِّىءُ الْمُؤْمِنِينَ مَقَاعِدَ لِلْقِتَالِ
(And (remember) when you left your household in the morning to post the believers at their stations for the battle) 3:121, designating them to various positions, dividing the army to the left and right sides and placing them wherever you command them.
وَاللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ
(And Allah is All-Hearer, All-Knower), He hears what you say and knows what you conceal in your hearts. Allah said next,
إِذْ هَمَّتْ طَّآئِفَتَانِ مِنكُمْ أَن تَفْشَلاَ
(When two parties from among you were about to lose heart,) 3:122.
Al-Bukhari recorded that Jabir bin `Abdullah said, "The Ayah,
إِذْ هَمَّتْ طَّآئِفَتَانِ مِنكُمْ أَن تَفْشَلاَ
(When two parties from among you were about to lose heart) was revealed about us, the two Muslim tribes of Bani Harithah and Bani Salamah. I (or we) would not be pleased if it was not revealed, because Allah said in it,
وَاللَّهُ وَلِيُّهُمَا
(but Allah was their Wali (Supporter and Protector)) 3:122."
Muslim recorded this Hadith from Sufyan bin `Uyaynah.
Reminding the Believers of Their Victory at Badr
Allah said,
وَلَقَدْ نَصَرَكُمُ اللّهُ بِبَدْرٍ ...
And Allah has already made you victorious at Badr,meaning, during the battle of Badr, which occurred on a Friday, the seventeenth of Ramadan, in the second year of Hijrah.The day of Badr is known as Yawm Al-Furqan (the Day of the Clarification), by which Allah gave victory and dominance to Islam and its people and disgraced and destroyed Shirk, even though the Muslims were few. The Muslims numbered three hundred and thirteen men, with two horses and seventy camels. The rest were foot soldiers without enough supplies for the battle. The enemy army consisted of nine hundred to a thousand men, having enough shields and supplies, battle-ready horses and even various adornments.However, Allah gave victory to His Messenger, supported His revelation, and illuminated success on the faces of the Prophet and his following.Allah also brought disgrace to Shaytan and his army. This is why Allah reminded His believing servants and pious party of this favor,
وَلَقَدْ نَصَرَكُمُ اللّهُ بِبَدْرٍ وَأَنتُمْ أَذِلَّةٌ ...
And Allah has already made you victorious at Badr, when you were a weak little force,when you were few then.
This Ayah reminds them that victory is only from Allah, not because of a large army and adequate supplies. This is why Allah said in another Ayah,
لَقَدْ نَصَرَكُمُ اللّهُ فِي مَوَاطِنَ كَثِيرَةٍ وَيَوْمَ حُنَيْنٍ إِذْ أَعْجَبَتْكُمْ كَثْرَتُكُمْ فَلَمْ تُغْنِ عَنكُمْ شَيْئًا ...
and on the day of Hunayn (battle) when you rejoiced at your great number, but it availed you naught... until,
وَاللّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ ...
and Allah is Oft-Forgiving, Most Merciful (9:25-27).
Badr is an area between Makkah and Al-Madinah and is known by the well that bears its name, which in turn was so named after Badr bin An-Narayn, the person who dug the well.
فَاتَّقُواْ اللّهَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ
So have Taqwa of Allah that you may be grateful.means, fulfill the obligations of His obedience.
غزوہ احد کی افتاد یہ احد کے واقعہ کا ذکر ہے بعض مفسرین نے اسے جنگ خندق کا قصہ بھی کہا ہے لیکن ٹھیک یہ ہے کہ واقعہ جنگ احد کا ہے جو سن 3 ہجری 11 شوال بروز ہفتہ پیش آیا تھا، جنگ بدر میں مشرکین کو کامل شکست ہوئی تھی انکے سردار موت کے گھاٹ اترے تھے، اب اس کا بدلہ لینے کیلئے مشرکین نے بڑی بھاری تیاری کی تھی وہ تجارتی مال جو بدر والی لڑائی کے موقعہ پر دوسرے راستے سے بچ کر آگیا تھا وہ سب اس لڑائی کیلئے روک رکھا تھا اور چاروں طرف سے لوگوں کو جمع کرکے تین ہزار کا ایک لشکر جرار تیار کیا اور پورے سازو سامان کے ساتھ مدینہ پر چڑھائی کی، ادھر رسول اللہ ﷺ نے جمعہ کی نماز کے بعد مالک بن عمرو کے جنازے کی نماز پڑھائی جو قبیلہ بنی النجار میں سے تھے پھر لوگوں سے مشورہ کیا کہ ان کی مدافعت کی کیا صورت تمہارے نزدیک بہتر ہے ؟ تو عبداللہ بن ابی نے کہا کہ ہمیں مدینہ سے باہر نہ نکلنا چاہئے اگر وہ آئے اور ٹھہرے تو گویا ہمارے جیل خانہ میں آگئے رکے اور کھڑے رہیں اور اگر مدینہ میں گھسے تو ایک طرف سے ہمارے بہادروں کی تلواریں ہوں گی دوسری جانب تیر اندازوں کے بےپناہ تیر ہوں گے پھر اوپر سے عورتوں اور بچوں کی سنگ باری ہوگی اور اگر یونہی لوٹ گئے تو بربادی اور خسارے کے ساتھ لوٹیں گے لیکن اس کے برخلاف بعض صحابہ جو جنگ بدر میں شریک نہ ہو سکے تھے ان کی رائے تھی کہ مدینہ کے باہر میدان میں جا کر خوب دل کھول کر ان کا مقابلہ کرنا چاہئے، رسول اللہ ﷺ گھر میں تشریف لے گئے اور ہتھیار لگا کر باہر آئے ان صحابہ کو اب خیال ہوا کہ کہیں ہم نے اللہ کے نبی کی خلاف منشاء تو میدان کی لڑائی پر زور نہیں دیا اس لئے یہ کہنے لگے کہ حضور ﷺ اگر یہیں ٹھہر کر لڑنے کا ارادہ ہو تو یونہی کیجئے ہماری جانب سے کوئی اصرار نہیں، آپ نے فرمایا اللہ کے نبی کو لائق نہیں کہ وہ ہتھیار پہن کر اتارے اب تو میں نہ لوٹوں گا جب تک کہ وہ نہ جائے جو اللہ عزوجل کو منظور ہو چنانجہ ایک ہزار کا لشکر لے کر آپ مدینہ شریف سے نکل کھڑے ہوئے، شوط پر پہنچ کر اس منافق عبداللہ بن ابی نے دغا بازی کی اور اپنی تین سو کی جماعت کو لے کر واپس مڑ گیا یہ لوگ کہنے لگے ہم جانتے ہیں کہ لڑائی تو ہونے کی نہیں خواہ مخواہ زحمت کیوں اٹھائیں ؟ آنحضرت ﷺ نے اس کی کوئی پرواہ نہ کی اور صرف سات سو صحابہ کرام کو لے کر میدان میں اترے اور حکم دیا کہ جب تک میں نہ کہوں لڑائی شروع نہ کرنا پچاس تیر انداز صحابیوں کو الگ کر کے ان کا امیر حضرت عبداللہ بن جبیر کو بنایا اور ان سے فرما دیا کہ پہاڑی پر چڑھ جاؤ اور اس بات کا خیال رکھو کہ دشمن پیچھے سے حملہ آور نہ ہو دیکھو ہم غالب آجائیں یا (اللہ نہ کرے) مغلوب ہوجائیں تم ہرگز اپنی جگہ سے نہ ہٹنا، یہ انتظامات کر کے خود آپ بھی تیار ہوگئے دوہری زرہ پہنی حضرت مصعب بن عمیر ؓ کو جھنڈا دیا آج چند لڑکے بھی لشکر محمدی میں نظر آتے تھے یہ چھوٹے سپاہی بھی جانبازی کیلئے ہمہ تن مستعد تھے بعض اور بچوں کو حضور ﷺ نے ساتھ لیا تھا انہیں جنگ خندق کے لشکر میں بھرتی کیا گیا جنگ خندق اس کے دو سال بعد ہوئی تھی، قریشی کا لشکر بڑے ٹھاٹھے سے مقابلہ پر آڈٹا یہ تین ہزار سپاہیوں کا گروہ تھا ان کے ساتھ دو سو کو تل گھوڑے تھے جنہیں موقعہ پر کام آنے کیلئے ساتھ رکھا تھا ان کے داہنے حصہ پر خالد بن ولید تھا اور بائیں حصہ پر عکرمہ بن ابو جہل تھا (یہ دونوں سردار بعد میں مسلمان ہوگئے تھے ؓ ان کا جھنڈے بردار قبیلہ بنو عبدالدار تھا، پھر لڑائی شروع ہوئی جس کے تفصیلی واقعات انہی آیتوں کی موقعہ بہ موقعہ تفسیر کے ساتھ آتے رہیں گے انشاء اللہ تعالیٰ۔ الغرض اس آیت میں اسی کا بیان ہو رہا ہے کہ حضور ﷺ مدینہ شریف سے نکلے اور لوگوں کو لڑائی کے مواقعہ کی جگہ مقرر کرنے لگے میمنہ میسرہ لشکر کا مقرر کیا اللہ تعالیٰ تمام باتوں کو سننے والا اور سب کے دلوں کے بھید جاننے والا ہے، روایتوں میں یہ آچکا ہے کہحضور ﷺ جمعہ کے دن مدینہ شریف سے لڑائی کیلئے نکلے اور قرآن فرماتا ہے صبح ہی صبح تم لشکریوں کی جگہ مقرر کرتے تھے تو مطلب یہ ہے کہ جمعہ کے دن تو جا کر پڑاؤ ڈال دیا باقی کاروائی ہفتہ کی صبح شروع ہوئی۔ حضرت جابر بن عبداللہ ؓ فرماتے ہیں ہمارے بارے میں یعنی بنو حارثہ اور بنو سلمہ کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی ہے کہ تمہارے دو گروہوں بزدلی کا ارادہ کیا تھا گو اس میں ہماری ایک کمزوری کا بیان ہے لیکن ہم اپنے حق میں اس آیت کو بہت بہتر جانتے ہیں کیونکہ اس میں یہ بھی فرما دیا گیا ہے کہ اللہ ان دونوں کا ولی ہے پھر فرمایا کہ دیکھو میں نے بدر والے دن بھی تمہیں غالب کیا حالانکہ تم سب ہی کم اور بےسرد سامان تھے، بدر کی لڑائی سن 2 ہجری 17 رمضان بروز جمعہ ہوئی تھی۔ اسی کا نام یوم الفرقان رکھا گیا اس دن اسلام اور اہل اسلام کی عزت ملی شرک برباد ہوا محل شرک ویران ہوا حالانکہ اس دن مسلمان صرف تین سو تیرہ تھے ان کے پاس صرف دو گھوڑے تھے فقط ستر اونٹ تھے باقی سب پیدل تھے ہتھیار بھی اتنے کم تھے کہ گویا نہ تھے اور دشمن کی تعداد اس دن تین گنہ تھی ایک ہزار میں کچھ ہی کم تھے ہر ایک زرہ بکتر لگائے ہوئے ضرورت سے زیادہ وافر ہتھیار عمدہ عمدہ کافی سے زیادہ مالداری گھوڑے نشان زدہ جن کو سونے کے زیور پہنائے گئے تھے اس موقعہ پر اللہ نے اپنے نبی ﷺ کو عزت اور غلبہ دیا حالات کے بارے میں ظاہر و باطن وحی کی اپنے نبی اور آپ کے ساتھیوں کو سرخرو کیا اور شیطان اور اس کے لشکریوں کو ذلیل و خوار کیا اب اپنے مومن بندوں اور جنتی لشکریوں کو اس آیت میں یہ احسان یاد دلاتا ہے کہ تمہاری تعداد کی کمی اور ظاہری اسباب کی غیر موجودگی کے باوجود تم ہی کو غالب رکھا تاکہ تم معلوم کرلو کہ غلبہ ظاہری اسباب پر موقوف نہیں، اسی لئے دوسری آیت میں صاف فرما دیا کہ جنگ حنین میں تم نے ظاہری اسباب پر نظر ڈالی اور اپنی زیادتی دیکھ کر خوش ہوئے لیکن اس زیادتی تعداد اور اسباب کی موجودگی نے تمہیں کچھ فائدہ نہ دیا، حضرت عیاض اشعری فرماتے ہیں کہ جنگ یرموک میں ہمارے پانچ سردار تھے حضرت ابو عبیدہ، حضرت یزید بن ابو سفیان حضرت ابن حسنہ حضرت خالد بن ولید اور حضرت عیاض اور خلیفتہ المسلمین حضرت عمر ؓ کا حکم تھا کہ لڑائی کے وقت حضرت ابو عبیدہ سردار ہوں گے اس لڑائی میں ہمیں چاروں طرف سے شکست کے آثار نظر آنے لگے تو ہم نے خلیفہ وقت کو خط لکھا کہ ہمیں موت نے گھیر رکھا ہے امداد کیجئے، فاروق کا مکتوب گرامی ہماری گزارش کے جواب میں آیا جس میں تحریر تھا کہ تمہارا طلب امداد کا خط پہنچائیں تمہیں ایک ایسی ذات بتاتا ہوں جو سب سے زیادہ مددگار اور سب سے زیادہ مضبوط لشکر والی ہے وہ ذات اللہ تبارک و تعالیٰ کی ہے جس نے اپنے بندے اور رسول حضرت محمد ﷺ کی مدد بدر والے دن کی تھی بدری لشکر تو تم سے بہت ہی کم تھا میرا یہ خط پڑھتے ہی جہاد شروع کردو اور اب مجھے کچھ نہ لکھنا نہ کچھ پوچھنا، اس خط سے ہماری جراتیں بڑھ گئیں ہمتیں بلند ہوگئیں پھر ہم نے جم کر لڑنا شروع کیا الحمد اللہ دشمن کو شکست ہوئی اور وہ بھاگے ہم نے بارہ میل تک انکا تعاقب کیا بہت سا مال غنیمت ہمیں ملا جو ہم نے آپس میں بانٹ لیا پھر حضرت ابو عبیدہ کہنے لگے میرے ساتھ دوڑ کون لگائے گا ؟ ایک نوجوان نے کہا اگر آپ ناراض نہ ہوں تو میں حاضر ہوں چناچہ دوڑنے میں وہ آگے نکل گئے میں نے دیکھا ان کی دونوں زلفیں ہوا میں اڑ رہی تھیں اور وہ اس نوجوان کے پیچھے گھوڑا دوڑائے چلے جا رہے تھے، بدر بن نارین ایک شخص تھا اسکے نام سے ایک کنواں مشہور تھا اور اس میدان کا جس میں یہ کنواں تھا یہی نام ہوگیا تھا بدر کی جنگ بھی اسی نام سے مشہور ہوگئی یہ جگہ مکہ اور مدینہ کے درمیان ہے پھر فرمایا کہ اللہ سے ڈرتے رہا کرو تاکہ شکر کی توفیق ملے اور اطاعت گزاری کرسکو۔
123
View Single
وَلَقَدۡ نَصَرَكُمُ ٱللَّهُ بِبَدۡرٖ وَأَنتُمۡ أَذِلَّةٞۖ فَٱتَّقُواْ ٱللَّهَ لَعَلَّكُمۡ تَشۡكُرُونَ
Allah indeed aided you at Badr when you had no means; so fear Allah – so that you may be thankful.
اور اللہ نے بدر میں تمہاری مدد فرمائی حالانکہ تم (اس وقت) بالکل بے سرو سامان تھے پس اللہ سے ڈرا کرو تاکہ تم شکر گزار بن جاؤ
Tafsir Ibn Kathir
The Battle of Uhud
According to the majority of scholars, these Ayat are describing the battle of Uhud, as Ibn `Abbas, Al-Hasan, Qatadah, As-Suddi and others said. The battle of Uhud occurred on a Saturday, in the month of Shawwal on the third year of Hijrah. `Ikrimah said that Uhud occurred in the middle of the month of Shawwal, and Allah knows best.
The Reason Behind the Battle of Uhud
The idolators suffered many casualties among their noble men at the battle of Badr. The caravan that Abu Sufyan led (before Badr) returned safely to Makkah, prompting the remaining Makkan leaders and the children of those who were killed at Badr to demand from Abu Sufyan to, "Spend this money on fighting Muhammad!" Consequently, they spent the money from the caravan on warfare expenses and mobilized their forces including the Ahabish tribes (tribes living around the city). They gathered three thousand soldiers and marched until they camped near Uhud facing Al-Madinah. The Messenger of Allah ﷺ led the Friday prayer and when he finished with it, he performed the funeral prayer for a man from Bani An-Najjar called Malik bin `Amr. The Prophet then asked the Muslims for advice, if they should march to meet the disbelievers, or fortify themselves in Al-Madinah. `Abdullah bin Ubayy (the chief hypocrite) advised that they should remain in Al-Madinah, saying that if the disbelievers lay siege to Al-Madinah, the siege would be greatly disadvantageous to them. He added that if they decide to attack Al-Madinah, its men would face off with them, while women and children could throw rocks at them from above their heads; and if they decide to return to Makkah, they would return with failure. However, some companions who did not attend the battle of Badr advised that the Muslims should go out to Uhud to meet the disbelievers.
The Messenger of Allah ﷺ went to his home, put on his shield and came out. The companions were weary then and said to each other, "Did we compel the Messenger of Allah ﷺ to go out" They said, "O Messenger of Allah! If you wish, we will remain in Al-Madinah. " The Messenger of Allah ﷺ said,
«مَا يَنْبَغِي لِنَبِيَ إِذَا لَبِسَ لَأْمَتَهُ أَنْ يَرْجِعَ حَتَّى يَحْكُمَ اللهُ لَه»
(It is not for a Prophet to wear his shield for war then lay down his arms before Allah decides in his favor.)
The Messenger of Allah ﷺ marched with a thousand of his Companions. When they reached the Shawt area, `Abdullah bin Ubayy went back to Al-Madinah with a third of the army, claiming he was angry the Prophet did not listen to his advice. He and his supporters said, "If we knew that you would fight today, we would have accompanied you. However, we do not think that you will fight today." The Messenger of Allah ﷺ marched until he reached the hillside in the area of Uhud, where they camped in the valley with Mount Uhud behind them. The Messenger of Allah ﷺ said,
«لَا يُقَاتِلَنَّ أَحَدٌ حَتَّى نَأْمُرَهُ بِالْقِتَال»
(No one starts fighting until I issue the command to fight.)
The Messenger prepared his forces for battle, and his army was seven hundred men. He appointed `Abdullah bin Jubayr, from Bani `Amr bin `Awf, to lead the archers who were fifty men. The Prophet said to them,
«انْضَحُوا الْخَيْلَ عَنَّا، وَلَا نُؤْتَيَنَّ مِنْ قِبَلِكُمْ، وَالْزَمُوا مَكَانَكُمْ، إِنْ كَانَتِ النَّوْبَةُ لَنَا أَوْ عَلَيْنَا، وَإِنْ رَأَيْتُمُونَا تَخْطَفُنَا الطَّيْرُ فَلَا تَبْرَحُوا مَكَانَكُم»
(Keep the horsemen away from us, and be aware that we might be attacked from your direction. If victory was for or against us, remain in your positions. And even if you see us being picked up by birds, do not abandon your positions.)
The Prophet wore two protective shields and gave the flag to Mus`ab bin `Umayr of Bani `Abd Ad-Dar. The Prophet also allowed some young men to participate in fighting, but not others, whom he allowed to participate in the battle of Al-Khandaq two years later. The Quraysh mobilized their forces of three thousand men with two hundred horsemen on each flank. They appointed Khalid bin Al-Walid to lead the right side of the horsemen and `Ikrimah Ibn Abi Jahl on the left side. They also gave their grand flag to the tribe of Bani `Abd Ad-Dar. Allah willing, we will mention the details of this battle later on, if Allah wills. Allah said here,
وَإِذْ غَدَوْتَ مِنْ أَهْلِكَ تُبَوِّىءُ الْمُؤْمِنِينَ مَقَاعِدَ لِلْقِتَالِ
(And (remember) when you left your household in the morning to post the believers at their stations for the battle) 3:121, designating them to various positions, dividing the army to the left and right sides and placing them wherever you command them.
وَاللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ
(And Allah is All-Hearer, All-Knower), He hears what you say and knows what you conceal in your hearts. Allah said next,
إِذْ هَمَّتْ طَّآئِفَتَانِ مِنكُمْ أَن تَفْشَلاَ
(When two parties from among you were about to lose heart,) 3:122.
Al-Bukhari recorded that Jabir bin `Abdullah said, "The Ayah,
إِذْ هَمَّتْ طَّآئِفَتَانِ مِنكُمْ أَن تَفْشَلاَ
(When two parties from among you were about to lose heart) was revealed about us, the two Muslim tribes of Bani Harithah and Bani Salamah. I (or we) would not be pleased if it was not revealed, because Allah said in it,
وَاللَّهُ وَلِيُّهُمَا
(but Allah was their Wali (Supporter and Protector)) 3:122."
Muslim recorded this Hadith from Sufyan bin `Uyaynah.
Reminding the Believers of Their Victory at Badr
Allah said,
وَلَقَدْ نَصَرَكُمُ اللّهُ بِبَدْرٍ ...
And Allah has already made you victorious at Badr,meaning, during the battle of Badr, which occurred on a Friday, the seventeenth of Ramadan, in the second year of Hijrah.The day of Badr is known as Yawm Al-Furqan (the Day of the Clarification), by which Allah gave victory and dominance to Islam and its people and disgraced and destroyed Shirk, even though the Muslims were few. The Muslims numbered three hundred and thirteen men, with two horses and seventy camels. The rest were foot soldiers without enough supplies for the battle. The enemy army consisted of nine hundred to a thousand men, having enough shields and supplies, battle-ready horses and even various adornments.However, Allah gave victory to His Messenger, supported His revelation, and illuminated success on the faces of the Prophet and his following.Allah also brought disgrace to Shaytan and his army. This is why Allah reminded His believing servants and pious party of this favor,
وَلَقَدْ نَصَرَكُمُ اللّهُ بِبَدْرٍ وَأَنتُمْ أَذِلَّةٌ ...
And Allah has already made you victorious at Badr, when you were a weak little force,when you were few then.
This Ayah reminds them that victory is only from Allah, not because of a large army and adequate supplies. This is why Allah said in another Ayah,
لَقَدْ نَصَرَكُمُ اللّهُ فِي مَوَاطِنَ كَثِيرَةٍ وَيَوْمَ حُنَيْنٍ إِذْ أَعْجَبَتْكُمْ كَثْرَتُكُمْ فَلَمْ تُغْنِ عَنكُمْ شَيْئًا ...
and on the day of Hunayn (battle) when you rejoiced at your great number, but it availed you naught... until,
وَاللّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ ...
and Allah is Oft-Forgiving, Most Merciful (9:25-27).
Badr is an area between Makkah and Al-Madinah and is known by the well that bears its name, which in turn was so named after Badr bin An-Narayn, the person who dug the well.
فَاتَّقُواْ اللّهَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ
So have Taqwa of Allah that you may be grateful.means, fulfill the obligations of His obedience.
غزوہ احد کی افتاد یہ احد کے واقعہ کا ذکر ہے بعض مفسرین نے اسے جنگ خندق کا قصہ بھی کہا ہے لیکن ٹھیک یہ ہے کہ واقعہ جنگ احد کا ہے جو سن 3 ہجری 11 شوال بروز ہفتہ پیش آیا تھا، جنگ بدر میں مشرکین کو کامل شکست ہوئی تھی انکے سردار موت کے گھاٹ اترے تھے، اب اس کا بدلہ لینے کیلئے مشرکین نے بڑی بھاری تیاری کی تھی وہ تجارتی مال جو بدر والی لڑائی کے موقعہ پر دوسرے راستے سے بچ کر آگیا تھا وہ سب اس لڑائی کیلئے روک رکھا تھا اور چاروں طرف سے لوگوں کو جمع کرکے تین ہزار کا ایک لشکر جرار تیار کیا اور پورے سازو سامان کے ساتھ مدینہ پر چڑھائی کی، ادھر رسول اللہ ﷺ نے جمعہ کی نماز کے بعد مالک بن عمرو کے جنازے کی نماز پڑھائی جو قبیلہ بنی النجار میں سے تھے پھر لوگوں سے مشورہ کیا کہ ان کی مدافعت کی کیا صورت تمہارے نزدیک بہتر ہے ؟ تو عبداللہ بن ابی نے کہا کہ ہمیں مدینہ سے باہر نہ نکلنا چاہئے اگر وہ آئے اور ٹھہرے تو گویا ہمارے جیل خانہ میں آگئے رکے اور کھڑے رہیں اور اگر مدینہ میں گھسے تو ایک طرف سے ہمارے بہادروں کی تلواریں ہوں گی دوسری جانب تیر اندازوں کے بےپناہ تیر ہوں گے پھر اوپر سے عورتوں اور بچوں کی سنگ باری ہوگی اور اگر یونہی لوٹ گئے تو بربادی اور خسارے کے ساتھ لوٹیں گے لیکن اس کے برخلاف بعض صحابہ جو جنگ بدر میں شریک نہ ہو سکے تھے ان کی رائے تھی کہ مدینہ کے باہر میدان میں جا کر خوب دل کھول کر ان کا مقابلہ کرنا چاہئے، رسول اللہ ﷺ گھر میں تشریف لے گئے اور ہتھیار لگا کر باہر آئے ان صحابہ کو اب خیال ہوا کہ کہیں ہم نے اللہ کے نبی کی خلاف منشاء تو میدان کی لڑائی پر زور نہیں دیا اس لئے یہ کہنے لگے کہ حضور ﷺ اگر یہیں ٹھہر کر لڑنے کا ارادہ ہو تو یونہی کیجئے ہماری جانب سے کوئی اصرار نہیں، آپ نے فرمایا اللہ کے نبی کو لائق نہیں کہ وہ ہتھیار پہن کر اتارے اب تو میں نہ لوٹوں گا جب تک کہ وہ نہ جائے جو اللہ عزوجل کو منظور ہو چنانجہ ایک ہزار کا لشکر لے کر آپ مدینہ شریف سے نکل کھڑے ہوئے، شوط پر پہنچ کر اس منافق عبداللہ بن ابی نے دغا بازی کی اور اپنی تین سو کی جماعت کو لے کر واپس مڑ گیا یہ لوگ کہنے لگے ہم جانتے ہیں کہ لڑائی تو ہونے کی نہیں خواہ مخواہ زحمت کیوں اٹھائیں ؟ آنحضرت ﷺ نے اس کی کوئی پرواہ نہ کی اور صرف سات سو صحابہ کرام کو لے کر میدان میں اترے اور حکم دیا کہ جب تک میں نہ کہوں لڑائی شروع نہ کرنا پچاس تیر انداز صحابیوں کو الگ کر کے ان کا امیر حضرت عبداللہ بن جبیر کو بنایا اور ان سے فرما دیا کہ پہاڑی پر چڑھ جاؤ اور اس بات کا خیال رکھو کہ دشمن پیچھے سے حملہ آور نہ ہو دیکھو ہم غالب آجائیں یا (اللہ نہ کرے) مغلوب ہوجائیں تم ہرگز اپنی جگہ سے نہ ہٹنا، یہ انتظامات کر کے خود آپ بھی تیار ہوگئے دوہری زرہ پہنی حضرت مصعب بن عمیر ؓ کو جھنڈا دیا آج چند لڑکے بھی لشکر محمدی میں نظر آتے تھے یہ چھوٹے سپاہی بھی جانبازی کیلئے ہمہ تن مستعد تھے بعض اور بچوں کو حضور ﷺ نے ساتھ لیا تھا انہیں جنگ خندق کے لشکر میں بھرتی کیا گیا جنگ خندق اس کے دو سال بعد ہوئی تھی، قریشی کا لشکر بڑے ٹھاٹھے سے مقابلہ پر آڈٹا یہ تین ہزار سپاہیوں کا گروہ تھا ان کے ساتھ دو سو کو تل گھوڑے تھے جنہیں موقعہ پر کام آنے کیلئے ساتھ رکھا تھا ان کے داہنے حصہ پر خالد بن ولید تھا اور بائیں حصہ پر عکرمہ بن ابو جہل تھا (یہ دونوں سردار بعد میں مسلمان ہوگئے تھے ؓ ان کا جھنڈے بردار قبیلہ بنو عبدالدار تھا، پھر لڑائی شروع ہوئی جس کے تفصیلی واقعات انہی آیتوں کی موقعہ بہ موقعہ تفسیر کے ساتھ آتے رہیں گے انشاء اللہ تعالیٰ۔ الغرض اس آیت میں اسی کا بیان ہو رہا ہے کہ حضور ﷺ مدینہ شریف سے نکلے اور لوگوں کو لڑائی کے مواقعہ کی جگہ مقرر کرنے لگے میمنہ میسرہ لشکر کا مقرر کیا اللہ تعالیٰ تمام باتوں کو سننے والا اور سب کے دلوں کے بھید جاننے والا ہے، روایتوں میں یہ آچکا ہے کہحضور ﷺ جمعہ کے دن مدینہ شریف سے لڑائی کیلئے نکلے اور قرآن فرماتا ہے صبح ہی صبح تم لشکریوں کی جگہ مقرر کرتے تھے تو مطلب یہ ہے کہ جمعہ کے دن تو جا کر پڑاؤ ڈال دیا باقی کاروائی ہفتہ کی صبح شروع ہوئی۔ حضرت جابر بن عبداللہ ؓ فرماتے ہیں ہمارے بارے میں یعنی بنو حارثہ اور بنو سلمہ کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی ہے کہ تمہارے دو گروہوں بزدلی کا ارادہ کیا تھا گو اس میں ہماری ایک کمزوری کا بیان ہے لیکن ہم اپنے حق میں اس آیت کو بہت بہتر جانتے ہیں کیونکہ اس میں یہ بھی فرما دیا گیا ہے کہ اللہ ان دونوں کا ولی ہے پھر فرمایا کہ دیکھو میں نے بدر والے دن بھی تمہیں غالب کیا حالانکہ تم سب ہی کم اور بےسرد سامان تھے، بدر کی لڑائی سن 2 ہجری 17 رمضان بروز جمعہ ہوئی تھی۔ اسی کا نام یوم الفرقان رکھا گیا اس دن اسلام اور اہل اسلام کی عزت ملی شرک برباد ہوا محل شرک ویران ہوا حالانکہ اس دن مسلمان صرف تین سو تیرہ تھے ان کے پاس صرف دو گھوڑے تھے فقط ستر اونٹ تھے باقی سب پیدل تھے ہتھیار بھی اتنے کم تھے کہ گویا نہ تھے اور دشمن کی تعداد اس دن تین گنہ تھی ایک ہزار میں کچھ ہی کم تھے ہر ایک زرہ بکتر لگائے ہوئے ضرورت سے زیادہ وافر ہتھیار عمدہ عمدہ کافی سے زیادہ مالداری گھوڑے نشان زدہ جن کو سونے کے زیور پہنائے گئے تھے اس موقعہ پر اللہ نے اپنے نبی ﷺ کو عزت اور غلبہ دیا حالات کے بارے میں ظاہر و باطن وحی کی اپنے نبی اور آپ کے ساتھیوں کو سرخرو کیا اور شیطان اور اس کے لشکریوں کو ذلیل و خوار کیا اب اپنے مومن بندوں اور جنتی لشکریوں کو اس آیت میں یہ احسان یاد دلاتا ہے کہ تمہاری تعداد کی کمی اور ظاہری اسباب کی غیر موجودگی کے باوجود تم ہی کو غالب رکھا تاکہ تم معلوم کرلو کہ غلبہ ظاہری اسباب پر موقوف نہیں، اسی لئے دوسری آیت میں صاف فرما دیا کہ جنگ حنین میں تم نے ظاہری اسباب پر نظر ڈالی اور اپنی زیادتی دیکھ کر خوش ہوئے لیکن اس زیادتی تعداد اور اسباب کی موجودگی نے تمہیں کچھ فائدہ نہ دیا، حضرت عیاض اشعری فرماتے ہیں کہ جنگ یرموک میں ہمارے پانچ سردار تھے حضرت ابو عبیدہ، حضرت یزید بن ابو سفیان حضرت ابن حسنہ حضرت خالد بن ولید اور حضرت عیاض اور خلیفتہ المسلمین حضرت عمر ؓ کا حکم تھا کہ لڑائی کے وقت حضرت ابو عبیدہ سردار ہوں گے اس لڑائی میں ہمیں چاروں طرف سے شکست کے آثار نظر آنے لگے تو ہم نے خلیفہ وقت کو خط لکھا کہ ہمیں موت نے گھیر رکھا ہے امداد کیجئے، فاروق کا مکتوب گرامی ہماری گزارش کے جواب میں آیا جس میں تحریر تھا کہ تمہارا طلب امداد کا خط پہنچائیں تمہیں ایک ایسی ذات بتاتا ہوں جو سب سے زیادہ مددگار اور سب سے زیادہ مضبوط لشکر والی ہے وہ ذات اللہ تبارک و تعالیٰ کی ہے جس نے اپنے بندے اور رسول حضرت محمد ﷺ کی مدد بدر والے دن کی تھی بدری لشکر تو تم سے بہت ہی کم تھا میرا یہ خط پڑھتے ہی جہاد شروع کردو اور اب مجھے کچھ نہ لکھنا نہ کچھ پوچھنا، اس خط سے ہماری جراتیں بڑھ گئیں ہمتیں بلند ہوگئیں پھر ہم نے جم کر لڑنا شروع کیا الحمد اللہ دشمن کو شکست ہوئی اور وہ بھاگے ہم نے بارہ میل تک انکا تعاقب کیا بہت سا مال غنیمت ہمیں ملا جو ہم نے آپس میں بانٹ لیا پھر حضرت ابو عبیدہ کہنے لگے میرے ساتھ دوڑ کون لگائے گا ؟ ایک نوجوان نے کہا اگر آپ ناراض نہ ہوں تو میں حاضر ہوں چناچہ دوڑنے میں وہ آگے نکل گئے میں نے دیکھا ان کی دونوں زلفیں ہوا میں اڑ رہی تھیں اور وہ اس نوجوان کے پیچھے گھوڑا دوڑائے چلے جا رہے تھے، بدر بن نارین ایک شخص تھا اسکے نام سے ایک کنواں مشہور تھا اور اس میدان کا جس میں یہ کنواں تھا یہی نام ہوگیا تھا بدر کی جنگ بھی اسی نام سے مشہور ہوگئی یہ جگہ مکہ اور مدینہ کے درمیان ہے پھر فرمایا کہ اللہ سے ڈرتے رہا کرو تاکہ شکر کی توفیق ملے اور اطاعت گزاری کرسکو۔
124
View Single
إِذۡ تَقُولُ لِلۡمُؤۡمِنِينَ أَلَن يَكۡفِيَكُمۡ أَن يُمِدَّكُمۡ رَبُّكُم بِثَلَٰثَةِ ءَالَٰفٖ مِّنَ ٱلۡمَلَـٰٓئِكَةِ مُنزَلِينَ
When you O dear Prophet (Mohammed – peace and blessings be upon him) said to the believers, “Is it not sufficient for you that your Lord may support you by sending down three thousand angels?”
جب آپ مسلمانوں سے فرما رہے تھے کہ کیا تمہارے لئے یہ کافی نہیں کہ تمہارا رب تین ہزار اتارے ہوئے فرشتوں کے ذریعے تمہاری مدد فرمائے
Tafsir Ibn Kathir
The Support of the Angels
The scholars of Tafsir differ over whether the promise contained in these Ayat referred to the battle of Badr or Uhud. The First View
There are two opinions about this, one of them saying that Allah's statement,
إِذْ تَقُولُ لِلْمُؤْمِنِينَ
((Remember) when you said to the believers) 3:124, is related to His statement,
وَلَقَدْ نَصَرَكُمُ اللَّهُ بِبَدْرٍ
(And Allah has already made you victorious at Badr) 3:123.
This was reported from Al-Hasan Al-Basri, `Amr Ash-Sha`bi, Ar-Rabi` bin Anas and several others, Ibn Jarir also agreed with this opinion. `Abbad bin Mansur said that Al-Hasan said that Allah's statement,
إِذْ تَقُولُ لِلْمُؤْمِنِينَ أَلَنْ يَكْفِيكُمْ أَن يُمِدَّكُمْ رَبُّكُمْ بِثَلاَثَةِ ءَالاَفٍ مِّنَ الْمَلَـئِكَةِ
((Remember) when you said to the believers, "Is it not enough for you that your Lord should help you with three thousand angels") 3:124, is about the battle of Badr; Ibn Abi Hatim also recorded this statement.
Ibn Abi Hatim then reported that `Amr Ash-Sha`bi said, "On the day of Badr, the Muslims received information that Kurz bin Jabir (a prominent tribe chief) was aiding the idolators, and this news was hard on them, so Allah revealed;
أَلَنْ يَكْفِيكُمْ أَن يُمِدَّكُمْ رَبُّكُمْ بِثَلاَثَةِ ءَالاَفٍ مِّنَ الْمَلَـئِكَةِ مُنزَلِينَ
("Is it not enough for you that your Lord (Allah) should help you with three thousand angels sent down"), until,
مُسَوِّمِينَ
(having marks (of distinction)) 3:124,125.
The news of the defeat of the idolators at Badr reached Kurz and he did not reinforce them, and thus, Allah did not reinforce the Muslims with the five (thousands of angels)."
As for Ar-Rabi` bin Anas, he said, "Allah supported the Muslims with one thousand (angels), then the number reached three thousand, then five thousand." If one asks, according to this opinion, how can we combine between this Ayah and Allah's statement about Badr,
إِذْ تَسْتَغِيثُونَ رَبَّكُمْ فَاسْتَجَابَ لَكُمْ أَنِّي مُمِدُّكُمْ بِأَلْفٍ مِّنَ الْمَلَـئِكَةِ مُرْدِفِينَ
((Remember) when you sought help of your Lord and He answered you (saying): "I will help you with a thousand angels, each behind the other (following one another) in succession.") 8:9, until,
أَنَّ اللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ
(Verily! Allah is All-Mighty, All-Wise) We say that the one thousand mentioned here does not contradict the three thousand mentioned in the above Ayah 3:124. The word "in succession" means they follow each other and thus indicates that thousands more will follow them. The two Ayat above 8:9 and 3:124 are similar in meaning and it appears that they both were about the battle of Badr, because the angels did fight in the battle of Badr, as the evidence indicates. Allah knows best. Allah's statement,
بَلَى إِن تَصْبِرُواْ وَتَتَّقُواْ
(But if you hold on to patience and have Taqwa,) 3:125 means, if you observe patience while fighting the enemy, all the while fearing Me and obeying My command. Al-Hasan, Qatadah, Ar-Rabi` and As-Suddi said that Allah's statement,
وَيَأْتُوكُمْ مِّن فَوْرِهِمْ هَـذَا
(and they will come rushing) means, they (angels) will rush to you instantaneously. Al-`Awfi said that Ibn `Abbas said that the Ayah means, "All at once". It is also said that it means, before their anger subsides (against the disbelievers). The Second View
The second opinion stipulates that the promise mentioned here concerning the angels participating in battle is related to Allah's statement,
وَإِذْ غَدَوْتَ مِنْ أَهْلِكَ تُبَوِّىءُ الْمُؤْمِنِينَ مَقَاعِدَ لِلْقِتَالِ
(And (remember) when you left your household in the morning to post the believers at their stations for the battle) of Uhud. However, we should add, the angels did not come to the aid of Muslims at Uhud, because Allah made it conditional,
بَلَى إِن تَصْبِرُواْ وَتَتَّقُواْ
(But if you hold on to patience and have Taqwa) 3: 125.
The Muslims were not patient at Uhud. Rather, they ran away and, consequently, did not receive the support of even one angel.
Allah's statement,
يُمْدِدْكُمْ رَبُّكُمْ بِخَمْسَةِ ءَالافٍ مِّنَ الْمَلَـئِكَةِ مُسَوِّمِينَ
(your Lord will help you with five thousand angels having marks), of distinction.
Abu Ishaq As-Subay`i said; from Harithah bin Mudarrib said that `Ali bin Abi Talib said, "The angels were distinguished by wearing white wool at Badr." The angels also had special markings distinguishing their horses.
غزوہ بدر اور تائید الٰہی آنحضرت ﷺ کا یہ تسلیاں دینا بعض تو کہتے ہیں بدر والے دن تھا حسن بصری عامر شعبی ربیع بن انس وغیرہ کا یہی قول ہے ابن جریر کا بھی اسی سے اتفاق ہے عامر شعبی کا قول ہے کہ مسلمانوں کو یہ خبر ملی تھی کہ کرز بن جابر مشرکوں کی امداد میں آئے گا اس پر اس امداد کا وعدہ ہوا تھا لیکن نہ وہ نہیں آیا اور نہ ہی یہ گئے ربیع بن انس فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی مدد کیلئے پہلے تو ایک ہزار فرشتے بھیجے پھر تین ہزار ہوگئے پھر پانچ ہزار، یہاں اس آیت میں تین ہزار اور پانچ ہزار سے مدد کرنے کا وعدہ ہے اور بدر کے واقعہ کے بیان کے وقت ایک ہزار فرشتوں کی امداد کا وعدہ ہے۔ فرمایا آیت (اَنِّىْ مُمِدُّكُمْ بِاَلْفٍ مِّنَ الْمَلٰۗىِٕكَةِ مُرْدِفِيْنَ) 8۔ الانفال :9) اور تطبیق دونوں آیتوں میں یہی ہے کیونکہ مردفین کا لفظ موجود ہے پس پہلے ایک ہزار اترے پھر ان کے بعد تین ہزار پورے ہوئے آخر پانچ ہزار ہوگئے، بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ وعدہ جنگ بدر کے لئے تھا نہ کہ جنگ احد کیلئے، بعض کہتے ہیں جنگ احد کے موقعہ پر وعدہ ہوا تھا مجاہد عکرمہ ضحاک زہری موسیٰ بن عقبہ وغیرہ کا یہی قول ہے لیکن وہ کہتے ہیں کہ چونکہ مسلمان میدان چھوڑ کر ہٹ گئے اس لئے یہ فرشتے نازل نہ ہوئے، کیونکہ آیت (وَاِنْ تَصْبِرُوْا وَتَتَّقُوْا لَا يَضُرُّكُمْ كَيْدُھُمْ شَـيْـــًٔـا) 3۔ آل عمران :120) ساتھ ہی فرمایا تھا یعنی اگر تم صبر کرو اور تقویٰ کرو فور کے معنی وجہ اور غضب کے ہیں مسومین کے معنی علامت والے، حضرت علی ؓ فرماتے ہیں فرشتوں کی نشانی بدر والے دن سفید رنگ کے لباس کی تھی اور ان کے گھوڑوں کی نشانی ماتھے کی سفیدی تھی، حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں ان کی نشانی سرخ تھی، حضرت مجاہد فرماتے ہیں گردن کے بالوں اور دم کا نشان تھا اور یہی نشان آپ کے لشکریوں کا تھا یعنی صوف کا۔ مکحول کہتے ہیں فرشتوں کی نشانی ان کی پگڑیاں تھیں جو سیاہ رنگ کے عمامے تھے اور حنین والے دن سرخ رنگ عمامے تھے، ابن عباس فرماتے ہیں بدر کے علاوہ فرشتے کبھی جنگ میں شامل نہیں ہوئے اور سفید رنگ عماموں کی علامت تھی یہ صرف مدد کیلئے اور تعداد بڑھانے کیلئے تھے نہ کہ لڑائی کیلئے، یہ بھی مروی ہے کہ یہ فرشتوں کا نازل کرنا اور تمہیں اس کی خبر دینا صرف تمہاری خوشی، دلجوئی اور اطمینان کیلئے ہے ورنہ اللہ کو قدرت ہے کہ ان کو اتارے بغیر بلکہ بغیر تمہارے لڑے بھی تمہیں غالب کر دے مدد اسی کی طرف سے ہے جیسے اور جگہ ہے آیت (وَلَوْ يَشَاۗءُ اللّٰهُ لَانْتَـصَرَ مِنْهُمْ وَلٰكِنْ لِّيَبْلُوَا۟ بَعْضَكُمْ بِبَعْـضٍ) 47۔ محمد :4) اگر اللہ چاہتا تو ان سے خود ہی بدلہ لے لیتا لیکن وہ ہر ایک کو آزما رہا ہے اللہ تعالیٰ کی راہ میں جو قتل کئے جائیں ان کے اعمال اکارت نہیں ہوتے اللہ انہیں راہ دکھائے گا ان کے اعمال سنوار دے گا اور انہیں جنت میں لے جائے گا جس کی تعریف وہ کرچکا ہے، وہ عزت والا ہے اور اپنے ہر کام میں حکمت رکھتا ہے۔ یہ جہاد کا حکم بھی طرح طرح کی حکمتوں پر مبنی ہے اس سے کفار ہلاک ہوں گے یا ذلیل ہوں گے یا نامراد واپس ہوجائیں گے۔ اس کے بعد بیان ہوتا ہے کہ دنیا اور آخرت کے کل امور اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں، اے نبی ﷺ تمہیں کسی امر کا اختیار نہیں جیسے فرمایا آیت (فَاِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلٰغُ وَعَلَيْنَا الْحِسَابُ) 13۔ الرعد :40) تمہارا ذمہ صرف تبلیغ ہے حساب تو تمہارے ذمہ ہے اور جگہ ہے آیت (لیس علیک ھدھم) الخ، ان کی ہدایت تمہارے ذمہ نہیں اللہ جسے چاہے ہدایت دے اور آیت (اِنَّكَ لَا تَهْدِيْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَهْدِيْ مَنْ يَّشَاۗءُ) 28۔ القصص :56) تو جسے چاہے ہدایت نہیں کرسکتا بلکہ اللہ جسے چاہے ہدایت کرتا ہے، پس میرے بندوں میں تجھے کوئی اختیار نہیں جو حکم پہنچے اسے اوروں کو پہنچا دے تیرے ذمہ یہی ہے ممکن ہے اللہ انہیں توبہ کی توفیق دے اور برائی کے بعد وہ بھلائی کرنے لگیں اور اللہ رحیم ان کی توبہ قبول فرما لے یا ممکن ہے کہ انہیں ان کے کفرو گناہ کی بناء پر عذاب کرے تو یہ ظالم اس کے بھی مستحق ہیں، صحیح بخاری میں ہے رسول اللہ ﷺ صبح کی نماز میں جب دوسری رکعت کے رکوع سے سر اٹھاتے اور دعا (سمع اللہ لمن حمدہ ربناولک الحمد) کہہ لیتے تو فار پر بددعا کرتے کہ اے اللہ فلاں فلاں پر لعنت کر اس کے بارے میں یہ آیت اتری (لَيْسَ لَكَ مِنَ الْاَمْرِ شَيْءٌ اَوْ يَتُوْبَ عَلَيْھِمْ اَوْ يُعَذِّبَھُمْ فَاِنَّھُمْ ظٰلِمُوْنَ) 3۔ آل عمران :128) نازل ہوئی مسند احمد میں ان کافروں کے نام بھی آئے ہیں مثلاً حارث بن ہشام سہیل بن عمرو صفوان بن امیہ اور اسی میں ہے کہ بالآخر ان کو ہدایت نصیب ہوئی اور یہ مسلمان ہوگئے، ایک روایت میں ہے کہ چار آدمیوں پر یہ بد دعا تھی جس سے روک دیئے گئے۔ صحیح بخاری میں ہے کہ حضور ﷺ جب کسی پر بد دعا کرنا یا کسی کے حق میں نیک دعا کرنا چاہتے تو رکوع کے بعد سمع اللہ اور ربنا پڑھ کر دعا مانگتے کبھی کہتے اے اللہ ولید بن ولید سلمہ بن ہشام عیاش بن ابو ربیعہ اور کمزور مومنوں کو کفار سے نجات دے اے اللہ قبیلہ مضر پر اپنی پکڑ اور اپنا عذاب نازل فرما اور ان پر ایسی قحط سالی بھیج جیسی حضرت یوسف کے زمانہ میں تھی یہ دعا با آواز بلند ہوا کرتی تھی اور بعض مرتبہ صبح کی نماز کے قنوت میں یوں بھی کہتے کہ اے اللہ فلاں فلاں پر لعنت بھیج اور عرب کے بعض قبیلوں کے نام لیتے تھے اور روایت میں ہے کہ جنگ احد میں جب آپ کے دندان مبارک شہید ہوئے چہرہ زخمی ہوا خون بہنے لگا تو زبان سے نکل کیا کہ وہ قوم کیسے فلاح پائے گی جس نے اپنے نبی ﷺ کے ساتھ یہ کیا حالانکہ نبی ﷺ اللہ خالق کل کی طرف سے انہیں بلاتا تھا اس وقت یہ آیت (لَيْسَ لَكَ مِنَ الْاَمْرِ شَيْءٌ اَوْ يَتُوْبَ عَلَيْھِمْ اَوْ يُعَذِّبَھُمْ فَاِنَّھُمْ ظٰلِمُوْنَ) 3۔ آل عمران :128) نازل ہوئی، آپ اس غزوے میں ایک گڑھ میں گرپڑے تھے اور خون بہت نکل گیا تھا کچھ تو اس ضعف کی وجہ سے اور کچھ اس وجہ سے کہ دوہری زرہ پہنے ہوئے تھے اٹھ نہ سکے حضرت حذیفہ کے مولیٰ حضرت سالم ؓ پہنچے اور چہرے پر سے خون پونچھا جب افاقہ ہوا تو آپ نے یہ فرمایا اور یہ آیت نازل ہوئی پھر فرماتا ہے کہ زمین و آسمان کی ہر چیز اسی کی ہے سب اس کے غلام ہیں جسے چاہے بخشے جسے چاہے عذاب کرے متصرف وہی ہے جو چاہے حکم کرے کوئی اس پر پرشس نہیں کرسکتا وہ غفور اور رحیم ہے۔
125
View Single
بَلَىٰٓۚ إِن تَصۡبِرُواْ وَتَتَّقُواْ وَيَأۡتُوكُم مِّن فَوۡرِهِمۡ هَٰذَا يُمۡدِدۡكُمۡ رَبُّكُم بِخَمۡسَةِ ءَالَٰفٖ مِّنَ ٱلۡمَلَـٰٓئِكَةِ مُسَوِّمِينَ
Yes, why not? If you patiently endure and remain pious, and the disbelievers attack you suddenly, your Lord will send down five thousand marked angels to help you.
ہاں اگر تم صبر کرتے رہو اور پرہیزگاری قائم رکھو اور وہ (کفّار) تم پر اسی وقت (پورے) جوش سے حملہ آور ہو جائیں تو تمہارا رب پانچ ہزار نشان والے فرشتوں کے ذریعے تمہاری مدد فرمائے گا
Tafsir Ibn Kathir
The Support of the Angels
The scholars of Tafsir differ over whether the promise contained in these Ayat referred to the battle of Badr or Uhud. The First View
There are two opinions about this, one of them saying that Allah's statement,
إِذْ تَقُولُ لِلْمُؤْمِنِينَ
((Remember) when you said to the believers) 3:124, is related to His statement,
وَلَقَدْ نَصَرَكُمُ اللَّهُ بِبَدْرٍ
(And Allah has already made you victorious at Badr) 3:123.
This was reported from Al-Hasan Al-Basri, `Amr Ash-Sha`bi, Ar-Rabi` bin Anas and several others, Ibn Jarir also agreed with this opinion. `Abbad bin Mansur said that Al-Hasan said that Allah's statement,
إِذْ تَقُولُ لِلْمُؤْمِنِينَ أَلَنْ يَكْفِيكُمْ أَن يُمِدَّكُمْ رَبُّكُمْ بِثَلاَثَةِ ءَالاَفٍ مِّنَ الْمَلَـئِكَةِ
((Remember) when you said to the believers, "Is it not enough for you that your Lord should help you with three thousand angels") 3:124, is about the battle of Badr; Ibn Abi Hatim also recorded this statement.
Ibn Abi Hatim then reported that `Amr Ash-Sha`bi said, "On the day of Badr, the Muslims received information that Kurz bin Jabir (a prominent tribe chief) was aiding the idolators, and this news was hard on them, so Allah revealed;
أَلَنْ يَكْفِيكُمْ أَن يُمِدَّكُمْ رَبُّكُمْ بِثَلاَثَةِ ءَالاَفٍ مِّنَ الْمَلَـئِكَةِ مُنزَلِينَ
("Is it not enough for you that your Lord (Allah) should help you with three thousand angels sent down"), until,
مُسَوِّمِينَ
(having marks (of distinction)) 3:124,125.
The news of the defeat of the idolators at Badr reached Kurz and he did not reinforce them, and thus, Allah did not reinforce the Muslims with the five (thousands of angels)."
As for Ar-Rabi` bin Anas, he said, "Allah supported the Muslims with one thousand (angels), then the number reached three thousand, then five thousand." If one asks, according to this opinion, how can we combine between this Ayah and Allah's statement about Badr,
إِذْ تَسْتَغِيثُونَ رَبَّكُمْ فَاسْتَجَابَ لَكُمْ أَنِّي مُمِدُّكُمْ بِأَلْفٍ مِّنَ الْمَلَـئِكَةِ مُرْدِفِينَ
((Remember) when you sought help of your Lord and He answered you (saying): "I will help you with a thousand angels, each behind the other (following one another) in succession.") 8:9, until,
أَنَّ اللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ
(Verily! Allah is All-Mighty, All-Wise) We say that the one thousand mentioned here does not contradict the three thousand mentioned in the above Ayah 3:124. The word "in succession" means they follow each other and thus indicates that thousands more will follow them. The two Ayat above 8:9 and 3:124 are similar in meaning and it appears that they both were about the battle of Badr, because the angels did fight in the battle of Badr, as the evidence indicates. Allah knows best. Allah's statement,
بَلَى إِن تَصْبِرُواْ وَتَتَّقُواْ
(But if you hold on to patience and have Taqwa,) 3:125 means, if you observe patience while fighting the enemy, all the while fearing Me and obeying My command. Al-Hasan, Qatadah, Ar-Rabi` and As-Suddi said that Allah's statement,
وَيَأْتُوكُمْ مِّن فَوْرِهِمْ هَـذَا
(and they will come rushing) means, they (angels) will rush to you instantaneously. Al-`Awfi said that Ibn `Abbas said that the Ayah means, "All at once". It is also said that it means, before their anger subsides (against the disbelievers). The Second View
The second opinion stipulates that the promise mentioned here concerning the angels participating in battle is related to Allah's statement,
وَإِذْ غَدَوْتَ مِنْ أَهْلِكَ تُبَوِّىءُ الْمُؤْمِنِينَ مَقَاعِدَ لِلْقِتَالِ
(And (remember) when you left your household in the morning to post the believers at their stations for the battle) of Uhud. However, we should add, the angels did not come to the aid of Muslims at Uhud, because Allah made it conditional,
بَلَى إِن تَصْبِرُواْ وَتَتَّقُواْ
(But if you hold on to patience and have Taqwa) 3: 125.
The Muslims were not patient at Uhud. Rather, they ran away and, consequently, did not receive the support of even one angel.
Allah's statement,
يُمْدِدْكُمْ رَبُّكُمْ بِخَمْسَةِ ءَالافٍ مِّنَ الْمَلَـئِكَةِ مُسَوِّمِينَ
(your Lord will help you with five thousand angels having marks), of distinction.
Abu Ishaq As-Subay`i said; from Harithah bin Mudarrib said that `Ali bin Abi Talib said, "The angels were distinguished by wearing white wool at Badr." The angels also had special markings distinguishing their horses.
غزوہ بدر اور تائید الٰہی آنحضرت ﷺ کا یہ تسلیاں دینا بعض تو کہتے ہیں بدر والے دن تھا حسن بصری عامر شعبی ربیع بن انس وغیرہ کا یہی قول ہے ابن جریر کا بھی اسی سے اتفاق ہے عامر شعبی کا قول ہے کہ مسلمانوں کو یہ خبر ملی تھی کہ کرز بن جابر مشرکوں کی امداد میں آئے گا اس پر اس امداد کا وعدہ ہوا تھا لیکن نہ وہ نہیں آیا اور نہ ہی یہ گئے ربیع بن انس فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی مدد کیلئے پہلے تو ایک ہزار فرشتے بھیجے پھر تین ہزار ہوگئے پھر پانچ ہزار، یہاں اس آیت میں تین ہزار اور پانچ ہزار سے مدد کرنے کا وعدہ ہے اور بدر کے واقعہ کے بیان کے وقت ایک ہزار فرشتوں کی امداد کا وعدہ ہے۔ فرمایا آیت (اَنِّىْ مُمِدُّكُمْ بِاَلْفٍ مِّنَ الْمَلٰۗىِٕكَةِ مُرْدِفِيْنَ) 8۔ الانفال :9) اور تطبیق دونوں آیتوں میں یہی ہے کیونکہ مردفین کا لفظ موجود ہے پس پہلے ایک ہزار اترے پھر ان کے بعد تین ہزار پورے ہوئے آخر پانچ ہزار ہوگئے، بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ وعدہ جنگ بدر کے لئے تھا نہ کہ جنگ احد کیلئے، بعض کہتے ہیں جنگ احد کے موقعہ پر وعدہ ہوا تھا مجاہد عکرمہ ضحاک زہری موسیٰ بن عقبہ وغیرہ کا یہی قول ہے لیکن وہ کہتے ہیں کہ چونکہ مسلمان میدان چھوڑ کر ہٹ گئے اس لئے یہ فرشتے نازل نہ ہوئے، کیونکہ آیت (وَاِنْ تَصْبِرُوْا وَتَتَّقُوْا لَا يَضُرُّكُمْ كَيْدُھُمْ شَـيْـــًٔـا) 3۔ آل عمران :120) ساتھ ہی فرمایا تھا یعنی اگر تم صبر کرو اور تقویٰ کرو فور کے معنی وجہ اور غضب کے ہیں مسومین کے معنی علامت والے، حضرت علی ؓ فرماتے ہیں فرشتوں کی نشانی بدر والے دن سفید رنگ کے لباس کی تھی اور ان کے گھوڑوں کی نشانی ماتھے کی سفیدی تھی، حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں ان کی نشانی سرخ تھی، حضرت مجاہد فرماتے ہیں گردن کے بالوں اور دم کا نشان تھا اور یہی نشان آپ کے لشکریوں کا تھا یعنی صوف کا۔ مکحول کہتے ہیں فرشتوں کی نشانی ان کی پگڑیاں تھیں جو سیاہ رنگ کے عمامے تھے اور حنین والے دن سرخ رنگ عمامے تھے، ابن عباس فرماتے ہیں بدر کے علاوہ فرشتے کبھی جنگ میں شامل نہیں ہوئے اور سفید رنگ عماموں کی علامت تھی یہ صرف مدد کیلئے اور تعداد بڑھانے کیلئے تھے نہ کہ لڑائی کیلئے، یہ بھی مروی ہے کہ یہ فرشتوں کا نازل کرنا اور تمہیں اس کی خبر دینا صرف تمہاری خوشی، دلجوئی اور اطمینان کیلئے ہے ورنہ اللہ کو قدرت ہے کہ ان کو اتارے بغیر بلکہ بغیر تمہارے لڑے بھی تمہیں غالب کر دے مدد اسی کی طرف سے ہے جیسے اور جگہ ہے آیت (وَلَوْ يَشَاۗءُ اللّٰهُ لَانْتَـصَرَ مِنْهُمْ وَلٰكِنْ لِّيَبْلُوَا۟ بَعْضَكُمْ بِبَعْـضٍ) 47۔ محمد :4) اگر اللہ چاہتا تو ان سے خود ہی بدلہ لے لیتا لیکن وہ ہر ایک کو آزما رہا ہے اللہ تعالیٰ کی راہ میں جو قتل کئے جائیں ان کے اعمال اکارت نہیں ہوتے اللہ انہیں راہ دکھائے گا ان کے اعمال سنوار دے گا اور انہیں جنت میں لے جائے گا جس کی تعریف وہ کرچکا ہے، وہ عزت والا ہے اور اپنے ہر کام میں حکمت رکھتا ہے۔ یہ جہاد کا حکم بھی طرح طرح کی حکمتوں پر مبنی ہے اس سے کفار ہلاک ہوں گے یا ذلیل ہوں گے یا نامراد واپس ہوجائیں گے۔ اس کے بعد بیان ہوتا ہے کہ دنیا اور آخرت کے کل امور اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں، اے نبی ﷺ تمہیں کسی امر کا اختیار نہیں جیسے فرمایا آیت (فَاِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلٰغُ وَعَلَيْنَا الْحِسَابُ) 13۔ الرعد :40) تمہارا ذمہ صرف تبلیغ ہے حساب تو تمہارے ذمہ ہے اور جگہ ہے آیت (لیس علیک ھدھم) الخ، ان کی ہدایت تمہارے ذمہ نہیں اللہ جسے چاہے ہدایت دے اور آیت (اِنَّكَ لَا تَهْدِيْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَهْدِيْ مَنْ يَّشَاۗءُ) 28۔ القصص :56) تو جسے چاہے ہدایت نہیں کرسکتا بلکہ اللہ جسے چاہے ہدایت کرتا ہے، پس میرے بندوں میں تجھے کوئی اختیار نہیں جو حکم پہنچے اسے اوروں کو پہنچا دے تیرے ذمہ یہی ہے ممکن ہے اللہ انہیں توبہ کی توفیق دے اور برائی کے بعد وہ بھلائی کرنے لگیں اور اللہ رحیم ان کی توبہ قبول فرما لے یا ممکن ہے کہ انہیں ان کے کفرو گناہ کی بناء پر عذاب کرے تو یہ ظالم اس کے بھی مستحق ہیں، صحیح بخاری میں ہے رسول اللہ ﷺ صبح کی نماز میں جب دوسری رکعت کے رکوع سے سر اٹھاتے اور دعا (سمع اللہ لمن حمدہ ربناولک الحمد) کہہ لیتے تو فار پر بددعا کرتے کہ اے اللہ فلاں فلاں پر لعنت کر اس کے بارے میں یہ آیت اتری (لَيْسَ لَكَ مِنَ الْاَمْرِ شَيْءٌ اَوْ يَتُوْبَ عَلَيْھِمْ اَوْ يُعَذِّبَھُمْ فَاِنَّھُمْ ظٰلِمُوْنَ) 3۔ آل عمران :128) نازل ہوئی مسند احمد میں ان کافروں کے نام بھی آئے ہیں مثلاً حارث بن ہشام سہیل بن عمرو صفوان بن امیہ اور اسی میں ہے کہ بالآخر ان کو ہدایت نصیب ہوئی اور یہ مسلمان ہوگئے، ایک روایت میں ہے کہ چار آدمیوں پر یہ بد دعا تھی جس سے روک دیئے گئے۔ صحیح بخاری میں ہے کہ حضور ﷺ جب کسی پر بد دعا کرنا یا کسی کے حق میں نیک دعا کرنا چاہتے تو رکوع کے بعد سمع اللہ اور ربنا پڑھ کر دعا مانگتے کبھی کہتے اے اللہ ولید بن ولید سلمہ بن ہشام عیاش بن ابو ربیعہ اور کمزور مومنوں کو کفار سے نجات دے اے اللہ قبیلہ مضر پر اپنی پکڑ اور اپنا عذاب نازل فرما اور ان پر ایسی قحط سالی بھیج جیسی حضرت یوسف کے زمانہ میں تھی یہ دعا با آواز بلند ہوا کرتی تھی اور بعض مرتبہ صبح کی نماز کے قنوت میں یوں بھی کہتے کہ اے اللہ فلاں فلاں پر لعنت بھیج اور عرب کے بعض قبیلوں کے نام لیتے تھے اور روایت میں ہے کہ جنگ احد میں جب آپ کے دندان مبارک شہید ہوئے چہرہ زخمی ہوا خون بہنے لگا تو زبان سے نکل کیا کہ وہ قوم کیسے فلاح پائے گی جس نے اپنے نبی ﷺ کے ساتھ یہ کیا حالانکہ نبی ﷺ اللہ خالق کل کی طرف سے انہیں بلاتا تھا اس وقت یہ آیت (لَيْسَ لَكَ مِنَ الْاَمْرِ شَيْءٌ اَوْ يَتُوْبَ عَلَيْھِمْ اَوْ يُعَذِّبَھُمْ فَاِنَّھُمْ ظٰلِمُوْنَ) 3۔ آل عمران :128) نازل ہوئی، آپ اس غزوے میں ایک گڑھ میں گرپڑے تھے اور خون بہت نکل گیا تھا کچھ تو اس ضعف کی وجہ سے اور کچھ اس وجہ سے کہ دوہری زرہ پہنے ہوئے تھے اٹھ نہ سکے حضرت حذیفہ کے مولیٰ حضرت سالم ؓ پہنچے اور چہرے پر سے خون پونچھا جب افاقہ ہوا تو آپ نے یہ فرمایا اور یہ آیت نازل ہوئی پھر فرماتا ہے کہ زمین و آسمان کی ہر چیز اسی کی ہے سب اس کے غلام ہیں جسے چاہے بخشے جسے چاہے عذاب کرے متصرف وہی ہے جو چاہے حکم کرے کوئی اس پر پرشس نہیں کرسکتا وہ غفور اور رحیم ہے۔
126
View Single
وَمَا جَعَلَهُ ٱللَّهُ إِلَّا بُشۡرَىٰ لَكُمۡ وَلِتَطۡمَئِنَّ قُلُوبُكُم بِهِۦۗ وَمَا ٱلنَّصۡرُ إِلَّا مِنۡ عِندِ ٱللَّهِ ٱلۡعَزِيزِ ٱلۡحَكِيمِ
And Allah did not bestow this victory except for your happiness, and only that your hearts may attain peace with it; and there is no help except from Allah, the Almighty, the Wise.
اور اللہ نے اس (مدد) کو محض تمہارے لئے خوشخبری بنایا اور اس لئے کہ اس سے تمہارے دل مطمئن ہو جائیں، اور مدد تو صرف اللہ ہی کی طرف سے ہوتی ہے جو بڑا غالب حکمت والا ہے
Tafsir Ibn Kathir
Allah said
"Allah made it not but as a message of good news for you and as an assurance to your hearts"
. This Ayah means, "Allah sent down angels and told you about their descent to encourage you and to comfort and reassure your hearts. You should know that victory only comes from Allah and that if He willed, He would have defeated your enemy without you having to fight them." For instance, Allah said after commanding the believers to fight,
ذلِكَ وَلَوْ يَشَآء اللَّهُ لاَنْتَصَرَ مِنْهُمْ وَلَـكِن لّيَبْلُوَ بَعْضَكُمْ بِبَعْضٍ وَالَّذِينَ قُتِلُواْ فِى سَبِيلِ اللَّهِ فَلَن يُضِلَّ أَعْمَـلَهُمْ سَيَهْدِيهِمْ وَيُصْلِحُ بَالَهُمْ وَيُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ عَرَّفَهَا لَهُمْ
(But if it had been Allah's will, He Himself could certainly have punished them (without you). But (He lets you fight) in order to test some of you with others. But those who are killed in the way of Allah, He will never let their deeds be lost. He will guide them and set right their state. And admit them to Paradise which He has made known to them) 47:4-6.
This is why Allah said here,
وَمَا جَعَلَهُ اللَّهُ إِلاَّ بُشْرَى لَكُمْ وَلِتَطْمَئِنَّ قُلُوبُكُمْ بِهِ وَمَا النَّصْرُ إِلاَّ مِنْ عِندِ اللَّهِ الْعَزِيزِ الْحَكِيمِ
(Allah made it not but as a message of good news for you and as an assurance to your hearts. And there is no victory except from Allah, the All-Mighty, the All-Wise) 3:126.
This Ayah means, "Allah is the Almighty Whose power can never be undermined, and He has the perfect wisdom in His decrees and in all His decisions." Allah said,
لِيَقْطَعَ طَرَفاً مِّنَ الَّذِينَ كَفَرُواْ
(That He might cut off a part of those who disbelieve,) 3:127 meaning, out of His wisdom, He commands you to perform Jihad and to fight.
Allah then mentions the various consequences of performing Jihad against the disbelievers. For instance, Allah said,
لِيَقْطَعَ طَرَفاً
(That He might cut off a part...) meaning, to cause a part of a nation to perish,
مِّنَ الَّذِينَ كَفَرُواْ أَوْ يَكْبِتَهُمْ
(of those who disbelieve, or expose them to infamy,) by disgracing them and forcing them to return with only their rage, having failed in their aim to harm you. This is why Allah said next,
أَوْ يَكْبِتَهُمْ فَيَنقَلِبُواْ
(or expose them to infamy, so that they retire) to go back to their land,
خَآئِبِينَ
(frustrated) without achieving their aims.
Allah then mentions a statement that testifies that the decision in this life and the Hereafter is for Him Alone without partners. (3:127)
لَيْسَ لَكَ مِنَ الاٌّمْرِ شَىْءٌ
(Not for you is the decision) 3:128
meaning, "The matter is all in My Hand." Allah also said,
فَإِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلَـغُ وَعَلَيْنَا الْحِسَابُ
(your duty is only to convey (the Message) and on Us is the reckoning.) 13:40, and,
لَّيْسَ عَلَيْكَ هُدَاهُمْ وَلَـكِنَّ اللَّهَ يَهْدِى مَن يَشَآءُ
(Not upon you is their guidance, but Allah guides whom He wills.) 2:272, and,
إِنَّكَ لاَ تَهْدِى مَنْ أَحْبَبْتَ وَلَـكِنَّ اللَّهَ يَهْدِى مَن يَشَآءُ
(Verily, you guide not whom you like, but Allah guides whom He wills) 28: 56.
Muhammad bin Ishaq said that Allah's statement,
لَيْسَ لَكَ مِنَ الاٌّمْرِ شَىْءٌ
(3:128... Not for you is the decision;), means, "No part of the decision regarding My servants is yours, except what I command you." Allah then mentions the rest of the consequences of Jihad,
أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ
(whether He pardons them) concerning the acts of disbelief that they commit, thus delivering them from misguidance to the guidance.
أَوْ يُعَذِّبَهُمْ
(or punishes them;) in this life and the Hereafter because of their disbelief and errors,
فَإِنَّهُمْ ظَـلِمُونَ
(verily, they are the wrongdoers), and thus, they deserve such a fate.(3:128 end)
Al-Bukhari recorded that, Salim bin `Abdullah said that his father said that he heard the Messenger of Allah ﷺ saying -- when he raised his head from bowing in the second unit of the Fajr prayer -- "O Allah! Curse so-and-so," after saying; Sami` Allahu Liman Hamidah, Rabbana wa lakal-Hamd. Thereafter, Allah revealed this Ayah,
لَيْسَ لَكَ مِنَ الاٌّمْرِ شَىْءٌ
(Not for you is the decision;) This was also recorded by An-Nasa'i. Imam Ahmad recorded that Salim bin `Abdullah said that his father said that he heard the Messenger of Allah ﷺ saying,
«اللَّهُمَّ الْعَنْ فُلَانًا، اللَّهُمَّ الْعَنِ الْحَارِثَ بْنَ هِشَامٍ، اللَّهُمَّ الْعَنْ سُهَيْلَ بْنَ عَمْرٍو، اللَّهُمَّ الْعَنْ صَفْوَانَ بْنَ أُمَيَّة»
(O Allah! Curse so-and-so. O Allah! Curse Al-Harith bin Hisham. O Allah! Curse Suhayl bin `Amr. O Allah! Curse Safwan bin Umayyah.)
Thereafter, this Ayah was revealed;
لَيْسَ لَكَ مِنَ الاٌّمْرِ شَىْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَـلِمُونَ
(Not for you is the decision; whether He turns in mercy to (pardon) them or punishes them; verily, they are the wrongdoers) 3:128.
All these persons were pardoned (after they embraced Islam later on).
Al-Bukhari recorded that Abu Hurayrah said that when Allah's Messenger ﷺ would supplicate against or for someone, he would do so when he was finished bowing and saying; Sami` Allahu Liman Hamidah, Rabbana wa lakal-Hamd. He would then say, (the Qunut)
«اللَّهُمَّ أَنْجِ الْوَلِيدَ بْنَ الْوَلِيدِ، وَسَلَمَةَ بْنَ هِشَامٍ وَعَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ، وَالْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ، اللَّهُمَّ اشْدُدْ وَطْأَتَكَ عَلى مُضَرَ، وَاجْعَلْهَا عَلَيْهِمْ سِنِينَ كَسِنِي يُوسُف»
(O Allah! Save Al-Walid bin Al-Walid, Salamah bin Hisham, `Ayyash bin Abi Rabi`ah and the weak and the helpless people among the faithful believers. O Allah! Be hard on the tribe of Mudar and let them suffer from years of famine like that of the time of Yusuf. )
He would say this supplication aloud. He sometimes would supplicate during the Dawn prayer, "O Allah! Curse so-and-so (persons)," mentioning some Arab tribes. Thereafter, Allah revealed,
لَيْسَ لَكَ مِنَ الاٌّمْرِ شَىْءٌ
(Not for you is the decision.)
Al-Bukhari recorded that Hamid and Thabit said that, Anas bin Malik said that the Prophet was injured during the battle of Uhud and said,
«كَيْفَ يُفْلِحُ قَوْمٌ شَجُّوا نَبِيَّهُمْ؟»
(How can a people achieve success after having injured their Prophet)
Thereafter,
لَيْسَ لَكَ مِنَ الاٌّمْرِ شَىْءٌ
(Not for you is the decision,) was revealed.
Imam Ahmad recorded that Anas said that, the Prophet's front tooth was broken during the battle of Uhud and he also sustained injuries on his forehead until blood dripped on his face. The Prophet said,
«كَيْفَ يُفْلِحُ قَوْمٌ فَعَلُوا هذَا بِنَبِيِّهِمْ، وَهُوَ يَدْعُوهُمْ إِلى رَبِّهِمْ عَزَّ وَجَلَّ؟»
(How can a people achieve success after having done this to their Prophet who is calling them to their Lord, the Exalted and Most Honored) Allah revealed,
لَيْسَ لَكَ مِنَ الاٌّمْرِ شَىْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَـلِمُونَ
(Not for you is the decision; whether He turns in mercy to (pardons) them or punishes them; verily, they are the wrongdoers.) Muslim also collected this Hadith.
Allah then said,
وَللَّهِ مَا فِى السَّمَـوَتِ وَمَا فِى الاٌّرْضِ
(3:129... And to Allah belongs all that is in the heavens and all that is in the Earth.) 3:129, everything is indeed the property of Allah and all are servants in His Hand.
يَغْفِرُ لِمَن يَشَآءُ وَيُعَذِّبُ مَن يَشَآءُ
(He forgives whom He wills, and punishes whom He wills.) for His is the decision and none can resist His decision. Allah is never asked about what He does, while they will be asked,
وَاللَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ
(and Allah is Oft-Forgiving, Most Merciful.)(3:129 end...)
غزوہ بدر اور تائید الٰہی آنحضرت ﷺ کا یہ تسلیاں دینا بعض تو کہتے ہیں بدر والے دن تھا حسن بصری عامر شعبی ربیع بن انس وغیرہ کا یہی قول ہے ابن جریر کا بھی اسی سے اتفاق ہے عامر شعبی کا قول ہے کہ مسلمانوں کو یہ خبر ملی تھی کہ کرز بن جابر مشرکوں کی امداد میں آئے گا اس پر اس امداد کا وعدہ ہوا تھا لیکن نہ وہ نہیں آیا اور نہ ہی یہ گئے ربیع بن انس فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی مدد کیلئے پہلے تو ایک ہزار فرشتے بھیجے پھر تین ہزار ہوگئے پھر پانچ ہزار، یہاں اس آیت میں تین ہزار اور پانچ ہزار سے مدد کرنے کا وعدہ ہے اور بدر کے واقعہ کے بیان کے وقت ایک ہزار فرشتوں کی امداد کا وعدہ ہے۔ فرمایا آیت (اَنِّىْ مُمِدُّكُمْ بِاَلْفٍ مِّنَ الْمَلٰۗىِٕكَةِ مُرْدِفِيْنَ) 8۔ الانفال :9) اور تطبیق دونوں آیتوں میں یہی ہے کیونکہ مردفین کا لفظ موجود ہے پس پہلے ایک ہزار اترے پھر ان کے بعد تین ہزار پورے ہوئے آخر پانچ ہزار ہوگئے، بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ وعدہ جنگ بدر کے لئے تھا نہ کہ جنگ احد کیلئے، بعض کہتے ہیں جنگ احد کے موقعہ پر وعدہ ہوا تھا مجاہد عکرمہ ضحاک زہری موسیٰ بن عقبہ وغیرہ کا یہی قول ہے لیکن وہ کہتے ہیں کہ چونکہ مسلمان میدان چھوڑ کر ہٹ گئے اس لئے یہ فرشتے نازل نہ ہوئے، کیونکہ آیت (وَاِنْ تَصْبِرُوْا وَتَتَّقُوْا لَا يَضُرُّكُمْ كَيْدُھُمْ شَـيْـــًٔـا) 3۔ آل عمران :120) ساتھ ہی فرمایا تھا یعنی اگر تم صبر کرو اور تقویٰ کرو فور کے معنی وجہ اور غضب کے ہیں مسومین کے معنی علامت والے، حضرت علی ؓ فرماتے ہیں فرشتوں کی نشانی بدر والے دن سفید رنگ کے لباس کی تھی اور ان کے گھوڑوں کی نشانی ماتھے کی سفیدی تھی، حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں ان کی نشانی سرخ تھی، حضرت مجاہد فرماتے ہیں گردن کے بالوں اور دم کا نشان تھا اور یہی نشان آپ کے لشکریوں کا تھا یعنی صوف کا۔ مکحول کہتے ہیں فرشتوں کی نشانی ان کی پگڑیاں تھیں جو سیاہ رنگ کے عمامے تھے اور حنین والے دن سرخ رنگ عمامے تھے، ابن عباس فرماتے ہیں بدر کے علاوہ فرشتے کبھی جنگ میں شامل نہیں ہوئے اور سفید رنگ عماموں کی علامت تھی یہ صرف مدد کیلئے اور تعداد بڑھانے کیلئے تھے نہ کہ لڑائی کیلئے، یہ بھی مروی ہے کہ یہ فرشتوں کا نازل کرنا اور تمہیں اس کی خبر دینا صرف تمہاری خوشی، دلجوئی اور اطمینان کیلئے ہے ورنہ اللہ کو قدرت ہے کہ ان کو اتارے بغیر بلکہ بغیر تمہارے لڑے بھی تمہیں غالب کر دے مدد اسی کی طرف سے ہے جیسے اور جگہ ہے آیت (وَلَوْ يَشَاۗءُ اللّٰهُ لَانْتَـصَرَ مِنْهُمْ وَلٰكِنْ لِّيَبْلُوَا۟ بَعْضَكُمْ بِبَعْـضٍ) 47۔ محمد :4) اگر اللہ چاہتا تو ان سے خود ہی بدلہ لے لیتا لیکن وہ ہر ایک کو آزما رہا ہے اللہ تعالیٰ کی راہ میں جو قتل کئے جائیں ان کے اعمال اکارت نہیں ہوتے اللہ انہیں راہ دکھائے گا ان کے اعمال سنوار دے گا اور انہیں جنت میں لے جائے گا جس کی تعریف وہ کرچکا ہے، وہ عزت والا ہے اور اپنے ہر کام میں حکمت رکھتا ہے۔ یہ جہاد کا حکم بھی طرح طرح کی حکمتوں پر مبنی ہے اس سے کفار ہلاک ہوں گے یا ذلیل ہوں گے یا نامراد واپس ہوجائیں گے۔ اس کے بعد بیان ہوتا ہے کہ دنیا اور آخرت کے کل امور اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں، اے نبی ﷺ تمہیں کسی امر کا اختیار نہیں جیسے فرمایا آیت (فَاِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلٰغُ وَعَلَيْنَا الْحِسَابُ) 13۔ الرعد :40) تمہارا ذمہ صرف تبلیغ ہے حساب تو تمہارے ذمہ ہے اور جگہ ہے آیت (لیس علیک ھدھم) الخ، ان کی ہدایت تمہارے ذمہ نہیں اللہ جسے چاہے ہدایت دے اور آیت (اِنَّكَ لَا تَهْدِيْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَهْدِيْ مَنْ يَّشَاۗءُ) 28۔ القصص :56) تو جسے چاہے ہدایت نہیں کرسکتا بلکہ اللہ جسے چاہے ہدایت کرتا ہے، پس میرے بندوں میں تجھے کوئی اختیار نہیں جو حکم پہنچے اسے اوروں کو پہنچا دے تیرے ذمہ یہی ہے ممکن ہے اللہ انہیں توبہ کی توفیق دے اور برائی کے بعد وہ بھلائی کرنے لگیں اور اللہ رحیم ان کی توبہ قبول فرما لے یا ممکن ہے کہ انہیں ان کے کفرو گناہ کی بناء پر عذاب کرے تو یہ ظالم اس کے بھی مستحق ہیں، صحیح بخاری میں ہے رسول اللہ ﷺ صبح کی نماز میں جب دوسری رکعت کے رکوع سے سر اٹھاتے اور دعا (سمع اللہ لمن حمدہ ربناولک الحمد) کہہ لیتے تو فار پر بددعا کرتے کہ اے اللہ فلاں فلاں پر لعنت کر اس کے بارے میں یہ آیت اتری (لَيْسَ لَكَ مِنَ الْاَمْرِ شَيْءٌ اَوْ يَتُوْبَ عَلَيْھِمْ اَوْ يُعَذِّبَھُمْ فَاِنَّھُمْ ظٰلِمُوْنَ) 3۔ آل عمران :128) نازل ہوئی مسند احمد میں ان کافروں کے نام بھی آئے ہیں مثلاً حارث بن ہشام سہیل بن عمرو صفوان بن امیہ اور اسی میں ہے کہ بالآخر ان کو ہدایت نصیب ہوئی اور یہ مسلمان ہوگئے، ایک روایت میں ہے کہ چار آدمیوں پر یہ بد دعا تھی جس سے روک دیئے گئے۔ صحیح بخاری میں ہے کہ حضور ﷺ جب کسی پر بد دعا کرنا یا کسی کے حق میں نیک دعا کرنا چاہتے تو رکوع کے بعد سمع اللہ اور ربنا پڑھ کر دعا مانگتے کبھی کہتے اے اللہ ولید بن ولید سلمہ بن ہشام عیاش بن ابو ربیعہ اور کمزور مومنوں کو کفار سے نجات دے اے اللہ قبیلہ مضر پر اپنی پکڑ اور اپنا عذاب نازل فرما اور ان پر ایسی قحط سالی بھیج جیسی حضرت یوسف کے زمانہ میں تھی یہ دعا با آواز بلند ہوا کرتی تھی اور بعض مرتبہ صبح کی نماز کے قنوت میں یوں بھی کہتے کہ اے اللہ فلاں فلاں پر لعنت بھیج اور عرب کے بعض قبیلوں کے نام لیتے تھے اور روایت میں ہے کہ جنگ احد میں جب آپ کے دندان مبارک شہید ہوئے چہرہ زخمی ہوا خون بہنے لگا تو زبان سے نکل کیا کہ وہ قوم کیسے فلاح پائے گی جس نے اپنے نبی ﷺ کے ساتھ یہ کیا حالانکہ نبی ﷺ اللہ خالق کل کی طرف سے انہیں بلاتا تھا اس وقت یہ آیت (لَيْسَ لَكَ مِنَ الْاَمْرِ شَيْءٌ اَوْ يَتُوْبَ عَلَيْھِمْ اَوْ يُعَذِّبَھُمْ فَاِنَّھُمْ ظٰلِمُوْنَ) 3۔ آل عمران :128) نازل ہوئی، آپ اس غزوے میں ایک گڑھ میں گرپڑے تھے اور خون بہت نکل گیا تھا کچھ تو اس ضعف کی وجہ سے اور کچھ اس وجہ سے کہ دوہری زرہ پہنے ہوئے تھے اٹھ نہ سکے حضرت حذیفہ کے مولیٰ حضرت سالم ؓ پہنچے اور چہرے پر سے خون پونچھا جب افاقہ ہوا تو آپ نے یہ فرمایا اور یہ آیت نازل ہوئی پھر فرماتا ہے کہ زمین و آسمان کی ہر چیز اسی کی ہے سب اس کے غلام ہیں جسے چاہے بخشے جسے چاہے عذاب کرے متصرف وہی ہے جو چاہے حکم کرے کوئی اس پر پرشس نہیں کرسکتا وہ غفور اور رحیم ہے۔
127
View Single
لِيَقۡطَعَ طَرَفٗا مِّنَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوٓاْ أَوۡ يَكۡبِتَهُمۡ فَيَنقَلِبُواْ خَآئِبِينَ
So He may cut off a part of the disbelievers, or disgrace them so that they return unsuccessful.
(مزید) اس لئے کہ (اللہ) کافروں کے ایک گروہ کو ہلاک کر دے یا انہیں ذلیل کر دے سو وہ ناکام ہو کر واپس پلٹ جائیں
Tafsir Ibn Kathir
Allah said
"Allah made it not but as a message of good news for you and as an assurance to your hearts"
. This Ayah means, "Allah sent down angels and told you about their descent to encourage you and to comfort and reassure your hearts. You should know that victory only comes from Allah and that if He willed, He would have defeated your enemy without you having to fight them." For instance, Allah said after commanding the believers to fight,
ذلِكَ وَلَوْ يَشَآء اللَّهُ لاَنْتَصَرَ مِنْهُمْ وَلَـكِن لّيَبْلُوَ بَعْضَكُمْ بِبَعْضٍ وَالَّذِينَ قُتِلُواْ فِى سَبِيلِ اللَّهِ فَلَن يُضِلَّ أَعْمَـلَهُمْ سَيَهْدِيهِمْ وَيُصْلِحُ بَالَهُمْ وَيُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ عَرَّفَهَا لَهُمْ
(But if it had been Allah's will, He Himself could certainly have punished them (without you). But (He lets you fight) in order to test some of you with others. But those who are killed in the way of Allah, He will never let their deeds be lost. He will guide them and set right their state. And admit them to Paradise which He has made known to them) 47:4-6.
This is why Allah said here,
وَمَا جَعَلَهُ اللَّهُ إِلاَّ بُشْرَى لَكُمْ وَلِتَطْمَئِنَّ قُلُوبُكُمْ بِهِ وَمَا النَّصْرُ إِلاَّ مِنْ عِندِ اللَّهِ الْعَزِيزِ الْحَكِيمِ
(Allah made it not but as a message of good news for you and as an assurance to your hearts. And there is no victory except from Allah, the All-Mighty, the All-Wise) 3:126.
This Ayah means, "Allah is the Almighty Whose power can never be undermined, and He has the perfect wisdom in His decrees and in all His decisions." Allah said,
لِيَقْطَعَ طَرَفاً مِّنَ الَّذِينَ كَفَرُواْ
(That He might cut off a part of those who disbelieve,) 3:127 meaning, out of His wisdom, He commands you to perform Jihad and to fight.
Allah then mentions the various consequences of performing Jihad against the disbelievers. For instance, Allah said,
لِيَقْطَعَ طَرَفاً
(That He might cut off a part...) meaning, to cause a part of a nation to perish,
مِّنَ الَّذِينَ كَفَرُواْ أَوْ يَكْبِتَهُمْ
(of those who disbelieve, or expose them to infamy,) by disgracing them and forcing them to return with only their rage, having failed in their aim to harm you. This is why Allah said next,
أَوْ يَكْبِتَهُمْ فَيَنقَلِبُواْ
(or expose them to infamy, so that they retire) to go back to their land,
خَآئِبِينَ
(frustrated) without achieving their aims.
Allah then mentions a statement that testifies that the decision in this life and the Hereafter is for Him Alone without partners. (3:127)
لَيْسَ لَكَ مِنَ الاٌّمْرِ شَىْءٌ
(Not for you is the decision) 3:128
meaning, "The matter is all in My Hand." Allah also said,
فَإِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلَـغُ وَعَلَيْنَا الْحِسَابُ
(your duty is only to convey (the Message) and on Us is the reckoning.) 13:40, and,
لَّيْسَ عَلَيْكَ هُدَاهُمْ وَلَـكِنَّ اللَّهَ يَهْدِى مَن يَشَآءُ
(Not upon you is their guidance, but Allah guides whom He wills.) 2:272, and,
إِنَّكَ لاَ تَهْدِى مَنْ أَحْبَبْتَ وَلَـكِنَّ اللَّهَ يَهْدِى مَن يَشَآءُ
(Verily, you guide not whom you like, but Allah guides whom He wills) 28: 56.
Muhammad bin Ishaq said that Allah's statement,
لَيْسَ لَكَ مِنَ الاٌّمْرِ شَىْءٌ
(3:128... Not for you is the decision;), means, "No part of the decision regarding My servants is yours, except what I command you." Allah then mentions the rest of the consequences of Jihad,
أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ
(whether He pardons them) concerning the acts of disbelief that they commit, thus delivering them from misguidance to the guidance.
أَوْ يُعَذِّبَهُمْ
(or punishes them;) in this life and the Hereafter because of their disbelief and errors,
فَإِنَّهُمْ ظَـلِمُونَ
(verily, they are the wrongdoers), and thus, they deserve such a fate.(3:128 end)
Al-Bukhari recorded that, Salim bin `Abdullah said that his father said that he heard the Messenger of Allah ﷺ saying -- when he raised his head from bowing in the second unit of the Fajr prayer -- "O Allah! Curse so-and-so," after saying; Sami` Allahu Liman Hamidah, Rabbana wa lakal-Hamd. Thereafter, Allah revealed this Ayah,
لَيْسَ لَكَ مِنَ الاٌّمْرِ شَىْءٌ
(Not for you is the decision;) This was also recorded by An-Nasa'i. Imam Ahmad recorded that Salim bin `Abdullah said that his father said that he heard the Messenger of Allah ﷺ saying,
«اللَّهُمَّ الْعَنْ فُلَانًا، اللَّهُمَّ الْعَنِ الْحَارِثَ بْنَ هِشَامٍ، اللَّهُمَّ الْعَنْ سُهَيْلَ بْنَ عَمْرٍو، اللَّهُمَّ الْعَنْ صَفْوَانَ بْنَ أُمَيَّة»
(O Allah! Curse so-and-so. O Allah! Curse Al-Harith bin Hisham. O Allah! Curse Suhayl bin `Amr. O Allah! Curse Safwan bin Umayyah.)
Thereafter, this Ayah was revealed;
لَيْسَ لَكَ مِنَ الاٌّمْرِ شَىْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَـلِمُونَ
(Not for you is the decision; whether He turns in mercy to (pardon) them or punishes them; verily, they are the wrongdoers) 3:128.
All these persons were pardoned (after they embraced Islam later on).
Al-Bukhari recorded that Abu Hurayrah said that when Allah's Messenger ﷺ would supplicate against or for someone, he would do so when he was finished bowing and saying; Sami` Allahu Liman Hamidah, Rabbana wa lakal-Hamd. He would then say, (the Qunut)
«اللَّهُمَّ أَنْجِ الْوَلِيدَ بْنَ الْوَلِيدِ، وَسَلَمَةَ بْنَ هِشَامٍ وَعَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ، وَالْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ، اللَّهُمَّ اشْدُدْ وَطْأَتَكَ عَلى مُضَرَ، وَاجْعَلْهَا عَلَيْهِمْ سِنِينَ كَسِنِي يُوسُف»
(O Allah! Save Al-Walid bin Al-Walid, Salamah bin Hisham, `Ayyash bin Abi Rabi`ah and the weak and the helpless people among the faithful believers. O Allah! Be hard on the tribe of Mudar and let them suffer from years of famine like that of the time of Yusuf. )
He would say this supplication aloud. He sometimes would supplicate during the Dawn prayer, "O Allah! Curse so-and-so (persons)," mentioning some Arab tribes. Thereafter, Allah revealed,
لَيْسَ لَكَ مِنَ الاٌّمْرِ شَىْءٌ
(Not for you is the decision.)
Al-Bukhari recorded that Hamid and Thabit said that, Anas bin Malik said that the Prophet was injured during the battle of Uhud and said,
«كَيْفَ يُفْلِحُ قَوْمٌ شَجُّوا نَبِيَّهُمْ؟»
(How can a people achieve success after having injured their Prophet)
Thereafter,
لَيْسَ لَكَ مِنَ الاٌّمْرِ شَىْءٌ
(Not for you is the decision,) was revealed.
Imam Ahmad recorded that Anas said that, the Prophet's front tooth was broken during the battle of Uhud and he also sustained injuries on his forehead until blood dripped on his face. The Prophet said,
«كَيْفَ يُفْلِحُ قَوْمٌ فَعَلُوا هذَا بِنَبِيِّهِمْ، وَهُوَ يَدْعُوهُمْ إِلى رَبِّهِمْ عَزَّ وَجَلَّ؟»
(How can a people achieve success after having done this to their Prophet who is calling them to their Lord, the Exalted and Most Honored) Allah revealed,
لَيْسَ لَكَ مِنَ الاٌّمْرِ شَىْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَـلِمُونَ
(Not for you is the decision; whether He turns in mercy to (pardons) them or punishes them; verily, they are the wrongdoers.) Muslim also collected this Hadith.
Allah then said,
وَللَّهِ مَا فِى السَّمَـوَتِ وَمَا فِى الاٌّرْضِ
(3:129... And to Allah belongs all that is in the heavens and all that is in the Earth.) 3:129, everything is indeed the property of Allah and all are servants in His Hand.
يَغْفِرُ لِمَن يَشَآءُ وَيُعَذِّبُ مَن يَشَآءُ
(He forgives whom He wills, and punishes whom He wills.) for His is the decision and none can resist His decision. Allah is never asked about what He does, while they will be asked,
وَاللَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ
(and Allah is Oft-Forgiving, Most Merciful.)(3:129 end...)
غزوہ بدر اور تائید الٰہی آنحضرت ﷺ کا یہ تسلیاں دینا بعض تو کہتے ہیں بدر والے دن تھا حسن بصری عامر شعبی ربیع بن انس وغیرہ کا یہی قول ہے ابن جریر کا بھی اسی سے اتفاق ہے عامر شعبی کا قول ہے کہ مسلمانوں کو یہ خبر ملی تھی کہ کرز بن جابر مشرکوں کی امداد میں آئے گا اس پر اس امداد کا وعدہ ہوا تھا لیکن نہ وہ نہیں آیا اور نہ ہی یہ گئے ربیع بن انس فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی مدد کیلئے پہلے تو ایک ہزار فرشتے بھیجے پھر تین ہزار ہوگئے پھر پانچ ہزار، یہاں اس آیت میں تین ہزار اور پانچ ہزار سے مدد کرنے کا وعدہ ہے اور بدر کے واقعہ کے بیان کے وقت ایک ہزار فرشتوں کی امداد کا وعدہ ہے۔ فرمایا آیت (اَنِّىْ مُمِدُّكُمْ بِاَلْفٍ مِّنَ الْمَلٰۗىِٕكَةِ مُرْدِفِيْنَ) 8۔ الانفال :9) اور تطبیق دونوں آیتوں میں یہی ہے کیونکہ مردفین کا لفظ موجود ہے پس پہلے ایک ہزار اترے پھر ان کے بعد تین ہزار پورے ہوئے آخر پانچ ہزار ہوگئے، بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ وعدہ جنگ بدر کے لئے تھا نہ کہ جنگ احد کیلئے، بعض کہتے ہیں جنگ احد کے موقعہ پر وعدہ ہوا تھا مجاہد عکرمہ ضحاک زہری موسیٰ بن عقبہ وغیرہ کا یہی قول ہے لیکن وہ کہتے ہیں کہ چونکہ مسلمان میدان چھوڑ کر ہٹ گئے اس لئے یہ فرشتے نازل نہ ہوئے، کیونکہ آیت (وَاِنْ تَصْبِرُوْا وَتَتَّقُوْا لَا يَضُرُّكُمْ كَيْدُھُمْ شَـيْـــًٔـا) 3۔ آل عمران :120) ساتھ ہی فرمایا تھا یعنی اگر تم صبر کرو اور تقویٰ کرو فور کے معنی وجہ اور غضب کے ہیں مسومین کے معنی علامت والے، حضرت علی ؓ فرماتے ہیں فرشتوں کی نشانی بدر والے دن سفید رنگ کے لباس کی تھی اور ان کے گھوڑوں کی نشانی ماتھے کی سفیدی تھی، حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں ان کی نشانی سرخ تھی، حضرت مجاہد فرماتے ہیں گردن کے بالوں اور دم کا نشان تھا اور یہی نشان آپ کے لشکریوں کا تھا یعنی صوف کا۔ مکحول کہتے ہیں فرشتوں کی نشانی ان کی پگڑیاں تھیں جو سیاہ رنگ کے عمامے تھے اور حنین والے دن سرخ رنگ عمامے تھے، ابن عباس فرماتے ہیں بدر کے علاوہ فرشتے کبھی جنگ میں شامل نہیں ہوئے اور سفید رنگ عماموں کی علامت تھی یہ صرف مدد کیلئے اور تعداد بڑھانے کیلئے تھے نہ کہ لڑائی کیلئے، یہ بھی مروی ہے کہ یہ فرشتوں کا نازل کرنا اور تمہیں اس کی خبر دینا صرف تمہاری خوشی، دلجوئی اور اطمینان کیلئے ہے ورنہ اللہ کو قدرت ہے کہ ان کو اتارے بغیر بلکہ بغیر تمہارے لڑے بھی تمہیں غالب کر دے مدد اسی کی طرف سے ہے جیسے اور جگہ ہے آیت (وَلَوْ يَشَاۗءُ اللّٰهُ لَانْتَـصَرَ مِنْهُمْ وَلٰكِنْ لِّيَبْلُوَا۟ بَعْضَكُمْ بِبَعْـضٍ) 47۔ محمد :4) اگر اللہ چاہتا تو ان سے خود ہی بدلہ لے لیتا لیکن وہ ہر ایک کو آزما رہا ہے اللہ تعالیٰ کی راہ میں جو قتل کئے جائیں ان کے اعمال اکارت نہیں ہوتے اللہ انہیں راہ دکھائے گا ان کے اعمال سنوار دے گا اور انہیں جنت میں لے جائے گا جس کی تعریف وہ کرچکا ہے، وہ عزت والا ہے اور اپنے ہر کام میں حکمت رکھتا ہے۔ یہ جہاد کا حکم بھی طرح طرح کی حکمتوں پر مبنی ہے اس سے کفار ہلاک ہوں گے یا ذلیل ہوں گے یا نامراد واپس ہوجائیں گے۔ اس کے بعد بیان ہوتا ہے کہ دنیا اور آخرت کے کل امور اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں، اے نبی ﷺ تمہیں کسی امر کا اختیار نہیں جیسے فرمایا آیت (فَاِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلٰغُ وَعَلَيْنَا الْحِسَابُ) 13۔ الرعد :40) تمہارا ذمہ صرف تبلیغ ہے حساب تو تمہارے ذمہ ہے اور جگہ ہے آیت (لیس علیک ھدھم) الخ، ان کی ہدایت تمہارے ذمہ نہیں اللہ جسے چاہے ہدایت دے اور آیت (اِنَّكَ لَا تَهْدِيْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَهْدِيْ مَنْ يَّشَاۗءُ) 28۔ القصص :56) تو جسے چاہے ہدایت نہیں کرسکتا بلکہ اللہ جسے چاہے ہدایت کرتا ہے، پس میرے بندوں میں تجھے کوئی اختیار نہیں جو حکم پہنچے اسے اوروں کو پہنچا دے تیرے ذمہ یہی ہے ممکن ہے اللہ انہیں توبہ کی توفیق دے اور برائی کے بعد وہ بھلائی کرنے لگیں اور اللہ رحیم ان کی توبہ قبول فرما لے یا ممکن ہے کہ انہیں ان کے کفرو گناہ کی بناء پر عذاب کرے تو یہ ظالم اس کے بھی مستحق ہیں، صحیح بخاری میں ہے رسول اللہ ﷺ صبح کی نماز میں جب دوسری رکعت کے رکوع سے سر اٹھاتے اور دعا (سمع اللہ لمن حمدہ ربناولک الحمد) کہہ لیتے تو فار پر بددعا کرتے کہ اے اللہ فلاں فلاں پر لعنت کر اس کے بارے میں یہ آیت اتری (لَيْسَ لَكَ مِنَ الْاَمْرِ شَيْءٌ اَوْ يَتُوْبَ عَلَيْھِمْ اَوْ يُعَذِّبَھُمْ فَاِنَّھُمْ ظٰلِمُوْنَ) 3۔ آل عمران :128) نازل ہوئی مسند احمد میں ان کافروں کے نام بھی آئے ہیں مثلاً حارث بن ہشام سہیل بن عمرو صفوان بن امیہ اور اسی میں ہے کہ بالآخر ان کو ہدایت نصیب ہوئی اور یہ مسلمان ہوگئے، ایک روایت میں ہے کہ چار آدمیوں پر یہ بد دعا تھی جس سے روک دیئے گئے۔ صحیح بخاری میں ہے کہ حضور ﷺ جب کسی پر بد دعا کرنا یا کسی کے حق میں نیک دعا کرنا چاہتے تو رکوع کے بعد سمع اللہ اور ربنا پڑھ کر دعا مانگتے کبھی کہتے اے اللہ ولید بن ولید سلمہ بن ہشام عیاش بن ابو ربیعہ اور کمزور مومنوں کو کفار سے نجات دے اے اللہ قبیلہ مضر پر اپنی پکڑ اور اپنا عذاب نازل فرما اور ان پر ایسی قحط سالی بھیج جیسی حضرت یوسف کے زمانہ میں تھی یہ دعا با آواز بلند ہوا کرتی تھی اور بعض مرتبہ صبح کی نماز کے قنوت میں یوں بھی کہتے کہ اے اللہ فلاں فلاں پر لعنت بھیج اور عرب کے بعض قبیلوں کے نام لیتے تھے اور روایت میں ہے کہ جنگ احد میں جب آپ کے دندان مبارک شہید ہوئے چہرہ زخمی ہوا خون بہنے لگا تو زبان سے نکل کیا کہ وہ قوم کیسے فلاح پائے گی جس نے اپنے نبی ﷺ کے ساتھ یہ کیا حالانکہ نبی ﷺ اللہ خالق کل کی طرف سے انہیں بلاتا تھا اس وقت یہ آیت (لَيْسَ لَكَ مِنَ الْاَمْرِ شَيْءٌ اَوْ يَتُوْبَ عَلَيْھِمْ اَوْ يُعَذِّبَھُمْ فَاِنَّھُمْ ظٰلِمُوْنَ) 3۔ آل عمران :128) نازل ہوئی، آپ اس غزوے میں ایک گڑھ میں گرپڑے تھے اور خون بہت نکل گیا تھا کچھ تو اس ضعف کی وجہ سے اور کچھ اس وجہ سے کہ دوہری زرہ پہنے ہوئے تھے اٹھ نہ سکے حضرت حذیفہ کے مولیٰ حضرت سالم ؓ پہنچے اور چہرے پر سے خون پونچھا جب افاقہ ہوا تو آپ نے یہ فرمایا اور یہ آیت نازل ہوئی پھر فرماتا ہے کہ زمین و آسمان کی ہر چیز اسی کی ہے سب اس کے غلام ہیں جسے چاہے بخشے جسے چاہے عذاب کرے متصرف وہی ہے جو چاہے حکم کرے کوئی اس پر پرشس نہیں کرسکتا وہ غفور اور رحیم ہے۔
128
View Single
لَيۡسَ لَكَ مِنَ ٱلۡأَمۡرِ شَيۡءٌ أَوۡ يَتُوبَ عَلَيۡهِمۡ أَوۡ يُعَذِّبَهُمۡ فَإِنَّهُمۡ ظَٰلِمُونَ
This matter is not for you to decide – whether He guides them to repent or punishes them, for they are the unjust.
(اے حبیب! اب) آپ کا اس معاملہ سے کوئی تعلق نہیں چاہے تو اللہ انہیں توبہ کی توفیق دے یا انہیں عذاب دے کیونکہ وہ ظالم ہیں
Tafsir Ibn Kathir
Allah said
"Allah made it not but as a message of good news for you and as an assurance to your hearts"
. This Ayah means, "Allah sent down angels and told you about their descent to encourage you and to comfort and reassure your hearts. You should know that victory only comes from Allah and that if He willed, He would have defeated your enemy without you having to fight them." For instance, Allah said after commanding the believers to fight,
ذلِكَ وَلَوْ يَشَآء اللَّهُ لاَنْتَصَرَ مِنْهُمْ وَلَـكِن لّيَبْلُوَ بَعْضَكُمْ بِبَعْضٍ وَالَّذِينَ قُتِلُواْ فِى سَبِيلِ اللَّهِ فَلَن يُضِلَّ أَعْمَـلَهُمْ سَيَهْدِيهِمْ وَيُصْلِحُ بَالَهُمْ وَيُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ عَرَّفَهَا لَهُمْ
(But if it had been Allah's will, He Himself could certainly have punished them (without you). But (He lets you fight) in order to test some of you with others. But those who are killed in the way of Allah, He will never let their deeds be lost. He will guide them and set right their state. And admit them to Paradise which He has made known to them) 47:4-6.
This is why Allah said here,
وَمَا جَعَلَهُ اللَّهُ إِلاَّ بُشْرَى لَكُمْ وَلِتَطْمَئِنَّ قُلُوبُكُمْ بِهِ وَمَا النَّصْرُ إِلاَّ مِنْ عِندِ اللَّهِ الْعَزِيزِ الْحَكِيمِ
(Allah made it not but as a message of good news for you and as an assurance to your hearts. And there is no victory except from Allah, the All-Mighty, the All-Wise) 3:126.
This Ayah means, "Allah is the Almighty Whose power can never be undermined, and He has the perfect wisdom in His decrees and in all His decisions." Allah said,
لِيَقْطَعَ طَرَفاً مِّنَ الَّذِينَ كَفَرُواْ
(That He might cut off a part of those who disbelieve,) 3:127 meaning, out of His wisdom, He commands you to perform Jihad and to fight.
Allah then mentions the various consequences of performing Jihad against the disbelievers. For instance, Allah said,
لِيَقْطَعَ طَرَفاً
(That He might cut off a part...) meaning, to cause a part of a nation to perish,
مِّنَ الَّذِينَ كَفَرُواْ أَوْ يَكْبِتَهُمْ
(of those who disbelieve, or expose them to infamy,) by disgracing them and forcing them to return with only their rage, having failed in their aim to harm you. This is why Allah said next,
أَوْ يَكْبِتَهُمْ فَيَنقَلِبُواْ
(or expose them to infamy, so that they retire) to go back to their land,
خَآئِبِينَ
(frustrated) without achieving their aims.
Allah then mentions a statement that testifies that the decision in this life and the Hereafter is for Him Alone without partners. (3:127)
لَيْسَ لَكَ مِنَ الاٌّمْرِ شَىْءٌ
(Not for you is the decision) 3:128
meaning, "The matter is all in My Hand." Allah also said,
فَإِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلَـغُ وَعَلَيْنَا الْحِسَابُ
(your duty is only to convey (the Message) and on Us is the reckoning.) 13:40, and,
لَّيْسَ عَلَيْكَ هُدَاهُمْ وَلَـكِنَّ اللَّهَ يَهْدِى مَن يَشَآءُ
(Not upon you is their guidance, but Allah guides whom He wills.) 2:272, and,
إِنَّكَ لاَ تَهْدِى مَنْ أَحْبَبْتَ وَلَـكِنَّ اللَّهَ يَهْدِى مَن يَشَآءُ
(Verily, you guide not whom you like, but Allah guides whom He wills) 28: 56.
Muhammad bin Ishaq said that Allah's statement,
لَيْسَ لَكَ مِنَ الاٌّمْرِ شَىْءٌ
(3:128... Not for you is the decision;), means, "No part of the decision regarding My servants is yours, except what I command you." Allah then mentions the rest of the consequences of Jihad,
أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ
(whether He pardons them) concerning the acts of disbelief that they commit, thus delivering them from misguidance to the guidance.
أَوْ يُعَذِّبَهُمْ
(or punishes them;) in this life and the Hereafter because of their disbelief and errors,
فَإِنَّهُمْ ظَـلِمُونَ
(verily, they are the wrongdoers), and thus, they deserve such a fate.(3:128 end)
Al-Bukhari recorded that, Salim bin `Abdullah said that his father said that he heard the Messenger of Allah ﷺ saying -- when he raised his head from bowing in the second unit of the Fajr prayer -- "O Allah! Curse so-and-so," after saying; Sami` Allahu Liman Hamidah, Rabbana wa lakal-Hamd. Thereafter, Allah revealed this Ayah,
لَيْسَ لَكَ مِنَ الاٌّمْرِ شَىْءٌ
(Not for you is the decision;) This was also recorded by An-Nasa'i. Imam Ahmad recorded that Salim bin `Abdullah said that his father said that he heard the Messenger of Allah ﷺ saying,
«اللَّهُمَّ الْعَنْ فُلَانًا، اللَّهُمَّ الْعَنِ الْحَارِثَ بْنَ هِشَامٍ، اللَّهُمَّ الْعَنْ سُهَيْلَ بْنَ عَمْرٍو، اللَّهُمَّ الْعَنْ صَفْوَانَ بْنَ أُمَيَّة»
(O Allah! Curse so-and-so. O Allah! Curse Al-Harith bin Hisham. O Allah! Curse Suhayl bin `Amr. O Allah! Curse Safwan bin Umayyah.)
Thereafter, this Ayah was revealed;
لَيْسَ لَكَ مِنَ الاٌّمْرِ شَىْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَـلِمُونَ
(Not for you is the decision; whether He turns in mercy to (pardon) them or punishes them; verily, they are the wrongdoers) 3:128.
All these persons were pardoned (after they embraced Islam later on).
Al-Bukhari recorded that Abu Hurayrah said that when Allah's Messenger ﷺ would supplicate against or for someone, he would do so when he was finished bowing and saying; Sami` Allahu Liman Hamidah, Rabbana wa lakal-Hamd. He would then say, (the Qunut)
«اللَّهُمَّ أَنْجِ الْوَلِيدَ بْنَ الْوَلِيدِ، وَسَلَمَةَ بْنَ هِشَامٍ وَعَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ، وَالْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ، اللَّهُمَّ اشْدُدْ وَطْأَتَكَ عَلى مُضَرَ، وَاجْعَلْهَا عَلَيْهِمْ سِنِينَ كَسِنِي يُوسُف»
(O Allah! Save Al-Walid bin Al-Walid, Salamah bin Hisham, `Ayyash bin Abi Rabi`ah and the weak and the helpless people among the faithful believers. O Allah! Be hard on the tribe of Mudar and let them suffer from years of famine like that of the time of Yusuf. )
He would say this supplication aloud. He sometimes would supplicate during the Dawn prayer, "O Allah! Curse so-and-so (persons)," mentioning some Arab tribes. Thereafter, Allah revealed,
لَيْسَ لَكَ مِنَ الاٌّمْرِ شَىْءٌ
(Not for you is the decision.)
Al-Bukhari recorded that Hamid and Thabit said that, Anas bin Malik said that the Prophet was injured during the battle of Uhud and said,
«كَيْفَ يُفْلِحُ قَوْمٌ شَجُّوا نَبِيَّهُمْ؟»
(How can a people achieve success after having injured their Prophet)
Thereafter,
لَيْسَ لَكَ مِنَ الاٌّمْرِ شَىْءٌ
(Not for you is the decision,) was revealed.
Imam Ahmad recorded that Anas said that, the Prophet's front tooth was broken during the battle of Uhud and he also sustained injuries on his forehead until blood dripped on his face. The Prophet said,
«كَيْفَ يُفْلِحُ قَوْمٌ فَعَلُوا هذَا بِنَبِيِّهِمْ، وَهُوَ يَدْعُوهُمْ إِلى رَبِّهِمْ عَزَّ وَجَلَّ؟»
(How can a people achieve success after having done this to their Prophet who is calling them to their Lord, the Exalted and Most Honored) Allah revealed,
لَيْسَ لَكَ مِنَ الاٌّمْرِ شَىْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَـلِمُونَ
(Not for you is the decision; whether He turns in mercy to (pardons) them or punishes them; verily, they are the wrongdoers.) Muslim also collected this Hadith.
Allah then said,
وَللَّهِ مَا فِى السَّمَـوَتِ وَمَا فِى الاٌّرْضِ
(3:129... And to Allah belongs all that is in the heavens and all that is in the Earth.) 3:129, everything is indeed the property of Allah and all are servants in His Hand.
يَغْفِرُ لِمَن يَشَآءُ وَيُعَذِّبُ مَن يَشَآءُ
(He forgives whom He wills, and punishes whom He wills.) for His is the decision and none can resist His decision. Allah is never asked about what He does, while they will be asked,
وَاللَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ
(and Allah is Oft-Forgiving, Most Merciful.)(3:129 end...)
غزوہ بدر اور تائید الٰہی آنحضرت ﷺ کا یہ تسلیاں دینا بعض تو کہتے ہیں بدر والے دن تھا حسن بصری عامر شعبی ربیع بن انس وغیرہ کا یہی قول ہے ابن جریر کا بھی اسی سے اتفاق ہے عامر شعبی کا قول ہے کہ مسلمانوں کو یہ خبر ملی تھی کہ کرز بن جابر مشرکوں کی امداد میں آئے گا اس پر اس امداد کا وعدہ ہوا تھا لیکن نہ وہ نہیں آیا اور نہ ہی یہ گئے ربیع بن انس فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی مدد کیلئے پہلے تو ایک ہزار فرشتے بھیجے پھر تین ہزار ہوگئے پھر پانچ ہزار، یہاں اس آیت میں تین ہزار اور پانچ ہزار سے مدد کرنے کا وعدہ ہے اور بدر کے واقعہ کے بیان کے وقت ایک ہزار فرشتوں کی امداد کا وعدہ ہے۔ فرمایا آیت (اَنِّىْ مُمِدُّكُمْ بِاَلْفٍ مِّنَ الْمَلٰۗىِٕكَةِ مُرْدِفِيْنَ) 8۔ الانفال :9) اور تطبیق دونوں آیتوں میں یہی ہے کیونکہ مردفین کا لفظ موجود ہے پس پہلے ایک ہزار اترے پھر ان کے بعد تین ہزار پورے ہوئے آخر پانچ ہزار ہوگئے، بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ وعدہ جنگ بدر کے لئے تھا نہ کہ جنگ احد کیلئے، بعض کہتے ہیں جنگ احد کے موقعہ پر وعدہ ہوا تھا مجاہد عکرمہ ضحاک زہری موسیٰ بن عقبہ وغیرہ کا یہی قول ہے لیکن وہ کہتے ہیں کہ چونکہ مسلمان میدان چھوڑ کر ہٹ گئے اس لئے یہ فرشتے نازل نہ ہوئے، کیونکہ آیت (وَاِنْ تَصْبِرُوْا وَتَتَّقُوْا لَا يَضُرُّكُمْ كَيْدُھُمْ شَـيْـــًٔـا) 3۔ آل عمران :120) ساتھ ہی فرمایا تھا یعنی اگر تم صبر کرو اور تقویٰ کرو فور کے معنی وجہ اور غضب کے ہیں مسومین کے معنی علامت والے، حضرت علی ؓ فرماتے ہیں فرشتوں کی نشانی بدر والے دن سفید رنگ کے لباس کی تھی اور ان کے گھوڑوں کی نشانی ماتھے کی سفیدی تھی، حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں ان کی نشانی سرخ تھی، حضرت مجاہد فرماتے ہیں گردن کے بالوں اور دم کا نشان تھا اور یہی نشان آپ کے لشکریوں کا تھا یعنی صوف کا۔ مکحول کہتے ہیں فرشتوں کی نشانی ان کی پگڑیاں تھیں جو سیاہ رنگ کے عمامے تھے اور حنین والے دن سرخ رنگ عمامے تھے، ابن عباس فرماتے ہیں بدر کے علاوہ فرشتے کبھی جنگ میں شامل نہیں ہوئے اور سفید رنگ عماموں کی علامت تھی یہ صرف مدد کیلئے اور تعداد بڑھانے کیلئے تھے نہ کہ لڑائی کیلئے، یہ بھی مروی ہے کہ یہ فرشتوں کا نازل کرنا اور تمہیں اس کی خبر دینا صرف تمہاری خوشی، دلجوئی اور اطمینان کیلئے ہے ورنہ اللہ کو قدرت ہے کہ ان کو اتارے بغیر بلکہ بغیر تمہارے لڑے بھی تمہیں غالب کر دے مدد اسی کی طرف سے ہے جیسے اور جگہ ہے آیت (وَلَوْ يَشَاۗءُ اللّٰهُ لَانْتَـصَرَ مِنْهُمْ وَلٰكِنْ لِّيَبْلُوَا۟ بَعْضَكُمْ بِبَعْـضٍ) 47۔ محمد :4) اگر اللہ چاہتا تو ان سے خود ہی بدلہ لے لیتا لیکن وہ ہر ایک کو آزما رہا ہے اللہ تعالیٰ کی راہ میں جو قتل کئے جائیں ان کے اعمال اکارت نہیں ہوتے اللہ انہیں راہ دکھائے گا ان کے اعمال سنوار دے گا اور انہیں جنت میں لے جائے گا جس کی تعریف وہ کرچکا ہے، وہ عزت والا ہے اور اپنے ہر کام میں حکمت رکھتا ہے۔ یہ جہاد کا حکم بھی طرح طرح کی حکمتوں پر مبنی ہے اس سے کفار ہلاک ہوں گے یا ذلیل ہوں گے یا نامراد واپس ہوجائیں گے۔ اس کے بعد بیان ہوتا ہے کہ دنیا اور آخرت کے کل امور اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں، اے نبی ﷺ تمہیں کسی امر کا اختیار نہیں جیسے فرمایا آیت (فَاِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلٰغُ وَعَلَيْنَا الْحِسَابُ) 13۔ الرعد :40) تمہارا ذمہ صرف تبلیغ ہے حساب تو تمہارے ذمہ ہے اور جگہ ہے آیت (لیس علیک ھدھم) الخ، ان کی ہدایت تمہارے ذمہ نہیں اللہ جسے چاہے ہدایت دے اور آیت (اِنَّكَ لَا تَهْدِيْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَهْدِيْ مَنْ يَّشَاۗءُ) 28۔ القصص :56) تو جسے چاہے ہدایت نہیں کرسکتا بلکہ اللہ جسے چاہے ہدایت کرتا ہے، پس میرے بندوں میں تجھے کوئی اختیار نہیں جو حکم پہنچے اسے اوروں کو پہنچا دے تیرے ذمہ یہی ہے ممکن ہے اللہ انہیں توبہ کی توفیق دے اور برائی کے بعد وہ بھلائی کرنے لگیں اور اللہ رحیم ان کی توبہ قبول فرما لے یا ممکن ہے کہ انہیں ان کے کفرو گناہ کی بناء پر عذاب کرے تو یہ ظالم اس کے بھی مستحق ہیں، صحیح بخاری میں ہے رسول اللہ ﷺ صبح کی نماز میں جب دوسری رکعت کے رکوع سے سر اٹھاتے اور دعا (سمع اللہ لمن حمدہ ربناولک الحمد) کہہ لیتے تو فار پر بددعا کرتے کہ اے اللہ فلاں فلاں پر لعنت کر اس کے بارے میں یہ آیت اتری (لَيْسَ لَكَ مِنَ الْاَمْرِ شَيْءٌ اَوْ يَتُوْبَ عَلَيْھِمْ اَوْ يُعَذِّبَھُمْ فَاِنَّھُمْ ظٰلِمُوْنَ) 3۔ آل عمران :128) نازل ہوئی مسند احمد میں ان کافروں کے نام بھی آئے ہیں مثلاً حارث بن ہشام سہیل بن عمرو صفوان بن امیہ اور اسی میں ہے کہ بالآخر ان کو ہدایت نصیب ہوئی اور یہ مسلمان ہوگئے، ایک روایت میں ہے کہ چار آدمیوں پر یہ بد دعا تھی جس سے روک دیئے گئے۔ صحیح بخاری میں ہے کہ حضور ﷺ جب کسی پر بد دعا کرنا یا کسی کے حق میں نیک دعا کرنا چاہتے تو رکوع کے بعد سمع اللہ اور ربنا پڑھ کر دعا مانگتے کبھی کہتے اے اللہ ولید بن ولید سلمہ بن ہشام عیاش بن ابو ربیعہ اور کمزور مومنوں کو کفار سے نجات دے اے اللہ قبیلہ مضر پر اپنی پکڑ اور اپنا عذاب نازل فرما اور ان پر ایسی قحط سالی بھیج جیسی حضرت یوسف کے زمانہ میں تھی یہ دعا با آواز بلند ہوا کرتی تھی اور بعض مرتبہ صبح کی نماز کے قنوت میں یوں بھی کہتے کہ اے اللہ فلاں فلاں پر لعنت بھیج اور عرب کے بعض قبیلوں کے نام لیتے تھے اور روایت میں ہے کہ جنگ احد میں جب آپ کے دندان مبارک شہید ہوئے چہرہ زخمی ہوا خون بہنے لگا تو زبان سے نکل کیا کہ وہ قوم کیسے فلاح پائے گی جس نے اپنے نبی ﷺ کے ساتھ یہ کیا حالانکہ نبی ﷺ اللہ خالق کل کی طرف سے انہیں بلاتا تھا اس وقت یہ آیت (لَيْسَ لَكَ مِنَ الْاَمْرِ شَيْءٌ اَوْ يَتُوْبَ عَلَيْھِمْ اَوْ يُعَذِّبَھُمْ فَاِنَّھُمْ ظٰلِمُوْنَ) 3۔ آل عمران :128) نازل ہوئی، آپ اس غزوے میں ایک گڑھ میں گرپڑے تھے اور خون بہت نکل گیا تھا کچھ تو اس ضعف کی وجہ سے اور کچھ اس وجہ سے کہ دوہری زرہ پہنے ہوئے تھے اٹھ نہ سکے حضرت حذیفہ کے مولیٰ حضرت سالم ؓ پہنچے اور چہرے پر سے خون پونچھا جب افاقہ ہوا تو آپ نے یہ فرمایا اور یہ آیت نازل ہوئی پھر فرماتا ہے کہ زمین و آسمان کی ہر چیز اسی کی ہے سب اس کے غلام ہیں جسے چاہے بخشے جسے چاہے عذاب کرے متصرف وہی ہے جو چاہے حکم کرے کوئی اس پر پرشس نہیں کرسکتا وہ غفور اور رحیم ہے۔
129
View Single
وَلِلَّهِ مَا فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَا فِي ٱلۡأَرۡضِۚ يَغۡفِرُ لِمَن يَشَآءُ وَيُعَذِّبُ مَن يَشَآءُۚ وَٱللَّهُ غَفُورٞ رَّحِيمٞ
And to Allah only belongs all whatever is in the heavens and all whatever is in the earth; He may forgive whomever He wills, and punish whomever He wills; and Allah is Oft Forgiving, Most Merciful.
اور اللہ ہی کے لئے ہے جو کچھ آسمانوں میں اور زمین میں ہے۔ وہ جسے چاہے بخش دے جسے چاہے عذاب دے، اور اللہ نہایت بخشنے والا مہربان ہے
Tafsir Ibn Kathir
Allah said
"Allah made it not but as a message of good news for you and as an assurance to your hearts"
. This Ayah means, "Allah sent down angels and told you about their descent to encourage you and to comfort and reassure your hearts. You should know that victory only comes from Allah and that if He willed, He would have defeated your enemy without you having to fight them." For instance, Allah said after commanding the believers to fight,
ذلِكَ وَلَوْ يَشَآء اللَّهُ لاَنْتَصَرَ مِنْهُمْ وَلَـكِن لّيَبْلُوَ بَعْضَكُمْ بِبَعْضٍ وَالَّذِينَ قُتِلُواْ فِى سَبِيلِ اللَّهِ فَلَن يُضِلَّ أَعْمَـلَهُمْ سَيَهْدِيهِمْ وَيُصْلِحُ بَالَهُمْ وَيُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ عَرَّفَهَا لَهُمْ
(But if it had been Allah's will, He Himself could certainly have punished them (without you). But (He lets you fight) in order to test some of you with others. But those who are killed in the way of Allah, He will never let their deeds be lost. He will guide them and set right their state. And admit them to Paradise which He has made known to them) 47:4-6.
This is why Allah said here,
وَمَا جَعَلَهُ اللَّهُ إِلاَّ بُشْرَى لَكُمْ وَلِتَطْمَئِنَّ قُلُوبُكُمْ بِهِ وَمَا النَّصْرُ إِلاَّ مِنْ عِندِ اللَّهِ الْعَزِيزِ الْحَكِيمِ
(Allah made it not but as a message of good news for you and as an assurance to your hearts. And there is no victory except from Allah, the All-Mighty, the All-Wise) 3:126.
This Ayah means, "Allah is the Almighty Whose power can never be undermined, and He has the perfect wisdom in His decrees and in all His decisions." Allah said,
لِيَقْطَعَ طَرَفاً مِّنَ الَّذِينَ كَفَرُواْ
(That He might cut off a part of those who disbelieve,) 3:127 meaning, out of His wisdom, He commands you to perform Jihad and to fight.
Allah then mentions the various consequences of performing Jihad against the disbelievers. For instance, Allah said,
لِيَقْطَعَ طَرَفاً
(That He might cut off a part...) meaning, to cause a part of a nation to perish,
مِّنَ الَّذِينَ كَفَرُواْ أَوْ يَكْبِتَهُمْ
(of those who disbelieve, or expose them to infamy,) by disgracing them and forcing them to return with only their rage, having failed in their aim to harm you. This is why Allah said next,
أَوْ يَكْبِتَهُمْ فَيَنقَلِبُواْ
(or expose them to infamy, so that they retire) to go back to their land,
خَآئِبِينَ
(frustrated) without achieving their aims.
Allah then mentions a statement that testifies that the decision in this life and the Hereafter is for Him Alone without partners. (3:127)
لَيْسَ لَكَ مِنَ الاٌّمْرِ شَىْءٌ
(Not for you is the decision) 3:128
meaning, "The matter is all in My Hand." Allah also said,
فَإِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلَـغُ وَعَلَيْنَا الْحِسَابُ
(your duty is only to convey (the Message) and on Us is the reckoning.) 13:40, and,
لَّيْسَ عَلَيْكَ هُدَاهُمْ وَلَـكِنَّ اللَّهَ يَهْدِى مَن يَشَآءُ
(Not upon you is their guidance, but Allah guides whom He wills.) 2:272, and,
إِنَّكَ لاَ تَهْدِى مَنْ أَحْبَبْتَ وَلَـكِنَّ اللَّهَ يَهْدِى مَن يَشَآءُ
(Verily, you guide not whom you like, but Allah guides whom He wills) 28: 56.
Muhammad bin Ishaq said that Allah's statement,
لَيْسَ لَكَ مِنَ الاٌّمْرِ شَىْءٌ
(3:128... Not for you is the decision;), means, "No part of the decision regarding My servants is yours, except what I command you." Allah then mentions the rest of the consequences of Jihad,
أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ
(whether He pardons them) concerning the acts of disbelief that they commit, thus delivering them from misguidance to the guidance.
أَوْ يُعَذِّبَهُمْ
(or punishes them;) in this life and the Hereafter because of their disbelief and errors,
فَإِنَّهُمْ ظَـلِمُونَ
(verily, they are the wrongdoers), and thus, they deserve such a fate.(3:128 end)
Al-Bukhari recorded that, Salim bin `Abdullah said that his father said that he heard the Messenger of Allah ﷺ saying -- when he raised his head from bowing in the second unit of the Fajr prayer -- "O Allah! Curse so-and-so," after saying; Sami` Allahu Liman Hamidah, Rabbana wa lakal-Hamd. Thereafter, Allah revealed this Ayah,
لَيْسَ لَكَ مِنَ الاٌّمْرِ شَىْءٌ
(Not for you is the decision;) This was also recorded by An-Nasa'i. Imam Ahmad recorded that Salim bin `Abdullah said that his father said that he heard the Messenger of Allah ﷺ saying,
«اللَّهُمَّ الْعَنْ فُلَانًا، اللَّهُمَّ الْعَنِ الْحَارِثَ بْنَ هِشَامٍ، اللَّهُمَّ الْعَنْ سُهَيْلَ بْنَ عَمْرٍو، اللَّهُمَّ الْعَنْ صَفْوَانَ بْنَ أُمَيَّة»
(O Allah! Curse so-and-so. O Allah! Curse Al-Harith bin Hisham. O Allah! Curse Suhayl bin `Amr. O Allah! Curse Safwan bin Umayyah.)
Thereafter, this Ayah was revealed;
لَيْسَ لَكَ مِنَ الاٌّمْرِ شَىْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَـلِمُونَ
(Not for you is the decision; whether He turns in mercy to (pardon) them or punishes them; verily, they are the wrongdoers) 3:128.
All these persons were pardoned (after they embraced Islam later on).
Al-Bukhari recorded that Abu Hurayrah said that when Allah's Messenger ﷺ would supplicate against or for someone, he would do so when he was finished bowing and saying; Sami` Allahu Liman Hamidah, Rabbana wa lakal-Hamd. He would then say, (the Qunut)
«اللَّهُمَّ أَنْجِ الْوَلِيدَ بْنَ الْوَلِيدِ، وَسَلَمَةَ بْنَ هِشَامٍ وَعَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ، وَالْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ، اللَّهُمَّ اشْدُدْ وَطْأَتَكَ عَلى مُضَرَ، وَاجْعَلْهَا عَلَيْهِمْ سِنِينَ كَسِنِي يُوسُف»
(O Allah! Save Al-Walid bin Al-Walid, Salamah bin Hisham, `Ayyash bin Abi Rabi`ah and the weak and the helpless people among the faithful believers. O Allah! Be hard on the tribe of Mudar and let them suffer from years of famine like that of the time of Yusuf. )
He would say this supplication aloud. He sometimes would supplicate during the Dawn prayer, "O Allah! Curse so-and-so (persons)," mentioning some Arab tribes. Thereafter, Allah revealed,
لَيْسَ لَكَ مِنَ الاٌّمْرِ شَىْءٌ
(Not for you is the decision.)
Al-Bukhari recorded that Hamid and Thabit said that, Anas bin Malik said that the Prophet was injured during the battle of Uhud and said,
«كَيْفَ يُفْلِحُ قَوْمٌ شَجُّوا نَبِيَّهُمْ؟»
(How can a people achieve success after having injured their Prophet)
Thereafter,
لَيْسَ لَكَ مِنَ الاٌّمْرِ شَىْءٌ
(Not for you is the decision,) was revealed.
Imam Ahmad recorded that Anas said that, the Prophet's front tooth was broken during the battle of Uhud and he also sustained injuries on his forehead until blood dripped on his face. The Prophet said,
«كَيْفَ يُفْلِحُ قَوْمٌ فَعَلُوا هذَا بِنَبِيِّهِمْ، وَهُوَ يَدْعُوهُمْ إِلى رَبِّهِمْ عَزَّ وَجَلَّ؟»
(How can a people achieve success after having done this to their Prophet who is calling them to their Lord, the Exalted and Most Honored) Allah revealed,
لَيْسَ لَكَ مِنَ الاٌّمْرِ شَىْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَـلِمُونَ
(Not for you is the decision; whether He turns in mercy to (pardons) them or punishes them; verily, they are the wrongdoers.) Muslim also collected this Hadith.
Allah then said,
وَللَّهِ مَا فِى السَّمَـوَتِ وَمَا فِى الاٌّرْضِ
(3:129... And to Allah belongs all that is in the heavens and all that is in the Earth.) 3:129, everything is indeed the property of Allah and all are servants in His Hand.
يَغْفِرُ لِمَن يَشَآءُ وَيُعَذِّبُ مَن يَشَآءُ
(He forgives whom He wills, and punishes whom He wills.) for His is the decision and none can resist His decision. Allah is never asked about what He does, while they will be asked,
وَاللَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ
(and Allah is Oft-Forgiving, Most Merciful.)(3:129 end...)
غزوہ بدر اور تائید الٰہی آنحضرت ﷺ کا یہ تسلیاں دینا بعض تو کہتے ہیں بدر والے دن تھا حسن بصری عامر شعبی ربیع بن انس وغیرہ کا یہی قول ہے ابن جریر کا بھی اسی سے اتفاق ہے عامر شعبی کا قول ہے کہ مسلمانوں کو یہ خبر ملی تھی کہ کرز بن جابر مشرکوں کی امداد میں آئے گا اس پر اس امداد کا وعدہ ہوا تھا لیکن نہ وہ نہیں آیا اور نہ ہی یہ گئے ربیع بن انس فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی مدد کیلئے پہلے تو ایک ہزار فرشتے بھیجے پھر تین ہزار ہوگئے پھر پانچ ہزار، یہاں اس آیت میں تین ہزار اور پانچ ہزار سے مدد کرنے کا وعدہ ہے اور بدر کے واقعہ کے بیان کے وقت ایک ہزار فرشتوں کی امداد کا وعدہ ہے۔ فرمایا آیت (اَنِّىْ مُمِدُّكُمْ بِاَلْفٍ مِّنَ الْمَلٰۗىِٕكَةِ مُرْدِفِيْنَ) 8۔ الانفال :9) اور تطبیق دونوں آیتوں میں یہی ہے کیونکہ مردفین کا لفظ موجود ہے پس پہلے ایک ہزار اترے پھر ان کے بعد تین ہزار پورے ہوئے آخر پانچ ہزار ہوگئے، بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ وعدہ جنگ بدر کے لئے تھا نہ کہ جنگ احد کیلئے، بعض کہتے ہیں جنگ احد کے موقعہ پر وعدہ ہوا تھا مجاہد عکرمہ ضحاک زہری موسیٰ بن عقبہ وغیرہ کا یہی قول ہے لیکن وہ کہتے ہیں کہ چونکہ مسلمان میدان چھوڑ کر ہٹ گئے اس لئے یہ فرشتے نازل نہ ہوئے، کیونکہ آیت (وَاِنْ تَصْبِرُوْا وَتَتَّقُوْا لَا يَضُرُّكُمْ كَيْدُھُمْ شَـيْـــًٔـا) 3۔ آل عمران :120) ساتھ ہی فرمایا تھا یعنی اگر تم صبر کرو اور تقویٰ کرو فور کے معنی وجہ اور غضب کے ہیں مسومین کے معنی علامت والے، حضرت علی ؓ فرماتے ہیں فرشتوں کی نشانی بدر والے دن سفید رنگ کے لباس کی تھی اور ان کے گھوڑوں کی نشانی ماتھے کی سفیدی تھی، حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں ان کی نشانی سرخ تھی، حضرت مجاہد فرماتے ہیں گردن کے بالوں اور دم کا نشان تھا اور یہی نشان آپ کے لشکریوں کا تھا یعنی صوف کا۔ مکحول کہتے ہیں فرشتوں کی نشانی ان کی پگڑیاں تھیں جو سیاہ رنگ کے عمامے تھے اور حنین والے دن سرخ رنگ عمامے تھے، ابن عباس فرماتے ہیں بدر کے علاوہ فرشتے کبھی جنگ میں شامل نہیں ہوئے اور سفید رنگ عماموں کی علامت تھی یہ صرف مدد کیلئے اور تعداد بڑھانے کیلئے تھے نہ کہ لڑائی کیلئے، یہ بھی مروی ہے کہ یہ فرشتوں کا نازل کرنا اور تمہیں اس کی خبر دینا صرف تمہاری خوشی، دلجوئی اور اطمینان کیلئے ہے ورنہ اللہ کو قدرت ہے کہ ان کو اتارے بغیر بلکہ بغیر تمہارے لڑے بھی تمہیں غالب کر دے مدد اسی کی طرف سے ہے جیسے اور جگہ ہے آیت (وَلَوْ يَشَاۗءُ اللّٰهُ لَانْتَـصَرَ مِنْهُمْ وَلٰكِنْ لِّيَبْلُوَا۟ بَعْضَكُمْ بِبَعْـضٍ) 47۔ محمد :4) اگر اللہ چاہتا تو ان سے خود ہی بدلہ لے لیتا لیکن وہ ہر ایک کو آزما رہا ہے اللہ تعالیٰ کی راہ میں جو قتل کئے جائیں ان کے اعمال اکارت نہیں ہوتے اللہ انہیں راہ دکھائے گا ان کے اعمال سنوار دے گا اور انہیں جنت میں لے جائے گا جس کی تعریف وہ کرچکا ہے، وہ عزت والا ہے اور اپنے ہر کام میں حکمت رکھتا ہے۔ یہ جہاد کا حکم بھی طرح طرح کی حکمتوں پر مبنی ہے اس سے کفار ہلاک ہوں گے یا ذلیل ہوں گے یا نامراد واپس ہوجائیں گے۔ اس کے بعد بیان ہوتا ہے کہ دنیا اور آخرت کے کل امور اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں، اے نبی ﷺ تمہیں کسی امر کا اختیار نہیں جیسے فرمایا آیت (فَاِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلٰغُ وَعَلَيْنَا الْحِسَابُ) 13۔ الرعد :40) تمہارا ذمہ صرف تبلیغ ہے حساب تو تمہارے ذمہ ہے اور جگہ ہے آیت (لیس علیک ھدھم) الخ، ان کی ہدایت تمہارے ذمہ نہیں اللہ جسے چاہے ہدایت دے اور آیت (اِنَّكَ لَا تَهْدِيْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَهْدِيْ مَنْ يَّشَاۗءُ) 28۔ القصص :56) تو جسے چاہے ہدایت نہیں کرسکتا بلکہ اللہ جسے چاہے ہدایت کرتا ہے، پس میرے بندوں میں تجھے کوئی اختیار نہیں جو حکم پہنچے اسے اوروں کو پہنچا دے تیرے ذمہ یہی ہے ممکن ہے اللہ انہیں توبہ کی توفیق دے اور برائی کے بعد وہ بھلائی کرنے لگیں اور اللہ رحیم ان کی توبہ قبول فرما لے یا ممکن ہے کہ انہیں ان کے کفرو گناہ کی بناء پر عذاب کرے تو یہ ظالم اس کے بھی مستحق ہیں، صحیح بخاری میں ہے رسول اللہ ﷺ صبح کی نماز میں جب دوسری رکعت کے رکوع سے سر اٹھاتے اور دعا (سمع اللہ لمن حمدہ ربناولک الحمد) کہہ لیتے تو فار پر بددعا کرتے کہ اے اللہ فلاں فلاں پر لعنت کر اس کے بارے میں یہ آیت اتری (لَيْسَ لَكَ مِنَ الْاَمْرِ شَيْءٌ اَوْ يَتُوْبَ عَلَيْھِمْ اَوْ يُعَذِّبَھُمْ فَاِنَّھُمْ ظٰلِمُوْنَ) 3۔ آل عمران :128) نازل ہوئی مسند احمد میں ان کافروں کے نام بھی آئے ہیں مثلاً حارث بن ہشام سہیل بن عمرو صفوان بن امیہ اور اسی میں ہے کہ بالآخر ان کو ہدایت نصیب ہوئی اور یہ مسلمان ہوگئے، ایک روایت میں ہے کہ چار آدمیوں پر یہ بد دعا تھی جس سے روک دیئے گئے۔ صحیح بخاری میں ہے کہ حضور ﷺ جب کسی پر بد دعا کرنا یا کسی کے حق میں نیک دعا کرنا چاہتے تو رکوع کے بعد سمع اللہ اور ربنا پڑھ کر دعا مانگتے کبھی کہتے اے اللہ ولید بن ولید سلمہ بن ہشام عیاش بن ابو ربیعہ اور کمزور مومنوں کو کفار سے نجات دے اے اللہ قبیلہ مضر پر اپنی پکڑ اور اپنا عذاب نازل فرما اور ان پر ایسی قحط سالی بھیج جیسی حضرت یوسف کے زمانہ میں تھی یہ دعا با آواز بلند ہوا کرتی تھی اور بعض مرتبہ صبح کی نماز کے قنوت میں یوں بھی کہتے کہ اے اللہ فلاں فلاں پر لعنت بھیج اور عرب کے بعض قبیلوں کے نام لیتے تھے اور روایت میں ہے کہ جنگ احد میں جب آپ کے دندان مبارک شہید ہوئے چہرہ زخمی ہوا خون بہنے لگا تو زبان سے نکل کیا کہ وہ قوم کیسے فلاح پائے گی جس نے اپنے نبی ﷺ کے ساتھ یہ کیا حالانکہ نبی ﷺ اللہ خالق کل کی طرف سے انہیں بلاتا تھا اس وقت یہ آیت (لَيْسَ لَكَ مِنَ الْاَمْرِ شَيْءٌ اَوْ يَتُوْبَ عَلَيْھِمْ اَوْ يُعَذِّبَھُمْ فَاِنَّھُمْ ظٰلِمُوْنَ) 3۔ آل عمران :128) نازل ہوئی، آپ اس غزوے میں ایک گڑھ میں گرپڑے تھے اور خون بہت نکل گیا تھا کچھ تو اس ضعف کی وجہ سے اور کچھ اس وجہ سے کہ دوہری زرہ پہنے ہوئے تھے اٹھ نہ سکے حضرت حذیفہ کے مولیٰ حضرت سالم ؓ پہنچے اور چہرے پر سے خون پونچھا جب افاقہ ہوا تو آپ نے یہ فرمایا اور یہ آیت نازل ہوئی پھر فرماتا ہے کہ زمین و آسمان کی ہر چیز اسی کی ہے سب اس کے غلام ہیں جسے چاہے بخشے جسے چاہے عذاب کرے متصرف وہی ہے جو چاہے حکم کرے کوئی اس پر پرشس نہیں کرسکتا وہ غفور اور رحیم ہے۔
130
View Single
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا تَأۡكُلُواْ ٱلرِّبَوٰٓاْ أَضۡعَٰفٗا مُّضَٰعَفَةٗۖ وَٱتَّقُواْ ٱللَّهَ لَعَلَّكُمۡ تُفۡلِحُونَ
O People who Believe! Do not devour usury doubling and quadrupling it; and fear Allah, hoping that you achieve success.
اے ایمان والو! دو گنا اور چوگنا کر کے سود مت کھایا کرو، اور اللہ سے ڈرا کرو تاکہ تم فلاح پاؤ
Tafsir Ibn Kathir
Interest (Riba) is Prohibited
Allah prohibits His believing servants from dealing in Riba and from requiring interest on their capital, just as they used to do during the time of Jahiliyyah. For instance, when the time to pay a loan comes, the creditor would say to the debtor, "Either pay now, or the loan will incur interest." If the debtor asks for deferment of the loan, the creditor would require interest and this would occur year after year until the little capital becomes multiplied many times. Allah also commands His servants to have Taqwa of Him so that they may achieve success in this life and the Hereafter. Allah also threatens them with the Fire and warns them against it, saying,
وَاتَّقُواْ النَّارَ الَّتِى أُعِدَّتْ لِلْكَـفِرِينَ - وَأَطِيعُواْ اللَّهَ وَالرَّسُولَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ
(And fear the Fire, which is prepared for the disbelievers. And obey Allah and the Messenger that you may obtain mercy.) 3:131,132.
The Encouragment to Do Good for which Paradise is the Result
Allah encourages His servants to perform righteous deeds and to rush to accomplish the acts of obedience. Allah said,
وَسَارِعُواْ إِلَى مَغْفِرَةٍ مِّن رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمَـوَتُ وَالاٌّرْضُ أُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِينَ
(And march forth in the way (which leads to) forgiveness from your Lord, and for Paradise as wide as the heavens and the earth, prepared for the Muttaqin (the pious)) 3:133.
Just as the Fire was prepared for the disbelievers. It was reported that the meaning of Allah's statement,
عَرْضُهَا السَّمَـوَتُ وَالاٌّرْضُ
(as wide as the heavens and the earth) draws the attention to the spaciousness of Paradise. For instance, Allah said in another Ayah, while describing the couches of Paradise,
بَطَآئِنُهَا مِنْ إِسْتَبْرَقٍ
(lined with silk brocade) 55:54, so what about their outer covering It was also said that Paradise is as wide as its length, because it is a dome under the Throne. The width and length of a dome or a circle are the same in distance. This is supported by what is found in the Sahih;
«إِذَا سَأَلْتُمُ اللهَ الْجَنَّـةَ فَاسْأَلُوهُ الْفِرْدَوْسَ، فَإِنَّهُ أَعْلَى الْجَنَّـةِ، وَأَوْسَطُ الْجَنَّةِ، وَمِنْهُ تَفَجَّرُ أَنْهَارُ الْجَنَّةِ، وَسَقْفُهَا عَرْشُ الرَّحْمَن»
(When you ask Allah for Paradise, ask Him for Al-Firdaws which is the highest and best part of Paradise. From it originate the rivers of Paradise, and above it is the Throne of the Most Beneficent (Allah).)
This Ayah 3:133 above is similar to Allah's statement in Surat Al-Hadid,
سَابِقُواْ إِلَى مَغْفِرَةٍ مِّن رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا كَعَرْضِ السَّمَآءِ وَالاٌّرْضِ
(Race with one another in hastening towards forgiveness from your Lord (Allah), and Paradise the width whereof is as the width of the heaven and the Earth) 57:21.
Al-Bazzar recorded that Abu Hurayrah said that a man came to the Messenger of Allah ﷺ and asked him, about Allah's statement,
وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمَـوَتُ وَالاٌّرْضُ
(Paradise as wide as the heavens and the Earth) 3:133; "Where is the Fire then" The Prophet said,
«أَرَأَيْتَ اللَّيْلَ إِذَا جَاءَ لَبِسَ كُلَّ شَيْءٍ، فَأَيْنَ النَّهَارُ؟»
(When the night comes, it overtakes everything, so where is the day) The man said, "Where Allah wants it to be." The Prophet said,
«وَكَذلِكَ النَّارُ تَكُونُ حَيْثُ شَاءَ اللهُ عَزَّ وَجَل»
(Similarly, the Fire is where Allah wants it to be.) This Hadith has two possible meanings. First, when we do not see the night during the day, this does not mean that the day is not somewhere else, even though we cannot see it. Such is the case with Hell-fire, for it is where Allah wants it to be. The second meaning is that when the day overcomes this part of the world, the night overtakes the other part. Such is the case with Paradise, for it is in the utmost heights above the heavens and under the Throne. The width of Paradise is, as Allah stated,
كَعَرْضِ السَّمَآءِ وَالاٌّرْضِ
(whereof is as the width of the heaven and the Earth) 57:21.
The Fire, on the other hand, is in the lowest of lows. Therefore, Paradise being as wide as the heavens and Earth does not contradict the fact that the Fire exists wherever Allah wills it to be.
Allah said, while describing the people of Paradise,
الَّذِينَ يُنفِقُونَ فِى السَّرَّآءِ وَالضَّرَّآءِ
(Those who spend (in Allah's cause) in prosperity and in adversity) 3:134, in hard times and easy times, while active (or enthusiastic) and otherwise, healthy or ill, and in all conditions, just as Allah said in another Ayah,
الَّذِينَ يُنفِقُونَ أَمْوَلَهُمْ بِالَّيْلِ وَالنَّهَارِ سِرًّا وَعَلاَنِيَةً
(Those who spend their wealth (in Allah's cause) by night and day, in secret and in public) 2:274 These believers are never distracted from obeying Allah, spending on what pleases Him, being kind to His servants and their relatives, and other acts of righteousness. Allah said,
وَالْكَـظِمِينَ الْغَيْظَ وَالْعَـفِينَ عَنِ النَّاسِ
(who repress anger, and who pardon men;) 3:134 for when they are angry, they control their anger and do act upon it. Rather, they even forgive those who hurt them. Imam Ahmad recorded that Abu Hurayrah said that the Prophet said,
«لَيْسَ الشَّدِيدُ بِالصُّرَعَةِ، وَلكِنَّ الشَّدِيدَ الَّذِي يَمْلِكُ نَفْسَهُ عِنْدَ الْغَضَب»
(The strong person is not he who is able to physically overcome people. The strong person is he who overcomes his rage when he is angry.)
This Hadith is also recorded in the Two Sahihs. Imam Ahmad recorded that Ibn `Abbas said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«مَنْ أَنْظَرَ مُعْسِرًا أَوْ وَضَعَ لَهُ، وَقَاهُ اللهُ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ، أَلَا إِنَّ عَمَلَ الْجَنَّـةِ حَزْنٌ بِرَبْوَةٍ ثَلَاثًا أَلَا إِنَّ عَمَلَ النَّارِ سَهْلٌ بِسَهْوَةٍ. وَالسَّعِيدُ مَنْ وُقِيَ الْفِتَنَ، وَمَا مِنْ جَرْعَةٍ أَحَبُّ إِلَى اللهِ مِنْ جَرْعَةِ غَيْظٍ يَكْظِمُهَا عَبْدٌ، مَا كَظَمَهَا عَبْدٌ للهِ إِلَّا مَلَأَ جَوْفَهُ إِيمَانًا»
(He who gives time to a debtor or forgives him, then Allah will save him from the heat of Jahannam (Hell-fire). Behold! The deeds of Paradise are difficult to reach, for they are on top of a hill, while the deeds of the Fire are easy to find in the lowlands. The happy person is he who is saved from the tests. Verily, there is no dose of anything better to Allah than a dose of rage that the servant controls, and whenever the servant of Allah controls it, he will be internally filled with faith.)
This Hadith was recorded by Imam Ahmad, its chain of narration is good, it does not contain any disparraged narrators, and the meaning is good.
Imam Ahmad recorded that Sahl bin Mu`adh bin Anas said that his father said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«مَنْ كَظَمَ غَيْظًا وَهُوَ قَادِرٌ عَلى أَنْ يُنْفِذَهُ دَعَاهُ اللهُ عَلى رُؤُوسِ الْخَلَائِقِ حَتَّى يُخَيِّرَهُ مِنْ أَيِّ الْحُورِ شَاء»
(Whoever controlled rage while able to act upon it, then Allah will call him while all creation is a witness, until He gives him the choice of any of the Huris (fair females with wide, lovely eyes - as mates for the pious) he wishes.)
Abu Dawud, At-Tirmidhi and Ibn Majah collected this Hadith, which At-Tirmidhi said was "Hasan Gharib".
Ibn Marduwyah recorded that Ibn `Umar said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«مَا تَجَرَّعَ عَبْدٌ مِنْ جَرْعَةٍ أَفْضَلَ أَجْرًا مِنْ جَرْعَةِ غَيْظٍ كَظَمَهَا ابْتِغَاءَ وَجْهِ الله»
(There is not a dose of anything that the servant takes which is better than a dose of control of rage that he feels, when he does it seeking Allah's Face.) Ibn Jarir and Ibn Majah also collected this Hadith.
Allah said,
وَالْكَـظِمِينَ الْغَيْظَ
(who repress anger) meaning, they do not satisfy their rage upon people. Rather, they refrain from harming them and await their rewards with Allah, the Exalted and Most Honored. Allah then said,
وَالْعَـفِينَ عَنِ النَّاسِ
(and who pardon men;) They forgive those who treat them with injustice. Therefore, they do not hold any ill feelings about anyone in their hearts, and this is the most excellent conduct in this regard. This is why Allah said,
وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ
(verily, Allah loves the Muhsinin (the good-doers)).
This good conduct is a type of Ihsan excellence in the religion. There is a Hadith that reads,
«ثَلَاثٌ أُقْسِمُ عَلَيْهِنَّ: مَا نَقَصَ مَالٌ مِنْ صَدَقَةٍ، وَمَا زَادَ اللهُ عَبْدًا بِعَفْوٍ إِلَّا عِزًّا، وَمَنْ تَوَاضَعَ للهِ رَفَعَهُ الله»
(I swear regarding three matters: no charity shall ever decrease the wealth; whenever one forgives people, then Allah will magnify his honor; and he who is humble for Allah, then Allah will raise his rank.)
Allah said,
وَالَّذِينَ إِذَا فَعَلُواْ فَـحِشَةً أَوْ ظَلَمُواْ أَنْفُسَهُمْ ذَكَرُواْ اللَّهَ فَاسْتَغْفَرُواْ لِذُنُوبِهِمْ
(And those who, when they have committed Fahishah or wronged themselves with evil, remember Allah and ask forgiveness for their sins) 3:135.
Therefore, if they commit an error they follow it with repentance and ask forgiveness. Imam Ahmad recorded that Abu Hurayrah said that the Prophet said,
«إِنَّ رَجُلًا أَذْنَبَ ذَنْبًا فَقَالَ: رَبِّ إِنِّي أَذْنَبْتُ ذَنْبًا فَاغْفِرْهُ، فَقَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: عَبْدِي عَمِل ذَنْبًا فَعَلِمَ أَنَّ لَهُ ر&
سود خور جہنمی ہے اور غصہ شیطان کی دین ہے اس سے بچو اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو سودی لین دین سے اور سود خوری سے روک رہا ہے، اہل جاہلیت سودی قرضہ دیتے تھے مدت مقرر ہوتی تھی اگر اس مدت پر روپیہ وصول نہ ہوتا تو مدت بڑھا کر سود پر سود بڑھا دیا کرتے تھے اسی طرح سود در سود ملا کر اصل رقم کئی گنا بڑھ جاتی، اللہ تعالیٰ ایمانداروں کو اس طرح ناحق لوگوں کے مال غصب کرنے سے روک رہا ہے اور تقوے کا حکم دے کر اس پر نجات کا وعدہ کر رہا ہے، پھر آگ سے ڈراتا ہے اور اپنے عذابوں سے دھمکاتا ہے پھر اپنی اور اپنے رسول ﷺ کی اطاعت پر آمادہ کرتا ہے اور اس پر رحم و کرم کا وعدہ دیتا ہے پھر سعادت دارین کے حصول کیلئے نیکیوں کی طرف سبقت کرنے کو فرماتا ہے اور جنت کی تعریف کرتا ہے، چوڑائی کو بیان کر کے لمبائی کا اندازہ سننے والوں پر ہی چھوڑا جاتا ہے جس طرح جنتی فرش کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا آیت (مُتَّكِــــِٕيْنَ عَلٰي فُرُشٍۢ بَطَاۗىِٕنُهَا مِنْ اِسْتَبْرَقٍ) 55۔ الرحمن :54) یعنی اس کا استر نرم ریشم کا ہے تو مطلب یہ ہے کہ جب استر ایسا ہے تو ابرے کا کیا ٹھکانا ہے اسی طرح یہاں بھی بیان ہو رہا ہے کہ جب عرض ساتوں آسمانوں اور ساتویں زمینوں کے برابر ہے تو طول کتنا بڑا ہوگا اور بعض نے کہا ہے کہ عرض و طول یعنی لمبائی چوڑائی دونوں برابر ہے کیونکہ جنت مثل قبہ کے عرش کے نیچے ہے اور جو چیز قبہ نما ہو یا مستدیر ہو اس کا عرض و طول یکساں ہوتا ہے۔ ایک صحیح حدیث میں ہے جب تم اللہ سے جنت مانگو تو فردوس کا سوال کرو وہ سب سے اونچی اور سب سے اچھی جنت ہے اسی جنت سے سب نہریں جاری ہوتی ہیں اور اسی کی چھت اللہ تعالیٰ رحمن رحیم کا عرش ہے، مسند امام احمد میں ہے کہ ہرقل نے حضور ﷺ کی خدمت میں بطور اعتراض کے ایک سوال لکھ بھیجا کہ آپ مجھے اس جنت کی دعوت دے رہے ہیں جس کی چوڑائی آسمان و زمین کے برابر ہے تو یہ فرمایئے کہ پھر جہنم کہاں گئی ؟ حضور ﷺ نے فرمایا یعلیٰ بن مرہ کی ملاقات حمص میں ہوئی تھی کہتے ہیں اس وقت یہ بہت ہی بوڑھا ہوگیا تھا کہنے لگا جب میں نے یہ خط حضور ﷺ کو دیا تو آپ نے اپنی بائیں طرف کے ایک صحابی کو دیا میں نے لوگوں سے پوچھا ان کا کیا نام ہے ؟ لوگوں نے کہا یہ حضرت معاویہ ہیں ؓ حضرت عمر ؓ سے بھی یہی سوال ہوا تھا تو آپ نے فرمایا تھا کہ دن کے وقت رات اور رات کے وقت دن کہاں جاتا ہے ؟ یہودی یہ جواب سن کر کھسیانے ہو کر کہنے لگے کہ یہ توراۃ سے ماخوذ کیا ہوگا، حضرت ابن عباس ؓ سے بھی یہ جواب مروی ہے، ایک مرفوع حدیث میں ہے کسی نے حضور ﷺ سے پوچھا تو آپ نے جواب میں فرمایا جب ہر چیز پر رات آجاتی ہے تو دن کہاں جاتا ہے ؟ اس نے کہا جہاں اللہ چاہے، آپ نے فرمایا اسی طرح جہنم بھی جہاں چاہے (بزار) اس جملہ کے دو معنی ہوتے ہیں ایک تو یہ کہ رات کے وقت ہم گو دن کو نہیں دیکھ سکتے لیکن تاہم دن کا کسی جگہ ہونا ناممکن نہیں، اسی طرح گو جنت کا عرض اتنا ہی ہے لیکن پھر بھی جہنم کے وجود سے انکار نہیں ہوسکتا جہاں اللہ چاہے وہ بھی ہے، دوسرے معنی یہ کہ جب دن ایک طرف چڑھنے لگا رات دوسری جانب ہوتی ہے اسی طرح جنت اعلیٰ علیین میں ہے اور دوزخ اسفل السافلین میں تو کوئی نفی کا امکان ہی نہ رہا واللہ اعلم پھر اللہ تعالیٰ اہل جنت کا وصف بیان فرماتا ہے کہ وہ سختی میں اور آسانی میں خوشی میں اور غمی میں تندرستی میں اور بیماری میں غرض ہر حال میں راہ اللہ اپنا مال خرچ کرتے رہتے ہیں جیسے اور جگہ ہے آیت (اَلَّذِيْنَ يُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَھُمْ بالَّيْلِ وَالنَّهَارِ سِرًّا وَّعَلَانِيَةً فَلَھُمْ اَجْرُھُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ ۚ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا ھُمْ يَحْزَنُوْنَ) 2۔ البقرۃ :274) یعنی وہ لوگ دن رات چھپے کھلے خرچ کرتے رہتے ہیں کوئی امر انہیں اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے باز نہیں رکھ سکتا اس کی مخلوق پر اس کے حکم سے احسان کرتے رہتے ہیں۔ یہ غصے کو پی جانے والے اور لوگوں کی برائیوں سے درگزر کرنے والے ہیں (کظم) کے معنی چھپانے کے بھی ہیں یعنی اپنے غصہ کا اظہار بھی نہیں کرتے بعض روایتوں میں ہے اے ابن آدم اگر غصہ کے وقت تجھے یاد رکھوں گا یعنی ہلاکت کے وقت تجھے ہلاکت سے بچا لوں گا (ابن ابی حاتم) اور حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جو شخص اپنا غصہ روک لے اللہ تعالیٰ اس پر سے اپنے عذاب ہٹا لیتا ہے اور جو بھی اپنی زبان (خلاف شرع باتوں سے) روک لے اللہ تعالیٰ اس کی پردہ پوشی کرے گا اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی طرف معذرت لے جائے اللہ تعالیٰ اس کا عذر قبول فرماتا ہے (مسند ابو یعلیٰ) یہ حدیث غریب ہے اور اس کی سند میں بھی اختلاف ہے اور حدیث شریف میں ہے۔ آپ فرماتے ہیں پہلوان وہ نہیں جو کسی کو پچھاڑ دے بلکہ حقیقتاً پہلوان وہ ہے جو غصہ کے وقت اپنے نفس پر قابو رکھے (احمد) صحیح بخاری صحیح مسلم میں رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں تم میں سے کوئی ایسا ہے جسے اپنے وارث کا مال اپنے مال سے زیادہ محبوب ہو ؟ لوگوں نے کہا حضور ﷺ کوئی نہیں آپ نے فرمایا میں تو دیکھتا ہوں کہ تم اپنے مال سے زیادہ اپنے وارث کا مال چاہتے ہو اس لئے کہ تمہارا مال تو درحقیقت وہ ہے جو تم راہ اللہ اپنی زندگی میں خرچ کردو اور جو چھوڑ کر جاؤ وہ تمہارا مال نہیں بلکہ تمہارے وارثوں کا مال ہے تو تمہارا راہ اللہ کم خرچ کرنا اور جمع زیادہ کرنا یہ دلیل ہے اس امر کی کہ تم اپنے مال سے اپنے وارثوں کے مال کو زیادہ عزیز رکھتے ہو، پھر فرمایا تم پہلوان کسے جانتے ہو ؟ لوگوں نے کہا حضور ﷺ اسے جسے کوئی گر انہ سکے آپ نے فرمایا نہیں بلکہ حقیقتاً زور دار پہلوان وہ ہے جو غصہ کے وقت اپنے جذبات پر پورا قابو رکھے، پھر فرمایا بےاولاد کسے کہتے ہو ؟ لوگوں نے کہا جس کی اولاد نہ ہو، فرمایا نہیں بلکہ فی الواقع بےاولاد وہ ہے جس کے سامنے اس کی کوئی اولاد مری نہ ہو (مسلم) ایک اور روایت میں یہ بھی ہے کہ آپ نے دریافت فرمایا کہ جانتے ہو مفلس کنگال کون ہے ؟ لوگوں نے کہا جس کے پاس مال نہ ہو آپ نے فرمایا بلکہ وہ جس نے اپنا مال اپنی زندگی میں راہ اللہ نہ دیا ہو (مسند احمد) حضرت حارثہ بن قدامہ سعدی ؓ حاضر خدمت نبوی میں عرض کرتے ہیں کہ حضور ﷺ مجھے کوئی نفع کی بات کہیے جو مختصر ہو تاکہ میں یاد بھی رکھ سکوں آپ نے فرمایا غصہ نہ کر اس نے پھر پوچھا آپ نے پھر یہی جواب دیا کئی کئی مرتبہ یہی کہا (مسند احمد) کسی شخص نے حضور ﷺ سے کہا مجھے کچھ وصیت کیجئے آپ نے فرمایا غصہ نہ کر وہ کہتے ہیں میں نے جو غور کیا تو معلوم ہوا کہ تمام برائیوں کا مرکز غصہ ہی ہے (مسند احمد) ایک روایت میں ہے کہ حضرت ابوذر ؓ غصہ آیا تو آپ بیٹھ گئے اور پھر لیٹ گئے ان سے پوچھا گیا یہ کیا ؟ تو فرمایا میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے آپ فرماتے تھے جسے غصہ آئے وہ کھڑا ہو تو بیٹھ جائے اگر اس سے بھی غصہ نہ جائے تو لیٹ جائے (مسند احمد) مسند احمد کی ایک اور روایت میں ہے کہ عروہ بن محمد کو غصہ چڑھا آپ وضو کرنے بیٹھ گئے اور فرمانے لگے میں نے اپنے استادوں سے یہ حدیث سنی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ غصہ شیطان کی طرف سے ہے اور شیطان آگ سے پیدا ہوا ہے اور آگ بجھانے والی چیز پانی ہے پس تم غصہ کے وقت وضو کرنے بیٹھ جاؤ حضور ﷺ کا یہ ارشاد ہے کہ جو شخص کسی تنگ دست کو مہلت دے یا اپنا قرض اسے معاف کر دے اللہ تعالیٰ اسے جہنم سے آزاد کردیتا ہے لوگو سنو جنت کے اعمال سخت اور مشکل ہیں اور جہنم کے کام آسان اور سہل ہیں نیک بخت وہی ہے جو فتنوں سے بچ جائے کسی گھونٹ کا پینا اللہ کو ایسا پسند نہیں جتنا غصہ کے گھونٹ کا پی جانا ایسے شخص کے دل میں ایمان رچ جاتا ہے (مسند احمد) حضور ﷺ فرماتے ہیں جو شخص اپنا غصہ اتارنے کی طاقت رکھتے ہوئے پھر بھی ضبط کرلے اللہ تعالیٰ اس کا دل امن وامان سے پر کردیتا ہے جو شخص باوجود موجود ہونے کے شہرت کے کپڑے کو تواضع کی وجہ سے چھوڑ دے اسے اللہ تعالیٰ کرامت اور عزت کا حلہ قیامت کے دن پہنائے گا اور جو کسی کا سر چھپائے اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن بادشاہت کا تاج پہنائے گا (ابوداؤد) حضور ﷺ فرماتے ہیں جو شخص باوجود قدرت کے اپنا غصہ ضبط کرلے اسی اللہ تعالیٰ تمام مخلوق کے سامنے بلا کر اختیار دے گا کہ جس حور کو چاہے پسند کرلے (مسند احمد) اس مضمون کی اور بھی حدیثیں ہیں، پس آیت کا مطلب یہ ہوا کہ وہ اپنے غصہ میں آپے سے باہر نہیں ہوتے لوگوں کو ان کی طرف سے برائی نہیں پہنچتی بلکہ اپنے جذبات کو دبائے رکھتے ہیں اور اللہ سے ڈر کر ثواب کی امید پر معاملہ سپر دالہ کرتے ہیں، لوگوں سے درگزر کرتے ہیں ظالموں کے ظلم کا بدلہ ابھی نہیں لیتے اسی کو احسان کہتے ہیں اور ان محسن بندوں سے اللہ محبت رکھتا ہے حدیث میں ہے رسول مقبول ﷺ فرماتے ہیں تین باتوں پر میں قسم کھاتا ہوں ایک تو یہ کہ صدقہ سے مال نہیں گھٹتا دوسرے یہ کہ عفو و درگزر کرنے سے انسان کی عزت بڑھتی ہے تیسرے یہ کہ تواضع فروتنی اور عاجزی کرنے والے کو اللہ تعالیٰ بلند مرتبہ عطا کرتا ہے، مستدرک کی حدیث میں ہے جو شخص یہ چاہے کہ اس کی بنیاد بلند ہو اور اس کے درجے بڑھیں تو اسے ظالموں سے درگزر کرنا چاہئے اور نہ دینے والوں کو دینا چاہئے اور توڑنے والوں سے جوڑنا چاہئے اور حدیث میں ہے قیامت کے دن ایک پکارے گا کہ اے لوگو درگزر کرنے والو اپنے رب کے پاس آؤ اور اپنا اجر لو۔ مسلمانوں کی خطاؤں کے معاف کرنے والے جنتی لوگ ہیں۔ پھر فرمایا یہ لوگ گناہ کے بعد فوراً ذکر اللہ اور استغفار کرتے ہیں۔ مسند احمد میں یہ روایت حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جب کوئی شخص گناہ کرتا ہے پھر اللہ رحمن و رحیم کے سامنے حاضر ہو کر کہتا ہے کہ پروردگار مجھ سے گناہ ہوگیا تو معاف فرما اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میرے بندے سے گو گناہ ہوگیا لیکن اس کا ایمان ہے کہ اس کا رب گناہ پر پکڑ بھی کرتا ہے اور اگر چاہے تو معاف بھی فرما دیتا ہے میں نے اپنے بندے کا گناہ معاف فرمایا، اس سے پھر گناہ ہو تو فرما دیتا ہے میں نے اپنے بندے کا گناہ معاف فرمایا، اس سے پھر گناہ ہوجاتا ہے یہ پھر توبہ کرتا ہے اللہ تعالیٰ پھر بخشتا ہے چوتھی مرتبہ پھر گناہ کر بیٹھتا ہے پھر توبہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ معاف فرما کر کہتا ہے اب میرا بندہ جو چاہے کرے (مسند احمد) یہ حدیث بخاری و مسلم میں بھی ہے، حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں ہم نے ایک مرتبہ جناب رسول اللہ ﷺ سے کہا کہ یہ رسول اللہ ﷺ جب ہم آپ کو دیکھتے ہیں تو ہمارے دلوں میں رقت طاری ہوجاتی ہے اور ہم اللہ والے بن جاتے ہیں لیکن جب آپ کے پاس سے چلے جاتے ہیں تو وہ حالت نہیں رہتی عورتوں بچوں میں پھنس جاتے ہیں گھر بار کے دھندوں میں لگ جاتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا۔ اگر تمہاری حالت یہی ہر وقت رہتی تو پھر فرشتے تم سے مصافحہ کرتے اور تمہاری ملاقات کو تمہارے گھر پر آتے، سنو اگر تم گناہ نہ کرو تو اللہ تمہیں یہاں سے ہٹا دے اور دوسری قوم کو لے آئے جو گناہ کرے پھر بخشش مانگے اور اللہ انہیں بخشے ہم نے کہا حضور ﷺ یہ فرماتے کہ جنت کی بنیادیں کس طرح استوار ہیں آپ نے فرمایا ایک اینٹ سونے کی تو ایک چاندی کی ہے اس کا گارہ مشک خالص ہے اس کے کنکر لؤلؤ اور یاقوت ہیں، اس کی مٹی زعفران ہے، جنتیوں کی نعمتیں کبھی ختم نہ ہوں گی ان کی زندگی ہمیشہ کی ہوگی ان کے کپڑے پرانے نہیں ہونگے جوانی کبھی نہیں ڈھلے گی اور تین اشخاص کی دعا کبھی رد نہیں ہوتی عادل بادشاہ کی دعا افطاری کے وقت روزے دار کی دعا اور مظلوم کی دعا بادلوں سے اٹھائی جاتی ہے اور اس کے لئے آسمانوں کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور جناب باری ارشاد فرماتا ہے مجھے میری عزت کی قسم میں تیری ضرور مدد کروں گا اگرچہ کچھ وقت کے بعد ہو (مسند احمد) امیر المومنین حضرت ابوبکر صدیق ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص کوئی گناہ کرے پھر وضو کر کے دو رکعت نماز ادا کرے اور اپنے گناہ کی معافی چاہے تو اے اللہ عزوجل اس کے گناہ معاف فرما دیتا ہے (مسند احمد) صحیح مسلم میں روایت امیر المومنین حضرت عمر بن خطاب ؓ مروی ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں تم میں سے جو شخص کامل وضو کر کے دعا (اشھدان لا الہ الا اللہ وحدہ لاشریک لہ واشھدان محمد اعبدہ و رسولہ) پڑھے اس کیلئے جنت کے آٹھوں دروازے کھل جاتے ہیں جس سے چاہے اندر چلا جائے، امیر المومنین حضرت عثمان بن عفان ؓ سنت کے مطابق وضو کرتے ہیں پھر فرماتے ہیں میں نے آنحضرت ﷺ سے سنا ہے آپ نے فرمایا جو شخص مجھ جیسا وضو کرے پھر دو رکعت نماز ادا کرے جس میں اپنے دل سے باتیں نہ کرے تو اللہ تعالیٰ اس کے تمام گناہ معاف فرما دیتا ہے (بخاری مسلم) پس یہ حدیث کو حضرت عثمان سے اس سے اگلی روایت حضرت عمر سے اور اس سے اگلی روایت حضرت ابوبکر سے اور اس سے تیسری روایت کو حضرت ابوبکر سے حضرت علی روایت کرتے ہیں تو الحمد اللہ، اللہ تعالیٰ کی وسیع مغفرت اور اس کی بےانتہاء مہربانی کی خبر سید الاولین والاخرین کی زبانی آپ کے چاروں برحق خلفاء کی معرفت ہمیں پہنچی (آؤ اس موقعہ پر ہم گنہگار بھی ہاتھ اٹھائیں اور اپنے مہربان رحیم و کریم اللہ کے سامنے اپنے گناہوں کا اقرار کر کے اس سے معافی طلب کریں اللہ تعالیٰ اے ماں باپ سے زیادہ مہربان اے عفو و درگزر کرنے والے ! اور کسی بھکاری کو اپنے در سے خالی نہ پھیرنے والے ! تو ہم خطاکاروں کی سیاہ کاریوں سے بھی درگزر فرما اور ہمارے کل گناہ معاف فرما دے۔ مترجم) یہی وہ مبارک آیت ہے کہ جب یہ نازل ہوئی تو ابلیس رونے لگا (مسند عبدالرزاق) استغفار اور لا الہ الاللہ مسند ابو یعلیٰ میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں لا الہ الا اللہ کثرت سے پڑھا کرو اور استغفار پر مداومت کرو ابلیس گناہوں سے لوگوں کو ہلاک کرنا چاہتا ہے اور اس کی اپنی ہلاکت لا الہ الا اللہ اور استغفار سے ہے، یہ حدیث دیکھ کر ابلیس نے لوگوں کو خواہش پرستی پر ڈال دیا پس وہ اپنے آپ کو راہ راست پر جانتے ہیں حالانکہ ہلاکت میں ہوتے ہیں لیکن اس حدیث کے دو راوی ضعیف ہیں۔ مسند احمد میں ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں کہ ابلیس نے کہا اے رب مجھے تیری عزت کی قسم میں بنی آدم کو ان کے آخری دم تک بہکاتا رہوں گا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا مجھے میرے جلال اور میری عزت کی قسم جب تک وہ مجھ سے بخشش مانگتے رہیں گے میں بھی انہیں بخشتا رہوں گا مسند بزاز میں ہے کہ ایک شخص نے حضور ﷺ سے کہا مجھ سے گناہ ہوگیا آپ نے فرمایا پھر استغفار کر اس نے کہا مجھ سے اور گناہ ہوا فرمایا استغفار کئے جا، یہاں تک کہ شیطان تھک جائے پھر فرمایا گناہ کو بخشنا اللہ ہی کے اختیار میں ہے مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک قیدی آیا اور کہنے لگا یا اللہ میں تیری طرف توبہ کرتا ہوں محمد ﷺ کی طرف توبہ نہیں کرتا (یعنی اللہ میں تیری ہی بخشش چاہتا ہوں) آپ نے فرمایا اس نے حق حقدار کو پہنچایا۔ اصرار کرنے سے مراد یہ ہے کہ معصیت پر بغیر توبہ کئے اڑ نہیں جاتے اگر کئی مرتبہ گناہ ہوجائے تو کئی مرتبہ استغفار کرتے ہیں، مسند ابو یعلیٰ میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں وہ اصرار کرنے والا اور اڑنے والا نہیں جو استغفار کرتا رہتا ہے اگرچہ (بالفرض) اس سے ایک دن میں ستر مرتبہ بھی گناہ ہوجائے پھر فرمایا کہ وہ جانتے ہوں یعنی اس بات کو کہ اللہ توبہ قبول کرنے والا ہے جیسے اور جگہ ہے آیت (اَلَمْ يَعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ ھُوَ يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهٖ وَيَاْخُذُ الصَّدَقٰتِ وَاَنَّ اللّٰهَ ھُوَ التَّوَّاب الرَّحِيْمُ) 9۔ التوبہ :104) کیا یہ نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے اور جگہ ہے آیت (وَمَنْ يَّعْمَلْ سُوْۗءًا اَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهٗ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللّٰهَ يَجِدِ اللّٰهَ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا) 4۔ النسآء :110) جو شخص کوئی برا کام کرے یا گناہ کر کے اپنی جان پر ظلم کرے پھر اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کرے تو وہ دیکھ لے گا کہ اللہ عزوجل بخشش کرنے والا مہربان ہے۔ مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ نے منبر پر بیان فرمایا لوگو تم اوروں پر رحم کرو اللہ تم پر رحم کرے گا لوگو تم دوسروں کی خطائیں معاف کرو اللہ تعالیٰ تمہارے گناہوں کو بخشے گا باتیں بنانے والوں کی ہلاکت ہے گناہ پر جم جانے والوں کی ہلاکت ہے پھر فرمایا ان کاموں کے بدلے ان کی جزا مغفرت ہے اور طرح طرح کی بہتی نہروں والی جنت ہے جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے، یہ بڑے اچھے اعمال ہیں۔
131
View Single
وَٱتَّقُواْ ٱلنَّارَ ٱلَّتِيٓ أُعِدَّتۡ لِلۡكَٰفِرِينَ
And save yourselves from the fire which is prepared for disbelievers.
اور اس آگ سے ڈرو جو کافروں کے لئے تیار کی گئی ہے
Tafsir Ibn Kathir
Interest (Riba) is Prohibited
Allah prohibits His believing servants from dealing in Riba and from requiring interest on their capital, just as they used to do during the time of Jahiliyyah. For instance, when the time to pay a loan comes, the creditor would say to the debtor, "Either pay now, or the loan will incur interest." If the debtor asks for deferment of the loan, the creditor would require interest and this would occur year after year until the little capital becomes multiplied many times. Allah also commands His servants to have Taqwa of Him so that they may achieve success in this life and the Hereafter. Allah also threatens them with the Fire and warns them against it, saying,
وَاتَّقُواْ النَّارَ الَّتِى أُعِدَّتْ لِلْكَـفِرِينَ - وَأَطِيعُواْ اللَّهَ وَالرَّسُولَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ
(And fear the Fire, which is prepared for the disbelievers. And obey Allah and the Messenger that you may obtain mercy.) 3:131,132.
The Encouragment to Do Good for which Paradise is the Result
Allah encourages His servants to perform righteous deeds and to rush to accomplish the acts of obedience. Allah said,
وَسَارِعُواْ إِلَى مَغْفِرَةٍ مِّن رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمَـوَتُ وَالاٌّرْضُ أُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِينَ
(And march forth in the way (which leads to) forgiveness from your Lord, and for Paradise as wide as the heavens and the earth, prepared for the Muttaqin (the pious)) 3:133.
Just as the Fire was prepared for the disbelievers. It was reported that the meaning of Allah's statement,
عَرْضُهَا السَّمَـوَتُ وَالاٌّرْضُ
(as wide as the heavens and the earth) draws the attention to the spaciousness of Paradise. For instance, Allah said in another Ayah, while describing the couches of Paradise,
بَطَآئِنُهَا مِنْ إِسْتَبْرَقٍ
(lined with silk brocade) 55:54, so what about their outer covering It was also said that Paradise is as wide as its length, because it is a dome under the Throne. The width and length of a dome or a circle are the same in distance. This is supported by what is found in the Sahih;
«إِذَا سَأَلْتُمُ اللهَ الْجَنَّـةَ فَاسْأَلُوهُ الْفِرْدَوْسَ، فَإِنَّهُ أَعْلَى الْجَنَّـةِ، وَأَوْسَطُ الْجَنَّةِ، وَمِنْهُ تَفَجَّرُ أَنْهَارُ الْجَنَّةِ، وَسَقْفُهَا عَرْشُ الرَّحْمَن»
(When you ask Allah for Paradise, ask Him for Al-Firdaws which is the highest and best part of Paradise. From it originate the rivers of Paradise, and above it is the Throne of the Most Beneficent (Allah).)
This Ayah 3:133 above is similar to Allah's statement in Surat Al-Hadid,
سَابِقُواْ إِلَى مَغْفِرَةٍ مِّن رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا كَعَرْضِ السَّمَآءِ وَالاٌّرْضِ
(Race with one another in hastening towards forgiveness from your Lord (Allah), and Paradise the width whereof is as the width of the heaven and the Earth) 57:21.
Al-Bazzar recorded that Abu Hurayrah said that a man came to the Messenger of Allah ﷺ and asked him, about Allah's statement,
وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمَـوَتُ وَالاٌّرْضُ
(Paradise as wide as the heavens and the Earth) 3:133; "Where is the Fire then" The Prophet said,
«أَرَأَيْتَ اللَّيْلَ إِذَا جَاءَ لَبِسَ كُلَّ شَيْءٍ، فَأَيْنَ النَّهَارُ؟»
(When the night comes, it overtakes everything, so where is the day) The man said, "Where Allah wants it to be." The Prophet said,
«وَكَذلِكَ النَّارُ تَكُونُ حَيْثُ شَاءَ اللهُ عَزَّ وَجَل»
(Similarly, the Fire is where Allah wants it to be.) This Hadith has two possible meanings. First, when we do not see the night during the day, this does not mean that the day is not somewhere else, even though we cannot see it. Such is the case with Hell-fire, for it is where Allah wants it to be. The second meaning is that when the day overcomes this part of the world, the night overtakes the other part. Such is the case with Paradise, for it is in the utmost heights above the heavens and under the Throne. The width of Paradise is, as Allah stated,
كَعَرْضِ السَّمَآءِ وَالاٌّرْضِ
(whereof is as the width of the heaven and the Earth) 57:21.
The Fire, on the other hand, is in the lowest of lows. Therefore, Paradise being as wide as the heavens and Earth does not contradict the fact that the Fire exists wherever Allah wills it to be.
Allah said, while describing the people of Paradise,
الَّذِينَ يُنفِقُونَ فِى السَّرَّآءِ وَالضَّرَّآءِ
(Those who spend (in Allah's cause) in prosperity and in adversity) 3:134, in hard times and easy times, while active (or enthusiastic) and otherwise, healthy or ill, and in all conditions, just as Allah said in another Ayah,
الَّذِينَ يُنفِقُونَ أَمْوَلَهُمْ بِالَّيْلِ وَالنَّهَارِ سِرًّا وَعَلاَنِيَةً
(Those who spend their wealth (in Allah's cause) by night and day, in secret and in public) 2:274 These believers are never distracted from obeying Allah, spending on what pleases Him, being kind to His servants and their relatives, and other acts of righteousness. Allah said,
وَالْكَـظِمِينَ الْغَيْظَ وَالْعَـفِينَ عَنِ النَّاسِ
(who repress anger, and who pardon men;) 3:134 for when they are angry, they control their anger and do act upon it. Rather, they even forgive those who hurt them. Imam Ahmad recorded that Abu Hurayrah said that the Prophet said,
«لَيْسَ الشَّدِيدُ بِالصُّرَعَةِ، وَلكِنَّ الشَّدِيدَ الَّذِي يَمْلِكُ نَفْسَهُ عِنْدَ الْغَضَب»
(The strong person is not he who is able to physically overcome people. The strong person is he who overcomes his rage when he is angry.)
This Hadith is also recorded in the Two Sahihs. Imam Ahmad recorded that Ibn `Abbas said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«مَنْ أَنْظَرَ مُعْسِرًا أَوْ وَضَعَ لَهُ، وَقَاهُ اللهُ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ، أَلَا إِنَّ عَمَلَ الْجَنَّـةِ حَزْنٌ بِرَبْوَةٍ ثَلَاثًا أَلَا إِنَّ عَمَلَ النَّارِ سَهْلٌ بِسَهْوَةٍ. وَالسَّعِيدُ مَنْ وُقِيَ الْفِتَنَ، وَمَا مِنْ جَرْعَةٍ أَحَبُّ إِلَى اللهِ مِنْ جَرْعَةِ غَيْظٍ يَكْظِمُهَا عَبْدٌ، مَا كَظَمَهَا عَبْدٌ للهِ إِلَّا مَلَأَ جَوْفَهُ إِيمَانًا»
(He who gives time to a debtor or forgives him, then Allah will save him from the heat of Jahannam (Hell-fire). Behold! The deeds of Paradise are difficult to reach, for they are on top of a hill, while the deeds of the Fire are easy to find in the lowlands. The happy person is he who is saved from the tests. Verily, there is no dose of anything better to Allah than a dose of rage that the servant controls, and whenever the servant of Allah controls it, he will be internally filled with faith.)
This Hadith was recorded by Imam Ahmad, its chain of narration is good, it does not contain any disparraged narrators, and the meaning is good.
Imam Ahmad recorded that Sahl bin Mu`adh bin Anas said that his father said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«مَنْ كَظَمَ غَيْظًا وَهُوَ قَادِرٌ عَلى أَنْ يُنْفِذَهُ دَعَاهُ اللهُ عَلى رُؤُوسِ الْخَلَائِقِ حَتَّى يُخَيِّرَهُ مِنْ أَيِّ الْحُورِ شَاء»
(Whoever controlled rage while able to act upon it, then Allah will call him while all creation is a witness, until He gives him the choice of any of the Huris (fair females with wide, lovely eyes - as mates for the pious) he wishes.)
Abu Dawud, At-Tirmidhi and Ibn Majah collected this Hadith, which At-Tirmidhi said was "Hasan Gharib".
Ibn Marduwyah recorded that Ibn `Umar said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«مَا تَجَرَّعَ عَبْدٌ مِنْ جَرْعَةٍ أَفْضَلَ أَجْرًا مِنْ جَرْعَةِ غَيْظٍ كَظَمَهَا ابْتِغَاءَ وَجْهِ الله»
(There is not a dose of anything that the servant takes which is better than a dose of control of rage that he feels, when he does it seeking Allah's Face.) Ibn Jarir and Ibn Majah also collected this Hadith.
Allah said,
وَالْكَـظِمِينَ الْغَيْظَ
(who repress anger) meaning, they do not satisfy their rage upon people. Rather, they refrain from harming them and await their rewards with Allah, the Exalted and Most Honored. Allah then said,
وَالْعَـفِينَ عَنِ النَّاسِ
(and who pardon men;) They forgive those who treat them with injustice. Therefore, they do not hold any ill feelings about anyone in their hearts, and this is the most excellent conduct in this regard. This is why Allah said,
وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ
(verily, Allah loves the Muhsinin (the good-doers)).
This good conduct is a type of Ihsan excellence in the religion. There is a Hadith that reads,
«ثَلَاثٌ أُقْسِمُ عَلَيْهِنَّ: مَا نَقَصَ مَالٌ مِنْ صَدَقَةٍ، وَمَا زَادَ اللهُ عَبْدًا بِعَفْوٍ إِلَّا عِزًّا، وَمَنْ تَوَاضَعَ للهِ رَفَعَهُ الله»
(I swear regarding three matters: no charity shall ever decrease the wealth; whenever one forgives people, then Allah will magnify his honor; and he who is humble for Allah, then Allah will raise his rank.)
Allah said,
وَالَّذِينَ إِذَا فَعَلُواْ فَـحِشَةً أَوْ ظَلَمُواْ أَنْفُسَهُمْ ذَكَرُواْ اللَّهَ فَاسْتَغْفَرُواْ لِذُنُوبِهِمْ
(And those who, when they have committed Fahishah or wronged themselves with evil, remember Allah and ask forgiveness for their sins) 3:135.
Therefore, if they commit an error they follow it with repentance and ask forgiveness. Imam Ahmad recorded that Abu Hurayrah said that the Prophet said,
«إِنَّ رَجُلًا أَذْنَبَ ذَنْبًا فَقَالَ: رَبِّ إِنِّي أَذْنَبْتُ ذَنْبًا فَاغْفِرْهُ، فَقَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: عَبْدِي عَمِل ذَنْبًا فَعَلِمَ أَنَّ لَهُ ر&
سود خور جہنمی ہے اور غصہ شیطان کی دین ہے اس سے بچو اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو سودی لین دین سے اور سود خوری سے روک رہا ہے، اہل جاہلیت سودی قرضہ دیتے تھے مدت مقرر ہوتی تھی اگر اس مدت پر روپیہ وصول نہ ہوتا تو مدت بڑھا کر سود پر سود بڑھا دیا کرتے تھے اسی طرح سود در سود ملا کر اصل رقم کئی گنا بڑھ جاتی، اللہ تعالیٰ ایمانداروں کو اس طرح ناحق لوگوں کے مال غصب کرنے سے روک رہا ہے اور تقوے کا حکم دے کر اس پر نجات کا وعدہ کر رہا ہے، پھر آگ سے ڈراتا ہے اور اپنے عذابوں سے دھمکاتا ہے پھر اپنی اور اپنے رسول ﷺ کی اطاعت پر آمادہ کرتا ہے اور اس پر رحم و کرم کا وعدہ دیتا ہے پھر سعادت دارین کے حصول کیلئے نیکیوں کی طرف سبقت کرنے کو فرماتا ہے اور جنت کی تعریف کرتا ہے، چوڑائی کو بیان کر کے لمبائی کا اندازہ سننے والوں پر ہی چھوڑا جاتا ہے جس طرح جنتی فرش کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا آیت (مُتَّكِــــِٕيْنَ عَلٰي فُرُشٍۢ بَطَاۗىِٕنُهَا مِنْ اِسْتَبْرَقٍ) 55۔ الرحمن :54) یعنی اس کا استر نرم ریشم کا ہے تو مطلب یہ ہے کہ جب استر ایسا ہے تو ابرے کا کیا ٹھکانا ہے اسی طرح یہاں بھی بیان ہو رہا ہے کہ جب عرض ساتوں آسمانوں اور ساتویں زمینوں کے برابر ہے تو طول کتنا بڑا ہوگا اور بعض نے کہا ہے کہ عرض و طول یعنی لمبائی چوڑائی دونوں برابر ہے کیونکہ جنت مثل قبہ کے عرش کے نیچے ہے اور جو چیز قبہ نما ہو یا مستدیر ہو اس کا عرض و طول یکساں ہوتا ہے۔ ایک صحیح حدیث میں ہے جب تم اللہ سے جنت مانگو تو فردوس کا سوال کرو وہ سب سے اونچی اور سب سے اچھی جنت ہے اسی جنت سے سب نہریں جاری ہوتی ہیں اور اسی کی چھت اللہ تعالیٰ رحمن رحیم کا عرش ہے، مسند امام احمد میں ہے کہ ہرقل نے حضور ﷺ کی خدمت میں بطور اعتراض کے ایک سوال لکھ بھیجا کہ آپ مجھے اس جنت کی دعوت دے رہے ہیں جس کی چوڑائی آسمان و زمین کے برابر ہے تو یہ فرمایئے کہ پھر جہنم کہاں گئی ؟ حضور ﷺ نے فرمایا یعلیٰ بن مرہ کی ملاقات حمص میں ہوئی تھی کہتے ہیں اس وقت یہ بہت ہی بوڑھا ہوگیا تھا کہنے لگا جب میں نے یہ خط حضور ﷺ کو دیا تو آپ نے اپنی بائیں طرف کے ایک صحابی کو دیا میں نے لوگوں سے پوچھا ان کا کیا نام ہے ؟ لوگوں نے کہا یہ حضرت معاویہ ہیں ؓ حضرت عمر ؓ سے بھی یہی سوال ہوا تھا تو آپ نے فرمایا تھا کہ دن کے وقت رات اور رات کے وقت دن کہاں جاتا ہے ؟ یہودی یہ جواب سن کر کھسیانے ہو کر کہنے لگے کہ یہ توراۃ سے ماخوذ کیا ہوگا، حضرت ابن عباس ؓ سے بھی یہ جواب مروی ہے، ایک مرفوع حدیث میں ہے کسی نے حضور ﷺ سے پوچھا تو آپ نے جواب میں فرمایا جب ہر چیز پر رات آجاتی ہے تو دن کہاں جاتا ہے ؟ اس نے کہا جہاں اللہ چاہے، آپ نے فرمایا اسی طرح جہنم بھی جہاں چاہے (بزار) اس جملہ کے دو معنی ہوتے ہیں ایک تو یہ کہ رات کے وقت ہم گو دن کو نہیں دیکھ سکتے لیکن تاہم دن کا کسی جگہ ہونا ناممکن نہیں، اسی طرح گو جنت کا عرض اتنا ہی ہے لیکن پھر بھی جہنم کے وجود سے انکار نہیں ہوسکتا جہاں اللہ چاہے وہ بھی ہے، دوسرے معنی یہ کہ جب دن ایک طرف چڑھنے لگا رات دوسری جانب ہوتی ہے اسی طرح جنت اعلیٰ علیین میں ہے اور دوزخ اسفل السافلین میں تو کوئی نفی کا امکان ہی نہ رہا واللہ اعلم پھر اللہ تعالیٰ اہل جنت کا وصف بیان فرماتا ہے کہ وہ سختی میں اور آسانی میں خوشی میں اور غمی میں تندرستی میں اور بیماری میں غرض ہر حال میں راہ اللہ اپنا مال خرچ کرتے رہتے ہیں جیسے اور جگہ ہے آیت (اَلَّذِيْنَ يُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَھُمْ بالَّيْلِ وَالنَّهَارِ سِرًّا وَّعَلَانِيَةً فَلَھُمْ اَجْرُھُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ ۚ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا ھُمْ يَحْزَنُوْنَ) 2۔ البقرۃ :274) یعنی وہ لوگ دن رات چھپے کھلے خرچ کرتے رہتے ہیں کوئی امر انہیں اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے باز نہیں رکھ سکتا اس کی مخلوق پر اس کے حکم سے احسان کرتے رہتے ہیں۔ یہ غصے کو پی جانے والے اور لوگوں کی برائیوں سے درگزر کرنے والے ہیں (کظم) کے معنی چھپانے کے بھی ہیں یعنی اپنے غصہ کا اظہار بھی نہیں کرتے بعض روایتوں میں ہے اے ابن آدم اگر غصہ کے وقت تجھے یاد رکھوں گا یعنی ہلاکت کے وقت تجھے ہلاکت سے بچا لوں گا (ابن ابی حاتم) اور حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جو شخص اپنا غصہ روک لے اللہ تعالیٰ اس پر سے اپنے عذاب ہٹا لیتا ہے اور جو بھی اپنی زبان (خلاف شرع باتوں سے) روک لے اللہ تعالیٰ اس کی پردہ پوشی کرے گا اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی طرف معذرت لے جائے اللہ تعالیٰ اس کا عذر قبول فرماتا ہے (مسند ابو یعلیٰ) یہ حدیث غریب ہے اور اس کی سند میں بھی اختلاف ہے اور حدیث شریف میں ہے۔ آپ فرماتے ہیں پہلوان وہ نہیں جو کسی کو پچھاڑ دے بلکہ حقیقتاً پہلوان وہ ہے جو غصہ کے وقت اپنے نفس پر قابو رکھے (احمد) صحیح بخاری صحیح مسلم میں رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں تم میں سے کوئی ایسا ہے جسے اپنے وارث کا مال اپنے مال سے زیادہ محبوب ہو ؟ لوگوں نے کہا حضور ﷺ کوئی نہیں آپ نے فرمایا میں تو دیکھتا ہوں کہ تم اپنے مال سے زیادہ اپنے وارث کا مال چاہتے ہو اس لئے کہ تمہارا مال تو درحقیقت وہ ہے جو تم راہ اللہ اپنی زندگی میں خرچ کردو اور جو چھوڑ کر جاؤ وہ تمہارا مال نہیں بلکہ تمہارے وارثوں کا مال ہے تو تمہارا راہ اللہ کم خرچ کرنا اور جمع زیادہ کرنا یہ دلیل ہے اس امر کی کہ تم اپنے مال سے اپنے وارثوں کے مال کو زیادہ عزیز رکھتے ہو، پھر فرمایا تم پہلوان کسے جانتے ہو ؟ لوگوں نے کہا حضور ﷺ اسے جسے کوئی گر انہ سکے آپ نے فرمایا نہیں بلکہ حقیقتاً زور دار پہلوان وہ ہے جو غصہ کے وقت اپنے جذبات پر پورا قابو رکھے، پھر فرمایا بےاولاد کسے کہتے ہو ؟ لوگوں نے کہا جس کی اولاد نہ ہو، فرمایا نہیں بلکہ فی الواقع بےاولاد وہ ہے جس کے سامنے اس کی کوئی اولاد مری نہ ہو (مسلم) ایک اور روایت میں یہ بھی ہے کہ آپ نے دریافت فرمایا کہ جانتے ہو مفلس کنگال کون ہے ؟ لوگوں نے کہا جس کے پاس مال نہ ہو آپ نے فرمایا بلکہ وہ جس نے اپنا مال اپنی زندگی میں راہ اللہ نہ دیا ہو (مسند احمد) حضرت حارثہ بن قدامہ سعدی ؓ حاضر خدمت نبوی میں عرض کرتے ہیں کہ حضور ﷺ مجھے کوئی نفع کی بات کہیے جو مختصر ہو تاکہ میں یاد بھی رکھ سکوں آپ نے فرمایا غصہ نہ کر اس نے پھر پوچھا آپ نے پھر یہی جواب دیا کئی کئی مرتبہ یہی کہا (مسند احمد) کسی شخص نے حضور ﷺ سے کہا مجھے کچھ وصیت کیجئے آپ نے فرمایا غصہ نہ کر وہ کہتے ہیں میں نے جو غور کیا تو معلوم ہوا کہ تمام برائیوں کا مرکز غصہ ہی ہے (مسند احمد) ایک روایت میں ہے کہ حضرت ابوذر ؓ غصہ آیا تو آپ بیٹھ گئے اور پھر لیٹ گئے ان سے پوچھا گیا یہ کیا ؟ تو فرمایا میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے آپ فرماتے تھے جسے غصہ آئے وہ کھڑا ہو تو بیٹھ جائے اگر اس سے بھی غصہ نہ جائے تو لیٹ جائے (مسند احمد) مسند احمد کی ایک اور روایت میں ہے کہ عروہ بن محمد کو غصہ چڑھا آپ وضو کرنے بیٹھ گئے اور فرمانے لگے میں نے اپنے استادوں سے یہ حدیث سنی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ غصہ شیطان کی طرف سے ہے اور شیطان آگ سے پیدا ہوا ہے اور آگ بجھانے والی چیز پانی ہے پس تم غصہ کے وقت وضو کرنے بیٹھ جاؤ حضور ﷺ کا یہ ارشاد ہے کہ جو شخص کسی تنگ دست کو مہلت دے یا اپنا قرض اسے معاف کر دے اللہ تعالیٰ اسے جہنم سے آزاد کردیتا ہے لوگو سنو جنت کے اعمال سخت اور مشکل ہیں اور جہنم کے کام آسان اور سہل ہیں نیک بخت وہی ہے جو فتنوں سے بچ جائے کسی گھونٹ کا پینا اللہ کو ایسا پسند نہیں جتنا غصہ کے گھونٹ کا پی جانا ایسے شخص کے دل میں ایمان رچ جاتا ہے (مسند احمد) حضور ﷺ فرماتے ہیں جو شخص اپنا غصہ اتارنے کی طاقت رکھتے ہوئے پھر بھی ضبط کرلے اللہ تعالیٰ اس کا دل امن وامان سے پر کردیتا ہے جو شخص باوجود موجود ہونے کے شہرت کے کپڑے کو تواضع کی وجہ سے چھوڑ دے اسے اللہ تعالیٰ کرامت اور عزت کا حلہ قیامت کے دن پہنائے گا اور جو کسی کا سر چھپائے اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن بادشاہت کا تاج پہنائے گا (ابوداؤد) حضور ﷺ فرماتے ہیں جو شخص باوجود قدرت کے اپنا غصہ ضبط کرلے اسی اللہ تعالیٰ تمام مخلوق کے سامنے بلا کر اختیار دے گا کہ جس حور کو چاہے پسند کرلے (مسند احمد) اس مضمون کی اور بھی حدیثیں ہیں، پس آیت کا مطلب یہ ہوا کہ وہ اپنے غصہ میں آپے سے باہر نہیں ہوتے لوگوں کو ان کی طرف سے برائی نہیں پہنچتی بلکہ اپنے جذبات کو دبائے رکھتے ہیں اور اللہ سے ڈر کر ثواب کی امید پر معاملہ سپر دالہ کرتے ہیں، لوگوں سے درگزر کرتے ہیں ظالموں کے ظلم کا بدلہ ابھی نہیں لیتے اسی کو احسان کہتے ہیں اور ان محسن بندوں سے اللہ محبت رکھتا ہے حدیث میں ہے رسول مقبول ﷺ فرماتے ہیں تین باتوں پر میں قسم کھاتا ہوں ایک تو یہ کہ صدقہ سے مال نہیں گھٹتا دوسرے یہ کہ عفو و درگزر کرنے سے انسان کی عزت بڑھتی ہے تیسرے یہ کہ تواضع فروتنی اور عاجزی کرنے والے کو اللہ تعالیٰ بلند مرتبہ عطا کرتا ہے، مستدرک کی حدیث میں ہے جو شخص یہ چاہے کہ اس کی بنیاد بلند ہو اور اس کے درجے بڑھیں تو اسے ظالموں سے درگزر کرنا چاہئے اور نہ دینے والوں کو دینا چاہئے اور توڑنے والوں سے جوڑنا چاہئے اور حدیث میں ہے قیامت کے دن ایک پکارے گا کہ اے لوگو درگزر کرنے والو اپنے رب کے پاس آؤ اور اپنا اجر لو۔ مسلمانوں کی خطاؤں کے معاف کرنے والے جنتی لوگ ہیں۔ پھر فرمایا یہ لوگ گناہ کے بعد فوراً ذکر اللہ اور استغفار کرتے ہیں۔ مسند احمد میں یہ روایت حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جب کوئی شخص گناہ کرتا ہے پھر اللہ رحمن و رحیم کے سامنے حاضر ہو کر کہتا ہے کہ پروردگار مجھ سے گناہ ہوگیا تو معاف فرما اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میرے بندے سے گو گناہ ہوگیا لیکن اس کا ایمان ہے کہ اس کا رب گناہ پر پکڑ بھی کرتا ہے اور اگر چاہے تو معاف بھی فرما دیتا ہے میں نے اپنے بندے کا گناہ معاف فرمایا، اس سے پھر گناہ ہو تو فرما دیتا ہے میں نے اپنے بندے کا گناہ معاف فرمایا، اس سے پھر گناہ ہوجاتا ہے یہ پھر توبہ کرتا ہے اللہ تعالیٰ پھر بخشتا ہے چوتھی مرتبہ پھر گناہ کر بیٹھتا ہے پھر توبہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ معاف فرما کر کہتا ہے اب میرا بندہ جو چاہے کرے (مسند احمد) یہ حدیث بخاری و مسلم میں بھی ہے، حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں ہم نے ایک مرتبہ جناب رسول اللہ ﷺ سے کہا کہ یہ رسول اللہ ﷺ جب ہم آپ کو دیکھتے ہیں تو ہمارے دلوں میں رقت طاری ہوجاتی ہے اور ہم اللہ والے بن جاتے ہیں لیکن جب آپ کے پاس سے چلے جاتے ہیں تو وہ حالت نہیں رہتی عورتوں بچوں میں پھنس جاتے ہیں گھر بار کے دھندوں میں لگ جاتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا۔ اگر تمہاری حالت یہی ہر وقت رہتی تو پھر فرشتے تم سے مصافحہ کرتے اور تمہاری ملاقات کو تمہارے گھر پر آتے، سنو اگر تم گناہ نہ کرو تو اللہ تمہیں یہاں سے ہٹا دے اور دوسری قوم کو لے آئے جو گناہ کرے پھر بخشش مانگے اور اللہ انہیں بخشے ہم نے کہا حضور ﷺ یہ فرماتے کہ جنت کی بنیادیں کس طرح استوار ہیں آپ نے فرمایا ایک اینٹ سونے کی تو ایک چاندی کی ہے اس کا گارہ مشک خالص ہے اس کے کنکر لؤلؤ اور یاقوت ہیں، اس کی مٹی زعفران ہے، جنتیوں کی نعمتیں کبھی ختم نہ ہوں گی ان کی زندگی ہمیشہ کی ہوگی ان کے کپڑے پرانے نہیں ہونگے جوانی کبھی نہیں ڈھلے گی اور تین اشخاص کی دعا کبھی رد نہیں ہوتی عادل بادشاہ کی دعا افطاری کے وقت روزے دار کی دعا اور مظلوم کی دعا بادلوں سے اٹھائی جاتی ہے اور اس کے لئے آسمانوں کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور جناب باری ارشاد فرماتا ہے مجھے میری عزت کی قسم میں تیری ضرور مدد کروں گا اگرچہ کچھ وقت کے بعد ہو (مسند احمد) امیر المومنین حضرت ابوبکر صدیق ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص کوئی گناہ کرے پھر وضو کر کے دو رکعت نماز ادا کرے اور اپنے گناہ کی معافی چاہے تو اے اللہ عزوجل اس کے گناہ معاف فرما دیتا ہے (مسند احمد) صحیح مسلم میں روایت امیر المومنین حضرت عمر بن خطاب ؓ مروی ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں تم میں سے جو شخص کامل وضو کر کے دعا (اشھدان لا الہ الا اللہ وحدہ لاشریک لہ واشھدان محمد اعبدہ و رسولہ) پڑھے اس کیلئے جنت کے آٹھوں دروازے کھل جاتے ہیں جس سے چاہے اندر چلا جائے، امیر المومنین حضرت عثمان بن عفان ؓ سنت کے مطابق وضو کرتے ہیں پھر فرماتے ہیں میں نے آنحضرت ﷺ سے سنا ہے آپ نے فرمایا جو شخص مجھ جیسا وضو کرے پھر دو رکعت نماز ادا کرے جس میں اپنے دل سے باتیں نہ کرے تو اللہ تعالیٰ اس کے تمام گناہ معاف فرما دیتا ہے (بخاری مسلم) پس یہ حدیث کو حضرت عثمان سے اس سے اگلی روایت حضرت عمر سے اور اس سے اگلی روایت حضرت ابوبکر سے اور اس سے تیسری روایت کو حضرت ابوبکر سے حضرت علی روایت کرتے ہیں تو الحمد اللہ، اللہ تعالیٰ کی وسیع مغفرت اور اس کی بےانتہاء مہربانی کی خبر سید الاولین والاخرین کی زبانی آپ کے چاروں برحق خلفاء کی معرفت ہمیں پہنچی (آؤ اس موقعہ پر ہم گنہگار بھی ہاتھ اٹھائیں اور اپنے مہربان رحیم و کریم اللہ کے سامنے اپنے گناہوں کا اقرار کر کے اس سے معافی طلب کریں اللہ تعالیٰ اے ماں باپ سے زیادہ مہربان اے عفو و درگزر کرنے والے ! اور کسی بھکاری کو اپنے در سے خالی نہ پھیرنے والے ! تو ہم خطاکاروں کی سیاہ کاریوں سے بھی درگزر فرما اور ہمارے کل گناہ معاف فرما دے۔ مترجم) یہی وہ مبارک آیت ہے کہ جب یہ نازل ہوئی تو ابلیس رونے لگا (مسند عبدالرزاق) استغفار اور لا الہ الاللہ مسند ابو یعلیٰ میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں لا الہ الا اللہ کثرت سے پڑھا کرو اور استغفار پر مداومت کرو ابلیس گناہوں سے لوگوں کو ہلاک کرنا چاہتا ہے اور اس کی اپنی ہلاکت لا الہ الا اللہ اور استغفار سے ہے، یہ حدیث دیکھ کر ابلیس نے لوگوں کو خواہش پرستی پر ڈال دیا پس وہ اپنے آپ کو راہ راست پر جانتے ہیں حالانکہ ہلاکت میں ہوتے ہیں لیکن اس حدیث کے دو راوی ضعیف ہیں۔ مسند احمد میں ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں کہ ابلیس نے کہا اے رب مجھے تیری عزت کی قسم میں بنی آدم کو ان کے آخری دم تک بہکاتا رہوں گا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا مجھے میرے جلال اور میری عزت کی قسم جب تک وہ مجھ سے بخشش مانگتے رہیں گے میں بھی انہیں بخشتا رہوں گا مسند بزاز میں ہے کہ ایک شخص نے حضور ﷺ سے کہا مجھ سے گناہ ہوگیا آپ نے فرمایا پھر استغفار کر اس نے کہا مجھ سے اور گناہ ہوا فرمایا استغفار کئے جا، یہاں تک کہ شیطان تھک جائے پھر فرمایا گناہ کو بخشنا اللہ ہی کے اختیار میں ہے مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک قیدی آیا اور کہنے لگا یا اللہ میں تیری طرف توبہ کرتا ہوں محمد ﷺ کی طرف توبہ نہیں کرتا (یعنی اللہ میں تیری ہی بخشش چاہتا ہوں) آپ نے فرمایا اس نے حق حقدار کو پہنچایا۔ اصرار کرنے سے مراد یہ ہے کہ معصیت پر بغیر توبہ کئے اڑ نہیں جاتے اگر کئی مرتبہ گناہ ہوجائے تو کئی مرتبہ استغفار کرتے ہیں، مسند ابو یعلیٰ میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں وہ اصرار کرنے والا اور اڑنے والا نہیں جو استغفار کرتا رہتا ہے اگرچہ (بالفرض) اس سے ایک دن میں ستر مرتبہ بھی گناہ ہوجائے پھر فرمایا کہ وہ جانتے ہوں یعنی اس بات کو کہ اللہ توبہ قبول کرنے والا ہے جیسے اور جگہ ہے آیت (اَلَمْ يَعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ ھُوَ يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهٖ وَيَاْخُذُ الصَّدَقٰتِ وَاَنَّ اللّٰهَ ھُوَ التَّوَّاب الرَّحِيْمُ) 9۔ التوبہ :104) کیا یہ نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے اور جگہ ہے آیت (وَمَنْ يَّعْمَلْ سُوْۗءًا اَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهٗ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللّٰهَ يَجِدِ اللّٰهَ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا) 4۔ النسآء :110) جو شخص کوئی برا کام کرے یا گناہ کر کے اپنی جان پر ظلم کرے پھر اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کرے تو وہ دیکھ لے گا کہ اللہ عزوجل بخشش کرنے والا مہربان ہے۔ مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ نے منبر پر بیان فرمایا لوگو تم اوروں پر رحم کرو اللہ تم پر رحم کرے گا لوگو تم دوسروں کی خطائیں معاف کرو اللہ تعالیٰ تمہارے گناہوں کو بخشے گا باتیں بنانے والوں کی ہلاکت ہے گناہ پر جم جانے والوں کی ہلاکت ہے پھر فرمایا ان کاموں کے بدلے ان کی جزا مغفرت ہے اور طرح طرح کی بہتی نہروں والی جنت ہے جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے، یہ بڑے اچھے اعمال ہیں۔
132
View Single
وَأَطِيعُواْ ٱللَّهَ وَٱلرَّسُولَ لَعَلَّكُمۡ تُرۡحَمُونَ
And obey Allah and the Noble Messenger, hoping that you gain mercy. (Obeying the Prophet is in fact obeying Allah.)
اور اللہ کی اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی فرمانبرداری کرتے رہو تاکہ تم پر رحم کیا جائے
Tafsir Ibn Kathir
Interest (Riba) is Prohibited
Allah prohibits His believing servants from dealing in Riba and from requiring interest on their capital, just as they used to do during the time of Jahiliyyah. For instance, when the time to pay a loan comes, the creditor would say to the debtor, "Either pay now, or the loan will incur interest." If the debtor asks for deferment of the loan, the creditor would require interest and this would occur year after year until the little capital becomes multiplied many times. Allah also commands His servants to have Taqwa of Him so that they may achieve success in this life and the Hereafter. Allah also threatens them with the Fire and warns them against it, saying,
وَاتَّقُواْ النَّارَ الَّتِى أُعِدَّتْ لِلْكَـفِرِينَ - وَأَطِيعُواْ اللَّهَ وَالرَّسُولَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ
(And fear the Fire, which is prepared for the disbelievers. And obey Allah and the Messenger that you may obtain mercy.) 3:131,132.
The Encouragment to Do Good for which Paradise is the Result
Allah encourages His servants to perform righteous deeds and to rush to accomplish the acts of obedience. Allah said,
وَسَارِعُواْ إِلَى مَغْفِرَةٍ مِّن رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمَـوَتُ وَالاٌّرْضُ أُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِينَ
(And march forth in the way (which leads to) forgiveness from your Lord, and for Paradise as wide as the heavens and the earth, prepared for the Muttaqin (the pious)) 3:133.
Just as the Fire was prepared for the disbelievers. It was reported that the meaning of Allah's statement,
عَرْضُهَا السَّمَـوَتُ وَالاٌّرْضُ
(as wide as the heavens and the earth) draws the attention to the spaciousness of Paradise. For instance, Allah said in another Ayah, while describing the couches of Paradise,
بَطَآئِنُهَا مِنْ إِسْتَبْرَقٍ
(lined with silk brocade) 55:54, so what about their outer covering It was also said that Paradise is as wide as its length, because it is a dome under the Throne. The width and length of a dome or a circle are the same in distance. This is supported by what is found in the Sahih;
«إِذَا سَأَلْتُمُ اللهَ الْجَنَّـةَ فَاسْأَلُوهُ الْفِرْدَوْسَ، فَإِنَّهُ أَعْلَى الْجَنَّـةِ، وَأَوْسَطُ الْجَنَّةِ، وَمِنْهُ تَفَجَّرُ أَنْهَارُ الْجَنَّةِ، وَسَقْفُهَا عَرْشُ الرَّحْمَن»
(When you ask Allah for Paradise, ask Him for Al-Firdaws which is the highest and best part of Paradise. From it originate the rivers of Paradise, and above it is the Throne of the Most Beneficent (Allah).)
This Ayah 3:133 above is similar to Allah's statement in Surat Al-Hadid,
سَابِقُواْ إِلَى مَغْفِرَةٍ مِّن رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا كَعَرْضِ السَّمَآءِ وَالاٌّرْضِ
(Race with one another in hastening towards forgiveness from your Lord (Allah), and Paradise the width whereof is as the width of the heaven and the Earth) 57:21.
Al-Bazzar recorded that Abu Hurayrah said that a man came to the Messenger of Allah ﷺ and asked him, about Allah's statement,
وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمَـوَتُ وَالاٌّرْضُ
(Paradise as wide as the heavens and the Earth) 3:133; "Where is the Fire then" The Prophet said,
«أَرَأَيْتَ اللَّيْلَ إِذَا جَاءَ لَبِسَ كُلَّ شَيْءٍ، فَأَيْنَ النَّهَارُ؟»
(When the night comes, it overtakes everything, so where is the day) The man said, "Where Allah wants it to be." The Prophet said,
«وَكَذلِكَ النَّارُ تَكُونُ حَيْثُ شَاءَ اللهُ عَزَّ وَجَل»
(Similarly, the Fire is where Allah wants it to be.) This Hadith has two possible meanings. First, when we do not see the night during the day, this does not mean that the day is not somewhere else, even though we cannot see it. Such is the case with Hell-fire, for it is where Allah wants it to be. The second meaning is that when the day overcomes this part of the world, the night overtakes the other part. Such is the case with Paradise, for it is in the utmost heights above the heavens and under the Throne. The width of Paradise is, as Allah stated,
كَعَرْضِ السَّمَآءِ وَالاٌّرْضِ
(whereof is as the width of the heaven and the Earth) 57:21.
The Fire, on the other hand, is in the lowest of lows. Therefore, Paradise being as wide as the heavens and Earth does not contradict the fact that the Fire exists wherever Allah wills it to be.
Allah said, while describing the people of Paradise,
الَّذِينَ يُنفِقُونَ فِى السَّرَّآءِ وَالضَّرَّآءِ
(Those who spend (in Allah's cause) in prosperity and in adversity) 3:134, in hard times and easy times, while active (or enthusiastic) and otherwise, healthy or ill, and in all conditions, just as Allah said in another Ayah,
الَّذِينَ يُنفِقُونَ أَمْوَلَهُمْ بِالَّيْلِ وَالنَّهَارِ سِرًّا وَعَلاَنِيَةً
(Those who spend their wealth (in Allah's cause) by night and day, in secret and in public) 2:274 These believers are never distracted from obeying Allah, spending on what pleases Him, being kind to His servants and their relatives, and other acts of righteousness. Allah said,
وَالْكَـظِمِينَ الْغَيْظَ وَالْعَـفِينَ عَنِ النَّاسِ
(who repress anger, and who pardon men;) 3:134 for when they are angry, they control their anger and do act upon it. Rather, they even forgive those who hurt them. Imam Ahmad recorded that Abu Hurayrah said that the Prophet said,
«لَيْسَ الشَّدِيدُ بِالصُّرَعَةِ، وَلكِنَّ الشَّدِيدَ الَّذِي يَمْلِكُ نَفْسَهُ عِنْدَ الْغَضَب»
(The strong person is not he who is able to physically overcome people. The strong person is he who overcomes his rage when he is angry.)
This Hadith is also recorded in the Two Sahihs. Imam Ahmad recorded that Ibn `Abbas said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«مَنْ أَنْظَرَ مُعْسِرًا أَوْ وَضَعَ لَهُ، وَقَاهُ اللهُ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ، أَلَا إِنَّ عَمَلَ الْجَنَّـةِ حَزْنٌ بِرَبْوَةٍ ثَلَاثًا أَلَا إِنَّ عَمَلَ النَّارِ سَهْلٌ بِسَهْوَةٍ. وَالسَّعِيدُ مَنْ وُقِيَ الْفِتَنَ، وَمَا مِنْ جَرْعَةٍ أَحَبُّ إِلَى اللهِ مِنْ جَرْعَةِ غَيْظٍ يَكْظِمُهَا عَبْدٌ، مَا كَظَمَهَا عَبْدٌ للهِ إِلَّا مَلَأَ جَوْفَهُ إِيمَانًا»
(He who gives time to a debtor or forgives him, then Allah will save him from the heat of Jahannam (Hell-fire). Behold! The deeds of Paradise are difficult to reach, for they are on top of a hill, while the deeds of the Fire are easy to find in the lowlands. The happy person is he who is saved from the tests. Verily, there is no dose of anything better to Allah than a dose of rage that the servant controls, and whenever the servant of Allah controls it, he will be internally filled with faith.)
This Hadith was recorded by Imam Ahmad, its chain of narration is good, it does not contain any disparraged narrators, and the meaning is good.
Imam Ahmad recorded that Sahl bin Mu`adh bin Anas said that his father said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«مَنْ كَظَمَ غَيْظًا وَهُوَ قَادِرٌ عَلى أَنْ يُنْفِذَهُ دَعَاهُ اللهُ عَلى رُؤُوسِ الْخَلَائِقِ حَتَّى يُخَيِّرَهُ مِنْ أَيِّ الْحُورِ شَاء»
(Whoever controlled rage while able to act upon it, then Allah will call him while all creation is a witness, until He gives him the choice of any of the Huris (fair females with wide, lovely eyes - as mates for the pious) he wishes.)
Abu Dawud, At-Tirmidhi and Ibn Majah collected this Hadith, which At-Tirmidhi said was "Hasan Gharib".
Ibn Marduwyah recorded that Ibn `Umar said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«مَا تَجَرَّعَ عَبْدٌ مِنْ جَرْعَةٍ أَفْضَلَ أَجْرًا مِنْ جَرْعَةِ غَيْظٍ كَظَمَهَا ابْتِغَاءَ وَجْهِ الله»
(There is not a dose of anything that the servant takes which is better than a dose of control of rage that he feels, when he does it seeking Allah's Face.) Ibn Jarir and Ibn Majah also collected this Hadith.
Allah said,
وَالْكَـظِمِينَ الْغَيْظَ
(who repress anger) meaning, they do not satisfy their rage upon people. Rather, they refrain from harming them and await their rewards with Allah, the Exalted and Most Honored. Allah then said,
وَالْعَـفِينَ عَنِ النَّاسِ
(and who pardon men;) They forgive those who treat them with injustice. Therefore, they do not hold any ill feelings about anyone in their hearts, and this is the most excellent conduct in this regard. This is why Allah said,
وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ
(verily, Allah loves the Muhsinin (the good-doers)).
This good conduct is a type of Ihsan excellence in the religion. There is a Hadith that reads,
«ثَلَاثٌ أُقْسِمُ عَلَيْهِنَّ: مَا نَقَصَ مَالٌ مِنْ صَدَقَةٍ، وَمَا زَادَ اللهُ عَبْدًا بِعَفْوٍ إِلَّا عِزًّا، وَمَنْ تَوَاضَعَ للهِ رَفَعَهُ الله»
(I swear regarding three matters: no charity shall ever decrease the wealth; whenever one forgives people, then Allah will magnify his honor; and he who is humble for Allah, then Allah will raise his rank.)
Allah said,
وَالَّذِينَ إِذَا فَعَلُواْ فَـحِشَةً أَوْ ظَلَمُواْ أَنْفُسَهُمْ ذَكَرُواْ اللَّهَ فَاسْتَغْفَرُواْ لِذُنُوبِهِمْ
(And those who, when they have committed Fahishah or wronged themselves with evil, remember Allah and ask forgiveness for their sins) 3:135.
Therefore, if they commit an error they follow it with repentance and ask forgiveness. Imam Ahmad recorded that Abu Hurayrah said that the Prophet said,
«إِنَّ رَجُلًا أَذْنَبَ ذَنْبًا فَقَالَ: رَبِّ إِنِّي أَذْنَبْتُ ذَنْبًا فَاغْفِرْهُ، فَقَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: عَبْدِي عَمِل ذَنْبًا فَعَلِمَ أَنَّ لَهُ ر&
سود خور جہنمی ہے اور غصہ شیطان کی دین ہے اس سے بچو اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو سودی لین دین سے اور سود خوری سے روک رہا ہے، اہل جاہلیت سودی قرضہ دیتے تھے مدت مقرر ہوتی تھی اگر اس مدت پر روپیہ وصول نہ ہوتا تو مدت بڑھا کر سود پر سود بڑھا دیا کرتے تھے اسی طرح سود در سود ملا کر اصل رقم کئی گنا بڑھ جاتی، اللہ تعالیٰ ایمانداروں کو اس طرح ناحق لوگوں کے مال غصب کرنے سے روک رہا ہے اور تقوے کا حکم دے کر اس پر نجات کا وعدہ کر رہا ہے، پھر آگ سے ڈراتا ہے اور اپنے عذابوں سے دھمکاتا ہے پھر اپنی اور اپنے رسول ﷺ کی اطاعت پر آمادہ کرتا ہے اور اس پر رحم و کرم کا وعدہ دیتا ہے پھر سعادت دارین کے حصول کیلئے نیکیوں کی طرف سبقت کرنے کو فرماتا ہے اور جنت کی تعریف کرتا ہے، چوڑائی کو بیان کر کے لمبائی کا اندازہ سننے والوں پر ہی چھوڑا جاتا ہے جس طرح جنتی فرش کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا آیت (مُتَّكِــــِٕيْنَ عَلٰي فُرُشٍۢ بَطَاۗىِٕنُهَا مِنْ اِسْتَبْرَقٍ) 55۔ الرحمن :54) یعنی اس کا استر نرم ریشم کا ہے تو مطلب یہ ہے کہ جب استر ایسا ہے تو ابرے کا کیا ٹھکانا ہے اسی طرح یہاں بھی بیان ہو رہا ہے کہ جب عرض ساتوں آسمانوں اور ساتویں زمینوں کے برابر ہے تو طول کتنا بڑا ہوگا اور بعض نے کہا ہے کہ عرض و طول یعنی لمبائی چوڑائی دونوں برابر ہے کیونکہ جنت مثل قبہ کے عرش کے نیچے ہے اور جو چیز قبہ نما ہو یا مستدیر ہو اس کا عرض و طول یکساں ہوتا ہے۔ ایک صحیح حدیث میں ہے جب تم اللہ سے جنت مانگو تو فردوس کا سوال کرو وہ سب سے اونچی اور سب سے اچھی جنت ہے اسی جنت سے سب نہریں جاری ہوتی ہیں اور اسی کی چھت اللہ تعالیٰ رحمن رحیم کا عرش ہے، مسند امام احمد میں ہے کہ ہرقل نے حضور ﷺ کی خدمت میں بطور اعتراض کے ایک سوال لکھ بھیجا کہ آپ مجھے اس جنت کی دعوت دے رہے ہیں جس کی چوڑائی آسمان و زمین کے برابر ہے تو یہ فرمایئے کہ پھر جہنم کہاں گئی ؟ حضور ﷺ نے فرمایا یعلیٰ بن مرہ کی ملاقات حمص میں ہوئی تھی کہتے ہیں اس وقت یہ بہت ہی بوڑھا ہوگیا تھا کہنے لگا جب میں نے یہ خط حضور ﷺ کو دیا تو آپ نے اپنی بائیں طرف کے ایک صحابی کو دیا میں نے لوگوں سے پوچھا ان کا کیا نام ہے ؟ لوگوں نے کہا یہ حضرت معاویہ ہیں ؓ حضرت عمر ؓ سے بھی یہی سوال ہوا تھا تو آپ نے فرمایا تھا کہ دن کے وقت رات اور رات کے وقت دن کہاں جاتا ہے ؟ یہودی یہ جواب سن کر کھسیانے ہو کر کہنے لگے کہ یہ توراۃ سے ماخوذ کیا ہوگا، حضرت ابن عباس ؓ سے بھی یہ جواب مروی ہے، ایک مرفوع حدیث میں ہے کسی نے حضور ﷺ سے پوچھا تو آپ نے جواب میں فرمایا جب ہر چیز پر رات آجاتی ہے تو دن کہاں جاتا ہے ؟ اس نے کہا جہاں اللہ چاہے، آپ نے فرمایا اسی طرح جہنم بھی جہاں چاہے (بزار) اس جملہ کے دو معنی ہوتے ہیں ایک تو یہ کہ رات کے وقت ہم گو دن کو نہیں دیکھ سکتے لیکن تاہم دن کا کسی جگہ ہونا ناممکن نہیں، اسی طرح گو جنت کا عرض اتنا ہی ہے لیکن پھر بھی جہنم کے وجود سے انکار نہیں ہوسکتا جہاں اللہ چاہے وہ بھی ہے، دوسرے معنی یہ کہ جب دن ایک طرف چڑھنے لگا رات دوسری جانب ہوتی ہے اسی طرح جنت اعلیٰ علیین میں ہے اور دوزخ اسفل السافلین میں تو کوئی نفی کا امکان ہی نہ رہا واللہ اعلم پھر اللہ تعالیٰ اہل جنت کا وصف بیان فرماتا ہے کہ وہ سختی میں اور آسانی میں خوشی میں اور غمی میں تندرستی میں اور بیماری میں غرض ہر حال میں راہ اللہ اپنا مال خرچ کرتے رہتے ہیں جیسے اور جگہ ہے آیت (اَلَّذِيْنَ يُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَھُمْ بالَّيْلِ وَالنَّهَارِ سِرًّا وَّعَلَانِيَةً فَلَھُمْ اَجْرُھُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ ۚ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا ھُمْ يَحْزَنُوْنَ) 2۔ البقرۃ :274) یعنی وہ لوگ دن رات چھپے کھلے خرچ کرتے رہتے ہیں کوئی امر انہیں اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے باز نہیں رکھ سکتا اس کی مخلوق پر اس کے حکم سے احسان کرتے رہتے ہیں۔ یہ غصے کو پی جانے والے اور لوگوں کی برائیوں سے درگزر کرنے والے ہیں (کظم) کے معنی چھپانے کے بھی ہیں یعنی اپنے غصہ کا اظہار بھی نہیں کرتے بعض روایتوں میں ہے اے ابن آدم اگر غصہ کے وقت تجھے یاد رکھوں گا یعنی ہلاکت کے وقت تجھے ہلاکت سے بچا لوں گا (ابن ابی حاتم) اور حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جو شخص اپنا غصہ روک لے اللہ تعالیٰ اس پر سے اپنے عذاب ہٹا لیتا ہے اور جو بھی اپنی زبان (خلاف شرع باتوں سے) روک لے اللہ تعالیٰ اس کی پردہ پوشی کرے گا اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی طرف معذرت لے جائے اللہ تعالیٰ اس کا عذر قبول فرماتا ہے (مسند ابو یعلیٰ) یہ حدیث غریب ہے اور اس کی سند میں بھی اختلاف ہے اور حدیث شریف میں ہے۔ آپ فرماتے ہیں پہلوان وہ نہیں جو کسی کو پچھاڑ دے بلکہ حقیقتاً پہلوان وہ ہے جو غصہ کے وقت اپنے نفس پر قابو رکھے (احمد) صحیح بخاری صحیح مسلم میں رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں تم میں سے کوئی ایسا ہے جسے اپنے وارث کا مال اپنے مال سے زیادہ محبوب ہو ؟ لوگوں نے کہا حضور ﷺ کوئی نہیں آپ نے فرمایا میں تو دیکھتا ہوں کہ تم اپنے مال سے زیادہ اپنے وارث کا مال چاہتے ہو اس لئے کہ تمہارا مال تو درحقیقت وہ ہے جو تم راہ اللہ اپنی زندگی میں خرچ کردو اور جو چھوڑ کر جاؤ وہ تمہارا مال نہیں بلکہ تمہارے وارثوں کا مال ہے تو تمہارا راہ اللہ کم خرچ کرنا اور جمع زیادہ کرنا یہ دلیل ہے اس امر کی کہ تم اپنے مال سے اپنے وارثوں کے مال کو زیادہ عزیز رکھتے ہو، پھر فرمایا تم پہلوان کسے جانتے ہو ؟ لوگوں نے کہا حضور ﷺ اسے جسے کوئی گر انہ سکے آپ نے فرمایا نہیں بلکہ حقیقتاً زور دار پہلوان وہ ہے جو غصہ کے وقت اپنے جذبات پر پورا قابو رکھے، پھر فرمایا بےاولاد کسے کہتے ہو ؟ لوگوں نے کہا جس کی اولاد نہ ہو، فرمایا نہیں بلکہ فی الواقع بےاولاد وہ ہے جس کے سامنے اس کی کوئی اولاد مری نہ ہو (مسلم) ایک اور روایت میں یہ بھی ہے کہ آپ نے دریافت فرمایا کہ جانتے ہو مفلس کنگال کون ہے ؟ لوگوں نے کہا جس کے پاس مال نہ ہو آپ نے فرمایا بلکہ وہ جس نے اپنا مال اپنی زندگی میں راہ اللہ نہ دیا ہو (مسند احمد) حضرت حارثہ بن قدامہ سعدی ؓ حاضر خدمت نبوی میں عرض کرتے ہیں کہ حضور ﷺ مجھے کوئی نفع کی بات کہیے جو مختصر ہو تاکہ میں یاد بھی رکھ سکوں آپ نے فرمایا غصہ نہ کر اس نے پھر پوچھا آپ نے پھر یہی جواب دیا کئی کئی مرتبہ یہی کہا (مسند احمد) کسی شخص نے حضور ﷺ سے کہا مجھے کچھ وصیت کیجئے آپ نے فرمایا غصہ نہ کر وہ کہتے ہیں میں نے جو غور کیا تو معلوم ہوا کہ تمام برائیوں کا مرکز غصہ ہی ہے (مسند احمد) ایک روایت میں ہے کہ حضرت ابوذر ؓ غصہ آیا تو آپ بیٹھ گئے اور پھر لیٹ گئے ان سے پوچھا گیا یہ کیا ؟ تو فرمایا میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے آپ فرماتے تھے جسے غصہ آئے وہ کھڑا ہو تو بیٹھ جائے اگر اس سے بھی غصہ نہ جائے تو لیٹ جائے (مسند احمد) مسند احمد کی ایک اور روایت میں ہے کہ عروہ بن محمد کو غصہ چڑھا آپ وضو کرنے بیٹھ گئے اور فرمانے لگے میں نے اپنے استادوں سے یہ حدیث سنی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ غصہ شیطان کی طرف سے ہے اور شیطان آگ سے پیدا ہوا ہے اور آگ بجھانے والی چیز پانی ہے پس تم غصہ کے وقت وضو کرنے بیٹھ جاؤ حضور ﷺ کا یہ ارشاد ہے کہ جو شخص کسی تنگ دست کو مہلت دے یا اپنا قرض اسے معاف کر دے اللہ تعالیٰ اسے جہنم سے آزاد کردیتا ہے لوگو سنو جنت کے اعمال سخت اور مشکل ہیں اور جہنم کے کام آسان اور سہل ہیں نیک بخت وہی ہے جو فتنوں سے بچ جائے کسی گھونٹ کا پینا اللہ کو ایسا پسند نہیں جتنا غصہ کے گھونٹ کا پی جانا ایسے شخص کے دل میں ایمان رچ جاتا ہے (مسند احمد) حضور ﷺ فرماتے ہیں جو شخص اپنا غصہ اتارنے کی طاقت رکھتے ہوئے پھر بھی ضبط کرلے اللہ تعالیٰ اس کا دل امن وامان سے پر کردیتا ہے جو شخص باوجود موجود ہونے کے شہرت کے کپڑے کو تواضع کی وجہ سے چھوڑ دے اسے اللہ تعالیٰ کرامت اور عزت کا حلہ قیامت کے دن پہنائے گا اور جو کسی کا سر چھپائے اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن بادشاہت کا تاج پہنائے گا (ابوداؤد) حضور ﷺ فرماتے ہیں جو شخص باوجود قدرت کے اپنا غصہ ضبط کرلے اسی اللہ تعالیٰ تمام مخلوق کے سامنے بلا کر اختیار دے گا کہ جس حور کو چاہے پسند کرلے (مسند احمد) اس مضمون کی اور بھی حدیثیں ہیں، پس آیت کا مطلب یہ ہوا کہ وہ اپنے غصہ میں آپے سے باہر نہیں ہوتے لوگوں کو ان کی طرف سے برائی نہیں پہنچتی بلکہ اپنے جذبات کو دبائے رکھتے ہیں اور اللہ سے ڈر کر ثواب کی امید پر معاملہ سپر دالہ کرتے ہیں، لوگوں سے درگزر کرتے ہیں ظالموں کے ظلم کا بدلہ ابھی نہیں لیتے اسی کو احسان کہتے ہیں اور ان محسن بندوں سے اللہ محبت رکھتا ہے حدیث میں ہے رسول مقبول ﷺ فرماتے ہیں تین باتوں پر میں قسم کھاتا ہوں ایک تو یہ کہ صدقہ سے مال نہیں گھٹتا دوسرے یہ کہ عفو و درگزر کرنے سے انسان کی عزت بڑھتی ہے تیسرے یہ کہ تواضع فروتنی اور عاجزی کرنے والے کو اللہ تعالیٰ بلند مرتبہ عطا کرتا ہے، مستدرک کی حدیث میں ہے جو شخص یہ چاہے کہ اس کی بنیاد بلند ہو اور اس کے درجے بڑھیں تو اسے ظالموں سے درگزر کرنا چاہئے اور نہ دینے والوں کو دینا چاہئے اور توڑنے والوں سے جوڑنا چاہئے اور حدیث میں ہے قیامت کے دن ایک پکارے گا کہ اے لوگو درگزر کرنے والو اپنے رب کے پاس آؤ اور اپنا اجر لو۔ مسلمانوں کی خطاؤں کے معاف کرنے والے جنتی لوگ ہیں۔ پھر فرمایا یہ لوگ گناہ کے بعد فوراً ذکر اللہ اور استغفار کرتے ہیں۔ مسند احمد میں یہ روایت حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جب کوئی شخص گناہ کرتا ہے پھر اللہ رحمن و رحیم کے سامنے حاضر ہو کر کہتا ہے کہ پروردگار مجھ سے گناہ ہوگیا تو معاف فرما اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میرے بندے سے گو گناہ ہوگیا لیکن اس کا ایمان ہے کہ اس کا رب گناہ پر پکڑ بھی کرتا ہے اور اگر چاہے تو معاف بھی فرما دیتا ہے میں نے اپنے بندے کا گناہ معاف فرمایا، اس سے پھر گناہ ہو تو فرما دیتا ہے میں نے اپنے بندے کا گناہ معاف فرمایا، اس سے پھر گناہ ہوجاتا ہے یہ پھر توبہ کرتا ہے اللہ تعالیٰ پھر بخشتا ہے چوتھی مرتبہ پھر گناہ کر بیٹھتا ہے پھر توبہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ معاف فرما کر کہتا ہے اب میرا بندہ جو چاہے کرے (مسند احمد) یہ حدیث بخاری و مسلم میں بھی ہے، حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں ہم نے ایک مرتبہ جناب رسول اللہ ﷺ سے کہا کہ یہ رسول اللہ ﷺ جب ہم آپ کو دیکھتے ہیں تو ہمارے دلوں میں رقت طاری ہوجاتی ہے اور ہم اللہ والے بن جاتے ہیں لیکن جب آپ کے پاس سے چلے جاتے ہیں تو وہ حالت نہیں رہتی عورتوں بچوں میں پھنس جاتے ہیں گھر بار کے دھندوں میں لگ جاتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا۔ اگر تمہاری حالت یہی ہر وقت رہتی تو پھر فرشتے تم سے مصافحہ کرتے اور تمہاری ملاقات کو تمہارے گھر پر آتے، سنو اگر تم گناہ نہ کرو تو اللہ تمہیں یہاں سے ہٹا دے اور دوسری قوم کو لے آئے جو گناہ کرے پھر بخشش مانگے اور اللہ انہیں بخشے ہم نے کہا حضور ﷺ یہ فرماتے کہ جنت کی بنیادیں کس طرح استوار ہیں آپ نے فرمایا ایک اینٹ سونے کی تو ایک چاندی کی ہے اس کا گارہ مشک خالص ہے اس کے کنکر لؤلؤ اور یاقوت ہیں، اس کی مٹی زعفران ہے، جنتیوں کی نعمتیں کبھی ختم نہ ہوں گی ان کی زندگی ہمیشہ کی ہوگی ان کے کپڑے پرانے نہیں ہونگے جوانی کبھی نہیں ڈھلے گی اور تین اشخاص کی دعا کبھی رد نہیں ہوتی عادل بادشاہ کی دعا افطاری کے وقت روزے دار کی دعا اور مظلوم کی دعا بادلوں سے اٹھائی جاتی ہے اور اس کے لئے آسمانوں کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور جناب باری ارشاد فرماتا ہے مجھے میری عزت کی قسم میں تیری ضرور مدد کروں گا اگرچہ کچھ وقت کے بعد ہو (مسند احمد) امیر المومنین حضرت ابوبکر صدیق ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص کوئی گناہ کرے پھر وضو کر کے دو رکعت نماز ادا کرے اور اپنے گناہ کی معافی چاہے تو اے اللہ عزوجل اس کے گناہ معاف فرما دیتا ہے (مسند احمد) صحیح مسلم میں روایت امیر المومنین حضرت عمر بن خطاب ؓ مروی ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں تم میں سے جو شخص کامل وضو کر کے دعا (اشھدان لا الہ الا اللہ وحدہ لاشریک لہ واشھدان محمد اعبدہ و رسولہ) پڑھے اس کیلئے جنت کے آٹھوں دروازے کھل جاتے ہیں جس سے چاہے اندر چلا جائے، امیر المومنین حضرت عثمان بن عفان ؓ سنت کے مطابق وضو کرتے ہیں پھر فرماتے ہیں میں نے آنحضرت ﷺ سے سنا ہے آپ نے فرمایا جو شخص مجھ جیسا وضو کرے پھر دو رکعت نماز ادا کرے جس میں اپنے دل سے باتیں نہ کرے تو اللہ تعالیٰ اس کے تمام گناہ معاف فرما دیتا ہے (بخاری مسلم) پس یہ حدیث کو حضرت عثمان سے اس سے اگلی روایت حضرت عمر سے اور اس سے اگلی روایت حضرت ابوبکر سے اور اس سے تیسری روایت کو حضرت ابوبکر سے حضرت علی روایت کرتے ہیں تو الحمد اللہ، اللہ تعالیٰ کی وسیع مغفرت اور اس کی بےانتہاء مہربانی کی خبر سید الاولین والاخرین کی زبانی آپ کے چاروں برحق خلفاء کی معرفت ہمیں پہنچی (آؤ اس موقعہ پر ہم گنہگار بھی ہاتھ اٹھائیں اور اپنے مہربان رحیم و کریم اللہ کے سامنے اپنے گناہوں کا اقرار کر کے اس سے معافی طلب کریں اللہ تعالیٰ اے ماں باپ سے زیادہ مہربان اے عفو و درگزر کرنے والے ! اور کسی بھکاری کو اپنے در سے خالی نہ پھیرنے والے ! تو ہم خطاکاروں کی سیاہ کاریوں سے بھی درگزر فرما اور ہمارے کل گناہ معاف فرما دے۔ مترجم) یہی وہ مبارک آیت ہے کہ جب یہ نازل ہوئی تو ابلیس رونے لگا (مسند عبدالرزاق) استغفار اور لا الہ الاللہ مسند ابو یعلیٰ میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں لا الہ الا اللہ کثرت سے پڑھا کرو اور استغفار پر مداومت کرو ابلیس گناہوں سے لوگوں کو ہلاک کرنا چاہتا ہے اور اس کی اپنی ہلاکت لا الہ الا اللہ اور استغفار سے ہے، یہ حدیث دیکھ کر ابلیس نے لوگوں کو خواہش پرستی پر ڈال دیا پس وہ اپنے آپ کو راہ راست پر جانتے ہیں حالانکہ ہلاکت میں ہوتے ہیں لیکن اس حدیث کے دو راوی ضعیف ہیں۔ مسند احمد میں ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں کہ ابلیس نے کہا اے رب مجھے تیری عزت کی قسم میں بنی آدم کو ان کے آخری دم تک بہکاتا رہوں گا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا مجھے میرے جلال اور میری عزت کی قسم جب تک وہ مجھ سے بخشش مانگتے رہیں گے میں بھی انہیں بخشتا رہوں گا مسند بزاز میں ہے کہ ایک شخص نے حضور ﷺ سے کہا مجھ سے گناہ ہوگیا آپ نے فرمایا پھر استغفار کر اس نے کہا مجھ سے اور گناہ ہوا فرمایا استغفار کئے جا، یہاں تک کہ شیطان تھک جائے پھر فرمایا گناہ کو بخشنا اللہ ہی کے اختیار میں ہے مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک قیدی آیا اور کہنے لگا یا اللہ میں تیری طرف توبہ کرتا ہوں محمد ﷺ کی طرف توبہ نہیں کرتا (یعنی اللہ میں تیری ہی بخشش چاہتا ہوں) آپ نے فرمایا اس نے حق حقدار کو پہنچایا۔ اصرار کرنے سے مراد یہ ہے کہ معصیت پر بغیر توبہ کئے اڑ نہیں جاتے اگر کئی مرتبہ گناہ ہوجائے تو کئی مرتبہ استغفار کرتے ہیں، مسند ابو یعلیٰ میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں وہ اصرار کرنے والا اور اڑنے والا نہیں جو استغفار کرتا رہتا ہے اگرچہ (بالفرض) اس سے ایک دن میں ستر مرتبہ بھی گناہ ہوجائے پھر فرمایا کہ وہ جانتے ہوں یعنی اس بات کو کہ اللہ توبہ قبول کرنے والا ہے جیسے اور جگہ ہے آیت (اَلَمْ يَعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ ھُوَ يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهٖ وَيَاْخُذُ الصَّدَقٰتِ وَاَنَّ اللّٰهَ ھُوَ التَّوَّاب الرَّحِيْمُ) 9۔ التوبہ :104) کیا یہ نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے اور جگہ ہے آیت (وَمَنْ يَّعْمَلْ سُوْۗءًا اَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهٗ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللّٰهَ يَجِدِ اللّٰهَ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا) 4۔ النسآء :110) جو شخص کوئی برا کام کرے یا گناہ کر کے اپنی جان پر ظلم کرے پھر اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کرے تو وہ دیکھ لے گا کہ اللہ عزوجل بخشش کرنے والا مہربان ہے۔ مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ نے منبر پر بیان فرمایا لوگو تم اوروں پر رحم کرو اللہ تم پر رحم کرے گا لوگو تم دوسروں کی خطائیں معاف کرو اللہ تعالیٰ تمہارے گناہوں کو بخشے گا باتیں بنانے والوں کی ہلاکت ہے گناہ پر جم جانے والوں کی ہلاکت ہے پھر فرمایا ان کاموں کے بدلے ان کی جزا مغفرت ہے اور طرح طرح کی بہتی نہروں والی جنت ہے جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے، یہ بڑے اچھے اعمال ہیں۔
133
View Single
۞وَسَارِعُوٓاْ إِلَىٰ مَغۡفِرَةٖ مِّن رَّبِّكُمۡ وَجَنَّةٍ عَرۡضُهَا ٱلسَّمَٰوَٰتُ وَٱلۡأَرۡضُ أُعِدَّتۡ لِلۡمُتَّقِينَ
And rush towards forgiveness from your Lord, and towards a Paradise that can hold all the heavens and the earth in its width – prepared for the pious.
اور اپنے رب کی بخشش اور اس جنت کی طرف تیزی سے بڑھو جس کی وسعت میں سب آسمان اور زمین آجاتے ہیں، جو پرہیزگاروں کے لئے تیار کی گئی ہے
Tafsir Ibn Kathir
Interest (Riba) is Prohibited
Allah prohibits His believing servants from dealing in Riba and from requiring interest on their capital, just as they used to do during the time of Jahiliyyah. For instance, when the time to pay a loan comes, the creditor would say to the debtor, "Either pay now, or the loan will incur interest." If the debtor asks for deferment of the loan, the creditor would require interest and this would occur year after year until the little capital becomes multiplied many times. Allah also commands His servants to have Taqwa of Him so that they may achieve success in this life and the Hereafter. Allah also threatens them with the Fire and warns them against it, saying,
وَاتَّقُواْ النَّارَ الَّتِى أُعِدَّتْ لِلْكَـفِرِينَ - وَأَطِيعُواْ اللَّهَ وَالرَّسُولَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ
(And fear the Fire, which is prepared for the disbelievers. And obey Allah and the Messenger that you may obtain mercy.) 3:131,132.
The Encouragment to Do Good for which Paradise is the Result
Allah encourages His servants to perform righteous deeds and to rush to accomplish the acts of obedience. Allah said,
وَسَارِعُواْ إِلَى مَغْفِرَةٍ مِّن رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمَـوَتُ وَالاٌّرْضُ أُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِينَ
(And march forth in the way (which leads to) forgiveness from your Lord, and for Paradise as wide as the heavens and the earth, prepared for the Muttaqin (the pious)) 3:133.
Just as the Fire was prepared for the disbelievers. It was reported that the meaning of Allah's statement,
عَرْضُهَا السَّمَـوَتُ وَالاٌّرْضُ
(as wide as the heavens and the earth) draws the attention to the spaciousness of Paradise. For instance, Allah said in another Ayah, while describing the couches of Paradise,
بَطَآئِنُهَا مِنْ إِسْتَبْرَقٍ
(lined with silk brocade) 55:54, so what about their outer covering It was also said that Paradise is as wide as its length, because it is a dome under the Throne. The width and length of a dome or a circle are the same in distance. This is supported by what is found in the Sahih;
«إِذَا سَأَلْتُمُ اللهَ الْجَنَّـةَ فَاسْأَلُوهُ الْفِرْدَوْسَ، فَإِنَّهُ أَعْلَى الْجَنَّـةِ، وَأَوْسَطُ الْجَنَّةِ، وَمِنْهُ تَفَجَّرُ أَنْهَارُ الْجَنَّةِ، وَسَقْفُهَا عَرْشُ الرَّحْمَن»
(When you ask Allah for Paradise, ask Him for Al-Firdaws which is the highest and best part of Paradise. From it originate the rivers of Paradise, and above it is the Throne of the Most Beneficent (Allah).)
This Ayah 3:133 above is similar to Allah's statement in Surat Al-Hadid,
سَابِقُواْ إِلَى مَغْفِرَةٍ مِّن رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا كَعَرْضِ السَّمَآءِ وَالاٌّرْضِ
(Race with one another in hastening towards forgiveness from your Lord (Allah), and Paradise the width whereof is as the width of the heaven and the Earth) 57:21.
Al-Bazzar recorded that Abu Hurayrah said that a man came to the Messenger of Allah ﷺ and asked him, about Allah's statement,
وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمَـوَتُ وَالاٌّرْضُ
(Paradise as wide as the heavens and the Earth) 3:133; "Where is the Fire then" The Prophet said,
«أَرَأَيْتَ اللَّيْلَ إِذَا جَاءَ لَبِسَ كُلَّ شَيْءٍ، فَأَيْنَ النَّهَارُ؟»
(When the night comes, it overtakes everything, so where is the day) The man said, "Where Allah wants it to be." The Prophet said,
«وَكَذلِكَ النَّارُ تَكُونُ حَيْثُ شَاءَ اللهُ عَزَّ وَجَل»
(Similarly, the Fire is where Allah wants it to be.) This Hadith has two possible meanings. First, when we do not see the night during the day, this does not mean that the day is not somewhere else, even though we cannot see it. Such is the case with Hell-fire, for it is where Allah wants it to be. The second meaning is that when the day overcomes this part of the world, the night overtakes the other part. Such is the case with Paradise, for it is in the utmost heights above the heavens and under the Throne. The width of Paradise is, as Allah stated,
كَعَرْضِ السَّمَآءِ وَالاٌّرْضِ
(whereof is as the width of the heaven and the Earth) 57:21.
The Fire, on the other hand, is in the lowest of lows. Therefore, Paradise being as wide as the heavens and Earth does not contradict the fact that the Fire exists wherever Allah wills it to be.
Allah said, while describing the people of Paradise,
الَّذِينَ يُنفِقُونَ فِى السَّرَّآءِ وَالضَّرَّآءِ
(Those who spend (in Allah's cause) in prosperity and in adversity) 3:134, in hard times and easy times, while active (or enthusiastic) and otherwise, healthy or ill, and in all conditions, just as Allah said in another Ayah,
الَّذِينَ يُنفِقُونَ أَمْوَلَهُمْ بِالَّيْلِ وَالنَّهَارِ سِرًّا وَعَلاَنِيَةً
(Those who spend their wealth (in Allah's cause) by night and day, in secret and in public) 2:274 These believers are never distracted from obeying Allah, spending on what pleases Him, being kind to His servants and their relatives, and other acts of righteousness. Allah said,
وَالْكَـظِمِينَ الْغَيْظَ وَالْعَـفِينَ عَنِ النَّاسِ
(who repress anger, and who pardon men;) 3:134 for when they are angry, they control their anger and do act upon it. Rather, they even forgive those who hurt them. Imam Ahmad recorded that Abu Hurayrah said that the Prophet said,
«لَيْسَ الشَّدِيدُ بِالصُّرَعَةِ، وَلكِنَّ الشَّدِيدَ الَّذِي يَمْلِكُ نَفْسَهُ عِنْدَ الْغَضَب»
(The strong person is not he who is able to physically overcome people. The strong person is he who overcomes his rage when he is angry.)
This Hadith is also recorded in the Two Sahihs. Imam Ahmad recorded that Ibn `Abbas said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«مَنْ أَنْظَرَ مُعْسِرًا أَوْ وَضَعَ لَهُ، وَقَاهُ اللهُ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ، أَلَا إِنَّ عَمَلَ الْجَنَّـةِ حَزْنٌ بِرَبْوَةٍ ثَلَاثًا أَلَا إِنَّ عَمَلَ النَّارِ سَهْلٌ بِسَهْوَةٍ. وَالسَّعِيدُ مَنْ وُقِيَ الْفِتَنَ، وَمَا مِنْ جَرْعَةٍ أَحَبُّ إِلَى اللهِ مِنْ جَرْعَةِ غَيْظٍ يَكْظِمُهَا عَبْدٌ، مَا كَظَمَهَا عَبْدٌ للهِ إِلَّا مَلَأَ جَوْفَهُ إِيمَانًا»
(He who gives time to a debtor or forgives him, then Allah will save him from the heat of Jahannam (Hell-fire). Behold! The deeds of Paradise are difficult to reach, for they are on top of a hill, while the deeds of the Fire are easy to find in the lowlands. The happy person is he who is saved from the tests. Verily, there is no dose of anything better to Allah than a dose of rage that the servant controls, and whenever the servant of Allah controls it, he will be internally filled with faith.)
This Hadith was recorded by Imam Ahmad, its chain of narration is good, it does not contain any disparraged narrators, and the meaning is good.
Imam Ahmad recorded that Sahl bin Mu`adh bin Anas said that his father said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«مَنْ كَظَمَ غَيْظًا وَهُوَ قَادِرٌ عَلى أَنْ يُنْفِذَهُ دَعَاهُ اللهُ عَلى رُؤُوسِ الْخَلَائِقِ حَتَّى يُخَيِّرَهُ مِنْ أَيِّ الْحُورِ شَاء»
(Whoever controlled rage while able to act upon it, then Allah will call him while all creation is a witness, until He gives him the choice of any of the Huris (fair females with wide, lovely eyes - as mates for the pious) he wishes.)
Abu Dawud, At-Tirmidhi and Ibn Majah collected this Hadith, which At-Tirmidhi said was "Hasan Gharib".
Ibn Marduwyah recorded that Ibn `Umar said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«مَا تَجَرَّعَ عَبْدٌ مِنْ جَرْعَةٍ أَفْضَلَ أَجْرًا مِنْ جَرْعَةِ غَيْظٍ كَظَمَهَا ابْتِغَاءَ وَجْهِ الله»
(There is not a dose of anything that the servant takes which is better than a dose of control of rage that he feels, when he does it seeking Allah's Face.) Ibn Jarir and Ibn Majah also collected this Hadith.
Allah said,
وَالْكَـظِمِينَ الْغَيْظَ
(who repress anger) meaning, they do not satisfy their rage upon people. Rather, they refrain from harming them and await their rewards with Allah, the Exalted and Most Honored. Allah then said,
وَالْعَـفِينَ عَنِ النَّاسِ
(and who pardon men;) They forgive those who treat them with injustice. Therefore, they do not hold any ill feelings about anyone in their hearts, and this is the most excellent conduct in this regard. This is why Allah said,
وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ
(verily, Allah loves the Muhsinin (the good-doers)).
This good conduct is a type of Ihsan excellence in the religion. There is a Hadith that reads,
«ثَلَاثٌ أُقْسِمُ عَلَيْهِنَّ: مَا نَقَصَ مَالٌ مِنْ صَدَقَةٍ، وَمَا زَادَ اللهُ عَبْدًا بِعَفْوٍ إِلَّا عِزًّا، وَمَنْ تَوَاضَعَ للهِ رَفَعَهُ الله»
(I swear regarding three matters: no charity shall ever decrease the wealth; whenever one forgives people, then Allah will magnify his honor; and he who is humble for Allah, then Allah will raise his rank.)
Allah said,
وَالَّذِينَ إِذَا فَعَلُواْ فَـحِشَةً أَوْ ظَلَمُواْ أَنْفُسَهُمْ ذَكَرُواْ اللَّهَ فَاسْتَغْفَرُواْ لِذُنُوبِهِمْ
(And those who, when they have committed Fahishah or wronged themselves with evil, remember Allah and ask forgiveness for their sins) 3:135.
Therefore, if they commit an error they follow it with repentance and ask forgiveness. Imam Ahmad recorded that Abu Hurayrah said that the Prophet said,
«إِنَّ رَجُلًا أَذْنَبَ ذَنْبًا فَقَالَ: رَبِّ إِنِّي أَذْنَبْتُ ذَنْبًا فَاغْفِرْهُ، فَقَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: عَبْدِي عَمِل ذَنْبًا فَعَلِمَ أَنَّ لَهُ ر&
سود خور جہنمی ہے اور غصہ شیطان کی دین ہے اس سے بچو اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو سودی لین دین سے اور سود خوری سے روک رہا ہے، اہل جاہلیت سودی قرضہ دیتے تھے مدت مقرر ہوتی تھی اگر اس مدت پر روپیہ وصول نہ ہوتا تو مدت بڑھا کر سود پر سود بڑھا دیا کرتے تھے اسی طرح سود در سود ملا کر اصل رقم کئی گنا بڑھ جاتی، اللہ تعالیٰ ایمانداروں کو اس طرح ناحق لوگوں کے مال غصب کرنے سے روک رہا ہے اور تقوے کا حکم دے کر اس پر نجات کا وعدہ کر رہا ہے، پھر آگ سے ڈراتا ہے اور اپنے عذابوں سے دھمکاتا ہے پھر اپنی اور اپنے رسول ﷺ کی اطاعت پر آمادہ کرتا ہے اور اس پر رحم و کرم کا وعدہ دیتا ہے پھر سعادت دارین کے حصول کیلئے نیکیوں کی طرف سبقت کرنے کو فرماتا ہے اور جنت کی تعریف کرتا ہے، چوڑائی کو بیان کر کے لمبائی کا اندازہ سننے والوں پر ہی چھوڑا جاتا ہے جس طرح جنتی فرش کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا آیت (مُتَّكِــــِٕيْنَ عَلٰي فُرُشٍۢ بَطَاۗىِٕنُهَا مِنْ اِسْتَبْرَقٍ) 55۔ الرحمن :54) یعنی اس کا استر نرم ریشم کا ہے تو مطلب یہ ہے کہ جب استر ایسا ہے تو ابرے کا کیا ٹھکانا ہے اسی طرح یہاں بھی بیان ہو رہا ہے کہ جب عرض ساتوں آسمانوں اور ساتویں زمینوں کے برابر ہے تو طول کتنا بڑا ہوگا اور بعض نے کہا ہے کہ عرض و طول یعنی لمبائی چوڑائی دونوں برابر ہے کیونکہ جنت مثل قبہ کے عرش کے نیچے ہے اور جو چیز قبہ نما ہو یا مستدیر ہو اس کا عرض و طول یکساں ہوتا ہے۔ ایک صحیح حدیث میں ہے جب تم اللہ سے جنت مانگو تو فردوس کا سوال کرو وہ سب سے اونچی اور سب سے اچھی جنت ہے اسی جنت سے سب نہریں جاری ہوتی ہیں اور اسی کی چھت اللہ تعالیٰ رحمن رحیم کا عرش ہے، مسند امام احمد میں ہے کہ ہرقل نے حضور ﷺ کی خدمت میں بطور اعتراض کے ایک سوال لکھ بھیجا کہ آپ مجھے اس جنت کی دعوت دے رہے ہیں جس کی چوڑائی آسمان و زمین کے برابر ہے تو یہ فرمایئے کہ پھر جہنم کہاں گئی ؟ حضور ﷺ نے فرمایا یعلیٰ بن مرہ کی ملاقات حمص میں ہوئی تھی کہتے ہیں اس وقت یہ بہت ہی بوڑھا ہوگیا تھا کہنے لگا جب میں نے یہ خط حضور ﷺ کو دیا تو آپ نے اپنی بائیں طرف کے ایک صحابی کو دیا میں نے لوگوں سے پوچھا ان کا کیا نام ہے ؟ لوگوں نے کہا یہ حضرت معاویہ ہیں ؓ حضرت عمر ؓ سے بھی یہی سوال ہوا تھا تو آپ نے فرمایا تھا کہ دن کے وقت رات اور رات کے وقت دن کہاں جاتا ہے ؟ یہودی یہ جواب سن کر کھسیانے ہو کر کہنے لگے کہ یہ توراۃ سے ماخوذ کیا ہوگا، حضرت ابن عباس ؓ سے بھی یہ جواب مروی ہے، ایک مرفوع حدیث میں ہے کسی نے حضور ﷺ سے پوچھا تو آپ نے جواب میں فرمایا جب ہر چیز پر رات آجاتی ہے تو دن کہاں جاتا ہے ؟ اس نے کہا جہاں اللہ چاہے، آپ نے فرمایا اسی طرح جہنم بھی جہاں چاہے (بزار) اس جملہ کے دو معنی ہوتے ہیں ایک تو یہ کہ رات کے وقت ہم گو دن کو نہیں دیکھ سکتے لیکن تاہم دن کا کسی جگہ ہونا ناممکن نہیں، اسی طرح گو جنت کا عرض اتنا ہی ہے لیکن پھر بھی جہنم کے وجود سے انکار نہیں ہوسکتا جہاں اللہ چاہے وہ بھی ہے، دوسرے معنی یہ کہ جب دن ایک طرف چڑھنے لگا رات دوسری جانب ہوتی ہے اسی طرح جنت اعلیٰ علیین میں ہے اور دوزخ اسفل السافلین میں تو کوئی نفی کا امکان ہی نہ رہا واللہ اعلم پھر اللہ تعالیٰ اہل جنت کا وصف بیان فرماتا ہے کہ وہ سختی میں اور آسانی میں خوشی میں اور غمی میں تندرستی میں اور بیماری میں غرض ہر حال میں راہ اللہ اپنا مال خرچ کرتے رہتے ہیں جیسے اور جگہ ہے آیت (اَلَّذِيْنَ يُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَھُمْ بالَّيْلِ وَالنَّهَارِ سِرًّا وَّعَلَانِيَةً فَلَھُمْ اَجْرُھُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ ۚ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا ھُمْ يَحْزَنُوْنَ) 2۔ البقرۃ :274) یعنی وہ لوگ دن رات چھپے کھلے خرچ کرتے رہتے ہیں کوئی امر انہیں اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے باز نہیں رکھ سکتا اس کی مخلوق پر اس کے حکم سے احسان کرتے رہتے ہیں۔ یہ غصے کو پی جانے والے اور لوگوں کی برائیوں سے درگزر کرنے والے ہیں (کظم) کے معنی چھپانے کے بھی ہیں یعنی اپنے غصہ کا اظہار بھی نہیں کرتے بعض روایتوں میں ہے اے ابن آدم اگر غصہ کے وقت تجھے یاد رکھوں گا یعنی ہلاکت کے وقت تجھے ہلاکت سے بچا لوں گا (ابن ابی حاتم) اور حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جو شخص اپنا غصہ روک لے اللہ تعالیٰ اس پر سے اپنے عذاب ہٹا لیتا ہے اور جو بھی اپنی زبان (خلاف شرع باتوں سے) روک لے اللہ تعالیٰ اس کی پردہ پوشی کرے گا اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی طرف معذرت لے جائے اللہ تعالیٰ اس کا عذر قبول فرماتا ہے (مسند ابو یعلیٰ) یہ حدیث غریب ہے اور اس کی سند میں بھی اختلاف ہے اور حدیث شریف میں ہے۔ آپ فرماتے ہیں پہلوان وہ نہیں جو کسی کو پچھاڑ دے بلکہ حقیقتاً پہلوان وہ ہے جو غصہ کے وقت اپنے نفس پر قابو رکھے (احمد) صحیح بخاری صحیح مسلم میں رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں تم میں سے کوئی ایسا ہے جسے اپنے وارث کا مال اپنے مال سے زیادہ محبوب ہو ؟ لوگوں نے کہا حضور ﷺ کوئی نہیں آپ نے فرمایا میں تو دیکھتا ہوں کہ تم اپنے مال سے زیادہ اپنے وارث کا مال چاہتے ہو اس لئے کہ تمہارا مال تو درحقیقت وہ ہے جو تم راہ اللہ اپنی زندگی میں خرچ کردو اور جو چھوڑ کر جاؤ وہ تمہارا مال نہیں بلکہ تمہارے وارثوں کا مال ہے تو تمہارا راہ اللہ کم خرچ کرنا اور جمع زیادہ کرنا یہ دلیل ہے اس امر کی کہ تم اپنے مال سے اپنے وارثوں کے مال کو زیادہ عزیز رکھتے ہو، پھر فرمایا تم پہلوان کسے جانتے ہو ؟ لوگوں نے کہا حضور ﷺ اسے جسے کوئی گر انہ سکے آپ نے فرمایا نہیں بلکہ حقیقتاً زور دار پہلوان وہ ہے جو غصہ کے وقت اپنے جذبات پر پورا قابو رکھے، پھر فرمایا بےاولاد کسے کہتے ہو ؟ لوگوں نے کہا جس کی اولاد نہ ہو، فرمایا نہیں بلکہ فی الواقع بےاولاد وہ ہے جس کے سامنے اس کی کوئی اولاد مری نہ ہو (مسلم) ایک اور روایت میں یہ بھی ہے کہ آپ نے دریافت فرمایا کہ جانتے ہو مفلس کنگال کون ہے ؟ لوگوں نے کہا جس کے پاس مال نہ ہو آپ نے فرمایا بلکہ وہ جس نے اپنا مال اپنی زندگی میں راہ اللہ نہ دیا ہو (مسند احمد) حضرت حارثہ بن قدامہ سعدی ؓ حاضر خدمت نبوی میں عرض کرتے ہیں کہ حضور ﷺ مجھے کوئی نفع کی بات کہیے جو مختصر ہو تاکہ میں یاد بھی رکھ سکوں آپ نے فرمایا غصہ نہ کر اس نے پھر پوچھا آپ نے پھر یہی جواب دیا کئی کئی مرتبہ یہی کہا (مسند احمد) کسی شخص نے حضور ﷺ سے کہا مجھے کچھ وصیت کیجئے آپ نے فرمایا غصہ نہ کر وہ کہتے ہیں میں نے جو غور کیا تو معلوم ہوا کہ تمام برائیوں کا مرکز غصہ ہی ہے (مسند احمد) ایک روایت میں ہے کہ حضرت ابوذر ؓ غصہ آیا تو آپ بیٹھ گئے اور پھر لیٹ گئے ان سے پوچھا گیا یہ کیا ؟ تو فرمایا میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے آپ فرماتے تھے جسے غصہ آئے وہ کھڑا ہو تو بیٹھ جائے اگر اس سے بھی غصہ نہ جائے تو لیٹ جائے (مسند احمد) مسند احمد کی ایک اور روایت میں ہے کہ عروہ بن محمد کو غصہ چڑھا آپ وضو کرنے بیٹھ گئے اور فرمانے لگے میں نے اپنے استادوں سے یہ حدیث سنی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ غصہ شیطان کی طرف سے ہے اور شیطان آگ سے پیدا ہوا ہے اور آگ بجھانے والی چیز پانی ہے پس تم غصہ کے وقت وضو کرنے بیٹھ جاؤ حضور ﷺ کا یہ ارشاد ہے کہ جو شخص کسی تنگ دست کو مہلت دے یا اپنا قرض اسے معاف کر دے اللہ تعالیٰ اسے جہنم سے آزاد کردیتا ہے لوگو سنو جنت کے اعمال سخت اور مشکل ہیں اور جہنم کے کام آسان اور سہل ہیں نیک بخت وہی ہے جو فتنوں سے بچ جائے کسی گھونٹ کا پینا اللہ کو ایسا پسند نہیں جتنا غصہ کے گھونٹ کا پی جانا ایسے شخص کے دل میں ایمان رچ جاتا ہے (مسند احمد) حضور ﷺ فرماتے ہیں جو شخص اپنا غصہ اتارنے کی طاقت رکھتے ہوئے پھر بھی ضبط کرلے اللہ تعالیٰ اس کا دل امن وامان سے پر کردیتا ہے جو شخص باوجود موجود ہونے کے شہرت کے کپڑے کو تواضع کی وجہ سے چھوڑ دے اسے اللہ تعالیٰ کرامت اور عزت کا حلہ قیامت کے دن پہنائے گا اور جو کسی کا سر چھپائے اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن بادشاہت کا تاج پہنائے گا (ابوداؤد) حضور ﷺ فرماتے ہیں جو شخص باوجود قدرت کے اپنا غصہ ضبط کرلے اسی اللہ تعالیٰ تمام مخلوق کے سامنے بلا کر اختیار دے گا کہ جس حور کو چاہے پسند کرلے (مسند احمد) اس مضمون کی اور بھی حدیثیں ہیں، پس آیت کا مطلب یہ ہوا کہ وہ اپنے غصہ میں آپے سے باہر نہیں ہوتے لوگوں کو ان کی طرف سے برائی نہیں پہنچتی بلکہ اپنے جذبات کو دبائے رکھتے ہیں اور اللہ سے ڈر کر ثواب کی امید پر معاملہ سپر دالہ کرتے ہیں، لوگوں سے درگزر کرتے ہیں ظالموں کے ظلم کا بدلہ ابھی نہیں لیتے اسی کو احسان کہتے ہیں اور ان محسن بندوں سے اللہ محبت رکھتا ہے حدیث میں ہے رسول مقبول ﷺ فرماتے ہیں تین باتوں پر میں قسم کھاتا ہوں ایک تو یہ کہ صدقہ سے مال نہیں گھٹتا دوسرے یہ کہ عفو و درگزر کرنے سے انسان کی عزت بڑھتی ہے تیسرے یہ کہ تواضع فروتنی اور عاجزی کرنے والے کو اللہ تعالیٰ بلند مرتبہ عطا کرتا ہے، مستدرک کی حدیث میں ہے جو شخص یہ چاہے کہ اس کی بنیاد بلند ہو اور اس کے درجے بڑھیں تو اسے ظالموں سے درگزر کرنا چاہئے اور نہ دینے والوں کو دینا چاہئے اور توڑنے والوں سے جوڑنا چاہئے اور حدیث میں ہے قیامت کے دن ایک پکارے گا کہ اے لوگو درگزر کرنے والو اپنے رب کے پاس آؤ اور اپنا اجر لو۔ مسلمانوں کی خطاؤں کے معاف کرنے والے جنتی لوگ ہیں۔ پھر فرمایا یہ لوگ گناہ کے بعد فوراً ذکر اللہ اور استغفار کرتے ہیں۔ مسند احمد میں یہ روایت حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جب کوئی شخص گناہ کرتا ہے پھر اللہ رحمن و رحیم کے سامنے حاضر ہو کر کہتا ہے کہ پروردگار مجھ سے گناہ ہوگیا تو معاف فرما اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میرے بندے سے گو گناہ ہوگیا لیکن اس کا ایمان ہے کہ اس کا رب گناہ پر پکڑ بھی کرتا ہے اور اگر چاہے تو معاف بھی فرما دیتا ہے میں نے اپنے بندے کا گناہ معاف فرمایا، اس سے پھر گناہ ہو تو فرما دیتا ہے میں نے اپنے بندے کا گناہ معاف فرمایا، اس سے پھر گناہ ہوجاتا ہے یہ پھر توبہ کرتا ہے اللہ تعالیٰ پھر بخشتا ہے چوتھی مرتبہ پھر گناہ کر بیٹھتا ہے پھر توبہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ معاف فرما کر کہتا ہے اب میرا بندہ جو چاہے کرے (مسند احمد) یہ حدیث بخاری و مسلم میں بھی ہے، حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں ہم نے ایک مرتبہ جناب رسول اللہ ﷺ سے کہا کہ یہ رسول اللہ ﷺ جب ہم آپ کو دیکھتے ہیں تو ہمارے دلوں میں رقت طاری ہوجاتی ہے اور ہم اللہ والے بن جاتے ہیں لیکن جب آپ کے پاس سے چلے جاتے ہیں تو وہ حالت نہیں رہتی عورتوں بچوں میں پھنس جاتے ہیں گھر بار کے دھندوں میں لگ جاتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا۔ اگر تمہاری حالت یہی ہر وقت رہتی تو پھر فرشتے تم سے مصافحہ کرتے اور تمہاری ملاقات کو تمہارے گھر پر آتے، سنو اگر تم گناہ نہ کرو تو اللہ تمہیں یہاں سے ہٹا دے اور دوسری قوم کو لے آئے جو گناہ کرے پھر بخشش مانگے اور اللہ انہیں بخشے ہم نے کہا حضور ﷺ یہ فرماتے کہ جنت کی بنیادیں کس طرح استوار ہیں آپ نے فرمایا ایک اینٹ سونے کی تو ایک چاندی کی ہے اس کا گارہ مشک خالص ہے اس کے کنکر لؤلؤ اور یاقوت ہیں، اس کی مٹی زعفران ہے، جنتیوں کی نعمتیں کبھی ختم نہ ہوں گی ان کی زندگی ہمیشہ کی ہوگی ان کے کپڑے پرانے نہیں ہونگے جوانی کبھی نہیں ڈھلے گی اور تین اشخاص کی دعا کبھی رد نہیں ہوتی عادل بادشاہ کی دعا افطاری کے وقت روزے دار کی دعا اور مظلوم کی دعا بادلوں سے اٹھائی جاتی ہے اور اس کے لئے آسمانوں کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور جناب باری ارشاد فرماتا ہے مجھے میری عزت کی قسم میں تیری ضرور مدد کروں گا اگرچہ کچھ وقت کے بعد ہو (مسند احمد) امیر المومنین حضرت ابوبکر صدیق ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص کوئی گناہ کرے پھر وضو کر کے دو رکعت نماز ادا کرے اور اپنے گناہ کی معافی چاہے تو اے اللہ عزوجل اس کے گناہ معاف فرما دیتا ہے (مسند احمد) صحیح مسلم میں روایت امیر المومنین حضرت عمر بن خطاب ؓ مروی ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں تم میں سے جو شخص کامل وضو کر کے دعا (اشھدان لا الہ الا اللہ وحدہ لاشریک لہ واشھدان محمد اعبدہ و رسولہ) پڑھے اس کیلئے جنت کے آٹھوں دروازے کھل جاتے ہیں جس سے چاہے اندر چلا جائے، امیر المومنین حضرت عثمان بن عفان ؓ سنت کے مطابق وضو کرتے ہیں پھر فرماتے ہیں میں نے آنحضرت ﷺ سے سنا ہے آپ نے فرمایا جو شخص مجھ جیسا وضو کرے پھر دو رکعت نماز ادا کرے جس میں اپنے دل سے باتیں نہ کرے تو اللہ تعالیٰ اس کے تمام گناہ معاف فرما دیتا ہے (بخاری مسلم) پس یہ حدیث کو حضرت عثمان سے اس سے اگلی روایت حضرت عمر سے اور اس سے اگلی روایت حضرت ابوبکر سے اور اس سے تیسری روایت کو حضرت ابوبکر سے حضرت علی روایت کرتے ہیں تو الحمد اللہ، اللہ تعالیٰ کی وسیع مغفرت اور اس کی بےانتہاء مہربانی کی خبر سید الاولین والاخرین کی زبانی آپ کے چاروں برحق خلفاء کی معرفت ہمیں پہنچی (آؤ اس موقعہ پر ہم گنہگار بھی ہاتھ اٹھائیں اور اپنے مہربان رحیم و کریم اللہ کے سامنے اپنے گناہوں کا اقرار کر کے اس سے معافی طلب کریں اللہ تعالیٰ اے ماں باپ سے زیادہ مہربان اے عفو و درگزر کرنے والے ! اور کسی بھکاری کو اپنے در سے خالی نہ پھیرنے والے ! تو ہم خطاکاروں کی سیاہ کاریوں سے بھی درگزر فرما اور ہمارے کل گناہ معاف فرما دے۔ مترجم) یہی وہ مبارک آیت ہے کہ جب یہ نازل ہوئی تو ابلیس رونے لگا (مسند عبدالرزاق) استغفار اور لا الہ الاللہ مسند ابو یعلیٰ میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں لا الہ الا اللہ کثرت سے پڑھا کرو اور استغفار پر مداومت کرو ابلیس گناہوں سے لوگوں کو ہلاک کرنا چاہتا ہے اور اس کی اپنی ہلاکت لا الہ الا اللہ اور استغفار سے ہے، یہ حدیث دیکھ کر ابلیس نے لوگوں کو خواہش پرستی پر ڈال دیا پس وہ اپنے آپ کو راہ راست پر جانتے ہیں حالانکہ ہلاکت میں ہوتے ہیں لیکن اس حدیث کے دو راوی ضعیف ہیں۔ مسند احمد میں ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں کہ ابلیس نے کہا اے رب مجھے تیری عزت کی قسم میں بنی آدم کو ان کے آخری دم تک بہکاتا رہوں گا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا مجھے میرے جلال اور میری عزت کی قسم جب تک وہ مجھ سے بخشش مانگتے رہیں گے میں بھی انہیں بخشتا رہوں گا مسند بزاز میں ہے کہ ایک شخص نے حضور ﷺ سے کہا مجھ سے گناہ ہوگیا آپ نے فرمایا پھر استغفار کر اس نے کہا مجھ سے اور گناہ ہوا فرمایا استغفار کئے جا، یہاں تک کہ شیطان تھک جائے پھر فرمایا گناہ کو بخشنا اللہ ہی کے اختیار میں ہے مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک قیدی آیا اور کہنے لگا یا اللہ میں تیری طرف توبہ کرتا ہوں محمد ﷺ کی طرف توبہ نہیں کرتا (یعنی اللہ میں تیری ہی بخشش چاہتا ہوں) آپ نے فرمایا اس نے حق حقدار کو پہنچایا۔ اصرار کرنے سے مراد یہ ہے کہ معصیت پر بغیر توبہ کئے اڑ نہیں جاتے اگر کئی مرتبہ گناہ ہوجائے تو کئی مرتبہ استغفار کرتے ہیں، مسند ابو یعلیٰ میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں وہ اصرار کرنے والا اور اڑنے والا نہیں جو استغفار کرتا رہتا ہے اگرچہ (بالفرض) اس سے ایک دن میں ستر مرتبہ بھی گناہ ہوجائے پھر فرمایا کہ وہ جانتے ہوں یعنی اس بات کو کہ اللہ توبہ قبول کرنے والا ہے جیسے اور جگہ ہے آیت (اَلَمْ يَعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ ھُوَ يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهٖ وَيَاْخُذُ الصَّدَقٰتِ وَاَنَّ اللّٰهَ ھُوَ التَّوَّاب الرَّحِيْمُ) 9۔ التوبہ :104) کیا یہ نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے اور جگہ ہے آیت (وَمَنْ يَّعْمَلْ سُوْۗءًا اَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهٗ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللّٰهَ يَجِدِ اللّٰهَ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا) 4۔ النسآء :110) جو شخص کوئی برا کام کرے یا گناہ کر کے اپنی جان پر ظلم کرے پھر اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کرے تو وہ دیکھ لے گا کہ اللہ عزوجل بخشش کرنے والا مہربان ہے۔ مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ نے منبر پر بیان فرمایا لوگو تم اوروں پر رحم کرو اللہ تم پر رحم کرے گا لوگو تم دوسروں کی خطائیں معاف کرو اللہ تعالیٰ تمہارے گناہوں کو بخشے گا باتیں بنانے والوں کی ہلاکت ہے گناہ پر جم جانے والوں کی ہلاکت ہے پھر فرمایا ان کاموں کے بدلے ان کی جزا مغفرت ہے اور طرح طرح کی بہتی نہروں والی جنت ہے جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے، یہ بڑے اچھے اعمال ہیں۔
134
View Single
ٱلَّذِينَ يُنفِقُونَ فِي ٱلسَّرَّآءِ وَٱلضَّرَّآءِ وَٱلۡكَٰظِمِينَ ٱلۡغَيۡظَ وَٱلۡعَافِينَ عَنِ ٱلنَّاسِۗ وَٱللَّهُ يُحِبُّ ٱلۡمُحۡسِنِينَ
Those who spend in Allah’s cause, in happiness and in grief, and who control their anger and are forgiving towards mankind; and the righteous are the beloved of Allah.
یہ وہ لوگ ہیں جو فراخی اور تنگی (دونوں حالتوں) میں خرچ کرتے ہیں اور غصہ ضبط کرنے والے ہیں اور لوگوں سے (ان کی غلطیوں پر) درگزر کرنے والے ہیں، اور اللہ احسان کرنے والوں سے محبت فرماتا ہے
Tafsir Ibn Kathir
Interest (Riba) is Prohibited
Allah prohibits His believing servants from dealing in Riba and from requiring interest on their capital, just as they used to do during the time of Jahiliyyah. For instance, when the time to pay a loan comes, the creditor would say to the debtor, "Either pay now, or the loan will incur interest." If the debtor asks for deferment of the loan, the creditor would require interest and this would occur year after year until the little capital becomes multiplied many times. Allah also commands His servants to have Taqwa of Him so that they may achieve success in this life and the Hereafter. Allah also threatens them with the Fire and warns them against it, saying,
وَاتَّقُواْ النَّارَ الَّتِى أُعِدَّتْ لِلْكَـفِرِينَ - وَأَطِيعُواْ اللَّهَ وَالرَّسُولَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ
(And fear the Fire, which is prepared for the disbelievers. And obey Allah and the Messenger that you may obtain mercy.) 3:131,132.
The Encouragment to Do Good for which Paradise is the Result
Allah encourages His servants to perform righteous deeds and to rush to accomplish the acts of obedience. Allah said,
وَسَارِعُواْ إِلَى مَغْفِرَةٍ مِّن رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمَـوَتُ وَالاٌّرْضُ أُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِينَ
(And march forth in the way (which leads to) forgiveness from your Lord, and for Paradise as wide as the heavens and the earth, prepared for the Muttaqin (the pious)) 3:133.
Just as the Fire was prepared for the disbelievers. It was reported that the meaning of Allah's statement,
عَرْضُهَا السَّمَـوَتُ وَالاٌّرْضُ
(as wide as the heavens and the earth) draws the attention to the spaciousness of Paradise. For instance, Allah said in another Ayah, while describing the couches of Paradise,
بَطَآئِنُهَا مِنْ إِسْتَبْرَقٍ
(lined with silk brocade) 55:54, so what about their outer covering It was also said that Paradise is as wide as its length, because it is a dome under the Throne. The width and length of a dome or a circle are the same in distance. This is supported by what is found in the Sahih;
«إِذَا سَأَلْتُمُ اللهَ الْجَنَّـةَ فَاسْأَلُوهُ الْفِرْدَوْسَ، فَإِنَّهُ أَعْلَى الْجَنَّـةِ، وَأَوْسَطُ الْجَنَّةِ، وَمِنْهُ تَفَجَّرُ أَنْهَارُ الْجَنَّةِ، وَسَقْفُهَا عَرْشُ الرَّحْمَن»
(When you ask Allah for Paradise, ask Him for Al-Firdaws which is the highest and best part of Paradise. From it originate the rivers of Paradise, and above it is the Throne of the Most Beneficent (Allah).)
This Ayah 3:133 above is similar to Allah's statement in Surat Al-Hadid,
سَابِقُواْ إِلَى مَغْفِرَةٍ مِّن رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا كَعَرْضِ السَّمَآءِ وَالاٌّرْضِ
(Race with one another in hastening towards forgiveness from your Lord (Allah), and Paradise the width whereof is as the width of the heaven and the Earth) 57:21.
Al-Bazzar recorded that Abu Hurayrah said that a man came to the Messenger of Allah ﷺ and asked him, about Allah's statement,
وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمَـوَتُ وَالاٌّرْضُ
(Paradise as wide as the heavens and the Earth) 3:133; "Where is the Fire then" The Prophet said,
«أَرَأَيْتَ اللَّيْلَ إِذَا جَاءَ لَبِسَ كُلَّ شَيْءٍ، فَأَيْنَ النَّهَارُ؟»
(When the night comes, it overtakes everything, so where is the day) The man said, "Where Allah wants it to be." The Prophet said,
«وَكَذلِكَ النَّارُ تَكُونُ حَيْثُ شَاءَ اللهُ عَزَّ وَجَل»
(Similarly, the Fire is where Allah wants it to be.) This Hadith has two possible meanings. First, when we do not see the night during the day, this does not mean that the day is not somewhere else, even though we cannot see it. Such is the case with Hell-fire, for it is where Allah wants it to be. The second meaning is that when the day overcomes this part of the world, the night overtakes the other part. Such is the case with Paradise, for it is in the utmost heights above the heavens and under the Throne. The width of Paradise is, as Allah stated,
كَعَرْضِ السَّمَآءِ وَالاٌّرْضِ
(whereof is as the width of the heaven and the Earth) 57:21.
The Fire, on the other hand, is in the lowest of lows. Therefore, Paradise being as wide as the heavens and Earth does not contradict the fact that the Fire exists wherever Allah wills it to be.
Allah said, while describing the people of Paradise,
الَّذِينَ يُنفِقُونَ فِى السَّرَّآءِ وَالضَّرَّآءِ
(Those who spend (in Allah's cause) in prosperity and in adversity) 3:134, in hard times and easy times, while active (or enthusiastic) and otherwise, healthy or ill, and in all conditions, just as Allah said in another Ayah,
الَّذِينَ يُنفِقُونَ أَمْوَلَهُمْ بِالَّيْلِ وَالنَّهَارِ سِرًّا وَعَلاَنِيَةً
(Those who spend their wealth (in Allah's cause) by night and day, in secret and in public) 2:274 These believers are never distracted from obeying Allah, spending on what pleases Him, being kind to His servants and their relatives, and other acts of righteousness. Allah said,
وَالْكَـظِمِينَ الْغَيْظَ وَالْعَـفِينَ عَنِ النَّاسِ
(who repress anger, and who pardon men;) 3:134 for when they are angry, they control their anger and do act upon it. Rather, they even forgive those who hurt them. Imam Ahmad recorded that Abu Hurayrah said that the Prophet said,
«لَيْسَ الشَّدِيدُ بِالصُّرَعَةِ، وَلكِنَّ الشَّدِيدَ الَّذِي يَمْلِكُ نَفْسَهُ عِنْدَ الْغَضَب»
(The strong person is not he who is able to physically overcome people. The strong person is he who overcomes his rage when he is angry.)
This Hadith is also recorded in the Two Sahihs. Imam Ahmad recorded that Ibn `Abbas said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«مَنْ أَنْظَرَ مُعْسِرًا أَوْ وَضَعَ لَهُ، وَقَاهُ اللهُ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ، أَلَا إِنَّ عَمَلَ الْجَنَّـةِ حَزْنٌ بِرَبْوَةٍ ثَلَاثًا أَلَا إِنَّ عَمَلَ النَّارِ سَهْلٌ بِسَهْوَةٍ. وَالسَّعِيدُ مَنْ وُقِيَ الْفِتَنَ، وَمَا مِنْ جَرْعَةٍ أَحَبُّ إِلَى اللهِ مِنْ جَرْعَةِ غَيْظٍ يَكْظِمُهَا عَبْدٌ، مَا كَظَمَهَا عَبْدٌ للهِ إِلَّا مَلَأَ جَوْفَهُ إِيمَانًا»
(He who gives time to a debtor or forgives him, then Allah will save him from the heat of Jahannam (Hell-fire). Behold! The deeds of Paradise are difficult to reach, for they are on top of a hill, while the deeds of the Fire are easy to find in the lowlands. The happy person is he who is saved from the tests. Verily, there is no dose of anything better to Allah than a dose of rage that the servant controls, and whenever the servant of Allah controls it, he will be internally filled with faith.)
This Hadith was recorded by Imam Ahmad, its chain of narration is good, it does not contain any disparraged narrators, and the meaning is good.
Imam Ahmad recorded that Sahl bin Mu`adh bin Anas said that his father said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«مَنْ كَظَمَ غَيْظًا وَهُوَ قَادِرٌ عَلى أَنْ يُنْفِذَهُ دَعَاهُ اللهُ عَلى رُؤُوسِ الْخَلَائِقِ حَتَّى يُخَيِّرَهُ مِنْ أَيِّ الْحُورِ شَاء»
(Whoever controlled rage while able to act upon it, then Allah will call him while all creation is a witness, until He gives him the choice of any of the Huris (fair females with wide, lovely eyes - as mates for the pious) he wishes.)
Abu Dawud, At-Tirmidhi and Ibn Majah collected this Hadith, which At-Tirmidhi said was "Hasan Gharib".
Ibn Marduwyah recorded that Ibn `Umar said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«مَا تَجَرَّعَ عَبْدٌ مِنْ جَرْعَةٍ أَفْضَلَ أَجْرًا مِنْ جَرْعَةِ غَيْظٍ كَظَمَهَا ابْتِغَاءَ وَجْهِ الله»
(There is not a dose of anything that the servant takes which is better than a dose of control of rage that he feels, when he does it seeking Allah's Face.) Ibn Jarir and Ibn Majah also collected this Hadith.
Allah said,
وَالْكَـظِمِينَ الْغَيْظَ
(who repress anger) meaning, they do not satisfy their rage upon people. Rather, they refrain from harming them and await their rewards with Allah, the Exalted and Most Honored. Allah then said,
وَالْعَـفِينَ عَنِ النَّاسِ
(and who pardon men;) They forgive those who treat them with injustice. Therefore, they do not hold any ill feelings about anyone in their hearts, and this is the most excellent conduct in this regard. This is why Allah said,
وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ
(verily, Allah loves the Muhsinin (the good-doers)).
This good conduct is a type of Ihsan excellence in the religion. There is a Hadith that reads,
«ثَلَاثٌ أُقْسِمُ عَلَيْهِنَّ: مَا نَقَصَ مَالٌ مِنْ صَدَقَةٍ، وَمَا زَادَ اللهُ عَبْدًا بِعَفْوٍ إِلَّا عِزًّا، وَمَنْ تَوَاضَعَ للهِ رَفَعَهُ الله»
(I swear regarding three matters: no charity shall ever decrease the wealth; whenever one forgives people, then Allah will magnify his honor; and he who is humble for Allah, then Allah will raise his rank.)
Allah said,
وَالَّذِينَ إِذَا فَعَلُواْ فَـحِشَةً أَوْ ظَلَمُواْ أَنْفُسَهُمْ ذَكَرُواْ اللَّهَ فَاسْتَغْفَرُواْ لِذُنُوبِهِمْ
(And those who, when they have committed Fahishah or wronged themselves with evil, remember Allah and ask forgiveness for their sins) 3:135.
Therefore, if they commit an error they follow it with repentance and ask forgiveness. Imam Ahmad recorded that Abu Hurayrah said that the Prophet said,
«إِنَّ رَجُلًا أَذْنَبَ ذَنْبًا فَقَالَ: رَبِّ إِنِّي أَذْنَبْتُ ذَنْبًا فَاغْفِرْهُ، فَقَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: عَبْدِي عَمِل ذَنْبًا فَعَلِمَ أَنَّ لَهُ ر&
سود خور جہنمی ہے اور غصہ شیطان کی دین ہے اس سے بچو اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو سودی لین دین سے اور سود خوری سے روک رہا ہے، اہل جاہلیت سودی قرضہ دیتے تھے مدت مقرر ہوتی تھی اگر اس مدت پر روپیہ وصول نہ ہوتا تو مدت بڑھا کر سود پر سود بڑھا دیا کرتے تھے اسی طرح سود در سود ملا کر اصل رقم کئی گنا بڑھ جاتی، اللہ تعالیٰ ایمانداروں کو اس طرح ناحق لوگوں کے مال غصب کرنے سے روک رہا ہے اور تقوے کا حکم دے کر اس پر نجات کا وعدہ کر رہا ہے، پھر آگ سے ڈراتا ہے اور اپنے عذابوں سے دھمکاتا ہے پھر اپنی اور اپنے رسول ﷺ کی اطاعت پر آمادہ کرتا ہے اور اس پر رحم و کرم کا وعدہ دیتا ہے پھر سعادت دارین کے حصول کیلئے نیکیوں کی طرف سبقت کرنے کو فرماتا ہے اور جنت کی تعریف کرتا ہے، چوڑائی کو بیان کر کے لمبائی کا اندازہ سننے والوں پر ہی چھوڑا جاتا ہے جس طرح جنتی فرش کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا آیت (مُتَّكِــــِٕيْنَ عَلٰي فُرُشٍۢ بَطَاۗىِٕنُهَا مِنْ اِسْتَبْرَقٍ) 55۔ الرحمن :54) یعنی اس کا استر نرم ریشم کا ہے تو مطلب یہ ہے کہ جب استر ایسا ہے تو ابرے کا کیا ٹھکانا ہے اسی طرح یہاں بھی بیان ہو رہا ہے کہ جب عرض ساتوں آسمانوں اور ساتویں زمینوں کے برابر ہے تو طول کتنا بڑا ہوگا اور بعض نے کہا ہے کہ عرض و طول یعنی لمبائی چوڑائی دونوں برابر ہے کیونکہ جنت مثل قبہ کے عرش کے نیچے ہے اور جو چیز قبہ نما ہو یا مستدیر ہو اس کا عرض و طول یکساں ہوتا ہے۔ ایک صحیح حدیث میں ہے جب تم اللہ سے جنت مانگو تو فردوس کا سوال کرو وہ سب سے اونچی اور سب سے اچھی جنت ہے اسی جنت سے سب نہریں جاری ہوتی ہیں اور اسی کی چھت اللہ تعالیٰ رحمن رحیم کا عرش ہے، مسند امام احمد میں ہے کہ ہرقل نے حضور ﷺ کی خدمت میں بطور اعتراض کے ایک سوال لکھ بھیجا کہ آپ مجھے اس جنت کی دعوت دے رہے ہیں جس کی چوڑائی آسمان و زمین کے برابر ہے تو یہ فرمایئے کہ پھر جہنم کہاں گئی ؟ حضور ﷺ نے فرمایا یعلیٰ بن مرہ کی ملاقات حمص میں ہوئی تھی کہتے ہیں اس وقت یہ بہت ہی بوڑھا ہوگیا تھا کہنے لگا جب میں نے یہ خط حضور ﷺ کو دیا تو آپ نے اپنی بائیں طرف کے ایک صحابی کو دیا میں نے لوگوں سے پوچھا ان کا کیا نام ہے ؟ لوگوں نے کہا یہ حضرت معاویہ ہیں ؓ حضرت عمر ؓ سے بھی یہی سوال ہوا تھا تو آپ نے فرمایا تھا کہ دن کے وقت رات اور رات کے وقت دن کہاں جاتا ہے ؟ یہودی یہ جواب سن کر کھسیانے ہو کر کہنے لگے کہ یہ توراۃ سے ماخوذ کیا ہوگا، حضرت ابن عباس ؓ سے بھی یہ جواب مروی ہے، ایک مرفوع حدیث میں ہے کسی نے حضور ﷺ سے پوچھا تو آپ نے جواب میں فرمایا جب ہر چیز پر رات آجاتی ہے تو دن کہاں جاتا ہے ؟ اس نے کہا جہاں اللہ چاہے، آپ نے فرمایا اسی طرح جہنم بھی جہاں چاہے (بزار) اس جملہ کے دو معنی ہوتے ہیں ایک تو یہ کہ رات کے وقت ہم گو دن کو نہیں دیکھ سکتے لیکن تاہم دن کا کسی جگہ ہونا ناممکن نہیں، اسی طرح گو جنت کا عرض اتنا ہی ہے لیکن پھر بھی جہنم کے وجود سے انکار نہیں ہوسکتا جہاں اللہ چاہے وہ بھی ہے، دوسرے معنی یہ کہ جب دن ایک طرف چڑھنے لگا رات دوسری جانب ہوتی ہے اسی طرح جنت اعلیٰ علیین میں ہے اور دوزخ اسفل السافلین میں تو کوئی نفی کا امکان ہی نہ رہا واللہ اعلم پھر اللہ تعالیٰ اہل جنت کا وصف بیان فرماتا ہے کہ وہ سختی میں اور آسانی میں خوشی میں اور غمی میں تندرستی میں اور بیماری میں غرض ہر حال میں راہ اللہ اپنا مال خرچ کرتے رہتے ہیں جیسے اور جگہ ہے آیت (اَلَّذِيْنَ يُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَھُمْ بالَّيْلِ وَالنَّهَارِ سِرًّا وَّعَلَانِيَةً فَلَھُمْ اَجْرُھُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ ۚ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا ھُمْ يَحْزَنُوْنَ) 2۔ البقرۃ :274) یعنی وہ لوگ دن رات چھپے کھلے خرچ کرتے رہتے ہیں کوئی امر انہیں اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے باز نہیں رکھ سکتا اس کی مخلوق پر اس کے حکم سے احسان کرتے رہتے ہیں۔ یہ غصے کو پی جانے والے اور لوگوں کی برائیوں سے درگزر کرنے والے ہیں (کظم) کے معنی چھپانے کے بھی ہیں یعنی اپنے غصہ کا اظہار بھی نہیں کرتے بعض روایتوں میں ہے اے ابن آدم اگر غصہ کے وقت تجھے یاد رکھوں گا یعنی ہلاکت کے وقت تجھے ہلاکت سے بچا لوں گا (ابن ابی حاتم) اور حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جو شخص اپنا غصہ روک لے اللہ تعالیٰ اس پر سے اپنے عذاب ہٹا لیتا ہے اور جو بھی اپنی زبان (خلاف شرع باتوں سے) روک لے اللہ تعالیٰ اس کی پردہ پوشی کرے گا اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی طرف معذرت لے جائے اللہ تعالیٰ اس کا عذر قبول فرماتا ہے (مسند ابو یعلیٰ) یہ حدیث غریب ہے اور اس کی سند میں بھی اختلاف ہے اور حدیث شریف میں ہے۔ آپ فرماتے ہیں پہلوان وہ نہیں جو کسی کو پچھاڑ دے بلکہ حقیقتاً پہلوان وہ ہے جو غصہ کے وقت اپنے نفس پر قابو رکھے (احمد) صحیح بخاری صحیح مسلم میں رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں تم میں سے کوئی ایسا ہے جسے اپنے وارث کا مال اپنے مال سے زیادہ محبوب ہو ؟ لوگوں نے کہا حضور ﷺ کوئی نہیں آپ نے فرمایا میں تو دیکھتا ہوں کہ تم اپنے مال سے زیادہ اپنے وارث کا مال چاہتے ہو اس لئے کہ تمہارا مال تو درحقیقت وہ ہے جو تم راہ اللہ اپنی زندگی میں خرچ کردو اور جو چھوڑ کر جاؤ وہ تمہارا مال نہیں بلکہ تمہارے وارثوں کا مال ہے تو تمہارا راہ اللہ کم خرچ کرنا اور جمع زیادہ کرنا یہ دلیل ہے اس امر کی کہ تم اپنے مال سے اپنے وارثوں کے مال کو زیادہ عزیز رکھتے ہو، پھر فرمایا تم پہلوان کسے جانتے ہو ؟ لوگوں نے کہا حضور ﷺ اسے جسے کوئی گر انہ سکے آپ نے فرمایا نہیں بلکہ حقیقتاً زور دار پہلوان وہ ہے جو غصہ کے وقت اپنے جذبات پر پورا قابو رکھے، پھر فرمایا بےاولاد کسے کہتے ہو ؟ لوگوں نے کہا جس کی اولاد نہ ہو، فرمایا نہیں بلکہ فی الواقع بےاولاد وہ ہے جس کے سامنے اس کی کوئی اولاد مری نہ ہو (مسلم) ایک اور روایت میں یہ بھی ہے کہ آپ نے دریافت فرمایا کہ جانتے ہو مفلس کنگال کون ہے ؟ لوگوں نے کہا جس کے پاس مال نہ ہو آپ نے فرمایا بلکہ وہ جس نے اپنا مال اپنی زندگی میں راہ اللہ نہ دیا ہو (مسند احمد) حضرت حارثہ بن قدامہ سعدی ؓ حاضر خدمت نبوی میں عرض کرتے ہیں کہ حضور ﷺ مجھے کوئی نفع کی بات کہیے جو مختصر ہو تاکہ میں یاد بھی رکھ سکوں آپ نے فرمایا غصہ نہ کر اس نے پھر پوچھا آپ نے پھر یہی جواب دیا کئی کئی مرتبہ یہی کہا (مسند احمد) کسی شخص نے حضور ﷺ سے کہا مجھے کچھ وصیت کیجئے آپ نے فرمایا غصہ نہ کر وہ کہتے ہیں میں نے جو غور کیا تو معلوم ہوا کہ تمام برائیوں کا مرکز غصہ ہی ہے (مسند احمد) ایک روایت میں ہے کہ حضرت ابوذر ؓ غصہ آیا تو آپ بیٹھ گئے اور پھر لیٹ گئے ان سے پوچھا گیا یہ کیا ؟ تو فرمایا میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے آپ فرماتے تھے جسے غصہ آئے وہ کھڑا ہو تو بیٹھ جائے اگر اس سے بھی غصہ نہ جائے تو لیٹ جائے (مسند احمد) مسند احمد کی ایک اور روایت میں ہے کہ عروہ بن محمد کو غصہ چڑھا آپ وضو کرنے بیٹھ گئے اور فرمانے لگے میں نے اپنے استادوں سے یہ حدیث سنی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ غصہ شیطان کی طرف سے ہے اور شیطان آگ سے پیدا ہوا ہے اور آگ بجھانے والی چیز پانی ہے پس تم غصہ کے وقت وضو کرنے بیٹھ جاؤ حضور ﷺ کا یہ ارشاد ہے کہ جو شخص کسی تنگ دست کو مہلت دے یا اپنا قرض اسے معاف کر دے اللہ تعالیٰ اسے جہنم سے آزاد کردیتا ہے لوگو سنو جنت کے اعمال سخت اور مشکل ہیں اور جہنم کے کام آسان اور سہل ہیں نیک بخت وہی ہے جو فتنوں سے بچ جائے کسی گھونٹ کا پینا اللہ کو ایسا پسند نہیں جتنا غصہ کے گھونٹ کا پی جانا ایسے شخص کے دل میں ایمان رچ جاتا ہے (مسند احمد) حضور ﷺ فرماتے ہیں جو شخص اپنا غصہ اتارنے کی طاقت رکھتے ہوئے پھر بھی ضبط کرلے اللہ تعالیٰ اس کا دل امن وامان سے پر کردیتا ہے جو شخص باوجود موجود ہونے کے شہرت کے کپڑے کو تواضع کی وجہ سے چھوڑ دے اسے اللہ تعالیٰ کرامت اور عزت کا حلہ قیامت کے دن پہنائے گا اور جو کسی کا سر چھپائے اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن بادشاہت کا تاج پہنائے گا (ابوداؤد) حضور ﷺ فرماتے ہیں جو شخص باوجود قدرت کے اپنا غصہ ضبط کرلے اسی اللہ تعالیٰ تمام مخلوق کے سامنے بلا کر اختیار دے گا کہ جس حور کو چاہے پسند کرلے (مسند احمد) اس مضمون کی اور بھی حدیثیں ہیں، پس آیت کا مطلب یہ ہوا کہ وہ اپنے غصہ میں آپے سے باہر نہیں ہوتے لوگوں کو ان کی طرف سے برائی نہیں پہنچتی بلکہ اپنے جذبات کو دبائے رکھتے ہیں اور اللہ سے ڈر کر ثواب کی امید پر معاملہ سپر دالہ کرتے ہیں، لوگوں سے درگزر کرتے ہیں ظالموں کے ظلم کا بدلہ ابھی نہیں لیتے اسی کو احسان کہتے ہیں اور ان محسن بندوں سے اللہ محبت رکھتا ہے حدیث میں ہے رسول مقبول ﷺ فرماتے ہیں تین باتوں پر میں قسم کھاتا ہوں ایک تو یہ کہ صدقہ سے مال نہیں گھٹتا دوسرے یہ کہ عفو و درگزر کرنے سے انسان کی عزت بڑھتی ہے تیسرے یہ کہ تواضع فروتنی اور عاجزی کرنے والے کو اللہ تعالیٰ بلند مرتبہ عطا کرتا ہے، مستدرک کی حدیث میں ہے جو شخص یہ چاہے کہ اس کی بنیاد بلند ہو اور اس کے درجے بڑھیں تو اسے ظالموں سے درگزر کرنا چاہئے اور نہ دینے والوں کو دینا چاہئے اور توڑنے والوں سے جوڑنا چاہئے اور حدیث میں ہے قیامت کے دن ایک پکارے گا کہ اے لوگو درگزر کرنے والو اپنے رب کے پاس آؤ اور اپنا اجر لو۔ مسلمانوں کی خطاؤں کے معاف کرنے والے جنتی لوگ ہیں۔ پھر فرمایا یہ لوگ گناہ کے بعد فوراً ذکر اللہ اور استغفار کرتے ہیں۔ مسند احمد میں یہ روایت حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جب کوئی شخص گناہ کرتا ہے پھر اللہ رحمن و رحیم کے سامنے حاضر ہو کر کہتا ہے کہ پروردگار مجھ سے گناہ ہوگیا تو معاف فرما اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میرے بندے سے گو گناہ ہوگیا لیکن اس کا ایمان ہے کہ اس کا رب گناہ پر پکڑ بھی کرتا ہے اور اگر چاہے تو معاف بھی فرما دیتا ہے میں نے اپنے بندے کا گناہ معاف فرمایا، اس سے پھر گناہ ہو تو فرما دیتا ہے میں نے اپنے بندے کا گناہ معاف فرمایا، اس سے پھر گناہ ہوجاتا ہے یہ پھر توبہ کرتا ہے اللہ تعالیٰ پھر بخشتا ہے چوتھی مرتبہ پھر گناہ کر بیٹھتا ہے پھر توبہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ معاف فرما کر کہتا ہے اب میرا بندہ جو چاہے کرے (مسند احمد) یہ حدیث بخاری و مسلم میں بھی ہے، حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں ہم نے ایک مرتبہ جناب رسول اللہ ﷺ سے کہا کہ یہ رسول اللہ ﷺ جب ہم آپ کو دیکھتے ہیں تو ہمارے دلوں میں رقت طاری ہوجاتی ہے اور ہم اللہ والے بن جاتے ہیں لیکن جب آپ کے پاس سے چلے جاتے ہیں تو وہ حالت نہیں رہتی عورتوں بچوں میں پھنس جاتے ہیں گھر بار کے دھندوں میں لگ جاتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا۔ اگر تمہاری حالت یہی ہر وقت رہتی تو پھر فرشتے تم سے مصافحہ کرتے اور تمہاری ملاقات کو تمہارے گھر پر آتے، سنو اگر تم گناہ نہ کرو تو اللہ تمہیں یہاں سے ہٹا دے اور دوسری قوم کو لے آئے جو گناہ کرے پھر بخشش مانگے اور اللہ انہیں بخشے ہم نے کہا حضور ﷺ یہ فرماتے کہ جنت کی بنیادیں کس طرح استوار ہیں آپ نے فرمایا ایک اینٹ سونے کی تو ایک چاندی کی ہے اس کا گارہ مشک خالص ہے اس کے کنکر لؤلؤ اور یاقوت ہیں، اس کی مٹی زعفران ہے، جنتیوں کی نعمتیں کبھی ختم نہ ہوں گی ان کی زندگی ہمیشہ کی ہوگی ان کے کپڑے پرانے نہیں ہونگے جوانی کبھی نہیں ڈھلے گی اور تین اشخاص کی دعا کبھی رد نہیں ہوتی عادل بادشاہ کی دعا افطاری کے وقت روزے دار کی دعا اور مظلوم کی دعا بادلوں سے اٹھائی جاتی ہے اور اس کے لئے آسمانوں کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور جناب باری ارشاد فرماتا ہے مجھے میری عزت کی قسم میں تیری ضرور مدد کروں گا اگرچہ کچھ وقت کے بعد ہو (مسند احمد) امیر المومنین حضرت ابوبکر صدیق ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص کوئی گناہ کرے پھر وضو کر کے دو رکعت نماز ادا کرے اور اپنے گناہ کی معافی چاہے تو اے اللہ عزوجل اس کے گناہ معاف فرما دیتا ہے (مسند احمد) صحیح مسلم میں روایت امیر المومنین حضرت عمر بن خطاب ؓ مروی ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں تم میں سے جو شخص کامل وضو کر کے دعا (اشھدان لا الہ الا اللہ وحدہ لاشریک لہ واشھدان محمد اعبدہ و رسولہ) پڑھے اس کیلئے جنت کے آٹھوں دروازے کھل جاتے ہیں جس سے چاہے اندر چلا جائے، امیر المومنین حضرت عثمان بن عفان ؓ سنت کے مطابق وضو کرتے ہیں پھر فرماتے ہیں میں نے آنحضرت ﷺ سے سنا ہے آپ نے فرمایا جو شخص مجھ جیسا وضو کرے پھر دو رکعت نماز ادا کرے جس میں اپنے دل سے باتیں نہ کرے تو اللہ تعالیٰ اس کے تمام گناہ معاف فرما دیتا ہے (بخاری مسلم) پس یہ حدیث کو حضرت عثمان سے اس سے اگلی روایت حضرت عمر سے اور اس سے اگلی روایت حضرت ابوبکر سے اور اس سے تیسری روایت کو حضرت ابوبکر سے حضرت علی روایت کرتے ہیں تو الحمد اللہ، اللہ تعالیٰ کی وسیع مغفرت اور اس کی بےانتہاء مہربانی کی خبر سید الاولین والاخرین کی زبانی آپ کے چاروں برحق خلفاء کی معرفت ہمیں پہنچی (آؤ اس موقعہ پر ہم گنہگار بھی ہاتھ اٹھائیں اور اپنے مہربان رحیم و کریم اللہ کے سامنے اپنے گناہوں کا اقرار کر کے اس سے معافی طلب کریں اللہ تعالیٰ اے ماں باپ سے زیادہ مہربان اے عفو و درگزر کرنے والے ! اور کسی بھکاری کو اپنے در سے خالی نہ پھیرنے والے ! تو ہم خطاکاروں کی سیاہ کاریوں سے بھی درگزر فرما اور ہمارے کل گناہ معاف فرما دے۔ مترجم) یہی وہ مبارک آیت ہے کہ جب یہ نازل ہوئی تو ابلیس رونے لگا (مسند عبدالرزاق) استغفار اور لا الہ الاللہ مسند ابو یعلیٰ میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں لا الہ الا اللہ کثرت سے پڑھا کرو اور استغفار پر مداومت کرو ابلیس گناہوں سے لوگوں کو ہلاک کرنا چاہتا ہے اور اس کی اپنی ہلاکت لا الہ الا اللہ اور استغفار سے ہے، یہ حدیث دیکھ کر ابلیس نے لوگوں کو خواہش پرستی پر ڈال دیا پس وہ اپنے آپ کو راہ راست پر جانتے ہیں حالانکہ ہلاکت میں ہوتے ہیں لیکن اس حدیث کے دو راوی ضعیف ہیں۔ مسند احمد میں ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں کہ ابلیس نے کہا اے رب مجھے تیری عزت کی قسم میں بنی آدم کو ان کے آخری دم تک بہکاتا رہوں گا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا مجھے میرے جلال اور میری عزت کی قسم جب تک وہ مجھ سے بخشش مانگتے رہیں گے میں بھی انہیں بخشتا رہوں گا مسند بزاز میں ہے کہ ایک شخص نے حضور ﷺ سے کہا مجھ سے گناہ ہوگیا آپ نے فرمایا پھر استغفار کر اس نے کہا مجھ سے اور گناہ ہوا فرمایا استغفار کئے جا، یہاں تک کہ شیطان تھک جائے پھر فرمایا گناہ کو بخشنا اللہ ہی کے اختیار میں ہے مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک قیدی آیا اور کہنے لگا یا اللہ میں تیری طرف توبہ کرتا ہوں محمد ﷺ کی طرف توبہ نہیں کرتا (یعنی اللہ میں تیری ہی بخشش چاہتا ہوں) آپ نے فرمایا اس نے حق حقدار کو پہنچایا۔ اصرار کرنے سے مراد یہ ہے کہ معصیت پر بغیر توبہ کئے اڑ نہیں جاتے اگر کئی مرتبہ گناہ ہوجائے تو کئی مرتبہ استغفار کرتے ہیں، مسند ابو یعلیٰ میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں وہ اصرار کرنے والا اور اڑنے والا نہیں جو استغفار کرتا رہتا ہے اگرچہ (بالفرض) اس سے ایک دن میں ستر مرتبہ بھی گناہ ہوجائے پھر فرمایا کہ وہ جانتے ہوں یعنی اس بات کو کہ اللہ توبہ قبول کرنے والا ہے جیسے اور جگہ ہے آیت (اَلَمْ يَعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ ھُوَ يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهٖ وَيَاْخُذُ الصَّدَقٰتِ وَاَنَّ اللّٰهَ ھُوَ التَّوَّاب الرَّحِيْمُ) 9۔ التوبہ :104) کیا یہ نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے اور جگہ ہے آیت (وَمَنْ يَّعْمَلْ سُوْۗءًا اَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهٗ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللّٰهَ يَجِدِ اللّٰهَ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا) 4۔ النسآء :110) جو شخص کوئی برا کام کرے یا گناہ کر کے اپنی جان پر ظلم کرے پھر اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کرے تو وہ دیکھ لے گا کہ اللہ عزوجل بخشش کرنے والا مہربان ہے۔ مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ نے منبر پر بیان فرمایا لوگو تم اوروں پر رحم کرو اللہ تم پر رحم کرے گا لوگو تم دوسروں کی خطائیں معاف کرو اللہ تعالیٰ تمہارے گناہوں کو بخشے گا باتیں بنانے والوں کی ہلاکت ہے گناہ پر جم جانے والوں کی ہلاکت ہے پھر فرمایا ان کاموں کے بدلے ان کی جزا مغفرت ہے اور طرح طرح کی بہتی نہروں والی جنت ہے جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے، یہ بڑے اچھے اعمال ہیں۔
135
View Single
وَٱلَّذِينَ إِذَا فَعَلُواْ فَٰحِشَةً أَوۡ ظَلَمُوٓاْ أَنفُسَهُمۡ ذَكَرُواْ ٱللَّهَ فَٱسۡتَغۡفَرُواْ لِذُنُوبِهِمۡ وَمَن يَغۡفِرُ ٱلذُّنُوبَ إِلَّا ٱللَّهُ وَلَمۡ يُصِرُّواْ عَلَىٰ مَا فَعَلُواْ وَهُمۡ يَعۡلَمُونَ
And those who, when they commit an immoral act or wrong themselves, remember Allah and seek forgiveness of their sins – and who forgives sins except Allah? And those who do not purposely become stubborn regarding what they did.
اور (یہ) ایسے لوگ ہیں کہ جب کوئی برائی کر بیٹھتے ہیں یا اپنی جانوں پر ظلم کر بیٹھتے ہیں تو اللہ کا ذکر کرتے ہیں پھر اپنے گناہوں کی معافی مانگتے ہیں، اور اللہ کے سوا گناہوں کی بخشش کون کرتا ہے، اور پھر جو گناہ وہ کر بیٹھے تھے ان پر جان بوجھ کر اصرار بھی نہیں کرتے
Tafsir Ibn Kathir
Interest (Riba) is Prohibited
Allah prohibits His believing servants from dealing in Riba and from requiring interest on their capital, just as they used to do during the time of Jahiliyyah. For instance, when the time to pay a loan comes, the creditor would say to the debtor, "Either pay now, or the loan will incur interest." If the debtor asks for deferment of the loan, the creditor would require interest and this would occur year after year until the little capital becomes multiplied many times. Allah also commands His servants to have Taqwa of Him so that they may achieve success in this life and the Hereafter. Allah also threatens them with the Fire and warns them against it, saying,
وَاتَّقُواْ النَّارَ الَّتِى أُعِدَّتْ لِلْكَـفِرِينَ - وَأَطِيعُواْ اللَّهَ وَالرَّسُولَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ
(And fear the Fire, which is prepared for the disbelievers. And obey Allah and the Messenger that you may obtain mercy.) 3:131,132.
The Encouragment to Do Good for which Paradise is the Result
Allah encourages His servants to perform righteous deeds and to rush to accomplish the acts of obedience. Allah said,
وَسَارِعُواْ إِلَى مَغْفِرَةٍ مِّن رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمَـوَتُ وَالاٌّرْضُ أُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِينَ
(And march forth in the way (which leads to) forgiveness from your Lord, and for Paradise as wide as the heavens and the earth, prepared for the Muttaqin (the pious)) 3:133.
Just as the Fire was prepared for the disbelievers. It was reported that the meaning of Allah's statement,
عَرْضُهَا السَّمَـوَتُ وَالاٌّرْضُ
(as wide as the heavens and the earth) draws the attention to the spaciousness of Paradise. For instance, Allah said in another Ayah, while describing the couches of Paradise,
بَطَآئِنُهَا مِنْ إِسْتَبْرَقٍ
(lined with silk brocade) 55:54, so what about their outer covering It was also said that Paradise is as wide as its length, because it is a dome under the Throne. The width and length of a dome or a circle are the same in distance. This is supported by what is found in the Sahih;
«إِذَا سَأَلْتُمُ اللهَ الْجَنَّـةَ فَاسْأَلُوهُ الْفِرْدَوْسَ، فَإِنَّهُ أَعْلَى الْجَنَّـةِ، وَأَوْسَطُ الْجَنَّةِ، وَمِنْهُ تَفَجَّرُ أَنْهَارُ الْجَنَّةِ، وَسَقْفُهَا عَرْشُ الرَّحْمَن»
(When you ask Allah for Paradise, ask Him for Al-Firdaws which is the highest and best part of Paradise. From it originate the rivers of Paradise, and above it is the Throne of the Most Beneficent (Allah).)
This Ayah 3:133 above is similar to Allah's statement in Surat Al-Hadid,
سَابِقُواْ إِلَى مَغْفِرَةٍ مِّن رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا كَعَرْضِ السَّمَآءِ وَالاٌّرْضِ
(Race with one another in hastening towards forgiveness from your Lord (Allah), and Paradise the width whereof is as the width of the heaven and the Earth) 57:21.
Al-Bazzar recorded that Abu Hurayrah said that a man came to the Messenger of Allah ﷺ and asked him, about Allah's statement,
وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمَـوَتُ وَالاٌّرْضُ
(Paradise as wide as the heavens and the Earth) 3:133; "Where is the Fire then" The Prophet said,
«أَرَأَيْتَ اللَّيْلَ إِذَا جَاءَ لَبِسَ كُلَّ شَيْءٍ، فَأَيْنَ النَّهَارُ؟»
(When the night comes, it overtakes everything, so where is the day) The man said, "Where Allah wants it to be." The Prophet said,
«وَكَذلِكَ النَّارُ تَكُونُ حَيْثُ شَاءَ اللهُ عَزَّ وَجَل»
(Similarly, the Fire is where Allah wants it to be.) This Hadith has two possible meanings. First, when we do not see the night during the day, this does not mean that the day is not somewhere else, even though we cannot see it. Such is the case with Hell-fire, for it is where Allah wants it to be. The second meaning is that when the day overcomes this part of the world, the night overtakes the other part. Such is the case with Paradise, for it is in the utmost heights above the heavens and under the Throne. The width of Paradise is, as Allah stated,
كَعَرْضِ السَّمَآءِ وَالاٌّرْضِ
(whereof is as the width of the heaven and the Earth) 57:21.
The Fire, on the other hand, is in the lowest of lows. Therefore, Paradise being as wide as the heavens and Earth does not contradict the fact that the Fire exists wherever Allah wills it to be.
Allah said, while describing the people of Paradise,
الَّذِينَ يُنفِقُونَ فِى السَّرَّآءِ وَالضَّرَّآءِ
(Those who spend (in Allah's cause) in prosperity and in adversity) 3:134, in hard times and easy times, while active (or enthusiastic) and otherwise, healthy or ill, and in all conditions, just as Allah said in another Ayah,
الَّذِينَ يُنفِقُونَ أَمْوَلَهُمْ بِالَّيْلِ وَالنَّهَارِ سِرًّا وَعَلاَنِيَةً
(Those who spend their wealth (in Allah's cause) by night and day, in secret and in public) 2:274 These believers are never distracted from obeying Allah, spending on what pleases Him, being kind to His servants and their relatives, and other acts of righteousness. Allah said,
وَالْكَـظِمِينَ الْغَيْظَ وَالْعَـفِينَ عَنِ النَّاسِ
(who repress anger, and who pardon men;) 3:134 for when they are angry, they control their anger and do act upon it. Rather, they even forgive those who hurt them. Imam Ahmad recorded that Abu Hurayrah said that the Prophet said,
«لَيْسَ الشَّدِيدُ بِالصُّرَعَةِ، وَلكِنَّ الشَّدِيدَ الَّذِي يَمْلِكُ نَفْسَهُ عِنْدَ الْغَضَب»
(The strong person is not he who is able to physically overcome people. The strong person is he who overcomes his rage when he is angry.)
This Hadith is also recorded in the Two Sahihs. Imam Ahmad recorded that Ibn `Abbas said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«مَنْ أَنْظَرَ مُعْسِرًا أَوْ وَضَعَ لَهُ، وَقَاهُ اللهُ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ، أَلَا إِنَّ عَمَلَ الْجَنَّـةِ حَزْنٌ بِرَبْوَةٍ ثَلَاثًا أَلَا إِنَّ عَمَلَ النَّارِ سَهْلٌ بِسَهْوَةٍ. وَالسَّعِيدُ مَنْ وُقِيَ الْفِتَنَ، وَمَا مِنْ جَرْعَةٍ أَحَبُّ إِلَى اللهِ مِنْ جَرْعَةِ غَيْظٍ يَكْظِمُهَا عَبْدٌ، مَا كَظَمَهَا عَبْدٌ للهِ إِلَّا مَلَأَ جَوْفَهُ إِيمَانًا»
(He who gives time to a debtor or forgives him, then Allah will save him from the heat of Jahannam (Hell-fire). Behold! The deeds of Paradise are difficult to reach, for they are on top of a hill, while the deeds of the Fire are easy to find in the lowlands. The happy person is he who is saved from the tests. Verily, there is no dose of anything better to Allah than a dose of rage that the servant controls, and whenever the servant of Allah controls it, he will be internally filled with faith.)
This Hadith was recorded by Imam Ahmad, its chain of narration is good, it does not contain any disparraged narrators, and the meaning is good.
Imam Ahmad recorded that Sahl bin Mu`adh bin Anas said that his father said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«مَنْ كَظَمَ غَيْظًا وَهُوَ قَادِرٌ عَلى أَنْ يُنْفِذَهُ دَعَاهُ اللهُ عَلى رُؤُوسِ الْخَلَائِقِ حَتَّى يُخَيِّرَهُ مِنْ أَيِّ الْحُورِ شَاء»
(Whoever controlled rage while able to act upon it, then Allah will call him while all creation is a witness, until He gives him the choice of any of the Huris (fair females with wide, lovely eyes - as mates for the pious) he wishes.)
Abu Dawud, At-Tirmidhi and Ibn Majah collected this Hadith, which At-Tirmidhi said was "Hasan Gharib".
Ibn Marduwyah recorded that Ibn `Umar said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«مَا تَجَرَّعَ عَبْدٌ مِنْ جَرْعَةٍ أَفْضَلَ أَجْرًا مِنْ جَرْعَةِ غَيْظٍ كَظَمَهَا ابْتِغَاءَ وَجْهِ الله»
(There is not a dose of anything that the servant takes which is better than a dose of control of rage that he feels, when he does it seeking Allah's Face.) Ibn Jarir and Ibn Majah also collected this Hadith.
Allah said,
وَالْكَـظِمِينَ الْغَيْظَ
(who repress anger) meaning, they do not satisfy their rage upon people. Rather, they refrain from harming them and await their rewards with Allah, the Exalted and Most Honored. Allah then said,
وَالْعَـفِينَ عَنِ النَّاسِ
(and who pardon men;) They forgive those who treat them with injustice. Therefore, they do not hold any ill feelings about anyone in their hearts, and this is the most excellent conduct in this regard. This is why Allah said,
وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ
(verily, Allah loves the Muhsinin (the good-doers)).
This good conduct is a type of Ihsan excellence in the religion. There is a Hadith that reads,
«ثَلَاثٌ أُقْسِمُ عَلَيْهِنَّ: مَا نَقَصَ مَالٌ مِنْ صَدَقَةٍ، وَمَا زَادَ اللهُ عَبْدًا بِعَفْوٍ إِلَّا عِزًّا، وَمَنْ تَوَاضَعَ للهِ رَفَعَهُ الله»
(I swear regarding three matters: no charity shall ever decrease the wealth; whenever one forgives people, then Allah will magnify his honor; and he who is humble for Allah, then Allah will raise his rank.)
Allah said,
وَالَّذِينَ إِذَا فَعَلُواْ فَـحِشَةً أَوْ ظَلَمُواْ أَنْفُسَهُمْ ذَكَرُواْ اللَّهَ فَاسْتَغْفَرُواْ لِذُنُوبِهِمْ
(And those who, when they have committed Fahishah or wronged themselves with evil, remember Allah and ask forgiveness for their sins) 3:135.
Therefore, if they commit an error they follow it with repentance and ask forgiveness. Imam Ahmad recorded that Abu Hurayrah said that the Prophet said,
«إِنَّ رَجُلًا أَذْنَبَ ذَنْبًا فَقَالَ: رَبِّ إِنِّي أَذْنَبْتُ ذَنْبًا فَاغْفِرْهُ، فَقَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: عَبْدِي عَمِل ذَنْبًا فَعَلِمَ أَنَّ لَهُ ر&
سود خور جہنمی ہے اور غصہ شیطان کی دین ہے اس سے بچو اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو سودی لین دین سے اور سود خوری سے روک رہا ہے، اہل جاہلیت سودی قرضہ دیتے تھے مدت مقرر ہوتی تھی اگر اس مدت پر روپیہ وصول نہ ہوتا تو مدت بڑھا کر سود پر سود بڑھا دیا کرتے تھے اسی طرح سود در سود ملا کر اصل رقم کئی گنا بڑھ جاتی، اللہ تعالیٰ ایمانداروں کو اس طرح ناحق لوگوں کے مال غصب کرنے سے روک رہا ہے اور تقوے کا حکم دے کر اس پر نجات کا وعدہ کر رہا ہے، پھر آگ سے ڈراتا ہے اور اپنے عذابوں سے دھمکاتا ہے پھر اپنی اور اپنے رسول ﷺ کی اطاعت پر آمادہ کرتا ہے اور اس پر رحم و کرم کا وعدہ دیتا ہے پھر سعادت دارین کے حصول کیلئے نیکیوں کی طرف سبقت کرنے کو فرماتا ہے اور جنت کی تعریف کرتا ہے، چوڑائی کو بیان کر کے لمبائی کا اندازہ سننے والوں پر ہی چھوڑا جاتا ہے جس طرح جنتی فرش کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا آیت (مُتَّكِــــِٕيْنَ عَلٰي فُرُشٍۢ بَطَاۗىِٕنُهَا مِنْ اِسْتَبْرَقٍ) 55۔ الرحمن :54) یعنی اس کا استر نرم ریشم کا ہے تو مطلب یہ ہے کہ جب استر ایسا ہے تو ابرے کا کیا ٹھکانا ہے اسی طرح یہاں بھی بیان ہو رہا ہے کہ جب عرض ساتوں آسمانوں اور ساتویں زمینوں کے برابر ہے تو طول کتنا بڑا ہوگا اور بعض نے کہا ہے کہ عرض و طول یعنی لمبائی چوڑائی دونوں برابر ہے کیونکہ جنت مثل قبہ کے عرش کے نیچے ہے اور جو چیز قبہ نما ہو یا مستدیر ہو اس کا عرض و طول یکساں ہوتا ہے۔ ایک صحیح حدیث میں ہے جب تم اللہ سے جنت مانگو تو فردوس کا سوال کرو وہ سب سے اونچی اور سب سے اچھی جنت ہے اسی جنت سے سب نہریں جاری ہوتی ہیں اور اسی کی چھت اللہ تعالیٰ رحمن رحیم کا عرش ہے، مسند امام احمد میں ہے کہ ہرقل نے حضور ﷺ کی خدمت میں بطور اعتراض کے ایک سوال لکھ بھیجا کہ آپ مجھے اس جنت کی دعوت دے رہے ہیں جس کی چوڑائی آسمان و زمین کے برابر ہے تو یہ فرمایئے کہ پھر جہنم کہاں گئی ؟ حضور ﷺ نے فرمایا یعلیٰ بن مرہ کی ملاقات حمص میں ہوئی تھی کہتے ہیں اس وقت یہ بہت ہی بوڑھا ہوگیا تھا کہنے لگا جب میں نے یہ خط حضور ﷺ کو دیا تو آپ نے اپنی بائیں طرف کے ایک صحابی کو دیا میں نے لوگوں سے پوچھا ان کا کیا نام ہے ؟ لوگوں نے کہا یہ حضرت معاویہ ہیں ؓ حضرت عمر ؓ سے بھی یہی سوال ہوا تھا تو آپ نے فرمایا تھا کہ دن کے وقت رات اور رات کے وقت دن کہاں جاتا ہے ؟ یہودی یہ جواب سن کر کھسیانے ہو کر کہنے لگے کہ یہ توراۃ سے ماخوذ کیا ہوگا، حضرت ابن عباس ؓ سے بھی یہ جواب مروی ہے، ایک مرفوع حدیث میں ہے کسی نے حضور ﷺ سے پوچھا تو آپ نے جواب میں فرمایا جب ہر چیز پر رات آجاتی ہے تو دن کہاں جاتا ہے ؟ اس نے کہا جہاں اللہ چاہے، آپ نے فرمایا اسی طرح جہنم بھی جہاں چاہے (بزار) اس جملہ کے دو معنی ہوتے ہیں ایک تو یہ کہ رات کے وقت ہم گو دن کو نہیں دیکھ سکتے لیکن تاہم دن کا کسی جگہ ہونا ناممکن نہیں، اسی طرح گو جنت کا عرض اتنا ہی ہے لیکن پھر بھی جہنم کے وجود سے انکار نہیں ہوسکتا جہاں اللہ چاہے وہ بھی ہے، دوسرے معنی یہ کہ جب دن ایک طرف چڑھنے لگا رات دوسری جانب ہوتی ہے اسی طرح جنت اعلیٰ علیین میں ہے اور دوزخ اسفل السافلین میں تو کوئی نفی کا امکان ہی نہ رہا واللہ اعلم پھر اللہ تعالیٰ اہل جنت کا وصف بیان فرماتا ہے کہ وہ سختی میں اور آسانی میں خوشی میں اور غمی میں تندرستی میں اور بیماری میں غرض ہر حال میں راہ اللہ اپنا مال خرچ کرتے رہتے ہیں جیسے اور جگہ ہے آیت (اَلَّذِيْنَ يُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَھُمْ بالَّيْلِ وَالنَّهَارِ سِرًّا وَّعَلَانِيَةً فَلَھُمْ اَجْرُھُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ ۚ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا ھُمْ يَحْزَنُوْنَ) 2۔ البقرۃ :274) یعنی وہ لوگ دن رات چھپے کھلے خرچ کرتے رہتے ہیں کوئی امر انہیں اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے باز نہیں رکھ سکتا اس کی مخلوق پر اس کے حکم سے احسان کرتے رہتے ہیں۔ یہ غصے کو پی جانے والے اور لوگوں کی برائیوں سے درگزر کرنے والے ہیں (کظم) کے معنی چھپانے کے بھی ہیں یعنی اپنے غصہ کا اظہار بھی نہیں کرتے بعض روایتوں میں ہے اے ابن آدم اگر غصہ کے وقت تجھے یاد رکھوں گا یعنی ہلاکت کے وقت تجھے ہلاکت سے بچا لوں گا (ابن ابی حاتم) اور حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جو شخص اپنا غصہ روک لے اللہ تعالیٰ اس پر سے اپنے عذاب ہٹا لیتا ہے اور جو بھی اپنی زبان (خلاف شرع باتوں سے) روک لے اللہ تعالیٰ اس کی پردہ پوشی کرے گا اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی طرف معذرت لے جائے اللہ تعالیٰ اس کا عذر قبول فرماتا ہے (مسند ابو یعلیٰ) یہ حدیث غریب ہے اور اس کی سند میں بھی اختلاف ہے اور حدیث شریف میں ہے۔ آپ فرماتے ہیں پہلوان وہ نہیں جو کسی کو پچھاڑ دے بلکہ حقیقتاً پہلوان وہ ہے جو غصہ کے وقت اپنے نفس پر قابو رکھے (احمد) صحیح بخاری صحیح مسلم میں رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں تم میں سے کوئی ایسا ہے جسے اپنے وارث کا مال اپنے مال سے زیادہ محبوب ہو ؟ لوگوں نے کہا حضور ﷺ کوئی نہیں آپ نے فرمایا میں تو دیکھتا ہوں کہ تم اپنے مال سے زیادہ اپنے وارث کا مال چاہتے ہو اس لئے کہ تمہارا مال تو درحقیقت وہ ہے جو تم راہ اللہ اپنی زندگی میں خرچ کردو اور جو چھوڑ کر جاؤ وہ تمہارا مال نہیں بلکہ تمہارے وارثوں کا مال ہے تو تمہارا راہ اللہ کم خرچ کرنا اور جمع زیادہ کرنا یہ دلیل ہے اس امر کی کہ تم اپنے مال سے اپنے وارثوں کے مال کو زیادہ عزیز رکھتے ہو، پھر فرمایا تم پہلوان کسے جانتے ہو ؟ لوگوں نے کہا حضور ﷺ اسے جسے کوئی گر انہ سکے آپ نے فرمایا نہیں بلکہ حقیقتاً زور دار پہلوان وہ ہے جو غصہ کے وقت اپنے جذبات پر پورا قابو رکھے، پھر فرمایا بےاولاد کسے کہتے ہو ؟ لوگوں نے کہا جس کی اولاد نہ ہو، فرمایا نہیں بلکہ فی الواقع بےاولاد وہ ہے جس کے سامنے اس کی کوئی اولاد مری نہ ہو (مسلم) ایک اور روایت میں یہ بھی ہے کہ آپ نے دریافت فرمایا کہ جانتے ہو مفلس کنگال کون ہے ؟ لوگوں نے کہا جس کے پاس مال نہ ہو آپ نے فرمایا بلکہ وہ جس نے اپنا مال اپنی زندگی میں راہ اللہ نہ دیا ہو (مسند احمد) حضرت حارثہ بن قدامہ سعدی ؓ حاضر خدمت نبوی میں عرض کرتے ہیں کہ حضور ﷺ مجھے کوئی نفع کی بات کہیے جو مختصر ہو تاکہ میں یاد بھی رکھ سکوں آپ نے فرمایا غصہ نہ کر اس نے پھر پوچھا آپ نے پھر یہی جواب دیا کئی کئی مرتبہ یہی کہا (مسند احمد) کسی شخص نے حضور ﷺ سے کہا مجھے کچھ وصیت کیجئے آپ نے فرمایا غصہ نہ کر وہ کہتے ہیں میں نے جو غور کیا تو معلوم ہوا کہ تمام برائیوں کا مرکز غصہ ہی ہے (مسند احمد) ایک روایت میں ہے کہ حضرت ابوذر ؓ غصہ آیا تو آپ بیٹھ گئے اور پھر لیٹ گئے ان سے پوچھا گیا یہ کیا ؟ تو فرمایا میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے آپ فرماتے تھے جسے غصہ آئے وہ کھڑا ہو تو بیٹھ جائے اگر اس سے بھی غصہ نہ جائے تو لیٹ جائے (مسند احمد) مسند احمد کی ایک اور روایت میں ہے کہ عروہ بن محمد کو غصہ چڑھا آپ وضو کرنے بیٹھ گئے اور فرمانے لگے میں نے اپنے استادوں سے یہ حدیث سنی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ غصہ شیطان کی طرف سے ہے اور شیطان آگ سے پیدا ہوا ہے اور آگ بجھانے والی چیز پانی ہے پس تم غصہ کے وقت وضو کرنے بیٹھ جاؤ حضور ﷺ کا یہ ارشاد ہے کہ جو شخص کسی تنگ دست کو مہلت دے یا اپنا قرض اسے معاف کر دے اللہ تعالیٰ اسے جہنم سے آزاد کردیتا ہے لوگو سنو جنت کے اعمال سخت اور مشکل ہیں اور جہنم کے کام آسان اور سہل ہیں نیک بخت وہی ہے جو فتنوں سے بچ جائے کسی گھونٹ کا پینا اللہ کو ایسا پسند نہیں جتنا غصہ کے گھونٹ کا پی جانا ایسے شخص کے دل میں ایمان رچ جاتا ہے (مسند احمد) حضور ﷺ فرماتے ہیں جو شخص اپنا غصہ اتارنے کی طاقت رکھتے ہوئے پھر بھی ضبط کرلے اللہ تعالیٰ اس کا دل امن وامان سے پر کردیتا ہے جو شخص باوجود موجود ہونے کے شہرت کے کپڑے کو تواضع کی وجہ سے چھوڑ دے اسے اللہ تعالیٰ کرامت اور عزت کا حلہ قیامت کے دن پہنائے گا اور جو کسی کا سر چھپائے اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن بادشاہت کا تاج پہنائے گا (ابوداؤد) حضور ﷺ فرماتے ہیں جو شخص باوجود قدرت کے اپنا غصہ ضبط کرلے اسی اللہ تعالیٰ تمام مخلوق کے سامنے بلا کر اختیار دے گا کہ جس حور کو چاہے پسند کرلے (مسند احمد) اس مضمون کی اور بھی حدیثیں ہیں، پس آیت کا مطلب یہ ہوا کہ وہ اپنے غصہ میں آپے سے باہر نہیں ہوتے لوگوں کو ان کی طرف سے برائی نہیں پہنچتی بلکہ اپنے جذبات کو دبائے رکھتے ہیں اور اللہ سے ڈر کر ثواب کی امید پر معاملہ سپر دالہ کرتے ہیں، لوگوں سے درگزر کرتے ہیں ظالموں کے ظلم کا بدلہ ابھی نہیں لیتے اسی کو احسان کہتے ہیں اور ان محسن بندوں سے اللہ محبت رکھتا ہے حدیث میں ہے رسول مقبول ﷺ فرماتے ہیں تین باتوں پر میں قسم کھاتا ہوں ایک تو یہ کہ صدقہ سے مال نہیں گھٹتا دوسرے یہ کہ عفو و درگزر کرنے سے انسان کی عزت بڑھتی ہے تیسرے یہ کہ تواضع فروتنی اور عاجزی کرنے والے کو اللہ تعالیٰ بلند مرتبہ عطا کرتا ہے، مستدرک کی حدیث میں ہے جو شخص یہ چاہے کہ اس کی بنیاد بلند ہو اور اس کے درجے بڑھیں تو اسے ظالموں سے درگزر کرنا چاہئے اور نہ دینے والوں کو دینا چاہئے اور توڑنے والوں سے جوڑنا چاہئے اور حدیث میں ہے قیامت کے دن ایک پکارے گا کہ اے لوگو درگزر کرنے والو اپنے رب کے پاس آؤ اور اپنا اجر لو۔ مسلمانوں کی خطاؤں کے معاف کرنے والے جنتی لوگ ہیں۔ پھر فرمایا یہ لوگ گناہ کے بعد فوراً ذکر اللہ اور استغفار کرتے ہیں۔ مسند احمد میں یہ روایت حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جب کوئی شخص گناہ کرتا ہے پھر اللہ رحمن و رحیم کے سامنے حاضر ہو کر کہتا ہے کہ پروردگار مجھ سے گناہ ہوگیا تو معاف فرما اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میرے بندے سے گو گناہ ہوگیا لیکن اس کا ایمان ہے کہ اس کا رب گناہ پر پکڑ بھی کرتا ہے اور اگر چاہے تو معاف بھی فرما دیتا ہے میں نے اپنے بندے کا گناہ معاف فرمایا، اس سے پھر گناہ ہو تو فرما دیتا ہے میں نے اپنے بندے کا گناہ معاف فرمایا، اس سے پھر گناہ ہوجاتا ہے یہ پھر توبہ کرتا ہے اللہ تعالیٰ پھر بخشتا ہے چوتھی مرتبہ پھر گناہ کر بیٹھتا ہے پھر توبہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ معاف فرما کر کہتا ہے اب میرا بندہ جو چاہے کرے (مسند احمد) یہ حدیث بخاری و مسلم میں بھی ہے، حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں ہم نے ایک مرتبہ جناب رسول اللہ ﷺ سے کہا کہ یہ رسول اللہ ﷺ جب ہم آپ کو دیکھتے ہیں تو ہمارے دلوں میں رقت طاری ہوجاتی ہے اور ہم اللہ والے بن جاتے ہیں لیکن جب آپ کے پاس سے چلے جاتے ہیں تو وہ حالت نہیں رہتی عورتوں بچوں میں پھنس جاتے ہیں گھر بار کے دھندوں میں لگ جاتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا۔ اگر تمہاری حالت یہی ہر وقت رہتی تو پھر فرشتے تم سے مصافحہ کرتے اور تمہاری ملاقات کو تمہارے گھر پر آتے، سنو اگر تم گناہ نہ کرو تو اللہ تمہیں یہاں سے ہٹا دے اور دوسری قوم کو لے آئے جو گناہ کرے پھر بخشش مانگے اور اللہ انہیں بخشے ہم نے کہا حضور ﷺ یہ فرماتے کہ جنت کی بنیادیں کس طرح استوار ہیں آپ نے فرمایا ایک اینٹ سونے کی تو ایک چاندی کی ہے اس کا گارہ مشک خالص ہے اس کے کنکر لؤلؤ اور یاقوت ہیں، اس کی مٹی زعفران ہے، جنتیوں کی نعمتیں کبھی ختم نہ ہوں گی ان کی زندگی ہمیشہ کی ہوگی ان کے کپڑے پرانے نہیں ہونگے جوانی کبھی نہیں ڈھلے گی اور تین اشخاص کی دعا کبھی رد نہیں ہوتی عادل بادشاہ کی دعا افطاری کے وقت روزے دار کی دعا اور مظلوم کی دعا بادلوں سے اٹھائی جاتی ہے اور اس کے لئے آسمانوں کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور جناب باری ارشاد فرماتا ہے مجھے میری عزت کی قسم میں تیری ضرور مدد کروں گا اگرچہ کچھ وقت کے بعد ہو (مسند احمد) امیر المومنین حضرت ابوبکر صدیق ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص کوئی گناہ کرے پھر وضو کر کے دو رکعت نماز ادا کرے اور اپنے گناہ کی معافی چاہے تو اے اللہ عزوجل اس کے گناہ معاف فرما دیتا ہے (مسند احمد) صحیح مسلم میں روایت امیر المومنین حضرت عمر بن خطاب ؓ مروی ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں تم میں سے جو شخص کامل وضو کر کے دعا (اشھدان لا الہ الا اللہ وحدہ لاشریک لہ واشھدان محمد اعبدہ و رسولہ) پڑھے اس کیلئے جنت کے آٹھوں دروازے کھل جاتے ہیں جس سے چاہے اندر چلا جائے، امیر المومنین حضرت عثمان بن عفان ؓ سنت کے مطابق وضو کرتے ہیں پھر فرماتے ہیں میں نے آنحضرت ﷺ سے سنا ہے آپ نے فرمایا جو شخص مجھ جیسا وضو کرے پھر دو رکعت نماز ادا کرے جس میں اپنے دل سے باتیں نہ کرے تو اللہ تعالیٰ اس کے تمام گناہ معاف فرما دیتا ہے (بخاری مسلم) پس یہ حدیث کو حضرت عثمان سے اس سے اگلی روایت حضرت عمر سے اور اس سے اگلی روایت حضرت ابوبکر سے اور اس سے تیسری روایت کو حضرت ابوبکر سے حضرت علی روایت کرتے ہیں تو الحمد اللہ، اللہ تعالیٰ کی وسیع مغفرت اور اس کی بےانتہاء مہربانی کی خبر سید الاولین والاخرین کی زبانی آپ کے چاروں برحق خلفاء کی معرفت ہمیں پہنچی (آؤ اس موقعہ پر ہم گنہگار بھی ہاتھ اٹھائیں اور اپنے مہربان رحیم و کریم اللہ کے سامنے اپنے گناہوں کا اقرار کر کے اس سے معافی طلب کریں اللہ تعالیٰ اے ماں باپ سے زیادہ مہربان اے عفو و درگزر کرنے والے ! اور کسی بھکاری کو اپنے در سے خالی نہ پھیرنے والے ! تو ہم خطاکاروں کی سیاہ کاریوں سے بھی درگزر فرما اور ہمارے کل گناہ معاف فرما دے۔ مترجم) یہی وہ مبارک آیت ہے کہ جب یہ نازل ہوئی تو ابلیس رونے لگا (مسند عبدالرزاق) استغفار اور لا الہ الاللہ مسند ابو یعلیٰ میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں لا الہ الا اللہ کثرت سے پڑھا کرو اور استغفار پر مداومت کرو ابلیس گناہوں سے لوگوں کو ہلاک کرنا چاہتا ہے اور اس کی اپنی ہلاکت لا الہ الا اللہ اور استغفار سے ہے، یہ حدیث دیکھ کر ابلیس نے لوگوں کو خواہش پرستی پر ڈال دیا پس وہ اپنے آپ کو راہ راست پر جانتے ہیں حالانکہ ہلاکت میں ہوتے ہیں لیکن اس حدیث کے دو راوی ضعیف ہیں۔ مسند احمد میں ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں کہ ابلیس نے کہا اے رب مجھے تیری عزت کی قسم میں بنی آدم کو ان کے آخری دم تک بہکاتا رہوں گا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا مجھے میرے جلال اور میری عزت کی قسم جب تک وہ مجھ سے بخشش مانگتے رہیں گے میں بھی انہیں بخشتا رہوں گا مسند بزاز میں ہے کہ ایک شخص نے حضور ﷺ سے کہا مجھ سے گناہ ہوگیا آپ نے فرمایا پھر استغفار کر اس نے کہا مجھ سے اور گناہ ہوا فرمایا استغفار کئے جا، یہاں تک کہ شیطان تھک جائے پھر فرمایا گناہ کو بخشنا اللہ ہی کے اختیار میں ہے مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک قیدی آیا اور کہنے لگا یا اللہ میں تیری طرف توبہ کرتا ہوں محمد ﷺ کی طرف توبہ نہیں کرتا (یعنی اللہ میں تیری ہی بخشش چاہتا ہوں) آپ نے فرمایا اس نے حق حقدار کو پہنچایا۔ اصرار کرنے سے مراد یہ ہے کہ معصیت پر بغیر توبہ کئے اڑ نہیں جاتے اگر کئی مرتبہ گناہ ہوجائے تو کئی مرتبہ استغفار کرتے ہیں، مسند ابو یعلیٰ میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں وہ اصرار کرنے والا اور اڑنے والا نہیں جو استغفار کرتا رہتا ہے اگرچہ (بالفرض) اس سے ایک دن میں ستر مرتبہ بھی گناہ ہوجائے پھر فرمایا کہ وہ جانتے ہوں یعنی اس بات کو کہ اللہ توبہ قبول کرنے والا ہے جیسے اور جگہ ہے آیت (اَلَمْ يَعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ ھُوَ يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهٖ وَيَاْخُذُ الصَّدَقٰتِ وَاَنَّ اللّٰهَ ھُوَ التَّوَّاب الرَّحِيْمُ) 9۔ التوبہ :104) کیا یہ نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے اور جگہ ہے آیت (وَمَنْ يَّعْمَلْ سُوْۗءًا اَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهٗ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللّٰهَ يَجِدِ اللّٰهَ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا) 4۔ النسآء :110) جو شخص کوئی برا کام کرے یا گناہ کر کے اپنی جان پر ظلم کرے پھر اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کرے تو وہ دیکھ لے گا کہ اللہ عزوجل بخشش کرنے والا مہربان ہے۔ مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ نے منبر پر بیان فرمایا لوگو تم اوروں پر رحم کرو اللہ تم پر رحم کرے گا لوگو تم دوسروں کی خطائیں معاف کرو اللہ تعالیٰ تمہارے گناہوں کو بخشے گا باتیں بنانے والوں کی ہلاکت ہے گناہ پر جم جانے والوں کی ہلاکت ہے پھر فرمایا ان کاموں کے بدلے ان کی جزا مغفرت ہے اور طرح طرح کی بہتی نہروں والی جنت ہے جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے، یہ بڑے اچھے اعمال ہیں۔
136
View Single
أُوْلَـٰٓئِكَ جَزَآؤُهُم مَّغۡفِرَةٞ مِّن رَّبِّهِمۡ وَجَنَّـٰتٞ تَجۡرِي مِن تَحۡتِهَا ٱلۡأَنۡهَٰرُ خَٰلِدِينَ فِيهَاۚ وَنِعۡمَ أَجۡرُ ٱلۡعَٰمِلِينَ
For such the reward is forgiveness from their Lord, and Gardens beneath which rivers flow – abiding in it forever; what an excellent reward for the performers (of good deeds)!
یہ وہ لوگ ہیں جن کی جزا ان کے رب کی طرف سے مغفرت ہے اور جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں رواں ہیں وہ ان میں ہمیشہ رہنے والے ہیں، اور (نیک) عمل کرنے والوں کا کیا ہی اچھا صلہ ہے
Tafsir Ibn Kathir
Interest (Riba) is Prohibited
Allah prohibits His believing servants from dealing in Riba and from requiring interest on their capital, just as they used to do during the time of Jahiliyyah. For instance, when the time to pay a loan comes, the creditor would say to the debtor, "Either pay now, or the loan will incur interest." If the debtor asks for deferment of the loan, the creditor would require interest and this would occur year after year until the little capital becomes multiplied many times. Allah also commands His servants to have Taqwa of Him so that they may achieve success in this life and the Hereafter. Allah also threatens them with the Fire and warns them against it, saying,
وَاتَّقُواْ النَّارَ الَّتِى أُعِدَّتْ لِلْكَـفِرِينَ - وَأَطِيعُواْ اللَّهَ وَالرَّسُولَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ
(And fear the Fire, which is prepared for the disbelievers. And obey Allah and the Messenger that you may obtain mercy.) 3:131,132.
The Encouragment to Do Good for which Paradise is the Result
Allah encourages His servants to perform righteous deeds and to rush to accomplish the acts of obedience. Allah said,
وَسَارِعُواْ إِلَى مَغْفِرَةٍ مِّن رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمَـوَتُ وَالاٌّرْضُ أُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِينَ
(And march forth in the way (which leads to) forgiveness from your Lord, and for Paradise as wide as the heavens and the earth, prepared for the Muttaqin (the pious)) 3:133.
Just as the Fire was prepared for the disbelievers. It was reported that the meaning of Allah's statement,
عَرْضُهَا السَّمَـوَتُ وَالاٌّرْضُ
(as wide as the heavens and the earth) draws the attention to the spaciousness of Paradise. For instance, Allah said in another Ayah, while describing the couches of Paradise,
بَطَآئِنُهَا مِنْ إِسْتَبْرَقٍ
(lined with silk brocade) 55:54, so what about their outer covering It was also said that Paradise is as wide as its length, because it is a dome under the Throne. The width and length of a dome or a circle are the same in distance. This is supported by what is found in the Sahih;
«إِذَا سَأَلْتُمُ اللهَ الْجَنَّـةَ فَاسْأَلُوهُ الْفِرْدَوْسَ، فَإِنَّهُ أَعْلَى الْجَنَّـةِ، وَأَوْسَطُ الْجَنَّةِ، وَمِنْهُ تَفَجَّرُ أَنْهَارُ الْجَنَّةِ، وَسَقْفُهَا عَرْشُ الرَّحْمَن»
(When you ask Allah for Paradise, ask Him for Al-Firdaws which is the highest and best part of Paradise. From it originate the rivers of Paradise, and above it is the Throne of the Most Beneficent (Allah).)
This Ayah 3:133 above is similar to Allah's statement in Surat Al-Hadid,
سَابِقُواْ إِلَى مَغْفِرَةٍ مِّن رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا كَعَرْضِ السَّمَآءِ وَالاٌّرْضِ
(Race with one another in hastening towards forgiveness from your Lord (Allah), and Paradise the width whereof is as the width of the heaven and the Earth) 57:21.
Al-Bazzar recorded that Abu Hurayrah said that a man came to the Messenger of Allah ﷺ and asked him, about Allah's statement,
وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمَـوَتُ وَالاٌّرْضُ
(Paradise as wide as the heavens and the Earth) 3:133; "Where is the Fire then" The Prophet said,
«أَرَأَيْتَ اللَّيْلَ إِذَا جَاءَ لَبِسَ كُلَّ شَيْءٍ، فَأَيْنَ النَّهَارُ؟»
(When the night comes, it overtakes everything, so where is the day) The man said, "Where Allah wants it to be." The Prophet said,
«وَكَذلِكَ النَّارُ تَكُونُ حَيْثُ شَاءَ اللهُ عَزَّ وَجَل»
(Similarly, the Fire is where Allah wants it to be.) This Hadith has two possible meanings. First, when we do not see the night during the day, this does not mean that the day is not somewhere else, even though we cannot see it. Such is the case with Hell-fire, for it is where Allah wants it to be. The second meaning is that when the day overcomes this part of the world, the night overtakes the other part. Such is the case with Paradise, for it is in the utmost heights above the heavens and under the Throne. The width of Paradise is, as Allah stated,
كَعَرْضِ السَّمَآءِ وَالاٌّرْضِ
(whereof is as the width of the heaven and the Earth) 57:21.
The Fire, on the other hand, is in the lowest of lows. Therefore, Paradise being as wide as the heavens and Earth does not contradict the fact that the Fire exists wherever Allah wills it to be.
Allah said, while describing the people of Paradise,
الَّذِينَ يُنفِقُونَ فِى السَّرَّآءِ وَالضَّرَّآءِ
(Those who spend (in Allah's cause) in prosperity and in adversity) 3:134, in hard times and easy times, while active (or enthusiastic) and otherwise, healthy or ill, and in all conditions, just as Allah said in another Ayah,
الَّذِينَ يُنفِقُونَ أَمْوَلَهُمْ بِالَّيْلِ وَالنَّهَارِ سِرًّا وَعَلاَنِيَةً
(Those who spend their wealth (in Allah's cause) by night and day, in secret and in public) 2:274 These believers are never distracted from obeying Allah, spending on what pleases Him, being kind to His servants and their relatives, and other acts of righteousness. Allah said,
وَالْكَـظِمِينَ الْغَيْظَ وَالْعَـفِينَ عَنِ النَّاسِ
(who repress anger, and who pardon men;) 3:134 for when they are angry, they control their anger and do act upon it. Rather, they even forgive those who hurt them. Imam Ahmad recorded that Abu Hurayrah said that the Prophet said,
«لَيْسَ الشَّدِيدُ بِالصُّرَعَةِ، وَلكِنَّ الشَّدِيدَ الَّذِي يَمْلِكُ نَفْسَهُ عِنْدَ الْغَضَب»
(The strong person is not he who is able to physically overcome people. The strong person is he who overcomes his rage when he is angry.)
This Hadith is also recorded in the Two Sahihs. Imam Ahmad recorded that Ibn `Abbas said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«مَنْ أَنْظَرَ مُعْسِرًا أَوْ وَضَعَ لَهُ، وَقَاهُ اللهُ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ، أَلَا إِنَّ عَمَلَ الْجَنَّـةِ حَزْنٌ بِرَبْوَةٍ ثَلَاثًا أَلَا إِنَّ عَمَلَ النَّارِ سَهْلٌ بِسَهْوَةٍ. وَالسَّعِيدُ مَنْ وُقِيَ الْفِتَنَ، وَمَا مِنْ جَرْعَةٍ أَحَبُّ إِلَى اللهِ مِنْ جَرْعَةِ غَيْظٍ يَكْظِمُهَا عَبْدٌ، مَا كَظَمَهَا عَبْدٌ للهِ إِلَّا مَلَأَ جَوْفَهُ إِيمَانًا»
(He who gives time to a debtor or forgives him, then Allah will save him from the heat of Jahannam (Hell-fire). Behold! The deeds of Paradise are difficult to reach, for they are on top of a hill, while the deeds of the Fire are easy to find in the lowlands. The happy person is he who is saved from the tests. Verily, there is no dose of anything better to Allah than a dose of rage that the servant controls, and whenever the servant of Allah controls it, he will be internally filled with faith.)
This Hadith was recorded by Imam Ahmad, its chain of narration is good, it does not contain any disparraged narrators, and the meaning is good.
Imam Ahmad recorded that Sahl bin Mu`adh bin Anas said that his father said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«مَنْ كَظَمَ غَيْظًا وَهُوَ قَادِرٌ عَلى أَنْ يُنْفِذَهُ دَعَاهُ اللهُ عَلى رُؤُوسِ الْخَلَائِقِ حَتَّى يُخَيِّرَهُ مِنْ أَيِّ الْحُورِ شَاء»
(Whoever controlled rage while able to act upon it, then Allah will call him while all creation is a witness, until He gives him the choice of any of the Huris (fair females with wide, lovely eyes - as mates for the pious) he wishes.)
Abu Dawud, At-Tirmidhi and Ibn Majah collected this Hadith, which At-Tirmidhi said was "Hasan Gharib".
Ibn Marduwyah recorded that Ibn `Umar said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«مَا تَجَرَّعَ عَبْدٌ مِنْ جَرْعَةٍ أَفْضَلَ أَجْرًا مِنْ جَرْعَةِ غَيْظٍ كَظَمَهَا ابْتِغَاءَ وَجْهِ الله»
(There is not a dose of anything that the servant takes which is better than a dose of control of rage that he feels, when he does it seeking Allah's Face.) Ibn Jarir and Ibn Majah also collected this Hadith.
Allah said,
وَالْكَـظِمِينَ الْغَيْظَ
(who repress anger) meaning, they do not satisfy their rage upon people. Rather, they refrain from harming them and await their rewards with Allah, the Exalted and Most Honored. Allah then said,
وَالْعَـفِينَ عَنِ النَّاسِ
(and who pardon men;) They forgive those who treat them with injustice. Therefore, they do not hold any ill feelings about anyone in their hearts, and this is the most excellent conduct in this regard. This is why Allah said,
وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ
(verily, Allah loves the Muhsinin (the good-doers)).
This good conduct is a type of Ihsan excellence in the religion. There is a Hadith that reads,
«ثَلَاثٌ أُقْسِمُ عَلَيْهِنَّ: مَا نَقَصَ مَالٌ مِنْ صَدَقَةٍ، وَمَا زَادَ اللهُ عَبْدًا بِعَفْوٍ إِلَّا عِزًّا، وَمَنْ تَوَاضَعَ للهِ رَفَعَهُ الله»
(I swear regarding three matters: no charity shall ever decrease the wealth; whenever one forgives people, then Allah will magnify his honor; and he who is humble for Allah, then Allah will raise his rank.)
Allah said,
وَالَّذِينَ إِذَا فَعَلُواْ فَـحِشَةً أَوْ ظَلَمُواْ أَنْفُسَهُمْ ذَكَرُواْ اللَّهَ فَاسْتَغْفَرُواْ لِذُنُوبِهِمْ
(And those who, when they have committed Fahishah or wronged themselves with evil, remember Allah and ask forgiveness for their sins) 3:135.
Therefore, if they commit an error they follow it with repentance and ask forgiveness. Imam Ahmad recorded that Abu Hurayrah said that the Prophet said,
«إِنَّ رَجُلًا أَذْنَبَ ذَنْبًا فَقَالَ: رَبِّ إِنِّي أَذْنَبْتُ ذَنْبًا فَاغْفِرْهُ، فَقَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: عَبْدِي عَمِل ذَنْبًا فَعَلِمَ أَنَّ لَهُ ر&
سود خور جہنمی ہے اور غصہ شیطان کی دین ہے اس سے بچو اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو سودی لین دین سے اور سود خوری سے روک رہا ہے، اہل جاہلیت سودی قرضہ دیتے تھے مدت مقرر ہوتی تھی اگر اس مدت پر روپیہ وصول نہ ہوتا تو مدت بڑھا کر سود پر سود بڑھا دیا کرتے تھے اسی طرح سود در سود ملا کر اصل رقم کئی گنا بڑھ جاتی، اللہ تعالیٰ ایمانداروں کو اس طرح ناحق لوگوں کے مال غصب کرنے سے روک رہا ہے اور تقوے کا حکم دے کر اس پر نجات کا وعدہ کر رہا ہے، پھر آگ سے ڈراتا ہے اور اپنے عذابوں سے دھمکاتا ہے پھر اپنی اور اپنے رسول ﷺ کی اطاعت پر آمادہ کرتا ہے اور اس پر رحم و کرم کا وعدہ دیتا ہے پھر سعادت دارین کے حصول کیلئے نیکیوں کی طرف سبقت کرنے کو فرماتا ہے اور جنت کی تعریف کرتا ہے، چوڑائی کو بیان کر کے لمبائی کا اندازہ سننے والوں پر ہی چھوڑا جاتا ہے جس طرح جنتی فرش کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا آیت (مُتَّكِــــِٕيْنَ عَلٰي فُرُشٍۢ بَطَاۗىِٕنُهَا مِنْ اِسْتَبْرَقٍ) 55۔ الرحمن :54) یعنی اس کا استر نرم ریشم کا ہے تو مطلب یہ ہے کہ جب استر ایسا ہے تو ابرے کا کیا ٹھکانا ہے اسی طرح یہاں بھی بیان ہو رہا ہے کہ جب عرض ساتوں آسمانوں اور ساتویں زمینوں کے برابر ہے تو طول کتنا بڑا ہوگا اور بعض نے کہا ہے کہ عرض و طول یعنی لمبائی چوڑائی دونوں برابر ہے کیونکہ جنت مثل قبہ کے عرش کے نیچے ہے اور جو چیز قبہ نما ہو یا مستدیر ہو اس کا عرض و طول یکساں ہوتا ہے۔ ایک صحیح حدیث میں ہے جب تم اللہ سے جنت مانگو تو فردوس کا سوال کرو وہ سب سے اونچی اور سب سے اچھی جنت ہے اسی جنت سے سب نہریں جاری ہوتی ہیں اور اسی کی چھت اللہ تعالیٰ رحمن رحیم کا عرش ہے، مسند امام احمد میں ہے کہ ہرقل نے حضور ﷺ کی خدمت میں بطور اعتراض کے ایک سوال لکھ بھیجا کہ آپ مجھے اس جنت کی دعوت دے رہے ہیں جس کی چوڑائی آسمان و زمین کے برابر ہے تو یہ فرمایئے کہ پھر جہنم کہاں گئی ؟ حضور ﷺ نے فرمایا یعلیٰ بن مرہ کی ملاقات حمص میں ہوئی تھی کہتے ہیں اس وقت یہ بہت ہی بوڑھا ہوگیا تھا کہنے لگا جب میں نے یہ خط حضور ﷺ کو دیا تو آپ نے اپنی بائیں طرف کے ایک صحابی کو دیا میں نے لوگوں سے پوچھا ان کا کیا نام ہے ؟ لوگوں نے کہا یہ حضرت معاویہ ہیں ؓ حضرت عمر ؓ سے بھی یہی سوال ہوا تھا تو آپ نے فرمایا تھا کہ دن کے وقت رات اور رات کے وقت دن کہاں جاتا ہے ؟ یہودی یہ جواب سن کر کھسیانے ہو کر کہنے لگے کہ یہ توراۃ سے ماخوذ کیا ہوگا، حضرت ابن عباس ؓ سے بھی یہ جواب مروی ہے، ایک مرفوع حدیث میں ہے کسی نے حضور ﷺ سے پوچھا تو آپ نے جواب میں فرمایا جب ہر چیز پر رات آجاتی ہے تو دن کہاں جاتا ہے ؟ اس نے کہا جہاں اللہ چاہے، آپ نے فرمایا اسی طرح جہنم بھی جہاں چاہے (بزار) اس جملہ کے دو معنی ہوتے ہیں ایک تو یہ کہ رات کے وقت ہم گو دن کو نہیں دیکھ سکتے لیکن تاہم دن کا کسی جگہ ہونا ناممکن نہیں، اسی طرح گو جنت کا عرض اتنا ہی ہے لیکن پھر بھی جہنم کے وجود سے انکار نہیں ہوسکتا جہاں اللہ چاہے وہ بھی ہے، دوسرے معنی یہ کہ جب دن ایک طرف چڑھنے لگا رات دوسری جانب ہوتی ہے اسی طرح جنت اعلیٰ علیین میں ہے اور دوزخ اسفل السافلین میں تو کوئی نفی کا امکان ہی نہ رہا واللہ اعلم پھر اللہ تعالیٰ اہل جنت کا وصف بیان فرماتا ہے کہ وہ سختی میں اور آسانی میں خوشی میں اور غمی میں تندرستی میں اور بیماری میں غرض ہر حال میں راہ اللہ اپنا مال خرچ کرتے رہتے ہیں جیسے اور جگہ ہے آیت (اَلَّذِيْنَ يُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَھُمْ بالَّيْلِ وَالنَّهَارِ سِرًّا وَّعَلَانِيَةً فَلَھُمْ اَجْرُھُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ ۚ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا ھُمْ يَحْزَنُوْنَ) 2۔ البقرۃ :274) یعنی وہ لوگ دن رات چھپے کھلے خرچ کرتے رہتے ہیں کوئی امر انہیں اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے باز نہیں رکھ سکتا اس کی مخلوق پر اس کے حکم سے احسان کرتے رہتے ہیں۔ یہ غصے کو پی جانے والے اور لوگوں کی برائیوں سے درگزر کرنے والے ہیں (کظم) کے معنی چھپانے کے بھی ہیں یعنی اپنے غصہ کا اظہار بھی نہیں کرتے بعض روایتوں میں ہے اے ابن آدم اگر غصہ کے وقت تجھے یاد رکھوں گا یعنی ہلاکت کے وقت تجھے ہلاکت سے بچا لوں گا (ابن ابی حاتم) اور حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جو شخص اپنا غصہ روک لے اللہ تعالیٰ اس پر سے اپنے عذاب ہٹا لیتا ہے اور جو بھی اپنی زبان (خلاف شرع باتوں سے) روک لے اللہ تعالیٰ اس کی پردہ پوشی کرے گا اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی طرف معذرت لے جائے اللہ تعالیٰ اس کا عذر قبول فرماتا ہے (مسند ابو یعلیٰ) یہ حدیث غریب ہے اور اس کی سند میں بھی اختلاف ہے اور حدیث شریف میں ہے۔ آپ فرماتے ہیں پہلوان وہ نہیں جو کسی کو پچھاڑ دے بلکہ حقیقتاً پہلوان وہ ہے جو غصہ کے وقت اپنے نفس پر قابو رکھے (احمد) صحیح بخاری صحیح مسلم میں رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں تم میں سے کوئی ایسا ہے جسے اپنے وارث کا مال اپنے مال سے زیادہ محبوب ہو ؟ لوگوں نے کہا حضور ﷺ کوئی نہیں آپ نے فرمایا میں تو دیکھتا ہوں کہ تم اپنے مال سے زیادہ اپنے وارث کا مال چاہتے ہو اس لئے کہ تمہارا مال تو درحقیقت وہ ہے جو تم راہ اللہ اپنی زندگی میں خرچ کردو اور جو چھوڑ کر جاؤ وہ تمہارا مال نہیں بلکہ تمہارے وارثوں کا مال ہے تو تمہارا راہ اللہ کم خرچ کرنا اور جمع زیادہ کرنا یہ دلیل ہے اس امر کی کہ تم اپنے مال سے اپنے وارثوں کے مال کو زیادہ عزیز رکھتے ہو، پھر فرمایا تم پہلوان کسے جانتے ہو ؟ لوگوں نے کہا حضور ﷺ اسے جسے کوئی گر انہ سکے آپ نے فرمایا نہیں بلکہ حقیقتاً زور دار پہلوان وہ ہے جو غصہ کے وقت اپنے جذبات پر پورا قابو رکھے، پھر فرمایا بےاولاد کسے کہتے ہو ؟ لوگوں نے کہا جس کی اولاد نہ ہو، فرمایا نہیں بلکہ فی الواقع بےاولاد وہ ہے جس کے سامنے اس کی کوئی اولاد مری نہ ہو (مسلم) ایک اور روایت میں یہ بھی ہے کہ آپ نے دریافت فرمایا کہ جانتے ہو مفلس کنگال کون ہے ؟ لوگوں نے کہا جس کے پاس مال نہ ہو آپ نے فرمایا بلکہ وہ جس نے اپنا مال اپنی زندگی میں راہ اللہ نہ دیا ہو (مسند احمد) حضرت حارثہ بن قدامہ سعدی ؓ حاضر خدمت نبوی میں عرض کرتے ہیں کہ حضور ﷺ مجھے کوئی نفع کی بات کہیے جو مختصر ہو تاکہ میں یاد بھی رکھ سکوں آپ نے فرمایا غصہ نہ کر اس نے پھر پوچھا آپ نے پھر یہی جواب دیا کئی کئی مرتبہ یہی کہا (مسند احمد) کسی شخص نے حضور ﷺ سے کہا مجھے کچھ وصیت کیجئے آپ نے فرمایا غصہ نہ کر وہ کہتے ہیں میں نے جو غور کیا تو معلوم ہوا کہ تمام برائیوں کا مرکز غصہ ہی ہے (مسند احمد) ایک روایت میں ہے کہ حضرت ابوذر ؓ غصہ آیا تو آپ بیٹھ گئے اور پھر لیٹ گئے ان سے پوچھا گیا یہ کیا ؟ تو فرمایا میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے آپ فرماتے تھے جسے غصہ آئے وہ کھڑا ہو تو بیٹھ جائے اگر اس سے بھی غصہ نہ جائے تو لیٹ جائے (مسند احمد) مسند احمد کی ایک اور روایت میں ہے کہ عروہ بن محمد کو غصہ چڑھا آپ وضو کرنے بیٹھ گئے اور فرمانے لگے میں نے اپنے استادوں سے یہ حدیث سنی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ غصہ شیطان کی طرف سے ہے اور شیطان آگ سے پیدا ہوا ہے اور آگ بجھانے والی چیز پانی ہے پس تم غصہ کے وقت وضو کرنے بیٹھ جاؤ حضور ﷺ کا یہ ارشاد ہے کہ جو شخص کسی تنگ دست کو مہلت دے یا اپنا قرض اسے معاف کر دے اللہ تعالیٰ اسے جہنم سے آزاد کردیتا ہے لوگو سنو جنت کے اعمال سخت اور مشکل ہیں اور جہنم کے کام آسان اور سہل ہیں نیک بخت وہی ہے جو فتنوں سے بچ جائے کسی گھونٹ کا پینا اللہ کو ایسا پسند نہیں جتنا غصہ کے گھونٹ کا پی جانا ایسے شخص کے دل میں ایمان رچ جاتا ہے (مسند احمد) حضور ﷺ فرماتے ہیں جو شخص اپنا غصہ اتارنے کی طاقت رکھتے ہوئے پھر بھی ضبط کرلے اللہ تعالیٰ اس کا دل امن وامان سے پر کردیتا ہے جو شخص باوجود موجود ہونے کے شہرت کے کپڑے کو تواضع کی وجہ سے چھوڑ دے اسے اللہ تعالیٰ کرامت اور عزت کا حلہ قیامت کے دن پہنائے گا اور جو کسی کا سر چھپائے اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن بادشاہت کا تاج پہنائے گا (ابوداؤد) حضور ﷺ فرماتے ہیں جو شخص باوجود قدرت کے اپنا غصہ ضبط کرلے اسی اللہ تعالیٰ تمام مخلوق کے سامنے بلا کر اختیار دے گا کہ جس حور کو چاہے پسند کرلے (مسند احمد) اس مضمون کی اور بھی حدیثیں ہیں، پس آیت کا مطلب یہ ہوا کہ وہ اپنے غصہ میں آپے سے باہر نہیں ہوتے لوگوں کو ان کی طرف سے برائی نہیں پہنچتی بلکہ اپنے جذبات کو دبائے رکھتے ہیں اور اللہ سے ڈر کر ثواب کی امید پر معاملہ سپر دالہ کرتے ہیں، لوگوں سے درگزر کرتے ہیں ظالموں کے ظلم کا بدلہ ابھی نہیں لیتے اسی کو احسان کہتے ہیں اور ان محسن بندوں سے اللہ محبت رکھتا ہے حدیث میں ہے رسول مقبول ﷺ فرماتے ہیں تین باتوں پر میں قسم کھاتا ہوں ایک تو یہ کہ صدقہ سے مال نہیں گھٹتا دوسرے یہ کہ عفو و درگزر کرنے سے انسان کی عزت بڑھتی ہے تیسرے یہ کہ تواضع فروتنی اور عاجزی کرنے والے کو اللہ تعالیٰ بلند مرتبہ عطا کرتا ہے، مستدرک کی حدیث میں ہے جو شخص یہ چاہے کہ اس کی بنیاد بلند ہو اور اس کے درجے بڑھیں تو اسے ظالموں سے درگزر کرنا چاہئے اور نہ دینے والوں کو دینا چاہئے اور توڑنے والوں سے جوڑنا چاہئے اور حدیث میں ہے قیامت کے دن ایک پکارے گا کہ اے لوگو درگزر کرنے والو اپنے رب کے پاس آؤ اور اپنا اجر لو۔ مسلمانوں کی خطاؤں کے معاف کرنے والے جنتی لوگ ہیں۔ پھر فرمایا یہ لوگ گناہ کے بعد فوراً ذکر اللہ اور استغفار کرتے ہیں۔ مسند احمد میں یہ روایت حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جب کوئی شخص گناہ کرتا ہے پھر اللہ رحمن و رحیم کے سامنے حاضر ہو کر کہتا ہے کہ پروردگار مجھ سے گناہ ہوگیا تو معاف فرما اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میرے بندے سے گو گناہ ہوگیا لیکن اس کا ایمان ہے کہ اس کا رب گناہ پر پکڑ بھی کرتا ہے اور اگر چاہے تو معاف بھی فرما دیتا ہے میں نے اپنے بندے کا گناہ معاف فرمایا، اس سے پھر گناہ ہو تو فرما دیتا ہے میں نے اپنے بندے کا گناہ معاف فرمایا، اس سے پھر گناہ ہوجاتا ہے یہ پھر توبہ کرتا ہے اللہ تعالیٰ پھر بخشتا ہے چوتھی مرتبہ پھر گناہ کر بیٹھتا ہے پھر توبہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ معاف فرما کر کہتا ہے اب میرا بندہ جو چاہے کرے (مسند احمد) یہ حدیث بخاری و مسلم میں بھی ہے، حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں ہم نے ایک مرتبہ جناب رسول اللہ ﷺ سے کہا کہ یہ رسول اللہ ﷺ جب ہم آپ کو دیکھتے ہیں تو ہمارے دلوں میں رقت طاری ہوجاتی ہے اور ہم اللہ والے بن جاتے ہیں لیکن جب آپ کے پاس سے چلے جاتے ہیں تو وہ حالت نہیں رہتی عورتوں بچوں میں پھنس جاتے ہیں گھر بار کے دھندوں میں لگ جاتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا۔ اگر تمہاری حالت یہی ہر وقت رہتی تو پھر فرشتے تم سے مصافحہ کرتے اور تمہاری ملاقات کو تمہارے گھر پر آتے، سنو اگر تم گناہ نہ کرو تو اللہ تمہیں یہاں سے ہٹا دے اور دوسری قوم کو لے آئے جو گناہ کرے پھر بخشش مانگے اور اللہ انہیں بخشے ہم نے کہا حضور ﷺ یہ فرماتے کہ جنت کی بنیادیں کس طرح استوار ہیں آپ نے فرمایا ایک اینٹ سونے کی تو ایک چاندی کی ہے اس کا گارہ مشک خالص ہے اس کے کنکر لؤلؤ اور یاقوت ہیں، اس کی مٹی زعفران ہے، جنتیوں کی نعمتیں کبھی ختم نہ ہوں گی ان کی زندگی ہمیشہ کی ہوگی ان کے کپڑے پرانے نہیں ہونگے جوانی کبھی نہیں ڈھلے گی اور تین اشخاص کی دعا کبھی رد نہیں ہوتی عادل بادشاہ کی دعا افطاری کے وقت روزے دار کی دعا اور مظلوم کی دعا بادلوں سے اٹھائی جاتی ہے اور اس کے لئے آسمانوں کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور جناب باری ارشاد فرماتا ہے مجھے میری عزت کی قسم میں تیری ضرور مدد کروں گا اگرچہ کچھ وقت کے بعد ہو (مسند احمد) امیر المومنین حضرت ابوبکر صدیق ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص کوئی گناہ کرے پھر وضو کر کے دو رکعت نماز ادا کرے اور اپنے گناہ کی معافی چاہے تو اے اللہ عزوجل اس کے گناہ معاف فرما دیتا ہے (مسند احمد) صحیح مسلم میں روایت امیر المومنین حضرت عمر بن خطاب ؓ مروی ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں تم میں سے جو شخص کامل وضو کر کے دعا (اشھدان لا الہ الا اللہ وحدہ لاشریک لہ واشھدان محمد اعبدہ و رسولہ) پڑھے اس کیلئے جنت کے آٹھوں دروازے کھل جاتے ہیں جس سے چاہے اندر چلا جائے، امیر المومنین حضرت عثمان بن عفان ؓ سنت کے مطابق وضو کرتے ہیں پھر فرماتے ہیں میں نے آنحضرت ﷺ سے سنا ہے آپ نے فرمایا جو شخص مجھ جیسا وضو کرے پھر دو رکعت نماز ادا کرے جس میں اپنے دل سے باتیں نہ کرے تو اللہ تعالیٰ اس کے تمام گناہ معاف فرما دیتا ہے (بخاری مسلم) پس یہ حدیث کو حضرت عثمان سے اس سے اگلی روایت حضرت عمر سے اور اس سے اگلی روایت حضرت ابوبکر سے اور اس سے تیسری روایت کو حضرت ابوبکر سے حضرت علی روایت کرتے ہیں تو الحمد اللہ، اللہ تعالیٰ کی وسیع مغفرت اور اس کی بےانتہاء مہربانی کی خبر سید الاولین والاخرین کی زبانی آپ کے چاروں برحق خلفاء کی معرفت ہمیں پہنچی (آؤ اس موقعہ پر ہم گنہگار بھی ہاتھ اٹھائیں اور اپنے مہربان رحیم و کریم اللہ کے سامنے اپنے گناہوں کا اقرار کر کے اس سے معافی طلب کریں اللہ تعالیٰ اے ماں باپ سے زیادہ مہربان اے عفو و درگزر کرنے والے ! اور کسی بھکاری کو اپنے در سے خالی نہ پھیرنے والے ! تو ہم خطاکاروں کی سیاہ کاریوں سے بھی درگزر فرما اور ہمارے کل گناہ معاف فرما دے۔ مترجم) یہی وہ مبارک آیت ہے کہ جب یہ نازل ہوئی تو ابلیس رونے لگا (مسند عبدالرزاق) استغفار اور لا الہ الاللہ مسند ابو یعلیٰ میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں لا الہ الا اللہ کثرت سے پڑھا کرو اور استغفار پر مداومت کرو ابلیس گناہوں سے لوگوں کو ہلاک کرنا چاہتا ہے اور اس کی اپنی ہلاکت لا الہ الا اللہ اور استغفار سے ہے، یہ حدیث دیکھ کر ابلیس نے لوگوں کو خواہش پرستی پر ڈال دیا پس وہ اپنے آپ کو راہ راست پر جانتے ہیں حالانکہ ہلاکت میں ہوتے ہیں لیکن اس حدیث کے دو راوی ضعیف ہیں۔ مسند احمد میں ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں کہ ابلیس نے کہا اے رب مجھے تیری عزت کی قسم میں بنی آدم کو ان کے آخری دم تک بہکاتا رہوں گا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا مجھے میرے جلال اور میری عزت کی قسم جب تک وہ مجھ سے بخشش مانگتے رہیں گے میں بھی انہیں بخشتا رہوں گا مسند بزاز میں ہے کہ ایک شخص نے حضور ﷺ سے کہا مجھ سے گناہ ہوگیا آپ نے فرمایا پھر استغفار کر اس نے کہا مجھ سے اور گناہ ہوا فرمایا استغفار کئے جا، یہاں تک کہ شیطان تھک جائے پھر فرمایا گناہ کو بخشنا اللہ ہی کے اختیار میں ہے مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک قیدی آیا اور کہنے لگا یا اللہ میں تیری طرف توبہ کرتا ہوں محمد ﷺ کی طرف توبہ نہیں کرتا (یعنی اللہ میں تیری ہی بخشش چاہتا ہوں) آپ نے فرمایا اس نے حق حقدار کو پہنچایا۔ اصرار کرنے سے مراد یہ ہے کہ معصیت پر بغیر توبہ کئے اڑ نہیں جاتے اگر کئی مرتبہ گناہ ہوجائے تو کئی مرتبہ استغفار کرتے ہیں، مسند ابو یعلیٰ میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں وہ اصرار کرنے والا اور اڑنے والا نہیں جو استغفار کرتا رہتا ہے اگرچہ (بالفرض) اس سے ایک دن میں ستر مرتبہ بھی گناہ ہوجائے پھر فرمایا کہ وہ جانتے ہوں یعنی اس بات کو کہ اللہ توبہ قبول کرنے والا ہے جیسے اور جگہ ہے آیت (اَلَمْ يَعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ ھُوَ يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهٖ وَيَاْخُذُ الصَّدَقٰتِ وَاَنَّ اللّٰهَ ھُوَ التَّوَّاب الرَّحِيْمُ) 9۔ التوبہ :104) کیا یہ نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے اور جگہ ہے آیت (وَمَنْ يَّعْمَلْ سُوْۗءًا اَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهٗ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللّٰهَ يَجِدِ اللّٰهَ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا) 4۔ النسآء :110) جو شخص کوئی برا کام کرے یا گناہ کر کے اپنی جان پر ظلم کرے پھر اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کرے تو وہ دیکھ لے گا کہ اللہ عزوجل بخشش کرنے والا مہربان ہے۔ مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ نے منبر پر بیان فرمایا لوگو تم اوروں پر رحم کرو اللہ تم پر رحم کرے گا لوگو تم دوسروں کی خطائیں معاف کرو اللہ تعالیٰ تمہارے گناہوں کو بخشے گا باتیں بنانے والوں کی ہلاکت ہے گناہ پر جم جانے والوں کی ہلاکت ہے پھر فرمایا ان کاموں کے بدلے ان کی جزا مغفرت ہے اور طرح طرح کی بہتی نہروں والی جنت ہے جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے، یہ بڑے اچھے اعمال ہیں۔
137
View Single
قَدۡ خَلَتۡ مِن قَبۡلِكُمۡ سُنَنٞ فَسِيرُواْ فِي ٱلۡأَرۡضِ فَٱنظُرُواْ كَيۡفَ كَانَ عَٰقِبَةُ ٱلۡمُكَذِّبِينَ
Some traditions have been tried before you – therefore travel in the land and see what sort of fate befell those who denied.
تم سے پہلے (گذشتہ امتوں کے لئے قانونِ قدرت کے) بہت سے ضابطے گزر چکے ہیں سو تم زمین میں چلا پھرا کرو اور دیکھا کرو کہ جھٹلانے والوں کا کیا انجام ہوا
Tafsir Ibn Kathir
The Wisdom Behind the Losses Muslims Suffered During Uhud
Allah states to His believing servants who suffered losses in the battle of Uhud, including seventy dead,
قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِكُمْ سُنَنٌ
(137... Many similar ways (and mishaps of life) were faced before you), for the previous nations who followed their Prophets before you, they too suffered losses. However, the good end was theirs, and the ultimate defeat was for the disbelievers. This is why Allah said,
فَسِيرُواْ فِى الاٌّرْضِ فَانْظُرُواْ كَيْفَ كَانَ عَـقِبَةُ الْمُكَذِّبِينَ
(so travel through the earth, and see what was the end of those who denied). Allah said next,) (3:137 end...)
هَـذَا بَيَانٌ لِّلنَّاسِ
(138.. This is a plain statement for mankind), meaning, the Qur'an explains the true reality of things and narrates how the previous nations suffered by the hands of their enemies.
وَهُدًى وَمَوْعِظَةٌ
(And a guidance and instruction) for the Qur'an contains the news of the past, and,
هُدًى
(guidance) for your hearts,
وَمَوْعِظَةً لِّلْمُتَّقِينَ
(and instruction for the Muttaqin) to discourage committing the prohibited and forbidden matters. Allah comforts the believers by saying,(3:138 end...)
وَلاَ تَهِنُواْ
(139.. (So do not become weak), because of what you suffered,
وَلاَ تَحْزَنُوا وَأَنتُمُ الاٌّعْلَوْنَ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ
(nor be sad, and you will be triumphant if you are indeed believers), for surely, the ultimate victory and triumph will be yours, O believers.) (3:139 end...)
إِن يَمْسَسْكُمْ قَرْحٌ فَقَدْ مَسَّ الْقَوْمَ قَرْحٌ مِّثْلُهُ
(If a wound has touched you, be sure a similar wound has touched the others) 3:140.
Therefore, the Ayah says, if you suffered injuries and some of you were killed, then your enemies also suffered injuries and fatalities.
وَتِلْكَ الاٌّيَّامُ نُدَاوِلُهَا بَيْنَ النَّاسِ
(And so are the days, that We give to men by turns) , and at times -- out of wisdom -- We allow the enemy to overcome you, although the final good end will be yours.
وَلِيَعْلَمَ اللَّهُ الَّذِينَ ءَامَنُواْ
(and that Allah may know (test) those who believe,) meaning, "So that We find out who would be patient while fighting the enemies," according to Ibn `Abbas.
وَيَتَّخِذَ مِنكُمْ شُهَدَآءَ
(and that He may take martyrs from among you) those who would be killed in Allah's cause and gladly offer their lives seeking His pleasure.
وَاللَّهُ لاَ يُحِبُّ الظَّـلِمِينَوَلِيُمَحِّصَ اللَّهُ الَّذِينَ ءَامَنُواْ
(And Allah likes not the wrongdoers. And that Allah may test those who believe) 3:140,141, by forgiving them their sins if they have any. Otherwise, Allah will raise their grades according to the losses they suffered. Allah's statement,
وَيَمْحَقَ الْكَـفِرِينَ
(and destroy the disbelievers), for it is their conduct that if they gain the upper hand, they transgress and commit aggression. However, this conduct only leads to ultimate destruction, extermination, perishing and dying out...(3:141 end...)
Allah then said,
أَمْ حَسِبْتُمْ أَن تَدْخُلُواْ الْجَنَّةَ وَلَمَّا يَعْلَمِ اللَّهُ الَّذِينَ جَـهَدُواْ مِنكُمْ وَيَعْلَمَ الصَّـبِرِينَ
(142.. Do you think that you will enter Paradise before Allah knows (tests) those of you who will perform Jihad and (also) knows (tests) those who are the patient)
The Ayah asks, do you think that you will enter Paradise without being tested with warfare and hardships Allah said in Surat Al-Baqarah,
أَمْ حَسِبْتُمْ أَن تَدْخُلُواْ الْجَنَّةَ وَلَمَّا يَأْتِكُم مَّثَلُ الَّذِينَ خَلَوْاْ مِن قَبْلِكُم مَّسَّتْهُمُ الْبَأْسَآءُ وَالضَّرَّآءُ وَزُلْزِلُواْ
(Or think you that you will enter Paradise without such (trials) as came to those who passed away before you They were afflicted with severe poverty and ailments and were so shaken. ..) 2:214. Allah said,
الم أَحَسِبَ النَّاسُ أَنْ يُتْرَكُوا أَنْ يَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُونَ
(Alif Lam Mim. Do people think that they will be left alone because they say: "We believe," and will not be tested) 29:1,2, This is why He said here,
أَمْ حَسِبْتُمْ أَن تَدْخُلُواْ الْجَنَّةَ وَلَمَّا يَعْلَمِ اللَّهُ الَّذِينَ جَـهَدُواْ مِنكُمْ وَيَعْلَمَ الصَّـبِرِينَ
(Do you think that you will enter Paradise before Allah knows (tests) those of you who will perform Jihad and (also) knows (tests) those who are the patient) 3:142 meaning, you will not earn Paradise until you are tested and thus Allah knows who among you are the ones who struggle and fight in His cause and are patient in the face of the enemy. Allah said,
وَلَقَدْ كُنتُمْ تَمَنَّوْنَ الْمَوْتَ مِن قَبْلِ أَن تَلْقَوْهُ فَقَدْ رَأَيْتُمُوهُ وَأَنتُمْ تَنظُرُونَ
(143.. You did indeed wish for death (martyrdom) before you met it. Now you have seen it openly with your own eyes)
The Ayah proclaims, O believers! Before today, you wished that you could meet the enemy and were eager to fight them. What you wished has occurred, so fight them and be patient.
In the Two Sahihs it is recorded that the Messenger of Allah ﷺ said,
«لَا تَتَمَنَّوْا لِقَاءَ الْعَدُوِّ، وَسَلُوا اللهَ الْعَافِيَةَ، فَإِذَا لَقِيتُمُوهُمْ فَاصْبِرُوا، وَاعْلَمُوا أَنَّ الْجَنَّـةَ تَحْتَ ظِلَالِ السُّيُوف»
(Do not wish to encounter the enemy, and ask Allah for your well-being. However, if you do encounter them, then observe patience and know that Paradise is under the shade of swords.)
This is why Allah said here,
فَقَدْ رَأَيْتُمُوهُ
(Now you have seen it): death, you saw it when the swords appeared, the blades were sharpened, the spears crisscrossed and men stood in lines for battle. This part of the Ayah contains a figure of speech that mentions imagining what can be felt but not seen.
شہادت اور بشارت چونکہ احد والے دن ستر مسلمان صحابی شہید ہوئے تھے تو اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو ڈھارس دیتا ہے کہ اس سے پہلے بھی دیندار لوگ مال و جان کا نقصان اٹھاتے رہے لیکن بالآخر غلبہ انہی کا ہوا تم اگلے واقعات پر ایک نگاہ ڈال لو تو یہ راز تم پر کھل جائے گا۔ اس قرآن میں لوگوں کیلئے اگلی امتوں کا بیان بھی ہے اور یہ ہدایت و وعظ بھی ہے۔ یعنی تمہارے دلوں کی ہدایت اور تمہیں برائی بھلائی سے آگاہ کرنے والا یہی قرآن ہے، مسلمانوں کو یہ واقعات یاد دلا کر پھر مزید تسلی کے طور پر فرمایا کہ تم اس جنگ کے نتائج دیکھ کر بددل نہ ہوجانا نہ مغموم بن کر بیٹھ رہنا فتح و نصرت غلبہ اور بلند وبالا مقام بالآخر مومنو تمہارے لئے ہی ہے۔ اگر تمہیں زخم لگے ہیں تمہارے آدمی شہید ہوئے تو اس سے پہلے تمہارے دشمن بھی تو قتل ہوچکے ہیں وہ بھی تو زخم خوردہ ہیں یہ تو چڑھتی ڈھلتی چھاؤں ہے ہاں بھلا وہ ہے جو انجام کار غالب رہے اور یہ ہم نے تمہارے لئے لکھ دیا ہے۔ یہ بعض مرتبہ شکست بالخصوص اس جنگ احد کی اس لئے تھی کہ ہم صابروں کا اور غیر صابروں کا امتحان کرلیں اور جو مدت سے شہادت کی آرزو رکھتے تھے انہیں کامیاب بنائیں کہ وہ اپنا جان و مال ہماری راہ میں خرچ کریں، اللہ تعالیٰ ظالموں کو پسند نہیں کرتا۔ یہ جملہ معترضہ بیان کر کے فرمایا یہ اس لئے بھی کہ ایمان والوں کے گناہ اگر ہوں تو دور ہوجائیں اور ان کے درجات بڑھیں اور اس میں کافروں کا مٹانا بھی ہے کیونکہ وہ غالب ہو کر اتر آئیں گے سرکشی اور تکبر میں اور بڑھیں گے اور یہی ان کی ہلاکت اور بربادی کا سبب بنے گا اور پھر مر کھپ جائیں گے ان سختیوں اور زلزلوں اور ان آزمائشوں کے بغیر کوئی جنت میں نہیں جاسکتا جیسے سورة بقرہ میں ہے کہ کیا تم جانتے ہو کہ تم سے پہلے لوگوں کی جیسی آزمائش ہوئی ایسی تمہاری نہ ہو اور تم جنت میں چلے جاؤ یہ نہیں ہوگا اور جگہ ہے آیت (اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ يُّتْرَكُوْٓا اَنْ يَّقُوْلُوْٓا اٰمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُوْنَ) 29۔ العنکبوت :2) کیا لوگوں نے یہ گمان کر رکھا ہے کہ ہم صرف ان کے اس قول پر کہ ہم ایمان لائے انہیں چھوڑ دیں گے اور انکی آزمائش نہ کی جائے گی ؟ یہاں بھی یہی فرمان ہے کہ جب تک صبر کرنے والے معلوم نہ ہوجائیں یعنی دنیا میں ہی ظہور میں نہ آجائیں تب تک جنت نہیں مل سکتی پھر فرمایا کہ تم اس سے پہلے تو ایسے موقعہ کی آرزو میں تھے کہ تم اپنا صبر اپنی بہادری اور مضبوطی اور استقامت اللہ تعالیٰ کو دکھاؤ اللہ کی راہ میں شہادت پاؤ، لو اب ہم نے تمہیں یہ موقعہ دیا تم بھی اپنی ثابت قدمی اور اولوالعزمی دکھاؤ، حدیث شریف میں ہے دشمن کی ملاقات کی آرزو نہ کرو اللہ تعالیٰ سے عافیت طلب کرو اور جب میدان پڑجائے پھر لو ہے کی لاٹ کی طرح جم جاؤ اور صبر کے ساتھ ثابت قدم رہو اور جان لو کہ جنت تلواروں کے سائے تلے ہے پھر فرمایا کہ تم نے اپنی آنکھوں سے اس منظر کو دیکھ لیا کہ نیزے تنے ہوئے ہیں تلواریں کھچ رہی ہیں بھالے اچھل رہے ہیں تیر برس رہے ہیں گھمسان کا رن پڑا ہوا ہے اور ادھر ادھر لاشیں گر رہی ہیں۔
138
View Single
هَٰذَا بَيَانٞ لِّلنَّاسِ وَهُدٗى وَمَوۡعِظَةٞ لِّلۡمُتَّقِينَ
This is an explanation for mankind, a guidance and an advice to the pious.
یہ قرآن لوگوں کے لئے واضح بیان ہے اور ہدایت ہے اور پرہیزگاروں کے لئے نصیحت ہے
Tafsir Ibn Kathir
The Wisdom Behind the Losses Muslims Suffered During Uhud
Allah states to His believing servants who suffered losses in the battle of Uhud, including seventy dead,
قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِكُمْ سُنَنٌ
(137... Many similar ways (and mishaps of life) were faced before you), for the previous nations who followed their Prophets before you, they too suffered losses. However, the good end was theirs, and the ultimate defeat was for the disbelievers. This is why Allah said,
فَسِيرُواْ فِى الاٌّرْضِ فَانْظُرُواْ كَيْفَ كَانَ عَـقِبَةُ الْمُكَذِّبِينَ
(so travel through the earth, and see what was the end of those who denied). Allah said next,) (3:137 end...)
هَـذَا بَيَانٌ لِّلنَّاسِ
(138.. This is a plain statement for mankind), meaning, the Qur'an explains the true reality of things and narrates how the previous nations suffered by the hands of their enemies.
وَهُدًى وَمَوْعِظَةٌ
(And a guidance and instruction) for the Qur'an contains the news of the past, and,
هُدًى
(guidance) for your hearts,
وَمَوْعِظَةً لِّلْمُتَّقِينَ
(and instruction for the Muttaqin) to discourage committing the prohibited and forbidden matters. Allah comforts the believers by saying,(3:138 end...)
وَلاَ تَهِنُواْ
(139.. (So do not become weak), because of what you suffered,
وَلاَ تَحْزَنُوا وَأَنتُمُ الاٌّعْلَوْنَ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ
(nor be sad, and you will be triumphant if you are indeed believers), for surely, the ultimate victory and triumph will be yours, O believers.) (3:139 end...)
إِن يَمْسَسْكُمْ قَرْحٌ فَقَدْ مَسَّ الْقَوْمَ قَرْحٌ مِّثْلُهُ
(If a wound has touched you, be sure a similar wound has touched the others) 3:140.
Therefore, the Ayah says, if you suffered injuries and some of you were killed, then your enemies also suffered injuries and fatalities.
وَتِلْكَ الاٌّيَّامُ نُدَاوِلُهَا بَيْنَ النَّاسِ
(And so are the days, that We give to men by turns) , and at times -- out of wisdom -- We allow the enemy to overcome you, although the final good end will be yours.
وَلِيَعْلَمَ اللَّهُ الَّذِينَ ءَامَنُواْ
(and that Allah may know (test) those who believe,) meaning, "So that We find out who would be patient while fighting the enemies," according to Ibn `Abbas.
وَيَتَّخِذَ مِنكُمْ شُهَدَآءَ
(and that He may take martyrs from among you) those who would be killed in Allah's cause and gladly offer their lives seeking His pleasure.
وَاللَّهُ لاَ يُحِبُّ الظَّـلِمِينَوَلِيُمَحِّصَ اللَّهُ الَّذِينَ ءَامَنُواْ
(And Allah likes not the wrongdoers. And that Allah may test those who believe) 3:140,141, by forgiving them their sins if they have any. Otherwise, Allah will raise their grades according to the losses they suffered. Allah's statement,
وَيَمْحَقَ الْكَـفِرِينَ
(and destroy the disbelievers), for it is their conduct that if they gain the upper hand, they transgress and commit aggression. However, this conduct only leads to ultimate destruction, extermination, perishing and dying out...(3:141 end...)
Allah then said,
أَمْ حَسِبْتُمْ أَن تَدْخُلُواْ الْجَنَّةَ وَلَمَّا يَعْلَمِ اللَّهُ الَّذِينَ جَـهَدُواْ مِنكُمْ وَيَعْلَمَ الصَّـبِرِينَ
(142.. Do you think that you will enter Paradise before Allah knows (tests) those of you who will perform Jihad and (also) knows (tests) those who are the patient)
The Ayah asks, do you think that you will enter Paradise without being tested with warfare and hardships Allah said in Surat Al-Baqarah,
أَمْ حَسِبْتُمْ أَن تَدْخُلُواْ الْجَنَّةَ وَلَمَّا يَأْتِكُم مَّثَلُ الَّذِينَ خَلَوْاْ مِن قَبْلِكُم مَّسَّتْهُمُ الْبَأْسَآءُ وَالضَّرَّآءُ وَزُلْزِلُواْ
(Or think you that you will enter Paradise without such (trials) as came to those who passed away before you They were afflicted with severe poverty and ailments and were so shaken. ..) 2:214. Allah said,
الم أَحَسِبَ النَّاسُ أَنْ يُتْرَكُوا أَنْ يَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُونَ
(Alif Lam Mim. Do people think that they will be left alone because they say: "We believe," and will not be tested) 29:1,2, This is why He said here,
أَمْ حَسِبْتُمْ أَن تَدْخُلُواْ الْجَنَّةَ وَلَمَّا يَعْلَمِ اللَّهُ الَّذِينَ جَـهَدُواْ مِنكُمْ وَيَعْلَمَ الصَّـبِرِينَ
(Do you think that you will enter Paradise before Allah knows (tests) those of you who will perform Jihad and (also) knows (tests) those who are the patient) 3:142 meaning, you will not earn Paradise until you are tested and thus Allah knows who among you are the ones who struggle and fight in His cause and are patient in the face of the enemy. Allah said,
وَلَقَدْ كُنتُمْ تَمَنَّوْنَ الْمَوْتَ مِن قَبْلِ أَن تَلْقَوْهُ فَقَدْ رَأَيْتُمُوهُ وَأَنتُمْ تَنظُرُونَ
(143.. You did indeed wish for death (martyrdom) before you met it. Now you have seen it openly with your own eyes)
The Ayah proclaims, O believers! Before today, you wished that you could meet the enemy and were eager to fight them. What you wished has occurred, so fight them and be patient.
In the Two Sahihs it is recorded that the Messenger of Allah ﷺ said,
«لَا تَتَمَنَّوْا لِقَاءَ الْعَدُوِّ، وَسَلُوا اللهَ الْعَافِيَةَ، فَإِذَا لَقِيتُمُوهُمْ فَاصْبِرُوا، وَاعْلَمُوا أَنَّ الْجَنَّـةَ تَحْتَ ظِلَالِ السُّيُوف»
(Do not wish to encounter the enemy, and ask Allah for your well-being. However, if you do encounter them, then observe patience and know that Paradise is under the shade of swords.)
This is why Allah said here,
فَقَدْ رَأَيْتُمُوهُ
(Now you have seen it): death, you saw it when the swords appeared, the blades were sharpened, the spears crisscrossed and men stood in lines for battle. This part of the Ayah contains a figure of speech that mentions imagining what can be felt but not seen.
شہادت اور بشارت چونکہ احد والے دن ستر مسلمان صحابی شہید ہوئے تھے تو اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو ڈھارس دیتا ہے کہ اس سے پہلے بھی دیندار لوگ مال و جان کا نقصان اٹھاتے رہے لیکن بالآخر غلبہ انہی کا ہوا تم اگلے واقعات پر ایک نگاہ ڈال لو تو یہ راز تم پر کھل جائے گا۔ اس قرآن میں لوگوں کیلئے اگلی امتوں کا بیان بھی ہے اور یہ ہدایت و وعظ بھی ہے۔ یعنی تمہارے دلوں کی ہدایت اور تمہیں برائی بھلائی سے آگاہ کرنے والا یہی قرآن ہے، مسلمانوں کو یہ واقعات یاد دلا کر پھر مزید تسلی کے طور پر فرمایا کہ تم اس جنگ کے نتائج دیکھ کر بددل نہ ہوجانا نہ مغموم بن کر بیٹھ رہنا فتح و نصرت غلبہ اور بلند وبالا مقام بالآخر مومنو تمہارے لئے ہی ہے۔ اگر تمہیں زخم لگے ہیں تمہارے آدمی شہید ہوئے تو اس سے پہلے تمہارے دشمن بھی تو قتل ہوچکے ہیں وہ بھی تو زخم خوردہ ہیں یہ تو چڑھتی ڈھلتی چھاؤں ہے ہاں بھلا وہ ہے جو انجام کار غالب رہے اور یہ ہم نے تمہارے لئے لکھ دیا ہے۔ یہ بعض مرتبہ شکست بالخصوص اس جنگ احد کی اس لئے تھی کہ ہم صابروں کا اور غیر صابروں کا امتحان کرلیں اور جو مدت سے شہادت کی آرزو رکھتے تھے انہیں کامیاب بنائیں کہ وہ اپنا جان و مال ہماری راہ میں خرچ کریں، اللہ تعالیٰ ظالموں کو پسند نہیں کرتا۔ یہ جملہ معترضہ بیان کر کے فرمایا یہ اس لئے بھی کہ ایمان والوں کے گناہ اگر ہوں تو دور ہوجائیں اور ان کے درجات بڑھیں اور اس میں کافروں کا مٹانا بھی ہے کیونکہ وہ غالب ہو کر اتر آئیں گے سرکشی اور تکبر میں اور بڑھیں گے اور یہی ان کی ہلاکت اور بربادی کا سبب بنے گا اور پھر مر کھپ جائیں گے ان سختیوں اور زلزلوں اور ان آزمائشوں کے بغیر کوئی جنت میں نہیں جاسکتا جیسے سورة بقرہ میں ہے کہ کیا تم جانتے ہو کہ تم سے پہلے لوگوں کی جیسی آزمائش ہوئی ایسی تمہاری نہ ہو اور تم جنت میں چلے جاؤ یہ نہیں ہوگا اور جگہ ہے آیت (اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ يُّتْرَكُوْٓا اَنْ يَّقُوْلُوْٓا اٰمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُوْنَ) 29۔ العنکبوت :2) کیا لوگوں نے یہ گمان کر رکھا ہے کہ ہم صرف ان کے اس قول پر کہ ہم ایمان لائے انہیں چھوڑ دیں گے اور انکی آزمائش نہ کی جائے گی ؟ یہاں بھی یہی فرمان ہے کہ جب تک صبر کرنے والے معلوم نہ ہوجائیں یعنی دنیا میں ہی ظہور میں نہ آجائیں تب تک جنت نہیں مل سکتی پھر فرمایا کہ تم اس سے پہلے تو ایسے موقعہ کی آرزو میں تھے کہ تم اپنا صبر اپنی بہادری اور مضبوطی اور استقامت اللہ تعالیٰ کو دکھاؤ اللہ کی راہ میں شہادت پاؤ، لو اب ہم نے تمہیں یہ موقعہ دیا تم بھی اپنی ثابت قدمی اور اولوالعزمی دکھاؤ، حدیث شریف میں ہے دشمن کی ملاقات کی آرزو نہ کرو اللہ تعالیٰ سے عافیت طلب کرو اور جب میدان پڑجائے پھر لو ہے کی لاٹ کی طرح جم جاؤ اور صبر کے ساتھ ثابت قدم رہو اور جان لو کہ جنت تلواروں کے سائے تلے ہے پھر فرمایا کہ تم نے اپنی آنکھوں سے اس منظر کو دیکھ لیا کہ نیزے تنے ہوئے ہیں تلواریں کھچ رہی ہیں بھالے اچھل رہے ہیں تیر برس رہے ہیں گھمسان کا رن پڑا ہوا ہے اور ادھر ادھر لاشیں گر رہی ہیں۔
139
View Single
وَلَا تَهِنُواْ وَلَا تَحۡزَنُواْ وَأَنتُمُ ٱلۡأَعۡلَوۡنَ إِن كُنتُم مُّؤۡمِنِينَ
And do not be negligent nor grieve – it is you who will be victorious if you are believers.
اور تم ہمت نہ ہارو اور نہ غم کرو اور تم ہی غالب آؤ گے اگر تم (کامل) ایمان رکھتے ہو
Tafsir Ibn Kathir
The Wisdom Behind the Losses Muslims Suffered During Uhud
Allah states to His believing servants who suffered losses in the battle of Uhud, including seventy dead,
قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِكُمْ سُنَنٌ
(137... Many similar ways (and mishaps of life) were faced before you), for the previous nations who followed their Prophets before you, they too suffered losses. However, the good end was theirs, and the ultimate defeat was for the disbelievers. This is why Allah said,
فَسِيرُواْ فِى الاٌّرْضِ فَانْظُرُواْ كَيْفَ كَانَ عَـقِبَةُ الْمُكَذِّبِينَ
(so travel through the earth, and see what was the end of those who denied). Allah said next,) (3:137 end...)
هَـذَا بَيَانٌ لِّلنَّاسِ
(138.. This is a plain statement for mankind), meaning, the Qur'an explains the true reality of things and narrates how the previous nations suffered by the hands of their enemies.
وَهُدًى وَمَوْعِظَةٌ
(And a guidance and instruction) for the Qur'an contains the news of the past, and,
هُدًى
(guidance) for your hearts,
وَمَوْعِظَةً لِّلْمُتَّقِينَ
(and instruction for the Muttaqin) to discourage committing the prohibited and forbidden matters. Allah comforts the believers by saying,(3:138 end...)
وَلاَ تَهِنُواْ
(139.. (So do not become weak), because of what you suffered,
وَلاَ تَحْزَنُوا وَأَنتُمُ الاٌّعْلَوْنَ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ
(nor be sad, and you will be triumphant if you are indeed believers), for surely, the ultimate victory and triumph will be yours, O believers.) (3:139 end...)
إِن يَمْسَسْكُمْ قَرْحٌ فَقَدْ مَسَّ الْقَوْمَ قَرْحٌ مِّثْلُهُ
(If a wound has touched you, be sure a similar wound has touched the others) 3:140.
Therefore, the Ayah says, if you suffered injuries and some of you were killed, then your enemies also suffered injuries and fatalities.
وَتِلْكَ الاٌّيَّامُ نُدَاوِلُهَا بَيْنَ النَّاسِ
(And so are the days, that We give to men by turns) , and at times -- out of wisdom -- We allow the enemy to overcome you, although the final good end will be yours.
وَلِيَعْلَمَ اللَّهُ الَّذِينَ ءَامَنُواْ
(and that Allah may know (test) those who believe,) meaning, "So that We find out who would be patient while fighting the enemies," according to Ibn `Abbas.
وَيَتَّخِذَ مِنكُمْ شُهَدَآءَ
(and that He may take martyrs from among you) those who would be killed in Allah's cause and gladly offer their lives seeking His pleasure.
وَاللَّهُ لاَ يُحِبُّ الظَّـلِمِينَوَلِيُمَحِّصَ اللَّهُ الَّذِينَ ءَامَنُواْ
(And Allah likes not the wrongdoers. And that Allah may test those who believe) 3:140,141, by forgiving them their sins if they have any. Otherwise, Allah will raise their grades according to the losses they suffered. Allah's statement,
وَيَمْحَقَ الْكَـفِرِينَ
(and destroy the disbelievers), for it is their conduct that if they gain the upper hand, they transgress and commit aggression. However, this conduct only leads to ultimate destruction, extermination, perishing and dying out...(3:141 end...)
Allah then said,
أَمْ حَسِبْتُمْ أَن تَدْخُلُواْ الْجَنَّةَ وَلَمَّا يَعْلَمِ اللَّهُ الَّذِينَ جَـهَدُواْ مِنكُمْ وَيَعْلَمَ الصَّـبِرِينَ
(142.. Do you think that you will enter Paradise before Allah knows (tests) those of you who will perform Jihad and (also) knows (tests) those who are the patient)
The Ayah asks, do you think that you will enter Paradise without being tested with warfare and hardships Allah said in Surat Al-Baqarah,
أَمْ حَسِبْتُمْ أَن تَدْخُلُواْ الْجَنَّةَ وَلَمَّا يَأْتِكُم مَّثَلُ الَّذِينَ خَلَوْاْ مِن قَبْلِكُم مَّسَّتْهُمُ الْبَأْسَآءُ وَالضَّرَّآءُ وَزُلْزِلُواْ
(Or think you that you will enter Paradise without such (trials) as came to those who passed away before you They were afflicted with severe poverty and ailments and were so shaken. ..) 2:214. Allah said,
الم أَحَسِبَ النَّاسُ أَنْ يُتْرَكُوا أَنْ يَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُونَ
(Alif Lam Mim. Do people think that they will be left alone because they say: "We believe," and will not be tested) 29:1,2, This is why He said here,
أَمْ حَسِبْتُمْ أَن تَدْخُلُواْ الْجَنَّةَ وَلَمَّا يَعْلَمِ اللَّهُ الَّذِينَ جَـهَدُواْ مِنكُمْ وَيَعْلَمَ الصَّـبِرِينَ
(Do you think that you will enter Paradise before Allah knows (tests) those of you who will perform Jihad and (also) knows (tests) those who are the patient) 3:142 meaning, you will not earn Paradise until you are tested and thus Allah knows who among you are the ones who struggle and fight in His cause and are patient in the face of the enemy. Allah said,
وَلَقَدْ كُنتُمْ تَمَنَّوْنَ الْمَوْتَ مِن قَبْلِ أَن تَلْقَوْهُ فَقَدْ رَأَيْتُمُوهُ وَأَنتُمْ تَنظُرُونَ
(143.. You did indeed wish for death (martyrdom) before you met it. Now you have seen it openly with your own eyes)
The Ayah proclaims, O believers! Before today, you wished that you could meet the enemy and were eager to fight them. What you wished has occurred, so fight them and be patient.
In the Two Sahihs it is recorded that the Messenger of Allah ﷺ said,
«لَا تَتَمَنَّوْا لِقَاءَ الْعَدُوِّ، وَسَلُوا اللهَ الْعَافِيَةَ، فَإِذَا لَقِيتُمُوهُمْ فَاصْبِرُوا، وَاعْلَمُوا أَنَّ الْجَنَّـةَ تَحْتَ ظِلَالِ السُّيُوف»
(Do not wish to encounter the enemy, and ask Allah for your well-being. However, if you do encounter them, then observe patience and know that Paradise is under the shade of swords.)
This is why Allah said here,
فَقَدْ رَأَيْتُمُوهُ
(Now you have seen it): death, you saw it when the swords appeared, the blades were sharpened, the spears crisscrossed and men stood in lines for battle. This part of the Ayah contains a figure of speech that mentions imagining what can be felt but not seen.
شہادت اور بشارت چونکہ احد والے دن ستر مسلمان صحابی شہید ہوئے تھے تو اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو ڈھارس دیتا ہے کہ اس سے پہلے بھی دیندار لوگ مال و جان کا نقصان اٹھاتے رہے لیکن بالآخر غلبہ انہی کا ہوا تم اگلے واقعات پر ایک نگاہ ڈال لو تو یہ راز تم پر کھل جائے گا۔ اس قرآن میں لوگوں کیلئے اگلی امتوں کا بیان بھی ہے اور یہ ہدایت و وعظ بھی ہے۔ یعنی تمہارے دلوں کی ہدایت اور تمہیں برائی بھلائی سے آگاہ کرنے والا یہی قرآن ہے، مسلمانوں کو یہ واقعات یاد دلا کر پھر مزید تسلی کے طور پر فرمایا کہ تم اس جنگ کے نتائج دیکھ کر بددل نہ ہوجانا نہ مغموم بن کر بیٹھ رہنا فتح و نصرت غلبہ اور بلند وبالا مقام بالآخر مومنو تمہارے لئے ہی ہے۔ اگر تمہیں زخم لگے ہیں تمہارے آدمی شہید ہوئے تو اس سے پہلے تمہارے دشمن بھی تو قتل ہوچکے ہیں وہ بھی تو زخم خوردہ ہیں یہ تو چڑھتی ڈھلتی چھاؤں ہے ہاں بھلا وہ ہے جو انجام کار غالب رہے اور یہ ہم نے تمہارے لئے لکھ دیا ہے۔ یہ بعض مرتبہ شکست بالخصوص اس جنگ احد کی اس لئے تھی کہ ہم صابروں کا اور غیر صابروں کا امتحان کرلیں اور جو مدت سے شہادت کی آرزو رکھتے تھے انہیں کامیاب بنائیں کہ وہ اپنا جان و مال ہماری راہ میں خرچ کریں، اللہ تعالیٰ ظالموں کو پسند نہیں کرتا۔ یہ جملہ معترضہ بیان کر کے فرمایا یہ اس لئے بھی کہ ایمان والوں کے گناہ اگر ہوں تو دور ہوجائیں اور ان کے درجات بڑھیں اور اس میں کافروں کا مٹانا بھی ہے کیونکہ وہ غالب ہو کر اتر آئیں گے سرکشی اور تکبر میں اور بڑھیں گے اور یہی ان کی ہلاکت اور بربادی کا سبب بنے گا اور پھر مر کھپ جائیں گے ان سختیوں اور زلزلوں اور ان آزمائشوں کے بغیر کوئی جنت میں نہیں جاسکتا جیسے سورة بقرہ میں ہے کہ کیا تم جانتے ہو کہ تم سے پہلے لوگوں کی جیسی آزمائش ہوئی ایسی تمہاری نہ ہو اور تم جنت میں چلے جاؤ یہ نہیں ہوگا اور جگہ ہے آیت (اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ يُّتْرَكُوْٓا اَنْ يَّقُوْلُوْٓا اٰمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُوْنَ) 29۔ العنکبوت :2) کیا لوگوں نے یہ گمان کر رکھا ہے کہ ہم صرف ان کے اس قول پر کہ ہم ایمان لائے انہیں چھوڑ دیں گے اور انکی آزمائش نہ کی جائے گی ؟ یہاں بھی یہی فرمان ہے کہ جب تک صبر کرنے والے معلوم نہ ہوجائیں یعنی دنیا میں ہی ظہور میں نہ آجائیں تب تک جنت نہیں مل سکتی پھر فرمایا کہ تم اس سے پہلے تو ایسے موقعہ کی آرزو میں تھے کہ تم اپنا صبر اپنی بہادری اور مضبوطی اور استقامت اللہ تعالیٰ کو دکھاؤ اللہ کی راہ میں شہادت پاؤ، لو اب ہم نے تمہیں یہ موقعہ دیا تم بھی اپنی ثابت قدمی اور اولوالعزمی دکھاؤ، حدیث شریف میں ہے دشمن کی ملاقات کی آرزو نہ کرو اللہ تعالیٰ سے عافیت طلب کرو اور جب میدان پڑجائے پھر لو ہے کی لاٹ کی طرح جم جاؤ اور صبر کے ساتھ ثابت قدم رہو اور جان لو کہ جنت تلواروں کے سائے تلے ہے پھر فرمایا کہ تم نے اپنی آنکھوں سے اس منظر کو دیکھ لیا کہ نیزے تنے ہوئے ہیں تلواریں کھچ رہی ہیں بھالے اچھل رہے ہیں تیر برس رہے ہیں گھمسان کا رن پڑا ہوا ہے اور ادھر ادھر لاشیں گر رہی ہیں۔
140
View Single
إِن يَمۡسَسۡكُمۡ قَرۡحٞ فَقَدۡ مَسَّ ٱلۡقَوۡمَ قَرۡحٞ مِّثۡلُهُۥۚ وَتِلۡكَ ٱلۡأَيَّامُ نُدَاوِلُهَا بَيۡنَ ٱلنَّاسِ وَلِيَعۡلَمَ ٱللَّهُ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَيَتَّخِذَ مِنكُمۡ شُهَدَآءَۗ وَٱللَّهُ لَا يُحِبُّ ٱلظَّـٰلِمِينَ
If you have been struck by some misfortune, so they (the disbelievers) too have been struck earlier with the same misfortune; these are the days in which We have allotted turns to people; and so that Allah may make known the believers and may bestow martyrdom to some of you; and Allah does not befriend the unjust.
اگر تمہیں (اب) کوئی زخم لگا ہے تو (یاد رکھو کہ) ان لوگوں کو بھی اسی طرح کا زخم لگ چکا ہے، اور یہ دن ہیں جنہیں ہم لوگوں کے درمیان پھیرتے رہتے ہیں، اور یہ (گردشِ ا یّام) اس لئے ہے کہ اللہ اہلِ ایمان کی پہچان کرا دے اور تم میں سے بعض کو شہادت کا رتبہ عطا کرے، اور اللہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا
Tafsir Ibn Kathir
The Wisdom Behind the Losses Muslims Suffered During Uhud
Allah states to His believing servants who suffered losses in the battle of Uhud, including seventy dead,
قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِكُمْ سُنَنٌ
(137... Many similar ways (and mishaps of life) were faced before you), for the previous nations who followed their Prophets before you, they too suffered losses. However, the good end was theirs, and the ultimate defeat was for the disbelievers. This is why Allah said,
فَسِيرُواْ فِى الاٌّرْضِ فَانْظُرُواْ كَيْفَ كَانَ عَـقِبَةُ الْمُكَذِّبِينَ
(so travel through the earth, and see what was the end of those who denied). Allah said next,) (3:137 end...)
هَـذَا بَيَانٌ لِّلنَّاسِ
(138.. This is a plain statement for mankind), meaning, the Qur'an explains the true reality of things and narrates how the previous nations suffered by the hands of their enemies.
وَهُدًى وَمَوْعِظَةٌ
(And a guidance and instruction) for the Qur'an contains the news of the past, and,
هُدًى
(guidance) for your hearts,
وَمَوْعِظَةً لِّلْمُتَّقِينَ
(and instruction for the Muttaqin) to discourage committing the prohibited and forbidden matters. Allah comforts the believers by saying,(3:138 end...)
وَلاَ تَهِنُواْ
(139.. (So do not become weak), because of what you suffered,
وَلاَ تَحْزَنُوا وَأَنتُمُ الاٌّعْلَوْنَ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ
(nor be sad, and you will be triumphant if you are indeed believers), for surely, the ultimate victory and triumph will be yours, O believers.) (3:139 end...)
إِن يَمْسَسْكُمْ قَرْحٌ فَقَدْ مَسَّ الْقَوْمَ قَرْحٌ مِّثْلُهُ
(If a wound has touched you, be sure a similar wound has touched the others) 3:140.
Therefore, the Ayah says, if you suffered injuries and some of you were killed, then your enemies also suffered injuries and fatalities.
وَتِلْكَ الاٌّيَّامُ نُدَاوِلُهَا بَيْنَ النَّاسِ
(And so are the days, that We give to men by turns) , and at times -- out of wisdom -- We allow the enemy to overcome you, although the final good end will be yours.
وَلِيَعْلَمَ اللَّهُ الَّذِينَ ءَامَنُواْ
(and that Allah may know (test) those who believe,) meaning, "So that We find out who would be patient while fighting the enemies," according to Ibn `Abbas.
وَيَتَّخِذَ مِنكُمْ شُهَدَآءَ
(and that He may take martyrs from among you) those who would be killed in Allah's cause and gladly offer their lives seeking His pleasure.
وَاللَّهُ لاَ يُحِبُّ الظَّـلِمِينَوَلِيُمَحِّصَ اللَّهُ الَّذِينَ ءَامَنُواْ
(And Allah likes not the wrongdoers. And that Allah may test those who believe) 3:140,141, by forgiving them their sins if they have any. Otherwise, Allah will raise their grades according to the losses they suffered. Allah's statement,
وَيَمْحَقَ الْكَـفِرِينَ
(and destroy the disbelievers), for it is their conduct that if they gain the upper hand, they transgress and commit aggression. However, this conduct only leads to ultimate destruction, extermination, perishing and dying out...(3:141 end...)
Allah then said,
أَمْ حَسِبْتُمْ أَن تَدْخُلُواْ الْجَنَّةَ وَلَمَّا يَعْلَمِ اللَّهُ الَّذِينَ جَـهَدُواْ مِنكُمْ وَيَعْلَمَ الصَّـبِرِينَ
(142.. Do you think that you will enter Paradise before Allah knows (tests) those of you who will perform Jihad and (also) knows (tests) those who are the patient)
The Ayah asks, do you think that you will enter Paradise without being tested with warfare and hardships Allah said in Surat Al-Baqarah,
أَمْ حَسِبْتُمْ أَن تَدْخُلُواْ الْجَنَّةَ وَلَمَّا يَأْتِكُم مَّثَلُ الَّذِينَ خَلَوْاْ مِن قَبْلِكُم مَّسَّتْهُمُ الْبَأْسَآءُ وَالضَّرَّآءُ وَزُلْزِلُواْ
(Or think you that you will enter Paradise without such (trials) as came to those who passed away before you They were afflicted with severe poverty and ailments and were so shaken. ..) 2:214. Allah said,
الم أَحَسِبَ النَّاسُ أَنْ يُتْرَكُوا أَنْ يَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُونَ
(Alif Lam Mim. Do people think that they will be left alone because they say: "We believe," and will not be tested) 29:1,2, This is why He said here,
أَمْ حَسِبْتُمْ أَن تَدْخُلُواْ الْجَنَّةَ وَلَمَّا يَعْلَمِ اللَّهُ الَّذِينَ جَـهَدُواْ مِنكُمْ وَيَعْلَمَ الصَّـبِرِينَ
(Do you think that you will enter Paradise before Allah knows (tests) those of you who will perform Jihad and (also) knows (tests) those who are the patient) 3:142 meaning, you will not earn Paradise until you are tested and thus Allah knows who among you are the ones who struggle and fight in His cause and are patient in the face of the enemy. Allah said,
وَلَقَدْ كُنتُمْ تَمَنَّوْنَ الْمَوْتَ مِن قَبْلِ أَن تَلْقَوْهُ فَقَدْ رَأَيْتُمُوهُ وَأَنتُمْ تَنظُرُونَ
(143.. You did indeed wish for death (martyrdom) before you met it. Now you have seen it openly with your own eyes)
The Ayah proclaims, O believers! Before today, you wished that you could meet the enemy and were eager to fight them. What you wished has occurred, so fight them and be patient.
In the Two Sahihs it is recorded that the Messenger of Allah ﷺ said,
«لَا تَتَمَنَّوْا لِقَاءَ الْعَدُوِّ، وَسَلُوا اللهَ الْعَافِيَةَ، فَإِذَا لَقِيتُمُوهُمْ فَاصْبِرُوا، وَاعْلَمُوا أَنَّ الْجَنَّـةَ تَحْتَ ظِلَالِ السُّيُوف»
(Do not wish to encounter the enemy, and ask Allah for your well-being. However, if you do encounter them, then observe patience and know that Paradise is under the shade of swords.)
This is why Allah said here,
فَقَدْ رَأَيْتُمُوهُ
(Now you have seen it): death, you saw it when the swords appeared, the blades were sharpened, the spears crisscrossed and men stood in lines for battle. This part of the Ayah contains a figure of speech that mentions imagining what can be felt but not seen.
شہادت اور بشارت چونکہ احد والے دن ستر مسلمان صحابی شہید ہوئے تھے تو اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو ڈھارس دیتا ہے کہ اس سے پہلے بھی دیندار لوگ مال و جان کا نقصان اٹھاتے رہے لیکن بالآخر غلبہ انہی کا ہوا تم اگلے واقعات پر ایک نگاہ ڈال لو تو یہ راز تم پر کھل جائے گا۔ اس قرآن میں لوگوں کیلئے اگلی امتوں کا بیان بھی ہے اور یہ ہدایت و وعظ بھی ہے۔ یعنی تمہارے دلوں کی ہدایت اور تمہیں برائی بھلائی سے آگاہ کرنے والا یہی قرآن ہے، مسلمانوں کو یہ واقعات یاد دلا کر پھر مزید تسلی کے طور پر فرمایا کہ تم اس جنگ کے نتائج دیکھ کر بددل نہ ہوجانا نہ مغموم بن کر بیٹھ رہنا فتح و نصرت غلبہ اور بلند وبالا مقام بالآخر مومنو تمہارے لئے ہی ہے۔ اگر تمہیں زخم لگے ہیں تمہارے آدمی شہید ہوئے تو اس سے پہلے تمہارے دشمن بھی تو قتل ہوچکے ہیں وہ بھی تو زخم خوردہ ہیں یہ تو چڑھتی ڈھلتی چھاؤں ہے ہاں بھلا وہ ہے جو انجام کار غالب رہے اور یہ ہم نے تمہارے لئے لکھ دیا ہے۔ یہ بعض مرتبہ شکست بالخصوص اس جنگ احد کی اس لئے تھی کہ ہم صابروں کا اور غیر صابروں کا امتحان کرلیں اور جو مدت سے شہادت کی آرزو رکھتے تھے انہیں کامیاب بنائیں کہ وہ اپنا جان و مال ہماری راہ میں خرچ کریں، اللہ تعالیٰ ظالموں کو پسند نہیں کرتا۔ یہ جملہ معترضہ بیان کر کے فرمایا یہ اس لئے بھی کہ ایمان والوں کے گناہ اگر ہوں تو دور ہوجائیں اور ان کے درجات بڑھیں اور اس میں کافروں کا مٹانا بھی ہے کیونکہ وہ غالب ہو کر اتر آئیں گے سرکشی اور تکبر میں اور بڑھیں گے اور یہی ان کی ہلاکت اور بربادی کا سبب بنے گا اور پھر مر کھپ جائیں گے ان سختیوں اور زلزلوں اور ان آزمائشوں کے بغیر کوئی جنت میں نہیں جاسکتا جیسے سورة بقرہ میں ہے کہ کیا تم جانتے ہو کہ تم سے پہلے لوگوں کی جیسی آزمائش ہوئی ایسی تمہاری نہ ہو اور تم جنت میں چلے جاؤ یہ نہیں ہوگا اور جگہ ہے آیت (اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ يُّتْرَكُوْٓا اَنْ يَّقُوْلُوْٓا اٰمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُوْنَ) 29۔ العنکبوت :2) کیا لوگوں نے یہ گمان کر رکھا ہے کہ ہم صرف ان کے اس قول پر کہ ہم ایمان لائے انہیں چھوڑ دیں گے اور انکی آزمائش نہ کی جائے گی ؟ یہاں بھی یہی فرمان ہے کہ جب تک صبر کرنے والے معلوم نہ ہوجائیں یعنی دنیا میں ہی ظہور میں نہ آجائیں تب تک جنت نہیں مل سکتی پھر فرمایا کہ تم اس سے پہلے تو ایسے موقعہ کی آرزو میں تھے کہ تم اپنا صبر اپنی بہادری اور مضبوطی اور استقامت اللہ تعالیٰ کو دکھاؤ اللہ کی راہ میں شہادت پاؤ، لو اب ہم نے تمہیں یہ موقعہ دیا تم بھی اپنی ثابت قدمی اور اولوالعزمی دکھاؤ، حدیث شریف میں ہے دشمن کی ملاقات کی آرزو نہ کرو اللہ تعالیٰ سے عافیت طلب کرو اور جب میدان پڑجائے پھر لو ہے کی لاٹ کی طرح جم جاؤ اور صبر کے ساتھ ثابت قدم رہو اور جان لو کہ جنت تلواروں کے سائے تلے ہے پھر فرمایا کہ تم نے اپنی آنکھوں سے اس منظر کو دیکھ لیا کہ نیزے تنے ہوئے ہیں تلواریں کھچ رہی ہیں بھالے اچھل رہے ہیں تیر برس رہے ہیں گھمسان کا رن پڑا ہوا ہے اور ادھر ادھر لاشیں گر رہی ہیں۔
141
View Single
وَلِيُمَحِّصَ ٱللَّهُ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَيَمۡحَقَ ٱلۡكَٰفِرِينَ
And so that Allah may purify* the believers, and destroy the disbelievers. (* Forgive them their sins, if any.)
اور یہ اس لئے (بھی) ہے کہ اللہ ایمان والوں کو (مزید) نکھار دے (یعنی پاک و صاف کر دے) اور کافروں کو مٹا دے
Tafsir Ibn Kathir
The Wisdom Behind the Losses Muslims Suffered During Uhud
Allah states to His believing servants who suffered losses in the battle of Uhud, including seventy dead,
قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِكُمْ سُنَنٌ
(137... Many similar ways (and mishaps of life) were faced before you), for the previous nations who followed their Prophets before you, they too suffered losses. However, the good end was theirs, and the ultimate defeat was for the disbelievers. This is why Allah said,
فَسِيرُواْ فِى الاٌّرْضِ فَانْظُرُواْ كَيْفَ كَانَ عَـقِبَةُ الْمُكَذِّبِينَ
(so travel through the earth, and see what was the end of those who denied). Allah said next,) (3:137 end...)
هَـذَا بَيَانٌ لِّلنَّاسِ
(138.. This is a plain statement for mankind), meaning, the Qur'an explains the true reality of things and narrates how the previous nations suffered by the hands of their enemies.
وَهُدًى وَمَوْعِظَةٌ
(And a guidance and instruction) for the Qur'an contains the news of the past, and,
هُدًى
(guidance) for your hearts,
وَمَوْعِظَةً لِّلْمُتَّقِينَ
(and instruction for the Muttaqin) to discourage committing the prohibited and forbidden matters. Allah comforts the believers by saying,(3:138 end...)
وَلاَ تَهِنُواْ
(139.. (So do not become weak), because of what you suffered,
وَلاَ تَحْزَنُوا وَأَنتُمُ الاٌّعْلَوْنَ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ
(nor be sad, and you will be triumphant if you are indeed believers), for surely, the ultimate victory and triumph will be yours, O believers.) (3:139 end...)
إِن يَمْسَسْكُمْ قَرْحٌ فَقَدْ مَسَّ الْقَوْمَ قَرْحٌ مِّثْلُهُ
(If a wound has touched you, be sure a similar wound has touched the others) 3:140.
Therefore, the Ayah says, if you suffered injuries and some of you were killed, then your enemies also suffered injuries and fatalities.
وَتِلْكَ الاٌّيَّامُ نُدَاوِلُهَا بَيْنَ النَّاسِ
(And so are the days, that We give to men by turns) , and at times -- out of wisdom -- We allow the enemy to overcome you, although the final good end will be yours.
وَلِيَعْلَمَ اللَّهُ الَّذِينَ ءَامَنُواْ
(and that Allah may know (test) those who believe,) meaning, "So that We find out who would be patient while fighting the enemies," according to Ibn `Abbas.
وَيَتَّخِذَ مِنكُمْ شُهَدَآءَ
(and that He may take martyrs from among you) those who would be killed in Allah's cause and gladly offer their lives seeking His pleasure.
وَاللَّهُ لاَ يُحِبُّ الظَّـلِمِينَوَلِيُمَحِّصَ اللَّهُ الَّذِينَ ءَامَنُواْ
(And Allah likes not the wrongdoers. And that Allah may test those who believe) 3:140,141, by forgiving them their sins if they have any. Otherwise, Allah will raise their grades according to the losses they suffered. Allah's statement,
وَيَمْحَقَ الْكَـفِرِينَ
(and destroy the disbelievers), for it is their conduct that if they gain the upper hand, they transgress and commit aggression. However, this conduct only leads to ultimate destruction, extermination, perishing and dying out...(3:141 end...)
Allah then said,
أَمْ حَسِبْتُمْ أَن تَدْخُلُواْ الْجَنَّةَ وَلَمَّا يَعْلَمِ اللَّهُ الَّذِينَ جَـهَدُواْ مِنكُمْ وَيَعْلَمَ الصَّـبِرِينَ
(142.. Do you think that you will enter Paradise before Allah knows (tests) those of you who will perform Jihad and (also) knows (tests) those who are the patient)
The Ayah asks, do you think that you will enter Paradise without being tested with warfare and hardships Allah said in Surat Al-Baqarah,
أَمْ حَسِبْتُمْ أَن تَدْخُلُواْ الْجَنَّةَ وَلَمَّا يَأْتِكُم مَّثَلُ الَّذِينَ خَلَوْاْ مِن قَبْلِكُم مَّسَّتْهُمُ الْبَأْسَآءُ وَالضَّرَّآءُ وَزُلْزِلُواْ
(Or think you that you will enter Paradise without such (trials) as came to those who passed away before you They were afflicted with severe poverty and ailments and were so shaken. ..) 2:214. Allah said,
الم أَحَسِبَ النَّاسُ أَنْ يُتْرَكُوا أَنْ يَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُونَ
(Alif Lam Mim. Do people think that they will be left alone because they say: "We believe," and will not be tested) 29:1,2, This is why He said here,
أَمْ حَسِبْتُمْ أَن تَدْخُلُواْ الْجَنَّةَ وَلَمَّا يَعْلَمِ اللَّهُ الَّذِينَ جَـهَدُواْ مِنكُمْ وَيَعْلَمَ الصَّـبِرِينَ
(Do you think that you will enter Paradise before Allah knows (tests) those of you who will perform Jihad and (also) knows (tests) those who are the patient) 3:142 meaning, you will not earn Paradise until you are tested and thus Allah knows who among you are the ones who struggle and fight in His cause and are patient in the face of the enemy. Allah said,
وَلَقَدْ كُنتُمْ تَمَنَّوْنَ الْمَوْتَ مِن قَبْلِ أَن تَلْقَوْهُ فَقَدْ رَأَيْتُمُوهُ وَأَنتُمْ تَنظُرُونَ
(143.. You did indeed wish for death (martyrdom) before you met it. Now you have seen it openly with your own eyes)
The Ayah proclaims, O believers! Before today, you wished that you could meet the enemy and were eager to fight them. What you wished has occurred, so fight them and be patient.
In the Two Sahihs it is recorded that the Messenger of Allah ﷺ said,
«لَا تَتَمَنَّوْا لِقَاءَ الْعَدُوِّ، وَسَلُوا اللهَ الْعَافِيَةَ، فَإِذَا لَقِيتُمُوهُمْ فَاصْبِرُوا، وَاعْلَمُوا أَنَّ الْجَنَّـةَ تَحْتَ ظِلَالِ السُّيُوف»
(Do not wish to encounter the enemy, and ask Allah for your well-being. However, if you do encounter them, then observe patience and know that Paradise is under the shade of swords.)
This is why Allah said here,
فَقَدْ رَأَيْتُمُوهُ
(Now you have seen it): death, you saw it when the swords appeared, the blades were sharpened, the spears crisscrossed and men stood in lines for battle. This part of the Ayah contains a figure of speech that mentions imagining what can be felt but not seen.
شہادت اور بشارت چونکہ احد والے دن ستر مسلمان صحابی شہید ہوئے تھے تو اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو ڈھارس دیتا ہے کہ اس سے پہلے بھی دیندار لوگ مال و جان کا نقصان اٹھاتے رہے لیکن بالآخر غلبہ انہی کا ہوا تم اگلے واقعات پر ایک نگاہ ڈال لو تو یہ راز تم پر کھل جائے گا۔ اس قرآن میں لوگوں کیلئے اگلی امتوں کا بیان بھی ہے اور یہ ہدایت و وعظ بھی ہے۔ یعنی تمہارے دلوں کی ہدایت اور تمہیں برائی بھلائی سے آگاہ کرنے والا یہی قرآن ہے، مسلمانوں کو یہ واقعات یاد دلا کر پھر مزید تسلی کے طور پر فرمایا کہ تم اس جنگ کے نتائج دیکھ کر بددل نہ ہوجانا نہ مغموم بن کر بیٹھ رہنا فتح و نصرت غلبہ اور بلند وبالا مقام بالآخر مومنو تمہارے لئے ہی ہے۔ اگر تمہیں زخم لگے ہیں تمہارے آدمی شہید ہوئے تو اس سے پہلے تمہارے دشمن بھی تو قتل ہوچکے ہیں وہ بھی تو زخم خوردہ ہیں یہ تو چڑھتی ڈھلتی چھاؤں ہے ہاں بھلا وہ ہے جو انجام کار غالب رہے اور یہ ہم نے تمہارے لئے لکھ دیا ہے۔ یہ بعض مرتبہ شکست بالخصوص اس جنگ احد کی اس لئے تھی کہ ہم صابروں کا اور غیر صابروں کا امتحان کرلیں اور جو مدت سے شہادت کی آرزو رکھتے تھے انہیں کامیاب بنائیں کہ وہ اپنا جان و مال ہماری راہ میں خرچ کریں، اللہ تعالیٰ ظالموں کو پسند نہیں کرتا۔ یہ جملہ معترضہ بیان کر کے فرمایا یہ اس لئے بھی کہ ایمان والوں کے گناہ اگر ہوں تو دور ہوجائیں اور ان کے درجات بڑھیں اور اس میں کافروں کا مٹانا بھی ہے کیونکہ وہ غالب ہو کر اتر آئیں گے سرکشی اور تکبر میں اور بڑھیں گے اور یہی ان کی ہلاکت اور بربادی کا سبب بنے گا اور پھر مر کھپ جائیں گے ان سختیوں اور زلزلوں اور ان آزمائشوں کے بغیر کوئی جنت میں نہیں جاسکتا جیسے سورة بقرہ میں ہے کہ کیا تم جانتے ہو کہ تم سے پہلے لوگوں کی جیسی آزمائش ہوئی ایسی تمہاری نہ ہو اور تم جنت میں چلے جاؤ یہ نہیں ہوگا اور جگہ ہے آیت (اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ يُّتْرَكُوْٓا اَنْ يَّقُوْلُوْٓا اٰمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُوْنَ) 29۔ العنکبوت :2) کیا لوگوں نے یہ گمان کر رکھا ہے کہ ہم صرف ان کے اس قول پر کہ ہم ایمان لائے انہیں چھوڑ دیں گے اور انکی آزمائش نہ کی جائے گی ؟ یہاں بھی یہی فرمان ہے کہ جب تک صبر کرنے والے معلوم نہ ہوجائیں یعنی دنیا میں ہی ظہور میں نہ آجائیں تب تک جنت نہیں مل سکتی پھر فرمایا کہ تم اس سے پہلے تو ایسے موقعہ کی آرزو میں تھے کہ تم اپنا صبر اپنی بہادری اور مضبوطی اور استقامت اللہ تعالیٰ کو دکھاؤ اللہ کی راہ میں شہادت پاؤ، لو اب ہم نے تمہیں یہ موقعہ دیا تم بھی اپنی ثابت قدمی اور اولوالعزمی دکھاؤ، حدیث شریف میں ہے دشمن کی ملاقات کی آرزو نہ کرو اللہ تعالیٰ سے عافیت طلب کرو اور جب میدان پڑجائے پھر لو ہے کی لاٹ کی طرح جم جاؤ اور صبر کے ساتھ ثابت قدم رہو اور جان لو کہ جنت تلواروں کے سائے تلے ہے پھر فرمایا کہ تم نے اپنی آنکھوں سے اس منظر کو دیکھ لیا کہ نیزے تنے ہوئے ہیں تلواریں کھچ رہی ہیں بھالے اچھل رہے ہیں تیر برس رہے ہیں گھمسان کا رن پڑا ہوا ہے اور ادھر ادھر لاشیں گر رہی ہیں۔
142
View Single
أَمۡ حَسِبۡتُمۡ أَن تَدۡخُلُواْ ٱلۡجَنَّةَ وَلَمَّا يَعۡلَمِ ٱللَّهُ ٱلَّذِينَ جَٰهَدُواْ مِنكُمۡ وَيَعۡلَمَ ٱلصَّـٰبِرِينَ
What! You assume that you will enter Paradise while Allah has not yet tested your warriors, nor yet tested the steadfast?
کیا تم یہ گمان کئے ہوئے ہو کہ تم (یونہی) جنت میں چلے جاؤ گے؟ حالانکہ ابھی اللہ نے تم میں سے جہاد کرنے والوں کو پرکھا ہی نہیں ہے اور نہ ہی صبر کرنے والوں کو جانچا ہے
Tafsir Ibn Kathir
The Wisdom Behind the Losses Muslims Suffered During Uhud
Allah states to His believing servants who suffered losses in the battle of Uhud, including seventy dead,
قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِكُمْ سُنَنٌ
(137... Many similar ways (and mishaps of life) were faced before you), for the previous nations who followed their Prophets before you, they too suffered losses. However, the good end was theirs, and the ultimate defeat was for the disbelievers. This is why Allah said,
فَسِيرُواْ فِى الاٌّرْضِ فَانْظُرُواْ كَيْفَ كَانَ عَـقِبَةُ الْمُكَذِّبِينَ
(so travel through the earth, and see what was the end of those who denied). Allah said next,) (3:137 end...)
هَـذَا بَيَانٌ لِّلنَّاسِ
(138.. This is a plain statement for mankind), meaning, the Qur'an explains the true reality of things and narrates how the previous nations suffered by the hands of their enemies.
وَهُدًى وَمَوْعِظَةٌ
(And a guidance and instruction) for the Qur'an contains the news of the past, and,
هُدًى
(guidance) for your hearts,
وَمَوْعِظَةً لِّلْمُتَّقِينَ
(and instruction for the Muttaqin) to discourage committing the prohibited and forbidden matters. Allah comforts the believers by saying,(3:138 end...)
وَلاَ تَهِنُواْ
(139.. (So do not become weak), because of what you suffered,
وَلاَ تَحْزَنُوا وَأَنتُمُ الاٌّعْلَوْنَ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ
(nor be sad, and you will be triumphant if you are indeed believers), for surely, the ultimate victory and triumph will be yours, O believers.) (3:139 end...)
إِن يَمْسَسْكُمْ قَرْحٌ فَقَدْ مَسَّ الْقَوْمَ قَرْحٌ مِّثْلُهُ
(If a wound has touched you, be sure a similar wound has touched the others) 3:140.
Therefore, the Ayah says, if you suffered injuries and some of you were killed, then your enemies also suffered injuries and fatalities.
وَتِلْكَ الاٌّيَّامُ نُدَاوِلُهَا بَيْنَ النَّاسِ
(And so are the days, that We give to men by turns) , and at times -- out of wisdom -- We allow the enemy to overcome you, although the final good end will be yours.
وَلِيَعْلَمَ اللَّهُ الَّذِينَ ءَامَنُواْ
(and that Allah may know (test) those who believe,) meaning, "So that We find out who would be patient while fighting the enemies," according to Ibn `Abbas.
وَيَتَّخِذَ مِنكُمْ شُهَدَآءَ
(and that He may take martyrs from among you) those who would be killed in Allah's cause and gladly offer their lives seeking His pleasure.
وَاللَّهُ لاَ يُحِبُّ الظَّـلِمِينَوَلِيُمَحِّصَ اللَّهُ الَّذِينَ ءَامَنُواْ
(And Allah likes not the wrongdoers. And that Allah may test those who believe) 3:140,141, by forgiving them their sins if they have any. Otherwise, Allah will raise their grades according to the losses they suffered. Allah's statement,
وَيَمْحَقَ الْكَـفِرِينَ
(and destroy the disbelievers), for it is their conduct that if they gain the upper hand, they transgress and commit aggression. However, this conduct only leads to ultimate destruction, extermination, perishing and dying out...(3:141 end...)
Allah then said,
أَمْ حَسِبْتُمْ أَن تَدْخُلُواْ الْجَنَّةَ وَلَمَّا يَعْلَمِ اللَّهُ الَّذِينَ جَـهَدُواْ مِنكُمْ وَيَعْلَمَ الصَّـبِرِينَ
(142.. Do you think that you will enter Paradise before Allah knows (tests) those of you who will perform Jihad and (also) knows (tests) those who are the patient)
The Ayah asks, do you think that you will enter Paradise without being tested with warfare and hardships Allah said in Surat Al-Baqarah,
أَمْ حَسِبْتُمْ أَن تَدْخُلُواْ الْجَنَّةَ وَلَمَّا يَأْتِكُم مَّثَلُ الَّذِينَ خَلَوْاْ مِن قَبْلِكُم مَّسَّتْهُمُ الْبَأْسَآءُ وَالضَّرَّآءُ وَزُلْزِلُواْ
(Or think you that you will enter Paradise without such (trials) as came to those who passed away before you They were afflicted with severe poverty and ailments and were so shaken. ..) 2:214. Allah said,
الم أَحَسِبَ النَّاسُ أَنْ يُتْرَكُوا أَنْ يَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُونَ
(Alif Lam Mim. Do people think that they will be left alone because they say: "We believe," and will not be tested) 29:1,2, This is why He said here,
أَمْ حَسِبْتُمْ أَن تَدْخُلُواْ الْجَنَّةَ وَلَمَّا يَعْلَمِ اللَّهُ الَّذِينَ جَـهَدُواْ مِنكُمْ وَيَعْلَمَ الصَّـبِرِينَ
(Do you think that you will enter Paradise before Allah knows (tests) those of you who will perform Jihad and (also) knows (tests) those who are the patient) 3:142 meaning, you will not earn Paradise until you are tested and thus Allah knows who among you are the ones who struggle and fight in His cause and are patient in the face of the enemy. Allah said,
وَلَقَدْ كُنتُمْ تَمَنَّوْنَ الْمَوْتَ مِن قَبْلِ أَن تَلْقَوْهُ فَقَدْ رَأَيْتُمُوهُ وَأَنتُمْ تَنظُرُونَ
(143.. You did indeed wish for death (martyrdom) before you met it. Now you have seen it openly with your own eyes)
The Ayah proclaims, O believers! Before today, you wished that you could meet the enemy and were eager to fight them. What you wished has occurred, so fight them and be patient.
In the Two Sahihs it is recorded that the Messenger of Allah ﷺ said,
«لَا تَتَمَنَّوْا لِقَاءَ الْعَدُوِّ، وَسَلُوا اللهَ الْعَافِيَةَ، فَإِذَا لَقِيتُمُوهُمْ فَاصْبِرُوا، وَاعْلَمُوا أَنَّ الْجَنَّـةَ تَحْتَ ظِلَالِ السُّيُوف»
(Do not wish to encounter the enemy, and ask Allah for your well-being. However, if you do encounter them, then observe patience and know that Paradise is under the shade of swords.)
This is why Allah said here,
فَقَدْ رَأَيْتُمُوهُ
(Now you have seen it): death, you saw it when the swords appeared, the blades were sharpened, the spears crisscrossed and men stood in lines for battle. This part of the Ayah contains a figure of speech that mentions imagining what can be felt but not seen.
شہادت اور بشارت چونکہ احد والے دن ستر مسلمان صحابی شہید ہوئے تھے تو اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو ڈھارس دیتا ہے کہ اس سے پہلے بھی دیندار لوگ مال و جان کا نقصان اٹھاتے رہے لیکن بالآخر غلبہ انہی کا ہوا تم اگلے واقعات پر ایک نگاہ ڈال لو تو یہ راز تم پر کھل جائے گا۔ اس قرآن میں لوگوں کیلئے اگلی امتوں کا بیان بھی ہے اور یہ ہدایت و وعظ بھی ہے۔ یعنی تمہارے دلوں کی ہدایت اور تمہیں برائی بھلائی سے آگاہ کرنے والا یہی قرآن ہے، مسلمانوں کو یہ واقعات یاد دلا کر پھر مزید تسلی کے طور پر فرمایا کہ تم اس جنگ کے نتائج دیکھ کر بددل نہ ہوجانا نہ مغموم بن کر بیٹھ رہنا فتح و نصرت غلبہ اور بلند وبالا مقام بالآخر مومنو تمہارے لئے ہی ہے۔ اگر تمہیں زخم لگے ہیں تمہارے آدمی شہید ہوئے تو اس سے پہلے تمہارے دشمن بھی تو قتل ہوچکے ہیں وہ بھی تو زخم خوردہ ہیں یہ تو چڑھتی ڈھلتی چھاؤں ہے ہاں بھلا وہ ہے جو انجام کار غالب رہے اور یہ ہم نے تمہارے لئے لکھ دیا ہے۔ یہ بعض مرتبہ شکست بالخصوص اس جنگ احد کی اس لئے تھی کہ ہم صابروں کا اور غیر صابروں کا امتحان کرلیں اور جو مدت سے شہادت کی آرزو رکھتے تھے انہیں کامیاب بنائیں کہ وہ اپنا جان و مال ہماری راہ میں خرچ کریں، اللہ تعالیٰ ظالموں کو پسند نہیں کرتا۔ یہ جملہ معترضہ بیان کر کے فرمایا یہ اس لئے بھی کہ ایمان والوں کے گناہ اگر ہوں تو دور ہوجائیں اور ان کے درجات بڑھیں اور اس میں کافروں کا مٹانا بھی ہے کیونکہ وہ غالب ہو کر اتر آئیں گے سرکشی اور تکبر میں اور بڑھیں گے اور یہی ان کی ہلاکت اور بربادی کا سبب بنے گا اور پھر مر کھپ جائیں گے ان سختیوں اور زلزلوں اور ان آزمائشوں کے بغیر کوئی جنت میں نہیں جاسکتا جیسے سورة بقرہ میں ہے کہ کیا تم جانتے ہو کہ تم سے پہلے لوگوں کی جیسی آزمائش ہوئی ایسی تمہاری نہ ہو اور تم جنت میں چلے جاؤ یہ نہیں ہوگا اور جگہ ہے آیت (اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ يُّتْرَكُوْٓا اَنْ يَّقُوْلُوْٓا اٰمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُوْنَ) 29۔ العنکبوت :2) کیا لوگوں نے یہ گمان کر رکھا ہے کہ ہم صرف ان کے اس قول پر کہ ہم ایمان لائے انہیں چھوڑ دیں گے اور انکی آزمائش نہ کی جائے گی ؟ یہاں بھی یہی فرمان ہے کہ جب تک صبر کرنے والے معلوم نہ ہوجائیں یعنی دنیا میں ہی ظہور میں نہ آجائیں تب تک جنت نہیں مل سکتی پھر فرمایا کہ تم اس سے پہلے تو ایسے موقعہ کی آرزو میں تھے کہ تم اپنا صبر اپنی بہادری اور مضبوطی اور استقامت اللہ تعالیٰ کو دکھاؤ اللہ کی راہ میں شہادت پاؤ، لو اب ہم نے تمہیں یہ موقعہ دیا تم بھی اپنی ثابت قدمی اور اولوالعزمی دکھاؤ، حدیث شریف میں ہے دشمن کی ملاقات کی آرزو نہ کرو اللہ تعالیٰ سے عافیت طلب کرو اور جب میدان پڑجائے پھر لو ہے کی لاٹ کی طرح جم جاؤ اور صبر کے ساتھ ثابت قدم رہو اور جان لو کہ جنت تلواروں کے سائے تلے ہے پھر فرمایا کہ تم نے اپنی آنکھوں سے اس منظر کو دیکھ لیا کہ نیزے تنے ہوئے ہیں تلواریں کھچ رہی ہیں بھالے اچھل رہے ہیں تیر برس رہے ہیں گھمسان کا رن پڑا ہوا ہے اور ادھر ادھر لاشیں گر رہی ہیں۔
143
View Single
وَلَقَدۡ كُنتُمۡ تَمَنَّوۡنَ ٱلۡمَوۡتَ مِن قَبۡلِ أَن تَلۡقَوۡهُ فَقَدۡ رَأَيۡتُمُوهُ وَأَنتُمۡ تَنظُرُونَ
And you used to wish for death before you met it; so now you see it before your eyes.
اور تم تو اس کا سامنا کرنے سے پہلے (شہادت کی) موت کی تمنا کیا کرتے تھے، سو اب تم نے اسے اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ لیا ہے
Tafsir Ibn Kathir
The Wisdom Behind the Losses Muslims Suffered During Uhud
Allah states to His believing servants who suffered losses in the battle of Uhud, including seventy dead,
قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِكُمْ سُنَنٌ
(137... Many similar ways (and mishaps of life) were faced before you), for the previous nations who followed their Prophets before you, they too suffered losses. However, the good end was theirs, and the ultimate defeat was for the disbelievers. This is why Allah said,
فَسِيرُواْ فِى الاٌّرْضِ فَانْظُرُواْ كَيْفَ كَانَ عَـقِبَةُ الْمُكَذِّبِينَ
(so travel through the earth, and see what was the end of those who denied). Allah said next,) (3:137 end...)
هَـذَا بَيَانٌ لِّلنَّاسِ
(138.. This is a plain statement for mankind), meaning, the Qur'an explains the true reality of things and narrates how the previous nations suffered by the hands of their enemies.
وَهُدًى وَمَوْعِظَةٌ
(And a guidance and instruction) for the Qur'an contains the news of the past, and,
هُدًى
(guidance) for your hearts,
وَمَوْعِظَةً لِّلْمُتَّقِينَ
(and instruction for the Muttaqin) to discourage committing the prohibited and forbidden matters. Allah comforts the believers by saying,(3:138 end...)
وَلاَ تَهِنُواْ
(139.. (So do not become weak), because of what you suffered,
وَلاَ تَحْزَنُوا وَأَنتُمُ الاٌّعْلَوْنَ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ
(nor be sad, and you will be triumphant if you are indeed believers), for surely, the ultimate victory and triumph will be yours, O believers.) (3:139 end...)
إِن يَمْسَسْكُمْ قَرْحٌ فَقَدْ مَسَّ الْقَوْمَ قَرْحٌ مِّثْلُهُ
(If a wound has touched you, be sure a similar wound has touched the others) 3:140.
Therefore, the Ayah says, if you suffered injuries and some of you were killed, then your enemies also suffered injuries and fatalities.
وَتِلْكَ الاٌّيَّامُ نُدَاوِلُهَا بَيْنَ النَّاسِ
(And so are the days, that We give to men by turns) , and at times -- out of wisdom -- We allow the enemy to overcome you, although the final good end will be yours.
وَلِيَعْلَمَ اللَّهُ الَّذِينَ ءَامَنُواْ
(and that Allah may know (test) those who believe,) meaning, "So that We find out who would be patient while fighting the enemies," according to Ibn `Abbas.
وَيَتَّخِذَ مِنكُمْ شُهَدَآءَ
(and that He may take martyrs from among you) those who would be killed in Allah's cause and gladly offer their lives seeking His pleasure.
وَاللَّهُ لاَ يُحِبُّ الظَّـلِمِينَوَلِيُمَحِّصَ اللَّهُ الَّذِينَ ءَامَنُواْ
(And Allah likes not the wrongdoers. And that Allah may test those who believe) 3:140,141, by forgiving them their sins if they have any. Otherwise, Allah will raise their grades according to the losses they suffered. Allah's statement,
وَيَمْحَقَ الْكَـفِرِينَ
(and destroy the disbelievers), for it is their conduct that if they gain the upper hand, they transgress and commit aggression. However, this conduct only leads to ultimate destruction, extermination, perishing and dying out...(3:141 end...)
Allah then said,
أَمْ حَسِبْتُمْ أَن تَدْخُلُواْ الْجَنَّةَ وَلَمَّا يَعْلَمِ اللَّهُ الَّذِينَ جَـهَدُواْ مِنكُمْ وَيَعْلَمَ الصَّـبِرِينَ
(142.. Do you think that you will enter Paradise before Allah knows (tests) those of you who will perform Jihad and (also) knows (tests) those who are the patient)
The Ayah asks, do you think that you will enter Paradise without being tested with warfare and hardships Allah said in Surat Al-Baqarah,
أَمْ حَسِبْتُمْ أَن تَدْخُلُواْ الْجَنَّةَ وَلَمَّا يَأْتِكُم مَّثَلُ الَّذِينَ خَلَوْاْ مِن قَبْلِكُم مَّسَّتْهُمُ الْبَأْسَآءُ وَالضَّرَّآءُ وَزُلْزِلُواْ
(Or think you that you will enter Paradise without such (trials) as came to those who passed away before you They were afflicted with severe poverty and ailments and were so shaken. ..) 2:214. Allah said,
الم أَحَسِبَ النَّاسُ أَنْ يُتْرَكُوا أَنْ يَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُونَ
(Alif Lam Mim. Do people think that they will be left alone because they say: "We believe," and will not be tested) 29:1,2, This is why He said here,
أَمْ حَسِبْتُمْ أَن تَدْخُلُواْ الْجَنَّةَ وَلَمَّا يَعْلَمِ اللَّهُ الَّذِينَ جَـهَدُواْ مِنكُمْ وَيَعْلَمَ الصَّـبِرِينَ
(Do you think that you will enter Paradise before Allah knows (tests) those of you who will perform Jihad and (also) knows (tests) those who are the patient) 3:142 meaning, you will not earn Paradise until you are tested and thus Allah knows who among you are the ones who struggle and fight in His cause and are patient in the face of the enemy. Allah said,
وَلَقَدْ كُنتُمْ تَمَنَّوْنَ الْمَوْتَ مِن قَبْلِ أَن تَلْقَوْهُ فَقَدْ رَأَيْتُمُوهُ وَأَنتُمْ تَنظُرُونَ
(143.. You did indeed wish for death (martyrdom) before you met it. Now you have seen it openly with your own eyes)
The Ayah proclaims, O believers! Before today, you wished that you could meet the enemy and were eager to fight them. What you wished has occurred, so fight them and be patient.
In the Two Sahihs it is recorded that the Messenger of Allah ﷺ said,
«لَا تَتَمَنَّوْا لِقَاءَ الْعَدُوِّ، وَسَلُوا اللهَ الْعَافِيَةَ، فَإِذَا لَقِيتُمُوهُمْ فَاصْبِرُوا، وَاعْلَمُوا أَنَّ الْجَنَّـةَ تَحْتَ ظِلَالِ السُّيُوف»
(Do not wish to encounter the enemy, and ask Allah for your well-being. However, if you do encounter them, then observe patience and know that Paradise is under the shade of swords.)
This is why Allah said here,
فَقَدْ رَأَيْتُمُوهُ
(Now you have seen it): death, you saw it when the swords appeared, the blades were sharpened, the spears crisscrossed and men stood in lines for battle. This part of the Ayah contains a figure of speech that mentions imagining what can be felt but not seen.
شہادت اور بشارت چونکہ احد والے دن ستر مسلمان صحابی شہید ہوئے تھے تو اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو ڈھارس دیتا ہے کہ اس سے پہلے بھی دیندار لوگ مال و جان کا نقصان اٹھاتے رہے لیکن بالآخر غلبہ انہی کا ہوا تم اگلے واقعات پر ایک نگاہ ڈال لو تو یہ راز تم پر کھل جائے گا۔ اس قرآن میں لوگوں کیلئے اگلی امتوں کا بیان بھی ہے اور یہ ہدایت و وعظ بھی ہے۔ یعنی تمہارے دلوں کی ہدایت اور تمہیں برائی بھلائی سے آگاہ کرنے والا یہی قرآن ہے، مسلمانوں کو یہ واقعات یاد دلا کر پھر مزید تسلی کے طور پر فرمایا کہ تم اس جنگ کے نتائج دیکھ کر بددل نہ ہوجانا نہ مغموم بن کر بیٹھ رہنا فتح و نصرت غلبہ اور بلند وبالا مقام بالآخر مومنو تمہارے لئے ہی ہے۔ اگر تمہیں زخم لگے ہیں تمہارے آدمی شہید ہوئے تو اس سے پہلے تمہارے دشمن بھی تو قتل ہوچکے ہیں وہ بھی تو زخم خوردہ ہیں یہ تو چڑھتی ڈھلتی چھاؤں ہے ہاں بھلا وہ ہے جو انجام کار غالب رہے اور یہ ہم نے تمہارے لئے لکھ دیا ہے۔ یہ بعض مرتبہ شکست بالخصوص اس جنگ احد کی اس لئے تھی کہ ہم صابروں کا اور غیر صابروں کا امتحان کرلیں اور جو مدت سے شہادت کی آرزو رکھتے تھے انہیں کامیاب بنائیں کہ وہ اپنا جان و مال ہماری راہ میں خرچ کریں، اللہ تعالیٰ ظالموں کو پسند نہیں کرتا۔ یہ جملہ معترضہ بیان کر کے فرمایا یہ اس لئے بھی کہ ایمان والوں کے گناہ اگر ہوں تو دور ہوجائیں اور ان کے درجات بڑھیں اور اس میں کافروں کا مٹانا بھی ہے کیونکہ وہ غالب ہو کر اتر آئیں گے سرکشی اور تکبر میں اور بڑھیں گے اور یہی ان کی ہلاکت اور بربادی کا سبب بنے گا اور پھر مر کھپ جائیں گے ان سختیوں اور زلزلوں اور ان آزمائشوں کے بغیر کوئی جنت میں نہیں جاسکتا جیسے سورة بقرہ میں ہے کہ کیا تم جانتے ہو کہ تم سے پہلے لوگوں کی جیسی آزمائش ہوئی ایسی تمہاری نہ ہو اور تم جنت میں چلے جاؤ یہ نہیں ہوگا اور جگہ ہے آیت (اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ يُّتْرَكُوْٓا اَنْ يَّقُوْلُوْٓا اٰمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُوْنَ) 29۔ العنکبوت :2) کیا لوگوں نے یہ گمان کر رکھا ہے کہ ہم صرف ان کے اس قول پر کہ ہم ایمان لائے انہیں چھوڑ دیں گے اور انکی آزمائش نہ کی جائے گی ؟ یہاں بھی یہی فرمان ہے کہ جب تک صبر کرنے والے معلوم نہ ہوجائیں یعنی دنیا میں ہی ظہور میں نہ آجائیں تب تک جنت نہیں مل سکتی پھر فرمایا کہ تم اس سے پہلے تو ایسے موقعہ کی آرزو میں تھے کہ تم اپنا صبر اپنی بہادری اور مضبوطی اور استقامت اللہ تعالیٰ کو دکھاؤ اللہ کی راہ میں شہادت پاؤ، لو اب ہم نے تمہیں یہ موقعہ دیا تم بھی اپنی ثابت قدمی اور اولوالعزمی دکھاؤ، حدیث شریف میں ہے دشمن کی ملاقات کی آرزو نہ کرو اللہ تعالیٰ سے عافیت طلب کرو اور جب میدان پڑجائے پھر لو ہے کی لاٹ کی طرح جم جاؤ اور صبر کے ساتھ ثابت قدم رہو اور جان لو کہ جنت تلواروں کے سائے تلے ہے پھر فرمایا کہ تم نے اپنی آنکھوں سے اس منظر کو دیکھ لیا کہ نیزے تنے ہوئے ہیں تلواریں کھچ رہی ہیں بھالے اچھل رہے ہیں تیر برس رہے ہیں گھمسان کا رن پڑا ہوا ہے اور ادھر ادھر لاشیں گر رہی ہیں۔
144
View Single
وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٞ قَدۡ خَلَتۡ مِن قَبۡلِهِ ٱلرُّسُلُۚ أَفَإِيْن مَّاتَ أَوۡ قُتِلَ ٱنقَلَبۡتُمۡ عَلَىٰٓ أَعۡقَٰبِكُمۡۚ وَمَن يَنقَلِبۡ عَلَىٰ عَقِبَيۡهِ فَلَن يَضُرَّ ٱللَّهَ شَيۡـٔٗاۚ وَسَيَجۡزِي ٱللَّهُ ٱلشَّـٰكِرِينَ
And Mohammed (peace and blessings be upon him) is purely* a Noble Messenger; there have been Noble Messengers before him; so if he departs or is martyred, will you turn back on your heels? So whoever turns back on his heels does not cause any harm to Allah; and Allah will soon reward the thankful. (* Neither God nor an angel, but a human being with the highest spiritual status.)
اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی تو) رسول ہی ہیں (نہ کہ خدا)، آپ سے پہلے بھی کئی پیغمبر (مصائب اور تکلیفیں جھیلتے ہوئے اس دنیا سے) گزر چکے ہیں، پھر اگر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وفات فرما جائیں یا شہید کر دیئے جائیں تو کیا تم اپنے (پچھلے مذہب کی طرف) الٹے پاؤں پھر جاؤ گے (یعنی کیا ان کی وفات یا شہادت کو معاذ اللہ دینِ اسلام کے حق نہ ہونے پر یا ان کے سچے رسول نہ ہونے پر محمول کرو گے)، اور جو کوئی اپنے الٹے پاؤں پھرے گا تو وہ اللہ کا ہرگز کچھ نہیں بگاڑے گا، اور اللہ عنقریب (مصائب پر ثابت قدم رہ کر) شکر کرنے والوں کو جزا عطا فرمائے گا
Tafsir Ibn Kathir
The Rumor that the Prophet was Killed at Uhud
When Muslims suffered defeat in battle at Uhud and some of them were killed, Shaytan shouted, "Muhammad ﷺ has been killed." Ibn Qami'ah went back to the idolators and claimed, "I have killed Muhammad." Some Muslims believed this rumor and thought that the Messenger of Allah ﷺ had been killed, claiming that this could happen, for Allah narrated that this occurred to many Prophets before. Therefore, the Muslims' resolve was weakened and they did not actively participate in battle. This is why Allah sent down to His Messenger His statement,
وَمَا مُحَمَّدٌ إِلاَّ رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِ الرُّسُلُ
(Muhammad is no more than a Messenger, and indeed Messengers have passed away before him.) he is to deliver Allah's Message and may be killed in the process, just as what happened to many Prophets before. Ibn Abi Najih said that his father said that a man from the Muhajirin passed by an Ansari man who was bleeding (during Uhud) and said to him, "O fellow! Did you know that Muhammad ﷺ was killed" The Ansari man said, "Even if Muhammad ﷺ was killed, he has indeed conveyed the Message. Therefore, defend your religion." The Ayah,
وَمَا مُحَمَّدٌ إِلاَّ رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِ الرُّسُلُ
(Muhammad is no more than a Messenger, and indeed (many) Messengers have passed away before him), was revealed. This story was collected by Al-Hafiz Abu Bakr Al-Bayhaqi in Dala'il An-Nubuwwah.
Allah said next, while chastising those who became weak,
أَفإِيْن مَّاتَ أَوْ قُتِلَ انقَلَبْتُمْ عَلَى أَعْقَـبِكُمْ
(If he dies or is killed, will you then turn back on your heels), become disbelievers,
وَمَن يَنقَلِبْ عَلَى عَقِبَيْهِ فَلَن يَضُرَّ اللَّهَ شَيْئاً وَسَيَجْزِى اللَّهُ الشَّـكِرِينَ
(And he who turns back on his heels, not the least harm will he do to Allah; and Allah will give reward to those who are grateful), those who obeyed Allah, defended His religion and followed His Messenger whether he was alive or dead. The Sahih, Musnad and Sunan collections gathered various chains of narration stating that Abu Bakr recited this Ayah when the Messenger of Allah ﷺ died. Al-Bukhari recorded that `A'ishah said that Abu Bakr came riding his horse from his dwelling in As-Sunh. He dismounted, entered the Masjid and did not speak to anyone until he came to her in her room and went directly to the Prophet, who was covered with a marked blanket. Abu Bakr uncovered his face, knelt down and kissed him, then started weeping and proclaimed, "My father and my mother be sacrificed for you! Allah will not combine two deaths on you. You have died the death, which was written for you."
Ibn `Abbas narrated that Abu Bakr then came out, while `Umar was addressing the people, and Abu Bakr told him to sit down but `Umar refused, and the people attended to Abu Bakr and left `Umar. Abu Bakr said, "To proceed; whoever among you worshipped Muhammad ﷺ, then Muhammad ﷺ is dead, but whoever worshipped Allah, Allah is alive and will never die. Allah said,
وَمَا مُحَمَّدٌ إِلاَّ رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِ الرُّسُلُ أَفإِيْن مَّاتَ أَوْ قُتِلَ انقَلَبْتُمْ عَلَى أَعْقَـبِكُمْ وَمَن يَنقَلِبْ عَلَى عَقِبَيْهِ فَلَن يَضُرَّ اللَّهَ شَيْئاً وَسَيَجْزِى اللَّهُ الشَّـكِرِينَ
(Muhammad is no more than a Messenger and indeed (many) Messengers have passed away before him. If he dies or is killed, will you then turn back on your heels And he who turns back on his heels, not the least harm will he do to Allah; and Allah will reward the grateful.)"
The narrator added, "By Allah, it was as if the people never knew that Allah had revealed this verse before until Abu Bakr recited it, and then whoever heard it, started reciting it." Sa`id bin Al-Musayyib said that `Umar said, "By Allah! When I heard Abu Bakr recite this Ayah, my feet could not hold me, and I fell to the ground."
Allah said,
وَمَا كَانَ لِنَفْسٍ أَنْ تَمُوتَ إِلاَّ بِإِذْنِ الله كِتَـباً مُّؤَجَّلاً
(And no person can ever die except by Allah's leave and at an appointed term.) 3:145 meaning, no one dies except by Allah's decision, after he has finished the term that Allah has destined for him. This is why Allah said,
كِتَـباً مُّؤَجَّلاً
(at an appointed term) which is similar to His statements,
وَمَا يُعَمَّرُ مِن مُّعَمَّرٍ وَلاَ يُنقَصُ مِنْ عُمُرِهِ إِلاَّ فِى كِتَـبٍ
(And no aged man is granted a length of life nor is a part cut off from his life, but it is in a Book) 35:11, and,
هُوَ الَّذِى خَلَقَكُمْ مِّن طِينٍ ثُمَّ قَضَى أَجَلاً وَأَجَلٌ مُّسمًّى عِندَهُ
(He it is Who has created you from clay, and then has decreed a (stated) term (for you to die). And there is with Him another determined term (for you to be resurrected)) 6:2.
This Ayah 3:145 encourages cowards to participate in battle; for doing so, or avoiding battle neither decreases, nor increases the life term. Ibn Abi Hatim narrated that, Habib bin Suhban said that a Muslim man, Hujr bin `Adi, said in a battle, "What prevents you from crossing this river (the Euphrates) to the enemy
وَمَا كَانَ لِنَفْسٍ أَنْ تَمُوتَ إِلاَّ بِإِذْنِ الله كِتَـباً مُّؤَجَّلاً
(And no person can ever die except by Allah's leave and at an appointed term)" He then crossed the river riding his horse, and when he did, the Muslims followed him. When the enemy saw them, they started shouting, "Diwan (Persian; crazy)," and they ran away.
Allah said next,
وَمَن يُرِدْ ثَوَابَ الدُّنْيَا نُؤْتِهِ مِنْهَا وَمَن يُرِدْ ثَوَابَ الاٌّخِرَةِ نُؤْتِهِ مِنْهَا
(And whoever desires a reward in the world, We shall give him of it; and whoever desires a reward in the Hereafter, We shall give him thereof).
Therefore, the Ayah proclaims, whoever works for the sake of this life, will only earn what Allah decides he will earn. However, he will not have a share in the Hereafter. Whoever works for the sake of the Hereafter, Allah will give him a share in the Hereafter, along with what He decides for him in this life. In similar statements, Allah said,
مَن كَانَ يُرِيدُ حَرْثَ الاٌّخِرَةِ نَزِدْ لَهُ فِى حَرْثِهِ وَمَن كَانَ يُرِيدُ حَرْثَ الدُّنْيَا نُؤْتِهِ مِنْهَا وَمَا لَهُ فِى الاٌّخِرَةِ مِن نَّصِيبٍ
(Whosoever desires (by his deeds) the reward of the Hereafter, We give him increase in his reward, and whosoever desires the reward of this world (by his deeds), We give him thereof (what is decreed for him), and he has no portion in the Hereafter.) 42:20, and,
مَّن كَانَ يُرِيدُ الْعَـجِلَةَ عَجَّلْنَا لَهُ فِيهَا مَا نَشَآءُ لِمَن نُّرِيدُ ثُمَّ جَعَلْنَا لَهُ جَهَنَّمَ يَصْلَـهَا مَذْمُومًا مَّدْحُورًا - وَمَنْ أَرَادَ الاٌّخِرَةَ وَسَعَى لَهَا سَعْيَهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَأُولَـئِكَ كَانَ سَعْيُهُم مَّشْكُورًا
(Whoever desires the quick-passing (transitory enjoyment of this world), We readily grant him what We will for whom We like. Then, afterwards, We have appointed for him Hell; he will burn therein disgraced and despised. And whoever desires the Hereafter and strives for it, with the necessary effort due for it while he is a believer, then such are the ones whose striving shall be appreciated) 17:18-19.
In this Ayah 3:145, Allah said,
وَسَنَجْزِى الشَّـكِرِينَ
(And We shall reward the grateful. ) meaning, We shall award them with Our favor and mercy in this life and the Hereafter, according to the degree of their appreciation of Allah and their good deeds.
Allah then comforts the believers because of what they suffered in Uhud,
وَكَأَيِّن مِّن نَّبِىٍّ قَاتَلَ مَعَهُ رِبِّيُّونَ كَثِيرٌ
(And many a Prophet fought and along with him many Ribbiyyun.)
It was said that this Ayah means that many Prophets and their companions were killed in earlier times, as is the view chosen by Ibn Jarir. It was also said that the Ayah means that many Prophets witnessed their companions' death before their eyes. However, Ibn Ishaq mentioned another explanation in his Sirah, saying that this Ayah means, "Many a Prophet was killed, and he had many companions whose resolve did not weaken after their Prophet died, and they did not become feeble in the face of the enemy. What they suffered in Jihad in Allah's cause and for the sake of their religion did not make them lose heart. This is patience,
وَاللَّهُ يُحِبُّ الصَّـبِرِينَ
(and Allah loves the patient.)" As-Suhayli agreed with this explanation and defended it vigorously. This view is supported by Allah saying;
مَعَهُ رِبِّيُّونَ كَثِيرٌ
(And along with him many Ribbiyyun).
In his book about the battles, Al-Amawi mentioned only this explanation for the Ayah. Sufyan Ath-Thawri reported that, Ibn Mas`ud said that,
رِبِّيُّونَ كَثِيرٌ
(many Ribbiyyun) means, thousands. Ibn `Abbas, Mujahid, Sa`id bin Jubayr, `Ikrimah, Al-Hasan, Qatadah, As-Suddi, Ar-Rabi` and `Ata' Al-Khurasani said that the word Ribbiyyun means, `large bands'. `Abdur-Razzaq narrated that Ma`mmar said that Al-Hasan said that,
رِبِّيُّونَ كَثِيرٌ
(many Ribbiyyun) means, many scholars. He also said that it means patient and pious scholars.
فَمَا وَهَنُواْ لِمَآ أَصَابَهُمْ فِى سَبِيلِ اللَّهِ وَمَا ضَعُفُواْ وَمَا اسْتَكَانُواْ
(But they never lost heart for that which befell them in Allah's way, nor did they weaken nor degrade themselves.)
Qatadah and Ar-Rabi` bin Anas said that,
وَمَا ضَعُفُواْ
(nor did they weaken), means, after their Prophet was killed.
وَمَا اسْتَكَانُواْ
(nor degrade themselves), by reverting from the true guidance and religion. Rather, they fought on the path that Allah's Prophet fought on until they met Allah. Ibn `Abbas said that,
وَمَا اسْتَكَانُواْ
(nor degrade themselves) means, nor became humiliated, while As-Suddi and Ibn Zayd said that it means, they did not give in to the enemy.
وَكَأَيِّن مِّن نَّبِىٍّ قَاتَلَ مَعَهُ رِبِّيُّونَ كَثِيرٌ فَمَا وَهَنُواْ لِمَآ أَصَابَهُمْ فِى سَبِيلِ اللَّهِ وَمَا ضَعُفُواْ وَمَا اسْتَكَانُواْ وَاللَّهُ يُحِبُّ الصَّـبِرِينَ - وَمَا كَانَ قَوْلَهُمْ إِلاَّ أَن قَالُواْ ربَّنَا اغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَإِسْرَافَنَا فِى أَمْرِنَا وَثَبِّتْ أَقْدَامَنَا وانصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَـفِرِينَ
(And Allah loves the patient. And they said nothing but: "Our Lord! Forgive us our sins and our transgressions, establish our feet firmly, and give us victory over the disbelieving folk.") 3:146-147, and this was the statement that they kept repeating. Therefore,
فَـْاتَـهُمُ اللَّهُ ثَوَابَ الدُّنْيَا
(So Allah gave them the reward of this world) victory, triumph and the good end,
وَحُسْنَ ثَوَابِ الاٌّخِرَةِ
(and the excellent reward of the Hereafter) added to the gains in this life,
وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ
(And Allah loves the good-doers).
رسول اللہ ﷺ کی وفات کا مغالطہٰ اور غزوہ احد میدان احد میں مسلمانوں کو شکست بھی ہوئی اور ان کے بعض قتل بھی کئے گئے۔ اس دن شیطان نے یہ بھی مشہور کردیا کہ محمد ﷺ بھی شہید ہوگئے اور ابن قمیہ کافر نے مشرکوں میں جا کر یہ خبر اڑا دی کہ میں حضور ﷺ کو قتل کر کے آیا ہوں اور دراصل وہ افواہ بےاصل تھی اور اس شخص کا یہ قول بھی غلط تھا۔ اس نے حضور ﷺ پر حملہ تو کیا تھا لیکن اس سے صرف آپ ﷺ کا چہرہ قدرے زخمی ہوگیا تھا اور کوئی بات نہ تھی اس غلط بات کی شہرت نے مسلمانوں کے دل چھوٹے کردیئے ان کے قدم اکھڑ گئے اور لڑائی سے بددل ہو کر بھاگ کھڑے ہوئے اسی بارے میں یہ آیت نازل ہوئی کہ اگلے انبیاء کی طرح یہ بھی ایک نبی ہیں ہوسکتا ہے کہ میدان میں قتل کردیئے جائیں لیکن کچھ اللہ کا دین نہیں جاتا رہے گا ایک روایت میں ہے کہ ایک مہاجر نے دیکھا کہ ایک انصاری جنگ احد میں زخموں سے چور زمین پر گرا پڑا ہے اور خاک و خون میں لوٹ رہا ہے اس سے کہا کہ آپ کو بھی معلوم ہے کہ حضور ﷺ قتل کردیئے گئے اس نے کہا اگر یہ صحیح ہے تو آپ ﷺ تو اپنا کام کر گئے، اب آپ ﷺ کے دین پر سے تم سب بھی قربان ہوجاؤ، اسی کے بارے میں یہ آیت اتری پھر فرمایا کہ حضور ﷺ کا قتل یا انتقال ایسی چیز نہیں کہ تم اللہ تعالیٰ کے دین سے پچھلے پاؤں پلٹ جاؤ اور ایسا کرنے والے اللہ کا کچھ نہ بگاڑیں گے، اللہ تعالیٰ انہی لوگوں کو جزائے خیر دے گا جو اس کی اطاعت پر جم جائیں اور اس کے دین کی مدد میں لگ جائیں اور اس کے رسول ﷺ کی تابعداری میں مضبوط ہوجائیں خواہ رسول ﷺ زندہ ہوں یا نہ ہوں، صحیح بخاری شریف میں ہے کہ حضور ﷺ کے انتقال کی خبر سن کر حضرت ابوبکر صدیق جلدی سے گھوڑے پر سوار ہو کر آئے مسجد میں تشریف لے گئے لوگوں کی حالت دیکھی بھالی اور بغیر کچھ کہے سنے حضرت عائشہ کے گھر پر آئے یہاںحضور ﷺ پر حبرہ کی چادر اوڑھا دی گئی تھی آپ نے چادر کا کونا چہرہ مبارک پر سے ہٹا کر بےساختہ بوسہ لے لیا اور روتے ہوئے فرمانے لگے میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، اللہ کی قسم اللہ تعالیٰ آپ ﷺ پر دو مرتبہ موت نہ لائے گا جو موت آپ پر لکھ دی گئی تھی وہ آپ کو آچکی۔ اس کے بعد آپ پھر مسجد میں آئے اور دیکھا کہ حضرت عمر خطبہ سنا رہے ہیں ان سے فرمایا کہ خاموش ہوجاؤ انہیں چپ کرا کر آپ نے لوگوں سے فرمایا کہ جو شخص محمد ﷺ کی عبادت کرتا تھا وہ جان لے کہ محمد ﷺ مرگئے اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا تھا وہ خوش رہے کہ اللہ تعالیٰ زندہ ہے اس پر موت نہیں آتی۔ پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی لوگوں کو ایسا معلوم ہونے لگا گویا یہ آیت اب اتری ہے پھر تو ہر شخص کی زبان پر یہ آیت چڑھ گئی اور لوگوں نے یقین کرلیا کہ آپ ﷺ فوت ہوگئے حضرت صدیق اکبر کی زبانی اس آیت کی تلاوت سن کر حضرت عمر کے تو گویا قدموں تلے سے زمین نکل گئی، انہیں بھی یقین ہوگیا کہ حضور ﷺ اس جہان فانی کو چھوڑ کر چل بسے، حضرت علی رسول اللہ ﷺ کی زندگی ہی میں فرماتے تھے کہ نہ ہم حضور ﷺ کی موت پر مرتد ہوں نہ آپ کی شہادت پر اللہ کی قسم اگر حضور ﷺ قتل کئے جائیں تو ہم بھی اس دین پر مرمٹیں جس پر پر شہید ہوئے اللہ کی قسم میں آپ کا بھائی ہوں آپ کا ولی ہوں آپ کا چچا زاد بھائی ہوں اور آپ کا وارث ہوں مجھ سے زیادہ حقدار آپ کا اور کون ہوگا۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ہر شخص اللہ تعالیٰ کے حکم سے اور اپنی مدت پوری کرکے ہی مرتا ہے جیسے اور جگہ ہے وما یعمر من معمر ولا ینقص من عمرہ الی فی کتاب نہ کوئی عمر دیا جاتا ہے نہ عمر گھٹائی جاتی ہے مگر سب کتاب اللہ میں موجود ہے اور جگہ ہے (هُوَ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ مِّنْ طِيْنٍ ثُمَّ قَضٰٓى اَجَلًا) 6۔ الانعام :2) " جس اللہ نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا قھر وقت پورا کیا اور اجل مقرر کی " اس آیت میں بزدل لوگوں کو شجاعت کی رغبت دلائی گئی ہے اور اللہ کی راہ کے جہاد کا شوق دلایا جارہا ہے اور بتایا جارہا ہے کہ جو انمردی کی وجہ سے کچھ عمر گھٹ نہیں جاتی اور پیچھے ہٹنے کی وجہ سے عمر بڑھ نہیں جاتی۔ موت تو اپنے وقت پر آکر ہی رہے گی خواہ شجاعت اور بہادری برتو خواہ نامردی اور بزدلی دکھاؤ۔ حجر بن عدی جب دشمنان دین کے مقابلے میں جاتے ہیں اور دریائے دجلہ بیچ میں آجاتا ہے اور لشکر اسلام ٹھٹھک کر کھڑا ہوجاتا ہے تو آپ اس آیت کی تلاوت کرکے فرماتے ہیں کہ کوئی بھی بےاجل نہیں مرتا آؤ اسی دجلہ میں گھوڑے ڈال دو ، یہ فرما کر آپ اپنا گھوڑا دریا میں ڈال دیتے ہیں آپ کی دیکھا دیکھی اور لوگ بھی اپنے گھوڑوں کو پانی میں ڈال دیتے ہیں۔ دشمن کا خون خشک ہوجاتا ہے اور اس پر ہیبت طاری ہوجاتی ہے۔ وہ کہنے لگتے ہیں کہ یہ تو دیوانے آدمی ہیں یہ تو پانی کی موجوں سے بھی نہیں ڈرتے بھاگو بھاگو چناچہ سب کے سب بھاگ کھڑے ہوئے۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ جس کا عمل صرف دنیا کیلئے ہو تو اس میں سے جتنا اس کے مقدر میں ہوتا ہے مل جاتا ہے لیکن آخرت میں وہ خالی ہاتھ رہ جاتا ہے اور جس کا مقصد آخرت طلبی ہو اسے آخرت تو ملتی ہی ہے لیکن دنیا میں بھی اپنے مقدر کا پالیتا ہے جیسے اور جگہ فرمایا من کان یرید حرث الاخرۃ الخ، آخرت کی کھیتی کے چاہنے والے کو ہم زیادتی کے ساتھ دیتے ہیں اور دنیا کی کھیتی کے چاہنے والے کو ہم گو دنیا دے دیں لیکن آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہیں اور جگہ ہے من کان یرید العاجلتہ جو شخص صرف دنیا طلب ہی ہو ہم ان میں سے جسے چاہیں جس قدر چاہیں دنیا دے دیتے ہیں پھر وہ جہنمی بن جاتا ہے اور ذلت و رسوائی کے ساتھ میں جاتا ہے اور جو آخرت کا خواہاں ہو اور کوشاں بھی ہو اور باایمان بھی ہو ان کی کوشش اللہ تعالیٰ کے ہاں مشکور ہے اسی لئے یہاں بھی فرمایا کہ ہم شکر گزاروں کو اچھا دبلہ دے دیتے ہیں پھر اللہ تعالیٰ احد کے مجاہدین کو خطاب کرتا ہوا فرماتا ہے کہ اس سے پہلے بھی بہت سے نبی اپنی جماعتوں کو ساتھ لے کر دشمنان دین سے لڑے بھڑے اور وہ تمہاری طرح اللہ کی راہ میں تکلیفیں بھی پہنچائے گئے لیکن پھر بھی مضبوط دل اور صابرو شاکر رہے نہ سست ہوئے نہ ہمت ہاری اور اس صبر کے بدلے انہوں نے اللہ کریم کی محبت مول لے لی، ایک یہ معنی بھی بیان کئے گئے ہیں کہ اے مجاہدین احد تم یہ سن کر حضور ﷺ شہید ہوئے کیوں ہمت ہار بیٹھے ؟ اور کفر کے مقابلے میں کیوں دب گئے ؟ حالانکہ تم سے اگلے لوگ اپنے انبیاء کی شہادت کو دیکھ کر بھی نہ دبے نہ پیچھے ہٹے بلکہ اور تیزی کے ساتھ لڑے، یہ اتنی بڑی مصیبت بھی ان کے قدم نہ ڈگمگا سکی اور کے دل چھوٹے نہ کرسکی پھر تم حضور ﷺ کی شہادت کی خبر سن کر اتنے بودے کیوں ہوگئے ربیون کے بہت سے معنی آتے ہیں مثلاً علماء ابرار متقی عابد زاہد تابع فرمان وغیرہ وغیرہ۔ پس قرآن کریم ان کی اس مصیبت کے وقت دعا کو نقل کرتا ہے پھر فرماتا ہے کہ انہیں دنیا کا ثواب نصرت و مدد ظفرو اقبال ملا اور آخرت کی بھلائی اور اچھائی بھی اسی کے ساتھ جمع ہوئی یہ محسن لوگ اللہ کے چہیتے بندے ہیں۔
145
View Single
وَمَا كَانَ لِنَفۡسٍ أَن تَمُوتَ إِلَّا بِإِذۡنِ ٱللَّهِ كِتَٰبٗا مُّؤَجَّلٗاۗ وَمَن يُرِدۡ ثَوَابَ ٱلدُّنۡيَا نُؤۡتِهِۦ مِنۡهَا وَمَن يُرِدۡ ثَوَابَ ٱلۡأٓخِرَةِ نُؤۡتِهِۦ مِنۡهَاۚ وَسَنَجۡزِي ٱلشَّـٰكِرِينَ
And no soul can die except by Allah’s command – a time has been appointed for each; whoever desires the rewards of this world, We bestow upon him from it; and whoever desires the reward of the Hereafter, We bestow upon him from it; and We shall soon reward the thankful.
اور کوئی شخص اللہ کے حکم کے بغیر نہیں مر سکتا (اس کا) وقت لکھا ہوا ہے، اور جو شخص دنیا کا انعام چاہتا ہے ہم اسے اس میں سے دے دیتے ہیں، اور جو آخرت کا انعام چاہتا ہے ہم اسے اس میں سے دے دیتے ہیں، اور ہم عنقریب شکر گزاروں کو (خوب) صلہ دیں گے
Tafsir Ibn Kathir
The Rumor that the Prophet was Killed at Uhud
When Muslims suffered defeat in battle at Uhud and some of them were killed, Shaytan shouted, "Muhammad ﷺ has been killed." Ibn Qami'ah went back to the idolators and claimed, "I have killed Muhammad." Some Muslims believed this rumor and thought that the Messenger of Allah ﷺ had been killed, claiming that this could happen, for Allah narrated that this occurred to many Prophets before. Therefore, the Muslims' resolve was weakened and they did not actively participate in battle. This is why Allah sent down to His Messenger His statement,
وَمَا مُحَمَّدٌ إِلاَّ رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِ الرُّسُلُ
(Muhammad is no more than a Messenger, and indeed Messengers have passed away before him.) he is to deliver Allah's Message and may be killed in the process, just as what happened to many Prophets before. Ibn Abi Najih said that his father said that a man from the Muhajirin passed by an Ansari man who was bleeding (during Uhud) and said to him, "O fellow! Did you know that Muhammad ﷺ was killed" The Ansari man said, "Even if Muhammad ﷺ was killed, he has indeed conveyed the Message. Therefore, defend your religion." The Ayah,
وَمَا مُحَمَّدٌ إِلاَّ رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِ الرُّسُلُ
(Muhammad is no more than a Messenger, and indeed (many) Messengers have passed away before him), was revealed. This story was collected by Al-Hafiz Abu Bakr Al-Bayhaqi in Dala'il An-Nubuwwah.
Allah said next, while chastising those who became weak,
أَفإِيْن مَّاتَ أَوْ قُتِلَ انقَلَبْتُمْ عَلَى أَعْقَـبِكُمْ
(If he dies or is killed, will you then turn back on your heels), become disbelievers,
وَمَن يَنقَلِبْ عَلَى عَقِبَيْهِ فَلَن يَضُرَّ اللَّهَ شَيْئاً وَسَيَجْزِى اللَّهُ الشَّـكِرِينَ
(And he who turns back on his heels, not the least harm will he do to Allah; and Allah will give reward to those who are grateful), those who obeyed Allah, defended His religion and followed His Messenger whether he was alive or dead. The Sahih, Musnad and Sunan collections gathered various chains of narration stating that Abu Bakr recited this Ayah when the Messenger of Allah ﷺ died. Al-Bukhari recorded that `A'ishah said that Abu Bakr came riding his horse from his dwelling in As-Sunh. He dismounted, entered the Masjid and did not speak to anyone until he came to her in her room and went directly to the Prophet, who was covered with a marked blanket. Abu Bakr uncovered his face, knelt down and kissed him, then started weeping and proclaimed, "My father and my mother be sacrificed for you! Allah will not combine two deaths on you. You have died the death, which was written for you."
Ibn `Abbas narrated that Abu Bakr then came out, while `Umar was addressing the people, and Abu Bakr told him to sit down but `Umar refused, and the people attended to Abu Bakr and left `Umar. Abu Bakr said, "To proceed; whoever among you worshipped Muhammad ﷺ, then Muhammad ﷺ is dead, but whoever worshipped Allah, Allah is alive and will never die. Allah said,
وَمَا مُحَمَّدٌ إِلاَّ رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِ الرُّسُلُ أَفإِيْن مَّاتَ أَوْ قُتِلَ انقَلَبْتُمْ عَلَى أَعْقَـبِكُمْ وَمَن يَنقَلِبْ عَلَى عَقِبَيْهِ فَلَن يَضُرَّ اللَّهَ شَيْئاً وَسَيَجْزِى اللَّهُ الشَّـكِرِينَ
(Muhammad is no more than a Messenger and indeed (many) Messengers have passed away before him. If he dies or is killed, will you then turn back on your heels And he who turns back on his heels, not the least harm will he do to Allah; and Allah will reward the grateful.)"
The narrator added, "By Allah, it was as if the people never knew that Allah had revealed this verse before until Abu Bakr recited it, and then whoever heard it, started reciting it." Sa`id bin Al-Musayyib said that `Umar said, "By Allah! When I heard Abu Bakr recite this Ayah, my feet could not hold me, and I fell to the ground."
Allah said,
وَمَا كَانَ لِنَفْسٍ أَنْ تَمُوتَ إِلاَّ بِإِذْنِ الله كِتَـباً مُّؤَجَّلاً
(And no person can ever die except by Allah's leave and at an appointed term.) 3:145 meaning, no one dies except by Allah's decision, after he has finished the term that Allah has destined for him. This is why Allah said,
كِتَـباً مُّؤَجَّلاً
(at an appointed term) which is similar to His statements,
وَمَا يُعَمَّرُ مِن مُّعَمَّرٍ وَلاَ يُنقَصُ مِنْ عُمُرِهِ إِلاَّ فِى كِتَـبٍ
(And no aged man is granted a length of life nor is a part cut off from his life, but it is in a Book) 35:11, and,
هُوَ الَّذِى خَلَقَكُمْ مِّن طِينٍ ثُمَّ قَضَى أَجَلاً وَأَجَلٌ مُّسمًّى عِندَهُ
(He it is Who has created you from clay, and then has decreed a (stated) term (for you to die). And there is with Him another determined term (for you to be resurrected)) 6:2.
This Ayah 3:145 encourages cowards to participate in battle; for doing so, or avoiding battle neither decreases, nor increases the life term. Ibn Abi Hatim narrated that, Habib bin Suhban said that a Muslim man, Hujr bin `Adi, said in a battle, "What prevents you from crossing this river (the Euphrates) to the enemy
وَمَا كَانَ لِنَفْسٍ أَنْ تَمُوتَ إِلاَّ بِإِذْنِ الله كِتَـباً مُّؤَجَّلاً
(And no person can ever die except by Allah's leave and at an appointed term)" He then crossed the river riding his horse, and when he did, the Muslims followed him. When the enemy saw them, they started shouting, "Diwan (Persian; crazy)," and they ran away.
Allah said next,
وَمَن يُرِدْ ثَوَابَ الدُّنْيَا نُؤْتِهِ مِنْهَا وَمَن يُرِدْ ثَوَابَ الاٌّخِرَةِ نُؤْتِهِ مِنْهَا
(And whoever desires a reward in the world, We shall give him of it; and whoever desires a reward in the Hereafter, We shall give him thereof).
Therefore, the Ayah proclaims, whoever works for the sake of this life, will only earn what Allah decides he will earn. However, he will not have a share in the Hereafter. Whoever works for the sake of the Hereafter, Allah will give him a share in the Hereafter, along with what He decides for him in this life. In similar statements, Allah said,
مَن كَانَ يُرِيدُ حَرْثَ الاٌّخِرَةِ نَزِدْ لَهُ فِى حَرْثِهِ وَمَن كَانَ يُرِيدُ حَرْثَ الدُّنْيَا نُؤْتِهِ مِنْهَا وَمَا لَهُ فِى الاٌّخِرَةِ مِن نَّصِيبٍ
(Whosoever desires (by his deeds) the reward of the Hereafter, We give him increase in his reward, and whosoever desires the reward of this world (by his deeds), We give him thereof (what is decreed for him), and he has no portion in the Hereafter.) 42:20, and,
مَّن كَانَ يُرِيدُ الْعَـجِلَةَ عَجَّلْنَا لَهُ فِيهَا مَا نَشَآءُ لِمَن نُّرِيدُ ثُمَّ جَعَلْنَا لَهُ جَهَنَّمَ يَصْلَـهَا مَذْمُومًا مَّدْحُورًا - وَمَنْ أَرَادَ الاٌّخِرَةَ وَسَعَى لَهَا سَعْيَهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَأُولَـئِكَ كَانَ سَعْيُهُم مَّشْكُورًا
(Whoever desires the quick-passing (transitory enjoyment of this world), We readily grant him what We will for whom We like. Then, afterwards, We have appointed for him Hell; he will burn therein disgraced and despised. And whoever desires the Hereafter and strives for it, with the necessary effort due for it while he is a believer, then such are the ones whose striving shall be appreciated) 17:18-19.
In this Ayah 3:145, Allah said,
وَسَنَجْزِى الشَّـكِرِينَ
(And We shall reward the grateful. ) meaning, We shall award them with Our favor and mercy in this life and the Hereafter, according to the degree of their appreciation of Allah and their good deeds.
Allah then comforts the believers because of what they suffered in Uhud,
وَكَأَيِّن مِّن نَّبِىٍّ قَاتَلَ مَعَهُ رِبِّيُّونَ كَثِيرٌ
(And many a Prophet fought and along with him many Ribbiyyun.)
It was said that this Ayah means that many Prophets and their companions were killed in earlier times, as is the view chosen by Ibn Jarir. It was also said that the Ayah means that many Prophets witnessed their companions' death before their eyes. However, Ibn Ishaq mentioned another explanation in his Sirah, saying that this Ayah means, "Many a Prophet was killed, and he had many companions whose resolve did not weaken after their Prophet died, and they did not become feeble in the face of the enemy. What they suffered in Jihad in Allah's cause and for the sake of their religion did not make them lose heart. This is patience,
وَاللَّهُ يُحِبُّ الصَّـبِرِينَ
(and Allah loves the patient.)" As-Suhayli agreed with this explanation and defended it vigorously. This view is supported by Allah saying;
مَعَهُ رِبِّيُّونَ كَثِيرٌ
(And along with him many Ribbiyyun).
In his book about the battles, Al-Amawi mentioned only this explanation for the Ayah. Sufyan Ath-Thawri reported that, Ibn Mas`ud said that,
رِبِّيُّونَ كَثِيرٌ
(many Ribbiyyun) means, thousands. Ibn `Abbas, Mujahid, Sa`id bin Jubayr, `Ikrimah, Al-Hasan, Qatadah, As-Suddi, Ar-Rabi` and `Ata' Al-Khurasani said that the word Ribbiyyun means, `large bands'. `Abdur-Razzaq narrated that Ma`mmar said that Al-Hasan said that,
رِبِّيُّونَ كَثِيرٌ
(many Ribbiyyun) means, many scholars. He also said that it means patient and pious scholars.
فَمَا وَهَنُواْ لِمَآ أَصَابَهُمْ فِى سَبِيلِ اللَّهِ وَمَا ضَعُفُواْ وَمَا اسْتَكَانُواْ
(But they never lost heart for that which befell them in Allah's way, nor did they weaken nor degrade themselves.)
Qatadah and Ar-Rabi` bin Anas said that,
وَمَا ضَعُفُواْ
(nor did they weaken), means, after their Prophet was killed.
وَمَا اسْتَكَانُواْ
(nor degrade themselves), by reverting from the true guidance and religion. Rather, they fought on the path that Allah's Prophet fought on until they met Allah. Ibn `Abbas said that,
وَمَا اسْتَكَانُواْ
(nor degrade themselves) means, nor became humiliated, while As-Suddi and Ibn Zayd said that it means, they did not give in to the enemy.
وَكَأَيِّن مِّن نَّبِىٍّ قَاتَلَ مَعَهُ رِبِّيُّونَ كَثِيرٌ فَمَا وَهَنُواْ لِمَآ أَصَابَهُمْ فِى سَبِيلِ اللَّهِ وَمَا ضَعُفُواْ وَمَا اسْتَكَانُواْ وَاللَّهُ يُحِبُّ الصَّـبِرِينَ - وَمَا كَانَ قَوْلَهُمْ إِلاَّ أَن قَالُواْ ربَّنَا اغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَإِسْرَافَنَا فِى أَمْرِنَا وَثَبِّتْ أَقْدَامَنَا وانصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَـفِرِينَ
(And Allah loves the patient. And they said nothing but: "Our Lord! Forgive us our sins and our transgressions, establish our feet firmly, and give us victory over the disbelieving folk.") 3:146-147, and this was the statement that they kept repeating. Therefore,
فَـْاتَـهُمُ اللَّهُ ثَوَابَ الدُّنْيَا
(So Allah gave them the reward of this world) victory, triumph and the good end,
وَحُسْنَ ثَوَابِ الاٌّخِرَةِ
(and the excellent reward of the Hereafter) added to the gains in this life,
وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ
(And Allah loves the good-doers).
رسول اللہ ﷺ کی وفات کا مغالطہٰ اور غزوہ احد میدان احد میں مسلمانوں کو شکست بھی ہوئی اور ان کے بعض قتل بھی کئے گئے۔ اس دن شیطان نے یہ بھی مشہور کردیا کہ محمد ﷺ بھی شہید ہوگئے اور ابن قمیہ کافر نے مشرکوں میں جا کر یہ خبر اڑا دی کہ میں حضور ﷺ کو قتل کر کے آیا ہوں اور دراصل وہ افواہ بےاصل تھی اور اس شخص کا یہ قول بھی غلط تھا۔ اس نے حضور ﷺ پر حملہ تو کیا تھا لیکن اس سے صرف آپ ﷺ کا چہرہ قدرے زخمی ہوگیا تھا اور کوئی بات نہ تھی اس غلط بات کی شہرت نے مسلمانوں کے دل چھوٹے کردیئے ان کے قدم اکھڑ گئے اور لڑائی سے بددل ہو کر بھاگ کھڑے ہوئے اسی بارے میں یہ آیت نازل ہوئی کہ اگلے انبیاء کی طرح یہ بھی ایک نبی ہیں ہوسکتا ہے کہ میدان میں قتل کردیئے جائیں لیکن کچھ اللہ کا دین نہیں جاتا رہے گا ایک روایت میں ہے کہ ایک مہاجر نے دیکھا کہ ایک انصاری جنگ احد میں زخموں سے چور زمین پر گرا پڑا ہے اور خاک و خون میں لوٹ رہا ہے اس سے کہا کہ آپ کو بھی معلوم ہے کہ حضور ﷺ قتل کردیئے گئے اس نے کہا اگر یہ صحیح ہے تو آپ ﷺ تو اپنا کام کر گئے، اب آپ ﷺ کے دین پر سے تم سب بھی قربان ہوجاؤ، اسی کے بارے میں یہ آیت اتری پھر فرمایا کہ حضور ﷺ کا قتل یا انتقال ایسی چیز نہیں کہ تم اللہ تعالیٰ کے دین سے پچھلے پاؤں پلٹ جاؤ اور ایسا کرنے والے اللہ کا کچھ نہ بگاڑیں گے، اللہ تعالیٰ انہی لوگوں کو جزائے خیر دے گا جو اس کی اطاعت پر جم جائیں اور اس کے دین کی مدد میں لگ جائیں اور اس کے رسول ﷺ کی تابعداری میں مضبوط ہوجائیں خواہ رسول ﷺ زندہ ہوں یا نہ ہوں، صحیح بخاری شریف میں ہے کہ حضور ﷺ کے انتقال کی خبر سن کر حضرت ابوبکر صدیق جلدی سے گھوڑے پر سوار ہو کر آئے مسجد میں تشریف لے گئے لوگوں کی حالت دیکھی بھالی اور بغیر کچھ کہے سنے حضرت عائشہ کے گھر پر آئے یہاںحضور ﷺ پر حبرہ کی چادر اوڑھا دی گئی تھی آپ نے چادر کا کونا چہرہ مبارک پر سے ہٹا کر بےساختہ بوسہ لے لیا اور روتے ہوئے فرمانے لگے میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، اللہ کی قسم اللہ تعالیٰ آپ ﷺ پر دو مرتبہ موت نہ لائے گا جو موت آپ پر لکھ دی گئی تھی وہ آپ کو آچکی۔ اس کے بعد آپ پھر مسجد میں آئے اور دیکھا کہ حضرت عمر خطبہ سنا رہے ہیں ان سے فرمایا کہ خاموش ہوجاؤ انہیں چپ کرا کر آپ نے لوگوں سے فرمایا کہ جو شخص محمد ﷺ کی عبادت کرتا تھا وہ جان لے کہ محمد ﷺ مرگئے اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا تھا وہ خوش رہے کہ اللہ تعالیٰ زندہ ہے اس پر موت نہیں آتی۔ پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی لوگوں کو ایسا معلوم ہونے لگا گویا یہ آیت اب اتری ہے پھر تو ہر شخص کی زبان پر یہ آیت چڑھ گئی اور لوگوں نے یقین کرلیا کہ آپ ﷺ فوت ہوگئے حضرت صدیق اکبر کی زبانی اس آیت کی تلاوت سن کر حضرت عمر کے تو گویا قدموں تلے سے زمین نکل گئی، انہیں بھی یقین ہوگیا کہ حضور ﷺ اس جہان فانی کو چھوڑ کر چل بسے، حضرت علی رسول اللہ ﷺ کی زندگی ہی میں فرماتے تھے کہ نہ ہم حضور ﷺ کی موت پر مرتد ہوں نہ آپ کی شہادت پر اللہ کی قسم اگر حضور ﷺ قتل کئے جائیں تو ہم بھی اس دین پر مرمٹیں جس پر پر شہید ہوئے اللہ کی قسم میں آپ کا بھائی ہوں آپ کا ولی ہوں آپ کا چچا زاد بھائی ہوں اور آپ کا وارث ہوں مجھ سے زیادہ حقدار آپ کا اور کون ہوگا۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ہر شخص اللہ تعالیٰ کے حکم سے اور اپنی مدت پوری کرکے ہی مرتا ہے جیسے اور جگہ ہے وما یعمر من معمر ولا ینقص من عمرہ الی فی کتاب نہ کوئی عمر دیا جاتا ہے نہ عمر گھٹائی جاتی ہے مگر سب کتاب اللہ میں موجود ہے اور جگہ ہے (هُوَ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ مِّنْ طِيْنٍ ثُمَّ قَضٰٓى اَجَلًا) 6۔ الانعام :2) " جس اللہ نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا قھر وقت پورا کیا اور اجل مقرر کی " اس آیت میں بزدل لوگوں کو شجاعت کی رغبت دلائی گئی ہے اور اللہ کی راہ کے جہاد کا شوق دلایا جارہا ہے اور بتایا جارہا ہے کہ جو انمردی کی وجہ سے کچھ عمر گھٹ نہیں جاتی اور پیچھے ہٹنے کی وجہ سے عمر بڑھ نہیں جاتی۔ موت تو اپنے وقت پر آکر ہی رہے گی خواہ شجاعت اور بہادری برتو خواہ نامردی اور بزدلی دکھاؤ۔ حجر بن عدی جب دشمنان دین کے مقابلے میں جاتے ہیں اور دریائے دجلہ بیچ میں آجاتا ہے اور لشکر اسلام ٹھٹھک کر کھڑا ہوجاتا ہے تو آپ اس آیت کی تلاوت کرکے فرماتے ہیں کہ کوئی بھی بےاجل نہیں مرتا آؤ اسی دجلہ میں گھوڑے ڈال دو ، یہ فرما کر آپ اپنا گھوڑا دریا میں ڈال دیتے ہیں آپ کی دیکھا دیکھی اور لوگ بھی اپنے گھوڑوں کو پانی میں ڈال دیتے ہیں۔ دشمن کا خون خشک ہوجاتا ہے اور اس پر ہیبت طاری ہوجاتی ہے۔ وہ کہنے لگتے ہیں کہ یہ تو دیوانے آدمی ہیں یہ تو پانی کی موجوں سے بھی نہیں ڈرتے بھاگو بھاگو چناچہ سب کے سب بھاگ کھڑے ہوئے۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ جس کا عمل صرف دنیا کیلئے ہو تو اس میں سے جتنا اس کے مقدر میں ہوتا ہے مل جاتا ہے لیکن آخرت میں وہ خالی ہاتھ رہ جاتا ہے اور جس کا مقصد آخرت طلبی ہو اسے آخرت تو ملتی ہی ہے لیکن دنیا میں بھی اپنے مقدر کا پالیتا ہے جیسے اور جگہ فرمایا من کان یرید حرث الاخرۃ الخ، آخرت کی کھیتی کے چاہنے والے کو ہم زیادتی کے ساتھ دیتے ہیں اور دنیا کی کھیتی کے چاہنے والے کو ہم گو دنیا دے دیں لیکن آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہیں اور جگہ ہے من کان یرید العاجلتہ جو شخص صرف دنیا طلب ہی ہو ہم ان میں سے جسے چاہیں جس قدر چاہیں دنیا دے دیتے ہیں پھر وہ جہنمی بن جاتا ہے اور ذلت و رسوائی کے ساتھ میں جاتا ہے اور جو آخرت کا خواہاں ہو اور کوشاں بھی ہو اور باایمان بھی ہو ان کی کوشش اللہ تعالیٰ کے ہاں مشکور ہے اسی لئے یہاں بھی فرمایا کہ ہم شکر گزاروں کو اچھا دبلہ دے دیتے ہیں پھر اللہ تعالیٰ احد کے مجاہدین کو خطاب کرتا ہوا فرماتا ہے کہ اس سے پہلے بھی بہت سے نبی اپنی جماعتوں کو ساتھ لے کر دشمنان دین سے لڑے بھڑے اور وہ تمہاری طرح اللہ کی راہ میں تکلیفیں بھی پہنچائے گئے لیکن پھر بھی مضبوط دل اور صابرو شاکر رہے نہ سست ہوئے نہ ہمت ہاری اور اس صبر کے بدلے انہوں نے اللہ کریم کی محبت مول لے لی، ایک یہ معنی بھی بیان کئے گئے ہیں کہ اے مجاہدین احد تم یہ سن کر حضور ﷺ شہید ہوئے کیوں ہمت ہار بیٹھے ؟ اور کفر کے مقابلے میں کیوں دب گئے ؟ حالانکہ تم سے اگلے لوگ اپنے انبیاء کی شہادت کو دیکھ کر بھی نہ دبے نہ پیچھے ہٹے بلکہ اور تیزی کے ساتھ لڑے، یہ اتنی بڑی مصیبت بھی ان کے قدم نہ ڈگمگا سکی اور کے دل چھوٹے نہ کرسکی پھر تم حضور ﷺ کی شہادت کی خبر سن کر اتنے بودے کیوں ہوگئے ربیون کے بہت سے معنی آتے ہیں مثلاً علماء ابرار متقی عابد زاہد تابع فرمان وغیرہ وغیرہ۔ پس قرآن کریم ان کی اس مصیبت کے وقت دعا کو نقل کرتا ہے پھر فرماتا ہے کہ انہیں دنیا کا ثواب نصرت و مدد ظفرو اقبال ملا اور آخرت کی بھلائی اور اچھائی بھی اسی کے ساتھ جمع ہوئی یہ محسن لوگ اللہ کے چہیتے بندے ہیں۔
146
View Single
وَكَأَيِّن مِّن نَّبِيّٖ قَٰتَلَ مَعَهُۥ رِبِّيُّونَ كَثِيرٞ فَمَا وَهَنُواْ لِمَآ أَصَابَهُمۡ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِ وَمَا ضَعُفُواْ وَمَا ٱسۡتَكَانُواْۗ وَٱللَّهُ يُحِبُّ ٱلصَّـٰبِرِينَ
And many Prophets have fought in Allah’s cause – and many devoted men were with them; so neither did they lose heart due to the calamities that befell them in Allah's cause, nor did they weaken and nor were they subdued; and the steadfast are the beloved of Allah.
اور کتنے ہی انبیاءایسے ہوئے جنہوں نے جہاد کیا ان کے ساتھ بہت سے اللہ والے (اولیاء) بھی شریک ہوئے، تو نہ انہوں نے ان مصیبتوں کے باعث جو انہیں اللہ کی راہ میں پہنچیں ہمت ہاری اور نہ وہ کمزور پڑے اور نہ وہ جھکے، اور اللہ صبر کرنے والوں سے محبت کرتا ہے
Tafsir Ibn Kathir
The Rumor that the Prophet was Killed at Uhud
When Muslims suffered defeat in battle at Uhud and some of them were killed, Shaytan shouted, "Muhammad ﷺ has been killed." Ibn Qami'ah went back to the idolators and claimed, "I have killed Muhammad." Some Muslims believed this rumor and thought that the Messenger of Allah ﷺ had been killed, claiming that this could happen, for Allah narrated that this occurred to many Prophets before. Therefore, the Muslims' resolve was weakened and they did not actively participate in battle. This is why Allah sent down to His Messenger His statement,
وَمَا مُحَمَّدٌ إِلاَّ رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِ الرُّسُلُ
(Muhammad is no more than a Messenger, and indeed Messengers have passed away before him.) he is to deliver Allah's Message and may be killed in the process, just as what happened to many Prophets before. Ibn Abi Najih said that his father said that a man from the Muhajirin passed by an Ansari man who was bleeding (during Uhud) and said to him, "O fellow! Did you know that Muhammad ﷺ was killed" The Ansari man said, "Even if Muhammad ﷺ was killed, he has indeed conveyed the Message. Therefore, defend your religion." The Ayah,
وَمَا مُحَمَّدٌ إِلاَّ رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِ الرُّسُلُ
(Muhammad is no more than a Messenger, and indeed (many) Messengers have passed away before him), was revealed. This story was collected by Al-Hafiz Abu Bakr Al-Bayhaqi in Dala'il An-Nubuwwah.
Allah said next, while chastising those who became weak,
أَفإِيْن مَّاتَ أَوْ قُتِلَ انقَلَبْتُمْ عَلَى أَعْقَـبِكُمْ
(If he dies or is killed, will you then turn back on your heels), become disbelievers,
وَمَن يَنقَلِبْ عَلَى عَقِبَيْهِ فَلَن يَضُرَّ اللَّهَ شَيْئاً وَسَيَجْزِى اللَّهُ الشَّـكِرِينَ
(And he who turns back on his heels, not the least harm will he do to Allah; and Allah will give reward to those who are grateful), those who obeyed Allah, defended His religion and followed His Messenger whether he was alive or dead. The Sahih, Musnad and Sunan collections gathered various chains of narration stating that Abu Bakr recited this Ayah when the Messenger of Allah ﷺ died. Al-Bukhari recorded that `A'ishah said that Abu Bakr came riding his horse from his dwelling in As-Sunh. He dismounted, entered the Masjid and did not speak to anyone until he came to her in her room and went directly to the Prophet, who was covered with a marked blanket. Abu Bakr uncovered his face, knelt down and kissed him, then started weeping and proclaimed, "My father and my mother be sacrificed for you! Allah will not combine two deaths on you. You have died the death, which was written for you."
Ibn `Abbas narrated that Abu Bakr then came out, while `Umar was addressing the people, and Abu Bakr told him to sit down but `Umar refused, and the people attended to Abu Bakr and left `Umar. Abu Bakr said, "To proceed; whoever among you worshipped Muhammad ﷺ, then Muhammad ﷺ is dead, but whoever worshipped Allah, Allah is alive and will never die. Allah said,
وَمَا مُحَمَّدٌ إِلاَّ رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِ الرُّسُلُ أَفإِيْن مَّاتَ أَوْ قُتِلَ انقَلَبْتُمْ عَلَى أَعْقَـبِكُمْ وَمَن يَنقَلِبْ عَلَى عَقِبَيْهِ فَلَن يَضُرَّ اللَّهَ شَيْئاً وَسَيَجْزِى اللَّهُ الشَّـكِرِينَ
(Muhammad is no more than a Messenger and indeed (many) Messengers have passed away before him. If he dies or is killed, will you then turn back on your heels And he who turns back on his heels, not the least harm will he do to Allah; and Allah will reward the grateful.)"
The narrator added, "By Allah, it was as if the people never knew that Allah had revealed this verse before until Abu Bakr recited it, and then whoever heard it, started reciting it." Sa`id bin Al-Musayyib said that `Umar said, "By Allah! When I heard Abu Bakr recite this Ayah, my feet could not hold me, and I fell to the ground."
Allah said,
وَمَا كَانَ لِنَفْسٍ أَنْ تَمُوتَ إِلاَّ بِإِذْنِ الله كِتَـباً مُّؤَجَّلاً
(And no person can ever die except by Allah's leave and at an appointed term.) 3:145 meaning, no one dies except by Allah's decision, after he has finished the term that Allah has destined for him. This is why Allah said,
كِتَـباً مُّؤَجَّلاً
(at an appointed term) which is similar to His statements,
وَمَا يُعَمَّرُ مِن مُّعَمَّرٍ وَلاَ يُنقَصُ مِنْ عُمُرِهِ إِلاَّ فِى كِتَـبٍ
(And no aged man is granted a length of life nor is a part cut off from his life, but it is in a Book) 35:11, and,
هُوَ الَّذِى خَلَقَكُمْ مِّن طِينٍ ثُمَّ قَضَى أَجَلاً وَأَجَلٌ مُّسمًّى عِندَهُ
(He it is Who has created you from clay, and then has decreed a (stated) term (for you to die). And there is with Him another determined term (for you to be resurrected)) 6:2.
This Ayah 3:145 encourages cowards to participate in battle; for doing so, or avoiding battle neither decreases, nor increases the life term. Ibn Abi Hatim narrated that, Habib bin Suhban said that a Muslim man, Hujr bin `Adi, said in a battle, "What prevents you from crossing this river (the Euphrates) to the enemy
وَمَا كَانَ لِنَفْسٍ أَنْ تَمُوتَ إِلاَّ بِإِذْنِ الله كِتَـباً مُّؤَجَّلاً
(And no person can ever die except by Allah's leave and at an appointed term)" He then crossed the river riding his horse, and when he did, the Muslims followed him. When the enemy saw them, they started shouting, "Diwan (Persian; crazy)," and they ran away.
Allah said next,
وَمَن يُرِدْ ثَوَابَ الدُّنْيَا نُؤْتِهِ مِنْهَا وَمَن يُرِدْ ثَوَابَ الاٌّخِرَةِ نُؤْتِهِ مِنْهَا
(And whoever desires a reward in the world, We shall give him of it; and whoever desires a reward in the Hereafter, We shall give him thereof).
Therefore, the Ayah proclaims, whoever works for the sake of this life, will only earn what Allah decides he will earn. However, he will not have a share in the Hereafter. Whoever works for the sake of the Hereafter, Allah will give him a share in the Hereafter, along with what He decides for him in this life. In similar statements, Allah said,
مَن كَانَ يُرِيدُ حَرْثَ الاٌّخِرَةِ نَزِدْ لَهُ فِى حَرْثِهِ وَمَن كَانَ يُرِيدُ حَرْثَ الدُّنْيَا نُؤْتِهِ مِنْهَا وَمَا لَهُ فِى الاٌّخِرَةِ مِن نَّصِيبٍ
(Whosoever desires (by his deeds) the reward of the Hereafter, We give him increase in his reward, and whosoever desires the reward of this world (by his deeds), We give him thereof (what is decreed for him), and he has no portion in the Hereafter.) 42:20, and,
مَّن كَانَ يُرِيدُ الْعَـجِلَةَ عَجَّلْنَا لَهُ فِيهَا مَا نَشَآءُ لِمَن نُّرِيدُ ثُمَّ جَعَلْنَا لَهُ جَهَنَّمَ يَصْلَـهَا مَذْمُومًا مَّدْحُورًا - وَمَنْ أَرَادَ الاٌّخِرَةَ وَسَعَى لَهَا سَعْيَهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَأُولَـئِكَ كَانَ سَعْيُهُم مَّشْكُورًا
(Whoever desires the quick-passing (transitory enjoyment of this world), We readily grant him what We will for whom We like. Then, afterwards, We have appointed for him Hell; he will burn therein disgraced and despised. And whoever desires the Hereafter and strives for it, with the necessary effort due for it while he is a believer, then such are the ones whose striving shall be appreciated) 17:18-19.
In this Ayah 3:145, Allah said,
وَسَنَجْزِى الشَّـكِرِينَ
(And We shall reward the grateful. ) meaning, We shall award them with Our favor and mercy in this life and the Hereafter, according to the degree of their appreciation of Allah and their good deeds.
Allah then comforts the believers because of what they suffered in Uhud,
وَكَأَيِّن مِّن نَّبِىٍّ قَاتَلَ مَعَهُ رِبِّيُّونَ كَثِيرٌ
(And many a Prophet fought and along with him many Ribbiyyun.)
It was said that this Ayah means that many Prophets and their companions were killed in earlier times, as is the view chosen by Ibn Jarir. It was also said that the Ayah means that many Prophets witnessed their companions' death before their eyes. However, Ibn Ishaq mentioned another explanation in his Sirah, saying that this Ayah means, "Many a Prophet was killed, and he had many companions whose resolve did not weaken after their Prophet died, and they did not become feeble in the face of the enemy. What they suffered in Jihad in Allah's cause and for the sake of their religion did not make them lose heart. This is patience,
وَاللَّهُ يُحِبُّ الصَّـبِرِينَ
(and Allah loves the patient.)" As-Suhayli agreed with this explanation and defended it vigorously. This view is supported by Allah saying;
مَعَهُ رِبِّيُّونَ كَثِيرٌ
(And along with him many Ribbiyyun).
In his book about the battles, Al-Amawi mentioned only this explanation for the Ayah. Sufyan Ath-Thawri reported that, Ibn Mas`ud said that,
رِبِّيُّونَ كَثِيرٌ
(many Ribbiyyun) means, thousands. Ibn `Abbas, Mujahid, Sa`id bin Jubayr, `Ikrimah, Al-Hasan, Qatadah, As-Suddi, Ar-Rabi` and `Ata' Al-Khurasani said that the word Ribbiyyun means, `large bands'. `Abdur-Razzaq narrated that Ma`mmar said that Al-Hasan said that,
رِبِّيُّونَ كَثِيرٌ
(many Ribbiyyun) means, many scholars. He also said that it means patient and pious scholars.
فَمَا وَهَنُواْ لِمَآ أَصَابَهُمْ فِى سَبِيلِ اللَّهِ وَمَا ضَعُفُواْ وَمَا اسْتَكَانُواْ
(But they never lost heart for that which befell them in Allah's way, nor did they weaken nor degrade themselves.)
Qatadah and Ar-Rabi` bin Anas said that,
وَمَا ضَعُفُواْ
(nor did they weaken), means, after their Prophet was killed.
وَمَا اسْتَكَانُواْ
(nor degrade themselves), by reverting from the true guidance and religion. Rather, they fought on the path that Allah's Prophet fought on until they met Allah. Ibn `Abbas said that,
وَمَا اسْتَكَانُواْ
(nor degrade themselves) means, nor became humiliated, while As-Suddi and Ibn Zayd said that it means, they did not give in to the enemy.
وَكَأَيِّن مِّن نَّبِىٍّ قَاتَلَ مَعَهُ رِبِّيُّونَ كَثِيرٌ فَمَا وَهَنُواْ لِمَآ أَصَابَهُمْ فِى سَبِيلِ اللَّهِ وَمَا ضَعُفُواْ وَمَا اسْتَكَانُواْ وَاللَّهُ يُحِبُّ الصَّـبِرِينَ - وَمَا كَانَ قَوْلَهُمْ إِلاَّ أَن قَالُواْ ربَّنَا اغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَإِسْرَافَنَا فِى أَمْرِنَا وَثَبِّتْ أَقْدَامَنَا وانصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَـفِرِينَ
(And Allah loves the patient. And they said nothing but: "Our Lord! Forgive us our sins and our transgressions, establish our feet firmly, and give us victory over the disbelieving folk.") 3:146-147, and this was the statement that they kept repeating. Therefore,
فَـْاتَـهُمُ اللَّهُ ثَوَابَ الدُّنْيَا
(So Allah gave them the reward of this world) victory, triumph and the good end,
وَحُسْنَ ثَوَابِ الاٌّخِرَةِ
(and the excellent reward of the Hereafter) added to the gains in this life,
وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ
(And Allah loves the good-doers).
رسول اللہ ﷺ کی وفات کا مغالطہٰ اور غزوہ احد میدان احد میں مسلمانوں کو شکست بھی ہوئی اور ان کے بعض قتل بھی کئے گئے۔ اس دن شیطان نے یہ بھی مشہور کردیا کہ محمد ﷺ بھی شہید ہوگئے اور ابن قمیہ کافر نے مشرکوں میں جا کر یہ خبر اڑا دی کہ میں حضور ﷺ کو قتل کر کے آیا ہوں اور دراصل وہ افواہ بےاصل تھی اور اس شخص کا یہ قول بھی غلط تھا۔ اس نے حضور ﷺ پر حملہ تو کیا تھا لیکن اس سے صرف آپ ﷺ کا چہرہ قدرے زخمی ہوگیا تھا اور کوئی بات نہ تھی اس غلط بات کی شہرت نے مسلمانوں کے دل چھوٹے کردیئے ان کے قدم اکھڑ گئے اور لڑائی سے بددل ہو کر بھاگ کھڑے ہوئے اسی بارے میں یہ آیت نازل ہوئی کہ اگلے انبیاء کی طرح یہ بھی ایک نبی ہیں ہوسکتا ہے کہ میدان میں قتل کردیئے جائیں لیکن کچھ اللہ کا دین نہیں جاتا رہے گا ایک روایت میں ہے کہ ایک مہاجر نے دیکھا کہ ایک انصاری جنگ احد میں زخموں سے چور زمین پر گرا پڑا ہے اور خاک و خون میں لوٹ رہا ہے اس سے کہا کہ آپ کو بھی معلوم ہے کہ حضور ﷺ قتل کردیئے گئے اس نے کہا اگر یہ صحیح ہے تو آپ ﷺ تو اپنا کام کر گئے، اب آپ ﷺ کے دین پر سے تم سب بھی قربان ہوجاؤ، اسی کے بارے میں یہ آیت اتری پھر فرمایا کہ حضور ﷺ کا قتل یا انتقال ایسی چیز نہیں کہ تم اللہ تعالیٰ کے دین سے پچھلے پاؤں پلٹ جاؤ اور ایسا کرنے والے اللہ کا کچھ نہ بگاڑیں گے، اللہ تعالیٰ انہی لوگوں کو جزائے خیر دے گا جو اس کی اطاعت پر جم جائیں اور اس کے دین کی مدد میں لگ جائیں اور اس کے رسول ﷺ کی تابعداری میں مضبوط ہوجائیں خواہ رسول ﷺ زندہ ہوں یا نہ ہوں، صحیح بخاری شریف میں ہے کہ حضور ﷺ کے انتقال کی خبر سن کر حضرت ابوبکر صدیق جلدی سے گھوڑے پر سوار ہو کر آئے مسجد میں تشریف لے گئے لوگوں کی حالت دیکھی بھالی اور بغیر کچھ کہے سنے حضرت عائشہ کے گھر پر آئے یہاںحضور ﷺ پر حبرہ کی چادر اوڑھا دی گئی تھی آپ نے چادر کا کونا چہرہ مبارک پر سے ہٹا کر بےساختہ بوسہ لے لیا اور روتے ہوئے فرمانے لگے میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، اللہ کی قسم اللہ تعالیٰ آپ ﷺ پر دو مرتبہ موت نہ لائے گا جو موت آپ پر لکھ دی گئی تھی وہ آپ کو آچکی۔ اس کے بعد آپ پھر مسجد میں آئے اور دیکھا کہ حضرت عمر خطبہ سنا رہے ہیں ان سے فرمایا کہ خاموش ہوجاؤ انہیں چپ کرا کر آپ نے لوگوں سے فرمایا کہ جو شخص محمد ﷺ کی عبادت کرتا تھا وہ جان لے کہ محمد ﷺ مرگئے اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا تھا وہ خوش رہے کہ اللہ تعالیٰ زندہ ہے اس پر موت نہیں آتی۔ پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی لوگوں کو ایسا معلوم ہونے لگا گویا یہ آیت اب اتری ہے پھر تو ہر شخص کی زبان پر یہ آیت چڑھ گئی اور لوگوں نے یقین کرلیا کہ آپ ﷺ فوت ہوگئے حضرت صدیق اکبر کی زبانی اس آیت کی تلاوت سن کر حضرت عمر کے تو گویا قدموں تلے سے زمین نکل گئی، انہیں بھی یقین ہوگیا کہ حضور ﷺ اس جہان فانی کو چھوڑ کر چل بسے، حضرت علی رسول اللہ ﷺ کی زندگی ہی میں فرماتے تھے کہ نہ ہم حضور ﷺ کی موت پر مرتد ہوں نہ آپ کی شہادت پر اللہ کی قسم اگر حضور ﷺ قتل کئے جائیں تو ہم بھی اس دین پر مرمٹیں جس پر پر شہید ہوئے اللہ کی قسم میں آپ کا بھائی ہوں آپ کا ولی ہوں آپ کا چچا زاد بھائی ہوں اور آپ کا وارث ہوں مجھ سے زیادہ حقدار آپ کا اور کون ہوگا۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ہر شخص اللہ تعالیٰ کے حکم سے اور اپنی مدت پوری کرکے ہی مرتا ہے جیسے اور جگہ ہے وما یعمر من معمر ولا ینقص من عمرہ الی فی کتاب نہ کوئی عمر دیا جاتا ہے نہ عمر گھٹائی جاتی ہے مگر سب کتاب اللہ میں موجود ہے اور جگہ ہے (هُوَ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ مِّنْ طِيْنٍ ثُمَّ قَضٰٓى اَجَلًا) 6۔ الانعام :2) " جس اللہ نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا قھر وقت پورا کیا اور اجل مقرر کی " اس آیت میں بزدل لوگوں کو شجاعت کی رغبت دلائی گئی ہے اور اللہ کی راہ کے جہاد کا شوق دلایا جارہا ہے اور بتایا جارہا ہے کہ جو انمردی کی وجہ سے کچھ عمر گھٹ نہیں جاتی اور پیچھے ہٹنے کی وجہ سے عمر بڑھ نہیں جاتی۔ موت تو اپنے وقت پر آکر ہی رہے گی خواہ شجاعت اور بہادری برتو خواہ نامردی اور بزدلی دکھاؤ۔ حجر بن عدی جب دشمنان دین کے مقابلے میں جاتے ہیں اور دریائے دجلہ بیچ میں آجاتا ہے اور لشکر اسلام ٹھٹھک کر کھڑا ہوجاتا ہے تو آپ اس آیت کی تلاوت کرکے فرماتے ہیں کہ کوئی بھی بےاجل نہیں مرتا آؤ اسی دجلہ میں گھوڑے ڈال دو ، یہ فرما کر آپ اپنا گھوڑا دریا میں ڈال دیتے ہیں آپ کی دیکھا دیکھی اور لوگ بھی اپنے گھوڑوں کو پانی میں ڈال دیتے ہیں۔ دشمن کا خون خشک ہوجاتا ہے اور اس پر ہیبت طاری ہوجاتی ہے۔ وہ کہنے لگتے ہیں کہ یہ تو دیوانے آدمی ہیں یہ تو پانی کی موجوں سے بھی نہیں ڈرتے بھاگو بھاگو چناچہ سب کے سب بھاگ کھڑے ہوئے۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ جس کا عمل صرف دنیا کیلئے ہو تو اس میں سے جتنا اس کے مقدر میں ہوتا ہے مل جاتا ہے لیکن آخرت میں وہ خالی ہاتھ رہ جاتا ہے اور جس کا مقصد آخرت طلبی ہو اسے آخرت تو ملتی ہی ہے لیکن دنیا میں بھی اپنے مقدر کا پالیتا ہے جیسے اور جگہ فرمایا من کان یرید حرث الاخرۃ الخ، آخرت کی کھیتی کے چاہنے والے کو ہم زیادتی کے ساتھ دیتے ہیں اور دنیا کی کھیتی کے چاہنے والے کو ہم گو دنیا دے دیں لیکن آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہیں اور جگہ ہے من کان یرید العاجلتہ جو شخص صرف دنیا طلب ہی ہو ہم ان میں سے جسے چاہیں جس قدر چاہیں دنیا دے دیتے ہیں پھر وہ جہنمی بن جاتا ہے اور ذلت و رسوائی کے ساتھ میں جاتا ہے اور جو آخرت کا خواہاں ہو اور کوشاں بھی ہو اور باایمان بھی ہو ان کی کوشش اللہ تعالیٰ کے ہاں مشکور ہے اسی لئے یہاں بھی فرمایا کہ ہم شکر گزاروں کو اچھا دبلہ دے دیتے ہیں پھر اللہ تعالیٰ احد کے مجاہدین کو خطاب کرتا ہوا فرماتا ہے کہ اس سے پہلے بھی بہت سے نبی اپنی جماعتوں کو ساتھ لے کر دشمنان دین سے لڑے بھڑے اور وہ تمہاری طرح اللہ کی راہ میں تکلیفیں بھی پہنچائے گئے لیکن پھر بھی مضبوط دل اور صابرو شاکر رہے نہ سست ہوئے نہ ہمت ہاری اور اس صبر کے بدلے انہوں نے اللہ کریم کی محبت مول لے لی، ایک یہ معنی بھی بیان کئے گئے ہیں کہ اے مجاہدین احد تم یہ سن کر حضور ﷺ شہید ہوئے کیوں ہمت ہار بیٹھے ؟ اور کفر کے مقابلے میں کیوں دب گئے ؟ حالانکہ تم سے اگلے لوگ اپنے انبیاء کی شہادت کو دیکھ کر بھی نہ دبے نہ پیچھے ہٹے بلکہ اور تیزی کے ساتھ لڑے، یہ اتنی بڑی مصیبت بھی ان کے قدم نہ ڈگمگا سکی اور کے دل چھوٹے نہ کرسکی پھر تم حضور ﷺ کی شہادت کی خبر سن کر اتنے بودے کیوں ہوگئے ربیون کے بہت سے معنی آتے ہیں مثلاً علماء ابرار متقی عابد زاہد تابع فرمان وغیرہ وغیرہ۔ پس قرآن کریم ان کی اس مصیبت کے وقت دعا کو نقل کرتا ہے پھر فرماتا ہے کہ انہیں دنیا کا ثواب نصرت و مدد ظفرو اقبال ملا اور آخرت کی بھلائی اور اچھائی بھی اسی کے ساتھ جمع ہوئی یہ محسن لوگ اللہ کے چہیتے بندے ہیں۔
147
View Single
وَمَا كَانَ قَوۡلَهُمۡ إِلَّآ أَن قَالُواْ رَبَّنَا ٱغۡفِرۡ لَنَا ذُنُوبَنَا وَإِسۡرَافَنَا فِيٓ أَمۡرِنَا وَثَبِّتۡ أَقۡدَامَنَا وَٱنصُرۡنَا عَلَى ٱلۡقَوۡمِ ٱلۡكَٰفِرِينَ
And they never said anything except that they invoked, “Our Lord! Forgive us our sins and the excesses committed during our efforts, and keep our feet steady, and bestow us help over the disbelievers.”
اور ان کا کہنا کچھ نہ تھا سوائے اس التجا کے کہ اے ہمارے رب! ہمارے گناہ بخش دے اور ہمارے کام میں ہم سے ہونے والی زیادتیوں سے درگزر فرما اور ہمیں (اپنی راہ میں) ثابت قدم رکھ اور ہمیں کافروں پر غلبہ عطا فرما
Tafsir Ibn Kathir
The Rumor that the Prophet was Killed at Uhud
When Muslims suffered defeat in battle at Uhud and some of them were killed, Shaytan shouted, "Muhammad ﷺ has been killed." Ibn Qami'ah went back to the idolators and claimed, "I have killed Muhammad." Some Muslims believed this rumor and thought that the Messenger of Allah ﷺ had been killed, claiming that this could happen, for Allah narrated that this occurred to many Prophets before. Therefore, the Muslims' resolve was weakened and they did not actively participate in battle. This is why Allah sent down to His Messenger His statement,
وَمَا مُحَمَّدٌ إِلاَّ رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِ الرُّسُلُ
(Muhammad is no more than a Messenger, and indeed Messengers have passed away before him.) he is to deliver Allah's Message and may be killed in the process, just as what happened to many Prophets before. Ibn Abi Najih said that his father said that a man from the Muhajirin passed by an Ansari man who was bleeding (during Uhud) and said to him, "O fellow! Did you know that Muhammad ﷺ was killed" The Ansari man said, "Even if Muhammad ﷺ was killed, he has indeed conveyed the Message. Therefore, defend your religion." The Ayah,
وَمَا مُحَمَّدٌ إِلاَّ رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِ الرُّسُلُ
(Muhammad is no more than a Messenger, and indeed (many) Messengers have passed away before him), was revealed. This story was collected by Al-Hafiz Abu Bakr Al-Bayhaqi in Dala'il An-Nubuwwah.
Allah said next, while chastising those who became weak,
أَفإِيْن مَّاتَ أَوْ قُتِلَ انقَلَبْتُمْ عَلَى أَعْقَـبِكُمْ
(If he dies or is killed, will you then turn back on your heels), become disbelievers,
وَمَن يَنقَلِبْ عَلَى عَقِبَيْهِ فَلَن يَضُرَّ اللَّهَ شَيْئاً وَسَيَجْزِى اللَّهُ الشَّـكِرِينَ
(And he who turns back on his heels, not the least harm will he do to Allah; and Allah will give reward to those who are grateful), those who obeyed Allah, defended His religion and followed His Messenger whether he was alive or dead. The Sahih, Musnad and Sunan collections gathered various chains of narration stating that Abu Bakr recited this Ayah when the Messenger of Allah ﷺ died. Al-Bukhari recorded that `A'ishah said that Abu Bakr came riding his horse from his dwelling in As-Sunh. He dismounted, entered the Masjid and did not speak to anyone until he came to her in her room and went directly to the Prophet, who was covered with a marked blanket. Abu Bakr uncovered his face, knelt down and kissed him, then started weeping and proclaimed, "My father and my mother be sacrificed for you! Allah will not combine two deaths on you. You have died the death, which was written for you."
Ibn `Abbas narrated that Abu Bakr then came out, while `Umar was addressing the people, and Abu Bakr told him to sit down but `Umar refused, and the people attended to Abu Bakr and left `Umar. Abu Bakr said, "To proceed; whoever among you worshipped Muhammad ﷺ, then Muhammad ﷺ is dead, but whoever worshipped Allah, Allah is alive and will never die. Allah said,
وَمَا مُحَمَّدٌ إِلاَّ رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِ الرُّسُلُ أَفإِيْن مَّاتَ أَوْ قُتِلَ انقَلَبْتُمْ عَلَى أَعْقَـبِكُمْ وَمَن يَنقَلِبْ عَلَى عَقِبَيْهِ فَلَن يَضُرَّ اللَّهَ شَيْئاً وَسَيَجْزِى اللَّهُ الشَّـكِرِينَ
(Muhammad is no more than a Messenger and indeed (many) Messengers have passed away before him. If he dies or is killed, will you then turn back on your heels And he who turns back on his heels, not the least harm will he do to Allah; and Allah will reward the grateful.)"
The narrator added, "By Allah, it was as if the people never knew that Allah had revealed this verse before until Abu Bakr recited it, and then whoever heard it, started reciting it." Sa`id bin Al-Musayyib said that `Umar said, "By Allah! When I heard Abu Bakr recite this Ayah, my feet could not hold me, and I fell to the ground."
Allah said,
وَمَا كَانَ لِنَفْسٍ أَنْ تَمُوتَ إِلاَّ بِإِذْنِ الله كِتَـباً مُّؤَجَّلاً
(And no person can ever die except by Allah's leave and at an appointed term.) 3:145 meaning, no one dies except by Allah's decision, after he has finished the term that Allah has destined for him. This is why Allah said,
كِتَـباً مُّؤَجَّلاً
(at an appointed term) which is similar to His statements,
وَمَا يُعَمَّرُ مِن مُّعَمَّرٍ وَلاَ يُنقَصُ مِنْ عُمُرِهِ إِلاَّ فِى كِتَـبٍ
(And no aged man is granted a length of life nor is a part cut off from his life, but it is in a Book) 35:11, and,
هُوَ الَّذِى خَلَقَكُمْ مِّن طِينٍ ثُمَّ قَضَى أَجَلاً وَأَجَلٌ مُّسمًّى عِندَهُ
(He it is Who has created you from clay, and then has decreed a (stated) term (for you to die). And there is with Him another determined term (for you to be resurrected)) 6:2.
This Ayah 3:145 encourages cowards to participate in battle; for doing so, or avoiding battle neither decreases, nor increases the life term. Ibn Abi Hatim narrated that, Habib bin Suhban said that a Muslim man, Hujr bin `Adi, said in a battle, "What prevents you from crossing this river (the Euphrates) to the enemy
وَمَا كَانَ لِنَفْسٍ أَنْ تَمُوتَ إِلاَّ بِإِذْنِ الله كِتَـباً مُّؤَجَّلاً
(And no person can ever die except by Allah's leave and at an appointed term)" He then crossed the river riding his horse, and when he did, the Muslims followed him. When the enemy saw them, they started shouting, "Diwan (Persian; crazy)," and they ran away.
Allah said next,
وَمَن يُرِدْ ثَوَابَ الدُّنْيَا نُؤْتِهِ مِنْهَا وَمَن يُرِدْ ثَوَابَ الاٌّخِرَةِ نُؤْتِهِ مِنْهَا
(And whoever desires a reward in the world, We shall give him of it; and whoever desires a reward in the Hereafter, We shall give him thereof).
Therefore, the Ayah proclaims, whoever works for the sake of this life, will only earn what Allah decides he will earn. However, he will not have a share in the Hereafter. Whoever works for the sake of the Hereafter, Allah will give him a share in the Hereafter, along with what He decides for him in this life. In similar statements, Allah said,
مَن كَانَ يُرِيدُ حَرْثَ الاٌّخِرَةِ نَزِدْ لَهُ فِى حَرْثِهِ وَمَن كَانَ يُرِيدُ حَرْثَ الدُّنْيَا نُؤْتِهِ مِنْهَا وَمَا لَهُ فِى الاٌّخِرَةِ مِن نَّصِيبٍ
(Whosoever desires (by his deeds) the reward of the Hereafter, We give him increase in his reward, and whosoever desires the reward of this world (by his deeds), We give him thereof (what is decreed for him), and he has no portion in the Hereafter.) 42:20, and,
مَّن كَانَ يُرِيدُ الْعَـجِلَةَ عَجَّلْنَا لَهُ فِيهَا مَا نَشَآءُ لِمَن نُّرِيدُ ثُمَّ جَعَلْنَا لَهُ جَهَنَّمَ يَصْلَـهَا مَذْمُومًا مَّدْحُورًا - وَمَنْ أَرَادَ الاٌّخِرَةَ وَسَعَى لَهَا سَعْيَهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَأُولَـئِكَ كَانَ سَعْيُهُم مَّشْكُورًا
(Whoever desires the quick-passing (transitory enjoyment of this world), We readily grant him what We will for whom We like. Then, afterwards, We have appointed for him Hell; he will burn therein disgraced and despised. And whoever desires the Hereafter and strives for it, with the necessary effort due for it while he is a believer, then such are the ones whose striving shall be appreciated) 17:18-19.
In this Ayah 3:145, Allah said,
وَسَنَجْزِى الشَّـكِرِينَ
(And We shall reward the grateful. ) meaning, We shall award them with Our favor and mercy in this life and the Hereafter, according to the degree of their appreciation of Allah and their good deeds.
Allah then comforts the believers because of what they suffered in Uhud,
وَكَأَيِّن مِّن نَّبِىٍّ قَاتَلَ مَعَهُ رِبِّيُّونَ كَثِيرٌ
(And many a Prophet fought and along with him many Ribbiyyun.)
It was said that this Ayah means that many Prophets and their companions were killed in earlier times, as is the view chosen by Ibn Jarir. It was also said that the Ayah means that many Prophets witnessed their companions' death before their eyes. However, Ibn Ishaq mentioned another explanation in his Sirah, saying that this Ayah means, "Many a Prophet was killed, and he had many companions whose resolve did not weaken after their Prophet died, and they did not become feeble in the face of the enemy. What they suffered in Jihad in Allah's cause and for the sake of their religion did not make them lose heart. This is patience,
وَاللَّهُ يُحِبُّ الصَّـبِرِينَ
(and Allah loves the patient.)" As-Suhayli agreed with this explanation and defended it vigorously. This view is supported by Allah saying;
مَعَهُ رِبِّيُّونَ كَثِيرٌ
(And along with him many Ribbiyyun).
In his book about the battles, Al-Amawi mentioned only this explanation for the Ayah. Sufyan Ath-Thawri reported that, Ibn Mas`ud said that,
رِبِّيُّونَ كَثِيرٌ
(many Ribbiyyun) means, thousands. Ibn `Abbas, Mujahid, Sa`id bin Jubayr, `Ikrimah, Al-Hasan, Qatadah, As-Suddi, Ar-Rabi` and `Ata' Al-Khurasani said that the word Ribbiyyun means, `large bands'. `Abdur-Razzaq narrated that Ma`mmar said that Al-Hasan said that,
رِبِّيُّونَ كَثِيرٌ
(many Ribbiyyun) means, many scholars. He also said that it means patient and pious scholars.
فَمَا وَهَنُواْ لِمَآ أَصَابَهُمْ فِى سَبِيلِ اللَّهِ وَمَا ضَعُفُواْ وَمَا اسْتَكَانُواْ
(But they never lost heart for that which befell them in Allah's way, nor did they weaken nor degrade themselves.)
Qatadah and Ar-Rabi` bin Anas said that,
وَمَا ضَعُفُواْ
(nor did they weaken), means, after their Prophet was killed.
وَمَا اسْتَكَانُواْ
(nor degrade themselves), by reverting from the true guidance and religion. Rather, they fought on the path that Allah's Prophet fought on until they met Allah. Ibn `Abbas said that,
وَمَا اسْتَكَانُواْ
(nor degrade themselves) means, nor became humiliated, while As-Suddi and Ibn Zayd said that it means, they did not give in to the enemy.
وَكَأَيِّن مِّن نَّبِىٍّ قَاتَلَ مَعَهُ رِبِّيُّونَ كَثِيرٌ فَمَا وَهَنُواْ لِمَآ أَصَابَهُمْ فِى سَبِيلِ اللَّهِ وَمَا ضَعُفُواْ وَمَا اسْتَكَانُواْ وَاللَّهُ يُحِبُّ الصَّـبِرِينَ - وَمَا كَانَ قَوْلَهُمْ إِلاَّ أَن قَالُواْ ربَّنَا اغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَإِسْرَافَنَا فِى أَمْرِنَا وَثَبِّتْ أَقْدَامَنَا وانصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَـفِرِينَ
(And Allah loves the patient. And they said nothing but: "Our Lord! Forgive us our sins and our transgressions, establish our feet firmly, and give us victory over the disbelieving folk.") 3:146-147, and this was the statement that they kept repeating. Therefore,
فَـْاتَـهُمُ اللَّهُ ثَوَابَ الدُّنْيَا
(So Allah gave them the reward of this world) victory, triumph and the good end,
وَحُسْنَ ثَوَابِ الاٌّخِرَةِ
(and the excellent reward of the Hereafter) added to the gains in this life,
وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ
(And Allah loves the good-doers).
رسول اللہ ﷺ کی وفات کا مغالطہٰ اور غزوہ احد میدان احد میں مسلمانوں کو شکست بھی ہوئی اور ان کے بعض قتل بھی کئے گئے۔ اس دن شیطان نے یہ بھی مشہور کردیا کہ محمد ﷺ بھی شہید ہوگئے اور ابن قمیہ کافر نے مشرکوں میں جا کر یہ خبر اڑا دی کہ میں حضور ﷺ کو قتل کر کے آیا ہوں اور دراصل وہ افواہ بےاصل تھی اور اس شخص کا یہ قول بھی غلط تھا۔ اس نے حضور ﷺ پر حملہ تو کیا تھا لیکن اس سے صرف آپ ﷺ کا چہرہ قدرے زخمی ہوگیا تھا اور کوئی بات نہ تھی اس غلط بات کی شہرت نے مسلمانوں کے دل چھوٹے کردیئے ان کے قدم اکھڑ گئے اور لڑائی سے بددل ہو کر بھاگ کھڑے ہوئے اسی بارے میں یہ آیت نازل ہوئی کہ اگلے انبیاء کی طرح یہ بھی ایک نبی ہیں ہوسکتا ہے کہ میدان میں قتل کردیئے جائیں لیکن کچھ اللہ کا دین نہیں جاتا رہے گا ایک روایت میں ہے کہ ایک مہاجر نے دیکھا کہ ایک انصاری جنگ احد میں زخموں سے چور زمین پر گرا پڑا ہے اور خاک و خون میں لوٹ رہا ہے اس سے کہا کہ آپ کو بھی معلوم ہے کہ حضور ﷺ قتل کردیئے گئے اس نے کہا اگر یہ صحیح ہے تو آپ ﷺ تو اپنا کام کر گئے، اب آپ ﷺ کے دین پر سے تم سب بھی قربان ہوجاؤ، اسی کے بارے میں یہ آیت اتری پھر فرمایا کہ حضور ﷺ کا قتل یا انتقال ایسی چیز نہیں کہ تم اللہ تعالیٰ کے دین سے پچھلے پاؤں پلٹ جاؤ اور ایسا کرنے والے اللہ کا کچھ نہ بگاڑیں گے، اللہ تعالیٰ انہی لوگوں کو جزائے خیر دے گا جو اس کی اطاعت پر جم جائیں اور اس کے دین کی مدد میں لگ جائیں اور اس کے رسول ﷺ کی تابعداری میں مضبوط ہوجائیں خواہ رسول ﷺ زندہ ہوں یا نہ ہوں، صحیح بخاری شریف میں ہے کہ حضور ﷺ کے انتقال کی خبر سن کر حضرت ابوبکر صدیق جلدی سے گھوڑے پر سوار ہو کر آئے مسجد میں تشریف لے گئے لوگوں کی حالت دیکھی بھالی اور بغیر کچھ کہے سنے حضرت عائشہ کے گھر پر آئے یہاںحضور ﷺ پر حبرہ کی چادر اوڑھا دی گئی تھی آپ نے چادر کا کونا چہرہ مبارک پر سے ہٹا کر بےساختہ بوسہ لے لیا اور روتے ہوئے فرمانے لگے میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، اللہ کی قسم اللہ تعالیٰ آپ ﷺ پر دو مرتبہ موت نہ لائے گا جو موت آپ پر لکھ دی گئی تھی وہ آپ کو آچکی۔ اس کے بعد آپ پھر مسجد میں آئے اور دیکھا کہ حضرت عمر خطبہ سنا رہے ہیں ان سے فرمایا کہ خاموش ہوجاؤ انہیں چپ کرا کر آپ نے لوگوں سے فرمایا کہ جو شخص محمد ﷺ کی عبادت کرتا تھا وہ جان لے کہ محمد ﷺ مرگئے اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا تھا وہ خوش رہے کہ اللہ تعالیٰ زندہ ہے اس پر موت نہیں آتی۔ پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی لوگوں کو ایسا معلوم ہونے لگا گویا یہ آیت اب اتری ہے پھر تو ہر شخص کی زبان پر یہ آیت چڑھ گئی اور لوگوں نے یقین کرلیا کہ آپ ﷺ فوت ہوگئے حضرت صدیق اکبر کی زبانی اس آیت کی تلاوت سن کر حضرت عمر کے تو گویا قدموں تلے سے زمین نکل گئی، انہیں بھی یقین ہوگیا کہ حضور ﷺ اس جہان فانی کو چھوڑ کر چل بسے، حضرت علی رسول اللہ ﷺ کی زندگی ہی میں فرماتے تھے کہ نہ ہم حضور ﷺ کی موت پر مرتد ہوں نہ آپ کی شہادت پر اللہ کی قسم اگر حضور ﷺ قتل کئے جائیں تو ہم بھی اس دین پر مرمٹیں جس پر پر شہید ہوئے اللہ کی قسم میں آپ کا بھائی ہوں آپ کا ولی ہوں آپ کا چچا زاد بھائی ہوں اور آپ کا وارث ہوں مجھ سے زیادہ حقدار آپ کا اور کون ہوگا۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ہر شخص اللہ تعالیٰ کے حکم سے اور اپنی مدت پوری کرکے ہی مرتا ہے جیسے اور جگہ ہے وما یعمر من معمر ولا ینقص من عمرہ الی فی کتاب نہ کوئی عمر دیا جاتا ہے نہ عمر گھٹائی جاتی ہے مگر سب کتاب اللہ میں موجود ہے اور جگہ ہے (هُوَ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ مِّنْ طِيْنٍ ثُمَّ قَضٰٓى اَجَلًا) 6۔ الانعام :2) " جس اللہ نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا قھر وقت پورا کیا اور اجل مقرر کی " اس آیت میں بزدل لوگوں کو شجاعت کی رغبت دلائی گئی ہے اور اللہ کی راہ کے جہاد کا شوق دلایا جارہا ہے اور بتایا جارہا ہے کہ جو انمردی کی وجہ سے کچھ عمر گھٹ نہیں جاتی اور پیچھے ہٹنے کی وجہ سے عمر بڑھ نہیں جاتی۔ موت تو اپنے وقت پر آکر ہی رہے گی خواہ شجاعت اور بہادری برتو خواہ نامردی اور بزدلی دکھاؤ۔ حجر بن عدی جب دشمنان دین کے مقابلے میں جاتے ہیں اور دریائے دجلہ بیچ میں آجاتا ہے اور لشکر اسلام ٹھٹھک کر کھڑا ہوجاتا ہے تو آپ اس آیت کی تلاوت کرکے فرماتے ہیں کہ کوئی بھی بےاجل نہیں مرتا آؤ اسی دجلہ میں گھوڑے ڈال دو ، یہ فرما کر آپ اپنا گھوڑا دریا میں ڈال دیتے ہیں آپ کی دیکھا دیکھی اور لوگ بھی اپنے گھوڑوں کو پانی میں ڈال دیتے ہیں۔ دشمن کا خون خشک ہوجاتا ہے اور اس پر ہیبت طاری ہوجاتی ہے۔ وہ کہنے لگتے ہیں کہ یہ تو دیوانے آدمی ہیں یہ تو پانی کی موجوں سے بھی نہیں ڈرتے بھاگو بھاگو چناچہ سب کے سب بھاگ کھڑے ہوئے۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ جس کا عمل صرف دنیا کیلئے ہو تو اس میں سے جتنا اس کے مقدر میں ہوتا ہے مل جاتا ہے لیکن آخرت میں وہ خالی ہاتھ رہ جاتا ہے اور جس کا مقصد آخرت طلبی ہو اسے آخرت تو ملتی ہی ہے لیکن دنیا میں بھی اپنے مقدر کا پالیتا ہے جیسے اور جگہ فرمایا من کان یرید حرث الاخرۃ الخ، آخرت کی کھیتی کے چاہنے والے کو ہم زیادتی کے ساتھ دیتے ہیں اور دنیا کی کھیتی کے چاہنے والے کو ہم گو دنیا دے دیں لیکن آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہیں اور جگہ ہے من کان یرید العاجلتہ جو شخص صرف دنیا طلب ہی ہو ہم ان میں سے جسے چاہیں جس قدر چاہیں دنیا دے دیتے ہیں پھر وہ جہنمی بن جاتا ہے اور ذلت و رسوائی کے ساتھ میں جاتا ہے اور جو آخرت کا خواہاں ہو اور کوشاں بھی ہو اور باایمان بھی ہو ان کی کوشش اللہ تعالیٰ کے ہاں مشکور ہے اسی لئے یہاں بھی فرمایا کہ ہم شکر گزاروں کو اچھا دبلہ دے دیتے ہیں پھر اللہ تعالیٰ احد کے مجاہدین کو خطاب کرتا ہوا فرماتا ہے کہ اس سے پہلے بھی بہت سے نبی اپنی جماعتوں کو ساتھ لے کر دشمنان دین سے لڑے بھڑے اور وہ تمہاری طرح اللہ کی راہ میں تکلیفیں بھی پہنچائے گئے لیکن پھر بھی مضبوط دل اور صابرو شاکر رہے نہ سست ہوئے نہ ہمت ہاری اور اس صبر کے بدلے انہوں نے اللہ کریم کی محبت مول لے لی، ایک یہ معنی بھی بیان کئے گئے ہیں کہ اے مجاہدین احد تم یہ سن کر حضور ﷺ شہید ہوئے کیوں ہمت ہار بیٹھے ؟ اور کفر کے مقابلے میں کیوں دب گئے ؟ حالانکہ تم سے اگلے لوگ اپنے انبیاء کی شہادت کو دیکھ کر بھی نہ دبے نہ پیچھے ہٹے بلکہ اور تیزی کے ساتھ لڑے، یہ اتنی بڑی مصیبت بھی ان کے قدم نہ ڈگمگا سکی اور کے دل چھوٹے نہ کرسکی پھر تم حضور ﷺ کی شہادت کی خبر سن کر اتنے بودے کیوں ہوگئے ربیون کے بہت سے معنی آتے ہیں مثلاً علماء ابرار متقی عابد زاہد تابع فرمان وغیرہ وغیرہ۔ پس قرآن کریم ان کی اس مصیبت کے وقت دعا کو نقل کرتا ہے پھر فرماتا ہے کہ انہیں دنیا کا ثواب نصرت و مدد ظفرو اقبال ملا اور آخرت کی بھلائی اور اچھائی بھی اسی کے ساتھ جمع ہوئی یہ محسن لوگ اللہ کے چہیتے بندے ہیں۔
148
View Single
فَـَٔاتَىٰهُمُ ٱللَّهُ ثَوَابَ ٱلدُّنۡيَا وَحُسۡنَ ثَوَابِ ٱلۡأٓخِرَةِۗ وَٱللَّهُ يُحِبُّ ٱلۡمُحۡسِنِينَ
So Allah gave them the reward of this world and the best of rewards in the Hereafter; and Allah loves the righteous.
پس اللہ نے انہیں دنیا کا بھی انعام عطا فرمایا اور آخرت کے بھی عمدہ اجر سے نوازا، اور اللہ (ان) نیکو کاروں سے پیار کرتا ہے (جو صرف اسی کو چاہتے ہیں)
Tafsir Ibn Kathir
The Rumor that the Prophet was Killed at Uhud
When Muslims suffered defeat in battle at Uhud and some of them were killed, Shaytan shouted, "Muhammad ﷺ has been killed." Ibn Qami'ah went back to the idolators and claimed, "I have killed Muhammad." Some Muslims believed this rumor and thought that the Messenger of Allah ﷺ had been killed, claiming that this could happen, for Allah narrated that this occurred to many Prophets before. Therefore, the Muslims' resolve was weakened and they did not actively participate in battle. This is why Allah sent down to His Messenger His statement,
وَمَا مُحَمَّدٌ إِلاَّ رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِ الرُّسُلُ
(Muhammad is no more than a Messenger, and indeed Messengers have passed away before him.) he is to deliver Allah's Message and may be killed in the process, just as what happened to many Prophets before. Ibn Abi Najih said that his father said that a man from the Muhajirin passed by an Ansari man who was bleeding (during Uhud) and said to him, "O fellow! Did you know that Muhammad ﷺ was killed" The Ansari man said, "Even if Muhammad ﷺ was killed, he has indeed conveyed the Message. Therefore, defend your religion." The Ayah,
وَمَا مُحَمَّدٌ إِلاَّ رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِ الرُّسُلُ
(Muhammad is no more than a Messenger, and indeed (many) Messengers have passed away before him), was revealed. This story was collected by Al-Hafiz Abu Bakr Al-Bayhaqi in Dala'il An-Nubuwwah.
Allah said next, while chastising those who became weak,
أَفإِيْن مَّاتَ أَوْ قُتِلَ انقَلَبْتُمْ عَلَى أَعْقَـبِكُمْ
(If he dies or is killed, will you then turn back on your heels), become disbelievers,
وَمَن يَنقَلِبْ عَلَى عَقِبَيْهِ فَلَن يَضُرَّ اللَّهَ شَيْئاً وَسَيَجْزِى اللَّهُ الشَّـكِرِينَ
(And he who turns back on his heels, not the least harm will he do to Allah; and Allah will give reward to those who are grateful), those who obeyed Allah, defended His religion and followed His Messenger whether he was alive or dead. The Sahih, Musnad and Sunan collections gathered various chains of narration stating that Abu Bakr recited this Ayah when the Messenger of Allah ﷺ died. Al-Bukhari recorded that `A'ishah said that Abu Bakr came riding his horse from his dwelling in As-Sunh. He dismounted, entered the Masjid and did not speak to anyone until he came to her in her room and went directly to the Prophet, who was covered with a marked blanket. Abu Bakr uncovered his face, knelt down and kissed him, then started weeping and proclaimed, "My father and my mother be sacrificed for you! Allah will not combine two deaths on you. You have died the death, which was written for you."
Ibn `Abbas narrated that Abu Bakr then came out, while `Umar was addressing the people, and Abu Bakr told him to sit down but `Umar refused, and the people attended to Abu Bakr and left `Umar. Abu Bakr said, "To proceed; whoever among you worshipped Muhammad ﷺ, then Muhammad ﷺ is dead, but whoever worshipped Allah, Allah is alive and will never die. Allah said,
وَمَا مُحَمَّدٌ إِلاَّ رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِ الرُّسُلُ أَفإِيْن مَّاتَ أَوْ قُتِلَ انقَلَبْتُمْ عَلَى أَعْقَـبِكُمْ وَمَن يَنقَلِبْ عَلَى عَقِبَيْهِ فَلَن يَضُرَّ اللَّهَ شَيْئاً وَسَيَجْزِى اللَّهُ الشَّـكِرِينَ
(Muhammad is no more than a Messenger and indeed (many) Messengers have passed away before him. If he dies or is killed, will you then turn back on your heels And he who turns back on his heels, not the least harm will he do to Allah; and Allah will reward the grateful.)"
The narrator added, "By Allah, it was as if the people never knew that Allah had revealed this verse before until Abu Bakr recited it, and then whoever heard it, started reciting it." Sa`id bin Al-Musayyib said that `Umar said, "By Allah! When I heard Abu Bakr recite this Ayah, my feet could not hold me, and I fell to the ground."
Allah said,
وَمَا كَانَ لِنَفْسٍ أَنْ تَمُوتَ إِلاَّ بِإِذْنِ الله كِتَـباً مُّؤَجَّلاً
(And no person can ever die except by Allah's leave and at an appointed term.) 3:145 meaning, no one dies except by Allah's decision, after he has finished the term that Allah has destined for him. This is why Allah said,
كِتَـباً مُّؤَجَّلاً
(at an appointed term) which is similar to His statements,
وَمَا يُعَمَّرُ مِن مُّعَمَّرٍ وَلاَ يُنقَصُ مِنْ عُمُرِهِ إِلاَّ فِى كِتَـبٍ
(And no aged man is granted a length of life nor is a part cut off from his life, but it is in a Book) 35:11, and,
هُوَ الَّذِى خَلَقَكُمْ مِّن طِينٍ ثُمَّ قَضَى أَجَلاً وَأَجَلٌ مُّسمًّى عِندَهُ
(He it is Who has created you from clay, and then has decreed a (stated) term (for you to die). And there is with Him another determined term (for you to be resurrected)) 6:2.
This Ayah 3:145 encourages cowards to participate in battle; for doing so, or avoiding battle neither decreases, nor increases the life term. Ibn Abi Hatim narrated that, Habib bin Suhban said that a Muslim man, Hujr bin `Adi, said in a battle, "What prevents you from crossing this river (the Euphrates) to the enemy
وَمَا كَانَ لِنَفْسٍ أَنْ تَمُوتَ إِلاَّ بِإِذْنِ الله كِتَـباً مُّؤَجَّلاً
(And no person can ever die except by Allah's leave and at an appointed term)" He then crossed the river riding his horse, and when he did, the Muslims followed him. When the enemy saw them, they started shouting, "Diwan (Persian; crazy)," and they ran away.
Allah said next,
وَمَن يُرِدْ ثَوَابَ الدُّنْيَا نُؤْتِهِ مِنْهَا وَمَن يُرِدْ ثَوَابَ الاٌّخِرَةِ نُؤْتِهِ مِنْهَا
(And whoever desires a reward in the world, We shall give him of it; and whoever desires a reward in the Hereafter, We shall give him thereof).
Therefore, the Ayah proclaims, whoever works for the sake of this life, will only earn what Allah decides he will earn. However, he will not have a share in the Hereafter. Whoever works for the sake of the Hereafter, Allah will give him a share in the Hereafter, along with what He decides for him in this life. In similar statements, Allah said,
مَن كَانَ يُرِيدُ حَرْثَ الاٌّخِرَةِ نَزِدْ لَهُ فِى حَرْثِهِ وَمَن كَانَ يُرِيدُ حَرْثَ الدُّنْيَا نُؤْتِهِ مِنْهَا وَمَا لَهُ فِى الاٌّخِرَةِ مِن نَّصِيبٍ
(Whosoever desires (by his deeds) the reward of the Hereafter, We give him increase in his reward, and whosoever desires the reward of this world (by his deeds), We give him thereof (what is decreed for him), and he has no portion in the Hereafter.) 42:20, and,
مَّن كَانَ يُرِيدُ الْعَـجِلَةَ عَجَّلْنَا لَهُ فِيهَا مَا نَشَآءُ لِمَن نُّرِيدُ ثُمَّ جَعَلْنَا لَهُ جَهَنَّمَ يَصْلَـهَا مَذْمُومًا مَّدْحُورًا - وَمَنْ أَرَادَ الاٌّخِرَةَ وَسَعَى لَهَا سَعْيَهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَأُولَـئِكَ كَانَ سَعْيُهُم مَّشْكُورًا
(Whoever desires the quick-passing (transitory enjoyment of this world), We readily grant him what We will for whom We like. Then, afterwards, We have appointed for him Hell; he will burn therein disgraced and despised. And whoever desires the Hereafter and strives for it, with the necessary effort due for it while he is a believer, then such are the ones whose striving shall be appreciated) 17:18-19.
In this Ayah 3:145, Allah said,
وَسَنَجْزِى الشَّـكِرِينَ
(And We shall reward the grateful. ) meaning, We shall award them with Our favor and mercy in this life and the Hereafter, according to the degree of their appreciation of Allah and their good deeds.
Allah then comforts the believers because of what they suffered in Uhud,
وَكَأَيِّن مِّن نَّبِىٍّ قَاتَلَ مَعَهُ رِبِّيُّونَ كَثِيرٌ
(And many a Prophet fought and along with him many Ribbiyyun.)
It was said that this Ayah means that many Prophets and their companions were killed in earlier times, as is the view chosen by Ibn Jarir. It was also said that the Ayah means that many Prophets witnessed their companions' death before their eyes. However, Ibn Ishaq mentioned another explanation in his Sirah, saying that this Ayah means, "Many a Prophet was killed, and he had many companions whose resolve did not weaken after their Prophet died, and they did not become feeble in the face of the enemy. What they suffered in Jihad in Allah's cause and for the sake of their religion did not make them lose heart. This is patience,
وَاللَّهُ يُحِبُّ الصَّـبِرِينَ
(and Allah loves the patient.)" As-Suhayli agreed with this explanation and defended it vigorously. This view is supported by Allah saying;
مَعَهُ رِبِّيُّونَ كَثِيرٌ
(And along with him many Ribbiyyun).
In his book about the battles, Al-Amawi mentioned only this explanation for the Ayah. Sufyan Ath-Thawri reported that, Ibn Mas`ud said that,
رِبِّيُّونَ كَثِيرٌ
(many Ribbiyyun) means, thousands. Ibn `Abbas, Mujahid, Sa`id bin Jubayr, `Ikrimah, Al-Hasan, Qatadah, As-Suddi, Ar-Rabi` and `Ata' Al-Khurasani said that the word Ribbiyyun means, `large bands'. `Abdur-Razzaq narrated that Ma`mmar said that Al-Hasan said that,
رِبِّيُّونَ كَثِيرٌ
(many Ribbiyyun) means, many scholars. He also said that it means patient and pious scholars.
فَمَا وَهَنُواْ لِمَآ أَصَابَهُمْ فِى سَبِيلِ اللَّهِ وَمَا ضَعُفُواْ وَمَا اسْتَكَانُواْ
(But they never lost heart for that which befell them in Allah's way, nor did they weaken nor degrade themselves.)
Qatadah and Ar-Rabi` bin Anas said that,
وَمَا ضَعُفُواْ
(nor did they weaken), means, after their Prophet was killed.
وَمَا اسْتَكَانُواْ
(nor degrade themselves), by reverting from the true guidance and religion. Rather, they fought on the path that Allah's Prophet fought on until they met Allah. Ibn `Abbas said that,
وَمَا اسْتَكَانُواْ
(nor degrade themselves) means, nor became humiliated, while As-Suddi and Ibn Zayd said that it means, they did not give in to the enemy.
وَكَأَيِّن مِّن نَّبِىٍّ قَاتَلَ مَعَهُ رِبِّيُّونَ كَثِيرٌ فَمَا وَهَنُواْ لِمَآ أَصَابَهُمْ فِى سَبِيلِ اللَّهِ وَمَا ضَعُفُواْ وَمَا اسْتَكَانُواْ وَاللَّهُ يُحِبُّ الصَّـبِرِينَ - وَمَا كَانَ قَوْلَهُمْ إِلاَّ أَن قَالُواْ ربَّنَا اغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَإِسْرَافَنَا فِى أَمْرِنَا وَثَبِّتْ أَقْدَامَنَا وانصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَـفِرِينَ
(And Allah loves the patient. And they said nothing but: "Our Lord! Forgive us our sins and our transgressions, establish our feet firmly, and give us victory over the disbelieving folk.") 3:146-147, and this was the statement that they kept repeating. Therefore,
فَـْاتَـهُمُ اللَّهُ ثَوَابَ الدُّنْيَا
(So Allah gave them the reward of this world) victory, triumph and the good end,
وَحُسْنَ ثَوَابِ الاٌّخِرَةِ
(and the excellent reward of the Hereafter) added to the gains in this life,
وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ
(And Allah loves the good-doers).
رسول اللہ ﷺ کی وفات کا مغالطہٰ اور غزوہ احد میدان احد میں مسلمانوں کو شکست بھی ہوئی اور ان کے بعض قتل بھی کئے گئے۔ اس دن شیطان نے یہ بھی مشہور کردیا کہ محمد ﷺ بھی شہید ہوگئے اور ابن قمیہ کافر نے مشرکوں میں جا کر یہ خبر اڑا دی کہ میں حضور ﷺ کو قتل کر کے آیا ہوں اور دراصل وہ افواہ بےاصل تھی اور اس شخص کا یہ قول بھی غلط تھا۔ اس نے حضور ﷺ پر حملہ تو کیا تھا لیکن اس سے صرف آپ ﷺ کا چہرہ قدرے زخمی ہوگیا تھا اور کوئی بات نہ تھی اس غلط بات کی شہرت نے مسلمانوں کے دل چھوٹے کردیئے ان کے قدم اکھڑ گئے اور لڑائی سے بددل ہو کر بھاگ کھڑے ہوئے اسی بارے میں یہ آیت نازل ہوئی کہ اگلے انبیاء کی طرح یہ بھی ایک نبی ہیں ہوسکتا ہے کہ میدان میں قتل کردیئے جائیں لیکن کچھ اللہ کا دین نہیں جاتا رہے گا ایک روایت میں ہے کہ ایک مہاجر نے دیکھا کہ ایک انصاری جنگ احد میں زخموں سے چور زمین پر گرا پڑا ہے اور خاک و خون میں لوٹ رہا ہے اس سے کہا کہ آپ کو بھی معلوم ہے کہ حضور ﷺ قتل کردیئے گئے اس نے کہا اگر یہ صحیح ہے تو آپ ﷺ تو اپنا کام کر گئے، اب آپ ﷺ کے دین پر سے تم سب بھی قربان ہوجاؤ، اسی کے بارے میں یہ آیت اتری پھر فرمایا کہ حضور ﷺ کا قتل یا انتقال ایسی چیز نہیں کہ تم اللہ تعالیٰ کے دین سے پچھلے پاؤں پلٹ جاؤ اور ایسا کرنے والے اللہ کا کچھ نہ بگاڑیں گے، اللہ تعالیٰ انہی لوگوں کو جزائے خیر دے گا جو اس کی اطاعت پر جم جائیں اور اس کے دین کی مدد میں لگ جائیں اور اس کے رسول ﷺ کی تابعداری میں مضبوط ہوجائیں خواہ رسول ﷺ زندہ ہوں یا نہ ہوں، صحیح بخاری شریف میں ہے کہ حضور ﷺ کے انتقال کی خبر سن کر حضرت ابوبکر صدیق جلدی سے گھوڑے پر سوار ہو کر آئے مسجد میں تشریف لے گئے لوگوں کی حالت دیکھی بھالی اور بغیر کچھ کہے سنے حضرت عائشہ کے گھر پر آئے یہاںحضور ﷺ پر حبرہ کی چادر اوڑھا دی گئی تھی آپ نے چادر کا کونا چہرہ مبارک پر سے ہٹا کر بےساختہ بوسہ لے لیا اور روتے ہوئے فرمانے لگے میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، اللہ کی قسم اللہ تعالیٰ آپ ﷺ پر دو مرتبہ موت نہ لائے گا جو موت آپ پر لکھ دی گئی تھی وہ آپ کو آچکی۔ اس کے بعد آپ پھر مسجد میں آئے اور دیکھا کہ حضرت عمر خطبہ سنا رہے ہیں ان سے فرمایا کہ خاموش ہوجاؤ انہیں چپ کرا کر آپ نے لوگوں سے فرمایا کہ جو شخص محمد ﷺ کی عبادت کرتا تھا وہ جان لے کہ محمد ﷺ مرگئے اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا تھا وہ خوش رہے کہ اللہ تعالیٰ زندہ ہے اس پر موت نہیں آتی۔ پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی لوگوں کو ایسا معلوم ہونے لگا گویا یہ آیت اب اتری ہے پھر تو ہر شخص کی زبان پر یہ آیت چڑھ گئی اور لوگوں نے یقین کرلیا کہ آپ ﷺ فوت ہوگئے حضرت صدیق اکبر کی زبانی اس آیت کی تلاوت سن کر حضرت عمر کے تو گویا قدموں تلے سے زمین نکل گئی، انہیں بھی یقین ہوگیا کہ حضور ﷺ اس جہان فانی کو چھوڑ کر چل بسے، حضرت علی رسول اللہ ﷺ کی زندگی ہی میں فرماتے تھے کہ نہ ہم حضور ﷺ کی موت پر مرتد ہوں نہ آپ کی شہادت پر اللہ کی قسم اگر حضور ﷺ قتل کئے جائیں تو ہم بھی اس دین پر مرمٹیں جس پر پر شہید ہوئے اللہ کی قسم میں آپ کا بھائی ہوں آپ کا ولی ہوں آپ کا چچا زاد بھائی ہوں اور آپ کا وارث ہوں مجھ سے زیادہ حقدار آپ کا اور کون ہوگا۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ہر شخص اللہ تعالیٰ کے حکم سے اور اپنی مدت پوری کرکے ہی مرتا ہے جیسے اور جگہ ہے وما یعمر من معمر ولا ینقص من عمرہ الی فی کتاب نہ کوئی عمر دیا جاتا ہے نہ عمر گھٹائی جاتی ہے مگر سب کتاب اللہ میں موجود ہے اور جگہ ہے (هُوَ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ مِّنْ طِيْنٍ ثُمَّ قَضٰٓى اَجَلًا) 6۔ الانعام :2) " جس اللہ نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا قھر وقت پورا کیا اور اجل مقرر کی " اس آیت میں بزدل لوگوں کو شجاعت کی رغبت دلائی گئی ہے اور اللہ کی راہ کے جہاد کا شوق دلایا جارہا ہے اور بتایا جارہا ہے کہ جو انمردی کی وجہ سے کچھ عمر گھٹ نہیں جاتی اور پیچھے ہٹنے کی وجہ سے عمر بڑھ نہیں جاتی۔ موت تو اپنے وقت پر آکر ہی رہے گی خواہ شجاعت اور بہادری برتو خواہ نامردی اور بزدلی دکھاؤ۔ حجر بن عدی جب دشمنان دین کے مقابلے میں جاتے ہیں اور دریائے دجلہ بیچ میں آجاتا ہے اور لشکر اسلام ٹھٹھک کر کھڑا ہوجاتا ہے تو آپ اس آیت کی تلاوت کرکے فرماتے ہیں کہ کوئی بھی بےاجل نہیں مرتا آؤ اسی دجلہ میں گھوڑے ڈال دو ، یہ فرما کر آپ اپنا گھوڑا دریا میں ڈال دیتے ہیں آپ کی دیکھا دیکھی اور لوگ بھی اپنے گھوڑوں کو پانی میں ڈال دیتے ہیں۔ دشمن کا خون خشک ہوجاتا ہے اور اس پر ہیبت طاری ہوجاتی ہے۔ وہ کہنے لگتے ہیں کہ یہ تو دیوانے آدمی ہیں یہ تو پانی کی موجوں سے بھی نہیں ڈرتے بھاگو بھاگو چناچہ سب کے سب بھاگ کھڑے ہوئے۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ جس کا عمل صرف دنیا کیلئے ہو تو اس میں سے جتنا اس کے مقدر میں ہوتا ہے مل جاتا ہے لیکن آخرت میں وہ خالی ہاتھ رہ جاتا ہے اور جس کا مقصد آخرت طلبی ہو اسے آخرت تو ملتی ہی ہے لیکن دنیا میں بھی اپنے مقدر کا پالیتا ہے جیسے اور جگہ فرمایا من کان یرید حرث الاخرۃ الخ، آخرت کی کھیتی کے چاہنے والے کو ہم زیادتی کے ساتھ دیتے ہیں اور دنیا کی کھیتی کے چاہنے والے کو ہم گو دنیا دے دیں لیکن آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہیں اور جگہ ہے من کان یرید العاجلتہ جو شخص صرف دنیا طلب ہی ہو ہم ان میں سے جسے چاہیں جس قدر چاہیں دنیا دے دیتے ہیں پھر وہ جہنمی بن جاتا ہے اور ذلت و رسوائی کے ساتھ میں جاتا ہے اور جو آخرت کا خواہاں ہو اور کوشاں بھی ہو اور باایمان بھی ہو ان کی کوشش اللہ تعالیٰ کے ہاں مشکور ہے اسی لئے یہاں بھی فرمایا کہ ہم شکر گزاروں کو اچھا دبلہ دے دیتے ہیں پھر اللہ تعالیٰ احد کے مجاہدین کو خطاب کرتا ہوا فرماتا ہے کہ اس سے پہلے بھی بہت سے نبی اپنی جماعتوں کو ساتھ لے کر دشمنان دین سے لڑے بھڑے اور وہ تمہاری طرح اللہ کی راہ میں تکلیفیں بھی پہنچائے گئے لیکن پھر بھی مضبوط دل اور صابرو شاکر رہے نہ سست ہوئے نہ ہمت ہاری اور اس صبر کے بدلے انہوں نے اللہ کریم کی محبت مول لے لی، ایک یہ معنی بھی بیان کئے گئے ہیں کہ اے مجاہدین احد تم یہ سن کر حضور ﷺ شہید ہوئے کیوں ہمت ہار بیٹھے ؟ اور کفر کے مقابلے میں کیوں دب گئے ؟ حالانکہ تم سے اگلے لوگ اپنے انبیاء کی شہادت کو دیکھ کر بھی نہ دبے نہ پیچھے ہٹے بلکہ اور تیزی کے ساتھ لڑے، یہ اتنی بڑی مصیبت بھی ان کے قدم نہ ڈگمگا سکی اور کے دل چھوٹے نہ کرسکی پھر تم حضور ﷺ کی شہادت کی خبر سن کر اتنے بودے کیوں ہوگئے ربیون کے بہت سے معنی آتے ہیں مثلاً علماء ابرار متقی عابد زاہد تابع فرمان وغیرہ وغیرہ۔ پس قرآن کریم ان کی اس مصیبت کے وقت دعا کو نقل کرتا ہے پھر فرماتا ہے کہ انہیں دنیا کا ثواب نصرت و مدد ظفرو اقبال ملا اور آخرت کی بھلائی اور اچھائی بھی اسی کے ساتھ جمع ہوئی یہ محسن لوگ اللہ کے چہیتے بندے ہیں۔
149
View Single
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ إِن تُطِيعُواْ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ يَرُدُّوكُمۡ عَلَىٰٓ أَعۡقَٰبِكُمۡ فَتَنقَلِبُواْ خَٰسِرِينَ
O People who Believe! If you obey the disbelievers, they will make you turn back on your heels, so you will then turn back as losers.
اے ایمان والو! اگر تم نے کافروں کا کہا مانا تو وہ تمہیں الٹے پاؤں (کفر کی جانب) پھیر دیں گے پھر تم نقصان اٹھاتے ہوئے پلٹو گے
Tafsir Ibn Kathir
The Prohibition of Obeying the Disbelievers; the Cause of Defeat at Uhud
Allah warns His believing servants against obeying the disbelievers and hypocrites, because such obedience leads to utter destruction in this life and the Hereafter. This is why Allah said,
إِن تُطِيعُواْ الَّذِينَ كَفَرُواْ يَرُدُّوكُمْ عَلَى أَعْقَـبِكُمْ فَتَنقَلِبُواْ خَـسِرِينَ
(If you obey those who disbelieve, they will send you back on your heels, and you will turn back (from faith) as losers) 3:149.
Allah also commands the believers to obey Him, take Him as their protector, seek His aid and trust in Him. Allah said,
بَلِ اللَّهُ مَوْلَـكُمْ وَهُوَ خَيْرُ النَّـصِرِينَ
(Nay, Allah is your protector, and He is the best of helpers).
Allah next conveys the good news that He will put fear of the Muslims, and feelings of subordination to the Muslims in the hearts of their disbelieving enemies, because of their Kufr and Shirk. And Allah has prepared torment and punishment for them in the Hereafter. Allah said,
سَنُلْقِى فِى قُلُوبِ الَّذِينَ كَفَرُواْ الرُّعْبَ بِمَآ أَشْرَكُواْ بِاللَّهِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِهِ سُلْطَـناً وَمَأْوَاهُمُ النَّارُ وَبِئْسَ مَثْوَى الظَّـلِمِينَ
(We shall cast terror into the hearts of those who disbelieve, because they joined others in worship with Allah, for which He sent no authority; their abode will be the Fire and how evil is the abode of the wrongdoers). In addition, the Two Sahihs recorded that Jabir bin `Abdullah said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«أُعْطِيتُ خَمْسًا لَمْ يُعْطَهُنَّ أَحَدٌ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ قَبْلِي: نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ مَسِيرَةَ شَهْرٍ، وَجُعِلَتْ لِيَ الْأَرْضُ مَسْجِدًا وَطَهُورًا، وَأُحِلَّتْ لِيَ الْغَنَائِمُ، وَأُعْطِيتُ الشَّفَاعَةَ، وَكَانَ النَّبِيُّ يُبْعَثُ إِلى قَوْمِهِ خَاصَّةً وَبُعِثْتُ إِلى النَّاسِ عَامَّة»
(I was given five things that no other Prophet before me was given. I was aided with fear the distance of one month, the earth was made a Masjid and clean place for me, I was allowed war booty, I was given the Intercession, and Prophets used to be sent to their people, but I was sent to all mankind particularly.)
Allah said,
وَلَقَدْ صَدَقَكُمُ اللَّهُ وَعْدَهُ
(And Allah did indeed fulfill His promise to you) 3:152,
in the beginning of the day of Uhud,
إِذْ تَحُسُّونَهُمْ
(when you were killing them), slaying your enemies,
بِإِذْنِهِ
(with His permission), for He allowed you to do that against them,
حَتَّى إِذَا فَشِلْتُمْ
(until when you Fashiltum). Ibn Jurayj said that Ibn `Abbas said that Fashiltum means, `lost courage'.
وَتَنَـزَعْتُمْ فِى الاٌّمْرِ وَعَصَيْتُمْ
(and fell to disputing about the order, and disobeyed) such as the mistake made by the archers,
مِّن بَعْدِ مَآ أَرَاكُمْ مَّا تُحِبُّونَ
(after He showed you what you love), that is, victory over the disbelievers,
مِنكُم مَّن يُرِيدُ الدُّنْيَا
(Among you are some that desire this world) referring to those who sought to collect the booty when they saw the enemy being defeated,
وَمِنكُم مَّن يُرِيدُ الاٌّخِرَةَ ثُمَّ صَرَفَكُمْ عَنْهُمْ لِيَبْتَلِيَكُمْ
(and some that desire the Hereafter. Then He made you flee from them, that He might test you).
This Ayah means, Allah gave them the upper hand to try and test you, O believers,
وَلَقَدْ عَفَا عَنْكُمْ
(but surely, He forgave you),
He forgave the error you committed, because, and Allah knows best, the idolators were many and well supplied, while Muslims had few men and few supplies.
Al-Bukhari recorded that Al-Bara' said, "We met the idolators on that day (Uhud) and the Prophet appointed `Abdullah bin Jubayr as the commander of the archers. He instructed them, `Retain your position, and if you see that we have defeated them, do not abandon your positions. If you see that they defeated us, do not rush to help us.' The disbelievers gave flight when we met them, and we saw their women fleeing up the mountain while lifting up their clothes revealing their anklets and their legs. So, the companions (of `Abdullah bin Jubayr) said, `The booty, the booty!' `Abdullah bin Jubayr said, `Allah's Messenger ﷺ commanded me not to allow you to abandon your position.' They refused to listen, and when they left their position, Muslims were defeated and seventy of them were killed. Abu Sufyan shouted, `Is Muhammad present among these people' The Prophet said, `Do not answer him.' Then he asked, `Is the son of Abu Quhafah (Abu Bakr) present among these people' The Prophet said, `Do not answer him.' He asked again, `Is the son of Al-Khattab (`Umar) present among these people As for these (men), they have been killed, for had they been alive, they would have answered me.' `Umar could not control himself and said (to Abu Sufyan), `You lie, O enemy of Allah! The cause of your misery is still present.' Abu Sufyan said, `O Hubal, be high!' On that the Prophet said (to his Companions), `Answer him back.' They said, `What shall we say' He said, `Say, Allah is Higher and more Sublime.' Abu Sufyan said, `We have the (idol) Al-`Uzza, and you have no `Uzza.' The Prophet said, `Answer him back.' They asked, `What shall we say' He said, `Say, Allah is our protector and you have no protector.' Abu Sufyan said, `Our victory today is vengeance for yours in the battle of Badr, and in war (the victory) is always undecided and is shared in turns by the belligerents. You will find some of your killed men mutilated, but I did not urge my men to do so, yet I do not feel sorry for their deed."' Only Al-Bukhari collected this Hadith using this chain of narration. cMuhammad bin Ishaq said that, `Abdullah bin Az-Zubayr narrated that Az-Zubayr bin Al-`Awwam said, "By Allah! I saw the female servants and female companions of Hind (Abu Sufyan's wife) when they uncovered their legs and gave flight. At that time, there was no big or small effort separating us from capturing them. However, the archers went down the mount when the enemy gave flight from the battlefield, seeking to collect the booty. They uncovered our back lines to the horsemen of the disbelievers, who took the chance and attacked us from behind. Then a person shouted, `Muhammad has been killed.' So we pulled back, and the disbelievers followed us, after we had killed those who carried their flag, and none of them dared to come close the flag, until then."' Muhammad bin Ishaq said next, "The flag of the disbelievers was left on the ground until `Amrah bint `Alqamah Al-Harithiyyah picked it up and gave it to the Quraysh who held it."
Allah said,
ثُمَّ صَرَفَكُمْ عَنْهُمْ لِيَبْتَلِيَكُمْ
(Then He made you flee from them, that He might test you) 3:152.
Al-Bukhari recorded that Anas bin Malik said, "My uncle Anas bin An-Nadr was absent from the battle of Badr. He said, `I was absent from the first battle the Prophet fought (against the pagans). (By Allah) if Allah gives me a chance to fight along with the Messenger of Allah ﷺ, then Allah will see how (bravely) I will fight.' On the day of Uhud when the Muslims turned their backs and fled, he said, `O Allah! I apologize to You for what these (meaning the Muslims) have done, and I denounce what these pagans have done.' Then he advanced lifting his sword, and when Sa`d bin Mu`adh met him, he said to him, `O Sa`d bin Mu`adh! Where are you! Paradise! I am smelling its aroma coming from before (Mount) Uhud,' and he went forth, fought and was killed. We found more than eighty stab wounds, sword blows or arrow holes on his body, which was mutilated so badly that none except his sister could recognize him, and she could only do so by his fingers or by a mole." This is the narration reported by Al-Bukhari, Muslim also collected a similar narration from Thabit from Anas.
The Defeat that the Muslims Suffered During the Battle of Uhud
Allah said,
إِذْ تُصْعِدُونَ وَلاَ تَلْوُونَ عَلَى أحَدٍ
((And remember) when you (Tus`iduna) ran away dreadfully without casting even a side glance at anyone), and Allah made the disbelievers leave you after you went up the mount, escaping your enemy. Al-Hasan and Qatadah said that, Tus`iduna, means, `go up the mountain'.
وَلاَ تَلْوُونَ عَلَى أحَدٍ
(without even casting a side glance at anyone) meaning, you did not glance at anyone else due to shock, fear and fright.
وَالرَّسُولُ يَدْعُوكُمْ فِى أُخْرَاكُمْ
(and the Messenger was in your rear calling you back), for you left him behind you, while he was calling you to stop fleeing from the enemy and to return and fight.
As-Suddi said, "When the disbelievers attacked Muslim lines during the battle of Uhud and defeated them, some Muslims ran away to Al-Madinah, while some of them went up Mount Uhud, to a rock and stood on it. On that, the Messenger of Allah ﷺ kept heralding, `Come to me, O servants of Allah! Come to me, O servants of Allah!' Allah mentioned that the Muslims went up the Mount and that the Prophet called them to come back, and said,
إِذْ تُصْعِدُونَ وَلاَ تَلْوُونَ عَلَى أحَدٍ وَالرَّسُولُ يَدْعُوكُمْ فِى أُخْرَاكُمْ
((And remember) when you ran away without even casting a side glance at anyone, and the Messenger was in your rear calling you back)." Similar was said by Ibn `Abbas, Qatadah, Ar-Rabi` and Ibn Zayd.
The Ansar and Muhajirin Defended the Messenger
Al-Bukhari recorded that Qays bin Abi Hazim said, "I saw Talhah's hand, it was paralyzed, because he shielded the Prophet with it." meaning on the day of Uhud. It is recorded in the Two Sahihs that Abu `Uthman An-Nahdi said, "On that day (Uhud) during which the Prophet fought, only Talhah bin `Ubaydullah and Sa`d remained with the Prophet."
Sa`id bin Al-Musayyib said, "I heard Sa`d bin Abi Waqqas saying, `The Messenger of Allah ﷺ gave me arrows from his quiver on the day of Uhud and said, `Shoot, may I sacrifice my father and mother for you."' Al-Bukhari also collected this Hadith. The Two Sahihs recorded that Sa`d bin Abi Waqqas said, "On the day of Uhud, I saw two men wearing white clothes, one to the right of the Prophet and one to his left, who were defending the Prophet fiercely. I have never seen these men before or after that day." Meaning angels Jibril and Mika'il, peace be upon them.
Abu Al-Aswad said that, `Urwah bin Az-Zubayr said, "Ubayy bin Khalaf of Bani Jumah swore in Makkah that he would kill the Messenger of Allah ﷺ. When the Messenger was told of his vow, he said, `Rather, I shall kill him, Allah willing.' On the day of Uhud, Ubayy came while wearing iron shields and proclaiming, `May I not be saved, if Muhammad is saved.' He then headed to the direction of the Messenger of Allah ﷺ intending to kill him, but Mus`ab bin `Umayr, from Bani Abd Ad-Dar, intercepted him and shielded the Prophet with his body, and Mus`ab bin `Umayr was killed. The Messenger of Allah ﷺ saw Ubayy's neck exposed between the shields and helmet, stabbed him with his spear, and Ubayy fell from his horse to the ground. However, no blood spilled from his wound. His people came and carried him away while he was moaning like an ox. They said to him, `Why are you so anxious, it is only a flesh wound' Ubayy mentioned to them the Prophet's vow, `Rather, I shall kill Ubayy', then commented, `By He in Whose Hand is my soul! If what hit me hits the people of Dhul-Majaz (a popular pre-Islamic marketplace), they would all have perished.' He then died and went to the Fire,
فَسُحْقًا لاًّصْحَـبِ السَّعِيرِ
(So, away with the dwellers of the blazing Fire!) 67:11."
This was collected by Musa bin `Uqbah from Az-Zuhri from Sa`id bin Al-Musayyib.
It is recorded in the Two Sahih that when he was asked about the injuries the Messenger sustained in Uhud, Sahl bin Sa`d said, "The face of Allah's Messenger ﷺ was injured, his front tooth was broken and his helmet was smashed on his head. Therefore, Fatimah, the daughter of Allah's Messenger washed off the blood while `Ali was pouring water on her hand. When Fatimah saw that the bleeding increased more by the water, she took a mat, burnt it, and placed the ashes in the wound of the Prophet and the blood stopped oozing out." Allah said next,
فَأَثَـبَكُمْ غَمّاً بِغَمٍّ
(There did Allah give you one distress after another) 3:153,
He gave you grief over your grief. Ibn `Abbas said, `The first grief was because of the defeat, especially when it was rumored that Muhammad was killed. The second grief was when the idolators went up the mount and The Messenger of Allah ﷺ said, `O Allah! It is not for them to rise above us."'
`Abdur-Rahman bin `Awf said, "The first distress was because of the defeat and the second when a rumor started that Muhammad was killed, which to them, was worse than defeat." Ibn Marduwyah recorded both of these. Mujahid and Qatadah said, "The first distress was when they heard that Muhammad was killed and the second when they suffered casualties and injury." It has also been reported that Qatadah and Ar-Rabi` bin Anas said that it was the opposite order. As-Suddi said that the first distress was because of the victory and booty that they missed and the second because of the enemy rising above them (on the mount). Allah said,
لِّكَيْلاَ تَحْزَنُواْ عَلَى مَا فَاتَكُمْ
(by way of requital to teach you not to grieve for that which had escaped you), for that you missed the booty and triumph over your enemy.
وَلاَ مَآ أَصَـبَكُمْ
(nor for what struck you), of injury and fatalities, as Ibn `Abbas, `Abdur-Rahman bin `Awf, Al-Hasan, Qatadah and As-Suddi stated. Allah said next,
وَاللَّهُ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ
(And Allah is Well-Aware of all that you do.) all praise is due to Him, and thanks, there is no deity worthy of worship except Him, the Most High, Most Honored.
کافر اور منافقوں کے ارادے اور غزوہ احد کا پھر اندوہناک تذکرہ اللہ تعالیٰ اپنے ایماندار بندوں کو کافروں اور منافقوں کی باتوں کے ماننے سے روک رہا ہے اور بتارہا ہے کہ اگر ان کی مانی تو دنیا اور آخرت کی ذلت تم پر آئے گی انکی چاہت تو یہی ہے کہ تمہیں دین اسلام سے ہٹا دیں پھر فرماتا ہے مجھ ہی کو اپنا والی اور مددگار جانو مجھی سے دوستی کرو مجھی پر بھروسہ کرو مجھی سے مدد چاہو پھر فرمایا کہ ان شریروں کے دلوں میں ان کے کفر کے سبب ڈر خوف ڈال دوں گا، بخاری مسلم میں حضرت جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مجھے پانچ باتیں دی گئیں ہیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئیں میری مدد مہینہ بھر کی راہ تک رعب سے کی گئی ہے میرے لئے زمین مسجد اور اس کی مٹی وضو کی پاک چیز بنائی گئی، میرے لئے غنیمت کے مال حلال کئے گئے اور مجھے شفاعت دی گئی اور ہر نبی اپنی اپنی قوم کی طرف سے مخصوص بھیجا جاتا تھا اور میری بعثت میری نبوت تمام دنیا کیلئے عام ہوئی، مسند احمد میں ہے آپ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے تمام نبیوں پر اور بعض روایتوں میں ہے تمام امتوں پر مجھے چار فضیلتیں عطا فرمائی ہیں، مجھے تمام دنیا کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا، میرے اور میری امت کیلئے تمام زمین مسجد اور پاک بنائی گئی، میرے امتی کو جہاں نماز کا وقت آجائے وہیں اس کی مسجد اور اس کا وضو ہے، میرا دشمن مجھ سے مہینہ بھر کی راہ پر ہو وہیں سے اللہ تعالیٰ اس کا دل رعب سے پُر کردیتا ہے اور وہ کانپنے لگتا ہے اور میرے لئے غنیمت کے مال حلال کئے گئے اور روایت میں ہے کہ میں مدد کیا گیا ہوں میرے رعب سے ہر دشمن پر، مسند کی ایک اور حدیث میں ہے مجھے پانچ چیزیں دی گئیں میں ہر سرخ وسفید کی طرف بھیجا گیا میرے لئے تمام زمین وضو اور مسجد بنائی گی۔ میرے لئے غنیمتوں کے مال حلال کئے گئے جو میرے پہلے کسی کے حلال نہ تھے اور میری مدد مہینہ بھر کی راہ تک رعب سے کی گئی اور مجھے شفاعت دی گئی تمام انبیاء نے شفاعت مانگ لی لیکن میں نے اپنی شفاعت کو اپنی امت کے لوگوں کیلئے جنہوں نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا ہو بچار کھی ہے، حضرت ابن عباس فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے ابو سفیان کے دل میں رعب ڈال دیا اور وہ لڑائی سے لوٹ گیا پھر ارشاد ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا وعدہ سچا کر دکھایا اور تمہاری مدد کی اس سے بھی یہ استدلال ہوسکتا ہے کہ یہ وعدہ احد کے دن کا تھا تین ہزار دشمن کا لشکر تھا تاہم مقابلہ پر آتے ہی ان کے قدم اکھڑ گئے اور مسلمانوں کو فتح حاصل ہوئی لیکن پھر تیر اندازوں کی نافرمانی کی وجہ سے اور بعض حضرات کی پست ہمتی کی بناء پر وہ وعدہ جو مشروط تھا رک گیا پس فرماتا ہے کہ تم انہیں اپنے ہاتھوں سے کاٹتے تھے۔ شروع دن میں ہی اللہ نے تمہیں ان پر غالب کردیا لیکن تم نے پھر بزدلی دکھائی اور نبی کی نافرمانی کی ان کی بتائی ہوئی جگہ سے ہٹ گئے اور آپس میں اختلاف کرنے لگے حالانکہ اللہ عزوجل نے تمہیں تمہاری پسند کی چیز فتح دکھا دی تھی یعنی مسلمان صاف طور پر غالب آگئے تھے مال غنیمت آنکھوں کے سامنے موجود تھا کفار پیٹھ پھیر کر بھاگ کھڑے ہوئے تھے تم میں سے بعض نے دنیا طلبی کی اور کفار کی ہزیمت کو دیکھ کر نبی ﷺ کے فرمان کا خیال نہ کر کے مال غنیمت کی طرف لپکے گو بعض اور نیک آخرت طلب بھی تھے لیکن اس نافرمانی وغیرہ کی بنا پر کفار کی پھر بن آئی اور ایک مرتبہ تمہاری پوری آزمائش ہوگئی غالب ہو کر مغلوب ہوگئے فتح کے بعد شکست ہوگئی لیکن پھر بھی اللہ تعالیٰ نے تمہارے اس جرم کو معاف فرما دیا کیونکہ وہ جانتا ہے کہ بظاہر تم ان سے تعداد میں اور اسباب میں کم تھے خطا کا معاف ہونا بھی عفاعنکم میں داخل ہے اور یہ بھی مطلب ہے کہ کچھ یونہی سی گوشمالی کر کے کچھ بزرگوں کی شہادت کے بعد اس نے اپنی آزمائش کو اٹھا لیا اور باقی والوں کو معاف فرما دیا، اللہ تعالیٰ باایمان لوگوں پر فضل و کرم لطف و رحم ہی کرتا ہے، حضرت عبداللہ بن عباس سے مروی ہے کہ حضور ﷺ کی مدد جیسی احد میں ہوئی ہے کہیں نہیں ہوئی اسی کے بارے میں ارشاد باری ہے کہ اللہ نے تم سے اپنا وعدہ سچا کر دکھایا لیکن پھر تمہارے کرتوتوں سے معاملہ برعکس ہوگیا، بعض لوگوں نے دنیا طلبی کر کے رسول ﷺ کی نافرمانی کی یعنی بعض تیر اندوزوں نے جنہیں حضور ﷺ نے پہاڑ کے درے پر کھڑا کیا تھا اور فرما دیا تھا کہ تم یہاں سے دشمنوں کی نگہبانی کرو وہ تمہاری پیٹھ کی طرف سے نہ آجائیں، اگر تم ہار دیکھو بھی اپنی جگہ سے نہ ہٹنا اور اگر تم ہر طرح غالب آگئے تو بھی تم غنیمت جمع کرنے کیلئے بھی اپنی جگہ کو نہ چھوڑنا، جب حضور ﷺ غالب آگئے تو تیر اندوزوں نے حکم عدولی کی اور وہ اپنی جگہ کو چھوڑ کر مسلمانوں میں آملے اور مال غنیمت جمع کرنا شروع کردیا صفوں کا کوئی خیال نہ رہا درے کو خالی پا کر مشرکوں نے بھاگنا بند کیا اور غور و فکر کر کے اس جگہ حملہ کردیا، چند مسلمانوں کی پیٹھ کے پیچھے سے ان کی بیخبر ی میں اس زور کا حملہ کیا کہ مسلمانوں کے قدم نہ جم سکے اور شروع دن کی فتح اب شکست سے بدل گئی اور یہ مشہور ہوگیا کہ حضور ﷺ بھی شہید ہوگئے اور لڑائی کے رنگ نے مسلمانوں کو اس بات کا یقین بھی دلا دیا، تھوڑی دیر بعد جبکہ مسلمانوں کی نظریں چہرہ مبارک پر پڑیں تو وہ اپنی سب کوفت اور ساری مصیبت بھول گئے اور خوشی کے مارے حضور ﷺ کی طرف لپکے آپ ادھر آرہے تھے اور فرماتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کا سخت غضب نازل ہو ان لوگوں پر جنہوں نے اللہ کے رسول ﷺ کے چہرے کو خون آلودہ کردیا، انہیں کوئی حق نہ تھا کہ اس طرح ہم پر غالب رہ جائیں، تھوڑی دیر میں ہم نے سنا کہ ابو سفیان پہاڑ کے نیچے کھڑا ہوا کہہ رہا تھا اعل ہبل اعل ھبل ہبل بت کا بول بالا ہو ابوبکر کہاں ہے ؟ عمر کہاں ہے ؟ حضرت عمر نے پوچھا حضور ﷺ اسے جواب دوں ؟ آپ ﷺ نے اجازت دی تو حضرت عمر فاروق نے اس کے جواب میں فرمایا اللہ اعلی واجل اللہ اعلی واجل اللہ بہت بلند ہے اور جلال و عزت والا ہے اللہ بہت بلند اور جلال و عزت والا ہے، وہ پوچھنے لگا بتاؤ محمد ﷺ کہاں ہیں ؟ ابوبکر کہاں ہیں ؟ عمر کہاں ہیں ؟ آپ نے فرمایا یہ ہیں رسول اللہ ﷺ اور یہ ہیں حضرت ابوبکر اور یہ ہوں میں عمر فاروق ابو سفیان کہنے لگا یہ بدر کا بدلہ ہے یونہی دھوپ چھاؤں الٹتی پلٹتی رہتی ہے، لڑائی کی مثال کنویں کے ڈول کی سی ہے، حضرت عمر نے فرمایا برابری کا معاملہ ہرگز نہیں تمہارے مقتول تو جہنم میں گئے اور ہمارے شہید جنت میں پہنچے، ابو سفیان کہنے لگا اگر یونہی ہو تو یقینا ہم نقصان اور گھاٹے میں رہے، سنو تمہارے مقتولین میں بعض ناک کان کٹے لوگ بھی تم پاؤ گے گویہ ہمارے سرداروں کی رائے سے نہیں ہوا لیکن ہمیں کچھ برا بھی نہیں معلوم ہوا، یہ حدیث غریب ہے اور یہ قصہ بھی عجیب ہے، یہ ابن عباس کی مرسلات سے ہے اور وہ یا ان کے والد جنگ احد میں موجود نہ تھے، مستدرک حاکم میں بھی یہ روایت موجود ہے ابن ابی حاتم اور بیہقی فی دلائل النبوۃ میں بھی یہ مروی ہے اور صحیح احادیث میں اس کے بعض حصوں کے شواہد بھی ہیں کہ احد والے دن عورتیں مسلمانوں کے پیچھے تھیں جو زخمیوں کی دیکھ بھال کرتی تھیں تو پوری طرح یقین تھا کہ آج کے دن ہم میں کوئی ایک بھی طالب دنیا نہیں بلکہ اس وقت اگر مجھے اس بات پر قسم کھلوائی جاتی تو کھا لیتا لیکن قرآن میں یہ آیت اتری (منکم من یرید الدنیا) یعنی تم میں سے بعض طالب دنیا بھی ہیں، جب صحابہ سے حضور ﷺ کے حکم کے خلاف آپ کی نافرمانی سرزد ہوئی تو انکے قدم اکھڑ گئے حضور ﷺ کے ساتھ صرف سات انصاری اور دو مہاجر باقی رہ گئے جب مشرکین نے حضور ﷺ کو گھیر لیا تو آپ فرمانے لگے اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم کرے جو انہیں ہٹائے تو ایک انصار اٹھ کھڑے ہوئے اور اسجم غفیر کے مقابل تن تنہا داد شجاعت دینے لگے یہاں تک کہ شہید ہوگئے پھر کفار نے حملہ کیا آپ نے یہی فرمایا ایک انصاری تیار ہوگئے اور اس بےجگری سے لڑے کہ انہیں آگے نہ بڑھنے دیا لیکن بالآخر یہ بھی شہید ہوگئے یہاں تک کہ ساتوں صحابہ اللہ کے ہاں پہنچ گئے اللہ ان سے خوش ہو، حضور ﷺ نے مہاجرین سے فرمایا افسوس ہم نے اپنے ساتھیوں سے منصفانہ معاملہ نہ کیا، اب ابو سفیان نے ہانک لگائی کہ اعل ہبل آپ نے فرمایا کہو اللہ اعلی واجل ابو سفیان نے کہا (لنا العزی ولا عزی لکم) ہمارا عزی بت ہے تمہاری کوئی عزی نہیں، آپ نے فرمایا کہو اللہ مولانا والکافرون لا مولی لھم اللہ ہمارا مولی ہے اور کافروں کا کوئی مولی نہیں، ابو سفیان کہنے لگا آج کے دن بدر کے دن کا بدلہ ہے کوئی دن ہمارا اور کوئی دن تمہارا، یہ تو ہاتھوں ہاتھ کا سودا ہے، ایک کے بدلے ایک ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا ہرگز برابری نہیں ہمارے شہداء زندہ ہیں وہاں رزق دے جاتے ہیں اور تمہارے مقتول جہنم میں عذاب کئے جا رہے ہیں پھر ابو سفیان بولا تمہارے مقتول میں تم دیکھو گے کہ بعض کے کان ناک وغیرہ کاٹ لئے گئے ہیں لیکن میں نے نہ یہ کہا نہ اسے روکا نہ اسے میں نے پسند کیا نہ مجھے یہ بھلا معلوم ہوا نہ برا، اب جو دیکھا تو معلوم ہوا کہ حضرت حمزہ کا پیٹ چاک کردیا گیا تھا اور ہندہ نے انکا کلیجہ لے کر چبایا تھا لیکن نگل نہ سکی تو اگل دیا،حضور ﷺ نے فرمایا ناممکن تھا کہ اس کے پیٹ میں حمزہ کا ذرا سا گوشت بھی چلا جائے اللہ تعالیٰ حمزہ کے کسی عضو بدن کو جہنم میں لے جانا نہیں چاہتا چناچہ حمزہ کے جنازے کو اپنے سامنے رکھ کر نماز جنازہ ادا کی پھر ایک انصاری کا جنازہ لایا گیا وہ حضرت حمزہ کے پہلو میں رکھا گیا اور آپ نے پھر نماز جنازہ پڑھی انصاری کا جنازہ اٹھا لیا گیا لیکن حضرت حمزہ کا جنازہ وہیں رہا اسی طرح ستر شخص لائے گئے اور حضرت حمزہ کی ستر دفعہ جنازے کی نماز پڑھی گئی (مسند) صحیح بخاری شریف میں حضرت براء سے مروی ہے کہ احد والے دن مشرکوں سے ہماری مڈبھیڑ ہوئی حضور ﷺ نے تیر اندازوں کی ایک جماعت کو الگ جما دیا اور انکا سردار حضرت عبداللہ بن جیبر کو بنایا اور فرما دیا کہ اگر تم ہمیں ان پر غالب آیا ہوا دیکھو تو بھی یہاں سے نہ ہٹنا اور وہ ہم پر غالب آجائیں تو بھی تم اپنی جگہ نہ چھوڑنا، لڑائی شروع ہوتے ہی اللہ کے فضل سے مشرکوں کے قدم پیچھے ہٹنے لگے یہاں تک کہ عورتیں بھی تہبند اونچا کر کر کے پہاڑوں میں ادھر دوڑنے لگیں، اب تیر انداز گروہ غنیمت غنیمت کہتا ہوا نیچے اتر آیا، ان کے امیر نے انہیں ہرچند سمجھایا لیکن کسی نے ان کی نہ سنی، بس اب مشرکین مسلمانوں کی پیٹھ کی طرف سے آن پڑے اور ستر بزرگ شہید ہوگئے ابو سفیان ایک ٹیلے پر چڑھ کر کہنے لگا کیا محمد ﷺ حیات ہیں ؟ کیا ابوبکر موجود ہیں ؟ کیا عمر زندہ ہیں ؟ لیکن حضور ﷺ کے فرمان سے صحابہ خوش رہے تو وہ خوشی کے مارے اچھل پڑا اور کہنے لگا یہ سب ہماری تلواروں کے گھاٹ اتر گئے اگر زندہ ہوتے تو ضرور جواب دیتے ایک حضرت عمر کو تاب ضبط نہ رہی فرمانے لگے، اے اللہ کے دشمن تو جھوٹا ہے بحمد اللہ ہم سب موجود ہیں اور تیری تباہی اور بربادی کرنے والے زندہ ہیں، پھر وہ باتیں ہوئیں جو اوپر بیان ہوچکی ہیں، صحیح بخاری شریف میں حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ جنگ احد میں مشرکوں کو ہزیمت ہوئی اور ابلیس نے آواز لگائی اے اللہ کے بندو ! اپنے پیچھے کی خبر لو اگلی جماعتیں پچھلی جماعتوں پر ٹوٹ پڑیں، حضرت حذیفہ نے دیکھا کہ مسلمانوں کی تلواریں ان کے والد حضرت یمان ؓ پر برس رہی ہیں ہرچند کہتے رہے کہ اے اللہ کے بندو ! یہ میرے باپ یمان ہیں مگر کون سنتا تھا وہ یونہی شہید ہوگئے لیکن حضرت حذیفہ نے کچھ نہ کہا بلکہ فرمایا اللہ تمہیں معاف کرے، حضرت حذیفہ کی یہ بھلائی ان کے آخری دم تک ان میں رہی، سیرت ابن اسحاق میں ہے حضرت زبیر بن عوام فرماتے ہیں میں نے خود دیکھا کہ مشرک مسلمانوں کے اول حملہ میں ہی بھاگ کھڑے ہوئے یہاں تک کہ ان کی عورتیں ہندہ وغیرہ تہمد اٹھائے تیز تیز دوڑ رہی تھیں لیکن اس کے بعد جب تیر اندازوں نے مرکز چھوڑا اور کفار نے سمٹ کر پیچھے کی طرف سے ہم پر حملہ کردیا ادھر کسی نے آواز لگائی کہ حضور ﷺ شہید ہوگئے پھر معاملہ برعکس ہوگیا ورنہ ہم مشرکین کے علم برداروں تک پہنچ چکے تھے اور جھنڈا اس کے ہاتھ سے گرپڑا تھا لیکن عمرہ بن علقمہ حارثیہ عورت نے اسے تھام لیا اور قریش کا مجمع پھر یہاں جمع ہوگیا، حضرت انس بن مالک چچا حضرت انس بن نضر ؓ یہ رنگ دیکھ حضرت عمر حضرت طلحہ وغیرہ کے پاس آتے ہی اور فرماتے ہیں تم نے کیوں ہمتیں چھوڑ دیں ؟ وہ جواب دیتے ہیں کہ حضور ﷺ تو شہید ہوگئے۔ حضرت انس نے فرمایا پھر تم جی کر کیا کرو گے ؟ یہ کہا اور مشرکین میں گھسے پھر لڑتے رہے یہاں تک کہ اللہ رب العزت سے جا ملے ؓ ، یہ بدر والے دن جہاد میں نہیں پہنچ سکے تھے تو عہد کیا تھا کہ آئندہ اگر کوئی موقعہ آیا تو میں دکھا دوں گا چناچہ اس جنگ میں وہ موجود تھے جب مسلمانوں میں کھلبلی مچی تو انہوں نے کہا الہ میں مسلمانوں کے اس کام سے معذور ہوں اور مشرکوں کے اس کام سے بری ہوں پھر اپنی تلوار لے کر آگے بڑھ گئے راہ میں حضرت سعد بن معاذ سے ملے اور کہنے لگے کہاں جا رہے ہو ؟ مجھے تو جنت کی خوشبو کی لپٹیں احد پہاڑ سے چلی آرہی ہیں چناچہ مشرکوں میں گھس گئے اور بڑی بےجگری سے لڑے یہاں تک کہ شہادت حاصل کی اسی سے زیادہ تیرو تلوار کے زخم بدن پر آئے تھے پہچانے نہ جاتے تھے انگلی کو دیکھ کر پہچانے گئے ؓ ، صحیح بخاری شریف میں ہے کہ ایک حاجی نے بیت اللہ شریف میں ایک مجلس دیکھ کر پوچھا کہ یہ کون لوگ ہیں ؟ لوگوں نے کہا قریشی ہیں پوچھا ان کے شیخ کون ہیں ؟ جواب ملا حضرت عبداللہ بن عمر ؓ ہیں، اب وہ آیا اور کہنے لگا میں کچھ دریافت کرنا چاہتا ہوں حضرت عبداللہ نے فرمایا پوچھو اس نے کہا آپ کو اس بیت اللہ کی حرمت کی قسم کیا آپ کو علم ہے کہ (حضرت) عثمان بن عفان احد والے دن بھاگ گئے تھے ؟ آپ نے جواب دیا ہاں۔ کہا کیا آپ کو معلوم ہے کہ وہ بدر والے دن بھی حاضر نہیں ہوئے تھے ؟ فرمایا ہاں، کہا کیا آپ جانتے ہیں کہ وہ بیعت الرضوان میں بھی شریک نہیں ہوئے تھے ؟ فرمایا یہ بھی ٹھیک ہے، اب اس نے (خوش ہوکر) تکبیر کہی، حضرت عبداللہ نے فرمایا ادھر آ، اب میں تجھے پورے واقعات سناؤں، احد کے دن کا بھاگنا تو اللہ تعالیٰ نے معاف فرما دیا، بدر کے دن کی غیر حاضری کے باعث یہ ہوا کہ آپ کے گھر میں رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادی تھیں اور وہ اس وقت سخت بیمار تھیں تو خود حضور ﷺ نے ان سے فرمایا تھا کہ تم نہ آؤ مدینہ میں ہی رہو تمہیں اللہ تعالیٰ اس جنگ میں حاضر ہونے کا اجر دے گا اور غنیمت میں بھی تمہارا حصہ ہے، بیعت الرضوان کا واقعہ یہ ہے کہ انہیں رسول اللہ ﷺ نے مکہ والوں کے پاس اپنا پیغام دے کر حضرت عثمان کو بھیجا تھا اس لئے کہ مکہ میں جو عزت انہیں حاصل تھی کسی اور کو اتنی نہ تھی انکے تشریف لے جانے کے بعد یہ بیعت لی گئی تو رسول اللہ ﷺ نے اپنا داہنا ہاتھ کھڑا کر کے کہا یہ عثمان کا ہاتھ ہے پھر اپنے دوسرے ہاتھ پر رکھا (گویا بیعت کی) پھر اس شخص سے کہا اب جاؤ اور اسے ساتھ لے جاؤ پھر فرمایا آیت (او تصعدون) الخ یعنی تم اپنے دشمن سے بھاگ کر پہاڑ چڑھ رہے تھے اور مارے خوف و دہشت کے دوسری جانب توجہ بھی نہیں کرتے تھے رسول ﷺ کو بھی تم نے وہیں چھوڑ دیا تھا وہ تمہیں آوازیں دے رہے تھے اور سمجھا رہے تھے کہ بھاگو نہیں لوٹ آؤ، حضرت سدی فرماتے ہیں مشرکین کے اس خفیہ اور پر زور اور اچانک حملہ سے مسلمانوں کے قدم اکھڑ گئے کچھ تو مدینہ کی طرف لوٹ آئے کچھ پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ گئے اللہ کے نبی آوازیں دیتے رہے کہ اللہ کے بندوں میری طرف آؤ اللہ کے بندو میری طرف آؤ، اس واقعہ کا بیان اس آیت میں ہے، عبداللہ بن زحری شاعر نے اس واقعہ کو نظم میں بھی ادا کیا ہے، آنحضرت ﷺ اس وقت صرف بارہ آدمیوں کے ساتھ رہ گئے تھے مسند احمد کی ایک طویل حدیث میں بھی ان تمام واقعات کا ذکر ہے، دلائل النبوۃ میں ہے کہ جب ہزیمت ہوئی تب حضور ﷺ کے ساتھ صرف گیارہ شخص رہ گئے اور ایک حضرت طلحہ بن عبید اللہ تھے، آپ پہاڑ پر چڑھنے لگے لیکن مشرکین نے آگھیرا آپ نے اپنے ساتھیوں یک طرف متوجہ ہو کر فرمایا کوئی ہے جو ان سے مقابلہ کرے، حضرت طلحہ نے اس آواز پر فوراً لبیک کہا اور تیار ہوگئے لیکن آپ نے فرمایا تم ابھی ٹھہر جاؤ اب ایک انصاری تیار ہوئے اور وہ ان سے لڑنے لگے یہاں تک کہ شہید ہوئے اسی طرح سب کے سب ایک ایک کر کے شہید ہوگئے اور اب صرف حضرت طلحہ رہ گئے گویہ بزرگ ہر مرتبہ تیار ہوجاتے تھے لیکن حضور ﷺ انہیں روک لیا کرتے تھے آخر یہ مقابلہ پر آئے اور اس طرح جم کر لڑے کہ ان سب کی لڑائی ایک طرف اور یہ ایک طرف اس لڑائی میں ان کی انگلیاں کٹ گئیں تو زبان سے حس نکل گیا آپ نے فرمایا اگر تم بسم اللہ کہہ دیتے یا اللہ کا نام لیتے تو تمہیں فرشتے اٹھا لیتے اور آسمان کی بلندی کی طرف لے چڑھتے اور لوگ دیکھتے رہتے اب نبی ﷺ اپنے صحابہ کے مجمع میں پہنچ چکے تھیں۔ صحیح بخاری شریف میں ہے حضرت قیس بن حازم فرماتے ہیں میں نے دیکھا حضرت طلحہ کا وہ ہاتھ جسے انہوں نے ڈھال بنایا تھا شل ہوگیا تھا، حضعرت سعد بن ابی وقاص فرماتے ہیں میرے پاس حضور ﷺ نے اپنی ترکش سے احد والے دن تمام تیر پھیلا دئیے اور فرمایا تجھ پر میرے ماں باپ فدا ہوں لے مشرکین کو مار آپ اٹھا اٹھا کردیتے جاتے تھے اور میں تاک تاک کر مشرکین کو مارتا جاتا تھا اس دن میں نے دو شخصوں کو دیکھا کہ حضور ﷺ کے دائیں بائیں تھے اور سخت ترین جنگ کر رہے تھے میں نے نہ تو اس سے پہلے کبھی انہیں دیکھا تھا نہ اس کے بعد یہ دونوں حضرت جبرائیل اور حضرت میکائیل (علیہما السلام) تھے ایک اور روایت میں ہے کہ جو بزرگ حضور ﷺ کے ساتھ بھگدڑ کے بعد تھے اور ایک ایک ہو کر شہید ہوئے تھے انہیں آپ فرماتے جاتے تھے کہ کوئی ہے جو انہیں رو کے اور جنت میں جائے میرا رفیق ہے، ابی بن خلف نے مکہ میں قسم کھائی تھی کہ میں رسول اللہ ﷺ کو قتل کروں گا، جب حضور ﷺ کو اس کا علم ہوا تو آپ نے فرمایا وہ تو نہیں بلکہ میں انشاء اللہ اسے قتل کروں گا احد والے دن یہ خبیث سرتاپا لوہے میں غرق زرہ بکتر لگائے ہوئے حضور ﷺ کی طرف بڑھا اور یہ کہتا آتا تھا کہ اگر محمد ﷺ بچ گئے تو میں اپنے تئیں ہلاک کر ڈالوں گا ادھر سے حضرت مصعب بن عمیر اس ناہنجار کی طرف بڑھے لیکن آپ شہید ہوگئے اب حضور ﷺ اس کی طرف بڑھے اس کا سارا جسم لوہے میں چھپا ہوا تھا صرف ذرا سی پیشانی نظر آرہی تھی آپ نے اپنا نیزہ تاک کر وہیں لگایا جو ٹھیک نشانے پر بیٹھا اور یہ تیورا کر گھوڑے پر سے گرا گو اس زخم سے خون بھی نہ نکلا تھا لیکن اس کی یہ حالت تھی کہ بلبلا رہا تھا لوگوں نے اسے اٹھا لیا لشکر میں لے گئے اور تشفی دینے لگے کہ ایسا کوئی کاری زخم نہیں لگا کیوں اس قدر نامردی کرتا ہے آخر ان کے طعنوں سے مجبور ہو کر اس نے کہا میں نے سنا ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا ہے میں ابی کو قتل کروں گا سچ مانو اب میں کبھی نہیں بچ سکتا تم اس پر نہ جاؤ کہ مجھے ذرا سی خراش ہی آئی ہے اللہ کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے اگر کل اہل ذی المجاز کو اتنا زخم اس ہاتھ سے لگ جاتا تو سب ہلاک ہوجاتے پس یونہی تڑپتے تڑپتے اور بلکتے بلکتے اس جہنمی کی ہلاکت ہوئی اور مر کر جہنم رسید ہوا، مغازی محمد بن اسحاق میں ہے کہ جب یہ شخص حضور ﷺ کے سامنے ہوا تو صحابہ نے اس کے مقابلہ کی خواہش کی لیکن آپ نے انہیں روک دیا اور فرمایا اسے آنے دو جب وہ قریب آگیا تو آپ نے حضرت حارث بن صمہ سے نیزہ لے کر اس پر حملہ کیا حضور ﷺ کے ہاتھ میں نیزہ دیکھتے ہی وہ کانپ اٹھا ہم نے اسی وقت سمجھ لیا کہ اس کی خیر نہیں آپ نے اس کی گردن پر وار کیا اور وہ لڑکھڑا کر گھوڑے پر سے گرا، حضرت ابن عمر کا دہشت ناک شعلے اٹھتے ہوئے دیکھے اور دیکھا کہ ایک شخص کو زنجیروں میں جکڑے ہوئے اس آگ میں گھسیٹا جا رہا ہے اور وہ پیاس پیاس کر رہا ہے اور دوسرا شخص کہتا ہے اسے پانی نہ دینا یہ پیغمبر کے ہاتھ کا مارا ہوا ہے یہ ابی بن خلف ہے، بخاری و مسلم کی ایک حدیث میں ہے آپ اپنے سامنے کے چار دانتوں کی طرف جنہیں مشرکین نے احد والے دن شہید کیا تھا اشارہ کر کے فرما رہے تھے اللہ کا سخت تر غضب ان لوگوں پر ہے جنہوں نے اپنے نبی ﷺ کے ساتھ یہ کیا اور اس پر بھی اللہ تعالیٰ کا غضب ہے جسے اللہ کا رسول اللہ ﷺ کی راہ میں قتل کرے اور روایت میں یہ لفظ ہیں کہ جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے رسول ﷺ کا چہرہ زخمی کیا، عتبہ بن ابی وقاص کے ہاتھ سے حضور ﷺ کو یہ زخم لگا تھا سامنے کے چار دانٹ ٹوٹ گئے تھے، رخسار پر زخم آیا تھا اور ہونٹ پر بھی، حضرت سعد بن ابی وقاص فرمایا کرتے تھے مجھے جس قدر اس شخص کی حرص تھی کسی اور کے قتل کی نہ تھی۔ یہ شخص بڑا بد خلق تھا اور ساری قوم سے اس کی دشمنی تھی اس کی برائی میں حضور ﷺ کا یہ فرمان کافی ہے کہ نبی ﷺ کو زخمی ہونے والے پر اللہ سخت غضبناک ہے، عبدالرزاق میں ہے حضور ﷺ نے اس کیلئے بد دعا کی کہ اے اللہ سال بھر میں یہ ہلاک ہوجائے اور کفر پر اس کی موت ہو چناچہ یہی ہوا اور یہ بدبخت کافر مرا اور جہنم واصل ہوا۔ ایک مہاجر کا بیان ہے کہ چاروں طرف سے احد والے دن حضور ﷺ پر تیروں کی بارش ہو رہی تھی لیکن اللہ کی قدرت سے وہ سب پھیر دیئے جاتے تھے، عبداللہ بن شہاب زہری نے اس دن قسم کھا کر کہا کہ مجھے محمد ﷺ کو دکھا دو وہ آج میرے ہاتھ سے بچ نہیں سکتا اگر وہ نجات پا گیا تو میری نجات نہیں اب وہ حضور ﷺ کی طرف سے لپکا اور بالکل آپ کے پاس آگیا اس وقت حضور ﷺ کے ساتھ کوئی نہ تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا اسے حضور ﷺ نظر ہی نہ آئے جب وہ نامراد پلٹا تو صفوان نے اسے طعنہ زنی کی اس نے کہا اللہ تعالیٰ کی طرف سے محفوظ ہیں ہمارے ہاتھ نہیں لگنے کے سنو ! ہم چار شخصوں نے ان کے قتل کا پختہ مشورہ کیا تھا اور آپس میں عہدو پیمان کئے تھے ہم نے ہرچند چاہا لیکن کامیابی نہ ہوئی واقدی کہتے ہیں لیکن ثابت شدہ بات یہ ہے کہ حضور ﷺ کی پیشانی کو زخمی کرنے والا ابن قمیہ اور ہونٹ اور دانتوں پر صدمہ پہچانے والا عتبہ بن ابی وقاص تھا۔ ام المومنین حضرت عائشہ کا بیان ہے کہ میرے والد حضرت ابوبکر جب احد کا ذکر فرماتے تو صاف کہتے کہ اس دن کی تمام تر فضلیت کا سہرا حضرت طلحہ کے سر ہے میں جب لوٹ کر آیا تو میں نے دیکھا کہ ایک شخص حضور ﷺ کی حمایت میں جان ٹکائے لڑ رہا ہے میں نے کہا اللہ کرے یہ طلحہ ہو اب جو قریب آ کر دیکھا تو طلحہ ہی تھے ؓ میں نے کہا الحمد اللہ میری ہی قوم کا ایک شخص ہے میرے اور مشرکوں کے درمیان ایک شخص تھا جو مشرکین میں کھڑا ہوا تھا لیکن اسکے بےپناہ حملے مشرکوں کی ہمت توڑ رہے تھے غور سے دیکھا تو وہ حضرت عبیدہ بن جراح تھے، اب جو میں نے بغور حضور ﷺ کی طرف دیکھا تو آپ کے سامنے کے دانت ٹوٹ گئے ہیں چہرہ زخمی ہو رہا ہے اور پیشانی میں زرہ کی دو کڑیاں کھب گئی ہیں میں آپ کی طرف لپکا لیکن آپ نے فرمایا ابو طلحہ کی خبر لو میں نے چاہا کہ حضور ﷺ کے چہرے میں سے وہ دونوں کڑیاں نکالوں لیکن حضرت ابو عبیدہ نے مجھے قسم دے کر روک دیا اور خود قریب آئے اور ہاتھ سے نکالنے میں زیادہ تکلیف محسوس کر کے دانتوں سے پکڑ کر ایک کو نکال لیا لیکن اس میں ان کا دانت بھی ٹوٹ گیا میں نے اب پھر چاہا کہ دوسری میں نکال لوں لیکن حضرت ابو عبیدہ نے پھر قسم دی تو میں رک رہا انہوں نے پھر دوسری کڑی نکالی اب کی مرتبہ بھی ان کے دانت ٹوٹے اس سے فارغ ہو کر ہم حضرت طلحہ کی طرف متوجہ ہوئے ہم نے دیکھا کہ ستر سے زیادہ زخم انہیں لگ چکے ہیں انگلیاں کٹ گئی ہیں ہم نے پھر ان کی بھی خبر لی حضور ﷺ کے زخم کا خون حضرت ابو سعید خدری نے چوسا تاکہ خون تھم جائے پھر ان سے کہا گیا کہ کلی کر ڈالو لیکن انہوں نے کہا اللہ کی قسم میں کلی نہ کروں گا پھر میدان جنگ میں چلے گئے حضور ﷺ نے فرمایا اگر کوئی شخص جنتی شخص کو دیکھنا چاہتا ہو تو انہیں دیکھ لے چناچہ یہ اسی میدان میں شہید ہوئے، صحیح بخاری شریف میں ہے کہ حضور ﷺ کا چہرہ زخمی ہوا سامنے کے دانت ٹوٹے سر کا خود ٹوٹا، حضرت فاطمہ خون دھوتی تھیں اور حضرت علی ڈھال میں پانی لالا کر ڈالتے جاتے تھے جب دیکھا کہ خون کسی طرح تھمتا ہی نہیں تو حضرت فاطمہ نے بوریا جلا کر اس کا راکھ زخم پر رکھ دی جس سے خون بند ہوا۔ پھر فرماتا ہے، تمہیں غم پر غم پہنچا (بِغَمِّ) کا بامعنی میں علیٰ کے ہے جیسے آیت (فی جذوع النخل) میں فی معنی میں علیٰ کے ہے، ایک غم تو شکست کا تھا جبکہ یہ مشہور ہوگیا کہ (اللہ نہ کرے) حضور ﷺ کی جان پر بن آئی، دوسرا غم مشرکوں کو پہاڑ کے اوپر غالب آکر چڑھ جانے کا جبکہ حضور ﷺ فرماتے تھے یہ بلندی کے لائق نہ تھے، حضرت عبدالرحمن بن عوف فرماتے ہیں ایک غم شکست کا دوسرا غم حضور ﷺ کے قتل کی خبر کا اور یہ غم پہلے غم سے زیادہ تھا، اسی طرح یہ بھی ہے کہ ایک غم تو غنیمت کا ہاتھ میں آکر نکل جانے کا تھا دوسرا شکست ہونے کا اسی طرح ایک اپنے بھائیوں کے قتل کا غم دوسرا حضور ﷺ کی نسبت ایسی منحوس خبر کا غم۔ پھر فرماتا ہے جو غنیمت اور فتح مندی تمہارے ہاتھ سے گئی اور جو زخم و شہادت ملی اس پر غم نہ کھاؤ اللہ سبحانہ و تعالیٰ جو بلندی اور جلال والا ہے وہ تمہارے اعمال سے خبردار ہے۔
150
View Single
بَلِ ٱللَّهُ مَوۡلَىٰكُمۡۖ وَهُوَ خَيۡرُ ٱلنَّـٰصِرِينَ
In fact, Allah is your Master; and He is the Best Supporter.
بلکہ اللہ تمہارا مولیٰ ہے اور وہ سب سے بہتر مدد فرمانے والا ہے
Tafsir Ibn Kathir
The Prohibition of Obeying the Disbelievers; the Cause of Defeat at Uhud
Allah warns His believing servants against obeying the disbelievers and hypocrites, because such obedience leads to utter destruction in this life and the Hereafter. This is why Allah said,
إِن تُطِيعُواْ الَّذِينَ كَفَرُواْ يَرُدُّوكُمْ عَلَى أَعْقَـبِكُمْ فَتَنقَلِبُواْ خَـسِرِينَ
(If you obey those who disbelieve, they will send you back on your heels, and you will turn back (from faith) as losers) 3:149.
Allah also commands the believers to obey Him, take Him as their protector, seek His aid and trust in Him. Allah said,
بَلِ اللَّهُ مَوْلَـكُمْ وَهُوَ خَيْرُ النَّـصِرِينَ
(Nay, Allah is your protector, and He is the best of helpers).
Allah next conveys the good news that He will put fear of the Muslims, and feelings of subordination to the Muslims in the hearts of their disbelieving enemies, because of their Kufr and Shirk. And Allah has prepared torment and punishment for them in the Hereafter. Allah said,
سَنُلْقِى فِى قُلُوبِ الَّذِينَ كَفَرُواْ الرُّعْبَ بِمَآ أَشْرَكُواْ بِاللَّهِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِهِ سُلْطَـناً وَمَأْوَاهُمُ النَّارُ وَبِئْسَ مَثْوَى الظَّـلِمِينَ
(We shall cast terror into the hearts of those who disbelieve, because they joined others in worship with Allah, for which He sent no authority; their abode will be the Fire and how evil is the abode of the wrongdoers). In addition, the Two Sahihs recorded that Jabir bin `Abdullah said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«أُعْطِيتُ خَمْسًا لَمْ يُعْطَهُنَّ أَحَدٌ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ قَبْلِي: نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ مَسِيرَةَ شَهْرٍ، وَجُعِلَتْ لِيَ الْأَرْضُ مَسْجِدًا وَطَهُورًا، وَأُحِلَّتْ لِيَ الْغَنَائِمُ، وَأُعْطِيتُ الشَّفَاعَةَ، وَكَانَ النَّبِيُّ يُبْعَثُ إِلى قَوْمِهِ خَاصَّةً وَبُعِثْتُ إِلى النَّاسِ عَامَّة»
(I was given five things that no other Prophet before me was given. I was aided with fear the distance of one month, the earth was made a Masjid and clean place for me, I was allowed war booty, I was given the Intercession, and Prophets used to be sent to their people, but I was sent to all mankind particularly.)
Allah said,
وَلَقَدْ صَدَقَكُمُ اللَّهُ وَعْدَهُ
(And Allah did indeed fulfill His promise to you) 3:152,
in the beginning of the day of Uhud,
إِذْ تَحُسُّونَهُمْ
(when you were killing them), slaying your enemies,
بِإِذْنِهِ
(with His permission), for He allowed you to do that against them,
حَتَّى إِذَا فَشِلْتُمْ
(until when you Fashiltum). Ibn Jurayj said that Ibn `Abbas said that Fashiltum means, `lost courage'.
وَتَنَـزَعْتُمْ فِى الاٌّمْرِ وَعَصَيْتُمْ
(and fell to disputing about the order, and disobeyed) such as the mistake made by the archers,
مِّن بَعْدِ مَآ أَرَاكُمْ مَّا تُحِبُّونَ
(after He showed you what you love), that is, victory over the disbelievers,
مِنكُم مَّن يُرِيدُ الدُّنْيَا
(Among you are some that desire this world) referring to those who sought to collect the booty when they saw the enemy being defeated,
وَمِنكُم مَّن يُرِيدُ الاٌّخِرَةَ ثُمَّ صَرَفَكُمْ عَنْهُمْ لِيَبْتَلِيَكُمْ
(and some that desire the Hereafter. Then He made you flee from them, that He might test you).
This Ayah means, Allah gave them the upper hand to try and test you, O believers,
وَلَقَدْ عَفَا عَنْكُمْ
(but surely, He forgave you),
He forgave the error you committed, because, and Allah knows best, the idolators were many and well supplied, while Muslims had few men and few supplies.
Al-Bukhari recorded that Al-Bara' said, "We met the idolators on that day (Uhud) and the Prophet appointed `Abdullah bin Jubayr as the commander of the archers. He instructed them, `Retain your position, and if you see that we have defeated them, do not abandon your positions. If you see that they defeated us, do not rush to help us.' The disbelievers gave flight when we met them, and we saw their women fleeing up the mountain while lifting up their clothes revealing their anklets and their legs. So, the companions (of `Abdullah bin Jubayr) said, `The booty, the booty!' `Abdullah bin Jubayr said, `Allah's Messenger ﷺ commanded me not to allow you to abandon your position.' They refused to listen, and when they left their position, Muslims were defeated and seventy of them were killed. Abu Sufyan shouted, `Is Muhammad present among these people' The Prophet said, `Do not answer him.' Then he asked, `Is the son of Abu Quhafah (Abu Bakr) present among these people' The Prophet said, `Do not answer him.' He asked again, `Is the son of Al-Khattab (`Umar) present among these people As for these (men), they have been killed, for had they been alive, they would have answered me.' `Umar could not control himself and said (to Abu Sufyan), `You lie, O enemy of Allah! The cause of your misery is still present.' Abu Sufyan said, `O Hubal, be high!' On that the Prophet said (to his Companions), `Answer him back.' They said, `What shall we say' He said, `Say, Allah is Higher and more Sublime.' Abu Sufyan said, `We have the (idol) Al-`Uzza, and you have no `Uzza.' The Prophet said, `Answer him back.' They asked, `What shall we say' He said, `Say, Allah is our protector and you have no protector.' Abu Sufyan said, `Our victory today is vengeance for yours in the battle of Badr, and in war (the victory) is always undecided and is shared in turns by the belligerents. You will find some of your killed men mutilated, but I did not urge my men to do so, yet I do not feel sorry for their deed."' Only Al-Bukhari collected this Hadith using this chain of narration. cMuhammad bin Ishaq said that, `Abdullah bin Az-Zubayr narrated that Az-Zubayr bin Al-`Awwam said, "By Allah! I saw the female servants and female companions of Hind (Abu Sufyan's wife) when they uncovered their legs and gave flight. At that time, there was no big or small effort separating us from capturing them. However, the archers went down the mount when the enemy gave flight from the battlefield, seeking to collect the booty. They uncovered our back lines to the horsemen of the disbelievers, who took the chance and attacked us from behind. Then a person shouted, `Muhammad has been killed.' So we pulled back, and the disbelievers followed us, after we had killed those who carried their flag, and none of them dared to come close the flag, until then."' Muhammad bin Ishaq said next, "The flag of the disbelievers was left on the ground until `Amrah bint `Alqamah Al-Harithiyyah picked it up and gave it to the Quraysh who held it."
Allah said,
ثُمَّ صَرَفَكُمْ عَنْهُمْ لِيَبْتَلِيَكُمْ
(Then He made you flee from them, that He might test you) 3:152.
Al-Bukhari recorded that Anas bin Malik said, "My uncle Anas bin An-Nadr was absent from the battle of Badr. He said, `I was absent from the first battle the Prophet fought (against the pagans). (By Allah) if Allah gives me a chance to fight along with the Messenger of Allah ﷺ, then Allah will see how (bravely) I will fight.' On the day of Uhud when the Muslims turned their backs and fled, he said, `O Allah! I apologize to You for what these (meaning the Muslims) have done, and I denounce what these pagans have done.' Then he advanced lifting his sword, and when Sa`d bin Mu`adh met him, he said to him, `O Sa`d bin Mu`adh! Where are you! Paradise! I am smelling its aroma coming from before (Mount) Uhud,' and he went forth, fought and was killed. We found more than eighty stab wounds, sword blows or arrow holes on his body, which was mutilated so badly that none except his sister could recognize him, and she could only do so by his fingers or by a mole." This is the narration reported by Al-Bukhari, Muslim also collected a similar narration from Thabit from Anas.
The Defeat that the Muslims Suffered During the Battle of Uhud
Allah said,
إِذْ تُصْعِدُونَ وَلاَ تَلْوُونَ عَلَى أحَدٍ
((And remember) when you (Tus`iduna) ran away dreadfully without casting even a side glance at anyone), and Allah made the disbelievers leave you after you went up the mount, escaping your enemy. Al-Hasan and Qatadah said that, Tus`iduna, means, `go up the mountain'.
وَلاَ تَلْوُونَ عَلَى أحَدٍ
(without even casting a side glance at anyone) meaning, you did not glance at anyone else due to shock, fear and fright.
وَالرَّسُولُ يَدْعُوكُمْ فِى أُخْرَاكُمْ
(and the Messenger was in your rear calling you back), for you left him behind you, while he was calling you to stop fleeing from the enemy and to return and fight.
As-Suddi said, "When the disbelievers attacked Muslim lines during the battle of Uhud and defeated them, some Muslims ran away to Al-Madinah, while some of them went up Mount Uhud, to a rock and stood on it. On that, the Messenger of Allah ﷺ kept heralding, `Come to me, O servants of Allah! Come to me, O servants of Allah!' Allah mentioned that the Muslims went up the Mount and that the Prophet called them to come back, and said,
إِذْ تُصْعِدُونَ وَلاَ تَلْوُونَ عَلَى أحَدٍ وَالرَّسُولُ يَدْعُوكُمْ فِى أُخْرَاكُمْ
((And remember) when you ran away without even casting a side glance at anyone, and the Messenger was in your rear calling you back)." Similar was said by Ibn `Abbas, Qatadah, Ar-Rabi` and Ibn Zayd.
The Ansar and Muhajirin Defended the Messenger
Al-Bukhari recorded that Qays bin Abi Hazim said, "I saw Talhah's hand, it was paralyzed, because he shielded the Prophet with it." meaning on the day of Uhud. It is recorded in the Two Sahihs that Abu `Uthman An-Nahdi said, "On that day (Uhud) during which the Prophet fought, only Talhah bin `Ubaydullah and Sa`d remained with the Prophet."
Sa`id bin Al-Musayyib said, "I heard Sa`d bin Abi Waqqas saying, `The Messenger of Allah ﷺ gave me arrows from his quiver on the day of Uhud and said, `Shoot, may I sacrifice my father and mother for you."' Al-Bukhari also collected this Hadith. The Two Sahihs recorded that Sa`d bin Abi Waqqas said, "On the day of Uhud, I saw two men wearing white clothes, one to the right of the Prophet and one to his left, who were defending the Prophet fiercely. I have never seen these men before or after that day." Meaning angels Jibril and Mika'il, peace be upon them.
Abu Al-Aswad said that, `Urwah bin Az-Zubayr said, "Ubayy bin Khalaf of Bani Jumah swore in Makkah that he would kill the Messenger of Allah ﷺ. When the Messenger was told of his vow, he said, `Rather, I shall kill him, Allah willing.' On the day of Uhud, Ubayy came while wearing iron shields and proclaiming, `May I not be saved, if Muhammad is saved.' He then headed to the direction of the Messenger of Allah ﷺ intending to kill him, but Mus`ab bin `Umayr, from Bani Abd Ad-Dar, intercepted him and shielded the Prophet with his body, and Mus`ab bin `Umayr was killed. The Messenger of Allah ﷺ saw Ubayy's neck exposed between the shields and helmet, stabbed him with his spear, and Ubayy fell from his horse to the ground. However, no blood spilled from his wound. His people came and carried him away while he was moaning like an ox. They said to him, `Why are you so anxious, it is only a flesh wound' Ubayy mentioned to them the Prophet's vow, `Rather, I shall kill Ubayy', then commented, `By He in Whose Hand is my soul! If what hit me hits the people of Dhul-Majaz (a popular pre-Islamic marketplace), they would all have perished.' He then died and went to the Fire,
فَسُحْقًا لاًّصْحَـبِ السَّعِيرِ
(So, away with the dwellers of the blazing Fire!) 67:11."
This was collected by Musa bin `Uqbah from Az-Zuhri from Sa`id bin Al-Musayyib.
It is recorded in the Two Sahih that when he was asked about the injuries the Messenger sustained in Uhud, Sahl bin Sa`d said, "The face of Allah's Messenger ﷺ was injured, his front tooth was broken and his helmet was smashed on his head. Therefore, Fatimah, the daughter of Allah's Messenger washed off the blood while `Ali was pouring water on her hand. When Fatimah saw that the bleeding increased more by the water, she took a mat, burnt it, and placed the ashes in the wound of the Prophet and the blood stopped oozing out." Allah said next,
فَأَثَـبَكُمْ غَمّاً بِغَمٍّ
(There did Allah give you one distress after another) 3:153,
He gave you grief over your grief. Ibn `Abbas said, `The first grief was because of the defeat, especially when it was rumored that Muhammad was killed. The second grief was when the idolators went up the mount and The Messenger of Allah ﷺ said, `O Allah! It is not for them to rise above us."'
`Abdur-Rahman bin `Awf said, "The first distress was because of the defeat and the second when a rumor started that Muhammad was killed, which to them, was worse than defeat." Ibn Marduwyah recorded both of these. Mujahid and Qatadah said, "The first distress was when they heard that Muhammad was killed and the second when they suffered casualties and injury." It has also been reported that Qatadah and Ar-Rabi` bin Anas said that it was the opposite order. As-Suddi said that the first distress was because of the victory and booty that they missed and the second because of the enemy rising above them (on the mount). Allah said,
لِّكَيْلاَ تَحْزَنُواْ عَلَى مَا فَاتَكُمْ
(by way of requital to teach you not to grieve for that which had escaped you), for that you missed the booty and triumph over your enemy.
وَلاَ مَآ أَصَـبَكُمْ
(nor for what struck you), of injury and fatalities, as Ibn `Abbas, `Abdur-Rahman bin `Awf, Al-Hasan, Qatadah and As-Suddi stated. Allah said next,
وَاللَّهُ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ
(And Allah is Well-Aware of all that you do.) all praise is due to Him, and thanks, there is no deity worthy of worship except Him, the Most High, Most Honored.
کافر اور منافقوں کے ارادے اور غزوہ احد کا پھر اندوہناک تذکرہ اللہ تعالیٰ اپنے ایماندار بندوں کو کافروں اور منافقوں کی باتوں کے ماننے سے روک رہا ہے اور بتارہا ہے کہ اگر ان کی مانی تو دنیا اور آخرت کی ذلت تم پر آئے گی انکی چاہت تو یہی ہے کہ تمہیں دین اسلام سے ہٹا دیں پھر فرماتا ہے مجھ ہی کو اپنا والی اور مددگار جانو مجھی سے دوستی کرو مجھی پر بھروسہ کرو مجھی سے مدد چاہو پھر فرمایا کہ ان شریروں کے دلوں میں ان کے کفر کے سبب ڈر خوف ڈال دوں گا، بخاری مسلم میں حضرت جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مجھے پانچ باتیں دی گئیں ہیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئیں میری مدد مہینہ بھر کی راہ تک رعب سے کی گئی ہے میرے لئے زمین مسجد اور اس کی مٹی وضو کی پاک چیز بنائی گئی، میرے لئے غنیمت کے مال حلال کئے گئے اور مجھے شفاعت دی گئی اور ہر نبی اپنی اپنی قوم کی طرف سے مخصوص بھیجا جاتا تھا اور میری بعثت میری نبوت تمام دنیا کیلئے عام ہوئی، مسند احمد میں ہے آپ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے تمام نبیوں پر اور بعض روایتوں میں ہے تمام امتوں پر مجھے چار فضیلتیں عطا فرمائی ہیں، مجھے تمام دنیا کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا، میرے اور میری امت کیلئے تمام زمین مسجد اور پاک بنائی گئی، میرے امتی کو جہاں نماز کا وقت آجائے وہیں اس کی مسجد اور اس کا وضو ہے، میرا دشمن مجھ سے مہینہ بھر کی راہ پر ہو وہیں سے اللہ تعالیٰ اس کا دل رعب سے پُر کردیتا ہے اور وہ کانپنے لگتا ہے اور میرے لئے غنیمت کے مال حلال کئے گئے اور روایت میں ہے کہ میں مدد کیا گیا ہوں میرے رعب سے ہر دشمن پر، مسند کی ایک اور حدیث میں ہے مجھے پانچ چیزیں دی گئیں میں ہر سرخ وسفید کی طرف بھیجا گیا میرے لئے تمام زمین وضو اور مسجد بنائی گی۔ میرے لئے غنیمتوں کے مال حلال کئے گئے جو میرے پہلے کسی کے حلال نہ تھے اور میری مدد مہینہ بھر کی راہ تک رعب سے کی گئی اور مجھے شفاعت دی گئی تمام انبیاء نے شفاعت مانگ لی لیکن میں نے اپنی شفاعت کو اپنی امت کے لوگوں کیلئے جنہوں نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا ہو بچار کھی ہے، حضرت ابن عباس فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے ابو سفیان کے دل میں رعب ڈال دیا اور وہ لڑائی سے لوٹ گیا پھر ارشاد ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا وعدہ سچا کر دکھایا اور تمہاری مدد کی اس سے بھی یہ استدلال ہوسکتا ہے کہ یہ وعدہ احد کے دن کا تھا تین ہزار دشمن کا لشکر تھا تاہم مقابلہ پر آتے ہی ان کے قدم اکھڑ گئے اور مسلمانوں کو فتح حاصل ہوئی لیکن پھر تیر اندازوں کی نافرمانی کی وجہ سے اور بعض حضرات کی پست ہمتی کی بناء پر وہ وعدہ جو مشروط تھا رک گیا پس فرماتا ہے کہ تم انہیں اپنے ہاتھوں سے کاٹتے تھے۔ شروع دن میں ہی اللہ نے تمہیں ان پر غالب کردیا لیکن تم نے پھر بزدلی دکھائی اور نبی کی نافرمانی کی ان کی بتائی ہوئی جگہ سے ہٹ گئے اور آپس میں اختلاف کرنے لگے حالانکہ اللہ عزوجل نے تمہیں تمہاری پسند کی چیز فتح دکھا دی تھی یعنی مسلمان صاف طور پر غالب آگئے تھے مال غنیمت آنکھوں کے سامنے موجود تھا کفار پیٹھ پھیر کر بھاگ کھڑے ہوئے تھے تم میں سے بعض نے دنیا طلبی کی اور کفار کی ہزیمت کو دیکھ کر نبی ﷺ کے فرمان کا خیال نہ کر کے مال غنیمت کی طرف لپکے گو بعض اور نیک آخرت طلب بھی تھے لیکن اس نافرمانی وغیرہ کی بنا پر کفار کی پھر بن آئی اور ایک مرتبہ تمہاری پوری آزمائش ہوگئی غالب ہو کر مغلوب ہوگئے فتح کے بعد شکست ہوگئی لیکن پھر بھی اللہ تعالیٰ نے تمہارے اس جرم کو معاف فرما دیا کیونکہ وہ جانتا ہے کہ بظاہر تم ان سے تعداد میں اور اسباب میں کم تھے خطا کا معاف ہونا بھی عفاعنکم میں داخل ہے اور یہ بھی مطلب ہے کہ کچھ یونہی سی گوشمالی کر کے کچھ بزرگوں کی شہادت کے بعد اس نے اپنی آزمائش کو اٹھا لیا اور باقی والوں کو معاف فرما دیا، اللہ تعالیٰ باایمان لوگوں پر فضل و کرم لطف و رحم ہی کرتا ہے، حضرت عبداللہ بن عباس سے مروی ہے کہ حضور ﷺ کی مدد جیسی احد میں ہوئی ہے کہیں نہیں ہوئی اسی کے بارے میں ارشاد باری ہے کہ اللہ نے تم سے اپنا وعدہ سچا کر دکھایا لیکن پھر تمہارے کرتوتوں سے معاملہ برعکس ہوگیا، بعض لوگوں نے دنیا طلبی کر کے رسول ﷺ کی نافرمانی کی یعنی بعض تیر اندوزوں نے جنہیں حضور ﷺ نے پہاڑ کے درے پر کھڑا کیا تھا اور فرما دیا تھا کہ تم یہاں سے دشمنوں کی نگہبانی کرو وہ تمہاری پیٹھ کی طرف سے نہ آجائیں، اگر تم ہار دیکھو بھی اپنی جگہ سے نہ ہٹنا اور اگر تم ہر طرح غالب آگئے تو بھی تم غنیمت جمع کرنے کیلئے بھی اپنی جگہ کو نہ چھوڑنا، جب حضور ﷺ غالب آگئے تو تیر اندوزوں نے حکم عدولی کی اور وہ اپنی جگہ کو چھوڑ کر مسلمانوں میں آملے اور مال غنیمت جمع کرنا شروع کردیا صفوں کا کوئی خیال نہ رہا درے کو خالی پا کر مشرکوں نے بھاگنا بند کیا اور غور و فکر کر کے اس جگہ حملہ کردیا، چند مسلمانوں کی پیٹھ کے پیچھے سے ان کی بیخبر ی میں اس زور کا حملہ کیا کہ مسلمانوں کے قدم نہ جم سکے اور شروع دن کی فتح اب شکست سے بدل گئی اور یہ مشہور ہوگیا کہ حضور ﷺ بھی شہید ہوگئے اور لڑائی کے رنگ نے مسلمانوں کو اس بات کا یقین بھی دلا دیا، تھوڑی دیر بعد جبکہ مسلمانوں کی نظریں چہرہ مبارک پر پڑیں تو وہ اپنی سب کوفت اور ساری مصیبت بھول گئے اور خوشی کے مارے حضور ﷺ کی طرف لپکے آپ ادھر آرہے تھے اور فرماتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کا سخت غضب نازل ہو ان لوگوں پر جنہوں نے اللہ کے رسول ﷺ کے چہرے کو خون آلودہ کردیا، انہیں کوئی حق نہ تھا کہ اس طرح ہم پر غالب رہ جائیں، تھوڑی دیر میں ہم نے سنا کہ ابو سفیان پہاڑ کے نیچے کھڑا ہوا کہہ رہا تھا اعل ہبل اعل ھبل ہبل بت کا بول بالا ہو ابوبکر کہاں ہے ؟ عمر کہاں ہے ؟ حضرت عمر نے پوچھا حضور ﷺ اسے جواب دوں ؟ آپ ﷺ نے اجازت دی تو حضرت عمر فاروق نے اس کے جواب میں فرمایا اللہ اعلی واجل اللہ اعلی واجل اللہ بہت بلند ہے اور جلال و عزت والا ہے اللہ بہت بلند اور جلال و عزت والا ہے، وہ پوچھنے لگا بتاؤ محمد ﷺ کہاں ہیں ؟ ابوبکر کہاں ہیں ؟ عمر کہاں ہیں ؟ آپ نے فرمایا یہ ہیں رسول اللہ ﷺ اور یہ ہیں حضرت ابوبکر اور یہ ہوں میں عمر فاروق ابو سفیان کہنے لگا یہ بدر کا بدلہ ہے یونہی دھوپ چھاؤں الٹتی پلٹتی رہتی ہے، لڑائی کی مثال کنویں کے ڈول کی سی ہے، حضرت عمر نے فرمایا برابری کا معاملہ ہرگز نہیں تمہارے مقتول تو جہنم میں گئے اور ہمارے شہید جنت میں پہنچے، ابو سفیان کہنے لگا اگر یونہی ہو تو یقینا ہم نقصان اور گھاٹے میں رہے، سنو تمہارے مقتولین میں بعض ناک کان کٹے لوگ بھی تم پاؤ گے گویہ ہمارے سرداروں کی رائے سے نہیں ہوا لیکن ہمیں کچھ برا بھی نہیں معلوم ہوا، یہ حدیث غریب ہے اور یہ قصہ بھی عجیب ہے، یہ ابن عباس کی مرسلات سے ہے اور وہ یا ان کے والد جنگ احد میں موجود نہ تھے، مستدرک حاکم میں بھی یہ روایت موجود ہے ابن ابی حاتم اور بیہقی فی دلائل النبوۃ میں بھی یہ مروی ہے اور صحیح احادیث میں اس کے بعض حصوں کے شواہد بھی ہیں کہ احد والے دن عورتیں مسلمانوں کے پیچھے تھیں جو زخمیوں کی دیکھ بھال کرتی تھیں تو پوری طرح یقین تھا کہ آج کے دن ہم میں کوئی ایک بھی طالب دنیا نہیں بلکہ اس وقت اگر مجھے اس بات پر قسم کھلوائی جاتی تو کھا لیتا لیکن قرآن میں یہ آیت اتری (منکم من یرید الدنیا) یعنی تم میں سے بعض طالب دنیا بھی ہیں، جب صحابہ سے حضور ﷺ کے حکم کے خلاف آپ کی نافرمانی سرزد ہوئی تو انکے قدم اکھڑ گئے حضور ﷺ کے ساتھ صرف سات انصاری اور دو مہاجر باقی رہ گئے جب مشرکین نے حضور ﷺ کو گھیر لیا تو آپ فرمانے لگے اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم کرے جو انہیں ہٹائے تو ایک انصار اٹھ کھڑے ہوئے اور اسجم غفیر کے مقابل تن تنہا داد شجاعت دینے لگے یہاں تک کہ شہید ہوگئے پھر کفار نے حملہ کیا آپ نے یہی فرمایا ایک انصاری تیار ہوگئے اور اس بےجگری سے لڑے کہ انہیں آگے نہ بڑھنے دیا لیکن بالآخر یہ بھی شہید ہوگئے یہاں تک کہ ساتوں صحابہ اللہ کے ہاں پہنچ گئے اللہ ان سے خوش ہو، حضور ﷺ نے مہاجرین سے فرمایا افسوس ہم نے اپنے ساتھیوں سے منصفانہ معاملہ نہ کیا، اب ابو سفیان نے ہانک لگائی کہ اعل ہبل آپ نے فرمایا کہو اللہ اعلی واجل ابو سفیان نے کہا (لنا العزی ولا عزی لکم) ہمارا عزی بت ہے تمہاری کوئی عزی نہیں، آپ نے فرمایا کہو اللہ مولانا والکافرون لا مولی لھم اللہ ہمارا مولی ہے اور کافروں کا کوئی مولی نہیں، ابو سفیان کہنے لگا آج کے دن بدر کے دن کا بدلہ ہے کوئی دن ہمارا اور کوئی دن تمہارا، یہ تو ہاتھوں ہاتھ کا سودا ہے، ایک کے بدلے ایک ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا ہرگز برابری نہیں ہمارے شہداء زندہ ہیں وہاں رزق دے جاتے ہیں اور تمہارے مقتول جہنم میں عذاب کئے جا رہے ہیں پھر ابو سفیان بولا تمہارے مقتول میں تم دیکھو گے کہ بعض کے کان ناک وغیرہ کاٹ لئے گئے ہیں لیکن میں نے نہ یہ کہا نہ اسے روکا نہ اسے میں نے پسند کیا نہ مجھے یہ بھلا معلوم ہوا نہ برا، اب جو دیکھا تو معلوم ہوا کہ حضرت حمزہ کا پیٹ چاک کردیا گیا تھا اور ہندہ نے انکا کلیجہ لے کر چبایا تھا لیکن نگل نہ سکی تو اگل دیا،حضور ﷺ نے فرمایا ناممکن تھا کہ اس کے پیٹ میں حمزہ کا ذرا سا گوشت بھی چلا جائے اللہ تعالیٰ حمزہ کے کسی عضو بدن کو جہنم میں لے جانا نہیں چاہتا چناچہ حمزہ کے جنازے کو اپنے سامنے رکھ کر نماز جنازہ ادا کی پھر ایک انصاری کا جنازہ لایا گیا وہ حضرت حمزہ کے پہلو میں رکھا گیا اور آپ نے پھر نماز جنازہ پڑھی انصاری کا جنازہ اٹھا لیا گیا لیکن حضرت حمزہ کا جنازہ وہیں رہا اسی طرح ستر شخص لائے گئے اور حضرت حمزہ کی ستر دفعہ جنازے کی نماز پڑھی گئی (مسند) صحیح بخاری شریف میں حضرت براء سے مروی ہے کہ احد والے دن مشرکوں سے ہماری مڈبھیڑ ہوئی حضور ﷺ نے تیر اندازوں کی ایک جماعت کو الگ جما دیا اور انکا سردار حضرت عبداللہ بن جیبر کو بنایا اور فرما دیا کہ اگر تم ہمیں ان پر غالب آیا ہوا دیکھو تو بھی یہاں سے نہ ہٹنا اور وہ ہم پر غالب آجائیں تو بھی تم اپنی جگہ نہ چھوڑنا، لڑائی شروع ہوتے ہی اللہ کے فضل سے مشرکوں کے قدم پیچھے ہٹنے لگے یہاں تک کہ عورتیں بھی تہبند اونچا کر کر کے پہاڑوں میں ادھر دوڑنے لگیں، اب تیر انداز گروہ غنیمت غنیمت کہتا ہوا نیچے اتر آیا، ان کے امیر نے انہیں ہرچند سمجھایا لیکن کسی نے ان کی نہ سنی، بس اب مشرکین مسلمانوں کی پیٹھ کی طرف سے آن پڑے اور ستر بزرگ شہید ہوگئے ابو سفیان ایک ٹیلے پر چڑھ کر کہنے لگا کیا محمد ﷺ حیات ہیں ؟ کیا ابوبکر موجود ہیں ؟ کیا عمر زندہ ہیں ؟ لیکن حضور ﷺ کے فرمان سے صحابہ خوش رہے تو وہ خوشی کے مارے اچھل پڑا اور کہنے لگا یہ سب ہماری تلواروں کے گھاٹ اتر گئے اگر زندہ ہوتے تو ضرور جواب دیتے ایک حضرت عمر کو تاب ضبط نہ رہی فرمانے لگے، اے اللہ کے دشمن تو جھوٹا ہے بحمد اللہ ہم سب موجود ہیں اور تیری تباہی اور بربادی کرنے والے زندہ ہیں، پھر وہ باتیں ہوئیں جو اوپر بیان ہوچکی ہیں، صحیح بخاری شریف میں حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ جنگ احد میں مشرکوں کو ہزیمت ہوئی اور ابلیس نے آواز لگائی اے اللہ کے بندو ! اپنے پیچھے کی خبر لو اگلی جماعتیں پچھلی جماعتوں پر ٹوٹ پڑیں، حضرت حذیفہ نے دیکھا کہ مسلمانوں کی تلواریں ان کے والد حضرت یمان ؓ پر برس رہی ہیں ہرچند کہتے رہے کہ اے اللہ کے بندو ! یہ میرے باپ یمان ہیں مگر کون سنتا تھا وہ یونہی شہید ہوگئے لیکن حضرت حذیفہ نے کچھ نہ کہا بلکہ فرمایا اللہ تمہیں معاف کرے، حضرت حذیفہ کی یہ بھلائی ان کے آخری دم تک ان میں رہی، سیرت ابن اسحاق میں ہے حضرت زبیر بن عوام فرماتے ہیں میں نے خود دیکھا کہ مشرک مسلمانوں کے اول حملہ میں ہی بھاگ کھڑے ہوئے یہاں تک کہ ان کی عورتیں ہندہ وغیرہ تہمد اٹھائے تیز تیز دوڑ رہی تھیں لیکن اس کے بعد جب تیر اندازوں نے مرکز چھوڑا اور کفار نے سمٹ کر پیچھے کی طرف سے ہم پر حملہ کردیا ادھر کسی نے آواز لگائی کہ حضور ﷺ شہید ہوگئے پھر معاملہ برعکس ہوگیا ورنہ ہم مشرکین کے علم برداروں تک پہنچ چکے تھے اور جھنڈا اس کے ہاتھ سے گرپڑا تھا لیکن عمرہ بن علقمہ حارثیہ عورت نے اسے تھام لیا اور قریش کا مجمع پھر یہاں جمع ہوگیا، حضرت انس بن مالک چچا حضرت انس بن نضر ؓ یہ رنگ دیکھ حضرت عمر حضرت طلحہ وغیرہ کے پاس آتے ہی اور فرماتے ہیں تم نے کیوں ہمتیں چھوڑ دیں ؟ وہ جواب دیتے ہیں کہ حضور ﷺ تو شہید ہوگئے۔ حضرت انس نے فرمایا پھر تم جی کر کیا کرو گے ؟ یہ کہا اور مشرکین میں گھسے پھر لڑتے رہے یہاں تک کہ اللہ رب العزت سے جا ملے ؓ ، یہ بدر والے دن جہاد میں نہیں پہنچ سکے تھے تو عہد کیا تھا کہ آئندہ اگر کوئی موقعہ آیا تو میں دکھا دوں گا چناچہ اس جنگ میں وہ موجود تھے جب مسلمانوں میں کھلبلی مچی تو انہوں نے کہا الہ میں مسلمانوں کے اس کام سے معذور ہوں اور مشرکوں کے اس کام سے بری ہوں پھر اپنی تلوار لے کر آگے بڑھ گئے راہ میں حضرت سعد بن معاذ سے ملے اور کہنے لگے کہاں جا رہے ہو ؟ مجھے تو جنت کی خوشبو کی لپٹیں احد پہاڑ سے چلی آرہی ہیں چناچہ مشرکوں میں گھس گئے اور بڑی بےجگری سے لڑے یہاں تک کہ شہادت حاصل کی اسی سے زیادہ تیرو تلوار کے زخم بدن پر آئے تھے پہچانے نہ جاتے تھے انگلی کو دیکھ کر پہچانے گئے ؓ ، صحیح بخاری شریف میں ہے کہ ایک حاجی نے بیت اللہ شریف میں ایک مجلس دیکھ کر پوچھا کہ یہ کون لوگ ہیں ؟ لوگوں نے کہا قریشی ہیں پوچھا ان کے شیخ کون ہیں ؟ جواب ملا حضرت عبداللہ بن عمر ؓ ہیں، اب وہ آیا اور کہنے لگا میں کچھ دریافت کرنا چاہتا ہوں حضرت عبداللہ نے فرمایا پوچھو اس نے کہا آپ کو اس بیت اللہ کی حرمت کی قسم کیا آپ کو علم ہے کہ (حضرت) عثمان بن عفان احد والے دن بھاگ گئے تھے ؟ آپ نے جواب دیا ہاں۔ کہا کیا آپ کو معلوم ہے کہ وہ بدر والے دن بھی حاضر نہیں ہوئے تھے ؟ فرمایا ہاں، کہا کیا آپ جانتے ہیں کہ وہ بیعت الرضوان میں بھی شریک نہیں ہوئے تھے ؟ فرمایا یہ بھی ٹھیک ہے، اب اس نے (خوش ہوکر) تکبیر کہی، حضرت عبداللہ نے فرمایا ادھر آ، اب میں تجھے پورے واقعات سناؤں، احد کے دن کا بھاگنا تو اللہ تعالیٰ نے معاف فرما دیا، بدر کے دن کی غیر حاضری کے باعث یہ ہوا کہ آپ کے گھر میں رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادی تھیں اور وہ اس وقت سخت بیمار تھیں تو خود حضور ﷺ نے ان سے فرمایا تھا کہ تم نہ آؤ مدینہ میں ہی رہو تمہیں اللہ تعالیٰ اس جنگ میں حاضر ہونے کا اجر دے گا اور غنیمت میں بھی تمہارا حصہ ہے، بیعت الرضوان کا واقعہ یہ ہے کہ انہیں رسول اللہ ﷺ نے مکہ والوں کے پاس اپنا پیغام دے کر حضرت عثمان کو بھیجا تھا اس لئے کہ مکہ میں جو عزت انہیں حاصل تھی کسی اور کو اتنی نہ تھی انکے تشریف لے جانے کے بعد یہ بیعت لی گئی تو رسول اللہ ﷺ نے اپنا داہنا ہاتھ کھڑا کر کے کہا یہ عثمان کا ہاتھ ہے پھر اپنے دوسرے ہاتھ پر رکھا (گویا بیعت کی) پھر اس شخص سے کہا اب جاؤ اور اسے ساتھ لے جاؤ پھر فرمایا آیت (او تصعدون) الخ یعنی تم اپنے دشمن سے بھاگ کر پہاڑ چڑھ رہے تھے اور مارے خوف و دہشت کے دوسری جانب توجہ بھی نہیں کرتے تھے رسول ﷺ کو بھی تم نے وہیں چھوڑ دیا تھا وہ تمہیں آوازیں دے رہے تھے اور سمجھا رہے تھے کہ بھاگو نہیں لوٹ آؤ، حضرت سدی فرماتے ہیں مشرکین کے اس خفیہ اور پر زور اور اچانک حملہ سے مسلمانوں کے قدم اکھڑ گئے کچھ تو مدینہ کی طرف لوٹ آئے کچھ پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ گئے اللہ کے نبی آوازیں دیتے رہے کہ اللہ کے بندوں میری طرف آؤ اللہ کے بندو میری طرف آؤ، اس واقعہ کا بیان اس آیت میں ہے، عبداللہ بن زحری شاعر نے اس واقعہ کو نظم میں بھی ادا کیا ہے، آنحضرت ﷺ اس وقت صرف بارہ آدمیوں کے ساتھ رہ گئے تھے مسند احمد کی ایک طویل حدیث میں بھی ان تمام واقعات کا ذکر ہے، دلائل النبوۃ میں ہے کہ جب ہزیمت ہوئی تب حضور ﷺ کے ساتھ صرف گیارہ شخص رہ گئے اور ایک حضرت طلحہ بن عبید اللہ تھے، آپ پہاڑ پر چڑھنے لگے لیکن مشرکین نے آگھیرا آپ نے اپنے ساتھیوں یک طرف متوجہ ہو کر فرمایا کوئی ہے جو ان سے مقابلہ کرے، حضرت طلحہ نے اس آواز پر فوراً لبیک کہا اور تیار ہوگئے لیکن آپ نے فرمایا تم ابھی ٹھہر جاؤ اب ایک انصاری تیار ہوئے اور وہ ان سے لڑنے لگے یہاں تک کہ شہید ہوئے اسی طرح سب کے سب ایک ایک کر کے شہید ہوگئے اور اب صرف حضرت طلحہ رہ گئے گویہ بزرگ ہر مرتبہ تیار ہوجاتے تھے لیکن حضور ﷺ انہیں روک لیا کرتے تھے آخر یہ مقابلہ پر آئے اور اس طرح جم کر لڑے کہ ان سب کی لڑائی ایک طرف اور یہ ایک طرف اس لڑائی میں ان کی انگلیاں کٹ گئیں تو زبان سے حس نکل گیا آپ نے فرمایا اگر تم بسم اللہ کہہ دیتے یا اللہ کا نام لیتے تو تمہیں فرشتے اٹھا لیتے اور آسمان کی بلندی کی طرف لے چڑھتے اور لوگ دیکھتے رہتے اب نبی ﷺ اپنے صحابہ کے مجمع میں پہنچ چکے تھیں۔ صحیح بخاری شریف میں ہے حضرت قیس بن حازم فرماتے ہیں میں نے دیکھا حضرت طلحہ کا وہ ہاتھ جسے انہوں نے ڈھال بنایا تھا شل ہوگیا تھا، حضعرت سعد بن ابی وقاص فرماتے ہیں میرے پاس حضور ﷺ نے اپنی ترکش سے احد والے دن تمام تیر پھیلا دئیے اور فرمایا تجھ پر میرے ماں باپ فدا ہوں لے مشرکین کو مار آپ اٹھا اٹھا کردیتے جاتے تھے اور میں تاک تاک کر مشرکین کو مارتا جاتا تھا اس دن میں نے دو شخصوں کو دیکھا کہ حضور ﷺ کے دائیں بائیں تھے اور سخت ترین جنگ کر رہے تھے میں نے نہ تو اس سے پہلے کبھی انہیں دیکھا تھا نہ اس کے بعد یہ دونوں حضرت جبرائیل اور حضرت میکائیل (علیہما السلام) تھے ایک اور روایت میں ہے کہ جو بزرگ حضور ﷺ کے ساتھ بھگدڑ کے بعد تھے اور ایک ایک ہو کر شہید ہوئے تھے انہیں آپ فرماتے جاتے تھے کہ کوئی ہے جو انہیں رو کے اور جنت میں جائے میرا رفیق ہے، ابی بن خلف نے مکہ میں قسم کھائی تھی کہ میں رسول اللہ ﷺ کو قتل کروں گا، جب حضور ﷺ کو اس کا علم ہوا تو آپ نے فرمایا وہ تو نہیں بلکہ میں انشاء اللہ اسے قتل کروں گا احد والے دن یہ خبیث سرتاپا لوہے میں غرق زرہ بکتر لگائے ہوئے حضور ﷺ کی طرف بڑھا اور یہ کہتا آتا تھا کہ اگر محمد ﷺ بچ گئے تو میں اپنے تئیں ہلاک کر ڈالوں گا ادھر سے حضرت مصعب بن عمیر اس ناہنجار کی طرف بڑھے لیکن آپ شہید ہوگئے اب حضور ﷺ اس کی طرف بڑھے اس کا سارا جسم لوہے میں چھپا ہوا تھا صرف ذرا سی پیشانی نظر آرہی تھی آپ نے اپنا نیزہ تاک کر وہیں لگایا جو ٹھیک نشانے پر بیٹھا اور یہ تیورا کر گھوڑے پر سے گرا گو اس زخم سے خون بھی نہ نکلا تھا لیکن اس کی یہ حالت تھی کہ بلبلا رہا تھا لوگوں نے اسے اٹھا لیا لشکر میں لے گئے اور تشفی دینے لگے کہ ایسا کوئی کاری زخم نہیں لگا کیوں اس قدر نامردی کرتا ہے آخر ان کے طعنوں سے مجبور ہو کر اس نے کہا میں نے سنا ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا ہے میں ابی کو قتل کروں گا سچ مانو اب میں کبھی نہیں بچ سکتا تم اس پر نہ جاؤ کہ مجھے ذرا سی خراش ہی آئی ہے اللہ کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے اگر کل اہل ذی المجاز کو اتنا زخم اس ہاتھ سے لگ جاتا تو سب ہلاک ہوجاتے پس یونہی تڑپتے تڑپتے اور بلکتے بلکتے اس جہنمی کی ہلاکت ہوئی اور مر کر جہنم رسید ہوا، مغازی محمد بن اسحاق میں ہے کہ جب یہ شخص حضور ﷺ کے سامنے ہوا تو صحابہ نے اس کے مقابلہ کی خواہش کی لیکن آپ نے انہیں روک دیا اور فرمایا اسے آنے دو جب وہ قریب آگیا تو آپ نے حضرت حارث بن صمہ سے نیزہ لے کر اس پر حملہ کیا حضور ﷺ کے ہاتھ میں نیزہ دیکھتے ہی وہ کانپ اٹھا ہم نے اسی وقت سمجھ لیا کہ اس کی خیر نہیں آپ نے اس کی گردن پر وار کیا اور وہ لڑکھڑا کر گھوڑے پر سے گرا، حضرت ابن عمر کا دہشت ناک شعلے اٹھتے ہوئے دیکھے اور دیکھا کہ ایک شخص کو زنجیروں میں جکڑے ہوئے اس آگ میں گھسیٹا جا رہا ہے اور وہ پیاس پیاس کر رہا ہے اور دوسرا شخص کہتا ہے اسے پانی نہ دینا یہ پیغمبر کے ہاتھ کا مارا ہوا ہے یہ ابی بن خلف ہے، بخاری و مسلم کی ایک حدیث میں ہے آپ اپنے سامنے کے چار دانتوں کی طرف جنہیں مشرکین نے احد والے دن شہید کیا تھا اشارہ کر کے فرما رہے تھے اللہ کا سخت تر غضب ان لوگوں پر ہے جنہوں نے اپنے نبی ﷺ کے ساتھ یہ کیا اور اس پر بھی اللہ تعالیٰ کا غضب ہے جسے اللہ کا رسول اللہ ﷺ کی راہ میں قتل کرے اور روایت میں یہ لفظ ہیں کہ جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے رسول ﷺ کا چہرہ زخمی کیا، عتبہ بن ابی وقاص کے ہاتھ سے حضور ﷺ کو یہ زخم لگا تھا سامنے کے چار دانٹ ٹوٹ گئے تھے، رخسار پر زخم آیا تھا اور ہونٹ پر بھی، حضرت سعد بن ابی وقاص فرمایا کرتے تھے مجھے جس قدر اس شخص کی حرص تھی کسی اور کے قتل کی نہ تھی۔ یہ شخص بڑا بد خلق تھا اور ساری قوم سے اس کی دشمنی تھی اس کی برائی میں حضور ﷺ کا یہ فرمان کافی ہے کہ نبی ﷺ کو زخمی ہونے والے پر اللہ سخت غضبناک ہے، عبدالرزاق میں ہے حضور ﷺ نے اس کیلئے بد دعا کی کہ اے اللہ سال بھر میں یہ ہلاک ہوجائے اور کفر پر اس کی موت ہو چناچہ یہی ہوا اور یہ بدبخت کافر مرا اور جہنم واصل ہوا۔ ایک مہاجر کا بیان ہے کہ چاروں طرف سے احد والے دن حضور ﷺ پر تیروں کی بارش ہو رہی تھی لیکن اللہ کی قدرت سے وہ سب پھیر دیئے جاتے تھے، عبداللہ بن شہاب زہری نے اس دن قسم کھا کر کہا کہ مجھے محمد ﷺ کو دکھا دو وہ آج میرے ہاتھ سے بچ نہیں سکتا اگر وہ نجات پا گیا تو میری نجات نہیں اب وہ حضور ﷺ کی طرف سے لپکا اور بالکل آپ کے پاس آگیا اس وقت حضور ﷺ کے ساتھ کوئی نہ تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا اسے حضور ﷺ نظر ہی نہ آئے جب وہ نامراد پلٹا تو صفوان نے اسے طعنہ زنی کی اس نے کہا اللہ تعالیٰ کی طرف سے محفوظ ہیں ہمارے ہاتھ نہیں لگنے کے سنو ! ہم چار شخصوں نے ان کے قتل کا پختہ مشورہ کیا تھا اور آپس میں عہدو پیمان کئے تھے ہم نے ہرچند چاہا لیکن کامیابی نہ ہوئی واقدی کہتے ہیں لیکن ثابت شدہ بات یہ ہے کہ حضور ﷺ کی پیشانی کو زخمی کرنے والا ابن قمیہ اور ہونٹ اور دانتوں پر صدمہ پہچانے والا عتبہ بن ابی وقاص تھا۔ ام المومنین حضرت عائشہ کا بیان ہے کہ میرے والد حضرت ابوبکر جب احد کا ذکر فرماتے تو صاف کہتے کہ اس دن کی تمام تر فضلیت کا سہرا حضرت طلحہ کے سر ہے میں جب لوٹ کر آیا تو میں نے دیکھا کہ ایک شخص حضور ﷺ کی حمایت میں جان ٹکائے لڑ رہا ہے میں نے کہا اللہ کرے یہ طلحہ ہو اب جو قریب آ کر دیکھا تو طلحہ ہی تھے ؓ میں نے کہا الحمد اللہ میری ہی قوم کا ایک شخص ہے میرے اور مشرکوں کے درمیان ایک شخص تھا جو مشرکین میں کھڑا ہوا تھا لیکن اسکے بےپناہ حملے مشرکوں کی ہمت توڑ رہے تھے غور سے دیکھا تو وہ حضرت عبیدہ بن جراح تھے، اب جو میں نے بغور حضور ﷺ کی طرف دیکھا تو آپ کے سامنے کے دانت ٹوٹ گئے ہیں چہرہ زخمی ہو رہا ہے اور پیشانی میں زرہ کی دو کڑیاں کھب گئی ہیں میں آپ کی طرف لپکا لیکن آپ نے فرمایا ابو طلحہ کی خبر لو میں نے چاہا کہ حضور ﷺ کے چہرے میں سے وہ دونوں کڑیاں نکالوں لیکن حضرت ابو عبیدہ نے مجھے قسم دے کر روک دیا اور خود قریب آئے اور ہاتھ سے نکالنے میں زیادہ تکلیف محسوس کر کے دانتوں سے پکڑ کر ایک کو نکال لیا لیکن اس میں ان کا دانت بھی ٹوٹ گیا میں نے اب پھر چاہا کہ دوسری میں نکال لوں لیکن حضرت ابو عبیدہ نے پھر قسم دی تو میں رک رہا انہوں نے پھر دوسری کڑی نکالی اب کی مرتبہ بھی ان کے دانت ٹوٹے اس سے فارغ ہو کر ہم حضرت طلحہ کی طرف متوجہ ہوئے ہم نے دیکھا کہ ستر سے زیادہ زخم انہیں لگ چکے ہیں انگلیاں کٹ گئی ہیں ہم نے پھر ان کی بھی خبر لی حضور ﷺ کے زخم کا خون حضرت ابو سعید خدری نے چوسا تاکہ خون تھم جائے پھر ان سے کہا گیا کہ کلی کر ڈالو لیکن انہوں نے کہا اللہ کی قسم میں کلی نہ کروں گا پھر میدان جنگ میں چلے گئے حضور ﷺ نے فرمایا اگر کوئی شخص جنتی شخص کو دیکھنا چاہتا ہو تو انہیں دیکھ لے چناچہ یہ اسی میدان میں شہید ہوئے، صحیح بخاری شریف میں ہے کہ حضور ﷺ کا چہرہ زخمی ہوا سامنے کے دانت ٹوٹے سر کا خود ٹوٹا، حضرت فاطمہ خون دھوتی تھیں اور حضرت علی ڈھال میں پانی لالا کر ڈالتے جاتے تھے جب دیکھا کہ خون کسی طرح تھمتا ہی نہیں تو حضرت فاطمہ نے بوریا جلا کر اس کا راکھ زخم پر رکھ دی جس سے خون بند ہوا۔ پھر فرماتا ہے، تمہیں غم پر غم پہنچا (بِغَمِّ) کا بامعنی میں علیٰ کے ہے جیسے آیت (فی جذوع النخل) میں فی معنی میں علیٰ کے ہے، ایک غم تو شکست کا تھا جبکہ یہ مشہور ہوگیا کہ (اللہ نہ کرے) حضور ﷺ کی جان پر بن آئی، دوسرا غم مشرکوں کو پہاڑ کے اوپر غالب آکر چڑھ جانے کا جبکہ حضور ﷺ فرماتے تھے یہ بلندی کے لائق نہ تھے، حضرت عبدالرحمن بن عوف فرماتے ہیں ایک غم شکست کا دوسرا غم حضور ﷺ کے قتل کی خبر کا اور یہ غم پہلے غم سے زیادہ تھا، اسی طرح یہ بھی ہے کہ ایک غم تو غنیمت کا ہاتھ میں آکر نکل جانے کا تھا دوسرا شکست ہونے کا اسی طرح ایک اپنے بھائیوں کے قتل کا غم دوسرا حضور ﷺ کی نسبت ایسی منحوس خبر کا غم۔ پھر فرماتا ہے جو غنیمت اور فتح مندی تمہارے ہاتھ سے گئی اور جو زخم و شہادت ملی اس پر غم نہ کھاؤ اللہ سبحانہ و تعالیٰ جو بلندی اور جلال والا ہے وہ تمہارے اعمال سے خبردار ہے۔
151
View Single
سَنُلۡقِي فِي قُلُوبِ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ ٱلرُّعۡبَ بِمَآ أَشۡرَكُواْ بِٱللَّهِ مَا لَمۡ يُنَزِّلۡ بِهِۦ سُلۡطَٰنٗاۖ وَمَأۡوَىٰهُمُ ٱلنَّارُۖ وَبِئۡسَ مَثۡوَى ٱلظَّـٰلِمِينَ
Soon We shall cast awe in the hearts of disbelievers because they have appointed partners to Allah, for which He has not sent any proof; their destination is hell; and what a wretched abode for the unjust!
ہم عنقریب کافروں کے دلوں میں (تمہارا) رعب ڈال دیں گے اس وجہ سے کہ انہوں نے اس چیز کو اللہ کا شریک ٹھہرایا ہے جس کے لئے اللہ نے کوئی سند نہیں اتاری اور ان کا ٹھکانا دوزخ ہے اور ظالموں کا (وہ) ٹھکانا بہت ہی برا ہے
Tafsir Ibn Kathir
The Prohibition of Obeying the Disbelievers; the Cause of Defeat at Uhud
Allah warns His believing servants against obeying the disbelievers and hypocrites, because such obedience leads to utter destruction in this life and the Hereafter. This is why Allah said,
إِن تُطِيعُواْ الَّذِينَ كَفَرُواْ يَرُدُّوكُمْ عَلَى أَعْقَـبِكُمْ فَتَنقَلِبُواْ خَـسِرِينَ
(If you obey those who disbelieve, they will send you back on your heels, and you will turn back (from faith) as losers) 3:149.
Allah also commands the believers to obey Him, take Him as their protector, seek His aid and trust in Him. Allah said,
بَلِ اللَّهُ مَوْلَـكُمْ وَهُوَ خَيْرُ النَّـصِرِينَ
(Nay, Allah is your protector, and He is the best of helpers).
Allah next conveys the good news that He will put fear of the Muslims, and feelings of subordination to the Muslims in the hearts of their disbelieving enemies, because of their Kufr and Shirk. And Allah has prepared torment and punishment for them in the Hereafter. Allah said,
سَنُلْقِى فِى قُلُوبِ الَّذِينَ كَفَرُواْ الرُّعْبَ بِمَآ أَشْرَكُواْ بِاللَّهِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِهِ سُلْطَـناً وَمَأْوَاهُمُ النَّارُ وَبِئْسَ مَثْوَى الظَّـلِمِينَ
(We shall cast terror into the hearts of those who disbelieve, because they joined others in worship with Allah, for which He sent no authority; their abode will be the Fire and how evil is the abode of the wrongdoers). In addition, the Two Sahihs recorded that Jabir bin `Abdullah said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«أُعْطِيتُ خَمْسًا لَمْ يُعْطَهُنَّ أَحَدٌ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ قَبْلِي: نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ مَسِيرَةَ شَهْرٍ، وَجُعِلَتْ لِيَ الْأَرْضُ مَسْجِدًا وَطَهُورًا، وَأُحِلَّتْ لِيَ الْغَنَائِمُ، وَأُعْطِيتُ الشَّفَاعَةَ، وَكَانَ النَّبِيُّ يُبْعَثُ إِلى قَوْمِهِ خَاصَّةً وَبُعِثْتُ إِلى النَّاسِ عَامَّة»
(I was given five things that no other Prophet before me was given. I was aided with fear the distance of one month, the earth was made a Masjid and clean place for me, I was allowed war booty, I was given the Intercession, and Prophets used to be sent to their people, but I was sent to all mankind particularly.)
Allah said,
وَلَقَدْ صَدَقَكُمُ اللَّهُ وَعْدَهُ
(And Allah did indeed fulfill His promise to you) 3:152,
in the beginning of the day of Uhud,
إِذْ تَحُسُّونَهُمْ
(when you were killing them), slaying your enemies,
بِإِذْنِهِ
(with His permission), for He allowed you to do that against them,
حَتَّى إِذَا فَشِلْتُمْ
(until when you Fashiltum). Ibn Jurayj said that Ibn `Abbas said that Fashiltum means, `lost courage'.
وَتَنَـزَعْتُمْ فِى الاٌّمْرِ وَعَصَيْتُمْ
(and fell to disputing about the order, and disobeyed) such as the mistake made by the archers,
مِّن بَعْدِ مَآ أَرَاكُمْ مَّا تُحِبُّونَ
(after He showed you what you love), that is, victory over the disbelievers,
مِنكُم مَّن يُرِيدُ الدُّنْيَا
(Among you are some that desire this world) referring to those who sought to collect the booty when they saw the enemy being defeated,
وَمِنكُم مَّن يُرِيدُ الاٌّخِرَةَ ثُمَّ صَرَفَكُمْ عَنْهُمْ لِيَبْتَلِيَكُمْ
(and some that desire the Hereafter. Then He made you flee from them, that He might test you).
This Ayah means, Allah gave them the upper hand to try and test you, O believers,
وَلَقَدْ عَفَا عَنْكُمْ
(but surely, He forgave you),
He forgave the error you committed, because, and Allah knows best, the idolators were many and well supplied, while Muslims had few men and few supplies.
Al-Bukhari recorded that Al-Bara' said, "We met the idolators on that day (Uhud) and the Prophet appointed `Abdullah bin Jubayr as the commander of the archers. He instructed them, `Retain your position, and if you see that we have defeated them, do not abandon your positions. If you see that they defeated us, do not rush to help us.' The disbelievers gave flight when we met them, and we saw their women fleeing up the mountain while lifting up their clothes revealing their anklets and their legs. So, the companions (of `Abdullah bin Jubayr) said, `The booty, the booty!' `Abdullah bin Jubayr said, `Allah's Messenger ﷺ commanded me not to allow you to abandon your position.' They refused to listen, and when they left their position, Muslims were defeated and seventy of them were killed. Abu Sufyan shouted, `Is Muhammad present among these people' The Prophet said, `Do not answer him.' Then he asked, `Is the son of Abu Quhafah (Abu Bakr) present among these people' The Prophet said, `Do not answer him.' He asked again, `Is the son of Al-Khattab (`Umar) present among these people As for these (men), they have been killed, for had they been alive, they would have answered me.' `Umar could not control himself and said (to Abu Sufyan), `You lie, O enemy of Allah! The cause of your misery is still present.' Abu Sufyan said, `O Hubal, be high!' On that the Prophet said (to his Companions), `Answer him back.' They said, `What shall we say' He said, `Say, Allah is Higher and more Sublime.' Abu Sufyan said, `We have the (idol) Al-`Uzza, and you have no `Uzza.' The Prophet said, `Answer him back.' They asked, `What shall we say' He said, `Say, Allah is our protector and you have no protector.' Abu Sufyan said, `Our victory today is vengeance for yours in the battle of Badr, and in war (the victory) is always undecided and is shared in turns by the belligerents. You will find some of your killed men mutilated, but I did not urge my men to do so, yet I do not feel sorry for their deed."' Only Al-Bukhari collected this Hadith using this chain of narration. cMuhammad bin Ishaq said that, `Abdullah bin Az-Zubayr narrated that Az-Zubayr bin Al-`Awwam said, "By Allah! I saw the female servants and female companions of Hind (Abu Sufyan's wife) when they uncovered their legs and gave flight. At that time, there was no big or small effort separating us from capturing them. However, the archers went down the mount when the enemy gave flight from the battlefield, seeking to collect the booty. They uncovered our back lines to the horsemen of the disbelievers, who took the chance and attacked us from behind. Then a person shouted, `Muhammad has been killed.' So we pulled back, and the disbelievers followed us, after we had killed those who carried their flag, and none of them dared to come close the flag, until then."' Muhammad bin Ishaq said next, "The flag of the disbelievers was left on the ground until `Amrah bint `Alqamah Al-Harithiyyah picked it up and gave it to the Quraysh who held it."
Allah said,
ثُمَّ صَرَفَكُمْ عَنْهُمْ لِيَبْتَلِيَكُمْ
(Then He made you flee from them, that He might test you) 3:152.
Al-Bukhari recorded that Anas bin Malik said, "My uncle Anas bin An-Nadr was absent from the battle of Badr. He said, `I was absent from the first battle the Prophet fought (against the pagans). (By Allah) if Allah gives me a chance to fight along with the Messenger of Allah ﷺ, then Allah will see how (bravely) I will fight.' On the day of Uhud when the Muslims turned their backs and fled, he said, `O Allah! I apologize to You for what these (meaning the Muslims) have done, and I denounce what these pagans have done.' Then he advanced lifting his sword, and when Sa`d bin Mu`adh met him, he said to him, `O Sa`d bin Mu`adh! Where are you! Paradise! I am smelling its aroma coming from before (Mount) Uhud,' and he went forth, fought and was killed. We found more than eighty stab wounds, sword blows or arrow holes on his body, which was mutilated so badly that none except his sister could recognize him, and she could only do so by his fingers or by a mole." This is the narration reported by Al-Bukhari, Muslim also collected a similar narration from Thabit from Anas.
The Defeat that the Muslims Suffered During the Battle of Uhud
Allah said,
إِذْ تُصْعِدُونَ وَلاَ تَلْوُونَ عَلَى أحَدٍ
((And remember) when you (Tus`iduna) ran away dreadfully without casting even a side glance at anyone), and Allah made the disbelievers leave you after you went up the mount, escaping your enemy. Al-Hasan and Qatadah said that, Tus`iduna, means, `go up the mountain'.
وَلاَ تَلْوُونَ عَلَى أحَدٍ
(without even casting a side glance at anyone) meaning, you did not glance at anyone else due to shock, fear and fright.
وَالرَّسُولُ يَدْعُوكُمْ فِى أُخْرَاكُمْ
(and the Messenger was in your rear calling you back), for you left him behind you, while he was calling you to stop fleeing from the enemy and to return and fight.
As-Suddi said, "When the disbelievers attacked Muslim lines during the battle of Uhud and defeated them, some Muslims ran away to Al-Madinah, while some of them went up Mount Uhud, to a rock and stood on it. On that, the Messenger of Allah ﷺ kept heralding, `Come to me, O servants of Allah! Come to me, O servants of Allah!' Allah mentioned that the Muslims went up the Mount and that the Prophet called them to come back, and said,
إِذْ تُصْعِدُونَ وَلاَ تَلْوُونَ عَلَى أحَدٍ وَالرَّسُولُ يَدْعُوكُمْ فِى أُخْرَاكُمْ
((And remember) when you ran away without even casting a side glance at anyone, and the Messenger was in your rear calling you back)." Similar was said by Ibn `Abbas, Qatadah, Ar-Rabi` and Ibn Zayd.
The Ansar and Muhajirin Defended the Messenger
Al-Bukhari recorded that Qays bin Abi Hazim said, "I saw Talhah's hand, it was paralyzed, because he shielded the Prophet with it." meaning on the day of Uhud. It is recorded in the Two Sahihs that Abu `Uthman An-Nahdi said, "On that day (Uhud) during which the Prophet fought, only Talhah bin `Ubaydullah and Sa`d remained with the Prophet."
Sa`id bin Al-Musayyib said, "I heard Sa`d bin Abi Waqqas saying, `The Messenger of Allah ﷺ gave me arrows from his quiver on the day of Uhud and said, `Shoot, may I sacrifice my father and mother for you."' Al-Bukhari also collected this Hadith. The Two Sahihs recorded that Sa`d bin Abi Waqqas said, "On the day of Uhud, I saw two men wearing white clothes, one to the right of the Prophet and one to his left, who were defending the Prophet fiercely. I have never seen these men before or after that day." Meaning angels Jibril and Mika'il, peace be upon them.
Abu Al-Aswad said that, `Urwah bin Az-Zubayr said, "Ubayy bin Khalaf of Bani Jumah swore in Makkah that he would kill the Messenger of Allah ﷺ. When the Messenger was told of his vow, he said, `Rather, I shall kill him, Allah willing.' On the day of Uhud, Ubayy came while wearing iron shields and proclaiming, `May I not be saved, if Muhammad is saved.' He then headed to the direction of the Messenger of Allah ﷺ intending to kill him, but Mus`ab bin `Umayr, from Bani Abd Ad-Dar, intercepted him and shielded the Prophet with his body, and Mus`ab bin `Umayr was killed. The Messenger of Allah ﷺ saw Ubayy's neck exposed between the shields and helmet, stabbed him with his spear, and Ubayy fell from his horse to the ground. However, no blood spilled from his wound. His people came and carried him away while he was moaning like an ox. They said to him, `Why are you so anxious, it is only a flesh wound' Ubayy mentioned to them the Prophet's vow, `Rather, I shall kill Ubayy', then commented, `By He in Whose Hand is my soul! If what hit me hits the people of Dhul-Majaz (a popular pre-Islamic marketplace), they would all have perished.' He then died and went to the Fire,
فَسُحْقًا لاًّصْحَـبِ السَّعِيرِ
(So, away with the dwellers of the blazing Fire!) 67:11."
This was collected by Musa bin `Uqbah from Az-Zuhri from Sa`id bin Al-Musayyib.
It is recorded in the Two Sahih that when he was asked about the injuries the Messenger sustained in Uhud, Sahl bin Sa`d said, "The face of Allah's Messenger ﷺ was injured, his front tooth was broken and his helmet was smashed on his head. Therefore, Fatimah, the daughter of Allah's Messenger washed off the blood while `Ali was pouring water on her hand. When Fatimah saw that the bleeding increased more by the water, she took a mat, burnt it, and placed the ashes in the wound of the Prophet and the blood stopped oozing out." Allah said next,
فَأَثَـبَكُمْ غَمّاً بِغَمٍّ
(There did Allah give you one distress after another) 3:153,
He gave you grief over your grief. Ibn `Abbas said, `The first grief was because of the defeat, especially when it was rumored that Muhammad was killed. The second grief was when the idolators went up the mount and The Messenger of Allah ﷺ said, `O Allah! It is not for them to rise above us."'
`Abdur-Rahman bin `Awf said, "The first distress was because of the defeat and the second when a rumor started that Muhammad was killed, which to them, was worse than defeat." Ibn Marduwyah recorded both of these. Mujahid and Qatadah said, "The first distress was when they heard that Muhammad was killed and the second when they suffered casualties and injury." It has also been reported that Qatadah and Ar-Rabi` bin Anas said that it was the opposite order. As-Suddi said that the first distress was because of the victory and booty that they missed and the second because of the enemy rising above them (on the mount). Allah said,
لِّكَيْلاَ تَحْزَنُواْ عَلَى مَا فَاتَكُمْ
(by way of requital to teach you not to grieve for that which had escaped you), for that you missed the booty and triumph over your enemy.
وَلاَ مَآ أَصَـبَكُمْ
(nor for what struck you), of injury and fatalities, as Ibn `Abbas, `Abdur-Rahman bin `Awf, Al-Hasan, Qatadah and As-Suddi stated. Allah said next,
وَاللَّهُ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ
(And Allah is Well-Aware of all that you do.) all praise is due to Him, and thanks, there is no deity worthy of worship except Him, the Most High, Most Honored.
کافر اور منافقوں کے ارادے اور غزوہ احد کا پھر اندوہناک تذکرہ اللہ تعالیٰ اپنے ایماندار بندوں کو کافروں اور منافقوں کی باتوں کے ماننے سے روک رہا ہے اور بتارہا ہے کہ اگر ان کی مانی تو دنیا اور آخرت کی ذلت تم پر آئے گی انکی چاہت تو یہی ہے کہ تمہیں دین اسلام سے ہٹا دیں پھر فرماتا ہے مجھ ہی کو اپنا والی اور مددگار جانو مجھی سے دوستی کرو مجھی پر بھروسہ کرو مجھی سے مدد چاہو پھر فرمایا کہ ان شریروں کے دلوں میں ان کے کفر کے سبب ڈر خوف ڈال دوں گا، بخاری مسلم میں حضرت جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مجھے پانچ باتیں دی گئیں ہیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئیں میری مدد مہینہ بھر کی راہ تک رعب سے کی گئی ہے میرے لئے زمین مسجد اور اس کی مٹی وضو کی پاک چیز بنائی گئی، میرے لئے غنیمت کے مال حلال کئے گئے اور مجھے شفاعت دی گئی اور ہر نبی اپنی اپنی قوم کی طرف سے مخصوص بھیجا جاتا تھا اور میری بعثت میری نبوت تمام دنیا کیلئے عام ہوئی، مسند احمد میں ہے آپ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے تمام نبیوں پر اور بعض روایتوں میں ہے تمام امتوں پر مجھے چار فضیلتیں عطا فرمائی ہیں، مجھے تمام دنیا کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا، میرے اور میری امت کیلئے تمام زمین مسجد اور پاک بنائی گئی، میرے امتی کو جہاں نماز کا وقت آجائے وہیں اس کی مسجد اور اس کا وضو ہے، میرا دشمن مجھ سے مہینہ بھر کی راہ پر ہو وہیں سے اللہ تعالیٰ اس کا دل رعب سے پُر کردیتا ہے اور وہ کانپنے لگتا ہے اور میرے لئے غنیمت کے مال حلال کئے گئے اور روایت میں ہے کہ میں مدد کیا گیا ہوں میرے رعب سے ہر دشمن پر، مسند کی ایک اور حدیث میں ہے مجھے پانچ چیزیں دی گئیں میں ہر سرخ وسفید کی طرف بھیجا گیا میرے لئے تمام زمین وضو اور مسجد بنائی گی۔ میرے لئے غنیمتوں کے مال حلال کئے گئے جو میرے پہلے کسی کے حلال نہ تھے اور میری مدد مہینہ بھر کی راہ تک رعب سے کی گئی اور مجھے شفاعت دی گئی تمام انبیاء نے شفاعت مانگ لی لیکن میں نے اپنی شفاعت کو اپنی امت کے لوگوں کیلئے جنہوں نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا ہو بچار کھی ہے، حضرت ابن عباس فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے ابو سفیان کے دل میں رعب ڈال دیا اور وہ لڑائی سے لوٹ گیا پھر ارشاد ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا وعدہ سچا کر دکھایا اور تمہاری مدد کی اس سے بھی یہ استدلال ہوسکتا ہے کہ یہ وعدہ احد کے دن کا تھا تین ہزار دشمن کا لشکر تھا تاہم مقابلہ پر آتے ہی ان کے قدم اکھڑ گئے اور مسلمانوں کو فتح حاصل ہوئی لیکن پھر تیر اندازوں کی نافرمانی کی وجہ سے اور بعض حضرات کی پست ہمتی کی بناء پر وہ وعدہ جو مشروط تھا رک گیا پس فرماتا ہے کہ تم انہیں اپنے ہاتھوں سے کاٹتے تھے۔ شروع دن میں ہی اللہ نے تمہیں ان پر غالب کردیا لیکن تم نے پھر بزدلی دکھائی اور نبی کی نافرمانی کی ان کی بتائی ہوئی جگہ سے ہٹ گئے اور آپس میں اختلاف کرنے لگے حالانکہ اللہ عزوجل نے تمہیں تمہاری پسند کی چیز فتح دکھا دی تھی یعنی مسلمان صاف طور پر غالب آگئے تھے مال غنیمت آنکھوں کے سامنے موجود تھا کفار پیٹھ پھیر کر بھاگ کھڑے ہوئے تھے تم میں سے بعض نے دنیا طلبی کی اور کفار کی ہزیمت کو دیکھ کر نبی ﷺ کے فرمان کا خیال نہ کر کے مال غنیمت کی طرف لپکے گو بعض اور نیک آخرت طلب بھی تھے لیکن اس نافرمانی وغیرہ کی بنا پر کفار کی پھر بن آئی اور ایک مرتبہ تمہاری پوری آزمائش ہوگئی غالب ہو کر مغلوب ہوگئے فتح کے بعد شکست ہوگئی لیکن پھر بھی اللہ تعالیٰ نے تمہارے اس جرم کو معاف فرما دیا کیونکہ وہ جانتا ہے کہ بظاہر تم ان سے تعداد میں اور اسباب میں کم تھے خطا کا معاف ہونا بھی عفاعنکم میں داخل ہے اور یہ بھی مطلب ہے کہ کچھ یونہی سی گوشمالی کر کے کچھ بزرگوں کی شہادت کے بعد اس نے اپنی آزمائش کو اٹھا لیا اور باقی والوں کو معاف فرما دیا، اللہ تعالیٰ باایمان لوگوں پر فضل و کرم لطف و رحم ہی کرتا ہے، حضرت عبداللہ بن عباس سے مروی ہے کہ حضور ﷺ کی مدد جیسی احد میں ہوئی ہے کہیں نہیں ہوئی اسی کے بارے میں ارشاد باری ہے کہ اللہ نے تم سے اپنا وعدہ سچا کر دکھایا لیکن پھر تمہارے کرتوتوں سے معاملہ برعکس ہوگیا، بعض لوگوں نے دنیا طلبی کر کے رسول ﷺ کی نافرمانی کی یعنی بعض تیر اندوزوں نے جنہیں حضور ﷺ نے پہاڑ کے درے پر کھڑا کیا تھا اور فرما دیا تھا کہ تم یہاں سے دشمنوں کی نگہبانی کرو وہ تمہاری پیٹھ کی طرف سے نہ آجائیں، اگر تم ہار دیکھو بھی اپنی جگہ سے نہ ہٹنا اور اگر تم ہر طرح غالب آگئے تو بھی تم غنیمت جمع کرنے کیلئے بھی اپنی جگہ کو نہ چھوڑنا، جب حضور ﷺ غالب آگئے تو تیر اندوزوں نے حکم عدولی کی اور وہ اپنی جگہ کو چھوڑ کر مسلمانوں میں آملے اور مال غنیمت جمع کرنا شروع کردیا صفوں کا کوئی خیال نہ رہا درے کو خالی پا کر مشرکوں نے بھاگنا بند کیا اور غور و فکر کر کے اس جگہ حملہ کردیا، چند مسلمانوں کی پیٹھ کے پیچھے سے ان کی بیخبر ی میں اس زور کا حملہ کیا کہ مسلمانوں کے قدم نہ جم سکے اور شروع دن کی فتح اب شکست سے بدل گئی اور یہ مشہور ہوگیا کہ حضور ﷺ بھی شہید ہوگئے اور لڑائی کے رنگ نے مسلمانوں کو اس بات کا یقین بھی دلا دیا، تھوڑی دیر بعد جبکہ مسلمانوں کی نظریں چہرہ مبارک پر پڑیں تو وہ اپنی سب کوفت اور ساری مصیبت بھول گئے اور خوشی کے مارے حضور ﷺ کی طرف لپکے آپ ادھر آرہے تھے اور فرماتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کا سخت غضب نازل ہو ان لوگوں پر جنہوں نے اللہ کے رسول ﷺ کے چہرے کو خون آلودہ کردیا، انہیں کوئی حق نہ تھا کہ اس طرح ہم پر غالب رہ جائیں، تھوڑی دیر میں ہم نے سنا کہ ابو سفیان پہاڑ کے نیچے کھڑا ہوا کہہ رہا تھا اعل ہبل اعل ھبل ہبل بت کا بول بالا ہو ابوبکر کہاں ہے ؟ عمر کہاں ہے ؟ حضرت عمر نے پوچھا حضور ﷺ اسے جواب دوں ؟ آپ ﷺ نے اجازت دی تو حضرت عمر فاروق نے اس کے جواب میں فرمایا اللہ اعلی واجل اللہ اعلی واجل اللہ بہت بلند ہے اور جلال و عزت والا ہے اللہ بہت بلند اور جلال و عزت والا ہے، وہ پوچھنے لگا بتاؤ محمد ﷺ کہاں ہیں ؟ ابوبکر کہاں ہیں ؟ عمر کہاں ہیں ؟ آپ نے فرمایا یہ ہیں رسول اللہ ﷺ اور یہ ہیں حضرت ابوبکر اور یہ ہوں میں عمر فاروق ابو سفیان کہنے لگا یہ بدر کا بدلہ ہے یونہی دھوپ چھاؤں الٹتی پلٹتی رہتی ہے، لڑائی کی مثال کنویں کے ڈول کی سی ہے، حضرت عمر نے فرمایا برابری کا معاملہ ہرگز نہیں تمہارے مقتول تو جہنم میں گئے اور ہمارے شہید جنت میں پہنچے، ابو سفیان کہنے لگا اگر یونہی ہو تو یقینا ہم نقصان اور گھاٹے میں رہے، سنو تمہارے مقتولین میں بعض ناک کان کٹے لوگ بھی تم پاؤ گے گویہ ہمارے سرداروں کی رائے سے نہیں ہوا لیکن ہمیں کچھ برا بھی نہیں معلوم ہوا، یہ حدیث غریب ہے اور یہ قصہ بھی عجیب ہے، یہ ابن عباس کی مرسلات سے ہے اور وہ یا ان کے والد جنگ احد میں موجود نہ تھے، مستدرک حاکم میں بھی یہ روایت موجود ہے ابن ابی حاتم اور بیہقی فی دلائل النبوۃ میں بھی یہ مروی ہے اور صحیح احادیث میں اس کے بعض حصوں کے شواہد بھی ہیں کہ احد والے دن عورتیں مسلمانوں کے پیچھے تھیں جو زخمیوں کی دیکھ بھال کرتی تھیں تو پوری طرح یقین تھا کہ آج کے دن ہم میں کوئی ایک بھی طالب دنیا نہیں بلکہ اس وقت اگر مجھے اس بات پر قسم کھلوائی جاتی تو کھا لیتا لیکن قرآن میں یہ آیت اتری (منکم من یرید الدنیا) یعنی تم میں سے بعض طالب دنیا بھی ہیں، جب صحابہ سے حضور ﷺ کے حکم کے خلاف آپ کی نافرمانی سرزد ہوئی تو انکے قدم اکھڑ گئے حضور ﷺ کے ساتھ صرف سات انصاری اور دو مہاجر باقی رہ گئے جب مشرکین نے حضور ﷺ کو گھیر لیا تو آپ فرمانے لگے اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم کرے جو انہیں ہٹائے تو ایک انصار اٹھ کھڑے ہوئے اور اسجم غفیر کے مقابل تن تنہا داد شجاعت دینے لگے یہاں تک کہ شہید ہوگئے پھر کفار نے حملہ کیا آپ نے یہی فرمایا ایک انصاری تیار ہوگئے اور اس بےجگری سے لڑے کہ انہیں آگے نہ بڑھنے دیا لیکن بالآخر یہ بھی شہید ہوگئے یہاں تک کہ ساتوں صحابہ اللہ کے ہاں پہنچ گئے اللہ ان سے خوش ہو، حضور ﷺ نے مہاجرین سے فرمایا افسوس ہم نے اپنے ساتھیوں سے منصفانہ معاملہ نہ کیا، اب ابو سفیان نے ہانک لگائی کہ اعل ہبل آپ نے فرمایا کہو اللہ اعلی واجل ابو سفیان نے کہا (لنا العزی ولا عزی لکم) ہمارا عزی بت ہے تمہاری کوئی عزی نہیں، آپ نے فرمایا کہو اللہ مولانا والکافرون لا مولی لھم اللہ ہمارا مولی ہے اور کافروں کا کوئی مولی نہیں، ابو سفیان کہنے لگا آج کے دن بدر کے دن کا بدلہ ہے کوئی دن ہمارا اور کوئی دن تمہارا، یہ تو ہاتھوں ہاتھ کا سودا ہے، ایک کے بدلے ایک ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا ہرگز برابری نہیں ہمارے شہداء زندہ ہیں وہاں رزق دے جاتے ہیں اور تمہارے مقتول جہنم میں عذاب کئے جا رہے ہیں پھر ابو سفیان بولا تمہارے مقتول میں تم دیکھو گے کہ بعض کے کان ناک وغیرہ کاٹ لئے گئے ہیں لیکن میں نے نہ یہ کہا نہ اسے روکا نہ اسے میں نے پسند کیا نہ مجھے یہ بھلا معلوم ہوا نہ برا، اب جو دیکھا تو معلوم ہوا کہ حضرت حمزہ کا پیٹ چاک کردیا گیا تھا اور ہندہ نے انکا کلیجہ لے کر چبایا تھا لیکن نگل نہ سکی تو اگل دیا،حضور ﷺ نے فرمایا ناممکن تھا کہ اس کے پیٹ میں حمزہ کا ذرا سا گوشت بھی چلا جائے اللہ تعالیٰ حمزہ کے کسی عضو بدن کو جہنم میں لے جانا نہیں چاہتا چناچہ حمزہ کے جنازے کو اپنے سامنے رکھ کر نماز جنازہ ادا کی پھر ایک انصاری کا جنازہ لایا گیا وہ حضرت حمزہ کے پہلو میں رکھا گیا اور آپ نے پھر نماز جنازہ پڑھی انصاری کا جنازہ اٹھا لیا گیا لیکن حضرت حمزہ کا جنازہ وہیں رہا اسی طرح ستر شخص لائے گئے اور حضرت حمزہ کی ستر دفعہ جنازے کی نماز پڑھی گئی (مسند) صحیح بخاری شریف میں حضرت براء سے مروی ہے کہ احد والے دن مشرکوں سے ہماری مڈبھیڑ ہوئی حضور ﷺ نے تیر اندازوں کی ایک جماعت کو الگ جما دیا اور انکا سردار حضرت عبداللہ بن جیبر کو بنایا اور فرما دیا کہ اگر تم ہمیں ان پر غالب آیا ہوا دیکھو تو بھی یہاں سے نہ ہٹنا اور وہ ہم پر غالب آجائیں تو بھی تم اپنی جگہ نہ چھوڑنا، لڑائی شروع ہوتے ہی اللہ کے فضل سے مشرکوں کے قدم پیچھے ہٹنے لگے یہاں تک کہ عورتیں بھی تہبند اونچا کر کر کے پہاڑوں میں ادھر دوڑنے لگیں، اب تیر انداز گروہ غنیمت غنیمت کہتا ہوا نیچے اتر آیا، ان کے امیر نے انہیں ہرچند سمجھایا لیکن کسی نے ان کی نہ سنی، بس اب مشرکین مسلمانوں کی پیٹھ کی طرف سے آن پڑے اور ستر بزرگ شہید ہوگئے ابو سفیان ایک ٹیلے پر چڑھ کر کہنے لگا کیا محمد ﷺ حیات ہیں ؟ کیا ابوبکر موجود ہیں ؟ کیا عمر زندہ ہیں ؟ لیکن حضور ﷺ کے فرمان سے صحابہ خوش رہے تو وہ خوشی کے مارے اچھل پڑا اور کہنے لگا یہ سب ہماری تلواروں کے گھاٹ اتر گئے اگر زندہ ہوتے تو ضرور جواب دیتے ایک حضرت عمر کو تاب ضبط نہ رہی فرمانے لگے، اے اللہ کے دشمن تو جھوٹا ہے بحمد اللہ ہم سب موجود ہیں اور تیری تباہی اور بربادی کرنے والے زندہ ہیں، پھر وہ باتیں ہوئیں جو اوپر بیان ہوچکی ہیں، صحیح بخاری شریف میں حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ جنگ احد میں مشرکوں کو ہزیمت ہوئی اور ابلیس نے آواز لگائی اے اللہ کے بندو ! اپنے پیچھے کی خبر لو اگلی جماعتیں پچھلی جماعتوں پر ٹوٹ پڑیں، حضرت حذیفہ نے دیکھا کہ مسلمانوں کی تلواریں ان کے والد حضرت یمان ؓ پر برس رہی ہیں ہرچند کہتے رہے کہ اے اللہ کے بندو ! یہ میرے باپ یمان ہیں مگر کون سنتا تھا وہ یونہی شہید ہوگئے لیکن حضرت حذیفہ نے کچھ نہ کہا بلکہ فرمایا اللہ تمہیں معاف کرے، حضرت حذیفہ کی یہ بھلائی ان کے آخری دم تک ان میں رہی، سیرت ابن اسحاق میں ہے حضرت زبیر بن عوام فرماتے ہیں میں نے خود دیکھا کہ مشرک مسلمانوں کے اول حملہ میں ہی بھاگ کھڑے ہوئے یہاں تک کہ ان کی عورتیں ہندہ وغیرہ تہمد اٹھائے تیز تیز دوڑ رہی تھیں لیکن اس کے بعد جب تیر اندازوں نے مرکز چھوڑا اور کفار نے سمٹ کر پیچھے کی طرف سے ہم پر حملہ کردیا ادھر کسی نے آواز لگائی کہ حضور ﷺ شہید ہوگئے پھر معاملہ برعکس ہوگیا ورنہ ہم مشرکین کے علم برداروں تک پہنچ چکے تھے اور جھنڈا اس کے ہاتھ سے گرپڑا تھا لیکن عمرہ بن علقمہ حارثیہ عورت نے اسے تھام لیا اور قریش کا مجمع پھر یہاں جمع ہوگیا، حضرت انس بن مالک چچا حضرت انس بن نضر ؓ یہ رنگ دیکھ حضرت عمر حضرت طلحہ وغیرہ کے پاس آتے ہی اور فرماتے ہیں تم نے کیوں ہمتیں چھوڑ دیں ؟ وہ جواب دیتے ہیں کہ حضور ﷺ تو شہید ہوگئے۔ حضرت انس نے فرمایا پھر تم جی کر کیا کرو گے ؟ یہ کہا اور مشرکین میں گھسے پھر لڑتے رہے یہاں تک کہ اللہ رب العزت سے جا ملے ؓ ، یہ بدر والے دن جہاد میں نہیں پہنچ سکے تھے تو عہد کیا تھا کہ آئندہ اگر کوئی موقعہ آیا تو میں دکھا دوں گا چناچہ اس جنگ میں وہ موجود تھے جب مسلمانوں میں کھلبلی مچی تو انہوں نے کہا الہ میں مسلمانوں کے اس کام سے معذور ہوں اور مشرکوں کے اس کام سے بری ہوں پھر اپنی تلوار لے کر آگے بڑھ گئے راہ میں حضرت سعد بن معاذ سے ملے اور کہنے لگے کہاں جا رہے ہو ؟ مجھے تو جنت کی خوشبو کی لپٹیں احد پہاڑ سے چلی آرہی ہیں چناچہ مشرکوں میں گھس گئے اور بڑی بےجگری سے لڑے یہاں تک کہ شہادت حاصل کی اسی سے زیادہ تیرو تلوار کے زخم بدن پر آئے تھے پہچانے نہ جاتے تھے انگلی کو دیکھ کر پہچانے گئے ؓ ، صحیح بخاری شریف میں ہے کہ ایک حاجی نے بیت اللہ شریف میں ایک مجلس دیکھ کر پوچھا کہ یہ کون لوگ ہیں ؟ لوگوں نے کہا قریشی ہیں پوچھا ان کے شیخ کون ہیں ؟ جواب ملا حضرت عبداللہ بن عمر ؓ ہیں، اب وہ آیا اور کہنے لگا میں کچھ دریافت کرنا چاہتا ہوں حضرت عبداللہ نے فرمایا پوچھو اس نے کہا آپ کو اس بیت اللہ کی حرمت کی قسم کیا آپ کو علم ہے کہ (حضرت) عثمان بن عفان احد والے دن بھاگ گئے تھے ؟ آپ نے جواب دیا ہاں۔ کہا کیا آپ کو معلوم ہے کہ وہ بدر والے دن بھی حاضر نہیں ہوئے تھے ؟ فرمایا ہاں، کہا کیا آپ جانتے ہیں کہ وہ بیعت الرضوان میں بھی شریک نہیں ہوئے تھے ؟ فرمایا یہ بھی ٹھیک ہے، اب اس نے (خوش ہوکر) تکبیر کہی، حضرت عبداللہ نے فرمایا ادھر آ، اب میں تجھے پورے واقعات سناؤں، احد کے دن کا بھاگنا تو اللہ تعالیٰ نے معاف فرما دیا، بدر کے دن کی غیر حاضری کے باعث یہ ہوا کہ آپ کے گھر میں رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادی تھیں اور وہ اس وقت سخت بیمار تھیں تو خود حضور ﷺ نے ان سے فرمایا تھا کہ تم نہ آؤ مدینہ میں ہی رہو تمہیں اللہ تعالیٰ اس جنگ میں حاضر ہونے کا اجر دے گا اور غنیمت میں بھی تمہارا حصہ ہے، بیعت الرضوان کا واقعہ یہ ہے کہ انہیں رسول اللہ ﷺ نے مکہ والوں کے پاس اپنا پیغام دے کر حضرت عثمان کو بھیجا تھا اس لئے کہ مکہ میں جو عزت انہیں حاصل تھی کسی اور کو اتنی نہ تھی انکے تشریف لے جانے کے بعد یہ بیعت لی گئی تو رسول اللہ ﷺ نے اپنا داہنا ہاتھ کھڑا کر کے کہا یہ عثمان کا ہاتھ ہے پھر اپنے دوسرے ہاتھ پر رکھا (گویا بیعت کی) پھر اس شخص سے کہا اب جاؤ اور اسے ساتھ لے جاؤ پھر فرمایا آیت (او تصعدون) الخ یعنی تم اپنے دشمن سے بھاگ کر پہاڑ چڑھ رہے تھے اور مارے خوف و دہشت کے دوسری جانب توجہ بھی نہیں کرتے تھے رسول ﷺ کو بھی تم نے وہیں چھوڑ دیا تھا وہ تمہیں آوازیں دے رہے تھے اور سمجھا رہے تھے کہ بھاگو نہیں لوٹ آؤ، حضرت سدی فرماتے ہیں مشرکین کے اس خفیہ اور پر زور اور اچانک حملہ سے مسلمانوں کے قدم اکھڑ گئے کچھ تو مدینہ کی طرف لوٹ آئے کچھ پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ گئے اللہ کے نبی آوازیں دیتے رہے کہ اللہ کے بندوں میری طرف آؤ اللہ کے بندو میری طرف آؤ، اس واقعہ کا بیان اس آیت میں ہے، عبداللہ بن زحری شاعر نے اس واقعہ کو نظم میں بھی ادا کیا ہے، آنحضرت ﷺ اس وقت صرف بارہ آدمیوں کے ساتھ رہ گئے تھے مسند احمد کی ایک طویل حدیث میں بھی ان تمام واقعات کا ذکر ہے، دلائل النبوۃ میں ہے کہ جب ہزیمت ہوئی تب حضور ﷺ کے ساتھ صرف گیارہ شخص رہ گئے اور ایک حضرت طلحہ بن عبید اللہ تھے، آپ پہاڑ پر چڑھنے لگے لیکن مشرکین نے آگھیرا آپ نے اپنے ساتھیوں یک طرف متوجہ ہو کر فرمایا کوئی ہے جو ان سے مقابلہ کرے، حضرت طلحہ نے اس آواز پر فوراً لبیک کہا اور تیار ہوگئے لیکن آپ نے فرمایا تم ابھی ٹھہر جاؤ اب ایک انصاری تیار ہوئے اور وہ ان سے لڑنے لگے یہاں تک کہ شہید ہوئے اسی طرح سب کے سب ایک ایک کر کے شہید ہوگئے اور اب صرف حضرت طلحہ رہ گئے گویہ بزرگ ہر مرتبہ تیار ہوجاتے تھے لیکن حضور ﷺ انہیں روک لیا کرتے تھے آخر یہ مقابلہ پر آئے اور اس طرح جم کر لڑے کہ ان سب کی لڑائی ایک طرف اور یہ ایک طرف اس لڑائی میں ان کی انگلیاں کٹ گئیں تو زبان سے حس نکل گیا آپ نے فرمایا اگر تم بسم اللہ کہہ دیتے یا اللہ کا نام لیتے تو تمہیں فرشتے اٹھا لیتے اور آسمان کی بلندی کی طرف لے چڑھتے اور لوگ دیکھتے رہتے اب نبی ﷺ اپنے صحابہ کے مجمع میں پہنچ چکے تھیں۔ صحیح بخاری شریف میں ہے حضرت قیس بن حازم فرماتے ہیں میں نے دیکھا حضرت طلحہ کا وہ ہاتھ جسے انہوں نے ڈھال بنایا تھا شل ہوگیا تھا، حضعرت سعد بن ابی وقاص فرماتے ہیں میرے پاس حضور ﷺ نے اپنی ترکش سے احد والے دن تمام تیر پھیلا دئیے اور فرمایا تجھ پر میرے ماں باپ فدا ہوں لے مشرکین کو مار آپ اٹھا اٹھا کردیتے جاتے تھے اور میں تاک تاک کر مشرکین کو مارتا جاتا تھا اس دن میں نے دو شخصوں کو دیکھا کہ حضور ﷺ کے دائیں بائیں تھے اور سخت ترین جنگ کر رہے تھے میں نے نہ تو اس سے پہلے کبھی انہیں دیکھا تھا نہ اس کے بعد یہ دونوں حضرت جبرائیل اور حضرت میکائیل (علیہما السلام) تھے ایک اور روایت میں ہے کہ جو بزرگ حضور ﷺ کے ساتھ بھگدڑ کے بعد تھے اور ایک ایک ہو کر شہید ہوئے تھے انہیں آپ فرماتے جاتے تھے کہ کوئی ہے جو انہیں رو کے اور جنت میں جائے میرا رفیق ہے، ابی بن خلف نے مکہ میں قسم کھائی تھی کہ میں رسول اللہ ﷺ کو قتل کروں گا، جب حضور ﷺ کو اس کا علم ہوا تو آپ نے فرمایا وہ تو نہیں بلکہ میں انشاء اللہ اسے قتل کروں گا احد والے دن یہ خبیث سرتاپا لوہے میں غرق زرہ بکتر لگائے ہوئے حضور ﷺ کی طرف بڑھا اور یہ کہتا آتا تھا کہ اگر محمد ﷺ بچ گئے تو میں اپنے تئیں ہلاک کر ڈالوں گا ادھر سے حضرت مصعب بن عمیر اس ناہنجار کی طرف بڑھے لیکن آپ شہید ہوگئے اب حضور ﷺ اس کی طرف بڑھے اس کا سارا جسم لوہے میں چھپا ہوا تھا صرف ذرا سی پیشانی نظر آرہی تھی آپ نے اپنا نیزہ تاک کر وہیں لگایا جو ٹھیک نشانے پر بیٹھا اور یہ تیورا کر گھوڑے پر سے گرا گو اس زخم سے خون بھی نہ نکلا تھا لیکن اس کی یہ حالت تھی کہ بلبلا رہا تھا لوگوں نے اسے اٹھا لیا لشکر میں لے گئے اور تشفی دینے لگے کہ ایسا کوئی کاری زخم نہیں لگا کیوں اس قدر نامردی کرتا ہے آخر ان کے طعنوں سے مجبور ہو کر اس نے کہا میں نے سنا ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا ہے میں ابی کو قتل کروں گا سچ مانو اب میں کبھی نہیں بچ سکتا تم اس پر نہ جاؤ کہ مجھے ذرا سی خراش ہی آئی ہے اللہ کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے اگر کل اہل ذی المجاز کو اتنا زخم اس ہاتھ سے لگ جاتا تو سب ہلاک ہوجاتے پس یونہی تڑپتے تڑپتے اور بلکتے بلکتے اس جہنمی کی ہلاکت ہوئی اور مر کر جہنم رسید ہوا، مغازی محمد بن اسحاق میں ہے کہ جب یہ شخص حضور ﷺ کے سامنے ہوا تو صحابہ نے اس کے مقابلہ کی خواہش کی لیکن آپ نے انہیں روک دیا اور فرمایا اسے آنے دو جب وہ قریب آگیا تو آپ نے حضرت حارث بن صمہ سے نیزہ لے کر اس پر حملہ کیا حضور ﷺ کے ہاتھ میں نیزہ دیکھتے ہی وہ کانپ اٹھا ہم نے اسی وقت سمجھ لیا کہ اس کی خیر نہیں آپ نے اس کی گردن پر وار کیا اور وہ لڑکھڑا کر گھوڑے پر سے گرا، حضرت ابن عمر کا دہشت ناک شعلے اٹھتے ہوئے دیکھے اور دیکھا کہ ایک شخص کو زنجیروں میں جکڑے ہوئے اس آگ میں گھسیٹا جا رہا ہے اور وہ پیاس پیاس کر رہا ہے اور دوسرا شخص کہتا ہے اسے پانی نہ دینا یہ پیغمبر کے ہاتھ کا مارا ہوا ہے یہ ابی بن خلف ہے، بخاری و مسلم کی ایک حدیث میں ہے آپ اپنے سامنے کے چار دانتوں کی طرف جنہیں مشرکین نے احد والے دن شہید کیا تھا اشارہ کر کے فرما رہے تھے اللہ کا سخت تر غضب ان لوگوں پر ہے جنہوں نے اپنے نبی ﷺ کے ساتھ یہ کیا اور اس پر بھی اللہ تعالیٰ کا غضب ہے جسے اللہ کا رسول اللہ ﷺ کی راہ میں قتل کرے اور روایت میں یہ لفظ ہیں کہ جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے رسول ﷺ کا چہرہ زخمی کیا، عتبہ بن ابی وقاص کے ہاتھ سے حضور ﷺ کو یہ زخم لگا تھا سامنے کے چار دانٹ ٹوٹ گئے تھے، رخسار پر زخم آیا تھا اور ہونٹ پر بھی، حضرت سعد بن ابی وقاص فرمایا کرتے تھے مجھے جس قدر اس شخص کی حرص تھی کسی اور کے قتل کی نہ تھی۔ یہ شخص بڑا بد خلق تھا اور ساری قوم سے اس کی دشمنی تھی اس کی برائی میں حضور ﷺ کا یہ فرمان کافی ہے کہ نبی ﷺ کو زخمی ہونے والے پر اللہ سخت غضبناک ہے، عبدالرزاق میں ہے حضور ﷺ نے اس کیلئے بد دعا کی کہ اے اللہ سال بھر میں یہ ہلاک ہوجائے اور کفر پر اس کی موت ہو چناچہ یہی ہوا اور یہ بدبخت کافر مرا اور جہنم واصل ہوا۔ ایک مہاجر کا بیان ہے کہ چاروں طرف سے احد والے دن حضور ﷺ پر تیروں کی بارش ہو رہی تھی لیکن اللہ کی قدرت سے وہ سب پھیر دیئے جاتے تھے، عبداللہ بن شہاب زہری نے اس دن قسم کھا کر کہا کہ مجھے محمد ﷺ کو دکھا دو وہ آج میرے ہاتھ سے بچ نہیں سکتا اگر وہ نجات پا گیا تو میری نجات نہیں اب وہ حضور ﷺ کی طرف سے لپکا اور بالکل آپ کے پاس آگیا اس وقت حضور ﷺ کے ساتھ کوئی نہ تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا اسے حضور ﷺ نظر ہی نہ آئے جب وہ نامراد پلٹا تو صفوان نے اسے طعنہ زنی کی اس نے کہا اللہ تعالیٰ کی طرف سے محفوظ ہیں ہمارے ہاتھ نہیں لگنے کے سنو ! ہم چار شخصوں نے ان کے قتل کا پختہ مشورہ کیا تھا اور آپس میں عہدو پیمان کئے تھے ہم نے ہرچند چاہا لیکن کامیابی نہ ہوئی واقدی کہتے ہیں لیکن ثابت شدہ بات یہ ہے کہ حضور ﷺ کی پیشانی کو زخمی کرنے والا ابن قمیہ اور ہونٹ اور دانتوں پر صدمہ پہچانے والا عتبہ بن ابی وقاص تھا۔ ام المومنین حضرت عائشہ کا بیان ہے کہ میرے والد حضرت ابوبکر جب احد کا ذکر فرماتے تو صاف کہتے کہ اس دن کی تمام تر فضلیت کا سہرا حضرت طلحہ کے سر ہے میں جب لوٹ کر آیا تو میں نے دیکھا کہ ایک شخص حضور ﷺ کی حمایت میں جان ٹکائے لڑ رہا ہے میں نے کہا اللہ کرے یہ طلحہ ہو اب جو قریب آ کر دیکھا تو طلحہ ہی تھے ؓ میں نے کہا الحمد اللہ میری ہی قوم کا ایک شخص ہے میرے اور مشرکوں کے درمیان ایک شخص تھا جو مشرکین میں کھڑا ہوا تھا لیکن اسکے بےپناہ حملے مشرکوں کی ہمت توڑ رہے تھے غور سے دیکھا تو وہ حضرت عبیدہ بن جراح تھے، اب جو میں نے بغور حضور ﷺ کی طرف دیکھا تو آپ کے سامنے کے دانت ٹوٹ گئے ہیں چہرہ زخمی ہو رہا ہے اور پیشانی میں زرہ کی دو کڑیاں کھب گئی ہیں میں آپ کی طرف لپکا لیکن آپ نے فرمایا ابو طلحہ کی خبر لو میں نے چاہا کہ حضور ﷺ کے چہرے میں سے وہ دونوں کڑیاں نکالوں لیکن حضرت ابو عبیدہ نے مجھے قسم دے کر روک دیا اور خود قریب آئے اور ہاتھ سے نکالنے میں زیادہ تکلیف محسوس کر کے دانتوں سے پکڑ کر ایک کو نکال لیا لیکن اس میں ان کا دانت بھی ٹوٹ گیا میں نے اب پھر چاہا کہ دوسری میں نکال لوں لیکن حضرت ابو عبیدہ نے پھر قسم دی تو میں رک رہا انہوں نے پھر دوسری کڑی نکالی اب کی مرتبہ بھی ان کے دانت ٹوٹے اس سے فارغ ہو کر ہم حضرت طلحہ کی طرف متوجہ ہوئے ہم نے دیکھا کہ ستر سے زیادہ زخم انہیں لگ چکے ہیں انگلیاں کٹ گئی ہیں ہم نے پھر ان کی بھی خبر لی حضور ﷺ کے زخم کا خون حضرت ابو سعید خدری نے چوسا تاکہ خون تھم جائے پھر ان سے کہا گیا کہ کلی کر ڈالو لیکن انہوں نے کہا اللہ کی قسم میں کلی نہ کروں گا پھر میدان جنگ میں چلے گئے حضور ﷺ نے فرمایا اگر کوئی شخص جنتی شخص کو دیکھنا چاہتا ہو تو انہیں دیکھ لے چناچہ یہ اسی میدان میں شہید ہوئے، صحیح بخاری شریف میں ہے کہ حضور ﷺ کا چہرہ زخمی ہوا سامنے کے دانت ٹوٹے سر کا خود ٹوٹا، حضرت فاطمہ خون دھوتی تھیں اور حضرت علی ڈھال میں پانی لالا کر ڈالتے جاتے تھے جب دیکھا کہ خون کسی طرح تھمتا ہی نہیں تو حضرت فاطمہ نے بوریا جلا کر اس کا راکھ زخم پر رکھ دی جس سے خون بند ہوا۔ پھر فرماتا ہے، تمہیں غم پر غم پہنچا (بِغَمِّ) کا بامعنی میں علیٰ کے ہے جیسے آیت (فی جذوع النخل) میں فی معنی میں علیٰ کے ہے، ایک غم تو شکست کا تھا جبکہ یہ مشہور ہوگیا کہ (اللہ نہ کرے) حضور ﷺ کی جان پر بن آئی، دوسرا غم مشرکوں کو پہاڑ کے اوپر غالب آکر چڑھ جانے کا جبکہ حضور ﷺ فرماتے تھے یہ بلندی کے لائق نہ تھے، حضرت عبدالرحمن بن عوف فرماتے ہیں ایک غم شکست کا دوسرا غم حضور ﷺ کے قتل کی خبر کا اور یہ غم پہلے غم سے زیادہ تھا، اسی طرح یہ بھی ہے کہ ایک غم تو غنیمت کا ہاتھ میں آکر نکل جانے کا تھا دوسرا شکست ہونے کا اسی طرح ایک اپنے بھائیوں کے قتل کا غم دوسرا حضور ﷺ کی نسبت ایسی منحوس خبر کا غم۔ پھر فرماتا ہے جو غنیمت اور فتح مندی تمہارے ہاتھ سے گئی اور جو زخم و شہادت ملی اس پر غم نہ کھاؤ اللہ سبحانہ و تعالیٰ جو بلندی اور جلال والا ہے وہ تمہارے اعمال سے خبردار ہے۔
152
View Single
وَلَقَدۡ صَدَقَكُمُ ٱللَّهُ وَعۡدَهُۥٓ إِذۡ تَحُسُّونَهُم بِإِذۡنِهِۦۖ حَتَّىٰٓ إِذَا فَشِلۡتُمۡ وَتَنَٰزَعۡتُمۡ فِي ٱلۡأَمۡرِ وَعَصَيۡتُم مِّنۢ بَعۡدِ مَآ أَرَىٰكُم مَّا تُحِبُّونَۚ مِنكُم مَّن يُرِيدُ ٱلدُّنۡيَا وَمِنكُم مَّن يُرِيدُ ٱلۡأٓخِرَةَۚ ثُمَّ صَرَفَكُمۡ عَنۡهُمۡ لِيَبۡتَلِيَكُمۡۖ وَلَقَدۡ عَفَا عَنكُمۡۗ وَٱللَّهُ ذُو فَضۡلٍ عَلَى ٱلۡمُؤۡمِنِينَ
And indeed Allah has proved true His promise to you, when you used to slay the disbelievers by His command; until the time you people lost courage and disputed about the order and disobeyed after Allah had shown you what pleases you; some of you desired the world, and some of you desired the Hereafter; thereafter He turned you away from them in order to test you; and undoubtedly He has forgiven you; and Allah is Most Munificent towards the Muslims.
اور بیشک اللہ نے تمہیں اپنا وعدہ سچ کر دکھایا جب تم اس کے حکم سے انہیں قتل کر رہے تھے، یہاں تک کہ تم نے بزدلی کی اور (رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے) حکم کے بارے میں جھگڑنے لگے اور تم نے اس کے بعد (ان کی) نافرمانی کی جب کہ اللہ نے تمہیں وہ (فتح) دکھا دی تھی جو تم چاہتے تھے، تم میں سے کوئی دنیا کا خواہش مند تھا اور تم میں سے کوئی آخرت کا طلب گار تھا، پھر اس نے تمہیں ان سے (مغلوب کر کے) پھیر دیا تاکہ وہ تمہیں آزمائے، (بعد ازاں) اس نے تمہیں معاف کر دیا، اور اللہ اہلِ ایمان پر بڑے فضل والا ہے
Tafsir Ibn Kathir
The Prohibition of Obeying the Disbelievers; the Cause of Defeat at Uhud
Allah warns His believing servants against obeying the disbelievers and hypocrites, because such obedience leads to utter destruction in this life and the Hereafter. This is why Allah said,
إِن تُطِيعُواْ الَّذِينَ كَفَرُواْ يَرُدُّوكُمْ عَلَى أَعْقَـبِكُمْ فَتَنقَلِبُواْ خَـسِرِينَ
(If you obey those who disbelieve, they will send you back on your heels, and you will turn back (from faith) as losers) 3:149.
Allah also commands the believers to obey Him, take Him as their protector, seek His aid and trust in Him. Allah said,
بَلِ اللَّهُ مَوْلَـكُمْ وَهُوَ خَيْرُ النَّـصِرِينَ
(Nay, Allah is your protector, and He is the best of helpers).
Allah next conveys the good news that He will put fear of the Muslims, and feelings of subordination to the Muslims in the hearts of their disbelieving enemies, because of their Kufr and Shirk. And Allah has prepared torment and punishment for them in the Hereafter. Allah said,
سَنُلْقِى فِى قُلُوبِ الَّذِينَ كَفَرُواْ الرُّعْبَ بِمَآ أَشْرَكُواْ بِاللَّهِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِهِ سُلْطَـناً وَمَأْوَاهُمُ النَّارُ وَبِئْسَ مَثْوَى الظَّـلِمِينَ
(We shall cast terror into the hearts of those who disbelieve, because they joined others in worship with Allah, for which He sent no authority; their abode will be the Fire and how evil is the abode of the wrongdoers). In addition, the Two Sahihs recorded that Jabir bin `Abdullah said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«أُعْطِيتُ خَمْسًا لَمْ يُعْطَهُنَّ أَحَدٌ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ قَبْلِي: نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ مَسِيرَةَ شَهْرٍ، وَجُعِلَتْ لِيَ الْأَرْضُ مَسْجِدًا وَطَهُورًا، وَأُحِلَّتْ لِيَ الْغَنَائِمُ، وَأُعْطِيتُ الشَّفَاعَةَ، وَكَانَ النَّبِيُّ يُبْعَثُ إِلى قَوْمِهِ خَاصَّةً وَبُعِثْتُ إِلى النَّاسِ عَامَّة»
(I was given five things that no other Prophet before me was given. I was aided with fear the distance of one month, the earth was made a Masjid and clean place for me, I was allowed war booty, I was given the Intercession, and Prophets used to be sent to their people, but I was sent to all mankind particularly.)
Allah said,
وَلَقَدْ صَدَقَكُمُ اللَّهُ وَعْدَهُ
(And Allah did indeed fulfill His promise to you) 3:152,
in the beginning of the day of Uhud,
إِذْ تَحُسُّونَهُمْ
(when you were killing them), slaying your enemies,
بِإِذْنِهِ
(with His permission), for He allowed you to do that against them,
حَتَّى إِذَا فَشِلْتُمْ
(until when you Fashiltum). Ibn Jurayj said that Ibn `Abbas said that Fashiltum means, `lost courage'.
وَتَنَـزَعْتُمْ فِى الاٌّمْرِ وَعَصَيْتُمْ
(and fell to disputing about the order, and disobeyed) such as the mistake made by the archers,
مِّن بَعْدِ مَآ أَرَاكُمْ مَّا تُحِبُّونَ
(after He showed you what you love), that is, victory over the disbelievers,
مِنكُم مَّن يُرِيدُ الدُّنْيَا
(Among you are some that desire this world) referring to those who sought to collect the booty when they saw the enemy being defeated,
وَمِنكُم مَّن يُرِيدُ الاٌّخِرَةَ ثُمَّ صَرَفَكُمْ عَنْهُمْ لِيَبْتَلِيَكُمْ
(and some that desire the Hereafter. Then He made you flee from them, that He might test you).
This Ayah means, Allah gave them the upper hand to try and test you, O believers,
وَلَقَدْ عَفَا عَنْكُمْ
(but surely, He forgave you),
He forgave the error you committed, because, and Allah knows best, the idolators were many and well supplied, while Muslims had few men and few supplies.
Al-Bukhari recorded that Al-Bara' said, "We met the idolators on that day (Uhud) and the Prophet appointed `Abdullah bin Jubayr as the commander of the archers. He instructed them, `Retain your position, and if you see that we have defeated them, do not abandon your positions. If you see that they defeated us, do not rush to help us.' The disbelievers gave flight when we met them, and we saw their women fleeing up the mountain while lifting up their clothes revealing their anklets and their legs. So, the companions (of `Abdullah bin Jubayr) said, `The booty, the booty!' `Abdullah bin Jubayr said, `Allah's Messenger ﷺ commanded me not to allow you to abandon your position.' They refused to listen, and when they left their position, Muslims were defeated and seventy of them were killed. Abu Sufyan shouted, `Is Muhammad present among these people' The Prophet said, `Do not answer him.' Then he asked, `Is the son of Abu Quhafah (Abu Bakr) present among these people' The Prophet said, `Do not answer him.' He asked again, `Is the son of Al-Khattab (`Umar) present among these people As for these (men), they have been killed, for had they been alive, they would have answered me.' `Umar could not control himself and said (to Abu Sufyan), `You lie, O enemy of Allah! The cause of your misery is still present.' Abu Sufyan said, `O Hubal, be high!' On that the Prophet said (to his Companions), `Answer him back.' They said, `What shall we say' He said, `Say, Allah is Higher and more Sublime.' Abu Sufyan said, `We have the (idol) Al-`Uzza, and you have no `Uzza.' The Prophet said, `Answer him back.' They asked, `What shall we say' He said, `Say, Allah is our protector and you have no protector.' Abu Sufyan said, `Our victory today is vengeance for yours in the battle of Badr, and in war (the victory) is always undecided and is shared in turns by the belligerents. You will find some of your killed men mutilated, but I did not urge my men to do so, yet I do not feel sorry for their deed."' Only Al-Bukhari collected this Hadith using this chain of narration. cMuhammad bin Ishaq said that, `Abdullah bin Az-Zubayr narrated that Az-Zubayr bin Al-`Awwam said, "By Allah! I saw the female servants and female companions of Hind (Abu Sufyan's wife) when they uncovered their legs and gave flight. At that time, there was no big or small effort separating us from capturing them. However, the archers went down the mount when the enemy gave flight from the battlefield, seeking to collect the booty. They uncovered our back lines to the horsemen of the disbelievers, who took the chance and attacked us from behind. Then a person shouted, `Muhammad has been killed.' So we pulled back, and the disbelievers followed us, after we had killed those who carried their flag, and none of them dared to come close the flag, until then."' Muhammad bin Ishaq said next, "The flag of the disbelievers was left on the ground until `Amrah bint `Alqamah Al-Harithiyyah picked it up and gave it to the Quraysh who held it."
Allah said,
ثُمَّ صَرَفَكُمْ عَنْهُمْ لِيَبْتَلِيَكُمْ
(Then He made you flee from them, that He might test you) 3:152.
Al-Bukhari recorded that Anas bin Malik said, "My uncle Anas bin An-Nadr was absent from the battle of Badr. He said, `I was absent from the first battle the Prophet fought (against the pagans). (By Allah) if Allah gives me a chance to fight along with the Messenger of Allah ﷺ, then Allah will see how (bravely) I will fight.' On the day of Uhud when the Muslims turned their backs and fled, he said, `O Allah! I apologize to You for what these (meaning the Muslims) have done, and I denounce what these pagans have done.' Then he advanced lifting his sword, and when Sa`d bin Mu`adh met him, he said to him, `O Sa`d bin Mu`adh! Where are you! Paradise! I am smelling its aroma coming from before (Mount) Uhud,' and he went forth, fought and was killed. We found more than eighty stab wounds, sword blows or arrow holes on his body, which was mutilated so badly that none except his sister could recognize him, and she could only do so by his fingers or by a mole." This is the narration reported by Al-Bukhari, Muslim also collected a similar narration from Thabit from Anas.
The Defeat that the Muslims Suffered During the Battle of Uhud
Allah said,
إِذْ تُصْعِدُونَ وَلاَ تَلْوُونَ عَلَى أحَدٍ
((And remember) when you (Tus`iduna) ran away dreadfully without casting even a side glance at anyone), and Allah made the disbelievers leave you after you went up the mount, escaping your enemy. Al-Hasan and Qatadah said that, Tus`iduna, means, `go up the mountain'.
وَلاَ تَلْوُونَ عَلَى أحَدٍ
(without even casting a side glance at anyone) meaning, you did not glance at anyone else due to shock, fear and fright.
وَالرَّسُولُ يَدْعُوكُمْ فِى أُخْرَاكُمْ
(and the Messenger was in your rear calling you back), for you left him behind you, while he was calling you to stop fleeing from the enemy and to return and fight.
As-Suddi said, "When the disbelievers attacked Muslim lines during the battle of Uhud and defeated them, some Muslims ran away to Al-Madinah, while some of them went up Mount Uhud, to a rock and stood on it. On that, the Messenger of Allah ﷺ kept heralding, `Come to me, O servants of Allah! Come to me, O servants of Allah!' Allah mentioned that the Muslims went up the Mount and that the Prophet called them to come back, and said,
إِذْ تُصْعِدُونَ وَلاَ تَلْوُونَ عَلَى أحَدٍ وَالرَّسُولُ يَدْعُوكُمْ فِى أُخْرَاكُمْ
((And remember) when you ran away without even casting a side glance at anyone, and the Messenger was in your rear calling you back)." Similar was said by Ibn `Abbas, Qatadah, Ar-Rabi` and Ibn Zayd.
The Ansar and Muhajirin Defended the Messenger
Al-Bukhari recorded that Qays bin Abi Hazim said, "I saw Talhah's hand, it was paralyzed, because he shielded the Prophet with it." meaning on the day of Uhud. It is recorded in the Two Sahihs that Abu `Uthman An-Nahdi said, "On that day (Uhud) during which the Prophet fought, only Talhah bin `Ubaydullah and Sa`d remained with the Prophet."
Sa`id bin Al-Musayyib said, "I heard Sa`d bin Abi Waqqas saying, `The Messenger of Allah ﷺ gave me arrows from his quiver on the day of Uhud and said, `Shoot, may I sacrifice my father and mother for you."' Al-Bukhari also collected this Hadith. The Two Sahihs recorded that Sa`d bin Abi Waqqas said, "On the day of Uhud, I saw two men wearing white clothes, one to the right of the Prophet and one to his left, who were defending the Prophet fiercely. I have never seen these men before or after that day." Meaning angels Jibril and Mika'il, peace be upon them.
Abu Al-Aswad said that, `Urwah bin Az-Zubayr said, "Ubayy bin Khalaf of Bani Jumah swore in Makkah that he would kill the Messenger of Allah ﷺ. When the Messenger was told of his vow, he said, `Rather, I shall kill him, Allah willing.' On the day of Uhud, Ubayy came while wearing iron shields and proclaiming, `May I not be saved, if Muhammad is saved.' He then headed to the direction of the Messenger of Allah ﷺ intending to kill him, but Mus`ab bin `Umayr, from Bani Abd Ad-Dar, intercepted him and shielded the Prophet with his body, and Mus`ab bin `Umayr was killed. The Messenger of Allah ﷺ saw Ubayy's neck exposed between the shields and helmet, stabbed him with his spear, and Ubayy fell from his horse to the ground. However, no blood spilled from his wound. His people came and carried him away while he was moaning like an ox. They said to him, `Why are you so anxious, it is only a flesh wound' Ubayy mentioned to them the Prophet's vow, `Rather, I shall kill Ubayy', then commented, `By He in Whose Hand is my soul! If what hit me hits the people of Dhul-Majaz (a popular pre-Islamic marketplace), they would all have perished.' He then died and went to the Fire,
فَسُحْقًا لاًّصْحَـبِ السَّعِيرِ
(So, away with the dwellers of the blazing Fire!) 67:11."
This was collected by Musa bin `Uqbah from Az-Zuhri from Sa`id bin Al-Musayyib.
It is recorded in the Two Sahih that when he was asked about the injuries the Messenger sustained in Uhud, Sahl bin Sa`d said, "The face of Allah's Messenger ﷺ was injured, his front tooth was broken and his helmet was smashed on his head. Therefore, Fatimah, the daughter of Allah's Messenger washed off the blood while `Ali was pouring water on her hand. When Fatimah saw that the bleeding increased more by the water, she took a mat, burnt it, and placed the ashes in the wound of the Prophet and the blood stopped oozing out." Allah said next,
فَأَثَـبَكُمْ غَمّاً بِغَمٍّ
(There did Allah give you one distress after another) 3:153,
He gave you grief over your grief. Ibn `Abbas said, `The first grief was because of the defeat, especially when it was rumored that Muhammad was killed. The second grief was when the idolators went up the mount and The Messenger of Allah ﷺ said, `O Allah! It is not for them to rise above us."'
`Abdur-Rahman bin `Awf said, "The first distress was because of the defeat and the second when a rumor started that Muhammad was killed, which to them, was worse than defeat." Ibn Marduwyah recorded both of these. Mujahid and Qatadah said, "The first distress was when they heard that Muhammad was killed and the second when they suffered casualties and injury." It has also been reported that Qatadah and Ar-Rabi` bin Anas said that it was the opposite order. As-Suddi said that the first distress was because of the victory and booty that they missed and the second because of the enemy rising above them (on the mount). Allah said,
لِّكَيْلاَ تَحْزَنُواْ عَلَى مَا فَاتَكُمْ
(by way of requital to teach you not to grieve for that which had escaped you), for that you missed the booty and triumph over your enemy.
وَلاَ مَآ أَصَـبَكُمْ
(nor for what struck you), of injury and fatalities, as Ibn `Abbas, `Abdur-Rahman bin `Awf, Al-Hasan, Qatadah and As-Suddi stated. Allah said next,
وَاللَّهُ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ
(And Allah is Well-Aware of all that you do.) all praise is due to Him, and thanks, there is no deity worthy of worship except Him, the Most High, Most Honored.
کافر اور منافقوں کے ارادے اور غزوہ احد کا پھر اندوہناک تذکرہ اللہ تعالیٰ اپنے ایماندار بندوں کو کافروں اور منافقوں کی باتوں کے ماننے سے روک رہا ہے اور بتارہا ہے کہ اگر ان کی مانی تو دنیا اور آخرت کی ذلت تم پر آئے گی انکی چاہت تو یہی ہے کہ تمہیں دین اسلام سے ہٹا دیں پھر فرماتا ہے مجھ ہی کو اپنا والی اور مددگار جانو مجھی سے دوستی کرو مجھی پر بھروسہ کرو مجھی سے مدد چاہو پھر فرمایا کہ ان شریروں کے دلوں میں ان کے کفر کے سبب ڈر خوف ڈال دوں گا، بخاری مسلم میں حضرت جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مجھے پانچ باتیں دی گئیں ہیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئیں میری مدد مہینہ بھر کی راہ تک رعب سے کی گئی ہے میرے لئے زمین مسجد اور اس کی مٹی وضو کی پاک چیز بنائی گئی، میرے لئے غنیمت کے مال حلال کئے گئے اور مجھے شفاعت دی گئی اور ہر نبی اپنی اپنی قوم کی طرف سے مخصوص بھیجا جاتا تھا اور میری بعثت میری نبوت تمام دنیا کیلئے عام ہوئی، مسند احمد میں ہے آپ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے تمام نبیوں پر اور بعض روایتوں میں ہے تمام امتوں پر مجھے چار فضیلتیں عطا فرمائی ہیں، مجھے تمام دنیا کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا، میرے اور میری امت کیلئے تمام زمین مسجد اور پاک بنائی گئی، میرے امتی کو جہاں نماز کا وقت آجائے وہیں اس کی مسجد اور اس کا وضو ہے، میرا دشمن مجھ سے مہینہ بھر کی راہ پر ہو وہیں سے اللہ تعالیٰ اس کا دل رعب سے پُر کردیتا ہے اور وہ کانپنے لگتا ہے اور میرے لئے غنیمت کے مال حلال کئے گئے اور روایت میں ہے کہ میں مدد کیا گیا ہوں میرے رعب سے ہر دشمن پر، مسند کی ایک اور حدیث میں ہے مجھے پانچ چیزیں دی گئیں میں ہر سرخ وسفید کی طرف بھیجا گیا میرے لئے تمام زمین وضو اور مسجد بنائی گی۔ میرے لئے غنیمتوں کے مال حلال کئے گئے جو میرے پہلے کسی کے حلال نہ تھے اور میری مدد مہینہ بھر کی راہ تک رعب سے کی گئی اور مجھے شفاعت دی گئی تمام انبیاء نے شفاعت مانگ لی لیکن میں نے اپنی شفاعت کو اپنی امت کے لوگوں کیلئے جنہوں نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا ہو بچار کھی ہے، حضرت ابن عباس فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے ابو سفیان کے دل میں رعب ڈال دیا اور وہ لڑائی سے لوٹ گیا پھر ارشاد ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا وعدہ سچا کر دکھایا اور تمہاری مدد کی اس سے بھی یہ استدلال ہوسکتا ہے کہ یہ وعدہ احد کے دن کا تھا تین ہزار دشمن کا لشکر تھا تاہم مقابلہ پر آتے ہی ان کے قدم اکھڑ گئے اور مسلمانوں کو فتح حاصل ہوئی لیکن پھر تیر اندازوں کی نافرمانی کی وجہ سے اور بعض حضرات کی پست ہمتی کی بناء پر وہ وعدہ جو مشروط تھا رک گیا پس فرماتا ہے کہ تم انہیں اپنے ہاتھوں سے کاٹتے تھے۔ شروع دن میں ہی اللہ نے تمہیں ان پر غالب کردیا لیکن تم نے پھر بزدلی دکھائی اور نبی کی نافرمانی کی ان کی بتائی ہوئی جگہ سے ہٹ گئے اور آپس میں اختلاف کرنے لگے حالانکہ اللہ عزوجل نے تمہیں تمہاری پسند کی چیز فتح دکھا دی تھی یعنی مسلمان صاف طور پر غالب آگئے تھے مال غنیمت آنکھوں کے سامنے موجود تھا کفار پیٹھ پھیر کر بھاگ کھڑے ہوئے تھے تم میں سے بعض نے دنیا طلبی کی اور کفار کی ہزیمت کو دیکھ کر نبی ﷺ کے فرمان کا خیال نہ کر کے مال غنیمت کی طرف لپکے گو بعض اور نیک آخرت طلب بھی تھے لیکن اس نافرمانی وغیرہ کی بنا پر کفار کی پھر بن آئی اور ایک مرتبہ تمہاری پوری آزمائش ہوگئی غالب ہو کر مغلوب ہوگئے فتح کے بعد شکست ہوگئی لیکن پھر بھی اللہ تعالیٰ نے تمہارے اس جرم کو معاف فرما دیا کیونکہ وہ جانتا ہے کہ بظاہر تم ان سے تعداد میں اور اسباب میں کم تھے خطا کا معاف ہونا بھی عفاعنکم میں داخل ہے اور یہ بھی مطلب ہے کہ کچھ یونہی سی گوشمالی کر کے کچھ بزرگوں کی شہادت کے بعد اس نے اپنی آزمائش کو اٹھا لیا اور باقی والوں کو معاف فرما دیا، اللہ تعالیٰ باایمان لوگوں پر فضل و کرم لطف و رحم ہی کرتا ہے، حضرت عبداللہ بن عباس سے مروی ہے کہ حضور ﷺ کی مدد جیسی احد میں ہوئی ہے کہیں نہیں ہوئی اسی کے بارے میں ارشاد باری ہے کہ اللہ نے تم سے اپنا وعدہ سچا کر دکھایا لیکن پھر تمہارے کرتوتوں سے معاملہ برعکس ہوگیا، بعض لوگوں نے دنیا طلبی کر کے رسول ﷺ کی نافرمانی کی یعنی بعض تیر اندوزوں نے جنہیں حضور ﷺ نے پہاڑ کے درے پر کھڑا کیا تھا اور فرما دیا تھا کہ تم یہاں سے دشمنوں کی نگہبانی کرو وہ تمہاری پیٹھ کی طرف سے نہ آجائیں، اگر تم ہار دیکھو بھی اپنی جگہ سے نہ ہٹنا اور اگر تم ہر طرح غالب آگئے تو بھی تم غنیمت جمع کرنے کیلئے بھی اپنی جگہ کو نہ چھوڑنا، جب حضور ﷺ غالب آگئے تو تیر اندوزوں نے حکم عدولی کی اور وہ اپنی جگہ کو چھوڑ کر مسلمانوں میں آملے اور مال غنیمت جمع کرنا شروع کردیا صفوں کا کوئی خیال نہ رہا درے کو خالی پا کر مشرکوں نے بھاگنا بند کیا اور غور و فکر کر کے اس جگہ حملہ کردیا، چند مسلمانوں کی پیٹھ کے پیچھے سے ان کی بیخبر ی میں اس زور کا حملہ کیا کہ مسلمانوں کے قدم نہ جم سکے اور شروع دن کی فتح اب شکست سے بدل گئی اور یہ مشہور ہوگیا کہ حضور ﷺ بھی شہید ہوگئے اور لڑائی کے رنگ نے مسلمانوں کو اس بات کا یقین بھی دلا دیا، تھوڑی دیر بعد جبکہ مسلمانوں کی نظریں چہرہ مبارک پر پڑیں تو وہ اپنی سب کوفت اور ساری مصیبت بھول گئے اور خوشی کے مارے حضور ﷺ کی طرف لپکے آپ ادھر آرہے تھے اور فرماتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کا سخت غضب نازل ہو ان لوگوں پر جنہوں نے اللہ کے رسول ﷺ کے چہرے کو خون آلودہ کردیا، انہیں کوئی حق نہ تھا کہ اس طرح ہم پر غالب رہ جائیں، تھوڑی دیر میں ہم نے سنا کہ ابو سفیان پہاڑ کے نیچے کھڑا ہوا کہہ رہا تھا اعل ہبل اعل ھبل ہبل بت کا بول بالا ہو ابوبکر کہاں ہے ؟ عمر کہاں ہے ؟ حضرت عمر نے پوچھا حضور ﷺ اسے جواب دوں ؟ آپ ﷺ نے اجازت دی تو حضرت عمر فاروق نے اس کے جواب میں فرمایا اللہ اعلی واجل اللہ اعلی واجل اللہ بہت بلند ہے اور جلال و عزت والا ہے اللہ بہت بلند اور جلال و عزت والا ہے، وہ پوچھنے لگا بتاؤ محمد ﷺ کہاں ہیں ؟ ابوبکر کہاں ہیں ؟ عمر کہاں ہیں ؟ آپ نے فرمایا یہ ہیں رسول اللہ ﷺ اور یہ ہیں حضرت ابوبکر اور یہ ہوں میں عمر فاروق ابو سفیان کہنے لگا یہ بدر کا بدلہ ہے یونہی دھوپ چھاؤں الٹتی پلٹتی رہتی ہے، لڑائی کی مثال کنویں کے ڈول کی سی ہے، حضرت عمر نے فرمایا برابری کا معاملہ ہرگز نہیں تمہارے مقتول تو جہنم میں گئے اور ہمارے شہید جنت میں پہنچے، ابو سفیان کہنے لگا اگر یونہی ہو تو یقینا ہم نقصان اور گھاٹے میں رہے، سنو تمہارے مقتولین میں بعض ناک کان کٹے لوگ بھی تم پاؤ گے گویہ ہمارے سرداروں کی رائے سے نہیں ہوا لیکن ہمیں کچھ برا بھی نہیں معلوم ہوا، یہ حدیث غریب ہے اور یہ قصہ بھی عجیب ہے، یہ ابن عباس کی مرسلات سے ہے اور وہ یا ان کے والد جنگ احد میں موجود نہ تھے، مستدرک حاکم میں بھی یہ روایت موجود ہے ابن ابی حاتم اور بیہقی فی دلائل النبوۃ میں بھی یہ مروی ہے اور صحیح احادیث میں اس کے بعض حصوں کے شواہد بھی ہیں کہ احد والے دن عورتیں مسلمانوں کے پیچھے تھیں جو زخمیوں کی دیکھ بھال کرتی تھیں تو پوری طرح یقین تھا کہ آج کے دن ہم میں کوئی ایک بھی طالب دنیا نہیں بلکہ اس وقت اگر مجھے اس بات پر قسم کھلوائی جاتی تو کھا لیتا لیکن قرآن میں یہ آیت اتری (منکم من یرید الدنیا) یعنی تم میں سے بعض طالب دنیا بھی ہیں، جب صحابہ سے حضور ﷺ کے حکم کے خلاف آپ کی نافرمانی سرزد ہوئی تو انکے قدم اکھڑ گئے حضور ﷺ کے ساتھ صرف سات انصاری اور دو مہاجر باقی رہ گئے جب مشرکین نے حضور ﷺ کو گھیر لیا تو آپ فرمانے لگے اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم کرے جو انہیں ہٹائے تو ایک انصار اٹھ کھڑے ہوئے اور اسجم غفیر کے مقابل تن تنہا داد شجاعت دینے لگے یہاں تک کہ شہید ہوگئے پھر کفار نے حملہ کیا آپ نے یہی فرمایا ایک انصاری تیار ہوگئے اور اس بےجگری سے لڑے کہ انہیں آگے نہ بڑھنے دیا لیکن بالآخر یہ بھی شہید ہوگئے یہاں تک کہ ساتوں صحابہ اللہ کے ہاں پہنچ گئے اللہ ان سے خوش ہو، حضور ﷺ نے مہاجرین سے فرمایا افسوس ہم نے اپنے ساتھیوں سے منصفانہ معاملہ نہ کیا، اب ابو سفیان نے ہانک لگائی کہ اعل ہبل آپ نے فرمایا کہو اللہ اعلی واجل ابو سفیان نے کہا (لنا العزی ولا عزی لکم) ہمارا عزی بت ہے تمہاری کوئی عزی نہیں، آپ نے فرمایا کہو اللہ مولانا والکافرون لا مولی لھم اللہ ہمارا مولی ہے اور کافروں کا کوئی مولی نہیں، ابو سفیان کہنے لگا آج کے دن بدر کے دن کا بدلہ ہے کوئی دن ہمارا اور کوئی دن تمہارا، یہ تو ہاتھوں ہاتھ کا سودا ہے، ایک کے بدلے ایک ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا ہرگز برابری نہیں ہمارے شہداء زندہ ہیں وہاں رزق دے جاتے ہیں اور تمہارے مقتول جہنم میں عذاب کئے جا رہے ہیں پھر ابو سفیان بولا تمہارے مقتول میں تم دیکھو گے کہ بعض کے کان ناک وغیرہ کاٹ لئے گئے ہیں لیکن میں نے نہ یہ کہا نہ اسے روکا نہ اسے میں نے پسند کیا نہ مجھے یہ بھلا معلوم ہوا نہ برا، اب جو دیکھا تو معلوم ہوا کہ حضرت حمزہ کا پیٹ چاک کردیا گیا تھا اور ہندہ نے انکا کلیجہ لے کر چبایا تھا لیکن نگل نہ سکی تو اگل دیا،حضور ﷺ نے فرمایا ناممکن تھا کہ اس کے پیٹ میں حمزہ کا ذرا سا گوشت بھی چلا جائے اللہ تعالیٰ حمزہ کے کسی عضو بدن کو جہنم میں لے جانا نہیں چاہتا چناچہ حمزہ کے جنازے کو اپنے سامنے رکھ کر نماز جنازہ ادا کی پھر ایک انصاری کا جنازہ لایا گیا وہ حضرت حمزہ کے پہلو میں رکھا گیا اور آپ نے پھر نماز جنازہ پڑھی انصاری کا جنازہ اٹھا لیا گیا لیکن حضرت حمزہ کا جنازہ وہیں رہا اسی طرح ستر شخص لائے گئے اور حضرت حمزہ کی ستر دفعہ جنازے کی نماز پڑھی گئی (مسند) صحیح بخاری شریف میں حضرت براء سے مروی ہے کہ احد والے دن مشرکوں سے ہماری مڈبھیڑ ہوئی حضور ﷺ نے تیر اندازوں کی ایک جماعت کو الگ جما دیا اور انکا سردار حضرت عبداللہ بن جیبر کو بنایا اور فرما دیا کہ اگر تم ہمیں ان پر غالب آیا ہوا دیکھو تو بھی یہاں سے نہ ہٹنا اور وہ ہم پر غالب آجائیں تو بھی تم اپنی جگہ نہ چھوڑنا، لڑائی شروع ہوتے ہی اللہ کے فضل سے مشرکوں کے قدم پیچھے ہٹنے لگے یہاں تک کہ عورتیں بھی تہبند اونچا کر کر کے پہاڑوں میں ادھر دوڑنے لگیں، اب تیر انداز گروہ غنیمت غنیمت کہتا ہوا نیچے اتر آیا، ان کے امیر نے انہیں ہرچند سمجھایا لیکن کسی نے ان کی نہ سنی، بس اب مشرکین مسلمانوں کی پیٹھ کی طرف سے آن پڑے اور ستر بزرگ شہید ہوگئے ابو سفیان ایک ٹیلے پر چڑھ کر کہنے لگا کیا محمد ﷺ حیات ہیں ؟ کیا ابوبکر موجود ہیں ؟ کیا عمر زندہ ہیں ؟ لیکن حضور ﷺ کے فرمان سے صحابہ خوش رہے تو وہ خوشی کے مارے اچھل پڑا اور کہنے لگا یہ سب ہماری تلواروں کے گھاٹ اتر گئے اگر زندہ ہوتے تو ضرور جواب دیتے ایک حضرت عمر کو تاب ضبط نہ رہی فرمانے لگے، اے اللہ کے دشمن تو جھوٹا ہے بحمد اللہ ہم سب موجود ہیں اور تیری تباہی اور بربادی کرنے والے زندہ ہیں، پھر وہ باتیں ہوئیں جو اوپر بیان ہوچکی ہیں، صحیح بخاری شریف میں حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ جنگ احد میں مشرکوں کو ہزیمت ہوئی اور ابلیس نے آواز لگائی اے اللہ کے بندو ! اپنے پیچھے کی خبر لو اگلی جماعتیں پچھلی جماعتوں پر ٹوٹ پڑیں، حضرت حذیفہ نے دیکھا کہ مسلمانوں کی تلواریں ان کے والد حضرت یمان ؓ پر برس رہی ہیں ہرچند کہتے رہے کہ اے اللہ کے بندو ! یہ میرے باپ یمان ہیں مگر کون سنتا تھا وہ یونہی شہید ہوگئے لیکن حضرت حذیفہ نے کچھ نہ کہا بلکہ فرمایا اللہ تمہیں معاف کرے، حضرت حذیفہ کی یہ بھلائی ان کے آخری دم تک ان میں رہی، سیرت ابن اسحاق میں ہے حضرت زبیر بن عوام فرماتے ہیں میں نے خود دیکھا کہ مشرک مسلمانوں کے اول حملہ میں ہی بھاگ کھڑے ہوئے یہاں تک کہ ان کی عورتیں ہندہ وغیرہ تہمد اٹھائے تیز تیز دوڑ رہی تھیں لیکن اس کے بعد جب تیر اندازوں نے مرکز چھوڑا اور کفار نے سمٹ کر پیچھے کی طرف سے ہم پر حملہ کردیا ادھر کسی نے آواز لگائی کہ حضور ﷺ شہید ہوگئے پھر معاملہ برعکس ہوگیا ورنہ ہم مشرکین کے علم برداروں تک پہنچ چکے تھے اور جھنڈا اس کے ہاتھ سے گرپڑا تھا لیکن عمرہ بن علقمہ حارثیہ عورت نے اسے تھام لیا اور قریش کا مجمع پھر یہاں جمع ہوگیا، حضرت انس بن مالک چچا حضرت انس بن نضر ؓ یہ رنگ دیکھ حضرت عمر حضرت طلحہ وغیرہ کے پاس آتے ہی اور فرماتے ہیں تم نے کیوں ہمتیں چھوڑ دیں ؟ وہ جواب دیتے ہیں کہ حضور ﷺ تو شہید ہوگئے۔ حضرت انس نے فرمایا پھر تم جی کر کیا کرو گے ؟ یہ کہا اور مشرکین میں گھسے پھر لڑتے رہے یہاں تک کہ اللہ رب العزت سے جا ملے ؓ ، یہ بدر والے دن جہاد میں نہیں پہنچ سکے تھے تو عہد کیا تھا کہ آئندہ اگر کوئی موقعہ آیا تو میں دکھا دوں گا چناچہ اس جنگ میں وہ موجود تھے جب مسلمانوں میں کھلبلی مچی تو انہوں نے کہا الہ میں مسلمانوں کے اس کام سے معذور ہوں اور مشرکوں کے اس کام سے بری ہوں پھر اپنی تلوار لے کر آگے بڑھ گئے راہ میں حضرت سعد بن معاذ سے ملے اور کہنے لگے کہاں جا رہے ہو ؟ مجھے تو جنت کی خوشبو کی لپٹیں احد پہاڑ سے چلی آرہی ہیں چناچہ مشرکوں میں گھس گئے اور بڑی بےجگری سے لڑے یہاں تک کہ شہادت حاصل کی اسی سے زیادہ تیرو تلوار کے زخم بدن پر آئے تھے پہچانے نہ جاتے تھے انگلی کو دیکھ کر پہچانے گئے ؓ ، صحیح بخاری شریف میں ہے کہ ایک حاجی نے بیت اللہ شریف میں ایک مجلس دیکھ کر پوچھا کہ یہ کون لوگ ہیں ؟ لوگوں نے کہا قریشی ہیں پوچھا ان کے شیخ کون ہیں ؟ جواب ملا حضرت عبداللہ بن عمر ؓ ہیں، اب وہ آیا اور کہنے لگا میں کچھ دریافت کرنا چاہتا ہوں حضرت عبداللہ نے فرمایا پوچھو اس نے کہا آپ کو اس بیت اللہ کی حرمت کی قسم کیا آپ کو علم ہے کہ (حضرت) عثمان بن عفان احد والے دن بھاگ گئے تھے ؟ آپ نے جواب دیا ہاں۔ کہا کیا آپ کو معلوم ہے کہ وہ بدر والے دن بھی حاضر نہیں ہوئے تھے ؟ فرمایا ہاں، کہا کیا آپ جانتے ہیں کہ وہ بیعت الرضوان میں بھی شریک نہیں ہوئے تھے ؟ فرمایا یہ بھی ٹھیک ہے، اب اس نے (خوش ہوکر) تکبیر کہی، حضرت عبداللہ نے فرمایا ادھر آ، اب میں تجھے پورے واقعات سناؤں، احد کے دن کا بھاگنا تو اللہ تعالیٰ نے معاف فرما دیا، بدر کے دن کی غیر حاضری کے باعث یہ ہوا کہ آپ کے گھر میں رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادی تھیں اور وہ اس وقت سخت بیمار تھیں تو خود حضور ﷺ نے ان سے فرمایا تھا کہ تم نہ آؤ مدینہ میں ہی رہو تمہیں اللہ تعالیٰ اس جنگ میں حاضر ہونے کا اجر دے گا اور غنیمت میں بھی تمہارا حصہ ہے، بیعت الرضوان کا واقعہ یہ ہے کہ انہیں رسول اللہ ﷺ نے مکہ والوں کے پاس اپنا پیغام دے کر حضرت عثمان کو بھیجا تھا اس لئے کہ مکہ میں جو عزت انہیں حاصل تھی کسی اور کو اتنی نہ تھی انکے تشریف لے جانے کے بعد یہ بیعت لی گئی تو رسول اللہ ﷺ نے اپنا داہنا ہاتھ کھڑا کر کے کہا یہ عثمان کا ہاتھ ہے پھر اپنے دوسرے ہاتھ پر رکھا (گویا بیعت کی) پھر اس شخص سے کہا اب جاؤ اور اسے ساتھ لے جاؤ پھر فرمایا آیت (او تصعدون) الخ یعنی تم اپنے دشمن سے بھاگ کر پہاڑ چڑھ رہے تھے اور مارے خوف و دہشت کے دوسری جانب توجہ بھی نہیں کرتے تھے رسول ﷺ کو بھی تم نے وہیں چھوڑ دیا تھا وہ تمہیں آوازیں دے رہے تھے اور سمجھا رہے تھے کہ بھاگو نہیں لوٹ آؤ، حضرت سدی فرماتے ہیں مشرکین کے اس خفیہ اور پر زور اور اچانک حملہ سے مسلمانوں کے قدم اکھڑ گئے کچھ تو مدینہ کی طرف لوٹ آئے کچھ پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ گئے اللہ کے نبی آوازیں دیتے رہے کہ اللہ کے بندوں میری طرف آؤ اللہ کے بندو میری طرف آؤ، اس واقعہ کا بیان اس آیت میں ہے، عبداللہ بن زحری شاعر نے اس واقعہ کو نظم میں بھی ادا کیا ہے، آنحضرت ﷺ اس وقت صرف بارہ آدمیوں کے ساتھ رہ گئے تھے مسند احمد کی ایک طویل حدیث میں بھی ان تمام واقعات کا ذکر ہے، دلائل النبوۃ میں ہے کہ جب ہزیمت ہوئی تب حضور ﷺ کے ساتھ صرف گیارہ شخص رہ گئے اور ایک حضرت طلحہ بن عبید اللہ تھے، آپ پہاڑ پر چڑھنے لگے لیکن مشرکین نے آگھیرا آپ نے اپنے ساتھیوں یک طرف متوجہ ہو کر فرمایا کوئی ہے جو ان سے مقابلہ کرے، حضرت طلحہ نے اس آواز پر فوراً لبیک کہا اور تیار ہوگئے لیکن آپ نے فرمایا تم ابھی ٹھہر جاؤ اب ایک انصاری تیار ہوئے اور وہ ان سے لڑنے لگے یہاں تک کہ شہید ہوئے اسی طرح سب کے سب ایک ایک کر کے شہید ہوگئے اور اب صرف حضرت طلحہ رہ گئے گویہ بزرگ ہر مرتبہ تیار ہوجاتے تھے لیکن حضور ﷺ انہیں روک لیا کرتے تھے آخر یہ مقابلہ پر آئے اور اس طرح جم کر لڑے کہ ان سب کی لڑائی ایک طرف اور یہ ایک طرف اس لڑائی میں ان کی انگلیاں کٹ گئیں تو زبان سے حس نکل گیا آپ نے فرمایا اگر تم بسم اللہ کہہ دیتے یا اللہ کا نام لیتے تو تمہیں فرشتے اٹھا لیتے اور آسمان کی بلندی کی طرف لے چڑھتے اور لوگ دیکھتے رہتے اب نبی ﷺ اپنے صحابہ کے مجمع میں پہنچ چکے تھیں۔ صحیح بخاری شریف میں ہے حضرت قیس بن حازم فرماتے ہیں میں نے دیکھا حضرت طلحہ کا وہ ہاتھ جسے انہوں نے ڈھال بنایا تھا شل ہوگیا تھا، حضعرت سعد بن ابی وقاص فرماتے ہیں میرے پاس حضور ﷺ نے اپنی ترکش سے احد والے دن تمام تیر پھیلا دئیے اور فرمایا تجھ پر میرے ماں باپ فدا ہوں لے مشرکین کو مار آپ اٹھا اٹھا کردیتے جاتے تھے اور میں تاک تاک کر مشرکین کو مارتا جاتا تھا اس دن میں نے دو شخصوں کو دیکھا کہ حضور ﷺ کے دائیں بائیں تھے اور سخت ترین جنگ کر رہے تھے میں نے نہ تو اس سے پہلے کبھی انہیں دیکھا تھا نہ اس کے بعد یہ دونوں حضرت جبرائیل اور حضرت میکائیل (علیہما السلام) تھے ایک اور روایت میں ہے کہ جو بزرگ حضور ﷺ کے ساتھ بھگدڑ کے بعد تھے اور ایک ایک ہو کر شہید ہوئے تھے انہیں آپ فرماتے جاتے تھے کہ کوئی ہے جو انہیں رو کے اور جنت میں جائے میرا رفیق ہے، ابی بن خلف نے مکہ میں قسم کھائی تھی کہ میں رسول اللہ ﷺ کو قتل کروں گا، جب حضور ﷺ کو اس کا علم ہوا تو آپ نے فرمایا وہ تو نہیں بلکہ میں انشاء اللہ اسے قتل کروں گا احد والے دن یہ خبیث سرتاپا لوہے میں غرق زرہ بکتر لگائے ہوئے حضور ﷺ کی طرف بڑھا اور یہ کہتا آتا تھا کہ اگر محمد ﷺ بچ گئے تو میں اپنے تئیں ہلاک کر ڈالوں گا ادھر سے حضرت مصعب بن عمیر اس ناہنجار کی طرف بڑھے لیکن آپ شہید ہوگئے اب حضور ﷺ اس کی طرف بڑھے اس کا سارا جسم لوہے میں چھپا ہوا تھا صرف ذرا سی پیشانی نظر آرہی تھی آپ نے اپنا نیزہ تاک کر وہیں لگایا جو ٹھیک نشانے پر بیٹھا اور یہ تیورا کر گھوڑے پر سے گرا گو اس زخم سے خون بھی نہ نکلا تھا لیکن اس کی یہ حالت تھی کہ بلبلا رہا تھا لوگوں نے اسے اٹھا لیا لشکر میں لے گئے اور تشفی دینے لگے کہ ایسا کوئی کاری زخم نہیں لگا کیوں اس قدر نامردی کرتا ہے آخر ان کے طعنوں سے مجبور ہو کر اس نے کہا میں نے سنا ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا ہے میں ابی کو قتل کروں گا سچ مانو اب میں کبھی نہیں بچ سکتا تم اس پر نہ جاؤ کہ مجھے ذرا سی خراش ہی آئی ہے اللہ کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے اگر کل اہل ذی المجاز کو اتنا زخم اس ہاتھ سے لگ جاتا تو سب ہلاک ہوجاتے پس یونہی تڑپتے تڑپتے اور بلکتے بلکتے اس جہنمی کی ہلاکت ہوئی اور مر کر جہنم رسید ہوا، مغازی محمد بن اسحاق میں ہے کہ جب یہ شخص حضور ﷺ کے سامنے ہوا تو صحابہ نے اس کے مقابلہ کی خواہش کی لیکن آپ نے انہیں روک دیا اور فرمایا اسے آنے دو جب وہ قریب آگیا تو آپ نے حضرت حارث بن صمہ سے نیزہ لے کر اس پر حملہ کیا حضور ﷺ کے ہاتھ میں نیزہ دیکھتے ہی وہ کانپ اٹھا ہم نے اسی وقت سمجھ لیا کہ اس کی خیر نہیں آپ نے اس کی گردن پر وار کیا اور وہ لڑکھڑا کر گھوڑے پر سے گرا، حضرت ابن عمر کا دہشت ناک شعلے اٹھتے ہوئے دیکھے اور دیکھا کہ ایک شخص کو زنجیروں میں جکڑے ہوئے اس آگ میں گھسیٹا جا رہا ہے اور وہ پیاس پیاس کر رہا ہے اور دوسرا شخص کہتا ہے اسے پانی نہ دینا یہ پیغمبر کے ہاتھ کا مارا ہوا ہے یہ ابی بن خلف ہے، بخاری و مسلم کی ایک حدیث میں ہے آپ اپنے سامنے کے چار دانتوں کی طرف جنہیں مشرکین نے احد والے دن شہید کیا تھا اشارہ کر کے فرما رہے تھے اللہ کا سخت تر غضب ان لوگوں پر ہے جنہوں نے اپنے نبی ﷺ کے ساتھ یہ کیا اور اس پر بھی اللہ تعالیٰ کا غضب ہے جسے اللہ کا رسول اللہ ﷺ کی راہ میں قتل کرے اور روایت میں یہ لفظ ہیں کہ جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے رسول ﷺ کا چہرہ زخمی کیا، عتبہ بن ابی وقاص کے ہاتھ سے حضور ﷺ کو یہ زخم لگا تھا سامنے کے چار دانٹ ٹوٹ گئے تھے، رخسار پر زخم آیا تھا اور ہونٹ پر بھی، حضرت سعد بن ابی وقاص فرمایا کرتے تھے مجھے جس قدر اس شخص کی حرص تھی کسی اور کے قتل کی نہ تھی۔ یہ شخص بڑا بد خلق تھا اور ساری قوم سے اس کی دشمنی تھی اس کی برائی میں حضور ﷺ کا یہ فرمان کافی ہے کہ نبی ﷺ کو زخمی ہونے والے پر اللہ سخت غضبناک ہے، عبدالرزاق میں ہے حضور ﷺ نے اس کیلئے بد دعا کی کہ اے اللہ سال بھر میں یہ ہلاک ہوجائے اور کفر پر اس کی موت ہو چناچہ یہی ہوا اور یہ بدبخت کافر مرا اور جہنم واصل ہوا۔ ایک مہاجر کا بیان ہے کہ چاروں طرف سے احد والے دن حضور ﷺ پر تیروں کی بارش ہو رہی تھی لیکن اللہ کی قدرت سے وہ سب پھیر دیئے جاتے تھے، عبداللہ بن شہاب زہری نے اس دن قسم کھا کر کہا کہ مجھے محمد ﷺ کو دکھا دو وہ آج میرے ہاتھ سے بچ نہیں سکتا اگر وہ نجات پا گیا تو میری نجات نہیں اب وہ حضور ﷺ کی طرف سے لپکا اور بالکل آپ کے پاس آگیا اس وقت حضور ﷺ کے ساتھ کوئی نہ تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا اسے حضور ﷺ نظر ہی نہ آئے جب وہ نامراد پلٹا تو صفوان نے اسے طعنہ زنی کی اس نے کہا اللہ تعالیٰ کی طرف سے محفوظ ہیں ہمارے ہاتھ نہیں لگنے کے سنو ! ہم چار شخصوں نے ان کے قتل کا پختہ مشورہ کیا تھا اور آپس میں عہدو پیمان کئے تھے ہم نے ہرچند چاہا لیکن کامیابی نہ ہوئی واقدی کہتے ہیں لیکن ثابت شدہ بات یہ ہے کہ حضور ﷺ کی پیشانی کو زخمی کرنے والا ابن قمیہ اور ہونٹ اور دانتوں پر صدمہ پہچانے والا عتبہ بن ابی وقاص تھا۔ ام المومنین حضرت عائشہ کا بیان ہے کہ میرے والد حضرت ابوبکر جب احد کا ذکر فرماتے تو صاف کہتے کہ اس دن کی تمام تر فضلیت کا سہرا حضرت طلحہ کے سر ہے میں جب لوٹ کر آیا تو میں نے دیکھا کہ ایک شخص حضور ﷺ کی حمایت میں جان ٹکائے لڑ رہا ہے میں نے کہا اللہ کرے یہ طلحہ ہو اب جو قریب آ کر دیکھا تو طلحہ ہی تھے ؓ میں نے کہا الحمد اللہ میری ہی قوم کا ایک شخص ہے میرے اور مشرکوں کے درمیان ایک شخص تھا جو مشرکین میں کھڑا ہوا تھا لیکن اسکے بےپناہ حملے مشرکوں کی ہمت توڑ رہے تھے غور سے دیکھا تو وہ حضرت عبیدہ بن جراح تھے، اب جو میں نے بغور حضور ﷺ کی طرف دیکھا تو آپ کے سامنے کے دانت ٹوٹ گئے ہیں چہرہ زخمی ہو رہا ہے اور پیشانی میں زرہ کی دو کڑیاں کھب گئی ہیں میں آپ کی طرف لپکا لیکن آپ نے فرمایا ابو طلحہ کی خبر لو میں نے چاہا کہ حضور ﷺ کے چہرے میں سے وہ دونوں کڑیاں نکالوں لیکن حضرت ابو عبیدہ نے مجھے قسم دے کر روک دیا اور خود قریب آئے اور ہاتھ سے نکالنے میں زیادہ تکلیف محسوس کر کے دانتوں سے پکڑ کر ایک کو نکال لیا لیکن اس میں ان کا دانت بھی ٹوٹ گیا میں نے اب پھر چاہا کہ دوسری میں نکال لوں لیکن حضرت ابو عبیدہ نے پھر قسم دی تو میں رک رہا انہوں نے پھر دوسری کڑی نکالی اب کی مرتبہ بھی ان کے دانت ٹوٹے اس سے فارغ ہو کر ہم حضرت طلحہ کی طرف متوجہ ہوئے ہم نے دیکھا کہ ستر سے زیادہ زخم انہیں لگ چکے ہیں انگلیاں کٹ گئی ہیں ہم نے پھر ان کی بھی خبر لی حضور ﷺ کے زخم کا خون حضرت ابو سعید خدری نے چوسا تاکہ خون تھم جائے پھر ان سے کہا گیا کہ کلی کر ڈالو لیکن انہوں نے کہا اللہ کی قسم میں کلی نہ کروں گا پھر میدان جنگ میں چلے گئے حضور ﷺ نے فرمایا اگر کوئی شخص جنتی شخص کو دیکھنا چاہتا ہو تو انہیں دیکھ لے چناچہ یہ اسی میدان میں شہید ہوئے، صحیح بخاری شریف میں ہے کہ حضور ﷺ کا چہرہ زخمی ہوا سامنے کے دانت ٹوٹے سر کا خود ٹوٹا، حضرت فاطمہ خون دھوتی تھیں اور حضرت علی ڈھال میں پانی لالا کر ڈالتے جاتے تھے جب دیکھا کہ خون کسی طرح تھمتا ہی نہیں تو حضرت فاطمہ نے بوریا جلا کر اس کا راکھ زخم پر رکھ دی جس سے خون بند ہوا۔ پھر فرماتا ہے، تمہیں غم پر غم پہنچا (بِغَمِّ) کا بامعنی میں علیٰ کے ہے جیسے آیت (فی جذوع النخل) میں فی معنی میں علیٰ کے ہے، ایک غم تو شکست کا تھا جبکہ یہ مشہور ہوگیا کہ (اللہ نہ کرے) حضور ﷺ کی جان پر بن آئی، دوسرا غم مشرکوں کو پہاڑ کے اوپر غالب آکر چڑھ جانے کا جبکہ حضور ﷺ فرماتے تھے یہ بلندی کے لائق نہ تھے، حضرت عبدالرحمن بن عوف فرماتے ہیں ایک غم شکست کا دوسرا غم حضور ﷺ کے قتل کی خبر کا اور یہ غم پہلے غم سے زیادہ تھا، اسی طرح یہ بھی ہے کہ ایک غم تو غنیمت کا ہاتھ میں آکر نکل جانے کا تھا دوسرا شکست ہونے کا اسی طرح ایک اپنے بھائیوں کے قتل کا غم دوسرا حضور ﷺ کی نسبت ایسی منحوس خبر کا غم۔ پھر فرماتا ہے جو غنیمت اور فتح مندی تمہارے ہاتھ سے گئی اور جو زخم و شہادت ملی اس پر غم نہ کھاؤ اللہ سبحانہ و تعالیٰ جو بلندی اور جلال والا ہے وہ تمہارے اعمال سے خبردار ہے۔
153
View Single
۞إِذۡ تُصۡعِدُونَ وَلَا تَلۡوُۥنَ عَلَىٰٓ أَحَدٖ وَٱلرَّسُولُ يَدۡعُوكُمۡ فِيٓ أُخۡرَىٰكُمۡ فَأَثَٰبَكُمۡ غَمَّۢا بِغَمّٖ لِّكَيۡلَا تَحۡزَنُواْ عَلَىٰ مَا فَاتَكُمۡ وَلَا مَآ أَصَٰبَكُمۡۗ وَٱللَّهُ خَبِيرُۢ بِمَا تَعۡمَلُونَ
When you were leaving, unconcerned without turning to look back at anyone, and from another group Our Noble Messenger was calling you (to fight); so He gave you sorrow in lieu of sorrow, and then forgave you so that you do not grieve over what has been lost or over the calamity that befell you; and Allah is Well Aware of what you do.
جب تم (افراتفری کی حالت میں) بھاگے جا رہے تھے اور کسی کو مڑ کر نہیں دیکھتے تھے اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس جماعت میں (کھڑے) جو تمہارے پیچھے (ثابت قدم) رہی تھی تمہیں پکار رہے تھے پھر اس نے تمہیں غم پر غم دیا (یہ نصیحت و تربیت تھی) تاکہ تم اس پر جو تمہارے ہاتھ سے جاتا رہا اور اس مصیبت پر جو تم پر آن پڑی رنج نہ کرو، اور اللہ تمہارے کاموں سے خبردار ہے
Tafsir Ibn Kathir
The Prohibition of Obeying the Disbelievers; the Cause of Defeat at Uhud
Allah warns His believing servants against obeying the disbelievers and hypocrites, because such obedience leads to utter destruction in this life and the Hereafter. This is why Allah said,
إِن تُطِيعُواْ الَّذِينَ كَفَرُواْ يَرُدُّوكُمْ عَلَى أَعْقَـبِكُمْ فَتَنقَلِبُواْ خَـسِرِينَ
(If you obey those who disbelieve, they will send you back on your heels, and you will turn back (from faith) as losers) 3:149.
Allah also commands the believers to obey Him, take Him as their protector, seek His aid and trust in Him. Allah said,
بَلِ اللَّهُ مَوْلَـكُمْ وَهُوَ خَيْرُ النَّـصِرِينَ
(Nay, Allah is your protector, and He is the best of helpers).
Allah next conveys the good news that He will put fear of the Muslims, and feelings of subordination to the Muslims in the hearts of their disbelieving enemies, because of their Kufr and Shirk. And Allah has prepared torment and punishment for them in the Hereafter. Allah said,
سَنُلْقِى فِى قُلُوبِ الَّذِينَ كَفَرُواْ الرُّعْبَ بِمَآ أَشْرَكُواْ بِاللَّهِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِهِ سُلْطَـناً وَمَأْوَاهُمُ النَّارُ وَبِئْسَ مَثْوَى الظَّـلِمِينَ
(We shall cast terror into the hearts of those who disbelieve, because they joined others in worship with Allah, for which He sent no authority; their abode will be the Fire and how evil is the abode of the wrongdoers). In addition, the Two Sahihs recorded that Jabir bin `Abdullah said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«أُعْطِيتُ خَمْسًا لَمْ يُعْطَهُنَّ أَحَدٌ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ قَبْلِي: نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ مَسِيرَةَ شَهْرٍ، وَجُعِلَتْ لِيَ الْأَرْضُ مَسْجِدًا وَطَهُورًا، وَأُحِلَّتْ لِيَ الْغَنَائِمُ، وَأُعْطِيتُ الشَّفَاعَةَ، وَكَانَ النَّبِيُّ يُبْعَثُ إِلى قَوْمِهِ خَاصَّةً وَبُعِثْتُ إِلى النَّاسِ عَامَّة»
(I was given five things that no other Prophet before me was given. I was aided with fear the distance of one month, the earth was made a Masjid and clean place for me, I was allowed war booty, I was given the Intercession, and Prophets used to be sent to their people, but I was sent to all mankind particularly.)
Allah said,
وَلَقَدْ صَدَقَكُمُ اللَّهُ وَعْدَهُ
(And Allah did indeed fulfill His promise to you) 3:152,
in the beginning of the day of Uhud,
إِذْ تَحُسُّونَهُمْ
(when you were killing them), slaying your enemies,
بِإِذْنِهِ
(with His permission), for He allowed you to do that against them,
حَتَّى إِذَا فَشِلْتُمْ
(until when you Fashiltum). Ibn Jurayj said that Ibn `Abbas said that Fashiltum means, `lost courage'.
وَتَنَـزَعْتُمْ فِى الاٌّمْرِ وَعَصَيْتُمْ
(and fell to disputing about the order, and disobeyed) such as the mistake made by the archers,
مِّن بَعْدِ مَآ أَرَاكُمْ مَّا تُحِبُّونَ
(after He showed you what you love), that is, victory over the disbelievers,
مِنكُم مَّن يُرِيدُ الدُّنْيَا
(Among you are some that desire this world) referring to those who sought to collect the booty when they saw the enemy being defeated,
وَمِنكُم مَّن يُرِيدُ الاٌّخِرَةَ ثُمَّ صَرَفَكُمْ عَنْهُمْ لِيَبْتَلِيَكُمْ
(and some that desire the Hereafter. Then He made you flee from them, that He might test you).
This Ayah means, Allah gave them the upper hand to try and test you, O believers,
وَلَقَدْ عَفَا عَنْكُمْ
(but surely, He forgave you),
He forgave the error you committed, because, and Allah knows best, the idolators were many and well supplied, while Muslims had few men and few supplies.
Al-Bukhari recorded that Al-Bara' said, "We met the idolators on that day (Uhud) and the Prophet appointed `Abdullah bin Jubayr as the commander of the archers. He instructed them, `Retain your position, and if you see that we have defeated them, do not abandon your positions. If you see that they defeated us, do not rush to help us.' The disbelievers gave flight when we met them, and we saw their women fleeing up the mountain while lifting up their clothes revealing their anklets and their legs. So, the companions (of `Abdullah bin Jubayr) said, `The booty, the booty!' `Abdullah bin Jubayr said, `Allah's Messenger ﷺ commanded me not to allow you to abandon your position.' They refused to listen, and when they left their position, Muslims were defeated and seventy of them were killed. Abu Sufyan shouted, `Is Muhammad present among these people' The Prophet said, `Do not answer him.' Then he asked, `Is the son of Abu Quhafah (Abu Bakr) present among these people' The Prophet said, `Do not answer him.' He asked again, `Is the son of Al-Khattab (`Umar) present among these people As for these (men), they have been killed, for had they been alive, they would have answered me.' `Umar could not control himself and said (to Abu Sufyan), `You lie, O enemy of Allah! The cause of your misery is still present.' Abu Sufyan said, `O Hubal, be high!' On that the Prophet said (to his Companions), `Answer him back.' They said, `What shall we say' He said, `Say, Allah is Higher and more Sublime.' Abu Sufyan said, `We have the (idol) Al-`Uzza, and you have no `Uzza.' The Prophet said, `Answer him back.' They asked, `What shall we say' He said, `Say, Allah is our protector and you have no protector.' Abu Sufyan said, `Our victory today is vengeance for yours in the battle of Badr, and in war (the victory) is always undecided and is shared in turns by the belligerents. You will find some of your killed men mutilated, but I did not urge my men to do so, yet I do not feel sorry for their deed."' Only Al-Bukhari collected this Hadith using this chain of narration. cMuhammad bin Ishaq said that, `Abdullah bin Az-Zubayr narrated that Az-Zubayr bin Al-`Awwam said, "By Allah! I saw the female servants and female companions of Hind (Abu Sufyan's wife) when they uncovered their legs and gave flight. At that time, there was no big or small effort separating us from capturing them. However, the archers went down the mount when the enemy gave flight from the battlefield, seeking to collect the booty. They uncovered our back lines to the horsemen of the disbelievers, who took the chance and attacked us from behind. Then a person shouted, `Muhammad has been killed.' So we pulled back, and the disbelievers followed us, after we had killed those who carried their flag, and none of them dared to come close the flag, until then."' Muhammad bin Ishaq said next, "The flag of the disbelievers was left on the ground until `Amrah bint `Alqamah Al-Harithiyyah picked it up and gave it to the Quraysh who held it."
Allah said,
ثُمَّ صَرَفَكُمْ عَنْهُمْ لِيَبْتَلِيَكُمْ
(Then He made you flee from them, that He might test you) 3:152.
Al-Bukhari recorded that Anas bin Malik said, "My uncle Anas bin An-Nadr was absent from the battle of Badr. He said, `I was absent from the first battle the Prophet fought (against the pagans). (By Allah) if Allah gives me a chance to fight along with the Messenger of Allah ﷺ, then Allah will see how (bravely) I will fight.' On the day of Uhud when the Muslims turned their backs and fled, he said, `O Allah! I apologize to You for what these (meaning the Muslims) have done, and I denounce what these pagans have done.' Then he advanced lifting his sword, and when Sa`d bin Mu`adh met him, he said to him, `O Sa`d bin Mu`adh! Where are you! Paradise! I am smelling its aroma coming from before (Mount) Uhud,' and he went forth, fought and was killed. We found more than eighty stab wounds, sword blows or arrow holes on his body, which was mutilated so badly that none except his sister could recognize him, and she could only do so by his fingers or by a mole." This is the narration reported by Al-Bukhari, Muslim also collected a similar narration from Thabit from Anas.
The Defeat that the Muslims Suffered During the Battle of Uhud
Allah said,
إِذْ تُصْعِدُونَ وَلاَ تَلْوُونَ عَلَى أحَدٍ
((And remember) when you (Tus`iduna) ran away dreadfully without casting even a side glance at anyone), and Allah made the disbelievers leave you after you went up the mount, escaping your enemy. Al-Hasan and Qatadah said that, Tus`iduna, means, `go up the mountain'.
وَلاَ تَلْوُونَ عَلَى أحَدٍ
(without even casting a side glance at anyone) meaning, you did not glance at anyone else due to shock, fear and fright.
وَالرَّسُولُ يَدْعُوكُمْ فِى أُخْرَاكُمْ
(and the Messenger was in your rear calling you back), for you left him behind you, while he was calling you to stop fleeing from the enemy and to return and fight.
As-Suddi said, "When the disbelievers attacked Muslim lines during the battle of Uhud and defeated them, some Muslims ran away to Al-Madinah, while some of them went up Mount Uhud, to a rock and stood on it. On that, the Messenger of Allah ﷺ kept heralding, `Come to me, O servants of Allah! Come to me, O servants of Allah!' Allah mentioned that the Muslims went up the Mount and that the Prophet called them to come back, and said,
إِذْ تُصْعِدُونَ وَلاَ تَلْوُونَ عَلَى أحَدٍ وَالرَّسُولُ يَدْعُوكُمْ فِى أُخْرَاكُمْ
((And remember) when you ran away without even casting a side glance at anyone, and the Messenger was in your rear calling you back)." Similar was said by Ibn `Abbas, Qatadah, Ar-Rabi` and Ibn Zayd.
The Ansar and Muhajirin Defended the Messenger
Al-Bukhari recorded that Qays bin Abi Hazim said, "I saw Talhah's hand, it was paralyzed, because he shielded the Prophet with it." meaning on the day of Uhud. It is recorded in the Two Sahihs that Abu `Uthman An-Nahdi said, "On that day (Uhud) during which the Prophet fought, only Talhah bin `Ubaydullah and Sa`d remained with the Prophet."
Sa`id bin Al-Musayyib said, "I heard Sa`d bin Abi Waqqas saying, `The Messenger of Allah ﷺ gave me arrows from his quiver on the day of Uhud and said, `Shoot, may I sacrifice my father and mother for you."' Al-Bukhari also collected this Hadith. The Two Sahihs recorded that Sa`d bin Abi Waqqas said, "On the day of Uhud, I saw two men wearing white clothes, one to the right of the Prophet and one to his left, who were defending the Prophet fiercely. I have never seen these men before or after that day." Meaning angels Jibril and Mika'il, peace be upon them.
Abu Al-Aswad said that, `Urwah bin Az-Zubayr said, "Ubayy bin Khalaf of Bani Jumah swore in Makkah that he would kill the Messenger of Allah ﷺ. When the Messenger was told of his vow, he said, `Rather, I shall kill him, Allah willing.' On the day of Uhud, Ubayy came while wearing iron shields and proclaiming, `May I not be saved, if Muhammad is saved.' He then headed to the direction of the Messenger of Allah ﷺ intending to kill him, but Mus`ab bin `Umayr, from Bani Abd Ad-Dar, intercepted him and shielded the Prophet with his body, and Mus`ab bin `Umayr was killed. The Messenger of Allah ﷺ saw Ubayy's neck exposed between the shields and helmet, stabbed him with his spear, and Ubayy fell from his horse to the ground. However, no blood spilled from his wound. His people came and carried him away while he was moaning like an ox. They said to him, `Why are you so anxious, it is only a flesh wound' Ubayy mentioned to them the Prophet's vow, `Rather, I shall kill Ubayy', then commented, `By He in Whose Hand is my soul! If what hit me hits the people of Dhul-Majaz (a popular pre-Islamic marketplace), they would all have perished.' He then died and went to the Fire,
فَسُحْقًا لاًّصْحَـبِ السَّعِيرِ
(So, away with the dwellers of the blazing Fire!) 67:11."
This was collected by Musa bin `Uqbah from Az-Zuhri from Sa`id bin Al-Musayyib.
It is recorded in the Two Sahih that when he was asked about the injuries the Messenger sustained in Uhud, Sahl bin Sa`d said, "The face of Allah's Messenger ﷺ was injured, his front tooth was broken and his helmet was smashed on his head. Therefore, Fatimah, the daughter of Allah's Messenger washed off the blood while `Ali was pouring water on her hand. When Fatimah saw that the bleeding increased more by the water, she took a mat, burnt it, and placed the ashes in the wound of the Prophet and the blood stopped oozing out." Allah said next,
فَأَثَـبَكُمْ غَمّاً بِغَمٍّ
(There did Allah give you one distress after another) 3:153,
He gave you grief over your grief. Ibn `Abbas said, `The first grief was because of the defeat, especially when it was rumored that Muhammad was killed. The second grief was when the idolators went up the mount and The Messenger of Allah ﷺ said, `O Allah! It is not for them to rise above us."'
`Abdur-Rahman bin `Awf said, "The first distress was because of the defeat and the second when a rumor started that Muhammad was killed, which to them, was worse than defeat." Ibn Marduwyah recorded both of these. Mujahid and Qatadah said, "The first distress was when they heard that Muhammad was killed and the second when they suffered casualties and injury." It has also been reported that Qatadah and Ar-Rabi` bin Anas said that it was the opposite order. As-Suddi said that the first distress was because of the victory and booty that they missed and the second because of the enemy rising above them (on the mount). Allah said,
لِّكَيْلاَ تَحْزَنُواْ عَلَى مَا فَاتَكُمْ
(by way of requital to teach you not to grieve for that which had escaped you), for that you missed the booty and triumph over your enemy.
وَلاَ مَآ أَصَـبَكُمْ
(nor for what struck you), of injury and fatalities, as Ibn `Abbas, `Abdur-Rahman bin `Awf, Al-Hasan, Qatadah and As-Suddi stated. Allah said next,
وَاللَّهُ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ
(And Allah is Well-Aware of all that you do.) all praise is due to Him, and thanks, there is no deity worthy of worship except Him, the Most High, Most Honored.
کافر اور منافقوں کے ارادے اور غزوہ احد کا پھر اندوہناک تذکرہ اللہ تعالیٰ اپنے ایماندار بندوں کو کافروں اور منافقوں کی باتوں کے ماننے سے روک رہا ہے اور بتارہا ہے کہ اگر ان کی مانی تو دنیا اور آخرت کی ذلت تم پر آئے گی انکی چاہت تو یہی ہے کہ تمہیں دین اسلام سے ہٹا دیں پھر فرماتا ہے مجھ ہی کو اپنا والی اور مددگار جانو مجھی سے دوستی کرو مجھی پر بھروسہ کرو مجھی سے مدد چاہو پھر فرمایا کہ ان شریروں کے دلوں میں ان کے کفر کے سبب ڈر خوف ڈال دوں گا، بخاری مسلم میں حضرت جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مجھے پانچ باتیں دی گئیں ہیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئیں میری مدد مہینہ بھر کی راہ تک رعب سے کی گئی ہے میرے لئے زمین مسجد اور اس کی مٹی وضو کی پاک چیز بنائی گئی، میرے لئے غنیمت کے مال حلال کئے گئے اور مجھے شفاعت دی گئی اور ہر نبی اپنی اپنی قوم کی طرف سے مخصوص بھیجا جاتا تھا اور میری بعثت میری نبوت تمام دنیا کیلئے عام ہوئی، مسند احمد میں ہے آپ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے تمام نبیوں پر اور بعض روایتوں میں ہے تمام امتوں پر مجھے چار فضیلتیں عطا فرمائی ہیں، مجھے تمام دنیا کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا، میرے اور میری امت کیلئے تمام زمین مسجد اور پاک بنائی گئی، میرے امتی کو جہاں نماز کا وقت آجائے وہیں اس کی مسجد اور اس کا وضو ہے، میرا دشمن مجھ سے مہینہ بھر کی راہ پر ہو وہیں سے اللہ تعالیٰ اس کا دل رعب سے پُر کردیتا ہے اور وہ کانپنے لگتا ہے اور میرے لئے غنیمت کے مال حلال کئے گئے اور روایت میں ہے کہ میں مدد کیا گیا ہوں میرے رعب سے ہر دشمن پر، مسند کی ایک اور حدیث میں ہے مجھے پانچ چیزیں دی گئیں میں ہر سرخ وسفید کی طرف بھیجا گیا میرے لئے تمام زمین وضو اور مسجد بنائی گی۔ میرے لئے غنیمتوں کے مال حلال کئے گئے جو میرے پہلے کسی کے حلال نہ تھے اور میری مدد مہینہ بھر کی راہ تک رعب سے کی گئی اور مجھے شفاعت دی گئی تمام انبیاء نے شفاعت مانگ لی لیکن میں نے اپنی شفاعت کو اپنی امت کے لوگوں کیلئے جنہوں نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا ہو بچار کھی ہے، حضرت ابن عباس فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے ابو سفیان کے دل میں رعب ڈال دیا اور وہ لڑائی سے لوٹ گیا پھر ارشاد ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا وعدہ سچا کر دکھایا اور تمہاری مدد کی اس سے بھی یہ استدلال ہوسکتا ہے کہ یہ وعدہ احد کے دن کا تھا تین ہزار دشمن کا لشکر تھا تاہم مقابلہ پر آتے ہی ان کے قدم اکھڑ گئے اور مسلمانوں کو فتح حاصل ہوئی لیکن پھر تیر اندازوں کی نافرمانی کی وجہ سے اور بعض حضرات کی پست ہمتی کی بناء پر وہ وعدہ جو مشروط تھا رک گیا پس فرماتا ہے کہ تم انہیں اپنے ہاتھوں سے کاٹتے تھے۔ شروع دن میں ہی اللہ نے تمہیں ان پر غالب کردیا لیکن تم نے پھر بزدلی دکھائی اور نبی کی نافرمانی کی ان کی بتائی ہوئی جگہ سے ہٹ گئے اور آپس میں اختلاف کرنے لگے حالانکہ اللہ عزوجل نے تمہیں تمہاری پسند کی چیز فتح دکھا دی تھی یعنی مسلمان صاف طور پر غالب آگئے تھے مال غنیمت آنکھوں کے سامنے موجود تھا کفار پیٹھ پھیر کر بھاگ کھڑے ہوئے تھے تم میں سے بعض نے دنیا طلبی کی اور کفار کی ہزیمت کو دیکھ کر نبی ﷺ کے فرمان کا خیال نہ کر کے مال غنیمت کی طرف لپکے گو بعض اور نیک آخرت طلب بھی تھے لیکن اس نافرمانی وغیرہ کی بنا پر کفار کی پھر بن آئی اور ایک مرتبہ تمہاری پوری آزمائش ہوگئی غالب ہو کر مغلوب ہوگئے فتح کے بعد شکست ہوگئی لیکن پھر بھی اللہ تعالیٰ نے تمہارے اس جرم کو معاف فرما دیا کیونکہ وہ جانتا ہے کہ بظاہر تم ان سے تعداد میں اور اسباب میں کم تھے خطا کا معاف ہونا بھی عفاعنکم میں داخل ہے اور یہ بھی مطلب ہے کہ کچھ یونہی سی گوشمالی کر کے کچھ بزرگوں کی شہادت کے بعد اس نے اپنی آزمائش کو اٹھا لیا اور باقی والوں کو معاف فرما دیا، اللہ تعالیٰ باایمان لوگوں پر فضل و کرم لطف و رحم ہی کرتا ہے، حضرت عبداللہ بن عباس سے مروی ہے کہ حضور ﷺ کی مدد جیسی احد میں ہوئی ہے کہیں نہیں ہوئی اسی کے بارے میں ارشاد باری ہے کہ اللہ نے تم سے اپنا وعدہ سچا کر دکھایا لیکن پھر تمہارے کرتوتوں سے معاملہ برعکس ہوگیا، بعض لوگوں نے دنیا طلبی کر کے رسول ﷺ کی نافرمانی کی یعنی بعض تیر اندوزوں نے جنہیں حضور ﷺ نے پہاڑ کے درے پر کھڑا کیا تھا اور فرما دیا تھا کہ تم یہاں سے دشمنوں کی نگہبانی کرو وہ تمہاری پیٹھ کی طرف سے نہ آجائیں، اگر تم ہار دیکھو بھی اپنی جگہ سے نہ ہٹنا اور اگر تم ہر طرح غالب آگئے تو بھی تم غنیمت جمع کرنے کیلئے بھی اپنی جگہ کو نہ چھوڑنا، جب حضور ﷺ غالب آگئے تو تیر اندوزوں نے حکم عدولی کی اور وہ اپنی جگہ کو چھوڑ کر مسلمانوں میں آملے اور مال غنیمت جمع کرنا شروع کردیا صفوں کا کوئی خیال نہ رہا درے کو خالی پا کر مشرکوں نے بھاگنا بند کیا اور غور و فکر کر کے اس جگہ حملہ کردیا، چند مسلمانوں کی پیٹھ کے پیچھے سے ان کی بیخبر ی میں اس زور کا حملہ کیا کہ مسلمانوں کے قدم نہ جم سکے اور شروع دن کی فتح اب شکست سے بدل گئی اور یہ مشہور ہوگیا کہ حضور ﷺ بھی شہید ہوگئے اور لڑائی کے رنگ نے مسلمانوں کو اس بات کا یقین بھی دلا دیا، تھوڑی دیر بعد جبکہ مسلمانوں کی نظریں چہرہ مبارک پر پڑیں تو وہ اپنی سب کوفت اور ساری مصیبت بھول گئے اور خوشی کے مارے حضور ﷺ کی طرف لپکے آپ ادھر آرہے تھے اور فرماتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کا سخت غضب نازل ہو ان لوگوں پر جنہوں نے اللہ کے رسول ﷺ کے چہرے کو خون آلودہ کردیا، انہیں کوئی حق نہ تھا کہ اس طرح ہم پر غالب رہ جائیں، تھوڑی دیر میں ہم نے سنا کہ ابو سفیان پہاڑ کے نیچے کھڑا ہوا کہہ رہا تھا اعل ہبل اعل ھبل ہبل بت کا بول بالا ہو ابوبکر کہاں ہے ؟ عمر کہاں ہے ؟ حضرت عمر نے پوچھا حضور ﷺ اسے جواب دوں ؟ آپ ﷺ نے اجازت دی تو حضرت عمر فاروق نے اس کے جواب میں فرمایا اللہ اعلی واجل اللہ اعلی واجل اللہ بہت بلند ہے اور جلال و عزت والا ہے اللہ بہت بلند اور جلال و عزت والا ہے، وہ پوچھنے لگا بتاؤ محمد ﷺ کہاں ہیں ؟ ابوبکر کہاں ہیں ؟ عمر کہاں ہیں ؟ آپ نے فرمایا یہ ہیں رسول اللہ ﷺ اور یہ ہیں حضرت ابوبکر اور یہ ہوں میں عمر فاروق ابو سفیان کہنے لگا یہ بدر کا بدلہ ہے یونہی دھوپ چھاؤں الٹتی پلٹتی رہتی ہے، لڑائی کی مثال کنویں کے ڈول کی سی ہے، حضرت عمر نے فرمایا برابری کا معاملہ ہرگز نہیں تمہارے مقتول تو جہنم میں گئے اور ہمارے شہید جنت میں پہنچے، ابو سفیان کہنے لگا اگر یونہی ہو تو یقینا ہم نقصان اور گھاٹے میں رہے، سنو تمہارے مقتولین میں بعض ناک کان کٹے لوگ بھی تم پاؤ گے گویہ ہمارے سرداروں کی رائے سے نہیں ہوا لیکن ہمیں کچھ برا بھی نہیں معلوم ہوا، یہ حدیث غریب ہے اور یہ قصہ بھی عجیب ہے، یہ ابن عباس کی مرسلات سے ہے اور وہ یا ان کے والد جنگ احد میں موجود نہ تھے، مستدرک حاکم میں بھی یہ روایت موجود ہے ابن ابی حاتم اور بیہقی فی دلائل النبوۃ میں بھی یہ مروی ہے اور صحیح احادیث میں اس کے بعض حصوں کے شواہد بھی ہیں کہ احد والے دن عورتیں مسلمانوں کے پیچھے تھیں جو زخمیوں کی دیکھ بھال کرتی تھیں تو پوری طرح یقین تھا کہ آج کے دن ہم میں کوئی ایک بھی طالب دنیا نہیں بلکہ اس وقت اگر مجھے اس بات پر قسم کھلوائی جاتی تو کھا لیتا لیکن قرآن میں یہ آیت اتری (منکم من یرید الدنیا) یعنی تم میں سے بعض طالب دنیا بھی ہیں، جب صحابہ سے حضور ﷺ کے حکم کے خلاف آپ کی نافرمانی سرزد ہوئی تو انکے قدم اکھڑ گئے حضور ﷺ کے ساتھ صرف سات انصاری اور دو مہاجر باقی رہ گئے جب مشرکین نے حضور ﷺ کو گھیر لیا تو آپ فرمانے لگے اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم کرے جو انہیں ہٹائے تو ایک انصار اٹھ کھڑے ہوئے اور اسجم غفیر کے مقابل تن تنہا داد شجاعت دینے لگے یہاں تک کہ شہید ہوگئے پھر کفار نے حملہ کیا آپ نے یہی فرمایا ایک انصاری تیار ہوگئے اور اس بےجگری سے لڑے کہ انہیں آگے نہ بڑھنے دیا لیکن بالآخر یہ بھی شہید ہوگئے یہاں تک کہ ساتوں صحابہ اللہ کے ہاں پہنچ گئے اللہ ان سے خوش ہو، حضور ﷺ نے مہاجرین سے فرمایا افسوس ہم نے اپنے ساتھیوں سے منصفانہ معاملہ نہ کیا، اب ابو سفیان نے ہانک لگائی کہ اعل ہبل آپ نے فرمایا کہو اللہ اعلی واجل ابو سفیان نے کہا (لنا العزی ولا عزی لکم) ہمارا عزی بت ہے تمہاری کوئی عزی نہیں، آپ نے فرمایا کہو اللہ مولانا والکافرون لا مولی لھم اللہ ہمارا مولی ہے اور کافروں کا کوئی مولی نہیں، ابو سفیان کہنے لگا آج کے دن بدر کے دن کا بدلہ ہے کوئی دن ہمارا اور کوئی دن تمہارا، یہ تو ہاتھوں ہاتھ کا سودا ہے، ایک کے بدلے ایک ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا ہرگز برابری نہیں ہمارے شہداء زندہ ہیں وہاں رزق دے جاتے ہیں اور تمہارے مقتول جہنم میں عذاب کئے جا رہے ہیں پھر ابو سفیان بولا تمہارے مقتول میں تم دیکھو گے کہ بعض کے کان ناک وغیرہ کاٹ لئے گئے ہیں لیکن میں نے نہ یہ کہا نہ اسے روکا نہ اسے میں نے پسند کیا نہ مجھے یہ بھلا معلوم ہوا نہ برا، اب جو دیکھا تو معلوم ہوا کہ حضرت حمزہ کا پیٹ چاک کردیا گیا تھا اور ہندہ نے انکا کلیجہ لے کر چبایا تھا لیکن نگل نہ سکی تو اگل دیا،حضور ﷺ نے فرمایا ناممکن تھا کہ اس کے پیٹ میں حمزہ کا ذرا سا گوشت بھی چلا جائے اللہ تعالیٰ حمزہ کے کسی عضو بدن کو جہنم میں لے جانا نہیں چاہتا چناچہ حمزہ کے جنازے کو اپنے سامنے رکھ کر نماز جنازہ ادا کی پھر ایک انصاری کا جنازہ لایا گیا وہ حضرت حمزہ کے پہلو میں رکھا گیا اور آپ نے پھر نماز جنازہ پڑھی انصاری کا جنازہ اٹھا لیا گیا لیکن حضرت حمزہ کا جنازہ وہیں رہا اسی طرح ستر شخص لائے گئے اور حضرت حمزہ کی ستر دفعہ جنازے کی نماز پڑھی گئی (مسند) صحیح بخاری شریف میں حضرت براء سے مروی ہے کہ احد والے دن مشرکوں سے ہماری مڈبھیڑ ہوئی حضور ﷺ نے تیر اندازوں کی ایک جماعت کو الگ جما دیا اور انکا سردار حضرت عبداللہ بن جیبر کو بنایا اور فرما دیا کہ اگر تم ہمیں ان پر غالب آیا ہوا دیکھو تو بھی یہاں سے نہ ہٹنا اور وہ ہم پر غالب آجائیں تو بھی تم اپنی جگہ نہ چھوڑنا، لڑائی شروع ہوتے ہی اللہ کے فضل سے مشرکوں کے قدم پیچھے ہٹنے لگے یہاں تک کہ عورتیں بھی تہبند اونچا کر کر کے پہاڑوں میں ادھر دوڑنے لگیں، اب تیر انداز گروہ غنیمت غنیمت کہتا ہوا نیچے اتر آیا، ان کے امیر نے انہیں ہرچند سمجھایا لیکن کسی نے ان کی نہ سنی، بس اب مشرکین مسلمانوں کی پیٹھ کی طرف سے آن پڑے اور ستر بزرگ شہید ہوگئے ابو سفیان ایک ٹیلے پر چڑھ کر کہنے لگا کیا محمد ﷺ حیات ہیں ؟ کیا ابوبکر موجود ہیں ؟ کیا عمر زندہ ہیں ؟ لیکن حضور ﷺ کے فرمان سے صحابہ خوش رہے تو وہ خوشی کے مارے اچھل پڑا اور کہنے لگا یہ سب ہماری تلواروں کے گھاٹ اتر گئے اگر زندہ ہوتے تو ضرور جواب دیتے ایک حضرت عمر کو تاب ضبط نہ رہی فرمانے لگے، اے اللہ کے دشمن تو جھوٹا ہے بحمد اللہ ہم سب موجود ہیں اور تیری تباہی اور بربادی کرنے والے زندہ ہیں، پھر وہ باتیں ہوئیں جو اوپر بیان ہوچکی ہیں، صحیح بخاری شریف میں حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ جنگ احد میں مشرکوں کو ہزیمت ہوئی اور ابلیس نے آواز لگائی اے اللہ کے بندو ! اپنے پیچھے کی خبر لو اگلی جماعتیں پچھلی جماعتوں پر ٹوٹ پڑیں، حضرت حذیفہ نے دیکھا کہ مسلمانوں کی تلواریں ان کے والد حضرت یمان ؓ پر برس رہی ہیں ہرچند کہتے رہے کہ اے اللہ کے بندو ! یہ میرے باپ یمان ہیں مگر کون سنتا تھا وہ یونہی شہید ہوگئے لیکن حضرت حذیفہ نے کچھ نہ کہا بلکہ فرمایا اللہ تمہیں معاف کرے، حضرت حذیفہ کی یہ بھلائی ان کے آخری دم تک ان میں رہی، سیرت ابن اسحاق میں ہے حضرت زبیر بن عوام فرماتے ہیں میں نے خود دیکھا کہ مشرک مسلمانوں کے اول حملہ میں ہی بھاگ کھڑے ہوئے یہاں تک کہ ان کی عورتیں ہندہ وغیرہ تہمد اٹھائے تیز تیز دوڑ رہی تھیں لیکن اس کے بعد جب تیر اندازوں نے مرکز چھوڑا اور کفار نے سمٹ کر پیچھے کی طرف سے ہم پر حملہ کردیا ادھر کسی نے آواز لگائی کہ حضور ﷺ شہید ہوگئے پھر معاملہ برعکس ہوگیا ورنہ ہم مشرکین کے علم برداروں تک پہنچ چکے تھے اور جھنڈا اس کے ہاتھ سے گرپڑا تھا لیکن عمرہ بن علقمہ حارثیہ عورت نے اسے تھام لیا اور قریش کا مجمع پھر یہاں جمع ہوگیا، حضرت انس بن مالک چچا حضرت انس بن نضر ؓ یہ رنگ دیکھ حضرت عمر حضرت طلحہ وغیرہ کے پاس آتے ہی اور فرماتے ہیں تم نے کیوں ہمتیں چھوڑ دیں ؟ وہ جواب دیتے ہیں کہ حضور ﷺ تو شہید ہوگئے۔ حضرت انس نے فرمایا پھر تم جی کر کیا کرو گے ؟ یہ کہا اور مشرکین میں گھسے پھر لڑتے رہے یہاں تک کہ اللہ رب العزت سے جا ملے ؓ ، یہ بدر والے دن جہاد میں نہیں پہنچ سکے تھے تو عہد کیا تھا کہ آئندہ اگر کوئی موقعہ آیا تو میں دکھا دوں گا چناچہ اس جنگ میں وہ موجود تھے جب مسلمانوں میں کھلبلی مچی تو انہوں نے کہا الہ میں مسلمانوں کے اس کام سے معذور ہوں اور مشرکوں کے اس کام سے بری ہوں پھر اپنی تلوار لے کر آگے بڑھ گئے راہ میں حضرت سعد بن معاذ سے ملے اور کہنے لگے کہاں جا رہے ہو ؟ مجھے تو جنت کی خوشبو کی لپٹیں احد پہاڑ سے چلی آرہی ہیں چناچہ مشرکوں میں گھس گئے اور بڑی بےجگری سے لڑے یہاں تک کہ شہادت حاصل کی اسی سے زیادہ تیرو تلوار کے زخم بدن پر آئے تھے پہچانے نہ جاتے تھے انگلی کو دیکھ کر پہچانے گئے ؓ ، صحیح بخاری شریف میں ہے کہ ایک حاجی نے بیت اللہ شریف میں ایک مجلس دیکھ کر پوچھا کہ یہ کون لوگ ہیں ؟ لوگوں نے کہا قریشی ہیں پوچھا ان کے شیخ کون ہیں ؟ جواب ملا حضرت عبداللہ بن عمر ؓ ہیں، اب وہ آیا اور کہنے لگا میں کچھ دریافت کرنا چاہتا ہوں حضرت عبداللہ نے فرمایا پوچھو اس نے کہا آپ کو اس بیت اللہ کی حرمت کی قسم کیا آپ کو علم ہے کہ (حضرت) عثمان بن عفان احد والے دن بھاگ گئے تھے ؟ آپ نے جواب دیا ہاں۔ کہا کیا آپ کو معلوم ہے کہ وہ بدر والے دن بھی حاضر نہیں ہوئے تھے ؟ فرمایا ہاں، کہا کیا آپ جانتے ہیں کہ وہ بیعت الرضوان میں بھی شریک نہیں ہوئے تھے ؟ فرمایا یہ بھی ٹھیک ہے، اب اس نے (خوش ہوکر) تکبیر کہی، حضرت عبداللہ نے فرمایا ادھر آ، اب میں تجھے پورے واقعات سناؤں، احد کے دن کا بھاگنا تو اللہ تعالیٰ نے معاف فرما دیا، بدر کے دن کی غیر حاضری کے باعث یہ ہوا کہ آپ کے گھر میں رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادی تھیں اور وہ اس وقت سخت بیمار تھیں تو خود حضور ﷺ نے ان سے فرمایا تھا کہ تم نہ آؤ مدینہ میں ہی رہو تمہیں اللہ تعالیٰ اس جنگ میں حاضر ہونے کا اجر دے گا اور غنیمت میں بھی تمہارا حصہ ہے، بیعت الرضوان کا واقعہ یہ ہے کہ انہیں رسول اللہ ﷺ نے مکہ والوں کے پاس اپنا پیغام دے کر حضرت عثمان کو بھیجا تھا اس لئے کہ مکہ میں جو عزت انہیں حاصل تھی کسی اور کو اتنی نہ تھی انکے تشریف لے جانے کے بعد یہ بیعت لی گئی تو رسول اللہ ﷺ نے اپنا داہنا ہاتھ کھڑا کر کے کہا یہ عثمان کا ہاتھ ہے پھر اپنے دوسرے ہاتھ پر رکھا (گویا بیعت کی) پھر اس شخص سے کہا اب جاؤ اور اسے ساتھ لے جاؤ پھر فرمایا آیت (او تصعدون) الخ یعنی تم اپنے دشمن سے بھاگ کر پہاڑ چڑھ رہے تھے اور مارے خوف و دہشت کے دوسری جانب توجہ بھی نہیں کرتے تھے رسول ﷺ کو بھی تم نے وہیں چھوڑ دیا تھا وہ تمہیں آوازیں دے رہے تھے اور سمجھا رہے تھے کہ بھاگو نہیں لوٹ آؤ، حضرت سدی فرماتے ہیں مشرکین کے اس خفیہ اور پر زور اور اچانک حملہ سے مسلمانوں کے قدم اکھڑ گئے کچھ تو مدینہ کی طرف لوٹ آئے کچھ پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ گئے اللہ کے نبی آوازیں دیتے رہے کہ اللہ کے بندوں میری طرف آؤ اللہ کے بندو میری طرف آؤ، اس واقعہ کا بیان اس آیت میں ہے، عبداللہ بن زحری شاعر نے اس واقعہ کو نظم میں بھی ادا کیا ہے، آنحضرت ﷺ اس وقت صرف بارہ آدمیوں کے ساتھ رہ گئے تھے مسند احمد کی ایک طویل حدیث میں بھی ان تمام واقعات کا ذکر ہے، دلائل النبوۃ میں ہے کہ جب ہزیمت ہوئی تب حضور ﷺ کے ساتھ صرف گیارہ شخص رہ گئے اور ایک حضرت طلحہ بن عبید اللہ تھے، آپ پہاڑ پر چڑھنے لگے لیکن مشرکین نے آگھیرا آپ نے اپنے ساتھیوں یک طرف متوجہ ہو کر فرمایا کوئی ہے جو ان سے مقابلہ کرے، حضرت طلحہ نے اس آواز پر فوراً لبیک کہا اور تیار ہوگئے لیکن آپ نے فرمایا تم ابھی ٹھہر جاؤ اب ایک انصاری تیار ہوئے اور وہ ان سے لڑنے لگے یہاں تک کہ شہید ہوئے اسی طرح سب کے سب ایک ایک کر کے شہید ہوگئے اور اب صرف حضرت طلحہ رہ گئے گویہ بزرگ ہر مرتبہ تیار ہوجاتے تھے لیکن حضور ﷺ انہیں روک لیا کرتے تھے آخر یہ مقابلہ پر آئے اور اس طرح جم کر لڑے کہ ان سب کی لڑائی ایک طرف اور یہ ایک طرف اس لڑائی میں ان کی انگلیاں کٹ گئیں تو زبان سے حس نکل گیا آپ نے فرمایا اگر تم بسم اللہ کہہ دیتے یا اللہ کا نام لیتے تو تمہیں فرشتے اٹھا لیتے اور آسمان کی بلندی کی طرف لے چڑھتے اور لوگ دیکھتے رہتے اب نبی ﷺ اپنے صحابہ کے مجمع میں پہنچ چکے تھیں۔ صحیح بخاری شریف میں ہے حضرت قیس بن حازم فرماتے ہیں میں نے دیکھا حضرت طلحہ کا وہ ہاتھ جسے انہوں نے ڈھال بنایا تھا شل ہوگیا تھا، حضعرت سعد بن ابی وقاص فرماتے ہیں میرے پاس حضور ﷺ نے اپنی ترکش سے احد والے دن تمام تیر پھیلا دئیے اور فرمایا تجھ پر میرے ماں باپ فدا ہوں لے مشرکین کو مار آپ اٹھا اٹھا کردیتے جاتے تھے اور میں تاک تاک کر مشرکین کو مارتا جاتا تھا اس دن میں نے دو شخصوں کو دیکھا کہ حضور ﷺ کے دائیں بائیں تھے اور سخت ترین جنگ کر رہے تھے میں نے نہ تو اس سے پہلے کبھی انہیں دیکھا تھا نہ اس کے بعد یہ دونوں حضرت جبرائیل اور حضرت میکائیل (علیہما السلام) تھے ایک اور روایت میں ہے کہ جو بزرگ حضور ﷺ کے ساتھ بھگدڑ کے بعد تھے اور ایک ایک ہو کر شہید ہوئے تھے انہیں آپ فرماتے جاتے تھے کہ کوئی ہے جو انہیں رو کے اور جنت میں جائے میرا رفیق ہے، ابی بن خلف نے مکہ میں قسم کھائی تھی کہ میں رسول اللہ ﷺ کو قتل کروں گا، جب حضور ﷺ کو اس کا علم ہوا تو آپ نے فرمایا وہ تو نہیں بلکہ میں انشاء اللہ اسے قتل کروں گا احد والے دن یہ خبیث سرتاپا لوہے میں غرق زرہ بکتر لگائے ہوئے حضور ﷺ کی طرف بڑھا اور یہ کہتا آتا تھا کہ اگر محمد ﷺ بچ گئے تو میں اپنے تئیں ہلاک کر ڈالوں گا ادھر سے حضرت مصعب بن عمیر اس ناہنجار کی طرف بڑھے لیکن آپ شہید ہوگئے اب حضور ﷺ اس کی طرف بڑھے اس کا سارا جسم لوہے میں چھپا ہوا تھا صرف ذرا سی پیشانی نظر آرہی تھی آپ نے اپنا نیزہ تاک کر وہیں لگایا جو ٹھیک نشانے پر بیٹھا اور یہ تیورا کر گھوڑے پر سے گرا گو اس زخم سے خون بھی نہ نکلا تھا لیکن اس کی یہ حالت تھی کہ بلبلا رہا تھا لوگوں نے اسے اٹھا لیا لشکر میں لے گئے اور تشفی دینے لگے کہ ایسا کوئی کاری زخم نہیں لگا کیوں اس قدر نامردی کرتا ہے آخر ان کے طعنوں سے مجبور ہو کر اس نے کہا میں نے سنا ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا ہے میں ابی کو قتل کروں گا سچ مانو اب میں کبھی نہیں بچ سکتا تم اس پر نہ جاؤ کہ مجھے ذرا سی خراش ہی آئی ہے اللہ کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے اگر کل اہل ذی المجاز کو اتنا زخم اس ہاتھ سے لگ جاتا تو سب ہلاک ہوجاتے پس یونہی تڑپتے تڑپتے اور بلکتے بلکتے اس جہنمی کی ہلاکت ہوئی اور مر کر جہنم رسید ہوا، مغازی محمد بن اسحاق میں ہے کہ جب یہ شخص حضور ﷺ کے سامنے ہوا تو صحابہ نے اس کے مقابلہ کی خواہش کی لیکن آپ نے انہیں روک دیا اور فرمایا اسے آنے دو جب وہ قریب آگیا تو آپ نے حضرت حارث بن صمہ سے نیزہ لے کر اس پر حملہ کیا حضور ﷺ کے ہاتھ میں نیزہ دیکھتے ہی وہ کانپ اٹھا ہم نے اسی وقت سمجھ لیا کہ اس کی خیر نہیں آپ نے اس کی گردن پر وار کیا اور وہ لڑکھڑا کر گھوڑے پر سے گرا، حضرت ابن عمر کا دہشت ناک شعلے اٹھتے ہوئے دیکھے اور دیکھا کہ ایک شخص کو زنجیروں میں جکڑے ہوئے اس آگ میں گھسیٹا جا رہا ہے اور وہ پیاس پیاس کر رہا ہے اور دوسرا شخص کہتا ہے اسے پانی نہ دینا یہ پیغمبر کے ہاتھ کا مارا ہوا ہے یہ ابی بن خلف ہے، بخاری و مسلم کی ایک حدیث میں ہے آپ اپنے سامنے کے چار دانتوں کی طرف جنہیں مشرکین نے احد والے دن شہید کیا تھا اشارہ کر کے فرما رہے تھے اللہ کا سخت تر غضب ان لوگوں پر ہے جنہوں نے اپنے نبی ﷺ کے ساتھ یہ کیا اور اس پر بھی اللہ تعالیٰ کا غضب ہے جسے اللہ کا رسول اللہ ﷺ کی راہ میں قتل کرے اور روایت میں یہ لفظ ہیں کہ جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے رسول ﷺ کا چہرہ زخمی کیا، عتبہ بن ابی وقاص کے ہاتھ سے حضور ﷺ کو یہ زخم لگا تھا سامنے کے چار دانٹ ٹوٹ گئے تھے، رخسار پر زخم آیا تھا اور ہونٹ پر بھی، حضرت سعد بن ابی وقاص فرمایا کرتے تھے مجھے جس قدر اس شخص کی حرص تھی کسی اور کے قتل کی نہ تھی۔ یہ شخص بڑا بد خلق تھا اور ساری قوم سے اس کی دشمنی تھی اس کی برائی میں حضور ﷺ کا یہ فرمان کافی ہے کہ نبی ﷺ کو زخمی ہونے والے پر اللہ سخت غضبناک ہے، عبدالرزاق میں ہے حضور ﷺ نے اس کیلئے بد دعا کی کہ اے اللہ سال بھر میں یہ ہلاک ہوجائے اور کفر پر اس کی موت ہو چناچہ یہی ہوا اور یہ بدبخت کافر مرا اور جہنم واصل ہوا۔ ایک مہاجر کا بیان ہے کہ چاروں طرف سے احد والے دن حضور ﷺ پر تیروں کی بارش ہو رہی تھی لیکن اللہ کی قدرت سے وہ سب پھیر دیئے جاتے تھے، عبداللہ بن شہاب زہری نے اس دن قسم کھا کر کہا کہ مجھے محمد ﷺ کو دکھا دو وہ آج میرے ہاتھ سے بچ نہیں سکتا اگر وہ نجات پا گیا تو میری نجات نہیں اب وہ حضور ﷺ کی طرف سے لپکا اور بالکل آپ کے پاس آگیا اس وقت حضور ﷺ کے ساتھ کوئی نہ تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا اسے حضور ﷺ نظر ہی نہ آئے جب وہ نامراد پلٹا تو صفوان نے اسے طعنہ زنی کی اس نے کہا اللہ تعالیٰ کی طرف سے محفوظ ہیں ہمارے ہاتھ نہیں لگنے کے سنو ! ہم چار شخصوں نے ان کے قتل کا پختہ مشورہ کیا تھا اور آپس میں عہدو پیمان کئے تھے ہم نے ہرچند چاہا لیکن کامیابی نہ ہوئی واقدی کہتے ہیں لیکن ثابت شدہ بات یہ ہے کہ حضور ﷺ کی پیشانی کو زخمی کرنے والا ابن قمیہ اور ہونٹ اور دانتوں پر صدمہ پہچانے والا عتبہ بن ابی وقاص تھا۔ ام المومنین حضرت عائشہ کا بیان ہے کہ میرے والد حضرت ابوبکر جب احد کا ذکر فرماتے تو صاف کہتے کہ اس دن کی تمام تر فضلیت کا سہرا حضرت طلحہ کے سر ہے میں جب لوٹ کر آیا تو میں نے دیکھا کہ ایک شخص حضور ﷺ کی حمایت میں جان ٹکائے لڑ رہا ہے میں نے کہا اللہ کرے یہ طلحہ ہو اب جو قریب آ کر دیکھا تو طلحہ ہی تھے ؓ میں نے کہا الحمد اللہ میری ہی قوم کا ایک شخص ہے میرے اور مشرکوں کے درمیان ایک شخص تھا جو مشرکین میں کھڑا ہوا تھا لیکن اسکے بےپناہ حملے مشرکوں کی ہمت توڑ رہے تھے غور سے دیکھا تو وہ حضرت عبیدہ بن جراح تھے، اب جو میں نے بغور حضور ﷺ کی طرف دیکھا تو آپ کے سامنے کے دانت ٹوٹ گئے ہیں چہرہ زخمی ہو رہا ہے اور پیشانی میں زرہ کی دو کڑیاں کھب گئی ہیں میں آپ کی طرف لپکا لیکن آپ نے فرمایا ابو طلحہ کی خبر لو میں نے چاہا کہ حضور ﷺ کے چہرے میں سے وہ دونوں کڑیاں نکالوں لیکن حضرت ابو عبیدہ نے مجھے قسم دے کر روک دیا اور خود قریب آئے اور ہاتھ سے نکالنے میں زیادہ تکلیف محسوس کر کے دانتوں سے پکڑ کر ایک کو نکال لیا لیکن اس میں ان کا دانت بھی ٹوٹ گیا میں نے اب پھر چاہا کہ دوسری میں نکال لوں لیکن حضرت ابو عبیدہ نے پھر قسم دی تو میں رک رہا انہوں نے پھر دوسری کڑی نکالی اب کی مرتبہ بھی ان کے دانت ٹوٹے اس سے فارغ ہو کر ہم حضرت طلحہ کی طرف متوجہ ہوئے ہم نے دیکھا کہ ستر سے زیادہ زخم انہیں لگ چکے ہیں انگلیاں کٹ گئی ہیں ہم نے پھر ان کی بھی خبر لی حضور ﷺ کے زخم کا خون حضرت ابو سعید خدری نے چوسا تاکہ خون تھم جائے پھر ان سے کہا گیا کہ کلی کر ڈالو لیکن انہوں نے کہا اللہ کی قسم میں کلی نہ کروں گا پھر میدان جنگ میں چلے گئے حضور ﷺ نے فرمایا اگر کوئی شخص جنتی شخص کو دیکھنا چاہتا ہو تو انہیں دیکھ لے چناچہ یہ اسی میدان میں شہید ہوئے، صحیح بخاری شریف میں ہے کہ حضور ﷺ کا چہرہ زخمی ہوا سامنے کے دانت ٹوٹے سر کا خود ٹوٹا، حضرت فاطمہ خون دھوتی تھیں اور حضرت علی ڈھال میں پانی لالا کر ڈالتے جاتے تھے جب دیکھا کہ خون کسی طرح تھمتا ہی نہیں تو حضرت فاطمہ نے بوریا جلا کر اس کا راکھ زخم پر رکھ دی جس سے خون بند ہوا۔ پھر فرماتا ہے، تمہیں غم پر غم پہنچا (بِغَمِّ) کا بامعنی میں علیٰ کے ہے جیسے آیت (فی جذوع النخل) میں فی معنی میں علیٰ کے ہے، ایک غم تو شکست کا تھا جبکہ یہ مشہور ہوگیا کہ (اللہ نہ کرے) حضور ﷺ کی جان پر بن آئی، دوسرا غم مشرکوں کو پہاڑ کے اوپر غالب آکر چڑھ جانے کا جبکہ حضور ﷺ فرماتے تھے یہ بلندی کے لائق نہ تھے، حضرت عبدالرحمن بن عوف فرماتے ہیں ایک غم شکست کا دوسرا غم حضور ﷺ کے قتل کی خبر کا اور یہ غم پہلے غم سے زیادہ تھا، اسی طرح یہ بھی ہے کہ ایک غم تو غنیمت کا ہاتھ میں آکر نکل جانے کا تھا دوسرا شکست ہونے کا اسی طرح ایک اپنے بھائیوں کے قتل کا غم دوسرا حضور ﷺ کی نسبت ایسی منحوس خبر کا غم۔ پھر فرماتا ہے جو غنیمت اور فتح مندی تمہارے ہاتھ سے گئی اور جو زخم و شہادت ملی اس پر غم نہ کھاؤ اللہ سبحانہ و تعالیٰ جو بلندی اور جلال والا ہے وہ تمہارے اعمال سے خبردار ہے۔
154
View Single
ثُمَّ أَنزَلَ عَلَيۡكُم مِّنۢ بَعۡدِ ٱلۡغَمِّ أَمَنَةٗ نُّعَاسٗا يَغۡشَىٰ طَآئِفَةٗ مِّنكُمۡۖ وَطَآئِفَةٞ قَدۡ أَهَمَّتۡهُمۡ أَنفُسُهُمۡ يَظُنُّونَ بِٱللَّهِ غَيۡرَ ٱلۡحَقِّ ظَنَّ ٱلۡجَٰهِلِيَّةِۖ يَقُولُونَ هَل لَّنَا مِنَ ٱلۡأَمۡرِ مِن شَيۡءٖۗ قُلۡ إِنَّ ٱلۡأَمۡرَ كُلَّهُۥ لِلَّهِۗ يُخۡفُونَ فِيٓ أَنفُسِهِم مَّا لَا يُبۡدُونَ لَكَۖ يَقُولُونَ لَوۡ كَانَ لَنَا مِنَ ٱلۡأَمۡرِ شَيۡءٞ مَّا قُتِلۡنَا هَٰهُنَاۗ قُل لَّوۡ كُنتُمۡ فِي بُيُوتِكُمۡ لَبَرَزَ ٱلَّذِينَ كُتِبَ عَلَيۡهِمُ ٱلۡقَتۡلُ إِلَىٰ مَضَاجِعِهِمۡۖ وَلِيَبۡتَلِيَ ٱللَّهُ مَا فِي صُدُورِكُمۡ وَلِيُمَحِّصَ مَا فِي قُلُوبِكُمۡۚ وَٱللَّهُ عَلِيمُۢ بِذَاتِ ٱلصُّدُورِ
Then after grief, He sent down a peaceful slumber (calm), which engulfed a group among you – and another party kept fearing for their own lives, thinking wrongfully of Allah – like the thoughts of ignorance; they say, “Do we have any authority in this matter?” Say (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), “All authority lies only with Allah”; they hide in their hearts what they do not reveal to you; they say, “Had we any control, we would not have been slain here”; say, “Even if you had been in your houses, those destined to be slain would have come forth to their places of slaying; and in order that Allah may test what is in your breasts and reveal whatever is in your hearts”; and Allah knows well what lies within the hearts.
پھر اس نے غم کے بعد تم پر (تسکین کے لئے) غنودگی کی صورت میں امان اتاری جو تم میں سے ایک جماعت پر چھا گئی اور ایک گروہ کو (جو منافقوں کا تھا) صرف اپنی جانوں کی فکر پڑی ہوئی تھی وہ اللہ کے ساتھ ناحق گمان کرتے تھے جو (محض) جاہلیت کے گمان تھے، وہ کہتے ہیں: کیا اس کام میں ہمارے لئے بھی کچھ (اختیار) ہے؟ فرما دیں کہ سب کام اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے، وہ اپنے دلوں میں وہ باتیں چھپائے ہوئے ہیں جو آپ پر ظاہر نہیں ہونے دیتے۔ کہتے ہیں کہ اگر اس کام میں کچھ ہمارا اختیار ہوتا تو ہم اس جگہ قتل نہ کئے جاتے۔ فرما دیں: اگر تم اپنے گھروں میں (بھی) ہوتے تب بھی جن کا مارا جانا لکھا جا چکا تھا وہ ضرور اپنی قتل گاہوں کی طرف نکل کر آجاتے، اور یہ اس لئے (کیا گیا) ہے کہ جو کچھ تمہارے سینوں میں ہے اللہ اسے آزمائے اور جو (وسوسے) تمہارے دلوں میں ہیں انہیں خوب صاف کر دے، اور اللہ سینوں کی بات خوب جانتا ہے
Tafsir Ibn Kathir
Slumber Overcame the Believers; the Fear that the Hypocrites Suffered
Allah reminds His servants of His favor when He sent down on them tranquillity and slumber that overcame them while they were carrying their weapons and feeling distress and grief. In this case, slumber is a favor and carries meanings of calmness and safety. For instance, Allah said in Surat Al-Anfal about the battle of Badr,
إِذْ يُغَشِّيكُمُ النُّعَاسَ أَمَنَةً مِّنْهُ
((Remember) when He covered you with a slumber as a security from Him) 8:11.
Al-Bukhari recorded that Anas said that, Abu Talhah said, "I was among those who were overcome by slumber during the battle of Uhud. My sword fell from my hand several times and I would pick it up, then it would fall and I would pick it up again." Al-Bukhari collected this Hadith in the stories of the battles without a chain of narration, and in the book of Tafsir with a chain of narrators. At-Tirmidhi, An-Nasa'i and Al-Hakim recorded from Anas that Abu Talhah said, "On the day of Uhud, I raised my head and looked around and found that everyone's head was nodding from slumber." This is the wording of At-Tirmidhi, who said, "Hasan Sahih". An-Nasa'i also recorded this Hadith from Anas who said that Abu Talhah said, "I was among those who were overcome by slumber."
The second group mentioned in the Ayah were the hypocrites who only thought about themselves, for they are the most cowardly people and those least likely to support the truth,
يَظُنُّونَ بِاللَّهِ غَيْرَ الْحَقِّ ظَنَّ الْجَـهِلِيَّةِ
(and thought wrongly of Allah - the thought of ignorance) 3:154, for they are liars and people who have doubts and evil thoughts about Allah, the Exalted and Most Honored. Allah said,
ثُمَّ أَنزَلَ عَلَيْكُمْ مِّن بَعْدِ الْغَمِّ أَمَنَةً نُّعَاساً يَغْشَى طَآئِفَةً مِّنْكُمْ
(Then after the distress, He sent down security for you. Slumber overtook a party of you), the people of faith, certainty, firmness and reliance (on Allah) who are certain that Allah shall give victory to His Messenger and fulfill his objective.
وَطَآئِفَةٌ قَدْ أَهَمَّتْهُمْ أَنْفُسُهُمْ
(While another party was thinking about themselves), and they were not overcome by slumber because of their worry, fright and fear,
يَظُنُّونَ بِاللَّهِ غَيْرَ الْحَقِّ ظَنَّ الْجَـهِلِيَّةِ
(and thought wrongly of Allah --- the thought of ignorance).
Similarly, Allah said in another statement,
بَلْ ظَنَنْتُمْ أَن لَّن يَنقَلِبَ الرَّسُولُ وَالْمُؤْمِنُونَ إِلَى أَهْلِيهِمْ أَبَداً
(Nay, but you thought that the Messenger and the believers would never return to their families) 48:12.
This group thought that the idolators achieved ultimate victory, when their forces took the upper hand in battle, and that Islam and its people would perish. This is typical of people of doubt and hesitation, in the event of a hardship, they fall into such evil thoughts. Allah then described them that,
يَقُولُونَ
(they said) in this situation,
هَل لَّنَا مِنَ الاٌّمْرِ مِن شَىْءٍ
("Have we any part in the affair") Allah replied,
قُلْ إِنَّ الاٌّمْرَ كُلَّهُ للَّهِ يُخْفُونَ فِى أَنْفُسِهِم مَّا لاَ يُبْدُونَ لَكَ
(Say: "Indeed the affair belongs wholly to Allah." They hide within themselves what they dare not reveal to you.) wAllah exposed their secrets, that is,
يَقُولُونَ لَوْ كَانَ لَنَا مِنَ الاٌّمْرِ شَىْءٌ مَّا قُتِلْنَا هَـهُنَا
(saying: "If we had anything to do with the affair, none of us would have been killed here.") although they tried to conceal this thought from the Messenger of Allah ﷺ.
Ibn Ishaq recorded that `Abdullah bin Az-Zubayr said that Az-Zubayr said, "I was with the Messenger of Allah ﷺ when fear intensified and Allah sent sleep to us (during the battle of Uhud). At that time, every man among us (except the hypocrites) was nodding off. By Allah! As if in a dream, I heard the words of Mu`attib bin Qushayr, `If we had anything to do with the affair, none of us would have been killed here.' I memorized these words of his, which Allah mentioned later on,
يَقُولُونَ لَوْ كَانَ لَنَا مِنَ الاٌّمْرِ شَىْءٌ مَّا قُتِلْنَا هَـهُنَا
(saying: "If we had anything to do with the affair, none of us would have been killed here.)"
Ibn Abi Hatim collected this Hadith.
Allah the Exalted said,
قُل لَّوْ كُنتُمْ فِى بُيُوتِكُمْ لَبَرَزَ الَّذِينَ كُتِبَ عَلَيْهِمُ الْقَتْلُ إِلَى مَضَاجِعِهِمْ
(Say: "Even if you had remained in your homes, those for whom death was decreed would certainly have gone forth to the place of their death,") meaning, this is Allah's appointed destiny and a decision that will certainly come to pass, and there is no escaping it. Allah's statement,
وَلِيَبْتَلِىَ اللَّهُ مَا فِى صُدُورِكُمْ وَلِيُمَحِّصَ مَا فِى قُلُوبِكُمْ
(that Allah might test what is in your breasts; and to purify that which was in your hearts,) means, so that He tests you with whatever befell you, to distinguish good from evil and the deeds and statements of the believers from those of the hypocrites,
وَاللَّهُ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ
(and Allah is All-Knower of what is in the breasts), and what the hearts conceal.
Some of the Believers Give Flight on the Day of Uhud
Allah then said,
إِنَّ الَّذِينَ تَوَلَّوْاْ مِنكُمْ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعَانِ إِنَّمَا اسْتَزَلَّهُمُ الشَّيْطَـنُ بِبَعْضِ مَا كَسَبُواْ
(Those of you who turned back on the day the two hosts met, Shaytan only caused them to err because of some of what they had earned) 3:155,
because of some of their previous errors. Indeed, some of the Salaf said, "The reward of the good deed includes being directed to another good deed that follows it, while the retribution of sin includes committing another sin that follows it." Allah then said,
وَلَقَدْ عَفَا اللَّهُ عَنْهُمْ
(but Allah, indeed, has forgiven them), their giving flight,
أَنَّ اللَّهَ غَفُورٌ حَلِيمٌ
(surely, Allah is Oft-Forgiving, Most Forbearing)
He forgives sins, pardons and exonerates His creatures. Imam Ahmad recorded that Shaqiq said, " `Abdur-Rahman bin `Awf met Al-Walid bin `Uqbah, who said to him, `Why did you desert `Uthman, the Leader of the Faithful' `Abdur-Rahman said, `Tell him that I did not run away during Uhud, remain behind during Badr, nor abandon the Sunnah of `Umar.' Al-Walid told `Uthman what `Abdur-Rahman said. `Uthman replied, `As for his statement, `I did not run away during Uhud,' how can he blame me for an error that Allah has already forgiven. Allah said,
إِنَّ الَّذِينَ تَوَلَّوْاْ مِنكُمْ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعَانِ إِنَّمَا اسْتَزَلَّهُمُ الشَّيْطَـنُ بِبَعْضِ مَا كَسَبُواْ وَلَقَدْ عَفَا اللَّهُ عَنْهُمْ
(Those of you who turned back on the day the two hosts met, Shaytan only caused them to err because of some of what they had earned. But Allah, indeed, has forgiven them).
As for his statement that I remained behind from participating in Badr, I was nursing Ruqayyah, the daughter of the Messenger of Allah ﷺ, until she passed away. The Messenger of Allah ﷺ gave me a share in the booty of Badr, and whoever gets a share in the booty from the Messenger of Allah ﷺ will have participated in battle. As for his statement that I abandoned the Sunnah of `Umar, neither I nor he are able to endure it. Go and convey this answer to him."'
تلواروں کے سایہ میں ایمان کی جانچ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر اس غم و رنج کے وقت جو احسان فرمایا تھا اس کا بیان ہو رہا ہے کہ اس نے ان پر اونگھ ڈال دی ہتھیار ہاتھ میں ہیں دشمن سامنے ہے لیکن دل میں اتنی تسکین ہے کہ آنکھیں اونگھ سے جھکی جا رہی ہیں جو امن وامان کا نشان ہے جیسے سورة انفال میں بدر کے واقعہ میں ہے آیت (اذ یغشیکم النعاس امنتہ منہ) یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے امن بصورت اونگھ نازل ہوئی۔ حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں لڑائی کے وقت انکی اونگھ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی طرف سے ہے اور نماز میں اونگھ کا آنا شیطانی حکمت ہے، حضرت ابو طلحہ کا بیان ہے کہ احد والے دن مجھے اس زور کی اونگھ آنے لگی کہ بار بار تلوار میرے ہاتھ سے چھوٹ گئی آپ فرماتے ہیں جب میں نے آنکھ اٹھا کر دیکھا تو تقریباً ہر شخص کو اسی حالت میں پایا، ہاں البتہ ایک جماعت وہ بھی تھی جن کے دلوں میں نفاق تھا یہ مارے خوف و دہشت کے ہلکان ہو رہے تھے اور ان کی بدگمانیاں اور برے خیال حد کو پہنچ گئے تھے، پس اہل ایمان اہل یقین اہل ثبات اہل توکل اور اہل صدق تو یقین کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول ﷺ کی ضرور مدد کرے گا اور ان کی منہ مانگی مراد پوری ہو کر رہے گی لیکن اہل نفاق اہل شک، بےیقین، ڈھلمل ایمان والوں کی عجب حالت تھی ان کی جان عذاب میں تھی وہ ہائے وائے کر رہے تھے اور ان کے دل میں طرح طرح کے وسو اس پیدا ہو رہے تھے انہیں یقین کامل ہوگیا تھا کہ اب مرے، وہ جان چکے تھے کہ رسول اور مومن (نعوذ باللہ) اب بچ کر نہیں جائیں گے اب بچاؤ کی کوئی صورت نہیں، فی الواقع منافقوں کا یہی حال ہے کہ جہاں ذرا نیچا پانسہ دیکھا تو ناامیدی کی گھٹگھور گھٹاؤں نے انہیں گھیر لیا ان کے برخلاف ایماندار بد سے بدتر حالت میں بھی اللہ تعالیٰ سے نیک گمان رکھتا ہے۔ ان کے دلوں کے خیالات یہ تھے کہ اگر ہمارا کچھ بھی بس چلتا تو آج کی موت سے بچ جاتے اور چپکے چپکے یوں کہتے بھی تھے حضرت زبیر کا بیان ہے کہ اس سخت خوف کے وقت ہمیں تو اس قدر نیند آنے لگی کہ ہماری ٹھوڑیاں سینوں سے لگ گئیں میں نے اپنی اسی حالت میں معتب بن قشیر کے یہ الفاظ سنے کہ اگر ہمیں کچھ بھی اختیار ہوتا تو یہاں قتل نہ ہوتے، اللہ تعالیٰ انہیں فرماتا ہے کہ یہ تو اللہ تعالیٰ کے فیصلے ہیں مرنے کا وقت نہیں ٹلتا گو تم گھروں میں ہوتے لیکن پھر بھی جن پر یہاں کٹنا لکھا جا چکا ہوتا وہ گھروں کو چھوڑ کر نکل کھڑے ہوئے اور یہاں میدان میں آ کر ڈٹٹ گئے اور اللہ کا لکھا پورا اترا۔ یہ وقت اس لئے تھا کہ اللہ تعالیٰ تمہارے دلوں کے ارادوں اور تمہارے مخفی بھیدوں کو بےنقاب کرے، اس آزمائش سے بھلے اور برے نیک اور بد میں تمیز ہوگئی، اللہ تعالیٰ جو دلوں کے بھیدوں اور ارادوں سے پوری طرح واقف ہے اس نے اس ذرا سے واقعہ سے منافقوں کو بےنقاب کردیا اور مسلمانوں کا بھی ظاہری امتحان ہوگیا، اب سچے مسلمانوں کی لغزش کا بیان ہو رہا ہے جو انسانی کمزوری کی وجہ سے ان سے سرزد ہوئی فرماتا ہے شیطان نے یہ لغزش ان سے کرا دی دراصل یہ سب ان کے عمل کا نتیجہ تھا نہ یہ رسول ﷺ کی نافرمانی کرتے نہ ان کے قدم اکھڑتے انہیں اللہ تعالیٰ معذور جانتا ہے اور ان سے اس نے درگزر فرما لیا اور ان کی اس خطا کو معاف کردیا اللہ کا کام ہی درگزر کرنا بخشنا معاف فرمانا حلم اور بربادی برتنا تحمل اور عفو کرنا ہے اس سے معلوم ہوا کہ حضرت عثمان وغیرہ کی اس لغزش کو اللہ تعالیٰ نے معاف فرما دیا۔ مسند احمد میں ہے کہ ولید بن عقبہ نے ایک مرتبہ حضرت عبدالرحمن بن عوف سے کہا آخر تم امیر المومنین حضرت عثمان بن عفان سے اس قدر کیوں بگڑے ہوئے ہو ؟ انہوں نے کہا اس سے کہہ دو کہ میں نے احد والے دن فرار نہیں کیا بدر کے غزوے میں غیر حاضر نہیں رہا اور نہ سنت عمر ترک کی، ولید نے جا کر حضرت عثمان سے یہ واقعہ بیان کیا تو آپ نے اس کے جواب میں فرمایا کہ قرآن کہہ رہا ہے آیت (وَلَقَدْ عَفَا اللّٰهُ عَنْھُمْ) 3۔ آل عمران :155) یعنی احد والے دن کی اس لغزش سے اللہ تعالیٰ نے درگزر فرمایا پھر جس خطا کو اللہ نے معاف کردیا اس پر عذر لانا کیا ؟ بدر والے دن میں رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادی میری بیوی حضرت رقیہ کی تیمارداری میں مصروف تھا یہاں تک کہ وہ اسی بیماری میں فوت ہوگئیں چناچہ مجھے رسول اللہ ﷺ نے مال غنیمت میں سے پور احصہ دیا اور ظاہر ہے کہ حصہ انہیں ملتا ہے جو موجود ہیں پس حکماً میری موجودگی ثابت ہوا ہے، رہی سنت عمر اس کی طاقت نہ مجھ میں ہے نہ عبدالرحمن میں، جاؤ انہیں یہ جواب بھی پہنچا دو۔
155
View Single
إِنَّ ٱلَّذِينَ تَوَلَّوۡاْ مِنكُمۡ يَوۡمَ ٱلۡتَقَى ٱلۡجَمۡعَانِ إِنَّمَا ٱسۡتَزَلَّهُمُ ٱلشَّيۡطَٰنُ بِبَعۡضِ مَا كَسَبُواْۖ وَلَقَدۡ عَفَا ٱللَّهُ عَنۡهُمۡۗ إِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٌ حَلِيمٞ
Indeed those of you who turned back on the day when the two armies met – for it was the devil who caused them to waver, because of some of their deeds; and undoubtedly Allah has forgiven them; indeed Allah is Oft Forgiving, Most Forbearing.
بیشک جو لوگ تم میں سے اس دن بھاگ کھڑے ہوئے تھے جب دونوں فوجیں آپس میں گتھم گتھا ہو گئی تھیں تو انہیں محض شیطان نے پھسلا دیا تھا، ان کے کسی عمل کے باعث جس کے وہ مرتکب ہوئے، بیشک اللہ نے انہیں معاف فرما دیا، یقینا اللہ بہت بخشنے والا بڑے حلم والا ہے
Tafsir Ibn Kathir
Slumber Overcame the Believers; the Fear that the Hypocrites Suffered
Allah reminds His servants of His favor when He sent down on them tranquillity and slumber that overcame them while they were carrying their weapons and feeling distress and grief. In this case, slumber is a favor and carries meanings of calmness and safety. For instance, Allah said in Surat Al-Anfal about the battle of Badr,
إِذْ يُغَشِّيكُمُ النُّعَاسَ أَمَنَةً مِّنْهُ
((Remember) when He covered you with a slumber as a security from Him) 8:11.
Al-Bukhari recorded that Anas said that, Abu Talhah said, "I was among those who were overcome by slumber during the battle of Uhud. My sword fell from my hand several times and I would pick it up, then it would fall and I would pick it up again." Al-Bukhari collected this Hadith in the stories of the battles without a chain of narration, and in the book of Tafsir with a chain of narrators. At-Tirmidhi, An-Nasa'i and Al-Hakim recorded from Anas that Abu Talhah said, "On the day of Uhud, I raised my head and looked around and found that everyone's head was nodding from slumber." This is the wording of At-Tirmidhi, who said, "Hasan Sahih". An-Nasa'i also recorded this Hadith from Anas who said that Abu Talhah said, "I was among those who were overcome by slumber."
The second group mentioned in the Ayah were the hypocrites who only thought about themselves, for they are the most cowardly people and those least likely to support the truth,
يَظُنُّونَ بِاللَّهِ غَيْرَ الْحَقِّ ظَنَّ الْجَـهِلِيَّةِ
(and thought wrongly of Allah - the thought of ignorance) 3:154, for they are liars and people who have doubts and evil thoughts about Allah, the Exalted and Most Honored. Allah said,
ثُمَّ أَنزَلَ عَلَيْكُمْ مِّن بَعْدِ الْغَمِّ أَمَنَةً نُّعَاساً يَغْشَى طَآئِفَةً مِّنْكُمْ
(Then after the distress, He sent down security for you. Slumber overtook a party of you), the people of faith, certainty, firmness and reliance (on Allah) who are certain that Allah shall give victory to His Messenger and fulfill his objective.
وَطَآئِفَةٌ قَدْ أَهَمَّتْهُمْ أَنْفُسُهُمْ
(While another party was thinking about themselves), and they were not overcome by slumber because of their worry, fright and fear,
يَظُنُّونَ بِاللَّهِ غَيْرَ الْحَقِّ ظَنَّ الْجَـهِلِيَّةِ
(and thought wrongly of Allah --- the thought of ignorance).
Similarly, Allah said in another statement,
بَلْ ظَنَنْتُمْ أَن لَّن يَنقَلِبَ الرَّسُولُ وَالْمُؤْمِنُونَ إِلَى أَهْلِيهِمْ أَبَداً
(Nay, but you thought that the Messenger and the believers would never return to their families) 48:12.
This group thought that the idolators achieved ultimate victory, when their forces took the upper hand in battle, and that Islam and its people would perish. This is typical of people of doubt and hesitation, in the event of a hardship, they fall into such evil thoughts. Allah then described them that,
يَقُولُونَ
(they said) in this situation,
هَل لَّنَا مِنَ الاٌّمْرِ مِن شَىْءٍ
("Have we any part in the affair") Allah replied,
قُلْ إِنَّ الاٌّمْرَ كُلَّهُ للَّهِ يُخْفُونَ فِى أَنْفُسِهِم مَّا لاَ يُبْدُونَ لَكَ
(Say: "Indeed the affair belongs wholly to Allah." They hide within themselves what they dare not reveal to you.) wAllah exposed their secrets, that is,
يَقُولُونَ لَوْ كَانَ لَنَا مِنَ الاٌّمْرِ شَىْءٌ مَّا قُتِلْنَا هَـهُنَا
(saying: "If we had anything to do with the affair, none of us would have been killed here.") although they tried to conceal this thought from the Messenger of Allah ﷺ.
Ibn Ishaq recorded that `Abdullah bin Az-Zubayr said that Az-Zubayr said, "I was with the Messenger of Allah ﷺ when fear intensified and Allah sent sleep to us (during the battle of Uhud). At that time, every man among us (except the hypocrites) was nodding off. By Allah! As if in a dream, I heard the words of Mu`attib bin Qushayr, `If we had anything to do with the affair, none of us would have been killed here.' I memorized these words of his, which Allah mentioned later on,
يَقُولُونَ لَوْ كَانَ لَنَا مِنَ الاٌّمْرِ شَىْءٌ مَّا قُتِلْنَا هَـهُنَا
(saying: "If we had anything to do with the affair, none of us would have been killed here.)"
Ibn Abi Hatim collected this Hadith.
Allah the Exalted said,
قُل لَّوْ كُنتُمْ فِى بُيُوتِكُمْ لَبَرَزَ الَّذِينَ كُتِبَ عَلَيْهِمُ الْقَتْلُ إِلَى مَضَاجِعِهِمْ
(Say: "Even if you had remained in your homes, those for whom death was decreed would certainly have gone forth to the place of their death,") meaning, this is Allah's appointed destiny and a decision that will certainly come to pass, and there is no escaping it. Allah's statement,
وَلِيَبْتَلِىَ اللَّهُ مَا فِى صُدُورِكُمْ وَلِيُمَحِّصَ مَا فِى قُلُوبِكُمْ
(that Allah might test what is in your breasts; and to purify that which was in your hearts,) means, so that He tests you with whatever befell you, to distinguish good from evil and the deeds and statements of the believers from those of the hypocrites,
وَاللَّهُ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ
(and Allah is All-Knower of what is in the breasts), and what the hearts conceal.
Some of the Believers Give Flight on the Day of Uhud
Allah then said,
إِنَّ الَّذِينَ تَوَلَّوْاْ مِنكُمْ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعَانِ إِنَّمَا اسْتَزَلَّهُمُ الشَّيْطَـنُ بِبَعْضِ مَا كَسَبُواْ
(Those of you who turned back on the day the two hosts met, Shaytan only caused them to err because of some of what they had earned) 3:155,
because of some of their previous errors. Indeed, some of the Salaf said, "The reward of the good deed includes being directed to another good deed that follows it, while the retribution of sin includes committing another sin that follows it." Allah then said,
وَلَقَدْ عَفَا اللَّهُ عَنْهُمْ
(but Allah, indeed, has forgiven them), their giving flight,
أَنَّ اللَّهَ غَفُورٌ حَلِيمٌ
(surely, Allah is Oft-Forgiving, Most Forbearing)
He forgives sins, pardons and exonerates His creatures. Imam Ahmad recorded that Shaqiq said, " `Abdur-Rahman bin `Awf met Al-Walid bin `Uqbah, who said to him, `Why did you desert `Uthman, the Leader of the Faithful' `Abdur-Rahman said, `Tell him that I did not run away during Uhud, remain behind during Badr, nor abandon the Sunnah of `Umar.' Al-Walid told `Uthman what `Abdur-Rahman said. `Uthman replied, `As for his statement, `I did not run away during Uhud,' how can he blame me for an error that Allah has already forgiven. Allah said,
إِنَّ الَّذِينَ تَوَلَّوْاْ مِنكُمْ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعَانِ إِنَّمَا اسْتَزَلَّهُمُ الشَّيْطَـنُ بِبَعْضِ مَا كَسَبُواْ وَلَقَدْ عَفَا اللَّهُ عَنْهُمْ
(Those of you who turned back on the day the two hosts met, Shaytan only caused them to err because of some of what they had earned. But Allah, indeed, has forgiven them).
As for his statement that I remained behind from participating in Badr, I was nursing Ruqayyah, the daughter of the Messenger of Allah ﷺ, until she passed away. The Messenger of Allah ﷺ gave me a share in the booty of Badr, and whoever gets a share in the booty from the Messenger of Allah ﷺ will have participated in battle. As for his statement that I abandoned the Sunnah of `Umar, neither I nor he are able to endure it. Go and convey this answer to him."'
تلواروں کے سایہ میں ایمان کی جانچ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر اس غم و رنج کے وقت جو احسان فرمایا تھا اس کا بیان ہو رہا ہے کہ اس نے ان پر اونگھ ڈال دی ہتھیار ہاتھ میں ہیں دشمن سامنے ہے لیکن دل میں اتنی تسکین ہے کہ آنکھیں اونگھ سے جھکی جا رہی ہیں جو امن وامان کا نشان ہے جیسے سورة انفال میں بدر کے واقعہ میں ہے آیت (اذ یغشیکم النعاس امنتہ منہ) یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے امن بصورت اونگھ نازل ہوئی۔ حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں لڑائی کے وقت انکی اونگھ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی طرف سے ہے اور نماز میں اونگھ کا آنا شیطانی حکمت ہے، حضرت ابو طلحہ کا بیان ہے کہ احد والے دن مجھے اس زور کی اونگھ آنے لگی کہ بار بار تلوار میرے ہاتھ سے چھوٹ گئی آپ فرماتے ہیں جب میں نے آنکھ اٹھا کر دیکھا تو تقریباً ہر شخص کو اسی حالت میں پایا، ہاں البتہ ایک جماعت وہ بھی تھی جن کے دلوں میں نفاق تھا یہ مارے خوف و دہشت کے ہلکان ہو رہے تھے اور ان کی بدگمانیاں اور برے خیال حد کو پہنچ گئے تھے، پس اہل ایمان اہل یقین اہل ثبات اہل توکل اور اہل صدق تو یقین کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول ﷺ کی ضرور مدد کرے گا اور ان کی منہ مانگی مراد پوری ہو کر رہے گی لیکن اہل نفاق اہل شک، بےیقین، ڈھلمل ایمان والوں کی عجب حالت تھی ان کی جان عذاب میں تھی وہ ہائے وائے کر رہے تھے اور ان کے دل میں طرح طرح کے وسو اس پیدا ہو رہے تھے انہیں یقین کامل ہوگیا تھا کہ اب مرے، وہ جان چکے تھے کہ رسول اور مومن (نعوذ باللہ) اب بچ کر نہیں جائیں گے اب بچاؤ کی کوئی صورت نہیں، فی الواقع منافقوں کا یہی حال ہے کہ جہاں ذرا نیچا پانسہ دیکھا تو ناامیدی کی گھٹگھور گھٹاؤں نے انہیں گھیر لیا ان کے برخلاف ایماندار بد سے بدتر حالت میں بھی اللہ تعالیٰ سے نیک گمان رکھتا ہے۔ ان کے دلوں کے خیالات یہ تھے کہ اگر ہمارا کچھ بھی بس چلتا تو آج کی موت سے بچ جاتے اور چپکے چپکے یوں کہتے بھی تھے حضرت زبیر کا بیان ہے کہ اس سخت خوف کے وقت ہمیں تو اس قدر نیند آنے لگی کہ ہماری ٹھوڑیاں سینوں سے لگ گئیں میں نے اپنی اسی حالت میں معتب بن قشیر کے یہ الفاظ سنے کہ اگر ہمیں کچھ بھی اختیار ہوتا تو یہاں قتل نہ ہوتے، اللہ تعالیٰ انہیں فرماتا ہے کہ یہ تو اللہ تعالیٰ کے فیصلے ہیں مرنے کا وقت نہیں ٹلتا گو تم گھروں میں ہوتے لیکن پھر بھی جن پر یہاں کٹنا لکھا جا چکا ہوتا وہ گھروں کو چھوڑ کر نکل کھڑے ہوئے اور یہاں میدان میں آ کر ڈٹٹ گئے اور اللہ کا لکھا پورا اترا۔ یہ وقت اس لئے تھا کہ اللہ تعالیٰ تمہارے دلوں کے ارادوں اور تمہارے مخفی بھیدوں کو بےنقاب کرے، اس آزمائش سے بھلے اور برے نیک اور بد میں تمیز ہوگئی، اللہ تعالیٰ جو دلوں کے بھیدوں اور ارادوں سے پوری طرح واقف ہے اس نے اس ذرا سے واقعہ سے منافقوں کو بےنقاب کردیا اور مسلمانوں کا بھی ظاہری امتحان ہوگیا، اب سچے مسلمانوں کی لغزش کا بیان ہو رہا ہے جو انسانی کمزوری کی وجہ سے ان سے سرزد ہوئی فرماتا ہے شیطان نے یہ لغزش ان سے کرا دی دراصل یہ سب ان کے عمل کا نتیجہ تھا نہ یہ رسول ﷺ کی نافرمانی کرتے نہ ان کے قدم اکھڑتے انہیں اللہ تعالیٰ معذور جانتا ہے اور ان سے اس نے درگزر فرما لیا اور ان کی اس خطا کو معاف کردیا اللہ کا کام ہی درگزر کرنا بخشنا معاف فرمانا حلم اور بربادی برتنا تحمل اور عفو کرنا ہے اس سے معلوم ہوا کہ حضرت عثمان وغیرہ کی اس لغزش کو اللہ تعالیٰ نے معاف فرما دیا۔ مسند احمد میں ہے کہ ولید بن عقبہ نے ایک مرتبہ حضرت عبدالرحمن بن عوف سے کہا آخر تم امیر المومنین حضرت عثمان بن عفان سے اس قدر کیوں بگڑے ہوئے ہو ؟ انہوں نے کہا اس سے کہہ دو کہ میں نے احد والے دن فرار نہیں کیا بدر کے غزوے میں غیر حاضر نہیں رہا اور نہ سنت عمر ترک کی، ولید نے جا کر حضرت عثمان سے یہ واقعہ بیان کیا تو آپ نے اس کے جواب میں فرمایا کہ قرآن کہہ رہا ہے آیت (وَلَقَدْ عَفَا اللّٰهُ عَنْھُمْ) 3۔ آل عمران :155) یعنی احد والے دن کی اس لغزش سے اللہ تعالیٰ نے درگزر فرمایا پھر جس خطا کو اللہ نے معاف کردیا اس پر عذر لانا کیا ؟ بدر والے دن میں رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادی میری بیوی حضرت رقیہ کی تیمارداری میں مصروف تھا یہاں تک کہ وہ اسی بیماری میں فوت ہوگئیں چناچہ مجھے رسول اللہ ﷺ نے مال غنیمت میں سے پور احصہ دیا اور ظاہر ہے کہ حصہ انہیں ملتا ہے جو موجود ہیں پس حکماً میری موجودگی ثابت ہوا ہے، رہی سنت عمر اس کی طاقت نہ مجھ میں ہے نہ عبدالرحمن میں، جاؤ انہیں یہ جواب بھی پہنچا دو۔
156
View Single
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا تَكُونُواْ كَٱلَّذِينَ كَفَرُواْ وَقَالُواْ لِإِخۡوَٰنِهِمۡ إِذَا ضَرَبُواْ فِي ٱلۡأَرۡضِ أَوۡ كَانُواْ غُزّٗى لَّوۡ كَانُواْ عِندَنَا مَا مَاتُواْ وَمَا قُتِلُواْ لِيَجۡعَلَ ٱللَّهُ ذَٰلِكَ حَسۡرَةٗ فِي قُلُوبِهِمۡۗ وَٱللَّهُ يُحۡيِۦ وَيُمِيتُۗ وَٱللَّهُ بِمَا تَعۡمَلُونَ بَصِيرٞ
O People who Believe! Do not be like the disbelievers who said regarding their brothers who went on a journey or on holy war, “If they had been here with us they would not have died or been killed” – so that Allah may make it as despair in their hearts; and Allah gives life and causes death; and Allah is seeing your deeds.
اے ایمان والو! تم ان کافروں کی طرح نہ ہو جاؤ جو اپنے ان بھائیوں کے بارے میں یہ کہتے ہیں جو (کہیں) سفر پر گئے ہوں یا جہاد کر رہے ہوں (اور وہاں مر جائیں) کہ اگر وہ ہمارے پاس ہوتے تو نہ مرتے اور نہ قتل کئے جاتے، تاکہ اللہ اس (گمان) کو ان کے دلوں میں حسرت بنائے رکھے، اور اللہ ہی زندہ رکھتا اور مارتا ہے، اور اللہ تمہارے اعمال خوب دیکھ رہا ہے
Tafsir Ibn Kathir
Prohibiting the Ideas of the Disbeleivers about Death and Predestination
Allah forbids His believing servants from the disbelievers' false creed, seen in their statement about those who died in battle and during travel; "Had they abandoned these trips, they would not have met their demise." Allah said,
يأَيُّهَا الَّذِينَ ءَامَنُواْ لاَ تَكُونُواْ كَالَّذِينَ كَفَرُواْ وَقَالُواْ لإِخْوَنِهِمْ
(O you who believe! Be not like those who disbelieve (hypocrites) and who say to their brethren), about their dead brethren,
إِذَا ضَرَبُواْ فِى الاٌّرْضِ
(when they travel through the earth) for the purpose of trading and otherwise,
أَوْ كَانُواْ غُزًّى
(or go out to fight), participating in battles,
لَّوْ كَانُواْ عِنْدَنَا
("If they had stayed with us,") in our area,
مَا مَاتُواْ وَمَا قُتِلُواْ
("they would not have died or been killed,") they would not have died while traveling or been killed in battle. Allah's statement,
لِيَجْعَلَ اللَّهُ ذَلِكَ حَسْرَةً فِى قُلُوبِهِمْ
(so that Allah may make it a cause of regret in their hearts. ) means, Allah creates this evil thought in their hearts so that their sadness and the grief they feel for their loss would increase. Allah refuted them by saying,
وَاللَّهُ يُحْيىِ وَيُمِيتُ
(It is Allah that gives life and causes death.) for the creation is under Allah's power, and the decision is His Alone. No one lives or dies except by Allah's leave, and no one's life is increased or decreased except by His decree.
وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ
(And Allah is All-Seer of what you do,) for His knowledge and vision encompasses all His creation and none of their affairs ever escapes Him. Allah's statement,
وَلَئِنْ قُتِلْتُمْ فِى سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ مُتُّمْ لَمَغْفِرَةٌ مِّنَ اللَّهِ وَرَحْمَةٌ خَيْرٌ مِّمَّا يَجْمَعُونَ
(And if you are killed or die in the way of Allah, forgiveness and mercy from Allah are far better than all that they amass.) 3:157, indicating that death and martyrdom in Allah's cause are a means of earning Allah's mercy, forgiveness and pleasure. This, indeed, is better than remaining in this life with its short lived delights. Furthermore, whoever dies or is killed will return to Allah, the Exalted and Most Honored, and He will reward him if he has done good deeds, or will punish him for his evil deeds. Allah said,
وَلَئِنْ مُّتُّمْ أَوْ قُتِلْتُمْ لإِلَى الله تُحْشَرُونَ
(And whether you die or are killed, verily, unto Allah you shall be gathered.) 3:158.
باطل خیالات کی نشاندہی اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو کافروں جیسے فاسد اعتقاد رکھنے کی ممانعت فرما رہا ہے یہ کفار سمجھتے تھے کہ ان کے لوگ جو سفر میں یا لڑائی میں مرے اگر وہ سفر اور لڑائی نہ کرتے تو نہ مرتے پھر فرماتا ہے کہ یہ باطل خیال بھی ان کی حسرت افسوس کا بڑھانے والا ہے، دراصل موت وحیات اللہ کے ہاتھ ہے مرتا ہے اس کی چاہت سے اور زندگی ملتی ہے تو اس کے ارادے سے تمام امور کا جاری کرنا اس کے قبضہ میں ہے اس کی قضا و قدر ٹلتی نہیں اس کے علم سے اور اس کی نگاہ سے کوئی چیز باہر نہیں تمام مخلوق کے ہر امر کو وہ بخوبی جانتا ہے۔ دوسری آیت بتلا رہی ہے کہ اللہ کی راہ میں قتل ہونا یا مرنا اللہ کی مغفرت و رحمت کا ذریعہ ہے اور یہ قطعاً دنیا ومافیہا سے بہتر ہے کیونکہ یہ فانی ہے اور وہ باقی اور ابدی ہے پھر ارشاد ہوتا ہے کہ خواہ کسی طرح دنیا چھوڑو مر کر یا قتل ہو کر لوٹنا تو اللہ ہی کی طرف ہے پھر اپنے اعمال کا بدلہ اپنی آنکھوں سے دیکھ لو گے برا ہو تو بھلا ہو تو۔ !
157
View Single
وَلَئِن قُتِلۡتُمۡ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِ أَوۡ مُتُّمۡ لَمَغۡفِرَةٞ مِّنَ ٱللَّهِ وَرَحۡمَةٌ خَيۡرٞ مِّمَّا يَجۡمَعُونَ
And if you are killed in Allah’s way or die, then the pardon from Allah and mercy are better than all what they hoard.
اور اگر تم اللہ کی راہ میں قتل کر دئیے جاؤ یا تمہیں موت آجائے تو اللہ کی مغفرت اور رحمت اس (مال و متاع) سے بہت بہتر ہے جو تم جمع کرتے ہو
Tafsir Ibn Kathir
Prohibiting the Ideas of the Disbeleivers about Death and Predestination
Allah forbids His believing servants from the disbelievers' false creed, seen in their statement about those who died in battle and during travel; "Had they abandoned these trips, they would not have met their demise." Allah said,
يأَيُّهَا الَّذِينَ ءَامَنُواْ لاَ تَكُونُواْ كَالَّذِينَ كَفَرُواْ وَقَالُواْ لإِخْوَنِهِمْ
(O you who believe! Be not like those who disbelieve (hypocrites) and who say to their brethren), about their dead brethren,
إِذَا ضَرَبُواْ فِى الاٌّرْضِ
(when they travel through the earth) for the purpose of trading and otherwise,
أَوْ كَانُواْ غُزًّى
(or go out to fight), participating in battles,
لَّوْ كَانُواْ عِنْدَنَا
("If they had stayed with us,") in our area,
مَا مَاتُواْ وَمَا قُتِلُواْ
("they would not have died or been killed,") they would not have died while traveling or been killed in battle. Allah's statement,
لِيَجْعَلَ اللَّهُ ذَلِكَ حَسْرَةً فِى قُلُوبِهِمْ
(so that Allah may make it a cause of regret in their hearts. ) means, Allah creates this evil thought in their hearts so that their sadness and the grief they feel for their loss would increase. Allah refuted them by saying,
وَاللَّهُ يُحْيىِ وَيُمِيتُ
(It is Allah that gives life and causes death.) for the creation is under Allah's power, and the decision is His Alone. No one lives or dies except by Allah's leave, and no one's life is increased or decreased except by His decree.
وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ
(And Allah is All-Seer of what you do,) for His knowledge and vision encompasses all His creation and none of their affairs ever escapes Him. Allah's statement,
وَلَئِنْ قُتِلْتُمْ فِى سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ مُتُّمْ لَمَغْفِرَةٌ مِّنَ اللَّهِ وَرَحْمَةٌ خَيْرٌ مِّمَّا يَجْمَعُونَ
(And if you are killed or die in the way of Allah, forgiveness and mercy from Allah are far better than all that they amass.) 3:157, indicating that death and martyrdom in Allah's cause are a means of earning Allah's mercy, forgiveness and pleasure. This, indeed, is better than remaining in this life with its short lived delights. Furthermore, whoever dies or is killed will return to Allah, the Exalted and Most Honored, and He will reward him if he has done good deeds, or will punish him for his evil deeds. Allah said,
وَلَئِنْ مُّتُّمْ أَوْ قُتِلْتُمْ لإِلَى الله تُحْشَرُونَ
(And whether you die or are killed, verily, unto Allah you shall be gathered.) 3:158.
باطل خیالات کی نشاندہی اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو کافروں جیسے فاسد اعتقاد رکھنے کی ممانعت فرما رہا ہے یہ کفار سمجھتے تھے کہ ان کے لوگ جو سفر میں یا لڑائی میں مرے اگر وہ سفر اور لڑائی نہ کرتے تو نہ مرتے پھر فرماتا ہے کہ یہ باطل خیال بھی ان کی حسرت افسوس کا بڑھانے والا ہے، دراصل موت وحیات اللہ کے ہاتھ ہے مرتا ہے اس کی چاہت سے اور زندگی ملتی ہے تو اس کے ارادے سے تمام امور کا جاری کرنا اس کے قبضہ میں ہے اس کی قضا و قدر ٹلتی نہیں اس کے علم سے اور اس کی نگاہ سے کوئی چیز باہر نہیں تمام مخلوق کے ہر امر کو وہ بخوبی جانتا ہے۔ دوسری آیت بتلا رہی ہے کہ اللہ کی راہ میں قتل ہونا یا مرنا اللہ کی مغفرت و رحمت کا ذریعہ ہے اور یہ قطعاً دنیا ومافیہا سے بہتر ہے کیونکہ یہ فانی ہے اور وہ باقی اور ابدی ہے پھر ارشاد ہوتا ہے کہ خواہ کسی طرح دنیا چھوڑو مر کر یا قتل ہو کر لوٹنا تو اللہ ہی کی طرف ہے پھر اپنے اعمال کا بدلہ اپنی آنکھوں سے دیکھ لو گے برا ہو تو بھلا ہو تو۔ !
158
View Single
وَلَئِن مُّتُّمۡ أَوۡ قُتِلۡتُمۡ لَإِلَى ٱللَّهِ تُحۡشَرُونَ
And whether you are killed or you die, towards Allah you will be gathered.
اور اگر تم مر جاؤ یا مارے جاؤ تو تم (سب) اللہ ہی کے حضور جمع کئے جاؤ گے
Tafsir Ibn Kathir
Prohibiting the Ideas of the Disbeleivers about Death and Predestination
Allah forbids His believing servants from the disbelievers' false creed, seen in their statement about those who died in battle and during travel; "Had they abandoned these trips, they would not have met their demise." Allah said,
يأَيُّهَا الَّذِينَ ءَامَنُواْ لاَ تَكُونُواْ كَالَّذِينَ كَفَرُواْ وَقَالُواْ لإِخْوَنِهِمْ
(O you who believe! Be not like those who disbelieve (hypocrites) and who say to their brethren), about their dead brethren,
إِذَا ضَرَبُواْ فِى الاٌّرْضِ
(when they travel through the earth) for the purpose of trading and otherwise,
أَوْ كَانُواْ غُزًّى
(or go out to fight), participating in battles,
لَّوْ كَانُواْ عِنْدَنَا
("If they had stayed with us,") in our area,
مَا مَاتُواْ وَمَا قُتِلُواْ
("they would not have died or been killed,") they would not have died while traveling or been killed in battle. Allah's statement,
لِيَجْعَلَ اللَّهُ ذَلِكَ حَسْرَةً فِى قُلُوبِهِمْ
(so that Allah may make it a cause of regret in their hearts. ) means, Allah creates this evil thought in their hearts so that their sadness and the grief they feel for their loss would increase. Allah refuted them by saying,
وَاللَّهُ يُحْيىِ وَيُمِيتُ
(It is Allah that gives life and causes death.) for the creation is under Allah's power, and the decision is His Alone. No one lives or dies except by Allah's leave, and no one's life is increased or decreased except by His decree.
وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ
(And Allah is All-Seer of what you do,) for His knowledge and vision encompasses all His creation and none of their affairs ever escapes Him. Allah's statement,
وَلَئِنْ قُتِلْتُمْ فِى سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ مُتُّمْ لَمَغْفِرَةٌ مِّنَ اللَّهِ وَرَحْمَةٌ خَيْرٌ مِّمَّا يَجْمَعُونَ
(And if you are killed or die in the way of Allah, forgiveness and mercy from Allah are far better than all that they amass.) 3:157, indicating that death and martyrdom in Allah's cause are a means of earning Allah's mercy, forgiveness and pleasure. This, indeed, is better than remaining in this life with its short lived delights. Furthermore, whoever dies or is killed will return to Allah, the Exalted and Most Honored, and He will reward him if he has done good deeds, or will punish him for his evil deeds. Allah said,
وَلَئِنْ مُّتُّمْ أَوْ قُتِلْتُمْ لإِلَى الله تُحْشَرُونَ
(And whether you die or are killed, verily, unto Allah you shall be gathered.) 3:158.
باطل خیالات کی نشاندہی اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو کافروں جیسے فاسد اعتقاد رکھنے کی ممانعت فرما رہا ہے یہ کفار سمجھتے تھے کہ ان کے لوگ جو سفر میں یا لڑائی میں مرے اگر وہ سفر اور لڑائی نہ کرتے تو نہ مرتے پھر فرماتا ہے کہ یہ باطل خیال بھی ان کی حسرت افسوس کا بڑھانے والا ہے، دراصل موت وحیات اللہ کے ہاتھ ہے مرتا ہے اس کی چاہت سے اور زندگی ملتی ہے تو اس کے ارادے سے تمام امور کا جاری کرنا اس کے قبضہ میں ہے اس کی قضا و قدر ٹلتی نہیں اس کے علم سے اور اس کی نگاہ سے کوئی چیز باہر نہیں تمام مخلوق کے ہر امر کو وہ بخوبی جانتا ہے۔ دوسری آیت بتلا رہی ہے کہ اللہ کی راہ میں قتل ہونا یا مرنا اللہ کی مغفرت و رحمت کا ذریعہ ہے اور یہ قطعاً دنیا ومافیہا سے بہتر ہے کیونکہ یہ فانی ہے اور وہ باقی اور ابدی ہے پھر ارشاد ہوتا ہے کہ خواہ کسی طرح دنیا چھوڑو مر کر یا قتل ہو کر لوٹنا تو اللہ ہی کی طرف ہے پھر اپنے اعمال کا بدلہ اپنی آنکھوں سے دیکھ لو گے برا ہو تو بھلا ہو تو۔ !
159
View Single
فَبِمَا رَحۡمَةٖ مِّنَ ٱللَّهِ لِنتَ لَهُمۡۖ وَلَوۡ كُنتَ فَظًّا غَلِيظَ ٱلۡقَلۡبِ لَٱنفَضُّواْ مِنۡ حَوۡلِكَۖ فَٱعۡفُ عَنۡهُمۡ وَٱسۡتَغۡفِرۡ لَهُمۡ وَشَاوِرۡهُمۡ فِي ٱلۡأَمۡرِۖ فَإِذَا عَزَمۡتَ فَتَوَكَّلۡ عَلَى ٱللَّهِۚ إِنَّ ٱللَّهَ يُحِبُّ ٱلۡمُتَوَكِّلِينَ
So what a great mercy it is from Allah that you (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), are lenient towards them; and if you had been stern and hardhearted (unsympathetic) they would have certainly been uneasy in your company; so forgive them and intercede for them and consult with them in the conduct of affairs; and when you decide upon something, rely upon Allah; indeed Allah loves those who trust (Him).
(اے حبیبِ والا صفات!) پس اللہ کی کیسی رحمت ہے کہ آپ ان کے لئے نرم طبع ہیں، اور اگر آپ تُندخُو (اور) سخت دل ہوتے تو لوگ آپ کے گرد سے چھٹ کر بھاگ جاتے، سو آپ ان سے درگزر فرمایا کریں اور ان کے لئے بخشش مانگا کریں اور (اہم) کاموں میں ان سے مشورہ کیا کریں، پھر جب آپ پختہ ارادہ کر لیں تو اللہ پر بھروسہ کیا کریں، بیشک اللہ توکّل والوں سے محبت کرتا ہے
Tafsir Ibn Kathir
Among the Qualities of Our Prophet Muhammad are Mercy and Kindness
Allah addresses His Messenger and reminds him and the believers of the favor that He has made his heart and words soft for his Ummah, those who follow his command and refrain from what he prohibits.
فَبِمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللَّهِ لِنتَ لَهُمْ
(And by the mercy of Allah, you dealt with them gently) 3:159. meaning, who would have made you this kind, if it was not Allah's mercy for you and them. Qatadah said that,
فَبِمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللَّهِ لِنتَ لَهُمْ
(And by the mercy of Allah, you dealt with them gently) means, "With Allah's mercy you became this kind." Al-Hasan Al-Basri said that this, indeed, is the description of the behavior that Allah sent Muhammad with. This Ayah is similar to Allah's statement,
لَقَدْ جَآءَكُمْ رَسُولٌ مِّنْ أَنفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَّحِيمٌ
(Verily, there has come unto you a Messenger from among yourselves. It grieves him that you should receive any injury or difficulty. He is anxious over you (to be rightly guided, to repent to Allah); for the believers (he is) full of pity, kind, and merciful) 9:128. Allah said next,
وَلَوْ كُنْتَ فَظّاً غَلِيظَ الْقَلْبِ لاَنْفَضُّواْ مِنْ حَوْلِكَ
(And had you been severe and harsh-hearted, they would have broken away from about you;)
The severe person is he who utters harsh words, and,
غَلِيظَ الْقَلْبِ
(harsh-hearted) is the person whose heart is hard. Had this been the Prophet's behavior, "They would have scattered from around you. However, Allah gathered them and made you kind and soft with them, so that their hearts congregate around you." `Abdullah bin `Amr said that he read the description of the Messenger of Allah ﷺ in previous Books, "He is not severe, harsh, obscene in the marketplace or dealing evil for evil. Rather, he forgives and pardons."
The Order for Consultation and to Abide by it
Allah said,
فَاعْفُ عَنْهُمْ وَاسْتَغْفِرْ لَهُمْ وَشَاوِرْهُمْ فِى الاٌّمْرِ
(So pardon them, and ask (Allah's) forgiveness for them; and consult them in the affairs.)
The Messenger of Allah ﷺ used to ask his Companions for advice about various matters, to comfort their hearts, and so they actively implement the decision they reach. For instance, before the battle of Badr, the Prophet asked his Companions for if Muslims should intercept the caravan (led by Abu Sufyan). They said, "O Messenger of Allah! If you wish to cross the sea, we would follow you in it, and if you march forth to Barkul-Ghimad we would march with you. We would never say what the Children of Israel said to Musa, `So go, you and your Lord, and fight you two, we are sitting right here.' Rather, we say march forth and we shall march forth with you; and before you, and to your right and left shall we fight." The Prophet also asked them for their opinion about where they should set up camp at Badr. Al-Mundhir bin `Amr suggested to camp close to the enemy, for he wished to acquire martyrdom.
Concerning the battle of Uhud, the Messenger ﷺ asked the Companions if they should fortify themselves in Al-Madinah or go out to meet the enemy, and the majority of them requested that they go out to meet the enemy, and he did. He also took their advice on the day of Khandaq (the Trench) about conducting a peace treaty with some of the tribes of Al-Ahzab (the Confederates), in return for giving them one-third of the fruits of Al-Madinah. However, Sa`d bin `Ubadah and Sa`d bin Mu`adh rejected this offer and the Prophet went ahead with their advice. The Prophet also asked them if they should attack the idolators on the Day of Hudaybiyyah, and Abu Bakr disagreed, saying, "We did not come here to fight anyone. Rather, we came to perform `Umrah." The Prophet agreed.
On the day of Ifk, (i.e. the false accusation), the Messenger of Allah ﷺ said to them, "O Muslims! Give me your advice about some men who falsely accused my wife (`A'ishah). By Allah! I never knew of any evil to come from my wife. And they accused whom They accused he from whom I only knew righteous conduct, by Allah!" The Prophet asked `Ali and Usamah about divorcing `A'ishah. In summary, the Prophet used to take his Companions' advice for battles and other important events.
Ibn Majah recorded that Abu Hurayrah said that the Prophet said;
«الْمُسْتَشَارُ مُؤْتَمَن»
(The one whom advice is sought from is to be entrusted) tThis was recorded by Abu Dawud, At-Tirmidhi, and An-Nasa'i who graded it Hasan.
Trust in Allah After Taking the Decision
Allah's statement,
فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ
(Then when you have taken a decision, put your trust in Allah,) means, if you conduct the required consultation and you then make a decision, trust in Allah over your decision,
إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُتَوَكِّلِينَ
(certainly, Allah loves those who put their trust (in Him)).
Allah's statement,
إِن يَنصُرْكُمُ اللَّهُ فَلاَ غَالِبَ لَكُمْ وَإِن يَخْذُلْكُمْ فَمَن ذَا الَّذِى يَنصُرُكُم مِّنْ بَعْدِهِ وَعَلَى اللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ
(If Allah helps you, none can overcome you; and if He forsakes you, who is there after Him that can help you And in Allah (Alone) let believers put their trust), is similar to His statement that we mentioned earlier,
وَمَا النَّصْرُ إِلاَّ مِنْ عِندِ اللَّهِ الْعَزِيزِ الْحَكِيمِ
(And there is no victory except from Allah the Almighty, the All-Wise) 3:126.
Allah next commands the believers to trust in Him,
وَعَلَى اللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ
(And in Allah (Alone) let believers put their trust).
Treachery with the Spoils of War was not a Trait of the Prophet
Allah said,
وَمَا كَانَ لِنَبِىٍّ أَنْ يَغُلَّ
(It is not for any Prophet to illegally take a part of the booty,)
Ibn `Abbas, Mujahid and Al-Hasan said that the Ayah means, "It is not for a Prophet to breach the trust." Ibn Jarir recorded that, Ibn `Abbas said that, this Ayah,
وَمَا كَانَ لِنَبِىٍّ أَنْ يَغُلَّ
(It is not for any Prophet to illegally take a part of the booty,) was revealed in connection with a red robe that was missing from the spoils of war of Badr. Some people said that the Messenger of Allah ﷺ might have taken it. When this rumor circulated, Allah sent down,
وَمَا كَانَ لِنَبِىٍّ أَنْ يَغُلَّ وَمَن يَغْلُلْ يَأْتِ بِمَا غَلَّ يَوْمَ الْقِيَـمَةِ
(It is not for any Prophet to illegally take a part of the booty, and whosoever is deceitful with the booty, he shall bring forth on the Day of Resurrection that which he took.)
This was also recorded by Abu Dawud and At-Tirmidhi, who said "Hasan Gharib". This Ayah exonerates the Messenger of Allah ﷺ of all types of deceit and treachery, be it returning what was entrusted with him, dividing the spoils of war, etc.
Allah then said,
وَمَن يَغْلُلْ يَأْتِ بِمَا غَلَّ يَوْمَ الْقِيَـمَةِ ثُمَّ تُوَفَّى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَهُمْ لاَ يُظْلَمُونَ
(and whosoever is deceitful with the booty, he shall bring forth on the Day of Resurrection that which he took. Then every person shall be paid in full what he has earned, and they shall not be dealt with unjustly.)
This Ayah contains a stern warning and threat against Ghulul stealing from the booty, and there are also Hadiths, that prohibit such practice. Imam Ahmad recorded that Abu Malik Al-Ashja`i said that the Prophet said,
«أَعْظَمُ الْغُلُولِ عِنْدَ اللهِ ذِرَاعٌ مِنَ الْأَرْضِ، تَجِدُون الرَّجُلَيْنِ جَارَيْنِ فِي الْأَرْضِ أو فِي الدَّارِ فَيَقْطَعُ أَحَدُهُمَا مِنْ حَظِّ صَاحِبِه ذِرَاعًا، فَإِذَا اقْتَطَعَهُ، طُوِّقَهُ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ إِلى يَوْمِ الْقِيَامَة»
(The worst Ghulul (i.e. stealing) with Allah is a yard of land, that is, when you find two neighbors in a land or home and one of them illegally acquires a yard of his neighbor's land. When he does, he will be tied with it from the seven earths until the Day of Resurrection.)
Imam Ahmad recorded that Abu Humayd As-Sa`idi said, "The Prophet appointed a man from the tribe of Al-Azd, called Ibn Al-Lutbiyyah, to collect the Zakah. When he returned he said, `This (portion) is for you and this has been given to me as a gift.' The Prophet stood on the Minbar and said,
«مَا بَالُ الْعَامِلِ نَبْعَثُهُ فَيَجِي فَيَقُولُ: هَذَا لَكُمْ، وَهَذَا أُهْدِيَ لِي، أَفَلَا جَلَسَ فِي بَيْتِ أَبِيهِ وَأُمِّهِ فَيَنْظُرُ أَيُهْدَى إِلَيْهِ أَمْ لَا؟ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَا يَأْتِي أَحَدٌ مِنْكُمْ مِنْهَا بِشَيْءٍ إِلَّا جَاءَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلى رَقَبَتِهِ، إِنْ كَانَ بَعِيرًا لَهُ رُغَاءٌ، أَوْ بَقَرَةٌ لَهَا خُوَارٌ، أَوْ شَاةٌ تَيْعَر»
ثم رفع يديه حتى رأينا عفرة إبطيه، ثم قال:
«اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْت»
ثلاثًا.(What is the matter with a man whom we appoint to collect Zakah, when he returns he said, `This is for you and this has been given to me as a gift.' Why hadn't he stayed in his father's or mother's house to see whether he would be given presents or not By Him in Whose Hand my life is, whoever takes anything from the resources of the Zakah (unlawfully), he will carry it on his neck on the Day of Resurrection; if it be a camel, it will be grunting; if a cow, it will be mooing; and if a sheep, it will be bleating. The Prophet then raised his hands till we saw the whiteness of his armpits, and he said thrice, `O Allah! Haven't I conveyed Your Message.')"
Hisham bin `Urwah added that Abu Humayd said, "I have seen him with my eyes and heard him with my ears, and ask Zayd bin Thabit." This is recorded in the Two Sahihs .
In the book of Ahkam of his Sunan, Abu `Isa At-Tirmidhi recorded that Mu`adh bin Jabal said, "The Messenger of Allah ﷺ sent me to Yemen, but when I started on the journey, he sent for me to come back and said,
«أَتَدْرِي لِمَ بَعَثْتُ إِلَيْكَ؟ لَا تُصِيبَنَّ شَيْئًا بِغَيْرِ إِذْنِي، فَإِنَّهُ غُلُول»
(Do you know why I summoned you back Do not take anything without my permission, for if you do, it will be Ghulul.)
وَمَن يَغْلُلْ يَأْتِ بِمَا غَلَّ يَوْمَ الْقِيَـمَةِ
(and whosoever deceives his companions over the booty, he shall bring forth on the Day of Resurrection that which he took).
«لِهذَا دَعَوْتُكَ فَامْضِ لِعَمَلِك»
(This is why I summoned you, so now go and fulfill your mission.)" At-Tirmidhi said, "This Hadith is Hasan Gharib."
In addition, Imam Ahmad recorded that Abu Hurayrah said, "The Prophet got up among us and mentioned Ghulul and emphasized its magnitude. He then said,
«لَا أُلْفِيَنَّ أَحَدَكُمْ يَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلى رَقَبَتِهِ بَعِيرٌ لَهُ رُغَاءٌ، فَيَقُولُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَغِثْنِي، فَأَقُولُ: لَا أَمْلِكُ لَكَ مِنَ اللهِ شَيْئًا، قَدْ أَبْلَغْتُكَ، لَا أُلْفِيَنَّ أَحَدَكُمْ يَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلى رَقَبَتِهِ فَرَسٌ لَهَا حَمْحَمَةٌ، فَيَقُولُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَغِثْنِي، فَأَقُولُ: لَا أَمْلِكُ لَكَ مِنَ اللهِ شَيْئًا، قَدْ أَبْلَغْتُكَ، لَا أُلْفِيَنَّ أَحَدَكُمْ يَجِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلى رَقَبَتِهِ رِقَاعٌ تَخْفِقُ فَيَقُولُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَغِثْنِي، فَأَقُولُ: لَا أَمْلِكُ لَكَ مِنَ اللهِ شَيْئًا، قَدْ أَبْلَغْتُكَ، لَا أُلْفِيَنَّ أَحَدَكُمْ يَجِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلى رَقَبَتِهِ صَامِتٌ، فَيقُولُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَغِثْنِي، فَأَقُولُ: لَا أَمْلِكُ لَكَ مِنَ اللهِ شَيْئًا، قَدْ أَبْلَغْتُك»
(I will not like to see anyone among you on the Day of Resurrection, carrying a grunting camel over his neck. Such a man will say, 'O Allah's Messenger! Intercede on my behalf,' and I will say, 'I can't intercede for you with Allah, for I have conveyed (Allah's Message) to you.' I will not like to see any of you coming on the Day of Resurrection while carrying a neighing horse over his neck. Such a man will be saying, `O Allah's Messenger! Intercede on my behalf,' and I will reply, 'I can't intercede for you with Allah, for I have conveyed (Allah's Message) to you.' I will not like to see any of you coming on the Day of Resurrection while carrying clothes that will be fluttering, and the man will say, 'O Allah's Messenger! Intercede (with Allah) for me, ' and I will say, 'I can't help you with Allah, for I have conveyed (Allah's Message) to you.' I will not like to see any of you coming on the Day of Resurrection while carrying gold and silver on his neck. This person will say, 'O Allah's Messenger! Intercede (with Allah) for me.' And I will say, 'I can't help you with Allah, for I have conveyed (Allah's Message) to you.')" This Hadith was recorded in the Two Sahihs .
Imam Ahmad recorded that `Umar bin Al-Khattab said, "During the day (battle) of Khaybar, several Companions of the Messenger of Allah ﷺ came to him and said, `So-and-so died as a martyr, so-and-so died as a martyr.' When they mentioned a certain man that died as a martyr, the Messenger of Allah ﷺ said,
«كَلَّا إِنِّي رَأَيْتُهُ فِي النَّارِ فِي بُرْدَةٍ غَلَّهَا أَوْ عَبَاءَةٍ »
(No. I have seen him in the Fire because of a robe that he stole (from the booty).)
The Messenger of Allah ﷺ then said,
«يَا ابْنَ الْخَطَّابِ، اذْهَبْ فَنَادِ فِي النَّاسِ: إِنَّهُ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا الْمُؤْمِنُون»
(O Ibn Al-Khattab! Go and announce to the people that only the faithful shall enter Paradise.)
So I went out and proclaimed that none except the faithful shall enter Paradise." This was recorded by Muslim and At-Tirmidhi, who said "Hasan Sahih".
The Honest and Dishonest are Not Similar
Allah said,
أَفَمَنِ اتَّبَعَ رِضْوَنَ اللَّهِ كَمَن بَآءَ بِسَخْطٍ مِّنَ اللَّهِ وَمَأْوَاهُ جَهَنَّمُ وَبِئْسَ الْمَصِيرُ
(Is then one who follows (seeks) the pleasure of Allah like the one who draws on himself the wrath of Allah His abode is Hell, and worse indeed is that destination!) 3:162,
This refers to those seeking what pleases Allah by obeying His legislation, thus earning His pleasure and tremendous rewards, while being saved from His severe torment. This type of person is not similar to one who earns Allah's anger, has no means of escaping it and who will reside in Jahannam on the Day of Resurrection, and what an evil destination it is.
There are many similar statements in the Qur'an, such as,
أَفَمَن يَعْلَمُ أَنَّمَآ أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَبِّكَ الْحَقُّ كَمَنْ هُوَ أَعْمَى
(Shall he then who knows that what has been revealed unto you (O Muhammad ) from your Lord is the truth be like him who is blind) 13:19, and,
أَفَمَن وَعَدْنَـهُ وَعْداً حَسَناً فَهُوَ لاَقِيهِ كَمَن مَّتَّعْنَاهُ مَتَـعَ الْحَيَوةِ الدُّنْيَا
(Is he whom We have promised an excellent promise (Paradise) which he will find true, like him whom We have made to enjoy the luxuries of the life of (this) world) 28:61.
Allah then said,
هُمْ دَرَجَـتٌ عِندَ اللَّهِ
(They are in varying grades with Allah, ) 3:163 meaning, the people of righteousness and the people of evil are in grades, as Al-Hasan Al-Basri and Muhammad bin Ishaq said. Abu `Ubaydah and Al-Kisa'i said that this Ayah refers to degrees, meaning there are various degrees and dwellings in Paradise, as well as, various degrees and dwellings in the Fire. In another Ayah, Allah said,
وَلِكُلٍّ دَرَجَـتٌ مِّمَّا عَمِلُواْ
(For all there will be degrees (or ranks) according to what they did) 6:132. Next, Allah said,
وَاللَّهُ بَصِيرٌ بِمَا يَعْمَلُونَ
(and Allah is All-Seer of what they do), and He will compensate or punish them, and will never rid them of a good deed, or increase their evil deeds. Rather, each will be treated according to his deeds.
The Magnificent Blessing in the Advent of Our Prophet Muhammad
Allah the Most High said:
لَقَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَى الْمُؤمِنِينَ إِذْ بَعَثَ فِيهِمْ رَسُولاً مِّنْ أَنفُسِهِمْ
(Indeed Allah conferred a great favor on the believers when He sent among them a Messenger from among themselves,)
Meaning, from their own kind, so that it is possible for them to speak with him, ask him questions, associate with him, and benefit from him. Just as Allah said:
وَمِنْ ءايَـتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُم مِّنْ أَنفُسِكُمْ أَزْوَجاً لِّتَسْكُنُواْ إِلَيْهَا
(And among His signs is that he created for them mates, that they may find rest in.)
Meaning; of their own kind. And Allah said;
قُلْ إِنَّمَآ أَنَاْ بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ يُوحَى إِلَىَّ أَنَّمَآ إِلَـهُكُمْ إِلَـهٌ وَاحِدٌ
(Say: "I am only a man like you. It has been revealed to me that your God is One God") 18:110.
وَمَآ أَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنَ الْمُرْسَلِينَ إِلاَّ إِنَّهُمْ لَيَأْكُلُونَ الطَّعَامَ وَيَمْشُونَ فِى الاٌّسْوَاقِ
(And We never sent before you any of the Messengers but verily, they ate food and walked in the markets) 25:20.
وَمَآ أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ إِلاَّ رِجَالاً نُّوحِى إِلَيْهِمْ مِّنْ أَهْلِ الْقُرَى
(And We sent not before you any but men unto whom We revealed, from among the people of townships) 12:109, and,
يَـمَعْشَرَ الْجِنِّ وَالإِنْسِ أَلَمْ يَأْتِكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ
(O you assembly of Jinn and mankind! "Did not there come to you Messengers from among you...") 6:130.
Allah's favor is perfected when His Messenger to the people is from their own kind, so that they are able to talk to him and inquire about the meanings of Allah's Word. This is why Allah said,
يَتْلُواْ عَلَيْهِمْ ءَايَـتِهِ
(reciting unto them His verses) 3:164, the Qur'an,
وَيُزَكِّيهِمْ
(and purifying them), commanding them to do righteous works and forbidding them from committing evil. This is how their hearts will be purified and cleansed of the sin and evil that used to fill them when they were disbelievers and ignorant.
وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَـبَ وَالْحِكْمَةَ
(and instructing them (in) the Book and the Hikmah,) the Qur'an and the Sunnah,
وَإِن كَانُواْ مِن قَبْلِ
(while before that they had been), before sending this Prophet, Muhammad ,
لَفِى ضَلَـلٍ مُّبِينٍ
(in manifest error. ) indulging in plain and unequivocal error and ignorance that are clear to everyone.
اسوہ حسنہ کے مالک نبی کریم ﷺ اللہ تعالیٰ اپنے نبی پر اور مسلمانوں پر اپنا احسان جتاتا ہے کہ نبی کے ماننے والوں اور ان کی نافرمانی سے بچنے والوں کے لئے اللہ نے نبی کے دل کو نرم کردیا ہے اگر اس کی رحمت نہ ہوتی تو اتنی نرمی اور آسانی نہ ہوتی، حضرت قتادہ فرماتے ہیں ما صلہ ہے جو معرفہ کے ساتھ عرب ملا دیا کرتے ہیں جیسے آیت (فَبِمَا نَقْضِهِمْ مِّيْثَاقَهُمْ) 4۔ النسآء :155) میں اور نکرہ کے ساتھ بھی ملا دیتے ہیں جیسے آیت (عما قلیل) میں اسی طرح یہاں ہے، یعنی اللہ کی رحمت سے تو ان کے لئے نرم دل ہوا ہے، حضرت حسن بصری فرماتے ہیں یہ حضور ﷺ کے اخلاق ہیں جن پر آپ کی بعثت ہوئی ہے یہ آیت ٹھیک اس آیت جیسی ہے آیت (لقد جاء کم) الخ، یعنی تمہارے پاس تم ہی میں سے ایک رسول آئے جس پر تمہاری مشقت گراں گزرتی ہے جو تمہاری بھلائی کے حریص ہیں جو مومنوں پر شفقت اور رحم کرنے والے ہیں، مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابو امامہ باہلی کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا اے ابو امامہ بعض مومن وہ ہیں جن کے لئے میرا دل تڑپ اٹھتا ہے، (فظاً) سے مراد یہاں سخت کلام ہے۔ کیونکہ اس کے بعد (غلیظ القلب) کا لفظ ہے، یعنی سخت دل، فرمان ہے کہ نبی اکرم تم سخت کلام اور سخت دل ہوتے تو یہ لوگ تمہارے پاس سے منتشر ہوجاتے اور تمہیں چھوڑ دیتے لیکن اللہ تعالیٰ نے انہیں آپ کے جاں نثار و شیدا بنادیا ہے اور آپ کو بھی ان کے لئے محبت اور نرمی عطا فرمائی، اور تاکہ ان کے دل آپ سے لگے رہیں حضرت عبداللہ بن عمرو فرماتے ہیں میں رسول اللہ ﷺ کی صفوں کو اگلی کتابوں میں بھی پاتا ہوں کہ آپ سخت کلام سخت دل بازاروں میں شور مچانے والے اور برائی کا بدلہ لینے والے نہیں بلکہ درگذر کرنے والے اور معافی دینے والے ہیں، ترمذی کی ایک غریب حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں لوگوں کی آؤ بھگت خیر خواہی اور چشم پوشی کا مجھے اللہ کی جانب سے اسی طرح کا حکم کیا گیا ہے جس طرح فرائض کی پابندی کا، چناچہ اس آیت میں بھی فرمان ہے تو ان سے درگذر کر، ان کے لئے استغفار کر، اور کاموں کا مشورہ ان سے لیا کر، اسی لئے حضور ﷺ کی عادت مبارک تھی کہ لوگوں کو خوش کرنے کے لئے اپنے کاموں میں ان سے مشورہ ان سے لیا کرو، اسی لئے حضور ﷺ کی عادت مبارک تھی کہ لوگوں کو خوش کرنے کے لئے اپنے کاموں میں ان سے مشورہ کیا کرتے تھے، جیسے کہ بدر والے دن قافلے کی طرف بڑھنے کے لئے مشورہ لیا اور صحابہ نے کہا کہ اگر آپ سمندر کے کنارے پر کھڑا کر کے ہمیں فرمائیں گے کہ اس میں کود پڑو اور اس پار نکلو تو ہم سرتابی نہ کریں گے اور اگر ہمیں برک انعماد تک لے جانا چاہیں تو بھی ہم آپ کے ساتھ ہیں ہم وہ نہیں کہ موسیٰ ؑ کے صحابیوں کی طرح کہہ دیں کہ تو اور تیرا رب لڑ لے ہم تو یہاں بیٹھے ہیں بلکہ ہم تو آپ کے دائیں بائیں صفیں باندھ کر جم کر دشمنوں کا مقابلہ کریں گے، اسی طرح آپ نے اس بات کا مشورہ بھی لیا کہ منزل کہاں ہو ؟ اور منذر بن عمرو نے مشورہ دیا کہ ان لوگوں سے آگے بڑھ کر ان کے سامنے ہو، اسی طرح احد کے موقع پر بھی آپ نے مشورہ کیا کہ آیا مدینہ میں رہ کر لڑیں یا باہر نکلیں اور جمہور کی رائے یہی ہوئی کہ باہر میدان میں جا کر لڑنا چاہئے چناچہ آپ نے یہی کیا اور آپ نے جنگ احزاب کے موقع پر بھی اپنے اصحاب سے مشورہ کیا کہ مدینہ کے پھلوں کی پیداوار کا تہائی حصہ دینے کا وعدہ کر کے مخالفین سے مصالحت کرلی جائے ؟ تو حضرت سعد بن عبادہ اور حضرت سعد بن معاذ ؓ نے اس کا انکار کیا اور آپ نے مجھے اس مشورے کو قبول کرلیا اور مصالحت چھوڑ دی، اسی طرح آپ نے حدیبیہ والے دن اس امر کا مشورہ کیا کہ آیا مشرکین کے گھروں پر دھاوا بول دیں ؟ تو حضرت صدیق نے فرمایا ہم کسی سے لڑنے نہیں آئے ہمارا ارادہ صرف عمرے کا ہے چناچہ اسے بھی آپ نے منظور فرما لیا، اسی طرح جب منافقین نے آپ کی بیوی صاحبہ ام المومنین حضرت عائشہ ؓ پر تہمت لگائی تو آپ نے فرمایا اے مسلمانو مجھے مشورہ دو کہ ان لوگوں کا میں کیا کروں جو میرے گھر والوں کو بدنام کر رہے ہیں۔ اللہ کی قسم میرے گھر والوں میں کوئی برائی نہیں اور جس شخص کے ساتھ تہمت لگا رہے ہیں واللہ میرے نزدیک تو وہ بھی بھلا آدمی ہے اور آپ نے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کی جدائی کے لئے حضرت علی اور حضرت اسامہ سے مشورہ لیا، غرض لڑائی کے کاموں میں اور دیگر امور میں بھی حضور ﷺ صحابہ سے مشورہ کیا کرتے تھی، اس میں علماء کا اختلاف ہے کہ یہ مشورے کا حکم آپ کو بطور وجوب کے دیا تھا یا اختیاری امر تھا تاکہ لوگوں کے دل خوش رہیں، حضرت ابن عباس فرماتے ہیں اس آیت میں حضرت ابوبکر و عمر سے مشورہ کرنے کا حکم ہے (حاکم) یہ دونوں حضور ﷺ کے حواری اور آپ کے وزیر تھے اور مسلمانوں کے باپ ہیں (کلبی) مسند احمد میں ہے رسول ﷺ نے ان دونوں بزرگوں سے فرمایا اگر تمہاری دونوں کی کسی امر میں ایک رائے ہوجائے تو میں تمہارے خلاف کبھی نہ کروں گا، حضور ﷺ سے سوال ہوتا ہے کہ عزم کے کیا معنی ہیں تو آپ نے فرمایا جب عقلمند لوگوں سے مشورہ کیا جائے پھر ان کی مان لینا (ابن مردویہ) ابن ماجہ میں آپ کا یہ فرمان بھی مروی ہے کہ جس سے مشورہ کیا جائے وہ امین ہے، ابو داؤد ترمذی نسائی وغیرہ میں بھی یہ روایت ہے، امام ترمذی علیہ الرحمہ اسے حسن کہتے ہیں، اور روایت میں ہے کہ جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی سے مشورہ لے تو اسے چاہئے بھلی بات کا مشورہ دے (ابن ماجہ) پھر فرمایا جب تم کسی کام کا مشورہ کر چکو پھر اس کے کرنے کا پختہ ارادہ ہوجائے تو اب اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرو اللہ تعالیٰ بھروسہ کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔ پھر دوسری آیت کا ارشاد بالکل اسی طرح کا ہے جو پہلے گذرا ہے کہ آیت (ۭوَمَا النَّصْرُ اِلَّا مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ الْعَزِيْزِ الْحَكِيْمِ) 3۔ آل عمران :26) یعنی مدد صرف اللہ ہی کی طرف سے ہے جو غالب ہے اور حکمتوں والا ہے، پھر حکم دیتا ہے کہ مومنوں کو توکل اور بھروسہ ذات باری پر ہی ہونا چاہئے۔ پھر فرماتا ہے نبی کو لائق نہیں کہ وہ خیانت کرے، ابن عباس فرماتے ہیں بدر کے دن ایک سرخ رنگ چادر نہیں ملتی تھی تو لوگوں کے کہا شاید رسول اللہ ﷺ نے لے لی ہو اس پر یہ آیت اتری (ترمذی) اور روایت میں ہے کہ منافقوں نے حضور ﷺ پر کسی چیز کی تہمت لگائی تھی جس پر آیت (وما کان) اتری، پس ثابت ہوا کہ اللہ کے رسول رسولوں کے سردار ﷺ پر ہر قسم کی خیانت سے بیجا طرف داری سے مبرا اور منزہ ہیں خواہ وہ مال کی تقسیم ہو یا امانت کی ادائیگی ہو، حضرت ابن عباس سے یہ بھی مروی ہے کہ نبی جانب داری نہیں کرسکتا کہ بعض لشکریوں کو دے اور بعض کو ان کا حصہ نہ پہنچائے، اس آیت کی یہ تفسیر بھی کی گئی ہے کہ یہ نہیں ہوسکتا کہ نبی اللہ کی نازل کردہ کسی چیز کو چھپالے اور امت تک نہ پہنچائے۔ یغل کے معنی اور خائن یغل کو " یے " کے پیش سے بھی پڑھا گیا ہے تو معنی یہ ہوں گے کہ نبی کی ذات ایسی نہیں کہ ان کے پاس والے ان کی خیانت کریں، چناچہ حضرت قتادہ اور حضرت ربیع سے مروی ہے کہ بدر کے دن آپ کے اصحاب نے مال غنیمت میں سے تقسیم سے پہلے کچھ لیے لیا تھا اس پر یہ آیت اتری (ابن جریر) پھر خائن لوگوں کو ڈرایا جاتا ہے اور سخت عذاب کی خبر دی جاتی ہے۔ احادیث میں بھی اس کی بابت کچھ سخت وعید ہے چناچہ مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ سب سے بڑا خیانت کرنے والا وہ شخص ہے جو پڑوسی کے کھیت کی زمین یا اس کے گھر کی زمین دبا لے اگر ایک ہاتھ زمین بھی ناحق اپنی طرف کرلے گا تو ساتوں زمینوں کا طوق اسے پہنایا جائے گا مسند کی ایک اور حدیث میں ہے جسے ہم حاکم بنائے اگر اس کا گھر نہ ہو تو وہ گھر بنا سکتا ہے، بیوی نہ ہو تو کرسکتا ہے، اس کے سوا اگر کچھ اور لے گا تو خائن ہوگا، یہ حدیث ابو داؤد میں بھی دیگر الفاظ سے منقول ہے، ابن جریر کی حدیث میں ہے۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں میں تم میں سے اس شخص کو پہچانتا ہوں جو چلاتی ہوئی بکری کو اٹھائے ہوئے قیامت کے دن آئے گا اور میرا نام لے لے کر مجھے پکارے گا میں کہہ دوں گا کہ میں اللہ تعالیٰ کے پاس تجھے کام نہیں آسکتا میں تو پہنچا چکا تھا اسے بھی میں پہچانتا ہوں جو اونٹ کو اٹھائے ہوئے آئے گا جو بول رہا ہوگا یہ بھی کہے گا کہ اے محمد ﷺ اے محمد ﷺ میں کہوں گا میں تیرے لئے اللہ کے پاس کسی چیز کا مالک نہیں ہوں میں تو تبلیغ کرچکا تھا اور میں اسے بھی پہچانوں گا جو اسی طرح گھوڑے کو لادے ہوئے آئے گا جو ہنہنا رہا ہوگا وہ بھی مجھے پکارے گا اور میں کہہ دوں گا کہ میں تو پہنچا چکا تھا آج کچھ کام نہیں آسکتا اور اس شخص کو بھی میں پہچانتا ہوں جو کھالیں لئے ہوئے حاضر ہوگا اور کہہ رہا ہو یا محمد ﷺ یا محمد ﷺ میں کہوں گا میں اللہ کے پاس کسی نفع کا اختیار نہیں رکھتا میں تجھے حق و باطل بتاچکا تھا، یہ حدیث صحاح ستہ میں نہیں، مسند احمد میں ہے کہ حضور ﷺ نے قبیلہ ازد کے ایک شخص کو حاکم بنا کر بھیجا جسے ابن البتیہہ کہتے تھے یہ جب زکوٰۃ وصول کر کے آئے تو کہنے لگے یہ تو تمہارا ہے اور یہ مجھے تحفہ میں ملا ہے نبی ﷺ منبر پر کھڑے ہوگئے اور فرمانے لگے ان لوگوں کو کیا ہوگیا ہے ہم انہیں کسی کام پر بھیجتے ہیں تو آ کر کہتے ہیں یہ تمہارا اور یہ ہمارے تحفے کا یہ اپنے گھروں میں ہی بیٹھے رہتے پھر دیکھتے کہ انہیں تحفہ دیا جاتا ہے یا نہیں ؟ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ﷺ کی جان ہے تم میں سے جو کوئی اس میں سے کوئی چیز بھی لے لے گا وہ قیامت کے دن اسے گردن پر اٹھائے ہوئے لائے گا اونٹ ہے تو چلا رہا ہوگا۔ گائے ہے تو بول رہی ہوگی بکری ہے تو چیخ رہی ہوگی پھر آپ نے ہاتھ اس قدر بلند کئے کہ بغلوں کی سفیدی ہمیں نظر آنے لگی اور تین مرتبہ فرمایا اے اللہ کیا میں نے پہنچا دیا ؟ مسند احمد کی ایک ضعیف حدیث میں ہے ایسے تحصیلداروں اور حاکموں کو جو تحفے ملیں وہ خیانت ہیں یہ روایت صرف مسند احمد میں ضعیف ہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا اگلی مطول روایت کا ماحاصل ہے، ترمذی میں ہے حضرت معاذ بن جبل میں ؓ فرماتے ہیں مجھے رسول اللہ ﷺ نے یمن میں بھیجا جب میں چل دیا تو آپ نے مجھے بلوایا جب میں واپس آیا تو فرمایا میں نے تمہیں صرف ایک بات کہنے کے لئے بلوایا ہے کہ میری اجازت کے بغیر تم جو کچھ لو گے وہ خیانت ہے اور ہر خائن اپنی خیانت کو لئے ہوئے قیامت کے دن آئے گا بس یہی کہنا تھا جاؤ اپنے کام میں لگو، مسند احمد میں ہے کہ حضور ﷺ نے ایک روز کھڑے ہو کر خیانت کا ذکر کیا اور اس کے بڑے بڑے گناہ اور وبال بیان فرما کر ہمیں ڈرایا پھر جانوروں کو لئے ہوئے قیامت کے دن آئے حضور ﷺ سے فریاد رسی کی عرض کرنے اور آپ کے انکار کردینے کا ذکر کیا جو پہلے بیان ہوچکا ہے اس میں سونے چاندی کا ذکر بھی ہے، یہ حدیث بخاری مسلم میں بھی ہے، مسند احمد میں ہے کہ رسول مقبول ﷺ نے فرمایا اے لوگ جسے ہم عامل بنائیں اور پھر وہ ہم سے ایک سوئی یا اس سے بھی ہلکی چیز چھپائے تو وہ خیانت ہے جسے لے کر وہ قیامت کے دن حاضر ہوگا، یہ سن کر ایک سانولے رنگ کے انصاری حضرت سعید بن عبادہ ؓ کھڑے ہو کر کہنے لگے حضور ﷺ میں تو عامل بننے سے دستبردار ہوتا ہوں، فرمایا کیوں ؟ کہا آپ نے جو اس طرح فرمایا، آپ نے فرمایا ہاں اب بھی سنو ہم کوئی کام سونپیں اسے چاہئے کہ تھوڑا بہت سب کچھ لائے جو اسے دیا جائے وہ لے لے اور جس سے روک دیا جائے رک جائے، یہ حدیث مسلم اور ابو داؤد میں بھی ہے حضرت رافع فرماتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ عموماً نماز عصر کے بعد بنو عبدالاشہل کے ہاں تشریف لے جاتے تھے اور تقریباً مغرب تک وہیں مجلس رہتی تھی ایک دن مغرب کے وقت وہاں سے واپس چلے وقت تنگ تھا تیز تیز چل رہے تھے بقیع میں آ کر فرمانے لگے تف ہے تجھے تف ہے تجھے میں سمجھا آپ مجھے فرما رہے ہیں چناچہ میں اپنے کپڑے ٹھیک ٹھاک کرنے لگا اور پیچھے رہ گیا بلکہ یہ قبر فلاں شخص کی ہے اسے میں نے قبیلے کی طرف عامل بنا کر بھیجا تھا اس نے ایک چادر لے لی وہ چادر اب آگ بن کر اس کے اوپر بھڑک رہی ہے۔ (مسند احمد) حضرت عبادہ بن صامت ؓ فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺ مال غنیمت کے اونٹ کی پیٹھ کے چند بال لیتے پھر فرماتے میرا بھی اس میں وہی حق ہے جو تم میں سے کسی ایک کا، خیانت سے بچو خیانت کرنے والے کی رسوائی قیامت کے دن ہوگی سوئی دھاگے تک پہنچا دو اور اس سے حقیر چیز بھی اللہ تعالیٰ کی راہ میں نزدیک والوں اور دور والوں سے جہاد کرو، وطن میں بھی اور سفر میں بھی جہاد جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے جہاد کی وجہ سے اللہ تعالیٰ مشکلات سے اور رنج و غم سے نجات دیتا ہے، اللہ کی حدیں نزدیک و دور والوں میں جاری کرو اللہ کے بارے میں کسی ملامت کرنے کی ملامت تمہیں نہ روکے (مسند احمد) اس حدیث کا بعض حصہ ابن ماجہ میں بھی مروی ہے، حضرت ابو مسعود انصاری ؓ فرماتے ہیں کہ مجھے جب رسول اللہ ﷺ نے عامل بنا کر بھیجنا چاہا تو فرمایا اے ابو مسعود جاؤ ایسا نہ ہو کہ میں تمہیں قیامت کے دن اس حال میں پاؤں کہ تمہاری پیٹھ پر اونٹ ہو جو آواز نکال رہا ہو جسے تم نے خیانت سے لے لیا ہو، میں نے کہا حضور ﷺ پھر تو میں نہیں جاتا آپ نے فرمایا اچھا میں تمہیں زبردستی بھیجتا بھی نہیں (ابو داؤد) ابن مردویہ میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں اگر کوئی پتھر جہنم میں ڈالا جائے تو ستر سال تک چلتا رہے لیکن تہہ کو نہیں پہنچتا خیانت کی چیز کو اسی طرح جہنم میں پھینک دیا جائے گا، پھر خیانت والے سے کہا جائے گا جا اسے لے آ، یہی معنی ہیں اللہ کے اس فرمان کے آیت (ومن یغلل یات بما غل یوم القیامتہ) مسند احمد میں ہے کہ خیبر کی جنگ والے دن صحابہ کرام آنے لگے اور کہنے لگے فاں شہید ہے فلاں شہید ہے جب ایک شخص کی نسبت یہ کہا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہرگز نہیں میں نے اسے جہنم میں دیکھا ہے کیونکہ اس نے غنیمت کے مال کی ایک چادر خیانت کرلی تھی پھر آپ نے فرمایا اے عمر بن خطاب تم جاؤ اور لوگوں میں منادی کردو کہ جنت میں صرف ایماندار ہی جائیں گے چناچہ میں چلا اور سب میں یہ ندا کردی، یہ حدیث مسلم اور ترمذی میں بھی ہے امام ترمذی اسے حسن صحیح کہتے ہیں، ابن جریر میں ہے کہ ایک دن حضرت عمر نے حضرت عبداللہ بن انیس سے صدقات کے بارے میں تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ تم نے رسول اللہ ﷺ کا یہ فرمان نہیں سنا ؟ کہ آپ نے صدقات میں خیانت کرنے والے کی نسبت فرمایا اس میں جو شخص اونٹ یا بکری لے لے وہ قیامت والے دن اسے اٹھائے ہوئے آئے گا۔ حضرت عبداللہ نے فرمایا ہاں یہ روایت ابن ماجہ میں بھی ہے، ابن جریر میں حضرت سعد بن عبادہ سے مروی ہے کہ انہیں صدقات وصول کرنے کے لئے حضور ﷺ نے بھیجنا چاہا اور فرمایا اے سعد ایسا نہ ہو کہ قیامت کے دن تو بلبلاتے اونٹ کو اٹھا کر لائے تو حضرت سعد کہنے لگے کہ نہ میں اس عہدہ کو لوں اور نہ ایسا ہونے کا احتمال رہے چناچہ حضور ﷺ نے بھی اس کام سے انہیں معاف رکھا، مسند احمد میں ہے کہ حضرت مسلم بن عبدالملک کے ساتھ روم کی جنگ میں حضرت سالم بن عبداللہ بھی تھے ایک شخص کے اسباب میں کچھ خیانت کا مال بھی نکلا سردار لشکر نے حضرت سالم سے اس کے بارے میں فتویٰ پوچھا تو آپ نے فرمایا مجھ سے میرے باپ عبداللہ نے اور ان سے ان کی باپ عمر بن خطاب نے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس کے اسباب میں تم چوری کا مال پاؤ اسے جلا دو ، راوی کہتا ہے میرا خیال ہے یہ بھی فرمایا اور اسے سزا دو ، چناچہ جب اس کا مال بازار میں نکالا تو اس میں ایک قرآن شریف بھی تھا حضرت سالم سے پھر اس کی بابت پوچھا گیا آپ نے فرمایا اسے بیچ دو اور اس کی قیمت صدقہ کردو، یہ حدیث ابو داؤد اور ترمذی میں بھی ہے، امام علی بن مدینی اور امام بخاری وغیرہ فرماتے ہیں یہ حدیث منکر ہے، امام دارقطنی فرماتے ہیں صحیح یہ ہے کہ یہ حضرت سالم کا اپنا فتویٰ ہے، حضرت امام احمد اور ان کے ساتھیوں کا قول بھی یہی ہے، حضرت حسن بھی یہی کہتے ہیں حضرت علی فرماتے ہیں اس کا اسباب جلا دیا جائے اور اسے مملوک کی حد سے کم مارا جائے اور اس کا حصہ نہ دیا جائے، ابوحنیفہ مالک شافعی اور جمہور کا مذہب اس کے برخلاف ہے یہ کہتے ہیں اس کا اسباب نہ جلایا جائے بلکہ اس کے مثل اسے تعزیر یعنی سزا دی جائے، امام بخاری فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے خائن کے جنازے کی نماز سے انکار کردیا اور اس کا اسباب نہیں جلایا، واللہ اعلم، مسند احمد میں ہے کہ قرآن شریفوں کے جب تغیر کا حکم کیا گیا تو حضرت ابن مسعود فرمانے لگے تم میں سے جس سے ہو سکے وہ اسے چھپا کر رکھ لے کیونکہ جو شخص جس چپز کو چھپا کر رکھ لے گا اسی کو لے کر قیامت کے روز آئے گا، پھر فرمانے لگے میں نے ستر دفعہ رسول اللہ ﷺ کی زبانی پڑھا ہے پس کیا میں رسول اللہ ﷺ کی پڑھائی ہوئی قرأت کو چھوڑ دوں ؟ امام وکیع بھی اپنی تفسیر میں اسے لائے ہیں، ابو داؤد میں ہے کہ آنحضور ﷺ کی عادت مبارکہ تھی کہ جب مال غنیمت آتا تو آپ حضرت بلال ؓ کو حکم دیتے ایک مرتبہ ایک شخص اس کے بعد بالوں کا ایک گچھا لے کر آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ ﷺ میرے پاس یہ رہ گیا تھا آپ نے فرمایا کیا تو نے حضرت بلال کی منادی سنی تھی ؟ جو تین مرتبہ ہوئی تھی اس نے کہا ہاں فرمایا پھر تو اس وقت کیوں نہ لایا ؟ اس نے عذر بیان کیا آپ نے فرمایا اب میں ہرگز نہ لوں گا تو ہی اسے لے کر قیامت کے دن آنا۔ اللہ دو عالم پھر فرماتا ہے کہ اللہ کی شرع پر چل کر اللہ تعالیٰ کی رضامندی کے مستحق ہونے والے اس کے ثوابوں کو حاصل کرنے والے اس کے عذابوں سے بچنے والے اور وہ لوگ جو اللہ کے غضب کے مستحق ہوئے اور جو مر کر جہنم میں ٹھکانا پائیں گے کیا یہ دونوں برابر ہوسکتے ہیں ؟ قرآن کریم میں دوسری جگہ ہے کہ اللہ کی باتوں کو حق ماننے والا اور اس سے اندھا رہنے والا برابر نہیں، اسی طرح فرمان ہے کہ جن سے اللہ کا اچھا وعدہ ہوچکا ہے اور جو اسے پانے والا ہے وہ اور دنیا کا نفع حاصل کرنے والا برابر نہیں۔ پھر فرماتا ہے کہ بھلائی اور برائی والے مختلف درجوں پر ہیں، وہ جنت کے درجوں میں ہیں اور یہ جہنم کے طبقوں میں جیسا کہ دوسری جگہ ہے آیت (وَلِكُلٍّ دَرَجٰتٌ مِّمَّا عَمِلُوْا) 6۔ الانعام :32) ہر ایک کے لئے ان کے اعمال کے مطابق درجات ہیں۔ پھر فرمایا اللہ ان کے اعمال دیکھ رہا ہے اور عنقریب ان سب کو پورا بدلہ دے گا نہ نیکی ماری جائے گی اور نہ بدی بڑھائی جائے گی بلکہ عمل کے مطابق ہی جزا سزا ہوگی۔ پھر فرماتا ہے کہ مومنوں پر اللہ کا بڑا احسان ہے کہ انہی کی جنس سے ان میں اپنا پیغمبر بھیجا تاکہ یہ اس سے بات چیت کرسکیں پوچھ گچھ کرسکیں ساتھ بیٹھ اٹھ سکیں اور پوری طرح نفع حاصل کرسکیں، جیسے اور جگہ ہے آیت (وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓ اَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوْٓا اِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَّوَدَّةً وَّرَحْمَةً) 30۔ الروم :21) یہاں بھی یہی مطلب ہے کہ تمہاری جنس سے تمہارے جوڑے اس نے پیدا کئے اور جگہ ہے آیت (قُلْ اِنَّمَآ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ يُوْحٰٓى اِلَيَّ اَنَّمَآ اِلٰــهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ فَاسْتَقِيْمُوْٓا اِلَيْهِ وَاسْتَغْفِرُوْهُ ۭ وَوَيْلٌ لِّـلْمُشْرِكِيْنَ) 41۔ فصلت :6) کہہ دے کہ میں تو تم جیسا ہی انسان ہوں میری طرف وحی کی جاتی ہے کہ تم سب کا معبود ایک ہی ہے، اور فرمان ہے آیت (وَمَآ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنَ الْمُرْسَلِيْنَ اِلَّآ اِنَّهُمْ لَيَاْكُلُوْنَ الطَّعَامَ وَيَمْشُوْنَ فِي الْاَسْوَاقِ) 25۔ الفرقان :20) یعنی تجھ سے پہلے بھی ہم نے مردوں کو وحی کی تھی جو بستیوں کے رہنے والے تھے اور ارشاد ہے آیت (يٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ اَلَمْ يَاْتِكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ يَقُصُّوْنَ عَلَيْكُمْ اٰيٰتِيْ وَيُنْذِرُوْنَكُمْ لِقَاۗءَ يَوْمِكُمْ ھٰذَا) 6۔ الانعام :130) یعنی اے جنو اور انسانو کیا تمہارے پاس تم میں سے ہی رسول نہیں آئے تھے ؟ الغرض یہ پورا احسان ہے کہ مخلوق کی طرف انہی میں سے رسول بھیجے گئے تاکہ وہ پاس بیٹھ اٹھ کر بار بار سوال جواب کر کے پوری طرح دین سیکھ لیں، پس اللہ عزوجل فرماتا ہے کہ وہ اللہ کی آیتیں یعنی قرآن کریم انہیں پڑھاتا ہے اور اچھی باتوں کا حکم دے کر اور برائیوں سے روک کر ان کی جانوں کی پاکیزگی کرتا ہے اور شرک و جاہلیت کی ناپاکی کے اثرات سے زائل کرتا ہے اور انہیں کتاب اور سنت سکھاتا ہے۔ اس رسول ﷺ کے آنے سے پہلے تو یہ صاف بھٹکے ہوئے تھے ظاہر برائی اور پوری جہالت میں تھے۔
160
View Single
إِن يَنصُرۡكُمُ ٱللَّهُ فَلَا غَالِبَ لَكُمۡۖ وَإِن يَخۡذُلۡكُمۡ فَمَن ذَا ٱلَّذِي يَنصُرُكُم مِّنۢ بَعۡدِهِۦۗ وَعَلَى ٱللَّهِ فَلۡيَتَوَكَّلِ ٱلۡمُؤۡمِنُونَ
If Allah supports you, no one can overcome you; and if He forsakes you, who is there who can then help you? And in Allah only should the Muslims trust.
اگر اللہ تمہاری مدد فرمائے تو تم پر کوئی غالب نہیں آسکتا، اور اگر وہ تمہیں بے سہارا چھوڑ دے تو پھر کون ایسا ہے جو اس کے بعد تمہاری مدد کر سکے، اور مؤمنوں کو اللہ ہی پر بھروسہ رکھنا چاہئے
Tafsir Ibn Kathir
Among the Qualities of Our Prophet Muhammad are Mercy and Kindness
Allah addresses His Messenger and reminds him and the believers of the favor that He has made his heart and words soft for his Ummah, those who follow his command and refrain from what he prohibits.
فَبِمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللَّهِ لِنتَ لَهُمْ
(And by the mercy of Allah, you dealt with them gently) 3:159. meaning, who would have made you this kind, if it was not Allah's mercy for you and them. Qatadah said that,
فَبِمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللَّهِ لِنتَ لَهُمْ
(And by the mercy of Allah, you dealt with them gently) means, "With Allah's mercy you became this kind." Al-Hasan Al-Basri said that this, indeed, is the description of the behavior that Allah sent Muhammad with. This Ayah is similar to Allah's statement,
لَقَدْ جَآءَكُمْ رَسُولٌ مِّنْ أَنفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَّحِيمٌ
(Verily, there has come unto you a Messenger from among yourselves. It grieves him that you should receive any injury or difficulty. He is anxious over you (to be rightly guided, to repent to Allah); for the believers (he is) full of pity, kind, and merciful) 9:128. Allah said next,
وَلَوْ كُنْتَ فَظّاً غَلِيظَ الْقَلْبِ لاَنْفَضُّواْ مِنْ حَوْلِكَ
(And had you been severe and harsh-hearted, they would have broken away from about you;)
The severe person is he who utters harsh words, and,
غَلِيظَ الْقَلْبِ
(harsh-hearted) is the person whose heart is hard. Had this been the Prophet's behavior, "They would have scattered from around you. However, Allah gathered them and made you kind and soft with them, so that their hearts congregate around you." `Abdullah bin `Amr said that he read the description of the Messenger of Allah ﷺ in previous Books, "He is not severe, harsh, obscene in the marketplace or dealing evil for evil. Rather, he forgives and pardons."
The Order for Consultation and to Abide by it
Allah said,
فَاعْفُ عَنْهُمْ وَاسْتَغْفِرْ لَهُمْ وَشَاوِرْهُمْ فِى الاٌّمْرِ
(So pardon them, and ask (Allah's) forgiveness for them; and consult them in the affairs.)
The Messenger of Allah ﷺ used to ask his Companions for advice about various matters, to comfort their hearts, and so they actively implement the decision they reach. For instance, before the battle of Badr, the Prophet asked his Companions for if Muslims should intercept the caravan (led by Abu Sufyan). They said, "O Messenger of Allah! If you wish to cross the sea, we would follow you in it, and if you march forth to Barkul-Ghimad we would march with you. We would never say what the Children of Israel said to Musa, `So go, you and your Lord, and fight you two, we are sitting right here.' Rather, we say march forth and we shall march forth with you; and before you, and to your right and left shall we fight." The Prophet also asked them for their opinion about where they should set up camp at Badr. Al-Mundhir bin `Amr suggested to camp close to the enemy, for he wished to acquire martyrdom.
Concerning the battle of Uhud, the Messenger ﷺ asked the Companions if they should fortify themselves in Al-Madinah or go out to meet the enemy, and the majority of them requested that they go out to meet the enemy, and he did. He also took their advice on the day of Khandaq (the Trench) about conducting a peace treaty with some of the tribes of Al-Ahzab (the Confederates), in return for giving them one-third of the fruits of Al-Madinah. However, Sa`d bin `Ubadah and Sa`d bin Mu`adh rejected this offer and the Prophet went ahead with their advice. The Prophet also asked them if they should attack the idolators on the Day of Hudaybiyyah, and Abu Bakr disagreed, saying, "We did not come here to fight anyone. Rather, we came to perform `Umrah." The Prophet agreed.
On the day of Ifk, (i.e. the false accusation), the Messenger of Allah ﷺ said to them, "O Muslims! Give me your advice about some men who falsely accused my wife (`A'ishah). By Allah! I never knew of any evil to come from my wife. And they accused whom They accused he from whom I only knew righteous conduct, by Allah!" The Prophet asked `Ali and Usamah about divorcing `A'ishah. In summary, the Prophet used to take his Companions' advice for battles and other important events.
Ibn Majah recorded that Abu Hurayrah said that the Prophet said;
«الْمُسْتَشَارُ مُؤْتَمَن»
(The one whom advice is sought from is to be entrusted) tThis was recorded by Abu Dawud, At-Tirmidhi, and An-Nasa'i who graded it Hasan.
Trust in Allah After Taking the Decision
Allah's statement,
فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ
(Then when you have taken a decision, put your trust in Allah,) means, if you conduct the required consultation and you then make a decision, trust in Allah over your decision,
إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُتَوَكِّلِينَ
(certainly, Allah loves those who put their trust (in Him)).
Allah's statement,
إِن يَنصُرْكُمُ اللَّهُ فَلاَ غَالِبَ لَكُمْ وَإِن يَخْذُلْكُمْ فَمَن ذَا الَّذِى يَنصُرُكُم مِّنْ بَعْدِهِ وَعَلَى اللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ
(If Allah helps you, none can overcome you; and if He forsakes you, who is there after Him that can help you And in Allah (Alone) let believers put their trust), is similar to His statement that we mentioned earlier,
وَمَا النَّصْرُ إِلاَّ مِنْ عِندِ اللَّهِ الْعَزِيزِ الْحَكِيمِ
(And there is no victory except from Allah the Almighty, the All-Wise) 3:126.
Allah next commands the believers to trust in Him,
وَعَلَى اللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ
(And in Allah (Alone) let believers put their trust).
Treachery with the Spoils of War was not a Trait of the Prophet
Allah said,
وَمَا كَانَ لِنَبِىٍّ أَنْ يَغُلَّ
(It is not for any Prophet to illegally take a part of the booty,)
Ibn `Abbas, Mujahid and Al-Hasan said that the Ayah means, "It is not for a Prophet to breach the trust." Ibn Jarir recorded that, Ibn `Abbas said that, this Ayah,
وَمَا كَانَ لِنَبِىٍّ أَنْ يَغُلَّ
(It is not for any Prophet to illegally take a part of the booty,) was revealed in connection with a red robe that was missing from the spoils of war of Badr. Some people said that the Messenger of Allah ﷺ might have taken it. When this rumor circulated, Allah sent down,
وَمَا كَانَ لِنَبِىٍّ أَنْ يَغُلَّ وَمَن يَغْلُلْ يَأْتِ بِمَا غَلَّ يَوْمَ الْقِيَـمَةِ
(It is not for any Prophet to illegally take a part of the booty, and whosoever is deceitful with the booty, he shall bring forth on the Day of Resurrection that which he took.)
This was also recorded by Abu Dawud and At-Tirmidhi, who said "Hasan Gharib". This Ayah exonerates the Messenger of Allah ﷺ of all types of deceit and treachery, be it returning what was entrusted with him, dividing the spoils of war, etc.
Allah then said,
وَمَن يَغْلُلْ يَأْتِ بِمَا غَلَّ يَوْمَ الْقِيَـمَةِ ثُمَّ تُوَفَّى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَهُمْ لاَ يُظْلَمُونَ
(and whosoever is deceitful with the booty, he shall bring forth on the Day of Resurrection that which he took. Then every person shall be paid in full what he has earned, and they shall not be dealt with unjustly.)
This Ayah contains a stern warning and threat against Ghulul stealing from the booty, and there are also Hadiths, that prohibit such practice. Imam Ahmad recorded that Abu Malik Al-Ashja`i said that the Prophet said,
«أَعْظَمُ الْغُلُولِ عِنْدَ اللهِ ذِرَاعٌ مِنَ الْأَرْضِ، تَجِدُون الرَّجُلَيْنِ جَارَيْنِ فِي الْأَرْضِ أو فِي الدَّارِ فَيَقْطَعُ أَحَدُهُمَا مِنْ حَظِّ صَاحِبِه ذِرَاعًا، فَإِذَا اقْتَطَعَهُ، طُوِّقَهُ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ إِلى يَوْمِ الْقِيَامَة»
(The worst Ghulul (i.e. stealing) with Allah is a yard of land, that is, when you find two neighbors in a land or home and one of them illegally acquires a yard of his neighbor's land. When he does, he will be tied with it from the seven earths until the Day of Resurrection.)
Imam Ahmad recorded that Abu Humayd As-Sa`idi said, "The Prophet appointed a man from the tribe of Al-Azd, called Ibn Al-Lutbiyyah, to collect the Zakah. When he returned he said, `This (portion) is for you and this has been given to me as a gift.' The Prophet stood on the Minbar and said,
«مَا بَالُ الْعَامِلِ نَبْعَثُهُ فَيَجِي فَيَقُولُ: هَذَا لَكُمْ، وَهَذَا أُهْدِيَ لِي، أَفَلَا جَلَسَ فِي بَيْتِ أَبِيهِ وَأُمِّهِ فَيَنْظُرُ أَيُهْدَى إِلَيْهِ أَمْ لَا؟ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَا يَأْتِي أَحَدٌ مِنْكُمْ مِنْهَا بِشَيْءٍ إِلَّا جَاءَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلى رَقَبَتِهِ، إِنْ كَانَ بَعِيرًا لَهُ رُغَاءٌ، أَوْ بَقَرَةٌ لَهَا خُوَارٌ، أَوْ شَاةٌ تَيْعَر»
ثم رفع يديه حتى رأينا عفرة إبطيه، ثم قال:
«اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْت»
ثلاثًا.(What is the matter with a man whom we appoint to collect Zakah, when he returns he said, `This is for you and this has been given to me as a gift.' Why hadn't he stayed in his father's or mother's house to see whether he would be given presents or not By Him in Whose Hand my life is, whoever takes anything from the resources of the Zakah (unlawfully), he will carry it on his neck on the Day of Resurrection; if it be a camel, it will be grunting; if a cow, it will be mooing; and if a sheep, it will be bleating. The Prophet then raised his hands till we saw the whiteness of his armpits, and he said thrice, `O Allah! Haven't I conveyed Your Message.')"
Hisham bin `Urwah added that Abu Humayd said, "I have seen him with my eyes and heard him with my ears, and ask Zayd bin Thabit." This is recorded in the Two Sahihs .
In the book of Ahkam of his Sunan, Abu `Isa At-Tirmidhi recorded that Mu`adh bin Jabal said, "The Messenger of Allah ﷺ sent me to Yemen, but when I started on the journey, he sent for me to come back and said,
«أَتَدْرِي لِمَ بَعَثْتُ إِلَيْكَ؟ لَا تُصِيبَنَّ شَيْئًا بِغَيْرِ إِذْنِي، فَإِنَّهُ غُلُول»
(Do you know why I summoned you back Do not take anything without my permission, for if you do, it will be Ghulul.)
وَمَن يَغْلُلْ يَأْتِ بِمَا غَلَّ يَوْمَ الْقِيَـمَةِ
(and whosoever deceives his companions over the booty, he shall bring forth on the Day of Resurrection that which he took).
«لِهذَا دَعَوْتُكَ فَامْضِ لِعَمَلِك»
(This is why I summoned you, so now go and fulfill your mission.)" At-Tirmidhi said, "This Hadith is Hasan Gharib."
In addition, Imam Ahmad recorded that Abu Hurayrah said, "The Prophet got up among us and mentioned Ghulul and emphasized its magnitude. He then said,
«لَا أُلْفِيَنَّ أَحَدَكُمْ يَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلى رَقَبَتِهِ بَعِيرٌ لَهُ رُغَاءٌ، فَيَقُولُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَغِثْنِي، فَأَقُولُ: لَا أَمْلِكُ لَكَ مِنَ اللهِ شَيْئًا، قَدْ أَبْلَغْتُكَ، لَا أُلْفِيَنَّ أَحَدَكُمْ يَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلى رَقَبَتِهِ فَرَسٌ لَهَا حَمْحَمَةٌ، فَيَقُولُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَغِثْنِي، فَأَقُولُ: لَا أَمْلِكُ لَكَ مِنَ اللهِ شَيْئًا، قَدْ أَبْلَغْتُكَ، لَا أُلْفِيَنَّ أَحَدَكُمْ يَجِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلى رَقَبَتِهِ رِقَاعٌ تَخْفِقُ فَيَقُولُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَغِثْنِي، فَأَقُولُ: لَا أَمْلِكُ لَكَ مِنَ اللهِ شَيْئًا، قَدْ أَبْلَغْتُكَ، لَا أُلْفِيَنَّ أَحَدَكُمْ يَجِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلى رَقَبَتِهِ صَامِتٌ، فَيقُولُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَغِثْنِي، فَأَقُولُ: لَا أَمْلِكُ لَكَ مِنَ اللهِ شَيْئًا، قَدْ أَبْلَغْتُك»
(I will not like to see anyone among you on the Day of Resurrection, carrying a grunting camel over his neck. Such a man will say, 'O Allah's Messenger! Intercede on my behalf,' and I will say, 'I can't intercede for you with Allah, for I have conveyed (Allah's Message) to you.' I will not like to see any of you coming on the Day of Resurrection while carrying a neighing horse over his neck. Such a man will be saying, `O Allah's Messenger! Intercede on my behalf,' and I will reply, 'I can't intercede for you with Allah, for I have conveyed (Allah's Message) to you.' I will not like to see any of you coming on the Day of Resurrection while carrying clothes that will be fluttering, and the man will say, 'O Allah's Messenger! Intercede (with Allah) for me, ' and I will say, 'I can't help you with Allah, for I have conveyed (Allah's Message) to you.' I will not like to see any of you coming on the Day of Resurrection while carrying gold and silver on his neck. This person will say, 'O Allah's Messenger! Intercede (with Allah) for me.' And I will say, 'I can't help you with Allah, for I have conveyed (Allah's Message) to you.')" This Hadith was recorded in the Two Sahihs .
Imam Ahmad recorded that `Umar bin Al-Khattab said, "During the day (battle) of Khaybar, several Companions of the Messenger of Allah ﷺ came to him and said, `So-and-so died as a martyr, so-and-so died as a martyr.' When they mentioned a certain man that died as a martyr, the Messenger of Allah ﷺ said,
«كَلَّا إِنِّي رَأَيْتُهُ فِي النَّارِ فِي بُرْدَةٍ غَلَّهَا أَوْ عَبَاءَةٍ »
(No. I have seen him in the Fire because of a robe that he stole (from the booty).)
The Messenger of Allah ﷺ then said,
«يَا ابْنَ الْخَطَّابِ، اذْهَبْ فَنَادِ فِي النَّاسِ: إِنَّهُ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا الْمُؤْمِنُون»
(O Ibn Al-Khattab! Go and announce to the people that only the faithful shall enter Paradise.)
So I went out and proclaimed that none except the faithful shall enter Paradise." This was recorded by Muslim and At-Tirmidhi, who said "Hasan Sahih".
The Honest and Dishonest are Not Similar
Allah said,
أَفَمَنِ اتَّبَعَ رِضْوَنَ اللَّهِ كَمَن بَآءَ بِسَخْطٍ مِّنَ اللَّهِ وَمَأْوَاهُ جَهَنَّمُ وَبِئْسَ الْمَصِيرُ
(Is then one who follows (seeks) the pleasure of Allah like the one who draws on himself the wrath of Allah His abode is Hell, and worse indeed is that destination!) 3:162,
This refers to those seeking what pleases Allah by obeying His legislation, thus earning His pleasure and tremendous rewards, while being saved from His severe torment. This type of person is not similar to one who earns Allah's anger, has no means of escaping it and who will reside in Jahannam on the Day of Resurrection, and what an evil destination it is.
There are many similar statements in the Qur'an, such as,
أَفَمَن يَعْلَمُ أَنَّمَآ أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَبِّكَ الْحَقُّ كَمَنْ هُوَ أَعْمَى
(Shall he then who knows that what has been revealed unto you (O Muhammad ) from your Lord is the truth be like him who is blind) 13:19, and,
أَفَمَن وَعَدْنَـهُ وَعْداً حَسَناً فَهُوَ لاَقِيهِ كَمَن مَّتَّعْنَاهُ مَتَـعَ الْحَيَوةِ الدُّنْيَا
(Is he whom We have promised an excellent promise (Paradise) which he will find true, like him whom We have made to enjoy the luxuries of the life of (this) world) 28:61.
Allah then said,
هُمْ دَرَجَـتٌ عِندَ اللَّهِ
(They are in varying grades with Allah, ) 3:163 meaning, the people of righteousness and the people of evil are in grades, as Al-Hasan Al-Basri and Muhammad bin Ishaq said. Abu `Ubaydah and Al-Kisa'i said that this Ayah refers to degrees, meaning there are various degrees and dwellings in Paradise, as well as, various degrees and dwellings in the Fire. In another Ayah, Allah said,
وَلِكُلٍّ دَرَجَـتٌ مِّمَّا عَمِلُواْ
(For all there will be degrees (or ranks) according to what they did) 6:132. Next, Allah said,
وَاللَّهُ بَصِيرٌ بِمَا يَعْمَلُونَ
(and Allah is All-Seer of what they do), and He will compensate or punish them, and will never rid them of a good deed, or increase their evil deeds. Rather, each will be treated according to his deeds.
The Magnificent Blessing in the Advent of Our Prophet Muhammad
Allah the Most High said:
لَقَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَى الْمُؤمِنِينَ إِذْ بَعَثَ فِيهِمْ رَسُولاً مِّنْ أَنفُسِهِمْ
(Indeed Allah conferred a great favor on the believers when He sent among them a Messenger from among themselves,)
Meaning, from their own kind, so that it is possible for them to speak with him, ask him questions, associate with him, and benefit from him. Just as Allah said:
وَمِنْ ءايَـتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُم مِّنْ أَنفُسِكُمْ أَزْوَجاً لِّتَسْكُنُواْ إِلَيْهَا
(And among His signs is that he created for them mates, that they may find rest in.)
Meaning; of their own kind. And Allah said;
قُلْ إِنَّمَآ أَنَاْ بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ يُوحَى إِلَىَّ أَنَّمَآ إِلَـهُكُمْ إِلَـهٌ وَاحِدٌ
(Say: "I am only a man like you. It has been revealed to me that your God is One God") 18:110.
وَمَآ أَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنَ الْمُرْسَلِينَ إِلاَّ إِنَّهُمْ لَيَأْكُلُونَ الطَّعَامَ وَيَمْشُونَ فِى الاٌّسْوَاقِ
(And We never sent before you any of the Messengers but verily, they ate food and walked in the markets) 25:20.
وَمَآ أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ إِلاَّ رِجَالاً نُّوحِى إِلَيْهِمْ مِّنْ أَهْلِ الْقُرَى
(And We sent not before you any but men unto whom We revealed, from among the people of townships) 12:109, and,
يَـمَعْشَرَ الْجِنِّ وَالإِنْسِ أَلَمْ يَأْتِكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ
(O you assembly of Jinn and mankind! "Did not there come to you Messengers from among you...") 6:130.
Allah's favor is perfected when His Messenger to the people is from their own kind, so that they are able to talk to him and inquire about the meanings of Allah's Word. This is why Allah said,
يَتْلُواْ عَلَيْهِمْ ءَايَـتِهِ
(reciting unto them His verses) 3:164, the Qur'an,
وَيُزَكِّيهِمْ
(and purifying them), commanding them to do righteous works and forbidding them from committing evil. This is how their hearts will be purified and cleansed of the sin and evil that used to fill them when they were disbelievers and ignorant.
وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَـبَ وَالْحِكْمَةَ
(and instructing them (in) the Book and the Hikmah,) the Qur'an and the Sunnah,
وَإِن كَانُواْ مِن قَبْلِ
(while before that they had been), before sending this Prophet, Muhammad ,
لَفِى ضَلَـلٍ مُّبِينٍ
(in manifest error. ) indulging in plain and unequivocal error and ignorance that are clear to everyone.
اسوہ حسنہ کے مالک نبی کریم ﷺ اللہ تعالیٰ اپنے نبی پر اور مسلمانوں پر اپنا احسان جتاتا ہے کہ نبی کے ماننے والوں اور ان کی نافرمانی سے بچنے والوں کے لئے اللہ نے نبی کے دل کو نرم کردیا ہے اگر اس کی رحمت نہ ہوتی تو اتنی نرمی اور آسانی نہ ہوتی، حضرت قتادہ فرماتے ہیں ما صلہ ہے جو معرفہ کے ساتھ عرب ملا دیا کرتے ہیں جیسے آیت (فَبِمَا نَقْضِهِمْ مِّيْثَاقَهُمْ) 4۔ النسآء :155) میں اور نکرہ کے ساتھ بھی ملا دیتے ہیں جیسے آیت (عما قلیل) میں اسی طرح یہاں ہے، یعنی اللہ کی رحمت سے تو ان کے لئے نرم دل ہوا ہے، حضرت حسن بصری فرماتے ہیں یہ حضور ﷺ کے اخلاق ہیں جن پر آپ کی بعثت ہوئی ہے یہ آیت ٹھیک اس آیت جیسی ہے آیت (لقد جاء کم) الخ، یعنی تمہارے پاس تم ہی میں سے ایک رسول آئے جس پر تمہاری مشقت گراں گزرتی ہے جو تمہاری بھلائی کے حریص ہیں جو مومنوں پر شفقت اور رحم کرنے والے ہیں، مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابو امامہ باہلی کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا اے ابو امامہ بعض مومن وہ ہیں جن کے لئے میرا دل تڑپ اٹھتا ہے، (فظاً) سے مراد یہاں سخت کلام ہے۔ کیونکہ اس کے بعد (غلیظ القلب) کا لفظ ہے، یعنی سخت دل، فرمان ہے کہ نبی اکرم تم سخت کلام اور سخت دل ہوتے تو یہ لوگ تمہارے پاس سے منتشر ہوجاتے اور تمہیں چھوڑ دیتے لیکن اللہ تعالیٰ نے انہیں آپ کے جاں نثار و شیدا بنادیا ہے اور آپ کو بھی ان کے لئے محبت اور نرمی عطا فرمائی، اور تاکہ ان کے دل آپ سے لگے رہیں حضرت عبداللہ بن عمرو فرماتے ہیں میں رسول اللہ ﷺ کی صفوں کو اگلی کتابوں میں بھی پاتا ہوں کہ آپ سخت کلام سخت دل بازاروں میں شور مچانے والے اور برائی کا بدلہ لینے والے نہیں بلکہ درگذر کرنے والے اور معافی دینے والے ہیں، ترمذی کی ایک غریب حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں لوگوں کی آؤ بھگت خیر خواہی اور چشم پوشی کا مجھے اللہ کی جانب سے اسی طرح کا حکم کیا گیا ہے جس طرح فرائض کی پابندی کا، چناچہ اس آیت میں بھی فرمان ہے تو ان سے درگذر کر، ان کے لئے استغفار کر، اور کاموں کا مشورہ ان سے لیا کر، اسی لئے حضور ﷺ کی عادت مبارک تھی کہ لوگوں کو خوش کرنے کے لئے اپنے کاموں میں ان سے مشورہ ان سے لیا کرو، اسی لئے حضور ﷺ کی عادت مبارک تھی کہ لوگوں کو خوش کرنے کے لئے اپنے کاموں میں ان سے مشورہ کیا کرتے تھے، جیسے کہ بدر والے دن قافلے کی طرف بڑھنے کے لئے مشورہ لیا اور صحابہ نے کہا کہ اگر آپ سمندر کے کنارے پر کھڑا کر کے ہمیں فرمائیں گے کہ اس میں کود پڑو اور اس پار نکلو تو ہم سرتابی نہ کریں گے اور اگر ہمیں برک انعماد تک لے جانا چاہیں تو بھی ہم آپ کے ساتھ ہیں ہم وہ نہیں کہ موسیٰ ؑ کے صحابیوں کی طرح کہہ دیں کہ تو اور تیرا رب لڑ لے ہم تو یہاں بیٹھے ہیں بلکہ ہم تو آپ کے دائیں بائیں صفیں باندھ کر جم کر دشمنوں کا مقابلہ کریں گے، اسی طرح آپ نے اس بات کا مشورہ بھی لیا کہ منزل کہاں ہو ؟ اور منذر بن عمرو نے مشورہ دیا کہ ان لوگوں سے آگے بڑھ کر ان کے سامنے ہو، اسی طرح احد کے موقع پر بھی آپ نے مشورہ کیا کہ آیا مدینہ میں رہ کر لڑیں یا باہر نکلیں اور جمہور کی رائے یہی ہوئی کہ باہر میدان میں جا کر لڑنا چاہئے چناچہ آپ نے یہی کیا اور آپ نے جنگ احزاب کے موقع پر بھی اپنے اصحاب سے مشورہ کیا کہ مدینہ کے پھلوں کی پیداوار کا تہائی حصہ دینے کا وعدہ کر کے مخالفین سے مصالحت کرلی جائے ؟ تو حضرت سعد بن عبادہ اور حضرت سعد بن معاذ ؓ نے اس کا انکار کیا اور آپ نے مجھے اس مشورے کو قبول کرلیا اور مصالحت چھوڑ دی، اسی طرح آپ نے حدیبیہ والے دن اس امر کا مشورہ کیا کہ آیا مشرکین کے گھروں پر دھاوا بول دیں ؟ تو حضرت صدیق نے فرمایا ہم کسی سے لڑنے نہیں آئے ہمارا ارادہ صرف عمرے کا ہے چناچہ اسے بھی آپ نے منظور فرما لیا، اسی طرح جب منافقین نے آپ کی بیوی صاحبہ ام المومنین حضرت عائشہ ؓ پر تہمت لگائی تو آپ نے فرمایا اے مسلمانو مجھے مشورہ دو کہ ان لوگوں کا میں کیا کروں جو میرے گھر والوں کو بدنام کر رہے ہیں۔ اللہ کی قسم میرے گھر والوں میں کوئی برائی نہیں اور جس شخص کے ساتھ تہمت لگا رہے ہیں واللہ میرے نزدیک تو وہ بھی بھلا آدمی ہے اور آپ نے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کی جدائی کے لئے حضرت علی اور حضرت اسامہ سے مشورہ لیا، غرض لڑائی کے کاموں میں اور دیگر امور میں بھی حضور ﷺ صحابہ سے مشورہ کیا کرتے تھی، اس میں علماء کا اختلاف ہے کہ یہ مشورے کا حکم آپ کو بطور وجوب کے دیا تھا یا اختیاری امر تھا تاکہ لوگوں کے دل خوش رہیں، حضرت ابن عباس فرماتے ہیں اس آیت میں حضرت ابوبکر و عمر سے مشورہ کرنے کا حکم ہے (حاکم) یہ دونوں حضور ﷺ کے حواری اور آپ کے وزیر تھے اور مسلمانوں کے باپ ہیں (کلبی) مسند احمد میں ہے رسول ﷺ نے ان دونوں بزرگوں سے فرمایا اگر تمہاری دونوں کی کسی امر میں ایک رائے ہوجائے تو میں تمہارے خلاف کبھی نہ کروں گا، حضور ﷺ سے سوال ہوتا ہے کہ عزم کے کیا معنی ہیں تو آپ نے فرمایا جب عقلمند لوگوں سے مشورہ کیا جائے پھر ان کی مان لینا (ابن مردویہ) ابن ماجہ میں آپ کا یہ فرمان بھی مروی ہے کہ جس سے مشورہ کیا جائے وہ امین ہے، ابو داؤد ترمذی نسائی وغیرہ میں بھی یہ روایت ہے، امام ترمذی علیہ الرحمہ اسے حسن کہتے ہیں، اور روایت میں ہے کہ جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی سے مشورہ لے تو اسے چاہئے بھلی بات کا مشورہ دے (ابن ماجہ) پھر فرمایا جب تم کسی کام کا مشورہ کر چکو پھر اس کے کرنے کا پختہ ارادہ ہوجائے تو اب اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرو اللہ تعالیٰ بھروسہ کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔ پھر دوسری آیت کا ارشاد بالکل اسی طرح کا ہے جو پہلے گذرا ہے کہ آیت (ۭوَمَا النَّصْرُ اِلَّا مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ الْعَزِيْزِ الْحَكِيْمِ) 3۔ آل عمران :26) یعنی مدد صرف اللہ ہی کی طرف سے ہے جو غالب ہے اور حکمتوں والا ہے، پھر حکم دیتا ہے کہ مومنوں کو توکل اور بھروسہ ذات باری پر ہی ہونا چاہئے۔ پھر فرماتا ہے نبی کو لائق نہیں کہ وہ خیانت کرے، ابن عباس فرماتے ہیں بدر کے دن ایک سرخ رنگ چادر نہیں ملتی تھی تو لوگوں کے کہا شاید رسول اللہ ﷺ نے لے لی ہو اس پر یہ آیت اتری (ترمذی) اور روایت میں ہے کہ منافقوں نے حضور ﷺ پر کسی چیز کی تہمت لگائی تھی جس پر آیت (وما کان) اتری، پس ثابت ہوا کہ اللہ کے رسول رسولوں کے سردار ﷺ پر ہر قسم کی خیانت سے بیجا طرف داری سے مبرا اور منزہ ہیں خواہ وہ مال کی تقسیم ہو یا امانت کی ادائیگی ہو، حضرت ابن عباس سے یہ بھی مروی ہے کہ نبی جانب داری نہیں کرسکتا کہ بعض لشکریوں کو دے اور بعض کو ان کا حصہ نہ پہنچائے، اس آیت کی یہ تفسیر بھی کی گئی ہے کہ یہ نہیں ہوسکتا کہ نبی اللہ کی نازل کردہ کسی چیز کو چھپالے اور امت تک نہ پہنچائے۔ یغل کے معنی اور خائن یغل کو " یے " کے پیش سے بھی پڑھا گیا ہے تو معنی یہ ہوں گے کہ نبی کی ذات ایسی نہیں کہ ان کے پاس والے ان کی خیانت کریں، چناچہ حضرت قتادہ اور حضرت ربیع سے مروی ہے کہ بدر کے دن آپ کے اصحاب نے مال غنیمت میں سے تقسیم سے پہلے کچھ لیے لیا تھا اس پر یہ آیت اتری (ابن جریر) پھر خائن لوگوں کو ڈرایا جاتا ہے اور سخت عذاب کی خبر دی جاتی ہے۔ احادیث میں بھی اس کی بابت کچھ سخت وعید ہے چناچہ مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ سب سے بڑا خیانت کرنے والا وہ شخص ہے جو پڑوسی کے کھیت کی زمین یا اس کے گھر کی زمین دبا لے اگر ایک ہاتھ زمین بھی ناحق اپنی طرف کرلے گا تو ساتوں زمینوں کا طوق اسے پہنایا جائے گا مسند کی ایک اور حدیث میں ہے جسے ہم حاکم بنائے اگر اس کا گھر نہ ہو تو وہ گھر بنا سکتا ہے، بیوی نہ ہو تو کرسکتا ہے، اس کے سوا اگر کچھ اور لے گا تو خائن ہوگا، یہ حدیث ابو داؤد میں بھی دیگر الفاظ سے منقول ہے، ابن جریر کی حدیث میں ہے۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں میں تم میں سے اس شخص کو پہچانتا ہوں جو چلاتی ہوئی بکری کو اٹھائے ہوئے قیامت کے دن آئے گا اور میرا نام لے لے کر مجھے پکارے گا میں کہہ دوں گا کہ میں اللہ تعالیٰ کے پاس تجھے کام نہیں آسکتا میں تو پہنچا چکا تھا اسے بھی میں پہچانتا ہوں جو اونٹ کو اٹھائے ہوئے آئے گا جو بول رہا ہوگا یہ بھی کہے گا کہ اے محمد ﷺ اے محمد ﷺ میں کہوں گا میں تیرے لئے اللہ کے پاس کسی چیز کا مالک نہیں ہوں میں تو تبلیغ کرچکا تھا اور میں اسے بھی پہچانوں گا جو اسی طرح گھوڑے کو لادے ہوئے آئے گا جو ہنہنا رہا ہوگا وہ بھی مجھے پکارے گا اور میں کہہ دوں گا کہ میں تو پہنچا چکا تھا آج کچھ کام نہیں آسکتا اور اس شخص کو بھی میں پہچانتا ہوں جو کھالیں لئے ہوئے حاضر ہوگا اور کہہ رہا ہو یا محمد ﷺ یا محمد ﷺ میں کہوں گا میں اللہ کے پاس کسی نفع کا اختیار نہیں رکھتا میں تجھے حق و باطل بتاچکا تھا، یہ حدیث صحاح ستہ میں نہیں، مسند احمد میں ہے کہ حضور ﷺ نے قبیلہ ازد کے ایک شخص کو حاکم بنا کر بھیجا جسے ابن البتیہہ کہتے تھے یہ جب زکوٰۃ وصول کر کے آئے تو کہنے لگے یہ تو تمہارا ہے اور یہ مجھے تحفہ میں ملا ہے نبی ﷺ منبر پر کھڑے ہوگئے اور فرمانے لگے ان لوگوں کو کیا ہوگیا ہے ہم انہیں کسی کام پر بھیجتے ہیں تو آ کر کہتے ہیں یہ تمہارا اور یہ ہمارے تحفے کا یہ اپنے گھروں میں ہی بیٹھے رہتے پھر دیکھتے کہ انہیں تحفہ دیا جاتا ہے یا نہیں ؟ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ﷺ کی جان ہے تم میں سے جو کوئی اس میں سے کوئی چیز بھی لے لے گا وہ قیامت کے دن اسے گردن پر اٹھائے ہوئے لائے گا اونٹ ہے تو چلا رہا ہوگا۔ گائے ہے تو بول رہی ہوگی بکری ہے تو چیخ رہی ہوگی پھر آپ نے ہاتھ اس قدر بلند کئے کہ بغلوں کی سفیدی ہمیں نظر آنے لگی اور تین مرتبہ فرمایا اے اللہ کیا میں نے پہنچا دیا ؟ مسند احمد کی ایک ضعیف حدیث میں ہے ایسے تحصیلداروں اور حاکموں کو جو تحفے ملیں وہ خیانت ہیں یہ روایت صرف مسند احمد میں ضعیف ہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا اگلی مطول روایت کا ماحاصل ہے، ترمذی میں ہے حضرت معاذ بن جبل میں ؓ فرماتے ہیں مجھے رسول اللہ ﷺ نے یمن میں بھیجا جب میں چل دیا تو آپ نے مجھے بلوایا جب میں واپس آیا تو فرمایا میں نے تمہیں صرف ایک بات کہنے کے لئے بلوایا ہے کہ میری اجازت کے بغیر تم جو کچھ لو گے وہ خیانت ہے اور ہر خائن اپنی خیانت کو لئے ہوئے قیامت کے دن آئے گا بس یہی کہنا تھا جاؤ اپنے کام میں لگو، مسند احمد میں ہے کہ حضور ﷺ نے ایک روز کھڑے ہو کر خیانت کا ذکر کیا اور اس کے بڑے بڑے گناہ اور وبال بیان فرما کر ہمیں ڈرایا پھر جانوروں کو لئے ہوئے قیامت کے دن آئے حضور ﷺ سے فریاد رسی کی عرض کرنے اور آپ کے انکار کردینے کا ذکر کیا جو پہلے بیان ہوچکا ہے اس میں سونے چاندی کا ذکر بھی ہے، یہ حدیث بخاری مسلم میں بھی ہے، مسند احمد میں ہے کہ رسول مقبول ﷺ نے فرمایا اے لوگ جسے ہم عامل بنائیں اور پھر وہ ہم سے ایک سوئی یا اس سے بھی ہلکی چیز چھپائے تو وہ خیانت ہے جسے لے کر وہ قیامت کے دن حاضر ہوگا، یہ سن کر ایک سانولے رنگ کے انصاری حضرت سعید بن عبادہ ؓ کھڑے ہو کر کہنے لگے حضور ﷺ میں تو عامل بننے سے دستبردار ہوتا ہوں، فرمایا کیوں ؟ کہا آپ نے جو اس طرح فرمایا، آپ نے فرمایا ہاں اب بھی سنو ہم کوئی کام سونپیں اسے چاہئے کہ تھوڑا بہت سب کچھ لائے جو اسے دیا جائے وہ لے لے اور جس سے روک دیا جائے رک جائے، یہ حدیث مسلم اور ابو داؤد میں بھی ہے حضرت رافع فرماتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ عموماً نماز عصر کے بعد بنو عبدالاشہل کے ہاں تشریف لے جاتے تھے اور تقریباً مغرب تک وہیں مجلس رہتی تھی ایک دن مغرب کے وقت وہاں سے واپس چلے وقت تنگ تھا تیز تیز چل رہے تھے بقیع میں آ کر فرمانے لگے تف ہے تجھے تف ہے تجھے میں سمجھا آپ مجھے فرما رہے ہیں چناچہ میں اپنے کپڑے ٹھیک ٹھاک کرنے لگا اور پیچھے رہ گیا بلکہ یہ قبر فلاں شخص کی ہے اسے میں نے قبیلے کی طرف عامل بنا کر بھیجا تھا اس نے ایک چادر لے لی وہ چادر اب آگ بن کر اس کے اوپر بھڑک رہی ہے۔ (مسند احمد) حضرت عبادہ بن صامت ؓ فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺ مال غنیمت کے اونٹ کی پیٹھ کے چند بال لیتے پھر فرماتے میرا بھی اس میں وہی حق ہے جو تم میں سے کسی ایک کا، خیانت سے بچو خیانت کرنے والے کی رسوائی قیامت کے دن ہوگی سوئی دھاگے تک پہنچا دو اور اس سے حقیر چیز بھی اللہ تعالیٰ کی راہ میں نزدیک والوں اور دور والوں سے جہاد کرو، وطن میں بھی اور سفر میں بھی جہاد جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے جہاد کی وجہ سے اللہ تعالیٰ مشکلات سے اور رنج و غم سے نجات دیتا ہے، اللہ کی حدیں نزدیک و دور والوں میں جاری کرو اللہ کے بارے میں کسی ملامت کرنے کی ملامت تمہیں نہ روکے (مسند احمد) اس حدیث کا بعض حصہ ابن ماجہ میں بھی مروی ہے، حضرت ابو مسعود انصاری ؓ فرماتے ہیں کہ مجھے جب رسول اللہ ﷺ نے عامل بنا کر بھیجنا چاہا تو فرمایا اے ابو مسعود جاؤ ایسا نہ ہو کہ میں تمہیں قیامت کے دن اس حال میں پاؤں کہ تمہاری پیٹھ پر اونٹ ہو جو آواز نکال رہا ہو جسے تم نے خیانت سے لے لیا ہو، میں نے کہا حضور ﷺ پھر تو میں نہیں جاتا آپ نے فرمایا اچھا میں تمہیں زبردستی بھیجتا بھی نہیں (ابو داؤد) ابن مردویہ میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں اگر کوئی پتھر جہنم میں ڈالا جائے تو ستر سال تک چلتا رہے لیکن تہہ کو نہیں پہنچتا خیانت کی چیز کو اسی طرح جہنم میں پھینک دیا جائے گا، پھر خیانت والے سے کہا جائے گا جا اسے لے آ، یہی معنی ہیں اللہ کے اس فرمان کے آیت (ومن یغلل یات بما غل یوم القیامتہ) مسند احمد میں ہے کہ خیبر کی جنگ والے دن صحابہ کرام آنے لگے اور کہنے لگے فاں شہید ہے فلاں شہید ہے جب ایک شخص کی نسبت یہ کہا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہرگز نہیں میں نے اسے جہنم میں دیکھا ہے کیونکہ اس نے غنیمت کے مال کی ایک چادر خیانت کرلی تھی پھر آپ نے فرمایا اے عمر بن خطاب تم جاؤ اور لوگوں میں منادی کردو کہ جنت میں صرف ایماندار ہی جائیں گے چناچہ میں چلا اور سب میں یہ ندا کردی، یہ حدیث مسلم اور ترمذی میں بھی ہے امام ترمذی اسے حسن صحیح کہتے ہیں، ابن جریر میں ہے کہ ایک دن حضرت عمر نے حضرت عبداللہ بن انیس سے صدقات کے بارے میں تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ تم نے رسول اللہ ﷺ کا یہ فرمان نہیں سنا ؟ کہ آپ نے صدقات میں خیانت کرنے والے کی نسبت فرمایا اس میں جو شخص اونٹ یا بکری لے لے وہ قیامت والے دن اسے اٹھائے ہوئے آئے گا۔ حضرت عبداللہ نے فرمایا ہاں یہ روایت ابن ماجہ میں بھی ہے، ابن جریر میں حضرت سعد بن عبادہ سے مروی ہے کہ انہیں صدقات وصول کرنے کے لئے حضور ﷺ نے بھیجنا چاہا اور فرمایا اے سعد ایسا نہ ہو کہ قیامت کے دن تو بلبلاتے اونٹ کو اٹھا کر لائے تو حضرت سعد کہنے لگے کہ نہ میں اس عہدہ کو لوں اور نہ ایسا ہونے کا احتمال رہے چناچہ حضور ﷺ نے بھی اس کام سے انہیں معاف رکھا، مسند احمد میں ہے کہ حضرت مسلم بن عبدالملک کے ساتھ روم کی جنگ میں حضرت سالم بن عبداللہ بھی تھے ایک شخص کے اسباب میں کچھ خیانت کا مال بھی نکلا سردار لشکر نے حضرت سالم سے اس کے بارے میں فتویٰ پوچھا تو آپ نے فرمایا مجھ سے میرے باپ عبداللہ نے اور ان سے ان کی باپ عمر بن خطاب نے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس کے اسباب میں تم چوری کا مال پاؤ اسے جلا دو ، راوی کہتا ہے میرا خیال ہے یہ بھی فرمایا اور اسے سزا دو ، چناچہ جب اس کا مال بازار میں نکالا تو اس میں ایک قرآن شریف بھی تھا حضرت سالم سے پھر اس کی بابت پوچھا گیا آپ نے فرمایا اسے بیچ دو اور اس کی قیمت صدقہ کردو، یہ حدیث ابو داؤد اور ترمذی میں بھی ہے، امام علی بن مدینی اور امام بخاری وغیرہ فرماتے ہیں یہ حدیث منکر ہے، امام دارقطنی فرماتے ہیں صحیح یہ ہے کہ یہ حضرت سالم کا اپنا فتویٰ ہے، حضرت امام احمد اور ان کے ساتھیوں کا قول بھی یہی ہے، حضرت حسن بھی یہی کہتے ہیں حضرت علی فرماتے ہیں اس کا اسباب جلا دیا جائے اور اسے مملوک کی حد سے کم مارا جائے اور اس کا حصہ نہ دیا جائے، ابوحنیفہ مالک شافعی اور جمہور کا مذہب اس کے برخلاف ہے یہ کہتے ہیں اس کا اسباب نہ جلایا جائے بلکہ اس کے مثل اسے تعزیر یعنی سزا دی جائے، امام بخاری فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے خائن کے جنازے کی نماز سے انکار کردیا اور اس کا اسباب نہیں جلایا، واللہ اعلم، مسند احمد میں ہے کہ قرآن شریفوں کے جب تغیر کا حکم کیا گیا تو حضرت ابن مسعود فرمانے لگے تم میں سے جس سے ہو سکے وہ اسے چھپا کر رکھ لے کیونکہ جو شخص جس چپز کو چھپا کر رکھ لے گا اسی کو لے کر قیامت کے روز آئے گا، پھر فرمانے لگے میں نے ستر دفعہ رسول اللہ ﷺ کی زبانی پڑھا ہے پس کیا میں رسول اللہ ﷺ کی پڑھائی ہوئی قرأت کو چھوڑ دوں ؟ امام وکیع بھی اپنی تفسیر میں اسے لائے ہیں، ابو داؤد میں ہے کہ آنحضور ﷺ کی عادت مبارکہ تھی کہ جب مال غنیمت آتا تو آپ حضرت بلال ؓ کو حکم دیتے ایک مرتبہ ایک شخص اس کے بعد بالوں کا ایک گچھا لے کر آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ ﷺ میرے پاس یہ رہ گیا تھا آپ نے فرمایا کیا تو نے حضرت بلال کی منادی سنی تھی ؟ جو تین مرتبہ ہوئی تھی اس نے کہا ہاں فرمایا پھر تو اس وقت کیوں نہ لایا ؟ اس نے عذر بیان کیا آپ نے فرمایا اب میں ہرگز نہ لوں گا تو ہی اسے لے کر قیامت کے دن آنا۔ اللہ دو عالم پھر فرماتا ہے کہ اللہ کی شرع پر چل کر اللہ تعالیٰ کی رضامندی کے مستحق ہونے والے اس کے ثوابوں کو حاصل کرنے والے اس کے عذابوں سے بچنے والے اور وہ لوگ جو اللہ کے غضب کے مستحق ہوئے اور جو مر کر جہنم میں ٹھکانا پائیں گے کیا یہ دونوں برابر ہوسکتے ہیں ؟ قرآن کریم میں دوسری جگہ ہے کہ اللہ کی باتوں کو حق ماننے والا اور اس سے اندھا رہنے والا برابر نہیں، اسی طرح فرمان ہے کہ جن سے اللہ کا اچھا وعدہ ہوچکا ہے اور جو اسے پانے والا ہے وہ اور دنیا کا نفع حاصل کرنے والا برابر نہیں۔ پھر فرماتا ہے کہ بھلائی اور برائی والے مختلف درجوں پر ہیں، وہ جنت کے درجوں میں ہیں اور یہ جہنم کے طبقوں میں جیسا کہ دوسری جگہ ہے آیت (وَلِكُلٍّ دَرَجٰتٌ مِّمَّا عَمِلُوْا) 6۔ الانعام :32) ہر ایک کے لئے ان کے اعمال کے مطابق درجات ہیں۔ پھر فرمایا اللہ ان کے اعمال دیکھ رہا ہے اور عنقریب ان سب کو پورا بدلہ دے گا نہ نیکی ماری جائے گی اور نہ بدی بڑھائی جائے گی بلکہ عمل کے مطابق ہی جزا سزا ہوگی۔ پھر فرماتا ہے کہ مومنوں پر اللہ کا بڑا احسان ہے کہ انہی کی جنس سے ان میں اپنا پیغمبر بھیجا تاکہ یہ اس سے بات چیت کرسکیں پوچھ گچھ کرسکیں ساتھ بیٹھ اٹھ سکیں اور پوری طرح نفع حاصل کرسکیں، جیسے اور جگہ ہے آیت (وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓ اَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوْٓا اِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَّوَدَّةً وَّرَحْمَةً) 30۔ الروم :21) یہاں بھی یہی مطلب ہے کہ تمہاری جنس سے تمہارے جوڑے اس نے پیدا کئے اور جگہ ہے آیت (قُلْ اِنَّمَآ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ يُوْحٰٓى اِلَيَّ اَنَّمَآ اِلٰــهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ فَاسْتَقِيْمُوْٓا اِلَيْهِ وَاسْتَغْفِرُوْهُ ۭ وَوَيْلٌ لِّـلْمُشْرِكِيْنَ) 41۔ فصلت :6) کہہ دے کہ میں تو تم جیسا ہی انسان ہوں میری طرف وحی کی جاتی ہے کہ تم سب کا معبود ایک ہی ہے، اور فرمان ہے آیت (وَمَآ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنَ الْمُرْسَلِيْنَ اِلَّآ اِنَّهُمْ لَيَاْكُلُوْنَ الطَّعَامَ وَيَمْشُوْنَ فِي الْاَسْوَاقِ) 25۔ الفرقان :20) یعنی تجھ سے پہلے بھی ہم نے مردوں کو وحی کی تھی جو بستیوں کے رہنے والے تھے اور ارشاد ہے آیت (يٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ اَلَمْ يَاْتِكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ يَقُصُّوْنَ عَلَيْكُمْ اٰيٰتِيْ وَيُنْذِرُوْنَكُمْ لِقَاۗءَ يَوْمِكُمْ ھٰذَا) 6۔ الانعام :130) یعنی اے جنو اور انسانو کیا تمہارے پاس تم میں سے ہی رسول نہیں آئے تھے ؟ الغرض یہ پورا احسان ہے کہ مخلوق کی طرف انہی میں سے رسول بھیجے گئے تاکہ وہ پاس بیٹھ اٹھ کر بار بار سوال جواب کر کے پوری طرح دین سیکھ لیں، پس اللہ عزوجل فرماتا ہے کہ وہ اللہ کی آیتیں یعنی قرآن کریم انہیں پڑھاتا ہے اور اچھی باتوں کا حکم دے کر اور برائیوں سے روک کر ان کی جانوں کی پاکیزگی کرتا ہے اور شرک و جاہلیت کی ناپاکی کے اثرات سے زائل کرتا ہے اور انہیں کتاب اور سنت سکھاتا ہے۔ اس رسول ﷺ کے آنے سے پہلے تو یہ صاف بھٹکے ہوئے تھے ظاہر برائی اور پوری جہالت میں تھے۔
161
View Single
وَمَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَن يَغُلَّۚ وَمَن يَغۡلُلۡ يَأۡتِ بِمَا غَلَّ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِۚ ثُمَّ تُوَفَّىٰ كُلُّ نَفۡسٖ مَّا كَسَبَتۡ وَهُمۡ لَا يُظۡلَمُونَ
And it is unimaginable that any Prophet would hide something; and whoever hides it, will bring what he hid with him on the Day of Resurrection; then every soul will be paid in full for whatever they earned; and they will not be wronged.
اور کسی نبی کی نسبت یہ گمان ہی ممکن نہیں کہ وہ کچھ چھپائے گا، اور جو کوئی (کسی کا حق) چھپاتا ہے تو قیامت کے دن اسے وہ لانا پڑے گا جو اس نے چھپایا تھا، پھر ہر شخص کو اس کے عمل کا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا
Tafsir Ibn Kathir
Among the Qualities of Our Prophet Muhammad are Mercy and Kindness
Allah addresses His Messenger and reminds him and the believers of the favor that He has made his heart and words soft for his Ummah, those who follow his command and refrain from what he prohibits.
فَبِمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللَّهِ لِنتَ لَهُمْ
(And by the mercy of Allah, you dealt with them gently) 3:159. meaning, who would have made you this kind, if it was not Allah's mercy for you and them. Qatadah said that,
فَبِمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللَّهِ لِنتَ لَهُمْ
(And by the mercy of Allah, you dealt with them gently) means, "With Allah's mercy you became this kind." Al-Hasan Al-Basri said that this, indeed, is the description of the behavior that Allah sent Muhammad with. This Ayah is similar to Allah's statement,
لَقَدْ جَآءَكُمْ رَسُولٌ مِّنْ أَنفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَّحِيمٌ
(Verily, there has come unto you a Messenger from among yourselves. It grieves him that you should receive any injury or difficulty. He is anxious over you (to be rightly guided, to repent to Allah); for the believers (he is) full of pity, kind, and merciful) 9:128. Allah said next,
وَلَوْ كُنْتَ فَظّاً غَلِيظَ الْقَلْبِ لاَنْفَضُّواْ مِنْ حَوْلِكَ
(And had you been severe and harsh-hearted, they would have broken away from about you;)
The severe person is he who utters harsh words, and,
غَلِيظَ الْقَلْبِ
(harsh-hearted) is the person whose heart is hard. Had this been the Prophet's behavior, "They would have scattered from around you. However, Allah gathered them and made you kind and soft with them, so that their hearts congregate around you." `Abdullah bin `Amr said that he read the description of the Messenger of Allah ﷺ in previous Books, "He is not severe, harsh, obscene in the marketplace or dealing evil for evil. Rather, he forgives and pardons."
The Order for Consultation and to Abide by it
Allah said,
فَاعْفُ عَنْهُمْ وَاسْتَغْفِرْ لَهُمْ وَشَاوِرْهُمْ فِى الاٌّمْرِ
(So pardon them, and ask (Allah's) forgiveness for them; and consult them in the affairs.)
The Messenger of Allah ﷺ used to ask his Companions for advice about various matters, to comfort their hearts, and so they actively implement the decision they reach. For instance, before the battle of Badr, the Prophet asked his Companions for if Muslims should intercept the caravan (led by Abu Sufyan). They said, "O Messenger of Allah! If you wish to cross the sea, we would follow you in it, and if you march forth to Barkul-Ghimad we would march with you. We would never say what the Children of Israel said to Musa, `So go, you and your Lord, and fight you two, we are sitting right here.' Rather, we say march forth and we shall march forth with you; and before you, and to your right and left shall we fight." The Prophet also asked them for their opinion about where they should set up camp at Badr. Al-Mundhir bin `Amr suggested to camp close to the enemy, for he wished to acquire martyrdom.
Concerning the battle of Uhud, the Messenger ﷺ asked the Companions if they should fortify themselves in Al-Madinah or go out to meet the enemy, and the majority of them requested that they go out to meet the enemy, and he did. He also took their advice on the day of Khandaq (the Trench) about conducting a peace treaty with some of the tribes of Al-Ahzab (the Confederates), in return for giving them one-third of the fruits of Al-Madinah. However, Sa`d bin `Ubadah and Sa`d bin Mu`adh rejected this offer and the Prophet went ahead with their advice. The Prophet also asked them if they should attack the idolators on the Day of Hudaybiyyah, and Abu Bakr disagreed, saying, "We did not come here to fight anyone. Rather, we came to perform `Umrah." The Prophet agreed.
On the day of Ifk, (i.e. the false accusation), the Messenger of Allah ﷺ said to them, "O Muslims! Give me your advice about some men who falsely accused my wife (`A'ishah). By Allah! I never knew of any evil to come from my wife. And they accused whom They accused he from whom I only knew righteous conduct, by Allah!" The Prophet asked `Ali and Usamah about divorcing `A'ishah. In summary, the Prophet used to take his Companions' advice for battles and other important events.
Ibn Majah recorded that Abu Hurayrah said that the Prophet said;
«الْمُسْتَشَارُ مُؤْتَمَن»
(The one whom advice is sought from is to be entrusted) tThis was recorded by Abu Dawud, At-Tirmidhi, and An-Nasa'i who graded it Hasan.
Trust in Allah After Taking the Decision
Allah's statement,
فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ
(Then when you have taken a decision, put your trust in Allah,) means, if you conduct the required consultation and you then make a decision, trust in Allah over your decision,
إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُتَوَكِّلِينَ
(certainly, Allah loves those who put their trust (in Him)).
Allah's statement,
إِن يَنصُرْكُمُ اللَّهُ فَلاَ غَالِبَ لَكُمْ وَإِن يَخْذُلْكُمْ فَمَن ذَا الَّذِى يَنصُرُكُم مِّنْ بَعْدِهِ وَعَلَى اللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ
(If Allah helps you, none can overcome you; and if He forsakes you, who is there after Him that can help you And in Allah (Alone) let believers put their trust), is similar to His statement that we mentioned earlier,
وَمَا النَّصْرُ إِلاَّ مِنْ عِندِ اللَّهِ الْعَزِيزِ الْحَكِيمِ
(And there is no victory except from Allah the Almighty, the All-Wise) 3:126.
Allah next commands the believers to trust in Him,
وَعَلَى اللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ
(And in Allah (Alone) let believers put their trust).
Treachery with the Spoils of War was not a Trait of the Prophet
Allah said,
وَمَا كَانَ لِنَبِىٍّ أَنْ يَغُلَّ
(It is not for any Prophet to illegally take a part of the booty,)
Ibn `Abbas, Mujahid and Al-Hasan said that the Ayah means, "It is not for a Prophet to breach the trust." Ibn Jarir recorded that, Ibn `Abbas said that, this Ayah,
وَمَا كَانَ لِنَبِىٍّ أَنْ يَغُلَّ
(It is not for any Prophet to illegally take a part of the booty,) was revealed in connection with a red robe that was missing from the spoils of war of Badr. Some people said that the Messenger of Allah ﷺ might have taken it. When this rumor circulated, Allah sent down,
وَمَا كَانَ لِنَبِىٍّ أَنْ يَغُلَّ وَمَن يَغْلُلْ يَأْتِ بِمَا غَلَّ يَوْمَ الْقِيَـمَةِ
(It is not for any Prophet to illegally take a part of the booty, and whosoever is deceitful with the booty, he shall bring forth on the Day of Resurrection that which he took.)
This was also recorded by Abu Dawud and At-Tirmidhi, who said "Hasan Gharib". This Ayah exonerates the Messenger of Allah ﷺ of all types of deceit and treachery, be it returning what was entrusted with him, dividing the spoils of war, etc.
Allah then said,
وَمَن يَغْلُلْ يَأْتِ بِمَا غَلَّ يَوْمَ الْقِيَـمَةِ ثُمَّ تُوَفَّى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَهُمْ لاَ يُظْلَمُونَ
(and whosoever is deceitful with the booty, he shall bring forth on the Day of Resurrection that which he took. Then every person shall be paid in full what he has earned, and they shall not be dealt with unjustly.)
This Ayah contains a stern warning and threat against Ghulul stealing from the booty, and there are also Hadiths, that prohibit such practice. Imam Ahmad recorded that Abu Malik Al-Ashja`i said that the Prophet said,
«أَعْظَمُ الْغُلُولِ عِنْدَ اللهِ ذِرَاعٌ مِنَ الْأَرْضِ، تَجِدُون الرَّجُلَيْنِ جَارَيْنِ فِي الْأَرْضِ أو فِي الدَّارِ فَيَقْطَعُ أَحَدُهُمَا مِنْ حَظِّ صَاحِبِه ذِرَاعًا، فَإِذَا اقْتَطَعَهُ، طُوِّقَهُ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ إِلى يَوْمِ الْقِيَامَة»
(The worst Ghulul (i.e. stealing) with Allah is a yard of land, that is, when you find two neighbors in a land or home and one of them illegally acquires a yard of his neighbor's land. When he does, he will be tied with it from the seven earths until the Day of Resurrection.)
Imam Ahmad recorded that Abu Humayd As-Sa`idi said, "The Prophet appointed a man from the tribe of Al-Azd, called Ibn Al-Lutbiyyah, to collect the Zakah. When he returned he said, `This (portion) is for you and this has been given to me as a gift.' The Prophet stood on the Minbar and said,
«مَا بَالُ الْعَامِلِ نَبْعَثُهُ فَيَجِي فَيَقُولُ: هَذَا لَكُمْ، وَهَذَا أُهْدِيَ لِي، أَفَلَا جَلَسَ فِي بَيْتِ أَبِيهِ وَأُمِّهِ فَيَنْظُرُ أَيُهْدَى إِلَيْهِ أَمْ لَا؟ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَا يَأْتِي أَحَدٌ مِنْكُمْ مِنْهَا بِشَيْءٍ إِلَّا جَاءَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلى رَقَبَتِهِ، إِنْ كَانَ بَعِيرًا لَهُ رُغَاءٌ، أَوْ بَقَرَةٌ لَهَا خُوَارٌ، أَوْ شَاةٌ تَيْعَر»
ثم رفع يديه حتى رأينا عفرة إبطيه، ثم قال:
«اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْت»
ثلاثًا.(What is the matter with a man whom we appoint to collect Zakah, when he returns he said, `This is for you and this has been given to me as a gift.' Why hadn't he stayed in his father's or mother's house to see whether he would be given presents or not By Him in Whose Hand my life is, whoever takes anything from the resources of the Zakah (unlawfully), he will carry it on his neck on the Day of Resurrection; if it be a camel, it will be grunting; if a cow, it will be mooing; and if a sheep, it will be bleating. The Prophet then raised his hands till we saw the whiteness of his armpits, and he said thrice, `O Allah! Haven't I conveyed Your Message.')"
Hisham bin `Urwah added that Abu Humayd said, "I have seen him with my eyes and heard him with my ears, and ask Zayd bin Thabit." This is recorded in the Two Sahihs .
In the book of Ahkam of his Sunan, Abu `Isa At-Tirmidhi recorded that Mu`adh bin Jabal said, "The Messenger of Allah ﷺ sent me to Yemen, but when I started on the journey, he sent for me to come back and said,
«أَتَدْرِي لِمَ بَعَثْتُ إِلَيْكَ؟ لَا تُصِيبَنَّ شَيْئًا بِغَيْرِ إِذْنِي، فَإِنَّهُ غُلُول»
(Do you know why I summoned you back Do not take anything without my permission, for if you do, it will be Ghulul.)
وَمَن يَغْلُلْ يَأْتِ بِمَا غَلَّ يَوْمَ الْقِيَـمَةِ
(and whosoever deceives his companions over the booty, he shall bring forth on the Day of Resurrection that which he took).
«لِهذَا دَعَوْتُكَ فَامْضِ لِعَمَلِك»
(This is why I summoned you, so now go and fulfill your mission.)" At-Tirmidhi said, "This Hadith is Hasan Gharib."
In addition, Imam Ahmad recorded that Abu Hurayrah said, "The Prophet got up among us and mentioned Ghulul and emphasized its magnitude. He then said,
«لَا أُلْفِيَنَّ أَحَدَكُمْ يَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلى رَقَبَتِهِ بَعِيرٌ لَهُ رُغَاءٌ، فَيَقُولُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَغِثْنِي، فَأَقُولُ: لَا أَمْلِكُ لَكَ مِنَ اللهِ شَيْئًا، قَدْ أَبْلَغْتُكَ، لَا أُلْفِيَنَّ أَحَدَكُمْ يَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلى رَقَبَتِهِ فَرَسٌ لَهَا حَمْحَمَةٌ، فَيَقُولُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَغِثْنِي، فَأَقُولُ: لَا أَمْلِكُ لَكَ مِنَ اللهِ شَيْئًا، قَدْ أَبْلَغْتُكَ، لَا أُلْفِيَنَّ أَحَدَكُمْ يَجِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلى رَقَبَتِهِ رِقَاعٌ تَخْفِقُ فَيَقُولُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَغِثْنِي، فَأَقُولُ: لَا أَمْلِكُ لَكَ مِنَ اللهِ شَيْئًا، قَدْ أَبْلَغْتُكَ، لَا أُلْفِيَنَّ أَحَدَكُمْ يَجِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلى رَقَبَتِهِ صَامِتٌ، فَيقُولُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَغِثْنِي، فَأَقُولُ: لَا أَمْلِكُ لَكَ مِنَ اللهِ شَيْئًا، قَدْ أَبْلَغْتُك»
(I will not like to see anyone among you on the Day of Resurrection, carrying a grunting camel over his neck. Such a man will say, 'O Allah's Messenger! Intercede on my behalf,' and I will say, 'I can't intercede for you with Allah, for I have conveyed (Allah's Message) to you.' I will not like to see any of you coming on the Day of Resurrection while carrying a neighing horse over his neck. Such a man will be saying, `O Allah's Messenger! Intercede on my behalf,' and I will reply, 'I can't intercede for you with Allah, for I have conveyed (Allah's Message) to you.' I will not like to see any of you coming on the Day of Resurrection while carrying clothes that will be fluttering, and the man will say, 'O Allah's Messenger! Intercede (with Allah) for me, ' and I will say, 'I can't help you with Allah, for I have conveyed (Allah's Message) to you.' I will not like to see any of you coming on the Day of Resurrection while carrying gold and silver on his neck. This person will say, 'O Allah's Messenger! Intercede (with Allah) for me.' And I will say, 'I can't help you with Allah, for I have conveyed (Allah's Message) to you.')" This Hadith was recorded in the Two Sahihs .
Imam Ahmad recorded that `Umar bin Al-Khattab said, "During the day (battle) of Khaybar, several Companions of the Messenger of Allah ﷺ came to him and said, `So-and-so died as a martyr, so-and-so died as a martyr.' When they mentioned a certain man that died as a martyr, the Messenger of Allah ﷺ said,
«كَلَّا إِنِّي رَأَيْتُهُ فِي النَّارِ فِي بُرْدَةٍ غَلَّهَا أَوْ عَبَاءَةٍ »
(No. I have seen him in the Fire because of a robe that he stole (from the booty).)
The Messenger of Allah ﷺ then said,
«يَا ابْنَ الْخَطَّابِ، اذْهَبْ فَنَادِ فِي النَّاسِ: إِنَّهُ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا الْمُؤْمِنُون»
(O Ibn Al-Khattab! Go and announce to the people that only the faithful shall enter Paradise.)
So I went out and proclaimed that none except the faithful shall enter Paradise." This was recorded by Muslim and At-Tirmidhi, who said "Hasan Sahih".
The Honest and Dishonest are Not Similar
Allah said,
أَفَمَنِ اتَّبَعَ رِضْوَنَ اللَّهِ كَمَن بَآءَ بِسَخْطٍ مِّنَ اللَّهِ وَمَأْوَاهُ جَهَنَّمُ وَبِئْسَ الْمَصِيرُ
(Is then one who follows (seeks) the pleasure of Allah like the one who draws on himself the wrath of Allah His abode is Hell, and worse indeed is that destination!) 3:162,
This refers to those seeking what pleases Allah by obeying His legislation, thus earning His pleasure and tremendous rewards, while being saved from His severe torment. This type of person is not similar to one who earns Allah's anger, has no means of escaping it and who will reside in Jahannam on the Day of Resurrection, and what an evil destination it is.
There are many similar statements in the Qur'an, such as,
أَفَمَن يَعْلَمُ أَنَّمَآ أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَبِّكَ الْحَقُّ كَمَنْ هُوَ أَعْمَى
(Shall he then who knows that what has been revealed unto you (O Muhammad ) from your Lord is the truth be like him who is blind) 13:19, and,
أَفَمَن وَعَدْنَـهُ وَعْداً حَسَناً فَهُوَ لاَقِيهِ كَمَن مَّتَّعْنَاهُ مَتَـعَ الْحَيَوةِ الدُّنْيَا
(Is he whom We have promised an excellent promise (Paradise) which he will find true, like him whom We have made to enjoy the luxuries of the life of (this) world) 28:61.
Allah then said,
هُمْ دَرَجَـتٌ عِندَ اللَّهِ
(They are in varying grades with Allah, ) 3:163 meaning, the people of righteousness and the people of evil are in grades, as Al-Hasan Al-Basri and Muhammad bin Ishaq said. Abu `Ubaydah and Al-Kisa'i said that this Ayah refers to degrees, meaning there are various degrees and dwellings in Paradise, as well as, various degrees and dwellings in the Fire. In another Ayah, Allah said,
وَلِكُلٍّ دَرَجَـتٌ مِّمَّا عَمِلُواْ
(For all there will be degrees (or ranks) according to what they did) 6:132. Next, Allah said,
وَاللَّهُ بَصِيرٌ بِمَا يَعْمَلُونَ
(and Allah is All-Seer of what they do), and He will compensate or punish them, and will never rid them of a good deed, or increase their evil deeds. Rather, each will be treated according to his deeds.
The Magnificent Blessing in the Advent of Our Prophet Muhammad
Allah the Most High said:
لَقَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَى الْمُؤمِنِينَ إِذْ بَعَثَ فِيهِمْ رَسُولاً مِّنْ أَنفُسِهِمْ
(Indeed Allah conferred a great favor on the believers when He sent among them a Messenger from among themselves,)
Meaning, from their own kind, so that it is possible for them to speak with him, ask him questions, associate with him, and benefit from him. Just as Allah said:
وَمِنْ ءايَـتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُم مِّنْ أَنفُسِكُمْ أَزْوَجاً لِّتَسْكُنُواْ إِلَيْهَا
(And among His signs is that he created for them mates, that they may find rest in.)
Meaning; of their own kind. And Allah said;
قُلْ إِنَّمَآ أَنَاْ بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ يُوحَى إِلَىَّ أَنَّمَآ إِلَـهُكُمْ إِلَـهٌ وَاحِدٌ
(Say: "I am only a man like you. It has been revealed to me that your God is One God") 18:110.
وَمَآ أَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنَ الْمُرْسَلِينَ إِلاَّ إِنَّهُمْ لَيَأْكُلُونَ الطَّعَامَ وَيَمْشُونَ فِى الاٌّسْوَاقِ
(And We never sent before you any of the Messengers but verily, they ate food and walked in the markets) 25:20.
وَمَآ أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ إِلاَّ رِجَالاً نُّوحِى إِلَيْهِمْ مِّنْ أَهْلِ الْقُرَى
(And We sent not before you any but men unto whom We revealed, from among the people of townships) 12:109, and,
يَـمَعْشَرَ الْجِنِّ وَالإِنْسِ أَلَمْ يَأْتِكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ
(O you assembly of Jinn and mankind! "Did not there come to you Messengers from among you...") 6:130.
Allah's favor is perfected when His Messenger to the people is from their own kind, so that they are able to talk to him and inquire about the meanings of Allah's Word. This is why Allah said,
يَتْلُواْ عَلَيْهِمْ ءَايَـتِهِ
(reciting unto them His verses) 3:164, the Qur'an,
وَيُزَكِّيهِمْ
(and purifying them), commanding them to do righteous works and forbidding them from committing evil. This is how their hearts will be purified and cleansed of the sin and evil that used to fill them when they were disbelievers and ignorant.
وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَـبَ وَالْحِكْمَةَ
(and instructing them (in) the Book and the Hikmah,) the Qur'an and the Sunnah,
وَإِن كَانُواْ مِن قَبْلِ
(while before that they had been), before sending this Prophet, Muhammad ,
لَفِى ضَلَـلٍ مُّبِينٍ
(in manifest error. ) indulging in plain and unequivocal error and ignorance that are clear to everyone.
اسوہ حسنہ کے مالک نبی کریم ﷺ اللہ تعالیٰ اپنے نبی پر اور مسلمانوں پر اپنا احسان جتاتا ہے کہ نبی کے ماننے والوں اور ان کی نافرمانی سے بچنے والوں کے لئے اللہ نے نبی کے دل کو نرم کردیا ہے اگر اس کی رحمت نہ ہوتی تو اتنی نرمی اور آسانی نہ ہوتی، حضرت قتادہ فرماتے ہیں ما صلہ ہے جو معرفہ کے ساتھ عرب ملا دیا کرتے ہیں جیسے آیت (فَبِمَا نَقْضِهِمْ مِّيْثَاقَهُمْ) 4۔ النسآء :155) میں اور نکرہ کے ساتھ بھی ملا دیتے ہیں جیسے آیت (عما قلیل) میں اسی طرح یہاں ہے، یعنی اللہ کی رحمت سے تو ان کے لئے نرم دل ہوا ہے، حضرت حسن بصری فرماتے ہیں یہ حضور ﷺ کے اخلاق ہیں جن پر آپ کی بعثت ہوئی ہے یہ آیت ٹھیک اس آیت جیسی ہے آیت (لقد جاء کم) الخ، یعنی تمہارے پاس تم ہی میں سے ایک رسول آئے جس پر تمہاری مشقت گراں گزرتی ہے جو تمہاری بھلائی کے حریص ہیں جو مومنوں پر شفقت اور رحم کرنے والے ہیں، مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابو امامہ باہلی کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا اے ابو امامہ بعض مومن وہ ہیں جن کے لئے میرا دل تڑپ اٹھتا ہے، (فظاً) سے مراد یہاں سخت کلام ہے۔ کیونکہ اس کے بعد (غلیظ القلب) کا لفظ ہے، یعنی سخت دل، فرمان ہے کہ نبی اکرم تم سخت کلام اور سخت دل ہوتے تو یہ لوگ تمہارے پاس سے منتشر ہوجاتے اور تمہیں چھوڑ دیتے لیکن اللہ تعالیٰ نے انہیں آپ کے جاں نثار و شیدا بنادیا ہے اور آپ کو بھی ان کے لئے محبت اور نرمی عطا فرمائی، اور تاکہ ان کے دل آپ سے لگے رہیں حضرت عبداللہ بن عمرو فرماتے ہیں میں رسول اللہ ﷺ کی صفوں کو اگلی کتابوں میں بھی پاتا ہوں کہ آپ سخت کلام سخت دل بازاروں میں شور مچانے والے اور برائی کا بدلہ لینے والے نہیں بلکہ درگذر کرنے والے اور معافی دینے والے ہیں، ترمذی کی ایک غریب حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں لوگوں کی آؤ بھگت خیر خواہی اور چشم پوشی کا مجھے اللہ کی جانب سے اسی طرح کا حکم کیا گیا ہے جس طرح فرائض کی پابندی کا، چناچہ اس آیت میں بھی فرمان ہے تو ان سے درگذر کر، ان کے لئے استغفار کر، اور کاموں کا مشورہ ان سے لیا کر، اسی لئے حضور ﷺ کی عادت مبارک تھی کہ لوگوں کو خوش کرنے کے لئے اپنے کاموں میں ان سے مشورہ ان سے لیا کرو، اسی لئے حضور ﷺ کی عادت مبارک تھی کہ لوگوں کو خوش کرنے کے لئے اپنے کاموں میں ان سے مشورہ کیا کرتے تھے، جیسے کہ بدر والے دن قافلے کی طرف بڑھنے کے لئے مشورہ لیا اور صحابہ نے کہا کہ اگر آپ سمندر کے کنارے پر کھڑا کر کے ہمیں فرمائیں گے کہ اس میں کود پڑو اور اس پار نکلو تو ہم سرتابی نہ کریں گے اور اگر ہمیں برک انعماد تک لے جانا چاہیں تو بھی ہم آپ کے ساتھ ہیں ہم وہ نہیں کہ موسیٰ ؑ کے صحابیوں کی طرح کہہ دیں کہ تو اور تیرا رب لڑ لے ہم تو یہاں بیٹھے ہیں بلکہ ہم تو آپ کے دائیں بائیں صفیں باندھ کر جم کر دشمنوں کا مقابلہ کریں گے، اسی طرح آپ نے اس بات کا مشورہ بھی لیا کہ منزل کہاں ہو ؟ اور منذر بن عمرو نے مشورہ دیا کہ ان لوگوں سے آگے بڑھ کر ان کے سامنے ہو، اسی طرح احد کے موقع پر بھی آپ نے مشورہ کیا کہ آیا مدینہ میں رہ کر لڑیں یا باہر نکلیں اور جمہور کی رائے یہی ہوئی کہ باہر میدان میں جا کر لڑنا چاہئے چناچہ آپ نے یہی کیا اور آپ نے جنگ احزاب کے موقع پر بھی اپنے اصحاب سے مشورہ کیا کہ مدینہ کے پھلوں کی پیداوار کا تہائی حصہ دینے کا وعدہ کر کے مخالفین سے مصالحت کرلی جائے ؟ تو حضرت سعد بن عبادہ اور حضرت سعد بن معاذ ؓ نے اس کا انکار کیا اور آپ نے مجھے اس مشورے کو قبول کرلیا اور مصالحت چھوڑ دی، اسی طرح آپ نے حدیبیہ والے دن اس امر کا مشورہ کیا کہ آیا مشرکین کے گھروں پر دھاوا بول دیں ؟ تو حضرت صدیق نے فرمایا ہم کسی سے لڑنے نہیں آئے ہمارا ارادہ صرف عمرے کا ہے چناچہ اسے بھی آپ نے منظور فرما لیا، اسی طرح جب منافقین نے آپ کی بیوی صاحبہ ام المومنین حضرت عائشہ ؓ پر تہمت لگائی تو آپ نے فرمایا اے مسلمانو مجھے مشورہ دو کہ ان لوگوں کا میں کیا کروں جو میرے گھر والوں کو بدنام کر رہے ہیں۔ اللہ کی قسم میرے گھر والوں میں کوئی برائی نہیں اور جس شخص کے ساتھ تہمت لگا رہے ہیں واللہ میرے نزدیک تو وہ بھی بھلا آدمی ہے اور آپ نے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کی جدائی کے لئے حضرت علی اور حضرت اسامہ سے مشورہ لیا، غرض لڑائی کے کاموں میں اور دیگر امور میں بھی حضور ﷺ صحابہ سے مشورہ کیا کرتے تھی، اس میں علماء کا اختلاف ہے کہ یہ مشورے کا حکم آپ کو بطور وجوب کے دیا تھا یا اختیاری امر تھا تاکہ لوگوں کے دل خوش رہیں، حضرت ابن عباس فرماتے ہیں اس آیت میں حضرت ابوبکر و عمر سے مشورہ کرنے کا حکم ہے (حاکم) یہ دونوں حضور ﷺ کے حواری اور آپ کے وزیر تھے اور مسلمانوں کے باپ ہیں (کلبی) مسند احمد میں ہے رسول ﷺ نے ان دونوں بزرگوں سے فرمایا اگر تمہاری دونوں کی کسی امر میں ایک رائے ہوجائے تو میں تمہارے خلاف کبھی نہ کروں گا، حضور ﷺ سے سوال ہوتا ہے کہ عزم کے کیا معنی ہیں تو آپ نے فرمایا جب عقلمند لوگوں سے مشورہ کیا جائے پھر ان کی مان لینا (ابن مردویہ) ابن ماجہ میں آپ کا یہ فرمان بھی مروی ہے کہ جس سے مشورہ کیا جائے وہ امین ہے، ابو داؤد ترمذی نسائی وغیرہ میں بھی یہ روایت ہے، امام ترمذی علیہ الرحمہ اسے حسن کہتے ہیں، اور روایت میں ہے کہ جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی سے مشورہ لے تو اسے چاہئے بھلی بات کا مشورہ دے (ابن ماجہ) پھر فرمایا جب تم کسی کام کا مشورہ کر چکو پھر اس کے کرنے کا پختہ ارادہ ہوجائے تو اب اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرو اللہ تعالیٰ بھروسہ کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔ پھر دوسری آیت کا ارشاد بالکل اسی طرح کا ہے جو پہلے گذرا ہے کہ آیت (ۭوَمَا النَّصْرُ اِلَّا مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ الْعَزِيْزِ الْحَكِيْمِ) 3۔ آل عمران :26) یعنی مدد صرف اللہ ہی کی طرف سے ہے جو غالب ہے اور حکمتوں والا ہے، پھر حکم دیتا ہے کہ مومنوں کو توکل اور بھروسہ ذات باری پر ہی ہونا چاہئے۔ پھر فرماتا ہے نبی کو لائق نہیں کہ وہ خیانت کرے، ابن عباس فرماتے ہیں بدر کے دن ایک سرخ رنگ چادر نہیں ملتی تھی تو لوگوں کے کہا شاید رسول اللہ ﷺ نے لے لی ہو اس پر یہ آیت اتری (ترمذی) اور روایت میں ہے کہ منافقوں نے حضور ﷺ پر کسی چیز کی تہمت لگائی تھی جس پر آیت (وما کان) اتری، پس ثابت ہوا کہ اللہ کے رسول رسولوں کے سردار ﷺ پر ہر قسم کی خیانت سے بیجا طرف داری سے مبرا اور منزہ ہیں خواہ وہ مال کی تقسیم ہو یا امانت کی ادائیگی ہو، حضرت ابن عباس سے یہ بھی مروی ہے کہ نبی جانب داری نہیں کرسکتا کہ بعض لشکریوں کو دے اور بعض کو ان کا حصہ نہ پہنچائے، اس آیت کی یہ تفسیر بھی کی گئی ہے کہ یہ نہیں ہوسکتا کہ نبی اللہ کی نازل کردہ کسی چیز کو چھپالے اور امت تک نہ پہنچائے۔ یغل کے معنی اور خائن یغل کو " یے " کے پیش سے بھی پڑھا گیا ہے تو معنی یہ ہوں گے کہ نبی کی ذات ایسی نہیں کہ ان کے پاس والے ان کی خیانت کریں، چناچہ حضرت قتادہ اور حضرت ربیع سے مروی ہے کہ بدر کے دن آپ کے اصحاب نے مال غنیمت میں سے تقسیم سے پہلے کچھ لیے لیا تھا اس پر یہ آیت اتری (ابن جریر) پھر خائن لوگوں کو ڈرایا جاتا ہے اور سخت عذاب کی خبر دی جاتی ہے۔ احادیث میں بھی اس کی بابت کچھ سخت وعید ہے چناچہ مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ سب سے بڑا خیانت کرنے والا وہ شخص ہے جو پڑوسی کے کھیت کی زمین یا اس کے گھر کی زمین دبا لے اگر ایک ہاتھ زمین بھی ناحق اپنی طرف کرلے گا تو ساتوں زمینوں کا طوق اسے پہنایا جائے گا مسند کی ایک اور حدیث میں ہے جسے ہم حاکم بنائے اگر اس کا گھر نہ ہو تو وہ گھر بنا سکتا ہے، بیوی نہ ہو تو کرسکتا ہے، اس کے سوا اگر کچھ اور لے گا تو خائن ہوگا، یہ حدیث ابو داؤد میں بھی دیگر الفاظ سے منقول ہے، ابن جریر کی حدیث میں ہے۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں میں تم میں سے اس شخص کو پہچانتا ہوں جو چلاتی ہوئی بکری کو اٹھائے ہوئے قیامت کے دن آئے گا اور میرا نام لے لے کر مجھے پکارے گا میں کہہ دوں گا کہ میں اللہ تعالیٰ کے پاس تجھے کام نہیں آسکتا میں تو پہنچا چکا تھا اسے بھی میں پہچانتا ہوں جو اونٹ کو اٹھائے ہوئے آئے گا جو بول رہا ہوگا یہ بھی کہے گا کہ اے محمد ﷺ اے محمد ﷺ میں کہوں گا میں تیرے لئے اللہ کے پاس کسی چیز کا مالک نہیں ہوں میں تو تبلیغ کرچکا تھا اور میں اسے بھی پہچانوں گا جو اسی طرح گھوڑے کو لادے ہوئے آئے گا جو ہنہنا رہا ہوگا وہ بھی مجھے پکارے گا اور میں کہہ دوں گا کہ میں تو پہنچا چکا تھا آج کچھ کام نہیں آسکتا اور اس شخص کو بھی میں پہچانتا ہوں جو کھالیں لئے ہوئے حاضر ہوگا اور کہہ رہا ہو یا محمد ﷺ یا محمد ﷺ میں کہوں گا میں اللہ کے پاس کسی نفع کا اختیار نہیں رکھتا میں تجھے حق و باطل بتاچکا تھا، یہ حدیث صحاح ستہ میں نہیں، مسند احمد میں ہے کہ حضور ﷺ نے قبیلہ ازد کے ایک شخص کو حاکم بنا کر بھیجا جسے ابن البتیہہ کہتے تھے یہ جب زکوٰۃ وصول کر کے آئے تو کہنے لگے یہ تو تمہارا ہے اور یہ مجھے تحفہ میں ملا ہے نبی ﷺ منبر پر کھڑے ہوگئے اور فرمانے لگے ان لوگوں کو کیا ہوگیا ہے ہم انہیں کسی کام پر بھیجتے ہیں تو آ کر کہتے ہیں یہ تمہارا اور یہ ہمارے تحفے کا یہ اپنے گھروں میں ہی بیٹھے رہتے پھر دیکھتے کہ انہیں تحفہ دیا جاتا ہے یا نہیں ؟ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ﷺ کی جان ہے تم میں سے جو کوئی اس میں سے کوئی چیز بھی لے لے گا وہ قیامت کے دن اسے گردن پر اٹھائے ہوئے لائے گا اونٹ ہے تو چلا رہا ہوگا۔ گائے ہے تو بول رہی ہوگی بکری ہے تو چیخ رہی ہوگی پھر آپ نے ہاتھ اس قدر بلند کئے کہ بغلوں کی سفیدی ہمیں نظر آنے لگی اور تین مرتبہ فرمایا اے اللہ کیا میں نے پہنچا دیا ؟ مسند احمد کی ایک ضعیف حدیث میں ہے ایسے تحصیلداروں اور حاکموں کو جو تحفے ملیں وہ خیانت ہیں یہ روایت صرف مسند احمد میں ضعیف ہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا اگلی مطول روایت کا ماحاصل ہے، ترمذی میں ہے حضرت معاذ بن جبل میں ؓ فرماتے ہیں مجھے رسول اللہ ﷺ نے یمن میں بھیجا جب میں چل دیا تو آپ نے مجھے بلوایا جب میں واپس آیا تو فرمایا میں نے تمہیں صرف ایک بات کہنے کے لئے بلوایا ہے کہ میری اجازت کے بغیر تم جو کچھ لو گے وہ خیانت ہے اور ہر خائن اپنی خیانت کو لئے ہوئے قیامت کے دن آئے گا بس یہی کہنا تھا جاؤ اپنے کام میں لگو، مسند احمد میں ہے کہ حضور ﷺ نے ایک روز کھڑے ہو کر خیانت کا ذکر کیا اور اس کے بڑے بڑے گناہ اور وبال بیان فرما کر ہمیں ڈرایا پھر جانوروں کو لئے ہوئے قیامت کے دن آئے حضور ﷺ سے فریاد رسی کی عرض کرنے اور آپ کے انکار کردینے کا ذکر کیا جو پہلے بیان ہوچکا ہے اس میں سونے چاندی کا ذکر بھی ہے، یہ حدیث بخاری مسلم میں بھی ہے، مسند احمد میں ہے کہ رسول مقبول ﷺ نے فرمایا اے لوگ جسے ہم عامل بنائیں اور پھر وہ ہم سے ایک سوئی یا اس سے بھی ہلکی چیز چھپائے تو وہ خیانت ہے جسے لے کر وہ قیامت کے دن حاضر ہوگا، یہ سن کر ایک سانولے رنگ کے انصاری حضرت سعید بن عبادہ ؓ کھڑے ہو کر کہنے لگے حضور ﷺ میں تو عامل بننے سے دستبردار ہوتا ہوں، فرمایا کیوں ؟ کہا آپ نے جو اس طرح فرمایا، آپ نے فرمایا ہاں اب بھی سنو ہم کوئی کام سونپیں اسے چاہئے کہ تھوڑا بہت سب کچھ لائے جو اسے دیا جائے وہ لے لے اور جس سے روک دیا جائے رک جائے، یہ حدیث مسلم اور ابو داؤد میں بھی ہے حضرت رافع فرماتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ عموماً نماز عصر کے بعد بنو عبدالاشہل کے ہاں تشریف لے جاتے تھے اور تقریباً مغرب تک وہیں مجلس رہتی تھی ایک دن مغرب کے وقت وہاں سے واپس چلے وقت تنگ تھا تیز تیز چل رہے تھے بقیع میں آ کر فرمانے لگے تف ہے تجھے تف ہے تجھے میں سمجھا آپ مجھے فرما رہے ہیں چناچہ میں اپنے کپڑے ٹھیک ٹھاک کرنے لگا اور پیچھے رہ گیا بلکہ یہ قبر فلاں شخص کی ہے اسے میں نے قبیلے کی طرف عامل بنا کر بھیجا تھا اس نے ایک چادر لے لی وہ چادر اب آگ بن کر اس کے اوپر بھڑک رہی ہے۔ (مسند احمد) حضرت عبادہ بن صامت ؓ فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺ مال غنیمت کے اونٹ کی پیٹھ کے چند بال لیتے پھر فرماتے میرا بھی اس میں وہی حق ہے جو تم میں سے کسی ایک کا، خیانت سے بچو خیانت کرنے والے کی رسوائی قیامت کے دن ہوگی سوئی دھاگے تک پہنچا دو اور اس سے حقیر چیز بھی اللہ تعالیٰ کی راہ میں نزدیک والوں اور دور والوں سے جہاد کرو، وطن میں بھی اور سفر میں بھی جہاد جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے جہاد کی وجہ سے اللہ تعالیٰ مشکلات سے اور رنج و غم سے نجات دیتا ہے، اللہ کی حدیں نزدیک و دور والوں میں جاری کرو اللہ کے بارے میں کسی ملامت کرنے کی ملامت تمہیں نہ روکے (مسند احمد) اس حدیث کا بعض حصہ ابن ماجہ میں بھی مروی ہے، حضرت ابو مسعود انصاری ؓ فرماتے ہیں کہ مجھے جب رسول اللہ ﷺ نے عامل بنا کر بھیجنا چاہا تو فرمایا اے ابو مسعود جاؤ ایسا نہ ہو کہ میں تمہیں قیامت کے دن اس حال میں پاؤں کہ تمہاری پیٹھ پر اونٹ ہو جو آواز نکال رہا ہو جسے تم نے خیانت سے لے لیا ہو، میں نے کہا حضور ﷺ پھر تو میں نہیں جاتا آپ نے فرمایا اچھا میں تمہیں زبردستی بھیجتا بھی نہیں (ابو داؤد) ابن مردویہ میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں اگر کوئی پتھر جہنم میں ڈالا جائے تو ستر سال تک چلتا رہے لیکن تہہ کو نہیں پہنچتا خیانت کی چیز کو اسی طرح جہنم میں پھینک دیا جائے گا، پھر خیانت والے سے کہا جائے گا جا اسے لے آ، یہی معنی ہیں اللہ کے اس فرمان کے آیت (ومن یغلل یات بما غل یوم القیامتہ) مسند احمد میں ہے کہ خیبر کی جنگ والے دن صحابہ کرام آنے لگے اور کہنے لگے فاں شہید ہے فلاں شہید ہے جب ایک شخص کی نسبت یہ کہا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہرگز نہیں میں نے اسے جہنم میں دیکھا ہے کیونکہ اس نے غنیمت کے مال کی ایک چادر خیانت کرلی تھی پھر آپ نے فرمایا اے عمر بن خطاب تم جاؤ اور لوگوں میں منادی کردو کہ جنت میں صرف ایماندار ہی جائیں گے چناچہ میں چلا اور سب میں یہ ندا کردی، یہ حدیث مسلم اور ترمذی میں بھی ہے امام ترمذی اسے حسن صحیح کہتے ہیں، ابن جریر میں ہے کہ ایک دن حضرت عمر نے حضرت عبداللہ بن انیس سے صدقات کے بارے میں تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ تم نے رسول اللہ ﷺ کا یہ فرمان نہیں سنا ؟ کہ آپ نے صدقات میں خیانت کرنے والے کی نسبت فرمایا اس میں جو شخص اونٹ یا بکری لے لے وہ قیامت والے دن اسے اٹھائے ہوئے آئے گا۔ حضرت عبداللہ نے فرمایا ہاں یہ روایت ابن ماجہ میں بھی ہے، ابن جریر میں حضرت سعد بن عبادہ سے مروی ہے کہ انہیں صدقات وصول کرنے کے لئے حضور ﷺ نے بھیجنا چاہا اور فرمایا اے سعد ایسا نہ ہو کہ قیامت کے دن تو بلبلاتے اونٹ کو اٹھا کر لائے تو حضرت سعد کہنے لگے کہ نہ میں اس عہدہ کو لوں اور نہ ایسا ہونے کا احتمال رہے چناچہ حضور ﷺ نے بھی اس کام سے انہیں معاف رکھا، مسند احمد میں ہے کہ حضرت مسلم بن عبدالملک کے ساتھ روم کی جنگ میں حضرت سالم بن عبداللہ بھی تھے ایک شخص کے اسباب میں کچھ خیانت کا مال بھی نکلا سردار لشکر نے حضرت سالم سے اس کے بارے میں فتویٰ پوچھا تو آپ نے فرمایا مجھ سے میرے باپ عبداللہ نے اور ان سے ان کی باپ عمر بن خطاب نے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس کے اسباب میں تم چوری کا مال پاؤ اسے جلا دو ، راوی کہتا ہے میرا خیال ہے یہ بھی فرمایا اور اسے سزا دو ، چناچہ جب اس کا مال بازار میں نکالا تو اس میں ایک قرآن شریف بھی تھا حضرت سالم سے پھر اس کی بابت پوچھا گیا آپ نے فرمایا اسے بیچ دو اور اس کی قیمت صدقہ کردو، یہ حدیث ابو داؤد اور ترمذی میں بھی ہے، امام علی بن مدینی اور امام بخاری وغیرہ فرماتے ہیں یہ حدیث منکر ہے، امام دارقطنی فرماتے ہیں صحیح یہ ہے کہ یہ حضرت سالم کا اپنا فتویٰ ہے، حضرت امام احمد اور ان کے ساتھیوں کا قول بھی یہی ہے، حضرت حسن بھی یہی کہتے ہیں حضرت علی فرماتے ہیں اس کا اسباب جلا دیا جائے اور اسے مملوک کی حد سے کم مارا جائے اور اس کا حصہ نہ دیا جائے، ابوحنیفہ مالک شافعی اور جمہور کا مذہب اس کے برخلاف ہے یہ کہتے ہیں اس کا اسباب نہ جلایا جائے بلکہ اس کے مثل اسے تعزیر یعنی سزا دی جائے، امام بخاری فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے خائن کے جنازے کی نماز سے انکار کردیا اور اس کا اسباب نہیں جلایا، واللہ اعلم، مسند احمد میں ہے کہ قرآن شریفوں کے جب تغیر کا حکم کیا گیا تو حضرت ابن مسعود فرمانے لگے تم میں سے جس سے ہو سکے وہ اسے چھپا کر رکھ لے کیونکہ جو شخص جس چپز کو چھپا کر رکھ لے گا اسی کو لے کر قیامت کے روز آئے گا، پھر فرمانے لگے میں نے ستر دفعہ رسول اللہ ﷺ کی زبانی پڑھا ہے پس کیا میں رسول اللہ ﷺ کی پڑھائی ہوئی قرأت کو چھوڑ دوں ؟ امام وکیع بھی اپنی تفسیر میں اسے لائے ہیں، ابو داؤد میں ہے کہ آنحضور ﷺ کی عادت مبارکہ تھی کہ جب مال غنیمت آتا تو آپ حضرت بلال ؓ کو حکم دیتے ایک مرتبہ ایک شخص اس کے بعد بالوں کا ایک گچھا لے کر آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ ﷺ میرے پاس یہ رہ گیا تھا آپ نے فرمایا کیا تو نے حضرت بلال کی منادی سنی تھی ؟ جو تین مرتبہ ہوئی تھی اس نے کہا ہاں فرمایا پھر تو اس وقت کیوں نہ لایا ؟ اس نے عذر بیان کیا آپ نے فرمایا اب میں ہرگز نہ لوں گا تو ہی اسے لے کر قیامت کے دن آنا۔ اللہ دو عالم پھر فرماتا ہے کہ اللہ کی شرع پر چل کر اللہ تعالیٰ کی رضامندی کے مستحق ہونے والے اس کے ثوابوں کو حاصل کرنے والے اس کے عذابوں سے بچنے والے اور وہ لوگ جو اللہ کے غضب کے مستحق ہوئے اور جو مر کر جہنم میں ٹھکانا پائیں گے کیا یہ دونوں برابر ہوسکتے ہیں ؟ قرآن کریم میں دوسری جگہ ہے کہ اللہ کی باتوں کو حق ماننے والا اور اس سے اندھا رہنے والا برابر نہیں، اسی طرح فرمان ہے کہ جن سے اللہ کا اچھا وعدہ ہوچکا ہے اور جو اسے پانے والا ہے وہ اور دنیا کا نفع حاصل کرنے والا برابر نہیں۔ پھر فرماتا ہے کہ بھلائی اور برائی والے مختلف درجوں پر ہیں، وہ جنت کے درجوں میں ہیں اور یہ جہنم کے طبقوں میں جیسا کہ دوسری جگہ ہے آیت (وَلِكُلٍّ دَرَجٰتٌ مِّمَّا عَمِلُوْا) 6۔ الانعام :32) ہر ایک کے لئے ان کے اعمال کے مطابق درجات ہیں۔ پھر فرمایا اللہ ان کے اعمال دیکھ رہا ہے اور عنقریب ان سب کو پورا بدلہ دے گا نہ نیکی ماری جائے گی اور نہ بدی بڑھائی جائے گی بلکہ عمل کے مطابق ہی جزا سزا ہوگی۔ پھر فرماتا ہے کہ مومنوں پر اللہ کا بڑا احسان ہے کہ انہی کی جنس سے ان میں اپنا پیغمبر بھیجا تاکہ یہ اس سے بات چیت کرسکیں پوچھ گچھ کرسکیں ساتھ بیٹھ اٹھ سکیں اور پوری طرح نفع حاصل کرسکیں، جیسے اور جگہ ہے آیت (وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓ اَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوْٓا اِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَّوَدَّةً وَّرَحْمَةً) 30۔ الروم :21) یہاں بھی یہی مطلب ہے کہ تمہاری جنس سے تمہارے جوڑے اس نے پیدا کئے اور جگہ ہے آیت (قُلْ اِنَّمَآ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ يُوْحٰٓى اِلَيَّ اَنَّمَآ اِلٰــهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ فَاسْتَقِيْمُوْٓا اِلَيْهِ وَاسْتَغْفِرُوْهُ ۭ وَوَيْلٌ لِّـلْمُشْرِكِيْنَ) 41۔ فصلت :6) کہہ دے کہ میں تو تم جیسا ہی انسان ہوں میری طرف وحی کی جاتی ہے کہ تم سب کا معبود ایک ہی ہے، اور فرمان ہے آیت (وَمَآ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنَ الْمُرْسَلِيْنَ اِلَّآ اِنَّهُمْ لَيَاْكُلُوْنَ الطَّعَامَ وَيَمْشُوْنَ فِي الْاَسْوَاقِ) 25۔ الفرقان :20) یعنی تجھ سے پہلے بھی ہم نے مردوں کو وحی کی تھی جو بستیوں کے رہنے والے تھے اور ارشاد ہے آیت (يٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ اَلَمْ يَاْتِكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ يَقُصُّوْنَ عَلَيْكُمْ اٰيٰتِيْ وَيُنْذِرُوْنَكُمْ لِقَاۗءَ يَوْمِكُمْ ھٰذَا) 6۔ الانعام :130) یعنی اے جنو اور انسانو کیا تمہارے پاس تم میں سے ہی رسول نہیں آئے تھے ؟ الغرض یہ پورا احسان ہے کہ مخلوق کی طرف انہی میں سے رسول بھیجے گئے تاکہ وہ پاس بیٹھ اٹھ کر بار بار سوال جواب کر کے پوری طرح دین سیکھ لیں، پس اللہ عزوجل فرماتا ہے کہ وہ اللہ کی آیتیں یعنی قرآن کریم انہیں پڑھاتا ہے اور اچھی باتوں کا حکم دے کر اور برائیوں سے روک کر ان کی جانوں کی پاکیزگی کرتا ہے اور شرک و جاہلیت کی ناپاکی کے اثرات سے زائل کرتا ہے اور انہیں کتاب اور سنت سکھاتا ہے۔ اس رسول ﷺ کے آنے سے پہلے تو یہ صاف بھٹکے ہوئے تھے ظاہر برائی اور پوری جہالت میں تھے۔
162
View Single
أَفَمَنِ ٱتَّبَعَ رِضۡوَٰنَ ٱللَّهِ كَمَنۢ بَآءَ بِسَخَطٖ مِّنَ ٱللَّهِ وَمَأۡوَىٰهُ جَهَنَّمُۖ وَبِئۡسَ ٱلۡمَصِيرُ
So is one who follows the will of Allah equal to one who has incurred the wrath from Allah and whose home is the fire? And what a wretched place to return!
بھلا وہ شخص جو اللہ کی مرضی کے تابع ہو گیا اس شخص کی طرح کیسے ہو سکتا ہے جو اللہ کے غضب کا سزاوار ہوا اور اس کا ٹھکانا جہنم ہے، اور وہ بہت ہی بری جگہ ہے
Tafsir Ibn Kathir
Among the Qualities of Our Prophet Muhammad are Mercy and Kindness
Allah addresses His Messenger and reminds him and the believers of the favor that He has made his heart and words soft for his Ummah, those who follow his command and refrain from what he prohibits.
فَبِمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللَّهِ لِنتَ لَهُمْ
(And by the mercy of Allah, you dealt with them gently) 3:159. meaning, who would have made you this kind, if it was not Allah's mercy for you and them. Qatadah said that,
فَبِمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللَّهِ لِنتَ لَهُمْ
(And by the mercy of Allah, you dealt with them gently) means, "With Allah's mercy you became this kind." Al-Hasan Al-Basri said that this, indeed, is the description of the behavior that Allah sent Muhammad with. This Ayah is similar to Allah's statement,
لَقَدْ جَآءَكُمْ رَسُولٌ مِّنْ أَنفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَّحِيمٌ
(Verily, there has come unto you a Messenger from among yourselves. It grieves him that you should receive any injury or difficulty. He is anxious over you (to be rightly guided, to repent to Allah); for the believers (he is) full of pity, kind, and merciful) 9:128. Allah said next,
وَلَوْ كُنْتَ فَظّاً غَلِيظَ الْقَلْبِ لاَنْفَضُّواْ مِنْ حَوْلِكَ
(And had you been severe and harsh-hearted, they would have broken away from about you;)
The severe person is he who utters harsh words, and,
غَلِيظَ الْقَلْبِ
(harsh-hearted) is the person whose heart is hard. Had this been the Prophet's behavior, "They would have scattered from around you. However, Allah gathered them and made you kind and soft with them, so that their hearts congregate around you." `Abdullah bin `Amr said that he read the description of the Messenger of Allah ﷺ in previous Books, "He is not severe, harsh, obscene in the marketplace or dealing evil for evil. Rather, he forgives and pardons."
The Order for Consultation and to Abide by it
Allah said,
فَاعْفُ عَنْهُمْ وَاسْتَغْفِرْ لَهُمْ وَشَاوِرْهُمْ فِى الاٌّمْرِ
(So pardon them, and ask (Allah's) forgiveness for them; and consult them in the affairs.)
The Messenger of Allah ﷺ used to ask his Companions for advice about various matters, to comfort their hearts, and so they actively implement the decision they reach. For instance, before the battle of Badr, the Prophet asked his Companions for if Muslims should intercept the caravan (led by Abu Sufyan). They said, "O Messenger of Allah! If you wish to cross the sea, we would follow you in it, and if you march forth to Barkul-Ghimad we would march with you. We would never say what the Children of Israel said to Musa, `So go, you and your Lord, and fight you two, we are sitting right here.' Rather, we say march forth and we shall march forth with you; and before you, and to your right and left shall we fight." The Prophet also asked them for their opinion about where they should set up camp at Badr. Al-Mundhir bin `Amr suggested to camp close to the enemy, for he wished to acquire martyrdom.
Concerning the battle of Uhud, the Messenger ﷺ asked the Companions if they should fortify themselves in Al-Madinah or go out to meet the enemy, and the majority of them requested that they go out to meet the enemy, and he did. He also took their advice on the day of Khandaq (the Trench) about conducting a peace treaty with some of the tribes of Al-Ahzab (the Confederates), in return for giving them one-third of the fruits of Al-Madinah. However, Sa`d bin `Ubadah and Sa`d bin Mu`adh rejected this offer and the Prophet went ahead with their advice. The Prophet also asked them if they should attack the idolators on the Day of Hudaybiyyah, and Abu Bakr disagreed, saying, "We did not come here to fight anyone. Rather, we came to perform `Umrah." The Prophet agreed.
On the day of Ifk, (i.e. the false accusation), the Messenger of Allah ﷺ said to them, "O Muslims! Give me your advice about some men who falsely accused my wife (`A'ishah). By Allah! I never knew of any evil to come from my wife. And they accused whom They accused he from whom I only knew righteous conduct, by Allah!" The Prophet asked `Ali and Usamah about divorcing `A'ishah. In summary, the Prophet used to take his Companions' advice for battles and other important events.
Ibn Majah recorded that Abu Hurayrah said that the Prophet said;
«الْمُسْتَشَارُ مُؤْتَمَن»
(The one whom advice is sought from is to be entrusted) tThis was recorded by Abu Dawud, At-Tirmidhi, and An-Nasa'i who graded it Hasan.
Trust in Allah After Taking the Decision
Allah's statement,
فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ
(Then when you have taken a decision, put your trust in Allah,) means, if you conduct the required consultation and you then make a decision, trust in Allah over your decision,
إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُتَوَكِّلِينَ
(certainly, Allah loves those who put their trust (in Him)).
Allah's statement,
إِن يَنصُرْكُمُ اللَّهُ فَلاَ غَالِبَ لَكُمْ وَإِن يَخْذُلْكُمْ فَمَن ذَا الَّذِى يَنصُرُكُم مِّنْ بَعْدِهِ وَعَلَى اللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ
(If Allah helps you, none can overcome you; and if He forsakes you, who is there after Him that can help you And in Allah (Alone) let believers put their trust), is similar to His statement that we mentioned earlier,
وَمَا النَّصْرُ إِلاَّ مِنْ عِندِ اللَّهِ الْعَزِيزِ الْحَكِيمِ
(And there is no victory except from Allah the Almighty, the All-Wise) 3:126.
Allah next commands the believers to trust in Him,
وَعَلَى اللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ
(And in Allah (Alone) let believers put their trust).
Treachery with the Spoils of War was not a Trait of the Prophet
Allah said,
وَمَا كَانَ لِنَبِىٍّ أَنْ يَغُلَّ
(It is not for any Prophet to illegally take a part of the booty,)
Ibn `Abbas, Mujahid and Al-Hasan said that the Ayah means, "It is not for a Prophet to breach the trust." Ibn Jarir recorded that, Ibn `Abbas said that, this Ayah,
وَمَا كَانَ لِنَبِىٍّ أَنْ يَغُلَّ
(It is not for any Prophet to illegally take a part of the booty,) was revealed in connection with a red robe that was missing from the spoils of war of Badr. Some people said that the Messenger of Allah ﷺ might have taken it. When this rumor circulated, Allah sent down,
وَمَا كَانَ لِنَبِىٍّ أَنْ يَغُلَّ وَمَن يَغْلُلْ يَأْتِ بِمَا غَلَّ يَوْمَ الْقِيَـمَةِ
(It is not for any Prophet to illegally take a part of the booty, and whosoever is deceitful with the booty, he shall bring forth on the Day of Resurrection that which he took.)
This was also recorded by Abu Dawud and At-Tirmidhi, who said "Hasan Gharib". This Ayah exonerates the Messenger of Allah ﷺ of all types of deceit and treachery, be it returning what was entrusted with him, dividing the spoils of war, etc.
Allah then said,
وَمَن يَغْلُلْ يَأْتِ بِمَا غَلَّ يَوْمَ الْقِيَـمَةِ ثُمَّ تُوَفَّى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَهُمْ لاَ يُظْلَمُونَ
(and whosoever is deceitful with the booty, he shall bring forth on the Day of Resurrection that which he took. Then every person shall be paid in full what he has earned, and they shall not be dealt with unjustly.)
This Ayah contains a stern warning and threat against Ghulul stealing from the booty, and there are also Hadiths, that prohibit such practice. Imam Ahmad recorded that Abu Malik Al-Ashja`i said that the Prophet said,
«أَعْظَمُ الْغُلُولِ عِنْدَ اللهِ ذِرَاعٌ مِنَ الْأَرْضِ، تَجِدُون الرَّجُلَيْنِ جَارَيْنِ فِي الْأَرْضِ أو فِي الدَّارِ فَيَقْطَعُ أَحَدُهُمَا مِنْ حَظِّ صَاحِبِه ذِرَاعًا، فَإِذَا اقْتَطَعَهُ، طُوِّقَهُ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ إِلى يَوْمِ الْقِيَامَة»
(The worst Ghulul (i.e. stealing) with Allah is a yard of land, that is, when you find two neighbors in a land or home and one of them illegally acquires a yard of his neighbor's land. When he does, he will be tied with it from the seven earths until the Day of Resurrection.)
Imam Ahmad recorded that Abu Humayd As-Sa`idi said, "The Prophet appointed a man from the tribe of Al-Azd, called Ibn Al-Lutbiyyah, to collect the Zakah. When he returned he said, `This (portion) is for you and this has been given to me as a gift.' The Prophet stood on the Minbar and said,
«مَا بَالُ الْعَامِلِ نَبْعَثُهُ فَيَجِي فَيَقُولُ: هَذَا لَكُمْ، وَهَذَا أُهْدِيَ لِي، أَفَلَا جَلَسَ فِي بَيْتِ أَبِيهِ وَأُمِّهِ فَيَنْظُرُ أَيُهْدَى إِلَيْهِ أَمْ لَا؟ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَا يَأْتِي أَحَدٌ مِنْكُمْ مِنْهَا بِشَيْءٍ إِلَّا جَاءَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلى رَقَبَتِهِ، إِنْ كَانَ بَعِيرًا لَهُ رُغَاءٌ، أَوْ بَقَرَةٌ لَهَا خُوَارٌ، أَوْ شَاةٌ تَيْعَر»
ثم رفع يديه حتى رأينا عفرة إبطيه، ثم قال:
«اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْت»
ثلاثًا.(What is the matter with a man whom we appoint to collect Zakah, when he returns he said, `This is for you and this has been given to me as a gift.' Why hadn't he stayed in his father's or mother's house to see whether he would be given presents or not By Him in Whose Hand my life is, whoever takes anything from the resources of the Zakah (unlawfully), he will carry it on his neck on the Day of Resurrection; if it be a camel, it will be grunting; if a cow, it will be mooing; and if a sheep, it will be bleating. The Prophet then raised his hands till we saw the whiteness of his armpits, and he said thrice, `O Allah! Haven't I conveyed Your Message.')"
Hisham bin `Urwah added that Abu Humayd said, "I have seen him with my eyes and heard him with my ears, and ask Zayd bin Thabit." This is recorded in the Two Sahihs .
In the book of Ahkam of his Sunan, Abu `Isa At-Tirmidhi recorded that Mu`adh bin Jabal said, "The Messenger of Allah ﷺ sent me to Yemen, but when I started on the journey, he sent for me to come back and said,
«أَتَدْرِي لِمَ بَعَثْتُ إِلَيْكَ؟ لَا تُصِيبَنَّ شَيْئًا بِغَيْرِ إِذْنِي، فَإِنَّهُ غُلُول»
(Do you know why I summoned you back Do not take anything without my permission, for if you do, it will be Ghulul.)
وَمَن يَغْلُلْ يَأْتِ بِمَا غَلَّ يَوْمَ الْقِيَـمَةِ
(and whosoever deceives his companions over the booty, he shall bring forth on the Day of Resurrection that which he took).
«لِهذَا دَعَوْتُكَ فَامْضِ لِعَمَلِك»
(This is why I summoned you, so now go and fulfill your mission.)" At-Tirmidhi said, "This Hadith is Hasan Gharib."
In addition, Imam Ahmad recorded that Abu Hurayrah said, "The Prophet got up among us and mentioned Ghulul and emphasized its magnitude. He then said,
«لَا أُلْفِيَنَّ أَحَدَكُمْ يَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلى رَقَبَتِهِ بَعِيرٌ لَهُ رُغَاءٌ، فَيَقُولُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَغِثْنِي، فَأَقُولُ: لَا أَمْلِكُ لَكَ مِنَ اللهِ شَيْئًا، قَدْ أَبْلَغْتُكَ، لَا أُلْفِيَنَّ أَحَدَكُمْ يَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلى رَقَبَتِهِ فَرَسٌ لَهَا حَمْحَمَةٌ، فَيَقُولُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَغِثْنِي، فَأَقُولُ: لَا أَمْلِكُ لَكَ مِنَ اللهِ شَيْئًا، قَدْ أَبْلَغْتُكَ، لَا أُلْفِيَنَّ أَحَدَكُمْ يَجِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلى رَقَبَتِهِ رِقَاعٌ تَخْفِقُ فَيَقُولُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَغِثْنِي، فَأَقُولُ: لَا أَمْلِكُ لَكَ مِنَ اللهِ شَيْئًا، قَدْ أَبْلَغْتُكَ، لَا أُلْفِيَنَّ أَحَدَكُمْ يَجِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلى رَقَبَتِهِ صَامِتٌ، فَيقُولُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَغِثْنِي، فَأَقُولُ: لَا أَمْلِكُ لَكَ مِنَ اللهِ شَيْئًا، قَدْ أَبْلَغْتُك»
(I will not like to see anyone among you on the Day of Resurrection, carrying a grunting camel over his neck. Such a man will say, 'O Allah's Messenger! Intercede on my behalf,' and I will say, 'I can't intercede for you with Allah, for I have conveyed (Allah's Message) to you.' I will not like to see any of you coming on the Day of Resurrection while carrying a neighing horse over his neck. Such a man will be saying, `O Allah's Messenger! Intercede on my behalf,' and I will reply, 'I can't intercede for you with Allah, for I have conveyed (Allah's Message) to you.' I will not like to see any of you coming on the Day of Resurrection while carrying clothes that will be fluttering, and the man will say, 'O Allah's Messenger! Intercede (with Allah) for me, ' and I will say, 'I can't help you with Allah, for I have conveyed (Allah's Message) to you.' I will not like to see any of you coming on the Day of Resurrection while carrying gold and silver on his neck. This person will say, 'O Allah's Messenger! Intercede (with Allah) for me.' And I will say, 'I can't help you with Allah, for I have conveyed (Allah's Message) to you.')" This Hadith was recorded in the Two Sahihs .
Imam Ahmad recorded that `Umar bin Al-Khattab said, "During the day (battle) of Khaybar, several Companions of the Messenger of Allah ﷺ came to him and said, `So-and-so died as a martyr, so-and-so died as a martyr.' When they mentioned a certain man that died as a martyr, the Messenger of Allah ﷺ said,
«كَلَّا إِنِّي رَأَيْتُهُ فِي النَّارِ فِي بُرْدَةٍ غَلَّهَا أَوْ عَبَاءَةٍ »
(No. I have seen him in the Fire because of a robe that he stole (from the booty).)
The Messenger of Allah ﷺ then said,
«يَا ابْنَ الْخَطَّابِ، اذْهَبْ فَنَادِ فِي النَّاسِ: إِنَّهُ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا الْمُؤْمِنُون»
(O Ibn Al-Khattab! Go and announce to the people that only the faithful shall enter Paradise.)
So I went out and proclaimed that none except the faithful shall enter Paradise." This was recorded by Muslim and At-Tirmidhi, who said "Hasan Sahih".
The Honest and Dishonest are Not Similar
Allah said,
أَفَمَنِ اتَّبَعَ رِضْوَنَ اللَّهِ كَمَن بَآءَ بِسَخْطٍ مِّنَ اللَّهِ وَمَأْوَاهُ جَهَنَّمُ وَبِئْسَ الْمَصِيرُ
(Is then one who follows (seeks) the pleasure of Allah like the one who draws on himself the wrath of Allah His abode is Hell, and worse indeed is that destination!) 3:162,
This refers to those seeking what pleases Allah by obeying His legislation, thus earning His pleasure and tremendous rewards, while being saved from His severe torment. This type of person is not similar to one who earns Allah's anger, has no means of escaping it and who will reside in Jahannam on the Day of Resurrection, and what an evil destination it is.
There are many similar statements in the Qur'an, such as,
أَفَمَن يَعْلَمُ أَنَّمَآ أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَبِّكَ الْحَقُّ كَمَنْ هُوَ أَعْمَى
(Shall he then who knows that what has been revealed unto you (O Muhammad ) from your Lord is the truth be like him who is blind) 13:19, and,
أَفَمَن وَعَدْنَـهُ وَعْداً حَسَناً فَهُوَ لاَقِيهِ كَمَن مَّتَّعْنَاهُ مَتَـعَ الْحَيَوةِ الدُّنْيَا
(Is he whom We have promised an excellent promise (Paradise) which he will find true, like him whom We have made to enjoy the luxuries of the life of (this) world) 28:61.
Allah then said,
هُمْ دَرَجَـتٌ عِندَ اللَّهِ
(They are in varying grades with Allah, ) 3:163 meaning, the people of righteousness and the people of evil are in grades, as Al-Hasan Al-Basri and Muhammad bin Ishaq said. Abu `Ubaydah and Al-Kisa'i said that this Ayah refers to degrees, meaning there are various degrees and dwellings in Paradise, as well as, various degrees and dwellings in the Fire. In another Ayah, Allah said,
وَلِكُلٍّ دَرَجَـتٌ مِّمَّا عَمِلُواْ
(For all there will be degrees (or ranks) according to what they did) 6:132. Next, Allah said,
وَاللَّهُ بَصِيرٌ بِمَا يَعْمَلُونَ
(and Allah is All-Seer of what they do), and He will compensate or punish them, and will never rid them of a good deed, or increase their evil deeds. Rather, each will be treated according to his deeds.
The Magnificent Blessing in the Advent of Our Prophet Muhammad
Allah the Most High said:
لَقَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَى الْمُؤمِنِينَ إِذْ بَعَثَ فِيهِمْ رَسُولاً مِّنْ أَنفُسِهِمْ
(Indeed Allah conferred a great favor on the believers when He sent among them a Messenger from among themselves,)
Meaning, from their own kind, so that it is possible for them to speak with him, ask him questions, associate with him, and benefit from him. Just as Allah said:
وَمِنْ ءايَـتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُم مِّنْ أَنفُسِكُمْ أَزْوَجاً لِّتَسْكُنُواْ إِلَيْهَا
(And among His signs is that he created for them mates, that they may find rest in.)
Meaning; of their own kind. And Allah said;
قُلْ إِنَّمَآ أَنَاْ بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ يُوحَى إِلَىَّ أَنَّمَآ إِلَـهُكُمْ إِلَـهٌ وَاحِدٌ
(Say: "I am only a man like you. It has been revealed to me that your God is One God") 18:110.
وَمَآ أَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنَ الْمُرْسَلِينَ إِلاَّ إِنَّهُمْ لَيَأْكُلُونَ الطَّعَامَ وَيَمْشُونَ فِى الاٌّسْوَاقِ
(And We never sent before you any of the Messengers but verily, they ate food and walked in the markets) 25:20.
وَمَآ أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ إِلاَّ رِجَالاً نُّوحِى إِلَيْهِمْ مِّنْ أَهْلِ الْقُرَى
(And We sent not before you any but men unto whom We revealed, from among the people of townships) 12:109, and,
يَـمَعْشَرَ الْجِنِّ وَالإِنْسِ أَلَمْ يَأْتِكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ
(O you assembly of Jinn and mankind! "Did not there come to you Messengers from among you...") 6:130.
Allah's favor is perfected when His Messenger to the people is from their own kind, so that they are able to talk to him and inquire about the meanings of Allah's Word. This is why Allah said,
يَتْلُواْ عَلَيْهِمْ ءَايَـتِهِ
(reciting unto them His verses) 3:164, the Qur'an,
وَيُزَكِّيهِمْ
(and purifying them), commanding them to do righteous works and forbidding them from committing evil. This is how their hearts will be purified and cleansed of the sin and evil that used to fill them when they were disbelievers and ignorant.
وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَـبَ وَالْحِكْمَةَ
(and instructing them (in) the Book and the Hikmah,) the Qur'an and the Sunnah,
وَإِن كَانُواْ مِن قَبْلِ
(while before that they had been), before sending this Prophet, Muhammad ,
لَفِى ضَلَـلٍ مُّبِينٍ
(in manifest error. ) indulging in plain and unequivocal error and ignorance that are clear to everyone.
اسوہ حسنہ کے مالک نبی کریم ﷺ اللہ تعالیٰ اپنے نبی پر اور مسلمانوں پر اپنا احسان جتاتا ہے کہ نبی کے ماننے والوں اور ان کی نافرمانی سے بچنے والوں کے لئے اللہ نے نبی کے دل کو نرم کردیا ہے اگر اس کی رحمت نہ ہوتی تو اتنی نرمی اور آسانی نہ ہوتی، حضرت قتادہ فرماتے ہیں ما صلہ ہے جو معرفہ کے ساتھ عرب ملا دیا کرتے ہیں جیسے آیت (فَبِمَا نَقْضِهِمْ مِّيْثَاقَهُمْ) 4۔ النسآء :155) میں اور نکرہ کے ساتھ بھی ملا دیتے ہیں جیسے آیت (عما قلیل) میں اسی طرح یہاں ہے، یعنی اللہ کی رحمت سے تو ان کے لئے نرم دل ہوا ہے، حضرت حسن بصری فرماتے ہیں یہ حضور ﷺ کے اخلاق ہیں جن پر آپ کی بعثت ہوئی ہے یہ آیت ٹھیک اس آیت جیسی ہے آیت (لقد جاء کم) الخ، یعنی تمہارے پاس تم ہی میں سے ایک رسول آئے جس پر تمہاری مشقت گراں گزرتی ہے جو تمہاری بھلائی کے حریص ہیں جو مومنوں پر شفقت اور رحم کرنے والے ہیں، مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابو امامہ باہلی کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا اے ابو امامہ بعض مومن وہ ہیں جن کے لئے میرا دل تڑپ اٹھتا ہے، (فظاً) سے مراد یہاں سخت کلام ہے۔ کیونکہ اس کے بعد (غلیظ القلب) کا لفظ ہے، یعنی سخت دل، فرمان ہے کہ نبی اکرم تم سخت کلام اور سخت دل ہوتے تو یہ لوگ تمہارے پاس سے منتشر ہوجاتے اور تمہیں چھوڑ دیتے لیکن اللہ تعالیٰ نے انہیں آپ کے جاں نثار و شیدا بنادیا ہے اور آپ کو بھی ان کے لئے محبت اور نرمی عطا فرمائی، اور تاکہ ان کے دل آپ سے لگے رہیں حضرت عبداللہ بن عمرو فرماتے ہیں میں رسول اللہ ﷺ کی صفوں کو اگلی کتابوں میں بھی پاتا ہوں کہ آپ سخت کلام سخت دل بازاروں میں شور مچانے والے اور برائی کا بدلہ لینے والے نہیں بلکہ درگذر کرنے والے اور معافی دینے والے ہیں، ترمذی کی ایک غریب حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں لوگوں کی آؤ بھگت خیر خواہی اور چشم پوشی کا مجھے اللہ کی جانب سے اسی طرح کا حکم کیا گیا ہے جس طرح فرائض کی پابندی کا، چناچہ اس آیت میں بھی فرمان ہے تو ان سے درگذر کر، ان کے لئے استغفار کر، اور کاموں کا مشورہ ان سے لیا کر، اسی لئے حضور ﷺ کی عادت مبارک تھی کہ لوگوں کو خوش کرنے کے لئے اپنے کاموں میں ان سے مشورہ ان سے لیا کرو، اسی لئے حضور ﷺ کی عادت مبارک تھی کہ لوگوں کو خوش کرنے کے لئے اپنے کاموں میں ان سے مشورہ کیا کرتے تھے، جیسے کہ بدر والے دن قافلے کی طرف بڑھنے کے لئے مشورہ لیا اور صحابہ نے کہا کہ اگر آپ سمندر کے کنارے پر کھڑا کر کے ہمیں فرمائیں گے کہ اس میں کود پڑو اور اس پار نکلو تو ہم سرتابی نہ کریں گے اور اگر ہمیں برک انعماد تک لے جانا چاہیں تو بھی ہم آپ کے ساتھ ہیں ہم وہ نہیں کہ موسیٰ ؑ کے صحابیوں کی طرح کہہ دیں کہ تو اور تیرا رب لڑ لے ہم تو یہاں بیٹھے ہیں بلکہ ہم تو آپ کے دائیں بائیں صفیں باندھ کر جم کر دشمنوں کا مقابلہ کریں گے، اسی طرح آپ نے اس بات کا مشورہ بھی لیا کہ منزل کہاں ہو ؟ اور منذر بن عمرو نے مشورہ دیا کہ ان لوگوں سے آگے بڑھ کر ان کے سامنے ہو، اسی طرح احد کے موقع پر بھی آپ نے مشورہ کیا کہ آیا مدینہ میں رہ کر لڑیں یا باہر نکلیں اور جمہور کی رائے یہی ہوئی کہ باہر میدان میں جا کر لڑنا چاہئے چناچہ آپ نے یہی کیا اور آپ نے جنگ احزاب کے موقع پر بھی اپنے اصحاب سے مشورہ کیا کہ مدینہ کے پھلوں کی پیداوار کا تہائی حصہ دینے کا وعدہ کر کے مخالفین سے مصالحت کرلی جائے ؟ تو حضرت سعد بن عبادہ اور حضرت سعد بن معاذ ؓ نے اس کا انکار کیا اور آپ نے مجھے اس مشورے کو قبول کرلیا اور مصالحت چھوڑ دی، اسی طرح آپ نے حدیبیہ والے دن اس امر کا مشورہ کیا کہ آیا مشرکین کے گھروں پر دھاوا بول دیں ؟ تو حضرت صدیق نے فرمایا ہم کسی سے لڑنے نہیں آئے ہمارا ارادہ صرف عمرے کا ہے چناچہ اسے بھی آپ نے منظور فرما لیا، اسی طرح جب منافقین نے آپ کی بیوی صاحبہ ام المومنین حضرت عائشہ ؓ پر تہمت لگائی تو آپ نے فرمایا اے مسلمانو مجھے مشورہ دو کہ ان لوگوں کا میں کیا کروں جو میرے گھر والوں کو بدنام کر رہے ہیں۔ اللہ کی قسم میرے گھر والوں میں کوئی برائی نہیں اور جس شخص کے ساتھ تہمت لگا رہے ہیں واللہ میرے نزدیک تو وہ بھی بھلا آدمی ہے اور آپ نے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کی جدائی کے لئے حضرت علی اور حضرت اسامہ سے مشورہ لیا، غرض لڑائی کے کاموں میں اور دیگر امور میں بھی حضور ﷺ صحابہ سے مشورہ کیا کرتے تھی، اس میں علماء کا اختلاف ہے کہ یہ مشورے کا حکم آپ کو بطور وجوب کے دیا تھا یا اختیاری امر تھا تاکہ لوگوں کے دل خوش رہیں، حضرت ابن عباس فرماتے ہیں اس آیت میں حضرت ابوبکر و عمر سے مشورہ کرنے کا حکم ہے (حاکم) یہ دونوں حضور ﷺ کے حواری اور آپ کے وزیر تھے اور مسلمانوں کے باپ ہیں (کلبی) مسند احمد میں ہے رسول ﷺ نے ان دونوں بزرگوں سے فرمایا اگر تمہاری دونوں کی کسی امر میں ایک رائے ہوجائے تو میں تمہارے خلاف کبھی نہ کروں گا، حضور ﷺ سے سوال ہوتا ہے کہ عزم کے کیا معنی ہیں تو آپ نے فرمایا جب عقلمند لوگوں سے مشورہ کیا جائے پھر ان کی مان لینا (ابن مردویہ) ابن ماجہ میں آپ کا یہ فرمان بھی مروی ہے کہ جس سے مشورہ کیا جائے وہ امین ہے، ابو داؤد ترمذی نسائی وغیرہ میں بھی یہ روایت ہے، امام ترمذی علیہ الرحمہ اسے حسن کہتے ہیں، اور روایت میں ہے کہ جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی سے مشورہ لے تو اسے چاہئے بھلی بات کا مشورہ دے (ابن ماجہ) پھر فرمایا جب تم کسی کام کا مشورہ کر چکو پھر اس کے کرنے کا پختہ ارادہ ہوجائے تو اب اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرو اللہ تعالیٰ بھروسہ کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔ پھر دوسری آیت کا ارشاد بالکل اسی طرح کا ہے جو پہلے گذرا ہے کہ آیت (ۭوَمَا النَّصْرُ اِلَّا مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ الْعَزِيْزِ الْحَكِيْمِ) 3۔ آل عمران :26) یعنی مدد صرف اللہ ہی کی طرف سے ہے جو غالب ہے اور حکمتوں والا ہے، پھر حکم دیتا ہے کہ مومنوں کو توکل اور بھروسہ ذات باری پر ہی ہونا چاہئے۔ پھر فرماتا ہے نبی کو لائق نہیں کہ وہ خیانت کرے، ابن عباس فرماتے ہیں بدر کے دن ایک سرخ رنگ چادر نہیں ملتی تھی تو لوگوں کے کہا شاید رسول اللہ ﷺ نے لے لی ہو اس پر یہ آیت اتری (ترمذی) اور روایت میں ہے کہ منافقوں نے حضور ﷺ پر کسی چیز کی تہمت لگائی تھی جس پر آیت (وما کان) اتری، پس ثابت ہوا کہ اللہ کے رسول رسولوں کے سردار ﷺ پر ہر قسم کی خیانت سے بیجا طرف داری سے مبرا اور منزہ ہیں خواہ وہ مال کی تقسیم ہو یا امانت کی ادائیگی ہو، حضرت ابن عباس سے یہ بھی مروی ہے کہ نبی جانب داری نہیں کرسکتا کہ بعض لشکریوں کو دے اور بعض کو ان کا حصہ نہ پہنچائے، اس آیت کی یہ تفسیر بھی کی گئی ہے کہ یہ نہیں ہوسکتا کہ نبی اللہ کی نازل کردہ کسی چیز کو چھپالے اور امت تک نہ پہنچائے۔ یغل کے معنی اور خائن یغل کو " یے " کے پیش سے بھی پڑھا گیا ہے تو معنی یہ ہوں گے کہ نبی کی ذات ایسی نہیں کہ ان کے پاس والے ان کی خیانت کریں، چناچہ حضرت قتادہ اور حضرت ربیع سے مروی ہے کہ بدر کے دن آپ کے اصحاب نے مال غنیمت میں سے تقسیم سے پہلے کچھ لیے لیا تھا اس پر یہ آیت اتری (ابن جریر) پھر خائن لوگوں کو ڈرایا جاتا ہے اور سخت عذاب کی خبر دی جاتی ہے۔ احادیث میں بھی اس کی بابت کچھ سخت وعید ہے چناچہ مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ سب سے بڑا خیانت کرنے والا وہ شخص ہے جو پڑوسی کے کھیت کی زمین یا اس کے گھر کی زمین دبا لے اگر ایک ہاتھ زمین بھی ناحق اپنی طرف کرلے گا تو ساتوں زمینوں کا طوق اسے پہنایا جائے گا مسند کی ایک اور حدیث میں ہے جسے ہم حاکم بنائے اگر اس کا گھر نہ ہو تو وہ گھر بنا سکتا ہے، بیوی نہ ہو تو کرسکتا ہے، اس کے سوا اگر کچھ اور لے گا تو خائن ہوگا، یہ حدیث ابو داؤد میں بھی دیگر الفاظ سے منقول ہے، ابن جریر کی حدیث میں ہے۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں میں تم میں سے اس شخص کو پہچانتا ہوں جو چلاتی ہوئی بکری کو اٹھائے ہوئے قیامت کے دن آئے گا اور میرا نام لے لے کر مجھے پکارے گا میں کہہ دوں گا کہ میں اللہ تعالیٰ کے پاس تجھے کام نہیں آسکتا میں تو پہنچا چکا تھا اسے بھی میں پہچانتا ہوں جو اونٹ کو اٹھائے ہوئے آئے گا جو بول رہا ہوگا یہ بھی کہے گا کہ اے محمد ﷺ اے محمد ﷺ میں کہوں گا میں تیرے لئے اللہ کے پاس کسی چیز کا مالک نہیں ہوں میں تو تبلیغ کرچکا تھا اور میں اسے بھی پہچانوں گا جو اسی طرح گھوڑے کو لادے ہوئے آئے گا جو ہنہنا رہا ہوگا وہ بھی مجھے پکارے گا اور میں کہہ دوں گا کہ میں تو پہنچا چکا تھا آج کچھ کام نہیں آسکتا اور اس شخص کو بھی میں پہچانتا ہوں جو کھالیں لئے ہوئے حاضر ہوگا اور کہہ رہا ہو یا محمد ﷺ یا محمد ﷺ میں کہوں گا میں اللہ کے پاس کسی نفع کا اختیار نہیں رکھتا میں تجھے حق و باطل بتاچکا تھا، یہ حدیث صحاح ستہ میں نہیں، مسند احمد میں ہے کہ حضور ﷺ نے قبیلہ ازد کے ایک شخص کو حاکم بنا کر بھیجا جسے ابن البتیہہ کہتے تھے یہ جب زکوٰۃ وصول کر کے آئے تو کہنے لگے یہ تو تمہارا ہے اور یہ مجھے تحفہ میں ملا ہے نبی ﷺ منبر پر کھڑے ہوگئے اور فرمانے لگے ان لوگوں کو کیا ہوگیا ہے ہم انہیں کسی کام پر بھیجتے ہیں تو آ کر کہتے ہیں یہ تمہارا اور یہ ہمارے تحفے کا یہ اپنے گھروں میں ہی بیٹھے رہتے پھر دیکھتے کہ انہیں تحفہ دیا جاتا ہے یا نہیں ؟ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ﷺ کی جان ہے تم میں سے جو کوئی اس میں سے کوئی چیز بھی لے لے گا وہ قیامت کے دن اسے گردن پر اٹھائے ہوئے لائے گا اونٹ ہے تو چلا رہا ہوگا۔ گائے ہے تو بول رہی ہوگی بکری ہے تو چیخ رہی ہوگی پھر آپ نے ہاتھ اس قدر بلند کئے کہ بغلوں کی سفیدی ہمیں نظر آنے لگی اور تین مرتبہ فرمایا اے اللہ کیا میں نے پہنچا دیا ؟ مسند احمد کی ایک ضعیف حدیث میں ہے ایسے تحصیلداروں اور حاکموں کو جو تحفے ملیں وہ خیانت ہیں یہ روایت صرف مسند احمد میں ضعیف ہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا اگلی مطول روایت کا ماحاصل ہے، ترمذی میں ہے حضرت معاذ بن جبل میں ؓ فرماتے ہیں مجھے رسول اللہ ﷺ نے یمن میں بھیجا جب میں چل دیا تو آپ نے مجھے بلوایا جب میں واپس آیا تو فرمایا میں نے تمہیں صرف ایک بات کہنے کے لئے بلوایا ہے کہ میری اجازت کے بغیر تم جو کچھ لو گے وہ خیانت ہے اور ہر خائن اپنی خیانت کو لئے ہوئے قیامت کے دن آئے گا بس یہی کہنا تھا جاؤ اپنے کام میں لگو، مسند احمد میں ہے کہ حضور ﷺ نے ایک روز کھڑے ہو کر خیانت کا ذکر کیا اور اس کے بڑے بڑے گناہ اور وبال بیان فرما کر ہمیں ڈرایا پھر جانوروں کو لئے ہوئے قیامت کے دن آئے حضور ﷺ سے فریاد رسی کی عرض کرنے اور آپ کے انکار کردینے کا ذکر کیا جو پہلے بیان ہوچکا ہے اس میں سونے چاندی کا ذکر بھی ہے، یہ حدیث بخاری مسلم میں بھی ہے، مسند احمد میں ہے کہ رسول مقبول ﷺ نے فرمایا اے لوگ جسے ہم عامل بنائیں اور پھر وہ ہم سے ایک سوئی یا اس سے بھی ہلکی چیز چھپائے تو وہ خیانت ہے جسے لے کر وہ قیامت کے دن حاضر ہوگا، یہ سن کر ایک سانولے رنگ کے انصاری حضرت سعید بن عبادہ ؓ کھڑے ہو کر کہنے لگے حضور ﷺ میں تو عامل بننے سے دستبردار ہوتا ہوں، فرمایا کیوں ؟ کہا آپ نے جو اس طرح فرمایا، آپ نے فرمایا ہاں اب بھی سنو ہم کوئی کام سونپیں اسے چاہئے کہ تھوڑا بہت سب کچھ لائے جو اسے دیا جائے وہ لے لے اور جس سے روک دیا جائے رک جائے، یہ حدیث مسلم اور ابو داؤد میں بھی ہے حضرت رافع فرماتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ عموماً نماز عصر کے بعد بنو عبدالاشہل کے ہاں تشریف لے جاتے تھے اور تقریباً مغرب تک وہیں مجلس رہتی تھی ایک دن مغرب کے وقت وہاں سے واپس چلے وقت تنگ تھا تیز تیز چل رہے تھے بقیع میں آ کر فرمانے لگے تف ہے تجھے تف ہے تجھے میں سمجھا آپ مجھے فرما رہے ہیں چناچہ میں اپنے کپڑے ٹھیک ٹھاک کرنے لگا اور پیچھے رہ گیا بلکہ یہ قبر فلاں شخص کی ہے اسے میں نے قبیلے کی طرف عامل بنا کر بھیجا تھا اس نے ایک چادر لے لی وہ چادر اب آگ بن کر اس کے اوپر بھڑک رہی ہے۔ (مسند احمد) حضرت عبادہ بن صامت ؓ فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺ مال غنیمت کے اونٹ کی پیٹھ کے چند بال لیتے پھر فرماتے میرا بھی اس میں وہی حق ہے جو تم میں سے کسی ایک کا، خیانت سے بچو خیانت کرنے والے کی رسوائی قیامت کے دن ہوگی سوئی دھاگے تک پہنچا دو اور اس سے حقیر چیز بھی اللہ تعالیٰ کی راہ میں نزدیک والوں اور دور والوں سے جہاد کرو، وطن میں بھی اور سفر میں بھی جہاد جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے جہاد کی وجہ سے اللہ تعالیٰ مشکلات سے اور رنج و غم سے نجات دیتا ہے، اللہ کی حدیں نزدیک و دور والوں میں جاری کرو اللہ کے بارے میں کسی ملامت کرنے کی ملامت تمہیں نہ روکے (مسند احمد) اس حدیث کا بعض حصہ ابن ماجہ میں بھی مروی ہے، حضرت ابو مسعود انصاری ؓ فرماتے ہیں کہ مجھے جب رسول اللہ ﷺ نے عامل بنا کر بھیجنا چاہا تو فرمایا اے ابو مسعود جاؤ ایسا نہ ہو کہ میں تمہیں قیامت کے دن اس حال میں پاؤں کہ تمہاری پیٹھ پر اونٹ ہو جو آواز نکال رہا ہو جسے تم نے خیانت سے لے لیا ہو، میں نے کہا حضور ﷺ پھر تو میں نہیں جاتا آپ نے فرمایا اچھا میں تمہیں زبردستی بھیجتا بھی نہیں (ابو داؤد) ابن مردویہ میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں اگر کوئی پتھر جہنم میں ڈالا جائے تو ستر سال تک چلتا رہے لیکن تہہ کو نہیں پہنچتا خیانت کی چیز کو اسی طرح جہنم میں پھینک دیا جائے گا، پھر خیانت والے سے کہا جائے گا جا اسے لے آ، یہی معنی ہیں اللہ کے اس فرمان کے آیت (ومن یغلل یات بما غل یوم القیامتہ) مسند احمد میں ہے کہ خیبر کی جنگ والے دن صحابہ کرام آنے لگے اور کہنے لگے فاں شہید ہے فلاں شہید ہے جب ایک شخص کی نسبت یہ کہا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہرگز نہیں میں نے اسے جہنم میں دیکھا ہے کیونکہ اس نے غنیمت کے مال کی ایک چادر خیانت کرلی تھی پھر آپ نے فرمایا اے عمر بن خطاب تم جاؤ اور لوگوں میں منادی کردو کہ جنت میں صرف ایماندار ہی جائیں گے چناچہ میں چلا اور سب میں یہ ندا کردی، یہ حدیث مسلم اور ترمذی میں بھی ہے امام ترمذی اسے حسن صحیح کہتے ہیں، ابن جریر میں ہے کہ ایک دن حضرت عمر نے حضرت عبداللہ بن انیس سے صدقات کے بارے میں تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ تم نے رسول اللہ ﷺ کا یہ فرمان نہیں سنا ؟ کہ آپ نے صدقات میں خیانت کرنے والے کی نسبت فرمایا اس میں جو شخص اونٹ یا بکری لے لے وہ قیامت والے دن اسے اٹھائے ہوئے آئے گا۔ حضرت عبداللہ نے فرمایا ہاں یہ روایت ابن ماجہ میں بھی ہے، ابن جریر میں حضرت سعد بن عبادہ سے مروی ہے کہ انہیں صدقات وصول کرنے کے لئے حضور ﷺ نے بھیجنا چاہا اور فرمایا اے سعد ایسا نہ ہو کہ قیامت کے دن تو بلبلاتے اونٹ کو اٹھا کر لائے تو حضرت سعد کہنے لگے کہ نہ میں اس عہدہ کو لوں اور نہ ایسا ہونے کا احتمال رہے چناچہ حضور ﷺ نے بھی اس کام سے انہیں معاف رکھا، مسند احمد میں ہے کہ حضرت مسلم بن عبدالملک کے ساتھ روم کی جنگ میں حضرت سالم بن عبداللہ بھی تھے ایک شخص کے اسباب میں کچھ خیانت کا مال بھی نکلا سردار لشکر نے حضرت سالم سے اس کے بارے میں فتویٰ پوچھا تو آپ نے فرمایا مجھ سے میرے باپ عبداللہ نے اور ان سے ان کی باپ عمر بن خطاب نے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس کے اسباب میں تم چوری کا مال پاؤ اسے جلا دو ، راوی کہتا ہے میرا خیال ہے یہ بھی فرمایا اور اسے سزا دو ، چناچہ جب اس کا مال بازار میں نکالا تو اس میں ایک قرآن شریف بھی تھا حضرت سالم سے پھر اس کی بابت پوچھا گیا آپ نے فرمایا اسے بیچ دو اور اس کی قیمت صدقہ کردو، یہ حدیث ابو داؤد اور ترمذی میں بھی ہے، امام علی بن مدینی اور امام بخاری وغیرہ فرماتے ہیں یہ حدیث منکر ہے، امام دارقطنی فرماتے ہیں صحیح یہ ہے کہ یہ حضرت سالم کا اپنا فتویٰ ہے، حضرت امام احمد اور ان کے ساتھیوں کا قول بھی یہی ہے، حضرت حسن بھی یہی کہتے ہیں حضرت علی فرماتے ہیں اس کا اسباب جلا دیا جائے اور اسے مملوک کی حد سے کم مارا جائے اور اس کا حصہ نہ دیا جائے، ابوحنیفہ مالک شافعی اور جمہور کا مذہب اس کے برخلاف ہے یہ کہتے ہیں اس کا اسباب نہ جلایا جائے بلکہ اس کے مثل اسے تعزیر یعنی سزا دی جائے، امام بخاری فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے خائن کے جنازے کی نماز سے انکار کردیا اور اس کا اسباب نہیں جلایا، واللہ اعلم، مسند احمد میں ہے کہ قرآن شریفوں کے جب تغیر کا حکم کیا گیا تو حضرت ابن مسعود فرمانے لگے تم میں سے جس سے ہو سکے وہ اسے چھپا کر رکھ لے کیونکہ جو شخص جس چپز کو چھپا کر رکھ لے گا اسی کو لے کر قیامت کے روز آئے گا، پھر فرمانے لگے میں نے ستر دفعہ رسول اللہ ﷺ کی زبانی پڑھا ہے پس کیا میں رسول اللہ ﷺ کی پڑھائی ہوئی قرأت کو چھوڑ دوں ؟ امام وکیع بھی اپنی تفسیر میں اسے لائے ہیں، ابو داؤد میں ہے کہ آنحضور ﷺ کی عادت مبارکہ تھی کہ جب مال غنیمت آتا تو آپ حضرت بلال ؓ کو حکم دیتے ایک مرتبہ ایک شخص اس کے بعد بالوں کا ایک گچھا لے کر آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ ﷺ میرے پاس یہ رہ گیا تھا آپ نے فرمایا کیا تو نے حضرت بلال کی منادی سنی تھی ؟ جو تین مرتبہ ہوئی تھی اس نے کہا ہاں فرمایا پھر تو اس وقت کیوں نہ لایا ؟ اس نے عذر بیان کیا آپ نے فرمایا اب میں ہرگز نہ لوں گا تو ہی اسے لے کر قیامت کے دن آنا۔ اللہ دو عالم پھر فرماتا ہے کہ اللہ کی شرع پر چل کر اللہ تعالیٰ کی رضامندی کے مستحق ہونے والے اس کے ثوابوں کو حاصل کرنے والے اس کے عذابوں سے بچنے والے اور وہ لوگ جو اللہ کے غضب کے مستحق ہوئے اور جو مر کر جہنم میں ٹھکانا پائیں گے کیا یہ دونوں برابر ہوسکتے ہیں ؟ قرآن کریم میں دوسری جگہ ہے کہ اللہ کی باتوں کو حق ماننے والا اور اس سے اندھا رہنے والا برابر نہیں، اسی طرح فرمان ہے کہ جن سے اللہ کا اچھا وعدہ ہوچکا ہے اور جو اسے پانے والا ہے وہ اور دنیا کا نفع حاصل کرنے والا برابر نہیں۔ پھر فرماتا ہے کہ بھلائی اور برائی والے مختلف درجوں پر ہیں، وہ جنت کے درجوں میں ہیں اور یہ جہنم کے طبقوں میں جیسا کہ دوسری جگہ ہے آیت (وَلِكُلٍّ دَرَجٰتٌ مِّمَّا عَمِلُوْا) 6۔ الانعام :32) ہر ایک کے لئے ان کے اعمال کے مطابق درجات ہیں۔ پھر فرمایا اللہ ان کے اعمال دیکھ رہا ہے اور عنقریب ان سب کو پورا بدلہ دے گا نہ نیکی ماری جائے گی اور نہ بدی بڑھائی جائے گی بلکہ عمل کے مطابق ہی جزا سزا ہوگی۔ پھر فرماتا ہے کہ مومنوں پر اللہ کا بڑا احسان ہے کہ انہی کی جنس سے ان میں اپنا پیغمبر بھیجا تاکہ یہ اس سے بات چیت کرسکیں پوچھ گچھ کرسکیں ساتھ بیٹھ اٹھ سکیں اور پوری طرح نفع حاصل کرسکیں، جیسے اور جگہ ہے آیت (وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓ اَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوْٓا اِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَّوَدَّةً وَّرَحْمَةً) 30۔ الروم :21) یہاں بھی یہی مطلب ہے کہ تمہاری جنس سے تمہارے جوڑے اس نے پیدا کئے اور جگہ ہے آیت (قُلْ اِنَّمَآ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ يُوْحٰٓى اِلَيَّ اَنَّمَآ اِلٰــهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ فَاسْتَقِيْمُوْٓا اِلَيْهِ وَاسْتَغْفِرُوْهُ ۭ وَوَيْلٌ لِّـلْمُشْرِكِيْنَ) 41۔ فصلت :6) کہہ دے کہ میں تو تم جیسا ہی انسان ہوں میری طرف وحی کی جاتی ہے کہ تم سب کا معبود ایک ہی ہے، اور فرمان ہے آیت (وَمَآ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنَ الْمُرْسَلِيْنَ اِلَّآ اِنَّهُمْ لَيَاْكُلُوْنَ الطَّعَامَ وَيَمْشُوْنَ فِي الْاَسْوَاقِ) 25۔ الفرقان :20) یعنی تجھ سے پہلے بھی ہم نے مردوں کو وحی کی تھی جو بستیوں کے رہنے والے تھے اور ارشاد ہے آیت (يٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ اَلَمْ يَاْتِكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ يَقُصُّوْنَ عَلَيْكُمْ اٰيٰتِيْ وَيُنْذِرُوْنَكُمْ لِقَاۗءَ يَوْمِكُمْ ھٰذَا) 6۔ الانعام :130) یعنی اے جنو اور انسانو کیا تمہارے پاس تم میں سے ہی رسول نہیں آئے تھے ؟ الغرض یہ پورا احسان ہے کہ مخلوق کی طرف انہی میں سے رسول بھیجے گئے تاکہ وہ پاس بیٹھ اٹھ کر بار بار سوال جواب کر کے پوری طرح دین سیکھ لیں، پس اللہ عزوجل فرماتا ہے کہ وہ اللہ کی آیتیں یعنی قرآن کریم انہیں پڑھاتا ہے اور اچھی باتوں کا حکم دے کر اور برائیوں سے روک کر ان کی جانوں کی پاکیزگی کرتا ہے اور شرک و جاہلیت کی ناپاکی کے اثرات سے زائل کرتا ہے اور انہیں کتاب اور سنت سکھاتا ہے۔ اس رسول ﷺ کے آنے سے پہلے تو یہ صاف بھٹکے ہوئے تھے ظاہر برائی اور پوری جہالت میں تھے۔
163
View Single
هُمۡ دَرَجَٰتٌ عِندَ ٱللَّهِۗ وَٱللَّهُ بَصِيرُۢ بِمَا يَعۡمَلُونَ
They are in different ranks before Allah; and Allah sees their deeds.
اللہ کے حضور ان کے مختلف درجات ہیں، اور اللہ ان کے اعمال کو خوب دیکھتا ہے
Tafsir Ibn Kathir
Among the Qualities of Our Prophet Muhammad are Mercy and Kindness
Allah addresses His Messenger and reminds him and the believers of the favor that He has made his heart and words soft for his Ummah, those who follow his command and refrain from what he prohibits.
فَبِمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللَّهِ لِنتَ لَهُمْ
(And by the mercy of Allah, you dealt with them gently) 3:159. meaning, who would have made you this kind, if it was not Allah's mercy for you and them. Qatadah said that,
فَبِمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللَّهِ لِنتَ لَهُمْ
(And by the mercy of Allah, you dealt with them gently) means, "With Allah's mercy you became this kind." Al-Hasan Al-Basri said that this, indeed, is the description of the behavior that Allah sent Muhammad with. This Ayah is similar to Allah's statement,
لَقَدْ جَآءَكُمْ رَسُولٌ مِّنْ أَنفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَّحِيمٌ
(Verily, there has come unto you a Messenger from among yourselves. It grieves him that you should receive any injury or difficulty. He is anxious over you (to be rightly guided, to repent to Allah); for the believers (he is) full of pity, kind, and merciful) 9:128. Allah said next,
وَلَوْ كُنْتَ فَظّاً غَلِيظَ الْقَلْبِ لاَنْفَضُّواْ مِنْ حَوْلِكَ
(And had you been severe and harsh-hearted, they would have broken away from about you;)
The severe person is he who utters harsh words, and,
غَلِيظَ الْقَلْبِ
(harsh-hearted) is the person whose heart is hard. Had this been the Prophet's behavior, "They would have scattered from around you. However, Allah gathered them and made you kind and soft with them, so that their hearts congregate around you." `Abdullah bin `Amr said that he read the description of the Messenger of Allah ﷺ in previous Books, "He is not severe, harsh, obscene in the marketplace or dealing evil for evil. Rather, he forgives and pardons."
The Order for Consultation and to Abide by it
Allah said,
فَاعْفُ عَنْهُمْ وَاسْتَغْفِرْ لَهُمْ وَشَاوِرْهُمْ فِى الاٌّمْرِ
(So pardon them, and ask (Allah's) forgiveness for them; and consult them in the affairs.)
The Messenger of Allah ﷺ used to ask his Companions for advice about various matters, to comfort their hearts, and so they actively implement the decision they reach. For instance, before the battle of Badr, the Prophet asked his Companions for if Muslims should intercept the caravan (led by Abu Sufyan). They said, "O Messenger of Allah! If you wish to cross the sea, we would follow you in it, and if you march forth to Barkul-Ghimad we would march with you. We would never say what the Children of Israel said to Musa, `So go, you and your Lord, and fight you two, we are sitting right here.' Rather, we say march forth and we shall march forth with you; and before you, and to your right and left shall we fight." The Prophet also asked them for their opinion about where they should set up camp at Badr. Al-Mundhir bin `Amr suggested to camp close to the enemy, for he wished to acquire martyrdom.
Concerning the battle of Uhud, the Messenger ﷺ asked the Companions if they should fortify themselves in Al-Madinah or go out to meet the enemy, and the majority of them requested that they go out to meet the enemy, and he did. He also took their advice on the day of Khandaq (the Trench) about conducting a peace treaty with some of the tribes of Al-Ahzab (the Confederates), in return for giving them one-third of the fruits of Al-Madinah. However, Sa`d bin `Ubadah and Sa`d bin Mu`adh rejected this offer and the Prophet went ahead with their advice. The Prophet also asked them if they should attack the idolators on the Day of Hudaybiyyah, and Abu Bakr disagreed, saying, "We did not come here to fight anyone. Rather, we came to perform `Umrah." The Prophet agreed.
On the day of Ifk, (i.e. the false accusation), the Messenger of Allah ﷺ said to them, "O Muslims! Give me your advice about some men who falsely accused my wife (`A'ishah). By Allah! I never knew of any evil to come from my wife. And they accused whom They accused he from whom I only knew righteous conduct, by Allah!" The Prophet asked `Ali and Usamah about divorcing `A'ishah. In summary, the Prophet used to take his Companions' advice for battles and other important events.
Ibn Majah recorded that Abu Hurayrah said that the Prophet said;
«الْمُسْتَشَارُ مُؤْتَمَن»
(The one whom advice is sought from is to be entrusted) tThis was recorded by Abu Dawud, At-Tirmidhi, and An-Nasa'i who graded it Hasan.
Trust in Allah After Taking the Decision
Allah's statement,
فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ
(Then when you have taken a decision, put your trust in Allah,) means, if you conduct the required consultation and you then make a decision, trust in Allah over your decision,
إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُتَوَكِّلِينَ
(certainly, Allah loves those who put their trust (in Him)).
Allah's statement,
إِن يَنصُرْكُمُ اللَّهُ فَلاَ غَالِبَ لَكُمْ وَإِن يَخْذُلْكُمْ فَمَن ذَا الَّذِى يَنصُرُكُم مِّنْ بَعْدِهِ وَعَلَى اللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ
(If Allah helps you, none can overcome you; and if He forsakes you, who is there after Him that can help you And in Allah (Alone) let believers put their trust), is similar to His statement that we mentioned earlier,
وَمَا النَّصْرُ إِلاَّ مِنْ عِندِ اللَّهِ الْعَزِيزِ الْحَكِيمِ
(And there is no victory except from Allah the Almighty, the All-Wise) 3:126.
Allah next commands the believers to trust in Him,
وَعَلَى اللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ
(And in Allah (Alone) let believers put their trust).
Treachery with the Spoils of War was not a Trait of the Prophet
Allah said,
وَمَا كَانَ لِنَبِىٍّ أَنْ يَغُلَّ
(It is not for any Prophet to illegally take a part of the booty,)
Ibn `Abbas, Mujahid and Al-Hasan said that the Ayah means, "It is not for a Prophet to breach the trust." Ibn Jarir recorded that, Ibn `Abbas said that, this Ayah,
وَمَا كَانَ لِنَبِىٍّ أَنْ يَغُلَّ
(It is not for any Prophet to illegally take a part of the booty,) was revealed in connection with a red robe that was missing from the spoils of war of Badr. Some people said that the Messenger of Allah ﷺ might have taken it. When this rumor circulated, Allah sent down,
وَمَا كَانَ لِنَبِىٍّ أَنْ يَغُلَّ وَمَن يَغْلُلْ يَأْتِ بِمَا غَلَّ يَوْمَ الْقِيَـمَةِ
(It is not for any Prophet to illegally take a part of the booty, and whosoever is deceitful with the booty, he shall bring forth on the Day of Resurrection that which he took.)
This was also recorded by Abu Dawud and At-Tirmidhi, who said "Hasan Gharib". This Ayah exonerates the Messenger of Allah ﷺ of all types of deceit and treachery, be it returning what was entrusted with him, dividing the spoils of war, etc.
Allah then said,
وَمَن يَغْلُلْ يَأْتِ بِمَا غَلَّ يَوْمَ الْقِيَـمَةِ ثُمَّ تُوَفَّى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَهُمْ لاَ يُظْلَمُونَ
(and whosoever is deceitful with the booty, he shall bring forth on the Day of Resurrection that which he took. Then every person shall be paid in full what he has earned, and they shall not be dealt with unjustly.)
This Ayah contains a stern warning and threat against Ghulul stealing from the booty, and there are also Hadiths, that prohibit such practice. Imam Ahmad recorded that Abu Malik Al-Ashja`i said that the Prophet said,
«أَعْظَمُ الْغُلُولِ عِنْدَ اللهِ ذِرَاعٌ مِنَ الْأَرْضِ، تَجِدُون الرَّجُلَيْنِ جَارَيْنِ فِي الْأَرْضِ أو فِي الدَّارِ فَيَقْطَعُ أَحَدُهُمَا مِنْ حَظِّ صَاحِبِه ذِرَاعًا، فَإِذَا اقْتَطَعَهُ، طُوِّقَهُ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ إِلى يَوْمِ الْقِيَامَة»
(The worst Ghulul (i.e. stealing) with Allah is a yard of land, that is, when you find two neighbors in a land or home and one of them illegally acquires a yard of his neighbor's land. When he does, he will be tied with it from the seven earths until the Day of Resurrection.)
Imam Ahmad recorded that Abu Humayd As-Sa`idi said, "The Prophet appointed a man from the tribe of Al-Azd, called Ibn Al-Lutbiyyah, to collect the Zakah. When he returned he said, `This (portion) is for you and this has been given to me as a gift.' The Prophet stood on the Minbar and said,
«مَا بَالُ الْعَامِلِ نَبْعَثُهُ فَيَجِي فَيَقُولُ: هَذَا لَكُمْ، وَهَذَا أُهْدِيَ لِي، أَفَلَا جَلَسَ فِي بَيْتِ أَبِيهِ وَأُمِّهِ فَيَنْظُرُ أَيُهْدَى إِلَيْهِ أَمْ لَا؟ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَا يَأْتِي أَحَدٌ مِنْكُمْ مِنْهَا بِشَيْءٍ إِلَّا جَاءَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلى رَقَبَتِهِ، إِنْ كَانَ بَعِيرًا لَهُ رُغَاءٌ، أَوْ بَقَرَةٌ لَهَا خُوَارٌ، أَوْ شَاةٌ تَيْعَر»
ثم رفع يديه حتى رأينا عفرة إبطيه، ثم قال:
«اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْت»
ثلاثًا.(What is the matter with a man whom we appoint to collect Zakah, when he returns he said, `This is for you and this has been given to me as a gift.' Why hadn't he stayed in his father's or mother's house to see whether he would be given presents or not By Him in Whose Hand my life is, whoever takes anything from the resources of the Zakah (unlawfully), he will carry it on his neck on the Day of Resurrection; if it be a camel, it will be grunting; if a cow, it will be mooing; and if a sheep, it will be bleating. The Prophet then raised his hands till we saw the whiteness of his armpits, and he said thrice, `O Allah! Haven't I conveyed Your Message.')"
Hisham bin `Urwah added that Abu Humayd said, "I have seen him with my eyes and heard him with my ears, and ask Zayd bin Thabit." This is recorded in the Two Sahihs .
In the book of Ahkam of his Sunan, Abu `Isa At-Tirmidhi recorded that Mu`adh bin Jabal said, "The Messenger of Allah ﷺ sent me to Yemen, but when I started on the journey, he sent for me to come back and said,
«أَتَدْرِي لِمَ بَعَثْتُ إِلَيْكَ؟ لَا تُصِيبَنَّ شَيْئًا بِغَيْرِ إِذْنِي، فَإِنَّهُ غُلُول»
(Do you know why I summoned you back Do not take anything without my permission, for if you do, it will be Ghulul.)
وَمَن يَغْلُلْ يَأْتِ بِمَا غَلَّ يَوْمَ الْقِيَـمَةِ
(and whosoever deceives his companions over the booty, he shall bring forth on the Day of Resurrection that which he took).
«لِهذَا دَعَوْتُكَ فَامْضِ لِعَمَلِك»
(This is why I summoned you, so now go and fulfill your mission.)" At-Tirmidhi said, "This Hadith is Hasan Gharib."
In addition, Imam Ahmad recorded that Abu Hurayrah said, "The Prophet got up among us and mentioned Ghulul and emphasized its magnitude. He then said,
«لَا أُلْفِيَنَّ أَحَدَكُمْ يَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلى رَقَبَتِهِ بَعِيرٌ لَهُ رُغَاءٌ، فَيَقُولُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَغِثْنِي، فَأَقُولُ: لَا أَمْلِكُ لَكَ مِنَ اللهِ شَيْئًا، قَدْ أَبْلَغْتُكَ، لَا أُلْفِيَنَّ أَحَدَكُمْ يَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلى رَقَبَتِهِ فَرَسٌ لَهَا حَمْحَمَةٌ، فَيَقُولُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَغِثْنِي، فَأَقُولُ: لَا أَمْلِكُ لَكَ مِنَ اللهِ شَيْئًا، قَدْ أَبْلَغْتُكَ، لَا أُلْفِيَنَّ أَحَدَكُمْ يَجِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلى رَقَبَتِهِ رِقَاعٌ تَخْفِقُ فَيَقُولُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَغِثْنِي، فَأَقُولُ: لَا أَمْلِكُ لَكَ مِنَ اللهِ شَيْئًا، قَدْ أَبْلَغْتُكَ، لَا أُلْفِيَنَّ أَحَدَكُمْ يَجِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلى رَقَبَتِهِ صَامِتٌ، فَيقُولُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَغِثْنِي، فَأَقُولُ: لَا أَمْلِكُ لَكَ مِنَ اللهِ شَيْئًا، قَدْ أَبْلَغْتُك»
(I will not like to see anyone among you on the Day of Resurrection, carrying a grunting camel over his neck. Such a man will say, 'O Allah's Messenger! Intercede on my behalf,' and I will say, 'I can't intercede for you with Allah, for I have conveyed (Allah's Message) to you.' I will not like to see any of you coming on the Day of Resurrection while carrying a neighing horse over his neck. Such a man will be saying, `O Allah's Messenger! Intercede on my behalf,' and I will reply, 'I can't intercede for you with Allah, for I have conveyed (Allah's Message) to you.' I will not like to see any of you coming on the Day of Resurrection while carrying clothes that will be fluttering, and the man will say, 'O Allah's Messenger! Intercede (with Allah) for me, ' and I will say, 'I can't help you with Allah, for I have conveyed (Allah's Message) to you.' I will not like to see any of you coming on the Day of Resurrection while carrying gold and silver on his neck. This person will say, 'O Allah's Messenger! Intercede (with Allah) for me.' And I will say, 'I can't help you with Allah, for I have conveyed (Allah's Message) to you.')" This Hadith was recorded in the Two Sahihs .
Imam Ahmad recorded that `Umar bin Al-Khattab said, "During the day (battle) of Khaybar, several Companions of the Messenger of Allah ﷺ came to him and said, `So-and-so died as a martyr, so-and-so died as a martyr.' When they mentioned a certain man that died as a martyr, the Messenger of Allah ﷺ said,
«كَلَّا إِنِّي رَأَيْتُهُ فِي النَّارِ فِي بُرْدَةٍ غَلَّهَا أَوْ عَبَاءَةٍ »
(No. I have seen him in the Fire because of a robe that he stole (from the booty).)
The Messenger of Allah ﷺ then said,
«يَا ابْنَ الْخَطَّابِ، اذْهَبْ فَنَادِ فِي النَّاسِ: إِنَّهُ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا الْمُؤْمِنُون»
(O Ibn Al-Khattab! Go and announce to the people that only the faithful shall enter Paradise.)
So I went out and proclaimed that none except the faithful shall enter Paradise." This was recorded by Muslim and At-Tirmidhi, who said "Hasan Sahih".
The Honest and Dishonest are Not Similar
Allah said,
أَفَمَنِ اتَّبَعَ رِضْوَنَ اللَّهِ كَمَن بَآءَ بِسَخْطٍ مِّنَ اللَّهِ وَمَأْوَاهُ جَهَنَّمُ وَبِئْسَ الْمَصِيرُ
(Is then one who follows (seeks) the pleasure of Allah like the one who draws on himself the wrath of Allah His abode is Hell, and worse indeed is that destination!) 3:162,
This refers to those seeking what pleases Allah by obeying His legislation, thus earning His pleasure and tremendous rewards, while being saved from His severe torment. This type of person is not similar to one who earns Allah's anger, has no means of escaping it and who will reside in Jahannam on the Day of Resurrection, and what an evil destination it is.
There are many similar statements in the Qur'an, such as,
أَفَمَن يَعْلَمُ أَنَّمَآ أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَبِّكَ الْحَقُّ كَمَنْ هُوَ أَعْمَى
(Shall he then who knows that what has been revealed unto you (O Muhammad ) from your Lord is the truth be like him who is blind) 13:19, and,
أَفَمَن وَعَدْنَـهُ وَعْداً حَسَناً فَهُوَ لاَقِيهِ كَمَن مَّتَّعْنَاهُ مَتَـعَ الْحَيَوةِ الدُّنْيَا
(Is he whom We have promised an excellent promise (Paradise) which he will find true, like him whom We have made to enjoy the luxuries of the life of (this) world) 28:61.
Allah then said,
هُمْ دَرَجَـتٌ عِندَ اللَّهِ
(They are in varying grades with Allah, ) 3:163 meaning, the people of righteousness and the people of evil are in grades, as Al-Hasan Al-Basri and Muhammad bin Ishaq said. Abu `Ubaydah and Al-Kisa'i said that this Ayah refers to degrees, meaning there are various degrees and dwellings in Paradise, as well as, various degrees and dwellings in the Fire. In another Ayah, Allah said,
وَلِكُلٍّ دَرَجَـتٌ مِّمَّا عَمِلُواْ
(For all there will be degrees (or ranks) according to what they did) 6:132. Next, Allah said,
وَاللَّهُ بَصِيرٌ بِمَا يَعْمَلُونَ
(and Allah is All-Seer of what they do), and He will compensate or punish them, and will never rid them of a good deed, or increase their evil deeds. Rather, each will be treated according to his deeds.
The Magnificent Blessing in the Advent of Our Prophet Muhammad
Allah the Most High said:
لَقَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَى الْمُؤمِنِينَ إِذْ بَعَثَ فِيهِمْ رَسُولاً مِّنْ أَنفُسِهِمْ
(Indeed Allah conferred a great favor on the believers when He sent among them a Messenger from among themselves,)
Meaning, from their own kind, so that it is possible for them to speak with him, ask him questions, associate with him, and benefit from him. Just as Allah said:
وَمِنْ ءايَـتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُم مِّنْ أَنفُسِكُمْ أَزْوَجاً لِّتَسْكُنُواْ إِلَيْهَا
(And among His signs is that he created for them mates, that they may find rest in.)
Meaning; of their own kind. And Allah said;
قُلْ إِنَّمَآ أَنَاْ بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ يُوحَى إِلَىَّ أَنَّمَآ إِلَـهُكُمْ إِلَـهٌ وَاحِدٌ
(Say: "I am only a man like you. It has been revealed to me that your God is One God") 18:110.
وَمَآ أَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنَ الْمُرْسَلِينَ إِلاَّ إِنَّهُمْ لَيَأْكُلُونَ الطَّعَامَ وَيَمْشُونَ فِى الاٌّسْوَاقِ
(And We never sent before you any of the Messengers but verily, they ate food and walked in the markets) 25:20.
وَمَآ أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ إِلاَّ رِجَالاً نُّوحِى إِلَيْهِمْ مِّنْ أَهْلِ الْقُرَى
(And We sent not before you any but men unto whom We revealed, from among the people of townships) 12:109, and,
يَـمَعْشَرَ الْجِنِّ وَالإِنْسِ أَلَمْ يَأْتِكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ
(O you assembly of Jinn and mankind! "Did not there come to you Messengers from among you...") 6:130.
Allah's favor is perfected when His Messenger to the people is from their own kind, so that they are able to talk to him and inquire about the meanings of Allah's Word. This is why Allah said,
يَتْلُواْ عَلَيْهِمْ ءَايَـتِهِ
(reciting unto them His verses) 3:164, the Qur'an,
وَيُزَكِّيهِمْ
(and purifying them), commanding them to do righteous works and forbidding them from committing evil. This is how their hearts will be purified and cleansed of the sin and evil that used to fill them when they were disbelievers and ignorant.
وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَـبَ وَالْحِكْمَةَ
(and instructing them (in) the Book and the Hikmah,) the Qur'an and the Sunnah,
وَإِن كَانُواْ مِن قَبْلِ
(while before that they had been), before sending this Prophet, Muhammad ,
لَفِى ضَلَـلٍ مُّبِينٍ
(in manifest error. ) indulging in plain and unequivocal error and ignorance that are clear to everyone.
اسوہ حسنہ کے مالک نبی کریم ﷺ اللہ تعالیٰ اپنے نبی پر اور مسلمانوں پر اپنا احسان جتاتا ہے کہ نبی کے ماننے والوں اور ان کی نافرمانی سے بچنے والوں کے لئے اللہ نے نبی کے دل کو نرم کردیا ہے اگر اس کی رحمت نہ ہوتی تو اتنی نرمی اور آسانی نہ ہوتی، حضرت قتادہ فرماتے ہیں ما صلہ ہے جو معرفہ کے ساتھ عرب ملا دیا کرتے ہیں جیسے آیت (فَبِمَا نَقْضِهِمْ مِّيْثَاقَهُمْ) 4۔ النسآء :155) میں اور نکرہ کے ساتھ بھی ملا دیتے ہیں جیسے آیت (عما قلیل) میں اسی طرح یہاں ہے، یعنی اللہ کی رحمت سے تو ان کے لئے نرم دل ہوا ہے، حضرت حسن بصری فرماتے ہیں یہ حضور ﷺ کے اخلاق ہیں جن پر آپ کی بعثت ہوئی ہے یہ آیت ٹھیک اس آیت جیسی ہے آیت (لقد جاء کم) الخ، یعنی تمہارے پاس تم ہی میں سے ایک رسول آئے جس پر تمہاری مشقت گراں گزرتی ہے جو تمہاری بھلائی کے حریص ہیں جو مومنوں پر شفقت اور رحم کرنے والے ہیں، مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابو امامہ باہلی کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا اے ابو امامہ بعض مومن وہ ہیں جن کے لئے میرا دل تڑپ اٹھتا ہے، (فظاً) سے مراد یہاں سخت کلام ہے۔ کیونکہ اس کے بعد (غلیظ القلب) کا لفظ ہے، یعنی سخت دل، فرمان ہے کہ نبی اکرم تم سخت کلام اور سخت دل ہوتے تو یہ لوگ تمہارے پاس سے منتشر ہوجاتے اور تمہیں چھوڑ دیتے لیکن اللہ تعالیٰ نے انہیں آپ کے جاں نثار و شیدا بنادیا ہے اور آپ کو بھی ان کے لئے محبت اور نرمی عطا فرمائی، اور تاکہ ان کے دل آپ سے لگے رہیں حضرت عبداللہ بن عمرو فرماتے ہیں میں رسول اللہ ﷺ کی صفوں کو اگلی کتابوں میں بھی پاتا ہوں کہ آپ سخت کلام سخت دل بازاروں میں شور مچانے والے اور برائی کا بدلہ لینے والے نہیں بلکہ درگذر کرنے والے اور معافی دینے والے ہیں، ترمذی کی ایک غریب حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں لوگوں کی آؤ بھگت خیر خواہی اور چشم پوشی کا مجھے اللہ کی جانب سے اسی طرح کا حکم کیا گیا ہے جس طرح فرائض کی پابندی کا، چناچہ اس آیت میں بھی فرمان ہے تو ان سے درگذر کر، ان کے لئے استغفار کر، اور کاموں کا مشورہ ان سے لیا کر، اسی لئے حضور ﷺ کی عادت مبارک تھی کہ لوگوں کو خوش کرنے کے لئے اپنے کاموں میں ان سے مشورہ ان سے لیا کرو، اسی لئے حضور ﷺ کی عادت مبارک تھی کہ لوگوں کو خوش کرنے کے لئے اپنے کاموں میں ان سے مشورہ کیا کرتے تھے، جیسے کہ بدر والے دن قافلے کی طرف بڑھنے کے لئے مشورہ لیا اور صحابہ نے کہا کہ اگر آپ سمندر کے کنارے پر کھڑا کر کے ہمیں فرمائیں گے کہ اس میں کود پڑو اور اس پار نکلو تو ہم سرتابی نہ کریں گے اور اگر ہمیں برک انعماد تک لے جانا چاہیں تو بھی ہم آپ کے ساتھ ہیں ہم وہ نہیں کہ موسیٰ ؑ کے صحابیوں کی طرح کہہ دیں کہ تو اور تیرا رب لڑ لے ہم تو یہاں بیٹھے ہیں بلکہ ہم تو آپ کے دائیں بائیں صفیں باندھ کر جم کر دشمنوں کا مقابلہ کریں گے، اسی طرح آپ نے اس بات کا مشورہ بھی لیا کہ منزل کہاں ہو ؟ اور منذر بن عمرو نے مشورہ دیا کہ ان لوگوں سے آگے بڑھ کر ان کے سامنے ہو، اسی طرح احد کے موقع پر بھی آپ نے مشورہ کیا کہ آیا مدینہ میں رہ کر لڑیں یا باہر نکلیں اور جمہور کی رائے یہی ہوئی کہ باہر میدان میں جا کر لڑنا چاہئے چناچہ آپ نے یہی کیا اور آپ نے جنگ احزاب کے موقع پر بھی اپنے اصحاب سے مشورہ کیا کہ مدینہ کے پھلوں کی پیداوار کا تہائی حصہ دینے کا وعدہ کر کے مخالفین سے مصالحت کرلی جائے ؟ تو حضرت سعد بن عبادہ اور حضرت سعد بن معاذ ؓ نے اس کا انکار کیا اور آپ نے مجھے اس مشورے کو قبول کرلیا اور مصالحت چھوڑ دی، اسی طرح آپ نے حدیبیہ والے دن اس امر کا مشورہ کیا کہ آیا مشرکین کے گھروں پر دھاوا بول دیں ؟ تو حضرت صدیق نے فرمایا ہم کسی سے لڑنے نہیں آئے ہمارا ارادہ صرف عمرے کا ہے چناچہ اسے بھی آپ نے منظور فرما لیا، اسی طرح جب منافقین نے آپ کی بیوی صاحبہ ام المومنین حضرت عائشہ ؓ پر تہمت لگائی تو آپ نے فرمایا اے مسلمانو مجھے مشورہ دو کہ ان لوگوں کا میں کیا کروں جو میرے گھر والوں کو بدنام کر رہے ہیں۔ اللہ کی قسم میرے گھر والوں میں کوئی برائی نہیں اور جس شخص کے ساتھ تہمت لگا رہے ہیں واللہ میرے نزدیک تو وہ بھی بھلا آدمی ہے اور آپ نے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کی جدائی کے لئے حضرت علی اور حضرت اسامہ سے مشورہ لیا، غرض لڑائی کے کاموں میں اور دیگر امور میں بھی حضور ﷺ صحابہ سے مشورہ کیا کرتے تھی، اس میں علماء کا اختلاف ہے کہ یہ مشورے کا حکم آپ کو بطور وجوب کے دیا تھا یا اختیاری امر تھا تاکہ لوگوں کے دل خوش رہیں، حضرت ابن عباس فرماتے ہیں اس آیت میں حضرت ابوبکر و عمر سے مشورہ کرنے کا حکم ہے (حاکم) یہ دونوں حضور ﷺ کے حواری اور آپ کے وزیر تھے اور مسلمانوں کے باپ ہیں (کلبی) مسند احمد میں ہے رسول ﷺ نے ان دونوں بزرگوں سے فرمایا اگر تمہاری دونوں کی کسی امر میں ایک رائے ہوجائے تو میں تمہارے خلاف کبھی نہ کروں گا، حضور ﷺ سے سوال ہوتا ہے کہ عزم کے کیا معنی ہیں تو آپ نے فرمایا جب عقلمند لوگوں سے مشورہ کیا جائے پھر ان کی مان لینا (ابن مردویہ) ابن ماجہ میں آپ کا یہ فرمان بھی مروی ہے کہ جس سے مشورہ کیا جائے وہ امین ہے، ابو داؤد ترمذی نسائی وغیرہ میں بھی یہ روایت ہے، امام ترمذی علیہ الرحمہ اسے حسن کہتے ہیں، اور روایت میں ہے کہ جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی سے مشورہ لے تو اسے چاہئے بھلی بات کا مشورہ دے (ابن ماجہ) پھر فرمایا جب تم کسی کام کا مشورہ کر چکو پھر اس کے کرنے کا پختہ ارادہ ہوجائے تو اب اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرو اللہ تعالیٰ بھروسہ کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔ پھر دوسری آیت کا ارشاد بالکل اسی طرح کا ہے جو پہلے گذرا ہے کہ آیت (ۭوَمَا النَّصْرُ اِلَّا مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ الْعَزِيْزِ الْحَكِيْمِ) 3۔ آل عمران :26) یعنی مدد صرف اللہ ہی کی طرف سے ہے جو غالب ہے اور حکمتوں والا ہے، پھر حکم دیتا ہے کہ مومنوں کو توکل اور بھروسہ ذات باری پر ہی ہونا چاہئے۔ پھر فرماتا ہے نبی کو لائق نہیں کہ وہ خیانت کرے، ابن عباس فرماتے ہیں بدر کے دن ایک سرخ رنگ چادر نہیں ملتی تھی تو لوگوں کے کہا شاید رسول اللہ ﷺ نے لے لی ہو اس پر یہ آیت اتری (ترمذی) اور روایت میں ہے کہ منافقوں نے حضور ﷺ پر کسی چیز کی تہمت لگائی تھی جس پر آیت (وما کان) اتری، پس ثابت ہوا کہ اللہ کے رسول رسولوں کے سردار ﷺ پر ہر قسم کی خیانت سے بیجا طرف داری سے مبرا اور منزہ ہیں خواہ وہ مال کی تقسیم ہو یا امانت کی ادائیگی ہو، حضرت ابن عباس سے یہ بھی مروی ہے کہ نبی جانب داری نہیں کرسکتا کہ بعض لشکریوں کو دے اور بعض کو ان کا حصہ نہ پہنچائے، اس آیت کی یہ تفسیر بھی کی گئی ہے کہ یہ نہیں ہوسکتا کہ نبی اللہ کی نازل کردہ کسی چیز کو چھپالے اور امت تک نہ پہنچائے۔ یغل کے معنی اور خائن یغل کو " یے " کے پیش سے بھی پڑھا گیا ہے تو معنی یہ ہوں گے کہ نبی کی ذات ایسی نہیں کہ ان کے پاس والے ان کی خیانت کریں، چناچہ حضرت قتادہ اور حضرت ربیع سے مروی ہے کہ بدر کے دن آپ کے اصحاب نے مال غنیمت میں سے تقسیم سے پہلے کچھ لیے لیا تھا اس پر یہ آیت اتری (ابن جریر) پھر خائن لوگوں کو ڈرایا جاتا ہے اور سخت عذاب کی خبر دی جاتی ہے۔ احادیث میں بھی اس کی بابت کچھ سخت وعید ہے چناچہ مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ سب سے بڑا خیانت کرنے والا وہ شخص ہے جو پڑوسی کے کھیت کی زمین یا اس کے گھر کی زمین دبا لے اگر ایک ہاتھ زمین بھی ناحق اپنی طرف کرلے گا تو ساتوں زمینوں کا طوق اسے پہنایا جائے گا مسند کی ایک اور حدیث میں ہے جسے ہم حاکم بنائے اگر اس کا گھر نہ ہو تو وہ گھر بنا سکتا ہے، بیوی نہ ہو تو کرسکتا ہے، اس کے سوا اگر کچھ اور لے گا تو خائن ہوگا، یہ حدیث ابو داؤد میں بھی دیگر الفاظ سے منقول ہے، ابن جریر کی حدیث میں ہے۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں میں تم میں سے اس شخص کو پہچانتا ہوں جو چلاتی ہوئی بکری کو اٹھائے ہوئے قیامت کے دن آئے گا اور میرا نام لے لے کر مجھے پکارے گا میں کہہ دوں گا کہ میں اللہ تعالیٰ کے پاس تجھے کام نہیں آسکتا میں تو پہنچا چکا تھا اسے بھی میں پہچانتا ہوں جو اونٹ کو اٹھائے ہوئے آئے گا جو بول رہا ہوگا یہ بھی کہے گا کہ اے محمد ﷺ اے محمد ﷺ میں کہوں گا میں تیرے لئے اللہ کے پاس کسی چیز کا مالک نہیں ہوں میں تو تبلیغ کرچکا تھا اور میں اسے بھی پہچانوں گا جو اسی طرح گھوڑے کو لادے ہوئے آئے گا جو ہنہنا رہا ہوگا وہ بھی مجھے پکارے گا اور میں کہہ دوں گا کہ میں تو پہنچا چکا تھا آج کچھ کام نہیں آسکتا اور اس شخص کو بھی میں پہچانتا ہوں جو کھالیں لئے ہوئے حاضر ہوگا اور کہہ رہا ہو یا محمد ﷺ یا محمد ﷺ میں کہوں گا میں اللہ کے پاس کسی نفع کا اختیار نہیں رکھتا میں تجھے حق و باطل بتاچکا تھا، یہ حدیث صحاح ستہ میں نہیں، مسند احمد میں ہے کہ حضور ﷺ نے قبیلہ ازد کے ایک شخص کو حاکم بنا کر بھیجا جسے ابن البتیہہ کہتے تھے یہ جب زکوٰۃ وصول کر کے آئے تو کہنے لگے یہ تو تمہارا ہے اور یہ مجھے تحفہ میں ملا ہے نبی ﷺ منبر پر کھڑے ہوگئے اور فرمانے لگے ان لوگوں کو کیا ہوگیا ہے ہم انہیں کسی کام پر بھیجتے ہیں تو آ کر کہتے ہیں یہ تمہارا اور یہ ہمارے تحفے کا یہ اپنے گھروں میں ہی بیٹھے رہتے پھر دیکھتے کہ انہیں تحفہ دیا جاتا ہے یا نہیں ؟ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ﷺ کی جان ہے تم میں سے جو کوئی اس میں سے کوئی چیز بھی لے لے گا وہ قیامت کے دن اسے گردن پر اٹھائے ہوئے لائے گا اونٹ ہے تو چلا رہا ہوگا۔ گائے ہے تو بول رہی ہوگی بکری ہے تو چیخ رہی ہوگی پھر آپ نے ہاتھ اس قدر بلند کئے کہ بغلوں کی سفیدی ہمیں نظر آنے لگی اور تین مرتبہ فرمایا اے اللہ کیا میں نے پہنچا دیا ؟ مسند احمد کی ایک ضعیف حدیث میں ہے ایسے تحصیلداروں اور حاکموں کو جو تحفے ملیں وہ خیانت ہیں یہ روایت صرف مسند احمد میں ضعیف ہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا اگلی مطول روایت کا ماحاصل ہے، ترمذی میں ہے حضرت معاذ بن جبل میں ؓ فرماتے ہیں مجھے رسول اللہ ﷺ نے یمن میں بھیجا جب میں چل دیا تو آپ نے مجھے بلوایا جب میں واپس آیا تو فرمایا میں نے تمہیں صرف ایک بات کہنے کے لئے بلوایا ہے کہ میری اجازت کے بغیر تم جو کچھ لو گے وہ خیانت ہے اور ہر خائن اپنی خیانت کو لئے ہوئے قیامت کے دن آئے گا بس یہی کہنا تھا جاؤ اپنے کام میں لگو، مسند احمد میں ہے کہ حضور ﷺ نے ایک روز کھڑے ہو کر خیانت کا ذکر کیا اور اس کے بڑے بڑے گناہ اور وبال بیان فرما کر ہمیں ڈرایا پھر جانوروں کو لئے ہوئے قیامت کے دن آئے حضور ﷺ سے فریاد رسی کی عرض کرنے اور آپ کے انکار کردینے کا ذکر کیا جو پہلے بیان ہوچکا ہے اس میں سونے چاندی کا ذکر بھی ہے، یہ حدیث بخاری مسلم میں بھی ہے، مسند احمد میں ہے کہ رسول مقبول ﷺ نے فرمایا اے لوگ جسے ہم عامل بنائیں اور پھر وہ ہم سے ایک سوئی یا اس سے بھی ہلکی چیز چھپائے تو وہ خیانت ہے جسے لے کر وہ قیامت کے دن حاضر ہوگا، یہ سن کر ایک سانولے رنگ کے انصاری حضرت سعید بن عبادہ ؓ کھڑے ہو کر کہنے لگے حضور ﷺ میں تو عامل بننے سے دستبردار ہوتا ہوں، فرمایا کیوں ؟ کہا آپ نے جو اس طرح فرمایا، آپ نے فرمایا ہاں اب بھی سنو ہم کوئی کام سونپیں اسے چاہئے کہ تھوڑا بہت سب کچھ لائے جو اسے دیا جائے وہ لے لے اور جس سے روک دیا جائے رک جائے، یہ حدیث مسلم اور ابو داؤد میں بھی ہے حضرت رافع فرماتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ عموماً نماز عصر کے بعد بنو عبدالاشہل کے ہاں تشریف لے جاتے تھے اور تقریباً مغرب تک وہیں مجلس رہتی تھی ایک دن مغرب کے وقت وہاں سے واپس چلے وقت تنگ تھا تیز تیز چل رہے تھے بقیع میں آ کر فرمانے لگے تف ہے تجھے تف ہے تجھے میں سمجھا آپ مجھے فرما رہے ہیں چناچہ میں اپنے کپڑے ٹھیک ٹھاک کرنے لگا اور پیچھے رہ گیا بلکہ یہ قبر فلاں شخص کی ہے اسے میں نے قبیلے کی طرف عامل بنا کر بھیجا تھا اس نے ایک چادر لے لی وہ چادر اب آگ بن کر اس کے اوپر بھڑک رہی ہے۔ (مسند احمد) حضرت عبادہ بن صامت ؓ فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺ مال غنیمت کے اونٹ کی پیٹھ کے چند بال لیتے پھر فرماتے میرا بھی اس میں وہی حق ہے جو تم میں سے کسی ایک کا، خیانت سے بچو خیانت کرنے والے کی رسوائی قیامت کے دن ہوگی سوئی دھاگے تک پہنچا دو اور اس سے حقیر چیز بھی اللہ تعالیٰ کی راہ میں نزدیک والوں اور دور والوں سے جہاد کرو، وطن میں بھی اور سفر میں بھی جہاد جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے جہاد کی وجہ سے اللہ تعالیٰ مشکلات سے اور رنج و غم سے نجات دیتا ہے، اللہ کی حدیں نزدیک و دور والوں میں جاری کرو اللہ کے بارے میں کسی ملامت کرنے کی ملامت تمہیں نہ روکے (مسند احمد) اس حدیث کا بعض حصہ ابن ماجہ میں بھی مروی ہے، حضرت ابو مسعود انصاری ؓ فرماتے ہیں کہ مجھے جب رسول اللہ ﷺ نے عامل بنا کر بھیجنا چاہا تو فرمایا اے ابو مسعود جاؤ ایسا نہ ہو کہ میں تمہیں قیامت کے دن اس حال میں پاؤں کہ تمہاری پیٹھ پر اونٹ ہو جو آواز نکال رہا ہو جسے تم نے خیانت سے لے لیا ہو، میں نے کہا حضور ﷺ پھر تو میں نہیں جاتا آپ نے فرمایا اچھا میں تمہیں زبردستی بھیجتا بھی نہیں (ابو داؤد) ابن مردویہ میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں اگر کوئی پتھر جہنم میں ڈالا جائے تو ستر سال تک چلتا رہے لیکن تہہ کو نہیں پہنچتا خیانت کی چیز کو اسی طرح جہنم میں پھینک دیا جائے گا، پھر خیانت والے سے کہا جائے گا جا اسے لے آ، یہی معنی ہیں اللہ کے اس فرمان کے آیت (ومن یغلل یات بما غل یوم القیامتہ) مسند احمد میں ہے کہ خیبر کی جنگ والے دن صحابہ کرام آنے لگے اور کہنے لگے فاں شہید ہے فلاں شہید ہے جب ایک شخص کی نسبت یہ کہا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہرگز نہیں میں نے اسے جہنم میں دیکھا ہے کیونکہ اس نے غنیمت کے مال کی ایک چادر خیانت کرلی تھی پھر آپ نے فرمایا اے عمر بن خطاب تم جاؤ اور لوگوں میں منادی کردو کہ جنت میں صرف ایماندار ہی جائیں گے چناچہ میں چلا اور سب میں یہ ندا کردی، یہ حدیث مسلم اور ترمذی میں بھی ہے امام ترمذی اسے حسن صحیح کہتے ہیں، ابن جریر میں ہے کہ ایک دن حضرت عمر نے حضرت عبداللہ بن انیس سے صدقات کے بارے میں تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ تم نے رسول اللہ ﷺ کا یہ فرمان نہیں سنا ؟ کہ آپ نے صدقات میں خیانت کرنے والے کی نسبت فرمایا اس میں جو شخص اونٹ یا بکری لے لے وہ قیامت والے دن اسے اٹھائے ہوئے آئے گا۔ حضرت عبداللہ نے فرمایا ہاں یہ روایت ابن ماجہ میں بھی ہے، ابن جریر میں حضرت سعد بن عبادہ سے مروی ہے کہ انہیں صدقات وصول کرنے کے لئے حضور ﷺ نے بھیجنا چاہا اور فرمایا اے سعد ایسا نہ ہو کہ قیامت کے دن تو بلبلاتے اونٹ کو اٹھا کر لائے تو حضرت سعد کہنے لگے کہ نہ میں اس عہدہ کو لوں اور نہ ایسا ہونے کا احتمال رہے چناچہ حضور ﷺ نے بھی اس کام سے انہیں معاف رکھا، مسند احمد میں ہے کہ حضرت مسلم بن عبدالملک کے ساتھ روم کی جنگ میں حضرت سالم بن عبداللہ بھی تھے ایک شخص کے اسباب میں کچھ خیانت کا مال بھی نکلا سردار لشکر نے حضرت سالم سے اس کے بارے میں فتویٰ پوچھا تو آپ نے فرمایا مجھ سے میرے باپ عبداللہ نے اور ان سے ان کی باپ عمر بن خطاب نے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس کے اسباب میں تم چوری کا مال پاؤ اسے جلا دو ، راوی کہتا ہے میرا خیال ہے یہ بھی فرمایا اور اسے سزا دو ، چناچہ جب اس کا مال بازار میں نکالا تو اس میں ایک قرآن شریف بھی تھا حضرت سالم سے پھر اس کی بابت پوچھا گیا آپ نے فرمایا اسے بیچ دو اور اس کی قیمت صدقہ کردو، یہ حدیث ابو داؤد اور ترمذی میں بھی ہے، امام علی بن مدینی اور امام بخاری وغیرہ فرماتے ہیں یہ حدیث منکر ہے، امام دارقطنی فرماتے ہیں صحیح یہ ہے کہ یہ حضرت سالم کا اپنا فتویٰ ہے، حضرت امام احمد اور ان کے ساتھیوں کا قول بھی یہی ہے، حضرت حسن بھی یہی کہتے ہیں حضرت علی فرماتے ہیں اس کا اسباب جلا دیا جائے اور اسے مملوک کی حد سے کم مارا جائے اور اس کا حصہ نہ دیا جائے، ابوحنیفہ مالک شافعی اور جمہور کا مذہب اس کے برخلاف ہے یہ کہتے ہیں اس کا اسباب نہ جلایا جائے بلکہ اس کے مثل اسے تعزیر یعنی سزا دی جائے، امام بخاری فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے خائن کے جنازے کی نماز سے انکار کردیا اور اس کا اسباب نہیں جلایا، واللہ اعلم، مسند احمد میں ہے کہ قرآن شریفوں کے جب تغیر کا حکم کیا گیا تو حضرت ابن مسعود فرمانے لگے تم میں سے جس سے ہو سکے وہ اسے چھپا کر رکھ لے کیونکہ جو شخص جس چپز کو چھپا کر رکھ لے گا اسی کو لے کر قیامت کے روز آئے گا، پھر فرمانے لگے میں نے ستر دفعہ رسول اللہ ﷺ کی زبانی پڑھا ہے پس کیا میں رسول اللہ ﷺ کی پڑھائی ہوئی قرأت کو چھوڑ دوں ؟ امام وکیع بھی اپنی تفسیر میں اسے لائے ہیں، ابو داؤد میں ہے کہ آنحضور ﷺ کی عادت مبارکہ تھی کہ جب مال غنیمت آتا تو آپ حضرت بلال ؓ کو حکم دیتے ایک مرتبہ ایک شخص اس کے بعد بالوں کا ایک گچھا لے کر آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ ﷺ میرے پاس یہ رہ گیا تھا آپ نے فرمایا کیا تو نے حضرت بلال کی منادی سنی تھی ؟ جو تین مرتبہ ہوئی تھی اس نے کہا ہاں فرمایا پھر تو اس وقت کیوں نہ لایا ؟ اس نے عذر بیان کیا آپ نے فرمایا اب میں ہرگز نہ لوں گا تو ہی اسے لے کر قیامت کے دن آنا۔ اللہ دو عالم پھر فرماتا ہے کہ اللہ کی شرع پر چل کر اللہ تعالیٰ کی رضامندی کے مستحق ہونے والے اس کے ثوابوں کو حاصل کرنے والے اس کے عذابوں سے بچنے والے اور وہ لوگ جو اللہ کے غضب کے مستحق ہوئے اور جو مر کر جہنم میں ٹھکانا پائیں گے کیا یہ دونوں برابر ہوسکتے ہیں ؟ قرآن کریم میں دوسری جگہ ہے کہ اللہ کی باتوں کو حق ماننے والا اور اس سے اندھا رہنے والا برابر نہیں، اسی طرح فرمان ہے کہ جن سے اللہ کا اچھا وعدہ ہوچکا ہے اور جو اسے پانے والا ہے وہ اور دنیا کا نفع حاصل کرنے والا برابر نہیں۔ پھر فرماتا ہے کہ بھلائی اور برائی والے مختلف درجوں پر ہیں، وہ جنت کے درجوں میں ہیں اور یہ جہنم کے طبقوں میں جیسا کہ دوسری جگہ ہے آیت (وَلِكُلٍّ دَرَجٰتٌ مِّمَّا عَمِلُوْا) 6۔ الانعام :32) ہر ایک کے لئے ان کے اعمال کے مطابق درجات ہیں۔ پھر فرمایا اللہ ان کے اعمال دیکھ رہا ہے اور عنقریب ان سب کو پورا بدلہ دے گا نہ نیکی ماری جائے گی اور نہ بدی بڑھائی جائے گی بلکہ عمل کے مطابق ہی جزا سزا ہوگی۔ پھر فرماتا ہے کہ مومنوں پر اللہ کا بڑا احسان ہے کہ انہی کی جنس سے ان میں اپنا پیغمبر بھیجا تاکہ یہ اس سے بات چیت کرسکیں پوچھ گچھ کرسکیں ساتھ بیٹھ اٹھ سکیں اور پوری طرح نفع حاصل کرسکیں، جیسے اور جگہ ہے آیت (وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓ اَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوْٓا اِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَّوَدَّةً وَّرَحْمَةً) 30۔ الروم :21) یہاں بھی یہی مطلب ہے کہ تمہاری جنس سے تمہارے جوڑے اس نے پیدا کئے اور جگہ ہے آیت (قُلْ اِنَّمَآ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ يُوْحٰٓى اِلَيَّ اَنَّمَآ اِلٰــهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ فَاسْتَقِيْمُوْٓا اِلَيْهِ وَاسْتَغْفِرُوْهُ ۭ وَوَيْلٌ لِّـلْمُشْرِكِيْنَ) 41۔ فصلت :6) کہہ دے کہ میں تو تم جیسا ہی انسان ہوں میری طرف وحی کی جاتی ہے کہ تم سب کا معبود ایک ہی ہے، اور فرمان ہے آیت (وَمَآ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنَ الْمُرْسَلِيْنَ اِلَّآ اِنَّهُمْ لَيَاْكُلُوْنَ الطَّعَامَ وَيَمْشُوْنَ فِي الْاَسْوَاقِ) 25۔ الفرقان :20) یعنی تجھ سے پہلے بھی ہم نے مردوں کو وحی کی تھی جو بستیوں کے رہنے والے تھے اور ارشاد ہے آیت (يٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ اَلَمْ يَاْتِكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ يَقُصُّوْنَ عَلَيْكُمْ اٰيٰتِيْ وَيُنْذِرُوْنَكُمْ لِقَاۗءَ يَوْمِكُمْ ھٰذَا) 6۔ الانعام :130) یعنی اے جنو اور انسانو کیا تمہارے پاس تم میں سے ہی رسول نہیں آئے تھے ؟ الغرض یہ پورا احسان ہے کہ مخلوق کی طرف انہی میں سے رسول بھیجے گئے تاکہ وہ پاس بیٹھ اٹھ کر بار بار سوال جواب کر کے پوری طرح دین سیکھ لیں، پس اللہ عزوجل فرماتا ہے کہ وہ اللہ کی آیتیں یعنی قرآن کریم انہیں پڑھاتا ہے اور اچھی باتوں کا حکم دے کر اور برائیوں سے روک کر ان کی جانوں کی پاکیزگی کرتا ہے اور شرک و جاہلیت کی ناپاکی کے اثرات سے زائل کرتا ہے اور انہیں کتاب اور سنت سکھاتا ہے۔ اس رسول ﷺ کے آنے سے پہلے تو یہ صاف بھٹکے ہوئے تھے ظاہر برائی اور پوری جہالت میں تھے۔
164
View Single
لَقَدۡ مَنَّ ٱللَّهُ عَلَى ٱلۡمُؤۡمِنِينَ إِذۡ بَعَثَ فِيهِمۡ رَسُولٗا مِّنۡ أَنفُسِهِمۡ يَتۡلُواْ عَلَيۡهِمۡ ءَايَٰتِهِۦ وَيُزَكِّيهِمۡ وَيُعَلِّمُهُمُ ٱلۡكِتَٰبَ وَٱلۡحِكۡمَةَ وَإِن كَانُواْ مِن قَبۡلُ لَفِي ضَلَٰلٖ مُّبِينٍ
Allah has indeed bestowed a great favour upon the Muslims, in that He sent to them a Noble Messenger (Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him) from among them, who recites to them His verses, and purifies them, and teaches them the Book and wisdom; and before it, they were definitely in open error. (The Holy Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him – is one of Allah’s greatest favours to mankind.)
بیشک اللہ نے مسلمانوں پر بڑا احسان فرمایا کہ ان میں انہی میں سے (عظمت والا) رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھیجا جو ان پر اس کی آیتیں پڑھتا اور انہیں پاک کرتا ہے اور انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے، اگرچہ وہ لوگ اس سے پہلے کھلی گمراہی میں تھے
Tafsir Ibn Kathir
Among the Qualities of Our Prophet Muhammad are Mercy and Kindness
Allah addresses His Messenger and reminds him and the believers of the favor that He has made his heart and words soft for his Ummah, those who follow his command and refrain from what he prohibits.
فَبِمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللَّهِ لِنتَ لَهُمْ
(And by the mercy of Allah, you dealt with them gently) 3:159. meaning, who would have made you this kind, if it was not Allah's mercy for you and them. Qatadah said that,
فَبِمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللَّهِ لِنتَ لَهُمْ
(And by the mercy of Allah, you dealt with them gently) means, "With Allah's mercy you became this kind." Al-Hasan Al-Basri said that this, indeed, is the description of the behavior that Allah sent Muhammad with. This Ayah is similar to Allah's statement,
لَقَدْ جَآءَكُمْ رَسُولٌ مِّنْ أَنفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَّحِيمٌ
(Verily, there has come unto you a Messenger from among yourselves. It grieves him that you should receive any injury or difficulty. He is anxious over you (to be rightly guided, to repent to Allah); for the believers (he is) full of pity, kind, and merciful) 9:128. Allah said next,
وَلَوْ كُنْتَ فَظّاً غَلِيظَ الْقَلْبِ لاَنْفَضُّواْ مِنْ حَوْلِكَ
(And had you been severe and harsh-hearted, they would have broken away from about you;)
The severe person is he who utters harsh words, and,
غَلِيظَ الْقَلْبِ
(harsh-hearted) is the person whose heart is hard. Had this been the Prophet's behavior, "They would have scattered from around you. However, Allah gathered them and made you kind and soft with them, so that their hearts congregate around you." `Abdullah bin `Amr said that he read the description of the Messenger of Allah ﷺ in previous Books, "He is not severe, harsh, obscene in the marketplace or dealing evil for evil. Rather, he forgives and pardons."
The Order for Consultation and to Abide by it
Allah said,
فَاعْفُ عَنْهُمْ وَاسْتَغْفِرْ لَهُمْ وَشَاوِرْهُمْ فِى الاٌّمْرِ
(So pardon them, and ask (Allah's) forgiveness for them; and consult them in the affairs.)
The Messenger of Allah ﷺ used to ask his Companions for advice about various matters, to comfort their hearts, and so they actively implement the decision they reach. For instance, before the battle of Badr, the Prophet asked his Companions for if Muslims should intercept the caravan (led by Abu Sufyan). They said, "O Messenger of Allah! If you wish to cross the sea, we would follow you in it, and if you march forth to Barkul-Ghimad we would march with you. We would never say what the Children of Israel said to Musa, `So go, you and your Lord, and fight you two, we are sitting right here.' Rather, we say march forth and we shall march forth with you; and before you, and to your right and left shall we fight." The Prophet also asked them for their opinion about where they should set up camp at Badr. Al-Mundhir bin `Amr suggested to camp close to the enemy, for he wished to acquire martyrdom.
Concerning the battle of Uhud, the Messenger ﷺ asked the Companions if they should fortify themselves in Al-Madinah or go out to meet the enemy, and the majority of them requested that they go out to meet the enemy, and he did. He also took their advice on the day of Khandaq (the Trench) about conducting a peace treaty with some of the tribes of Al-Ahzab (the Confederates), in return for giving them one-third of the fruits of Al-Madinah. However, Sa`d bin `Ubadah and Sa`d bin Mu`adh rejected this offer and the Prophet went ahead with their advice. The Prophet also asked them if they should attack the idolators on the Day of Hudaybiyyah, and Abu Bakr disagreed, saying, "We did not come here to fight anyone. Rather, we came to perform `Umrah." The Prophet agreed.
On the day of Ifk, (i.e. the false accusation), the Messenger of Allah ﷺ said to them, "O Muslims! Give me your advice about some men who falsely accused my wife (`A'ishah). By Allah! I never knew of any evil to come from my wife. And they accused whom They accused he from whom I only knew righteous conduct, by Allah!" The Prophet asked `Ali and Usamah about divorcing `A'ishah. In summary, the Prophet used to take his Companions' advice for battles and other important events.
Ibn Majah recorded that Abu Hurayrah said that the Prophet said;
«الْمُسْتَشَارُ مُؤْتَمَن»
(The one whom advice is sought from is to be entrusted) tThis was recorded by Abu Dawud, At-Tirmidhi, and An-Nasa'i who graded it Hasan.
Trust in Allah After Taking the Decision
Allah's statement,
فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ
(Then when you have taken a decision, put your trust in Allah,) means, if you conduct the required consultation and you then make a decision, trust in Allah over your decision,
إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُتَوَكِّلِينَ
(certainly, Allah loves those who put their trust (in Him)).
Allah's statement,
إِن يَنصُرْكُمُ اللَّهُ فَلاَ غَالِبَ لَكُمْ وَإِن يَخْذُلْكُمْ فَمَن ذَا الَّذِى يَنصُرُكُم مِّنْ بَعْدِهِ وَعَلَى اللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ
(If Allah helps you, none can overcome you; and if He forsakes you, who is there after Him that can help you And in Allah (Alone) let believers put their trust), is similar to His statement that we mentioned earlier,
وَمَا النَّصْرُ إِلاَّ مِنْ عِندِ اللَّهِ الْعَزِيزِ الْحَكِيمِ
(And there is no victory except from Allah the Almighty, the All-Wise) 3:126.
Allah next commands the believers to trust in Him,
وَعَلَى اللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ
(And in Allah (Alone) let believers put their trust).
Treachery with the Spoils of War was not a Trait of the Prophet
Allah said,
وَمَا كَانَ لِنَبِىٍّ أَنْ يَغُلَّ
(It is not for any Prophet to illegally take a part of the booty,)
Ibn `Abbas, Mujahid and Al-Hasan said that the Ayah means, "It is not for a Prophet to breach the trust." Ibn Jarir recorded that, Ibn `Abbas said that, this Ayah,
وَمَا كَانَ لِنَبِىٍّ أَنْ يَغُلَّ
(It is not for any Prophet to illegally take a part of the booty,) was revealed in connection with a red robe that was missing from the spoils of war of Badr. Some people said that the Messenger of Allah ﷺ might have taken it. When this rumor circulated, Allah sent down,
وَمَا كَانَ لِنَبِىٍّ أَنْ يَغُلَّ وَمَن يَغْلُلْ يَأْتِ بِمَا غَلَّ يَوْمَ الْقِيَـمَةِ
(It is not for any Prophet to illegally take a part of the booty, and whosoever is deceitful with the booty, he shall bring forth on the Day of Resurrection that which he took.)
This was also recorded by Abu Dawud and At-Tirmidhi, who said "Hasan Gharib". This Ayah exonerates the Messenger of Allah ﷺ of all types of deceit and treachery, be it returning what was entrusted with him, dividing the spoils of war, etc.
Allah then said,
وَمَن يَغْلُلْ يَأْتِ بِمَا غَلَّ يَوْمَ الْقِيَـمَةِ ثُمَّ تُوَفَّى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَهُمْ لاَ يُظْلَمُونَ
(and whosoever is deceitful with the booty, he shall bring forth on the Day of Resurrection that which he took. Then every person shall be paid in full what he has earned, and they shall not be dealt with unjustly.)
This Ayah contains a stern warning and threat against Ghulul stealing from the booty, and there are also Hadiths, that prohibit such practice. Imam Ahmad recorded that Abu Malik Al-Ashja`i said that the Prophet said,
«أَعْظَمُ الْغُلُولِ عِنْدَ اللهِ ذِرَاعٌ مِنَ الْأَرْضِ، تَجِدُون الرَّجُلَيْنِ جَارَيْنِ فِي الْأَرْضِ أو فِي الدَّارِ فَيَقْطَعُ أَحَدُهُمَا مِنْ حَظِّ صَاحِبِه ذِرَاعًا، فَإِذَا اقْتَطَعَهُ، طُوِّقَهُ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ إِلى يَوْمِ الْقِيَامَة»
(The worst Ghulul (i.e. stealing) with Allah is a yard of land, that is, when you find two neighbors in a land or home and one of them illegally acquires a yard of his neighbor's land. When he does, he will be tied with it from the seven earths until the Day of Resurrection.)
Imam Ahmad recorded that Abu Humayd As-Sa`idi said, "The Prophet appointed a man from the tribe of Al-Azd, called Ibn Al-Lutbiyyah, to collect the Zakah. When he returned he said, `This (portion) is for you and this has been given to me as a gift.' The Prophet stood on the Minbar and said,
«مَا بَالُ الْعَامِلِ نَبْعَثُهُ فَيَجِي فَيَقُولُ: هَذَا لَكُمْ، وَهَذَا أُهْدِيَ لِي، أَفَلَا جَلَسَ فِي بَيْتِ أَبِيهِ وَأُمِّهِ فَيَنْظُرُ أَيُهْدَى إِلَيْهِ أَمْ لَا؟ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَا يَأْتِي أَحَدٌ مِنْكُمْ مِنْهَا بِشَيْءٍ إِلَّا جَاءَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلى رَقَبَتِهِ، إِنْ كَانَ بَعِيرًا لَهُ رُغَاءٌ، أَوْ بَقَرَةٌ لَهَا خُوَارٌ، أَوْ شَاةٌ تَيْعَر»
ثم رفع يديه حتى رأينا عفرة إبطيه، ثم قال:
«اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْت»
ثلاثًا.(What is the matter with a man whom we appoint to collect Zakah, when he returns he said, `This is for you and this has been given to me as a gift.' Why hadn't he stayed in his father's or mother's house to see whether he would be given presents or not By Him in Whose Hand my life is, whoever takes anything from the resources of the Zakah (unlawfully), he will carry it on his neck on the Day of Resurrection; if it be a camel, it will be grunting; if a cow, it will be mooing; and if a sheep, it will be bleating. The Prophet then raised his hands till we saw the whiteness of his armpits, and he said thrice, `O Allah! Haven't I conveyed Your Message.')"
Hisham bin `Urwah added that Abu Humayd said, "I have seen him with my eyes and heard him with my ears, and ask Zayd bin Thabit." This is recorded in the Two Sahihs .
In the book of Ahkam of his Sunan, Abu `Isa At-Tirmidhi recorded that Mu`adh bin Jabal said, "The Messenger of Allah ﷺ sent me to Yemen, but when I started on the journey, he sent for me to come back and said,
«أَتَدْرِي لِمَ بَعَثْتُ إِلَيْكَ؟ لَا تُصِيبَنَّ شَيْئًا بِغَيْرِ إِذْنِي، فَإِنَّهُ غُلُول»
(Do you know why I summoned you back Do not take anything without my permission, for if you do, it will be Ghulul.)
وَمَن يَغْلُلْ يَأْتِ بِمَا غَلَّ يَوْمَ الْقِيَـمَةِ
(and whosoever deceives his companions over the booty, he shall bring forth on the Day of Resurrection that which he took).
«لِهذَا دَعَوْتُكَ فَامْضِ لِعَمَلِك»
(This is why I summoned you, so now go and fulfill your mission.)" At-Tirmidhi said, "This Hadith is Hasan Gharib."
In addition, Imam Ahmad recorded that Abu Hurayrah said, "The Prophet got up among us and mentioned Ghulul and emphasized its magnitude. He then said,
«لَا أُلْفِيَنَّ أَحَدَكُمْ يَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلى رَقَبَتِهِ بَعِيرٌ لَهُ رُغَاءٌ، فَيَقُولُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَغِثْنِي، فَأَقُولُ: لَا أَمْلِكُ لَكَ مِنَ اللهِ شَيْئًا، قَدْ أَبْلَغْتُكَ، لَا أُلْفِيَنَّ أَحَدَكُمْ يَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلى رَقَبَتِهِ فَرَسٌ لَهَا حَمْحَمَةٌ، فَيَقُولُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَغِثْنِي، فَأَقُولُ: لَا أَمْلِكُ لَكَ مِنَ اللهِ شَيْئًا، قَدْ أَبْلَغْتُكَ، لَا أُلْفِيَنَّ أَحَدَكُمْ يَجِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلى رَقَبَتِهِ رِقَاعٌ تَخْفِقُ فَيَقُولُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَغِثْنِي، فَأَقُولُ: لَا أَمْلِكُ لَكَ مِنَ اللهِ شَيْئًا، قَدْ أَبْلَغْتُكَ، لَا أُلْفِيَنَّ أَحَدَكُمْ يَجِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلى رَقَبَتِهِ صَامِتٌ، فَيقُولُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَغِثْنِي، فَأَقُولُ: لَا أَمْلِكُ لَكَ مِنَ اللهِ شَيْئًا، قَدْ أَبْلَغْتُك»
(I will not like to see anyone among you on the Day of Resurrection, carrying a grunting camel over his neck. Such a man will say, 'O Allah's Messenger! Intercede on my behalf,' and I will say, 'I can't intercede for you with Allah, for I have conveyed (Allah's Message) to you.' I will not like to see any of you coming on the Day of Resurrection while carrying a neighing horse over his neck. Such a man will be saying, `O Allah's Messenger! Intercede on my behalf,' and I will reply, 'I can't intercede for you with Allah, for I have conveyed (Allah's Message) to you.' I will not like to see any of you coming on the Day of Resurrection while carrying clothes that will be fluttering, and the man will say, 'O Allah's Messenger! Intercede (with Allah) for me, ' and I will say, 'I can't help you with Allah, for I have conveyed (Allah's Message) to you.' I will not like to see any of you coming on the Day of Resurrection while carrying gold and silver on his neck. This person will say, 'O Allah's Messenger! Intercede (with Allah) for me.' And I will say, 'I can't help you with Allah, for I have conveyed (Allah's Message) to you.')" This Hadith was recorded in the Two Sahihs .
Imam Ahmad recorded that `Umar bin Al-Khattab said, "During the day (battle) of Khaybar, several Companions of the Messenger of Allah ﷺ came to him and said, `So-and-so died as a martyr, so-and-so died as a martyr.' When they mentioned a certain man that died as a martyr, the Messenger of Allah ﷺ said,
«كَلَّا إِنِّي رَأَيْتُهُ فِي النَّارِ فِي بُرْدَةٍ غَلَّهَا أَوْ عَبَاءَةٍ »
(No. I have seen him in the Fire because of a robe that he stole (from the booty).)
The Messenger of Allah ﷺ then said,
«يَا ابْنَ الْخَطَّابِ، اذْهَبْ فَنَادِ فِي النَّاسِ: إِنَّهُ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا الْمُؤْمِنُون»
(O Ibn Al-Khattab! Go and announce to the people that only the faithful shall enter Paradise.)
So I went out and proclaimed that none except the faithful shall enter Paradise." This was recorded by Muslim and At-Tirmidhi, who said "Hasan Sahih".
The Honest and Dishonest are Not Similar
Allah said,
أَفَمَنِ اتَّبَعَ رِضْوَنَ اللَّهِ كَمَن بَآءَ بِسَخْطٍ مِّنَ اللَّهِ وَمَأْوَاهُ جَهَنَّمُ وَبِئْسَ الْمَصِيرُ
(Is then one who follows (seeks) the pleasure of Allah like the one who draws on himself the wrath of Allah His abode is Hell, and worse indeed is that destination!) 3:162,
This refers to those seeking what pleases Allah by obeying His legislation, thus earning His pleasure and tremendous rewards, while being saved from His severe torment. This type of person is not similar to one who earns Allah's anger, has no means of escaping it and who will reside in Jahannam on the Day of Resurrection, and what an evil destination it is.
There are many similar statements in the Qur'an, such as,
أَفَمَن يَعْلَمُ أَنَّمَآ أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَبِّكَ الْحَقُّ كَمَنْ هُوَ أَعْمَى
(Shall he then who knows that what has been revealed unto you (O Muhammad ) from your Lord is the truth be like him who is blind) 13:19, and,
أَفَمَن وَعَدْنَـهُ وَعْداً حَسَناً فَهُوَ لاَقِيهِ كَمَن مَّتَّعْنَاهُ مَتَـعَ الْحَيَوةِ الدُّنْيَا
(Is he whom We have promised an excellent promise (Paradise) which he will find true, like him whom We have made to enjoy the luxuries of the life of (this) world) 28:61.
Allah then said,
هُمْ دَرَجَـتٌ عِندَ اللَّهِ
(They are in varying grades with Allah, ) 3:163 meaning, the people of righteousness and the people of evil are in grades, as Al-Hasan Al-Basri and Muhammad bin Ishaq said. Abu `Ubaydah and Al-Kisa'i said that this Ayah refers to degrees, meaning there are various degrees and dwellings in Paradise, as well as, various degrees and dwellings in the Fire. In another Ayah, Allah said,
وَلِكُلٍّ دَرَجَـتٌ مِّمَّا عَمِلُواْ
(For all there will be degrees (or ranks) according to what they did) 6:132. Next, Allah said,
وَاللَّهُ بَصِيرٌ بِمَا يَعْمَلُونَ
(and Allah is All-Seer of what they do), and He will compensate or punish them, and will never rid them of a good deed, or increase their evil deeds. Rather, each will be treated according to his deeds.
The Magnificent Blessing in the Advent of Our Prophet Muhammad
Allah the Most High said:
لَقَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَى الْمُؤمِنِينَ إِذْ بَعَثَ فِيهِمْ رَسُولاً مِّنْ أَنفُسِهِمْ
(Indeed Allah conferred a great favor on the believers when He sent among them a Messenger from among themselves,)
Meaning, from their own kind, so that it is possible for them to speak with him, ask him questions, associate with him, and benefit from him. Just as Allah said:
وَمِنْ ءايَـتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُم مِّنْ أَنفُسِكُمْ أَزْوَجاً لِّتَسْكُنُواْ إِلَيْهَا
(And among His signs is that he created for them mates, that they may find rest in.)
Meaning; of their own kind. And Allah said;
قُلْ إِنَّمَآ أَنَاْ بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ يُوحَى إِلَىَّ أَنَّمَآ إِلَـهُكُمْ إِلَـهٌ وَاحِدٌ
(Say: "I am only a man like you. It has been revealed to me that your God is One God") 18:110.
وَمَآ أَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنَ الْمُرْسَلِينَ إِلاَّ إِنَّهُمْ لَيَأْكُلُونَ الطَّعَامَ وَيَمْشُونَ فِى الاٌّسْوَاقِ
(And We never sent before you any of the Messengers but verily, they ate food and walked in the markets) 25:20.
وَمَآ أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ إِلاَّ رِجَالاً نُّوحِى إِلَيْهِمْ مِّنْ أَهْلِ الْقُرَى
(And We sent not before you any but men unto whom We revealed, from among the people of townships) 12:109, and,
يَـمَعْشَرَ الْجِنِّ وَالإِنْسِ أَلَمْ يَأْتِكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ
(O you assembly of Jinn and mankind! "Did not there come to you Messengers from among you...") 6:130.
Allah's favor is perfected when His Messenger to the people is from their own kind, so that they are able to talk to him and inquire about the meanings of Allah's Word. This is why Allah said,
يَتْلُواْ عَلَيْهِمْ ءَايَـتِهِ
(reciting unto them His verses) 3:164, the Qur'an,
وَيُزَكِّيهِمْ
(and purifying them), commanding them to do righteous works and forbidding them from committing evil. This is how their hearts will be purified and cleansed of the sin and evil that used to fill them when they were disbelievers and ignorant.
وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَـبَ وَالْحِكْمَةَ
(and instructing them (in) the Book and the Hikmah,) the Qur'an and the Sunnah,
وَإِن كَانُواْ مِن قَبْلِ
(while before that they had been), before sending this Prophet, Muhammad ,
لَفِى ضَلَـلٍ مُّبِينٍ
(in manifest error. ) indulging in plain and unequivocal error and ignorance that are clear to everyone.
اسوہ حسنہ کے مالک نبی کریم ﷺ اللہ تعالیٰ اپنے نبی پر اور مسلمانوں پر اپنا احسان جتاتا ہے کہ نبی کے ماننے والوں اور ان کی نافرمانی سے بچنے والوں کے لئے اللہ نے نبی کے دل کو نرم کردیا ہے اگر اس کی رحمت نہ ہوتی تو اتنی نرمی اور آسانی نہ ہوتی، حضرت قتادہ فرماتے ہیں ما صلہ ہے جو معرفہ کے ساتھ عرب ملا دیا کرتے ہیں جیسے آیت (فَبِمَا نَقْضِهِمْ مِّيْثَاقَهُمْ) 4۔ النسآء :155) میں اور نکرہ کے ساتھ بھی ملا دیتے ہیں جیسے آیت (عما قلیل) میں اسی طرح یہاں ہے، یعنی اللہ کی رحمت سے تو ان کے لئے نرم دل ہوا ہے، حضرت حسن بصری فرماتے ہیں یہ حضور ﷺ کے اخلاق ہیں جن پر آپ کی بعثت ہوئی ہے یہ آیت ٹھیک اس آیت جیسی ہے آیت (لقد جاء کم) الخ، یعنی تمہارے پاس تم ہی میں سے ایک رسول آئے جس پر تمہاری مشقت گراں گزرتی ہے جو تمہاری بھلائی کے حریص ہیں جو مومنوں پر شفقت اور رحم کرنے والے ہیں، مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابو امامہ باہلی کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا اے ابو امامہ بعض مومن وہ ہیں جن کے لئے میرا دل تڑپ اٹھتا ہے، (فظاً) سے مراد یہاں سخت کلام ہے۔ کیونکہ اس کے بعد (غلیظ القلب) کا لفظ ہے، یعنی سخت دل، فرمان ہے کہ نبی اکرم تم سخت کلام اور سخت دل ہوتے تو یہ لوگ تمہارے پاس سے منتشر ہوجاتے اور تمہیں چھوڑ دیتے لیکن اللہ تعالیٰ نے انہیں آپ کے جاں نثار و شیدا بنادیا ہے اور آپ کو بھی ان کے لئے محبت اور نرمی عطا فرمائی، اور تاکہ ان کے دل آپ سے لگے رہیں حضرت عبداللہ بن عمرو فرماتے ہیں میں رسول اللہ ﷺ کی صفوں کو اگلی کتابوں میں بھی پاتا ہوں کہ آپ سخت کلام سخت دل بازاروں میں شور مچانے والے اور برائی کا بدلہ لینے والے نہیں بلکہ درگذر کرنے والے اور معافی دینے والے ہیں، ترمذی کی ایک غریب حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں لوگوں کی آؤ بھگت خیر خواہی اور چشم پوشی کا مجھے اللہ کی جانب سے اسی طرح کا حکم کیا گیا ہے جس طرح فرائض کی پابندی کا، چناچہ اس آیت میں بھی فرمان ہے تو ان سے درگذر کر، ان کے لئے استغفار کر، اور کاموں کا مشورہ ان سے لیا کر، اسی لئے حضور ﷺ کی عادت مبارک تھی کہ لوگوں کو خوش کرنے کے لئے اپنے کاموں میں ان سے مشورہ ان سے لیا کرو، اسی لئے حضور ﷺ کی عادت مبارک تھی کہ لوگوں کو خوش کرنے کے لئے اپنے کاموں میں ان سے مشورہ کیا کرتے تھے، جیسے کہ بدر والے دن قافلے کی طرف بڑھنے کے لئے مشورہ لیا اور صحابہ نے کہا کہ اگر آپ سمندر کے کنارے پر کھڑا کر کے ہمیں فرمائیں گے کہ اس میں کود پڑو اور اس پار نکلو تو ہم سرتابی نہ کریں گے اور اگر ہمیں برک انعماد تک لے جانا چاہیں تو بھی ہم آپ کے ساتھ ہیں ہم وہ نہیں کہ موسیٰ ؑ کے صحابیوں کی طرح کہہ دیں کہ تو اور تیرا رب لڑ لے ہم تو یہاں بیٹھے ہیں بلکہ ہم تو آپ کے دائیں بائیں صفیں باندھ کر جم کر دشمنوں کا مقابلہ کریں گے، اسی طرح آپ نے اس بات کا مشورہ بھی لیا کہ منزل کہاں ہو ؟ اور منذر بن عمرو نے مشورہ دیا کہ ان لوگوں سے آگے بڑھ کر ان کے سامنے ہو، اسی طرح احد کے موقع پر بھی آپ نے مشورہ کیا کہ آیا مدینہ میں رہ کر لڑیں یا باہر نکلیں اور جمہور کی رائے یہی ہوئی کہ باہر میدان میں جا کر لڑنا چاہئے چناچہ آپ نے یہی کیا اور آپ نے جنگ احزاب کے موقع پر بھی اپنے اصحاب سے مشورہ کیا کہ مدینہ کے پھلوں کی پیداوار کا تہائی حصہ دینے کا وعدہ کر کے مخالفین سے مصالحت کرلی جائے ؟ تو حضرت سعد بن عبادہ اور حضرت سعد بن معاذ ؓ نے اس کا انکار کیا اور آپ نے مجھے اس مشورے کو قبول کرلیا اور مصالحت چھوڑ دی، اسی طرح آپ نے حدیبیہ والے دن اس امر کا مشورہ کیا کہ آیا مشرکین کے گھروں پر دھاوا بول دیں ؟ تو حضرت صدیق نے فرمایا ہم کسی سے لڑنے نہیں آئے ہمارا ارادہ صرف عمرے کا ہے چناچہ اسے بھی آپ نے منظور فرما لیا، اسی طرح جب منافقین نے آپ کی بیوی صاحبہ ام المومنین حضرت عائشہ ؓ پر تہمت لگائی تو آپ نے فرمایا اے مسلمانو مجھے مشورہ دو کہ ان لوگوں کا میں کیا کروں جو میرے گھر والوں کو بدنام کر رہے ہیں۔ اللہ کی قسم میرے گھر والوں میں کوئی برائی نہیں اور جس شخص کے ساتھ تہمت لگا رہے ہیں واللہ میرے نزدیک تو وہ بھی بھلا آدمی ہے اور آپ نے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کی جدائی کے لئے حضرت علی اور حضرت اسامہ سے مشورہ لیا، غرض لڑائی کے کاموں میں اور دیگر امور میں بھی حضور ﷺ صحابہ سے مشورہ کیا کرتے تھی، اس میں علماء کا اختلاف ہے کہ یہ مشورے کا حکم آپ کو بطور وجوب کے دیا تھا یا اختیاری امر تھا تاکہ لوگوں کے دل خوش رہیں، حضرت ابن عباس فرماتے ہیں اس آیت میں حضرت ابوبکر و عمر سے مشورہ کرنے کا حکم ہے (حاکم) یہ دونوں حضور ﷺ کے حواری اور آپ کے وزیر تھے اور مسلمانوں کے باپ ہیں (کلبی) مسند احمد میں ہے رسول ﷺ نے ان دونوں بزرگوں سے فرمایا اگر تمہاری دونوں کی کسی امر میں ایک رائے ہوجائے تو میں تمہارے خلاف کبھی نہ کروں گا، حضور ﷺ سے سوال ہوتا ہے کہ عزم کے کیا معنی ہیں تو آپ نے فرمایا جب عقلمند لوگوں سے مشورہ کیا جائے پھر ان کی مان لینا (ابن مردویہ) ابن ماجہ میں آپ کا یہ فرمان بھی مروی ہے کہ جس سے مشورہ کیا جائے وہ امین ہے، ابو داؤد ترمذی نسائی وغیرہ میں بھی یہ روایت ہے، امام ترمذی علیہ الرحمہ اسے حسن کہتے ہیں، اور روایت میں ہے کہ جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی سے مشورہ لے تو اسے چاہئے بھلی بات کا مشورہ دے (ابن ماجہ) پھر فرمایا جب تم کسی کام کا مشورہ کر چکو پھر اس کے کرنے کا پختہ ارادہ ہوجائے تو اب اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرو اللہ تعالیٰ بھروسہ کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔ پھر دوسری آیت کا ارشاد بالکل اسی طرح کا ہے جو پہلے گذرا ہے کہ آیت (ۭوَمَا النَّصْرُ اِلَّا مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ الْعَزِيْزِ الْحَكِيْمِ) 3۔ آل عمران :26) یعنی مدد صرف اللہ ہی کی طرف سے ہے جو غالب ہے اور حکمتوں والا ہے، پھر حکم دیتا ہے کہ مومنوں کو توکل اور بھروسہ ذات باری پر ہی ہونا چاہئے۔ پھر فرماتا ہے نبی کو لائق نہیں کہ وہ خیانت کرے، ابن عباس فرماتے ہیں بدر کے دن ایک سرخ رنگ چادر نہیں ملتی تھی تو لوگوں کے کہا شاید رسول اللہ ﷺ نے لے لی ہو اس پر یہ آیت اتری (ترمذی) اور روایت میں ہے کہ منافقوں نے حضور ﷺ پر کسی چیز کی تہمت لگائی تھی جس پر آیت (وما کان) اتری، پس ثابت ہوا کہ اللہ کے رسول رسولوں کے سردار ﷺ پر ہر قسم کی خیانت سے بیجا طرف داری سے مبرا اور منزہ ہیں خواہ وہ مال کی تقسیم ہو یا امانت کی ادائیگی ہو، حضرت ابن عباس سے یہ بھی مروی ہے کہ نبی جانب داری نہیں کرسکتا کہ بعض لشکریوں کو دے اور بعض کو ان کا حصہ نہ پہنچائے، اس آیت کی یہ تفسیر بھی کی گئی ہے کہ یہ نہیں ہوسکتا کہ نبی اللہ کی نازل کردہ کسی چیز کو چھپالے اور امت تک نہ پہنچائے۔ یغل کے معنی اور خائن یغل کو " یے " کے پیش سے بھی پڑھا گیا ہے تو معنی یہ ہوں گے کہ نبی کی ذات ایسی نہیں کہ ان کے پاس والے ان کی خیانت کریں، چناچہ حضرت قتادہ اور حضرت ربیع سے مروی ہے کہ بدر کے دن آپ کے اصحاب نے مال غنیمت میں سے تقسیم سے پہلے کچھ لیے لیا تھا اس پر یہ آیت اتری (ابن جریر) پھر خائن لوگوں کو ڈرایا جاتا ہے اور سخت عذاب کی خبر دی جاتی ہے۔ احادیث میں بھی اس کی بابت کچھ سخت وعید ہے چناچہ مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ سب سے بڑا خیانت کرنے والا وہ شخص ہے جو پڑوسی کے کھیت کی زمین یا اس کے گھر کی زمین دبا لے اگر ایک ہاتھ زمین بھی ناحق اپنی طرف کرلے گا تو ساتوں زمینوں کا طوق اسے پہنایا جائے گا مسند کی ایک اور حدیث میں ہے جسے ہم حاکم بنائے اگر اس کا گھر نہ ہو تو وہ گھر بنا سکتا ہے، بیوی نہ ہو تو کرسکتا ہے، اس کے سوا اگر کچھ اور لے گا تو خائن ہوگا، یہ حدیث ابو داؤد میں بھی دیگر الفاظ سے منقول ہے، ابن جریر کی حدیث میں ہے۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں میں تم میں سے اس شخص کو پہچانتا ہوں جو چلاتی ہوئی بکری کو اٹھائے ہوئے قیامت کے دن آئے گا اور میرا نام لے لے کر مجھے پکارے گا میں کہہ دوں گا کہ میں اللہ تعالیٰ کے پاس تجھے کام نہیں آسکتا میں تو پہنچا چکا تھا اسے بھی میں پہچانتا ہوں جو اونٹ کو اٹھائے ہوئے آئے گا جو بول رہا ہوگا یہ بھی کہے گا کہ اے محمد ﷺ اے محمد ﷺ میں کہوں گا میں تیرے لئے اللہ کے پاس کسی چیز کا مالک نہیں ہوں میں تو تبلیغ کرچکا تھا اور میں اسے بھی پہچانوں گا جو اسی طرح گھوڑے کو لادے ہوئے آئے گا جو ہنہنا رہا ہوگا وہ بھی مجھے پکارے گا اور میں کہہ دوں گا کہ میں تو پہنچا چکا تھا آج کچھ کام نہیں آسکتا اور اس شخص کو بھی میں پہچانتا ہوں جو کھالیں لئے ہوئے حاضر ہوگا اور کہہ رہا ہو یا محمد ﷺ یا محمد ﷺ میں کہوں گا میں اللہ کے پاس کسی نفع کا اختیار نہیں رکھتا میں تجھے حق و باطل بتاچکا تھا، یہ حدیث صحاح ستہ میں نہیں، مسند احمد میں ہے کہ حضور ﷺ نے قبیلہ ازد کے ایک شخص کو حاکم بنا کر بھیجا جسے ابن البتیہہ کہتے تھے یہ جب زکوٰۃ وصول کر کے آئے تو کہنے لگے یہ تو تمہارا ہے اور یہ مجھے تحفہ میں ملا ہے نبی ﷺ منبر پر کھڑے ہوگئے اور فرمانے لگے ان لوگوں کو کیا ہوگیا ہے ہم انہیں کسی کام پر بھیجتے ہیں تو آ کر کہتے ہیں یہ تمہارا اور یہ ہمارے تحفے کا یہ اپنے گھروں میں ہی بیٹھے رہتے پھر دیکھتے کہ انہیں تحفہ دیا جاتا ہے یا نہیں ؟ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ﷺ کی جان ہے تم میں سے جو کوئی اس میں سے کوئی چیز بھی لے لے گا وہ قیامت کے دن اسے گردن پر اٹھائے ہوئے لائے گا اونٹ ہے تو چلا رہا ہوگا۔ گائے ہے تو بول رہی ہوگی بکری ہے تو چیخ رہی ہوگی پھر آپ نے ہاتھ اس قدر بلند کئے کہ بغلوں کی سفیدی ہمیں نظر آنے لگی اور تین مرتبہ فرمایا اے اللہ کیا میں نے پہنچا دیا ؟ مسند احمد کی ایک ضعیف حدیث میں ہے ایسے تحصیلداروں اور حاکموں کو جو تحفے ملیں وہ خیانت ہیں یہ روایت صرف مسند احمد میں ضعیف ہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا اگلی مطول روایت کا ماحاصل ہے، ترمذی میں ہے حضرت معاذ بن جبل میں ؓ فرماتے ہیں مجھے رسول اللہ ﷺ نے یمن میں بھیجا جب میں چل دیا تو آپ نے مجھے بلوایا جب میں واپس آیا تو فرمایا میں نے تمہیں صرف ایک بات کہنے کے لئے بلوایا ہے کہ میری اجازت کے بغیر تم جو کچھ لو گے وہ خیانت ہے اور ہر خائن اپنی خیانت کو لئے ہوئے قیامت کے دن آئے گا بس یہی کہنا تھا جاؤ اپنے کام میں لگو، مسند احمد میں ہے کہ حضور ﷺ نے ایک روز کھڑے ہو کر خیانت کا ذکر کیا اور اس کے بڑے بڑے گناہ اور وبال بیان فرما کر ہمیں ڈرایا پھر جانوروں کو لئے ہوئے قیامت کے دن آئے حضور ﷺ سے فریاد رسی کی عرض کرنے اور آپ کے انکار کردینے کا ذکر کیا جو پہلے بیان ہوچکا ہے اس میں سونے چاندی کا ذکر بھی ہے، یہ حدیث بخاری مسلم میں بھی ہے، مسند احمد میں ہے کہ رسول مقبول ﷺ نے فرمایا اے لوگ جسے ہم عامل بنائیں اور پھر وہ ہم سے ایک سوئی یا اس سے بھی ہلکی چیز چھپائے تو وہ خیانت ہے جسے لے کر وہ قیامت کے دن حاضر ہوگا، یہ سن کر ایک سانولے رنگ کے انصاری حضرت سعید بن عبادہ ؓ کھڑے ہو کر کہنے لگے حضور ﷺ میں تو عامل بننے سے دستبردار ہوتا ہوں، فرمایا کیوں ؟ کہا آپ نے جو اس طرح فرمایا، آپ نے فرمایا ہاں اب بھی سنو ہم کوئی کام سونپیں اسے چاہئے کہ تھوڑا بہت سب کچھ لائے جو اسے دیا جائے وہ لے لے اور جس سے روک دیا جائے رک جائے، یہ حدیث مسلم اور ابو داؤد میں بھی ہے حضرت رافع فرماتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ عموماً نماز عصر کے بعد بنو عبدالاشہل کے ہاں تشریف لے جاتے تھے اور تقریباً مغرب تک وہیں مجلس رہتی تھی ایک دن مغرب کے وقت وہاں سے واپس چلے وقت تنگ تھا تیز تیز چل رہے تھے بقیع میں آ کر فرمانے لگے تف ہے تجھے تف ہے تجھے میں سمجھا آپ مجھے فرما رہے ہیں چناچہ میں اپنے کپڑے ٹھیک ٹھاک کرنے لگا اور پیچھے رہ گیا بلکہ یہ قبر فلاں شخص کی ہے اسے میں نے قبیلے کی طرف عامل بنا کر بھیجا تھا اس نے ایک چادر لے لی وہ چادر اب آگ بن کر اس کے اوپر بھڑک رہی ہے۔ (مسند احمد) حضرت عبادہ بن صامت ؓ فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺ مال غنیمت کے اونٹ کی پیٹھ کے چند بال لیتے پھر فرماتے میرا بھی اس میں وہی حق ہے جو تم میں سے کسی ایک کا، خیانت سے بچو خیانت کرنے والے کی رسوائی قیامت کے دن ہوگی سوئی دھاگے تک پہنچا دو اور اس سے حقیر چیز بھی اللہ تعالیٰ کی راہ میں نزدیک والوں اور دور والوں سے جہاد کرو، وطن میں بھی اور سفر میں بھی جہاد جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے جہاد کی وجہ سے اللہ تعالیٰ مشکلات سے اور رنج و غم سے نجات دیتا ہے، اللہ کی حدیں نزدیک و دور والوں میں جاری کرو اللہ کے بارے میں کسی ملامت کرنے کی ملامت تمہیں نہ روکے (مسند احمد) اس حدیث کا بعض حصہ ابن ماجہ میں بھی مروی ہے، حضرت ابو مسعود انصاری ؓ فرماتے ہیں کہ مجھے جب رسول اللہ ﷺ نے عامل بنا کر بھیجنا چاہا تو فرمایا اے ابو مسعود جاؤ ایسا نہ ہو کہ میں تمہیں قیامت کے دن اس حال میں پاؤں کہ تمہاری پیٹھ پر اونٹ ہو جو آواز نکال رہا ہو جسے تم نے خیانت سے لے لیا ہو، میں نے کہا حضور ﷺ پھر تو میں نہیں جاتا آپ نے فرمایا اچھا میں تمہیں زبردستی بھیجتا بھی نہیں (ابو داؤد) ابن مردویہ میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں اگر کوئی پتھر جہنم میں ڈالا جائے تو ستر سال تک چلتا رہے لیکن تہہ کو نہیں پہنچتا خیانت کی چیز کو اسی طرح جہنم میں پھینک دیا جائے گا، پھر خیانت والے سے کہا جائے گا جا اسے لے آ، یہی معنی ہیں اللہ کے اس فرمان کے آیت (ومن یغلل یات بما غل یوم القیامتہ) مسند احمد میں ہے کہ خیبر کی جنگ والے دن صحابہ کرام آنے لگے اور کہنے لگے فاں شہید ہے فلاں شہید ہے جب ایک شخص کی نسبت یہ کہا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہرگز نہیں میں نے اسے جہنم میں دیکھا ہے کیونکہ اس نے غنیمت کے مال کی ایک چادر خیانت کرلی تھی پھر آپ نے فرمایا اے عمر بن خطاب تم جاؤ اور لوگوں میں منادی کردو کہ جنت میں صرف ایماندار ہی جائیں گے چناچہ میں چلا اور سب میں یہ ندا کردی، یہ حدیث مسلم اور ترمذی میں بھی ہے امام ترمذی اسے حسن صحیح کہتے ہیں، ابن جریر میں ہے کہ ایک دن حضرت عمر نے حضرت عبداللہ بن انیس سے صدقات کے بارے میں تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ تم نے رسول اللہ ﷺ کا یہ فرمان نہیں سنا ؟ کہ آپ نے صدقات میں خیانت کرنے والے کی نسبت فرمایا اس میں جو شخص اونٹ یا بکری لے لے وہ قیامت والے دن اسے اٹھائے ہوئے آئے گا۔ حضرت عبداللہ نے فرمایا ہاں یہ روایت ابن ماجہ میں بھی ہے، ابن جریر میں حضرت سعد بن عبادہ سے مروی ہے کہ انہیں صدقات وصول کرنے کے لئے حضور ﷺ نے بھیجنا چاہا اور فرمایا اے سعد ایسا نہ ہو کہ قیامت کے دن تو بلبلاتے اونٹ کو اٹھا کر لائے تو حضرت سعد کہنے لگے کہ نہ میں اس عہدہ کو لوں اور نہ ایسا ہونے کا احتمال رہے چناچہ حضور ﷺ نے بھی اس کام سے انہیں معاف رکھا، مسند احمد میں ہے کہ حضرت مسلم بن عبدالملک کے ساتھ روم کی جنگ میں حضرت سالم بن عبداللہ بھی تھے ایک شخص کے اسباب میں کچھ خیانت کا مال بھی نکلا سردار لشکر نے حضرت سالم سے اس کے بارے میں فتویٰ پوچھا تو آپ نے فرمایا مجھ سے میرے باپ عبداللہ نے اور ان سے ان کی باپ عمر بن خطاب نے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس کے اسباب میں تم چوری کا مال پاؤ اسے جلا دو ، راوی کہتا ہے میرا خیال ہے یہ بھی فرمایا اور اسے سزا دو ، چناچہ جب اس کا مال بازار میں نکالا تو اس میں ایک قرآن شریف بھی تھا حضرت سالم سے پھر اس کی بابت پوچھا گیا آپ نے فرمایا اسے بیچ دو اور اس کی قیمت صدقہ کردو، یہ حدیث ابو داؤد اور ترمذی میں بھی ہے، امام علی بن مدینی اور امام بخاری وغیرہ فرماتے ہیں یہ حدیث منکر ہے، امام دارقطنی فرماتے ہیں صحیح یہ ہے کہ یہ حضرت سالم کا اپنا فتویٰ ہے، حضرت امام احمد اور ان کے ساتھیوں کا قول بھی یہی ہے، حضرت حسن بھی یہی کہتے ہیں حضرت علی فرماتے ہیں اس کا اسباب جلا دیا جائے اور اسے مملوک کی حد سے کم مارا جائے اور اس کا حصہ نہ دیا جائے، ابوحنیفہ مالک شافعی اور جمہور کا مذہب اس کے برخلاف ہے یہ کہتے ہیں اس کا اسباب نہ جلایا جائے بلکہ اس کے مثل اسے تعزیر یعنی سزا دی جائے، امام بخاری فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے خائن کے جنازے کی نماز سے انکار کردیا اور اس کا اسباب نہیں جلایا، واللہ اعلم، مسند احمد میں ہے کہ قرآن شریفوں کے جب تغیر کا حکم کیا گیا تو حضرت ابن مسعود فرمانے لگے تم میں سے جس سے ہو سکے وہ اسے چھپا کر رکھ لے کیونکہ جو شخص جس چپز کو چھپا کر رکھ لے گا اسی کو لے کر قیامت کے روز آئے گا، پھر فرمانے لگے میں نے ستر دفعہ رسول اللہ ﷺ کی زبانی پڑھا ہے پس کیا میں رسول اللہ ﷺ کی پڑھائی ہوئی قرأت کو چھوڑ دوں ؟ امام وکیع بھی اپنی تفسیر میں اسے لائے ہیں، ابو داؤد میں ہے کہ آنحضور ﷺ کی عادت مبارکہ تھی کہ جب مال غنیمت آتا تو آپ حضرت بلال ؓ کو حکم دیتے ایک مرتبہ ایک شخص اس کے بعد بالوں کا ایک گچھا لے کر آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ ﷺ میرے پاس یہ رہ گیا تھا آپ نے فرمایا کیا تو نے حضرت بلال کی منادی سنی تھی ؟ جو تین مرتبہ ہوئی تھی اس نے کہا ہاں فرمایا پھر تو اس وقت کیوں نہ لایا ؟ اس نے عذر بیان کیا آپ نے فرمایا اب میں ہرگز نہ لوں گا تو ہی اسے لے کر قیامت کے دن آنا۔ اللہ دو عالم پھر فرماتا ہے کہ اللہ کی شرع پر چل کر اللہ تعالیٰ کی رضامندی کے مستحق ہونے والے اس کے ثوابوں کو حاصل کرنے والے اس کے عذابوں سے بچنے والے اور وہ لوگ جو اللہ کے غضب کے مستحق ہوئے اور جو مر کر جہنم میں ٹھکانا پائیں گے کیا یہ دونوں برابر ہوسکتے ہیں ؟ قرآن کریم میں دوسری جگہ ہے کہ اللہ کی باتوں کو حق ماننے والا اور اس سے اندھا رہنے والا برابر نہیں، اسی طرح فرمان ہے کہ جن سے اللہ کا اچھا وعدہ ہوچکا ہے اور جو اسے پانے والا ہے وہ اور دنیا کا نفع حاصل کرنے والا برابر نہیں۔ پھر فرماتا ہے کہ بھلائی اور برائی والے مختلف درجوں پر ہیں، وہ جنت کے درجوں میں ہیں اور یہ جہنم کے طبقوں میں جیسا کہ دوسری جگہ ہے آیت (وَلِكُلٍّ دَرَجٰتٌ مِّمَّا عَمِلُوْا) 6۔ الانعام :32) ہر ایک کے لئے ان کے اعمال کے مطابق درجات ہیں۔ پھر فرمایا اللہ ان کے اعمال دیکھ رہا ہے اور عنقریب ان سب کو پورا بدلہ دے گا نہ نیکی ماری جائے گی اور نہ بدی بڑھائی جائے گی بلکہ عمل کے مطابق ہی جزا سزا ہوگی۔ پھر فرماتا ہے کہ مومنوں پر اللہ کا بڑا احسان ہے کہ انہی کی جنس سے ان میں اپنا پیغمبر بھیجا تاکہ یہ اس سے بات چیت کرسکیں پوچھ گچھ کرسکیں ساتھ بیٹھ اٹھ سکیں اور پوری طرح نفع حاصل کرسکیں، جیسے اور جگہ ہے آیت (وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓ اَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوْٓا اِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَّوَدَّةً وَّرَحْمَةً) 30۔ الروم :21) یہاں بھی یہی مطلب ہے کہ تمہاری جنس سے تمہارے جوڑے اس نے پیدا کئے اور جگہ ہے آیت (قُلْ اِنَّمَآ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ يُوْحٰٓى اِلَيَّ اَنَّمَآ اِلٰــهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ فَاسْتَقِيْمُوْٓا اِلَيْهِ وَاسْتَغْفِرُوْهُ ۭ وَوَيْلٌ لِّـلْمُشْرِكِيْنَ) 41۔ فصلت :6) کہہ دے کہ میں تو تم جیسا ہی انسان ہوں میری طرف وحی کی جاتی ہے کہ تم سب کا معبود ایک ہی ہے، اور فرمان ہے آیت (وَمَآ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنَ الْمُرْسَلِيْنَ اِلَّآ اِنَّهُمْ لَيَاْكُلُوْنَ الطَّعَامَ وَيَمْشُوْنَ فِي الْاَسْوَاقِ) 25۔ الفرقان :20) یعنی تجھ سے پہلے بھی ہم نے مردوں کو وحی کی تھی جو بستیوں کے رہنے والے تھے اور ارشاد ہے آیت (يٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ اَلَمْ يَاْتِكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ يَقُصُّوْنَ عَلَيْكُمْ اٰيٰتِيْ وَيُنْذِرُوْنَكُمْ لِقَاۗءَ يَوْمِكُمْ ھٰذَا) 6۔ الانعام :130) یعنی اے جنو اور انسانو کیا تمہارے پاس تم میں سے ہی رسول نہیں آئے تھے ؟ الغرض یہ پورا احسان ہے کہ مخلوق کی طرف انہی میں سے رسول بھیجے گئے تاکہ وہ پاس بیٹھ اٹھ کر بار بار سوال جواب کر کے پوری طرح دین سیکھ لیں، پس اللہ عزوجل فرماتا ہے کہ وہ اللہ کی آیتیں یعنی قرآن کریم انہیں پڑھاتا ہے اور اچھی باتوں کا حکم دے کر اور برائیوں سے روک کر ان کی جانوں کی پاکیزگی کرتا ہے اور شرک و جاہلیت کی ناپاکی کے اثرات سے زائل کرتا ہے اور انہیں کتاب اور سنت سکھاتا ہے۔ اس رسول ﷺ کے آنے سے پہلے تو یہ صاف بھٹکے ہوئے تھے ظاہر برائی اور پوری جہالت میں تھے۔
165
View Single
أَوَلَمَّآ أَصَٰبَتۡكُم مُّصِيبَةٞ قَدۡ أَصَبۡتُم مِّثۡلَيۡهَا قُلۡتُمۡ أَنَّىٰ هَٰذَاۖ قُلۡ هُوَ مِنۡ عِندِ أَنفُسِكُمۡۗ إِنَّ ٱللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ قَدِيرٞ
So will you say when disaster strikes you, though you had struck them with twice as much, “Where has this come from?” Say (to them, O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), “It has come from yourselves”; indeed Allah is Able to do all things.
کیا جب تمہیں ایک مصیبت آپہنچی حالانکہ تم اس سے دو چند (دشمن کو) پہنچا چکے تھے تو تم کہنے لگے کہ یہ کہاں سے آپڑی؟ فرما دیں: یہ تمہاری اپنی ہی طرف سے ہے بیشک اللہ ہر چیز پر خوب قدرت رکھتا ہے
Tafsir Ibn Kathir
The Reason and Wisdom Behind the Defeat at Uhud
Allah said,
أَوَ لَمَّا أَصَـبَتْكُمْ مُّصِيبَةٌ
(When a single disaster smites you), in reference to when the Muslims suffered seventy fatalities during the battle of Uhud,
قَدْ أَصَبْتُمْ مِّثْلَيْهَا
(although you smote (your enemies) with one twice as great,) during Badr, when the Muslims killed seventy Mushriks and captured seventy others,
قُلْتُمْ أَنَّى هَـذَا
(you say: "From where does this come to us") why did this defeat happen to us
قُلْ هُوَ مِنْ عِندِ أَنْفُسِكُمْ
(Say, "It is from yourselves.") Ibn Abi Hatim recorded that `Umar bin Al-Khattab said, "When Uhud occurred, a year after Badr, Muslims were punished for taking ransom from the disbelievers at Badr in return for releasing the Mushriks whom they captured in that battle. Thus, they suffered the loss of seventy fatalities and the Companions of the Messenger of Allah gave flight and abandoned him. The Messenger suffered a broken tooth, the helmet was smashed on his head and blood flowed onto his face. Allah then revealed,
أَوَ لَمَّا أَصَـبَتْكُمْ مُّصِيبَةٌ قَدْ أَصَبْتُمْ مِّثْلَيْهَا قُلْتُمْ أَنَّى هَـذَا قُلْ هُوَ مِنْ عِندِ أَنْفُسِكُمْ
(When a single disaster smites you, although you smote (your enemies) with one twice as great, you say: "From where does this come to us" Say, "It is from yourselves".), because you took the ransom." Furthermore, Muhammad bin Ishaq, Ibn Jurayj, Ar-Rabi` bin Anas and As-Suddi said that the Ayah,
قُلْ هُوَ مِنْ عِندِ أَنْفُسِكُمْ
(Say, "It is from yourselves.") means, because you, the archers, disobeyed the Messenger's command to not abandon your positions.
إِنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ
(And Allah has power over all things.) and He does what He wills and decides what He wills, and there is none who can resist His decision.
Allah then said,
وَمَآ أَصَـبَكُمْ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعَانِ فَبِإِذْنِ اللَّهِ
(And what you suffered on the day the two armies met, was by the leave of Allah), for when you ran away from your enemy, who killed many of you and injured many others, all this occurred by Allah's will and decree out of His perfect wisdom,
وَلِيَعْلَمَ الْمُؤْمِنِينَ
(in order that He might test the believers.) who were patient, firm and were not shaken,
وَلِيَعْلَمَ الَّذِينَ نَافَقُواْ وَقِيلَ لَهُمْ تَعَالَوْاْ قَاتِلُواْ فِى سَبِيلِ اللَّهِ أَوِ ادْفَعُواْ قَالُواْ لَوْ نَعْلَمُ قِتَالاً لاَّتَّبَعْنَـكُمْ
(And that He might test the hypocrites, it was said to them: "Come, fight in the way of Allah or defend yourselves." They said: "Had we known that fighting will take place, we would certainly have followed you.") 3:167,
This refers to the Companions of `Abdullah bin Ubayy bin Salul who went back (to Al-Madinah) with him before the battle. Some believers followed them and encouraged them to come back and fight, saying,
أَوِ ادْفَعُواْ
(or defend), so that the number of Muslims increases, as Ibn `Abbas, `Ikrimah, Sa`id bin Jubayr, Ad-Dahhak, Abu Salih, Al-Hasan and As-Suddi stated. Al-Hasan bin Salih said that this part of the Ayah means, help by supplicating for us, while others said it means, man the posts. However, they refused, saying,
لَوْ نَعْلَمُ قِتَالاً لاَّتَّبَعْنَـكُمْ
("Had we known that fighting will take place, we would certainly have followed you.") meaning, according to Mujahid, if we knew that you would fight today, we would join you, but we think you will not fight. Allah said,
هُمْ لِلْكُفْرِ يَوْمَئِذٍ أَقْرَبُ مِنْهُمْ لِلإِيمَـنِ
(They were that day, nearer to disbelief than to faith,)
This Ayah indicates that a person passes through various stages, sometimes being closer to Kufr and sometimes closer to faith, as evident by,
هُمْ لِلْكُفْرِ يَوْمَئِذٍ أَقْرَبُ مِنْهُمْ لِلإِيمَـنِ
(They were that day, nearer to disbelief than to faith,)
Allah then said,
يَقُولُونَ بِأَفْوَهِهِم مَّا لَيْسَ فِى قُلُوبِهِمْ
(saying with their mouths what was not in their hearts.) for they utter what they do not truly believe in, such as,
لَوْ نَعْلَمُ قِتَالاً لاَّتَّبَعْنَـكُمْ
("Had we known that fighting will take place, we would certainly have followed you.")
They knew that there was an army of idolators that came from a far land raging against the Muslims, to avenge their noble men whom the Muslims killed in Badr. These idolators came in larger numbers than the Muslims, so it was clear that a battle will certainly occur. Allah said;
وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا يَكْتُمُونَ
(And Allah has full knowledge of what they conceal.)
الَّذِينَ قَالُواْ لإِخْوَنِهِمْ وَقَعَدُواْ لَوْ أَطَاعُونَا مَا قُتِلُوا
((They are) the ones who said about their killed brethren while they themselves sat (at home): "If only they had listened to us, they would not have been killed.") had they listened to our advice and not gone out, they would not have met their demise. Allah said,
قُلْ فَادْرَءُوا عَنْ أَنفُسِكُمُ الْمَوْتَ إِن كُنتُمْ صَـدِقِينَ
(Say: "Avert death from your own selves, if you speak the truth.") meaning, if staying at home saves one from being killed or from death, then you should not die. However death will come to you even if you were hiding in fortified castles. Therefore, fend death off of yourselves, if you are right.
Mujahid said that Jabir bin `Abdullah said, "This Ayah 3:168 was revealed about `Abdullah bin Ubayy bin Salul (the chief hypocrite)."
غزوات سچے مسلمان اور منافق کو بےنقاب کرنے کا ذریعہ بھی تھے یہاں جس مصیبت کا بیان ہو رہا ہے یہ احد کی مصیبت ہے جس میں ستر صحابہ شہید ہوئے تھے تو مسلمان کہنے لگے کہ یہ مصیبت کیسے آگئی ؟ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یہ تمہاری اپنی طرف سے ہے، حضرت عمر بن خطاب کا بیان ہے کہ بدر کے دن مسلمانوں نے فدیہ لے کر جن کفار کو چھوڑ دیا تھا اس کی سزا میں اگلے سال ان میں سے ستر مسلمان شہید کئے گئے اور صحابہ میں افراتفری پڑگئی، حضور رسالت مآب ﷺ کے سامنے کے چار دانت ٹوٹ گئے آپ کے سر مبارک پر خود تھا وہ بھی ٹوٹا اور چہرہ مبارک لہولہان ہوگیا، اس کا بیان اس آیت مبارکہ میں ہو رہا ہے۔ (ابن ابی حاتم، مسند احمد بن حنبل) حضرت علی سے مروی ہے کہ جبرائیل رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور فرمایا اے محمد ﷺ آپ کی قوم کا کفار کو قیدی بنا کر پکڑ لینا اللہ تعالیٰ کو پسند نہ آیا اب انہیں دو باتوں میں سے ایک کے اختیار کرلینے کا حکم دیجئے یا تو یہ کہ ان قیدیوں کو مار ڈالیں یا یہ کہ ان سے فدیہ وصول کر کے چھوڑ دیں مگر پھر ان مسلمانوں سے اتنی ہی تعداد شہید ہوگیحضور ﷺ نے لوگوں کو جمع کر کے دونوں باتیں پیش کیں تو انہوں نے کہا یا رسول اللہ ﷺ یہ لوگ ہمارے قبائل کے ہیں ہمارے رشتے دار بھائی ہیں ہم کیوں نہ ان سے فدیہ لے کر انہیں چھوڑ دیں اور اس مال سے ہم طاقت قوت حاصل کر کے اپنے دوسرے دشمنوں سے جنگ کریں گے اور پھر جو ہم میں سے اتنے ہی آدمی شہید ہوں گے تو اس میں ہماری کیا برائی ہے، چناچہ جرمانہ وصول کر کے ستر قیدیوں کو چھوڑ دیا اور ٹھیک ستر ہی کی تعداد مسلمانوں کی اس کے بعد غزوہ احد میں شہید ہوئی (ترمذی نسائی) پس ایک مطلب تو یہ ہوا کہ خود تمہاری طرف سے یہ سب ہوا یعنی تم نے بدر کے قیدیوں کو زندہ چھوڑنا اور ان سے جرمانہ جنگ وصول کرنا اس شرط پر منظور کیا تھا کہ تمہارے بھی اتنے ہی آدمی شہید ہوں وہ شہید ہوئے، دوسرا مطلب یہ ہے کہ تم نے رسول اللہ ﷺ کی نافرمانی کی تھی اس باعث تمہیں یہ نقصان پہنچا تیر اندازوں کو رسول کرم علیہ الصلوٰۃ والتسلیم نے حکم دیا تھا کہ وہ اپنی جگہ سے نہ ہٹیں لیکن وہ ہٹ گئے، اللہ تعالیٰ ہر چیز قادر ہے جو چاہے کرے جو ارادہ ہو حکم دے کوئی نہیں جو اس کا حکم ٹال سکے۔ دونوں جماعتوں کی مڈبھیڑ کے دن جو نقصان تمہیں پہنچا کہ تم دشمنوں کے مقابلے سے بھاگ کھڑے ہوئے تم میں سے بعض لوگ شہید بھی ہوئے اور زخمی بھی ہوئے یہ سب اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر سے تھا اس کی حکمت اس کی مقتضی تھی، اس کا ایک سبب یہ بھی تھا کہ ثابت قدم غیر متزلزل ایمان والے صابر بندے بھی معلوم ہوجائیں اور منافقین کا حال بھی کھل جائے جیسے عبداللہ بن ابی بن سلول اور اس کے ساتھی جو راستے میں ہی لوٹ گئے ایک مسلمان نے انہیں سمجھایا بھی کہ آؤ، اللہ کی راہ میں جہاد کرو یا کم از کم ان حملہ اوروں کو تو ہٹاؤ لیکن انہوں نے ٹال دیا کہ ہم تو فنون جنگ سے بیخبر ہیں اگر جانتے ہوتے تو ضرور تمہارا ساتھ، یہ بھی مدافعت میں تھا کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ تو رہتے جس سے مسلمانوں کی گنتی زیادہ معلوم ہوتی، یا دعائیں کرتے رہتے یا تیاریاں ہی کرتے، ان کے جواب کا ایک مطلب یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ اگر ہمیں معلوم ہوتا کہ تم سچ مچ دشمنوں سے لڑو گے تو تو ہم بھی تمہارا ساتھ دیتے لیکن ہم جانتے ہیں کہ لڑائی ہونے کی ہی نہیں سیرۃ محمد بن اسحاق میں ہے کہ ایک ہزار آدمی لے کر رسول اللہ ﷺ میدان احد کی جانب بڑھے آدھے راستے میں عبداللہ ابی بن سلول بگڑ بیٹھا اور کہنے لگا اوروں کی مان لی اور مدینہ سے نکل کھڑے ہوئے اور میری نہ مانی اللہ کی قسم ہمیں نہیں معلوم کہ ہم کس فائدے کو نظر انداز رکھ کر اپنی جانیں دیں ؟ لوگوں کیوں جانیں کھو رہے ہو جس قدر نفاق اور شک و شبہ والے لوگ تھے اس کی آواز پر لگ گئے اور تہائی لشکر لے کر یہ پلید واپس لوٹ گیا، حضرت عبداللہ بن عمرو بن حرام بنو سلمہ کے بھائی ہرچند انہیں سمجھاتے رہے کہ اے میری قوم اپنے نبی کو اپنی قوم کو رسوا نہ کروا انہیں دشمنوں کے سامنے چھوڑ کر پیٹھ نہ پھیرو لیکن انہوں نے بہانہ بنادیا کہ ہمیں معلوم ہے کہ لڑائی ہونے ہی کی نہیں جب یہ بیچارے عاجز آگئے تو فرمانے لگے جاؤ تمہیں اللہ غارت کرے اللہ کے دشمنو ! تمہاری کوئی حاجت نہیں اللہ اپنے نبی ﷺ کا مددگار ہے چناچہ حضور ﷺ بھی انہیں چھوڑ کر آگے بڑھ گئے۔ جناب باری ارشاد فرماتا ہے کہ وہ اس دن بہ نسبت ایمان کے کفر سے بہت ہی نزدیک تھے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کے احوال مختلف ہیں کبھی وہ کفر سے قریب جاتا ہے اور کبھی ایمان کے نزدیک ہوجاتا ہے، پھر فرمایا یہ اپنے منہ سے وہ باتیں بناتے ہیں جو ان کے دل میں نہیں، جیسے ان کا یہی کہنا کہ اگر ہم جنگ جانتے تو ضرور تمہارا ساتھ دیتے، حالانکہ انہیں یقینًا معلوم تھا کہ مشرکین دور دراز سے چڑھائی کر کے مسلمانوں کو نیست و نابود کردینے کی ٹھان کر آئے ہیں وہ بڑے جلے کٹے ہوئے ہیں کیونکہ ان کے سردار بدر والے دن میدان میں رہ گئے تھے اور ان کے اشراف قتل کر دئیے گئے تھے تو اب وہ ان ضعیف مسلمانوں پر ٹوٹ پڑے ہیں اور یقینا جنگ عظیم برپا ہونے والی ہے، پس جناب باری فرماتا ہے ان کے دلوں کی چھپی ہوئی باتوں کا مجھے بخوبی علم ہے، یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے بھائیوں کے بارے میں کہتے ہیں اگر یہ ہمارا مشورہ مانتے یہیں بیٹھے رہتے اور جنگ میں شرکت نہ کرتے تو ہرگز نہ مارے جاتے، اس کے جواب میں جناب باری جل و علا کا ارشاد ہوتا ہے کہ اگر یہ ٹھیک ہے اور تم اپنی اس بات میں سچے ہو کہ بیٹھ رہنے اور میدان جنگ میں نہ نکلنے سے انسان قتل و موت سے بچ جاتا ہے تو چاہئے کہ تم مروہی نہیں اس لئے کہ تم تو گھروں میں بیٹھے ہو لیکن ظاہر ہے کہ ایک روز تم بھی چل بسو گے چاہے تم مضبوط برجوں میں پناہ گزین ہوجاؤ پس ہم تو تمہیں تب سچا مانیں کہ تم موت کو اپنی جانوں سے ٹال دو ، حضرت جابر بن عبداللہ ؓ فرماتے ہیں یہ آیت عبداللہ بن ابی بن سلول اور اس کے ساتھیوں کے بارے میں اتری ہے۔
166
View Single
وَمَآ أَصَٰبَكُمۡ يَوۡمَ ٱلۡتَقَى ٱلۡجَمۡعَانِ فَبِإِذۡنِ ٱللَّهِ وَلِيَعۡلَمَ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ
And the calamity that struck you on the day the two armies met, was by Allah’s command – and in order that He may make known the believers.
اور اُس دن جو تکلیف تمہیں پہنچی جب دونوں لشکر باہم مقابل ہو گئے تھے سو وہ اللہ کے حکم (ہی) سے تھے اور یہ اس لئے کہ اللہ ایمان والوں کی پہچان کرا دے
Tafsir Ibn Kathir
The Reason and Wisdom Behind the Defeat at Uhud
Allah said,
أَوَ لَمَّا أَصَـبَتْكُمْ مُّصِيبَةٌ
(When a single disaster smites you), in reference to when the Muslims suffered seventy fatalities during the battle of Uhud,
قَدْ أَصَبْتُمْ مِّثْلَيْهَا
(although you smote (your enemies) with one twice as great,) during Badr, when the Muslims killed seventy Mushriks and captured seventy others,
قُلْتُمْ أَنَّى هَـذَا
(you say: "From where does this come to us") why did this defeat happen to us
قُلْ هُوَ مِنْ عِندِ أَنْفُسِكُمْ
(Say, "It is from yourselves.") Ibn Abi Hatim recorded that `Umar bin Al-Khattab said, "When Uhud occurred, a year after Badr, Muslims were punished for taking ransom from the disbelievers at Badr in return for releasing the Mushriks whom they captured in that battle. Thus, they suffered the loss of seventy fatalities and the Companions of the Messenger of Allah gave flight and abandoned him. The Messenger suffered a broken tooth, the helmet was smashed on his head and blood flowed onto his face. Allah then revealed,
أَوَ لَمَّا أَصَـبَتْكُمْ مُّصِيبَةٌ قَدْ أَصَبْتُمْ مِّثْلَيْهَا قُلْتُمْ أَنَّى هَـذَا قُلْ هُوَ مِنْ عِندِ أَنْفُسِكُمْ
(When a single disaster smites you, although you smote (your enemies) with one twice as great, you say: "From where does this come to us" Say, "It is from yourselves".), because you took the ransom." Furthermore, Muhammad bin Ishaq, Ibn Jurayj, Ar-Rabi` bin Anas and As-Suddi said that the Ayah,
قُلْ هُوَ مِنْ عِندِ أَنْفُسِكُمْ
(Say, "It is from yourselves.") means, because you, the archers, disobeyed the Messenger's command to not abandon your positions.
إِنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ
(And Allah has power over all things.) and He does what He wills and decides what He wills, and there is none who can resist His decision.
Allah then said,
وَمَآ أَصَـبَكُمْ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعَانِ فَبِإِذْنِ اللَّهِ
(And what you suffered on the day the two armies met, was by the leave of Allah), for when you ran away from your enemy, who killed many of you and injured many others, all this occurred by Allah's will and decree out of His perfect wisdom,
وَلِيَعْلَمَ الْمُؤْمِنِينَ
(in order that He might test the believers.) who were patient, firm and were not shaken,
وَلِيَعْلَمَ الَّذِينَ نَافَقُواْ وَقِيلَ لَهُمْ تَعَالَوْاْ قَاتِلُواْ فِى سَبِيلِ اللَّهِ أَوِ ادْفَعُواْ قَالُواْ لَوْ نَعْلَمُ قِتَالاً لاَّتَّبَعْنَـكُمْ
(And that He might test the hypocrites, it was said to them: "Come, fight in the way of Allah or defend yourselves." They said: "Had we known that fighting will take place, we would certainly have followed you.") 3:167,
This refers to the Companions of `Abdullah bin Ubayy bin Salul who went back (to Al-Madinah) with him before the battle. Some believers followed them and encouraged them to come back and fight, saying,
أَوِ ادْفَعُواْ
(or defend), so that the number of Muslims increases, as Ibn `Abbas, `Ikrimah, Sa`id bin Jubayr, Ad-Dahhak, Abu Salih, Al-Hasan and As-Suddi stated. Al-Hasan bin Salih said that this part of the Ayah means, help by supplicating for us, while others said it means, man the posts. However, they refused, saying,
لَوْ نَعْلَمُ قِتَالاً لاَّتَّبَعْنَـكُمْ
("Had we known that fighting will take place, we would certainly have followed you.") meaning, according to Mujahid, if we knew that you would fight today, we would join you, but we think you will not fight. Allah said,
هُمْ لِلْكُفْرِ يَوْمَئِذٍ أَقْرَبُ مِنْهُمْ لِلإِيمَـنِ
(They were that day, nearer to disbelief than to faith,)
This Ayah indicates that a person passes through various stages, sometimes being closer to Kufr and sometimes closer to faith, as evident by,
هُمْ لِلْكُفْرِ يَوْمَئِذٍ أَقْرَبُ مِنْهُمْ لِلإِيمَـنِ
(They were that day, nearer to disbelief than to faith,)
Allah then said,
يَقُولُونَ بِأَفْوَهِهِم مَّا لَيْسَ فِى قُلُوبِهِمْ
(saying with their mouths what was not in their hearts.) for they utter what they do not truly believe in, such as,
لَوْ نَعْلَمُ قِتَالاً لاَّتَّبَعْنَـكُمْ
("Had we known that fighting will take place, we would certainly have followed you.")
They knew that there was an army of idolators that came from a far land raging against the Muslims, to avenge their noble men whom the Muslims killed in Badr. These idolators came in larger numbers than the Muslims, so it was clear that a battle will certainly occur. Allah said;
وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا يَكْتُمُونَ
(And Allah has full knowledge of what they conceal.)
الَّذِينَ قَالُواْ لإِخْوَنِهِمْ وَقَعَدُواْ لَوْ أَطَاعُونَا مَا قُتِلُوا
((They are) the ones who said about their killed brethren while they themselves sat (at home): "If only they had listened to us, they would not have been killed.") had they listened to our advice and not gone out, they would not have met their demise. Allah said,
قُلْ فَادْرَءُوا عَنْ أَنفُسِكُمُ الْمَوْتَ إِن كُنتُمْ صَـدِقِينَ
(Say: "Avert death from your own selves, if you speak the truth.") meaning, if staying at home saves one from being killed or from death, then you should not die. However death will come to you even if you were hiding in fortified castles. Therefore, fend death off of yourselves, if you are right.
Mujahid said that Jabir bin `Abdullah said, "This Ayah 3:168 was revealed about `Abdullah bin Ubayy bin Salul (the chief hypocrite)."
غزوات سچے مسلمان اور منافق کو بےنقاب کرنے کا ذریعہ بھی تھے یہاں جس مصیبت کا بیان ہو رہا ہے یہ احد کی مصیبت ہے جس میں ستر صحابہ شہید ہوئے تھے تو مسلمان کہنے لگے کہ یہ مصیبت کیسے آگئی ؟ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یہ تمہاری اپنی طرف سے ہے، حضرت عمر بن خطاب کا بیان ہے کہ بدر کے دن مسلمانوں نے فدیہ لے کر جن کفار کو چھوڑ دیا تھا اس کی سزا میں اگلے سال ان میں سے ستر مسلمان شہید کئے گئے اور صحابہ میں افراتفری پڑگئی، حضور رسالت مآب ﷺ کے سامنے کے چار دانت ٹوٹ گئے آپ کے سر مبارک پر خود تھا وہ بھی ٹوٹا اور چہرہ مبارک لہولہان ہوگیا، اس کا بیان اس آیت مبارکہ میں ہو رہا ہے۔ (ابن ابی حاتم، مسند احمد بن حنبل) حضرت علی سے مروی ہے کہ جبرائیل رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور فرمایا اے محمد ﷺ آپ کی قوم کا کفار کو قیدی بنا کر پکڑ لینا اللہ تعالیٰ کو پسند نہ آیا اب انہیں دو باتوں میں سے ایک کے اختیار کرلینے کا حکم دیجئے یا تو یہ کہ ان قیدیوں کو مار ڈالیں یا یہ کہ ان سے فدیہ وصول کر کے چھوڑ دیں مگر پھر ان مسلمانوں سے اتنی ہی تعداد شہید ہوگیحضور ﷺ نے لوگوں کو جمع کر کے دونوں باتیں پیش کیں تو انہوں نے کہا یا رسول اللہ ﷺ یہ لوگ ہمارے قبائل کے ہیں ہمارے رشتے دار بھائی ہیں ہم کیوں نہ ان سے فدیہ لے کر انہیں چھوڑ دیں اور اس مال سے ہم طاقت قوت حاصل کر کے اپنے دوسرے دشمنوں سے جنگ کریں گے اور پھر جو ہم میں سے اتنے ہی آدمی شہید ہوں گے تو اس میں ہماری کیا برائی ہے، چناچہ جرمانہ وصول کر کے ستر قیدیوں کو چھوڑ دیا اور ٹھیک ستر ہی کی تعداد مسلمانوں کی اس کے بعد غزوہ احد میں شہید ہوئی (ترمذی نسائی) پس ایک مطلب تو یہ ہوا کہ خود تمہاری طرف سے یہ سب ہوا یعنی تم نے بدر کے قیدیوں کو زندہ چھوڑنا اور ان سے جرمانہ جنگ وصول کرنا اس شرط پر منظور کیا تھا کہ تمہارے بھی اتنے ہی آدمی شہید ہوں وہ شہید ہوئے، دوسرا مطلب یہ ہے کہ تم نے رسول اللہ ﷺ کی نافرمانی کی تھی اس باعث تمہیں یہ نقصان پہنچا تیر اندازوں کو رسول کرم علیہ الصلوٰۃ والتسلیم نے حکم دیا تھا کہ وہ اپنی جگہ سے نہ ہٹیں لیکن وہ ہٹ گئے، اللہ تعالیٰ ہر چیز قادر ہے جو چاہے کرے جو ارادہ ہو حکم دے کوئی نہیں جو اس کا حکم ٹال سکے۔ دونوں جماعتوں کی مڈبھیڑ کے دن جو نقصان تمہیں پہنچا کہ تم دشمنوں کے مقابلے سے بھاگ کھڑے ہوئے تم میں سے بعض لوگ شہید بھی ہوئے اور زخمی بھی ہوئے یہ سب اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر سے تھا اس کی حکمت اس کی مقتضی تھی، اس کا ایک سبب یہ بھی تھا کہ ثابت قدم غیر متزلزل ایمان والے صابر بندے بھی معلوم ہوجائیں اور منافقین کا حال بھی کھل جائے جیسے عبداللہ بن ابی بن سلول اور اس کے ساتھی جو راستے میں ہی لوٹ گئے ایک مسلمان نے انہیں سمجھایا بھی کہ آؤ، اللہ کی راہ میں جہاد کرو یا کم از کم ان حملہ اوروں کو تو ہٹاؤ لیکن انہوں نے ٹال دیا کہ ہم تو فنون جنگ سے بیخبر ہیں اگر جانتے ہوتے تو ضرور تمہارا ساتھ، یہ بھی مدافعت میں تھا کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ تو رہتے جس سے مسلمانوں کی گنتی زیادہ معلوم ہوتی، یا دعائیں کرتے رہتے یا تیاریاں ہی کرتے، ان کے جواب کا ایک مطلب یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ اگر ہمیں معلوم ہوتا کہ تم سچ مچ دشمنوں سے لڑو گے تو تو ہم بھی تمہارا ساتھ دیتے لیکن ہم جانتے ہیں کہ لڑائی ہونے کی ہی نہیں سیرۃ محمد بن اسحاق میں ہے کہ ایک ہزار آدمی لے کر رسول اللہ ﷺ میدان احد کی جانب بڑھے آدھے راستے میں عبداللہ ابی بن سلول بگڑ بیٹھا اور کہنے لگا اوروں کی مان لی اور مدینہ سے نکل کھڑے ہوئے اور میری نہ مانی اللہ کی قسم ہمیں نہیں معلوم کہ ہم کس فائدے کو نظر انداز رکھ کر اپنی جانیں دیں ؟ لوگوں کیوں جانیں کھو رہے ہو جس قدر نفاق اور شک و شبہ والے لوگ تھے اس کی آواز پر لگ گئے اور تہائی لشکر لے کر یہ پلید واپس لوٹ گیا، حضرت عبداللہ بن عمرو بن حرام بنو سلمہ کے بھائی ہرچند انہیں سمجھاتے رہے کہ اے میری قوم اپنے نبی کو اپنی قوم کو رسوا نہ کروا انہیں دشمنوں کے سامنے چھوڑ کر پیٹھ نہ پھیرو لیکن انہوں نے بہانہ بنادیا کہ ہمیں معلوم ہے کہ لڑائی ہونے ہی کی نہیں جب یہ بیچارے عاجز آگئے تو فرمانے لگے جاؤ تمہیں اللہ غارت کرے اللہ کے دشمنو ! تمہاری کوئی حاجت نہیں اللہ اپنے نبی ﷺ کا مددگار ہے چناچہ حضور ﷺ بھی انہیں چھوڑ کر آگے بڑھ گئے۔ جناب باری ارشاد فرماتا ہے کہ وہ اس دن بہ نسبت ایمان کے کفر سے بہت ہی نزدیک تھے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کے احوال مختلف ہیں کبھی وہ کفر سے قریب جاتا ہے اور کبھی ایمان کے نزدیک ہوجاتا ہے، پھر فرمایا یہ اپنے منہ سے وہ باتیں بناتے ہیں جو ان کے دل میں نہیں، جیسے ان کا یہی کہنا کہ اگر ہم جنگ جانتے تو ضرور تمہارا ساتھ دیتے، حالانکہ انہیں یقینًا معلوم تھا کہ مشرکین دور دراز سے چڑھائی کر کے مسلمانوں کو نیست و نابود کردینے کی ٹھان کر آئے ہیں وہ بڑے جلے کٹے ہوئے ہیں کیونکہ ان کے سردار بدر والے دن میدان میں رہ گئے تھے اور ان کے اشراف قتل کر دئیے گئے تھے تو اب وہ ان ضعیف مسلمانوں پر ٹوٹ پڑے ہیں اور یقینا جنگ عظیم برپا ہونے والی ہے، پس جناب باری فرماتا ہے ان کے دلوں کی چھپی ہوئی باتوں کا مجھے بخوبی علم ہے، یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے بھائیوں کے بارے میں کہتے ہیں اگر یہ ہمارا مشورہ مانتے یہیں بیٹھے رہتے اور جنگ میں شرکت نہ کرتے تو ہرگز نہ مارے جاتے، اس کے جواب میں جناب باری جل و علا کا ارشاد ہوتا ہے کہ اگر یہ ٹھیک ہے اور تم اپنی اس بات میں سچے ہو کہ بیٹھ رہنے اور میدان جنگ میں نہ نکلنے سے انسان قتل و موت سے بچ جاتا ہے تو چاہئے کہ تم مروہی نہیں اس لئے کہ تم تو گھروں میں بیٹھے ہو لیکن ظاہر ہے کہ ایک روز تم بھی چل بسو گے چاہے تم مضبوط برجوں میں پناہ گزین ہوجاؤ پس ہم تو تمہیں تب سچا مانیں کہ تم موت کو اپنی جانوں سے ٹال دو ، حضرت جابر بن عبداللہ ؓ فرماتے ہیں یہ آیت عبداللہ بن ابی بن سلول اور اس کے ساتھیوں کے بارے میں اتری ہے۔
167
View Single
وَلِيَعۡلَمَ ٱلَّذِينَ نَافَقُواْۚ وَقِيلَ لَهُمۡ تَعَالَوۡاْ قَٰتِلُواْ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِ أَوِ ٱدۡفَعُواْۖ قَالُواْ لَوۡ نَعۡلَمُ قِتَالٗا لَّٱتَّبَعۡنَٰكُمۡۗ هُمۡ لِلۡكُفۡرِ يَوۡمَئِذٍ أَقۡرَبُ مِنۡهُمۡ لِلۡإِيمَٰنِۚ يَقُولُونَ بِأَفۡوَٰهِهِم مَّا لَيۡسَ فِي قُلُوبِهِمۡۚ وَٱللَّهُ أَعۡلَمُ بِمَا يَكۡتُمُونَ
And in order to expose them who turned hypocrites; and it was said to them, “Come, fight in Allah's cause, or repel the enemy”; they answered, “If we knew how to fight, we would certainly have been with you”; and on that day they were nearer to open disbelief than to professed faith; they utter with their mouths what is not in their hearts; and Allah knows well what they hide. –
اور ایسے لوگوں کی بھی پہچان کرا دے جو منافق ہیں اور جب ان سے کہا گیا کہ آؤ اللہ کی راہ میں جنگ کرو یا (وضاحتاً کہا گیا کہ دشمن کے حملے کا) دفاع کرو تو کہنے لگے اگر ہم جانتے کہ (واقعتا) لڑائی ہوگی (یا ہم اسے اللہ کی راہ میں جنگ جانتے) تو ضرور تمہاری پیروی کرتے، اس دن وہ (ظاہری) ایمان کی نسبت کھلے کفر سے زیادہ قریب تھے، وہ اپنے منہ سے وہ باتیں کہتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں ہیں، اور اللہ (ان باتوں) کو خوب جانتا ہے جو وہ چھپا رہے ہیں
Tafsir Ibn Kathir
The Reason and Wisdom Behind the Defeat at Uhud
Allah said,
أَوَ لَمَّا أَصَـبَتْكُمْ مُّصِيبَةٌ
(When a single disaster smites you), in reference to when the Muslims suffered seventy fatalities during the battle of Uhud,
قَدْ أَصَبْتُمْ مِّثْلَيْهَا
(although you smote (your enemies) with one twice as great,) during Badr, when the Muslims killed seventy Mushriks and captured seventy others,
قُلْتُمْ أَنَّى هَـذَا
(you say: "From where does this come to us") why did this defeat happen to us
قُلْ هُوَ مِنْ عِندِ أَنْفُسِكُمْ
(Say, "It is from yourselves.") Ibn Abi Hatim recorded that `Umar bin Al-Khattab said, "When Uhud occurred, a year after Badr, Muslims were punished for taking ransom from the disbelievers at Badr in return for releasing the Mushriks whom they captured in that battle. Thus, they suffered the loss of seventy fatalities and the Companions of the Messenger of Allah gave flight and abandoned him. The Messenger suffered a broken tooth, the helmet was smashed on his head and blood flowed onto his face. Allah then revealed,
أَوَ لَمَّا أَصَـبَتْكُمْ مُّصِيبَةٌ قَدْ أَصَبْتُمْ مِّثْلَيْهَا قُلْتُمْ أَنَّى هَـذَا قُلْ هُوَ مِنْ عِندِ أَنْفُسِكُمْ
(When a single disaster smites you, although you smote (your enemies) with one twice as great, you say: "From where does this come to us" Say, "It is from yourselves".), because you took the ransom." Furthermore, Muhammad bin Ishaq, Ibn Jurayj, Ar-Rabi` bin Anas and As-Suddi said that the Ayah,
قُلْ هُوَ مِنْ عِندِ أَنْفُسِكُمْ
(Say, "It is from yourselves.") means, because you, the archers, disobeyed the Messenger's command to not abandon your positions.
إِنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ
(And Allah has power over all things.) and He does what He wills and decides what He wills, and there is none who can resist His decision.
Allah then said,
وَمَآ أَصَـبَكُمْ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعَانِ فَبِإِذْنِ اللَّهِ
(And what you suffered on the day the two armies met, was by the leave of Allah), for when you ran away from your enemy, who killed many of you and injured many others, all this occurred by Allah's will and decree out of His perfect wisdom,
وَلِيَعْلَمَ الْمُؤْمِنِينَ
(in order that He might test the believers.) who were patient, firm and were not shaken,
وَلِيَعْلَمَ الَّذِينَ نَافَقُواْ وَقِيلَ لَهُمْ تَعَالَوْاْ قَاتِلُواْ فِى سَبِيلِ اللَّهِ أَوِ ادْفَعُواْ قَالُواْ لَوْ نَعْلَمُ قِتَالاً لاَّتَّبَعْنَـكُمْ
(And that He might test the hypocrites, it was said to them: "Come, fight in the way of Allah or defend yourselves." They said: "Had we known that fighting will take place, we would certainly have followed you.") 3:167,
This refers to the Companions of `Abdullah bin Ubayy bin Salul who went back (to Al-Madinah) with him before the battle. Some believers followed them and encouraged them to come back and fight, saying,
أَوِ ادْفَعُواْ
(or defend), so that the number of Muslims increases, as Ibn `Abbas, `Ikrimah, Sa`id bin Jubayr, Ad-Dahhak, Abu Salih, Al-Hasan and As-Suddi stated. Al-Hasan bin Salih said that this part of the Ayah means, help by supplicating for us, while others said it means, man the posts. However, they refused, saying,
لَوْ نَعْلَمُ قِتَالاً لاَّتَّبَعْنَـكُمْ
("Had we known that fighting will take place, we would certainly have followed you.") meaning, according to Mujahid, if we knew that you would fight today, we would join you, but we think you will not fight. Allah said,
هُمْ لِلْكُفْرِ يَوْمَئِذٍ أَقْرَبُ مِنْهُمْ لِلإِيمَـنِ
(They were that day, nearer to disbelief than to faith,)
This Ayah indicates that a person passes through various stages, sometimes being closer to Kufr and sometimes closer to faith, as evident by,
هُمْ لِلْكُفْرِ يَوْمَئِذٍ أَقْرَبُ مِنْهُمْ لِلإِيمَـنِ
(They were that day, nearer to disbelief than to faith,)
Allah then said,
يَقُولُونَ بِأَفْوَهِهِم مَّا لَيْسَ فِى قُلُوبِهِمْ
(saying with their mouths what was not in their hearts.) for they utter what they do not truly believe in, such as,
لَوْ نَعْلَمُ قِتَالاً لاَّتَّبَعْنَـكُمْ
("Had we known that fighting will take place, we would certainly have followed you.")
They knew that there was an army of idolators that came from a far land raging against the Muslims, to avenge their noble men whom the Muslims killed in Badr. These idolators came in larger numbers than the Muslims, so it was clear that a battle will certainly occur. Allah said;
وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا يَكْتُمُونَ
(And Allah has full knowledge of what they conceal.)
الَّذِينَ قَالُواْ لإِخْوَنِهِمْ وَقَعَدُواْ لَوْ أَطَاعُونَا مَا قُتِلُوا
((They are) the ones who said about their killed brethren while they themselves sat (at home): "If only they had listened to us, they would not have been killed.") had they listened to our advice and not gone out, they would not have met their demise. Allah said,
قُلْ فَادْرَءُوا عَنْ أَنفُسِكُمُ الْمَوْتَ إِن كُنتُمْ صَـدِقِينَ
(Say: "Avert death from your own selves, if you speak the truth.") meaning, if staying at home saves one from being killed or from death, then you should not die. However death will come to you even if you were hiding in fortified castles. Therefore, fend death off of yourselves, if you are right.
Mujahid said that Jabir bin `Abdullah said, "This Ayah 3:168 was revealed about `Abdullah bin Ubayy bin Salul (the chief hypocrite)."
غزوات سچے مسلمان اور منافق کو بےنقاب کرنے کا ذریعہ بھی تھے یہاں جس مصیبت کا بیان ہو رہا ہے یہ احد کی مصیبت ہے جس میں ستر صحابہ شہید ہوئے تھے تو مسلمان کہنے لگے کہ یہ مصیبت کیسے آگئی ؟ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یہ تمہاری اپنی طرف سے ہے، حضرت عمر بن خطاب کا بیان ہے کہ بدر کے دن مسلمانوں نے فدیہ لے کر جن کفار کو چھوڑ دیا تھا اس کی سزا میں اگلے سال ان میں سے ستر مسلمان شہید کئے گئے اور صحابہ میں افراتفری پڑگئی، حضور رسالت مآب ﷺ کے سامنے کے چار دانت ٹوٹ گئے آپ کے سر مبارک پر خود تھا وہ بھی ٹوٹا اور چہرہ مبارک لہولہان ہوگیا، اس کا بیان اس آیت مبارکہ میں ہو رہا ہے۔ (ابن ابی حاتم، مسند احمد بن حنبل) حضرت علی سے مروی ہے کہ جبرائیل رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور فرمایا اے محمد ﷺ آپ کی قوم کا کفار کو قیدی بنا کر پکڑ لینا اللہ تعالیٰ کو پسند نہ آیا اب انہیں دو باتوں میں سے ایک کے اختیار کرلینے کا حکم دیجئے یا تو یہ کہ ان قیدیوں کو مار ڈالیں یا یہ کہ ان سے فدیہ وصول کر کے چھوڑ دیں مگر پھر ان مسلمانوں سے اتنی ہی تعداد شہید ہوگیحضور ﷺ نے لوگوں کو جمع کر کے دونوں باتیں پیش کیں تو انہوں نے کہا یا رسول اللہ ﷺ یہ لوگ ہمارے قبائل کے ہیں ہمارے رشتے دار بھائی ہیں ہم کیوں نہ ان سے فدیہ لے کر انہیں چھوڑ دیں اور اس مال سے ہم طاقت قوت حاصل کر کے اپنے دوسرے دشمنوں سے جنگ کریں گے اور پھر جو ہم میں سے اتنے ہی آدمی شہید ہوں گے تو اس میں ہماری کیا برائی ہے، چناچہ جرمانہ وصول کر کے ستر قیدیوں کو چھوڑ دیا اور ٹھیک ستر ہی کی تعداد مسلمانوں کی اس کے بعد غزوہ احد میں شہید ہوئی (ترمذی نسائی) پس ایک مطلب تو یہ ہوا کہ خود تمہاری طرف سے یہ سب ہوا یعنی تم نے بدر کے قیدیوں کو زندہ چھوڑنا اور ان سے جرمانہ جنگ وصول کرنا اس شرط پر منظور کیا تھا کہ تمہارے بھی اتنے ہی آدمی شہید ہوں وہ شہید ہوئے، دوسرا مطلب یہ ہے کہ تم نے رسول اللہ ﷺ کی نافرمانی کی تھی اس باعث تمہیں یہ نقصان پہنچا تیر اندازوں کو رسول کرم علیہ الصلوٰۃ والتسلیم نے حکم دیا تھا کہ وہ اپنی جگہ سے نہ ہٹیں لیکن وہ ہٹ گئے، اللہ تعالیٰ ہر چیز قادر ہے جو چاہے کرے جو ارادہ ہو حکم دے کوئی نہیں جو اس کا حکم ٹال سکے۔ دونوں جماعتوں کی مڈبھیڑ کے دن جو نقصان تمہیں پہنچا کہ تم دشمنوں کے مقابلے سے بھاگ کھڑے ہوئے تم میں سے بعض لوگ شہید بھی ہوئے اور زخمی بھی ہوئے یہ سب اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر سے تھا اس کی حکمت اس کی مقتضی تھی، اس کا ایک سبب یہ بھی تھا کہ ثابت قدم غیر متزلزل ایمان والے صابر بندے بھی معلوم ہوجائیں اور منافقین کا حال بھی کھل جائے جیسے عبداللہ بن ابی بن سلول اور اس کے ساتھی جو راستے میں ہی لوٹ گئے ایک مسلمان نے انہیں سمجھایا بھی کہ آؤ، اللہ کی راہ میں جہاد کرو یا کم از کم ان حملہ اوروں کو تو ہٹاؤ لیکن انہوں نے ٹال دیا کہ ہم تو فنون جنگ سے بیخبر ہیں اگر جانتے ہوتے تو ضرور تمہارا ساتھ، یہ بھی مدافعت میں تھا کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ تو رہتے جس سے مسلمانوں کی گنتی زیادہ معلوم ہوتی، یا دعائیں کرتے رہتے یا تیاریاں ہی کرتے، ان کے جواب کا ایک مطلب یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ اگر ہمیں معلوم ہوتا کہ تم سچ مچ دشمنوں سے لڑو گے تو تو ہم بھی تمہارا ساتھ دیتے لیکن ہم جانتے ہیں کہ لڑائی ہونے کی ہی نہیں سیرۃ محمد بن اسحاق میں ہے کہ ایک ہزار آدمی لے کر رسول اللہ ﷺ میدان احد کی جانب بڑھے آدھے راستے میں عبداللہ ابی بن سلول بگڑ بیٹھا اور کہنے لگا اوروں کی مان لی اور مدینہ سے نکل کھڑے ہوئے اور میری نہ مانی اللہ کی قسم ہمیں نہیں معلوم کہ ہم کس فائدے کو نظر انداز رکھ کر اپنی جانیں دیں ؟ لوگوں کیوں جانیں کھو رہے ہو جس قدر نفاق اور شک و شبہ والے لوگ تھے اس کی آواز پر لگ گئے اور تہائی لشکر لے کر یہ پلید واپس لوٹ گیا، حضرت عبداللہ بن عمرو بن حرام بنو سلمہ کے بھائی ہرچند انہیں سمجھاتے رہے کہ اے میری قوم اپنے نبی کو اپنی قوم کو رسوا نہ کروا انہیں دشمنوں کے سامنے چھوڑ کر پیٹھ نہ پھیرو لیکن انہوں نے بہانہ بنادیا کہ ہمیں معلوم ہے کہ لڑائی ہونے ہی کی نہیں جب یہ بیچارے عاجز آگئے تو فرمانے لگے جاؤ تمہیں اللہ غارت کرے اللہ کے دشمنو ! تمہاری کوئی حاجت نہیں اللہ اپنے نبی ﷺ کا مددگار ہے چناچہ حضور ﷺ بھی انہیں چھوڑ کر آگے بڑھ گئے۔ جناب باری ارشاد فرماتا ہے کہ وہ اس دن بہ نسبت ایمان کے کفر سے بہت ہی نزدیک تھے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کے احوال مختلف ہیں کبھی وہ کفر سے قریب جاتا ہے اور کبھی ایمان کے نزدیک ہوجاتا ہے، پھر فرمایا یہ اپنے منہ سے وہ باتیں بناتے ہیں جو ان کے دل میں نہیں، جیسے ان کا یہی کہنا کہ اگر ہم جنگ جانتے تو ضرور تمہارا ساتھ دیتے، حالانکہ انہیں یقینًا معلوم تھا کہ مشرکین دور دراز سے چڑھائی کر کے مسلمانوں کو نیست و نابود کردینے کی ٹھان کر آئے ہیں وہ بڑے جلے کٹے ہوئے ہیں کیونکہ ان کے سردار بدر والے دن میدان میں رہ گئے تھے اور ان کے اشراف قتل کر دئیے گئے تھے تو اب وہ ان ضعیف مسلمانوں پر ٹوٹ پڑے ہیں اور یقینا جنگ عظیم برپا ہونے والی ہے، پس جناب باری فرماتا ہے ان کے دلوں کی چھپی ہوئی باتوں کا مجھے بخوبی علم ہے، یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے بھائیوں کے بارے میں کہتے ہیں اگر یہ ہمارا مشورہ مانتے یہیں بیٹھے رہتے اور جنگ میں شرکت نہ کرتے تو ہرگز نہ مارے جاتے، اس کے جواب میں جناب باری جل و علا کا ارشاد ہوتا ہے کہ اگر یہ ٹھیک ہے اور تم اپنی اس بات میں سچے ہو کہ بیٹھ رہنے اور میدان جنگ میں نہ نکلنے سے انسان قتل و موت سے بچ جاتا ہے تو چاہئے کہ تم مروہی نہیں اس لئے کہ تم تو گھروں میں بیٹھے ہو لیکن ظاہر ہے کہ ایک روز تم بھی چل بسو گے چاہے تم مضبوط برجوں میں پناہ گزین ہوجاؤ پس ہم تو تمہیں تب سچا مانیں کہ تم موت کو اپنی جانوں سے ٹال دو ، حضرت جابر بن عبداللہ ؓ فرماتے ہیں یہ آیت عبداللہ بن ابی بن سلول اور اس کے ساتھیوں کے بارے میں اتری ہے۔
168
View Single
ٱلَّذِينَ قَالُواْ لِإِخۡوَٰنِهِمۡ وَقَعَدُواْ لَوۡ أَطَاعُونَا مَا قُتِلُواْۗ قُلۡ فَٱدۡرَءُواْ عَنۡ أَنفُسِكُمُ ٱلۡمَوۡتَ إِن كُنتُمۡ صَٰدِقِينَ
Those who spoke regarding their brothers while they themselves stayed back at home, “Had they listened to us, they would not have been slain”; say (to them, O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), “Then avert your own death, if you are truthful!”
(یہ) وہی لوگ ہیں جنہوں نے باوجود اس کے کہ خود (گھروں میں) بیٹھے رہے اپنے بھائیوں کی نسبت کہا کہ اگر وہ ہمارا کہا مانتے تو نہ مارے جاتے، فرما دیں: تم اپنے آپ کو موت سے بچا لینا اگر تم سچے ہو
Tafsir Ibn Kathir
The Reason and Wisdom Behind the Defeat at Uhud
Allah said,
أَوَ لَمَّا أَصَـبَتْكُمْ مُّصِيبَةٌ
(When a single disaster smites you), in reference to when the Muslims suffered seventy fatalities during the battle of Uhud,
قَدْ أَصَبْتُمْ مِّثْلَيْهَا
(although you smote (your enemies) with one twice as great,) during Badr, when the Muslims killed seventy Mushriks and captured seventy others,
قُلْتُمْ أَنَّى هَـذَا
(you say: "From where does this come to us") why did this defeat happen to us
قُلْ هُوَ مِنْ عِندِ أَنْفُسِكُمْ
(Say, "It is from yourselves.") Ibn Abi Hatim recorded that `Umar bin Al-Khattab said, "When Uhud occurred, a year after Badr, Muslims were punished for taking ransom from the disbelievers at Badr in return for releasing the Mushriks whom they captured in that battle. Thus, they suffered the loss of seventy fatalities and the Companions of the Messenger of Allah gave flight and abandoned him. The Messenger suffered a broken tooth, the helmet was smashed on his head and blood flowed onto his face. Allah then revealed,
أَوَ لَمَّا أَصَـبَتْكُمْ مُّصِيبَةٌ قَدْ أَصَبْتُمْ مِّثْلَيْهَا قُلْتُمْ أَنَّى هَـذَا قُلْ هُوَ مِنْ عِندِ أَنْفُسِكُمْ
(When a single disaster smites you, although you smote (your enemies) with one twice as great, you say: "From where does this come to us" Say, "It is from yourselves".), because you took the ransom." Furthermore, Muhammad bin Ishaq, Ibn Jurayj, Ar-Rabi` bin Anas and As-Suddi said that the Ayah,
قُلْ هُوَ مِنْ عِندِ أَنْفُسِكُمْ
(Say, "It is from yourselves.") means, because you, the archers, disobeyed the Messenger's command to not abandon your positions.
إِنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ
(And Allah has power over all things.) and He does what He wills and decides what He wills, and there is none who can resist His decision.
Allah then said,
وَمَآ أَصَـبَكُمْ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعَانِ فَبِإِذْنِ اللَّهِ
(And what you suffered on the day the two armies met, was by the leave of Allah), for when you ran away from your enemy, who killed many of you and injured many others, all this occurred by Allah's will and decree out of His perfect wisdom,
وَلِيَعْلَمَ الْمُؤْمِنِينَ
(in order that He might test the believers.) who were patient, firm and were not shaken,
وَلِيَعْلَمَ الَّذِينَ نَافَقُواْ وَقِيلَ لَهُمْ تَعَالَوْاْ قَاتِلُواْ فِى سَبِيلِ اللَّهِ أَوِ ادْفَعُواْ قَالُواْ لَوْ نَعْلَمُ قِتَالاً لاَّتَّبَعْنَـكُمْ
(And that He might test the hypocrites, it was said to them: "Come, fight in the way of Allah or defend yourselves." They said: "Had we known that fighting will take place, we would certainly have followed you.") 3:167,
This refers to the Companions of `Abdullah bin Ubayy bin Salul who went back (to Al-Madinah) with him before the battle. Some believers followed them and encouraged them to come back and fight, saying,
أَوِ ادْفَعُواْ
(or defend), so that the number of Muslims increases, as Ibn `Abbas, `Ikrimah, Sa`id bin Jubayr, Ad-Dahhak, Abu Salih, Al-Hasan and As-Suddi stated. Al-Hasan bin Salih said that this part of the Ayah means, help by supplicating for us, while others said it means, man the posts. However, they refused, saying,
لَوْ نَعْلَمُ قِتَالاً لاَّتَّبَعْنَـكُمْ
("Had we known that fighting will take place, we would certainly have followed you.") meaning, according to Mujahid, if we knew that you would fight today, we would join you, but we think you will not fight. Allah said,
هُمْ لِلْكُفْرِ يَوْمَئِذٍ أَقْرَبُ مِنْهُمْ لِلإِيمَـنِ
(They were that day, nearer to disbelief than to faith,)
This Ayah indicates that a person passes through various stages, sometimes being closer to Kufr and sometimes closer to faith, as evident by,
هُمْ لِلْكُفْرِ يَوْمَئِذٍ أَقْرَبُ مِنْهُمْ لِلإِيمَـنِ
(They were that day, nearer to disbelief than to faith,)
Allah then said,
يَقُولُونَ بِأَفْوَهِهِم مَّا لَيْسَ فِى قُلُوبِهِمْ
(saying with their mouths what was not in their hearts.) for they utter what they do not truly believe in, such as,
لَوْ نَعْلَمُ قِتَالاً لاَّتَّبَعْنَـكُمْ
("Had we known that fighting will take place, we would certainly have followed you.")
They knew that there was an army of idolators that came from a far land raging against the Muslims, to avenge their noble men whom the Muslims killed in Badr. These idolators came in larger numbers than the Muslims, so it was clear that a battle will certainly occur. Allah said;
وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا يَكْتُمُونَ
(And Allah has full knowledge of what they conceal.)
الَّذِينَ قَالُواْ لإِخْوَنِهِمْ وَقَعَدُواْ لَوْ أَطَاعُونَا مَا قُتِلُوا
((They are) the ones who said about their killed brethren while they themselves sat (at home): "If only they had listened to us, they would not have been killed.") had they listened to our advice and not gone out, they would not have met their demise. Allah said,
قُلْ فَادْرَءُوا عَنْ أَنفُسِكُمُ الْمَوْتَ إِن كُنتُمْ صَـدِقِينَ
(Say: "Avert death from your own selves, if you speak the truth.") meaning, if staying at home saves one from being killed or from death, then you should not die. However death will come to you even if you were hiding in fortified castles. Therefore, fend death off of yourselves, if you are right.
Mujahid said that Jabir bin `Abdullah said, "This Ayah 3:168 was revealed about `Abdullah bin Ubayy bin Salul (the chief hypocrite)."
غزوات سچے مسلمان اور منافق کو بےنقاب کرنے کا ذریعہ بھی تھے یہاں جس مصیبت کا بیان ہو رہا ہے یہ احد کی مصیبت ہے جس میں ستر صحابہ شہید ہوئے تھے تو مسلمان کہنے لگے کہ یہ مصیبت کیسے آگئی ؟ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یہ تمہاری اپنی طرف سے ہے، حضرت عمر بن خطاب کا بیان ہے کہ بدر کے دن مسلمانوں نے فدیہ لے کر جن کفار کو چھوڑ دیا تھا اس کی سزا میں اگلے سال ان میں سے ستر مسلمان شہید کئے گئے اور صحابہ میں افراتفری پڑگئی، حضور رسالت مآب ﷺ کے سامنے کے چار دانت ٹوٹ گئے آپ کے سر مبارک پر خود تھا وہ بھی ٹوٹا اور چہرہ مبارک لہولہان ہوگیا، اس کا بیان اس آیت مبارکہ میں ہو رہا ہے۔ (ابن ابی حاتم، مسند احمد بن حنبل) حضرت علی سے مروی ہے کہ جبرائیل رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور فرمایا اے محمد ﷺ آپ کی قوم کا کفار کو قیدی بنا کر پکڑ لینا اللہ تعالیٰ کو پسند نہ آیا اب انہیں دو باتوں میں سے ایک کے اختیار کرلینے کا حکم دیجئے یا تو یہ کہ ان قیدیوں کو مار ڈالیں یا یہ کہ ان سے فدیہ وصول کر کے چھوڑ دیں مگر پھر ان مسلمانوں سے اتنی ہی تعداد شہید ہوگیحضور ﷺ نے لوگوں کو جمع کر کے دونوں باتیں پیش کیں تو انہوں نے کہا یا رسول اللہ ﷺ یہ لوگ ہمارے قبائل کے ہیں ہمارے رشتے دار بھائی ہیں ہم کیوں نہ ان سے فدیہ لے کر انہیں چھوڑ دیں اور اس مال سے ہم طاقت قوت حاصل کر کے اپنے دوسرے دشمنوں سے جنگ کریں گے اور پھر جو ہم میں سے اتنے ہی آدمی شہید ہوں گے تو اس میں ہماری کیا برائی ہے، چناچہ جرمانہ وصول کر کے ستر قیدیوں کو چھوڑ دیا اور ٹھیک ستر ہی کی تعداد مسلمانوں کی اس کے بعد غزوہ احد میں شہید ہوئی (ترمذی نسائی) پس ایک مطلب تو یہ ہوا کہ خود تمہاری طرف سے یہ سب ہوا یعنی تم نے بدر کے قیدیوں کو زندہ چھوڑنا اور ان سے جرمانہ جنگ وصول کرنا اس شرط پر منظور کیا تھا کہ تمہارے بھی اتنے ہی آدمی شہید ہوں وہ شہید ہوئے، دوسرا مطلب یہ ہے کہ تم نے رسول اللہ ﷺ کی نافرمانی کی تھی اس باعث تمہیں یہ نقصان پہنچا تیر اندازوں کو رسول کرم علیہ الصلوٰۃ والتسلیم نے حکم دیا تھا کہ وہ اپنی جگہ سے نہ ہٹیں لیکن وہ ہٹ گئے، اللہ تعالیٰ ہر چیز قادر ہے جو چاہے کرے جو ارادہ ہو حکم دے کوئی نہیں جو اس کا حکم ٹال سکے۔ دونوں جماعتوں کی مڈبھیڑ کے دن جو نقصان تمہیں پہنچا کہ تم دشمنوں کے مقابلے سے بھاگ کھڑے ہوئے تم میں سے بعض لوگ شہید بھی ہوئے اور زخمی بھی ہوئے یہ سب اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر سے تھا اس کی حکمت اس کی مقتضی تھی، اس کا ایک سبب یہ بھی تھا کہ ثابت قدم غیر متزلزل ایمان والے صابر بندے بھی معلوم ہوجائیں اور منافقین کا حال بھی کھل جائے جیسے عبداللہ بن ابی بن سلول اور اس کے ساتھی جو راستے میں ہی لوٹ گئے ایک مسلمان نے انہیں سمجھایا بھی کہ آؤ، اللہ کی راہ میں جہاد کرو یا کم از کم ان حملہ اوروں کو تو ہٹاؤ لیکن انہوں نے ٹال دیا کہ ہم تو فنون جنگ سے بیخبر ہیں اگر جانتے ہوتے تو ضرور تمہارا ساتھ، یہ بھی مدافعت میں تھا کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ تو رہتے جس سے مسلمانوں کی گنتی زیادہ معلوم ہوتی، یا دعائیں کرتے رہتے یا تیاریاں ہی کرتے، ان کے جواب کا ایک مطلب یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ اگر ہمیں معلوم ہوتا کہ تم سچ مچ دشمنوں سے لڑو گے تو تو ہم بھی تمہارا ساتھ دیتے لیکن ہم جانتے ہیں کہ لڑائی ہونے کی ہی نہیں سیرۃ محمد بن اسحاق میں ہے کہ ایک ہزار آدمی لے کر رسول اللہ ﷺ میدان احد کی جانب بڑھے آدھے راستے میں عبداللہ ابی بن سلول بگڑ بیٹھا اور کہنے لگا اوروں کی مان لی اور مدینہ سے نکل کھڑے ہوئے اور میری نہ مانی اللہ کی قسم ہمیں نہیں معلوم کہ ہم کس فائدے کو نظر انداز رکھ کر اپنی جانیں دیں ؟ لوگوں کیوں جانیں کھو رہے ہو جس قدر نفاق اور شک و شبہ والے لوگ تھے اس کی آواز پر لگ گئے اور تہائی لشکر لے کر یہ پلید واپس لوٹ گیا، حضرت عبداللہ بن عمرو بن حرام بنو سلمہ کے بھائی ہرچند انہیں سمجھاتے رہے کہ اے میری قوم اپنے نبی کو اپنی قوم کو رسوا نہ کروا انہیں دشمنوں کے سامنے چھوڑ کر پیٹھ نہ پھیرو لیکن انہوں نے بہانہ بنادیا کہ ہمیں معلوم ہے کہ لڑائی ہونے ہی کی نہیں جب یہ بیچارے عاجز آگئے تو فرمانے لگے جاؤ تمہیں اللہ غارت کرے اللہ کے دشمنو ! تمہاری کوئی حاجت نہیں اللہ اپنے نبی ﷺ کا مددگار ہے چناچہ حضور ﷺ بھی انہیں چھوڑ کر آگے بڑھ گئے۔ جناب باری ارشاد فرماتا ہے کہ وہ اس دن بہ نسبت ایمان کے کفر سے بہت ہی نزدیک تھے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کے احوال مختلف ہیں کبھی وہ کفر سے قریب جاتا ہے اور کبھی ایمان کے نزدیک ہوجاتا ہے، پھر فرمایا یہ اپنے منہ سے وہ باتیں بناتے ہیں جو ان کے دل میں نہیں، جیسے ان کا یہی کہنا کہ اگر ہم جنگ جانتے تو ضرور تمہارا ساتھ دیتے، حالانکہ انہیں یقینًا معلوم تھا کہ مشرکین دور دراز سے چڑھائی کر کے مسلمانوں کو نیست و نابود کردینے کی ٹھان کر آئے ہیں وہ بڑے جلے کٹے ہوئے ہیں کیونکہ ان کے سردار بدر والے دن میدان میں رہ گئے تھے اور ان کے اشراف قتل کر دئیے گئے تھے تو اب وہ ان ضعیف مسلمانوں پر ٹوٹ پڑے ہیں اور یقینا جنگ عظیم برپا ہونے والی ہے، پس جناب باری فرماتا ہے ان کے دلوں کی چھپی ہوئی باتوں کا مجھے بخوبی علم ہے، یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے بھائیوں کے بارے میں کہتے ہیں اگر یہ ہمارا مشورہ مانتے یہیں بیٹھے رہتے اور جنگ میں شرکت نہ کرتے تو ہرگز نہ مارے جاتے، اس کے جواب میں جناب باری جل و علا کا ارشاد ہوتا ہے کہ اگر یہ ٹھیک ہے اور تم اپنی اس بات میں سچے ہو کہ بیٹھ رہنے اور میدان جنگ میں نہ نکلنے سے انسان قتل و موت سے بچ جاتا ہے تو چاہئے کہ تم مروہی نہیں اس لئے کہ تم تو گھروں میں بیٹھے ہو لیکن ظاہر ہے کہ ایک روز تم بھی چل بسو گے چاہے تم مضبوط برجوں میں پناہ گزین ہوجاؤ پس ہم تو تمہیں تب سچا مانیں کہ تم موت کو اپنی جانوں سے ٹال دو ، حضرت جابر بن عبداللہ ؓ فرماتے ہیں یہ آیت عبداللہ بن ابی بن سلول اور اس کے ساتھیوں کے بارے میں اتری ہے۔
169
View Single
وَلَا تَحۡسَبَنَّ ٱلَّذِينَ قُتِلُواْ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِ أَمۡوَٰتَۢاۚ بَلۡ أَحۡيَآءٌ عِندَ رَبِّهِمۡ يُرۡزَقُونَ
And do not ever assume that those who are slain in Allah's cause, are dead; in fact they are alive with their Lord, receiving sustenance. (Death does not mean extinction, it is the passing of the soul from this world to another. In case of virtuous believers, their bodies do not rot after death and they remain “alive”, in the manner Allah has ordained for them.)
اور جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل کئے جائیں انہیں ہرگز مردہ خیال (بھی) نہ کرنا، بلکہ وہ اپنے ربّ کے حضور زندہ ہیں انہیں (جنت کی نعمتوں کا) رزق دیا جاتا ہے
Tafsir Ibn Kathir
Virtues of the Martyrs
Allah states that even though the martyrs were killed in this life, their souls are alive and receiving provisions in the Dwelling of Everlasting Life. In his Sahih, Muslim recorded that Masruq said, "We asked `Abdullah about this Ayah,
وَلاَ تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُواْ فِى سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَتاً بَلْ أَحْيَاءٌ عِندَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ
(Think not of those as dead who are killed in the way of Allah. Nay, they are alive, with their Lord, and they have provision.)
He said, `We asked the Messenger of Allah ﷺ the same question and he said,
«أَرْوَاحُهُمْ فِي جَوْفِ طَيْرٍ خُضْرٍ، لَهَا قَنَادِيلُ مُعَلَّقَةٌ بِالْعَرْشِ، تَسْرَحُ مِنَ الْجَنَّةِ حَيْثُ شَاءَتْ، ثُمَّ تَأْوِي إِلَى تِلْكَ الْقَنَادِيلِ، فَاطَّلَعَ إِلَيْهِمْ رَبُّهُمُ اطِّلَاعَةً فَقَالَ: هَلْ تَشْتَهُونَ شَيْئًا؟ فَقَالُوا: أَيَّ شَيْءٍ نَشْتَهِي وَنَحْنُ نَسْرَحُ مِنَ الْجَنَّةِ حَيْثُ شِئْنَا؟ فَفَعَلَ ذَلِكَ بِهِمْ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَلَمَّا رَأَوْا أَنَّهُمْ لَنْ يُتْرَكُوا مِنْ أَنْ يُسْأَلُوا، قَالُوا: يَا رَبِّ نُرِيدُ أَنْ تَرُدَّ أَرْوَاحَنَا فِي أَجْسَادِنَا حَتَّى نُقْتَلَ فِي سَبِيلِكَ مَرَّةً أُخْرَى، فَلَمَّا رَأَى أَنْ لَيْسَ لَهُمْ حَاجَةٌ، تُرِكُوا»
(Their souls are inside green birds that have lamps, which are hanging below the Throne (of Allah), and they wander about in Paradise wherever they wish. Then they return to those lamps. Allah looks at them and says, `Do you wish for anything' They say, `What more could we wish for, while we go wherever we wish in Paradise' Allah asked them this question thrice, and when they realize that He will keep asking them until they give an answer, they say, `O Lord! We wish that our souls be returned to our bodies so that we are killed in Your cause again.' Allah knew that they did not have any other wish, so they were left.)"' There are several other similar narrations from Anas and Abu Sa`id.
Imam Ahmad recorded that Anas said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«مَا مِنْ نَفْسٍ تَمُوتُ، لَهَا عِنْدَ اللهِ خَيْرٌ، يَسُرُّهَا أَنْ تَرْجِعَ إِلَى الدُّنْيَا، إِلَّا الشَّهِيدُ، فَإِنَّهُ يَسُرُّهُ أَنْ يَرْجِعَ إِلَى الدُّنْيَا فَيُقْتَلَ مَرَّةً أُخْرَى، لِمَا يَرَى مِنْ فَضْلِ الشَهَادَة»
(No soul that has a good standing with Allah and dies would wish to go back to the life of this world, except for the martyr. He would like to be returned to this life so that he could be martyred again, for he tastes the honor achieved from martyrdom.) Muslim collected this Hadith
In addition, Imam Ahmad recorded that, Ibn `Abbas said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«لَمَّا أُصِيبَ إِخْوَانُكُمْ بِأُحُدٍ، جَعَلَ اللهُ أَرْوَاحَهُمْ فِي أَجْوَافِ طَيْرٍ خُضْرٍ، تَرِدُ أَنْهَارَ الْجَنَّـةِ، وَتَأْكُلُ مِنْ ثِمَارِهَا، وَتَأْوِي إِلى قَنَادِيلَ مِنْ ذَهَبٍ فِي ظِلِّ الْعَرْشِ، فَلَمَّا وَجَدُوا طِيبَ مَشْرَبِهِمْ وَمَأْكَلِهِمْ، وَحُسْنَ مُتَقَلَّبِهِمْ قَالُوا: يَا لَيْتَ إِخْوَانَنَا يَعْلَمُونَ مَا صَنَعَ اللهُ لَنَا، لِئَلَّا يَزْهَدُوا فِي الْجِهَادِ، وَلَا يَنْكُلُوا عَنِ الْحَرْبِ، فَقَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: أَنْا أُبَلِّغُهُمْ عَنْكُم»
(When your brothers were killed in Uhud, Allah placed their souls inside green birds that tend to the rivers of Paradise and eat from its fruits. They then return to golden lamps hanging in the shade of the Throne. When they tasted the delight of their food, drink and dwelling, they said, `We wish that our brothers knew what Allah gave us so that they will not abandon Jihad or warfare.' Allah said, `I will convey the news for you.') Allah revealed these and the following Ayat,
وَلاَ تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُواْ فِى سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَتاً بَلْ أَحْيَاءٌ عِندَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ
(Think not of those as dead who are killed in the way of Allah. Nay, they are alive, with their Lord, and they have provision.)
Qatadah, Ar-Rabi` and Ad-Dahhak said that these Ayat were revealed about the martyrs of Uhud.
Abu Bakr Ibn Marduwyah recorded that Jabir bin `Abdullah said, "The Messenger of Allah ﷺ looked at me one day and said, `O Jabir! Why do I see you sad' I said, `O Messenger of Allah! My father was martyred and left behind debts and children.' He said,
«أَلَا أُخْبِرُكَ؟ مَا كَلَّمَ اللهُ أَحَدًا قَطُّ إِلَّا مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ، وَإِنَّه كَلَّمَ أَبَاكَ كِفَاحًا»
، قال علي: الكفاح: المواجهة
«قَالَ: سَلْنِي أُعْطِكَ. قَالَ: أَسْأَلُكَ أَنْ أُرَدَّ إِلَى الدُّنْيَا فَأُقْتَلَ فِيكَ ثَانِيَةً، فَقَالَ الرَّبُّ عَزَّ وَجَلَّ: إِنَّهُ قَدْ سَبَقَ مِنِّي الْقَوْلُ: إِنَّهُمْ إِلَيْهَا لَا يَرْجِعُونَ. قَالَ: أَيْ رَبِّ فَأَبْلِغْ مَنْ وَرَائِي»
(Should I tell you that Allah never spoke to anyone except from behind a veil However, He spoke to your father directly. He said, `Ask Me and I will give you.' He said, `I ask that I am returned to life so that I am killed in Your cause again.' The Lord, Exalted He be, said, `I have spoken the word that they shall not be returned back to it (this life). ' He said, `O Lord! Then convey the news to those I left behind.') Allah revealed,
وَلاَ تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُواْ فِى سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَتاً
(Think not of those as dead who are killed in the way of Allah...)"
Imam Ahmad recorded that Ibn `Abbas said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«الشُّهَدَاءُ عَلى بَارِقِ نَهْرٍ بِبَابِ الْجَنَّـةِ، فِي قُبَّةٍ خَضْرَاءَ، يَخْرُجُ عَلَيْهِمْ رِزْقُهُمْ مِنَ الْجَنَّـةِ بُكْرَةً وَعَشِيًّا»
(The martyrs convene at the shore of a river close to the door of Paradise, in a green tent, where their provisions are brought to them from Paradise day and night.)
Ahmad and Ibn Jarir collected this Hadith, which has a good chain of narration. It appears that the martyrs are of different types, some of them wander in Paradise, and some remain close to this river by the door of Paradise. It is also possible that the river is where all the souls of the martyrs convene and where they are provided with their provision day and night, and Allah knows best. UImam Ahmad narrated a Hadith that contains good news for every believer that his soul will be wandering in Paradise, as well, eating from its fruits, enjoying its delights and happiness and tasting the honor that Allah has prepared in it for him. This Hadith has a unique, authentic chain of narration that includes three of the Four Imams. Imam Ahmad narrated this Hadith from Muhammad bin Idris Ash-Shafi`i who narrated it from Malik bin Anas Al-Asbuhi, from Az-Zuhri, from `Abdur-Rahman bin Ka`b bin Malik that his father said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«نَسَمَةُ الْمُؤْمِنِ طَائِرٌ يَعْلُقُ فِي شَجَرِ الْجَنَّـةِ حَتَّى يَرْجِعَهُ اللهُ إِلى جَسَدِهِ يَوْمَ يَبْعَثُه»
(The soul of the believer becomes a bird that feeds on the trees of Paradise, until Allah sends him back to his body when He resurrects him.)
This Hadith states that the souls of the believers are in the shape of a bird in Paradise. As for the souls of martyrs, they are inside green birds, like the stars to the rest of the believing souls. We ask Allah the Most Generous that He makes us firm on the faith.
Allah's statement,
فَرِحِينَ بِمَآ ءَاتَـهُمُ اللَّهُ
(They rejoice in what Allah has bestowed upon them) indicates that the martyrs who were killed in Allah's cause are alive with Allah, delighted because of the bounty and happiness they are enjoying. They are also awaiting their brethren, who will die in Allah's cause after them, for they will be meeting them soon. These martyrs do not have fear about the future or sorrow for what they left behind. We ask Allah to grant us Paradise. The Two Sahihs record from Anas, the story of the seventy Ansar Companions who were murdered at Bir Ma`unah in one night. In this Hadith, Anas reported that the Prophet used to supplicate to Allah in Qunut in prayer against those who killed them. Anas said, "A part of the Qur'an was revealed about them, but was later abrogated, `Convey to our people that we met Allah and He was pleased with us and made us pleased."'
Allah said next,
يَسْتَبْشِرُونَ بِنِعْمَةٍ مِّنَ اللَّهِ وَفَضْلٍ وَأَنَّ اللَّهَ لاَ يُضِيعُ أَجْرَ الْمُؤْمِنِينَ
(They rejoice in a grace and a bounty from Allah, and that Allah will not waste the reward of the believers) 3:171.
Muhammad bin Ishaq commented, "They were delighted and pleased because of Allah's promise that was fulfilled for them, and for the tremendous rewards they earned." `Abdur-Rahman bin Zayd bin Aslam said, "This Ayah encompasses all the believers, martyrs and otherwise. Rarely does Allah mention a bounty and a reward that He granted to the Prophets, without following that with what He has granted the believers after them."
The Battle of Hamra' Al-Asad
Allah said,
الَّذِينَ اسْتَجَابُواْ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ مِن بَعْدِ مَآ أَصَـبَهُمُ الْقَرْحُ
(Those who answered (the Call of) Allah and the Messenger after being wounded) 3:172.
This occurred on the day of Hamra' Al-Asad. After the idolators defeated the Muslims (at Uhud), they started on their way back home, but soon they were concerned because they did not finish off the Muslims in Al-Madinah, so they set out to make that battle the final one. When the Messenger of Allah ﷺ got news of this, he commanded the Muslims to march to meet the disbelievers, to bring fear to their hearts and to demonstrate that the Muslims still had strength to fight. The Prophet only allowed those who were present during Uhud to accompany him, except for Jabir bin `Abdullah Al-Ansari, as we will mention. The Muslims mobilized, even though they were still suffering from their injuries, in obedience to Allah and His Messenger .
Ibn Abi Hatim recorded that `Ikrimah said, "When the idolators returned towards Makkah after Uhud, they said, `You neither killed Muhammad nor collected female captives. Woe to you for what you did. Let us go back.' When the Messenger of Allah ﷺ heard this news, he mobilized the Muslim forces, and they marched until they reached Hamra Al-Asad. The idolators said, `Rather, we will meet next year', and the Messenger of Allah ﷺ went back to Al-Madinah, and this was considered a Ghazwah (battle). Allah sent down,
الَّذِينَ اسْتَجَابُواْ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ مِن بَعْدِ مَآ أَصَـبَهُمُ الْقَرْحُ لِلَّذِينَ أَحْسَنُواْ مِنْهُمْ وَاتَّقَوْاْ أَجْرٌ عَظِيمٌ
(Those who answered (the Call of) Allah and the Messenger after being wounded; for those of them who did good deeds and feared Allah, there is a great reward.)
Al-Bukhari recorded that `A'ishah said to `Urwah about the Ayah;
الَّذِينَ اسْتَجَابُواْ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ
(Those who answered (the Call of) Allah and the Messenger)
"My nephew! Your fathers Az-Zubayr and Abu Bakr were among them. After the Prophet suffered the calamity at Uhud and the idolators went back, he feared that the idolators might try to come back and he said, `Who would follow them' Seventy men, including Az-Zubayr and Abu Bakr, volunteered." This was recorded by Al-Bukhari alone.
As for Allah's statement,
الَّذِينَ قَالَ لَهُمُ النَّاسُ إِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُواْ لَكُمْ فَاخْشَوْهُمْ فَزَادَهُمْ إِيمَـناً
(Those unto whom the people said, "Verily, the people have gathered against you, therefore, fear them." But it (only) increased them in faith) 3:173, it means, those who threatened the people, saying that the disbelievers have amassed against them, in order to instill fear in them, but this did not worry them, rather, they trusted in Allah and sought His help,
وَقَالُواْ حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ
(and they said: "Allah is Sufficient for us, and He is the Best Disposer of affairs.")
Al-Bukhari recorded that Ibn `Abbas said,
حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ
("Allah Alone is Sufficient for us and He is the Best Disposer of affairs for us.")
"Ibrahim said it when he was thrown in fire. Muhammad said it when the people said, `Verily, the people have gathered against you, therefore, fear them.' But it only increased them in faith, and they said, `Allah is Sufficient for us and He is the Best Disposer of affairs for us."' Abu Bakr Ibn Marduwyah recorded that Anas bin Malik said that the Prophet was told on the day of Uhud, "Verily, the people have gathered against you, therefore, fear them." Thereafter, Allah sent down this Ayah 3:173.
This is why Allah said,
فَانْقَلَبُواْ بِنِعْمَةٍ مِّنَ اللَّهِ وَفَضْلٍ لَّمْ يَمْسَسْهُمْ سُوءٌ
(So they returned with grace and bounty from Allah. No harm touched them;) for when they relied on Allah, Allah took care of their worries, He confounded the plots of their enemies, and the Muslims returned to their land,
بِنِعْمَةٍ مِّنَ اللَّهِ وَفَضْلٍ لَّمْ يَمْسَسْهُمْ سُوءٌ
(with grace and bounty from Allah. No harm touched them;) safe from the wicked plots of their enemies,
وَاتَّبَعُواْ رِضْوَنَ اللَّهِ وَاللَّهُ ذُو فَضْلٍ عَظِيمٍ
(and they followed the pleasure of Allah. And Allah is the Owner of great bounty.)
Al-Bayhaqi recorded that Ibn `Abbas said about Allah's statement,
فَانْقَلَبُواْ بِنِعْمَةٍ مِّنَ اللَّهِ وَفَضْلٍ
(So they returned with grace and bounty from Allah,) "The `Grace' was that they were saved. The `Bounty' was that a caravan passed by, and those days were Hajj season days. Thus the Messenger of Allah ﷺ bought and sold and made a profit, which he divided between his Companions."
Allah then said,
إِنَّمَا ذَلِكُمُ الشَّيْطَـنُ يُخَوِّفُ أَوْلِيَاءَهُ
(It is only Shaytan that suggests to you the fear of his friends,) 3:175 meaning, Shaytan threatens you with his friends and tries to pretend they are powerful and fearsome. Allah said next,
فَلاَ تَخَافُوهُمْ وَخَافُونِ إِن كُنتُمْ مُّؤْمِنِينَ
(so fear them not, but fear Me, if you are indeed believers.) meaning, "If Shaytan brings these thoughts to you, then depend on Me and seek refuge with Me. Indeed, I shall suffice you and make you prevail over them." Similarly, Allah said,
أَلَيْسَ اللَّهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ وَيُخَوِّفُونَكَ بِالَّذِينَ مِن دُونِهِ
(Is not Allah Sufficient for His servant Yet they try to frighten you with those besides Him!) 39: 36, until,
قُلْ حَسْبِىَ اللَّهُ عَلَيْهِ يَتَوَكَّـلُ الْمُتَوَكِّلُونَ
(Say: "Sufficient for me is Allah; in Him those who trust must put their trust.") 39:38. Allah said,
فَقَـتِلُواْ أَوْلِيَاءَ الشَّيْطَـنِ إِنَّ كَيْدَ الشَّيْطَـنِ كَانَ ضَعِيفاً
(So fight you against the friends of Shaytan; ever feeble indeed is the plot of Shaytan.) 4:76 and
أُوْلَـئِكَ حِزْبُ الشَّيْطَـنِ أَلاَ إِنَّ حِزْبَ الشَّيْطَـنِ هُمُ الخَـسِرُونَ
(They are the party of Shaytan. Verily, it is the party of Shaytan that will be the losers!) 58:19,
كَتَبَ اللَّهُ لاّغْلِبَنَّ أَنَاْ وَرُسُلِى إِنَّ اللَّهَ قَوِىٌّ عَزِيزٌ
(Allah has decreed: "Verily, it is I and My Messengers who shall be the victorious." Verily, Allah is All-Powerful, All-Mighty.) 58:21 and
وَلَيَنصُرَنَّ اللَّهُ مَن يَنصُرُهُ
(Verily, Allah will help those who help His (cause).) 22:40 and
يأَيُّهَا الَّذِينَ ءَامَنُواْ إِن تَنصُرُواْ اللَّهَ يَنصُرْكُمْ
(O you who believe! If you help (in the cause of) Allah, He will help you) 47:7, and,
إِنَّا لَنَنصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِينَ ءَامَنُواْ فِى الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُومُ الاٌّشْهَـدُ - يَوْمَ لاَ يَنفَعُ الظَّـلِمِينَ مَعْذِرَتُهُمْ وَلَهُمُ الْلَّعْنَةُ وَلَهُمْ سُوءُ الدَّارِ
(Verily, We will indeed make victorious Our Messengers and those who believe, in this world's life and on the Day when the witnesses will stand forth. The Day when their excuses will be of no profit to wrongdoers. Theirs will be the curse, and theirs will be the evil abode.) 40:51,52
بیئر معونہ کے شہداء اور جنت میں ان کی تمنا ؟ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ گو شہید فی سبیل اللہ دنیا میں مار ڈالے جاتے ہیں لیکن آخرت میں ان کی روحیں زندہ رہتی ہیں اور رزق پاتی ہیں، اس آیت کا شان نزول یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے چالیس یا ستر صحابیوں کو بیئر معونہ کی طرف بھیجا تھا یہ جماعت جب اس غار تک پہنچی جو اس کنویں کے اوپر تھی تو انہوں نے وہاں پڑاؤ کیا اور آپس میں کہنے لگے کون ہے ؟ جو اپنی جان خطرہ میں ڈال کر اللہ کے رسول ﷺ کا کلمہ ان تک پہنچائے ایک صحابی اس کے لئے تیار ہوئے اور ان لوگوں کے گھروں کے پاس آکر با آواز بلند فرمایا اے بیئر معونہ والو سنو میں اللہ کے رسول ﷺ کا قاصد ہوں میری گواہی ہے کہ معبود صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے اور محمد ﷺ اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں یہ سنتے ہی ایک کافر اپنا تیر سنبھالے ہوئے اپنے گھر سے نکلا اور اس طرح تاک کر لگایا کہ ادھر کی پسلی سے ادھر کی پسلی میں آرپار نکل گیا، اس صحابی کی زبان سے بیساختہ نکلا حدیث (فزت ورب الکعبۃ) کعبے کے اللہ کی قسم میں اپنی مراد کو پہنچ گیا اب کفار نشانات ٹٹولتے ہوئے اس غار پر جا پہنچے اور عامر بن طفیل نے جو ان کا سردار تھا ان سب مسلمانوں کو شہید کردیا حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ ان کے بارے میں قرآن اترا کہ ہماری جانب سے ہماری قوم کو یہ خبر پہنچا دو کہ ہم اپنے رب سے ملے وہ ہم سے راضی ہوگیا اور ہم اس سے راضی ہوگئے ہم ان آیتوں کو برابر پڑھتے رہے پھر ایک مدت کے بعد یہ منسوخ ہو کر اٹھا لی گئیں اور آیت (ولا تحسبن) الخ، اتری (محمد بن جریر) صحیح مسلم شریف میں ہے حضرت مسروق فرماتے ہیں ہم نے حضرت عبداللہ سے اس آیت کا مطلب پوچھا تو حضرت عبداللہ نے فرمایا ہم نے رسول ﷺ سے اس آیت کا مطلب دریافت کیا تھا تو آپ نے فرمایا ان کی روحیں سبز رنگ پرندوں کے قالب میں ہیں۔ عرش کی قندلیں ان کے لئے ہیں ساری جنت میں جہاں کہیں چاہیں چریں چگیں اور ان قندیلیوں میں آرام کریں ان کی طرف ان کے رب نے ایک مرتبہ نظر کی اور دریافت فرمایا کچھ اور چاہتے ہو ؟ کہنے لگے اے اللہ اور کیا مانگیں ساری جنت میں سے جہاں کہیں سے چاہیں کھائیں پئیں اختیار ہے پھر کیا طلب کریں اللہ تعالیٰ نے ان سے پھر یہی پوچھا تیسری مرتبہ یہی سوال کیا جب انہوں نے دیکھا کہ بغیر کچھ مانگے چارہ ہی نہیں تو کہنے لگے اے رب ! ہم چاہتے ہیں کہ تو ہماری روحوں کو جسموں کی طرف لوٹا دے ہم پھر دنیا میں جا کر تیری راہ میں جہاد کریں اور مارے جائیں اب معلوم ہوگیا کہ انہیں کسی اور چیز کی حاجت نہیں تو ان سے پوچھنا چھوڑ دیا کہ کیا چاہتے ہو ؟ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جو لوگ مرجائیں اور اللہ کے ہاں بہتری پائیں وہ ہرگز دنیا میں آنا پسند نہیں کرتے مگر شہید کہ وہ تمنا کرتا ہے کہ دنیا میں دوبارہ لوٹایا جائے اور دوبارہ راہ اللہ میں شہید ہو کیونکہ شہادت کے درجات کو وہ دیکھ رہا ہے (مسند احمد) صحیح مسلم شریف میں بھی یہ حدیث ہے، مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے فرمایا اے جابر تمہیں معلوم بھی ہے ؟ کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے والد کو زندہ کیا اور ان سے کہا اے میرے بندے مانگ کیا مانگتا ہے ؟ تو کہا اے اللہ دنیا میں پھر بھیج تاکہ میں دوبارہ تیری راہ میں مارا جاؤں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا یہ تو میں فیصلہ کرچکا ہوں کہ کوئی یہاں دوبارہ لوٹایا نہیں جائے گا، ان کا نام حضرت عبداللہ بن عمرو بن حرام انصاری تھا اللہ تعالیٰ ان سے رضامند ہو، صحیح بخاری شریف میں ہے حضرت جابر فرماتے ہیں میرے باپ کی شہادت کے بعد میں رونے لگا اور ابا کے منہ سے کپڑا ہٹا ہٹا کر بار بار ان کے چہرے کو دیکھ رہا تھا۔ صحابہ مجھے منع کرتے تھے لیکن آنحضرت ﷺ خاموش تھے پھر حضور ﷺ نے فرمایا جابر رو مت جب تک تیرے والد کو اٹھایا نہیں گیا فرشتے اپنے پروں سے اس پر سایہ کئے ہوئے ہیں، مسند احمد میں ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا جب تمہارے بھائی احد والے دن شہید کئے گئے تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی روحیں سبز پرندوں کے قالب میں ڈال دیں جو جنتی درختوں کے پھل کھائیں اور جنتی نہروں کا پانی پئیں اور عرش کے سائے تلے وہاں لٹکتی ہوئی قندیلوں میں آرام و راحت حاصل کریں جب کھانے پینے رہنے سہنے کی یہ بہترین نعمتیں انہیں ملیں تو کہنے لگے کاش کہ ہمارے بھائیوں کو جو دنیا میں ہیں ہماری ان نعمتوں کی خبر مل جاتی تاکہ وہ جہاد سے منہ نہ پھیریں اور اللہ کی راہ کی لڑائیوں سے تھک کر نہ بیٹھ رہیں اللہ تعالیٰ نے ان سے فرمایا تم بےفکر رہو میں یہ خبر ان تک پہنچا دیتا ہوں چناچہ یہ آیتیں نازل فرمائیں، حضرت ابن عباس سے یہ بھی مروی ہے کہ حضرت حمزہ ؓ اور آپ کے ساتھیوں کے بارے میں آیتیں اتریں (مستدرک حاکم) یہ بھی مفسرین نے فرمایا ہے کہ احد کے شہیدوں کے بارے میں یہ آیتیں نازل ہوئیں۔ ابوبکر بن مردویہ میں حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے دیکھا اور فرمانے لگے جابر کیا بات ہے کہ تم مجھے غمگین نظر آتے ہو ؟ میں نے کہا یا رسول اللہ میرے والد شہید ہوگئے جن پر بار قرض بہت ہے اور میرے چھوٹے چھوٹے بہن بھائی بہت ہیں آپ نے فرمایا سن میں تجھے بتاؤں جس کسی سے اللہ نے کلام کیا پردے کے پیچھے سے کلام کیا لیکن تیرے باپ سے آمنے سامنے بات چیت کی فرمایا مجھ سے مانگ جو مانگے گا دوں گا تیرے باپ نے کہا اللہ عزوجل میں تجھ سے یہ مانگتا ہوں کہ تو مجھے دنیا میں دوبارہ بھیجے اور میں تیری راہ میں دوسری مرتبہ شہید کیا جاؤں، رب عزوجل نے فرمایا یہ بات تو میں پہلے ہی مقرر کرچکا ہوں کہ کوئی بھی لوٹ کر دوبارہ دنیا میں نہیں جائے گا۔ کہنے لگے پھر اے اللہ میرے بعد والوں کو ان مراتب کی خبر پہنچا دی جائے چناچہ اللہ تعالیٰ نے آیت (ولا تحسبن) الخ، فرمائی، بیہقی میں اتنا اور زیادہ ہے کہ حضرت عبداللہ ؓ نے فرمایا میں تو اے اللہ تیری عبادت کا حق بھی ادا نہیں کرسکا، مسند احمد میں ہے شہید لوگ جنت کے دروازے پر نہر کے کنارے سے گنبد سبز میں ہیں، صبح شام انہیں جنت کی نعمتیں پہنچ جاتی ہیں، دونوں احادیث میں تطبیق یہ ہے کہ بعض شہداء وہ ہیں جن کی روحیں پرندوں کے قالب میں ہیں اور بعض وہ ہیں جن کا ٹھکانا یہ گنبد ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ جنت میں سے پھرتے پھراتے یہاں جمع ہوتے ہوں اور پھر یہ کھانے یہیں کھلائے جاتے ہوں واللہ اعلم، یہاں پر وہ حدیث بھی وارد کرنا بالکل برمحل ہوگا جس میں ہر مومن کے لئے یہی بشارت ہے چناچہ مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مومن کی روح ایک پرند میں ہے جو جنت کے درختوں کے پھل کھاتی پھرتی ہے یہاں تک کہ قیامت والے دن جبکہ اللہ تعالیٰ سب کو کھڑا کرے تو اسے بھی اس کے جسم کی طرف لوٹا دے گا، اس حدیث کے راویوں میں تین جلیل القدر امام ہیں جو ان چار اماموں میں سے ہیں جن کے مذاہب مانے جا رہے ہیں، ایک تو امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ آپ اس حدیث کو روایت کرتے ہیں، امام محمد بن ادریس شافعی ؒ سے ان کے استاد ہیں حضرت امام مالک بن انس ؓ پس امام احمد امام شافعی امام محمد بن ادریس شافعی ؒ سے ان کے استاد ہیں۔ حضرت امام مالک بن انس ؓ پس امام احمد امام شافعی امام مالک تینوں زبردست پیشوا اس حدیث کے راوی ہیں۔ پس اس حدیث سے ثابت ہوا کہ ایمانداروں کی روح جنتی پرند کی شکل میں جنت میں رہتی ہے اور شہیدوں کی روحیں جیسے کے پہلے گذر چکا ہے سبز رنگ کے پرندوں کے قالب میں رہتی ہیں یہ روحیں مثل ستاروں کے ہیں جو عام مومنین کی روحوں کو یہ مرتبہ حاصل نہیں، یہ اپنے طور پر آپ ہی اڑتی ہیں، اللہ تعالیٰ سے جو بہت بڑا مہربان اور زبردست احسانوں والا ہے ہماری دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنے فضل و کرم سے ایمان و اسلام پر موت دے آمین۔ پھر فرمایا کہ یہ شہید جن جن نعمتوں اور آسائشوں میں ہیں ان سے بیحد مسرور اور بہت ہی خوش ہیں اور انہیں یہ بھی خوشی اور راحت ہے کہ ان کے بھائی بند جو ان کے بعد راہ اللہ میں شہید ہوں گے اور ان کے پاس آئیں گے انہیں آئندہ کا کچھ خوف نہ ہوگا اور اپنے پیچھے چھوڑی ہوئی چیزوں پر انہیں حسرت بھی نہ ہوگی، اللہ ہمیں بھی جنت نصیب کرے، حضرت محمد بن اسحاق فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ وہ خوش ہیں کہ ان کے کئی اور بھائی بند بھی جو جہاد میں لگے ہوئے ہیں وہ بھی شہید ہو کر ان کی نعمتوں میں ان کے شریک حال ہوں گے اور اللہ کے ثواب سے فائدہ اٹھائیں گے، حضرت سدی فرماتے ہیں شہید کو ایک کتاب دی جاتی ہے کہ فلاں دن تیرے پاس فلاں آئے گا اور فلاں دن فلاں آئے گا پس جس طرح دنیا والے اپنی کسی غیر حاضر کے آنے کی خبر سن کر خوش ہوتے ہیں اسی طرح یہ شہداء ان شہیدوں کی آنے کی خبر سے مسرور ہوتے ہیں، حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ جب شہید جنت میں گئے اور وہاں اپنی منزلیں اور رحمتیں دیکھیں تو کہنے لگے کاش کہ اس کا علم ہمارے ان بھائیوں کو بھی ہوتا جو اب تک دنیا میں ہی ہیں تاکہ وہ جواں مردی سے جان توڑ کر جہاد کرتے اور ان جگہوں میں جا گھستے جہاں سے زندہ آنے کی امید نہ ہوتی تو وہ بھی ہماری ان نعمتوں میں حصہ دار بنتے پس نبی ﷺ نے لوگوں کو ان کے اس حال کی خبر پہنچا دی اور اللہ تعالیٰ نے ان سے کہ دیا کہ میں نے تمہاری خبر تمہارے نبی ﷺ کو دے دی ہے اس سے وہ بہت ہی مسرور و محفوظ ہوئے، بخاری مسلم میں بیر معونہ والوں کا قصہ بیان ہوچکا ہے جو ستر شخص انصاری صحابی تھے اور ایک ہی دن صبح کے وقت کو بےدردی سے کفار نے تہ تیغ کیا تھا جن قاتلوں کے حق میں ایک ماہ نماز کی قنوت میں رسول اللہ ﷺ نے بد دعا کی تھی اور جن پر لعنت بھیجی تھی جن کے بارے میں قرآن کی یہ آیت اتری تھی کہ ہماری قوم کو ہماری خبر پہنچاؤ کہ ہم اپنے رب سے ملے وہ ہم سے راضی ہوا اور ہم اس سے راضی ہوگئے، وہ اللہ کی نعمت و فضل کو دیکھ دیکھ کر مسرور ہیں، حضرت عبدالرحمن فرماتے ہیں یہ آیت (یستبشرون) تمام ایمانداروں کے حق میں ہے خواہ شہید ہوں خواہ غیر۔ بہت کم ایسے موقع ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے نبیوں کی فضیلت اور ان کے ثوابوں کا ذکر نہ ہو۔ پھر ان سچے مومنین کا بیان تعریف کے ساتھ ہو رہا ہے۔ جنہوں نے حمراء اسد والے دن حکم رسول پر باوجود زخموں سے چور ہونے کے جہاد پر کمر کس لی تھی، مشرکین نے مسلمانوں کو مصیبتیں پہنچائیں اور اپنے گھروں کی طرف واپس چل دئیے۔ لیکن پھر انہیں اس کا خیال آیا کہ موقع اچھا تھا مسلمان ہار چکے تھے زخمی ہوگئے تھے ان کے بہادر شہید ہوچکے تھے اگر ہم اور جم کر لڑتے تو فیصلہ ہی ہوجاتا نبی ﷺ ان کا یہ ارادہ معلوم کر کے مسلمانوں کو تیار کرنے لگے کہ میرے ساتھ چلو ہم ان مشرکین کے پیچھے جائیں تاکہ ان پر رعب طاری ہو اور یہ جان لیں کہ مسلمان ابھی کمزور نہیں ہوئے احد میں جو لوگ موجود تھے صرف انہی کو ساتھ چلنے کا حکم ملا ہاں صرف حضرت جابر بن عبداللہ کو ان کے علاوہ بھی ساتھ لیا اس آواز پر بھی مسلمانوں نے لبیک کہی باوجود یہ کہ زخموں میں چور اور خون میں شرابور تھے لیکن اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کے لئے کمر بستہ ہوگئے، حضرت عکرمہ کا بیان ہے کہ جب مشرکین احد سے لوٹے تو راستے میں سوچنے لگے کہ نہ تو تم نے محمد ﷺ کو قتل کیا نہ مسلمانوں کی عورتوں کو پکڑا افسوس تم نے کچھ نہ کیا واپس لوٹو جب یہ خبر حضور ﷺ کو پہنچی تو آپ نے مسلمانوں کو تیاری کا حکم دیا یہ تیار ہوگئے اور مشرکین کے تعاقب میں چل پڑے یہاں تک کہ حمراء الاسد تک یا " بیئر ابی عینیہ " تک پہنچ گئے۔ مشرکین کے دل رعب و خوف سے بھر گئے اور یہ کہہ کر مکہ کی طرف چل دئیے اگلے سال دیکھا جائے گا حضور ﷺ بھی واپس مدینہ تشریف لائے، یہ بھی بالاستقلال ایک الگ لڑائی گنی جاتی ہے اسی کا ذکر اس آیت میں ہے احد کی لڑائی پندرہ شوال بروز ہفتہ ہوئی تھی سولہویں تاریخ بروز اتوار منادی رسول ﷺ نے ندا دی کہ لوگو دشمن کے تعاقب میں چلو اور وہی لوگ چلیں جو کل میدان میں تھے، اس آواز پر حضرت جابر حاضر ہوئے اور عرض کرنے لگے یا رسول اللہ ﷺ کل کی لڑائی میں میں نہ تھا اس لئے کہ میرے والد حضرت عبداللہ نے مجھ سے کہا بیٹے تمہارے ساتھ یہ چھوٹی چھوٹی بہنیں ہیں اسے تو نہ میں پسند کروں اور نہ تو کہ انہیں یہاں تنہا چھوڑ کر دونوں ہی چل دیں ایک جائے گا اور ایک یہاں رہے گا۔ مجھ سے یہ نہیں ہوسکتا کہ رسول اللہ ﷺ کے ہم رکاب تم جاؤ اور میں بیٹھا رہوں اس لئے میری خواہش ہے کہ تم اپنی بہنوں کے پاس رہو اور میں جاتا ہوں اس وجہ سے میں تو وہاں رہا اور میرے والد آپ کے ساتھ آئے اب میری عین تمنا ہے کہ آج مجھے اجازت دیجئے کہ میں آپ کے ساتھ چلوں چناچہ آپ نے اجازت دی حضور ﷺ کا سفر اس غرض سے تھا کہ دشمن دہل جائے اور پیچھے آتا ہوا دیکھ کر سمجھ لے کہ ان میں بہت کچھ قوت ہے اور ہمارے مقابلہ سے یہ عاجز نہیں، قبیلہ بنو عبدالاشہل کے ایک صحابی کا بیان ہے کہ غزوہ احد میں ہم دونوں بھائی شامل تھے اور سخت زخمی ہو کر ہم لوٹے تھے، جب اللہ کے رسول ﷺ کے منادی نے دشمن کے پیچھے جانے کی ندا دی تو ہم دونوں بھائیوں نے آپس میں کہا کہ افسوس نہ ہمارے پاس سواری ہے کہ اس پر سوار ہو کر اللہ کے نبی کے ساتھ جائیں نہ زخموں کے مارے جسم میں اتنی طاقت ہے کہ پیدل ساتھ ہو لیں افسوس کہ یہ غزوہ ہمارے ہاتھ سے نکل جائے گا ہمارے بیشمار گہرے زخم ہمیں آج جانے سے روک دیں گے لیکن پھر ہم نے ہمت باندھی مجھے اپنے بھائی کی نسبت ذرا ہلکے زخم تھے جب میرے بھائی بالکل عاجز آجاتے قدم نہ اٹھتا تو میں انہیں جوں توں کر کے اٹھا لیتا جب تھک جاتا اتار دیتا یونہی جوں توں کر کے ہم لشکر گاہ تک پہنچ ہی گئے۔ ؓ (سیرت ابن اسحاق) صحیح بخاری شریف میں ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے حضرت عروہ سے کہا اے بھانجے تیرے دونوں باپ انہی لوگوں میں سے ہیں جن کے بارے میں آیت (اَلَّذِيْنَ اسْتَجَابُوْا لِلّٰهِ وَالرَّسُوْلِ مِنْۢ بَعْدِ مَآ اَصَابَھُمُ الْقَرْحُ لِلَّذِيْنَ اَحْسَنُوْا مِنْھُمْ وَاتَّقَوْا اَجْرٌ عَظِيْمٌ) 3۔ آل عمران :172) آیت اتری ہے یعنی حضرت زبیر اور حضرت صدیق ؓ جبکہ نبی ﷺ کو احد کی جنگ میں نقصان پہنچا اور مشرکین آگے چلے تو آپ کو خیال ہوا کہ کہیں یہ پھر واپس نہ لوٹیں لہذا آپ نے فرمایا کوئی ہے جو ان کے پیچھے جائے اس پر ستر شخص اس کام کے لئے مستعد ہوگئے جن میں ایک حضرت ابوبکر ؓ تھے، دوسرے حضرت زبیر ؓ تھے، یہ روایت اور بہت سی اسناد سے بہت سی کتابوں میں ہے، ابن مردویہ میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت عائشہ ؓ سے فرمایا کہ تیرے دونوں باپ ان لوگوں میں سے ہیں لیکن یہ مرفوع بیان کرنا محض خطا ہے اس لئے بھی کہ اس کی اسناد میں ثقہ راویوں کا اختلاف ہے جو حضرت عائشہ کے باپ دادا میں سے نہیں صحیح یہ ہے کہ یہ بات حضرت عائشہ نے اپنے بھانجے حضرت اسماء بنت ابی بکر کے لڑکے عروہ سے کہی ہے، حضرت ابن عباس کا بیان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ابو سفیان کے دل میں رعب ڈال دیا اور باوجودیکہ کہ وہ احد کی لڑائی میں قدرے کامیاب ہوگیا تھا لیکن تاہم مکہ کی طرف چل دیا نبی ﷺ نے فرمایا کہ ابو سفیان تمہیں نقصان پہنچا کر لوٹ گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے دل کو مرعوب کردیا ہے، احد کی لڑائی شوال میں ہوئی تھی اور تاجر لوگ ذی قعدہ میں مدینہ آتے تھے اور بدر صغریٰ میں اپنے ڈیرے ہر سال اس ماہ میں ڈالا کرتے تھے اس دفعہ بھی اس واقعہ کے بعد لوگ آئے مسلمان اپنے زخموں میں چور تھے۔ حضور ﷺ سے اپنی تکالیف بیان کرتے تھے اور سخت صدمہ میں تھے۔ نبی ﷺ نے لوگوں کو اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ آپ کے ساتھ چلیں اور فرمایا کہ یہ لوگ اب کوچ کر جائیں گے اور پھر حج کو آئیں گے اور پھر اگلے سال تک یہ طاقت انہیں حاصل نہیں ہوگی لیکن شیطان نے اپنے دوستوں کو دھمکانا اور بہکانا شروع کردیا اور کہنے لگا کہ ان لوگوں نے تمہارے استیصال کے لئے لشکر تیار کر لئے ہیں جس بنا پر لوگ ڈھیلے پڑگئے آپ نے فرمایا سنو خواہ تم میں سے ایک بھی نہ چلے میں تن تنہا جاؤں گا پھر آپ کے رغبت دلانے پر حضرت ابو بکر، حضرت عمر، حضرت عثمان، حضرت علی، حضرت زبیر، حضرت سعد، حضرت طلحہ، حضرت عبدالرحمن بن عوف، حضرت عبداللہ بن مسعود، حضرت حذیفہ بن یمان، حضرت ابو عبیدہ بن جراح وغیرہ ستر صحابہ آپ کے زیر رکاب چلنے پر آمادہ ہوئے۔ ؓ ، یہ مبارک لشکر ابو سفیان کی جستجو میں بدر صغریٰ تک پہنچ گیا انہی کی اس فضیلت اور جاں بازی کا ذکر اس مبارک آیت میں ہے، حضور ﷺ اس سفر میں مدینہ سے آٹھ میل حمراء اسد تک پہنچ گئے۔ مدینہ میں اپنا نائب آپ نے حضرت ابن ام مکتوم ؓ کو بنایا تھا۔ وہاں آپ نے پیر منگل بدھ تک قیام کیا پھر مدینہ لوٹ آئے، اثناء قیام میں قبیلہ خزاعہ کا سردار معبد خزاعی یہاں سے نکلا تھا یہ خود مشرک تھا لیکن اس پورے قبیلے سے حضور ﷺ کی صلح و صفائی تھی اس قبیلہ کے مشرک مومن سب آپ کے خیر خواہ تھے اس نے کہا کہ حضور ﷺ کے ساتھیوں کو جو تکلیف پہنچی اس پر ہمیں سخت رنج ہے اللہ تعالیٰ آپ کو کامیابی کی خوشی نصیب فرمائے، حمراء اسد پر آپ پہنچے مگر اس سے پہلے ابو سفیان چل دیا تھا گو اس نے اور اس کے ساتھیوں نے واپس آنے کا ارادہ کیا تھا کہ جب ہم ان پر غالب آگئے انہیں قتل کیا مارا پیٹا زخمی کیا پھر ادھورا کام کیوں چھوڑیں واپس جا کر سب کو تہ تیغ کردیں، یہ مشورے ہو ہی رہے تھے کہ معبد خزاعی وہاں پہنچا ابو سفیان نے اس سے پوچھا کہو کیا خبریں ہیں اس نے کہا آنحضور مع صحابہ کے تم لوگوں کے تعاقب میں آرہے ہیں وہ لوگ سخت غصے میں ہیں جو پہلے لڑائی میں شریک نہ تھے وہ بھی شامل ہوگئے ہیں سب کے تیور بدلے ہوئے ہیں اور بھرپور طاقت کے ساتھ حملہ آور ہو رہے ہیں میں نے تو ایسا لشکر کبھی دیکھا نہیں، یہ سن کر ابو سفیان کے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے اور کہنے لگا اچھا ہی ہوا جو تم سے ملاقات ہوگئی ورنہ ہم تو خود ان کی طرف جانے کے لئے تیار تھے، معبد نے کہا ہرگز یہ ارادہ نہ کرو اور میری بات کا کیا ہے غالباً تم یہاں سے کوچ کرنے سے پہلے ہی لشکر اسلام کے گھوڑوں کو دیکھ لو گے میں ان کے لشکر ان کے غصے ان کی تیاری اور الوالعزمی کا حال بیان نہیں کرسکتا میں تو تم سے صاف کہتا ہوں کہ بھاگو اور اپنی جانیں بچاؤ میرے پاس ایسے الفاظ نہیں جن سے میں مسلمانوں کے غیظ و غضب اور تہورو شجاعت اور سختی اور پختگی کا بیان کرسکوں، پس مختصر یہ ہے کہ جان کی خیر مناتے ہو تو فوراً یہاں سے کوچ کرو، ابو سفیان اور اس کے ساتھیوں کے چھکے چھوٹ گئے اور انہوں نے یہاں سے مکہ کی راہ لی، قبیلہ عبدالقیس کے آدمی جو کاروبار کی غرض سے مدینہ جا رہے تھے ان سے ابو سفیان نے کہا کہ تم حضور ﷺ کو یہ خبر پہنچا دینا کہ ہم نے انہیں تہ تیغ کردینے کے لئے لشکر جمع کر لئے ہیں اور ہم واپس لوٹنے کا ارادہ میں ہیں، اگر تم نے یہ پیغام پہنچا دیا تو ہم تمہیں سوق عکاظ میں بہت ساری کشمش دیں گے چناچہ ان لوگوں نے حمراء اسد میں آکر بطور ڈراوے کے نمک مرچ لگا کر یہ وحشت اثر خبر سنائی لیکن صحابہ نے نہایت استقلال اور پامردی سے جواب دیا کہ ہمیں اللہ کافی ہے اور وہی بہترین کارساز ہے، جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں نے ان کے لئے ایک پتھر کا نشان مقرر کر رکھا ہے اگر یہ لوٹیں گے تو وہاں پہنچ کر اس طرح مٹ جائیں گے جیسے گزشتہ کل کا دن، بعض لوگوں نے یہ بھی کہا ہے کہ یہ آیت بدر کے بارے میں نازل ہوئی ہے لیکن صحیح تر یہی ہے کہ حمراء اسد کے بارے میں نازل ہوئی۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے دشمنوں نے انہیں پژمردہ دل کرنے کے لئے دشمنوں کے سازو سامان اور ان کی کثرت وبہتات سے ڈرایا لیکن وہ صبر کے پہاڑ ثابت ہوئے ان کے غیر متزلزل یقین میں کچھ فرق نہ آیا بلکہ وہ توکل میں اور بڑھ گئی اور اللہ کی طرف نظریں کر کے اس سے امداد طلب کی، صحیح بخاری شریف میں حضرت عبداللہ بن عباس سے مروی ہے کہ آیت (حسبنا اللہ) الخ، حضرت ابراہیم نے آگ میں پڑتے وقت پڑھا تھا اور حضرت محمد ﷺ نے اس وقت جب کہ کافروں کے ٹڈی دل لشکر سے لوگوں نے آپ کو خوف زدہ کرنا چاہا اس وقت پڑھا، تعجب کی بات ہے کہ امام حاکم نے اس روایت کو رد کر کے فرمایا ہے کہ یہ بخاری مسلم میں نہیں۔ بخاری کی ایک روایت میں ہے کہ احد کے موقع پر جب حضور ﷺ کو کفار کے لشکروں کی خبر دی گئی تو آپ نے یہی کلمہ فرمایا اور روایت میں ہے کہ حضرت علی کی سردار کے ماتحت جب حضور ﷺ نے ایک چھوٹا سا لشکر روانہ کیا اور راہ میں خزاعہ کے ایک اعرابی نے یہ خبر سنائی تو آپ نے یہ فرمایا تھا۔ ابن مردویہ کی حدیث میں ہے آپ فرماتے ہیں جب تم پر کوئی بہت بڑا کام آپڑے تو تم آیت (حسبنا اللہ) آخر تک پڑھو مسند احمد میں ہے کہ دو شخصوں کے درمیان حضور ﷺ نے فیصلہ کیا تو جس کے خلاف فیصلہ صادر ہوا تھا اس نے یہی کلمہ پڑھا آپ نے اسے واپس بلا کر فرمایا بزدلی اور سستی پر اللہ کی ملامت ہوتی ہے دانائی دور اندیشی اور عقلمندی کیا کرو پھر کسی امر میں پھنس جاؤ تو یہی پڑھ لیا کرو، مسند کی اور حدیث میں ہے کس طرح بےفکر اور فارغ ہو کر آرام پاؤں حالانکہ صاحب صور نے صور منہ میں لے رکھا ہے اور پیشانی جھکائے حکم اللہ کا منتظر ہے کہ کب حکم ہوا اور وہ صور پھونک دے، صحابہ نے کہا حضور ﷺ ہم کیا پڑھیں آپ نے فرمایا آیت (حسبنا اللہ ونعم الوکیل) (علی اللہ توکلنا) پڑھو ام المومنین حضرت زینب اور ام المومنین حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ حضرت زینب نے فخر سے فرمایا میرا نکاح خود اللہ نے کردیا ہے اور تمہارے نکاح ولی وارثوں نے کئے ہیں، صدیقہ نے فرمایا میری برأت اور پاکیزگی کی آیت اللہ تعالیٰ نے آسمان سے اپنے پاک کلام میں نازل فرمائی ہیں حضرت زینب اسے مان گئیں اور پوچھا یہ بتاؤ تم نے حضرت صفوان بن معطل کی سواری پر سوار ہوتے وقت کیا پڑھا تھا، صدیقہ نے فرمایا دعا (حسبی اللہ ونعم الوکیل) یہ سن کر ام المومنین حضرت زینب ؓ نے فرمایا تم نے ایمان والوں کا کلمہ کہا تھا، چناچہ اس آیت میں بھی رب رحیم کا ارشاد ہے کہ ان توکل کرنے والوں کی کفایت اللہ تعالیٰ نے کی اور ان کے ساتھ جو لوگ برائی کا ارادہ رکھتے تھے انہیں ذلت اور بربادی کے ساتھ پسپا کیا، یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے اپنے شہروں کی طرف بغیر کسی نقصان اور برائی کے لوٹے دشمن اپنی مکاریوں میں ناکام رہا، ان سے اللہ خوش ہوگیا کیونکہ انہوں نے اس کی خوشی کا کام انجام دیا تھا اللہ تعالیٰ بڑے فضل و کرم والا ہے۔ ابن عباس کا فرمان ہے کہ نعمت تو یہ تھی کہ وہ سلامت رہے اور فضل یہ تھا کہ حضور ﷺ نے تاجروں کے ایک قافلہ سے مال خرید لیا جس میں بہت ہی نفع ہوا اور اس کل نفع کو آپ نے اپنے ساتھیوں میں تقسیم فرما دیا۔ حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ ابو سفیان نے حضور ﷺ سے کہا اب وعدے کی جگہ بدر ہے آپ نے فرمایا ممکن ہے چناچہ وہاں پہنچے تو یہ ڈرپوک آیا ہی نہیں وہاں بازار کا دن تھا مال خرید لیا جو نفع سے بکا اسی کا نام غزوہ بدر صغریٰ ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ یہ شیطان تھا جو اپنے دوستوں کے ذریعہ تمہیں دھمکا رہا تھا اور گیدڑ بھبکیاں دے رہا تمہیں چاہئے کہ ان سے نہ ڈرو صرف میرا ہی خوف دل میں رکھو کیونکہ ایمان داری کی یہی شرط ہے کہ جب کوئی ڈرائے دھمکائے اور دینی امور سے تمہیں باز رکھنا چاہئے تو مسلمان اللہ پر بھروسہ کرے اس کی طرف سمٹ جائے اور یقین مانے کہ کافی اور ناصر وہی ہے جیسے اور جگہ ہے آیت (اَلَيْسَ اللّٰهُ بِكَافٍ عَبْدَهٗ ۭ وَيُخَوِّفُوْنَكَ بالَّذِيْنَ مِنْ دُوْنِهٖ) 39۔ الزمر :36) کیا اللہ جل شانہ اپنے بندوں کو کافی نہیں یہ لوگ تجھے اس کے سوا اوروں سے ڈرا رہے ہیں (یہاں تک کہ فرمایا) تو کہہ کہ مجھے اللہ کافی ہے توکل کرنے والوں کو اسی پر بھروسہ کرنا چاہئے اور جگہ فرمایا اولیاء شیطان سے لڑو۔ شیطان کا مکر بڑا بودا ہے۔ اور جگہ ارشاد ہے یہ شیطانی لشکر ہے یاد رکھو شیطانی لشکر ہی گھاٹے اور خسارے میں ہے اور جگہ ارشاد ہے آیت (كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِيْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ قَوِيٌّ عَزِيْزٌ) 58۔ المجادلہ :21) اللہ تعالیٰ لکھ چکا ہے کہ غلبہ یقینا مجھے اور میرے رسولوں کو ہی ہوگا اللہ قوی اور عزیز ہے۔ اور جگہ ارشاد ہے آیت (ۭوَلَيَنْصُرَنَّ اللّٰهُ مَنْ يَّنْصُرُهٗ ۭ اِنَّ اللّٰهَ لَقَوِيٌّ عَزِيْزٌ) 22۔ الحج :40) جو اللہ کی مدد کرے گا اس کی امداد فرمائے گا اور فرمان ہے آیت (يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِنْ تَنْصُرُوا اللّٰهَ يَنْصُرْكُمْ وَيُثَبِّتْ اَقْدَامَكُمْ) 47۔ محمد :7) اے ایمان والو اگر تم اللہ کی مدد کرو گے تو اللہ تمہاری بھی مدد کرے گا اور آیت میں ہے آیت (اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُوْمُ الْاَشْهَادُ) 40۔ غافر :51) بالیقین ہم اپنے رسولوں کی اور ایمان داروں کی مدد دینا میں بھی کریں گے اور اس دن بھی جس دن گواہ کھڑے ہوں گے جس دن ظالموں کو عذر معذرت نفع نہ دے گی ان کے لئے لعنت ہے اور ان کے لئے برا گھر ہے۔
170
View Single
فَرِحِينَ بِمَآ ءَاتَىٰهُمُ ٱللَّهُ مِن فَضۡلِهِۦ وَيَسۡتَبۡشِرُونَ بِٱلَّذِينَ لَمۡ يَلۡحَقُواْ بِهِم مِّنۡ خَلۡفِهِمۡ أَلَّا خَوۡفٌ عَلَيۡهِمۡ وَلَا هُمۡ يَحۡزَنُونَ
Happy over what Allah has bestowed upon them from His grace, and rejoicing for those who will succeed them, and have not yet joined them; for on them is no fear nor any grief.
وہ (حیاتِ جاودانی کی) ان (نعمتوں) پر فرحاں و شاداں رہتے ہیں جو اللہ نے انہیں اپنے فضل سے عطا فرما رکھی ہیں اور اپنے ان پچھلوں سے بھی جو (تاحال) ان سے نہیں مل سکے (انہیں ایمان اور طاعت کی راہ پر دیکھ کر) خوش ہوتے ہیں کہ ان پر بھی نہ کوئی خوف ہو گا اور نہ وہ رنجیدہ ہوں گے
Tafsir Ibn Kathir
Virtues of the Martyrs
Allah states that even though the martyrs were killed in this life, their souls are alive and receiving provisions in the Dwelling of Everlasting Life. In his Sahih, Muslim recorded that Masruq said, "We asked `Abdullah about this Ayah,
وَلاَ تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُواْ فِى سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَتاً بَلْ أَحْيَاءٌ عِندَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ
(Think not of those as dead who are killed in the way of Allah. Nay, they are alive, with their Lord, and they have provision.)
He said, `We asked the Messenger of Allah ﷺ the same question and he said,
«أَرْوَاحُهُمْ فِي جَوْفِ طَيْرٍ خُضْرٍ، لَهَا قَنَادِيلُ مُعَلَّقَةٌ بِالْعَرْشِ، تَسْرَحُ مِنَ الْجَنَّةِ حَيْثُ شَاءَتْ، ثُمَّ تَأْوِي إِلَى تِلْكَ الْقَنَادِيلِ، فَاطَّلَعَ إِلَيْهِمْ رَبُّهُمُ اطِّلَاعَةً فَقَالَ: هَلْ تَشْتَهُونَ شَيْئًا؟ فَقَالُوا: أَيَّ شَيْءٍ نَشْتَهِي وَنَحْنُ نَسْرَحُ مِنَ الْجَنَّةِ حَيْثُ شِئْنَا؟ فَفَعَلَ ذَلِكَ بِهِمْ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَلَمَّا رَأَوْا أَنَّهُمْ لَنْ يُتْرَكُوا مِنْ أَنْ يُسْأَلُوا، قَالُوا: يَا رَبِّ نُرِيدُ أَنْ تَرُدَّ أَرْوَاحَنَا فِي أَجْسَادِنَا حَتَّى نُقْتَلَ فِي سَبِيلِكَ مَرَّةً أُخْرَى، فَلَمَّا رَأَى أَنْ لَيْسَ لَهُمْ حَاجَةٌ، تُرِكُوا»
(Their souls are inside green birds that have lamps, which are hanging below the Throne (of Allah), and they wander about in Paradise wherever they wish. Then they return to those lamps. Allah looks at them and says, `Do you wish for anything' They say, `What more could we wish for, while we go wherever we wish in Paradise' Allah asked them this question thrice, and when they realize that He will keep asking them until they give an answer, they say, `O Lord! We wish that our souls be returned to our bodies so that we are killed in Your cause again.' Allah knew that they did not have any other wish, so they were left.)"' There are several other similar narrations from Anas and Abu Sa`id.
Imam Ahmad recorded that Anas said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«مَا مِنْ نَفْسٍ تَمُوتُ، لَهَا عِنْدَ اللهِ خَيْرٌ، يَسُرُّهَا أَنْ تَرْجِعَ إِلَى الدُّنْيَا، إِلَّا الشَّهِيدُ، فَإِنَّهُ يَسُرُّهُ أَنْ يَرْجِعَ إِلَى الدُّنْيَا فَيُقْتَلَ مَرَّةً أُخْرَى، لِمَا يَرَى مِنْ فَضْلِ الشَهَادَة»
(No soul that has a good standing with Allah and dies would wish to go back to the life of this world, except for the martyr. He would like to be returned to this life so that he could be martyred again, for he tastes the honor achieved from martyrdom.) Muslim collected this Hadith
In addition, Imam Ahmad recorded that, Ibn `Abbas said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«لَمَّا أُصِيبَ إِخْوَانُكُمْ بِأُحُدٍ، جَعَلَ اللهُ أَرْوَاحَهُمْ فِي أَجْوَافِ طَيْرٍ خُضْرٍ، تَرِدُ أَنْهَارَ الْجَنَّـةِ، وَتَأْكُلُ مِنْ ثِمَارِهَا، وَتَأْوِي إِلى قَنَادِيلَ مِنْ ذَهَبٍ فِي ظِلِّ الْعَرْشِ، فَلَمَّا وَجَدُوا طِيبَ مَشْرَبِهِمْ وَمَأْكَلِهِمْ، وَحُسْنَ مُتَقَلَّبِهِمْ قَالُوا: يَا لَيْتَ إِخْوَانَنَا يَعْلَمُونَ مَا صَنَعَ اللهُ لَنَا، لِئَلَّا يَزْهَدُوا فِي الْجِهَادِ، وَلَا يَنْكُلُوا عَنِ الْحَرْبِ، فَقَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: أَنْا أُبَلِّغُهُمْ عَنْكُم»
(When your brothers were killed in Uhud, Allah placed their souls inside green birds that tend to the rivers of Paradise and eat from its fruits. They then return to golden lamps hanging in the shade of the Throne. When they tasted the delight of their food, drink and dwelling, they said, `We wish that our brothers knew what Allah gave us so that they will not abandon Jihad or warfare.' Allah said, `I will convey the news for you.') Allah revealed these and the following Ayat,
وَلاَ تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُواْ فِى سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَتاً بَلْ أَحْيَاءٌ عِندَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ
(Think not of those as dead who are killed in the way of Allah. Nay, they are alive, with their Lord, and they have provision.)
Qatadah, Ar-Rabi` and Ad-Dahhak said that these Ayat were revealed about the martyrs of Uhud.
Abu Bakr Ibn Marduwyah recorded that Jabir bin `Abdullah said, "The Messenger of Allah ﷺ looked at me one day and said, `O Jabir! Why do I see you sad' I said, `O Messenger of Allah! My father was martyred and left behind debts and children.' He said,
«أَلَا أُخْبِرُكَ؟ مَا كَلَّمَ اللهُ أَحَدًا قَطُّ إِلَّا مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ، وَإِنَّه كَلَّمَ أَبَاكَ كِفَاحًا»
، قال علي: الكفاح: المواجهة
«قَالَ: سَلْنِي أُعْطِكَ. قَالَ: أَسْأَلُكَ أَنْ أُرَدَّ إِلَى الدُّنْيَا فَأُقْتَلَ فِيكَ ثَانِيَةً، فَقَالَ الرَّبُّ عَزَّ وَجَلَّ: إِنَّهُ قَدْ سَبَقَ مِنِّي الْقَوْلُ: إِنَّهُمْ إِلَيْهَا لَا يَرْجِعُونَ. قَالَ: أَيْ رَبِّ فَأَبْلِغْ مَنْ وَرَائِي»
(Should I tell you that Allah never spoke to anyone except from behind a veil However, He spoke to your father directly. He said, `Ask Me and I will give you.' He said, `I ask that I am returned to life so that I am killed in Your cause again.' The Lord, Exalted He be, said, `I have spoken the word that they shall not be returned back to it (this life). ' He said, `O Lord! Then convey the news to those I left behind.') Allah revealed,
وَلاَ تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُواْ فِى سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَتاً
(Think not of those as dead who are killed in the way of Allah...)"
Imam Ahmad recorded that Ibn `Abbas said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«الشُّهَدَاءُ عَلى بَارِقِ نَهْرٍ بِبَابِ الْجَنَّـةِ، فِي قُبَّةٍ خَضْرَاءَ، يَخْرُجُ عَلَيْهِمْ رِزْقُهُمْ مِنَ الْجَنَّـةِ بُكْرَةً وَعَشِيًّا»
(The martyrs convene at the shore of a river close to the door of Paradise, in a green tent, where their provisions are brought to them from Paradise day and night.)
Ahmad and Ibn Jarir collected this Hadith, which has a good chain of narration. It appears that the martyrs are of different types, some of them wander in Paradise, and some remain close to this river by the door of Paradise. It is also possible that the river is where all the souls of the martyrs convene and where they are provided with their provision day and night, and Allah knows best. UImam Ahmad narrated a Hadith that contains good news for every believer that his soul will be wandering in Paradise, as well, eating from its fruits, enjoying its delights and happiness and tasting the honor that Allah has prepared in it for him. This Hadith has a unique, authentic chain of narration that includes three of the Four Imams. Imam Ahmad narrated this Hadith from Muhammad bin Idris Ash-Shafi`i who narrated it from Malik bin Anas Al-Asbuhi, from Az-Zuhri, from `Abdur-Rahman bin Ka`b bin Malik that his father said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«نَسَمَةُ الْمُؤْمِنِ طَائِرٌ يَعْلُقُ فِي شَجَرِ الْجَنَّـةِ حَتَّى يَرْجِعَهُ اللهُ إِلى جَسَدِهِ يَوْمَ يَبْعَثُه»
(The soul of the believer becomes a bird that feeds on the trees of Paradise, until Allah sends him back to his body when He resurrects him.)
This Hadith states that the souls of the believers are in the shape of a bird in Paradise. As for the souls of martyrs, they are inside green birds, like the stars to the rest of the believing souls. We ask Allah the Most Generous that He makes us firm on the faith.
Allah's statement,
فَرِحِينَ بِمَآ ءَاتَـهُمُ اللَّهُ
(They rejoice in what Allah has bestowed upon them) indicates that the martyrs who were killed in Allah's cause are alive with Allah, delighted because of the bounty and happiness they are enjoying. They are also awaiting their brethren, who will die in Allah's cause after them, for they will be meeting them soon. These martyrs do not have fear about the future or sorrow for what they left behind. We ask Allah to grant us Paradise. The Two Sahihs record from Anas, the story of the seventy Ansar Companions who were murdered at Bir Ma`unah in one night. In this Hadith, Anas reported that the Prophet used to supplicate to Allah in Qunut in prayer against those who killed them. Anas said, "A part of the Qur'an was revealed about them, but was later abrogated, `Convey to our people that we met Allah and He was pleased with us and made us pleased."'
Allah said next,
يَسْتَبْشِرُونَ بِنِعْمَةٍ مِّنَ اللَّهِ وَفَضْلٍ وَأَنَّ اللَّهَ لاَ يُضِيعُ أَجْرَ الْمُؤْمِنِينَ
(They rejoice in a grace and a bounty from Allah, and that Allah will not waste the reward of the believers) 3:171.
Muhammad bin Ishaq commented, "They were delighted and pleased because of Allah's promise that was fulfilled for them, and for the tremendous rewards they earned." `Abdur-Rahman bin Zayd bin Aslam said, "This Ayah encompasses all the believers, martyrs and otherwise. Rarely does Allah mention a bounty and a reward that He granted to the Prophets, without following that with what He has granted the believers after them."
The Battle of Hamra' Al-Asad
Allah said,
الَّذِينَ اسْتَجَابُواْ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ مِن بَعْدِ مَآ أَصَـبَهُمُ الْقَرْحُ
(Those who answered (the Call of) Allah and the Messenger after being wounded) 3:172.
This occurred on the day of Hamra' Al-Asad. After the idolators defeated the Muslims (at Uhud), they started on their way back home, but soon they were concerned because they did not finish off the Muslims in Al-Madinah, so they set out to make that battle the final one. When the Messenger of Allah ﷺ got news of this, he commanded the Muslims to march to meet the disbelievers, to bring fear to their hearts and to demonstrate that the Muslims still had strength to fight. The Prophet only allowed those who were present during Uhud to accompany him, except for Jabir bin `Abdullah Al-Ansari, as we will mention. The Muslims mobilized, even though they were still suffering from their injuries, in obedience to Allah and His Messenger .
Ibn Abi Hatim recorded that `Ikrimah said, "When the idolators returned towards Makkah after Uhud, they said, `You neither killed Muhammad nor collected female captives. Woe to you for what you did. Let us go back.' When the Messenger of Allah ﷺ heard this news, he mobilized the Muslim forces, and they marched until they reached Hamra Al-Asad. The idolators said, `Rather, we will meet next year', and the Messenger of Allah ﷺ went back to Al-Madinah, and this was considered a Ghazwah (battle). Allah sent down,
الَّذِينَ اسْتَجَابُواْ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ مِن بَعْدِ مَآ أَصَـبَهُمُ الْقَرْحُ لِلَّذِينَ أَحْسَنُواْ مِنْهُمْ وَاتَّقَوْاْ أَجْرٌ عَظِيمٌ
(Those who answered (the Call of) Allah and the Messenger after being wounded; for those of them who did good deeds and feared Allah, there is a great reward.)
Al-Bukhari recorded that `A'ishah said to `Urwah about the Ayah;
الَّذِينَ اسْتَجَابُواْ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ
(Those who answered (the Call of) Allah and the Messenger)
"My nephew! Your fathers Az-Zubayr and Abu Bakr were among them. After the Prophet suffered the calamity at Uhud and the idolators went back, he feared that the idolators might try to come back and he said, `Who would follow them' Seventy men, including Az-Zubayr and Abu Bakr, volunteered." This was recorded by Al-Bukhari alone.
As for Allah's statement,
الَّذِينَ قَالَ لَهُمُ النَّاسُ إِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُواْ لَكُمْ فَاخْشَوْهُمْ فَزَادَهُمْ إِيمَـناً
(Those unto whom the people said, "Verily, the people have gathered against you, therefore, fear them." But it (only) increased them in faith) 3:173, it means, those who threatened the people, saying that the disbelievers have amassed against them, in order to instill fear in them, but this did not worry them, rather, they trusted in Allah and sought His help,
وَقَالُواْ حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ
(and they said: "Allah is Sufficient for us, and He is the Best Disposer of affairs.")
Al-Bukhari recorded that Ibn `Abbas said,
حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ
("Allah Alone is Sufficient for us and He is the Best Disposer of affairs for us.")
"Ibrahim said it when he was thrown in fire. Muhammad said it when the people said, `Verily, the people have gathered against you, therefore, fear them.' But it only increased them in faith, and they said, `Allah is Sufficient for us and He is the Best Disposer of affairs for us."' Abu Bakr Ibn Marduwyah recorded that Anas bin Malik said that the Prophet was told on the day of Uhud, "Verily, the people have gathered against you, therefore, fear them." Thereafter, Allah sent down this Ayah 3:173.
This is why Allah said,
فَانْقَلَبُواْ بِنِعْمَةٍ مِّنَ اللَّهِ وَفَضْلٍ لَّمْ يَمْسَسْهُمْ سُوءٌ
(So they returned with grace and bounty from Allah. No harm touched them;) for when they relied on Allah, Allah took care of their worries, He confounded the plots of their enemies, and the Muslims returned to their land,
بِنِعْمَةٍ مِّنَ اللَّهِ وَفَضْلٍ لَّمْ يَمْسَسْهُمْ سُوءٌ
(with grace and bounty from Allah. No harm touched them;) safe from the wicked plots of their enemies,
وَاتَّبَعُواْ رِضْوَنَ اللَّهِ وَاللَّهُ ذُو فَضْلٍ عَظِيمٍ
(and they followed the pleasure of Allah. And Allah is the Owner of great bounty.)
Al-Bayhaqi recorded that Ibn `Abbas said about Allah's statement,
فَانْقَلَبُواْ بِنِعْمَةٍ مِّنَ اللَّهِ وَفَضْلٍ
(So they returned with grace and bounty from Allah,) "The `Grace' was that they were saved. The `Bounty' was that a caravan passed by, and those days were Hajj season days. Thus the Messenger of Allah ﷺ bought and sold and made a profit, which he divided between his Companions."
Allah then said,
إِنَّمَا ذَلِكُمُ الشَّيْطَـنُ يُخَوِّفُ أَوْلِيَاءَهُ
(It is only Shaytan that suggests to you the fear of his friends,) 3:175 meaning, Shaytan threatens you with his friends and tries to pretend they are powerful and fearsome. Allah said next,
فَلاَ تَخَافُوهُمْ وَخَافُونِ إِن كُنتُمْ مُّؤْمِنِينَ
(so fear them not, but fear Me, if you are indeed believers.) meaning, "If Shaytan brings these thoughts to you, then depend on Me and seek refuge with Me. Indeed, I shall suffice you and make you prevail over them." Similarly, Allah said,
أَلَيْسَ اللَّهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ وَيُخَوِّفُونَكَ بِالَّذِينَ مِن دُونِهِ
(Is not Allah Sufficient for His servant Yet they try to frighten you with those besides Him!) 39: 36, until,
قُلْ حَسْبِىَ اللَّهُ عَلَيْهِ يَتَوَكَّـلُ الْمُتَوَكِّلُونَ
(Say: "Sufficient for me is Allah; in Him those who trust must put their trust.") 39:38. Allah said,
فَقَـتِلُواْ أَوْلِيَاءَ الشَّيْطَـنِ إِنَّ كَيْدَ الشَّيْطَـنِ كَانَ ضَعِيفاً
(So fight you against the friends of Shaytan; ever feeble indeed is the plot of Shaytan.) 4:76 and
أُوْلَـئِكَ حِزْبُ الشَّيْطَـنِ أَلاَ إِنَّ حِزْبَ الشَّيْطَـنِ هُمُ الخَـسِرُونَ
(They are the party of Shaytan. Verily, it is the party of Shaytan that will be the losers!) 58:19,
كَتَبَ اللَّهُ لاّغْلِبَنَّ أَنَاْ وَرُسُلِى إِنَّ اللَّهَ قَوِىٌّ عَزِيزٌ
(Allah has decreed: "Verily, it is I and My Messengers who shall be the victorious." Verily, Allah is All-Powerful, All-Mighty.) 58:21 and
وَلَيَنصُرَنَّ اللَّهُ مَن يَنصُرُهُ
(Verily, Allah will help those who help His (cause).) 22:40 and
يأَيُّهَا الَّذِينَ ءَامَنُواْ إِن تَنصُرُواْ اللَّهَ يَنصُرْكُمْ
(O you who believe! If you help (in the cause of) Allah, He will help you) 47:7, and,
إِنَّا لَنَنصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِينَ ءَامَنُواْ فِى الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُومُ الاٌّشْهَـدُ - يَوْمَ لاَ يَنفَعُ الظَّـلِمِينَ مَعْذِرَتُهُمْ وَلَهُمُ الْلَّعْنَةُ وَلَهُمْ سُوءُ الدَّارِ
(Verily, We will indeed make victorious Our Messengers and those who believe, in this world's life and on the Day when the witnesses will stand forth. The Day when their excuses will be of no profit to wrongdoers. Theirs will be the curse, and theirs will be the evil abode.) 40:51,52
بیئر معونہ کے شہداء اور جنت میں ان کی تمنا ؟ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ گو شہید فی سبیل اللہ دنیا میں مار ڈالے جاتے ہیں لیکن آخرت میں ان کی روحیں زندہ رہتی ہیں اور رزق پاتی ہیں، اس آیت کا شان نزول یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے چالیس یا ستر صحابیوں کو بیئر معونہ کی طرف بھیجا تھا یہ جماعت جب اس غار تک پہنچی جو اس کنویں کے اوپر تھی تو انہوں نے وہاں پڑاؤ کیا اور آپس میں کہنے لگے کون ہے ؟ جو اپنی جان خطرہ میں ڈال کر اللہ کے رسول ﷺ کا کلمہ ان تک پہنچائے ایک صحابی اس کے لئے تیار ہوئے اور ان لوگوں کے گھروں کے پاس آکر با آواز بلند فرمایا اے بیئر معونہ والو سنو میں اللہ کے رسول ﷺ کا قاصد ہوں میری گواہی ہے کہ معبود صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے اور محمد ﷺ اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں یہ سنتے ہی ایک کافر اپنا تیر سنبھالے ہوئے اپنے گھر سے نکلا اور اس طرح تاک کر لگایا کہ ادھر کی پسلی سے ادھر کی پسلی میں آرپار نکل گیا، اس صحابی کی زبان سے بیساختہ نکلا حدیث (فزت ورب الکعبۃ) کعبے کے اللہ کی قسم میں اپنی مراد کو پہنچ گیا اب کفار نشانات ٹٹولتے ہوئے اس غار پر جا پہنچے اور عامر بن طفیل نے جو ان کا سردار تھا ان سب مسلمانوں کو شہید کردیا حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ ان کے بارے میں قرآن اترا کہ ہماری جانب سے ہماری قوم کو یہ خبر پہنچا دو کہ ہم اپنے رب سے ملے وہ ہم سے راضی ہوگیا اور ہم اس سے راضی ہوگئے ہم ان آیتوں کو برابر پڑھتے رہے پھر ایک مدت کے بعد یہ منسوخ ہو کر اٹھا لی گئیں اور آیت (ولا تحسبن) الخ، اتری (محمد بن جریر) صحیح مسلم شریف میں ہے حضرت مسروق فرماتے ہیں ہم نے حضرت عبداللہ سے اس آیت کا مطلب پوچھا تو حضرت عبداللہ نے فرمایا ہم نے رسول ﷺ سے اس آیت کا مطلب دریافت کیا تھا تو آپ نے فرمایا ان کی روحیں سبز رنگ پرندوں کے قالب میں ہیں۔ عرش کی قندلیں ان کے لئے ہیں ساری جنت میں جہاں کہیں چاہیں چریں چگیں اور ان قندیلیوں میں آرام کریں ان کی طرف ان کے رب نے ایک مرتبہ نظر کی اور دریافت فرمایا کچھ اور چاہتے ہو ؟ کہنے لگے اے اللہ اور کیا مانگیں ساری جنت میں سے جہاں کہیں سے چاہیں کھائیں پئیں اختیار ہے پھر کیا طلب کریں اللہ تعالیٰ نے ان سے پھر یہی پوچھا تیسری مرتبہ یہی سوال کیا جب انہوں نے دیکھا کہ بغیر کچھ مانگے چارہ ہی نہیں تو کہنے لگے اے رب ! ہم چاہتے ہیں کہ تو ہماری روحوں کو جسموں کی طرف لوٹا دے ہم پھر دنیا میں جا کر تیری راہ میں جہاد کریں اور مارے جائیں اب معلوم ہوگیا کہ انہیں کسی اور چیز کی حاجت نہیں تو ان سے پوچھنا چھوڑ دیا کہ کیا چاہتے ہو ؟ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جو لوگ مرجائیں اور اللہ کے ہاں بہتری پائیں وہ ہرگز دنیا میں آنا پسند نہیں کرتے مگر شہید کہ وہ تمنا کرتا ہے کہ دنیا میں دوبارہ لوٹایا جائے اور دوبارہ راہ اللہ میں شہید ہو کیونکہ شہادت کے درجات کو وہ دیکھ رہا ہے (مسند احمد) صحیح مسلم شریف میں بھی یہ حدیث ہے، مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے فرمایا اے جابر تمہیں معلوم بھی ہے ؟ کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے والد کو زندہ کیا اور ان سے کہا اے میرے بندے مانگ کیا مانگتا ہے ؟ تو کہا اے اللہ دنیا میں پھر بھیج تاکہ میں دوبارہ تیری راہ میں مارا جاؤں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا یہ تو میں فیصلہ کرچکا ہوں کہ کوئی یہاں دوبارہ لوٹایا نہیں جائے گا، ان کا نام حضرت عبداللہ بن عمرو بن حرام انصاری تھا اللہ تعالیٰ ان سے رضامند ہو، صحیح بخاری شریف میں ہے حضرت جابر فرماتے ہیں میرے باپ کی شہادت کے بعد میں رونے لگا اور ابا کے منہ سے کپڑا ہٹا ہٹا کر بار بار ان کے چہرے کو دیکھ رہا تھا۔ صحابہ مجھے منع کرتے تھے لیکن آنحضرت ﷺ خاموش تھے پھر حضور ﷺ نے فرمایا جابر رو مت جب تک تیرے والد کو اٹھایا نہیں گیا فرشتے اپنے پروں سے اس پر سایہ کئے ہوئے ہیں، مسند احمد میں ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا جب تمہارے بھائی احد والے دن شہید کئے گئے تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی روحیں سبز پرندوں کے قالب میں ڈال دیں جو جنتی درختوں کے پھل کھائیں اور جنتی نہروں کا پانی پئیں اور عرش کے سائے تلے وہاں لٹکتی ہوئی قندیلوں میں آرام و راحت حاصل کریں جب کھانے پینے رہنے سہنے کی یہ بہترین نعمتیں انہیں ملیں تو کہنے لگے کاش کہ ہمارے بھائیوں کو جو دنیا میں ہیں ہماری ان نعمتوں کی خبر مل جاتی تاکہ وہ جہاد سے منہ نہ پھیریں اور اللہ کی راہ کی لڑائیوں سے تھک کر نہ بیٹھ رہیں اللہ تعالیٰ نے ان سے فرمایا تم بےفکر رہو میں یہ خبر ان تک پہنچا دیتا ہوں چناچہ یہ آیتیں نازل فرمائیں، حضرت ابن عباس سے یہ بھی مروی ہے کہ حضرت حمزہ ؓ اور آپ کے ساتھیوں کے بارے میں آیتیں اتریں (مستدرک حاکم) یہ بھی مفسرین نے فرمایا ہے کہ احد کے شہیدوں کے بارے میں یہ آیتیں نازل ہوئیں۔ ابوبکر بن مردویہ میں حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے دیکھا اور فرمانے لگے جابر کیا بات ہے کہ تم مجھے غمگین نظر آتے ہو ؟ میں نے کہا یا رسول اللہ میرے والد شہید ہوگئے جن پر بار قرض بہت ہے اور میرے چھوٹے چھوٹے بہن بھائی بہت ہیں آپ نے فرمایا سن میں تجھے بتاؤں جس کسی سے اللہ نے کلام کیا پردے کے پیچھے سے کلام کیا لیکن تیرے باپ سے آمنے سامنے بات چیت کی فرمایا مجھ سے مانگ جو مانگے گا دوں گا تیرے باپ نے کہا اللہ عزوجل میں تجھ سے یہ مانگتا ہوں کہ تو مجھے دنیا میں دوبارہ بھیجے اور میں تیری راہ میں دوسری مرتبہ شہید کیا جاؤں، رب عزوجل نے فرمایا یہ بات تو میں پہلے ہی مقرر کرچکا ہوں کہ کوئی بھی لوٹ کر دوبارہ دنیا میں نہیں جائے گا۔ کہنے لگے پھر اے اللہ میرے بعد والوں کو ان مراتب کی خبر پہنچا دی جائے چناچہ اللہ تعالیٰ نے آیت (ولا تحسبن) الخ، فرمائی، بیہقی میں اتنا اور زیادہ ہے کہ حضرت عبداللہ ؓ نے فرمایا میں تو اے اللہ تیری عبادت کا حق بھی ادا نہیں کرسکا، مسند احمد میں ہے شہید لوگ جنت کے دروازے پر نہر کے کنارے سے گنبد سبز میں ہیں، صبح شام انہیں جنت کی نعمتیں پہنچ جاتی ہیں، دونوں احادیث میں تطبیق یہ ہے کہ بعض شہداء وہ ہیں جن کی روحیں پرندوں کے قالب میں ہیں اور بعض وہ ہیں جن کا ٹھکانا یہ گنبد ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ جنت میں سے پھرتے پھراتے یہاں جمع ہوتے ہوں اور پھر یہ کھانے یہیں کھلائے جاتے ہوں واللہ اعلم، یہاں پر وہ حدیث بھی وارد کرنا بالکل برمحل ہوگا جس میں ہر مومن کے لئے یہی بشارت ہے چناچہ مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مومن کی روح ایک پرند میں ہے جو جنت کے درختوں کے پھل کھاتی پھرتی ہے یہاں تک کہ قیامت والے دن جبکہ اللہ تعالیٰ سب کو کھڑا کرے تو اسے بھی اس کے جسم کی طرف لوٹا دے گا، اس حدیث کے راویوں میں تین جلیل القدر امام ہیں جو ان چار اماموں میں سے ہیں جن کے مذاہب مانے جا رہے ہیں، ایک تو امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ آپ اس حدیث کو روایت کرتے ہیں، امام محمد بن ادریس شافعی ؒ سے ان کے استاد ہیں حضرت امام مالک بن انس ؓ پس امام احمد امام شافعی امام محمد بن ادریس شافعی ؒ سے ان کے استاد ہیں۔ حضرت امام مالک بن انس ؓ پس امام احمد امام شافعی امام مالک تینوں زبردست پیشوا اس حدیث کے راوی ہیں۔ پس اس حدیث سے ثابت ہوا کہ ایمانداروں کی روح جنتی پرند کی شکل میں جنت میں رہتی ہے اور شہیدوں کی روحیں جیسے کے پہلے گذر چکا ہے سبز رنگ کے پرندوں کے قالب میں رہتی ہیں یہ روحیں مثل ستاروں کے ہیں جو عام مومنین کی روحوں کو یہ مرتبہ حاصل نہیں، یہ اپنے طور پر آپ ہی اڑتی ہیں، اللہ تعالیٰ سے جو بہت بڑا مہربان اور زبردست احسانوں والا ہے ہماری دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنے فضل و کرم سے ایمان و اسلام پر موت دے آمین۔ پھر فرمایا کہ یہ شہید جن جن نعمتوں اور آسائشوں میں ہیں ان سے بیحد مسرور اور بہت ہی خوش ہیں اور انہیں یہ بھی خوشی اور راحت ہے کہ ان کے بھائی بند جو ان کے بعد راہ اللہ میں شہید ہوں گے اور ان کے پاس آئیں گے انہیں آئندہ کا کچھ خوف نہ ہوگا اور اپنے پیچھے چھوڑی ہوئی چیزوں پر انہیں حسرت بھی نہ ہوگی، اللہ ہمیں بھی جنت نصیب کرے، حضرت محمد بن اسحاق فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ وہ خوش ہیں کہ ان کے کئی اور بھائی بند بھی جو جہاد میں لگے ہوئے ہیں وہ بھی شہید ہو کر ان کی نعمتوں میں ان کے شریک حال ہوں گے اور اللہ کے ثواب سے فائدہ اٹھائیں گے، حضرت سدی فرماتے ہیں شہید کو ایک کتاب دی جاتی ہے کہ فلاں دن تیرے پاس فلاں آئے گا اور فلاں دن فلاں آئے گا پس جس طرح دنیا والے اپنی کسی غیر حاضر کے آنے کی خبر سن کر خوش ہوتے ہیں اسی طرح یہ شہداء ان شہیدوں کی آنے کی خبر سے مسرور ہوتے ہیں، حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ جب شہید جنت میں گئے اور وہاں اپنی منزلیں اور رحمتیں دیکھیں تو کہنے لگے کاش کہ اس کا علم ہمارے ان بھائیوں کو بھی ہوتا جو اب تک دنیا میں ہی ہیں تاکہ وہ جواں مردی سے جان توڑ کر جہاد کرتے اور ان جگہوں میں جا گھستے جہاں سے زندہ آنے کی امید نہ ہوتی تو وہ بھی ہماری ان نعمتوں میں حصہ دار بنتے پس نبی ﷺ نے لوگوں کو ان کے اس حال کی خبر پہنچا دی اور اللہ تعالیٰ نے ان سے کہ دیا کہ میں نے تمہاری خبر تمہارے نبی ﷺ کو دے دی ہے اس سے وہ بہت ہی مسرور و محفوظ ہوئے، بخاری مسلم میں بیر معونہ والوں کا قصہ بیان ہوچکا ہے جو ستر شخص انصاری صحابی تھے اور ایک ہی دن صبح کے وقت کو بےدردی سے کفار نے تہ تیغ کیا تھا جن قاتلوں کے حق میں ایک ماہ نماز کی قنوت میں رسول اللہ ﷺ نے بد دعا کی تھی اور جن پر لعنت بھیجی تھی جن کے بارے میں قرآن کی یہ آیت اتری تھی کہ ہماری قوم کو ہماری خبر پہنچاؤ کہ ہم اپنے رب سے ملے وہ ہم سے راضی ہوا اور ہم اس سے راضی ہوگئے، وہ اللہ کی نعمت و فضل کو دیکھ دیکھ کر مسرور ہیں، حضرت عبدالرحمن فرماتے ہیں یہ آیت (یستبشرون) تمام ایمانداروں کے حق میں ہے خواہ شہید ہوں خواہ غیر۔ بہت کم ایسے موقع ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے نبیوں کی فضیلت اور ان کے ثوابوں کا ذکر نہ ہو۔ پھر ان سچے مومنین کا بیان تعریف کے ساتھ ہو رہا ہے۔ جنہوں نے حمراء اسد والے دن حکم رسول پر باوجود زخموں سے چور ہونے کے جہاد پر کمر کس لی تھی، مشرکین نے مسلمانوں کو مصیبتیں پہنچائیں اور اپنے گھروں کی طرف واپس چل دئیے۔ لیکن پھر انہیں اس کا خیال آیا کہ موقع اچھا تھا مسلمان ہار چکے تھے زخمی ہوگئے تھے ان کے بہادر شہید ہوچکے تھے اگر ہم اور جم کر لڑتے تو فیصلہ ہی ہوجاتا نبی ﷺ ان کا یہ ارادہ معلوم کر کے مسلمانوں کو تیار کرنے لگے کہ میرے ساتھ چلو ہم ان مشرکین کے پیچھے جائیں تاکہ ان پر رعب طاری ہو اور یہ جان لیں کہ مسلمان ابھی کمزور نہیں ہوئے احد میں جو لوگ موجود تھے صرف انہی کو ساتھ چلنے کا حکم ملا ہاں صرف حضرت جابر بن عبداللہ کو ان کے علاوہ بھی ساتھ لیا اس آواز پر بھی مسلمانوں نے لبیک کہی باوجود یہ کہ زخموں میں چور اور خون میں شرابور تھے لیکن اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کے لئے کمر بستہ ہوگئے، حضرت عکرمہ کا بیان ہے کہ جب مشرکین احد سے لوٹے تو راستے میں سوچنے لگے کہ نہ تو تم نے محمد ﷺ کو قتل کیا نہ مسلمانوں کی عورتوں کو پکڑا افسوس تم نے کچھ نہ کیا واپس لوٹو جب یہ خبر حضور ﷺ کو پہنچی تو آپ نے مسلمانوں کو تیاری کا حکم دیا یہ تیار ہوگئے اور مشرکین کے تعاقب میں چل پڑے یہاں تک کہ حمراء الاسد تک یا " بیئر ابی عینیہ " تک پہنچ گئے۔ مشرکین کے دل رعب و خوف سے بھر گئے اور یہ کہہ کر مکہ کی طرف چل دئیے اگلے سال دیکھا جائے گا حضور ﷺ بھی واپس مدینہ تشریف لائے، یہ بھی بالاستقلال ایک الگ لڑائی گنی جاتی ہے اسی کا ذکر اس آیت میں ہے احد کی لڑائی پندرہ شوال بروز ہفتہ ہوئی تھی سولہویں تاریخ بروز اتوار منادی رسول ﷺ نے ندا دی کہ لوگو دشمن کے تعاقب میں چلو اور وہی لوگ چلیں جو کل میدان میں تھے، اس آواز پر حضرت جابر حاضر ہوئے اور عرض کرنے لگے یا رسول اللہ ﷺ کل کی لڑائی میں میں نہ تھا اس لئے کہ میرے والد حضرت عبداللہ نے مجھ سے کہا بیٹے تمہارے ساتھ یہ چھوٹی چھوٹی بہنیں ہیں اسے تو نہ میں پسند کروں اور نہ تو کہ انہیں یہاں تنہا چھوڑ کر دونوں ہی چل دیں ایک جائے گا اور ایک یہاں رہے گا۔ مجھ سے یہ نہیں ہوسکتا کہ رسول اللہ ﷺ کے ہم رکاب تم جاؤ اور میں بیٹھا رہوں اس لئے میری خواہش ہے کہ تم اپنی بہنوں کے پاس رہو اور میں جاتا ہوں اس وجہ سے میں تو وہاں رہا اور میرے والد آپ کے ساتھ آئے اب میری عین تمنا ہے کہ آج مجھے اجازت دیجئے کہ میں آپ کے ساتھ چلوں چناچہ آپ نے اجازت دی حضور ﷺ کا سفر اس غرض سے تھا کہ دشمن دہل جائے اور پیچھے آتا ہوا دیکھ کر سمجھ لے کہ ان میں بہت کچھ قوت ہے اور ہمارے مقابلہ سے یہ عاجز نہیں، قبیلہ بنو عبدالاشہل کے ایک صحابی کا بیان ہے کہ غزوہ احد میں ہم دونوں بھائی شامل تھے اور سخت زخمی ہو کر ہم لوٹے تھے، جب اللہ کے رسول ﷺ کے منادی نے دشمن کے پیچھے جانے کی ندا دی تو ہم دونوں بھائیوں نے آپس میں کہا کہ افسوس نہ ہمارے پاس سواری ہے کہ اس پر سوار ہو کر اللہ کے نبی کے ساتھ جائیں نہ زخموں کے مارے جسم میں اتنی طاقت ہے کہ پیدل ساتھ ہو لیں افسوس کہ یہ غزوہ ہمارے ہاتھ سے نکل جائے گا ہمارے بیشمار گہرے زخم ہمیں آج جانے سے روک دیں گے لیکن پھر ہم نے ہمت باندھی مجھے اپنے بھائی کی نسبت ذرا ہلکے زخم تھے جب میرے بھائی بالکل عاجز آجاتے قدم نہ اٹھتا تو میں انہیں جوں توں کر کے اٹھا لیتا جب تھک جاتا اتار دیتا یونہی جوں توں کر کے ہم لشکر گاہ تک پہنچ ہی گئے۔ ؓ (سیرت ابن اسحاق) صحیح بخاری شریف میں ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے حضرت عروہ سے کہا اے بھانجے تیرے دونوں باپ انہی لوگوں میں سے ہیں جن کے بارے میں آیت (اَلَّذِيْنَ اسْتَجَابُوْا لِلّٰهِ وَالرَّسُوْلِ مِنْۢ بَعْدِ مَآ اَصَابَھُمُ الْقَرْحُ لِلَّذِيْنَ اَحْسَنُوْا مِنْھُمْ وَاتَّقَوْا اَجْرٌ عَظِيْمٌ) 3۔ آل عمران :172) آیت اتری ہے یعنی حضرت زبیر اور حضرت صدیق ؓ جبکہ نبی ﷺ کو احد کی جنگ میں نقصان پہنچا اور مشرکین آگے چلے تو آپ کو خیال ہوا کہ کہیں یہ پھر واپس نہ لوٹیں لہذا آپ نے فرمایا کوئی ہے جو ان کے پیچھے جائے اس پر ستر شخص اس کام کے لئے مستعد ہوگئے جن میں ایک حضرت ابوبکر ؓ تھے، دوسرے حضرت زبیر ؓ تھے، یہ روایت اور بہت سی اسناد سے بہت سی کتابوں میں ہے، ابن مردویہ میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت عائشہ ؓ سے فرمایا کہ تیرے دونوں باپ ان لوگوں میں سے ہیں لیکن یہ مرفوع بیان کرنا محض خطا ہے اس لئے بھی کہ اس کی اسناد میں ثقہ راویوں کا اختلاف ہے جو حضرت عائشہ کے باپ دادا میں سے نہیں صحیح یہ ہے کہ یہ بات حضرت عائشہ نے اپنے بھانجے حضرت اسماء بنت ابی بکر کے لڑکے عروہ سے کہی ہے، حضرت ابن عباس کا بیان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ابو سفیان کے دل میں رعب ڈال دیا اور باوجودیکہ کہ وہ احد کی لڑائی میں قدرے کامیاب ہوگیا تھا لیکن تاہم مکہ کی طرف چل دیا نبی ﷺ نے فرمایا کہ ابو سفیان تمہیں نقصان پہنچا کر لوٹ گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے دل کو مرعوب کردیا ہے، احد کی لڑائی شوال میں ہوئی تھی اور تاجر لوگ ذی قعدہ میں مدینہ آتے تھے اور بدر صغریٰ میں اپنے ڈیرے ہر سال اس ماہ میں ڈالا کرتے تھے اس دفعہ بھی اس واقعہ کے بعد لوگ آئے مسلمان اپنے زخموں میں چور تھے۔ حضور ﷺ سے اپنی تکالیف بیان کرتے تھے اور سخت صدمہ میں تھے۔ نبی ﷺ نے لوگوں کو اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ آپ کے ساتھ چلیں اور فرمایا کہ یہ لوگ اب کوچ کر جائیں گے اور پھر حج کو آئیں گے اور پھر اگلے سال تک یہ طاقت انہیں حاصل نہیں ہوگی لیکن شیطان نے اپنے دوستوں کو دھمکانا اور بہکانا شروع کردیا اور کہنے لگا کہ ان لوگوں نے تمہارے استیصال کے لئے لشکر تیار کر لئے ہیں جس بنا پر لوگ ڈھیلے پڑگئے آپ نے فرمایا سنو خواہ تم میں سے ایک بھی نہ چلے میں تن تنہا جاؤں گا پھر آپ کے رغبت دلانے پر حضرت ابو بکر، حضرت عمر، حضرت عثمان، حضرت علی، حضرت زبیر، حضرت سعد، حضرت طلحہ، حضرت عبدالرحمن بن عوف، حضرت عبداللہ بن مسعود، حضرت حذیفہ بن یمان، حضرت ابو عبیدہ بن جراح وغیرہ ستر صحابہ آپ کے زیر رکاب چلنے پر آمادہ ہوئے۔ ؓ ، یہ مبارک لشکر ابو سفیان کی جستجو میں بدر صغریٰ تک پہنچ گیا انہی کی اس فضیلت اور جاں بازی کا ذکر اس مبارک آیت میں ہے، حضور ﷺ اس سفر میں مدینہ سے آٹھ میل حمراء اسد تک پہنچ گئے۔ مدینہ میں اپنا نائب آپ نے حضرت ابن ام مکتوم ؓ کو بنایا تھا۔ وہاں آپ نے پیر منگل بدھ تک قیام کیا پھر مدینہ لوٹ آئے، اثناء قیام میں قبیلہ خزاعہ کا سردار معبد خزاعی یہاں سے نکلا تھا یہ خود مشرک تھا لیکن اس پورے قبیلے سے حضور ﷺ کی صلح و صفائی تھی اس قبیلہ کے مشرک مومن سب آپ کے خیر خواہ تھے اس نے کہا کہ حضور ﷺ کے ساتھیوں کو جو تکلیف پہنچی اس پر ہمیں سخت رنج ہے اللہ تعالیٰ آپ کو کامیابی کی خوشی نصیب فرمائے، حمراء اسد پر آپ پہنچے مگر اس سے پہلے ابو سفیان چل دیا تھا گو اس نے اور اس کے ساتھیوں نے واپس آنے کا ارادہ کیا تھا کہ جب ہم ان پر غالب آگئے انہیں قتل کیا مارا پیٹا زخمی کیا پھر ادھورا کام کیوں چھوڑیں واپس جا کر سب کو تہ تیغ کردیں، یہ مشورے ہو ہی رہے تھے کہ معبد خزاعی وہاں پہنچا ابو سفیان نے اس سے پوچھا کہو کیا خبریں ہیں اس نے کہا آنحضور مع صحابہ کے تم لوگوں کے تعاقب میں آرہے ہیں وہ لوگ سخت غصے میں ہیں جو پہلے لڑائی میں شریک نہ تھے وہ بھی شامل ہوگئے ہیں سب کے تیور بدلے ہوئے ہیں اور بھرپور طاقت کے ساتھ حملہ آور ہو رہے ہیں میں نے تو ایسا لشکر کبھی دیکھا نہیں، یہ سن کر ابو سفیان کے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے اور کہنے لگا اچھا ہی ہوا جو تم سے ملاقات ہوگئی ورنہ ہم تو خود ان کی طرف جانے کے لئے تیار تھے، معبد نے کہا ہرگز یہ ارادہ نہ کرو اور میری بات کا کیا ہے غالباً تم یہاں سے کوچ کرنے سے پہلے ہی لشکر اسلام کے گھوڑوں کو دیکھ لو گے میں ان کے لشکر ان کے غصے ان کی تیاری اور الوالعزمی کا حال بیان نہیں کرسکتا میں تو تم سے صاف کہتا ہوں کہ بھاگو اور اپنی جانیں بچاؤ میرے پاس ایسے الفاظ نہیں جن سے میں مسلمانوں کے غیظ و غضب اور تہورو شجاعت اور سختی اور پختگی کا بیان کرسکوں، پس مختصر یہ ہے کہ جان کی خیر مناتے ہو تو فوراً یہاں سے کوچ کرو، ابو سفیان اور اس کے ساتھیوں کے چھکے چھوٹ گئے اور انہوں نے یہاں سے مکہ کی راہ لی، قبیلہ عبدالقیس کے آدمی جو کاروبار کی غرض سے مدینہ جا رہے تھے ان سے ابو سفیان نے کہا کہ تم حضور ﷺ کو یہ خبر پہنچا دینا کہ ہم نے انہیں تہ تیغ کردینے کے لئے لشکر جمع کر لئے ہیں اور ہم واپس لوٹنے کا ارادہ میں ہیں، اگر تم نے یہ پیغام پہنچا دیا تو ہم تمہیں سوق عکاظ میں بہت ساری کشمش دیں گے چناچہ ان لوگوں نے حمراء اسد میں آکر بطور ڈراوے کے نمک مرچ لگا کر یہ وحشت اثر خبر سنائی لیکن صحابہ نے نہایت استقلال اور پامردی سے جواب دیا کہ ہمیں اللہ کافی ہے اور وہی بہترین کارساز ہے، جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں نے ان کے لئے ایک پتھر کا نشان مقرر کر رکھا ہے اگر یہ لوٹیں گے تو وہاں پہنچ کر اس طرح مٹ جائیں گے جیسے گزشتہ کل کا دن، بعض لوگوں نے یہ بھی کہا ہے کہ یہ آیت بدر کے بارے میں نازل ہوئی ہے لیکن صحیح تر یہی ہے کہ حمراء اسد کے بارے میں نازل ہوئی۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے دشمنوں نے انہیں پژمردہ دل کرنے کے لئے دشمنوں کے سازو سامان اور ان کی کثرت وبہتات سے ڈرایا لیکن وہ صبر کے پہاڑ ثابت ہوئے ان کے غیر متزلزل یقین میں کچھ فرق نہ آیا بلکہ وہ توکل میں اور بڑھ گئی اور اللہ کی طرف نظریں کر کے اس سے امداد طلب کی، صحیح بخاری شریف میں حضرت عبداللہ بن عباس سے مروی ہے کہ آیت (حسبنا اللہ) الخ، حضرت ابراہیم نے آگ میں پڑتے وقت پڑھا تھا اور حضرت محمد ﷺ نے اس وقت جب کہ کافروں کے ٹڈی دل لشکر سے لوگوں نے آپ کو خوف زدہ کرنا چاہا اس وقت پڑھا، تعجب کی بات ہے کہ امام حاکم نے اس روایت کو رد کر کے فرمایا ہے کہ یہ بخاری مسلم میں نہیں۔ بخاری کی ایک روایت میں ہے کہ احد کے موقع پر جب حضور ﷺ کو کفار کے لشکروں کی خبر دی گئی تو آپ نے یہی کلمہ فرمایا اور روایت میں ہے کہ حضرت علی کی سردار کے ماتحت جب حضور ﷺ نے ایک چھوٹا سا لشکر روانہ کیا اور راہ میں خزاعہ کے ایک اعرابی نے یہ خبر سنائی تو آپ نے یہ فرمایا تھا۔ ابن مردویہ کی حدیث میں ہے آپ فرماتے ہیں جب تم پر کوئی بہت بڑا کام آپڑے تو تم آیت (حسبنا اللہ) آخر تک پڑھو مسند احمد میں ہے کہ دو شخصوں کے درمیان حضور ﷺ نے فیصلہ کیا تو جس کے خلاف فیصلہ صادر ہوا تھا اس نے یہی کلمہ پڑھا آپ نے اسے واپس بلا کر فرمایا بزدلی اور سستی پر اللہ کی ملامت ہوتی ہے دانائی دور اندیشی اور عقلمندی کیا کرو پھر کسی امر میں پھنس جاؤ تو یہی پڑھ لیا کرو، مسند کی اور حدیث میں ہے کس طرح بےفکر اور فارغ ہو کر آرام پاؤں حالانکہ صاحب صور نے صور منہ میں لے رکھا ہے اور پیشانی جھکائے حکم اللہ کا منتظر ہے کہ کب حکم ہوا اور وہ صور پھونک دے، صحابہ نے کہا حضور ﷺ ہم کیا پڑھیں آپ نے فرمایا آیت (حسبنا اللہ ونعم الوکیل) (علی اللہ توکلنا) پڑھو ام المومنین حضرت زینب اور ام المومنین حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ حضرت زینب نے فخر سے فرمایا میرا نکاح خود اللہ نے کردیا ہے اور تمہارے نکاح ولی وارثوں نے کئے ہیں، صدیقہ نے فرمایا میری برأت اور پاکیزگی کی آیت اللہ تعالیٰ نے آسمان سے اپنے پاک کلام میں نازل فرمائی ہیں حضرت زینب اسے مان گئیں اور پوچھا یہ بتاؤ تم نے حضرت صفوان بن معطل کی سواری پر سوار ہوتے وقت کیا پڑھا تھا، صدیقہ نے فرمایا دعا (حسبی اللہ ونعم الوکیل) یہ سن کر ام المومنین حضرت زینب ؓ نے فرمایا تم نے ایمان والوں کا کلمہ کہا تھا، چناچہ اس آیت میں بھی رب رحیم کا ارشاد ہے کہ ان توکل کرنے والوں کی کفایت اللہ تعالیٰ نے کی اور ان کے ساتھ جو لوگ برائی کا ارادہ رکھتے تھے انہیں ذلت اور بربادی کے ساتھ پسپا کیا، یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے اپنے شہروں کی طرف بغیر کسی نقصان اور برائی کے لوٹے دشمن اپنی مکاریوں میں ناکام رہا، ان سے اللہ خوش ہوگیا کیونکہ انہوں نے اس کی خوشی کا کام انجام دیا تھا اللہ تعالیٰ بڑے فضل و کرم والا ہے۔ ابن عباس کا فرمان ہے کہ نعمت تو یہ تھی کہ وہ سلامت رہے اور فضل یہ تھا کہ حضور ﷺ نے تاجروں کے ایک قافلہ سے مال خرید لیا جس میں بہت ہی نفع ہوا اور اس کل نفع کو آپ نے اپنے ساتھیوں میں تقسیم فرما دیا۔ حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ ابو سفیان نے حضور ﷺ سے کہا اب وعدے کی جگہ بدر ہے آپ نے فرمایا ممکن ہے چناچہ وہاں پہنچے تو یہ ڈرپوک آیا ہی نہیں وہاں بازار کا دن تھا مال خرید لیا جو نفع سے بکا اسی کا نام غزوہ بدر صغریٰ ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ یہ شیطان تھا جو اپنے دوستوں کے ذریعہ تمہیں دھمکا رہا تھا اور گیدڑ بھبکیاں دے رہا تمہیں چاہئے کہ ان سے نہ ڈرو صرف میرا ہی خوف دل میں رکھو کیونکہ ایمان داری کی یہی شرط ہے کہ جب کوئی ڈرائے دھمکائے اور دینی امور سے تمہیں باز رکھنا چاہئے تو مسلمان اللہ پر بھروسہ کرے اس کی طرف سمٹ جائے اور یقین مانے کہ کافی اور ناصر وہی ہے جیسے اور جگہ ہے آیت (اَلَيْسَ اللّٰهُ بِكَافٍ عَبْدَهٗ ۭ وَيُخَوِّفُوْنَكَ بالَّذِيْنَ مِنْ دُوْنِهٖ) 39۔ الزمر :36) کیا اللہ جل شانہ اپنے بندوں کو کافی نہیں یہ لوگ تجھے اس کے سوا اوروں سے ڈرا رہے ہیں (یہاں تک کہ فرمایا) تو کہہ کہ مجھے اللہ کافی ہے توکل کرنے والوں کو اسی پر بھروسہ کرنا چاہئے اور جگہ فرمایا اولیاء شیطان سے لڑو۔ شیطان کا مکر بڑا بودا ہے۔ اور جگہ ارشاد ہے یہ شیطانی لشکر ہے یاد رکھو شیطانی لشکر ہی گھاٹے اور خسارے میں ہے اور جگہ ارشاد ہے آیت (كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِيْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ قَوِيٌّ عَزِيْزٌ) 58۔ المجادلہ :21) اللہ تعالیٰ لکھ چکا ہے کہ غلبہ یقینا مجھے اور میرے رسولوں کو ہی ہوگا اللہ قوی اور عزیز ہے۔ اور جگہ ارشاد ہے آیت (ۭوَلَيَنْصُرَنَّ اللّٰهُ مَنْ يَّنْصُرُهٗ ۭ اِنَّ اللّٰهَ لَقَوِيٌّ عَزِيْزٌ) 22۔ الحج :40) جو اللہ کی مدد کرے گا اس کی امداد فرمائے گا اور فرمان ہے آیت (يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِنْ تَنْصُرُوا اللّٰهَ يَنْصُرْكُمْ وَيُثَبِّتْ اَقْدَامَكُمْ) 47۔ محمد :7) اے ایمان والو اگر تم اللہ کی مدد کرو گے تو اللہ تمہاری بھی مدد کرے گا اور آیت میں ہے آیت (اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُوْمُ الْاَشْهَادُ) 40۔ غافر :51) بالیقین ہم اپنے رسولوں کی اور ایمان داروں کی مدد دینا میں بھی کریں گے اور اس دن بھی جس دن گواہ کھڑے ہوں گے جس دن ظالموں کو عذر معذرت نفع نہ دے گی ان کے لئے لعنت ہے اور ان کے لئے برا گھر ہے۔
171
View Single
۞يَسۡتَبۡشِرُونَ بِنِعۡمَةٖ مِّنَ ٱللَّهِ وَفَضۡلٖ وَأَنَّ ٱللَّهَ لَا يُضِيعُ أَجۡرَ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ
They rejoice because of the favours from Allah and (His) munificence, and because Allah does not waste the reward of the believers.
وہ اللہ کی (تجلیّاتِ قُرب کی) نعمت اور (لذّاتِ وصال کے) فضل سے مسرور رہتے ہیں اور اس پر (بھی) کہ اللہ ایمان والوں کا اجر ضائع نہیں فرماتا
Tafsir Ibn Kathir
Virtues of the Martyrs
Allah states that even though the martyrs were killed in this life, their souls are alive and receiving provisions in the Dwelling of Everlasting Life. In his Sahih, Muslim recorded that Masruq said, "We asked `Abdullah about this Ayah,
وَلاَ تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُواْ فِى سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَتاً بَلْ أَحْيَاءٌ عِندَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ
(Think not of those as dead who are killed in the way of Allah. Nay, they are alive, with their Lord, and they have provision.)
He said, `We asked the Messenger of Allah ﷺ the same question and he said,
«أَرْوَاحُهُمْ فِي جَوْفِ طَيْرٍ خُضْرٍ، لَهَا قَنَادِيلُ مُعَلَّقَةٌ بِالْعَرْشِ، تَسْرَحُ مِنَ الْجَنَّةِ حَيْثُ شَاءَتْ، ثُمَّ تَأْوِي إِلَى تِلْكَ الْقَنَادِيلِ، فَاطَّلَعَ إِلَيْهِمْ رَبُّهُمُ اطِّلَاعَةً فَقَالَ: هَلْ تَشْتَهُونَ شَيْئًا؟ فَقَالُوا: أَيَّ شَيْءٍ نَشْتَهِي وَنَحْنُ نَسْرَحُ مِنَ الْجَنَّةِ حَيْثُ شِئْنَا؟ فَفَعَلَ ذَلِكَ بِهِمْ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَلَمَّا رَأَوْا أَنَّهُمْ لَنْ يُتْرَكُوا مِنْ أَنْ يُسْأَلُوا، قَالُوا: يَا رَبِّ نُرِيدُ أَنْ تَرُدَّ أَرْوَاحَنَا فِي أَجْسَادِنَا حَتَّى نُقْتَلَ فِي سَبِيلِكَ مَرَّةً أُخْرَى، فَلَمَّا رَأَى أَنْ لَيْسَ لَهُمْ حَاجَةٌ، تُرِكُوا»
(Their souls are inside green birds that have lamps, which are hanging below the Throne (of Allah), and they wander about in Paradise wherever they wish. Then they return to those lamps. Allah looks at them and says, `Do you wish for anything' They say, `What more could we wish for, while we go wherever we wish in Paradise' Allah asked them this question thrice, and when they realize that He will keep asking them until they give an answer, they say, `O Lord! We wish that our souls be returned to our bodies so that we are killed in Your cause again.' Allah knew that they did not have any other wish, so they were left.)"' There are several other similar narrations from Anas and Abu Sa`id.
Imam Ahmad recorded that Anas said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«مَا مِنْ نَفْسٍ تَمُوتُ، لَهَا عِنْدَ اللهِ خَيْرٌ، يَسُرُّهَا أَنْ تَرْجِعَ إِلَى الدُّنْيَا، إِلَّا الشَّهِيدُ، فَإِنَّهُ يَسُرُّهُ أَنْ يَرْجِعَ إِلَى الدُّنْيَا فَيُقْتَلَ مَرَّةً أُخْرَى، لِمَا يَرَى مِنْ فَضْلِ الشَهَادَة»
(No soul that has a good standing with Allah and dies would wish to go back to the life of this world, except for the martyr. He would like to be returned to this life so that he could be martyred again, for he tastes the honor achieved from martyrdom.) Muslim collected this Hadith
In addition, Imam Ahmad recorded that, Ibn `Abbas said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«لَمَّا أُصِيبَ إِخْوَانُكُمْ بِأُحُدٍ، جَعَلَ اللهُ أَرْوَاحَهُمْ فِي أَجْوَافِ طَيْرٍ خُضْرٍ، تَرِدُ أَنْهَارَ الْجَنَّـةِ، وَتَأْكُلُ مِنْ ثِمَارِهَا، وَتَأْوِي إِلى قَنَادِيلَ مِنْ ذَهَبٍ فِي ظِلِّ الْعَرْشِ، فَلَمَّا وَجَدُوا طِيبَ مَشْرَبِهِمْ وَمَأْكَلِهِمْ، وَحُسْنَ مُتَقَلَّبِهِمْ قَالُوا: يَا لَيْتَ إِخْوَانَنَا يَعْلَمُونَ مَا صَنَعَ اللهُ لَنَا، لِئَلَّا يَزْهَدُوا فِي الْجِهَادِ، وَلَا يَنْكُلُوا عَنِ الْحَرْبِ، فَقَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: أَنْا أُبَلِّغُهُمْ عَنْكُم»
(When your brothers were killed in Uhud, Allah placed their souls inside green birds that tend to the rivers of Paradise and eat from its fruits. They then return to golden lamps hanging in the shade of the Throne. When they tasted the delight of their food, drink and dwelling, they said, `We wish that our brothers knew what Allah gave us so that they will not abandon Jihad or warfare.' Allah said, `I will convey the news for you.') Allah revealed these and the following Ayat,
وَلاَ تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُواْ فِى سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَتاً بَلْ أَحْيَاءٌ عِندَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ
(Think not of those as dead who are killed in the way of Allah. Nay, they are alive, with their Lord, and they have provision.)
Qatadah, Ar-Rabi` and Ad-Dahhak said that these Ayat were revealed about the martyrs of Uhud.
Abu Bakr Ibn Marduwyah recorded that Jabir bin `Abdullah said, "The Messenger of Allah ﷺ looked at me one day and said, `O Jabir! Why do I see you sad' I said, `O Messenger of Allah! My father was martyred and left behind debts and children.' He said,
«أَلَا أُخْبِرُكَ؟ مَا كَلَّمَ اللهُ أَحَدًا قَطُّ إِلَّا مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ، وَإِنَّه كَلَّمَ أَبَاكَ كِفَاحًا»
، قال علي: الكفاح: المواجهة
«قَالَ: سَلْنِي أُعْطِكَ. قَالَ: أَسْأَلُكَ أَنْ أُرَدَّ إِلَى الدُّنْيَا فَأُقْتَلَ فِيكَ ثَانِيَةً، فَقَالَ الرَّبُّ عَزَّ وَجَلَّ: إِنَّهُ قَدْ سَبَقَ مِنِّي الْقَوْلُ: إِنَّهُمْ إِلَيْهَا لَا يَرْجِعُونَ. قَالَ: أَيْ رَبِّ فَأَبْلِغْ مَنْ وَرَائِي»
(Should I tell you that Allah never spoke to anyone except from behind a veil However, He spoke to your father directly. He said, `Ask Me and I will give you.' He said, `I ask that I am returned to life so that I am killed in Your cause again.' The Lord, Exalted He be, said, `I have spoken the word that they shall not be returned back to it (this life). ' He said, `O Lord! Then convey the news to those I left behind.') Allah revealed,
وَلاَ تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُواْ فِى سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَتاً
(Think not of those as dead who are killed in the way of Allah...)"
Imam Ahmad recorded that Ibn `Abbas said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«الشُّهَدَاءُ عَلى بَارِقِ نَهْرٍ بِبَابِ الْجَنَّـةِ، فِي قُبَّةٍ خَضْرَاءَ، يَخْرُجُ عَلَيْهِمْ رِزْقُهُمْ مِنَ الْجَنَّـةِ بُكْرَةً وَعَشِيًّا»
(The martyrs convene at the shore of a river close to the door of Paradise, in a green tent, where their provisions are brought to them from Paradise day and night.)
Ahmad and Ibn Jarir collected this Hadith, which has a good chain of narration. It appears that the martyrs are of different types, some of them wander in Paradise, and some remain close to this river by the door of Paradise. It is also possible that the river is where all the souls of the martyrs convene and where they are provided with their provision day and night, and Allah knows best. UImam Ahmad narrated a Hadith that contains good news for every believer that his soul will be wandering in Paradise, as well, eating from its fruits, enjoying its delights and happiness and tasting the honor that Allah has prepared in it for him. This Hadith has a unique, authentic chain of narration that includes three of the Four Imams. Imam Ahmad narrated this Hadith from Muhammad bin Idris Ash-Shafi`i who narrated it from Malik bin Anas Al-Asbuhi, from Az-Zuhri, from `Abdur-Rahman bin Ka`b bin Malik that his father said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«نَسَمَةُ الْمُؤْمِنِ طَائِرٌ يَعْلُقُ فِي شَجَرِ الْجَنَّـةِ حَتَّى يَرْجِعَهُ اللهُ إِلى جَسَدِهِ يَوْمَ يَبْعَثُه»
(The soul of the believer becomes a bird that feeds on the trees of Paradise, until Allah sends him back to his body when He resurrects him.)
This Hadith states that the souls of the believers are in the shape of a bird in Paradise. As for the souls of martyrs, they are inside green birds, like the stars to the rest of the believing souls. We ask Allah the Most Generous that He makes us firm on the faith.
Allah's statement,
فَرِحِينَ بِمَآ ءَاتَـهُمُ اللَّهُ
(They rejoice in what Allah has bestowed upon them) indicates that the martyrs who were killed in Allah's cause are alive with Allah, delighted because of the bounty and happiness they are enjoying. They are also awaiting their brethren, who will die in Allah's cause after them, for they will be meeting them soon. These martyrs do not have fear about the future or sorrow for what they left behind. We ask Allah to grant us Paradise. The Two Sahihs record from Anas, the story of the seventy Ansar Companions who were murdered at Bir Ma`unah in one night. In this Hadith, Anas reported that the Prophet used to supplicate to Allah in Qunut in prayer against those who killed them. Anas said, "A part of the Qur'an was revealed about them, but was later abrogated, `Convey to our people that we met Allah and He was pleased with us and made us pleased."'
Allah said next,
يَسْتَبْشِرُونَ بِنِعْمَةٍ مِّنَ اللَّهِ وَفَضْلٍ وَأَنَّ اللَّهَ لاَ يُضِيعُ أَجْرَ الْمُؤْمِنِينَ
(They rejoice in a grace and a bounty from Allah, and that Allah will not waste the reward of the believers) 3:171.
Muhammad bin Ishaq commented, "They were delighted and pleased because of Allah's promise that was fulfilled for them, and for the tremendous rewards they earned." `Abdur-Rahman bin Zayd bin Aslam said, "This Ayah encompasses all the believers, martyrs and otherwise. Rarely does Allah mention a bounty and a reward that He granted to the Prophets, without following that with what He has granted the believers after them."
The Battle of Hamra' Al-Asad
Allah said,
الَّذِينَ اسْتَجَابُواْ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ مِن بَعْدِ مَآ أَصَـبَهُمُ الْقَرْحُ
(Those who answered (the Call of) Allah and the Messenger after being wounded) 3:172.
This occurred on the day of Hamra' Al-Asad. After the idolators defeated the Muslims (at Uhud), they started on their way back home, but soon they were concerned because they did not finish off the Muslims in Al-Madinah, so they set out to make that battle the final one. When the Messenger of Allah ﷺ got news of this, he commanded the Muslims to march to meet the disbelievers, to bring fear to their hearts and to demonstrate that the Muslims still had strength to fight. The Prophet only allowed those who were present during Uhud to accompany him, except for Jabir bin `Abdullah Al-Ansari, as we will mention. The Muslims mobilized, even though they were still suffering from their injuries, in obedience to Allah and His Messenger .
Ibn Abi Hatim recorded that `Ikrimah said, "When the idolators returned towards Makkah after Uhud, they said, `You neither killed Muhammad nor collected female captives. Woe to you for what you did. Let us go back.' When the Messenger of Allah ﷺ heard this news, he mobilized the Muslim forces, and they marched until they reached Hamra Al-Asad. The idolators said, `Rather, we will meet next year', and the Messenger of Allah ﷺ went back to Al-Madinah, and this was considered a Ghazwah (battle). Allah sent down,
الَّذِينَ اسْتَجَابُواْ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ مِن بَعْدِ مَآ أَصَـبَهُمُ الْقَرْحُ لِلَّذِينَ أَحْسَنُواْ مِنْهُمْ وَاتَّقَوْاْ أَجْرٌ عَظِيمٌ
(Those who answered (the Call of) Allah and the Messenger after being wounded; for those of them who did good deeds and feared Allah, there is a great reward.)
Al-Bukhari recorded that `A'ishah said to `Urwah about the Ayah;
الَّذِينَ اسْتَجَابُواْ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ
(Those who answered (the Call of) Allah and the Messenger)
"My nephew! Your fathers Az-Zubayr and Abu Bakr were among them. After the Prophet suffered the calamity at Uhud and the idolators went back, he feared that the idolators might try to come back and he said, `Who would follow them' Seventy men, including Az-Zubayr and Abu Bakr, volunteered." This was recorded by Al-Bukhari alone.
As for Allah's statement,
الَّذِينَ قَالَ لَهُمُ النَّاسُ إِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُواْ لَكُمْ فَاخْشَوْهُمْ فَزَادَهُمْ إِيمَـناً
(Those unto whom the people said, "Verily, the people have gathered against you, therefore, fear them." But it (only) increased them in faith) 3:173, it means, those who threatened the people, saying that the disbelievers have amassed against them, in order to instill fear in them, but this did not worry them, rather, they trusted in Allah and sought His help,
وَقَالُواْ حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ
(and they said: "Allah is Sufficient for us, and He is the Best Disposer of affairs.")
Al-Bukhari recorded that Ibn `Abbas said,
حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ
("Allah Alone is Sufficient for us and He is the Best Disposer of affairs for us.")
"Ibrahim said it when he was thrown in fire. Muhammad said it when the people said, `Verily, the people have gathered against you, therefore, fear them.' But it only increased them in faith, and they said, `Allah is Sufficient for us and He is the Best Disposer of affairs for us."' Abu Bakr Ibn Marduwyah recorded that Anas bin Malik said that the Prophet was told on the day of Uhud, "Verily, the people have gathered against you, therefore, fear them." Thereafter, Allah sent down this Ayah 3:173.
This is why Allah said,
فَانْقَلَبُواْ بِنِعْمَةٍ مِّنَ اللَّهِ وَفَضْلٍ لَّمْ يَمْسَسْهُمْ سُوءٌ
(So they returned with grace and bounty from Allah. No harm touched them;) for when they relied on Allah, Allah took care of their worries, He confounded the plots of their enemies, and the Muslims returned to their land,
بِنِعْمَةٍ مِّنَ اللَّهِ وَفَضْلٍ لَّمْ يَمْسَسْهُمْ سُوءٌ
(with grace and bounty from Allah. No harm touched them;) safe from the wicked plots of their enemies,
وَاتَّبَعُواْ رِضْوَنَ اللَّهِ وَاللَّهُ ذُو فَضْلٍ عَظِيمٍ
(and they followed the pleasure of Allah. And Allah is the Owner of great bounty.)
Al-Bayhaqi recorded that Ibn `Abbas said about Allah's statement,
فَانْقَلَبُواْ بِنِعْمَةٍ مِّنَ اللَّهِ وَفَضْلٍ
(So they returned with grace and bounty from Allah,) "The `Grace' was that they were saved. The `Bounty' was that a caravan passed by, and those days were Hajj season days. Thus the Messenger of Allah ﷺ bought and sold and made a profit, which he divided between his Companions."
Allah then said,
إِنَّمَا ذَلِكُمُ الشَّيْطَـنُ يُخَوِّفُ أَوْلِيَاءَهُ
(It is only Shaytan that suggests to you the fear of his friends,) 3:175 meaning, Shaytan threatens you with his friends and tries to pretend they are powerful and fearsome. Allah said next,
فَلاَ تَخَافُوهُمْ وَخَافُونِ إِن كُنتُمْ مُّؤْمِنِينَ
(so fear them not, but fear Me, if you are indeed believers.) meaning, "If Shaytan brings these thoughts to you, then depend on Me and seek refuge with Me. Indeed, I shall suffice you and make you prevail over them." Similarly, Allah said,
أَلَيْسَ اللَّهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ وَيُخَوِّفُونَكَ بِالَّذِينَ مِن دُونِهِ
(Is not Allah Sufficient for His servant Yet they try to frighten you with those besides Him!) 39: 36, until,
قُلْ حَسْبِىَ اللَّهُ عَلَيْهِ يَتَوَكَّـلُ الْمُتَوَكِّلُونَ
(Say: "Sufficient for me is Allah; in Him those who trust must put their trust.") 39:38. Allah said,
فَقَـتِلُواْ أَوْلِيَاءَ الشَّيْطَـنِ إِنَّ كَيْدَ الشَّيْطَـنِ كَانَ ضَعِيفاً
(So fight you against the friends of Shaytan; ever feeble indeed is the plot of Shaytan.) 4:76 and
أُوْلَـئِكَ حِزْبُ الشَّيْطَـنِ أَلاَ إِنَّ حِزْبَ الشَّيْطَـنِ هُمُ الخَـسِرُونَ
(They are the party of Shaytan. Verily, it is the party of Shaytan that will be the losers!) 58:19,
كَتَبَ اللَّهُ لاّغْلِبَنَّ أَنَاْ وَرُسُلِى إِنَّ اللَّهَ قَوِىٌّ عَزِيزٌ
(Allah has decreed: "Verily, it is I and My Messengers who shall be the victorious." Verily, Allah is All-Powerful, All-Mighty.) 58:21 and
وَلَيَنصُرَنَّ اللَّهُ مَن يَنصُرُهُ
(Verily, Allah will help those who help His (cause).) 22:40 and
يأَيُّهَا الَّذِينَ ءَامَنُواْ إِن تَنصُرُواْ اللَّهَ يَنصُرْكُمْ
(O you who believe! If you help (in the cause of) Allah, He will help you) 47:7, and,
إِنَّا لَنَنصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِينَ ءَامَنُواْ فِى الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُومُ الاٌّشْهَـدُ - يَوْمَ لاَ يَنفَعُ الظَّـلِمِينَ مَعْذِرَتُهُمْ وَلَهُمُ الْلَّعْنَةُ وَلَهُمْ سُوءُ الدَّارِ
(Verily, We will indeed make victorious Our Messengers and those who believe, in this world's life and on the Day when the witnesses will stand forth. The Day when their excuses will be of no profit to wrongdoers. Theirs will be the curse, and theirs will be the evil abode.) 40:51,52
بیئر معونہ کے شہداء اور جنت میں ان کی تمنا ؟ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ گو شہید فی سبیل اللہ دنیا میں مار ڈالے جاتے ہیں لیکن آخرت میں ان کی روحیں زندہ رہتی ہیں اور رزق پاتی ہیں، اس آیت کا شان نزول یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے چالیس یا ستر صحابیوں کو بیئر معونہ کی طرف بھیجا تھا یہ جماعت جب اس غار تک پہنچی جو اس کنویں کے اوپر تھی تو انہوں نے وہاں پڑاؤ کیا اور آپس میں کہنے لگے کون ہے ؟ جو اپنی جان خطرہ میں ڈال کر اللہ کے رسول ﷺ کا کلمہ ان تک پہنچائے ایک صحابی اس کے لئے تیار ہوئے اور ان لوگوں کے گھروں کے پاس آکر با آواز بلند فرمایا اے بیئر معونہ والو سنو میں اللہ کے رسول ﷺ کا قاصد ہوں میری گواہی ہے کہ معبود صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے اور محمد ﷺ اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں یہ سنتے ہی ایک کافر اپنا تیر سنبھالے ہوئے اپنے گھر سے نکلا اور اس طرح تاک کر لگایا کہ ادھر کی پسلی سے ادھر کی پسلی میں آرپار نکل گیا، اس صحابی کی زبان سے بیساختہ نکلا حدیث (فزت ورب الکعبۃ) کعبے کے اللہ کی قسم میں اپنی مراد کو پہنچ گیا اب کفار نشانات ٹٹولتے ہوئے اس غار پر جا پہنچے اور عامر بن طفیل نے جو ان کا سردار تھا ان سب مسلمانوں کو شہید کردیا حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ ان کے بارے میں قرآن اترا کہ ہماری جانب سے ہماری قوم کو یہ خبر پہنچا دو کہ ہم اپنے رب سے ملے وہ ہم سے راضی ہوگیا اور ہم اس سے راضی ہوگئے ہم ان آیتوں کو برابر پڑھتے رہے پھر ایک مدت کے بعد یہ منسوخ ہو کر اٹھا لی گئیں اور آیت (ولا تحسبن) الخ، اتری (محمد بن جریر) صحیح مسلم شریف میں ہے حضرت مسروق فرماتے ہیں ہم نے حضرت عبداللہ سے اس آیت کا مطلب پوچھا تو حضرت عبداللہ نے فرمایا ہم نے رسول ﷺ سے اس آیت کا مطلب دریافت کیا تھا تو آپ نے فرمایا ان کی روحیں سبز رنگ پرندوں کے قالب میں ہیں۔ عرش کی قندلیں ان کے لئے ہیں ساری جنت میں جہاں کہیں چاہیں چریں چگیں اور ان قندیلیوں میں آرام کریں ان کی طرف ان کے رب نے ایک مرتبہ نظر کی اور دریافت فرمایا کچھ اور چاہتے ہو ؟ کہنے لگے اے اللہ اور کیا مانگیں ساری جنت میں سے جہاں کہیں سے چاہیں کھائیں پئیں اختیار ہے پھر کیا طلب کریں اللہ تعالیٰ نے ان سے پھر یہی پوچھا تیسری مرتبہ یہی سوال کیا جب انہوں نے دیکھا کہ بغیر کچھ مانگے چارہ ہی نہیں تو کہنے لگے اے رب ! ہم چاہتے ہیں کہ تو ہماری روحوں کو جسموں کی طرف لوٹا دے ہم پھر دنیا میں جا کر تیری راہ میں جہاد کریں اور مارے جائیں اب معلوم ہوگیا کہ انہیں کسی اور چیز کی حاجت نہیں تو ان سے پوچھنا چھوڑ دیا کہ کیا چاہتے ہو ؟ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جو لوگ مرجائیں اور اللہ کے ہاں بہتری پائیں وہ ہرگز دنیا میں آنا پسند نہیں کرتے مگر شہید کہ وہ تمنا کرتا ہے کہ دنیا میں دوبارہ لوٹایا جائے اور دوبارہ راہ اللہ میں شہید ہو کیونکہ شہادت کے درجات کو وہ دیکھ رہا ہے (مسند احمد) صحیح مسلم شریف میں بھی یہ حدیث ہے، مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے فرمایا اے جابر تمہیں معلوم بھی ہے ؟ کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے والد کو زندہ کیا اور ان سے کہا اے میرے بندے مانگ کیا مانگتا ہے ؟ تو کہا اے اللہ دنیا میں پھر بھیج تاکہ میں دوبارہ تیری راہ میں مارا جاؤں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا یہ تو میں فیصلہ کرچکا ہوں کہ کوئی یہاں دوبارہ لوٹایا نہیں جائے گا، ان کا نام حضرت عبداللہ بن عمرو بن حرام انصاری تھا اللہ تعالیٰ ان سے رضامند ہو، صحیح بخاری شریف میں ہے حضرت جابر فرماتے ہیں میرے باپ کی شہادت کے بعد میں رونے لگا اور ابا کے منہ سے کپڑا ہٹا ہٹا کر بار بار ان کے چہرے کو دیکھ رہا تھا۔ صحابہ مجھے منع کرتے تھے لیکن آنحضرت ﷺ خاموش تھے پھر حضور ﷺ نے فرمایا جابر رو مت جب تک تیرے والد کو اٹھایا نہیں گیا فرشتے اپنے پروں سے اس پر سایہ کئے ہوئے ہیں، مسند احمد میں ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا جب تمہارے بھائی احد والے دن شہید کئے گئے تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی روحیں سبز پرندوں کے قالب میں ڈال دیں جو جنتی درختوں کے پھل کھائیں اور جنتی نہروں کا پانی پئیں اور عرش کے سائے تلے وہاں لٹکتی ہوئی قندیلوں میں آرام و راحت حاصل کریں جب کھانے پینے رہنے سہنے کی یہ بہترین نعمتیں انہیں ملیں تو کہنے لگے کاش کہ ہمارے بھائیوں کو جو دنیا میں ہیں ہماری ان نعمتوں کی خبر مل جاتی تاکہ وہ جہاد سے منہ نہ پھیریں اور اللہ کی راہ کی لڑائیوں سے تھک کر نہ بیٹھ رہیں اللہ تعالیٰ نے ان سے فرمایا تم بےفکر رہو میں یہ خبر ان تک پہنچا دیتا ہوں چناچہ یہ آیتیں نازل فرمائیں، حضرت ابن عباس سے یہ بھی مروی ہے کہ حضرت حمزہ ؓ اور آپ کے ساتھیوں کے بارے میں آیتیں اتریں (مستدرک حاکم) یہ بھی مفسرین نے فرمایا ہے کہ احد کے شہیدوں کے بارے میں یہ آیتیں نازل ہوئیں۔ ابوبکر بن مردویہ میں حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے دیکھا اور فرمانے لگے جابر کیا بات ہے کہ تم مجھے غمگین نظر آتے ہو ؟ میں نے کہا یا رسول اللہ میرے والد شہید ہوگئے جن پر بار قرض بہت ہے اور میرے چھوٹے چھوٹے بہن بھائی بہت ہیں آپ نے فرمایا سن میں تجھے بتاؤں جس کسی سے اللہ نے کلام کیا پردے کے پیچھے سے کلام کیا لیکن تیرے باپ سے آمنے سامنے بات چیت کی فرمایا مجھ سے مانگ جو مانگے گا دوں گا تیرے باپ نے کہا اللہ عزوجل میں تجھ سے یہ مانگتا ہوں کہ تو مجھے دنیا میں دوبارہ بھیجے اور میں تیری راہ میں دوسری مرتبہ شہید کیا جاؤں، رب عزوجل نے فرمایا یہ بات تو میں پہلے ہی مقرر کرچکا ہوں کہ کوئی بھی لوٹ کر دوبارہ دنیا میں نہیں جائے گا۔ کہنے لگے پھر اے اللہ میرے بعد والوں کو ان مراتب کی خبر پہنچا دی جائے چناچہ اللہ تعالیٰ نے آیت (ولا تحسبن) الخ، فرمائی، بیہقی میں اتنا اور زیادہ ہے کہ حضرت عبداللہ ؓ نے فرمایا میں تو اے اللہ تیری عبادت کا حق بھی ادا نہیں کرسکا، مسند احمد میں ہے شہید لوگ جنت کے دروازے پر نہر کے کنارے سے گنبد سبز میں ہیں، صبح شام انہیں جنت کی نعمتیں پہنچ جاتی ہیں، دونوں احادیث میں تطبیق یہ ہے کہ بعض شہداء وہ ہیں جن کی روحیں پرندوں کے قالب میں ہیں اور بعض وہ ہیں جن کا ٹھکانا یہ گنبد ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ جنت میں سے پھرتے پھراتے یہاں جمع ہوتے ہوں اور پھر یہ کھانے یہیں کھلائے جاتے ہوں واللہ اعلم، یہاں پر وہ حدیث بھی وارد کرنا بالکل برمحل ہوگا جس میں ہر مومن کے لئے یہی بشارت ہے چناچہ مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مومن کی روح ایک پرند میں ہے جو جنت کے درختوں کے پھل کھاتی پھرتی ہے یہاں تک کہ قیامت والے دن جبکہ اللہ تعالیٰ سب کو کھڑا کرے تو اسے بھی اس کے جسم کی طرف لوٹا دے گا، اس حدیث کے راویوں میں تین جلیل القدر امام ہیں جو ان چار اماموں میں سے ہیں جن کے مذاہب مانے جا رہے ہیں، ایک تو امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ آپ اس حدیث کو روایت کرتے ہیں، امام محمد بن ادریس شافعی ؒ سے ان کے استاد ہیں حضرت امام مالک بن انس ؓ پس امام احمد امام شافعی امام محمد بن ادریس شافعی ؒ سے ان کے استاد ہیں۔ حضرت امام مالک بن انس ؓ پس امام احمد امام شافعی امام مالک تینوں زبردست پیشوا اس حدیث کے راوی ہیں۔ پس اس حدیث سے ثابت ہوا کہ ایمانداروں کی روح جنتی پرند کی شکل میں جنت میں رہتی ہے اور شہیدوں کی روحیں جیسے کے پہلے گذر چکا ہے سبز رنگ کے پرندوں کے قالب میں رہتی ہیں یہ روحیں مثل ستاروں کے ہیں جو عام مومنین کی روحوں کو یہ مرتبہ حاصل نہیں، یہ اپنے طور پر آپ ہی اڑتی ہیں، اللہ تعالیٰ سے جو بہت بڑا مہربان اور زبردست احسانوں والا ہے ہماری دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنے فضل و کرم سے ایمان و اسلام پر موت دے آمین۔ پھر فرمایا کہ یہ شہید جن جن نعمتوں اور آسائشوں میں ہیں ان سے بیحد مسرور اور بہت ہی خوش ہیں اور انہیں یہ بھی خوشی اور راحت ہے کہ ان کے بھائی بند جو ان کے بعد راہ اللہ میں شہید ہوں گے اور ان کے پاس آئیں گے انہیں آئندہ کا کچھ خوف نہ ہوگا اور اپنے پیچھے چھوڑی ہوئی چیزوں پر انہیں حسرت بھی نہ ہوگی، اللہ ہمیں بھی جنت نصیب کرے، حضرت محمد بن اسحاق فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ وہ خوش ہیں کہ ان کے کئی اور بھائی بند بھی جو جہاد میں لگے ہوئے ہیں وہ بھی شہید ہو کر ان کی نعمتوں میں ان کے شریک حال ہوں گے اور اللہ کے ثواب سے فائدہ اٹھائیں گے، حضرت سدی فرماتے ہیں شہید کو ایک کتاب دی جاتی ہے کہ فلاں دن تیرے پاس فلاں آئے گا اور فلاں دن فلاں آئے گا پس جس طرح دنیا والے اپنی کسی غیر حاضر کے آنے کی خبر سن کر خوش ہوتے ہیں اسی طرح یہ شہداء ان شہیدوں کی آنے کی خبر سے مسرور ہوتے ہیں، حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ جب شہید جنت میں گئے اور وہاں اپنی منزلیں اور رحمتیں دیکھیں تو کہنے لگے کاش کہ اس کا علم ہمارے ان بھائیوں کو بھی ہوتا جو اب تک دنیا میں ہی ہیں تاکہ وہ جواں مردی سے جان توڑ کر جہاد کرتے اور ان جگہوں میں جا گھستے جہاں سے زندہ آنے کی امید نہ ہوتی تو وہ بھی ہماری ان نعمتوں میں حصہ دار بنتے پس نبی ﷺ نے لوگوں کو ان کے اس حال کی خبر پہنچا دی اور اللہ تعالیٰ نے ان سے کہ دیا کہ میں نے تمہاری خبر تمہارے نبی ﷺ کو دے دی ہے اس سے وہ بہت ہی مسرور و محفوظ ہوئے، بخاری مسلم میں بیر معونہ والوں کا قصہ بیان ہوچکا ہے جو ستر شخص انصاری صحابی تھے اور ایک ہی دن صبح کے وقت کو بےدردی سے کفار نے تہ تیغ کیا تھا جن قاتلوں کے حق میں ایک ماہ نماز کی قنوت میں رسول اللہ ﷺ نے بد دعا کی تھی اور جن پر لعنت بھیجی تھی جن کے بارے میں قرآن کی یہ آیت اتری تھی کہ ہماری قوم کو ہماری خبر پہنچاؤ کہ ہم اپنے رب سے ملے وہ ہم سے راضی ہوا اور ہم اس سے راضی ہوگئے، وہ اللہ کی نعمت و فضل کو دیکھ دیکھ کر مسرور ہیں، حضرت عبدالرحمن فرماتے ہیں یہ آیت (یستبشرون) تمام ایمانداروں کے حق میں ہے خواہ شہید ہوں خواہ غیر۔ بہت کم ایسے موقع ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے نبیوں کی فضیلت اور ان کے ثوابوں کا ذکر نہ ہو۔ پھر ان سچے مومنین کا بیان تعریف کے ساتھ ہو رہا ہے۔ جنہوں نے حمراء اسد والے دن حکم رسول پر باوجود زخموں سے چور ہونے کے جہاد پر کمر کس لی تھی، مشرکین نے مسلمانوں کو مصیبتیں پہنچائیں اور اپنے گھروں کی طرف واپس چل دئیے۔ لیکن پھر انہیں اس کا خیال آیا کہ موقع اچھا تھا مسلمان ہار چکے تھے زخمی ہوگئے تھے ان کے بہادر شہید ہوچکے تھے اگر ہم اور جم کر لڑتے تو فیصلہ ہی ہوجاتا نبی ﷺ ان کا یہ ارادہ معلوم کر کے مسلمانوں کو تیار کرنے لگے کہ میرے ساتھ چلو ہم ان مشرکین کے پیچھے جائیں تاکہ ان پر رعب طاری ہو اور یہ جان لیں کہ مسلمان ابھی کمزور نہیں ہوئے احد میں جو لوگ موجود تھے صرف انہی کو ساتھ چلنے کا حکم ملا ہاں صرف حضرت جابر بن عبداللہ کو ان کے علاوہ بھی ساتھ لیا اس آواز پر بھی مسلمانوں نے لبیک کہی باوجود یہ کہ زخموں میں چور اور خون میں شرابور تھے لیکن اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کے لئے کمر بستہ ہوگئے، حضرت عکرمہ کا بیان ہے کہ جب مشرکین احد سے لوٹے تو راستے میں سوچنے لگے کہ نہ تو تم نے محمد ﷺ کو قتل کیا نہ مسلمانوں کی عورتوں کو پکڑا افسوس تم نے کچھ نہ کیا واپس لوٹو جب یہ خبر حضور ﷺ کو پہنچی تو آپ نے مسلمانوں کو تیاری کا حکم دیا یہ تیار ہوگئے اور مشرکین کے تعاقب میں چل پڑے یہاں تک کہ حمراء الاسد تک یا " بیئر ابی عینیہ " تک پہنچ گئے۔ مشرکین کے دل رعب و خوف سے بھر گئے اور یہ کہہ کر مکہ کی طرف چل دئیے اگلے سال دیکھا جائے گا حضور ﷺ بھی واپس مدینہ تشریف لائے، یہ بھی بالاستقلال ایک الگ لڑائی گنی جاتی ہے اسی کا ذکر اس آیت میں ہے احد کی لڑائی پندرہ شوال بروز ہفتہ ہوئی تھی سولہویں تاریخ بروز اتوار منادی رسول ﷺ نے ندا دی کہ لوگو دشمن کے تعاقب میں چلو اور وہی لوگ چلیں جو کل میدان میں تھے، اس آواز پر حضرت جابر حاضر ہوئے اور عرض کرنے لگے یا رسول اللہ ﷺ کل کی لڑائی میں میں نہ تھا اس لئے کہ میرے والد حضرت عبداللہ نے مجھ سے کہا بیٹے تمہارے ساتھ یہ چھوٹی چھوٹی بہنیں ہیں اسے تو نہ میں پسند کروں اور نہ تو کہ انہیں یہاں تنہا چھوڑ کر دونوں ہی چل دیں ایک جائے گا اور ایک یہاں رہے گا۔ مجھ سے یہ نہیں ہوسکتا کہ رسول اللہ ﷺ کے ہم رکاب تم جاؤ اور میں بیٹھا رہوں اس لئے میری خواہش ہے کہ تم اپنی بہنوں کے پاس رہو اور میں جاتا ہوں اس وجہ سے میں تو وہاں رہا اور میرے والد آپ کے ساتھ آئے اب میری عین تمنا ہے کہ آج مجھے اجازت دیجئے کہ میں آپ کے ساتھ چلوں چناچہ آپ نے اجازت دی حضور ﷺ کا سفر اس غرض سے تھا کہ دشمن دہل جائے اور پیچھے آتا ہوا دیکھ کر سمجھ لے کہ ان میں بہت کچھ قوت ہے اور ہمارے مقابلہ سے یہ عاجز نہیں، قبیلہ بنو عبدالاشہل کے ایک صحابی کا بیان ہے کہ غزوہ احد میں ہم دونوں بھائی شامل تھے اور سخت زخمی ہو کر ہم لوٹے تھے، جب اللہ کے رسول ﷺ کے منادی نے دشمن کے پیچھے جانے کی ندا دی تو ہم دونوں بھائیوں نے آپس میں کہا کہ افسوس نہ ہمارے پاس سواری ہے کہ اس پر سوار ہو کر اللہ کے نبی کے ساتھ جائیں نہ زخموں کے مارے جسم میں اتنی طاقت ہے کہ پیدل ساتھ ہو لیں افسوس کہ یہ غزوہ ہمارے ہاتھ سے نکل جائے گا ہمارے بیشمار گہرے زخم ہمیں آج جانے سے روک دیں گے لیکن پھر ہم نے ہمت باندھی مجھے اپنے بھائی کی نسبت ذرا ہلکے زخم تھے جب میرے بھائی بالکل عاجز آجاتے قدم نہ اٹھتا تو میں انہیں جوں توں کر کے اٹھا لیتا جب تھک جاتا اتار دیتا یونہی جوں توں کر کے ہم لشکر گاہ تک پہنچ ہی گئے۔ ؓ (سیرت ابن اسحاق) صحیح بخاری شریف میں ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے حضرت عروہ سے کہا اے بھانجے تیرے دونوں باپ انہی لوگوں میں سے ہیں جن کے بارے میں آیت (اَلَّذِيْنَ اسْتَجَابُوْا لِلّٰهِ وَالرَّسُوْلِ مِنْۢ بَعْدِ مَآ اَصَابَھُمُ الْقَرْحُ لِلَّذِيْنَ اَحْسَنُوْا مِنْھُمْ وَاتَّقَوْا اَجْرٌ عَظِيْمٌ) 3۔ آل عمران :172) آیت اتری ہے یعنی حضرت زبیر اور حضرت صدیق ؓ جبکہ نبی ﷺ کو احد کی جنگ میں نقصان پہنچا اور مشرکین آگے چلے تو آپ کو خیال ہوا کہ کہیں یہ پھر واپس نہ لوٹیں لہذا آپ نے فرمایا کوئی ہے جو ان کے پیچھے جائے اس پر ستر شخص اس کام کے لئے مستعد ہوگئے جن میں ایک حضرت ابوبکر ؓ تھے، دوسرے حضرت زبیر ؓ تھے، یہ روایت اور بہت سی اسناد سے بہت سی کتابوں میں ہے، ابن مردویہ میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت عائشہ ؓ سے فرمایا کہ تیرے دونوں باپ ان لوگوں میں سے ہیں لیکن یہ مرفوع بیان کرنا محض خطا ہے اس لئے بھی کہ اس کی اسناد میں ثقہ راویوں کا اختلاف ہے جو حضرت عائشہ کے باپ دادا میں سے نہیں صحیح یہ ہے کہ یہ بات حضرت عائشہ نے اپنے بھانجے حضرت اسماء بنت ابی بکر کے لڑکے عروہ سے کہی ہے، حضرت ابن عباس کا بیان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ابو سفیان کے دل میں رعب ڈال دیا اور باوجودیکہ کہ وہ احد کی لڑائی میں قدرے کامیاب ہوگیا تھا لیکن تاہم مکہ کی طرف چل دیا نبی ﷺ نے فرمایا کہ ابو سفیان تمہیں نقصان پہنچا کر لوٹ گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے دل کو مرعوب کردیا ہے، احد کی لڑائی شوال میں ہوئی تھی اور تاجر لوگ ذی قعدہ میں مدینہ آتے تھے اور بدر صغریٰ میں اپنے ڈیرے ہر سال اس ماہ میں ڈالا کرتے تھے اس دفعہ بھی اس واقعہ کے بعد لوگ آئے مسلمان اپنے زخموں میں چور تھے۔ حضور ﷺ سے اپنی تکالیف بیان کرتے تھے اور سخت صدمہ میں تھے۔ نبی ﷺ نے لوگوں کو اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ آپ کے ساتھ چلیں اور فرمایا کہ یہ لوگ اب کوچ کر جائیں گے اور پھر حج کو آئیں گے اور پھر اگلے سال تک یہ طاقت انہیں حاصل نہیں ہوگی لیکن شیطان نے اپنے دوستوں کو دھمکانا اور بہکانا شروع کردیا اور کہنے لگا کہ ان لوگوں نے تمہارے استیصال کے لئے لشکر تیار کر لئے ہیں جس بنا پر لوگ ڈھیلے پڑگئے آپ نے فرمایا سنو خواہ تم میں سے ایک بھی نہ چلے میں تن تنہا جاؤں گا پھر آپ کے رغبت دلانے پر حضرت ابو بکر، حضرت عمر، حضرت عثمان، حضرت علی، حضرت زبیر، حضرت سعد، حضرت طلحہ، حضرت عبدالرحمن بن عوف، حضرت عبداللہ بن مسعود، حضرت حذیفہ بن یمان، حضرت ابو عبیدہ بن جراح وغیرہ ستر صحابہ آپ کے زیر رکاب چلنے پر آمادہ ہوئے۔ ؓ ، یہ مبارک لشکر ابو سفیان کی جستجو میں بدر صغریٰ تک پہنچ گیا انہی کی اس فضیلت اور جاں بازی کا ذکر اس مبارک آیت میں ہے، حضور ﷺ اس سفر میں مدینہ سے آٹھ میل حمراء اسد تک پہنچ گئے۔ مدینہ میں اپنا نائب آپ نے حضرت ابن ام مکتوم ؓ کو بنایا تھا۔ وہاں آپ نے پیر منگل بدھ تک قیام کیا پھر مدینہ لوٹ آئے، اثناء قیام میں قبیلہ خزاعہ کا سردار معبد خزاعی یہاں سے نکلا تھا یہ خود مشرک تھا لیکن اس پورے قبیلے سے حضور ﷺ کی صلح و صفائی تھی اس قبیلہ کے مشرک مومن سب آپ کے خیر خواہ تھے اس نے کہا کہ حضور ﷺ کے ساتھیوں کو جو تکلیف پہنچی اس پر ہمیں سخت رنج ہے اللہ تعالیٰ آپ کو کامیابی کی خوشی نصیب فرمائے، حمراء اسد پر آپ پہنچے مگر اس سے پہلے ابو سفیان چل دیا تھا گو اس نے اور اس کے ساتھیوں نے واپس آنے کا ارادہ کیا تھا کہ جب ہم ان پر غالب آگئے انہیں قتل کیا مارا پیٹا زخمی کیا پھر ادھورا کام کیوں چھوڑیں واپس جا کر سب کو تہ تیغ کردیں، یہ مشورے ہو ہی رہے تھے کہ معبد خزاعی وہاں پہنچا ابو سفیان نے اس سے پوچھا کہو کیا خبریں ہیں اس نے کہا آنحضور مع صحابہ کے تم لوگوں کے تعاقب میں آرہے ہیں وہ لوگ سخت غصے میں ہیں جو پہلے لڑائی میں شریک نہ تھے وہ بھی شامل ہوگئے ہیں سب کے تیور بدلے ہوئے ہیں اور بھرپور طاقت کے ساتھ حملہ آور ہو رہے ہیں میں نے تو ایسا لشکر کبھی دیکھا نہیں، یہ سن کر ابو سفیان کے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے اور کہنے لگا اچھا ہی ہوا جو تم سے ملاقات ہوگئی ورنہ ہم تو خود ان کی طرف جانے کے لئے تیار تھے، معبد نے کہا ہرگز یہ ارادہ نہ کرو اور میری بات کا کیا ہے غالباً تم یہاں سے کوچ کرنے سے پہلے ہی لشکر اسلام کے گھوڑوں کو دیکھ لو گے میں ان کے لشکر ان کے غصے ان کی تیاری اور الوالعزمی کا حال بیان نہیں کرسکتا میں تو تم سے صاف کہتا ہوں کہ بھاگو اور اپنی جانیں بچاؤ میرے پاس ایسے الفاظ نہیں جن سے میں مسلمانوں کے غیظ و غضب اور تہورو شجاعت اور سختی اور پختگی کا بیان کرسکوں، پس مختصر یہ ہے کہ جان کی خیر مناتے ہو تو فوراً یہاں سے کوچ کرو، ابو سفیان اور اس کے ساتھیوں کے چھکے چھوٹ گئے اور انہوں نے یہاں سے مکہ کی راہ لی، قبیلہ عبدالقیس کے آدمی جو کاروبار کی غرض سے مدینہ جا رہے تھے ان سے ابو سفیان نے کہا کہ تم حضور ﷺ کو یہ خبر پہنچا دینا کہ ہم نے انہیں تہ تیغ کردینے کے لئے لشکر جمع کر لئے ہیں اور ہم واپس لوٹنے کا ارادہ میں ہیں، اگر تم نے یہ پیغام پہنچا دیا تو ہم تمہیں سوق عکاظ میں بہت ساری کشمش دیں گے چناچہ ان لوگوں نے حمراء اسد میں آکر بطور ڈراوے کے نمک مرچ لگا کر یہ وحشت اثر خبر سنائی لیکن صحابہ نے نہایت استقلال اور پامردی سے جواب دیا کہ ہمیں اللہ کافی ہے اور وہی بہترین کارساز ہے، جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں نے ان کے لئے ایک پتھر کا نشان مقرر کر رکھا ہے اگر یہ لوٹیں گے تو وہاں پہنچ کر اس طرح مٹ جائیں گے جیسے گزشتہ کل کا دن، بعض لوگوں نے یہ بھی کہا ہے کہ یہ آیت بدر کے بارے میں نازل ہوئی ہے لیکن صحیح تر یہی ہے کہ حمراء اسد کے بارے میں نازل ہوئی۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے دشمنوں نے انہیں پژمردہ دل کرنے کے لئے دشمنوں کے سازو سامان اور ان کی کثرت وبہتات سے ڈرایا لیکن وہ صبر کے پہاڑ ثابت ہوئے ان کے غیر متزلزل یقین میں کچھ فرق نہ آیا بلکہ وہ توکل میں اور بڑھ گئی اور اللہ کی طرف نظریں کر کے اس سے امداد طلب کی، صحیح بخاری شریف میں حضرت عبداللہ بن عباس سے مروی ہے کہ آیت (حسبنا اللہ) الخ، حضرت ابراہیم نے آگ میں پڑتے وقت پڑھا تھا اور حضرت محمد ﷺ نے اس وقت جب کہ کافروں کے ٹڈی دل لشکر سے لوگوں نے آپ کو خوف زدہ کرنا چاہا اس وقت پڑھا، تعجب کی بات ہے کہ امام حاکم نے اس روایت کو رد کر کے فرمایا ہے کہ یہ بخاری مسلم میں نہیں۔ بخاری کی ایک روایت میں ہے کہ احد کے موقع پر جب حضور ﷺ کو کفار کے لشکروں کی خبر دی گئی تو آپ نے یہی کلمہ فرمایا اور روایت میں ہے کہ حضرت علی کی سردار کے ماتحت جب حضور ﷺ نے ایک چھوٹا سا لشکر روانہ کیا اور راہ میں خزاعہ کے ایک اعرابی نے یہ خبر سنائی تو آپ نے یہ فرمایا تھا۔ ابن مردویہ کی حدیث میں ہے آپ فرماتے ہیں جب تم پر کوئی بہت بڑا کام آپڑے تو تم آیت (حسبنا اللہ) آخر تک پڑھو مسند احمد میں ہے کہ دو شخصوں کے درمیان حضور ﷺ نے فیصلہ کیا تو جس کے خلاف فیصلہ صادر ہوا تھا اس نے یہی کلمہ پڑھا آپ نے اسے واپس بلا کر فرمایا بزدلی اور سستی پر اللہ کی ملامت ہوتی ہے دانائی دور اندیشی اور عقلمندی کیا کرو پھر کسی امر میں پھنس جاؤ تو یہی پڑھ لیا کرو، مسند کی اور حدیث میں ہے کس طرح بےفکر اور فارغ ہو کر آرام پاؤں حالانکہ صاحب صور نے صور منہ میں لے رکھا ہے اور پیشانی جھکائے حکم اللہ کا منتظر ہے کہ کب حکم ہوا اور وہ صور پھونک دے، صحابہ نے کہا حضور ﷺ ہم کیا پڑھیں آپ نے فرمایا آیت (حسبنا اللہ ونعم الوکیل) (علی اللہ توکلنا) پڑھو ام المومنین حضرت زینب اور ام المومنین حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ حضرت زینب نے فخر سے فرمایا میرا نکاح خود اللہ نے کردیا ہے اور تمہارے نکاح ولی وارثوں نے کئے ہیں، صدیقہ نے فرمایا میری برأت اور پاکیزگی کی آیت اللہ تعالیٰ نے آسمان سے اپنے پاک کلام میں نازل فرمائی ہیں حضرت زینب اسے مان گئیں اور پوچھا یہ بتاؤ تم نے حضرت صفوان بن معطل کی سواری پر سوار ہوتے وقت کیا پڑھا تھا، صدیقہ نے فرمایا دعا (حسبی اللہ ونعم الوکیل) یہ سن کر ام المومنین حضرت زینب ؓ نے فرمایا تم نے ایمان والوں کا کلمہ کہا تھا، چناچہ اس آیت میں بھی رب رحیم کا ارشاد ہے کہ ان توکل کرنے والوں کی کفایت اللہ تعالیٰ نے کی اور ان کے ساتھ جو لوگ برائی کا ارادہ رکھتے تھے انہیں ذلت اور بربادی کے ساتھ پسپا کیا، یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے اپنے شہروں کی طرف بغیر کسی نقصان اور برائی کے لوٹے دشمن اپنی مکاریوں میں ناکام رہا، ان سے اللہ خوش ہوگیا کیونکہ انہوں نے اس کی خوشی کا کام انجام دیا تھا اللہ تعالیٰ بڑے فضل و کرم والا ہے۔ ابن عباس کا فرمان ہے کہ نعمت تو یہ تھی کہ وہ سلامت رہے اور فضل یہ تھا کہ حضور ﷺ نے تاجروں کے ایک قافلہ سے مال خرید لیا جس میں بہت ہی نفع ہوا اور اس کل نفع کو آپ نے اپنے ساتھیوں میں تقسیم فرما دیا۔ حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ ابو سفیان نے حضور ﷺ سے کہا اب وعدے کی جگہ بدر ہے آپ نے فرمایا ممکن ہے چناچہ وہاں پہنچے تو یہ ڈرپوک آیا ہی نہیں وہاں بازار کا دن تھا مال خرید لیا جو نفع سے بکا اسی کا نام غزوہ بدر صغریٰ ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ یہ شیطان تھا جو اپنے دوستوں کے ذریعہ تمہیں دھمکا رہا تھا اور گیدڑ بھبکیاں دے رہا تمہیں چاہئے کہ ان سے نہ ڈرو صرف میرا ہی خوف دل میں رکھو کیونکہ ایمان داری کی یہی شرط ہے کہ جب کوئی ڈرائے دھمکائے اور دینی امور سے تمہیں باز رکھنا چاہئے تو مسلمان اللہ پر بھروسہ کرے اس کی طرف سمٹ جائے اور یقین مانے کہ کافی اور ناصر وہی ہے جیسے اور جگہ ہے آیت (اَلَيْسَ اللّٰهُ بِكَافٍ عَبْدَهٗ ۭ وَيُخَوِّفُوْنَكَ بالَّذِيْنَ مِنْ دُوْنِهٖ) 39۔ الزمر :36) کیا اللہ جل شانہ اپنے بندوں کو کافی نہیں یہ لوگ تجھے اس کے سوا اوروں سے ڈرا رہے ہیں (یہاں تک کہ فرمایا) تو کہہ کہ مجھے اللہ کافی ہے توکل کرنے والوں کو اسی پر بھروسہ کرنا چاہئے اور جگہ فرمایا اولیاء شیطان سے لڑو۔ شیطان کا مکر بڑا بودا ہے۔ اور جگہ ارشاد ہے یہ شیطانی لشکر ہے یاد رکھو شیطانی لشکر ہی گھاٹے اور خسارے میں ہے اور جگہ ارشاد ہے آیت (كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِيْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ قَوِيٌّ عَزِيْزٌ) 58۔ المجادلہ :21) اللہ تعالیٰ لکھ چکا ہے کہ غلبہ یقینا مجھے اور میرے رسولوں کو ہی ہوگا اللہ قوی اور عزیز ہے۔ اور جگہ ارشاد ہے آیت (ۭوَلَيَنْصُرَنَّ اللّٰهُ مَنْ يَّنْصُرُهٗ ۭ اِنَّ اللّٰهَ لَقَوِيٌّ عَزِيْزٌ) 22۔ الحج :40) جو اللہ کی مدد کرے گا اس کی امداد فرمائے گا اور فرمان ہے آیت (يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِنْ تَنْصُرُوا اللّٰهَ يَنْصُرْكُمْ وَيُثَبِّتْ اَقْدَامَكُمْ) 47۔ محمد :7) اے ایمان والو اگر تم اللہ کی مدد کرو گے تو اللہ تمہاری بھی مدد کرے گا اور آیت میں ہے آیت (اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُوْمُ الْاَشْهَادُ) 40۔ غافر :51) بالیقین ہم اپنے رسولوں کی اور ایمان داروں کی مدد دینا میں بھی کریں گے اور اس دن بھی جس دن گواہ کھڑے ہوں گے جس دن ظالموں کو عذر معذرت نفع نہ دے گی ان کے لئے لعنت ہے اور ان کے لئے برا گھر ہے۔
172
View Single
ٱلَّذِينَ ٱسۡتَجَابُواْ لِلَّهِ وَٱلرَّسُولِ مِنۢ بَعۡدِ مَآ أَصَابَهُمُ ٱلۡقَرۡحُۚ لِلَّذِينَ أَحۡسَنُواْ مِنۡهُمۡ وَٱتَّقَوۡاْ أَجۡرٌ عَظِيمٌ
Those who responded to the call of Allah and His Noble Messenger after they had been grieved; for the virtuous and the pious among them is a great reward.
جن لوگوں نے زخم کھا چکنے کے بعد بھی اللہ اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم پر لبیک کہا، اُن میں جو صاحبانِ اِحسان ہیں اور پرہیزگار ہیں، ان کے لئے بڑا اَجر ہے
Tafsir Ibn Kathir
Virtues of the Martyrs
Allah states that even though the martyrs were killed in this life, their souls are alive and receiving provisions in the Dwelling of Everlasting Life. In his Sahih, Muslim recorded that Masruq said, "We asked `Abdullah about this Ayah,
وَلاَ تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُواْ فِى سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَتاً بَلْ أَحْيَاءٌ عِندَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ
(Think not of those as dead who are killed in the way of Allah. Nay, they are alive, with their Lord, and they have provision.)
He said, `We asked the Messenger of Allah ﷺ the same question and he said,
«أَرْوَاحُهُمْ فِي جَوْفِ طَيْرٍ خُضْرٍ، لَهَا قَنَادِيلُ مُعَلَّقَةٌ بِالْعَرْشِ، تَسْرَحُ مِنَ الْجَنَّةِ حَيْثُ شَاءَتْ، ثُمَّ تَأْوِي إِلَى تِلْكَ الْقَنَادِيلِ، فَاطَّلَعَ إِلَيْهِمْ رَبُّهُمُ اطِّلَاعَةً فَقَالَ: هَلْ تَشْتَهُونَ شَيْئًا؟ فَقَالُوا: أَيَّ شَيْءٍ نَشْتَهِي وَنَحْنُ نَسْرَحُ مِنَ الْجَنَّةِ حَيْثُ شِئْنَا؟ فَفَعَلَ ذَلِكَ بِهِمْ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَلَمَّا رَأَوْا أَنَّهُمْ لَنْ يُتْرَكُوا مِنْ أَنْ يُسْأَلُوا، قَالُوا: يَا رَبِّ نُرِيدُ أَنْ تَرُدَّ أَرْوَاحَنَا فِي أَجْسَادِنَا حَتَّى نُقْتَلَ فِي سَبِيلِكَ مَرَّةً أُخْرَى، فَلَمَّا رَأَى أَنْ لَيْسَ لَهُمْ حَاجَةٌ، تُرِكُوا»
(Their souls are inside green birds that have lamps, which are hanging below the Throne (of Allah), and they wander about in Paradise wherever they wish. Then they return to those lamps. Allah looks at them and says, `Do you wish for anything' They say, `What more could we wish for, while we go wherever we wish in Paradise' Allah asked them this question thrice, and when they realize that He will keep asking them until they give an answer, they say, `O Lord! We wish that our souls be returned to our bodies so that we are killed in Your cause again.' Allah knew that they did not have any other wish, so they were left.)"' There are several other similar narrations from Anas and Abu Sa`id.
Imam Ahmad recorded that Anas said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«مَا مِنْ نَفْسٍ تَمُوتُ، لَهَا عِنْدَ اللهِ خَيْرٌ، يَسُرُّهَا أَنْ تَرْجِعَ إِلَى الدُّنْيَا، إِلَّا الشَّهِيدُ، فَإِنَّهُ يَسُرُّهُ أَنْ يَرْجِعَ إِلَى الدُّنْيَا فَيُقْتَلَ مَرَّةً أُخْرَى، لِمَا يَرَى مِنْ فَضْلِ الشَهَادَة»
(No soul that has a good standing with Allah and dies would wish to go back to the life of this world, except for the martyr. He would like to be returned to this life so that he could be martyred again, for he tastes the honor achieved from martyrdom.) Muslim collected this Hadith
In addition, Imam Ahmad recorded that, Ibn `Abbas said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«لَمَّا أُصِيبَ إِخْوَانُكُمْ بِأُحُدٍ، جَعَلَ اللهُ أَرْوَاحَهُمْ فِي أَجْوَافِ طَيْرٍ خُضْرٍ، تَرِدُ أَنْهَارَ الْجَنَّـةِ، وَتَأْكُلُ مِنْ ثِمَارِهَا، وَتَأْوِي إِلى قَنَادِيلَ مِنْ ذَهَبٍ فِي ظِلِّ الْعَرْشِ، فَلَمَّا وَجَدُوا طِيبَ مَشْرَبِهِمْ وَمَأْكَلِهِمْ، وَحُسْنَ مُتَقَلَّبِهِمْ قَالُوا: يَا لَيْتَ إِخْوَانَنَا يَعْلَمُونَ مَا صَنَعَ اللهُ لَنَا، لِئَلَّا يَزْهَدُوا فِي الْجِهَادِ، وَلَا يَنْكُلُوا عَنِ الْحَرْبِ، فَقَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: أَنْا أُبَلِّغُهُمْ عَنْكُم»
(When your brothers were killed in Uhud, Allah placed their souls inside green birds that tend to the rivers of Paradise and eat from its fruits. They then return to golden lamps hanging in the shade of the Throne. When they tasted the delight of their food, drink and dwelling, they said, `We wish that our brothers knew what Allah gave us so that they will not abandon Jihad or warfare.' Allah said, `I will convey the news for you.') Allah revealed these and the following Ayat,
وَلاَ تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُواْ فِى سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَتاً بَلْ أَحْيَاءٌ عِندَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ
(Think not of those as dead who are killed in the way of Allah. Nay, they are alive, with their Lord, and they have provision.)
Qatadah, Ar-Rabi` and Ad-Dahhak said that these Ayat were revealed about the martyrs of Uhud.
Abu Bakr Ibn Marduwyah recorded that Jabir bin `Abdullah said, "The Messenger of Allah ﷺ looked at me one day and said, `O Jabir! Why do I see you sad' I said, `O Messenger of Allah! My father was martyred and left behind debts and children.' He said,
«أَلَا أُخْبِرُكَ؟ مَا كَلَّمَ اللهُ أَحَدًا قَطُّ إِلَّا مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ، وَإِنَّه كَلَّمَ أَبَاكَ كِفَاحًا»
، قال علي: الكفاح: المواجهة
«قَالَ: سَلْنِي أُعْطِكَ. قَالَ: أَسْأَلُكَ أَنْ أُرَدَّ إِلَى الدُّنْيَا فَأُقْتَلَ فِيكَ ثَانِيَةً، فَقَالَ الرَّبُّ عَزَّ وَجَلَّ: إِنَّهُ قَدْ سَبَقَ مِنِّي الْقَوْلُ: إِنَّهُمْ إِلَيْهَا لَا يَرْجِعُونَ. قَالَ: أَيْ رَبِّ فَأَبْلِغْ مَنْ وَرَائِي»
(Should I tell you that Allah never spoke to anyone except from behind a veil However, He spoke to your father directly. He said, `Ask Me and I will give you.' He said, `I ask that I am returned to life so that I am killed in Your cause again.' The Lord, Exalted He be, said, `I have spoken the word that they shall not be returned back to it (this life). ' He said, `O Lord! Then convey the news to those I left behind.') Allah revealed,
وَلاَ تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُواْ فِى سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَتاً
(Think not of those as dead who are killed in the way of Allah...)"
Imam Ahmad recorded that Ibn `Abbas said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«الشُّهَدَاءُ عَلى بَارِقِ نَهْرٍ بِبَابِ الْجَنَّـةِ، فِي قُبَّةٍ خَضْرَاءَ، يَخْرُجُ عَلَيْهِمْ رِزْقُهُمْ مِنَ الْجَنَّـةِ بُكْرَةً وَعَشِيًّا»
(The martyrs convene at the shore of a river close to the door of Paradise, in a green tent, where their provisions are brought to them from Paradise day and night.)
Ahmad and Ibn Jarir collected this Hadith, which has a good chain of narration. It appears that the martyrs are of different types, some of them wander in Paradise, and some remain close to this river by the door of Paradise. It is also possible that the river is where all the souls of the martyrs convene and where they are provided with their provision day and night, and Allah knows best. UImam Ahmad narrated a Hadith that contains good news for every believer that his soul will be wandering in Paradise, as well, eating from its fruits, enjoying its delights and happiness and tasting the honor that Allah has prepared in it for him. This Hadith has a unique, authentic chain of narration that includes three of the Four Imams. Imam Ahmad narrated this Hadith from Muhammad bin Idris Ash-Shafi`i who narrated it from Malik bin Anas Al-Asbuhi, from Az-Zuhri, from `Abdur-Rahman bin Ka`b bin Malik that his father said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«نَسَمَةُ الْمُؤْمِنِ طَائِرٌ يَعْلُقُ فِي شَجَرِ الْجَنَّـةِ حَتَّى يَرْجِعَهُ اللهُ إِلى جَسَدِهِ يَوْمَ يَبْعَثُه»
(The soul of the believer becomes a bird that feeds on the trees of Paradise, until Allah sends him back to his body when He resurrects him.)
This Hadith states that the souls of the believers are in the shape of a bird in Paradise. As for the souls of martyrs, they are inside green birds, like the stars to the rest of the believing souls. We ask Allah the Most Generous that He makes us firm on the faith.
Allah's statement,
فَرِحِينَ بِمَآ ءَاتَـهُمُ اللَّهُ
(They rejoice in what Allah has bestowed upon them) indicates that the martyrs who were killed in Allah's cause are alive with Allah, delighted because of the bounty and happiness they are enjoying. They are also awaiting their brethren, who will die in Allah's cause after them, for they will be meeting them soon. These martyrs do not have fear about the future or sorrow for what they left behind. We ask Allah to grant us Paradise. The Two Sahihs record from Anas, the story of the seventy Ansar Companions who were murdered at Bir Ma`unah in one night. In this Hadith, Anas reported that the Prophet used to supplicate to Allah in Qunut in prayer against those who killed them. Anas said, "A part of the Qur'an was revealed about them, but was later abrogated, `Convey to our people that we met Allah and He was pleased with us and made us pleased."'
Allah said next,
يَسْتَبْشِرُونَ بِنِعْمَةٍ مِّنَ اللَّهِ وَفَضْلٍ وَأَنَّ اللَّهَ لاَ يُضِيعُ أَجْرَ الْمُؤْمِنِينَ
(They rejoice in a grace and a bounty from Allah, and that Allah will not waste the reward of the believers) 3:171.
Muhammad bin Ishaq commented, "They were delighted and pleased because of Allah's promise that was fulfilled for them, and for the tremendous rewards they earned." `Abdur-Rahman bin Zayd bin Aslam said, "This Ayah encompasses all the believers, martyrs and otherwise. Rarely does Allah mention a bounty and a reward that He granted to the Prophets, without following that with what He has granted the believers after them."
The Battle of Hamra' Al-Asad
Allah said,
الَّذِينَ اسْتَجَابُواْ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ مِن بَعْدِ مَآ أَصَـبَهُمُ الْقَرْحُ
(Those who answered (the Call of) Allah and the Messenger after being wounded) 3:172.
This occurred on the day of Hamra' Al-Asad. After the idolators defeated the Muslims (at Uhud), they started on their way back home, but soon they were concerned because they did not finish off the Muslims in Al-Madinah, so they set out to make that battle the final one. When the Messenger of Allah ﷺ got news of this, he commanded the Muslims to march to meet the disbelievers, to bring fear to their hearts and to demonstrate that the Muslims still had strength to fight. The Prophet only allowed those who were present during Uhud to accompany him, except for Jabir bin `Abdullah Al-Ansari, as we will mention. The Muslims mobilized, even though they were still suffering from their injuries, in obedience to Allah and His Messenger .
Ibn Abi Hatim recorded that `Ikrimah said, "When the idolators returned towards Makkah after Uhud, they said, `You neither killed Muhammad nor collected female captives. Woe to you for what you did. Let us go back.' When the Messenger of Allah ﷺ heard this news, he mobilized the Muslim forces, and they marched until they reached Hamra Al-Asad. The idolators said, `Rather, we will meet next year', and the Messenger of Allah ﷺ went back to Al-Madinah, and this was considered a Ghazwah (battle). Allah sent down,
الَّذِينَ اسْتَجَابُواْ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ مِن بَعْدِ مَآ أَصَـبَهُمُ الْقَرْحُ لِلَّذِينَ أَحْسَنُواْ مِنْهُمْ وَاتَّقَوْاْ أَجْرٌ عَظِيمٌ
(Those who answered (the Call of) Allah and the Messenger after being wounded; for those of them who did good deeds and feared Allah, there is a great reward.)
Al-Bukhari recorded that `A'ishah said to `Urwah about the Ayah;
الَّذِينَ اسْتَجَابُواْ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ
(Those who answered (the Call of) Allah and the Messenger)
"My nephew! Your fathers Az-Zubayr and Abu Bakr were among them. After the Prophet suffered the calamity at Uhud and the idolators went back, he feared that the idolators might try to come back and he said, `Who would follow them' Seventy men, including Az-Zubayr and Abu Bakr, volunteered." This was recorded by Al-Bukhari alone.
As for Allah's statement,
الَّذِينَ قَالَ لَهُمُ النَّاسُ إِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُواْ لَكُمْ فَاخْشَوْهُمْ فَزَادَهُمْ إِيمَـناً
(Those unto whom the people said, "Verily, the people have gathered against you, therefore, fear them." But it (only) increased them in faith) 3:173, it means, those who threatened the people, saying that the disbelievers have amassed against them, in order to instill fear in them, but this did not worry them, rather, they trusted in Allah and sought His help,
وَقَالُواْ حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ
(and they said: "Allah is Sufficient for us, and He is the Best Disposer of affairs.")
Al-Bukhari recorded that Ibn `Abbas said,
حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ
("Allah Alone is Sufficient for us and He is the Best Disposer of affairs for us.")
"Ibrahim said it when he was thrown in fire. Muhammad said it when the people said, `Verily, the people have gathered against you, therefore, fear them.' But it only increased them in faith, and they said, `Allah is Sufficient for us and He is the Best Disposer of affairs for us."' Abu Bakr Ibn Marduwyah recorded that Anas bin Malik said that the Prophet was told on the day of Uhud, "Verily, the people have gathered against you, therefore, fear them." Thereafter, Allah sent down this Ayah 3:173.
This is why Allah said,
فَانْقَلَبُواْ بِنِعْمَةٍ مِّنَ اللَّهِ وَفَضْلٍ لَّمْ يَمْسَسْهُمْ سُوءٌ
(So they returned with grace and bounty from Allah. No harm touched them;) for when they relied on Allah, Allah took care of their worries, He confounded the plots of their enemies, and the Muslims returned to their land,
بِنِعْمَةٍ مِّنَ اللَّهِ وَفَضْلٍ لَّمْ يَمْسَسْهُمْ سُوءٌ
(with grace and bounty from Allah. No harm touched them;) safe from the wicked plots of their enemies,
وَاتَّبَعُواْ رِضْوَنَ اللَّهِ وَاللَّهُ ذُو فَضْلٍ عَظِيمٍ
(and they followed the pleasure of Allah. And Allah is the Owner of great bounty.)
Al-Bayhaqi recorded that Ibn `Abbas said about Allah's statement,
فَانْقَلَبُواْ بِنِعْمَةٍ مِّنَ اللَّهِ وَفَضْلٍ
(So they returned with grace and bounty from Allah,) "The `Grace' was that they were saved. The `Bounty' was that a caravan passed by, and those days were Hajj season days. Thus the Messenger of Allah ﷺ bought and sold and made a profit, which he divided between his Companions."
Allah then said,
إِنَّمَا ذَلِكُمُ الشَّيْطَـنُ يُخَوِّفُ أَوْلِيَاءَهُ
(It is only Shaytan that suggests to you the fear of his friends,) 3:175 meaning, Shaytan threatens you with his friends and tries to pretend they are powerful and fearsome. Allah said next,
فَلاَ تَخَافُوهُمْ وَخَافُونِ إِن كُنتُمْ مُّؤْمِنِينَ
(so fear them not, but fear Me, if you are indeed believers.) meaning, "If Shaytan brings these thoughts to you, then depend on Me and seek refuge with Me. Indeed, I shall suffice you and make you prevail over them." Similarly, Allah said,
أَلَيْسَ اللَّهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ وَيُخَوِّفُونَكَ بِالَّذِينَ مِن دُونِهِ
(Is not Allah Sufficient for His servant Yet they try to frighten you with those besides Him!) 39: 36, until,
قُلْ حَسْبِىَ اللَّهُ عَلَيْهِ يَتَوَكَّـلُ الْمُتَوَكِّلُونَ
(Say: "Sufficient for me is Allah; in Him those who trust must put their trust.") 39:38. Allah said,
فَقَـتِلُواْ أَوْلِيَاءَ الشَّيْطَـنِ إِنَّ كَيْدَ الشَّيْطَـنِ كَانَ ضَعِيفاً
(So fight you against the friends of Shaytan; ever feeble indeed is the plot of Shaytan.) 4:76 and
أُوْلَـئِكَ حِزْبُ الشَّيْطَـنِ أَلاَ إِنَّ حِزْبَ الشَّيْطَـنِ هُمُ الخَـسِرُونَ
(They are the party of Shaytan. Verily, it is the party of Shaytan that will be the losers!) 58:19,
كَتَبَ اللَّهُ لاّغْلِبَنَّ أَنَاْ وَرُسُلِى إِنَّ اللَّهَ قَوِىٌّ عَزِيزٌ
(Allah has decreed: "Verily, it is I and My Messengers who shall be the victorious." Verily, Allah is All-Powerful, All-Mighty.) 58:21 and
وَلَيَنصُرَنَّ اللَّهُ مَن يَنصُرُهُ
(Verily, Allah will help those who help His (cause).) 22:40 and
يأَيُّهَا الَّذِينَ ءَامَنُواْ إِن تَنصُرُواْ اللَّهَ يَنصُرْكُمْ
(O you who believe! If you help (in the cause of) Allah, He will help you) 47:7, and,
إِنَّا لَنَنصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِينَ ءَامَنُواْ فِى الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُومُ الاٌّشْهَـدُ - يَوْمَ لاَ يَنفَعُ الظَّـلِمِينَ مَعْذِرَتُهُمْ وَلَهُمُ الْلَّعْنَةُ وَلَهُمْ سُوءُ الدَّارِ
(Verily, We will indeed make victorious Our Messengers and those who believe, in this world's life and on the Day when the witnesses will stand forth. The Day when their excuses will be of no profit to wrongdoers. Theirs will be the curse, and theirs will be the evil abode.) 40:51,52
بیئر معونہ کے شہداء اور جنت میں ان کی تمنا ؟ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ گو شہید فی سبیل اللہ دنیا میں مار ڈالے جاتے ہیں لیکن آخرت میں ان کی روحیں زندہ رہتی ہیں اور رزق پاتی ہیں، اس آیت کا شان نزول یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے چالیس یا ستر صحابیوں کو بیئر معونہ کی طرف بھیجا تھا یہ جماعت جب اس غار تک پہنچی جو اس کنویں کے اوپر تھی تو انہوں نے وہاں پڑاؤ کیا اور آپس میں کہنے لگے کون ہے ؟ جو اپنی جان خطرہ میں ڈال کر اللہ کے رسول ﷺ کا کلمہ ان تک پہنچائے ایک صحابی اس کے لئے تیار ہوئے اور ان لوگوں کے گھروں کے پاس آکر با آواز بلند فرمایا اے بیئر معونہ والو سنو میں اللہ کے رسول ﷺ کا قاصد ہوں میری گواہی ہے کہ معبود صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے اور محمد ﷺ اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں یہ سنتے ہی ایک کافر اپنا تیر سنبھالے ہوئے اپنے گھر سے نکلا اور اس طرح تاک کر لگایا کہ ادھر کی پسلی سے ادھر کی پسلی میں آرپار نکل گیا، اس صحابی کی زبان سے بیساختہ نکلا حدیث (فزت ورب الکعبۃ) کعبے کے اللہ کی قسم میں اپنی مراد کو پہنچ گیا اب کفار نشانات ٹٹولتے ہوئے اس غار پر جا پہنچے اور عامر بن طفیل نے جو ان کا سردار تھا ان سب مسلمانوں کو شہید کردیا حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ ان کے بارے میں قرآن اترا کہ ہماری جانب سے ہماری قوم کو یہ خبر پہنچا دو کہ ہم اپنے رب سے ملے وہ ہم سے راضی ہوگیا اور ہم اس سے راضی ہوگئے ہم ان آیتوں کو برابر پڑھتے رہے پھر ایک مدت کے بعد یہ منسوخ ہو کر اٹھا لی گئیں اور آیت (ولا تحسبن) الخ، اتری (محمد بن جریر) صحیح مسلم شریف میں ہے حضرت مسروق فرماتے ہیں ہم نے حضرت عبداللہ سے اس آیت کا مطلب پوچھا تو حضرت عبداللہ نے فرمایا ہم نے رسول ﷺ سے اس آیت کا مطلب دریافت کیا تھا تو آپ نے فرمایا ان کی روحیں سبز رنگ پرندوں کے قالب میں ہیں۔ عرش کی قندلیں ان کے لئے ہیں ساری جنت میں جہاں کہیں چاہیں چریں چگیں اور ان قندیلیوں میں آرام کریں ان کی طرف ان کے رب نے ایک مرتبہ نظر کی اور دریافت فرمایا کچھ اور چاہتے ہو ؟ کہنے لگے اے اللہ اور کیا مانگیں ساری جنت میں سے جہاں کہیں سے چاہیں کھائیں پئیں اختیار ہے پھر کیا طلب کریں اللہ تعالیٰ نے ان سے پھر یہی پوچھا تیسری مرتبہ یہی سوال کیا جب انہوں نے دیکھا کہ بغیر کچھ مانگے چارہ ہی نہیں تو کہنے لگے اے رب ! ہم چاہتے ہیں کہ تو ہماری روحوں کو جسموں کی طرف لوٹا دے ہم پھر دنیا میں جا کر تیری راہ میں جہاد کریں اور مارے جائیں اب معلوم ہوگیا کہ انہیں کسی اور چیز کی حاجت نہیں تو ان سے پوچھنا چھوڑ دیا کہ کیا چاہتے ہو ؟ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جو لوگ مرجائیں اور اللہ کے ہاں بہتری پائیں وہ ہرگز دنیا میں آنا پسند نہیں کرتے مگر شہید کہ وہ تمنا کرتا ہے کہ دنیا میں دوبارہ لوٹایا جائے اور دوبارہ راہ اللہ میں شہید ہو کیونکہ شہادت کے درجات کو وہ دیکھ رہا ہے (مسند احمد) صحیح مسلم شریف میں بھی یہ حدیث ہے، مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے فرمایا اے جابر تمہیں معلوم بھی ہے ؟ کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے والد کو زندہ کیا اور ان سے کہا اے میرے بندے مانگ کیا مانگتا ہے ؟ تو کہا اے اللہ دنیا میں پھر بھیج تاکہ میں دوبارہ تیری راہ میں مارا جاؤں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا یہ تو میں فیصلہ کرچکا ہوں کہ کوئی یہاں دوبارہ لوٹایا نہیں جائے گا، ان کا نام حضرت عبداللہ بن عمرو بن حرام انصاری تھا اللہ تعالیٰ ان سے رضامند ہو، صحیح بخاری شریف میں ہے حضرت جابر فرماتے ہیں میرے باپ کی شہادت کے بعد میں رونے لگا اور ابا کے منہ سے کپڑا ہٹا ہٹا کر بار بار ان کے چہرے کو دیکھ رہا تھا۔ صحابہ مجھے منع کرتے تھے لیکن آنحضرت ﷺ خاموش تھے پھر حضور ﷺ نے فرمایا جابر رو مت جب تک تیرے والد کو اٹھایا نہیں گیا فرشتے اپنے پروں سے اس پر سایہ کئے ہوئے ہیں، مسند احمد میں ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا جب تمہارے بھائی احد والے دن شہید کئے گئے تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی روحیں سبز پرندوں کے قالب میں ڈال دیں جو جنتی درختوں کے پھل کھائیں اور جنتی نہروں کا پانی پئیں اور عرش کے سائے تلے وہاں لٹکتی ہوئی قندیلوں میں آرام و راحت حاصل کریں جب کھانے پینے رہنے سہنے کی یہ بہترین نعمتیں انہیں ملیں تو کہنے لگے کاش کہ ہمارے بھائیوں کو جو دنیا میں ہیں ہماری ان نعمتوں کی خبر مل جاتی تاکہ وہ جہاد سے منہ نہ پھیریں اور اللہ کی راہ کی لڑائیوں سے تھک کر نہ بیٹھ رہیں اللہ تعالیٰ نے ان سے فرمایا تم بےفکر رہو میں یہ خبر ان تک پہنچا دیتا ہوں چناچہ یہ آیتیں نازل فرمائیں، حضرت ابن عباس سے یہ بھی مروی ہے کہ حضرت حمزہ ؓ اور آپ کے ساتھیوں کے بارے میں آیتیں اتریں (مستدرک حاکم) یہ بھی مفسرین نے فرمایا ہے کہ احد کے شہیدوں کے بارے میں یہ آیتیں نازل ہوئیں۔ ابوبکر بن مردویہ میں حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے دیکھا اور فرمانے لگے جابر کیا بات ہے کہ تم مجھے غمگین نظر آتے ہو ؟ میں نے کہا یا رسول اللہ میرے والد شہید ہوگئے جن پر بار قرض بہت ہے اور میرے چھوٹے چھوٹے بہن بھائی بہت ہیں آپ نے فرمایا سن میں تجھے بتاؤں جس کسی سے اللہ نے کلام کیا پردے کے پیچھے سے کلام کیا لیکن تیرے باپ سے آمنے سامنے بات چیت کی فرمایا مجھ سے مانگ جو مانگے گا دوں گا تیرے باپ نے کہا اللہ عزوجل میں تجھ سے یہ مانگتا ہوں کہ تو مجھے دنیا میں دوبارہ بھیجے اور میں تیری راہ میں دوسری مرتبہ شہید کیا جاؤں، رب عزوجل نے فرمایا یہ بات تو میں پہلے ہی مقرر کرچکا ہوں کہ کوئی بھی لوٹ کر دوبارہ دنیا میں نہیں جائے گا۔ کہنے لگے پھر اے اللہ میرے بعد والوں کو ان مراتب کی خبر پہنچا دی جائے چناچہ اللہ تعالیٰ نے آیت (ولا تحسبن) الخ، فرمائی، بیہقی میں اتنا اور زیادہ ہے کہ حضرت عبداللہ ؓ نے فرمایا میں تو اے اللہ تیری عبادت کا حق بھی ادا نہیں کرسکا، مسند احمد میں ہے شہید لوگ جنت کے دروازے پر نہر کے کنارے سے گنبد سبز میں ہیں، صبح شام انہیں جنت کی نعمتیں پہنچ جاتی ہیں، دونوں احادیث میں تطبیق یہ ہے کہ بعض شہداء وہ ہیں جن کی روحیں پرندوں کے قالب میں ہیں اور بعض وہ ہیں جن کا ٹھکانا یہ گنبد ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ جنت میں سے پھرتے پھراتے یہاں جمع ہوتے ہوں اور پھر یہ کھانے یہیں کھلائے جاتے ہوں واللہ اعلم، یہاں پر وہ حدیث بھی وارد کرنا بالکل برمحل ہوگا جس میں ہر مومن کے لئے یہی بشارت ہے چناچہ مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مومن کی روح ایک پرند میں ہے جو جنت کے درختوں کے پھل کھاتی پھرتی ہے یہاں تک کہ قیامت والے دن جبکہ اللہ تعالیٰ سب کو کھڑا کرے تو اسے بھی اس کے جسم کی طرف لوٹا دے گا، اس حدیث کے راویوں میں تین جلیل القدر امام ہیں جو ان چار اماموں میں سے ہیں جن کے مذاہب مانے جا رہے ہیں، ایک تو امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ آپ اس حدیث کو روایت کرتے ہیں، امام محمد بن ادریس شافعی ؒ سے ان کے استاد ہیں حضرت امام مالک بن انس ؓ پس امام احمد امام شافعی امام محمد بن ادریس شافعی ؒ سے ان کے استاد ہیں۔ حضرت امام مالک بن انس ؓ پس امام احمد امام شافعی امام مالک تینوں زبردست پیشوا اس حدیث کے راوی ہیں۔ پس اس حدیث سے ثابت ہوا کہ ایمانداروں کی روح جنتی پرند کی شکل میں جنت میں رہتی ہے اور شہیدوں کی روحیں جیسے کے پہلے گذر چکا ہے سبز رنگ کے پرندوں کے قالب میں رہتی ہیں یہ روحیں مثل ستاروں کے ہیں جو عام مومنین کی روحوں کو یہ مرتبہ حاصل نہیں، یہ اپنے طور پر آپ ہی اڑتی ہیں، اللہ تعالیٰ سے جو بہت بڑا مہربان اور زبردست احسانوں والا ہے ہماری دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنے فضل و کرم سے ایمان و اسلام پر موت دے آمین۔ پھر فرمایا کہ یہ شہید جن جن نعمتوں اور آسائشوں میں ہیں ان سے بیحد مسرور اور بہت ہی خوش ہیں اور انہیں یہ بھی خوشی اور راحت ہے کہ ان کے بھائی بند جو ان کے بعد راہ اللہ میں شہید ہوں گے اور ان کے پاس آئیں گے انہیں آئندہ کا کچھ خوف نہ ہوگا اور اپنے پیچھے چھوڑی ہوئی چیزوں پر انہیں حسرت بھی نہ ہوگی، اللہ ہمیں بھی جنت نصیب کرے، حضرت محمد بن اسحاق فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ وہ خوش ہیں کہ ان کے کئی اور بھائی بند بھی جو جہاد میں لگے ہوئے ہیں وہ بھی شہید ہو کر ان کی نعمتوں میں ان کے شریک حال ہوں گے اور اللہ کے ثواب سے فائدہ اٹھائیں گے، حضرت سدی فرماتے ہیں شہید کو ایک کتاب دی جاتی ہے کہ فلاں دن تیرے پاس فلاں آئے گا اور فلاں دن فلاں آئے گا پس جس طرح دنیا والے اپنی کسی غیر حاضر کے آنے کی خبر سن کر خوش ہوتے ہیں اسی طرح یہ شہداء ان شہیدوں کی آنے کی خبر سے مسرور ہوتے ہیں، حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ جب شہید جنت میں گئے اور وہاں اپنی منزلیں اور رحمتیں دیکھیں تو کہنے لگے کاش کہ اس کا علم ہمارے ان بھائیوں کو بھی ہوتا جو اب تک دنیا میں ہی ہیں تاکہ وہ جواں مردی سے جان توڑ کر جہاد کرتے اور ان جگہوں میں جا گھستے جہاں سے زندہ آنے کی امید نہ ہوتی تو وہ بھی ہماری ان نعمتوں میں حصہ دار بنتے پس نبی ﷺ نے لوگوں کو ان کے اس حال کی خبر پہنچا دی اور اللہ تعالیٰ نے ان سے کہ دیا کہ میں نے تمہاری خبر تمہارے نبی ﷺ کو دے دی ہے اس سے وہ بہت ہی مسرور و محفوظ ہوئے، بخاری مسلم میں بیر معونہ والوں کا قصہ بیان ہوچکا ہے جو ستر شخص انصاری صحابی تھے اور ایک ہی دن صبح کے وقت کو بےدردی سے کفار نے تہ تیغ کیا تھا جن قاتلوں کے حق میں ایک ماہ نماز کی قنوت میں رسول اللہ ﷺ نے بد دعا کی تھی اور جن پر لعنت بھیجی تھی جن کے بارے میں قرآن کی یہ آیت اتری تھی کہ ہماری قوم کو ہماری خبر پہنچاؤ کہ ہم اپنے رب سے ملے وہ ہم سے راضی ہوا اور ہم اس سے راضی ہوگئے، وہ اللہ کی نعمت و فضل کو دیکھ دیکھ کر مسرور ہیں، حضرت عبدالرحمن فرماتے ہیں یہ آیت (یستبشرون) تمام ایمانداروں کے حق میں ہے خواہ شہید ہوں خواہ غیر۔ بہت کم ایسے موقع ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے نبیوں کی فضیلت اور ان کے ثوابوں کا ذکر نہ ہو۔ پھر ان سچے مومنین کا بیان تعریف کے ساتھ ہو رہا ہے۔ جنہوں نے حمراء اسد والے دن حکم رسول پر باوجود زخموں سے چور ہونے کے جہاد پر کمر کس لی تھی، مشرکین نے مسلمانوں کو مصیبتیں پہنچائیں اور اپنے گھروں کی طرف واپس چل دئیے۔ لیکن پھر انہیں اس کا خیال آیا کہ موقع اچھا تھا مسلمان ہار چکے تھے زخمی ہوگئے تھے ان کے بہادر شہید ہوچکے تھے اگر ہم اور جم کر لڑتے تو فیصلہ ہی ہوجاتا نبی ﷺ ان کا یہ ارادہ معلوم کر کے مسلمانوں کو تیار کرنے لگے کہ میرے ساتھ چلو ہم ان مشرکین کے پیچھے جائیں تاکہ ان پر رعب طاری ہو اور یہ جان لیں کہ مسلمان ابھی کمزور نہیں ہوئے احد میں جو لوگ موجود تھے صرف انہی کو ساتھ چلنے کا حکم ملا ہاں صرف حضرت جابر بن عبداللہ کو ان کے علاوہ بھی ساتھ لیا اس آواز پر بھی مسلمانوں نے لبیک کہی باوجود یہ کہ زخموں میں چور اور خون میں شرابور تھے لیکن اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کے لئے کمر بستہ ہوگئے، حضرت عکرمہ کا بیان ہے کہ جب مشرکین احد سے لوٹے تو راستے میں سوچنے لگے کہ نہ تو تم نے محمد ﷺ کو قتل کیا نہ مسلمانوں کی عورتوں کو پکڑا افسوس تم نے کچھ نہ کیا واپس لوٹو جب یہ خبر حضور ﷺ کو پہنچی تو آپ نے مسلمانوں کو تیاری کا حکم دیا یہ تیار ہوگئے اور مشرکین کے تعاقب میں چل پڑے یہاں تک کہ حمراء الاسد تک یا " بیئر ابی عینیہ " تک پہنچ گئے۔ مشرکین کے دل رعب و خوف سے بھر گئے اور یہ کہہ کر مکہ کی طرف چل دئیے اگلے سال دیکھا جائے گا حضور ﷺ بھی واپس مدینہ تشریف لائے، یہ بھی بالاستقلال ایک الگ لڑائی گنی جاتی ہے اسی کا ذکر اس آیت میں ہے احد کی لڑائی پندرہ شوال بروز ہفتہ ہوئی تھی سولہویں تاریخ بروز اتوار منادی رسول ﷺ نے ندا دی کہ لوگو دشمن کے تعاقب میں چلو اور وہی لوگ چلیں جو کل میدان میں تھے، اس آواز پر حضرت جابر حاضر ہوئے اور عرض کرنے لگے یا رسول اللہ ﷺ کل کی لڑائی میں میں نہ تھا اس لئے کہ میرے والد حضرت عبداللہ نے مجھ سے کہا بیٹے تمہارے ساتھ یہ چھوٹی چھوٹی بہنیں ہیں اسے تو نہ میں پسند کروں اور نہ تو کہ انہیں یہاں تنہا چھوڑ کر دونوں ہی چل دیں ایک جائے گا اور ایک یہاں رہے گا۔ مجھ سے یہ نہیں ہوسکتا کہ رسول اللہ ﷺ کے ہم رکاب تم جاؤ اور میں بیٹھا رہوں اس لئے میری خواہش ہے کہ تم اپنی بہنوں کے پاس رہو اور میں جاتا ہوں اس وجہ سے میں تو وہاں رہا اور میرے والد آپ کے ساتھ آئے اب میری عین تمنا ہے کہ آج مجھے اجازت دیجئے کہ میں آپ کے ساتھ چلوں چناچہ آپ نے اجازت دی حضور ﷺ کا سفر اس غرض سے تھا کہ دشمن دہل جائے اور پیچھے آتا ہوا دیکھ کر سمجھ لے کہ ان میں بہت کچھ قوت ہے اور ہمارے مقابلہ سے یہ عاجز نہیں، قبیلہ بنو عبدالاشہل کے ایک صحابی کا بیان ہے کہ غزوہ احد میں ہم دونوں بھائی شامل تھے اور سخت زخمی ہو کر ہم لوٹے تھے، جب اللہ کے رسول ﷺ کے منادی نے دشمن کے پیچھے جانے کی ندا دی تو ہم دونوں بھائیوں نے آپس میں کہا کہ افسوس نہ ہمارے پاس سواری ہے کہ اس پر سوار ہو کر اللہ کے نبی کے ساتھ جائیں نہ زخموں کے مارے جسم میں اتنی طاقت ہے کہ پیدل ساتھ ہو لیں افسوس کہ یہ غزوہ ہمارے ہاتھ سے نکل جائے گا ہمارے بیشمار گہرے زخم ہمیں آج جانے سے روک دیں گے لیکن پھر ہم نے ہمت باندھی مجھے اپنے بھائی کی نسبت ذرا ہلکے زخم تھے جب میرے بھائی بالکل عاجز آجاتے قدم نہ اٹھتا تو میں انہیں جوں توں کر کے اٹھا لیتا جب تھک جاتا اتار دیتا یونہی جوں توں کر کے ہم لشکر گاہ تک پہنچ ہی گئے۔ ؓ (سیرت ابن اسحاق) صحیح بخاری شریف میں ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے حضرت عروہ سے کہا اے بھانجے تیرے دونوں باپ انہی لوگوں میں سے ہیں جن کے بارے میں آیت (اَلَّذِيْنَ اسْتَجَابُوْا لِلّٰهِ وَالرَّسُوْلِ مِنْۢ بَعْدِ مَآ اَصَابَھُمُ الْقَرْحُ لِلَّذِيْنَ اَحْسَنُوْا مِنْھُمْ وَاتَّقَوْا اَجْرٌ عَظِيْمٌ) 3۔ آل عمران :172) آیت اتری ہے یعنی حضرت زبیر اور حضرت صدیق ؓ جبکہ نبی ﷺ کو احد کی جنگ میں نقصان پہنچا اور مشرکین آگے چلے تو آپ کو خیال ہوا کہ کہیں یہ پھر واپس نہ لوٹیں لہذا آپ نے فرمایا کوئی ہے جو ان کے پیچھے جائے اس پر ستر شخص اس کام کے لئے مستعد ہوگئے جن میں ایک حضرت ابوبکر ؓ تھے، دوسرے حضرت زبیر ؓ تھے، یہ روایت اور بہت سی اسناد سے بہت سی کتابوں میں ہے، ابن مردویہ میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت عائشہ ؓ سے فرمایا کہ تیرے دونوں باپ ان لوگوں میں سے ہیں لیکن یہ مرفوع بیان کرنا محض خطا ہے اس لئے بھی کہ اس کی اسناد میں ثقہ راویوں کا اختلاف ہے جو حضرت عائشہ کے باپ دادا میں سے نہیں صحیح یہ ہے کہ یہ بات حضرت عائشہ نے اپنے بھانجے حضرت اسماء بنت ابی بکر کے لڑکے عروہ سے کہی ہے، حضرت ابن عباس کا بیان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ابو سفیان کے دل میں رعب ڈال دیا اور باوجودیکہ کہ وہ احد کی لڑائی میں قدرے کامیاب ہوگیا تھا لیکن تاہم مکہ کی طرف چل دیا نبی ﷺ نے فرمایا کہ ابو سفیان تمہیں نقصان پہنچا کر لوٹ گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے دل کو مرعوب کردیا ہے، احد کی لڑائی شوال میں ہوئی تھی اور تاجر لوگ ذی قعدہ میں مدینہ آتے تھے اور بدر صغریٰ میں اپنے ڈیرے ہر سال اس ماہ میں ڈالا کرتے تھے اس دفعہ بھی اس واقعہ کے بعد لوگ آئے مسلمان اپنے زخموں میں چور تھے۔ حضور ﷺ سے اپنی تکالیف بیان کرتے تھے اور سخت صدمہ میں تھے۔ نبی ﷺ نے لوگوں کو اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ آپ کے ساتھ چلیں اور فرمایا کہ یہ لوگ اب کوچ کر جائیں گے اور پھر حج کو آئیں گے اور پھر اگلے سال تک یہ طاقت انہیں حاصل نہیں ہوگی لیکن شیطان نے اپنے دوستوں کو دھمکانا اور بہکانا شروع کردیا اور کہنے لگا کہ ان لوگوں نے تمہارے استیصال کے لئے لشکر تیار کر لئے ہیں جس بنا پر لوگ ڈھیلے پڑگئے آپ نے فرمایا سنو خواہ تم میں سے ایک بھی نہ چلے میں تن تنہا جاؤں گا پھر آپ کے رغبت دلانے پر حضرت ابو بکر، حضرت عمر، حضرت عثمان، حضرت علی، حضرت زبیر، حضرت سعد، حضرت طلحہ، حضرت عبدالرحمن بن عوف، حضرت عبداللہ بن مسعود، حضرت حذیفہ بن یمان، حضرت ابو عبیدہ بن جراح وغیرہ ستر صحابہ آپ کے زیر رکاب چلنے پر آمادہ ہوئے۔ ؓ ، یہ مبارک لشکر ابو سفیان کی جستجو میں بدر صغریٰ تک پہنچ گیا انہی کی اس فضیلت اور جاں بازی کا ذکر اس مبارک آیت میں ہے، حضور ﷺ اس سفر میں مدینہ سے آٹھ میل حمراء اسد تک پہنچ گئے۔ مدینہ میں اپنا نائب آپ نے حضرت ابن ام مکتوم ؓ کو بنایا تھا۔ وہاں آپ نے پیر منگل بدھ تک قیام کیا پھر مدینہ لوٹ آئے، اثناء قیام میں قبیلہ خزاعہ کا سردار معبد خزاعی یہاں سے نکلا تھا یہ خود مشرک تھا لیکن اس پورے قبیلے سے حضور ﷺ کی صلح و صفائی تھی اس قبیلہ کے مشرک مومن سب آپ کے خیر خواہ تھے اس نے کہا کہ حضور ﷺ کے ساتھیوں کو جو تکلیف پہنچی اس پر ہمیں سخت رنج ہے اللہ تعالیٰ آپ کو کامیابی کی خوشی نصیب فرمائے، حمراء اسد پر آپ پہنچے مگر اس سے پہلے ابو سفیان چل دیا تھا گو اس نے اور اس کے ساتھیوں نے واپس آنے کا ارادہ کیا تھا کہ جب ہم ان پر غالب آگئے انہیں قتل کیا مارا پیٹا زخمی کیا پھر ادھورا کام کیوں چھوڑیں واپس جا کر سب کو تہ تیغ کردیں، یہ مشورے ہو ہی رہے تھے کہ معبد خزاعی وہاں پہنچا ابو سفیان نے اس سے پوچھا کہو کیا خبریں ہیں اس نے کہا آنحضور مع صحابہ کے تم لوگوں کے تعاقب میں آرہے ہیں وہ لوگ سخت غصے میں ہیں جو پہلے لڑائی میں شریک نہ تھے وہ بھی شامل ہوگئے ہیں سب کے تیور بدلے ہوئے ہیں اور بھرپور طاقت کے ساتھ حملہ آور ہو رہے ہیں میں نے تو ایسا لشکر کبھی دیکھا نہیں، یہ سن کر ابو سفیان کے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے اور کہنے لگا اچھا ہی ہوا جو تم سے ملاقات ہوگئی ورنہ ہم تو خود ان کی طرف جانے کے لئے تیار تھے، معبد نے کہا ہرگز یہ ارادہ نہ کرو اور میری بات کا کیا ہے غالباً تم یہاں سے کوچ کرنے سے پہلے ہی لشکر اسلام کے گھوڑوں کو دیکھ لو گے میں ان کے لشکر ان کے غصے ان کی تیاری اور الوالعزمی کا حال بیان نہیں کرسکتا میں تو تم سے صاف کہتا ہوں کہ بھاگو اور اپنی جانیں بچاؤ میرے پاس ایسے الفاظ نہیں جن سے میں مسلمانوں کے غیظ و غضب اور تہورو شجاعت اور سختی اور پختگی کا بیان کرسکوں، پس مختصر یہ ہے کہ جان کی خیر مناتے ہو تو فوراً یہاں سے کوچ کرو، ابو سفیان اور اس کے ساتھیوں کے چھکے چھوٹ گئے اور انہوں نے یہاں سے مکہ کی راہ لی، قبیلہ عبدالقیس کے آدمی جو کاروبار کی غرض سے مدینہ جا رہے تھے ان سے ابو سفیان نے کہا کہ تم حضور ﷺ کو یہ خبر پہنچا دینا کہ ہم نے انہیں تہ تیغ کردینے کے لئے لشکر جمع کر لئے ہیں اور ہم واپس لوٹنے کا ارادہ میں ہیں، اگر تم نے یہ پیغام پہنچا دیا تو ہم تمہیں سوق عکاظ میں بہت ساری کشمش دیں گے چناچہ ان لوگوں نے حمراء اسد میں آکر بطور ڈراوے کے نمک مرچ لگا کر یہ وحشت اثر خبر سنائی لیکن صحابہ نے نہایت استقلال اور پامردی سے جواب دیا کہ ہمیں اللہ کافی ہے اور وہی بہترین کارساز ہے، جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں نے ان کے لئے ایک پتھر کا نشان مقرر کر رکھا ہے اگر یہ لوٹیں گے تو وہاں پہنچ کر اس طرح مٹ جائیں گے جیسے گزشتہ کل کا دن، بعض لوگوں نے یہ بھی کہا ہے کہ یہ آیت بدر کے بارے میں نازل ہوئی ہے لیکن صحیح تر یہی ہے کہ حمراء اسد کے بارے میں نازل ہوئی۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے دشمنوں نے انہیں پژمردہ دل کرنے کے لئے دشمنوں کے سازو سامان اور ان کی کثرت وبہتات سے ڈرایا لیکن وہ صبر کے پہاڑ ثابت ہوئے ان کے غیر متزلزل یقین میں کچھ فرق نہ آیا بلکہ وہ توکل میں اور بڑھ گئی اور اللہ کی طرف نظریں کر کے اس سے امداد طلب کی، صحیح بخاری شریف میں حضرت عبداللہ بن عباس سے مروی ہے کہ آیت (حسبنا اللہ) الخ، حضرت ابراہیم نے آگ میں پڑتے وقت پڑھا تھا اور حضرت محمد ﷺ نے اس وقت جب کہ کافروں کے ٹڈی دل لشکر سے لوگوں نے آپ کو خوف زدہ کرنا چاہا اس وقت پڑھا، تعجب کی بات ہے کہ امام حاکم نے اس روایت کو رد کر کے فرمایا ہے کہ یہ بخاری مسلم میں نہیں۔ بخاری کی ایک روایت میں ہے کہ احد کے موقع پر جب حضور ﷺ کو کفار کے لشکروں کی خبر دی گئی تو آپ نے یہی کلمہ فرمایا اور روایت میں ہے کہ حضرت علی کی سردار کے ماتحت جب حضور ﷺ نے ایک چھوٹا سا لشکر روانہ کیا اور راہ میں خزاعہ کے ایک اعرابی نے یہ خبر سنائی تو آپ نے یہ فرمایا تھا۔ ابن مردویہ کی حدیث میں ہے آپ فرماتے ہیں جب تم پر کوئی بہت بڑا کام آپڑے تو تم آیت (حسبنا اللہ) آخر تک پڑھو مسند احمد میں ہے کہ دو شخصوں کے درمیان حضور ﷺ نے فیصلہ کیا تو جس کے خلاف فیصلہ صادر ہوا تھا اس نے یہی کلمہ پڑھا آپ نے اسے واپس بلا کر فرمایا بزدلی اور سستی پر اللہ کی ملامت ہوتی ہے دانائی دور اندیشی اور عقلمندی کیا کرو پھر کسی امر میں پھنس جاؤ تو یہی پڑھ لیا کرو، مسند کی اور حدیث میں ہے کس طرح بےفکر اور فارغ ہو کر آرام پاؤں حالانکہ صاحب صور نے صور منہ میں لے رکھا ہے اور پیشانی جھکائے حکم اللہ کا منتظر ہے کہ کب حکم ہوا اور وہ صور پھونک دے، صحابہ نے کہا حضور ﷺ ہم کیا پڑھیں آپ نے فرمایا آیت (حسبنا اللہ ونعم الوکیل) (علی اللہ توکلنا) پڑھو ام المومنین حضرت زینب اور ام المومنین حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ حضرت زینب نے فخر سے فرمایا میرا نکاح خود اللہ نے کردیا ہے اور تمہارے نکاح ولی وارثوں نے کئے ہیں، صدیقہ نے فرمایا میری برأت اور پاکیزگی کی آیت اللہ تعالیٰ نے آسمان سے اپنے پاک کلام میں نازل فرمائی ہیں حضرت زینب اسے مان گئیں اور پوچھا یہ بتاؤ تم نے حضرت صفوان بن معطل کی سواری پر سوار ہوتے وقت کیا پڑھا تھا، صدیقہ نے فرمایا دعا (حسبی اللہ ونعم الوکیل) یہ سن کر ام المومنین حضرت زینب ؓ نے فرمایا تم نے ایمان والوں کا کلمہ کہا تھا، چناچہ اس آیت میں بھی رب رحیم کا ارشاد ہے کہ ان توکل کرنے والوں کی کفایت اللہ تعالیٰ نے کی اور ان کے ساتھ جو لوگ برائی کا ارادہ رکھتے تھے انہیں ذلت اور بربادی کے ساتھ پسپا کیا، یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے اپنے شہروں کی طرف بغیر کسی نقصان اور برائی کے لوٹے دشمن اپنی مکاریوں میں ناکام رہا، ان سے اللہ خوش ہوگیا کیونکہ انہوں نے اس کی خوشی کا کام انجام دیا تھا اللہ تعالیٰ بڑے فضل و کرم والا ہے۔ ابن عباس کا فرمان ہے کہ نعمت تو یہ تھی کہ وہ سلامت رہے اور فضل یہ تھا کہ حضور ﷺ نے تاجروں کے ایک قافلہ سے مال خرید لیا جس میں بہت ہی نفع ہوا اور اس کل نفع کو آپ نے اپنے ساتھیوں میں تقسیم فرما دیا۔ حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ ابو سفیان نے حضور ﷺ سے کہا اب وعدے کی جگہ بدر ہے آپ نے فرمایا ممکن ہے چناچہ وہاں پہنچے تو یہ ڈرپوک آیا ہی نہیں وہاں بازار کا دن تھا مال خرید لیا جو نفع سے بکا اسی کا نام غزوہ بدر صغریٰ ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ یہ شیطان تھا جو اپنے دوستوں کے ذریعہ تمہیں دھمکا رہا تھا اور گیدڑ بھبکیاں دے رہا تمہیں چاہئے کہ ان سے نہ ڈرو صرف میرا ہی خوف دل میں رکھو کیونکہ ایمان داری کی یہی شرط ہے کہ جب کوئی ڈرائے دھمکائے اور دینی امور سے تمہیں باز رکھنا چاہئے تو مسلمان اللہ پر بھروسہ کرے اس کی طرف سمٹ جائے اور یقین مانے کہ کافی اور ناصر وہی ہے جیسے اور جگہ ہے آیت (اَلَيْسَ اللّٰهُ بِكَافٍ عَبْدَهٗ ۭ وَيُخَوِّفُوْنَكَ بالَّذِيْنَ مِنْ دُوْنِهٖ) 39۔ الزمر :36) کیا اللہ جل شانہ اپنے بندوں کو کافی نہیں یہ لوگ تجھے اس کے سوا اوروں سے ڈرا رہے ہیں (یہاں تک کہ فرمایا) تو کہہ کہ مجھے اللہ کافی ہے توکل کرنے والوں کو اسی پر بھروسہ کرنا چاہئے اور جگہ فرمایا اولیاء شیطان سے لڑو۔ شیطان کا مکر بڑا بودا ہے۔ اور جگہ ارشاد ہے یہ شیطانی لشکر ہے یاد رکھو شیطانی لشکر ہی گھاٹے اور خسارے میں ہے اور جگہ ارشاد ہے آیت (كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِيْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ قَوِيٌّ عَزِيْزٌ) 58۔ المجادلہ :21) اللہ تعالیٰ لکھ چکا ہے کہ غلبہ یقینا مجھے اور میرے رسولوں کو ہی ہوگا اللہ قوی اور عزیز ہے۔ اور جگہ ارشاد ہے آیت (ۭوَلَيَنْصُرَنَّ اللّٰهُ مَنْ يَّنْصُرُهٗ ۭ اِنَّ اللّٰهَ لَقَوِيٌّ عَزِيْزٌ) 22۔ الحج :40) جو اللہ کی مدد کرے گا اس کی امداد فرمائے گا اور فرمان ہے آیت (يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِنْ تَنْصُرُوا اللّٰهَ يَنْصُرْكُمْ وَيُثَبِّتْ اَقْدَامَكُمْ) 47۔ محمد :7) اے ایمان والو اگر تم اللہ کی مدد کرو گے تو اللہ تمہاری بھی مدد کرے گا اور آیت میں ہے آیت (اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُوْمُ الْاَشْهَادُ) 40۔ غافر :51) بالیقین ہم اپنے رسولوں کی اور ایمان داروں کی مدد دینا میں بھی کریں گے اور اس دن بھی جس دن گواہ کھڑے ہوں گے جس دن ظالموں کو عذر معذرت نفع نہ دے گی ان کے لئے لعنت ہے اور ان کے لئے برا گھر ہے۔
173
View Single
ٱلَّذِينَ قَالَ لَهُمُ ٱلنَّاسُ إِنَّ ٱلنَّاسَ قَدۡ جَمَعُواْ لَكُمۡ فَٱخۡشَوۡهُمۡ فَزَادَهُمۡ إِيمَٰنٗا وَقَالُواْ حَسۡبُنَا ٱللَّهُ وَنِعۡمَ ٱلۡوَكِيلُ
Those to whom the people said, “The people have gathered against you, therefore fear them”, so their faith was further increased; and they said, “Allah is Sufficient for us – and what an excellent (reliable) Trustee (of affairs) is He!”
(یہ) وہ لوگ (ہیں) جن سے لوگوں نے کہا کہ مخالف لوگ تمہارے مقابلے کے لئے (بڑی کثرت سے) جمع ہو چکے ہیں سو ان سے ڈرو، تو (اس بات نے) ان کے ایمان کو اور بڑھا دیا اور وہ کہنے لگے: ہمیں اللہ کافی ہے اور وہ کیا اچھا کارساز ہے
Tafsir Ibn Kathir
Virtues of the Martyrs
Allah states that even though the martyrs were killed in this life, their souls are alive and receiving provisions in the Dwelling of Everlasting Life. In his Sahih, Muslim recorded that Masruq said, "We asked `Abdullah about this Ayah,
وَلاَ تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُواْ فِى سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَتاً بَلْ أَحْيَاءٌ عِندَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ
(Think not of those as dead who are killed in the way of Allah. Nay, they are alive, with their Lord, and they have provision.)
He said, `We asked the Messenger of Allah ﷺ the same question and he said,
«أَرْوَاحُهُمْ فِي جَوْفِ طَيْرٍ خُضْرٍ، لَهَا قَنَادِيلُ مُعَلَّقَةٌ بِالْعَرْشِ، تَسْرَحُ مِنَ الْجَنَّةِ حَيْثُ شَاءَتْ، ثُمَّ تَأْوِي إِلَى تِلْكَ الْقَنَادِيلِ، فَاطَّلَعَ إِلَيْهِمْ رَبُّهُمُ اطِّلَاعَةً فَقَالَ: هَلْ تَشْتَهُونَ شَيْئًا؟ فَقَالُوا: أَيَّ شَيْءٍ نَشْتَهِي وَنَحْنُ نَسْرَحُ مِنَ الْجَنَّةِ حَيْثُ شِئْنَا؟ فَفَعَلَ ذَلِكَ بِهِمْ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَلَمَّا رَأَوْا أَنَّهُمْ لَنْ يُتْرَكُوا مِنْ أَنْ يُسْأَلُوا، قَالُوا: يَا رَبِّ نُرِيدُ أَنْ تَرُدَّ أَرْوَاحَنَا فِي أَجْسَادِنَا حَتَّى نُقْتَلَ فِي سَبِيلِكَ مَرَّةً أُخْرَى، فَلَمَّا رَأَى أَنْ لَيْسَ لَهُمْ حَاجَةٌ، تُرِكُوا»
(Their souls are inside green birds that have lamps, which are hanging below the Throne (of Allah), and they wander about in Paradise wherever they wish. Then they return to those lamps. Allah looks at them and says, `Do you wish for anything' They say, `What more could we wish for, while we go wherever we wish in Paradise' Allah asked them this question thrice, and when they realize that He will keep asking them until they give an answer, they say, `O Lord! We wish that our souls be returned to our bodies so that we are killed in Your cause again.' Allah knew that they did not have any other wish, so they were left.)"' There are several other similar narrations from Anas and Abu Sa`id.
Imam Ahmad recorded that Anas said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«مَا مِنْ نَفْسٍ تَمُوتُ، لَهَا عِنْدَ اللهِ خَيْرٌ، يَسُرُّهَا أَنْ تَرْجِعَ إِلَى الدُّنْيَا، إِلَّا الشَّهِيدُ، فَإِنَّهُ يَسُرُّهُ أَنْ يَرْجِعَ إِلَى الدُّنْيَا فَيُقْتَلَ مَرَّةً أُخْرَى، لِمَا يَرَى مِنْ فَضْلِ الشَهَادَة»
(No soul that has a good standing with Allah and dies would wish to go back to the life of this world, except for the martyr. He would like to be returned to this life so that he could be martyred again, for he tastes the honor achieved from martyrdom.) Muslim collected this Hadith
In addition, Imam Ahmad recorded that, Ibn `Abbas said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«لَمَّا أُصِيبَ إِخْوَانُكُمْ بِأُحُدٍ، جَعَلَ اللهُ أَرْوَاحَهُمْ فِي أَجْوَافِ طَيْرٍ خُضْرٍ، تَرِدُ أَنْهَارَ الْجَنَّـةِ، وَتَأْكُلُ مِنْ ثِمَارِهَا، وَتَأْوِي إِلى قَنَادِيلَ مِنْ ذَهَبٍ فِي ظِلِّ الْعَرْشِ، فَلَمَّا وَجَدُوا طِيبَ مَشْرَبِهِمْ وَمَأْكَلِهِمْ، وَحُسْنَ مُتَقَلَّبِهِمْ قَالُوا: يَا لَيْتَ إِخْوَانَنَا يَعْلَمُونَ مَا صَنَعَ اللهُ لَنَا، لِئَلَّا يَزْهَدُوا فِي الْجِهَادِ، وَلَا يَنْكُلُوا عَنِ الْحَرْبِ، فَقَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: أَنْا أُبَلِّغُهُمْ عَنْكُم»
(When your brothers were killed in Uhud, Allah placed their souls inside green birds that tend to the rivers of Paradise and eat from its fruits. They then return to golden lamps hanging in the shade of the Throne. When they tasted the delight of their food, drink and dwelling, they said, `We wish that our brothers knew what Allah gave us so that they will not abandon Jihad or warfare.' Allah said, `I will convey the news for you.') Allah revealed these and the following Ayat,
وَلاَ تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُواْ فِى سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَتاً بَلْ أَحْيَاءٌ عِندَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ
(Think not of those as dead who are killed in the way of Allah. Nay, they are alive, with their Lord, and they have provision.)
Qatadah, Ar-Rabi` and Ad-Dahhak said that these Ayat were revealed about the martyrs of Uhud.
Abu Bakr Ibn Marduwyah recorded that Jabir bin `Abdullah said, "The Messenger of Allah ﷺ looked at me one day and said, `O Jabir! Why do I see you sad' I said, `O Messenger of Allah! My father was martyred and left behind debts and children.' He said,
«أَلَا أُخْبِرُكَ؟ مَا كَلَّمَ اللهُ أَحَدًا قَطُّ إِلَّا مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ، وَإِنَّه كَلَّمَ أَبَاكَ كِفَاحًا»
، قال علي: الكفاح: المواجهة
«قَالَ: سَلْنِي أُعْطِكَ. قَالَ: أَسْأَلُكَ أَنْ أُرَدَّ إِلَى الدُّنْيَا فَأُقْتَلَ فِيكَ ثَانِيَةً، فَقَالَ الرَّبُّ عَزَّ وَجَلَّ: إِنَّهُ قَدْ سَبَقَ مِنِّي الْقَوْلُ: إِنَّهُمْ إِلَيْهَا لَا يَرْجِعُونَ. قَالَ: أَيْ رَبِّ فَأَبْلِغْ مَنْ وَرَائِي»
(Should I tell you that Allah never spoke to anyone except from behind a veil However, He spoke to your father directly. He said, `Ask Me and I will give you.' He said, `I ask that I am returned to life so that I am killed in Your cause again.' The Lord, Exalted He be, said, `I have spoken the word that they shall not be returned back to it (this life). ' He said, `O Lord! Then convey the news to those I left behind.') Allah revealed,
وَلاَ تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُواْ فِى سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَتاً
(Think not of those as dead who are killed in the way of Allah...)"
Imam Ahmad recorded that Ibn `Abbas said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«الشُّهَدَاءُ عَلى بَارِقِ نَهْرٍ بِبَابِ الْجَنَّـةِ، فِي قُبَّةٍ خَضْرَاءَ، يَخْرُجُ عَلَيْهِمْ رِزْقُهُمْ مِنَ الْجَنَّـةِ بُكْرَةً وَعَشِيًّا»
(The martyrs convene at the shore of a river close to the door of Paradise, in a green tent, where their provisions are brought to them from Paradise day and night.)
Ahmad and Ibn Jarir collected this Hadith, which has a good chain of narration. It appears that the martyrs are of different types, some of them wander in Paradise, and some remain close to this river by the door of Paradise. It is also possible that the river is where all the souls of the martyrs convene and where they are provided with their provision day and night, and Allah knows best. UImam Ahmad narrated a Hadith that contains good news for every believer that his soul will be wandering in Paradise, as well, eating from its fruits, enjoying its delights and happiness and tasting the honor that Allah has prepared in it for him. This Hadith has a unique, authentic chain of narration that includes three of the Four Imams. Imam Ahmad narrated this Hadith from Muhammad bin Idris Ash-Shafi`i who narrated it from Malik bin Anas Al-Asbuhi, from Az-Zuhri, from `Abdur-Rahman bin Ka`b bin Malik that his father said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«نَسَمَةُ الْمُؤْمِنِ طَائِرٌ يَعْلُقُ فِي شَجَرِ الْجَنَّـةِ حَتَّى يَرْجِعَهُ اللهُ إِلى جَسَدِهِ يَوْمَ يَبْعَثُه»
(The soul of the believer becomes a bird that feeds on the trees of Paradise, until Allah sends him back to his body when He resurrects him.)
This Hadith states that the souls of the believers are in the shape of a bird in Paradise. As for the souls of martyrs, they are inside green birds, like the stars to the rest of the believing souls. We ask Allah the Most Generous that He makes us firm on the faith.
Allah's statement,
فَرِحِينَ بِمَآ ءَاتَـهُمُ اللَّهُ
(They rejoice in what Allah has bestowed upon them) indicates that the martyrs who were killed in Allah's cause are alive with Allah, delighted because of the bounty and happiness they are enjoying. They are also awaiting their brethren, who will die in Allah's cause after them, for they will be meeting them soon. These martyrs do not have fear about the future or sorrow for what they left behind. We ask Allah to grant us Paradise. The Two Sahihs record from Anas, the story of the seventy Ansar Companions who were murdered at Bir Ma`unah in one night. In this Hadith, Anas reported that the Prophet used to supplicate to Allah in Qunut in prayer against those who killed them. Anas said, "A part of the Qur'an was revealed about them, but was later abrogated, `Convey to our people that we met Allah and He was pleased with us and made us pleased."'
Allah said next,
يَسْتَبْشِرُونَ بِنِعْمَةٍ مِّنَ اللَّهِ وَفَضْلٍ وَأَنَّ اللَّهَ لاَ يُضِيعُ أَجْرَ الْمُؤْمِنِينَ
(They rejoice in a grace and a bounty from Allah, and that Allah will not waste the reward of the believers) 3:171.
Muhammad bin Ishaq commented, "They were delighted and pleased because of Allah's promise that was fulfilled for them, and for the tremendous rewards they earned." `Abdur-Rahman bin Zayd bin Aslam said, "This Ayah encompasses all the believers, martyrs and otherwise. Rarely does Allah mention a bounty and a reward that He granted to the Prophets, without following that with what He has granted the believers after them."
The Battle of Hamra' Al-Asad
Allah said,
الَّذِينَ اسْتَجَابُواْ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ مِن بَعْدِ مَآ أَصَـبَهُمُ الْقَرْحُ
(Those who answered (the Call of) Allah and the Messenger after being wounded) 3:172.
This occurred on the day of Hamra' Al-Asad. After the idolators defeated the Muslims (at Uhud), they started on their way back home, but soon they were concerned because they did not finish off the Muslims in Al-Madinah, so they set out to make that battle the final one. When the Messenger of Allah ﷺ got news of this, he commanded the Muslims to march to meet the disbelievers, to bring fear to their hearts and to demonstrate that the Muslims still had strength to fight. The Prophet only allowed those who were present during Uhud to accompany him, except for Jabir bin `Abdullah Al-Ansari, as we will mention. The Muslims mobilized, even though they were still suffering from their injuries, in obedience to Allah and His Messenger .
Ibn Abi Hatim recorded that `Ikrimah said, "When the idolators returned towards Makkah after Uhud, they said, `You neither killed Muhammad nor collected female captives. Woe to you for what you did. Let us go back.' When the Messenger of Allah ﷺ heard this news, he mobilized the Muslim forces, and they marched until they reached Hamra Al-Asad. The idolators said, `Rather, we will meet next year', and the Messenger of Allah ﷺ went back to Al-Madinah, and this was considered a Ghazwah (battle). Allah sent down,
الَّذِينَ اسْتَجَابُواْ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ مِن بَعْدِ مَآ أَصَـبَهُمُ الْقَرْحُ لِلَّذِينَ أَحْسَنُواْ مِنْهُمْ وَاتَّقَوْاْ أَجْرٌ عَظِيمٌ
(Those who answered (the Call of) Allah and the Messenger after being wounded; for those of them who did good deeds and feared Allah, there is a great reward.)
Al-Bukhari recorded that `A'ishah said to `Urwah about the Ayah;
الَّذِينَ اسْتَجَابُواْ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ
(Those who answered (the Call of) Allah and the Messenger)
"My nephew! Your fathers Az-Zubayr and Abu Bakr were among them. After the Prophet suffered the calamity at Uhud and the idolators went back, he feared that the idolators might try to come back and he said, `Who would follow them' Seventy men, including Az-Zubayr and Abu Bakr, volunteered." This was recorded by Al-Bukhari alone.
As for Allah's statement,
الَّذِينَ قَالَ لَهُمُ النَّاسُ إِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُواْ لَكُمْ فَاخْشَوْهُمْ فَزَادَهُمْ إِيمَـناً
(Those unto whom the people said, "Verily, the people have gathered against you, therefore, fear them." But it (only) increased them in faith) 3:173, it means, those who threatened the people, saying that the disbelievers have amassed against them, in order to instill fear in them, but this did not worry them, rather, they trusted in Allah and sought His help,
وَقَالُواْ حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ
(and they said: "Allah is Sufficient for us, and He is the Best Disposer of affairs.")
Al-Bukhari recorded that Ibn `Abbas said,
حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ
("Allah Alone is Sufficient for us and He is the Best Disposer of affairs for us.")
"Ibrahim said it when he was thrown in fire. Muhammad said it when the people said, `Verily, the people have gathered against you, therefore, fear them.' But it only increased them in faith, and they said, `Allah is Sufficient for us and He is the Best Disposer of affairs for us."' Abu Bakr Ibn Marduwyah recorded that Anas bin Malik said that the Prophet was told on the day of Uhud, "Verily, the people have gathered against you, therefore, fear them." Thereafter, Allah sent down this Ayah 3:173.
This is why Allah said,
فَانْقَلَبُواْ بِنِعْمَةٍ مِّنَ اللَّهِ وَفَضْلٍ لَّمْ يَمْسَسْهُمْ سُوءٌ
(So they returned with grace and bounty from Allah. No harm touched them;) for when they relied on Allah, Allah took care of their worries, He confounded the plots of their enemies, and the Muslims returned to their land,
بِنِعْمَةٍ مِّنَ اللَّهِ وَفَضْلٍ لَّمْ يَمْسَسْهُمْ سُوءٌ
(with grace and bounty from Allah. No harm touched them;) safe from the wicked plots of their enemies,
وَاتَّبَعُواْ رِضْوَنَ اللَّهِ وَاللَّهُ ذُو فَضْلٍ عَظِيمٍ
(and they followed the pleasure of Allah. And Allah is the Owner of great bounty.)
Al-Bayhaqi recorded that Ibn `Abbas said about Allah's statement,
فَانْقَلَبُواْ بِنِعْمَةٍ مِّنَ اللَّهِ وَفَضْلٍ
(So they returned with grace and bounty from Allah,) "The `Grace' was that they were saved. The `Bounty' was that a caravan passed by, and those days were Hajj season days. Thus the Messenger of Allah ﷺ bought and sold and made a profit, which he divided between his Companions."
Allah then said,
إِنَّمَا ذَلِكُمُ الشَّيْطَـنُ يُخَوِّفُ أَوْلِيَاءَهُ
(It is only Shaytan that suggests to you the fear of his friends,) 3:175 meaning, Shaytan threatens you with his friends and tries to pretend they are powerful and fearsome. Allah said next,
فَلاَ تَخَافُوهُمْ وَخَافُونِ إِن كُنتُمْ مُّؤْمِنِينَ
(so fear them not, but fear Me, if you are indeed believers.) meaning, "If Shaytan brings these thoughts to you, then depend on Me and seek refuge with Me. Indeed, I shall suffice you and make you prevail over them." Similarly, Allah said,
أَلَيْسَ اللَّهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ وَيُخَوِّفُونَكَ بِالَّذِينَ مِن دُونِهِ
(Is not Allah Sufficient for His servant Yet they try to frighten you with those besides Him!) 39: 36, until,
قُلْ حَسْبِىَ اللَّهُ عَلَيْهِ يَتَوَكَّـلُ الْمُتَوَكِّلُونَ
(Say: "Sufficient for me is Allah; in Him those who trust must put their trust.") 39:38. Allah said,
فَقَـتِلُواْ أَوْلِيَاءَ الشَّيْطَـنِ إِنَّ كَيْدَ الشَّيْطَـنِ كَانَ ضَعِيفاً
(So fight you against the friends of Shaytan; ever feeble indeed is the plot of Shaytan.) 4:76 and
أُوْلَـئِكَ حِزْبُ الشَّيْطَـنِ أَلاَ إِنَّ حِزْبَ الشَّيْطَـنِ هُمُ الخَـسِرُونَ
(They are the party of Shaytan. Verily, it is the party of Shaytan that will be the losers!) 58:19,
كَتَبَ اللَّهُ لاّغْلِبَنَّ أَنَاْ وَرُسُلِى إِنَّ اللَّهَ قَوِىٌّ عَزِيزٌ
(Allah has decreed: "Verily, it is I and My Messengers who shall be the victorious." Verily, Allah is All-Powerful, All-Mighty.) 58:21 and
وَلَيَنصُرَنَّ اللَّهُ مَن يَنصُرُهُ
(Verily, Allah will help those who help His (cause).) 22:40 and
يأَيُّهَا الَّذِينَ ءَامَنُواْ إِن تَنصُرُواْ اللَّهَ يَنصُرْكُمْ
(O you who believe! If you help (in the cause of) Allah, He will help you) 47:7, and,
إِنَّا لَنَنصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِينَ ءَامَنُواْ فِى الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُومُ الاٌّشْهَـدُ - يَوْمَ لاَ يَنفَعُ الظَّـلِمِينَ مَعْذِرَتُهُمْ وَلَهُمُ الْلَّعْنَةُ وَلَهُمْ سُوءُ الدَّارِ
(Verily, We will indeed make victorious Our Messengers and those who believe, in this world's life and on the Day when the witnesses will stand forth. The Day when their excuses will be of no profit to wrongdoers. Theirs will be the curse, and theirs will be the evil abode.) 40:51,52
بیئر معونہ کے شہداء اور جنت میں ان کی تمنا ؟ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ گو شہید فی سبیل اللہ دنیا میں مار ڈالے جاتے ہیں لیکن آخرت میں ان کی روحیں زندہ رہتی ہیں اور رزق پاتی ہیں، اس آیت کا شان نزول یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے چالیس یا ستر صحابیوں کو بیئر معونہ کی طرف بھیجا تھا یہ جماعت جب اس غار تک پہنچی جو اس کنویں کے اوپر تھی تو انہوں نے وہاں پڑاؤ کیا اور آپس میں کہنے لگے کون ہے ؟ جو اپنی جان خطرہ میں ڈال کر اللہ کے رسول ﷺ کا کلمہ ان تک پہنچائے ایک صحابی اس کے لئے تیار ہوئے اور ان لوگوں کے گھروں کے پاس آکر با آواز بلند فرمایا اے بیئر معونہ والو سنو میں اللہ کے رسول ﷺ کا قاصد ہوں میری گواہی ہے کہ معبود صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے اور محمد ﷺ اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں یہ سنتے ہی ایک کافر اپنا تیر سنبھالے ہوئے اپنے گھر سے نکلا اور اس طرح تاک کر لگایا کہ ادھر کی پسلی سے ادھر کی پسلی میں آرپار نکل گیا، اس صحابی کی زبان سے بیساختہ نکلا حدیث (فزت ورب الکعبۃ) کعبے کے اللہ کی قسم میں اپنی مراد کو پہنچ گیا اب کفار نشانات ٹٹولتے ہوئے اس غار پر جا پہنچے اور عامر بن طفیل نے جو ان کا سردار تھا ان سب مسلمانوں کو شہید کردیا حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ ان کے بارے میں قرآن اترا کہ ہماری جانب سے ہماری قوم کو یہ خبر پہنچا دو کہ ہم اپنے رب سے ملے وہ ہم سے راضی ہوگیا اور ہم اس سے راضی ہوگئے ہم ان آیتوں کو برابر پڑھتے رہے پھر ایک مدت کے بعد یہ منسوخ ہو کر اٹھا لی گئیں اور آیت (ولا تحسبن) الخ، اتری (محمد بن جریر) صحیح مسلم شریف میں ہے حضرت مسروق فرماتے ہیں ہم نے حضرت عبداللہ سے اس آیت کا مطلب پوچھا تو حضرت عبداللہ نے فرمایا ہم نے رسول ﷺ سے اس آیت کا مطلب دریافت کیا تھا تو آپ نے فرمایا ان کی روحیں سبز رنگ پرندوں کے قالب میں ہیں۔ عرش کی قندلیں ان کے لئے ہیں ساری جنت میں جہاں کہیں چاہیں چریں چگیں اور ان قندیلیوں میں آرام کریں ان کی طرف ان کے رب نے ایک مرتبہ نظر کی اور دریافت فرمایا کچھ اور چاہتے ہو ؟ کہنے لگے اے اللہ اور کیا مانگیں ساری جنت میں سے جہاں کہیں سے چاہیں کھائیں پئیں اختیار ہے پھر کیا طلب کریں اللہ تعالیٰ نے ان سے پھر یہی پوچھا تیسری مرتبہ یہی سوال کیا جب انہوں نے دیکھا کہ بغیر کچھ مانگے چارہ ہی نہیں تو کہنے لگے اے رب ! ہم چاہتے ہیں کہ تو ہماری روحوں کو جسموں کی طرف لوٹا دے ہم پھر دنیا میں جا کر تیری راہ میں جہاد کریں اور مارے جائیں اب معلوم ہوگیا کہ انہیں کسی اور چیز کی حاجت نہیں تو ان سے پوچھنا چھوڑ دیا کہ کیا چاہتے ہو ؟ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جو لوگ مرجائیں اور اللہ کے ہاں بہتری پائیں وہ ہرگز دنیا میں آنا پسند نہیں کرتے مگر شہید کہ وہ تمنا کرتا ہے کہ دنیا میں دوبارہ لوٹایا جائے اور دوبارہ راہ اللہ میں شہید ہو کیونکہ شہادت کے درجات کو وہ دیکھ رہا ہے (مسند احمد) صحیح مسلم شریف میں بھی یہ حدیث ہے، مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے فرمایا اے جابر تمہیں معلوم بھی ہے ؟ کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے والد کو زندہ کیا اور ان سے کہا اے میرے بندے مانگ کیا مانگتا ہے ؟ تو کہا اے اللہ دنیا میں پھر بھیج تاکہ میں دوبارہ تیری راہ میں مارا جاؤں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا یہ تو میں فیصلہ کرچکا ہوں کہ کوئی یہاں دوبارہ لوٹایا نہیں جائے گا، ان کا نام حضرت عبداللہ بن عمرو بن حرام انصاری تھا اللہ تعالیٰ ان سے رضامند ہو، صحیح بخاری شریف میں ہے حضرت جابر فرماتے ہیں میرے باپ کی شہادت کے بعد میں رونے لگا اور ابا کے منہ سے کپڑا ہٹا ہٹا کر بار بار ان کے چہرے کو دیکھ رہا تھا۔ صحابہ مجھے منع کرتے تھے لیکن آنحضرت ﷺ خاموش تھے پھر حضور ﷺ نے فرمایا جابر رو مت جب تک تیرے والد کو اٹھایا نہیں گیا فرشتے اپنے پروں سے اس پر سایہ کئے ہوئے ہیں، مسند احمد میں ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا جب تمہارے بھائی احد والے دن شہید کئے گئے تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی روحیں سبز پرندوں کے قالب میں ڈال دیں جو جنتی درختوں کے پھل کھائیں اور جنتی نہروں کا پانی پئیں اور عرش کے سائے تلے وہاں لٹکتی ہوئی قندیلوں میں آرام و راحت حاصل کریں جب کھانے پینے رہنے سہنے کی یہ بہترین نعمتیں انہیں ملیں تو کہنے لگے کاش کہ ہمارے بھائیوں کو جو دنیا میں ہیں ہماری ان نعمتوں کی خبر مل جاتی تاکہ وہ جہاد سے منہ نہ پھیریں اور اللہ کی راہ کی لڑائیوں سے تھک کر نہ بیٹھ رہیں اللہ تعالیٰ نے ان سے فرمایا تم بےفکر رہو میں یہ خبر ان تک پہنچا دیتا ہوں چناچہ یہ آیتیں نازل فرمائیں، حضرت ابن عباس سے یہ بھی مروی ہے کہ حضرت حمزہ ؓ اور آپ کے ساتھیوں کے بارے میں آیتیں اتریں (مستدرک حاکم) یہ بھی مفسرین نے فرمایا ہے کہ احد کے شہیدوں کے بارے میں یہ آیتیں نازل ہوئیں۔ ابوبکر بن مردویہ میں حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے دیکھا اور فرمانے لگے جابر کیا بات ہے کہ تم مجھے غمگین نظر آتے ہو ؟ میں نے کہا یا رسول اللہ میرے والد شہید ہوگئے جن پر بار قرض بہت ہے اور میرے چھوٹے چھوٹے بہن بھائی بہت ہیں آپ نے فرمایا سن میں تجھے بتاؤں جس کسی سے اللہ نے کلام کیا پردے کے پیچھے سے کلام کیا لیکن تیرے باپ سے آمنے سامنے بات چیت کی فرمایا مجھ سے مانگ جو مانگے گا دوں گا تیرے باپ نے کہا اللہ عزوجل میں تجھ سے یہ مانگتا ہوں کہ تو مجھے دنیا میں دوبارہ بھیجے اور میں تیری راہ میں دوسری مرتبہ شہید کیا جاؤں، رب عزوجل نے فرمایا یہ بات تو میں پہلے ہی مقرر کرچکا ہوں کہ کوئی بھی لوٹ کر دوبارہ دنیا میں نہیں جائے گا۔ کہنے لگے پھر اے اللہ میرے بعد والوں کو ان مراتب کی خبر پہنچا دی جائے چناچہ اللہ تعالیٰ نے آیت (ولا تحسبن) الخ، فرمائی، بیہقی میں اتنا اور زیادہ ہے کہ حضرت عبداللہ ؓ نے فرمایا میں تو اے اللہ تیری عبادت کا حق بھی ادا نہیں کرسکا، مسند احمد میں ہے شہید لوگ جنت کے دروازے پر نہر کے کنارے سے گنبد سبز میں ہیں، صبح شام انہیں جنت کی نعمتیں پہنچ جاتی ہیں، دونوں احادیث میں تطبیق یہ ہے کہ بعض شہداء وہ ہیں جن کی روحیں پرندوں کے قالب میں ہیں اور بعض وہ ہیں جن کا ٹھکانا یہ گنبد ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ جنت میں سے پھرتے پھراتے یہاں جمع ہوتے ہوں اور پھر یہ کھانے یہیں کھلائے جاتے ہوں واللہ اعلم، یہاں پر وہ حدیث بھی وارد کرنا بالکل برمحل ہوگا جس میں ہر مومن کے لئے یہی بشارت ہے چناچہ مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مومن کی روح ایک پرند میں ہے جو جنت کے درختوں کے پھل کھاتی پھرتی ہے یہاں تک کہ قیامت والے دن جبکہ اللہ تعالیٰ سب کو کھڑا کرے تو اسے بھی اس کے جسم کی طرف لوٹا دے گا، اس حدیث کے راویوں میں تین جلیل القدر امام ہیں جو ان چار اماموں میں سے ہیں جن کے مذاہب مانے جا رہے ہیں، ایک تو امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ آپ اس حدیث کو روایت کرتے ہیں، امام محمد بن ادریس شافعی ؒ سے ان کے استاد ہیں حضرت امام مالک بن انس ؓ پس امام احمد امام شافعی امام محمد بن ادریس شافعی ؒ سے ان کے استاد ہیں۔ حضرت امام مالک بن انس ؓ پس امام احمد امام شافعی امام مالک تینوں زبردست پیشوا اس حدیث کے راوی ہیں۔ پس اس حدیث سے ثابت ہوا کہ ایمانداروں کی روح جنتی پرند کی شکل میں جنت میں رہتی ہے اور شہیدوں کی روحیں جیسے کے پہلے گذر چکا ہے سبز رنگ کے پرندوں کے قالب میں رہتی ہیں یہ روحیں مثل ستاروں کے ہیں جو عام مومنین کی روحوں کو یہ مرتبہ حاصل نہیں، یہ اپنے طور پر آپ ہی اڑتی ہیں، اللہ تعالیٰ سے جو بہت بڑا مہربان اور زبردست احسانوں والا ہے ہماری دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنے فضل و کرم سے ایمان و اسلام پر موت دے آمین۔ پھر فرمایا کہ یہ شہید جن جن نعمتوں اور آسائشوں میں ہیں ان سے بیحد مسرور اور بہت ہی خوش ہیں اور انہیں یہ بھی خوشی اور راحت ہے کہ ان کے بھائی بند جو ان کے بعد راہ اللہ میں شہید ہوں گے اور ان کے پاس آئیں گے انہیں آئندہ کا کچھ خوف نہ ہوگا اور اپنے پیچھے چھوڑی ہوئی چیزوں پر انہیں حسرت بھی نہ ہوگی، اللہ ہمیں بھی جنت نصیب کرے، حضرت محمد بن اسحاق فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ وہ خوش ہیں کہ ان کے کئی اور بھائی بند بھی جو جہاد میں لگے ہوئے ہیں وہ بھی شہید ہو کر ان کی نعمتوں میں ان کے شریک حال ہوں گے اور اللہ کے ثواب سے فائدہ اٹھائیں گے، حضرت سدی فرماتے ہیں شہید کو ایک کتاب دی جاتی ہے کہ فلاں دن تیرے پاس فلاں آئے گا اور فلاں دن فلاں آئے گا پس جس طرح دنیا والے اپنی کسی غیر حاضر کے آنے کی خبر سن کر خوش ہوتے ہیں اسی طرح یہ شہداء ان شہیدوں کی آنے کی خبر سے مسرور ہوتے ہیں، حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ جب شہید جنت میں گئے اور وہاں اپنی منزلیں اور رحمتیں دیکھیں تو کہنے لگے کاش کہ اس کا علم ہمارے ان بھائیوں کو بھی ہوتا جو اب تک دنیا میں ہی ہیں تاکہ وہ جواں مردی سے جان توڑ کر جہاد کرتے اور ان جگہوں میں جا گھستے جہاں سے زندہ آنے کی امید نہ ہوتی تو وہ بھی ہماری ان نعمتوں میں حصہ دار بنتے پس نبی ﷺ نے لوگوں کو ان کے اس حال کی خبر پہنچا دی اور اللہ تعالیٰ نے ان سے کہ دیا کہ میں نے تمہاری خبر تمہارے نبی ﷺ کو دے دی ہے اس سے وہ بہت ہی مسرور و محفوظ ہوئے، بخاری مسلم میں بیر معونہ والوں کا قصہ بیان ہوچکا ہے جو ستر شخص انصاری صحابی تھے اور ایک ہی دن صبح کے وقت کو بےدردی سے کفار نے تہ تیغ کیا تھا جن قاتلوں کے حق میں ایک ماہ نماز کی قنوت میں رسول اللہ ﷺ نے بد دعا کی تھی اور جن پر لعنت بھیجی تھی جن کے بارے میں قرآن کی یہ آیت اتری تھی کہ ہماری قوم کو ہماری خبر پہنچاؤ کہ ہم اپنے رب سے ملے وہ ہم سے راضی ہوا اور ہم اس سے راضی ہوگئے، وہ اللہ کی نعمت و فضل کو دیکھ دیکھ کر مسرور ہیں، حضرت عبدالرحمن فرماتے ہیں یہ آیت (یستبشرون) تمام ایمانداروں کے حق میں ہے خواہ شہید ہوں خواہ غیر۔ بہت کم ایسے موقع ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے نبیوں کی فضیلت اور ان کے ثوابوں کا ذکر نہ ہو۔ پھر ان سچے مومنین کا بیان تعریف کے ساتھ ہو رہا ہے۔ جنہوں نے حمراء اسد والے دن حکم رسول پر باوجود زخموں سے چور ہونے کے جہاد پر کمر کس لی تھی، مشرکین نے مسلمانوں کو مصیبتیں پہنچائیں اور اپنے گھروں کی طرف واپس چل دئیے۔ لیکن پھر انہیں اس کا خیال آیا کہ موقع اچھا تھا مسلمان ہار چکے تھے زخمی ہوگئے تھے ان کے بہادر شہید ہوچکے تھے اگر ہم اور جم کر لڑتے تو فیصلہ ہی ہوجاتا نبی ﷺ ان کا یہ ارادہ معلوم کر کے مسلمانوں کو تیار کرنے لگے کہ میرے ساتھ چلو ہم ان مشرکین کے پیچھے جائیں تاکہ ان پر رعب طاری ہو اور یہ جان لیں کہ مسلمان ابھی کمزور نہیں ہوئے احد میں جو لوگ موجود تھے صرف انہی کو ساتھ چلنے کا حکم ملا ہاں صرف حضرت جابر بن عبداللہ کو ان کے علاوہ بھی ساتھ لیا اس آواز پر بھی مسلمانوں نے لبیک کہی باوجود یہ کہ زخموں میں چور اور خون میں شرابور تھے لیکن اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کے لئے کمر بستہ ہوگئے، حضرت عکرمہ کا بیان ہے کہ جب مشرکین احد سے لوٹے تو راستے میں سوچنے لگے کہ نہ تو تم نے محمد ﷺ کو قتل کیا نہ مسلمانوں کی عورتوں کو پکڑا افسوس تم نے کچھ نہ کیا واپس لوٹو جب یہ خبر حضور ﷺ کو پہنچی تو آپ نے مسلمانوں کو تیاری کا حکم دیا یہ تیار ہوگئے اور مشرکین کے تعاقب میں چل پڑے یہاں تک کہ حمراء الاسد تک یا " بیئر ابی عینیہ " تک پہنچ گئے۔ مشرکین کے دل رعب و خوف سے بھر گئے اور یہ کہہ کر مکہ کی طرف چل دئیے اگلے سال دیکھا جائے گا حضور ﷺ بھی واپس مدینہ تشریف لائے، یہ بھی بالاستقلال ایک الگ لڑائی گنی جاتی ہے اسی کا ذکر اس آیت میں ہے احد کی لڑائی پندرہ شوال بروز ہفتہ ہوئی تھی سولہویں تاریخ بروز اتوار منادی رسول ﷺ نے ندا دی کہ لوگو دشمن کے تعاقب میں چلو اور وہی لوگ چلیں جو کل میدان میں تھے، اس آواز پر حضرت جابر حاضر ہوئے اور عرض کرنے لگے یا رسول اللہ ﷺ کل کی لڑائی میں میں نہ تھا اس لئے کہ میرے والد حضرت عبداللہ نے مجھ سے کہا بیٹے تمہارے ساتھ یہ چھوٹی چھوٹی بہنیں ہیں اسے تو نہ میں پسند کروں اور نہ تو کہ انہیں یہاں تنہا چھوڑ کر دونوں ہی چل دیں ایک جائے گا اور ایک یہاں رہے گا۔ مجھ سے یہ نہیں ہوسکتا کہ رسول اللہ ﷺ کے ہم رکاب تم جاؤ اور میں بیٹھا رہوں اس لئے میری خواہش ہے کہ تم اپنی بہنوں کے پاس رہو اور میں جاتا ہوں اس وجہ سے میں تو وہاں رہا اور میرے والد آپ کے ساتھ آئے اب میری عین تمنا ہے کہ آج مجھے اجازت دیجئے کہ میں آپ کے ساتھ چلوں چناچہ آپ نے اجازت دی حضور ﷺ کا سفر اس غرض سے تھا کہ دشمن دہل جائے اور پیچھے آتا ہوا دیکھ کر سمجھ لے کہ ان میں بہت کچھ قوت ہے اور ہمارے مقابلہ سے یہ عاجز نہیں، قبیلہ بنو عبدالاشہل کے ایک صحابی کا بیان ہے کہ غزوہ احد میں ہم دونوں بھائی شامل تھے اور سخت زخمی ہو کر ہم لوٹے تھے، جب اللہ کے رسول ﷺ کے منادی نے دشمن کے پیچھے جانے کی ندا دی تو ہم دونوں بھائیوں نے آپس میں کہا کہ افسوس نہ ہمارے پاس سواری ہے کہ اس پر سوار ہو کر اللہ کے نبی کے ساتھ جائیں نہ زخموں کے مارے جسم میں اتنی طاقت ہے کہ پیدل ساتھ ہو لیں افسوس کہ یہ غزوہ ہمارے ہاتھ سے نکل جائے گا ہمارے بیشمار گہرے زخم ہمیں آج جانے سے روک دیں گے لیکن پھر ہم نے ہمت باندھی مجھے اپنے بھائی کی نسبت ذرا ہلکے زخم تھے جب میرے بھائی بالکل عاجز آجاتے قدم نہ اٹھتا تو میں انہیں جوں توں کر کے اٹھا لیتا جب تھک جاتا اتار دیتا یونہی جوں توں کر کے ہم لشکر گاہ تک پہنچ ہی گئے۔ ؓ (سیرت ابن اسحاق) صحیح بخاری شریف میں ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے حضرت عروہ سے کہا اے بھانجے تیرے دونوں باپ انہی لوگوں میں سے ہیں جن کے بارے میں آیت (اَلَّذِيْنَ اسْتَجَابُوْا لِلّٰهِ وَالرَّسُوْلِ مِنْۢ بَعْدِ مَآ اَصَابَھُمُ الْقَرْحُ لِلَّذِيْنَ اَحْسَنُوْا مِنْھُمْ وَاتَّقَوْا اَجْرٌ عَظِيْمٌ) 3۔ آل عمران :172) آیت اتری ہے یعنی حضرت زبیر اور حضرت صدیق ؓ جبکہ نبی ﷺ کو احد کی جنگ میں نقصان پہنچا اور مشرکین آگے چلے تو آپ کو خیال ہوا کہ کہیں یہ پھر واپس نہ لوٹیں لہذا آپ نے فرمایا کوئی ہے جو ان کے پیچھے جائے اس پر ستر شخص اس کام کے لئے مستعد ہوگئے جن میں ایک حضرت ابوبکر ؓ تھے، دوسرے حضرت زبیر ؓ تھے، یہ روایت اور بہت سی اسناد سے بہت سی کتابوں میں ہے، ابن مردویہ میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت عائشہ ؓ سے فرمایا کہ تیرے دونوں باپ ان لوگوں میں سے ہیں لیکن یہ مرفوع بیان کرنا محض خطا ہے اس لئے بھی کہ اس کی اسناد میں ثقہ راویوں کا اختلاف ہے جو حضرت عائشہ کے باپ دادا میں سے نہیں صحیح یہ ہے کہ یہ بات حضرت عائشہ نے اپنے بھانجے حضرت اسماء بنت ابی بکر کے لڑکے عروہ سے کہی ہے، حضرت ابن عباس کا بیان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ابو سفیان کے دل میں رعب ڈال دیا اور باوجودیکہ کہ وہ احد کی لڑائی میں قدرے کامیاب ہوگیا تھا لیکن تاہم مکہ کی طرف چل دیا نبی ﷺ نے فرمایا کہ ابو سفیان تمہیں نقصان پہنچا کر لوٹ گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے دل کو مرعوب کردیا ہے، احد کی لڑائی شوال میں ہوئی تھی اور تاجر لوگ ذی قعدہ میں مدینہ آتے تھے اور بدر صغریٰ میں اپنے ڈیرے ہر سال اس ماہ میں ڈالا کرتے تھے اس دفعہ بھی اس واقعہ کے بعد لوگ آئے مسلمان اپنے زخموں میں چور تھے۔ حضور ﷺ سے اپنی تکالیف بیان کرتے تھے اور سخت صدمہ میں تھے۔ نبی ﷺ نے لوگوں کو اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ آپ کے ساتھ چلیں اور فرمایا کہ یہ لوگ اب کوچ کر جائیں گے اور پھر حج کو آئیں گے اور پھر اگلے سال تک یہ طاقت انہیں حاصل نہیں ہوگی لیکن شیطان نے اپنے دوستوں کو دھمکانا اور بہکانا شروع کردیا اور کہنے لگا کہ ان لوگوں نے تمہارے استیصال کے لئے لشکر تیار کر لئے ہیں جس بنا پر لوگ ڈھیلے پڑگئے آپ نے فرمایا سنو خواہ تم میں سے ایک بھی نہ چلے میں تن تنہا جاؤں گا پھر آپ کے رغبت دلانے پر حضرت ابو بکر، حضرت عمر، حضرت عثمان، حضرت علی، حضرت زبیر، حضرت سعد، حضرت طلحہ، حضرت عبدالرحمن بن عوف، حضرت عبداللہ بن مسعود، حضرت حذیفہ بن یمان، حضرت ابو عبیدہ بن جراح وغیرہ ستر صحابہ آپ کے زیر رکاب چلنے پر آمادہ ہوئے۔ ؓ ، یہ مبارک لشکر ابو سفیان کی جستجو میں بدر صغریٰ تک پہنچ گیا انہی کی اس فضیلت اور جاں بازی کا ذکر اس مبارک آیت میں ہے، حضور ﷺ اس سفر میں مدینہ سے آٹھ میل حمراء اسد تک پہنچ گئے۔ مدینہ میں اپنا نائب آپ نے حضرت ابن ام مکتوم ؓ کو بنایا تھا۔ وہاں آپ نے پیر منگل بدھ تک قیام کیا پھر مدینہ لوٹ آئے، اثناء قیام میں قبیلہ خزاعہ کا سردار معبد خزاعی یہاں سے نکلا تھا یہ خود مشرک تھا لیکن اس پورے قبیلے سے حضور ﷺ کی صلح و صفائی تھی اس قبیلہ کے مشرک مومن سب آپ کے خیر خواہ تھے اس نے کہا کہ حضور ﷺ کے ساتھیوں کو جو تکلیف پہنچی اس پر ہمیں سخت رنج ہے اللہ تعالیٰ آپ کو کامیابی کی خوشی نصیب فرمائے، حمراء اسد پر آپ پہنچے مگر اس سے پہلے ابو سفیان چل دیا تھا گو اس نے اور اس کے ساتھیوں نے واپس آنے کا ارادہ کیا تھا کہ جب ہم ان پر غالب آگئے انہیں قتل کیا مارا پیٹا زخمی کیا پھر ادھورا کام کیوں چھوڑیں واپس جا کر سب کو تہ تیغ کردیں، یہ مشورے ہو ہی رہے تھے کہ معبد خزاعی وہاں پہنچا ابو سفیان نے اس سے پوچھا کہو کیا خبریں ہیں اس نے کہا آنحضور مع صحابہ کے تم لوگوں کے تعاقب میں آرہے ہیں وہ لوگ سخت غصے میں ہیں جو پہلے لڑائی میں شریک نہ تھے وہ بھی شامل ہوگئے ہیں سب کے تیور بدلے ہوئے ہیں اور بھرپور طاقت کے ساتھ حملہ آور ہو رہے ہیں میں نے تو ایسا لشکر کبھی دیکھا نہیں، یہ سن کر ابو سفیان کے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے اور کہنے لگا اچھا ہی ہوا جو تم سے ملاقات ہوگئی ورنہ ہم تو خود ان کی طرف جانے کے لئے تیار تھے، معبد نے کہا ہرگز یہ ارادہ نہ کرو اور میری بات کا کیا ہے غالباً تم یہاں سے کوچ کرنے سے پہلے ہی لشکر اسلام کے گھوڑوں کو دیکھ لو گے میں ان کے لشکر ان کے غصے ان کی تیاری اور الوالعزمی کا حال بیان نہیں کرسکتا میں تو تم سے صاف کہتا ہوں کہ بھاگو اور اپنی جانیں بچاؤ میرے پاس ایسے الفاظ نہیں جن سے میں مسلمانوں کے غیظ و غضب اور تہورو شجاعت اور سختی اور پختگی کا بیان کرسکوں، پس مختصر یہ ہے کہ جان کی خیر مناتے ہو تو فوراً یہاں سے کوچ کرو، ابو سفیان اور اس کے ساتھیوں کے چھکے چھوٹ گئے اور انہوں نے یہاں سے مکہ کی راہ لی، قبیلہ عبدالقیس کے آدمی جو کاروبار کی غرض سے مدینہ جا رہے تھے ان سے ابو سفیان نے کہا کہ تم حضور ﷺ کو یہ خبر پہنچا دینا کہ ہم نے انہیں تہ تیغ کردینے کے لئے لشکر جمع کر لئے ہیں اور ہم واپس لوٹنے کا ارادہ میں ہیں، اگر تم نے یہ پیغام پہنچا دیا تو ہم تمہیں سوق عکاظ میں بہت ساری کشمش دیں گے چناچہ ان لوگوں نے حمراء اسد میں آکر بطور ڈراوے کے نمک مرچ لگا کر یہ وحشت اثر خبر سنائی لیکن صحابہ نے نہایت استقلال اور پامردی سے جواب دیا کہ ہمیں اللہ کافی ہے اور وہی بہترین کارساز ہے، جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں نے ان کے لئے ایک پتھر کا نشان مقرر کر رکھا ہے اگر یہ لوٹیں گے تو وہاں پہنچ کر اس طرح مٹ جائیں گے جیسے گزشتہ کل کا دن، بعض لوگوں نے یہ بھی کہا ہے کہ یہ آیت بدر کے بارے میں نازل ہوئی ہے لیکن صحیح تر یہی ہے کہ حمراء اسد کے بارے میں نازل ہوئی۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے دشمنوں نے انہیں پژمردہ دل کرنے کے لئے دشمنوں کے سازو سامان اور ان کی کثرت وبہتات سے ڈرایا لیکن وہ صبر کے پہاڑ ثابت ہوئے ان کے غیر متزلزل یقین میں کچھ فرق نہ آیا بلکہ وہ توکل میں اور بڑھ گئی اور اللہ کی طرف نظریں کر کے اس سے امداد طلب کی، صحیح بخاری شریف میں حضرت عبداللہ بن عباس سے مروی ہے کہ آیت (حسبنا اللہ) الخ، حضرت ابراہیم نے آگ میں پڑتے وقت پڑھا تھا اور حضرت محمد ﷺ نے اس وقت جب کہ کافروں کے ٹڈی دل لشکر سے لوگوں نے آپ کو خوف زدہ کرنا چاہا اس وقت پڑھا، تعجب کی بات ہے کہ امام حاکم نے اس روایت کو رد کر کے فرمایا ہے کہ یہ بخاری مسلم میں نہیں۔ بخاری کی ایک روایت میں ہے کہ احد کے موقع پر جب حضور ﷺ کو کفار کے لشکروں کی خبر دی گئی تو آپ نے یہی کلمہ فرمایا اور روایت میں ہے کہ حضرت علی کی سردار کے ماتحت جب حضور ﷺ نے ایک چھوٹا سا لشکر روانہ کیا اور راہ میں خزاعہ کے ایک اعرابی نے یہ خبر سنائی تو آپ نے یہ فرمایا تھا۔ ابن مردویہ کی حدیث میں ہے آپ فرماتے ہیں جب تم پر کوئی بہت بڑا کام آپڑے تو تم آیت (حسبنا اللہ) آخر تک پڑھو مسند احمد میں ہے کہ دو شخصوں کے درمیان حضور ﷺ نے فیصلہ کیا تو جس کے خلاف فیصلہ صادر ہوا تھا اس نے یہی کلمہ پڑھا آپ نے اسے واپس بلا کر فرمایا بزدلی اور سستی پر اللہ کی ملامت ہوتی ہے دانائی دور اندیشی اور عقلمندی کیا کرو پھر کسی امر میں پھنس جاؤ تو یہی پڑھ لیا کرو، مسند کی اور حدیث میں ہے کس طرح بےفکر اور فارغ ہو کر آرام پاؤں حالانکہ صاحب صور نے صور منہ میں لے رکھا ہے اور پیشانی جھکائے حکم اللہ کا منتظر ہے کہ کب حکم ہوا اور وہ صور پھونک دے، صحابہ نے کہا حضور ﷺ ہم کیا پڑھیں آپ نے فرمایا آیت (حسبنا اللہ ونعم الوکیل) (علی اللہ توکلنا) پڑھو ام المومنین حضرت زینب اور ام المومنین حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ حضرت زینب نے فخر سے فرمایا میرا نکاح خود اللہ نے کردیا ہے اور تمہارے نکاح ولی وارثوں نے کئے ہیں، صدیقہ نے فرمایا میری برأت اور پاکیزگی کی آیت اللہ تعالیٰ نے آسمان سے اپنے پاک کلام میں نازل فرمائی ہیں حضرت زینب اسے مان گئیں اور پوچھا یہ بتاؤ تم نے حضرت صفوان بن معطل کی سواری پر سوار ہوتے وقت کیا پڑھا تھا، صدیقہ نے فرمایا دعا (حسبی اللہ ونعم الوکیل) یہ سن کر ام المومنین حضرت زینب ؓ نے فرمایا تم نے ایمان والوں کا کلمہ کہا تھا، چناچہ اس آیت میں بھی رب رحیم کا ارشاد ہے کہ ان توکل کرنے والوں کی کفایت اللہ تعالیٰ نے کی اور ان کے ساتھ جو لوگ برائی کا ارادہ رکھتے تھے انہیں ذلت اور بربادی کے ساتھ پسپا کیا، یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے اپنے شہروں کی طرف بغیر کسی نقصان اور برائی کے لوٹے دشمن اپنی مکاریوں میں ناکام رہا، ان سے اللہ خوش ہوگیا کیونکہ انہوں نے اس کی خوشی کا کام انجام دیا تھا اللہ تعالیٰ بڑے فضل و کرم والا ہے۔ ابن عباس کا فرمان ہے کہ نعمت تو یہ تھی کہ وہ سلامت رہے اور فضل یہ تھا کہ حضور ﷺ نے تاجروں کے ایک قافلہ سے مال خرید لیا جس میں بہت ہی نفع ہوا اور اس کل نفع کو آپ نے اپنے ساتھیوں میں تقسیم فرما دیا۔ حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ ابو سفیان نے حضور ﷺ سے کہا اب وعدے کی جگہ بدر ہے آپ نے فرمایا ممکن ہے چناچہ وہاں پہنچے تو یہ ڈرپوک آیا ہی نہیں وہاں بازار کا دن تھا مال خرید لیا جو نفع سے بکا اسی کا نام غزوہ بدر صغریٰ ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ یہ شیطان تھا جو اپنے دوستوں کے ذریعہ تمہیں دھمکا رہا تھا اور گیدڑ بھبکیاں دے رہا تمہیں چاہئے کہ ان سے نہ ڈرو صرف میرا ہی خوف دل میں رکھو کیونکہ ایمان داری کی یہی شرط ہے کہ جب کوئی ڈرائے دھمکائے اور دینی امور سے تمہیں باز رکھنا چاہئے تو مسلمان اللہ پر بھروسہ کرے اس کی طرف سمٹ جائے اور یقین مانے کہ کافی اور ناصر وہی ہے جیسے اور جگہ ہے آیت (اَلَيْسَ اللّٰهُ بِكَافٍ عَبْدَهٗ ۭ وَيُخَوِّفُوْنَكَ بالَّذِيْنَ مِنْ دُوْنِهٖ) 39۔ الزمر :36) کیا اللہ جل شانہ اپنے بندوں کو کافی نہیں یہ لوگ تجھے اس کے سوا اوروں سے ڈرا رہے ہیں (یہاں تک کہ فرمایا) تو کہہ کہ مجھے اللہ کافی ہے توکل کرنے والوں کو اسی پر بھروسہ کرنا چاہئے اور جگہ فرمایا اولیاء شیطان سے لڑو۔ شیطان کا مکر بڑا بودا ہے۔ اور جگہ ارشاد ہے یہ شیطانی لشکر ہے یاد رکھو شیطانی لشکر ہی گھاٹے اور خسارے میں ہے اور جگہ ارشاد ہے آیت (كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِيْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ قَوِيٌّ عَزِيْزٌ) 58۔ المجادلہ :21) اللہ تعالیٰ لکھ چکا ہے کہ غلبہ یقینا مجھے اور میرے رسولوں کو ہی ہوگا اللہ قوی اور عزیز ہے۔ اور جگہ ارشاد ہے آیت (ۭوَلَيَنْصُرَنَّ اللّٰهُ مَنْ يَّنْصُرُهٗ ۭ اِنَّ اللّٰهَ لَقَوِيٌّ عَزِيْزٌ) 22۔ الحج :40) جو اللہ کی مدد کرے گا اس کی امداد فرمائے گا اور فرمان ہے آیت (يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِنْ تَنْصُرُوا اللّٰهَ يَنْصُرْكُمْ وَيُثَبِّتْ اَقْدَامَكُمْ) 47۔ محمد :7) اے ایمان والو اگر تم اللہ کی مدد کرو گے تو اللہ تمہاری بھی مدد کرے گا اور آیت میں ہے آیت (اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُوْمُ الْاَشْهَادُ) 40۔ غافر :51) بالیقین ہم اپنے رسولوں کی اور ایمان داروں کی مدد دینا میں بھی کریں گے اور اس دن بھی جس دن گواہ کھڑے ہوں گے جس دن ظالموں کو عذر معذرت نفع نہ دے گی ان کے لئے لعنت ہے اور ان کے لئے برا گھر ہے۔
174
View Single
فَٱنقَلَبُواْ بِنِعۡمَةٖ مِّنَ ٱللَّهِ وَفَضۡلٖ لَّمۡ يَمۡسَسۡهُمۡ سُوٓءٞ وَٱتَّبَعُواْ رِضۡوَٰنَ ٱللَّهِۗ وَٱللَّهُ ذُو فَضۡلٍ عَظِيمٍ
So they returned with the favour and munificence from Allah, in that no harm reached them; they followed what pleased Allah; and Allah is Extremely Munificent.
پھر وہ (مسلمان) اللہ کے انعام اور فضل کے ساتھ واپس پلٹے انہیں کوئی گزند نہ پہنچی اور انہوں نے رضائے الٰہی کی پیروی کی اور اللہ بڑے فضل والا ہے
Tafsir Ibn Kathir
Virtues of the Martyrs
Allah states that even though the martyrs were killed in this life, their souls are alive and receiving provisions in the Dwelling of Everlasting Life. In his Sahih, Muslim recorded that Masruq said, "We asked `Abdullah about this Ayah,
وَلاَ تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُواْ فِى سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَتاً بَلْ أَحْيَاءٌ عِندَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ
(Think not of those as dead who are killed in the way of Allah. Nay, they are alive, with their Lord, and they have provision.)
He said, `We asked the Messenger of Allah ﷺ the same question and he said,
«أَرْوَاحُهُمْ فِي جَوْفِ طَيْرٍ خُضْرٍ، لَهَا قَنَادِيلُ مُعَلَّقَةٌ بِالْعَرْشِ، تَسْرَحُ مِنَ الْجَنَّةِ حَيْثُ شَاءَتْ، ثُمَّ تَأْوِي إِلَى تِلْكَ الْقَنَادِيلِ، فَاطَّلَعَ إِلَيْهِمْ رَبُّهُمُ اطِّلَاعَةً فَقَالَ: هَلْ تَشْتَهُونَ شَيْئًا؟ فَقَالُوا: أَيَّ شَيْءٍ نَشْتَهِي وَنَحْنُ نَسْرَحُ مِنَ الْجَنَّةِ حَيْثُ شِئْنَا؟ فَفَعَلَ ذَلِكَ بِهِمْ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَلَمَّا رَأَوْا أَنَّهُمْ لَنْ يُتْرَكُوا مِنْ أَنْ يُسْأَلُوا، قَالُوا: يَا رَبِّ نُرِيدُ أَنْ تَرُدَّ أَرْوَاحَنَا فِي أَجْسَادِنَا حَتَّى نُقْتَلَ فِي سَبِيلِكَ مَرَّةً أُخْرَى، فَلَمَّا رَأَى أَنْ لَيْسَ لَهُمْ حَاجَةٌ، تُرِكُوا»
(Their souls are inside green birds that have lamps, which are hanging below the Throne (of Allah), and they wander about in Paradise wherever they wish. Then they return to those lamps. Allah looks at them and says, `Do you wish for anything' They say, `What more could we wish for, while we go wherever we wish in Paradise' Allah asked them this question thrice, and when they realize that He will keep asking them until they give an answer, they say, `O Lord! We wish that our souls be returned to our bodies so that we are killed in Your cause again.' Allah knew that they did not have any other wish, so they were left.)"' There are several other similar narrations from Anas and Abu Sa`id.
Imam Ahmad recorded that Anas said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«مَا مِنْ نَفْسٍ تَمُوتُ، لَهَا عِنْدَ اللهِ خَيْرٌ، يَسُرُّهَا أَنْ تَرْجِعَ إِلَى الدُّنْيَا، إِلَّا الشَّهِيدُ، فَإِنَّهُ يَسُرُّهُ أَنْ يَرْجِعَ إِلَى الدُّنْيَا فَيُقْتَلَ مَرَّةً أُخْرَى، لِمَا يَرَى مِنْ فَضْلِ الشَهَادَة»
(No soul that has a good standing with Allah and dies would wish to go back to the life of this world, except for the martyr. He would like to be returned to this life so that he could be martyred again, for he tastes the honor achieved from martyrdom.) Muslim collected this Hadith
In addition, Imam Ahmad recorded that, Ibn `Abbas said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«لَمَّا أُصِيبَ إِخْوَانُكُمْ بِأُحُدٍ، جَعَلَ اللهُ أَرْوَاحَهُمْ فِي أَجْوَافِ طَيْرٍ خُضْرٍ، تَرِدُ أَنْهَارَ الْجَنَّـةِ، وَتَأْكُلُ مِنْ ثِمَارِهَا، وَتَأْوِي إِلى قَنَادِيلَ مِنْ ذَهَبٍ فِي ظِلِّ الْعَرْشِ، فَلَمَّا وَجَدُوا طِيبَ مَشْرَبِهِمْ وَمَأْكَلِهِمْ، وَحُسْنَ مُتَقَلَّبِهِمْ قَالُوا: يَا لَيْتَ إِخْوَانَنَا يَعْلَمُونَ مَا صَنَعَ اللهُ لَنَا، لِئَلَّا يَزْهَدُوا فِي الْجِهَادِ، وَلَا يَنْكُلُوا عَنِ الْحَرْبِ، فَقَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: أَنْا أُبَلِّغُهُمْ عَنْكُم»
(When your brothers were killed in Uhud, Allah placed their souls inside green birds that tend to the rivers of Paradise and eat from its fruits. They then return to golden lamps hanging in the shade of the Throne. When they tasted the delight of their food, drink and dwelling, they said, `We wish that our brothers knew what Allah gave us so that they will not abandon Jihad or warfare.' Allah said, `I will convey the news for you.') Allah revealed these and the following Ayat,
وَلاَ تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُواْ فِى سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَتاً بَلْ أَحْيَاءٌ عِندَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ
(Think not of those as dead who are killed in the way of Allah. Nay, they are alive, with their Lord, and they have provision.)
Qatadah, Ar-Rabi` and Ad-Dahhak said that these Ayat were revealed about the martyrs of Uhud.
Abu Bakr Ibn Marduwyah recorded that Jabir bin `Abdullah said, "The Messenger of Allah ﷺ looked at me one day and said, `O Jabir! Why do I see you sad' I said, `O Messenger of Allah! My father was martyred and left behind debts and children.' He said,
«أَلَا أُخْبِرُكَ؟ مَا كَلَّمَ اللهُ أَحَدًا قَطُّ إِلَّا مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ، وَإِنَّه كَلَّمَ أَبَاكَ كِفَاحًا»
، قال علي: الكفاح: المواجهة
«قَالَ: سَلْنِي أُعْطِكَ. قَالَ: أَسْأَلُكَ أَنْ أُرَدَّ إِلَى الدُّنْيَا فَأُقْتَلَ فِيكَ ثَانِيَةً، فَقَالَ الرَّبُّ عَزَّ وَجَلَّ: إِنَّهُ قَدْ سَبَقَ مِنِّي الْقَوْلُ: إِنَّهُمْ إِلَيْهَا لَا يَرْجِعُونَ. قَالَ: أَيْ رَبِّ فَأَبْلِغْ مَنْ وَرَائِي»
(Should I tell you that Allah never spoke to anyone except from behind a veil However, He spoke to your father directly. He said, `Ask Me and I will give you.' He said, `I ask that I am returned to life so that I am killed in Your cause again.' The Lord, Exalted He be, said, `I have spoken the word that they shall not be returned back to it (this life). ' He said, `O Lord! Then convey the news to those I left behind.') Allah revealed,
وَلاَ تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُواْ فِى سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَتاً
(Think not of those as dead who are killed in the way of Allah...)"
Imam Ahmad recorded that Ibn `Abbas said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«الشُّهَدَاءُ عَلى بَارِقِ نَهْرٍ بِبَابِ الْجَنَّـةِ، فِي قُبَّةٍ خَضْرَاءَ، يَخْرُجُ عَلَيْهِمْ رِزْقُهُمْ مِنَ الْجَنَّـةِ بُكْرَةً وَعَشِيًّا»
(The martyrs convene at the shore of a river close to the door of Paradise, in a green tent, where their provisions are brought to them from Paradise day and night.)
Ahmad and Ibn Jarir collected this Hadith, which has a good chain of narration. It appears that the martyrs are of different types, some of them wander in Paradise, and some remain close to this river by the door of Paradise. It is also possible that the river is where all the souls of the martyrs convene and where they are provided with their provision day and night, and Allah knows best. UImam Ahmad narrated a Hadith that contains good news for every believer that his soul will be wandering in Paradise, as well, eating from its fruits, enjoying its delights and happiness and tasting the honor that Allah has prepared in it for him. This Hadith has a unique, authentic chain of narration that includes three of the Four Imams. Imam Ahmad narrated this Hadith from Muhammad bin Idris Ash-Shafi`i who narrated it from Malik bin Anas Al-Asbuhi, from Az-Zuhri, from `Abdur-Rahman bin Ka`b bin Malik that his father said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«نَسَمَةُ الْمُؤْمِنِ طَائِرٌ يَعْلُقُ فِي شَجَرِ الْجَنَّـةِ حَتَّى يَرْجِعَهُ اللهُ إِلى جَسَدِهِ يَوْمَ يَبْعَثُه»
(The soul of the believer becomes a bird that feeds on the trees of Paradise, until Allah sends him back to his body when He resurrects him.)
This Hadith states that the souls of the believers are in the shape of a bird in Paradise. As for the souls of martyrs, they are inside green birds, like the stars to the rest of the believing souls. We ask Allah the Most Generous that He makes us firm on the faith.
Allah's statement,
فَرِحِينَ بِمَآ ءَاتَـهُمُ اللَّهُ
(They rejoice in what Allah has bestowed upon them) indicates that the martyrs who were killed in Allah's cause are alive with Allah, delighted because of the bounty and happiness they are enjoying. They are also awaiting their brethren, who will die in Allah's cause after them, for they will be meeting them soon. These martyrs do not have fear about the future or sorrow for what they left behind. We ask Allah to grant us Paradise. The Two Sahihs record from Anas, the story of the seventy Ansar Companions who were murdered at Bir Ma`unah in one night. In this Hadith, Anas reported that the Prophet used to supplicate to Allah in Qunut in prayer against those who killed them. Anas said, "A part of the Qur'an was revealed about them, but was later abrogated, `Convey to our people that we met Allah and He was pleased with us and made us pleased."'
Allah said next,
يَسْتَبْشِرُونَ بِنِعْمَةٍ مِّنَ اللَّهِ وَفَضْلٍ وَأَنَّ اللَّهَ لاَ يُضِيعُ أَجْرَ الْمُؤْمِنِينَ
(They rejoice in a grace and a bounty from Allah, and that Allah will not waste the reward of the believers) 3:171.
Muhammad bin Ishaq commented, "They were delighted and pleased because of Allah's promise that was fulfilled for them, and for the tremendous rewards they earned." `Abdur-Rahman bin Zayd bin Aslam said, "This Ayah encompasses all the believers, martyrs and otherwise. Rarely does Allah mention a bounty and a reward that He granted to the Prophets, without following that with what He has granted the believers after them."
The Battle of Hamra' Al-Asad
Allah said,
الَّذِينَ اسْتَجَابُواْ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ مِن بَعْدِ مَآ أَصَـبَهُمُ الْقَرْحُ
(Those who answered (the Call of) Allah and the Messenger after being wounded) 3:172.
This occurred on the day of Hamra' Al-Asad. After the idolators defeated the Muslims (at Uhud), they started on their way back home, but soon they were concerned because they did not finish off the Muslims in Al-Madinah, so they set out to make that battle the final one. When the Messenger of Allah ﷺ got news of this, he commanded the Muslims to march to meet the disbelievers, to bring fear to their hearts and to demonstrate that the Muslims still had strength to fight. The Prophet only allowed those who were present during Uhud to accompany him, except for Jabir bin `Abdullah Al-Ansari, as we will mention. The Muslims mobilized, even though they were still suffering from their injuries, in obedience to Allah and His Messenger .
Ibn Abi Hatim recorded that `Ikrimah said, "When the idolators returned towards Makkah after Uhud, they said, `You neither killed Muhammad nor collected female captives. Woe to you for what you did. Let us go back.' When the Messenger of Allah ﷺ heard this news, he mobilized the Muslim forces, and they marched until they reached Hamra Al-Asad. The idolators said, `Rather, we will meet next year', and the Messenger of Allah ﷺ went back to Al-Madinah, and this was considered a Ghazwah (battle). Allah sent down,
الَّذِينَ اسْتَجَابُواْ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ مِن بَعْدِ مَآ أَصَـبَهُمُ الْقَرْحُ لِلَّذِينَ أَحْسَنُواْ مِنْهُمْ وَاتَّقَوْاْ أَجْرٌ عَظِيمٌ
(Those who answered (the Call of) Allah and the Messenger after being wounded; for those of them who did good deeds and feared Allah, there is a great reward.)
Al-Bukhari recorded that `A'ishah said to `Urwah about the Ayah;
الَّذِينَ اسْتَجَابُواْ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ
(Those who answered (the Call of) Allah and the Messenger)
"My nephew! Your fathers Az-Zubayr and Abu Bakr were among them. After the Prophet suffered the calamity at Uhud and the idolators went back, he feared that the idolators might try to come back and he said, `Who would follow them' Seventy men, including Az-Zubayr and Abu Bakr, volunteered." This was recorded by Al-Bukhari alone.
As for Allah's statement,
الَّذِينَ قَالَ لَهُمُ النَّاسُ إِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُواْ لَكُمْ فَاخْشَوْهُمْ فَزَادَهُمْ إِيمَـناً
(Those unto whom the people said, "Verily, the people have gathered against you, therefore, fear them." But it (only) increased them in faith) 3:173, it means, those who threatened the people, saying that the disbelievers have amassed against them, in order to instill fear in them, but this did not worry them, rather, they trusted in Allah and sought His help,
وَقَالُواْ حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ
(and they said: "Allah is Sufficient for us, and He is the Best Disposer of affairs.")
Al-Bukhari recorded that Ibn `Abbas said,
حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ
("Allah Alone is Sufficient for us and He is the Best Disposer of affairs for us.")
"Ibrahim said it when he was thrown in fire. Muhammad said it when the people said, `Verily, the people have gathered against you, therefore, fear them.' But it only increased them in faith, and they said, `Allah is Sufficient for us and He is the Best Disposer of affairs for us."' Abu Bakr Ibn Marduwyah recorded that Anas bin Malik said that the Prophet was told on the day of Uhud, "Verily, the people have gathered against you, therefore, fear them." Thereafter, Allah sent down this Ayah 3:173.
This is why Allah said,
فَانْقَلَبُواْ بِنِعْمَةٍ مِّنَ اللَّهِ وَفَضْلٍ لَّمْ يَمْسَسْهُمْ سُوءٌ
(So they returned with grace and bounty from Allah. No harm touched them;) for when they relied on Allah, Allah took care of their worries, He confounded the plots of their enemies, and the Muslims returned to their land,
بِنِعْمَةٍ مِّنَ اللَّهِ وَفَضْلٍ لَّمْ يَمْسَسْهُمْ سُوءٌ
(with grace and bounty from Allah. No harm touched them;) safe from the wicked plots of their enemies,
وَاتَّبَعُواْ رِضْوَنَ اللَّهِ وَاللَّهُ ذُو فَضْلٍ عَظِيمٍ
(and they followed the pleasure of Allah. And Allah is the Owner of great bounty.)
Al-Bayhaqi recorded that Ibn `Abbas said about Allah's statement,
فَانْقَلَبُواْ بِنِعْمَةٍ مِّنَ اللَّهِ وَفَضْلٍ
(So they returned with grace and bounty from Allah,) "The `Grace' was that they were saved. The `Bounty' was that a caravan passed by, and those days were Hajj season days. Thus the Messenger of Allah ﷺ bought and sold and made a profit, which he divided between his Companions."
Allah then said,
إِنَّمَا ذَلِكُمُ الشَّيْطَـنُ يُخَوِّفُ أَوْلِيَاءَهُ
(It is only Shaytan that suggests to you the fear of his friends,) 3:175 meaning, Shaytan threatens you with his friends and tries to pretend they are powerful and fearsome. Allah said next,
فَلاَ تَخَافُوهُمْ وَخَافُونِ إِن كُنتُمْ مُّؤْمِنِينَ
(so fear them not, but fear Me, if you are indeed believers.) meaning, "If Shaytan brings these thoughts to you, then depend on Me and seek refuge with Me. Indeed, I shall suffice you and make you prevail over them." Similarly, Allah said,
أَلَيْسَ اللَّهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ وَيُخَوِّفُونَكَ بِالَّذِينَ مِن دُونِهِ
(Is not Allah Sufficient for His servant Yet they try to frighten you with those besides Him!) 39: 36, until,
قُلْ حَسْبِىَ اللَّهُ عَلَيْهِ يَتَوَكَّـلُ الْمُتَوَكِّلُونَ
(Say: "Sufficient for me is Allah; in Him those who trust must put their trust.") 39:38. Allah said,
فَقَـتِلُواْ أَوْلِيَاءَ الشَّيْطَـنِ إِنَّ كَيْدَ الشَّيْطَـنِ كَانَ ضَعِيفاً
(So fight you against the friends of Shaytan; ever feeble indeed is the plot of Shaytan.) 4:76 and
أُوْلَـئِكَ حِزْبُ الشَّيْطَـنِ أَلاَ إِنَّ حِزْبَ الشَّيْطَـنِ هُمُ الخَـسِرُونَ
(They are the party of Shaytan. Verily, it is the party of Shaytan that will be the losers!) 58:19,
كَتَبَ اللَّهُ لاّغْلِبَنَّ أَنَاْ وَرُسُلِى إِنَّ اللَّهَ قَوِىٌّ عَزِيزٌ
(Allah has decreed: "Verily, it is I and My Messengers who shall be the victorious." Verily, Allah is All-Powerful, All-Mighty.) 58:21 and
وَلَيَنصُرَنَّ اللَّهُ مَن يَنصُرُهُ
(Verily, Allah will help those who help His (cause).) 22:40 and
يأَيُّهَا الَّذِينَ ءَامَنُواْ إِن تَنصُرُواْ اللَّهَ يَنصُرْكُمْ
(O you who believe! If you help (in the cause of) Allah, He will help you) 47:7, and,
إِنَّا لَنَنصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِينَ ءَامَنُواْ فِى الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُومُ الاٌّشْهَـدُ - يَوْمَ لاَ يَنفَعُ الظَّـلِمِينَ مَعْذِرَتُهُمْ وَلَهُمُ الْلَّعْنَةُ وَلَهُمْ سُوءُ الدَّارِ
(Verily, We will indeed make victorious Our Messengers and those who believe, in this world's life and on the Day when the witnesses will stand forth. The Day when their excuses will be of no profit to wrongdoers. Theirs will be the curse, and theirs will be the evil abode.) 40:51,52
بیئر معونہ کے شہداء اور جنت میں ان کی تمنا ؟ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ گو شہید فی سبیل اللہ دنیا میں مار ڈالے جاتے ہیں لیکن آخرت میں ان کی روحیں زندہ رہتی ہیں اور رزق پاتی ہیں، اس آیت کا شان نزول یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے چالیس یا ستر صحابیوں کو بیئر معونہ کی طرف بھیجا تھا یہ جماعت جب اس غار تک پہنچی جو اس کنویں کے اوپر تھی تو انہوں نے وہاں پڑاؤ کیا اور آپس میں کہنے لگے کون ہے ؟ جو اپنی جان خطرہ میں ڈال کر اللہ کے رسول ﷺ کا کلمہ ان تک پہنچائے ایک صحابی اس کے لئے تیار ہوئے اور ان لوگوں کے گھروں کے پاس آکر با آواز بلند فرمایا اے بیئر معونہ والو سنو میں اللہ کے رسول ﷺ کا قاصد ہوں میری گواہی ہے کہ معبود صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے اور محمد ﷺ اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں یہ سنتے ہی ایک کافر اپنا تیر سنبھالے ہوئے اپنے گھر سے نکلا اور اس طرح تاک کر لگایا کہ ادھر کی پسلی سے ادھر کی پسلی میں آرپار نکل گیا، اس صحابی کی زبان سے بیساختہ نکلا حدیث (فزت ورب الکعبۃ) کعبے کے اللہ کی قسم میں اپنی مراد کو پہنچ گیا اب کفار نشانات ٹٹولتے ہوئے اس غار پر جا پہنچے اور عامر بن طفیل نے جو ان کا سردار تھا ان سب مسلمانوں کو شہید کردیا حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ ان کے بارے میں قرآن اترا کہ ہماری جانب سے ہماری قوم کو یہ خبر پہنچا دو کہ ہم اپنے رب سے ملے وہ ہم سے راضی ہوگیا اور ہم اس سے راضی ہوگئے ہم ان آیتوں کو برابر پڑھتے رہے پھر ایک مدت کے بعد یہ منسوخ ہو کر اٹھا لی گئیں اور آیت (ولا تحسبن) الخ، اتری (محمد بن جریر) صحیح مسلم شریف میں ہے حضرت مسروق فرماتے ہیں ہم نے حضرت عبداللہ سے اس آیت کا مطلب پوچھا تو حضرت عبداللہ نے فرمایا ہم نے رسول ﷺ سے اس آیت کا مطلب دریافت کیا تھا تو آپ نے فرمایا ان کی روحیں سبز رنگ پرندوں کے قالب میں ہیں۔ عرش کی قندلیں ان کے لئے ہیں ساری جنت میں جہاں کہیں چاہیں چریں چگیں اور ان قندیلیوں میں آرام کریں ان کی طرف ان کے رب نے ایک مرتبہ نظر کی اور دریافت فرمایا کچھ اور چاہتے ہو ؟ کہنے لگے اے اللہ اور کیا مانگیں ساری جنت میں سے جہاں کہیں سے چاہیں کھائیں پئیں اختیار ہے پھر کیا طلب کریں اللہ تعالیٰ نے ان سے پھر یہی پوچھا تیسری مرتبہ یہی سوال کیا جب انہوں نے دیکھا کہ بغیر کچھ مانگے چارہ ہی نہیں تو کہنے لگے اے رب ! ہم چاہتے ہیں کہ تو ہماری روحوں کو جسموں کی طرف لوٹا دے ہم پھر دنیا میں جا کر تیری راہ میں جہاد کریں اور مارے جائیں اب معلوم ہوگیا کہ انہیں کسی اور چیز کی حاجت نہیں تو ان سے پوچھنا چھوڑ دیا کہ کیا چاہتے ہو ؟ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جو لوگ مرجائیں اور اللہ کے ہاں بہتری پائیں وہ ہرگز دنیا میں آنا پسند نہیں کرتے مگر شہید کہ وہ تمنا کرتا ہے کہ دنیا میں دوبارہ لوٹایا جائے اور دوبارہ راہ اللہ میں شہید ہو کیونکہ شہادت کے درجات کو وہ دیکھ رہا ہے (مسند احمد) صحیح مسلم شریف میں بھی یہ حدیث ہے، مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے فرمایا اے جابر تمہیں معلوم بھی ہے ؟ کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے والد کو زندہ کیا اور ان سے کہا اے میرے بندے مانگ کیا مانگتا ہے ؟ تو کہا اے اللہ دنیا میں پھر بھیج تاکہ میں دوبارہ تیری راہ میں مارا جاؤں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا یہ تو میں فیصلہ کرچکا ہوں کہ کوئی یہاں دوبارہ لوٹایا نہیں جائے گا، ان کا نام حضرت عبداللہ بن عمرو بن حرام انصاری تھا اللہ تعالیٰ ان سے رضامند ہو، صحیح بخاری شریف میں ہے حضرت جابر فرماتے ہیں میرے باپ کی شہادت کے بعد میں رونے لگا اور ابا کے منہ سے کپڑا ہٹا ہٹا کر بار بار ان کے چہرے کو دیکھ رہا تھا۔ صحابہ مجھے منع کرتے تھے لیکن آنحضرت ﷺ خاموش تھے پھر حضور ﷺ نے فرمایا جابر رو مت جب تک تیرے والد کو اٹھایا نہیں گیا فرشتے اپنے پروں سے اس پر سایہ کئے ہوئے ہیں، مسند احمد میں ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا جب تمہارے بھائی احد والے دن شہید کئے گئے تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی روحیں سبز پرندوں کے قالب میں ڈال دیں جو جنتی درختوں کے پھل کھائیں اور جنتی نہروں کا پانی پئیں اور عرش کے سائے تلے وہاں لٹکتی ہوئی قندیلوں میں آرام و راحت حاصل کریں جب کھانے پینے رہنے سہنے کی یہ بہترین نعمتیں انہیں ملیں تو کہنے لگے کاش کہ ہمارے بھائیوں کو جو دنیا میں ہیں ہماری ان نعمتوں کی خبر مل جاتی تاکہ وہ جہاد سے منہ نہ پھیریں اور اللہ کی راہ کی لڑائیوں سے تھک کر نہ بیٹھ رہیں اللہ تعالیٰ نے ان سے فرمایا تم بےفکر رہو میں یہ خبر ان تک پہنچا دیتا ہوں چناچہ یہ آیتیں نازل فرمائیں، حضرت ابن عباس سے یہ بھی مروی ہے کہ حضرت حمزہ ؓ اور آپ کے ساتھیوں کے بارے میں آیتیں اتریں (مستدرک حاکم) یہ بھی مفسرین نے فرمایا ہے کہ احد کے شہیدوں کے بارے میں یہ آیتیں نازل ہوئیں۔ ابوبکر بن مردویہ میں حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے دیکھا اور فرمانے لگے جابر کیا بات ہے کہ تم مجھے غمگین نظر آتے ہو ؟ میں نے کہا یا رسول اللہ میرے والد شہید ہوگئے جن پر بار قرض بہت ہے اور میرے چھوٹے چھوٹے بہن بھائی بہت ہیں آپ نے فرمایا سن میں تجھے بتاؤں جس کسی سے اللہ نے کلام کیا پردے کے پیچھے سے کلام کیا لیکن تیرے باپ سے آمنے سامنے بات چیت کی فرمایا مجھ سے مانگ جو مانگے گا دوں گا تیرے باپ نے کہا اللہ عزوجل میں تجھ سے یہ مانگتا ہوں کہ تو مجھے دنیا میں دوبارہ بھیجے اور میں تیری راہ میں دوسری مرتبہ شہید کیا جاؤں، رب عزوجل نے فرمایا یہ بات تو میں پہلے ہی مقرر کرچکا ہوں کہ کوئی بھی لوٹ کر دوبارہ دنیا میں نہیں جائے گا۔ کہنے لگے پھر اے اللہ میرے بعد والوں کو ان مراتب کی خبر پہنچا دی جائے چناچہ اللہ تعالیٰ نے آیت (ولا تحسبن) الخ، فرمائی، بیہقی میں اتنا اور زیادہ ہے کہ حضرت عبداللہ ؓ نے فرمایا میں تو اے اللہ تیری عبادت کا حق بھی ادا نہیں کرسکا، مسند احمد میں ہے شہید لوگ جنت کے دروازے پر نہر کے کنارے سے گنبد سبز میں ہیں، صبح شام انہیں جنت کی نعمتیں پہنچ جاتی ہیں، دونوں احادیث میں تطبیق یہ ہے کہ بعض شہداء وہ ہیں جن کی روحیں پرندوں کے قالب میں ہیں اور بعض وہ ہیں جن کا ٹھکانا یہ گنبد ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ جنت میں سے پھرتے پھراتے یہاں جمع ہوتے ہوں اور پھر یہ کھانے یہیں کھلائے جاتے ہوں واللہ اعلم، یہاں پر وہ حدیث بھی وارد کرنا بالکل برمحل ہوگا جس میں ہر مومن کے لئے یہی بشارت ہے چناچہ مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مومن کی روح ایک پرند میں ہے جو جنت کے درختوں کے پھل کھاتی پھرتی ہے یہاں تک کہ قیامت والے دن جبکہ اللہ تعالیٰ سب کو کھڑا کرے تو اسے بھی اس کے جسم کی طرف لوٹا دے گا، اس حدیث کے راویوں میں تین جلیل القدر امام ہیں جو ان چار اماموں میں سے ہیں جن کے مذاہب مانے جا رہے ہیں، ایک تو امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ آپ اس حدیث کو روایت کرتے ہیں، امام محمد بن ادریس شافعی ؒ سے ان کے استاد ہیں حضرت امام مالک بن انس ؓ پس امام احمد امام شافعی امام محمد بن ادریس شافعی ؒ سے ان کے استاد ہیں۔ حضرت امام مالک بن انس ؓ پس امام احمد امام شافعی امام مالک تینوں زبردست پیشوا اس حدیث کے راوی ہیں۔ پس اس حدیث سے ثابت ہوا کہ ایمانداروں کی روح جنتی پرند کی شکل میں جنت میں رہتی ہے اور شہیدوں کی روحیں جیسے کے پہلے گذر چکا ہے سبز رنگ کے پرندوں کے قالب میں رہتی ہیں یہ روحیں مثل ستاروں کے ہیں جو عام مومنین کی روحوں کو یہ مرتبہ حاصل نہیں، یہ اپنے طور پر آپ ہی اڑتی ہیں، اللہ تعالیٰ سے جو بہت بڑا مہربان اور زبردست احسانوں والا ہے ہماری دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنے فضل و کرم سے ایمان و اسلام پر موت دے آمین۔ پھر فرمایا کہ یہ شہید جن جن نعمتوں اور آسائشوں میں ہیں ان سے بیحد مسرور اور بہت ہی خوش ہیں اور انہیں یہ بھی خوشی اور راحت ہے کہ ان کے بھائی بند جو ان کے بعد راہ اللہ میں شہید ہوں گے اور ان کے پاس آئیں گے انہیں آئندہ کا کچھ خوف نہ ہوگا اور اپنے پیچھے چھوڑی ہوئی چیزوں پر انہیں حسرت بھی نہ ہوگی، اللہ ہمیں بھی جنت نصیب کرے، حضرت محمد بن اسحاق فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ وہ خوش ہیں کہ ان کے کئی اور بھائی بند بھی جو جہاد میں لگے ہوئے ہیں وہ بھی شہید ہو کر ان کی نعمتوں میں ان کے شریک حال ہوں گے اور اللہ کے ثواب سے فائدہ اٹھائیں گے، حضرت سدی فرماتے ہیں شہید کو ایک کتاب دی جاتی ہے کہ فلاں دن تیرے پاس فلاں آئے گا اور فلاں دن فلاں آئے گا پس جس طرح دنیا والے اپنی کسی غیر حاضر کے آنے کی خبر سن کر خوش ہوتے ہیں اسی طرح یہ شہداء ان شہیدوں کی آنے کی خبر سے مسرور ہوتے ہیں، حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ جب شہید جنت میں گئے اور وہاں اپنی منزلیں اور رحمتیں دیکھیں تو کہنے لگے کاش کہ اس کا علم ہمارے ان بھائیوں کو بھی ہوتا جو اب تک دنیا میں ہی ہیں تاکہ وہ جواں مردی سے جان توڑ کر جہاد کرتے اور ان جگہوں میں جا گھستے جہاں سے زندہ آنے کی امید نہ ہوتی تو وہ بھی ہماری ان نعمتوں میں حصہ دار بنتے پس نبی ﷺ نے لوگوں کو ان کے اس حال کی خبر پہنچا دی اور اللہ تعالیٰ نے ان سے کہ دیا کہ میں نے تمہاری خبر تمہارے نبی ﷺ کو دے دی ہے اس سے وہ بہت ہی مسرور و محفوظ ہوئے، بخاری مسلم میں بیر معونہ والوں کا قصہ بیان ہوچکا ہے جو ستر شخص انصاری صحابی تھے اور ایک ہی دن صبح کے وقت کو بےدردی سے کفار نے تہ تیغ کیا تھا جن قاتلوں کے حق میں ایک ماہ نماز کی قنوت میں رسول اللہ ﷺ نے بد دعا کی تھی اور جن پر لعنت بھیجی تھی جن کے بارے میں قرآن کی یہ آیت اتری تھی کہ ہماری قوم کو ہماری خبر پہنچاؤ کہ ہم اپنے رب سے ملے وہ ہم سے راضی ہوا اور ہم اس سے راضی ہوگئے، وہ اللہ کی نعمت و فضل کو دیکھ دیکھ کر مسرور ہیں، حضرت عبدالرحمن فرماتے ہیں یہ آیت (یستبشرون) تمام ایمانداروں کے حق میں ہے خواہ شہید ہوں خواہ غیر۔ بہت کم ایسے موقع ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے نبیوں کی فضیلت اور ان کے ثوابوں کا ذکر نہ ہو۔ پھر ان سچے مومنین کا بیان تعریف کے ساتھ ہو رہا ہے۔ جنہوں نے حمراء اسد والے دن حکم رسول پر باوجود زخموں سے چور ہونے کے جہاد پر کمر کس لی تھی، مشرکین نے مسلمانوں کو مصیبتیں پہنچائیں اور اپنے گھروں کی طرف واپس چل دئیے۔ لیکن پھر انہیں اس کا خیال آیا کہ موقع اچھا تھا مسلمان ہار چکے تھے زخمی ہوگئے تھے ان کے بہادر شہید ہوچکے تھے اگر ہم اور جم کر لڑتے تو فیصلہ ہی ہوجاتا نبی ﷺ ان کا یہ ارادہ معلوم کر کے مسلمانوں کو تیار کرنے لگے کہ میرے ساتھ چلو ہم ان مشرکین کے پیچھے جائیں تاکہ ان پر رعب طاری ہو اور یہ جان لیں کہ مسلمان ابھی کمزور نہیں ہوئے احد میں جو لوگ موجود تھے صرف انہی کو ساتھ چلنے کا حکم ملا ہاں صرف حضرت جابر بن عبداللہ کو ان کے علاوہ بھی ساتھ لیا اس آواز پر بھی مسلمانوں نے لبیک کہی باوجود یہ کہ زخموں میں چور اور خون میں شرابور تھے لیکن اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کے لئے کمر بستہ ہوگئے، حضرت عکرمہ کا بیان ہے کہ جب مشرکین احد سے لوٹے تو راستے میں سوچنے لگے کہ نہ تو تم نے محمد ﷺ کو قتل کیا نہ مسلمانوں کی عورتوں کو پکڑا افسوس تم نے کچھ نہ کیا واپس لوٹو جب یہ خبر حضور ﷺ کو پہنچی تو آپ نے مسلمانوں کو تیاری کا حکم دیا یہ تیار ہوگئے اور مشرکین کے تعاقب میں چل پڑے یہاں تک کہ حمراء الاسد تک یا " بیئر ابی عینیہ " تک پہنچ گئے۔ مشرکین کے دل رعب و خوف سے بھر گئے اور یہ کہہ کر مکہ کی طرف چل دئیے اگلے سال دیکھا جائے گا حضور ﷺ بھی واپس مدینہ تشریف لائے، یہ بھی بالاستقلال ایک الگ لڑائی گنی جاتی ہے اسی کا ذکر اس آیت میں ہے احد کی لڑائی پندرہ شوال بروز ہفتہ ہوئی تھی سولہویں تاریخ بروز اتوار منادی رسول ﷺ نے ندا دی کہ لوگو دشمن کے تعاقب میں چلو اور وہی لوگ چلیں جو کل میدان میں تھے، اس آواز پر حضرت جابر حاضر ہوئے اور عرض کرنے لگے یا رسول اللہ ﷺ کل کی لڑائی میں میں نہ تھا اس لئے کہ میرے والد حضرت عبداللہ نے مجھ سے کہا بیٹے تمہارے ساتھ یہ چھوٹی چھوٹی بہنیں ہیں اسے تو نہ میں پسند کروں اور نہ تو کہ انہیں یہاں تنہا چھوڑ کر دونوں ہی چل دیں ایک جائے گا اور ایک یہاں رہے گا۔ مجھ سے یہ نہیں ہوسکتا کہ رسول اللہ ﷺ کے ہم رکاب تم جاؤ اور میں بیٹھا رہوں اس لئے میری خواہش ہے کہ تم اپنی بہنوں کے پاس رہو اور میں جاتا ہوں اس وجہ سے میں تو وہاں رہا اور میرے والد آپ کے ساتھ آئے اب میری عین تمنا ہے کہ آج مجھے اجازت دیجئے کہ میں آپ کے ساتھ چلوں چناچہ آپ نے اجازت دی حضور ﷺ کا سفر اس غرض سے تھا کہ دشمن دہل جائے اور پیچھے آتا ہوا دیکھ کر سمجھ لے کہ ان میں بہت کچھ قوت ہے اور ہمارے مقابلہ سے یہ عاجز نہیں، قبیلہ بنو عبدالاشہل کے ایک صحابی کا بیان ہے کہ غزوہ احد میں ہم دونوں بھائی شامل تھے اور سخت زخمی ہو کر ہم لوٹے تھے، جب اللہ کے رسول ﷺ کے منادی نے دشمن کے پیچھے جانے کی ندا دی تو ہم دونوں بھائیوں نے آپس میں کہا کہ افسوس نہ ہمارے پاس سواری ہے کہ اس پر سوار ہو کر اللہ کے نبی کے ساتھ جائیں نہ زخموں کے مارے جسم میں اتنی طاقت ہے کہ پیدل ساتھ ہو لیں افسوس کہ یہ غزوہ ہمارے ہاتھ سے نکل جائے گا ہمارے بیشمار گہرے زخم ہمیں آج جانے سے روک دیں گے لیکن پھر ہم نے ہمت باندھی مجھے اپنے بھائی کی نسبت ذرا ہلکے زخم تھے جب میرے بھائی بالکل عاجز آجاتے قدم نہ اٹھتا تو میں انہیں جوں توں کر کے اٹھا لیتا جب تھک جاتا اتار دیتا یونہی جوں توں کر کے ہم لشکر گاہ تک پہنچ ہی گئے۔ ؓ (سیرت ابن اسحاق) صحیح بخاری شریف میں ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے حضرت عروہ سے کہا اے بھانجے تیرے دونوں باپ انہی لوگوں میں سے ہیں جن کے بارے میں آیت (اَلَّذِيْنَ اسْتَجَابُوْا لِلّٰهِ وَالرَّسُوْلِ مِنْۢ بَعْدِ مَآ اَصَابَھُمُ الْقَرْحُ لِلَّذِيْنَ اَحْسَنُوْا مِنْھُمْ وَاتَّقَوْا اَجْرٌ عَظِيْمٌ) 3۔ آل عمران :172) آیت اتری ہے یعنی حضرت زبیر اور حضرت صدیق ؓ جبکہ نبی ﷺ کو احد کی جنگ میں نقصان پہنچا اور مشرکین آگے چلے تو آپ کو خیال ہوا کہ کہیں یہ پھر واپس نہ لوٹیں لہذا آپ نے فرمایا کوئی ہے جو ان کے پیچھے جائے اس پر ستر شخص اس کام کے لئے مستعد ہوگئے جن میں ایک حضرت ابوبکر ؓ تھے، دوسرے حضرت زبیر ؓ تھے، یہ روایت اور بہت سی اسناد سے بہت سی کتابوں میں ہے، ابن مردویہ میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت عائشہ ؓ سے فرمایا کہ تیرے دونوں باپ ان لوگوں میں سے ہیں لیکن یہ مرفوع بیان کرنا محض خطا ہے اس لئے بھی کہ اس کی اسناد میں ثقہ راویوں کا اختلاف ہے جو حضرت عائشہ کے باپ دادا میں سے نہیں صحیح یہ ہے کہ یہ بات حضرت عائشہ نے اپنے بھانجے حضرت اسماء بنت ابی بکر کے لڑکے عروہ سے کہی ہے، حضرت ابن عباس کا بیان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ابو سفیان کے دل میں رعب ڈال دیا اور باوجودیکہ کہ وہ احد کی لڑائی میں قدرے کامیاب ہوگیا تھا لیکن تاہم مکہ کی طرف چل دیا نبی ﷺ نے فرمایا کہ ابو سفیان تمہیں نقصان پہنچا کر لوٹ گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے دل کو مرعوب کردیا ہے، احد کی لڑائی شوال میں ہوئی تھی اور تاجر لوگ ذی قعدہ میں مدینہ آتے تھے اور بدر صغریٰ میں اپنے ڈیرے ہر سال اس ماہ میں ڈالا کرتے تھے اس دفعہ بھی اس واقعہ کے بعد لوگ آئے مسلمان اپنے زخموں میں چور تھے۔ حضور ﷺ سے اپنی تکالیف بیان کرتے تھے اور سخت صدمہ میں تھے۔ نبی ﷺ نے لوگوں کو اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ آپ کے ساتھ چلیں اور فرمایا کہ یہ لوگ اب کوچ کر جائیں گے اور پھر حج کو آئیں گے اور پھر اگلے سال تک یہ طاقت انہیں حاصل نہیں ہوگی لیکن شیطان نے اپنے دوستوں کو دھمکانا اور بہکانا شروع کردیا اور کہنے لگا کہ ان لوگوں نے تمہارے استیصال کے لئے لشکر تیار کر لئے ہیں جس بنا پر لوگ ڈھیلے پڑگئے آپ نے فرمایا سنو خواہ تم میں سے ایک بھی نہ چلے میں تن تنہا جاؤں گا پھر آپ کے رغبت دلانے پر حضرت ابو بکر، حضرت عمر، حضرت عثمان، حضرت علی، حضرت زبیر، حضرت سعد، حضرت طلحہ، حضرت عبدالرحمن بن عوف، حضرت عبداللہ بن مسعود، حضرت حذیفہ بن یمان، حضرت ابو عبیدہ بن جراح وغیرہ ستر صحابہ آپ کے زیر رکاب چلنے پر آمادہ ہوئے۔ ؓ ، یہ مبارک لشکر ابو سفیان کی جستجو میں بدر صغریٰ تک پہنچ گیا انہی کی اس فضیلت اور جاں بازی کا ذکر اس مبارک آیت میں ہے، حضور ﷺ اس سفر میں مدینہ سے آٹھ میل حمراء اسد تک پہنچ گئے۔ مدینہ میں اپنا نائب آپ نے حضرت ابن ام مکتوم ؓ کو بنایا تھا۔ وہاں آپ نے پیر منگل بدھ تک قیام کیا پھر مدینہ لوٹ آئے، اثناء قیام میں قبیلہ خزاعہ کا سردار معبد خزاعی یہاں سے نکلا تھا یہ خود مشرک تھا لیکن اس پورے قبیلے سے حضور ﷺ کی صلح و صفائی تھی اس قبیلہ کے مشرک مومن سب آپ کے خیر خواہ تھے اس نے کہا کہ حضور ﷺ کے ساتھیوں کو جو تکلیف پہنچی اس پر ہمیں سخت رنج ہے اللہ تعالیٰ آپ کو کامیابی کی خوشی نصیب فرمائے، حمراء اسد پر آپ پہنچے مگر اس سے پہلے ابو سفیان چل دیا تھا گو اس نے اور اس کے ساتھیوں نے واپس آنے کا ارادہ کیا تھا کہ جب ہم ان پر غالب آگئے انہیں قتل کیا مارا پیٹا زخمی کیا پھر ادھورا کام کیوں چھوڑیں واپس جا کر سب کو تہ تیغ کردیں، یہ مشورے ہو ہی رہے تھے کہ معبد خزاعی وہاں پہنچا ابو سفیان نے اس سے پوچھا کہو کیا خبریں ہیں اس نے کہا آنحضور مع صحابہ کے تم لوگوں کے تعاقب میں آرہے ہیں وہ لوگ سخت غصے میں ہیں جو پہلے لڑائی میں شریک نہ تھے وہ بھی شامل ہوگئے ہیں سب کے تیور بدلے ہوئے ہیں اور بھرپور طاقت کے ساتھ حملہ آور ہو رہے ہیں میں نے تو ایسا لشکر کبھی دیکھا نہیں، یہ سن کر ابو سفیان کے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے اور کہنے لگا اچھا ہی ہوا جو تم سے ملاقات ہوگئی ورنہ ہم تو خود ان کی طرف جانے کے لئے تیار تھے، معبد نے کہا ہرگز یہ ارادہ نہ کرو اور میری بات کا کیا ہے غالباً تم یہاں سے کوچ کرنے سے پہلے ہی لشکر اسلام کے گھوڑوں کو دیکھ لو گے میں ان کے لشکر ان کے غصے ان کی تیاری اور الوالعزمی کا حال بیان نہیں کرسکتا میں تو تم سے صاف کہتا ہوں کہ بھاگو اور اپنی جانیں بچاؤ میرے پاس ایسے الفاظ نہیں جن سے میں مسلمانوں کے غیظ و غضب اور تہورو شجاعت اور سختی اور پختگی کا بیان کرسکوں، پس مختصر یہ ہے کہ جان کی خیر مناتے ہو تو فوراً یہاں سے کوچ کرو، ابو سفیان اور اس کے ساتھیوں کے چھکے چھوٹ گئے اور انہوں نے یہاں سے مکہ کی راہ لی، قبیلہ عبدالقیس کے آدمی جو کاروبار کی غرض سے مدینہ جا رہے تھے ان سے ابو سفیان نے کہا کہ تم حضور ﷺ کو یہ خبر پہنچا دینا کہ ہم نے انہیں تہ تیغ کردینے کے لئے لشکر جمع کر لئے ہیں اور ہم واپس لوٹنے کا ارادہ میں ہیں، اگر تم نے یہ پیغام پہنچا دیا تو ہم تمہیں سوق عکاظ میں بہت ساری کشمش دیں گے چناچہ ان لوگوں نے حمراء اسد میں آکر بطور ڈراوے کے نمک مرچ لگا کر یہ وحشت اثر خبر سنائی لیکن صحابہ نے نہایت استقلال اور پامردی سے جواب دیا کہ ہمیں اللہ کافی ہے اور وہی بہترین کارساز ہے، جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں نے ان کے لئے ایک پتھر کا نشان مقرر کر رکھا ہے اگر یہ لوٹیں گے تو وہاں پہنچ کر اس طرح مٹ جائیں گے جیسے گزشتہ کل کا دن، بعض لوگوں نے یہ بھی کہا ہے کہ یہ آیت بدر کے بارے میں نازل ہوئی ہے لیکن صحیح تر یہی ہے کہ حمراء اسد کے بارے میں نازل ہوئی۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے دشمنوں نے انہیں پژمردہ دل کرنے کے لئے دشمنوں کے سازو سامان اور ان کی کثرت وبہتات سے ڈرایا لیکن وہ صبر کے پہاڑ ثابت ہوئے ان کے غیر متزلزل یقین میں کچھ فرق نہ آیا بلکہ وہ توکل میں اور بڑھ گئی اور اللہ کی طرف نظریں کر کے اس سے امداد طلب کی، صحیح بخاری شریف میں حضرت عبداللہ بن عباس سے مروی ہے کہ آیت (حسبنا اللہ) الخ، حضرت ابراہیم نے آگ میں پڑتے وقت پڑھا تھا اور حضرت محمد ﷺ نے اس وقت جب کہ کافروں کے ٹڈی دل لشکر سے لوگوں نے آپ کو خوف زدہ کرنا چاہا اس وقت پڑھا، تعجب کی بات ہے کہ امام حاکم نے اس روایت کو رد کر کے فرمایا ہے کہ یہ بخاری مسلم میں نہیں۔ بخاری کی ایک روایت میں ہے کہ احد کے موقع پر جب حضور ﷺ کو کفار کے لشکروں کی خبر دی گئی تو آپ نے یہی کلمہ فرمایا اور روایت میں ہے کہ حضرت علی کی سردار کے ماتحت جب حضور ﷺ نے ایک چھوٹا سا لشکر روانہ کیا اور راہ میں خزاعہ کے ایک اعرابی نے یہ خبر سنائی تو آپ نے یہ فرمایا تھا۔ ابن مردویہ کی حدیث میں ہے آپ فرماتے ہیں جب تم پر کوئی بہت بڑا کام آپڑے تو تم آیت (حسبنا اللہ) آخر تک پڑھو مسند احمد میں ہے کہ دو شخصوں کے درمیان حضور ﷺ نے فیصلہ کیا تو جس کے خلاف فیصلہ صادر ہوا تھا اس نے یہی کلمہ پڑھا آپ نے اسے واپس بلا کر فرمایا بزدلی اور سستی پر اللہ کی ملامت ہوتی ہے دانائی دور اندیشی اور عقلمندی کیا کرو پھر کسی امر میں پھنس جاؤ تو یہی پڑھ لیا کرو، مسند کی اور حدیث میں ہے کس طرح بےفکر اور فارغ ہو کر آرام پاؤں حالانکہ صاحب صور نے صور منہ میں لے رکھا ہے اور پیشانی جھکائے حکم اللہ کا منتظر ہے کہ کب حکم ہوا اور وہ صور پھونک دے، صحابہ نے کہا حضور ﷺ ہم کیا پڑھیں آپ نے فرمایا آیت (حسبنا اللہ ونعم الوکیل) (علی اللہ توکلنا) پڑھو ام المومنین حضرت زینب اور ام المومنین حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ حضرت زینب نے فخر سے فرمایا میرا نکاح خود اللہ نے کردیا ہے اور تمہارے نکاح ولی وارثوں نے کئے ہیں، صدیقہ نے فرمایا میری برأت اور پاکیزگی کی آیت اللہ تعالیٰ نے آسمان سے اپنے پاک کلام میں نازل فرمائی ہیں حضرت زینب اسے مان گئیں اور پوچھا یہ بتاؤ تم نے حضرت صفوان بن معطل کی سواری پر سوار ہوتے وقت کیا پڑھا تھا، صدیقہ نے فرمایا دعا (حسبی اللہ ونعم الوکیل) یہ سن کر ام المومنین حضرت زینب ؓ نے فرمایا تم نے ایمان والوں کا کلمہ کہا تھا، چناچہ اس آیت میں بھی رب رحیم کا ارشاد ہے کہ ان توکل کرنے والوں کی کفایت اللہ تعالیٰ نے کی اور ان کے ساتھ جو لوگ برائی کا ارادہ رکھتے تھے انہیں ذلت اور بربادی کے ساتھ پسپا کیا، یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے اپنے شہروں کی طرف بغیر کسی نقصان اور برائی کے لوٹے دشمن اپنی مکاریوں میں ناکام رہا، ان سے اللہ خوش ہوگیا کیونکہ انہوں نے اس کی خوشی کا کام انجام دیا تھا اللہ تعالیٰ بڑے فضل و کرم والا ہے۔ ابن عباس کا فرمان ہے کہ نعمت تو یہ تھی کہ وہ سلامت رہے اور فضل یہ تھا کہ حضور ﷺ نے تاجروں کے ایک قافلہ سے مال خرید لیا جس میں بہت ہی نفع ہوا اور اس کل نفع کو آپ نے اپنے ساتھیوں میں تقسیم فرما دیا۔ حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ ابو سفیان نے حضور ﷺ سے کہا اب وعدے کی جگہ بدر ہے آپ نے فرمایا ممکن ہے چناچہ وہاں پہنچے تو یہ ڈرپوک آیا ہی نہیں وہاں بازار کا دن تھا مال خرید لیا جو نفع سے بکا اسی کا نام غزوہ بدر صغریٰ ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ یہ شیطان تھا جو اپنے دوستوں کے ذریعہ تمہیں دھمکا رہا تھا اور گیدڑ بھبکیاں دے رہا تمہیں چاہئے کہ ان سے نہ ڈرو صرف میرا ہی خوف دل میں رکھو کیونکہ ایمان داری کی یہی شرط ہے کہ جب کوئی ڈرائے دھمکائے اور دینی امور سے تمہیں باز رکھنا چاہئے تو مسلمان اللہ پر بھروسہ کرے اس کی طرف سمٹ جائے اور یقین مانے کہ کافی اور ناصر وہی ہے جیسے اور جگہ ہے آیت (اَلَيْسَ اللّٰهُ بِكَافٍ عَبْدَهٗ ۭ وَيُخَوِّفُوْنَكَ بالَّذِيْنَ مِنْ دُوْنِهٖ) 39۔ الزمر :36) کیا اللہ جل شانہ اپنے بندوں کو کافی نہیں یہ لوگ تجھے اس کے سوا اوروں سے ڈرا رہے ہیں (یہاں تک کہ فرمایا) تو کہہ کہ مجھے اللہ کافی ہے توکل کرنے والوں کو اسی پر بھروسہ کرنا چاہئے اور جگہ فرمایا اولیاء شیطان سے لڑو۔ شیطان کا مکر بڑا بودا ہے۔ اور جگہ ارشاد ہے یہ شیطانی لشکر ہے یاد رکھو شیطانی لشکر ہی گھاٹے اور خسارے میں ہے اور جگہ ارشاد ہے آیت (كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِيْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ قَوِيٌّ عَزِيْزٌ) 58۔ المجادلہ :21) اللہ تعالیٰ لکھ چکا ہے کہ غلبہ یقینا مجھے اور میرے رسولوں کو ہی ہوگا اللہ قوی اور عزیز ہے۔ اور جگہ ارشاد ہے آیت (ۭوَلَيَنْصُرَنَّ اللّٰهُ مَنْ يَّنْصُرُهٗ ۭ اِنَّ اللّٰهَ لَقَوِيٌّ عَزِيْزٌ) 22۔ الحج :40) جو اللہ کی مدد کرے گا اس کی امداد فرمائے گا اور فرمان ہے آیت (يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِنْ تَنْصُرُوا اللّٰهَ يَنْصُرْكُمْ وَيُثَبِّتْ اَقْدَامَكُمْ) 47۔ محمد :7) اے ایمان والو اگر تم اللہ کی مدد کرو گے تو اللہ تمہاری بھی مدد کرے گا اور آیت میں ہے آیت (اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُوْمُ الْاَشْهَادُ) 40۔ غافر :51) بالیقین ہم اپنے رسولوں کی اور ایمان داروں کی مدد دینا میں بھی کریں گے اور اس دن بھی جس دن گواہ کھڑے ہوں گے جس دن ظالموں کو عذر معذرت نفع نہ دے گی ان کے لئے لعنت ہے اور ان کے لئے برا گھر ہے۔
175
View Single
إِنَّمَا ذَٰلِكُمُ ٱلشَّيۡطَٰنُ يُخَوِّفُ أَوۡلِيَآءَهُۥ فَلَا تَخَافُوهُمۡ وَخَافُونِ إِن كُنتُم مُّؤۡمِنِينَ
It is the devil who threatens with his friends; so do not fear them and fear Me, if you have faith.
بیشک یہ (مخبر) شیطان ہی ہے جو (تمہیں) اپنے دوستوں سے دھمکاتا ہے، پس ان سے مت ڈرا کرو اور مجھ ہی سے ڈرا کرو اگر تم مومن ہو
Tafsir Ibn Kathir
Virtues of the Martyrs
Allah states that even though the martyrs were killed in this life, their souls are alive and receiving provisions in the Dwelling of Everlasting Life. In his Sahih, Muslim recorded that Masruq said, "We asked `Abdullah about this Ayah,
وَلاَ تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُواْ فِى سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَتاً بَلْ أَحْيَاءٌ عِندَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ
(Think not of those as dead who are killed in the way of Allah. Nay, they are alive, with their Lord, and they have provision.)
He said, `We asked the Messenger of Allah ﷺ the same question and he said,
«أَرْوَاحُهُمْ فِي جَوْفِ طَيْرٍ خُضْرٍ، لَهَا قَنَادِيلُ مُعَلَّقَةٌ بِالْعَرْشِ، تَسْرَحُ مِنَ الْجَنَّةِ حَيْثُ شَاءَتْ، ثُمَّ تَأْوِي إِلَى تِلْكَ الْقَنَادِيلِ، فَاطَّلَعَ إِلَيْهِمْ رَبُّهُمُ اطِّلَاعَةً فَقَالَ: هَلْ تَشْتَهُونَ شَيْئًا؟ فَقَالُوا: أَيَّ شَيْءٍ نَشْتَهِي وَنَحْنُ نَسْرَحُ مِنَ الْجَنَّةِ حَيْثُ شِئْنَا؟ فَفَعَلَ ذَلِكَ بِهِمْ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَلَمَّا رَأَوْا أَنَّهُمْ لَنْ يُتْرَكُوا مِنْ أَنْ يُسْأَلُوا، قَالُوا: يَا رَبِّ نُرِيدُ أَنْ تَرُدَّ أَرْوَاحَنَا فِي أَجْسَادِنَا حَتَّى نُقْتَلَ فِي سَبِيلِكَ مَرَّةً أُخْرَى، فَلَمَّا رَأَى أَنْ لَيْسَ لَهُمْ حَاجَةٌ، تُرِكُوا»
(Their souls are inside green birds that have lamps, which are hanging below the Throne (of Allah), and they wander about in Paradise wherever they wish. Then they return to those lamps. Allah looks at them and says, `Do you wish for anything' They say, `What more could we wish for, while we go wherever we wish in Paradise' Allah asked them this question thrice, and when they realize that He will keep asking them until they give an answer, they say, `O Lord! We wish that our souls be returned to our bodies so that we are killed in Your cause again.' Allah knew that they did not have any other wish, so they were left.)"' There are several other similar narrations from Anas and Abu Sa`id.
Imam Ahmad recorded that Anas said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«مَا مِنْ نَفْسٍ تَمُوتُ، لَهَا عِنْدَ اللهِ خَيْرٌ، يَسُرُّهَا أَنْ تَرْجِعَ إِلَى الدُّنْيَا، إِلَّا الشَّهِيدُ، فَإِنَّهُ يَسُرُّهُ أَنْ يَرْجِعَ إِلَى الدُّنْيَا فَيُقْتَلَ مَرَّةً أُخْرَى، لِمَا يَرَى مِنْ فَضْلِ الشَهَادَة»
(No soul that has a good standing with Allah and dies would wish to go back to the life of this world, except for the martyr. He would like to be returned to this life so that he could be martyred again, for he tastes the honor achieved from martyrdom.) Muslim collected this Hadith
In addition, Imam Ahmad recorded that, Ibn `Abbas said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«لَمَّا أُصِيبَ إِخْوَانُكُمْ بِأُحُدٍ، جَعَلَ اللهُ أَرْوَاحَهُمْ فِي أَجْوَافِ طَيْرٍ خُضْرٍ، تَرِدُ أَنْهَارَ الْجَنَّـةِ، وَتَأْكُلُ مِنْ ثِمَارِهَا، وَتَأْوِي إِلى قَنَادِيلَ مِنْ ذَهَبٍ فِي ظِلِّ الْعَرْشِ، فَلَمَّا وَجَدُوا طِيبَ مَشْرَبِهِمْ وَمَأْكَلِهِمْ، وَحُسْنَ مُتَقَلَّبِهِمْ قَالُوا: يَا لَيْتَ إِخْوَانَنَا يَعْلَمُونَ مَا صَنَعَ اللهُ لَنَا، لِئَلَّا يَزْهَدُوا فِي الْجِهَادِ، وَلَا يَنْكُلُوا عَنِ الْحَرْبِ، فَقَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: أَنْا أُبَلِّغُهُمْ عَنْكُم»
(When your brothers were killed in Uhud, Allah placed their souls inside green birds that tend to the rivers of Paradise and eat from its fruits. They then return to golden lamps hanging in the shade of the Throne. When they tasted the delight of their food, drink and dwelling, they said, `We wish that our brothers knew what Allah gave us so that they will not abandon Jihad or warfare.' Allah said, `I will convey the news for you.') Allah revealed these and the following Ayat,
وَلاَ تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُواْ فِى سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَتاً بَلْ أَحْيَاءٌ عِندَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ
(Think not of those as dead who are killed in the way of Allah. Nay, they are alive, with their Lord, and they have provision.)
Qatadah, Ar-Rabi` and Ad-Dahhak said that these Ayat were revealed about the martyrs of Uhud.
Abu Bakr Ibn Marduwyah recorded that Jabir bin `Abdullah said, "The Messenger of Allah ﷺ looked at me one day and said, `O Jabir! Why do I see you sad' I said, `O Messenger of Allah! My father was martyred and left behind debts and children.' He said,
«أَلَا أُخْبِرُكَ؟ مَا كَلَّمَ اللهُ أَحَدًا قَطُّ إِلَّا مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ، وَإِنَّه كَلَّمَ أَبَاكَ كِفَاحًا»
، قال علي: الكفاح: المواجهة
«قَالَ: سَلْنِي أُعْطِكَ. قَالَ: أَسْأَلُكَ أَنْ أُرَدَّ إِلَى الدُّنْيَا فَأُقْتَلَ فِيكَ ثَانِيَةً، فَقَالَ الرَّبُّ عَزَّ وَجَلَّ: إِنَّهُ قَدْ سَبَقَ مِنِّي الْقَوْلُ: إِنَّهُمْ إِلَيْهَا لَا يَرْجِعُونَ. قَالَ: أَيْ رَبِّ فَأَبْلِغْ مَنْ وَرَائِي»
(Should I tell you that Allah never spoke to anyone except from behind a veil However, He spoke to your father directly. He said, `Ask Me and I will give you.' He said, `I ask that I am returned to life so that I am killed in Your cause again.' The Lord, Exalted He be, said, `I have spoken the word that they shall not be returned back to it (this life). ' He said, `O Lord! Then convey the news to those I left behind.') Allah revealed,
وَلاَ تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُواْ فِى سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَتاً
(Think not of those as dead who are killed in the way of Allah...)"
Imam Ahmad recorded that Ibn `Abbas said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«الشُّهَدَاءُ عَلى بَارِقِ نَهْرٍ بِبَابِ الْجَنَّـةِ، فِي قُبَّةٍ خَضْرَاءَ، يَخْرُجُ عَلَيْهِمْ رِزْقُهُمْ مِنَ الْجَنَّـةِ بُكْرَةً وَعَشِيًّا»
(The martyrs convene at the shore of a river close to the door of Paradise, in a green tent, where their provisions are brought to them from Paradise day and night.)
Ahmad and Ibn Jarir collected this Hadith, which has a good chain of narration. It appears that the martyrs are of different types, some of them wander in Paradise, and some remain close to this river by the door of Paradise. It is also possible that the river is where all the souls of the martyrs convene and where they are provided with their provision day and night, and Allah knows best. UImam Ahmad narrated a Hadith that contains good news for every believer that his soul will be wandering in Paradise, as well, eating from its fruits, enjoying its delights and happiness and tasting the honor that Allah has prepared in it for him. This Hadith has a unique, authentic chain of narration that includes three of the Four Imams. Imam Ahmad narrated this Hadith from Muhammad bin Idris Ash-Shafi`i who narrated it from Malik bin Anas Al-Asbuhi, from Az-Zuhri, from `Abdur-Rahman bin Ka`b bin Malik that his father said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«نَسَمَةُ الْمُؤْمِنِ طَائِرٌ يَعْلُقُ فِي شَجَرِ الْجَنَّـةِ حَتَّى يَرْجِعَهُ اللهُ إِلى جَسَدِهِ يَوْمَ يَبْعَثُه»
(The soul of the believer becomes a bird that feeds on the trees of Paradise, until Allah sends him back to his body when He resurrects him.)
This Hadith states that the souls of the believers are in the shape of a bird in Paradise. As for the souls of martyrs, they are inside green birds, like the stars to the rest of the believing souls. We ask Allah the Most Generous that He makes us firm on the faith.
Allah's statement,
فَرِحِينَ بِمَآ ءَاتَـهُمُ اللَّهُ
(They rejoice in what Allah has bestowed upon them) indicates that the martyrs who were killed in Allah's cause are alive with Allah, delighted because of the bounty and happiness they are enjoying. They are also awaiting their brethren, who will die in Allah's cause after them, for they will be meeting them soon. These martyrs do not have fear about the future or sorrow for what they left behind. We ask Allah to grant us Paradise. The Two Sahihs record from Anas, the story of the seventy Ansar Companions who were murdered at Bir Ma`unah in one night. In this Hadith, Anas reported that the Prophet used to supplicate to Allah in Qunut in prayer against those who killed them. Anas said, "A part of the Qur'an was revealed about them, but was later abrogated, `Convey to our people that we met Allah and He was pleased with us and made us pleased."'
Allah said next,
يَسْتَبْشِرُونَ بِنِعْمَةٍ مِّنَ اللَّهِ وَفَضْلٍ وَأَنَّ اللَّهَ لاَ يُضِيعُ أَجْرَ الْمُؤْمِنِينَ
(They rejoice in a grace and a bounty from Allah, and that Allah will not waste the reward of the believers) 3:171.
Muhammad bin Ishaq commented, "They were delighted and pleased because of Allah's promise that was fulfilled for them, and for the tremendous rewards they earned." `Abdur-Rahman bin Zayd bin Aslam said, "This Ayah encompasses all the believers, martyrs and otherwise. Rarely does Allah mention a bounty and a reward that He granted to the Prophets, without following that with what He has granted the believers after them."
The Battle of Hamra' Al-Asad
Allah said,
الَّذِينَ اسْتَجَابُواْ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ مِن بَعْدِ مَآ أَصَـبَهُمُ الْقَرْحُ
(Those who answered (the Call of) Allah and the Messenger after being wounded) 3:172.
This occurred on the day of Hamra' Al-Asad. After the idolators defeated the Muslims (at Uhud), they started on their way back home, but soon they were concerned because they did not finish off the Muslims in Al-Madinah, so they set out to make that battle the final one. When the Messenger of Allah ﷺ got news of this, he commanded the Muslims to march to meet the disbelievers, to bring fear to their hearts and to demonstrate that the Muslims still had strength to fight. The Prophet only allowed those who were present during Uhud to accompany him, except for Jabir bin `Abdullah Al-Ansari, as we will mention. The Muslims mobilized, even though they were still suffering from their injuries, in obedience to Allah and His Messenger .
Ibn Abi Hatim recorded that `Ikrimah said, "When the idolators returned towards Makkah after Uhud, they said, `You neither killed Muhammad nor collected female captives. Woe to you for what you did. Let us go back.' When the Messenger of Allah ﷺ heard this news, he mobilized the Muslim forces, and they marched until they reached Hamra Al-Asad. The idolators said, `Rather, we will meet next year', and the Messenger of Allah ﷺ went back to Al-Madinah, and this was considered a Ghazwah (battle). Allah sent down,
الَّذِينَ اسْتَجَابُواْ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ مِن بَعْدِ مَآ أَصَـبَهُمُ الْقَرْحُ لِلَّذِينَ أَحْسَنُواْ مِنْهُمْ وَاتَّقَوْاْ أَجْرٌ عَظِيمٌ
(Those who answered (the Call of) Allah and the Messenger after being wounded; for those of them who did good deeds and feared Allah, there is a great reward.)
Al-Bukhari recorded that `A'ishah said to `Urwah about the Ayah;
الَّذِينَ اسْتَجَابُواْ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ
(Those who answered (the Call of) Allah and the Messenger)
"My nephew! Your fathers Az-Zubayr and Abu Bakr were among them. After the Prophet suffered the calamity at Uhud and the idolators went back, he feared that the idolators might try to come back and he said, `Who would follow them' Seventy men, including Az-Zubayr and Abu Bakr, volunteered." This was recorded by Al-Bukhari alone.
As for Allah's statement,
الَّذِينَ قَالَ لَهُمُ النَّاسُ إِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُواْ لَكُمْ فَاخْشَوْهُمْ فَزَادَهُمْ إِيمَـناً
(Those unto whom the people said, "Verily, the people have gathered against you, therefore, fear them." But it (only) increased them in faith) 3:173, it means, those who threatened the people, saying that the disbelievers have amassed against them, in order to instill fear in them, but this did not worry them, rather, they trusted in Allah and sought His help,
وَقَالُواْ حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ
(and they said: "Allah is Sufficient for us, and He is the Best Disposer of affairs.")
Al-Bukhari recorded that Ibn `Abbas said,
حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ
("Allah Alone is Sufficient for us and He is the Best Disposer of affairs for us.")
"Ibrahim said it when he was thrown in fire. Muhammad said it when the people said, `Verily, the people have gathered against you, therefore, fear them.' But it only increased them in faith, and they said, `Allah is Sufficient for us and He is the Best Disposer of affairs for us."' Abu Bakr Ibn Marduwyah recorded that Anas bin Malik said that the Prophet was told on the day of Uhud, "Verily, the people have gathered against you, therefore, fear them." Thereafter, Allah sent down this Ayah 3:173.
This is why Allah said,
فَانْقَلَبُواْ بِنِعْمَةٍ مِّنَ اللَّهِ وَفَضْلٍ لَّمْ يَمْسَسْهُمْ سُوءٌ
(So they returned with grace and bounty from Allah. No harm touched them;) for when they relied on Allah, Allah took care of their worries, He confounded the plots of their enemies, and the Muslims returned to their land,
بِنِعْمَةٍ مِّنَ اللَّهِ وَفَضْلٍ لَّمْ يَمْسَسْهُمْ سُوءٌ
(with grace and bounty from Allah. No harm touched them;) safe from the wicked plots of their enemies,
وَاتَّبَعُواْ رِضْوَنَ اللَّهِ وَاللَّهُ ذُو فَضْلٍ عَظِيمٍ
(and they followed the pleasure of Allah. And Allah is the Owner of great bounty.)
Al-Bayhaqi recorded that Ibn `Abbas said about Allah's statement,
فَانْقَلَبُواْ بِنِعْمَةٍ مِّنَ اللَّهِ وَفَضْلٍ
(So they returned with grace and bounty from Allah,) "The `Grace' was that they were saved. The `Bounty' was that a caravan passed by, and those days were Hajj season days. Thus the Messenger of Allah ﷺ bought and sold and made a profit, which he divided between his Companions."
Allah then said,
إِنَّمَا ذَلِكُمُ الشَّيْطَـنُ يُخَوِّفُ أَوْلِيَاءَهُ
(It is only Shaytan that suggests to you the fear of his friends,) 3:175 meaning, Shaytan threatens you with his friends and tries to pretend they are powerful and fearsome. Allah said next,
فَلاَ تَخَافُوهُمْ وَخَافُونِ إِن كُنتُمْ مُّؤْمِنِينَ
(so fear them not, but fear Me, if you are indeed believers.) meaning, "If Shaytan brings these thoughts to you, then depend on Me and seek refuge with Me. Indeed, I shall suffice you and make you prevail over them." Similarly, Allah said,
أَلَيْسَ اللَّهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ وَيُخَوِّفُونَكَ بِالَّذِينَ مِن دُونِهِ
(Is not Allah Sufficient for His servant Yet they try to frighten you with those besides Him!) 39: 36, until,
قُلْ حَسْبِىَ اللَّهُ عَلَيْهِ يَتَوَكَّـلُ الْمُتَوَكِّلُونَ
(Say: "Sufficient for me is Allah; in Him those who trust must put their trust.") 39:38. Allah said,
فَقَـتِلُواْ أَوْلِيَاءَ الشَّيْطَـنِ إِنَّ كَيْدَ الشَّيْطَـنِ كَانَ ضَعِيفاً
(So fight you against the friends of Shaytan; ever feeble indeed is the plot of Shaytan.) 4:76 and
أُوْلَـئِكَ حِزْبُ الشَّيْطَـنِ أَلاَ إِنَّ حِزْبَ الشَّيْطَـنِ هُمُ الخَـسِرُونَ
(They are the party of Shaytan. Verily, it is the party of Shaytan that will be the losers!) 58:19,
كَتَبَ اللَّهُ لاّغْلِبَنَّ أَنَاْ وَرُسُلِى إِنَّ اللَّهَ قَوِىٌّ عَزِيزٌ
(Allah has decreed: "Verily, it is I and My Messengers who shall be the victorious." Verily, Allah is All-Powerful, All-Mighty.) 58:21 and
وَلَيَنصُرَنَّ اللَّهُ مَن يَنصُرُهُ
(Verily, Allah will help those who help His (cause).) 22:40 and
يأَيُّهَا الَّذِينَ ءَامَنُواْ إِن تَنصُرُواْ اللَّهَ يَنصُرْكُمْ
(O you who believe! If you help (in the cause of) Allah, He will help you) 47:7, and,
إِنَّا لَنَنصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِينَ ءَامَنُواْ فِى الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُومُ الاٌّشْهَـدُ - يَوْمَ لاَ يَنفَعُ الظَّـلِمِينَ مَعْذِرَتُهُمْ وَلَهُمُ الْلَّعْنَةُ وَلَهُمْ سُوءُ الدَّارِ
(Verily, We will indeed make victorious Our Messengers and those who believe, in this world's life and on the Day when the witnesses will stand forth. The Day when their excuses will be of no profit to wrongdoers. Theirs will be the curse, and theirs will be the evil abode.) 40:51,52
بیئر معونہ کے شہداء اور جنت میں ان کی تمنا ؟ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ گو شہید فی سبیل اللہ دنیا میں مار ڈالے جاتے ہیں لیکن آخرت میں ان کی روحیں زندہ رہتی ہیں اور رزق پاتی ہیں، اس آیت کا شان نزول یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے چالیس یا ستر صحابیوں کو بیئر معونہ کی طرف بھیجا تھا یہ جماعت جب اس غار تک پہنچی جو اس کنویں کے اوپر تھی تو انہوں نے وہاں پڑاؤ کیا اور آپس میں کہنے لگے کون ہے ؟ جو اپنی جان خطرہ میں ڈال کر اللہ کے رسول ﷺ کا کلمہ ان تک پہنچائے ایک صحابی اس کے لئے تیار ہوئے اور ان لوگوں کے گھروں کے پاس آکر با آواز بلند فرمایا اے بیئر معونہ والو سنو میں اللہ کے رسول ﷺ کا قاصد ہوں میری گواہی ہے کہ معبود صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے اور محمد ﷺ اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں یہ سنتے ہی ایک کافر اپنا تیر سنبھالے ہوئے اپنے گھر سے نکلا اور اس طرح تاک کر لگایا کہ ادھر کی پسلی سے ادھر کی پسلی میں آرپار نکل گیا، اس صحابی کی زبان سے بیساختہ نکلا حدیث (فزت ورب الکعبۃ) کعبے کے اللہ کی قسم میں اپنی مراد کو پہنچ گیا اب کفار نشانات ٹٹولتے ہوئے اس غار پر جا پہنچے اور عامر بن طفیل نے جو ان کا سردار تھا ان سب مسلمانوں کو شہید کردیا حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ ان کے بارے میں قرآن اترا کہ ہماری جانب سے ہماری قوم کو یہ خبر پہنچا دو کہ ہم اپنے رب سے ملے وہ ہم سے راضی ہوگیا اور ہم اس سے راضی ہوگئے ہم ان آیتوں کو برابر پڑھتے رہے پھر ایک مدت کے بعد یہ منسوخ ہو کر اٹھا لی گئیں اور آیت (ولا تحسبن) الخ، اتری (محمد بن جریر) صحیح مسلم شریف میں ہے حضرت مسروق فرماتے ہیں ہم نے حضرت عبداللہ سے اس آیت کا مطلب پوچھا تو حضرت عبداللہ نے فرمایا ہم نے رسول ﷺ سے اس آیت کا مطلب دریافت کیا تھا تو آپ نے فرمایا ان کی روحیں سبز رنگ پرندوں کے قالب میں ہیں۔ عرش کی قندلیں ان کے لئے ہیں ساری جنت میں جہاں کہیں چاہیں چریں چگیں اور ان قندیلیوں میں آرام کریں ان کی طرف ان کے رب نے ایک مرتبہ نظر کی اور دریافت فرمایا کچھ اور چاہتے ہو ؟ کہنے لگے اے اللہ اور کیا مانگیں ساری جنت میں سے جہاں کہیں سے چاہیں کھائیں پئیں اختیار ہے پھر کیا طلب کریں اللہ تعالیٰ نے ان سے پھر یہی پوچھا تیسری مرتبہ یہی سوال کیا جب انہوں نے دیکھا کہ بغیر کچھ مانگے چارہ ہی نہیں تو کہنے لگے اے رب ! ہم چاہتے ہیں کہ تو ہماری روحوں کو جسموں کی طرف لوٹا دے ہم پھر دنیا میں جا کر تیری راہ میں جہاد کریں اور مارے جائیں اب معلوم ہوگیا کہ انہیں کسی اور چیز کی حاجت نہیں تو ان سے پوچھنا چھوڑ دیا کہ کیا چاہتے ہو ؟ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جو لوگ مرجائیں اور اللہ کے ہاں بہتری پائیں وہ ہرگز دنیا میں آنا پسند نہیں کرتے مگر شہید کہ وہ تمنا کرتا ہے کہ دنیا میں دوبارہ لوٹایا جائے اور دوبارہ راہ اللہ میں شہید ہو کیونکہ شہادت کے درجات کو وہ دیکھ رہا ہے (مسند احمد) صحیح مسلم شریف میں بھی یہ حدیث ہے، مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے فرمایا اے جابر تمہیں معلوم بھی ہے ؟ کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے والد کو زندہ کیا اور ان سے کہا اے میرے بندے مانگ کیا مانگتا ہے ؟ تو کہا اے اللہ دنیا میں پھر بھیج تاکہ میں دوبارہ تیری راہ میں مارا جاؤں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا یہ تو میں فیصلہ کرچکا ہوں کہ کوئی یہاں دوبارہ لوٹایا نہیں جائے گا، ان کا نام حضرت عبداللہ بن عمرو بن حرام انصاری تھا اللہ تعالیٰ ان سے رضامند ہو، صحیح بخاری شریف میں ہے حضرت جابر فرماتے ہیں میرے باپ کی شہادت کے بعد میں رونے لگا اور ابا کے منہ سے کپڑا ہٹا ہٹا کر بار بار ان کے چہرے کو دیکھ رہا تھا۔ صحابہ مجھے منع کرتے تھے لیکن آنحضرت ﷺ خاموش تھے پھر حضور ﷺ نے فرمایا جابر رو مت جب تک تیرے والد کو اٹھایا نہیں گیا فرشتے اپنے پروں سے اس پر سایہ کئے ہوئے ہیں، مسند احمد میں ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا جب تمہارے بھائی احد والے دن شہید کئے گئے تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی روحیں سبز پرندوں کے قالب میں ڈال دیں جو جنتی درختوں کے پھل کھائیں اور جنتی نہروں کا پانی پئیں اور عرش کے سائے تلے وہاں لٹکتی ہوئی قندیلوں میں آرام و راحت حاصل کریں جب کھانے پینے رہنے سہنے کی یہ بہترین نعمتیں انہیں ملیں تو کہنے لگے کاش کہ ہمارے بھائیوں کو جو دنیا میں ہیں ہماری ان نعمتوں کی خبر مل جاتی تاکہ وہ جہاد سے منہ نہ پھیریں اور اللہ کی راہ کی لڑائیوں سے تھک کر نہ بیٹھ رہیں اللہ تعالیٰ نے ان سے فرمایا تم بےفکر رہو میں یہ خبر ان تک پہنچا دیتا ہوں چناچہ یہ آیتیں نازل فرمائیں، حضرت ابن عباس سے یہ بھی مروی ہے کہ حضرت حمزہ ؓ اور آپ کے ساتھیوں کے بارے میں آیتیں اتریں (مستدرک حاکم) یہ بھی مفسرین نے فرمایا ہے کہ احد کے شہیدوں کے بارے میں یہ آیتیں نازل ہوئیں۔ ابوبکر بن مردویہ میں حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے دیکھا اور فرمانے لگے جابر کیا بات ہے کہ تم مجھے غمگین نظر آتے ہو ؟ میں نے کہا یا رسول اللہ میرے والد شہید ہوگئے جن پر بار قرض بہت ہے اور میرے چھوٹے چھوٹے بہن بھائی بہت ہیں آپ نے فرمایا سن میں تجھے بتاؤں جس کسی سے اللہ نے کلام کیا پردے کے پیچھے سے کلام کیا لیکن تیرے باپ سے آمنے سامنے بات چیت کی فرمایا مجھ سے مانگ جو مانگے گا دوں گا تیرے باپ نے کہا اللہ عزوجل میں تجھ سے یہ مانگتا ہوں کہ تو مجھے دنیا میں دوبارہ بھیجے اور میں تیری راہ میں دوسری مرتبہ شہید کیا جاؤں، رب عزوجل نے فرمایا یہ بات تو میں پہلے ہی مقرر کرچکا ہوں کہ کوئی بھی لوٹ کر دوبارہ دنیا میں نہیں جائے گا۔ کہنے لگے پھر اے اللہ میرے بعد والوں کو ان مراتب کی خبر پہنچا دی جائے چناچہ اللہ تعالیٰ نے آیت (ولا تحسبن) الخ، فرمائی، بیہقی میں اتنا اور زیادہ ہے کہ حضرت عبداللہ ؓ نے فرمایا میں تو اے اللہ تیری عبادت کا حق بھی ادا نہیں کرسکا، مسند احمد میں ہے شہید لوگ جنت کے دروازے پر نہر کے کنارے سے گنبد سبز میں ہیں، صبح شام انہیں جنت کی نعمتیں پہنچ جاتی ہیں، دونوں احادیث میں تطبیق یہ ہے کہ بعض شہداء وہ ہیں جن کی روحیں پرندوں کے قالب میں ہیں اور بعض وہ ہیں جن کا ٹھکانا یہ گنبد ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ جنت میں سے پھرتے پھراتے یہاں جمع ہوتے ہوں اور پھر یہ کھانے یہیں کھلائے جاتے ہوں واللہ اعلم، یہاں پر وہ حدیث بھی وارد کرنا بالکل برمحل ہوگا جس میں ہر مومن کے لئے یہی بشارت ہے چناچہ مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مومن کی روح ایک پرند میں ہے جو جنت کے درختوں کے پھل کھاتی پھرتی ہے یہاں تک کہ قیامت والے دن جبکہ اللہ تعالیٰ سب کو کھڑا کرے تو اسے بھی اس کے جسم کی طرف لوٹا دے گا، اس حدیث کے راویوں میں تین جلیل القدر امام ہیں جو ان چار اماموں میں سے ہیں جن کے مذاہب مانے جا رہے ہیں، ایک تو امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ آپ اس حدیث کو روایت کرتے ہیں، امام محمد بن ادریس شافعی ؒ سے ان کے استاد ہیں حضرت امام مالک بن انس ؓ پس امام احمد امام شافعی امام محمد بن ادریس شافعی ؒ سے ان کے استاد ہیں۔ حضرت امام مالک بن انس ؓ پس امام احمد امام شافعی امام مالک تینوں زبردست پیشوا اس حدیث کے راوی ہیں۔ پس اس حدیث سے ثابت ہوا کہ ایمانداروں کی روح جنتی پرند کی شکل میں جنت میں رہتی ہے اور شہیدوں کی روحیں جیسے کے پہلے گذر چکا ہے سبز رنگ کے پرندوں کے قالب میں رہتی ہیں یہ روحیں مثل ستاروں کے ہیں جو عام مومنین کی روحوں کو یہ مرتبہ حاصل نہیں، یہ اپنے طور پر آپ ہی اڑتی ہیں، اللہ تعالیٰ سے جو بہت بڑا مہربان اور زبردست احسانوں والا ہے ہماری دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنے فضل و کرم سے ایمان و اسلام پر موت دے آمین۔ پھر فرمایا کہ یہ شہید جن جن نعمتوں اور آسائشوں میں ہیں ان سے بیحد مسرور اور بہت ہی خوش ہیں اور انہیں یہ بھی خوشی اور راحت ہے کہ ان کے بھائی بند جو ان کے بعد راہ اللہ میں شہید ہوں گے اور ان کے پاس آئیں گے انہیں آئندہ کا کچھ خوف نہ ہوگا اور اپنے پیچھے چھوڑی ہوئی چیزوں پر انہیں حسرت بھی نہ ہوگی، اللہ ہمیں بھی جنت نصیب کرے، حضرت محمد بن اسحاق فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ وہ خوش ہیں کہ ان کے کئی اور بھائی بند بھی جو جہاد میں لگے ہوئے ہیں وہ بھی شہید ہو کر ان کی نعمتوں میں ان کے شریک حال ہوں گے اور اللہ کے ثواب سے فائدہ اٹھائیں گے، حضرت سدی فرماتے ہیں شہید کو ایک کتاب دی جاتی ہے کہ فلاں دن تیرے پاس فلاں آئے گا اور فلاں دن فلاں آئے گا پس جس طرح دنیا والے اپنی کسی غیر حاضر کے آنے کی خبر سن کر خوش ہوتے ہیں اسی طرح یہ شہداء ان شہیدوں کی آنے کی خبر سے مسرور ہوتے ہیں، حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ جب شہید جنت میں گئے اور وہاں اپنی منزلیں اور رحمتیں دیکھیں تو کہنے لگے کاش کہ اس کا علم ہمارے ان بھائیوں کو بھی ہوتا جو اب تک دنیا میں ہی ہیں تاکہ وہ جواں مردی سے جان توڑ کر جہاد کرتے اور ان جگہوں میں جا گھستے جہاں سے زندہ آنے کی امید نہ ہوتی تو وہ بھی ہماری ان نعمتوں میں حصہ دار بنتے پس نبی ﷺ نے لوگوں کو ان کے اس حال کی خبر پہنچا دی اور اللہ تعالیٰ نے ان سے کہ دیا کہ میں نے تمہاری خبر تمہارے نبی ﷺ کو دے دی ہے اس سے وہ بہت ہی مسرور و محفوظ ہوئے، بخاری مسلم میں بیر معونہ والوں کا قصہ بیان ہوچکا ہے جو ستر شخص انصاری صحابی تھے اور ایک ہی دن صبح کے وقت کو بےدردی سے کفار نے تہ تیغ کیا تھا جن قاتلوں کے حق میں ایک ماہ نماز کی قنوت میں رسول اللہ ﷺ نے بد دعا کی تھی اور جن پر لعنت بھیجی تھی جن کے بارے میں قرآن کی یہ آیت اتری تھی کہ ہماری قوم کو ہماری خبر پہنچاؤ کہ ہم اپنے رب سے ملے وہ ہم سے راضی ہوا اور ہم اس سے راضی ہوگئے، وہ اللہ کی نعمت و فضل کو دیکھ دیکھ کر مسرور ہیں، حضرت عبدالرحمن فرماتے ہیں یہ آیت (یستبشرون) تمام ایمانداروں کے حق میں ہے خواہ شہید ہوں خواہ غیر۔ بہت کم ایسے موقع ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے نبیوں کی فضیلت اور ان کے ثوابوں کا ذکر نہ ہو۔ پھر ان سچے مومنین کا بیان تعریف کے ساتھ ہو رہا ہے۔ جنہوں نے حمراء اسد والے دن حکم رسول پر باوجود زخموں سے چور ہونے کے جہاد پر کمر کس لی تھی، مشرکین نے مسلمانوں کو مصیبتیں پہنچائیں اور اپنے گھروں کی طرف واپس چل دئیے۔ لیکن پھر انہیں اس کا خیال آیا کہ موقع اچھا تھا مسلمان ہار چکے تھے زخمی ہوگئے تھے ان کے بہادر شہید ہوچکے تھے اگر ہم اور جم کر لڑتے تو فیصلہ ہی ہوجاتا نبی ﷺ ان کا یہ ارادہ معلوم کر کے مسلمانوں کو تیار کرنے لگے کہ میرے ساتھ چلو ہم ان مشرکین کے پیچھے جائیں تاکہ ان پر رعب طاری ہو اور یہ جان لیں کہ مسلمان ابھی کمزور نہیں ہوئے احد میں جو لوگ موجود تھے صرف انہی کو ساتھ چلنے کا حکم ملا ہاں صرف حضرت جابر بن عبداللہ کو ان کے علاوہ بھی ساتھ لیا اس آواز پر بھی مسلمانوں نے لبیک کہی باوجود یہ کہ زخموں میں چور اور خون میں شرابور تھے لیکن اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کے لئے کمر بستہ ہوگئے، حضرت عکرمہ کا بیان ہے کہ جب مشرکین احد سے لوٹے تو راستے میں سوچنے لگے کہ نہ تو تم نے محمد ﷺ کو قتل کیا نہ مسلمانوں کی عورتوں کو پکڑا افسوس تم نے کچھ نہ کیا واپس لوٹو جب یہ خبر حضور ﷺ کو پہنچی تو آپ نے مسلمانوں کو تیاری کا حکم دیا یہ تیار ہوگئے اور مشرکین کے تعاقب میں چل پڑے یہاں تک کہ حمراء الاسد تک یا " بیئر ابی عینیہ " تک پہنچ گئے۔ مشرکین کے دل رعب و خوف سے بھر گئے اور یہ کہہ کر مکہ کی طرف چل دئیے اگلے سال دیکھا جائے گا حضور ﷺ بھی واپس مدینہ تشریف لائے، یہ بھی بالاستقلال ایک الگ لڑائی گنی جاتی ہے اسی کا ذکر اس آیت میں ہے احد کی لڑائی پندرہ شوال بروز ہفتہ ہوئی تھی سولہویں تاریخ بروز اتوار منادی رسول ﷺ نے ندا دی کہ لوگو دشمن کے تعاقب میں چلو اور وہی لوگ چلیں جو کل میدان میں تھے، اس آواز پر حضرت جابر حاضر ہوئے اور عرض کرنے لگے یا رسول اللہ ﷺ کل کی لڑائی میں میں نہ تھا اس لئے کہ میرے والد حضرت عبداللہ نے مجھ سے کہا بیٹے تمہارے ساتھ یہ چھوٹی چھوٹی بہنیں ہیں اسے تو نہ میں پسند کروں اور نہ تو کہ انہیں یہاں تنہا چھوڑ کر دونوں ہی چل دیں ایک جائے گا اور ایک یہاں رہے گا۔ مجھ سے یہ نہیں ہوسکتا کہ رسول اللہ ﷺ کے ہم رکاب تم جاؤ اور میں بیٹھا رہوں اس لئے میری خواہش ہے کہ تم اپنی بہنوں کے پاس رہو اور میں جاتا ہوں اس وجہ سے میں تو وہاں رہا اور میرے والد آپ کے ساتھ آئے اب میری عین تمنا ہے کہ آج مجھے اجازت دیجئے کہ میں آپ کے ساتھ چلوں چناچہ آپ نے اجازت دی حضور ﷺ کا سفر اس غرض سے تھا کہ دشمن دہل جائے اور پیچھے آتا ہوا دیکھ کر سمجھ لے کہ ان میں بہت کچھ قوت ہے اور ہمارے مقابلہ سے یہ عاجز نہیں، قبیلہ بنو عبدالاشہل کے ایک صحابی کا بیان ہے کہ غزوہ احد میں ہم دونوں بھائی شامل تھے اور سخت زخمی ہو کر ہم لوٹے تھے، جب اللہ کے رسول ﷺ کے منادی نے دشمن کے پیچھے جانے کی ندا دی تو ہم دونوں بھائیوں نے آپس میں کہا کہ افسوس نہ ہمارے پاس سواری ہے کہ اس پر سوار ہو کر اللہ کے نبی کے ساتھ جائیں نہ زخموں کے مارے جسم میں اتنی طاقت ہے کہ پیدل ساتھ ہو لیں افسوس کہ یہ غزوہ ہمارے ہاتھ سے نکل جائے گا ہمارے بیشمار گہرے زخم ہمیں آج جانے سے روک دیں گے لیکن پھر ہم نے ہمت باندھی مجھے اپنے بھائی کی نسبت ذرا ہلکے زخم تھے جب میرے بھائی بالکل عاجز آجاتے قدم نہ اٹھتا تو میں انہیں جوں توں کر کے اٹھا لیتا جب تھک جاتا اتار دیتا یونہی جوں توں کر کے ہم لشکر گاہ تک پہنچ ہی گئے۔ ؓ (سیرت ابن اسحاق) صحیح بخاری شریف میں ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے حضرت عروہ سے کہا اے بھانجے تیرے دونوں باپ انہی لوگوں میں سے ہیں جن کے بارے میں آیت (اَلَّذِيْنَ اسْتَجَابُوْا لِلّٰهِ وَالرَّسُوْلِ مِنْۢ بَعْدِ مَآ اَصَابَھُمُ الْقَرْحُ لِلَّذِيْنَ اَحْسَنُوْا مِنْھُمْ وَاتَّقَوْا اَجْرٌ عَظِيْمٌ) 3۔ آل عمران :172) آیت اتری ہے یعنی حضرت زبیر اور حضرت صدیق ؓ جبکہ نبی ﷺ کو احد کی جنگ میں نقصان پہنچا اور مشرکین آگے چلے تو آپ کو خیال ہوا کہ کہیں یہ پھر واپس نہ لوٹیں لہذا آپ نے فرمایا کوئی ہے جو ان کے پیچھے جائے اس پر ستر شخص اس کام کے لئے مستعد ہوگئے جن میں ایک حضرت ابوبکر ؓ تھے، دوسرے حضرت زبیر ؓ تھے، یہ روایت اور بہت سی اسناد سے بہت سی کتابوں میں ہے، ابن مردویہ میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت عائشہ ؓ سے فرمایا کہ تیرے دونوں باپ ان لوگوں میں سے ہیں لیکن یہ مرفوع بیان کرنا محض خطا ہے اس لئے بھی کہ اس کی اسناد میں ثقہ راویوں کا اختلاف ہے جو حضرت عائشہ کے باپ دادا میں سے نہیں صحیح یہ ہے کہ یہ بات حضرت عائشہ نے اپنے بھانجے حضرت اسماء بنت ابی بکر کے لڑکے عروہ سے کہی ہے، حضرت ابن عباس کا بیان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ابو سفیان کے دل میں رعب ڈال دیا اور باوجودیکہ کہ وہ احد کی لڑائی میں قدرے کامیاب ہوگیا تھا لیکن تاہم مکہ کی طرف چل دیا نبی ﷺ نے فرمایا کہ ابو سفیان تمہیں نقصان پہنچا کر لوٹ گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے دل کو مرعوب کردیا ہے، احد کی لڑائی شوال میں ہوئی تھی اور تاجر لوگ ذی قعدہ میں مدینہ آتے تھے اور بدر صغریٰ میں اپنے ڈیرے ہر سال اس ماہ میں ڈالا کرتے تھے اس دفعہ بھی اس واقعہ کے بعد لوگ آئے مسلمان اپنے زخموں میں چور تھے۔ حضور ﷺ سے اپنی تکالیف بیان کرتے تھے اور سخت صدمہ میں تھے۔ نبی ﷺ نے لوگوں کو اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ آپ کے ساتھ چلیں اور فرمایا کہ یہ لوگ اب کوچ کر جائیں گے اور پھر حج کو آئیں گے اور پھر اگلے سال تک یہ طاقت انہیں حاصل نہیں ہوگی لیکن شیطان نے اپنے دوستوں کو دھمکانا اور بہکانا شروع کردیا اور کہنے لگا کہ ان لوگوں نے تمہارے استیصال کے لئے لشکر تیار کر لئے ہیں جس بنا پر لوگ ڈھیلے پڑگئے آپ نے فرمایا سنو خواہ تم میں سے ایک بھی نہ چلے میں تن تنہا جاؤں گا پھر آپ کے رغبت دلانے پر حضرت ابو بکر، حضرت عمر، حضرت عثمان، حضرت علی، حضرت زبیر، حضرت سعد، حضرت طلحہ، حضرت عبدالرحمن بن عوف، حضرت عبداللہ بن مسعود، حضرت حذیفہ بن یمان، حضرت ابو عبیدہ بن جراح وغیرہ ستر صحابہ آپ کے زیر رکاب چلنے پر آمادہ ہوئے۔ ؓ ، یہ مبارک لشکر ابو سفیان کی جستجو میں بدر صغریٰ تک پہنچ گیا انہی کی اس فضیلت اور جاں بازی کا ذکر اس مبارک آیت میں ہے، حضور ﷺ اس سفر میں مدینہ سے آٹھ میل حمراء اسد تک پہنچ گئے۔ مدینہ میں اپنا نائب آپ نے حضرت ابن ام مکتوم ؓ کو بنایا تھا۔ وہاں آپ نے پیر منگل بدھ تک قیام کیا پھر مدینہ لوٹ آئے، اثناء قیام میں قبیلہ خزاعہ کا سردار معبد خزاعی یہاں سے نکلا تھا یہ خود مشرک تھا لیکن اس پورے قبیلے سے حضور ﷺ کی صلح و صفائی تھی اس قبیلہ کے مشرک مومن سب آپ کے خیر خواہ تھے اس نے کہا کہ حضور ﷺ کے ساتھیوں کو جو تکلیف پہنچی اس پر ہمیں سخت رنج ہے اللہ تعالیٰ آپ کو کامیابی کی خوشی نصیب فرمائے، حمراء اسد پر آپ پہنچے مگر اس سے پہلے ابو سفیان چل دیا تھا گو اس نے اور اس کے ساتھیوں نے واپس آنے کا ارادہ کیا تھا کہ جب ہم ان پر غالب آگئے انہیں قتل کیا مارا پیٹا زخمی کیا پھر ادھورا کام کیوں چھوڑیں واپس جا کر سب کو تہ تیغ کردیں، یہ مشورے ہو ہی رہے تھے کہ معبد خزاعی وہاں پہنچا ابو سفیان نے اس سے پوچھا کہو کیا خبریں ہیں اس نے کہا آنحضور مع صحابہ کے تم لوگوں کے تعاقب میں آرہے ہیں وہ لوگ سخت غصے میں ہیں جو پہلے لڑائی میں شریک نہ تھے وہ بھی شامل ہوگئے ہیں سب کے تیور بدلے ہوئے ہیں اور بھرپور طاقت کے ساتھ حملہ آور ہو رہے ہیں میں نے تو ایسا لشکر کبھی دیکھا نہیں، یہ سن کر ابو سفیان کے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے اور کہنے لگا اچھا ہی ہوا جو تم سے ملاقات ہوگئی ورنہ ہم تو خود ان کی طرف جانے کے لئے تیار تھے، معبد نے کہا ہرگز یہ ارادہ نہ کرو اور میری بات کا کیا ہے غالباً تم یہاں سے کوچ کرنے سے پہلے ہی لشکر اسلام کے گھوڑوں کو دیکھ لو گے میں ان کے لشکر ان کے غصے ان کی تیاری اور الوالعزمی کا حال بیان نہیں کرسکتا میں تو تم سے صاف کہتا ہوں کہ بھاگو اور اپنی جانیں بچاؤ میرے پاس ایسے الفاظ نہیں جن سے میں مسلمانوں کے غیظ و غضب اور تہورو شجاعت اور سختی اور پختگی کا بیان کرسکوں، پس مختصر یہ ہے کہ جان کی خیر مناتے ہو تو فوراً یہاں سے کوچ کرو، ابو سفیان اور اس کے ساتھیوں کے چھکے چھوٹ گئے اور انہوں نے یہاں سے مکہ کی راہ لی، قبیلہ عبدالقیس کے آدمی جو کاروبار کی غرض سے مدینہ جا رہے تھے ان سے ابو سفیان نے کہا کہ تم حضور ﷺ کو یہ خبر پہنچا دینا کہ ہم نے انہیں تہ تیغ کردینے کے لئے لشکر جمع کر لئے ہیں اور ہم واپس لوٹنے کا ارادہ میں ہیں، اگر تم نے یہ پیغام پہنچا دیا تو ہم تمہیں سوق عکاظ میں بہت ساری کشمش دیں گے چناچہ ان لوگوں نے حمراء اسد میں آکر بطور ڈراوے کے نمک مرچ لگا کر یہ وحشت اثر خبر سنائی لیکن صحابہ نے نہایت استقلال اور پامردی سے جواب دیا کہ ہمیں اللہ کافی ہے اور وہی بہترین کارساز ہے، جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں نے ان کے لئے ایک پتھر کا نشان مقرر کر رکھا ہے اگر یہ لوٹیں گے تو وہاں پہنچ کر اس طرح مٹ جائیں گے جیسے گزشتہ کل کا دن، بعض لوگوں نے یہ بھی کہا ہے کہ یہ آیت بدر کے بارے میں نازل ہوئی ہے لیکن صحیح تر یہی ہے کہ حمراء اسد کے بارے میں نازل ہوئی۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے دشمنوں نے انہیں پژمردہ دل کرنے کے لئے دشمنوں کے سازو سامان اور ان کی کثرت وبہتات سے ڈرایا لیکن وہ صبر کے پہاڑ ثابت ہوئے ان کے غیر متزلزل یقین میں کچھ فرق نہ آیا بلکہ وہ توکل میں اور بڑھ گئی اور اللہ کی طرف نظریں کر کے اس سے امداد طلب کی، صحیح بخاری شریف میں حضرت عبداللہ بن عباس سے مروی ہے کہ آیت (حسبنا اللہ) الخ، حضرت ابراہیم نے آگ میں پڑتے وقت پڑھا تھا اور حضرت محمد ﷺ نے اس وقت جب کہ کافروں کے ٹڈی دل لشکر سے لوگوں نے آپ کو خوف زدہ کرنا چاہا اس وقت پڑھا، تعجب کی بات ہے کہ امام حاکم نے اس روایت کو رد کر کے فرمایا ہے کہ یہ بخاری مسلم میں نہیں۔ بخاری کی ایک روایت میں ہے کہ احد کے موقع پر جب حضور ﷺ کو کفار کے لشکروں کی خبر دی گئی تو آپ نے یہی کلمہ فرمایا اور روایت میں ہے کہ حضرت علی کی سردار کے ماتحت جب حضور ﷺ نے ایک چھوٹا سا لشکر روانہ کیا اور راہ میں خزاعہ کے ایک اعرابی نے یہ خبر سنائی تو آپ نے یہ فرمایا تھا۔ ابن مردویہ کی حدیث میں ہے آپ فرماتے ہیں جب تم پر کوئی بہت بڑا کام آپڑے تو تم آیت (حسبنا اللہ) آخر تک پڑھو مسند احمد میں ہے کہ دو شخصوں کے درمیان حضور ﷺ نے فیصلہ کیا تو جس کے خلاف فیصلہ صادر ہوا تھا اس نے یہی کلمہ پڑھا آپ نے اسے واپس بلا کر فرمایا بزدلی اور سستی پر اللہ کی ملامت ہوتی ہے دانائی دور اندیشی اور عقلمندی کیا کرو پھر کسی امر میں پھنس جاؤ تو یہی پڑھ لیا کرو، مسند کی اور حدیث میں ہے کس طرح بےفکر اور فارغ ہو کر آرام پاؤں حالانکہ صاحب صور نے صور منہ میں لے رکھا ہے اور پیشانی جھکائے حکم اللہ کا منتظر ہے کہ کب حکم ہوا اور وہ صور پھونک دے، صحابہ نے کہا حضور ﷺ ہم کیا پڑھیں آپ نے فرمایا آیت (حسبنا اللہ ونعم الوکیل) (علی اللہ توکلنا) پڑھو ام المومنین حضرت زینب اور ام المومنین حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ حضرت زینب نے فخر سے فرمایا میرا نکاح خود اللہ نے کردیا ہے اور تمہارے نکاح ولی وارثوں نے کئے ہیں، صدیقہ نے فرمایا میری برأت اور پاکیزگی کی آیت اللہ تعالیٰ نے آسمان سے اپنے پاک کلام میں نازل فرمائی ہیں حضرت زینب اسے مان گئیں اور پوچھا یہ بتاؤ تم نے حضرت صفوان بن معطل کی سواری پر سوار ہوتے وقت کیا پڑھا تھا، صدیقہ نے فرمایا دعا (حسبی اللہ ونعم الوکیل) یہ سن کر ام المومنین حضرت زینب ؓ نے فرمایا تم نے ایمان والوں کا کلمہ کہا تھا، چناچہ اس آیت میں بھی رب رحیم کا ارشاد ہے کہ ان توکل کرنے والوں کی کفایت اللہ تعالیٰ نے کی اور ان کے ساتھ جو لوگ برائی کا ارادہ رکھتے تھے انہیں ذلت اور بربادی کے ساتھ پسپا کیا، یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے اپنے شہروں کی طرف بغیر کسی نقصان اور برائی کے لوٹے دشمن اپنی مکاریوں میں ناکام رہا، ان سے اللہ خوش ہوگیا کیونکہ انہوں نے اس کی خوشی کا کام انجام دیا تھا اللہ تعالیٰ بڑے فضل و کرم والا ہے۔ ابن عباس کا فرمان ہے کہ نعمت تو یہ تھی کہ وہ سلامت رہے اور فضل یہ تھا کہ حضور ﷺ نے تاجروں کے ایک قافلہ سے مال خرید لیا جس میں بہت ہی نفع ہوا اور اس کل نفع کو آپ نے اپنے ساتھیوں میں تقسیم فرما دیا۔ حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ ابو سفیان نے حضور ﷺ سے کہا اب وعدے کی جگہ بدر ہے آپ نے فرمایا ممکن ہے چناچہ وہاں پہنچے تو یہ ڈرپوک آیا ہی نہیں وہاں بازار کا دن تھا مال خرید لیا جو نفع سے بکا اسی کا نام غزوہ بدر صغریٰ ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ یہ شیطان تھا جو اپنے دوستوں کے ذریعہ تمہیں دھمکا رہا تھا اور گیدڑ بھبکیاں دے رہا تمہیں چاہئے کہ ان سے نہ ڈرو صرف میرا ہی خوف دل میں رکھو کیونکہ ایمان داری کی یہی شرط ہے کہ جب کوئی ڈرائے دھمکائے اور دینی امور سے تمہیں باز رکھنا چاہئے تو مسلمان اللہ پر بھروسہ کرے اس کی طرف سمٹ جائے اور یقین مانے کہ کافی اور ناصر وہی ہے جیسے اور جگہ ہے آیت (اَلَيْسَ اللّٰهُ بِكَافٍ عَبْدَهٗ ۭ وَيُخَوِّفُوْنَكَ بالَّذِيْنَ مِنْ دُوْنِهٖ) 39۔ الزمر :36) کیا اللہ جل شانہ اپنے بندوں کو کافی نہیں یہ لوگ تجھے اس کے سوا اوروں سے ڈرا رہے ہیں (یہاں تک کہ فرمایا) تو کہہ کہ مجھے اللہ کافی ہے توکل کرنے والوں کو اسی پر بھروسہ کرنا چاہئے اور جگہ فرمایا اولیاء شیطان سے لڑو۔ شیطان کا مکر بڑا بودا ہے۔ اور جگہ ارشاد ہے یہ شیطانی لشکر ہے یاد رکھو شیطانی لشکر ہی گھاٹے اور خسارے میں ہے اور جگہ ارشاد ہے آیت (كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِيْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ قَوِيٌّ عَزِيْزٌ) 58۔ المجادلہ :21) اللہ تعالیٰ لکھ چکا ہے کہ غلبہ یقینا مجھے اور میرے رسولوں کو ہی ہوگا اللہ قوی اور عزیز ہے۔ اور جگہ ارشاد ہے آیت (ۭوَلَيَنْصُرَنَّ اللّٰهُ مَنْ يَّنْصُرُهٗ ۭ اِنَّ اللّٰهَ لَقَوِيٌّ عَزِيْزٌ) 22۔ الحج :40) جو اللہ کی مدد کرے گا اس کی امداد فرمائے گا اور فرمان ہے آیت (يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِنْ تَنْصُرُوا اللّٰهَ يَنْصُرْكُمْ وَيُثَبِّتْ اَقْدَامَكُمْ) 47۔ محمد :7) اے ایمان والو اگر تم اللہ کی مدد کرو گے تو اللہ تمہاری بھی مدد کرے گا اور آیت میں ہے آیت (اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُوْمُ الْاَشْهَادُ) 40۔ غافر :51) بالیقین ہم اپنے رسولوں کی اور ایمان داروں کی مدد دینا میں بھی کریں گے اور اس دن بھی جس دن گواہ کھڑے ہوں گے جس دن ظالموں کو عذر معذرت نفع نہ دے گی ان کے لئے لعنت ہے اور ان کے لئے برا گھر ہے۔
176
View Single
وَلَا يَحۡزُنكَ ٱلَّذِينَ يُسَٰرِعُونَ فِي ٱلۡكُفۡرِۚ إِنَّهُمۡ لَن يَضُرُّواْ ٱللَّهَ شَيۡـٔٗاۚ يُرِيدُ ٱللَّهُ أَلَّا يَجۡعَلَ لَهُمۡ حَظّٗا فِي ٱلۡأٓخِرَةِۖ وَلَهُمۡ عَذَابٌ عَظِيمٌ
And O dear Prophet (Mohammed – peace and blessings be upon him) do not grieve for those who rush towards disbelief; they cannot cause any harm to Allah; and Allah does not will to assign them any portion in the Hereafter; and for them is a terrible punishment.
(اے غمگسارِ عالم!) جو لوگ کفر (کی مدد کرنے) میں بہت تیزی کرتے ہیں وہ آپ کو غمزدہ نہ کریں، وہ اللہ (کے دین) کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے اور اللہ چاہتا ہے کہ ان کے لئے آخرت میں کوئی حصہ نہ رکھے اور ان کے لئے زبردست عذاب ہے
Tafsir Ibn Kathir
Comforting the Messenger of Allah ﷺ
Allah said to His Prophet,
وَلاَ يَحْزُنكَ الَّذِينَ يُسَـرِعُونَ فِى الْكُفْرِ
(And let not those grieve you who rush with haste to disbelieve) 3:176.
Because the Prophet was eager for people's benefit, he would become sad when the disbelievers would resort to defiance, rebellion and stubbornness. Allah said, `Do not be saddened by this behavior,'
إِنَّهُمْ لَن يَضُرُّواْ اللَّهَ شَيْئاً يُرِيدُ اللَّهُ أَلاَّ يَجْعَلَ لَهُمْ حَظّاً فِى الاٌّخِرَةِ
(verily, not the least harm will they do to Allah. It is Allah's will to give them no portion in the Hereafter.) for He decided with His power and wisdom that they shall not acquire any share in the Hereafter,
وَلَهُمْ عَذَابٌ عظِيمٌ
(For them there is a great torment.)
Allah said about the disbelievers,
إِنَّ الَّذِينَ اشْتَرَوُاْ الْكُفْرَ بِالإِيمَـنِ
(Verily, those who purchase disbelief at the price of faith,) by exchanging disbelief for faith,
لَن يَضُرُّواْ اللَّهَ شَيْئاً
(not the least harm will they do to Allah.) Rather, they will only harm themselves,
وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ
(For them, there is a painful torment.)
Allah said next,
وَلاَ يَحْسَبَنَّ الَّذِينَ كَفَرُواْ أَنَّمَا نُمْلِى لَهُمْ خَيْرٌ لاًّنفُسِهِمْ إِنَّمَا نُمْلِى لَهُمْ لِيَزْدَادُواْ إِثْمَاً وَلَهْمُ عَذَابٌ مُّهِينٌ
(And let not the disbelievers think that Our postponing their punishment is good for them. We postpone the punishment only so that they may increase in sinfulness. And for them is a disgraceful torment) 3:178.
This statement is similar to Allah's other statements,
أَيَحْسَبُونَ أَنَّمَا نُمِدُّهُمْ بِهِ مِن مَّالٍ وَبَنِينَ - نُسَارِعُ لَهُمْ فِى الْخَيْرَتِ بَل لاَّ يَشْعُرُونَ
(Do they think that because We have given them abundant wealth and children, that We hasten unto them with good things. Nay, but they perceive not.) 23:55,56 and
فَذَرْنِى وَمَن يُكَذِّبُ بِهَـذَا الْحَدِيثِ سَنَسْتَدْرِجُهُمْ مِّنْ حَيْثُ لاَ يَعْلَمُونَ
(Then leave Me Alone with such as belie this Qur'an. We shall punish them gradually from directions they perceive not.) 68:44, and,
وَلاَ تُعْجِبْكَ أَمْوَلُهُمْ وَأَوْلَـدُهُمْ إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ أَن يُعَذِّبَهُمْ بِهَا فِى الدُّنْيَا وَتَزْهَقَ أَنفُسُهُمْ وَهُمْ كَـفِرُونَ
(And let not their wealth or their children amaze you. Allah's plan is to punish them with these things in this world, and that their souls shall depart (die) while they are disbelievers) 9:85.
Allah then said,
مَّا كَانَ اللَّهُ لِيَذَرَ الْمُؤْمِنِينَ عَلَى مَآ أَنتُمْ عَلَيْهِ حَتَّى يَمِيزَ الْخَبِيثَ مِنَ الطَّيِّبِ
(Allah will not leave the believers in the state in which you are now, until He distinguishes the wicked from the good.) 3:179, meaning, He allows a calamity to happen, and during this calamity His friend becomes known and His enemy exposed, the patient believer recognized and the sinful hypocrite revealed. This Ayah refers to Uhud, since Allah tested the believers in that battle, thus making known the faith, endurance, patience, firmness and obedience to Allah and His Messenger that the believers had. Allah exposed the hypocrites in their defiance, reverting from Jihad, and the treachery they committed against Allah and His Messenger . This is why Allah said,
مَّا كَانَ اللَّهُ لِيَذَرَ الْمُؤْمِنِينَ عَلَى مَآ أَنتُمْ عَلَيْهِ حَتَّى يَمِيزَ الْخَبِيثَ مِنَ الطَّيِّبِ
(Allah will not leave the believers in the state in which you are now, until He distinguishes the wicked from the good.)
Mujahid commented, "He distinguished between them during the day of Uhud." Qatadah said, "He distinguished between them in Jihad and Hijrah." Allah said next,
وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُطْلِعَكُمْ عَلَى الْغَيْبِ
(Nor will Allah disclose to you the secrets of the Unseen.) meaning, you do not have access to Allah's knowledge of His creation so that you can distinguish between the believer and the hypocrite, except by the signs of each type that Allah uncovers. Allah's statement,
وَلَكِنَّ اللَّهَ يَجْتَبِى مِن رُّسُلِهِ مَن يَشَآءُ
(but Allah chooses of His Messengers whom He wills.) is similar to another Ayah,
عَـلِمُ الْغَيْبِ فَلاَ يُظْهِرُ عَلَى غَيْبِهِ أَحَداً - إِلاَّ مَنِ ارْتَضَى مِن رَّسُولٍ فَإِنَّهُ يَسْلُكُ مِن بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ رَصَداً
((He Alone is) the All-Knower of the Unseen, and He reveals to none His Unseen. Except to a Messenger (from mankind) whom He has chosen, and then He makes a band of watching guards (angels) to march before him and behind him.) 72:26,27. Allah then said,
فَـَامِنُواْ بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ
(So believe in Allah and His Messengers.) Obey Allah and His Messenger and adhere to the law that he legislated for you,
وَإِن تُؤْمِنُواْ وَتَتَّقُواْ فَلَكُمْ أَجْرٌ عَظِيمٌ
(and if you believe and fear Allah, then for you there is a great reward.)
The Censure of Selfishness, and Warning Against it
Allah said,
وَلاَ يَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَبْخَلُونَ بِمَآ ءَاتَـهُمُ اللَّهُ مِن فَضْلِهِ هُوَ خَيْراً لَّهُمْ بَلْ هُوَ شَرٌّ لَّهُمْ
( And let not those who are stingy with that which Allah has bestowed on them of His bounty (wealth) think that it is good for them. Nay, it will be worse for them.) 3:180
Therefore, the Ayah says that the miser should not think that collecting money will benefit him. Rather, it will harm him in his religion and worldly affairs. Allah mentions the money that the miser collected on the Day of Resurrection,
سَيُطَوَّقُونَ مَا بَخِلُواْ بِهِ يَوْمَ الْقِيَـمَةِ
(the things that they stingy with shall be tied to their necks like a collar on the Day of Resurrection.)
Al-Bukhari recorded that Abu Hurayrah said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«مَنْ آتَاهُ اللهُ مَالًا فَلَمْ يُؤَدِّ زَكَاتَهُ، مُثِّلَ لَهُ شُجَاعًا أَقْرَعَ، لَهُ زَبِيبَتَانِ، يُطَوَّقُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، يَأْخُذُ بِلِهْزِمَتَيْهِ يَعْنِي بِشِدْقَيْهِ يَقُولُ: أَنَا مَالُكَ، أَنَا كَنْزُك»
(Whoever Allah makes wealthy and he does not pay the Zakah due on his wealth, then (on the Day of Resurrection) his wealth will be made in the likeness of a bald-headed poisonous male snake with two black spots over the eyes. The snake will encircle his neck and bite his cheeks and proclaim, `I am your wealth, I am your treasure.')
The Prophet then recited the Ayah,
وَلاَ يَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَبْخَلُونَ بِمَآ ءَاتَـهُمُ اللَّهُ مِن فَضْلِهِ هُوَ خَيْراً لَّهُمْ بَلْ هُوَ شَرٌّ لَّهُمْ
( And let not those who are stingy with that which Allah has bestowed on them of His bounty think that it is good for them. Nay, it will be worse for them), until the end. Al-Bukhari, but not Muslim, collected this Hadith using this chain of narration, Ibn Hibban also collected it in his Sahih.
Imam Ahmad recorded that `Abdullah said that the Prophet said,
«مَا مِنْ عَبْدٍلَا يُؤَدِّي زَكَاةَ مَالِهِ إِلَّا جُعِلَ لَهُ شُجَاعٌ أَقْرَعُ يَتْبَعُهُ، يَفِرُّ مِنْهُ وَهُوَ يَتْبَعُهُ، فَيَقُولُ: أَنَا كَنْزُك»
(Every person who does not pay the Zakah due on his wealth, will have his money made into the shape of a bald-headed, poisonous male snake who will follow him. The person will run away from the snake, who will follow him and proclaim, `I am your treasure.')
`Abdullah then recited the Ayah in Allah's Book that testifies to this fact,
سَيُطَوَّقُونَ مَا بَخِلُواْ بِهِ يَوْمَ الْقِيَـمَةِ
(the things that they were stingy with shall be tied to their necks like a collar on the Day of Resurrection.)
This was recorded by At-Tirmidhi, An-Nasa'i, and Ibn Majah, and At-Tirmidhi said, "Hasan Sahih."
Allah's statement,
وَلِلَّهِ مِيرَاثُ السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ
(And to Allah belongs the inheritance of the heavens and the Earth), means,
وَأَنفِقُواْ مِمَّا جَعَلَكُم مُّسْتَخْلَفِينَ فِيهِ
(and spend of that whereof He has made you trustees) 57: 7. Therefore, since all affairs are under Allah's control, then spend from your money so it will benefit you on the Day of Return,
وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ
(and Allah is Well-Acquainted with all that you do.) with your intentions and what your hearts conceal.
مشفق نبی کریم ﷺ اور عوام چونکہ جناب رسول اللہ ﷺ لوگوں پر بیحد مشفق و مہربان تھے اس لئے کفار کی بےراہ روی آپ پر گراں گذرتی تھی وہ جوں جوں کفر کی جانب بڑھتے رہتے تھے حضور ﷺ کا دل غمزدہ ہوتا تھا اس لئے جناب باری آپ کو اس سے روکتا ہے اور فرماتا ہے حکمت الٰہیہ اسی کی مقتضی ہے ان کا کفر آپ کو یا اللہ کو کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا۔ یہ لوگ اپنا اخروی حصہ برباد کر رہے ہیں اور اپنے لئے بہت بڑے عذابوں کو تیار کر رہے ہیں ان کی مخالفت سے اللہ تعالیٰ آپ کو محفوظ رکھے گا آپ ان پر غم نہ کریں۔ پھر فرمایا میرے ہاں کا یہ بھی مقررہ قاعدہ ہے کہ جو لوگ ایمان کو کفر سے بدل ڈالیں وہ بھی میرا کچھ نہیں بگاڑتے بلکہ اپنا ہی نقصان کر رہے ہیں اور اپنے لئے المناک عذاب مہیا کر رہے ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ کافروں کا اللہ کے مہلت دینے پر اترانا بیان فرماتے ہیں ارشاد ہے۔ آیت (اَيَحْسَبُوْنَ اَنَّمَا نُمِدُّهُمْ بِهٖ مِنْ مَّالٍ وَّبَنِيْنَ) 23۔ المومنون :55) یعنی کیا کفار کا یہ گمان ہے کہ ان کے مال و اولاد کی زیادتی ہماری طرف سے ان کی خیریت کی دلیل ہے ؟ نہیں بلکہ وہ بےشعور ہیں اور فرمایا آیت (فَذَرْنِيْ وَمَنْ يُّكَذِّبُ بِهٰذَا الْحَدِيْثِ ۭ سَنَسْتَدْرِجُهُمْ مِّنْ حَيْثُ لَا يَعْلَمُوْنَ) 68۔ القلم :44) یعنی مجھے اور اس بات کے جھٹلانے والوں کو چھوڑ دے ہم انہیں اس طرح آہستہ آہستہ پکڑیں گے کہ انہیں علم بھی نہ ہو۔ اور ارشاد ہے آیت (وَلَا تُعْجِبْكَ اَمْوَالُهُمْ وَاَوْلَادُهُمْ ۭ اِنَّمَا يُرِيْدُ اللّٰهُ اَنْ يُّعَذِّبَهُمْ بِهَا فِي الدُّنْيَا وَتَزْهَقَ اَنْفُسُهُمْ وَهُمْ كٰفِرُوْنَ) 9۔ التوبہ :85) یعنی ان کے مال اور اولاد سے کہیں تم دھوکے میں نہ پڑجانا اللہ انہیں ان کے باعث دنیا میں بھی عذاب کرنا چاہتا ہے اور کفر پر ہی ان کی جان جائے گی پھر فرماتا ہے کہ یہ طے شدہ امر ہے کہ بعض احکام اور بعض امتحانات سے اللہ جانچ لے گا اور ظاہر کر دے گا کہ اس کا دوست کون ہے ؟ اور اس کا دشمن کون ہے ؟ مومن صابر اور منافق فاجر بالکل الگ الگ ہوجائیں گے اور صاف نظر آنے لگیں گے۔ اس سے مراد احد کی جنگ کا دن ہے جس میں ایمانداروں کا صبرو استقامت پختگی اور توکل فرمانبرداری اور اطاعت شعاری اور منافقین کی بےصبری اور مخالفت تکذیب اور ناموافقت انکار اور خیانت صاف ظاہر ہوگئی، غرض جہاد کا حکم ہجرت کا حکم دونوں گویا ایک آزمائش تھی جس نے بھلے برے میں تمیز کردی۔ سدی فرماتے ہیں کہ لوگوں نے کہا تھا اگر محمد ﷺ سچے ہیں تو ذرا بتائیں تو کہ ہم میں سے سچا مومن کون ہے اور کون نہیں ؟ اس پر آیت (ما کان اللہ) الخ، نازل ہوئی (ابن جریر)۔ پھر فرمان ہے اللہ کے علم غیب کو تم نہیں جان سکتے ہاں وہ ایسے اسباب پیدا کردیتا ہے کہ مومن اور منافق میں صاف تمیز ہوجائے لیکن اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں میں سے جسے چاہے پسندیدہ کرلیتا ہے، جیسے فرمان ہے آیت (عٰلِمُ الْغَيْبِ فَلَا يُظْهِرُ عَلٰي غَيْبِهٖٓ اَحَدًا) 72۔ الجن :26) اللہ عالم الغیب ہے پس اپنے غیب پر کسی کو مطلع نہیں کرتا مگر جس رسول کو پسند کرلے اس کے بھی آگے پیچھے نگہبان فرشتوں کو چلاتا رہتا ہے۔ پھر فرمایا اللہ پر اس کے پیغمبروں پر ایمان لاؤ یعنی اطاعت کرو شریعت کے پابند رہو یاد رکھو ایمان اور تقوے میں تمہارے لئے اجر عظیم ہے۔ خزانہ اور کوڑھی سانپ پھر ارشاد ہے کہ بخیل شخص اپنے مال کو اپنے لئے بہتر نہ سمجھے وہ تو اس کے لئے سخت خطرناک چیز ہے، دین میں تو معیوب ہے ہی لیکن بسا اوقات دینوی طور پر بھی اس کا انجام اور نتیجہ ایسا ہی ہوتا ہے۔ حکم ہے کہ بخیل کے مال کا قیامت کے دن اسے طوق ڈالا جائے گا۔ صحیح بخاری میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جسے اللہ مال دے اور وہ اس کی زکوٰۃ ادا نہ کرے اس کا مال قیمت کے دن گنجا سانپ بن کر جس کی آنکھوں پر دو نشان ہوں گے طوق کی طرح اس کے گلے میں لپٹ جائے گا اور اس کی باچھوں کو چیرتا رہے گا اور کہتا جائے گا کہ میں تیرا مال ہوں میں تیرا خزانہ ہوں پھر آپ نے اسی آیت (وَلَا يَحْسَبَنَّ الَّذِيْنَ يَبْخَلُوْنَ بِمَآ اٰتٰىھُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِھٖ ھُوَ خَيْرًا لَّھُمْ) 3۔ آل عمران :180) کی تلاوت فرمائی، مسند احمد کی ایک حدیث میں یہ بھی ہے کہ یہ بھاگتا پھرے گا اور وہ سانپ اس کے پیچھے دوڑے گا پھر اسے پکڑ کر طوق کی طرح لپٹ جائے گا اور کاٹتا رہے گا۔ مسند ابو یعلی میں ہے جو شخص اپنے پیچھے خزانہ چھوڑ کر مرے وہ خزانہ ایک کوڑھی سانپ کی صورت میں جس کی دو آنکھوں پر دو نقطے ہوں گے ان کے پیچھے دوڑے گا یہ بھاگے گا اور کہے گا تو کون ہے ؟ یہ کہے گا میں تیرا خزانہ ہوں جسے تو اپنے پیچھے چھوڑ کر مرا تھا یہاں تک کہ وہ اسے پکڑ لے گا اور اس کا ہاتھ چبا جائے گا پھر باقی جسم بھی، طبرانی کی حدیث میں ہے جو شخص اپنے آقا کے پاس جا کر اس سے اپنی حاجت طلب کرے اور وہ باوجود گنجائش ہونے کے نہ دے اس کے لئے قیامت کے دن زہریلا اژدہا پھن سے پھنکارتا ہوا بلایا جائے گا، دوسری روایت میں ہے کہ جو رشتہ دار محتاج اپنے مالدار رشتہ دار سے سوال کرے اور یہ اسے نہ دے اس کی سزا یہ ہوگی اور وہ سانپ اس کے گلے کا ہار بن جائے گا (ابن جریر) ابن عباس فرماتے ہیں اہل کتاب جو اپنی کتاب کے احکامات کو دوسروں تک پہنچانے میں بخل کرتے تھے ان کی سزا کا بیان اس آیت میں ہو رہا ہے، لیکن صحیح بات پہلی ہی ہے گو یہ قول بھی آیت کے عموم میں داخل ہے بلکہ یہ بطور اولیٰ داخل ہے واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم۔ پھر فرماتا ہے کہ آسمانوں اور زمین کی میراث کا مالک اللہ ہی ہے اس نے جو تمہیں دے رکھا ہے اس میں سے اس کے نام خرچ کرو تمام کاموں کا مرجع اسی کی طرف ہے سخاوت کرو تاکہ اس دن کام آئے اور خیال رکھو کہ تمہاری نیتوں اور دلی ارادوں اور کل اعمال سے اللہ تعالیٰ خبردار ہے۔
177
View Single
إِنَّ ٱلَّذِينَ ٱشۡتَرَوُاْ ٱلۡكُفۡرَ بِٱلۡإِيمَٰنِ لَن يَضُرُّواْ ٱللَّهَ شَيۡـٔٗاۖ وَلَهُمۡ عَذَابٌ أَلِيمٞ
Those who have purchased disbelief in exchange of faith cannot cause any harm to Allah; and for them is a painful punishment.
بیشک جنہوں نے ایمان کے بدلے کفر خرید لیا ہے وہ اللہ کا کچھ نقصان نہیں کر سکتے اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے
Tafsir Ibn Kathir
Comforting the Messenger of Allah ﷺ
Allah said to His Prophet,
وَلاَ يَحْزُنكَ الَّذِينَ يُسَـرِعُونَ فِى الْكُفْرِ
(And let not those grieve you who rush with haste to disbelieve) 3:176.
Because the Prophet was eager for people's benefit, he would become sad when the disbelievers would resort to defiance, rebellion and stubbornness. Allah said, `Do not be saddened by this behavior,'
إِنَّهُمْ لَن يَضُرُّواْ اللَّهَ شَيْئاً يُرِيدُ اللَّهُ أَلاَّ يَجْعَلَ لَهُمْ حَظّاً فِى الاٌّخِرَةِ
(verily, not the least harm will they do to Allah. It is Allah's will to give them no portion in the Hereafter.) for He decided with His power and wisdom that they shall not acquire any share in the Hereafter,
وَلَهُمْ عَذَابٌ عظِيمٌ
(For them there is a great torment.)
Allah said about the disbelievers,
إِنَّ الَّذِينَ اشْتَرَوُاْ الْكُفْرَ بِالإِيمَـنِ
(Verily, those who purchase disbelief at the price of faith,) by exchanging disbelief for faith,
لَن يَضُرُّواْ اللَّهَ شَيْئاً
(not the least harm will they do to Allah.) Rather, they will only harm themselves,
وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ
(For them, there is a painful torment.)
Allah said next,
وَلاَ يَحْسَبَنَّ الَّذِينَ كَفَرُواْ أَنَّمَا نُمْلِى لَهُمْ خَيْرٌ لاًّنفُسِهِمْ إِنَّمَا نُمْلِى لَهُمْ لِيَزْدَادُواْ إِثْمَاً وَلَهْمُ عَذَابٌ مُّهِينٌ
(And let not the disbelievers think that Our postponing their punishment is good for them. We postpone the punishment only so that they may increase in sinfulness. And for them is a disgraceful torment) 3:178.
This statement is similar to Allah's other statements,
أَيَحْسَبُونَ أَنَّمَا نُمِدُّهُمْ بِهِ مِن مَّالٍ وَبَنِينَ - نُسَارِعُ لَهُمْ فِى الْخَيْرَتِ بَل لاَّ يَشْعُرُونَ
(Do they think that because We have given them abundant wealth and children, that We hasten unto them with good things. Nay, but they perceive not.) 23:55,56 and
فَذَرْنِى وَمَن يُكَذِّبُ بِهَـذَا الْحَدِيثِ سَنَسْتَدْرِجُهُمْ مِّنْ حَيْثُ لاَ يَعْلَمُونَ
(Then leave Me Alone with such as belie this Qur'an. We shall punish them gradually from directions they perceive not.) 68:44, and,
وَلاَ تُعْجِبْكَ أَمْوَلُهُمْ وَأَوْلَـدُهُمْ إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ أَن يُعَذِّبَهُمْ بِهَا فِى الدُّنْيَا وَتَزْهَقَ أَنفُسُهُمْ وَهُمْ كَـفِرُونَ
(And let not their wealth or their children amaze you. Allah's plan is to punish them with these things in this world, and that their souls shall depart (die) while they are disbelievers) 9:85.
Allah then said,
مَّا كَانَ اللَّهُ لِيَذَرَ الْمُؤْمِنِينَ عَلَى مَآ أَنتُمْ عَلَيْهِ حَتَّى يَمِيزَ الْخَبِيثَ مِنَ الطَّيِّبِ
(Allah will not leave the believers in the state in which you are now, until He distinguishes the wicked from the good.) 3:179, meaning, He allows a calamity to happen, and during this calamity His friend becomes known and His enemy exposed, the patient believer recognized and the sinful hypocrite revealed. This Ayah refers to Uhud, since Allah tested the believers in that battle, thus making known the faith, endurance, patience, firmness and obedience to Allah and His Messenger that the believers had. Allah exposed the hypocrites in their defiance, reverting from Jihad, and the treachery they committed against Allah and His Messenger . This is why Allah said,
مَّا كَانَ اللَّهُ لِيَذَرَ الْمُؤْمِنِينَ عَلَى مَآ أَنتُمْ عَلَيْهِ حَتَّى يَمِيزَ الْخَبِيثَ مِنَ الطَّيِّبِ
(Allah will not leave the believers in the state in which you are now, until He distinguishes the wicked from the good.)
Mujahid commented, "He distinguished between them during the day of Uhud." Qatadah said, "He distinguished between them in Jihad and Hijrah." Allah said next,
وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُطْلِعَكُمْ عَلَى الْغَيْبِ
(Nor will Allah disclose to you the secrets of the Unseen.) meaning, you do not have access to Allah's knowledge of His creation so that you can distinguish between the believer and the hypocrite, except by the signs of each type that Allah uncovers. Allah's statement,
وَلَكِنَّ اللَّهَ يَجْتَبِى مِن رُّسُلِهِ مَن يَشَآءُ
(but Allah chooses of His Messengers whom He wills.) is similar to another Ayah,
عَـلِمُ الْغَيْبِ فَلاَ يُظْهِرُ عَلَى غَيْبِهِ أَحَداً - إِلاَّ مَنِ ارْتَضَى مِن رَّسُولٍ فَإِنَّهُ يَسْلُكُ مِن بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ رَصَداً
((He Alone is) the All-Knower of the Unseen, and He reveals to none His Unseen. Except to a Messenger (from mankind) whom He has chosen, and then He makes a band of watching guards (angels) to march before him and behind him.) 72:26,27. Allah then said,
فَـَامِنُواْ بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ
(So believe in Allah and His Messengers.) Obey Allah and His Messenger and adhere to the law that he legislated for you,
وَإِن تُؤْمِنُواْ وَتَتَّقُواْ فَلَكُمْ أَجْرٌ عَظِيمٌ
(and if you believe and fear Allah, then for you there is a great reward.)
The Censure of Selfishness, and Warning Against it
Allah said,
وَلاَ يَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَبْخَلُونَ بِمَآ ءَاتَـهُمُ اللَّهُ مِن فَضْلِهِ هُوَ خَيْراً لَّهُمْ بَلْ هُوَ شَرٌّ لَّهُمْ
( And let not those who are stingy with that which Allah has bestowed on them of His bounty (wealth) think that it is good for them. Nay, it will be worse for them.) 3:180
Therefore, the Ayah says that the miser should not think that collecting money will benefit him. Rather, it will harm him in his religion and worldly affairs. Allah mentions the money that the miser collected on the Day of Resurrection,
سَيُطَوَّقُونَ مَا بَخِلُواْ بِهِ يَوْمَ الْقِيَـمَةِ
(the things that they stingy with shall be tied to their necks like a collar on the Day of Resurrection.)
Al-Bukhari recorded that Abu Hurayrah said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«مَنْ آتَاهُ اللهُ مَالًا فَلَمْ يُؤَدِّ زَكَاتَهُ، مُثِّلَ لَهُ شُجَاعًا أَقْرَعَ، لَهُ زَبِيبَتَانِ، يُطَوَّقُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، يَأْخُذُ بِلِهْزِمَتَيْهِ يَعْنِي بِشِدْقَيْهِ يَقُولُ: أَنَا مَالُكَ، أَنَا كَنْزُك»
(Whoever Allah makes wealthy and he does not pay the Zakah due on his wealth, then (on the Day of Resurrection) his wealth will be made in the likeness of a bald-headed poisonous male snake with two black spots over the eyes. The snake will encircle his neck and bite his cheeks and proclaim, `I am your wealth, I am your treasure.')
The Prophet then recited the Ayah,
وَلاَ يَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَبْخَلُونَ بِمَآ ءَاتَـهُمُ اللَّهُ مِن فَضْلِهِ هُوَ خَيْراً لَّهُمْ بَلْ هُوَ شَرٌّ لَّهُمْ
( And let not those who are stingy with that which Allah has bestowed on them of His bounty think that it is good for them. Nay, it will be worse for them), until the end. Al-Bukhari, but not Muslim, collected this Hadith using this chain of narration, Ibn Hibban also collected it in his Sahih.
Imam Ahmad recorded that `Abdullah said that the Prophet said,
«مَا مِنْ عَبْدٍلَا يُؤَدِّي زَكَاةَ مَالِهِ إِلَّا جُعِلَ لَهُ شُجَاعٌ أَقْرَعُ يَتْبَعُهُ، يَفِرُّ مِنْهُ وَهُوَ يَتْبَعُهُ، فَيَقُولُ: أَنَا كَنْزُك»
(Every person who does not pay the Zakah due on his wealth, will have his money made into the shape of a bald-headed, poisonous male snake who will follow him. The person will run away from the snake, who will follow him and proclaim, `I am your treasure.')
`Abdullah then recited the Ayah in Allah's Book that testifies to this fact,
سَيُطَوَّقُونَ مَا بَخِلُواْ بِهِ يَوْمَ الْقِيَـمَةِ
(the things that they were stingy with shall be tied to their necks like a collar on the Day of Resurrection.)
This was recorded by At-Tirmidhi, An-Nasa'i, and Ibn Majah, and At-Tirmidhi said, "Hasan Sahih."
Allah's statement,
وَلِلَّهِ مِيرَاثُ السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ
(And to Allah belongs the inheritance of the heavens and the Earth), means,
وَأَنفِقُواْ مِمَّا جَعَلَكُم مُّسْتَخْلَفِينَ فِيهِ
(and spend of that whereof He has made you trustees) 57: 7. Therefore, since all affairs are under Allah's control, then spend from your money so it will benefit you on the Day of Return,
وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ
(and Allah is Well-Acquainted with all that you do.) with your intentions and what your hearts conceal.
مشفق نبی کریم ﷺ اور عوام چونکہ جناب رسول اللہ ﷺ لوگوں پر بیحد مشفق و مہربان تھے اس لئے کفار کی بےراہ روی آپ پر گراں گذرتی تھی وہ جوں جوں کفر کی جانب بڑھتے رہتے تھے حضور ﷺ کا دل غمزدہ ہوتا تھا اس لئے جناب باری آپ کو اس سے روکتا ہے اور فرماتا ہے حکمت الٰہیہ اسی کی مقتضی ہے ان کا کفر آپ کو یا اللہ کو کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا۔ یہ لوگ اپنا اخروی حصہ برباد کر رہے ہیں اور اپنے لئے بہت بڑے عذابوں کو تیار کر رہے ہیں ان کی مخالفت سے اللہ تعالیٰ آپ کو محفوظ رکھے گا آپ ان پر غم نہ کریں۔ پھر فرمایا میرے ہاں کا یہ بھی مقررہ قاعدہ ہے کہ جو لوگ ایمان کو کفر سے بدل ڈالیں وہ بھی میرا کچھ نہیں بگاڑتے بلکہ اپنا ہی نقصان کر رہے ہیں اور اپنے لئے المناک عذاب مہیا کر رہے ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ کافروں کا اللہ کے مہلت دینے پر اترانا بیان فرماتے ہیں ارشاد ہے۔ آیت (اَيَحْسَبُوْنَ اَنَّمَا نُمِدُّهُمْ بِهٖ مِنْ مَّالٍ وَّبَنِيْنَ) 23۔ المومنون :55) یعنی کیا کفار کا یہ گمان ہے کہ ان کے مال و اولاد کی زیادتی ہماری طرف سے ان کی خیریت کی دلیل ہے ؟ نہیں بلکہ وہ بےشعور ہیں اور فرمایا آیت (فَذَرْنِيْ وَمَنْ يُّكَذِّبُ بِهٰذَا الْحَدِيْثِ ۭ سَنَسْتَدْرِجُهُمْ مِّنْ حَيْثُ لَا يَعْلَمُوْنَ) 68۔ القلم :44) یعنی مجھے اور اس بات کے جھٹلانے والوں کو چھوڑ دے ہم انہیں اس طرح آہستہ آہستہ پکڑیں گے کہ انہیں علم بھی نہ ہو۔ اور ارشاد ہے آیت (وَلَا تُعْجِبْكَ اَمْوَالُهُمْ وَاَوْلَادُهُمْ ۭ اِنَّمَا يُرِيْدُ اللّٰهُ اَنْ يُّعَذِّبَهُمْ بِهَا فِي الدُّنْيَا وَتَزْهَقَ اَنْفُسُهُمْ وَهُمْ كٰفِرُوْنَ) 9۔ التوبہ :85) یعنی ان کے مال اور اولاد سے کہیں تم دھوکے میں نہ پڑجانا اللہ انہیں ان کے باعث دنیا میں بھی عذاب کرنا چاہتا ہے اور کفر پر ہی ان کی جان جائے گی پھر فرماتا ہے کہ یہ طے شدہ امر ہے کہ بعض احکام اور بعض امتحانات سے اللہ جانچ لے گا اور ظاہر کر دے گا کہ اس کا دوست کون ہے ؟ اور اس کا دشمن کون ہے ؟ مومن صابر اور منافق فاجر بالکل الگ الگ ہوجائیں گے اور صاف نظر آنے لگیں گے۔ اس سے مراد احد کی جنگ کا دن ہے جس میں ایمانداروں کا صبرو استقامت پختگی اور توکل فرمانبرداری اور اطاعت شعاری اور منافقین کی بےصبری اور مخالفت تکذیب اور ناموافقت انکار اور خیانت صاف ظاہر ہوگئی، غرض جہاد کا حکم ہجرت کا حکم دونوں گویا ایک آزمائش تھی جس نے بھلے برے میں تمیز کردی۔ سدی فرماتے ہیں کہ لوگوں نے کہا تھا اگر محمد ﷺ سچے ہیں تو ذرا بتائیں تو کہ ہم میں سے سچا مومن کون ہے اور کون نہیں ؟ اس پر آیت (ما کان اللہ) الخ، نازل ہوئی (ابن جریر)۔ پھر فرمان ہے اللہ کے علم غیب کو تم نہیں جان سکتے ہاں وہ ایسے اسباب پیدا کردیتا ہے کہ مومن اور منافق میں صاف تمیز ہوجائے لیکن اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں میں سے جسے چاہے پسندیدہ کرلیتا ہے، جیسے فرمان ہے آیت (عٰلِمُ الْغَيْبِ فَلَا يُظْهِرُ عَلٰي غَيْبِهٖٓ اَحَدًا) 72۔ الجن :26) اللہ عالم الغیب ہے پس اپنے غیب پر کسی کو مطلع نہیں کرتا مگر جس رسول کو پسند کرلے اس کے بھی آگے پیچھے نگہبان فرشتوں کو چلاتا رہتا ہے۔ پھر فرمایا اللہ پر اس کے پیغمبروں پر ایمان لاؤ یعنی اطاعت کرو شریعت کے پابند رہو یاد رکھو ایمان اور تقوے میں تمہارے لئے اجر عظیم ہے۔ خزانہ اور کوڑھی سانپ پھر ارشاد ہے کہ بخیل شخص اپنے مال کو اپنے لئے بہتر نہ سمجھے وہ تو اس کے لئے سخت خطرناک چیز ہے، دین میں تو معیوب ہے ہی لیکن بسا اوقات دینوی طور پر بھی اس کا انجام اور نتیجہ ایسا ہی ہوتا ہے۔ حکم ہے کہ بخیل کے مال کا قیامت کے دن اسے طوق ڈالا جائے گا۔ صحیح بخاری میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جسے اللہ مال دے اور وہ اس کی زکوٰۃ ادا نہ کرے اس کا مال قیمت کے دن گنجا سانپ بن کر جس کی آنکھوں پر دو نشان ہوں گے طوق کی طرح اس کے گلے میں لپٹ جائے گا اور اس کی باچھوں کو چیرتا رہے گا اور کہتا جائے گا کہ میں تیرا مال ہوں میں تیرا خزانہ ہوں پھر آپ نے اسی آیت (وَلَا يَحْسَبَنَّ الَّذِيْنَ يَبْخَلُوْنَ بِمَآ اٰتٰىھُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِھٖ ھُوَ خَيْرًا لَّھُمْ) 3۔ آل عمران :180) کی تلاوت فرمائی، مسند احمد کی ایک حدیث میں یہ بھی ہے کہ یہ بھاگتا پھرے گا اور وہ سانپ اس کے پیچھے دوڑے گا پھر اسے پکڑ کر طوق کی طرح لپٹ جائے گا اور کاٹتا رہے گا۔ مسند ابو یعلی میں ہے جو شخص اپنے پیچھے خزانہ چھوڑ کر مرے وہ خزانہ ایک کوڑھی سانپ کی صورت میں جس کی دو آنکھوں پر دو نقطے ہوں گے ان کے پیچھے دوڑے گا یہ بھاگے گا اور کہے گا تو کون ہے ؟ یہ کہے گا میں تیرا خزانہ ہوں جسے تو اپنے پیچھے چھوڑ کر مرا تھا یہاں تک کہ وہ اسے پکڑ لے گا اور اس کا ہاتھ چبا جائے گا پھر باقی جسم بھی، طبرانی کی حدیث میں ہے جو شخص اپنے آقا کے پاس جا کر اس سے اپنی حاجت طلب کرے اور وہ باوجود گنجائش ہونے کے نہ دے اس کے لئے قیامت کے دن زہریلا اژدہا پھن سے پھنکارتا ہوا بلایا جائے گا، دوسری روایت میں ہے کہ جو رشتہ دار محتاج اپنے مالدار رشتہ دار سے سوال کرے اور یہ اسے نہ دے اس کی سزا یہ ہوگی اور وہ سانپ اس کے گلے کا ہار بن جائے گا (ابن جریر) ابن عباس فرماتے ہیں اہل کتاب جو اپنی کتاب کے احکامات کو دوسروں تک پہنچانے میں بخل کرتے تھے ان کی سزا کا بیان اس آیت میں ہو رہا ہے، لیکن صحیح بات پہلی ہی ہے گو یہ قول بھی آیت کے عموم میں داخل ہے بلکہ یہ بطور اولیٰ داخل ہے واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم۔ پھر فرماتا ہے کہ آسمانوں اور زمین کی میراث کا مالک اللہ ہی ہے اس نے جو تمہیں دے رکھا ہے اس میں سے اس کے نام خرچ کرو تمام کاموں کا مرجع اسی کی طرف ہے سخاوت کرو تاکہ اس دن کام آئے اور خیال رکھو کہ تمہاری نیتوں اور دلی ارادوں اور کل اعمال سے اللہ تعالیٰ خبردار ہے۔
178
View Single
وَلَا يَحۡسَبَنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُوٓاْ أَنَّمَا نُمۡلِي لَهُمۡ خَيۡرٞ لِّأَنفُسِهِمۡۚ إِنَّمَا نُمۡلِي لَهُمۡ لِيَزۡدَادُوٓاْ إِثۡمٗاۖ وَلَهُمۡ عَذَابٞ مُّهِينٞ
And never must the disbelievers be under the illusion that the respite We give them is any good for them; We give them respite only for them to further advance in their sins; and for them is a disgraceful punishment.
اور کافر یہ گمان ہرگز نہ کریں کہ ہم جو انہیں مہلت دے رہے ہیں (یہ) ان کی جانوں کے لئے بہتر ہے، ہم تو (یہ) مہلت انہیں صرف اس لئے دے رہے ہیں کہ وہ گناہ میں اور بڑھ جائیں، اور ان کے لئے (بالآخر) ذلّت انگیز عذاب ہے
Tafsir Ibn Kathir
Comforting the Messenger of Allah ﷺ
Allah said to His Prophet,
وَلاَ يَحْزُنكَ الَّذِينَ يُسَـرِعُونَ فِى الْكُفْرِ
(And let not those grieve you who rush with haste to disbelieve) 3:176.
Because the Prophet was eager for people's benefit, he would become sad when the disbelievers would resort to defiance, rebellion and stubbornness. Allah said, `Do not be saddened by this behavior,'
إِنَّهُمْ لَن يَضُرُّواْ اللَّهَ شَيْئاً يُرِيدُ اللَّهُ أَلاَّ يَجْعَلَ لَهُمْ حَظّاً فِى الاٌّخِرَةِ
(verily, not the least harm will they do to Allah. It is Allah's will to give them no portion in the Hereafter.) for He decided with His power and wisdom that they shall not acquire any share in the Hereafter,
وَلَهُمْ عَذَابٌ عظِيمٌ
(For them there is a great torment.)
Allah said about the disbelievers,
إِنَّ الَّذِينَ اشْتَرَوُاْ الْكُفْرَ بِالإِيمَـنِ
(Verily, those who purchase disbelief at the price of faith,) by exchanging disbelief for faith,
لَن يَضُرُّواْ اللَّهَ شَيْئاً
(not the least harm will they do to Allah.) Rather, they will only harm themselves,
وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ
(For them, there is a painful torment.)
Allah said next,
وَلاَ يَحْسَبَنَّ الَّذِينَ كَفَرُواْ أَنَّمَا نُمْلِى لَهُمْ خَيْرٌ لاًّنفُسِهِمْ إِنَّمَا نُمْلِى لَهُمْ لِيَزْدَادُواْ إِثْمَاً وَلَهْمُ عَذَابٌ مُّهِينٌ
(And let not the disbelievers think that Our postponing their punishment is good for them. We postpone the punishment only so that they may increase in sinfulness. And for them is a disgraceful torment) 3:178.
This statement is similar to Allah's other statements,
أَيَحْسَبُونَ أَنَّمَا نُمِدُّهُمْ بِهِ مِن مَّالٍ وَبَنِينَ - نُسَارِعُ لَهُمْ فِى الْخَيْرَتِ بَل لاَّ يَشْعُرُونَ
(Do they think that because We have given them abundant wealth and children, that We hasten unto them with good things. Nay, but they perceive not.) 23:55,56 and
فَذَرْنِى وَمَن يُكَذِّبُ بِهَـذَا الْحَدِيثِ سَنَسْتَدْرِجُهُمْ مِّنْ حَيْثُ لاَ يَعْلَمُونَ
(Then leave Me Alone with such as belie this Qur'an. We shall punish them gradually from directions they perceive not.) 68:44, and,
وَلاَ تُعْجِبْكَ أَمْوَلُهُمْ وَأَوْلَـدُهُمْ إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ أَن يُعَذِّبَهُمْ بِهَا فِى الدُّنْيَا وَتَزْهَقَ أَنفُسُهُمْ وَهُمْ كَـفِرُونَ
(And let not their wealth or their children amaze you. Allah's plan is to punish them with these things in this world, and that their souls shall depart (die) while they are disbelievers) 9:85.
Allah then said,
مَّا كَانَ اللَّهُ لِيَذَرَ الْمُؤْمِنِينَ عَلَى مَآ أَنتُمْ عَلَيْهِ حَتَّى يَمِيزَ الْخَبِيثَ مِنَ الطَّيِّبِ
(Allah will not leave the believers in the state in which you are now, until He distinguishes the wicked from the good.) 3:179, meaning, He allows a calamity to happen, and during this calamity His friend becomes known and His enemy exposed, the patient believer recognized and the sinful hypocrite revealed. This Ayah refers to Uhud, since Allah tested the believers in that battle, thus making known the faith, endurance, patience, firmness and obedience to Allah and His Messenger that the believers had. Allah exposed the hypocrites in their defiance, reverting from Jihad, and the treachery they committed against Allah and His Messenger . This is why Allah said,
مَّا كَانَ اللَّهُ لِيَذَرَ الْمُؤْمِنِينَ عَلَى مَآ أَنتُمْ عَلَيْهِ حَتَّى يَمِيزَ الْخَبِيثَ مِنَ الطَّيِّبِ
(Allah will not leave the believers in the state in which you are now, until He distinguishes the wicked from the good.)
Mujahid commented, "He distinguished between them during the day of Uhud." Qatadah said, "He distinguished between them in Jihad and Hijrah." Allah said next,
وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُطْلِعَكُمْ عَلَى الْغَيْبِ
(Nor will Allah disclose to you the secrets of the Unseen.) meaning, you do not have access to Allah's knowledge of His creation so that you can distinguish between the believer and the hypocrite, except by the signs of each type that Allah uncovers. Allah's statement,
وَلَكِنَّ اللَّهَ يَجْتَبِى مِن رُّسُلِهِ مَن يَشَآءُ
(but Allah chooses of His Messengers whom He wills.) is similar to another Ayah,
عَـلِمُ الْغَيْبِ فَلاَ يُظْهِرُ عَلَى غَيْبِهِ أَحَداً - إِلاَّ مَنِ ارْتَضَى مِن رَّسُولٍ فَإِنَّهُ يَسْلُكُ مِن بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ رَصَداً
((He Alone is) the All-Knower of the Unseen, and He reveals to none His Unseen. Except to a Messenger (from mankind) whom He has chosen, and then He makes a band of watching guards (angels) to march before him and behind him.) 72:26,27. Allah then said,
فَـَامِنُواْ بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ
(So believe in Allah and His Messengers.) Obey Allah and His Messenger and adhere to the law that he legislated for you,
وَإِن تُؤْمِنُواْ وَتَتَّقُواْ فَلَكُمْ أَجْرٌ عَظِيمٌ
(and if you believe and fear Allah, then for you there is a great reward.)
The Censure of Selfishness, and Warning Against it
Allah said,
وَلاَ يَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَبْخَلُونَ بِمَآ ءَاتَـهُمُ اللَّهُ مِن فَضْلِهِ هُوَ خَيْراً لَّهُمْ بَلْ هُوَ شَرٌّ لَّهُمْ
( And let not those who are stingy with that which Allah has bestowed on them of His bounty (wealth) think that it is good for them. Nay, it will be worse for them.) 3:180
Therefore, the Ayah says that the miser should not think that collecting money will benefit him. Rather, it will harm him in his religion and worldly affairs. Allah mentions the money that the miser collected on the Day of Resurrection,
سَيُطَوَّقُونَ مَا بَخِلُواْ بِهِ يَوْمَ الْقِيَـمَةِ
(the things that they stingy with shall be tied to their necks like a collar on the Day of Resurrection.)
Al-Bukhari recorded that Abu Hurayrah said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«مَنْ آتَاهُ اللهُ مَالًا فَلَمْ يُؤَدِّ زَكَاتَهُ، مُثِّلَ لَهُ شُجَاعًا أَقْرَعَ، لَهُ زَبِيبَتَانِ، يُطَوَّقُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، يَأْخُذُ بِلِهْزِمَتَيْهِ يَعْنِي بِشِدْقَيْهِ يَقُولُ: أَنَا مَالُكَ، أَنَا كَنْزُك»
(Whoever Allah makes wealthy and he does not pay the Zakah due on his wealth, then (on the Day of Resurrection) his wealth will be made in the likeness of a bald-headed poisonous male snake with two black spots over the eyes. The snake will encircle his neck and bite his cheeks and proclaim, `I am your wealth, I am your treasure.')
The Prophet then recited the Ayah,
وَلاَ يَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَبْخَلُونَ بِمَآ ءَاتَـهُمُ اللَّهُ مِن فَضْلِهِ هُوَ خَيْراً لَّهُمْ بَلْ هُوَ شَرٌّ لَّهُمْ
( And let not those who are stingy with that which Allah has bestowed on them of His bounty think that it is good for them. Nay, it will be worse for them), until the end. Al-Bukhari, but not Muslim, collected this Hadith using this chain of narration, Ibn Hibban also collected it in his Sahih.
Imam Ahmad recorded that `Abdullah said that the Prophet said,
«مَا مِنْ عَبْدٍلَا يُؤَدِّي زَكَاةَ مَالِهِ إِلَّا جُعِلَ لَهُ شُجَاعٌ أَقْرَعُ يَتْبَعُهُ، يَفِرُّ مِنْهُ وَهُوَ يَتْبَعُهُ، فَيَقُولُ: أَنَا كَنْزُك»
(Every person who does not pay the Zakah due on his wealth, will have his money made into the shape of a bald-headed, poisonous male snake who will follow him. The person will run away from the snake, who will follow him and proclaim, `I am your treasure.')
`Abdullah then recited the Ayah in Allah's Book that testifies to this fact,
سَيُطَوَّقُونَ مَا بَخِلُواْ بِهِ يَوْمَ الْقِيَـمَةِ
(the things that they were stingy with shall be tied to their necks like a collar on the Day of Resurrection.)
This was recorded by At-Tirmidhi, An-Nasa'i, and Ibn Majah, and At-Tirmidhi said, "Hasan Sahih."
Allah's statement,
وَلِلَّهِ مِيرَاثُ السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ
(And to Allah belongs the inheritance of the heavens and the Earth), means,
وَأَنفِقُواْ مِمَّا جَعَلَكُم مُّسْتَخْلَفِينَ فِيهِ
(and spend of that whereof He has made you trustees) 57: 7. Therefore, since all affairs are under Allah's control, then spend from your money so it will benefit you on the Day of Return,
وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ
(and Allah is Well-Acquainted with all that you do.) with your intentions and what your hearts conceal.
مشفق نبی کریم ﷺ اور عوام چونکہ جناب رسول اللہ ﷺ لوگوں پر بیحد مشفق و مہربان تھے اس لئے کفار کی بےراہ روی آپ پر گراں گذرتی تھی وہ جوں جوں کفر کی جانب بڑھتے رہتے تھے حضور ﷺ کا دل غمزدہ ہوتا تھا اس لئے جناب باری آپ کو اس سے روکتا ہے اور فرماتا ہے حکمت الٰہیہ اسی کی مقتضی ہے ان کا کفر آپ کو یا اللہ کو کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا۔ یہ لوگ اپنا اخروی حصہ برباد کر رہے ہیں اور اپنے لئے بہت بڑے عذابوں کو تیار کر رہے ہیں ان کی مخالفت سے اللہ تعالیٰ آپ کو محفوظ رکھے گا آپ ان پر غم نہ کریں۔ پھر فرمایا میرے ہاں کا یہ بھی مقررہ قاعدہ ہے کہ جو لوگ ایمان کو کفر سے بدل ڈالیں وہ بھی میرا کچھ نہیں بگاڑتے بلکہ اپنا ہی نقصان کر رہے ہیں اور اپنے لئے المناک عذاب مہیا کر رہے ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ کافروں کا اللہ کے مہلت دینے پر اترانا بیان فرماتے ہیں ارشاد ہے۔ آیت (اَيَحْسَبُوْنَ اَنَّمَا نُمِدُّهُمْ بِهٖ مِنْ مَّالٍ وَّبَنِيْنَ) 23۔ المومنون :55) یعنی کیا کفار کا یہ گمان ہے کہ ان کے مال و اولاد کی زیادتی ہماری طرف سے ان کی خیریت کی دلیل ہے ؟ نہیں بلکہ وہ بےشعور ہیں اور فرمایا آیت (فَذَرْنِيْ وَمَنْ يُّكَذِّبُ بِهٰذَا الْحَدِيْثِ ۭ سَنَسْتَدْرِجُهُمْ مِّنْ حَيْثُ لَا يَعْلَمُوْنَ) 68۔ القلم :44) یعنی مجھے اور اس بات کے جھٹلانے والوں کو چھوڑ دے ہم انہیں اس طرح آہستہ آہستہ پکڑیں گے کہ انہیں علم بھی نہ ہو۔ اور ارشاد ہے آیت (وَلَا تُعْجِبْكَ اَمْوَالُهُمْ وَاَوْلَادُهُمْ ۭ اِنَّمَا يُرِيْدُ اللّٰهُ اَنْ يُّعَذِّبَهُمْ بِهَا فِي الدُّنْيَا وَتَزْهَقَ اَنْفُسُهُمْ وَهُمْ كٰفِرُوْنَ) 9۔ التوبہ :85) یعنی ان کے مال اور اولاد سے کہیں تم دھوکے میں نہ پڑجانا اللہ انہیں ان کے باعث دنیا میں بھی عذاب کرنا چاہتا ہے اور کفر پر ہی ان کی جان جائے گی پھر فرماتا ہے کہ یہ طے شدہ امر ہے کہ بعض احکام اور بعض امتحانات سے اللہ جانچ لے گا اور ظاہر کر دے گا کہ اس کا دوست کون ہے ؟ اور اس کا دشمن کون ہے ؟ مومن صابر اور منافق فاجر بالکل الگ الگ ہوجائیں گے اور صاف نظر آنے لگیں گے۔ اس سے مراد احد کی جنگ کا دن ہے جس میں ایمانداروں کا صبرو استقامت پختگی اور توکل فرمانبرداری اور اطاعت شعاری اور منافقین کی بےصبری اور مخالفت تکذیب اور ناموافقت انکار اور خیانت صاف ظاہر ہوگئی، غرض جہاد کا حکم ہجرت کا حکم دونوں گویا ایک آزمائش تھی جس نے بھلے برے میں تمیز کردی۔ سدی فرماتے ہیں کہ لوگوں نے کہا تھا اگر محمد ﷺ سچے ہیں تو ذرا بتائیں تو کہ ہم میں سے سچا مومن کون ہے اور کون نہیں ؟ اس پر آیت (ما کان اللہ) الخ، نازل ہوئی (ابن جریر)۔ پھر فرمان ہے اللہ کے علم غیب کو تم نہیں جان سکتے ہاں وہ ایسے اسباب پیدا کردیتا ہے کہ مومن اور منافق میں صاف تمیز ہوجائے لیکن اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں میں سے جسے چاہے پسندیدہ کرلیتا ہے، جیسے فرمان ہے آیت (عٰلِمُ الْغَيْبِ فَلَا يُظْهِرُ عَلٰي غَيْبِهٖٓ اَحَدًا) 72۔ الجن :26) اللہ عالم الغیب ہے پس اپنے غیب پر کسی کو مطلع نہیں کرتا مگر جس رسول کو پسند کرلے اس کے بھی آگے پیچھے نگہبان فرشتوں کو چلاتا رہتا ہے۔ پھر فرمایا اللہ پر اس کے پیغمبروں پر ایمان لاؤ یعنی اطاعت کرو شریعت کے پابند رہو یاد رکھو ایمان اور تقوے میں تمہارے لئے اجر عظیم ہے۔ خزانہ اور کوڑھی سانپ پھر ارشاد ہے کہ بخیل شخص اپنے مال کو اپنے لئے بہتر نہ سمجھے وہ تو اس کے لئے سخت خطرناک چیز ہے، دین میں تو معیوب ہے ہی لیکن بسا اوقات دینوی طور پر بھی اس کا انجام اور نتیجہ ایسا ہی ہوتا ہے۔ حکم ہے کہ بخیل کے مال کا قیامت کے دن اسے طوق ڈالا جائے گا۔ صحیح بخاری میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جسے اللہ مال دے اور وہ اس کی زکوٰۃ ادا نہ کرے اس کا مال قیمت کے دن گنجا سانپ بن کر جس کی آنکھوں پر دو نشان ہوں گے طوق کی طرح اس کے گلے میں لپٹ جائے گا اور اس کی باچھوں کو چیرتا رہے گا اور کہتا جائے گا کہ میں تیرا مال ہوں میں تیرا خزانہ ہوں پھر آپ نے اسی آیت (وَلَا يَحْسَبَنَّ الَّذِيْنَ يَبْخَلُوْنَ بِمَآ اٰتٰىھُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِھٖ ھُوَ خَيْرًا لَّھُمْ) 3۔ آل عمران :180) کی تلاوت فرمائی، مسند احمد کی ایک حدیث میں یہ بھی ہے کہ یہ بھاگتا پھرے گا اور وہ سانپ اس کے پیچھے دوڑے گا پھر اسے پکڑ کر طوق کی طرح لپٹ جائے گا اور کاٹتا رہے گا۔ مسند ابو یعلی میں ہے جو شخص اپنے پیچھے خزانہ چھوڑ کر مرے وہ خزانہ ایک کوڑھی سانپ کی صورت میں جس کی دو آنکھوں پر دو نقطے ہوں گے ان کے پیچھے دوڑے گا یہ بھاگے گا اور کہے گا تو کون ہے ؟ یہ کہے گا میں تیرا خزانہ ہوں جسے تو اپنے پیچھے چھوڑ کر مرا تھا یہاں تک کہ وہ اسے پکڑ لے گا اور اس کا ہاتھ چبا جائے گا پھر باقی جسم بھی، طبرانی کی حدیث میں ہے جو شخص اپنے آقا کے پاس جا کر اس سے اپنی حاجت طلب کرے اور وہ باوجود گنجائش ہونے کے نہ دے اس کے لئے قیامت کے دن زہریلا اژدہا پھن سے پھنکارتا ہوا بلایا جائے گا، دوسری روایت میں ہے کہ جو رشتہ دار محتاج اپنے مالدار رشتہ دار سے سوال کرے اور یہ اسے نہ دے اس کی سزا یہ ہوگی اور وہ سانپ اس کے گلے کا ہار بن جائے گا (ابن جریر) ابن عباس فرماتے ہیں اہل کتاب جو اپنی کتاب کے احکامات کو دوسروں تک پہنچانے میں بخل کرتے تھے ان کی سزا کا بیان اس آیت میں ہو رہا ہے، لیکن صحیح بات پہلی ہی ہے گو یہ قول بھی آیت کے عموم میں داخل ہے بلکہ یہ بطور اولیٰ داخل ہے واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم۔ پھر فرماتا ہے کہ آسمانوں اور زمین کی میراث کا مالک اللہ ہی ہے اس نے جو تمہیں دے رکھا ہے اس میں سے اس کے نام خرچ کرو تمام کاموں کا مرجع اسی کی طرف ہے سخاوت کرو تاکہ اس دن کام آئے اور خیال رکھو کہ تمہاری نیتوں اور دلی ارادوں اور کل اعمال سے اللہ تعالیٰ خبردار ہے۔
179
View Single
مَّا كَانَ ٱللَّهُ لِيَذَرَ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ عَلَىٰ مَآ أَنتُمۡ عَلَيۡهِ حَتَّىٰ يَمِيزَ ٱلۡخَبِيثَ مِنَ ٱلطَّيِّبِۗ وَمَا كَانَ ٱللَّهُ لِيُطۡلِعَكُمۡ عَلَى ٱلۡغَيۡبِ وَلَٰكِنَّ ٱللَّهَ يَجۡتَبِي مِن رُّسُلِهِۦ مَن يَشَآءُۖ فَـَٔامِنُواْ بِٱللَّهِ وَرُسُلِهِۦۚ وَإِن تُؤۡمِنُواْ وَتَتَّقُواْ فَلَكُمۡ أَجۡرٌ عَظِيمٞ
Allah will not leave you, O People who Believe (the Muslims) in your present state, till He separates the evil from the good; and it does not befit Allah’s Majesty to give you, the common men, knowledge of the hidden, but Allah does chose from His Noble Messengers whomever He wills; so believe in Allah and His Noble Messengers; and if you believe and practice piety, for you is a great reward. (Allah gave the knowledge of the hidden to the Holy Prophet – peace and blessings be upon him.)
اور اللہ مسلمانوں کو ہرگز اس حال پر نہیں چھوڑے گا جس پر تم (اس وقت) ہو جب تک وہ ناپاک کو پاک سے جدا نہ کر دے، اور اللہ کی یہ شان نہیں کہ (اے عامۃ الناس!) تمہیں غیب پر مطلع فرما دے لیکن اللہ اپنے رسولوں سے جسے چاہے (غیب کے علم کے لئے) چن لیتا ہے، سو تم اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لاؤ، اور اگر تم ایمان لے آؤ اور تقویٰ اختیار کرو تو تمہارے لئے بڑا ثواب ہے
Tafsir Ibn Kathir
Comforting the Messenger of Allah ﷺ
Allah said to His Prophet,
وَلاَ يَحْزُنكَ الَّذِينَ يُسَـرِعُونَ فِى الْكُفْرِ
(And let not those grieve you who rush with haste to disbelieve) 3:176.
Because the Prophet was eager for people's benefit, he would become sad when the disbelievers would resort to defiance, rebellion and stubbornness. Allah said, `Do not be saddened by this behavior,'
إِنَّهُمْ لَن يَضُرُّواْ اللَّهَ شَيْئاً يُرِيدُ اللَّهُ أَلاَّ يَجْعَلَ لَهُمْ حَظّاً فِى الاٌّخِرَةِ
(verily, not the least harm will they do to Allah. It is Allah's will to give them no portion in the Hereafter.) for He decided with His power and wisdom that they shall not acquire any share in the Hereafter,
وَلَهُمْ عَذَابٌ عظِيمٌ
(For them there is a great torment.)
Allah said about the disbelievers,
إِنَّ الَّذِينَ اشْتَرَوُاْ الْكُفْرَ بِالإِيمَـنِ
(Verily, those who purchase disbelief at the price of faith,) by exchanging disbelief for faith,
لَن يَضُرُّواْ اللَّهَ شَيْئاً
(not the least harm will they do to Allah.) Rather, they will only harm themselves,
وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ
(For them, there is a painful torment.)
Allah said next,
وَلاَ يَحْسَبَنَّ الَّذِينَ كَفَرُواْ أَنَّمَا نُمْلِى لَهُمْ خَيْرٌ لاًّنفُسِهِمْ إِنَّمَا نُمْلِى لَهُمْ لِيَزْدَادُواْ إِثْمَاً وَلَهْمُ عَذَابٌ مُّهِينٌ
(And let not the disbelievers think that Our postponing their punishment is good for them. We postpone the punishment only so that they may increase in sinfulness. And for them is a disgraceful torment) 3:178.
This statement is similar to Allah's other statements,
أَيَحْسَبُونَ أَنَّمَا نُمِدُّهُمْ بِهِ مِن مَّالٍ وَبَنِينَ - نُسَارِعُ لَهُمْ فِى الْخَيْرَتِ بَل لاَّ يَشْعُرُونَ
(Do they think that because We have given them abundant wealth and children, that We hasten unto them with good things. Nay, but they perceive not.) 23:55,56 and
فَذَرْنِى وَمَن يُكَذِّبُ بِهَـذَا الْحَدِيثِ سَنَسْتَدْرِجُهُمْ مِّنْ حَيْثُ لاَ يَعْلَمُونَ
(Then leave Me Alone with such as belie this Qur'an. We shall punish them gradually from directions they perceive not.) 68:44, and,
وَلاَ تُعْجِبْكَ أَمْوَلُهُمْ وَأَوْلَـدُهُمْ إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ أَن يُعَذِّبَهُمْ بِهَا فِى الدُّنْيَا وَتَزْهَقَ أَنفُسُهُمْ وَهُمْ كَـفِرُونَ
(And let not their wealth or their children amaze you. Allah's plan is to punish them with these things in this world, and that their souls shall depart (die) while they are disbelievers) 9:85.
Allah then said,
مَّا كَانَ اللَّهُ لِيَذَرَ الْمُؤْمِنِينَ عَلَى مَآ أَنتُمْ عَلَيْهِ حَتَّى يَمِيزَ الْخَبِيثَ مِنَ الطَّيِّبِ
(Allah will not leave the believers in the state in which you are now, until He distinguishes the wicked from the good.) 3:179, meaning, He allows a calamity to happen, and during this calamity His friend becomes known and His enemy exposed, the patient believer recognized and the sinful hypocrite revealed. This Ayah refers to Uhud, since Allah tested the believers in that battle, thus making known the faith, endurance, patience, firmness and obedience to Allah and His Messenger that the believers had. Allah exposed the hypocrites in their defiance, reverting from Jihad, and the treachery they committed against Allah and His Messenger . This is why Allah said,
مَّا كَانَ اللَّهُ لِيَذَرَ الْمُؤْمِنِينَ عَلَى مَآ أَنتُمْ عَلَيْهِ حَتَّى يَمِيزَ الْخَبِيثَ مِنَ الطَّيِّبِ
(Allah will not leave the believers in the state in which you are now, until He distinguishes the wicked from the good.)
Mujahid commented, "He distinguished between them during the day of Uhud." Qatadah said, "He distinguished between them in Jihad and Hijrah." Allah said next,
وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُطْلِعَكُمْ عَلَى الْغَيْبِ
(Nor will Allah disclose to you the secrets of the Unseen.) meaning, you do not have access to Allah's knowledge of His creation so that you can distinguish between the believer and the hypocrite, except by the signs of each type that Allah uncovers. Allah's statement,
وَلَكِنَّ اللَّهَ يَجْتَبِى مِن رُّسُلِهِ مَن يَشَآءُ
(but Allah chooses of His Messengers whom He wills.) is similar to another Ayah,
عَـلِمُ الْغَيْبِ فَلاَ يُظْهِرُ عَلَى غَيْبِهِ أَحَداً - إِلاَّ مَنِ ارْتَضَى مِن رَّسُولٍ فَإِنَّهُ يَسْلُكُ مِن بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ رَصَداً
((He Alone is) the All-Knower of the Unseen, and He reveals to none His Unseen. Except to a Messenger (from mankind) whom He has chosen, and then He makes a band of watching guards (angels) to march before him and behind him.) 72:26,27. Allah then said,
فَـَامِنُواْ بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ
(So believe in Allah and His Messengers.) Obey Allah and His Messenger and adhere to the law that he legislated for you,
وَإِن تُؤْمِنُواْ وَتَتَّقُواْ فَلَكُمْ أَجْرٌ عَظِيمٌ
(and if you believe and fear Allah, then for you there is a great reward.)
The Censure of Selfishness, and Warning Against it
Allah said,
وَلاَ يَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَبْخَلُونَ بِمَآ ءَاتَـهُمُ اللَّهُ مِن فَضْلِهِ هُوَ خَيْراً لَّهُمْ بَلْ هُوَ شَرٌّ لَّهُمْ
( And let not those who are stingy with that which Allah has bestowed on them of His bounty (wealth) think that it is good for them. Nay, it will be worse for them.) 3:180
Therefore, the Ayah says that the miser should not think that collecting money will benefit him. Rather, it will harm him in his religion and worldly affairs. Allah mentions the money that the miser collected on the Day of Resurrection,
سَيُطَوَّقُونَ مَا بَخِلُواْ بِهِ يَوْمَ الْقِيَـمَةِ
(the things that they stingy with shall be tied to their necks like a collar on the Day of Resurrection.)
Al-Bukhari recorded that Abu Hurayrah said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«مَنْ آتَاهُ اللهُ مَالًا فَلَمْ يُؤَدِّ زَكَاتَهُ، مُثِّلَ لَهُ شُجَاعًا أَقْرَعَ، لَهُ زَبِيبَتَانِ، يُطَوَّقُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، يَأْخُذُ بِلِهْزِمَتَيْهِ يَعْنِي بِشِدْقَيْهِ يَقُولُ: أَنَا مَالُكَ، أَنَا كَنْزُك»
(Whoever Allah makes wealthy and he does not pay the Zakah due on his wealth, then (on the Day of Resurrection) his wealth will be made in the likeness of a bald-headed poisonous male snake with two black spots over the eyes. The snake will encircle his neck and bite his cheeks and proclaim, `I am your wealth, I am your treasure.')
The Prophet then recited the Ayah,
وَلاَ يَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَبْخَلُونَ بِمَآ ءَاتَـهُمُ اللَّهُ مِن فَضْلِهِ هُوَ خَيْراً لَّهُمْ بَلْ هُوَ شَرٌّ لَّهُمْ
( And let not those who are stingy with that which Allah has bestowed on them of His bounty think that it is good for them. Nay, it will be worse for them), until the end. Al-Bukhari, but not Muslim, collected this Hadith using this chain of narration, Ibn Hibban also collected it in his Sahih.
Imam Ahmad recorded that `Abdullah said that the Prophet said,
«مَا مِنْ عَبْدٍلَا يُؤَدِّي زَكَاةَ مَالِهِ إِلَّا جُعِلَ لَهُ شُجَاعٌ أَقْرَعُ يَتْبَعُهُ، يَفِرُّ مِنْهُ وَهُوَ يَتْبَعُهُ، فَيَقُولُ: أَنَا كَنْزُك»
(Every person who does not pay the Zakah due on his wealth, will have his money made into the shape of a bald-headed, poisonous male snake who will follow him. The person will run away from the snake, who will follow him and proclaim, `I am your treasure.')
`Abdullah then recited the Ayah in Allah's Book that testifies to this fact,
سَيُطَوَّقُونَ مَا بَخِلُواْ بِهِ يَوْمَ الْقِيَـمَةِ
(the things that they were stingy with shall be tied to their necks like a collar on the Day of Resurrection.)
This was recorded by At-Tirmidhi, An-Nasa'i, and Ibn Majah, and At-Tirmidhi said, "Hasan Sahih."
Allah's statement,
وَلِلَّهِ مِيرَاثُ السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ
(And to Allah belongs the inheritance of the heavens and the Earth), means,
وَأَنفِقُواْ مِمَّا جَعَلَكُم مُّسْتَخْلَفِينَ فِيهِ
(and spend of that whereof He has made you trustees) 57: 7. Therefore, since all affairs are under Allah's control, then spend from your money so it will benefit you on the Day of Return,
وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ
(and Allah is Well-Acquainted with all that you do.) with your intentions and what your hearts conceal.
مشفق نبی کریم ﷺ اور عوام چونکہ جناب رسول اللہ ﷺ لوگوں پر بیحد مشفق و مہربان تھے اس لئے کفار کی بےراہ روی آپ پر گراں گذرتی تھی وہ جوں جوں کفر کی جانب بڑھتے رہتے تھے حضور ﷺ کا دل غمزدہ ہوتا تھا اس لئے جناب باری آپ کو اس سے روکتا ہے اور فرماتا ہے حکمت الٰہیہ اسی کی مقتضی ہے ان کا کفر آپ کو یا اللہ کو کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا۔ یہ لوگ اپنا اخروی حصہ برباد کر رہے ہیں اور اپنے لئے بہت بڑے عذابوں کو تیار کر رہے ہیں ان کی مخالفت سے اللہ تعالیٰ آپ کو محفوظ رکھے گا آپ ان پر غم نہ کریں۔ پھر فرمایا میرے ہاں کا یہ بھی مقررہ قاعدہ ہے کہ جو لوگ ایمان کو کفر سے بدل ڈالیں وہ بھی میرا کچھ نہیں بگاڑتے بلکہ اپنا ہی نقصان کر رہے ہیں اور اپنے لئے المناک عذاب مہیا کر رہے ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ کافروں کا اللہ کے مہلت دینے پر اترانا بیان فرماتے ہیں ارشاد ہے۔ آیت (اَيَحْسَبُوْنَ اَنَّمَا نُمِدُّهُمْ بِهٖ مِنْ مَّالٍ وَّبَنِيْنَ) 23۔ المومنون :55) یعنی کیا کفار کا یہ گمان ہے کہ ان کے مال و اولاد کی زیادتی ہماری طرف سے ان کی خیریت کی دلیل ہے ؟ نہیں بلکہ وہ بےشعور ہیں اور فرمایا آیت (فَذَرْنِيْ وَمَنْ يُّكَذِّبُ بِهٰذَا الْحَدِيْثِ ۭ سَنَسْتَدْرِجُهُمْ مِّنْ حَيْثُ لَا يَعْلَمُوْنَ) 68۔ القلم :44) یعنی مجھے اور اس بات کے جھٹلانے والوں کو چھوڑ دے ہم انہیں اس طرح آہستہ آہستہ پکڑیں گے کہ انہیں علم بھی نہ ہو۔ اور ارشاد ہے آیت (وَلَا تُعْجِبْكَ اَمْوَالُهُمْ وَاَوْلَادُهُمْ ۭ اِنَّمَا يُرِيْدُ اللّٰهُ اَنْ يُّعَذِّبَهُمْ بِهَا فِي الدُّنْيَا وَتَزْهَقَ اَنْفُسُهُمْ وَهُمْ كٰفِرُوْنَ) 9۔ التوبہ :85) یعنی ان کے مال اور اولاد سے کہیں تم دھوکے میں نہ پڑجانا اللہ انہیں ان کے باعث دنیا میں بھی عذاب کرنا چاہتا ہے اور کفر پر ہی ان کی جان جائے گی پھر فرماتا ہے کہ یہ طے شدہ امر ہے کہ بعض احکام اور بعض امتحانات سے اللہ جانچ لے گا اور ظاہر کر دے گا کہ اس کا دوست کون ہے ؟ اور اس کا دشمن کون ہے ؟ مومن صابر اور منافق فاجر بالکل الگ الگ ہوجائیں گے اور صاف نظر آنے لگیں گے۔ اس سے مراد احد کی جنگ کا دن ہے جس میں ایمانداروں کا صبرو استقامت پختگی اور توکل فرمانبرداری اور اطاعت شعاری اور منافقین کی بےصبری اور مخالفت تکذیب اور ناموافقت انکار اور خیانت صاف ظاہر ہوگئی، غرض جہاد کا حکم ہجرت کا حکم دونوں گویا ایک آزمائش تھی جس نے بھلے برے میں تمیز کردی۔ سدی فرماتے ہیں کہ لوگوں نے کہا تھا اگر محمد ﷺ سچے ہیں تو ذرا بتائیں تو کہ ہم میں سے سچا مومن کون ہے اور کون نہیں ؟ اس پر آیت (ما کان اللہ) الخ، نازل ہوئی (ابن جریر)۔ پھر فرمان ہے اللہ کے علم غیب کو تم نہیں جان سکتے ہاں وہ ایسے اسباب پیدا کردیتا ہے کہ مومن اور منافق میں صاف تمیز ہوجائے لیکن اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں میں سے جسے چاہے پسندیدہ کرلیتا ہے، جیسے فرمان ہے آیت (عٰلِمُ الْغَيْبِ فَلَا يُظْهِرُ عَلٰي غَيْبِهٖٓ اَحَدًا) 72۔ الجن :26) اللہ عالم الغیب ہے پس اپنے غیب پر کسی کو مطلع نہیں کرتا مگر جس رسول کو پسند کرلے اس کے بھی آگے پیچھے نگہبان فرشتوں کو چلاتا رہتا ہے۔ پھر فرمایا اللہ پر اس کے پیغمبروں پر ایمان لاؤ یعنی اطاعت کرو شریعت کے پابند رہو یاد رکھو ایمان اور تقوے میں تمہارے لئے اجر عظیم ہے۔ خزانہ اور کوڑھی سانپ پھر ارشاد ہے کہ بخیل شخص اپنے مال کو اپنے لئے بہتر نہ سمجھے وہ تو اس کے لئے سخت خطرناک چیز ہے، دین میں تو معیوب ہے ہی لیکن بسا اوقات دینوی طور پر بھی اس کا انجام اور نتیجہ ایسا ہی ہوتا ہے۔ حکم ہے کہ بخیل کے مال کا قیامت کے دن اسے طوق ڈالا جائے گا۔ صحیح بخاری میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جسے اللہ مال دے اور وہ اس کی زکوٰۃ ادا نہ کرے اس کا مال قیمت کے دن گنجا سانپ بن کر جس کی آنکھوں پر دو نشان ہوں گے طوق کی طرح اس کے گلے میں لپٹ جائے گا اور اس کی باچھوں کو چیرتا رہے گا اور کہتا جائے گا کہ میں تیرا مال ہوں میں تیرا خزانہ ہوں پھر آپ نے اسی آیت (وَلَا يَحْسَبَنَّ الَّذِيْنَ يَبْخَلُوْنَ بِمَآ اٰتٰىھُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِھٖ ھُوَ خَيْرًا لَّھُمْ) 3۔ آل عمران :180) کی تلاوت فرمائی، مسند احمد کی ایک حدیث میں یہ بھی ہے کہ یہ بھاگتا پھرے گا اور وہ سانپ اس کے پیچھے دوڑے گا پھر اسے پکڑ کر طوق کی طرح لپٹ جائے گا اور کاٹتا رہے گا۔ مسند ابو یعلی میں ہے جو شخص اپنے پیچھے خزانہ چھوڑ کر مرے وہ خزانہ ایک کوڑھی سانپ کی صورت میں جس کی دو آنکھوں پر دو نقطے ہوں گے ان کے پیچھے دوڑے گا یہ بھاگے گا اور کہے گا تو کون ہے ؟ یہ کہے گا میں تیرا خزانہ ہوں جسے تو اپنے پیچھے چھوڑ کر مرا تھا یہاں تک کہ وہ اسے پکڑ لے گا اور اس کا ہاتھ چبا جائے گا پھر باقی جسم بھی، طبرانی کی حدیث میں ہے جو شخص اپنے آقا کے پاس جا کر اس سے اپنی حاجت طلب کرے اور وہ باوجود گنجائش ہونے کے نہ دے اس کے لئے قیامت کے دن زہریلا اژدہا پھن سے پھنکارتا ہوا بلایا جائے گا، دوسری روایت میں ہے کہ جو رشتہ دار محتاج اپنے مالدار رشتہ دار سے سوال کرے اور یہ اسے نہ دے اس کی سزا یہ ہوگی اور وہ سانپ اس کے گلے کا ہار بن جائے گا (ابن جریر) ابن عباس فرماتے ہیں اہل کتاب جو اپنی کتاب کے احکامات کو دوسروں تک پہنچانے میں بخل کرتے تھے ان کی سزا کا بیان اس آیت میں ہو رہا ہے، لیکن صحیح بات پہلی ہی ہے گو یہ قول بھی آیت کے عموم میں داخل ہے بلکہ یہ بطور اولیٰ داخل ہے واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم۔ پھر فرماتا ہے کہ آسمانوں اور زمین کی میراث کا مالک اللہ ہی ہے اس نے جو تمہیں دے رکھا ہے اس میں سے اس کے نام خرچ کرو تمام کاموں کا مرجع اسی کی طرف ہے سخاوت کرو تاکہ اس دن کام آئے اور خیال رکھو کہ تمہاری نیتوں اور دلی ارادوں اور کل اعمال سے اللہ تعالیٰ خبردار ہے۔
180
View Single
وَلَا يَحۡسَبَنَّ ٱلَّذِينَ يَبۡخَلُونَ بِمَآ ءَاتَىٰهُمُ ٱللَّهُ مِن فَضۡلِهِۦ هُوَ خَيۡرٗا لَّهُمۖ بَلۡ هُوَ شَرّٞ لَّهُمۡۖ سَيُطَوَّقُونَ مَا بَخِلُواْ بِهِۦ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِۗ وَلِلَّهِ مِيرَٰثُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۗ وَٱللَّهُ بِمَا تَعۡمَلُونَ خَبِيرٞ
And never must those who act miserly upon what Allah has bestowed upon them of His grace, think that it is good for them; in fact it is harmful for them; soon what they had withheld will be collars round their necks on the Day of Resurrection; and Allah only is the Inheritor (Owner) of the heavens and the earth; and Allah is Well Aware of what you do.
اور جو لوگ اس (مال و دولت) میں سے دینے میں بخل کرتے ہیں جو اللہ نے انہیں اپنے فضل سے عطا کیا ہے وہ ہرگز اس بخل کو اپنے حق میں بہتر خیال نہ کریں، بلکہ یہ ان کے حق میں برا ہے، عنقریب روزِ قیامت انہیں (گلے میں) اس مال کا طوق پہنایا جائے گا جس میں وہ بخل کرتے رہے ہوں گے، اور اللہ ہی آسمانوں اور زمین کا وارث ہے (یعنی جیسے اب مالک ہے ایسے ہی تمہارے سب کے مر جانے کے بعد بھی وہی مالک رہے گا)، اور اللہ تمہارے سب کاموں سے آگاہ ہے
Tafsir Ibn Kathir
Comforting the Messenger of Allah ﷺ
Allah said to His Prophet,
وَلاَ يَحْزُنكَ الَّذِينَ يُسَـرِعُونَ فِى الْكُفْرِ
(And let not those grieve you who rush with haste to disbelieve) 3:176.
Because the Prophet was eager for people's benefit, he would become sad when the disbelievers would resort to defiance, rebellion and stubbornness. Allah said, `Do not be saddened by this behavior,'
إِنَّهُمْ لَن يَضُرُّواْ اللَّهَ شَيْئاً يُرِيدُ اللَّهُ أَلاَّ يَجْعَلَ لَهُمْ حَظّاً فِى الاٌّخِرَةِ
(verily, not the least harm will they do to Allah. It is Allah's will to give them no portion in the Hereafter.) for He decided with His power and wisdom that they shall not acquire any share in the Hereafter,
وَلَهُمْ عَذَابٌ عظِيمٌ
(For them there is a great torment.)
Allah said about the disbelievers,
إِنَّ الَّذِينَ اشْتَرَوُاْ الْكُفْرَ بِالإِيمَـنِ
(Verily, those who purchase disbelief at the price of faith,) by exchanging disbelief for faith,
لَن يَضُرُّواْ اللَّهَ شَيْئاً
(not the least harm will they do to Allah.) Rather, they will only harm themselves,
وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ
(For them, there is a painful torment.)
Allah said next,
وَلاَ يَحْسَبَنَّ الَّذِينَ كَفَرُواْ أَنَّمَا نُمْلِى لَهُمْ خَيْرٌ لاًّنفُسِهِمْ إِنَّمَا نُمْلِى لَهُمْ لِيَزْدَادُواْ إِثْمَاً وَلَهْمُ عَذَابٌ مُّهِينٌ
(And let not the disbelievers think that Our postponing their punishment is good for them. We postpone the punishment only so that they may increase in sinfulness. And for them is a disgraceful torment) 3:178.
This statement is similar to Allah's other statements,
أَيَحْسَبُونَ أَنَّمَا نُمِدُّهُمْ بِهِ مِن مَّالٍ وَبَنِينَ - نُسَارِعُ لَهُمْ فِى الْخَيْرَتِ بَل لاَّ يَشْعُرُونَ
(Do they think that because We have given them abundant wealth and children, that We hasten unto them with good things. Nay, but they perceive not.) 23:55,56 and
فَذَرْنِى وَمَن يُكَذِّبُ بِهَـذَا الْحَدِيثِ سَنَسْتَدْرِجُهُمْ مِّنْ حَيْثُ لاَ يَعْلَمُونَ
(Then leave Me Alone with such as belie this Qur'an. We shall punish them gradually from directions they perceive not.) 68:44, and,
وَلاَ تُعْجِبْكَ أَمْوَلُهُمْ وَأَوْلَـدُهُمْ إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ أَن يُعَذِّبَهُمْ بِهَا فِى الدُّنْيَا وَتَزْهَقَ أَنفُسُهُمْ وَهُمْ كَـفِرُونَ
(And let not their wealth or their children amaze you. Allah's plan is to punish them with these things in this world, and that their souls shall depart (die) while they are disbelievers) 9:85.
Allah then said,
مَّا كَانَ اللَّهُ لِيَذَرَ الْمُؤْمِنِينَ عَلَى مَآ أَنتُمْ عَلَيْهِ حَتَّى يَمِيزَ الْخَبِيثَ مِنَ الطَّيِّبِ
(Allah will not leave the believers in the state in which you are now, until He distinguishes the wicked from the good.) 3:179, meaning, He allows a calamity to happen, and during this calamity His friend becomes known and His enemy exposed, the patient believer recognized and the sinful hypocrite revealed. This Ayah refers to Uhud, since Allah tested the believers in that battle, thus making known the faith, endurance, patience, firmness and obedience to Allah and His Messenger that the believers had. Allah exposed the hypocrites in their defiance, reverting from Jihad, and the treachery they committed against Allah and His Messenger . This is why Allah said,
مَّا كَانَ اللَّهُ لِيَذَرَ الْمُؤْمِنِينَ عَلَى مَآ أَنتُمْ عَلَيْهِ حَتَّى يَمِيزَ الْخَبِيثَ مِنَ الطَّيِّبِ
(Allah will not leave the believers in the state in which you are now, until He distinguishes the wicked from the good.)
Mujahid commented, "He distinguished between them during the day of Uhud." Qatadah said, "He distinguished between them in Jihad and Hijrah." Allah said next,
وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُطْلِعَكُمْ عَلَى الْغَيْبِ
(Nor will Allah disclose to you the secrets of the Unseen.) meaning, you do not have access to Allah's knowledge of His creation so that you can distinguish between the believer and the hypocrite, except by the signs of each type that Allah uncovers. Allah's statement,
وَلَكِنَّ اللَّهَ يَجْتَبِى مِن رُّسُلِهِ مَن يَشَآءُ
(but Allah chooses of His Messengers whom He wills.) is similar to another Ayah,
عَـلِمُ الْغَيْبِ فَلاَ يُظْهِرُ عَلَى غَيْبِهِ أَحَداً - إِلاَّ مَنِ ارْتَضَى مِن رَّسُولٍ فَإِنَّهُ يَسْلُكُ مِن بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ رَصَداً
((He Alone is) the All-Knower of the Unseen, and He reveals to none His Unseen. Except to a Messenger (from mankind) whom He has chosen, and then He makes a band of watching guards (angels) to march before him and behind him.) 72:26,27. Allah then said,
فَـَامِنُواْ بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ
(So believe in Allah and His Messengers.) Obey Allah and His Messenger and adhere to the law that he legislated for you,
وَإِن تُؤْمِنُواْ وَتَتَّقُواْ فَلَكُمْ أَجْرٌ عَظِيمٌ
(and if you believe and fear Allah, then for you there is a great reward.)
The Censure of Selfishness, and Warning Against it
Allah said,
وَلاَ يَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَبْخَلُونَ بِمَآ ءَاتَـهُمُ اللَّهُ مِن فَضْلِهِ هُوَ خَيْراً لَّهُمْ بَلْ هُوَ شَرٌّ لَّهُمْ
( And let not those who are stingy with that which Allah has bestowed on them of His bounty (wealth) think that it is good for them. Nay, it will be worse for them.) 3:180
Therefore, the Ayah says that the miser should not think that collecting money will benefit him. Rather, it will harm him in his religion and worldly affairs. Allah mentions the money that the miser collected on the Day of Resurrection,
سَيُطَوَّقُونَ مَا بَخِلُواْ بِهِ يَوْمَ الْقِيَـمَةِ
(the things that they stingy with shall be tied to their necks like a collar on the Day of Resurrection.)
Al-Bukhari recorded that Abu Hurayrah said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«مَنْ آتَاهُ اللهُ مَالًا فَلَمْ يُؤَدِّ زَكَاتَهُ، مُثِّلَ لَهُ شُجَاعًا أَقْرَعَ، لَهُ زَبِيبَتَانِ، يُطَوَّقُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، يَأْخُذُ بِلِهْزِمَتَيْهِ يَعْنِي بِشِدْقَيْهِ يَقُولُ: أَنَا مَالُكَ، أَنَا كَنْزُك»
(Whoever Allah makes wealthy and he does not pay the Zakah due on his wealth, then (on the Day of Resurrection) his wealth will be made in the likeness of a bald-headed poisonous male snake with two black spots over the eyes. The snake will encircle his neck and bite his cheeks and proclaim, `I am your wealth, I am your treasure.')
The Prophet then recited the Ayah,
وَلاَ يَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَبْخَلُونَ بِمَآ ءَاتَـهُمُ اللَّهُ مِن فَضْلِهِ هُوَ خَيْراً لَّهُمْ بَلْ هُوَ شَرٌّ لَّهُمْ
( And let not those who are stingy with that which Allah has bestowed on them of His bounty think that it is good for them. Nay, it will be worse for them), until the end. Al-Bukhari, but not Muslim, collected this Hadith using this chain of narration, Ibn Hibban also collected it in his Sahih.
Imam Ahmad recorded that `Abdullah said that the Prophet said,
«مَا مِنْ عَبْدٍلَا يُؤَدِّي زَكَاةَ مَالِهِ إِلَّا جُعِلَ لَهُ شُجَاعٌ أَقْرَعُ يَتْبَعُهُ، يَفِرُّ مِنْهُ وَهُوَ يَتْبَعُهُ، فَيَقُولُ: أَنَا كَنْزُك»
(Every person who does not pay the Zakah due on his wealth, will have his money made into the shape of a bald-headed, poisonous male snake who will follow him. The person will run away from the snake, who will follow him and proclaim, `I am your treasure.')
`Abdullah then recited the Ayah in Allah's Book that testifies to this fact,
سَيُطَوَّقُونَ مَا بَخِلُواْ بِهِ يَوْمَ الْقِيَـمَةِ
(the things that they were stingy with shall be tied to their necks like a collar on the Day of Resurrection.)
This was recorded by At-Tirmidhi, An-Nasa'i, and Ibn Majah, and At-Tirmidhi said, "Hasan Sahih."
Allah's statement,
وَلِلَّهِ مِيرَاثُ السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ
(And to Allah belongs the inheritance of the heavens and the Earth), means,
وَأَنفِقُواْ مِمَّا جَعَلَكُم مُّسْتَخْلَفِينَ فِيهِ
(and spend of that whereof He has made you trustees) 57: 7. Therefore, since all affairs are under Allah's control, then spend from your money so it will benefit you on the Day of Return,
وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ
(and Allah is Well-Acquainted with all that you do.) with your intentions and what your hearts conceal.
مشفق نبی کریم ﷺ اور عوام چونکہ جناب رسول اللہ ﷺ لوگوں پر بیحد مشفق و مہربان تھے اس لئے کفار کی بےراہ روی آپ پر گراں گذرتی تھی وہ جوں جوں کفر کی جانب بڑھتے رہتے تھے حضور ﷺ کا دل غمزدہ ہوتا تھا اس لئے جناب باری آپ کو اس سے روکتا ہے اور فرماتا ہے حکمت الٰہیہ اسی کی مقتضی ہے ان کا کفر آپ کو یا اللہ کو کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا۔ یہ لوگ اپنا اخروی حصہ برباد کر رہے ہیں اور اپنے لئے بہت بڑے عذابوں کو تیار کر رہے ہیں ان کی مخالفت سے اللہ تعالیٰ آپ کو محفوظ رکھے گا آپ ان پر غم نہ کریں۔ پھر فرمایا میرے ہاں کا یہ بھی مقررہ قاعدہ ہے کہ جو لوگ ایمان کو کفر سے بدل ڈالیں وہ بھی میرا کچھ نہیں بگاڑتے بلکہ اپنا ہی نقصان کر رہے ہیں اور اپنے لئے المناک عذاب مہیا کر رہے ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ کافروں کا اللہ کے مہلت دینے پر اترانا بیان فرماتے ہیں ارشاد ہے۔ آیت (اَيَحْسَبُوْنَ اَنَّمَا نُمِدُّهُمْ بِهٖ مِنْ مَّالٍ وَّبَنِيْنَ) 23۔ المومنون :55) یعنی کیا کفار کا یہ گمان ہے کہ ان کے مال و اولاد کی زیادتی ہماری طرف سے ان کی خیریت کی دلیل ہے ؟ نہیں بلکہ وہ بےشعور ہیں اور فرمایا آیت (فَذَرْنِيْ وَمَنْ يُّكَذِّبُ بِهٰذَا الْحَدِيْثِ ۭ سَنَسْتَدْرِجُهُمْ مِّنْ حَيْثُ لَا يَعْلَمُوْنَ) 68۔ القلم :44) یعنی مجھے اور اس بات کے جھٹلانے والوں کو چھوڑ دے ہم انہیں اس طرح آہستہ آہستہ پکڑیں گے کہ انہیں علم بھی نہ ہو۔ اور ارشاد ہے آیت (وَلَا تُعْجِبْكَ اَمْوَالُهُمْ وَاَوْلَادُهُمْ ۭ اِنَّمَا يُرِيْدُ اللّٰهُ اَنْ يُّعَذِّبَهُمْ بِهَا فِي الدُّنْيَا وَتَزْهَقَ اَنْفُسُهُمْ وَهُمْ كٰفِرُوْنَ) 9۔ التوبہ :85) یعنی ان کے مال اور اولاد سے کہیں تم دھوکے میں نہ پڑجانا اللہ انہیں ان کے باعث دنیا میں بھی عذاب کرنا چاہتا ہے اور کفر پر ہی ان کی جان جائے گی پھر فرماتا ہے کہ یہ طے شدہ امر ہے کہ بعض احکام اور بعض امتحانات سے اللہ جانچ لے گا اور ظاہر کر دے گا کہ اس کا دوست کون ہے ؟ اور اس کا دشمن کون ہے ؟ مومن صابر اور منافق فاجر بالکل الگ الگ ہوجائیں گے اور صاف نظر آنے لگیں گے۔ اس سے مراد احد کی جنگ کا دن ہے جس میں ایمانداروں کا صبرو استقامت پختگی اور توکل فرمانبرداری اور اطاعت شعاری اور منافقین کی بےصبری اور مخالفت تکذیب اور ناموافقت انکار اور خیانت صاف ظاہر ہوگئی، غرض جہاد کا حکم ہجرت کا حکم دونوں گویا ایک آزمائش تھی جس نے بھلے برے میں تمیز کردی۔ سدی فرماتے ہیں کہ لوگوں نے کہا تھا اگر محمد ﷺ سچے ہیں تو ذرا بتائیں تو کہ ہم میں سے سچا مومن کون ہے اور کون نہیں ؟ اس پر آیت (ما کان اللہ) الخ، نازل ہوئی (ابن جریر)۔ پھر فرمان ہے اللہ کے علم غیب کو تم نہیں جان سکتے ہاں وہ ایسے اسباب پیدا کردیتا ہے کہ مومن اور منافق میں صاف تمیز ہوجائے لیکن اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں میں سے جسے چاہے پسندیدہ کرلیتا ہے، جیسے فرمان ہے آیت (عٰلِمُ الْغَيْبِ فَلَا يُظْهِرُ عَلٰي غَيْبِهٖٓ اَحَدًا) 72۔ الجن :26) اللہ عالم الغیب ہے پس اپنے غیب پر کسی کو مطلع نہیں کرتا مگر جس رسول کو پسند کرلے اس کے بھی آگے پیچھے نگہبان فرشتوں کو چلاتا رہتا ہے۔ پھر فرمایا اللہ پر اس کے پیغمبروں پر ایمان لاؤ یعنی اطاعت کرو شریعت کے پابند رہو یاد رکھو ایمان اور تقوے میں تمہارے لئے اجر عظیم ہے۔ خزانہ اور کوڑھی سانپ پھر ارشاد ہے کہ بخیل شخص اپنے مال کو اپنے لئے بہتر نہ سمجھے وہ تو اس کے لئے سخت خطرناک چیز ہے، دین میں تو معیوب ہے ہی لیکن بسا اوقات دینوی طور پر بھی اس کا انجام اور نتیجہ ایسا ہی ہوتا ہے۔ حکم ہے کہ بخیل کے مال کا قیامت کے دن اسے طوق ڈالا جائے گا۔ صحیح بخاری میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جسے اللہ مال دے اور وہ اس کی زکوٰۃ ادا نہ کرے اس کا مال قیمت کے دن گنجا سانپ بن کر جس کی آنکھوں پر دو نشان ہوں گے طوق کی طرح اس کے گلے میں لپٹ جائے گا اور اس کی باچھوں کو چیرتا رہے گا اور کہتا جائے گا کہ میں تیرا مال ہوں میں تیرا خزانہ ہوں پھر آپ نے اسی آیت (وَلَا يَحْسَبَنَّ الَّذِيْنَ يَبْخَلُوْنَ بِمَآ اٰتٰىھُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِھٖ ھُوَ خَيْرًا لَّھُمْ) 3۔ آل عمران :180) کی تلاوت فرمائی، مسند احمد کی ایک حدیث میں یہ بھی ہے کہ یہ بھاگتا پھرے گا اور وہ سانپ اس کے پیچھے دوڑے گا پھر اسے پکڑ کر طوق کی طرح لپٹ جائے گا اور کاٹتا رہے گا۔ مسند ابو یعلی میں ہے جو شخص اپنے پیچھے خزانہ چھوڑ کر مرے وہ خزانہ ایک کوڑھی سانپ کی صورت میں جس کی دو آنکھوں پر دو نقطے ہوں گے ان کے پیچھے دوڑے گا یہ بھاگے گا اور کہے گا تو کون ہے ؟ یہ کہے گا میں تیرا خزانہ ہوں جسے تو اپنے پیچھے چھوڑ کر مرا تھا یہاں تک کہ وہ اسے پکڑ لے گا اور اس کا ہاتھ چبا جائے گا پھر باقی جسم بھی، طبرانی کی حدیث میں ہے جو شخص اپنے آقا کے پاس جا کر اس سے اپنی حاجت طلب کرے اور وہ باوجود گنجائش ہونے کے نہ دے اس کے لئے قیامت کے دن زہریلا اژدہا پھن سے پھنکارتا ہوا بلایا جائے گا، دوسری روایت میں ہے کہ جو رشتہ دار محتاج اپنے مالدار رشتہ دار سے سوال کرے اور یہ اسے نہ دے اس کی سزا یہ ہوگی اور وہ سانپ اس کے گلے کا ہار بن جائے گا (ابن جریر) ابن عباس فرماتے ہیں اہل کتاب جو اپنی کتاب کے احکامات کو دوسروں تک پہنچانے میں بخل کرتے تھے ان کی سزا کا بیان اس آیت میں ہو رہا ہے، لیکن صحیح بات پہلی ہی ہے گو یہ قول بھی آیت کے عموم میں داخل ہے بلکہ یہ بطور اولیٰ داخل ہے واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم۔ پھر فرماتا ہے کہ آسمانوں اور زمین کی میراث کا مالک اللہ ہی ہے اس نے جو تمہیں دے رکھا ہے اس میں سے اس کے نام خرچ کرو تمام کاموں کا مرجع اسی کی طرف ہے سخاوت کرو تاکہ اس دن کام آئے اور خیال رکھو کہ تمہاری نیتوں اور دلی ارادوں اور کل اعمال سے اللہ تعالیٰ خبردار ہے۔
181
View Single
لَّقَدۡ سَمِعَ ٱللَّهُ قَوۡلَ ٱلَّذِينَ قَالُوٓاْ إِنَّ ٱللَّهَ فَقِيرٞ وَنَحۡنُ أَغۡنِيَآءُۘ سَنَكۡتُبُ مَا قَالُواْ وَقَتۡلَهُمُ ٱلۡأَنۢبِيَآءَ بِغَيۡرِ حَقّٖ وَنَقُولُ ذُوقُواْ عَذَابَ ٱلۡحَرِيقِ
Undoubtedly Allah heard them who said, “Allah is needy, and we are the wealthy”; We shall keep recorded their saying and their wrongfully martyring of the Prophets; and We shall say, “Taste the punishment of the fire!”
بیشک اللہ نے ان لوگوں کی بات سن لی جو کہتے ہیں کہ اللہ محتاج ہے اور ہم غنی ہیں، اب ہم ان کی ساری باتیں اور ان کا انبیاءکو ناحق قتل کرنا (بھی) لکھ رکھیں گے، اور (روزِ قیامت) فرمائیں گے کہ (اب تم) جلا ڈالنے والے عذاب کا مزہ چکھو
Tafsir Ibn Kathir
Allah Warns the Idolators
Sa`id bin Jubayr said that Ibn `Abbas said, "When Allah's statement,
مَّن ذَا الَّذِى يُقْرِضُ اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا فَيُضَاعِفَهُ لَهُ أَضْعَافًا كَثِيرَةً
(Who is he that will lend to Allah a goodly loan so that He may multiply it to him many times) 2:245 was revealed, the Jews said, `O Muhammad! Has your Lord become poor so that He asks His servants to give Him a loan' Allah sent down,
لَّقَدْ سَمِعَ اللَّهُ قَوْلَ الَّذِينَ قَالُواْ إِنَّ اللَّهَ فَقِيرٌ وَنَحْنُ أَغْنِيَآءُ
(Indeed, Allah has heard the statement of those (Jews) who say: "Truly, Allah is poor and we are rich!") 3:181."
This Hadith was collected by Ibn Marduwyah and Ibn Abi Hatim.
Allah's statement,
سَنَكْتُبُ مَا قَالُواْ
(We shall record what they have said) contains a threat and a warning that Allah followed with His statement,
وَقَتْلِهِمُ الاٌّنْبِيَآءَ بِغَيْرِ حَقٍّ
(and their killing of the Prophets unjustly,)
This is what they say about Allah and this is how they treat His Messengers. Allah will punish them for these deeds in the worst manner,
لَّقَدْ سَمِعَ اللَّهُ قَوْلَ الَّذِينَ قَالُواْ إِنَّ اللَّهَ فَقِيرٌ وَنَحْنُ أَغْنِيَآءُ سَنَكْتُبُ مَا قَالُواْ وَقَتْلَهُمُ الاٌّنبِيَاءَ بِغَيْرِ حَقٍّ وَنَقُولُ ذُوقُواْ عَذَابَ الْحَرِيقِ - ذلِكَ بِمَا قَدَّمَتْ أَيْدِيكُمْ وَأَنَّ اللَّهَ لَيْسَ بِظَلَّـمٍ لِّلْعَبِيدِ
(and We shall say: "Taste you the torment of the burning (Fire)." This is because of that which your hands have sent before you. And certainly, Allah is never unjust to (His) servants.)
They will be addressed like this as a way of chastising, criticism, disgrace and humiliation.
Allah said,
الَّذِينَ قَالُواْ إِنَّ اللَّهَ عَهِدَ إِلَيْنَا أَلاَّ نُؤْمِنَ لِرَسُولٍ حَتَّى يَأْتِيَنَا بِقُرْبَانٍ تَأْكُلُهُ النَّارُ
(Those (Jews) who said: "Verily, Allah has taken our promise not to believe in any Messenger unless he brings to us an offering which the fire (from heaven) shall devour.")
Allah refuted their claim that in their Books, Allah took a covenant from them to only believe in the Messenger whose miracles include fire coming down from the sky that consumes the charity offered by a member of the Messenger's nation, as Ibn `Abbas and Al-Hasan stated. Allah replied,
قُلْ قَدْ جَآءَكُمْ رُسُلٌ مِّن قَبْلِى بِالْبَيِّنَـتِ
(Say: "Verily, there came to you Messengers before me, with Al-Bayinat...") with proofs and evidence,
وَبِالَّذِى قُلْتُمْ
(and even with what you speak of) a fire that consumes the accepted charity, as you asked,
فَلِمَ قَتَلْتُمُوهُمْ
(why then did you kill them) Why did you meet these Prophets with denial, defiance, stubbornness and even murder,
إِن كُنتُمْ صَـدِقِينَ
(if you are truthful), if you follow the truth and obey the Messengers.
Allah then comforts His Prophet Muhammad ,
فَإِن كَذَّبُوكَ فَقَدْ كُذِّبَ رُسُلٌ مِّن قَبْلِكَ جَآءُوا بِالْبَيِّنَـتِ وَالزُّبُرِ وَالْكِتَـبِ الْمُنِيرِ
(Then if they reject you, so were Messengers rejected before you, who came with Al-Baiyyinat and the Scripture, and the Book of Enlightenment.) meaning, do not be sad because they deny you, for you have an example in the Messengers who came before you. These Messengers were rejected although they brought clear proofs, plain evidence and unequivocal signs,
وَالزُّبُرِ
(and the Zubur), the divinely revealed Books that were sent down to the Messengers,
وَالْكِتَـبِ الْمُنِيرِ
(and the Book of Enlightenment) meaning the clarification and best explanation.
کافروں کا قرض حسنہ پر احمقانہ تبصرہ اور ان کی ہٹ دھرمی پہ مجوزہ سزا حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت اتری کہ کون ہے جو اللہ کو قرض حسنہ دے اور وہ اسے زیادہ در زیادہ کر کے دے تو یہود کہنے لگے کہ اے نبی تمہارا رب فقیر ہوگیا ہے اور اپنے بندوں سے قرض مانگ رہا ہے اس پر یہ آیت (لَقَدْ سَمِعَ اللّٰهُ قَوْلَ الَّذِيْنَ قَالُوْٓا اِنَّ اللّٰهَ فَقِيْرٌ وَّنَحْنُ اَغْنِيَاۗءُ) 3۔ آل عمران :181) نازل ہوئی۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ یہودیوں کے مدرسے میں گئے یہاں کا بڑا معلم فخاص تھا اور اس کے ماتحت ایک بہت بڑا عالم اشیع تھا لوگوں کا مجمع تھا اور وہ ان سے مذہبی باتیں سن رہے تھے آپ نے فرمایا فخاص اللہ سے ڈر اور مسلمان ہوجا اللہ کی قسم تجھے خوب معلوم ہے کہ آنحضرت ﷺ اللہ تعالیٰ کے سچے رسول ہیں وہ اس کے پاس سے حق لے کر آئے ہیں ان کی صفتیں توراۃ و انجیل میں تمہارے ہاتھوں میں موجود ہیں تو فخاص نے جواب میں کہا ابوبکر سن اللہ کی قسم اللہ ہمارا محتاج ہے ہم اس کے محتاج نہیں اس کی طرف اس طرح نہیں گڑگڑاتے جیسے وہ ہماری جانب عاجزی کرتا ہے بلکہ ہم تو اس سے بےپرواہ ہیں ہم غنی اور تونگر ہیں اگر وہ غنی ہوتا تو ہم سے قرض طلب نہ کرتا جیسے کہ تمہارا پیغمبر ﷺ کہہ رہا ہے ہمیں تو سود سے روکتا ہے اور خود سود دیتا ہے اگر غنی ہوتا تو ہمیں سود کیوں دیتا، اس پر حضرت صدیق اکبر کو سخت غصہ آیا اور فخاص کے منہ پر زور سے مارا اور فرمایا اللہ کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر تم یہود سے معاہدہ نہ ہوتا تو میں تجھ اللہ کے دشمن کا سر کاٹ دیتا جاؤ بدنصیبو جھٹلاتے ہی رہو اگر سچے ہو۔ فخصاص نے جا کر اس کی شکایت سرکار محمدی ﷺ میں کی آپ نے صدیق اکبر سے پوچھا کہ اسے کیوں مارا ؟ حضرت صدیق نے واقعہ بیان کیا لیکن فخاص اپنے قول سے مکر گیا کہ میں نے تو ایسا کہا ہی نہیں۔ اس بارے میں یہ آیت اتری۔ پھر اللہ تعالیٰ انہیں اپنے عذاب کلی خبر دیتا ہے کہ ان کا یہ قول اور ساتھ ہی اسی جیسا ان کا بڑا گناہ یعنی قتل انبیاء ہم نے ان کے نامہ اعمال میں لکھ لیا ہے۔ ایک طرف ان کا جناب باری تعالیٰ کی شان میں بےادبی کرنا دوسری جانب نبیوں کو مار ڈالنا ان کاموں کی وجہ انہیں سخت تر سزا ملے گی۔ ان کو ہم کہیں گے کہ جلنے والے عذاب کا ذائقہ چکھو، اور ان سے کہا جائے گا کہ یہ تمہارے پہلے کے کرتوت کا بدلہ ہے یہ کہہ کر انہیں ذلیل و رسوا کن عذاب پر عذاب ہوں گے، یہ سراسر عدل و انصاف ہے اور ظاہر ہے کہ مالک اپنے غلاموں پر ظلم کرنے والا نہیں ہے۔ پھر ان کے اس خیال میں جھوٹا ثابت کیا جا رہا ہے جو یہ کہتے تھے کہ آسمانی کتابیں جو پہلے نازل ہوئیں ان میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ حکم دے رکھا ہے کہ جب تک کوئی رسول ہمیں یہ معجزہ نہ دکھائے کہ اس کی امت میں سے جو شخص قربانی کرے اس کی قربانی کو کھا جانے کے لئے آسمان سے قدرتی آگ آئے اور کھاجائے ان کی اس قول کے جواب میں ارشاد ہوتا ہے کہ پھر اس معجزے والے پیغمبروں کو جو اپنے ساتھ دلائل اور براہین لے کر آئے تھے تم نے کیوں مار ڈالا ؟ انہیں تو اللہ تعالیٰ نے یہ معجزہ بھی دے رکھا تھا کہ ہر ایک قبول شدہ قربانی آسمانی آگ کھا جاتی تھی لیکن تم نے انہیں بھی سچا نہ جانا ان کی بھی مخالفت اور دشمنی کی بلکہ انہیں قتل کر ڈالا، اس سے صاف ظاہر ہے کہ تمہیں تمہاری اپنی بات کا بھی پاس ولحاظ نہیں لہذا تم حق کے ساتھی نہ ہو نہ کسی نبی کے ماننے والے ہو۔ تم یقینا جھوٹے ہو۔ پھر اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کو تسلی دیتا ہے کہ ان کے جھٹلانے سے آپ تنگ دل اور غمناک نہ ہوں اگلے اولوالعزم پیغمبروں کے واقعات کو اپنے لئے باعث تسلی بنائیں کہ وہ بھی باوجود دلیلیں ظاہر کردینے کے اور باوجود اپنی حقانیت کو بخوبی واضح کردینے کے پھر بھی جھٹلائے گئے زبر سے مراد آسمانی کتابیں ہیں جو ان صحیفوں کی طرح آسمان سے آئیں جو رسولوں پر اتاری گئی تھیں اور " منیر " سے مراد واضح جلی اور روشن اور چمکیلی ہے۔
182
View Single
ذَٰلِكَ بِمَا قَدَّمَتۡ أَيۡدِيكُمۡ وَأَنَّ ٱللَّهَ لَيۡسَ بِظَلَّامٖ لِّلۡعَبِيدِ
“This is the recompense of what your hands have sent ahead and Allah does not oppress the bondmen.”
یہ ان اعمال کا بدلہ ہے جو تمہارے ہاتھ خود آگے بھیج چکے ہیں اور بیشک اللہ بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں ہے
Tafsir Ibn Kathir
Allah Warns the Idolators
Sa`id bin Jubayr said that Ibn `Abbas said, "When Allah's statement,
مَّن ذَا الَّذِى يُقْرِضُ اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا فَيُضَاعِفَهُ لَهُ أَضْعَافًا كَثِيرَةً
(Who is he that will lend to Allah a goodly loan so that He may multiply it to him many times) 2:245 was revealed, the Jews said, `O Muhammad! Has your Lord become poor so that He asks His servants to give Him a loan' Allah sent down,
لَّقَدْ سَمِعَ اللَّهُ قَوْلَ الَّذِينَ قَالُواْ إِنَّ اللَّهَ فَقِيرٌ وَنَحْنُ أَغْنِيَآءُ
(Indeed, Allah has heard the statement of those (Jews) who say: "Truly, Allah is poor and we are rich!") 3:181."
This Hadith was collected by Ibn Marduwyah and Ibn Abi Hatim.
Allah's statement,
سَنَكْتُبُ مَا قَالُواْ
(We shall record what they have said) contains a threat and a warning that Allah followed with His statement,
وَقَتْلِهِمُ الاٌّنْبِيَآءَ بِغَيْرِ حَقٍّ
(and their killing of the Prophets unjustly,)
This is what they say about Allah and this is how they treat His Messengers. Allah will punish them for these deeds in the worst manner,
لَّقَدْ سَمِعَ اللَّهُ قَوْلَ الَّذِينَ قَالُواْ إِنَّ اللَّهَ فَقِيرٌ وَنَحْنُ أَغْنِيَآءُ سَنَكْتُبُ مَا قَالُواْ وَقَتْلَهُمُ الاٌّنبِيَاءَ بِغَيْرِ حَقٍّ وَنَقُولُ ذُوقُواْ عَذَابَ الْحَرِيقِ - ذلِكَ بِمَا قَدَّمَتْ أَيْدِيكُمْ وَأَنَّ اللَّهَ لَيْسَ بِظَلَّـمٍ لِّلْعَبِيدِ
(and We shall say: "Taste you the torment of the burning (Fire)." This is because of that which your hands have sent before you. And certainly, Allah is never unjust to (His) servants.)
They will be addressed like this as a way of chastising, criticism, disgrace and humiliation.
Allah said,
الَّذِينَ قَالُواْ إِنَّ اللَّهَ عَهِدَ إِلَيْنَا أَلاَّ نُؤْمِنَ لِرَسُولٍ حَتَّى يَأْتِيَنَا بِقُرْبَانٍ تَأْكُلُهُ النَّارُ
(Those (Jews) who said: "Verily, Allah has taken our promise not to believe in any Messenger unless he brings to us an offering which the fire (from heaven) shall devour.")
Allah refuted their claim that in their Books, Allah took a covenant from them to only believe in the Messenger whose miracles include fire coming down from the sky that consumes the charity offered by a member of the Messenger's nation, as Ibn `Abbas and Al-Hasan stated. Allah replied,
قُلْ قَدْ جَآءَكُمْ رُسُلٌ مِّن قَبْلِى بِالْبَيِّنَـتِ
(Say: "Verily, there came to you Messengers before me, with Al-Bayinat...") with proofs and evidence,
وَبِالَّذِى قُلْتُمْ
(and even with what you speak of) a fire that consumes the accepted charity, as you asked,
فَلِمَ قَتَلْتُمُوهُمْ
(why then did you kill them) Why did you meet these Prophets with denial, defiance, stubbornness and even murder,
إِن كُنتُمْ صَـدِقِينَ
(if you are truthful), if you follow the truth and obey the Messengers.
Allah then comforts His Prophet Muhammad ,
فَإِن كَذَّبُوكَ فَقَدْ كُذِّبَ رُسُلٌ مِّن قَبْلِكَ جَآءُوا بِالْبَيِّنَـتِ وَالزُّبُرِ وَالْكِتَـبِ الْمُنِيرِ
(Then if they reject you, so were Messengers rejected before you, who came with Al-Baiyyinat and the Scripture, and the Book of Enlightenment.) meaning, do not be sad because they deny you, for you have an example in the Messengers who came before you. These Messengers were rejected although they brought clear proofs, plain evidence and unequivocal signs,
وَالزُّبُرِ
(and the Zubur), the divinely revealed Books that were sent down to the Messengers,
وَالْكِتَـبِ الْمُنِيرِ
(and the Book of Enlightenment) meaning the clarification and best explanation.
کافروں کا قرض حسنہ پر احمقانہ تبصرہ اور ان کی ہٹ دھرمی پہ مجوزہ سزا حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت اتری کہ کون ہے جو اللہ کو قرض حسنہ دے اور وہ اسے زیادہ در زیادہ کر کے دے تو یہود کہنے لگے کہ اے نبی تمہارا رب فقیر ہوگیا ہے اور اپنے بندوں سے قرض مانگ رہا ہے اس پر یہ آیت (لَقَدْ سَمِعَ اللّٰهُ قَوْلَ الَّذِيْنَ قَالُوْٓا اِنَّ اللّٰهَ فَقِيْرٌ وَّنَحْنُ اَغْنِيَاۗءُ) 3۔ آل عمران :181) نازل ہوئی۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ یہودیوں کے مدرسے میں گئے یہاں کا بڑا معلم فخاص تھا اور اس کے ماتحت ایک بہت بڑا عالم اشیع تھا لوگوں کا مجمع تھا اور وہ ان سے مذہبی باتیں سن رہے تھے آپ نے فرمایا فخاص اللہ سے ڈر اور مسلمان ہوجا اللہ کی قسم تجھے خوب معلوم ہے کہ آنحضرت ﷺ اللہ تعالیٰ کے سچے رسول ہیں وہ اس کے پاس سے حق لے کر آئے ہیں ان کی صفتیں توراۃ و انجیل میں تمہارے ہاتھوں میں موجود ہیں تو فخاص نے جواب میں کہا ابوبکر سن اللہ کی قسم اللہ ہمارا محتاج ہے ہم اس کے محتاج نہیں اس کی طرف اس طرح نہیں گڑگڑاتے جیسے وہ ہماری جانب عاجزی کرتا ہے بلکہ ہم تو اس سے بےپرواہ ہیں ہم غنی اور تونگر ہیں اگر وہ غنی ہوتا تو ہم سے قرض طلب نہ کرتا جیسے کہ تمہارا پیغمبر ﷺ کہہ رہا ہے ہمیں تو سود سے روکتا ہے اور خود سود دیتا ہے اگر غنی ہوتا تو ہمیں سود کیوں دیتا، اس پر حضرت صدیق اکبر کو سخت غصہ آیا اور فخاص کے منہ پر زور سے مارا اور فرمایا اللہ کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر تم یہود سے معاہدہ نہ ہوتا تو میں تجھ اللہ کے دشمن کا سر کاٹ دیتا جاؤ بدنصیبو جھٹلاتے ہی رہو اگر سچے ہو۔ فخصاص نے جا کر اس کی شکایت سرکار محمدی ﷺ میں کی آپ نے صدیق اکبر سے پوچھا کہ اسے کیوں مارا ؟ حضرت صدیق نے واقعہ بیان کیا لیکن فخاص اپنے قول سے مکر گیا کہ میں نے تو ایسا کہا ہی نہیں۔ اس بارے میں یہ آیت اتری۔ پھر اللہ تعالیٰ انہیں اپنے عذاب کلی خبر دیتا ہے کہ ان کا یہ قول اور ساتھ ہی اسی جیسا ان کا بڑا گناہ یعنی قتل انبیاء ہم نے ان کے نامہ اعمال میں لکھ لیا ہے۔ ایک طرف ان کا جناب باری تعالیٰ کی شان میں بےادبی کرنا دوسری جانب نبیوں کو مار ڈالنا ان کاموں کی وجہ انہیں سخت تر سزا ملے گی۔ ان کو ہم کہیں گے کہ جلنے والے عذاب کا ذائقہ چکھو، اور ان سے کہا جائے گا کہ یہ تمہارے پہلے کے کرتوت کا بدلہ ہے یہ کہہ کر انہیں ذلیل و رسوا کن عذاب پر عذاب ہوں گے، یہ سراسر عدل و انصاف ہے اور ظاہر ہے کہ مالک اپنے غلاموں پر ظلم کرنے والا نہیں ہے۔ پھر ان کے اس خیال میں جھوٹا ثابت کیا جا رہا ہے جو یہ کہتے تھے کہ آسمانی کتابیں جو پہلے نازل ہوئیں ان میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ حکم دے رکھا ہے کہ جب تک کوئی رسول ہمیں یہ معجزہ نہ دکھائے کہ اس کی امت میں سے جو شخص قربانی کرے اس کی قربانی کو کھا جانے کے لئے آسمان سے قدرتی آگ آئے اور کھاجائے ان کی اس قول کے جواب میں ارشاد ہوتا ہے کہ پھر اس معجزے والے پیغمبروں کو جو اپنے ساتھ دلائل اور براہین لے کر آئے تھے تم نے کیوں مار ڈالا ؟ انہیں تو اللہ تعالیٰ نے یہ معجزہ بھی دے رکھا تھا کہ ہر ایک قبول شدہ قربانی آسمانی آگ کھا جاتی تھی لیکن تم نے انہیں بھی سچا نہ جانا ان کی بھی مخالفت اور دشمنی کی بلکہ انہیں قتل کر ڈالا، اس سے صاف ظاہر ہے کہ تمہیں تمہاری اپنی بات کا بھی پاس ولحاظ نہیں لہذا تم حق کے ساتھی نہ ہو نہ کسی نبی کے ماننے والے ہو۔ تم یقینا جھوٹے ہو۔ پھر اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کو تسلی دیتا ہے کہ ان کے جھٹلانے سے آپ تنگ دل اور غمناک نہ ہوں اگلے اولوالعزم پیغمبروں کے واقعات کو اپنے لئے باعث تسلی بنائیں کہ وہ بھی باوجود دلیلیں ظاہر کردینے کے اور باوجود اپنی حقانیت کو بخوبی واضح کردینے کے پھر بھی جھٹلائے گئے زبر سے مراد آسمانی کتابیں ہیں جو ان صحیفوں کی طرح آسمان سے آئیں جو رسولوں پر اتاری گئی تھیں اور " منیر " سے مراد واضح جلی اور روشن اور چمکیلی ہے۔
183
View Single
ٱلَّذِينَ قَالُوٓاْ إِنَّ ٱللَّهَ عَهِدَ إِلَيۡنَآ أَلَّا نُؤۡمِنَ لِرَسُولٍ حَتَّىٰ يَأۡتِيَنَا بِقُرۡبَانٖ تَأۡكُلُهُ ٱلنَّارُۗ قُلۡ قَدۡ جَآءَكُمۡ رُسُلٞ مِّن قَبۡلِي بِٱلۡبَيِّنَٰتِ وَبِٱلَّذِي قُلۡتُمۡ فَلِمَ قَتَلۡتُمُوهُمۡ إِن كُنتُمۡ صَٰدِقِينَ
Those who say, “Allah has agreed with us that we should not believe in any Noble Messenger until he comes with the command to offer a sacrifice, which a fire (from heaven) shall devour”; say (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), “Many Noble Messengers did come to you before me, with clear signs and with this command which you state – why did you then martyr them, if you are truthful?”
جو لوگ (یعنی یہود حیلہ جوئی کے طور پر) یہ کہتے ہیں کہ اللہ نے ہمیں یہ حکم بھیجا تھا کہ ہم کسی پیغمبر پر ایمان نہ لائیں جب تک وہ (اپنی رسالت کے ثبوت میں) ایسی قربانی نہ لائے جسے آگ (آکر) کھا جائے، آپ (ان سے) فرما دیں: بیشک مجھ سے پہلے بہت سے رسول واضح نشانیاں لے کر آئے اور اس نشانی کے ساتھ بھی (آئے) جو تم کہہ رہے ہو تو (اس کے باوجود) تم نے انہیں شہید کیوں کیا اگر تم (اتنے ہی) سچے ہو
Tafsir Ibn Kathir
Allah Warns the Idolators
Sa`id bin Jubayr said that Ibn `Abbas said, "When Allah's statement,
مَّن ذَا الَّذِى يُقْرِضُ اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا فَيُضَاعِفَهُ لَهُ أَضْعَافًا كَثِيرَةً
(Who is he that will lend to Allah a goodly loan so that He may multiply it to him many times) 2:245 was revealed, the Jews said, `O Muhammad! Has your Lord become poor so that He asks His servants to give Him a loan' Allah sent down,
لَّقَدْ سَمِعَ اللَّهُ قَوْلَ الَّذِينَ قَالُواْ إِنَّ اللَّهَ فَقِيرٌ وَنَحْنُ أَغْنِيَآءُ
(Indeed, Allah has heard the statement of those (Jews) who say: "Truly, Allah is poor and we are rich!") 3:181."
This Hadith was collected by Ibn Marduwyah and Ibn Abi Hatim.
Allah's statement,
سَنَكْتُبُ مَا قَالُواْ
(We shall record what they have said) contains a threat and a warning that Allah followed with His statement,
وَقَتْلِهِمُ الاٌّنْبِيَآءَ بِغَيْرِ حَقٍّ
(and their killing of the Prophets unjustly,)
This is what they say about Allah and this is how they treat His Messengers. Allah will punish them for these deeds in the worst manner,
لَّقَدْ سَمِعَ اللَّهُ قَوْلَ الَّذِينَ قَالُواْ إِنَّ اللَّهَ فَقِيرٌ وَنَحْنُ أَغْنِيَآءُ سَنَكْتُبُ مَا قَالُواْ وَقَتْلَهُمُ الاٌّنبِيَاءَ بِغَيْرِ حَقٍّ وَنَقُولُ ذُوقُواْ عَذَابَ الْحَرِيقِ - ذلِكَ بِمَا قَدَّمَتْ أَيْدِيكُمْ وَأَنَّ اللَّهَ لَيْسَ بِظَلَّـمٍ لِّلْعَبِيدِ
(and We shall say: "Taste you the torment of the burning (Fire)." This is because of that which your hands have sent before you. And certainly, Allah is never unjust to (His) servants.)
They will be addressed like this as a way of chastising, criticism, disgrace and humiliation.
Allah said,
الَّذِينَ قَالُواْ إِنَّ اللَّهَ عَهِدَ إِلَيْنَا أَلاَّ نُؤْمِنَ لِرَسُولٍ حَتَّى يَأْتِيَنَا بِقُرْبَانٍ تَأْكُلُهُ النَّارُ
(Those (Jews) who said: "Verily, Allah has taken our promise not to believe in any Messenger unless he brings to us an offering which the fire (from heaven) shall devour.")
Allah refuted their claim that in their Books, Allah took a covenant from them to only believe in the Messenger whose miracles include fire coming down from the sky that consumes the charity offered by a member of the Messenger's nation, as Ibn `Abbas and Al-Hasan stated. Allah replied,
قُلْ قَدْ جَآءَكُمْ رُسُلٌ مِّن قَبْلِى بِالْبَيِّنَـتِ
(Say: "Verily, there came to you Messengers before me, with Al-Bayinat...") with proofs and evidence,
وَبِالَّذِى قُلْتُمْ
(and even with what you speak of) a fire that consumes the accepted charity, as you asked,
فَلِمَ قَتَلْتُمُوهُمْ
(why then did you kill them) Why did you meet these Prophets with denial, defiance, stubbornness and even murder,
إِن كُنتُمْ صَـدِقِينَ
(if you are truthful), if you follow the truth and obey the Messengers.
Allah then comforts His Prophet Muhammad ,
فَإِن كَذَّبُوكَ فَقَدْ كُذِّبَ رُسُلٌ مِّن قَبْلِكَ جَآءُوا بِالْبَيِّنَـتِ وَالزُّبُرِ وَالْكِتَـبِ الْمُنِيرِ
(Then if they reject you, so were Messengers rejected before you, who came with Al-Baiyyinat and the Scripture, and the Book of Enlightenment.) meaning, do not be sad because they deny you, for you have an example in the Messengers who came before you. These Messengers were rejected although they brought clear proofs, plain evidence and unequivocal signs,
وَالزُّبُرِ
(and the Zubur), the divinely revealed Books that were sent down to the Messengers,
وَالْكِتَـبِ الْمُنِيرِ
(and the Book of Enlightenment) meaning the clarification and best explanation.
کافروں کا قرض حسنہ پر احمقانہ تبصرہ اور ان کی ہٹ دھرمی پہ مجوزہ سزا حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت اتری کہ کون ہے جو اللہ کو قرض حسنہ دے اور وہ اسے زیادہ در زیادہ کر کے دے تو یہود کہنے لگے کہ اے نبی تمہارا رب فقیر ہوگیا ہے اور اپنے بندوں سے قرض مانگ رہا ہے اس پر یہ آیت (لَقَدْ سَمِعَ اللّٰهُ قَوْلَ الَّذِيْنَ قَالُوْٓا اِنَّ اللّٰهَ فَقِيْرٌ وَّنَحْنُ اَغْنِيَاۗءُ) 3۔ آل عمران :181) نازل ہوئی۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ یہودیوں کے مدرسے میں گئے یہاں کا بڑا معلم فخاص تھا اور اس کے ماتحت ایک بہت بڑا عالم اشیع تھا لوگوں کا مجمع تھا اور وہ ان سے مذہبی باتیں سن رہے تھے آپ نے فرمایا فخاص اللہ سے ڈر اور مسلمان ہوجا اللہ کی قسم تجھے خوب معلوم ہے کہ آنحضرت ﷺ اللہ تعالیٰ کے سچے رسول ہیں وہ اس کے پاس سے حق لے کر آئے ہیں ان کی صفتیں توراۃ و انجیل میں تمہارے ہاتھوں میں موجود ہیں تو فخاص نے جواب میں کہا ابوبکر سن اللہ کی قسم اللہ ہمارا محتاج ہے ہم اس کے محتاج نہیں اس کی طرف اس طرح نہیں گڑگڑاتے جیسے وہ ہماری جانب عاجزی کرتا ہے بلکہ ہم تو اس سے بےپرواہ ہیں ہم غنی اور تونگر ہیں اگر وہ غنی ہوتا تو ہم سے قرض طلب نہ کرتا جیسے کہ تمہارا پیغمبر ﷺ کہہ رہا ہے ہمیں تو سود سے روکتا ہے اور خود سود دیتا ہے اگر غنی ہوتا تو ہمیں سود کیوں دیتا، اس پر حضرت صدیق اکبر کو سخت غصہ آیا اور فخاص کے منہ پر زور سے مارا اور فرمایا اللہ کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر تم یہود سے معاہدہ نہ ہوتا تو میں تجھ اللہ کے دشمن کا سر کاٹ دیتا جاؤ بدنصیبو جھٹلاتے ہی رہو اگر سچے ہو۔ فخصاص نے جا کر اس کی شکایت سرکار محمدی ﷺ میں کی آپ نے صدیق اکبر سے پوچھا کہ اسے کیوں مارا ؟ حضرت صدیق نے واقعہ بیان کیا لیکن فخاص اپنے قول سے مکر گیا کہ میں نے تو ایسا کہا ہی نہیں۔ اس بارے میں یہ آیت اتری۔ پھر اللہ تعالیٰ انہیں اپنے عذاب کلی خبر دیتا ہے کہ ان کا یہ قول اور ساتھ ہی اسی جیسا ان کا بڑا گناہ یعنی قتل انبیاء ہم نے ان کے نامہ اعمال میں لکھ لیا ہے۔ ایک طرف ان کا جناب باری تعالیٰ کی شان میں بےادبی کرنا دوسری جانب نبیوں کو مار ڈالنا ان کاموں کی وجہ انہیں سخت تر سزا ملے گی۔ ان کو ہم کہیں گے کہ جلنے والے عذاب کا ذائقہ چکھو، اور ان سے کہا جائے گا کہ یہ تمہارے پہلے کے کرتوت کا بدلہ ہے یہ کہہ کر انہیں ذلیل و رسوا کن عذاب پر عذاب ہوں گے، یہ سراسر عدل و انصاف ہے اور ظاہر ہے کہ مالک اپنے غلاموں پر ظلم کرنے والا نہیں ہے۔ پھر ان کے اس خیال میں جھوٹا ثابت کیا جا رہا ہے جو یہ کہتے تھے کہ آسمانی کتابیں جو پہلے نازل ہوئیں ان میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ حکم دے رکھا ہے کہ جب تک کوئی رسول ہمیں یہ معجزہ نہ دکھائے کہ اس کی امت میں سے جو شخص قربانی کرے اس کی قربانی کو کھا جانے کے لئے آسمان سے قدرتی آگ آئے اور کھاجائے ان کی اس قول کے جواب میں ارشاد ہوتا ہے کہ پھر اس معجزے والے پیغمبروں کو جو اپنے ساتھ دلائل اور براہین لے کر آئے تھے تم نے کیوں مار ڈالا ؟ انہیں تو اللہ تعالیٰ نے یہ معجزہ بھی دے رکھا تھا کہ ہر ایک قبول شدہ قربانی آسمانی آگ کھا جاتی تھی لیکن تم نے انہیں بھی سچا نہ جانا ان کی بھی مخالفت اور دشمنی کی بلکہ انہیں قتل کر ڈالا، اس سے صاف ظاہر ہے کہ تمہیں تمہاری اپنی بات کا بھی پاس ولحاظ نہیں لہذا تم حق کے ساتھی نہ ہو نہ کسی نبی کے ماننے والے ہو۔ تم یقینا جھوٹے ہو۔ پھر اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کو تسلی دیتا ہے کہ ان کے جھٹلانے سے آپ تنگ دل اور غمناک نہ ہوں اگلے اولوالعزم پیغمبروں کے واقعات کو اپنے لئے باعث تسلی بنائیں کہ وہ بھی باوجود دلیلیں ظاہر کردینے کے اور باوجود اپنی حقانیت کو بخوبی واضح کردینے کے پھر بھی جھٹلائے گئے زبر سے مراد آسمانی کتابیں ہیں جو ان صحیفوں کی طرح آسمان سے آئیں جو رسولوں پر اتاری گئی تھیں اور " منیر " سے مراد واضح جلی اور روشن اور چمکیلی ہے۔
184
View Single
فَإِن كَذَّبُوكَ فَقَدۡ كُذِّبَ رُسُلٞ مِّن قَبۡلِكَ جَآءُو بِٱلۡبَيِّنَٰتِ وَٱلزُّبُرِ وَٱلۡكِتَٰبِ ٱلۡمُنِيرِ
So O dear Prophet (Mohammed – peace and blessings be upon him) if they are denying you, Noble Messengers who came before you had also been denied, who had come with clear signs and Scriptures and the clear Book.
پھر بھی اگر آپ کو جھٹلائیں تو (محبوب آپ رنجیدہ خاطر نہ ہوں) آپ سے پہلے بھی بہت سے رسولوں کو جھٹلایا گیا جو واضح نشانیاں (یعنی معجزات) اور صحیفے اور روشن کتاب لے کر آئے تھے
Tafsir Ibn Kathir
Allah Warns the Idolators
Sa`id bin Jubayr said that Ibn `Abbas said, "When Allah's statement,
مَّن ذَا الَّذِى يُقْرِضُ اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا فَيُضَاعِفَهُ لَهُ أَضْعَافًا كَثِيرَةً
(Who is he that will lend to Allah a goodly loan so that He may multiply it to him many times) 2:245 was revealed, the Jews said, `O Muhammad! Has your Lord become poor so that He asks His servants to give Him a loan' Allah sent down,
لَّقَدْ سَمِعَ اللَّهُ قَوْلَ الَّذِينَ قَالُواْ إِنَّ اللَّهَ فَقِيرٌ وَنَحْنُ أَغْنِيَآءُ
(Indeed, Allah has heard the statement of those (Jews) who say: "Truly, Allah is poor and we are rich!") 3:181."
This Hadith was collected by Ibn Marduwyah and Ibn Abi Hatim.
Allah's statement,
سَنَكْتُبُ مَا قَالُواْ
(We shall record what they have said) contains a threat and a warning that Allah followed with His statement,
وَقَتْلِهِمُ الاٌّنْبِيَآءَ بِغَيْرِ حَقٍّ
(and their killing of the Prophets unjustly,)
This is what they say about Allah and this is how they treat His Messengers. Allah will punish them for these deeds in the worst manner,
لَّقَدْ سَمِعَ اللَّهُ قَوْلَ الَّذِينَ قَالُواْ إِنَّ اللَّهَ فَقِيرٌ وَنَحْنُ أَغْنِيَآءُ سَنَكْتُبُ مَا قَالُواْ وَقَتْلَهُمُ الاٌّنبِيَاءَ بِغَيْرِ حَقٍّ وَنَقُولُ ذُوقُواْ عَذَابَ الْحَرِيقِ - ذلِكَ بِمَا قَدَّمَتْ أَيْدِيكُمْ وَأَنَّ اللَّهَ لَيْسَ بِظَلَّـمٍ لِّلْعَبِيدِ
(and We shall say: "Taste you the torment of the burning (Fire)." This is because of that which your hands have sent before you. And certainly, Allah is never unjust to (His) servants.)
They will be addressed like this as a way of chastising, criticism, disgrace and humiliation.
Allah said,
الَّذِينَ قَالُواْ إِنَّ اللَّهَ عَهِدَ إِلَيْنَا أَلاَّ نُؤْمِنَ لِرَسُولٍ حَتَّى يَأْتِيَنَا بِقُرْبَانٍ تَأْكُلُهُ النَّارُ
(Those (Jews) who said: "Verily, Allah has taken our promise not to believe in any Messenger unless he brings to us an offering which the fire (from heaven) shall devour.")
Allah refuted their claim that in their Books, Allah took a covenant from them to only believe in the Messenger whose miracles include fire coming down from the sky that consumes the charity offered by a member of the Messenger's nation, as Ibn `Abbas and Al-Hasan stated. Allah replied,
قُلْ قَدْ جَآءَكُمْ رُسُلٌ مِّن قَبْلِى بِالْبَيِّنَـتِ
(Say: "Verily, there came to you Messengers before me, with Al-Bayinat...") with proofs and evidence,
وَبِالَّذِى قُلْتُمْ
(and even with what you speak of) a fire that consumes the accepted charity, as you asked,
فَلِمَ قَتَلْتُمُوهُمْ
(why then did you kill them) Why did you meet these Prophets with denial, defiance, stubbornness and even murder,
إِن كُنتُمْ صَـدِقِينَ
(if you are truthful), if you follow the truth and obey the Messengers.
Allah then comforts His Prophet Muhammad ,
فَإِن كَذَّبُوكَ فَقَدْ كُذِّبَ رُسُلٌ مِّن قَبْلِكَ جَآءُوا بِالْبَيِّنَـتِ وَالزُّبُرِ وَالْكِتَـبِ الْمُنِيرِ
(Then if they reject you, so were Messengers rejected before you, who came with Al-Baiyyinat and the Scripture, and the Book of Enlightenment.) meaning, do not be sad because they deny you, for you have an example in the Messengers who came before you. These Messengers were rejected although they brought clear proofs, plain evidence and unequivocal signs,
وَالزُّبُرِ
(and the Zubur), the divinely revealed Books that were sent down to the Messengers,
وَالْكِتَـبِ الْمُنِيرِ
(and the Book of Enlightenment) meaning the clarification and best explanation.
کافروں کا قرض حسنہ پر احمقانہ تبصرہ اور ان کی ہٹ دھرمی پہ مجوزہ سزا حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت اتری کہ کون ہے جو اللہ کو قرض حسنہ دے اور وہ اسے زیادہ در زیادہ کر کے دے تو یہود کہنے لگے کہ اے نبی تمہارا رب فقیر ہوگیا ہے اور اپنے بندوں سے قرض مانگ رہا ہے اس پر یہ آیت (لَقَدْ سَمِعَ اللّٰهُ قَوْلَ الَّذِيْنَ قَالُوْٓا اِنَّ اللّٰهَ فَقِيْرٌ وَّنَحْنُ اَغْنِيَاۗءُ) 3۔ آل عمران :181) نازل ہوئی۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ یہودیوں کے مدرسے میں گئے یہاں کا بڑا معلم فخاص تھا اور اس کے ماتحت ایک بہت بڑا عالم اشیع تھا لوگوں کا مجمع تھا اور وہ ان سے مذہبی باتیں سن رہے تھے آپ نے فرمایا فخاص اللہ سے ڈر اور مسلمان ہوجا اللہ کی قسم تجھے خوب معلوم ہے کہ آنحضرت ﷺ اللہ تعالیٰ کے سچے رسول ہیں وہ اس کے پاس سے حق لے کر آئے ہیں ان کی صفتیں توراۃ و انجیل میں تمہارے ہاتھوں میں موجود ہیں تو فخاص نے جواب میں کہا ابوبکر سن اللہ کی قسم اللہ ہمارا محتاج ہے ہم اس کے محتاج نہیں اس کی طرف اس طرح نہیں گڑگڑاتے جیسے وہ ہماری جانب عاجزی کرتا ہے بلکہ ہم تو اس سے بےپرواہ ہیں ہم غنی اور تونگر ہیں اگر وہ غنی ہوتا تو ہم سے قرض طلب نہ کرتا جیسے کہ تمہارا پیغمبر ﷺ کہہ رہا ہے ہمیں تو سود سے روکتا ہے اور خود سود دیتا ہے اگر غنی ہوتا تو ہمیں سود کیوں دیتا، اس پر حضرت صدیق اکبر کو سخت غصہ آیا اور فخاص کے منہ پر زور سے مارا اور فرمایا اللہ کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر تم یہود سے معاہدہ نہ ہوتا تو میں تجھ اللہ کے دشمن کا سر کاٹ دیتا جاؤ بدنصیبو جھٹلاتے ہی رہو اگر سچے ہو۔ فخصاص نے جا کر اس کی شکایت سرکار محمدی ﷺ میں کی آپ نے صدیق اکبر سے پوچھا کہ اسے کیوں مارا ؟ حضرت صدیق نے واقعہ بیان کیا لیکن فخاص اپنے قول سے مکر گیا کہ میں نے تو ایسا کہا ہی نہیں۔ اس بارے میں یہ آیت اتری۔ پھر اللہ تعالیٰ انہیں اپنے عذاب کلی خبر دیتا ہے کہ ان کا یہ قول اور ساتھ ہی اسی جیسا ان کا بڑا گناہ یعنی قتل انبیاء ہم نے ان کے نامہ اعمال میں لکھ لیا ہے۔ ایک طرف ان کا جناب باری تعالیٰ کی شان میں بےادبی کرنا دوسری جانب نبیوں کو مار ڈالنا ان کاموں کی وجہ انہیں سخت تر سزا ملے گی۔ ان کو ہم کہیں گے کہ جلنے والے عذاب کا ذائقہ چکھو، اور ان سے کہا جائے گا کہ یہ تمہارے پہلے کے کرتوت کا بدلہ ہے یہ کہہ کر انہیں ذلیل و رسوا کن عذاب پر عذاب ہوں گے، یہ سراسر عدل و انصاف ہے اور ظاہر ہے کہ مالک اپنے غلاموں پر ظلم کرنے والا نہیں ہے۔ پھر ان کے اس خیال میں جھوٹا ثابت کیا جا رہا ہے جو یہ کہتے تھے کہ آسمانی کتابیں جو پہلے نازل ہوئیں ان میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ حکم دے رکھا ہے کہ جب تک کوئی رسول ہمیں یہ معجزہ نہ دکھائے کہ اس کی امت میں سے جو شخص قربانی کرے اس کی قربانی کو کھا جانے کے لئے آسمان سے قدرتی آگ آئے اور کھاجائے ان کی اس قول کے جواب میں ارشاد ہوتا ہے کہ پھر اس معجزے والے پیغمبروں کو جو اپنے ساتھ دلائل اور براہین لے کر آئے تھے تم نے کیوں مار ڈالا ؟ انہیں تو اللہ تعالیٰ نے یہ معجزہ بھی دے رکھا تھا کہ ہر ایک قبول شدہ قربانی آسمانی آگ کھا جاتی تھی لیکن تم نے انہیں بھی سچا نہ جانا ان کی بھی مخالفت اور دشمنی کی بلکہ انہیں قتل کر ڈالا، اس سے صاف ظاہر ہے کہ تمہیں تمہاری اپنی بات کا بھی پاس ولحاظ نہیں لہذا تم حق کے ساتھی نہ ہو نہ کسی نبی کے ماننے والے ہو۔ تم یقینا جھوٹے ہو۔ پھر اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کو تسلی دیتا ہے کہ ان کے جھٹلانے سے آپ تنگ دل اور غمناک نہ ہوں اگلے اولوالعزم پیغمبروں کے واقعات کو اپنے لئے باعث تسلی بنائیں کہ وہ بھی باوجود دلیلیں ظاہر کردینے کے اور باوجود اپنی حقانیت کو بخوبی واضح کردینے کے پھر بھی جھٹلائے گئے زبر سے مراد آسمانی کتابیں ہیں جو ان صحیفوں کی طرح آسمان سے آئیں جو رسولوں پر اتاری گئی تھیں اور " منیر " سے مراد واضح جلی اور روشن اور چمکیلی ہے۔
185
View Single
كُلُّ نَفۡسٖ ذَآئِقَةُ ٱلۡمَوۡتِۗ وَإِنَّمَا تُوَفَّوۡنَ أُجُورَكُمۡ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِۖ فَمَن زُحۡزِحَ عَنِ ٱلنَّارِ وَأُدۡخِلَ ٱلۡجَنَّةَ فَقَدۡ فَازَۗ وَمَا ٱلۡحَيَوٰةُ ٱلدُّنۡيَآ إِلَّا مَتَٰعُ ٱلۡغُرُورِ
Every soul must taste death; and only on the Day of Resurrection will you be fully recompensed; so the one who is saved from the fire and is admitted into Paradise – he is undoubtedly successful; and the life of this world is just counterfeit wealth.
ہر جان موت کا مزہ چکھنے والی ہے، اور تمہارے اجر پورے کے پورے تو قیامت کے دن ہی دئیے جائیں گے، پس جو کوئی دوزخ سے بچا لیا گیا اور جنت میں داخل کیا گیا وہ واقعۃً کامیاب ہو گیا، اور دنیا کی زندگی دھوکے کے مال کے سوا کچھ بھی نہیں
Tafsir Ibn Kathir
Every Soul Shall Taste Death
Allah issues a general and encompassing statement that every living soul shall taste death. In another statement, Allah said,
كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ - وَيَبْقَى وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلْـلِ وَالإِكْرَامِ
(Whatsoever is on it (the earth) will perish. And the Face of your Lord full of majesty and honor will remain forever) 55:26,27.
Therefore, Allah Alone is the Ever-Living Who never dies, while the Jinn, mankind and angels, including those who carry Allah's Throne, shall die. The Irresistible One and Only, will alone remain for ever and ever, remaining Last, as He was the First. This Ayah comforts all creation, since every soul that exists on the earth shall die. When the term of this life comes to an end and the sons of Adam no longer have any new generations, and thus this world ends, Allah will command that the Day of Resurrection commence. Allah will then recompense the creation for their deeds, whether minor or major, many or few, big or small. Surely, Allah will not deal unjustly with anyone, even the weight of an atom, and this is why He said,
وَإِنَّمَا تُوَفَّوْنَ أُجُورَكُمْ يَوْمَ الْقِيَـمَةِ
(185. And only on the Day of Resurrection shall you be paid your wages in full)
Who Shall Gain Ultimate Victory
Allah said,
فَمَن زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَأُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ
(And whoever is moved away from the Fire and admitted to Paradise, he indeed is successful.) meaning, whoever is kept away from the Fire, saved from it and entered into Paradise, will have achieved the ultimate success.
Ibn Abi Hatim recorded that Abu Hurayrah said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«مَوْضِعُ سَوْطٍ فِي الْجَنَّةِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا، اقْرَأُوا إِنْ شِئْتُمْ »
(A place in Paradise as small as that which is occupied by a whip is better than the world and whatever is on its surface. Read if you will),
فَمَن زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَأُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ
(And whoever is removed away from the Fire and admitted to Paradise, he indeed is successful). This was collected in the Two Sahihs, but using another chain of narration and without the addition (the Ayah.) Abu Hatim Ibn Hibban recorded it in his Sahih without the addition as did Al-Hakim in his Mustadrak.
Allah said,
وَما الْحَيَوةُ الدُّنْيَا إِلاَّ مَتَـعُ الْغُرُورِ
(The life of this world is only the enjoyment of deception. ) belittling the value of this life and degrading its importance. This life is short, little and finite, just as Allah said,
بَلْ تُؤْثِرُونَ الْحَيَوةَ الدُّنْيَا - وَالاٌّخِرَةُ خَيْرٌ وَأَبْقَى
(Nay, you prefer the life of this world. Although the Hereafter is better and more lasting.) 87:16,17, and,
وَمَآ أُوتِيتُم مِّن شَىْءٍ فَمَتَـعُ الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَزِينَتُهَا وَمَا عِندَ اللَّهِ خَيْرٌ وَأَبْقَى
(And whatever you have been given is an enjoyment of the life of (this) world and its adornment, and that (Hereafter) which is with Allah is better and will remain forever) 28:60. A Hadith states,
«وَاللهِ مَا الدُّنْيَا فِي الْآخِرَةِ إِلَّا كَمَا يَغْمِسُ أَحَدُكُمْ أُصْبُعَهُ فِي الْيَمِّ، فَلْيَنْظُرْ بِمَ تَرْجِعُ إِلَيْه»
(By Allah! This life, compared to the Hereafter, is just as insignificant as when one of you dips his finger in the sea; let him contemplate what his finger will come back with.)
Qatadah commented on Allah's statement,
وَما الْحَيَوةُ الدُّنْيَا إِلاَّ مَتَـعُ الْغُرُورِ
(The life of this world is only the enjoyment of deception.) "Life is a delight. By Allah, other than Whom there is no deity, it will soon fade away from its people. Therefore, take obedience to Allah from this delight, if you can. Verily, there is no power except from Allah."
The Believer is Tested and Hears Grieving Statements from the Enemy
Allah said,
لَتُبْلَوُنَّ فِى أَمْوَلِكُمْ وَأَنفُسِكُمْ
(You shall certainly be tried and tested in your wealth and properties and in yourselves), just as He said in another Ayah,
وَلَنَبْلُوَنَّكُم بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوفْ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الاٌّمَوَالِ وَالاٌّنفُسِ وَالثَّمَرَتِ
(And certainly, We shall test you with something of fear, hunger, loss of wealth, lives and fruits) 2:155.
Therefore, the believer shall be tested, in his wealth, himself, his offspring and family. The believer shall be tested according to the degree of his faith, and when his faith is stronger, the test is larger.
Allah said to the believers upon their arrival at Al-Madinah, before Badr, while comforting them against the harm they suffered from the People of the Scriptures and the polytheists;
وَإِن تَصْبِرُواْ وَتَتَّقُواْ فَإِنَّ ذلِكَ مِنْ عَزْمِ الاٍّمُورِ
(but if you persevere patiently, and have Taqwa, then verily, that will be a determining factor in all affairs.)
Therefore, Allah commanded the believers to be forgiving, patient and forbearing until He brought His awaited aid.
Al-Bukhari recorded that Usamah bin Zayd said that Allah's Messenger ﷺ rode a donkey with a saddle covered by a velvet sheet and let Usamah ride behind him (on the donkey). The Prophet wanted to visit Sa`d bin `Ubadah in Bani Al-Harith bin Al-Khazraj, and this occurred before the battle of Badr. The Prophet passed by a gathering in which `Abdullah bin Ubayy bin Salul was sitting, before `Abdullah bin Ubayy became Muslim. That gathering was made up of various Muslims as well as Mushriks, who worshipped the idols, and some Jews. `Abdullah bin Rawahah was sitting in that gathering. When the Prophet reached `Abdullah bin Ubayy, the donkey caused some sand to fall on the group. Then, `Abdullah bin Ubayy covered his nose with his robe and said, `Do not fill us with sand.' The Messenger of Allah ﷺ greeted the gathering with Salam, called them to Allah and recited some of the Qur'an to them. `Abdullah bin Ubayy said, `O fellow! No other speech is better than what you said, if it was true! However, do not bother us in our gatherings. Go back to your place and whoever came to you, narrate your stories to him.' `Abdullah bin Rawahah said, `Rather, O Messenger of Allah! Attend our gatherings for we like that.' The Muslims, Mushriks and Jews then cursed each other, and they almost fought with each other. The Prophet tried to calm them down, until they finally settled. The Prophet rode his donkey and went to Sa`d bin `Ubadah, saying, `O Sa`d! Have you heard what Abu Hubbab said (meaning `Abdullah bin Ubayy) He said such and such things. ' Sa`d said, `O Messenger of Allah! Forgive and pardon him. By Allah, Who sent down the Book to you, Allah brought us the truth that you came with at a time when the people of this city almost appointed him king. When Allah changed all that with the truth that He gave you, he choked on it, and this is the reason behind the behavior you saw from him.' The Messenger of Allah ﷺ forgave him. Indeed, the Messenger of Allah ﷺ and his Companions used to forgive the Mushriks and the People of the Scriptures, just as Allah commanded them, and they used to tolerate the harm that they suffered. Allah said,
وَلَتَسْمَعُنَّ مِنَ الَّذِينَ أُوتُواْ الْكِتَـبَ مِن قَبْلِكُمْ وَمِنَ الَّذِينَ أَشْرَكُواْ أَذًى كَثِيراً
(and you shall certainly hear much that will grieve you from those who received the Scripture before you (Jews and Christians) and from those who ascribe partners to Allah;) 3:186, and,
وَدَّ كَثِيرٌ مِّنْ أَهْلِ الْكِتَـبِ لَوْ يَرُدُّونَكُم مِن بَعْدِ إِيمَـنِكُمْ كُفَّارًا حَسَدًا مِّنْ عِنْدِ أَنْفُسِهِمْ مِّن بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمُ الْحَقُّ فَاعْفُواْ وَاصْفَحُواْ حَتَّى يَأْتِىَ اللَّهُ بِأَمْرِهِ
(Many of the People of the Scripture (Jews and Christians) wish that they could turn you away as disbelievers after you have believed, out of envy from their own selves, even after the truth has become manifest unto them. But forgive and overlook, till Allah brings His command) 2:109.
The Prophet used to implement the pardon that Allah commanded him until He gave His command (to fight the disbelievers). When the Messenger fought at Badr, and Allah killed, by his hand, the leaders of the disbelievers from Quraysh, `Abdullah bin Ubayy bin Salul and the Mushriks and idol worshippers who were with him said, `This matter has prevailed,' and they gave their pledge to the Prophet and became Muslims."
Therefore, every person who stands for truth, enjoins righteousness and forbids evil, will be harmed in some manner. In such cases, there is no cure better than being patient in Allah's cause, trusting in Him and returning to Him.
وَإِذْ أَخَذَ اللَّهُ مِيثَـقَ الَّذِينَ أُوتُواْ الْكِتَـبَ لَتُبَيِّنُنَّهُ لِلنَّاسِ وَلاَ تَكْتُمُونَهُ فَنَبَذُوهُ وَرَآءَ ظُهُورِهِمْ وَاشْتَرَوْاْ بِهِ ثَمَناً قَلِيلاً فَبِئْسَ مَا يَشْتَرُونَ
موت وحیات اور یوم حساب تمام مخلوق کو عام اطلاع ہے کہ ہر جاندار مرنے والا ہے جیسے فرمایا آیت (كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ 26ښ وَّيَبْقٰى وَجْهُ رَبِّكَ ذو الْجَلٰلِ وَالْاِكْرَامِ 27ۚ) 55۔ الرحمن :2627) یعنی اس زمین پر جتنے ہیں سب فانی ہیں صرف رب کا چہرہ باقی ہے جو بزرگی اور انعام والا ہے، پس صرف وہی اللہ وحدہ لا شریک ہمیشہ کی زندگی والا ہے جو کبھی فنا نہ ہوگا، جن انسان کل کے کل مرنے والے ہیں اسی طرح فرشتے اور حاملان عرش بھی مرجائیں گے اور صرف اللہ وحدہ لا شریک دوام اور بقاء والا باقی رہ جائے گا پہلے بھی وہی تھا اور آخر بھی وہی رہے گا، جب سب مرجائیں گے مدت ختم ہوجائے گی صلب آدم سے جتنی اولاد ہونے والی تھی ہوچکی اور پھر سب موت کے گھاٹ اتر گئے مخلوقات کا خاتمہ ہوگیا اس وقت اللہ تعالیٰ قیامت قائم کرے گا اور مخلوق کو ان کے کل اعمال کے چوٹے بڑے چھپے کھلے صغیرہ کبیرہ سب کی جزا سزا ملے گی کسی پر ذرہ برابر ظلم نہ ہوگا یہی اس کے بعد کے جملہ میں فرمایا جا رہا ہے، حضرت علی ؓ فرماتے ہیں حضور ﷺ کے انتقال کے بعد ہمیں ایسا محسوس ہوا کہ گویا کوئی آرہا ہے ہمیں پاؤں کی چاپ سنائی دیتی تھی لیکن کوئی شخص دکھائی نہیں دیتا تھا اس نے آکر کہا اے اہل بیت تم پر سلام ہو اور اللہ کی رحمت و برکت، ہر جان موت کا مزہ چکھنے والی ہے تم سب کو تمہارے اعمال کا بدلہ پورا پورا قیامت کے دن دیا جائے گا۔ ہر مصیبت کی تلافی اللہ کے پاس ہے، ہر مرنے والے کا بدلہ ہے اور ہر فوت ہونے والے کا اپنی گم شدہ چیز کو پالینا ہے اللہ ہی پر بھروسہ رکھو اسی سے بھلی امیدیں رکھو سمجھ لو کہ سچ مچ مصیبت زدہ وہ شخص جو ثواب سے محروم رہ جائے تم پر اللہ کی طرف سے سلامتی نازل ہو اور اس کی رحمتیں اور برکتیں (ابن ابی حاتم) حضرت علی کا خیال ہے کہ یہ خضر ؑ تھے حقیقت یہ ہے کہ پورا کامیاب وہ انسان ہے جو جہنم سے نجات پالے اور جنت میں چلا جائے،حضور ﷺ فرماتے ہیں جنت میں ایک کوڑے جتنی جگہ مل جانا دنیا وما فیہا سے بہتر ہے اگر تم چاہو تو پڑھو آیت (فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَاُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ) 3۔ آل عمران :185) آخری ٹکڑے کے بغیر یہ حدیث بخاری و مسلم وغیرہ میں بھی ہے اور کچھ زیادہ الفاظ کے ساتھ ابن ابی حاتم میں ہے اور ابن مردویہ میں بھی رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے جس کی خواہش آگ سے بچ جانے اور جنت میں داخل ہوجانے کی ہو اسے چاہئے کہ مرتے دم تک اللہ پر اور قیامت پر ایمان رکھے اور لوگوں سے وہ سلوک کرے جسے خود اپنے پسند کرتا ہو، یہ حدیث پہلے آیت (وَلَا تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَاَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ) 3۔ آل عمران :102) کی تفسیر میں گذر چکی ہے، مسند احمد میں بھی اور وکیع بن جراح کی تفسیر میں بھی یہی حدیث ہے۔ اس کے بعد دنیا کی حقارت اور ذلت بیان ہو رہی ہے کہ یہ نہایت ذلیل فانی اور زوال پذیر چیز ہے ارشاد ہے آیت (بَلْ تُـؤْثِرُوْنَ الْحَيٰوةَ الدُّنْيَا 16ڮ وَالْاٰخِرَةُ خَيْرٌ وَّاَبْقٰى 17ۭ) 87۔ الاعلیٰ :16) یعنی تم تو دنیا کی زندگی پر ریجھے جاتے ہو حالانکہ دراصل بہتری اور بقاء والی چیز آخرت ہے، دوسری آیت میں ہے تمہیں جو کچھ دیا گیا ہے یہ تو حیات دنیا کا فائدہ ہے اور اس کی بہترین زینت اور باقی رہنے والی تو وہ زندگی ہے جو اللہ کے پاس ہے، حدیث شریف میں ہے اللہ کی قسم دنیا آخرت کے مقابلہ میں صرف ایسی ہی ہے جیسے کوئی شخص اپنی انگلی سمندر میں ڈبو لے اس انگلی کے پانی کو سمندر کے پانی کے مقابلہ میں کیا نسبت ہے آخرت کے مقابلہ میں دنیا ایسی ہی ہے، حضرت قتادہ کا ارشاد ہے دنیا کیا ہے ایک یونہی دھوکے کی جگہ ہے جسے چھوڑ چھاڑ کر تمہیں چل دینا ہے اس اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں کہ یہ تو عنقریب تم سے جدا ہونے والی اور برباد ہونے والی چیز ہے پس تمہیں چاہئے کہ ہوش مندی برتو اور یہاں اللہ کی اطاعت کرلو اور طاقت بھر نیکیاں کما لو اللہ کی دی ہوئی طاقت کے بغیر کوئی کام نہیں بنتا۔ آزمائش لازمی ہے صبرو ضبط بھی ضروری پھر انسانی آزمائش کا ذکر ہو رہا ہے جیسے ارشاد ہے آیت (وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوْعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَالْاَنْفُسِ وَالثَّمَرٰتِ ۭ وَبَشِّرِ الصّٰبِرِيْنَ) 2۔ البقرۃ :155) مطلب یہ ہے کہ مومن کا امتحان ضرور ہوتا ہے کبھی جانی کبھی مالی کبھی اہل و عیال میں کبھی اور کسی طرح یہ آزمائش دینداری کے انداز کے مطابق ہوتی ہے، سخت دیندار کی ابتلاء بھی سخت اور کمزور دین والے کا امتحان بھی کمزور، پھر پروردگار جل شانہ صحابہ کرام کو خبر دیتا ہے کہ بدر سے پہلے مدینہ میں تمہیں اہل کتاب سے اور مشرکوں سے دکھ دینے والی باتیں اور سرزنش سننی پڑے گی، پھر تسلی دیتا ہوا طریقہ سکھاتا ہے کہ تم صبرو ضبط کرلیا کرو اور پرہیزگاری پر تو یہ بڑا بھاری کام ہے، حضرت اسامہ بن زید فرماتے ہیں نبی ﷺ اور آپ کے اصحاب مشرکین سے اور اہل کتاب سے بہت کچھ درگذر فرمایا کرتے تھے اور ان کی ایذاؤں کو برداشت کرلیا کرتے تھے اور رب کریم کے اس فرمان پر عامل تھے یہاں تک کہ جہاد کی آیتیں اتریں، صحیح بخاری شریف میں اس آیت کی تفسیر کے موقعہ پر ہے کہ آنحضرت ﷺ اپنے گدھے پر سوار ہو کر حضرت اسامہ کو اپنے بھتیجے بٹھا کر حضرت سعد بن عباد کی عیادت کے لئے بنو حارث بن خزرج کے قبیلے میں تشریف لے چلے یہ واقعہ جنگ بدر سے پہلے کا ہے راستہ میں ایک مخلوط مجلس بیٹھی ہوئی ملی جس میں مسلمان بھی تھے یہودی بھی تھی۔ مشرکین بھی تھے اور عبداللہ بن ابی بن سلول بھی تھا یہ بھی اب تک کفر کے کھلے رنگ میں تھا مسلمانوں میں حضرت عبداللہ بن رواحہ ؓ بھی تھے، حضور ﷺ کی سواری سے گردوغبار جو اڑا تو عبداللہ بن ابی سلول نے ناک پر کپڑا رکھ لیا اور کہنے لگا غبار نہ اڑاؤ حضور ﷺ پاس پہنچ ہی چکے تھے سواری سے اتر آئے سلام کیا اور انہیں اسلام کی دعوت دی اور قرآن کی چند آیتیں سنائیں تو عبداللہ بول پڑا سنئے صاحب آپ کا یہ طریقہ ہمیں پسند نہیں آپ کی باتیں حق ہی سہی لیکن اس کی کیا وجہ کہ آپ ہماری مجلسوں میں آ کر ہمیں ایذاء دیں اپنے گھر جائیے جو آپ کے پاس آئے اسے سنائیے۔ یہ سن کر حضرت عبداللہ بن رواحہ ؓ نے فرمایا حضور ﷺ بیشک آپ ہماری مجلسوں میں تشریف لایا کریں ہمیں تو اس کی عین چاہت ہے اب ان کی آپس میں خوب جھڑپ ہوئی ایک دوسرے کو برا بھلا کہنے لگا اور قریب تھا کہ کھڑے ہو کر لڑنے لگیں لیکن حضور ﷺ کے سمجھانے بجھانے سے آخر امن وامان ہوگیا اور سب خاموش ہوگئے۔ آپ اپنی سواری پر سوار ہو کر حضرت سعد کے ہاں تشریف لے گئے اور وہاں جا کر حضرت سعد سے فرمایا کہ ابو حباب عبداللہ بن ابی سلول نے آج تو اس طرح کیا حضرت سعد نے کہا یا رسول اللہ ﷺ آپ جانے دیجئے معاف کیجئے اور درگذر کیجئے قسم اللہ کی جس نے آپ پر قرآن اتارا اسے آپ سے اس لئے بیحد دشمنی ہے اور ہونی چاہئے کہ یہاں کے لوگوں نے اسے سردار بنانا چاہا تھا اسے چودراہٹ کی پگڑی بندھوانے کا فیصلہ ہوچکا تھا ادھر اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنا نبی برحق بنا کر بھیجا لوگوں نے آپ کو نبی مانا اس کی سرداری جاتی رہی جس کا اسے رنج ہے اسی باعث یہ اپنے جلے دل کے پھپولے پھوڑ رہا ہے جو کہہ دیا کہہ دیا آپ اسے اہمیت نہ دیں چناچہ حضور ﷺ نے درذگر کرلیا اور یہی آپ کی عادت تھی اور آپ کے اصحاب کی بھی، یہودیوں سے مشرکوں سے درذگر فرماتے سنی ان سنی کردیا کرتے اور اس فرمان پر عمل کرتے، یہی حکم آیت (ودکثیر) میں ہے جو حکم عفو و درگزر کا اس آیت (ولتسمعن) میں ہے۔ بعد ازاں آپ کو جہاں کی اجازت دی گئی اور پہلا غزوہ بدر کا ہوا جس میں لشکر کفار کے سرداران قتل و غارت ہوئے یہ حالت اور شوکت اسلام دیکھ کر اب عبداللہ بن ابی بن سلول اور اس کے ساتھی گھبرائے بجز اس کے کوئی چارہ کار انہیں نظر نہ آیا کہ بیعت کرلیں اور بظاہر مسلمان جائیں۔ پس یہ کلیہ قاعدہ یاد رکھنا چاہئے کہ ہر حق والے پر جو نیکی اور بھلائی کا حکم کرتا رہے اور جو برائی اور خلاف شرع کام سے روکتا رہے اس پر ضرور مصیبتیں اور آفتیں آتی ہیں اسے چاہئے کہ ان تمام تکلیفوں کو جھیلے اور اللہ کی راہ میں صبر و ضبط سے کام لے اسی کی پاک ذات پر بھروسہ رکھے اسی سے مدد طلب کرتا رہے اور اپنی کامل توجہ اور پورا رجوع اسی کی طرف رکھے۔
186
View Single
۞لَتُبۡلَوُنَّ فِيٓ أَمۡوَٰلِكُمۡ وَأَنفُسِكُمۡ وَلَتَسۡمَعُنَّ مِنَ ٱلَّذِينَ أُوتُواْ ٱلۡكِتَٰبَ مِن قَبۡلِكُمۡ وَمِنَ ٱلَّذِينَ أَشۡرَكُوٓاْ أَذٗى كَثِيرٗاۚ وَإِن تَصۡبِرُواْ وَتَتَّقُواْ فَإِنَّ ذَٰلِكَ مِنۡ عَزۡمِ ٱلۡأُمُورِ
You will surely be tried in respect of your property and lives, and you will surely hear much wrong from those who were given the Book before you, and from the polytheists; and if you remain steadfast and remain pious, it is then an act of great courage.
(اے مسلمانو!) تمہیں ضرور بالضرور تمہارے اموال اور تمہاری جانوں میں آزمایا جائے گا، اور تمہیں بہر صورت ان لوگوں سے جنہیں تم سے پہلے کتاب دی گئی تھی اور ان لوگوں سے جو مشرک ہیں بہت سے اذیت ناک (طعنے) سننے ہوں گے، اور اگر تم صبر کرتے رہو اور تقوٰی اختیار کئے رکھو تو یہ بڑی ہمت کے کاموں سے ہے
Tafsir Ibn Kathir
Every Soul Shall Taste Death
Allah issues a general and encompassing statement that every living soul shall taste death. In another statement, Allah said,
كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ - وَيَبْقَى وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلْـلِ وَالإِكْرَامِ
(Whatsoever is on it (the earth) will perish. And the Face of your Lord full of majesty and honor will remain forever) 55:26,27.
Therefore, Allah Alone is the Ever-Living Who never dies, while the Jinn, mankind and angels, including those who carry Allah's Throne, shall die. The Irresistible One and Only, will alone remain for ever and ever, remaining Last, as He was the First. This Ayah comforts all creation, since every soul that exists on the earth shall die. When the term of this life comes to an end and the sons of Adam no longer have any new generations, and thus this world ends, Allah will command that the Day of Resurrection commence. Allah will then recompense the creation for their deeds, whether minor or major, many or few, big or small. Surely, Allah will not deal unjustly with anyone, even the weight of an atom, and this is why He said,
وَإِنَّمَا تُوَفَّوْنَ أُجُورَكُمْ يَوْمَ الْقِيَـمَةِ
(185. And only on the Day of Resurrection shall you be paid your wages in full)
Who Shall Gain Ultimate Victory
Allah said,
فَمَن زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَأُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ
(And whoever is moved away from the Fire and admitted to Paradise, he indeed is successful.) meaning, whoever is kept away from the Fire, saved from it and entered into Paradise, will have achieved the ultimate success.
Ibn Abi Hatim recorded that Abu Hurayrah said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«مَوْضِعُ سَوْطٍ فِي الْجَنَّةِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا، اقْرَأُوا إِنْ شِئْتُمْ »
(A place in Paradise as small as that which is occupied by a whip is better than the world and whatever is on its surface. Read if you will),
فَمَن زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَأُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ
(And whoever is removed away from the Fire and admitted to Paradise, he indeed is successful). This was collected in the Two Sahihs, but using another chain of narration and without the addition (the Ayah.) Abu Hatim Ibn Hibban recorded it in his Sahih without the addition as did Al-Hakim in his Mustadrak.
Allah said,
وَما الْحَيَوةُ الدُّنْيَا إِلاَّ مَتَـعُ الْغُرُورِ
(The life of this world is only the enjoyment of deception. ) belittling the value of this life and degrading its importance. This life is short, little and finite, just as Allah said,
بَلْ تُؤْثِرُونَ الْحَيَوةَ الدُّنْيَا - وَالاٌّخِرَةُ خَيْرٌ وَأَبْقَى
(Nay, you prefer the life of this world. Although the Hereafter is better and more lasting.) 87:16,17, and,
وَمَآ أُوتِيتُم مِّن شَىْءٍ فَمَتَـعُ الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَزِينَتُهَا وَمَا عِندَ اللَّهِ خَيْرٌ وَأَبْقَى
(And whatever you have been given is an enjoyment of the life of (this) world and its adornment, and that (Hereafter) which is with Allah is better and will remain forever) 28:60. A Hadith states,
«وَاللهِ مَا الدُّنْيَا فِي الْآخِرَةِ إِلَّا كَمَا يَغْمِسُ أَحَدُكُمْ أُصْبُعَهُ فِي الْيَمِّ، فَلْيَنْظُرْ بِمَ تَرْجِعُ إِلَيْه»
(By Allah! This life, compared to the Hereafter, is just as insignificant as when one of you dips his finger in the sea; let him contemplate what his finger will come back with.)
Qatadah commented on Allah's statement,
وَما الْحَيَوةُ الدُّنْيَا إِلاَّ مَتَـعُ الْغُرُورِ
(The life of this world is only the enjoyment of deception.) "Life is a delight. By Allah, other than Whom there is no deity, it will soon fade away from its people. Therefore, take obedience to Allah from this delight, if you can. Verily, there is no power except from Allah."
The Believer is Tested and Hears Grieving Statements from the Enemy
Allah said,
لَتُبْلَوُنَّ فِى أَمْوَلِكُمْ وَأَنفُسِكُمْ
(You shall certainly be tried and tested in your wealth and properties and in yourselves), just as He said in another Ayah,
وَلَنَبْلُوَنَّكُم بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوفْ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الاٌّمَوَالِ وَالاٌّنفُسِ وَالثَّمَرَتِ
(And certainly, We shall test you with something of fear, hunger, loss of wealth, lives and fruits) 2:155.
Therefore, the believer shall be tested, in his wealth, himself, his offspring and family. The believer shall be tested according to the degree of his faith, and when his faith is stronger, the test is larger.
Allah said to the believers upon their arrival at Al-Madinah, before Badr, while comforting them against the harm they suffered from the People of the Scriptures and the polytheists;
وَإِن تَصْبِرُواْ وَتَتَّقُواْ فَإِنَّ ذلِكَ مِنْ عَزْمِ الاٍّمُورِ
(but if you persevere patiently, and have Taqwa, then verily, that will be a determining factor in all affairs.)
Therefore, Allah commanded the believers to be forgiving, patient and forbearing until He brought His awaited aid.
Al-Bukhari recorded that Usamah bin Zayd said that Allah's Messenger ﷺ rode a donkey with a saddle covered by a velvet sheet and let Usamah ride behind him (on the donkey). The Prophet wanted to visit Sa`d bin `Ubadah in Bani Al-Harith bin Al-Khazraj, and this occurred before the battle of Badr. The Prophet passed by a gathering in which `Abdullah bin Ubayy bin Salul was sitting, before `Abdullah bin Ubayy became Muslim. That gathering was made up of various Muslims as well as Mushriks, who worshipped the idols, and some Jews. `Abdullah bin Rawahah was sitting in that gathering. When the Prophet reached `Abdullah bin Ubayy, the donkey caused some sand to fall on the group. Then, `Abdullah bin Ubayy covered his nose with his robe and said, `Do not fill us with sand.' The Messenger of Allah ﷺ greeted the gathering with Salam, called them to Allah and recited some of the Qur'an to them. `Abdullah bin Ubayy said, `O fellow! No other speech is better than what you said, if it was true! However, do not bother us in our gatherings. Go back to your place and whoever came to you, narrate your stories to him.' `Abdullah bin Rawahah said, `Rather, O Messenger of Allah! Attend our gatherings for we like that.' The Muslims, Mushriks and Jews then cursed each other, and they almost fought with each other. The Prophet tried to calm them down, until they finally settled. The Prophet rode his donkey and went to Sa`d bin `Ubadah, saying, `O Sa`d! Have you heard what Abu Hubbab said (meaning `Abdullah bin Ubayy) He said such and such things. ' Sa`d said, `O Messenger of Allah! Forgive and pardon him. By Allah, Who sent down the Book to you, Allah brought us the truth that you came with at a time when the people of this city almost appointed him king. When Allah changed all that with the truth that He gave you, he choked on it, and this is the reason behind the behavior you saw from him.' The Messenger of Allah ﷺ forgave him. Indeed, the Messenger of Allah ﷺ and his Companions used to forgive the Mushriks and the People of the Scriptures, just as Allah commanded them, and they used to tolerate the harm that they suffered. Allah said,
وَلَتَسْمَعُنَّ مِنَ الَّذِينَ أُوتُواْ الْكِتَـبَ مِن قَبْلِكُمْ وَمِنَ الَّذِينَ أَشْرَكُواْ أَذًى كَثِيراً
(and you shall certainly hear much that will grieve you from those who received the Scripture before you (Jews and Christians) and from those who ascribe partners to Allah;) 3:186, and,
وَدَّ كَثِيرٌ مِّنْ أَهْلِ الْكِتَـبِ لَوْ يَرُدُّونَكُم مِن بَعْدِ إِيمَـنِكُمْ كُفَّارًا حَسَدًا مِّنْ عِنْدِ أَنْفُسِهِمْ مِّن بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمُ الْحَقُّ فَاعْفُواْ وَاصْفَحُواْ حَتَّى يَأْتِىَ اللَّهُ بِأَمْرِهِ
(Many of the People of the Scripture (Jews and Christians) wish that they could turn you away as disbelievers after you have believed, out of envy from their own selves, even after the truth has become manifest unto them. But forgive and overlook, till Allah brings His command) 2:109.
The Prophet used to implement the pardon that Allah commanded him until He gave His command (to fight the disbelievers). When the Messenger fought at Badr, and Allah killed, by his hand, the leaders of the disbelievers from Quraysh, `Abdullah bin Ubayy bin Salul and the Mushriks and idol worshippers who were with him said, `This matter has prevailed,' and they gave their pledge to the Prophet and became Muslims."
Therefore, every person who stands for truth, enjoins righteousness and forbids evil, will be harmed in some manner. In such cases, there is no cure better than being patient in Allah's cause, trusting in Him and returning to Him.
وَإِذْ أَخَذَ اللَّهُ مِيثَـقَ الَّذِينَ أُوتُواْ الْكِتَـبَ لَتُبَيِّنُنَّهُ لِلنَّاسِ وَلاَ تَكْتُمُونَهُ فَنَبَذُوهُ وَرَآءَ ظُهُورِهِمْ وَاشْتَرَوْاْ بِهِ ثَمَناً قَلِيلاً فَبِئْسَ مَا يَشْتَرُونَ
موت وحیات اور یوم حساب تمام مخلوق کو عام اطلاع ہے کہ ہر جاندار مرنے والا ہے جیسے فرمایا آیت (كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ 26ښ وَّيَبْقٰى وَجْهُ رَبِّكَ ذو الْجَلٰلِ وَالْاِكْرَامِ 27ۚ) 55۔ الرحمن :2627) یعنی اس زمین پر جتنے ہیں سب فانی ہیں صرف رب کا چہرہ باقی ہے جو بزرگی اور انعام والا ہے، پس صرف وہی اللہ وحدہ لا شریک ہمیشہ کی زندگی والا ہے جو کبھی فنا نہ ہوگا، جن انسان کل کے کل مرنے والے ہیں اسی طرح فرشتے اور حاملان عرش بھی مرجائیں گے اور صرف اللہ وحدہ لا شریک دوام اور بقاء والا باقی رہ جائے گا پہلے بھی وہی تھا اور آخر بھی وہی رہے گا، جب سب مرجائیں گے مدت ختم ہوجائے گی صلب آدم سے جتنی اولاد ہونے والی تھی ہوچکی اور پھر سب موت کے گھاٹ اتر گئے مخلوقات کا خاتمہ ہوگیا اس وقت اللہ تعالیٰ قیامت قائم کرے گا اور مخلوق کو ان کے کل اعمال کے چوٹے بڑے چھپے کھلے صغیرہ کبیرہ سب کی جزا سزا ملے گی کسی پر ذرہ برابر ظلم نہ ہوگا یہی اس کے بعد کے جملہ میں فرمایا جا رہا ہے، حضرت علی ؓ فرماتے ہیں حضور ﷺ کے انتقال کے بعد ہمیں ایسا محسوس ہوا کہ گویا کوئی آرہا ہے ہمیں پاؤں کی چاپ سنائی دیتی تھی لیکن کوئی شخص دکھائی نہیں دیتا تھا اس نے آکر کہا اے اہل بیت تم پر سلام ہو اور اللہ کی رحمت و برکت، ہر جان موت کا مزہ چکھنے والی ہے تم سب کو تمہارے اعمال کا بدلہ پورا پورا قیامت کے دن دیا جائے گا۔ ہر مصیبت کی تلافی اللہ کے پاس ہے، ہر مرنے والے کا بدلہ ہے اور ہر فوت ہونے والے کا اپنی گم شدہ چیز کو پالینا ہے اللہ ہی پر بھروسہ رکھو اسی سے بھلی امیدیں رکھو سمجھ لو کہ سچ مچ مصیبت زدہ وہ شخص جو ثواب سے محروم رہ جائے تم پر اللہ کی طرف سے سلامتی نازل ہو اور اس کی رحمتیں اور برکتیں (ابن ابی حاتم) حضرت علی کا خیال ہے کہ یہ خضر ؑ تھے حقیقت یہ ہے کہ پورا کامیاب وہ انسان ہے جو جہنم سے نجات پالے اور جنت میں چلا جائے،حضور ﷺ فرماتے ہیں جنت میں ایک کوڑے جتنی جگہ مل جانا دنیا وما فیہا سے بہتر ہے اگر تم چاہو تو پڑھو آیت (فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَاُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ) 3۔ آل عمران :185) آخری ٹکڑے کے بغیر یہ حدیث بخاری و مسلم وغیرہ میں بھی ہے اور کچھ زیادہ الفاظ کے ساتھ ابن ابی حاتم میں ہے اور ابن مردویہ میں بھی رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے جس کی خواہش آگ سے بچ جانے اور جنت میں داخل ہوجانے کی ہو اسے چاہئے کہ مرتے دم تک اللہ پر اور قیامت پر ایمان رکھے اور لوگوں سے وہ سلوک کرے جسے خود اپنے پسند کرتا ہو، یہ حدیث پہلے آیت (وَلَا تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَاَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ) 3۔ آل عمران :102) کی تفسیر میں گذر چکی ہے، مسند احمد میں بھی اور وکیع بن جراح کی تفسیر میں بھی یہی حدیث ہے۔ اس کے بعد دنیا کی حقارت اور ذلت بیان ہو رہی ہے کہ یہ نہایت ذلیل فانی اور زوال پذیر چیز ہے ارشاد ہے آیت (بَلْ تُـؤْثِرُوْنَ الْحَيٰوةَ الدُّنْيَا 16ڮ وَالْاٰخِرَةُ خَيْرٌ وَّاَبْقٰى 17ۭ) 87۔ الاعلیٰ :16) یعنی تم تو دنیا کی زندگی پر ریجھے جاتے ہو حالانکہ دراصل بہتری اور بقاء والی چیز آخرت ہے، دوسری آیت میں ہے تمہیں جو کچھ دیا گیا ہے یہ تو حیات دنیا کا فائدہ ہے اور اس کی بہترین زینت اور باقی رہنے والی تو وہ زندگی ہے جو اللہ کے پاس ہے، حدیث شریف میں ہے اللہ کی قسم دنیا آخرت کے مقابلہ میں صرف ایسی ہی ہے جیسے کوئی شخص اپنی انگلی سمندر میں ڈبو لے اس انگلی کے پانی کو سمندر کے پانی کے مقابلہ میں کیا نسبت ہے آخرت کے مقابلہ میں دنیا ایسی ہی ہے، حضرت قتادہ کا ارشاد ہے دنیا کیا ہے ایک یونہی دھوکے کی جگہ ہے جسے چھوڑ چھاڑ کر تمہیں چل دینا ہے اس اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں کہ یہ تو عنقریب تم سے جدا ہونے والی اور برباد ہونے والی چیز ہے پس تمہیں چاہئے کہ ہوش مندی برتو اور یہاں اللہ کی اطاعت کرلو اور طاقت بھر نیکیاں کما لو اللہ کی دی ہوئی طاقت کے بغیر کوئی کام نہیں بنتا۔ آزمائش لازمی ہے صبرو ضبط بھی ضروری پھر انسانی آزمائش کا ذکر ہو رہا ہے جیسے ارشاد ہے آیت (وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوْعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَالْاَنْفُسِ وَالثَّمَرٰتِ ۭ وَبَشِّرِ الصّٰبِرِيْنَ) 2۔ البقرۃ :155) مطلب یہ ہے کہ مومن کا امتحان ضرور ہوتا ہے کبھی جانی کبھی مالی کبھی اہل و عیال میں کبھی اور کسی طرح یہ آزمائش دینداری کے انداز کے مطابق ہوتی ہے، سخت دیندار کی ابتلاء بھی سخت اور کمزور دین والے کا امتحان بھی کمزور، پھر پروردگار جل شانہ صحابہ کرام کو خبر دیتا ہے کہ بدر سے پہلے مدینہ میں تمہیں اہل کتاب سے اور مشرکوں سے دکھ دینے والی باتیں اور سرزنش سننی پڑے گی، پھر تسلی دیتا ہوا طریقہ سکھاتا ہے کہ تم صبرو ضبط کرلیا کرو اور پرہیزگاری پر تو یہ بڑا بھاری کام ہے، حضرت اسامہ بن زید فرماتے ہیں نبی ﷺ اور آپ کے اصحاب مشرکین سے اور اہل کتاب سے بہت کچھ درگذر فرمایا کرتے تھے اور ان کی ایذاؤں کو برداشت کرلیا کرتے تھے اور رب کریم کے اس فرمان پر عامل تھے یہاں تک کہ جہاد کی آیتیں اتریں، صحیح بخاری شریف میں اس آیت کی تفسیر کے موقعہ پر ہے کہ آنحضرت ﷺ اپنے گدھے پر سوار ہو کر حضرت اسامہ کو اپنے بھتیجے بٹھا کر حضرت سعد بن عباد کی عیادت کے لئے بنو حارث بن خزرج کے قبیلے میں تشریف لے چلے یہ واقعہ جنگ بدر سے پہلے کا ہے راستہ میں ایک مخلوط مجلس بیٹھی ہوئی ملی جس میں مسلمان بھی تھے یہودی بھی تھی۔ مشرکین بھی تھے اور عبداللہ بن ابی بن سلول بھی تھا یہ بھی اب تک کفر کے کھلے رنگ میں تھا مسلمانوں میں حضرت عبداللہ بن رواحہ ؓ بھی تھے، حضور ﷺ کی سواری سے گردوغبار جو اڑا تو عبداللہ بن ابی سلول نے ناک پر کپڑا رکھ لیا اور کہنے لگا غبار نہ اڑاؤ حضور ﷺ پاس پہنچ ہی چکے تھے سواری سے اتر آئے سلام کیا اور انہیں اسلام کی دعوت دی اور قرآن کی چند آیتیں سنائیں تو عبداللہ بول پڑا سنئے صاحب آپ کا یہ طریقہ ہمیں پسند نہیں آپ کی باتیں حق ہی سہی لیکن اس کی کیا وجہ کہ آپ ہماری مجلسوں میں آ کر ہمیں ایذاء دیں اپنے گھر جائیے جو آپ کے پاس آئے اسے سنائیے۔ یہ سن کر حضرت عبداللہ بن رواحہ ؓ نے فرمایا حضور ﷺ بیشک آپ ہماری مجلسوں میں تشریف لایا کریں ہمیں تو اس کی عین چاہت ہے اب ان کی آپس میں خوب جھڑپ ہوئی ایک دوسرے کو برا بھلا کہنے لگا اور قریب تھا کہ کھڑے ہو کر لڑنے لگیں لیکن حضور ﷺ کے سمجھانے بجھانے سے آخر امن وامان ہوگیا اور سب خاموش ہوگئے۔ آپ اپنی سواری پر سوار ہو کر حضرت سعد کے ہاں تشریف لے گئے اور وہاں جا کر حضرت سعد سے فرمایا کہ ابو حباب عبداللہ بن ابی سلول نے آج تو اس طرح کیا حضرت سعد نے کہا یا رسول اللہ ﷺ آپ جانے دیجئے معاف کیجئے اور درگذر کیجئے قسم اللہ کی جس نے آپ پر قرآن اتارا اسے آپ سے اس لئے بیحد دشمنی ہے اور ہونی چاہئے کہ یہاں کے لوگوں نے اسے سردار بنانا چاہا تھا اسے چودراہٹ کی پگڑی بندھوانے کا فیصلہ ہوچکا تھا ادھر اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنا نبی برحق بنا کر بھیجا لوگوں نے آپ کو نبی مانا اس کی سرداری جاتی رہی جس کا اسے رنج ہے اسی باعث یہ اپنے جلے دل کے پھپولے پھوڑ رہا ہے جو کہہ دیا کہہ دیا آپ اسے اہمیت نہ دیں چناچہ حضور ﷺ نے درذگر کرلیا اور یہی آپ کی عادت تھی اور آپ کے اصحاب کی بھی، یہودیوں سے مشرکوں سے درذگر فرماتے سنی ان سنی کردیا کرتے اور اس فرمان پر عمل کرتے، یہی حکم آیت (ودکثیر) میں ہے جو حکم عفو و درگزر کا اس آیت (ولتسمعن) میں ہے۔ بعد ازاں آپ کو جہاں کی اجازت دی گئی اور پہلا غزوہ بدر کا ہوا جس میں لشکر کفار کے سرداران قتل و غارت ہوئے یہ حالت اور شوکت اسلام دیکھ کر اب عبداللہ بن ابی بن سلول اور اس کے ساتھی گھبرائے بجز اس کے کوئی چارہ کار انہیں نظر نہ آیا کہ بیعت کرلیں اور بظاہر مسلمان جائیں۔ پس یہ کلیہ قاعدہ یاد رکھنا چاہئے کہ ہر حق والے پر جو نیکی اور بھلائی کا حکم کرتا رہے اور جو برائی اور خلاف شرع کام سے روکتا رہے اس پر ضرور مصیبتیں اور آفتیں آتی ہیں اسے چاہئے کہ ان تمام تکلیفوں کو جھیلے اور اللہ کی راہ میں صبر و ضبط سے کام لے اسی کی پاک ذات پر بھروسہ رکھے اسی سے مدد طلب کرتا رہے اور اپنی کامل توجہ اور پورا رجوع اسی کی طرف رکھے۔
187
View Single
وَإِذۡ أَخَذَ ٱللَّهُ مِيثَٰقَ ٱلَّذِينَ أُوتُواْ ٱلۡكِتَٰبَ لَتُبَيِّنُنَّهُۥ لِلنَّاسِ وَلَا تَكۡتُمُونَهُۥ فَنَبَذُوهُ وَرَآءَ ظُهُورِهِمۡ وَٱشۡتَرَوۡاْ بِهِۦ ثَمَنٗا قَلِيلٗاۖ فَبِئۡسَ مَا يَشۡتَرُونَ
And remember when Allah took a covenant from the People given the Book(s) that, “You shall definitely preach it to the people and not hide it”; so they flung it behind their backs and gained an abject price for it; so what a wretched bargain it is!
اور جب اللہ نے ان لوگوں سے پختہ وعدہ لیا جنہیں کتاب عطا کی گئی تھی کہ تم ضرور اسے لوگوں سے صاف صاف بیان کرو گے اور (جو کچھ اس میں بیان ہوا ہے) اسے نہیں چھپاؤ گے تو انہوں نے اس عہد کو پسِ پشت ڈال دیا اور اس کے بدلے تھوڑی سی قیمت وصول کر لی، سو یہ ان کی بہت ہی بُری خریداری ہے
Tafsir Ibn Kathir
Chastising the People of the Scriptures for Breaking the Covenant and Hiding the Truth
In this Ayah, Allah chastises the People of the Scriptures, from whom Allah took the covenant by the words of their Prophets, that they would believe in Muhammad ﷺ and describe him to the people, so that they would recognize and follow him when Allah sent him. However, they hid this truth and preferred the the small amounts and the material gains instead of the rewards of this life and the Hereafter that they were promised. This is a losing deal and a failing trade, indeed.
These Ayat also contain a warning for the scholars not to imitate their behavior, so that they do not suffer the same fate and become like them. Therefore, the scholars are required to spread the beneficial knowledge that they have, encouraging the various righteous good deeds. They are also warned against hiding any part of their knowledge. A Hadith states that the Prophet said,
«مَنْ سُئِلَ عَنْ عِلْمٍ فَكَتَمَهُ، أُلْجِمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِلِجَامٍ مِنْ نَار»
(Whoever was asked about knowledge that he knew but did not disclose it, will be tied with a bridle made of fire on the Day of Resurrection.)
Chastising Those Who Love to be Praised for What They Have not Done
Allah's statement,
لاَ تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَفْرَحُونَ بِمَآ أَتَوْاْ وَّيُحِبُّونَ أَن يُحْمَدُواْ بِمَا لَمْ يَفْعَلُواْ
(Think not that those who rejoice in what they have done, and love to be praised for what they have not done), refers to those who show off, rejoice in what they do and claim to do what they have not done. The Two Sahihs recorded that the Prophet said,
«مَنِ ادَّعَى دَعْوَةً كَاذِبَةً لِيَتَكَثَّرَ بِهَا، لَمْ يَزِدْهُ اللهُ إِلَّا قِلَّة»
(Whoever issues a false claim to acquire some type of gain, then Allah will only grant him decrease.)
The Sahih also recorded;
«الْمُتَشَبِّعُ بِمَا لَمْ يُعْطَ، كَلَابِسِ ثَوْبَيْ زُور»
(He who claims to do what he has not done, is just like a person who wears two robes made of falsehood.)
Imam Ahmad recorded that Marwan told his guard Rafi` to go to Ibn `Abbas and proclaim to him, "If every person among us who rejoices with what he has done and loves to be praised for what he has not done will be tormented, we all will be tormented." Ibn `Abbas said, "This Ayah was revealed about the People of the Scriptures." He then recited the Ayah,
وَإِذْ أَخَذَ اللَّهُ مِيثَـقَ الَّذِينَ أُوتُواْ الْكِتَـبَ لَتُبَيِّنُنَّهُ لِلنَّاسِ وَلاَ تَكْتُمُونَهُ فَنَبَذُوهُ وَرَآءَ ظُهُورِهِمْ وَاشْتَرَوْاْ بِهِ ثَمَناً قَلِيلاً فَبِئْسَ مَا يَشْتَرُونَ
((And remember) when Allah took a covenant from those who were given the Scripture (Jews and Christians) to make it (the truth) known and clear to mankind, and not to hide it, but they threw it away behind their backs, and purchased with it some miserable gain! And indeed worst is that which they bought.) then the Ayah,
لاَ تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَفْرَحُونَ بِمَآ أَتَوْاْ وَّيُحِبُّونَ أَن يُحْمَدُواْ بِمَا لَمْ يَفْعَلُواْ
(Think not that those who rejoice in what they have done, and love to be praised for what they have not done)
Ibn `Abbas said, "The Prophet asked them about something, and they hid its knowledge, giving him an incorrect answer. They parted after showing off and rejoicing in front of him because they answered him, so they pretended, and they were delighted that they hid the correct news about what he had asked them." This was recorded by Al-Bukhari, Muslim, At-Tirmidhi and An-Nasa'i.
Al-Bukhari recorded that Abu Sa`id Al-Khudri said, "During the time of the Messenger of Allah ﷺ, when the Messenger would go to battle, some hypocrite men would remain behind and rejoice because they did not accompany the Prophet in battle. When the Messenger would come back, they would ask him to excuse them swearing to having some excuse, and wanting to be praised for that which they did not do. So Allah revealed,
لاَ تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَفْرَحُونَ بِمَآ أَتَوْاْ وَّيُحِبُّونَ أَن يُحْمَدُواْ بِمَا لَمْ يَفْعَلُواْ
(Think not that those who rejoice in what they have done, and love to be praised for what they have not done),"
to the end of the Ayah." And Muslim recorded similarly.
Allah said;
فَلاَ تَحْسَبَنَّهُمْ بِمَفَازَةٍ مِّنَ الْعَذَابِ
(think not that they are rescued from the torment, ) Do not think that they will be saved from punishment, rather it will certainly strike them. So Allah said;
وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ
(and for them is a painful torment.) Allah then said,
وَللَّهِ مُلْكُ السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ وَاللَّهُ عَلَى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ
(And to Allah belongs the dominion of the heavens and the earth, and Allah has power over all things.) He is the Owner of everything, able to do all things and nothing escapes His might. Therefore, fear Him, never defy Him and beware of His anger and revenge. He is the Most Great, none is greater than Him, and the Most Able, none is more able than He is.
بدترین خریدوفروخت ! اللہ تعالیٰ یہاں اہل کتاب کو ڈانٹ رہا ہے کہ پیغمبروں کی وساطت سے جو عہد ان کا جناب باری سے ہوا تھا کہ حضور پیغمبر الزمان ﷺ پر ایمان لائیں گے اور آپ کے ذکر کو اور آپ کی بشارت کی پیش گوئی کو لوگوں میں پھیلائیں گے انہیں آپ کی تابعداری پر آمادہ کریں گے اور پھر جس وقت آپ آجائیں تو دل سے آپ کے تابعدار ہوجائیں گے لیکن انہوں نے اس عہد کو چھپالیا اور اللہ تعالیٰ اس کے ظاہر کرنے پر جن دنیا اور آخرت کی بھلائیوں کا ان سے وعدہ کیا تھا ان کے بدلے دنیا کی تھوڑی سی پونجی میں الجھ کر رہ گئے ان کی یہ خریدو فروخت بد سے بدتر ہے، اس میں علماء کو تنبیہہ ہے کہ وہ ان کی طرح نہ کریں ورنہ ان پر بھی وہی سزا ہوگی جو ان کو ملی اور انہیں بھی اللہ کی وہ ناراضگی اٹھانی پڑے گی جو انہوں نے اٹھائی علماء کرام کو چاہئے کہ ان کے پاس جو نفع دینے والا دینی علم ہو جس سے لوگ نیک عمل جم کرسکتے ہوں اسے پھیلاتے رہیں اور کسی بات کو نہ چھپائیں، حدیث شریف میں سے جس شخص سے علم کا کوئی مسئلہ پوچھا جائے اور وہ اسے چھپائے تو قیامت کے دن آگ کی لگام پہنایا جائے گا۔ دوسری آیت میں ریاکاروں کی مذمت بیان ہو رہی ہے، بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے جو شخص جھوٹا دعویٰ کر کے زیادہ مال کمانا چاہے اسے اللہ تعالیٰ اور کم کر دے گا، بخاری و مسلم کی دوسری حدیث میں ہے جو نہ دیا گیا ہو اس کے ساتھ آسودگی جتنانے والا دو چھوٹے کپڑے پہننے والے کی مثل ہے، مسند احمد میں ہے کہ ایک مرتبہ مروان نے اپنے دربان رافع سے کہا کہ حضرت عبداللہ بن عباس کے پاس جاؤ اور ان سے کہو کہ اگر اپنے کام پر خوش ہونے اور نہ کئے ہوئے کام پر تعریف پسند کرنے کے باعث اللہ کا عذاب ہوگا تو ہم سے کوئی اس سے چھٹکارا نہیں پاسکتا، حضرت عبداللہ نے اس کے جواب میں فرمایا کہ تمہیں اس آیت سے کیا تعلق ؟ یہ تو اہل کتاب کے بارے میں ہے پھر آپ نے (واذ اخذ اللہ) سے اس آیت کے ختم تک تلاوت کی اور فرمایا کہ ان سے نبی ﷺ نے کسی چیز کے بارے میں سوال کیا تھا تو انہوں نے اس کا کچھ اور ہی غلط جواب دیا اور باہر نکل کر گمان کرنے لگے کہ ہم نے آپ کے سوال کا جواب دے دیا جس کی وجہ سے آپ کے پاس ہماری تعریف ہوگی اور سوال کے اصلی جواب کے چھپا لینے اور اپنے جھوٹے فقرہ چل جانے پر بھی خوش تھے، اسی کا بیان اس آیت میں ہے، یہ حدیث بخاری وغیرہ میں بھی ہے اور صحیح بخاری شریف میں یہ بھی ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ میدان جنگ میں تشریف لے جاتے تو منافقین اپنے گھروں میں گھسے بیٹھے رہتے ساتھ نہ جاتے پھر خوشیاں مناتے کہ ہم لڑائی سے بچ گئے اب جب اللہ کے نبی ﷺ واپس لوٹتے تو یہ باتیں بناتے جھوٹے سچے عذر پیش کرتے اور قسمیں کھا کھا کر اپنے معذور ہونے کا آپ کو یقین دلاتے اور چاہتے کہ نہ کئے ہوئے کام پر بھی ہماری تعریفیں ہوں جس پر یہ آیت اتری، تفسیر ابن مردویہ میں ہے کہ مروان نے حضرت ابو سعید سے اس آیت کے بارے میں اسی طرح سوال کیا تھا جس طرح اوپر گزرا کہ حضرت ابن عباس سے پچھوایا تو حضرت ابو سعید نے اس کا مصداق اور اس کا شان نزول ان مناقوں کو قرار دیا جو غزوہ کے وقت بیٹھ جاتے اگر مسلمانوں کو نقصان پہنچا تو بغلیں بجاتے اگر فائدہ ہوا تو اپنا معذور ہونا ظاہر کرتے اور فتح و نصرت کی خوشی کا اظہار کرتے اس پر مروان نے کہا کہاں یہ واقعہ کہاں یہ آیت ؟ تو حضرت ابو سعید نے فرمایا کہ یہ زید بن ثابت بھی اس سے واقف ہیں مروان نے حضرت زید سے پوچھا آپ نے بھی اس کی تصدیق کی پھر حضرت ابو سعید نے اونٹنیاں جو صدقہ کی ہیں چھین لیں گے باہر نکل کر حضرت زید نے کہا میری شہادت پر تم میری تعریف نہیں کرتے ؟ حضرت ابو سعید نے فرمایا تم نے سچی شہادت ادا کردی تو حضرت زید نے فرمایا پھر میں بھی سچی شہادت دینے پر مستحق تعریف تو ہوں مروان اس زمانہ میں مدینہ کا امیر تھا، دوسری روایت میں ہے کہ مروان کا یہ سوال رافع بن خدیج سے ہی پہلے ہوا تھا، اس سے پہلے کی روایت میں گزر چکا ہے کہ مروان نے اس آیت کی بابت حضرت عبداللہ بن عباس سے پچھوایا تھا تو یاد رہے کہ ان دونوں میں کوئی تضاد اور نفی کا عنصر نہیں ہم کہہ سکتے ہیں کہ آیت عام ہے اس میں بھی شامل ہے اور اس میں بھی، مروان والی روایت میں بھی ممکن ہے پہلے ان دونوں صاحبوں نے جواب دیئے پھر مزید تشفی کے طور پر حبر الامہ حضرت عبداللہ بن عباس سے بھی مروان نے بذریعہ اپنے آدمی کے سوال کیا ہو، واللہ اعلم، حضرت ثابت بن قیس انصاری خدمت نبوی ﷺ میں حاضر ہو کر عرض کرتے ہیں کہ یا رسول اللہ ﷺ مجھے تو اپنی ہلاکت کا بڑا اندیشہ ہے آپ نے فرمایا کیوں ؟ جواب دیا ایک تو اس وجہ سے کہ اللہ تعالیٰ نے اس بات سے روکا ہے کہ جو نہ کیا ہو اس پر تعریف کو پسند کریں اور میرا یہ حال ہے کہ میں تعریف پسند کرتا ہوں، دوسری بات یہ ہے کہ تکبر سے اللہ نے روکا ہے اور میں جمال کو پسند کرتا ہوں تیسرے یہ کہ حضور ﷺ کی آواز سے بلند آواز کرنا ممنوع ہے اور میں بلند آواز ہوں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا تو اس بات سے خوش نہیں کہ تیری زندگی بہترین اور باخیر ہو اور تیری موت شہادت کی موت ہو اور تو جنتی بن جائے خوش ہو کر کہنے لگے کیوں نہیں یا رسول اللہ ﷺ یہ تو بہت ہی اچھی بات ہے چناچہ یہی ہوا کہ آپ کی زندگی انتہائی اچھی گزری اور موت شہادت کی نصیب ہوئی، مسیلمہ کذاب سے مسلمانوں کی جنگ میں آپ نے شہادت پائی۔ تحسبنھم کو یحسبنھم پڑھا گیا ہے، پھر فرمان ہے کہ تو انہیں عذاب سے نجات پانے والے خیال نہ کر انہیں عذاب ضرور ہوگا اور وہ بھی درد ناک، پھر ارشاد ہے کہ ہر چیز کا مالک اور ہر چیز پر قادر اللہ تعالیٰ ہے اسے کوئی کام عاجز نہیں کرسکتا پس تم اس سے ڈرتے رہو اور اس کی مخالفت نہ کرو اس کے غضب سے بچنے کی کوشش کرو اس کے عذابوں سے اپنا بچاؤ کرلو نہ تو کوئی اس سے بڑا نہ اس سے زیادہ قدرت والا۔
188
View Single
لَا تَحۡسَبَنَّ ٱلَّذِينَ يَفۡرَحُونَ بِمَآ أَتَواْ وَّيُحِبُّونَ أَن يُحۡمَدُواْ بِمَا لَمۡ يَفۡعَلُواْ فَلَا تَحۡسَبَنَّهُم بِمَفَازَةٖ مِّنَ ٱلۡعَذَابِۖ وَلَهُمۡ عَذَابٌ أَلِيمٞ
Do not ever think of those who rejoice for their deeds and wish to be praised without doing (good deeds) – do not ever think that they are safe from the punishment; and for them is a painful punishment.
آپ ایسے لوگوں کو ہرگز (نجات پانے والا) خیال نہ کریں جو اپنی کارستانیوں پر خوش ہو رہے ہیں اور ناکردہ اعمال پر بھی اپنی تعریف کے خواہش مند ہیں، (دوبارہ تاکید کے لئے فرمایا:) پس آپ انہیں ہرگز عذاب سے نجات پانے والا نہ سمجھیں، اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے
Tafsir Ibn Kathir
Chastising the People of the Scriptures for Breaking the Covenant and Hiding the Truth
In this Ayah, Allah chastises the People of the Scriptures, from whom Allah took the covenant by the words of their Prophets, that they would believe in Muhammad ﷺ and describe him to the people, so that they would recognize and follow him when Allah sent him. However, they hid this truth and preferred the the small amounts and the material gains instead of the rewards of this life and the Hereafter that they were promised. This is a losing deal and a failing trade, indeed.
These Ayat also contain a warning for the scholars not to imitate their behavior, so that they do not suffer the same fate and become like them. Therefore, the scholars are required to spread the beneficial knowledge that they have, encouraging the various righteous good deeds. They are also warned against hiding any part of their knowledge. A Hadith states that the Prophet said,
«مَنْ سُئِلَ عَنْ عِلْمٍ فَكَتَمَهُ، أُلْجِمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِلِجَامٍ مِنْ نَار»
(Whoever was asked about knowledge that he knew but did not disclose it, will be tied with a bridle made of fire on the Day of Resurrection.)
Chastising Those Who Love to be Praised for What They Have not Done
Allah's statement,
لاَ تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَفْرَحُونَ بِمَآ أَتَوْاْ وَّيُحِبُّونَ أَن يُحْمَدُواْ بِمَا لَمْ يَفْعَلُواْ
(Think not that those who rejoice in what they have done, and love to be praised for what they have not done), refers to those who show off, rejoice in what they do and claim to do what they have not done. The Two Sahihs recorded that the Prophet said,
«مَنِ ادَّعَى دَعْوَةً كَاذِبَةً لِيَتَكَثَّرَ بِهَا، لَمْ يَزِدْهُ اللهُ إِلَّا قِلَّة»
(Whoever issues a false claim to acquire some type of gain, then Allah will only grant him decrease.)
The Sahih also recorded;
«الْمُتَشَبِّعُ بِمَا لَمْ يُعْطَ، كَلَابِسِ ثَوْبَيْ زُور»
(He who claims to do what he has not done, is just like a person who wears two robes made of falsehood.)
Imam Ahmad recorded that Marwan told his guard Rafi` to go to Ibn `Abbas and proclaim to him, "If every person among us who rejoices with what he has done and loves to be praised for what he has not done will be tormented, we all will be tormented." Ibn `Abbas said, "This Ayah was revealed about the People of the Scriptures." He then recited the Ayah,
وَإِذْ أَخَذَ اللَّهُ مِيثَـقَ الَّذِينَ أُوتُواْ الْكِتَـبَ لَتُبَيِّنُنَّهُ لِلنَّاسِ وَلاَ تَكْتُمُونَهُ فَنَبَذُوهُ وَرَآءَ ظُهُورِهِمْ وَاشْتَرَوْاْ بِهِ ثَمَناً قَلِيلاً فَبِئْسَ مَا يَشْتَرُونَ
((And remember) when Allah took a covenant from those who were given the Scripture (Jews and Christians) to make it (the truth) known and clear to mankind, and not to hide it, but they threw it away behind their backs, and purchased with it some miserable gain! And indeed worst is that which they bought.) then the Ayah,
لاَ تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَفْرَحُونَ بِمَآ أَتَوْاْ وَّيُحِبُّونَ أَن يُحْمَدُواْ بِمَا لَمْ يَفْعَلُواْ
(Think not that those who rejoice in what they have done, and love to be praised for what they have not done)
Ibn `Abbas said, "The Prophet asked them about something, and they hid its knowledge, giving him an incorrect answer. They parted after showing off and rejoicing in front of him because they answered him, so they pretended, and they were delighted that they hid the correct news about what he had asked them." This was recorded by Al-Bukhari, Muslim, At-Tirmidhi and An-Nasa'i.
Al-Bukhari recorded that Abu Sa`id Al-Khudri said, "During the time of the Messenger of Allah ﷺ, when the Messenger would go to battle, some hypocrite men would remain behind and rejoice because they did not accompany the Prophet in battle. When the Messenger would come back, they would ask him to excuse them swearing to having some excuse, and wanting to be praised for that which they did not do. So Allah revealed,
لاَ تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَفْرَحُونَ بِمَآ أَتَوْاْ وَّيُحِبُّونَ أَن يُحْمَدُواْ بِمَا لَمْ يَفْعَلُواْ
(Think not that those who rejoice in what they have done, and love to be praised for what they have not done),"
to the end of the Ayah." And Muslim recorded similarly.
Allah said;
فَلاَ تَحْسَبَنَّهُمْ بِمَفَازَةٍ مِّنَ الْعَذَابِ
(think not that they are rescued from the torment, ) Do not think that they will be saved from punishment, rather it will certainly strike them. So Allah said;
وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ
(and for them is a painful torment.) Allah then said,
وَللَّهِ مُلْكُ السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ وَاللَّهُ عَلَى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ
(And to Allah belongs the dominion of the heavens and the earth, and Allah has power over all things.) He is the Owner of everything, able to do all things and nothing escapes His might. Therefore, fear Him, never defy Him and beware of His anger and revenge. He is the Most Great, none is greater than Him, and the Most Able, none is more able than He is.
بدترین خریدوفروخت ! اللہ تعالیٰ یہاں اہل کتاب کو ڈانٹ رہا ہے کہ پیغمبروں کی وساطت سے جو عہد ان کا جناب باری سے ہوا تھا کہ حضور پیغمبر الزمان ﷺ پر ایمان لائیں گے اور آپ کے ذکر کو اور آپ کی بشارت کی پیش گوئی کو لوگوں میں پھیلائیں گے انہیں آپ کی تابعداری پر آمادہ کریں گے اور پھر جس وقت آپ آجائیں تو دل سے آپ کے تابعدار ہوجائیں گے لیکن انہوں نے اس عہد کو چھپالیا اور اللہ تعالیٰ اس کے ظاہر کرنے پر جن دنیا اور آخرت کی بھلائیوں کا ان سے وعدہ کیا تھا ان کے بدلے دنیا کی تھوڑی سی پونجی میں الجھ کر رہ گئے ان کی یہ خریدو فروخت بد سے بدتر ہے، اس میں علماء کو تنبیہہ ہے کہ وہ ان کی طرح نہ کریں ورنہ ان پر بھی وہی سزا ہوگی جو ان کو ملی اور انہیں بھی اللہ کی وہ ناراضگی اٹھانی پڑے گی جو انہوں نے اٹھائی علماء کرام کو چاہئے کہ ان کے پاس جو نفع دینے والا دینی علم ہو جس سے لوگ نیک عمل جم کرسکتے ہوں اسے پھیلاتے رہیں اور کسی بات کو نہ چھپائیں، حدیث شریف میں سے جس شخص سے علم کا کوئی مسئلہ پوچھا جائے اور وہ اسے چھپائے تو قیامت کے دن آگ کی لگام پہنایا جائے گا۔ دوسری آیت میں ریاکاروں کی مذمت بیان ہو رہی ہے، بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے جو شخص جھوٹا دعویٰ کر کے زیادہ مال کمانا چاہے اسے اللہ تعالیٰ اور کم کر دے گا، بخاری و مسلم کی دوسری حدیث میں ہے جو نہ دیا گیا ہو اس کے ساتھ آسودگی جتنانے والا دو چھوٹے کپڑے پہننے والے کی مثل ہے، مسند احمد میں ہے کہ ایک مرتبہ مروان نے اپنے دربان رافع سے کہا کہ حضرت عبداللہ بن عباس کے پاس جاؤ اور ان سے کہو کہ اگر اپنے کام پر خوش ہونے اور نہ کئے ہوئے کام پر تعریف پسند کرنے کے باعث اللہ کا عذاب ہوگا تو ہم سے کوئی اس سے چھٹکارا نہیں پاسکتا، حضرت عبداللہ نے اس کے جواب میں فرمایا کہ تمہیں اس آیت سے کیا تعلق ؟ یہ تو اہل کتاب کے بارے میں ہے پھر آپ نے (واذ اخذ اللہ) سے اس آیت کے ختم تک تلاوت کی اور فرمایا کہ ان سے نبی ﷺ نے کسی چیز کے بارے میں سوال کیا تھا تو انہوں نے اس کا کچھ اور ہی غلط جواب دیا اور باہر نکل کر گمان کرنے لگے کہ ہم نے آپ کے سوال کا جواب دے دیا جس کی وجہ سے آپ کے پاس ہماری تعریف ہوگی اور سوال کے اصلی جواب کے چھپا لینے اور اپنے جھوٹے فقرہ چل جانے پر بھی خوش تھے، اسی کا بیان اس آیت میں ہے، یہ حدیث بخاری وغیرہ میں بھی ہے اور صحیح بخاری شریف میں یہ بھی ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ میدان جنگ میں تشریف لے جاتے تو منافقین اپنے گھروں میں گھسے بیٹھے رہتے ساتھ نہ جاتے پھر خوشیاں مناتے کہ ہم لڑائی سے بچ گئے اب جب اللہ کے نبی ﷺ واپس لوٹتے تو یہ باتیں بناتے جھوٹے سچے عذر پیش کرتے اور قسمیں کھا کھا کر اپنے معذور ہونے کا آپ کو یقین دلاتے اور چاہتے کہ نہ کئے ہوئے کام پر بھی ہماری تعریفیں ہوں جس پر یہ آیت اتری، تفسیر ابن مردویہ میں ہے کہ مروان نے حضرت ابو سعید سے اس آیت کے بارے میں اسی طرح سوال کیا تھا جس طرح اوپر گزرا کہ حضرت ابن عباس سے پچھوایا تو حضرت ابو سعید نے اس کا مصداق اور اس کا شان نزول ان مناقوں کو قرار دیا جو غزوہ کے وقت بیٹھ جاتے اگر مسلمانوں کو نقصان پہنچا تو بغلیں بجاتے اگر فائدہ ہوا تو اپنا معذور ہونا ظاہر کرتے اور فتح و نصرت کی خوشی کا اظہار کرتے اس پر مروان نے کہا کہاں یہ واقعہ کہاں یہ آیت ؟ تو حضرت ابو سعید نے فرمایا کہ یہ زید بن ثابت بھی اس سے واقف ہیں مروان نے حضرت زید سے پوچھا آپ نے بھی اس کی تصدیق کی پھر حضرت ابو سعید نے اونٹنیاں جو صدقہ کی ہیں چھین لیں گے باہر نکل کر حضرت زید نے کہا میری شہادت پر تم میری تعریف نہیں کرتے ؟ حضرت ابو سعید نے فرمایا تم نے سچی شہادت ادا کردی تو حضرت زید نے فرمایا پھر میں بھی سچی شہادت دینے پر مستحق تعریف تو ہوں مروان اس زمانہ میں مدینہ کا امیر تھا، دوسری روایت میں ہے کہ مروان کا یہ سوال رافع بن خدیج سے ہی پہلے ہوا تھا، اس سے پہلے کی روایت میں گزر چکا ہے کہ مروان نے اس آیت کی بابت حضرت عبداللہ بن عباس سے پچھوایا تھا تو یاد رہے کہ ان دونوں میں کوئی تضاد اور نفی کا عنصر نہیں ہم کہہ سکتے ہیں کہ آیت عام ہے اس میں بھی شامل ہے اور اس میں بھی، مروان والی روایت میں بھی ممکن ہے پہلے ان دونوں صاحبوں نے جواب دیئے پھر مزید تشفی کے طور پر حبر الامہ حضرت عبداللہ بن عباس سے بھی مروان نے بذریعہ اپنے آدمی کے سوال کیا ہو، واللہ اعلم، حضرت ثابت بن قیس انصاری خدمت نبوی ﷺ میں حاضر ہو کر عرض کرتے ہیں کہ یا رسول اللہ ﷺ مجھے تو اپنی ہلاکت کا بڑا اندیشہ ہے آپ نے فرمایا کیوں ؟ جواب دیا ایک تو اس وجہ سے کہ اللہ تعالیٰ نے اس بات سے روکا ہے کہ جو نہ کیا ہو اس پر تعریف کو پسند کریں اور میرا یہ حال ہے کہ میں تعریف پسند کرتا ہوں، دوسری بات یہ ہے کہ تکبر سے اللہ نے روکا ہے اور میں جمال کو پسند کرتا ہوں تیسرے یہ کہ حضور ﷺ کی آواز سے بلند آواز کرنا ممنوع ہے اور میں بلند آواز ہوں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا تو اس بات سے خوش نہیں کہ تیری زندگی بہترین اور باخیر ہو اور تیری موت شہادت کی موت ہو اور تو جنتی بن جائے خوش ہو کر کہنے لگے کیوں نہیں یا رسول اللہ ﷺ یہ تو بہت ہی اچھی بات ہے چناچہ یہی ہوا کہ آپ کی زندگی انتہائی اچھی گزری اور موت شہادت کی نصیب ہوئی، مسیلمہ کذاب سے مسلمانوں کی جنگ میں آپ نے شہادت پائی۔ تحسبنھم کو یحسبنھم پڑھا گیا ہے، پھر فرمان ہے کہ تو انہیں عذاب سے نجات پانے والے خیال نہ کر انہیں عذاب ضرور ہوگا اور وہ بھی درد ناک، پھر ارشاد ہے کہ ہر چیز کا مالک اور ہر چیز پر قادر اللہ تعالیٰ ہے اسے کوئی کام عاجز نہیں کرسکتا پس تم اس سے ڈرتے رہو اور اس کی مخالفت نہ کرو اس کے غضب سے بچنے کی کوشش کرو اس کے عذابوں سے اپنا بچاؤ کرلو نہ تو کوئی اس سے بڑا نہ اس سے زیادہ قدرت والا۔
189
View Single
وَلِلَّهِ مُلۡكُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۗ وَٱللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ قَدِيرٌ
And for Allah only is the kingship of the heavens and the earth; and Allah is Able to do all things.
اور سب آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اللہ ہی کے لئے ہے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے (سو تم اپنا دھیان اور توکّل اسی پر رکھو)
Tafsir Ibn Kathir
Chastising the People of the Scriptures for Breaking the Covenant and Hiding the Truth
In this Ayah, Allah chastises the People of the Scriptures, from whom Allah took the covenant by the words of their Prophets, that they would believe in Muhammad ﷺ and describe him to the people, so that they would recognize and follow him when Allah sent him. However, they hid this truth and preferred the the small amounts and the material gains instead of the rewards of this life and the Hereafter that they were promised. This is a losing deal and a failing trade, indeed.
These Ayat also contain a warning for the scholars not to imitate their behavior, so that they do not suffer the same fate and become like them. Therefore, the scholars are required to spread the beneficial knowledge that they have, encouraging the various righteous good deeds. They are also warned against hiding any part of their knowledge. A Hadith states that the Prophet said,
«مَنْ سُئِلَ عَنْ عِلْمٍ فَكَتَمَهُ، أُلْجِمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِلِجَامٍ مِنْ نَار»
(Whoever was asked about knowledge that he knew but did not disclose it, will be tied with a bridle made of fire on the Day of Resurrection.)
Chastising Those Who Love to be Praised for What They Have not Done
Allah's statement,
لاَ تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَفْرَحُونَ بِمَآ أَتَوْاْ وَّيُحِبُّونَ أَن يُحْمَدُواْ بِمَا لَمْ يَفْعَلُواْ
(Think not that those who rejoice in what they have done, and love to be praised for what they have not done), refers to those who show off, rejoice in what they do and claim to do what they have not done. The Two Sahihs recorded that the Prophet said,
«مَنِ ادَّعَى دَعْوَةً كَاذِبَةً لِيَتَكَثَّرَ بِهَا، لَمْ يَزِدْهُ اللهُ إِلَّا قِلَّة»
(Whoever issues a false claim to acquire some type of gain, then Allah will only grant him decrease.)
The Sahih also recorded;
«الْمُتَشَبِّعُ بِمَا لَمْ يُعْطَ، كَلَابِسِ ثَوْبَيْ زُور»
(He who claims to do what he has not done, is just like a person who wears two robes made of falsehood.)
Imam Ahmad recorded that Marwan told his guard Rafi` to go to Ibn `Abbas and proclaim to him, "If every person among us who rejoices with what he has done and loves to be praised for what he has not done will be tormented, we all will be tormented." Ibn `Abbas said, "This Ayah was revealed about the People of the Scriptures." He then recited the Ayah,
وَإِذْ أَخَذَ اللَّهُ مِيثَـقَ الَّذِينَ أُوتُواْ الْكِتَـبَ لَتُبَيِّنُنَّهُ لِلنَّاسِ وَلاَ تَكْتُمُونَهُ فَنَبَذُوهُ وَرَآءَ ظُهُورِهِمْ وَاشْتَرَوْاْ بِهِ ثَمَناً قَلِيلاً فَبِئْسَ مَا يَشْتَرُونَ
((And remember) when Allah took a covenant from those who were given the Scripture (Jews and Christians) to make it (the truth) known and clear to mankind, and not to hide it, but they threw it away behind their backs, and purchased with it some miserable gain! And indeed worst is that which they bought.) then the Ayah,
لاَ تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَفْرَحُونَ بِمَآ أَتَوْاْ وَّيُحِبُّونَ أَن يُحْمَدُواْ بِمَا لَمْ يَفْعَلُواْ
(Think not that those who rejoice in what they have done, and love to be praised for what they have not done)
Ibn `Abbas said, "The Prophet asked them about something, and they hid its knowledge, giving him an incorrect answer. They parted after showing off and rejoicing in front of him because they answered him, so they pretended, and they were delighted that they hid the correct news about what he had asked them." This was recorded by Al-Bukhari, Muslim, At-Tirmidhi and An-Nasa'i.
Al-Bukhari recorded that Abu Sa`id Al-Khudri said, "During the time of the Messenger of Allah ﷺ, when the Messenger would go to battle, some hypocrite men would remain behind and rejoice because they did not accompany the Prophet in battle. When the Messenger would come back, they would ask him to excuse them swearing to having some excuse, and wanting to be praised for that which they did not do. So Allah revealed,
لاَ تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَفْرَحُونَ بِمَآ أَتَوْاْ وَّيُحِبُّونَ أَن يُحْمَدُواْ بِمَا لَمْ يَفْعَلُواْ
(Think not that those who rejoice in what they have done, and love to be praised for what they have not done),"
to the end of the Ayah." And Muslim recorded similarly.
Allah said;
فَلاَ تَحْسَبَنَّهُمْ بِمَفَازَةٍ مِّنَ الْعَذَابِ
(think not that they are rescued from the torment, ) Do not think that they will be saved from punishment, rather it will certainly strike them. So Allah said;
وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ
(and for them is a painful torment.) Allah then said,
وَللَّهِ مُلْكُ السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ وَاللَّهُ عَلَى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ
(And to Allah belongs the dominion of the heavens and the earth, and Allah has power over all things.) He is the Owner of everything, able to do all things and nothing escapes His might. Therefore, fear Him, never defy Him and beware of His anger and revenge. He is the Most Great, none is greater than Him, and the Most Able, none is more able than He is.
بدترین خریدوفروخت ! اللہ تعالیٰ یہاں اہل کتاب کو ڈانٹ رہا ہے کہ پیغمبروں کی وساطت سے جو عہد ان کا جناب باری سے ہوا تھا کہ حضور پیغمبر الزمان ﷺ پر ایمان لائیں گے اور آپ کے ذکر کو اور آپ کی بشارت کی پیش گوئی کو لوگوں میں پھیلائیں گے انہیں آپ کی تابعداری پر آمادہ کریں گے اور پھر جس وقت آپ آجائیں تو دل سے آپ کے تابعدار ہوجائیں گے لیکن انہوں نے اس عہد کو چھپالیا اور اللہ تعالیٰ اس کے ظاہر کرنے پر جن دنیا اور آخرت کی بھلائیوں کا ان سے وعدہ کیا تھا ان کے بدلے دنیا کی تھوڑی سی پونجی میں الجھ کر رہ گئے ان کی یہ خریدو فروخت بد سے بدتر ہے، اس میں علماء کو تنبیہہ ہے کہ وہ ان کی طرح نہ کریں ورنہ ان پر بھی وہی سزا ہوگی جو ان کو ملی اور انہیں بھی اللہ کی وہ ناراضگی اٹھانی پڑے گی جو انہوں نے اٹھائی علماء کرام کو چاہئے کہ ان کے پاس جو نفع دینے والا دینی علم ہو جس سے لوگ نیک عمل جم کرسکتے ہوں اسے پھیلاتے رہیں اور کسی بات کو نہ چھپائیں، حدیث شریف میں سے جس شخص سے علم کا کوئی مسئلہ پوچھا جائے اور وہ اسے چھپائے تو قیامت کے دن آگ کی لگام پہنایا جائے گا۔ دوسری آیت میں ریاکاروں کی مذمت بیان ہو رہی ہے، بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے جو شخص جھوٹا دعویٰ کر کے زیادہ مال کمانا چاہے اسے اللہ تعالیٰ اور کم کر دے گا، بخاری و مسلم کی دوسری حدیث میں ہے جو نہ دیا گیا ہو اس کے ساتھ آسودگی جتنانے والا دو چھوٹے کپڑے پہننے والے کی مثل ہے، مسند احمد میں ہے کہ ایک مرتبہ مروان نے اپنے دربان رافع سے کہا کہ حضرت عبداللہ بن عباس کے پاس جاؤ اور ان سے کہو کہ اگر اپنے کام پر خوش ہونے اور نہ کئے ہوئے کام پر تعریف پسند کرنے کے باعث اللہ کا عذاب ہوگا تو ہم سے کوئی اس سے چھٹکارا نہیں پاسکتا، حضرت عبداللہ نے اس کے جواب میں فرمایا کہ تمہیں اس آیت سے کیا تعلق ؟ یہ تو اہل کتاب کے بارے میں ہے پھر آپ نے (واذ اخذ اللہ) سے اس آیت کے ختم تک تلاوت کی اور فرمایا کہ ان سے نبی ﷺ نے کسی چیز کے بارے میں سوال کیا تھا تو انہوں نے اس کا کچھ اور ہی غلط جواب دیا اور باہر نکل کر گمان کرنے لگے کہ ہم نے آپ کے سوال کا جواب دے دیا جس کی وجہ سے آپ کے پاس ہماری تعریف ہوگی اور سوال کے اصلی جواب کے چھپا لینے اور اپنے جھوٹے فقرہ چل جانے پر بھی خوش تھے، اسی کا بیان اس آیت میں ہے، یہ حدیث بخاری وغیرہ میں بھی ہے اور صحیح بخاری شریف میں یہ بھی ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ میدان جنگ میں تشریف لے جاتے تو منافقین اپنے گھروں میں گھسے بیٹھے رہتے ساتھ نہ جاتے پھر خوشیاں مناتے کہ ہم لڑائی سے بچ گئے اب جب اللہ کے نبی ﷺ واپس لوٹتے تو یہ باتیں بناتے جھوٹے سچے عذر پیش کرتے اور قسمیں کھا کھا کر اپنے معذور ہونے کا آپ کو یقین دلاتے اور چاہتے کہ نہ کئے ہوئے کام پر بھی ہماری تعریفیں ہوں جس پر یہ آیت اتری، تفسیر ابن مردویہ میں ہے کہ مروان نے حضرت ابو سعید سے اس آیت کے بارے میں اسی طرح سوال کیا تھا جس طرح اوپر گزرا کہ حضرت ابن عباس سے پچھوایا تو حضرت ابو سعید نے اس کا مصداق اور اس کا شان نزول ان مناقوں کو قرار دیا جو غزوہ کے وقت بیٹھ جاتے اگر مسلمانوں کو نقصان پہنچا تو بغلیں بجاتے اگر فائدہ ہوا تو اپنا معذور ہونا ظاہر کرتے اور فتح و نصرت کی خوشی کا اظہار کرتے اس پر مروان نے کہا کہاں یہ واقعہ کہاں یہ آیت ؟ تو حضرت ابو سعید نے فرمایا کہ یہ زید بن ثابت بھی اس سے واقف ہیں مروان نے حضرت زید سے پوچھا آپ نے بھی اس کی تصدیق کی پھر حضرت ابو سعید نے اونٹنیاں جو صدقہ کی ہیں چھین لیں گے باہر نکل کر حضرت زید نے کہا میری شہادت پر تم میری تعریف نہیں کرتے ؟ حضرت ابو سعید نے فرمایا تم نے سچی شہادت ادا کردی تو حضرت زید نے فرمایا پھر میں بھی سچی شہادت دینے پر مستحق تعریف تو ہوں مروان اس زمانہ میں مدینہ کا امیر تھا، دوسری روایت میں ہے کہ مروان کا یہ سوال رافع بن خدیج سے ہی پہلے ہوا تھا، اس سے پہلے کی روایت میں گزر چکا ہے کہ مروان نے اس آیت کی بابت حضرت عبداللہ بن عباس سے پچھوایا تھا تو یاد رہے کہ ان دونوں میں کوئی تضاد اور نفی کا عنصر نہیں ہم کہہ سکتے ہیں کہ آیت عام ہے اس میں بھی شامل ہے اور اس میں بھی، مروان والی روایت میں بھی ممکن ہے پہلے ان دونوں صاحبوں نے جواب دیئے پھر مزید تشفی کے طور پر حبر الامہ حضرت عبداللہ بن عباس سے بھی مروان نے بذریعہ اپنے آدمی کے سوال کیا ہو، واللہ اعلم، حضرت ثابت بن قیس انصاری خدمت نبوی ﷺ میں حاضر ہو کر عرض کرتے ہیں کہ یا رسول اللہ ﷺ مجھے تو اپنی ہلاکت کا بڑا اندیشہ ہے آپ نے فرمایا کیوں ؟ جواب دیا ایک تو اس وجہ سے کہ اللہ تعالیٰ نے اس بات سے روکا ہے کہ جو نہ کیا ہو اس پر تعریف کو پسند کریں اور میرا یہ حال ہے کہ میں تعریف پسند کرتا ہوں، دوسری بات یہ ہے کہ تکبر سے اللہ نے روکا ہے اور میں جمال کو پسند کرتا ہوں تیسرے یہ کہ حضور ﷺ کی آواز سے بلند آواز کرنا ممنوع ہے اور میں بلند آواز ہوں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا تو اس بات سے خوش نہیں کہ تیری زندگی بہترین اور باخیر ہو اور تیری موت شہادت کی موت ہو اور تو جنتی بن جائے خوش ہو کر کہنے لگے کیوں نہیں یا رسول اللہ ﷺ یہ تو بہت ہی اچھی بات ہے چناچہ یہی ہوا کہ آپ کی زندگی انتہائی اچھی گزری اور موت شہادت کی نصیب ہوئی، مسیلمہ کذاب سے مسلمانوں کی جنگ میں آپ نے شہادت پائی۔ تحسبنھم کو یحسبنھم پڑھا گیا ہے، پھر فرمان ہے کہ تو انہیں عذاب سے نجات پانے والے خیال نہ کر انہیں عذاب ضرور ہوگا اور وہ بھی درد ناک، پھر ارشاد ہے کہ ہر چیز کا مالک اور ہر چیز پر قادر اللہ تعالیٰ ہے اسے کوئی کام عاجز نہیں کرسکتا پس تم اس سے ڈرتے رہو اور اس کی مخالفت نہ کرو اس کے غضب سے بچنے کی کوشش کرو اس کے عذابوں سے اپنا بچاؤ کرلو نہ تو کوئی اس سے بڑا نہ اس سے زیادہ قدرت والا۔
190
View Single
إِنَّ فِي خَلۡقِ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ وَٱخۡتِلَٰفِ ٱلَّيۡلِ وَٱلنَّهَارِ لَأٓيَٰتٖ لِّأُوْلِي ٱلۡأَلۡبَٰبِ
Undoubtedly in the creation of the heavens and the earth and the alternation of night and day are signs for the intelligent.
بیشک آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں اور شب و روز کی گردش میں عقلِ سلیم والوں کے لئے (اللہ کی قدرت کی) نشانیاں ہیں
Tafsir Ibn Kathir
The Proofs of Tawhid for People of Understanding, their Characteristics, Speech, and Supplications
Allah said,
إِنَّ فِى خَلْقِ السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ
(Verily, in the creation of the heavens and the Earth,) 3:190, referring to the sky in its height and spaciousness, the earth in its expanse and density, the tremendous features they have of rotating planets, seas, mountains, deserts, trees, plants, fruits, animals, metals and various beneficial colors, scents, tastes and elements.
وَاخْتِلَـفِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ
(And in the alternation of night and day), as one follows and takes from the length of the other. For instance, at times one of them becomes longer than the other, shorter than the other at times and equal to the other at other times, and the same is repeated again and again, and all this occurs by the decision of the Almighty, Most Wise. This is why Allah said,
لاّيَـتٍ لاٌّوْلِى الاٌّلْبَـبِ
(there are indeed signs for men of understanding), referring to the intelligent and sound minds that contemplate about the true reality of things, unlike the deaf and mute who do not have sound comprehension. Allah said about the latter type,
وَكَأَيِّن مِّن ءَايَةٍ فِى السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ يَمُرُّونَ عَلَيْهَا وَهُمْ عَنْهَا مُعْرِضُونَ - وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلاَّ وَهُمْ مُّشْرِكُونَ
(And how many a sign in the heavens and the earth they pass by, while they are averse therefrom. And most of them believe not in Allah except that they attribute partners unto Him) 12:105,106.
Allah then describes those who have good minds,
الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِيَـماً وَقُعُوداً وَعَلَى جُنُوبِهِمْ
(Those who remember Allah standing, sitting, and lying down on their sides) 3:191.
Al-Bukhari recorded that `Imran bin Husayn said that, the Messenger of Allah ﷺ said,
«صَلِّ قَائِمًا، فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَقَاعِدًا، فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَعَلَى جَنْب»
(Pray while standing, and if you can't, pray while sitting, and if you cannot do even that, then pray lying on your side.) These people remember Allah in all situations, in their heart and speech,
وَيَتَفَكَّرُونَ فِى خَلْقِ السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ
(and think deeply about the creation of the heavens and the Earth), contemplating about signs in the sky and earth that testify to the might, ability, knowledge, wisdom, will and mercy of the Creator. Allah criticizes those who do not contemplate about His creation, which testifies to His existence, Attributes, Shari`ah, His decree and Ayat. Allah said,
وَكَأَيِّن مِّن ءَايَةٍ فِى السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ يَمُرُّونَ عَلَيْهَا وَهُمْ عَنْهَا مُعْرِضُونَ - وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلاَّ وَهُمْ مُّشْرِكُونَ
(And how many a sign in the heavens and the Earth they pass by, while they are averse therefrom. And most of them believe not in Allah except that they attribute partners unto Him) 12:105,106.
Allah also praises His believing servants,
الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِيَـماً وَقُعُوداً وَعَلَى جُنُوبِهِمْ وَيَتَفَكَّرُونَ فِى خَلْقِ السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ
(Those who remember Allah standing, sitting, and lying down on their sides, and think deeply about the creation of the heavens and the earth), supplicating;
رَبَّنَآ مَا خَلَقْتَ هَذا بَـطِلاً
("Our Lord! You have not created this without purpose,")
You did not create all this in jest and play. Rather, You created it in truth, so that You recompense those who do evil in kind, and reward those who do righteous deeds with what is better.
The faithful believers praise Allah and deny that He does anything in jest and without purpose, saying,
سُبْحَـنَكَ
("glory to You,"), for You would never create anything without purpose,
فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ
("Give us salvation from the torment of the Fire."), meaning, "O You Who created the creation in truth and justice, Who is far from any shortcomings, or doing things without purpose or with jest, save us from the torment of the Fire with Your power and strength. Direct us to perform the deeds that make You pleased with us. Guide us to righteous work from which You admit us into the delightful Paradise, and save us from Your painful torment."
They next supplicate,
رَبَّنَآ إِنَّكَ مَن تُدْخِلِ النَّارَ فَقَدْ أَخْزَيْتَهُ
("Our Lord! Verily, whom You admit to the Fire, indeed, You have disgraced him;), by humiliating and disgracing him before all people on the Day of Gathering,
وَمَا لِلظَّـلِمِينَ مِنْ أَنصَارٍ<
("and never will the wrongdoers find any helpers."), on the Day of Judgment, who would save them from You. Therefore, there is no escaping whatever fate You decided for them.
رَّبَّنَآ إِنَّنَآ سَمِعْنَا مُنَادِياً يُنَادِى لِلإِيمَـنِ
("Our Lord! Verily, we have heard the call of one calling to faith,"), a caller who calls to faith, referring to the Messenger of Allah ﷺ,
أَنْ ءَامِنُواْ بِرَبِّكُمْ فَـَامَنَّا
(`Believe in your Lord,' and we have believed), accepted his call and followed him.
رَبَّنَا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا
("Our Lord! Forgive us our sins"), on account of our faith and obeying Your Prophet
فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا
("Forgive us our sins"), and cover them,
وَكَفِّرْ عَنَّا سَيِّئَـتِنَا
("and expiate from us our evil deeds"), between us and You, in private,
وَتَوَفَّنَا مَعَ الاٌّبْرَارِ
("and make us die along with Al-Abrar."), join us with the righteous people.
رَبَّنَا وَءَاتِنَا مَا وَعَدتَّنَا عَلَى رُسُلِكَ
("Our Lord! Grant us what You promised unto us through Your Messengers") for our faith in Your Messengers, or, and this explanation is better; grant us what You promised us by the words of Your Messengers,
وَلاَ تُخْزِنَا يَوْمَ الْقِيَـمَةِ
("and disgrace us not on the Day of Resurrection,"), before all creation,
إِنَّكَ لاَ تُخْلِفُ الْمِيعَادَ
("for You never break (Your) Promise."), for surely, the promise that You conveyed to Your Messengers, which includes us being resurrected before You, shall certainly come to pass.
It was the Prophet's tradition to recite the ten Ayat at the end of Surah Al `Imran when he woke up at night for (voluntary) prayer. Al-Bukhari recorded that Ibn `Abbas said, "I slept one night at the house of my aunt, Maymunah. The Messenger of Allah ﷺ spoke with his wife for a while and then went to sleep. When it was the third part of the night, he stood up, looked at the sky and recited,
إِنَّ فِى خَلْقِ السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ وَاخْتِلَـفِ الَّيْلِ وَالنَّهَارِ لاّيَـتٍ لاٌّوْلِى الاٌّلْبَـبِ
(Verily, in the creation of the heavens and the earth, and in the alternation of night and day, there are indeed signs for men of understanding) 3:190.
The Prophet then stood up, performed ablution, used Siwak (to clean his teeth) and prayed eleven units of prayer. When Bilal said the Adhan, the Prophet prayed two units of prayer, went out (to the Masjid) and led the people in the Dawn prayer." This was also collected by Muslim.
Ibn Marduwyah recorded that `Ata' said, "I, Ibn `Umar and `Ubayd bin `Umayr went to `A'ishah and entered her room, and there was a screen between us and her. She said, `O `Ubayd! What prevents you from visiting us' He said, `What the poet said, `Visit every once in a while, and you will be loved more.' Ibn `Umar said, `Tell us about the most unusual thing you witnessed from the Messenger of Allah ﷺ.' She cried and said, `All his matters were amazing. On night, he came close to me until his skin touched my skin and said, `Let me worship my Lord.' I said, `By Allah I love your being close to me. I also love that you worship your Lord.' He used the water-skin and performed ablution, but did not use too much water. He then stood up in prayer and cried until his beard became wet. He prostrated and cried until he made the ground wet. He then laid down on his side and cried. When Bilal came to alert the Prophet for the Dawn prayer, he said, `O Messenger of Allah! What makes you cry, while Allah has forgiven you your previous and latter sins' He said,
«وَيْحَكَ يَا بِلَالُ، وَمَا يَمْنَعُنِي أَنْ أَبْكِيَ، وَقَدْ أُنْزِلَ عَلَيَّ فِي هذِهِ اللَّيْلَة»
(O Bilal! What prevents me from crying, when this night, this Ayah was revealed to me,)
إِنَّ فِى خَلْقِ السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ وَاخْتِلَـفِ الَّيْلِ وَالنَّهَارِ لاّيَـتٍ لاٌّوْلِى الاٌّلْبَـبِ
(Verily, in the creation of the heavens and the earth, and in the alternation of night and day, there are indeed signs for men of understanding.)
(Woe to he who recites it but does not contemplate it.)."
مظاہر کائنات دلیل رب ذوالجلال دعوت غرو فکر طبرانی میں ہے حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ قریش یہودیوں کے پاس گئے اور ان سے پوچھا کہ حضرت موسیٰ ؑ تمہارے پاس کیا کیا معجزات لے کر آئے تھے انہوں نے کہا اژدھا بن جانے والی لکڑی اور چمکیلا ہاتھ، پھر نصرانیوں کے پاس گئے ان سے کہا تمہارے پاس حضرت عیسیٰ (علیہ اسلام) کیا نشانیاں لائے تھے جواب ملا کہ مادر زاد اندھوں کو بینا کردینا اور کوڑھی کو اچھا کردینا اور مردوں کو زندہ کردینا۔ اب یہ قریش آنحضرت ﷺ کے پاس آئے اور آپ سے کہا اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ ہمارے لئے صفا پہاڑ کو سونے کا بنا دے آپ نے دعا کی جس پر یہ آیت (اِنَّ فِيْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَاخْتِلَافِ الَّيْلِ وَالنَّهَارِ) 2۔ البقرۃ :164) اتری یعنی نشان قدرت دیکھنے والوں کیلئے اسی میں بڑی نشانیاں ہیں یہ اسی میں غورو فکر کریں گے تو ان قدرتوں والے اللہ تعالیٰ کے سامنے جھک جائیں گے لیکن اس روایت میں ایک اشکال ہے وہ یہ کہ یہ سوال مکہ شریف میں ہوا تھا اور یہ آیت مدینہ شریف میں نازل ہوئی واللہ اعلم۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ آسمان جیسی بلندر اور وسعت مخلوق اور زمین جیسی پست اور سخت اور لمبی چوڑی مخلوق پھر آسمان میں بڑی بڑی نشانیاں مثلاً چلنے پھرنے والے اور ایک جاٹھہرنے والے ستارے اور زمین کی بڑی بڑی پیدوارا مثلاً پہاڑ، جنگل، درخت، گھس، کھیتیاں، پھل اور مختلف قسم کے جاندار، کانیں، الگ الگ ذائقے والے اور طرح طرح کی خوشبوؤں والے اور مختلف خواص والے میوے وغیرہ کیا یہ سب آیات قدرت ایک سوچ سمجھ والے انسان کی رہبری اللہ عزوجل کی طرف نہیں کرسکتیں ؟ جو اور نشانیاں دیکھنے کی ضرورت باقی رہے پھر دن رات کا آنا جانا اور ان کا کم زیادہ ہونا پھر برابر ہوجانا یہ سب اس عزیز وحلیم اللہ عزوجل کی قدرت کاملہ کی پوری پوری نشانیاں ہیں جو پاک نفس والے ہر چیز کی حقیقت پر نظریں ڈالنے کے عادی ہیں اور بیوقوفوں کی طرح آنکھ اندھے اور کان کے بہرے نہیں جن کی حالت اور جگہ بیان ہوئی ہے کہ وہ آسمان اور زمین کی بہت سی نشانیاں پیروں تلے روندتے ہوئے گزر جاتے ہیں اور غورو فکر نہیں کرتے، ان میں سے اکثر باوجود اللہ تعالیٰ کو ماننے کے پھر بھی شرک سے نہیں بچ سکے۔ اب ان عقلمندوں کی صفتیں بیان ہو رہی ہیں کہ وہ اٹھتے بیٹھتے لیٹتے اللہ کا نام لیا کرتے ہیں، بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ حضور ﷺ نے عمران بن حصین سے فرمایا کھڑے ہو کر نماز پڑھا کرو اگر طاقت نہ ہو تو بیٹھ کر اور یہ بھی نہ ہو سکے تو لیٹے لیٹے ہی سہی، یعنی کسی حالت میں اللہ عزوجل کے ذکر سے غافل مت رہو دل میں اور پوشیدہ اور زبان سے اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے رہا کرو، یہ لوگ آسمان اور زمین کی پیدائش میں نظریں دوڑاتے ہیں اور ان کی حکمتوں پر غور کرتے ہیں جو اس خالق یکتا کی عظمت وقدرت علم و حکمت اختیار رحمت پر دلالت کرتی ہیں، حضرت شیخ سلیمان درانی ؒ فرماتے ہیں گھر سے نکل کر جسچیز پر میری نظر پڑتی ہے میں دیکھتا ہوں کہ اس میں اللہ کی ایک ساعت غورو فکر کرنا رات بھر کے قیام کرنے سے افضل ہے، حضرت فضیل ؒ فرماتے ہیں کہ حضرت حسن کا قول ہے کہ غورو فکر ایک نور ہے جو تیرے دل پر اپنا پر تو ڈالے گا اور بسا اوقات یہ بیت پڑھتے۔اذا المراء کانت لہ فکرۃ ففی کل شئی لہ عبرۃ یعنی جس انسان کو باریک بینی اور سوچ سمجھ کی عادث پڑگئی اسے ہر چیز میں ایک عبرت اور آیت نظر آتی ہے حضرت عیسیٰ فرماتے ہیں خوش نصیب ہے وہ شخص جس کا بولنا ذکر اللہ اور نصیحت ہو اور اس کا جب رہنا غور و فکر ہو اور اس کا دیکھنا عبرت اور تنبیہہ ہو، لقمان حکیم کا نصیحت آموز مقولہ بھی یاد رہے کہ تنہائی کی گوشہ نشینی جس قدر زیادہ ہو اور اسی قدر غورو فکر اور دور اندیشی کی عادت زیادہ ہوتی ہے اور جس قدر یہ بڑھ جائے اسی قدر راستے انسان پر وہ کھل جاتے ہیں جو اسے جنت میں پہنچا دیں گے، حضرت وہب بن منبہ فرماتے ہیں جس قدر مراقبہ زیادہ ہوگا اسی قدر سمجھ بوجھ تیز ہوگی اور جتنی سمجھ زیادہ ہوگی اتناعلم نصیب ہوگا اور جس قدر علم زیادہ ہوگا نیک اعمال بھی بڑھیں گے، حضرت عمر بن عبدالعزیز کا ارشاد ہے کہ اللہ عزوجل کے ذکر میں زبان کا چلانا بہت اچھا ہے اور اللہ کی نعمتوں میں غور و فکر افضل عبادت ہے، حضرت مغیث اسود مجلس میں بیٹھے ہوئے فرماتے کہ لوگو قبرستان ہر روز جایا کرو تاکہ تمہیں انجام کا خیال پیدا ہو پھر اپنے دل میں اس منظر کو حاضر کرو کہ تم اللہ کے سامنے کھڑے ہو پھر ایک جماعت کو جہنم میں لے جانے کا حکم ہوتا ہے اور ایک جماعت جنت میں جاتی ہے اپنے دلوں کو اس حال میں جذب کردو اور اپنے بدن کو بھی وہیں حاضر جان لو جہنم کو اپنے سامنے دیکھو اس کے ہتھوڑوں کو اسکی آگ کے قید خانوں کو اپنے سامنے لاؤ اتنا فرماتے ہی دھاڑیں مارمار کر رونے لگتے ہیں یہاں تک کہ بیہوش ہوجاتے ہیں حضرت عبداللہ بن مبارک فرماتے ہیں ایک شخص نے ایک راہب سے ایک قبرستان اور کوڑا کرکٹ پاخانہ پیشاب ڈالنے کی جگہ پر ملاقات کی اور اس سے کہا اے بندہ حق اس وقت تیرے پاس دو خزانے ہیں ایک خزانہ لوگوں کا یعنی قبرستان اور دوسرا خزانہ مال کا یعنی کوڑا کرکٹ۔ پیشاب پاخانہ ڈالنے کی جگہ۔ حضرت عبداللہ بن عمر کھنڈرات پر جاتے اور کسی ٹوٹے پھوٹے دروازے پر کھڑے رہ کر نہایت حسرت و افسوس کے ساتھ بھرائی ہوئی آواز میں فرماتے اے اجڑے ہوئے گھرو تمہارے رہنے والے کہاں گئے ؟ پھر خود فرماتے سب زیر زمین چلے گئے سب فنا کا جام پی چکے صرف اللہ تعالیٰ کی جات ہی ہمیشہ کی مالک بقاء ہے، حضرت عبداللہ بن عباس کا ارشاد ہے دو رکعتیں جو دل بستگی کے ساتھ ادا کی جائیں اس تمام نماز سے افضل ہیں جس میں ساری رات گزار دی لیکن دلچسپی نہ تھی، حسن بصری فرماتے ہیں ابن آدم اپنے پیٹ کے تیسرے حصے میں کھا تیسرے حصے میں پانی پی اور تیسرا حصہ ان سانسوں کیلئے چھوڑ جس میں تو آخرت کی باتوں پر اپنے انجام پر اور اپنے اعمال پر خور و فکر کرسکے، بعض حکیموں کا قول ہے جو شخص دنیا کی چیزوں پر عبرت حاصل کئے بغیر نظر ڈالتا ہے اس غفلت کیوجہ سے اس کی دلی آنکھیں کمزور پڑجاتی ہیں، حضرت عامر بن قیس فرماتے ہیں کہ میں نے بہت سے صحابہ سے سنا ہے کہ ایمان کی روشنی اور تو غور فکر اور مراقبہ میں ہے، مسیح ابن مریم سیدنا حضرت عیسیٰ ؑ کا فرمان ہے کہ ابن آدم اے ضعیف انسان جہاں کہیں تو ہو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا رہ، دنیا میں عاجزی اور مسکینی کے ساتھ رہ، اپنا گھر مسجدوں کو بنا لے، اپنی آنکھوں کو رونا سکھا، اپنے جسم کو صبر کی عادت سکھا، اپنے دل کو غور و فکر کرنے والا بنا، کل کی روزی کی فکر آج نہ کر، امیر المومنین حضرت عمر بن عبدالعزیز ایک مرتبہ مجلس میں بیٹھے ہوئے رو دیئے لوگوں نے وجہ پوچھی تو آپ نے فرمایا میں نے دنیا میں اور اس کی لذتوں میں اور اس کی خواہشوں میں غور فکر کیا اور عبرت حاصل کی جب نتیجہ پر پہنچا تو میری امنگیں ختم ہوگئیں حقیقت یہ ہے کہ ہر شخص کیلئے اس میں عبرت و نصیحت ہے اور وعظ و پند ہے، حسین بن عبدالرحمن نے بھی اپنے اشعار میں اس مضمون کو خوب نبھایا ہے، پس اللہ تعالیٰ نے اپنے ان بندوں کی مدح و ثنا بیان کی جو مخلوقات اور کائنات سے عبرت حاصل کریں اور نصیحت لیں اور ان لوگوں کی مذمت بیان کی جو قدرت کی نشانیوں پر غور نہ کریں۔ مومنوں کی مدح میں بیان ہو رہا ہے کہ یہ لوگ اٹھتے بیٹھتے لیٹتے اللہ سبحانہ کا ذکر کرتے ہیں زمین و آسمان کی پیدائش میں غور و فکر کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اے اللہ تو نے اپنی مخلوق کو عبث اور بیکار نہیں بنایا بلکہ حق کے ساتھ پیدا کیا ہے تاکہ بروں کو برائی کا بدلہ اور نیکوں کو نیکیوں کا بدلہ عطا فرمائے، پھر اللہ کی پاکیزگی بیان کرتے ہیں تو اس سے منزہ ہے کہ کسی چیز کو بیکار بنائے اے خالق کائنات اے عدل و انصاف سے کائنات کو سجانے والے اے نقصان اور عیبوں سے پاک ذات ہمیں اپنی قوت و طاقت سے ان اعمال کی توفیق اور ہمارا رفیق فرما جن سے ہم تیرے عذابوں سے نجات پالیں اور تیری نعمتوں سے مالا مال ہو کر جنت میں داخل ہوجائیں، یہ یوں بھی کہتے ہیں کہ اے اللہ جسے تو جہنم میں لے گیا اسے تو نے برباد اور ذلیل و خوار کردیا مجمع حشر کے سامنے اسے رسوا کیا، ظالموں کا کوئی مددگار نہیں انہیں نہ کوئی چھڑا سکے نہ بچا سکے نہ تیرے ارادے کے درمیان آسکے، اے رب ہم نے پکارنے والے کی پکار سن لی جو ایمان اور اسلام کی طرف بلاتا ہے، مراد اس سے آنحضرت ﷺ ہیں جو فرماتے ہیں کہ اپنے رب پر ایمان لاؤ ہم ایمان لاچکے اور تابعداری بجا لائے پس ہمارے ایمان اور فرماں برداری کی وجہ سے ہمارے گناہوں کو معاف فرما ان کی پردہ پوشی کر اور ہماری برائیوں کو ہم سے دور کر دے اور ہمیں صالح اور نیک لوگوں کے ساتھ ملا دے تو نے ہم سے جو وعدے اپنے نبیوں کی زبانی کئے ہیں انہیں پورے کر اور یہ مطلب بھی بیان کیا گیا ہے کہ جو وعدہ تو نے ہم سے اپنے رسولوں پر ایمان لانے کا لیا تھا لیکن پہلا معنی واضح ہے، مسند احمد کی حدیث میں ہے عسقلان دو عروس میں سے ایک ہے یہیں سے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ستر ہزار شہیداء ٹھائیں گے جو وفد بن کر اللہ کے پاس جائیں گے یہیں شہیدوں کی صفیں ہوں گی جن کے ہاتھوں میں ان کے کٹے ہوئے سر ہوں گے ان کی گردن کی رگوں سے خون جاری ہوگا یہ کہتے ہوں گے اے اللہ ہم سے جو وعدے اپنے رسولوں کی معرفت تو نے کئے ہیں انہیں پورے کر ہمیں قیامت کے دن رسوا نہ کر تو وعدہ خلافی سے پاک ہے اللہ تعالیٰ فرمائے گا میرے یہ بندے سچے ہیں اور انہیں نہر بیضہ میں غسل کروائیں گے جس غسل کے بعد پاک صاف گورے چٹے رنگ کے ہو کر نکلیں گے اور ساری جنت ان کے لئے مباح ہوگی جہاں چاہیں جائیں آئیں جو چاہیں کھائیں پئیں۔ یہ حدیث غریب ہے اور بعض تو کہتے ہیں موضوع ہے واللہ اعلم۔ ہمیں قیامت کے دن تمام لوگوں کے مجمع میں رسوا نہ کر تیرے وعدے سچے ہیں تو نے جو کچھ خبریں اپنے رسولوں کی زبانی پہنچائی ہیں سب اٹل ہیں قیامت کا روز ضرور آنا ہے پس تو ہمیں اس دن کی رسوائی سے نجات دے، رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ بندے پر رسوائی ڈانٹ ڈپٹ مار اور شرمندگی اس قدر ڈالی جائے گی اور اس طرح اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑا کر کے اسے قائل معقول کیا جائے گا کہ وہ چاہے گا کہ کاش مجھے جہنم میں ہی ڈال دیا جاتا (ابو یعلیٰ) اس حدیث کی سند بھی غریب ہے، احادیت سے یہ بھی ثابت ہے کہ رسول اللہ ﷺ رات کو تہجد کیلئے جب اٹھتے تب سورة آل عمران کی ان دس آخری آیتوں کی تلاوت فرماتے چناچہ بخاری شریف میں ہے حضرت عبداللہ بن عباس فرماتے ہیں میں نے اپنی خالہ حضرت میمونہ کے گھر رات گزاری یہ ام المومنین حضور ﷺ کی بیوی صاحبہ تھیں حضور ﷺ جب آئے تو تھوڑی دیر تک آپ حضرت میمونہ سے باتیں کرتے رہے پھر سو گئے جب آخری تہائی رات باقی رہ گئی تو آپ اٹھ بیٹھے اور آسمان کی طرف نگاہ کر کے آیت (ان فی خلق السموات) سے آخر سورت تک کی آیتیں تلاوت فرمائیں پھر کھڑے ہوئے مسواک کی وضو کیا اور گیارہ رکعت نماز ادا کی حضرت بلال کی صبح کی اذان سن کر پھر دو رکعتیں صبح کی سنتیں پڑھیں پھر مسجد میں تشریف لا کر لوگوں کو صبح کی نماز پڑھائی۔ صحیح بخاری میں یہ روایت دوسری جگہ بھی ہے کہ بسترے کے عرض میں تو میں سویا اور لمبائی میں آنحضرت ﷺ اور ام المومنین حضرت میمونہ لیٹیں آدھی رات کے قریب کچھ پہلے یا کچھ بعد حضور ﷺ جاگے اپنے ہاتھوں سے اپنی آنکھیں ملتے ہوئے ان دس آیتوں کی تلاوت کی پھر ایک لٹکی ہوئی مشک میں سے پانی لے کر بہت اچھی طرح کامل وضو کیا میں بھی آپ کی بائیں جانب آپ کی اقتدار میں نماز کیلئے کھڑا ہوگیا حضور ﷺ نے اپنا داہنا ہاتھ میرے سر پر رکھ کر میرے کان کو پکڑ کر مجھے گھما کر اپنی دائیں جانب کرلیا اور دو دو رکعت کر کے چھ مرتبہ یعنی بارہ رکعت پڑھیں پھر وتر پڑھا اور لیٹ گئے یہاں تک کہ مؤذن نے آکر نماز کی اطلاع کی آپ نے کھڑے ہو کردو ہلکی رکعتیں ادا کیں اور باہر آکر صبح کی نماز پڑھائی، ابن مردویہ کی اس حدیث میں ہے حضرت عبداللہ فرماتے ہیں مجھے میرے والد حضرت عباس نے فرمایا کہ تم آج کی رات حضور ﷺ کی آل میں گزارو اور آپ کی رات کی نماز کی کیفیت دیکھو رات کو جب سب لوگ عشاء کی نماز پڑھ کر چلے گئے میں بیٹھا رہا جب حضور ﷺ جانے لگے تو مجھے دیکھ کر فرمایا کون عبداللہ ؟ میں نے کہا جی ہاں فرمایا کیوں رکے ہوئے ہو میں نے کہا والد صاحب کا حکم ہے کہ رات آپ کے گھر گزاروں تو فرمایا بہت اچھا آؤ گھر جا کر فرمایا بستر بچھاؤ ٹاٹ کا تکیہ آیا اور حضور ﷺ اس پر سر رکھ کر سو گئے یہاں تک کہ مجھے آپ کے خراٹوں کی آواز آنے لگی پھر آپ جاگے اور سیدھی طرح بیٹھ کر آسمان کی طرف دیکھ کر تین مرتبہ دعا (سبحان الملک القدوس) پڑھا پھر سورة آل عمران کے خاتمہ کی یہ آیتیں پڑھیں اور روایت میں ہے کہ آیتوں کی تلاوت کے بعد حضور ﷺ نے یہ دعا پڑھی (اللھم اجعل فی قلبی نورا وفی سمعی نورا وفی بصری نورا وعن یمینی نورا وعن شمالی نورا ومن بین یدی نورا ومن خلفی نورا ومن فوقی نورا ومن تحتی نورا واعظم لی نورا یوم القیامتہ) (ابن مردویہ) یہ دعا بعض صحیح طریق سے بھی مروی ہے اس آیت کی تفسیر کے شروع میں طبرانی کے حوالے سے جو حدیث گزری ہے اس سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیت مکی ہے لیکن مشہور اس کے خلاف ہے یعنی یہ کہ یہ آیت مدنی ہے اور اس کی دلیل میں یہ حدیث پیش ہوسکتی ہے جو ابن مردویہ میں ہے کہ حضرت عطاء۔ حضرت ابن عمر حضرت عبید بن عمیر۔ حضرت عائشہ صدیقہ کے پاس آئے آپ کے اور ان کے درمیان پردہ تھا حضرت صدیقہ نے پوچھا عبید تم کیوں نہیں آیا کرتے ؟ حضرت عبید نے جواب دیا اماں جان صرف اس لئے کہ کسی شاعر کا قول ہے زرغباتزد دحبا یعنی کم کم آؤ تاکہ محبت بڑھے، حضرت ابن عمر نے کہا اب ان باتوں کو چھوڑو ام المومنین ہم یہ پوچھنے کیلئے حاضر ہوئے ہیں کہ سب سے زیادہ عجیب بات جو آپ نے آنحضرت محمد ﷺ کی دیکھی ہو وہ ہمیں بتائیں۔ حضرت عائشہ رو دیں اور فرمانے لگیں حضور ﷺ کے تمام کام عجیب تر تھے، اچھا ایک واقعہ سنو ایک رات میری باری میں حضور ﷺ میرے پاس آئے اور میرے ساتھ سوئے پھر مجھ سے فرمانے لگے عائشہ میں اپنے رب کی کچھ عبادت کرنا چاہتا ہوں مجھے جانے دے میں نے کہا یا رسول اللہ ﷺ اللہ کی قسم میں آپ کا قرب چاہتی ہوں اور یہ بھی میری چاہت ہے کہ آپ اللہ عزوجل کی عبادت بھی کریں، اب آپ کھڑے ہوئے اور ایک مشک میں سے پانی لے کر آپ نے ہلکا سا وضو کیا اور نماز کے لئے کھڑے ہوگئے پھر جو رونا شروع کیا تو اتنا روئے کہ داڑھی مبارک تر ہوگئی پھر سجدے میں گئے اور اس قدر روئے کہ زمین تر ہوگئی پھر کروٹ کے بل لیٹ گئے اور روتے ہی رہے یہاں تک کہ حضرت بلال نے آ کر نماز کیلئے بلایا اور آپ کے آنسو رواں دیکھ کر دریافت کیا کہ اے اللہ کے سچے رسول ﷺ آپ کیوں رو رہے ہیں اللہ تعالیٰ نے تو آپ کے تمام اگلے پچھلے گناہ معاف فرما دیئے ہیں، آپ نے فرمایا بلال میں کیوں نہ روؤں ؟ مجھ پر آج کی رات یہ آیت اتری ہے آیت (اِنَّ فِيْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَاخْتِلَافِ الَّيْلِ وَالنَّهَارِ) 2۔ البقرۃ :164) افسوس ہے اس شخص کیلئے جو اسے پڑھے اور پھر اس میں غورو تدبر نہ کرے۔ عبد بن حمید کی تفسیر میں بھی یہ حدیث ہے اس میں یہ بھی ہے کہ جب ہم حضرت عائشہ کے پاس گئے ہم نے سلام کیا تو آپ نے پوچھا تم کون لوگ ہو ؟ ہم نے اپنے نام بتائے اور آخر میں یہ بھی ہے کہ نماز کے بعد آپ اپنی داہنی کروٹ پر لیٹے رخسار تلے ہاتھ رکھا اور روتے رہے یہاں تک کہ آنسوؤں سے زمین تر ہوگئی اور حضرت بلال کے جواب میں آپ نے یہ بھی فرمایا کہ کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں ؟ اور آیتوں کے نازل ہونے کے بارے میں عذاب النار تک آپ نے تلاوت کی، ابن مردویہ کی ایک ضعیف سند والی حدیث میں حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ سورة آل عمران کے آخر کی دس آیتیں ہر رات کو پڑھتے اس روایت میں مظاہر بن اسلم ضعیف ہیں۔
191
View Single
ٱلَّذِينَ يَذۡكُرُونَ ٱللَّهَ قِيَٰمٗا وَقُعُودٗا وَعَلَىٰ جُنُوبِهِمۡ وَيَتَفَكَّرُونَ فِي خَلۡقِ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ رَبَّنَا مَا خَلَقۡتَ هَٰذَا بَٰطِلٗا سُبۡحَٰنَكَ فَقِنَا عَذَابَ ٱلنَّارِ
Those who remember Allah while standing, and sitting, and reclining on their sides, and ponder about the creation of the heavens and the earth; “O our Lord! You have not created this without purpose; Purity is to You, therefore save us from the punishment of fire.”
یہ وہ لوگ ہیں جو (سراپا نیاز بن کر) کھڑے اور (سراپا ادب بن کر) بیٹھے اور (ہجر میں تڑپتے ہوئے) اپنی کروٹوں پر (بھی) اللہ کو یاد کرتے رہتے ہیں اور آسمانوں اور زمین کی تخلیق (میں کارفرما اس کی عظمت اور حُسن کے جلووں) میں فکر کرتے رہتے ہیں، (پھر اس کی معرفت سے لذت آشنا ہو کر پکار اٹھتے ہیں:) اے ہمارے رب! تو نے یہ (سب کچھ) بے حکمت اور بے تدبیر نہیں بنایا، تو (سب کوتاہیوں اور مجبوریوں سے) پاک ہے پس ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا لے
Tafsir Ibn Kathir
The Proofs of Tawhid for People of Understanding, their Characteristics, Speech, and Supplications
Allah said,
إِنَّ فِى خَلْقِ السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ
(Verily, in the creation of the heavens and the Earth,) 3:190, referring to the sky in its height and spaciousness, the earth in its expanse and density, the tremendous features they have of rotating planets, seas, mountains, deserts, trees, plants, fruits, animals, metals and various beneficial colors, scents, tastes and elements.
وَاخْتِلَـفِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ
(And in the alternation of night and day), as one follows and takes from the length of the other. For instance, at times one of them becomes longer than the other, shorter than the other at times and equal to the other at other times, and the same is repeated again and again, and all this occurs by the decision of the Almighty, Most Wise. This is why Allah said,
لاّيَـتٍ لاٌّوْلِى الاٌّلْبَـبِ
(there are indeed signs for men of understanding), referring to the intelligent and sound minds that contemplate about the true reality of things, unlike the deaf and mute who do not have sound comprehension. Allah said about the latter type,
وَكَأَيِّن مِّن ءَايَةٍ فِى السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ يَمُرُّونَ عَلَيْهَا وَهُمْ عَنْهَا مُعْرِضُونَ - وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلاَّ وَهُمْ مُّشْرِكُونَ
(And how many a sign in the heavens and the earth they pass by, while they are averse therefrom. And most of them believe not in Allah except that they attribute partners unto Him) 12:105,106.
Allah then describes those who have good minds,
الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِيَـماً وَقُعُوداً وَعَلَى جُنُوبِهِمْ
(Those who remember Allah standing, sitting, and lying down on their sides) 3:191.
Al-Bukhari recorded that `Imran bin Husayn said that, the Messenger of Allah ﷺ said,
«صَلِّ قَائِمًا، فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَقَاعِدًا، فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَعَلَى جَنْب»
(Pray while standing, and if you can't, pray while sitting, and if you cannot do even that, then pray lying on your side.) These people remember Allah in all situations, in their heart and speech,
وَيَتَفَكَّرُونَ فِى خَلْقِ السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ
(and think deeply about the creation of the heavens and the Earth), contemplating about signs in the sky and earth that testify to the might, ability, knowledge, wisdom, will and mercy of the Creator. Allah criticizes those who do not contemplate about His creation, which testifies to His existence, Attributes, Shari`ah, His decree and Ayat. Allah said,
وَكَأَيِّن مِّن ءَايَةٍ فِى السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ يَمُرُّونَ عَلَيْهَا وَهُمْ عَنْهَا مُعْرِضُونَ - وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلاَّ وَهُمْ مُّشْرِكُونَ
(And how many a sign in the heavens and the Earth they pass by, while they are averse therefrom. And most of them believe not in Allah except that they attribute partners unto Him) 12:105,106.
Allah also praises His believing servants,
الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِيَـماً وَقُعُوداً وَعَلَى جُنُوبِهِمْ وَيَتَفَكَّرُونَ فِى خَلْقِ السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ
(Those who remember Allah standing, sitting, and lying down on their sides, and think deeply about the creation of the heavens and the earth), supplicating;
رَبَّنَآ مَا خَلَقْتَ هَذا بَـطِلاً
("Our Lord! You have not created this without purpose,")
You did not create all this in jest and play. Rather, You created it in truth, so that You recompense those who do evil in kind, and reward those who do righteous deeds with what is better.
The faithful believers praise Allah and deny that He does anything in jest and without purpose, saying,
سُبْحَـنَكَ
("glory to You,"), for You would never create anything without purpose,
فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ
("Give us salvation from the torment of the Fire."), meaning, "O You Who created the creation in truth and justice, Who is far from any shortcomings, or doing things without purpose or with jest, save us from the torment of the Fire with Your power and strength. Direct us to perform the deeds that make You pleased with us. Guide us to righteous work from which You admit us into the delightful Paradise, and save us from Your painful torment."
They next supplicate,
رَبَّنَآ إِنَّكَ مَن تُدْخِلِ النَّارَ فَقَدْ أَخْزَيْتَهُ
("Our Lord! Verily, whom You admit to the Fire, indeed, You have disgraced him;), by humiliating and disgracing him before all people on the Day of Gathering,
وَمَا لِلظَّـلِمِينَ مِنْ أَنصَارٍ<
("and never will the wrongdoers find any helpers."), on the Day of Judgment, who would save them from You. Therefore, there is no escaping whatever fate You decided for them.
رَّبَّنَآ إِنَّنَآ سَمِعْنَا مُنَادِياً يُنَادِى لِلإِيمَـنِ
("Our Lord! Verily, we have heard the call of one calling to faith,"), a caller who calls to faith, referring to the Messenger of Allah ﷺ,
أَنْ ءَامِنُواْ بِرَبِّكُمْ فَـَامَنَّا
(`Believe in your Lord,' and we have believed), accepted his call and followed him.
رَبَّنَا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا
("Our Lord! Forgive us our sins"), on account of our faith and obeying Your Prophet
فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا
("Forgive us our sins"), and cover them,
وَكَفِّرْ عَنَّا سَيِّئَـتِنَا
("and expiate from us our evil deeds"), between us and You, in private,
وَتَوَفَّنَا مَعَ الاٌّبْرَارِ
("and make us die along with Al-Abrar."), join us with the righteous people.
رَبَّنَا وَءَاتِنَا مَا وَعَدتَّنَا عَلَى رُسُلِكَ
("Our Lord! Grant us what You promised unto us through Your Messengers") for our faith in Your Messengers, or, and this explanation is better; grant us what You promised us by the words of Your Messengers,
وَلاَ تُخْزِنَا يَوْمَ الْقِيَـمَةِ
("and disgrace us not on the Day of Resurrection,"), before all creation,
إِنَّكَ لاَ تُخْلِفُ الْمِيعَادَ
("for You never break (Your) Promise."), for surely, the promise that You conveyed to Your Messengers, which includes us being resurrected before You, shall certainly come to pass.
It was the Prophet's tradition to recite the ten Ayat at the end of Surah Al `Imran when he woke up at night for (voluntary) prayer. Al-Bukhari recorded that Ibn `Abbas said, "I slept one night at the house of my aunt, Maymunah. The Messenger of Allah ﷺ spoke with his wife for a while and then went to sleep. When it was the third part of the night, he stood up, looked at the sky and recited,
إِنَّ فِى خَلْقِ السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ وَاخْتِلَـفِ الَّيْلِ وَالنَّهَارِ لاّيَـتٍ لاٌّوْلِى الاٌّلْبَـبِ
(Verily, in the creation of the heavens and the earth, and in the alternation of night and day, there are indeed signs for men of understanding) 3:190.
The Prophet then stood up, performed ablution, used Siwak (to clean his teeth) and prayed eleven units of prayer. When Bilal said the Adhan, the Prophet prayed two units of prayer, went out (to the Masjid) and led the people in the Dawn prayer." This was also collected by Muslim.
Ibn Marduwyah recorded that `Ata' said, "I, Ibn `Umar and `Ubayd bin `Umayr went to `A'ishah and entered her room, and there was a screen between us and her. She said, `O `Ubayd! What prevents you from visiting us' He said, `What the poet said, `Visit every once in a while, and you will be loved more.' Ibn `Umar said, `Tell us about the most unusual thing you witnessed from the Messenger of Allah ﷺ.' She cried and said, `All his matters were amazing. On night, he came close to me until his skin touched my skin and said, `Let me worship my Lord.' I said, `By Allah I love your being close to me. I also love that you worship your Lord.' He used the water-skin and performed ablution, but did not use too much water. He then stood up in prayer and cried until his beard became wet. He prostrated and cried until he made the ground wet. He then laid down on his side and cried. When Bilal came to alert the Prophet for the Dawn prayer, he said, `O Messenger of Allah! What makes you cry, while Allah has forgiven you your previous and latter sins' He said,
«وَيْحَكَ يَا بِلَالُ، وَمَا يَمْنَعُنِي أَنْ أَبْكِيَ، وَقَدْ أُنْزِلَ عَلَيَّ فِي هذِهِ اللَّيْلَة»
(O Bilal! What prevents me from crying, when this night, this Ayah was revealed to me,)
إِنَّ فِى خَلْقِ السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ وَاخْتِلَـفِ الَّيْلِ وَالنَّهَارِ لاّيَـتٍ لاٌّوْلِى الاٌّلْبَـبِ
(Verily, in the creation of the heavens and the earth, and in the alternation of night and day, there are indeed signs for men of understanding.)
(Woe to he who recites it but does not contemplate it.)."
مظاہر کائنات دلیل رب ذوالجلال دعوت غرو فکر طبرانی میں ہے حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ قریش یہودیوں کے پاس گئے اور ان سے پوچھا کہ حضرت موسیٰ ؑ تمہارے پاس کیا کیا معجزات لے کر آئے تھے انہوں نے کہا اژدھا بن جانے والی لکڑی اور چمکیلا ہاتھ، پھر نصرانیوں کے پاس گئے ان سے کہا تمہارے پاس حضرت عیسیٰ (علیہ اسلام) کیا نشانیاں لائے تھے جواب ملا کہ مادر زاد اندھوں کو بینا کردینا اور کوڑھی کو اچھا کردینا اور مردوں کو زندہ کردینا۔ اب یہ قریش آنحضرت ﷺ کے پاس آئے اور آپ سے کہا اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ ہمارے لئے صفا پہاڑ کو سونے کا بنا دے آپ نے دعا کی جس پر یہ آیت (اِنَّ فِيْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَاخْتِلَافِ الَّيْلِ وَالنَّهَارِ) 2۔ البقرۃ :164) اتری یعنی نشان قدرت دیکھنے والوں کیلئے اسی میں بڑی نشانیاں ہیں یہ اسی میں غورو فکر کریں گے تو ان قدرتوں والے اللہ تعالیٰ کے سامنے جھک جائیں گے لیکن اس روایت میں ایک اشکال ہے وہ یہ کہ یہ سوال مکہ شریف میں ہوا تھا اور یہ آیت مدینہ شریف میں نازل ہوئی واللہ اعلم۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ آسمان جیسی بلندر اور وسعت مخلوق اور زمین جیسی پست اور سخت اور لمبی چوڑی مخلوق پھر آسمان میں بڑی بڑی نشانیاں مثلاً چلنے پھرنے والے اور ایک جاٹھہرنے والے ستارے اور زمین کی بڑی بڑی پیدوارا مثلاً پہاڑ، جنگل، درخت، گھس، کھیتیاں، پھل اور مختلف قسم کے جاندار، کانیں، الگ الگ ذائقے والے اور طرح طرح کی خوشبوؤں والے اور مختلف خواص والے میوے وغیرہ کیا یہ سب آیات قدرت ایک سوچ سمجھ والے انسان کی رہبری اللہ عزوجل کی طرف نہیں کرسکتیں ؟ جو اور نشانیاں دیکھنے کی ضرورت باقی رہے پھر دن رات کا آنا جانا اور ان کا کم زیادہ ہونا پھر برابر ہوجانا یہ سب اس عزیز وحلیم اللہ عزوجل کی قدرت کاملہ کی پوری پوری نشانیاں ہیں جو پاک نفس والے ہر چیز کی حقیقت پر نظریں ڈالنے کے عادی ہیں اور بیوقوفوں کی طرح آنکھ اندھے اور کان کے بہرے نہیں جن کی حالت اور جگہ بیان ہوئی ہے کہ وہ آسمان اور زمین کی بہت سی نشانیاں پیروں تلے روندتے ہوئے گزر جاتے ہیں اور غورو فکر نہیں کرتے، ان میں سے اکثر باوجود اللہ تعالیٰ کو ماننے کے پھر بھی شرک سے نہیں بچ سکے۔ اب ان عقلمندوں کی صفتیں بیان ہو رہی ہیں کہ وہ اٹھتے بیٹھتے لیٹتے اللہ کا نام لیا کرتے ہیں، بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ حضور ﷺ نے عمران بن حصین سے فرمایا کھڑے ہو کر نماز پڑھا کرو اگر طاقت نہ ہو تو بیٹھ کر اور یہ بھی نہ ہو سکے تو لیٹے لیٹے ہی سہی، یعنی کسی حالت میں اللہ عزوجل کے ذکر سے غافل مت رہو دل میں اور پوشیدہ اور زبان سے اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے رہا کرو، یہ لوگ آسمان اور زمین کی پیدائش میں نظریں دوڑاتے ہیں اور ان کی حکمتوں پر غور کرتے ہیں جو اس خالق یکتا کی عظمت وقدرت علم و حکمت اختیار رحمت پر دلالت کرتی ہیں، حضرت شیخ سلیمان درانی ؒ فرماتے ہیں گھر سے نکل کر جسچیز پر میری نظر پڑتی ہے میں دیکھتا ہوں کہ اس میں اللہ کی ایک ساعت غورو فکر کرنا رات بھر کے قیام کرنے سے افضل ہے، حضرت فضیل ؒ فرماتے ہیں کہ حضرت حسن کا قول ہے کہ غورو فکر ایک نور ہے جو تیرے دل پر اپنا پر تو ڈالے گا اور بسا اوقات یہ بیت پڑھتے۔اذا المراء کانت لہ فکرۃ ففی کل شئی لہ عبرۃ یعنی جس انسان کو باریک بینی اور سوچ سمجھ کی عادث پڑگئی اسے ہر چیز میں ایک عبرت اور آیت نظر آتی ہے حضرت عیسیٰ فرماتے ہیں خوش نصیب ہے وہ شخص جس کا بولنا ذکر اللہ اور نصیحت ہو اور اس کا جب رہنا غور و فکر ہو اور اس کا دیکھنا عبرت اور تنبیہہ ہو، لقمان حکیم کا نصیحت آموز مقولہ بھی یاد رہے کہ تنہائی کی گوشہ نشینی جس قدر زیادہ ہو اور اسی قدر غورو فکر اور دور اندیشی کی عادت زیادہ ہوتی ہے اور جس قدر یہ بڑھ جائے اسی قدر راستے انسان پر وہ کھل جاتے ہیں جو اسے جنت میں پہنچا دیں گے، حضرت وہب بن منبہ فرماتے ہیں جس قدر مراقبہ زیادہ ہوگا اسی قدر سمجھ بوجھ تیز ہوگی اور جتنی سمجھ زیادہ ہوگی اتناعلم نصیب ہوگا اور جس قدر علم زیادہ ہوگا نیک اعمال بھی بڑھیں گے، حضرت عمر بن عبدالعزیز کا ارشاد ہے کہ اللہ عزوجل کے ذکر میں زبان کا چلانا بہت اچھا ہے اور اللہ کی نعمتوں میں غور و فکر افضل عبادت ہے، حضرت مغیث اسود مجلس میں بیٹھے ہوئے فرماتے کہ لوگو قبرستان ہر روز جایا کرو تاکہ تمہیں انجام کا خیال پیدا ہو پھر اپنے دل میں اس منظر کو حاضر کرو کہ تم اللہ کے سامنے کھڑے ہو پھر ایک جماعت کو جہنم میں لے جانے کا حکم ہوتا ہے اور ایک جماعت جنت میں جاتی ہے اپنے دلوں کو اس حال میں جذب کردو اور اپنے بدن کو بھی وہیں حاضر جان لو جہنم کو اپنے سامنے دیکھو اس کے ہتھوڑوں کو اسکی آگ کے قید خانوں کو اپنے سامنے لاؤ اتنا فرماتے ہی دھاڑیں مارمار کر رونے لگتے ہیں یہاں تک کہ بیہوش ہوجاتے ہیں حضرت عبداللہ بن مبارک فرماتے ہیں ایک شخص نے ایک راہب سے ایک قبرستان اور کوڑا کرکٹ پاخانہ پیشاب ڈالنے کی جگہ پر ملاقات کی اور اس سے کہا اے بندہ حق اس وقت تیرے پاس دو خزانے ہیں ایک خزانہ لوگوں کا یعنی قبرستان اور دوسرا خزانہ مال کا یعنی کوڑا کرکٹ۔ پیشاب پاخانہ ڈالنے کی جگہ۔ حضرت عبداللہ بن عمر کھنڈرات پر جاتے اور کسی ٹوٹے پھوٹے دروازے پر کھڑے رہ کر نہایت حسرت و افسوس کے ساتھ بھرائی ہوئی آواز میں فرماتے اے اجڑے ہوئے گھرو تمہارے رہنے والے کہاں گئے ؟ پھر خود فرماتے سب زیر زمین چلے گئے سب فنا کا جام پی چکے صرف اللہ تعالیٰ کی جات ہی ہمیشہ کی مالک بقاء ہے، حضرت عبداللہ بن عباس کا ارشاد ہے دو رکعتیں جو دل بستگی کے ساتھ ادا کی جائیں اس تمام نماز سے افضل ہیں جس میں ساری رات گزار دی لیکن دلچسپی نہ تھی، حسن بصری فرماتے ہیں ابن آدم اپنے پیٹ کے تیسرے حصے میں کھا تیسرے حصے میں پانی پی اور تیسرا حصہ ان سانسوں کیلئے چھوڑ جس میں تو آخرت کی باتوں پر اپنے انجام پر اور اپنے اعمال پر خور و فکر کرسکے، بعض حکیموں کا قول ہے جو شخص دنیا کی چیزوں پر عبرت حاصل کئے بغیر نظر ڈالتا ہے اس غفلت کیوجہ سے اس کی دلی آنکھیں کمزور پڑجاتی ہیں، حضرت عامر بن قیس فرماتے ہیں کہ میں نے بہت سے صحابہ سے سنا ہے کہ ایمان کی روشنی اور تو غور فکر اور مراقبہ میں ہے، مسیح ابن مریم سیدنا حضرت عیسیٰ ؑ کا فرمان ہے کہ ابن آدم اے ضعیف انسان جہاں کہیں تو ہو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا رہ، دنیا میں عاجزی اور مسکینی کے ساتھ رہ، اپنا گھر مسجدوں کو بنا لے، اپنی آنکھوں کو رونا سکھا، اپنے جسم کو صبر کی عادت سکھا، اپنے دل کو غور و فکر کرنے والا بنا، کل کی روزی کی فکر آج نہ کر، امیر المومنین حضرت عمر بن عبدالعزیز ایک مرتبہ مجلس میں بیٹھے ہوئے رو دیئے لوگوں نے وجہ پوچھی تو آپ نے فرمایا میں نے دنیا میں اور اس کی لذتوں میں اور اس کی خواہشوں میں غور فکر کیا اور عبرت حاصل کی جب نتیجہ پر پہنچا تو میری امنگیں ختم ہوگئیں حقیقت یہ ہے کہ ہر شخص کیلئے اس میں عبرت و نصیحت ہے اور وعظ و پند ہے، حسین بن عبدالرحمن نے بھی اپنے اشعار میں اس مضمون کو خوب نبھایا ہے، پس اللہ تعالیٰ نے اپنے ان بندوں کی مدح و ثنا بیان کی جو مخلوقات اور کائنات سے عبرت حاصل کریں اور نصیحت لیں اور ان لوگوں کی مذمت بیان کی جو قدرت کی نشانیوں پر غور نہ کریں۔ مومنوں کی مدح میں بیان ہو رہا ہے کہ یہ لوگ اٹھتے بیٹھتے لیٹتے اللہ سبحانہ کا ذکر کرتے ہیں زمین و آسمان کی پیدائش میں غور و فکر کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اے اللہ تو نے اپنی مخلوق کو عبث اور بیکار نہیں بنایا بلکہ حق کے ساتھ پیدا کیا ہے تاکہ بروں کو برائی کا بدلہ اور نیکوں کو نیکیوں کا بدلہ عطا فرمائے، پھر اللہ کی پاکیزگی بیان کرتے ہیں تو اس سے منزہ ہے کہ کسی چیز کو بیکار بنائے اے خالق کائنات اے عدل و انصاف سے کائنات کو سجانے والے اے نقصان اور عیبوں سے پاک ذات ہمیں اپنی قوت و طاقت سے ان اعمال کی توفیق اور ہمارا رفیق فرما جن سے ہم تیرے عذابوں سے نجات پالیں اور تیری نعمتوں سے مالا مال ہو کر جنت میں داخل ہوجائیں، یہ یوں بھی کہتے ہیں کہ اے اللہ جسے تو جہنم میں لے گیا اسے تو نے برباد اور ذلیل و خوار کردیا مجمع حشر کے سامنے اسے رسوا کیا، ظالموں کا کوئی مددگار نہیں انہیں نہ کوئی چھڑا سکے نہ بچا سکے نہ تیرے ارادے کے درمیان آسکے، اے رب ہم نے پکارنے والے کی پکار سن لی جو ایمان اور اسلام کی طرف بلاتا ہے، مراد اس سے آنحضرت ﷺ ہیں جو فرماتے ہیں کہ اپنے رب پر ایمان لاؤ ہم ایمان لاچکے اور تابعداری بجا لائے پس ہمارے ایمان اور فرماں برداری کی وجہ سے ہمارے گناہوں کو معاف فرما ان کی پردہ پوشی کر اور ہماری برائیوں کو ہم سے دور کر دے اور ہمیں صالح اور نیک لوگوں کے ساتھ ملا دے تو نے ہم سے جو وعدے اپنے نبیوں کی زبانی کئے ہیں انہیں پورے کر اور یہ مطلب بھی بیان کیا گیا ہے کہ جو وعدہ تو نے ہم سے اپنے رسولوں پر ایمان لانے کا لیا تھا لیکن پہلا معنی واضح ہے، مسند احمد کی حدیث میں ہے عسقلان دو عروس میں سے ایک ہے یہیں سے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ستر ہزار شہیداء ٹھائیں گے جو وفد بن کر اللہ کے پاس جائیں گے یہیں شہیدوں کی صفیں ہوں گی جن کے ہاتھوں میں ان کے کٹے ہوئے سر ہوں گے ان کی گردن کی رگوں سے خون جاری ہوگا یہ کہتے ہوں گے اے اللہ ہم سے جو وعدے اپنے رسولوں کی معرفت تو نے کئے ہیں انہیں پورے کر ہمیں قیامت کے دن رسوا نہ کر تو وعدہ خلافی سے پاک ہے اللہ تعالیٰ فرمائے گا میرے یہ بندے سچے ہیں اور انہیں نہر بیضہ میں غسل کروائیں گے جس غسل کے بعد پاک صاف گورے چٹے رنگ کے ہو کر نکلیں گے اور ساری جنت ان کے لئے مباح ہوگی جہاں چاہیں جائیں آئیں جو چاہیں کھائیں پئیں۔ یہ حدیث غریب ہے اور بعض تو کہتے ہیں موضوع ہے واللہ اعلم۔ ہمیں قیامت کے دن تمام لوگوں کے مجمع میں رسوا نہ کر تیرے وعدے سچے ہیں تو نے جو کچھ خبریں اپنے رسولوں کی زبانی پہنچائی ہیں سب اٹل ہیں قیامت کا روز ضرور آنا ہے پس تو ہمیں اس دن کی رسوائی سے نجات دے، رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ بندے پر رسوائی ڈانٹ ڈپٹ مار اور شرمندگی اس قدر ڈالی جائے گی اور اس طرح اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑا کر کے اسے قائل معقول کیا جائے گا کہ وہ چاہے گا کہ کاش مجھے جہنم میں ہی ڈال دیا جاتا (ابو یعلیٰ) اس حدیث کی سند بھی غریب ہے، احادیت سے یہ بھی ثابت ہے کہ رسول اللہ ﷺ رات کو تہجد کیلئے جب اٹھتے تب سورة آل عمران کی ان دس آخری آیتوں کی تلاوت فرماتے چناچہ بخاری شریف میں ہے حضرت عبداللہ بن عباس فرماتے ہیں میں نے اپنی خالہ حضرت میمونہ کے گھر رات گزاری یہ ام المومنین حضور ﷺ کی بیوی صاحبہ تھیں حضور ﷺ جب آئے تو تھوڑی دیر تک آپ حضرت میمونہ سے باتیں کرتے رہے پھر سو گئے جب آخری تہائی رات باقی رہ گئی تو آپ اٹھ بیٹھے اور آسمان کی طرف نگاہ کر کے آیت (ان فی خلق السموات) سے آخر سورت تک کی آیتیں تلاوت فرمائیں پھر کھڑے ہوئے مسواک کی وضو کیا اور گیارہ رکعت نماز ادا کی حضرت بلال کی صبح کی اذان سن کر پھر دو رکعتیں صبح کی سنتیں پڑھیں پھر مسجد میں تشریف لا کر لوگوں کو صبح کی نماز پڑھائی۔ صحیح بخاری میں یہ روایت دوسری جگہ بھی ہے کہ بسترے کے عرض میں تو میں سویا اور لمبائی میں آنحضرت ﷺ اور ام المومنین حضرت میمونہ لیٹیں آدھی رات کے قریب کچھ پہلے یا کچھ بعد حضور ﷺ جاگے اپنے ہاتھوں سے اپنی آنکھیں ملتے ہوئے ان دس آیتوں کی تلاوت کی پھر ایک لٹکی ہوئی مشک میں سے پانی لے کر بہت اچھی طرح کامل وضو کیا میں بھی آپ کی بائیں جانب آپ کی اقتدار میں نماز کیلئے کھڑا ہوگیا حضور ﷺ نے اپنا داہنا ہاتھ میرے سر پر رکھ کر میرے کان کو پکڑ کر مجھے گھما کر اپنی دائیں جانب کرلیا اور دو دو رکعت کر کے چھ مرتبہ یعنی بارہ رکعت پڑھیں پھر وتر پڑھا اور لیٹ گئے یہاں تک کہ مؤذن نے آکر نماز کی اطلاع کی آپ نے کھڑے ہو کردو ہلکی رکعتیں ادا کیں اور باہر آکر صبح کی نماز پڑھائی، ابن مردویہ کی اس حدیث میں ہے حضرت عبداللہ فرماتے ہیں مجھے میرے والد حضرت عباس نے فرمایا کہ تم آج کی رات حضور ﷺ کی آل میں گزارو اور آپ کی رات کی نماز کی کیفیت دیکھو رات کو جب سب لوگ عشاء کی نماز پڑھ کر چلے گئے میں بیٹھا رہا جب حضور ﷺ جانے لگے تو مجھے دیکھ کر فرمایا کون عبداللہ ؟ میں نے کہا جی ہاں فرمایا کیوں رکے ہوئے ہو میں نے کہا والد صاحب کا حکم ہے کہ رات آپ کے گھر گزاروں تو فرمایا بہت اچھا آؤ گھر جا کر فرمایا بستر بچھاؤ ٹاٹ کا تکیہ آیا اور حضور ﷺ اس پر سر رکھ کر سو گئے یہاں تک کہ مجھے آپ کے خراٹوں کی آواز آنے لگی پھر آپ جاگے اور سیدھی طرح بیٹھ کر آسمان کی طرف دیکھ کر تین مرتبہ دعا (سبحان الملک القدوس) پڑھا پھر سورة آل عمران کے خاتمہ کی یہ آیتیں پڑھیں اور روایت میں ہے کہ آیتوں کی تلاوت کے بعد حضور ﷺ نے یہ دعا پڑھی (اللھم اجعل فی قلبی نورا وفی سمعی نورا وفی بصری نورا وعن یمینی نورا وعن شمالی نورا ومن بین یدی نورا ومن خلفی نورا ومن فوقی نورا ومن تحتی نورا واعظم لی نورا یوم القیامتہ) (ابن مردویہ) یہ دعا بعض صحیح طریق سے بھی مروی ہے اس آیت کی تفسیر کے شروع میں طبرانی کے حوالے سے جو حدیث گزری ہے اس سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیت مکی ہے لیکن مشہور اس کے خلاف ہے یعنی یہ کہ یہ آیت مدنی ہے اور اس کی دلیل میں یہ حدیث پیش ہوسکتی ہے جو ابن مردویہ میں ہے کہ حضرت عطاء۔ حضرت ابن عمر حضرت عبید بن عمیر۔ حضرت عائشہ صدیقہ کے پاس آئے آپ کے اور ان کے درمیان پردہ تھا حضرت صدیقہ نے پوچھا عبید تم کیوں نہیں آیا کرتے ؟ حضرت عبید نے جواب دیا اماں جان صرف اس لئے کہ کسی شاعر کا قول ہے زرغباتزد دحبا یعنی کم کم آؤ تاکہ محبت بڑھے، حضرت ابن عمر نے کہا اب ان باتوں کو چھوڑو ام المومنین ہم یہ پوچھنے کیلئے حاضر ہوئے ہیں کہ سب سے زیادہ عجیب بات جو آپ نے آنحضرت محمد ﷺ کی دیکھی ہو وہ ہمیں بتائیں۔ حضرت عائشہ رو دیں اور فرمانے لگیں حضور ﷺ کے تمام کام عجیب تر تھے، اچھا ایک واقعہ سنو ایک رات میری باری میں حضور ﷺ میرے پاس آئے اور میرے ساتھ سوئے پھر مجھ سے فرمانے لگے عائشہ میں اپنے رب کی کچھ عبادت کرنا چاہتا ہوں مجھے جانے دے میں نے کہا یا رسول اللہ ﷺ اللہ کی قسم میں آپ کا قرب چاہتی ہوں اور یہ بھی میری چاہت ہے کہ آپ اللہ عزوجل کی عبادت بھی کریں، اب آپ کھڑے ہوئے اور ایک مشک میں سے پانی لے کر آپ نے ہلکا سا وضو کیا اور نماز کے لئے کھڑے ہوگئے پھر جو رونا شروع کیا تو اتنا روئے کہ داڑھی مبارک تر ہوگئی پھر سجدے میں گئے اور اس قدر روئے کہ زمین تر ہوگئی پھر کروٹ کے بل لیٹ گئے اور روتے ہی رہے یہاں تک کہ حضرت بلال نے آ کر نماز کیلئے بلایا اور آپ کے آنسو رواں دیکھ کر دریافت کیا کہ اے اللہ کے سچے رسول ﷺ آپ کیوں رو رہے ہیں اللہ تعالیٰ نے تو آپ کے تمام اگلے پچھلے گناہ معاف فرما دیئے ہیں، آپ نے فرمایا بلال میں کیوں نہ روؤں ؟ مجھ پر آج کی رات یہ آیت اتری ہے آیت (اِنَّ فِيْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَاخْتِلَافِ الَّيْلِ وَالنَّهَارِ) 2۔ البقرۃ :164) افسوس ہے اس شخص کیلئے جو اسے پڑھے اور پھر اس میں غورو تدبر نہ کرے۔ عبد بن حمید کی تفسیر میں بھی یہ حدیث ہے اس میں یہ بھی ہے کہ جب ہم حضرت عائشہ کے پاس گئے ہم نے سلام کیا تو آپ نے پوچھا تم کون لوگ ہو ؟ ہم نے اپنے نام بتائے اور آخر میں یہ بھی ہے کہ نماز کے بعد آپ اپنی داہنی کروٹ پر لیٹے رخسار تلے ہاتھ رکھا اور روتے رہے یہاں تک کہ آنسوؤں سے زمین تر ہوگئی اور حضرت بلال کے جواب میں آپ نے یہ بھی فرمایا کہ کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں ؟ اور آیتوں کے نازل ہونے کے بارے میں عذاب النار تک آپ نے تلاوت کی، ابن مردویہ کی ایک ضعیف سند والی حدیث میں حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ سورة آل عمران کے آخر کی دس آیتیں ہر رات کو پڑھتے اس روایت میں مظاہر بن اسلم ضعیف ہیں۔
192
View Single
رَبَّنَآ إِنَّكَ مَن تُدۡخِلِ ٱلنَّارَ فَقَدۡ أَخۡزَيۡتَهُۥۖ وَمَا لِلظَّـٰلِمِينَ مِنۡ أَنصَارٖ
“O our Lord! You have indeed given disgrace to whomever You put in the fire (of hell); and the unjust do not have any supporters.”
اے ہمارے رب! بیشک تو جسے دوزخ میں ڈال دے تو تُو نے اسے واقعۃً رسوا کر دیا، اور ظالموں کے لئے کوئی مددگار نہیں ہے
Tafsir Ibn Kathir
The Proofs of Tawhid for People of Understanding, their Characteristics, Speech, and Supplications
Allah said,
إِنَّ فِى خَلْقِ السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ
(Verily, in the creation of the heavens and the Earth,) 3:190, referring to the sky in its height and spaciousness, the earth in its expanse and density, the tremendous features they have of rotating planets, seas, mountains, deserts, trees, plants, fruits, animals, metals and various beneficial colors, scents, tastes and elements.
وَاخْتِلَـفِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ
(And in the alternation of night and day), as one follows and takes from the length of the other. For instance, at times one of them becomes longer than the other, shorter than the other at times and equal to the other at other times, and the same is repeated again and again, and all this occurs by the decision of the Almighty, Most Wise. This is why Allah said,
لاّيَـتٍ لاٌّوْلِى الاٌّلْبَـبِ
(there are indeed signs for men of understanding), referring to the intelligent and sound minds that contemplate about the true reality of things, unlike the deaf and mute who do not have sound comprehension. Allah said about the latter type,
وَكَأَيِّن مِّن ءَايَةٍ فِى السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ يَمُرُّونَ عَلَيْهَا وَهُمْ عَنْهَا مُعْرِضُونَ - وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلاَّ وَهُمْ مُّشْرِكُونَ
(And how many a sign in the heavens and the earth they pass by, while they are averse therefrom. And most of them believe not in Allah except that they attribute partners unto Him) 12:105,106.
Allah then describes those who have good minds,
الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِيَـماً وَقُعُوداً وَعَلَى جُنُوبِهِمْ
(Those who remember Allah standing, sitting, and lying down on their sides) 3:191.
Al-Bukhari recorded that `Imran bin Husayn said that, the Messenger of Allah ﷺ said,
«صَلِّ قَائِمًا، فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَقَاعِدًا، فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَعَلَى جَنْب»
(Pray while standing, and if you can't, pray while sitting, and if you cannot do even that, then pray lying on your side.) These people remember Allah in all situations, in their heart and speech,
وَيَتَفَكَّرُونَ فِى خَلْقِ السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ
(and think deeply about the creation of the heavens and the Earth), contemplating about signs in the sky and earth that testify to the might, ability, knowledge, wisdom, will and mercy of the Creator. Allah criticizes those who do not contemplate about His creation, which testifies to His existence, Attributes, Shari`ah, His decree and Ayat. Allah said,
وَكَأَيِّن مِّن ءَايَةٍ فِى السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ يَمُرُّونَ عَلَيْهَا وَهُمْ عَنْهَا مُعْرِضُونَ - وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلاَّ وَهُمْ مُّشْرِكُونَ
(And how many a sign in the heavens and the Earth they pass by, while they are averse therefrom. And most of them believe not in Allah except that they attribute partners unto Him) 12:105,106.
Allah also praises His believing servants,
الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِيَـماً وَقُعُوداً وَعَلَى جُنُوبِهِمْ وَيَتَفَكَّرُونَ فِى خَلْقِ السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ
(Those who remember Allah standing, sitting, and lying down on their sides, and think deeply about the creation of the heavens and the earth), supplicating;
رَبَّنَآ مَا خَلَقْتَ هَذا بَـطِلاً
("Our Lord! You have not created this without purpose,")
You did not create all this in jest and play. Rather, You created it in truth, so that You recompense those who do evil in kind, and reward those who do righteous deeds with what is better.
The faithful believers praise Allah and deny that He does anything in jest and without purpose, saying,
سُبْحَـنَكَ
("glory to You,"), for You would never create anything without purpose,
فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ
("Give us salvation from the torment of the Fire."), meaning, "O You Who created the creation in truth and justice, Who is far from any shortcomings, or doing things without purpose or with jest, save us from the torment of the Fire with Your power and strength. Direct us to perform the deeds that make You pleased with us. Guide us to righteous work from which You admit us into the delightful Paradise, and save us from Your painful torment."
They next supplicate,
رَبَّنَآ إِنَّكَ مَن تُدْخِلِ النَّارَ فَقَدْ أَخْزَيْتَهُ
("Our Lord! Verily, whom You admit to the Fire, indeed, You have disgraced him;), by humiliating and disgracing him before all people on the Day of Gathering,
وَمَا لِلظَّـلِمِينَ مِنْ أَنصَارٍ<
("and never will the wrongdoers find any helpers."), on the Day of Judgment, who would save them from You. Therefore, there is no escaping whatever fate You decided for them.
رَّبَّنَآ إِنَّنَآ سَمِعْنَا مُنَادِياً يُنَادِى لِلإِيمَـنِ
("Our Lord! Verily, we have heard the call of one calling to faith,"), a caller who calls to faith, referring to the Messenger of Allah ﷺ,
أَنْ ءَامِنُواْ بِرَبِّكُمْ فَـَامَنَّا
(`Believe in your Lord,' and we have believed), accepted his call and followed him.
رَبَّنَا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا
("Our Lord! Forgive us our sins"), on account of our faith and obeying Your Prophet
فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا
("Forgive us our sins"), and cover them,
وَكَفِّرْ عَنَّا سَيِّئَـتِنَا
("and expiate from us our evil deeds"), between us and You, in private,
وَتَوَفَّنَا مَعَ الاٌّبْرَارِ
("and make us die along with Al-Abrar."), join us with the righteous people.
رَبَّنَا وَءَاتِنَا مَا وَعَدتَّنَا عَلَى رُسُلِكَ
("Our Lord! Grant us what You promised unto us through Your Messengers") for our faith in Your Messengers, or, and this explanation is better; grant us what You promised us by the words of Your Messengers,
وَلاَ تُخْزِنَا يَوْمَ الْقِيَـمَةِ
("and disgrace us not on the Day of Resurrection,"), before all creation,
إِنَّكَ لاَ تُخْلِفُ الْمِيعَادَ
("for You never break (Your) Promise."), for surely, the promise that You conveyed to Your Messengers, which includes us being resurrected before You, shall certainly come to pass.
It was the Prophet's tradition to recite the ten Ayat at the end of Surah Al `Imran when he woke up at night for (voluntary) prayer. Al-Bukhari recorded that Ibn `Abbas said, "I slept one night at the house of my aunt, Maymunah. The Messenger of Allah ﷺ spoke with his wife for a while and then went to sleep. When it was the third part of the night, he stood up, looked at the sky and recited,
إِنَّ فِى خَلْقِ السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ وَاخْتِلَـفِ الَّيْلِ وَالنَّهَارِ لاّيَـتٍ لاٌّوْلِى الاٌّلْبَـبِ
(Verily, in the creation of the heavens and the earth, and in the alternation of night and day, there are indeed signs for men of understanding) 3:190.
The Prophet then stood up, performed ablution, used Siwak (to clean his teeth) and prayed eleven units of prayer. When Bilal said the Adhan, the Prophet prayed two units of prayer, went out (to the Masjid) and led the people in the Dawn prayer." This was also collected by Muslim.
Ibn Marduwyah recorded that `Ata' said, "I, Ibn `Umar and `Ubayd bin `Umayr went to `A'ishah and entered her room, and there was a screen between us and her. She said, `O `Ubayd! What prevents you from visiting us' He said, `What the poet said, `Visit every once in a while, and you will be loved more.' Ibn `Umar said, `Tell us about the most unusual thing you witnessed from the Messenger of Allah ﷺ.' She cried and said, `All his matters were amazing. On night, he came close to me until his skin touched my skin and said, `Let me worship my Lord.' I said, `By Allah I love your being close to me. I also love that you worship your Lord.' He used the water-skin and performed ablution, but did not use too much water. He then stood up in prayer and cried until his beard became wet. He prostrated and cried until he made the ground wet. He then laid down on his side and cried. When Bilal came to alert the Prophet for the Dawn prayer, he said, `O Messenger of Allah! What makes you cry, while Allah has forgiven you your previous and latter sins' He said,
«وَيْحَكَ يَا بِلَالُ، وَمَا يَمْنَعُنِي أَنْ أَبْكِيَ، وَقَدْ أُنْزِلَ عَلَيَّ فِي هذِهِ اللَّيْلَة»
(O Bilal! What prevents me from crying, when this night, this Ayah was revealed to me,)
إِنَّ فِى خَلْقِ السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ وَاخْتِلَـفِ الَّيْلِ وَالنَّهَارِ لاّيَـتٍ لاٌّوْلِى الاٌّلْبَـبِ
(Verily, in the creation of the heavens and the earth, and in the alternation of night and day, there are indeed signs for men of understanding.)
(Woe to he who recites it but does not contemplate it.)."
مظاہر کائنات دلیل رب ذوالجلال دعوت غرو فکر طبرانی میں ہے حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ قریش یہودیوں کے پاس گئے اور ان سے پوچھا کہ حضرت موسیٰ ؑ تمہارے پاس کیا کیا معجزات لے کر آئے تھے انہوں نے کہا اژدھا بن جانے والی لکڑی اور چمکیلا ہاتھ، پھر نصرانیوں کے پاس گئے ان سے کہا تمہارے پاس حضرت عیسیٰ (علیہ اسلام) کیا نشانیاں لائے تھے جواب ملا کہ مادر زاد اندھوں کو بینا کردینا اور کوڑھی کو اچھا کردینا اور مردوں کو زندہ کردینا۔ اب یہ قریش آنحضرت ﷺ کے پاس آئے اور آپ سے کہا اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ ہمارے لئے صفا پہاڑ کو سونے کا بنا دے آپ نے دعا کی جس پر یہ آیت (اِنَّ فِيْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَاخْتِلَافِ الَّيْلِ وَالنَّهَارِ) 2۔ البقرۃ :164) اتری یعنی نشان قدرت دیکھنے والوں کیلئے اسی میں بڑی نشانیاں ہیں یہ اسی میں غورو فکر کریں گے تو ان قدرتوں والے اللہ تعالیٰ کے سامنے جھک جائیں گے لیکن اس روایت میں ایک اشکال ہے وہ یہ کہ یہ سوال مکہ شریف میں ہوا تھا اور یہ آیت مدینہ شریف میں نازل ہوئی واللہ اعلم۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ آسمان جیسی بلندر اور وسعت مخلوق اور زمین جیسی پست اور سخت اور لمبی چوڑی مخلوق پھر آسمان میں بڑی بڑی نشانیاں مثلاً چلنے پھرنے والے اور ایک جاٹھہرنے والے ستارے اور زمین کی بڑی بڑی پیدوارا مثلاً پہاڑ، جنگل، درخت، گھس، کھیتیاں، پھل اور مختلف قسم کے جاندار، کانیں، الگ الگ ذائقے والے اور طرح طرح کی خوشبوؤں والے اور مختلف خواص والے میوے وغیرہ کیا یہ سب آیات قدرت ایک سوچ سمجھ والے انسان کی رہبری اللہ عزوجل کی طرف نہیں کرسکتیں ؟ جو اور نشانیاں دیکھنے کی ضرورت باقی رہے پھر دن رات کا آنا جانا اور ان کا کم زیادہ ہونا پھر برابر ہوجانا یہ سب اس عزیز وحلیم اللہ عزوجل کی قدرت کاملہ کی پوری پوری نشانیاں ہیں جو پاک نفس والے ہر چیز کی حقیقت پر نظریں ڈالنے کے عادی ہیں اور بیوقوفوں کی طرح آنکھ اندھے اور کان کے بہرے نہیں جن کی حالت اور جگہ بیان ہوئی ہے کہ وہ آسمان اور زمین کی بہت سی نشانیاں پیروں تلے روندتے ہوئے گزر جاتے ہیں اور غورو فکر نہیں کرتے، ان میں سے اکثر باوجود اللہ تعالیٰ کو ماننے کے پھر بھی شرک سے نہیں بچ سکے۔ اب ان عقلمندوں کی صفتیں بیان ہو رہی ہیں کہ وہ اٹھتے بیٹھتے لیٹتے اللہ کا نام لیا کرتے ہیں، بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ حضور ﷺ نے عمران بن حصین سے فرمایا کھڑے ہو کر نماز پڑھا کرو اگر طاقت نہ ہو تو بیٹھ کر اور یہ بھی نہ ہو سکے تو لیٹے لیٹے ہی سہی، یعنی کسی حالت میں اللہ عزوجل کے ذکر سے غافل مت رہو دل میں اور پوشیدہ اور زبان سے اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے رہا کرو، یہ لوگ آسمان اور زمین کی پیدائش میں نظریں دوڑاتے ہیں اور ان کی حکمتوں پر غور کرتے ہیں جو اس خالق یکتا کی عظمت وقدرت علم و حکمت اختیار رحمت پر دلالت کرتی ہیں، حضرت شیخ سلیمان درانی ؒ فرماتے ہیں گھر سے نکل کر جسچیز پر میری نظر پڑتی ہے میں دیکھتا ہوں کہ اس میں اللہ کی ایک ساعت غورو فکر کرنا رات بھر کے قیام کرنے سے افضل ہے، حضرت فضیل ؒ فرماتے ہیں کہ حضرت حسن کا قول ہے کہ غورو فکر ایک نور ہے جو تیرے دل پر اپنا پر تو ڈالے گا اور بسا اوقات یہ بیت پڑھتے۔اذا المراء کانت لہ فکرۃ ففی کل شئی لہ عبرۃ یعنی جس انسان کو باریک بینی اور سوچ سمجھ کی عادث پڑگئی اسے ہر چیز میں ایک عبرت اور آیت نظر آتی ہے حضرت عیسیٰ فرماتے ہیں خوش نصیب ہے وہ شخص جس کا بولنا ذکر اللہ اور نصیحت ہو اور اس کا جب رہنا غور و فکر ہو اور اس کا دیکھنا عبرت اور تنبیہہ ہو، لقمان حکیم کا نصیحت آموز مقولہ بھی یاد رہے کہ تنہائی کی گوشہ نشینی جس قدر زیادہ ہو اور اسی قدر غورو فکر اور دور اندیشی کی عادت زیادہ ہوتی ہے اور جس قدر یہ بڑھ جائے اسی قدر راستے انسان پر وہ کھل جاتے ہیں جو اسے جنت میں پہنچا دیں گے، حضرت وہب بن منبہ فرماتے ہیں جس قدر مراقبہ زیادہ ہوگا اسی قدر سمجھ بوجھ تیز ہوگی اور جتنی سمجھ زیادہ ہوگی اتناعلم نصیب ہوگا اور جس قدر علم زیادہ ہوگا نیک اعمال بھی بڑھیں گے، حضرت عمر بن عبدالعزیز کا ارشاد ہے کہ اللہ عزوجل کے ذکر میں زبان کا چلانا بہت اچھا ہے اور اللہ کی نعمتوں میں غور و فکر افضل عبادت ہے، حضرت مغیث اسود مجلس میں بیٹھے ہوئے فرماتے کہ لوگو قبرستان ہر روز جایا کرو تاکہ تمہیں انجام کا خیال پیدا ہو پھر اپنے دل میں اس منظر کو حاضر کرو کہ تم اللہ کے سامنے کھڑے ہو پھر ایک جماعت کو جہنم میں لے جانے کا حکم ہوتا ہے اور ایک جماعت جنت میں جاتی ہے اپنے دلوں کو اس حال میں جذب کردو اور اپنے بدن کو بھی وہیں حاضر جان لو جہنم کو اپنے سامنے دیکھو اس کے ہتھوڑوں کو اسکی آگ کے قید خانوں کو اپنے سامنے لاؤ اتنا فرماتے ہی دھاڑیں مارمار کر رونے لگتے ہیں یہاں تک کہ بیہوش ہوجاتے ہیں حضرت عبداللہ بن مبارک فرماتے ہیں ایک شخص نے ایک راہب سے ایک قبرستان اور کوڑا کرکٹ پاخانہ پیشاب ڈالنے کی جگہ پر ملاقات کی اور اس سے کہا اے بندہ حق اس وقت تیرے پاس دو خزانے ہیں ایک خزانہ لوگوں کا یعنی قبرستان اور دوسرا خزانہ مال کا یعنی کوڑا کرکٹ۔ پیشاب پاخانہ ڈالنے کی جگہ۔ حضرت عبداللہ بن عمر کھنڈرات پر جاتے اور کسی ٹوٹے پھوٹے دروازے پر کھڑے رہ کر نہایت حسرت و افسوس کے ساتھ بھرائی ہوئی آواز میں فرماتے اے اجڑے ہوئے گھرو تمہارے رہنے والے کہاں گئے ؟ پھر خود فرماتے سب زیر زمین چلے گئے سب فنا کا جام پی چکے صرف اللہ تعالیٰ کی جات ہی ہمیشہ کی مالک بقاء ہے، حضرت عبداللہ بن عباس کا ارشاد ہے دو رکعتیں جو دل بستگی کے ساتھ ادا کی جائیں اس تمام نماز سے افضل ہیں جس میں ساری رات گزار دی لیکن دلچسپی نہ تھی، حسن بصری فرماتے ہیں ابن آدم اپنے پیٹ کے تیسرے حصے میں کھا تیسرے حصے میں پانی پی اور تیسرا حصہ ان سانسوں کیلئے چھوڑ جس میں تو آخرت کی باتوں پر اپنے انجام پر اور اپنے اعمال پر خور و فکر کرسکے، بعض حکیموں کا قول ہے جو شخص دنیا کی چیزوں پر عبرت حاصل کئے بغیر نظر ڈالتا ہے اس غفلت کیوجہ سے اس کی دلی آنکھیں کمزور پڑجاتی ہیں، حضرت عامر بن قیس فرماتے ہیں کہ میں نے بہت سے صحابہ سے سنا ہے کہ ایمان کی روشنی اور تو غور فکر اور مراقبہ میں ہے، مسیح ابن مریم سیدنا حضرت عیسیٰ ؑ کا فرمان ہے کہ ابن آدم اے ضعیف انسان جہاں کہیں تو ہو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا رہ، دنیا میں عاجزی اور مسکینی کے ساتھ رہ، اپنا گھر مسجدوں کو بنا لے، اپنی آنکھوں کو رونا سکھا، اپنے جسم کو صبر کی عادت سکھا، اپنے دل کو غور و فکر کرنے والا بنا، کل کی روزی کی فکر آج نہ کر، امیر المومنین حضرت عمر بن عبدالعزیز ایک مرتبہ مجلس میں بیٹھے ہوئے رو دیئے لوگوں نے وجہ پوچھی تو آپ نے فرمایا میں نے دنیا میں اور اس کی لذتوں میں اور اس کی خواہشوں میں غور فکر کیا اور عبرت حاصل کی جب نتیجہ پر پہنچا تو میری امنگیں ختم ہوگئیں حقیقت یہ ہے کہ ہر شخص کیلئے اس میں عبرت و نصیحت ہے اور وعظ و پند ہے، حسین بن عبدالرحمن نے بھی اپنے اشعار میں اس مضمون کو خوب نبھایا ہے، پس اللہ تعالیٰ نے اپنے ان بندوں کی مدح و ثنا بیان کی جو مخلوقات اور کائنات سے عبرت حاصل کریں اور نصیحت لیں اور ان لوگوں کی مذمت بیان کی جو قدرت کی نشانیوں پر غور نہ کریں۔ مومنوں کی مدح میں بیان ہو رہا ہے کہ یہ لوگ اٹھتے بیٹھتے لیٹتے اللہ سبحانہ کا ذکر کرتے ہیں زمین و آسمان کی پیدائش میں غور و فکر کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اے اللہ تو نے اپنی مخلوق کو عبث اور بیکار نہیں بنایا بلکہ حق کے ساتھ پیدا کیا ہے تاکہ بروں کو برائی کا بدلہ اور نیکوں کو نیکیوں کا بدلہ عطا فرمائے، پھر اللہ کی پاکیزگی بیان کرتے ہیں تو اس سے منزہ ہے کہ کسی چیز کو بیکار بنائے اے خالق کائنات اے عدل و انصاف سے کائنات کو سجانے والے اے نقصان اور عیبوں سے پاک ذات ہمیں اپنی قوت و طاقت سے ان اعمال کی توفیق اور ہمارا رفیق فرما جن سے ہم تیرے عذابوں سے نجات پالیں اور تیری نعمتوں سے مالا مال ہو کر جنت میں داخل ہوجائیں، یہ یوں بھی کہتے ہیں کہ اے اللہ جسے تو جہنم میں لے گیا اسے تو نے برباد اور ذلیل و خوار کردیا مجمع حشر کے سامنے اسے رسوا کیا، ظالموں کا کوئی مددگار نہیں انہیں نہ کوئی چھڑا سکے نہ بچا سکے نہ تیرے ارادے کے درمیان آسکے، اے رب ہم نے پکارنے والے کی پکار سن لی جو ایمان اور اسلام کی طرف بلاتا ہے، مراد اس سے آنحضرت ﷺ ہیں جو فرماتے ہیں کہ اپنے رب پر ایمان لاؤ ہم ایمان لاچکے اور تابعداری بجا لائے پس ہمارے ایمان اور فرماں برداری کی وجہ سے ہمارے گناہوں کو معاف فرما ان کی پردہ پوشی کر اور ہماری برائیوں کو ہم سے دور کر دے اور ہمیں صالح اور نیک لوگوں کے ساتھ ملا دے تو نے ہم سے جو وعدے اپنے نبیوں کی زبانی کئے ہیں انہیں پورے کر اور یہ مطلب بھی بیان کیا گیا ہے کہ جو وعدہ تو نے ہم سے اپنے رسولوں پر ایمان لانے کا لیا تھا لیکن پہلا معنی واضح ہے، مسند احمد کی حدیث میں ہے عسقلان دو عروس میں سے ایک ہے یہیں سے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ستر ہزار شہیداء ٹھائیں گے جو وفد بن کر اللہ کے پاس جائیں گے یہیں شہیدوں کی صفیں ہوں گی جن کے ہاتھوں میں ان کے کٹے ہوئے سر ہوں گے ان کی گردن کی رگوں سے خون جاری ہوگا یہ کہتے ہوں گے اے اللہ ہم سے جو وعدے اپنے رسولوں کی معرفت تو نے کئے ہیں انہیں پورے کر ہمیں قیامت کے دن رسوا نہ کر تو وعدہ خلافی سے پاک ہے اللہ تعالیٰ فرمائے گا میرے یہ بندے سچے ہیں اور انہیں نہر بیضہ میں غسل کروائیں گے جس غسل کے بعد پاک صاف گورے چٹے رنگ کے ہو کر نکلیں گے اور ساری جنت ان کے لئے مباح ہوگی جہاں چاہیں جائیں آئیں جو چاہیں کھائیں پئیں۔ یہ حدیث غریب ہے اور بعض تو کہتے ہیں موضوع ہے واللہ اعلم۔ ہمیں قیامت کے دن تمام لوگوں کے مجمع میں رسوا نہ کر تیرے وعدے سچے ہیں تو نے جو کچھ خبریں اپنے رسولوں کی زبانی پہنچائی ہیں سب اٹل ہیں قیامت کا روز ضرور آنا ہے پس تو ہمیں اس دن کی رسوائی سے نجات دے، رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ بندے پر رسوائی ڈانٹ ڈپٹ مار اور شرمندگی اس قدر ڈالی جائے گی اور اس طرح اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑا کر کے اسے قائل معقول کیا جائے گا کہ وہ چاہے گا کہ کاش مجھے جہنم میں ہی ڈال دیا جاتا (ابو یعلیٰ) اس حدیث کی سند بھی غریب ہے، احادیت سے یہ بھی ثابت ہے کہ رسول اللہ ﷺ رات کو تہجد کیلئے جب اٹھتے تب سورة آل عمران کی ان دس آخری آیتوں کی تلاوت فرماتے چناچہ بخاری شریف میں ہے حضرت عبداللہ بن عباس فرماتے ہیں میں نے اپنی خالہ حضرت میمونہ کے گھر رات گزاری یہ ام المومنین حضور ﷺ کی بیوی صاحبہ تھیں حضور ﷺ جب آئے تو تھوڑی دیر تک آپ حضرت میمونہ سے باتیں کرتے رہے پھر سو گئے جب آخری تہائی رات باقی رہ گئی تو آپ اٹھ بیٹھے اور آسمان کی طرف نگاہ کر کے آیت (ان فی خلق السموات) سے آخر سورت تک کی آیتیں تلاوت فرمائیں پھر کھڑے ہوئے مسواک کی وضو کیا اور گیارہ رکعت نماز ادا کی حضرت بلال کی صبح کی اذان سن کر پھر دو رکعتیں صبح کی سنتیں پڑھیں پھر مسجد میں تشریف لا کر لوگوں کو صبح کی نماز پڑھائی۔ صحیح بخاری میں یہ روایت دوسری جگہ بھی ہے کہ بسترے کے عرض میں تو میں سویا اور لمبائی میں آنحضرت ﷺ اور ام المومنین حضرت میمونہ لیٹیں آدھی رات کے قریب کچھ پہلے یا کچھ بعد حضور ﷺ جاگے اپنے ہاتھوں سے اپنی آنکھیں ملتے ہوئے ان دس آیتوں کی تلاوت کی پھر ایک لٹکی ہوئی مشک میں سے پانی لے کر بہت اچھی طرح کامل وضو کیا میں بھی آپ کی بائیں جانب آپ کی اقتدار میں نماز کیلئے کھڑا ہوگیا حضور ﷺ نے اپنا داہنا ہاتھ میرے سر پر رکھ کر میرے کان کو پکڑ کر مجھے گھما کر اپنی دائیں جانب کرلیا اور دو دو رکعت کر کے چھ مرتبہ یعنی بارہ رکعت پڑھیں پھر وتر پڑھا اور لیٹ گئے یہاں تک کہ مؤذن نے آکر نماز کی اطلاع کی آپ نے کھڑے ہو کردو ہلکی رکعتیں ادا کیں اور باہر آکر صبح کی نماز پڑھائی، ابن مردویہ کی اس حدیث میں ہے حضرت عبداللہ فرماتے ہیں مجھے میرے والد حضرت عباس نے فرمایا کہ تم آج کی رات حضور ﷺ کی آل میں گزارو اور آپ کی رات کی نماز کی کیفیت دیکھو رات کو جب سب لوگ عشاء کی نماز پڑھ کر چلے گئے میں بیٹھا رہا جب حضور ﷺ جانے لگے تو مجھے دیکھ کر فرمایا کون عبداللہ ؟ میں نے کہا جی ہاں فرمایا کیوں رکے ہوئے ہو میں نے کہا والد صاحب کا حکم ہے کہ رات آپ کے گھر گزاروں تو فرمایا بہت اچھا آؤ گھر جا کر فرمایا بستر بچھاؤ ٹاٹ کا تکیہ آیا اور حضور ﷺ اس پر سر رکھ کر سو گئے یہاں تک کہ مجھے آپ کے خراٹوں کی آواز آنے لگی پھر آپ جاگے اور سیدھی طرح بیٹھ کر آسمان کی طرف دیکھ کر تین مرتبہ دعا (سبحان الملک القدوس) پڑھا پھر سورة آل عمران کے خاتمہ کی یہ آیتیں پڑھیں اور روایت میں ہے کہ آیتوں کی تلاوت کے بعد حضور ﷺ نے یہ دعا پڑھی (اللھم اجعل فی قلبی نورا وفی سمعی نورا وفی بصری نورا وعن یمینی نورا وعن شمالی نورا ومن بین یدی نورا ومن خلفی نورا ومن فوقی نورا ومن تحتی نورا واعظم لی نورا یوم القیامتہ) (ابن مردویہ) یہ دعا بعض صحیح طریق سے بھی مروی ہے اس آیت کی تفسیر کے شروع میں طبرانی کے حوالے سے جو حدیث گزری ہے اس سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیت مکی ہے لیکن مشہور اس کے خلاف ہے یعنی یہ کہ یہ آیت مدنی ہے اور اس کی دلیل میں یہ حدیث پیش ہوسکتی ہے جو ابن مردویہ میں ہے کہ حضرت عطاء۔ حضرت ابن عمر حضرت عبید بن عمیر۔ حضرت عائشہ صدیقہ کے پاس آئے آپ کے اور ان کے درمیان پردہ تھا حضرت صدیقہ نے پوچھا عبید تم کیوں نہیں آیا کرتے ؟ حضرت عبید نے جواب دیا اماں جان صرف اس لئے کہ کسی شاعر کا قول ہے زرغباتزد دحبا یعنی کم کم آؤ تاکہ محبت بڑھے، حضرت ابن عمر نے کہا اب ان باتوں کو چھوڑو ام المومنین ہم یہ پوچھنے کیلئے حاضر ہوئے ہیں کہ سب سے زیادہ عجیب بات جو آپ نے آنحضرت محمد ﷺ کی دیکھی ہو وہ ہمیں بتائیں۔ حضرت عائشہ رو دیں اور فرمانے لگیں حضور ﷺ کے تمام کام عجیب تر تھے، اچھا ایک واقعہ سنو ایک رات میری باری میں حضور ﷺ میرے پاس آئے اور میرے ساتھ سوئے پھر مجھ سے فرمانے لگے عائشہ میں اپنے رب کی کچھ عبادت کرنا چاہتا ہوں مجھے جانے دے میں نے کہا یا رسول اللہ ﷺ اللہ کی قسم میں آپ کا قرب چاہتی ہوں اور یہ بھی میری چاہت ہے کہ آپ اللہ عزوجل کی عبادت بھی کریں، اب آپ کھڑے ہوئے اور ایک مشک میں سے پانی لے کر آپ نے ہلکا سا وضو کیا اور نماز کے لئے کھڑے ہوگئے پھر جو رونا شروع کیا تو اتنا روئے کہ داڑھی مبارک تر ہوگئی پھر سجدے میں گئے اور اس قدر روئے کہ زمین تر ہوگئی پھر کروٹ کے بل لیٹ گئے اور روتے ہی رہے یہاں تک کہ حضرت بلال نے آ کر نماز کیلئے بلایا اور آپ کے آنسو رواں دیکھ کر دریافت کیا کہ اے اللہ کے سچے رسول ﷺ آپ کیوں رو رہے ہیں اللہ تعالیٰ نے تو آپ کے تمام اگلے پچھلے گناہ معاف فرما دیئے ہیں، آپ نے فرمایا بلال میں کیوں نہ روؤں ؟ مجھ پر آج کی رات یہ آیت اتری ہے آیت (اِنَّ فِيْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَاخْتِلَافِ الَّيْلِ وَالنَّهَارِ) 2۔ البقرۃ :164) افسوس ہے اس شخص کیلئے جو اسے پڑھے اور پھر اس میں غورو تدبر نہ کرے۔ عبد بن حمید کی تفسیر میں بھی یہ حدیث ہے اس میں یہ بھی ہے کہ جب ہم حضرت عائشہ کے پاس گئے ہم نے سلام کیا تو آپ نے پوچھا تم کون لوگ ہو ؟ ہم نے اپنے نام بتائے اور آخر میں یہ بھی ہے کہ نماز کے بعد آپ اپنی داہنی کروٹ پر لیٹے رخسار تلے ہاتھ رکھا اور روتے رہے یہاں تک کہ آنسوؤں سے زمین تر ہوگئی اور حضرت بلال کے جواب میں آپ نے یہ بھی فرمایا کہ کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں ؟ اور آیتوں کے نازل ہونے کے بارے میں عذاب النار تک آپ نے تلاوت کی، ابن مردویہ کی ایک ضعیف سند والی حدیث میں حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ سورة آل عمران کے آخر کی دس آیتیں ہر رات کو پڑھتے اس روایت میں مظاہر بن اسلم ضعیف ہیں۔
193
View Single
رَّبَّنَآ إِنَّنَا سَمِعۡنَا مُنَادِيٗا يُنَادِي لِلۡإِيمَٰنِ أَنۡ ءَامِنُواْ بِرَبِّكُمۡ فَـَٔامَنَّاۚ رَبَّنَا فَٱغۡفِرۡ لَنَا ذُنُوبَنَا وَكَفِّرۡ عَنَّا سَيِّـَٔاتِنَا وَتَوَفَّنَا مَعَ ٱلۡأَبۡرَارِ
“O our Lord! We have heard a proclaimer calling towards faith, (saying) ‘Believe in your Lord’ so we have accepted faith; Our Lord! Therefore forgive us our sins, and wipe out our evil deeds, and make us die among the virtuous.”
اے ہمارے رب! (ہم تجھے بھولے ہوئے تھے) سو ہم نے ایک ندا دینے والے کو سنا جو ایمان کی ندا دے رہا تھا کہ (لوگو!) اپنے رب پر ایمان لاؤ تو ہم ایمان لے آئے۔ اے ہمارے رب! اب ہمارے گناہ بخش دے اور ہماری خطاؤں کو ہمارے (نوشتۂ اعمال) سے محو فرما دے اور ہمیں نیک لوگوں کی سنگت میں موت دے
Tafsir Ibn Kathir
The Proofs of Tawhid for People of Understanding, their Characteristics, Speech, and Supplications
Allah said,
إِنَّ فِى خَلْقِ السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ
(Verily, in the creation of the heavens and the Earth,) 3:190, referring to the sky in its height and spaciousness, the earth in its expanse and density, the tremendous features they have of rotating planets, seas, mountains, deserts, trees, plants, fruits, animals, metals and various beneficial colors, scents, tastes and elements.
وَاخْتِلَـفِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ
(And in the alternation of night and day), as one follows and takes from the length of the other. For instance, at times one of them becomes longer than the other, shorter than the other at times and equal to the other at other times, and the same is repeated again and again, and all this occurs by the decision of the Almighty, Most Wise. This is why Allah said,
لاّيَـتٍ لاٌّوْلِى الاٌّلْبَـبِ
(there are indeed signs for men of understanding), referring to the intelligent and sound minds that contemplate about the true reality of things, unlike the deaf and mute who do not have sound comprehension. Allah said about the latter type,
وَكَأَيِّن مِّن ءَايَةٍ فِى السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ يَمُرُّونَ عَلَيْهَا وَهُمْ عَنْهَا مُعْرِضُونَ - وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلاَّ وَهُمْ مُّشْرِكُونَ
(And how many a sign in the heavens and the earth they pass by, while they are averse therefrom. And most of them believe not in Allah except that they attribute partners unto Him) 12:105,106.
Allah then describes those who have good minds,
الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِيَـماً وَقُعُوداً وَعَلَى جُنُوبِهِمْ
(Those who remember Allah standing, sitting, and lying down on their sides) 3:191.
Al-Bukhari recorded that `Imran bin Husayn said that, the Messenger of Allah ﷺ said,
«صَلِّ قَائِمًا، فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَقَاعِدًا، فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَعَلَى جَنْب»
(Pray while standing, and if you can't, pray while sitting, and if you cannot do even that, then pray lying on your side.) These people remember Allah in all situations, in their heart and speech,
وَيَتَفَكَّرُونَ فِى خَلْقِ السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ
(and think deeply about the creation of the heavens and the Earth), contemplating about signs in the sky and earth that testify to the might, ability, knowledge, wisdom, will and mercy of the Creator. Allah criticizes those who do not contemplate about His creation, which testifies to His existence, Attributes, Shari`ah, His decree and Ayat. Allah said,
وَكَأَيِّن مِّن ءَايَةٍ فِى السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ يَمُرُّونَ عَلَيْهَا وَهُمْ عَنْهَا مُعْرِضُونَ - وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلاَّ وَهُمْ مُّشْرِكُونَ
(And how many a sign in the heavens and the Earth they pass by, while they are averse therefrom. And most of them believe not in Allah except that they attribute partners unto Him) 12:105,106.
Allah also praises His believing servants,
الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِيَـماً وَقُعُوداً وَعَلَى جُنُوبِهِمْ وَيَتَفَكَّرُونَ فِى خَلْقِ السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ
(Those who remember Allah standing, sitting, and lying down on their sides, and think deeply about the creation of the heavens and the earth), supplicating;
رَبَّنَآ مَا خَلَقْتَ هَذا بَـطِلاً
("Our Lord! You have not created this without purpose,")
You did not create all this in jest and play. Rather, You created it in truth, so that You recompense those who do evil in kind, and reward those who do righteous deeds with what is better.
The faithful believers praise Allah and deny that He does anything in jest and without purpose, saying,
سُبْحَـنَكَ
("glory to You,"), for You would never create anything without purpose,
فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ
("Give us salvation from the torment of the Fire."), meaning, "O You Who created the creation in truth and justice, Who is far from any shortcomings, or doing things without purpose or with jest, save us from the torment of the Fire with Your power and strength. Direct us to perform the deeds that make You pleased with us. Guide us to righteous work from which You admit us into the delightful Paradise, and save us from Your painful torment."
They next supplicate,
رَبَّنَآ إِنَّكَ مَن تُدْخِلِ النَّارَ فَقَدْ أَخْزَيْتَهُ
("Our Lord! Verily, whom You admit to the Fire, indeed, You have disgraced him;), by humiliating and disgracing him before all people on the Day of Gathering,
وَمَا لِلظَّـلِمِينَ مِنْ أَنصَارٍ<
("and never will the wrongdoers find any helpers."), on the Day of Judgment, who would save them from You. Therefore, there is no escaping whatever fate You decided for them.
رَّبَّنَآ إِنَّنَآ سَمِعْنَا مُنَادِياً يُنَادِى لِلإِيمَـنِ
("Our Lord! Verily, we have heard the call of one calling to faith,"), a caller who calls to faith, referring to the Messenger of Allah ﷺ,
أَنْ ءَامِنُواْ بِرَبِّكُمْ فَـَامَنَّا
(`Believe in your Lord,' and we have believed), accepted his call and followed him.
رَبَّنَا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا
("Our Lord! Forgive us our sins"), on account of our faith and obeying Your Prophet
فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا
("Forgive us our sins"), and cover them,
وَكَفِّرْ عَنَّا سَيِّئَـتِنَا
("and expiate from us our evil deeds"), between us and You, in private,
وَتَوَفَّنَا مَعَ الاٌّبْرَارِ
("and make us die along with Al-Abrar."), join us with the righteous people.
رَبَّنَا وَءَاتِنَا مَا وَعَدتَّنَا عَلَى رُسُلِكَ
("Our Lord! Grant us what You promised unto us through Your Messengers") for our faith in Your Messengers, or, and this explanation is better; grant us what You promised us by the words of Your Messengers,
وَلاَ تُخْزِنَا يَوْمَ الْقِيَـمَةِ
("and disgrace us not on the Day of Resurrection,"), before all creation,
إِنَّكَ لاَ تُخْلِفُ الْمِيعَادَ
("for You never break (Your) Promise."), for surely, the promise that You conveyed to Your Messengers, which includes us being resurrected before You, shall certainly come to pass.
It was the Prophet's tradition to recite the ten Ayat at the end of Surah Al `Imran when he woke up at night for (voluntary) prayer. Al-Bukhari recorded that Ibn `Abbas said, "I slept one night at the house of my aunt, Maymunah. The Messenger of Allah ﷺ spoke with his wife for a while and then went to sleep. When it was the third part of the night, he stood up, looked at the sky and recited,
إِنَّ فِى خَلْقِ السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ وَاخْتِلَـفِ الَّيْلِ وَالنَّهَارِ لاّيَـتٍ لاٌّوْلِى الاٌّلْبَـبِ
(Verily, in the creation of the heavens and the earth, and in the alternation of night and day, there are indeed signs for men of understanding) 3:190.
The Prophet then stood up, performed ablution, used Siwak (to clean his teeth) and prayed eleven units of prayer. When Bilal said the Adhan, the Prophet prayed two units of prayer, went out (to the Masjid) and led the people in the Dawn prayer." This was also collected by Muslim.
Ibn Marduwyah recorded that `Ata' said, "I, Ibn `Umar and `Ubayd bin `Umayr went to `A'ishah and entered her room, and there was a screen between us and her. She said, `O `Ubayd! What prevents you from visiting us' He said, `What the poet said, `Visit every once in a while, and you will be loved more.' Ibn `Umar said, `Tell us about the most unusual thing you witnessed from the Messenger of Allah ﷺ.' She cried and said, `All his matters were amazing. On night, he came close to me until his skin touched my skin and said, `Let me worship my Lord.' I said, `By Allah I love your being close to me. I also love that you worship your Lord.' He used the water-skin and performed ablution, but did not use too much water. He then stood up in prayer and cried until his beard became wet. He prostrated and cried until he made the ground wet. He then laid down on his side and cried. When Bilal came to alert the Prophet for the Dawn prayer, he said, `O Messenger of Allah! What makes you cry, while Allah has forgiven you your previous and latter sins' He said,
«وَيْحَكَ يَا بِلَالُ، وَمَا يَمْنَعُنِي أَنْ أَبْكِيَ، وَقَدْ أُنْزِلَ عَلَيَّ فِي هذِهِ اللَّيْلَة»
(O Bilal! What prevents me from crying, when this night, this Ayah was revealed to me,)
إِنَّ فِى خَلْقِ السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ وَاخْتِلَـفِ الَّيْلِ وَالنَّهَارِ لاّيَـتٍ لاٌّوْلِى الاٌّلْبَـبِ
(Verily, in the creation of the heavens and the earth, and in the alternation of night and day, there are indeed signs for men of understanding.)
(Woe to he who recites it but does not contemplate it.)."
مظاہر کائنات دلیل رب ذوالجلال دعوت غرو فکر طبرانی میں ہے حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ قریش یہودیوں کے پاس گئے اور ان سے پوچھا کہ حضرت موسیٰ ؑ تمہارے پاس کیا کیا معجزات لے کر آئے تھے انہوں نے کہا اژدھا بن جانے والی لکڑی اور چمکیلا ہاتھ، پھر نصرانیوں کے پاس گئے ان سے کہا تمہارے پاس حضرت عیسیٰ (علیہ اسلام) کیا نشانیاں لائے تھے جواب ملا کہ مادر زاد اندھوں کو بینا کردینا اور کوڑھی کو اچھا کردینا اور مردوں کو زندہ کردینا۔ اب یہ قریش آنحضرت ﷺ کے پاس آئے اور آپ سے کہا اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ ہمارے لئے صفا پہاڑ کو سونے کا بنا دے آپ نے دعا کی جس پر یہ آیت (اِنَّ فِيْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَاخْتِلَافِ الَّيْلِ وَالنَّهَارِ) 2۔ البقرۃ :164) اتری یعنی نشان قدرت دیکھنے والوں کیلئے اسی میں بڑی نشانیاں ہیں یہ اسی میں غورو فکر کریں گے تو ان قدرتوں والے اللہ تعالیٰ کے سامنے جھک جائیں گے لیکن اس روایت میں ایک اشکال ہے وہ یہ کہ یہ سوال مکہ شریف میں ہوا تھا اور یہ آیت مدینہ شریف میں نازل ہوئی واللہ اعلم۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ آسمان جیسی بلندر اور وسعت مخلوق اور زمین جیسی پست اور سخت اور لمبی چوڑی مخلوق پھر آسمان میں بڑی بڑی نشانیاں مثلاً چلنے پھرنے والے اور ایک جاٹھہرنے والے ستارے اور زمین کی بڑی بڑی پیدوارا مثلاً پہاڑ، جنگل، درخت، گھس، کھیتیاں، پھل اور مختلف قسم کے جاندار، کانیں، الگ الگ ذائقے والے اور طرح طرح کی خوشبوؤں والے اور مختلف خواص والے میوے وغیرہ کیا یہ سب آیات قدرت ایک سوچ سمجھ والے انسان کی رہبری اللہ عزوجل کی طرف نہیں کرسکتیں ؟ جو اور نشانیاں دیکھنے کی ضرورت باقی رہے پھر دن رات کا آنا جانا اور ان کا کم زیادہ ہونا پھر برابر ہوجانا یہ سب اس عزیز وحلیم اللہ عزوجل کی قدرت کاملہ کی پوری پوری نشانیاں ہیں جو پاک نفس والے ہر چیز کی حقیقت پر نظریں ڈالنے کے عادی ہیں اور بیوقوفوں کی طرح آنکھ اندھے اور کان کے بہرے نہیں جن کی حالت اور جگہ بیان ہوئی ہے کہ وہ آسمان اور زمین کی بہت سی نشانیاں پیروں تلے روندتے ہوئے گزر جاتے ہیں اور غورو فکر نہیں کرتے، ان میں سے اکثر باوجود اللہ تعالیٰ کو ماننے کے پھر بھی شرک سے نہیں بچ سکے۔ اب ان عقلمندوں کی صفتیں بیان ہو رہی ہیں کہ وہ اٹھتے بیٹھتے لیٹتے اللہ کا نام لیا کرتے ہیں، بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ حضور ﷺ نے عمران بن حصین سے فرمایا کھڑے ہو کر نماز پڑھا کرو اگر طاقت نہ ہو تو بیٹھ کر اور یہ بھی نہ ہو سکے تو لیٹے لیٹے ہی سہی، یعنی کسی حالت میں اللہ عزوجل کے ذکر سے غافل مت رہو دل میں اور پوشیدہ اور زبان سے اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے رہا کرو، یہ لوگ آسمان اور زمین کی پیدائش میں نظریں دوڑاتے ہیں اور ان کی حکمتوں پر غور کرتے ہیں جو اس خالق یکتا کی عظمت وقدرت علم و حکمت اختیار رحمت پر دلالت کرتی ہیں، حضرت شیخ سلیمان درانی ؒ فرماتے ہیں گھر سے نکل کر جسچیز پر میری نظر پڑتی ہے میں دیکھتا ہوں کہ اس میں اللہ کی ایک ساعت غورو فکر کرنا رات بھر کے قیام کرنے سے افضل ہے، حضرت فضیل ؒ فرماتے ہیں کہ حضرت حسن کا قول ہے کہ غورو فکر ایک نور ہے جو تیرے دل پر اپنا پر تو ڈالے گا اور بسا اوقات یہ بیت پڑھتے۔اذا المراء کانت لہ فکرۃ ففی کل شئی لہ عبرۃ یعنی جس انسان کو باریک بینی اور سوچ سمجھ کی عادث پڑگئی اسے ہر چیز میں ایک عبرت اور آیت نظر آتی ہے حضرت عیسیٰ فرماتے ہیں خوش نصیب ہے وہ شخص جس کا بولنا ذکر اللہ اور نصیحت ہو اور اس کا جب رہنا غور و فکر ہو اور اس کا دیکھنا عبرت اور تنبیہہ ہو، لقمان حکیم کا نصیحت آموز مقولہ بھی یاد رہے کہ تنہائی کی گوشہ نشینی جس قدر زیادہ ہو اور اسی قدر غورو فکر اور دور اندیشی کی عادت زیادہ ہوتی ہے اور جس قدر یہ بڑھ جائے اسی قدر راستے انسان پر وہ کھل جاتے ہیں جو اسے جنت میں پہنچا دیں گے، حضرت وہب بن منبہ فرماتے ہیں جس قدر مراقبہ زیادہ ہوگا اسی قدر سمجھ بوجھ تیز ہوگی اور جتنی سمجھ زیادہ ہوگی اتناعلم نصیب ہوگا اور جس قدر علم زیادہ ہوگا نیک اعمال بھی بڑھیں گے، حضرت عمر بن عبدالعزیز کا ارشاد ہے کہ اللہ عزوجل کے ذکر میں زبان کا چلانا بہت اچھا ہے اور اللہ کی نعمتوں میں غور و فکر افضل عبادت ہے، حضرت مغیث اسود مجلس میں بیٹھے ہوئے فرماتے کہ لوگو قبرستان ہر روز جایا کرو تاکہ تمہیں انجام کا خیال پیدا ہو پھر اپنے دل میں اس منظر کو حاضر کرو کہ تم اللہ کے سامنے کھڑے ہو پھر ایک جماعت کو جہنم میں لے جانے کا حکم ہوتا ہے اور ایک جماعت جنت میں جاتی ہے اپنے دلوں کو اس حال میں جذب کردو اور اپنے بدن کو بھی وہیں حاضر جان لو جہنم کو اپنے سامنے دیکھو اس کے ہتھوڑوں کو اسکی آگ کے قید خانوں کو اپنے سامنے لاؤ اتنا فرماتے ہی دھاڑیں مارمار کر رونے لگتے ہیں یہاں تک کہ بیہوش ہوجاتے ہیں حضرت عبداللہ بن مبارک فرماتے ہیں ایک شخص نے ایک راہب سے ایک قبرستان اور کوڑا کرکٹ پاخانہ پیشاب ڈالنے کی جگہ پر ملاقات کی اور اس سے کہا اے بندہ حق اس وقت تیرے پاس دو خزانے ہیں ایک خزانہ لوگوں کا یعنی قبرستان اور دوسرا خزانہ مال کا یعنی کوڑا کرکٹ۔ پیشاب پاخانہ ڈالنے کی جگہ۔ حضرت عبداللہ بن عمر کھنڈرات پر جاتے اور کسی ٹوٹے پھوٹے دروازے پر کھڑے رہ کر نہایت حسرت و افسوس کے ساتھ بھرائی ہوئی آواز میں فرماتے اے اجڑے ہوئے گھرو تمہارے رہنے والے کہاں گئے ؟ پھر خود فرماتے سب زیر زمین چلے گئے سب فنا کا جام پی چکے صرف اللہ تعالیٰ کی جات ہی ہمیشہ کی مالک بقاء ہے، حضرت عبداللہ بن عباس کا ارشاد ہے دو رکعتیں جو دل بستگی کے ساتھ ادا کی جائیں اس تمام نماز سے افضل ہیں جس میں ساری رات گزار دی لیکن دلچسپی نہ تھی، حسن بصری فرماتے ہیں ابن آدم اپنے پیٹ کے تیسرے حصے میں کھا تیسرے حصے میں پانی پی اور تیسرا حصہ ان سانسوں کیلئے چھوڑ جس میں تو آخرت کی باتوں پر اپنے انجام پر اور اپنے اعمال پر خور و فکر کرسکے، بعض حکیموں کا قول ہے جو شخص دنیا کی چیزوں پر عبرت حاصل کئے بغیر نظر ڈالتا ہے اس غفلت کیوجہ سے اس کی دلی آنکھیں کمزور پڑجاتی ہیں، حضرت عامر بن قیس فرماتے ہیں کہ میں نے بہت سے صحابہ سے سنا ہے کہ ایمان کی روشنی اور تو غور فکر اور مراقبہ میں ہے، مسیح ابن مریم سیدنا حضرت عیسیٰ ؑ کا فرمان ہے کہ ابن آدم اے ضعیف انسان جہاں کہیں تو ہو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا رہ، دنیا میں عاجزی اور مسکینی کے ساتھ رہ، اپنا گھر مسجدوں کو بنا لے، اپنی آنکھوں کو رونا سکھا، اپنے جسم کو صبر کی عادت سکھا، اپنے دل کو غور و فکر کرنے والا بنا، کل کی روزی کی فکر آج نہ کر، امیر المومنین حضرت عمر بن عبدالعزیز ایک مرتبہ مجلس میں بیٹھے ہوئے رو دیئے لوگوں نے وجہ پوچھی تو آپ نے فرمایا میں نے دنیا میں اور اس کی لذتوں میں اور اس کی خواہشوں میں غور فکر کیا اور عبرت حاصل کی جب نتیجہ پر پہنچا تو میری امنگیں ختم ہوگئیں حقیقت یہ ہے کہ ہر شخص کیلئے اس میں عبرت و نصیحت ہے اور وعظ و پند ہے، حسین بن عبدالرحمن نے بھی اپنے اشعار میں اس مضمون کو خوب نبھایا ہے، پس اللہ تعالیٰ نے اپنے ان بندوں کی مدح و ثنا بیان کی جو مخلوقات اور کائنات سے عبرت حاصل کریں اور نصیحت لیں اور ان لوگوں کی مذمت بیان کی جو قدرت کی نشانیوں پر غور نہ کریں۔ مومنوں کی مدح میں بیان ہو رہا ہے کہ یہ لوگ اٹھتے بیٹھتے لیٹتے اللہ سبحانہ کا ذکر کرتے ہیں زمین و آسمان کی پیدائش میں غور و فکر کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اے اللہ تو نے اپنی مخلوق کو عبث اور بیکار نہیں بنایا بلکہ حق کے ساتھ پیدا کیا ہے تاکہ بروں کو برائی کا بدلہ اور نیکوں کو نیکیوں کا بدلہ عطا فرمائے، پھر اللہ کی پاکیزگی بیان کرتے ہیں تو اس سے منزہ ہے کہ کسی چیز کو بیکار بنائے اے خالق کائنات اے عدل و انصاف سے کائنات کو سجانے والے اے نقصان اور عیبوں سے پاک ذات ہمیں اپنی قوت و طاقت سے ان اعمال کی توفیق اور ہمارا رفیق فرما جن سے ہم تیرے عذابوں سے نجات پالیں اور تیری نعمتوں سے مالا مال ہو کر جنت میں داخل ہوجائیں، یہ یوں بھی کہتے ہیں کہ اے اللہ جسے تو جہنم میں لے گیا اسے تو نے برباد اور ذلیل و خوار کردیا مجمع حشر کے سامنے اسے رسوا کیا، ظالموں کا کوئی مددگار نہیں انہیں نہ کوئی چھڑا سکے نہ بچا سکے نہ تیرے ارادے کے درمیان آسکے، اے رب ہم نے پکارنے والے کی پکار سن لی جو ایمان اور اسلام کی طرف بلاتا ہے، مراد اس سے آنحضرت ﷺ ہیں جو فرماتے ہیں کہ اپنے رب پر ایمان لاؤ ہم ایمان لاچکے اور تابعداری بجا لائے پس ہمارے ایمان اور فرماں برداری کی وجہ سے ہمارے گناہوں کو معاف فرما ان کی پردہ پوشی کر اور ہماری برائیوں کو ہم سے دور کر دے اور ہمیں صالح اور نیک لوگوں کے ساتھ ملا دے تو نے ہم سے جو وعدے اپنے نبیوں کی زبانی کئے ہیں انہیں پورے کر اور یہ مطلب بھی بیان کیا گیا ہے کہ جو وعدہ تو نے ہم سے اپنے رسولوں پر ایمان لانے کا لیا تھا لیکن پہلا معنی واضح ہے، مسند احمد کی حدیث میں ہے عسقلان دو عروس میں سے ایک ہے یہیں سے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ستر ہزار شہیداء ٹھائیں گے جو وفد بن کر اللہ کے پاس جائیں گے یہیں شہیدوں کی صفیں ہوں گی جن کے ہاتھوں میں ان کے کٹے ہوئے سر ہوں گے ان کی گردن کی رگوں سے خون جاری ہوگا یہ کہتے ہوں گے اے اللہ ہم سے جو وعدے اپنے رسولوں کی معرفت تو نے کئے ہیں انہیں پورے کر ہمیں قیامت کے دن رسوا نہ کر تو وعدہ خلافی سے پاک ہے اللہ تعالیٰ فرمائے گا میرے یہ بندے سچے ہیں اور انہیں نہر بیضہ میں غسل کروائیں گے جس غسل کے بعد پاک صاف گورے چٹے رنگ کے ہو کر نکلیں گے اور ساری جنت ان کے لئے مباح ہوگی جہاں چاہیں جائیں آئیں جو چاہیں کھائیں پئیں۔ یہ حدیث غریب ہے اور بعض تو کہتے ہیں موضوع ہے واللہ اعلم۔ ہمیں قیامت کے دن تمام لوگوں کے مجمع میں رسوا نہ کر تیرے وعدے سچے ہیں تو نے جو کچھ خبریں اپنے رسولوں کی زبانی پہنچائی ہیں سب اٹل ہیں قیامت کا روز ضرور آنا ہے پس تو ہمیں اس دن کی رسوائی سے نجات دے، رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ بندے پر رسوائی ڈانٹ ڈپٹ مار اور شرمندگی اس قدر ڈالی جائے گی اور اس طرح اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑا کر کے اسے قائل معقول کیا جائے گا کہ وہ چاہے گا کہ کاش مجھے جہنم میں ہی ڈال دیا جاتا (ابو یعلیٰ) اس حدیث کی سند بھی غریب ہے، احادیت سے یہ بھی ثابت ہے کہ رسول اللہ ﷺ رات کو تہجد کیلئے جب اٹھتے تب سورة آل عمران کی ان دس آخری آیتوں کی تلاوت فرماتے چناچہ بخاری شریف میں ہے حضرت عبداللہ بن عباس فرماتے ہیں میں نے اپنی خالہ حضرت میمونہ کے گھر رات گزاری یہ ام المومنین حضور ﷺ کی بیوی صاحبہ تھیں حضور ﷺ جب آئے تو تھوڑی دیر تک آپ حضرت میمونہ سے باتیں کرتے رہے پھر سو گئے جب آخری تہائی رات باقی رہ گئی تو آپ اٹھ بیٹھے اور آسمان کی طرف نگاہ کر کے آیت (ان فی خلق السموات) سے آخر سورت تک کی آیتیں تلاوت فرمائیں پھر کھڑے ہوئے مسواک کی وضو کیا اور گیارہ رکعت نماز ادا کی حضرت بلال کی صبح کی اذان سن کر پھر دو رکعتیں صبح کی سنتیں پڑھیں پھر مسجد میں تشریف لا کر لوگوں کو صبح کی نماز پڑھائی۔ صحیح بخاری میں یہ روایت دوسری جگہ بھی ہے کہ بسترے کے عرض میں تو میں سویا اور لمبائی میں آنحضرت ﷺ اور ام المومنین حضرت میمونہ لیٹیں آدھی رات کے قریب کچھ پہلے یا کچھ بعد حضور ﷺ جاگے اپنے ہاتھوں سے اپنی آنکھیں ملتے ہوئے ان دس آیتوں کی تلاوت کی پھر ایک لٹکی ہوئی مشک میں سے پانی لے کر بہت اچھی طرح کامل وضو کیا میں بھی آپ کی بائیں جانب آپ کی اقتدار میں نماز کیلئے کھڑا ہوگیا حضور ﷺ نے اپنا داہنا ہاتھ میرے سر پر رکھ کر میرے کان کو پکڑ کر مجھے گھما کر اپنی دائیں جانب کرلیا اور دو دو رکعت کر کے چھ مرتبہ یعنی بارہ رکعت پڑھیں پھر وتر پڑھا اور لیٹ گئے یہاں تک کہ مؤذن نے آکر نماز کی اطلاع کی آپ نے کھڑے ہو کردو ہلکی رکعتیں ادا کیں اور باہر آکر صبح کی نماز پڑھائی، ابن مردویہ کی اس حدیث میں ہے حضرت عبداللہ فرماتے ہیں مجھے میرے والد حضرت عباس نے فرمایا کہ تم آج کی رات حضور ﷺ کی آل میں گزارو اور آپ کی رات کی نماز کی کیفیت دیکھو رات کو جب سب لوگ عشاء کی نماز پڑھ کر چلے گئے میں بیٹھا رہا جب حضور ﷺ جانے لگے تو مجھے دیکھ کر فرمایا کون عبداللہ ؟ میں نے کہا جی ہاں فرمایا کیوں رکے ہوئے ہو میں نے کہا والد صاحب کا حکم ہے کہ رات آپ کے گھر گزاروں تو فرمایا بہت اچھا آؤ گھر جا کر فرمایا بستر بچھاؤ ٹاٹ کا تکیہ آیا اور حضور ﷺ اس پر سر رکھ کر سو گئے یہاں تک کہ مجھے آپ کے خراٹوں کی آواز آنے لگی پھر آپ جاگے اور سیدھی طرح بیٹھ کر آسمان کی طرف دیکھ کر تین مرتبہ دعا (سبحان الملک القدوس) پڑھا پھر سورة آل عمران کے خاتمہ کی یہ آیتیں پڑھیں اور روایت میں ہے کہ آیتوں کی تلاوت کے بعد حضور ﷺ نے یہ دعا پڑھی (اللھم اجعل فی قلبی نورا وفی سمعی نورا وفی بصری نورا وعن یمینی نورا وعن شمالی نورا ومن بین یدی نورا ومن خلفی نورا ومن فوقی نورا ومن تحتی نورا واعظم لی نورا یوم القیامتہ) (ابن مردویہ) یہ دعا بعض صحیح طریق سے بھی مروی ہے اس آیت کی تفسیر کے شروع میں طبرانی کے حوالے سے جو حدیث گزری ہے اس سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیت مکی ہے لیکن مشہور اس کے خلاف ہے یعنی یہ کہ یہ آیت مدنی ہے اور اس کی دلیل میں یہ حدیث پیش ہوسکتی ہے جو ابن مردویہ میں ہے کہ حضرت عطاء۔ حضرت ابن عمر حضرت عبید بن عمیر۔ حضرت عائشہ صدیقہ کے پاس آئے آپ کے اور ان کے درمیان پردہ تھا حضرت صدیقہ نے پوچھا عبید تم کیوں نہیں آیا کرتے ؟ حضرت عبید نے جواب دیا اماں جان صرف اس لئے کہ کسی شاعر کا قول ہے زرغباتزد دحبا یعنی کم کم آؤ تاکہ محبت بڑھے، حضرت ابن عمر نے کہا اب ان باتوں کو چھوڑو ام المومنین ہم یہ پوچھنے کیلئے حاضر ہوئے ہیں کہ سب سے زیادہ عجیب بات جو آپ نے آنحضرت محمد ﷺ کی دیکھی ہو وہ ہمیں بتائیں۔ حضرت عائشہ رو دیں اور فرمانے لگیں حضور ﷺ کے تمام کام عجیب تر تھے، اچھا ایک واقعہ سنو ایک رات میری باری میں حضور ﷺ میرے پاس آئے اور میرے ساتھ سوئے پھر مجھ سے فرمانے لگے عائشہ میں اپنے رب کی کچھ عبادت کرنا چاہتا ہوں مجھے جانے دے میں نے کہا یا رسول اللہ ﷺ اللہ کی قسم میں آپ کا قرب چاہتی ہوں اور یہ بھی میری چاہت ہے کہ آپ اللہ عزوجل کی عبادت بھی کریں، اب آپ کھڑے ہوئے اور ایک مشک میں سے پانی لے کر آپ نے ہلکا سا وضو کیا اور نماز کے لئے کھڑے ہوگئے پھر جو رونا شروع کیا تو اتنا روئے کہ داڑھی مبارک تر ہوگئی پھر سجدے میں گئے اور اس قدر روئے کہ زمین تر ہوگئی پھر کروٹ کے بل لیٹ گئے اور روتے ہی رہے یہاں تک کہ حضرت بلال نے آ کر نماز کیلئے بلایا اور آپ کے آنسو رواں دیکھ کر دریافت کیا کہ اے اللہ کے سچے رسول ﷺ آپ کیوں رو رہے ہیں اللہ تعالیٰ نے تو آپ کے تمام اگلے پچھلے گناہ معاف فرما دیئے ہیں، آپ نے فرمایا بلال میں کیوں نہ روؤں ؟ مجھ پر آج کی رات یہ آیت اتری ہے آیت (اِنَّ فِيْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَاخْتِلَافِ الَّيْلِ وَالنَّهَارِ) 2۔ البقرۃ :164) افسوس ہے اس شخص کیلئے جو اسے پڑھے اور پھر اس میں غورو تدبر نہ کرے۔ عبد بن حمید کی تفسیر میں بھی یہ حدیث ہے اس میں یہ بھی ہے کہ جب ہم حضرت عائشہ کے پاس گئے ہم نے سلام کیا تو آپ نے پوچھا تم کون لوگ ہو ؟ ہم نے اپنے نام بتائے اور آخر میں یہ بھی ہے کہ نماز کے بعد آپ اپنی داہنی کروٹ پر لیٹے رخسار تلے ہاتھ رکھا اور روتے رہے یہاں تک کہ آنسوؤں سے زمین تر ہوگئی اور حضرت بلال کے جواب میں آپ نے یہ بھی فرمایا کہ کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں ؟ اور آیتوں کے نازل ہونے کے بارے میں عذاب النار تک آپ نے تلاوت کی، ابن مردویہ کی ایک ضعیف سند والی حدیث میں حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ سورة آل عمران کے آخر کی دس آیتیں ہر رات کو پڑھتے اس روایت میں مظاہر بن اسلم ضعیف ہیں۔
194
View Single
رَبَّنَا وَءَاتِنَا مَا وَعَدتَّنَا عَلَىٰ رُسُلِكَ وَلَا تُخۡزِنَا يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِۖ إِنَّكَ لَا تُخۡلِفُ ٱلۡمِيعَادَ
“O our Lord! And give us what You have promised us through Your Noble Messengers, and do not humiliate us on the Day of Resurrection; indeed You do not break the promise.”
اے ہمارے رب! اور ہمیں وہ سب کچھ عطا فرما جس کا تو نے ہم سے اپنے رسولوں کے ذریعے وعدہ فرمایا ہے اور ہمیں قیامت کے دن رسوا نہ کر، بیشک تو وعدہ کے خلاف نہیں کرتا
Tafsir Ibn Kathir
The Proofs of Tawhid for People of Understanding, their Characteristics, Speech, and Supplications
Allah said,
إِنَّ فِى خَلْقِ السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ
(Verily, in the creation of the heavens and the Earth,) 3:190, referring to the sky in its height and spaciousness, the earth in its expanse and density, the tremendous features they have of rotating planets, seas, mountains, deserts, trees, plants, fruits, animals, metals and various beneficial colors, scents, tastes and elements.
وَاخْتِلَـفِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ
(And in the alternation of night and day), as one follows and takes from the length of the other. For instance, at times one of them becomes longer than the other, shorter than the other at times and equal to the other at other times, and the same is repeated again and again, and all this occurs by the decision of the Almighty, Most Wise. This is why Allah said,
لاّيَـتٍ لاٌّوْلِى الاٌّلْبَـبِ
(there are indeed signs for men of understanding), referring to the intelligent and sound minds that contemplate about the true reality of things, unlike the deaf and mute who do not have sound comprehension. Allah said about the latter type,
وَكَأَيِّن مِّن ءَايَةٍ فِى السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ يَمُرُّونَ عَلَيْهَا وَهُمْ عَنْهَا مُعْرِضُونَ - وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلاَّ وَهُمْ مُّشْرِكُونَ
(And how many a sign in the heavens and the earth they pass by, while they are averse therefrom. And most of them believe not in Allah except that they attribute partners unto Him) 12:105,106.
Allah then describes those who have good minds,
الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِيَـماً وَقُعُوداً وَعَلَى جُنُوبِهِمْ
(Those who remember Allah standing, sitting, and lying down on their sides) 3:191.
Al-Bukhari recorded that `Imran bin Husayn said that, the Messenger of Allah ﷺ said,
«صَلِّ قَائِمًا، فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَقَاعِدًا، فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَعَلَى جَنْب»
(Pray while standing, and if you can't, pray while sitting, and if you cannot do even that, then pray lying on your side.) These people remember Allah in all situations, in their heart and speech,
وَيَتَفَكَّرُونَ فِى خَلْقِ السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ
(and think deeply about the creation of the heavens and the Earth), contemplating about signs in the sky and earth that testify to the might, ability, knowledge, wisdom, will and mercy of the Creator. Allah criticizes those who do not contemplate about His creation, which testifies to His existence, Attributes, Shari`ah, His decree and Ayat. Allah said,
وَكَأَيِّن مِّن ءَايَةٍ فِى السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ يَمُرُّونَ عَلَيْهَا وَهُمْ عَنْهَا مُعْرِضُونَ - وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلاَّ وَهُمْ مُّشْرِكُونَ
(And how many a sign in the heavens and the Earth they pass by, while they are averse therefrom. And most of them believe not in Allah except that they attribute partners unto Him) 12:105,106.
Allah also praises His believing servants,
الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِيَـماً وَقُعُوداً وَعَلَى جُنُوبِهِمْ وَيَتَفَكَّرُونَ فِى خَلْقِ السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ
(Those who remember Allah standing, sitting, and lying down on their sides, and think deeply about the creation of the heavens and the earth), supplicating;
رَبَّنَآ مَا خَلَقْتَ هَذا بَـطِلاً
("Our Lord! You have not created this without purpose,")
You did not create all this in jest and play. Rather, You created it in truth, so that You recompense those who do evil in kind, and reward those who do righteous deeds with what is better.
The faithful believers praise Allah and deny that He does anything in jest and without purpose, saying,
سُبْحَـنَكَ
("glory to You,"), for You would never create anything without purpose,
فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ
("Give us salvation from the torment of the Fire."), meaning, "O You Who created the creation in truth and justice, Who is far from any shortcomings, or doing things without purpose or with jest, save us from the torment of the Fire with Your power and strength. Direct us to perform the deeds that make You pleased with us. Guide us to righteous work from which You admit us into the delightful Paradise, and save us from Your painful torment."
They next supplicate,
رَبَّنَآ إِنَّكَ مَن تُدْخِلِ النَّارَ فَقَدْ أَخْزَيْتَهُ
("Our Lord! Verily, whom You admit to the Fire, indeed, You have disgraced him;), by humiliating and disgracing him before all people on the Day of Gathering,
وَمَا لِلظَّـلِمِينَ مِنْ أَنصَارٍ<
("and never will the wrongdoers find any helpers."), on the Day of Judgment, who would save them from You. Therefore, there is no escaping whatever fate You decided for them.
رَّبَّنَآ إِنَّنَآ سَمِعْنَا مُنَادِياً يُنَادِى لِلإِيمَـنِ
("Our Lord! Verily, we have heard the call of one calling to faith,"), a caller who calls to faith, referring to the Messenger of Allah ﷺ,
أَنْ ءَامِنُواْ بِرَبِّكُمْ فَـَامَنَّا
(`Believe in your Lord,' and we have believed), accepted his call and followed him.
رَبَّنَا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا
("Our Lord! Forgive us our sins"), on account of our faith and obeying Your Prophet
فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا
("Forgive us our sins"), and cover them,
وَكَفِّرْ عَنَّا سَيِّئَـتِنَا
("and expiate from us our evil deeds"), between us and You, in private,
وَتَوَفَّنَا مَعَ الاٌّبْرَارِ
("and make us die along with Al-Abrar."), join us with the righteous people.
رَبَّنَا وَءَاتِنَا مَا وَعَدتَّنَا عَلَى رُسُلِكَ
("Our Lord! Grant us what You promised unto us through Your Messengers") for our faith in Your Messengers, or, and this explanation is better; grant us what You promised us by the words of Your Messengers,
وَلاَ تُخْزِنَا يَوْمَ الْقِيَـمَةِ
("and disgrace us not on the Day of Resurrection,"), before all creation,
إِنَّكَ لاَ تُخْلِفُ الْمِيعَادَ
("for You never break (Your) Promise."), for surely, the promise that You conveyed to Your Messengers, which includes us being resurrected before You, shall certainly come to pass.
It was the Prophet's tradition to recite the ten Ayat at the end of Surah Al `Imran when he woke up at night for (voluntary) prayer. Al-Bukhari recorded that Ibn `Abbas said, "I slept one night at the house of my aunt, Maymunah. The Messenger of Allah ﷺ spoke with his wife for a while and then went to sleep. When it was the third part of the night, he stood up, looked at the sky and recited,
إِنَّ فِى خَلْقِ السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ وَاخْتِلَـفِ الَّيْلِ وَالنَّهَارِ لاّيَـتٍ لاٌّوْلِى الاٌّلْبَـبِ
(Verily, in the creation of the heavens and the earth, and in the alternation of night and day, there are indeed signs for men of understanding) 3:190.
The Prophet then stood up, performed ablution, used Siwak (to clean his teeth) and prayed eleven units of prayer. When Bilal said the Adhan, the Prophet prayed two units of prayer, went out (to the Masjid) and led the people in the Dawn prayer." This was also collected by Muslim.
Ibn Marduwyah recorded that `Ata' said, "I, Ibn `Umar and `Ubayd bin `Umayr went to `A'ishah and entered her room, and there was a screen between us and her. She said, `O `Ubayd! What prevents you from visiting us' He said, `What the poet said, `Visit every once in a while, and you will be loved more.' Ibn `Umar said, `Tell us about the most unusual thing you witnessed from the Messenger of Allah ﷺ.' She cried and said, `All his matters were amazing. On night, he came close to me until his skin touched my skin and said, `Let me worship my Lord.' I said, `By Allah I love your being close to me. I also love that you worship your Lord.' He used the water-skin and performed ablution, but did not use too much water. He then stood up in prayer and cried until his beard became wet. He prostrated and cried until he made the ground wet. He then laid down on his side and cried. When Bilal came to alert the Prophet for the Dawn prayer, he said, `O Messenger of Allah! What makes you cry, while Allah has forgiven you your previous and latter sins' He said,
«وَيْحَكَ يَا بِلَالُ، وَمَا يَمْنَعُنِي أَنْ أَبْكِيَ، وَقَدْ أُنْزِلَ عَلَيَّ فِي هذِهِ اللَّيْلَة»
(O Bilal! What prevents me from crying, when this night, this Ayah was revealed to me,)
إِنَّ فِى خَلْقِ السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ وَاخْتِلَـفِ الَّيْلِ وَالنَّهَارِ لاّيَـتٍ لاٌّوْلِى الاٌّلْبَـبِ
(Verily, in the creation of the heavens and the earth, and in the alternation of night and day, there are indeed signs for men of understanding.)
(Woe to he who recites it but does not contemplate it.)."
مظاہر کائنات دلیل رب ذوالجلال دعوت غرو فکر طبرانی میں ہے حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ قریش یہودیوں کے پاس گئے اور ان سے پوچھا کہ حضرت موسیٰ ؑ تمہارے پاس کیا کیا معجزات لے کر آئے تھے انہوں نے کہا اژدھا بن جانے والی لکڑی اور چمکیلا ہاتھ، پھر نصرانیوں کے پاس گئے ان سے کہا تمہارے پاس حضرت عیسیٰ (علیہ اسلام) کیا نشانیاں لائے تھے جواب ملا کہ مادر زاد اندھوں کو بینا کردینا اور کوڑھی کو اچھا کردینا اور مردوں کو زندہ کردینا۔ اب یہ قریش آنحضرت ﷺ کے پاس آئے اور آپ سے کہا اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ ہمارے لئے صفا پہاڑ کو سونے کا بنا دے آپ نے دعا کی جس پر یہ آیت (اِنَّ فِيْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَاخْتِلَافِ الَّيْلِ وَالنَّهَارِ) 2۔ البقرۃ :164) اتری یعنی نشان قدرت دیکھنے والوں کیلئے اسی میں بڑی نشانیاں ہیں یہ اسی میں غورو فکر کریں گے تو ان قدرتوں والے اللہ تعالیٰ کے سامنے جھک جائیں گے لیکن اس روایت میں ایک اشکال ہے وہ یہ کہ یہ سوال مکہ شریف میں ہوا تھا اور یہ آیت مدینہ شریف میں نازل ہوئی واللہ اعلم۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ آسمان جیسی بلندر اور وسعت مخلوق اور زمین جیسی پست اور سخت اور لمبی چوڑی مخلوق پھر آسمان میں بڑی بڑی نشانیاں مثلاً چلنے پھرنے والے اور ایک جاٹھہرنے والے ستارے اور زمین کی بڑی بڑی پیدوارا مثلاً پہاڑ، جنگل، درخت، گھس، کھیتیاں، پھل اور مختلف قسم کے جاندار، کانیں، الگ الگ ذائقے والے اور طرح طرح کی خوشبوؤں والے اور مختلف خواص والے میوے وغیرہ کیا یہ سب آیات قدرت ایک سوچ سمجھ والے انسان کی رہبری اللہ عزوجل کی طرف نہیں کرسکتیں ؟ جو اور نشانیاں دیکھنے کی ضرورت باقی رہے پھر دن رات کا آنا جانا اور ان کا کم زیادہ ہونا پھر برابر ہوجانا یہ سب اس عزیز وحلیم اللہ عزوجل کی قدرت کاملہ کی پوری پوری نشانیاں ہیں جو پاک نفس والے ہر چیز کی حقیقت پر نظریں ڈالنے کے عادی ہیں اور بیوقوفوں کی طرح آنکھ اندھے اور کان کے بہرے نہیں جن کی حالت اور جگہ بیان ہوئی ہے کہ وہ آسمان اور زمین کی بہت سی نشانیاں پیروں تلے روندتے ہوئے گزر جاتے ہیں اور غورو فکر نہیں کرتے، ان میں سے اکثر باوجود اللہ تعالیٰ کو ماننے کے پھر بھی شرک سے نہیں بچ سکے۔ اب ان عقلمندوں کی صفتیں بیان ہو رہی ہیں کہ وہ اٹھتے بیٹھتے لیٹتے اللہ کا نام لیا کرتے ہیں، بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ حضور ﷺ نے عمران بن حصین سے فرمایا کھڑے ہو کر نماز پڑھا کرو اگر طاقت نہ ہو تو بیٹھ کر اور یہ بھی نہ ہو سکے تو لیٹے لیٹے ہی سہی، یعنی کسی حالت میں اللہ عزوجل کے ذکر سے غافل مت رہو دل میں اور پوشیدہ اور زبان سے اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے رہا کرو، یہ لوگ آسمان اور زمین کی پیدائش میں نظریں دوڑاتے ہیں اور ان کی حکمتوں پر غور کرتے ہیں جو اس خالق یکتا کی عظمت وقدرت علم و حکمت اختیار رحمت پر دلالت کرتی ہیں، حضرت شیخ سلیمان درانی ؒ فرماتے ہیں گھر سے نکل کر جسچیز پر میری نظر پڑتی ہے میں دیکھتا ہوں کہ اس میں اللہ کی ایک ساعت غورو فکر کرنا رات بھر کے قیام کرنے سے افضل ہے، حضرت فضیل ؒ فرماتے ہیں کہ حضرت حسن کا قول ہے کہ غورو فکر ایک نور ہے جو تیرے دل پر اپنا پر تو ڈالے گا اور بسا اوقات یہ بیت پڑھتے۔اذا المراء کانت لہ فکرۃ ففی کل شئی لہ عبرۃ یعنی جس انسان کو باریک بینی اور سوچ سمجھ کی عادث پڑگئی اسے ہر چیز میں ایک عبرت اور آیت نظر آتی ہے حضرت عیسیٰ فرماتے ہیں خوش نصیب ہے وہ شخص جس کا بولنا ذکر اللہ اور نصیحت ہو اور اس کا جب رہنا غور و فکر ہو اور اس کا دیکھنا عبرت اور تنبیہہ ہو، لقمان حکیم کا نصیحت آموز مقولہ بھی یاد رہے کہ تنہائی کی گوشہ نشینی جس قدر زیادہ ہو اور اسی قدر غورو فکر اور دور اندیشی کی عادت زیادہ ہوتی ہے اور جس قدر یہ بڑھ جائے اسی قدر راستے انسان پر وہ کھل جاتے ہیں جو اسے جنت میں پہنچا دیں گے، حضرت وہب بن منبہ فرماتے ہیں جس قدر مراقبہ زیادہ ہوگا اسی قدر سمجھ بوجھ تیز ہوگی اور جتنی سمجھ زیادہ ہوگی اتناعلم نصیب ہوگا اور جس قدر علم زیادہ ہوگا نیک اعمال بھی بڑھیں گے، حضرت عمر بن عبدالعزیز کا ارشاد ہے کہ اللہ عزوجل کے ذکر میں زبان کا چلانا بہت اچھا ہے اور اللہ کی نعمتوں میں غور و فکر افضل عبادت ہے، حضرت مغیث اسود مجلس میں بیٹھے ہوئے فرماتے کہ لوگو قبرستان ہر روز جایا کرو تاکہ تمہیں انجام کا خیال پیدا ہو پھر اپنے دل میں اس منظر کو حاضر کرو کہ تم اللہ کے سامنے کھڑے ہو پھر ایک جماعت کو جہنم میں لے جانے کا حکم ہوتا ہے اور ایک جماعت جنت میں جاتی ہے اپنے دلوں کو اس حال میں جذب کردو اور اپنے بدن کو بھی وہیں حاضر جان لو جہنم کو اپنے سامنے دیکھو اس کے ہتھوڑوں کو اسکی آگ کے قید خانوں کو اپنے سامنے لاؤ اتنا فرماتے ہی دھاڑیں مارمار کر رونے لگتے ہیں یہاں تک کہ بیہوش ہوجاتے ہیں حضرت عبداللہ بن مبارک فرماتے ہیں ایک شخص نے ایک راہب سے ایک قبرستان اور کوڑا کرکٹ پاخانہ پیشاب ڈالنے کی جگہ پر ملاقات کی اور اس سے کہا اے بندہ حق اس وقت تیرے پاس دو خزانے ہیں ایک خزانہ لوگوں کا یعنی قبرستان اور دوسرا خزانہ مال کا یعنی کوڑا کرکٹ۔ پیشاب پاخانہ ڈالنے کی جگہ۔ حضرت عبداللہ بن عمر کھنڈرات پر جاتے اور کسی ٹوٹے پھوٹے دروازے پر کھڑے رہ کر نہایت حسرت و افسوس کے ساتھ بھرائی ہوئی آواز میں فرماتے اے اجڑے ہوئے گھرو تمہارے رہنے والے کہاں گئے ؟ پھر خود فرماتے سب زیر زمین چلے گئے سب فنا کا جام پی چکے صرف اللہ تعالیٰ کی جات ہی ہمیشہ کی مالک بقاء ہے، حضرت عبداللہ بن عباس کا ارشاد ہے دو رکعتیں جو دل بستگی کے ساتھ ادا کی جائیں اس تمام نماز سے افضل ہیں جس میں ساری رات گزار دی لیکن دلچسپی نہ تھی، حسن بصری فرماتے ہیں ابن آدم اپنے پیٹ کے تیسرے حصے میں کھا تیسرے حصے میں پانی پی اور تیسرا حصہ ان سانسوں کیلئے چھوڑ جس میں تو آخرت کی باتوں پر اپنے انجام پر اور اپنے اعمال پر خور و فکر کرسکے، بعض حکیموں کا قول ہے جو شخص دنیا کی چیزوں پر عبرت حاصل کئے بغیر نظر ڈالتا ہے اس غفلت کیوجہ سے اس کی دلی آنکھیں کمزور پڑجاتی ہیں، حضرت عامر بن قیس فرماتے ہیں کہ میں نے بہت سے صحابہ سے سنا ہے کہ ایمان کی روشنی اور تو غور فکر اور مراقبہ میں ہے، مسیح ابن مریم سیدنا حضرت عیسیٰ ؑ کا فرمان ہے کہ ابن آدم اے ضعیف انسان جہاں کہیں تو ہو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا رہ، دنیا میں عاجزی اور مسکینی کے ساتھ رہ، اپنا گھر مسجدوں کو بنا لے، اپنی آنکھوں کو رونا سکھا، اپنے جسم کو صبر کی عادت سکھا، اپنے دل کو غور و فکر کرنے والا بنا، کل کی روزی کی فکر آج نہ کر، امیر المومنین حضرت عمر بن عبدالعزیز ایک مرتبہ مجلس میں بیٹھے ہوئے رو دیئے لوگوں نے وجہ پوچھی تو آپ نے فرمایا میں نے دنیا میں اور اس کی لذتوں میں اور اس کی خواہشوں میں غور فکر کیا اور عبرت حاصل کی جب نتیجہ پر پہنچا تو میری امنگیں ختم ہوگئیں حقیقت یہ ہے کہ ہر شخص کیلئے اس میں عبرت و نصیحت ہے اور وعظ و پند ہے، حسین بن عبدالرحمن نے بھی اپنے اشعار میں اس مضمون کو خوب نبھایا ہے، پس اللہ تعالیٰ نے اپنے ان بندوں کی مدح و ثنا بیان کی جو مخلوقات اور کائنات سے عبرت حاصل کریں اور نصیحت لیں اور ان لوگوں کی مذمت بیان کی جو قدرت کی نشانیوں پر غور نہ کریں۔ مومنوں کی مدح میں بیان ہو رہا ہے کہ یہ لوگ اٹھتے بیٹھتے لیٹتے اللہ سبحانہ کا ذکر کرتے ہیں زمین و آسمان کی پیدائش میں غور و فکر کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اے اللہ تو نے اپنی مخلوق کو عبث اور بیکار نہیں بنایا بلکہ حق کے ساتھ پیدا کیا ہے تاکہ بروں کو برائی کا بدلہ اور نیکوں کو نیکیوں کا بدلہ عطا فرمائے، پھر اللہ کی پاکیزگی بیان کرتے ہیں تو اس سے منزہ ہے کہ کسی چیز کو بیکار بنائے اے خالق کائنات اے عدل و انصاف سے کائنات کو سجانے والے اے نقصان اور عیبوں سے پاک ذات ہمیں اپنی قوت و طاقت سے ان اعمال کی توفیق اور ہمارا رفیق فرما جن سے ہم تیرے عذابوں سے نجات پالیں اور تیری نعمتوں سے مالا مال ہو کر جنت میں داخل ہوجائیں، یہ یوں بھی کہتے ہیں کہ اے اللہ جسے تو جہنم میں لے گیا اسے تو نے برباد اور ذلیل و خوار کردیا مجمع حشر کے سامنے اسے رسوا کیا، ظالموں کا کوئی مددگار نہیں انہیں نہ کوئی چھڑا سکے نہ بچا سکے نہ تیرے ارادے کے درمیان آسکے، اے رب ہم نے پکارنے والے کی پکار سن لی جو ایمان اور اسلام کی طرف بلاتا ہے، مراد اس سے آنحضرت ﷺ ہیں جو فرماتے ہیں کہ اپنے رب پر ایمان لاؤ ہم ایمان لاچکے اور تابعداری بجا لائے پس ہمارے ایمان اور فرماں برداری کی وجہ سے ہمارے گناہوں کو معاف فرما ان کی پردہ پوشی کر اور ہماری برائیوں کو ہم سے دور کر دے اور ہمیں صالح اور نیک لوگوں کے ساتھ ملا دے تو نے ہم سے جو وعدے اپنے نبیوں کی زبانی کئے ہیں انہیں پورے کر اور یہ مطلب بھی بیان کیا گیا ہے کہ جو وعدہ تو نے ہم سے اپنے رسولوں پر ایمان لانے کا لیا تھا لیکن پہلا معنی واضح ہے، مسند احمد کی حدیث میں ہے عسقلان دو عروس میں سے ایک ہے یہیں سے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ستر ہزار شہیداء ٹھائیں گے جو وفد بن کر اللہ کے پاس جائیں گے یہیں شہیدوں کی صفیں ہوں گی جن کے ہاتھوں میں ان کے کٹے ہوئے سر ہوں گے ان کی گردن کی رگوں سے خون جاری ہوگا یہ کہتے ہوں گے اے اللہ ہم سے جو وعدے اپنے رسولوں کی معرفت تو نے کئے ہیں انہیں پورے کر ہمیں قیامت کے دن رسوا نہ کر تو وعدہ خلافی سے پاک ہے اللہ تعالیٰ فرمائے گا میرے یہ بندے سچے ہیں اور انہیں نہر بیضہ میں غسل کروائیں گے جس غسل کے بعد پاک صاف گورے چٹے رنگ کے ہو کر نکلیں گے اور ساری جنت ان کے لئے مباح ہوگی جہاں چاہیں جائیں آئیں جو چاہیں کھائیں پئیں۔ یہ حدیث غریب ہے اور بعض تو کہتے ہیں موضوع ہے واللہ اعلم۔ ہمیں قیامت کے دن تمام لوگوں کے مجمع میں رسوا نہ کر تیرے وعدے سچے ہیں تو نے جو کچھ خبریں اپنے رسولوں کی زبانی پہنچائی ہیں سب اٹل ہیں قیامت کا روز ضرور آنا ہے پس تو ہمیں اس دن کی رسوائی سے نجات دے، رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ بندے پر رسوائی ڈانٹ ڈپٹ مار اور شرمندگی اس قدر ڈالی جائے گی اور اس طرح اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑا کر کے اسے قائل معقول کیا جائے گا کہ وہ چاہے گا کہ کاش مجھے جہنم میں ہی ڈال دیا جاتا (ابو یعلیٰ) اس حدیث کی سند بھی غریب ہے، احادیت سے یہ بھی ثابت ہے کہ رسول اللہ ﷺ رات کو تہجد کیلئے جب اٹھتے تب سورة آل عمران کی ان دس آخری آیتوں کی تلاوت فرماتے چناچہ بخاری شریف میں ہے حضرت عبداللہ بن عباس فرماتے ہیں میں نے اپنی خالہ حضرت میمونہ کے گھر رات گزاری یہ ام المومنین حضور ﷺ کی بیوی صاحبہ تھیں حضور ﷺ جب آئے تو تھوڑی دیر تک آپ حضرت میمونہ سے باتیں کرتے رہے پھر سو گئے جب آخری تہائی رات باقی رہ گئی تو آپ اٹھ بیٹھے اور آسمان کی طرف نگاہ کر کے آیت (ان فی خلق السموات) سے آخر سورت تک کی آیتیں تلاوت فرمائیں پھر کھڑے ہوئے مسواک کی وضو کیا اور گیارہ رکعت نماز ادا کی حضرت بلال کی صبح کی اذان سن کر پھر دو رکعتیں صبح کی سنتیں پڑھیں پھر مسجد میں تشریف لا کر لوگوں کو صبح کی نماز پڑھائی۔ صحیح بخاری میں یہ روایت دوسری جگہ بھی ہے کہ بسترے کے عرض میں تو میں سویا اور لمبائی میں آنحضرت ﷺ اور ام المومنین حضرت میمونہ لیٹیں آدھی رات کے قریب کچھ پہلے یا کچھ بعد حضور ﷺ جاگے اپنے ہاتھوں سے اپنی آنکھیں ملتے ہوئے ان دس آیتوں کی تلاوت کی پھر ایک لٹکی ہوئی مشک میں سے پانی لے کر بہت اچھی طرح کامل وضو کیا میں بھی آپ کی بائیں جانب آپ کی اقتدار میں نماز کیلئے کھڑا ہوگیا حضور ﷺ نے اپنا داہنا ہاتھ میرے سر پر رکھ کر میرے کان کو پکڑ کر مجھے گھما کر اپنی دائیں جانب کرلیا اور دو دو رکعت کر کے چھ مرتبہ یعنی بارہ رکعت پڑھیں پھر وتر پڑھا اور لیٹ گئے یہاں تک کہ مؤذن نے آکر نماز کی اطلاع کی آپ نے کھڑے ہو کردو ہلکی رکعتیں ادا کیں اور باہر آکر صبح کی نماز پڑھائی، ابن مردویہ کی اس حدیث میں ہے حضرت عبداللہ فرماتے ہیں مجھے میرے والد حضرت عباس نے فرمایا کہ تم آج کی رات حضور ﷺ کی آل میں گزارو اور آپ کی رات کی نماز کی کیفیت دیکھو رات کو جب سب لوگ عشاء کی نماز پڑھ کر چلے گئے میں بیٹھا رہا جب حضور ﷺ جانے لگے تو مجھے دیکھ کر فرمایا کون عبداللہ ؟ میں نے کہا جی ہاں فرمایا کیوں رکے ہوئے ہو میں نے کہا والد صاحب کا حکم ہے کہ رات آپ کے گھر گزاروں تو فرمایا بہت اچھا آؤ گھر جا کر فرمایا بستر بچھاؤ ٹاٹ کا تکیہ آیا اور حضور ﷺ اس پر سر رکھ کر سو گئے یہاں تک کہ مجھے آپ کے خراٹوں کی آواز آنے لگی پھر آپ جاگے اور سیدھی طرح بیٹھ کر آسمان کی طرف دیکھ کر تین مرتبہ دعا (سبحان الملک القدوس) پڑھا پھر سورة آل عمران کے خاتمہ کی یہ آیتیں پڑھیں اور روایت میں ہے کہ آیتوں کی تلاوت کے بعد حضور ﷺ نے یہ دعا پڑھی (اللھم اجعل فی قلبی نورا وفی سمعی نورا وفی بصری نورا وعن یمینی نورا وعن شمالی نورا ومن بین یدی نورا ومن خلفی نورا ومن فوقی نورا ومن تحتی نورا واعظم لی نورا یوم القیامتہ) (ابن مردویہ) یہ دعا بعض صحیح طریق سے بھی مروی ہے اس آیت کی تفسیر کے شروع میں طبرانی کے حوالے سے جو حدیث گزری ہے اس سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیت مکی ہے لیکن مشہور اس کے خلاف ہے یعنی یہ کہ یہ آیت مدنی ہے اور اس کی دلیل میں یہ حدیث پیش ہوسکتی ہے جو ابن مردویہ میں ہے کہ حضرت عطاء۔ حضرت ابن عمر حضرت عبید بن عمیر۔ حضرت عائشہ صدیقہ کے پاس آئے آپ کے اور ان کے درمیان پردہ تھا حضرت صدیقہ نے پوچھا عبید تم کیوں نہیں آیا کرتے ؟ حضرت عبید نے جواب دیا اماں جان صرف اس لئے کہ کسی شاعر کا قول ہے زرغباتزد دحبا یعنی کم کم آؤ تاکہ محبت بڑھے، حضرت ابن عمر نے کہا اب ان باتوں کو چھوڑو ام المومنین ہم یہ پوچھنے کیلئے حاضر ہوئے ہیں کہ سب سے زیادہ عجیب بات جو آپ نے آنحضرت محمد ﷺ کی دیکھی ہو وہ ہمیں بتائیں۔ حضرت عائشہ رو دیں اور فرمانے لگیں حضور ﷺ کے تمام کام عجیب تر تھے، اچھا ایک واقعہ سنو ایک رات میری باری میں حضور ﷺ میرے پاس آئے اور میرے ساتھ سوئے پھر مجھ سے فرمانے لگے عائشہ میں اپنے رب کی کچھ عبادت کرنا چاہتا ہوں مجھے جانے دے میں نے کہا یا رسول اللہ ﷺ اللہ کی قسم میں آپ کا قرب چاہتی ہوں اور یہ بھی میری چاہت ہے کہ آپ اللہ عزوجل کی عبادت بھی کریں، اب آپ کھڑے ہوئے اور ایک مشک میں سے پانی لے کر آپ نے ہلکا سا وضو کیا اور نماز کے لئے کھڑے ہوگئے پھر جو رونا شروع کیا تو اتنا روئے کہ داڑھی مبارک تر ہوگئی پھر سجدے میں گئے اور اس قدر روئے کہ زمین تر ہوگئی پھر کروٹ کے بل لیٹ گئے اور روتے ہی رہے یہاں تک کہ حضرت بلال نے آ کر نماز کیلئے بلایا اور آپ کے آنسو رواں دیکھ کر دریافت کیا کہ اے اللہ کے سچے رسول ﷺ آپ کیوں رو رہے ہیں اللہ تعالیٰ نے تو آپ کے تمام اگلے پچھلے گناہ معاف فرما دیئے ہیں، آپ نے فرمایا بلال میں کیوں نہ روؤں ؟ مجھ پر آج کی رات یہ آیت اتری ہے آیت (اِنَّ فِيْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَاخْتِلَافِ الَّيْلِ وَالنَّهَارِ) 2۔ البقرۃ :164) افسوس ہے اس شخص کیلئے جو اسے پڑھے اور پھر اس میں غورو تدبر نہ کرے۔ عبد بن حمید کی تفسیر میں بھی یہ حدیث ہے اس میں یہ بھی ہے کہ جب ہم حضرت عائشہ کے پاس گئے ہم نے سلام کیا تو آپ نے پوچھا تم کون لوگ ہو ؟ ہم نے اپنے نام بتائے اور آخر میں یہ بھی ہے کہ نماز کے بعد آپ اپنی داہنی کروٹ پر لیٹے رخسار تلے ہاتھ رکھا اور روتے رہے یہاں تک کہ آنسوؤں سے زمین تر ہوگئی اور حضرت بلال کے جواب میں آپ نے یہ بھی فرمایا کہ کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں ؟ اور آیتوں کے نازل ہونے کے بارے میں عذاب النار تک آپ نے تلاوت کی، ابن مردویہ کی ایک ضعیف سند والی حدیث میں حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ سورة آل عمران کے آخر کی دس آیتیں ہر رات کو پڑھتے اس روایت میں مظاہر بن اسلم ضعیف ہیں۔
195
View Single
فَٱسۡتَجَابَ لَهُمۡ رَبُّهُمۡ أَنِّي لَآ أُضِيعُ عَمَلَ عَٰمِلٖ مِّنكُم مِّن ذَكَرٍ أَوۡ أُنثَىٰۖ بَعۡضُكُم مِّنۢ بَعۡضٖۖ فَٱلَّذِينَ هَاجَرُواْ وَأُخۡرِجُواْ مِن دِيَٰرِهِمۡ وَأُوذُواْ فِي سَبِيلِي وَقَٰتَلُواْ وَقُتِلُواْ لَأُكَفِّرَنَّ عَنۡهُمۡ سَيِّـَٔاتِهِمۡ وَلَأُدۡخِلَنَّهُمۡ جَنَّـٰتٖ تَجۡرِي مِن تَحۡتِهَا ٱلۡأَنۡهَٰرُ ثَوَابٗا مِّنۡ عِندِ ٱللَّهِۚ وَٱللَّهُ عِندَهُۥ حُسۡنُ ٱلثَّوَابِ
So their Lord accepted their prayer, for I do not waste the efforts of any (righteous) worker, male or female; you are all one among yourselves; so those who migrated and were driven out from their homes and were harassed in My cause, and fought, and were slain – I will certainly wipe out all their sins and will certainly admit them into Gardens beneath which rivers flow; a reward from Allah; and only with Allah is the best reward.
پھر ان کے رب نے ان کی دعا قبول فرما لی (اور فرمایا:) یقیناً میں تم میں سے کسی محنت والے کی مزدوری ضائع نہیں کرتا خواہ مرد ہو یا عورت، تم سب ایک دوسرے میں سے (ہی) ہو، پس جن لوگوں نے (اللہ کے لئے) وطن چھوڑ دیئے اور (اسی کے باعث) اپنے گھروں سے نکال دیئے گئے اور میری راہ میں ستائے گئے اور (میری خاطر) لڑے اور مارے گئے تو میں ضرور ان کے گناہ ان (کے نامۂ اعمال) سے مٹا دوں گا اور انہیں یقیناً ان جنتوں میں داخل کروں گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، یہ اللہ کے حضور سے اجر ہے، اور اللہ ہی کے پاس (اس سے بھی) بہتر اجر ہے
Tafsir Ibn Kathir
Allah Accepts the Supplication of Men of Understanding
Allah said,
فَاسْتَجَابَ لَهُمْ رَبُّهُمْ
(So their Lord accepted of them), answered their invocation. Sa`id bin Mansur recorded that Salamah, a man from the family of Umm Salamah said, "Umm Salamah said, `O Messenger of Allah! Allah does not mention women in connection with Hijrah (Migration).' Allah sent down the Ayah,
فَاسْتَجَابَ لَهُمْ رَبُّهُمْ أَنِّى لاَ أُضِيعُ عَمَلَ عَامِلٍ مِّنْكُمْ مِّن ذَكَرٍ أَوْ أُنثَى
(So their Lord accepted of them (their supplication and answered them), "Never will I allow to be lost the work of any of you, be he male or female.)
The Ansar say that Umm Salamah was the first woman to migrate to them." Al-Hakim collected this Hadith in his Mustadrak, and said, "It is Sahih according to the criteria of Al-Bukhari but they Al-Bukhari and Muslim did not collect it".
Allah's statement,
أَنِّى لاَ أُضِيعُ عَمَلَ عَامِلٍ مِّنْكُمْ مِّن ذَكَرٍ أَوْ أُنثَى
("Never will I allow to be lost the work of any of you, be he male or female,) explains the type of answer Allah gave them, stating that no deed of any person is ever lost with Him. Rather, He will completely reward each person for his or her good deeds. Allah's statement,
بَعْضُكُم مِّن بَعْضٍ
(You are (members) one of another) means, you are all equal in relation to gaining My reward. Therefore,
فَالَّذِينَ هَـجَرُواْ
(those who emigrated), by leaving the land of Shirk and migrating to the land of faith, leaving behind their loved ones, brethren, friends and neighbors,
وَأُخْرِجُواْ مِن دِيَـرِهِمْ
(and were driven out from their homes), when the Mushriks tormented them and forced them to migrate,
وَأُوذُواْ فِى سَبِيلِى
(and suffered harm in My cause), for their only wrong, to the people, was that they believed in Allah Alone. In similar Ayat, Allah said,
يُخْرِجُونَ الرَّسُولَ وَإِيَّـكُمْ أَن تُؤْمِنُواْ بِاللَّهِ رَبِّكُمْ
(and have driven out the Messenger and yourselves because you believe in Allah your Lord!) 60:1, and,
وَمَا نَقَمُواْ مِنْهُمْ إِلاَّ أَن يُؤْمِنُواْ بِاللَّهِ الْعَزِيزِ الْحَمِيدِ
(And they had no fault except that they believed in Allah, the Almighty, Worthy of all praise!)
85:8
. Allah's statement,
وَقَـتَلُواْ وَقُتِلُواْ
(and who fought and were killed (in My cause),) 3:195 refers to the highest rank there is, that one fights in the cause of Allah and dies in the process, with his face covered in dust and blood. It is recorded in the Sahih that a man said,
يا رسول الله، أرأيت إن قتلت في سبيل الله صابرًا محتسبًا مقبلًا غير مدبر، أيكفر الله عني خطاياي؟ قال:
«نَعَم»
ثُمَّ قَالَ:
«كَيْفَ قُلْتَ؟»
فأعاد عليه ما قال، فقال:
«نَعَمْ، إِلَّا الدَّيْنَ، قَالَهُ لِي جِبْرِيلُ آنِفًا»
('O Messenger of Allah! If I was killed in Allah's cause, observing patience, awaiting Allah's reward, attacking, not retreating, would Allah forgive my sins' The Prophet said, `Yes.' The Prophet then asked the man, `What did you ask' When the man repeated the question, the Prophet said, `Yes, except for the debt, for Jibril conveyed this to me right now'.)
This is why Allah said here,
لأُكَفِّرَنَّ عَنْهُمْ سَيِّئَـتِهِمْ وَلأدْخِلَنَّهُمْ جَنَّـتٍ تَجْرِى مِن تَحْتِهَا الاٌّنْهَـرُ
(verily, I will expiate from them their evil deeds and admit them into Gardens under which rivers flow), within Paradise, where there are rivers of various drinks: milk, honey, wine and fresh water. There is what no eye has ever seen, no ear has ever heard and no heart has ever imagined of delights in Paradise. Allah's statement,
ثَوَاباً مِّن عِندِ اللَّهِ
(a reward from Allah) testifies to His might, for the Mighty and Most Great only gives tremendous rewards. Allah's statement,
وَاللَّهُ عِندَهُ حُسْنُ الثَّوَابِ
(and with Allah is the best of rewards.") for those who perform good deeds.
دعا کیجئے قبول ہوگی بشرطیکہ ؟ یہاں استجاب کے معنی میں اجاب کے ہیں اور یہ عربی میں برابر مروج ہے حضرت ام سلمہ نے ایک روز حضور ﷺ سے پوچھا کہ کیا بات ہے عورتوں کی ہجرت کا کہیں قرآن میں اللہ تعالیٰ نے ذکر نہیں کرتا اس پر یہ آیت اتری، انصاری کا بیان ہے کہ عورتوں میں سب سے پہلی مہاجرہ عورت جو ہودج میں آئیں حضرت ام سلمہ ہی تھیں ام المومنین سے یہ بھی مروی ہے کہ صاحب عقل اور صاحب ایمان لوگوں نے جب اللہ تعالیٰ سے دعائیں مانگیں جن کا ذکر پہلے کی آیتوں میں تھا تو اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے بھی ان کی منہ مانگی مراد انہیں عطا فرمائی، اسی لئے اس آیت کو "" سے شروع کیا، جیسے اور جگہ ہے آیت (وَاِذَا سَاَلَكَ عِبَادِيْ عَنِّىْ فَاِنِّىْ قَرِيْبٌ ۭ اُجِيْبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ ۙفَلْيَسْتَجِيْبُوْا لِيْ وَلْيُؤْمِنُوْابِيْ لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُوْنَ) 2۔ البقرۃ :186) یعنی میرے بندے تجھ سے میرے بارے میں سوال کریں تو کہہ دے کہ میں تو ان کے بہت ہی نزدیک ہوں جب کوئی پکارنے والا مجھے پکارتا ہے میں اس کی پکار کو قبول فرما لیتا ہوں پس انہیں بھی چاہئے کہ میری مان لیا کریں اور مجھ پر ایمان رکھیں ممکن ہے کہ وہ رشد و ہدایت پالیں پھر قبولیت دعا کی تفسیر ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ میں کسی عامل کے عمل کو رائیگاں نہیں کرتا بلکہ ہر ایک کو پورا پورا بدلہ عطا فرماتا ہوں خواہ مرد ہو خواہ عورت، ہر ایک میرے پاس ثواب میں اور اعمال کے بدلے میں یکساں ہے، پس جو لوگ شرک کی جگہ کو چھوڑیں اور ایمان کی جگہ آجائیں دارالکفر سے ہجرت کریں بھائیوں دوستوں پڑوسیوں اور اپنوں کو اللہ کے نام پر ترک کردیں مشرکوں کی ایذائیں ہہ ہہ کر تھک کر بھی عاجز آ کر بھی ایمان کو نہ چھوڑیں بلکہ اپنے پیارے وطن سے منہ موڑ لیں جبکہ لوگوں کا انہوں نے کوئی نقصان نہیں کیا تھا جس کے بدلے میں انہیں ستایا جاتا بلکہ ان کا صرف یہ قصور تھا کہ میری راہ پہ چلنے والے تھے صرف میری توحید کو مان کر دنیا کی دشمنی مول لے لی تھی، میری راہ پر چلنے کے باعث طرح طرح سے ستائے جاتے تھے جیسے اور جگہ ہے آیت (یخرجون الرسول وایاکم ان تو منوا باللہ ربکم) یہ لوگ رسول ﷺ کو اور تمہیں صرف اس بنا وطن سے نکال دیتے ہیں کہ تم اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے ہو جو تمہارا رب ہے، اور ارشاد ہے آیت (وَمَا نَقَمُوْا مِنْهُمْ اِلَّآ اَنْ يُّؤْمِنُوْا باللّٰهِ الْعَزِيْزِ الْحَمِيْدِ) 86۔ البروج :8) ان سے دشمنی اسی وجہ سے ہے کہ اللہ عزیز وحمید پر ایمان لائے ہیں پھر فرماتا ہے انہوں نے جہاد بھی کئے اور یہ شہید بھی ہوئے یہ سب سے اعلیٰ اور بلند مرتبہ ہے ایسا شخص اللہ کی راہ میں جہاد کرتا ہے اس کی سواری کٹ جاتی ہے منہ خاک و خون میں مل جاتا ہے۔ بخاری و مسلم میں ہے کہ ایک شخص نے کہا یا رسول اللہ ﷺ اگر میں صبر کے ساتھ نیک نیتی سے دلیری سے پیچھے نہ ہٹ کر اللہ کی راہ میں جہاد کروں اور پھر شہید کردیا جاؤں تو کیا اللہ تعالیٰ میری خطائیں معاف فرما دے گا ؟ آپ نے فرمایا ہاں پھر دوبارہ آپ نے اس سے سوال کیا کہ ذرا پھر کہنا تم نے کیا کہا تھا ؟ اس نے دوبارہ اپنا سوال دھرا دیا آپ نے فرمایا ہاں مگر قرض معاف نہ ہوگا یہ بات جبرائیل ابھی مجھ سے کہہ گئے۔ پس یہاں فرمایا ہے کہ میں ان کی خطا کاریاں معاف فرما دوں گا اور انہیں ان جنتوں میں لے جاؤں گا جن میں چاروں طرف نہریں بہہ رہی ہیں جن میں کسی میں دودھ ہے کسی میں شہد کسی میں شراب کسی میں صاف پانی اور وہ نعمتیں ہوں گی جو نہ کسی کان نے سنیں نہ کسی آنکھ نے دیکھیں نہ کسی انسانی دل میں کبھی خیال گزرا۔ یہ ہے بدلہ اللہ کی طرف سے ظاہر ہے کہ جو ثواب اس شہنشاہ عالی کی طرف سے ہو وہ کس قدر زبردست اور بےانتہا ہوگا ؟ جیسے کسی شاعر کا قول ہے کہ اگر وہ عذاب کرے تو وہ بھی مہلک اور برباد کردینے والا اور اگر انعام دے تو وہ بھی بےحساب قیاس سے بڑھ کر کیونکہ اس کی ذات بےپرواہ ہے، نیک اعمال لوگوں کو بہترین بدلہ اللہ ہی کے پاس ہے، حضرت شداد بن اوس فرماتے ہیں لوگوں اللہ تعالیٰ کی قضا پر غمگین اور بےصبرے نہ ہوجایا کرو سنو مومن پر ظلم وجور نہیں ہوتا اگر تمہیں خوشی اور راحت پہنچے تو اللہ تعالیٰ کی حمد اور اس کا شکر کرو اور اگر برائی پہنچے تو صبر و ضبط کرو اور نیکی اور ثواب کی تمنا رکھو اللہ تعالیٰ کے پاس بہترین بدلے اور پاکیزہ ثواب ہیں۔
196
View Single
لَا يَغُرَّنَّكَ تَقَلُّبُ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ فِي ٱلۡبِلَٰدِ
O listener (followers of this Prophet)! Do not ever be deceived by the disbelievers’ free movements in the cities.
(اے اللہ کے بندے!) کافروں کا شہروں میں (عیش و عشرت کے ساتھ) گھومنا پھرنا تجھے کسی دھوکہ میں نہ ڈال دے
Tafsir Ibn Kathir
Warning Against Being Deceived by This Life; the Rewards of the Righteous Believers
Allah said, do not look at the disbelievers, who are enjoying various delights and joys. Soon, they will loose all this and be tied to their evil works, for verily, we are only giving them time, which deceives them, when all they have is,
مَتَـعٌ قَلِيلٌ ثُمَّ مَأْوَاهُمْ جَهَنَّمُ وَبِئْسَ الْمِهَادُ
(A brief enjoyment; then their ultimate abode is Hell; and worst indeed is that place for rest.)
This Ayah is similar to several other Ayat, such as,
مَا يُجَـدِلُ فِى ءَايَـتِ اللَّهِ إِلاَّ الَّذِينَ كَفَرُواْ فَلاَ يَغْرُرْكَ تَقَلُّبُهُمْ فِى الْبِلاَدِ
(None disputes in the Ayat of Allah but those who disbelieve. So, let not their ability of going about here and there through the land deceive you!) 40:4,
قُلْ إِنَّ الَّذِينَ يَفْتَرُونَ عَلَى اللَّهِ الْكَذِبَ لاَ يُفْلِحُونَ - مَتَـعٌ فِى الدُّنْيَا ثُمَّ إِلَيْنَا مَرْجِعُهُمْ ثُمَّ نُذِيقُهُمُ الْعَذَابَ الشَّدِيدَ بِمَا كَانُواْ يَكْفُرُونَ
(Verily, those who invent a lie against Allah, will never be successful. (A brief) enjoyment in this world! and then unto Us will be their return, then We shall make them taste the severest torment because they used to disbelieve.) 10:69,70,
نُمَتِّعُهُمْ قَلِيلاً ثُمَّ نَضْطَرُّهُمْ إِلَى عَذَابٍ غَلِيظٍ
(We let them enjoy for a little while, then in the end We shall oblige them to (enter) a great torment.) 31:24,
فَمَهِّلِ الْكَـفِرِينَ أَمْهِلْهُمْ رُوَيْداً
(So, give a respite to the disbelievers; deal gently with them for a while.) 86:17, and,
أَفَمَن وَعَدْنَـهُ وَعْداً حَسَناً فَهُوَ لاَقِيهِ كَمَن مَّتَّعْنَاهُ مَتَـعَ الْحَيَوةِ الدُّنْيَا ثُمَّ هُوَ يَوْمَ الْقِيَـمَةِ مِنَ الْمُحْضَرِينَ
(Is he whom We have promised an excellent promise (Paradise) which he will find true -- like him whom We have made to enjoy the luxuries of the life of (this) world, then on the Day of Resurrection, he will be among those brought up (to be punished in the Hell-fire)) 28:61.
After Allah mentioned the condition of the disbelievers in this life and their destination to the Fire, He said,
لَكِنِ الَّذِينَ اتَّقَوْاْ رَبَّهُمْ لَهُمْ جَنَّـتٌ تَجْرِى مِن تَحْتِهَا الاٌّنْهَـرُ خَـلِدِينَ فِيهَا نُزُلاٍ مِّنْ عِندِ اللَّهِ
(But, for those who have Taqwa of their Lord, are Gardens under which rivers flow (in Paradise); therein are they to dwell, an entertainment from Allah,) 3:198, for certainly,
وَمَا عِندَ اللَّهِ خَيْرٌ لِّلأَبْرَارِ
(and that which is with Allah is the best for Al-Abrar.)
Ibn Jarir recorded that Abu Ad-Darda' used to say, "Death is better for every believer. Death is better for every disbeliever, and those who do not believe me should read Allah's statements,
وَمَا عِندَ اللَّهِ خَيْرٌ لِّلأَبْرَارِ
(and that which is with Allah is the best for Al-Abrar), and,
وَلاَ يَحْسَبَنَّ الَّذِينَ كَفَرُواْ أَنَّمَا نُمْلِى لَهُمْ خَيْرٌ لاًّنفُسِهِمْ إِنَّمَا نُمْلِى لَهُمْ لِيَزْدَادُواْ إِثْمَاً وَلَهْمُ عَذَابٌ مُّهِينٌ
(And let not the disbelievers think that Our postponing of their punishment is good for them. We postpone the punishment only so that they may increase in sinfulness. And for them is a disgraceful torment.) 3:178."
دنیا کا سامان تعیش دلیل نجات نہیں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان کافروں کی بدمستی کے سامان تعیش ان کی راحت و آرام ان کی خوش حالی اور فارغ البالی کی طرف اے نبی آپ نظریں نہ ڈالیں یہ سب عنقریب زائل ہوجائے گا اور صرف ان کی بداعمالیاں عذاب کی صورت میں ان کیلئے باقی رہ جائیں گی ان کی یہ تمام نعمتیں آخرت کے مقابلہ میں بالکل ہیچ ہیں اسی مضمون کی بہت سی آیتیں قرآن کریم میں ہیں مثلاً آیت (مَا يُجَادِلُ فِيْٓ اٰيٰتِ اللّٰهِ اِلَّا الَّذِيْنَ كَفَرُوْا فَلَا يَغْرُرْكَ تَــقَلُّبُهُمْ فِي الْبِلَادِ) 40۔ غافرب :4) اللہ کی آیتوں میں کافر ہی جھگڑتے ہیں ان کا شہروں میں گھومنا پھرنا تجھے دھوکے میں نہ ڈالے، دوسری جگہ ارشاد ہے آیت (اِنَّ الَّذِيْنَ يَفْتَرُوْنَ عَلَي اللّٰهِ الْكَذِبَ لَا يُفْلِحُوْنَ) 16۔ النحل :16) جو لوگ اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں وہ فلاح نہیں پاتے دنیا میں چاہے تھوڑا سا فائدہ اٹھا لیں لیکن آخر تو انہیں ہماری طرف ہی لوٹنا ہے پھر ہم انہیں ان کے کفر کی پاداش میں سخت تر سزائیں دیں گے ارشاد ہے انہیں ہم تھوڑا سا فائدہ پہنچا کر پھر گہرے عذابوں کی طرف بےبس کردیں گے اور جگہ ہے کافروں کو کچھ مہلت دے دے اور جگہ ہے کیا وہ شخص جو ہمارے بہترین وعدوں کو پالے گا اور وہ جو دنیا میں آرام سے گزار رہا ہے لیکن قیامت کے دن عذابوں کیلئے حاضری دینے والا ہے برابر ہوسکتے ہیں ؟ چونکہ کافروں کا دنیوی اور اخروی حال بیان ہوا اس لئے ساتھ ہی مومنوں کا ذکر ہو رہا ہے کہ یہ متقی گروہ قیامت کے دن نہروں والی، بہشتوں میں ہوگا، ابن مردویہ میں ہے رسول کریم افضل الصلوۃ واتسلیم فرماتے ہیں انہیں ابرار اس لئے کہا جاتا ہے کہ یہ ماں باپ کے ساتھ اور اولاد کے ساتھ نیک سلوک کرتے تھے جس طرح تیرے ماں باپ کا تجھ پر حق ہے اسی طرح تیری اولاد کا تجھ پر حق ہے یہی روایت حضرت ابن عمرو سے موقوفاً بھی مروی ہے اور موقوف ہونا ہی زیادہ ٹھیک نظر آتا ہے واللہ اعلم۔ حضرت حسن فرماتے ہیں ابرار وہ ہیں جو کسی کو ایذاء نہ دیں، حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں ہر شخص کیلئے خواہ نیک ہو خواہ بد موت اچھی چیز ہے اگر نیک ہے تو جو کچھ اس کیلئے اللہ کے پاس ہے وہ بہت ہی بہتر ہے اور اگر بد ہے تو اللہ کے عذاب اور اس کے گناہ جو اس کی زندگی میں بڑھ رہے تھے اب ان کا بڑھنا ختم ہوا پہلے کی دلیل آیت (وَمَا عِنْدَ اللّٰهِ خَيْرٌ لِّلْاَبْرَارِ) 3۔ آل عمران :198) ہے اور دوسری کی دلیل آیت (وَلَا يَحْسَبَنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا اَنَّمَا نُمْلِيْ لَھُمْ خَيْرٌ لِّاَنْفُسِھِمْ ۭ اِنَّمَا نُمْلِيْ لَھُمْ لِيَزْدَادُوْٓا اِثْمًا ۚ وَلَھُمْ عَذَابٌ مُّهِيْنٌ) 3۔ آل عمران :178) ہے یعنی کافر ہماری ڈھیل دینے کو اپنے حق میں بہتر نہ خیال کریں یہ ڈھیل ان کے گناہوں میں اضافہ کر رہی ہے اور ان کے لئے رسوا کن عذاب ہیں حضرت ابو الدرداء سے بھی یہی مروی ہے۔
197
View Single
مَتَٰعٞ قَلِيلٞ ثُمَّ مَأۡوَىٰهُمۡ جَهَنَّمُۖ وَبِئۡسَ ٱلۡمِهَادُ
It is a brief usage; their home is hell; and what an evil resting-place!
یہ تھوڑی سی (چند دنوں کی) متاع ہے، پھر ان کا ٹھکانا دوزخ ہوگا، اور وہ بہت ہی برا ٹھکانا ہے
Tafsir Ibn Kathir
Warning Against Being Deceived by This Life; the Rewards of the Righteous Believers
Allah said, do not look at the disbelievers, who are enjoying various delights and joys. Soon, they will loose all this and be tied to their evil works, for verily, we are only giving them time, which deceives them, when all they have is,
مَتَـعٌ قَلِيلٌ ثُمَّ مَأْوَاهُمْ جَهَنَّمُ وَبِئْسَ الْمِهَادُ
(A brief enjoyment; then their ultimate abode is Hell; and worst indeed is that place for rest.)
This Ayah is similar to several other Ayat, such as,
مَا يُجَـدِلُ فِى ءَايَـتِ اللَّهِ إِلاَّ الَّذِينَ كَفَرُواْ فَلاَ يَغْرُرْكَ تَقَلُّبُهُمْ فِى الْبِلاَدِ
(None disputes in the Ayat of Allah but those who disbelieve. So, let not their ability of going about here and there through the land deceive you!) 40:4,
قُلْ إِنَّ الَّذِينَ يَفْتَرُونَ عَلَى اللَّهِ الْكَذِبَ لاَ يُفْلِحُونَ - مَتَـعٌ فِى الدُّنْيَا ثُمَّ إِلَيْنَا مَرْجِعُهُمْ ثُمَّ نُذِيقُهُمُ الْعَذَابَ الشَّدِيدَ بِمَا كَانُواْ يَكْفُرُونَ
(Verily, those who invent a lie against Allah, will never be successful. (A brief) enjoyment in this world! and then unto Us will be their return, then We shall make them taste the severest torment because they used to disbelieve.) 10:69,70,
نُمَتِّعُهُمْ قَلِيلاً ثُمَّ نَضْطَرُّهُمْ إِلَى عَذَابٍ غَلِيظٍ
(We let them enjoy for a little while, then in the end We shall oblige them to (enter) a great torment.) 31:24,
فَمَهِّلِ الْكَـفِرِينَ أَمْهِلْهُمْ رُوَيْداً
(So, give a respite to the disbelievers; deal gently with them for a while.) 86:17, and,
أَفَمَن وَعَدْنَـهُ وَعْداً حَسَناً فَهُوَ لاَقِيهِ كَمَن مَّتَّعْنَاهُ مَتَـعَ الْحَيَوةِ الدُّنْيَا ثُمَّ هُوَ يَوْمَ الْقِيَـمَةِ مِنَ الْمُحْضَرِينَ
(Is he whom We have promised an excellent promise (Paradise) which he will find true -- like him whom We have made to enjoy the luxuries of the life of (this) world, then on the Day of Resurrection, he will be among those brought up (to be punished in the Hell-fire)) 28:61.
After Allah mentioned the condition of the disbelievers in this life and their destination to the Fire, He said,
لَكِنِ الَّذِينَ اتَّقَوْاْ رَبَّهُمْ لَهُمْ جَنَّـتٌ تَجْرِى مِن تَحْتِهَا الاٌّنْهَـرُ خَـلِدِينَ فِيهَا نُزُلاٍ مِّنْ عِندِ اللَّهِ
(But, for those who have Taqwa of their Lord, are Gardens under which rivers flow (in Paradise); therein are they to dwell, an entertainment from Allah,) 3:198, for certainly,
وَمَا عِندَ اللَّهِ خَيْرٌ لِّلأَبْرَارِ
(and that which is with Allah is the best for Al-Abrar.)
Ibn Jarir recorded that Abu Ad-Darda' used to say, "Death is better for every believer. Death is better for every disbeliever, and those who do not believe me should read Allah's statements,
وَمَا عِندَ اللَّهِ خَيْرٌ لِّلأَبْرَارِ
(and that which is with Allah is the best for Al-Abrar), and,
وَلاَ يَحْسَبَنَّ الَّذِينَ كَفَرُواْ أَنَّمَا نُمْلِى لَهُمْ خَيْرٌ لاًّنفُسِهِمْ إِنَّمَا نُمْلِى لَهُمْ لِيَزْدَادُواْ إِثْمَاً وَلَهْمُ عَذَابٌ مُّهِينٌ
(And let not the disbelievers think that Our postponing of their punishment is good for them. We postpone the punishment only so that they may increase in sinfulness. And for them is a disgraceful torment.) 3:178."
دنیا کا سامان تعیش دلیل نجات نہیں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان کافروں کی بدمستی کے سامان تعیش ان کی راحت و آرام ان کی خوش حالی اور فارغ البالی کی طرف اے نبی آپ نظریں نہ ڈالیں یہ سب عنقریب زائل ہوجائے گا اور صرف ان کی بداعمالیاں عذاب کی صورت میں ان کیلئے باقی رہ جائیں گی ان کی یہ تمام نعمتیں آخرت کے مقابلہ میں بالکل ہیچ ہیں اسی مضمون کی بہت سی آیتیں قرآن کریم میں ہیں مثلاً آیت (مَا يُجَادِلُ فِيْٓ اٰيٰتِ اللّٰهِ اِلَّا الَّذِيْنَ كَفَرُوْا فَلَا يَغْرُرْكَ تَــقَلُّبُهُمْ فِي الْبِلَادِ) 40۔ غافرب :4) اللہ کی آیتوں میں کافر ہی جھگڑتے ہیں ان کا شہروں میں گھومنا پھرنا تجھے دھوکے میں نہ ڈالے، دوسری جگہ ارشاد ہے آیت (اِنَّ الَّذِيْنَ يَفْتَرُوْنَ عَلَي اللّٰهِ الْكَذِبَ لَا يُفْلِحُوْنَ) 16۔ النحل :16) جو لوگ اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں وہ فلاح نہیں پاتے دنیا میں چاہے تھوڑا سا فائدہ اٹھا لیں لیکن آخر تو انہیں ہماری طرف ہی لوٹنا ہے پھر ہم انہیں ان کے کفر کی پاداش میں سخت تر سزائیں دیں گے ارشاد ہے انہیں ہم تھوڑا سا فائدہ پہنچا کر پھر گہرے عذابوں کی طرف بےبس کردیں گے اور جگہ ہے کافروں کو کچھ مہلت دے دے اور جگہ ہے کیا وہ شخص جو ہمارے بہترین وعدوں کو پالے گا اور وہ جو دنیا میں آرام سے گزار رہا ہے لیکن قیامت کے دن عذابوں کیلئے حاضری دینے والا ہے برابر ہوسکتے ہیں ؟ چونکہ کافروں کا دنیوی اور اخروی حال بیان ہوا اس لئے ساتھ ہی مومنوں کا ذکر ہو رہا ہے کہ یہ متقی گروہ قیامت کے دن نہروں والی، بہشتوں میں ہوگا، ابن مردویہ میں ہے رسول کریم افضل الصلوۃ واتسلیم فرماتے ہیں انہیں ابرار اس لئے کہا جاتا ہے کہ یہ ماں باپ کے ساتھ اور اولاد کے ساتھ نیک سلوک کرتے تھے جس طرح تیرے ماں باپ کا تجھ پر حق ہے اسی طرح تیری اولاد کا تجھ پر حق ہے یہی روایت حضرت ابن عمرو سے موقوفاً بھی مروی ہے اور موقوف ہونا ہی زیادہ ٹھیک نظر آتا ہے واللہ اعلم۔ حضرت حسن فرماتے ہیں ابرار وہ ہیں جو کسی کو ایذاء نہ دیں، حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں ہر شخص کیلئے خواہ نیک ہو خواہ بد موت اچھی چیز ہے اگر نیک ہے تو جو کچھ اس کیلئے اللہ کے پاس ہے وہ بہت ہی بہتر ہے اور اگر بد ہے تو اللہ کے عذاب اور اس کے گناہ جو اس کی زندگی میں بڑھ رہے تھے اب ان کا بڑھنا ختم ہوا پہلے کی دلیل آیت (وَمَا عِنْدَ اللّٰهِ خَيْرٌ لِّلْاَبْرَارِ) 3۔ آل عمران :198) ہے اور دوسری کی دلیل آیت (وَلَا يَحْسَبَنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا اَنَّمَا نُمْلِيْ لَھُمْ خَيْرٌ لِّاَنْفُسِھِمْ ۭ اِنَّمَا نُمْلِيْ لَھُمْ لِيَزْدَادُوْٓا اِثْمًا ۚ وَلَھُمْ عَذَابٌ مُّهِيْنٌ) 3۔ آل عمران :178) ہے یعنی کافر ہماری ڈھیل دینے کو اپنے حق میں بہتر نہ خیال کریں یہ ڈھیل ان کے گناہوں میں اضافہ کر رہی ہے اور ان کے لئے رسوا کن عذاب ہیں حضرت ابو الدرداء سے بھی یہی مروی ہے۔
198
View Single
لَٰكِنِ ٱلَّذِينَ ٱتَّقَوۡاْ رَبَّهُمۡ لَهُمۡ جَنَّـٰتٞ تَجۡرِي مِن تَحۡتِهَا ٱلۡأَنۡهَٰرُ خَٰلِدِينَ فِيهَا نُزُلٗا مِّنۡ عِندِ ٱللَّهِۗ وَمَا عِندَ ٱللَّهِ خَيۡرٞ لِّلۡأَبۡرَارِ
But for those who fear their Lord are Gardens beneath which rivers flow – abiding in it for ever – the hospitality from their Lord; and that which is with Allah, is the best for the righteous.
لیکن جو لوگ اپنے رب سے ڈرتے رہے ان کے لئے بہشتیں ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں، وہ ان میں ہمیشہ رہنے والے ہیں، اللہ کے ہاں سے (ان کی) مہمانی ہے اور (پھر اس کا حریمِ قُرب، جلوۂ حُسن اور نعمتِ وصال، الغرض) جو کچھ بھی اللہ کے پاس ہے وہ نیک لوگوں کے لئے بہت ہی اچھا ہے
Tafsir Ibn Kathir
Warning Against Being Deceived by This Life; the Rewards of the Righteous Believers
Allah said, do not look at the disbelievers, who are enjoying various delights and joys. Soon, they will loose all this and be tied to their evil works, for verily, we are only giving them time, which deceives them, when all they have is,
مَتَـعٌ قَلِيلٌ ثُمَّ مَأْوَاهُمْ جَهَنَّمُ وَبِئْسَ الْمِهَادُ
(A brief enjoyment; then their ultimate abode is Hell; and worst indeed is that place for rest.)
This Ayah is similar to several other Ayat, such as,
مَا يُجَـدِلُ فِى ءَايَـتِ اللَّهِ إِلاَّ الَّذِينَ كَفَرُواْ فَلاَ يَغْرُرْكَ تَقَلُّبُهُمْ فِى الْبِلاَدِ
(None disputes in the Ayat of Allah but those who disbelieve. So, let not their ability of going about here and there through the land deceive you!) 40:4,
قُلْ إِنَّ الَّذِينَ يَفْتَرُونَ عَلَى اللَّهِ الْكَذِبَ لاَ يُفْلِحُونَ - مَتَـعٌ فِى الدُّنْيَا ثُمَّ إِلَيْنَا مَرْجِعُهُمْ ثُمَّ نُذِيقُهُمُ الْعَذَابَ الشَّدِيدَ بِمَا كَانُواْ يَكْفُرُونَ
(Verily, those who invent a lie against Allah, will never be successful. (A brief) enjoyment in this world! and then unto Us will be their return, then We shall make them taste the severest torment because they used to disbelieve.) 10:69,70,
نُمَتِّعُهُمْ قَلِيلاً ثُمَّ نَضْطَرُّهُمْ إِلَى عَذَابٍ غَلِيظٍ
(We let them enjoy for a little while, then in the end We shall oblige them to (enter) a great torment.) 31:24,
فَمَهِّلِ الْكَـفِرِينَ أَمْهِلْهُمْ رُوَيْداً
(So, give a respite to the disbelievers; deal gently with them for a while.) 86:17, and,
أَفَمَن وَعَدْنَـهُ وَعْداً حَسَناً فَهُوَ لاَقِيهِ كَمَن مَّتَّعْنَاهُ مَتَـعَ الْحَيَوةِ الدُّنْيَا ثُمَّ هُوَ يَوْمَ الْقِيَـمَةِ مِنَ الْمُحْضَرِينَ
(Is he whom We have promised an excellent promise (Paradise) which he will find true -- like him whom We have made to enjoy the luxuries of the life of (this) world, then on the Day of Resurrection, he will be among those brought up (to be punished in the Hell-fire)) 28:61.
After Allah mentioned the condition of the disbelievers in this life and their destination to the Fire, He said,
لَكِنِ الَّذِينَ اتَّقَوْاْ رَبَّهُمْ لَهُمْ جَنَّـتٌ تَجْرِى مِن تَحْتِهَا الاٌّنْهَـرُ خَـلِدِينَ فِيهَا نُزُلاٍ مِّنْ عِندِ اللَّهِ
(But, for those who have Taqwa of their Lord, are Gardens under which rivers flow (in Paradise); therein are they to dwell, an entertainment from Allah,) 3:198, for certainly,
وَمَا عِندَ اللَّهِ خَيْرٌ لِّلأَبْرَارِ
(and that which is with Allah is the best for Al-Abrar.)
Ibn Jarir recorded that Abu Ad-Darda' used to say, "Death is better for every believer. Death is better for every disbeliever, and those who do not believe me should read Allah's statements,
وَمَا عِندَ اللَّهِ خَيْرٌ لِّلأَبْرَارِ
(and that which is with Allah is the best for Al-Abrar), and,
وَلاَ يَحْسَبَنَّ الَّذِينَ كَفَرُواْ أَنَّمَا نُمْلِى لَهُمْ خَيْرٌ لاًّنفُسِهِمْ إِنَّمَا نُمْلِى لَهُمْ لِيَزْدَادُواْ إِثْمَاً وَلَهْمُ عَذَابٌ مُّهِينٌ
(And let not the disbelievers think that Our postponing of their punishment is good for them. We postpone the punishment only so that they may increase in sinfulness. And for them is a disgraceful torment.) 3:178."
دنیا کا سامان تعیش دلیل نجات نہیں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان کافروں کی بدمستی کے سامان تعیش ان کی راحت و آرام ان کی خوش حالی اور فارغ البالی کی طرف اے نبی آپ نظریں نہ ڈالیں یہ سب عنقریب زائل ہوجائے گا اور صرف ان کی بداعمالیاں عذاب کی صورت میں ان کیلئے باقی رہ جائیں گی ان کی یہ تمام نعمتیں آخرت کے مقابلہ میں بالکل ہیچ ہیں اسی مضمون کی بہت سی آیتیں قرآن کریم میں ہیں مثلاً آیت (مَا يُجَادِلُ فِيْٓ اٰيٰتِ اللّٰهِ اِلَّا الَّذِيْنَ كَفَرُوْا فَلَا يَغْرُرْكَ تَــقَلُّبُهُمْ فِي الْبِلَادِ) 40۔ غافرب :4) اللہ کی آیتوں میں کافر ہی جھگڑتے ہیں ان کا شہروں میں گھومنا پھرنا تجھے دھوکے میں نہ ڈالے، دوسری جگہ ارشاد ہے آیت (اِنَّ الَّذِيْنَ يَفْتَرُوْنَ عَلَي اللّٰهِ الْكَذِبَ لَا يُفْلِحُوْنَ) 16۔ النحل :16) جو لوگ اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں وہ فلاح نہیں پاتے دنیا میں چاہے تھوڑا سا فائدہ اٹھا لیں لیکن آخر تو انہیں ہماری طرف ہی لوٹنا ہے پھر ہم انہیں ان کے کفر کی پاداش میں سخت تر سزائیں دیں گے ارشاد ہے انہیں ہم تھوڑا سا فائدہ پہنچا کر پھر گہرے عذابوں کی طرف بےبس کردیں گے اور جگہ ہے کافروں کو کچھ مہلت دے دے اور جگہ ہے کیا وہ شخص جو ہمارے بہترین وعدوں کو پالے گا اور وہ جو دنیا میں آرام سے گزار رہا ہے لیکن قیامت کے دن عذابوں کیلئے حاضری دینے والا ہے برابر ہوسکتے ہیں ؟ چونکہ کافروں کا دنیوی اور اخروی حال بیان ہوا اس لئے ساتھ ہی مومنوں کا ذکر ہو رہا ہے کہ یہ متقی گروہ قیامت کے دن نہروں والی، بہشتوں میں ہوگا، ابن مردویہ میں ہے رسول کریم افضل الصلوۃ واتسلیم فرماتے ہیں انہیں ابرار اس لئے کہا جاتا ہے کہ یہ ماں باپ کے ساتھ اور اولاد کے ساتھ نیک سلوک کرتے تھے جس طرح تیرے ماں باپ کا تجھ پر حق ہے اسی طرح تیری اولاد کا تجھ پر حق ہے یہی روایت حضرت ابن عمرو سے موقوفاً بھی مروی ہے اور موقوف ہونا ہی زیادہ ٹھیک نظر آتا ہے واللہ اعلم۔ حضرت حسن فرماتے ہیں ابرار وہ ہیں جو کسی کو ایذاء نہ دیں، حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں ہر شخص کیلئے خواہ نیک ہو خواہ بد موت اچھی چیز ہے اگر نیک ہے تو جو کچھ اس کیلئے اللہ کے پاس ہے وہ بہت ہی بہتر ہے اور اگر بد ہے تو اللہ کے عذاب اور اس کے گناہ جو اس کی زندگی میں بڑھ رہے تھے اب ان کا بڑھنا ختم ہوا پہلے کی دلیل آیت (وَمَا عِنْدَ اللّٰهِ خَيْرٌ لِّلْاَبْرَارِ) 3۔ آل عمران :198) ہے اور دوسری کی دلیل آیت (وَلَا يَحْسَبَنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا اَنَّمَا نُمْلِيْ لَھُمْ خَيْرٌ لِّاَنْفُسِھِمْ ۭ اِنَّمَا نُمْلِيْ لَھُمْ لِيَزْدَادُوْٓا اِثْمًا ۚ وَلَھُمْ عَذَابٌ مُّهِيْنٌ) 3۔ آل عمران :178) ہے یعنی کافر ہماری ڈھیل دینے کو اپنے حق میں بہتر نہ خیال کریں یہ ڈھیل ان کے گناہوں میں اضافہ کر رہی ہے اور ان کے لئے رسوا کن عذاب ہیں حضرت ابو الدرداء سے بھی یہی مروی ہے۔
199
View Single
وَإِنَّ مِنۡ أَهۡلِ ٱلۡكِتَٰبِ لَمَن يُؤۡمِنُ بِٱللَّهِ وَمَآ أُنزِلَ إِلَيۡكُمۡ وَمَآ أُنزِلَ إِلَيۡهِمۡ خَٰشِعِينَ لِلَّهِ لَا يَشۡتَرُونَ بِـَٔايَٰتِ ٱللَّهِ ثَمَنٗا قَلِيلًاۚ أُوْلَـٰٓئِكَ لَهُمۡ أَجۡرُهُمۡ عِندَ رَبِّهِمۡۗ إِنَّ ٱللَّهَ سَرِيعُ ٱلۡحِسَابِ
And undoubtedly there are some among the People given the Book(s), who accept faith in Allah and what is sent down to you and what was sent down to them – their hearts are submitted humbly before Allah – they do not exchange the verses of Allah for an abject price; they are those whose reward is with their Lord; indeed Allah is Swift At Taking Account.
اور بیشک کچھ اہلِ کتاب ایسے بھی ہیں جو اللہ پر ایمان رکھتے ہیں اور اس کتاب پر بھی (ایمان لاتے ہیں) جو تمہاری طرف نازل کی گئی ہے اور جو ان کی طرف نازل کی گئی تھی اور ان کے دل اللہ کے حضور جھکے رہتے ہیں اور اللہ کی آیتوں کے عوض قلیل دام وصول نہیں کرتے، یہ وہ لوگ ہیں جن کا اجر ان کے رب کے پاس ہے، بیشک اللہ حساب میں جلدی فرمانے والا ہے
Tafsir Ibn Kathir
The Condition of Some of the People of the Scriptures and their Rewards
Allah states that some of the People of the Book truly believe in Him and in what was sent down to Muhammad ﷺ, along with believing in the previously revealed Books, and they are obedient to Him and humble themselves before Allah.
لاَ يَشْتَرُونَ بِـَايَـتِ اللَّهِ ثَمَناً قَلِيلاً
(They do not sell the verses of Allah for a small price) 3:199, for they do not hide what they know of the glad tidings about the description of Muhammad ﷺ , his Prophethood, and the description of his Ummah. Indeed, these are the best people among the People of the Book, whether they were Jews or Christians. Allah said in Surat Al-Qasas,
الَّذِينَ ءَاتَيْنَـهُمُ الْكِتَـبَ مِن قَبْلِهِ هُم بِهِ يُؤْمِنُونَ وَإِذَا يُتْلَى عَلَيْهِمْ قَالُواْ ءَامَنَّا بِهِ إِنَّهُ الْحَقُّ مِن رَّبِّنَآ إنَّا كُنَّا مِن قَبْلِهِيُؤْتُونَ أَجْرَهُم مَّرَّتَيْنِ بِمَا صَبَرُواْ
(Those to whom We gave the Scripture before it, they believe in it (the Qur'an). And when it is recited to them, they say: "We believe in it. Verily, it is the truth from our Lord. Indeed even before it we were Muslims. These will be given their reward twice over, because they are patient,) 28:52-54. Allah said,
الَّذِينَ آتَيْنَـهُمُ الْكِتَـبَ يَتْلُونَهُ حَقَّ تِلاَوَتِهِ أُوْلَـئِكَ يُؤْمِنُونَ بِهِ
(Those to whom We gave the Book, recite it (follow it) as it should be recited (i.e. followed), they are the ones who believe therein.) 2:121,
وَمِن قَوْمِ مُوسَى أُمَّةٌ يَهْدُونَ بِالْحَقِّ وَبِهِ يَعْدِلُونَ
(And of the people of Musa there is a community who lead with truth and establish justice therewith.) 7:159,
لَيْسُواْ سَوَآءً مِّنْ أَهْلِ الْكِتَـبِ أُمَّةٌ قَآئِمَةٌ يَتْلُونَ ءَايَـتِ اللَّهِ ءَانَآءَ الَّيْلِ وَهُمْ يَسْجُدُونَ
(Not all of them are alike; a party of the people of the Scripture stand for the right, they recite the verses of Allah during the hours of the night, prostrating themselves in prayer.) 3:113, and,
قُلْ ءَامِنُواْ بِهِ أَوْ لاَ تُؤْمِنُواْ إِنَّ الَّذِينَ أُوتُواْ الْعِلْمَ مِن قَبْلِهِ إِذَا يُتْلَى عَلَيْهِمْ يَخِرُّونَ لِلاٌّذْقَانِ سُجَّدًا - وَيَقُولُونَ سُبْحَانَ رَبِّنَآ إِن كَانَ وَعْدُ رَبِّنَا لَمَفْعُولاً - وَيَخِرُّونَ لِلاٌّذْقَانِ يَبْكُونَ وَيَزِيدُهُمْ خُشُوعًا
(Say: "Believe in it (the Qur'an) or do not believe (in it). Verily, those who were given knowledge before it, when it is recited to them, fall down on their faces in humble prostration." And they say: "Glory be to our Lord! Truly, the promise of our Lord must be fulfillled." And they fall down on their faces weeping and it increases their humility.) 17:107- 109.
These qualities exist in some of the Jews, but only a few of them. For instance, less than ten Jewish rabbis embraced the Islamic faith, such as `Abdullah bin Salam. Many among the Christians, on the other hand, embraced the Islamic faith. Allah said,
لَتَجِدَنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَةً لِّلَّذِينَ ءَامَنُواْ الْيَهُودَ وَالَّذِينَ أَشْرَكُواْ وَلَتَجِدَنَّ أَقْرَبَهُمْ مَّوَدَّةً لِّلَّذِينَ ءَامَنُواْ الَّذِينَ قَالُواْ إِنَّا نَصَارَى
(Verily, you will find the strongest among men in enmity to the believers the Jews and those who commit Shirk, and you will find the nearest in love to the believers those who say: "We are Christians.") 5:82, until,
فَأَثَابَهُمُ اللَّهُ بِمَا قَالُواْ جَنَّـتٍ تَجْرِى مِن تَحْتِهَا الاٌّنْهَـرُ خَـلِدِينَ فِيهَا
(So because of what they said, Allah rewarded them Gardens under which rivers flow (in Paradise), they will abide therein forever) 5:85. In this Ayah,
Allah said,
أُوْلـئِكَ لَهُمْ أَجْرُهُمْ عِندَ رَبِّهِمْ
(for them is a reward with their Lord) 3:199.
When Ja`far bin Abi Talib recited Surah Maryam chapter 19 to An-Najashi, King of Ethiopia, in the presence of Christian priests and patriarchs, he and they cried until their beards became wet from crying. The Two Sahihs record that when An-Najashi died, the Prophet conveyed the news to his Companions and said,
«إِنَّ أَخًا لَكُمْ بِالْحَبَشَةِ قَدْ مَاتَ، فَصَلُّوا عَلَيْه»
(A brother of yours from Ethiopia has passed, come to offer the funeral prayer.) He went out with the Companions to the Musalla lined them up in rows, and after that led the prayer.
Ibn Abi Najih narrated that Mujahid said that,
وَإِن مِّنْ أَهْلِ الْكِتَـبِ
(And there are, certainly, among the People of the Scripture), refers to those among them who embraced Islam. `Abbad bin Mansur said that he asked Al-Hasan Al-Basri about Allah's statement,
وَإِنَّ مِنْ أَهْلِ الْكِتَـبِ لَمَن يُؤْمِنُ بِاللَّهِ
(And there are, certainly, among the People of the Scripture, those who believe in Allah).
Al-Hasan said, "They are the People of the Book, before Muhammad was sent, who believed in Muhammad and recognized Islam. Allah gave them a double reward, for the faith that they had before Muhammad , and for believing in Muhammad (after he was sent as Prophet)." Ibn Abi Hatim recorded both of these statements. The Two Sahihs record that Abu Musa said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«ثَلَاثَةٌ يُؤْتَوْنَ أَجْرَهُمْ مَرَّتَيْن»
(Three persons will acquire a double reward. )
He mentioned among them,
«وَرَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ آمَنَ بِنَبِيِّهِ وَآمَنَ بِي»
(A person from among the People of the Book who believed in his Prophet and in me.)
Allah's statement,
لاَ يَشْتَرُونَ بِـَايَـتِ اللَّهِ ثَمَناً قَلِيلاً
(They do not sell the verses of Allah for a small price), means, they do not hide the knowledge that they have, as the cursed ones among them have done. Rather, they share the knowledge without a price, and this is why Allah said,
أُوْلـئِكَ لَهُمْ أَجْرُهُمْ عِندَ رَبِّهِمْ إِنَّ اللَّهَ سَرِيعُ الْحِسَابِ
(for them is a reward with their Lord. surely, Allah is Swift in account.)
Mujahid commented on the verse,
سَرِيعُ الْحِسَابِ
((Surely, Allah is) swift in account), "He is swift in reckoning," as Ibn Abi Hatim and others have recorded from him.
The Command for Patience and Ribat
Allah said,
يَـأَيُّهَا الَّذِينَ ءَامَنُواْ اصْبِرُواْ وَصَابِرُواْ وَرَابِطُواْ
(O you who believe! Endure and be more patient, and Rabitu) 3:200.
Al-Hasan Al-Basri said, "The believers are commanded to be patient in the religion that Allah chose for them, Islam. They are not allowed to abandon it in times of comfort or hardship, ease or calamity, until they die as Muslims. They are also commanded to endure against their enemies, those who hid the truth about their religion." Similar explanation given by several other scholars among the Salaf.
As for Murabatah, it is to endure in acts of worship and perseverence. It also means to await prayer after prayer, as Ibn `Abbas, Sahl bin Hanif and Muhammad bin Ka`b Al-Qurazi stated. Ibn Abi Hatim collected a Hadith that was also collected by Muslim and An-Nasa'i from Abu Hurayrah that the Prophet said,
«أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِمَا يَمْحُو اللهُ بِهِ الْخَطَايَا، وَيَرْفَعُ بِهِ الدَّرَجَاتِ؟ إِسْباغُ الوُضُوءِ عَلَى الْمَكَارِهِ، وَكَثْرَةُ الْخُطَا إِلَى الْمَسَاجِدِ، وَانْتِظَارُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصَّلَاةِ، فَذلِكُمُ الرِّبَاطُ، فَذلِكُمُ الرِّبَاطُ، فَذلِكُمُ الرِّبَاط»
(Should I tell you about actions with which Allah forgives sins and raises the grade Performing perfect ablution in unfavorable conditions, the many steps one takes to the Masajid, and awaiting prayer after the prayer, for this is the Ribat, this is the Ribat, this is the Ribat.)
They also say that the Murabatah in the above Ayah refers to battles against the enemy, and manning Muslim outposts to protect them from enemy incursions inside Muslim territory. There are several Hadiths that encourage Murabatah and mention its rewards. Al-Bukhari recorded that Sahl bin Sa`d As-Sa`idi said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«رِبَاطُ يَوْمٍ فِي سَبِيلِ اللهِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا عَلَيْهَا»
(A Day of Ribat in the cause of Allah is better than this life and all that is in it.)
Muslim recorded that Salman Al-Farisi said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«رِبَاطُ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ خَيْرٌ مِنْ صِيَامِ شَهْرٍ وَقِيامِهِ، وَإِنْ مَاتَ جَرَى عَلَيْهِ عَمَلُهُ الَّذِي كَانَ يَعْمَـــــــلُهُ، وَأُجْرِيَ عَلَيْهِ رِزْقُــــهُ، وَأَمِنَ الْفَتَّان»
(Ribat for a day and a night is better than fasting the days of a month and its Qiyam (voluntary prayer at night). If one dies in Ribat, his regular righteous deeds that he used to perform will keep being added to his account, and he will receive his provision, and will be saved from the trials of the grave.)
Imam Ahmad recorded that Fadalah bin `Ubayd said that he heard the Messenger of Allah ﷺ saying,
«كُلُّ مَيِّتٍ يُخْتَمُ عَلى عَمَلِهِ إِلَّا الَّذِي مَاتَ مُرَابِطًا فِي سَبِيل اللهِ،فَإِنَّهُ يَنْمِي لَهُ عَمَلُهُ إِلى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَيَأْمَنُ فِتْنَةَ الْقَبْر»
(Every dead person will have his record of deeds sealed, except for whoever dies while in Ribat in the cause of Allah, for his work will keep increasing until the Day of Resurrection, and he will be safe from the trial of the grave.)
This is the same narration collected by Abu Dawud and At-Tirmidhi, who said, "Hasan Sahih". Ibn Hibban also collected this Hadith in his Sahih. fAt-Tirmidhi recorded that Ibn `Abbas said that he heard the Messenger of Allah ﷺ saying,
«عَيْنَانِ لَا تَمَسُّهُمَا النَّارُ: عَيْنٌ بَكَتْ مِنْ خَشْيَةِ اللهِ، وَعَيْنٌ بَاتَتْ تَحْرُسُ فِي سَبِيلِ الله»
(Two eyes shall not be touched by the Fire: an eye that cried for fear from Allah and an eye that spent the night guarding in Allah's cause.)
Al-Bukhari recorded in his Sahih that Abu Hurayrah said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«تَعِسَ عَبْدُالدِّينَارِ وَعَبْدُالدِّرْهَمِ وَعَبْدُالْخَمِيصَةِ، إِنْ أُعْطِيَ رَضِيَ، وَإِنْ لَمْ يُعْطَ سَخِطَ، تَعِسَ وَانْتَكَسَ، وَإِذَا شِيكَ فَلَا انْتَقَشَ، طُوبَى لِعَبْدٍ آخِذٍ بِعِنَانِ فَرَسِهِ فِي سَبِيلِ اللهِ، أَشْعَثَ رَأْسُهُ، مُغْبَرَّةٍ قَدَمَاهُ، إِنْ كَانَ فِي الْحِرَاسَةِ كَانَ فِي الْحِرَاسَةِ، وَإِنْ كَانَ فِي السَّاقَةِ كَانَ فِي السَّاقَةِ، إِنِ اسْتَأْذَنَ لَمْ يُؤْذَنْ لَهُ، وَإِنْ شَفَعَ لَمْ يُشَفَّع»
(Let the servant of the Dinar, the servant of the Dirham and the servant of the Khamisah (of clothes) perish, as he is pleased if these things are given to him, and if not, he is displeased. Let such a person perish and be humiliated, and if he is pierced with a thorn, let him not find anyone to take it out for him. Paradise is for him who holds the reins of his horse, striving in Allah's cause, with his hair unkempt and feet covered with dust: if he is appointed to the vanguard, he is perfectly satisfied with his post of guarding, and if he is appointed in the rearguard, he accepts his post with satisfaction; if he asks for permission he is not permitted, and if he intercedes, his intercession is not accepted.)
Ibn Jarir recorded that Zayd bin Aslam said, "Abu `Ubaydah wrote to `Umar bin Al-Khattab and mentioned to him that the Romans were mobilizing their forces. `Umar wrote back, `Allah will soon turn whatever hardship a believing servant suffers, to ease, and no hardship shall ever overcome two types of ease. Allah says in His Book,
يَـأَيُّهَا الَّذِينَ ءَامَنُواْ اصْبِرُواْ وَصَابِرُواْ وَرَابِطُواْ وَاتَّقُواْ اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ
(O you who believe! Endure and be more patient, and Rabitu, and have Taqwa of Allah, so that you may be successful)' 3:200."
Al-Hafiz Ibn `Asakir mentioned in the biography of `Abdullah bin Al-Mubarak, that Muhammad bin Ibrahim bin Abi Sakinah said, "While in the area of Tarsus, `Abdullah bin Al-Mubarak dictated this poem to me when I was greeting him goodbye. He sent the poem with me to Al-Fudayl bin `Iyad in the year one hundred and seventy, `O he who worships in the vicinity of the Two Holy Masjids! If you but see us, you will realize that you are only jesting in worship. He who brings wetness to his cheek with his tears, should know that our necks are being wet by our blood. He who tires his horses without purpose, know that our horses are getting tired in battle. Scent of perfume is yours, while our scent is the glimmer of spears and the stench of dust in battle. We were narrated about in the speech of our Prophet, an authentic statement that never lies. That the dust that erupts by Allah's horses and which fills the nostrils of a man shall never be combined with the smoke of a raging Fire. This, the Book of Allah speaks among us that the martyr is not dead, and the truth in Allah's Book cannot be denied.' I met Al-Fudayl Ibn `Iyad in the Sacred Masjid and gave him the letter. When he read it, his eyes became tearful and he said, `Abu `Abdur-Rahman (`Abdullah bin Al-Mubarak) has said the truth and offered sincere advice to me.' He then asked me, `Do you write the Hadith' I said, `Yes.' He said, `Write this Hadith as reward for delivering the letter of Abu `Abdur-Rahman to me. He then dictated, `Mansur bin Al-Mu`tamir narrated to us that Abu Salih narrated from Abu Hurayrah that a man asked, `O Messenger of Allah! Teach me a good deed that will earn me the reward of the Mujahidin in Allah's cause.' The Prophet said,
«هَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تُصَلِّيَ فَلَا تَفْتُرَ،وَتَصُومَ فَلَا تُفْطِرَ؟»
(Are you able to pray continuously and fast without breaking the fast) The man said, `O Messenger of Allah! I cannot bear it.' The Prophet said,
«فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ طُوِّقْتَ ذلِكَ مَا بَلَغْتَ الْمُجَاهِدِينَ فِي سَبِيلِ اللهِ، أَوَ مَا عَلِمْتَ أَنَّ فَرَسَ الْمُجَاهِدِ لَيَسْتَنُّ فِي طِوَلِهِ، فَيُكْتَبُ لَهُ بِذلِكَ الْحَسَنَات»
(By He in Whose Hand is my soul! Even if you were able to do it, you will not achieve the grade of the Mujahidin in Allah's cause. Did you not know that the horse of the Mujahid earns rewards for him as long as it lives.)
Allah said next,
وَاتَّقُواْ اللَّهَ
(and have Taqwa of Allah), concerning all your affairs and situations. For instance, the Prophet said to Mu`adh when he sent him to Yemen,
«اتَّقِ اللهَ حَيْثُمَا كُنْتَ، وَأَتْبِعِ السَّيِّـئَــةَ الْحَسَنَةَ تَمْحُهَا، وَخَالِقِ النَّاسَ بِخُلُقٍ حَسَن»
(Have Taqwa of Allah wherever you may be, follow the evil deed with a good deed and it will erase it, and deal with people in a good manner.)
Allah said next,
لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ
(so that you may be successful.), in this life and the Hereafter. Ibn Jarir recorded that Muhammad bin Ka`b Al-Qurazi said that, Allah's statement,
وَاتَّقُواْ اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ
(and have Taqwa of Allah, so that you may be successful.) means, "Fear Me concerning what is between you and Me, so that you may acquire success when you meet Me tomorrow."
The Tafsir of Surah Al `Imran ends here, all praise is due to Allah, and we ask Him that we die while on the path of the Qur'an and Sunnah, Amin.
ایمان والوں اور مجاہدین کے قابل رشک اعزاز اللہ تعالیٰ اہل کتاب کے اس فرقے کی تعریف کرتا ہے جو پورے ایمان والا ہے قرآن کریم کو بھی مانتا ہے اور اپنے نبی کی کتاب پر بھی ایمان رکھتا ہے اللہ تعالیٰ کا ڈر دل میں رکھ کر اللہ تعالیٰ فرمانوں کی بجا آوری میں نہایت تندہی کے ساتھ مشغول ہے رب کے سامنے عاجزی اور گریہ وزاری کرتا رہتا ہے پیغمبر آخر الزمان ﷺ کے جو پاک اوصاف اور صاف نشانیاں ان کی کتابوں میں ہیں اسے دنیا کے بدلے چھپاتا نہیں بلکہ ہر ایک کو بتاتا ہے اور آپ ﷺ کی رسالت کو مان لینے کی رغبت دلاتا ہے۔ ایسی جماعت اللہ تعالیٰ کے پاس اجر پائے گی خواہ وہ یہودیوں کی ہو خواہ نصرانیوں کی، سورة قصص میں یہ مضمون اس طرح بیان ہوا ہے آیت (اَلَّذِيْنَ اٰتَيْنٰهُمُ الْكِتٰبَ يَعْرِفُوْنَهٗ كَمَا يَعْرِفُوْنَ اَبْنَاۗءَهُمْ ۘ اَلَّذِيْنَ خَسِرُوْٓا اَنْفُسَهُمْ فَهُمْ لَا يُؤْمِنُوْنَ) 6۔ الانعام :20) جنہیں ہم نے اس سے پہلے کتاب دے رکھی ہے وہ اس پر بھی ایمان لاتے ہیں اور جب یہ کتاب ان کے سامنے پڑھی جاتی ہے تو صاف کہ دیتے ہیں کہ ہم اس پر ایمان لائے یہ برحق کتاب ہمارے رب کی ہے ہم تو پہلے سے ہی اسے مانتے تھے انہیں انکے صبر کا دوہرا اجر دیا جائے گا اور جگہ ہے جنہیں ہم نے کتاب دی اور جسے وہ اسے صحیح طور پر پڑھتے ہیں وہ تو اس قرآن پر بھی فوراً ایمان لاتے ہیں اور جگہ ارشاد ہے آیت (وَمِنْ قَوْمِ مُوْسٰٓي اُمَّةٌ يَّهْدُوْنَ بالْحَقِّ وَبِهٖ يَعْدِلُوْنَ) 7۔ الاعراف :159) حضرت موسیٰ کی قوم میں سے بھی ایک جماعت حق کی ہدایت کرنے والی اور حق کے ساتھ عدل کرنے والی ہے دوسرے مقام پر بیان ہے آیت (لَيْسُوْا سَوَاۗءً ۭ مِنْ اَھْلِ الْكِتٰبِ اُمَّةٌ قَاۗىِٕمَةٌ يَّتْلُوْنَ اٰيٰتِ اللّٰهِ اٰنَاۗءَ الَّيْلِ وَھُمْ يَسْجُدُوْنَ) 3۔ آل عمران :113) یعنی اہل کتاب سب یکساں نہیں ان میں ایک جماعت راتوں کے وقت بھی اللہ کی کتاب پڑھنے والی ہے اور سجدے کرنے والی اور جگہ ہے اے نبی ﷺ تم کہو کہ لوگوں تم ایمان لاؤ یا نہ لاؤ جنہیں پہلے سے علم دیا گیا ہے جب ان کے سامنے اس کلام مجید کی آیتیں تلاوت کی جاتی ہے تو وہ اپنے چہروں کے بل سجدے میں گرپڑتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمارا رب پاک ہے یقینا اس کا وعدہ سچا ہے اور سچا ہو کر رہنے والا ہے یہ لوگ روتے ہوئے منہ کے بل گرتے ہیں اور خشوع و خضوع میں بڑھ جاتے ہیں یہ صفتیں یہودیوں میں پائی گئیں گو بہت کم لوگ ایسے تھے مثلاً حضرت عبداللہ بن سلام اور آپ ہی جیسے اور جگہ ہے آیت (لَتَجِدَنَّ اَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَةً لِّلَّذِيْنَ اٰمَنُوا الْيَھُوْدَ وَالَّذِيْنَ اَشْرَكُوْا) 5۔ المائدہ :82) اسے خالدین فیھا آخر آیت تک، مطلب یہ ہے کہ ایمان والوں سے عداوت اور دشمنی رکھنے میں سب سے زیادہ بڑھے ہوئے یہود ہیں اور مشرک اور ایمان والوں سے محبت رکھنے میں پیش پیش نصرانی ہیں، اب فرماتا ہے ایسے لوگ اللہ تعالیٰ کے ہاں اجر عظیم کے مستحق ہیں، حدیث میں یہ بھی آچکا ہے کہ حضرت جعفر بن ابو طالب نے جب سورة مریم کی تلاوت شاہ نجاشی کے دربار میں بادشاہ اراکین سلطت اور علماء نصاریٰ کے سامنے کی اور اس میں آپ پر رقت طاری ہوئی تو سب حاضرین دربار مع بادشاہ رو دیئے اور اس قدر متاثر ہوئے کہ روتے روتے ان کی داڑھیاں تر ہوگئیں، صحیح بخاری مسلم میں ہے کہ نجاشی کے انتقال کی خبر رسول اللہ ﷺ نے اپنے اصحاب کو دی اور فرمایا کہ تمہارا بھائی حبشہ میں انتقال کر گیا ہے اور اس کے جنازے کی نماز ادا کرو اور میدان میں جا کر صحابہ کی صفیں مرتب کر کے آپ نے ان کے جنازے کی نماز ادا کی۔ ابن مردویہ میں ہے کہ جب نجاشی فوت ہوئے تو حضور ﷺ نے فرمایا اپنے بھائی کیلئے استغفار کرو تو بعض لوگوں نے کہا دیکھئے حضور ﷺ ہمیں اس نصرانی کیلئے استغفار کرنے کا حکم دیتے ہیں جو حبشہ میں مرا ہے اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ گویا اس کے مسلمان ہونے شہادت قرآن کریم نے دی، ابن جریر میں ہے کہ ان کی موت کی خبر حضور ﷺ نے دی کہ تمہارا بھائی اصحمہ انتقال کر گیا ہے پھر حضور ﷺ باہر نکلے اور جس طرح جنازے کی نماز پڑھاتے تھے اسی طرح چار تکبیروں سے نماز جنازہ پڑھائی اس پر منافقوں نے وہ اعتراض کیا اور یہ آیت اتری ابو داؤد میں ہے حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ نجاشی کے انتقال کے بعد ہم یہی سنتے رہے کہ ان کی قبر پر نور دیکھا جاتا ہے، مستدرک حاکم میں ہے کہ نجاشی کا ایک دشمن اس کی سلطنت پر حملہ آور ہوا تو مہاجرین نے کہا کہ آپ اس سے مقابلہ کرنے کیلئے چلئے ہم بھی آپ کے ساتھ ہیں آپ ہماری بہادری کے جوہر دیکھ لیں گے اور جو حسن سلوک آپ نے ہمارے ساتھ کیا ہے اس کا بدلہ بھی اتر جائے گا لیکن نجاشی ؒ نے فرمایا کہ آپ لوگوں کی امداد کے ساتھ بچاؤ کرنے سے اللہ کی امداد کا بچاؤ بہتر ہے اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔ حضرت مجاہد ؒ فرماتے ہیں اس سے مراد اہل کتاب کے مسلمان لوگ ہیں، حضرت حسن بصری فرماتے ہیں اس سے مراد وہ اہل کتاب ہیں جو حضور ﷺ سے پہلے تھے اسلام کو پہچانتے تھے اور حضور ﷺ کی تابعداری کا بھی شرف انہیں حاصل ہوا تو انہیں اجر بھی دوہرا ملا ایک تو حضور ﷺ سے پہلے کے ایمان کا دوسرا اجر آپ پر ایمان لانے کا، بخاری مسلم میں حضرت ابو موسیٰ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تین قسم کے لوگوں کو دوہرا اجر ملتا ہے جن میں سے ایک اہل کتاب کا وہ شخص ہے جو اپنے نبی پر ایمان لایا اور مجھ پر ایمان لایا اور باقی دو کو بھی ذکر کیا، اللہ کی آیتوں کو تھوڑی قیمت پر نہیں بیچتے یعنی اپنے پاس علمی باتوں کو چھپاتے نہیں جیسے کہ ان میں سے ایک رزیل جماعت کا شیوہ تھا بلکہ یہ لوگ تو اسے پھیلاتے اور خوب ظاہر کرتے ہیں ان کا بدلہ ان کے رب کے پاس ہے اللہ تعالیٰ جلد حساب لینے والا ہے یعنی جلد سمیٹنے اور گھیرنے اور شمار کرنے والا ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ اسلام جیسے میری پسندیدہ دین پر جمے رہو شدت اور نرمی کے وقت مصیبت اور راحت کے وقت غرض کسی حال میں بھی اسے نہ چھوڑو یہاں تک کہ دم نکلے تو اسی پر نکلے اور اپنے ان دشمنوں سے بھی صبر سے کام لو جو اپنے دین کو چھپاتے ہیں امام حسن بصری وغیرہ علماء سلف نے یہی تفسیر بیان فرمائی ہے مرابطہ کہتے ہیں عبادت کی جگہ میں ہمیشگی کرنے کو اور ثابت قدمی سے جم جانے کو اور کہا گیا ہے ایک نماز کے بعد دوسری نماز کے انتظار کو یہی قوم ہے حضرت عبداللہ بن عباس سہل بن حنیف اور محمد بن کعب قرضی کا صحیح مسلم شریف اور نسائی میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں آؤ میں تمہیں بتاؤں کہ کس چیز سے اللہ تعالیٰ گناہوں کو مٹا دیتا ہے اور درجوں کو بڑھاتا ہے، تکلیف ہوتے ہوتے بھی کامل وضو کرنا دور سے چل کر مسجدوں میں آنا ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا یہی رباط ہے یہی مرابط ہے یہی اللہ تعالیٰ کی راہ کی مستعدی ہے، ابن مردویہ میں ہے کہ ابو سلمہ سے ایک دن حضرت ابوہریرہ نے پوچھا اے میرے بھتیجے جانتے ہو اس آیت کا شان نزول کیا ہے ؟ انہوں نے کہا مجھے معلوم نہیں آپ نے فرمایا سنو اس وقت کوئی غزوہ نہ تھا یہ آیت ان لوگوں کے حق میں نازل ہوئی ہے جو مسجدوں کو آباد رکھتی تھی اور نمازوں کو ٹھیک وقت پر ادا کرتے تھے پھر اللہ کا ذکر کرتے تھے انہیں یہ حکم دیا جاتا ہے کہ تم پانچوں نمازوں پر جمے رہو اور اپنے نفس کو اور اپنی خواہش کو روکے رکھو اور مسجدوں میں بسیرا کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو۔ یہی اعمال موجب ایمان ہیں، ابن جریر کی حدیث میں ہے کیا میں تمہیں وہ اعمال نہ بتاؤں جو گناہوں کا کفارہ ہوجاتے ہیں ناپسندیدگی کے وقت کامل وضو کرنا اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا تمہاری مستعدی اسی میں ہونی چاہئے اور حدیث میں زیادہ قدم رکھ کر چل کر مسجد میں آنا بھی ہے، اور روایت میں ہے کہ گناہوں کی معافی کے ساتھ ہی درجے بھی ان اعمال سے بڑھتے رہتے ہیں اور یہی اس آیت کا مطلب ہے لیکن یہ حدیث بالکل غریب ہے، ابو سلمہ بن عبدالرحمن فرماتے ہیں یہاں " رابطوا " سے مطلب انتظار نماز ہے، لیکن اوپر بیان ہوچکا ہے کہ یہ فرمان حضرت ابوہریرہ کا ہے واللہ اعلم۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ " رابطوا " سے مراد دشمن سے جہاد کرنا اسلامی ملک کی حدود کی نگہبانی کرنا اور دشمنوں کو اسلامی شہروں میں نہ گھسنے دینا ہے اس کی ترغیب میں بھی بہت سی حدیثیں ہیں اور اس پر بھی بڑے ثواب کا وعدہ ہے، صحیح بخاری شریف میں ہے ایک دن کی یہ تیاری ساری دنیا سے اور جو اس میں ہے سب سے افضل ہے، مسلم شریف کی حدیث میں ہے ایک دن رات کی جہاد کی تیاری ایک ماہ کے کامل روزوں اور ایک ماہ کی تمام شب بیداری سے افضل ہے اور اسی تیاری کی حالت میں موت آجائے تو جتنے اعمال صالحہ کرتا تھا سب کا ثواب پہنچتا رہتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے پاس سے روزی پہنچائی جاتی ہے اور فتنوں سے امن پاتا ہے، مسند احمد میں ہے ہر مرنے والے کے اعمال ختم ہوجاتے ہیں مگر جو شخص اللہ تعالیٰ کی راہ کی تیاری میں ہو اور اسی حالت میں مرجائے اس کا عمل قیامت تک بڑھتا رہتا ہے اور اسے فتنہ قبر سے نجات ملتی ہے ابن ماجہ کی روایت میں یہ بھی ہے کہ قیامت کے دن اسے امن ملے گا، مسند کی اور حدیث میں ہے اسے صبح شام جنت سے روزی پہنچائی جاتی ہے اور قیامت تک اس کے مرابط کا اجر ملتا رہتا ہے، مسند احمد میں ہے جو شخص مسلمانوں کی سرحد کے کسی کنارے پر تین دن تیاری میں گزارے اسے سال بھر تک کی اور جگہ کی اس اس تیاری کا اجر ملتا ہے، امیر المومنین حضرت عثمان بن عفان نے اپنے منبر پر خطبہ پڑھتے ہوئے ایک مرتبہ فرمایا میں تمہیں رسول اللہ ﷺ سے اپنی سنی ہوئی بات سناتا ہوں میں نے اب تک ایک خاص خیال سے اسے نہیں سنایا آپ نے فرمایا ہے اللہ جل شانہ کی راہ میں ایک رات کا پہرہ ایک ہزار راتوں کی عبادت سے افضل ہے جو تمام راتیں قیام میں اور تمام دن صیام میں گزارے جائیں۔ دوسری روایت میں اس حدیث کو اب تک بیان نہ کرنے کی وجہ خلیفہ رسول ﷺ نے یہ بیان فرمائی ہے کہ مجھے ڈر تھا کہ اس فضیلت کے حاصل کرنے کیلئے کہیں تم سب مدینہ چھوڑ کر میدان جنگ میں نہ چل دو اب میں سنا دیتا ہوں ہر شخص کو اختیار ہے کہ جو بات اپنے لئے پسند کرتا ہے اس کا پابند ہوجائے دوسری روایت میں یہ بھی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کی بات پہنچا دی لوگوں نے کہا ہاں آپ نے فرمایا اے جناب باری تعالیٰ تو گواہ رہ، ترمذی شریف میں ہے کہ حضرت شرحبیل بن سمط محافظت سرحد میں تھے اور زمانہ زیادہ گزر جانے کے بعد کچھ تنگ دل ہو رہے تھے کہ حضرت سلمان فارسی ان کے پاس پہنچے اور فرمایا آؤ میں تجھے پیغمبر ﷺ کی ایک حدیث سناؤں آپ نے فرمایا ہے ایک دن سرحد کی حفاظت ایک مہینہ کے صیام و قیام سے افضل ہے اور جو اسی حالت میں مرجائے وہ فتنہ قبر سے محفوظ رہتا ہے اور اس کے اعمال قیامت تک جاری رہتے ہیں۔ ابن ماجہ میں ہے کہ ایک رات اللہ تعالیٰ کی راہ میں پہرہ دینا تاکہ مسلمان امن سے رہیں ہاں نیت نیک ہو گو وہ رات رمضان کی نہ ہو ایک سو سال کی عبادت سے افضل ہے جس کے دن روزے میں اور جس کی راتیں تہجد میں گزری ہوں اور ایک دن کی رب العزت کی راہ میں تیاری تاکہ مسلمان باحفاظت رہیں طلب ثواب کی نیت سے ماہ رمضان کے بغیر اللہ کے نزدیک ایک ہزار سال کے روزوں اور تہجد سے افضل ہے، مسلمان باحفاظت رہیں طلب ثواب کی نیت سے ماہ رمضان کے بغیر اللہ کے نزدیک ایک ہزار سال کی برائیاں اس کے نامہ اعمال میں نہیں لکھی جائیں گی اور نیکیاں لکھی جائیں گی اور اس مرابط کا اجر قیامت تک اسے ملتا رہے گا یہ حدیث غریب ہے بلکہ منکر ہے اس کے ایک راوی عمرو بن صبح متہم ہیں، ابن ماجہ کی ایک اور غریب حدیث میں ہے کہ ایک رات کی مسلم لشکر کی چوکیداری ایک ہزار سال کی راتوں کے قیام اور دنوں کے صیام سے افضل ہے ہر سال کے تین سو ساٹھ دن اور ہر دن مثل ایک ہزار سال کے اس کے راوی سعید بن خالد کو ابو زرعہ وغیرہ ہیں ائمہ نے اسے ضعیف کہا ہے بلکہ امام حاکم فرماتے ہیں اس کی روایت سے موضع حدیثیں بھی ہیں، ایک منقطع حدیث میں ہے لشکر اسلام کے چوکیدار پر اللہ تعالیٰ کا رحم ہو (ابن ماجہ) حضرت سہل بن حنظلہ فرماتے ہیں کہ حنین والے دن ہم رسول کریم ﷺ کے ساتھ چلے شام کی نماز میں نے حضور ﷺ کے ساتھ ادا کی اتنے میں ایک گھوڑا سوار آیا اور کہا یا رسول اللہ ﷺ میں آگے نکل گیا تھا اور فلاں پہاڑ پر چڑھ کر میں نے نگاہ ڈالی تو دیکھا کہ قبیلہ ہوازن کے لوگ میدان میں جمع ہوگئے ہیں یہاں تک کہ ان کی اونٹنیاں، بکریاں، عورتیں اور بچے بھی ساتھ ہیں حضور ﷺ مسکرائے اور فرمایا انشاء اللہ یہ سب کل مسلمانوں کی مال غنیمت ہوگا پھر فرمایا بتاؤ آج کی رات پہرہ کون دے گا ؟ حضرت انس بن ابو مرثد نے کہا یا رسول اللہ ﷺ میں حاضر ہوں آپ نے فرمایا جاؤ سواری لے کر آؤ وہ اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر حاضر ہوئے آپ ﷺ نے فرمایا اس گھاٹی پر چلے جاؤ اور اس پہاڑی کی چوٹی پر چڑھ جاؤ خبردار تمہاری طرف سے ان کے ساتھ کوئی چھیڑ چھاڑ صبح تک نہ ہو، صبح جس وقت نماز کیلئے حضور ﷺ تشریف لائے دو سنتیں ادا کیں اور لوگوں سے پوچھا کہو تمہارے پہرے دار سوار کی تو کوئی آہٹ نہیں سنی لوگوں نے کہا نہیں یا رسول اللہ ﷺ ، اب تکبیر کہی گئی اور آپ نے نماز شروع کی آپ کا خیال اسی گھاٹی کی طرف تھا نماز سے سلام پھیرتے ہی آپ نے فرمایا خوش ہوجاؤ تمہارا گھوڑے سوار آ رہا ہے ہم نے جھاڑیوں میں جھانک کر دیکھا تو تھوڑی دیر میں ہمیں بھی دکھائی دے گئے آ کر حضور ﷺ سے کہا یا رسول اللہ ﷺ میں اس وادی کے اوپر کے حصے پر پہنچ گیا اور ارشاد کے مطابق وہیں رات گزاری صبح میں نے دوسری گھاٹی بھی دیکھ ڈالی لیکن وہاں بھی کوئی نہیں آپ ﷺ نے فرمایا کیا رات کو وہاں سے تم نیچے بھی اترے تھے، جواب دیا نہیں صرف نماز کیلئے اور قضاء حاجت کیلئے تو نیچے اترا تھا آپ ﷺ نے فرمایا تم نے اپنے لئے جنت واجب کرلی اب تم اس کے بعد کوئی عمل نہ کرو تو بھی تم پر کوئی حرج نہیں، (ابو داؤد و نسائی) مسند احمد میں ہے ایک غزوہ کے موقعہ پر ایک رات کو ہم بلند جگہ پر تھے اور سخت سردی تھی یہاں تک کہ لوگ زمین میں گڑھے کھود کھود کر اپنے اوپر ڈھالیں لے لے کر پڑے ہوئے تھے آنحضرت ﷺ نے اس وقت آواز دی کہ کوئی ہے جو آج کی رات ہماری چوکیداری کرے اور مجھ سے بہترین دعا لے تو ایک انصاری کھڑا ہوگیا اور کہا حضور ﷺ میں تیار ہوں آپ نے اسے پاس بلا کر نام دریافت کر کے اس کے لئے بہت دعا کی ابو ریحانہ یہ دعائیں سن کر آگے بڑھے اور کہنے لگے یارسول اللہ ﷺ میں بھی پہرہ دوں گا آپ نے مجھے بھی پاس بلا لیا اور نام پوچھ کر میرے لئے بھی دعائیں کیں لیکن اس انصاری صحابی ؓ سے یہ دعا کم تھی پھر آپ نے فرمایا اس آنکھ پر جہنم کی آنچ حرام ہے جو اللہ کے ڈر سے روئے اور اس آنکھ پر بھی جو راہ اللہ میں شب بیداری کرے، مسند حمد میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جو شخص مسلمانوں کے پیچھے سے ان کا پہرہ دے اپنی خوشی سے بغیر سلطان کی اجرت و تنخواہ کے وہ اپنی آنکھوں سے بھی جہنم کی آگ کو نہ دیکھے گا مگر صرف قسم پوری ہونے کے لئے جو اس آیت میں ہے آیت (وان منکم الا واردھا) یعنی تم سب اس پر وارد ہوگئے، صحیح بخاری میں ہے دینار کا بندہ برباد ہوا اور کپڑوں کا بندہ اگر مال دیا جائے تو خوش ہے اور اگر نہ دیا جائے تو ناخوش ہے، یہ بھی برباد ہوا اور خراب ہوا اگر اسے کانٹا چبھ جائے تو نکالنے کی کوشش بھی نہ کی جائے خوش نصیب ہوا اور پھلا خوب پھولا وہ شخص جو اللہ کی راہ میں جہاد کے لئے اپنے گھوڑے کی لگام تھامے ہوئے ہے بکھرے ہوئے بال ہیں اور گرد آلود قدم ہیں اگر چوکیداری پر مقرر کردیا گیا ہے تو چوکیدارہ کر رہا ہے اور اگر لشکر کے اگلے حصے میں مقرر کردیا گیا ہے تو وہیں خوش ہے لوگوں کی نظروں میں اتنا گرا پڑا ہے کہ اگر کہیں جانا چاہے تو اجازت نہ ملے اور اگر کسی کی سفارش کرے تو قبول نہ ہو، الحمد اللہ اس آیت کے متعلق خاصی حدیثیں بیان ہوگئیں اللہ تعالیٰ کے اس فضل و کرم پر ہم اس کا شکر ادا کرتے ہیں اور شکر گزاری سے رہتی دنیا تک فارغ نہیں ہوسکتے۔ تفسیر ابن جریر میں ہے کہ حضرت ابو عبیدہ بن جراح ؓ نے امیر المومنین خلیفتہ المسلمین حضرت عمر بن خطاب ؓ کو میدان جنگ سے ایک خط لکھا اور اس میں رومیوں کی فوج کی کثرت ان کی آلات حرب کی حالت اور ان کی تیاریوں کی کیفیتیں بیان کی اور لکھا کہ سخت خطرہ کا موقعہ ہے، یہاں سے فاروق اعظم ؓ کا جواب گیا جس میں حمد و ثنا کے بعد تحریر تھا کہ کبھی کبھی مومن بندوں پر سختیاں بھی آجاتی ہیں لیکن اللہ تعالیٰ ان کے بعد آسانیاں بھیج دیتا ہے۔ سنو ایک سختی دو آسانیوں پر غالب نہیں آسکتی سنو پروردگار عالم کا فرمان ہے آیت (يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اصْبِرُوْا وَصَابِرُوْا وَرَابِطُوْا) 3۔ آل عمران :200) حضرت عبداللہ بن مبارک ؒ نے سن01700یا01707ھ میں شہر طرسوس میں حضرت محمد بن ابراہیم بن سکینہ کو جبکہ وہ ان کو وداع کرنے آئی تھی اور یہ جہاد کو جا رہے تھے یہ اشعار لکھوا کر حضرت فضیل بن عیاض ؒ کو بھجوائے یا عابد الحرمین لو ابصرتنا لعلمت انک فی العبادۃ تلعب من کان یخضب خدہ بلموعہ فنحورنا بلمائنا تتخضب من کان یتعب خلیہ فی باطل فنخیولنا یوم الصبیحتہ تتعب ریح العبیر لکم ونحن عبیرنا رھج السنابک والغبار الاطیب ولقد اتانا من مقال نبینا قول صحیح صادق لا یکذب لا یستوی غبار خیل اللہ فی انف امری ودخان نار تلھب ھذا کتاب اللہ ینطق بیننا لیس الشھید بمیت لا یکذب اے مکہ مدینہ میں رہ کر عبادت کرنے والے اگر تو ہم مجاہدین کو دیکھ لیتا تو بالیقین تجھے معلوم ہوجاتا کہ تیری عبادت تو ایک کھیل ہے، ایک وہ شخص ہے جس کے آنسو اس کے رخساروں کو تر کرتے ہیں اور ایک ہم ہیں جو اپنی گردن اللہ کی راہ میں کٹوا کر اپنے خون میں آپ نہا لیتے ہیں۔ ایک وہ شخص ہے جس کا گھوڑا باطل اور بیکار کام میں تھک جاتا ہے اور ہمارے گھوڑے حملے اور لڑائی کے دن ہی تھکتے ہیں۔ اگر کئ خوشبوئیں تمہارے لئے ہیں اور ہمارے لئے اگر کئ خوشبو گھوڑوں کے ٹاپوں کی خاک اور پاکیزہ گرد و غبار ہے۔ یقین مانو ہمیں نبی کریم ﷺ کی یہ حدیث پہنچ چکی ہے جو سراسر راستی اور درستی والی بالکل سچی ہے کہ جس کسی کے نام میں اس اللہ تعالیٰ کے لشکر کی گرد بھی پہنچ گئی اس کے ناک میں شعلے مارنے والی جہنم کی آگ کا دھواں بھی نہ جائے گا اور لو یہ ہے اللہ تعالیٰ کی پاک کتاب جو ہم میں موجود ہے اور صاف کہہ رہی ہے اور سچ کہہ رہی ہے کہ شہید مردہ نہیں۔ محمد بن ابراہیم فرماتے ہیں جب میں نے مسجد حرام میں پہنچ کر حضرت فضیل بن عیاض ؒ کو یہ اشعار دکھائے تو آپ پڑھ کر زار زار روئے اور فرمایا ابو عبدالرحمن نے اللہ تعالیٰ کی رحمتیں ان پر ہوں صحیح اور سچ فرمایا اور مجھے نصیحت نامہ میرے پاس لائے اس کے بدلے میں تمہیں ایک حدیث لکھواتا ہوں وہ یہ کہ رسول اللہ ﷺ سے ایک شخص نے درخواست کی کہ یا رسول اللہ ﷺ مجھے ایسا عمل بتائے جس سے میں مجاہد کا ثواب پالوں، آپ نے فرمایا کیا تجھ میں یہ طاقت ہے کہ نماز ہی پڑھتا رہے اور تھکے نہیں اور روزے رکھتا چلا جائے اور کبھی بےروزہ رہے اس نے کہا حضور ﷺ اس کی طاقت کہاں ؟ میں اس سے بہت ہی ضعیف ہوں آپ نے فرمایا اگر تجھ میں اتنی طاقت ہوتی اور تو ایسا کر بھی سکتا تو بھی مجاہد فی سبیل اللہ کے درجے کو نہ پہنچ سکتا، تو یہ بھی جانتا ہے کہ مجاہد کے گھوڑے کی رسی دراز ہوجائے اور وہ ادھر ادھر چر جائے تو اس پر بھی مجاہد کو نیکیاں ملتی ہیں۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ حکم دیتا ہے کہ اللہ سے ڈرتے رہو اور ہر حال میں ہر وقت ہر معاملہ میں اللہ کا خوف کیا کرو۔ جناب رسول اکرم حضرت محمد مصطفے ٰ ﷺ نے حضرت معاذ بن جبل ؓ کو جب یمن کی طرف بھیجا تو فرمایا اے معاذ جہاں بھی ہو اللہ کا خوف دل میں رکھ اور اگر تجھ سے کوئی برائی ہوجائے تو فوراً کوئی نیکی بھی کرلے تاکہ وہ برائی مٹ جائے اور لوگوں سے خلق و مروت کے ساتھ پیش آیا کر۔ پھر فرماتا ہے کہ یہ چاروں کام کرلینے سے تم اپنے مقصد میں کامیاب اور بامراد ہوجاؤ گے دنیا اور آخرت میں فلاح و نجات پالو گے۔ حضرت محمد بن کعب قرظی ؒ فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ اللہ فرماتا ہے تم میرا لحاظ رکھو میرے خوف سے کانپتے رہو مجھ سے ڈرتے رہو میرے اور اپنے معاملہ میں متقی رہو تو کل جبکہ تم مجھ سے ملو گے نجات یافتہ اور بامراد ہوجاؤ گے۔
200
View Single
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ ٱصۡبِرُواْ وَصَابِرُواْ وَرَابِطُواْ وَٱتَّقُواْ ٱللَّهَ لَعَلَّكُمۡ تُفۡلِحُونَ
O People who Believe! Endure and surpass your enemies in endurance, and guard the frontiers of the Islamic nation; and keep fearing Allah, hoping that you may succeed.
اے ایمان والو! صبر کرو اور ثابت قدمی میں (دشمن سے بھی) زیادہ محنت کرو اور (جہاد کے لئے) خوب مستعد رہو، اور (ہمیشہ) اللہ کا تقوٰی قائم رکھو تاکہ تم کامیاب ہو سکو
Tafsir Ibn Kathir
The Condition of Some of the People of the Scriptures and their Rewards
Allah states that some of the People of the Book truly believe in Him and in what was sent down to Muhammad ﷺ, along with believing in the previously revealed Books, and they are obedient to Him and humble themselves before Allah.
لاَ يَشْتَرُونَ بِـَايَـتِ اللَّهِ ثَمَناً قَلِيلاً
(They do not sell the verses of Allah for a small price) 3:199, for they do not hide what they know of the glad tidings about the description of Muhammad ﷺ , his Prophethood, and the description of his Ummah. Indeed, these are the best people among the People of the Book, whether they were Jews or Christians. Allah said in Surat Al-Qasas,
الَّذِينَ ءَاتَيْنَـهُمُ الْكِتَـبَ مِن قَبْلِهِ هُم بِهِ يُؤْمِنُونَ وَإِذَا يُتْلَى عَلَيْهِمْ قَالُواْ ءَامَنَّا بِهِ إِنَّهُ الْحَقُّ مِن رَّبِّنَآ إنَّا كُنَّا مِن قَبْلِهِيُؤْتُونَ أَجْرَهُم مَّرَّتَيْنِ بِمَا صَبَرُواْ
(Those to whom We gave the Scripture before it, they believe in it (the Qur'an). And when it is recited to them, they say: "We believe in it. Verily, it is the truth from our Lord. Indeed even before it we were Muslims. These will be given their reward twice over, because they are patient,) 28:52-54. Allah said,
الَّذِينَ آتَيْنَـهُمُ الْكِتَـبَ يَتْلُونَهُ حَقَّ تِلاَوَتِهِ أُوْلَـئِكَ يُؤْمِنُونَ بِهِ
(Those to whom We gave the Book, recite it (follow it) as it should be recited (i.e. followed), they are the ones who believe therein.) 2:121,
وَمِن قَوْمِ مُوسَى أُمَّةٌ يَهْدُونَ بِالْحَقِّ وَبِهِ يَعْدِلُونَ
(And of the people of Musa there is a community who lead with truth and establish justice therewith.) 7:159,
لَيْسُواْ سَوَآءً مِّنْ أَهْلِ الْكِتَـبِ أُمَّةٌ قَآئِمَةٌ يَتْلُونَ ءَايَـتِ اللَّهِ ءَانَآءَ الَّيْلِ وَهُمْ يَسْجُدُونَ
(Not all of them are alike; a party of the people of the Scripture stand for the right, they recite the verses of Allah during the hours of the night, prostrating themselves in prayer.) 3:113, and,
قُلْ ءَامِنُواْ بِهِ أَوْ لاَ تُؤْمِنُواْ إِنَّ الَّذِينَ أُوتُواْ الْعِلْمَ مِن قَبْلِهِ إِذَا يُتْلَى عَلَيْهِمْ يَخِرُّونَ لِلاٌّذْقَانِ سُجَّدًا - وَيَقُولُونَ سُبْحَانَ رَبِّنَآ إِن كَانَ وَعْدُ رَبِّنَا لَمَفْعُولاً - وَيَخِرُّونَ لِلاٌّذْقَانِ يَبْكُونَ وَيَزِيدُهُمْ خُشُوعًا
(Say: "Believe in it (the Qur'an) or do not believe (in it). Verily, those who were given knowledge before it, when it is recited to them, fall down on their faces in humble prostration." And they say: "Glory be to our Lord! Truly, the promise of our Lord must be fulfillled." And they fall down on their faces weeping and it increases their humility.) 17:107- 109.
These qualities exist in some of the Jews, but only a few of them. For instance, less than ten Jewish rabbis embraced the Islamic faith, such as `Abdullah bin Salam. Many among the Christians, on the other hand, embraced the Islamic faith. Allah said,
لَتَجِدَنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَةً لِّلَّذِينَ ءَامَنُواْ الْيَهُودَ وَالَّذِينَ أَشْرَكُواْ وَلَتَجِدَنَّ أَقْرَبَهُمْ مَّوَدَّةً لِّلَّذِينَ ءَامَنُواْ الَّذِينَ قَالُواْ إِنَّا نَصَارَى
(Verily, you will find the strongest among men in enmity to the believers the Jews and those who commit Shirk, and you will find the nearest in love to the believers those who say: "We are Christians.") 5:82, until,
فَأَثَابَهُمُ اللَّهُ بِمَا قَالُواْ جَنَّـتٍ تَجْرِى مِن تَحْتِهَا الاٌّنْهَـرُ خَـلِدِينَ فِيهَا
(So because of what they said, Allah rewarded them Gardens under which rivers flow (in Paradise), they will abide therein forever) 5:85. In this Ayah,
Allah said,
أُوْلـئِكَ لَهُمْ أَجْرُهُمْ عِندَ رَبِّهِمْ
(for them is a reward with their Lord) 3:199.
When Ja`far bin Abi Talib recited Surah Maryam chapter 19 to An-Najashi, King of Ethiopia, in the presence of Christian priests and patriarchs, he and they cried until their beards became wet from crying. The Two Sahihs record that when An-Najashi died, the Prophet conveyed the news to his Companions and said,
«إِنَّ أَخًا لَكُمْ بِالْحَبَشَةِ قَدْ مَاتَ، فَصَلُّوا عَلَيْه»
(A brother of yours from Ethiopia has passed, come to offer the funeral prayer.) He went out with the Companions to the Musalla lined them up in rows, and after that led the prayer.
Ibn Abi Najih narrated that Mujahid said that,
وَإِن مِّنْ أَهْلِ الْكِتَـبِ
(And there are, certainly, among the People of the Scripture), refers to those among them who embraced Islam. `Abbad bin Mansur said that he asked Al-Hasan Al-Basri about Allah's statement,
وَإِنَّ مِنْ أَهْلِ الْكِتَـبِ لَمَن يُؤْمِنُ بِاللَّهِ
(And there are, certainly, among the People of the Scripture, those who believe in Allah).
Al-Hasan said, "They are the People of the Book, before Muhammad was sent, who believed in Muhammad and recognized Islam. Allah gave them a double reward, for the faith that they had before Muhammad , and for believing in Muhammad (after he was sent as Prophet)." Ibn Abi Hatim recorded both of these statements. The Two Sahihs record that Abu Musa said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«ثَلَاثَةٌ يُؤْتَوْنَ أَجْرَهُمْ مَرَّتَيْن»
(Three persons will acquire a double reward. )
He mentioned among them,
«وَرَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ آمَنَ بِنَبِيِّهِ وَآمَنَ بِي»
(A person from among the People of the Book who believed in his Prophet and in me.)
Allah's statement,
لاَ يَشْتَرُونَ بِـَايَـتِ اللَّهِ ثَمَناً قَلِيلاً
(They do not sell the verses of Allah for a small price), means, they do not hide the knowledge that they have, as the cursed ones among them have done. Rather, they share the knowledge without a price, and this is why Allah said,
أُوْلـئِكَ لَهُمْ أَجْرُهُمْ عِندَ رَبِّهِمْ إِنَّ اللَّهَ سَرِيعُ الْحِسَابِ
(for them is a reward with their Lord. surely, Allah is Swift in account.)
Mujahid commented on the verse,
سَرِيعُ الْحِسَابِ
((Surely, Allah is) swift in account), "He is swift in reckoning," as Ibn Abi Hatim and others have recorded from him.
The Command for Patience and Ribat
Allah said,
يَـأَيُّهَا الَّذِينَ ءَامَنُواْ اصْبِرُواْ وَصَابِرُواْ وَرَابِطُواْ
(O you who believe! Endure and be more patient, and Rabitu) 3:200.
Al-Hasan Al-Basri said, "The believers are commanded to be patient in the religion that Allah chose for them, Islam. They are not allowed to abandon it in times of comfort or hardship, ease or calamity, until they die as Muslims. They are also commanded to endure against their enemies, those who hid the truth about their religion." Similar explanation given by several other scholars among the Salaf.
As for Murabatah, it is to endure in acts of worship and perseverence. It also means to await prayer after prayer, as Ibn `Abbas, Sahl bin Hanif and Muhammad bin Ka`b Al-Qurazi stated. Ibn Abi Hatim collected a Hadith that was also collected by Muslim and An-Nasa'i from Abu Hurayrah that the Prophet said,
«أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِمَا يَمْحُو اللهُ بِهِ الْخَطَايَا، وَيَرْفَعُ بِهِ الدَّرَجَاتِ؟ إِسْباغُ الوُضُوءِ عَلَى الْمَكَارِهِ، وَكَثْرَةُ الْخُطَا إِلَى الْمَسَاجِدِ، وَانْتِظَارُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصَّلَاةِ، فَذلِكُمُ الرِّبَاطُ، فَذلِكُمُ الرِّبَاطُ، فَذلِكُمُ الرِّبَاط»
(Should I tell you about actions with which Allah forgives sins and raises the grade Performing perfect ablution in unfavorable conditions, the many steps one takes to the Masajid, and awaiting prayer after the prayer, for this is the Ribat, this is the Ribat, this is the Ribat.)
They also say that the Murabatah in the above Ayah refers to battles against the enemy, and manning Muslim outposts to protect them from enemy incursions inside Muslim territory. There are several Hadiths that encourage Murabatah and mention its rewards. Al-Bukhari recorded that Sahl bin Sa`d As-Sa`idi said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«رِبَاطُ يَوْمٍ فِي سَبِيلِ اللهِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا عَلَيْهَا»
(A Day of Ribat in the cause of Allah is better than this life and all that is in it.)
Muslim recorded that Salman Al-Farisi said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«رِبَاطُ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ خَيْرٌ مِنْ صِيَامِ شَهْرٍ وَقِيامِهِ، وَإِنْ مَاتَ جَرَى عَلَيْهِ عَمَلُهُ الَّذِي كَانَ يَعْمَـــــــلُهُ، وَأُجْرِيَ عَلَيْهِ رِزْقُــــهُ، وَأَمِنَ الْفَتَّان»
(Ribat for a day and a night is better than fasting the days of a month and its Qiyam (voluntary prayer at night). If one dies in Ribat, his regular righteous deeds that he used to perform will keep being added to his account, and he will receive his provision, and will be saved from the trials of the grave.)
Imam Ahmad recorded that Fadalah bin `Ubayd said that he heard the Messenger of Allah ﷺ saying,
«كُلُّ مَيِّتٍ يُخْتَمُ عَلى عَمَلِهِ إِلَّا الَّذِي مَاتَ مُرَابِطًا فِي سَبِيل اللهِ،فَإِنَّهُ يَنْمِي لَهُ عَمَلُهُ إِلى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَيَأْمَنُ فِتْنَةَ الْقَبْر»
(Every dead person will have his record of deeds sealed, except for whoever dies while in Ribat in the cause of Allah, for his work will keep increasing until the Day of Resurrection, and he will be safe from the trial of the grave.)
This is the same narration collected by Abu Dawud and At-Tirmidhi, who said, "Hasan Sahih". Ibn Hibban also collected this Hadith in his Sahih. fAt-Tirmidhi recorded that Ibn `Abbas said that he heard the Messenger of Allah ﷺ saying,
«عَيْنَانِ لَا تَمَسُّهُمَا النَّارُ: عَيْنٌ بَكَتْ مِنْ خَشْيَةِ اللهِ، وَعَيْنٌ بَاتَتْ تَحْرُسُ فِي سَبِيلِ الله»
(Two eyes shall not be touched by the Fire: an eye that cried for fear from Allah and an eye that spent the night guarding in Allah's cause.)
Al-Bukhari recorded in his Sahih that Abu Hurayrah said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«تَعِسَ عَبْدُالدِّينَارِ وَعَبْدُالدِّرْهَمِ وَعَبْدُالْخَمِيصَةِ، إِنْ أُعْطِيَ رَضِيَ، وَإِنْ لَمْ يُعْطَ سَخِطَ، تَعِسَ وَانْتَكَسَ، وَإِذَا شِيكَ فَلَا انْتَقَشَ، طُوبَى لِعَبْدٍ آخِذٍ بِعِنَانِ فَرَسِهِ فِي سَبِيلِ اللهِ، أَشْعَثَ رَأْسُهُ، مُغْبَرَّةٍ قَدَمَاهُ، إِنْ كَانَ فِي الْحِرَاسَةِ كَانَ فِي الْحِرَاسَةِ، وَإِنْ كَانَ فِي السَّاقَةِ كَانَ فِي السَّاقَةِ، إِنِ اسْتَأْذَنَ لَمْ يُؤْذَنْ لَهُ، وَإِنْ شَفَعَ لَمْ يُشَفَّع»
(Let the servant of the Dinar, the servant of the Dirham and the servant of the Khamisah (of clothes) perish, as he is pleased if these things are given to him, and if not, he is displeased. Let such a person perish and be humiliated, and if he is pierced with a thorn, let him not find anyone to take it out for him. Paradise is for him who holds the reins of his horse, striving in Allah's cause, with his hair unkempt and feet covered with dust: if he is appointed to the vanguard, he is perfectly satisfied with his post of guarding, and if he is appointed in the rearguard, he accepts his post with satisfaction; if he asks for permission he is not permitted, and if he intercedes, his intercession is not accepted.)
Ibn Jarir recorded that Zayd bin Aslam said, "Abu `Ubaydah wrote to `Umar bin Al-Khattab and mentioned to him that the Romans were mobilizing their forces. `Umar wrote back, `Allah will soon turn whatever hardship a believing servant suffers, to ease, and no hardship shall ever overcome two types of ease. Allah says in His Book,
يَـأَيُّهَا الَّذِينَ ءَامَنُواْ اصْبِرُواْ وَصَابِرُواْ وَرَابِطُواْ وَاتَّقُواْ اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ
(O you who believe! Endure and be more patient, and Rabitu, and have Taqwa of Allah, so that you may be successful)' 3:200."
Al-Hafiz Ibn `Asakir mentioned in the biography of `Abdullah bin Al-Mubarak, that Muhammad bin Ibrahim bin Abi Sakinah said, "While in the area of Tarsus, `Abdullah bin Al-Mubarak dictated this poem to me when I was greeting him goodbye. He sent the poem with me to Al-Fudayl bin `Iyad in the year one hundred and seventy, `O he who worships in the vicinity of the Two Holy Masjids! If you but see us, you will realize that you are only jesting in worship. He who brings wetness to his cheek with his tears, should know that our necks are being wet by our blood. He who tires his horses without purpose, know that our horses are getting tired in battle. Scent of perfume is yours, while our scent is the glimmer of spears and the stench of dust in battle. We were narrated about in the speech of our Prophet, an authentic statement that never lies. That the dust that erupts by Allah's horses and which fills the nostrils of a man shall never be combined with the smoke of a raging Fire. This, the Book of Allah speaks among us that the martyr is not dead, and the truth in Allah's Book cannot be denied.' I met Al-Fudayl Ibn `Iyad in the Sacred Masjid and gave him the letter. When he read it, his eyes became tearful and he said, `Abu `Abdur-Rahman (`Abdullah bin Al-Mubarak) has said the truth and offered sincere advice to me.' He then asked me, `Do you write the Hadith' I said, `Yes.' He said, `Write this Hadith as reward for delivering the letter of Abu `Abdur-Rahman to me. He then dictated, `Mansur bin Al-Mu`tamir narrated to us that Abu Salih narrated from Abu Hurayrah that a man asked, `O Messenger of Allah! Teach me a good deed that will earn me the reward of the Mujahidin in Allah's cause.' The Prophet said,
«هَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تُصَلِّيَ فَلَا تَفْتُرَ،وَتَصُومَ فَلَا تُفْطِرَ؟»
(Are you able to pray continuously and fast without breaking the fast) The man said, `O Messenger of Allah! I cannot bear it.' The Prophet said,
«فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ طُوِّقْتَ ذلِكَ مَا بَلَغْتَ الْمُجَاهِدِينَ فِي سَبِيلِ اللهِ، أَوَ مَا عَلِمْتَ أَنَّ فَرَسَ الْمُجَاهِدِ لَيَسْتَنُّ فِي طِوَلِهِ، فَيُكْتَبُ لَهُ بِذلِكَ الْحَسَنَات»
(By He in Whose Hand is my soul! Even if you were able to do it, you will not achieve the grade of the Mujahidin in Allah's cause. Did you not know that the horse of the Mujahid earns rewards for him as long as it lives.)
Allah said next,
وَاتَّقُواْ اللَّهَ
(and have Taqwa of Allah), concerning all your affairs and situations. For instance, the Prophet said to Mu`adh when he sent him to Yemen,
«اتَّقِ اللهَ حَيْثُمَا كُنْتَ، وَأَتْبِعِ السَّيِّـئَــةَ الْحَسَنَةَ تَمْحُهَا، وَخَالِقِ النَّاسَ بِخُلُقٍ حَسَن»
(Have Taqwa of Allah wherever you may be, follow the evil deed with a good deed and it will erase it, and deal with people in a good manner.)
Allah said next,
لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ
(so that you may be successful.), in this life and the Hereafter. Ibn Jarir recorded that Muhammad bin Ka`b Al-Qurazi said that, Allah's statement,
وَاتَّقُواْ اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ
(and have Taqwa of Allah, so that you may be successful.) means, "Fear Me concerning what is between you and Me, so that you may acquire success when you meet Me tomorrow."
The Tafsir of Surah Al `Imran ends here, all praise is due to Allah, and we ask Him that we die while on the path of the Qur'an and Sunnah, Amin.
ایمان والوں اور مجاہدین کے قابل رشک اعزاز اللہ تعالیٰ اہل کتاب کے اس فرقے کی تعریف کرتا ہے جو پورے ایمان والا ہے قرآن کریم کو بھی مانتا ہے اور اپنے نبی کی کتاب پر بھی ایمان رکھتا ہے اللہ تعالیٰ کا ڈر دل میں رکھ کر اللہ تعالیٰ فرمانوں کی بجا آوری میں نہایت تندہی کے ساتھ مشغول ہے رب کے سامنے عاجزی اور گریہ وزاری کرتا رہتا ہے پیغمبر آخر الزمان ﷺ کے جو پاک اوصاف اور صاف نشانیاں ان کی کتابوں میں ہیں اسے دنیا کے بدلے چھپاتا نہیں بلکہ ہر ایک کو بتاتا ہے اور آپ ﷺ کی رسالت کو مان لینے کی رغبت دلاتا ہے۔ ایسی جماعت اللہ تعالیٰ کے پاس اجر پائے گی خواہ وہ یہودیوں کی ہو خواہ نصرانیوں کی، سورة قصص میں یہ مضمون اس طرح بیان ہوا ہے آیت (اَلَّذِيْنَ اٰتَيْنٰهُمُ الْكِتٰبَ يَعْرِفُوْنَهٗ كَمَا يَعْرِفُوْنَ اَبْنَاۗءَهُمْ ۘ اَلَّذِيْنَ خَسِرُوْٓا اَنْفُسَهُمْ فَهُمْ لَا يُؤْمِنُوْنَ) 6۔ الانعام :20) جنہیں ہم نے اس سے پہلے کتاب دے رکھی ہے وہ اس پر بھی ایمان لاتے ہیں اور جب یہ کتاب ان کے سامنے پڑھی جاتی ہے تو صاف کہ دیتے ہیں کہ ہم اس پر ایمان لائے یہ برحق کتاب ہمارے رب کی ہے ہم تو پہلے سے ہی اسے مانتے تھے انہیں انکے صبر کا دوہرا اجر دیا جائے گا اور جگہ ہے جنہیں ہم نے کتاب دی اور جسے وہ اسے صحیح طور پر پڑھتے ہیں وہ تو اس قرآن پر بھی فوراً ایمان لاتے ہیں اور جگہ ارشاد ہے آیت (وَمِنْ قَوْمِ مُوْسٰٓي اُمَّةٌ يَّهْدُوْنَ بالْحَقِّ وَبِهٖ يَعْدِلُوْنَ) 7۔ الاعراف :159) حضرت موسیٰ کی قوم میں سے بھی ایک جماعت حق کی ہدایت کرنے والی اور حق کے ساتھ عدل کرنے والی ہے دوسرے مقام پر بیان ہے آیت (لَيْسُوْا سَوَاۗءً ۭ مِنْ اَھْلِ الْكِتٰبِ اُمَّةٌ قَاۗىِٕمَةٌ يَّتْلُوْنَ اٰيٰتِ اللّٰهِ اٰنَاۗءَ الَّيْلِ وَھُمْ يَسْجُدُوْنَ) 3۔ آل عمران :113) یعنی اہل کتاب سب یکساں نہیں ان میں ایک جماعت راتوں کے وقت بھی اللہ کی کتاب پڑھنے والی ہے اور سجدے کرنے والی اور جگہ ہے اے نبی ﷺ تم کہو کہ لوگوں تم ایمان لاؤ یا نہ لاؤ جنہیں پہلے سے علم دیا گیا ہے جب ان کے سامنے اس کلام مجید کی آیتیں تلاوت کی جاتی ہے تو وہ اپنے چہروں کے بل سجدے میں گرپڑتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمارا رب پاک ہے یقینا اس کا وعدہ سچا ہے اور سچا ہو کر رہنے والا ہے یہ لوگ روتے ہوئے منہ کے بل گرتے ہیں اور خشوع و خضوع میں بڑھ جاتے ہیں یہ صفتیں یہودیوں میں پائی گئیں گو بہت کم لوگ ایسے تھے مثلاً حضرت عبداللہ بن سلام اور آپ ہی جیسے اور جگہ ہے آیت (لَتَجِدَنَّ اَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَةً لِّلَّذِيْنَ اٰمَنُوا الْيَھُوْدَ وَالَّذِيْنَ اَشْرَكُوْا) 5۔ المائدہ :82) اسے خالدین فیھا آخر آیت تک، مطلب یہ ہے کہ ایمان والوں سے عداوت اور دشمنی رکھنے میں سب سے زیادہ بڑھے ہوئے یہود ہیں اور مشرک اور ایمان والوں سے محبت رکھنے میں پیش پیش نصرانی ہیں، اب فرماتا ہے ایسے لوگ اللہ تعالیٰ کے ہاں اجر عظیم کے مستحق ہیں، حدیث میں یہ بھی آچکا ہے کہ حضرت جعفر بن ابو طالب نے جب سورة مریم کی تلاوت شاہ نجاشی کے دربار میں بادشاہ اراکین سلطت اور علماء نصاریٰ کے سامنے کی اور اس میں آپ پر رقت طاری ہوئی تو سب حاضرین دربار مع بادشاہ رو دیئے اور اس قدر متاثر ہوئے کہ روتے روتے ان کی داڑھیاں تر ہوگئیں، صحیح بخاری مسلم میں ہے کہ نجاشی کے انتقال کی خبر رسول اللہ ﷺ نے اپنے اصحاب کو دی اور فرمایا کہ تمہارا بھائی حبشہ میں انتقال کر گیا ہے اور اس کے جنازے کی نماز ادا کرو اور میدان میں جا کر صحابہ کی صفیں مرتب کر کے آپ نے ان کے جنازے کی نماز ادا کی۔ ابن مردویہ میں ہے کہ جب نجاشی فوت ہوئے تو حضور ﷺ نے فرمایا اپنے بھائی کیلئے استغفار کرو تو بعض لوگوں نے کہا دیکھئے حضور ﷺ ہمیں اس نصرانی کیلئے استغفار کرنے کا حکم دیتے ہیں جو حبشہ میں مرا ہے اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ گویا اس کے مسلمان ہونے شہادت قرآن کریم نے دی، ابن جریر میں ہے کہ ان کی موت کی خبر حضور ﷺ نے دی کہ تمہارا بھائی اصحمہ انتقال کر گیا ہے پھر حضور ﷺ باہر نکلے اور جس طرح جنازے کی نماز پڑھاتے تھے اسی طرح چار تکبیروں سے نماز جنازہ پڑھائی اس پر منافقوں نے وہ اعتراض کیا اور یہ آیت اتری ابو داؤد میں ہے حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ نجاشی کے انتقال کے بعد ہم یہی سنتے رہے کہ ان کی قبر پر نور دیکھا جاتا ہے، مستدرک حاکم میں ہے کہ نجاشی کا ایک دشمن اس کی سلطنت پر حملہ آور ہوا تو مہاجرین نے کہا کہ آپ اس سے مقابلہ کرنے کیلئے چلئے ہم بھی آپ کے ساتھ ہیں آپ ہماری بہادری کے جوہر دیکھ لیں گے اور جو حسن سلوک آپ نے ہمارے ساتھ کیا ہے اس کا بدلہ بھی اتر جائے گا لیکن نجاشی ؒ نے فرمایا کہ آپ لوگوں کی امداد کے ساتھ بچاؤ کرنے سے اللہ کی امداد کا بچاؤ بہتر ہے اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔ حضرت مجاہد ؒ فرماتے ہیں اس سے مراد اہل کتاب کے مسلمان لوگ ہیں، حضرت حسن بصری فرماتے ہیں اس سے مراد وہ اہل کتاب ہیں جو حضور ﷺ سے پہلے تھے اسلام کو پہچانتے تھے اور حضور ﷺ کی تابعداری کا بھی شرف انہیں حاصل ہوا تو انہیں اجر بھی دوہرا ملا ایک تو حضور ﷺ سے پہلے کے ایمان کا دوسرا اجر آپ پر ایمان لانے کا، بخاری مسلم میں حضرت ابو موسیٰ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تین قسم کے لوگوں کو دوہرا اجر ملتا ہے جن میں سے ایک اہل کتاب کا وہ شخص ہے جو اپنے نبی پر ایمان لایا اور مجھ پر ایمان لایا اور باقی دو کو بھی ذکر کیا، اللہ کی آیتوں کو تھوڑی قیمت پر نہیں بیچتے یعنی اپنے پاس علمی باتوں کو چھپاتے نہیں جیسے کہ ان میں سے ایک رزیل جماعت کا شیوہ تھا بلکہ یہ لوگ تو اسے پھیلاتے اور خوب ظاہر کرتے ہیں ان کا بدلہ ان کے رب کے پاس ہے اللہ تعالیٰ جلد حساب لینے والا ہے یعنی جلد سمیٹنے اور گھیرنے اور شمار کرنے والا ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ اسلام جیسے میری پسندیدہ دین پر جمے رہو شدت اور نرمی کے وقت مصیبت اور راحت کے وقت غرض کسی حال میں بھی اسے نہ چھوڑو یہاں تک کہ دم نکلے تو اسی پر نکلے اور اپنے ان دشمنوں سے بھی صبر سے کام لو جو اپنے دین کو چھپاتے ہیں امام حسن بصری وغیرہ علماء سلف نے یہی تفسیر بیان فرمائی ہے مرابطہ کہتے ہیں عبادت کی جگہ میں ہمیشگی کرنے کو اور ثابت قدمی سے جم جانے کو اور کہا گیا ہے ایک نماز کے بعد دوسری نماز کے انتظار کو یہی قوم ہے حضرت عبداللہ بن عباس سہل بن حنیف اور محمد بن کعب قرضی کا صحیح مسلم شریف اور نسائی میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں آؤ میں تمہیں بتاؤں کہ کس چیز سے اللہ تعالیٰ گناہوں کو مٹا دیتا ہے اور درجوں کو بڑھاتا ہے، تکلیف ہوتے ہوتے بھی کامل وضو کرنا دور سے چل کر مسجدوں میں آنا ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا یہی رباط ہے یہی مرابط ہے یہی اللہ تعالیٰ کی راہ کی مستعدی ہے، ابن مردویہ میں ہے کہ ابو سلمہ سے ایک دن حضرت ابوہریرہ نے پوچھا اے میرے بھتیجے جانتے ہو اس آیت کا شان نزول کیا ہے ؟ انہوں نے کہا مجھے معلوم نہیں آپ نے فرمایا سنو اس وقت کوئی غزوہ نہ تھا یہ آیت ان لوگوں کے حق میں نازل ہوئی ہے جو مسجدوں کو آباد رکھتی تھی اور نمازوں کو ٹھیک وقت پر ادا کرتے تھے پھر اللہ کا ذکر کرتے تھے انہیں یہ حکم دیا جاتا ہے کہ تم پانچوں نمازوں پر جمے رہو اور اپنے نفس کو اور اپنی خواہش کو روکے رکھو اور مسجدوں میں بسیرا کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو۔ یہی اعمال موجب ایمان ہیں، ابن جریر کی حدیث میں ہے کیا میں تمہیں وہ اعمال نہ بتاؤں جو گناہوں کا کفارہ ہوجاتے ہیں ناپسندیدگی کے وقت کامل وضو کرنا اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا تمہاری مستعدی اسی میں ہونی چاہئے اور حدیث میں زیادہ قدم رکھ کر چل کر مسجد میں آنا بھی ہے، اور روایت میں ہے کہ گناہوں کی معافی کے ساتھ ہی درجے بھی ان اعمال سے بڑھتے رہتے ہیں اور یہی اس آیت کا مطلب ہے لیکن یہ حدیث بالکل غریب ہے، ابو سلمہ بن عبدالرحمن فرماتے ہیں یہاں " رابطوا " سے مطلب انتظار نماز ہے، لیکن اوپر بیان ہوچکا ہے کہ یہ فرمان حضرت ابوہریرہ کا ہے واللہ اعلم۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ " رابطوا " سے مراد دشمن سے جہاد کرنا اسلامی ملک کی حدود کی نگہبانی کرنا اور دشمنوں کو اسلامی شہروں میں نہ گھسنے دینا ہے اس کی ترغیب میں بھی بہت سی حدیثیں ہیں اور اس پر بھی بڑے ثواب کا وعدہ ہے، صحیح بخاری شریف میں ہے ایک دن کی یہ تیاری ساری دنیا سے اور جو اس میں ہے سب سے افضل ہے، مسلم شریف کی حدیث میں ہے ایک دن رات کی جہاد کی تیاری ایک ماہ کے کامل روزوں اور ایک ماہ کی تمام شب بیداری سے افضل ہے اور اسی تیاری کی حالت میں موت آجائے تو جتنے اعمال صالحہ کرتا تھا سب کا ثواب پہنچتا رہتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے پاس سے روزی پہنچائی جاتی ہے اور فتنوں سے امن پاتا ہے، مسند احمد میں ہے ہر مرنے والے کے اعمال ختم ہوجاتے ہیں مگر جو شخص اللہ تعالیٰ کی راہ کی تیاری میں ہو اور اسی حالت میں مرجائے اس کا عمل قیامت تک بڑھتا رہتا ہے اور اسے فتنہ قبر سے نجات ملتی ہے ابن ماجہ کی روایت میں یہ بھی ہے کہ قیامت کے دن اسے امن ملے گا، مسند کی اور حدیث میں ہے اسے صبح شام جنت سے روزی پہنچائی جاتی ہے اور قیامت تک اس کے مرابط کا اجر ملتا رہتا ہے، مسند احمد میں ہے جو شخص مسلمانوں کی سرحد کے کسی کنارے پر تین دن تیاری میں گزارے اسے سال بھر تک کی اور جگہ کی اس اس تیاری کا اجر ملتا ہے، امیر المومنین حضرت عثمان بن عفان نے اپنے منبر پر خطبہ پڑھتے ہوئے ایک مرتبہ فرمایا میں تمہیں رسول اللہ ﷺ سے اپنی سنی ہوئی بات سناتا ہوں میں نے اب تک ایک خاص خیال سے اسے نہیں سنایا آپ نے فرمایا ہے اللہ جل شانہ کی راہ میں ایک رات کا پہرہ ایک ہزار راتوں کی عبادت سے افضل ہے جو تمام راتیں قیام میں اور تمام دن صیام میں گزارے جائیں۔ دوسری روایت میں اس حدیث کو اب تک بیان نہ کرنے کی وجہ خلیفہ رسول ﷺ نے یہ بیان فرمائی ہے کہ مجھے ڈر تھا کہ اس فضیلت کے حاصل کرنے کیلئے کہیں تم سب مدینہ چھوڑ کر میدان جنگ میں نہ چل دو اب میں سنا دیتا ہوں ہر شخص کو اختیار ہے کہ جو بات اپنے لئے پسند کرتا ہے اس کا پابند ہوجائے دوسری روایت میں یہ بھی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کی بات پہنچا دی لوگوں نے کہا ہاں آپ نے فرمایا اے جناب باری تعالیٰ تو گواہ رہ، ترمذی شریف میں ہے کہ حضرت شرحبیل بن سمط محافظت سرحد میں تھے اور زمانہ زیادہ گزر جانے کے بعد کچھ تنگ دل ہو رہے تھے کہ حضرت سلمان فارسی ان کے پاس پہنچے اور فرمایا آؤ میں تجھے پیغمبر ﷺ کی ایک حدیث سناؤں آپ نے فرمایا ہے ایک دن سرحد کی حفاظت ایک مہینہ کے صیام و قیام سے افضل ہے اور جو اسی حالت میں مرجائے وہ فتنہ قبر سے محفوظ رہتا ہے اور اس کے اعمال قیامت تک جاری رہتے ہیں۔ ابن ماجہ میں ہے کہ ایک رات اللہ تعالیٰ کی راہ میں پہرہ دینا تاکہ مسلمان امن سے رہیں ہاں نیت نیک ہو گو وہ رات رمضان کی نہ ہو ایک سو سال کی عبادت سے افضل ہے جس کے دن روزے میں اور جس کی راتیں تہجد میں گزری ہوں اور ایک دن کی رب العزت کی راہ میں تیاری تاکہ مسلمان باحفاظت رہیں طلب ثواب کی نیت سے ماہ رمضان کے بغیر اللہ کے نزدیک ایک ہزار سال کے روزوں اور تہجد سے افضل ہے، مسلمان باحفاظت رہیں طلب ثواب کی نیت سے ماہ رمضان کے بغیر اللہ کے نزدیک ایک ہزار سال کی برائیاں اس کے نامہ اعمال میں نہیں لکھی جائیں گی اور نیکیاں لکھی جائیں گی اور اس مرابط کا اجر قیامت تک اسے ملتا رہے گا یہ حدیث غریب ہے بلکہ منکر ہے اس کے ایک راوی عمرو بن صبح متہم ہیں، ابن ماجہ کی ایک اور غریب حدیث میں ہے کہ ایک رات کی مسلم لشکر کی چوکیداری ایک ہزار سال کی راتوں کے قیام اور دنوں کے صیام سے افضل ہے ہر سال کے تین سو ساٹھ دن اور ہر دن مثل ایک ہزار سال کے اس کے راوی سعید بن خالد کو ابو زرعہ وغیرہ ہیں ائمہ نے اسے ضعیف کہا ہے بلکہ امام حاکم فرماتے ہیں اس کی روایت سے موضع حدیثیں بھی ہیں، ایک منقطع حدیث میں ہے لشکر اسلام کے چوکیدار پر اللہ تعالیٰ کا رحم ہو (ابن ماجہ) حضرت سہل بن حنظلہ فرماتے ہیں کہ حنین والے دن ہم رسول کریم ﷺ کے ساتھ چلے شام کی نماز میں نے حضور ﷺ کے ساتھ ادا کی اتنے میں ایک گھوڑا سوار آیا اور کہا یا رسول اللہ ﷺ میں آگے نکل گیا تھا اور فلاں پہاڑ پر چڑھ کر میں نے نگاہ ڈالی تو دیکھا کہ قبیلہ ہوازن کے لوگ میدان میں جمع ہوگئے ہیں یہاں تک کہ ان کی اونٹنیاں، بکریاں، عورتیں اور بچے بھی ساتھ ہیں حضور ﷺ مسکرائے اور فرمایا انشاء اللہ یہ سب کل مسلمانوں کی مال غنیمت ہوگا پھر فرمایا بتاؤ آج کی رات پہرہ کون دے گا ؟ حضرت انس بن ابو مرثد نے کہا یا رسول اللہ ﷺ میں حاضر ہوں آپ نے فرمایا جاؤ سواری لے کر آؤ وہ اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر حاضر ہوئے آپ ﷺ نے فرمایا اس گھاٹی پر چلے جاؤ اور اس پہاڑی کی چوٹی پر چڑھ جاؤ خبردار تمہاری طرف سے ان کے ساتھ کوئی چھیڑ چھاڑ صبح تک نہ ہو، صبح جس وقت نماز کیلئے حضور ﷺ تشریف لائے دو سنتیں ادا کیں اور لوگوں سے پوچھا کہو تمہارے پہرے دار سوار کی تو کوئی آہٹ نہیں سنی لوگوں نے کہا نہیں یا رسول اللہ ﷺ ، اب تکبیر کہی گئی اور آپ نے نماز شروع کی آپ کا خیال اسی گھاٹی کی طرف تھا نماز سے سلام پھیرتے ہی آپ نے فرمایا خوش ہوجاؤ تمہارا گھوڑے سوار آ رہا ہے ہم نے جھاڑیوں میں جھانک کر دیکھا تو تھوڑی دیر میں ہمیں بھی دکھائی دے گئے آ کر حضور ﷺ سے کہا یا رسول اللہ ﷺ میں اس وادی کے اوپر کے حصے پر پہنچ گیا اور ارشاد کے مطابق وہیں رات گزاری صبح میں نے دوسری گھاٹی بھی دیکھ ڈالی لیکن وہاں بھی کوئی نہیں آپ ﷺ نے فرمایا کیا رات کو وہاں سے تم نیچے بھی اترے تھے، جواب دیا نہیں صرف نماز کیلئے اور قضاء حاجت کیلئے تو نیچے اترا تھا آپ ﷺ نے فرمایا تم نے اپنے لئے جنت واجب کرلی اب تم اس کے بعد کوئی عمل نہ کرو تو بھی تم پر کوئی حرج نہیں، (ابو داؤد و نسائی) مسند احمد میں ہے ایک غزوہ کے موقعہ پر ایک رات کو ہم بلند جگہ پر تھے اور سخت سردی تھی یہاں تک کہ لوگ زمین میں گڑھے کھود کھود کر اپنے اوپر ڈھالیں لے لے کر پڑے ہوئے تھے آنحضرت ﷺ نے اس وقت آواز دی کہ کوئی ہے جو آج کی رات ہماری چوکیداری کرے اور مجھ سے بہترین دعا لے تو ایک انصاری کھڑا ہوگیا اور کہا حضور ﷺ میں تیار ہوں آپ نے اسے پاس بلا کر نام دریافت کر کے اس کے لئے بہت دعا کی ابو ریحانہ یہ دعائیں سن کر آگے بڑھے اور کہنے لگے یارسول اللہ ﷺ میں بھی پہرہ دوں گا آپ نے مجھے بھی پاس بلا لیا اور نام پوچھ کر میرے لئے بھی دعائیں کیں لیکن اس انصاری صحابی ؓ سے یہ دعا کم تھی پھر آپ نے فرمایا اس آنکھ پر جہنم کی آنچ حرام ہے جو اللہ کے ڈر سے روئے اور اس آنکھ پر بھی جو راہ اللہ میں شب بیداری کرے، مسند حمد میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جو شخص مسلمانوں کے پیچھے سے ان کا پہرہ دے اپنی خوشی سے بغیر سلطان کی اجرت و تنخواہ کے وہ اپنی آنکھوں سے بھی جہنم کی آگ کو نہ دیکھے گا مگر صرف قسم پوری ہونے کے لئے جو اس آیت میں ہے آیت (وان منکم الا واردھا) یعنی تم سب اس پر وارد ہوگئے، صحیح بخاری میں ہے دینار کا بندہ برباد ہوا اور کپڑوں کا بندہ اگر مال دیا جائے تو خوش ہے اور اگر نہ دیا جائے تو ناخوش ہے، یہ بھی برباد ہوا اور خراب ہوا اگر اسے کانٹا چبھ جائے تو نکالنے کی کوشش بھی نہ کی جائے خوش نصیب ہوا اور پھلا خوب پھولا وہ شخص جو اللہ کی راہ میں جہاد کے لئے اپنے گھوڑے کی لگام تھامے ہوئے ہے بکھرے ہوئے بال ہیں اور گرد آلود قدم ہیں اگر چوکیداری پر مقرر کردیا گیا ہے تو چوکیدارہ کر رہا ہے اور اگر لشکر کے اگلے حصے میں مقرر کردیا گیا ہے تو وہیں خوش ہے لوگوں کی نظروں میں اتنا گرا پڑا ہے کہ اگر کہیں جانا چاہے تو اجازت نہ ملے اور اگر کسی کی سفارش کرے تو قبول نہ ہو، الحمد اللہ اس آیت کے متعلق خاصی حدیثیں بیان ہوگئیں اللہ تعالیٰ کے اس فضل و کرم پر ہم اس کا شکر ادا کرتے ہیں اور شکر گزاری سے رہتی دنیا تک فارغ نہیں ہوسکتے۔ تفسیر ابن جریر میں ہے کہ حضرت ابو عبیدہ بن جراح ؓ نے امیر المومنین خلیفتہ المسلمین حضرت عمر بن خطاب ؓ کو میدان جنگ سے ایک خط لکھا اور اس میں رومیوں کی فوج کی کثرت ان کی آلات حرب کی حالت اور ان کی تیاریوں کی کیفیتیں بیان کی اور لکھا کہ سخت خطرہ کا موقعہ ہے، یہاں سے فاروق اعظم ؓ کا جواب گیا جس میں حمد و ثنا کے بعد تحریر تھا کہ کبھی کبھی مومن بندوں پر سختیاں بھی آجاتی ہیں لیکن اللہ تعالیٰ ان کے بعد آسانیاں بھیج دیتا ہے۔ سنو ایک سختی دو آسانیوں پر غالب نہیں آسکتی سنو پروردگار عالم کا فرمان ہے آیت (يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اصْبِرُوْا وَصَابِرُوْا وَرَابِطُوْا) 3۔ آل عمران :200) حضرت عبداللہ بن مبارک ؒ نے سن01700یا01707ھ میں شہر طرسوس میں حضرت محمد بن ابراہیم بن سکینہ کو جبکہ وہ ان کو وداع کرنے آئی تھی اور یہ جہاد کو جا رہے تھے یہ اشعار لکھوا کر حضرت فضیل بن عیاض ؒ کو بھجوائے یا عابد الحرمین لو ابصرتنا لعلمت انک فی العبادۃ تلعب من کان یخضب خدہ بلموعہ فنحورنا بلمائنا تتخضب من کان یتعب خلیہ فی باطل فنخیولنا یوم الصبیحتہ تتعب ریح العبیر لکم ونحن عبیرنا رھج السنابک والغبار الاطیب ولقد اتانا من مقال نبینا قول صحیح صادق لا یکذب لا یستوی غبار خیل اللہ فی انف امری ودخان نار تلھب ھذا کتاب اللہ ینطق بیننا لیس الشھید بمیت لا یکذب اے مکہ مدینہ میں رہ کر عبادت کرنے والے اگر تو ہم مجاہدین کو دیکھ لیتا تو بالیقین تجھے معلوم ہوجاتا کہ تیری عبادت تو ایک کھیل ہے، ایک وہ شخص ہے جس کے آنسو اس کے رخساروں کو تر کرتے ہیں اور ایک ہم ہیں جو اپنی گردن اللہ کی راہ میں کٹوا کر اپنے خون میں آپ نہا لیتے ہیں۔ ایک وہ شخص ہے جس کا گھوڑا باطل اور بیکار کام میں تھک جاتا ہے اور ہمارے گھوڑے حملے اور لڑائی کے دن ہی تھکتے ہیں۔ اگر کئ خوشبوئیں تمہارے لئے ہیں اور ہمارے لئے اگر کئ خوشبو گھوڑوں کے ٹاپوں کی خاک اور پاکیزہ گرد و غبار ہے۔ یقین مانو ہمیں نبی کریم ﷺ کی یہ حدیث پہنچ چکی ہے جو سراسر راستی اور درستی والی بالکل سچی ہے کہ جس کسی کے نام میں اس اللہ تعالیٰ کے لشکر کی گرد بھی پہنچ گئی اس کے ناک میں شعلے مارنے والی جہنم کی آگ کا دھواں بھی نہ جائے گا اور لو یہ ہے اللہ تعالیٰ کی پاک کتاب جو ہم میں موجود ہے اور صاف کہہ رہی ہے اور سچ کہہ رہی ہے کہ شہید مردہ نہیں۔ محمد بن ابراہیم فرماتے ہیں جب میں نے مسجد حرام میں پہنچ کر حضرت فضیل بن عیاض ؒ کو یہ اشعار دکھائے تو آپ پڑھ کر زار زار روئے اور فرمایا ابو عبدالرحمن نے اللہ تعالیٰ کی رحمتیں ان پر ہوں صحیح اور سچ فرمایا اور مجھے نصیحت نامہ میرے پاس لائے اس کے بدلے میں تمہیں ایک حدیث لکھواتا ہوں وہ یہ کہ رسول اللہ ﷺ سے ایک شخص نے درخواست کی کہ یا رسول اللہ ﷺ مجھے ایسا عمل بتائے جس سے میں مجاہد کا ثواب پالوں، آپ نے فرمایا کیا تجھ میں یہ طاقت ہے کہ نماز ہی پڑھتا رہے اور تھکے نہیں اور روزے رکھتا چلا جائے اور کبھی بےروزہ رہے اس نے کہا حضور ﷺ اس کی طاقت کہاں ؟ میں اس سے بہت ہی ضعیف ہوں آپ نے فرمایا اگر تجھ میں اتنی طاقت ہوتی اور تو ایسا کر بھی سکتا تو بھی مجاہد فی سبیل اللہ کے درجے کو نہ پہنچ سکتا، تو یہ بھی جانتا ہے کہ مجاہد کے گھوڑے کی رسی دراز ہوجائے اور وہ ادھر ادھر چر جائے تو اس پر بھی مجاہد کو نیکیاں ملتی ہیں۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ حکم دیتا ہے کہ اللہ سے ڈرتے رہو اور ہر حال میں ہر وقت ہر معاملہ میں اللہ کا خوف کیا کرو۔ جناب رسول اکرم حضرت محمد مصطفے ٰ ﷺ نے حضرت معاذ بن جبل ؓ کو جب یمن کی طرف بھیجا تو فرمایا اے معاذ جہاں بھی ہو اللہ کا خوف دل میں رکھ اور اگر تجھ سے کوئی برائی ہوجائے تو فوراً کوئی نیکی بھی کرلے تاکہ وہ برائی مٹ جائے اور لوگوں سے خلق و مروت کے ساتھ پیش آیا کر۔ پھر فرماتا ہے کہ یہ چاروں کام کرلینے سے تم اپنے مقصد میں کامیاب اور بامراد ہوجاؤ گے دنیا اور آخرت میں فلاح و نجات پالو گے۔ حضرت محمد بن کعب قرظی ؒ فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ اللہ فرماتا ہے تم میرا لحاظ رکھو میرے خوف سے کانپتے رہو مجھ سے ڈرتے رہو میرے اور اپنے معاملہ میں متقی رہو تو کل جبکہ تم مجھ سے ملو گے نجات یافتہ اور بامراد ہوجاؤ گے۔
Jump to Ayah
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
12
13
14
15
16
17
18
19
20
21
22
23
24
25
26
27
28
29
30
31
32
33
34
35
36
37
38
39
40
41
42
43
44
45
46
47
48
49
50
51
52
53
54
55
56
57
58
59
60
61
62
63
64
65
66
67
68
69
70
71
72
73
74
75
76
77
78
79
80
81
82
83
84
85
86
87
88
89
90
91
92
93
94
95
96
97
98
99
100
101
102
103
104
105
106
107
108
109
110
111
112
113
114
115
116
117
118
119
120
121
122
123
124
125
126
127
128
129
130
131
132
133
134
135
136
137
138
139
140
141
142
143
144
145
146
147
148
149
150
151
152
153
154
155
156
157
158
159
160
161
162
163
164
165
166
167
168
169
170
171
172
173
174
175
176
177
178
179
180
181
182
183
184
185
186
187
188
189
190
191
192
193
194
195
196
197
198
199
200