الحديد — Al hadid
Ayah 5 / 29 • Medinan
2,817
5
Al hadid
الحديد • Medinan
لَّهُۥ مُلۡكُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۚ وَإِلَى ٱللَّهِ تُرۡجَعُ ٱلۡأُمُورُ
For Him only is the kingship of the heavens and the earth; and towards Allah only is the return of all matters.
آسمانوں اور زمین کی ساری سلطنت اسی کی ہے، اور اسی کی طرف سارے امور لوٹائے جاتے ہیں
Tafsir Ibn Kathir
Allah's Knowledge, Power and Kingdom are Limitless
Allah the Exalted states that He created the heavens and earth, and all that is between them, in six Days and then rose over the Throne after He created them. We discussed this before in the explanation of Surat Al-A`raf, so it is not necessary to repeat the meaning here. Allah's statement,
يَعْلَمُ مَا يَلْجُ فِى الاٌّرْضِ
(He knows what goes into the earth), indicates His knowledge in the amount of seeds and drops of water that enter inside the earth's surface,
وَمَا يَخْرُجُ مِنْهَا
(and what comes forth from it) of plants, vegetation and fruits. Allah the Exalted said in another Ayah,
وَعِندَهُ مَفَاتِحُ الْغَيْبِ لاَ يَعْلَمُهَآ إِلاَّ هُوَ وَيَعْلَمُ مَا فِى الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَمَا تَسْقُطُ مِن وَرَقَةٍ إِلاَّ يَعْلَمُهَا وَلاَ حَبَّةٍ فِى ظُلُمَـتِ الاٌّرْضِ وَلاَ رَطْبٍ وَلاَ يَابِسٍ إِلاَّ فِى كِتَـبٍ مُّبِينٍ
(And with Him are the keys of all that is hidden, none knows them but He. And He knows whatever there is in the land and in the sea; not a leaf falls, but He knows it. There is not a grain in the darkness of the earth nor anything fresh or dry, but is written in a Clear Record.)(6:59) Allah's statement,
وَمَا يَنزِلُ مِنَ السَّمَآءِ
(and what descends from the heaven), pertains to rain, snow, hail and whatever Allah decides descends from heaven of decisions and commandments brought down by the honorable angels. Allah's statement,
وَمَا يَعْرُجُ فِيهَا
(and what ascends thereto.), refers to angels and deeds. In the Sahih, there is a Hadith in which the Prophet said,
«يُرْفَعُ إِلَيْهِ عَمَلُ اللَّيْلِ قَبْلَ النَّهَارِ، وَعَمَلُ النَّهَارِ قَبْلَ اللَّيْل»
(To Him ascend the deeds of the night before the day falls and the deeds of the day before the night falls.) Allah said,
وَهُوَ مَعَكُمْ أَيْنَ مَا كُنتُمْ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ
(And He is with you wheresoever you may be. And Allah is the All-Seer of what you do.) meaning, He is watching over you and witnessing your deeds wherever you may be, on land or at sea, during the night or the day, at home or in open areas or deserts. All of that is the same before His knowledge and all of it is under His sight and hearing. He hears your speech and sees where you are. He knows your secrets and your public statements,
أَلا إِنَّهُمْ يَثْنُونَ صُدُورَهُمْ لِيَسْتَخْفُواْ مِنْهُ أَلا حِينَ يَسْتَغْشُونَ ثِيَابَهُمْ يَعْلَمُ مَا يُسِرُّونَ وَمَا يُعْلِنُونَ إِنَّهُ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ
(No doubt! They did fold up their breasts, that they may hide from Him. Surely, even when they cover themselves with their garments, He knows what they conceal and what they reveal. Verily, He is the All-Knower of the (secrets) of the breasts. )(11:5) Allah the Exalted said,
سَوَآءٌ مِّنْكُمْ مَّنْ أَسَرَّ الْقَوْلَ وَمَنْ جَهَرَ بِهِ وَمَنْ هُوَ مُسْتَخْفٍ بِالَّيْلِ وَسَارِبٌ بِالنَّهَارِ
(It is the same (to Him) whether any of you conceals his speech or declares it openly, whether he be hid by night or goes forth freely by day.)(13:10) Surely, there is no deity worthy of worship, except Allah. In the Sahih, there is a Hadith in which the Messenger of Allah ﷺ answered Jibril, when he asked him about Ihsan:
«أَنْ تَعْبُدَ اللهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ، فَإِنْ لَمْ تَكُنْ تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاك»
(To worship Allah as if you see Him, and even though you cannot see Him, He surely sees you.) Allah's statement,
لَّهُ مُلْكُ السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ وَإِلَى اللَّهِ تُرْجَعُ الاٍّمُورُ
(His is the kingdom of the heavens and the earth. And to Allh return all the matters.) asserts that Allah is the King and Owner of this life and the Hereafter. Allah said in another Ayah,
وَإِنَّ لَنَا لَلاٌّخِرَةَ وَالاٍّولَى
(And truly, unto Us (belong) the last (Hereafter) and the first (this world).)(92:13) Surely, Allah is praised for this attribute, just as He said in other Ayat,
وَهُوَ اللَّهُ لا إِلَـهَ إِلاَّ هُوَ لَهُ الْحَمْدُ فِى الاٍّولَى وَالاٌّخِرَةِ
(And He is Allah, La ilaha illa Huwa, all praise is His in the first and in the last.)(28:70), and,
الْحَمْدُ للَّهِ الَّذِى لَهُ مَا فِى السَّمَـوَتِ وَمَا فِى الاٌّرْضِ وَلَهُ الْحَمْدُ فِى الاٌّخِرَةِ وَهُوَ الْحَكِيمُ الْخَبِيرُ
(All the praise is Allah's, to Whom belongs all that is in the heavens and all that is in the earth. His is all the praise in the Hereafter, and He is the All-Wise, the All-Aware.)(34:1) Allah owns everything that is in the heavens and earth, and all their inhabitants are servants to Him and humble before Him, just as He said,
إِن كُلُّ مَن فِى السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ إِلاَّ آتِى الرَّحْمَـنِ عَبْداً - لَّقَدْ أَحْصَـهُمْ وَعَدَّهُمْ عَدّاً - وَكُلُّهُمْ ءَاتِيهِ يَوْمَ الْقِيَـمَةِ فَرْداً
(There is none in the heavens and the earth but comes unto the Most Gracious as a servant. Verily, He knows each one of them, and has counted them a full counting. And every one of them will come to Him alone on the Day of Resurrection.) (19:93-95) This is why Allah said here,
وَإِلَى اللَّهِ تُرْجَعُ الأُمُورُ
(And to Allah return all the matters.) meaning that all matters will be referred to Him on the Day of Resurrection and He will judge His creation as He wills. Indeed, He is the Most Just, Who never falls into injustice, not even the weight of a speck of dust; if one performs even one good deed, Allah will multiply it up to ten times,
وَيُؤْتِ مِن لَّدُنْهُ أَجْراً عَظِيماً
(and gives from Him a great reward. )(4:40),
وَنَضَعُ الْمَوَزِينَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيَـمَةِ فَلاَ تُظْلَمُ نَفْسٌ شَيْئاً وَإِن كَانَ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ أَتَيْنَا بِهَا وَكَفَى بِنَا حَـسِبِينَ
(And We shall set up Balances of justice on the Day of Resurrection, then none will be dealt with unjustly in anything. And if there be the weight of a mustard seed, We will bring it. And sufficent are We to take account.)(21:47) Allah's statement,
يُولِجُ الَّيْلَ فِى النَّهَارِ وَيُولِجُ النَّهَارَ فِى الَّيْلِ
(He merges night into day, and merges day into night,) meaning, He does what He wills with His creatures. He alternates the night and day and measures them by His wisdom, as He wills. Sometimes, He makes the night longer than the day, and sometimes the opposite. Sometimes, He makes the length of night and day equal. Sometimes, He makes the season winter, then changes it to spring, then summer then autumn. All this He does by His wisdom and His due measure of everything in His creation,
وَهُوَ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ
(and He has full knowledge of whatsoever is in the breasts.) He knows the secrets, no matter how concealed they are.
ہر چیز کا خالق ومالک اللہ ہے اللہ تعالیٰ کا زمین و آسمان کو چھ دن میں پیدا کرنا اور عرش پر قرار پکڑنا سورة اعراف کی تفسیر میں پوری طرح بیان ہوچکا ہے اس لئے یہاں دوبارہ بیان کرنے کی ضرورت نہیں، اسے بخوبی علم ہے کہ کس قدر بارش کی بوندیں زمین میں گئیں، کتنے دانے زمین میں پڑے اور کیا چارہ پیدا ہوا کس قدر کھیتیاں ہوئیں اور کتنے پھل کھلے، جیسے اور آیت میں ہے (وَعِنْدَهٗ مَفَاتِحُ الْغَيْبِ لَا يَعْلَمُهَآ اِلَّا هُوَ 59) 6۔ الانعام :59) ، غیب کی کنجیاں اسی کے پاس ہیں جنہیں سوائے اس کے اور کوئی جانتا ہی نہیں وہ خشکی اور تری کی تمام چیزوں کا عالم ہے کسی پتے کا گرنا بھی اس کے علم سے باہر نہیں، زمین کے اندھیروں میں پوشیدہ دانہ اور کوئی ترو خشک چیز ایسی نہیں جو کھلی کتاب میں موجود نہ ہو، اسی طرح آسمان سے نازل ہونے والی بارش، اولے، برف، تقدیر اور احکام جو برتر فرشتوں کے بذریعہ نازل ہوتے ہیں، سب اس کے علم میں ہیں، سورة بقرہ کی تفسیر میں یہ گذر چکا ہے کہ اللہ کے مقرر کردہ فرشتے بارش کے ایک ایک قطرے کو اللہ کی بتائی ہوئی جگہ پہنچا دیتے ہیں، آسمان سے اترنے والے فرشتے اور اعمال بھی اس کے وسیع علم میں ہیں، جیسے صحیح حدیث میں ہے رات کے اعمال دن سے پہلے اور دن کے اعمال رات سے پہلے اس کی جناب میں پیش کردیئے جاتے ہیں، وہ تمہارے ساتھ ہے یعنی تمہارا نگہبان ہے۔ تمہارے اعمال و افعال کو دیکھ رہا ہے جیسے بھی ہوں جو بھی ہوں اور تم بھی خواہ خشکی میں ہو خواہ تری میں، راتیں ہوں یا دن ہوں، تم گھر میں ہو یا جنگل میں، ہر حالت میں اس کے علم کے لئے یکساں ہر وقت اس کی نگاہیں اور اس کا سننا تمہارے ساتھ ہے۔ وہ تمہارے تمام کلمات سنتا رہتا ہے تمہارا حال دیکھتا رہتا ہے، تمہارے چھپے کھلے کا اسے علم ہے۔ جیسے فرمایا ہے کہ اس سے جو چھپنا چاہے اس کا وہ فعل فضول ہے بھلا ظاہر باطن بلکہ دلوں کے ارادے تک سے واقفیت رکھنے والے سے کوئی کیسے چھپ سکتا ہے ؟ ایک اور آیت میں ہے پوشیدہ باتیں ظاہر باتیں راتوں کو دن کو جو بھی ہوں سب اس پر روشن ہیں۔ یہ سچ ہے وہی رب ہے وہی معبود برحق ہے۔ صحیح حدیث میں ہے کہ جبرائیل کے سوال پر آنحضرت ﷺ نے فرمایا احسان یہ ہے کہ تو اللہ کی عبادت اس طرح کر کہ گویا تو اللہ کو دیکھ رہا ہے۔ پس اگر تو اسے نہیں دیکھ رہا تو وہ تو تجھے دیکھ رہا ہے۔ ایک شخص آ کر رسول اللہ ﷺ سے عرض کرتا ہے کہ یا رسول اللہ ﷺ مجھے کوئی ایسا حکمت کا توشہ دیجئے کہ میری زندگی سنور جائے، آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کا لحاظ کر اور اس سے اس طرح شرما جیسے کہ تو اپنے کسی نزدیکی نیم قرابتدار سے شرماتا ہو جو تجھ سے کبھی جدا نہ ہوتا ہو، یہ حدیث ابوبکر اسماعیلی نے روایت کی ہے سند غریب ہے۔ حضور ﷺ کا ارشاد ہے جس نے تین کام کر لئے اس نے ایمان کا مزہ اٹھا لیا۔ ایک اللہ کی عبادت کی اور اپنے مال کی زکوٰۃ ہنسی خوشی راضی رضامندی سے ادا کی۔ جانور اگر زکوٰۃ میں دینے ہیں تو بوڑھے بیکار دبلے پتلے اور بیمار نہ دے بلکہ درمیانہ راہ اللہ میں دیا اور اپنے نفس کو پاک کیا۔ اس پر ایک شخص نے سوال کیا کہ حضور ﷺ نفس کو پاک کرنے کا کیا مطلب ہے ؟ آپ نے فرمایا اس بات کو دل میں محسوس کرے اور یقین و عقیدہ رکھے کہ ہر جگہ اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ ہے۔ (ابو نعیم) اور حدیث میں ہے افضل ایمان یہ ہے کہ تو جان رکھے کہ تو جہاں کہیں ہے اللہ تیرے ساتھ ہے (نعیم بن حماد) حضرت امام احمد ؒ اکثر ان دو شعروں کو پڑھتے رہتے تھے۔ اذا ما خلوت الدھر یوما فلا تقل خلوت ولکن قل علی رقیب ولا تحسبن اللہ یغفل ساعتہ ولا ان ما یخفی علیہ یغیب جب تو بالکل تنہائی اور خلوت میں ہو اس وقت بھی یہ نہ کہہ کہ میں اکیلا ہی ہوں۔ بلکہ کہتا رہ کہ تجھ پر ایک نگہبان ہے یعنی اللہ تعالیٰ۔ کسی ساعت اللہ تعالیٰ کو بیخبر نہ سمجھ اور مخفی سے مخفی کام کو اس پر مخفی نہ مان۔ پھر فرماتا ہے کہ دنیا اور آخرت کا مالک وہی ہے جیسے اور آیت میں ہے (وَاِنَّ لَنَا لَـلْاٰخِرَةَ وَالْاُوْلٰى 13 ) 92۔ اللیل :13) دنیا آخرت کی ملکیت ہماری ہی ہے۔ اس کی تعریف اس بادشاہت پر بھی کرنی ہمارا فرض ہے۔ فرماتا ہے آیت (وَهُوَ اللّٰهُ لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ۭ لَهُ الْحَمْدُ فِي الْاُوْلٰى وَالْاٰخِرَةِ ۡ وَلَهُ الْحُكْمُ وَاِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ 70) 28۔ القصص :70) وہی معبود برحق ہے اور وہی حمد وثناء کا مستحق ہے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ایک اور آیت میں ہے اللہ کے لئے تمام تعریفیں ہیں جس کی ملکیت میں آسمان و زمین کی تمام چیزیں ہیں اور اسی کی حمد ہے آخرت میں اور وہ دانا خبردار ہے۔ پس ہر وہ چیز جو آسمان و زمین میں ہے اس کی بادشاہت میں ہے۔ ساری آسمان و زمین کی مخلوق اس کی غلام اور اس کی خدمت گذار اور اس کے سامنے پست ہے۔ جیسے فرمایا آیت (اِنْ كُلُّ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اِلَّآ اٰتِي الرَّحْمٰنِ عَبْدًا 93ۭ) 19۔ مریم :93) ، آسمان و زمین کی کل مخلوق رحمن کے سامنے غلامی کی حیثیت میں پیش ہونے والی ہے ان سب کو اس نے گھیر رکھا ہے اور سب کو ایک ایک کر کے گن رکھا ہے، اسی کی طرف تمام امور لوٹائے جاتے ہیں، اپنی مخلوق میں جو چاہے حکم دیتا ہے، وہ عدل ہے ظلم نہیں کرتا، بلکہ ایک نیکی کو دس گنا بڑھا کردیتا ہے اور پھر اپنے پاس سے اجر عظیم عنایت فرماتا ہے، ارشاد ہے آیت (وَنَضَعُ الْمَوَازِيْنَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيٰمَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَـيْــــــًٔا ۭ وَ اِنْ كَانَ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ اَتَيْنَا بِهَا ۭ وَكَفٰى بِنَا حٰسِـبِيْنَ 47) 21۔ الأنبیاء :47) ، قیامت کے روز ہم عدل کی ترازو رکھیں گے اور کسی پر ظلم نہ کیا جائے گا رائی کے برابر کا عمل بھی ہم سامنے لا رکھیں گے اور ہم حساب کرنے اور لینے میں کافی ہیں۔ پھر فرمایا خلق میں تصرف بھی اسی کا چلتا ہے دن رات کی گردش بھی اسی کے ہاتھ ہے اپنی حکمت سے گھٹاتا بڑھاتا ہے کبھی دن لمبے کبھی راتیں اور کبھی دونوں یکساں، کبھی جاڑا، کبھی گرمی، کبھی بارش، کبھی بہار، کبھی خزاں اور یہ سب بندوں کی خیر خواہی اور ان کی مصلحت کے لحاظ سے ہے۔ وہ دلوں کی چھوٹی سے چھوٹی باتوں اور دور کے پوشیدہ رازوں سے بھی واقف ہے۔
سَبَّحَ لِلَّهِ مَا فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۖ وَهُوَ ٱلۡعَزِيزُ ٱلۡحَكِيمُ
All whatever is in the heavens and in the earth proclaims the Purity of Allah; and He only is the Most Honourable, the Wise.
اللہ ہی کی تسبیح کرتے ہیں جو بھی آسمانوں اور زمین میں ہیں، اور وہی بڑی عزت والا بڑی حکمت والا ہے
Tafsir Ibn Kathir
Which was revealed in Madina
The Virtues of Surat Al-Hadid
Imam Ahmad recorded that `Irbad bin Sariyah said that the Messenger of Allah ﷺ used to recite Al-Musabbihat before he went to sleep, saying,
«إِنَّ فِيهِنَّ آيَةً أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ آيَة»
(In them there is an Ayah that is better than a thousand Ayat.) Abu Dawud, At-Tirmidhi and An-Nasa'i collected this Hadith; At-Tirmidhi said, "Hasan Gharib." The Ayah referred to in this Hadith is -- and Allah knows best --
هُوَ الاٌّوَّلُ وَالاٌّخِرُ وَالظَّـهِرُ وَالْبَـطِنُ وَهُوَ بِكُلِّ شَىْءٍ عَلِيمٌ
(He is Al-Awwal and Al-Akhir, Az-Zahir and Al-Batin. And He is the All-Knower of everything.)(57:3) Allah willing, we will again mention this subject. Upon Allah we trust and our total reliance and dependence are on Him, and sufficient He is to us as Supporter and Helper.
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـنِ الرَّحِيمِ
In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
Everything that exists glorifies Allah and mentioning some of His Attributes
In this Ayah, Allah states that everything that exists in the heavens and earth praises and glorifies Him, including creatures and plants. Allah said in another Ayah,
تُسَبِّحُ لَهُ السَّمَـوَتُ السَّبْعُ وَالاٌّرْضُ وَمَن فِيهِنَّ وَإِن مِّن شَىْءٍ إِلاَّ يُسَبِّحُ بِحَمْدَهِ وَلَـكِن لاَّ تَفْقَهُونَ تَسْبِيحَهُمْ إِنَّهُ كَانَ حَلِيمًا غَفُورًا
(The seven heavens and the earth and all that is therein, glorify Him and there is not a thing but glorifies His praise. But you understand not their glorification. Truly, He is Ever Forbearing, Oft-Forgiving.)(17:44) And His saying:
وَهُوَ الْعَزِيزُ
(and He is the Almighty,) meaning the One to Whom all things submit humility,
الْحَكِيمُ
(All-Wise.) in His creating, commanding and legislating,
لَهُ مُلْكُ السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ يُحْىِ وَيُمِيتُ
(His is the kingdom of the heavens and the earth. It is He Who gives life and causes death;) He is the absolute Owner of His creation, bringing life and death and granting what He wills to whom He wills,
وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ
(and He is Able to do all things.) whatever He wills, is, and whatever He does not will, will never be. He said,
هُوَ الاٌّوَّلُ وَالاٌّخِرُ وَالظَّـهِرُ وَالْبَـطِنُ
(He is Al-Awwal and Al-Akhir, Az-Zahir and Al-Batin.) This is the Ayah indicated in the Hadith of `Irbad bin Sariyah that is better than a thousand Ayat. Abu Dawud recorded that Abu Zamil said, "I mentioned to Ibn `Abbas that I felt something in my heart. He said, `Doubts' and then laughed. Next, he said, `No one can escape this. Allah the Exalted stated,
فَإِن كُنتَ فِي شَكٍّ مِّمَّآ أَنزَلْنَآ إِلَيْكَ فَاسْأَلِ الَّذِينَ يَقْرَءُونَ الْكِتَـبَ مِن قَبْلِكَ لَقَدْ جَآءَكَ الْحَقُّ مِن رَّبِّكَ
(So if you are in doubt concerning that which We have revealed to you, then ask those who are reading the Book before you. Verily, the truth has come to you from your Lord.)(10:94)' He then said to me, `When you feel any of this in your heart, recite,
هُوَ الاٌّوَّلُ وَالاٌّخِرُ وَالظَّـهِرُ وَالْبَـطِنُ وَهُوَ بِكُلِّ شَىْءٍ عَلِيمٌ
(He is Al-Awwal and Al-Akhir, Az-Zahir and Al-Batin. And He is the All-Knower of everything.)"' There are about ten and some odd number of different sayings collected from the scholars of Tafsir regarding the explanation of this Ayah. Al-Bukhari said, "Yahya said, `Az-Zahir: knowing all things, Al-Batin: knowing all things."' Our Shaykh Al-Hafiz Al-Mizzi said, "Yahya is Ibn Ziyad Al-Farra', who authored a book entitled Ma`ani Al-Qur'an." There are Hadiths mentioned about this. Among them, Imam Ahmad recorded that Abu Hurayrah said that the Messenger of Allah ﷺ would recite this supplication while going to bed,
«اللْهُمَّ رَبَّ السَّموَاتِ السَّبْعِ، وَرَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، رَبَّنَا وَرَبَّ كُلِّ شَيْءٍ، مُنْزِلَ التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ وَالْفُرْقَانِ، فَالِقَ الْحَبِّ وَالنَّوَى، لَا إِلهَ إِلَّا أَنْتَ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ كُلِّ شَيْءٍ أَنْتَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهِ، أَنْتَ الْأَوَّلُ لَيْسَ قَبْلَكَ شَيْءٌ، وَأَنْتَ الْاخِرُ لَيْسَ بَعْدَكَ شَيْءٌ، وَأَنْتَ الظَّاهِرُ لَيْسَ فَوْقَكَ شَيْءٌ، وَأَنْتَ الْبَاطِنُ لَيْسَ دُونَكَ شَيْءٌ. اقْضِ عَنَّا الدَّيْنَ، وَأَغْنِنَا مِنَ الْفَقْر»
(O Allah, Lord of the seven heavens and Lord of the Magnificent Throne! Our Lord, and the Lord of everything, Revealer of the Tawrah, the Injil and the Furqan, the Splitter of the grain of corn and the date stone! I seek refuge with You from the evil of everything whose forhead You have control over. O Allah! You are Al-Awwal, nothing is before You; Al-Akhir, nothing is after You; Az-Zahir, nothing is above You; and Al-Batin, nothing is below You. Remove the burden of debt from us and free us from poverty.) Muslim recorded this Hadith via Sahl, who said, "Abu Salih used to order us to lay on our right side when we were about to sleep, and then say,
«اللْهُمَّ رَبَّ السَّموَاتِ وَرَبَّ الْأَرْضِ وَرَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، رَبَّنَا وَرَبَّ كُلِّ شَيْءٍ، فَالِقَ الْحَبِّ وَالنَّوَى، وَمُنْزِلَ التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ وَالْفُرْقَانِ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ كُلِّ ذِي شَرَ أَنْتَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهِ، اللْهُمَّ أَنْتَ الْأَوَّلُ فَلَيْسَ قَبْلَكَ شَيْءٌ، وَأَنْتَ الْاخِرُ فَلَيْسَ بَعْدَكَ شَيْءٌ، وَأَنْتَ الظَّاهِرُ فَلَيْسَ فَوْقَكَ شَيْءٌ، وَأَنْتَ الْبَاطِنُ فَلَيْسَ دُونَكَ شَيْءٌ، اقْضِ عَنَّا الدَّيْنَ، وَأَغْنِنَا مِنَ الْفَقْر»
(O Allah, Lord of the seven heavens and Lord of the Magnificent Throne! Our Lord, and the Lord of everything, Revealer of the Tawrah, the Injil and the Furqan, the Splitter of the grain of corn and the date stone! I seek refuge with You from the evil of everything whose forhead You have control over. O Allah! You are Al-Awwal, nothing is before You; Al-Akhir, nothing is after You; Az-Zahir, nothing is above You; and Al-Batin, nothing is below You. Remove the burden of debt from us and free us from poverty.) And he used to narrate that from Abu Hurayrah from the Prophet ."
کل کائنات ثناء خواں ہے تمام حیوانات، سب نباتات اس کی پاکی بیان کرتے ہیں، ساتواں آسمان، زمینیں، ان کی مخلوق اور ہر ایک چیز اس کی ستائش کرنے میں مشغول ہے گو تم ان کی تسبیح نہ سمجھ سکو اللہ حلیم و غفور ہے۔ اس کے سامنے ہر کوئی پست و عاجز و لاچار ہے، اس کی مقرر کردہ شریعت اور اس کے احکام حکمت سے پر ہیں۔ حقیقی بادشاہ جس کی ملکیت میں آسمان و زمین ہیں وہی ہے، خلق میں متصرف وہی ہے، زندگی موت اسی کے قبضے میں ہے، وہی فنا کرتا ہے، وہی پیدا کرتا ہے۔ جسے جو چاہے عنایت فرماتا ہے، ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے، جو چاہتا ہے ہوجاتا ہے، جو نہ چاہے نہیں ہوسکتا۔ اس کے بعد کی آیت (هُوَ الْاَوَّلُ وَالْاٰخِرُ وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ ۚ وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمٌ) 57۔ الحدید :3) وہ آیت ہے جس کی بابت اوپر کی حدیث میں گذرا کہ ایک ہزار آیتوں سے افضل ہے۔ حضرت ابو زمیل حضرت ابن عباس سے کہتے ہیں کہ میرے دل میں ایک کھٹکا ہے لیکن زبان پر لانے کو جی نہیں چاہتا اس پر حضرت ابن عباس ؓ نے مسکرا کر فرمایا شاید کچھ شک ہوگا جس سے کوئی نہیں بچا یہاں تک کہ قرآن میں ہے آیت (فَاِنْ كُنْتَ فِيْ شَكٍّ مِّمَّآ اَنْزَلْنَآ اِلَيْكَ فَسْــــَٔـلِ الَّذِيْنَ يَقْرَءُوْنَ الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكَ ۚ لَقَدْ جَاۗءَكَ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِيْنَ 94 ۙ) 10۔ یونس :94) ، یعنی اگر تو جو کچھ تیری طرف نازل کیا گیا ہے اس میں شک میں ہو تو تجھ سے پہلے جو کتاب پڑھتے ہیں ان سے پوچھ لے۔ پھر فرمایا جب تیرے دل میں کوئی شک ہو تو اس آیت کو پڑھ لیا کر (هُوَ الْاَوَّلُ وَالْاٰخِرُ وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ ۚ وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمٌ) 57۔ الحدید :3) اس آیت کی تفسیر میں دس سے اوپر اوپر اقوال ہیں۔ بخاری فرماتے ہیں یحییٰ کا قول ہے کہ ظاہر باطن سے مراد از روئے علم ہر چیز پر ظاہر اور پوشیدہ ہونا ہے۔ یہ یحییٰ زیاد فراء کے لڑکے ہیں ان کی ایک تصنیف ہے جس کا نام معانی القرآن ہے۔ مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ سونے کے وقت یہ دعا پڑھا کرتے۔ اے اللہ اے ساتوں آسمانوں کے اور عرش عظیم کے رب، اے ہمارے اور ہر چیز کے رب ! اے تورات و انجیل کے اتارنے والے ! اے دانوں اور گٹھلیوں کو اگانے والے تیرے سوا کوئی لائق عبادت نہیں میں تیری پناہ میں آتا ہوں ہر اس چیز کی برائی سے کہ اس کی چوٹی تیرے ہاتھ میں ہے تو اول ہے تجھ سے پہلے کچھ نہ تھا تو ہی آخر ہے تیرے بعد کچھ نہیں تو ظاہر ہے تجھ سے اونچی کوئی چیز نہیں تو باطن ہے تجھ سے چھپی کوئی چیز نہیں ہمارے قرض ادا کرا دے اور ہمیں فقیری سے غنا دے۔ حضرت ابو صالح اپنے متعلقین کو یہ دعا سکھاتے اور فرماتے سوتے وقت داہنی کروٹ پر لیٹ کر یہ دعا پڑھ لیا کرو، الفاظ میں کچھ ہیر پھیر ہے۔ ملاحظہ ہو مسلم۔ ابو یعلی میں ہے حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ حضور ﷺ کے حکم سے آپ کا بسترہ قبلہ رخ بچھایا جاتا آپ آ کر اپنے داہنے ہاتھ پر تکیہ لگا کر آرام فرماتے، پھر آہستہ آہستہ کچھ پڑھتے رہتے لیکن آخر رات میں با آواز بلند یہ دعا پڑھتے (جو اوپر بیان ہوئی) الفاظ میں کچھ ہیر پھیر ہے۔ اس آیت کی تفسیر میں جامع ترمذی میں ہے کہ حضور ﷺ اپنے صحابہ سمیت تشریف فرما تھے کہ ایک بادل سر پر آگیا آپ نے فرمایا جانتے ہو یہ کیا ہے ؟ صحابہ نے با ادب جواب دیا اللہ اور اس کے رسول زیادہ جاننے والے ہیں۔ فرمایا اسے عنان کہتے ہیں یہ زمین کو سیراب کرنے والے ہیں ان لوگوں پر بھی یہ برسائے جاتے ہیں جو نہ اللہ کے شکر گزار ہیں نہ اللہ کے پکارنے والے پھر پوچھا معلوم ہے تمہارے اوپر کیا ہے انہوں نے کہا اللہ اور اس کا رسول زیادہ باخبر ہے، فرمایا بلند محفوظ چھت اور لپٹی ہوئی موج، جانتے ہو تم میں اس میں کس قدر فاصلہ ہے وہی جواب ملا، فرمایا پانچ سو سال کا راستہ۔ پھر پوچھا جانتے ہو اس کے اوپر کیا ہے ؟ صحابہ نے پھر اپنی لاعلمی ان ہی الفاظ میں ظاہر کی تو آپ ﷺ نے فرمایا اس کے اوپر پھر دوسرا آسمان ہے اور ان دونوں آسمانوں میں بھی پانچ سو سال کا فاصلہ ہے اسی طرح آپ نے سات آسمان گنوائے اور ہر دو میں اتنی ہی دوری بیان فرمائی۔ پھر سوال کر کے جواب سن کر فرمایا اس ساتویں کے اوپر اتنے ہی فاصلہ سے عرش ہے، پھر پوچھا جانتے ہو تمہارے نیچے کیا ہے اور جواب وہی سن کر فرمایا دوسری زمین ہے، پھر سوال جواب کے بعد فرمایا اس کے نیچے دوسری زمین ہے اور دونوں زمینوں کے درمیان پانچ سو سال کا فاصلہ ہے، اسی طرح سات زمینیں اسی فاصلہ کے ساتھ ایک دوسرے کے نیچے بتائیں، پھر فرمایا اس کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ﷺ کی جان ہے اگر تم کوئی رسی سب سے نیچے کی زمین کی طرف لٹکاؤ تو وہ بھی اللہ کے پاس پہنچے گی پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت کی، لیکن یہ حدیث غریب ہے اس کے راوی حسن کا ایوب یونس اور علی بن زید محدثین کا قول ہے۔ بعض اہل علم نے اس حدیث کی شرح میں کہا ہے کہ اس سے مراد رسی کا اللہ تعالیٰ کے علم قدرت اور غلبے تک پہنچنا ہے (نہ کہ ذات باری تعالیٰ) اللہ تعالیٰ کا علم اس کی قدرت اور اس کا غلبہ اور سلطنت بیشک ہر جگہ ہے لیکن وہ اپنی ذات سے عرش پر ہے جیسے کہ اس نے اپنا یہ وصف اپنی کتاب میں خود بیان فرمایا ہے۔ مسند احمد میں بھی یہ حدیث ہے اور اس میں دو دو زمینوں کے درمیان کا فاصلہ سات سو سال کا بیان ہوا۔ ابن ابی حاتم اور بزار میں بھی یہ حدیث ہے لیکن ابن ابی حاتم میں رسی لٹکانے کا جملہ نہیں اور ہر دو زمین کے درمیان کی دوری اس میں بھی پانچ سو سال کی بیان ہوئی ہے۔ امام بزار نے یہ بھی فرمایا ہے کہ اس روایت کا راوی آنحضرت ﷺ سے بغیر حضرت ابوہریرہ کے اور کوئی نہیں۔ ابن جریر میں یہ حدیث مرسلاً مروی ہے یعنی قتادہ فرماتے ہیں ہم سے یوں ذکر کیا گیا ہے پھر حدیث بیان کرتے ہیں صحابی کا نام نہیں لیتے۔ ممکن ہے یہی ٹھیک ہو، واللہ اعلم، حضرت ابوذر غفاری سے مسند بزار اور کتاب الاسماء و الصفات بیہقی میں یہ حدیث مروی ہے لیکن اس کی اسناد میں نظر ہے اور متن میں غربت و نکارت ہے واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم۔ امام ابن جریر آیت (وَّمِنَ الْاَرْضِ مِثْلَهُنّ 12ۧ) 65۔ الطلاق :12) کی تفسیر میں حضرت قتادہ کا قول لائے ہیں کہ آسمان و زمین کے درمیان چار فرشتوں کی ملاقات ہوئی۔ آپس میں پوچھا کہ تم کہاں سے آ رہے ہو ؟ تو ایک نے کہا ساتویں آسمان سے مجھے اللہ عزوجل نے بھیجا ہے اور میں نے اللہ کو وہیں چھوڑا ہے۔ دوسرے نے کہا ساتویں زمین سے مجھے اللہ نے بھیجا تھا اور اللہ وہیں تھا، تیسرے نے کہا میرے رب نے مجھے مشرق سے بھیجا ہے جہاں وہ تھا چوتھے نے کہا مجھے مغرب سے اللہ تعالیٰ نے بھیجا ہے اور میں اسے وہیں چھوڑ کر آ رہا ہوں۔ لیکن یہ روایت بھی غریب ہے بلکہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حضرت قتادہ والی اوپر کی روایت جو مرسلاً بیان ہوئی ہے ممکن ہے وہ بھی حضرت قتادہ کا اپنا قول ہو جیسے یہ قول خود قتادہ کا اپنا۔ واللہ اعلم
لَهُۥ مُلۡكُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۖ يُحۡيِۦ وَيُمِيتُۖ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ قَدِيرٌ
For Him only is the kingship of the heavens and the earth; He gives life and causes death; and He is Able to do all things.
اسی کے لئے آسمانوں اور زمین کی بادشاہت ہے، وہی جِلاتا اور مارتا ہے، اور وہ ہر چیز پر بڑا قادر ہے
Tafsir Ibn Kathir
Which was revealed in Madina
The Virtues of Surat Al-Hadid
Imam Ahmad recorded that `Irbad bin Sariyah said that the Messenger of Allah ﷺ used to recite Al-Musabbihat before he went to sleep, saying,
«إِنَّ فِيهِنَّ آيَةً أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ آيَة»
(In them there is an Ayah that is better than a thousand Ayat.) Abu Dawud, At-Tirmidhi and An-Nasa'i collected this Hadith; At-Tirmidhi said, "Hasan Gharib." The Ayah referred to in this Hadith is -- and Allah knows best --
هُوَ الاٌّوَّلُ وَالاٌّخِرُ وَالظَّـهِرُ وَالْبَـطِنُ وَهُوَ بِكُلِّ شَىْءٍ عَلِيمٌ
(He is Al-Awwal and Al-Akhir, Az-Zahir and Al-Batin. And He is the All-Knower of everything.)(57:3) Allah willing, we will again mention this subject. Upon Allah we trust and our total reliance and dependence are on Him, and sufficient He is to us as Supporter and Helper.
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـنِ الرَّحِيمِ
In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
Everything that exists glorifies Allah and mentioning some of His Attributes
In this Ayah, Allah states that everything that exists in the heavens and earth praises and glorifies Him, including creatures and plants. Allah said in another Ayah,
تُسَبِّحُ لَهُ السَّمَـوَتُ السَّبْعُ وَالاٌّرْضُ وَمَن فِيهِنَّ وَإِن مِّن شَىْءٍ إِلاَّ يُسَبِّحُ بِحَمْدَهِ وَلَـكِن لاَّ تَفْقَهُونَ تَسْبِيحَهُمْ إِنَّهُ كَانَ حَلِيمًا غَفُورًا
(The seven heavens and the earth and all that is therein, glorify Him and there is not a thing but glorifies His praise. But you understand not their glorification. Truly, He is Ever Forbearing, Oft-Forgiving.)(17:44) And His saying:
وَهُوَ الْعَزِيزُ
(and He is the Almighty,) meaning the One to Whom all things submit humility,
الْحَكِيمُ
(All-Wise.) in His creating, commanding and legislating,
لَهُ مُلْكُ السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ يُحْىِ وَيُمِيتُ
(His is the kingdom of the heavens and the earth. It is He Who gives life and causes death;) He is the absolute Owner of His creation, bringing life and death and granting what He wills to whom He wills,
وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ
(and He is Able to do all things.) whatever He wills, is, and whatever He does not will, will never be. He said,
هُوَ الاٌّوَّلُ وَالاٌّخِرُ وَالظَّـهِرُ وَالْبَـطِنُ
(He is Al-Awwal and Al-Akhir, Az-Zahir and Al-Batin.) This is the Ayah indicated in the Hadith of `Irbad bin Sariyah that is better than a thousand Ayat. Abu Dawud recorded that Abu Zamil said, "I mentioned to Ibn `Abbas that I felt something in my heart. He said, `Doubts' and then laughed. Next, he said, `No one can escape this. Allah the Exalted stated,
فَإِن كُنتَ فِي شَكٍّ مِّمَّآ أَنزَلْنَآ إِلَيْكَ فَاسْأَلِ الَّذِينَ يَقْرَءُونَ الْكِتَـبَ مِن قَبْلِكَ لَقَدْ جَآءَكَ الْحَقُّ مِن رَّبِّكَ
(So if you are in doubt concerning that which We have revealed to you, then ask those who are reading the Book before you. Verily, the truth has come to you from your Lord.)(10:94)' He then said to me, `When you feel any of this in your heart, recite,
هُوَ الاٌّوَّلُ وَالاٌّخِرُ وَالظَّـهِرُ وَالْبَـطِنُ وَهُوَ بِكُلِّ شَىْءٍ عَلِيمٌ
(He is Al-Awwal and Al-Akhir, Az-Zahir and Al-Batin. And He is the All-Knower of everything.)"' There are about ten and some odd number of different sayings collected from the scholars of Tafsir regarding the explanation of this Ayah. Al-Bukhari said, "Yahya said, `Az-Zahir: knowing all things, Al-Batin: knowing all things."' Our Shaykh Al-Hafiz Al-Mizzi said, "Yahya is Ibn Ziyad Al-Farra', who authored a book entitled Ma`ani Al-Qur'an." There are Hadiths mentioned about this. Among them, Imam Ahmad recorded that Abu Hurayrah said that the Messenger of Allah ﷺ would recite this supplication while going to bed,
«اللْهُمَّ رَبَّ السَّموَاتِ السَّبْعِ، وَرَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، رَبَّنَا وَرَبَّ كُلِّ شَيْءٍ، مُنْزِلَ التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ وَالْفُرْقَانِ، فَالِقَ الْحَبِّ وَالنَّوَى، لَا إِلهَ إِلَّا أَنْتَ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ كُلِّ شَيْءٍ أَنْتَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهِ، أَنْتَ الْأَوَّلُ لَيْسَ قَبْلَكَ شَيْءٌ، وَأَنْتَ الْاخِرُ لَيْسَ بَعْدَكَ شَيْءٌ، وَأَنْتَ الظَّاهِرُ لَيْسَ فَوْقَكَ شَيْءٌ، وَأَنْتَ الْبَاطِنُ لَيْسَ دُونَكَ شَيْءٌ. اقْضِ عَنَّا الدَّيْنَ، وَأَغْنِنَا مِنَ الْفَقْر»
(O Allah, Lord of the seven heavens and Lord of the Magnificent Throne! Our Lord, and the Lord of everything, Revealer of the Tawrah, the Injil and the Furqan, the Splitter of the grain of corn and the date stone! I seek refuge with You from the evil of everything whose forhead You have control over. O Allah! You are Al-Awwal, nothing is before You; Al-Akhir, nothing is after You; Az-Zahir, nothing is above You; and Al-Batin, nothing is below You. Remove the burden of debt from us and free us from poverty.) Muslim recorded this Hadith via Sahl, who said, "Abu Salih used to order us to lay on our right side when we were about to sleep, and then say,
«اللْهُمَّ رَبَّ السَّموَاتِ وَرَبَّ الْأَرْضِ وَرَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، رَبَّنَا وَرَبَّ كُلِّ شَيْءٍ، فَالِقَ الْحَبِّ وَالنَّوَى، وَمُنْزِلَ التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ وَالْفُرْقَانِ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ كُلِّ ذِي شَرَ أَنْتَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهِ، اللْهُمَّ أَنْتَ الْأَوَّلُ فَلَيْسَ قَبْلَكَ شَيْءٌ، وَأَنْتَ الْاخِرُ فَلَيْسَ بَعْدَكَ شَيْءٌ، وَأَنْتَ الظَّاهِرُ فَلَيْسَ فَوْقَكَ شَيْءٌ، وَأَنْتَ الْبَاطِنُ فَلَيْسَ دُونَكَ شَيْءٌ، اقْضِ عَنَّا الدَّيْنَ، وَأَغْنِنَا مِنَ الْفَقْر»
(O Allah, Lord of the seven heavens and Lord of the Magnificent Throne! Our Lord, and the Lord of everything, Revealer of the Tawrah, the Injil and the Furqan, the Splitter of the grain of corn and the date stone! I seek refuge with You from the evil of everything whose forhead You have control over. O Allah! You are Al-Awwal, nothing is before You; Al-Akhir, nothing is after You; Az-Zahir, nothing is above You; and Al-Batin, nothing is below You. Remove the burden of debt from us and free us from poverty.) And he used to narrate that from Abu Hurayrah from the Prophet ."
کل کائنات ثناء خواں ہے تمام حیوانات، سب نباتات اس کی پاکی بیان کرتے ہیں، ساتواں آسمان، زمینیں، ان کی مخلوق اور ہر ایک چیز اس کی ستائش کرنے میں مشغول ہے گو تم ان کی تسبیح نہ سمجھ سکو اللہ حلیم و غفور ہے۔ اس کے سامنے ہر کوئی پست و عاجز و لاچار ہے، اس کی مقرر کردہ شریعت اور اس کے احکام حکمت سے پر ہیں۔ حقیقی بادشاہ جس کی ملکیت میں آسمان و زمین ہیں وہی ہے، خلق میں متصرف وہی ہے، زندگی موت اسی کے قبضے میں ہے، وہی فنا کرتا ہے، وہی پیدا کرتا ہے۔ جسے جو چاہے عنایت فرماتا ہے، ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے، جو چاہتا ہے ہوجاتا ہے، جو نہ چاہے نہیں ہوسکتا۔ اس کے بعد کی آیت (هُوَ الْاَوَّلُ وَالْاٰخِرُ وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ ۚ وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمٌ) 57۔ الحدید :3) وہ آیت ہے جس کی بابت اوپر کی حدیث میں گذرا کہ ایک ہزار آیتوں سے افضل ہے۔ حضرت ابو زمیل حضرت ابن عباس سے کہتے ہیں کہ میرے دل میں ایک کھٹکا ہے لیکن زبان پر لانے کو جی نہیں چاہتا اس پر حضرت ابن عباس ؓ نے مسکرا کر فرمایا شاید کچھ شک ہوگا جس سے کوئی نہیں بچا یہاں تک کہ قرآن میں ہے آیت (فَاِنْ كُنْتَ فِيْ شَكٍّ مِّمَّآ اَنْزَلْنَآ اِلَيْكَ فَسْــــَٔـلِ الَّذِيْنَ يَقْرَءُوْنَ الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكَ ۚ لَقَدْ جَاۗءَكَ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِيْنَ 94 ۙ) 10۔ یونس :94) ، یعنی اگر تو جو کچھ تیری طرف نازل کیا گیا ہے اس میں شک میں ہو تو تجھ سے پہلے جو کتاب پڑھتے ہیں ان سے پوچھ لے۔ پھر فرمایا جب تیرے دل میں کوئی شک ہو تو اس آیت کو پڑھ لیا کر (هُوَ الْاَوَّلُ وَالْاٰخِرُ وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ ۚ وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمٌ) 57۔ الحدید :3) اس آیت کی تفسیر میں دس سے اوپر اوپر اقوال ہیں۔ بخاری فرماتے ہیں یحییٰ کا قول ہے کہ ظاہر باطن سے مراد از روئے علم ہر چیز پر ظاہر اور پوشیدہ ہونا ہے۔ یہ یحییٰ زیاد فراء کے لڑکے ہیں ان کی ایک تصنیف ہے جس کا نام معانی القرآن ہے۔ مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ سونے کے وقت یہ دعا پڑھا کرتے۔ اے اللہ اے ساتوں آسمانوں کے اور عرش عظیم کے رب، اے ہمارے اور ہر چیز کے رب ! اے تورات و انجیل کے اتارنے والے ! اے دانوں اور گٹھلیوں کو اگانے والے تیرے سوا کوئی لائق عبادت نہیں میں تیری پناہ میں آتا ہوں ہر اس چیز کی برائی سے کہ اس کی چوٹی تیرے ہاتھ میں ہے تو اول ہے تجھ سے پہلے کچھ نہ تھا تو ہی آخر ہے تیرے بعد کچھ نہیں تو ظاہر ہے تجھ سے اونچی کوئی چیز نہیں تو باطن ہے تجھ سے چھپی کوئی چیز نہیں ہمارے قرض ادا کرا دے اور ہمیں فقیری سے غنا دے۔ حضرت ابو صالح اپنے متعلقین کو یہ دعا سکھاتے اور فرماتے سوتے وقت داہنی کروٹ پر لیٹ کر یہ دعا پڑھ لیا کرو، الفاظ میں کچھ ہیر پھیر ہے۔ ملاحظہ ہو مسلم۔ ابو یعلی میں ہے حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ حضور ﷺ کے حکم سے آپ کا بسترہ قبلہ رخ بچھایا جاتا آپ آ کر اپنے داہنے ہاتھ پر تکیہ لگا کر آرام فرماتے، پھر آہستہ آہستہ کچھ پڑھتے رہتے لیکن آخر رات میں با آواز بلند یہ دعا پڑھتے (جو اوپر بیان ہوئی) الفاظ میں کچھ ہیر پھیر ہے۔ اس آیت کی تفسیر میں جامع ترمذی میں ہے کہ حضور ﷺ اپنے صحابہ سمیت تشریف فرما تھے کہ ایک بادل سر پر آگیا آپ نے فرمایا جانتے ہو یہ کیا ہے ؟ صحابہ نے با ادب جواب دیا اللہ اور اس کے رسول زیادہ جاننے والے ہیں۔ فرمایا اسے عنان کہتے ہیں یہ زمین کو سیراب کرنے والے ہیں ان لوگوں پر بھی یہ برسائے جاتے ہیں جو نہ اللہ کے شکر گزار ہیں نہ اللہ کے پکارنے والے پھر پوچھا معلوم ہے تمہارے اوپر کیا ہے انہوں نے کہا اللہ اور اس کا رسول زیادہ باخبر ہے، فرمایا بلند محفوظ چھت اور لپٹی ہوئی موج، جانتے ہو تم میں اس میں کس قدر فاصلہ ہے وہی جواب ملا، فرمایا پانچ سو سال کا راستہ۔ پھر پوچھا جانتے ہو اس کے اوپر کیا ہے ؟ صحابہ نے پھر اپنی لاعلمی ان ہی الفاظ میں ظاہر کی تو آپ ﷺ نے فرمایا اس کے اوپر پھر دوسرا آسمان ہے اور ان دونوں آسمانوں میں بھی پانچ سو سال کا فاصلہ ہے اسی طرح آپ نے سات آسمان گنوائے اور ہر دو میں اتنی ہی دوری بیان فرمائی۔ پھر سوال کر کے جواب سن کر فرمایا اس ساتویں کے اوپر اتنے ہی فاصلہ سے عرش ہے، پھر پوچھا جانتے ہو تمہارے نیچے کیا ہے اور جواب وہی سن کر فرمایا دوسری زمین ہے، پھر سوال جواب کے بعد فرمایا اس کے نیچے دوسری زمین ہے اور دونوں زمینوں کے درمیان پانچ سو سال کا فاصلہ ہے، اسی طرح سات زمینیں اسی فاصلہ کے ساتھ ایک دوسرے کے نیچے بتائیں، پھر فرمایا اس کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ﷺ کی جان ہے اگر تم کوئی رسی سب سے نیچے کی زمین کی طرف لٹکاؤ تو وہ بھی اللہ کے پاس پہنچے گی پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت کی، لیکن یہ حدیث غریب ہے اس کے راوی حسن کا ایوب یونس اور علی بن زید محدثین کا قول ہے۔ بعض اہل علم نے اس حدیث کی شرح میں کہا ہے کہ اس سے مراد رسی کا اللہ تعالیٰ کے علم قدرت اور غلبے تک پہنچنا ہے (نہ کہ ذات باری تعالیٰ) اللہ تعالیٰ کا علم اس کی قدرت اور اس کا غلبہ اور سلطنت بیشک ہر جگہ ہے لیکن وہ اپنی ذات سے عرش پر ہے جیسے کہ اس نے اپنا یہ وصف اپنی کتاب میں خود بیان فرمایا ہے۔ مسند احمد میں بھی یہ حدیث ہے اور اس میں دو دو زمینوں کے درمیان کا فاصلہ سات سو سال کا بیان ہوا۔ ابن ابی حاتم اور بزار میں بھی یہ حدیث ہے لیکن ابن ابی حاتم میں رسی لٹکانے کا جملہ نہیں اور ہر دو زمین کے درمیان کی دوری اس میں بھی پانچ سو سال کی بیان ہوئی ہے۔ امام بزار نے یہ بھی فرمایا ہے کہ اس روایت کا راوی آنحضرت ﷺ سے بغیر حضرت ابوہریرہ کے اور کوئی نہیں۔ ابن جریر میں یہ حدیث مرسلاً مروی ہے یعنی قتادہ فرماتے ہیں ہم سے یوں ذکر کیا گیا ہے پھر حدیث بیان کرتے ہیں صحابی کا نام نہیں لیتے۔ ممکن ہے یہی ٹھیک ہو، واللہ اعلم، حضرت ابوذر غفاری سے مسند بزار اور کتاب الاسماء و الصفات بیہقی میں یہ حدیث مروی ہے لیکن اس کی اسناد میں نظر ہے اور متن میں غربت و نکارت ہے واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم۔ امام ابن جریر آیت (وَّمِنَ الْاَرْضِ مِثْلَهُنّ 12ۧ) 65۔ الطلاق :12) کی تفسیر میں حضرت قتادہ کا قول لائے ہیں کہ آسمان و زمین کے درمیان چار فرشتوں کی ملاقات ہوئی۔ آپس میں پوچھا کہ تم کہاں سے آ رہے ہو ؟ تو ایک نے کہا ساتویں آسمان سے مجھے اللہ عزوجل نے بھیجا ہے اور میں نے اللہ کو وہیں چھوڑا ہے۔ دوسرے نے کہا ساتویں زمین سے مجھے اللہ نے بھیجا تھا اور اللہ وہیں تھا، تیسرے نے کہا میرے رب نے مجھے مشرق سے بھیجا ہے جہاں وہ تھا چوتھے نے کہا مجھے مغرب سے اللہ تعالیٰ نے بھیجا ہے اور میں اسے وہیں چھوڑ کر آ رہا ہوں۔ لیکن یہ روایت بھی غریب ہے بلکہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حضرت قتادہ والی اوپر کی روایت جو مرسلاً بیان ہوئی ہے ممکن ہے وہ بھی حضرت قتادہ کا اپنا قول ہو جیسے یہ قول خود قتادہ کا اپنا۔ واللہ اعلم
هُوَ ٱلۡأَوَّلُ وَٱلۡأٓخِرُ وَٱلظَّـٰهِرُ وَٱلۡبَاطِنُۖ وَهُوَ بِكُلِّ شَيۡءٍ عَلِيمٌ
He only is the First and He only the Last, and He only is the Evident and He only the Concealed; and it is He Who knows all things.
وہی (سب سے) اوّل اور (سب سے) آخر ہے اور (اپنی قدرت کے اعتبار سے) ظاہر اور (اپنی ذات کے اعتبار سے) پوشیدہ ہے، اور وہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے
Tafsir Ibn Kathir
Which was revealed in Madina
The Virtues of Surat Al-Hadid
Imam Ahmad recorded that `Irbad bin Sariyah said that the Messenger of Allah ﷺ used to recite Al-Musabbihat before he went to sleep, saying,
«إِنَّ فِيهِنَّ آيَةً أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ آيَة»
(In them there is an Ayah that is better than a thousand Ayat.) Abu Dawud, At-Tirmidhi and An-Nasa'i collected this Hadith; At-Tirmidhi said, "Hasan Gharib." The Ayah referred to in this Hadith is -- and Allah knows best --
هُوَ الاٌّوَّلُ وَالاٌّخِرُ وَالظَّـهِرُ وَالْبَـطِنُ وَهُوَ بِكُلِّ شَىْءٍ عَلِيمٌ
(He is Al-Awwal and Al-Akhir, Az-Zahir and Al-Batin. And He is the All-Knower of everything.)(57:3) Allah willing, we will again mention this subject. Upon Allah we trust and our total reliance and dependence are on Him, and sufficient He is to us as Supporter and Helper.
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـنِ الرَّحِيمِ
In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
Everything that exists glorifies Allah and mentioning some of His Attributes
In this Ayah, Allah states that everything that exists in the heavens and earth praises and glorifies Him, including creatures and plants. Allah said in another Ayah,
تُسَبِّحُ لَهُ السَّمَـوَتُ السَّبْعُ وَالاٌّرْضُ وَمَن فِيهِنَّ وَإِن مِّن شَىْءٍ إِلاَّ يُسَبِّحُ بِحَمْدَهِ وَلَـكِن لاَّ تَفْقَهُونَ تَسْبِيحَهُمْ إِنَّهُ كَانَ حَلِيمًا غَفُورًا
(The seven heavens and the earth and all that is therein, glorify Him and there is not a thing but glorifies His praise. But you understand not their glorification. Truly, He is Ever Forbearing, Oft-Forgiving.)(17:44) And His saying:
وَهُوَ الْعَزِيزُ
(and He is the Almighty,) meaning the One to Whom all things submit humility,
الْحَكِيمُ
(All-Wise.) in His creating, commanding and legislating,
لَهُ مُلْكُ السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ يُحْىِ وَيُمِيتُ
(His is the kingdom of the heavens and the earth. It is He Who gives life and causes death;) He is the absolute Owner of His creation, bringing life and death and granting what He wills to whom He wills,
وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ
(and He is Able to do all things.) whatever He wills, is, and whatever He does not will, will never be. He said,
هُوَ الاٌّوَّلُ وَالاٌّخِرُ وَالظَّـهِرُ وَالْبَـطِنُ
(He is Al-Awwal and Al-Akhir, Az-Zahir and Al-Batin.) This is the Ayah indicated in the Hadith of `Irbad bin Sariyah that is better than a thousand Ayat. Abu Dawud recorded that Abu Zamil said, "I mentioned to Ibn `Abbas that I felt something in my heart. He said, `Doubts' and then laughed. Next, he said, `No one can escape this. Allah the Exalted stated,
فَإِن كُنتَ فِي شَكٍّ مِّمَّآ أَنزَلْنَآ إِلَيْكَ فَاسْأَلِ الَّذِينَ يَقْرَءُونَ الْكِتَـبَ مِن قَبْلِكَ لَقَدْ جَآءَكَ الْحَقُّ مِن رَّبِّكَ
(So if you are in doubt concerning that which We have revealed to you, then ask those who are reading the Book before you. Verily, the truth has come to you from your Lord.)(10:94)' He then said to me, `When you feel any of this in your heart, recite,
هُوَ الاٌّوَّلُ وَالاٌّخِرُ وَالظَّـهِرُ وَالْبَـطِنُ وَهُوَ بِكُلِّ شَىْءٍ عَلِيمٌ
(He is Al-Awwal and Al-Akhir, Az-Zahir and Al-Batin. And He is the All-Knower of everything.)"' There are about ten and some odd number of different sayings collected from the scholars of Tafsir regarding the explanation of this Ayah. Al-Bukhari said, "Yahya said, `Az-Zahir: knowing all things, Al-Batin: knowing all things."' Our Shaykh Al-Hafiz Al-Mizzi said, "Yahya is Ibn Ziyad Al-Farra', who authored a book entitled Ma`ani Al-Qur'an." There are Hadiths mentioned about this. Among them, Imam Ahmad recorded that Abu Hurayrah said that the Messenger of Allah ﷺ would recite this supplication while going to bed,
«اللْهُمَّ رَبَّ السَّموَاتِ السَّبْعِ، وَرَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، رَبَّنَا وَرَبَّ كُلِّ شَيْءٍ، مُنْزِلَ التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ وَالْفُرْقَانِ، فَالِقَ الْحَبِّ وَالنَّوَى، لَا إِلهَ إِلَّا أَنْتَ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ كُلِّ شَيْءٍ أَنْتَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهِ، أَنْتَ الْأَوَّلُ لَيْسَ قَبْلَكَ شَيْءٌ، وَأَنْتَ الْاخِرُ لَيْسَ بَعْدَكَ شَيْءٌ، وَأَنْتَ الظَّاهِرُ لَيْسَ فَوْقَكَ شَيْءٌ، وَأَنْتَ الْبَاطِنُ لَيْسَ دُونَكَ شَيْءٌ. اقْضِ عَنَّا الدَّيْنَ، وَأَغْنِنَا مِنَ الْفَقْر»
(O Allah, Lord of the seven heavens and Lord of the Magnificent Throne! Our Lord, and the Lord of everything, Revealer of the Tawrah, the Injil and the Furqan, the Splitter of the grain of corn and the date stone! I seek refuge with You from the evil of everything whose forhead You have control over. O Allah! You are Al-Awwal, nothing is before You; Al-Akhir, nothing is after You; Az-Zahir, nothing is above You; and Al-Batin, nothing is below You. Remove the burden of debt from us and free us from poverty.) Muslim recorded this Hadith via Sahl, who said, "Abu Salih used to order us to lay on our right side when we were about to sleep, and then say,
«اللْهُمَّ رَبَّ السَّموَاتِ وَرَبَّ الْأَرْضِ وَرَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، رَبَّنَا وَرَبَّ كُلِّ شَيْءٍ، فَالِقَ الْحَبِّ وَالنَّوَى، وَمُنْزِلَ التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ وَالْفُرْقَانِ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ كُلِّ ذِي شَرَ أَنْتَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهِ، اللْهُمَّ أَنْتَ الْأَوَّلُ فَلَيْسَ قَبْلَكَ شَيْءٌ، وَأَنْتَ الْاخِرُ فَلَيْسَ بَعْدَكَ شَيْءٌ، وَأَنْتَ الظَّاهِرُ فَلَيْسَ فَوْقَكَ شَيْءٌ، وَأَنْتَ الْبَاطِنُ فَلَيْسَ دُونَكَ شَيْءٌ، اقْضِ عَنَّا الدَّيْنَ، وَأَغْنِنَا مِنَ الْفَقْر»
(O Allah, Lord of the seven heavens and Lord of the Magnificent Throne! Our Lord, and the Lord of everything, Revealer of the Tawrah, the Injil and the Furqan, the Splitter of the grain of corn and the date stone! I seek refuge with You from the evil of everything whose forhead You have control over. O Allah! You are Al-Awwal, nothing is before You; Al-Akhir, nothing is after You; Az-Zahir, nothing is above You; and Al-Batin, nothing is below You. Remove the burden of debt from us and free us from poverty.) And he used to narrate that from Abu Hurayrah from the Prophet ."
کل کائنات ثناء خواں ہے تمام حیوانات، سب نباتات اس کی پاکی بیان کرتے ہیں، ساتواں آسمان، زمینیں، ان کی مخلوق اور ہر ایک چیز اس کی ستائش کرنے میں مشغول ہے گو تم ان کی تسبیح نہ سمجھ سکو اللہ حلیم و غفور ہے۔ اس کے سامنے ہر کوئی پست و عاجز و لاچار ہے، اس کی مقرر کردہ شریعت اور اس کے احکام حکمت سے پر ہیں۔ حقیقی بادشاہ جس کی ملکیت میں آسمان و زمین ہیں وہی ہے، خلق میں متصرف وہی ہے، زندگی موت اسی کے قبضے میں ہے، وہی فنا کرتا ہے، وہی پیدا کرتا ہے۔ جسے جو چاہے عنایت فرماتا ہے، ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے، جو چاہتا ہے ہوجاتا ہے، جو نہ چاہے نہیں ہوسکتا۔ اس کے بعد کی آیت (هُوَ الْاَوَّلُ وَالْاٰخِرُ وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ ۚ وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمٌ) 57۔ الحدید :3) وہ آیت ہے جس کی بابت اوپر کی حدیث میں گذرا کہ ایک ہزار آیتوں سے افضل ہے۔ حضرت ابو زمیل حضرت ابن عباس سے کہتے ہیں کہ میرے دل میں ایک کھٹکا ہے لیکن زبان پر لانے کو جی نہیں چاہتا اس پر حضرت ابن عباس ؓ نے مسکرا کر فرمایا شاید کچھ شک ہوگا جس سے کوئی نہیں بچا یہاں تک کہ قرآن میں ہے آیت (فَاِنْ كُنْتَ فِيْ شَكٍّ مِّمَّآ اَنْزَلْنَآ اِلَيْكَ فَسْــــَٔـلِ الَّذِيْنَ يَقْرَءُوْنَ الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكَ ۚ لَقَدْ جَاۗءَكَ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِيْنَ 94 ۙ) 10۔ یونس :94) ، یعنی اگر تو جو کچھ تیری طرف نازل کیا گیا ہے اس میں شک میں ہو تو تجھ سے پہلے جو کتاب پڑھتے ہیں ان سے پوچھ لے۔ پھر فرمایا جب تیرے دل میں کوئی شک ہو تو اس آیت کو پڑھ لیا کر (هُوَ الْاَوَّلُ وَالْاٰخِرُ وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ ۚ وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمٌ) 57۔ الحدید :3) اس آیت کی تفسیر میں دس سے اوپر اوپر اقوال ہیں۔ بخاری فرماتے ہیں یحییٰ کا قول ہے کہ ظاہر باطن سے مراد از روئے علم ہر چیز پر ظاہر اور پوشیدہ ہونا ہے۔ یہ یحییٰ زیاد فراء کے لڑکے ہیں ان کی ایک تصنیف ہے جس کا نام معانی القرآن ہے۔ مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ سونے کے وقت یہ دعا پڑھا کرتے۔ اے اللہ اے ساتوں آسمانوں کے اور عرش عظیم کے رب، اے ہمارے اور ہر چیز کے رب ! اے تورات و انجیل کے اتارنے والے ! اے دانوں اور گٹھلیوں کو اگانے والے تیرے سوا کوئی لائق عبادت نہیں میں تیری پناہ میں آتا ہوں ہر اس چیز کی برائی سے کہ اس کی چوٹی تیرے ہاتھ میں ہے تو اول ہے تجھ سے پہلے کچھ نہ تھا تو ہی آخر ہے تیرے بعد کچھ نہیں تو ظاہر ہے تجھ سے اونچی کوئی چیز نہیں تو باطن ہے تجھ سے چھپی کوئی چیز نہیں ہمارے قرض ادا کرا دے اور ہمیں فقیری سے غنا دے۔ حضرت ابو صالح اپنے متعلقین کو یہ دعا سکھاتے اور فرماتے سوتے وقت داہنی کروٹ پر لیٹ کر یہ دعا پڑھ لیا کرو، الفاظ میں کچھ ہیر پھیر ہے۔ ملاحظہ ہو مسلم۔ ابو یعلی میں ہے حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ حضور ﷺ کے حکم سے آپ کا بسترہ قبلہ رخ بچھایا جاتا آپ آ کر اپنے داہنے ہاتھ پر تکیہ لگا کر آرام فرماتے، پھر آہستہ آہستہ کچھ پڑھتے رہتے لیکن آخر رات میں با آواز بلند یہ دعا پڑھتے (جو اوپر بیان ہوئی) الفاظ میں کچھ ہیر پھیر ہے۔ اس آیت کی تفسیر میں جامع ترمذی میں ہے کہ حضور ﷺ اپنے صحابہ سمیت تشریف فرما تھے کہ ایک بادل سر پر آگیا آپ نے فرمایا جانتے ہو یہ کیا ہے ؟ صحابہ نے با ادب جواب دیا اللہ اور اس کے رسول زیادہ جاننے والے ہیں۔ فرمایا اسے عنان کہتے ہیں یہ زمین کو سیراب کرنے والے ہیں ان لوگوں پر بھی یہ برسائے جاتے ہیں جو نہ اللہ کے شکر گزار ہیں نہ اللہ کے پکارنے والے پھر پوچھا معلوم ہے تمہارے اوپر کیا ہے انہوں نے کہا اللہ اور اس کا رسول زیادہ باخبر ہے، فرمایا بلند محفوظ چھت اور لپٹی ہوئی موج، جانتے ہو تم میں اس میں کس قدر فاصلہ ہے وہی جواب ملا، فرمایا پانچ سو سال کا راستہ۔ پھر پوچھا جانتے ہو اس کے اوپر کیا ہے ؟ صحابہ نے پھر اپنی لاعلمی ان ہی الفاظ میں ظاہر کی تو آپ ﷺ نے فرمایا اس کے اوپر پھر دوسرا آسمان ہے اور ان دونوں آسمانوں میں بھی پانچ سو سال کا فاصلہ ہے اسی طرح آپ نے سات آسمان گنوائے اور ہر دو میں اتنی ہی دوری بیان فرمائی۔ پھر سوال کر کے جواب سن کر فرمایا اس ساتویں کے اوپر اتنے ہی فاصلہ سے عرش ہے، پھر پوچھا جانتے ہو تمہارے نیچے کیا ہے اور جواب وہی سن کر فرمایا دوسری زمین ہے، پھر سوال جواب کے بعد فرمایا اس کے نیچے دوسری زمین ہے اور دونوں زمینوں کے درمیان پانچ سو سال کا فاصلہ ہے، اسی طرح سات زمینیں اسی فاصلہ کے ساتھ ایک دوسرے کے نیچے بتائیں، پھر فرمایا اس کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ﷺ کی جان ہے اگر تم کوئی رسی سب سے نیچے کی زمین کی طرف لٹکاؤ تو وہ بھی اللہ کے پاس پہنچے گی پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت کی، لیکن یہ حدیث غریب ہے اس کے راوی حسن کا ایوب یونس اور علی بن زید محدثین کا قول ہے۔ بعض اہل علم نے اس حدیث کی شرح میں کہا ہے کہ اس سے مراد رسی کا اللہ تعالیٰ کے علم قدرت اور غلبے تک پہنچنا ہے (نہ کہ ذات باری تعالیٰ) اللہ تعالیٰ کا علم اس کی قدرت اور اس کا غلبہ اور سلطنت بیشک ہر جگہ ہے لیکن وہ اپنی ذات سے عرش پر ہے جیسے کہ اس نے اپنا یہ وصف اپنی کتاب میں خود بیان فرمایا ہے۔ مسند احمد میں بھی یہ حدیث ہے اور اس میں دو دو زمینوں کے درمیان کا فاصلہ سات سو سال کا بیان ہوا۔ ابن ابی حاتم اور بزار میں بھی یہ حدیث ہے لیکن ابن ابی حاتم میں رسی لٹکانے کا جملہ نہیں اور ہر دو زمین کے درمیان کی دوری اس میں بھی پانچ سو سال کی بیان ہوئی ہے۔ امام بزار نے یہ بھی فرمایا ہے کہ اس روایت کا راوی آنحضرت ﷺ سے بغیر حضرت ابوہریرہ کے اور کوئی نہیں۔ ابن جریر میں یہ حدیث مرسلاً مروی ہے یعنی قتادہ فرماتے ہیں ہم سے یوں ذکر کیا گیا ہے پھر حدیث بیان کرتے ہیں صحابی کا نام نہیں لیتے۔ ممکن ہے یہی ٹھیک ہو، واللہ اعلم، حضرت ابوذر غفاری سے مسند بزار اور کتاب الاسماء و الصفات بیہقی میں یہ حدیث مروی ہے لیکن اس کی اسناد میں نظر ہے اور متن میں غربت و نکارت ہے واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم۔ امام ابن جریر آیت (وَّمِنَ الْاَرْضِ مِثْلَهُنّ 12ۧ) 65۔ الطلاق :12) کی تفسیر میں حضرت قتادہ کا قول لائے ہیں کہ آسمان و زمین کے درمیان چار فرشتوں کی ملاقات ہوئی۔ آپس میں پوچھا کہ تم کہاں سے آ رہے ہو ؟ تو ایک نے کہا ساتویں آسمان سے مجھے اللہ عزوجل نے بھیجا ہے اور میں نے اللہ کو وہیں چھوڑا ہے۔ دوسرے نے کہا ساتویں زمین سے مجھے اللہ نے بھیجا تھا اور اللہ وہیں تھا، تیسرے نے کہا میرے رب نے مجھے مشرق سے بھیجا ہے جہاں وہ تھا چوتھے نے کہا مجھے مغرب سے اللہ تعالیٰ نے بھیجا ہے اور میں اسے وہیں چھوڑ کر آ رہا ہوں۔ لیکن یہ روایت بھی غریب ہے بلکہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حضرت قتادہ والی اوپر کی روایت جو مرسلاً بیان ہوئی ہے ممکن ہے وہ بھی حضرت قتادہ کا اپنا قول ہو جیسے یہ قول خود قتادہ کا اپنا۔ واللہ اعلم
هُوَ ٱلَّذِي خَلَقَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٖ ثُمَّ ٱسۡتَوَىٰ عَلَى ٱلۡعَرۡشِۖ يَعۡلَمُ مَا يَلِجُ فِي ٱلۡأَرۡضِ وَمَا يَخۡرُجُ مِنۡهَا وَمَا يَنزِلُ مِنَ ٱلسَّمَآءِ وَمَا يَعۡرُجُ فِيهَاۖ وَهُوَ مَعَكُمۡ أَيۡنَ مَا كُنتُمۡۚ وَٱللَّهُ بِمَا تَعۡمَلُونَ بَصِيرٞ
It is He Who created the heavens and the earth in six days, then ascended the Throne (of Control), in a manner befitting His Majesty; He knows all what goes into the earth and all what comes out of it, and all what descends from the sky and all that rises in it; and He is with you, wherever you may be; and Allah is seeing your deeds.
وہی ہے جِس نے آسمانوں اور زمین کو چھ اَدوار میں پیدا فرمایا پھر کائنات کی مسند اقتدار پر (اپنی شان کے مطابق) جلوہ افروز ہوا (یعنی پوری کائنات کو اپنے امر کے ساتھ منظم فرمایا)، وہ جانتا ہے جو کچھ زمین میں داخل ہوتا ہے اور جو کچھ اس میں سے خارج ہوتا ہے اور جو کچھ آسمانی کرّوں سے اترتا (یا نکلتا) ہے یا جو کچھ ان میں چڑھتا (یا داخل ہوتا) ہے۔ وہ تمہارے ساتھ ہوتا ہے تم جہاں کہیں بھی ہو، اور اللہ جو کچھ تم کرتے ہو (اسے) خوب دیکھنے والا ہے
Tafsir Ibn Kathir
Allah's Knowledge, Power and Kingdom are Limitless
Allah the Exalted states that He created the heavens and earth, and all that is between them, in six Days and then rose over the Throne after He created them. We discussed this before in the explanation of Surat Al-A`raf, so it is not necessary to repeat the meaning here. Allah's statement,
يَعْلَمُ مَا يَلْجُ فِى الاٌّرْضِ
(He knows what goes into the earth), indicates His knowledge in the amount of seeds and drops of water that enter inside the earth's surface,
وَمَا يَخْرُجُ مِنْهَا
(and what comes forth from it) of plants, vegetation and fruits. Allah the Exalted said in another Ayah,
وَعِندَهُ مَفَاتِحُ الْغَيْبِ لاَ يَعْلَمُهَآ إِلاَّ هُوَ وَيَعْلَمُ مَا فِى الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَمَا تَسْقُطُ مِن وَرَقَةٍ إِلاَّ يَعْلَمُهَا وَلاَ حَبَّةٍ فِى ظُلُمَـتِ الاٌّرْضِ وَلاَ رَطْبٍ وَلاَ يَابِسٍ إِلاَّ فِى كِتَـبٍ مُّبِينٍ
(And with Him are the keys of all that is hidden, none knows them but He. And He knows whatever there is in the land and in the sea; not a leaf falls, but He knows it. There is not a grain in the darkness of the earth nor anything fresh or dry, but is written in a Clear Record.)(6:59) Allah's statement,
وَمَا يَنزِلُ مِنَ السَّمَآءِ
(and what descends from the heaven), pertains to rain, snow, hail and whatever Allah decides descends from heaven of decisions and commandments brought down by the honorable angels. Allah's statement,
وَمَا يَعْرُجُ فِيهَا
(and what ascends thereto.), refers to angels and deeds. In the Sahih, there is a Hadith in which the Prophet said,
«يُرْفَعُ إِلَيْهِ عَمَلُ اللَّيْلِ قَبْلَ النَّهَارِ، وَعَمَلُ النَّهَارِ قَبْلَ اللَّيْل»
(To Him ascend the deeds of the night before the day falls and the deeds of the day before the night falls.) Allah said,
وَهُوَ مَعَكُمْ أَيْنَ مَا كُنتُمْ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ
(And He is with you wheresoever you may be. And Allah is the All-Seer of what you do.) meaning, He is watching over you and witnessing your deeds wherever you may be, on land or at sea, during the night or the day, at home or in open areas or deserts. All of that is the same before His knowledge and all of it is under His sight and hearing. He hears your speech and sees where you are. He knows your secrets and your public statements,
أَلا إِنَّهُمْ يَثْنُونَ صُدُورَهُمْ لِيَسْتَخْفُواْ مِنْهُ أَلا حِينَ يَسْتَغْشُونَ ثِيَابَهُمْ يَعْلَمُ مَا يُسِرُّونَ وَمَا يُعْلِنُونَ إِنَّهُ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ
(No doubt! They did fold up their breasts, that they may hide from Him. Surely, even when they cover themselves with their garments, He knows what they conceal and what they reveal. Verily, He is the All-Knower of the (secrets) of the breasts. )(11:5) Allah the Exalted said,
سَوَآءٌ مِّنْكُمْ مَّنْ أَسَرَّ الْقَوْلَ وَمَنْ جَهَرَ بِهِ وَمَنْ هُوَ مُسْتَخْفٍ بِالَّيْلِ وَسَارِبٌ بِالنَّهَارِ
(It is the same (to Him) whether any of you conceals his speech or declares it openly, whether he be hid by night or goes forth freely by day.)(13:10) Surely, there is no deity worthy of worship, except Allah. In the Sahih, there is a Hadith in which the Messenger of Allah ﷺ answered Jibril, when he asked him about Ihsan:
«أَنْ تَعْبُدَ اللهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ، فَإِنْ لَمْ تَكُنْ تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاك»
(To worship Allah as if you see Him, and even though you cannot see Him, He surely sees you.) Allah's statement,
لَّهُ مُلْكُ السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ وَإِلَى اللَّهِ تُرْجَعُ الاٍّمُورُ
(His is the kingdom of the heavens and the earth. And to Allh return all the matters.) asserts that Allah is the King and Owner of this life and the Hereafter. Allah said in another Ayah,
وَإِنَّ لَنَا لَلاٌّخِرَةَ وَالاٍّولَى
(And truly, unto Us (belong) the last (Hereafter) and the first (this world).)(92:13) Surely, Allah is praised for this attribute, just as He said in other Ayat,
وَهُوَ اللَّهُ لا إِلَـهَ إِلاَّ هُوَ لَهُ الْحَمْدُ فِى الاٍّولَى وَالاٌّخِرَةِ
(And He is Allah, La ilaha illa Huwa, all praise is His in the first and in the last.)(28:70), and,
الْحَمْدُ للَّهِ الَّذِى لَهُ مَا فِى السَّمَـوَتِ وَمَا فِى الاٌّرْضِ وَلَهُ الْحَمْدُ فِى الاٌّخِرَةِ وَهُوَ الْحَكِيمُ الْخَبِيرُ
(All the praise is Allah's, to Whom belongs all that is in the heavens and all that is in the earth. His is all the praise in the Hereafter, and He is the All-Wise, the All-Aware.)(34:1) Allah owns everything that is in the heavens and earth, and all their inhabitants are servants to Him and humble before Him, just as He said,
إِن كُلُّ مَن فِى السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ إِلاَّ آتِى الرَّحْمَـنِ عَبْداً - لَّقَدْ أَحْصَـهُمْ وَعَدَّهُمْ عَدّاً - وَكُلُّهُمْ ءَاتِيهِ يَوْمَ الْقِيَـمَةِ فَرْداً
(There is none in the heavens and the earth but comes unto the Most Gracious as a servant. Verily, He knows each one of them, and has counted them a full counting. And every one of them will come to Him alone on the Day of Resurrection.) (19:93-95) This is why Allah said here,
وَإِلَى اللَّهِ تُرْجَعُ الأُمُورُ
(And to Allah return all the matters.) meaning that all matters will be referred to Him on the Day of Resurrection and He will judge His creation as He wills. Indeed, He is the Most Just, Who never falls into injustice, not even the weight of a speck of dust; if one performs even one good deed, Allah will multiply it up to ten times,
وَيُؤْتِ مِن لَّدُنْهُ أَجْراً عَظِيماً
(and gives from Him a great reward. )(4:40),
وَنَضَعُ الْمَوَزِينَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيَـمَةِ فَلاَ تُظْلَمُ نَفْسٌ شَيْئاً وَإِن كَانَ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ أَتَيْنَا بِهَا وَكَفَى بِنَا حَـسِبِينَ
(And We shall set up Balances of justice on the Day of Resurrection, then none will be dealt with unjustly in anything. And if there be the weight of a mustard seed, We will bring it. And sufficent are We to take account.)(21:47) Allah's statement,
يُولِجُ الَّيْلَ فِى النَّهَارِ وَيُولِجُ النَّهَارَ فِى الَّيْلِ
(He merges night into day, and merges day into night,) meaning, He does what He wills with His creatures. He alternates the night and day and measures them by His wisdom, as He wills. Sometimes, He makes the night longer than the day, and sometimes the opposite. Sometimes, He makes the length of night and day equal. Sometimes, He makes the season winter, then changes it to spring, then summer then autumn. All this He does by His wisdom and His due measure of everything in His creation,
وَهُوَ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ
(and He has full knowledge of whatsoever is in the breasts.) He knows the secrets, no matter how concealed they are.
ہر چیز کا خالق ومالک اللہ ہے اللہ تعالیٰ کا زمین و آسمان کو چھ دن میں پیدا کرنا اور عرش پر قرار پکڑنا سورة اعراف کی تفسیر میں پوری طرح بیان ہوچکا ہے اس لئے یہاں دوبارہ بیان کرنے کی ضرورت نہیں، اسے بخوبی علم ہے کہ کس قدر بارش کی بوندیں زمین میں گئیں، کتنے دانے زمین میں پڑے اور کیا چارہ پیدا ہوا کس قدر کھیتیاں ہوئیں اور کتنے پھل کھلے، جیسے اور آیت میں ہے (وَعِنْدَهٗ مَفَاتِحُ الْغَيْبِ لَا يَعْلَمُهَآ اِلَّا هُوَ 59) 6۔ الانعام :59) ، غیب کی کنجیاں اسی کے پاس ہیں جنہیں سوائے اس کے اور کوئی جانتا ہی نہیں وہ خشکی اور تری کی تمام چیزوں کا عالم ہے کسی پتے کا گرنا بھی اس کے علم سے باہر نہیں، زمین کے اندھیروں میں پوشیدہ دانہ اور کوئی ترو خشک چیز ایسی نہیں جو کھلی کتاب میں موجود نہ ہو، اسی طرح آسمان سے نازل ہونے والی بارش، اولے، برف، تقدیر اور احکام جو برتر فرشتوں کے بذریعہ نازل ہوتے ہیں، سب اس کے علم میں ہیں، سورة بقرہ کی تفسیر میں یہ گذر چکا ہے کہ اللہ کے مقرر کردہ فرشتے بارش کے ایک ایک قطرے کو اللہ کی بتائی ہوئی جگہ پہنچا دیتے ہیں، آسمان سے اترنے والے فرشتے اور اعمال بھی اس کے وسیع علم میں ہیں، جیسے صحیح حدیث میں ہے رات کے اعمال دن سے پہلے اور دن کے اعمال رات سے پہلے اس کی جناب میں پیش کردیئے جاتے ہیں، وہ تمہارے ساتھ ہے یعنی تمہارا نگہبان ہے۔ تمہارے اعمال و افعال کو دیکھ رہا ہے جیسے بھی ہوں جو بھی ہوں اور تم بھی خواہ خشکی میں ہو خواہ تری میں، راتیں ہوں یا دن ہوں، تم گھر میں ہو یا جنگل میں، ہر حالت میں اس کے علم کے لئے یکساں ہر وقت اس کی نگاہیں اور اس کا سننا تمہارے ساتھ ہے۔ وہ تمہارے تمام کلمات سنتا رہتا ہے تمہارا حال دیکھتا رہتا ہے، تمہارے چھپے کھلے کا اسے علم ہے۔ جیسے فرمایا ہے کہ اس سے جو چھپنا چاہے اس کا وہ فعل فضول ہے بھلا ظاہر باطن بلکہ دلوں کے ارادے تک سے واقفیت رکھنے والے سے کوئی کیسے چھپ سکتا ہے ؟ ایک اور آیت میں ہے پوشیدہ باتیں ظاہر باتیں راتوں کو دن کو جو بھی ہوں سب اس پر روشن ہیں۔ یہ سچ ہے وہی رب ہے وہی معبود برحق ہے۔ صحیح حدیث میں ہے کہ جبرائیل کے سوال پر آنحضرت ﷺ نے فرمایا احسان یہ ہے کہ تو اللہ کی عبادت اس طرح کر کہ گویا تو اللہ کو دیکھ رہا ہے۔ پس اگر تو اسے نہیں دیکھ رہا تو وہ تو تجھے دیکھ رہا ہے۔ ایک شخص آ کر رسول اللہ ﷺ سے عرض کرتا ہے کہ یا رسول اللہ ﷺ مجھے کوئی ایسا حکمت کا توشہ دیجئے کہ میری زندگی سنور جائے، آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کا لحاظ کر اور اس سے اس طرح شرما جیسے کہ تو اپنے کسی نزدیکی نیم قرابتدار سے شرماتا ہو جو تجھ سے کبھی جدا نہ ہوتا ہو، یہ حدیث ابوبکر اسماعیلی نے روایت کی ہے سند غریب ہے۔ حضور ﷺ کا ارشاد ہے جس نے تین کام کر لئے اس نے ایمان کا مزہ اٹھا لیا۔ ایک اللہ کی عبادت کی اور اپنے مال کی زکوٰۃ ہنسی خوشی راضی رضامندی سے ادا کی۔ جانور اگر زکوٰۃ میں دینے ہیں تو بوڑھے بیکار دبلے پتلے اور بیمار نہ دے بلکہ درمیانہ راہ اللہ میں دیا اور اپنے نفس کو پاک کیا۔ اس پر ایک شخص نے سوال کیا کہ حضور ﷺ نفس کو پاک کرنے کا کیا مطلب ہے ؟ آپ نے فرمایا اس بات کو دل میں محسوس کرے اور یقین و عقیدہ رکھے کہ ہر جگہ اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ ہے۔ (ابو نعیم) اور حدیث میں ہے افضل ایمان یہ ہے کہ تو جان رکھے کہ تو جہاں کہیں ہے اللہ تیرے ساتھ ہے (نعیم بن حماد) حضرت امام احمد ؒ اکثر ان دو شعروں کو پڑھتے رہتے تھے۔ اذا ما خلوت الدھر یوما فلا تقل خلوت ولکن قل علی رقیب ولا تحسبن اللہ یغفل ساعتہ ولا ان ما یخفی علیہ یغیب جب تو بالکل تنہائی اور خلوت میں ہو اس وقت بھی یہ نہ کہہ کہ میں اکیلا ہی ہوں۔ بلکہ کہتا رہ کہ تجھ پر ایک نگہبان ہے یعنی اللہ تعالیٰ۔ کسی ساعت اللہ تعالیٰ کو بیخبر نہ سمجھ اور مخفی سے مخفی کام کو اس پر مخفی نہ مان۔ پھر فرماتا ہے کہ دنیا اور آخرت کا مالک وہی ہے جیسے اور آیت میں ہے (وَاِنَّ لَنَا لَـلْاٰخِرَةَ وَالْاُوْلٰى 13 ) 92۔ اللیل :13) دنیا آخرت کی ملکیت ہماری ہی ہے۔ اس کی تعریف اس بادشاہت پر بھی کرنی ہمارا فرض ہے۔ فرماتا ہے آیت (وَهُوَ اللّٰهُ لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ۭ لَهُ الْحَمْدُ فِي الْاُوْلٰى وَالْاٰخِرَةِ ۡ وَلَهُ الْحُكْمُ وَاِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ 70) 28۔ القصص :70) وہی معبود برحق ہے اور وہی حمد وثناء کا مستحق ہے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ایک اور آیت میں ہے اللہ کے لئے تمام تعریفیں ہیں جس کی ملکیت میں آسمان و زمین کی تمام چیزیں ہیں اور اسی کی حمد ہے آخرت میں اور وہ دانا خبردار ہے۔ پس ہر وہ چیز جو آسمان و زمین میں ہے اس کی بادشاہت میں ہے۔ ساری آسمان و زمین کی مخلوق اس کی غلام اور اس کی خدمت گذار اور اس کے سامنے پست ہے۔ جیسے فرمایا آیت (اِنْ كُلُّ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اِلَّآ اٰتِي الرَّحْمٰنِ عَبْدًا 93ۭ) 19۔ مریم :93) ، آسمان و زمین کی کل مخلوق رحمن کے سامنے غلامی کی حیثیت میں پیش ہونے والی ہے ان سب کو اس نے گھیر رکھا ہے اور سب کو ایک ایک کر کے گن رکھا ہے، اسی کی طرف تمام امور لوٹائے جاتے ہیں، اپنی مخلوق میں جو چاہے حکم دیتا ہے، وہ عدل ہے ظلم نہیں کرتا، بلکہ ایک نیکی کو دس گنا بڑھا کردیتا ہے اور پھر اپنے پاس سے اجر عظیم عنایت فرماتا ہے، ارشاد ہے آیت (وَنَضَعُ الْمَوَازِيْنَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيٰمَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَـيْــــــًٔا ۭ وَ اِنْ كَانَ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ اَتَيْنَا بِهَا ۭ وَكَفٰى بِنَا حٰسِـبِيْنَ 47) 21۔ الأنبیاء :47) ، قیامت کے روز ہم عدل کی ترازو رکھیں گے اور کسی پر ظلم نہ کیا جائے گا رائی کے برابر کا عمل بھی ہم سامنے لا رکھیں گے اور ہم حساب کرنے اور لینے میں کافی ہیں۔ پھر فرمایا خلق میں تصرف بھی اسی کا چلتا ہے دن رات کی گردش بھی اسی کے ہاتھ ہے اپنی حکمت سے گھٹاتا بڑھاتا ہے کبھی دن لمبے کبھی راتیں اور کبھی دونوں یکساں، کبھی جاڑا، کبھی گرمی، کبھی بارش، کبھی بہار، کبھی خزاں اور یہ سب بندوں کی خیر خواہی اور ان کی مصلحت کے لحاظ سے ہے۔ وہ دلوں کی چھوٹی سے چھوٹی باتوں اور دور کے پوشیدہ رازوں سے بھی واقف ہے۔
لَّهُۥ مُلۡكُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۚ وَإِلَى ٱللَّهِ تُرۡجَعُ ٱلۡأُمُورُ
For Him only is the kingship of the heavens and the earth; and towards Allah only is the return of all matters.
آسمانوں اور زمین کی ساری سلطنت اسی کی ہے، اور اسی کی طرف سارے امور لوٹائے جاتے ہیں
Tafsir Ibn Kathir
Allah's Knowledge, Power and Kingdom are Limitless
Allah the Exalted states that He created the heavens and earth, and all that is between them, in six Days and then rose over the Throne after He created them. We discussed this before in the explanation of Surat Al-A`raf, so it is not necessary to repeat the meaning here. Allah's statement,
يَعْلَمُ مَا يَلْجُ فِى الاٌّرْضِ
(He knows what goes into the earth), indicates His knowledge in the amount of seeds and drops of water that enter inside the earth's surface,
وَمَا يَخْرُجُ مِنْهَا
(and what comes forth from it) of plants, vegetation and fruits. Allah the Exalted said in another Ayah,
وَعِندَهُ مَفَاتِحُ الْغَيْبِ لاَ يَعْلَمُهَآ إِلاَّ هُوَ وَيَعْلَمُ مَا فِى الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَمَا تَسْقُطُ مِن وَرَقَةٍ إِلاَّ يَعْلَمُهَا وَلاَ حَبَّةٍ فِى ظُلُمَـتِ الاٌّرْضِ وَلاَ رَطْبٍ وَلاَ يَابِسٍ إِلاَّ فِى كِتَـبٍ مُّبِينٍ
(And with Him are the keys of all that is hidden, none knows them but He. And He knows whatever there is in the land and in the sea; not a leaf falls, but He knows it. There is not a grain in the darkness of the earth nor anything fresh or dry, but is written in a Clear Record.)(6:59) Allah's statement,
وَمَا يَنزِلُ مِنَ السَّمَآءِ
(and what descends from the heaven), pertains to rain, snow, hail and whatever Allah decides descends from heaven of decisions and commandments brought down by the honorable angels. Allah's statement,
وَمَا يَعْرُجُ فِيهَا
(and what ascends thereto.), refers to angels and deeds. In the Sahih, there is a Hadith in which the Prophet said,
«يُرْفَعُ إِلَيْهِ عَمَلُ اللَّيْلِ قَبْلَ النَّهَارِ، وَعَمَلُ النَّهَارِ قَبْلَ اللَّيْل»
(To Him ascend the deeds of the night before the day falls and the deeds of the day before the night falls.) Allah said,
وَهُوَ مَعَكُمْ أَيْنَ مَا كُنتُمْ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ
(And He is with you wheresoever you may be. And Allah is the All-Seer of what you do.) meaning, He is watching over you and witnessing your deeds wherever you may be, on land or at sea, during the night or the day, at home or in open areas or deserts. All of that is the same before His knowledge and all of it is under His sight and hearing. He hears your speech and sees where you are. He knows your secrets and your public statements,
أَلا إِنَّهُمْ يَثْنُونَ صُدُورَهُمْ لِيَسْتَخْفُواْ مِنْهُ أَلا حِينَ يَسْتَغْشُونَ ثِيَابَهُمْ يَعْلَمُ مَا يُسِرُّونَ وَمَا يُعْلِنُونَ إِنَّهُ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ
(No doubt! They did fold up their breasts, that they may hide from Him. Surely, even when they cover themselves with their garments, He knows what they conceal and what they reveal. Verily, He is the All-Knower of the (secrets) of the breasts. )(11:5) Allah the Exalted said,
سَوَآءٌ مِّنْكُمْ مَّنْ أَسَرَّ الْقَوْلَ وَمَنْ جَهَرَ بِهِ وَمَنْ هُوَ مُسْتَخْفٍ بِالَّيْلِ وَسَارِبٌ بِالنَّهَارِ
(It is the same (to Him) whether any of you conceals his speech or declares it openly, whether he be hid by night or goes forth freely by day.)(13:10) Surely, there is no deity worthy of worship, except Allah. In the Sahih, there is a Hadith in which the Messenger of Allah ﷺ answered Jibril, when he asked him about Ihsan:
«أَنْ تَعْبُدَ اللهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ، فَإِنْ لَمْ تَكُنْ تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاك»
(To worship Allah as if you see Him, and even though you cannot see Him, He surely sees you.) Allah's statement,
لَّهُ مُلْكُ السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ وَإِلَى اللَّهِ تُرْجَعُ الاٍّمُورُ
(His is the kingdom of the heavens and the earth. And to Allh return all the matters.) asserts that Allah is the King and Owner of this life and the Hereafter. Allah said in another Ayah,
وَإِنَّ لَنَا لَلاٌّخِرَةَ وَالاٍّولَى
(And truly, unto Us (belong) the last (Hereafter) and the first (this world).)(92:13) Surely, Allah is praised for this attribute, just as He said in other Ayat,
وَهُوَ اللَّهُ لا إِلَـهَ إِلاَّ هُوَ لَهُ الْحَمْدُ فِى الاٍّولَى وَالاٌّخِرَةِ
(And He is Allah, La ilaha illa Huwa, all praise is His in the first and in the last.)(28:70), and,
الْحَمْدُ للَّهِ الَّذِى لَهُ مَا فِى السَّمَـوَتِ وَمَا فِى الاٌّرْضِ وَلَهُ الْحَمْدُ فِى الاٌّخِرَةِ وَهُوَ الْحَكِيمُ الْخَبِيرُ
(All the praise is Allah's, to Whom belongs all that is in the heavens and all that is in the earth. His is all the praise in the Hereafter, and He is the All-Wise, the All-Aware.)(34:1) Allah owns everything that is in the heavens and earth, and all their inhabitants are servants to Him and humble before Him, just as He said,
إِن كُلُّ مَن فِى السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ إِلاَّ آتِى الرَّحْمَـنِ عَبْداً - لَّقَدْ أَحْصَـهُمْ وَعَدَّهُمْ عَدّاً - وَكُلُّهُمْ ءَاتِيهِ يَوْمَ الْقِيَـمَةِ فَرْداً
(There is none in the heavens and the earth but comes unto the Most Gracious as a servant. Verily, He knows each one of them, and has counted them a full counting. And every one of them will come to Him alone on the Day of Resurrection.) (19:93-95) This is why Allah said here,
وَإِلَى اللَّهِ تُرْجَعُ الأُمُورُ
(And to Allah return all the matters.) meaning that all matters will be referred to Him on the Day of Resurrection and He will judge His creation as He wills. Indeed, He is the Most Just, Who never falls into injustice, not even the weight of a speck of dust; if one performs even one good deed, Allah will multiply it up to ten times,
وَيُؤْتِ مِن لَّدُنْهُ أَجْراً عَظِيماً
(and gives from Him a great reward. )(4:40),
وَنَضَعُ الْمَوَزِينَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيَـمَةِ فَلاَ تُظْلَمُ نَفْسٌ شَيْئاً وَإِن كَانَ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ أَتَيْنَا بِهَا وَكَفَى بِنَا حَـسِبِينَ
(And We shall set up Balances of justice on the Day of Resurrection, then none will be dealt with unjustly in anything. And if there be the weight of a mustard seed, We will bring it. And sufficent are We to take account.)(21:47) Allah's statement,
يُولِجُ الَّيْلَ فِى النَّهَارِ وَيُولِجُ النَّهَارَ فِى الَّيْلِ
(He merges night into day, and merges day into night,) meaning, He does what He wills with His creatures. He alternates the night and day and measures them by His wisdom, as He wills. Sometimes, He makes the night longer than the day, and sometimes the opposite. Sometimes, He makes the length of night and day equal. Sometimes, He makes the season winter, then changes it to spring, then summer then autumn. All this He does by His wisdom and His due measure of everything in His creation,
وَهُوَ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ
(and He has full knowledge of whatsoever is in the breasts.) He knows the secrets, no matter how concealed they are.
ہر چیز کا خالق ومالک اللہ ہے اللہ تعالیٰ کا زمین و آسمان کو چھ دن میں پیدا کرنا اور عرش پر قرار پکڑنا سورة اعراف کی تفسیر میں پوری طرح بیان ہوچکا ہے اس لئے یہاں دوبارہ بیان کرنے کی ضرورت نہیں، اسے بخوبی علم ہے کہ کس قدر بارش کی بوندیں زمین میں گئیں، کتنے دانے زمین میں پڑے اور کیا چارہ پیدا ہوا کس قدر کھیتیاں ہوئیں اور کتنے پھل کھلے، جیسے اور آیت میں ہے (وَعِنْدَهٗ مَفَاتِحُ الْغَيْبِ لَا يَعْلَمُهَآ اِلَّا هُوَ 59) 6۔ الانعام :59) ، غیب کی کنجیاں اسی کے پاس ہیں جنہیں سوائے اس کے اور کوئی جانتا ہی نہیں وہ خشکی اور تری کی تمام چیزوں کا عالم ہے کسی پتے کا گرنا بھی اس کے علم سے باہر نہیں، زمین کے اندھیروں میں پوشیدہ دانہ اور کوئی ترو خشک چیز ایسی نہیں جو کھلی کتاب میں موجود نہ ہو، اسی طرح آسمان سے نازل ہونے والی بارش، اولے، برف، تقدیر اور احکام جو برتر فرشتوں کے بذریعہ نازل ہوتے ہیں، سب اس کے علم میں ہیں، سورة بقرہ کی تفسیر میں یہ گذر چکا ہے کہ اللہ کے مقرر کردہ فرشتے بارش کے ایک ایک قطرے کو اللہ کی بتائی ہوئی جگہ پہنچا دیتے ہیں، آسمان سے اترنے والے فرشتے اور اعمال بھی اس کے وسیع علم میں ہیں، جیسے صحیح حدیث میں ہے رات کے اعمال دن سے پہلے اور دن کے اعمال رات سے پہلے اس کی جناب میں پیش کردیئے جاتے ہیں، وہ تمہارے ساتھ ہے یعنی تمہارا نگہبان ہے۔ تمہارے اعمال و افعال کو دیکھ رہا ہے جیسے بھی ہوں جو بھی ہوں اور تم بھی خواہ خشکی میں ہو خواہ تری میں، راتیں ہوں یا دن ہوں، تم گھر میں ہو یا جنگل میں، ہر حالت میں اس کے علم کے لئے یکساں ہر وقت اس کی نگاہیں اور اس کا سننا تمہارے ساتھ ہے۔ وہ تمہارے تمام کلمات سنتا رہتا ہے تمہارا حال دیکھتا رہتا ہے، تمہارے چھپے کھلے کا اسے علم ہے۔ جیسے فرمایا ہے کہ اس سے جو چھپنا چاہے اس کا وہ فعل فضول ہے بھلا ظاہر باطن بلکہ دلوں کے ارادے تک سے واقفیت رکھنے والے سے کوئی کیسے چھپ سکتا ہے ؟ ایک اور آیت میں ہے پوشیدہ باتیں ظاہر باتیں راتوں کو دن کو جو بھی ہوں سب اس پر روشن ہیں۔ یہ سچ ہے وہی رب ہے وہی معبود برحق ہے۔ صحیح حدیث میں ہے کہ جبرائیل کے سوال پر آنحضرت ﷺ نے فرمایا احسان یہ ہے کہ تو اللہ کی عبادت اس طرح کر کہ گویا تو اللہ کو دیکھ رہا ہے۔ پس اگر تو اسے نہیں دیکھ رہا تو وہ تو تجھے دیکھ رہا ہے۔ ایک شخص آ کر رسول اللہ ﷺ سے عرض کرتا ہے کہ یا رسول اللہ ﷺ مجھے کوئی ایسا حکمت کا توشہ دیجئے کہ میری زندگی سنور جائے، آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کا لحاظ کر اور اس سے اس طرح شرما جیسے کہ تو اپنے کسی نزدیکی نیم قرابتدار سے شرماتا ہو جو تجھ سے کبھی جدا نہ ہوتا ہو، یہ حدیث ابوبکر اسماعیلی نے روایت کی ہے سند غریب ہے۔ حضور ﷺ کا ارشاد ہے جس نے تین کام کر لئے اس نے ایمان کا مزہ اٹھا لیا۔ ایک اللہ کی عبادت کی اور اپنے مال کی زکوٰۃ ہنسی خوشی راضی رضامندی سے ادا کی۔ جانور اگر زکوٰۃ میں دینے ہیں تو بوڑھے بیکار دبلے پتلے اور بیمار نہ دے بلکہ درمیانہ راہ اللہ میں دیا اور اپنے نفس کو پاک کیا۔ اس پر ایک شخص نے سوال کیا کہ حضور ﷺ نفس کو پاک کرنے کا کیا مطلب ہے ؟ آپ نے فرمایا اس بات کو دل میں محسوس کرے اور یقین و عقیدہ رکھے کہ ہر جگہ اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ ہے۔ (ابو نعیم) اور حدیث میں ہے افضل ایمان یہ ہے کہ تو جان رکھے کہ تو جہاں کہیں ہے اللہ تیرے ساتھ ہے (نعیم بن حماد) حضرت امام احمد ؒ اکثر ان دو شعروں کو پڑھتے رہتے تھے۔ اذا ما خلوت الدھر یوما فلا تقل خلوت ولکن قل علی رقیب ولا تحسبن اللہ یغفل ساعتہ ولا ان ما یخفی علیہ یغیب جب تو بالکل تنہائی اور خلوت میں ہو اس وقت بھی یہ نہ کہہ کہ میں اکیلا ہی ہوں۔ بلکہ کہتا رہ کہ تجھ پر ایک نگہبان ہے یعنی اللہ تعالیٰ۔ کسی ساعت اللہ تعالیٰ کو بیخبر نہ سمجھ اور مخفی سے مخفی کام کو اس پر مخفی نہ مان۔ پھر فرماتا ہے کہ دنیا اور آخرت کا مالک وہی ہے جیسے اور آیت میں ہے (وَاِنَّ لَنَا لَـلْاٰخِرَةَ وَالْاُوْلٰى 13 ) 92۔ اللیل :13) دنیا آخرت کی ملکیت ہماری ہی ہے۔ اس کی تعریف اس بادشاہت پر بھی کرنی ہمارا فرض ہے۔ فرماتا ہے آیت (وَهُوَ اللّٰهُ لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ۭ لَهُ الْحَمْدُ فِي الْاُوْلٰى وَالْاٰخِرَةِ ۡ وَلَهُ الْحُكْمُ وَاِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ 70) 28۔ القصص :70) وہی معبود برحق ہے اور وہی حمد وثناء کا مستحق ہے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ایک اور آیت میں ہے اللہ کے لئے تمام تعریفیں ہیں جس کی ملکیت میں آسمان و زمین کی تمام چیزیں ہیں اور اسی کی حمد ہے آخرت میں اور وہ دانا خبردار ہے۔ پس ہر وہ چیز جو آسمان و زمین میں ہے اس کی بادشاہت میں ہے۔ ساری آسمان و زمین کی مخلوق اس کی غلام اور اس کی خدمت گذار اور اس کے سامنے پست ہے۔ جیسے فرمایا آیت (اِنْ كُلُّ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اِلَّآ اٰتِي الرَّحْمٰنِ عَبْدًا 93ۭ) 19۔ مریم :93) ، آسمان و زمین کی کل مخلوق رحمن کے سامنے غلامی کی حیثیت میں پیش ہونے والی ہے ان سب کو اس نے گھیر رکھا ہے اور سب کو ایک ایک کر کے گن رکھا ہے، اسی کی طرف تمام امور لوٹائے جاتے ہیں، اپنی مخلوق میں جو چاہے حکم دیتا ہے، وہ عدل ہے ظلم نہیں کرتا، بلکہ ایک نیکی کو دس گنا بڑھا کردیتا ہے اور پھر اپنے پاس سے اجر عظیم عنایت فرماتا ہے، ارشاد ہے آیت (وَنَضَعُ الْمَوَازِيْنَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيٰمَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَـيْــــــًٔا ۭ وَ اِنْ كَانَ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ اَتَيْنَا بِهَا ۭ وَكَفٰى بِنَا حٰسِـبِيْنَ 47) 21۔ الأنبیاء :47) ، قیامت کے روز ہم عدل کی ترازو رکھیں گے اور کسی پر ظلم نہ کیا جائے گا رائی کے برابر کا عمل بھی ہم سامنے لا رکھیں گے اور ہم حساب کرنے اور لینے میں کافی ہیں۔ پھر فرمایا خلق میں تصرف بھی اسی کا چلتا ہے دن رات کی گردش بھی اسی کے ہاتھ ہے اپنی حکمت سے گھٹاتا بڑھاتا ہے کبھی دن لمبے کبھی راتیں اور کبھی دونوں یکساں، کبھی جاڑا، کبھی گرمی، کبھی بارش، کبھی بہار، کبھی خزاں اور یہ سب بندوں کی خیر خواہی اور ان کی مصلحت کے لحاظ سے ہے۔ وہ دلوں کی چھوٹی سے چھوٹی باتوں اور دور کے پوشیدہ رازوں سے بھی واقف ہے۔
يُولِجُ ٱلَّيۡلَ فِي ٱلنَّهَارِ وَيُولِجُ ٱلنَّهَارَ فِي ٱلَّيۡلِۚ وَهُوَ عَلِيمُۢ بِذَاتِ ٱلصُّدُورِ
He brings the night in a part of the day, and brings the day in a part of the night; and He knows what lies within the hearts.
وہی رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے، اور وہ سینوں کی (پوشیدہ) باتوں سے بھی خوب باخبر ہے
Tafsir Ibn Kathir
Allah's Knowledge, Power and Kingdom are Limitless
Allah the Exalted states that He created the heavens and earth, and all that is between them, in six Days and then rose over the Throne after He created them. We discussed this before in the explanation of Surat Al-A`raf, so it is not necessary to repeat the meaning here. Allah's statement,
يَعْلَمُ مَا يَلْجُ فِى الاٌّرْضِ
(He knows what goes into the earth), indicates His knowledge in the amount of seeds and drops of water that enter inside the earth's surface,
وَمَا يَخْرُجُ مِنْهَا
(and what comes forth from it) of plants, vegetation and fruits. Allah the Exalted said in another Ayah,
وَعِندَهُ مَفَاتِحُ الْغَيْبِ لاَ يَعْلَمُهَآ إِلاَّ هُوَ وَيَعْلَمُ مَا فِى الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَمَا تَسْقُطُ مِن وَرَقَةٍ إِلاَّ يَعْلَمُهَا وَلاَ حَبَّةٍ فِى ظُلُمَـتِ الاٌّرْضِ وَلاَ رَطْبٍ وَلاَ يَابِسٍ إِلاَّ فِى كِتَـبٍ مُّبِينٍ
(And with Him are the keys of all that is hidden, none knows them but He. And He knows whatever there is in the land and in the sea; not a leaf falls, but He knows it. There is not a grain in the darkness of the earth nor anything fresh or dry, but is written in a Clear Record.)(6:59) Allah's statement,
وَمَا يَنزِلُ مِنَ السَّمَآءِ
(and what descends from the heaven), pertains to rain, snow, hail and whatever Allah decides descends from heaven of decisions and commandments brought down by the honorable angels. Allah's statement,
وَمَا يَعْرُجُ فِيهَا
(and what ascends thereto.), refers to angels and deeds. In the Sahih, there is a Hadith in which the Prophet said,
«يُرْفَعُ إِلَيْهِ عَمَلُ اللَّيْلِ قَبْلَ النَّهَارِ، وَعَمَلُ النَّهَارِ قَبْلَ اللَّيْل»
(To Him ascend the deeds of the night before the day falls and the deeds of the day before the night falls.) Allah said,
وَهُوَ مَعَكُمْ أَيْنَ مَا كُنتُمْ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ
(And He is with you wheresoever you may be. And Allah is the All-Seer of what you do.) meaning, He is watching over you and witnessing your deeds wherever you may be, on land or at sea, during the night or the day, at home or in open areas or deserts. All of that is the same before His knowledge and all of it is under His sight and hearing. He hears your speech and sees where you are. He knows your secrets and your public statements,
أَلا إِنَّهُمْ يَثْنُونَ صُدُورَهُمْ لِيَسْتَخْفُواْ مِنْهُ أَلا حِينَ يَسْتَغْشُونَ ثِيَابَهُمْ يَعْلَمُ مَا يُسِرُّونَ وَمَا يُعْلِنُونَ إِنَّهُ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ
(No doubt! They did fold up their breasts, that they may hide from Him. Surely, even when they cover themselves with their garments, He knows what they conceal and what they reveal. Verily, He is the All-Knower of the (secrets) of the breasts. )(11:5) Allah the Exalted said,
سَوَآءٌ مِّنْكُمْ مَّنْ أَسَرَّ الْقَوْلَ وَمَنْ جَهَرَ بِهِ وَمَنْ هُوَ مُسْتَخْفٍ بِالَّيْلِ وَسَارِبٌ بِالنَّهَارِ
(It is the same (to Him) whether any of you conceals his speech or declares it openly, whether he be hid by night or goes forth freely by day.)(13:10) Surely, there is no deity worthy of worship, except Allah. In the Sahih, there is a Hadith in which the Messenger of Allah ﷺ answered Jibril, when he asked him about Ihsan:
«أَنْ تَعْبُدَ اللهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ، فَإِنْ لَمْ تَكُنْ تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاك»
(To worship Allah as if you see Him, and even though you cannot see Him, He surely sees you.) Allah's statement,
لَّهُ مُلْكُ السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ وَإِلَى اللَّهِ تُرْجَعُ الاٍّمُورُ
(His is the kingdom of the heavens and the earth. And to Allh return all the matters.) asserts that Allah is the King and Owner of this life and the Hereafter. Allah said in another Ayah,
وَإِنَّ لَنَا لَلاٌّخِرَةَ وَالاٍّولَى
(And truly, unto Us (belong) the last (Hereafter) and the first (this world).)(92:13) Surely, Allah is praised for this attribute, just as He said in other Ayat,
وَهُوَ اللَّهُ لا إِلَـهَ إِلاَّ هُوَ لَهُ الْحَمْدُ فِى الاٍّولَى وَالاٌّخِرَةِ
(And He is Allah, La ilaha illa Huwa, all praise is His in the first and in the last.)(28:70), and,
الْحَمْدُ للَّهِ الَّذِى لَهُ مَا فِى السَّمَـوَتِ وَمَا فِى الاٌّرْضِ وَلَهُ الْحَمْدُ فِى الاٌّخِرَةِ وَهُوَ الْحَكِيمُ الْخَبِيرُ
(All the praise is Allah's, to Whom belongs all that is in the heavens and all that is in the earth. His is all the praise in the Hereafter, and He is the All-Wise, the All-Aware.)(34:1) Allah owns everything that is in the heavens and earth, and all their inhabitants are servants to Him and humble before Him, just as He said,
إِن كُلُّ مَن فِى السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ إِلاَّ آتِى الرَّحْمَـنِ عَبْداً - لَّقَدْ أَحْصَـهُمْ وَعَدَّهُمْ عَدّاً - وَكُلُّهُمْ ءَاتِيهِ يَوْمَ الْقِيَـمَةِ فَرْداً
(There is none in the heavens and the earth but comes unto the Most Gracious as a servant. Verily, He knows each one of them, and has counted them a full counting. And every one of them will come to Him alone on the Day of Resurrection.) (19:93-95) This is why Allah said here,
وَإِلَى اللَّهِ تُرْجَعُ الأُمُورُ
(And to Allah return all the matters.) meaning that all matters will be referred to Him on the Day of Resurrection and He will judge His creation as He wills. Indeed, He is the Most Just, Who never falls into injustice, not even the weight of a speck of dust; if one performs even one good deed, Allah will multiply it up to ten times,
وَيُؤْتِ مِن لَّدُنْهُ أَجْراً عَظِيماً
(and gives from Him a great reward. )(4:40),
وَنَضَعُ الْمَوَزِينَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيَـمَةِ فَلاَ تُظْلَمُ نَفْسٌ شَيْئاً وَإِن كَانَ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ أَتَيْنَا بِهَا وَكَفَى بِنَا حَـسِبِينَ
(And We shall set up Balances of justice on the Day of Resurrection, then none will be dealt with unjustly in anything. And if there be the weight of a mustard seed, We will bring it. And sufficent are We to take account.)(21:47) Allah's statement,
يُولِجُ الَّيْلَ فِى النَّهَارِ وَيُولِجُ النَّهَارَ فِى الَّيْلِ
(He merges night into day, and merges day into night,) meaning, He does what He wills with His creatures. He alternates the night and day and measures them by His wisdom, as He wills. Sometimes, He makes the night longer than the day, and sometimes the opposite. Sometimes, He makes the length of night and day equal. Sometimes, He makes the season winter, then changes it to spring, then summer then autumn. All this He does by His wisdom and His due measure of everything in His creation,
وَهُوَ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ
(and He has full knowledge of whatsoever is in the breasts.) He knows the secrets, no matter how concealed they are.
ہر چیز کا خالق ومالک اللہ ہے اللہ تعالیٰ کا زمین و آسمان کو چھ دن میں پیدا کرنا اور عرش پر قرار پکڑنا سورة اعراف کی تفسیر میں پوری طرح بیان ہوچکا ہے اس لئے یہاں دوبارہ بیان کرنے کی ضرورت نہیں، اسے بخوبی علم ہے کہ کس قدر بارش کی بوندیں زمین میں گئیں، کتنے دانے زمین میں پڑے اور کیا چارہ پیدا ہوا کس قدر کھیتیاں ہوئیں اور کتنے پھل کھلے، جیسے اور آیت میں ہے (وَعِنْدَهٗ مَفَاتِحُ الْغَيْبِ لَا يَعْلَمُهَآ اِلَّا هُوَ 59) 6۔ الانعام :59) ، غیب کی کنجیاں اسی کے پاس ہیں جنہیں سوائے اس کے اور کوئی جانتا ہی نہیں وہ خشکی اور تری کی تمام چیزوں کا عالم ہے کسی پتے کا گرنا بھی اس کے علم سے باہر نہیں، زمین کے اندھیروں میں پوشیدہ دانہ اور کوئی ترو خشک چیز ایسی نہیں جو کھلی کتاب میں موجود نہ ہو، اسی طرح آسمان سے نازل ہونے والی بارش، اولے، برف، تقدیر اور احکام جو برتر فرشتوں کے بذریعہ نازل ہوتے ہیں، سب اس کے علم میں ہیں، سورة بقرہ کی تفسیر میں یہ گذر چکا ہے کہ اللہ کے مقرر کردہ فرشتے بارش کے ایک ایک قطرے کو اللہ کی بتائی ہوئی جگہ پہنچا دیتے ہیں، آسمان سے اترنے والے فرشتے اور اعمال بھی اس کے وسیع علم میں ہیں، جیسے صحیح حدیث میں ہے رات کے اعمال دن سے پہلے اور دن کے اعمال رات سے پہلے اس کی جناب میں پیش کردیئے جاتے ہیں، وہ تمہارے ساتھ ہے یعنی تمہارا نگہبان ہے۔ تمہارے اعمال و افعال کو دیکھ رہا ہے جیسے بھی ہوں جو بھی ہوں اور تم بھی خواہ خشکی میں ہو خواہ تری میں، راتیں ہوں یا دن ہوں، تم گھر میں ہو یا جنگل میں، ہر حالت میں اس کے علم کے لئے یکساں ہر وقت اس کی نگاہیں اور اس کا سننا تمہارے ساتھ ہے۔ وہ تمہارے تمام کلمات سنتا رہتا ہے تمہارا حال دیکھتا رہتا ہے، تمہارے چھپے کھلے کا اسے علم ہے۔ جیسے فرمایا ہے کہ اس سے جو چھپنا چاہے اس کا وہ فعل فضول ہے بھلا ظاہر باطن بلکہ دلوں کے ارادے تک سے واقفیت رکھنے والے سے کوئی کیسے چھپ سکتا ہے ؟ ایک اور آیت میں ہے پوشیدہ باتیں ظاہر باتیں راتوں کو دن کو جو بھی ہوں سب اس پر روشن ہیں۔ یہ سچ ہے وہی رب ہے وہی معبود برحق ہے۔ صحیح حدیث میں ہے کہ جبرائیل کے سوال پر آنحضرت ﷺ نے فرمایا احسان یہ ہے کہ تو اللہ کی عبادت اس طرح کر کہ گویا تو اللہ کو دیکھ رہا ہے۔ پس اگر تو اسے نہیں دیکھ رہا تو وہ تو تجھے دیکھ رہا ہے۔ ایک شخص آ کر رسول اللہ ﷺ سے عرض کرتا ہے کہ یا رسول اللہ ﷺ مجھے کوئی ایسا حکمت کا توشہ دیجئے کہ میری زندگی سنور جائے، آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کا لحاظ کر اور اس سے اس طرح شرما جیسے کہ تو اپنے کسی نزدیکی نیم قرابتدار سے شرماتا ہو جو تجھ سے کبھی جدا نہ ہوتا ہو، یہ حدیث ابوبکر اسماعیلی نے روایت کی ہے سند غریب ہے۔ حضور ﷺ کا ارشاد ہے جس نے تین کام کر لئے اس نے ایمان کا مزہ اٹھا لیا۔ ایک اللہ کی عبادت کی اور اپنے مال کی زکوٰۃ ہنسی خوشی راضی رضامندی سے ادا کی۔ جانور اگر زکوٰۃ میں دینے ہیں تو بوڑھے بیکار دبلے پتلے اور بیمار نہ دے بلکہ درمیانہ راہ اللہ میں دیا اور اپنے نفس کو پاک کیا۔ اس پر ایک شخص نے سوال کیا کہ حضور ﷺ نفس کو پاک کرنے کا کیا مطلب ہے ؟ آپ نے فرمایا اس بات کو دل میں محسوس کرے اور یقین و عقیدہ رکھے کہ ہر جگہ اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ ہے۔ (ابو نعیم) اور حدیث میں ہے افضل ایمان یہ ہے کہ تو جان رکھے کہ تو جہاں کہیں ہے اللہ تیرے ساتھ ہے (نعیم بن حماد) حضرت امام احمد ؒ اکثر ان دو شعروں کو پڑھتے رہتے تھے۔ اذا ما خلوت الدھر یوما فلا تقل خلوت ولکن قل علی رقیب ولا تحسبن اللہ یغفل ساعتہ ولا ان ما یخفی علیہ یغیب جب تو بالکل تنہائی اور خلوت میں ہو اس وقت بھی یہ نہ کہہ کہ میں اکیلا ہی ہوں۔ بلکہ کہتا رہ کہ تجھ پر ایک نگہبان ہے یعنی اللہ تعالیٰ۔ کسی ساعت اللہ تعالیٰ کو بیخبر نہ سمجھ اور مخفی سے مخفی کام کو اس پر مخفی نہ مان۔ پھر فرماتا ہے کہ دنیا اور آخرت کا مالک وہی ہے جیسے اور آیت میں ہے (وَاِنَّ لَنَا لَـلْاٰخِرَةَ وَالْاُوْلٰى 13 ) 92۔ اللیل :13) دنیا آخرت کی ملکیت ہماری ہی ہے۔ اس کی تعریف اس بادشاہت پر بھی کرنی ہمارا فرض ہے۔ فرماتا ہے آیت (وَهُوَ اللّٰهُ لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ۭ لَهُ الْحَمْدُ فِي الْاُوْلٰى وَالْاٰخِرَةِ ۡ وَلَهُ الْحُكْمُ وَاِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ 70) 28۔ القصص :70) وہی معبود برحق ہے اور وہی حمد وثناء کا مستحق ہے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ایک اور آیت میں ہے اللہ کے لئے تمام تعریفیں ہیں جس کی ملکیت میں آسمان و زمین کی تمام چیزیں ہیں اور اسی کی حمد ہے آخرت میں اور وہ دانا خبردار ہے۔ پس ہر وہ چیز جو آسمان و زمین میں ہے اس کی بادشاہت میں ہے۔ ساری آسمان و زمین کی مخلوق اس کی غلام اور اس کی خدمت گذار اور اس کے سامنے پست ہے۔ جیسے فرمایا آیت (اِنْ كُلُّ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اِلَّآ اٰتِي الرَّحْمٰنِ عَبْدًا 93ۭ) 19۔ مریم :93) ، آسمان و زمین کی کل مخلوق رحمن کے سامنے غلامی کی حیثیت میں پیش ہونے والی ہے ان سب کو اس نے گھیر رکھا ہے اور سب کو ایک ایک کر کے گن رکھا ہے، اسی کی طرف تمام امور لوٹائے جاتے ہیں، اپنی مخلوق میں جو چاہے حکم دیتا ہے، وہ عدل ہے ظلم نہیں کرتا، بلکہ ایک نیکی کو دس گنا بڑھا کردیتا ہے اور پھر اپنے پاس سے اجر عظیم عنایت فرماتا ہے، ارشاد ہے آیت (وَنَضَعُ الْمَوَازِيْنَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيٰمَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَـيْــــــًٔا ۭ وَ اِنْ كَانَ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ اَتَيْنَا بِهَا ۭ وَكَفٰى بِنَا حٰسِـبِيْنَ 47) 21۔ الأنبیاء :47) ، قیامت کے روز ہم عدل کی ترازو رکھیں گے اور کسی پر ظلم نہ کیا جائے گا رائی کے برابر کا عمل بھی ہم سامنے لا رکھیں گے اور ہم حساب کرنے اور لینے میں کافی ہیں۔ پھر فرمایا خلق میں تصرف بھی اسی کا چلتا ہے دن رات کی گردش بھی اسی کے ہاتھ ہے اپنی حکمت سے گھٹاتا بڑھاتا ہے کبھی دن لمبے کبھی راتیں اور کبھی دونوں یکساں، کبھی جاڑا، کبھی گرمی، کبھی بارش، کبھی بہار، کبھی خزاں اور یہ سب بندوں کی خیر خواہی اور ان کی مصلحت کے لحاظ سے ہے۔ وہ دلوں کی چھوٹی سے چھوٹی باتوں اور دور کے پوشیدہ رازوں سے بھی واقف ہے۔
ءَامِنُواْ بِٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦ وَأَنفِقُواْ مِمَّا جَعَلَكُم مُّسۡتَخۡلَفِينَ فِيهِۖ فَٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ مِنكُمۡ وَأَنفَقُواْ لَهُمۡ أَجۡرٞ كَبِيرٞ
Accept faith in Allah and His Noble Messenger, and spend in His cause from what He has made you the heirs of; so for those among you who accepted faith and spent in His cause, is a great reward.
اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لاؤ اور اس (مال و دولت) میں سے خرچ کرو جس میں اس نے تمہیں اپنا نائب (و امین) بنایا ہے، پس تم میں سے جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے خرچ کیا اُن کے لئے بہت بڑا اَجر ہے
Tafsir Ibn Kathir
Ordering Faith and encouraging spending
Allah the Exalted and Blessed orders having perfect faith in Him and in His Messenger, and that one should persist on this path adhereing firmly to it. Allah encourages spending from what He has made mankind trustees of, the wealth that you - mankind - have, that He has lent you. This wealth was in the hands of those before you and was later transferred to you. Therefore, O mankind, spend as Allah commanded you from the wealth that He entrusted to you for His obedience. Otherwise, He will hold you accountable and punish you for your ignoring what He ordained on you in this regard. Allah's statement,
مِمَّا جَعَلَكُم مُّسْتَخْلَفِينَ فِيهِ
(of that whereof He has made you trustees.), indicates that you - mankind -- will surrender this wealth to someone else. In this case, those who will inherit from you might obey Allah with their wealth, and thus acquire more happiness than you on account of what Allah has granted them. They might disobey Allah, and in this case you will have helped them commit evil and transgression. Imam Ahmad recorded that `Abdullah bin Ash-Shikhkhir said, "I came to Allah's Messenger ﷺ as he was reciting and saying,
أَلْهَـكُمُ التَّكَّاثُرُ
يَقُولُ ابْنُ آدَمَ: مَالِي مَالِي، وَهَلْ لَكَ مِن مَالِكَ إِلَّا مَاأَكَلْتَ فَأَفْنَيْتَ، أَوْ لَبِسْتَ فَأَبْلَيْتَ، أَوْ تَصَدَّقْتَ فَأَمْضَيْتَ؟»
((abundance diverts you.)( The Son of `Adam claims, "My wealth, my wealth." But is there anything belonging to you, except that which you consumed, which you used, or which you wore and then it became worn or you gave as charity and sent it forward) Muslim also collected with the addition:
«وَمَا سِوَى ذلِكَ، فَذَاهِبٌ وَتَارِكُهُ لِلنَّاس»
(Other than that, you will go away from it and leave it behind for other people.) Allah's statement,
فَالَّذِينَ ءَامَنُواْ مِنكُمْ وَأَنفَقُواْ لَهُمْ أَجْرٌ كَبِيرٌ
(And such of you as believe and spend, theirs will be a great reward.) encourages having faith and spending in acts of obedience. Allah the Exalted said,
وَمَا لَكُمْ لاَ تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالرَّسُولُ يَدْعُوكُمْ لِتُؤْمِنُواْ بِرَبِّكُمْ
(And what is the matter with you that you believe not in Allah! While the Messenger invites you to believe in your Lord;) meaning, "what prevents you from believing, while the Messenger is among you calling you to faith and bringing forward clear proofs and evidences that affirm the truth of what he brought you" And we have reported the Hadith through different routes in the beginning of the explanation on the chapter on Faith in Sahih Al-Bukhari, wherein one day the Messenger of Allah ﷺ said to his Companions,
«أَيُّ الْمُؤْمِنِينَ أَعْجَبُ إِلَيْكُمْ إِيمَانًا؟»
(Who do you consider among the believers as having the most amazing faith) They said, "The angels." He said,
«وَمَا لَهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ وَهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ؟»
(And what prevents them from believing when they are with their Lord) They said, "Then the Prophets." He said,
«وَمَالَهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ وَالْوَحْيُ يَنْزِلُ عَلَيْهِمْ؟»
(What prevents them from believing when the revelation comes down to them) They said, "Then us." He said,
«وَمَالَكُمْ لَا تُؤْمِنُونَ وَأَنَا بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ؟ وَلكِنْ أَعْجَبُ الْمُؤْمِنِينَ إِيمَانًا، قَوْمٌ يَجِيئُونَ بَعْدَكُمْ، يَجِدُونَ صُحُفًا يُؤْمِنُونَ بِمَا فِيهَا»
(What prevents you from believing, when I am amongst you Actually, the believers who have the most amazing faith, are some people who will come after you; they will find pages that they will believe in.) We mentioned a part of this Hadith when explaining Allah's statement in Surat Al-Baqarah,
الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ
(who believe in the Ghayb (unseen).)(2:3) Allah's statement,
وَقَدْ أَخَذَ مِيثَـقَكُمْ
(and He has indeed taken your covenant,) is similar to another of His statements,
وَاذْكُرُواْ نِعْمَةَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ وَمِيثَـقَهُ الَّذِى وَاثَقَكُم بِهِ إِذْ قُلْتُمْ سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا
(And remember Allah's favor to you and His covenant with which He bound you when you said: "We hear and we obey.")(5:7), which refers to giving the pledge of allegiance to the Prophet . Ibn Jarir said that the covenant mentioned here, is that taken from mankind, when they were still in Adam's loin. This is also the opinion of Mujahid, and Allah knows best. Allah said,
هُوَ الَّذِى يُنَزِّلُ عَلَى عَبْدِهِ ءَايَـتٍ بَيِّنَـتٍ
(It is He Who sends down manifest Ayat to His servant) clear proofs, unequivocal evidences and plain attestations,
لِيُخْرِجَكُمْ مِّنَ الظُّلُمَـتِ إِلَى النُّورِ
(that He may bring you out from darkness into light.) from the darkness of ignorance, disbelief and contradictory statements to the light of guidance, certainty and faith,
وَإِنَّ اللَّهَ بِكُمْ لَرَءُوفٌ رَّحِيمٌ
(And verily, Allah is to you full of kindness, Most Merciful.) by revealing the Divine Books and sending the Messengers to guide mankind, eradicating doubts and removing confusion. After Allah commanded mankind to first believe and spend, He again encouraged them to acquire faith and stated that He has removed all barriers between them and the acquisition of faith. Allah again encouraged them to spend,
وَمَا لَكُمْ أَلاَّ تُنفِقُواْ فِى سَبِيلِ اللَّهِ وَلِلَّهِ مِيرَاثُ السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ
(And what is the matter with you that you spend not in the cause of Allah And to Allah belongs the heritage of the heavens and the earth.) means, spend and do not fear poverty or scarcity. Surely, He in Whose cause you spent is the King and Owner of the heavens and earth and has perfect control over their every affair, including their treasuries. He is the Owner of the Throne, with all the might that it contains, and He is the One Who said,
وَمَآ أَنفَقْتُمْ مِّن شَىْءٍ فَهُوَ يُخْلِفُهُ وَهُوَ خَيْرُ الرَّازِقِينَ
(And whatsoever you spend of anything, He will replace it. And He is the best of providers.)(34:39), and,
مَا عِندَكُمْ يَنفَدُ وَمَا عِندَ اللَّهِ بَاقٍ
(whatever is with you, will be exhausted, and whatever is with Allah will remain.)(16:96) Therefore, those who trust in and depend on Allah will spend, and they will not fear poverty or destitution coming to them from the Owner of the Throne. They know that Allah will surely compensate them for whatever they spend.
The Virtues of spending and fighting before the Conquest of Makkah
Allah's statement,
لاَ يَسْتَوِى مِنكُم مَّنْ أَنفَقَ مِن قَبْلِ الْفَتْحِ وَقَـتَلَ
(Not equal among you are those who spent before the conquering and fought.) meaning those who did not fight and spend before the Conquest are not equal to those who spent and fought. Before Makkah was conquered, things were difficult for Muslims and only the righteous ones embraced Islam. After Makkah was conquered, Islam spread tremendously throughout the known world and people embraced the religion of Allah en masse. Similarly He said:
أُوْلَـئِكَ أَعْظَمُ دَرَجَةً مِّنَ الَّذِينَ أَنفَقُواْ مِن بَعْدُ وَقَـتَلُواْ وَكُلاًّ وَعَدَ اللَّهُ الْحُسْنَى
(Such are higher in degree than those who spent and fought afterwards. But to all Allah has promised the best (reward).) The majority considers the Conquest here to be the conquest of Makkah. Ash-Sha`bi and several others said that the Ayah refers to the treaty at Al-Hudaybiyyah. There is proof for this opinion found in a Hadith from Anas, collected by Imam Ahmad. Anas said, "Khalid bin Al-Walid and `Abdur-Rahman bin `Awf had a dispute. Khalid said to `Abdur-Rahman, `You boast about days (battles) that you participated in before us.' When the news of this statement reached the Prophet he said,
«دَعُوا لِي أَصْحَابِي، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ أَنْفَقْتُمْ مِثْلَ أُحُدٍ أَوْ مِثْلَ الْجِبَالِ ذَهَبًا، مَا بَلَغْتُمْ أَعْمَالَهُم»
(Do not bother my Companions, for by He in Whose Hand is my soul! If you spend an amount of gold equal to (Mount) Uhud, (or equal to the mountains), you will not reach the level of their actions.)" It is a known fact that Khalid bin Al-Walid, whom the Prophet addressed this statement to, embraced Islam during the period between the treaty of Al-Hudaybiyyah and the conquering of Makkah. The dispute between Khalid and `Abdur-Rahman occurred because of the battle of Bani Jadhimah. The Prophet sent Khalid bin Al-Walid to them after the conquest of Makkah, and they said, "Saba'na," instead of saying, "Aslamna" (we embraced Islam). So Khalid ordered their execution and the execution of their prisoners (of war); `Abdur-Rahman bin `Awf and `Abdullah bin `Umar opposed him. This is the reason behind the dispute that occurred between Khalid and `Abdur-Rahman. But in the Sahih, the Messenger of Allah ﷺ said,
«لَا تَسُبُّوا أَصْحَابِي، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ أَنْفَقَ أَحَدُكُمْ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا، مَا بَلَغَ مُدَّ أَحَدِهِمْ وَلَا نَصِيفَه»
(None should revile my Companions, for by He in Whose Hand is my soul! If one of you were to spend as much gold as Uhud, it would not reach the level of them equal to an amount as much as one Mudd of one of them or half of it.) Allah said,
وَكُلاًّ وَعَدَ اللَّهُ الْحُسْنَى
(But to all Allah has promised the best (reward).) meaning, those who spent before and after the conquest of Makkah; they all will gain a reward for their good deeds, even though some of them vary in rank and earn a better reward than others as Allah said,
لاَّ يَسْتَوِى الْقَـعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ غَيْرُ أُوْلِى الضَّرَرِ وَالْمُجَـهِدُونَ فِى سَبِيلِ اللَّهِ بِأَمْوَلِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ فَضَّلَ اللَّهُ الْمُجَـهِدِينَ بِأَمْوَلِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ عَلَى الْقَـعِدِينَ دَرَجَةً وَكُـلاًّ وَعَدَ اللَّهُ الْحُسْنَى وَفَضَّلَ اللَّهُ الْمُجَـهِدِينَ عَلَى الْقَـعِدِينَ أَجْراً عَظِيماً
(Not equal are those of the believers who sit (at home), except those who are disabled, and those who strive hard and fight in the cause of Allah with their wealth and their lives. Allah has preferred in grades those who strive hard and fight with their wealth and their lives above those who sit (at home). Unto each, Allah has promised good, but Allah has preferred by a great reward those who strive hard and fight, above those who sit (at home).)(4:95) There is a Hadith in the Sahih that states,
«الْمُؤْمِنُ الْقَوِيُّ خَيْرٌ وَأَحَبُّ إِلَى اللهِ مِنَ الْمُؤْمِنِ الضَّعِيفِ، وَفِي كُلَ خَيْر»
(The strong believer is better and more beloved to Allah than the weak believer; both have goodness in them.) The Prophet ended his statement this way to draw attention to the second type of believer, so that their own qualities are not forgotten in the midst of preferring the former type. In this way, the latter is not dismissed as being degraded in the Hadith. Therefore, the Prophet ended his statement by praising the second type -- the weak believers -- after giving preference to the first type. Allah said:
وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ
(And Allah is All-Aware of what you do.) meaning, since Allah is perfectly aware of all things, He made distinctions between the rewards of the believers who spent and fought before the Conquest and those who spent and fought afterwards. Surely, Allah does this by His knowledge of the intention of the former type and their perfect sincerity to Him, all the while spending in times of hardship, poverty and dire straits. This is found in the Hadith,
«سَبَقَ دِرْهَمٌ مِائَةَ أَلْف»
(Spending one Dirham is preceded over a hundred thousand.) There is no doubt that the people of faith consider Abu Bakr As-Siddiq to be the person who has the best share according to the meaning of this Ayah. He was the chief of those who implemented it, among all followers of all Prophets. He spent all of his wealth seeking the Face of Allah, the Exalted and Most Honored. He did it voluntarily too, not to repay a debt or a favor that anyone from mankind had on him. May Allah be pleased with him.
The Encouragement to make a Handsome Loan in the Cause of Allah
Allah said,
مَّن ذَا الَّذِى يُقْرِضُ اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا
(Who is he that will lend Allah a handsome loan:) `Umar bin Al-Khattab said that this Ayah refers to spending in Allah's cause. It was also said that it pertains to spending on children. What is correct is that it is more general than that. So all those who spend in the cause of Allah with good intentions and a sincere heart, then they fall under the generality of this Ayah. This is why Allah the Exalted said in another Ayah:
مَّن ذَا الَّذِى يُقْرِضُ اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا فَيُضَاعِفَهُ لَهُ
(Who is he that will lend Allah handsome loan: then (Allah) will increase it manifold to his credit (in repaying),) and in another Ayah,
أَضْعَافًا كَثِيرَةً
(many times) (2:245), meaning, being handsome reward and tremendous provisions: Paradise on the Day of Resurrection. Ibn Abi Hatim recorded that `Abdullah bin Mas`ud said, "When this Ayah,
مَّن ذَا الَّذِى يُقْرِضُ اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا فَيُضَاعِفَهُ لَهُ
(Who is he that will lend Allah handsome loan: then (Allah) will increase it manifold to his credit (in repaying),) was revealed, Abu Ad-Dahdah Al-Ansari said, `O Allah's Messenger! Does Allah ask us for a loan' The Prophet said,
«نَعَمْ، يَاأَبَا الدَّحْدَاح»
(Yes, O Abu Ad-Dahdah.) He said, `Give me your hand, O Allah's Messenger,' and the Prophet placed his hand in his hand. Abu Ad-Dahdah said, `Verily, I have given my garden as a loan to my Lord.' He had a garden that contained six hundred date trees; his wife and children were living in that garden too. Abu Ad-Dahdah went to his wife and called her, `Umm Ad-Dahdah!' She said, `Here I am.' He said, `Leave the garden, because I have given it as a loan to my Lord, the Exalted and Most Honored.' She said, `That is a successful trade, O Abu Ad-Dahdah!' She then transferred her goods and children. The Messenger of Allah ﷺ said,
«كَمْ مِنْ عَذْقٍ رَدَاحٍ فِي الْجَنَّةِ لِأَبِي الدَّحْدَاح»
(How plentiful are the sweet date clusters that Abu Ad-Dahdah has in Paradise!)" In another narration, the Prophet said,
«رُبَّ نَخْلَةٍ مُدَلَّاةٍ، عُرُوقُهَا دُرٌّ وَيَاقُوتٌ، لِأَبِي الدَّحْدَاحِ فِي الْجَنَّة»
(How many a date tree that has lowered down its clusters, which are full of pearls and gems in Paradise for Abu Ad-Dahdah!)
ایمان لانے اور اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کا حکم اللہ تبارک و تعالیٰ خود اپنے اوپر اور اپنے رسول ﷺ پر ایمان لانے اور اس پر مضبوطی اور ہمیشگی کے ساتھ جم کر رہنے کی ہدایت فرماتا ہے اور اپنی راہ میں خیرات کرنے کی رغبت دلاتا ہے جو مال ہاتھوں ہاتھ تمہیں اس نے پہنچایا ہو تم اس کی اطاعت گذاری میں اسے خرچ کرو اور سمجھ لو کہ جس طرح دوسرے ہاتھوں سے تمہیں ملا ہے اسی طرح عنقریب تمہارے ہاتھوں سے دوسرے ہاتھوں میں چلا جائے گا اور تم پر حساب اور عتاب رہ جائے گا اور اس میں یہ بھی اشارہ ہے کہ تیرے بعد تیرا وارث ممکن ہے نیک ہو اور وہ تیرے ترکے کو میری راہ میں خرچ کر کے مجھ سے قربت حاصل کرے اور ممکن ہے کہ وہ بد اور اپنی مستی اور سیاہ کاری میں تیرا اندوختہ فنا کر دے اور اس کی بدیوں کا باعث تو بنے نہ تو چھوڑتا نہ اڑاتا۔ حضور ﷺ سورة (الھکم) پڑھ کر فرمانے لگے انسان گو کہتا رہتا ہے یہ بھی میرا مال ہے یہ بھی میرا مال ہے حالانکہ دراصل انسان کا مال وہ ہے جو کھالیا پہن لیا صدقہ کردیا کھایا ہوا فنا ہوگیا پہنا ہوا پرانا ہو کر برباد ہوگیا، ہاں راہ اللہ دیا ہوا بطور خزانہ کے جمع رہا (مسلم) اور جو باقی رہے گا وہ تو اوروں کا مال ہے تو تو اسے جمع کر کے چھوڑ جانے والا ہے۔ پھر ان ہی دونوں باتوں کی ترغیب دلاتا ہے اور بہت بڑے اجر کا وعدہ دیتا ہے۔ پھر فرماتا ہے تمہیں ایمان سے کون سی چیز روکتی ہے رسول ﷺ تم میں موجود ہیں وہ تمہیں ایمان کیطرف بلا رہے ہیں دلیلیں دے رہے ہیں اور معجزے دکھا رہے ہیں، صحیح بخاری کی شرح کے ابتدائی حصہ کتاب الایمان میں ہم یہ حدیث بیان کر آئے ہیں کہ حضور ﷺ نے پوچھا سب سے زیادہ اچھے ایمان والے تمہارے نزدیک کون ہیں ؟ کہا فرشتے، فرمایا وہ تو اللہ کے پاس ہی ہیں پھر ایمان کیوں نہ لاتے ؟ کہا پھر انبیاء فرمایا ان پر تو وحی اور کلام اللہ اترتا ہے وہ کیسے ایمان نہ لاتے ؟ کہا پھر ہم فرمایا واہ تم ایمان سے کیسے رک سکتے تھے، میں تم میں زندہ موجود ہوں، سنو بہترین اور عجیب تر ایماندار وہ لوگ ہیں جو تمہارے بعد آئیں گے، صحیفوں میں لکھا دیکھیں گے اور ایمان قبول کریں گے، سورة بقرہ کے شروع میں آیت (الَّذِيْنَ يُؤْمِنُوْنَ بالْغَيْبِ وَ يُـقِيْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ مِمَّا رَزَقْنٰھُمْ يُنْفِقُوْنَ ۙ) 2۔ البقرة :3) کی تفسیر میں بھی ہم ایسی احادیث لکھ آئے ہیں، پھر انہیں روز میثاق کا قول وقرار یاد دلاتا ہے جیسے اور آیت میں ہے (وَاذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَيْكُمْ وَمِيْثَاقَهُ الَّذِيْ وَاثَقَكُمْ بِهٖٓ ۙ اِذْ قُلْتُمْ سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا ۡ وَاتَّقُوا اللّٰهَ ۭاِنَّ اللّٰهَ عَلِيْمٌۢ بِذَات الصُّدُوْرِ) 5۔ المآئدہ :7) ، اس سے مراد رسول اللہ ﷺ سے بیعت کرنا ہے اور امام ابن جریر فرماتے ہیں مراد وہ میثاق ہے جو حضرت آدم کی پیٹھ میں ان سے لیا گیا تھا، مجاہد کا بھی یہی مذہب ہے واللہ اعلم۔ وہ اللہ جو اپنے بندے پر روشن حجتیں اور بہترین دلائل اور عمدہ تر آیتیں نازل فرماتا ہے تاکہ ظلم و جہل کی گھنگھور گھٹاؤں اور رائے قیاس کی بدترین اندھیریوں سے تمہیں نکال کر نورانی اور روشن صاف اور سیدھی راہ حق پر لا کھڑا کر دے۔ اللہ رؤف ہے ساتھ ہی رحیم ہے یہ اس کا سلوک اور کرم ہے کہ لوگوں کی رہنمائی کے لئے کتابیں اتاریں، رسول بھیجے، شکوک و شبہات دور کردیئے، ہدایت کی وضاحت کردی۔ ایمان اور خیرات کا حکم کر کے پھر ایمان کی رغبت دلا کر اور یہ بیان فرما کر کہ ایمان نہ لانے کا اب کوئی عذر میں نے باقی نہیں رکھا پھر صدقات کی رغبت دلائی، اور فرمایا میری راہ میں خرچ کرو اور فقیری سے نہ ڈرو، اس لئے کہ جس کی راہ میں تم خرچ کر رہے ہو وہ زمین و آسمان کے خزانوں کا تنہا مالک ہے، عرش و کرسی اسی کی ہے اور وہ تم سے اس خیرات کے بدلے انعام کا وعدہ کرچکا ہے۔ فرماتا ہے آیت (وَمَآ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ شَيْءٍ فَهُوَ يُخْلِفُهٗ ۚ وَهُوَ خَيْرُ الرّٰزِقِيْنَ 39) 34۔ سبأ :39) جو کچھ تم راہ اللہ دو گے اس کا بہترین بدلہ وہ تمہیں دے گا اور روزی رساں درحقیقت وہی ہے اور فرماتا ہے (مَا عِنْدَكُمْ يَنْفَدُ وَمَا عِنْدَ اللّٰهِ بَاقٍ 96) 16۔ النحل :96) اگر یہ فانی مال تم خرچ کرو گے وہ اپنے پاس کا ہمیشگی والا مال تمہیں دے گا۔ توکل والے خرچ کرتے رہتے ہیں اور مالک عرش انہیں تنگی ترشی سے محفوظ رکھتا ہے، انہیں اس بات کا اعتماد ہوتا ہے کہ ہمارے فی سبیل اللہ خرچ کردہ مال کا بدلہ دونوں جہان میں ہمیں قطعاً مل کر رہے گا۔ پھر اس امر کا بیان ہو رہا ہے کہ فتح مکہ سے پہلے جن لوگوں نے راہ اللہ خرچ کیا اور جہاد کیا اور جن لوگوں نے یہ نہیں کیا گو بعد فتح مکہ کیا ہو یہ دونوں برابر نہیں ہیں۔ اس وجہ سے بھی کہ اس وقت تنگی ترشی زیادہ تھی اور قوت طاقت کم تھی اور اس لئے بھی کہ اس وقت ایمان وہی قبول کرتا تھا جس کا دل ہر میل کچیل سے پاک ہوتا تھا۔ فتح مکہ کے بعد تو اسلام کو کھلا غلبہ ملا اور مسلمانوں کی تعداد بہت زیادہ ہوگئی اور فتوحات کی وسعت ہوئی ساتھ ہی مال بھی نظر آنے لگا، پس اس وقت اور اس وقت میں جتنا فرق ہے اتنا ہی ان لوگوں اور ان لوگوں کے اجر میں فرق ہے، انہیں بہت بڑے اجر ملیں گے گو دونوں اصل بھلائی اور اصل اجر میں شریک ہیں، بعض نے کہا ہے فتح سے مراد صلح حدیبیہ ہے۔ اس کی تائید مسند احمد کی اس روایت سے بھی ہوتی ہے کہ حضرت خالد بن ولید اور حضرت عبدالرحمٰن بن عوف میں کچھ اختلاف ہوگیا جس میں حضرت خالد نے فرمایا تم اسی پر اکڑ رہے ہو کہ ہم سے کچھ دن پہلے اسلام لائے۔ جب حضور ﷺ کو اس کا علم ہوا تو آپ نے فرمایا میرے صحابہ کو میرے لئے چھوڑ دو ، اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر تم احد کے یا کسی اور پہاڑ کے برابر سونا خرچ کرو تو بھی ان کے اعمال کو پہنچ نہیں سکتے۔ ظاہر ہے کہ یہ واقعہ حضرت خالد کے مسلمان ہوجانے کے بعد کا ہے اور آپ صلح حدیبیہ کے بعد اور فتح مکہ سے پہلے ایمان لائے تھے اور یہ اختلاف جس کا ذکر اس روایت میں ہے بنو جذیمہ کے بارے میں ہوا تھا حضور ﷺ نے فتح مکہ کے بعد حضرت خالد کی امارت میں اس کی طرف ایک لشکر بھیجا تھا جب وہاں پہنچے تو ان لوگوں نے پکارنا شروع کیا ہم مسلمان ہوگئے ہم صابی ہوئے یعنی بےدین ہوئے، اس لئے کہ کفار مسلمانوں کو یہی لفظ کہا کرتے تھے حضرت خالد نے غالباً اس کلمہ کا اصلی مطلب نہ سمجھ کر ان کے قتل کا حکم دے دیا بلکہ ان کے جو لوگ گرفتار کئے گئے تھے انہیں قتل کر ڈالنے کا حکم دیا اس پر حضرت عبدالرحمن بن عوف اور حضرت عبداللہ بن عمر نے ان کی مخالفت کی اس واقعہ کا مختصر بیان اوپر والی حدیث میں ہے۔ صحیح حدیث میں ہے میرے صحابہ کو برا نہ کہو اس کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے اگر تم میں سے کوئی احد پہاڑ کے برابر سونا خرچ کرے تو بھی ان کے تین پاؤ اناج کے ثواب کو نہیں پہنچے گا بلکہ ڈیڑھ پاؤ کو بھی نہ پہنچے گا۔ ابن جریر میں ہے حدیبیہ والے سال ہم حضور ﷺ کے ساتھ جب عسفان میں پہنچے تو آپ نے فرمایا ایسے لوگ بھی آئیں گے کہ تم اپنے اعمال کو ان کے اعمال کے مقابلہ میں حقیر سمجھنے لگو گے ہم نے کہا کیا قریشی ؟ فرمایا نہیں بلکہ یمنی نہایت نرم دل نہایت خوش اخلاق سادہ مزاج۔ ہم نے کہا حضور ﷺ پھر کیا وہ ہم سے بہتر ہوں گے ؟ آپ نے جواب دیا کہ اگر ان میں سے کسی کے پاس احد پہاڑ کے برابر سونا بھی ہو اور وہ اسے راہ اللہ خرچ کرے تو تم میں سے ایک کے تین پاؤ بلکہ ڈیڑھ پاؤ اناج کی خیرات کو بھی نہیں پہنچ سکتا۔ یاد رکھو کہ ہم میں اور دوسرے تمام لوگوں میں یہی فرق ہے پھر آپ نے اسی آیت (لایستوی) کی تلاوت کی، لیکن یہ روایت غریب ہے، بخاری و مسلم میں حضرت ابو سعید خدری کی روایت میں خارجیوں کے ذکر میں ہے کہ تم اپنی نمازیں ان کی نمازوں کے مقابلہ اور اپنے روزے ان کے روزوں کے مقابلہ پر حقیر اور کمتر شمار کرو گے۔ وہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جس طرح تیر شکار سے ابن جریر میں ہے عنقریب ایک قوم آئے گی کہ تم اپنے اعمال کو کمتر سمجھنے لگو گے جب ان کے اعمال کے سامنے رکھو گے صحابہ نے پوچھا کیا وہ قریشیوں میں سے ہوں گے آپ نے فرمایا نہیں وہ سادہ مزاج نرم دل یہاں والے ہیں اور آپ نے یمن کی طرف اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا پھر فرمایا وہ یمنی لوگ ہیں ایمان تو یمن والوں کا ایمان ہے اور حکمت یمن والوں کی حکمت ہے ہم نے پوچھا کیا وہ ہم سے بھی افضل ہوں گے ؟ فرمایا اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر ان میں سے کسی کے پاس سونے کا پہاڑ ہو اور اسے وہ راہ اللہ دے ڈالے تو بھی تمہارے ایک مد یا آدھے مد کو بھی نہیں پہنچ سکتا۔ پھر آپ نے اپنی اور انگلیاں تو بند کرلیں اور چھن گیا کو دراز کر کے فرمایا خبردار رہو یہ ہے فرق ہم میں اور دوسرے لوگوں میں، پھر آپ نے یہی آیت تلاوت فرمائی، پس اس حدیث میں حدیبیہ کا ذکر نہیں۔ پھر یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ممکن ہے فتح مکہ سے پہلے ہی فتح مکہ کے بعد کی خبر اللہ تعالیٰ نے آپ کو دے دی ہو، جیسے کہ سورة مزمل میں جو ان ابتدائی سورتوں میں سے ہے جو مکہ شریف میں نازل ہوئی تھیں پروردگار نے خبر دی تھی کہ آیت (وَاٰخَرُوْنَ يُقَاتِلُوْنَ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ڮ فَاقْرَءُوْا مَا تَيَسَّرَ مِنْهُ 20) 73۔ المزمل :20) یعنی کچھ اور لوگ ایسے بھی ہیں جو اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہیں پس جس طرح اس آیت میں ایک آنے والے واقعہ کا تذکرہ ہے اسی طرح اس آیت کو اور حدیث کو بھی سمجھ لیا جائے واللہ اعلم۔ پھر فرماتا ہے کہ ہر ایک سے اللہ تعالیٰ نے بھلائی کا وعدہ کیا ہے یعنی فتح مکہ سے پہلے اور اس کے بعد بھی جس نے جو کچھ راہ اللہ دیا ہے کسی کو اس سے کم۔ جیسے اور جگہ ہے کہ مجاہد اور غیر مجاہد جو عذر والے بھی نہ ہوں درجے میں برابر نہیں گو بھلے وعدے میں دونوں شامل سے کم۔ جیسے اور جگہ ہے کہ مجاہد اور غیر مجاہد جو عذر والے بھی نہ ہوں درجے میں برابر نہیں گو بھلے وعدے میں دونوں شامل ہیں۔ صحیح حدیث میں ہے قوی مومن اللہ کے نزدیک ضعیف مومن سے افضل ہے لیکن بھلائی دونوں میں ہے۔ اگر یہ فقرہ اس آیت میں نہ ہوتا تو ممکن تھا کہ کسی کو ان بعد والوں کی سبکی کا خیال گذرے اس لئے فضیلت بیان فرما کر پھر عطف ڈال کر اصل اجر میں دونوں کو شریک بتایا۔ پھر فرمایا تمہارے تمام اعمال کی تمہارے رب کو خبر ہے وہ درجات میں جو تفاوت رکھتا ہے وہ بھی انداز سے نہیں بلکہ صحیح علم سے۔ حدیث شریف میں ہے ایک درہم ایک لاکھ درہم سے بڑھ جاتا ہے۔ یہ بھی یاد رہے کہ اس کے سردار ہیں آپ نے ابتدائی تنگی کے وقت اپنا کل مال راہ اللہ دے دیا تھا جس کا بدلہ سوائے اللہ کے کسی اور سے مطلوب نہ تھا۔ حضرت عمر ؓ فرماتے ہیں میں دربار رسالت مآب میں تھا اور حضرت صدیق اکبر بھی تھے۔ صرف ایک عبا آپ کے جسم پر تھی، گریبان کانٹے سے اٹکائے ہوئے تھے جو حضرت جبرائیل ؑ نازل ہوئے اور پوچھا کیا بات ہے جو حضرت ابوبکر نے فقط ایک عبا پہن رکھی ہے اور کانٹا لگا رکھا ہے ؟ حضور ﷺ نے فرمایا انہوں نے اپنا کل مال میرے کاموں میں فتح سے پہلے ہی راہ اللہ خرچ کر ڈالا ہے اب ان کے پاس کچھ نہیں، حضرت جبرائیل ؑ نے فرمایا ان سے کہو کہ اللہ انہیں سلام کہتا ہے اور فرماتا ہے کہ اس فقیری میں تم مجھ سے خوش ہو یا ناخوش ہو ؟ آپ نے حضرت صدیق کو یہ سب کہہ کر سوال کیا۔ جواب ملا کہ اپنے رب عزوجل سے ناراض کیسے ہوسکتا ہوں میں اس حال میں بہت خوش ہوں۔ یہ حدیث سنداً ضعیف ہے واللہ اعلم۔ پھر فرماتا ہے کون ہے جو اللہ کو اچھا قرض دے، اس سے مراد اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لئے خرچ کرنا ہے۔ بعض نے کہا ہے بال بچوں کو کھلانا پلانا وغیرہ خرچ مراد ہے۔ ہوسکتا ہے کہ آیت اپنے عموم کے لحاظ سے دونوں صورتوں کو شامل ہو، پھر اس پر وعدہ فرماتا ہے کہ اسے بہت بڑھا چڑھا کر بدلہ ملے گا اور جنت میں پاکیزہ تر روزی ملے گی، اس آیت کو سن کر حضرت ابو دحداح انصاری ؓ حضور ﷺ کے پاس آئے اور کہا کیا ہمارا رب ہم سے قرض مانگتا ہے ؟ آپ نے فرمایا ہاں، کہا ذرا اپنا ہاتھ تو دیجئے آپ نے ہاتھ بڑھایا تو آپ کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر فرمایا میرا باغ جس میں کھجور کے چھ سو درخت ہیں وہ میں نے اپنے رب کو دیا آپ کے بیوی بچے بھی اسی باغ میں تھے آپ آئے اور باغ کے دروازے پر کھڑے رہ کر اپنی بیوی صاحبہ کو آواز دی وہ لبیک کہتی ہوئی آئیں تو فرمانے لگے بچوں کو لے کر چلی آؤ میں نے یہ باغ اپنے رب عزوجل کو قرض دے دیا ہے۔ وہ خوش ہو کر کہنے لگیں آپ نے بہت نفع کی تجارت کی اور بال بچوں کو اور گھر کے اثاثے کو لے کر باہر چلی آئیں، حضور ﷺ فرمانے لگے جنتی درخت وہاں کے باغات جو میوؤں سے لدے ہوئے اور جن کی شاخیں یا قوت اور موتی کی ہیں ابو دحداح کو اللہ نے دے دیں۔
وَمَا لَكُمۡ لَا تُؤۡمِنُونَ بِٱللَّهِ وَٱلرَّسُولُ يَدۡعُوكُمۡ لِتُؤۡمِنُواْ بِرَبِّكُمۡ وَقَدۡ أَخَذَ مِيثَٰقَكُمۡ إِن كُنتُم مُّؤۡمِنِينَ
And what is the matter with you, that you should not accept faith in Allah? Whereas this Noble Messenger is calling you to believe in your Lord, and Allah has indeed already taken a covenant from you, if you believe.
اور تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم اللہ پر ایمان نہیں لاتے، حالانکہ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمہیں بلا رہے ہیں کہ تم اپنے رب پر ایمان لاؤ اور بیشک (اللہ) تم سے مضبوط عہد لے چکا ہے، اگر تم ایمان لانے والے ہو
Tafsir Ibn Kathir
Ordering Faith and encouraging spending
Allah the Exalted and Blessed orders having perfect faith in Him and in His Messenger, and that one should persist on this path adhereing firmly to it. Allah encourages spending from what He has made mankind trustees of, the wealth that you - mankind - have, that He has lent you. This wealth was in the hands of those before you and was later transferred to you. Therefore, O mankind, spend as Allah commanded you from the wealth that He entrusted to you for His obedience. Otherwise, He will hold you accountable and punish you for your ignoring what He ordained on you in this regard. Allah's statement,
مِمَّا جَعَلَكُم مُّسْتَخْلَفِينَ فِيهِ
(of that whereof He has made you trustees.), indicates that you - mankind -- will surrender this wealth to someone else. In this case, those who will inherit from you might obey Allah with their wealth, and thus acquire more happiness than you on account of what Allah has granted them. They might disobey Allah, and in this case you will have helped them commit evil and transgression. Imam Ahmad recorded that `Abdullah bin Ash-Shikhkhir said, "I came to Allah's Messenger ﷺ as he was reciting and saying,
أَلْهَـكُمُ التَّكَّاثُرُ
يَقُولُ ابْنُ آدَمَ: مَالِي مَالِي، وَهَلْ لَكَ مِن مَالِكَ إِلَّا مَاأَكَلْتَ فَأَفْنَيْتَ، أَوْ لَبِسْتَ فَأَبْلَيْتَ، أَوْ تَصَدَّقْتَ فَأَمْضَيْتَ؟»
((abundance diverts you.)( The Son of `Adam claims, "My wealth, my wealth." But is there anything belonging to you, except that which you consumed, which you used, or which you wore and then it became worn or you gave as charity and sent it forward) Muslim also collected with the addition:
«وَمَا سِوَى ذلِكَ، فَذَاهِبٌ وَتَارِكُهُ لِلنَّاس»
(Other than that, you will go away from it and leave it behind for other people.) Allah's statement,
فَالَّذِينَ ءَامَنُواْ مِنكُمْ وَأَنفَقُواْ لَهُمْ أَجْرٌ كَبِيرٌ
(And such of you as believe and spend, theirs will be a great reward.) encourages having faith and spending in acts of obedience. Allah the Exalted said,
وَمَا لَكُمْ لاَ تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالرَّسُولُ يَدْعُوكُمْ لِتُؤْمِنُواْ بِرَبِّكُمْ
(And what is the matter with you that you believe not in Allah! While the Messenger invites you to believe in your Lord;) meaning, "what prevents you from believing, while the Messenger is among you calling you to faith and bringing forward clear proofs and evidences that affirm the truth of what he brought you" And we have reported the Hadith through different routes in the beginning of the explanation on the chapter on Faith in Sahih Al-Bukhari, wherein one day the Messenger of Allah ﷺ said to his Companions,
«أَيُّ الْمُؤْمِنِينَ أَعْجَبُ إِلَيْكُمْ إِيمَانًا؟»
(Who do you consider among the believers as having the most amazing faith) They said, "The angels." He said,
«وَمَا لَهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ وَهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ؟»
(And what prevents them from believing when they are with their Lord) They said, "Then the Prophets." He said,
«وَمَالَهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ وَالْوَحْيُ يَنْزِلُ عَلَيْهِمْ؟»
(What prevents them from believing when the revelation comes down to them) They said, "Then us." He said,
«وَمَالَكُمْ لَا تُؤْمِنُونَ وَأَنَا بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ؟ وَلكِنْ أَعْجَبُ الْمُؤْمِنِينَ إِيمَانًا، قَوْمٌ يَجِيئُونَ بَعْدَكُمْ، يَجِدُونَ صُحُفًا يُؤْمِنُونَ بِمَا فِيهَا»
(What prevents you from believing, when I am amongst you Actually, the believers who have the most amazing faith, are some people who will come after you; they will find pages that they will believe in.) We mentioned a part of this Hadith when explaining Allah's statement in Surat Al-Baqarah,
الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ
(who believe in the Ghayb (unseen).)(2:3) Allah's statement,
وَقَدْ أَخَذَ مِيثَـقَكُمْ
(and He has indeed taken your covenant,) is similar to another of His statements,
وَاذْكُرُواْ نِعْمَةَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ وَمِيثَـقَهُ الَّذِى وَاثَقَكُم بِهِ إِذْ قُلْتُمْ سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا
(And remember Allah's favor to you and His covenant with which He bound you when you said: "We hear and we obey.")(5:7), which refers to giving the pledge of allegiance to the Prophet . Ibn Jarir said that the covenant mentioned here, is that taken from mankind, when they were still in Adam's loin. This is also the opinion of Mujahid, and Allah knows best. Allah said,
هُوَ الَّذِى يُنَزِّلُ عَلَى عَبْدِهِ ءَايَـتٍ بَيِّنَـتٍ
(It is He Who sends down manifest Ayat to His servant) clear proofs, unequivocal evidences and plain attestations,
لِيُخْرِجَكُمْ مِّنَ الظُّلُمَـتِ إِلَى النُّورِ
(that He may bring you out from darkness into light.) from the darkness of ignorance, disbelief and contradictory statements to the light of guidance, certainty and faith,
وَإِنَّ اللَّهَ بِكُمْ لَرَءُوفٌ رَّحِيمٌ
(And verily, Allah is to you full of kindness, Most Merciful.) by revealing the Divine Books and sending the Messengers to guide mankind, eradicating doubts and removing confusion. After Allah commanded mankind to first believe and spend, He again encouraged them to acquire faith and stated that He has removed all barriers between them and the acquisition of faith. Allah again encouraged them to spend,
وَمَا لَكُمْ أَلاَّ تُنفِقُواْ فِى سَبِيلِ اللَّهِ وَلِلَّهِ مِيرَاثُ السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ
(And what is the matter with you that you spend not in the cause of Allah And to Allah belongs the heritage of the heavens and the earth.) means, spend and do not fear poverty or scarcity. Surely, He in Whose cause you spent is the King and Owner of the heavens and earth and has perfect control over their every affair, including their treasuries. He is the Owner of the Throne, with all the might that it contains, and He is the One Who said,
وَمَآ أَنفَقْتُمْ مِّن شَىْءٍ فَهُوَ يُخْلِفُهُ وَهُوَ خَيْرُ الرَّازِقِينَ
(And whatsoever you spend of anything, He will replace it. And He is the best of providers.)(34:39), and,
مَا عِندَكُمْ يَنفَدُ وَمَا عِندَ اللَّهِ بَاقٍ
(whatever is with you, will be exhausted, and whatever is with Allah will remain.)(16:96) Therefore, those who trust in and depend on Allah will spend, and they will not fear poverty or destitution coming to them from the Owner of the Throne. They know that Allah will surely compensate them for whatever they spend.
The Virtues of spending and fighting before the Conquest of Makkah
Allah's statement,
لاَ يَسْتَوِى مِنكُم مَّنْ أَنفَقَ مِن قَبْلِ الْفَتْحِ وَقَـتَلَ
(Not equal among you are those who spent before the conquering and fought.) meaning those who did not fight and spend before the Conquest are not equal to those who spent and fought. Before Makkah was conquered, things were difficult for Muslims and only the righteous ones embraced Islam. After Makkah was conquered, Islam spread tremendously throughout the known world and people embraced the religion of Allah en masse. Similarly He said:
أُوْلَـئِكَ أَعْظَمُ دَرَجَةً مِّنَ الَّذِينَ أَنفَقُواْ مِن بَعْدُ وَقَـتَلُواْ وَكُلاًّ وَعَدَ اللَّهُ الْحُسْنَى
(Such are higher in degree than those who spent and fought afterwards. But to all Allah has promised the best (reward).) The majority considers the Conquest here to be the conquest of Makkah. Ash-Sha`bi and several others said that the Ayah refers to the treaty at Al-Hudaybiyyah. There is proof for this opinion found in a Hadith from Anas, collected by Imam Ahmad. Anas said, "Khalid bin Al-Walid and `Abdur-Rahman bin `Awf had a dispute. Khalid said to `Abdur-Rahman, `You boast about days (battles) that you participated in before us.' When the news of this statement reached the Prophet he said,
«دَعُوا لِي أَصْحَابِي، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ أَنْفَقْتُمْ مِثْلَ أُحُدٍ أَوْ مِثْلَ الْجِبَالِ ذَهَبًا، مَا بَلَغْتُمْ أَعْمَالَهُم»
(Do not bother my Companions, for by He in Whose Hand is my soul! If you spend an amount of gold equal to (Mount) Uhud, (or equal to the mountains), you will not reach the level of their actions.)" It is a known fact that Khalid bin Al-Walid, whom the Prophet addressed this statement to, embraced Islam during the period between the treaty of Al-Hudaybiyyah and the conquering of Makkah. The dispute between Khalid and `Abdur-Rahman occurred because of the battle of Bani Jadhimah. The Prophet sent Khalid bin Al-Walid to them after the conquest of Makkah, and they said, "Saba'na," instead of saying, "Aslamna" (we embraced Islam). So Khalid ordered their execution and the execution of their prisoners (of war); `Abdur-Rahman bin `Awf and `Abdullah bin `Umar opposed him. This is the reason behind the dispute that occurred between Khalid and `Abdur-Rahman. But in the Sahih, the Messenger of Allah ﷺ said,
«لَا تَسُبُّوا أَصْحَابِي، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ أَنْفَقَ أَحَدُكُمْ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا، مَا بَلَغَ مُدَّ أَحَدِهِمْ وَلَا نَصِيفَه»
(None should revile my Companions, for by He in Whose Hand is my soul! If one of you were to spend as much gold as Uhud, it would not reach the level of them equal to an amount as much as one Mudd of one of them or half of it.) Allah said,
وَكُلاًّ وَعَدَ اللَّهُ الْحُسْنَى
(But to all Allah has promised the best (reward).) meaning, those who spent before and after the conquest of Makkah; they all will gain a reward for their good deeds, even though some of them vary in rank and earn a better reward than others as Allah said,
لاَّ يَسْتَوِى الْقَـعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ غَيْرُ أُوْلِى الضَّرَرِ وَالْمُجَـهِدُونَ فِى سَبِيلِ اللَّهِ بِأَمْوَلِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ فَضَّلَ اللَّهُ الْمُجَـهِدِينَ بِأَمْوَلِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ عَلَى الْقَـعِدِينَ دَرَجَةً وَكُـلاًّ وَعَدَ اللَّهُ الْحُسْنَى وَفَضَّلَ اللَّهُ الْمُجَـهِدِينَ عَلَى الْقَـعِدِينَ أَجْراً عَظِيماً
(Not equal are those of the believers who sit (at home), except those who are disabled, and those who strive hard and fight in the cause of Allah with their wealth and their lives. Allah has preferred in grades those who strive hard and fight with their wealth and their lives above those who sit (at home). Unto each, Allah has promised good, but Allah has preferred by a great reward those who strive hard and fight, above those who sit (at home).)(4:95) There is a Hadith in the Sahih that states,
«الْمُؤْمِنُ الْقَوِيُّ خَيْرٌ وَأَحَبُّ إِلَى اللهِ مِنَ الْمُؤْمِنِ الضَّعِيفِ، وَفِي كُلَ خَيْر»
(The strong believer is better and more beloved to Allah than the weak believer; both have goodness in them.) The Prophet ended his statement this way to draw attention to the second type of believer, so that their own qualities are not forgotten in the midst of preferring the former type. In this way, the latter is not dismissed as being degraded in the Hadith. Therefore, the Prophet ended his statement by praising the second type -- the weak believers -- after giving preference to the first type. Allah said:
وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ
(And Allah is All-Aware of what you do.) meaning, since Allah is perfectly aware of all things, He made distinctions between the rewards of the believers who spent and fought before the Conquest and those who spent and fought afterwards. Surely, Allah does this by His knowledge of the intention of the former type and their perfect sincerity to Him, all the while spending in times of hardship, poverty and dire straits. This is found in the Hadith,
«سَبَقَ دِرْهَمٌ مِائَةَ أَلْف»
(Spending one Dirham is preceded over a hundred thousand.) There is no doubt that the people of faith consider Abu Bakr As-Siddiq to be the person who has the best share according to the meaning of this Ayah. He was the chief of those who implemented it, among all followers of all Prophets. He spent all of his wealth seeking the Face of Allah, the Exalted and Most Honored. He did it voluntarily too, not to repay a debt or a favor that anyone from mankind had on him. May Allah be pleased with him.
The Encouragement to make a Handsome Loan in the Cause of Allah
Allah said,
مَّن ذَا الَّذِى يُقْرِضُ اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا
(Who is he that will lend Allah a handsome loan:) `Umar bin Al-Khattab said that this Ayah refers to spending in Allah's cause. It was also said that it pertains to spending on children. What is correct is that it is more general than that. So all those who spend in the cause of Allah with good intentions and a sincere heart, then they fall under the generality of this Ayah. This is why Allah the Exalted said in another Ayah:
مَّن ذَا الَّذِى يُقْرِضُ اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا فَيُضَاعِفَهُ لَهُ
(Who is he that will lend Allah handsome loan: then (Allah) will increase it manifold to his credit (in repaying),) and in another Ayah,
أَضْعَافًا كَثِيرَةً
(many times) (2:245), meaning, being handsome reward and tremendous provisions: Paradise on the Day of Resurrection. Ibn Abi Hatim recorded that `Abdullah bin Mas`ud said, "When this Ayah,
مَّن ذَا الَّذِى يُقْرِضُ اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا فَيُضَاعِفَهُ لَهُ
(Who is he that will lend Allah handsome loan: then (Allah) will increase it manifold to his credit (in repaying),) was revealed, Abu Ad-Dahdah Al-Ansari said, `O Allah's Messenger! Does Allah ask us for a loan' The Prophet said,
«نَعَمْ، يَاأَبَا الدَّحْدَاح»
(Yes, O Abu Ad-Dahdah.) He said, `Give me your hand, O Allah's Messenger,' and the Prophet placed his hand in his hand. Abu Ad-Dahdah said, `Verily, I have given my garden as a loan to my Lord.' He had a garden that contained six hundred date trees; his wife and children were living in that garden too. Abu Ad-Dahdah went to his wife and called her, `Umm Ad-Dahdah!' She said, `Here I am.' He said, `Leave the garden, because I have given it as a loan to my Lord, the Exalted and Most Honored.' She said, `That is a successful trade, O Abu Ad-Dahdah!' She then transferred her goods and children. The Messenger of Allah ﷺ said,
«كَمْ مِنْ عَذْقٍ رَدَاحٍ فِي الْجَنَّةِ لِأَبِي الدَّحْدَاح»
(How plentiful are the sweet date clusters that Abu Ad-Dahdah has in Paradise!)" In another narration, the Prophet said,
«رُبَّ نَخْلَةٍ مُدَلَّاةٍ، عُرُوقُهَا دُرٌّ وَيَاقُوتٌ، لِأَبِي الدَّحْدَاحِ فِي الْجَنَّة»
(How many a date tree that has lowered down its clusters, which are full of pearls and gems in Paradise for Abu Ad-Dahdah!)
ایمان لانے اور اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کا حکم اللہ تبارک و تعالیٰ خود اپنے اوپر اور اپنے رسول ﷺ پر ایمان لانے اور اس پر مضبوطی اور ہمیشگی کے ساتھ جم کر رہنے کی ہدایت فرماتا ہے اور اپنی راہ میں خیرات کرنے کی رغبت دلاتا ہے جو مال ہاتھوں ہاتھ تمہیں اس نے پہنچایا ہو تم اس کی اطاعت گذاری میں اسے خرچ کرو اور سمجھ لو کہ جس طرح دوسرے ہاتھوں سے تمہیں ملا ہے اسی طرح عنقریب تمہارے ہاتھوں سے دوسرے ہاتھوں میں چلا جائے گا اور تم پر حساب اور عتاب رہ جائے گا اور اس میں یہ بھی اشارہ ہے کہ تیرے بعد تیرا وارث ممکن ہے نیک ہو اور وہ تیرے ترکے کو میری راہ میں خرچ کر کے مجھ سے قربت حاصل کرے اور ممکن ہے کہ وہ بد اور اپنی مستی اور سیاہ کاری میں تیرا اندوختہ فنا کر دے اور اس کی بدیوں کا باعث تو بنے نہ تو چھوڑتا نہ اڑاتا۔ حضور ﷺ سورة (الھکم) پڑھ کر فرمانے لگے انسان گو کہتا رہتا ہے یہ بھی میرا مال ہے یہ بھی میرا مال ہے حالانکہ دراصل انسان کا مال وہ ہے جو کھالیا پہن لیا صدقہ کردیا کھایا ہوا فنا ہوگیا پہنا ہوا پرانا ہو کر برباد ہوگیا، ہاں راہ اللہ دیا ہوا بطور خزانہ کے جمع رہا (مسلم) اور جو باقی رہے گا وہ تو اوروں کا مال ہے تو تو اسے جمع کر کے چھوڑ جانے والا ہے۔ پھر ان ہی دونوں باتوں کی ترغیب دلاتا ہے اور بہت بڑے اجر کا وعدہ دیتا ہے۔ پھر فرماتا ہے تمہیں ایمان سے کون سی چیز روکتی ہے رسول ﷺ تم میں موجود ہیں وہ تمہیں ایمان کیطرف بلا رہے ہیں دلیلیں دے رہے ہیں اور معجزے دکھا رہے ہیں، صحیح بخاری کی شرح کے ابتدائی حصہ کتاب الایمان میں ہم یہ حدیث بیان کر آئے ہیں کہ حضور ﷺ نے پوچھا سب سے زیادہ اچھے ایمان والے تمہارے نزدیک کون ہیں ؟ کہا فرشتے، فرمایا وہ تو اللہ کے پاس ہی ہیں پھر ایمان کیوں نہ لاتے ؟ کہا پھر انبیاء فرمایا ان پر تو وحی اور کلام اللہ اترتا ہے وہ کیسے ایمان نہ لاتے ؟ کہا پھر ہم فرمایا واہ تم ایمان سے کیسے رک سکتے تھے، میں تم میں زندہ موجود ہوں، سنو بہترین اور عجیب تر ایماندار وہ لوگ ہیں جو تمہارے بعد آئیں گے، صحیفوں میں لکھا دیکھیں گے اور ایمان قبول کریں گے، سورة بقرہ کے شروع میں آیت (الَّذِيْنَ يُؤْمِنُوْنَ بالْغَيْبِ وَ يُـقِيْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ مِمَّا رَزَقْنٰھُمْ يُنْفِقُوْنَ ۙ) 2۔ البقرة :3) کی تفسیر میں بھی ہم ایسی احادیث لکھ آئے ہیں، پھر انہیں روز میثاق کا قول وقرار یاد دلاتا ہے جیسے اور آیت میں ہے (وَاذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَيْكُمْ وَمِيْثَاقَهُ الَّذِيْ وَاثَقَكُمْ بِهٖٓ ۙ اِذْ قُلْتُمْ سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا ۡ وَاتَّقُوا اللّٰهَ ۭاِنَّ اللّٰهَ عَلِيْمٌۢ بِذَات الصُّدُوْرِ) 5۔ المآئدہ :7) ، اس سے مراد رسول اللہ ﷺ سے بیعت کرنا ہے اور امام ابن جریر فرماتے ہیں مراد وہ میثاق ہے جو حضرت آدم کی پیٹھ میں ان سے لیا گیا تھا، مجاہد کا بھی یہی مذہب ہے واللہ اعلم۔ وہ اللہ جو اپنے بندے پر روشن حجتیں اور بہترین دلائل اور عمدہ تر آیتیں نازل فرماتا ہے تاکہ ظلم و جہل کی گھنگھور گھٹاؤں اور رائے قیاس کی بدترین اندھیریوں سے تمہیں نکال کر نورانی اور روشن صاف اور سیدھی راہ حق پر لا کھڑا کر دے۔ اللہ رؤف ہے ساتھ ہی رحیم ہے یہ اس کا سلوک اور کرم ہے کہ لوگوں کی رہنمائی کے لئے کتابیں اتاریں، رسول بھیجے، شکوک و شبہات دور کردیئے، ہدایت کی وضاحت کردی۔ ایمان اور خیرات کا حکم کر کے پھر ایمان کی رغبت دلا کر اور یہ بیان فرما کر کہ ایمان نہ لانے کا اب کوئی عذر میں نے باقی نہیں رکھا پھر صدقات کی رغبت دلائی، اور فرمایا میری راہ میں خرچ کرو اور فقیری سے نہ ڈرو، اس لئے کہ جس کی راہ میں تم خرچ کر رہے ہو وہ زمین و آسمان کے خزانوں کا تنہا مالک ہے، عرش و کرسی اسی کی ہے اور وہ تم سے اس خیرات کے بدلے انعام کا وعدہ کرچکا ہے۔ فرماتا ہے آیت (وَمَآ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ شَيْءٍ فَهُوَ يُخْلِفُهٗ ۚ وَهُوَ خَيْرُ الرّٰزِقِيْنَ 39) 34۔ سبأ :39) جو کچھ تم راہ اللہ دو گے اس کا بہترین بدلہ وہ تمہیں دے گا اور روزی رساں درحقیقت وہی ہے اور فرماتا ہے (مَا عِنْدَكُمْ يَنْفَدُ وَمَا عِنْدَ اللّٰهِ بَاقٍ 96) 16۔ النحل :96) اگر یہ فانی مال تم خرچ کرو گے وہ اپنے پاس کا ہمیشگی والا مال تمہیں دے گا۔ توکل والے خرچ کرتے رہتے ہیں اور مالک عرش انہیں تنگی ترشی سے محفوظ رکھتا ہے، انہیں اس بات کا اعتماد ہوتا ہے کہ ہمارے فی سبیل اللہ خرچ کردہ مال کا بدلہ دونوں جہان میں ہمیں قطعاً مل کر رہے گا۔ پھر اس امر کا بیان ہو رہا ہے کہ فتح مکہ سے پہلے جن لوگوں نے راہ اللہ خرچ کیا اور جہاد کیا اور جن لوگوں نے یہ نہیں کیا گو بعد فتح مکہ کیا ہو یہ دونوں برابر نہیں ہیں۔ اس وجہ سے بھی کہ اس وقت تنگی ترشی زیادہ تھی اور قوت طاقت کم تھی اور اس لئے بھی کہ اس وقت ایمان وہی قبول کرتا تھا جس کا دل ہر میل کچیل سے پاک ہوتا تھا۔ فتح مکہ کے بعد تو اسلام کو کھلا غلبہ ملا اور مسلمانوں کی تعداد بہت زیادہ ہوگئی اور فتوحات کی وسعت ہوئی ساتھ ہی مال بھی نظر آنے لگا، پس اس وقت اور اس وقت میں جتنا فرق ہے اتنا ہی ان لوگوں اور ان لوگوں کے اجر میں فرق ہے، انہیں بہت بڑے اجر ملیں گے گو دونوں اصل بھلائی اور اصل اجر میں شریک ہیں، بعض نے کہا ہے فتح سے مراد صلح حدیبیہ ہے۔ اس کی تائید مسند احمد کی اس روایت سے بھی ہوتی ہے کہ حضرت خالد بن ولید اور حضرت عبدالرحمٰن بن عوف میں کچھ اختلاف ہوگیا جس میں حضرت خالد نے فرمایا تم اسی پر اکڑ رہے ہو کہ ہم سے کچھ دن پہلے اسلام لائے۔ جب حضور ﷺ کو اس کا علم ہوا تو آپ نے فرمایا میرے صحابہ کو میرے لئے چھوڑ دو ، اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر تم احد کے یا کسی اور پہاڑ کے برابر سونا خرچ کرو تو بھی ان کے اعمال کو پہنچ نہیں سکتے۔ ظاہر ہے کہ یہ واقعہ حضرت خالد کے مسلمان ہوجانے کے بعد کا ہے اور آپ صلح حدیبیہ کے بعد اور فتح مکہ سے پہلے ایمان لائے تھے اور یہ اختلاف جس کا ذکر اس روایت میں ہے بنو جذیمہ کے بارے میں ہوا تھا حضور ﷺ نے فتح مکہ کے بعد حضرت خالد کی امارت میں اس کی طرف ایک لشکر بھیجا تھا جب وہاں پہنچے تو ان لوگوں نے پکارنا شروع کیا ہم مسلمان ہوگئے ہم صابی ہوئے یعنی بےدین ہوئے، اس لئے کہ کفار مسلمانوں کو یہی لفظ کہا کرتے تھے حضرت خالد نے غالباً اس کلمہ کا اصلی مطلب نہ سمجھ کر ان کے قتل کا حکم دے دیا بلکہ ان کے جو لوگ گرفتار کئے گئے تھے انہیں قتل کر ڈالنے کا حکم دیا اس پر حضرت عبدالرحمن بن عوف اور حضرت عبداللہ بن عمر نے ان کی مخالفت کی اس واقعہ کا مختصر بیان اوپر والی حدیث میں ہے۔ صحیح حدیث میں ہے میرے صحابہ کو برا نہ کہو اس کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے اگر تم میں سے کوئی احد پہاڑ کے برابر سونا خرچ کرے تو بھی ان کے تین پاؤ اناج کے ثواب کو نہیں پہنچے گا بلکہ ڈیڑھ پاؤ کو بھی نہ پہنچے گا۔ ابن جریر میں ہے حدیبیہ والے سال ہم حضور ﷺ کے ساتھ جب عسفان میں پہنچے تو آپ نے فرمایا ایسے لوگ بھی آئیں گے کہ تم اپنے اعمال کو ان کے اعمال کے مقابلہ میں حقیر سمجھنے لگو گے ہم نے کہا کیا قریشی ؟ فرمایا نہیں بلکہ یمنی نہایت نرم دل نہایت خوش اخلاق سادہ مزاج۔ ہم نے کہا حضور ﷺ پھر کیا وہ ہم سے بہتر ہوں گے ؟ آپ نے جواب دیا کہ اگر ان میں سے کسی کے پاس احد پہاڑ کے برابر سونا بھی ہو اور وہ اسے راہ اللہ خرچ کرے تو تم میں سے ایک کے تین پاؤ بلکہ ڈیڑھ پاؤ اناج کی خیرات کو بھی نہیں پہنچ سکتا۔ یاد رکھو کہ ہم میں اور دوسرے تمام لوگوں میں یہی فرق ہے پھر آپ نے اسی آیت (لایستوی) کی تلاوت کی، لیکن یہ روایت غریب ہے، بخاری و مسلم میں حضرت ابو سعید خدری کی روایت میں خارجیوں کے ذکر میں ہے کہ تم اپنی نمازیں ان کی نمازوں کے مقابلہ اور اپنے روزے ان کے روزوں کے مقابلہ پر حقیر اور کمتر شمار کرو گے۔ وہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جس طرح تیر شکار سے ابن جریر میں ہے عنقریب ایک قوم آئے گی کہ تم اپنے اعمال کو کمتر سمجھنے لگو گے جب ان کے اعمال کے سامنے رکھو گے صحابہ نے پوچھا کیا وہ قریشیوں میں سے ہوں گے آپ نے فرمایا نہیں وہ سادہ مزاج نرم دل یہاں والے ہیں اور آپ نے یمن کی طرف اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا پھر فرمایا وہ یمنی لوگ ہیں ایمان تو یمن والوں کا ایمان ہے اور حکمت یمن والوں کی حکمت ہے ہم نے پوچھا کیا وہ ہم سے بھی افضل ہوں گے ؟ فرمایا اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر ان میں سے کسی کے پاس سونے کا پہاڑ ہو اور اسے وہ راہ اللہ دے ڈالے تو بھی تمہارے ایک مد یا آدھے مد کو بھی نہیں پہنچ سکتا۔ پھر آپ نے اپنی اور انگلیاں تو بند کرلیں اور چھن گیا کو دراز کر کے فرمایا خبردار رہو یہ ہے فرق ہم میں اور دوسرے لوگوں میں، پھر آپ نے یہی آیت تلاوت فرمائی، پس اس حدیث میں حدیبیہ کا ذکر نہیں۔ پھر یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ممکن ہے فتح مکہ سے پہلے ہی فتح مکہ کے بعد کی خبر اللہ تعالیٰ نے آپ کو دے دی ہو، جیسے کہ سورة مزمل میں جو ان ابتدائی سورتوں میں سے ہے جو مکہ شریف میں نازل ہوئی تھیں پروردگار نے خبر دی تھی کہ آیت (وَاٰخَرُوْنَ يُقَاتِلُوْنَ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ڮ فَاقْرَءُوْا مَا تَيَسَّرَ مِنْهُ 20) 73۔ المزمل :20) یعنی کچھ اور لوگ ایسے بھی ہیں جو اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہیں پس جس طرح اس آیت میں ایک آنے والے واقعہ کا تذکرہ ہے اسی طرح اس آیت کو اور حدیث کو بھی سمجھ لیا جائے واللہ اعلم۔ پھر فرماتا ہے کہ ہر ایک سے اللہ تعالیٰ نے بھلائی کا وعدہ کیا ہے یعنی فتح مکہ سے پہلے اور اس کے بعد بھی جس نے جو کچھ راہ اللہ دیا ہے کسی کو اس سے کم۔ جیسے اور جگہ ہے کہ مجاہد اور غیر مجاہد جو عذر والے بھی نہ ہوں درجے میں برابر نہیں گو بھلے وعدے میں دونوں شامل سے کم۔ جیسے اور جگہ ہے کہ مجاہد اور غیر مجاہد جو عذر والے بھی نہ ہوں درجے میں برابر نہیں گو بھلے وعدے میں دونوں شامل ہیں۔ صحیح حدیث میں ہے قوی مومن اللہ کے نزدیک ضعیف مومن سے افضل ہے لیکن بھلائی دونوں میں ہے۔ اگر یہ فقرہ اس آیت میں نہ ہوتا تو ممکن تھا کہ کسی کو ان بعد والوں کی سبکی کا خیال گذرے اس لئے فضیلت بیان فرما کر پھر عطف ڈال کر اصل اجر میں دونوں کو شریک بتایا۔ پھر فرمایا تمہارے تمام اعمال کی تمہارے رب کو خبر ہے وہ درجات میں جو تفاوت رکھتا ہے وہ بھی انداز سے نہیں بلکہ صحیح علم سے۔ حدیث شریف میں ہے ایک درہم ایک لاکھ درہم سے بڑھ جاتا ہے۔ یہ بھی یاد رہے کہ اس کے سردار ہیں آپ نے ابتدائی تنگی کے وقت اپنا کل مال راہ اللہ دے دیا تھا جس کا بدلہ سوائے اللہ کے کسی اور سے مطلوب نہ تھا۔ حضرت عمر ؓ فرماتے ہیں میں دربار رسالت مآب میں تھا اور حضرت صدیق اکبر بھی تھے۔ صرف ایک عبا آپ کے جسم پر تھی، گریبان کانٹے سے اٹکائے ہوئے تھے جو حضرت جبرائیل ؑ نازل ہوئے اور پوچھا کیا بات ہے جو حضرت ابوبکر نے فقط ایک عبا پہن رکھی ہے اور کانٹا لگا رکھا ہے ؟ حضور ﷺ نے فرمایا انہوں نے اپنا کل مال میرے کاموں میں فتح سے پہلے ہی راہ اللہ خرچ کر ڈالا ہے اب ان کے پاس کچھ نہیں، حضرت جبرائیل ؑ نے فرمایا ان سے کہو کہ اللہ انہیں سلام کہتا ہے اور فرماتا ہے کہ اس فقیری میں تم مجھ سے خوش ہو یا ناخوش ہو ؟ آپ نے حضرت صدیق کو یہ سب کہہ کر سوال کیا۔ جواب ملا کہ اپنے رب عزوجل سے ناراض کیسے ہوسکتا ہوں میں اس حال میں بہت خوش ہوں۔ یہ حدیث سنداً ضعیف ہے واللہ اعلم۔ پھر فرماتا ہے کون ہے جو اللہ کو اچھا قرض دے، اس سے مراد اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لئے خرچ کرنا ہے۔ بعض نے کہا ہے بال بچوں کو کھلانا پلانا وغیرہ خرچ مراد ہے۔ ہوسکتا ہے کہ آیت اپنے عموم کے لحاظ سے دونوں صورتوں کو شامل ہو، پھر اس پر وعدہ فرماتا ہے کہ اسے بہت بڑھا چڑھا کر بدلہ ملے گا اور جنت میں پاکیزہ تر روزی ملے گی، اس آیت کو سن کر حضرت ابو دحداح انصاری ؓ حضور ﷺ کے پاس آئے اور کہا کیا ہمارا رب ہم سے قرض مانگتا ہے ؟ آپ نے فرمایا ہاں، کہا ذرا اپنا ہاتھ تو دیجئے آپ نے ہاتھ بڑھایا تو آپ کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر فرمایا میرا باغ جس میں کھجور کے چھ سو درخت ہیں وہ میں نے اپنے رب کو دیا آپ کے بیوی بچے بھی اسی باغ میں تھے آپ آئے اور باغ کے دروازے پر کھڑے رہ کر اپنی بیوی صاحبہ کو آواز دی وہ لبیک کہتی ہوئی آئیں تو فرمانے لگے بچوں کو لے کر چلی آؤ میں نے یہ باغ اپنے رب عزوجل کو قرض دے دیا ہے۔ وہ خوش ہو کر کہنے لگیں آپ نے بہت نفع کی تجارت کی اور بال بچوں کو اور گھر کے اثاثے کو لے کر باہر چلی آئیں، حضور ﷺ فرمانے لگے جنتی درخت وہاں کے باغات جو میوؤں سے لدے ہوئے اور جن کی شاخیں یا قوت اور موتی کی ہیں ابو دحداح کو اللہ نے دے دیں۔
هُوَ ٱلَّذِي يُنَزِّلُ عَلَىٰ عَبۡدِهِۦٓ ءَايَٰتِۭ بَيِّنَٰتٖ لِّيُخۡرِجَكُم مِّنَ ٱلظُّلُمَٰتِ إِلَى ٱلنُّورِۚ وَإِنَّ ٱللَّهَ بِكُمۡ لَرَءُوفٞ رَّحِيمٞ
It is He Who sends down clear verses upon His chosen bondman, in order to take you out from the realms of darkness towards light; and indeed Allah is Most Compassionate, Most Merciful upon you.
وہی ہے جو اپنے (برگزیدہ) بندے پر واضح نشانیاں نازل فرماتا ہے تاکہ تمہیں اندھیروں سے روشنی کی طرف نکال لے جائے، اور بیشک اللہ تم پر نہایت شفقت فرمانے والا نہایت رحم فرمانے والا ہے
Tafsir Ibn Kathir
Ordering Faith and encouraging spending
Allah the Exalted and Blessed orders having perfect faith in Him and in His Messenger, and that one should persist on this path adhereing firmly to it. Allah encourages spending from what He has made mankind trustees of, the wealth that you - mankind - have, that He has lent you. This wealth was in the hands of those before you and was later transferred to you. Therefore, O mankind, spend as Allah commanded you from the wealth that He entrusted to you for His obedience. Otherwise, He will hold you accountable and punish you for your ignoring what He ordained on you in this regard. Allah's statement,
مِمَّا جَعَلَكُم مُّسْتَخْلَفِينَ فِيهِ
(of that whereof He has made you trustees.), indicates that you - mankind -- will surrender this wealth to someone else. In this case, those who will inherit from you might obey Allah with their wealth, and thus acquire more happiness than you on account of what Allah has granted them. They might disobey Allah, and in this case you will have helped them commit evil and transgression. Imam Ahmad recorded that `Abdullah bin Ash-Shikhkhir said, "I came to Allah's Messenger ﷺ as he was reciting and saying,
أَلْهَـكُمُ التَّكَّاثُرُ
يَقُولُ ابْنُ آدَمَ: مَالِي مَالِي، وَهَلْ لَكَ مِن مَالِكَ إِلَّا مَاأَكَلْتَ فَأَفْنَيْتَ، أَوْ لَبِسْتَ فَأَبْلَيْتَ، أَوْ تَصَدَّقْتَ فَأَمْضَيْتَ؟»
((abundance diverts you.)( The Son of `Adam claims, "My wealth, my wealth." But is there anything belonging to you, except that which you consumed, which you used, or which you wore and then it became worn or you gave as charity and sent it forward) Muslim also collected with the addition:
«وَمَا سِوَى ذلِكَ، فَذَاهِبٌ وَتَارِكُهُ لِلنَّاس»
(Other than that, you will go away from it and leave it behind for other people.) Allah's statement,
فَالَّذِينَ ءَامَنُواْ مِنكُمْ وَأَنفَقُواْ لَهُمْ أَجْرٌ كَبِيرٌ
(And such of you as believe and spend, theirs will be a great reward.) encourages having faith and spending in acts of obedience. Allah the Exalted said,
وَمَا لَكُمْ لاَ تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالرَّسُولُ يَدْعُوكُمْ لِتُؤْمِنُواْ بِرَبِّكُمْ
(And what is the matter with you that you believe not in Allah! While the Messenger invites you to believe in your Lord;) meaning, "what prevents you from believing, while the Messenger is among you calling you to faith and bringing forward clear proofs and evidences that affirm the truth of what he brought you" And we have reported the Hadith through different routes in the beginning of the explanation on the chapter on Faith in Sahih Al-Bukhari, wherein one day the Messenger of Allah ﷺ said to his Companions,
«أَيُّ الْمُؤْمِنِينَ أَعْجَبُ إِلَيْكُمْ إِيمَانًا؟»
(Who do you consider among the believers as having the most amazing faith) They said, "The angels." He said,
«وَمَا لَهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ وَهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ؟»
(And what prevents them from believing when they are with their Lord) They said, "Then the Prophets." He said,
«وَمَالَهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ وَالْوَحْيُ يَنْزِلُ عَلَيْهِمْ؟»
(What prevents them from believing when the revelation comes down to them) They said, "Then us." He said,
«وَمَالَكُمْ لَا تُؤْمِنُونَ وَأَنَا بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ؟ وَلكِنْ أَعْجَبُ الْمُؤْمِنِينَ إِيمَانًا، قَوْمٌ يَجِيئُونَ بَعْدَكُمْ، يَجِدُونَ صُحُفًا يُؤْمِنُونَ بِمَا فِيهَا»
(What prevents you from believing, when I am amongst you Actually, the believers who have the most amazing faith, are some people who will come after you; they will find pages that they will believe in.) We mentioned a part of this Hadith when explaining Allah's statement in Surat Al-Baqarah,
الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ
(who believe in the Ghayb (unseen).)(2:3) Allah's statement,
وَقَدْ أَخَذَ مِيثَـقَكُمْ
(and He has indeed taken your covenant,) is similar to another of His statements,
وَاذْكُرُواْ نِعْمَةَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ وَمِيثَـقَهُ الَّذِى وَاثَقَكُم بِهِ إِذْ قُلْتُمْ سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا
(And remember Allah's favor to you and His covenant with which He bound you when you said: "We hear and we obey.")(5:7), which refers to giving the pledge of allegiance to the Prophet . Ibn Jarir said that the covenant mentioned here, is that taken from mankind, when they were still in Adam's loin. This is also the opinion of Mujahid, and Allah knows best. Allah said,
هُوَ الَّذِى يُنَزِّلُ عَلَى عَبْدِهِ ءَايَـتٍ بَيِّنَـتٍ
(It is He Who sends down manifest Ayat to His servant) clear proofs, unequivocal evidences and plain attestations,
لِيُخْرِجَكُمْ مِّنَ الظُّلُمَـتِ إِلَى النُّورِ
(that He may bring you out from darkness into light.) from the darkness of ignorance, disbelief and contradictory statements to the light of guidance, certainty and faith,
وَإِنَّ اللَّهَ بِكُمْ لَرَءُوفٌ رَّحِيمٌ
(And verily, Allah is to you full of kindness, Most Merciful.) by revealing the Divine Books and sending the Messengers to guide mankind, eradicating doubts and removing confusion. After Allah commanded mankind to first believe and spend, He again encouraged them to acquire faith and stated that He has removed all barriers between them and the acquisition of faith. Allah again encouraged them to spend,
وَمَا لَكُمْ أَلاَّ تُنفِقُواْ فِى سَبِيلِ اللَّهِ وَلِلَّهِ مِيرَاثُ السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ
(And what is the matter with you that you spend not in the cause of Allah And to Allah belongs the heritage of the heavens and the earth.) means, spend and do not fear poverty or scarcity. Surely, He in Whose cause you spent is the King and Owner of the heavens and earth and has perfect control over their every affair, including their treasuries. He is the Owner of the Throne, with all the might that it contains, and He is the One Who said,
وَمَآ أَنفَقْتُمْ مِّن شَىْءٍ فَهُوَ يُخْلِفُهُ وَهُوَ خَيْرُ الرَّازِقِينَ
(And whatsoever you spend of anything, He will replace it. And He is the best of providers.)(34:39), and,
مَا عِندَكُمْ يَنفَدُ وَمَا عِندَ اللَّهِ بَاقٍ
(whatever is with you, will be exhausted, and whatever is with Allah will remain.)(16:96) Therefore, those who trust in and depend on Allah will spend, and they will not fear poverty or destitution coming to them from the Owner of the Throne. They know that Allah will surely compensate them for whatever they spend.
The Virtues of spending and fighting before the Conquest of Makkah
Allah's statement,
لاَ يَسْتَوِى مِنكُم مَّنْ أَنفَقَ مِن قَبْلِ الْفَتْحِ وَقَـتَلَ
(Not equal among you are those who spent before the conquering and fought.) meaning those who did not fight and spend before the Conquest are not equal to those who spent and fought. Before Makkah was conquered, things were difficult for Muslims and only the righteous ones embraced Islam. After Makkah was conquered, Islam spread tremendously throughout the known world and people embraced the religion of Allah en masse. Similarly He said:
أُوْلَـئِكَ أَعْظَمُ دَرَجَةً مِّنَ الَّذِينَ أَنفَقُواْ مِن بَعْدُ وَقَـتَلُواْ وَكُلاًّ وَعَدَ اللَّهُ الْحُسْنَى
(Such are higher in degree than those who spent and fought afterwards. But to all Allah has promised the best (reward).) The majority considers the Conquest here to be the conquest of Makkah. Ash-Sha`bi and several others said that the Ayah refers to the treaty at Al-Hudaybiyyah. There is proof for this opinion found in a Hadith from Anas, collected by Imam Ahmad. Anas said, "Khalid bin Al-Walid and `Abdur-Rahman bin `Awf had a dispute. Khalid said to `Abdur-Rahman, `You boast about days (battles) that you participated in before us.' When the news of this statement reached the Prophet he said,
«دَعُوا لِي أَصْحَابِي، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ أَنْفَقْتُمْ مِثْلَ أُحُدٍ أَوْ مِثْلَ الْجِبَالِ ذَهَبًا، مَا بَلَغْتُمْ أَعْمَالَهُم»
(Do not bother my Companions, for by He in Whose Hand is my soul! If you spend an amount of gold equal to (Mount) Uhud, (or equal to the mountains), you will not reach the level of their actions.)" It is a known fact that Khalid bin Al-Walid, whom the Prophet addressed this statement to, embraced Islam during the period between the treaty of Al-Hudaybiyyah and the conquering of Makkah. The dispute between Khalid and `Abdur-Rahman occurred because of the battle of Bani Jadhimah. The Prophet sent Khalid bin Al-Walid to them after the conquest of Makkah, and they said, "Saba'na," instead of saying, "Aslamna" (we embraced Islam). So Khalid ordered their execution and the execution of their prisoners (of war); `Abdur-Rahman bin `Awf and `Abdullah bin `Umar opposed him. This is the reason behind the dispute that occurred between Khalid and `Abdur-Rahman. But in the Sahih, the Messenger of Allah ﷺ said,
«لَا تَسُبُّوا أَصْحَابِي، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ أَنْفَقَ أَحَدُكُمْ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا، مَا بَلَغَ مُدَّ أَحَدِهِمْ وَلَا نَصِيفَه»
(None should revile my Companions, for by He in Whose Hand is my soul! If one of you were to spend as much gold as Uhud, it would not reach the level of them equal to an amount as much as one Mudd of one of them or half of it.) Allah said,
وَكُلاًّ وَعَدَ اللَّهُ الْحُسْنَى
(But to all Allah has promised the best (reward).) meaning, those who spent before and after the conquest of Makkah; they all will gain a reward for their good deeds, even though some of them vary in rank and earn a better reward than others as Allah said,
لاَّ يَسْتَوِى الْقَـعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ غَيْرُ أُوْلِى الضَّرَرِ وَالْمُجَـهِدُونَ فِى سَبِيلِ اللَّهِ بِأَمْوَلِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ فَضَّلَ اللَّهُ الْمُجَـهِدِينَ بِأَمْوَلِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ عَلَى الْقَـعِدِينَ دَرَجَةً وَكُـلاًّ وَعَدَ اللَّهُ الْحُسْنَى وَفَضَّلَ اللَّهُ الْمُجَـهِدِينَ عَلَى الْقَـعِدِينَ أَجْراً عَظِيماً
(Not equal are those of the believers who sit (at home), except those who are disabled, and those who strive hard and fight in the cause of Allah with their wealth and their lives. Allah has preferred in grades those who strive hard and fight with their wealth and their lives above those who sit (at home). Unto each, Allah has promised good, but Allah has preferred by a great reward those who strive hard and fight, above those who sit (at home).)(4:95) There is a Hadith in the Sahih that states,
«الْمُؤْمِنُ الْقَوِيُّ خَيْرٌ وَأَحَبُّ إِلَى اللهِ مِنَ الْمُؤْمِنِ الضَّعِيفِ، وَفِي كُلَ خَيْر»
(The strong believer is better and more beloved to Allah than the weak believer; both have goodness in them.) The Prophet ended his statement this way to draw attention to the second type of believer, so that their own qualities are not forgotten in the midst of preferring the former type. In this way, the latter is not dismissed as being degraded in the Hadith. Therefore, the Prophet ended his statement by praising the second type -- the weak believers -- after giving preference to the first type. Allah said:
وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ
(And Allah is All-Aware of what you do.) meaning, since Allah is perfectly aware of all things, He made distinctions between the rewards of the believers who spent and fought before the Conquest and those who spent and fought afterwards. Surely, Allah does this by His knowledge of the intention of the former type and their perfect sincerity to Him, all the while spending in times of hardship, poverty and dire straits. This is found in the Hadith,
«سَبَقَ دِرْهَمٌ مِائَةَ أَلْف»
(Spending one Dirham is preceded over a hundred thousand.) There is no doubt that the people of faith consider Abu Bakr As-Siddiq to be the person who has the best share according to the meaning of this Ayah. He was the chief of those who implemented it, among all followers of all Prophets. He spent all of his wealth seeking the Face of Allah, the Exalted and Most Honored. He did it voluntarily too, not to repay a debt or a favor that anyone from mankind had on him. May Allah be pleased with him.
The Encouragement to make a Handsome Loan in the Cause of Allah
Allah said,
مَّن ذَا الَّذِى يُقْرِضُ اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا
(Who is he that will lend Allah a handsome loan:) `Umar bin Al-Khattab said that this Ayah refers to spending in Allah's cause. It was also said that it pertains to spending on children. What is correct is that it is more general than that. So all those who spend in the cause of Allah with good intentions and a sincere heart, then they fall under the generality of this Ayah. This is why Allah the Exalted said in another Ayah:
مَّن ذَا الَّذِى يُقْرِضُ اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا فَيُضَاعِفَهُ لَهُ
(Who is he that will lend Allah handsome loan: then (Allah) will increase it manifold to his credit (in repaying),) and in another Ayah,
أَضْعَافًا كَثِيرَةً
(many times) (2:245), meaning, being handsome reward and tremendous provisions: Paradise on the Day of Resurrection. Ibn Abi Hatim recorded that `Abdullah bin Mas`ud said, "When this Ayah,
مَّن ذَا الَّذِى يُقْرِضُ اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا فَيُضَاعِفَهُ لَهُ
(Who is he that will lend Allah handsome loan: then (Allah) will increase it manifold to his credit (in repaying),) was revealed, Abu Ad-Dahdah Al-Ansari said, `O Allah's Messenger! Does Allah ask us for a loan' The Prophet said,
«نَعَمْ، يَاأَبَا الدَّحْدَاح»
(Yes, O Abu Ad-Dahdah.) He said, `Give me your hand, O Allah's Messenger,' and the Prophet placed his hand in his hand. Abu Ad-Dahdah said, `Verily, I have given my garden as a loan to my Lord.' He had a garden that contained six hundred date trees; his wife and children were living in that garden too. Abu Ad-Dahdah went to his wife and called her, `Umm Ad-Dahdah!' She said, `Here I am.' He said, `Leave the garden, because I have given it as a loan to my Lord, the Exalted and Most Honored.' She said, `That is a successful trade, O Abu Ad-Dahdah!' She then transferred her goods and children. The Messenger of Allah ﷺ said,
«كَمْ مِنْ عَذْقٍ رَدَاحٍ فِي الْجَنَّةِ لِأَبِي الدَّحْدَاح»
(How plentiful are the sweet date clusters that Abu Ad-Dahdah has in Paradise!)" In another narration, the Prophet said,
«رُبَّ نَخْلَةٍ مُدَلَّاةٍ، عُرُوقُهَا دُرٌّ وَيَاقُوتٌ، لِأَبِي الدَّحْدَاحِ فِي الْجَنَّة»
(How many a date tree that has lowered down its clusters, which are full of pearls and gems in Paradise for Abu Ad-Dahdah!)
ایمان لانے اور اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کا حکم اللہ تبارک و تعالیٰ خود اپنے اوپر اور اپنے رسول ﷺ پر ایمان لانے اور اس پر مضبوطی اور ہمیشگی کے ساتھ جم کر رہنے کی ہدایت فرماتا ہے اور اپنی راہ میں خیرات کرنے کی رغبت دلاتا ہے جو مال ہاتھوں ہاتھ تمہیں اس نے پہنچایا ہو تم اس کی اطاعت گذاری میں اسے خرچ کرو اور سمجھ لو کہ جس طرح دوسرے ہاتھوں سے تمہیں ملا ہے اسی طرح عنقریب تمہارے ہاتھوں سے دوسرے ہاتھوں میں چلا جائے گا اور تم پر حساب اور عتاب رہ جائے گا اور اس میں یہ بھی اشارہ ہے کہ تیرے بعد تیرا وارث ممکن ہے نیک ہو اور وہ تیرے ترکے کو میری راہ میں خرچ کر کے مجھ سے قربت حاصل کرے اور ممکن ہے کہ وہ بد اور اپنی مستی اور سیاہ کاری میں تیرا اندوختہ فنا کر دے اور اس کی بدیوں کا باعث تو بنے نہ تو چھوڑتا نہ اڑاتا۔ حضور ﷺ سورة (الھکم) پڑھ کر فرمانے لگے انسان گو کہتا رہتا ہے یہ بھی میرا مال ہے یہ بھی میرا مال ہے حالانکہ دراصل انسان کا مال وہ ہے جو کھالیا پہن لیا صدقہ کردیا کھایا ہوا فنا ہوگیا پہنا ہوا پرانا ہو کر برباد ہوگیا، ہاں راہ اللہ دیا ہوا بطور خزانہ کے جمع رہا (مسلم) اور جو باقی رہے گا وہ تو اوروں کا مال ہے تو تو اسے جمع کر کے چھوڑ جانے والا ہے۔ پھر ان ہی دونوں باتوں کی ترغیب دلاتا ہے اور بہت بڑے اجر کا وعدہ دیتا ہے۔ پھر فرماتا ہے تمہیں ایمان سے کون سی چیز روکتی ہے رسول ﷺ تم میں موجود ہیں وہ تمہیں ایمان کیطرف بلا رہے ہیں دلیلیں دے رہے ہیں اور معجزے دکھا رہے ہیں، صحیح بخاری کی شرح کے ابتدائی حصہ کتاب الایمان میں ہم یہ حدیث بیان کر آئے ہیں کہ حضور ﷺ نے پوچھا سب سے زیادہ اچھے ایمان والے تمہارے نزدیک کون ہیں ؟ کہا فرشتے، فرمایا وہ تو اللہ کے پاس ہی ہیں پھر ایمان کیوں نہ لاتے ؟ کہا پھر انبیاء فرمایا ان پر تو وحی اور کلام اللہ اترتا ہے وہ کیسے ایمان نہ لاتے ؟ کہا پھر ہم فرمایا واہ تم ایمان سے کیسے رک سکتے تھے، میں تم میں زندہ موجود ہوں، سنو بہترین اور عجیب تر ایماندار وہ لوگ ہیں جو تمہارے بعد آئیں گے، صحیفوں میں لکھا دیکھیں گے اور ایمان قبول کریں گے، سورة بقرہ کے شروع میں آیت (الَّذِيْنَ يُؤْمِنُوْنَ بالْغَيْبِ وَ يُـقِيْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ مِمَّا رَزَقْنٰھُمْ يُنْفِقُوْنَ ۙ) 2۔ البقرة :3) کی تفسیر میں بھی ہم ایسی احادیث لکھ آئے ہیں، پھر انہیں روز میثاق کا قول وقرار یاد دلاتا ہے جیسے اور آیت میں ہے (وَاذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَيْكُمْ وَمِيْثَاقَهُ الَّذِيْ وَاثَقَكُمْ بِهٖٓ ۙ اِذْ قُلْتُمْ سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا ۡ وَاتَّقُوا اللّٰهَ ۭاِنَّ اللّٰهَ عَلِيْمٌۢ بِذَات الصُّدُوْرِ) 5۔ المآئدہ :7) ، اس سے مراد رسول اللہ ﷺ سے بیعت کرنا ہے اور امام ابن جریر فرماتے ہیں مراد وہ میثاق ہے جو حضرت آدم کی پیٹھ میں ان سے لیا گیا تھا، مجاہد کا بھی یہی مذہب ہے واللہ اعلم۔ وہ اللہ جو اپنے بندے پر روشن حجتیں اور بہترین دلائل اور عمدہ تر آیتیں نازل فرماتا ہے تاکہ ظلم و جہل کی گھنگھور گھٹاؤں اور رائے قیاس کی بدترین اندھیریوں سے تمہیں نکال کر نورانی اور روشن صاف اور سیدھی راہ حق پر لا کھڑا کر دے۔ اللہ رؤف ہے ساتھ ہی رحیم ہے یہ اس کا سلوک اور کرم ہے کہ لوگوں کی رہنمائی کے لئے کتابیں اتاریں، رسول بھیجے، شکوک و شبہات دور کردیئے، ہدایت کی وضاحت کردی۔ ایمان اور خیرات کا حکم کر کے پھر ایمان کی رغبت دلا کر اور یہ بیان فرما کر کہ ایمان نہ لانے کا اب کوئی عذر میں نے باقی نہیں رکھا پھر صدقات کی رغبت دلائی، اور فرمایا میری راہ میں خرچ کرو اور فقیری سے نہ ڈرو، اس لئے کہ جس کی راہ میں تم خرچ کر رہے ہو وہ زمین و آسمان کے خزانوں کا تنہا مالک ہے، عرش و کرسی اسی کی ہے اور وہ تم سے اس خیرات کے بدلے انعام کا وعدہ کرچکا ہے۔ فرماتا ہے آیت (وَمَآ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ شَيْءٍ فَهُوَ يُخْلِفُهٗ ۚ وَهُوَ خَيْرُ الرّٰزِقِيْنَ 39) 34۔ سبأ :39) جو کچھ تم راہ اللہ دو گے اس کا بہترین بدلہ وہ تمہیں دے گا اور روزی رساں درحقیقت وہی ہے اور فرماتا ہے (مَا عِنْدَكُمْ يَنْفَدُ وَمَا عِنْدَ اللّٰهِ بَاقٍ 96) 16۔ النحل :96) اگر یہ فانی مال تم خرچ کرو گے وہ اپنے پاس کا ہمیشگی والا مال تمہیں دے گا۔ توکل والے خرچ کرتے رہتے ہیں اور مالک عرش انہیں تنگی ترشی سے محفوظ رکھتا ہے، انہیں اس بات کا اعتماد ہوتا ہے کہ ہمارے فی سبیل اللہ خرچ کردہ مال کا بدلہ دونوں جہان میں ہمیں قطعاً مل کر رہے گا۔ پھر اس امر کا بیان ہو رہا ہے کہ فتح مکہ سے پہلے جن لوگوں نے راہ اللہ خرچ کیا اور جہاد کیا اور جن لوگوں نے یہ نہیں کیا گو بعد فتح مکہ کیا ہو یہ دونوں برابر نہیں ہیں۔ اس وجہ سے بھی کہ اس وقت تنگی ترشی زیادہ تھی اور قوت طاقت کم تھی اور اس لئے بھی کہ اس وقت ایمان وہی قبول کرتا تھا جس کا دل ہر میل کچیل سے پاک ہوتا تھا۔ فتح مکہ کے بعد تو اسلام کو کھلا غلبہ ملا اور مسلمانوں کی تعداد بہت زیادہ ہوگئی اور فتوحات کی وسعت ہوئی ساتھ ہی مال بھی نظر آنے لگا، پس اس وقت اور اس وقت میں جتنا فرق ہے اتنا ہی ان لوگوں اور ان لوگوں کے اجر میں فرق ہے، انہیں بہت بڑے اجر ملیں گے گو دونوں اصل بھلائی اور اصل اجر میں شریک ہیں، بعض نے کہا ہے فتح سے مراد صلح حدیبیہ ہے۔ اس کی تائید مسند احمد کی اس روایت سے بھی ہوتی ہے کہ حضرت خالد بن ولید اور حضرت عبدالرحمٰن بن عوف میں کچھ اختلاف ہوگیا جس میں حضرت خالد نے فرمایا تم اسی پر اکڑ رہے ہو کہ ہم سے کچھ دن پہلے اسلام لائے۔ جب حضور ﷺ کو اس کا علم ہوا تو آپ نے فرمایا میرے صحابہ کو میرے لئے چھوڑ دو ، اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر تم احد کے یا کسی اور پہاڑ کے برابر سونا خرچ کرو تو بھی ان کے اعمال کو پہنچ نہیں سکتے۔ ظاہر ہے کہ یہ واقعہ حضرت خالد کے مسلمان ہوجانے کے بعد کا ہے اور آپ صلح حدیبیہ کے بعد اور فتح مکہ سے پہلے ایمان لائے تھے اور یہ اختلاف جس کا ذکر اس روایت میں ہے بنو جذیمہ کے بارے میں ہوا تھا حضور ﷺ نے فتح مکہ کے بعد حضرت خالد کی امارت میں اس کی طرف ایک لشکر بھیجا تھا جب وہاں پہنچے تو ان لوگوں نے پکارنا شروع کیا ہم مسلمان ہوگئے ہم صابی ہوئے یعنی بےدین ہوئے، اس لئے کہ کفار مسلمانوں کو یہی لفظ کہا کرتے تھے حضرت خالد نے غالباً اس کلمہ کا اصلی مطلب نہ سمجھ کر ان کے قتل کا حکم دے دیا بلکہ ان کے جو لوگ گرفتار کئے گئے تھے انہیں قتل کر ڈالنے کا حکم دیا اس پر حضرت عبدالرحمن بن عوف اور حضرت عبداللہ بن عمر نے ان کی مخالفت کی اس واقعہ کا مختصر بیان اوپر والی حدیث میں ہے۔ صحیح حدیث میں ہے میرے صحابہ کو برا نہ کہو اس کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے اگر تم میں سے کوئی احد پہاڑ کے برابر سونا خرچ کرے تو بھی ان کے تین پاؤ اناج کے ثواب کو نہیں پہنچے گا بلکہ ڈیڑھ پاؤ کو بھی نہ پہنچے گا۔ ابن جریر میں ہے حدیبیہ والے سال ہم حضور ﷺ کے ساتھ جب عسفان میں پہنچے تو آپ نے فرمایا ایسے لوگ بھی آئیں گے کہ تم اپنے اعمال کو ان کے اعمال کے مقابلہ میں حقیر سمجھنے لگو گے ہم نے کہا کیا قریشی ؟ فرمایا نہیں بلکہ یمنی نہایت نرم دل نہایت خوش اخلاق سادہ مزاج۔ ہم نے کہا حضور ﷺ پھر کیا وہ ہم سے بہتر ہوں گے ؟ آپ نے جواب دیا کہ اگر ان میں سے کسی کے پاس احد پہاڑ کے برابر سونا بھی ہو اور وہ اسے راہ اللہ خرچ کرے تو تم میں سے ایک کے تین پاؤ بلکہ ڈیڑھ پاؤ اناج کی خیرات کو بھی نہیں پہنچ سکتا۔ یاد رکھو کہ ہم میں اور دوسرے تمام لوگوں میں یہی فرق ہے پھر آپ نے اسی آیت (لایستوی) کی تلاوت کی، لیکن یہ روایت غریب ہے، بخاری و مسلم میں حضرت ابو سعید خدری کی روایت میں خارجیوں کے ذکر میں ہے کہ تم اپنی نمازیں ان کی نمازوں کے مقابلہ اور اپنے روزے ان کے روزوں کے مقابلہ پر حقیر اور کمتر شمار کرو گے۔ وہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جس طرح تیر شکار سے ابن جریر میں ہے عنقریب ایک قوم آئے گی کہ تم اپنے اعمال کو کمتر سمجھنے لگو گے جب ان کے اعمال کے سامنے رکھو گے صحابہ نے پوچھا کیا وہ قریشیوں میں سے ہوں گے آپ نے فرمایا نہیں وہ سادہ مزاج نرم دل یہاں والے ہیں اور آپ نے یمن کی طرف اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا پھر فرمایا وہ یمنی لوگ ہیں ایمان تو یمن والوں کا ایمان ہے اور حکمت یمن والوں کی حکمت ہے ہم نے پوچھا کیا وہ ہم سے بھی افضل ہوں گے ؟ فرمایا اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر ان میں سے کسی کے پاس سونے کا پہاڑ ہو اور اسے وہ راہ اللہ دے ڈالے تو بھی تمہارے ایک مد یا آدھے مد کو بھی نہیں پہنچ سکتا۔ پھر آپ نے اپنی اور انگلیاں تو بند کرلیں اور چھن گیا کو دراز کر کے فرمایا خبردار رہو یہ ہے فرق ہم میں اور دوسرے لوگوں میں، پھر آپ نے یہی آیت تلاوت فرمائی، پس اس حدیث میں حدیبیہ کا ذکر نہیں۔ پھر یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ممکن ہے فتح مکہ سے پہلے ہی فتح مکہ کے بعد کی خبر اللہ تعالیٰ نے آپ کو دے دی ہو، جیسے کہ سورة مزمل میں جو ان ابتدائی سورتوں میں سے ہے جو مکہ شریف میں نازل ہوئی تھیں پروردگار نے خبر دی تھی کہ آیت (وَاٰخَرُوْنَ يُقَاتِلُوْنَ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ڮ فَاقْرَءُوْا مَا تَيَسَّرَ مِنْهُ 20) 73۔ المزمل :20) یعنی کچھ اور لوگ ایسے بھی ہیں جو اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہیں پس جس طرح اس آیت میں ایک آنے والے واقعہ کا تذکرہ ہے اسی طرح اس آیت کو اور حدیث کو بھی سمجھ لیا جائے واللہ اعلم۔ پھر فرماتا ہے کہ ہر ایک سے اللہ تعالیٰ نے بھلائی کا وعدہ کیا ہے یعنی فتح مکہ سے پہلے اور اس کے بعد بھی جس نے جو کچھ راہ اللہ دیا ہے کسی کو اس سے کم۔ جیسے اور جگہ ہے کہ مجاہد اور غیر مجاہد جو عذر والے بھی نہ ہوں درجے میں برابر نہیں گو بھلے وعدے میں دونوں شامل سے کم۔ جیسے اور جگہ ہے کہ مجاہد اور غیر مجاہد جو عذر والے بھی نہ ہوں درجے میں برابر نہیں گو بھلے وعدے میں دونوں شامل ہیں۔ صحیح حدیث میں ہے قوی مومن اللہ کے نزدیک ضعیف مومن سے افضل ہے لیکن بھلائی دونوں میں ہے۔ اگر یہ فقرہ اس آیت میں نہ ہوتا تو ممکن تھا کہ کسی کو ان بعد والوں کی سبکی کا خیال گذرے اس لئے فضیلت بیان فرما کر پھر عطف ڈال کر اصل اجر میں دونوں کو شریک بتایا۔ پھر فرمایا تمہارے تمام اعمال کی تمہارے رب کو خبر ہے وہ درجات میں جو تفاوت رکھتا ہے وہ بھی انداز سے نہیں بلکہ صحیح علم سے۔ حدیث شریف میں ہے ایک درہم ایک لاکھ درہم سے بڑھ جاتا ہے۔ یہ بھی یاد رہے کہ اس کے سردار ہیں آپ نے ابتدائی تنگی کے وقت اپنا کل مال راہ اللہ دے دیا تھا جس کا بدلہ سوائے اللہ کے کسی اور سے مطلوب نہ تھا۔ حضرت عمر ؓ فرماتے ہیں میں دربار رسالت مآب میں تھا اور حضرت صدیق اکبر بھی تھے۔ صرف ایک عبا آپ کے جسم پر تھی، گریبان کانٹے سے اٹکائے ہوئے تھے جو حضرت جبرائیل ؑ نازل ہوئے اور پوچھا کیا بات ہے جو حضرت ابوبکر نے فقط ایک عبا پہن رکھی ہے اور کانٹا لگا رکھا ہے ؟ حضور ﷺ نے فرمایا انہوں نے اپنا کل مال میرے کاموں میں فتح سے پہلے ہی راہ اللہ خرچ کر ڈالا ہے اب ان کے پاس کچھ نہیں، حضرت جبرائیل ؑ نے فرمایا ان سے کہو کہ اللہ انہیں سلام کہتا ہے اور فرماتا ہے کہ اس فقیری میں تم مجھ سے خوش ہو یا ناخوش ہو ؟ آپ نے حضرت صدیق کو یہ سب کہہ کر سوال کیا۔ جواب ملا کہ اپنے رب عزوجل سے ناراض کیسے ہوسکتا ہوں میں اس حال میں بہت خوش ہوں۔ یہ حدیث سنداً ضعیف ہے واللہ اعلم۔ پھر فرماتا ہے کون ہے جو اللہ کو اچھا قرض دے، اس سے مراد اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لئے خرچ کرنا ہے۔ بعض نے کہا ہے بال بچوں کو کھلانا پلانا وغیرہ خرچ مراد ہے۔ ہوسکتا ہے کہ آیت اپنے عموم کے لحاظ سے دونوں صورتوں کو شامل ہو، پھر اس پر وعدہ فرماتا ہے کہ اسے بہت بڑھا چڑھا کر بدلہ ملے گا اور جنت میں پاکیزہ تر روزی ملے گی، اس آیت کو سن کر حضرت ابو دحداح انصاری ؓ حضور ﷺ کے پاس آئے اور کہا کیا ہمارا رب ہم سے قرض مانگتا ہے ؟ آپ نے فرمایا ہاں، کہا ذرا اپنا ہاتھ تو دیجئے آپ نے ہاتھ بڑھایا تو آپ کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر فرمایا میرا باغ جس میں کھجور کے چھ سو درخت ہیں وہ میں نے اپنے رب کو دیا آپ کے بیوی بچے بھی اسی باغ میں تھے آپ آئے اور باغ کے دروازے پر کھڑے رہ کر اپنی بیوی صاحبہ کو آواز دی وہ لبیک کہتی ہوئی آئیں تو فرمانے لگے بچوں کو لے کر چلی آؤ میں نے یہ باغ اپنے رب عزوجل کو قرض دے دیا ہے۔ وہ خوش ہو کر کہنے لگیں آپ نے بہت نفع کی تجارت کی اور بال بچوں کو اور گھر کے اثاثے کو لے کر باہر چلی آئیں، حضور ﷺ فرمانے لگے جنتی درخت وہاں کے باغات جو میوؤں سے لدے ہوئے اور جن کی شاخیں یا قوت اور موتی کی ہیں ابو دحداح کو اللہ نے دے دیں۔
10
View Single
وَمَا لَكُمۡ أَلَّا تُنفِقُواْ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِ وَلِلَّهِ مِيرَٰثُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۚ لَا يَسۡتَوِي مِنكُم مَّنۡ أَنفَقَ مِن قَبۡلِ ٱلۡفَتۡحِ وَقَٰتَلَۚ أُوْلَـٰٓئِكَ أَعۡظَمُ دَرَجَةٗ مِّنَ ٱلَّذِينَ أَنفَقُواْ مِنۢ بَعۡدُ وَقَٰتَلُواْۚ وَكُلّٗا وَعَدَ ٱللَّهُ ٱلۡحُسۡنَىٰۚ وَٱللَّهُ بِمَا تَعۡمَلُونَ خَبِيرٞ
And what is the matter with you that you should not spend in Allah’s cause, whereas Allah is the Inheritor of all that is in the heavens and in the earth? Those among you who spent and fought before the conquest of Mecca are not equal to others; they are greater in rank than those who spent and fought after the conquest; and Allah has promised Paradise to all of them; and Allah well knows what you do.
اور تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے حالاں کہ آسمانوں اور زمین کی ساری ملکیت اللہ ہی کی ہے (تم فقط اس مالک کے نائب ہو)، تم میں سے جن لوگوں نے فتحِ (مکّہ) سے پہلے (اللہ کی راہ میں اپنا مال) خرچ کیا اور (حق کے لیے) قتال کیا وہ (اور تم) برابر نہیں ہوسکتے، وہ اُن لوگوں سے درجہ میں بہت بلند ہیں جنہوں نے بعد میں مال خرچ کیا ہے، اور قتال کیا ہے، مگر اللہ نے حسنِ آخرت (یعنی جنت) کا وعدہ سب سے فرما دیا ہے، اور اللہ جو کچھ تم کرتے ہو اُن سے خوب آگاہ ہے
Tafsir Ibn Kathir
Ordering Faith and encouraging spending
Allah the Exalted and Blessed orders having perfect faith in Him and in His Messenger, and that one should persist on this path adhereing firmly to it. Allah encourages spending from what He has made mankind trustees of, the wealth that you - mankind - have, that He has lent you. This wealth was in the hands of those before you and was later transferred to you. Therefore, O mankind, spend as Allah commanded you from the wealth that He entrusted to you for His obedience. Otherwise, He will hold you accountable and punish you for your ignoring what He ordained on you in this regard. Allah's statement,
مِمَّا جَعَلَكُم مُّسْتَخْلَفِينَ فِيهِ
(of that whereof He has made you trustees.), indicates that you - mankind -- will surrender this wealth to someone else. In this case, those who will inherit from you might obey Allah with their wealth, and thus acquire more happiness than you on account of what Allah has granted them. They might disobey Allah, and in this case you will have helped them commit evil and transgression. Imam Ahmad recorded that `Abdullah bin Ash-Shikhkhir said, "I came to Allah's Messenger ﷺ as he was reciting and saying,
أَلْهَـكُمُ التَّكَّاثُرُ
يَقُولُ ابْنُ آدَمَ: مَالِي مَالِي، وَهَلْ لَكَ مِن مَالِكَ إِلَّا مَاأَكَلْتَ فَأَفْنَيْتَ، أَوْ لَبِسْتَ فَأَبْلَيْتَ، أَوْ تَصَدَّقْتَ فَأَمْضَيْتَ؟»
((abundance diverts you.)( The Son of `Adam claims, "My wealth, my wealth." But is there anything belonging to you, except that which you consumed, which you used, or which you wore and then it became worn or you gave as charity and sent it forward) Muslim also collected with the addition:
«وَمَا سِوَى ذلِكَ، فَذَاهِبٌ وَتَارِكُهُ لِلنَّاس»
(Other than that, you will go away from it and leave it behind for other people.) Allah's statement,
فَالَّذِينَ ءَامَنُواْ مِنكُمْ وَأَنفَقُواْ لَهُمْ أَجْرٌ كَبِيرٌ
(And such of you as believe and spend, theirs will be a great reward.) encourages having faith and spending in acts of obedience. Allah the Exalted said,
وَمَا لَكُمْ لاَ تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالرَّسُولُ يَدْعُوكُمْ لِتُؤْمِنُواْ بِرَبِّكُمْ
(And what is the matter with you that you believe not in Allah! While the Messenger invites you to believe in your Lord;) meaning, "what prevents you from believing, while the Messenger is among you calling you to faith and bringing forward clear proofs and evidences that affirm the truth of what he brought you" And we have reported the Hadith through different routes in the beginning of the explanation on the chapter on Faith in Sahih Al-Bukhari, wherein one day the Messenger of Allah ﷺ said to his Companions,
«أَيُّ الْمُؤْمِنِينَ أَعْجَبُ إِلَيْكُمْ إِيمَانًا؟»
(Who do you consider among the believers as having the most amazing faith) They said, "The angels." He said,
«وَمَا لَهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ وَهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ؟»
(And what prevents them from believing when they are with their Lord) They said, "Then the Prophets." He said,
«وَمَالَهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ وَالْوَحْيُ يَنْزِلُ عَلَيْهِمْ؟»
(What prevents them from believing when the revelation comes down to them) They said, "Then us." He said,
«وَمَالَكُمْ لَا تُؤْمِنُونَ وَأَنَا بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ؟ وَلكِنْ أَعْجَبُ الْمُؤْمِنِينَ إِيمَانًا، قَوْمٌ يَجِيئُونَ بَعْدَكُمْ، يَجِدُونَ صُحُفًا يُؤْمِنُونَ بِمَا فِيهَا»
(What prevents you from believing, when I am amongst you Actually, the believers who have the most amazing faith, are some people who will come after you; they will find pages that they will believe in.) We mentioned a part of this Hadith when explaining Allah's statement in Surat Al-Baqarah,
الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ
(who believe in the Ghayb (unseen).)(2:3) Allah's statement,
وَقَدْ أَخَذَ مِيثَـقَكُمْ
(and He has indeed taken your covenant,) is similar to another of His statements,
وَاذْكُرُواْ نِعْمَةَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ وَمِيثَـقَهُ الَّذِى وَاثَقَكُم بِهِ إِذْ قُلْتُمْ سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا
(And remember Allah's favor to you and His covenant with which He bound you when you said: "We hear and we obey.")(5:7), which refers to giving the pledge of allegiance to the Prophet . Ibn Jarir said that the covenant mentioned here, is that taken from mankind, when they were still in Adam's loin. This is also the opinion of Mujahid, and Allah knows best. Allah said,
هُوَ الَّذِى يُنَزِّلُ عَلَى عَبْدِهِ ءَايَـتٍ بَيِّنَـتٍ
(It is He Who sends down manifest Ayat to His servant) clear proofs, unequivocal evidences and plain attestations,
لِيُخْرِجَكُمْ مِّنَ الظُّلُمَـتِ إِلَى النُّورِ
(that He may bring you out from darkness into light.) from the darkness of ignorance, disbelief and contradictory statements to the light of guidance, certainty and faith,
وَإِنَّ اللَّهَ بِكُمْ لَرَءُوفٌ رَّحِيمٌ
(And verily, Allah is to you full of kindness, Most Merciful.) by revealing the Divine Books and sending the Messengers to guide mankind, eradicating doubts and removing confusion. After Allah commanded mankind to first believe and spend, He again encouraged them to acquire faith and stated that He has removed all barriers between them and the acquisition of faith. Allah again encouraged them to spend,
وَمَا لَكُمْ أَلاَّ تُنفِقُواْ فِى سَبِيلِ اللَّهِ وَلِلَّهِ مِيرَاثُ السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ
(And what is the matter with you that you spend not in the cause of Allah And to Allah belongs the heritage of the heavens and the earth.) means, spend and do not fear poverty or scarcity. Surely, He in Whose cause you spent is the King and Owner of the heavens and earth and has perfect control over their every affair, including their treasuries. He is the Owner of the Throne, with all the might that it contains, and He is the One Who said,
وَمَآ أَنفَقْتُمْ مِّن شَىْءٍ فَهُوَ يُخْلِفُهُ وَهُوَ خَيْرُ الرَّازِقِينَ
(And whatsoever you spend of anything, He will replace it. And He is the best of providers.)(34:39), and,
مَا عِندَكُمْ يَنفَدُ وَمَا عِندَ اللَّهِ بَاقٍ
(whatever is with you, will be exhausted, and whatever is with Allah will remain.)(16:96) Therefore, those who trust in and depend on Allah will spend, and they will not fear poverty or destitution coming to them from the Owner of the Throne. They know that Allah will surely compensate them for whatever they spend.
The Virtues of spending and fighting before the Conquest of Makkah
Allah's statement,
لاَ يَسْتَوِى مِنكُم مَّنْ أَنفَقَ مِن قَبْلِ الْفَتْحِ وَقَـتَلَ
(Not equal among you are those who spent before the conquering and fought.) meaning those who did not fight and spend before the Conquest are not equal to those who spent and fought. Before Makkah was conquered, things were difficult for Muslims and only the righteous ones embraced Islam. After Makkah was conquered, Islam spread tremendously throughout the known world and people embraced the religion of Allah en masse. Similarly He said:
أُوْلَـئِكَ أَعْظَمُ دَرَجَةً مِّنَ الَّذِينَ أَنفَقُواْ مِن بَعْدُ وَقَـتَلُواْ وَكُلاًّ وَعَدَ اللَّهُ الْحُسْنَى
(Such are higher in degree than those who spent and fought afterwards. But to all Allah has promised the best (reward).) The majority considers the Conquest here to be the conquest of Makkah. Ash-Sha`bi and several others said that the Ayah refers to the treaty at Al-Hudaybiyyah. There is proof for this opinion found in a Hadith from Anas, collected by Imam Ahmad. Anas said, "Khalid bin Al-Walid and `Abdur-Rahman bin `Awf had a dispute. Khalid said to `Abdur-Rahman, `You boast about days (battles) that you participated in before us.' When the news of this statement reached the Prophet he said,
«دَعُوا لِي أَصْحَابِي، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ أَنْفَقْتُمْ مِثْلَ أُحُدٍ أَوْ مِثْلَ الْجِبَالِ ذَهَبًا، مَا بَلَغْتُمْ أَعْمَالَهُم»
(Do not bother my Companions, for by He in Whose Hand is my soul! If you spend an amount of gold equal to (Mount) Uhud, (or equal to the mountains), you will not reach the level of their actions.)" It is a known fact that Khalid bin Al-Walid, whom the Prophet addressed this statement to, embraced Islam during the period between the treaty of Al-Hudaybiyyah and the conquering of Makkah. The dispute between Khalid and `Abdur-Rahman occurred because of the battle of Bani Jadhimah. The Prophet sent Khalid bin Al-Walid to them after the conquest of Makkah, and they said, "Saba'na," instead of saying, "Aslamna" (we embraced Islam). So Khalid ordered their execution and the execution of their prisoners (of war); `Abdur-Rahman bin `Awf and `Abdullah bin `Umar opposed him. This is the reason behind the dispute that occurred between Khalid and `Abdur-Rahman. But in the Sahih, the Messenger of Allah ﷺ said,
«لَا تَسُبُّوا أَصْحَابِي، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ أَنْفَقَ أَحَدُكُمْ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا، مَا بَلَغَ مُدَّ أَحَدِهِمْ وَلَا نَصِيفَه»
(None should revile my Companions, for by He in Whose Hand is my soul! If one of you were to spend as much gold as Uhud, it would not reach the level of them equal to an amount as much as one Mudd of one of them or half of it.) Allah said,
وَكُلاًّ وَعَدَ اللَّهُ الْحُسْنَى
(But to all Allah has promised the best (reward).) meaning, those who spent before and after the conquest of Makkah; they all will gain a reward for their good deeds, even though some of them vary in rank and earn a better reward than others as Allah said,
لاَّ يَسْتَوِى الْقَـعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ غَيْرُ أُوْلِى الضَّرَرِ وَالْمُجَـهِدُونَ فِى سَبِيلِ اللَّهِ بِأَمْوَلِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ فَضَّلَ اللَّهُ الْمُجَـهِدِينَ بِأَمْوَلِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ عَلَى الْقَـعِدِينَ دَرَجَةً وَكُـلاًّ وَعَدَ اللَّهُ الْحُسْنَى وَفَضَّلَ اللَّهُ الْمُجَـهِدِينَ عَلَى الْقَـعِدِينَ أَجْراً عَظِيماً
(Not equal are those of the believers who sit (at home), except those who are disabled, and those who strive hard and fight in the cause of Allah with their wealth and their lives. Allah has preferred in grades those who strive hard and fight with their wealth and their lives above those who sit (at home). Unto each, Allah has promised good, but Allah has preferred by a great reward those who strive hard and fight, above those who sit (at home).)(4:95) There is a Hadith in the Sahih that states,
«الْمُؤْمِنُ الْقَوِيُّ خَيْرٌ وَأَحَبُّ إِلَى اللهِ مِنَ الْمُؤْمِنِ الضَّعِيفِ، وَفِي كُلَ خَيْر»
(The strong believer is better and more beloved to Allah than the weak believer; both have goodness in them.) The Prophet ended his statement this way to draw attention to the second type of believer, so that their own qualities are not forgotten in the midst of preferring the former type. In this way, the latter is not dismissed as being degraded in the Hadith. Therefore, the Prophet ended his statement by praising the second type -- the weak believers -- after giving preference to the first type. Allah said:
وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ
(And Allah is All-Aware of what you do.) meaning, since Allah is perfectly aware of all things, He made distinctions between the rewards of the believers who spent and fought before the Conquest and those who spent and fought afterwards. Surely, Allah does this by His knowledge of the intention of the former type and their perfect sincerity to Him, all the while spending in times of hardship, poverty and dire straits. This is found in the Hadith,
«سَبَقَ دِرْهَمٌ مِائَةَ أَلْف»
(Spending one Dirham is preceded over a hundred thousand.) There is no doubt that the people of faith consider Abu Bakr As-Siddiq to be the person who has the best share according to the meaning of this Ayah. He was the chief of those who implemented it, among all followers of all Prophets. He spent all of his wealth seeking the Face of Allah, the Exalted and Most Honored. He did it voluntarily too, not to repay a debt or a favor that anyone from mankind had on him. May Allah be pleased with him.
The Encouragement to make a Handsome Loan in the Cause of Allah
Allah said,
مَّن ذَا الَّذِى يُقْرِضُ اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا
(Who is he that will lend Allah a handsome loan:) `Umar bin Al-Khattab said that this Ayah refers to spending in Allah's cause. It was also said that it pertains to spending on children. What is correct is that it is more general than that. So all those who spend in the cause of Allah with good intentions and a sincere heart, then they fall under the generality of this Ayah. This is why Allah the Exalted said in another Ayah:
مَّن ذَا الَّذِى يُقْرِضُ اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا فَيُضَاعِفَهُ لَهُ
(Who is he that will lend Allah handsome loan: then (Allah) will increase it manifold to his credit (in repaying),) and in another Ayah,
أَضْعَافًا كَثِيرَةً
(many times) (2:245), meaning, being handsome reward and tremendous provisions: Paradise on the Day of Resurrection. Ibn Abi Hatim recorded that `Abdullah bin Mas`ud said, "When this Ayah,
مَّن ذَا الَّذِى يُقْرِضُ اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا فَيُضَاعِفَهُ لَهُ
(Who is he that will lend Allah handsome loan: then (Allah) will increase it manifold to his credit (in repaying),) was revealed, Abu Ad-Dahdah Al-Ansari said, `O Allah's Messenger! Does Allah ask us for a loan' The Prophet said,
«نَعَمْ، يَاأَبَا الدَّحْدَاح»
(Yes, O Abu Ad-Dahdah.) He said, `Give me your hand, O Allah's Messenger,' and the Prophet placed his hand in his hand. Abu Ad-Dahdah said, `Verily, I have given my garden as a loan to my Lord.' He had a garden that contained six hundred date trees; his wife and children were living in that garden too. Abu Ad-Dahdah went to his wife and called her, `Umm Ad-Dahdah!' She said, `Here I am.' He said, `Leave the garden, because I have given it as a loan to my Lord, the Exalted and Most Honored.' She said, `That is a successful trade, O Abu Ad-Dahdah!' She then transferred her goods and children. The Messenger of Allah ﷺ said,
«كَمْ مِنْ عَذْقٍ رَدَاحٍ فِي الْجَنَّةِ لِأَبِي الدَّحْدَاح»
(How plentiful are the sweet date clusters that Abu Ad-Dahdah has in Paradise!)" In another narration, the Prophet said,
«رُبَّ نَخْلَةٍ مُدَلَّاةٍ، عُرُوقُهَا دُرٌّ وَيَاقُوتٌ، لِأَبِي الدَّحْدَاحِ فِي الْجَنَّة»
(How many a date tree that has lowered down its clusters, which are full of pearls and gems in Paradise for Abu Ad-Dahdah!)
ایمان لانے اور اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کا حکم اللہ تبارک و تعالیٰ خود اپنے اوپر اور اپنے رسول ﷺ پر ایمان لانے اور اس پر مضبوطی اور ہمیشگی کے ساتھ جم کر رہنے کی ہدایت فرماتا ہے اور اپنی راہ میں خیرات کرنے کی رغبت دلاتا ہے جو مال ہاتھوں ہاتھ تمہیں اس نے پہنچایا ہو تم اس کی اطاعت گذاری میں اسے خرچ کرو اور سمجھ لو کہ جس طرح دوسرے ہاتھوں سے تمہیں ملا ہے اسی طرح عنقریب تمہارے ہاتھوں سے دوسرے ہاتھوں میں چلا جائے گا اور تم پر حساب اور عتاب رہ جائے گا اور اس میں یہ بھی اشارہ ہے کہ تیرے بعد تیرا وارث ممکن ہے نیک ہو اور وہ تیرے ترکے کو میری راہ میں خرچ کر کے مجھ سے قربت حاصل کرے اور ممکن ہے کہ وہ بد اور اپنی مستی اور سیاہ کاری میں تیرا اندوختہ فنا کر دے اور اس کی بدیوں کا باعث تو بنے نہ تو چھوڑتا نہ اڑاتا۔ حضور ﷺ سورة (الھکم) پڑھ کر فرمانے لگے انسان گو کہتا رہتا ہے یہ بھی میرا مال ہے یہ بھی میرا مال ہے حالانکہ دراصل انسان کا مال وہ ہے جو کھالیا پہن لیا صدقہ کردیا کھایا ہوا فنا ہوگیا پہنا ہوا پرانا ہو کر برباد ہوگیا، ہاں راہ اللہ دیا ہوا بطور خزانہ کے جمع رہا (مسلم) اور جو باقی رہے گا وہ تو اوروں کا مال ہے تو تو اسے جمع کر کے چھوڑ جانے والا ہے۔ پھر ان ہی دونوں باتوں کی ترغیب دلاتا ہے اور بہت بڑے اجر کا وعدہ دیتا ہے۔ پھر فرماتا ہے تمہیں ایمان سے کون سی چیز روکتی ہے رسول ﷺ تم میں موجود ہیں وہ تمہیں ایمان کیطرف بلا رہے ہیں دلیلیں دے رہے ہیں اور معجزے دکھا رہے ہیں، صحیح بخاری کی شرح کے ابتدائی حصہ کتاب الایمان میں ہم یہ حدیث بیان کر آئے ہیں کہ حضور ﷺ نے پوچھا سب سے زیادہ اچھے ایمان والے تمہارے نزدیک کون ہیں ؟ کہا فرشتے، فرمایا وہ تو اللہ کے پاس ہی ہیں پھر ایمان کیوں نہ لاتے ؟ کہا پھر انبیاء فرمایا ان پر تو وحی اور کلام اللہ اترتا ہے وہ کیسے ایمان نہ لاتے ؟ کہا پھر ہم فرمایا واہ تم ایمان سے کیسے رک سکتے تھے، میں تم میں زندہ موجود ہوں، سنو بہترین اور عجیب تر ایماندار وہ لوگ ہیں جو تمہارے بعد آئیں گے، صحیفوں میں لکھا دیکھیں گے اور ایمان قبول کریں گے، سورة بقرہ کے شروع میں آیت (الَّذِيْنَ يُؤْمِنُوْنَ بالْغَيْبِ وَ يُـقِيْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ مِمَّا رَزَقْنٰھُمْ يُنْفِقُوْنَ ۙ) 2۔ البقرة :3) کی تفسیر میں بھی ہم ایسی احادیث لکھ آئے ہیں، پھر انہیں روز میثاق کا قول وقرار یاد دلاتا ہے جیسے اور آیت میں ہے (وَاذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَيْكُمْ وَمِيْثَاقَهُ الَّذِيْ وَاثَقَكُمْ بِهٖٓ ۙ اِذْ قُلْتُمْ سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا ۡ وَاتَّقُوا اللّٰهَ ۭاِنَّ اللّٰهَ عَلِيْمٌۢ بِذَات الصُّدُوْرِ) 5۔ المآئدہ :7) ، اس سے مراد رسول اللہ ﷺ سے بیعت کرنا ہے اور امام ابن جریر فرماتے ہیں مراد وہ میثاق ہے جو حضرت آدم کی پیٹھ میں ان سے لیا گیا تھا، مجاہد کا بھی یہی مذہب ہے واللہ اعلم۔ وہ اللہ جو اپنے بندے پر روشن حجتیں اور بہترین دلائل اور عمدہ تر آیتیں نازل فرماتا ہے تاکہ ظلم و جہل کی گھنگھور گھٹاؤں اور رائے قیاس کی بدترین اندھیریوں سے تمہیں نکال کر نورانی اور روشن صاف اور سیدھی راہ حق پر لا کھڑا کر دے۔ اللہ رؤف ہے ساتھ ہی رحیم ہے یہ اس کا سلوک اور کرم ہے کہ لوگوں کی رہنمائی کے لئے کتابیں اتاریں، رسول بھیجے، شکوک و شبہات دور کردیئے، ہدایت کی وضاحت کردی۔ ایمان اور خیرات کا حکم کر کے پھر ایمان کی رغبت دلا کر اور یہ بیان فرما کر کہ ایمان نہ لانے کا اب کوئی عذر میں نے باقی نہیں رکھا پھر صدقات کی رغبت دلائی، اور فرمایا میری راہ میں خرچ کرو اور فقیری سے نہ ڈرو، اس لئے کہ جس کی راہ میں تم خرچ کر رہے ہو وہ زمین و آسمان کے خزانوں کا تنہا مالک ہے، عرش و کرسی اسی کی ہے اور وہ تم سے اس خیرات کے بدلے انعام کا وعدہ کرچکا ہے۔ فرماتا ہے آیت (وَمَآ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ شَيْءٍ فَهُوَ يُخْلِفُهٗ ۚ وَهُوَ خَيْرُ الرّٰزِقِيْنَ 39) 34۔ سبأ :39) جو کچھ تم راہ اللہ دو گے اس کا بہترین بدلہ وہ تمہیں دے گا اور روزی رساں درحقیقت وہی ہے اور فرماتا ہے (مَا عِنْدَكُمْ يَنْفَدُ وَمَا عِنْدَ اللّٰهِ بَاقٍ 96) 16۔ النحل :96) اگر یہ فانی مال تم خرچ کرو گے وہ اپنے پاس کا ہمیشگی والا مال تمہیں دے گا۔ توکل والے خرچ کرتے رہتے ہیں اور مالک عرش انہیں تنگی ترشی سے محفوظ رکھتا ہے، انہیں اس بات کا اعتماد ہوتا ہے کہ ہمارے فی سبیل اللہ خرچ کردہ مال کا بدلہ دونوں جہان میں ہمیں قطعاً مل کر رہے گا۔ پھر اس امر کا بیان ہو رہا ہے کہ فتح مکہ سے پہلے جن لوگوں نے راہ اللہ خرچ کیا اور جہاد کیا اور جن لوگوں نے یہ نہیں کیا گو بعد فتح مکہ کیا ہو یہ دونوں برابر نہیں ہیں۔ اس وجہ سے بھی کہ اس وقت تنگی ترشی زیادہ تھی اور قوت طاقت کم تھی اور اس لئے بھی کہ اس وقت ایمان وہی قبول کرتا تھا جس کا دل ہر میل کچیل سے پاک ہوتا تھا۔ فتح مکہ کے بعد تو اسلام کو کھلا غلبہ ملا اور مسلمانوں کی تعداد بہت زیادہ ہوگئی اور فتوحات کی وسعت ہوئی ساتھ ہی مال بھی نظر آنے لگا، پس اس وقت اور اس وقت میں جتنا فرق ہے اتنا ہی ان لوگوں اور ان لوگوں کے اجر میں فرق ہے، انہیں بہت بڑے اجر ملیں گے گو دونوں اصل بھلائی اور اصل اجر میں شریک ہیں، بعض نے کہا ہے فتح سے مراد صلح حدیبیہ ہے۔ اس کی تائید مسند احمد کی اس روایت سے بھی ہوتی ہے کہ حضرت خالد بن ولید اور حضرت عبدالرحمٰن بن عوف میں کچھ اختلاف ہوگیا جس میں حضرت خالد نے فرمایا تم اسی پر اکڑ رہے ہو کہ ہم سے کچھ دن پہلے اسلام لائے۔ جب حضور ﷺ کو اس کا علم ہوا تو آپ نے فرمایا میرے صحابہ کو میرے لئے چھوڑ دو ، اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر تم احد کے یا کسی اور پہاڑ کے برابر سونا خرچ کرو تو بھی ان کے اعمال کو پہنچ نہیں سکتے۔ ظاہر ہے کہ یہ واقعہ حضرت خالد کے مسلمان ہوجانے کے بعد کا ہے اور آپ صلح حدیبیہ کے بعد اور فتح مکہ سے پہلے ایمان لائے تھے اور یہ اختلاف جس کا ذکر اس روایت میں ہے بنو جذیمہ کے بارے میں ہوا تھا حضور ﷺ نے فتح مکہ کے بعد حضرت خالد کی امارت میں اس کی طرف ایک لشکر بھیجا تھا جب وہاں پہنچے تو ان لوگوں نے پکارنا شروع کیا ہم مسلمان ہوگئے ہم صابی ہوئے یعنی بےدین ہوئے، اس لئے کہ کفار مسلمانوں کو یہی لفظ کہا کرتے تھے حضرت خالد نے غالباً اس کلمہ کا اصلی مطلب نہ سمجھ کر ان کے قتل کا حکم دے دیا بلکہ ان کے جو لوگ گرفتار کئے گئے تھے انہیں قتل کر ڈالنے کا حکم دیا اس پر حضرت عبدالرحمن بن عوف اور حضرت عبداللہ بن عمر نے ان کی مخالفت کی اس واقعہ کا مختصر بیان اوپر والی حدیث میں ہے۔ صحیح حدیث میں ہے میرے صحابہ کو برا نہ کہو اس کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے اگر تم میں سے کوئی احد پہاڑ کے برابر سونا خرچ کرے تو بھی ان کے تین پاؤ اناج کے ثواب کو نہیں پہنچے گا بلکہ ڈیڑھ پاؤ کو بھی نہ پہنچے گا۔ ابن جریر میں ہے حدیبیہ والے سال ہم حضور ﷺ کے ساتھ جب عسفان میں پہنچے تو آپ نے فرمایا ایسے لوگ بھی آئیں گے کہ تم اپنے اعمال کو ان کے اعمال کے مقابلہ میں حقیر سمجھنے لگو گے ہم نے کہا کیا قریشی ؟ فرمایا نہیں بلکہ یمنی نہایت نرم دل نہایت خوش اخلاق سادہ مزاج۔ ہم نے کہا حضور ﷺ پھر کیا وہ ہم سے بہتر ہوں گے ؟ آپ نے جواب دیا کہ اگر ان میں سے کسی کے پاس احد پہاڑ کے برابر سونا بھی ہو اور وہ اسے راہ اللہ خرچ کرے تو تم میں سے ایک کے تین پاؤ بلکہ ڈیڑھ پاؤ اناج کی خیرات کو بھی نہیں پہنچ سکتا۔ یاد رکھو کہ ہم میں اور دوسرے تمام لوگوں میں یہی فرق ہے پھر آپ نے اسی آیت (لایستوی) کی تلاوت کی، لیکن یہ روایت غریب ہے، بخاری و مسلم میں حضرت ابو سعید خدری کی روایت میں خارجیوں کے ذکر میں ہے کہ تم اپنی نمازیں ان کی نمازوں کے مقابلہ اور اپنے روزے ان کے روزوں کے مقابلہ پر حقیر اور کمتر شمار کرو گے۔ وہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جس طرح تیر شکار سے ابن جریر میں ہے عنقریب ایک قوم آئے گی کہ تم اپنے اعمال کو کمتر سمجھنے لگو گے جب ان کے اعمال کے سامنے رکھو گے صحابہ نے پوچھا کیا وہ قریشیوں میں سے ہوں گے آپ نے فرمایا نہیں وہ سادہ مزاج نرم دل یہاں والے ہیں اور آپ نے یمن کی طرف اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا پھر فرمایا وہ یمنی لوگ ہیں ایمان تو یمن والوں کا ایمان ہے اور حکمت یمن والوں کی حکمت ہے ہم نے پوچھا کیا وہ ہم سے بھی افضل ہوں گے ؟ فرمایا اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر ان میں سے کسی کے پاس سونے کا پہاڑ ہو اور اسے وہ راہ اللہ دے ڈالے تو بھی تمہارے ایک مد یا آدھے مد کو بھی نہیں پہنچ سکتا۔ پھر آپ نے اپنی اور انگلیاں تو بند کرلیں اور چھن گیا کو دراز کر کے فرمایا خبردار رہو یہ ہے فرق ہم میں اور دوسرے لوگوں میں، پھر آپ نے یہی آیت تلاوت فرمائی، پس اس حدیث میں حدیبیہ کا ذکر نہیں۔ پھر یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ممکن ہے فتح مکہ سے پہلے ہی فتح مکہ کے بعد کی خبر اللہ تعالیٰ نے آپ کو دے دی ہو، جیسے کہ سورة مزمل میں جو ان ابتدائی سورتوں میں سے ہے جو مکہ شریف میں نازل ہوئی تھیں پروردگار نے خبر دی تھی کہ آیت (وَاٰخَرُوْنَ يُقَاتِلُوْنَ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ڮ فَاقْرَءُوْا مَا تَيَسَّرَ مِنْهُ 20) 73۔ المزمل :20) یعنی کچھ اور لوگ ایسے بھی ہیں جو اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہیں پس جس طرح اس آیت میں ایک آنے والے واقعہ کا تذکرہ ہے اسی طرح اس آیت کو اور حدیث کو بھی سمجھ لیا جائے واللہ اعلم۔ پھر فرماتا ہے کہ ہر ایک سے اللہ تعالیٰ نے بھلائی کا وعدہ کیا ہے یعنی فتح مکہ سے پہلے اور اس کے بعد بھی جس نے جو کچھ راہ اللہ دیا ہے کسی کو اس سے کم۔ جیسے اور جگہ ہے کہ مجاہد اور غیر مجاہد جو عذر والے بھی نہ ہوں درجے میں برابر نہیں گو بھلے وعدے میں دونوں شامل سے کم۔ جیسے اور جگہ ہے کہ مجاہد اور غیر مجاہد جو عذر والے بھی نہ ہوں درجے میں برابر نہیں گو بھلے وعدے میں دونوں شامل ہیں۔ صحیح حدیث میں ہے قوی مومن اللہ کے نزدیک ضعیف مومن سے افضل ہے لیکن بھلائی دونوں میں ہے۔ اگر یہ فقرہ اس آیت میں نہ ہوتا تو ممکن تھا کہ کسی کو ان بعد والوں کی سبکی کا خیال گذرے اس لئے فضیلت بیان فرما کر پھر عطف ڈال کر اصل اجر میں دونوں کو شریک بتایا۔ پھر فرمایا تمہارے تمام اعمال کی تمہارے رب کو خبر ہے وہ درجات میں جو تفاوت رکھتا ہے وہ بھی انداز سے نہیں بلکہ صحیح علم سے۔ حدیث شریف میں ہے ایک درہم ایک لاکھ درہم سے بڑھ جاتا ہے۔ یہ بھی یاد رہے کہ اس کے سردار ہیں آپ نے ابتدائی تنگی کے وقت اپنا کل مال راہ اللہ دے دیا تھا جس کا بدلہ سوائے اللہ کے کسی اور سے مطلوب نہ تھا۔ حضرت عمر ؓ فرماتے ہیں میں دربار رسالت مآب میں تھا اور حضرت صدیق اکبر بھی تھے۔ صرف ایک عبا آپ کے جسم پر تھی، گریبان کانٹے سے اٹکائے ہوئے تھے جو حضرت جبرائیل ؑ نازل ہوئے اور پوچھا کیا بات ہے جو حضرت ابوبکر نے فقط ایک عبا پہن رکھی ہے اور کانٹا لگا رکھا ہے ؟ حضور ﷺ نے فرمایا انہوں نے اپنا کل مال میرے کاموں میں فتح سے پہلے ہی راہ اللہ خرچ کر ڈالا ہے اب ان کے پاس کچھ نہیں، حضرت جبرائیل ؑ نے فرمایا ان سے کہو کہ اللہ انہیں سلام کہتا ہے اور فرماتا ہے کہ اس فقیری میں تم مجھ سے خوش ہو یا ناخوش ہو ؟ آپ نے حضرت صدیق کو یہ سب کہہ کر سوال کیا۔ جواب ملا کہ اپنے رب عزوجل سے ناراض کیسے ہوسکتا ہوں میں اس حال میں بہت خوش ہوں۔ یہ حدیث سنداً ضعیف ہے واللہ اعلم۔ پھر فرماتا ہے کون ہے جو اللہ کو اچھا قرض دے، اس سے مراد اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لئے خرچ کرنا ہے۔ بعض نے کہا ہے بال بچوں کو کھلانا پلانا وغیرہ خرچ مراد ہے۔ ہوسکتا ہے کہ آیت اپنے عموم کے لحاظ سے دونوں صورتوں کو شامل ہو، پھر اس پر وعدہ فرماتا ہے کہ اسے بہت بڑھا چڑھا کر بدلہ ملے گا اور جنت میں پاکیزہ تر روزی ملے گی، اس آیت کو سن کر حضرت ابو دحداح انصاری ؓ حضور ﷺ کے پاس آئے اور کہا کیا ہمارا رب ہم سے قرض مانگتا ہے ؟ آپ نے فرمایا ہاں، کہا ذرا اپنا ہاتھ تو دیجئے آپ نے ہاتھ بڑھایا تو آپ کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر فرمایا میرا باغ جس میں کھجور کے چھ سو درخت ہیں وہ میں نے اپنے رب کو دیا آپ کے بیوی بچے بھی اسی باغ میں تھے آپ آئے اور باغ کے دروازے پر کھڑے رہ کر اپنی بیوی صاحبہ کو آواز دی وہ لبیک کہتی ہوئی آئیں تو فرمانے لگے بچوں کو لے کر چلی آؤ میں نے یہ باغ اپنے رب عزوجل کو قرض دے دیا ہے۔ وہ خوش ہو کر کہنے لگیں آپ نے بہت نفع کی تجارت کی اور بال بچوں کو اور گھر کے اثاثے کو لے کر باہر چلی آئیں، حضور ﷺ فرمانے لگے جنتی درخت وہاں کے باغات جو میوؤں سے لدے ہوئے اور جن کی شاخیں یا قوت اور موتی کی ہیں ابو دحداح کو اللہ نے دے دیں۔
11
View Single
مَّن ذَا ٱلَّذِي يُقۡرِضُ ٱللَّهَ قَرۡضًا حَسَنٗا فَيُضَٰعِفَهُۥ لَهُۥ وَلَهُۥٓ أَجۡرٞ كَرِيمٞ
Who will lend a handsome loan to Allah so that He may double it for him? And for such is an honourable reward.
کون شخص ہے جو اللہ کو قرضِ حسنہ کے طور پر قرض دے تو وہ اس کے لئے اُس (قرض) کو کئی گنا بڑھاتا رہے اور اس کے لئے بڑی عظمت والا اجر ہے
Tafsir Ibn Kathir
Ordering Faith and encouraging spending
Allah the Exalted and Blessed orders having perfect faith in Him and in His Messenger, and that one should persist on this path adhereing firmly to it. Allah encourages spending from what He has made mankind trustees of, the wealth that you - mankind - have, that He has lent you. This wealth was in the hands of those before you and was later transferred to you. Therefore, O mankind, spend as Allah commanded you from the wealth that He entrusted to you for His obedience. Otherwise, He will hold you accountable and punish you for your ignoring what He ordained on you in this regard. Allah's statement,
مِمَّا جَعَلَكُم مُّسْتَخْلَفِينَ فِيهِ
(of that whereof He has made you trustees.), indicates that you - mankind -- will surrender this wealth to someone else. In this case, those who will inherit from you might obey Allah with their wealth, and thus acquire more happiness than you on account of what Allah has granted them. They might disobey Allah, and in this case you will have helped them commit evil and transgression. Imam Ahmad recorded that `Abdullah bin Ash-Shikhkhir said, "I came to Allah's Messenger ﷺ as he was reciting and saying,
أَلْهَـكُمُ التَّكَّاثُرُ
يَقُولُ ابْنُ آدَمَ: مَالِي مَالِي، وَهَلْ لَكَ مِن مَالِكَ إِلَّا مَاأَكَلْتَ فَأَفْنَيْتَ، أَوْ لَبِسْتَ فَأَبْلَيْتَ، أَوْ تَصَدَّقْتَ فَأَمْضَيْتَ؟»
((abundance diverts you.)( The Son of `Adam claims, "My wealth, my wealth." But is there anything belonging to you, except that which you consumed, which you used, or which you wore and then it became worn or you gave as charity and sent it forward) Muslim also collected with the addition:
«وَمَا سِوَى ذلِكَ، فَذَاهِبٌ وَتَارِكُهُ لِلنَّاس»
(Other than that, you will go away from it and leave it behind for other people.) Allah's statement,
فَالَّذِينَ ءَامَنُواْ مِنكُمْ وَأَنفَقُواْ لَهُمْ أَجْرٌ كَبِيرٌ
(And such of you as believe and spend, theirs will be a great reward.) encourages having faith and spending in acts of obedience. Allah the Exalted said,
وَمَا لَكُمْ لاَ تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالرَّسُولُ يَدْعُوكُمْ لِتُؤْمِنُواْ بِرَبِّكُمْ
(And what is the matter with you that you believe not in Allah! While the Messenger invites you to believe in your Lord;) meaning, "what prevents you from believing, while the Messenger is among you calling you to faith and bringing forward clear proofs and evidences that affirm the truth of what he brought you" And we have reported the Hadith through different routes in the beginning of the explanation on the chapter on Faith in Sahih Al-Bukhari, wherein one day the Messenger of Allah ﷺ said to his Companions,
«أَيُّ الْمُؤْمِنِينَ أَعْجَبُ إِلَيْكُمْ إِيمَانًا؟»
(Who do you consider among the believers as having the most amazing faith) They said, "The angels." He said,
«وَمَا لَهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ وَهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ؟»
(And what prevents them from believing when they are with their Lord) They said, "Then the Prophets." He said,
«وَمَالَهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ وَالْوَحْيُ يَنْزِلُ عَلَيْهِمْ؟»
(What prevents them from believing when the revelation comes down to them) They said, "Then us." He said,
«وَمَالَكُمْ لَا تُؤْمِنُونَ وَأَنَا بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ؟ وَلكِنْ أَعْجَبُ الْمُؤْمِنِينَ إِيمَانًا، قَوْمٌ يَجِيئُونَ بَعْدَكُمْ، يَجِدُونَ صُحُفًا يُؤْمِنُونَ بِمَا فِيهَا»
(What prevents you from believing, when I am amongst you Actually, the believers who have the most amazing faith, are some people who will come after you; they will find pages that they will believe in.) We mentioned a part of this Hadith when explaining Allah's statement in Surat Al-Baqarah,
الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ
(who believe in the Ghayb (unseen).)(2:3) Allah's statement,
وَقَدْ أَخَذَ مِيثَـقَكُمْ
(and He has indeed taken your covenant,) is similar to another of His statements,
وَاذْكُرُواْ نِعْمَةَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ وَمِيثَـقَهُ الَّذِى وَاثَقَكُم بِهِ إِذْ قُلْتُمْ سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا
(And remember Allah's favor to you and His covenant with which He bound you when you said: "We hear and we obey.")(5:7), which refers to giving the pledge of allegiance to the Prophet . Ibn Jarir said that the covenant mentioned here, is that taken from mankind, when they were still in Adam's loin. This is also the opinion of Mujahid, and Allah knows best. Allah said,
هُوَ الَّذِى يُنَزِّلُ عَلَى عَبْدِهِ ءَايَـتٍ بَيِّنَـتٍ
(It is He Who sends down manifest Ayat to His servant) clear proofs, unequivocal evidences and plain attestations,
لِيُخْرِجَكُمْ مِّنَ الظُّلُمَـتِ إِلَى النُّورِ
(that He may bring you out from darkness into light.) from the darkness of ignorance, disbelief and contradictory statements to the light of guidance, certainty and faith,
وَإِنَّ اللَّهَ بِكُمْ لَرَءُوفٌ رَّحِيمٌ
(And verily, Allah is to you full of kindness, Most Merciful.) by revealing the Divine Books and sending the Messengers to guide mankind, eradicating doubts and removing confusion. After Allah commanded mankind to first believe and spend, He again encouraged them to acquire faith and stated that He has removed all barriers between them and the acquisition of faith. Allah again encouraged them to spend,
وَمَا لَكُمْ أَلاَّ تُنفِقُواْ فِى سَبِيلِ اللَّهِ وَلِلَّهِ مِيرَاثُ السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ
(And what is the matter with you that you spend not in the cause of Allah And to Allah belongs the heritage of the heavens and the earth.) means, spend and do not fear poverty or scarcity. Surely, He in Whose cause you spent is the King and Owner of the heavens and earth and has perfect control over their every affair, including their treasuries. He is the Owner of the Throne, with all the might that it contains, and He is the One Who said,
وَمَآ أَنفَقْتُمْ مِّن شَىْءٍ فَهُوَ يُخْلِفُهُ وَهُوَ خَيْرُ الرَّازِقِينَ
(And whatsoever you spend of anything, He will replace it. And He is the best of providers.)(34:39), and,
مَا عِندَكُمْ يَنفَدُ وَمَا عِندَ اللَّهِ بَاقٍ
(whatever is with you, will be exhausted, and whatever is with Allah will remain.)(16:96) Therefore, those who trust in and depend on Allah will spend, and they will not fear poverty or destitution coming to them from the Owner of the Throne. They know that Allah will surely compensate them for whatever they spend.
The Virtues of spending and fighting before the Conquest of Makkah
Allah's statement,
لاَ يَسْتَوِى مِنكُم مَّنْ أَنفَقَ مِن قَبْلِ الْفَتْحِ وَقَـتَلَ
(Not equal among you are those who spent before the conquering and fought.) meaning those who did not fight and spend before the Conquest are not equal to those who spent and fought. Before Makkah was conquered, things were difficult for Muslims and only the righteous ones embraced Islam. After Makkah was conquered, Islam spread tremendously throughout the known world and people embraced the religion of Allah en masse. Similarly He said:
أُوْلَـئِكَ أَعْظَمُ دَرَجَةً مِّنَ الَّذِينَ أَنفَقُواْ مِن بَعْدُ وَقَـتَلُواْ وَكُلاًّ وَعَدَ اللَّهُ الْحُسْنَى
(Such are higher in degree than those who spent and fought afterwards. But to all Allah has promised the best (reward).) The majority considers the Conquest here to be the conquest of Makkah. Ash-Sha`bi and several others said that the Ayah refers to the treaty at Al-Hudaybiyyah. There is proof for this opinion found in a Hadith from Anas, collected by Imam Ahmad. Anas said, "Khalid bin Al-Walid and `Abdur-Rahman bin `Awf had a dispute. Khalid said to `Abdur-Rahman, `You boast about days (battles) that you participated in before us.' When the news of this statement reached the Prophet he said,
«دَعُوا لِي أَصْحَابِي، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ أَنْفَقْتُمْ مِثْلَ أُحُدٍ أَوْ مِثْلَ الْجِبَالِ ذَهَبًا، مَا بَلَغْتُمْ أَعْمَالَهُم»
(Do not bother my Companions, for by He in Whose Hand is my soul! If you spend an amount of gold equal to (Mount) Uhud, (or equal to the mountains), you will not reach the level of their actions.)" It is a known fact that Khalid bin Al-Walid, whom the Prophet addressed this statement to, embraced Islam during the period between the treaty of Al-Hudaybiyyah and the conquering of Makkah. The dispute between Khalid and `Abdur-Rahman occurred because of the battle of Bani Jadhimah. The Prophet sent Khalid bin Al-Walid to them after the conquest of Makkah, and they said, "Saba'na," instead of saying, "Aslamna" (we embraced Islam). So Khalid ordered their execution and the execution of their prisoners (of war); `Abdur-Rahman bin `Awf and `Abdullah bin `Umar opposed him. This is the reason behind the dispute that occurred between Khalid and `Abdur-Rahman. But in the Sahih, the Messenger of Allah ﷺ said,
«لَا تَسُبُّوا أَصْحَابِي، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ أَنْفَقَ أَحَدُكُمْ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا، مَا بَلَغَ مُدَّ أَحَدِهِمْ وَلَا نَصِيفَه»
(None should revile my Companions, for by He in Whose Hand is my soul! If one of you were to spend as much gold as Uhud, it would not reach the level of them equal to an amount as much as one Mudd of one of them or half of it.) Allah said,
وَكُلاًّ وَعَدَ اللَّهُ الْحُسْنَى
(But to all Allah has promised the best (reward).) meaning, those who spent before and after the conquest of Makkah; they all will gain a reward for their good deeds, even though some of them vary in rank and earn a better reward than others as Allah said,
لاَّ يَسْتَوِى الْقَـعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ غَيْرُ أُوْلِى الضَّرَرِ وَالْمُجَـهِدُونَ فِى سَبِيلِ اللَّهِ بِأَمْوَلِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ فَضَّلَ اللَّهُ الْمُجَـهِدِينَ بِأَمْوَلِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ عَلَى الْقَـعِدِينَ دَرَجَةً وَكُـلاًّ وَعَدَ اللَّهُ الْحُسْنَى وَفَضَّلَ اللَّهُ الْمُجَـهِدِينَ عَلَى الْقَـعِدِينَ أَجْراً عَظِيماً
(Not equal are those of the believers who sit (at home), except those who are disabled, and those who strive hard and fight in the cause of Allah with their wealth and their lives. Allah has preferred in grades those who strive hard and fight with their wealth and their lives above those who sit (at home). Unto each, Allah has promised good, but Allah has preferred by a great reward those who strive hard and fight, above those who sit (at home).)(4:95) There is a Hadith in the Sahih that states,
«الْمُؤْمِنُ الْقَوِيُّ خَيْرٌ وَأَحَبُّ إِلَى اللهِ مِنَ الْمُؤْمِنِ الضَّعِيفِ، وَفِي كُلَ خَيْر»
(The strong believer is better and more beloved to Allah than the weak believer; both have goodness in them.) The Prophet ended his statement this way to draw attention to the second type of believer, so that their own qualities are not forgotten in the midst of preferring the former type. In this way, the latter is not dismissed as being degraded in the Hadith. Therefore, the Prophet ended his statement by praising the second type -- the weak believers -- after giving preference to the first type. Allah said:
وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ
(And Allah is All-Aware of what you do.) meaning, since Allah is perfectly aware of all things, He made distinctions between the rewards of the believers who spent and fought before the Conquest and those who spent and fought afterwards. Surely, Allah does this by His knowledge of the intention of the former type and their perfect sincerity to Him, all the while spending in times of hardship, poverty and dire straits. This is found in the Hadith,
«سَبَقَ دِرْهَمٌ مِائَةَ أَلْف»
(Spending one Dirham is preceded over a hundred thousand.) There is no doubt that the people of faith consider Abu Bakr As-Siddiq to be the person who has the best share according to the meaning of this Ayah. He was the chief of those who implemented it, among all followers of all Prophets. He spent all of his wealth seeking the Face of Allah, the Exalted and Most Honored. He did it voluntarily too, not to repay a debt or a favor that anyone from mankind had on him. May Allah be pleased with him.
The Encouragement to make a Handsome Loan in the Cause of Allah
Allah said,
مَّن ذَا الَّذِى يُقْرِضُ اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا
(Who is he that will lend Allah a handsome loan:) `Umar bin Al-Khattab said that this Ayah refers to spending in Allah's cause. It was also said that it pertains to spending on children. What is correct is that it is more general than that. So all those who spend in the cause of Allah with good intentions and a sincere heart, then they fall under the generality of this Ayah. This is why Allah the Exalted said in another Ayah:
مَّن ذَا الَّذِى يُقْرِضُ اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا فَيُضَاعِفَهُ لَهُ
(Who is he that will lend Allah handsome loan: then (Allah) will increase it manifold to his credit (in repaying),) and in another Ayah,
أَضْعَافًا كَثِيرَةً
(many times) (2:245), meaning, being handsome reward and tremendous provisions: Paradise on the Day of Resurrection. Ibn Abi Hatim recorded that `Abdullah bin Mas`ud said, "When this Ayah,
مَّن ذَا الَّذِى يُقْرِضُ اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا فَيُضَاعِفَهُ لَهُ
(Who is he that will lend Allah handsome loan: then (Allah) will increase it manifold to his credit (in repaying),) was revealed, Abu Ad-Dahdah Al-Ansari said, `O Allah's Messenger! Does Allah ask us for a loan' The Prophet said,
«نَعَمْ، يَاأَبَا الدَّحْدَاح»
(Yes, O Abu Ad-Dahdah.) He said, `Give me your hand, O Allah's Messenger,' and the Prophet placed his hand in his hand. Abu Ad-Dahdah said, `Verily, I have given my garden as a loan to my Lord.' He had a garden that contained six hundred date trees; his wife and children were living in that garden too. Abu Ad-Dahdah went to his wife and called her, `Umm Ad-Dahdah!' She said, `Here I am.' He said, `Leave the garden, because I have given it as a loan to my Lord, the Exalted and Most Honored.' She said, `That is a successful trade, O Abu Ad-Dahdah!' She then transferred her goods and children. The Messenger of Allah ﷺ said,
«كَمْ مِنْ عَذْقٍ رَدَاحٍ فِي الْجَنَّةِ لِأَبِي الدَّحْدَاح»
(How plentiful are the sweet date clusters that Abu Ad-Dahdah has in Paradise!)" In another narration, the Prophet said,
«رُبَّ نَخْلَةٍ مُدَلَّاةٍ، عُرُوقُهَا دُرٌّ وَيَاقُوتٌ، لِأَبِي الدَّحْدَاحِ فِي الْجَنَّة»
(How many a date tree that has lowered down its clusters, which are full of pearls and gems in Paradise for Abu Ad-Dahdah!)
ایمان لانے اور اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کا حکم اللہ تبارک و تعالیٰ خود اپنے اوپر اور اپنے رسول ﷺ پر ایمان لانے اور اس پر مضبوطی اور ہمیشگی کے ساتھ جم کر رہنے کی ہدایت فرماتا ہے اور اپنی راہ میں خیرات کرنے کی رغبت دلاتا ہے جو مال ہاتھوں ہاتھ تمہیں اس نے پہنچایا ہو تم اس کی اطاعت گذاری میں اسے خرچ کرو اور سمجھ لو کہ جس طرح دوسرے ہاتھوں سے تمہیں ملا ہے اسی طرح عنقریب تمہارے ہاتھوں سے دوسرے ہاتھوں میں چلا جائے گا اور تم پر حساب اور عتاب رہ جائے گا اور اس میں یہ بھی اشارہ ہے کہ تیرے بعد تیرا وارث ممکن ہے نیک ہو اور وہ تیرے ترکے کو میری راہ میں خرچ کر کے مجھ سے قربت حاصل کرے اور ممکن ہے کہ وہ بد اور اپنی مستی اور سیاہ کاری میں تیرا اندوختہ فنا کر دے اور اس کی بدیوں کا باعث تو بنے نہ تو چھوڑتا نہ اڑاتا۔ حضور ﷺ سورة (الھکم) پڑھ کر فرمانے لگے انسان گو کہتا رہتا ہے یہ بھی میرا مال ہے یہ بھی میرا مال ہے حالانکہ دراصل انسان کا مال وہ ہے جو کھالیا پہن لیا صدقہ کردیا کھایا ہوا فنا ہوگیا پہنا ہوا پرانا ہو کر برباد ہوگیا، ہاں راہ اللہ دیا ہوا بطور خزانہ کے جمع رہا (مسلم) اور جو باقی رہے گا وہ تو اوروں کا مال ہے تو تو اسے جمع کر کے چھوڑ جانے والا ہے۔ پھر ان ہی دونوں باتوں کی ترغیب دلاتا ہے اور بہت بڑے اجر کا وعدہ دیتا ہے۔ پھر فرماتا ہے تمہیں ایمان سے کون سی چیز روکتی ہے رسول ﷺ تم میں موجود ہیں وہ تمہیں ایمان کیطرف بلا رہے ہیں دلیلیں دے رہے ہیں اور معجزے دکھا رہے ہیں، صحیح بخاری کی شرح کے ابتدائی حصہ کتاب الایمان میں ہم یہ حدیث بیان کر آئے ہیں کہ حضور ﷺ نے پوچھا سب سے زیادہ اچھے ایمان والے تمہارے نزدیک کون ہیں ؟ کہا فرشتے، فرمایا وہ تو اللہ کے پاس ہی ہیں پھر ایمان کیوں نہ لاتے ؟ کہا پھر انبیاء فرمایا ان پر تو وحی اور کلام اللہ اترتا ہے وہ کیسے ایمان نہ لاتے ؟ کہا پھر ہم فرمایا واہ تم ایمان سے کیسے رک سکتے تھے، میں تم میں زندہ موجود ہوں، سنو بہترین اور عجیب تر ایماندار وہ لوگ ہیں جو تمہارے بعد آئیں گے، صحیفوں میں لکھا دیکھیں گے اور ایمان قبول کریں گے، سورة بقرہ کے شروع میں آیت (الَّذِيْنَ يُؤْمِنُوْنَ بالْغَيْبِ وَ يُـقِيْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ مِمَّا رَزَقْنٰھُمْ يُنْفِقُوْنَ ۙ) 2۔ البقرة :3) کی تفسیر میں بھی ہم ایسی احادیث لکھ آئے ہیں، پھر انہیں روز میثاق کا قول وقرار یاد دلاتا ہے جیسے اور آیت میں ہے (وَاذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَيْكُمْ وَمِيْثَاقَهُ الَّذِيْ وَاثَقَكُمْ بِهٖٓ ۙ اِذْ قُلْتُمْ سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا ۡ وَاتَّقُوا اللّٰهَ ۭاِنَّ اللّٰهَ عَلِيْمٌۢ بِذَات الصُّدُوْرِ) 5۔ المآئدہ :7) ، اس سے مراد رسول اللہ ﷺ سے بیعت کرنا ہے اور امام ابن جریر فرماتے ہیں مراد وہ میثاق ہے جو حضرت آدم کی پیٹھ میں ان سے لیا گیا تھا، مجاہد کا بھی یہی مذہب ہے واللہ اعلم۔ وہ اللہ جو اپنے بندے پر روشن حجتیں اور بہترین دلائل اور عمدہ تر آیتیں نازل فرماتا ہے تاکہ ظلم و جہل کی گھنگھور گھٹاؤں اور رائے قیاس کی بدترین اندھیریوں سے تمہیں نکال کر نورانی اور روشن صاف اور سیدھی راہ حق پر لا کھڑا کر دے۔ اللہ رؤف ہے ساتھ ہی رحیم ہے یہ اس کا سلوک اور کرم ہے کہ لوگوں کی رہنمائی کے لئے کتابیں اتاریں، رسول بھیجے، شکوک و شبہات دور کردیئے، ہدایت کی وضاحت کردی۔ ایمان اور خیرات کا حکم کر کے پھر ایمان کی رغبت دلا کر اور یہ بیان فرما کر کہ ایمان نہ لانے کا اب کوئی عذر میں نے باقی نہیں رکھا پھر صدقات کی رغبت دلائی، اور فرمایا میری راہ میں خرچ کرو اور فقیری سے نہ ڈرو، اس لئے کہ جس کی راہ میں تم خرچ کر رہے ہو وہ زمین و آسمان کے خزانوں کا تنہا مالک ہے، عرش و کرسی اسی کی ہے اور وہ تم سے اس خیرات کے بدلے انعام کا وعدہ کرچکا ہے۔ فرماتا ہے آیت (وَمَآ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ شَيْءٍ فَهُوَ يُخْلِفُهٗ ۚ وَهُوَ خَيْرُ الرّٰزِقِيْنَ 39) 34۔ سبأ :39) جو کچھ تم راہ اللہ دو گے اس کا بہترین بدلہ وہ تمہیں دے گا اور روزی رساں درحقیقت وہی ہے اور فرماتا ہے (مَا عِنْدَكُمْ يَنْفَدُ وَمَا عِنْدَ اللّٰهِ بَاقٍ 96) 16۔ النحل :96) اگر یہ فانی مال تم خرچ کرو گے وہ اپنے پاس کا ہمیشگی والا مال تمہیں دے گا۔ توکل والے خرچ کرتے رہتے ہیں اور مالک عرش انہیں تنگی ترشی سے محفوظ رکھتا ہے، انہیں اس بات کا اعتماد ہوتا ہے کہ ہمارے فی سبیل اللہ خرچ کردہ مال کا بدلہ دونوں جہان میں ہمیں قطعاً مل کر رہے گا۔ پھر اس امر کا بیان ہو رہا ہے کہ فتح مکہ سے پہلے جن لوگوں نے راہ اللہ خرچ کیا اور جہاد کیا اور جن لوگوں نے یہ نہیں کیا گو بعد فتح مکہ کیا ہو یہ دونوں برابر نہیں ہیں۔ اس وجہ سے بھی کہ اس وقت تنگی ترشی زیادہ تھی اور قوت طاقت کم تھی اور اس لئے بھی کہ اس وقت ایمان وہی قبول کرتا تھا جس کا دل ہر میل کچیل سے پاک ہوتا تھا۔ فتح مکہ کے بعد تو اسلام کو کھلا غلبہ ملا اور مسلمانوں کی تعداد بہت زیادہ ہوگئی اور فتوحات کی وسعت ہوئی ساتھ ہی مال بھی نظر آنے لگا، پس اس وقت اور اس وقت میں جتنا فرق ہے اتنا ہی ان لوگوں اور ان لوگوں کے اجر میں فرق ہے، انہیں بہت بڑے اجر ملیں گے گو دونوں اصل بھلائی اور اصل اجر میں شریک ہیں، بعض نے کہا ہے فتح سے مراد صلح حدیبیہ ہے۔ اس کی تائید مسند احمد کی اس روایت سے بھی ہوتی ہے کہ حضرت خالد بن ولید اور حضرت عبدالرحمٰن بن عوف میں کچھ اختلاف ہوگیا جس میں حضرت خالد نے فرمایا تم اسی پر اکڑ رہے ہو کہ ہم سے کچھ دن پہلے اسلام لائے۔ جب حضور ﷺ کو اس کا علم ہوا تو آپ نے فرمایا میرے صحابہ کو میرے لئے چھوڑ دو ، اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر تم احد کے یا کسی اور پہاڑ کے برابر سونا خرچ کرو تو بھی ان کے اعمال کو پہنچ نہیں سکتے۔ ظاہر ہے کہ یہ واقعہ حضرت خالد کے مسلمان ہوجانے کے بعد کا ہے اور آپ صلح حدیبیہ کے بعد اور فتح مکہ سے پہلے ایمان لائے تھے اور یہ اختلاف جس کا ذکر اس روایت میں ہے بنو جذیمہ کے بارے میں ہوا تھا حضور ﷺ نے فتح مکہ کے بعد حضرت خالد کی امارت میں اس کی طرف ایک لشکر بھیجا تھا جب وہاں پہنچے تو ان لوگوں نے پکارنا شروع کیا ہم مسلمان ہوگئے ہم صابی ہوئے یعنی بےدین ہوئے، اس لئے کہ کفار مسلمانوں کو یہی لفظ کہا کرتے تھے حضرت خالد نے غالباً اس کلمہ کا اصلی مطلب نہ سمجھ کر ان کے قتل کا حکم دے دیا بلکہ ان کے جو لوگ گرفتار کئے گئے تھے انہیں قتل کر ڈالنے کا حکم دیا اس پر حضرت عبدالرحمن بن عوف اور حضرت عبداللہ بن عمر نے ان کی مخالفت کی اس واقعہ کا مختصر بیان اوپر والی حدیث میں ہے۔ صحیح حدیث میں ہے میرے صحابہ کو برا نہ کہو اس کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے اگر تم میں سے کوئی احد پہاڑ کے برابر سونا خرچ کرے تو بھی ان کے تین پاؤ اناج کے ثواب کو نہیں پہنچے گا بلکہ ڈیڑھ پاؤ کو بھی نہ پہنچے گا۔ ابن جریر میں ہے حدیبیہ والے سال ہم حضور ﷺ کے ساتھ جب عسفان میں پہنچے تو آپ نے فرمایا ایسے لوگ بھی آئیں گے کہ تم اپنے اعمال کو ان کے اعمال کے مقابلہ میں حقیر سمجھنے لگو گے ہم نے کہا کیا قریشی ؟ فرمایا نہیں بلکہ یمنی نہایت نرم دل نہایت خوش اخلاق سادہ مزاج۔ ہم نے کہا حضور ﷺ پھر کیا وہ ہم سے بہتر ہوں گے ؟ آپ نے جواب دیا کہ اگر ان میں سے کسی کے پاس احد پہاڑ کے برابر سونا بھی ہو اور وہ اسے راہ اللہ خرچ کرے تو تم میں سے ایک کے تین پاؤ بلکہ ڈیڑھ پاؤ اناج کی خیرات کو بھی نہیں پہنچ سکتا۔ یاد رکھو کہ ہم میں اور دوسرے تمام لوگوں میں یہی فرق ہے پھر آپ نے اسی آیت (لایستوی) کی تلاوت کی، لیکن یہ روایت غریب ہے، بخاری و مسلم میں حضرت ابو سعید خدری کی روایت میں خارجیوں کے ذکر میں ہے کہ تم اپنی نمازیں ان کی نمازوں کے مقابلہ اور اپنے روزے ان کے روزوں کے مقابلہ پر حقیر اور کمتر شمار کرو گے۔ وہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جس طرح تیر شکار سے ابن جریر میں ہے عنقریب ایک قوم آئے گی کہ تم اپنے اعمال کو کمتر سمجھنے لگو گے جب ان کے اعمال کے سامنے رکھو گے صحابہ نے پوچھا کیا وہ قریشیوں میں سے ہوں گے آپ نے فرمایا نہیں وہ سادہ مزاج نرم دل یہاں والے ہیں اور آپ نے یمن کی طرف اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا پھر فرمایا وہ یمنی لوگ ہیں ایمان تو یمن والوں کا ایمان ہے اور حکمت یمن والوں کی حکمت ہے ہم نے پوچھا کیا وہ ہم سے بھی افضل ہوں گے ؟ فرمایا اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر ان میں سے کسی کے پاس سونے کا پہاڑ ہو اور اسے وہ راہ اللہ دے ڈالے تو بھی تمہارے ایک مد یا آدھے مد کو بھی نہیں پہنچ سکتا۔ پھر آپ نے اپنی اور انگلیاں تو بند کرلیں اور چھن گیا کو دراز کر کے فرمایا خبردار رہو یہ ہے فرق ہم میں اور دوسرے لوگوں میں، پھر آپ نے یہی آیت تلاوت فرمائی، پس اس حدیث میں حدیبیہ کا ذکر نہیں۔ پھر یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ممکن ہے فتح مکہ سے پہلے ہی فتح مکہ کے بعد کی خبر اللہ تعالیٰ نے آپ کو دے دی ہو، جیسے کہ سورة مزمل میں جو ان ابتدائی سورتوں میں سے ہے جو مکہ شریف میں نازل ہوئی تھیں پروردگار نے خبر دی تھی کہ آیت (وَاٰخَرُوْنَ يُقَاتِلُوْنَ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ڮ فَاقْرَءُوْا مَا تَيَسَّرَ مِنْهُ 20) 73۔ المزمل :20) یعنی کچھ اور لوگ ایسے بھی ہیں جو اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہیں پس جس طرح اس آیت میں ایک آنے والے واقعہ کا تذکرہ ہے اسی طرح اس آیت کو اور حدیث کو بھی سمجھ لیا جائے واللہ اعلم۔ پھر فرماتا ہے کہ ہر ایک سے اللہ تعالیٰ نے بھلائی کا وعدہ کیا ہے یعنی فتح مکہ سے پہلے اور اس کے بعد بھی جس نے جو کچھ راہ اللہ دیا ہے کسی کو اس سے کم۔ جیسے اور جگہ ہے کہ مجاہد اور غیر مجاہد جو عذر والے بھی نہ ہوں درجے میں برابر نہیں گو بھلے وعدے میں دونوں شامل سے کم۔ جیسے اور جگہ ہے کہ مجاہد اور غیر مجاہد جو عذر والے بھی نہ ہوں درجے میں برابر نہیں گو بھلے وعدے میں دونوں شامل ہیں۔ صحیح حدیث میں ہے قوی مومن اللہ کے نزدیک ضعیف مومن سے افضل ہے لیکن بھلائی دونوں میں ہے۔ اگر یہ فقرہ اس آیت میں نہ ہوتا تو ممکن تھا کہ کسی کو ان بعد والوں کی سبکی کا خیال گذرے اس لئے فضیلت بیان فرما کر پھر عطف ڈال کر اصل اجر میں دونوں کو شریک بتایا۔ پھر فرمایا تمہارے تمام اعمال کی تمہارے رب کو خبر ہے وہ درجات میں جو تفاوت رکھتا ہے وہ بھی انداز سے نہیں بلکہ صحیح علم سے۔ حدیث شریف میں ہے ایک درہم ایک لاکھ درہم سے بڑھ جاتا ہے۔ یہ بھی یاد رہے کہ اس کے سردار ہیں آپ نے ابتدائی تنگی کے وقت اپنا کل مال راہ اللہ دے دیا تھا جس کا بدلہ سوائے اللہ کے کسی اور سے مطلوب نہ تھا۔ حضرت عمر ؓ فرماتے ہیں میں دربار رسالت مآب میں تھا اور حضرت صدیق اکبر بھی تھے۔ صرف ایک عبا آپ کے جسم پر تھی، گریبان کانٹے سے اٹکائے ہوئے تھے جو حضرت جبرائیل ؑ نازل ہوئے اور پوچھا کیا بات ہے جو حضرت ابوبکر نے فقط ایک عبا پہن رکھی ہے اور کانٹا لگا رکھا ہے ؟ حضور ﷺ نے فرمایا انہوں نے اپنا کل مال میرے کاموں میں فتح سے پہلے ہی راہ اللہ خرچ کر ڈالا ہے اب ان کے پاس کچھ نہیں، حضرت جبرائیل ؑ نے فرمایا ان سے کہو کہ اللہ انہیں سلام کہتا ہے اور فرماتا ہے کہ اس فقیری میں تم مجھ سے خوش ہو یا ناخوش ہو ؟ آپ نے حضرت صدیق کو یہ سب کہہ کر سوال کیا۔ جواب ملا کہ اپنے رب عزوجل سے ناراض کیسے ہوسکتا ہوں میں اس حال میں بہت خوش ہوں۔ یہ حدیث سنداً ضعیف ہے واللہ اعلم۔ پھر فرماتا ہے کون ہے جو اللہ کو اچھا قرض دے، اس سے مراد اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لئے خرچ کرنا ہے۔ بعض نے کہا ہے بال بچوں کو کھلانا پلانا وغیرہ خرچ مراد ہے۔ ہوسکتا ہے کہ آیت اپنے عموم کے لحاظ سے دونوں صورتوں کو شامل ہو، پھر اس پر وعدہ فرماتا ہے کہ اسے بہت بڑھا چڑھا کر بدلہ ملے گا اور جنت میں پاکیزہ تر روزی ملے گی، اس آیت کو سن کر حضرت ابو دحداح انصاری ؓ حضور ﷺ کے پاس آئے اور کہا کیا ہمارا رب ہم سے قرض مانگتا ہے ؟ آپ نے فرمایا ہاں، کہا ذرا اپنا ہاتھ تو دیجئے آپ نے ہاتھ بڑھایا تو آپ کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر فرمایا میرا باغ جس میں کھجور کے چھ سو درخت ہیں وہ میں نے اپنے رب کو دیا آپ کے بیوی بچے بھی اسی باغ میں تھے آپ آئے اور باغ کے دروازے پر کھڑے رہ کر اپنی بیوی صاحبہ کو آواز دی وہ لبیک کہتی ہوئی آئیں تو فرمانے لگے بچوں کو لے کر چلی آؤ میں نے یہ باغ اپنے رب عزوجل کو قرض دے دیا ہے۔ وہ خوش ہو کر کہنے لگیں آپ نے بہت نفع کی تجارت کی اور بال بچوں کو اور گھر کے اثاثے کو لے کر باہر چلی آئیں، حضور ﷺ فرمانے لگے جنتی درخت وہاں کے باغات جو میوؤں سے لدے ہوئے اور جن کی شاخیں یا قوت اور موتی کی ہیں ابو دحداح کو اللہ نے دے دیں۔
12
View Single
يَوۡمَ تَرَى ٱلۡمُؤۡمِنِينَ وَٱلۡمُؤۡمِنَٰتِ يَسۡعَىٰ نُورُهُم بَيۡنَ أَيۡدِيهِمۡ وَبِأَيۡمَٰنِهِمۖ بُشۡرَىٰكُمُ ٱلۡيَوۡمَ جَنَّـٰتٞ تَجۡرِي مِن تَحۡتِهَا ٱلۡأَنۡهَٰرُ خَٰلِدِينَ فِيهَاۚ ذَٰلِكَ هُوَ ٱلۡفَوۡزُ ٱلۡعَظِيمُ
The day when you will see the believing men and believing women, that their light runs before them and on their right – it being said to them, “This day, the best tidings for you are the Gardens beneath which rivers flow – abide in it forever; this is the greatest success.”
(اے حبیب!) جس دن آپ (اپنی امّت کے) مومن مَردوں اور مومن عورتوں کو دیکھیں گے کہ اُن کا نور اُن کے آگے اور اُن کی دائیں جانب تیزی سے چل رہا ہوگا (اور اُن سے کہا جائے گا:) تمہیں بشارت ہو آج (تمہارے لئے) جنتیں ہیں جن کے نیچے سے نہریں رواں ہیں (تم) ہمیشہ ان میں رہو گے، یہی بہت بڑی کامیابی ہے
Tafsir Ibn Kathir
The Believers are awarded a Light on the Day of Resurrection, according to Their Good Deeds
Allah the Exalted states that the believers who spend in charity will come on the Day of Resurrection with their light preceding them in the area of the Gathering, according to the level of their good deeds. As reported from `Abdullah bin Mas`ud:
يَسْعَى نُورُهُم بَيْنَ أَيْدِيهِمْ
(their light running forward before them), he said, "They will pass over the Sirat according to their deeds. Some of them will have a light as large as a mountain, some as a date tree, some as big as a man in the standing position. The least among them has a light as big as his index finger, it is lit at times and extinguished at other times." Ibn Abi Hatim and Ibn Jarir collected this Hadith. Ad-Dahhak commented on the Ayah, "Everyone will be given a light on the Day of Resurrection. When they arrive at the Sirat, the light of the hypocrites will be extinguished. When the believers see this, they will be concerned that their light also will be extinguished, just as the light of the hypocrites was. This is when the believers will invoke Allah, `O our Lord! Perfect our light for us."' Allah's statement,
وَبِأَيْمَـنِهِم
(and in their right hands.) Ad-Dahhak said: "Their Books of Records." As Allah said:
فَمَنْ أُوتِىَ كِتَـبَهُ بِيَمِينِهِ
(So whosoever is given his record in his right hand.)(17:71) Allah said,
بُشْرَاكُمُ الْيَوْمَ جَنَّـتٌ تَجْرِى مِن تَحْتِهَا الاٌّنْهَـرُ
(Glad tidings for you this Day! Gardens under which rivers flow,) meaning, it will be said to them, "Receive glad tidings this Day, of gardens beneath which rivers flow,
خَـلِدِينَ فِيهَآ
(to dwell therein forever!), you will remain therein forever,"
ذَلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ
(Truly, this is the great success!)
The Condition of the Hypocrites on the Day of Resurrection
Allah said,
يَوْمَ يَقُولُ الْمُنَـفِقُونَ وَالْمُنَـفِقَـتُ لِلَّذِينَ ءَامَنُواْ انظُرُونَا نَقْتَبِسْ مِن نُّورِكُمْ
(On the Day when the hypocrites men and women will say to the believers: "Wait for us! Let us get something from your light!") Allah informs us in this Ayah of the terrible horrors, horrendous incidents and tremendous events that will take place on the Day of Resurrection in the Gathering Area. No one will be saved on that Day, except those who believed in Allah and His Messenger, obeyed Allah's commands and avoided His prohibitions. Al-`Awfi, Ad-Dahhak and others reported from Ibn `Abbas: "When the people are gathering in darkness, Allah will send light, and when the believers see the light they will march towards it. This light will be their guide from Allah to Paradise. When the hypocrites see the believers following the light, they will follow them. However, Allah will extinguish the light for the hypocrites and they will say (to the believers),
انظُرُونَا نَقْتَبِسْ مِن نُّورِكُمْ
(Wait for us! Let us get something from your light.) The believers will reply by saying,
ارْجِعُواْ وَرَآءَكُمْ
`(Go back to your rear!) to the dark area you were in, and look for a light there!"' Allah said,
فَضُرِبَ بَيْنَهُم بِسُورٍ لَّهُ بَابٌ بَاطِنُهُ فِيهِ الرَّحْمَةُ وَظَـهِرُهُ مِن قِبَلِهِ الْعَذَابُ
(So, a wall will be put up between them, with a gate therein. Inside it will be mercy, and outside it will be torment.) Al-Hasan and Qatadah said that the wall mentioned here is located between Paradise and Hellfire. `Abdur-Rahman bin Zayd bin Aslam said that the wall mentioned in this Ayah is the wall that Allah described in His statement,
وَبَيْنَهُمَا حِجَابٌ
(And between them will be a (barrier) screen.)(7:46) Similar was reported from Mujahid and others, and it is correct. Allah said,
بَاطِنُهُ فِيهِ الرَّحْمَةُ
(Inside it will be mercy,) meaning, Paradise and all that is in it,
وَظَـهِرُهُ مِن قِبَلِهِ الْعَذَابُ
(and outside it will be torment.) meaning, the Hellfire, according to Qatadah, Ibn Zayd and others. Allah said,
يُنَـدُونَهُمْ أَلَمْ نَكُن مَّعَكُمْ
((The hypocrites) will call the believers: "Were we not with you") meaning, the hypocrites will call out to the believers saying, "Were we not with you in the life of the world, attending Friday prayers and congregational prayers Did we not stand with you on Mount `Arafah (during Hajj), participate in battle by your side and perform all types of acts of worship with you"
قَالُواْ بَلَى
(The believers will reply: "Yes!...") The believers will answer the hypocrites by saying, "Yes, you were with us,
وَلَـكِنَّكُمْ فَتَنتُمْ أَنفُسَكُمْ وَتَرَبَّصْتُمْ وَارْتَبْتُمْ وَغرَّتْكُمُ الاٌّمَانِىُّ
(But you led yourselves into temptations, you looked forward to our destruction; and you doubted (in faith) and you were deceived by false hopes,) " Qatadah said,
وَتَرَبَّصْتُمْ
(you looked forward to destruction), "Of the truth and its people."
وَارْتَبْتُمْ
(and you doubted,) that Resurrection occurs after death,
وَغرَّتْكُمُ الاٌّمَانِىُّ
(and you were deceived by false hopes,) meaning: you said that you will be forgiven your sins; or, they say it means: this life deceived you;
حَتَّى جَآءَ أَمْرُ اللَّهِ
(till the command of Allah came to pass.) meaning: you remained on this path until death came to you,
وَغَرَّكُم بِاللَّهِ الْغَرُورُ
(And the deceiver deceived you in regard to Allah.) `the deceiver' being Shaytan. Qatadah said, "They were deceived by Ash-Shaytan. By Allah! They remained deceived until Allah cast them into Hellfire." The meaning here is that the believers will answer the hypocrites by saying, "You were with us in bodies which were heartless and devoid of intentions. You were cast in doubt and suspicion. You were showing off for people and remembered Allah, little." Mujahid commented, "The hypocrites were with the believers in this life, marrying from among each other, yet betraying them even when they were associating with them. They were dead. They will both be given a light on the Day of Resurrection, but the light of the hypocrites will be extinguished when they reach the wall; this is when the two camps separate and part!" Allah's statement,
مَأْوَاكُمُ النَّارُ
(Your abode is the Fire.) means, the Fire is your final destination and to it will be your return for residence,
هِىَ مَوْلَـكُمْ
(That is your protector,) meaning, it is the worthy shelter for you rather than any other residence, because of your disbelief and doubt, and how evil is the Fire for Final Destination.
اعمال کے مطابق بدلہ دیا جائے گا یہاں بیان ہو رہا ہے کہ مسلمانوں کے نیک اعمال کے مطابق انہیں نور ملے گا جو قیامت کے دن کے ان کے ساتھ ساتھ رہے گا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں ان میں بعض کا نور پہاڑوں کے برابر ہوگا اور بعض کا کھجوروں کے درختوں کے برابر اور بعض کا کھڑے انسان کے قد کے برابر سب سے کم نور جس گنہگار مومن کا ہوگا اس کے پیر کے انگوٹھے پر نور ہوگا جو کبھی روشن ہوتا ہوگا اور کبھی بجھ جاتا ہوگا (ابن جریر) حضرت قتادہ فرماتے ہیں ہم سے ذکر کیا گیا ہے کہ حضور ﷺ کا ارشاد ہے بعض مومن ایسے بھی ہوں گے جن کا نور اس قدر ہوگا کہ جس قدر مدینہ سے عدن دور ہے اور ابین دور ہے اور صنعا دور ہے۔ بعض اس سے کم بعض اس سے کم یہاں تک کہ بعض وہ بھی ہوں گے جن کے نور سے صرف ان کے دونوں قدموں کے پاس ہی اجالا ہوگا۔ حضرت جنادہ بن ابو امیہ فرماتے ہیں لوگو ! تمہارے نام مع ولدیت کے اور خاص نشانیوں کے اللہ کے ہاں لکھے ہوئے ہیں اسی طرح تمہارا ہر ظاہر باطن عمل بھی وہاں لکھا ہوا ہے قیامت کے دن نام لے کر پکار کر کہہ دیا جائے گا کہ اے فلاں یہ تیرا نور ہے اور اے فلاں تیرے لئے کوئی نور ہمارے ہاں نہیں۔ پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔ حضرت ضحاک فرماتے ہیں اول اول تو ہر شخص کو نور عطا ہوگا لیکن جب پل صراط پر جائیں گے تو منافقوں کا نور بجھ جائے گا اسے دیکھ کر مومن بھی ڈرنے لگیں گے کہ ایسا نہ ہو ہمارا نور بھی بجھ جائے تو اللہ سے دعائیں کریں گے کہ یا اللہ ہمارا نور ہمارے لئے پورا پورا کر۔ حضرت حسن فرماتے ہیں اس آیت سے مراد پل صراط پر نور کا ملنا ہے تاکہ اس اندھیری جگہ سے با آرام گذر جائیں۔ رسول مقبول ﷺ فرماتے ہیں سب سے پہلے سجدے کی اجازت قیامت کے دن مجھے دی جائے گی اور اسی طرح سب سے پہلے سجدے سے سر اٹھانے کا حکم بھی مجھے ہوگا میں آگے پیچھے دائیں بائیں نظریں ڈالوں گا اور اپنی امت کو پہچان لوں گا تو ایک شخص نے کہا حضور ﷺ حضرت نوح ؑ سے لے کر آپ کی امت تک کی تمام امتیں اس میدان میں اکٹھی ہوں گی ان میں سے آپ اپنی امت کی شناخت کیسے کریں گے ؟ آپ نے فرمایا بعض مخصوص نشانیوں کی وجہ سے میری امت کے اعضاء وضو چمک رہے ہوں گے یہ وصف کسی اور امت میں نہ ہوگا اور انہیں ان کے نامہ اعمال ان کے داہنے ہاتھوں میں دیئے جائیں گے اور ان کے چہرے چمک رہے ہوں گے اور ان کا نور ان کے آگے آگے چلتا ہوگا اور ان کی اولاد ان کے ساتھ ہی ہوگی۔ ضحاک فرماتے ہیں ان کے دائیں ہاتھ میں ان کا عمل نامہ ہوگا جیسے اور آیتوں میں تشریح ہے۔ ان سے کہا جائے گا کہ آج تمہیں ان جنتوں کی بشارت ہے جن کے چپے چپے پر چشمے جاری ہیں جہاں سے کبھی نکلنا نہیں، یہ زبردست کامیابی ہے۔ اس کے بعد کی آیت میں میدان قیامت کے ہولناک دل شکن اور کپکپا دینے والے واقعہ کا بیان ہے کہ سوائے سچے ایمان اور کھرے اعمال والوں کے نجات کسی کو منہ دکھائے گی۔ سلیم بن عامر فرماتے ہیں ہم ایک جنازے کے ساتھ باب دمشق میں تھے جب جنازے کی نماز ہوچکی اور دفن کا کام شروع ہوا تو حضرت ابو امامہ باہلی ؓ نے فرمایا لوگو ! تم اس دنیا کی منزل میں آج صبح شام کر رہے ہو نیکیاں برائیاں کرسکتے ہو اس کے بعد ایک اور منزل کی طرف تم سب کوچ کرنے والے ہو وہ منزل یہی قبر کی ہے جو تنہائی کا، اندھیرے کا، کیڑوں کا اور تنگی اور تاریکی والا گھر ہے مگر جس کے لئے اللہ تعالیٰ اسے وسعت دے دے۔ یہاں سے تم پھر میدان قیامت کے مختلف مقامات پر وارد ہو گے۔ ایک جگہ بہت سے لوگوں کے چہرے سفید ہوجائیں گے اور بہت سے لوگوں کے سیاہ پڑجائیں گے، پھر ایک اور میدان میں جاؤ گے جہاں سخت اندھیرا ہوگا وہاں ایمانداروں کو نور تقسیم کیا جائے گا اور کافر و منافق بےنور رہ جائے گا، اسی کا ذکر آیت (او ظلمات) الخ، میں ہے پس جس طرح آنکھوں والے کی بصارت سے اندھا کوئی نفع حاصل نہیں کرسکتا منافق و کافر ایماندار کے نور سے کچھ فائدہ نہ اٹھا سکے گا۔ تو منافق ایمانداروں سے آرزو کریں گے کہ اس قدر آگے نہ بڑھ جاؤ کچھ تو ٹھہرو جو ہم بھی تمہارے نور کے سہارے چلیں تو جس طرح یہ دنیا میں مسلمانوں کے ساتھ مکر و فریب کرتے تھے آج ان سے کہا جائے گا کہ لوٹ جاؤ اور نور تلاش کر لاؤ یہ واپس نور کی تقسیم کی جگہ جائیں گے لیکن وہاں کچھ نہ پائیں گے، یہی اللہ کا وہ مکر ہے جس کا بیان آیت (اِنَّ الْمُنٰفِقِيْنَ يُخٰدِعُوْنَ اللّٰهَ وَھُوَ خَادِعُھُمْ ۚ وَاِذَا قَامُوْٓا اِلَى الصَّلٰوةِ قَامُوْا كُسَالٰى ۙ يُرَاۗءُوْنَ النَّاسَ وَلَا يَذْكُرُوْنَ اللّٰهَ اِلَّا قَلِيْلًا01402ۡۙ) 4۔ النسآء :142) ، میں ہے۔ اب لوٹ کر یہاں جو آئیں گے تو دیکھیں گے کہ مومنوں اور ان کے درمیان ایک دیوار حائل ہوگئی ہے جس کے اس طرف رحمت ہی رحمت ہے اور اس طرف عذاب و سزا ہے۔ پس منافق نور کی تقسیم کے وقت تک دھوکے میں ہی پڑ رہے گا نور مل جانے پر بھید کھل جائے گا تمیز ہوجائے گی اور یہ منافق اللہ کی رحمت سے مایوس ہوجائیں گے۔ ابن عباس سے مروی ہے کہ جب کامل اندھیرا چھایا ہوا ہوگا کہ کوئی انسان اپنا ہاتھ بھی نہ دیکھ سکے اس وقت اللہ تعالیٰ ایک نور ظاہر کرے گا مسلمان اس طرف جانے لگیں گے تو منافق بھی پیچھے لگ جائیں گے۔ جب مومن زیادہ آگے نکل جائیں گے تو یہ انہیں ٹھہرانے کے لئے آواز دیں گے اور یاد دلائیں گے کہ دنیا میں ہم سب ساتھ ہی تھے۔ حضور ﷺ کا ارشاد ہے کہ قیامت کے دن لوگوں کو ان کی پردہ پوشی کے لئے ان کے ناموں سے پکارا جائے گا لیکن پل صراط پر تمیز ہوجائے گی مومنوں کو نور ملے گا اور منافقوں کو بھی ملے گا لیکن جب درمیان میں پہنچ جائیں گے منافقوں کا نور بجھ جائے گا یہ مومنوں کو آواز دیں گے لیکن اس وقت خود مومن خوف زدہ ہو رہے ہوں گے یہ وہ وقت ہوگا کہ ہر ایک آپادھاپی میں ہوگا، جس دیوار کا یہاں ذکر ہے یہ جنت و دوزخ کے درمیان حد فاصل ہوگی اسی کا ذکر آیت (وَبَيْنَهُمَا حِجَابٌ ۚ وَعَلَي الْاَعْرَافِ رِجَالٌ يَّعْرِفُوْنَ كُلًّاۢ بِسِيْمٰىهُمْ ۚ وَنَادَوْا اَصْحٰبَ الْجَنَّةِ اَنْ سَلٰمٌ عَلَيْكُمْ ۣ لَمْ يَدْخُلُوْهَا وَهُمْ يَطْمَعُوْنَ 46) 7۔ الاعراف :46) میں ہے۔ پس جنت میں رحمت اور جہنم میں عذاب۔ ٹھیک بات یہی ہے لیکن بعض کا قول ہے کہ اس سے مراد بیت المقدس کی دیوار ہے جو جہنم کی وادی کے پاس ہوگی، ابن عمر سے مروی ہے کہ یہ دیوار بیت المقدس کی شرقی دیوار ہے جس کے باطن میں مسجد وغیرہ ہے اور جس کے ظاہر میں وادی جہنم ہے اور بعض بزرگوں نے بھی یہی کہا ہے، لیکن یہ یاد رکھنا چاہئے کہ ان کا مطلب یہ نہیں کہ بعینہ یہی دیوار اس آیت میں مراد ہے بلکہ اس کا ذکر بطور قرب کے معنی میں آیت کی تفسیر میں ان حضرات نے کردیا ہے اس لئے کہ جنت آسمانوں میں اعلیٰ علین میں ہے اور جہنم اسفل السافلین میں حضرت کعب احبار سے مروی ہے کہ جس دروازے کا ذکر اس آیت میں ہے اس سے مراد مسجد کا باب الرحمت ہے یہ بنو اسرائیل کی روایت ہے جو ہمارے لئے سند نہیں بن سکتی۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ دیوار قیامت کے دن مومنوں اور منافقوں کے درمیان علیحدگی کے لئے کھڑی کی جائے گی مومن تو اس کے دروازے میں سے جا کر جنت میں پہنچ جائیں گے پھر دروازہ بند ہوجائے گا اور منافق حیرت زدہ ظلمت و عذاب میں رہ جائیں گے۔ جیسے کہ دنیا میں بھی یہ لوگ کفر و جہالت شک و حیرت کی اندھیروں میں تھے، اب یہ یاد دلائیں گے کہ دیکھو دنیا میں ہم تمہارے ساتھ تھے جمعہ جماعت ادا کرتے تھے عرفات اور غزوات میں موجود رہتے تھے واجبات ادا کرتے تھے۔ ایماندار کہیں گے ہاں بات تو ٹھیک ہے لیکن اپنے کرتوت تو دیکھو گناہوں میں نفسانی خواہشوں میں اللہ کی نافرمانیوں میں عمر بھر تم لذتیں اٹھاتے رہے اور آج توبہ کرلیں گے کل بد اعمالیوں چھوڑ دیں گے اسی میں رہے۔ انتظار میں ہی عمر گزاری دی کہ دیکھیں مسلمانوں کا نتیجہ کیا ہوتا ہے ؟ اور تمہیں یہ بھی یقین نہ آیا کہ قیامت آئے گی بھی یا نہیں ؟ اور پھر اس آرزو میں رہے کہ اگر آئے گی پھر تو ہم ضرور بخش دیئے جائیں گے اور مرتے دم تک اللہ کی طرف یقین خلوص کے ساتھ جھکنے کی توفیق میسر نہ آئی اور اللہ کے ساتھ تمہیں دھوکے باز شیطان نے دھوکے میں ہی رکھا۔ یہاں تک کہ آج تم جہنم واصل ہوگئے۔ مطلب یہ ہے کہ جسموں سے تو تم ہمارے ساتھ تھے لیکن دل اور نیت سے ہمارے ساتھ نہ تھے بلکہ حیرت و شک میں ہی پڑے رہے ریا کاری میں رہے اور دل لگا کر یاد الٰہی کرنا بھی تمہیں نصیب نہ ہوا۔ حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ یہ منافق مومنوں کے ساتھ تھے نکاح بیاہ مجلس مجمع موت زیست میں شریک رہے۔ کہ خبردار ان کا رنگ تم پر نہ چڑھ جائے۔ اصل و فرع میں ان سے بالکل الگ رہو، ابن ابی حاتم میں ہے حضرت ربیع بن ابو عمیلہ فرماتے ہیں قرآن حدیث کی مٹھاس تو مسلم ہی ہے لیکن میں نے حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے ایک بہت ہی پیاری اور میٹھی بات سنی ہے جو مجھے بیحد محبوب اور مرغوب ہے آپ نے فرمایا جب بنو اسرائیل کی الہامی کتاب پر کچھ زمانہ گذر گیا تو ان لوگوں نے کچھ کتابیں خود تصنیف کرلیں اور ان میں وہ مسائل لکھے جو انہیں پسند تھے اور جو ان کے اپنے ذہن سے انہوں نے تراش لئے تھے، اب مزے لے لے کر زبانیں موڑ موڑ کر انہیں پڑھنے لگے ان میں سے اکثر مسائل اللہ کی کتاب کے خلاف تھے جن جن احکام کے ماننے کو ان کا جی نہ چاہتا تھا انہوں نے بدل ڈالے تھے اور اپنی کتاب میں اپنی طبیعت کے مطابق مسائل جمع کر لئے تھے اور انہی پر عامل بن گئے، اب انہیں سوجھی کہ اور لوگوں کو بھی منوائیں اور انہیں بھی آمادہ کریں کہ ان ہی ہماری لکھی ہوئی کتابوں کو شرعی کتابیں سمجھیں اور مدار عمل انہیں پر رکھیں اب لوگوں کو اسی کی دعوت دینے لگے اور زور پکڑتے گئے، یہاں تک کہ جو ان کی ان کتابوں کو نہ مانتا اسے یہ ستاتے تکلیف دیتے مارتے پیٹتے بلکہ قتل کر ڈالتے، ان میں ایک شخص اللہ والے پورے عالم اور متقی تھے انہوں نے ان کی طاقت سے اور زیادتی سے مرعوب ہو کر کتاب اللہ کو ایک لطیف چیز پر لکھ کر ایک نر سنگھے میں ڈال کر اپنی گردن میں اسے ڈال لیا، ان لوگوں کا شر و فساد روز بروز بڑھتا جا رہا تھا یہاں تک کہ بہت سے ان لوگوں کو جو کتاب اللہ پر عامل تھے انہوں نے قتل کردیا، پھر آپس میں مشورہ کیا کہ دیکھو کہ یوں ایک ایک کو کب تک قتل کرتے رہیں گے ؟ ان کا بڑا عالم اور ہماری اس کتاب کو بالکل نہ ماننے والا تمام بنی اسرائیل میں سب سے بڑھ کر کتاب اللہ کا عامل فلاں عالم ہے اسے پکڑو اور اس سے اپنی یہ رائے قیاس کی کتاب منواؤ اگر وہ مان لے گا تو پھر ہماری چاندی ہی چاندی ہے اور اگر وہ نہ مانے تو اسے قتل کردو پھر تمہاری اس کتاب کا مخالف کوئی نہ رہے گا اور دوسرے لوگ خواہ مخواہ ہماری ان کتابوں کو قبول کرلیں گے اور انہیں ماننے لگیں گے، چناچہ ان رائے قیاس والوں نے کتاب اللہ کے عالم و عامل اس بزرگ کو پکڑوا منگوایا اور اس سے کہا کہ دیکھ ہماری اس کتاب میں جو ہے اسے سب کو تو مانتا ہے یا نہیں ؟ ان پر تیرا ایمان ہے یا نہیں ؟ اس اللہ ترس کتاب اللہ کے ماننے والے عالم نے کہا اس میں تم نے کیا لکھا ہے ؟ ذرا مجھے سناؤ تو، انہوں نے سنایا اور کہا اس کو تو مانتا ہے ؟ اس بزرگ کو اپنی جان کا ڈر تھا اس لئے جرات کے ساتھ یہ تو نہ کہہ سکا کہ نہیں مانتا بلکہ اپنے اس نرسنگھے کی طرف اشارہ کر کے کہا میرا اسپر ایمان ہے وہ سمجھ بیٹھے کہ اس کا اشارہ ہماری اس کتاب کی طرف ہے۔ چانچہ اس کی ایذاء رسانی سے باز رہے لیکن تاہم اس کے اطوار و افعال سے کھٹکتے ہی رہے یہاں تک کہ جب اس کا انتقال ہوا تو انہوں نے تفتیش شروع کی کہ ایسا نہ ہو اس کے پاس کتاب اللہ اور دین کے سچے مسائل کی کوئی کتاب ہو آخر وہ نرسنگھا ان کے ہاتھ لگ گیا پڑھا تو اس میں اصلی مسائل کتاب اللہ کے موجود تھے اب بات بنالی کہ ہم نے تو کبھی یہ مسائل نہیں سنے ایسی باتیں ہمارے دین کی نہیں چناچہ زبردست فتنہ برپا ہوگیا اور بہتر گروہ ہوگئے ان سب میں بہتر گروہ جو راستی پر اور حق پر تھا وہ تھا جو اس نرسنگھے والے مسائل پر عامل تھا۔ حضرت ابن مسعود نے یہ واقعہ بیان فرما کر کہا لوگو تم میں سے بھی جو باقی رہے گا وہ ایسے ہی امور کا معائنہ کرے گا اور وہ بالکل بےبس ہوگا ان بری کتابوں کے مٹانے کی اس میں قدرت نہ ہوگی، پس ایسے مجبوری اور بےکسی کے وقت بھی اس کا یہ فرض تو ضرور ہے کہ اللہ تعالیٰ پر یہ ثابت کر دے کہ وہ ان سب کو برا جانتا ہے۔ امام ابو جعفر طبری ؒ نے بھی یہ روایت نقل کی ہے کہ عتریس بن عرقوب حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کے پاس آئے اور کہنے لگے اے ابو عبد اللہ جو شخص بھلائی کا حکم نہ کرے اور برائی سے نہ روکے وہ ہلاک ہوا آپ نے فرمایا ہلاک وہ ہوگا جو اپنے دل سے اچھائی کو اچھائی نہ سمجھے اور برائی کو برائی نہ جانے، پھر آپ نے بنی اسرائیل کا یہ واقعہ بیان فرمایا۔ پھر ارشاد باری لیکن اب یہاں بالکل الگ کردیئے گئے۔ سورة مدثر کی آیتوں میں ہے کہ مسلمان مجرموں سے انہیں جہنم میں دیکھ کر پوچھیں گے کہ آخر تم یہاں کیسے پھنس گئے اور وہ اپنے بد اعمال گنوائیں گے۔ تو یاد رہے کہ یہ سوال صرف بطور ڈانٹ ڈپٹ کے اور انہیں شرمندہ کرنے کے لئے ہوگا ورنہ حقیقت حال سے مسلمان خوب آگاہ ہوں گے۔ پھر یہ جیسے وہاں فرمایا تھا کہ کسی کی سفارش انہیں نفع نہ دے گی، یہاں فرمایا آج ان سے فدیہ نہ لیا جائے گا گو زمین بھر کر سونا دیں قبول نہ کیا جائے گا نہ منافقوں سے نہ کافروں سے ان کا مرجع و ماویٰ جہنم ہے وہی ان کے لائق ہے اور ظاہر ہے کہ وہ بدترین جگہ ہے۔
13
View Single
يَوۡمَ يَقُولُ ٱلۡمُنَٰفِقُونَ وَٱلۡمُنَٰفِقَٰتُ لِلَّذِينَ ءَامَنُواْ ٱنظُرُونَا نَقۡتَبِسۡ مِن نُّورِكُمۡ قِيلَ ٱرۡجِعُواْ وَرَآءَكُمۡ فَٱلۡتَمِسُواْ نُورٗاۖ فَضُرِبَ بَيۡنَهُم بِسُورٖ لَّهُۥ بَابُۢ بَاطِنُهُۥ فِيهِ ٱلرَّحۡمَةُ وَظَٰهِرُهُۥ مِن قِبَلِهِ ٱلۡعَذَابُ
The day when hypocrite men and hypocrite women will say to the Muslims, “Look mercifully towards us, so that we may gain some of your light!”; it will be said to them, “Turn back, search light over there!”; so they will turn around, whereupon a wall will be erected between them, in which is a gate; inside the gate is mercy, and on the outer side is the punishment.
جس دن منافق مرد اور منافق عورتیں ایمان والوں سے کہیں گے: ذرا ہم پر (بھی) نظرِ (التفات) کر دو ہم تمہارے نور سے کچھ روشنی حاصل کرلیں۔ ان سے کہا جائے گا: تم اپنے پیچھے پلٹ جاؤ اور (وہاں جاکر) نور تلاش کرو (جہاں تم نور کا انکار کرتے تھے)، تو (اسی وقت) ان کے درمیان ایک دیوار کھڑی کر دی جائے گی جس میں ایک دروازہ ہوگا، اس کے اندر کی جانب رحمت ہوگی اور اس کے باہر کی جانب اُس طرف سے عذاب ہوگا
Tafsir Ibn Kathir
The Believers are awarded a Light on the Day of Resurrection, according to Their Good Deeds
Allah the Exalted states that the believers who spend in charity will come on the Day of Resurrection with their light preceding them in the area of the Gathering, according to the level of their good deeds. As reported from `Abdullah bin Mas`ud:
يَسْعَى نُورُهُم بَيْنَ أَيْدِيهِمْ
(their light running forward before them), he said, "They will pass over the Sirat according to their deeds. Some of them will have a light as large as a mountain, some as a date tree, some as big as a man in the standing position. The least among them has a light as big as his index finger, it is lit at times and extinguished at other times." Ibn Abi Hatim and Ibn Jarir collected this Hadith. Ad-Dahhak commented on the Ayah, "Everyone will be given a light on the Day of Resurrection. When they arrive at the Sirat, the light of the hypocrites will be extinguished. When the believers see this, they will be concerned that their light also will be extinguished, just as the light of the hypocrites was. This is when the believers will invoke Allah, `O our Lord! Perfect our light for us."' Allah's statement,
وَبِأَيْمَـنِهِم
(and in their right hands.) Ad-Dahhak said: "Their Books of Records." As Allah said:
فَمَنْ أُوتِىَ كِتَـبَهُ بِيَمِينِهِ
(So whosoever is given his record in his right hand.)(17:71) Allah said,
بُشْرَاكُمُ الْيَوْمَ جَنَّـتٌ تَجْرِى مِن تَحْتِهَا الاٌّنْهَـرُ
(Glad tidings for you this Day! Gardens under which rivers flow,) meaning, it will be said to them, "Receive glad tidings this Day, of gardens beneath which rivers flow,
خَـلِدِينَ فِيهَآ
(to dwell therein forever!), you will remain therein forever,"
ذَلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ
(Truly, this is the great success!)
The Condition of the Hypocrites on the Day of Resurrection
Allah said,
يَوْمَ يَقُولُ الْمُنَـفِقُونَ وَالْمُنَـفِقَـتُ لِلَّذِينَ ءَامَنُواْ انظُرُونَا نَقْتَبِسْ مِن نُّورِكُمْ
(On the Day when the hypocrites men and women will say to the believers: "Wait for us! Let us get something from your light!") Allah informs us in this Ayah of the terrible horrors, horrendous incidents and tremendous events that will take place on the Day of Resurrection in the Gathering Area. No one will be saved on that Day, except those who believed in Allah and His Messenger, obeyed Allah's commands and avoided His prohibitions. Al-`Awfi, Ad-Dahhak and others reported from Ibn `Abbas: "When the people are gathering in darkness, Allah will send light, and when the believers see the light they will march towards it. This light will be their guide from Allah to Paradise. When the hypocrites see the believers following the light, they will follow them. However, Allah will extinguish the light for the hypocrites and they will say (to the believers),
انظُرُونَا نَقْتَبِسْ مِن نُّورِكُمْ
(Wait for us! Let us get something from your light.) The believers will reply by saying,
ارْجِعُواْ وَرَآءَكُمْ
`(Go back to your rear!) to the dark area you were in, and look for a light there!"' Allah said,
فَضُرِبَ بَيْنَهُم بِسُورٍ لَّهُ بَابٌ بَاطِنُهُ فِيهِ الرَّحْمَةُ وَظَـهِرُهُ مِن قِبَلِهِ الْعَذَابُ
(So, a wall will be put up between them, with a gate therein. Inside it will be mercy, and outside it will be torment.) Al-Hasan and Qatadah said that the wall mentioned here is located between Paradise and Hellfire. `Abdur-Rahman bin Zayd bin Aslam said that the wall mentioned in this Ayah is the wall that Allah described in His statement,
وَبَيْنَهُمَا حِجَابٌ
(And between them will be a (barrier) screen.)(7:46) Similar was reported from Mujahid and others, and it is correct. Allah said,
بَاطِنُهُ فِيهِ الرَّحْمَةُ
(Inside it will be mercy,) meaning, Paradise and all that is in it,
وَظَـهِرُهُ مِن قِبَلِهِ الْعَذَابُ
(and outside it will be torment.) meaning, the Hellfire, according to Qatadah, Ibn Zayd and others. Allah said,
يُنَـدُونَهُمْ أَلَمْ نَكُن مَّعَكُمْ
((The hypocrites) will call the believers: "Were we not with you") meaning, the hypocrites will call out to the believers saying, "Were we not with you in the life of the world, attending Friday prayers and congregational prayers Did we not stand with you on Mount `Arafah (during Hajj), participate in battle by your side and perform all types of acts of worship with you"
قَالُواْ بَلَى
(The believers will reply: "Yes!...") The believers will answer the hypocrites by saying, "Yes, you were with us,
وَلَـكِنَّكُمْ فَتَنتُمْ أَنفُسَكُمْ وَتَرَبَّصْتُمْ وَارْتَبْتُمْ وَغرَّتْكُمُ الاٌّمَانِىُّ
(But you led yourselves into temptations, you looked forward to our destruction; and you doubted (in faith) and you were deceived by false hopes,) " Qatadah said,
وَتَرَبَّصْتُمْ
(you looked forward to destruction), "Of the truth and its people."
وَارْتَبْتُمْ
(and you doubted,) that Resurrection occurs after death,
وَغرَّتْكُمُ الاٌّمَانِىُّ
(and you were deceived by false hopes,) meaning: you said that you will be forgiven your sins; or, they say it means: this life deceived you;
حَتَّى جَآءَ أَمْرُ اللَّهِ
(till the command of Allah came to pass.) meaning: you remained on this path until death came to you,
وَغَرَّكُم بِاللَّهِ الْغَرُورُ
(And the deceiver deceived you in regard to Allah.) `the deceiver' being Shaytan. Qatadah said, "They were deceived by Ash-Shaytan. By Allah! They remained deceived until Allah cast them into Hellfire." The meaning here is that the believers will answer the hypocrites by saying, "You were with us in bodies which were heartless and devoid of intentions. You were cast in doubt and suspicion. You were showing off for people and remembered Allah, little." Mujahid commented, "The hypocrites were with the believers in this life, marrying from among each other, yet betraying them even when they were associating with them. They were dead. They will both be given a light on the Day of Resurrection, but the light of the hypocrites will be extinguished when they reach the wall; this is when the two camps separate and part!" Allah's statement,
مَأْوَاكُمُ النَّارُ
(Your abode is the Fire.) means, the Fire is your final destination and to it will be your return for residence,
هِىَ مَوْلَـكُمْ
(That is your protector,) meaning, it is the worthy shelter for you rather than any other residence, because of your disbelief and doubt, and how evil is the Fire for Final Destination.
اعمال کے مطابق بدلہ دیا جائے گا یہاں بیان ہو رہا ہے کہ مسلمانوں کے نیک اعمال کے مطابق انہیں نور ملے گا جو قیامت کے دن کے ان کے ساتھ ساتھ رہے گا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں ان میں بعض کا نور پہاڑوں کے برابر ہوگا اور بعض کا کھجوروں کے درختوں کے برابر اور بعض کا کھڑے انسان کے قد کے برابر سب سے کم نور جس گنہگار مومن کا ہوگا اس کے پیر کے انگوٹھے پر نور ہوگا جو کبھی روشن ہوتا ہوگا اور کبھی بجھ جاتا ہوگا (ابن جریر) حضرت قتادہ فرماتے ہیں ہم سے ذکر کیا گیا ہے کہ حضور ﷺ کا ارشاد ہے بعض مومن ایسے بھی ہوں گے جن کا نور اس قدر ہوگا کہ جس قدر مدینہ سے عدن دور ہے اور ابین دور ہے اور صنعا دور ہے۔ بعض اس سے کم بعض اس سے کم یہاں تک کہ بعض وہ بھی ہوں گے جن کے نور سے صرف ان کے دونوں قدموں کے پاس ہی اجالا ہوگا۔ حضرت جنادہ بن ابو امیہ فرماتے ہیں لوگو ! تمہارے نام مع ولدیت کے اور خاص نشانیوں کے اللہ کے ہاں لکھے ہوئے ہیں اسی طرح تمہارا ہر ظاہر باطن عمل بھی وہاں لکھا ہوا ہے قیامت کے دن نام لے کر پکار کر کہہ دیا جائے گا کہ اے فلاں یہ تیرا نور ہے اور اے فلاں تیرے لئے کوئی نور ہمارے ہاں نہیں۔ پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔ حضرت ضحاک فرماتے ہیں اول اول تو ہر شخص کو نور عطا ہوگا لیکن جب پل صراط پر جائیں گے تو منافقوں کا نور بجھ جائے گا اسے دیکھ کر مومن بھی ڈرنے لگیں گے کہ ایسا نہ ہو ہمارا نور بھی بجھ جائے تو اللہ سے دعائیں کریں گے کہ یا اللہ ہمارا نور ہمارے لئے پورا پورا کر۔ حضرت حسن فرماتے ہیں اس آیت سے مراد پل صراط پر نور کا ملنا ہے تاکہ اس اندھیری جگہ سے با آرام گذر جائیں۔ رسول مقبول ﷺ فرماتے ہیں سب سے پہلے سجدے کی اجازت قیامت کے دن مجھے دی جائے گی اور اسی طرح سب سے پہلے سجدے سے سر اٹھانے کا حکم بھی مجھے ہوگا میں آگے پیچھے دائیں بائیں نظریں ڈالوں گا اور اپنی امت کو پہچان لوں گا تو ایک شخص نے کہا حضور ﷺ حضرت نوح ؑ سے لے کر آپ کی امت تک کی تمام امتیں اس میدان میں اکٹھی ہوں گی ان میں سے آپ اپنی امت کی شناخت کیسے کریں گے ؟ آپ نے فرمایا بعض مخصوص نشانیوں کی وجہ سے میری امت کے اعضاء وضو چمک رہے ہوں گے یہ وصف کسی اور امت میں نہ ہوگا اور انہیں ان کے نامہ اعمال ان کے داہنے ہاتھوں میں دیئے جائیں گے اور ان کے چہرے چمک رہے ہوں گے اور ان کا نور ان کے آگے آگے چلتا ہوگا اور ان کی اولاد ان کے ساتھ ہی ہوگی۔ ضحاک فرماتے ہیں ان کے دائیں ہاتھ میں ان کا عمل نامہ ہوگا جیسے اور آیتوں میں تشریح ہے۔ ان سے کہا جائے گا کہ آج تمہیں ان جنتوں کی بشارت ہے جن کے چپے چپے پر چشمے جاری ہیں جہاں سے کبھی نکلنا نہیں، یہ زبردست کامیابی ہے۔ اس کے بعد کی آیت میں میدان قیامت کے ہولناک دل شکن اور کپکپا دینے والے واقعہ کا بیان ہے کہ سوائے سچے ایمان اور کھرے اعمال والوں کے نجات کسی کو منہ دکھائے گی۔ سلیم بن عامر فرماتے ہیں ہم ایک جنازے کے ساتھ باب دمشق میں تھے جب جنازے کی نماز ہوچکی اور دفن کا کام شروع ہوا تو حضرت ابو امامہ باہلی ؓ نے فرمایا لوگو ! تم اس دنیا کی منزل میں آج صبح شام کر رہے ہو نیکیاں برائیاں کرسکتے ہو اس کے بعد ایک اور منزل کی طرف تم سب کوچ کرنے والے ہو وہ منزل یہی قبر کی ہے جو تنہائی کا، اندھیرے کا، کیڑوں کا اور تنگی اور تاریکی والا گھر ہے مگر جس کے لئے اللہ تعالیٰ اسے وسعت دے دے۔ یہاں سے تم پھر میدان قیامت کے مختلف مقامات پر وارد ہو گے۔ ایک جگہ بہت سے لوگوں کے چہرے سفید ہوجائیں گے اور بہت سے لوگوں کے سیاہ پڑجائیں گے، پھر ایک اور میدان میں جاؤ گے جہاں سخت اندھیرا ہوگا وہاں ایمانداروں کو نور تقسیم کیا جائے گا اور کافر و منافق بےنور رہ جائے گا، اسی کا ذکر آیت (او ظلمات) الخ، میں ہے پس جس طرح آنکھوں والے کی بصارت سے اندھا کوئی نفع حاصل نہیں کرسکتا منافق و کافر ایماندار کے نور سے کچھ فائدہ نہ اٹھا سکے گا۔ تو منافق ایمانداروں سے آرزو کریں گے کہ اس قدر آگے نہ بڑھ جاؤ کچھ تو ٹھہرو جو ہم بھی تمہارے نور کے سہارے چلیں تو جس طرح یہ دنیا میں مسلمانوں کے ساتھ مکر و فریب کرتے تھے آج ان سے کہا جائے گا کہ لوٹ جاؤ اور نور تلاش کر لاؤ یہ واپس نور کی تقسیم کی جگہ جائیں گے لیکن وہاں کچھ نہ پائیں گے، یہی اللہ کا وہ مکر ہے جس کا بیان آیت (اِنَّ الْمُنٰفِقِيْنَ يُخٰدِعُوْنَ اللّٰهَ وَھُوَ خَادِعُھُمْ ۚ وَاِذَا قَامُوْٓا اِلَى الصَّلٰوةِ قَامُوْا كُسَالٰى ۙ يُرَاۗءُوْنَ النَّاسَ وَلَا يَذْكُرُوْنَ اللّٰهَ اِلَّا قَلِيْلًا01402ۡۙ) 4۔ النسآء :142) ، میں ہے۔ اب لوٹ کر یہاں جو آئیں گے تو دیکھیں گے کہ مومنوں اور ان کے درمیان ایک دیوار حائل ہوگئی ہے جس کے اس طرف رحمت ہی رحمت ہے اور اس طرف عذاب و سزا ہے۔ پس منافق نور کی تقسیم کے وقت تک دھوکے میں ہی پڑ رہے گا نور مل جانے پر بھید کھل جائے گا تمیز ہوجائے گی اور یہ منافق اللہ کی رحمت سے مایوس ہوجائیں گے۔ ابن عباس سے مروی ہے کہ جب کامل اندھیرا چھایا ہوا ہوگا کہ کوئی انسان اپنا ہاتھ بھی نہ دیکھ سکے اس وقت اللہ تعالیٰ ایک نور ظاہر کرے گا مسلمان اس طرف جانے لگیں گے تو منافق بھی پیچھے لگ جائیں گے۔ جب مومن زیادہ آگے نکل جائیں گے تو یہ انہیں ٹھہرانے کے لئے آواز دیں گے اور یاد دلائیں گے کہ دنیا میں ہم سب ساتھ ہی تھے۔ حضور ﷺ کا ارشاد ہے کہ قیامت کے دن لوگوں کو ان کی پردہ پوشی کے لئے ان کے ناموں سے پکارا جائے گا لیکن پل صراط پر تمیز ہوجائے گی مومنوں کو نور ملے گا اور منافقوں کو بھی ملے گا لیکن جب درمیان میں پہنچ جائیں گے منافقوں کا نور بجھ جائے گا یہ مومنوں کو آواز دیں گے لیکن اس وقت خود مومن خوف زدہ ہو رہے ہوں گے یہ وہ وقت ہوگا کہ ہر ایک آپادھاپی میں ہوگا، جس دیوار کا یہاں ذکر ہے یہ جنت و دوزخ کے درمیان حد فاصل ہوگی اسی کا ذکر آیت (وَبَيْنَهُمَا حِجَابٌ ۚ وَعَلَي الْاَعْرَافِ رِجَالٌ يَّعْرِفُوْنَ كُلًّاۢ بِسِيْمٰىهُمْ ۚ وَنَادَوْا اَصْحٰبَ الْجَنَّةِ اَنْ سَلٰمٌ عَلَيْكُمْ ۣ لَمْ يَدْخُلُوْهَا وَهُمْ يَطْمَعُوْنَ 46) 7۔ الاعراف :46) میں ہے۔ پس جنت میں رحمت اور جہنم میں عذاب۔ ٹھیک بات یہی ہے لیکن بعض کا قول ہے کہ اس سے مراد بیت المقدس کی دیوار ہے جو جہنم کی وادی کے پاس ہوگی، ابن عمر سے مروی ہے کہ یہ دیوار بیت المقدس کی شرقی دیوار ہے جس کے باطن میں مسجد وغیرہ ہے اور جس کے ظاہر میں وادی جہنم ہے اور بعض بزرگوں نے بھی یہی کہا ہے، لیکن یہ یاد رکھنا چاہئے کہ ان کا مطلب یہ نہیں کہ بعینہ یہی دیوار اس آیت میں مراد ہے بلکہ اس کا ذکر بطور قرب کے معنی میں آیت کی تفسیر میں ان حضرات نے کردیا ہے اس لئے کہ جنت آسمانوں میں اعلیٰ علین میں ہے اور جہنم اسفل السافلین میں حضرت کعب احبار سے مروی ہے کہ جس دروازے کا ذکر اس آیت میں ہے اس سے مراد مسجد کا باب الرحمت ہے یہ بنو اسرائیل کی روایت ہے جو ہمارے لئے سند نہیں بن سکتی۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ دیوار قیامت کے دن مومنوں اور منافقوں کے درمیان علیحدگی کے لئے کھڑی کی جائے گی مومن تو اس کے دروازے میں سے جا کر جنت میں پہنچ جائیں گے پھر دروازہ بند ہوجائے گا اور منافق حیرت زدہ ظلمت و عذاب میں رہ جائیں گے۔ جیسے کہ دنیا میں بھی یہ لوگ کفر و جہالت شک و حیرت کی اندھیروں میں تھے، اب یہ یاد دلائیں گے کہ دیکھو دنیا میں ہم تمہارے ساتھ تھے جمعہ جماعت ادا کرتے تھے عرفات اور غزوات میں موجود رہتے تھے واجبات ادا کرتے تھے۔ ایماندار کہیں گے ہاں بات تو ٹھیک ہے لیکن اپنے کرتوت تو دیکھو گناہوں میں نفسانی خواہشوں میں اللہ کی نافرمانیوں میں عمر بھر تم لذتیں اٹھاتے رہے اور آج توبہ کرلیں گے کل بد اعمالیوں چھوڑ دیں گے اسی میں رہے۔ انتظار میں ہی عمر گزاری دی کہ دیکھیں مسلمانوں کا نتیجہ کیا ہوتا ہے ؟ اور تمہیں یہ بھی یقین نہ آیا کہ قیامت آئے گی بھی یا نہیں ؟ اور پھر اس آرزو میں رہے کہ اگر آئے گی پھر تو ہم ضرور بخش دیئے جائیں گے اور مرتے دم تک اللہ کی طرف یقین خلوص کے ساتھ جھکنے کی توفیق میسر نہ آئی اور اللہ کے ساتھ تمہیں دھوکے باز شیطان نے دھوکے میں ہی رکھا۔ یہاں تک کہ آج تم جہنم واصل ہوگئے۔ مطلب یہ ہے کہ جسموں سے تو تم ہمارے ساتھ تھے لیکن دل اور نیت سے ہمارے ساتھ نہ تھے بلکہ حیرت و شک میں ہی پڑے رہے ریا کاری میں رہے اور دل لگا کر یاد الٰہی کرنا بھی تمہیں نصیب نہ ہوا۔ حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ یہ منافق مومنوں کے ساتھ تھے نکاح بیاہ مجلس مجمع موت زیست میں شریک رہے۔ کہ خبردار ان کا رنگ تم پر نہ چڑھ جائے۔ اصل و فرع میں ان سے بالکل الگ رہو، ابن ابی حاتم میں ہے حضرت ربیع بن ابو عمیلہ فرماتے ہیں قرآن حدیث کی مٹھاس تو مسلم ہی ہے لیکن میں نے حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے ایک بہت ہی پیاری اور میٹھی بات سنی ہے جو مجھے بیحد محبوب اور مرغوب ہے آپ نے فرمایا جب بنو اسرائیل کی الہامی کتاب پر کچھ زمانہ گذر گیا تو ان لوگوں نے کچھ کتابیں خود تصنیف کرلیں اور ان میں وہ مسائل لکھے جو انہیں پسند تھے اور جو ان کے اپنے ذہن سے انہوں نے تراش لئے تھے، اب مزے لے لے کر زبانیں موڑ موڑ کر انہیں پڑھنے لگے ان میں سے اکثر مسائل اللہ کی کتاب کے خلاف تھے جن جن احکام کے ماننے کو ان کا جی نہ چاہتا تھا انہوں نے بدل ڈالے تھے اور اپنی کتاب میں اپنی طبیعت کے مطابق مسائل جمع کر لئے تھے اور انہی پر عامل بن گئے، اب انہیں سوجھی کہ اور لوگوں کو بھی منوائیں اور انہیں بھی آمادہ کریں کہ ان ہی ہماری لکھی ہوئی کتابوں کو شرعی کتابیں سمجھیں اور مدار عمل انہیں پر رکھیں اب لوگوں کو اسی کی دعوت دینے لگے اور زور پکڑتے گئے، یہاں تک کہ جو ان کی ان کتابوں کو نہ مانتا اسے یہ ستاتے تکلیف دیتے مارتے پیٹتے بلکہ قتل کر ڈالتے، ان میں ایک شخص اللہ والے پورے عالم اور متقی تھے انہوں نے ان کی طاقت سے اور زیادتی سے مرعوب ہو کر کتاب اللہ کو ایک لطیف چیز پر لکھ کر ایک نر سنگھے میں ڈال کر اپنی گردن میں اسے ڈال لیا، ان لوگوں کا شر و فساد روز بروز بڑھتا جا رہا تھا یہاں تک کہ بہت سے ان لوگوں کو جو کتاب اللہ پر عامل تھے انہوں نے قتل کردیا، پھر آپس میں مشورہ کیا کہ دیکھو کہ یوں ایک ایک کو کب تک قتل کرتے رہیں گے ؟ ان کا بڑا عالم اور ہماری اس کتاب کو بالکل نہ ماننے والا تمام بنی اسرائیل میں سب سے بڑھ کر کتاب اللہ کا عامل فلاں عالم ہے اسے پکڑو اور اس سے اپنی یہ رائے قیاس کی کتاب منواؤ اگر وہ مان لے گا تو پھر ہماری چاندی ہی چاندی ہے اور اگر وہ نہ مانے تو اسے قتل کردو پھر تمہاری اس کتاب کا مخالف کوئی نہ رہے گا اور دوسرے لوگ خواہ مخواہ ہماری ان کتابوں کو قبول کرلیں گے اور انہیں ماننے لگیں گے، چناچہ ان رائے قیاس والوں نے کتاب اللہ کے عالم و عامل اس بزرگ کو پکڑوا منگوایا اور اس سے کہا کہ دیکھ ہماری اس کتاب میں جو ہے اسے سب کو تو مانتا ہے یا نہیں ؟ ان پر تیرا ایمان ہے یا نہیں ؟ اس اللہ ترس کتاب اللہ کے ماننے والے عالم نے کہا اس میں تم نے کیا لکھا ہے ؟ ذرا مجھے سناؤ تو، انہوں نے سنایا اور کہا اس کو تو مانتا ہے ؟ اس بزرگ کو اپنی جان کا ڈر تھا اس لئے جرات کے ساتھ یہ تو نہ کہہ سکا کہ نہیں مانتا بلکہ اپنے اس نرسنگھے کی طرف اشارہ کر کے کہا میرا اسپر ایمان ہے وہ سمجھ بیٹھے کہ اس کا اشارہ ہماری اس کتاب کی طرف ہے۔ چانچہ اس کی ایذاء رسانی سے باز رہے لیکن تاہم اس کے اطوار و افعال سے کھٹکتے ہی رہے یہاں تک کہ جب اس کا انتقال ہوا تو انہوں نے تفتیش شروع کی کہ ایسا نہ ہو اس کے پاس کتاب اللہ اور دین کے سچے مسائل کی کوئی کتاب ہو آخر وہ نرسنگھا ان کے ہاتھ لگ گیا پڑھا تو اس میں اصلی مسائل کتاب اللہ کے موجود تھے اب بات بنالی کہ ہم نے تو کبھی یہ مسائل نہیں سنے ایسی باتیں ہمارے دین کی نہیں چناچہ زبردست فتنہ برپا ہوگیا اور بہتر گروہ ہوگئے ان سب میں بہتر گروہ جو راستی پر اور حق پر تھا وہ تھا جو اس نرسنگھے والے مسائل پر عامل تھا۔ حضرت ابن مسعود نے یہ واقعہ بیان فرما کر کہا لوگو تم میں سے بھی جو باقی رہے گا وہ ایسے ہی امور کا معائنہ کرے گا اور وہ بالکل بےبس ہوگا ان بری کتابوں کے مٹانے کی اس میں قدرت نہ ہوگی، پس ایسے مجبوری اور بےکسی کے وقت بھی اس کا یہ فرض تو ضرور ہے کہ اللہ تعالیٰ پر یہ ثابت کر دے کہ وہ ان سب کو برا جانتا ہے۔ امام ابو جعفر طبری ؒ نے بھی یہ روایت نقل کی ہے کہ عتریس بن عرقوب حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کے پاس آئے اور کہنے لگے اے ابو عبد اللہ جو شخص بھلائی کا حکم نہ کرے اور برائی سے نہ روکے وہ ہلاک ہوا آپ نے فرمایا ہلاک وہ ہوگا جو اپنے دل سے اچھائی کو اچھائی نہ سمجھے اور برائی کو برائی نہ جانے، پھر آپ نے بنی اسرائیل کا یہ واقعہ بیان فرمایا۔ پھر ارشاد باری لیکن اب یہاں بالکل الگ کردیئے گئے۔ سورة مدثر کی آیتوں میں ہے کہ مسلمان مجرموں سے انہیں جہنم میں دیکھ کر پوچھیں گے کہ آخر تم یہاں کیسے پھنس گئے اور وہ اپنے بد اعمال گنوائیں گے۔ تو یاد رہے کہ یہ سوال صرف بطور ڈانٹ ڈپٹ کے اور انہیں شرمندہ کرنے کے لئے ہوگا ورنہ حقیقت حال سے مسلمان خوب آگاہ ہوں گے۔ پھر یہ جیسے وہاں فرمایا تھا کہ کسی کی سفارش انہیں نفع نہ دے گی، یہاں فرمایا آج ان سے فدیہ نہ لیا جائے گا گو زمین بھر کر سونا دیں قبول نہ کیا جائے گا نہ منافقوں سے نہ کافروں سے ان کا مرجع و ماویٰ جہنم ہے وہی ان کے لائق ہے اور ظاہر ہے کہ وہ بدترین جگہ ہے۔
14
View Single
يُنَادُونَهُمۡ أَلَمۡ نَكُن مَّعَكُمۡۖ قَالُواْ بَلَىٰ وَلَٰكِنَّكُمۡ فَتَنتُمۡ أَنفُسَكُمۡ وَتَرَبَّصۡتُمۡ وَٱرۡتَبۡتُمۡ وَغَرَّتۡكُمُ ٱلۡأَمَانِيُّ حَتَّىٰ جَآءَ أَمۡرُ ٱللَّهِ وَغَرَّكُم بِٱللَّهِ ٱلۡغَرُورُ
The hypocrites will call out to the Muslims, “Were we not with you?”; they will answer, “Yes you were, why not? But you had put your souls into trial, and you used to await misfortune for the Muslims, and you doubted, and false hopes deceived you until Allah’s command came – and the big cheat had made you conceited towards the command of Allah.”
وہ (منافق) اُن (مومنوں) کو پکار کر کہیں گے: کیا ہم (دنیا میں) تمہاری سنگت میں نہ تھے؟ وہ کہیں گے: کیوں نہیں! لیکن تم نے اپنے آپ کو (منافقت کے) فتنہ میں مبتلا کر دیا تھا اور تم (ہمارے لئے برائی اور نقصان کے) منتظر رہتے تھے اور تم (نبوّتِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور دینِ اسلام میں) شک کرتے تھے اور باطل امیدوں نے تمہیں دھوکے میں ڈال دیا، یہاں تک کہ اللہ کا اَمرِ (موت) آپہنچا اور تمہیں اللہ کے بارے میں دغا باز (شیطان) دھوکہ دیتا رہا
Tafsir Ibn Kathir
The Believers are awarded a Light on the Day of Resurrection, according to Their Good Deeds
Allah the Exalted states that the believers who spend in charity will come on the Day of Resurrection with their light preceding them in the area of the Gathering, according to the level of their good deeds. As reported from `Abdullah bin Mas`ud:
يَسْعَى نُورُهُم بَيْنَ أَيْدِيهِمْ
(their light running forward before them), he said, "They will pass over the Sirat according to their deeds. Some of them will have a light as large as a mountain, some as a date tree, some as big as a man in the standing position. The least among them has a light as big as his index finger, it is lit at times and extinguished at other times." Ibn Abi Hatim and Ibn Jarir collected this Hadith. Ad-Dahhak commented on the Ayah, "Everyone will be given a light on the Day of Resurrection. When they arrive at the Sirat, the light of the hypocrites will be extinguished. When the believers see this, they will be concerned that their light also will be extinguished, just as the light of the hypocrites was. This is when the believers will invoke Allah, `O our Lord! Perfect our light for us."' Allah's statement,
وَبِأَيْمَـنِهِم
(and in their right hands.) Ad-Dahhak said: "Their Books of Records." As Allah said:
فَمَنْ أُوتِىَ كِتَـبَهُ بِيَمِينِهِ
(So whosoever is given his record in his right hand.)(17:71) Allah said,
بُشْرَاكُمُ الْيَوْمَ جَنَّـتٌ تَجْرِى مِن تَحْتِهَا الاٌّنْهَـرُ
(Glad tidings for you this Day! Gardens under which rivers flow,) meaning, it will be said to them, "Receive glad tidings this Day, of gardens beneath which rivers flow,
خَـلِدِينَ فِيهَآ
(to dwell therein forever!), you will remain therein forever,"
ذَلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ
(Truly, this is the great success!)
The Condition of the Hypocrites on the Day of Resurrection
Allah said,
يَوْمَ يَقُولُ الْمُنَـفِقُونَ وَالْمُنَـفِقَـتُ لِلَّذِينَ ءَامَنُواْ انظُرُونَا نَقْتَبِسْ مِن نُّورِكُمْ
(On the Day when the hypocrites men and women will say to the believers: "Wait for us! Let us get something from your light!") Allah informs us in this Ayah of the terrible horrors, horrendous incidents and tremendous events that will take place on the Day of Resurrection in the Gathering Area. No one will be saved on that Day, except those who believed in Allah and His Messenger, obeyed Allah's commands and avoided His prohibitions. Al-`Awfi, Ad-Dahhak and others reported from Ibn `Abbas: "When the people are gathering in darkness, Allah will send light, and when the believers see the light they will march towards it. This light will be their guide from Allah to Paradise. When the hypocrites see the believers following the light, they will follow them. However, Allah will extinguish the light for the hypocrites and they will say (to the believers),
انظُرُونَا نَقْتَبِسْ مِن نُّورِكُمْ
(Wait for us! Let us get something from your light.) The believers will reply by saying,
ارْجِعُواْ وَرَآءَكُمْ
`(Go back to your rear!) to the dark area you were in, and look for a light there!"' Allah said,
فَضُرِبَ بَيْنَهُم بِسُورٍ لَّهُ بَابٌ بَاطِنُهُ فِيهِ الرَّحْمَةُ وَظَـهِرُهُ مِن قِبَلِهِ الْعَذَابُ
(So, a wall will be put up between them, with a gate therein. Inside it will be mercy, and outside it will be torment.) Al-Hasan and Qatadah said that the wall mentioned here is located between Paradise and Hellfire. `Abdur-Rahman bin Zayd bin Aslam said that the wall mentioned in this Ayah is the wall that Allah described in His statement,
وَبَيْنَهُمَا حِجَابٌ
(And between them will be a (barrier) screen.)(7:46) Similar was reported from Mujahid and others, and it is correct. Allah said,
بَاطِنُهُ فِيهِ الرَّحْمَةُ
(Inside it will be mercy,) meaning, Paradise and all that is in it,
وَظَـهِرُهُ مِن قِبَلِهِ الْعَذَابُ
(and outside it will be torment.) meaning, the Hellfire, according to Qatadah, Ibn Zayd and others. Allah said,
يُنَـدُونَهُمْ أَلَمْ نَكُن مَّعَكُمْ
((The hypocrites) will call the believers: "Were we not with you") meaning, the hypocrites will call out to the believers saying, "Were we not with you in the life of the world, attending Friday prayers and congregational prayers Did we not stand with you on Mount `Arafah (during Hajj), participate in battle by your side and perform all types of acts of worship with you"
قَالُواْ بَلَى
(The believers will reply: "Yes!...") The believers will answer the hypocrites by saying, "Yes, you were with us,
وَلَـكِنَّكُمْ فَتَنتُمْ أَنفُسَكُمْ وَتَرَبَّصْتُمْ وَارْتَبْتُمْ وَغرَّتْكُمُ الاٌّمَانِىُّ
(But you led yourselves into temptations, you looked forward to our destruction; and you doubted (in faith) and you were deceived by false hopes,) " Qatadah said,
وَتَرَبَّصْتُمْ
(you looked forward to destruction), "Of the truth and its people."
وَارْتَبْتُمْ
(and you doubted,) that Resurrection occurs after death,
وَغرَّتْكُمُ الاٌّمَانِىُّ
(and you were deceived by false hopes,) meaning: you said that you will be forgiven your sins; or, they say it means: this life deceived you;
حَتَّى جَآءَ أَمْرُ اللَّهِ
(till the command of Allah came to pass.) meaning: you remained on this path until death came to you,
وَغَرَّكُم بِاللَّهِ الْغَرُورُ
(And the deceiver deceived you in regard to Allah.) `the deceiver' being Shaytan. Qatadah said, "They were deceived by Ash-Shaytan. By Allah! They remained deceived until Allah cast them into Hellfire." The meaning here is that the believers will answer the hypocrites by saying, "You were with us in bodies which were heartless and devoid of intentions. You were cast in doubt and suspicion. You were showing off for people and remembered Allah, little." Mujahid commented, "The hypocrites were with the believers in this life, marrying from among each other, yet betraying them even when they were associating with them. They were dead. They will both be given a light on the Day of Resurrection, but the light of the hypocrites will be extinguished when they reach the wall; this is when the two camps separate and part!" Allah's statement,
مَأْوَاكُمُ النَّارُ
(Your abode is the Fire.) means, the Fire is your final destination and to it will be your return for residence,
هِىَ مَوْلَـكُمْ
(That is your protector,) meaning, it is the worthy shelter for you rather than any other residence, because of your disbelief and doubt, and how evil is the Fire for Final Destination.
اعمال کے مطابق بدلہ دیا جائے گا یہاں بیان ہو رہا ہے کہ مسلمانوں کے نیک اعمال کے مطابق انہیں نور ملے گا جو قیامت کے دن کے ان کے ساتھ ساتھ رہے گا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں ان میں بعض کا نور پہاڑوں کے برابر ہوگا اور بعض کا کھجوروں کے درختوں کے برابر اور بعض کا کھڑے انسان کے قد کے برابر سب سے کم نور جس گنہگار مومن کا ہوگا اس کے پیر کے انگوٹھے پر نور ہوگا جو کبھی روشن ہوتا ہوگا اور کبھی بجھ جاتا ہوگا (ابن جریر) حضرت قتادہ فرماتے ہیں ہم سے ذکر کیا گیا ہے کہ حضور ﷺ کا ارشاد ہے بعض مومن ایسے بھی ہوں گے جن کا نور اس قدر ہوگا کہ جس قدر مدینہ سے عدن دور ہے اور ابین دور ہے اور صنعا دور ہے۔ بعض اس سے کم بعض اس سے کم یہاں تک کہ بعض وہ بھی ہوں گے جن کے نور سے صرف ان کے دونوں قدموں کے پاس ہی اجالا ہوگا۔ حضرت جنادہ بن ابو امیہ فرماتے ہیں لوگو ! تمہارے نام مع ولدیت کے اور خاص نشانیوں کے اللہ کے ہاں لکھے ہوئے ہیں اسی طرح تمہارا ہر ظاہر باطن عمل بھی وہاں لکھا ہوا ہے قیامت کے دن نام لے کر پکار کر کہہ دیا جائے گا کہ اے فلاں یہ تیرا نور ہے اور اے فلاں تیرے لئے کوئی نور ہمارے ہاں نہیں۔ پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔ حضرت ضحاک فرماتے ہیں اول اول تو ہر شخص کو نور عطا ہوگا لیکن جب پل صراط پر جائیں گے تو منافقوں کا نور بجھ جائے گا اسے دیکھ کر مومن بھی ڈرنے لگیں گے کہ ایسا نہ ہو ہمارا نور بھی بجھ جائے تو اللہ سے دعائیں کریں گے کہ یا اللہ ہمارا نور ہمارے لئے پورا پورا کر۔ حضرت حسن فرماتے ہیں اس آیت سے مراد پل صراط پر نور کا ملنا ہے تاکہ اس اندھیری جگہ سے با آرام گذر جائیں۔ رسول مقبول ﷺ فرماتے ہیں سب سے پہلے سجدے کی اجازت قیامت کے دن مجھے دی جائے گی اور اسی طرح سب سے پہلے سجدے سے سر اٹھانے کا حکم بھی مجھے ہوگا میں آگے پیچھے دائیں بائیں نظریں ڈالوں گا اور اپنی امت کو پہچان لوں گا تو ایک شخص نے کہا حضور ﷺ حضرت نوح ؑ سے لے کر آپ کی امت تک کی تمام امتیں اس میدان میں اکٹھی ہوں گی ان میں سے آپ اپنی امت کی شناخت کیسے کریں گے ؟ آپ نے فرمایا بعض مخصوص نشانیوں کی وجہ سے میری امت کے اعضاء وضو چمک رہے ہوں گے یہ وصف کسی اور امت میں نہ ہوگا اور انہیں ان کے نامہ اعمال ان کے داہنے ہاتھوں میں دیئے جائیں گے اور ان کے چہرے چمک رہے ہوں گے اور ان کا نور ان کے آگے آگے چلتا ہوگا اور ان کی اولاد ان کے ساتھ ہی ہوگی۔ ضحاک فرماتے ہیں ان کے دائیں ہاتھ میں ان کا عمل نامہ ہوگا جیسے اور آیتوں میں تشریح ہے۔ ان سے کہا جائے گا کہ آج تمہیں ان جنتوں کی بشارت ہے جن کے چپے چپے پر چشمے جاری ہیں جہاں سے کبھی نکلنا نہیں، یہ زبردست کامیابی ہے۔ اس کے بعد کی آیت میں میدان قیامت کے ہولناک دل شکن اور کپکپا دینے والے واقعہ کا بیان ہے کہ سوائے سچے ایمان اور کھرے اعمال والوں کے نجات کسی کو منہ دکھائے گی۔ سلیم بن عامر فرماتے ہیں ہم ایک جنازے کے ساتھ باب دمشق میں تھے جب جنازے کی نماز ہوچکی اور دفن کا کام شروع ہوا تو حضرت ابو امامہ باہلی ؓ نے فرمایا لوگو ! تم اس دنیا کی منزل میں آج صبح شام کر رہے ہو نیکیاں برائیاں کرسکتے ہو اس کے بعد ایک اور منزل کی طرف تم سب کوچ کرنے والے ہو وہ منزل یہی قبر کی ہے جو تنہائی کا، اندھیرے کا، کیڑوں کا اور تنگی اور تاریکی والا گھر ہے مگر جس کے لئے اللہ تعالیٰ اسے وسعت دے دے۔ یہاں سے تم پھر میدان قیامت کے مختلف مقامات پر وارد ہو گے۔ ایک جگہ بہت سے لوگوں کے چہرے سفید ہوجائیں گے اور بہت سے لوگوں کے سیاہ پڑجائیں گے، پھر ایک اور میدان میں جاؤ گے جہاں سخت اندھیرا ہوگا وہاں ایمانداروں کو نور تقسیم کیا جائے گا اور کافر و منافق بےنور رہ جائے گا، اسی کا ذکر آیت (او ظلمات) الخ، میں ہے پس جس طرح آنکھوں والے کی بصارت سے اندھا کوئی نفع حاصل نہیں کرسکتا منافق و کافر ایماندار کے نور سے کچھ فائدہ نہ اٹھا سکے گا۔ تو منافق ایمانداروں سے آرزو کریں گے کہ اس قدر آگے نہ بڑھ جاؤ کچھ تو ٹھہرو جو ہم بھی تمہارے نور کے سہارے چلیں تو جس طرح یہ دنیا میں مسلمانوں کے ساتھ مکر و فریب کرتے تھے آج ان سے کہا جائے گا کہ لوٹ جاؤ اور نور تلاش کر لاؤ یہ واپس نور کی تقسیم کی جگہ جائیں گے لیکن وہاں کچھ نہ پائیں گے، یہی اللہ کا وہ مکر ہے جس کا بیان آیت (اِنَّ الْمُنٰفِقِيْنَ يُخٰدِعُوْنَ اللّٰهَ وَھُوَ خَادِعُھُمْ ۚ وَاِذَا قَامُوْٓا اِلَى الصَّلٰوةِ قَامُوْا كُسَالٰى ۙ يُرَاۗءُوْنَ النَّاسَ وَلَا يَذْكُرُوْنَ اللّٰهَ اِلَّا قَلِيْلًا01402ۡۙ) 4۔ النسآء :142) ، میں ہے۔ اب لوٹ کر یہاں جو آئیں گے تو دیکھیں گے کہ مومنوں اور ان کے درمیان ایک دیوار حائل ہوگئی ہے جس کے اس طرف رحمت ہی رحمت ہے اور اس طرف عذاب و سزا ہے۔ پس منافق نور کی تقسیم کے وقت تک دھوکے میں ہی پڑ رہے گا نور مل جانے پر بھید کھل جائے گا تمیز ہوجائے گی اور یہ منافق اللہ کی رحمت سے مایوس ہوجائیں گے۔ ابن عباس سے مروی ہے کہ جب کامل اندھیرا چھایا ہوا ہوگا کہ کوئی انسان اپنا ہاتھ بھی نہ دیکھ سکے اس وقت اللہ تعالیٰ ایک نور ظاہر کرے گا مسلمان اس طرف جانے لگیں گے تو منافق بھی پیچھے لگ جائیں گے۔ جب مومن زیادہ آگے نکل جائیں گے تو یہ انہیں ٹھہرانے کے لئے آواز دیں گے اور یاد دلائیں گے کہ دنیا میں ہم سب ساتھ ہی تھے۔ حضور ﷺ کا ارشاد ہے کہ قیامت کے دن لوگوں کو ان کی پردہ پوشی کے لئے ان کے ناموں سے پکارا جائے گا لیکن پل صراط پر تمیز ہوجائے گی مومنوں کو نور ملے گا اور منافقوں کو بھی ملے گا لیکن جب درمیان میں پہنچ جائیں گے منافقوں کا نور بجھ جائے گا یہ مومنوں کو آواز دیں گے لیکن اس وقت خود مومن خوف زدہ ہو رہے ہوں گے یہ وہ وقت ہوگا کہ ہر ایک آپادھاپی میں ہوگا، جس دیوار کا یہاں ذکر ہے یہ جنت و دوزخ کے درمیان حد فاصل ہوگی اسی کا ذکر آیت (وَبَيْنَهُمَا حِجَابٌ ۚ وَعَلَي الْاَعْرَافِ رِجَالٌ يَّعْرِفُوْنَ كُلًّاۢ بِسِيْمٰىهُمْ ۚ وَنَادَوْا اَصْحٰبَ الْجَنَّةِ اَنْ سَلٰمٌ عَلَيْكُمْ ۣ لَمْ يَدْخُلُوْهَا وَهُمْ يَطْمَعُوْنَ 46) 7۔ الاعراف :46) میں ہے۔ پس جنت میں رحمت اور جہنم میں عذاب۔ ٹھیک بات یہی ہے لیکن بعض کا قول ہے کہ اس سے مراد بیت المقدس کی دیوار ہے جو جہنم کی وادی کے پاس ہوگی، ابن عمر سے مروی ہے کہ یہ دیوار بیت المقدس کی شرقی دیوار ہے جس کے باطن میں مسجد وغیرہ ہے اور جس کے ظاہر میں وادی جہنم ہے اور بعض بزرگوں نے بھی یہی کہا ہے، لیکن یہ یاد رکھنا چاہئے کہ ان کا مطلب یہ نہیں کہ بعینہ یہی دیوار اس آیت میں مراد ہے بلکہ اس کا ذکر بطور قرب کے معنی میں آیت کی تفسیر میں ان حضرات نے کردیا ہے اس لئے کہ جنت آسمانوں میں اعلیٰ علین میں ہے اور جہنم اسفل السافلین میں حضرت کعب احبار سے مروی ہے کہ جس دروازے کا ذکر اس آیت میں ہے اس سے مراد مسجد کا باب الرحمت ہے یہ بنو اسرائیل کی روایت ہے جو ہمارے لئے سند نہیں بن سکتی۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ دیوار قیامت کے دن مومنوں اور منافقوں کے درمیان علیحدگی کے لئے کھڑی کی جائے گی مومن تو اس کے دروازے میں سے جا کر جنت میں پہنچ جائیں گے پھر دروازہ بند ہوجائے گا اور منافق حیرت زدہ ظلمت و عذاب میں رہ جائیں گے۔ جیسے کہ دنیا میں بھی یہ لوگ کفر و جہالت شک و حیرت کی اندھیروں میں تھے، اب یہ یاد دلائیں گے کہ دیکھو دنیا میں ہم تمہارے ساتھ تھے جمعہ جماعت ادا کرتے تھے عرفات اور غزوات میں موجود رہتے تھے واجبات ادا کرتے تھے۔ ایماندار کہیں گے ہاں بات تو ٹھیک ہے لیکن اپنے کرتوت تو دیکھو گناہوں میں نفسانی خواہشوں میں اللہ کی نافرمانیوں میں عمر بھر تم لذتیں اٹھاتے رہے اور آج توبہ کرلیں گے کل بد اعمالیوں چھوڑ دیں گے اسی میں رہے۔ انتظار میں ہی عمر گزاری دی کہ دیکھیں مسلمانوں کا نتیجہ کیا ہوتا ہے ؟ اور تمہیں یہ بھی یقین نہ آیا کہ قیامت آئے گی بھی یا نہیں ؟ اور پھر اس آرزو میں رہے کہ اگر آئے گی پھر تو ہم ضرور بخش دیئے جائیں گے اور مرتے دم تک اللہ کی طرف یقین خلوص کے ساتھ جھکنے کی توفیق میسر نہ آئی اور اللہ کے ساتھ تمہیں دھوکے باز شیطان نے دھوکے میں ہی رکھا۔ یہاں تک کہ آج تم جہنم واصل ہوگئے۔ مطلب یہ ہے کہ جسموں سے تو تم ہمارے ساتھ تھے لیکن دل اور نیت سے ہمارے ساتھ نہ تھے بلکہ حیرت و شک میں ہی پڑے رہے ریا کاری میں رہے اور دل لگا کر یاد الٰہی کرنا بھی تمہیں نصیب نہ ہوا۔ حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ یہ منافق مومنوں کے ساتھ تھے نکاح بیاہ مجلس مجمع موت زیست میں شریک رہے۔ کہ خبردار ان کا رنگ تم پر نہ چڑھ جائے۔ اصل و فرع میں ان سے بالکل الگ رہو، ابن ابی حاتم میں ہے حضرت ربیع بن ابو عمیلہ فرماتے ہیں قرآن حدیث کی مٹھاس تو مسلم ہی ہے لیکن میں نے حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے ایک بہت ہی پیاری اور میٹھی بات سنی ہے جو مجھے بیحد محبوب اور مرغوب ہے آپ نے فرمایا جب بنو اسرائیل کی الہامی کتاب پر کچھ زمانہ گذر گیا تو ان لوگوں نے کچھ کتابیں خود تصنیف کرلیں اور ان میں وہ مسائل لکھے جو انہیں پسند تھے اور جو ان کے اپنے ذہن سے انہوں نے تراش لئے تھے، اب مزے لے لے کر زبانیں موڑ موڑ کر انہیں پڑھنے لگے ان میں سے اکثر مسائل اللہ کی کتاب کے خلاف تھے جن جن احکام کے ماننے کو ان کا جی نہ چاہتا تھا انہوں نے بدل ڈالے تھے اور اپنی کتاب میں اپنی طبیعت کے مطابق مسائل جمع کر لئے تھے اور انہی پر عامل بن گئے، اب انہیں سوجھی کہ اور لوگوں کو بھی منوائیں اور انہیں بھی آمادہ کریں کہ ان ہی ہماری لکھی ہوئی کتابوں کو شرعی کتابیں سمجھیں اور مدار عمل انہیں پر رکھیں اب لوگوں کو اسی کی دعوت دینے لگے اور زور پکڑتے گئے، یہاں تک کہ جو ان کی ان کتابوں کو نہ مانتا اسے یہ ستاتے تکلیف دیتے مارتے پیٹتے بلکہ قتل کر ڈالتے، ان میں ایک شخص اللہ والے پورے عالم اور متقی تھے انہوں نے ان کی طاقت سے اور زیادتی سے مرعوب ہو کر کتاب اللہ کو ایک لطیف چیز پر لکھ کر ایک نر سنگھے میں ڈال کر اپنی گردن میں اسے ڈال لیا، ان لوگوں کا شر و فساد روز بروز بڑھتا جا رہا تھا یہاں تک کہ بہت سے ان لوگوں کو جو کتاب اللہ پر عامل تھے انہوں نے قتل کردیا، پھر آپس میں مشورہ کیا کہ دیکھو کہ یوں ایک ایک کو کب تک قتل کرتے رہیں گے ؟ ان کا بڑا عالم اور ہماری اس کتاب کو بالکل نہ ماننے والا تمام بنی اسرائیل میں سب سے بڑھ کر کتاب اللہ کا عامل فلاں عالم ہے اسے پکڑو اور اس سے اپنی یہ رائے قیاس کی کتاب منواؤ اگر وہ مان لے گا تو پھر ہماری چاندی ہی چاندی ہے اور اگر وہ نہ مانے تو اسے قتل کردو پھر تمہاری اس کتاب کا مخالف کوئی نہ رہے گا اور دوسرے لوگ خواہ مخواہ ہماری ان کتابوں کو قبول کرلیں گے اور انہیں ماننے لگیں گے، چناچہ ان رائے قیاس والوں نے کتاب اللہ کے عالم و عامل اس بزرگ کو پکڑوا منگوایا اور اس سے کہا کہ دیکھ ہماری اس کتاب میں جو ہے اسے سب کو تو مانتا ہے یا نہیں ؟ ان پر تیرا ایمان ہے یا نہیں ؟ اس اللہ ترس کتاب اللہ کے ماننے والے عالم نے کہا اس میں تم نے کیا لکھا ہے ؟ ذرا مجھے سناؤ تو، انہوں نے سنایا اور کہا اس کو تو مانتا ہے ؟ اس بزرگ کو اپنی جان کا ڈر تھا اس لئے جرات کے ساتھ یہ تو نہ کہہ سکا کہ نہیں مانتا بلکہ اپنے اس نرسنگھے کی طرف اشارہ کر کے کہا میرا اسپر ایمان ہے وہ سمجھ بیٹھے کہ اس کا اشارہ ہماری اس کتاب کی طرف ہے۔ چانچہ اس کی ایذاء رسانی سے باز رہے لیکن تاہم اس کے اطوار و افعال سے کھٹکتے ہی رہے یہاں تک کہ جب اس کا انتقال ہوا تو انہوں نے تفتیش شروع کی کہ ایسا نہ ہو اس کے پاس کتاب اللہ اور دین کے سچے مسائل کی کوئی کتاب ہو آخر وہ نرسنگھا ان کے ہاتھ لگ گیا پڑھا تو اس میں اصلی مسائل کتاب اللہ کے موجود تھے اب بات بنالی کہ ہم نے تو کبھی یہ مسائل نہیں سنے ایسی باتیں ہمارے دین کی نہیں چناچہ زبردست فتنہ برپا ہوگیا اور بہتر گروہ ہوگئے ان سب میں بہتر گروہ جو راستی پر اور حق پر تھا وہ تھا جو اس نرسنگھے والے مسائل پر عامل تھا۔ حضرت ابن مسعود نے یہ واقعہ بیان فرما کر کہا لوگو تم میں سے بھی جو باقی رہے گا وہ ایسے ہی امور کا معائنہ کرے گا اور وہ بالکل بےبس ہوگا ان بری کتابوں کے مٹانے کی اس میں قدرت نہ ہوگی، پس ایسے مجبوری اور بےکسی کے وقت بھی اس کا یہ فرض تو ضرور ہے کہ اللہ تعالیٰ پر یہ ثابت کر دے کہ وہ ان سب کو برا جانتا ہے۔ امام ابو جعفر طبری ؒ نے بھی یہ روایت نقل کی ہے کہ عتریس بن عرقوب حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کے پاس آئے اور کہنے لگے اے ابو عبد اللہ جو شخص بھلائی کا حکم نہ کرے اور برائی سے نہ روکے وہ ہلاک ہوا آپ نے فرمایا ہلاک وہ ہوگا جو اپنے دل سے اچھائی کو اچھائی نہ سمجھے اور برائی کو برائی نہ جانے، پھر آپ نے بنی اسرائیل کا یہ واقعہ بیان فرمایا۔ پھر ارشاد باری لیکن اب یہاں بالکل الگ کردیئے گئے۔ سورة مدثر کی آیتوں میں ہے کہ مسلمان مجرموں سے انہیں جہنم میں دیکھ کر پوچھیں گے کہ آخر تم یہاں کیسے پھنس گئے اور وہ اپنے بد اعمال گنوائیں گے۔ تو یاد رہے کہ یہ سوال صرف بطور ڈانٹ ڈپٹ کے اور انہیں شرمندہ کرنے کے لئے ہوگا ورنہ حقیقت حال سے مسلمان خوب آگاہ ہوں گے۔ پھر یہ جیسے وہاں فرمایا تھا کہ کسی کی سفارش انہیں نفع نہ دے گی، یہاں فرمایا آج ان سے فدیہ نہ لیا جائے گا گو زمین بھر کر سونا دیں قبول نہ کیا جائے گا نہ منافقوں سے نہ کافروں سے ان کا مرجع و ماویٰ جہنم ہے وہی ان کے لائق ہے اور ظاہر ہے کہ وہ بدترین جگہ ہے۔
15
View Single
فَٱلۡيَوۡمَ لَا يُؤۡخَذُ مِنكُمۡ فِدۡيَةٞ وَلَا مِنَ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْۚ مَأۡوَىٰكُمُ ٱلنَّارُۖ هِيَ مَوۡلَىٰكُمۡۖ وَبِئۡسَ ٱلۡمَصِيرُ
“So this day no ransom is to be taken from you nor from the declared disbelievers; your destination is the fire; that is your companion; and what a wretched outcome!”
پس آج کے دن (اے منافقو!) تم سے کوئی معاوضہ قبول نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی اُن سے جنھوں نے کفر کیا تھا اور تم (سب) کا ٹھکانا دوزخ ہے، اور یہی (ٹھکانا) تمہارا مولا (یعنی ساتھی) ہے، اور وہ نہایت بری جگہ ہے (کیونکہ تم نے اُن کو مولا ماننے سے انکار کر دیا تھا جہاں سے تمہیں نورِ ایمان اور بخشش کی خیرات ملنی تھے)
Tafsir Ibn Kathir
The Believers are awarded a Light on the Day of Resurrection, according to Their Good Deeds
Allah the Exalted states that the believers who spend in charity will come on the Day of Resurrection with their light preceding them in the area of the Gathering, according to the level of their good deeds. As reported from `Abdullah bin Mas`ud:
يَسْعَى نُورُهُم بَيْنَ أَيْدِيهِمْ
(their light running forward before them), he said, "They will pass over the Sirat according to their deeds. Some of them will have a light as large as a mountain, some as a date tree, some as big as a man in the standing position. The least among them has a light as big as his index finger, it is lit at times and extinguished at other times." Ibn Abi Hatim and Ibn Jarir collected this Hadith. Ad-Dahhak commented on the Ayah, "Everyone will be given a light on the Day of Resurrection. When they arrive at the Sirat, the light of the hypocrites will be extinguished. When the believers see this, they will be concerned that their light also will be extinguished, just as the light of the hypocrites was. This is when the believers will invoke Allah, `O our Lord! Perfect our light for us."' Allah's statement,
وَبِأَيْمَـنِهِم
(and in their right hands.) Ad-Dahhak said: "Their Books of Records." As Allah said:
فَمَنْ أُوتِىَ كِتَـبَهُ بِيَمِينِهِ
(So whosoever is given his record in his right hand.)(17:71) Allah said,
بُشْرَاكُمُ الْيَوْمَ جَنَّـتٌ تَجْرِى مِن تَحْتِهَا الاٌّنْهَـرُ
(Glad tidings for you this Day! Gardens under which rivers flow,) meaning, it will be said to them, "Receive glad tidings this Day, of gardens beneath which rivers flow,
خَـلِدِينَ فِيهَآ
(to dwell therein forever!), you will remain therein forever,"
ذَلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ
(Truly, this is the great success!)
The Condition of the Hypocrites on the Day of Resurrection
Allah said,
يَوْمَ يَقُولُ الْمُنَـفِقُونَ وَالْمُنَـفِقَـتُ لِلَّذِينَ ءَامَنُواْ انظُرُونَا نَقْتَبِسْ مِن نُّورِكُمْ
(On the Day when the hypocrites men and women will say to the believers: "Wait for us! Let us get something from your light!") Allah informs us in this Ayah of the terrible horrors, horrendous incidents and tremendous events that will take place on the Day of Resurrection in the Gathering Area. No one will be saved on that Day, except those who believed in Allah and His Messenger, obeyed Allah's commands and avoided His prohibitions. Al-`Awfi, Ad-Dahhak and others reported from Ibn `Abbas: "When the people are gathering in darkness, Allah will send light, and when the believers see the light they will march towards it. This light will be their guide from Allah to Paradise. When the hypocrites see the believers following the light, they will follow them. However, Allah will extinguish the light for the hypocrites and they will say (to the believers),
انظُرُونَا نَقْتَبِسْ مِن نُّورِكُمْ
(Wait for us! Let us get something from your light.) The believers will reply by saying,
ارْجِعُواْ وَرَآءَكُمْ
`(Go back to your rear!) to the dark area you were in, and look for a light there!"' Allah said,
فَضُرِبَ بَيْنَهُم بِسُورٍ لَّهُ بَابٌ بَاطِنُهُ فِيهِ الرَّحْمَةُ وَظَـهِرُهُ مِن قِبَلِهِ الْعَذَابُ
(So, a wall will be put up between them, with a gate therein. Inside it will be mercy, and outside it will be torment.) Al-Hasan and Qatadah said that the wall mentioned here is located between Paradise and Hellfire. `Abdur-Rahman bin Zayd bin Aslam said that the wall mentioned in this Ayah is the wall that Allah described in His statement,
وَبَيْنَهُمَا حِجَابٌ
(And between them will be a (barrier) screen.)(7:46) Similar was reported from Mujahid and others, and it is correct. Allah said,
بَاطِنُهُ فِيهِ الرَّحْمَةُ
(Inside it will be mercy,) meaning, Paradise and all that is in it,
وَظَـهِرُهُ مِن قِبَلِهِ الْعَذَابُ
(and outside it will be torment.) meaning, the Hellfire, according to Qatadah, Ibn Zayd and others. Allah said,
يُنَـدُونَهُمْ أَلَمْ نَكُن مَّعَكُمْ
((The hypocrites) will call the believers: "Were we not with you") meaning, the hypocrites will call out to the believers saying, "Were we not with you in the life of the world, attending Friday prayers and congregational prayers Did we not stand with you on Mount `Arafah (during Hajj), participate in battle by your side and perform all types of acts of worship with you"
قَالُواْ بَلَى
(The believers will reply: "Yes!...") The believers will answer the hypocrites by saying, "Yes, you were with us,
وَلَـكِنَّكُمْ فَتَنتُمْ أَنفُسَكُمْ وَتَرَبَّصْتُمْ وَارْتَبْتُمْ وَغرَّتْكُمُ الاٌّمَانِىُّ
(But you led yourselves into temptations, you looked forward to our destruction; and you doubted (in faith) and you were deceived by false hopes,) " Qatadah said,
وَتَرَبَّصْتُمْ
(you looked forward to destruction), "Of the truth and its people."
وَارْتَبْتُمْ
(and you doubted,) that Resurrection occurs after death,
وَغرَّتْكُمُ الاٌّمَانِىُّ
(and you were deceived by false hopes,) meaning: you said that you will be forgiven your sins; or, they say it means: this life deceived you;
حَتَّى جَآءَ أَمْرُ اللَّهِ
(till the command of Allah came to pass.) meaning: you remained on this path until death came to you,
وَغَرَّكُم بِاللَّهِ الْغَرُورُ
(And the deceiver deceived you in regard to Allah.) `the deceiver' being Shaytan. Qatadah said, "They were deceived by Ash-Shaytan. By Allah! They remained deceived until Allah cast them into Hellfire." The meaning here is that the believers will answer the hypocrites by saying, "You were with us in bodies which were heartless and devoid of intentions. You were cast in doubt and suspicion. You were showing off for people and remembered Allah, little." Mujahid commented, "The hypocrites were with the believers in this life, marrying from among each other, yet betraying them even when they were associating with them. They were dead. They will both be given a light on the Day of Resurrection, but the light of the hypocrites will be extinguished when they reach the wall; this is when the two camps separate and part!" Allah's statement,
مَأْوَاكُمُ النَّارُ
(Your abode is the Fire.) means, the Fire is your final destination and to it will be your return for residence,
هِىَ مَوْلَـكُمْ
(That is your protector,) meaning, it is the worthy shelter for you rather than any other residence, because of your disbelief and doubt, and how evil is the Fire for Final Destination.
اعمال کے مطابق بدلہ دیا جائے گا یہاں بیان ہو رہا ہے کہ مسلمانوں کے نیک اعمال کے مطابق انہیں نور ملے گا جو قیامت کے دن کے ان کے ساتھ ساتھ رہے گا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں ان میں بعض کا نور پہاڑوں کے برابر ہوگا اور بعض کا کھجوروں کے درختوں کے برابر اور بعض کا کھڑے انسان کے قد کے برابر سب سے کم نور جس گنہگار مومن کا ہوگا اس کے پیر کے انگوٹھے پر نور ہوگا جو کبھی روشن ہوتا ہوگا اور کبھی بجھ جاتا ہوگا (ابن جریر) حضرت قتادہ فرماتے ہیں ہم سے ذکر کیا گیا ہے کہ حضور ﷺ کا ارشاد ہے بعض مومن ایسے بھی ہوں گے جن کا نور اس قدر ہوگا کہ جس قدر مدینہ سے عدن دور ہے اور ابین دور ہے اور صنعا دور ہے۔ بعض اس سے کم بعض اس سے کم یہاں تک کہ بعض وہ بھی ہوں گے جن کے نور سے صرف ان کے دونوں قدموں کے پاس ہی اجالا ہوگا۔ حضرت جنادہ بن ابو امیہ فرماتے ہیں لوگو ! تمہارے نام مع ولدیت کے اور خاص نشانیوں کے اللہ کے ہاں لکھے ہوئے ہیں اسی طرح تمہارا ہر ظاہر باطن عمل بھی وہاں لکھا ہوا ہے قیامت کے دن نام لے کر پکار کر کہہ دیا جائے گا کہ اے فلاں یہ تیرا نور ہے اور اے فلاں تیرے لئے کوئی نور ہمارے ہاں نہیں۔ پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔ حضرت ضحاک فرماتے ہیں اول اول تو ہر شخص کو نور عطا ہوگا لیکن جب پل صراط پر جائیں گے تو منافقوں کا نور بجھ جائے گا اسے دیکھ کر مومن بھی ڈرنے لگیں گے کہ ایسا نہ ہو ہمارا نور بھی بجھ جائے تو اللہ سے دعائیں کریں گے کہ یا اللہ ہمارا نور ہمارے لئے پورا پورا کر۔ حضرت حسن فرماتے ہیں اس آیت سے مراد پل صراط پر نور کا ملنا ہے تاکہ اس اندھیری جگہ سے با آرام گذر جائیں۔ رسول مقبول ﷺ فرماتے ہیں سب سے پہلے سجدے کی اجازت قیامت کے دن مجھے دی جائے گی اور اسی طرح سب سے پہلے سجدے سے سر اٹھانے کا حکم بھی مجھے ہوگا میں آگے پیچھے دائیں بائیں نظریں ڈالوں گا اور اپنی امت کو پہچان لوں گا تو ایک شخص نے کہا حضور ﷺ حضرت نوح ؑ سے لے کر آپ کی امت تک کی تمام امتیں اس میدان میں اکٹھی ہوں گی ان میں سے آپ اپنی امت کی شناخت کیسے کریں گے ؟ آپ نے فرمایا بعض مخصوص نشانیوں کی وجہ سے میری امت کے اعضاء وضو چمک رہے ہوں گے یہ وصف کسی اور امت میں نہ ہوگا اور انہیں ان کے نامہ اعمال ان کے داہنے ہاتھوں میں دیئے جائیں گے اور ان کے چہرے چمک رہے ہوں گے اور ان کا نور ان کے آگے آگے چلتا ہوگا اور ان کی اولاد ان کے ساتھ ہی ہوگی۔ ضحاک فرماتے ہیں ان کے دائیں ہاتھ میں ان کا عمل نامہ ہوگا جیسے اور آیتوں میں تشریح ہے۔ ان سے کہا جائے گا کہ آج تمہیں ان جنتوں کی بشارت ہے جن کے چپے چپے پر چشمے جاری ہیں جہاں سے کبھی نکلنا نہیں، یہ زبردست کامیابی ہے۔ اس کے بعد کی آیت میں میدان قیامت کے ہولناک دل شکن اور کپکپا دینے والے واقعہ کا بیان ہے کہ سوائے سچے ایمان اور کھرے اعمال والوں کے نجات کسی کو منہ دکھائے گی۔ سلیم بن عامر فرماتے ہیں ہم ایک جنازے کے ساتھ باب دمشق میں تھے جب جنازے کی نماز ہوچکی اور دفن کا کام شروع ہوا تو حضرت ابو امامہ باہلی ؓ نے فرمایا لوگو ! تم اس دنیا کی منزل میں آج صبح شام کر رہے ہو نیکیاں برائیاں کرسکتے ہو اس کے بعد ایک اور منزل کی طرف تم سب کوچ کرنے والے ہو وہ منزل یہی قبر کی ہے جو تنہائی کا، اندھیرے کا، کیڑوں کا اور تنگی اور تاریکی والا گھر ہے مگر جس کے لئے اللہ تعالیٰ اسے وسعت دے دے۔ یہاں سے تم پھر میدان قیامت کے مختلف مقامات پر وارد ہو گے۔ ایک جگہ بہت سے لوگوں کے چہرے سفید ہوجائیں گے اور بہت سے لوگوں کے سیاہ پڑجائیں گے، پھر ایک اور میدان میں جاؤ گے جہاں سخت اندھیرا ہوگا وہاں ایمانداروں کو نور تقسیم کیا جائے گا اور کافر و منافق بےنور رہ جائے گا، اسی کا ذکر آیت (او ظلمات) الخ، میں ہے پس جس طرح آنکھوں والے کی بصارت سے اندھا کوئی نفع حاصل نہیں کرسکتا منافق و کافر ایماندار کے نور سے کچھ فائدہ نہ اٹھا سکے گا۔ تو منافق ایمانداروں سے آرزو کریں گے کہ اس قدر آگے نہ بڑھ جاؤ کچھ تو ٹھہرو جو ہم بھی تمہارے نور کے سہارے چلیں تو جس طرح یہ دنیا میں مسلمانوں کے ساتھ مکر و فریب کرتے تھے آج ان سے کہا جائے گا کہ لوٹ جاؤ اور نور تلاش کر لاؤ یہ واپس نور کی تقسیم کی جگہ جائیں گے لیکن وہاں کچھ نہ پائیں گے، یہی اللہ کا وہ مکر ہے جس کا بیان آیت (اِنَّ الْمُنٰفِقِيْنَ يُخٰدِعُوْنَ اللّٰهَ وَھُوَ خَادِعُھُمْ ۚ وَاِذَا قَامُوْٓا اِلَى الصَّلٰوةِ قَامُوْا كُسَالٰى ۙ يُرَاۗءُوْنَ النَّاسَ وَلَا يَذْكُرُوْنَ اللّٰهَ اِلَّا قَلِيْلًا01402ۡۙ) 4۔ النسآء :142) ، میں ہے۔ اب لوٹ کر یہاں جو آئیں گے تو دیکھیں گے کہ مومنوں اور ان کے درمیان ایک دیوار حائل ہوگئی ہے جس کے اس طرف رحمت ہی رحمت ہے اور اس طرف عذاب و سزا ہے۔ پس منافق نور کی تقسیم کے وقت تک دھوکے میں ہی پڑ رہے گا نور مل جانے پر بھید کھل جائے گا تمیز ہوجائے گی اور یہ منافق اللہ کی رحمت سے مایوس ہوجائیں گے۔ ابن عباس سے مروی ہے کہ جب کامل اندھیرا چھایا ہوا ہوگا کہ کوئی انسان اپنا ہاتھ بھی نہ دیکھ سکے اس وقت اللہ تعالیٰ ایک نور ظاہر کرے گا مسلمان اس طرف جانے لگیں گے تو منافق بھی پیچھے لگ جائیں گے۔ جب مومن زیادہ آگے نکل جائیں گے تو یہ انہیں ٹھہرانے کے لئے آواز دیں گے اور یاد دلائیں گے کہ دنیا میں ہم سب ساتھ ہی تھے۔ حضور ﷺ کا ارشاد ہے کہ قیامت کے دن لوگوں کو ان کی پردہ پوشی کے لئے ان کے ناموں سے پکارا جائے گا لیکن پل صراط پر تمیز ہوجائے گی مومنوں کو نور ملے گا اور منافقوں کو بھی ملے گا لیکن جب درمیان میں پہنچ جائیں گے منافقوں کا نور بجھ جائے گا یہ مومنوں کو آواز دیں گے لیکن اس وقت خود مومن خوف زدہ ہو رہے ہوں گے یہ وہ وقت ہوگا کہ ہر ایک آپادھاپی میں ہوگا، جس دیوار کا یہاں ذکر ہے یہ جنت و دوزخ کے درمیان حد فاصل ہوگی اسی کا ذکر آیت (وَبَيْنَهُمَا حِجَابٌ ۚ وَعَلَي الْاَعْرَافِ رِجَالٌ يَّعْرِفُوْنَ كُلًّاۢ بِسِيْمٰىهُمْ ۚ وَنَادَوْا اَصْحٰبَ الْجَنَّةِ اَنْ سَلٰمٌ عَلَيْكُمْ ۣ لَمْ يَدْخُلُوْهَا وَهُمْ يَطْمَعُوْنَ 46) 7۔ الاعراف :46) میں ہے۔ پس جنت میں رحمت اور جہنم میں عذاب۔ ٹھیک بات یہی ہے لیکن بعض کا قول ہے کہ اس سے مراد بیت المقدس کی دیوار ہے جو جہنم کی وادی کے پاس ہوگی، ابن عمر سے مروی ہے کہ یہ دیوار بیت المقدس کی شرقی دیوار ہے جس کے باطن میں مسجد وغیرہ ہے اور جس کے ظاہر میں وادی جہنم ہے اور بعض بزرگوں نے بھی یہی کہا ہے، لیکن یہ یاد رکھنا چاہئے کہ ان کا مطلب یہ نہیں کہ بعینہ یہی دیوار اس آیت میں مراد ہے بلکہ اس کا ذکر بطور قرب کے معنی میں آیت کی تفسیر میں ان حضرات نے کردیا ہے اس لئے کہ جنت آسمانوں میں اعلیٰ علین میں ہے اور جہنم اسفل السافلین میں حضرت کعب احبار سے مروی ہے کہ جس دروازے کا ذکر اس آیت میں ہے اس سے مراد مسجد کا باب الرحمت ہے یہ بنو اسرائیل کی روایت ہے جو ہمارے لئے سند نہیں بن سکتی۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ دیوار قیامت کے دن مومنوں اور منافقوں کے درمیان علیحدگی کے لئے کھڑی کی جائے گی مومن تو اس کے دروازے میں سے جا کر جنت میں پہنچ جائیں گے پھر دروازہ بند ہوجائے گا اور منافق حیرت زدہ ظلمت و عذاب میں رہ جائیں گے۔ جیسے کہ دنیا میں بھی یہ لوگ کفر و جہالت شک و حیرت کی اندھیروں میں تھے، اب یہ یاد دلائیں گے کہ دیکھو دنیا میں ہم تمہارے ساتھ تھے جمعہ جماعت ادا کرتے تھے عرفات اور غزوات میں موجود رہتے تھے واجبات ادا کرتے تھے۔ ایماندار کہیں گے ہاں بات تو ٹھیک ہے لیکن اپنے کرتوت تو دیکھو گناہوں میں نفسانی خواہشوں میں اللہ کی نافرمانیوں میں عمر بھر تم لذتیں اٹھاتے رہے اور آج توبہ کرلیں گے کل بد اعمالیوں چھوڑ دیں گے اسی میں رہے۔ انتظار میں ہی عمر گزاری دی کہ دیکھیں مسلمانوں کا نتیجہ کیا ہوتا ہے ؟ اور تمہیں یہ بھی یقین نہ آیا کہ قیامت آئے گی بھی یا نہیں ؟ اور پھر اس آرزو میں رہے کہ اگر آئے گی پھر تو ہم ضرور بخش دیئے جائیں گے اور مرتے دم تک اللہ کی طرف یقین خلوص کے ساتھ جھکنے کی توفیق میسر نہ آئی اور اللہ کے ساتھ تمہیں دھوکے باز شیطان نے دھوکے میں ہی رکھا۔ یہاں تک کہ آج تم جہنم واصل ہوگئے۔ مطلب یہ ہے کہ جسموں سے تو تم ہمارے ساتھ تھے لیکن دل اور نیت سے ہمارے ساتھ نہ تھے بلکہ حیرت و شک میں ہی پڑے رہے ریا کاری میں رہے اور دل لگا کر یاد الٰہی کرنا بھی تمہیں نصیب نہ ہوا۔ حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ یہ منافق مومنوں کے ساتھ تھے نکاح بیاہ مجلس مجمع موت زیست میں شریک رہے۔ کہ خبردار ان کا رنگ تم پر نہ چڑھ جائے۔ اصل و فرع میں ان سے بالکل الگ رہو، ابن ابی حاتم میں ہے حضرت ربیع بن ابو عمیلہ فرماتے ہیں قرآن حدیث کی مٹھاس تو مسلم ہی ہے لیکن میں نے حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے ایک بہت ہی پیاری اور میٹھی بات سنی ہے جو مجھے بیحد محبوب اور مرغوب ہے آپ نے فرمایا جب بنو اسرائیل کی الہامی کتاب پر کچھ زمانہ گذر گیا تو ان لوگوں نے کچھ کتابیں خود تصنیف کرلیں اور ان میں وہ مسائل لکھے جو انہیں پسند تھے اور جو ان کے اپنے ذہن سے انہوں نے تراش لئے تھے، اب مزے لے لے کر زبانیں موڑ موڑ کر انہیں پڑھنے لگے ان میں سے اکثر مسائل اللہ کی کتاب کے خلاف تھے جن جن احکام کے ماننے کو ان کا جی نہ چاہتا تھا انہوں نے بدل ڈالے تھے اور اپنی کتاب میں اپنی طبیعت کے مطابق مسائل جمع کر لئے تھے اور انہی پر عامل بن گئے، اب انہیں سوجھی کہ اور لوگوں کو بھی منوائیں اور انہیں بھی آمادہ کریں کہ ان ہی ہماری لکھی ہوئی کتابوں کو شرعی کتابیں سمجھیں اور مدار عمل انہیں پر رکھیں اب لوگوں کو اسی کی دعوت دینے لگے اور زور پکڑتے گئے، یہاں تک کہ جو ان کی ان کتابوں کو نہ مانتا اسے یہ ستاتے تکلیف دیتے مارتے پیٹتے بلکہ قتل کر ڈالتے، ان میں ایک شخص اللہ والے پورے عالم اور متقی تھے انہوں نے ان کی طاقت سے اور زیادتی سے مرعوب ہو کر کتاب اللہ کو ایک لطیف چیز پر لکھ کر ایک نر سنگھے میں ڈال کر اپنی گردن میں اسے ڈال لیا، ان لوگوں کا شر و فساد روز بروز بڑھتا جا رہا تھا یہاں تک کہ بہت سے ان لوگوں کو جو کتاب اللہ پر عامل تھے انہوں نے قتل کردیا، پھر آپس میں مشورہ کیا کہ دیکھو کہ یوں ایک ایک کو کب تک قتل کرتے رہیں گے ؟ ان کا بڑا عالم اور ہماری اس کتاب کو بالکل نہ ماننے والا تمام بنی اسرائیل میں سب سے بڑھ کر کتاب اللہ کا عامل فلاں عالم ہے اسے پکڑو اور اس سے اپنی یہ رائے قیاس کی کتاب منواؤ اگر وہ مان لے گا تو پھر ہماری چاندی ہی چاندی ہے اور اگر وہ نہ مانے تو اسے قتل کردو پھر تمہاری اس کتاب کا مخالف کوئی نہ رہے گا اور دوسرے لوگ خواہ مخواہ ہماری ان کتابوں کو قبول کرلیں گے اور انہیں ماننے لگیں گے، چناچہ ان رائے قیاس والوں نے کتاب اللہ کے عالم و عامل اس بزرگ کو پکڑوا منگوایا اور اس سے کہا کہ دیکھ ہماری اس کتاب میں جو ہے اسے سب کو تو مانتا ہے یا نہیں ؟ ان پر تیرا ایمان ہے یا نہیں ؟ اس اللہ ترس کتاب اللہ کے ماننے والے عالم نے کہا اس میں تم نے کیا لکھا ہے ؟ ذرا مجھے سناؤ تو، انہوں نے سنایا اور کہا اس کو تو مانتا ہے ؟ اس بزرگ کو اپنی جان کا ڈر تھا اس لئے جرات کے ساتھ یہ تو نہ کہہ سکا کہ نہیں مانتا بلکہ اپنے اس نرسنگھے کی طرف اشارہ کر کے کہا میرا اسپر ایمان ہے وہ سمجھ بیٹھے کہ اس کا اشارہ ہماری اس کتاب کی طرف ہے۔ چانچہ اس کی ایذاء رسانی سے باز رہے لیکن تاہم اس کے اطوار و افعال سے کھٹکتے ہی رہے یہاں تک کہ جب اس کا انتقال ہوا تو انہوں نے تفتیش شروع کی کہ ایسا نہ ہو اس کے پاس کتاب اللہ اور دین کے سچے مسائل کی کوئی کتاب ہو آخر وہ نرسنگھا ان کے ہاتھ لگ گیا پڑھا تو اس میں اصلی مسائل کتاب اللہ کے موجود تھے اب بات بنالی کہ ہم نے تو کبھی یہ مسائل نہیں سنے ایسی باتیں ہمارے دین کی نہیں چناچہ زبردست فتنہ برپا ہوگیا اور بہتر گروہ ہوگئے ان سب میں بہتر گروہ جو راستی پر اور حق پر تھا وہ تھا جو اس نرسنگھے والے مسائل پر عامل تھا۔ حضرت ابن مسعود نے یہ واقعہ بیان فرما کر کہا لوگو تم میں سے بھی جو باقی رہے گا وہ ایسے ہی امور کا معائنہ کرے گا اور وہ بالکل بےبس ہوگا ان بری کتابوں کے مٹانے کی اس میں قدرت نہ ہوگی، پس ایسے مجبوری اور بےکسی کے وقت بھی اس کا یہ فرض تو ضرور ہے کہ اللہ تعالیٰ پر یہ ثابت کر دے کہ وہ ان سب کو برا جانتا ہے۔ امام ابو جعفر طبری ؒ نے بھی یہ روایت نقل کی ہے کہ عتریس بن عرقوب حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کے پاس آئے اور کہنے لگے اے ابو عبد اللہ جو شخص بھلائی کا حکم نہ کرے اور برائی سے نہ روکے وہ ہلاک ہوا آپ نے فرمایا ہلاک وہ ہوگا جو اپنے دل سے اچھائی کو اچھائی نہ سمجھے اور برائی کو برائی نہ جانے، پھر آپ نے بنی اسرائیل کا یہ واقعہ بیان فرمایا۔ پھر ارشاد باری لیکن اب یہاں بالکل الگ کردیئے گئے۔ سورة مدثر کی آیتوں میں ہے کہ مسلمان مجرموں سے انہیں جہنم میں دیکھ کر پوچھیں گے کہ آخر تم یہاں کیسے پھنس گئے اور وہ اپنے بد اعمال گنوائیں گے۔ تو یاد رہے کہ یہ سوال صرف بطور ڈانٹ ڈپٹ کے اور انہیں شرمندہ کرنے کے لئے ہوگا ورنہ حقیقت حال سے مسلمان خوب آگاہ ہوں گے۔ پھر یہ جیسے وہاں فرمایا تھا کہ کسی کی سفارش انہیں نفع نہ دے گی، یہاں فرمایا آج ان سے فدیہ نہ لیا جائے گا گو زمین بھر کر سونا دیں قبول نہ کیا جائے گا نہ منافقوں سے نہ کافروں سے ان کا مرجع و ماویٰ جہنم ہے وہی ان کے لائق ہے اور ظاہر ہے کہ وہ بدترین جگہ ہے۔
16
View Single
۞أَلَمۡ يَأۡنِ لِلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ أَن تَخۡشَعَ قُلُوبُهُمۡ لِذِكۡرِ ٱللَّهِ وَمَا نَزَلَ مِنَ ٱلۡحَقِّ وَلَا يَكُونُواْ كَٱلَّذِينَ أُوتُواْ ٱلۡكِتَٰبَ مِن قَبۡلُ فَطَالَ عَلَيۡهِمُ ٱلۡأَمَدُ فَقَسَتۡ قُلُوبُهُمۡۖ وَكَثِيرٞ مِّنۡهُمۡ فَٰسِقُونَ
Has not the time come for the believers to surrender their hearts to Allah’s remembrance and to this truth that has come down? And do not be like those who were earlier given the Book(s) and when a long term passed over them, their hearts became hardened; and many of them are sinners.
کیا ایمان والوں کے لئے (ابھی) وہ وقت نہیں آیا کہ اُن کے دل اللہ کی یاد کے لئے رِقّت کے ساتھ جھک جائیں اور اس حق کے لئے (بھی) جو نازل ہوا ہے اور اُن لوگوں کی طرح نہ ہو جائیں جنہیں اس سے پہلے کتاب دی گئی تھی پھر ان پر مدّت دراز گزر گئی تو اُن کے دل سخت ہوگئے، اور ان میں بہت سے لوگ نافرمان ہیں
Tafsir Ibn Kathir
meaning, it is the worthy shelter for you rather than any other residence, because of your disbelief and doubt, and how evil is the Fire for Final Destination.
Encouraging Khushu` and the Prohibition of imitating the People of the Scriptures
Allah asks, `Has not the time come for the believers to feel humility in their hearts by the remembrance of Allah and hearing subtle advice and the recitation of the Qur'an, so that they may comprehend the Qur'an, abide by it, and hear and obey Muslim recorded that `Abdullah bin Mas`ud said, "Only four years separated our acceptance of Islam and the revelation of this Ayah, in which Allah subtly admonished us,
أَلَمْ يَأْنِ لِلَّذِينَ ءَامَنُواْ أَن تَخْشَعَ قُلُوبُهُمْ لِذِكْرِ اللَّهِ
(Has not the time yet come for the believers that their hearts should be humble for the remembrance of Allah)" This is the narration Muslim collected, just before the end of his book. An-Nasa'i also collected this Hadith in the Tafsir of this Ayah. Allah's statement,
وَلاَ يَكُونُواْ كَالَّذِينَ أُوتُواْ الْكِتَـبَ مِن قَبْلُ فَطَالَ عَلَيْهِمُ الاٌّمَدُ فَقَسَتْ قُلُوبُهُمْ
(Lest they become as those who received the Scripture before, and the term was prolonged for them and so their hearts were hardened) Allah is prohibiting the believers from imitating those who were given the Scriptures before them, the Jews and Christians. As time passed, they changed the Book of Allah that they had, and sold it for a small, miserable price. They also abandoned Allah's Book behind their back and were impressed and consumed by various opinions and false creeds. They imitated the way others behaved with the religion of Allah, making their rabbis and priests into gods beside Allah. Consequently, their hearts became hard and they would not accept advice; their hearts did not feel humbled by Allah's promises or threats,
وَكَثِيرٌ مِّنْهُمْ فَـسِقُونَ
(And many of them were rebellious.) meaning, in action; therefore, their hearts are corrupt and their actions are invalid, just as Allah the Exalted said,
فَبِمَا نَقْضِهِم مِّيثَـقَهُمْ لَعنَّـهُمْ وَجَعَلْنَا قُلُوبَهُمْ قَاسِيَةً يُحَرِّفُونَ الْكَلِمَ عَن مَّوَضِعِهِ وَنَسُواْ حَظَّا مِّمَّا ذُكِرُواْ بِهِ
(So, because of their breach of their covenant, We cursed them and made their hearts grow hard. They changed the words from their (right) places and have abandoned a good part of the Message that was sent to them.)(5:13) meaning, their hearts became corrupt and they hardened, and they acquired the behavior of changing Allah's Speech from their appropriate places and meanings. They abandoned acts of worship that they were commanded to perform and committed what they were prohibited to do. This is why Allah forbade the believers from imitating them in any way, be it basic or detailed matters. Allah the Exalted said,
اعْلَمُواْ أَنَّ اللَّهَ يُحْىِ الاٌّرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا قَدْ بَيَّنَّا لَكُمُ الاٌّيَـتِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ
(Know that Allah gives life to the earth after its death! Indeed We have made clear the Ayat to you, if you but understand.) This Ayah indicates that He brings subtleness to hearts after they have become hard, guides the confused after they were led astray, and relieves hardships after they have intensified. And just as Allah brings life back to the dead and dry earth by sending the needed abundant rain, He also guides the hardened hearts with the proofs and evidences of the Qur'an. The light (of faith) would have access to the hearts once again, after they were closed and, as a consequence, no guidance was able to reach them. All praise is due to Him Who guides whomever He wills after they were misguided, Who misguides those who were led aright before. Surely, it is He Who does what He wills and He is the All-Wise, the Most Just in all that He does, the Most Subtle, the Most Aware, the Most High, the Proud.
ایمان والوں سے سوال پروردگار عالم فرماتا ہے کیا مومنوں کے لئے اب تک وہ وقت نہیں آیا کہ ذکر اللہ وعظ نصیحت آیات قرآنی اور احادیث نبوی سن کر ان کے دل موم ہوجائیں ؟ سنیں اور مانیں احکام بجا لائیں ممنوعات سے پرہیز کریں۔ اب عباس فرماتے ہیں قرآن نازل ہوتے ہی تیرہ سال کا عرصہ نہ گذرا تھا کہ مسلمانوں کے دلوں کو اس طرف نہ جھکنے کی دیر کی شکایت کی گئی، ابن مسعود فرماتے ہیں چار ہی سال گذرے تھے جو ہمیں یہ عتاب ہوا (مسلم) اصحاب رسول پر ملال ہوا کہ حضور ﷺ سے کہتے ہیں حضرت کچھ بات تو بیان فرمائے پس یہ آیت اترتی ہے۔ (نَحْنُ نَقُصُّ عَلَيْكَ اَحْسَنَ الْقَصَصِ بِمَآ اَوْحَيْنَآ اِلَيْكَ ھٰذَا الْقُرْاٰنَ ڰ وَاِنْ كُنْتَ مِنْ قَبْلِهٖ لَمِنَ الْغٰفِلِيْنَ) 12۔ یوسف :3) ایک مرتبہ کچھ دنوں بعد یہی عرض کرتے ہیں تو آیت اترتی ہے۔ (اَللّٰهُ نَزَّلَ اَحْسَنَ الْحَدِيْثِ كِتٰبًا مُّتَشَابِهًا مَّثَانِيَ ڰ تَــقْشَعِرُّ مِنْهُ جُلُوْدُ الَّذِيْنَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ ۚ ثُمَّ تَلِيْنُ جُلُوْدُهُمْ وَقُلُوْبُهُمْ اِلٰى ذِكْرِاللّٰهِ ۭ ذٰلِكَ هُدَى اللّٰهِ يَهْدِيْ بِهٖ مَنْ يَّشَاۗءُ ۭ وَمَنْ يُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ هَادٍ 23) 39۔ الزمر :23) پھر ایک عرصہ بعد یہی کہتے ہیں تو یہ آیت (الم یان) اترتی ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں سب سے پہلے خیر جو میری امت سے اٹھ جائے گی وہ خشوع ہوگا۔ پھر فرمایا تم یہود و نصاریٰ کی طرح نہ ہوجانا جنہوں نے کتاب اللہ کو بدل دیا تھوڑے تھوڑے مول پر اسے فروخت کردیا۔ پس کتاب اللہ کو پس پشت ڈال کر رائے و قیاس کے پیچھے پڑھ گئے اور از خود ایجاد کردہ اقوال کو ماننے لگ گئے اور اللہ کے دین میں دوسروں کی تقلید کرنے لگے، اپنے علماء اور درویشوں کی بےسند باتیں دین میں داخل کرلیں، ان بداعمالیوں کی سزا میں اللہ نے ان کے دل سخت کردیئے کتنی ہی اللہ کی باتیں کیوں نہ سناؤ ان کے دل نرم نہیں ہوتے کوئی وعظ و نصیحت ان پر اثر نہیں کرتا کوئی وعدہ وعید ان کے دل اللہ کی طرف موڑ نہیں سکتا، بلکہ ان میں کے اکثر و بیشتر فاسق اور کھلے بدکار بن گئے، دل کے کھوٹے اور اعمال کے بھی کچے، جیسے اور آیت میں ہے۔ (فَبِمَا نَقْضِهِمْ مِّيْثَاقَهُمْ لَعَنّٰهُمْ وَجَعَلْنَا قُلُوْبَهُمْ قٰسِـيَةً 13) 5۔ المآئدہ :13) ان کی بدعہدی کی وجہ سے ہم نے ان پر لعنت نازل کی اور ان کے دل سخت کردیئے یہ کلمات کو اپنی جگہ سے تحریف کردیتے ہیں اور ہماری نصیحت کو بھلا دیتے ہیں، یعنی ان کے دل فاسد ہوگئے اللہ کی باتیں بدلنے لگ گئے نیکیاں چھوڑ دیں برائیوں میں منہمک ہوگئے۔ اسی لئے رب العالمین اس امت کو متنبہ کر رہا ہے۔ ہے کہ جان رکھو مردہ زمین کو اللہ زندہ کردیتا ہے اس میں اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ سخت دلوں کے بعد بھی اللہ انہیں نرم کرنے پر قادر ہے۔ گمراہیوں کی تہہ میں اتر جانے کے بعد بھی اللہ راہ راست پر لاتا ہے جس طرح بارش خشک زمین کو تر کردیتی ہے اسی طرح کتاب اللہ مردہ دلوں کو زندہ کردیتی ہے۔ دلوں میں جبکہ گھٹا ٹوپ اندھیرا چھا گیا ہو کتاب اللہ کی روشنی اسے دفعتاً منور کردیتی ہے، اللہ کی وحی کے قفل کی کنجی ہے۔ سچا ہادی وہی ہے، گمراہی کے بعد راہ پر لانے والا، جو چاہے کرنے والا، حکمت و عدل والا، لطیف و خیر والا، کبر و جلال والا، بلندی و علو والا وہی ہے۔
17
View Single
ٱعۡلَمُوٓاْ أَنَّ ٱللَّهَ يُحۡيِ ٱلۡأَرۡضَ بَعۡدَ مَوۡتِهَاۚ قَدۡ بَيَّنَّا لَكُمُ ٱلۡأٓيَٰتِ لَعَلَّكُمۡ تَعۡقِلُونَ
Know that it is Allah Who revives the earth after its death; We have indeed illustrated the signs for you, for you to understand.
جان لو کہ اللہ ہی زمین کو اُس کی مُردنی کے بعد زندہ کرتا ہے، اور بیشک ہم نے تمہارے لئے نشانیاں واضح کر دی ہیں تاکہ تم عقل سے کام لو
Tafsir Ibn Kathir
meaning, it is the worthy shelter for you rather than any other residence, because of your disbelief and doubt, and how evil is the Fire for Final Destination.
Encouraging Khushu` and the Prohibition of imitating the People of the Scriptures
Allah asks, `Has not the time come for the believers to feel humility in their hearts by the remembrance of Allah and hearing subtle advice and the recitation of the Qur'an, so that they may comprehend the Qur'an, abide by it, and hear and obey Muslim recorded that `Abdullah bin Mas`ud said, "Only four years separated our acceptance of Islam and the revelation of this Ayah, in which Allah subtly admonished us,
أَلَمْ يَأْنِ لِلَّذِينَ ءَامَنُواْ أَن تَخْشَعَ قُلُوبُهُمْ لِذِكْرِ اللَّهِ
(Has not the time yet come for the believers that their hearts should be humble for the remembrance of Allah)" This is the narration Muslim collected, just before the end of his book. An-Nasa'i also collected this Hadith in the Tafsir of this Ayah. Allah's statement,
وَلاَ يَكُونُواْ كَالَّذِينَ أُوتُواْ الْكِتَـبَ مِن قَبْلُ فَطَالَ عَلَيْهِمُ الاٌّمَدُ فَقَسَتْ قُلُوبُهُمْ
(Lest they become as those who received the Scripture before, and the term was prolonged for them and so their hearts were hardened) Allah is prohibiting the believers from imitating those who were given the Scriptures before them, the Jews and Christians. As time passed, they changed the Book of Allah that they had, and sold it for a small, miserable price. They also abandoned Allah's Book behind their back and were impressed and consumed by various opinions and false creeds. They imitated the way others behaved with the religion of Allah, making their rabbis and priests into gods beside Allah. Consequently, their hearts became hard and they would not accept advice; their hearts did not feel humbled by Allah's promises or threats,
وَكَثِيرٌ مِّنْهُمْ فَـسِقُونَ
(And many of them were rebellious.) meaning, in action; therefore, their hearts are corrupt and their actions are invalid, just as Allah the Exalted said,
فَبِمَا نَقْضِهِم مِّيثَـقَهُمْ لَعنَّـهُمْ وَجَعَلْنَا قُلُوبَهُمْ قَاسِيَةً يُحَرِّفُونَ الْكَلِمَ عَن مَّوَضِعِهِ وَنَسُواْ حَظَّا مِّمَّا ذُكِرُواْ بِهِ
(So, because of their breach of their covenant, We cursed them and made their hearts grow hard. They changed the words from their (right) places and have abandoned a good part of the Message that was sent to them.)(5:13) meaning, their hearts became corrupt and they hardened, and they acquired the behavior of changing Allah's Speech from their appropriate places and meanings. They abandoned acts of worship that they were commanded to perform and committed what they were prohibited to do. This is why Allah forbade the believers from imitating them in any way, be it basic or detailed matters. Allah the Exalted said,
اعْلَمُواْ أَنَّ اللَّهَ يُحْىِ الاٌّرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا قَدْ بَيَّنَّا لَكُمُ الاٌّيَـتِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ
(Know that Allah gives life to the earth after its death! Indeed We have made clear the Ayat to you, if you but understand.) This Ayah indicates that He brings subtleness to hearts after they have become hard, guides the confused after they were led astray, and relieves hardships after they have intensified. And just as Allah brings life back to the dead and dry earth by sending the needed abundant rain, He also guides the hardened hearts with the proofs and evidences of the Qur'an. The light (of faith) would have access to the hearts once again, after they were closed and, as a consequence, no guidance was able to reach them. All praise is due to Him Who guides whomever He wills after they were misguided, Who misguides those who were led aright before. Surely, it is He Who does what He wills and He is the All-Wise, the Most Just in all that He does, the Most Subtle, the Most Aware, the Most High, the Proud.
ایمان والوں سے سوال پروردگار عالم فرماتا ہے کیا مومنوں کے لئے اب تک وہ وقت نہیں آیا کہ ذکر اللہ وعظ نصیحت آیات قرآنی اور احادیث نبوی سن کر ان کے دل موم ہوجائیں ؟ سنیں اور مانیں احکام بجا لائیں ممنوعات سے پرہیز کریں۔ اب عباس فرماتے ہیں قرآن نازل ہوتے ہی تیرہ سال کا عرصہ نہ گذرا تھا کہ مسلمانوں کے دلوں کو اس طرف نہ جھکنے کی دیر کی شکایت کی گئی، ابن مسعود فرماتے ہیں چار ہی سال گذرے تھے جو ہمیں یہ عتاب ہوا (مسلم) اصحاب رسول پر ملال ہوا کہ حضور ﷺ سے کہتے ہیں حضرت کچھ بات تو بیان فرمائے پس یہ آیت اترتی ہے۔ (نَحْنُ نَقُصُّ عَلَيْكَ اَحْسَنَ الْقَصَصِ بِمَآ اَوْحَيْنَآ اِلَيْكَ ھٰذَا الْقُرْاٰنَ ڰ وَاِنْ كُنْتَ مِنْ قَبْلِهٖ لَمِنَ الْغٰفِلِيْنَ) 12۔ یوسف :3) ایک مرتبہ کچھ دنوں بعد یہی عرض کرتے ہیں تو آیت اترتی ہے۔ (اَللّٰهُ نَزَّلَ اَحْسَنَ الْحَدِيْثِ كِتٰبًا مُّتَشَابِهًا مَّثَانِيَ ڰ تَــقْشَعِرُّ مِنْهُ جُلُوْدُ الَّذِيْنَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ ۚ ثُمَّ تَلِيْنُ جُلُوْدُهُمْ وَقُلُوْبُهُمْ اِلٰى ذِكْرِاللّٰهِ ۭ ذٰلِكَ هُدَى اللّٰهِ يَهْدِيْ بِهٖ مَنْ يَّشَاۗءُ ۭ وَمَنْ يُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ هَادٍ 23) 39۔ الزمر :23) پھر ایک عرصہ بعد یہی کہتے ہیں تو یہ آیت (الم یان) اترتی ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں سب سے پہلے خیر جو میری امت سے اٹھ جائے گی وہ خشوع ہوگا۔ پھر فرمایا تم یہود و نصاریٰ کی طرح نہ ہوجانا جنہوں نے کتاب اللہ کو بدل دیا تھوڑے تھوڑے مول پر اسے فروخت کردیا۔ پس کتاب اللہ کو پس پشت ڈال کر رائے و قیاس کے پیچھے پڑھ گئے اور از خود ایجاد کردہ اقوال کو ماننے لگ گئے اور اللہ کے دین میں دوسروں کی تقلید کرنے لگے، اپنے علماء اور درویشوں کی بےسند باتیں دین میں داخل کرلیں، ان بداعمالیوں کی سزا میں اللہ نے ان کے دل سخت کردیئے کتنی ہی اللہ کی باتیں کیوں نہ سناؤ ان کے دل نرم نہیں ہوتے کوئی وعظ و نصیحت ان پر اثر نہیں کرتا کوئی وعدہ وعید ان کے دل اللہ کی طرف موڑ نہیں سکتا، بلکہ ان میں کے اکثر و بیشتر فاسق اور کھلے بدکار بن گئے، دل کے کھوٹے اور اعمال کے بھی کچے، جیسے اور آیت میں ہے۔ (فَبِمَا نَقْضِهِمْ مِّيْثَاقَهُمْ لَعَنّٰهُمْ وَجَعَلْنَا قُلُوْبَهُمْ قٰسِـيَةً 13) 5۔ المآئدہ :13) ان کی بدعہدی کی وجہ سے ہم نے ان پر لعنت نازل کی اور ان کے دل سخت کردیئے یہ کلمات کو اپنی جگہ سے تحریف کردیتے ہیں اور ہماری نصیحت کو بھلا دیتے ہیں، یعنی ان کے دل فاسد ہوگئے اللہ کی باتیں بدلنے لگ گئے نیکیاں چھوڑ دیں برائیوں میں منہمک ہوگئے۔ اسی لئے رب العالمین اس امت کو متنبہ کر رہا ہے۔ ہے کہ جان رکھو مردہ زمین کو اللہ زندہ کردیتا ہے اس میں اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ سخت دلوں کے بعد بھی اللہ انہیں نرم کرنے پر قادر ہے۔ گمراہیوں کی تہہ میں اتر جانے کے بعد بھی اللہ راہ راست پر لاتا ہے جس طرح بارش خشک زمین کو تر کردیتی ہے اسی طرح کتاب اللہ مردہ دلوں کو زندہ کردیتی ہے۔ دلوں میں جبکہ گھٹا ٹوپ اندھیرا چھا گیا ہو کتاب اللہ کی روشنی اسے دفعتاً منور کردیتی ہے، اللہ کی وحی کے قفل کی کنجی ہے۔ سچا ہادی وہی ہے، گمراہی کے بعد راہ پر لانے والا، جو چاہے کرنے والا، حکمت و عدل والا، لطیف و خیر والا، کبر و جلال والا، بلندی و علو والا وہی ہے۔
18
View Single
إِنَّ ٱلۡمُصَّدِّقِينَ وَٱلۡمُصَّدِّقَٰتِ وَأَقۡرَضُواْ ٱللَّهَ قَرۡضًا حَسَنٗا يُضَٰعَفُ لَهُمۡ وَلَهُمۡ أَجۡرٞ كَرِيمٞ
Indeed the charity-giving men and women, and those who lend an excellent loan to Allah – for them is double, and for them is an honourable reward.
بیشک صدقہ و خیرات دینے والے مرد اور صدقہ و خیرات دینے والی عورتیں اور جنہوں نے اللہ کو قرضِ حسنہ کے طور پر قرض دیا ان کے لئے (صدقہ و قرضہ کا اجر) کئی گنا بڑھا دیا جائے گا اور اُن کے لئے بڑی عزت والا ثواب ہوگا
Tafsir Ibn Kathir
Reward for the Charitable, the True Believers and the Martyrs; and the Destination of the Disbelieve
Allah the Exalted describes the reward that He will award to those who spend from their wealth, whether male or female, on the needy, the poor and the meek,
اللَّهَ قَرْضاً حَسَناً وَمَا
(and lend Allah handsome loan,) meaning, they give in charity with a good heart seeking the pleasure of Allah. They do not seek worldly rewards or appreciation from those to whom they give in charity. Allah's statement,
يُضَـعَفُ لَهُمْ
(it shall be increased manifold,) indicating that He will multiply the good deeds from tenfold, up to seven hundredfold and even more than that,
وَلَهُمْ أَجْرٌ كَرِيمٌ
(and theirs shall be an honorable good reward.) theirs will be a generous, handsome reward, a good dwelling to return to and an honorable final destination. Allah's statement,
وَالَّذِينَ ءَامَنُواْ بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ أُوْلَـئِكَ هُمُ الصِّدِّيقُونَ
(And those who believe in Allah and His Messengers -- they are the Siddiqun) This completes His description of those who have faith in Him and in His Messengers, by describing them as Siddiqun, true believers. Al-`Awfi reported from Ibn `Abbas about
وَالَّذِينَ ءَامَنُواْ بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ أُوْلَـئِكَ هُمُ الصِّدِّيقُونَ
(And those who believe in Allah and His Messengers -- they are the Siddiqun) that its meaning does not continue to the next Ayah,
وَالشُّهَدَآءُ عِندَ رَبِّهِمْ لَهُمْ أَجْرُهُمْ وَنُورُهُمْ
(and the martyrs (are) with their Lord. They shall have their reward and their light.) Abu Ad-Duha (stopped after he) recited,
أُوْلَـئِكَ هُمُ الصِّدِّيقُونَ
(they are the Siddiqun), then initiated recitation:
وَالشُّهَدَآءُ عِندَ رَبِّهِمْ
(and the martyrs (are) with their Lord.) Masruq, Ad-Dahhak, Muqatil bin Hayyan and others said similarly. Al-A`mash narrated from Abu Ad-Duha from Masruq from `Abdullah bin Mas`ud commented on Allah's statement,
أُوْلَـئِكَ هُمُ الصِّدِّيقُونَ وَالشُّهَدَآءُ عِندَ رَبِّهِمْ
(they are the Siddiqun, and the martyrs with their Lord.) "They are of three categories," meaning there are those who spend in charity, the Siddiqun and the martyrs. Allah the Exalted said,
وَمَن يُطِعِ اللَّهَ وَالرَّسُولَ فَأُوْلَـئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِم مِّنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَآءِ وَالصَّـلِحِينَ
(And whoso obey Allah and the Messenger, then they will be in the company of those on whom Allah has bestowed His grace, of the Prophets, the Siddiqin, the martyrs, and the righteous.)(4:69) Therefore, Allah made a distinction between the Siddiqin and the martyrs, indicating that they are of two distinct categories, so there is no doubt that Siddiq is a better status than the martyr. Imam Malik bin Anas recorded in his Muwatta' that Abu Sa`id Al-Khudri said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«إِنَّ أَهْلَ الْجَنَّةِ لَيَتَرَاءَوْنَ أَهْلَ الْغُرَفِ مِنْ فَوْقِهِمْ، كَمَا تَتَرَاءَوْنَ الْكَوْكَبَ الدُّرِّيَّ الْغَابِرَ فِي الْأُفُقِ مِنَ الْمَشْرِقِ أَوِ الْمَغْرِبِ، لِتَفَاضُلِ مَا بَيْنَهُم»
(The people of Paradise will look at the dwellers of the lofty mansions as one looks at a brilliant star far away in the east or in the west on the horizon, because of their superiority over one another.) On that the people said, "O Allah's Messenger! Are these lofty mansions for the Prophets whom none else can reach" The Prophet replied,
«بَلَى، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، رِجَالٌ آمَنُوا بِاللهِ وَصَدَّقُوا الْمُرْسَلِين»
(No! By Him in Whose Hand is my soul! these are for men who believe in Allah and believe in the Messengers.) Al-Bukhari and Muslim also collected this Hadith. Allah's statement,
وَالشُّهَدَآءُ عِندَ رَبِّهِمْ
(and the martyrs with their Lord.) means that they will be in the gardens of Paradise, as recorded in the Sahih:
«إِنَّ أَرْوَاحَ الشُّهَدَاءِ فِي حَوَاصِلِ طَيْرٍ خُضْرٍ تَسْرَحُ فِي الْجَنَّةِ حَيْثُ شَاءَتْ، ثُمَّ تَأْوِي إِلَى تِلْكَ الْقَنَادِيلِ فَاطَّلَعَ عَلَيْهِمْ رَبُّكَ اطِّلَاعَةً فَقَالَ: مَاذَا تُرِيدُونَ؟ فَقَالُوا: نُحِبُّ أَنْ تَرُدَّنَا إِلَى الدَّارِ الدُّنْيَا فَنُقَاتِلَ فِيكَ فَنُقْتَلَ، كَمَا قُتِلْنَا أَوَّلَ مَرَّةٍ، فَقَالَ: إِنِّي قَدْ قَضَيْتُ أَنَّهُمْ إِلَيْهَا لَا يَرْجِعُون»
(The souls of the martyrs live in the bodies of green birds, who fly wherever they wish in Paradise and then return to their nests in chandeliers. Once your Lord cast a glance at them and said, `Do you want anything" They said, "We wish that You return us to the life of the world, so that we may fight in Your cause and be killed as we were killed the first time." Allah said, "I have decreed that they shall not be returned to it again.") Allah's statement,
لَهُمْ أَجْرُهُمْ وَنُورُهُمْ
(They shall have their reward and their light.), means that Allah will grant them a generous reward and a tremendous light that will precede before them. In this, the believers vary regarding the level of reward they receive, according to their good actions in the life of this world. Imam Ahmad recorded that `Umar bin Al-Khattab said that he heard the Messenger of Allah ﷺ say,
«الشُّهَدَاءُ أَرْبَعَةٌ: رَجُلٌ مُؤْمِنٌ جَيِّدُ الْإِيمَانِ، لَقِيَ الْعَدُوَّ فَصَدَقَ اللهَ فَقُتِلَ، فَذَاكَ الَّذِي يَنْظُرُ النَّاسُ إِلَيْهِ هكَذَا»
(There are four ranks of martyrs. The first is a man who believes and who is true in faith, who meets the enemy (in battle), fulfills his duty to Allah and is killed. This is the type that the people will look up to (his level in Paradise), like this.) The Prophet raised his head until his cap fell off his head, and the same happened to `Umar. The Prophet continued,
«وَالثَّانِي مُؤْمِنٌ لَقِيَ الْعَدُوَّ فَكَأَنَّمَا يُضْرَبُ ظَهْرُهُ بِشَوْكِ الطَّلْحِ، جَاءَهُ سَهْمٌ غَرْبٌ فَقَتَلَهُ، فَذَاكَ فِي الدَّرَجَةِ الثَّانِيَةِ. وَالثَّالِثُ رَجُلٌ مُؤْمِنٌ خَلَطَ عَمَلًا صَالِحًا وَآخَرَ سَيِّئًا، لَقِيَ الْعَدُوَّ فَصَدَقَ اللهَ حَتْى قُتِلَ، فَذَاكَ فِي الدَّرَجَةِ الثَّالِثَةِ. وَالرَّابِعُ رَجُلٌ مُؤْمِنٌ أَسْرَفَ عَلَى نَفْسِهِ إِسْرَافًا كَثِيرًا، لَقِيَ الْعَدُوَّ فَصَدَقَ اللهَ حَتْى قُتِلَ، فَذَاكَ فِي الدَّرَجَةِ الرَّابِعَة»
(The second is a believer who meets the enemy and is struck by a stray arrow which causes him to die. This believer is in the second grade. The third is a believer who has combined good deeds with evil deeds; he meets the enemy and is truthful to his duty to Allah until he is killed. This is the third category. And the fourth is a believer who has committed sins excessively, so he meets the enemy and is truthful to his duty to Allah, and is killed. This is the fourth category.) `Ali bin Al-Madini also reported this Hadith and said, "This Egyptian chain is Salih useful." At-Tirmidhi said, "Hasan Gharib." Allah's statement,
وَالَّذِينَ كَفَرُواْ وَكَذَّبُواْ بِـَايَـتِنَآ أُوْلَـئِكَ أَصْحَـبُ الْجَحِيمِ
(But those who disbelieve and deny Our Ayat -- they shall be the dwellers of the blazing Fire.) mentions the destination and the condition of the miserable ones, after Allah mentioned the destination and rewards of the happy ones.
صدقہ و خیرات کرنے والوں کے لئے اجر و ثواب فقیر مسکین محتاجوں اور حاجت مندوں کو خالص اللہ کی مرضی کی جستجو میں جو لوگ اپنے حلال مال نیک نیتی سے اللہ کی راہ میں صدقہ دیتے ہیں ان کے بدلے بہت کچھ بڑھا چڑھا کر اللہ تعالیٰ انہیں عطا فرمائے گا۔ دس دس گنے اور اس سے بھی زیادہ سات سات سو تک بلکہ اس سے بھی سوا ان کے ثواب بےحساب ہیں ان کے اجر بہت بڑے ہیں۔ اللہ رسول پر ایمان رکھنے والے ہی صدیق و شہید ہیں، ان دونوں اوصاف کے مستحق صرف باایمان لوگ ہیں، بعض حضرات نے الشہداء کو الگ جملہ مانا ہے، غرض تین قسمیں ہوئیں مصدقین صدیقین شہداء جیسے اور روایت میں ہے اللہ اور اس کے رسول کا اطاعت گذار انعام یافتہ لوگوں کے ساتھ ہے جو نبی، صدیق، شہید اور صالح لوگ ہیں، پس صدیق و شہید میں یہاں بھی فرق کیا گیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دو قسم کے لوگ ہیں، صدیق کا درجہ شہید سے یقینا بڑا ہے۔ حضور ﷺ کا ارشاد ہے جنتی لوگ اپنے سے اوپر کے بالا خانے والوں کو اس طرح دیکھیں گے جیسے چمکتے ہوئے مشرقی یا مغربی ستارے کو تم آسمان کے کنارے پر دیکھتے ہو، لوگوں نے کہا یہ درجے تو صرف انبیاء کے ہوں گے آپ نے فرمایا ہاں قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ پر ایمان لائے اور رسولوں کی تصدیق کی (بخاری مسلم) ایک غریب حدیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ شہید اور صدیق دونوں وصف اس آیت میں اسی مومن کے ہیں۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں میری امت کے مومن شہید ہیں، پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت کی۔ حضرت عمرو بن میمون کا قول ہے یہ دونوں ان دونوں انگلیوں کی طرح قیامت کے دن آئیں گے، بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے شہیدوں کی روحیں سبز رنگ پرندوں کے قالب میں ہوں گی جنت میں جہاں چاہیں کھاتی پیتی پھریں گی اور رات کو قندیلوں میں سہارا لیں گی ان کے رب نے ان کی طرف ایک بار دیکھا اور پوچھا تم کیا چاہتے ہو ؟ انہوں نے کہا یہ کہ تو ہمیں دنیا میں دوبارہ بھیج تاکہ ہم پھر تیری راہ میں جہاد کریں اور شہادت حاصل کریں اللہ نے جواب دیا یہ تو میں فیصلہ کرچکا ہوں کہ کوئی لوٹ کر پھر دنیا میں نہیں جائے گا پھر فرماتا ہے کہ انہیں اجر و نور ملے گا جو نور ان کے سامنے رہے گا اور ان کے اعمال کے مطابق ہوگا۔ مسند احمد کی حدیث میں ہے شہیدوں کی چار قسمیں ہیں۔ 1۔ وہ پکے ایمان والا مومن جو دشمن اللہ سے بھڑ گیا اور لڑتا رہا یہاں تک کہ ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا اس کا وہ درجہ ہے کہ اہل محشر اس طرح سر اٹھا اٹھا کر اس کی طرف دیکھیں گے اور یہ فرماتے ہوئے آپ نے اپنا سر اس قدر بلند کیا کہ ٹوپی نیچے گرگئی اور اس حدیث کے راوی حضرت عمر نے بھی اسے بیان کرنے کے وقت اتنا ہی اپنا سر بلند کیا کہ آپ کی ٹوپی بھی زمین پر جا پڑی۔ 2 دوسرا وہ ایمان دار نکلا جہاد میں لیکن دل میں جرات کم ہے کہ یکایک ایک تیر آ لگا اور روح پرواز کرگئی ہی دوسرے درجہ کا شہید جنتی ہے۔ 3 تیسرا وہ جس کے بھلے برے اعمال تھے لیکن رب نے اسے پسند فرما لیا اور میدان جہاد میں کفار کے ہاتھوں شہادت نصیب ہوئی تیسرے درجے میں ہیں۔ چوتھا وہ جس کے گناہ بہت زیادہ ہیں جہاد میں نکلا اور اللہ نے شہادت نصیب فرما کر اپنے پاس بلوا لیا۔ ان نیک لوگوں کا انجام بیان کر کے اب بد لوگوں کا نتیجہ بیان کیا کہ یہ جہنمی ہیں۔
19
View Single
وَٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ بِٱللَّهِ وَرُسُلِهِۦٓ أُوْلَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلصِّدِّيقُونَۖ وَٱلشُّهَدَآءُ عِندَ رَبِّهِمۡ لَهُمۡ أَجۡرُهُمۡ وَنُورُهُمۡۖ وَٱلَّذِينَ كَفَرُواْ وَكَذَّبُواْ بِـَٔايَٰتِنَآ أُوْلَـٰٓئِكَ أَصۡحَٰبُ ٱلۡجَحِيمِ
And those who believe in Allah and all His Noble Messengers, are the truly sincere; and are witness upon others, before their Lord; for them is their reward, and their light; and those who disbelieved and denied Our signs, are the people of hell.
اور جو لوگ اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے وہی لوگ اپنے رب کے نزدیک صدیق اور شہید ہیں، اُن کے لئے اُن کا اجر (بھی) ہے اور ان کا نور (بھی) ہے، اور جنہوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا وہی لوگ دوزخی ہیں
Tafsir Ibn Kathir
Reward for the Charitable, the True Believers and the Martyrs; and the Destination of the Disbelieve
Allah the Exalted describes the reward that He will award to those who spend from their wealth, whether male or female, on the needy, the poor and the meek,
اللَّهَ قَرْضاً حَسَناً وَمَا
(and lend Allah handsome loan,) meaning, they give in charity with a good heart seeking the pleasure of Allah. They do not seek worldly rewards or appreciation from those to whom they give in charity. Allah's statement,
يُضَـعَفُ لَهُمْ
(it shall be increased manifold,) indicating that He will multiply the good deeds from tenfold, up to seven hundredfold and even more than that,
وَلَهُمْ أَجْرٌ كَرِيمٌ
(and theirs shall be an honorable good reward.) theirs will be a generous, handsome reward, a good dwelling to return to and an honorable final destination. Allah's statement,
وَالَّذِينَ ءَامَنُواْ بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ أُوْلَـئِكَ هُمُ الصِّدِّيقُونَ
(And those who believe in Allah and His Messengers -- they are the Siddiqun) This completes His description of those who have faith in Him and in His Messengers, by describing them as Siddiqun, true believers. Al-`Awfi reported from Ibn `Abbas about
وَالَّذِينَ ءَامَنُواْ بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ أُوْلَـئِكَ هُمُ الصِّدِّيقُونَ
(And those who believe in Allah and His Messengers -- they are the Siddiqun) that its meaning does not continue to the next Ayah,
وَالشُّهَدَآءُ عِندَ رَبِّهِمْ لَهُمْ أَجْرُهُمْ وَنُورُهُمْ
(and the martyrs (are) with their Lord. They shall have their reward and their light.) Abu Ad-Duha (stopped after he) recited,
أُوْلَـئِكَ هُمُ الصِّدِّيقُونَ
(they are the Siddiqun), then initiated recitation:
وَالشُّهَدَآءُ عِندَ رَبِّهِمْ
(and the martyrs (are) with their Lord.) Masruq, Ad-Dahhak, Muqatil bin Hayyan and others said similarly. Al-A`mash narrated from Abu Ad-Duha from Masruq from `Abdullah bin Mas`ud commented on Allah's statement,
أُوْلَـئِكَ هُمُ الصِّدِّيقُونَ وَالشُّهَدَآءُ عِندَ رَبِّهِمْ
(they are the Siddiqun, and the martyrs with their Lord.) "They are of three categories," meaning there are those who spend in charity, the Siddiqun and the martyrs. Allah the Exalted said,
وَمَن يُطِعِ اللَّهَ وَالرَّسُولَ فَأُوْلَـئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِم مِّنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَآءِ وَالصَّـلِحِينَ
(And whoso obey Allah and the Messenger, then they will be in the company of those on whom Allah has bestowed His grace, of the Prophets, the Siddiqin, the martyrs, and the righteous.)(4:69) Therefore, Allah made a distinction between the Siddiqin and the martyrs, indicating that they are of two distinct categories, so there is no doubt that Siddiq is a better status than the martyr. Imam Malik bin Anas recorded in his Muwatta' that Abu Sa`id Al-Khudri said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«إِنَّ أَهْلَ الْجَنَّةِ لَيَتَرَاءَوْنَ أَهْلَ الْغُرَفِ مِنْ فَوْقِهِمْ، كَمَا تَتَرَاءَوْنَ الْكَوْكَبَ الدُّرِّيَّ الْغَابِرَ فِي الْأُفُقِ مِنَ الْمَشْرِقِ أَوِ الْمَغْرِبِ، لِتَفَاضُلِ مَا بَيْنَهُم»
(The people of Paradise will look at the dwellers of the lofty mansions as one looks at a brilliant star far away in the east or in the west on the horizon, because of their superiority over one another.) On that the people said, "O Allah's Messenger! Are these lofty mansions for the Prophets whom none else can reach" The Prophet replied,
«بَلَى، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، رِجَالٌ آمَنُوا بِاللهِ وَصَدَّقُوا الْمُرْسَلِين»
(No! By Him in Whose Hand is my soul! these are for men who believe in Allah and believe in the Messengers.) Al-Bukhari and Muslim also collected this Hadith. Allah's statement,
وَالشُّهَدَآءُ عِندَ رَبِّهِمْ
(and the martyrs with their Lord.) means that they will be in the gardens of Paradise, as recorded in the Sahih:
«إِنَّ أَرْوَاحَ الشُّهَدَاءِ فِي حَوَاصِلِ طَيْرٍ خُضْرٍ تَسْرَحُ فِي الْجَنَّةِ حَيْثُ شَاءَتْ، ثُمَّ تَأْوِي إِلَى تِلْكَ الْقَنَادِيلِ فَاطَّلَعَ عَلَيْهِمْ رَبُّكَ اطِّلَاعَةً فَقَالَ: مَاذَا تُرِيدُونَ؟ فَقَالُوا: نُحِبُّ أَنْ تَرُدَّنَا إِلَى الدَّارِ الدُّنْيَا فَنُقَاتِلَ فِيكَ فَنُقْتَلَ، كَمَا قُتِلْنَا أَوَّلَ مَرَّةٍ، فَقَالَ: إِنِّي قَدْ قَضَيْتُ أَنَّهُمْ إِلَيْهَا لَا يَرْجِعُون»
(The souls of the martyrs live in the bodies of green birds, who fly wherever they wish in Paradise and then return to their nests in chandeliers. Once your Lord cast a glance at them and said, `Do you want anything" They said, "We wish that You return us to the life of the world, so that we may fight in Your cause and be killed as we were killed the first time." Allah said, "I have decreed that they shall not be returned to it again.") Allah's statement,
لَهُمْ أَجْرُهُمْ وَنُورُهُمْ
(They shall have their reward and their light.), means that Allah will grant them a generous reward and a tremendous light that will precede before them. In this, the believers vary regarding the level of reward they receive, according to their good actions in the life of this world. Imam Ahmad recorded that `Umar bin Al-Khattab said that he heard the Messenger of Allah ﷺ say,
«الشُّهَدَاءُ أَرْبَعَةٌ: رَجُلٌ مُؤْمِنٌ جَيِّدُ الْإِيمَانِ، لَقِيَ الْعَدُوَّ فَصَدَقَ اللهَ فَقُتِلَ، فَذَاكَ الَّذِي يَنْظُرُ النَّاسُ إِلَيْهِ هكَذَا»
(There are four ranks of martyrs. The first is a man who believes and who is true in faith, who meets the enemy (in battle), fulfills his duty to Allah and is killed. This is the type that the people will look up to (his level in Paradise), like this.) The Prophet raised his head until his cap fell off his head, and the same happened to `Umar. The Prophet continued,
«وَالثَّانِي مُؤْمِنٌ لَقِيَ الْعَدُوَّ فَكَأَنَّمَا يُضْرَبُ ظَهْرُهُ بِشَوْكِ الطَّلْحِ، جَاءَهُ سَهْمٌ غَرْبٌ فَقَتَلَهُ، فَذَاكَ فِي الدَّرَجَةِ الثَّانِيَةِ. وَالثَّالِثُ رَجُلٌ مُؤْمِنٌ خَلَطَ عَمَلًا صَالِحًا وَآخَرَ سَيِّئًا، لَقِيَ الْعَدُوَّ فَصَدَقَ اللهَ حَتْى قُتِلَ، فَذَاكَ فِي الدَّرَجَةِ الثَّالِثَةِ. وَالرَّابِعُ رَجُلٌ مُؤْمِنٌ أَسْرَفَ عَلَى نَفْسِهِ إِسْرَافًا كَثِيرًا، لَقِيَ الْعَدُوَّ فَصَدَقَ اللهَ حَتْى قُتِلَ، فَذَاكَ فِي الدَّرَجَةِ الرَّابِعَة»
(The second is a believer who meets the enemy and is struck by a stray arrow which causes him to die. This believer is in the second grade. The third is a believer who has combined good deeds with evil deeds; he meets the enemy and is truthful to his duty to Allah until he is killed. This is the third category. And the fourth is a believer who has committed sins excessively, so he meets the enemy and is truthful to his duty to Allah, and is killed. This is the fourth category.) `Ali bin Al-Madini also reported this Hadith and said, "This Egyptian chain is Salih useful." At-Tirmidhi said, "Hasan Gharib." Allah's statement,
وَالَّذِينَ كَفَرُواْ وَكَذَّبُواْ بِـَايَـتِنَآ أُوْلَـئِكَ أَصْحَـبُ الْجَحِيمِ
(But those who disbelieve and deny Our Ayat -- they shall be the dwellers of the blazing Fire.) mentions the destination and the condition of the miserable ones, after Allah mentioned the destination and rewards of the happy ones.
صدقہ و خیرات کرنے والوں کے لئے اجر و ثواب فقیر مسکین محتاجوں اور حاجت مندوں کو خالص اللہ کی مرضی کی جستجو میں جو لوگ اپنے حلال مال نیک نیتی سے اللہ کی راہ میں صدقہ دیتے ہیں ان کے بدلے بہت کچھ بڑھا چڑھا کر اللہ تعالیٰ انہیں عطا فرمائے گا۔ دس دس گنے اور اس سے بھی زیادہ سات سات سو تک بلکہ اس سے بھی سوا ان کے ثواب بےحساب ہیں ان کے اجر بہت بڑے ہیں۔ اللہ رسول پر ایمان رکھنے والے ہی صدیق و شہید ہیں، ان دونوں اوصاف کے مستحق صرف باایمان لوگ ہیں، بعض حضرات نے الشہداء کو الگ جملہ مانا ہے، غرض تین قسمیں ہوئیں مصدقین صدیقین شہداء جیسے اور روایت میں ہے اللہ اور اس کے رسول کا اطاعت گذار انعام یافتہ لوگوں کے ساتھ ہے جو نبی، صدیق، شہید اور صالح لوگ ہیں، پس صدیق و شہید میں یہاں بھی فرق کیا گیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دو قسم کے لوگ ہیں، صدیق کا درجہ شہید سے یقینا بڑا ہے۔ حضور ﷺ کا ارشاد ہے جنتی لوگ اپنے سے اوپر کے بالا خانے والوں کو اس طرح دیکھیں گے جیسے چمکتے ہوئے مشرقی یا مغربی ستارے کو تم آسمان کے کنارے پر دیکھتے ہو، لوگوں نے کہا یہ درجے تو صرف انبیاء کے ہوں گے آپ نے فرمایا ہاں قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ پر ایمان لائے اور رسولوں کی تصدیق کی (بخاری مسلم) ایک غریب حدیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ شہید اور صدیق دونوں وصف اس آیت میں اسی مومن کے ہیں۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں میری امت کے مومن شہید ہیں، پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت کی۔ حضرت عمرو بن میمون کا قول ہے یہ دونوں ان دونوں انگلیوں کی طرح قیامت کے دن آئیں گے، بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے شہیدوں کی روحیں سبز رنگ پرندوں کے قالب میں ہوں گی جنت میں جہاں چاہیں کھاتی پیتی پھریں گی اور رات کو قندیلوں میں سہارا لیں گی ان کے رب نے ان کی طرف ایک بار دیکھا اور پوچھا تم کیا چاہتے ہو ؟ انہوں نے کہا یہ کہ تو ہمیں دنیا میں دوبارہ بھیج تاکہ ہم پھر تیری راہ میں جہاد کریں اور شہادت حاصل کریں اللہ نے جواب دیا یہ تو میں فیصلہ کرچکا ہوں کہ کوئی لوٹ کر پھر دنیا میں نہیں جائے گا پھر فرماتا ہے کہ انہیں اجر و نور ملے گا جو نور ان کے سامنے رہے گا اور ان کے اعمال کے مطابق ہوگا۔ مسند احمد کی حدیث میں ہے شہیدوں کی چار قسمیں ہیں۔ 1۔ وہ پکے ایمان والا مومن جو دشمن اللہ سے بھڑ گیا اور لڑتا رہا یہاں تک کہ ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا اس کا وہ درجہ ہے کہ اہل محشر اس طرح سر اٹھا اٹھا کر اس کی طرف دیکھیں گے اور یہ فرماتے ہوئے آپ نے اپنا سر اس قدر بلند کیا کہ ٹوپی نیچے گرگئی اور اس حدیث کے راوی حضرت عمر نے بھی اسے بیان کرنے کے وقت اتنا ہی اپنا سر بلند کیا کہ آپ کی ٹوپی بھی زمین پر جا پڑی۔ 2 دوسرا وہ ایمان دار نکلا جہاد میں لیکن دل میں جرات کم ہے کہ یکایک ایک تیر آ لگا اور روح پرواز کرگئی ہی دوسرے درجہ کا شہید جنتی ہے۔ 3 تیسرا وہ جس کے بھلے برے اعمال تھے لیکن رب نے اسے پسند فرما لیا اور میدان جہاد میں کفار کے ہاتھوں شہادت نصیب ہوئی تیسرے درجے میں ہیں۔ چوتھا وہ جس کے گناہ بہت زیادہ ہیں جہاد میں نکلا اور اللہ نے شہادت نصیب فرما کر اپنے پاس بلوا لیا۔ ان نیک لوگوں کا انجام بیان کر کے اب بد لوگوں کا نتیجہ بیان کیا کہ یہ جہنمی ہیں۔
20
View Single
ٱعۡلَمُوٓاْ أَنَّمَا ٱلۡحَيَوٰةُ ٱلدُّنۡيَا لَعِبٞ وَلَهۡوٞ وَزِينَةٞ وَتَفَاخُرُۢ بَيۡنَكُمۡ وَتَكَاثُرٞ فِي ٱلۡأَمۡوَٰلِ وَٱلۡأَوۡلَٰدِۖ كَمَثَلِ غَيۡثٍ أَعۡجَبَ ٱلۡكُفَّارَ نَبَاتُهُۥ ثُمَّ يَهِيجُ فَتَرَىٰهُ مُصۡفَرّٗا ثُمَّ يَكُونُ حُطَٰمٗاۖ وَفِي ٱلۡأٓخِرَةِ عَذَابٞ شَدِيدٞ وَمَغۡفِرَةٞ مِّنَ ٱللَّهِ وَرِضۡوَٰنٞۚ وَمَا ٱلۡحَيَوٰةُ ٱلدُّنۡيَآ إِلَّا مَتَٰعُ ٱلۡغُرُورِ
Know that the life of this world is nothing but play and pastime, and adornment, and boasting amongst yourselves, and the desire to surpass each other in wealth and children; like the rain the produce of which pleased the farmer, then dried so you see it yellow, and then turned into dry trampled hay; and in the Hereafter is a severe punishment, and the forgiveness from Allah and His pleasure; and the life of this world is nothing but counterfeit wealth.
جان لو کہ دنیا کی زندگی محض کھیل اور تماشا ہے اور ظاہری آرائش ہے اور آپس میں فخر اور خود ستائی ہے اور ایک دوسرے پر مال و اولاد میں زیادتی کی طلب ہے، اس کی مثال بارش کی سی ہے کہ جس کی پیداوار کسانوں کو بھلی لگتی ہے پھر وہ خشک ہو جاتی ہے پھر تم اسے پک کر زرد ہوتا دیکھتے ہو پھر وہ ریزہ ریزہ ہو جاتی ہے، اور آخرت میں (نافرمانوں کے لئے) سخت عذاب ہے اور (فرمانبرداروں کے لئے) اللہ کی جانب سے مغفرت اور عظیم خوشنودی ہے، اور دنیا کی زندگی دھوکے کی پونجی کے سوا کچھ نہیں ہے
Tafsir Ibn Kathir
This Life of this World is Fleeting Enjoyment
Allah the Exalted degrades the significance of this life and belittles it by saying,
أَنَّمَا الْحَيَوةُ الدُّنْيَا لَعِبٌ وَلَهْوٌ وَزِينَةٌ وَتَفَاخُرٌ بَيْنَكُمْ وَتَكَاثُرٌ فِى الاٌّمْوَلِ وَالاٌّوْلْـدِ
(that the life of this world is only play and amusement, pomp and mutual boasting among you, and rivalry in respect of wealth and children.) meaning, this is the significance of this life to its people, just as He said in another Ayah,
زُيِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّهَوَتِ مِنَ النِّسَآءِ وَالْبَنِينَ وَالْقَنَـطِيرِ الْمُقَنطَرَةِ مِنَ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ وَالْخَيْلِ الْمُسَوَّمَةِ وَالأَنْعَـمِ وَالْحَرْثِ ذَلِكَ مَتَـعُ الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَاللَّهُ عِندَهُ حُسْنُ الْمَأَبِ
(Beautified for men is the love of things they covet; women, children, much of gold and silver (wealth), branded beautiful horses, cattle and well-tilled land. This is the pleasure of the present world's life; but Allah has the excellent return with Him.)(3:14) Allah the Exalted also sets a parable for this life, declaring that its joys are fading and its delights are perishable, saying that life is,
كَمَثَلِ غَيْثٍ
(Like a rain (Ghayth),) which is the rain that comes down to mankind, after they had felt despair. Allah the Exalted said in another Ayah,
وَهُوَ الَّذِى يُنَزِّلُ الْغَيْثَ مِن بَعْدِ مَا قَنَطُواْ
(And He it is Who sends down the Ghayth (rain) after they have despaired.)(42:28) Allah's statement,
أَعْجَبَ الْكُفَّارَ نَبَاتُهُ
(thereof the growth is pleasing to the tiller;) meaning that farmers admire the vegetation that grows in the aftermath of rain. And just as farmers admire vegetation, the disbelievers admire this life; they are the most eager to acquire the traits of life, and life is most dear to them,
ثُمَّ يَهِيجُ فَتَرَاهُ مُصْفَرّاً ثُمَّ يَكُونُ حُطَاماً
(afterwards it dries up and you see it turning yellow; then it becomes straw.) meaning, that vegetation soon turns yellow in color, after being fresh and green. After that, the green fades away and becomes scattered pieces of dust. This is the parable of this worldly life, it starts young, then matures and then turns old and feeble. This is also the parable of mankind in this life; they are young and strong in the beginning. In this stage of life, they look youthful and handsome. Slowly, they begin growing older, their mannerism changes and their strength weakens. They then grow old and feeble; moving becomes difficult for them, while doing easy things becomes beyond their ability. Allah the Exalted said,
اللَّهُ الَّذِى خَلَقَكُمْ مِّن ضَعْفٍ ثُمَّ جَعَلَ مِن بَعْدِ ضَعْفٍ قُوَّةٍ ثُمَّ جَعَلَ مِن بَعْدِ قُوَّةٍ ضَعْفاً وَشَيْبَةً يَخْلُقُ مَا يَشَآءُ وَهُوَ الْعَلِيمُ الْقَدِيرُ
(Allah is He Who created you in (a state of) weakness, then gave you strength after weakness, then after strength gave (you) weakness and grey hair. He creates what He wills. And He is the All-Knowing, the All-Powerful.)(30:54) This parable indicates the near demise of this life and the imminent end of it, while in contrast, the Hereafter is surely coming. Those who hear this parable should, therefore, be aware of the significance of the Hereafter and feel eagerness in the goodness that it contains,
وَفِى الاٌّخِرَةِ عَذَابٌ شَدِيدٌ وَمَغْفِرَةٌ مِّنَ اللَّهِ وَرِضْوَنٌ وَمَا الْحَيَوةُ الدُّنْيَآ إِلاَّ مَتَـعُ الْغُرُورِ
(But in the Hereafter (there is) a severe torment, and (there is) forgiveness from Allah and (His) pleasure. And the life of this world is only a deceiving enjoyment.) meaning, surely, the Hereafter that will certainly come contains two things either severe punishment or forgiveness from Allah and His good pleasure. Allah the Exalted said,
وَما الْحَيَوةُ الدُّنْيَا إِلاَّ مَتَـعُ الْغُرُورِ
(And the life of this world is only a deceiving enjoyment.) meaning, this life is only a form of enjoyment that deceives those who incline to it. Surely, those who recline to this life will admire it and feel that it is dear to them, so much so, that they might think that this is the only life, no life or dwelling after it. Yet, in reality, this life is insignificant as compared to the Hereafter. Imam Ahmad recorded that `Abdullah said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«لَلْجَنَّةُ أَقْرَبُ إِلَى أَحَدِكُمْ مِنْ شِرَاكِ نَعْلِهِ، وَالنَّارُ مِثْلُ ذلِك»
(Paradise is nearer to any of you than the strap on his shoe, and so is the (Hell) Fire.) Al-Bukhari collected this Hadith through the narration of Ath-Thawri. This Hadith indicates the close proximity of both good and evil in relation to mankind. If this is the case, then this is the reason Allah the Exalted encouraged mankind to rush to perform acts of righteousness and obedience and to avoid the prohibitions. By doing so, their sins and errors will be forgiven and they will acquire rewards and an exalted status. Allah the Exalted said,
سَابِقُواْ إِلَى مَغْفِرَةٍ مِّن رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا كَعَرْضِ السَّمَآءِ وَالاٌّرْضِ
(Race with one another in hastening towards forgiveness from your Lord, and Paradise the width whereof is as the width of the heaven and the earth,) Allah the Exalted said in another Ayah,
وَسَارِعُواْ إِلَى مَغْفِرَةٍ مِّن رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمَـوَتُ وَالاٌّرْضُ أُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِينَ
(And march forth in the way (to) forgiveness from your Lord, and for Paradise as wide as the heavens and the earth, prepared for those who have Taqwa.)(3:133) Allah said here,
أُعِدَّتْ لِلَّذِينَ ءَامَنُواْ بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ ذَلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَن يَشَآءُ وَاللَّهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ
(prepared for those who believe in Allah and His Messengers. That is the grace of Allah which He bestows on whom He is pleased with. And Allah is the Owner of great bounty.) meaning, "This, that Allah has qualified them for, is all a part of His favor, bounty and compassion." We mentioned a Hadith collected in the Sahih in which the poor emigrants said to the Messenger ﷺ, "O Allah's Messenger! The wealthy people will get higher grades and permanent enjoyment." He asked,
«وَمَا ذَاكَ؟»
(Why is that) They said, "They pray like us and fast as we do. However, they give in charity, whereas we cannot do that, and that free servants, whereas we cannot afford it." The Prophet said,
«أَفَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى شَيْءٍ إِذَا فَعَلْتُمُوهُ سَبَقْتُمْ مَنْ بَعْدَكُمْ، وَلَا يَكُونُ أَحَدٌ أَفْضَلَ مِنْكُمْ إِلَّا مَنْ صَنَعَ مِثْلَ مَا صَنَعْتُمْ: تُسَبِّحُونَ وَتُكَبِّرُونَ وَتُحَمِّدُونَ دُبُرَ كُلِّ صَلَاةٍ ثَلَاثًا وَثَلَاثِين»
(Shall I tell you of a good deed that, if you acted upon, you would catch up with those who have surpassed you none would overtake you and be better than you, except those who might do the same. Say, "Glorious is Allah," "Allah is Most Great," and "Praise be to Allah," thirty three times each after every prayer.) They later came back and said, "Our wealthy brethren heard what we did and they started doing the same." Allah's Messenger ﷺ said,
«ذلِكَ فَضْلُ اللهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاء»
This is the favor of Allah that He gives to whom He wills.)
دنیا کی زندگی صرف کھیل تماشا ہے امر دنیا کی تحقیر و توہین بیان ہو رہی ہے کہ اہل دنیا کو سوائے لہو و لعب زینت و فخر اور اولاد و مال کی کثرت کی چاہت کے اور ہے بھی کیا ؟ جیسے اور آیت میں ہے (زُيِّنَ للنَّاسِ حُبُّ الشَّهَوٰتِ مِنَ النِّسَاۗءِ وَالْبَنِيْنَ وَالْقَنَاطِيْرِ الْمُقَنْطَرَةِ مِنَ الذَّھَبِ وَالْفِضَّةِ وَالْخَيْلِ الْمُسَوَّمَةِ وَالْاَنْعَامِ وَالْحَرْثِ ۭ ذٰلِكَ مَتَاعُ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا ۚ وَاللّٰهُ عِنْدَهٗ حُسْنُ الْمَاٰبِ 14) 3۔ آل عمران :14) ، یعنی لوگوں کے لئے ان کی خواہش کی چیزوں کو مزین کردیا گیا ہے جیسے عورتیں بچے وغیرہ پھر حیات دنیا کی مثال بیان ہو رہی ہے کہ اس کی تازگی فانی ہے اور یہاں کی نعمتیں زوال پذیر ہیں۔ غیث کہتے ہیں اس بارش کو جو لوگوں کی ناامیدی کے بعد برسے۔ جیسے فرمان ہے آیت (وَهُوَ الَّذِيْ يُنَزِّلُ الْغَيْثَ مِنْۢ بَعْدِ مَا قَنَطُوْا وَيَنْشُرُ رَحْمَتَهٗ ۭ وَهُوَ الْوَلِيُّ الْحَمِيْدُ 28) 42۔ الشوری :28) ، اللہ وہ ہے جو لوگوں کی ناامیدی کے بعد بارش برساتا ہے۔ پس جس طرح بارش کی وجہ سے زمین سے کھیتیاں پیدا ہوتی ہیں اور وہ لہلہاتی ہوئی کسان کی آنکھوں کو بھی بھلی معلوم ہوتی ہیں، اسی طرح اہل دنیا اسباب دنیوی پر پھولتے ہیں، لیکن نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہی ہری بھری کھیتی خشک ہو کر زرد پڑجاتی ہے پھر آخر سوکھ کر ریزہ ریزہ ہوجاتی ہے۔ ٹھیک اسی طرح دنیا کی ترو تازگی اور یہاں کی بہبودی اور ترقی بھی خاک میں مل جانے والی ہے، دنیا کی بھی یہی صورتیں ہوتی ہیں کہ ایک وقت جوان ہے پھر ادھیڑ ہے پھر بڑھیا ہے، ٹھیک اسی طرح خود انسان کی حالت ہے اس کے بچپن جوانی ادھیڑ عمر اور بڑھاپے کو دیکھتے جائیے پھر اس کی موت اور فنا کو سامنے رکھے، کہاں جوانی کے وقت اس کا جوش و خروش زور طاقت اور کس بل ؟ اور کہاں بڑھاپے کی کمزوری جھریاں پڑا ہوا جسم خمیدہ کمر اور بےطاقت ہڈیاں ؟ جیسے ارشاد باری ہے آیت (اللہ ھوالذی خلقکم من ضعف) اللہ وہ ہے جس نے تمہیں کمزوری کی حالت میں پیدا کیا پھر اس کمزوری کے بعد قوت دی پھر اس وقت کے بعد کمزوری اور بڑھاپا کردیا وہ جو چاہے پیدا کرتا ہے اور وہ عالم اور قادر ہے۔ اس مثال سے دنیا کی فنا اور اس کا زوال ظاہر کر کے پھر آخرت کے دونوں منظر دکھا کر ایک سے ڈراتا ہے اور دوسرے کی رغبت دلاتا ہے، پس فرماتا ہے عنقریب آنے والی قیامت اپنے ساتھ عذاب اور سزا کو لائے گی اور مغفرت اور رضامندی رب کو لائے گی، پس تم وہ کام کرو کہ ناراضگی سے بچ جاؤ اور رضا حاصل کرلو سزاؤں سے بچ جاؤ اور بخشش کے حقدار بن جاؤ، دنیا صرف دھوکے کی ٹٹی ہے اس کی طرف جھکنے والے پر آخر وہ وقت آجاتا ہے کہ یہ اس کے سوا کسی اور چیز کا خیال ہی نہیں کرتا اسی کی دھن میں روز و شب مشغول رہتا ہے بلکہ اس کمی والی اور زوال والی کمینی دنیا کو آخرت پر ترجیح دینے لگتا ہے، شدہ شدہ یہاں تک نوبت پہنچ جاتی ہے کہ بسا اوقات آخرت کا منکر بن جاتا ہے، رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں ایک کوڑے برابر جنت کی جگہ ساری دنیا اور اس کی تمام چیزوں سے بہتر ہے۔ پڑھو قرآن فرماتا ہے کہ دنیا تو صرف دھوکے کا سامان ہے (ابن جریر) آیت کی زیادتی بغیر یہ حدیث صحیح میں بھی ہے واللہ اعلم۔ مسند احمد کی مرفوع حدیث میں ہے تم میں سے ہر ایک سے جنت اس سے بھی زیادہ قریب ہے جتنا تمہارا جوتی کا تسمہ اور اسی طرح جہنم بھی (بخاری) پس معلوم ہوا کہ خیر و شر انسان سے بہت نزدیک ہے اور اس لئے اسے چاہئے کہ بھلائیوں کی طرف سبقت کرے اور برائیوں سے منہ پھیر کر بھاگتا رہے۔ تاکہ گناہ اور برائیاں معاف ہوجائیں اور ثواب اور درجے بلند ہوجائیں۔ اسی لئے اس کے ساتھ ہی فرمایا دوڑو اور اپنے رب کی بخشش کی طرف اور جنت کی طرف جس کی وسعت آسمان و زمین کی جنس کے برابر ہے، جیسے اور آیت (وسارعوا الی مغفرۃ) میں ہے اپنے رب کی مغفرت کی طرف اور جنت کی طرف سبقت کرو جس کی کشادگی کل آسمان اور ساری زمینیں ہیں جو پارسا لوگوں کے لئے بنائی گی ہیں۔ یہاں فرمایا یہ اللہ رسول پر ایمان لانے والوں کے لئے تیار کی گئی ہے، یہ لوگ اللہ کے اس فضل کے لائق تھے اسی لئے اس بڑے فضل و کرم والے نے اپنی نوازش کے لئے انہیں چن لیا اور ان پر اپنا پورا احسان اور اعلیٰ انعام کیا۔ پہلے ایک صحیح حدیث بیان ہوچکی ہے کہ مہاجرین کے فقراء نے حضور ﷺ سے کہا یا رسول اللہ ﷺ مالدار لوگ تو جنت کے بلند درجوں کو اور ہمیشہ رہنے والی نعمتوں کو پا گئے آپ نے فرمایا یہ کیسے ؟ کہا نماز روزہ تو وہ اور ہم سب کرتے ہیں لیکن مال کی وجہ سے وہ صدقہ کرتے ہیں غلام آزاد کرتے ہیں جو مفلسی کی وجہ سے ہم سے نہیں ہوسکتا آپ نے فرمایا آؤ میں تمہیں ایک ایسی چیز بتاؤں کہ اس کے کرنے سے تم ہر شخص سے آگے بڑھ جاؤ گے مگر ان سے جو تمہاری طرح خود بھی اس کو کرنے لگیں، دیکھو تم ہر فرض نماز کے بعد تینتیس مرتبہ سبحان اللہ کہو اور اتنی ہی بار اللہ اکبر اور اسی طرح الحمد اللہ۔ کچھ دنوں بعد یہ بزرگ پھر حاضر حضور ﷺ ہوئے اور کہا یا رسول اللہ ﷺ ہمارے مال دار بھائیوں کو بھی اس وظیفہ کی اطلاع مل گئی اور انہوں نے بھی اسے پڑھنا شروع کردیا آپ نے فرمایا یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہے دے۔
21
View Single
سَابِقُوٓاْ إِلَىٰ مَغۡفِرَةٖ مِّن رَّبِّكُمۡ وَجَنَّةٍ عَرۡضُهَا كَعَرۡضِ ٱلسَّمَآءِ وَٱلۡأَرۡضِ أُعِدَّتۡ لِلَّذِينَ ءَامَنُواْ بِٱللَّهِ وَرُسُلِهِۦۚ ذَٰلِكَ فَضۡلُ ٱللَّهِ يُؤۡتِيهِ مَن يَشَآءُۚ وَٱللَّهُ ذُو ٱلۡفَضۡلِ ٱلۡعَظِيمِ
Rush towards the forgiveness of your Lord and a Paradise wide as the expanse of the heavens and the earth – made for those who believe in Allah and all His Noble Messengers; this is Allah’s munificence, He may bestow it to whomever He wills; and Allah is Extremely Munificent.
(اے بندو!) تم اپنے رب کی بخشش کی طرف تیز لپکو اور جنت کی طرف (بھی) جس کی چوڑائی (ہی) آسمان اور زمین کی وسعت جتنی ہے، اُن لوگوں کیلئے تیار کی گئی ہے جو اللہ اور اُس کے رسولوں پر ایمان لائے ہیں، یہ اللہ کا فضل ہے جسے وہ چاہتا ہے اسے عطا فرما دیتا ہے، اور اللہ عظیم فضل والا ہے
Tafsir Ibn Kathir
This Life of this World is Fleeting Enjoyment
Allah the Exalted degrades the significance of this life and belittles it by saying,
أَنَّمَا الْحَيَوةُ الدُّنْيَا لَعِبٌ وَلَهْوٌ وَزِينَةٌ وَتَفَاخُرٌ بَيْنَكُمْ وَتَكَاثُرٌ فِى الاٌّمْوَلِ وَالاٌّوْلْـدِ
(that the life of this world is only play and amusement, pomp and mutual boasting among you, and rivalry in respect of wealth and children.) meaning, this is the significance of this life to its people, just as He said in another Ayah,
زُيِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّهَوَتِ مِنَ النِّسَآءِ وَالْبَنِينَ وَالْقَنَـطِيرِ الْمُقَنطَرَةِ مِنَ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ وَالْخَيْلِ الْمُسَوَّمَةِ وَالأَنْعَـمِ وَالْحَرْثِ ذَلِكَ مَتَـعُ الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَاللَّهُ عِندَهُ حُسْنُ الْمَأَبِ
(Beautified for men is the love of things they covet; women, children, much of gold and silver (wealth), branded beautiful horses, cattle and well-tilled land. This is the pleasure of the present world's life; but Allah has the excellent return with Him.)(3:14) Allah the Exalted also sets a parable for this life, declaring that its joys are fading and its delights are perishable, saying that life is,
كَمَثَلِ غَيْثٍ
(Like a rain (Ghayth),) which is the rain that comes down to mankind, after they had felt despair. Allah the Exalted said in another Ayah,
وَهُوَ الَّذِى يُنَزِّلُ الْغَيْثَ مِن بَعْدِ مَا قَنَطُواْ
(And He it is Who sends down the Ghayth (rain) after they have despaired.)(42:28) Allah's statement,
أَعْجَبَ الْكُفَّارَ نَبَاتُهُ
(thereof the growth is pleasing to the tiller;) meaning that farmers admire the vegetation that grows in the aftermath of rain. And just as farmers admire vegetation, the disbelievers admire this life; they are the most eager to acquire the traits of life, and life is most dear to them,
ثُمَّ يَهِيجُ فَتَرَاهُ مُصْفَرّاً ثُمَّ يَكُونُ حُطَاماً
(afterwards it dries up and you see it turning yellow; then it becomes straw.) meaning, that vegetation soon turns yellow in color, after being fresh and green. After that, the green fades away and becomes scattered pieces of dust. This is the parable of this worldly life, it starts young, then matures and then turns old and feeble. This is also the parable of mankind in this life; they are young and strong in the beginning. In this stage of life, they look youthful and handsome. Slowly, they begin growing older, their mannerism changes and their strength weakens. They then grow old and feeble; moving becomes difficult for them, while doing easy things becomes beyond their ability. Allah the Exalted said,
اللَّهُ الَّذِى خَلَقَكُمْ مِّن ضَعْفٍ ثُمَّ جَعَلَ مِن بَعْدِ ضَعْفٍ قُوَّةٍ ثُمَّ جَعَلَ مِن بَعْدِ قُوَّةٍ ضَعْفاً وَشَيْبَةً يَخْلُقُ مَا يَشَآءُ وَهُوَ الْعَلِيمُ الْقَدِيرُ
(Allah is He Who created you in (a state of) weakness, then gave you strength after weakness, then after strength gave (you) weakness and grey hair. He creates what He wills. And He is the All-Knowing, the All-Powerful.)(30:54) This parable indicates the near demise of this life and the imminent end of it, while in contrast, the Hereafter is surely coming. Those who hear this parable should, therefore, be aware of the significance of the Hereafter and feel eagerness in the goodness that it contains,
وَفِى الاٌّخِرَةِ عَذَابٌ شَدِيدٌ وَمَغْفِرَةٌ مِّنَ اللَّهِ وَرِضْوَنٌ وَمَا الْحَيَوةُ الدُّنْيَآ إِلاَّ مَتَـعُ الْغُرُورِ
(But in the Hereafter (there is) a severe torment, and (there is) forgiveness from Allah and (His) pleasure. And the life of this world is only a deceiving enjoyment.) meaning, surely, the Hereafter that will certainly come contains two things either severe punishment or forgiveness from Allah and His good pleasure. Allah the Exalted said,
وَما الْحَيَوةُ الدُّنْيَا إِلاَّ مَتَـعُ الْغُرُورِ
(And the life of this world is only a deceiving enjoyment.) meaning, this life is only a form of enjoyment that deceives those who incline to it. Surely, those who recline to this life will admire it and feel that it is dear to them, so much so, that they might think that this is the only life, no life or dwelling after it. Yet, in reality, this life is insignificant as compared to the Hereafter. Imam Ahmad recorded that `Abdullah said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«لَلْجَنَّةُ أَقْرَبُ إِلَى أَحَدِكُمْ مِنْ شِرَاكِ نَعْلِهِ، وَالنَّارُ مِثْلُ ذلِك»
(Paradise is nearer to any of you than the strap on his shoe, and so is the (Hell) Fire.) Al-Bukhari collected this Hadith through the narration of Ath-Thawri. This Hadith indicates the close proximity of both good and evil in relation to mankind. If this is the case, then this is the reason Allah the Exalted encouraged mankind to rush to perform acts of righteousness and obedience and to avoid the prohibitions. By doing so, their sins and errors will be forgiven and they will acquire rewards and an exalted status. Allah the Exalted said,
سَابِقُواْ إِلَى مَغْفِرَةٍ مِّن رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا كَعَرْضِ السَّمَآءِ وَالاٌّرْضِ
(Race with one another in hastening towards forgiveness from your Lord, and Paradise the width whereof is as the width of the heaven and the earth,) Allah the Exalted said in another Ayah,
وَسَارِعُواْ إِلَى مَغْفِرَةٍ مِّن رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمَـوَتُ وَالاٌّرْضُ أُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِينَ
(And march forth in the way (to) forgiveness from your Lord, and for Paradise as wide as the heavens and the earth, prepared for those who have Taqwa.)(3:133) Allah said here,
أُعِدَّتْ لِلَّذِينَ ءَامَنُواْ بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ ذَلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَن يَشَآءُ وَاللَّهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ
(prepared for those who believe in Allah and His Messengers. That is the grace of Allah which He bestows on whom He is pleased with. And Allah is the Owner of great bounty.) meaning, "This, that Allah has qualified them for, is all a part of His favor, bounty and compassion." We mentioned a Hadith collected in the Sahih in which the poor emigrants said to the Messenger ﷺ, "O Allah's Messenger! The wealthy people will get higher grades and permanent enjoyment." He asked,
«وَمَا ذَاكَ؟»
(Why is that) They said, "They pray like us and fast as we do. However, they give in charity, whereas we cannot do that, and that free servants, whereas we cannot afford it." The Prophet said,
«أَفَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى شَيْءٍ إِذَا فَعَلْتُمُوهُ سَبَقْتُمْ مَنْ بَعْدَكُمْ، وَلَا يَكُونُ أَحَدٌ أَفْضَلَ مِنْكُمْ إِلَّا مَنْ صَنَعَ مِثْلَ مَا صَنَعْتُمْ: تُسَبِّحُونَ وَتُكَبِّرُونَ وَتُحَمِّدُونَ دُبُرَ كُلِّ صَلَاةٍ ثَلَاثًا وَثَلَاثِين»
(Shall I tell you of a good deed that, if you acted upon, you would catch up with those who have surpassed you none would overtake you and be better than you, except those who might do the same. Say, "Glorious is Allah," "Allah is Most Great," and "Praise be to Allah," thirty three times each after every prayer.) They later came back and said, "Our wealthy brethren heard what we did and they started doing the same." Allah's Messenger ﷺ said,
«ذلِكَ فَضْلُ اللهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاء»
This is the favor of Allah that He gives to whom He wills.)
دنیا کی زندگی صرف کھیل تماشا ہے امر دنیا کی تحقیر و توہین بیان ہو رہی ہے کہ اہل دنیا کو سوائے لہو و لعب زینت و فخر اور اولاد و مال کی کثرت کی چاہت کے اور ہے بھی کیا ؟ جیسے اور آیت میں ہے (زُيِّنَ للنَّاسِ حُبُّ الشَّهَوٰتِ مِنَ النِّسَاۗءِ وَالْبَنِيْنَ وَالْقَنَاطِيْرِ الْمُقَنْطَرَةِ مِنَ الذَّھَبِ وَالْفِضَّةِ وَالْخَيْلِ الْمُسَوَّمَةِ وَالْاَنْعَامِ وَالْحَرْثِ ۭ ذٰلِكَ مَتَاعُ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا ۚ وَاللّٰهُ عِنْدَهٗ حُسْنُ الْمَاٰبِ 14) 3۔ آل عمران :14) ، یعنی لوگوں کے لئے ان کی خواہش کی چیزوں کو مزین کردیا گیا ہے جیسے عورتیں بچے وغیرہ پھر حیات دنیا کی مثال بیان ہو رہی ہے کہ اس کی تازگی فانی ہے اور یہاں کی نعمتیں زوال پذیر ہیں۔ غیث کہتے ہیں اس بارش کو جو لوگوں کی ناامیدی کے بعد برسے۔ جیسے فرمان ہے آیت (وَهُوَ الَّذِيْ يُنَزِّلُ الْغَيْثَ مِنْۢ بَعْدِ مَا قَنَطُوْا وَيَنْشُرُ رَحْمَتَهٗ ۭ وَهُوَ الْوَلِيُّ الْحَمِيْدُ 28) 42۔ الشوری :28) ، اللہ وہ ہے جو لوگوں کی ناامیدی کے بعد بارش برساتا ہے۔ پس جس طرح بارش کی وجہ سے زمین سے کھیتیاں پیدا ہوتی ہیں اور وہ لہلہاتی ہوئی کسان کی آنکھوں کو بھی بھلی معلوم ہوتی ہیں، اسی طرح اہل دنیا اسباب دنیوی پر پھولتے ہیں، لیکن نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہی ہری بھری کھیتی خشک ہو کر زرد پڑجاتی ہے پھر آخر سوکھ کر ریزہ ریزہ ہوجاتی ہے۔ ٹھیک اسی طرح دنیا کی ترو تازگی اور یہاں کی بہبودی اور ترقی بھی خاک میں مل جانے والی ہے، دنیا کی بھی یہی صورتیں ہوتی ہیں کہ ایک وقت جوان ہے پھر ادھیڑ ہے پھر بڑھیا ہے، ٹھیک اسی طرح خود انسان کی حالت ہے اس کے بچپن جوانی ادھیڑ عمر اور بڑھاپے کو دیکھتے جائیے پھر اس کی موت اور فنا کو سامنے رکھے، کہاں جوانی کے وقت اس کا جوش و خروش زور طاقت اور کس بل ؟ اور کہاں بڑھاپے کی کمزوری جھریاں پڑا ہوا جسم خمیدہ کمر اور بےطاقت ہڈیاں ؟ جیسے ارشاد باری ہے آیت (اللہ ھوالذی خلقکم من ضعف) اللہ وہ ہے جس نے تمہیں کمزوری کی حالت میں پیدا کیا پھر اس کمزوری کے بعد قوت دی پھر اس وقت کے بعد کمزوری اور بڑھاپا کردیا وہ جو چاہے پیدا کرتا ہے اور وہ عالم اور قادر ہے۔ اس مثال سے دنیا کی فنا اور اس کا زوال ظاہر کر کے پھر آخرت کے دونوں منظر دکھا کر ایک سے ڈراتا ہے اور دوسرے کی رغبت دلاتا ہے، پس فرماتا ہے عنقریب آنے والی قیامت اپنے ساتھ عذاب اور سزا کو لائے گی اور مغفرت اور رضامندی رب کو لائے گی، پس تم وہ کام کرو کہ ناراضگی سے بچ جاؤ اور رضا حاصل کرلو سزاؤں سے بچ جاؤ اور بخشش کے حقدار بن جاؤ، دنیا صرف دھوکے کی ٹٹی ہے اس کی طرف جھکنے والے پر آخر وہ وقت آجاتا ہے کہ یہ اس کے سوا کسی اور چیز کا خیال ہی نہیں کرتا اسی کی دھن میں روز و شب مشغول رہتا ہے بلکہ اس کمی والی اور زوال والی کمینی دنیا کو آخرت پر ترجیح دینے لگتا ہے، شدہ شدہ یہاں تک نوبت پہنچ جاتی ہے کہ بسا اوقات آخرت کا منکر بن جاتا ہے، رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں ایک کوڑے برابر جنت کی جگہ ساری دنیا اور اس کی تمام چیزوں سے بہتر ہے۔ پڑھو قرآن فرماتا ہے کہ دنیا تو صرف دھوکے کا سامان ہے (ابن جریر) آیت کی زیادتی بغیر یہ حدیث صحیح میں بھی ہے واللہ اعلم۔ مسند احمد کی مرفوع حدیث میں ہے تم میں سے ہر ایک سے جنت اس سے بھی زیادہ قریب ہے جتنا تمہارا جوتی کا تسمہ اور اسی طرح جہنم بھی (بخاری) پس معلوم ہوا کہ خیر و شر انسان سے بہت نزدیک ہے اور اس لئے اسے چاہئے کہ بھلائیوں کی طرف سبقت کرے اور برائیوں سے منہ پھیر کر بھاگتا رہے۔ تاکہ گناہ اور برائیاں معاف ہوجائیں اور ثواب اور درجے بلند ہوجائیں۔ اسی لئے اس کے ساتھ ہی فرمایا دوڑو اور اپنے رب کی بخشش کی طرف اور جنت کی طرف جس کی وسعت آسمان و زمین کی جنس کے برابر ہے، جیسے اور آیت (وسارعوا الی مغفرۃ) میں ہے اپنے رب کی مغفرت کی طرف اور جنت کی طرف سبقت کرو جس کی کشادگی کل آسمان اور ساری زمینیں ہیں جو پارسا لوگوں کے لئے بنائی گی ہیں۔ یہاں فرمایا یہ اللہ رسول پر ایمان لانے والوں کے لئے تیار کی گئی ہے، یہ لوگ اللہ کے اس فضل کے لائق تھے اسی لئے اس بڑے فضل و کرم والے نے اپنی نوازش کے لئے انہیں چن لیا اور ان پر اپنا پورا احسان اور اعلیٰ انعام کیا۔ پہلے ایک صحیح حدیث بیان ہوچکی ہے کہ مہاجرین کے فقراء نے حضور ﷺ سے کہا یا رسول اللہ ﷺ مالدار لوگ تو جنت کے بلند درجوں کو اور ہمیشہ رہنے والی نعمتوں کو پا گئے آپ نے فرمایا یہ کیسے ؟ کہا نماز روزہ تو وہ اور ہم سب کرتے ہیں لیکن مال کی وجہ سے وہ صدقہ کرتے ہیں غلام آزاد کرتے ہیں جو مفلسی کی وجہ سے ہم سے نہیں ہوسکتا آپ نے فرمایا آؤ میں تمہیں ایک ایسی چیز بتاؤں کہ اس کے کرنے سے تم ہر شخص سے آگے بڑھ جاؤ گے مگر ان سے جو تمہاری طرح خود بھی اس کو کرنے لگیں، دیکھو تم ہر فرض نماز کے بعد تینتیس مرتبہ سبحان اللہ کہو اور اتنی ہی بار اللہ اکبر اور اسی طرح الحمد اللہ۔ کچھ دنوں بعد یہ بزرگ پھر حاضر حضور ﷺ ہوئے اور کہا یا رسول اللہ ﷺ ہمارے مال دار بھائیوں کو بھی اس وظیفہ کی اطلاع مل گئی اور انہوں نے بھی اسے پڑھنا شروع کردیا آپ نے فرمایا یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہے دے۔
22
View Single
مَآ أَصَابَ مِن مُّصِيبَةٖ فِي ٱلۡأَرۡضِ وَلَا فِيٓ أَنفُسِكُمۡ إِلَّا فِي كِتَٰبٖ مِّن قَبۡلِ أَن نَّبۡرَأَهَآۚ إِنَّ ذَٰلِكَ عَلَى ٱللَّهِ يَسِيرٞ
There is no misfortune that reaches in the earth or in your selves but is mentioned in a Book, before We initiate it; indeed this is easy for Allah.
کوئی بھی مصیبت نہ تو زمین میں پہنچتی ہے اور نہ تمہاری زندگیوں میں مگر وہ ایک کتاب میں (یعنی لوحِ محفوظ میں جو اللہ کے علمِ قدیم کا مرتبہ ہے) اس سے قبل کہ ہم اسے پیدا کریں (موجود) ہوتی ہے، بیشک یہ (علمِ محیط و کامل) اللہ پر بہت ہی آسان ہے
Tafsir Ibn Kathir
Everything that affects Mankind, is duly measured and destined
Allah reminds of His measuring and deciding the destiny of all things before He created the creation,
مَآ أَصَابَ مِن مُّصِيبَةٍ فِى الاٌّرْضِ وَلاَ فِى أَنفُسِكُمْ
(No calamity occurs on the earth nor in yourselves) meaning, `there is nothing that touches you or happens in existence,'
إِلاَّ فِى كِتَـبٍ مِّن قَبْلِ أَن نَّبْرَأَهَآ
(but it is inscribed in the Book of Decrees before We bring it into existence.) meaning, `before We created the creation and started life.' Qatadah commented on this Ayah,
مَآ أَصَابَ مِن مُّصِيبَةٍ فِى الاٌّرْضِ
(No calamity occurs on the earth) refers to famine, while,
وَلاَ فِى أَنفُسِكُمْ
(or nor in yourselves) refers to suffering and diseases." He also said, "We were told that every person who suffers a prick of a thorn, a twisted ankle, or a bleeding vein, has it occur on account of his sins. What Allah forgives is even more." This great, honorable Ayah provides clear evidence to the misguidance of the cursed Qadariyyah sect, who deny Allah's Preordaihnent and His knowledge of everything before it occurs. Imam Ahmad recorded that `Abdullah bin `Amr bin Al-`As said, "I heard the Messenger of Allah ﷺ say,
«قَدَّرَ اللهُ الْمَقَادِيرَ قَبلَ أَنْ يَخْلُقَ السَّموَاتِ وَالْأَرْضَ بِخَمْسِينَ أَلْفَ سَنَة»
(Allah ordained the measures (of everything) fifty thousand years before He created the heavens and the earth.)" Muslim collected this Hadith in his Sahih with the addition:
«وَكَانَ عَرْشُهُ عَلَى الْمَاء»
(And His Throne was over the water.) At-Tirmidhi also collected it and said, "Hasan Sahih." Allah's statement,
إِنَّ ذلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرٌ
(Verily, that is easy for Allah.) means that He knows all things before they occur, and He records them exactly as they will occur when they occur, and this is easy for Him. Verily, Allah knows what happened, what will happen and what did not happen, and what shape and form it will take if it were to happen.
Ordering Patience and Gratitude
Allah said,
لِّكَيْلاَ تَأْسَوْاْ عَلَى مَا فَاتَكُمْ وَلاَ تَفْرَحُواْ بِمَآ ءَاتَـكُمْ
(In order that you may not grieve at the things over that you fail to get, nor rejoice over that which has been given to you.) meaning, `We informed you of Our encompassing knowledge, recording all things before they occur and creating all things in due measure known to Us, so that you may know that what has met you would never have missed you and what has missed you would never have met you. Therefore, do not grieve for what you have missed of fortune, because had it been destined for you, you would have achieved it.' (It is also recited:) (وَلَا تَفْرَحُوْا بِمَا أَتَاكُمْ) (nor rejoice over that which came to you) meaning, come to you. According to the recitation,
ءَاتَـكُمُ
it means (which has been given to you.) Both meanings are related. Allah says here, `do not boast before people about what Allah has favored you with, because it is not you who earned it by your efforts. Rather, all this came your way because Allah destined them for you and provided them for you as provisions. Therefore, do not use what Allah has granted you as a reason to boast and become arrogant with others.' Allah's statement,
وَاللَّهُ لاَ يُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُورٍ
(And Allah likes not prideful boasters.) meaning, who acts arrogantly with other people. `Ikrimah commented by saying, "Everyone of us feels happiness and grief. However, make your joy with gratitude and endure your grief with patience."
Censuring the Stinginess
Allah the Exalted then said,
الَّذِينَ يَبْخَلُونَ وَيَأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبُخْلِ
(Those who are misers and enjoin miserliness upon people.) meaning those who commit evil and encourage people to commit it,
وَمَن يَتَوَلَّ
(And whosoever turns away,) from abiding by Allah's commandments and obeying Him,
فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ الْغَنِىُّ الْحَمِيدُ
(then Allah is Rich, Worthy of all praise.) As Musa, peace be upon him, said,
إِن تَكْفُرُواْ أَنتُمْ وَمَن فِى الاٌّرْضِ جَمِيعًا فَإِنَّ اللَّهَ لَغَنِىٌّ حَمِيدٌ
(If you disbelieve, you and all on earth together, then verily, Allah is Rich, Owner of all praise.)(14:8)
تنگی اور آسانی کی طرف سے ہے اللہ تعالیٰ اپنی اس قدرت کی خبر دے رہا ہے جو اس نے مخلوقات کی پیدائش سے پہلے ہی اپنی مخلوق کی تقدیر مقرر کی تھی، فرمایا کہ زمین کے جس حصے میں کوئی برائی آئے یا جس کسی شخص کی جان پر کچھ آپڑے اسے یقین رکھنا چاہئے کہ خلق کی پیدائش سے پہلے ہے، لیکن زیادہ ٹھیک بات یہ ہے کہ مخلوق کی پیدائش سے پہلے ہے، امام حسن سے اس آیت کی بابت سوال ہوا تو فرمانے لگے سبحان اللہ ہر مصیبت جو آسمان و زمین میں ہے وہ نفس کی پیدائش سے پہلے ہی رب کی کتاب میں موجود ہے اس میں کیا شک ہے ؟ زمین کی مصیبتوں سے مراد خشک سالی، قحط وغیرہ ہے اور جانوں کی مصیبت درد دکھ اور بیماری ہے، جس کسی کو کوئی خراش لگتی ہے یا لغزش پا سے کوئی تکلیف پہنچتی ہے یا کسی سخت محنت سے پسینہ آجاتا ہے یہ سب اس کے گناہوں کی وجہ سے ہے اور ابھی تو بہت سے گناہ ہیں جنہیں وہ غفور و رحیم اللہ بخش دیتا ہے، یہ آیت بہترین اور بہت اعلیٰ دلیل ہے قدریہ کی تردید میں جس کا خیال ہے کہ سابق علم کوئی چیز نہیں اللہ انہیں ذلیل کرے۔ صحیح مسلم شریف ہے اللہ تعالیٰ نے تقدیر مقرر آسمان و زمین کی پیدائش سے پچاس ہزار برس پہلے کی اور روایت میں ہے اس کا عرش پانی پر تھا (ترمذی) پھر فرماتا ہے کاموں کے وجود میں آنے سے پہلے ان کا اندازہ کرلینا، ان کے ہونے کا علم حاصل کرلینا اور اسے لکھ دینا اللہ پر کچھ مشکل نہیں۔ وہی تو ان کا پیدا کرنے والا ہے۔ جس کا محیط علم ہونے والی، ہو رہی، ہوچکی، ہوگی تمام چیزوں کو شامل ہے۔ پھر ارشاد ہوتا ہے ہم نے تمہیں یہ خبر اس لئے دی ہے کہ تم یقین رکھو کہ جو تمہیں پہنچا وہ ہرگز کسی صورت ٹلنے والا نہ تھا، پس مصیبت کے وقت صبر و شکر تحمل و ثابت قدمی مضبوط ولی اور روحانی طاقت تم میں موجود رہے، ہائے وائے بےصبری اور بےضبطی تم سے دور رہے جزع فزع تم پر چھا نہ جائے تم اطمینان سے رہو کہ یہ تکلیف تو آنے والی تھی ہی، اسی طرح اگر مال دولت غلبہ وغیرہ مل جائے تو اس وقت آپے سے باہر نہ ہوجاؤ اسے عطیہ الٰہی مانو تکبر اور غرور تم میں نہ آجائے ایسا نہ ہو کہ دولت و مال وغیرہ کے نشے میں پھول جاؤ اور اللہ کو بھول جاؤ اس لئے کہ اس وقت بھی ماری یہ تعلیم تمہارے سامنے ہوگی کہ یہ میرے دست وبازو کا میری عقل و ہوش کا نتیجہ نہیں بلکہ اللہ کی عطا ہے۔ ایک قرأت اس کی آتکم ہے دوسری اتکم ہے اور دونوں میں تلازم ہے، اسی لئے ارشاد ہوتا ہے کہ اپنے جی میں اپنے آپ کو بڑا سمجھنے والے دوسروں پر فخر کرنے والے اللہ کے دشمن ہیں، حضرت ابن عباس کا فرمان ہے کہ رنج و راحت خوشی و غم تو ہر شخص پر آتا ہے خوشی کو شکر میں اور غم کو صبر میں گذار دو ، پھر ارشاد ہوتا ہے کہ یہ لوگ خود بھی بخیل اور خلاف شرع کام کرنے والے ہیں اور دوسروں کو بھی یہی برا راستہ بتاتے ہیں۔ جو شخص اللہ کی حکم برداری سے ہٹ جائے وہ اللہ کا کچھ نہیں بگاڑے گا کیونکہ وہ تمام مخلوق سے بےنیاز ہے اور ہر طرح سزا اور حمد ہے۔ جیسے حضرت موسیٰ ؑ نے فرمایا یعنی اگر تم اور تمام روئے زمین کے انسان کافر ہوجائیں تو بھی اللہ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے اللہ ساری مخلوق سے غنی ہے اور مستحق حمد ہے۔
23
View Single
لِّكَيۡلَا تَأۡسَوۡاْ عَلَىٰ مَا فَاتَكُمۡ وَلَا تَفۡرَحُواْ بِمَآ ءَاتَىٰكُمۡۗ وَٱللَّهُ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخۡتَالٖ فَخُورٍ
So that you may not be saddened upon losing something, nor rejoice upon what you are given; and Allah does not like any boastful, conceited person.
تاکہ تم اس چیز پر غم نہ کرو جو تمہارے ہاتھ سے جاتی رہی اور اس چیز پر نہ اِتراؤ جو اس نے تمہیں عطا کی، اور اللہ کسی تکبّر کرنے والے، فخر کرنے والے کو پسند نہیں کرتا
Tafsir Ibn Kathir
Everything that affects Mankind, is duly measured and destined
Allah reminds of His measuring and deciding the destiny of all things before He created the creation,
مَآ أَصَابَ مِن مُّصِيبَةٍ فِى الاٌّرْضِ وَلاَ فِى أَنفُسِكُمْ
(No calamity occurs on the earth nor in yourselves) meaning, `there is nothing that touches you or happens in existence,'
إِلاَّ فِى كِتَـبٍ مِّن قَبْلِ أَن نَّبْرَأَهَآ
(but it is inscribed in the Book of Decrees before We bring it into existence.) meaning, `before We created the creation and started life.' Qatadah commented on this Ayah,
مَآ أَصَابَ مِن مُّصِيبَةٍ فِى الاٌّرْضِ
(No calamity occurs on the earth) refers to famine, while,
وَلاَ فِى أَنفُسِكُمْ
(or nor in yourselves) refers to suffering and diseases." He also said, "We were told that every person who suffers a prick of a thorn, a twisted ankle, or a bleeding vein, has it occur on account of his sins. What Allah forgives is even more." This great, honorable Ayah provides clear evidence to the misguidance of the cursed Qadariyyah sect, who deny Allah's Preordaihnent and His knowledge of everything before it occurs. Imam Ahmad recorded that `Abdullah bin `Amr bin Al-`As said, "I heard the Messenger of Allah ﷺ say,
«قَدَّرَ اللهُ الْمَقَادِيرَ قَبلَ أَنْ يَخْلُقَ السَّموَاتِ وَالْأَرْضَ بِخَمْسِينَ أَلْفَ سَنَة»
(Allah ordained the measures (of everything) fifty thousand years before He created the heavens and the earth.)" Muslim collected this Hadith in his Sahih with the addition:
«وَكَانَ عَرْشُهُ عَلَى الْمَاء»
(And His Throne was over the water.) At-Tirmidhi also collected it and said, "Hasan Sahih." Allah's statement,
إِنَّ ذلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرٌ
(Verily, that is easy for Allah.) means that He knows all things before they occur, and He records them exactly as they will occur when they occur, and this is easy for Him. Verily, Allah knows what happened, what will happen and what did not happen, and what shape and form it will take if it were to happen.
Ordering Patience and Gratitude
Allah said,
لِّكَيْلاَ تَأْسَوْاْ عَلَى مَا فَاتَكُمْ وَلاَ تَفْرَحُواْ بِمَآ ءَاتَـكُمْ
(In order that you may not grieve at the things over that you fail to get, nor rejoice over that which has been given to you.) meaning, `We informed you of Our encompassing knowledge, recording all things before they occur and creating all things in due measure known to Us, so that you may know that what has met you would never have missed you and what has missed you would never have met you. Therefore, do not grieve for what you have missed of fortune, because had it been destined for you, you would have achieved it.' (It is also recited:) (وَلَا تَفْرَحُوْا بِمَا أَتَاكُمْ) (nor rejoice over that which came to you) meaning, come to you. According to the recitation,
ءَاتَـكُمُ
it means (which has been given to you.) Both meanings are related. Allah says here, `do not boast before people about what Allah has favored you with, because it is not you who earned it by your efforts. Rather, all this came your way because Allah destined them for you and provided them for you as provisions. Therefore, do not use what Allah has granted you as a reason to boast and become arrogant with others.' Allah's statement,
وَاللَّهُ لاَ يُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُورٍ
(And Allah likes not prideful boasters.) meaning, who acts arrogantly with other people. `Ikrimah commented by saying, "Everyone of us feels happiness and grief. However, make your joy with gratitude and endure your grief with patience."
Censuring the Stinginess
Allah the Exalted then said,
الَّذِينَ يَبْخَلُونَ وَيَأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبُخْلِ
(Those who are misers and enjoin miserliness upon people.) meaning those who commit evil and encourage people to commit it,
وَمَن يَتَوَلَّ
(And whosoever turns away,) from abiding by Allah's commandments and obeying Him,
فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ الْغَنِىُّ الْحَمِيدُ
(then Allah is Rich, Worthy of all praise.) As Musa, peace be upon him, said,
إِن تَكْفُرُواْ أَنتُمْ وَمَن فِى الاٌّرْضِ جَمِيعًا فَإِنَّ اللَّهَ لَغَنِىٌّ حَمِيدٌ
(If you disbelieve, you and all on earth together, then verily, Allah is Rich, Owner of all praise.)(14:8)
تنگی اور آسانی کی طرف سے ہے اللہ تعالیٰ اپنی اس قدرت کی خبر دے رہا ہے جو اس نے مخلوقات کی پیدائش سے پہلے ہی اپنی مخلوق کی تقدیر مقرر کی تھی، فرمایا کہ زمین کے جس حصے میں کوئی برائی آئے یا جس کسی شخص کی جان پر کچھ آپڑے اسے یقین رکھنا چاہئے کہ خلق کی پیدائش سے پہلے ہے، لیکن زیادہ ٹھیک بات یہ ہے کہ مخلوق کی پیدائش سے پہلے ہے، امام حسن سے اس آیت کی بابت سوال ہوا تو فرمانے لگے سبحان اللہ ہر مصیبت جو آسمان و زمین میں ہے وہ نفس کی پیدائش سے پہلے ہی رب کی کتاب میں موجود ہے اس میں کیا شک ہے ؟ زمین کی مصیبتوں سے مراد خشک سالی، قحط وغیرہ ہے اور جانوں کی مصیبت درد دکھ اور بیماری ہے، جس کسی کو کوئی خراش لگتی ہے یا لغزش پا سے کوئی تکلیف پہنچتی ہے یا کسی سخت محنت سے پسینہ آجاتا ہے یہ سب اس کے گناہوں کی وجہ سے ہے اور ابھی تو بہت سے گناہ ہیں جنہیں وہ غفور و رحیم اللہ بخش دیتا ہے، یہ آیت بہترین اور بہت اعلیٰ دلیل ہے قدریہ کی تردید میں جس کا خیال ہے کہ سابق علم کوئی چیز نہیں اللہ انہیں ذلیل کرے۔ صحیح مسلم شریف ہے اللہ تعالیٰ نے تقدیر مقرر آسمان و زمین کی پیدائش سے پچاس ہزار برس پہلے کی اور روایت میں ہے اس کا عرش پانی پر تھا (ترمذی) پھر فرماتا ہے کاموں کے وجود میں آنے سے پہلے ان کا اندازہ کرلینا، ان کے ہونے کا علم حاصل کرلینا اور اسے لکھ دینا اللہ پر کچھ مشکل نہیں۔ وہی تو ان کا پیدا کرنے والا ہے۔ جس کا محیط علم ہونے والی، ہو رہی، ہوچکی، ہوگی تمام چیزوں کو شامل ہے۔ پھر ارشاد ہوتا ہے ہم نے تمہیں یہ خبر اس لئے دی ہے کہ تم یقین رکھو کہ جو تمہیں پہنچا وہ ہرگز کسی صورت ٹلنے والا نہ تھا، پس مصیبت کے وقت صبر و شکر تحمل و ثابت قدمی مضبوط ولی اور روحانی طاقت تم میں موجود رہے، ہائے وائے بےصبری اور بےضبطی تم سے دور رہے جزع فزع تم پر چھا نہ جائے تم اطمینان سے رہو کہ یہ تکلیف تو آنے والی تھی ہی، اسی طرح اگر مال دولت غلبہ وغیرہ مل جائے تو اس وقت آپے سے باہر نہ ہوجاؤ اسے عطیہ الٰہی مانو تکبر اور غرور تم میں نہ آجائے ایسا نہ ہو کہ دولت و مال وغیرہ کے نشے میں پھول جاؤ اور اللہ کو بھول جاؤ اس لئے کہ اس وقت بھی ماری یہ تعلیم تمہارے سامنے ہوگی کہ یہ میرے دست وبازو کا میری عقل و ہوش کا نتیجہ نہیں بلکہ اللہ کی عطا ہے۔ ایک قرأت اس کی آتکم ہے دوسری اتکم ہے اور دونوں میں تلازم ہے، اسی لئے ارشاد ہوتا ہے کہ اپنے جی میں اپنے آپ کو بڑا سمجھنے والے دوسروں پر فخر کرنے والے اللہ کے دشمن ہیں، حضرت ابن عباس کا فرمان ہے کہ رنج و راحت خوشی و غم تو ہر شخص پر آتا ہے خوشی کو شکر میں اور غم کو صبر میں گذار دو ، پھر ارشاد ہوتا ہے کہ یہ لوگ خود بھی بخیل اور خلاف شرع کام کرنے والے ہیں اور دوسروں کو بھی یہی برا راستہ بتاتے ہیں۔ جو شخص اللہ کی حکم برداری سے ہٹ جائے وہ اللہ کا کچھ نہیں بگاڑے گا کیونکہ وہ تمام مخلوق سے بےنیاز ہے اور ہر طرح سزا اور حمد ہے۔ جیسے حضرت موسیٰ ؑ نے فرمایا یعنی اگر تم اور تمام روئے زمین کے انسان کافر ہوجائیں تو بھی اللہ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے اللہ ساری مخلوق سے غنی ہے اور مستحق حمد ہے۔
24
View Single
ٱلَّذِينَ يَبۡخَلُونَ وَيَأۡمُرُونَ ٱلنَّاسَ بِٱلۡبُخۡلِۗ وَمَن يَتَوَلَّ فَإِنَّ ٱللَّهَ هُوَ ٱلۡغَنِيُّ ٱلۡحَمِيدُ
Those who practice miserliness, and exhort others to miserliness; and whoever turns away, then (know that) Allah is the Independent, the Most Praiseworthy.
جو لوگ (خود بھی) بخل کرتے ہیں اور (دوسرے) لوگوں کو (بھی) بخل کی تلقین کرتے ہیں، اور جو شخص (احکامِ الٰہی سے) رُوگردانی کرتا ہے تو بیشک اللہ (بھی) بے پرواہ ہے بڑا قابلِ حمد و ستائِش ہے
Tafsir Ibn Kathir
Everything that affects Mankind, is duly measured and destined
Allah reminds of His measuring and deciding the destiny of all things before He created the creation,
مَآ أَصَابَ مِن مُّصِيبَةٍ فِى الاٌّرْضِ وَلاَ فِى أَنفُسِكُمْ
(No calamity occurs on the earth nor in yourselves) meaning, `there is nothing that touches you or happens in existence,'
إِلاَّ فِى كِتَـبٍ مِّن قَبْلِ أَن نَّبْرَأَهَآ
(but it is inscribed in the Book of Decrees before We bring it into existence.) meaning, `before We created the creation and started life.' Qatadah commented on this Ayah,
مَآ أَصَابَ مِن مُّصِيبَةٍ فِى الاٌّرْضِ
(No calamity occurs on the earth) refers to famine, while,
وَلاَ فِى أَنفُسِكُمْ
(or nor in yourselves) refers to suffering and diseases." He also said, "We were told that every person who suffers a prick of a thorn, a twisted ankle, or a bleeding vein, has it occur on account of his sins. What Allah forgives is even more." This great, honorable Ayah provides clear evidence to the misguidance of the cursed Qadariyyah sect, who deny Allah's Preordaihnent and His knowledge of everything before it occurs. Imam Ahmad recorded that `Abdullah bin `Amr bin Al-`As said, "I heard the Messenger of Allah ﷺ say,
«قَدَّرَ اللهُ الْمَقَادِيرَ قَبلَ أَنْ يَخْلُقَ السَّموَاتِ وَالْأَرْضَ بِخَمْسِينَ أَلْفَ سَنَة»
(Allah ordained the measures (of everything) fifty thousand years before He created the heavens and the earth.)" Muslim collected this Hadith in his Sahih with the addition:
«وَكَانَ عَرْشُهُ عَلَى الْمَاء»
(And His Throne was over the water.) At-Tirmidhi also collected it and said, "Hasan Sahih." Allah's statement,
إِنَّ ذلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرٌ
(Verily, that is easy for Allah.) means that He knows all things before they occur, and He records them exactly as they will occur when they occur, and this is easy for Him. Verily, Allah knows what happened, what will happen and what did not happen, and what shape and form it will take if it were to happen.
Ordering Patience and Gratitude
Allah said,
لِّكَيْلاَ تَأْسَوْاْ عَلَى مَا فَاتَكُمْ وَلاَ تَفْرَحُواْ بِمَآ ءَاتَـكُمْ
(In order that you may not grieve at the things over that you fail to get, nor rejoice over that which has been given to you.) meaning, `We informed you of Our encompassing knowledge, recording all things before they occur and creating all things in due measure known to Us, so that you may know that what has met you would never have missed you and what has missed you would never have met you. Therefore, do not grieve for what you have missed of fortune, because had it been destined for you, you would have achieved it.' (It is also recited:) (وَلَا تَفْرَحُوْا بِمَا أَتَاكُمْ) (nor rejoice over that which came to you) meaning, come to you. According to the recitation,
ءَاتَـكُمُ
it means (which has been given to you.) Both meanings are related. Allah says here, `do not boast before people about what Allah has favored you with, because it is not you who earned it by your efforts. Rather, all this came your way because Allah destined them for you and provided them for you as provisions. Therefore, do not use what Allah has granted you as a reason to boast and become arrogant with others.' Allah's statement,
وَاللَّهُ لاَ يُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُورٍ
(And Allah likes not prideful boasters.) meaning, who acts arrogantly with other people. `Ikrimah commented by saying, "Everyone of us feels happiness and grief. However, make your joy with gratitude and endure your grief with patience."
Censuring the Stinginess
Allah the Exalted then said,
الَّذِينَ يَبْخَلُونَ وَيَأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبُخْلِ
(Those who are misers and enjoin miserliness upon people.) meaning those who commit evil and encourage people to commit it,
وَمَن يَتَوَلَّ
(And whosoever turns away,) from abiding by Allah's commandments and obeying Him,
فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ الْغَنِىُّ الْحَمِيدُ
(then Allah is Rich, Worthy of all praise.) As Musa, peace be upon him, said,
إِن تَكْفُرُواْ أَنتُمْ وَمَن فِى الاٌّرْضِ جَمِيعًا فَإِنَّ اللَّهَ لَغَنِىٌّ حَمِيدٌ
(If you disbelieve, you and all on earth together, then verily, Allah is Rich, Owner of all praise.)(14:8)
تنگی اور آسانی کی طرف سے ہے اللہ تعالیٰ اپنی اس قدرت کی خبر دے رہا ہے جو اس نے مخلوقات کی پیدائش سے پہلے ہی اپنی مخلوق کی تقدیر مقرر کی تھی، فرمایا کہ زمین کے جس حصے میں کوئی برائی آئے یا جس کسی شخص کی جان پر کچھ آپڑے اسے یقین رکھنا چاہئے کہ خلق کی پیدائش سے پہلے ہے، لیکن زیادہ ٹھیک بات یہ ہے کہ مخلوق کی پیدائش سے پہلے ہے، امام حسن سے اس آیت کی بابت سوال ہوا تو فرمانے لگے سبحان اللہ ہر مصیبت جو آسمان و زمین میں ہے وہ نفس کی پیدائش سے پہلے ہی رب کی کتاب میں موجود ہے اس میں کیا شک ہے ؟ زمین کی مصیبتوں سے مراد خشک سالی، قحط وغیرہ ہے اور جانوں کی مصیبت درد دکھ اور بیماری ہے، جس کسی کو کوئی خراش لگتی ہے یا لغزش پا سے کوئی تکلیف پہنچتی ہے یا کسی سخت محنت سے پسینہ آجاتا ہے یہ سب اس کے گناہوں کی وجہ سے ہے اور ابھی تو بہت سے گناہ ہیں جنہیں وہ غفور و رحیم اللہ بخش دیتا ہے، یہ آیت بہترین اور بہت اعلیٰ دلیل ہے قدریہ کی تردید میں جس کا خیال ہے کہ سابق علم کوئی چیز نہیں اللہ انہیں ذلیل کرے۔ صحیح مسلم شریف ہے اللہ تعالیٰ نے تقدیر مقرر آسمان و زمین کی پیدائش سے پچاس ہزار برس پہلے کی اور روایت میں ہے اس کا عرش پانی پر تھا (ترمذی) پھر فرماتا ہے کاموں کے وجود میں آنے سے پہلے ان کا اندازہ کرلینا، ان کے ہونے کا علم حاصل کرلینا اور اسے لکھ دینا اللہ پر کچھ مشکل نہیں۔ وہی تو ان کا پیدا کرنے والا ہے۔ جس کا محیط علم ہونے والی، ہو رہی، ہوچکی، ہوگی تمام چیزوں کو شامل ہے۔ پھر ارشاد ہوتا ہے ہم نے تمہیں یہ خبر اس لئے دی ہے کہ تم یقین رکھو کہ جو تمہیں پہنچا وہ ہرگز کسی صورت ٹلنے والا نہ تھا، پس مصیبت کے وقت صبر و شکر تحمل و ثابت قدمی مضبوط ولی اور روحانی طاقت تم میں موجود رہے، ہائے وائے بےصبری اور بےضبطی تم سے دور رہے جزع فزع تم پر چھا نہ جائے تم اطمینان سے رہو کہ یہ تکلیف تو آنے والی تھی ہی، اسی طرح اگر مال دولت غلبہ وغیرہ مل جائے تو اس وقت آپے سے باہر نہ ہوجاؤ اسے عطیہ الٰہی مانو تکبر اور غرور تم میں نہ آجائے ایسا نہ ہو کہ دولت و مال وغیرہ کے نشے میں پھول جاؤ اور اللہ کو بھول جاؤ اس لئے کہ اس وقت بھی ماری یہ تعلیم تمہارے سامنے ہوگی کہ یہ میرے دست وبازو کا میری عقل و ہوش کا نتیجہ نہیں بلکہ اللہ کی عطا ہے۔ ایک قرأت اس کی آتکم ہے دوسری اتکم ہے اور دونوں میں تلازم ہے، اسی لئے ارشاد ہوتا ہے کہ اپنے جی میں اپنے آپ کو بڑا سمجھنے والے دوسروں پر فخر کرنے والے اللہ کے دشمن ہیں، حضرت ابن عباس کا فرمان ہے کہ رنج و راحت خوشی و غم تو ہر شخص پر آتا ہے خوشی کو شکر میں اور غم کو صبر میں گذار دو ، پھر ارشاد ہوتا ہے کہ یہ لوگ خود بھی بخیل اور خلاف شرع کام کرنے والے ہیں اور دوسروں کو بھی یہی برا راستہ بتاتے ہیں۔ جو شخص اللہ کی حکم برداری سے ہٹ جائے وہ اللہ کا کچھ نہیں بگاڑے گا کیونکہ وہ تمام مخلوق سے بےنیاز ہے اور ہر طرح سزا اور حمد ہے۔ جیسے حضرت موسیٰ ؑ نے فرمایا یعنی اگر تم اور تمام روئے زمین کے انسان کافر ہوجائیں تو بھی اللہ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے اللہ ساری مخلوق سے غنی ہے اور مستحق حمد ہے۔
25
View Single
لَقَدۡ أَرۡسَلۡنَا رُسُلَنَا بِٱلۡبَيِّنَٰتِ وَأَنزَلۡنَا مَعَهُمُ ٱلۡكِتَٰبَ وَٱلۡمِيزَانَ لِيَقُومَ ٱلنَّاسُ بِٱلۡقِسۡطِۖ وَأَنزَلۡنَا ٱلۡحَدِيدَ فِيهِ بَأۡسٞ شَدِيدٞ وَمَنَٰفِعُ لِلنَّاسِ وَلِيَعۡلَمَ ٱللَّهُ مَن يَنصُرُهُۥ وَرُسُلَهُۥ بِٱلۡغَيۡبِۚ إِنَّ ٱللَّهَ قَوِيٌّ عَزِيزٞ
Indeed We sent Our Noble Messengers with proofs, and sent down the Book and the Balance of Justice along with them, so that people may stay upon justice; and We sent down iron having severe heat and benefits for mankind, and so that Allah may see him, who without seeing aides Him and His Noble Messengers; indeed Allah is Almighty, Dominant.
بیشک ہم نے اپنے رسولوں کو واضح نشانیوں کے ساتھ بھیجا اور ہم نے اُن کے ساتھ کتاب اور میزانِ عدل نازل فرمائی تاکہ لوگ انصاف پر قائم ہو سکیں، اور ہم نے (معدنیات میں سے) لوہا مہیّا کیا اس میں (آلاتِ حرب و دفاع کے لئے) سخت قوّت اور لوگوں کے لئے (صنعت سازی کے کئی دیگر) فوائد ہیں اور (یہ اس لئے کیا) تاکہ اللہ ظاہر کر دے کہ کون اُس کی اور اُس کے رسولوں کی (یعنی دینِ اسلام کی) بِن دیکھے مدد کرتا ہے، بیشک اللہ (خود ہی) بڑی قوت والا بڑے غلبہ والا ہے
Tafsir Ibn Kathir
The Prophets were given Miracles and Sent with truth and Justice
Allah the Exalted said next,
لَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَيِّنَـتِ
(Indeed We have sent Our Messengers with clear proofs) in reference to the miracles, the unequivocal evidences and the plain proofs,
وَأَنزَلْنَا مَعَهُمُ الْكِتَـبَ
(and revealed with them the Scripture) which contains the true text,
وَالْمِيزَانَ
(and the Mizan), that is, justice, according to Mujahid, Qatadah and others. This Ayah refers to the truth that is attested to by the sound, straight minds that oppose misguided opinions and ideas, just as Allah said in other Ayat,
أَفَمَن كَانَ عَلَى بَيِّنَةٍ مِّن رَّبِّهِ وَيَتْلُوهُ شَاهِدٌ مِّنْهُ
(Can they (Muslims) who rely on a clear proof from their Lord, and whom a witness from Him follows it (be equal with the disbelievers).)(11:17),
فِطْرَةَ اللَّهِ الَّتِى فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا
(Allah's Fitra (religion) with which He has created mankind.) (30:30), and,
وَالسَّمَآءَ رَفَعَهَا وَوَضَعَ الْمِيزَانَ
(And the heaven: He has raised it high, and He has set up the Mizan.)(55:7) This is why Allah said here,
لِيَقُومَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ
(that mankind may keep up justice), truth and fairness that is found in the obedience of the Messengers, in all that they conveyed from their Lord, and following all they commanded. Surely, what the Prophets brought forth is the truth, beyond which there is no truth, just as Allah said,
وَتَمَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ صِدْقاً وَعَدْلاً
(And the Word of your Lord has been fulfilled in truth and in justice.)(6:115), His Word is true in what it conveys, and just in all its orders and prohibitions. This is why the believers say, when they take up their rooms in Paradise and assume their high grades and lined thrones,
الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِى هَدَانَا لِهَـذَا وَمَا كُنَّا لِنَهْتَدِىَ لَوْلا أَنْ هَدَانَا اللَّهُ لَقَدْ جَآءَتْ رُسُلُ رَبِّنَا بِالْحَقِّ
(All praise is due to Allah, Who has guided us to this, and never could we have found guidance, were it not that Allah had guided us! Indeed, the Messengers of our Lord did come with the truth.)(7:43)
The Benefits of Iron
Allah said,
وَأَنزْلْنَا الْحَدِيدَ فِيهِ بَأْسٌ شَدِيدٌ
(And We brought forth iron wherein is mighty power,) meaning, `We made iron a deterrent for those who refuse the truth and oppose it after the proof has been established against them.' Allah's Messenger ﷺ remained in Makkah for thirteen years. During that time, the revelation continued being sent to him, containing arguments against the idolators and explaining Tawhid with detail and proofs. When the evidence was established against those who defied the Messenger ﷺ, Allah decreed the Hijrah. Then He ordered the believers to fight the disbelievers using swords, using them to strike the necks and foreheads of those who opposed, rejected and denied the Qur'an. Imam Ahmad and Abu Dawud recorded that `Abdullah bin `Umar said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«بُعِثْتُ بِالسَّيْفِ بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ حَتْى يُعْبَدَ اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَجُعِلَ رِزْقِي تَحْتَ ظِلِّ رُمْحِي، وَجُعِلَ الذِّلَّةُ والصَّغَارُ عَلَى مَنْ خَالَفَ أَمْرِي، وَمَنْ تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُم»
(I was sent with the sword just before the Hour so that Allah be worshipped alone without partners. My provision was placed under the shadow of my spear, and those who defy my order were disgraced and humiliated, and he who imitates a people is one of them.) This is why Allah the Exalted said,
فِيهِ بَأْسٌ شَدِيدٌ
(wherein is mighty power,) in reference to weapons, such as swords, spears, daggers, arrows, shields, and so forth,
وَمَنَـفِعُ لِلنَّاسِ
(as well as many benefits for mankind,) meaning, in their livelihood, such as using it to make coins, hammers, axes, saws chisels, shovels and various tools that people use for tilting the land, sowing, cooking, making dough and manufacturing other objects necessary for their livelihood. Allah's statement,
وَلِيَعْلَمَ اللَّهُ مَن يَنصُرُهُ وَرُسُلَهُ بِالْغَيْبِ
(that Allah may test who it is that will help Him (His religion) and His Messengers in the unseen.) meaning, whose intention by carrying weapons is the defense of Allah (His religion) and His Messenger,
إِنَّ اللَّهَ قَوِىٌّ عَزِيزٌ
(Verily, Allah is Powerful, Almighty.) meaning, surely, Allah is Powerful, Almighty, and He gives victory to those who give victory and aid to Him. However, Allah does not need mankind's help, but He ordered Jihad to test people with each other.
لوہے کے فوائد اللہ عزوجل فرماتا ہے کہ ہم نے اپنے پیغمبروں کو ظاہر حجتیں اور بھرپور دلائل دے کر دنیا میں مبعوث فرمایا، پھر ساتھ ہی انہیں کتاب بھی دی جو کھری اور صاف سچی ہے اور عدل و حق دیا جس سے ہر عقل مند انسان ان کی باتوں کے قبول کرلینے پر فطرتاً مجبور ہوجاتا ہے، ہاں بیمار رائے والے اور خلاف عقل والے اس سے محروم رہ جاتے ہیں، جیسے اور جگہ ہے آیت (اَفَمَنْ كَانَ عَلٰي بَيِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّهٖ وَيَتْلُوْهُ شَاهِدٌ مِّنْهُ وَمِنْ قَبْلِهٖ كِتٰبُ مُوْسٰٓى اِمَامًا وَّرَحْمَةً 17) 11۔ ھود :17) جو شخص اپنے رب کی طرف دلیل پر ہو اور ساتھ ہی اس کے شاہد بھی ہو۔ ایک اور جگہ ہے اللہ کی یہ فطرت ہے جس پر مخلوق کو اس نے پیدا کیا ہے اور فرماتا ہے آسمان کو اس نے بلند کیا اور میزان رکھ دی، پس یہاں فرمان ہے یہ اس لئے کہ لوگ حق و عدل پر قائم ہوجائیں، یعنی اتباع رسول کرنے لگیں امر رسول ﷺ بجا لائیں۔ رسول ﷺ ہی کی تمام باتوں کو حق سمجھیں کیونکہ اس کے سوا حق کسی اور کا کلام نہیں۔ جیسے فرمان ہے آیت (وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقًا وَّعَدْلًا ۭلَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِهٖ ۚ وَهُوَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ01105) 6۔ الانعام :115) تیرے رب کا کلمہ جو اپنی خبروں میں سچا اور اپنے احکام میں عدل والا ہے پورا ہوچکا۔ یہی وجہ ہے کہ جب ایمان دار جنتوں میں پہنچ جائیں گے اللہ کی نعمتوں سے مالا مال ہوجائیں گے تو کہیں گے اللہ کا شکر ہے جس نے ہمیں ہدایت دی اگر اس کی ہدایت نہ ہوتی تو ہم اس راہ نہیں لگ سکتے تھے ہمارے رب کے رسول ﷺ ہمارے پاس حق لائے تھے۔ پھر فرماتا ہے ہم نے منکرین حق کی سرکوبی کے لئے لوہا بنایا ہے، یعنی اولاً تو کتاب و رسول اور حق سے حجت قائم کی پھر ٹیڑھے دل والوں کی کجی نکالنے کے لئے لوہے کو پیدا کردیا تاکہ اس کے ہتھیار بنیں اور اللہ دوست حضرات اللہ کے دشمنوں کے دل کا کانٹا نکال دیں، یہی نمونہ حضور ﷺ کی زندگی میں بالکل عیاں نظر آتا ہے کہ مکہ شریف کے تیرہ سال مشرکین کو سمجھانے، توحید و سنت کی دعوت دینے، ان کے عقائد کی اصلاح کرنے میں گذارے۔ خود اپنے اوپر مصیبتیں جھیلیں لیکن جب یہ حجت ختم ہوگئی تو شرع نے مسلمانوں کو ہجرت کی اجازت دی، پھر حکم دیا کہ اب ان مخالفین سے جنہوں نے اسلام کی اشاعت کو روک رکھا ہے مسلمانوں کو تنگ کر رکھا ہے ان کی زندگی دو بھر کردی ہے ان سے باقاعدہ جنگ کرو، ان کی گردنیں مارو اور ان مخالفین وحی الٰہی سے زمین کو پاک کرو۔ مسند احمد اور ابو داؤد میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں میں قیامت کے آگے تلوار کے ساتھ بھیجا گیا ہوں یہاں تک کہ اللہ وحدہ لا شریک لہ کی ہی عبادت کی جائے اور میرا رزق میرے نیزے کے سایہ تلے رکھا گیا ہے اور کمینہ پن اور ذلت ان لوگوں پر ہے جو میرے حکم کی مخالفت کریں اور جو کسی قوم کی مشابہت کرے وہ انہی میں سے ہے۔ پس لوہے سے لڑائی کے ہتھیار بنتے ہیں جیسے تلوار نیزے چھریاں تیز زرہیں وغیرہ اور لوگوں کے لئے اس کے علاوہ بھی بہت سے فائدے ہیں۔ جیسے سکے، کدال، پھاوڑے، آرے، کھیتی کے آلات، بننے کے آلات، پکانے کے برتن، توے وغیرہ وغیرہ اور بھی بہت سی ایسی ہی چیزیں جو انسانی زندگی کی ضروریات سے ہیں، حضرت ابن عباس فرماتے ہیں تین چیزیں حضرت آدم ؑ کے ساتھ جنت سے آئیں نہائی، سنی اور ہتھوڑا (ابن جریر) پھر فرمایا تاکہ اللہ جان لے کہ ان ہتھیاروں کے اٹھانے سے اللہ رسول کی مدد کرنے کا نیک ارادہ کس کا ہے ؟ اللہ قوت و غلبہ والا ہے، اس کے دین کی جو مدد کرے وہ اس کی مدد کرتا ہے، دراصل اپنے دین کو وہی قوی کرتا ہے اس نے جہاد تو صرف اپنے بندوں کی آزمائش کے لئے مقرر فرمایا ہے ورنہ غلبہ و نصرت تو اسی کی طرف سے ہے۔
26
View Single
وَلَقَدۡ أَرۡسَلۡنَا نُوحٗا وَإِبۡرَٰهِيمَ وَجَعَلۡنَا فِي ذُرِّيَّتِهِمَا ٱلنُّبُوَّةَ وَٱلۡكِتَٰبَۖ فَمِنۡهُم مُّهۡتَدٖۖ وَكَثِيرٞ مِّنۡهُمۡ فَٰسِقُونَ
And indeed We sent Nooh and Ibrahim, and placed Prophethood and the Book among their descendants, so some among them took to guidance; and many of them are sinners.
اور بیشک ہم نے نوح اور ابراہیم علیہما السلام کو بھیجا اور ہم نے دونوں کی اولاد میں رسالت اور کتاب مقرر فرما دی تو ان میں سے (بعض) ہدایت یافتہ ہیں، اور ان میں سے اکثر لوگ نافرمان ہیں
Tafsir Ibn Kathir
Many of the Nations of the Prophets were Rebellious
Allah the Exalted states that since He sent Nuh, peace be upon him, all the Prophets and Messengers He sent after that were from his offspring. All the revealed Divine Books and all the Messengers that received revelation after Ibrahim, Allah's Khalil, peace be upon him, were from Ibrahim's offspring. Allah the Exalted said in another Ayah:
وَجَعَلْنَا فِى ذُرِّيَّتِهِ النُّبُوَّةَ وَالْكِتَـبَ
(and placed in their offspring prophethood and Scripture.) 29:27 The last among the Prophets of the Children of Israel was `Isa, son of Mary, who prophecied the good news of the coming of Muhammad, peace and blessings be upon them both. Allah the Exalted said,
ثُمَّ قَفَّيْنَا عَلَى ءَاثَـرِهِم بِرُسُلِنَا وَقَفَّيْنَا بِعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ وَءَاتَيْنَـهُ الإِنجِيلَ
(Then, We sent after them Our Messengers, and We sent 'Isa the son of Maryam, and gave him the Injil.) refering to the Injil that Allah revealed to him,
وَجَعَلْنَا فِى قُلُوبِ الَّذِينَ اتَّبَعُوهُ
(And We ordained in the hearts of those who followed him,) i.e., the disciples,
رَأْفَةٌ
(compassion) and tenderness,
وَرَحْمَةً
(and mercy.) toward the creatures. Allah's statement,
وَرَهْبَانِيَّةً ابتَدَعُوهَا
(But the monasticism which they invented for themselves,) refers to the monasticism that the Christian nation invented,
مَا كَتَبْنَـهَا عَلَيْهِمْ
(We did not prescribe for them) `We -- Allah -- did not ordain it for them, but they chose it on their own.' There are two opinions about the meaning of,
إِلاَّ ابْتِغَآءَ رِضْوَنِ اللَّهِ
(only to please Allah therewith,) The first is that they wanted to please Allah by inventing monasticism. Sa`id bin Jubayr and Qatadah said this. The second meaning is: "We did not ordain them to practice that but, rather, We ordained them only to seek what pleases Allah." Allah's statement,
فَمَا رَعَوْهَا حَقَّ رِعَايَتِهَا
(but that they did not observe it with the right observance.) meaning, they did not abide by what they ordered themselves to do. This Ayah criticizes them in two ways: first, they invented in things in their religion, things which Allah did not legislate for them. The second is that they did not fulfill the requirements of what they themselves invented and which they claimed was a means of drawing near to Allah, the Exalted and Most Honored. GIbn Jarir and Abu `Abdur-Rahman An-Nasa'i -- and this is his wording - recorded that Ibn `Abbas said, "There were kings after `Isa who changed the Tawrah and the Injil when there were still believers who recited Tawrah and the Injil. Their kings were told, `We were never confronted by more severe criticism and abuse than of these people.' -- they recite the Ayah,
وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَآ أَنزَلَ اللَّهُ فَأُوْلَـئِكَ هُمُ الْكَـفِرُونَ
(And whosoever does not judge by what Allah has revealed, such are the disbelievers.)(5:44), as well as, they accuse us of short comings in our actions, while still they recite. Therefore, summon them and let them recite these Ayat our way and believe in them our way.' The king summoned them and gathered them and threatened them with death if they did not revert from reciting the original Tawrah and Injil to using the corrupted version only. They said, `Why do you want us to do that, let us be.' Some of them said, `Build a narrow elevated tower for us and let us ascend it, and then give us the means to elevate food and drink to us. This way, you will save yourselves from hearing us.' Another group among them said, `Let us go about in the land and eat and drink like beasts do, and if you find us in your own land, then kill us.' Another group among them said, `Build homes (monasteries) for us in the deserts and secluded areas, where we can dig wells and plant vegetables. Then, we will not refute you and will not even pass by you.' These groups said this, even though they all had supporters among their tribes. It is about this that Allah the Exalted and Most Honored sent down this Ayah,
وَرَهْبَانِيَّةً ابتَدَعُوهَا مَا كَتَبْنَـهَا عَلَيْهِمْ إِلاَّ ابْتِغَآءَ رِضْوَنِ اللَّهِ فَمَا رَعَوْهَا حَقَّ رِعَايَتِهَا
(But the monasticism which they invented for themselves, We did not prescribe for them, but (they sought it) only to please Allah therewith, but that they did not observe it with the right observance.) "' Imam Ahmad recorded that Anas bin Malik said that the Prophet said,
«لِكُلِّ نَبِيَ رَهْبَانِيَّةٌ، وَرَهْبَانِيَّةُ هذِهِ الْأُمَّةِ الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللهِ عَزَّ وَجَل»
(Every Prophet has Rahbaniyyah (monasticism); Jihad in the cause of Allah, the Exalted and Most Honored, is the Rahbaniyyah of this Ummah.) Al-Hafiz Abu Ya`la collected this Hadith and in this narration, the Prophet said,
«لِكُلِّ أُمَّةٍ رَهْبَانِيَّةٌ، وَرَهْبَانِيَّةُ هذِهِ الْأُمَّةِ الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ الله»
(Every Ummah has Rahbaniyyah; Jihad in the cause of Allah is the Rahbaniyyah of this Ummah.) Imam Ahmad recorded that Abu Sa`id Al-Khudri said that a man came to him and asked him for advice, and Abu Sa`id said that he asked the same of Allah's Messenger ﷺ. Abu Sa`id said, "So, I advise you to adhere by the Taqwa of Allah, because it is the chief of all matters. Fulfill the obligation of Jihad, because it is the Rahbaniyyah of Islam. Take care of remembering Allah and reciting the Qur'an, because it is your closeness (or status) in the heavens and your good fame on earth." Only Imam Ahmad collected this Hadith.
حضرت نوح اور حضرت ابراہیم کی فضیلت حضرت نوح ؑ اور حضرت ابراہیم ؑ کی اس فضیلت کو دیکھئے کہ حضرت نوح کے بعد سے لے کر حضرت ابراہیم تک جتنے پیغمبر آئے سب آپ ہی کی نسل سے آئے اور پھر حضرت ابراہیم ؑ کے بعد جتنے نبی اور رسول آئے سب کے سب آپ ہی کی نسل سے ہوئے جیسے اور آیت میں ہے (وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا وَّاِبْرٰهِيْمَ وَجَعَلْنَا فِيْ ذُرِّيَّـتِهِمَا النُّبُوَّةَ وَالْكِتٰبَ فَمِنْهُمْ مُّهْتَدٍ ۚ وَكَثِيْرٌ مِّنْهُمْ فٰسِقُوْنَ 26) 57۔ الحدید :26) یہاں تک کہ بنو اسرائیل کے آخری پیغمبر حضرت عیسیٰ بن مریم ؑ نے حضرت محمد ﷺ کی خوش خبری سنائی۔ پس نوح اور ابراہیم صلوات اللہ علیہما کے بعد برابر رسولوں کا سلسلہ رہا حضرت عیسیٰ تک جنہیں انجیل ملی اور جن کی تابع فرمان امت رحمدل اور نرم مزاج واقع ہوئی، خشیت الٰہی اور رحمت خلق کے پاک اوصاف سے متصف۔ پھر نصرانیوں کی ایک بدعت کا ذکر ہے جو ان کی شریعت میں تو نہ تھی لیکن انہوں نے خود اپنی طرف سے اسے ایجاد لی تھی، اس کے بعد کے جملے کے دو مطلب بیان کئے گئے ہیں ایک تو یہ ان کا مقصد نیک تھا کہ اللہ کی رضا جوئی کے لئے یہ طریقہ نکالا تھا۔ حضرت سعید بن جبیر حضرت قتادہ وغیرہ کا یہی قول ہے۔ دوسرا مطلب یہ بیان کیا گیا ہے کہ ہم نے ان پر اسے واجب نہ کیا تھا ہاں ہم نے ان پر صرف اللہ کی رضا جوئی واجب کی تھی۔ پھر فرماتا ہے یہ اسے بھی نبھا نہ سکے جیسا چاہیے تھا ویسا اس پر بھی نہ جمے، پس دوہری خرابی آئی ایک اپنی طرف سے ایک نئی بات دین اللہ میں ایجاد کرنے کی دوسرے اس پر بھی قائم نہ رہیں کی، یعنی جسے وہ خود قرب اللہ کا ذریعہ اپنے ذہن سے سمجھ بیٹھے تھے بالآخر اس پر بھی پورے نہ اترے۔ ابن ابی حاتم میں ہے حضور ﷺ نے حضرت عبداللہ بن مسعود کو پکارا آپ نے لبیک کہا آپ نے فرمایا سنو بنی اسرائیل کے بہتر گروہ ہوگئے جن میں سے تین نے نجات پائی، پہلے فرقہ نے تو بنی اسرائیل کی گمراہی دیکھ کر ان کی ہدایت کے لئے اپنی جانیں ہتھیلیوں پر رکھ کر ان کے بڑوں کو تبلیغ شروع کی لیکن آخر وہ لوگ جدال و قتال پر اترے آئے اور بادشاہ اور امراء نے جو اس تبلیغ سے بہت گھبراتے تھے ان پر لشکر کشی کی اور انہیں قتل بھی کیا قید بھی کیا ان لوگوں نے تو نجات حاصل کرلی، پھر دوسری جماعت کھڑی ہوئی ان میں مقابلہ کی طاقت تو نہ تھی تاہم اپنے دین کی قوت سے سرکشوں اور بادشاہوں کے دربار میں حق گوئی شروع کی اور اللہ کے سچے دین اور حضرت عیسیٰ کے اصلی مسلک کی طرف انہیں دعوت دینے لگے، ان بدنصیبوں نے انہیں قتل بھی کرایا آروں سے بھی چیرا اور آگ میں بھی جلایا جسے اس جماعت نے صبر و شکر کے ساتھ برداشت کیا اور نجات حاصل کی، پھر تیسری جماعت اٹھی یہ ان سے بھی زیادہ کمزور تھے ان میں طاقت نہ تھی کہ اصل دین کے احکام کی تبلیغ ان ظالموں میں کریں اس لئے انہوں نے اپنے دین کا بچاؤ اسی میں سمجھا کہ جنگلوں میں نکل جائیں اور پہاڑوں پر چڑھ جائیں عبادت میں مشغول ہوجائیں اور دنیا کو ترک کردیں انہی کا ذکر رہبانیت والی آیت میں ہے، یہی حدیث دوسری سند سے بھی مروی ہے اس میں تہتر فرقوں کا بیان ہے اور اس میں یہ بھی ہے کہ اجراء نہیں ملے گا جو مجھ پر ایمان لائیں اور میری تصدیق کریں اور ان میں سے اکثر فاسق ہیں ایسے ہیں جو مجھے جھٹلائیں اور میرا خلاف کریں، حضرت ابن عباس ؓ ما فرماتے ہیں کہ بنی اسرائیل کے بادشاہوں نے حضرت عیسیٰ کے بعد توریت و انجیل میں تبدیلیاں کرلیں، لیکن ایک جماعت ایمان پر قائم رہی اور اصلی تورات و انجیل ان کے ہاتھوں میں رہی جسے وہ تلاوت کیا کرتے تھے، ایک مرتبہ ان لوگوں نے (جنہوں نے کتاب اللہ میں رد و بدل کرلیا تھا) اپنے بادشاہوں سے ان سچے مومنوں کی شکایت کی کہ یہ لوگ کتاب اللہ کہہ کر جس کتاب کو پڑھتے ہیں اس میں تو ہمیں گالیاں لکھی ہیں اس میں لکھا ہوا ہے جو کوئی اللہ کی نازل کردہ کتاب کے مطابق حکم نہ کرے وہ کافر ہے اور اسی طرح کی بہت سی آیتیں ہیں، پھر یہ لوگ ہمارے اعمال پر بھی عیب گیری کرتے رہتے ہیں، پس آپ انہیں دربار میں بلوایئے اور انہیں مجبور کیجئے کہ یا تو وہ اسی طرح پڑھیں جس طرح ہم پڑھتے ہیں اور ویسا ہی عقیدہ ایمان رکھیں جیسا ہمارا ہے ورنہ انہیں بدترین عبرت ناک سزا دیجیے، چناچہ ان سچے مسلمانوں کو دربار میں بلوایا گیا اور ان سے کہا گیا کہ یا تو ہماری اصلاح کردہ کتاب پڑھا کرو اور تمہارے اپنے ہاتھوں میں جو الہامی کتابیں انہیں چھوڑ دو ورنہ جان سے ہاتھ دھو لو اور قتل گاہ کی طرف قدم بڑھاؤ، اس پر ان پاک بازوں کی ایک جماعت نے کہا کہ تم ہمیں ستاؤ نہیں تم اونچی عمارت بنادو ہمیں وہاں پہنچا دو اور ڈوری چھڑی دیدو ہمارا کھانا پینا اس میں ڈال دیا کرو ہم اوپر سے گھسیٹ لیا کریں گے نیچے اتریں گے ہی نہیں اور تم میں آئیں گے ہی نہیں، ایک جماعت نے کہا سنو ہم یہاں سے ہجرت کر جاتے ہیں جنگلوں اور پہاڑوں میں نکل جاتے ہیں تمہاری بادشاہت کی سرزمین سے باہر ہوجاتے ہیں چشموں، نہروں، ندیوں، نالوں اور تالابوں سے جانوروں کی طرح منہ لگا کر پانی پیا کریں گے اور جو پھول پات مل جائیں گے ان پر گزارہ کرلیں گے۔ اس کے بعد اگر تم ہمیں اپنے ملک میں دیکھ لو تو بیشک گردن اڑا دینا، تیسری جماعت نے کہا ہمیں اپنی آبادی کے ایک طرف کچھ زمین دیدو اور وہاں حصار کھینچ دو وہیں ہم کنویں کھود لیں گے اور کھیتی کرلیا کریں گے تم میں ہرگز نہ آئیں گے۔ چونکہ اس اللہ پرست جماعت سے ان لوگوں کی قریبی رشتہ داریاں تھیں اس لئے یہ درخواستیں منظور کرلی گئیں اور یہ لوگ اپنے اپنے ٹھکانے چلے گئے، لیکن ان کے ساتھ بعض اور لوگ بھی لگ گئے جنہیں دراصل علم و ایمان نہ تھا تقلیداً ساتھ ہو لیے، ان کے بارے میں یہ آیت (وَرَهْبَانِيَّةَۨ ابْتَدَعُوْهَا مَا كَتَبْنٰهَا عَلَيْهِمْ اِلَّا ابْتِغَاۗءَ رِضْوَان اللّٰهِ فَمَا رَعَوْهَا حَقَّ رِعَايَــتِهَا 27) 57۔ الحدید :27) نازل ہوئی، پس جب اللہ تعالیٰ نے حضور انور ﷺ کو مبعوث فرمایا اس وقت ان میں سے بہت کم لوگ رہ گئے تھے آپ کی بعثت کی خبر سنتے ہی خانقاہوں والے اپنی خانقاہوں سے اور جنگلوں والے اپنے جنگلوں سے اور حصار والے اپنے حصاروں سے نکل کھڑے ہوئے آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے آپ پر ایمان لائے، آپ کی تصدیق کی جس کا ذکر اس آیت میں ہے (یا ایھا الذین امنوا برسولہ یؤتکم کفلین من رحمتہ ویجعل لکم نورا تمشون بہ) الخ، یعنی ایمان والو اللہ سے ڈرو اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ تمہیں اللہ اپنی رحمت کا دوہرا حصہ دے گا (یعنی حضرت عیسیٰ پر ایمان لانے کا اور پھر حضرت محمد ﷺ پر ایمان لانے کا) اور تمہیں نور دے گا جس کی روشنی میں تم چلو پھرو (یعنی قرآن و سنت) تاکہ اہل کتاب جان لیں (جو تم جیسے ہیں) کہ اللہ کے کسی فضل کا انہیں اختیار نہیں اور سارا فضل اللہ کے ہاتھ ہے جسے چاہے دیتا ہے اور اللہ بڑے فضل کا مالک ہے۔ یہ سیاق غریب ہے اور ان دونوں پچھلی آیتوں کی تفسیر اس آیت کے بعد ہی آرہی ہے، انشاء اللہ تعالیٰ ابو یعلی میں ہے کہ لوگ حضرت انس بن مالک ؓ کے پاس مدینہ میں حضرت عمر بن عبدالعزیز ؒ کی خلافت کے زمانہ میں آئے، آپ اس وقت امیر مدینہ تھے جب یہ آئے اس وقت حضرت انس نماز ادا کر رہے تھے اور بہت ہلکی نماز پڑھ رہے تھے جیسے مسافرت کی نماز ہو یا اس کے قریب قریب جب سلام پھیرا تو لوگوں نے آپ سے پوچھا کہ کیا آپ نے فرض نماز پڑھی یا نفل ؟ فرمایا فرض اور یہی نماز رسول اللہ ﷺ کی تھی، میں نے اپنے خیال سے اپنی یاد برابر تو اس میں کوئی خطا نہیں کی، ہاں اگر کچھ بھول گیا ہوں تو اس کی بابت نہیں کہہ سکتا۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ اپنی جانوں پر سختی نہ کرو ورنہ تم پر سختی کی جائے گی، ایک قوم نے اپنی جانوں پر سختی کی اور ان پر بھی سختی کی گئی پس ان کی بقیہ خانقاہوں میں اور گھروں میں اب بھی دیکھ لو ترک دنیا کی ہی وہی سختی تھی جسے اللہ نے ان پر واجب نہیں کیا تھا۔ دوسرے دن ہم لوگوں نے کہا آیئے سواریوں پر چلیں اور دیکھیں اور عبرت حاصل کریں۔ حضرت انس نے فرمایا بہت اچھا ہم سوار ہو کر چلے اور کئی ایک بستیاں دیکھیں جو بالکل اجڑ گئی تھیں اور مکانات اوندھے پڑے ہوئے تھے تو ہم نے کہا ان شہروں سے آپ واقف ہیں ؟ فرمایا خوب اچھی طرح بلکہ ان کے باشندوں سے بھی انہیں سرکشی اور حسد نے ہلاک کیا۔ حسد نیکیوں کے نور کو بجھا دیتا ہے اور سرکشی اس کی تصدیق یا تکذیب کرتی ہے۔ آنکھ کا بھی زنا ہے ہاتھ اور قدم اور زبان کا بھی زنا ہے اور شرمگاہ اسے سچ ثابت کرتی ہے یا جھٹلاتی ہے۔ مسند احمد میں ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں ہر نبی کیلئے رہبانیت تھی اور میری امت کی رہبانیت اللہ عزوجل کی راہ میں جہاد کرنا ہے۔ ایک شخص حضرت ابو سعید خدری ؓ کے پاس آتا ہے اور کہتا ہے کہ مجھے کچھ وصیت کیجئے۔ آپ نے فرمایا تم نے مجھ سے وہ سوال کیا جو میں نے رسول اللہ ﷺ سے کیا تھا۔ میں تجھے وصیت کرتا ہوں اللہ سے ڈرتے رہنے کی، یہی تمام نیکیوں کا سر ہے اور تو جہاد کو لازم پکڑے رہ یہی اسلام کی رہبانیت ہے اور ذکر اللہ اور تلاوت قرآن پر مداومت کر۔ وہی آسمان میں، زمین میں تیری راحت و روح ہے اور تیری یاد ہے۔ یہ روایت مسند احمد میں ہے واللہ تعالیٰ اعلم۔
27
View Single
ثُمَّ قَفَّيۡنَا عَلَىٰٓ ءَاثَٰرِهِم بِرُسُلِنَا وَقَفَّيۡنَا بِعِيسَى ٱبۡنِ مَرۡيَمَ وَءَاتَيۡنَٰهُ ٱلۡإِنجِيلَۖ وَجَعَلۡنَا فِي قُلُوبِ ٱلَّذِينَ ٱتَّبَعُوهُ رَأۡفَةٗ وَرَحۡمَةٗۚ وَرَهۡبَانِيَّةً ٱبۡتَدَعُوهَا مَا كَتَبۡنَٰهَا عَلَيۡهِمۡ إِلَّا ٱبۡتِغَآءَ رِضۡوَٰنِ ٱللَّهِ فَمَا رَعَوۡهَا حَقَّ رِعَايَتِهَاۖ فَـَٔاتَيۡنَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ مِنۡهُمۡ أَجۡرَهُمۡۖ وَكَثِيرٞ مِّنۡهُمۡ فَٰسِقُونَ
We then sent Our other Noble Messengers after them following their footsteps, and after them We sent Eisa, the son of Maryam, and bestowed the Injeel to him; and We instilled compassion and mercy in the hearts of his followers; and they invented monasticism which We had not ordained upon them only to seek Allah’s pleasure, then did not properly abide by it as it should have been rightfully abided; We therefore gave the believers among them their reward; and many of them are sinners.
پھر ہم نے ان رسولوں کے نقوشِ قدم پر (دوسرے) رسولوں کو بھیجا اور ہم نے ان کے پیچھے عیسٰی ابنِ مریم (علیہما السلام) کو بھیجا اور ہم نے انہیں انجیل عطا کی اور ہم نے اُن لوگوں کے دلوں میں جو اُن کی (یعنی عیسٰی علیہ السلام کی صحیح) پیروی کر رہے تھے شفقت اور رحمت پیدا کر دی۔ اور رہبانیت (یعنی عبادتِ الٰہی کے لئے ترکِ دنیا اور لذّتوں سے کنارہ کشی) کی بدعت انہوں نے خود ایجاد کر لی تھی، اسے ہم نے اُن پر فرض نہیں کیا تھا، مگر (انہوں نے رہبانیت کی یہ بدعت) محض اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لئے (شروع کی تھی) پھر اس کی عملی نگہداشت کا جو حق تھا وہ اس کی ویسی نگہداشت نہ کرسکے (یعنی اسے اسی جذبہ اور پابندی سے جاری نہ رکھ سکی)، سو ہم نے اُن لوگوں کو جو ان میں سے ایمان لائے (اور بدعتِ رہبانیت کو رضائے الٰہی کے لئے جاری رکھے ہوئے) تھے، اُن کا اجر و ثواب عطا کر دیا اور ان میں سے اکثر لوگ (جو اس کے تارک ہوگئے اور بدل گئے) بہت نافرمان ہیں
Tafsir Ibn Kathir
Many of the Nations of the Prophets were Rebellious
Allah the Exalted states that since He sent Nuh, peace be upon him, all the Prophets and Messengers He sent after that were from his offspring. All the revealed Divine Books and all the Messengers that received revelation after Ibrahim, Allah's Khalil, peace be upon him, were from Ibrahim's offspring. Allah the Exalted said in another Ayah:
وَجَعَلْنَا فِى ذُرِّيَّتِهِ النُّبُوَّةَ وَالْكِتَـبَ
(and placed in their offspring prophethood and Scripture.) 29:27 The last among the Prophets of the Children of Israel was `Isa, son of Mary, who prophecied the good news of the coming of Muhammad, peace and blessings be upon them both. Allah the Exalted said,
ثُمَّ قَفَّيْنَا عَلَى ءَاثَـرِهِم بِرُسُلِنَا وَقَفَّيْنَا بِعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ وَءَاتَيْنَـهُ الإِنجِيلَ
(Then, We sent after them Our Messengers, and We sent 'Isa the son of Maryam, and gave him the Injil.) refering to the Injil that Allah revealed to him,
وَجَعَلْنَا فِى قُلُوبِ الَّذِينَ اتَّبَعُوهُ
(And We ordained in the hearts of those who followed him,) i.e., the disciples,
رَأْفَةٌ
(compassion) and tenderness,
وَرَحْمَةً
(and mercy.) toward the creatures. Allah's statement,
وَرَهْبَانِيَّةً ابتَدَعُوهَا
(But the monasticism which they invented for themselves,) refers to the monasticism that the Christian nation invented,
مَا كَتَبْنَـهَا عَلَيْهِمْ
(We did not prescribe for them) `We -- Allah -- did not ordain it for them, but they chose it on their own.' There are two opinions about the meaning of,
إِلاَّ ابْتِغَآءَ رِضْوَنِ اللَّهِ
(only to please Allah therewith,) The first is that they wanted to please Allah by inventing monasticism. Sa`id bin Jubayr and Qatadah said this. The second meaning is: "We did not ordain them to practice that but, rather, We ordained them only to seek what pleases Allah." Allah's statement,
فَمَا رَعَوْهَا حَقَّ رِعَايَتِهَا
(but that they did not observe it with the right observance.) meaning, they did not abide by what they ordered themselves to do. This Ayah criticizes them in two ways: first, they invented in things in their religion, things which Allah did not legislate for them. The second is that they did not fulfill the requirements of what they themselves invented and which they claimed was a means of drawing near to Allah, the Exalted and Most Honored. GIbn Jarir and Abu `Abdur-Rahman An-Nasa'i -- and this is his wording - recorded that Ibn `Abbas said, "There were kings after `Isa who changed the Tawrah and the Injil when there were still believers who recited Tawrah and the Injil. Their kings were told, `We were never confronted by more severe criticism and abuse than of these people.' -- they recite the Ayah,
وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَآ أَنزَلَ اللَّهُ فَأُوْلَـئِكَ هُمُ الْكَـفِرُونَ
(And whosoever does not judge by what Allah has revealed, such are the disbelievers.)(5:44), as well as, they accuse us of short comings in our actions, while still they recite. Therefore, summon them and let them recite these Ayat our way and believe in them our way.' The king summoned them and gathered them and threatened them with death if they did not revert from reciting the original Tawrah and Injil to using the corrupted version only. They said, `Why do you want us to do that, let us be.' Some of them said, `Build a narrow elevated tower for us and let us ascend it, and then give us the means to elevate food and drink to us. This way, you will save yourselves from hearing us.' Another group among them said, `Let us go about in the land and eat and drink like beasts do, and if you find us in your own land, then kill us.' Another group among them said, `Build homes (monasteries) for us in the deserts and secluded areas, where we can dig wells and plant vegetables. Then, we will not refute you and will not even pass by you.' These groups said this, even though they all had supporters among their tribes. It is about this that Allah the Exalted and Most Honored sent down this Ayah,
وَرَهْبَانِيَّةً ابتَدَعُوهَا مَا كَتَبْنَـهَا عَلَيْهِمْ إِلاَّ ابْتِغَآءَ رِضْوَنِ اللَّهِ فَمَا رَعَوْهَا حَقَّ رِعَايَتِهَا
(But the monasticism which they invented for themselves, We did not prescribe for them, but (they sought it) only to please Allah therewith, but that they did not observe it with the right observance.) "' Imam Ahmad recorded that Anas bin Malik said that the Prophet said,
«لِكُلِّ نَبِيَ رَهْبَانِيَّةٌ، وَرَهْبَانِيَّةُ هذِهِ الْأُمَّةِ الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللهِ عَزَّ وَجَل»
(Every Prophet has Rahbaniyyah (monasticism); Jihad in the cause of Allah, the Exalted and Most Honored, is the Rahbaniyyah of this Ummah.) Al-Hafiz Abu Ya`la collected this Hadith and in this narration, the Prophet said,
«لِكُلِّ أُمَّةٍ رَهْبَانِيَّةٌ، وَرَهْبَانِيَّةُ هذِهِ الْأُمَّةِ الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ الله»
(Every Ummah has Rahbaniyyah; Jihad in the cause of Allah is the Rahbaniyyah of this Ummah.) Imam Ahmad recorded that Abu Sa`id Al-Khudri said that a man came to him and asked him for advice, and Abu Sa`id said that he asked the same of Allah's Messenger ﷺ. Abu Sa`id said, "So, I advise you to adhere by the Taqwa of Allah, because it is the chief of all matters. Fulfill the obligation of Jihad, because it is the Rahbaniyyah of Islam. Take care of remembering Allah and reciting the Qur'an, because it is your closeness (or status) in the heavens and your good fame on earth." Only Imam Ahmad collected this Hadith.
حضرت نوح اور حضرت ابراہیم کی فضیلت حضرت نوح ؑ اور حضرت ابراہیم ؑ کی اس فضیلت کو دیکھئے کہ حضرت نوح کے بعد سے لے کر حضرت ابراہیم تک جتنے پیغمبر آئے سب آپ ہی کی نسل سے آئے اور پھر حضرت ابراہیم ؑ کے بعد جتنے نبی اور رسول آئے سب کے سب آپ ہی کی نسل سے ہوئے جیسے اور آیت میں ہے (وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا وَّاِبْرٰهِيْمَ وَجَعَلْنَا فِيْ ذُرِّيَّـتِهِمَا النُّبُوَّةَ وَالْكِتٰبَ فَمِنْهُمْ مُّهْتَدٍ ۚ وَكَثِيْرٌ مِّنْهُمْ فٰسِقُوْنَ 26) 57۔ الحدید :26) یہاں تک کہ بنو اسرائیل کے آخری پیغمبر حضرت عیسیٰ بن مریم ؑ نے حضرت محمد ﷺ کی خوش خبری سنائی۔ پس نوح اور ابراہیم صلوات اللہ علیہما کے بعد برابر رسولوں کا سلسلہ رہا حضرت عیسیٰ تک جنہیں انجیل ملی اور جن کی تابع فرمان امت رحمدل اور نرم مزاج واقع ہوئی، خشیت الٰہی اور رحمت خلق کے پاک اوصاف سے متصف۔ پھر نصرانیوں کی ایک بدعت کا ذکر ہے جو ان کی شریعت میں تو نہ تھی لیکن انہوں نے خود اپنی طرف سے اسے ایجاد لی تھی، اس کے بعد کے جملے کے دو مطلب بیان کئے گئے ہیں ایک تو یہ ان کا مقصد نیک تھا کہ اللہ کی رضا جوئی کے لئے یہ طریقہ نکالا تھا۔ حضرت سعید بن جبیر حضرت قتادہ وغیرہ کا یہی قول ہے۔ دوسرا مطلب یہ بیان کیا گیا ہے کہ ہم نے ان پر اسے واجب نہ کیا تھا ہاں ہم نے ان پر صرف اللہ کی رضا جوئی واجب کی تھی۔ پھر فرماتا ہے یہ اسے بھی نبھا نہ سکے جیسا چاہیے تھا ویسا اس پر بھی نہ جمے، پس دوہری خرابی آئی ایک اپنی طرف سے ایک نئی بات دین اللہ میں ایجاد کرنے کی دوسرے اس پر بھی قائم نہ رہیں کی، یعنی جسے وہ خود قرب اللہ کا ذریعہ اپنے ذہن سے سمجھ بیٹھے تھے بالآخر اس پر بھی پورے نہ اترے۔ ابن ابی حاتم میں ہے حضور ﷺ نے حضرت عبداللہ بن مسعود کو پکارا آپ نے لبیک کہا آپ نے فرمایا سنو بنی اسرائیل کے بہتر گروہ ہوگئے جن میں سے تین نے نجات پائی، پہلے فرقہ نے تو بنی اسرائیل کی گمراہی دیکھ کر ان کی ہدایت کے لئے اپنی جانیں ہتھیلیوں پر رکھ کر ان کے بڑوں کو تبلیغ شروع کی لیکن آخر وہ لوگ جدال و قتال پر اترے آئے اور بادشاہ اور امراء نے جو اس تبلیغ سے بہت گھبراتے تھے ان پر لشکر کشی کی اور انہیں قتل بھی کیا قید بھی کیا ان لوگوں نے تو نجات حاصل کرلی، پھر دوسری جماعت کھڑی ہوئی ان میں مقابلہ کی طاقت تو نہ تھی تاہم اپنے دین کی قوت سے سرکشوں اور بادشاہوں کے دربار میں حق گوئی شروع کی اور اللہ کے سچے دین اور حضرت عیسیٰ کے اصلی مسلک کی طرف انہیں دعوت دینے لگے، ان بدنصیبوں نے انہیں قتل بھی کرایا آروں سے بھی چیرا اور آگ میں بھی جلایا جسے اس جماعت نے صبر و شکر کے ساتھ برداشت کیا اور نجات حاصل کی، پھر تیسری جماعت اٹھی یہ ان سے بھی زیادہ کمزور تھے ان میں طاقت نہ تھی کہ اصل دین کے احکام کی تبلیغ ان ظالموں میں کریں اس لئے انہوں نے اپنے دین کا بچاؤ اسی میں سمجھا کہ جنگلوں میں نکل جائیں اور پہاڑوں پر چڑھ جائیں عبادت میں مشغول ہوجائیں اور دنیا کو ترک کردیں انہی کا ذکر رہبانیت والی آیت میں ہے، یہی حدیث دوسری سند سے بھی مروی ہے اس میں تہتر فرقوں کا بیان ہے اور اس میں یہ بھی ہے کہ اجراء نہیں ملے گا جو مجھ پر ایمان لائیں اور میری تصدیق کریں اور ان میں سے اکثر فاسق ہیں ایسے ہیں جو مجھے جھٹلائیں اور میرا خلاف کریں، حضرت ابن عباس ؓ ما فرماتے ہیں کہ بنی اسرائیل کے بادشاہوں نے حضرت عیسیٰ کے بعد توریت و انجیل میں تبدیلیاں کرلیں، لیکن ایک جماعت ایمان پر قائم رہی اور اصلی تورات و انجیل ان کے ہاتھوں میں رہی جسے وہ تلاوت کیا کرتے تھے، ایک مرتبہ ان لوگوں نے (جنہوں نے کتاب اللہ میں رد و بدل کرلیا تھا) اپنے بادشاہوں سے ان سچے مومنوں کی شکایت کی کہ یہ لوگ کتاب اللہ کہہ کر جس کتاب کو پڑھتے ہیں اس میں تو ہمیں گالیاں لکھی ہیں اس میں لکھا ہوا ہے جو کوئی اللہ کی نازل کردہ کتاب کے مطابق حکم نہ کرے وہ کافر ہے اور اسی طرح کی بہت سی آیتیں ہیں، پھر یہ لوگ ہمارے اعمال پر بھی عیب گیری کرتے رہتے ہیں، پس آپ انہیں دربار میں بلوایئے اور انہیں مجبور کیجئے کہ یا تو وہ اسی طرح پڑھیں جس طرح ہم پڑھتے ہیں اور ویسا ہی عقیدہ ایمان رکھیں جیسا ہمارا ہے ورنہ انہیں بدترین عبرت ناک سزا دیجیے، چناچہ ان سچے مسلمانوں کو دربار میں بلوایا گیا اور ان سے کہا گیا کہ یا تو ہماری اصلاح کردہ کتاب پڑھا کرو اور تمہارے اپنے ہاتھوں میں جو الہامی کتابیں انہیں چھوڑ دو ورنہ جان سے ہاتھ دھو لو اور قتل گاہ کی طرف قدم بڑھاؤ، اس پر ان پاک بازوں کی ایک جماعت نے کہا کہ تم ہمیں ستاؤ نہیں تم اونچی عمارت بنادو ہمیں وہاں پہنچا دو اور ڈوری چھڑی دیدو ہمارا کھانا پینا اس میں ڈال دیا کرو ہم اوپر سے گھسیٹ لیا کریں گے نیچے اتریں گے ہی نہیں اور تم میں آئیں گے ہی نہیں، ایک جماعت نے کہا سنو ہم یہاں سے ہجرت کر جاتے ہیں جنگلوں اور پہاڑوں میں نکل جاتے ہیں تمہاری بادشاہت کی سرزمین سے باہر ہوجاتے ہیں چشموں، نہروں، ندیوں، نالوں اور تالابوں سے جانوروں کی طرح منہ لگا کر پانی پیا کریں گے اور جو پھول پات مل جائیں گے ان پر گزارہ کرلیں گے۔ اس کے بعد اگر تم ہمیں اپنے ملک میں دیکھ لو تو بیشک گردن اڑا دینا، تیسری جماعت نے کہا ہمیں اپنی آبادی کے ایک طرف کچھ زمین دیدو اور وہاں حصار کھینچ دو وہیں ہم کنویں کھود لیں گے اور کھیتی کرلیا کریں گے تم میں ہرگز نہ آئیں گے۔ چونکہ اس اللہ پرست جماعت سے ان لوگوں کی قریبی رشتہ داریاں تھیں اس لئے یہ درخواستیں منظور کرلی گئیں اور یہ لوگ اپنے اپنے ٹھکانے چلے گئے، لیکن ان کے ساتھ بعض اور لوگ بھی لگ گئے جنہیں دراصل علم و ایمان نہ تھا تقلیداً ساتھ ہو لیے، ان کے بارے میں یہ آیت (وَرَهْبَانِيَّةَۨ ابْتَدَعُوْهَا مَا كَتَبْنٰهَا عَلَيْهِمْ اِلَّا ابْتِغَاۗءَ رِضْوَان اللّٰهِ فَمَا رَعَوْهَا حَقَّ رِعَايَــتِهَا 27) 57۔ الحدید :27) نازل ہوئی، پس جب اللہ تعالیٰ نے حضور انور ﷺ کو مبعوث فرمایا اس وقت ان میں سے بہت کم لوگ رہ گئے تھے آپ کی بعثت کی خبر سنتے ہی خانقاہوں والے اپنی خانقاہوں سے اور جنگلوں والے اپنے جنگلوں سے اور حصار والے اپنے حصاروں سے نکل کھڑے ہوئے آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے آپ پر ایمان لائے، آپ کی تصدیق کی جس کا ذکر اس آیت میں ہے (یا ایھا الذین امنوا برسولہ یؤتکم کفلین من رحمتہ ویجعل لکم نورا تمشون بہ) الخ، یعنی ایمان والو اللہ سے ڈرو اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ تمہیں اللہ اپنی رحمت کا دوہرا حصہ دے گا (یعنی حضرت عیسیٰ پر ایمان لانے کا اور پھر حضرت محمد ﷺ پر ایمان لانے کا) اور تمہیں نور دے گا جس کی روشنی میں تم چلو پھرو (یعنی قرآن و سنت) تاکہ اہل کتاب جان لیں (جو تم جیسے ہیں) کہ اللہ کے کسی فضل کا انہیں اختیار نہیں اور سارا فضل اللہ کے ہاتھ ہے جسے چاہے دیتا ہے اور اللہ بڑے فضل کا مالک ہے۔ یہ سیاق غریب ہے اور ان دونوں پچھلی آیتوں کی تفسیر اس آیت کے بعد ہی آرہی ہے، انشاء اللہ تعالیٰ ابو یعلی میں ہے کہ لوگ حضرت انس بن مالک ؓ کے پاس مدینہ میں حضرت عمر بن عبدالعزیز ؒ کی خلافت کے زمانہ میں آئے، آپ اس وقت امیر مدینہ تھے جب یہ آئے اس وقت حضرت انس نماز ادا کر رہے تھے اور بہت ہلکی نماز پڑھ رہے تھے جیسے مسافرت کی نماز ہو یا اس کے قریب قریب جب سلام پھیرا تو لوگوں نے آپ سے پوچھا کہ کیا آپ نے فرض نماز پڑھی یا نفل ؟ فرمایا فرض اور یہی نماز رسول اللہ ﷺ کی تھی، میں نے اپنے خیال سے اپنی یاد برابر تو اس میں کوئی خطا نہیں کی، ہاں اگر کچھ بھول گیا ہوں تو اس کی بابت نہیں کہہ سکتا۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ اپنی جانوں پر سختی نہ کرو ورنہ تم پر سختی کی جائے گی، ایک قوم نے اپنی جانوں پر سختی کی اور ان پر بھی سختی کی گئی پس ان کی بقیہ خانقاہوں میں اور گھروں میں اب بھی دیکھ لو ترک دنیا کی ہی وہی سختی تھی جسے اللہ نے ان پر واجب نہیں کیا تھا۔ دوسرے دن ہم لوگوں نے کہا آیئے سواریوں پر چلیں اور دیکھیں اور عبرت حاصل کریں۔ حضرت انس نے فرمایا بہت اچھا ہم سوار ہو کر چلے اور کئی ایک بستیاں دیکھیں جو بالکل اجڑ گئی تھیں اور مکانات اوندھے پڑے ہوئے تھے تو ہم نے کہا ان شہروں سے آپ واقف ہیں ؟ فرمایا خوب اچھی طرح بلکہ ان کے باشندوں سے بھی انہیں سرکشی اور حسد نے ہلاک کیا۔ حسد نیکیوں کے نور کو بجھا دیتا ہے اور سرکشی اس کی تصدیق یا تکذیب کرتی ہے۔ آنکھ کا بھی زنا ہے ہاتھ اور قدم اور زبان کا بھی زنا ہے اور شرمگاہ اسے سچ ثابت کرتی ہے یا جھٹلاتی ہے۔ مسند احمد میں ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں ہر نبی کیلئے رہبانیت تھی اور میری امت کی رہبانیت اللہ عزوجل کی راہ میں جہاد کرنا ہے۔ ایک شخص حضرت ابو سعید خدری ؓ کے پاس آتا ہے اور کہتا ہے کہ مجھے کچھ وصیت کیجئے۔ آپ نے فرمایا تم نے مجھ سے وہ سوال کیا جو میں نے رسول اللہ ﷺ سے کیا تھا۔ میں تجھے وصیت کرتا ہوں اللہ سے ڈرتے رہنے کی، یہی تمام نیکیوں کا سر ہے اور تو جہاد کو لازم پکڑے رہ یہی اسلام کی رہبانیت ہے اور ذکر اللہ اور تلاوت قرآن پر مداومت کر۔ وہی آسمان میں، زمین میں تیری راحت و روح ہے اور تیری یاد ہے۔ یہ روایت مسند احمد میں ہے واللہ تعالیٰ اعلم۔
28
View Single
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ ٱتَّقُواْ ٱللَّهَ وَءَامِنُواْ بِرَسُولِهِۦ يُؤۡتِكُمۡ كِفۡلَيۡنِ مِن رَّحۡمَتِهِۦ وَيَجۡعَل لَّكُمۡ نُورٗا تَمۡشُونَ بِهِۦ وَيَغۡفِرۡ لَكُمۡۚ وَٱللَّهُ غَفُورٞ رَّحِيمٞ
O People who Believe (in the earlier Noble Messengers)! Fear Allah and accept faith in this Noble Messenger of His – He will bestow two portions of His mercy to you and will create a light for you to walk in it, and will forgive you; and Allah is Oft Forgiving, Most Merciful.
اے ایمان والو! اللہ کا تقوٰی اختیار کرو اور اُس کے رسولِ (مکرّم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لے آؤ وہ تمہیں اپنی رحمت کے دو حصّے عطا فرمائے گا اور تمہارے لئے نور پیدا فرما دے گا جس میں تم (دنیا اور آخرت میں) چلا کرو گے اور تمہاری مغفرت فرما دے گا، اور اللہ بہت بخشنے والا بہت رحم فرمانے والا ہے
Tafsir Ibn Kathir
The Believers of the People of the Scriptures will earn Double their Rewards
Earlier we mentioned a Hadith that An-Nasa'i collected from Ibn `Abbas that this Ayah is about the People of the Scriptures who believe in Islam, and that they will earn double their reward if they do so. There is an Ayah in Surat Al-Qasas to support this meaning. Also, there is a Hadith from Ash-Sha`bi from Abu Burdah from his father from Abu Musa Al-Ash`ari that the Messenger of Allah ﷺ said,
«ثَلَاثَةٌ يُؤْتَوْنَ أَجْرَهُمْ مَرَّتَيْنِ: رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ آمَنَ بِنَبِيِّهِ وَآمَنَ بِي فَلَهُ أَجْرَانِ، وَعَبْدٌ مَمْلُوكٌ أَدَّى حَقَّ اللهِ وَحَقَّ مَوَالِيهِ فَلَهُ أَجْرَانِ، وَرَجُلٌ أَدَّبَ أَمَتَهُ فَأَحْسَنَ تَأْدِيبَهَا، ثُمَّ أَعْتَقَهَا وَتَزَوَّجَهَا فَلَهُ أَجْرَان»
(Three will get their reward twice. A believer from the People of the Scriptures who has been a true believer in his Prophet and then believes in me, will get a double reward. A slave who fulfills Allah's rights and obligations as well as the duties of his master, will get a double reward. A person who has a slave-girl and he educates her properly and teaches her good manners properly (without violence) and then manumits and marries her, will get a double reward.) This Hadith is recorded in the Two Sahihs. Ad-Dahhak, `Utbah bin Abi Hakim and others agreed with Ibn `Abbas in this, and Ibn Jarir preferred it. Allah the Exalted said in another Ayah,
يِـأَيُّهَا الَّذِينَ ءَامَنُواْ إَن تَتَّقُواْ اللَّهَ يَجْعَل لَّكُمْ فُرْقَانًا وَيُكَفِّرْ عَنكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ وَاللَّهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ
(O you who believe! If you have Taqwa of Allah, He will grant you a criterion, and will expiate for you your sins, and forgive you; and Allah is Owner of the great bounty.)(8:29) Sa`id bin `Abdul-`Aziz said, `Umar bin Al-Khattab asked a Jewish rabbi, `What is the maximum a reward would be increased for you' He replied, `A Kifl (portion) which is about three hundred and fifty good merits.' So `Umar said, `Praise be to Allah who gave us two Kifls.' Then Sa`id mentioned Allah's saying:
يُؤْتِكُمْ كِفْلَيْنِ مِن رَّحْمَتِهِ
(He will give you a double portion of His mercy,) Sa`id said, "And the two Kifls on Friday are similar to that." This was recorded by Ibn Jarir. This view has support from the Hadith that Imam Ahmad recorded from `Abdullah bin `Umar that the Messenger of Allah ﷺ said,
«مَثَلُكُمْ وَمَثَلُ الْيَهُودِ وَالنَّصَارَى كَمَثَلِ رَجُلٍ اسْتَعْمَلَ عُمَّالًا فَقَالَ: مَنْ يَعْمَلُ لِي مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ إِلَى نِصْفِ النَّهَارِ عَلَى قِيرَاطٍ قِيرَاطٍ؟ أَلَا فَعَمِلَتِ الْيَهُودُ، ثُمَّ قَالَ: مَنْ يَعْمَلُ لِي مِنْ صَلَاةِ الظُّهْرِ إِلَى صَلَاةِ الْعَصْرِ عَلَى قِيرَاطٍ قِيرَاطٍ؟ أَلَا فَعَمِلَتِ النَّصَارَى، ثُمَّ قَالَ: مَنْ يَعْمَلُ لِي مِنْ صَلَاةِ الْعَصْرِ إِلَى غُرُوبِ الشَّمْسِ عَلَى قِيرَاطَيْنِ قِيرَاطَيْنِ؟ أَلَا فَأَنْتُمُ الَّذِينَ عَمِلْتُمْ، فَغَضِبَ النَّصَارَى وَالْيَهُودُ وَقَالُوا: نَحْنُ أَكْثَرُ عَمَلًا وَأَقَلُّ عَطَاءً، قَالَ: هَلْ ظَلَمْتُكُمْ مِنْ أَجْرِكُمْ شَيْئًا؟ قَالُوا: لَا، قَالَ: فَإِنَّمَا هُوَ فَضْلِي أُوتِيهِ مَنْ أَشَاء»
(The parable of you and the Jews and Christians is that of a person who employed some laborers and asked them, "Who will work for me from the Dawn prayer until midday for one Qirat (a special weight of gold) each" So, the Jews worked. The person asked, "Who will do the work for me from the Zuhr prayer to the time of the `Asr prayer for one Qirat each" So, the Christians worked. Then the person asked, "Who will do the work for me from `Asr prayer until sunset for two Qirat each" You are those who did this work. The Jews and the Christians got angry and said, "We did more work, but got less wages." Allah said, "Have I been unjust to you with your reward" They said, "No." So, Allah said, "Then it is My grace which I bestow on whomever I will.") Al-Bukhari collected this Hadith. Al-Bukhari recorded that Abu Musa said that the Prophet said,
«مَثَلُ الْمُسْلِمِينَ وَالْيَهُودِ وَالنَّصَارَى كَمَثَلِ رَجُلٍ اسْتَعْمَلَ قَوْمًا يَعْمَلُونَ لَهُ عَمَلًا يَوْمًا إِلَى اللَّيْلِ عَلَى أَجْرٍ مَعْلُومٍ، فَعَمِلُوا إِلَى نِصْفِ النَّهَارِ فَقَالُوا: لَا حَاجَةَ لَنَا فِي أَجْرِكَ الَّذِي شَرَطْتَ لَنَا، وَمَا عَمِلْنَا بَاطِلٌ، فَقَالَ لَهُمْ: لَا تَفْعَلُوا، أَكْمِلُوا بَقِيَّةَ عَمَلِكُمْ، وَخُذُوا أَجْرَكُمْ كَامِلًا، فَأَبَوا وَتَرَكُوا وَاسْتَأْجَرَ آخَرِينَ بَعْدَهُمْ فَقَالَ: أَكْمِلُوا بَقِيَّةَ يَوْمِكُمْ وَلَكُمُ الَّذِي شَرَطْتُ لَهُمْ مِنَ الْأَجْرِ، فَعَمِلُوا حَتْى إِذَا كَانَ حِينَ صَلَّوُا الْعَصْرَ قَالُوا: مَا عَمِلْنَا بَاطِلٌ، وَلَكَ الْأَجْرُ الَّذِي جَعَلْتَ لَنَا فِيهِ. فَقَالَ: أَكْمِلُوا بَقِيَّةَ عَمَلِكُمْ، فَإِنَّمَا بَقِيَ مِنَ النَّهَارِ شَيْءٌ يَسِيرٌ، فَأَبَوا. فَاسْتَأْجَرَ قَوْمًا أَنْ يَعْمَلُوا لَهُ بَقِيَّةَ يَوْمِهِمْ فَعَمِلُوا لَهُ بَقِيَّةَ يَوْمِهِمْ حَتْى غَابَتِ الشَّمْسُ، فَاسْتَكْمَلُوا أُجْرَةَ الْفَرِيقَيْنِ كِلَيْهِمَا، فَذلِكَ مَثَلُهُمْ وَمَثَلُ مَا قَبِلُوا مِنْ هذَا النُّور»
(The parable of the Muslims, Jews and Christians is that of a man who employed laborers to work for him from morning until night for a known wage. So, they worked until midday and said, `We are not in need of the wages that you promised and our work was in vain.' So, the man said, `Do not quit now, complete the rest of the work and yours will be the full wage I have fixed for it.' However, they refused and quit, and he had to hire another batch of workers. He said (to the second batch), `Complete the work for the rest of the day and I will give you the same wage I promised the first batch.' So, they worked until the time of the `Asr prayer and said, `Whatever we have done is in vain and we forfeit the wages you promised us.' He said to them, `Complete your day's work, for only a small part of the day remains.' However, they refused, and he employed another batch to work for the rest of the day, and they worked until sunset and received the wages of the two former batches. This is an example of them (i.e., the Jews and Christians) and of those who accepted this light (i.e., Islam).) Al-Bukhari was alone in recording it. Allah the Exalted said;
لِّئَلاَّ يَعْلَمَ أَهْلُ الْكِتَـبِ أَلاَّ يَقْدِرُونَ عَلَى شَىْءٍ مِّن فَضْلِ اللَّهِ
(So that the People of the Scriptures may know that they have no power whatsoever over the grace of Allah,) meaning, so that they become sure that they cannot prevent what Allah gives, or give what Allah prevents,
وَأَنَّ الْفَضْلَ بِيَدِ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَن يَشَآءُ وَاللَّهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ
(and that (His) grace is (entirely) in His Hand to bestow it on whomsoever He wills. And Allah is the Owner of great bounty.) This is the end of the Tafsir of Surat Al-Hadid, all praise is due to Allah, and all favors come from Him.
مسلمانوں اور یہود و نصاریٰ کی مثال اس سے پہلے کی آیت میں بیان ہوچکا ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں جن مومنوں کا یہاں ذکر ہے اس سے مراد اہل کتاب کے مومن ہیں اور انہیں دوہرا اجر ملے گا جیسے کہ سورة قصص کی آیت میں ہے اور جیسے کہ ایک حدیث میں آیا ہے کہ تین شخصوں کو اللہ تعالیٰ دوہرا اجر دے گا ایک وہ اہل کتاب جو اپنے نبی پر ایمان لایا پھر مجھ پر بھی ایمان لایا اسے دوہرا اجر ہے اور وہ غلام جو اپنے آقا کی تابعداری کرے اور اللہ کا حق بھی ادا کرے اسے بھی دو دو اجر ہیں اور وہ شخض جو اپنی لونڈی کو ادب سکھائے اور بہت اچھا ادب سکھائے یعنی شرعی ادب پھر اسے آزاد کر دے اور نکاح کر دے وہ بھی دوہرے اجر کا مستحق ہے (بخاری و مسلم) حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں جب اہل کتاب اس دوہرے اجر پر فخر کرنے لگے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اس امت کے حق میں نازل فرمائی۔ پس انہیں دوہرے اجر کے بعد نور ہدایت دینے کا بھی وعدہ کیا اور مغفرت کا بھی پس نور اور مغفرت انہیں زیادہ ملی (ابن جریر) اسی مضمون کی ایک آیت (يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِنْ تَتَّقُوا اللّٰهَ يَجْعَلْ لَّكُمْ فُرْقَانًا وَّيُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَيِّاٰتِكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ۭ وَاللّٰهُ ذو الْفَضْلِ الْعَظِيْمِ 29) 8۔ الانفال :29) ، ہے یعنی اے ایمان والو اگر تم اللہ سے ڈرتے رہے تو وہ تمہارے لئے فرقان کرے گا اور تم سے تمہاری برائیاں دور کر دے گا اور تمہیں معاف فرما دے گا اللہ بڑے فضل والا ہے۔ حضرت عمر فاروق ؓ نے یہودیوں کے ایک بہت بڑے عالم سے دریافت فرمایا کہ تمہیں ایک نیکی پر زیادہ سے زیادہ کس قدر فضیلت ملتی ہے اس نے کہا ساڑھے تین سو تک، آپ نے اللہ کا شکر کیا اور فرمایا ہمیں تم سے دوہرا اجر ملا ہے۔ حضرت سعید نے اسے بیان فرما کر یہی آیت پڑھی اور فرمایا اسی طرح جمعہ کا دوہرا اجر ہے، مسند احمد کی حدیث میں ہے تمہاری اور یہود و نصاریٰ کی مثال اس شخض جیسی ہے جس نے چند مزدور کسی کام پر لگانے چاہے اور اعلان کیا کہ کوئی ہے جو مجھ سے ایک قیراط لے اور صبح کی نماز سے لے کر آدھے دن تک کام کرے ؟ پس یہود تیار ہوگئے، اس نے پھر کہا ظہر سے عصر تک اب جو کام کرے اسے میں ایک قیراط دوں گا، اس پر نصرانی تیار ہوئے کام کیا اور اجرت لی اس نے پھر کہا اب عصر سے مغرب تک جو کام کرے میں اسے دو قیراط دوں گا پس وہ تم مسلمان ہو، اس پر یہود و نصاریٰ بہت بگڑے اور کہنے لگے کام ہم نے زیادہ کیا اور دام انہیں زیادہ ملے۔ ہمیں کم دیا گیا۔ تو انہیں جواب ملا کہ میں نے تمہارا کوئی حق تو نہیں مارا ؟ انہوں نے کہا ایسا تو نہیں ہوا۔ جواب ملا کہ پھر یہ میرا فضل ہے جسے چاہوں دو ، صحیح بخاری شریف میں ہے مسلمانوں اور یہود نصرانیوں کی مثال اس شخص کی طرح ہے جس نے چند لوگوں کو کام پر لگایا اجرت ٹھہرالی اور کہا دن بھر کام کرکے کہہ دیا کہ اب ہمیں ضرورت نہیں جو ہم نے کیا اس کی اجرت بھی نہیں چاہتے اور اب ہم کام بھی نہیں کریں گے، اس نے انہیں سمجھایا بھی کہ ایسا نہ کرو کام پورا کرو اور مزدوری لے جاؤ لیکن انہوں نے صاف انکار کردیا اور کام ادھورا چھوڑ کر اجرت لئے بغیر چلتے بنے، اس نے اور مزدور لگائے اور کہا کہ باقی کام شام تک تم پورا کرو اور پورے دن کی مزدوری میں تمہیں دوں گا، یہ کام پر لگے، لیکن عصر کے وقت یہ بھی کام سے ہٹ گئے اور کہہ دیا کہ اب ہم سے نہیں ہوسکتا ہمیں آپ کی اجرت نہیں چاہئے اس نے انہیں بھی سمجھایا کہ دیکھو اب دن باقی ہی کیا رہ گیا ہے تم کام پورا کرو اور اجرت لے جاؤ لیکن یہ نہ مانے اور چلے گئے، اس نے پھر اوروں کو بلایا اور کہا لو تم مغرب تک کام کرو اور دن بھر کی مزدوری لے جاؤ چناچہ انہوں نے مغرب تک کام کیا اور ان دونوں جماعتوں کی اجرت بھی یہی لے گئے، پس یہ ہے ان کی مثال اور اس نور کی مثال جسے انہوں نے قبول کیا۔ پھر فرماتا ہے یہ اس لئے کہ اہل کتاب یقین کرلیں کہ اللہ جسے دے یہ اس کے لوٹانے کی اور جسے نہ دے اسے دینے کی کچھ بھی قدرت نہیں رکھتے اور اس بات کو بھی وہ جان لیں کہ فضل و کرم کا مالک صرف وہی پروردگار ہے، اس کے فضل کا کوئی اندازہ و حساب نہیں لگا سکتا۔ امام ابن جریر ؒ فرماتے ہیں آیت (لئلا یعلم) کا معنی (لیعلم) ہے۔ حضرت ابن مسعود ؓ کی قرأت میں (لکی یعلم) ہے، اسی طرح حضرت عطا بن عبداللہ ؒ اور حضرت سعید بن جبیر ؒ سے بھی یہی قرأت مروی ہے۔ غرض یہ ہے کہ کلام عرب میں لا صلہ کیلئے آتا ہے جو کلام کے اول آخر میں آجاتا ہے اور وہاں سے انکار مراد نہیں ہوتا جیسے آیت (مَا مَنَعَكَ اَلَّا تَسْجُدَ اِذْ اَمَرْتُكَ 12 ) 7۔ الاعراف :12) میں ہے اور آیت (وَمَا يُشْعِرُكُمْ ۙ اَنَّهَآ اِذَا جَاۗءَتْ لَا يُؤْمِنُوْنَ01009) 6۔ الانعام :109) میں اور آیت (وَحَرٰمٌ عَلٰي قَرْيَةٍ اَهْلَكْنٰهَآ اَنَّهُمْ لَا يَرْجِعُوْنَ 95) 21۔ الأنبیاء :95) میں۔ الحمد للہ سورة حدید کی تفسیر ختم ہوئی۔ اللہ تعالیٰ کا ہزار ہزار شکر ہے کہ اس ستائیسویں پارے کی تفسیر بھی ختم ہوئی۔ اللہ تعالیٰ قبول فرمائے اور ہمیں اپنے پاک کلام کی صحیح سمھجھ دے اور اس پر عمل کی توفیق دے۔ میرے مہربان اللہ ! میرے عاجز ہاتھوں سے اس پاک تفسیر کو پوری کرا، اسے مکمل مطبوع مجھے دکھا دے، مقبولیت عطا فرما اور اس پر ہمیں عمل نصیب فرما۔ اے دلوں کے بھید سے آگاہ اللہ ! میری عاجزانہ التماس ہے کہ میرے نامہ اعمال میں اسے ثبت فرما اور میرے تمام گناہوں کا کفارہ اسے کر دے اور اس کے پڑھنے والوں پر رحم فرما اور ان کے دل میں ڈال کہ وہ میرے لئے بھی رحم کی دعا کریں۔ یا رب اپنے سچے دین کی اور اپنے غلاموں کی تائید کر اور اپنے نبی کے کلام کو سب کے کلاموں پر غالب رکھ۔ آمین !
29
View Single
لِّئَلَّا يَعۡلَمَ أَهۡلُ ٱلۡكِتَٰبِ أَلَّا يَقۡدِرُونَ عَلَىٰ شَيۡءٖ مِّن فَضۡلِ ٱللَّهِ وَأَنَّ ٱلۡفَضۡلَ بِيَدِ ٱللَّهِ يُؤۡتِيهِ مَن يَشَآءُۚ وَٱللَّهُ ذُو ٱلۡفَضۡلِ ٱلۡعَظِيمِ
This is so that the disbelievers among People given the Book(s) may know that they do not have any control over Allah’s munificence, and that the munificence is in Allah’s Hand (control) – He bestows to whomever He wills; and Allah is Extremely Munificent.
(یہ بیان اِس لئے ہے) کہ اہلِ کتاب جان لیں کہ وہ اللہ کے فضل پر کچھ قدرت نہیں رکھتے اور (یہ) کہ سارا فضل اللہ ہی کے دستِ قدرت میں ہے وہ جِسے چاہتا ہے عطا فرماتا ہے، اور اللہ فضل والا عظمت والا ہے
Tafsir Ibn Kathir
The Believers of the People of the Scriptures will earn Double their Rewards
Earlier we mentioned a Hadith that An-Nasa'i collected from Ibn `Abbas that this Ayah is about the People of the Scriptures who believe in Islam, and that they will earn double their reward if they do so. There is an Ayah in Surat Al-Qasas to support this meaning. Also, there is a Hadith from Ash-Sha`bi from Abu Burdah from his father from Abu Musa Al-Ash`ari that the Messenger of Allah ﷺ said,
«ثَلَاثَةٌ يُؤْتَوْنَ أَجْرَهُمْ مَرَّتَيْنِ: رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ آمَنَ بِنَبِيِّهِ وَآمَنَ بِي فَلَهُ أَجْرَانِ، وَعَبْدٌ مَمْلُوكٌ أَدَّى حَقَّ اللهِ وَحَقَّ مَوَالِيهِ فَلَهُ أَجْرَانِ، وَرَجُلٌ أَدَّبَ أَمَتَهُ فَأَحْسَنَ تَأْدِيبَهَا، ثُمَّ أَعْتَقَهَا وَتَزَوَّجَهَا فَلَهُ أَجْرَان»
(Three will get their reward twice. A believer from the People of the Scriptures who has been a true believer in his Prophet and then believes in me, will get a double reward. A slave who fulfills Allah's rights and obligations as well as the duties of his master, will get a double reward. A person who has a slave-girl and he educates her properly and teaches her good manners properly (without violence) and then manumits and marries her, will get a double reward.) This Hadith is recorded in the Two Sahihs. Ad-Dahhak, `Utbah bin Abi Hakim and others agreed with Ibn `Abbas in this, and Ibn Jarir preferred it. Allah the Exalted said in another Ayah,
يِـأَيُّهَا الَّذِينَ ءَامَنُواْ إَن تَتَّقُواْ اللَّهَ يَجْعَل لَّكُمْ فُرْقَانًا وَيُكَفِّرْ عَنكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ وَاللَّهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ
(O you who believe! If you have Taqwa of Allah, He will grant you a criterion, and will expiate for you your sins, and forgive you; and Allah is Owner of the great bounty.)(8:29) Sa`id bin `Abdul-`Aziz said, `Umar bin Al-Khattab asked a Jewish rabbi, `What is the maximum a reward would be increased for you' He replied, `A Kifl (portion) which is about three hundred and fifty good merits.' So `Umar said, `Praise be to Allah who gave us two Kifls.' Then Sa`id mentioned Allah's saying:
يُؤْتِكُمْ كِفْلَيْنِ مِن رَّحْمَتِهِ
(He will give you a double portion of His mercy,) Sa`id said, "And the two Kifls on Friday are similar to that." This was recorded by Ibn Jarir. This view has support from the Hadith that Imam Ahmad recorded from `Abdullah bin `Umar that the Messenger of Allah ﷺ said,
«مَثَلُكُمْ وَمَثَلُ الْيَهُودِ وَالنَّصَارَى كَمَثَلِ رَجُلٍ اسْتَعْمَلَ عُمَّالًا فَقَالَ: مَنْ يَعْمَلُ لِي مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ إِلَى نِصْفِ النَّهَارِ عَلَى قِيرَاطٍ قِيرَاطٍ؟ أَلَا فَعَمِلَتِ الْيَهُودُ، ثُمَّ قَالَ: مَنْ يَعْمَلُ لِي مِنْ صَلَاةِ الظُّهْرِ إِلَى صَلَاةِ الْعَصْرِ عَلَى قِيرَاطٍ قِيرَاطٍ؟ أَلَا فَعَمِلَتِ النَّصَارَى، ثُمَّ قَالَ: مَنْ يَعْمَلُ لِي مِنْ صَلَاةِ الْعَصْرِ إِلَى غُرُوبِ الشَّمْسِ عَلَى قِيرَاطَيْنِ قِيرَاطَيْنِ؟ أَلَا فَأَنْتُمُ الَّذِينَ عَمِلْتُمْ، فَغَضِبَ النَّصَارَى وَالْيَهُودُ وَقَالُوا: نَحْنُ أَكْثَرُ عَمَلًا وَأَقَلُّ عَطَاءً، قَالَ: هَلْ ظَلَمْتُكُمْ مِنْ أَجْرِكُمْ شَيْئًا؟ قَالُوا: لَا، قَالَ: فَإِنَّمَا هُوَ فَضْلِي أُوتِيهِ مَنْ أَشَاء»
(The parable of you and the Jews and Christians is that of a person who employed some laborers and asked them, "Who will work for me from the Dawn prayer until midday for one Qirat (a special weight of gold) each" So, the Jews worked. The person asked, "Who will do the work for me from the Zuhr prayer to the time of the `Asr prayer for one Qirat each" So, the Christians worked. Then the person asked, "Who will do the work for me from `Asr prayer until sunset for two Qirat each" You are those who did this work. The Jews and the Christians got angry and said, "We did more work, but got less wages." Allah said, "Have I been unjust to you with your reward" They said, "No." So, Allah said, "Then it is My grace which I bestow on whomever I will.") Al-Bukhari collected this Hadith. Al-Bukhari recorded that Abu Musa said that the Prophet said,
«مَثَلُ الْمُسْلِمِينَ وَالْيَهُودِ وَالنَّصَارَى كَمَثَلِ رَجُلٍ اسْتَعْمَلَ قَوْمًا يَعْمَلُونَ لَهُ عَمَلًا يَوْمًا إِلَى اللَّيْلِ عَلَى أَجْرٍ مَعْلُومٍ، فَعَمِلُوا إِلَى نِصْفِ النَّهَارِ فَقَالُوا: لَا حَاجَةَ لَنَا فِي أَجْرِكَ الَّذِي شَرَطْتَ لَنَا، وَمَا عَمِلْنَا بَاطِلٌ، فَقَالَ لَهُمْ: لَا تَفْعَلُوا، أَكْمِلُوا بَقِيَّةَ عَمَلِكُمْ، وَخُذُوا أَجْرَكُمْ كَامِلًا، فَأَبَوا وَتَرَكُوا وَاسْتَأْجَرَ آخَرِينَ بَعْدَهُمْ فَقَالَ: أَكْمِلُوا بَقِيَّةَ يَوْمِكُمْ وَلَكُمُ الَّذِي شَرَطْتُ لَهُمْ مِنَ الْأَجْرِ، فَعَمِلُوا حَتْى إِذَا كَانَ حِينَ صَلَّوُا الْعَصْرَ قَالُوا: مَا عَمِلْنَا بَاطِلٌ، وَلَكَ الْأَجْرُ الَّذِي جَعَلْتَ لَنَا فِيهِ. فَقَالَ: أَكْمِلُوا بَقِيَّةَ عَمَلِكُمْ، فَإِنَّمَا بَقِيَ مِنَ النَّهَارِ شَيْءٌ يَسِيرٌ، فَأَبَوا. فَاسْتَأْجَرَ قَوْمًا أَنْ يَعْمَلُوا لَهُ بَقِيَّةَ يَوْمِهِمْ فَعَمِلُوا لَهُ بَقِيَّةَ يَوْمِهِمْ حَتْى غَابَتِ الشَّمْسُ، فَاسْتَكْمَلُوا أُجْرَةَ الْفَرِيقَيْنِ كِلَيْهِمَا، فَذلِكَ مَثَلُهُمْ وَمَثَلُ مَا قَبِلُوا مِنْ هذَا النُّور»
(The parable of the Muslims, Jews and Christians is that of a man who employed laborers to work for him from morning until night for a known wage. So, they worked until midday and said, `We are not in need of the wages that you promised and our work was in vain.' So, the man said, `Do not quit now, complete the rest of the work and yours will be the full wage I have fixed for it.' However, they refused and quit, and he had to hire another batch of workers. He said (to the second batch), `Complete the work for the rest of the day and I will give you the same wage I promised the first batch.' So, they worked until the time of the `Asr prayer and said, `Whatever we have done is in vain and we forfeit the wages you promised us.' He said to them, `Complete your day's work, for only a small part of the day remains.' However, they refused, and he employed another batch to work for the rest of the day, and they worked until sunset and received the wages of the two former batches. This is an example of them (i.e., the Jews and Christians) and of those who accepted this light (i.e., Islam).) Al-Bukhari was alone in recording it. Allah the Exalted said;
لِّئَلاَّ يَعْلَمَ أَهْلُ الْكِتَـبِ أَلاَّ يَقْدِرُونَ عَلَى شَىْءٍ مِّن فَضْلِ اللَّهِ
(So that the People of the Scriptures may know that they have no power whatsoever over the grace of Allah,) meaning, so that they become sure that they cannot prevent what Allah gives, or give what Allah prevents,
وَأَنَّ الْفَضْلَ بِيَدِ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَن يَشَآءُ وَاللَّهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ
(and that (His) grace is (entirely) in His Hand to bestow it on whomsoever He wills. And Allah is the Owner of great bounty.) This is the end of the Tafsir of Surat Al-Hadid, all praise is due to Allah, and all favors come from Him.
مسلمانوں اور یہود و نصاریٰ کی مثال اس سے پہلے کی آیت میں بیان ہوچکا ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں جن مومنوں کا یہاں ذکر ہے اس سے مراد اہل کتاب کے مومن ہیں اور انہیں دوہرا اجر ملے گا جیسے کہ سورة قصص کی آیت میں ہے اور جیسے کہ ایک حدیث میں آیا ہے کہ تین شخصوں کو اللہ تعالیٰ دوہرا اجر دے گا ایک وہ اہل کتاب جو اپنے نبی پر ایمان لایا پھر مجھ پر بھی ایمان لایا اسے دوہرا اجر ہے اور وہ غلام جو اپنے آقا کی تابعداری کرے اور اللہ کا حق بھی ادا کرے اسے بھی دو دو اجر ہیں اور وہ شخض جو اپنی لونڈی کو ادب سکھائے اور بہت اچھا ادب سکھائے یعنی شرعی ادب پھر اسے آزاد کر دے اور نکاح کر دے وہ بھی دوہرے اجر کا مستحق ہے (بخاری و مسلم) حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں جب اہل کتاب اس دوہرے اجر پر فخر کرنے لگے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اس امت کے حق میں نازل فرمائی۔ پس انہیں دوہرے اجر کے بعد نور ہدایت دینے کا بھی وعدہ کیا اور مغفرت کا بھی پس نور اور مغفرت انہیں زیادہ ملی (ابن جریر) اسی مضمون کی ایک آیت (يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِنْ تَتَّقُوا اللّٰهَ يَجْعَلْ لَّكُمْ فُرْقَانًا وَّيُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَيِّاٰتِكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ۭ وَاللّٰهُ ذو الْفَضْلِ الْعَظِيْمِ 29) 8۔ الانفال :29) ، ہے یعنی اے ایمان والو اگر تم اللہ سے ڈرتے رہے تو وہ تمہارے لئے فرقان کرے گا اور تم سے تمہاری برائیاں دور کر دے گا اور تمہیں معاف فرما دے گا اللہ بڑے فضل والا ہے۔ حضرت عمر فاروق ؓ نے یہودیوں کے ایک بہت بڑے عالم سے دریافت فرمایا کہ تمہیں ایک نیکی پر زیادہ سے زیادہ کس قدر فضیلت ملتی ہے اس نے کہا ساڑھے تین سو تک، آپ نے اللہ کا شکر کیا اور فرمایا ہمیں تم سے دوہرا اجر ملا ہے۔ حضرت سعید نے اسے بیان فرما کر یہی آیت پڑھی اور فرمایا اسی طرح جمعہ کا دوہرا اجر ہے، مسند احمد کی حدیث میں ہے تمہاری اور یہود و نصاریٰ کی مثال اس شخض جیسی ہے جس نے چند مزدور کسی کام پر لگانے چاہے اور اعلان کیا کہ کوئی ہے جو مجھ سے ایک قیراط لے اور صبح کی نماز سے لے کر آدھے دن تک کام کرے ؟ پس یہود تیار ہوگئے، اس نے پھر کہا ظہر سے عصر تک اب جو کام کرے اسے میں ایک قیراط دوں گا، اس پر نصرانی تیار ہوئے کام کیا اور اجرت لی اس نے پھر کہا اب عصر سے مغرب تک جو کام کرے میں اسے دو قیراط دوں گا پس وہ تم مسلمان ہو، اس پر یہود و نصاریٰ بہت بگڑے اور کہنے لگے کام ہم نے زیادہ کیا اور دام انہیں زیادہ ملے۔ ہمیں کم دیا گیا۔ تو انہیں جواب ملا کہ میں نے تمہارا کوئی حق تو نہیں مارا ؟ انہوں نے کہا ایسا تو نہیں ہوا۔ جواب ملا کہ پھر یہ میرا فضل ہے جسے چاہوں دو ، صحیح بخاری شریف میں ہے مسلمانوں اور یہود نصرانیوں کی مثال اس شخص کی طرح ہے جس نے چند لوگوں کو کام پر لگایا اجرت ٹھہرالی اور کہا دن بھر کام کرکے کہہ دیا کہ اب ہمیں ضرورت نہیں جو ہم نے کیا اس کی اجرت بھی نہیں چاہتے اور اب ہم کام بھی نہیں کریں گے، اس نے انہیں سمجھایا بھی کہ ایسا نہ کرو کام پورا کرو اور مزدوری لے جاؤ لیکن انہوں نے صاف انکار کردیا اور کام ادھورا چھوڑ کر اجرت لئے بغیر چلتے بنے، اس نے اور مزدور لگائے اور کہا کہ باقی کام شام تک تم پورا کرو اور پورے دن کی مزدوری میں تمہیں دوں گا، یہ کام پر لگے، لیکن عصر کے وقت یہ بھی کام سے ہٹ گئے اور کہہ دیا کہ اب ہم سے نہیں ہوسکتا ہمیں آپ کی اجرت نہیں چاہئے اس نے انہیں بھی سمجھایا کہ دیکھو اب دن باقی ہی کیا رہ گیا ہے تم کام پورا کرو اور اجرت لے جاؤ لیکن یہ نہ مانے اور چلے گئے، اس نے پھر اوروں کو بلایا اور کہا لو تم مغرب تک کام کرو اور دن بھر کی مزدوری لے جاؤ چناچہ انہوں نے مغرب تک کام کیا اور ان دونوں جماعتوں کی اجرت بھی یہی لے گئے، پس یہ ہے ان کی مثال اور اس نور کی مثال جسے انہوں نے قبول کیا۔ پھر فرماتا ہے یہ اس لئے کہ اہل کتاب یقین کرلیں کہ اللہ جسے دے یہ اس کے لوٹانے کی اور جسے نہ دے اسے دینے کی کچھ بھی قدرت نہیں رکھتے اور اس بات کو بھی وہ جان لیں کہ فضل و کرم کا مالک صرف وہی پروردگار ہے، اس کے فضل کا کوئی اندازہ و حساب نہیں لگا سکتا۔ امام ابن جریر ؒ فرماتے ہیں آیت (لئلا یعلم) کا معنی (لیعلم) ہے۔ حضرت ابن مسعود ؓ کی قرأت میں (لکی یعلم) ہے، اسی طرح حضرت عطا بن عبداللہ ؒ اور حضرت سعید بن جبیر ؒ سے بھی یہی قرأت مروی ہے۔ غرض یہ ہے کہ کلام عرب میں لا صلہ کیلئے آتا ہے جو کلام کے اول آخر میں آجاتا ہے اور وہاں سے انکار مراد نہیں ہوتا جیسے آیت (مَا مَنَعَكَ اَلَّا تَسْجُدَ اِذْ اَمَرْتُكَ 12 ) 7۔ الاعراف :12) میں ہے اور آیت (وَمَا يُشْعِرُكُمْ ۙ اَنَّهَآ اِذَا جَاۗءَتْ لَا يُؤْمِنُوْنَ01009) 6۔ الانعام :109) میں اور آیت (وَحَرٰمٌ عَلٰي قَرْيَةٍ اَهْلَكْنٰهَآ اَنَّهُمْ لَا يَرْجِعُوْنَ 95) 21۔ الأنبیاء :95) میں۔ الحمد للہ سورة حدید کی تفسیر ختم ہوئی۔ اللہ تعالیٰ کا ہزار ہزار شکر ہے کہ اس ستائیسویں پارے کی تفسیر بھی ختم ہوئی۔ اللہ تعالیٰ قبول فرمائے اور ہمیں اپنے پاک کلام کی صحیح سمھجھ دے اور اس پر عمل کی توفیق دے۔ میرے مہربان اللہ ! میرے عاجز ہاتھوں سے اس پاک تفسیر کو پوری کرا، اسے مکمل مطبوع مجھے دکھا دے، مقبولیت عطا فرما اور اس پر ہمیں عمل نصیب فرما۔ اے دلوں کے بھید سے آگاہ اللہ ! میری عاجزانہ التماس ہے کہ میرے نامہ اعمال میں اسے ثبت فرما اور میرے تمام گناہوں کا کفارہ اسے کر دے اور اس کے پڑھنے والوں پر رحم فرما اور ان کے دل میں ڈال کہ وہ میرے لئے بھی رحم کی دعا کریں۔ یا رب اپنے سچے دین کی اور اپنے غلاموں کی تائید کر اور اپنے نبی کے کلام کو سب کے کلاموں پر غالب رکھ۔ آمین !