العنكبوت — Al ankabut
Ayah 56 / 69 • Meccan
1,402
56
Al ankabut
العنكبوت • Meccan
يَٰعِبَادِيَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ إِنَّ أَرۡضِي وَٰسِعَةٞ فَإِيَّـٰيَ فَٱعۡبُدُونِ
O My bondmen who believe! Indeed My earth is spacious – therefore worship Me alone.
اے میرے بندو! جو ایمان لے آئے ہو بیشک میری زمین کشادہ ہے سو تم میری ہی عبادت کرو
Tafsir Ibn Kathir
Advice to migrate and the Promise of Provision and a Goodly Reward
Allah commands His believing servants to migrate from a land in which they are not able to establish Islam, to the spacious earth of Allah where they can do so, by declaring Allah to be One and worshipping Him as He has commanded. Allah says:
يَعِبَادِىَ الَّذِينَ ءَامَنُواْ إِنَّ أَرْضِى وَاسِعَةٌ فَإِيَّاىَ فَاعْبُدُونِ
(O My servants who believe! Certainly, spacious is My earth. Therefore worship Me.) When things became too difficult for the believers in Makkah who were in a weak position and were oppressed, they left and migrated to Ethiopia, where they were able to practice their religion. The Muslims found Ethiopia the best place for guest; where Ashamah, the Negus or king, may Allah have mercy on him, gave them refuge, helped them, supported them, and honored them in his land. Later, the Messenger of Allah ﷺ and his remaining Companions migrated to Al-Madinah, formerly known as Yathrib, may Allah protect it. Then Allah says:
كُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَةُ الْمَوْتِ ثُمَّ إِلَيْنَا تُرْجَعُونَ
(Everyone shall taste death. Then unto Us you shall be returned.) meaning, `wherever you are, death with catch up with you, so always obey Allah and be where Allah commands you to be, for this is better for you. Death is inevitable and there is no escape from it, and then you will return to Allah, and whoever was obedient to Him will have the best reward.' Allah says:
وَالَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ الصَّـلِحَـتِ لَنُبَوِّئَنَّهُمْ مِّنَ الْجَنَّةِ غُرَفَاً تَجْرِى مِن تَحْتِهَا الاٌّنْهَـرُ
(And those who believe and do righteous good deeds, to them We shall surely give lofty dwellings in Paradise, underneath which rivers flow,) meaning, `We shall cause them to dwell in lofty homes in Paradise under which various kinds of rivers flow -- water, wine, honey and milk -- which they can direct and cause to flow wherever they wish.'
خَـلِدِينَ فِيهَآ
(to live therein forever.) means, they will remain there forever, never wanting to leave.
نِعْمَ أَجْرُ الْعَـمِلِينَ
(Excellent is the reward for the workers.) these rooms will be a blessed reward for the good deeds of the believers,
الَّذِينَ صَبَرُواْ
(Those who are patient,) in adhering to their religion, who migrated for the sake of Allah and fought the enemy, leaving behind their families and relatives to seek Allah's Face, and hoping for that which is with Him, believing His promise. Ibn Abi Hatim, may Allah have mercy on him, recorded from Abu Mu`aniq Al-Ash`ari that Abu Malik Al-Ash`ari told him that the Messenger of Allah ﷺ told him:
«إِنَّ فِي الْجَنَّةِ غُرَفًا يُرَى ظَاهِرُهَا مِنْ بَاطِنِهَا، وَبَاطِنُهَا مِنْ ظَاهِرِهَا، أَعَدَّهَا اللهُ تَعَالَى لِمَنْ أَطْعَمَ الطَّعَامَ، وَأَطَابَ الْكَلَامَ، وَتَابَعَ الصَّلَاةَ وَالصِّيَامَ، وَقَامَ بِاللَّيْلِ وَالنَّاسُ نِيَام»
(In Paradise there are rooms whose outside can be seen from the inside, and their inside can be seen from the outside; Allah has prepared them for those who feed others, who speak well, who pray and fast continually, and who stand in prayer at night while people are asleep.)
وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ
(and put their trust in their Lord.) in all their affairs, spiritual and worldly alike. Then Allah tells us that provision is not limited only to one place, but it is given to all His creatures no matter where they are. Indeed, when the Muhajirin migrated, their provision was greater and better than before, because after a short time they became rulers in the land, in all regions. Allah says:
وَكَأَيِّن مِّن دَآبَّةٍ لاَّ تَحْمِلُ رِزْقَهَا
(And so many a moving creature carries not its own provision!) meaning, it does not have the ability to gather its provision and save it for tomorrow.
اللَّهُ يَرْزُقُهَا وَإِيَّاكُمْ
(Allah provides for it and for you.) means, Allah allots its provision to it even though it is weak, and makes it easy for it. He sends provision to every creature in the appropriate manner, even the ants in the depths of the earth, the birds in the air and the fish in the sea. Allah says:
وَمَا مِن دَآبَّةٍ فِي الاٌّرْضِ إِلاَّ عَلَى اللَّهِ رِزْقُهَا وَيَعْلَمُ مُسْتَقَرَّهَا وَمُسْتَوْدَعَهَا كُلٌّ فِى كِتَابٍ مُّبِينٍ
(And no moving creature is there on earth but its provision is due from Allah. And He knows its dwelling place and its deposit. All is in a Clear Book.) (11:6)
وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ
(And He is the All-Hearer, the All-Knower.) means, He hears all that His servants say and He knows their every movements.
مہاجرین کے لیے انعامات الٰہی اللہ تبارک وتعالیٰ اس آیت میں ایمان والوں کو ہجرت کا حکم دیتا ہے کہ جہاں وہ دین کو قائم نہ رکھ سکتے ہوں وہاں سے اس جگہ چلے جائیں جہاں ان کے دین میں انہیں آزادی رہے اللہ کی زمین بہت کشادہ ہے جہاں وہ فرمان اللہ کے ماتحت اللہ کی عبادت و توحید بجالاسکیں وہاں چلے جائیں۔ مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں تمام شہر اللہ کے شہر ہیں اور کل بندے اللہ کے غلام ہیں جہاں تو بھلائی پاسکتا ہو وہیں قیام کر چناچہ صحابہ اکرام پر جب مکہ شریف کی رہائش مشکل ہوگئی تو وہ ہجرت کرکے حبشہ چلے گئے تاکہ امن وامان کے ساتھ اللہ کے دین پر قیام کرسکیں وہاں کے سمجھدار دیندار بادشاہ اصحمہ نجاشی نے ان کی پوری تائید ونصرت کی اور وہاں وہ بہت عزت اور خوشی سے رہے سہے۔ پھر اس کے بعد بااجازت الٰہی دوسرے صحابہ نے اور خود حضور ﷺ نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی۔ بعد ازاں فرماتا ہے کہ تم میں سے ہر ایک مرنے والا اور میرے سامنے حاضر ہونے والا ہے۔ تم خواہ کہیں ہو موت کے نیچے سے نجات نہیں پاسکتے پس تمہیں زندگی بھر اللہ کی اطاعت میں اور اس کے راضی کرنے میں رہنا چاہئے تاکہ مرنے کے بعد اللہ کے ہاں جاکر عذاب میں نہ پھنسو۔ ایماندار نیک اعمال لوگوں کو اللہ تعالیٰ جنت عدن کی بلندی وبالا منزلوں میں پہنچائے گا۔ جن کے نیچے قسم قسم کی نہریں بہہ رہی ہیں۔ کہیں صاف شفاف پانی کی کہیں شراب طہور کی کہیں شہد کی کہیں دودھ کی۔ یہ چشمیں خود بخود جہاں چاہیں بہنے لگیں گے۔ یہ وہاں رہیں گے نہ وہاں سے نکالیں جائیں نہ ہٹائے جائیں گے نہ وہ نعمتیں ختم ہونگی نہ ان میں گھاٹا آئے گا۔ مومنوں کے نیک اعمال پر جنتی بالا خانے انہیں مبارک ہوں۔ جنہوں نے اپنے سچے دین پر صبر کیا اور اللہ کی طرف ہجرت کی۔ اس کے دشمنوں کو ترک کیا اپنے اقرباء اور اپنے گھر والوں کو راہ اللہ میں چھوڑا اس کی نعمتوں اور اس کے انعامات کی امید پر دنیا کے عیش و عشرت پر لات ماردی۔ ابن ابی حاتم میں ہے۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جنت میں ایسے بالاخانے ہیں جن کا ظاہر باطن سے نظر آتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے بنائے ہیں جو کھانا کھلائیں خوش کلام نرم گو ہوں۔ روزے نماز کے پابند ہوں اور راتوں کو جبکہ لوگ سوتے ہوئے ہوں۔ یہ نمازیں پڑھتے ہوں اور اپنے کل احوال میں دینی ہوں یا دنیوی اپنے رب پر کامل بھروسہ رکھتے ہوں۔ پھر فرمایا کہ رزق کسی جگہ کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا تقیسم کیا ہوا رزق عام ہے اور ہر جگہ جو جہاں ہو اسے وہ وہیں پہنچ جاتا ہے۔ مہاجرین کے رزق میں ہجرت کے بعد اللہ نے وہ برکتیں دیں کہ یہ دنیا کے کناروں کے مالک ہوگئے اور بادشاہ بن گئے فرمایا کہ بہت سے جانور ہیں جو اپنے رزق کے جمع کرنے کی طاقت نہیں رکھتے اللہ کے ذمہ ان کی روزیاں ہیں۔ پروردگار انہیں ان کے رزق پہنچا دیتا ہے۔ تمہارا رازق بھی وہی ہے وہ کسی بھی صورت اپنی مخلوق کو نہیں بھولتا۔ چینٹیوں کو ان کے سوراخوں میں پرندوں کو آسمان و زمین کے خلا میں مچھلیوں کو پانی میں وہی رزق پہنچاتا ہے۔ جیسے فرمایا آیت (وَمَا مِنْ دَاۗبَّةٍ فِي الْاَرْضِ اِلَّا عَلَي اللّٰهِ رِزْقُهَا وَيَعْلَمُ مُسْتَــقَرَّهَا وَمُسْـتَوْدَعَهَا ۭ كُلٌّ فِيْ كِتٰبٍ مُّبِيْنٍ) 11۔ ھود :6) یعنی کوئی جانور روئے زمین پر ایسا نہیں کہ اس کی روزی اللہ کے ذمہ نہ ہو وہی ان کے ٹھہرنے اور رہنے سہنے کی جگہ کو بخوبی جانتا ہے یہ سب اس کی روشن کتاب میں موجود ہے۔ ابن ابی حاتم میں ہے ابن عمر فرماتے ہیں میں رسول ﷺ کے ساتھ چلا آپ مدینے کے باغات میں سے ایک باغ میں گئے۔ اور گری پڑی ردی کھجوریں کھول کھول کر صاف کرکے کھانے لگے۔ مجھ سے بھی کھانے کو فرمایا۔ میں نے کہا حضور ﷺ مجھ سے تو یہ ردی کجھوریں نہیں کھائی جائیں گی۔ آپ نے فرمایا لیکن مجھے تو یہ بہت اچھی معلوم ہوتی ہیں۔ اس لئے کہ چوتھے دن کی صبح ہے کہ میں نے کھانا نہیں کھایا اور نہ کھانے کی وجہ یہ ہے کہ مجھے کھانا ملا ہی نہیں۔ سنو اگر میں چاہتا تو اللہ سے دعا کرتا اور اللہ مجھے قیصر وکسریٰ کا ملک دے دیتا۔ اے ابن عمر تیرا کیا حال ہوگا جبکہ تو ایسے لوگوں میں ہوگا جو سال سال بھر کے غلے وغیرہ جمع کرلیاکریں گے۔ اور ان کا یقین اور توکل بالکل بودا ہوجائے گا۔ ہم ابھی تو وہیں اسی حالت میں تھے جو آیت (وکاین الخ) ، نازل ہوئی۔ پس رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ عزوجل نے مجھے دنیا کے خزانے جمع کرنے کا اور خواہشوں کے پیچھے لگ جانے کا حکم نہیں کیا جو شخص دنیا کے خزانے جمع کرے اور اس سے باقی والی زندگی چاہے وہ سمجھ لے کہ باقی رہنے والی حیات تو اللہ کے ہاتھ ہے۔ دیکھو میں تو نہ دینار ودرہم جمع کروں نہ کل کے لئے آج روزی کا ذخیرہ جمع کر رکھوں۔ یہ حدیث غریب ہے اور اس کا راوی ابو العطوف جزی ضعیف ہے۔ یہ مشہور ہے کہ کوے کے بچے جب نکلتے ہیں تو ان کے پر وبال سفید ہوتے ہیں یہ دیکھ کر کوا ان سے نفرت کرکے بھاگ جاتا ہے کچھ دنوں کے بعد ان پروں کی رنگت سیاہ ہوجاتی ہے تب ان کے ماں باپ آتے ہیں اور انہیں دانہ وغیرہ کھلاتے ہیں ابتدائی ایام میں جبکہ ماں باپ ان چھوٹے بچوں سے متنفر ہو کر بھاگ جاتے ہیں اور ان کے پاس بھی نہیں آتے اس وقت اللہ تعالیٰ چھوٹے چھوٹے مچھر ان کے پاس بھیج دیتا ہے وہی ان کی غذا بن جاتے ہیں۔ عرب کے شعراء نے اسے نظم بھی کیا ہے۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ سفر کرو تاکہ صحت اور روزی پاؤ اور حدیث میں ہے کہ سفر کرو تاکہ صحت و غنیمت ملے۔ اور حدیث میں ہے کہ سفر کرو نفع اٹھاؤ گے روزے رکھو تندرست رہو گے جہاد کرو غنیمت ملے گی۔ ایک اور روایت میں ہے جد والوں اور آسانی والوں کے ساتھ سفر کرو۔ پھر فرمایا اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی باتیں سننے والا اور ان کی حرکات و سکنات کو جاننے والا ہے۔
الٓمٓ
Alif-Lam-Meem. (Alphabets of the Arabic language – Allah and to whomever He reveals, know their precise meanings.)
الف، لام، میم (حقیقی معنی اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی بہتر جانتے ہیں)
Tafsir Ibn Kathir
Which was revealed in Makkah
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـنِ الرَّحِيمِ
In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
The Believers are tested so that it may be known Who is Sincere and Who is Lying
Allah says:
الم
Alif Lam Mim.
In the beginning of the Tafsir of Surah Al-Baqarah, we discussed the letters which appear at the beginning of some Surahs.
أَحَسِبَ النَّاسُ أَن يُتْرَكُواْ أَن يَقُولُواْ ءَامَنَّا وَهُمْ لاَ يُفْتَنُونَ
(Do people think that they will be left alone because they say: "We believe," and will not be tested.) This is a rebuke in the form of a question, meaning that Allah will inevitably test His believing servants according to their level of faith, as it recorded in the authentic Hadith:
«أَشَدُّ النَّاسِ بَلَاءً الْأَنْبِيَاءُ، ثُمَّ الصَّالِحُونَ، ثُمَّ الْأَمْثَلُ فَالْأَمْثَلُ، يُبْتَلَى الرَّجُلُ عَلَى حَسَبِ دِينِهِ، فَإِنْ كَانَ فِي دِينِهِ صَلَابَةٌ زِيدَ لَهُ فِي الْبَلَاء»
(The people most severly tested are the Prophets, then the righteous, then the next best and the next best. A man will be tested in accordance with the degree of his religious commitment; the stonger his religious commitment, the stronger his test.) This Ayah is like the Ayah,
أَمْ حَسِبْتُمْ أَن تَدْخُلُواْ الْجَنَّةَ وَلَمَّا يَعْلَمِ اللَّهُ الَّذِينَ جَـهَدُواْ مِنكُمْ وَيَعْلَمَ الصَّـبِرِينَ
(Do you think that you will enter Paradise without Allah knowing those of you who fought (in His cause) and knowing those who are the patient) (3:142) There is a similar Ayah in Surat At-Tawbah. And Allah says:
أَمْ حَسِبْتُمْ أَن تَدْخُلُواْ الْجَنَّةَ وَلَمَّا يَأْتِكُم مَّثَلُ الَّذِينَ خَلَوْاْ مِن قَبْلِكُم مَّسَّتْهُمُ الْبَأْسَآءُ وَالضَّرَّآءُ وَزُلْزِلُواْ حَتَّى يَقُولَ الرَّسُولُ وَالَّذِينَ ءَامَنُواْ مَعَهُ مَتَى نَصْرُ اللَّهِ أَلاَ إِنَّ نَصْرَ اللَّهِ قَرِيبٌ
(Or think you that you will enter Paradise without such (trials) as came to those who passed away before you They were afflicted with severe poverty and ailments and were so shaken that even the Messenger and those who believed along with him said, "When (will come) the help of Allah" Yes! Certainly, the help of Allah is near!) (2:214) Allah says here:
وَلَقَدْ فَتَنَّا الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ فَلَيَعْلَمَنَّ اللَّهُ الَّذِينَ صَدَقُواْ وَلَيَعْلَمَنَّ الْكَـذِبِينَ
(And We indeed tested those who were before them so that Allah will know those who are true, and will know those who are liars.) meaning, He will make know which are sincere in their claim to be believers from those who are lying. Allah, may He be glorified and exalted, knows what has happened in the past and what is yet to come, and He knows how that which will not happen would have happened if it were to happen. All the Imams of Ahlus-Sunnah wal-Jama`ah are agreed on this. This is the view of Ibn `Abbas and others concerning phrases such as the Ayah,
إِلاَّ لِنَعْلَمَ
(only that We know) (2:143). Meaning, only to see -- because seeing has to do with what is there, but knowledge is broader than seeing, since it includes what is not present as well as what is.
The Evildoers cannot escape from Allah Allah said:
أَمْ حَسِبَ الَّذِينَ يَعْمَلُونَ السَّيِّئَاتِ أَن يَسْبِقُونَا سَآءَ مَا يَحْكُمُونَ
(Or think those who do evil deeds that they can outstrip Us Evil is that which they judge!) means, those who are not believers should not think that they will escape such trials and tests, for ahead of them lies a greater and more severe punishment. Allah says:
أَمْ حَسِبَ الَّذِينَ يَعْمَلُونَ السَّيِّئَاتِ أَن يَسْبِقُونَا
(Or think those who do evil deeds that they can outstrip Us) meaning, "escape" from Us.
سَآءَ مَا يَحْكُمُونَ
(Evil is that which they judge!) what they think is evil.
حروف مقطعہ کی بحث سورة بقرہ کی تفسیر کے شروع میں گزرچکی ہے۔ امتحان اور مومن پھر فرماتا ہے یہ ناممکن ہے کہ مومنوں کو بھی امتحان سے چھوڑ دیا جائے۔ صحیح حدیث میں ہے کہ سب سے زیادہ سخت امتحان نبیوں کا ہوتا ہے پھر صالح نیک لوگوں کا پھر ان سے کم درجے والے پھر ان سے کم درجے والے۔ انسان کا امتحان اس کے دین کے انداز پر ہوتا ہے اگر وہ اپنے دین میں سخت ہے تو مصیبتیں بھی سخت نازل ہوتی ہیں۔ اسی مضمون کا بیان اس آیت میں بھی ہے (اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تُتْرَكُوْا وَلَمَّا يَعْلَمِ اللّٰهُ الَّذِيْنَ جٰهَدُوْا مِنْكُمْ وَلَمْ يَتَّخِذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلَا رَسُوْلِهٖ وَلَا الْمُؤْمِنِيْنَ وَلِيْجَةً ۭ وَاللّٰهُ خَبِيْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ 16ۧ) 9۔ التوبہ :16) کیا تم نے یہ گمان کرلیا ہے کہ تم چھوڑ دئیے جاؤ گے ؟ حالانکہ ابھی اللہ تعالیٰ نے یہ ظاہر نہیں کیا کہ تم میں سے مجاہد کون ہے ؟ اور صابر کون ہے ؟ اسی طرح سورة برات اور سورة بقرہ میں بھی گزر چکا ہے کہ کیا تم نے یہ سوچ رکھا ہے کہ تم جنت میں یونہی چلے جاؤ گے ؟ اور اگلے لوگوں جیسے سخت امتحان کے موقعے تم پر نہ آئیں گے۔ جیسے کہ انہیں بھوک، دکھ، درد وغیرہ پہنچے۔ یہاں تک کہ رسول اور ان کے ساتھ کے ایماندار بول اٹھے کہ اللہ کی مدد کہاں ہے ؟ یقین مانو کہ اللہ کی مدد قریب ہے۔ یہاں بھی فرمایا ان سے اگلے مسلمانوں کی بھی جانچ پڑتال کی گئی انہیں بھی سرد گرم چکھایا گیا تاکہ جو اپنے دعوے میں سچے ہیں اور جو صڑف زبانی دعوے کرتے ہیں ان میں تمیز ہوجائے اس سے یہ نہ سمجھا جائے کہ اللہ اسے جانتا نہ تھا وہ ہر ہوچکی بات کو اور ہونے والی بات کو برابر جانتا ہے۔ اس پر اہل سنت والجماعت کے تمام اماموں کا اجماع ہے۔ پس یہاں علم رویت یعنی دیکھنے کے معنی میں ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ لنعلم کے معنی لنری کرتے ہیں کیونکہ دیکھنے کا تعلق موجود چیزوں سے ہوتا ہے اور عم اس سے عام ہے۔ پھر فرمایا ہے جو ایمان نہیں لائے وہ بھی یہ گمان نہ کریں کہ امتحان سے بچ جائیں گے بڑے بڑے عذاب اور سخت سزائیں ان کی تاک میں ہیں۔ یہ ہاتھ سے نکل نہیں سکتے ہم سے آگے بڑھ نہیں سکتے ان کے یہ گمان نہایت برے ہیں جن کا برا نتیجہ یہ عنقریب دیکھ لیں گے۔
أَحَسِبَ ٱلنَّاسُ أَن يُتۡرَكُوٓاْ أَن يَقُولُوٓاْ ءَامَنَّا وَهُمۡ لَا يُفۡتَنُونَ
Do men fancy that they will be left just upon their declaring, “We believe”, and they will not be tested?
کیا لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ (صرف) ان کے (اتنا) کہنے سے کہ ہم ایمان لے آئے ہیں چھوڑ دیئے جائیں گے اور ان کی آزمائش نہ کی جائے گی
Tafsir Ibn Kathir
Which was revealed in Makkah
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـنِ الرَّحِيمِ
In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
The Believers are tested so that it may be known Who is Sincere and Who is Lying
Allah says:
الم
Alif Lam Mim.
In the beginning of the Tafsir of Surah Al-Baqarah, we discussed the letters which appear at the beginning of some Surahs.
أَحَسِبَ النَّاسُ أَن يُتْرَكُواْ أَن يَقُولُواْ ءَامَنَّا وَهُمْ لاَ يُفْتَنُونَ
(Do people think that they will be left alone because they say: "We believe," and will not be tested.) This is a rebuke in the form of a question, meaning that Allah will inevitably test His believing servants according to their level of faith, as it recorded in the authentic Hadith:
«أَشَدُّ النَّاسِ بَلَاءً الْأَنْبِيَاءُ، ثُمَّ الصَّالِحُونَ، ثُمَّ الْأَمْثَلُ فَالْأَمْثَلُ، يُبْتَلَى الرَّجُلُ عَلَى حَسَبِ دِينِهِ، فَإِنْ كَانَ فِي دِينِهِ صَلَابَةٌ زِيدَ لَهُ فِي الْبَلَاء»
(The people most severly tested are the Prophets, then the righteous, then the next best and the next best. A man will be tested in accordance with the degree of his religious commitment; the stonger his religious commitment, the stronger his test.) This Ayah is like the Ayah,
أَمْ حَسِبْتُمْ أَن تَدْخُلُواْ الْجَنَّةَ وَلَمَّا يَعْلَمِ اللَّهُ الَّذِينَ جَـهَدُواْ مِنكُمْ وَيَعْلَمَ الصَّـبِرِينَ
(Do you think that you will enter Paradise without Allah knowing those of you who fought (in His cause) and knowing those who are the patient) (3:142) There is a similar Ayah in Surat At-Tawbah. And Allah says:
أَمْ حَسِبْتُمْ أَن تَدْخُلُواْ الْجَنَّةَ وَلَمَّا يَأْتِكُم مَّثَلُ الَّذِينَ خَلَوْاْ مِن قَبْلِكُم مَّسَّتْهُمُ الْبَأْسَآءُ وَالضَّرَّآءُ وَزُلْزِلُواْ حَتَّى يَقُولَ الرَّسُولُ وَالَّذِينَ ءَامَنُواْ مَعَهُ مَتَى نَصْرُ اللَّهِ أَلاَ إِنَّ نَصْرَ اللَّهِ قَرِيبٌ
(Or think you that you will enter Paradise without such (trials) as came to those who passed away before you They were afflicted with severe poverty and ailments and were so shaken that even the Messenger and those who believed along with him said, "When (will come) the help of Allah" Yes! Certainly, the help of Allah is near!) (2:214) Allah says here:
وَلَقَدْ فَتَنَّا الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ فَلَيَعْلَمَنَّ اللَّهُ الَّذِينَ صَدَقُواْ وَلَيَعْلَمَنَّ الْكَـذِبِينَ
(And We indeed tested those who were before them so that Allah will know those who are true, and will know those who are liars.) meaning, He will make know which are sincere in their claim to be believers from those who are lying. Allah, may He be glorified and exalted, knows what has happened in the past and what is yet to come, and He knows how that which will not happen would have happened if it were to happen. All the Imams of Ahlus-Sunnah wal-Jama`ah are agreed on this. This is the view of Ibn `Abbas and others concerning phrases such as the Ayah,
إِلاَّ لِنَعْلَمَ
(only that We know) (2:143). Meaning, only to see -- because seeing has to do with what is there, but knowledge is broader than seeing, since it includes what is not present as well as what is.
The Evildoers cannot escape from Allah Allah said:
أَمْ حَسِبَ الَّذِينَ يَعْمَلُونَ السَّيِّئَاتِ أَن يَسْبِقُونَا سَآءَ مَا يَحْكُمُونَ
(Or think those who do evil deeds that they can outstrip Us Evil is that which they judge!) means, those who are not believers should not think that they will escape such trials and tests, for ahead of them lies a greater and more severe punishment. Allah says:
أَمْ حَسِبَ الَّذِينَ يَعْمَلُونَ السَّيِّئَاتِ أَن يَسْبِقُونَا
(Or think those who do evil deeds that they can outstrip Us) meaning, "escape" from Us.
سَآءَ مَا يَحْكُمُونَ
(Evil is that which they judge!) what they think is evil.
حروف مقطعہ کی بحث سورة بقرہ کی تفسیر کے شروع میں گزرچکی ہے۔ امتحان اور مومن پھر فرماتا ہے یہ ناممکن ہے کہ مومنوں کو بھی امتحان سے چھوڑ دیا جائے۔ صحیح حدیث میں ہے کہ سب سے زیادہ سخت امتحان نبیوں کا ہوتا ہے پھر صالح نیک لوگوں کا پھر ان سے کم درجے والے پھر ان سے کم درجے والے۔ انسان کا امتحان اس کے دین کے انداز پر ہوتا ہے اگر وہ اپنے دین میں سخت ہے تو مصیبتیں بھی سخت نازل ہوتی ہیں۔ اسی مضمون کا بیان اس آیت میں بھی ہے (اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تُتْرَكُوْا وَلَمَّا يَعْلَمِ اللّٰهُ الَّذِيْنَ جٰهَدُوْا مِنْكُمْ وَلَمْ يَتَّخِذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلَا رَسُوْلِهٖ وَلَا الْمُؤْمِنِيْنَ وَلِيْجَةً ۭ وَاللّٰهُ خَبِيْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ 16ۧ) 9۔ التوبہ :16) کیا تم نے یہ گمان کرلیا ہے کہ تم چھوڑ دئیے جاؤ گے ؟ حالانکہ ابھی اللہ تعالیٰ نے یہ ظاہر نہیں کیا کہ تم میں سے مجاہد کون ہے ؟ اور صابر کون ہے ؟ اسی طرح سورة برات اور سورة بقرہ میں بھی گزر چکا ہے کہ کیا تم نے یہ سوچ رکھا ہے کہ تم جنت میں یونہی چلے جاؤ گے ؟ اور اگلے لوگوں جیسے سخت امتحان کے موقعے تم پر نہ آئیں گے۔ جیسے کہ انہیں بھوک، دکھ، درد وغیرہ پہنچے۔ یہاں تک کہ رسول اور ان کے ساتھ کے ایماندار بول اٹھے کہ اللہ کی مدد کہاں ہے ؟ یقین مانو کہ اللہ کی مدد قریب ہے۔ یہاں بھی فرمایا ان سے اگلے مسلمانوں کی بھی جانچ پڑتال کی گئی انہیں بھی سرد گرم چکھایا گیا تاکہ جو اپنے دعوے میں سچے ہیں اور جو صڑف زبانی دعوے کرتے ہیں ان میں تمیز ہوجائے اس سے یہ نہ سمجھا جائے کہ اللہ اسے جانتا نہ تھا وہ ہر ہوچکی بات کو اور ہونے والی بات کو برابر جانتا ہے۔ اس پر اہل سنت والجماعت کے تمام اماموں کا اجماع ہے۔ پس یہاں علم رویت یعنی دیکھنے کے معنی میں ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ لنعلم کے معنی لنری کرتے ہیں کیونکہ دیکھنے کا تعلق موجود چیزوں سے ہوتا ہے اور عم اس سے عام ہے۔ پھر فرمایا ہے جو ایمان نہیں لائے وہ بھی یہ گمان نہ کریں کہ امتحان سے بچ جائیں گے بڑے بڑے عذاب اور سخت سزائیں ان کی تاک میں ہیں۔ یہ ہاتھ سے نکل نہیں سکتے ہم سے آگے بڑھ نہیں سکتے ان کے یہ گمان نہایت برے ہیں جن کا برا نتیجہ یہ عنقریب دیکھ لیں گے۔
وَلَقَدۡ فَتَنَّا ٱلَّذِينَ مِن قَبۡلِهِمۡۖ فَلَيَعۡلَمَنَّ ٱللَّهُ ٱلَّذِينَ صَدَقُواْ وَلَيَعۡلَمَنَّ ٱلۡكَٰذِبِينَ
We indeed tested those before them – so Allah will surely test the truthful, and will surely test the liars.
اور بیشک ہم نے ان لوگوں کو (بھی) آزمایا تھا جو ان سے پہلے تھے سو یقیناً اللہ ان لوگوں کو ضرور (آزمائش کے ذریعے) نمایاں فرما دے گا جو (دعوٰی ایمان میں) سچے ہیں اور جھوٹوں کو (بھی) ضرور ظاہر کر دے گا
Tafsir Ibn Kathir
Which was revealed in Makkah
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـنِ الرَّحِيمِ
In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
The Believers are tested so that it may be known Who is Sincere and Who is Lying
Allah says:
الم
Alif Lam Mim.
In the beginning of the Tafsir of Surah Al-Baqarah, we discussed the letters which appear at the beginning of some Surahs.
أَحَسِبَ النَّاسُ أَن يُتْرَكُواْ أَن يَقُولُواْ ءَامَنَّا وَهُمْ لاَ يُفْتَنُونَ
(Do people think that they will be left alone because they say: "We believe," and will not be tested.) This is a rebuke in the form of a question, meaning that Allah will inevitably test His believing servants according to their level of faith, as it recorded in the authentic Hadith:
«أَشَدُّ النَّاسِ بَلَاءً الْأَنْبِيَاءُ، ثُمَّ الصَّالِحُونَ، ثُمَّ الْأَمْثَلُ فَالْأَمْثَلُ، يُبْتَلَى الرَّجُلُ عَلَى حَسَبِ دِينِهِ، فَإِنْ كَانَ فِي دِينِهِ صَلَابَةٌ زِيدَ لَهُ فِي الْبَلَاء»
(The people most severly tested are the Prophets, then the righteous, then the next best and the next best. A man will be tested in accordance with the degree of his religious commitment; the stonger his religious commitment, the stronger his test.) This Ayah is like the Ayah,
أَمْ حَسِبْتُمْ أَن تَدْخُلُواْ الْجَنَّةَ وَلَمَّا يَعْلَمِ اللَّهُ الَّذِينَ جَـهَدُواْ مِنكُمْ وَيَعْلَمَ الصَّـبِرِينَ
(Do you think that you will enter Paradise without Allah knowing those of you who fought (in His cause) and knowing those who are the patient) (3:142) There is a similar Ayah in Surat At-Tawbah. And Allah says:
أَمْ حَسِبْتُمْ أَن تَدْخُلُواْ الْجَنَّةَ وَلَمَّا يَأْتِكُم مَّثَلُ الَّذِينَ خَلَوْاْ مِن قَبْلِكُم مَّسَّتْهُمُ الْبَأْسَآءُ وَالضَّرَّآءُ وَزُلْزِلُواْ حَتَّى يَقُولَ الرَّسُولُ وَالَّذِينَ ءَامَنُواْ مَعَهُ مَتَى نَصْرُ اللَّهِ أَلاَ إِنَّ نَصْرَ اللَّهِ قَرِيبٌ
(Or think you that you will enter Paradise without such (trials) as came to those who passed away before you They were afflicted with severe poverty and ailments and were so shaken that even the Messenger and those who believed along with him said, "When (will come) the help of Allah" Yes! Certainly, the help of Allah is near!) (2:214) Allah says here:
وَلَقَدْ فَتَنَّا الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ فَلَيَعْلَمَنَّ اللَّهُ الَّذِينَ صَدَقُواْ وَلَيَعْلَمَنَّ الْكَـذِبِينَ
(And We indeed tested those who were before them so that Allah will know those who are true, and will know those who are liars.) meaning, He will make know which are sincere in their claim to be believers from those who are lying. Allah, may He be glorified and exalted, knows what has happened in the past and what is yet to come, and He knows how that which will not happen would have happened if it were to happen. All the Imams of Ahlus-Sunnah wal-Jama`ah are agreed on this. This is the view of Ibn `Abbas and others concerning phrases such as the Ayah,
إِلاَّ لِنَعْلَمَ
(only that We know) (2:143). Meaning, only to see -- because seeing has to do with what is there, but knowledge is broader than seeing, since it includes what is not present as well as what is.
The Evildoers cannot escape from Allah Allah said:
أَمْ حَسِبَ الَّذِينَ يَعْمَلُونَ السَّيِّئَاتِ أَن يَسْبِقُونَا سَآءَ مَا يَحْكُمُونَ
(Or think those who do evil deeds that they can outstrip Us Evil is that which they judge!) means, those who are not believers should not think that they will escape such trials and tests, for ahead of them lies a greater and more severe punishment. Allah says:
أَمْ حَسِبَ الَّذِينَ يَعْمَلُونَ السَّيِّئَاتِ أَن يَسْبِقُونَا
(Or think those who do evil deeds that they can outstrip Us) meaning, "escape" from Us.
سَآءَ مَا يَحْكُمُونَ
(Evil is that which they judge!) what they think is evil.
حروف مقطعہ کی بحث سورة بقرہ کی تفسیر کے شروع میں گزرچکی ہے۔ امتحان اور مومن پھر فرماتا ہے یہ ناممکن ہے کہ مومنوں کو بھی امتحان سے چھوڑ دیا جائے۔ صحیح حدیث میں ہے کہ سب سے زیادہ سخت امتحان نبیوں کا ہوتا ہے پھر صالح نیک لوگوں کا پھر ان سے کم درجے والے پھر ان سے کم درجے والے۔ انسان کا امتحان اس کے دین کے انداز پر ہوتا ہے اگر وہ اپنے دین میں سخت ہے تو مصیبتیں بھی سخت نازل ہوتی ہیں۔ اسی مضمون کا بیان اس آیت میں بھی ہے (اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تُتْرَكُوْا وَلَمَّا يَعْلَمِ اللّٰهُ الَّذِيْنَ جٰهَدُوْا مِنْكُمْ وَلَمْ يَتَّخِذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلَا رَسُوْلِهٖ وَلَا الْمُؤْمِنِيْنَ وَلِيْجَةً ۭ وَاللّٰهُ خَبِيْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ 16ۧ) 9۔ التوبہ :16) کیا تم نے یہ گمان کرلیا ہے کہ تم چھوڑ دئیے جاؤ گے ؟ حالانکہ ابھی اللہ تعالیٰ نے یہ ظاہر نہیں کیا کہ تم میں سے مجاہد کون ہے ؟ اور صابر کون ہے ؟ اسی طرح سورة برات اور سورة بقرہ میں بھی گزر چکا ہے کہ کیا تم نے یہ سوچ رکھا ہے کہ تم جنت میں یونہی چلے جاؤ گے ؟ اور اگلے لوگوں جیسے سخت امتحان کے موقعے تم پر نہ آئیں گے۔ جیسے کہ انہیں بھوک، دکھ، درد وغیرہ پہنچے۔ یہاں تک کہ رسول اور ان کے ساتھ کے ایماندار بول اٹھے کہ اللہ کی مدد کہاں ہے ؟ یقین مانو کہ اللہ کی مدد قریب ہے۔ یہاں بھی فرمایا ان سے اگلے مسلمانوں کی بھی جانچ پڑتال کی گئی انہیں بھی سرد گرم چکھایا گیا تاکہ جو اپنے دعوے میں سچے ہیں اور جو صڑف زبانی دعوے کرتے ہیں ان میں تمیز ہوجائے اس سے یہ نہ سمجھا جائے کہ اللہ اسے جانتا نہ تھا وہ ہر ہوچکی بات کو اور ہونے والی بات کو برابر جانتا ہے۔ اس پر اہل سنت والجماعت کے تمام اماموں کا اجماع ہے۔ پس یہاں علم رویت یعنی دیکھنے کے معنی میں ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ لنعلم کے معنی لنری کرتے ہیں کیونکہ دیکھنے کا تعلق موجود چیزوں سے ہوتا ہے اور عم اس سے عام ہے۔ پھر فرمایا ہے جو ایمان نہیں لائے وہ بھی یہ گمان نہ کریں کہ امتحان سے بچ جائیں گے بڑے بڑے عذاب اور سخت سزائیں ان کی تاک میں ہیں۔ یہ ہاتھ سے نکل نہیں سکتے ہم سے آگے بڑھ نہیں سکتے ان کے یہ گمان نہایت برے ہیں جن کا برا نتیجہ یہ عنقریب دیکھ لیں گے۔
أَمۡ حَسِبَ ٱلَّذِينَ يَعۡمَلُونَ ٱلسَّيِّـَٔاتِ أَن يَسۡبِقُونَاۚ سَآءَ مَا يَحۡكُمُونَ
Or do they who commit evil deeds imagine that they can escape from Us? What an evil judgement they impose!
کیا جو لوگ برے کام کرتے ہیں یہ گمان کئے ہوئے ہیں کہ وہ ہمارے (قابو) سے باہر نکل جائیں گے؟ کیا ہی برا ہے جو وہ (اپنے ذہنوں میں) فیصلہ کرتے ہیں
Tafsir Ibn Kathir
Which was revealed in Makkah
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـنِ الرَّحِيمِ
In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
The Believers are tested so that it may be known Who is Sincere and Who is Lying
Allah says:
الم
Alif Lam Mim.
In the beginning of the Tafsir of Surah Al-Baqarah, we discussed the letters which appear at the beginning of some Surahs.
أَحَسِبَ النَّاسُ أَن يُتْرَكُواْ أَن يَقُولُواْ ءَامَنَّا وَهُمْ لاَ يُفْتَنُونَ
(Do people think that they will be left alone because they say: "We believe," and will not be tested.) This is a rebuke in the form of a question, meaning that Allah will inevitably test His believing servants according to their level of faith, as it recorded in the authentic Hadith:
«أَشَدُّ النَّاسِ بَلَاءً الْأَنْبِيَاءُ، ثُمَّ الصَّالِحُونَ، ثُمَّ الْأَمْثَلُ فَالْأَمْثَلُ، يُبْتَلَى الرَّجُلُ عَلَى حَسَبِ دِينِهِ، فَإِنْ كَانَ فِي دِينِهِ صَلَابَةٌ زِيدَ لَهُ فِي الْبَلَاء»
(The people most severly tested are the Prophets, then the righteous, then the next best and the next best. A man will be tested in accordance with the degree of his religious commitment; the stonger his religious commitment, the stronger his test.) This Ayah is like the Ayah,
أَمْ حَسِبْتُمْ أَن تَدْخُلُواْ الْجَنَّةَ وَلَمَّا يَعْلَمِ اللَّهُ الَّذِينَ جَـهَدُواْ مِنكُمْ وَيَعْلَمَ الصَّـبِرِينَ
(Do you think that you will enter Paradise without Allah knowing those of you who fought (in His cause) and knowing those who are the patient) (3:142) There is a similar Ayah in Surat At-Tawbah. And Allah says:
أَمْ حَسِبْتُمْ أَن تَدْخُلُواْ الْجَنَّةَ وَلَمَّا يَأْتِكُم مَّثَلُ الَّذِينَ خَلَوْاْ مِن قَبْلِكُم مَّسَّتْهُمُ الْبَأْسَآءُ وَالضَّرَّآءُ وَزُلْزِلُواْ حَتَّى يَقُولَ الرَّسُولُ وَالَّذِينَ ءَامَنُواْ مَعَهُ مَتَى نَصْرُ اللَّهِ أَلاَ إِنَّ نَصْرَ اللَّهِ قَرِيبٌ
(Or think you that you will enter Paradise without such (trials) as came to those who passed away before you They were afflicted with severe poverty and ailments and were so shaken that even the Messenger and those who believed along with him said, "When (will come) the help of Allah" Yes! Certainly, the help of Allah is near!) (2:214) Allah says here:
وَلَقَدْ فَتَنَّا الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ فَلَيَعْلَمَنَّ اللَّهُ الَّذِينَ صَدَقُواْ وَلَيَعْلَمَنَّ الْكَـذِبِينَ
(And We indeed tested those who were before them so that Allah will know those who are true, and will know those who are liars.) meaning, He will make know which are sincere in their claim to be believers from those who are lying. Allah, may He be glorified and exalted, knows what has happened in the past and what is yet to come, and He knows how that which will not happen would have happened if it were to happen. All the Imams of Ahlus-Sunnah wal-Jama`ah are agreed on this. This is the view of Ibn `Abbas and others concerning phrases such as the Ayah,
إِلاَّ لِنَعْلَمَ
(only that We know) (2:143). Meaning, only to see -- because seeing has to do with what is there, but knowledge is broader than seeing, since it includes what is not present as well as what is.
The Evildoers cannot escape from Allah Allah said:
أَمْ حَسِبَ الَّذِينَ يَعْمَلُونَ السَّيِّئَاتِ أَن يَسْبِقُونَا سَآءَ مَا يَحْكُمُونَ
(Or think those who do evil deeds that they can outstrip Us Evil is that which they judge!) means, those who are not believers should not think that they will escape such trials and tests, for ahead of them lies a greater and more severe punishment. Allah says:
أَمْ حَسِبَ الَّذِينَ يَعْمَلُونَ السَّيِّئَاتِ أَن يَسْبِقُونَا
(Or think those who do evil deeds that they can outstrip Us) meaning, "escape" from Us.
سَآءَ مَا يَحْكُمُونَ
(Evil is that which they judge!) what they think is evil.
حروف مقطعہ کی بحث سورة بقرہ کی تفسیر کے شروع میں گزرچکی ہے۔ امتحان اور مومن پھر فرماتا ہے یہ ناممکن ہے کہ مومنوں کو بھی امتحان سے چھوڑ دیا جائے۔ صحیح حدیث میں ہے کہ سب سے زیادہ سخت امتحان نبیوں کا ہوتا ہے پھر صالح نیک لوگوں کا پھر ان سے کم درجے والے پھر ان سے کم درجے والے۔ انسان کا امتحان اس کے دین کے انداز پر ہوتا ہے اگر وہ اپنے دین میں سخت ہے تو مصیبتیں بھی سخت نازل ہوتی ہیں۔ اسی مضمون کا بیان اس آیت میں بھی ہے (اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تُتْرَكُوْا وَلَمَّا يَعْلَمِ اللّٰهُ الَّذِيْنَ جٰهَدُوْا مِنْكُمْ وَلَمْ يَتَّخِذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلَا رَسُوْلِهٖ وَلَا الْمُؤْمِنِيْنَ وَلِيْجَةً ۭ وَاللّٰهُ خَبِيْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ 16ۧ) 9۔ التوبہ :16) کیا تم نے یہ گمان کرلیا ہے کہ تم چھوڑ دئیے جاؤ گے ؟ حالانکہ ابھی اللہ تعالیٰ نے یہ ظاہر نہیں کیا کہ تم میں سے مجاہد کون ہے ؟ اور صابر کون ہے ؟ اسی طرح سورة برات اور سورة بقرہ میں بھی گزر چکا ہے کہ کیا تم نے یہ سوچ رکھا ہے کہ تم جنت میں یونہی چلے جاؤ گے ؟ اور اگلے لوگوں جیسے سخت امتحان کے موقعے تم پر نہ آئیں گے۔ جیسے کہ انہیں بھوک، دکھ، درد وغیرہ پہنچے۔ یہاں تک کہ رسول اور ان کے ساتھ کے ایماندار بول اٹھے کہ اللہ کی مدد کہاں ہے ؟ یقین مانو کہ اللہ کی مدد قریب ہے۔ یہاں بھی فرمایا ان سے اگلے مسلمانوں کی بھی جانچ پڑتال کی گئی انہیں بھی سرد گرم چکھایا گیا تاکہ جو اپنے دعوے میں سچے ہیں اور جو صڑف زبانی دعوے کرتے ہیں ان میں تمیز ہوجائے اس سے یہ نہ سمجھا جائے کہ اللہ اسے جانتا نہ تھا وہ ہر ہوچکی بات کو اور ہونے والی بات کو برابر جانتا ہے۔ اس پر اہل سنت والجماعت کے تمام اماموں کا اجماع ہے۔ پس یہاں علم رویت یعنی دیکھنے کے معنی میں ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ لنعلم کے معنی لنری کرتے ہیں کیونکہ دیکھنے کا تعلق موجود چیزوں سے ہوتا ہے اور عم اس سے عام ہے۔ پھر فرمایا ہے جو ایمان نہیں لائے وہ بھی یہ گمان نہ کریں کہ امتحان سے بچ جائیں گے بڑے بڑے عذاب اور سخت سزائیں ان کی تاک میں ہیں۔ یہ ہاتھ سے نکل نہیں سکتے ہم سے آگے بڑھ نہیں سکتے ان کے یہ گمان نہایت برے ہیں جن کا برا نتیجہ یہ عنقریب دیکھ لیں گے۔
مَن كَانَ يَرۡجُواْ لِقَآءَ ٱللَّهِ فَإِنَّ أَجَلَ ٱللَّهِ لَأٓتٖۚ وَهُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلۡعَلِيمُ
Whoever expects to meet Allah – then indeed the time appointed by Allah will come; and He is the All Hearing, the All Knowing.
جو شخص اللہ سے ملاقات کی امید رکھتا ہے تو بیشک اللہ کا مقرر کردہ وقت ضرور آنے والا ہے، اور وہی سننے والا جاننے والا ہے
Tafsir Ibn Kathir
Allah will fulfill the Hopes of the Righteous Allah's saying;
مَن كَانَ يَرْجُو لِقَآءَ اللَّهِ
(Whoever hopes in meeting with Allah,) means, in the Hereafter, and does righteous deeds, and hopes for a great reward with Allah, then Allah will fulfill his hopes and reward him for his deeds in full. This will undoubtedly come to pass, for He is the One Who hears all supplications, He knows and understands the needs of all created beings. Allah says:
مَن كَانَ يَرْجُو لِقَآءَ اللَّهِ فَإِنَّ أَجَلَ اللَّهِ لآتٍ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ
(Whoever hopes in meeting with Allah, then Allah's term is surely coming, and He is the All-Hearer, the All-Knower.)
وَمَن جَاهَدَ فَإِنَّمَا يُجَـهِدُ لِنَفْسِهِ
(And whosoever strives, he strives only for himself.) This is like the Ayah,
مَّنْ عَمِلَ صَـلِحاً فَلِنَفْسِهِ
(Whosoever does righteous good deed, it is for himself) (41:46). Whoever does a righteous deed, the benefit of that deed will come back to him, for Allah has no need of the deeds of His servants, and even if all of them were to be as pious as the most pious man among them, that would not add to His dominion in the slightest. Allah says:
وَمَن جَاهَدَ فَإِنَّمَا يُجَـهِدُ لِنَفْسِهِ إِنَّ اللَّهَ لَغَنِىٌّ عَنِ الْعَـلَمِينَ
(And whosoever strives, he strives only for himself. Verily, Allah stands not in need of any of the creatures.) Then Allah tells us that even though He has no need of His creatures, He is kind and generous to them. He will still give to those who believe and do righteous deeds the best of rewards, which is that He will expiate for them their bad deeds, and will reward them according to the best deeds that they did. He will accept the fewest good deeds and in return for one good deed will give anything between ten rewards and seven hundred, but for every bad deed, He will give only one evil merit, or even that He may overlook and forgive. This is like the Ayah,
إِنَّ اللَّهَ لاَ يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ وَإِن تَكُ حَسَنَةً يُضَـعِفْهَا وَيُؤْتِ مِن لَّدُنْهُ أَجْراً عَظِيماً
(Surely, Allah wrongs not even the weight of a speck of dust, but if there is any good, He doubles it, and gives from Him a great reward.) (4:40). And He says here:
وَالَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ الصَّـلِحَـتِ لَنُكَفِّرَنَّ عَنْهُمْ سَيِّئَاتِهِمْ وَلَنَجْزِيَنَّهُمْ أَحْسَنَ الَّذِى كَانُواْ يَعْمَلُونَ
(Those who believe, and do righteous good deeds, surely, We shall expiate from them their evil deeds and We shall indeed reward them according to the best of that which they used to do.)
نیکیوں کی کوشش جنہیں آخرت کے بدلوں کی امید ہے اور اسے سامنے رکھ کر وہ نیکیاں کرتے ہیں۔ ان کی امیدیں پوری ہونگی اور انہیں نہ ختم ہونے والے ثواب ملیں گے۔ اللہ دعاؤں کا سننے والا اور کل کائنات کا جاننے والا ہے اللہ کا ٹھہرایا ہوا وقت ٹلتا نہیں۔ پھر فرماتا ہے ہر نیک عمل کرنے والا اپنا ہی نفع کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ بندوں کے اعمال سے بےپرواہ ہے۔ اگر سارے انسان متقی بن جائیں تو اللہ کی سلطنت میں کوئی اضافہ نہیں ہوسکتا۔ حضرت حسن فرماتے ہیں جہاد تلوار چلانے کا ہی نام نہیں۔ انسان نیکیوں کی کوشش میں لگا ہے یہ بھی ایک طرح کا جہاد ہے۔ اس میں شک نہیں کہ تمہاری نیکیاں اللہ کے کسی کام نہیں آتیں لیکن بہر حال اس کی یہ مہربانی کہ وہ تمہیں نیکیوں پر بدلے دیتا ہے۔ انکی وجہ سے تمہاری برائیں معاف فرما دیتا ہے۔ چھوٹی سے چھوٹی نیکی کی قدر کرتا ہے اور اس پر بڑے سے بڑا اجر دیتا ہے ایک ایک نیکی کا سات سات سوگنا بدلہ عنایت فرماتا ہے اور بدی کو یا تو بالکل ہی معاف فرما دیتا ہے یا اسی کے برابر سزا دیتا ہے۔ وہ ظلم سے پاک ہے، گناہوں سے درگزر کرلیتا ہے اور ان کے اچھے اعمال کا بدل عطا فرماتا ہے۔
وَمَن جَٰهَدَ فَإِنَّمَا يُجَٰهِدُ لِنَفۡسِهِۦٓۚ إِنَّ ٱللَّهَ لَغَنِيٌّ عَنِ ٱلۡعَٰلَمِينَ
And whoever strives in Allah's cause, strives only for his own benefit; indeed Allah is Independent of the entire creation.
جو شخص (راہِ حق میں) جد و جہد کرتا ہے وہ اپنے ہی (نفع کے) لئے تگ و دو کرتا ہے، بیشک اللہ تمام جہانوں (کی طاعتوں، کوششوں اور مجاہدوں) سے بے نیاز ہے
Tafsir Ibn Kathir
Allah will fulfill the Hopes of the Righteous Allah's saying;
مَن كَانَ يَرْجُو لِقَآءَ اللَّهِ
(Whoever hopes in meeting with Allah,) means, in the Hereafter, and does righteous deeds, and hopes for a great reward with Allah, then Allah will fulfill his hopes and reward him for his deeds in full. This will undoubtedly come to pass, for He is the One Who hears all supplications, He knows and understands the needs of all created beings. Allah says:
مَن كَانَ يَرْجُو لِقَآءَ اللَّهِ فَإِنَّ أَجَلَ اللَّهِ لآتٍ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ
(Whoever hopes in meeting with Allah, then Allah's term is surely coming, and He is the All-Hearer, the All-Knower.)
وَمَن جَاهَدَ فَإِنَّمَا يُجَـهِدُ لِنَفْسِهِ
(And whosoever strives, he strives only for himself.) This is like the Ayah,
مَّنْ عَمِلَ صَـلِحاً فَلِنَفْسِهِ
(Whosoever does righteous good deed, it is for himself) (41:46). Whoever does a righteous deed, the benefit of that deed will come back to him, for Allah has no need of the deeds of His servants, and even if all of them were to be as pious as the most pious man among them, that would not add to His dominion in the slightest. Allah says:
وَمَن جَاهَدَ فَإِنَّمَا يُجَـهِدُ لِنَفْسِهِ إِنَّ اللَّهَ لَغَنِىٌّ عَنِ الْعَـلَمِينَ
(And whosoever strives, he strives only for himself. Verily, Allah stands not in need of any of the creatures.) Then Allah tells us that even though He has no need of His creatures, He is kind and generous to them. He will still give to those who believe and do righteous deeds the best of rewards, which is that He will expiate for them their bad deeds, and will reward them according to the best deeds that they did. He will accept the fewest good deeds and in return for one good deed will give anything between ten rewards and seven hundred, but for every bad deed, He will give only one evil merit, or even that He may overlook and forgive. This is like the Ayah,
إِنَّ اللَّهَ لاَ يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ وَإِن تَكُ حَسَنَةً يُضَـعِفْهَا وَيُؤْتِ مِن لَّدُنْهُ أَجْراً عَظِيماً
(Surely, Allah wrongs not even the weight of a speck of dust, but if there is any good, He doubles it, and gives from Him a great reward.) (4:40). And He says here:
وَالَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ الصَّـلِحَـتِ لَنُكَفِّرَنَّ عَنْهُمْ سَيِّئَاتِهِمْ وَلَنَجْزِيَنَّهُمْ أَحْسَنَ الَّذِى كَانُواْ يَعْمَلُونَ
(Those who believe, and do righteous good deeds, surely, We shall expiate from them their evil deeds and We shall indeed reward them according to the best of that which they used to do.)
نیکیوں کی کوشش جنہیں آخرت کے بدلوں کی امید ہے اور اسے سامنے رکھ کر وہ نیکیاں کرتے ہیں۔ ان کی امیدیں پوری ہونگی اور انہیں نہ ختم ہونے والے ثواب ملیں گے۔ اللہ دعاؤں کا سننے والا اور کل کائنات کا جاننے والا ہے اللہ کا ٹھہرایا ہوا وقت ٹلتا نہیں۔ پھر فرماتا ہے ہر نیک عمل کرنے والا اپنا ہی نفع کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ بندوں کے اعمال سے بےپرواہ ہے۔ اگر سارے انسان متقی بن جائیں تو اللہ کی سلطنت میں کوئی اضافہ نہیں ہوسکتا۔ حضرت حسن فرماتے ہیں جہاد تلوار چلانے کا ہی نام نہیں۔ انسان نیکیوں کی کوشش میں لگا ہے یہ بھی ایک طرح کا جہاد ہے۔ اس میں شک نہیں کہ تمہاری نیکیاں اللہ کے کسی کام نہیں آتیں لیکن بہر حال اس کی یہ مہربانی کہ وہ تمہیں نیکیوں پر بدلے دیتا ہے۔ انکی وجہ سے تمہاری برائیں معاف فرما دیتا ہے۔ چھوٹی سے چھوٹی نیکی کی قدر کرتا ہے اور اس پر بڑے سے بڑا اجر دیتا ہے ایک ایک نیکی کا سات سات سوگنا بدلہ عنایت فرماتا ہے اور بدی کو یا تو بالکل ہی معاف فرما دیتا ہے یا اسی کے برابر سزا دیتا ہے۔ وہ ظلم سے پاک ہے، گناہوں سے درگزر کرلیتا ہے اور ان کے اچھے اعمال کا بدل عطا فرماتا ہے۔
وَٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّـٰلِحَٰتِ لَنُكَفِّرَنَّ عَنۡهُمۡ سَيِّـَٔاتِهِمۡ وَلَنَجۡزِيَنَّهُمۡ أَحۡسَنَ ٱلَّذِي كَانُواْ يَعۡمَلُونَ
And those who accepted faith and did good deeds – We will indeed relieve their sins and reward them for the best of their deeds.
اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے تو ہم ان کی ساری خطائیں ان (کے نامۂ اعمال) سے مٹا دیں گے اور ہم یقیناً انہیں اس سے بہتر جزا عطا فرما دیں گے جو عمل وہ (فی الواقع) کرتے رہے تھے
Tafsir Ibn Kathir
Allah will fulfill the Hopes of the Righteous Allah's saying;
مَن كَانَ يَرْجُو لِقَآءَ اللَّهِ
(Whoever hopes in meeting with Allah,) means, in the Hereafter, and does righteous deeds, and hopes for a great reward with Allah, then Allah will fulfill his hopes and reward him for his deeds in full. This will undoubtedly come to pass, for He is the One Who hears all supplications, He knows and understands the needs of all created beings. Allah says:
مَن كَانَ يَرْجُو لِقَآءَ اللَّهِ فَإِنَّ أَجَلَ اللَّهِ لآتٍ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ
(Whoever hopes in meeting with Allah, then Allah's term is surely coming, and He is the All-Hearer, the All-Knower.)
وَمَن جَاهَدَ فَإِنَّمَا يُجَـهِدُ لِنَفْسِهِ
(And whosoever strives, he strives only for himself.) This is like the Ayah,
مَّنْ عَمِلَ صَـلِحاً فَلِنَفْسِهِ
(Whosoever does righteous good deed, it is for himself) (41:46). Whoever does a righteous deed, the benefit of that deed will come back to him, for Allah has no need of the deeds of His servants, and even if all of them were to be as pious as the most pious man among them, that would not add to His dominion in the slightest. Allah says:
وَمَن جَاهَدَ فَإِنَّمَا يُجَـهِدُ لِنَفْسِهِ إِنَّ اللَّهَ لَغَنِىٌّ عَنِ الْعَـلَمِينَ
(And whosoever strives, he strives only for himself. Verily, Allah stands not in need of any of the creatures.) Then Allah tells us that even though He has no need of His creatures, He is kind and generous to them. He will still give to those who believe and do righteous deeds the best of rewards, which is that He will expiate for them their bad deeds, and will reward them according to the best deeds that they did. He will accept the fewest good deeds and in return for one good deed will give anything between ten rewards and seven hundred, but for every bad deed, He will give only one evil merit, or even that He may overlook and forgive. This is like the Ayah,
إِنَّ اللَّهَ لاَ يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ وَإِن تَكُ حَسَنَةً يُضَـعِفْهَا وَيُؤْتِ مِن لَّدُنْهُ أَجْراً عَظِيماً
(Surely, Allah wrongs not even the weight of a speck of dust, but if there is any good, He doubles it, and gives from Him a great reward.) (4:40). And He says here:
وَالَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ الصَّـلِحَـتِ لَنُكَفِّرَنَّ عَنْهُمْ سَيِّئَاتِهِمْ وَلَنَجْزِيَنَّهُمْ أَحْسَنَ الَّذِى كَانُواْ يَعْمَلُونَ
(Those who believe, and do righteous good deeds, surely, We shall expiate from them their evil deeds and We shall indeed reward them according to the best of that which they used to do.)
نیکیوں کی کوشش جنہیں آخرت کے بدلوں کی امید ہے اور اسے سامنے رکھ کر وہ نیکیاں کرتے ہیں۔ ان کی امیدیں پوری ہونگی اور انہیں نہ ختم ہونے والے ثواب ملیں گے۔ اللہ دعاؤں کا سننے والا اور کل کائنات کا جاننے والا ہے اللہ کا ٹھہرایا ہوا وقت ٹلتا نہیں۔ پھر فرماتا ہے ہر نیک عمل کرنے والا اپنا ہی نفع کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ بندوں کے اعمال سے بےپرواہ ہے۔ اگر سارے انسان متقی بن جائیں تو اللہ کی سلطنت میں کوئی اضافہ نہیں ہوسکتا۔ حضرت حسن فرماتے ہیں جہاد تلوار چلانے کا ہی نام نہیں۔ انسان نیکیوں کی کوشش میں لگا ہے یہ بھی ایک طرح کا جہاد ہے۔ اس میں شک نہیں کہ تمہاری نیکیاں اللہ کے کسی کام نہیں آتیں لیکن بہر حال اس کی یہ مہربانی کہ وہ تمہیں نیکیوں پر بدلے دیتا ہے۔ انکی وجہ سے تمہاری برائیں معاف فرما دیتا ہے۔ چھوٹی سے چھوٹی نیکی کی قدر کرتا ہے اور اس پر بڑے سے بڑا اجر دیتا ہے ایک ایک نیکی کا سات سات سوگنا بدلہ عنایت فرماتا ہے اور بدی کو یا تو بالکل ہی معاف فرما دیتا ہے یا اسی کے برابر سزا دیتا ہے۔ وہ ظلم سے پاک ہے، گناہوں سے درگزر کرلیتا ہے اور ان کے اچھے اعمال کا بدل عطا فرماتا ہے۔
وَوَصَّيۡنَا ٱلۡإِنسَٰنَ بِوَٰلِدَيۡهِ حُسۡنٗاۖ وَإِن جَٰهَدَاكَ لِتُشۡرِكَ بِي مَا لَيۡسَ لَكَ بِهِۦ عِلۡمٞ فَلَا تُطِعۡهُمَآۚ إِلَيَّ مَرۡجِعُكُمۡ فَأُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمۡ تَعۡمَلُونَ
And upon man We ordained kindness towards parents; and if they strive to make you ascribe a partner with Me, about which you do not have any knowledge, then do not obey them; towards Me only is your return and I will tell you what you used to do.
اور ہم نے انسان کو اس کے والدین سے نیک سلوک کا حکم فرمایا اور اگر وہ تجھ پر (یہ) کوشش کریں کہ تو میرے ساتھ اس چیز کو شریک ٹھہرائے جس کا تجھے کچھ بھی علم نہیں تو ان کی اطاعت مت کر، میری ہی طرف تم (سب) کو پلٹنا ہے سو میں تمہیں ان (کاموں) سے آگاہ کردوں گا جو تم (دنیا میں) کیا کرتے تھے
Tafsir Ibn Kathir
Allah commands His servants to be dutiful to parents, after urging them to adhere to belief in His Tawhid, because a person's parents are the cause of his existence. So he must treat them with the utmost kindness and respect, his father for spending on him and his mother because of her compassion for him. Allah says:
وَقَضَى رَبُّكَ أَلاَّ تَعْبُدُواْ إِلاَّ إِيَّـهُ وَبِالْوَلِدَيْنِ إِحْسَـناً إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِندَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُمَا أَوْ كِلاَهُمَا فَلاَ تَقُل لَّهُمَآ أُفٍّ وَلاَ تَنْهَرْهُمَا وَقُل لَّهُمَا قَوْلاً كَرِيمًا - وَاخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَقُل رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِى صَغِيرًا
(And your Lord has decreed that you worship none but Him. And that you be dutiful to your parents. If one of them or both of them attain old age in your life, say not to them a word of disrespect, nor shout at them, but address them in terms of honor. And lower unto them the wing of submission and humility through mercy, and say: "My Lord! Bestow on them Your mercy as they did bring me up when I was young.") (17:23-24) Although Allah orders us to show kindness, mercy and respect towards them in return for their previous kindness, He says:
وَإِن جَـهَدَاكَ لِتُشْرِكَ بِى مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ فَلاَ تُطِعْهُمَآ
(but if they strive to make associate with Me, which you have no knowledge of, then obey them not.) meaning, if they are idolators, and they try to make you follow them in their religion, then beware of them, and do not obey them in that, for you will be brought back to Me on the Day of Resurrection, and Allah will reward you for your kindness towards them and your patience in adhering to your religion. It is Allah Who will gather you with the group of the righteous, not with the group of your parents, even though you were the closest of people to them in the world. For a person will be gathered on the Day of Resurrection with those whom he loves, meaning, religious love. Allah says:
وَالَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ الصَّـلِحَـتِ لَنُدْخِلَنَّهُمْ فِى الصَّـلِحِينَ
(And for those who believe and do righteous good deeds, surely, We shall make them enter with the righteous.) In his Tafsir of this Ayah, At-Tirmidhi recorded that Sa`d said: "Four Ayat were revealed concerning me -- and he told his story. He said: "Umm Sa`d said: `Did Allah not command you to honor your parents By Allah, I will not eat or drink anything until I die or you renounce Islam.' When they wanted to feed her, they would force her mouth open. Then this Ayah was revealed:
وَوَصَّيْنَا الإِنْسَـنَ بِوَالِدَيْهِ حُسْناً وَإِن جَـهَدَاكَ لِتُشْرِكَ بِى مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ فَلاَ تُطِعْهُمَآ
(And We have enjoined on man to be dutiful to his parents; but if they strive to make you associate with Me, of which you have no knowledge, then obey them not.)" This Hadith was also recorded by Imam Ahmad, Muslim, Abu Dawud and An-Nasa'i. At-Tirmidhi said, "Hasan Sahih.
انسان کا وجود پہلے اپنی توحید پر مضبوطی کے ساتھ کاربند رہنے کا حکم فرما کر اب ماں باپ کے سلوک واحسان کا حکم دیتا ہے۔ کیونکہ انہی سے انسان کا وجود ہوتا ہے۔ باپ خرچ کرتا ہے اور پرورش کرتا ہے ماں محبت رکھتی ہے اور پالتی ہے۔ دوسری آیت میں فرمان ہے آیت (وَقَضٰى رَبُّكَ اَلَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّآ اِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ اِحْسَانًا 23) 17۔ الإسراء :23) اللہ تعالیٰ فیصلہ فرماچکا ہے کہ تم اس کے سوا کسی اور کی عبادت نہ کرو اور ماں باپ کی پوری اطاعت کرو۔ ان دونوں یا ان میں سے ایک کا بڑھاپے کا زمانہ آجائے تو انہیں اف بھی نہ کہنا ڈانٹ ڈپٹ تو کہاں کی ؟ بلکہ ان کے ساتھ ادب سے کلام کرنا اور رحم کے ساتھ ان کے سامنے جھکے رہنا اور اللہ سے ان کے لیے دعا کرنا کہا اے اللہ ان پر ایسا رحم کر جیسے یہ بچپن میں مجھ پر کیا کرتے تھے۔ لیکن ہاں یہ خیال رہے کہ اگر یہ شرک کی طرف بلائیں تو ان کا کہا نہ ماننا۔ سمجھ لو کہ تمہیں ایک دن میرے سامنے کھڑے ہونا ہے۔ اس وقت میں اپنی پرستش کا اور میرے فرمان کے تحت ماں باپ کی اطاعت کرنے کا بدلہ دونگا۔ اور نیک لوگوں کے ساتھ حشر کرونگا اگر تم نے اپنے ماں باپ کی وہ باتیں نہیں مانیں جو میرے احکام کے خلاف نہیں تو وہ خواہ کیسے ہی ہوں میں تمہیں ان سے الگ کر لونگا۔ کیونکہ قیامت کے دن انسان اس کے ساتھ ہوگا جسے وہ دنیا میں چاہتا تھا۔ اسی لیے اس کے بعد ہی فرمایا کہ ایمان والوں اور نیک عمل والوں کو میں اپنے صالح بندوں میں ملادونگا۔ حضرت سعد فرماتے ہیں میرے بارے میں چار آیتیں اتریں جن میں سے ایک آیت یہ بھی ہے۔ یہ اس لئے اتری کہ میری ماں نے مجھ سے کہا کہ اے سعد ! کیا اللہ کا حکم میرے ساتھ نیکی کرنے کا نہیں ؟ اگر تو نے آنحضرت ﷺ کی نبوت سے انکار نہ کیا تو واللہ میں کھانا پینا چھوڑ دونگی چناچہ اس نے یہی کیا یہاں تک کہ لوگ زبردستی اس کا منہ کھول کر غذا حلق میں پہنچا دیتے تھے پس یہ آیت اتری۔ (ترمذی وغیرہ)
وَٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّـٰلِحَٰتِ لَنُدۡخِلَنَّهُمۡ فِي ٱلصَّـٰلِحِينَ
And those who accepted faith and did good deeds – We shall indeed include them among the virtuous.
اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال کرتے رہے تو ہم انہیں ضرور نیکو کاروں (کے گروہ) میں داخل فرما دیں گے
Tafsir Ibn Kathir
Allah commands His servants to be dutiful to parents, after urging them to adhere to belief in His Tawhid, because a person's parents are the cause of his existence. So he must treat them with the utmost kindness and respect, his father for spending on him and his mother because of her compassion for him. Allah says:
وَقَضَى رَبُّكَ أَلاَّ تَعْبُدُواْ إِلاَّ إِيَّـهُ وَبِالْوَلِدَيْنِ إِحْسَـناً إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِندَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُمَا أَوْ كِلاَهُمَا فَلاَ تَقُل لَّهُمَآ أُفٍّ وَلاَ تَنْهَرْهُمَا وَقُل لَّهُمَا قَوْلاً كَرِيمًا - وَاخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَقُل رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِى صَغِيرًا
(And your Lord has decreed that you worship none but Him. And that you be dutiful to your parents. If one of them or both of them attain old age in your life, say not to them a word of disrespect, nor shout at them, but address them in terms of honor. And lower unto them the wing of submission and humility through mercy, and say: "My Lord! Bestow on them Your mercy as they did bring me up when I was young.") (17:23-24) Although Allah orders us to show kindness, mercy and respect towards them in return for their previous kindness, He says:
وَإِن جَـهَدَاكَ لِتُشْرِكَ بِى مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ فَلاَ تُطِعْهُمَآ
(but if they strive to make associate with Me, which you have no knowledge of, then obey them not.) meaning, if they are idolators, and they try to make you follow them in their religion, then beware of them, and do not obey them in that, for you will be brought back to Me on the Day of Resurrection, and Allah will reward you for your kindness towards them and your patience in adhering to your religion. It is Allah Who will gather you with the group of the righteous, not with the group of your parents, even though you were the closest of people to them in the world. For a person will be gathered on the Day of Resurrection with those whom he loves, meaning, religious love. Allah says:
وَالَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ الصَّـلِحَـتِ لَنُدْخِلَنَّهُمْ فِى الصَّـلِحِينَ
(And for those who believe and do righteous good deeds, surely, We shall make them enter with the righteous.) In his Tafsir of this Ayah, At-Tirmidhi recorded that Sa`d said: "Four Ayat were revealed concerning me -- and he told his story. He said: "Umm Sa`d said: `Did Allah not command you to honor your parents By Allah, I will not eat or drink anything until I die or you renounce Islam.' When they wanted to feed her, they would force her mouth open. Then this Ayah was revealed:
وَوَصَّيْنَا الإِنْسَـنَ بِوَالِدَيْهِ حُسْناً وَإِن جَـهَدَاكَ لِتُشْرِكَ بِى مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ فَلاَ تُطِعْهُمَآ
(And We have enjoined on man to be dutiful to his parents; but if they strive to make you associate with Me, of which you have no knowledge, then obey them not.)" This Hadith was also recorded by Imam Ahmad, Muslim, Abu Dawud and An-Nasa'i. At-Tirmidhi said, "Hasan Sahih.
انسان کا وجود پہلے اپنی توحید پر مضبوطی کے ساتھ کاربند رہنے کا حکم فرما کر اب ماں باپ کے سلوک واحسان کا حکم دیتا ہے۔ کیونکہ انہی سے انسان کا وجود ہوتا ہے۔ باپ خرچ کرتا ہے اور پرورش کرتا ہے ماں محبت رکھتی ہے اور پالتی ہے۔ دوسری آیت میں فرمان ہے آیت (وَقَضٰى رَبُّكَ اَلَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّآ اِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ اِحْسَانًا 23) 17۔ الإسراء :23) اللہ تعالیٰ فیصلہ فرماچکا ہے کہ تم اس کے سوا کسی اور کی عبادت نہ کرو اور ماں باپ کی پوری اطاعت کرو۔ ان دونوں یا ان میں سے ایک کا بڑھاپے کا زمانہ آجائے تو انہیں اف بھی نہ کہنا ڈانٹ ڈپٹ تو کہاں کی ؟ بلکہ ان کے ساتھ ادب سے کلام کرنا اور رحم کے ساتھ ان کے سامنے جھکے رہنا اور اللہ سے ان کے لیے دعا کرنا کہا اے اللہ ان پر ایسا رحم کر جیسے یہ بچپن میں مجھ پر کیا کرتے تھے۔ لیکن ہاں یہ خیال رہے کہ اگر یہ شرک کی طرف بلائیں تو ان کا کہا نہ ماننا۔ سمجھ لو کہ تمہیں ایک دن میرے سامنے کھڑے ہونا ہے۔ اس وقت میں اپنی پرستش کا اور میرے فرمان کے تحت ماں باپ کی اطاعت کرنے کا بدلہ دونگا۔ اور نیک لوگوں کے ساتھ حشر کرونگا اگر تم نے اپنے ماں باپ کی وہ باتیں نہیں مانیں جو میرے احکام کے خلاف نہیں تو وہ خواہ کیسے ہی ہوں میں تمہیں ان سے الگ کر لونگا۔ کیونکہ قیامت کے دن انسان اس کے ساتھ ہوگا جسے وہ دنیا میں چاہتا تھا۔ اسی لیے اس کے بعد ہی فرمایا کہ ایمان والوں اور نیک عمل والوں کو میں اپنے صالح بندوں میں ملادونگا۔ حضرت سعد فرماتے ہیں میرے بارے میں چار آیتیں اتریں جن میں سے ایک آیت یہ بھی ہے۔ یہ اس لئے اتری کہ میری ماں نے مجھ سے کہا کہ اے سعد ! کیا اللہ کا حکم میرے ساتھ نیکی کرنے کا نہیں ؟ اگر تو نے آنحضرت ﷺ کی نبوت سے انکار نہ کیا تو واللہ میں کھانا پینا چھوڑ دونگی چناچہ اس نے یہی کیا یہاں تک کہ لوگ زبردستی اس کا منہ کھول کر غذا حلق میں پہنچا دیتے تھے پس یہ آیت اتری۔ (ترمذی وغیرہ)
10
View Single
وَمِنَ ٱلنَّاسِ مَن يَقُولُ ءَامَنَّا بِٱللَّهِ فَإِذَآ أُوذِيَ فِي ٱللَّهِ جَعَلَ فِتۡنَةَ ٱلنَّاسِ كَعَذَابِ ٱللَّهِۖ وَلَئِن جَآءَ نَصۡرٞ مِّن رَّبِّكَ لَيَقُولُنَّ إِنَّا كُنَّا مَعَكُمۡۚ أَوَلَيۡسَ ٱللَّهُ بِأَعۡلَمَ بِمَا فِي صُدُورِ ٱلۡعَٰلَمِينَ
And some people say, “We believe in Allah” – so if they are afflicted with some adversity in Allah’s way, they consider the chaos created by men as the punishment from Allah; and if the help comes from your Lord, they will surely say, “Indeed we were with you”; does not Allah well know what is in the hearts of the entire creation?
اور لوگوں میں ایسے شخص (بھی) ہوتے ہیں جو (زبان سے) کہتے ہیں کہ ہم اللہ پر ایمان لائے، پھر جب انہیں اللہ کی راہ میں (کوئی) تکلیف پہنچائی جاتی ہے تو وہ لوگوں کی آزمائش کواللہ کے عذاب کی مانند قرار دیتے ہیں، اور اگر آپ کے رب کی جانب سے کوئی مدد آپہنچتی ہے تو وہ یقیناً یہ کہنے لگتے ہیں کہ ہم تو تمہارے ساتھ ہی تھے، کیا اللہ ان (باتوں) کو نہیں جانتا جو جہان والوں کے سینوں میں (پوشیدہ) ہیں
Tafsir Ibn Kathir
The Attitudes of the Hypocrites and the Ways in which Allah tests People
Allah mentions the descriptions of the liars who falsely claim faith with their lips, while faith is not firm in their hearts. When a test or trial comes in this world, they think that this is a punishment from Allah, so they leave Islam. Allah says:
وَمِنَ النَّاسِ مَن يِقُولُ ءَامَنَّا بِاللَّهِ فَإِذَآ أُوذِىَ فِى اللَّهِ جَعَلَ فِتْنَةَ النَّاسِ كَعَذَابِ اللَّهِ
(Of mankind are some who say: "We believe in Allah." But if they are made to suffer for Allah, they consider the trial of mankind as Allah's punishment;) Ibn `Abbas said, "Meaning that their trial is leaving Islam if they are made to suffer for Allah." This was also the view of others among the Salaf. This Ayah is like the Ayah,
وَمِنَ النَّاسِ مَن يَعْبُدُ اللَّهَ عَلَى حَرْفٍ فَإِنْ أَصَابَهُ خَيْرٌ اطْمَأَنَّ بِهِ وَإِنْ أَصَابَتْهُ فِتْنَةٌ انْقَلَبَ عَلَى وَجْهِهِ
(And among mankind is he who worships Allah as it were upon the edge: if good befalls him, he is content therewith; but if a trial befalls him, he turns back on his face...) until:
ذلِكَ هُوَ الضَّلَـلُ الْبَعِيدُ
(That is a straying far away) 22:11-12. Then Allah says:
وَلَئِنْ جَآءَ نَصْرٌ مِّن رَّبِّكَ لَيَقُولُنَّ إِنَّا كُنَّا مَعَكُمْ
(and if victory comes from your Lord, they will say: "Verily, we were with you.") meaning, "if victory comes from your Lord, O Muhammad, and there are spoils of war, these people will say to you, `We were with you,' i.e., we are your brothers in faith." This is like the Ayat:
الَّذِينَ يَتَرَبَّصُونَ بِكُمْ فَإِن كَانَ لَكُمْ فَتْحٌ مِّنَ اللَّهِ قَالُواْ أَلَمْ نَكُنْ مَّعَكُمْ وَإِن كَانَ لِلْكَـفِرِينَ نَصِيبٌ قَالُواْ أَلَمْ نَسْتَحْوِذْ عَلَيْكُمْ وَنَمْنَعْكُمْ مِّنَ الْمُؤْمِنِينَ
(Those who wait and watch about you; if you gain a victory from Allah, they say: "Were we not with you" But if the disbelievers gain a success, they say (to them): "Did we not gain mastery over you and did we not protect you from the believers") (4:141).
فَعَسَى اللَّهُ أَن يَأْتِىَ بِالْفَتْحِ أَوْ أَمْرٍ مِّنْ عِندِهِ فَيُصْبِحُواْ عَلَى مَآ أَسَرُّواْ فِى أَنفُسِهِمْ نَـدِمِينَ
(Perhaps Allah may bring a victory or a decision according to His will. Then they will become regretful for what they have been keeping as a secret in themselves) (5:52). And Allah tells us about them here:
وَلَئِنْ جَآءَ نَصْرٌ مِّن رَّبِّكَ لَيَقُولُنَّ إِنَّا كُنَّا مَعَكُمْ
(and if victory comes from your Lord, they will say: "Verily, we were with you.") Then Allah says:
أَوَ لَيْسَ اللَّهُ بِأَعْلَمَ بِمَا فِى صُدُورِ الْعَـلَمِينَ
(Is not Allah Best Aware of what is in the breasts of the creatures) meaning, `does Allah not know best what is in their hearts and what they store secretly within themselves, even though outwardly they may appear to be in agreement with you'
وَلَيَعْلَمَنَّ اللَّهُ الَّذِينَ ءَامَنُواْ وَلَيَعْلَمَنَّ الْمُنَـفِقِينَ
(And indeed Allah knows those who believe, and verily He knows the hypocrites.) Allah will test the people with calamities and with times of ease, so that He may distinguish the believers from the hypocrites, to see who will obey Allah both in times of hardship and of ease, and who will obey Him only when things are going in accordance with their desires. As Allah says:
وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ حَتَّى نَعْلَمَ الْمُجَـهِدِينَ مِنكُمْ وَالصَّـبِرِينَ وَنَبْلُوَ أَخْبَـرَكُمْ
(And surely, We shall try you till We test those who strive hard and the patient, and We shall test your facts.) (47:31) After the battle of Uhud, with its trials and tribulations for the Muslims, Allah said:
مَّا كَانَ اللَّهُ لِيَذَرَ الْمُؤْمِنِينَ عَلَى مَآ أَنتُمْ عَلَيْهِ حَتَّى يَمِيزَ الْخَبِيثَ مِنَ الطَّيِّبِ
(Allah will not leave the believers in the state in which you are now, until He distinguishes the wicked from the good...) (3:179)
مرتد ہونے والے ان منافقوں کا ذکر ہو رہا ہے جو زبانی ایمان کا دعویٰ کرلیتے ہیں لیکن جہاں مخالفین کی طرف سے کوئی دکھ پہنچا کہ یہ اسے اللہ کا عذاب سمجھ کر مرتد ہوجاتے ہیں۔ یہی معنی حضرت ابن عباس وغیرہ نے کئے ہیں جیسے اور آیت میں ہے (وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَّعْبُدُ اللّٰهَ عَلٰي حَرْفٍ 11) 22۔ الحج :11) یعنی بعض لوگ ایک کنارے کھڑے ہو کر اللہ کی عبادت کرتے ہیں اگر راحت ملی تو مطمئن ہوگئے اور اگر مصیبت پہنچی تو منہ پھیرلیا یہاں بیان ہو رہا ہے کہ اگر حضور کو کوئی غنیمت ملی کوئی فتح ملی تو اپنا دیندار ہونا ظاہر کرنے لگتے ہیں۔ جیسے اور آیت میں ہے (الَّذِيْنَ يَتَرَبَّصُوْنَ بِكُمْ ۚ فَاِنْ كَانَ لَكُمْ فَتْحٌ مِّنَ اللّٰهِ قَالُوْٓا اَلَمْ نَكُنْ مَّعَكُمْ ڮ وَاِنْ كَانَ لِلْكٰفِرِيْنَ نَصِيْبٌ01401ۧ) 4۔ النسآء :141) وہ تمہیں دیکھتے رہتے ہیں اگر فتح و نصرت ہوئی تو ہانک لگانے لگتے ہیں کہ کیا ہم تمہارے ساتھ نہیں ہیں ؟ اور اگر کافروں کی بن آئی تو ان سے اپنی ساز جتانے لگتے ہیں کہ دیکھو ہم نے تمہارا ساتھ دیا ور تمہیں بچالیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا بہت ممکن ہے کہ اللہ اپنے بندوں کو بالکل ہی غالب کر دے پھر تو یہ اپنی اس چھپی ہوئی حرکت پر صاف نادم ہوجائیں۔ یہاں فرمایا کہ یہ کیا بات ہے کیا انہیں اتنا بھی نہیں معلوم کہ اللہ عالم الغیب ہے۔ وہ جہاں زبانی بات جانتا ہے وہاں قلبی بات بھی اسے معلوم ہے۔ اللہ تعالیٰ بھلائیاں برائیاں پہنچا کر نیک و بد کو مومن و منافق کو الگ الگ کردے گا۔ نفس کے پرستار نفع کے خواہاں یکسو ہوجائیں گے اور نفع نقصان میں ایمان کو نہ چھوڑنے والے ظاہر ہوجائیں گے۔ جیسے فرمایا (وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ حَتّٰى نَعْلَمَ الْمُجٰهِدِيْنَ مِنْكُمْ وَالصّٰبِرِيْنَ ۙ وَنَبْلُوَا۟ اَخْبَارَكُمْ 31) 47۔ محمد :31) ہم تمہیں آزماتے رہا کریں گے یہاں تک کہ تم میں سے مجاہدین کو اور صابرین کو ہم دنیا کے سامنے ظاہر کردیں اور تمہاری خبریں دیکھ بھال لیں۔ احد کے امتحان کا ذکر کرکے فرمایا کہ اللہ مومنوں کو جس حالت پر وہ تھے رکھنے والا نہ تھا جب کہ خبیث وطیب کی تمیز نہ کریں۔
11
View Single
وَلَيَعۡلَمَنَّ ٱللَّهُ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَلَيَعۡلَمَنَّ ٱلۡمُنَٰفِقِينَ
And indeed Allah will make known the believers, and indeed He will expose the hypocrites.
اور اللہ ضرور ایسے لوگوں کو ممتاز فرما دے گا جو (سچے دل سے) ایمان لائے ہیں اور منافقوں کو (بھی) ضرور ظاہر کر دے گا
Tafsir Ibn Kathir
The Attitudes of the Hypocrites and the Ways in which Allah tests People
Allah mentions the descriptions of the liars who falsely claim faith with their lips, while faith is not firm in their hearts. When a test or trial comes in this world, they think that this is a punishment from Allah, so they leave Islam. Allah says:
وَمِنَ النَّاسِ مَن يِقُولُ ءَامَنَّا بِاللَّهِ فَإِذَآ أُوذِىَ فِى اللَّهِ جَعَلَ فِتْنَةَ النَّاسِ كَعَذَابِ اللَّهِ
(Of mankind are some who say: "We believe in Allah." But if they are made to suffer for Allah, they consider the trial of mankind as Allah's punishment;) Ibn `Abbas said, "Meaning that their trial is leaving Islam if they are made to suffer for Allah." This was also the view of others among the Salaf. This Ayah is like the Ayah,
وَمِنَ النَّاسِ مَن يَعْبُدُ اللَّهَ عَلَى حَرْفٍ فَإِنْ أَصَابَهُ خَيْرٌ اطْمَأَنَّ بِهِ وَإِنْ أَصَابَتْهُ فِتْنَةٌ انْقَلَبَ عَلَى وَجْهِهِ
(And among mankind is he who worships Allah as it were upon the edge: if good befalls him, he is content therewith; but if a trial befalls him, he turns back on his face...) until:
ذلِكَ هُوَ الضَّلَـلُ الْبَعِيدُ
(That is a straying far away) 22:11-12. Then Allah says:
وَلَئِنْ جَآءَ نَصْرٌ مِّن رَّبِّكَ لَيَقُولُنَّ إِنَّا كُنَّا مَعَكُمْ
(and if victory comes from your Lord, they will say: "Verily, we were with you.") meaning, "if victory comes from your Lord, O Muhammad, and there are spoils of war, these people will say to you, `We were with you,' i.e., we are your brothers in faith." This is like the Ayat:
الَّذِينَ يَتَرَبَّصُونَ بِكُمْ فَإِن كَانَ لَكُمْ فَتْحٌ مِّنَ اللَّهِ قَالُواْ أَلَمْ نَكُنْ مَّعَكُمْ وَإِن كَانَ لِلْكَـفِرِينَ نَصِيبٌ قَالُواْ أَلَمْ نَسْتَحْوِذْ عَلَيْكُمْ وَنَمْنَعْكُمْ مِّنَ الْمُؤْمِنِينَ
(Those who wait and watch about you; if you gain a victory from Allah, they say: "Were we not with you" But if the disbelievers gain a success, they say (to them): "Did we not gain mastery over you and did we not protect you from the believers") (4:141).
فَعَسَى اللَّهُ أَن يَأْتِىَ بِالْفَتْحِ أَوْ أَمْرٍ مِّنْ عِندِهِ فَيُصْبِحُواْ عَلَى مَآ أَسَرُّواْ فِى أَنفُسِهِمْ نَـدِمِينَ
(Perhaps Allah may bring a victory or a decision according to His will. Then they will become regretful for what they have been keeping as a secret in themselves) (5:52). And Allah tells us about them here:
وَلَئِنْ جَآءَ نَصْرٌ مِّن رَّبِّكَ لَيَقُولُنَّ إِنَّا كُنَّا مَعَكُمْ
(and if victory comes from your Lord, they will say: "Verily, we were with you.") Then Allah says:
أَوَ لَيْسَ اللَّهُ بِأَعْلَمَ بِمَا فِى صُدُورِ الْعَـلَمِينَ
(Is not Allah Best Aware of what is in the breasts of the creatures) meaning, `does Allah not know best what is in their hearts and what they store secretly within themselves, even though outwardly they may appear to be in agreement with you'
وَلَيَعْلَمَنَّ اللَّهُ الَّذِينَ ءَامَنُواْ وَلَيَعْلَمَنَّ الْمُنَـفِقِينَ
(And indeed Allah knows those who believe, and verily He knows the hypocrites.) Allah will test the people with calamities and with times of ease, so that He may distinguish the believers from the hypocrites, to see who will obey Allah both in times of hardship and of ease, and who will obey Him only when things are going in accordance with their desires. As Allah says:
وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ حَتَّى نَعْلَمَ الْمُجَـهِدِينَ مِنكُمْ وَالصَّـبِرِينَ وَنَبْلُوَ أَخْبَـرَكُمْ
(And surely, We shall try you till We test those who strive hard and the patient, and We shall test your facts.) (47:31) After the battle of Uhud, with its trials and tribulations for the Muslims, Allah said:
مَّا كَانَ اللَّهُ لِيَذَرَ الْمُؤْمِنِينَ عَلَى مَآ أَنتُمْ عَلَيْهِ حَتَّى يَمِيزَ الْخَبِيثَ مِنَ الطَّيِّبِ
(Allah will not leave the believers in the state in which you are now, until He distinguishes the wicked from the good...) (3:179)
مرتد ہونے والے ان منافقوں کا ذکر ہو رہا ہے جو زبانی ایمان کا دعویٰ کرلیتے ہیں لیکن جہاں مخالفین کی طرف سے کوئی دکھ پہنچا کہ یہ اسے اللہ کا عذاب سمجھ کر مرتد ہوجاتے ہیں۔ یہی معنی حضرت ابن عباس وغیرہ نے کئے ہیں جیسے اور آیت میں ہے (وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَّعْبُدُ اللّٰهَ عَلٰي حَرْفٍ 11) 22۔ الحج :11) یعنی بعض لوگ ایک کنارے کھڑے ہو کر اللہ کی عبادت کرتے ہیں اگر راحت ملی تو مطمئن ہوگئے اور اگر مصیبت پہنچی تو منہ پھیرلیا یہاں بیان ہو رہا ہے کہ اگر حضور کو کوئی غنیمت ملی کوئی فتح ملی تو اپنا دیندار ہونا ظاہر کرنے لگتے ہیں۔ جیسے اور آیت میں ہے (الَّذِيْنَ يَتَرَبَّصُوْنَ بِكُمْ ۚ فَاِنْ كَانَ لَكُمْ فَتْحٌ مِّنَ اللّٰهِ قَالُوْٓا اَلَمْ نَكُنْ مَّعَكُمْ ڮ وَاِنْ كَانَ لِلْكٰفِرِيْنَ نَصِيْبٌ01401ۧ) 4۔ النسآء :141) وہ تمہیں دیکھتے رہتے ہیں اگر فتح و نصرت ہوئی تو ہانک لگانے لگتے ہیں کہ کیا ہم تمہارے ساتھ نہیں ہیں ؟ اور اگر کافروں کی بن آئی تو ان سے اپنی ساز جتانے لگتے ہیں کہ دیکھو ہم نے تمہارا ساتھ دیا ور تمہیں بچالیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا بہت ممکن ہے کہ اللہ اپنے بندوں کو بالکل ہی غالب کر دے پھر تو یہ اپنی اس چھپی ہوئی حرکت پر صاف نادم ہوجائیں۔ یہاں فرمایا کہ یہ کیا بات ہے کیا انہیں اتنا بھی نہیں معلوم کہ اللہ عالم الغیب ہے۔ وہ جہاں زبانی بات جانتا ہے وہاں قلبی بات بھی اسے معلوم ہے۔ اللہ تعالیٰ بھلائیاں برائیاں پہنچا کر نیک و بد کو مومن و منافق کو الگ الگ کردے گا۔ نفس کے پرستار نفع کے خواہاں یکسو ہوجائیں گے اور نفع نقصان میں ایمان کو نہ چھوڑنے والے ظاہر ہوجائیں گے۔ جیسے فرمایا (وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ حَتّٰى نَعْلَمَ الْمُجٰهِدِيْنَ مِنْكُمْ وَالصّٰبِرِيْنَ ۙ وَنَبْلُوَا۟ اَخْبَارَكُمْ 31) 47۔ محمد :31) ہم تمہیں آزماتے رہا کریں گے یہاں تک کہ تم میں سے مجاہدین کو اور صابرین کو ہم دنیا کے سامنے ظاہر کردیں اور تمہاری خبریں دیکھ بھال لیں۔ احد کے امتحان کا ذکر کرکے فرمایا کہ اللہ مومنوں کو جس حالت پر وہ تھے رکھنے والا نہ تھا جب کہ خبیث وطیب کی تمیز نہ کریں۔
12
View Single
وَقَالَ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ لِلَّذِينَ ءَامَنُواْ ٱتَّبِعُواْ سَبِيلَنَا وَلۡنَحۡمِلۡ خَطَٰيَٰكُمۡ وَمَا هُم بِحَٰمِلِينَ مِنۡ خَطَٰيَٰهُم مِّن شَيۡءٍۖ إِنَّهُمۡ لَكَٰذِبُونَ
And the disbelievers said to the Muslims, “Follow our path and we will bear your sins”; whereas they will not bear anything from their sins; they are indeed liars.
اور کافر لوگ ایمان والوں سے کہتے ہیں کہ تم ہماری راہ کی پیروی کرو اور ہم تمہاری خطاؤں (کے بوجھ) کو اٹھا لیں گے، حالانکہ وہ ان کے گناہوں کا کچھ بھی (بوجھ) اٹھانے والے نہیں ہیں بیشک وہ جھوٹے ہیں
Tafsir Ibn Kathir
The Arrogant Claim of the Disbelievers that They would carry theSins of Others if They would return to Disbelief
Allah tells us that the disbelievers of Quraysh said to those who believed and followed the truth: leave your religion, come back to our religion, and follow our way;
وَلْنَحْمِلْ خَطَـيَـكُمْ
(and let us bear your sins.) meaning, `if there is any sin on you, we will bear it and it will be our responsibility'. It is like a person saying: "Do this, and your sin will be on my shoulders." Allah says, proving this to be a lie:
وَمَا هُمْ بِحَـمِلِينَ مِنْ خَطَـيَـهُمْ مِّن شَىْءٍ إِنَّهُمْ لَكَـذِبُونَ
(Never will they bear anything of their sins. Surely, they are liars.) in their claim that they will bear the sins of others, for no person will bear the sins of another. Allah says:
وَإِن تَدْعُ مُثْقَلَةٌ إِلَى حِمْلِهَا لاَ يُحْمَلْ مِنْهُ شَىْءٌ وَلَوْ كَانَ ذَا قُرْبَى
(and if one heavily laden calls another to (bear) his load, nothing of it will be lifted even though he be near of kin) (35:18).
وَلاَ يَسْـَلُ حَمِيمٌ حَمِيماً يُبَصَّرُونَهُمْ
(And no friend will ask a friend (about his condition), though they shall be made to see one another) (70:10-11).
وَلَيَحْمِلُنَّ أَثْقَالَهُمْ وَأَثْقَالاً مَّعَ أَثْقَالِهِمْ
(And verily, they shall bear their own loads, and other loads besides their own.) Here Allah tells us that those who call others to disbelief and misguidance will, on the Day of Resurrection, bear their own sins and the sins of others, because of the people they misguided. Yet that will not detract from the burden of those other people in the slightest, as Allah says:
لِيَحْمِلُواْ أَوْزَارَهُمْ كَامِلَةً يَوْمَ الْقِيَـمَةِ وَمِنْ أَوْزَارِ الَّذِينَ يُضِلُّونَهُمْ بِغَيْرِ عِلْمٍ
(That they may bear their own burdens in full on the Day of Resurrection, and also of the burdens of those whom they misled without knowledge) (16:25). In the Sahih, it says:
«مَنْ دَعَا إِلَى هُدًى كَانَ لَهُ مِنَ الْأَجْرِ مِثْلُ أُجُورِ مَنِ اتَّبَعَهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْقُصَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْئًا، وَمَنْ دَعَا إِلَى ضَلَالَةٍ كَانَ عَلَيْهِ مِنَ الْإثْمِ مِثْلُ آثَامِ مَنِ اتَّبَعَهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْقُصَ مِنْ آثَامِهِمْ شَيْئًا»
(Whoever calls others to true guidance, will have a reward like that of those who follow him until the Day of Resurrection, without it detracting from their reward in the slightest. Whoever calls others to misguidance, will have a burden of sin like that of those who follow him until the Day of Resurrection, without it detracting from their burden in the slightest.) In the Sahih, it also says:
«مَا قُتِلَتْ نَفْسٌ ظُلْمًا إِلَّا كَانَ عَلَى ابْنِ آدَمَ الْأَوَّلِ كِفْلٌ مِنْ دَمِهَا، لِأَنَّهُ أَوَّلُ مَنْ سَنَّ الْقَتْل»
(No person is killed unlawfully, but a share of the guilt will be upon the first son of Adam, because he was the first one to initiate the idea of killing another.)
وَلَيُسْـَلُنَّ يَوْمَ الْقِيَـمَةِ عَمَّا كَانُواْ يَفْتَرُونَ
(and verily, they shall be questioned on the Day of Resurrection about that which they used to fabricate.) means, the lies they used to tell and the falsehood they used to fabricate. Ibn Abi Hatim recorded that Abu Umamah, may Allah be pleased with him, said that the Messenger of Allah ﷺ conveyed the Message with which he was sent, then he said:
«إِيَّاكُمْ وَالظُّلْمَ، فَإِنَّ اللهَ يَعْزِمُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيَقُولُ: وَعِزَّتِي وَجَلَالِي لَا يَجوزُنِي الْيَوْمَ ظُلْمٌ، ثُمَّ يُنَادِي مُنَادٍ فَيَقُولُ: أَيْنَ فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ؟ فَيَأْتِي يَتْبَعُهُ مِنَ الْحَسَنَاتِ أَمْثَالَ الْجِبَالِ، فَيَشْخَصُ النَّاسُ إِلَيْهَا أَبْصَارَهُمْ، حَتَّى يَقُومَ بَيْنَ يَدَيِ الرَّحْمنِ عَزَّ وَجَلَّ، ثُمَّ يَأْمُرُ الْمُنَادِيَ فَيُنَادِي: مَنْ كَانَتْ لَهُ تِبَاعَةٌ أَوْ ظَلَامَةٌ عِنْدَ فُلَانِ بْنِ فُلَانٍ فَهَلُمَّ، فَيُقْبِلُونَ حَتَّى يَجْتَمِعُوا قِيَامًا بَيْنَ يَدَيِ الرَّحْمنِ، فَيَقُولُ الرَّحْمنُ: اقْضُوا عَنْ عَبْدِي، فَيَقُولُونَ: كَيْفَ نَقْضِي عَنْهُ؟ فَيَقُولُ: خُذُوا لَهُمْ مِنْ حَسَنَاتِهِ، فَلَا يَزَالُونَ يَأْخُذُونَ مِنْهَا حَتَّى لَا يَبْقَى مِنْهَا حَسَنَةٌ، وَقَدْ بَقِيَ مِنْ أَصْحَابِ الظَّلَامَاتِ، فَيَقُولُ: اقْضُوا عَنْ عَبْدِي، فَيَقُولُونَ: لَمْ يَبْقَ لَهُ حَسَنَةٌ، فَيَقُولُ: خُذُوا مِنْ سَيِّئَاتِهِمْ فَاحْمِلُوهَا عَلَيْه»
(Beware of injustice, for Allah will swear an oath of the Day of Resurrection and will say: "By My glory and majesty, no injustice will be overlooked today." Then a voice will call out, "Where is so-and-so the son of so-and-so" He will be brought forth, followed by his good deeds which appear like mountains while the people are gazing at them in wonder, until he is standing before the Most Merciful. Then the caller will be commanded to say: "Whoever is owed anything by so-and-so the son of so-and-so, or has been wronged by him, let him come forth." So they will come forth and gather before the Most Merciful, then the Most Merciful will say: "Settle the matter for My servant." They will say, "How can we settle the matter" He will say, "Take from his good deeds and give it to them." They will keep taking from his good deeds until there is nothing left, and there will still people with scores to be settled. Allah will say, "Settle the matter for My servant." They will say, "He does not have even one good deed left." Allah will say, "Take from their evil deeds and give them to him.") Then the Prophet quoted this Ayah:
وَلَيَحْمِلُنَّ أَثْقَالَهُمْ وَأَثْقَالاً مَّعَ أَثْقَالِهِمْ وَلَيُسْـَلُنَّ يَوْمَ الْقِيَـمَةِ عَمَّا كَانُواْ يَفْتَرُونَ
(And verily, they shall bear their own loads, and other loads besides their own; and verily, they shall be questioned on the Day of Resurrection about that which they used to fabricate.) There is a corroborating report in the Sahih with a different chain of narration:
«إِنَّ الرَّجُلَ لَيَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِحَسَنَاتٍ أَمْثَالِ الْجِبَالِ وَقَدْ ظَلَمَ هَذَا، وَأَخَذَ مَالَ هَذَا، وَأَخَذَ مِنْ عِرْضِ هَذَا، فَيَأْخُذُ هَذَا مِنْ حَسَنَاتِهِ، وَهَذَا مِنْ حَسَنَاتِهِ، فَإِذَا لَمْ تَبْقَ لَهُ حَسَنَةٌ، أُخِذَ مِنْ سَيِّئَاتِهِمْ فَطُرِحَ عَلَيْه»
(A man will come on the Day of Resurrection with good deeds like mountains, but he had wronged this one, taken the wealth of that one and slandered the honor of another. So each of them will take from his good deeds. And if there is nothing left of his good deeds, it will be taken from their evil and placed on him.)
گناہ کسی کا اور سزا دوسرے کو کفار قریش مسلمانوں کو بہکانے کے لئے ان سے یہ بھی کہتے تھے کہ تم ہمارے مذہب پر عمل کرو اگر اس میں کوئی گناہ ہو تو وہ ہم پر۔ حالانکہ یہ اصولا غلط ہے کہ کسی کا بوجھ کوئی اٹھائے۔ یہ بالکل دروغ گو ہیں۔ کوئی اپنے قرابتداروں کے گناہ بھی اپنے اوپر نہیں لے سکتا۔ دوست دوست کو اس دن نہ پوچھے گا۔ ہاں یہ لوگ اپنے گناہوں کے بوجھ اٹھائیں گے اور جنہیں انہوں نے گمراہ کیا ہے ان کے بوجھ بھی ان پر لادے جائیں گے مگر وہ گمراہ ہلکے نہ ہوں گے۔ ان کا بوجھ ان پر ہے۔ جیسے فرمان ہے آیت (لِيَحْمِلُوْٓا اَوْزَارَهُمْ كَامِلَةً يَّوْمَ الْقِيٰمَةِ 25) 16۔ النحل :25) یعنی یہ اپنے کامل بوجھ اٹھائیں گے اور جنہیں بہکایا تھا ان کے بہکانے کا گناہ بھی ان پر ہوگا۔ صحیح حدیث میں ہے کہ جو ہدایت کی طرف لوگوں کو دعوت دے۔ قیامت تک جو لوگ اس ہدایت پر چلیں گے ان سب کو جتنا ثواب ہوگا اتنا ہی اس ایک کو ہوگا لیکن ان کے ثوابوں میں سے گھٹ کر نہیں۔ اسی طرح جس نے برائی پھیلائی اس پر جو بھی عمل پیراہوں ان سب کو جتنا گناہ ہوگا اتناہی اس ایک کو ہوگا لیکن ان گناہوں میں کوئی کمی نہیں ہوگی۔ حضرت ابو امامہ ؓ سے فرمایا حضور ﷺ نے اللہ کی تمام رسالت پہنچا دی آپ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ ظلم سے بچو کیونکہ قیامت والے دن اللہ تبارک وتعالیٰ فرمائے گا مجھے اپنی عزت کی اور اپنے جلال کی قسم آج ایک ظالم کو بھی میں نہ چھوڑونگا۔ پھر ایک منادیٰ ندا کرے گا کہ فلاں فلاں کہاں ہے ؟ وہ آئے گا اور پہاڑ کے پہاڑ نیکیوں کے اس کے ساتھ ہونگے یہاں تک کہ اہل محشر کی نگاہیں اس کی طرف اٹھنے لگیں گی۔ وہ اللہ کے سامنے آکر کھڑا ہوجائے گا پھر منادیٰ ندا کرے گا کہ اس طرف سے کسی کا کوئی حق ہو اس نے کسی پر ظلم کیا ہو وہ آجائے اور اپنا بدلہ لے لے۔ اب تو ادھر ادھر سے لوگ اٹھ کھڑے ہونگے اور اسے گھیر کر اللہ کے سامنے کھڑے ہوجائیں اللہ تعالیٰ فرمائے گا میرے ان بندوں کو ان کے حق دلواؤ۔ فرشتے کہیں گے اے اللہ کیسے دلوائیں ؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا اس کی نیکیاں لو اور انہیں دو چناچہ یوں ہی کیا جائے گا یہاں تک کہ ایک نیکی باقی نہیں رہے گی اور ابھی تک بعض مظلوم اور حقدار باقی رہ جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا انہیں بھی بدلہ دو فرشتے کہیں گے اب تو اس کے پاس ایک نیکی بھی نہیں رہی۔ اللہ تعالیٰ حکم دے گا ان کے گناہ اس پر لادو۔ پھر حضور ﷺ نے گھبرا کر اس آیت کی تلاوت فرمائی (وَلَيَحْمِلُنَّ اَثْــقَالَهُمْ وَاَثْــقَالًا مَّعَ اَثْقَالِهِمْ 13ۧ) 29۔ العنکبوت :13) ابن ابی حاتم میں ہے حضور ﷺ نے فرمایا اے معاذ ! (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) قیامت کے دن مومن کی تمام کوششوں سے سوال کیا جائے گا یہاں تک کہ اس کی آنکھوں کے سرمے اور اس کے مٹی کے گوندھے سے بھی۔ دیکھ ایسا نہ ہو کہ قیامت کے دن کوئی اور تیری نیکیاں لے جائے۔
13
View Single
وَلَيَحۡمِلُنَّ أَثۡقَالَهُمۡ وَأَثۡقَالٗا مَّعَ أَثۡقَالِهِمۡۖ وَلَيُسۡـَٔلُنَّ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِ عَمَّا كَانُواْ يَفۡتَرُونَ
And they will surely bear their own burdens and some other burdens along with their own; and they will undoubtedly be questioned on the Day of Resurrection concerning what they had fabricated.
وہ یقیناً اپنے (گناہوں کے) بوجھ اٹھائیں گے اور اپنے بوجھوں کے ساتھ کئی (دوسرے) بوجھ (بھی اپنے اوپر لادے ہوں گے) اور ان سے روزِ قیامت ان (بہتانوں) کی ضرور پرسش کی جائے گی جو وہ گھڑا کرتے تھے
Tafsir Ibn Kathir
The Arrogant Claim of the Disbelievers that They would carry theSins of Others if They would return to Disbelief
Allah tells us that the disbelievers of Quraysh said to those who believed and followed the truth: leave your religion, come back to our religion, and follow our way;
وَلْنَحْمِلْ خَطَـيَـكُمْ
(and let us bear your sins.) meaning, `if there is any sin on you, we will bear it and it will be our responsibility'. It is like a person saying: "Do this, and your sin will be on my shoulders." Allah says, proving this to be a lie:
وَمَا هُمْ بِحَـمِلِينَ مِنْ خَطَـيَـهُمْ مِّن شَىْءٍ إِنَّهُمْ لَكَـذِبُونَ
(Never will they bear anything of their sins. Surely, they are liars.) in their claim that they will bear the sins of others, for no person will bear the sins of another. Allah says:
وَإِن تَدْعُ مُثْقَلَةٌ إِلَى حِمْلِهَا لاَ يُحْمَلْ مِنْهُ شَىْءٌ وَلَوْ كَانَ ذَا قُرْبَى
(and if one heavily laden calls another to (bear) his load, nothing of it will be lifted even though he be near of kin) (35:18).
وَلاَ يَسْـَلُ حَمِيمٌ حَمِيماً يُبَصَّرُونَهُمْ
(And no friend will ask a friend (about his condition), though they shall be made to see one another) (70:10-11).
وَلَيَحْمِلُنَّ أَثْقَالَهُمْ وَأَثْقَالاً مَّعَ أَثْقَالِهِمْ
(And verily, they shall bear their own loads, and other loads besides their own.) Here Allah tells us that those who call others to disbelief and misguidance will, on the Day of Resurrection, bear their own sins and the sins of others, because of the people they misguided. Yet that will not detract from the burden of those other people in the slightest, as Allah says:
لِيَحْمِلُواْ أَوْزَارَهُمْ كَامِلَةً يَوْمَ الْقِيَـمَةِ وَمِنْ أَوْزَارِ الَّذِينَ يُضِلُّونَهُمْ بِغَيْرِ عِلْمٍ
(That they may bear their own burdens in full on the Day of Resurrection, and also of the burdens of those whom they misled without knowledge) (16:25). In the Sahih, it says:
«مَنْ دَعَا إِلَى هُدًى كَانَ لَهُ مِنَ الْأَجْرِ مِثْلُ أُجُورِ مَنِ اتَّبَعَهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْقُصَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْئًا، وَمَنْ دَعَا إِلَى ضَلَالَةٍ كَانَ عَلَيْهِ مِنَ الْإثْمِ مِثْلُ آثَامِ مَنِ اتَّبَعَهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْقُصَ مِنْ آثَامِهِمْ شَيْئًا»
(Whoever calls others to true guidance, will have a reward like that of those who follow him until the Day of Resurrection, without it detracting from their reward in the slightest. Whoever calls others to misguidance, will have a burden of sin like that of those who follow him until the Day of Resurrection, without it detracting from their burden in the slightest.) In the Sahih, it also says:
«مَا قُتِلَتْ نَفْسٌ ظُلْمًا إِلَّا كَانَ عَلَى ابْنِ آدَمَ الْأَوَّلِ كِفْلٌ مِنْ دَمِهَا، لِأَنَّهُ أَوَّلُ مَنْ سَنَّ الْقَتْل»
(No person is killed unlawfully, but a share of the guilt will be upon the first son of Adam, because he was the first one to initiate the idea of killing another.)
وَلَيُسْـَلُنَّ يَوْمَ الْقِيَـمَةِ عَمَّا كَانُواْ يَفْتَرُونَ
(and verily, they shall be questioned on the Day of Resurrection about that which they used to fabricate.) means, the lies they used to tell and the falsehood they used to fabricate. Ibn Abi Hatim recorded that Abu Umamah, may Allah be pleased with him, said that the Messenger of Allah ﷺ conveyed the Message with which he was sent, then he said:
«إِيَّاكُمْ وَالظُّلْمَ، فَإِنَّ اللهَ يَعْزِمُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيَقُولُ: وَعِزَّتِي وَجَلَالِي لَا يَجوزُنِي الْيَوْمَ ظُلْمٌ، ثُمَّ يُنَادِي مُنَادٍ فَيَقُولُ: أَيْنَ فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ؟ فَيَأْتِي يَتْبَعُهُ مِنَ الْحَسَنَاتِ أَمْثَالَ الْجِبَالِ، فَيَشْخَصُ النَّاسُ إِلَيْهَا أَبْصَارَهُمْ، حَتَّى يَقُومَ بَيْنَ يَدَيِ الرَّحْمنِ عَزَّ وَجَلَّ، ثُمَّ يَأْمُرُ الْمُنَادِيَ فَيُنَادِي: مَنْ كَانَتْ لَهُ تِبَاعَةٌ أَوْ ظَلَامَةٌ عِنْدَ فُلَانِ بْنِ فُلَانٍ فَهَلُمَّ، فَيُقْبِلُونَ حَتَّى يَجْتَمِعُوا قِيَامًا بَيْنَ يَدَيِ الرَّحْمنِ، فَيَقُولُ الرَّحْمنُ: اقْضُوا عَنْ عَبْدِي، فَيَقُولُونَ: كَيْفَ نَقْضِي عَنْهُ؟ فَيَقُولُ: خُذُوا لَهُمْ مِنْ حَسَنَاتِهِ، فَلَا يَزَالُونَ يَأْخُذُونَ مِنْهَا حَتَّى لَا يَبْقَى مِنْهَا حَسَنَةٌ، وَقَدْ بَقِيَ مِنْ أَصْحَابِ الظَّلَامَاتِ، فَيَقُولُ: اقْضُوا عَنْ عَبْدِي، فَيَقُولُونَ: لَمْ يَبْقَ لَهُ حَسَنَةٌ، فَيَقُولُ: خُذُوا مِنْ سَيِّئَاتِهِمْ فَاحْمِلُوهَا عَلَيْه»
(Beware of injustice, for Allah will swear an oath of the Day of Resurrection and will say: "By My glory and majesty, no injustice will be overlooked today." Then a voice will call out, "Where is so-and-so the son of so-and-so" He will be brought forth, followed by his good deeds which appear like mountains while the people are gazing at them in wonder, until he is standing before the Most Merciful. Then the caller will be commanded to say: "Whoever is owed anything by so-and-so the son of so-and-so, or has been wronged by him, let him come forth." So they will come forth and gather before the Most Merciful, then the Most Merciful will say: "Settle the matter for My servant." They will say, "How can we settle the matter" He will say, "Take from his good deeds and give it to them." They will keep taking from his good deeds until there is nothing left, and there will still people with scores to be settled. Allah will say, "Settle the matter for My servant." They will say, "He does not have even one good deed left." Allah will say, "Take from their evil deeds and give them to him.") Then the Prophet quoted this Ayah:
وَلَيَحْمِلُنَّ أَثْقَالَهُمْ وَأَثْقَالاً مَّعَ أَثْقَالِهِمْ وَلَيُسْـَلُنَّ يَوْمَ الْقِيَـمَةِ عَمَّا كَانُواْ يَفْتَرُونَ
(And verily, they shall bear their own loads, and other loads besides their own; and verily, they shall be questioned on the Day of Resurrection about that which they used to fabricate.) There is a corroborating report in the Sahih with a different chain of narration:
«إِنَّ الرَّجُلَ لَيَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِحَسَنَاتٍ أَمْثَالِ الْجِبَالِ وَقَدْ ظَلَمَ هَذَا، وَأَخَذَ مَالَ هَذَا، وَأَخَذَ مِنْ عِرْضِ هَذَا، فَيَأْخُذُ هَذَا مِنْ حَسَنَاتِهِ، وَهَذَا مِنْ حَسَنَاتِهِ، فَإِذَا لَمْ تَبْقَ لَهُ حَسَنَةٌ، أُخِذَ مِنْ سَيِّئَاتِهِمْ فَطُرِحَ عَلَيْه»
(A man will come on the Day of Resurrection with good deeds like mountains, but he had wronged this one, taken the wealth of that one and slandered the honor of another. So each of them will take from his good deeds. And if there is nothing left of his good deeds, it will be taken from their evil and placed on him.)
گناہ کسی کا اور سزا دوسرے کو کفار قریش مسلمانوں کو بہکانے کے لئے ان سے یہ بھی کہتے تھے کہ تم ہمارے مذہب پر عمل کرو اگر اس میں کوئی گناہ ہو تو وہ ہم پر۔ حالانکہ یہ اصولا غلط ہے کہ کسی کا بوجھ کوئی اٹھائے۔ یہ بالکل دروغ گو ہیں۔ کوئی اپنے قرابتداروں کے گناہ بھی اپنے اوپر نہیں لے سکتا۔ دوست دوست کو اس دن نہ پوچھے گا۔ ہاں یہ لوگ اپنے گناہوں کے بوجھ اٹھائیں گے اور جنہیں انہوں نے گمراہ کیا ہے ان کے بوجھ بھی ان پر لادے جائیں گے مگر وہ گمراہ ہلکے نہ ہوں گے۔ ان کا بوجھ ان پر ہے۔ جیسے فرمان ہے آیت (لِيَحْمِلُوْٓا اَوْزَارَهُمْ كَامِلَةً يَّوْمَ الْقِيٰمَةِ 25) 16۔ النحل :25) یعنی یہ اپنے کامل بوجھ اٹھائیں گے اور جنہیں بہکایا تھا ان کے بہکانے کا گناہ بھی ان پر ہوگا۔ صحیح حدیث میں ہے کہ جو ہدایت کی طرف لوگوں کو دعوت دے۔ قیامت تک جو لوگ اس ہدایت پر چلیں گے ان سب کو جتنا ثواب ہوگا اتنا ہی اس ایک کو ہوگا لیکن ان کے ثوابوں میں سے گھٹ کر نہیں۔ اسی طرح جس نے برائی پھیلائی اس پر جو بھی عمل پیراہوں ان سب کو جتنا گناہ ہوگا اتناہی اس ایک کو ہوگا لیکن ان گناہوں میں کوئی کمی نہیں ہوگی۔ حضرت ابو امامہ ؓ سے فرمایا حضور ﷺ نے اللہ کی تمام رسالت پہنچا دی آپ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ ظلم سے بچو کیونکہ قیامت والے دن اللہ تبارک وتعالیٰ فرمائے گا مجھے اپنی عزت کی اور اپنے جلال کی قسم آج ایک ظالم کو بھی میں نہ چھوڑونگا۔ پھر ایک منادیٰ ندا کرے گا کہ فلاں فلاں کہاں ہے ؟ وہ آئے گا اور پہاڑ کے پہاڑ نیکیوں کے اس کے ساتھ ہونگے یہاں تک کہ اہل محشر کی نگاہیں اس کی طرف اٹھنے لگیں گی۔ وہ اللہ کے سامنے آکر کھڑا ہوجائے گا پھر منادیٰ ندا کرے گا کہ اس طرف سے کسی کا کوئی حق ہو اس نے کسی پر ظلم کیا ہو وہ آجائے اور اپنا بدلہ لے لے۔ اب تو ادھر ادھر سے لوگ اٹھ کھڑے ہونگے اور اسے گھیر کر اللہ کے سامنے کھڑے ہوجائیں اللہ تعالیٰ فرمائے گا میرے ان بندوں کو ان کے حق دلواؤ۔ فرشتے کہیں گے اے اللہ کیسے دلوائیں ؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا اس کی نیکیاں لو اور انہیں دو چناچہ یوں ہی کیا جائے گا یہاں تک کہ ایک نیکی باقی نہیں رہے گی اور ابھی تک بعض مظلوم اور حقدار باقی رہ جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا انہیں بھی بدلہ دو فرشتے کہیں گے اب تو اس کے پاس ایک نیکی بھی نہیں رہی۔ اللہ تعالیٰ حکم دے گا ان کے گناہ اس پر لادو۔ پھر حضور ﷺ نے گھبرا کر اس آیت کی تلاوت فرمائی (وَلَيَحْمِلُنَّ اَثْــقَالَهُمْ وَاَثْــقَالًا مَّعَ اَثْقَالِهِمْ 13ۧ) 29۔ العنکبوت :13) ابن ابی حاتم میں ہے حضور ﷺ نے فرمایا اے معاذ ! (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) قیامت کے دن مومن کی تمام کوششوں سے سوال کیا جائے گا یہاں تک کہ اس کی آنکھوں کے سرمے اور اس کے مٹی کے گوندھے سے بھی۔ دیکھ ایسا نہ ہو کہ قیامت کے دن کوئی اور تیری نیکیاں لے جائے۔
14
View Single
وَلَقَدۡ أَرۡسَلۡنَا نُوحًا إِلَىٰ قَوۡمِهِۦ فَلَبِثَ فِيهِمۡ أَلۡفَ سَنَةٍ إِلَّا خَمۡسِينَ عَامٗا فَأَخَذَهُمُ ٱلطُّوفَانُ وَهُمۡ ظَٰلِمُونَ
And indeed We sent Nooh to his people – he therefore stayed with them for a thousand years, less fifty; so the flood seized them, and they were unjust.
اور بیشک ہم نے نوح (علیہ السلام) کو ان کی قوم کی طرف بھیجا تو وہ ان میں پچاس برس کم ایک ہزار سال رہے، پھر ان لوگوں کو طوفان نے آپکڑا اس حال میں کہ وہ ظالم تھے
Tafsir Ibn Kathir
Nuh and His People
Here Allah consoles His servant and Messenger Muhammad ﷺ by telling him that Nuh, peace be upon him, stayed among his people for this long period of time, calling them night and day, in secret and openly, but in spite of all that they still persisted in their aversion to the truth, turning away from it and disbelieving in him. Only a few of them believed with him. Allah says:
فَلَبِثَ فِيهِمْ أَلْفَ سَنَةٍ إِلاَّ خَمْسِينَ عَاماً فَأَخَذَهُمُ الطُّوفَانُ وَهُمْ ظَـلِمُونَ
(and he stayed among them a thousand years less fifty years; and the Deluge overtook them while they were wrongdoers.) meaning, `after this long period of time, when the Message and the warning had been of no avail, so, O Muhammad, do not feel sorry because of those among your people who disbelieve in you, and do not grieve for them, for Allah guides whomsoever He wills and leaves astray whomsoever He wills. The matter rests with Him and all things will return to Him.'
إِنَّ الَّذِينَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَةُ رَبِّكَ لاَ يُؤْمِنُونَ وَلَوْ جَآءَتْهُمْ كُلُّ ءايَةٍ
(Truly, those, against whom the Word of your Lord has been justified, will not believe. Even if every sign should come to them) (10:96-97). Know that Allah will help you and support you and cause you to prevail, and He will defeat and humiliate your enemies, and make them the lowest of the low. It was recorded that Ibn `Abbas said: "Nuh received his mission when he was forty years old, and he stayed among his people for a thousand years less fifty; after the Flood he lived for sixty years until people had increased and spread."
فأَنْجَيْنـهُ وأَصْحَـبَ السَّفِينَةِ
(Then We saved him and the Companions of the Boat,) means, those who believed in Nuh, peace be upon him. We have already discussed this in detail in Surah Hud, and there is no need to repeat it here.
وَجَعَلْنَـهَآ ءَايَةً لِّلْعَـلَمِينَ
(and made it (the ship) an Ayah for all people.) means, `We caused that ship to remain,' whether in itself, as Qatadah said, that it remained until the beginning of Islam, on Mount Judi, or whether the concept of sailing in ships was left as a reminder to mankind of how Allah had saved them from the Flood. This is like the Ayat: s
وَءَايَةٌ لَّهُمْ أَنَّا حَمَلْنَا ذُرِّيَّتَهُمْ فِى الْفُلْكِ الْمَشْحُونِ - وَخَلَقْنَا لَهُمْ مِّن مِّثْلِهِ مَا يَرْكَبُونَ
(And an Ayah for them is that We bore their offspring in the laden ship. And We have created for them of the like thereunto, on which they ride) until:
وَمَتَاعاً إِلَى حِينٍ
(and as an enjoyment for a while) 36:41-44.
إِنَّا لَمَّا طَغَا الْمَآءُ حَمَلْنَـكُمْ فِى الْجَارِيَةِ - لِنَجْعَلَهَا لَكُمْ تَذْكِرَةً وَتَعِيَهَآ أُذُنٌ وَعِيَةٌ
(Verily, when the water rose beyond its limits, We carried you in the ship. That We might make it an admonition for you and that it might be retained by the retaining ears.) (69:11-12) And Allah says here:
فأَنْجَيْنـهُ وأَصْحَـبَ السَّفِينَةِ وَجَعَلْنَـهَآ ءَايَةً لِّلْعَـلَمِينَ
(Then We saved him and the Companions of the Boat, and made it an Ayah for all people.) This is a shift from referring to one specific ship to speaking about ships in general. A similar shift from specific to general is to be seen in the Ayat:
وَلَقَدْ زَيَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنْيَا بِمَصَـبِيحَ وَجَعَلْنَـهَا رُجُوماً لِّلشَّيَـطِينِ
(And indeed We have adorned the nearest heaven with lamps, and We have made such lamps missiles to drive away the Shayatin (devils)) (67:5). meaning, `We have made these lamps missiles, but the lamps which are used as missiles are not the same lamps as are used to adorn the heaven.' And Allah says:
وَلَقَدْ خَلَقْنَا الإِنْسَـنَ مِن سُلَـلَةٍ مِّن طِينٍ - ثُمَّ جَعَلْنَـهُ نُطْفَةً فِى قَرَارٍ مَّكِينٍ
(And indeed We created man out of an extract of clay. Thereafter We made him a Nutfah in a safe lodging.) (23:12-13). There are many other similar examples.
نبی اکرم ﷺ کی حوصلہ افزائی اس میں آنحضرت ﷺ کی تسلی ہے۔ آپ کو خبر دی جاتی ہے کہ نوح ؑ اتنی لمبی مدت تک اپنی قوم کو اللہ کی طرف بلاتے رہے۔ دن رات پوشیدہ اور ظاہر ہر طرح آپ نے انہیں اللہ کی دین کی طرف دعوت دی۔ لیکن وہ اپنی سرکشی اور گمراہی میں بڑھتے گئے۔ بہت ہی کم لوگ آپ پر ایمان لائے آخرکار اللہ کا غضب ان پر بصورت طوفان آیا اور انہیں تہس نہس کردیا تو اے پیغمبر آخرالزمان آپ اپنی قوم کی اس تکذیب کو نیا خیال نہ کریں۔ آپ اپنے دل کو رنجیدہ نہ کریں ہدایت و ضلالت اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ جن لوگوں کا جہنم میں جانا طے ہوچکا ہے انہیں تو کوئی بھی ہدایت نہیں دے سکتا۔ تمام نشانیاں گو دیکھ لیں لیکن انہیں ایمان نصیب نہیں ہونے کا بالآخر جیسے نوح ؑ کو نجات ملی اور قوم ڈوب گئی اسی طرح آخر میں غلبہ آپ کا ہے اور آپ کے مخالفین پست ہوں گے۔ ابن عباس ؓ کا بیان ہے کہ چالیس سال کی عمر میں نوح ؑ کو نبوت ملی اور نبوت کے بعد ساڑھے نو سو سال تک آپ نے اپنی قوم کو تبلیغ کی۔ طوفان کی عالمگیر ہلاکت کے بعد بھی نوح ؑ ساٹھ سال تک زندہ رہے یہاں تک کہ بنو آدم کی نسل پھیل گئی اور دنیا میں یہ بہ بکثرت نظر آنے لگے۔ قتادہ فرماتے ہیں نوح ؑ کی عمر کل ساڑھے نو سو سال کی تھی تین سو سال تو آپ کے بےدعوت ان میں گذرے تین سو سال تک اللہ کی طرف اپنی قوم کو بلایا اور ساڑے تین سو سال بعد طوفان کے زندہ رہے لیکن یہ قول غریب ہے اور آیت کے ظاہر الفاظ سے تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ آپ ساڑھے نو سو سال تک اپنی قوم کو اللہ کی وحدانیت کی طرف بلاتے رہے۔ عون بن ابی شداد کہتے ہیں کہ جب آپ کی عمر ساڑھے تین سو سال کی تھی اس وقت اللہ کی وحی آپ کو آئی اس کے بعد ساڑھے نو سو سال تک آپ لوگوں کو اللہ کی طرف بلاتے رہے اس کے بعد پھر ساڑھے تین سو سال کی عمر اور پائی۔ لیکن یہ بھی غریب قول ہے۔ زیادہ درست قول ابن عباس کا قول نظر آتا ہے واللہ اعلم۔ ابن عمر نے مجاہد سے پوچھا کہ نوح ؑ اپنی قوم میں کتنی مدت تک رہے ؟ انہوں نے کہا ساڑھے نو سو سال۔ آپ نے فرمایا کہ اس کے بعد سے لوگوں کے اخلاق ان کی عمریں اور عقلیں آج تک گھٹتی ہی چلی آئیں۔ جب قوم نوح پر اللہ کا غضب نازل ہوا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل وکرم سے اپنے نبی کو اور ایمان والوں کو جو آپ کے حکم سے طوفان سے پہلے کشتی میں سوار ہوچکے تھے بچالیا۔ سورة ہود میں اس کی تفصیل گزرچکی ہے اس لئے یہاں دوبارہ وارد نہیں کرتے۔ ہم نے اس کشتی کو دنیا کے لئے نشان بنادیا یا تو خود اس کشتی کو جیسے حضرت قتادۃ کا قول ہے کہ اول اسلام تک وہ جودی پہاڑ پر تھی۔ یا یہ کہ کشتی کو دیکھ کر پھر پانی کے سفر کے لئے جو کشتیاں لوگوں نے بنائیں ان کو انہیں دیکھ کر اللہ کا وہ بچانا یاد آجاتا ہے۔ جیسے فرمان ہے آیت (وَاٰيَةٌ لَّهُمْ اَنَّا حَمَلْنَا ذُرِّيَّــتَهُمْ فِي الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِ 41ۙ) 36۔ يس :41) ہماری قدرت کی نشانی ان کے لئے یہ بھی ہے کہ ہم نے ان کی نسل کو بھری ہوئی کشتی میں بٹھا دیا۔ اور ہم نے ان کے لئے اور اسی جیسی سواریاں بنادیں۔ سورة الحاقہ میں فرمایا جب پانی کا طوفان آیا تو ہم نے تمہیں کشتی میں بٹھالیا۔ اور ان کا ذکر تمہارے لئے یادگار بنادیا تاکہ جن کانوں کو اللہ نے یاد کی طاقت دی ہے وہ یاد رکھ لیں۔ یہاں شخص سے جنس کی طرف چڑھاؤ کیا ہے۔ جیسے آیت (وَلَقَدْ زَيَّنَّا السَّمَاۗءَ الدُّنْيَا بِمَصَابِيْحَ وَجَعَلْنٰهَا رُجُوْمًا لِّلشَّـيٰطِيْنِ وَاَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَاب السَّعِيْرِ) 67۔ الملک :5) والی آیت میں ہے کہ آسمان دنیا کے ستاروں دنیا کے ستاروں کا باعث زینت آسمان ہونا بیان فرما کر ان کی وضاحت میں شہاب کا شیطانوں کے لئے رجم ہونا بیان فرمایا ہے۔ اور آیت میں انسان کے مٹی سے پیدا ہونے کا ذکر کرکے فرمایا ہے پھر ہم نے اسے نطفے کی شکل میں قرار گاہ میں کردیا۔ ہاں یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آیت میں ھا کی ضمیر کا مرجع عقوبت اور سزا کو کیا جائے واللہ اعلم (یہاں یہ خیال رہے کہ تفسیر ابن کثیر کے بعض نسخوں میں شروع تفسیر میں کچھ عبارت زیادہ ہے جو بعض نسخوں میں نہیں ہے۔ وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح ؑ کا ساڑھے نو سو سال تک آزمایا جانا بیان کیا اور ان کے قول کو ان کی اطاعت کے ساتھ آزمانا بتلایا کہ ان کی تکذیب کی وجہ سے اللہ نے انہیں غرق کردیا۔ پھر اس کے بعد جلادیا۔ پھر قوم ابراہیم ؑ کی آزمائش کا ذکر کیا کہ انہوں نے بھی اطاعت و متابعت نہ کی پھر لوط ؑ کی آزمائش کا ذکر کیا اور ان کی قوم کا حشر بیان فرمایا۔ پھر حضرت شعیب ؑ کی قوم کے واقعات سامنے رکھے پھر عادیوں، ثمودیوں، قارونیوں، فرعونیوں، ہامانیوں وغیرہ کا ذکر کیا کہ اللہ پر ایمان لانے اور اس کی توحید کو نہ ماننے کی وجہ سے انہیں بھی طرح طرح کی سزائیں دی گئیں۔ پھر اپنے پیغمبر اعظم المرسلین ﷺ مشرکین اور منافقین سے تکالیف سہنے کا ذکر کیا اور آپ کو حکم دیا کہ اہل کتاب سے بہترین طریق پر مناظرہ کریں)
15
View Single
فَأَنجَيۡنَٰهُ وَأَصۡحَٰبَ ٱلسَّفِينَةِ وَجَعَلۡنَٰهَآ ءَايَةٗ لِّلۡعَٰلَمِينَ
And We rescued him and the people aboard the ship, and made the ship a sign for the entire world.
پھر ہم نے نوح (علیہ السلام) کو اور (ان کے ہمراہ) کشتی والوں کو نجات بخشی اور ہم نے اس (کشتی اور واقعہ) کو تمام جہان والوں کے لئے نشانی بنا دیا
Tafsir Ibn Kathir
Nuh and His People
Here Allah consoles His servant and Messenger Muhammad ﷺ by telling him that Nuh, peace be upon him, stayed among his people for this long period of time, calling them night and day, in secret and openly, but in spite of all that they still persisted in their aversion to the truth, turning away from it and disbelieving in him. Only a few of them believed with him. Allah says:
فَلَبِثَ فِيهِمْ أَلْفَ سَنَةٍ إِلاَّ خَمْسِينَ عَاماً فَأَخَذَهُمُ الطُّوفَانُ وَهُمْ ظَـلِمُونَ
(and he stayed among them a thousand years less fifty years; and the Deluge overtook them while they were wrongdoers.) meaning, `after this long period of time, when the Message and the warning had been of no avail, so, O Muhammad, do not feel sorry because of those among your people who disbelieve in you, and do not grieve for them, for Allah guides whomsoever He wills and leaves astray whomsoever He wills. The matter rests with Him and all things will return to Him.'
إِنَّ الَّذِينَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَةُ رَبِّكَ لاَ يُؤْمِنُونَ وَلَوْ جَآءَتْهُمْ كُلُّ ءايَةٍ
(Truly, those, against whom the Word of your Lord has been justified, will not believe. Even if every sign should come to them) (10:96-97). Know that Allah will help you and support you and cause you to prevail, and He will defeat and humiliate your enemies, and make them the lowest of the low. It was recorded that Ibn `Abbas said: "Nuh received his mission when he was forty years old, and he stayed among his people for a thousand years less fifty; after the Flood he lived for sixty years until people had increased and spread."
فأَنْجَيْنـهُ وأَصْحَـبَ السَّفِينَةِ
(Then We saved him and the Companions of the Boat,) means, those who believed in Nuh, peace be upon him. We have already discussed this in detail in Surah Hud, and there is no need to repeat it here.
وَجَعَلْنَـهَآ ءَايَةً لِّلْعَـلَمِينَ
(and made it (the ship) an Ayah for all people.) means, `We caused that ship to remain,' whether in itself, as Qatadah said, that it remained until the beginning of Islam, on Mount Judi, or whether the concept of sailing in ships was left as a reminder to mankind of how Allah had saved them from the Flood. This is like the Ayat: s
وَءَايَةٌ لَّهُمْ أَنَّا حَمَلْنَا ذُرِّيَّتَهُمْ فِى الْفُلْكِ الْمَشْحُونِ - وَخَلَقْنَا لَهُمْ مِّن مِّثْلِهِ مَا يَرْكَبُونَ
(And an Ayah for them is that We bore their offspring in the laden ship. And We have created for them of the like thereunto, on which they ride) until:
وَمَتَاعاً إِلَى حِينٍ
(and as an enjoyment for a while) 36:41-44.
إِنَّا لَمَّا طَغَا الْمَآءُ حَمَلْنَـكُمْ فِى الْجَارِيَةِ - لِنَجْعَلَهَا لَكُمْ تَذْكِرَةً وَتَعِيَهَآ أُذُنٌ وَعِيَةٌ
(Verily, when the water rose beyond its limits, We carried you in the ship. That We might make it an admonition for you and that it might be retained by the retaining ears.) (69:11-12) And Allah says here:
فأَنْجَيْنـهُ وأَصْحَـبَ السَّفِينَةِ وَجَعَلْنَـهَآ ءَايَةً لِّلْعَـلَمِينَ
(Then We saved him and the Companions of the Boat, and made it an Ayah for all people.) This is a shift from referring to one specific ship to speaking about ships in general. A similar shift from specific to general is to be seen in the Ayat:
وَلَقَدْ زَيَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنْيَا بِمَصَـبِيحَ وَجَعَلْنَـهَا رُجُوماً لِّلشَّيَـطِينِ
(And indeed We have adorned the nearest heaven with lamps, and We have made such lamps missiles to drive away the Shayatin (devils)) (67:5). meaning, `We have made these lamps missiles, but the lamps which are used as missiles are not the same lamps as are used to adorn the heaven.' And Allah says:
وَلَقَدْ خَلَقْنَا الإِنْسَـنَ مِن سُلَـلَةٍ مِّن طِينٍ - ثُمَّ جَعَلْنَـهُ نُطْفَةً فِى قَرَارٍ مَّكِينٍ
(And indeed We created man out of an extract of clay. Thereafter We made him a Nutfah in a safe lodging.) (23:12-13). There are many other similar examples.
نبی اکرم ﷺ کی حوصلہ افزائی اس میں آنحضرت ﷺ کی تسلی ہے۔ آپ کو خبر دی جاتی ہے کہ نوح ؑ اتنی لمبی مدت تک اپنی قوم کو اللہ کی طرف بلاتے رہے۔ دن رات پوشیدہ اور ظاہر ہر طرح آپ نے انہیں اللہ کی دین کی طرف دعوت دی۔ لیکن وہ اپنی سرکشی اور گمراہی میں بڑھتے گئے۔ بہت ہی کم لوگ آپ پر ایمان لائے آخرکار اللہ کا غضب ان پر بصورت طوفان آیا اور انہیں تہس نہس کردیا تو اے پیغمبر آخرالزمان آپ اپنی قوم کی اس تکذیب کو نیا خیال نہ کریں۔ آپ اپنے دل کو رنجیدہ نہ کریں ہدایت و ضلالت اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ جن لوگوں کا جہنم میں جانا طے ہوچکا ہے انہیں تو کوئی بھی ہدایت نہیں دے سکتا۔ تمام نشانیاں گو دیکھ لیں لیکن انہیں ایمان نصیب نہیں ہونے کا بالآخر جیسے نوح ؑ کو نجات ملی اور قوم ڈوب گئی اسی طرح آخر میں غلبہ آپ کا ہے اور آپ کے مخالفین پست ہوں گے۔ ابن عباس ؓ کا بیان ہے کہ چالیس سال کی عمر میں نوح ؑ کو نبوت ملی اور نبوت کے بعد ساڑھے نو سو سال تک آپ نے اپنی قوم کو تبلیغ کی۔ طوفان کی عالمگیر ہلاکت کے بعد بھی نوح ؑ ساٹھ سال تک زندہ رہے یہاں تک کہ بنو آدم کی نسل پھیل گئی اور دنیا میں یہ بہ بکثرت نظر آنے لگے۔ قتادہ فرماتے ہیں نوح ؑ کی عمر کل ساڑھے نو سو سال کی تھی تین سو سال تو آپ کے بےدعوت ان میں گذرے تین سو سال تک اللہ کی طرف اپنی قوم کو بلایا اور ساڑے تین سو سال بعد طوفان کے زندہ رہے لیکن یہ قول غریب ہے اور آیت کے ظاہر الفاظ سے تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ آپ ساڑھے نو سو سال تک اپنی قوم کو اللہ کی وحدانیت کی طرف بلاتے رہے۔ عون بن ابی شداد کہتے ہیں کہ جب آپ کی عمر ساڑھے تین سو سال کی تھی اس وقت اللہ کی وحی آپ کو آئی اس کے بعد ساڑھے نو سو سال تک آپ لوگوں کو اللہ کی طرف بلاتے رہے اس کے بعد پھر ساڑھے تین سو سال کی عمر اور پائی۔ لیکن یہ بھی غریب قول ہے۔ زیادہ درست قول ابن عباس کا قول نظر آتا ہے واللہ اعلم۔ ابن عمر نے مجاہد سے پوچھا کہ نوح ؑ اپنی قوم میں کتنی مدت تک رہے ؟ انہوں نے کہا ساڑھے نو سو سال۔ آپ نے فرمایا کہ اس کے بعد سے لوگوں کے اخلاق ان کی عمریں اور عقلیں آج تک گھٹتی ہی چلی آئیں۔ جب قوم نوح پر اللہ کا غضب نازل ہوا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل وکرم سے اپنے نبی کو اور ایمان والوں کو جو آپ کے حکم سے طوفان سے پہلے کشتی میں سوار ہوچکے تھے بچالیا۔ سورة ہود میں اس کی تفصیل گزرچکی ہے اس لئے یہاں دوبارہ وارد نہیں کرتے۔ ہم نے اس کشتی کو دنیا کے لئے نشان بنادیا یا تو خود اس کشتی کو جیسے حضرت قتادۃ کا قول ہے کہ اول اسلام تک وہ جودی پہاڑ پر تھی۔ یا یہ کہ کشتی کو دیکھ کر پھر پانی کے سفر کے لئے جو کشتیاں لوگوں نے بنائیں ان کو انہیں دیکھ کر اللہ کا وہ بچانا یاد آجاتا ہے۔ جیسے فرمان ہے آیت (وَاٰيَةٌ لَّهُمْ اَنَّا حَمَلْنَا ذُرِّيَّــتَهُمْ فِي الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِ 41ۙ) 36۔ يس :41) ہماری قدرت کی نشانی ان کے لئے یہ بھی ہے کہ ہم نے ان کی نسل کو بھری ہوئی کشتی میں بٹھا دیا۔ اور ہم نے ان کے لئے اور اسی جیسی سواریاں بنادیں۔ سورة الحاقہ میں فرمایا جب پانی کا طوفان آیا تو ہم نے تمہیں کشتی میں بٹھالیا۔ اور ان کا ذکر تمہارے لئے یادگار بنادیا تاکہ جن کانوں کو اللہ نے یاد کی طاقت دی ہے وہ یاد رکھ لیں۔ یہاں شخص سے جنس کی طرف چڑھاؤ کیا ہے۔ جیسے آیت (وَلَقَدْ زَيَّنَّا السَّمَاۗءَ الدُّنْيَا بِمَصَابِيْحَ وَجَعَلْنٰهَا رُجُوْمًا لِّلشَّـيٰطِيْنِ وَاَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَاب السَّعِيْرِ) 67۔ الملک :5) والی آیت میں ہے کہ آسمان دنیا کے ستاروں دنیا کے ستاروں کا باعث زینت آسمان ہونا بیان فرما کر ان کی وضاحت میں شہاب کا شیطانوں کے لئے رجم ہونا بیان فرمایا ہے۔ اور آیت میں انسان کے مٹی سے پیدا ہونے کا ذکر کرکے فرمایا ہے پھر ہم نے اسے نطفے کی شکل میں قرار گاہ میں کردیا۔ ہاں یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آیت میں ھا کی ضمیر کا مرجع عقوبت اور سزا کو کیا جائے واللہ اعلم (یہاں یہ خیال رہے کہ تفسیر ابن کثیر کے بعض نسخوں میں شروع تفسیر میں کچھ عبارت زیادہ ہے جو بعض نسخوں میں نہیں ہے۔ وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح ؑ کا ساڑھے نو سو سال تک آزمایا جانا بیان کیا اور ان کے قول کو ان کی اطاعت کے ساتھ آزمانا بتلایا کہ ان کی تکذیب کی وجہ سے اللہ نے انہیں غرق کردیا۔ پھر اس کے بعد جلادیا۔ پھر قوم ابراہیم ؑ کی آزمائش کا ذکر کیا کہ انہوں نے بھی اطاعت و متابعت نہ کی پھر لوط ؑ کی آزمائش کا ذکر کیا اور ان کی قوم کا حشر بیان فرمایا۔ پھر حضرت شعیب ؑ کی قوم کے واقعات سامنے رکھے پھر عادیوں، ثمودیوں، قارونیوں، فرعونیوں، ہامانیوں وغیرہ کا ذکر کیا کہ اللہ پر ایمان لانے اور اس کی توحید کو نہ ماننے کی وجہ سے انہیں بھی طرح طرح کی سزائیں دی گئیں۔ پھر اپنے پیغمبر اعظم المرسلین ﷺ مشرکین اور منافقین سے تکالیف سہنے کا ذکر کیا اور آپ کو حکم دیا کہ اہل کتاب سے بہترین طریق پر مناظرہ کریں)
16
View Single
وَإِبۡرَٰهِيمَ إِذۡ قَالَ لِقَوۡمِهِ ٱعۡبُدُواْ ٱللَّهَ وَٱتَّقُوهُۖ ذَٰلِكُمۡ خَيۡرٞ لَّكُمۡ إِن كُنتُمۡ تَعۡلَمُونَ
And (remember) Ibrahim – when he said to his people, “Worship Allah and fear Him; that is better for you, if you knew!”
اور ابراہیم (علیہ السلام) کو (یاد کریں) جب انہوں نے اپنی قوم سے فرمایا کہ تم اللہ کی عبادت کرو اور اس سے ڈرو، یہی تمہارے حق میں بہتر ہے اگر تم (حقیقت کو) جانتے ہو
Tafsir Ibn Kathir
Ibrahim's preaching to His People
Allah tells us how His servant, Messenger and close friend Ibrahim, the Imam of the monotheists, called his people to worship Allah alone, with no partner or associate, to fear Him alone, to seek provision from Him alone, with no partner or associate, to give thanks to Him alone, for He is the One to Whom thanks should be given for the blessings which none can bestow but He. Ibrahim said to his people:
اعْبُدُواْ اللَّهَ وَاتَّقُوهُ
(Worship Allah, and have Taqwa of Him,) meaning worship Him and fear Him Alone, with all sincerity.
ذَلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ
(that is better for you if you know.) if you do that you will attain good in this world and the next, and you will prevent evil from yourselves in this world and the Hereafter. Then Allah states that the idols which they worshipped were not able to do any harm or any good, and tells them, "You made up names for them and called them gods, but they are created beings just like you." This interpretation was reported by Al-`Awfi from Ibn `Abbas. It was also the view of Mujahid and As-Suddi. Al-Walibi reported from Ibn `Abbas: "You invent falsehood, means, you carve idols," which do not have the power to provide for you.
فَابْتَغُواْ عِندَ اللَّهِ الرِّزْقَ
(so seek from Allah your provision,) This emphasizes the idea of asking Allah Alone. This is like the Ayat:
إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ
(You (Alone) we worship, and You (Alone) we ask for help.) (1:5) And His saying:
رَبِّ ابْنِ لِى عِندَكَ بَيْتاً فِى الْجَنَّةِ
(My Lord! Build for me, with You, a home in Paradise) (66:11). Allah says here:
فَابْتَغُواْ
(so seek) meaning, ask for
عِندَ اللَّهِ الرِّزْقَ
(from Allah your provision,) meaning, do not seek it from anyone or anything other than Him, for no one else possesses the power to do anything.
وَاعْبُدُوهُ وَاشْكُرُواْ لَهُ
(and worship Him, and be grateful to Him.) Eat from what He has provided and worship Him Alone, and give thanks to Him for the blessings He has given you.
إِلَيْهِ تُرْجَعُونَ
(To Him you will be brought back.) means, on the Day of Resurrection, when He will reward or punish each person according to his deeds. His saying:
وَإِن تُكَذِّبُواْ فَقَدْ كَذَّبَ أُمَمٌ مِّن قَبْلِكُمْ
(And if you deny, then nations before you have denied.) means, `you have heard what happened to them by way of punishment for opposing the Messengers.'
وَمَا عَلَى الرَّسُولِ إِلاَّ الْبَلَـغُ الْمُبِينُ
(And the duty of the Messenger is only to convey plainly.) All the Messengers have to do is to convey the Message as Allah has commanded them. Allah guides whoever He wills and leaves astray whoever He wills, so strive to be among the blessed. Qatadah said concerning the Ayah:
وَإِن تُكَذِّبُواْ فَقَدْ كَذَّبَ أُمَمٌ مِّن قَبْلِكُمْ
(And if you deny, then nations before you have denied.) "These are words of consolation to His Prophet, peace be upon him." This suggestion by Qatadah implies that the narrative (about Ibrahim) is interrupted here, and resumes with the words "And nothing was the answer of (Ibrahim's) people..." in Ayah 24. This was also stated by Ibn Jarir. From the context it appears that Ibrahim, peace be upon him, said all of what is in this section. Here he establishes proof against them that the Resurrection will indeed come to pass, because at the end of this passage it says:
فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهِ
("And nothing was the answer of his people...")(29:24) And Allah knows best.
ریاکاری سے بچو امام الموحدین ابو المرسلین خلیل اللہ علیہ الصلوات اللہ کا بیان ہو رہا ہے کہ انہوں نے اپنی قوم کو توحید اللہ کی دعوت دی ریاکاری سے بچنے اور دل میں پرہیزگاری قائم کرنے کا حکم دیا اس کی نعمتوں پر شکرگزاری کرنے کو فرمایا۔ اور اس کا نفع بھی بتایا کہ دنیا اور آخرت کی برائیاں اس سے دور ہوجائیں گی اور دونوں جہان کی نعمتیں اس سے مل جائیں گی۔ ساتھ ہی انہیں بتایا کہ جن بتوں کی تم پرستش کررہے ہو۔ یہ تو بےضرر اور بےنفع ہے تم نے خود ہی ان کے نام اور ان کے اجسام تراش لئے ہیں۔ وہ تو تمہاری طرح مخلوق ہیں بلکہ تم سے بھی کمزور ہیں۔ یہ تمہاری روزیوں کے بھی مختار نہیں۔ اللہ ہی سے روزیاں طلب کرو۔ اسی حصہ کے ساتھ آیت (ایاک نعبد وایاک نستعین) بھی ہے کہ ہم سب تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ سے ہی مدد چاہتے ہیں۔ یہی حضرت آسیہ ؓ کی دعا میں ہے آیت (رَبِّ ابْنِ لِيْ عِنْدَكَ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ وَنَجِّــنِيْ مِنْ فِرْعَوْنَ وَعَمَلِهٖ وَنَجِّــنِيْ مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِيْنَ 11 ۙ) 66۔ التحریم :11) اے اللہ میرے لئے اپنے پاس ہی جنت میں مکان بنا۔ چونکہ اس کے سوا کوئی رزق نہیں دے سکتا اس لئے تم اسی سے روزیاں طلب کرو اور جب اس کی روزیاں کھاؤ تو اس کے سوا دوسرے کی عبادت نہ کرو۔ اس کی نعمتوں کا شکر بجالاؤ تم میں سے ہر ایک اسی کی طرف لوٹنے والا ہے۔ وہ ہر عامل کو اسکے عمل کا بدلہ دے گا۔ دیکھو مجھے جھوٹا کہہ کر خوش نہ ہو نظریں ڈالو کہ تم سے پہلے جنہوں نے نبیوں کو جھوٹ کی طرف منسوب کیا تھا ان کی کیسی درگت ہوئی ؟ یاد رکھنا نبیوں کا کام صرف پیغام پہنچا دینا ہے۔ ہدایت عدم ہدایت اللہ کے ہاتھ ہے۔ اپنے آپ کو سعات مندوں میں بناؤ بدبختوں میں شامل نہ کرو۔ حضرت قتادہ تو فرماتے ہیں اس میں آنحضرت ﷺ کی مزید تشفی کی گئی ہے اس مطلب کا تقاضا تو یہ ہے کہ پہلاکام ختم ہوا۔ اور یہاں سے لے کر آیت (فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهٖٓ اِلَّا اَنْ قَالُوا اقْتُلُوْهُ اَوْ حَرِّقُوْهُ فَاَنْجٰىهُ اللّٰهُ مِنَ النَّارِ ۭ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوْمٍ يُّؤْمِنُوْنَ 24) 29۔ العنکبوت :24) تک یہ سب عبارت بطور جملہ معترضہ کے ہے۔ ابن جریر نے تو کھلے لفظوں میں یہی کہا ہے۔ لیکن الفاظ قرآن سے تو بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ یہ سب کلام حضرت خلیل اللہ ؑ کا ہے آپ قیامت کے قائم ہونے کی دلیلیں پیش کررہے ہیں کیونکہ اس تمام کلام کے بعد آپ کی قوم کا جواب ذکر ہوا ہے۔
17
View Single
إِنَّمَا تَعۡبُدُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ أَوۡثَٰنٗا وَتَخۡلُقُونَ إِفۡكًاۚ إِنَّ ٱلَّذِينَ تَعۡبُدُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ لَا يَمۡلِكُونَ لَكُمۡ رِزۡقٗا فَٱبۡتَغُواْ عِندَ ٱللَّهِ ٱلرِّزۡقَ وَٱعۡبُدُوهُ وَٱشۡكُرُواْ لَهُۥٓۖ إِلَيۡهِ تُرۡجَعُونَ
“You worship only idols instead of Allah, and only forge a clear lie; indeed those whom you worship instead of Allah do not control your sustenance – therefore seek your sustenance from Allah, and worship Him, and be grateful to Him; it is towards Him that you will be returned.”
تم تو اللہ کے سوا بتوں کی پوجا کرتے ہو اور محض جھوٹ گھڑتے ہو، بیشک تم اللہ کے سوا جن کی پوجا کرتے ہو وہ تمہارے لئے رزق کے مالک نہیں ہیں پس تم اللہ کی بارگاہ سے رزق طلب کیا کرو اور اسی کی عبادت کیا کرو اور اسی کا شکر بجا لایا کرو، تم اسی کی طرف پلٹائے جاؤ گے
Tafsir Ibn Kathir
Ibrahim's preaching to His People
Allah tells us how His servant, Messenger and close friend Ibrahim, the Imam of the monotheists, called his people to worship Allah alone, with no partner or associate, to fear Him alone, to seek provision from Him alone, with no partner or associate, to give thanks to Him alone, for He is the One to Whom thanks should be given for the blessings which none can bestow but He. Ibrahim said to his people:
اعْبُدُواْ اللَّهَ وَاتَّقُوهُ
(Worship Allah, and have Taqwa of Him,) meaning worship Him and fear Him Alone, with all sincerity.
ذَلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ
(that is better for you if you know.) if you do that you will attain good in this world and the next, and you will prevent evil from yourselves in this world and the Hereafter. Then Allah states that the idols which they worshipped were not able to do any harm or any good, and tells them, "You made up names for them and called them gods, but they are created beings just like you." This interpretation was reported by Al-`Awfi from Ibn `Abbas. It was also the view of Mujahid and As-Suddi. Al-Walibi reported from Ibn `Abbas: "You invent falsehood, means, you carve idols," which do not have the power to provide for you.
فَابْتَغُواْ عِندَ اللَّهِ الرِّزْقَ
(so seek from Allah your provision,) This emphasizes the idea of asking Allah Alone. This is like the Ayat:
إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ
(You (Alone) we worship, and You (Alone) we ask for help.) (1:5) And His saying:
رَبِّ ابْنِ لِى عِندَكَ بَيْتاً فِى الْجَنَّةِ
(My Lord! Build for me, with You, a home in Paradise) (66:11). Allah says here:
فَابْتَغُواْ
(so seek) meaning, ask for
عِندَ اللَّهِ الرِّزْقَ
(from Allah your provision,) meaning, do not seek it from anyone or anything other than Him, for no one else possesses the power to do anything.
وَاعْبُدُوهُ وَاشْكُرُواْ لَهُ
(and worship Him, and be grateful to Him.) Eat from what He has provided and worship Him Alone, and give thanks to Him for the blessings He has given you.
إِلَيْهِ تُرْجَعُونَ
(To Him you will be brought back.) means, on the Day of Resurrection, when He will reward or punish each person according to his deeds. His saying:
وَإِن تُكَذِّبُواْ فَقَدْ كَذَّبَ أُمَمٌ مِّن قَبْلِكُمْ
(And if you deny, then nations before you have denied.) means, `you have heard what happened to them by way of punishment for opposing the Messengers.'
وَمَا عَلَى الرَّسُولِ إِلاَّ الْبَلَـغُ الْمُبِينُ
(And the duty of the Messenger is only to convey plainly.) All the Messengers have to do is to convey the Message as Allah has commanded them. Allah guides whoever He wills and leaves astray whoever He wills, so strive to be among the blessed. Qatadah said concerning the Ayah:
وَإِن تُكَذِّبُواْ فَقَدْ كَذَّبَ أُمَمٌ مِّن قَبْلِكُمْ
(And if you deny, then nations before you have denied.) "These are words of consolation to His Prophet, peace be upon him." This suggestion by Qatadah implies that the narrative (about Ibrahim) is interrupted here, and resumes with the words "And nothing was the answer of (Ibrahim's) people..." in Ayah 24. This was also stated by Ibn Jarir. From the context it appears that Ibrahim, peace be upon him, said all of what is in this section. Here he establishes proof against them that the Resurrection will indeed come to pass, because at the end of this passage it says:
فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهِ
("And nothing was the answer of his people...")(29:24) And Allah knows best.
ریاکاری سے بچو امام الموحدین ابو المرسلین خلیل اللہ علیہ الصلوات اللہ کا بیان ہو رہا ہے کہ انہوں نے اپنی قوم کو توحید اللہ کی دعوت دی ریاکاری سے بچنے اور دل میں پرہیزگاری قائم کرنے کا حکم دیا اس کی نعمتوں پر شکرگزاری کرنے کو فرمایا۔ اور اس کا نفع بھی بتایا کہ دنیا اور آخرت کی برائیاں اس سے دور ہوجائیں گی اور دونوں جہان کی نعمتیں اس سے مل جائیں گی۔ ساتھ ہی انہیں بتایا کہ جن بتوں کی تم پرستش کررہے ہو۔ یہ تو بےضرر اور بےنفع ہے تم نے خود ہی ان کے نام اور ان کے اجسام تراش لئے ہیں۔ وہ تو تمہاری طرح مخلوق ہیں بلکہ تم سے بھی کمزور ہیں۔ یہ تمہاری روزیوں کے بھی مختار نہیں۔ اللہ ہی سے روزیاں طلب کرو۔ اسی حصہ کے ساتھ آیت (ایاک نعبد وایاک نستعین) بھی ہے کہ ہم سب تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ سے ہی مدد چاہتے ہیں۔ یہی حضرت آسیہ ؓ کی دعا میں ہے آیت (رَبِّ ابْنِ لِيْ عِنْدَكَ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ وَنَجِّــنِيْ مِنْ فِرْعَوْنَ وَعَمَلِهٖ وَنَجِّــنِيْ مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِيْنَ 11 ۙ) 66۔ التحریم :11) اے اللہ میرے لئے اپنے پاس ہی جنت میں مکان بنا۔ چونکہ اس کے سوا کوئی رزق نہیں دے سکتا اس لئے تم اسی سے روزیاں طلب کرو اور جب اس کی روزیاں کھاؤ تو اس کے سوا دوسرے کی عبادت نہ کرو۔ اس کی نعمتوں کا شکر بجالاؤ تم میں سے ہر ایک اسی کی طرف لوٹنے والا ہے۔ وہ ہر عامل کو اسکے عمل کا بدلہ دے گا۔ دیکھو مجھے جھوٹا کہہ کر خوش نہ ہو نظریں ڈالو کہ تم سے پہلے جنہوں نے نبیوں کو جھوٹ کی طرف منسوب کیا تھا ان کی کیسی درگت ہوئی ؟ یاد رکھنا نبیوں کا کام صرف پیغام پہنچا دینا ہے۔ ہدایت عدم ہدایت اللہ کے ہاتھ ہے۔ اپنے آپ کو سعات مندوں میں بناؤ بدبختوں میں شامل نہ کرو۔ حضرت قتادہ تو فرماتے ہیں اس میں آنحضرت ﷺ کی مزید تشفی کی گئی ہے اس مطلب کا تقاضا تو یہ ہے کہ پہلاکام ختم ہوا۔ اور یہاں سے لے کر آیت (فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهٖٓ اِلَّا اَنْ قَالُوا اقْتُلُوْهُ اَوْ حَرِّقُوْهُ فَاَنْجٰىهُ اللّٰهُ مِنَ النَّارِ ۭ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوْمٍ يُّؤْمِنُوْنَ 24) 29۔ العنکبوت :24) تک یہ سب عبارت بطور جملہ معترضہ کے ہے۔ ابن جریر نے تو کھلے لفظوں میں یہی کہا ہے۔ لیکن الفاظ قرآن سے تو بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ یہ سب کلام حضرت خلیل اللہ ؑ کا ہے آپ قیامت کے قائم ہونے کی دلیلیں پیش کررہے ہیں کیونکہ اس تمام کلام کے بعد آپ کی قوم کا جواب ذکر ہوا ہے۔
18
View Single
وَإِن تُكَذِّبُواْ فَقَدۡ كَذَّبَ أُمَمٞ مِّن قَبۡلِكُمۡۖ وَمَا عَلَى ٱلرَّسُولِ إِلَّا ٱلۡبَلَٰغُ ٱلۡمُبِينُ
“And if you deny, then many nations have denied before you; and the Noble Messenger is not responsible except to plainly convey (the message).”
اور اگر تم نے (میری باتوں کو) جھٹلایا تو یقیناً تم سے پہلے (بھی) کئی امتیں (حق کو) جھٹلا چکی ہیں، اور رسول پر واضح طریق سے (احکام) پہنچا دینے کے سوا (کچھ لازم) نہیں ہے
Tafsir Ibn Kathir
Ibrahim's preaching to His People
Allah tells us how His servant, Messenger and close friend Ibrahim, the Imam of the monotheists, called his people to worship Allah alone, with no partner or associate, to fear Him alone, to seek provision from Him alone, with no partner or associate, to give thanks to Him alone, for He is the One to Whom thanks should be given for the blessings which none can bestow but He. Ibrahim said to his people:
اعْبُدُواْ اللَّهَ وَاتَّقُوهُ
(Worship Allah, and have Taqwa of Him,) meaning worship Him and fear Him Alone, with all sincerity.
ذَلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ
(that is better for you if you know.) if you do that you will attain good in this world and the next, and you will prevent evil from yourselves in this world and the Hereafter. Then Allah states that the idols which they worshipped were not able to do any harm or any good, and tells them, "You made up names for them and called them gods, but they are created beings just like you." This interpretation was reported by Al-`Awfi from Ibn `Abbas. It was also the view of Mujahid and As-Suddi. Al-Walibi reported from Ibn `Abbas: "You invent falsehood, means, you carve idols," which do not have the power to provide for you.
فَابْتَغُواْ عِندَ اللَّهِ الرِّزْقَ
(so seek from Allah your provision,) This emphasizes the idea of asking Allah Alone. This is like the Ayat:
إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ
(You (Alone) we worship, and You (Alone) we ask for help.) (1:5) And His saying:
رَبِّ ابْنِ لِى عِندَكَ بَيْتاً فِى الْجَنَّةِ
(My Lord! Build for me, with You, a home in Paradise) (66:11). Allah says here:
فَابْتَغُواْ
(so seek) meaning, ask for
عِندَ اللَّهِ الرِّزْقَ
(from Allah your provision,) meaning, do not seek it from anyone or anything other than Him, for no one else possesses the power to do anything.
وَاعْبُدُوهُ وَاشْكُرُواْ لَهُ
(and worship Him, and be grateful to Him.) Eat from what He has provided and worship Him Alone, and give thanks to Him for the blessings He has given you.
إِلَيْهِ تُرْجَعُونَ
(To Him you will be brought back.) means, on the Day of Resurrection, when He will reward or punish each person according to his deeds. His saying:
وَإِن تُكَذِّبُواْ فَقَدْ كَذَّبَ أُمَمٌ مِّن قَبْلِكُمْ
(And if you deny, then nations before you have denied.) means, `you have heard what happened to them by way of punishment for opposing the Messengers.'
وَمَا عَلَى الرَّسُولِ إِلاَّ الْبَلَـغُ الْمُبِينُ
(And the duty of the Messenger is only to convey plainly.) All the Messengers have to do is to convey the Message as Allah has commanded them. Allah guides whoever He wills and leaves astray whoever He wills, so strive to be among the blessed. Qatadah said concerning the Ayah:
وَإِن تُكَذِّبُواْ فَقَدْ كَذَّبَ أُمَمٌ مِّن قَبْلِكُمْ
(And if you deny, then nations before you have denied.) "These are words of consolation to His Prophet, peace be upon him." This suggestion by Qatadah implies that the narrative (about Ibrahim) is interrupted here, and resumes with the words "And nothing was the answer of (Ibrahim's) people..." in Ayah 24. This was also stated by Ibn Jarir. From the context it appears that Ibrahim, peace be upon him, said all of what is in this section. Here he establishes proof against them that the Resurrection will indeed come to pass, because at the end of this passage it says:
فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهِ
("And nothing was the answer of his people...")(29:24) And Allah knows best.
ریاکاری سے بچو امام الموحدین ابو المرسلین خلیل اللہ علیہ الصلوات اللہ کا بیان ہو رہا ہے کہ انہوں نے اپنی قوم کو توحید اللہ کی دعوت دی ریاکاری سے بچنے اور دل میں پرہیزگاری قائم کرنے کا حکم دیا اس کی نعمتوں پر شکرگزاری کرنے کو فرمایا۔ اور اس کا نفع بھی بتایا کہ دنیا اور آخرت کی برائیاں اس سے دور ہوجائیں گی اور دونوں جہان کی نعمتیں اس سے مل جائیں گی۔ ساتھ ہی انہیں بتایا کہ جن بتوں کی تم پرستش کررہے ہو۔ یہ تو بےضرر اور بےنفع ہے تم نے خود ہی ان کے نام اور ان کے اجسام تراش لئے ہیں۔ وہ تو تمہاری طرح مخلوق ہیں بلکہ تم سے بھی کمزور ہیں۔ یہ تمہاری روزیوں کے بھی مختار نہیں۔ اللہ ہی سے روزیاں طلب کرو۔ اسی حصہ کے ساتھ آیت (ایاک نعبد وایاک نستعین) بھی ہے کہ ہم سب تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ سے ہی مدد چاہتے ہیں۔ یہی حضرت آسیہ ؓ کی دعا میں ہے آیت (رَبِّ ابْنِ لِيْ عِنْدَكَ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ وَنَجِّــنِيْ مِنْ فِرْعَوْنَ وَعَمَلِهٖ وَنَجِّــنِيْ مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِيْنَ 11 ۙ) 66۔ التحریم :11) اے اللہ میرے لئے اپنے پاس ہی جنت میں مکان بنا۔ چونکہ اس کے سوا کوئی رزق نہیں دے سکتا اس لئے تم اسی سے روزیاں طلب کرو اور جب اس کی روزیاں کھاؤ تو اس کے سوا دوسرے کی عبادت نہ کرو۔ اس کی نعمتوں کا شکر بجالاؤ تم میں سے ہر ایک اسی کی طرف لوٹنے والا ہے۔ وہ ہر عامل کو اسکے عمل کا بدلہ دے گا۔ دیکھو مجھے جھوٹا کہہ کر خوش نہ ہو نظریں ڈالو کہ تم سے پہلے جنہوں نے نبیوں کو جھوٹ کی طرف منسوب کیا تھا ان کی کیسی درگت ہوئی ؟ یاد رکھنا نبیوں کا کام صرف پیغام پہنچا دینا ہے۔ ہدایت عدم ہدایت اللہ کے ہاتھ ہے۔ اپنے آپ کو سعات مندوں میں بناؤ بدبختوں میں شامل نہ کرو۔ حضرت قتادہ تو فرماتے ہیں اس میں آنحضرت ﷺ کی مزید تشفی کی گئی ہے اس مطلب کا تقاضا تو یہ ہے کہ پہلاکام ختم ہوا۔ اور یہاں سے لے کر آیت (فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهٖٓ اِلَّا اَنْ قَالُوا اقْتُلُوْهُ اَوْ حَرِّقُوْهُ فَاَنْجٰىهُ اللّٰهُ مِنَ النَّارِ ۭ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوْمٍ يُّؤْمِنُوْنَ 24) 29۔ العنکبوت :24) تک یہ سب عبارت بطور جملہ معترضہ کے ہے۔ ابن جریر نے تو کھلے لفظوں میں یہی کہا ہے۔ لیکن الفاظ قرآن سے تو بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ یہ سب کلام حضرت خلیل اللہ ؑ کا ہے آپ قیامت کے قائم ہونے کی دلیلیں پیش کررہے ہیں کیونکہ اس تمام کلام کے بعد آپ کی قوم کا جواب ذکر ہوا ہے۔
19
View Single
أَوَلَمۡ يَرَوۡاْ كَيۡفَ يُبۡدِئُ ٱللَّهُ ٱلۡخَلۡقَ ثُمَّ يُعِيدُهُۥٓۚ إِنَّ ذَٰلِكَ عَلَى ٱللَّهِ يَسِيرٞ
Have they not seen how Allah initiates the creation, then will create it again? Indeed that is easy for Allah.
کیا انہوں نے نہیں دیکھا (یعنی غور نہیں کیا) کہ اللہ کس طرح تخلیق کی ابتداء فرماتا ہے پھر (اسی طرح) اس کا اعادہ فرماتا ہے۔ بیشک یہ (کام) اللہ پر آسان ہے
Tafsir Ibn Kathir
The Evidence for Life after Death
Allah tells us that Ibrahim, peace be upon him, showed them the proof of life after death, which they denied, in their souls. For Allah created them after they had been nothing at all, then they came into existence and became people who could hear and see. The One Who originated this is able to repeat it, it is very easy for Him. Then he taught them to contemplate the visible signs on the horizons and the things that Allah has created: the heavens with their stars and planets, moving and stationary, the earth with its plains and mountains, its valleys, deserts and wildernesses, trees and rivers, fruits and oceans. All of that indicates that these are themselves created things, and that there must be a Creator Who does as He chooses, Who merely says to a thing "Be!" and it is. Allah says:
أَوَلَمْ يَرَوْاْ كَيْفَ يُبْدِىءُ اللَّهُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ إِنَّ ذلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرٌ
(See they not how Allah originates the creation, then repeats it. Verily, that is easy for Allah.) This is like the Ayah:
وَهُوَ الَّذِى يَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ وَهُوَ أَهْوَنُ عَلَيْهِ
(And He it is Who originates the creation, then He will repeat it; and this is easier for Him) (30:27). Then Allah says:
قُلْ سِيرُواْ فِى الاٌّرْضِ فَانظُرُواْ كَيْفَ بَدَأَ الْخَلْقَ ثُمَّ اللَّهُ يُنشِىءُ النَّشْأَةَ الاٌّخِرَةَ
(Say: "Travel in the land and see how He originated the creation, and then Allah will bring forth the creation of the Hereafter.") meaning, the Day of Resurrection.
إِنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ
(Verily, Allah is able to do all things.)
يُعَذِّبُ مَن يَشَآءُ وَيَرْحَمُ مَن يَشَآءُ
(He punishes whom He wills, and shows mercy to whom He wills;) He is the Ruler Who is in control, Who does as He wishes and judges as He wants, and there is none who can put back His judgement. None can question Him about what He does; rather it is they who will be questioned, for His is the power to create and to command, and whatever He decides is fair and just, for He is the sovereign who cannot be unjust in the slightest. According to a Hadith recorded by the Sunan compilers:
«إِنَّ اللهَ لَوْ عَذَّبَ أَهْلَ سَمَاوَاتِهِ وَأَهْلَ أَرْضِهِ لَعَذَّبَهُمْ وَهُوَ غَيْرُ ظَالِم لَهُم»
(If Allah willed to punish the dwellers of His heavens and His earth, He would do so, while He would not be unjust to them.) Allah says:
يُعَذِّبُ مَن يَشَآءُ وَيَرْحَمُ مَن يَشَآءُ وَإِلَيْهِ تُقْلَبُونَ
(He punishes whom He wills, and shows mercy to whom He wills; and to Him you will be returned.) You will return to Him on the Day of Resurrection.
وَمَآ أَنتُمْ بِمُعْجِزِينَ فِى الاٌّرْضِ وَلاَ فِى السَّمَآءِ
(And you cannot escape on the earth or in the heaven. ) No one in heaven or on earth can flee from Him, for He is the Subduer Who is above His servants, and everything fears Him and is in need of Him, while He is the One Who is Independent of all else.
وَمَا لَكُمْ مِّن دُونِ اللَّهِ مِن وَلِىٍّ وَلاَ نَصِيرٍوَالَّذِينَ كَفَرُواْ بِـَايَـتِ اللَّهِ وَلِقَآئِهِ
(And besides Allah you have neither any protector nor any helper. And those who disbelieve in the Ayat of Allah and the meeting with Him,) Those who disbelieved in the signs of Allah and denied the Resurrection,
أُوْلَـئِكَ يَئِسُواْ مِن رَّحْمَتِى
(such have no hope of My mercy) they will have no share in it,
وَأُوْلَـئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ
(and for such there is a painful torment.) meaning, extremely painful, in this world and the next.
تمام نشانیاں دیکھتے ہیں کہ وہ کچھ نہ تھے پھر اللہ نے پیدا کردیا تاہم مر کر جینے کے قائل نہیں حالانکہ اس پر کسی دلیل کی ضروت نہیں کہ جو ابتداءاً پیدا کرسکتا ہے اس پر دوبارہ پیدا کرنا بہت ہی آسان ہے۔ پھر انہیں ہدایت کرتے ہیں کہ زمین اور نشانیوں پر غور کرو۔ آسمانوں کو ستاروں کو زمینوں کو پہاڑوں کو درختوں کو جنگلوں کو نہروں کو دریاؤں کو سمندروں کو پھلوں کو کھیتوں کو دیکھو تو سہی کہ یہ سب کچھ نہ تھا پھر اللہ نے سب کچھ کردیا کیا یہ تمام نشانیاں اللہ کی قدرت کو تم پر ظاہر نہیں کرتیں ؟ تم نہیں دیکھتے کہ اتنا بڑا صانع وقدیر اللہ کیا کچھ نہیں کرسکتا ؟ وہ تو صرف ہوجا کے کہنے سے تمام کو رچا دیتا ہے وہ خود مختار ہے اسے اسباب اور سامان کی ضرورت نہیں۔ اسی مضمون کو اور جگہ فرمایا کہ وہی نئی پیدائش میں پیدا کرتا ہے وہی دوبارہ پیدا کرے گا اور یہ تو اس پر بہت آسان ہے۔ پھر فرمایا زمین میں چل پھر کر دیکھو کہ اللہ نے ابتدائی پیدائش کس طرح کی تو تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ قیامت کے دن کی دوسری پیدائش کی کیا کیفیت ہوگی۔ اللہ ہر چیز پر قادر ہے جیسے فرمایا ہم انہیں دنیا کے ہر حصے میں اور خود ان کی اپنی جانوں میں اپنی نشانیاں اس قدر دکھائیں گے کہ ان پر حق ظاہر ہوجائے۔ اور جگہ ارشاد ہے آیت (اَمْ خُلِقُوْا مِنْ غَيْرِ شَيْءٍ اَمْ هُمُ الْخٰلِقُوْنَ 35ۭ) 52۔ الطور :35) کیا وہ بغیر کسی چیز کے پیدا کئے گئے یا وہی اپنے خالق ہیں ؟ یا وہ آسمان و زمین کے خالق ہیں ؟ کچھ نہیں بےیقین لوگ ہیں۔ یہ اللہ کی شان ہے کہ جسے چاہے عذاب کرے جس پر چاہے رحم کرے وہ حاکم ہے قبضے والا ہے جو چاہتا ہے کرتا ہے جو ارادہ کرتا ہے جاری کردیتا ہے۔ کوئی اس کے حکم کو ٹال نہیں سکتا کوئی اس کے ارادے کو بدل نہیں سکتا۔ کوئی اس سے چوں چرا نہیں کرسکتا کوئی اس سے سوال نہیں کرسکتا اور وہ سب پر غالب ہے۔ جس سے چاہے پوچھ بیٹھے سب اس کے قبضے میں اس کی ماتحتی میں ہیں۔ خلق کا خالق امر کا مالک وہی ہے۔ اس نے جو کچھ کیا سراسر عدل ہے اس لیے کہ وہی مالک ہے وہ ظلم سے پاک ہے۔ حدیث شریف میں ہے اگر اللہ تعالیٰ ساتوں آسمان والوں اور زمین والوں کو عذاب کرے تب بھی وہ ظالم نہیں۔ عذاب رحم سب اس کی چیزیں ہیں۔ سب کے سب قیامت کے دن اس کی طرف لوٹائے جائیں گے اسی کے سامنے حاضر ہو کر پیش ہونگے۔ زمین والوں میں سے اور آسمان والوں میں سے کوئی اسے ہرا نہیں سکتا۔ بلکہ سب پر وہی غالب ہے۔ ہر ایک اس سے کانپ رہا ہے سب اس کے درد کے فقیر ہیں اور سب سے غنی ہے۔ تمہارا کوئی ولی اور مددگار اس کے سوا نہیں۔ اللہ کی آیتوں سے کفر کرنے والے اس کی ملاقات کو نہ ماننے والے اللہ کی رحمت سے محروم ہیں اور ان کے لئے دنیا اور آخرت میں دردناک الم افزا عذاب ہیں۔
20
View Single
قُلۡ سِيرُواْ فِي ٱلۡأَرۡضِ فَٱنظُرُواْ كَيۡفَ بَدَأَ ٱلۡخَلۡقَۚ ثُمَّ ٱللَّهُ يُنشِئُ ٱلنَّشۡأَةَ ٱلۡأٓخِرَةَۚ إِنَّ ٱللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ قَدِيرٞ
Proclaim (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), “Travel in the land and see how He creates for the first time, then Allah brings forth the next development; indeed Allah is Able to do all things.”
فرما دیجئے: تم زمین میں (کائناتی زندگی کے مطالعہ کے لئے) چلو پھرو، پھر دیکھو (یعنی غور و تحقیق کرو) کہ اس نے مخلوق کی (زندگی کی) ابتداء کیسے فرمائی پھر وہ دوسری زندگی کو کس طرح اٹھا کر (ارتقاء کے مراحل سے گزارتا ہوا) نشو و نما دیتا ہے۔ بیشک اللہ ہر شے پر بڑی قدرت رکھنے والا ہے
Tafsir Ibn Kathir
The Evidence for Life after Death
Allah tells us that Ibrahim, peace be upon him, showed them the proof of life after death, which they denied, in their souls. For Allah created them after they had been nothing at all, then they came into existence and became people who could hear and see. The One Who originated this is able to repeat it, it is very easy for Him. Then he taught them to contemplate the visible signs on the horizons and the things that Allah has created: the heavens with their stars and planets, moving and stationary, the earth with its plains and mountains, its valleys, deserts and wildernesses, trees and rivers, fruits and oceans. All of that indicates that these are themselves created things, and that there must be a Creator Who does as He chooses, Who merely says to a thing "Be!" and it is. Allah says:
أَوَلَمْ يَرَوْاْ كَيْفَ يُبْدِىءُ اللَّهُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ إِنَّ ذلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرٌ
(See they not how Allah originates the creation, then repeats it. Verily, that is easy for Allah.) This is like the Ayah:
وَهُوَ الَّذِى يَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ وَهُوَ أَهْوَنُ عَلَيْهِ
(And He it is Who originates the creation, then He will repeat it; and this is easier for Him) (30:27). Then Allah says:
قُلْ سِيرُواْ فِى الاٌّرْضِ فَانظُرُواْ كَيْفَ بَدَأَ الْخَلْقَ ثُمَّ اللَّهُ يُنشِىءُ النَّشْأَةَ الاٌّخِرَةَ
(Say: "Travel in the land and see how He originated the creation, and then Allah will bring forth the creation of the Hereafter.") meaning, the Day of Resurrection.
إِنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ
(Verily, Allah is able to do all things.)
يُعَذِّبُ مَن يَشَآءُ وَيَرْحَمُ مَن يَشَآءُ
(He punishes whom He wills, and shows mercy to whom He wills;) He is the Ruler Who is in control, Who does as He wishes and judges as He wants, and there is none who can put back His judgement. None can question Him about what He does; rather it is they who will be questioned, for His is the power to create and to command, and whatever He decides is fair and just, for He is the sovereign who cannot be unjust in the slightest. According to a Hadith recorded by the Sunan compilers:
«إِنَّ اللهَ لَوْ عَذَّبَ أَهْلَ سَمَاوَاتِهِ وَأَهْلَ أَرْضِهِ لَعَذَّبَهُمْ وَهُوَ غَيْرُ ظَالِم لَهُم»
(If Allah willed to punish the dwellers of His heavens and His earth, He would do so, while He would not be unjust to them.) Allah says:
يُعَذِّبُ مَن يَشَآءُ وَيَرْحَمُ مَن يَشَآءُ وَإِلَيْهِ تُقْلَبُونَ
(He punishes whom He wills, and shows mercy to whom He wills; and to Him you will be returned.) You will return to Him on the Day of Resurrection.
وَمَآ أَنتُمْ بِمُعْجِزِينَ فِى الاٌّرْضِ وَلاَ فِى السَّمَآءِ
(And you cannot escape on the earth or in the heaven. ) No one in heaven or on earth can flee from Him, for He is the Subduer Who is above His servants, and everything fears Him and is in need of Him, while He is the One Who is Independent of all else.
وَمَا لَكُمْ مِّن دُونِ اللَّهِ مِن وَلِىٍّ وَلاَ نَصِيرٍوَالَّذِينَ كَفَرُواْ بِـَايَـتِ اللَّهِ وَلِقَآئِهِ
(And besides Allah you have neither any protector nor any helper. And those who disbelieve in the Ayat of Allah and the meeting with Him,) Those who disbelieved in the signs of Allah and denied the Resurrection,
أُوْلَـئِكَ يَئِسُواْ مِن رَّحْمَتِى
(such have no hope of My mercy) they will have no share in it,
وَأُوْلَـئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ
(and for such there is a painful torment.) meaning, extremely painful, in this world and the next.
تمام نشانیاں دیکھتے ہیں کہ وہ کچھ نہ تھے پھر اللہ نے پیدا کردیا تاہم مر کر جینے کے قائل نہیں حالانکہ اس پر کسی دلیل کی ضروت نہیں کہ جو ابتداءاً پیدا کرسکتا ہے اس پر دوبارہ پیدا کرنا بہت ہی آسان ہے۔ پھر انہیں ہدایت کرتے ہیں کہ زمین اور نشانیوں پر غور کرو۔ آسمانوں کو ستاروں کو زمینوں کو پہاڑوں کو درختوں کو جنگلوں کو نہروں کو دریاؤں کو سمندروں کو پھلوں کو کھیتوں کو دیکھو تو سہی کہ یہ سب کچھ نہ تھا پھر اللہ نے سب کچھ کردیا کیا یہ تمام نشانیاں اللہ کی قدرت کو تم پر ظاہر نہیں کرتیں ؟ تم نہیں دیکھتے کہ اتنا بڑا صانع وقدیر اللہ کیا کچھ نہیں کرسکتا ؟ وہ تو صرف ہوجا کے کہنے سے تمام کو رچا دیتا ہے وہ خود مختار ہے اسے اسباب اور سامان کی ضرورت نہیں۔ اسی مضمون کو اور جگہ فرمایا کہ وہی نئی پیدائش میں پیدا کرتا ہے وہی دوبارہ پیدا کرے گا اور یہ تو اس پر بہت آسان ہے۔ پھر فرمایا زمین میں چل پھر کر دیکھو کہ اللہ نے ابتدائی پیدائش کس طرح کی تو تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ قیامت کے دن کی دوسری پیدائش کی کیا کیفیت ہوگی۔ اللہ ہر چیز پر قادر ہے جیسے فرمایا ہم انہیں دنیا کے ہر حصے میں اور خود ان کی اپنی جانوں میں اپنی نشانیاں اس قدر دکھائیں گے کہ ان پر حق ظاہر ہوجائے۔ اور جگہ ارشاد ہے آیت (اَمْ خُلِقُوْا مِنْ غَيْرِ شَيْءٍ اَمْ هُمُ الْخٰلِقُوْنَ 35ۭ) 52۔ الطور :35) کیا وہ بغیر کسی چیز کے پیدا کئے گئے یا وہی اپنے خالق ہیں ؟ یا وہ آسمان و زمین کے خالق ہیں ؟ کچھ نہیں بےیقین لوگ ہیں۔ یہ اللہ کی شان ہے کہ جسے چاہے عذاب کرے جس پر چاہے رحم کرے وہ حاکم ہے قبضے والا ہے جو چاہتا ہے کرتا ہے جو ارادہ کرتا ہے جاری کردیتا ہے۔ کوئی اس کے حکم کو ٹال نہیں سکتا کوئی اس کے ارادے کو بدل نہیں سکتا۔ کوئی اس سے چوں چرا نہیں کرسکتا کوئی اس سے سوال نہیں کرسکتا اور وہ سب پر غالب ہے۔ جس سے چاہے پوچھ بیٹھے سب اس کے قبضے میں اس کی ماتحتی میں ہیں۔ خلق کا خالق امر کا مالک وہی ہے۔ اس نے جو کچھ کیا سراسر عدل ہے اس لیے کہ وہی مالک ہے وہ ظلم سے پاک ہے۔ حدیث شریف میں ہے اگر اللہ تعالیٰ ساتوں آسمان والوں اور زمین والوں کو عذاب کرے تب بھی وہ ظالم نہیں۔ عذاب رحم سب اس کی چیزیں ہیں۔ سب کے سب قیامت کے دن اس کی طرف لوٹائے جائیں گے اسی کے سامنے حاضر ہو کر پیش ہونگے۔ زمین والوں میں سے اور آسمان والوں میں سے کوئی اسے ہرا نہیں سکتا۔ بلکہ سب پر وہی غالب ہے۔ ہر ایک اس سے کانپ رہا ہے سب اس کے درد کے فقیر ہیں اور سب سے غنی ہے۔ تمہارا کوئی ولی اور مددگار اس کے سوا نہیں۔ اللہ کی آیتوں سے کفر کرنے والے اس کی ملاقات کو نہ ماننے والے اللہ کی رحمت سے محروم ہیں اور ان کے لئے دنیا اور آخرت میں دردناک الم افزا عذاب ہیں۔
21
View Single
يُعَذِّبُ مَن يَشَآءُ وَيَرۡحَمُ مَن يَشَآءُۖ وَإِلَيۡهِ تُقۡلَبُونَ
He punishes whomever He wills and has mercy upon whomever He wills; and towards Him only you are to return.
وہ جسے چاہتا ہے عذاب دیتا ہے اور جس پر چاہتا ہے رحم فرماتا ہے اور اسی کی طرف تم پلٹائے جاؤ گے
Tafsir Ibn Kathir
The Evidence for Life after Death
Allah tells us that Ibrahim, peace be upon him, showed them the proof of life after death, which they denied, in their souls. For Allah created them after they had been nothing at all, then they came into existence and became people who could hear and see. The One Who originated this is able to repeat it, it is very easy for Him. Then he taught them to contemplate the visible signs on the horizons and the things that Allah has created: the heavens with their stars and planets, moving and stationary, the earth with its plains and mountains, its valleys, deserts and wildernesses, trees and rivers, fruits and oceans. All of that indicates that these are themselves created things, and that there must be a Creator Who does as He chooses, Who merely says to a thing "Be!" and it is. Allah says:
أَوَلَمْ يَرَوْاْ كَيْفَ يُبْدِىءُ اللَّهُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ إِنَّ ذلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرٌ
(See they not how Allah originates the creation, then repeats it. Verily, that is easy for Allah.) This is like the Ayah:
وَهُوَ الَّذِى يَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ وَهُوَ أَهْوَنُ عَلَيْهِ
(And He it is Who originates the creation, then He will repeat it; and this is easier for Him) (30:27). Then Allah says:
قُلْ سِيرُواْ فِى الاٌّرْضِ فَانظُرُواْ كَيْفَ بَدَأَ الْخَلْقَ ثُمَّ اللَّهُ يُنشِىءُ النَّشْأَةَ الاٌّخِرَةَ
(Say: "Travel in the land and see how He originated the creation, and then Allah will bring forth the creation of the Hereafter.") meaning, the Day of Resurrection.
إِنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ
(Verily, Allah is able to do all things.)
يُعَذِّبُ مَن يَشَآءُ وَيَرْحَمُ مَن يَشَآءُ
(He punishes whom He wills, and shows mercy to whom He wills;) He is the Ruler Who is in control, Who does as He wishes and judges as He wants, and there is none who can put back His judgement. None can question Him about what He does; rather it is they who will be questioned, for His is the power to create and to command, and whatever He decides is fair and just, for He is the sovereign who cannot be unjust in the slightest. According to a Hadith recorded by the Sunan compilers:
«إِنَّ اللهَ لَوْ عَذَّبَ أَهْلَ سَمَاوَاتِهِ وَأَهْلَ أَرْضِهِ لَعَذَّبَهُمْ وَهُوَ غَيْرُ ظَالِم لَهُم»
(If Allah willed to punish the dwellers of His heavens and His earth, He would do so, while He would not be unjust to them.) Allah says:
يُعَذِّبُ مَن يَشَآءُ وَيَرْحَمُ مَن يَشَآءُ وَإِلَيْهِ تُقْلَبُونَ
(He punishes whom He wills, and shows mercy to whom He wills; and to Him you will be returned.) You will return to Him on the Day of Resurrection.
وَمَآ أَنتُمْ بِمُعْجِزِينَ فِى الاٌّرْضِ وَلاَ فِى السَّمَآءِ
(And you cannot escape on the earth or in the heaven. ) No one in heaven or on earth can flee from Him, for He is the Subduer Who is above His servants, and everything fears Him and is in need of Him, while He is the One Who is Independent of all else.
وَمَا لَكُمْ مِّن دُونِ اللَّهِ مِن وَلِىٍّ وَلاَ نَصِيرٍوَالَّذِينَ كَفَرُواْ بِـَايَـتِ اللَّهِ وَلِقَآئِهِ
(And besides Allah you have neither any protector nor any helper. And those who disbelieve in the Ayat of Allah and the meeting with Him,) Those who disbelieved in the signs of Allah and denied the Resurrection,
أُوْلَـئِكَ يَئِسُواْ مِن رَّحْمَتِى
(such have no hope of My mercy) they will have no share in it,
وَأُوْلَـئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ
(and for such there is a painful torment.) meaning, extremely painful, in this world and the next.
تمام نشانیاں دیکھتے ہیں کہ وہ کچھ نہ تھے پھر اللہ نے پیدا کردیا تاہم مر کر جینے کے قائل نہیں حالانکہ اس پر کسی دلیل کی ضروت نہیں کہ جو ابتداءاً پیدا کرسکتا ہے اس پر دوبارہ پیدا کرنا بہت ہی آسان ہے۔ پھر انہیں ہدایت کرتے ہیں کہ زمین اور نشانیوں پر غور کرو۔ آسمانوں کو ستاروں کو زمینوں کو پہاڑوں کو درختوں کو جنگلوں کو نہروں کو دریاؤں کو سمندروں کو پھلوں کو کھیتوں کو دیکھو تو سہی کہ یہ سب کچھ نہ تھا پھر اللہ نے سب کچھ کردیا کیا یہ تمام نشانیاں اللہ کی قدرت کو تم پر ظاہر نہیں کرتیں ؟ تم نہیں دیکھتے کہ اتنا بڑا صانع وقدیر اللہ کیا کچھ نہیں کرسکتا ؟ وہ تو صرف ہوجا کے کہنے سے تمام کو رچا دیتا ہے وہ خود مختار ہے اسے اسباب اور سامان کی ضرورت نہیں۔ اسی مضمون کو اور جگہ فرمایا کہ وہی نئی پیدائش میں پیدا کرتا ہے وہی دوبارہ پیدا کرے گا اور یہ تو اس پر بہت آسان ہے۔ پھر فرمایا زمین میں چل پھر کر دیکھو کہ اللہ نے ابتدائی پیدائش کس طرح کی تو تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ قیامت کے دن کی دوسری پیدائش کی کیا کیفیت ہوگی۔ اللہ ہر چیز پر قادر ہے جیسے فرمایا ہم انہیں دنیا کے ہر حصے میں اور خود ان کی اپنی جانوں میں اپنی نشانیاں اس قدر دکھائیں گے کہ ان پر حق ظاہر ہوجائے۔ اور جگہ ارشاد ہے آیت (اَمْ خُلِقُوْا مِنْ غَيْرِ شَيْءٍ اَمْ هُمُ الْخٰلِقُوْنَ 35ۭ) 52۔ الطور :35) کیا وہ بغیر کسی چیز کے پیدا کئے گئے یا وہی اپنے خالق ہیں ؟ یا وہ آسمان و زمین کے خالق ہیں ؟ کچھ نہیں بےیقین لوگ ہیں۔ یہ اللہ کی شان ہے کہ جسے چاہے عذاب کرے جس پر چاہے رحم کرے وہ حاکم ہے قبضے والا ہے جو چاہتا ہے کرتا ہے جو ارادہ کرتا ہے جاری کردیتا ہے۔ کوئی اس کے حکم کو ٹال نہیں سکتا کوئی اس کے ارادے کو بدل نہیں سکتا۔ کوئی اس سے چوں چرا نہیں کرسکتا کوئی اس سے سوال نہیں کرسکتا اور وہ سب پر غالب ہے۔ جس سے چاہے پوچھ بیٹھے سب اس کے قبضے میں اس کی ماتحتی میں ہیں۔ خلق کا خالق امر کا مالک وہی ہے۔ اس نے جو کچھ کیا سراسر عدل ہے اس لیے کہ وہی مالک ہے وہ ظلم سے پاک ہے۔ حدیث شریف میں ہے اگر اللہ تعالیٰ ساتوں آسمان والوں اور زمین والوں کو عذاب کرے تب بھی وہ ظالم نہیں۔ عذاب رحم سب اس کی چیزیں ہیں۔ سب کے سب قیامت کے دن اس کی طرف لوٹائے جائیں گے اسی کے سامنے حاضر ہو کر پیش ہونگے۔ زمین والوں میں سے اور آسمان والوں میں سے کوئی اسے ہرا نہیں سکتا۔ بلکہ سب پر وہی غالب ہے۔ ہر ایک اس سے کانپ رہا ہے سب اس کے درد کے فقیر ہیں اور سب سے غنی ہے۔ تمہارا کوئی ولی اور مددگار اس کے سوا نہیں۔ اللہ کی آیتوں سے کفر کرنے والے اس کی ملاقات کو نہ ماننے والے اللہ کی رحمت سے محروم ہیں اور ان کے لئے دنیا اور آخرت میں دردناک الم افزا عذاب ہیں۔
22
View Single
وَمَآ أَنتُم بِمُعۡجِزِينَ فِي ٱلۡأَرۡضِ وَلَا فِي ٱلسَّمَآءِۖ وَمَا لَكُم مِّن دُونِ ٱللَّهِ مِن وَلِيّٖ وَلَا نَصِيرٖ
Neither can you escape (from His control) in the earth nor in the sky; and for you, other than Allah, there is neither a friend nor a supporter.
اور نہ تم (اللہ کو) زمین میں عاجز کرنے والے ہو اور نہ آسمان میں اور نہ تمہارے لئے اللہ کے سوا کوئی دوست ہے اور نہ مددگار
Tafsir Ibn Kathir
The Evidence for Life after Death
Allah tells us that Ibrahim, peace be upon him, showed them the proof of life after death, which they denied, in their souls. For Allah created them after they had been nothing at all, then they came into existence and became people who could hear and see. The One Who originated this is able to repeat it, it is very easy for Him. Then he taught them to contemplate the visible signs on the horizons and the things that Allah has created: the heavens with their stars and planets, moving and stationary, the earth with its plains and mountains, its valleys, deserts and wildernesses, trees and rivers, fruits and oceans. All of that indicates that these are themselves created things, and that there must be a Creator Who does as He chooses, Who merely says to a thing "Be!" and it is. Allah says:
أَوَلَمْ يَرَوْاْ كَيْفَ يُبْدِىءُ اللَّهُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ إِنَّ ذلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرٌ
(See they not how Allah originates the creation, then repeats it. Verily, that is easy for Allah.) This is like the Ayah:
وَهُوَ الَّذِى يَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ وَهُوَ أَهْوَنُ عَلَيْهِ
(And He it is Who originates the creation, then He will repeat it; and this is easier for Him) (30:27). Then Allah says:
قُلْ سِيرُواْ فِى الاٌّرْضِ فَانظُرُواْ كَيْفَ بَدَأَ الْخَلْقَ ثُمَّ اللَّهُ يُنشِىءُ النَّشْأَةَ الاٌّخِرَةَ
(Say: "Travel in the land and see how He originated the creation, and then Allah will bring forth the creation of the Hereafter.") meaning, the Day of Resurrection.
إِنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ
(Verily, Allah is able to do all things.)
يُعَذِّبُ مَن يَشَآءُ وَيَرْحَمُ مَن يَشَآءُ
(He punishes whom He wills, and shows mercy to whom He wills;) He is the Ruler Who is in control, Who does as He wishes and judges as He wants, and there is none who can put back His judgement. None can question Him about what He does; rather it is they who will be questioned, for His is the power to create and to command, and whatever He decides is fair and just, for He is the sovereign who cannot be unjust in the slightest. According to a Hadith recorded by the Sunan compilers:
«إِنَّ اللهَ لَوْ عَذَّبَ أَهْلَ سَمَاوَاتِهِ وَأَهْلَ أَرْضِهِ لَعَذَّبَهُمْ وَهُوَ غَيْرُ ظَالِم لَهُم»
(If Allah willed to punish the dwellers of His heavens and His earth, He would do so, while He would not be unjust to them.) Allah says:
يُعَذِّبُ مَن يَشَآءُ وَيَرْحَمُ مَن يَشَآءُ وَإِلَيْهِ تُقْلَبُونَ
(He punishes whom He wills, and shows mercy to whom He wills; and to Him you will be returned.) You will return to Him on the Day of Resurrection.
وَمَآ أَنتُمْ بِمُعْجِزِينَ فِى الاٌّرْضِ وَلاَ فِى السَّمَآءِ
(And you cannot escape on the earth or in the heaven. ) No one in heaven or on earth can flee from Him, for He is the Subduer Who is above His servants, and everything fears Him and is in need of Him, while He is the One Who is Independent of all else.
وَمَا لَكُمْ مِّن دُونِ اللَّهِ مِن وَلِىٍّ وَلاَ نَصِيرٍوَالَّذِينَ كَفَرُواْ بِـَايَـتِ اللَّهِ وَلِقَآئِهِ
(And besides Allah you have neither any protector nor any helper. And those who disbelieve in the Ayat of Allah and the meeting with Him,) Those who disbelieved in the signs of Allah and denied the Resurrection,
أُوْلَـئِكَ يَئِسُواْ مِن رَّحْمَتِى
(such have no hope of My mercy) they will have no share in it,
وَأُوْلَـئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ
(and for such there is a painful torment.) meaning, extremely painful, in this world and the next.
تمام نشانیاں دیکھتے ہیں کہ وہ کچھ نہ تھے پھر اللہ نے پیدا کردیا تاہم مر کر جینے کے قائل نہیں حالانکہ اس پر کسی دلیل کی ضروت نہیں کہ جو ابتداءاً پیدا کرسکتا ہے اس پر دوبارہ پیدا کرنا بہت ہی آسان ہے۔ پھر انہیں ہدایت کرتے ہیں کہ زمین اور نشانیوں پر غور کرو۔ آسمانوں کو ستاروں کو زمینوں کو پہاڑوں کو درختوں کو جنگلوں کو نہروں کو دریاؤں کو سمندروں کو پھلوں کو کھیتوں کو دیکھو تو سہی کہ یہ سب کچھ نہ تھا پھر اللہ نے سب کچھ کردیا کیا یہ تمام نشانیاں اللہ کی قدرت کو تم پر ظاہر نہیں کرتیں ؟ تم نہیں دیکھتے کہ اتنا بڑا صانع وقدیر اللہ کیا کچھ نہیں کرسکتا ؟ وہ تو صرف ہوجا کے کہنے سے تمام کو رچا دیتا ہے وہ خود مختار ہے اسے اسباب اور سامان کی ضرورت نہیں۔ اسی مضمون کو اور جگہ فرمایا کہ وہی نئی پیدائش میں پیدا کرتا ہے وہی دوبارہ پیدا کرے گا اور یہ تو اس پر بہت آسان ہے۔ پھر فرمایا زمین میں چل پھر کر دیکھو کہ اللہ نے ابتدائی پیدائش کس طرح کی تو تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ قیامت کے دن کی دوسری پیدائش کی کیا کیفیت ہوگی۔ اللہ ہر چیز پر قادر ہے جیسے فرمایا ہم انہیں دنیا کے ہر حصے میں اور خود ان کی اپنی جانوں میں اپنی نشانیاں اس قدر دکھائیں گے کہ ان پر حق ظاہر ہوجائے۔ اور جگہ ارشاد ہے آیت (اَمْ خُلِقُوْا مِنْ غَيْرِ شَيْءٍ اَمْ هُمُ الْخٰلِقُوْنَ 35ۭ) 52۔ الطور :35) کیا وہ بغیر کسی چیز کے پیدا کئے گئے یا وہی اپنے خالق ہیں ؟ یا وہ آسمان و زمین کے خالق ہیں ؟ کچھ نہیں بےیقین لوگ ہیں۔ یہ اللہ کی شان ہے کہ جسے چاہے عذاب کرے جس پر چاہے رحم کرے وہ حاکم ہے قبضے والا ہے جو چاہتا ہے کرتا ہے جو ارادہ کرتا ہے جاری کردیتا ہے۔ کوئی اس کے حکم کو ٹال نہیں سکتا کوئی اس کے ارادے کو بدل نہیں سکتا۔ کوئی اس سے چوں چرا نہیں کرسکتا کوئی اس سے سوال نہیں کرسکتا اور وہ سب پر غالب ہے۔ جس سے چاہے پوچھ بیٹھے سب اس کے قبضے میں اس کی ماتحتی میں ہیں۔ خلق کا خالق امر کا مالک وہی ہے۔ اس نے جو کچھ کیا سراسر عدل ہے اس لیے کہ وہی مالک ہے وہ ظلم سے پاک ہے۔ حدیث شریف میں ہے اگر اللہ تعالیٰ ساتوں آسمان والوں اور زمین والوں کو عذاب کرے تب بھی وہ ظالم نہیں۔ عذاب رحم سب اس کی چیزیں ہیں۔ سب کے سب قیامت کے دن اس کی طرف لوٹائے جائیں گے اسی کے سامنے حاضر ہو کر پیش ہونگے۔ زمین والوں میں سے اور آسمان والوں میں سے کوئی اسے ہرا نہیں سکتا۔ بلکہ سب پر وہی غالب ہے۔ ہر ایک اس سے کانپ رہا ہے سب اس کے درد کے فقیر ہیں اور سب سے غنی ہے۔ تمہارا کوئی ولی اور مددگار اس کے سوا نہیں۔ اللہ کی آیتوں سے کفر کرنے والے اس کی ملاقات کو نہ ماننے والے اللہ کی رحمت سے محروم ہیں اور ان کے لئے دنیا اور آخرت میں دردناک الم افزا عذاب ہیں۔
23
View Single
وَٱلَّذِينَ كَفَرُواْ بِـَٔايَٰتِ ٱللَّهِ وَلِقَآئِهِۦٓ أُوْلَـٰٓئِكَ يَئِسُواْ مِن رَّحۡمَتِي وَأُوْلَـٰٓئِكَ لَهُمۡ عَذَابٌ أَلِيمٞ
And those who did not believe in My signs and in meeting Me, are those who have no hope of My mercy, and for them is a painful punishment.
اور جن لوگوں نے اللہ کی آیتوں کا اور اس کی ملاقات کا انکار کیا وہ لوگ میری رحمت سے مایوس ہوگئے اور ان ہی لوگوں کے لئے درد ناک عذاب ہے
Tafsir Ibn Kathir
The Evidence for Life after Death
Allah tells us that Ibrahim, peace be upon him, showed them the proof of life after death, which they denied, in their souls. For Allah created them after they had been nothing at all, then they came into existence and became people who could hear and see. The One Who originated this is able to repeat it, it is very easy for Him. Then he taught them to contemplate the visible signs on the horizons and the things that Allah has created: the heavens with their stars and planets, moving and stationary, the earth with its plains and mountains, its valleys, deserts and wildernesses, trees and rivers, fruits and oceans. All of that indicates that these are themselves created things, and that there must be a Creator Who does as He chooses, Who merely says to a thing "Be!" and it is. Allah says:
أَوَلَمْ يَرَوْاْ كَيْفَ يُبْدِىءُ اللَّهُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ إِنَّ ذلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرٌ
(See they not how Allah originates the creation, then repeats it. Verily, that is easy for Allah.) This is like the Ayah:
وَهُوَ الَّذِى يَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ وَهُوَ أَهْوَنُ عَلَيْهِ
(And He it is Who originates the creation, then He will repeat it; and this is easier for Him) (30:27). Then Allah says:
قُلْ سِيرُواْ فِى الاٌّرْضِ فَانظُرُواْ كَيْفَ بَدَأَ الْخَلْقَ ثُمَّ اللَّهُ يُنشِىءُ النَّشْأَةَ الاٌّخِرَةَ
(Say: "Travel in the land and see how He originated the creation, and then Allah will bring forth the creation of the Hereafter.") meaning, the Day of Resurrection.
إِنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ
(Verily, Allah is able to do all things.)
يُعَذِّبُ مَن يَشَآءُ وَيَرْحَمُ مَن يَشَآءُ
(He punishes whom He wills, and shows mercy to whom He wills;) He is the Ruler Who is in control, Who does as He wishes and judges as He wants, and there is none who can put back His judgement. None can question Him about what He does; rather it is they who will be questioned, for His is the power to create and to command, and whatever He decides is fair and just, for He is the sovereign who cannot be unjust in the slightest. According to a Hadith recorded by the Sunan compilers:
«إِنَّ اللهَ لَوْ عَذَّبَ أَهْلَ سَمَاوَاتِهِ وَأَهْلَ أَرْضِهِ لَعَذَّبَهُمْ وَهُوَ غَيْرُ ظَالِم لَهُم»
(If Allah willed to punish the dwellers of His heavens and His earth, He would do so, while He would not be unjust to them.) Allah says:
يُعَذِّبُ مَن يَشَآءُ وَيَرْحَمُ مَن يَشَآءُ وَإِلَيْهِ تُقْلَبُونَ
(He punishes whom He wills, and shows mercy to whom He wills; and to Him you will be returned.) You will return to Him on the Day of Resurrection.
وَمَآ أَنتُمْ بِمُعْجِزِينَ فِى الاٌّرْضِ وَلاَ فِى السَّمَآءِ
(And you cannot escape on the earth or in the heaven. ) No one in heaven or on earth can flee from Him, for He is the Subduer Who is above His servants, and everything fears Him and is in need of Him, while He is the One Who is Independent of all else.
وَمَا لَكُمْ مِّن دُونِ اللَّهِ مِن وَلِىٍّ وَلاَ نَصِيرٍوَالَّذِينَ كَفَرُواْ بِـَايَـتِ اللَّهِ وَلِقَآئِهِ
(And besides Allah you have neither any protector nor any helper. And those who disbelieve in the Ayat of Allah and the meeting with Him,) Those who disbelieved in the signs of Allah and denied the Resurrection,
أُوْلَـئِكَ يَئِسُواْ مِن رَّحْمَتِى
(such have no hope of My mercy) they will have no share in it,
وَأُوْلَـئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ
(and for such there is a painful torment.) meaning, extremely painful, in this world and the next.
تمام نشانیاں دیکھتے ہیں کہ وہ کچھ نہ تھے پھر اللہ نے پیدا کردیا تاہم مر کر جینے کے قائل نہیں حالانکہ اس پر کسی دلیل کی ضروت نہیں کہ جو ابتداءاً پیدا کرسکتا ہے اس پر دوبارہ پیدا کرنا بہت ہی آسان ہے۔ پھر انہیں ہدایت کرتے ہیں کہ زمین اور نشانیوں پر غور کرو۔ آسمانوں کو ستاروں کو زمینوں کو پہاڑوں کو درختوں کو جنگلوں کو نہروں کو دریاؤں کو سمندروں کو پھلوں کو کھیتوں کو دیکھو تو سہی کہ یہ سب کچھ نہ تھا پھر اللہ نے سب کچھ کردیا کیا یہ تمام نشانیاں اللہ کی قدرت کو تم پر ظاہر نہیں کرتیں ؟ تم نہیں دیکھتے کہ اتنا بڑا صانع وقدیر اللہ کیا کچھ نہیں کرسکتا ؟ وہ تو صرف ہوجا کے کہنے سے تمام کو رچا دیتا ہے وہ خود مختار ہے اسے اسباب اور سامان کی ضرورت نہیں۔ اسی مضمون کو اور جگہ فرمایا کہ وہی نئی پیدائش میں پیدا کرتا ہے وہی دوبارہ پیدا کرے گا اور یہ تو اس پر بہت آسان ہے۔ پھر فرمایا زمین میں چل پھر کر دیکھو کہ اللہ نے ابتدائی پیدائش کس طرح کی تو تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ قیامت کے دن کی دوسری پیدائش کی کیا کیفیت ہوگی۔ اللہ ہر چیز پر قادر ہے جیسے فرمایا ہم انہیں دنیا کے ہر حصے میں اور خود ان کی اپنی جانوں میں اپنی نشانیاں اس قدر دکھائیں گے کہ ان پر حق ظاہر ہوجائے۔ اور جگہ ارشاد ہے آیت (اَمْ خُلِقُوْا مِنْ غَيْرِ شَيْءٍ اَمْ هُمُ الْخٰلِقُوْنَ 35ۭ) 52۔ الطور :35) کیا وہ بغیر کسی چیز کے پیدا کئے گئے یا وہی اپنے خالق ہیں ؟ یا وہ آسمان و زمین کے خالق ہیں ؟ کچھ نہیں بےیقین لوگ ہیں۔ یہ اللہ کی شان ہے کہ جسے چاہے عذاب کرے جس پر چاہے رحم کرے وہ حاکم ہے قبضے والا ہے جو چاہتا ہے کرتا ہے جو ارادہ کرتا ہے جاری کردیتا ہے۔ کوئی اس کے حکم کو ٹال نہیں سکتا کوئی اس کے ارادے کو بدل نہیں سکتا۔ کوئی اس سے چوں چرا نہیں کرسکتا کوئی اس سے سوال نہیں کرسکتا اور وہ سب پر غالب ہے۔ جس سے چاہے پوچھ بیٹھے سب اس کے قبضے میں اس کی ماتحتی میں ہیں۔ خلق کا خالق امر کا مالک وہی ہے۔ اس نے جو کچھ کیا سراسر عدل ہے اس لیے کہ وہی مالک ہے وہ ظلم سے پاک ہے۔ حدیث شریف میں ہے اگر اللہ تعالیٰ ساتوں آسمان والوں اور زمین والوں کو عذاب کرے تب بھی وہ ظالم نہیں۔ عذاب رحم سب اس کی چیزیں ہیں۔ سب کے سب قیامت کے دن اس کی طرف لوٹائے جائیں گے اسی کے سامنے حاضر ہو کر پیش ہونگے۔ زمین والوں میں سے اور آسمان والوں میں سے کوئی اسے ہرا نہیں سکتا۔ بلکہ سب پر وہی غالب ہے۔ ہر ایک اس سے کانپ رہا ہے سب اس کے درد کے فقیر ہیں اور سب سے غنی ہے۔ تمہارا کوئی ولی اور مددگار اس کے سوا نہیں۔ اللہ کی آیتوں سے کفر کرنے والے اس کی ملاقات کو نہ ماننے والے اللہ کی رحمت سے محروم ہیں اور ان کے لئے دنیا اور آخرت میں دردناک الم افزا عذاب ہیں۔
24
View Single
فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوۡمِهِۦٓ إِلَّآ أَن قَالُواْ ٱقۡتُلُوهُ أَوۡ حَرِّقُوهُ فَأَنجَىٰهُ ٱللَّهُ مِنَ ٱلنَّارِۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَٰتٖ لِّقَوۡمٖ يُؤۡمِنُونَ
So his people could not answer him except to say, “Kill him or burn him” – so Allah rescued him from the fire; indeed in this are signs for people who believe.
سو قومِ ابراہیم کا جواب اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ وہ کہنے لگے: تم اسے قتل کر ڈالو یا اسے جلا دو، پھر اللہ نے اسے (نمرود کی) آگ سے نجات بخشی، بیشک اس (واقعہ) میں ان لوگوں کے لئے نشانیاں ہیں جو ایمان لائے ہیں
Tafsir Ibn Kathir
The Response of Ibrahim's People -- and how Allah controlled the Fire
Allah tells us how Ibrahim's people stubbornly and arrogantly disbelieved, and how they resisted the truth with falsehood. After Ibrahim addressed them with his words of clear guidance,
إِلاَّ أَن قَالُواْ اقْتُلُوهُ أَوْ حَرِّقُوهُ
(except that they said: "Kill him or burn him.") This was because proof had clearly been established against them, so they resorted to using their power and strength.
قَالُواْ ابْنُواْ لَهُ بُنْيَـناً فَأَلْقُوهُ فِى الْجَحِيمِ - فَأَرَادُواْ بِهِ كَيْداً فَجَعَلْنَـهُمُ الاٌّسْفَلِينَ
(They said: "Build for him a building and throw him into the blazing fire!" So they plotted a plot against him, but We made them the lowest.) (37:97-98). They spent a long time gathering a huge amount of firewood, they built a fence around it, then they set it ablaze until its flames reached up to the sky. No greater fire had ever been lit. Then they went to Ibrahim, seized him and put him into a catapult, then they threw him into the fire. But Allah made it cool and safe for him, and after spending several days in it, he emerged unscathed. For this reason and others, Allah made him an Imam for mankind, for he offered himself to the Most Merciful, he offered his body to the flames, he offered his son as a sacrifice, and he gave his wealth to care for his guests. For all of these reasons he is beloved by the followers of all religions.
فَأَنْجَاهُ اللَّهُ مِنَ النَّارِ
(Then Allah saved him from the fire. ) means, He rescued him from it by making it cool and safe for him.
إِنَّ فِى ذلِكَ لآيَـتٍ لِّقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ
(Verily, in this are indeed signs for a people who believe.) Ibrahim, peace be upon him, explains to his people that idols are incapable of doing anything,
وَقَالَ إِنَّمَا اتَّخَذْتُمْ مِّن دُونِ اللَّهِ أَوْثَـناً مَّوَدَّةَ بَيْنِكُمْ فِى الْحَيَوةِ الدُّنْيَا
(And (Ibrahim) said: "You have taken idols instead of Allah. The love between you is only in the life of this world,) Here Ibrahim was rebuking his people for their evil deed of worshipping idols, and telling them: `You have taken these as gods and you come together to worship them so that there is friendship and love among you in this world,'
ثُمَّ يَوْمَ الْقِيَـمَةِ
(but on the Day of Resurrection,) the situation will be the opposite, and this love and friendship will turn into hatred and enmity. Then
يَكْفُرُ بَعْضُكُمْ بِبَعْضٍ
(you shall deny each other,) meaning, `you will denounce one another and deny whatever was between you,'
وَيَلْعَنُ بَعْضُكُمْ بَعْضاً
(and curse each other, ) means, the followers will curse their leaders and the leaders will curse their followers.
كُلَّمَا دَخَلَتْ أُمَّةٌ لَّعَنَتْ أُخْتَهَا
a(Every time a new nation enters (the Fire), it curses its sister nation (that went before)) (7:37).
الاٌّخِلاَءُ يَوْمَئِذٍ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ إِلاَّ الْمُتَّقِينَ
(Friends on that Day will be foes one to another except those who have Taqwa.) (43:67) And Allah says here:
ثُمَّ يَوْمَ الْقِيَـمَةِ يَكْفُرُ بَعْضُكُمْ بِبَعْضٍ وَيَلْعَنُ بَعْضُكُمْ بَعْضاً وَمَأْوَاكُمُ النَّارُ
(but on the Day of Resurrection, you shall deny each other, and curse each other, and your abode will be the Fire,) meaning, `your ultimate destiny after all accounts have been settled, will be the fire of Hell, and you will have no one to help you or save you from the punishment of Allah.' This will be the state of the disbelievers. As for the believers, it will be an entirely different matter.
عقلی اور نقلی دلائل حضرت ابراہیم کا یہ عقلی اور نقلی دلائل کا وعظ بھی ان لوگوں کے دلوں پر اثر نہ کرسکا اور انہوں نے یہاں بھی اپنی اس شقاوت کا مظاہرہ کیا جواب تو دلیلوں کا دے نہیں سکتے تھے لہذا اپنی قوت سے حق کو دبانے لگے اور اپنی طاقت سے سچ کو روکنے لگے کہنے لگے ایک گڑھا کھودو اس میں آگ بھڑکاؤ اور اس آگ میں اسے ڈال دو کہ جل جائے۔ لیکن اللہ نے ان کے اس مکر کو انہی پر لوٹا دیا مدتوں تک لکڑیاں جمع کرتے رہیں اور ایک گڑھا کھود کر اس کے اردگرد احاطے کی دیواریں کھڑی کرکے لکڑیوں میں آگ لگادی جب اس کے شعلے آسمان تک پہنچنے لگے اور اتنی زور کی آگ روشن ہوئی کہ زمین پر کہیں اتنی آگ نہیں دیکھی گئی تو حضرت ابراہیم ؑ کو پکڑ کر باندھ کر منجنیق میں ڈال کر جھلاکر اس آگ میں ڈال دیا لیکن اللہ نے اسے اپنے خلیل ؑ پر باغ وبہار بنادیا آپ کئی دن کے بعد صحیح سلامت اس میں سے نکل آئے۔ یہ اور اس جیسی قربانیاں تھیں جن کے باعث آپ کو امامت کا منصب عطا ہوا۔ اپنا نفس آپ نے رحمان کے لئے اپنا جسم آپ نے میزان کے لئے اپنی اولاد آپ نے قربان کے لئے اپنا مال آپ نے فیضان کے لئے کردیا۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے کل ادیان والے آپ سے محبت رکھتے ہیں۔ اللہ نے آگ کو آپ کے لئے باغ بنادیا اس واقعہ میں ایمانداروں کے لئے قدرت الٰہی کی بہت سی نشانیاں ہیں۔ آپ نے اپنی قوم سے فرمایا کہ جن بتوں کو تم نے معبود بنا رکھا ہے یہ تمہارا ایکا اور اتفاق دنیا تک ہی ہے۔ مودۃ زبر کے ساتھ مفعول لہ ہے۔ ایک قرأت میں پیش کے ساتھ بھی ہے یعنی تمہاری یہ بت پرستی تمہاری لئے گو دنیا کی محبت حاصل کرادے۔ لیکن قیامت کے دن معاملہ برعکس ہوجائے گا مودۃ کی جگہ نفرت اور اتفاق کے بدلے اختلاف ہوجائے گا۔ ایک دوسرے سے جھگڑوگے ایک دوسرے پر الزام رکھوگے ایک دوسرے پر لعنتیں بھیجوگے۔ ہر گروہ دوسرے گروپ پر پھٹکار برسائے گا۔ سب دوست دشمن بن جائیں گے ہاں پرہیزگار نیک کار آج بھی ایک دوسرے کے خیر خواہ اور دوست رہیں گے۔ کفار سب کے سب میدان قیامت کی ٹھوکریں کھا کھا کر بالآخر جہنم میں جائیں گے۔ گو اتنا بھی نہ ہوگا کہ ان کی کسی طرح مدد کرسکے۔ حدیث میں ہے تمام اگلے پچھلوں کو اللہ تعالیٰ ایک میدان میں جمع کرے گا۔ کون جان سکتا ہے کہ دونوں سمت میں کس طرف ؟ حضرت ام ہانی ؓ جو حضرت علی ؓ کی ہمشیرہ ہیں جواب دیا کہ اللہ اور اس کا رسول ﷺ ہی زیادہ علم والا ہے۔ پھر ایک منادی عرش تلے سے آواز دے گا کہ اے موحدو ! بت توحید والے اپنا سر اٹھائیں گے پھر یہی آواز لگائے گا پھر سہ بارہ یہی پکارے گا اور کہے اللہ تعالیٰ نے تمہاری تمام لغزشوں سے درگزر فرمالیا۔ اب لوگ کھڑے ہونگے اور آپ کی ناچاقیوں اور لین دین کا مطالبہ کرنے لگیں گے تو اللہ وحدہ لاشریک لہ کی طرف سے آواز دی جائے گی کہ اے اہل توحید تم تو آپس میں ایک دوسرے کو معاف کردو تمہیں اللہ بدل دے گا۔
25
View Single
وَقَالَ إِنَّمَا ٱتَّخَذۡتُم مِّن دُونِ ٱللَّهِ أَوۡثَٰنٗا مَّوَدَّةَ بَيۡنِكُمۡ فِي ٱلۡحَيَوٰةِ ٱلدُّنۡيَاۖ ثُمَّ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِ يَكۡفُرُ بَعۡضُكُم بِبَعۡضٖ وَيَلۡعَنُ بَعۡضُكُم بَعۡضٗا وَمَأۡوَىٰكُمُ ٱلنَّارُ وَمَا لَكُم مِّن نَّـٰصِرِينَ
And Ibrahim said, “You have chosen only idols instead of Allah, with whom your friendship is only in the life of this world; then on the Day of Resurrection you will deny and curse each other; and the destination for all of you is hell, and you do not have supporters.”
اور ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا: بس تم نے تو اللہ کو چھوڑ کر بتوں کو معبود بنا لیا ہے محض دنیوی زندگی میں آپس کی دوستی کی خاطر پھر روزِ قیامت تم میں سے (ہر) ایک دوسرے (کی دوستی) کا انکار کر دے گا اور تم میں سے (ہر) ایک دوسرے پر لعنت بھیجے گا، تو تمہارا ٹھکانا دوزخ ہے اور تمہارے لئے کوئی بھی مددگار نہ ہوگا
Tafsir Ibn Kathir
The Response of Ibrahim's People -- and how Allah controlled the Fire
Allah tells us how Ibrahim's people stubbornly and arrogantly disbelieved, and how they resisted the truth with falsehood. After Ibrahim addressed them with his words of clear guidance,
إِلاَّ أَن قَالُواْ اقْتُلُوهُ أَوْ حَرِّقُوهُ
(except that they said: "Kill him or burn him.") This was because proof had clearly been established against them, so they resorted to using their power and strength.
قَالُواْ ابْنُواْ لَهُ بُنْيَـناً فَأَلْقُوهُ فِى الْجَحِيمِ - فَأَرَادُواْ بِهِ كَيْداً فَجَعَلْنَـهُمُ الاٌّسْفَلِينَ
(They said: "Build for him a building and throw him into the blazing fire!" So they plotted a plot against him, but We made them the lowest.) (37:97-98). They spent a long time gathering a huge amount of firewood, they built a fence around it, then they set it ablaze until its flames reached up to the sky. No greater fire had ever been lit. Then they went to Ibrahim, seized him and put him into a catapult, then they threw him into the fire. But Allah made it cool and safe for him, and after spending several days in it, he emerged unscathed. For this reason and others, Allah made him an Imam for mankind, for he offered himself to the Most Merciful, he offered his body to the flames, he offered his son as a sacrifice, and he gave his wealth to care for his guests. For all of these reasons he is beloved by the followers of all religions.
فَأَنْجَاهُ اللَّهُ مِنَ النَّارِ
(Then Allah saved him from the fire. ) means, He rescued him from it by making it cool and safe for him.
إِنَّ فِى ذلِكَ لآيَـتٍ لِّقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ
(Verily, in this are indeed signs for a people who believe.) Ibrahim, peace be upon him, explains to his people that idols are incapable of doing anything,
وَقَالَ إِنَّمَا اتَّخَذْتُمْ مِّن دُونِ اللَّهِ أَوْثَـناً مَّوَدَّةَ بَيْنِكُمْ فِى الْحَيَوةِ الدُّنْيَا
(And (Ibrahim) said: "You have taken idols instead of Allah. The love between you is only in the life of this world,) Here Ibrahim was rebuking his people for their evil deed of worshipping idols, and telling them: `You have taken these as gods and you come together to worship them so that there is friendship and love among you in this world,'
ثُمَّ يَوْمَ الْقِيَـمَةِ
(but on the Day of Resurrection,) the situation will be the opposite, and this love and friendship will turn into hatred and enmity. Then
يَكْفُرُ بَعْضُكُمْ بِبَعْضٍ
(you shall deny each other,) meaning, `you will denounce one another and deny whatever was between you,'
وَيَلْعَنُ بَعْضُكُمْ بَعْضاً
(and curse each other, ) means, the followers will curse their leaders and the leaders will curse their followers.
كُلَّمَا دَخَلَتْ أُمَّةٌ لَّعَنَتْ أُخْتَهَا
a(Every time a new nation enters (the Fire), it curses its sister nation (that went before)) (7:37).
الاٌّخِلاَءُ يَوْمَئِذٍ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ إِلاَّ الْمُتَّقِينَ
(Friends on that Day will be foes one to another except those who have Taqwa.) (43:67) And Allah says here:
ثُمَّ يَوْمَ الْقِيَـمَةِ يَكْفُرُ بَعْضُكُمْ بِبَعْضٍ وَيَلْعَنُ بَعْضُكُمْ بَعْضاً وَمَأْوَاكُمُ النَّارُ
(but on the Day of Resurrection, you shall deny each other, and curse each other, and your abode will be the Fire,) meaning, `your ultimate destiny after all accounts have been settled, will be the fire of Hell, and you will have no one to help you or save you from the punishment of Allah.' This will be the state of the disbelievers. As for the believers, it will be an entirely different matter.
عقلی اور نقلی دلائل حضرت ابراہیم کا یہ عقلی اور نقلی دلائل کا وعظ بھی ان لوگوں کے دلوں پر اثر نہ کرسکا اور انہوں نے یہاں بھی اپنی اس شقاوت کا مظاہرہ کیا جواب تو دلیلوں کا دے نہیں سکتے تھے لہذا اپنی قوت سے حق کو دبانے لگے اور اپنی طاقت سے سچ کو روکنے لگے کہنے لگے ایک گڑھا کھودو اس میں آگ بھڑکاؤ اور اس آگ میں اسے ڈال دو کہ جل جائے۔ لیکن اللہ نے ان کے اس مکر کو انہی پر لوٹا دیا مدتوں تک لکڑیاں جمع کرتے رہیں اور ایک گڑھا کھود کر اس کے اردگرد احاطے کی دیواریں کھڑی کرکے لکڑیوں میں آگ لگادی جب اس کے شعلے آسمان تک پہنچنے لگے اور اتنی زور کی آگ روشن ہوئی کہ زمین پر کہیں اتنی آگ نہیں دیکھی گئی تو حضرت ابراہیم ؑ کو پکڑ کر باندھ کر منجنیق میں ڈال کر جھلاکر اس آگ میں ڈال دیا لیکن اللہ نے اسے اپنے خلیل ؑ پر باغ وبہار بنادیا آپ کئی دن کے بعد صحیح سلامت اس میں سے نکل آئے۔ یہ اور اس جیسی قربانیاں تھیں جن کے باعث آپ کو امامت کا منصب عطا ہوا۔ اپنا نفس آپ نے رحمان کے لئے اپنا جسم آپ نے میزان کے لئے اپنی اولاد آپ نے قربان کے لئے اپنا مال آپ نے فیضان کے لئے کردیا۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے کل ادیان والے آپ سے محبت رکھتے ہیں۔ اللہ نے آگ کو آپ کے لئے باغ بنادیا اس واقعہ میں ایمانداروں کے لئے قدرت الٰہی کی بہت سی نشانیاں ہیں۔ آپ نے اپنی قوم سے فرمایا کہ جن بتوں کو تم نے معبود بنا رکھا ہے یہ تمہارا ایکا اور اتفاق دنیا تک ہی ہے۔ مودۃ زبر کے ساتھ مفعول لہ ہے۔ ایک قرأت میں پیش کے ساتھ بھی ہے یعنی تمہاری یہ بت پرستی تمہاری لئے گو دنیا کی محبت حاصل کرادے۔ لیکن قیامت کے دن معاملہ برعکس ہوجائے گا مودۃ کی جگہ نفرت اور اتفاق کے بدلے اختلاف ہوجائے گا۔ ایک دوسرے سے جھگڑوگے ایک دوسرے پر الزام رکھوگے ایک دوسرے پر لعنتیں بھیجوگے۔ ہر گروہ دوسرے گروپ پر پھٹکار برسائے گا۔ سب دوست دشمن بن جائیں گے ہاں پرہیزگار نیک کار آج بھی ایک دوسرے کے خیر خواہ اور دوست رہیں گے۔ کفار سب کے سب میدان قیامت کی ٹھوکریں کھا کھا کر بالآخر جہنم میں جائیں گے۔ گو اتنا بھی نہ ہوگا کہ ان کی کسی طرح مدد کرسکے۔ حدیث میں ہے تمام اگلے پچھلوں کو اللہ تعالیٰ ایک میدان میں جمع کرے گا۔ کون جان سکتا ہے کہ دونوں سمت میں کس طرف ؟ حضرت ام ہانی ؓ جو حضرت علی ؓ کی ہمشیرہ ہیں جواب دیا کہ اللہ اور اس کا رسول ﷺ ہی زیادہ علم والا ہے۔ پھر ایک منادی عرش تلے سے آواز دے گا کہ اے موحدو ! بت توحید والے اپنا سر اٹھائیں گے پھر یہی آواز لگائے گا پھر سہ بارہ یہی پکارے گا اور کہے اللہ تعالیٰ نے تمہاری تمام لغزشوں سے درگزر فرمالیا۔ اب لوگ کھڑے ہونگے اور آپ کی ناچاقیوں اور لین دین کا مطالبہ کرنے لگیں گے تو اللہ وحدہ لاشریک لہ کی طرف سے آواز دی جائے گی کہ اے اہل توحید تم تو آپس میں ایک دوسرے کو معاف کردو تمہیں اللہ بدل دے گا۔
26
View Single
۞فَـَٔامَنَ لَهُۥ لُوطٞۘ وَقَالَ إِنِّي مُهَاجِرٌ إِلَىٰ رَبِّيٓۖ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلۡعَزِيزُ ٱلۡحَكِيمُ
So Lut believed in him; and Ibrahim said, “I migrate towards my Lord; indeed only He is the Almighty, the Wise.”
پھر لوط (علیہ السلام) ان پر (یعنی ابراہیم علیہ السلام پر) ایمان لے آئے اور انہوں نے کہا: میں اپنے رب کی طرف ہجرت کرنے والا ہوں۔ بیشک وہ غالب ہے حکمت والا ہے
Tafsir Ibn Kathir
The Faith of Lut and His Emigration with Ibrahim
Allah tells us that Lut believed in Ibrahim. It was said that he was the son of Ibrahim's brother, and that his name was Lut bin Haran bin Azar. None of Ibrahim's people believed in Ibrahim besides Lut and Sarah the wife of Ibrahim. But if it is asked how we may reconcile this Ayah with the Hadith narrated in the Sahih which says that when Ibrahim passed by that tyrant and he asked about Sarah and what her relationship was to him, Ibrahim said, "My sister." Then he went to her and said, "I told him that you are my sister, so do not let him think I am lying, for there are no believers on earth except for you and I, and you are my sister in faith." It seems -- and Allah knows best -- that the meaning here is, there is no other Muslim couple on earth apart from you and I. Among his people, only Lut believed in him and migrated with him to Syria, then during Ibrahim's lifetime he was sent as a Messenger to the people of Sadum (Sodom) where he settled. We have already discussed their story and more is to come.
وَقَالَ إِنِّى مُهَاجِرٌ إِلَى رَبِّى
(He (Ibrahim) said: "I will emigrate for the sake of my Lord.") It may be that the pronoun in the verb "he said" refers to Lut, because he was the last person mentioned before this phrase; or it may refer to Ibrahim. Ibn `Abbas and Ad-Dahhak said that Ibrahim is the one who is referred in the phrase.
فَـَامَنَ لَهُ لُوطٌ
(So, Lut believed in him.) i.e., out of all his people. Then Allah tells us that he chose to leave them so that he might be able to follow his religion openly. So he said:
إِنَّهُ هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ
(Verily, He is the All-Mighty, the All-Wise.) Power belongs to Him and to His Messenger and to those who believe in him, and He is Wise in all that He says and does, and in all His rulings and decrees, both universal and legislative. Qatadah said, "They migrated together from Kutha, which is on the outskirts of Kufa, and went to Syria." Allah gave Ibrahim, Ishaq and Ya`qub, and ordained Prophethood in His Offspring
وَوَهَبْنَا لَهُ إِسْحَـقَ وَيَعْقُوبَ
(And We bestowed on him, Ishaq and Ya`qub,) This is like the Ayah,
فَلَمَّا اعْتَزَلَهُمْ وَمَا يَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّهِ وَهَبْنَا لَهُ إِسْحَـقَ وَيَعْقُوبَ وَكُلاًّ جَعَلْنَا نَبِيّاً
(So, when he had turned away from them and from those whom they worshipped besides Allah, We gave him Ishaq and Ya`qub, and each one of them We made a Prophet.) (19:49) That is, when he left his people, Allah gave him joy in a righteous son who was also a Prophet, to whom in turn was born, in his grandfather's lifetime, a righteous son who was also a Prophet. Allah also says:
وَوَهَبْنَا لَهُ إِسْحَـقَ وَيَعْقُوبَ نَافِلَةً
(And We bestowed upon him Ishaq, and Ya`qub in addition) (21:72) meaning, as an additional gift. This is like the Ayah,
فَبَشَّرْنَـهَا بِإِسْحَـقَ وَمِن وَرَآءِ إِسْحَـقَ يَعْقُوبَ
(But We gave her glad tidings of Ishaq, and after Ishaq, of Ya`qub.) (11:71) meaning, to this son would be born a son during their lives, who would be a delight to them.
وَجَعَلْنَا فِى ذُرِّيَّتِهِ النُّبُوَّةَ وَالْكِتَـبَ
(and We ordained among his offspring prophethood and the Book,) This is a tremendous blessing. Not only did Allah take him as a close friend and make him an Imam for mankind, but He also ordained prophethood and the Book among his offspring. After the time of Ibrahim there was no Prophet who was not from among his descendants. All of the Prophets of the Children of Israel were from among his descendants, from Ya`qub bin Ishaq bin Ibrahim to the last of them, `Isa bin Maryam, who stood in the midst of his people and announced the good news of the Hashimi Qurashi Arab Prophet, the last of all the Messengers, the leader of the sons of Adam in this world and the next, whom Allah chose from the heart of the Arab nation, from the descendants of Isma`il bin Ibrahim, may peace be upon them. There is no Prophet from the line of Isma`il besides him, may the best of blessings and peace be upon him.
وَءَاتَيْنَاهُ أَجْرَهُ فِى الدُّنْيَا وَإِنَّهُ فِى لاٌّخِرَةِ لَمِنَ الصَّـلِحِينَ
(and We granted him his reward in this world; and verily, in the Hereafter he is indeed among the righteous.) Allah granted him happiness in this world that was connected to happiness in the Hereafter, for in this world he had plentiful provision, a splendid home, a beautiful and righteous wife, and he was and still is spoken of highly, for everyone loves him and regards him as a friend. Ibn `Abbas, Mujahid, Qatadah and others said: "He obeyed Allah in all ways." This is like the Ayah,
وَإِبْرَهِيمَ الَّذِى وَفَّى
(And of Ibrahim who fulfilled all.) (53:37) He did all that he was commanded to do and obeyed his Lord to the utmost. Allah says:
وَءَاتَيْنَاهُ أَجْرَهُ فِى الدُّنْيَا وَإِنَّهُ فِى لاٌّخِرَةِ لَمِنَ الصَّـلِحِينَ
(and We granted him his reward in this world; and verily, in the Hereafter he is indeed among the righteous.) And He says:
إِنَّ إِبْرَهِيمَ كَانَ أُمَّةً قَـنِتًا لِلَّهِ حَنِيفًا وَلَمْ يَكُ مِنَ الْمُشْرِكِينَ
(Verily, Ibrahim was an Ummah, Qanit to Allah, a Hanif, and he was not one of the idolators) until:
وَإِنَّهُ فِى الاٌّخِرَةِ لَمِنَ الصَّـلِحِينَ
(and in the Hereafter he shall be of the righteous) (16:120-122).
حضرت لوط ؑ اور حضرت سارہ ؓ کہا جاتا ہے کہ حضرت لوط ؑ حضرت ابراہیم ؑ کے بھتیجے تھے۔ لوط بن ہارون بن آزر۔ آپ کی ساری قوم میں سے ایک تو حضرت لوط ایمان لائے تھے اور ایک حضرت سارہ جو آپ کی بیوی تھی ایک روایت میں ہے کہ جب آپ کی بیوی صاحبہ کو اس ظالم بادشاہ نے اپنے سپاہیوں کے ذریعہ اپنے پاس بلوایا تو حضرت ابراہیم نے کہا تھا کہ دیکھو میں نے اپنا رشتہ تم سے بھائی بہن کا بنایا ہے تم بھی یہی کہنا کیونکہ اس وقت دنیا پر میرے اور تمہارے سوا کوئی مومن نہیں ہے تو ممکن ہے کہ اس سے مراد یہ ہو کہ کوئی میاں بیوی ہمارے سوا ایماندار نہیں۔ حضرت لوط آپ پر ایمان تو لائے مگر اسی وقت ہجرت کرکے شام چلے گئے تھے پھر اہل سدوم کی طرف نبی بناکر بھیج دئے گئے تھے جیسا کہ بیان گذرا اور آئے گا۔ ہجرت کا ارادہ یا تو حضرت لوط ؑ نے ظاہر فرمایا کیونکہ ضمیر کا مرجع اقرب تو یہی ہے۔ یا حضرت ابراہیم نے جیسا کہ ابن عباس ؓ ما اور ضحاک ؓ کا بیان ہے۔ تو گویا حضرت لوط ؑ کے ایمان لانے کے بعد آپ نے اپنی قوم سے دست برداری کرلی اور اپنا ارادہ ظاہر کیا کہ اور کسی جگہ جاؤں شاید وہاں والے اللہ والے بن جائیں۔ عزت اللہ کی اس کے رسول کی اور مومنوں کی ہے۔ حکمت والے اقوال، افعال، تقدیر، شریعت اللہ کی ہے۔ قتادۃ فرماتے ہیں کہ آپ کوفے سے ہجرت کرکے شام کے ملک کی طرف گئے۔ حدیث میں ہے کہ ہجرت کے بعد کی ہجرت حضرت ابراہیم ؑ کی ہجرت گاہ کی طرف ہوگی۔ اس وقت زمین پر بدترین لوگ باقی رہ جائیں گے جنہیں زمین تھوک دے گی اور اللہ ان سے نفرت کرے گا انہیں آگ سورؤں اور بندروں کے ساتھ ہنکاتی پھرے گی۔ راتوں کو دنوں کو انہی کیساتھ رہے گی۔ اور ان کی جھڑن کھاتی رہے گی۔ اور روایت میں ہے جو ان میں سے پیچھے رہ جائے گا اسے یہ آگ کھاجائے گی اور مشرق کی طرف سے کچھ لوگ میری امت میں ایسے نکلیں گے جو قرآن پڑھیں گے لیکن ان کے گلے سے نیچے نہیں اترے گا ان کے خاتمے کے بعد دوسرا گروہ کھڑا ہوگا۔ یہاں تک کہ آپ نے بیس سے بھی زیادہ بار اسے دہرایا۔ یہاں تک کہ انہی کے آخری گروہ میں سے دجال نکلے گا۔ حضرت عبداللہ بن عمرو کا بیان ہے کہ ایک زمانہ تو ہم پر وہ تھا کہ ہم ایک مسلمان بھائی کے لئے درہم و دینار کو کوئی چیز نہیں سمجھتے تھے اپنی دولت اپنے بھائی کی ہی سمجھتے تھے پھر وہ زمانہ آیا کہ دولت ہمیں اپنے مسلم بھائی سے زیادہ عزیز معلوم ہونے لگی۔ میں نے حضور ﷺ سے سنا ہے کہ اگر تم بیلوں کی دموں کے پیچھے لگ جاؤگے اور تجارت میں مشغول ہوجاؤگے اور اللہ کی راہ کا جہاد چھوڑ دو گے تو اللہ تعالیٰ تمہاری گردنوں میں ذلت کے پٹے ڈال دے گا جو اس وقت تک تم سے الگ نہ ہونگے جب تک کہ تم پھر سے وہیں نہ آجاؤ جہاں تھے اور تم توبہ نہ کرلو۔ پھر وہی حدیث بیان کی جو اوپر گزری اور فرمایا کہ میری امت میں ایسے لوگ ہونگے جو قرآں پڑھیں گے اور بدعملیاں کریں گے قرآن ان کے حلقوم سے نیچے نہیں اترے گا۔ ان کے علم کو دیکھ کر تم اپنے علموں کو حقیر سمجھنے لگوگے۔ وہ اہل اسلام کو قتل کریں گے پس جب یہ لوگ ظاہر ہوں تو انہیں قتل کردینا پھر نکلیں پھر مار ڈالنا پھر ظاہر ہوں پھر قتل کردینا۔ وہ بھی خوش نصیب ہے جو ان کے ہاتھوں قتل کیا جائے اور وہ بھی خوش نصیب ہے جو انکو قتل کریں۔ جب ان کے گروہ نکلیں گے اللہ انہیں برباد کردے گا پھر نکلیں گے پھر برباد ہوجائیں گے اسی طرح حضور ﷺ نے کوئی بیس مرتبہ بلکہ اس سے بھی زیادہ بار یہی فرمایا۔ ہم نے ابراہیم ؑ کو اسحاق ؑ نامی بیٹا دیا اور اسحاق ؑ کو یعقوب ؑ نامی۔ جیسے فرمان ہے کہ جب خلیل اللہ نے اپنی قوم کو اور ان کے معبودوں کو چھوڑ دیا تو اللہ نے آپ کو اسحاق اور یعقوب دیا اور ہر ایک کو نبی بنایا۔ اس میں یہ بھی اشارہ ہے کہ پوتا بھی آپ کی موجودگی میں ہوجائے گا اسحاق ؑ بیٹے تھے اور یعقوب ؑ پوتے تھے۔ اور آیت میں ہے کہ ہم نے حضرت ابراہیم ؑ کی بیوی صاحبہ کو اسحاق کی اور اسحاق ؑ کے پیچھے یعقوب ؑ کی بشارت دی۔ اور فرمایا کہ قوم کو چھوڑنے کے بدلے اللہ تمہارے گھر کی بستی یہ دے گا۔ جس سے تمہاری آنکھیں ٹھنڈی رہیں۔ پس ثابت ہوا کی حضرت یعقوب ؑ حضرت اسحاق ؑ کے فرزند تھے۔ یہی سنت سے بھی ثابت ہے قرآن کی اور آیت میں ہے کہ تم اس وقت موجود تھے جب حضرت یعقوب ؑ موت کا وقت آیا تو وہ اپنے لڑکوں سے کہنے لگے تم میرے بعد کس کی عبادت کروگے ؟ انہوں نے کہا آپ کی اور آپ کے والد ابراہیم علیہ السلام، اسماعیل ؑ ، اسحاق ؑ کے والد کی جو یکتا ہے اور واحد لاشریک ہے بخاری ومسلم کی حدیث میں ہے کریم بن کریم بن کریم یوسف بن یعقوب ؑ اسحاق ؑ بن ابراہیم ہیں۔ علیہم الصلوۃ والسلام۔ ابن عباس ؓ ما سے جو مروی ہے کہ اسحاق و یعقوب حضرت ابراہیم کے فرزند تھے اس سے مراد فرزند کے فرزند کو فرزند کہہ دینا۔ یہ نہیں کہ صلبی فرزند دونوں تھے ابن عباس ؓ ما تو کہا ہے کہ ادنی آدمی بھی ایسی ٹھوکر نہیں کھاسکتا۔ ہم نے انہی کی اولاد میں کتاب ونبوۃ رکھ دی۔ خلیل کا خطاب انہیں کو ملا انہیں کہا گیا پھر ان کے بعد انہی کی نسل میں نبوت وحکمت رہی بنی اسرائیل کے تمام انبیاء حضرت یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم ؑ کی نسل سے ہیں۔ حضرت عیسیٰ تک تو یہ سلسلہ یونوی چلا۔ بنواسرائیل کے اس آخری پیغمبر نے اپنی امت کو صاف کہہ دیا کہ میں نے تمہیں نبی عربی قریشی ہاشمی خاتم الرسل سید اولاد آدم کی بشارت دیتا ہوں۔ جنہیں اللہ نے چن لیا ہے آپ حضرت اسماعیل کی نسل میں سے تھے۔ حضرت اسماعیل کی اولاد میں سے آپ کے سوائے اور نبی نہیں ہوا۔ علیہ افضل الصلوۃ والتسلیم۔ ہم نے انہیں دنیا کے ثواب بھی دئیے اور آخرت کی نیکیاں بھی عطا فرمائیں۔ دنیا میں رزق وسیع، جگہ پاک، بیوی نیک، سیرت جمیل اور ذکر حسن دیا ساری دنیا کے دلوں میں آپ کی محبت ڈال دی۔ باوجودیکہ اپنی اطاعت کی توفیق روز بروز اور زیادہ دی۔ کامل اطاعت گزاری کی توفیق کے ساتھ دنیا کی بھلائیاں بھی عطا فرمائیں۔ اور آخرت میں بھی صالحین میں رکھا۔ جیسے فرمان ہے ابراہیم مکمل فرماں بردار تھے موحد تھے مشرکوں میں سے نہ تھے آخرت میں بھلے لوگوں کا ساتھی ہوا۔
27
View Single
وَوَهَبۡنَا لَهُۥٓ إِسۡحَٰقَ وَيَعۡقُوبَ وَجَعَلۡنَا فِي ذُرِّيَّتِهِ ٱلنُّبُوَّةَ وَٱلۡكِتَٰبَ وَءَاتَيۡنَٰهُ أَجۡرَهُۥ فِي ٱلدُّنۡيَاۖ وَإِنَّهُۥ فِي ٱلۡأٓخِرَةِ لَمِنَ ٱلصَّـٰلِحِينَ
And We bestowed Ishaq and Yaqub to him, and kept the Prophethood and the Book among his descendants, and We gave him his reward in the world; and in the Hereafter he is indeed among those who deserve Our proximity.
اور ہم نے انہیں اسحاق اور یعقوب (علیہما السلام بیٹا اور پوتا) عطا فرمائے اور ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد میں نبوت اور کتاب مقرر فرما دی اور ہم نے انہیں دنیا میں (ہی) ان کا صلہ عطا فرما دیا، اور بیشک وہ آخرت میں (بھی) نیکوکاروں میں سے ہیں
Tafsir Ibn Kathir
The Faith of Lut and His Emigration with Ibrahim
Allah tells us that Lut believed in Ibrahim. It was said that he was the son of Ibrahim's brother, and that his name was Lut bin Haran bin Azar. None of Ibrahim's people believed in Ibrahim besides Lut and Sarah the wife of Ibrahim. But if it is asked how we may reconcile this Ayah with the Hadith narrated in the Sahih which says that when Ibrahim passed by that tyrant and he asked about Sarah and what her relationship was to him, Ibrahim said, "My sister." Then he went to her and said, "I told him that you are my sister, so do not let him think I am lying, for there are no believers on earth except for you and I, and you are my sister in faith." It seems -- and Allah knows best -- that the meaning here is, there is no other Muslim couple on earth apart from you and I. Among his people, only Lut believed in him and migrated with him to Syria, then during Ibrahim's lifetime he was sent as a Messenger to the people of Sadum (Sodom) where he settled. We have already discussed their story and more is to come.
وَقَالَ إِنِّى مُهَاجِرٌ إِلَى رَبِّى
(He (Ibrahim) said: "I will emigrate for the sake of my Lord.") It may be that the pronoun in the verb "he said" refers to Lut, because he was the last person mentioned before this phrase; or it may refer to Ibrahim. Ibn `Abbas and Ad-Dahhak said that Ibrahim is the one who is referred in the phrase.
فَـَامَنَ لَهُ لُوطٌ
(So, Lut believed in him.) i.e., out of all his people. Then Allah tells us that he chose to leave them so that he might be able to follow his religion openly. So he said:
إِنَّهُ هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ
(Verily, He is the All-Mighty, the All-Wise.) Power belongs to Him and to His Messenger and to those who believe in him, and He is Wise in all that He says and does, and in all His rulings and decrees, both universal and legislative. Qatadah said, "They migrated together from Kutha, which is on the outskirts of Kufa, and went to Syria." Allah gave Ibrahim, Ishaq and Ya`qub, and ordained Prophethood in His Offspring
وَوَهَبْنَا لَهُ إِسْحَـقَ وَيَعْقُوبَ
(And We bestowed on him, Ishaq and Ya`qub,) This is like the Ayah,
فَلَمَّا اعْتَزَلَهُمْ وَمَا يَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّهِ وَهَبْنَا لَهُ إِسْحَـقَ وَيَعْقُوبَ وَكُلاًّ جَعَلْنَا نَبِيّاً
(So, when he had turned away from them and from those whom they worshipped besides Allah, We gave him Ishaq and Ya`qub, and each one of them We made a Prophet.) (19:49) That is, when he left his people, Allah gave him joy in a righteous son who was also a Prophet, to whom in turn was born, in his grandfather's lifetime, a righteous son who was also a Prophet. Allah also says:
وَوَهَبْنَا لَهُ إِسْحَـقَ وَيَعْقُوبَ نَافِلَةً
(And We bestowed upon him Ishaq, and Ya`qub in addition) (21:72) meaning, as an additional gift. This is like the Ayah,
فَبَشَّرْنَـهَا بِإِسْحَـقَ وَمِن وَرَآءِ إِسْحَـقَ يَعْقُوبَ
(But We gave her glad tidings of Ishaq, and after Ishaq, of Ya`qub.) (11:71) meaning, to this son would be born a son during their lives, who would be a delight to them.
وَجَعَلْنَا فِى ذُرِّيَّتِهِ النُّبُوَّةَ وَالْكِتَـبَ
(and We ordained among his offspring prophethood and the Book,) This is a tremendous blessing. Not only did Allah take him as a close friend and make him an Imam for mankind, but He also ordained prophethood and the Book among his offspring. After the time of Ibrahim there was no Prophet who was not from among his descendants. All of the Prophets of the Children of Israel were from among his descendants, from Ya`qub bin Ishaq bin Ibrahim to the last of them, `Isa bin Maryam, who stood in the midst of his people and announced the good news of the Hashimi Qurashi Arab Prophet, the last of all the Messengers, the leader of the sons of Adam in this world and the next, whom Allah chose from the heart of the Arab nation, from the descendants of Isma`il bin Ibrahim, may peace be upon them. There is no Prophet from the line of Isma`il besides him, may the best of blessings and peace be upon him.
وَءَاتَيْنَاهُ أَجْرَهُ فِى الدُّنْيَا وَإِنَّهُ فِى لاٌّخِرَةِ لَمِنَ الصَّـلِحِينَ
(and We granted him his reward in this world; and verily, in the Hereafter he is indeed among the righteous.) Allah granted him happiness in this world that was connected to happiness in the Hereafter, for in this world he had plentiful provision, a splendid home, a beautiful and righteous wife, and he was and still is spoken of highly, for everyone loves him and regards him as a friend. Ibn `Abbas, Mujahid, Qatadah and others said: "He obeyed Allah in all ways." This is like the Ayah,
وَإِبْرَهِيمَ الَّذِى وَفَّى
(And of Ibrahim who fulfilled all.) (53:37) He did all that he was commanded to do and obeyed his Lord to the utmost. Allah says:
وَءَاتَيْنَاهُ أَجْرَهُ فِى الدُّنْيَا وَإِنَّهُ فِى لاٌّخِرَةِ لَمِنَ الصَّـلِحِينَ
(and We granted him his reward in this world; and verily, in the Hereafter he is indeed among the righteous.) And He says:
إِنَّ إِبْرَهِيمَ كَانَ أُمَّةً قَـنِتًا لِلَّهِ حَنِيفًا وَلَمْ يَكُ مِنَ الْمُشْرِكِينَ
(Verily, Ibrahim was an Ummah, Qanit to Allah, a Hanif, and he was not one of the idolators) until:
وَإِنَّهُ فِى الاٌّخِرَةِ لَمِنَ الصَّـلِحِينَ
(and in the Hereafter he shall be of the righteous) (16:120-122).
حضرت لوط ؑ اور حضرت سارہ ؓ کہا جاتا ہے کہ حضرت لوط ؑ حضرت ابراہیم ؑ کے بھتیجے تھے۔ لوط بن ہارون بن آزر۔ آپ کی ساری قوم میں سے ایک تو حضرت لوط ایمان لائے تھے اور ایک حضرت سارہ جو آپ کی بیوی تھی ایک روایت میں ہے کہ جب آپ کی بیوی صاحبہ کو اس ظالم بادشاہ نے اپنے سپاہیوں کے ذریعہ اپنے پاس بلوایا تو حضرت ابراہیم نے کہا تھا کہ دیکھو میں نے اپنا رشتہ تم سے بھائی بہن کا بنایا ہے تم بھی یہی کہنا کیونکہ اس وقت دنیا پر میرے اور تمہارے سوا کوئی مومن نہیں ہے تو ممکن ہے کہ اس سے مراد یہ ہو کہ کوئی میاں بیوی ہمارے سوا ایماندار نہیں۔ حضرت لوط آپ پر ایمان تو لائے مگر اسی وقت ہجرت کرکے شام چلے گئے تھے پھر اہل سدوم کی طرف نبی بناکر بھیج دئے گئے تھے جیسا کہ بیان گذرا اور آئے گا۔ ہجرت کا ارادہ یا تو حضرت لوط ؑ نے ظاہر فرمایا کیونکہ ضمیر کا مرجع اقرب تو یہی ہے۔ یا حضرت ابراہیم نے جیسا کہ ابن عباس ؓ ما اور ضحاک ؓ کا بیان ہے۔ تو گویا حضرت لوط ؑ کے ایمان لانے کے بعد آپ نے اپنی قوم سے دست برداری کرلی اور اپنا ارادہ ظاہر کیا کہ اور کسی جگہ جاؤں شاید وہاں والے اللہ والے بن جائیں۔ عزت اللہ کی اس کے رسول کی اور مومنوں کی ہے۔ حکمت والے اقوال، افعال، تقدیر، شریعت اللہ کی ہے۔ قتادۃ فرماتے ہیں کہ آپ کوفے سے ہجرت کرکے شام کے ملک کی طرف گئے۔ حدیث میں ہے کہ ہجرت کے بعد کی ہجرت حضرت ابراہیم ؑ کی ہجرت گاہ کی طرف ہوگی۔ اس وقت زمین پر بدترین لوگ باقی رہ جائیں گے جنہیں زمین تھوک دے گی اور اللہ ان سے نفرت کرے گا انہیں آگ سورؤں اور بندروں کے ساتھ ہنکاتی پھرے گی۔ راتوں کو دنوں کو انہی کیساتھ رہے گی۔ اور ان کی جھڑن کھاتی رہے گی۔ اور روایت میں ہے جو ان میں سے پیچھے رہ جائے گا اسے یہ آگ کھاجائے گی اور مشرق کی طرف سے کچھ لوگ میری امت میں ایسے نکلیں گے جو قرآن پڑھیں گے لیکن ان کے گلے سے نیچے نہیں اترے گا ان کے خاتمے کے بعد دوسرا گروہ کھڑا ہوگا۔ یہاں تک کہ آپ نے بیس سے بھی زیادہ بار اسے دہرایا۔ یہاں تک کہ انہی کے آخری گروہ میں سے دجال نکلے گا۔ حضرت عبداللہ بن عمرو کا بیان ہے کہ ایک زمانہ تو ہم پر وہ تھا کہ ہم ایک مسلمان بھائی کے لئے درہم و دینار کو کوئی چیز نہیں سمجھتے تھے اپنی دولت اپنے بھائی کی ہی سمجھتے تھے پھر وہ زمانہ آیا کہ دولت ہمیں اپنے مسلم بھائی سے زیادہ عزیز معلوم ہونے لگی۔ میں نے حضور ﷺ سے سنا ہے کہ اگر تم بیلوں کی دموں کے پیچھے لگ جاؤگے اور تجارت میں مشغول ہوجاؤگے اور اللہ کی راہ کا جہاد چھوڑ دو گے تو اللہ تعالیٰ تمہاری گردنوں میں ذلت کے پٹے ڈال دے گا جو اس وقت تک تم سے الگ نہ ہونگے جب تک کہ تم پھر سے وہیں نہ آجاؤ جہاں تھے اور تم توبہ نہ کرلو۔ پھر وہی حدیث بیان کی جو اوپر گزری اور فرمایا کہ میری امت میں ایسے لوگ ہونگے جو قرآں پڑھیں گے اور بدعملیاں کریں گے قرآن ان کے حلقوم سے نیچے نہیں اترے گا۔ ان کے علم کو دیکھ کر تم اپنے علموں کو حقیر سمجھنے لگوگے۔ وہ اہل اسلام کو قتل کریں گے پس جب یہ لوگ ظاہر ہوں تو انہیں قتل کردینا پھر نکلیں پھر مار ڈالنا پھر ظاہر ہوں پھر قتل کردینا۔ وہ بھی خوش نصیب ہے جو ان کے ہاتھوں قتل کیا جائے اور وہ بھی خوش نصیب ہے جو انکو قتل کریں۔ جب ان کے گروہ نکلیں گے اللہ انہیں برباد کردے گا پھر نکلیں گے پھر برباد ہوجائیں گے اسی طرح حضور ﷺ نے کوئی بیس مرتبہ بلکہ اس سے بھی زیادہ بار یہی فرمایا۔ ہم نے ابراہیم ؑ کو اسحاق ؑ نامی بیٹا دیا اور اسحاق ؑ کو یعقوب ؑ نامی۔ جیسے فرمان ہے کہ جب خلیل اللہ نے اپنی قوم کو اور ان کے معبودوں کو چھوڑ دیا تو اللہ نے آپ کو اسحاق اور یعقوب دیا اور ہر ایک کو نبی بنایا۔ اس میں یہ بھی اشارہ ہے کہ پوتا بھی آپ کی موجودگی میں ہوجائے گا اسحاق ؑ بیٹے تھے اور یعقوب ؑ پوتے تھے۔ اور آیت میں ہے کہ ہم نے حضرت ابراہیم ؑ کی بیوی صاحبہ کو اسحاق کی اور اسحاق ؑ کے پیچھے یعقوب ؑ کی بشارت دی۔ اور فرمایا کہ قوم کو چھوڑنے کے بدلے اللہ تمہارے گھر کی بستی یہ دے گا۔ جس سے تمہاری آنکھیں ٹھنڈی رہیں۔ پس ثابت ہوا کی حضرت یعقوب ؑ حضرت اسحاق ؑ کے فرزند تھے۔ یہی سنت سے بھی ثابت ہے قرآن کی اور آیت میں ہے کہ تم اس وقت موجود تھے جب حضرت یعقوب ؑ موت کا وقت آیا تو وہ اپنے لڑکوں سے کہنے لگے تم میرے بعد کس کی عبادت کروگے ؟ انہوں نے کہا آپ کی اور آپ کے والد ابراہیم علیہ السلام، اسماعیل ؑ ، اسحاق ؑ کے والد کی جو یکتا ہے اور واحد لاشریک ہے بخاری ومسلم کی حدیث میں ہے کریم بن کریم بن کریم یوسف بن یعقوب ؑ اسحاق ؑ بن ابراہیم ہیں۔ علیہم الصلوۃ والسلام۔ ابن عباس ؓ ما سے جو مروی ہے کہ اسحاق و یعقوب حضرت ابراہیم کے فرزند تھے اس سے مراد فرزند کے فرزند کو فرزند کہہ دینا۔ یہ نہیں کہ صلبی فرزند دونوں تھے ابن عباس ؓ ما تو کہا ہے کہ ادنی آدمی بھی ایسی ٹھوکر نہیں کھاسکتا۔ ہم نے انہی کی اولاد میں کتاب ونبوۃ رکھ دی۔ خلیل کا خطاب انہیں کو ملا انہیں کہا گیا پھر ان کے بعد انہی کی نسل میں نبوت وحکمت رہی بنی اسرائیل کے تمام انبیاء حضرت یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم ؑ کی نسل سے ہیں۔ حضرت عیسیٰ تک تو یہ سلسلہ یونوی چلا۔ بنواسرائیل کے اس آخری پیغمبر نے اپنی امت کو صاف کہہ دیا کہ میں نے تمہیں نبی عربی قریشی ہاشمی خاتم الرسل سید اولاد آدم کی بشارت دیتا ہوں۔ جنہیں اللہ نے چن لیا ہے آپ حضرت اسماعیل کی نسل میں سے تھے۔ حضرت اسماعیل کی اولاد میں سے آپ کے سوائے اور نبی نہیں ہوا۔ علیہ افضل الصلوۃ والتسلیم۔ ہم نے انہیں دنیا کے ثواب بھی دئیے اور آخرت کی نیکیاں بھی عطا فرمائیں۔ دنیا میں رزق وسیع، جگہ پاک، بیوی نیک، سیرت جمیل اور ذکر حسن دیا ساری دنیا کے دلوں میں آپ کی محبت ڈال دی۔ باوجودیکہ اپنی اطاعت کی توفیق روز بروز اور زیادہ دی۔ کامل اطاعت گزاری کی توفیق کے ساتھ دنیا کی بھلائیاں بھی عطا فرمائیں۔ اور آخرت میں بھی صالحین میں رکھا۔ جیسے فرمان ہے ابراہیم مکمل فرماں بردار تھے موحد تھے مشرکوں میں سے نہ تھے آخرت میں بھلے لوگوں کا ساتھی ہوا۔
28
View Single
وَلُوطًا إِذۡ قَالَ لِقَوۡمِهِۦٓ إِنَّكُمۡ لَتَأۡتُونَ ٱلۡفَٰحِشَةَ مَا سَبَقَكُم بِهَا مِنۡ أَحَدٖ مِّنَ ٱلۡعَٰلَمِينَ
And We rescued Lut when he said to his people, “You indeed commit the shameful; such that no one in the creation has ever done before you.”
اور لوط (علیہ السلام) کو (یاد کریں) جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا: بیشک تم بڑی بے حیائی کا ارتکاب کرتے ہو، اقوامِ عالم میں سے کسی ایک (قوم) نے (بھی) اس (بے حیائی) میں تم سے پہل نہیں کی
Tafsir Ibn Kathir
The preaching of Lut and what happened between Him and His People
Allah tells us that His Prophet Lut, peace be upon him, denounced his people for their evil deed and their immoral actions in having intercourse with males, a deed which none of the sons of Adam had ever committed before them. As well as doing this, they also disbelieved in Allah and rejected and opposed His Messenger, they robbed wayfarers, they would lie in wait on the road, kill people and loot their possessions.
وَتَأْتُونَ فِى نَادِيكُمُ الْمُنْكَرَ
(And practice Al-Munkar in your meetings.) This means, `in your gatherings you do and say things that are not befitting, and you do not denounce one another for doing such things.' Some said that they used to have intercourse with one another in public; this was the view of Mujahid. Some said that they used to compete in passing gas and laughing. This was the view of `A'ishah, may Allah be pleased with her, and Al-Qasim. Some of them said that they used to make rams fight one another, or organize cockfights. They used to do all of these things, and they were even eviler than that.
فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهِ إِلاَّ أَن قَالُواْ ائْتِنَا بِعَذَابِ اللَّهِ إِن كُنتَ مِنَ الصَّـدِقِينَ
(But his people gave no answer except that they said: "Bring Allah's torment upon us if you are one of the truthful.") This is indicative of their disbelief, scornful attitude and stubbornness. So Allah's Prophet asked for help against them, and said:
رَبِّ انصُرْنِى عَلَى الْقَوْمِ الْمُفْسِدِينَ
(My Lord! Give me victory over the people who are corrupt.)
سب سے خراب عادت لوطیوں کی مشہور بدکرداری سے حضرت لوط انہیں روکتے ہیں کہ تم جیسی خباثت تم سے پہلے تو کوئی جانتاہی نہ تھا۔ کفر، تکذیب رسول، اللہ کے حکم کی مخالفت تو خیر اور بھی کرتے رہے مگر مردوں سے حاجت روائی تو کسی نے بھی نہیں کی۔ دوسری بد خلصت ان میں یہ بھی تھی کہ راستے روکتے تھے ڈاکے ڈالتے تھے قتل و فساد کرتے تھے مال لوٹ لیتے تھے مجلسوں میں علی الاعلان بری باتیں اور لغو حرکتیں کرتے تھے۔ کوئی کسی کو نہیں روکتا تھا یہاں تک کہ بعض کا قول ہے کہ وہ لواطت بھی علی الاعلان کرتے تھے گویا سوسائٹی کا ایک مشغلہ یہ بھی تھا ہوائیں نکال کر ہنستے تھے مینڈھے لڑواتے اور بدترین برائیاں کرتے تھے اور علی الاعلان مزے لے لے کر گناہ کرتے تھے۔ حدیث میں ہے رہ چلتوں پر آوازہ کشی کرتے تھے۔ اور کنکر پتھر پھینکتے رہتے تھے۔ سیٹیاں بجاتے تھے کبوتربازی کرتے تھے ننگے ہوجاتے تھے۔ کفر عناد سرکشی ضد اور ہٹ دھرمی یہاں تک بڑھی ہوئی تھی کہ نبی کے سمجھانے پر کہنے لگے جاجا پس نصیحت چھوڑ جن عذابوں سے ڈرارہا ہے انہیں تو لے آ۔ ہم بھی تیری سچائی دیکھیں۔ عاجز آکر حضرت لوط ؑ نے بھی اللہ کے آگے ہاتھ پھیلادئیے کہ اے اللہ ! ان مفسدوں پر مجھے غلبہ دے میری مدد کر۔
29
View Single
أَئِنَّكُمۡ لَتَأۡتُونَ ٱلرِّجَالَ وَتَقۡطَعُونَ ٱلسَّبِيلَ وَتَأۡتُونَ فِي نَادِيكُمُ ٱلۡمُنكَرَۖ فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوۡمِهِۦٓ إِلَّآ أَن قَالُواْ ٱئۡتِنَا بِعَذَابِ ٱللَّهِ إِن كُنتَ مِنَ ٱلصَّـٰدِقِينَ
“What! You commit the immoral with males, and cut off the roads; and you speak evilly in your gatherings?” So his people had no answer except to say, “Bring the punishment of Allah upon us if you are truthful!”
کیا تم (شہوت رانی کے لئے) مَردوں کے پاس جاتے ہو اور ڈاکہ زنی کرتے ہو اور اپنی (بھری) مجلس میں ناپسندیدہ کام کرتے ہو، تو ان کی قوم کا جواب (بھی) اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ کہنے لگے: تم ہم پر اللہ کا عذاب لے آؤ اگر تم سچے ہو
Tafsir Ibn Kathir
The preaching of Lut and what happened between Him and His People
Allah tells us that His Prophet Lut, peace be upon him, denounced his people for their evil deed and their immoral actions in having intercourse with males, a deed which none of the sons of Adam had ever committed before them. As well as doing this, they also disbelieved in Allah and rejected and opposed His Messenger, they robbed wayfarers, they would lie in wait on the road, kill people and loot their possessions.
وَتَأْتُونَ فِى نَادِيكُمُ الْمُنْكَرَ
(And practice Al-Munkar in your meetings.) This means, `in your gatherings you do and say things that are not befitting, and you do not denounce one another for doing such things.' Some said that they used to have intercourse with one another in public; this was the view of Mujahid. Some said that they used to compete in passing gas and laughing. This was the view of `A'ishah, may Allah be pleased with her, and Al-Qasim. Some of them said that they used to make rams fight one another, or organize cockfights. They used to do all of these things, and they were even eviler than that.
فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهِ إِلاَّ أَن قَالُواْ ائْتِنَا بِعَذَابِ اللَّهِ إِن كُنتَ مِنَ الصَّـدِقِينَ
(But his people gave no answer except that they said: "Bring Allah's torment upon us if you are one of the truthful.") This is indicative of their disbelief, scornful attitude and stubbornness. So Allah's Prophet asked for help against them, and said:
رَبِّ انصُرْنِى عَلَى الْقَوْمِ الْمُفْسِدِينَ
(My Lord! Give me victory over the people who are corrupt.)
سب سے خراب عادت لوطیوں کی مشہور بدکرداری سے حضرت لوط انہیں روکتے ہیں کہ تم جیسی خباثت تم سے پہلے تو کوئی جانتاہی نہ تھا۔ کفر، تکذیب رسول، اللہ کے حکم کی مخالفت تو خیر اور بھی کرتے رہے مگر مردوں سے حاجت روائی تو کسی نے بھی نہیں کی۔ دوسری بد خلصت ان میں یہ بھی تھی کہ راستے روکتے تھے ڈاکے ڈالتے تھے قتل و فساد کرتے تھے مال لوٹ لیتے تھے مجلسوں میں علی الاعلان بری باتیں اور لغو حرکتیں کرتے تھے۔ کوئی کسی کو نہیں روکتا تھا یہاں تک کہ بعض کا قول ہے کہ وہ لواطت بھی علی الاعلان کرتے تھے گویا سوسائٹی کا ایک مشغلہ یہ بھی تھا ہوائیں نکال کر ہنستے تھے مینڈھے لڑواتے اور بدترین برائیاں کرتے تھے اور علی الاعلان مزے لے لے کر گناہ کرتے تھے۔ حدیث میں ہے رہ چلتوں پر آوازہ کشی کرتے تھے۔ اور کنکر پتھر پھینکتے رہتے تھے۔ سیٹیاں بجاتے تھے کبوتربازی کرتے تھے ننگے ہوجاتے تھے۔ کفر عناد سرکشی ضد اور ہٹ دھرمی یہاں تک بڑھی ہوئی تھی کہ نبی کے سمجھانے پر کہنے لگے جاجا پس نصیحت چھوڑ جن عذابوں سے ڈرارہا ہے انہیں تو لے آ۔ ہم بھی تیری سچائی دیکھیں۔ عاجز آکر حضرت لوط ؑ نے بھی اللہ کے آگے ہاتھ پھیلادئیے کہ اے اللہ ! ان مفسدوں پر مجھے غلبہ دے میری مدد کر۔
30
View Single
قَالَ رَبِّ ٱنصُرۡنِي عَلَى ٱلۡقَوۡمِ ٱلۡمُفۡسِدِينَ
He submitted, “My Lord! Help me against these mischievous people.”
لوط (علیہ السلام) نے عرض کیا: اے رب! تو فساد انگیزی کرنے والی قوم کے خلاف میری مدد فرما
Tafsir Ibn Kathir
The preaching of Lut and what happened between Him and His People
Allah tells us that His Prophet Lut, peace be upon him, denounced his people for their evil deed and their immoral actions in having intercourse with males, a deed which none of the sons of Adam had ever committed before them. As well as doing this, they also disbelieved in Allah and rejected and opposed His Messenger, they robbed wayfarers, they would lie in wait on the road, kill people and loot their possessions.
وَتَأْتُونَ فِى نَادِيكُمُ الْمُنْكَرَ
(And practice Al-Munkar in your meetings.) This means, `in your gatherings you do and say things that are not befitting, and you do not denounce one another for doing such things.' Some said that they used to have intercourse with one another in public; this was the view of Mujahid. Some said that they used to compete in passing gas and laughing. This was the view of `A'ishah, may Allah be pleased with her, and Al-Qasim. Some of them said that they used to make rams fight one another, or organize cockfights. They used to do all of these things, and they were even eviler than that.
فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهِ إِلاَّ أَن قَالُواْ ائْتِنَا بِعَذَابِ اللَّهِ إِن كُنتَ مِنَ الصَّـدِقِينَ
(But his people gave no answer except that they said: "Bring Allah's torment upon us if you are one of the truthful.") This is indicative of their disbelief, scornful attitude and stubbornness. So Allah's Prophet asked for help against them, and said:
رَبِّ انصُرْنِى عَلَى الْقَوْمِ الْمُفْسِدِينَ
(My Lord! Give me victory over the people who are corrupt.)
سب سے خراب عادت لوطیوں کی مشہور بدکرداری سے حضرت لوط انہیں روکتے ہیں کہ تم جیسی خباثت تم سے پہلے تو کوئی جانتاہی نہ تھا۔ کفر، تکذیب رسول، اللہ کے حکم کی مخالفت تو خیر اور بھی کرتے رہے مگر مردوں سے حاجت روائی تو کسی نے بھی نہیں کی۔ دوسری بد خلصت ان میں یہ بھی تھی کہ راستے روکتے تھے ڈاکے ڈالتے تھے قتل و فساد کرتے تھے مال لوٹ لیتے تھے مجلسوں میں علی الاعلان بری باتیں اور لغو حرکتیں کرتے تھے۔ کوئی کسی کو نہیں روکتا تھا یہاں تک کہ بعض کا قول ہے کہ وہ لواطت بھی علی الاعلان کرتے تھے گویا سوسائٹی کا ایک مشغلہ یہ بھی تھا ہوائیں نکال کر ہنستے تھے مینڈھے لڑواتے اور بدترین برائیاں کرتے تھے اور علی الاعلان مزے لے لے کر گناہ کرتے تھے۔ حدیث میں ہے رہ چلتوں پر آوازہ کشی کرتے تھے۔ اور کنکر پتھر پھینکتے رہتے تھے۔ سیٹیاں بجاتے تھے کبوتربازی کرتے تھے ننگے ہوجاتے تھے۔ کفر عناد سرکشی ضد اور ہٹ دھرمی یہاں تک بڑھی ہوئی تھی کہ نبی کے سمجھانے پر کہنے لگے جاجا پس نصیحت چھوڑ جن عذابوں سے ڈرارہا ہے انہیں تو لے آ۔ ہم بھی تیری سچائی دیکھیں۔ عاجز آکر حضرت لوط ؑ نے بھی اللہ کے آگے ہاتھ پھیلادئیے کہ اے اللہ ! ان مفسدوں پر مجھے غلبہ دے میری مدد کر۔
31
View Single
وَلَمَّا جَآءَتۡ رُسُلُنَآ إِبۡرَٰهِيمَ بِٱلۡبُشۡرَىٰ قَالُوٓاْ إِنَّا مُهۡلِكُوٓاْ أَهۡلِ هَٰذِهِ ٱلۡقَرۡيَةِۖ إِنَّ أَهۡلَهَا كَانُواْ ظَٰلِمِينَ
And when Our sent angels came with glad tidings to Ibrahim, they said, “We will surely destroy the people of that town; indeed its inhabitants are unjust.”
اور جب ہمارے بھیجے ہوئے (فرشتے) ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس خوشخبری لے کر آئے (تو) انہوں نے (ساتھ) یہ (بھی) کہا کہ ہم اس بستی کے مکینوں کو ہلاک کرنے والے ہیں کیونکہ یہاں کے باشندے ظالم ہیں
Tafsir Ibn Kathir
The Angels went to Ibrahim and then to Lut, may peace be upon them both
When Lut, peace be upon him, asked Allah to help him against them, Allah sent angels to help him. They first came to Ibrahim in the form of guests, so he offered them hospitality in the appropriate manner. When he saw that they had no interest in the food, he felt some mistrust of them and was fearful of them. They started to calm him down and gave him the news of a righteous son born by his wife Sarah, who was present, and she was astonished by this, as we have already explained in our Tafsir of Surat Hud and Surat Al-Hijr. When they brought this news to Ibrahim and told him that they were sent to destroy the people of Lut, he began to speak up for them, hoping to win more time for them so that they might be guided by Allah. When they said, "We have come to destroy the people of this township,"
قَالَ إِنَّ فِيهَا لُوطاً قَالُواْ نَحْنُ أَعْلَمُ بِمَن فِيهَا لَنُنَجِّيَنَّهُ وَأَهْلَهُ إِلاَّ امْرَأَتَهُ كَانَتْ مِنَ الْغَـبِرِينَ
((Ibrahim) said: "But there is Lut in it." They said: "We know better who is there. We will verily, save him and his family except his wife, she will be of those who remain behind.") meaning, one of those who will be destroyed, because she used to support them in their disbelief and wrongdoing. Then the angels left him and visited Lut in the form of handsome young men. When he saw them like that,
سِىءَ بِهِمْ وَضَاقَ بِهِمْ ذَرْعًا
(he was grieved because of them, and felt straitened on their account.) means, he was worried since if he had them as guests then he was afraid for them and what his people might do to them, but if he did not host them, he was still afraid of what might happen to them. At that point he did not know who they were.
وَلَمَّآ أَن جَآءَتْ رُسُلُنَا لُوطاً سِىءَ بِهِمْ وَضَاقَ بِهِمْ ذَرْعاً وَقَالُواْ لاَ تَخَفْ وَلاَ تَحْزَنْ إِنَّا مُنَجُّوكَ وَأَهْلَكَ إِلاَّ امْرَأَتَكَ كَانَتْ مِنَ الْغَـبِرينَ - إِنَّا مُنزِلُونَ عَلَى أَهْلِ هَـذِهِ الْقَرْيَةِ رِجْزاً مِّنَ السَّمَآءِ بِمَا كَانُواْ يَفْسُقُونَ
(They said: "Have no fear, and do not grieve! Truly, we shall save you and your family except your wife: she will be of those who remain behind. Verily, we are about to bring down on the people of this town a great torment from the sky, because they have been rebellious.") Jibril, peace be upon him, uprooted their town from the depths of the earth, lifted it up to the sky, then threw it upside down upon them. Allah rained upon them:
فَلَمَّا جَآءَ أَمْرُنَا جَعَلْنَا عَـلِيَهَا سَافِلَهَا وَأَمْطَرْنَا عَلَيْهَا حِجَارَةً مِّن سِجِّيلٍ مَّنْضُودٍ - مُّسَوَّمَةً عِندَ رَبِّكَ وَمَا هِى مِنَ الظَّـلِمِينَ بِبَعِيدٍ
(stones of Sijjil, in a well-arranged manner one after another. Marked from your Lord; and they are not ever far from the evil doers.) 11:82-83 Allah turned the place where they had lived into a putrid, stinking lake, which will remain as a lesson to mankind until the Day of Resurrection, and they will be among those who are most severely punished on the Day of Resurrection. Allah says:
وَلَقَد تَّرَكْنَا مِنْهَآ ءَايَةً بَيِّنَةً
(And indeed We have left thereof an evident Ayah) i. e., a clear sign, n
لِّقَوْمٍ يَعْقِلُونَ
(for a folk who understand.) This is like the Ayah,
وَإِنَّكُمْ لَّتَمُرُّونَ عَلَيْهِمْ مُّصْبِحِينَ - وَبِالَّيْلِ أَفَلاَ تَعْقِلُونَ
(Verily, you pass by them in the morning And at night; will you not then reflect) (37:137-138)
فرشتوں کی آمد حضرت لوط ؑ کی جب نہ مانی گئی بلکہ سنی بھی نہ گئی تو آپ نے اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کی جس پر فرشتے بھیجے گئے۔ یہ فرشتے بشکل انسان پہلے بطور مہمان کے حضرت ابراہیم ؑ کے گھر آئے۔ آپ نے ضیافت کا سامان تیار کیا اور سامنے لارکھا۔ جب دیکھا کہ انہوں نے اس کی رغبت نہ کی تو دل ہی دل میں خوفزدہ ہوگئے تو فرشتوں نے ان کی دلجوئی شروع کی اور خبردی کہ ایک نیک بچہ ان کے ہاں پیدا ہوگا۔ حضرت سارہ جو وہاں موجود تھیں یہ سن کر تعجب کرنے لگیں جیسے سورة ہود اور سورة حجر میں مفصل تفسیر گذر چکی ہے۔ اب فرشتوں نے اپنا اصلی ارادہ ظاہر کیا۔ جسے سن کر خلیل الرحمن کو خیال آیا کہ اگر وہ لوگ کچھ اور ڈھیل دے دئیے جائیں تو کیا عجب کہ راہ راست پر آجائیں۔ اس لئے آپ فرمانے لگے کہ وہاں تو لوط نبی ؑ ہیں۔ فرشتوں نے جواب دیا ہم ان سے غافل نہیں۔ ہمیں حکم ہے کہ انہیں اور ان کے خاندان کو بچالیں۔ ہاں ان کی بیوی تو بیشک ہلاک ہوگی۔ کیونکہ وہ اپنی قوم کے کفر میں ان کا ساتھ دیتی رہی ہے۔ یہاں سے رخصت ہو کر خوبصورت قریب البلوغ بچوں کی صورتوں میں یہ حضرت لوط ؑ کے پاس پہنچے۔ انہیں دیکھتے ہی لوط شش وپنج میں پڑگئے کہ اگر انہیں ٹھہراتے ہیں تو ان کی خبر پاتے ہی کفار بھڑ بھڑا کر آجائیں گے اور مجھے تنگ کریں گے اور انہیں بھی پریشان کریں گے۔ اگر نہیں ٹھہراتا تو یہ انہی کے ہاتھ پڑجائیں گے قوم کی خصلت سے واقف تھے اس لئے ناخوش اور سنجیدہ ہوگئے۔ لیکن فرشتوں نے ان کی یہ گھبراہٹ دور کردی کہ آپ گھبرائیے نہیں رنجیدہ نہ ہوں ہم تو اللہ کے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں انہیں تباہ و برباد کرنے کے لئے آئیں ہیں۔ آپ اور آپ کا خاندان سوائے آپ کی اہلیہ کے بچ جائے گا۔ باقی ان سب پر آسمانی عذاب آئے گا اور انہیں ان کی بدکاری کا نتیجہ دکھایا جائے گا۔ پھر حضرت جبرائیل ؑ نے ان بستیوں کو زمین سے اٹھایا اور آسمان تک لے گئے اور وہاں سے الٹ دیں پھر ان پر ان کے نام کے نشاندار پتھر برسائے گئے اور جس عذاب الٰہی کو وہ دورسجمھ رہے تھے وہ قریب ہی نکل آیا۔ ان کی بستیوں کی جگہ ایک کڑوے گندے اور بدبودار پانی کی جھیل رہ گئی۔ جو لوگوں کے لئے عبرت حاصل کرنے کا ذریعہ بنے۔ اور عقلمند لوگ اس ظاہری نشان کو دیکھ کر ان کی بری طرح ہلاکت کو یاد کرکے اللہ کی نافرمانیوں پر دلیری نہ کریں۔ عرب کے سفر میں رات دن یہ منظر ان کے پیش نظر تھا۔
32
View Single
قَالَ إِنَّ فِيهَا لُوطٗاۚ قَالُواْ نَحۡنُ أَعۡلَمُ بِمَن فِيهَاۖ لَنُنَجِّيَنَّهُۥ وَأَهۡلَهُۥٓ إِلَّا ٱمۡرَأَتَهُۥ كَانَتۡ مِنَ ٱلۡغَٰبِرِينَ
He said, "Lut is in it!”; they said, “We know very well who all are there; we shall rescue him and his family, except his wife; she is of those who will stay behind.”
ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا: اس (بستی) میں تو لوط (علیہ السلام بھی) ہیں، انہوں نے کہا: ہم ان لوگوں کوخوب جانتے ہیں جو (جو) اس میں (رہتے) ہیں ہم لوط (علیہ السلام) کو اور ان کے گھر والوں کو سوائے ان کی عورت کے ضرور بچالیں گے، وہ پیچھے رہ جانے والوں میں سے ہے
Tafsir Ibn Kathir
The Angels went to Ibrahim and then to Lut, may peace be upon them both
When Lut, peace be upon him, asked Allah to help him against them, Allah sent angels to help him. They first came to Ibrahim in the form of guests, so he offered them hospitality in the appropriate manner. When he saw that they had no interest in the food, he felt some mistrust of them and was fearful of them. They started to calm him down and gave him the news of a righteous son born by his wife Sarah, who was present, and she was astonished by this, as we have already explained in our Tafsir of Surat Hud and Surat Al-Hijr. When they brought this news to Ibrahim and told him that they were sent to destroy the people of Lut, he began to speak up for them, hoping to win more time for them so that they might be guided by Allah. When they said, "We have come to destroy the people of this township,"
قَالَ إِنَّ فِيهَا لُوطاً قَالُواْ نَحْنُ أَعْلَمُ بِمَن فِيهَا لَنُنَجِّيَنَّهُ وَأَهْلَهُ إِلاَّ امْرَأَتَهُ كَانَتْ مِنَ الْغَـبِرِينَ
((Ibrahim) said: "But there is Lut in it." They said: "We know better who is there. We will verily, save him and his family except his wife, she will be of those who remain behind.") meaning, one of those who will be destroyed, because she used to support them in their disbelief and wrongdoing. Then the angels left him and visited Lut in the form of handsome young men. When he saw them like that,
سِىءَ بِهِمْ وَضَاقَ بِهِمْ ذَرْعًا
(he was grieved because of them, and felt straitened on their account.) means, he was worried since if he had them as guests then he was afraid for them and what his people might do to them, but if he did not host them, he was still afraid of what might happen to them. At that point he did not know who they were.
وَلَمَّآ أَن جَآءَتْ رُسُلُنَا لُوطاً سِىءَ بِهِمْ وَضَاقَ بِهِمْ ذَرْعاً وَقَالُواْ لاَ تَخَفْ وَلاَ تَحْزَنْ إِنَّا مُنَجُّوكَ وَأَهْلَكَ إِلاَّ امْرَأَتَكَ كَانَتْ مِنَ الْغَـبِرينَ - إِنَّا مُنزِلُونَ عَلَى أَهْلِ هَـذِهِ الْقَرْيَةِ رِجْزاً مِّنَ السَّمَآءِ بِمَا كَانُواْ يَفْسُقُونَ
(They said: "Have no fear, and do not grieve! Truly, we shall save you and your family except your wife: she will be of those who remain behind. Verily, we are about to bring down on the people of this town a great torment from the sky, because they have been rebellious.") Jibril, peace be upon him, uprooted their town from the depths of the earth, lifted it up to the sky, then threw it upside down upon them. Allah rained upon them:
فَلَمَّا جَآءَ أَمْرُنَا جَعَلْنَا عَـلِيَهَا سَافِلَهَا وَأَمْطَرْنَا عَلَيْهَا حِجَارَةً مِّن سِجِّيلٍ مَّنْضُودٍ - مُّسَوَّمَةً عِندَ رَبِّكَ وَمَا هِى مِنَ الظَّـلِمِينَ بِبَعِيدٍ
(stones of Sijjil, in a well-arranged manner one after another. Marked from your Lord; and they are not ever far from the evil doers.) 11:82-83 Allah turned the place where they had lived into a putrid, stinking lake, which will remain as a lesson to mankind until the Day of Resurrection, and they will be among those who are most severely punished on the Day of Resurrection. Allah says:
وَلَقَد تَّرَكْنَا مِنْهَآ ءَايَةً بَيِّنَةً
(And indeed We have left thereof an evident Ayah) i. e., a clear sign, n
لِّقَوْمٍ يَعْقِلُونَ
(for a folk who understand.) This is like the Ayah,
وَإِنَّكُمْ لَّتَمُرُّونَ عَلَيْهِمْ مُّصْبِحِينَ - وَبِالَّيْلِ أَفَلاَ تَعْقِلُونَ
(Verily, you pass by them in the morning And at night; will you not then reflect) (37:137-138)
فرشتوں کی آمد حضرت لوط ؑ کی جب نہ مانی گئی بلکہ سنی بھی نہ گئی تو آپ نے اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کی جس پر فرشتے بھیجے گئے۔ یہ فرشتے بشکل انسان پہلے بطور مہمان کے حضرت ابراہیم ؑ کے گھر آئے۔ آپ نے ضیافت کا سامان تیار کیا اور سامنے لارکھا۔ جب دیکھا کہ انہوں نے اس کی رغبت نہ کی تو دل ہی دل میں خوفزدہ ہوگئے تو فرشتوں نے ان کی دلجوئی شروع کی اور خبردی کہ ایک نیک بچہ ان کے ہاں پیدا ہوگا۔ حضرت سارہ جو وہاں موجود تھیں یہ سن کر تعجب کرنے لگیں جیسے سورة ہود اور سورة حجر میں مفصل تفسیر گذر چکی ہے۔ اب فرشتوں نے اپنا اصلی ارادہ ظاہر کیا۔ جسے سن کر خلیل الرحمن کو خیال آیا کہ اگر وہ لوگ کچھ اور ڈھیل دے دئیے جائیں تو کیا عجب کہ راہ راست پر آجائیں۔ اس لئے آپ فرمانے لگے کہ وہاں تو لوط نبی ؑ ہیں۔ فرشتوں نے جواب دیا ہم ان سے غافل نہیں۔ ہمیں حکم ہے کہ انہیں اور ان کے خاندان کو بچالیں۔ ہاں ان کی بیوی تو بیشک ہلاک ہوگی۔ کیونکہ وہ اپنی قوم کے کفر میں ان کا ساتھ دیتی رہی ہے۔ یہاں سے رخصت ہو کر خوبصورت قریب البلوغ بچوں کی صورتوں میں یہ حضرت لوط ؑ کے پاس پہنچے۔ انہیں دیکھتے ہی لوط شش وپنج میں پڑگئے کہ اگر انہیں ٹھہراتے ہیں تو ان کی خبر پاتے ہی کفار بھڑ بھڑا کر آجائیں گے اور مجھے تنگ کریں گے اور انہیں بھی پریشان کریں گے۔ اگر نہیں ٹھہراتا تو یہ انہی کے ہاتھ پڑجائیں گے قوم کی خصلت سے واقف تھے اس لئے ناخوش اور سنجیدہ ہوگئے۔ لیکن فرشتوں نے ان کی یہ گھبراہٹ دور کردی کہ آپ گھبرائیے نہیں رنجیدہ نہ ہوں ہم تو اللہ کے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں انہیں تباہ و برباد کرنے کے لئے آئیں ہیں۔ آپ اور آپ کا خاندان سوائے آپ کی اہلیہ کے بچ جائے گا۔ باقی ان سب پر آسمانی عذاب آئے گا اور انہیں ان کی بدکاری کا نتیجہ دکھایا جائے گا۔ پھر حضرت جبرائیل ؑ نے ان بستیوں کو زمین سے اٹھایا اور آسمان تک لے گئے اور وہاں سے الٹ دیں پھر ان پر ان کے نام کے نشاندار پتھر برسائے گئے اور جس عذاب الٰہی کو وہ دورسجمھ رہے تھے وہ قریب ہی نکل آیا۔ ان کی بستیوں کی جگہ ایک کڑوے گندے اور بدبودار پانی کی جھیل رہ گئی۔ جو لوگوں کے لئے عبرت حاصل کرنے کا ذریعہ بنے۔ اور عقلمند لوگ اس ظاہری نشان کو دیکھ کر ان کی بری طرح ہلاکت کو یاد کرکے اللہ کی نافرمانیوں پر دلیری نہ کریں۔ عرب کے سفر میں رات دن یہ منظر ان کے پیش نظر تھا۔
33
View Single
وَلَمَّآ أَن جَآءَتۡ رُسُلُنَا لُوطٗا سِيٓءَ بِهِمۡ وَضَاقَ بِهِمۡ ذَرۡعٗاۖ وَقَالُواْ لَا تَخَفۡ وَلَا تَحۡزَنۡ إِنَّا مُنَجُّوكَ وَأَهۡلَكَ إِلَّا ٱمۡرَأَتَكَ كَانَتۡ مِنَ ٱلۡغَٰبِرِينَ
And when Our sent angels came to Lut, he was unhappy at their arrival and was depressed – and they said, “Do not fear or grieve; we will surely rescue you and your family, except your wife, who is of those who will stay behind.”
اور جب ہمارے بھیجے ہوئے (فرشتے) لوط (علیہ السلام) کے پاس آئے تو وہ ان (کے آنے) سے رنجیدہ ہوئے اور ان کے (ارادۂ عذاب کے) باعث نڈھال سے ہوگئے اور (فرشتوں نے) کہا: آپ نہ خوفزدہ ہوں اور نہ غم زدہ ہوں، بیشک ہم آپ کو اور آپ کے گھر والوں کو بچانے والے ہیں سوائے آپ کی عورت کے وہ (عذاب کے لئے) پیچھے رہ جانے والوں میں سے ہے
Tafsir Ibn Kathir
The Angels went to Ibrahim and then to Lut, may peace be upon them both
When Lut, peace be upon him, asked Allah to help him against them, Allah sent angels to help him. They first came to Ibrahim in the form of guests, so he offered them hospitality in the appropriate manner. When he saw that they had no interest in the food, he felt some mistrust of them and was fearful of them. They started to calm him down and gave him the news of a righteous son born by his wife Sarah, who was present, and she was astonished by this, as we have already explained in our Tafsir of Surat Hud and Surat Al-Hijr. When they brought this news to Ibrahim and told him that they were sent to destroy the people of Lut, he began to speak up for them, hoping to win more time for them so that they might be guided by Allah. When they said, "We have come to destroy the people of this township,"
قَالَ إِنَّ فِيهَا لُوطاً قَالُواْ نَحْنُ أَعْلَمُ بِمَن فِيهَا لَنُنَجِّيَنَّهُ وَأَهْلَهُ إِلاَّ امْرَأَتَهُ كَانَتْ مِنَ الْغَـبِرِينَ
((Ibrahim) said: "But there is Lut in it." They said: "We know better who is there. We will verily, save him and his family except his wife, she will be of those who remain behind.") meaning, one of those who will be destroyed, because she used to support them in their disbelief and wrongdoing. Then the angels left him and visited Lut in the form of handsome young men. When he saw them like that,
سِىءَ بِهِمْ وَضَاقَ بِهِمْ ذَرْعًا
(he was grieved because of them, and felt straitened on their account.) means, he was worried since if he had them as guests then he was afraid for them and what his people might do to them, but if he did not host them, he was still afraid of what might happen to them. At that point he did not know who they were.
وَلَمَّآ أَن جَآءَتْ رُسُلُنَا لُوطاً سِىءَ بِهِمْ وَضَاقَ بِهِمْ ذَرْعاً وَقَالُواْ لاَ تَخَفْ وَلاَ تَحْزَنْ إِنَّا مُنَجُّوكَ وَأَهْلَكَ إِلاَّ امْرَأَتَكَ كَانَتْ مِنَ الْغَـبِرينَ - إِنَّا مُنزِلُونَ عَلَى أَهْلِ هَـذِهِ الْقَرْيَةِ رِجْزاً مِّنَ السَّمَآءِ بِمَا كَانُواْ يَفْسُقُونَ
(They said: "Have no fear, and do not grieve! Truly, we shall save you and your family except your wife: she will be of those who remain behind. Verily, we are about to bring down on the people of this town a great torment from the sky, because they have been rebellious.") Jibril, peace be upon him, uprooted their town from the depths of the earth, lifted it up to the sky, then threw it upside down upon them. Allah rained upon them:
فَلَمَّا جَآءَ أَمْرُنَا جَعَلْنَا عَـلِيَهَا سَافِلَهَا وَأَمْطَرْنَا عَلَيْهَا حِجَارَةً مِّن سِجِّيلٍ مَّنْضُودٍ - مُّسَوَّمَةً عِندَ رَبِّكَ وَمَا هِى مِنَ الظَّـلِمِينَ بِبَعِيدٍ
(stones of Sijjil, in a well-arranged manner one after another. Marked from your Lord; and they are not ever far from the evil doers.) 11:82-83 Allah turned the place where they had lived into a putrid, stinking lake, which will remain as a lesson to mankind until the Day of Resurrection, and they will be among those who are most severely punished on the Day of Resurrection. Allah says:
وَلَقَد تَّرَكْنَا مِنْهَآ ءَايَةً بَيِّنَةً
(And indeed We have left thereof an evident Ayah) i. e., a clear sign, n
لِّقَوْمٍ يَعْقِلُونَ
(for a folk who understand.) This is like the Ayah,
وَإِنَّكُمْ لَّتَمُرُّونَ عَلَيْهِمْ مُّصْبِحِينَ - وَبِالَّيْلِ أَفَلاَ تَعْقِلُونَ
(Verily, you pass by them in the morning And at night; will you not then reflect) (37:137-138)
فرشتوں کی آمد حضرت لوط ؑ کی جب نہ مانی گئی بلکہ سنی بھی نہ گئی تو آپ نے اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کی جس پر فرشتے بھیجے گئے۔ یہ فرشتے بشکل انسان پہلے بطور مہمان کے حضرت ابراہیم ؑ کے گھر آئے۔ آپ نے ضیافت کا سامان تیار کیا اور سامنے لارکھا۔ جب دیکھا کہ انہوں نے اس کی رغبت نہ کی تو دل ہی دل میں خوفزدہ ہوگئے تو فرشتوں نے ان کی دلجوئی شروع کی اور خبردی کہ ایک نیک بچہ ان کے ہاں پیدا ہوگا۔ حضرت سارہ جو وہاں موجود تھیں یہ سن کر تعجب کرنے لگیں جیسے سورة ہود اور سورة حجر میں مفصل تفسیر گذر چکی ہے۔ اب فرشتوں نے اپنا اصلی ارادہ ظاہر کیا۔ جسے سن کر خلیل الرحمن کو خیال آیا کہ اگر وہ لوگ کچھ اور ڈھیل دے دئیے جائیں تو کیا عجب کہ راہ راست پر آجائیں۔ اس لئے آپ فرمانے لگے کہ وہاں تو لوط نبی ؑ ہیں۔ فرشتوں نے جواب دیا ہم ان سے غافل نہیں۔ ہمیں حکم ہے کہ انہیں اور ان کے خاندان کو بچالیں۔ ہاں ان کی بیوی تو بیشک ہلاک ہوگی۔ کیونکہ وہ اپنی قوم کے کفر میں ان کا ساتھ دیتی رہی ہے۔ یہاں سے رخصت ہو کر خوبصورت قریب البلوغ بچوں کی صورتوں میں یہ حضرت لوط ؑ کے پاس پہنچے۔ انہیں دیکھتے ہی لوط شش وپنج میں پڑگئے کہ اگر انہیں ٹھہراتے ہیں تو ان کی خبر پاتے ہی کفار بھڑ بھڑا کر آجائیں گے اور مجھے تنگ کریں گے اور انہیں بھی پریشان کریں گے۔ اگر نہیں ٹھہراتا تو یہ انہی کے ہاتھ پڑجائیں گے قوم کی خصلت سے واقف تھے اس لئے ناخوش اور سنجیدہ ہوگئے۔ لیکن فرشتوں نے ان کی یہ گھبراہٹ دور کردی کہ آپ گھبرائیے نہیں رنجیدہ نہ ہوں ہم تو اللہ کے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں انہیں تباہ و برباد کرنے کے لئے آئیں ہیں۔ آپ اور آپ کا خاندان سوائے آپ کی اہلیہ کے بچ جائے گا۔ باقی ان سب پر آسمانی عذاب آئے گا اور انہیں ان کی بدکاری کا نتیجہ دکھایا جائے گا۔ پھر حضرت جبرائیل ؑ نے ان بستیوں کو زمین سے اٹھایا اور آسمان تک لے گئے اور وہاں سے الٹ دیں پھر ان پر ان کے نام کے نشاندار پتھر برسائے گئے اور جس عذاب الٰہی کو وہ دورسجمھ رہے تھے وہ قریب ہی نکل آیا۔ ان کی بستیوں کی جگہ ایک کڑوے گندے اور بدبودار پانی کی جھیل رہ گئی۔ جو لوگوں کے لئے عبرت حاصل کرنے کا ذریعہ بنے۔ اور عقلمند لوگ اس ظاہری نشان کو دیکھ کر ان کی بری طرح ہلاکت کو یاد کرکے اللہ کی نافرمانیوں پر دلیری نہ کریں۔ عرب کے سفر میں رات دن یہ منظر ان کے پیش نظر تھا۔
34
View Single
إِنَّا مُنزِلُونَ عَلَىٰٓ أَهۡلِ هَٰذِهِ ٱلۡقَرۡيَةِ رِجۡزٗا مِّنَ ٱلسَّمَآءِ بِمَا كَانُواْ يَفۡسُقُونَ
“We will indeed cause a punishment from the sky to descend upon the inhabitants of this town – the recompense of their disobedience.”
بیشک ہم اس بستی کے باشندوں پر آسمان سے عذاب نازل کرنے والے ہیں اس وجہ سے کہ وہ نافرمانی کیا کرتے تھے
Tafsir Ibn Kathir
The Angels went to Ibrahim and then to Lut, may peace be upon them both
When Lut, peace be upon him, asked Allah to help him against them, Allah sent angels to help him. They first came to Ibrahim in the form of guests, so he offered them hospitality in the appropriate manner. When he saw that they had no interest in the food, he felt some mistrust of them and was fearful of them. They started to calm him down and gave him the news of a righteous son born by his wife Sarah, who was present, and she was astonished by this, as we have already explained in our Tafsir of Surat Hud and Surat Al-Hijr. When they brought this news to Ibrahim and told him that they were sent to destroy the people of Lut, he began to speak up for them, hoping to win more time for them so that they might be guided by Allah. When they said, "We have come to destroy the people of this township,"
قَالَ إِنَّ فِيهَا لُوطاً قَالُواْ نَحْنُ أَعْلَمُ بِمَن فِيهَا لَنُنَجِّيَنَّهُ وَأَهْلَهُ إِلاَّ امْرَأَتَهُ كَانَتْ مِنَ الْغَـبِرِينَ
((Ibrahim) said: "But there is Lut in it." They said: "We know better who is there. We will verily, save him and his family except his wife, she will be of those who remain behind.") meaning, one of those who will be destroyed, because she used to support them in their disbelief and wrongdoing. Then the angels left him and visited Lut in the form of handsome young men. When he saw them like that,
سِىءَ بِهِمْ وَضَاقَ بِهِمْ ذَرْعًا
(he was grieved because of them, and felt straitened on their account.) means, he was worried since if he had them as guests then he was afraid for them and what his people might do to them, but if he did not host them, he was still afraid of what might happen to them. At that point he did not know who they were.
وَلَمَّآ أَن جَآءَتْ رُسُلُنَا لُوطاً سِىءَ بِهِمْ وَضَاقَ بِهِمْ ذَرْعاً وَقَالُواْ لاَ تَخَفْ وَلاَ تَحْزَنْ إِنَّا مُنَجُّوكَ وَأَهْلَكَ إِلاَّ امْرَأَتَكَ كَانَتْ مِنَ الْغَـبِرينَ - إِنَّا مُنزِلُونَ عَلَى أَهْلِ هَـذِهِ الْقَرْيَةِ رِجْزاً مِّنَ السَّمَآءِ بِمَا كَانُواْ يَفْسُقُونَ
(They said: "Have no fear, and do not grieve! Truly, we shall save you and your family except your wife: she will be of those who remain behind. Verily, we are about to bring down on the people of this town a great torment from the sky, because they have been rebellious.") Jibril, peace be upon him, uprooted their town from the depths of the earth, lifted it up to the sky, then threw it upside down upon them. Allah rained upon them:
فَلَمَّا جَآءَ أَمْرُنَا جَعَلْنَا عَـلِيَهَا سَافِلَهَا وَأَمْطَرْنَا عَلَيْهَا حِجَارَةً مِّن سِجِّيلٍ مَّنْضُودٍ - مُّسَوَّمَةً عِندَ رَبِّكَ وَمَا هِى مِنَ الظَّـلِمِينَ بِبَعِيدٍ
(stones of Sijjil, in a well-arranged manner one after another. Marked from your Lord; and they are not ever far from the evil doers.) 11:82-83 Allah turned the place where they had lived into a putrid, stinking lake, which will remain as a lesson to mankind until the Day of Resurrection, and they will be among those who are most severely punished on the Day of Resurrection. Allah says:
وَلَقَد تَّرَكْنَا مِنْهَآ ءَايَةً بَيِّنَةً
(And indeed We have left thereof an evident Ayah) i. e., a clear sign, n
لِّقَوْمٍ يَعْقِلُونَ
(for a folk who understand.) This is like the Ayah,
وَإِنَّكُمْ لَّتَمُرُّونَ عَلَيْهِمْ مُّصْبِحِينَ - وَبِالَّيْلِ أَفَلاَ تَعْقِلُونَ
(Verily, you pass by them in the morning And at night; will you not then reflect) (37:137-138)
فرشتوں کی آمد حضرت لوط ؑ کی جب نہ مانی گئی بلکہ سنی بھی نہ گئی تو آپ نے اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کی جس پر فرشتے بھیجے گئے۔ یہ فرشتے بشکل انسان پہلے بطور مہمان کے حضرت ابراہیم ؑ کے گھر آئے۔ آپ نے ضیافت کا سامان تیار کیا اور سامنے لارکھا۔ جب دیکھا کہ انہوں نے اس کی رغبت نہ کی تو دل ہی دل میں خوفزدہ ہوگئے تو فرشتوں نے ان کی دلجوئی شروع کی اور خبردی کہ ایک نیک بچہ ان کے ہاں پیدا ہوگا۔ حضرت سارہ جو وہاں موجود تھیں یہ سن کر تعجب کرنے لگیں جیسے سورة ہود اور سورة حجر میں مفصل تفسیر گذر چکی ہے۔ اب فرشتوں نے اپنا اصلی ارادہ ظاہر کیا۔ جسے سن کر خلیل الرحمن کو خیال آیا کہ اگر وہ لوگ کچھ اور ڈھیل دے دئیے جائیں تو کیا عجب کہ راہ راست پر آجائیں۔ اس لئے آپ فرمانے لگے کہ وہاں تو لوط نبی ؑ ہیں۔ فرشتوں نے جواب دیا ہم ان سے غافل نہیں۔ ہمیں حکم ہے کہ انہیں اور ان کے خاندان کو بچالیں۔ ہاں ان کی بیوی تو بیشک ہلاک ہوگی۔ کیونکہ وہ اپنی قوم کے کفر میں ان کا ساتھ دیتی رہی ہے۔ یہاں سے رخصت ہو کر خوبصورت قریب البلوغ بچوں کی صورتوں میں یہ حضرت لوط ؑ کے پاس پہنچے۔ انہیں دیکھتے ہی لوط شش وپنج میں پڑگئے کہ اگر انہیں ٹھہراتے ہیں تو ان کی خبر پاتے ہی کفار بھڑ بھڑا کر آجائیں گے اور مجھے تنگ کریں گے اور انہیں بھی پریشان کریں گے۔ اگر نہیں ٹھہراتا تو یہ انہی کے ہاتھ پڑجائیں گے قوم کی خصلت سے واقف تھے اس لئے ناخوش اور سنجیدہ ہوگئے۔ لیکن فرشتوں نے ان کی یہ گھبراہٹ دور کردی کہ آپ گھبرائیے نہیں رنجیدہ نہ ہوں ہم تو اللہ کے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں انہیں تباہ و برباد کرنے کے لئے آئیں ہیں۔ آپ اور آپ کا خاندان سوائے آپ کی اہلیہ کے بچ جائے گا۔ باقی ان سب پر آسمانی عذاب آئے گا اور انہیں ان کی بدکاری کا نتیجہ دکھایا جائے گا۔ پھر حضرت جبرائیل ؑ نے ان بستیوں کو زمین سے اٹھایا اور آسمان تک لے گئے اور وہاں سے الٹ دیں پھر ان پر ان کے نام کے نشاندار پتھر برسائے گئے اور جس عذاب الٰہی کو وہ دورسجمھ رہے تھے وہ قریب ہی نکل آیا۔ ان کی بستیوں کی جگہ ایک کڑوے گندے اور بدبودار پانی کی جھیل رہ گئی۔ جو لوگوں کے لئے عبرت حاصل کرنے کا ذریعہ بنے۔ اور عقلمند لوگ اس ظاہری نشان کو دیکھ کر ان کی بری طرح ہلاکت کو یاد کرکے اللہ کی نافرمانیوں پر دلیری نہ کریں۔ عرب کے سفر میں رات دن یہ منظر ان کے پیش نظر تھا۔
35
View Single
وَلَقَد تَّرَكۡنَا مِنۡهَآ ءَايَةَۢ بَيِّنَةٗ لِّقَوۡمٖ يَعۡقِلُونَ
And We have undoubtedly kept a part of it as a clear sign for people of intellect.
اور بیشک ہم نے اس بستی سے (ویران مکانوں کو) ایک واضح نشانی کے طور پر عقل مند لوگوں کے لئے برقرار رکھا
Tafsir Ibn Kathir
The Angels went to Ibrahim and then to Lut, may peace be upon them both
When Lut, peace be upon him, asked Allah to help him against them, Allah sent angels to help him. They first came to Ibrahim in the form of guests, so he offered them hospitality in the appropriate manner. When he saw that they had no interest in the food, he felt some mistrust of them and was fearful of them. They started to calm him down and gave him the news of a righteous son born by his wife Sarah, who was present, and she was astonished by this, as we have already explained in our Tafsir of Surat Hud and Surat Al-Hijr. When they brought this news to Ibrahim and told him that they were sent to destroy the people of Lut, he began to speak up for them, hoping to win more time for them so that they might be guided by Allah. When they said, "We have come to destroy the people of this township,"
قَالَ إِنَّ فِيهَا لُوطاً قَالُواْ نَحْنُ أَعْلَمُ بِمَن فِيهَا لَنُنَجِّيَنَّهُ وَأَهْلَهُ إِلاَّ امْرَأَتَهُ كَانَتْ مِنَ الْغَـبِرِينَ
((Ibrahim) said: "But there is Lut in it." They said: "We know better who is there. We will verily, save him and his family except his wife, she will be of those who remain behind.") meaning, one of those who will be destroyed, because she used to support them in their disbelief and wrongdoing. Then the angels left him and visited Lut in the form of handsome young men. When he saw them like that,
سِىءَ بِهِمْ وَضَاقَ بِهِمْ ذَرْعًا
(he was grieved because of them, and felt straitened on their account.) means, he was worried since if he had them as guests then he was afraid for them and what his people might do to them, but if he did not host them, he was still afraid of what might happen to them. At that point he did not know who they were.
وَلَمَّآ أَن جَآءَتْ رُسُلُنَا لُوطاً سِىءَ بِهِمْ وَضَاقَ بِهِمْ ذَرْعاً وَقَالُواْ لاَ تَخَفْ وَلاَ تَحْزَنْ إِنَّا مُنَجُّوكَ وَأَهْلَكَ إِلاَّ امْرَأَتَكَ كَانَتْ مِنَ الْغَـبِرينَ - إِنَّا مُنزِلُونَ عَلَى أَهْلِ هَـذِهِ الْقَرْيَةِ رِجْزاً مِّنَ السَّمَآءِ بِمَا كَانُواْ يَفْسُقُونَ
(They said: "Have no fear, and do not grieve! Truly, we shall save you and your family except your wife: she will be of those who remain behind. Verily, we are about to bring down on the people of this town a great torment from the sky, because they have been rebellious.") Jibril, peace be upon him, uprooted their town from the depths of the earth, lifted it up to the sky, then threw it upside down upon them. Allah rained upon them:
فَلَمَّا جَآءَ أَمْرُنَا جَعَلْنَا عَـلِيَهَا سَافِلَهَا وَأَمْطَرْنَا عَلَيْهَا حِجَارَةً مِّن سِجِّيلٍ مَّنْضُودٍ - مُّسَوَّمَةً عِندَ رَبِّكَ وَمَا هِى مِنَ الظَّـلِمِينَ بِبَعِيدٍ
(stones of Sijjil, in a well-arranged manner one after another. Marked from your Lord; and they are not ever far from the evil doers.) 11:82-83 Allah turned the place where they had lived into a putrid, stinking lake, which will remain as a lesson to mankind until the Day of Resurrection, and they will be among those who are most severely punished on the Day of Resurrection. Allah says:
وَلَقَد تَّرَكْنَا مِنْهَآ ءَايَةً بَيِّنَةً
(And indeed We have left thereof an evident Ayah) i. e., a clear sign, n
لِّقَوْمٍ يَعْقِلُونَ
(for a folk who understand.) This is like the Ayah,
وَإِنَّكُمْ لَّتَمُرُّونَ عَلَيْهِمْ مُّصْبِحِينَ - وَبِالَّيْلِ أَفَلاَ تَعْقِلُونَ
(Verily, you pass by them in the morning And at night; will you not then reflect) (37:137-138)
فرشتوں کی آمد حضرت لوط ؑ کی جب نہ مانی گئی بلکہ سنی بھی نہ گئی تو آپ نے اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کی جس پر فرشتے بھیجے گئے۔ یہ فرشتے بشکل انسان پہلے بطور مہمان کے حضرت ابراہیم ؑ کے گھر آئے۔ آپ نے ضیافت کا سامان تیار کیا اور سامنے لارکھا۔ جب دیکھا کہ انہوں نے اس کی رغبت نہ کی تو دل ہی دل میں خوفزدہ ہوگئے تو فرشتوں نے ان کی دلجوئی شروع کی اور خبردی کہ ایک نیک بچہ ان کے ہاں پیدا ہوگا۔ حضرت سارہ جو وہاں موجود تھیں یہ سن کر تعجب کرنے لگیں جیسے سورة ہود اور سورة حجر میں مفصل تفسیر گذر چکی ہے۔ اب فرشتوں نے اپنا اصلی ارادہ ظاہر کیا۔ جسے سن کر خلیل الرحمن کو خیال آیا کہ اگر وہ لوگ کچھ اور ڈھیل دے دئیے جائیں تو کیا عجب کہ راہ راست پر آجائیں۔ اس لئے آپ فرمانے لگے کہ وہاں تو لوط نبی ؑ ہیں۔ فرشتوں نے جواب دیا ہم ان سے غافل نہیں۔ ہمیں حکم ہے کہ انہیں اور ان کے خاندان کو بچالیں۔ ہاں ان کی بیوی تو بیشک ہلاک ہوگی۔ کیونکہ وہ اپنی قوم کے کفر میں ان کا ساتھ دیتی رہی ہے۔ یہاں سے رخصت ہو کر خوبصورت قریب البلوغ بچوں کی صورتوں میں یہ حضرت لوط ؑ کے پاس پہنچے۔ انہیں دیکھتے ہی لوط شش وپنج میں پڑگئے کہ اگر انہیں ٹھہراتے ہیں تو ان کی خبر پاتے ہی کفار بھڑ بھڑا کر آجائیں گے اور مجھے تنگ کریں گے اور انہیں بھی پریشان کریں گے۔ اگر نہیں ٹھہراتا تو یہ انہی کے ہاتھ پڑجائیں گے قوم کی خصلت سے واقف تھے اس لئے ناخوش اور سنجیدہ ہوگئے۔ لیکن فرشتوں نے ان کی یہ گھبراہٹ دور کردی کہ آپ گھبرائیے نہیں رنجیدہ نہ ہوں ہم تو اللہ کے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں انہیں تباہ و برباد کرنے کے لئے آئیں ہیں۔ آپ اور آپ کا خاندان سوائے آپ کی اہلیہ کے بچ جائے گا۔ باقی ان سب پر آسمانی عذاب آئے گا اور انہیں ان کی بدکاری کا نتیجہ دکھایا جائے گا۔ پھر حضرت جبرائیل ؑ نے ان بستیوں کو زمین سے اٹھایا اور آسمان تک لے گئے اور وہاں سے الٹ دیں پھر ان پر ان کے نام کے نشاندار پتھر برسائے گئے اور جس عذاب الٰہی کو وہ دورسجمھ رہے تھے وہ قریب ہی نکل آیا۔ ان کی بستیوں کی جگہ ایک کڑوے گندے اور بدبودار پانی کی جھیل رہ گئی۔ جو لوگوں کے لئے عبرت حاصل کرنے کا ذریعہ بنے۔ اور عقلمند لوگ اس ظاہری نشان کو دیکھ کر ان کی بری طرح ہلاکت کو یاد کرکے اللہ کی نافرمانیوں پر دلیری نہ کریں۔ عرب کے سفر میں رات دن یہ منظر ان کے پیش نظر تھا۔
36
View Single
وَإِلَىٰ مَدۡيَنَ أَخَاهُمۡ شُعَيۡبٗا فَقَالَ يَٰقَوۡمِ ٱعۡبُدُواْ ٱللَّهَ وَٱرۡجُواْ ٱلۡيَوۡمَ ٱلۡأٓخِرَ وَلَا تَعۡثَوۡاْ فِي ٱلۡأَرۡضِ مُفۡسِدِينَ
And We sent towards Madyan, their fellowman Shuaib – he therefore said, “O my people! Worship Allah, and anticipate the Last Day, and do not roam the earth spreading turmoil.”
اور مَدیَن کی طرف ان کے (قومی) بھائی شعیب (علیہ السلام) کو (بھیجا)، سو انہوں نے کہا: اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو اور یومِ آخرت کی امید رکھو اور زمین میں فساد انگیزی نہ کرتے پھرو
Tafsir Ibn Kathir
Shu`ayb and His People
Allah tells us that His servant and Messenger Shu`ayb, peace be upon him, warned his people, the people of Madyan, and commanded them to worship Allah Alone with no partner or associate, and to fear the wrath and punishment of Allah on the Day of Resurrection. He said:
يقَوْمِ اعْبُدُواْ اللَّهَ وَارْجُواْ الْيَوْمَ الاٌّخِرَ
(O my people! Worship Allah and hope for the last Day,) Ibn Jarir said: "Some of them said that this meant: Fear the Last Day." This is like the Ayah,
لِّمَن كَانَ يَرْجُو اللَّهَ وَالْيَوْمَ الاٌّخِرَ
(for those who look forward to (meeting with) Allah and the Last Day) (60:6).
وَلاَ تَعْثَوْاْ فِى الاٌّرْضِ مُفْسِدِينَ
(and commit no mischief on the earth as mischief-makers.) This is forbidding them to make mischief on earth by spreading corruption, which means going around doing evil to people. They used to cheat in weights and measures, and ambush people on the road; this is in addition to their disbelief in Allah and His Messenger. So Allah destroyed them with a mighty earthquake that convulsed their land, and the Sayhah (shout) which tore their hearts from their bodies, and the torment of the Day of Shade, when their souls were taken. This was the torment of a great day. We have already examined their story in detail in Surat Al-A`raf, Surat Hud and Surat Ash-Shu`ara'.
فَأَصْبَحُواْ فِي دَارِهِمْ جَـثِمِينَ
(and they lay, prostrate in their dwellings.) Qatadah said, "They were dead." Others said that they were thrown on top of one another.
فساد نہ کرو اللہ کے بندے اور اس کے سچے رسول حضرت شعیب ؑ نے مدین میں اپنی قوم کو وعظ کیا۔ انہیں اللہ وحدہ لاشریک لہ کی عبادت کا حکم دیا۔ انہیں اللہ کے عذابوں سے اور اس کی سزاؤں سے ڈرایا انہیں قیامت کے ہونے کا یقین دلاکر فرمایا کہ اس دن کے لئے کچھ تیاریاں کرلو اس دن کا خیال رکھو لوگوں پر ظلم و زیادتی نہ کرو اللہ کی زمین میں فساد نہ کرو برائیوں سے الگ رہو۔ ان میں ایک عیب یہ بھی تھا کہ ناپ تول میں کمی کرتے تھے لوگوں کے حق مارتے تھے ڈاکے ڈالتے تھے راستے بند کرتے تھے ساتھ ہی اللہ اور اس کے رسول سے کفر کرتے تھے۔ انہوں نے اپنے پیغمبر کی نصیحتوں پر کان تک نہ دھرا بلکہ انہیں جھوٹا کہا اس بنا پر ان پر عذاب الٰہی برس پڑا سخت بھونچال آیا اور ساتھ ہی اتنی تیز وتند آواز آئی کہ دل اڑ گئے اور روحیں پرواز کر گئیں اور گھڑی کی گھڑی میں سب کا سب ڈھیر ہوگیا۔ ان کا پورا قصہ سورة اعراف سورة ہود اور سورة شعراء میں گزرچکا ہے۔
37
View Single
فَكَذَّبُوهُ فَأَخَذَتۡهُمُ ٱلرَّجۡفَةُ فَأَصۡبَحُواْ فِي دَارِهِمۡ جَٰثِمِينَ
In response they denied him – thereupon the earthquake seized them – so at morning they remained lying flattened in their homes.
تو انہوں نے شعیب (علیہ السلام) کو جھٹلا ڈالا پس انہیں (بھی) زلزلہ (کے عذاب) نے آپکڑا، سو انہوں نے صبح اس حال میں کی کہ اپنے گھروں میں اوندھے منہ (مُردہ) پڑے تھے
Tafsir Ibn Kathir
Shu`ayb and His People
Allah tells us that His servant and Messenger Shu`ayb, peace be upon him, warned his people, the people of Madyan, and commanded them to worship Allah Alone with no partner or associate, and to fear the wrath and punishment of Allah on the Day of Resurrection. He said:
يقَوْمِ اعْبُدُواْ اللَّهَ وَارْجُواْ الْيَوْمَ الاٌّخِرَ
(O my people! Worship Allah and hope for the last Day,) Ibn Jarir said: "Some of them said that this meant: Fear the Last Day." This is like the Ayah,
لِّمَن كَانَ يَرْجُو اللَّهَ وَالْيَوْمَ الاٌّخِرَ
(for those who look forward to (meeting with) Allah and the Last Day) (60:6).
وَلاَ تَعْثَوْاْ فِى الاٌّرْضِ مُفْسِدِينَ
(and commit no mischief on the earth as mischief-makers.) This is forbidding them to make mischief on earth by spreading corruption, which means going around doing evil to people. They used to cheat in weights and measures, and ambush people on the road; this is in addition to their disbelief in Allah and His Messenger. So Allah destroyed them with a mighty earthquake that convulsed their land, and the Sayhah (shout) which tore their hearts from their bodies, and the torment of the Day of Shade, when their souls were taken. This was the torment of a great day. We have already examined their story in detail in Surat Al-A`raf, Surat Hud and Surat Ash-Shu`ara'.
فَأَصْبَحُواْ فِي دَارِهِمْ جَـثِمِينَ
(and they lay, prostrate in their dwellings.) Qatadah said, "They were dead." Others said that they were thrown on top of one another.
فساد نہ کرو اللہ کے بندے اور اس کے سچے رسول حضرت شعیب ؑ نے مدین میں اپنی قوم کو وعظ کیا۔ انہیں اللہ وحدہ لاشریک لہ کی عبادت کا حکم دیا۔ انہیں اللہ کے عذابوں سے اور اس کی سزاؤں سے ڈرایا انہیں قیامت کے ہونے کا یقین دلاکر فرمایا کہ اس دن کے لئے کچھ تیاریاں کرلو اس دن کا خیال رکھو لوگوں پر ظلم و زیادتی نہ کرو اللہ کی زمین میں فساد نہ کرو برائیوں سے الگ رہو۔ ان میں ایک عیب یہ بھی تھا کہ ناپ تول میں کمی کرتے تھے لوگوں کے حق مارتے تھے ڈاکے ڈالتے تھے راستے بند کرتے تھے ساتھ ہی اللہ اور اس کے رسول سے کفر کرتے تھے۔ انہوں نے اپنے پیغمبر کی نصیحتوں پر کان تک نہ دھرا بلکہ انہیں جھوٹا کہا اس بنا پر ان پر عذاب الٰہی برس پڑا سخت بھونچال آیا اور ساتھ ہی اتنی تیز وتند آواز آئی کہ دل اڑ گئے اور روحیں پرواز کر گئیں اور گھڑی کی گھڑی میں سب کا سب ڈھیر ہوگیا۔ ان کا پورا قصہ سورة اعراف سورة ہود اور سورة شعراء میں گزرچکا ہے۔
38
View Single
وَعَادٗا وَثَمُودَاْ وَقَد تَّبَيَّنَ لَكُم مِّن مَّسَٰكِنِهِمۡۖ وَزَيَّنَ لَهُمُ ٱلشَّيۡطَٰنُ أَعۡمَٰلَهُمۡ فَصَدَّهُمۡ عَنِ ٱلسَّبِيلِ وَكَانُواْ مُسۡتَبۡصِرِينَ
And We destroyed the A’ad and the Thamud, and you already know their dwellings; Satan made their deeds appear good to them and prevented them from the path, whereas they could perceive.
اور عاد اور ثمود کو (بھی ہم نے ہلاک کیا) اور بیشک ان کے کچھ (تباہ شدہ) مکانات تمہارے لیئے (بطورِ عبرت) ظاہر ہو چکے ہیں اور شیطان نے ان کے اَعمالِ بد، ان کے لئے خوش نما بنا دیئے تھے اورانہیں (حق کی) راہ سے پھیر دیا تھا حالانکہ وہ بینا و دانا تھے
Tafsir Ibn Kathir
The Destruction of Nations Who rejected Their Messengers
Allah tells us about these nations who disbelieved in their Messengers, and how He destroyed them and sent various kinds of punishments and vengeance upon them. `Ad, the people of Hud, peace be upon him, used to live in the Ahqaf (curved sand-hills), near Hadramawt, in the Yemen. Thamud, the people of Salih, lived in Al-Hijr, near Wadi Al-Qura. The Arabs used to know their dwelling place very well, and they often used to pass by it. Qarun was the owner of great wealth and had the keys to immense treasures. Fir`awn, the king of Egypt at the time of Musa, and his minister Haman were two Coptics who disbelieved in Allah and His Messenger, peace be upon him.
فَكُلاًّ أَخَذْنَا بِذَنبِهِ
(So, We punished each for his sins,) their punishments fit their crimes.
فَمِنْهُم مَّن أَرْسَلْنَا عَلَيْهِ حَاصِباً
(of them were some on whom We sent a Hasib,) This was the case with `Ad, and this happened because they said: "Who is stronger than us" So, there came upon them a violent, intensely cold wind, which was very strong and carried pebbles which it threw upon them. It carried them through the air, lifting a man up to the sky and then hurling him headlong to the ground, so that his head split and he was left as a body without a head, like uprooted stems of date palms.
وَمِنْهُمْ مَّنْ أَخَذَتْهُ الصَّيْحَةُ
(and of them were some who were overtaken by As-Sayhah,) This is what happened to Thamud, against whom evidence was established because of the she-camel who came forth when the rock was split, exactly as they had asked for. Yet despite that they did not believe, rather they persisted in their evil behavior and disbelief, and threatening to expel Allah's Prophet Salih and the believers with him, or to stone them. So the Sayhah struck them, taking away their powers of speech and movement.
وَمِنْهُمْ مَّنْ خَسَفْنَا بِهِ الاٌّرْضَ
(and of them were some whom We caused the earth to swallow,) This refers to Qarun who transgressed, he was evil and arrogant. He disobeyed his Lord, the Most High, and paraded through the land in a boastful manner, filled with self-admiration, thinking that he was better than others. He showed off as he walked, so Allah caused the earth to swallow him and his house, and he will continue sinking into it until the Day of Resurrection.
وَمِنْهُمْ مَّنْ أَغْرَقْنَا
(and of them were some whom We drowned.) This refers to Fir`awn, his minister Haman and their troops, all of whom were drowned in a single morning, not one of them escaped.
وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيَظْلِمَهُمْ
(It was not Allah Who wronged them,) in what He did to them,
وَلَـكِن كَانُواْ أَنفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ
(but they wronged themselves.) that happened to them as a punishment for what they did with their own hands.
احقاف کے لوگ عادی حضرت ہود ؑ کی قوم تھے۔ احقاف میں رہتے تھے جو یمن کے شہروں میں حضرموت کے قریب ہے۔ ثمودی حضرت صالح ؑ کی قوم کے لوگ تھے۔ یہ حجر میں بستے تھے جو وادی القریٰ کے قریب ہے۔ عرب کے راستے میں ان کی بستی آتی تھی جسے یہ بخوبی جانتے تھے۔ قارون ایک دولت مند شخص تھا جس کے بھرپور خزانوں کی کنجیاں ایک جماعت کی جماعت اٹھاتی تھی۔ فرعون مصر کا بادشاہ تھا اور ہامان اسکا وزیر اعظم تھا۔ اسی کے زمانے میں حضرت موسیٰ کلیم اللہ ؑ نبی ہو کر اس کی طرف بھیجے گئے۔ یہ دونوں قبطی کافر تھے جب ان کی سرکشی حد سے گذر گئی اللہ کی توحید کے منکر ہوگئے رسولوں کو ایذائیں دیں اور ان کی نہ مانی تو اللہ تعالیٰ نے ان سب کو طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک کیا۔ عادیوں پر ہوائیں بھیجیں۔ انہیں اپنی قوت وطاقت کا بڑا گھمنڈ تھا کسی کو اپنے مقابلے کا نہ جانتے تھے۔ ان پر ہوا بھیجی جو بڑی تیز وتند تھی جو ان پر زمین کے پتھر اڑا اڑا کر برسانے لگی۔ بالآخر زور پکڑتے پکڑتے یہاں تک بڑھ گئی کہ انہیں اچک لے جاتی اور آسمان کے قریب لے جاکر پھر گرا دیتی۔ سر کے بل گرتے اور سر الگ ہوجاتا دھڑ الگ ہوجاتا اور ایسے ہوجاتے جیسے کجھور کے درخت جس کے تنے الگ ہوں اور شاخیں جدا ہوں۔ ثمودیوں پر حجت الٰہی پوری ہوئی دلائل دے دئیے گئے ان کی طلب کے موافق پتھر میں سے ان کے دیکھتے ہوئے اونٹنی نکلی لیکن تاہم انہیں ایمان نصیب نہ ہوا بلکہ طغیانی میں بڑھتے رہے۔ اللہ کے نبی کو دھمکانے اور ڈرانے لگے اور ایمانداروں سے بھی کہنے لگے کہ ہمارے شہر چھوڑ دو ورنہ ہم تمہیں سنگسار کردیں گے۔ انہیں ایک چیخ سے پارہ پارہ کردیا۔ دل ہل گئے کلیجے اڑگئے اور سب کی روحیں نکل گئیں۔ قارون نے سرکشی اور تکبر کیا۔ طغیانی اور بڑائی کی رب الاعلیٰ کی نافرمانی کی زمین میں فساد مچا دیا۔ اکڑ اکڑ کر چلنے لگا اپنے ڈنٹر بل دیکھنے لگا اترانے لگا اور پھولنے لگا۔ پس اللہ نے اسے مع اس کے محلات کے زمین دوز کردیا جو آج تک دھنستا چلا جارہا ہے۔ فرعون ہامان اور ان کے لشکروں کو صبح ہی صبح ایک ساتھ ایک ہی ساعت میں دریا برد کردیا۔ ان میں سے ایک بھی نہ بچا جو ان کا نام تو کبھی لیتا۔ اللہ نے یہ جو کچھ کیا کچھ ان پر ظلم نہ تھا بلکہ ان کے ظلم کا بدلہ تھا۔ ان کے کرتوت کا پھل تھا ان کی کرنی کی بھرنی تھی۔ یہ بیان یہاں بطور لف ونشر کے ہے۔ اولا جھٹلانے والی امتوں کا ذکر ہوا ہے پھر ان میں سے ہر ایک کو عذابوں سے ہلاک کرنیکا۔ کسی نے کہا کہ سب سے پہلے جن پر پتھروں کا مینہ برسانے کا ذکر ہے ان سے مراد لوطی ہیں اور غرق کی جانے والی قوم قوم نوح ہے لیکن یہ قول ٹھیک نہیں۔ ابن عباس سے یہ مروی تو ہے لیکن سند میں انقطاع ہے۔ ان دونوں قوموں کی حالت کا ذکر اسی صورت میں بہ تفصیل بیان ہوچکا ہے۔ پھر بہت سے فاصلے کے بعد یہ بیان ہوا ہے۔ قتادۃ سے یہ بھی مروی ہے کہ پتھروں کا مینہ جن پر برسایا گیا ان سے مراد لوطی ہیں اور جنہیں چیخ سے ہلاک کیا گیا ان سے مراد قوم شعیب ہے لیکن یہ قول بھی ان آیتوں سے دور دراز ہے واللہ اعلم۔
39
View Single
وَقَٰرُونَ وَفِرۡعَوۡنَ وَهَٰمَٰنَۖ وَلَقَدۡ جَآءَهُم مُّوسَىٰ بِٱلۡبَيِّنَٰتِ فَٱسۡتَكۡبَرُواْ فِي ٱلۡأَرۡضِ وَمَا كَانُواْ سَٰبِقِينَ
And (We destroyed) Qaroon, Firaun and Haman; and indeed Moosa came to them with clear signs, so they were arrogant in the land, and they could never escape from Our control.
اور (ہم نے) قارون اور فرعون اور ہامان کو (بھی ہلاک کیا) اور بیشک موسٰی (علیہ السلام) ان کے پاس واضح نشانیاں لے کر آئے تھے تو انہوں نے ملک میں غرور و سرکشی کی اور وہ (ہماری گرفت سے) آگے بڑھ جانے والے نہ تھے
Tafsir Ibn Kathir
The Destruction of Nations Who rejected Their Messengers
Allah tells us about these nations who disbelieved in their Messengers, and how He destroyed them and sent various kinds of punishments and vengeance upon them. `Ad, the people of Hud, peace be upon him, used to live in the Ahqaf (curved sand-hills), near Hadramawt, in the Yemen. Thamud, the people of Salih, lived in Al-Hijr, near Wadi Al-Qura. The Arabs used to know their dwelling place very well, and they often used to pass by it. Qarun was the owner of great wealth and had the keys to immense treasures. Fir`awn, the king of Egypt at the time of Musa, and his minister Haman were two Coptics who disbelieved in Allah and His Messenger, peace be upon him.
فَكُلاًّ أَخَذْنَا بِذَنبِهِ
(So, We punished each for his sins,) their punishments fit their crimes.
فَمِنْهُم مَّن أَرْسَلْنَا عَلَيْهِ حَاصِباً
(of them were some on whom We sent a Hasib,) This was the case with `Ad, and this happened because they said: "Who is stronger than us" So, there came upon them a violent, intensely cold wind, which was very strong and carried pebbles which it threw upon them. It carried them through the air, lifting a man up to the sky and then hurling him headlong to the ground, so that his head split and he was left as a body without a head, like uprooted stems of date palms.
وَمِنْهُمْ مَّنْ أَخَذَتْهُ الصَّيْحَةُ
(and of them were some who were overtaken by As-Sayhah,) This is what happened to Thamud, against whom evidence was established because of the she-camel who came forth when the rock was split, exactly as they had asked for. Yet despite that they did not believe, rather they persisted in their evil behavior and disbelief, and threatening to expel Allah's Prophet Salih and the believers with him, or to stone them. So the Sayhah struck them, taking away their powers of speech and movement.
وَمِنْهُمْ مَّنْ خَسَفْنَا بِهِ الاٌّرْضَ
(and of them were some whom We caused the earth to swallow,) This refers to Qarun who transgressed, he was evil and arrogant. He disobeyed his Lord, the Most High, and paraded through the land in a boastful manner, filled with self-admiration, thinking that he was better than others. He showed off as he walked, so Allah caused the earth to swallow him and his house, and he will continue sinking into it until the Day of Resurrection.
وَمِنْهُمْ مَّنْ أَغْرَقْنَا
(and of them were some whom We drowned.) This refers to Fir`awn, his minister Haman and their troops, all of whom were drowned in a single morning, not one of them escaped.
وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيَظْلِمَهُمْ
(It was not Allah Who wronged them,) in what He did to them,
وَلَـكِن كَانُواْ أَنفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ
(but they wronged themselves.) that happened to them as a punishment for what they did with their own hands.
احقاف کے لوگ عادی حضرت ہود ؑ کی قوم تھے۔ احقاف میں رہتے تھے جو یمن کے شہروں میں حضرموت کے قریب ہے۔ ثمودی حضرت صالح ؑ کی قوم کے لوگ تھے۔ یہ حجر میں بستے تھے جو وادی القریٰ کے قریب ہے۔ عرب کے راستے میں ان کی بستی آتی تھی جسے یہ بخوبی جانتے تھے۔ قارون ایک دولت مند شخص تھا جس کے بھرپور خزانوں کی کنجیاں ایک جماعت کی جماعت اٹھاتی تھی۔ فرعون مصر کا بادشاہ تھا اور ہامان اسکا وزیر اعظم تھا۔ اسی کے زمانے میں حضرت موسیٰ کلیم اللہ ؑ نبی ہو کر اس کی طرف بھیجے گئے۔ یہ دونوں قبطی کافر تھے جب ان کی سرکشی حد سے گذر گئی اللہ کی توحید کے منکر ہوگئے رسولوں کو ایذائیں دیں اور ان کی نہ مانی تو اللہ تعالیٰ نے ان سب کو طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک کیا۔ عادیوں پر ہوائیں بھیجیں۔ انہیں اپنی قوت وطاقت کا بڑا گھمنڈ تھا کسی کو اپنے مقابلے کا نہ جانتے تھے۔ ان پر ہوا بھیجی جو بڑی تیز وتند تھی جو ان پر زمین کے پتھر اڑا اڑا کر برسانے لگی۔ بالآخر زور پکڑتے پکڑتے یہاں تک بڑھ گئی کہ انہیں اچک لے جاتی اور آسمان کے قریب لے جاکر پھر گرا دیتی۔ سر کے بل گرتے اور سر الگ ہوجاتا دھڑ الگ ہوجاتا اور ایسے ہوجاتے جیسے کجھور کے درخت جس کے تنے الگ ہوں اور شاخیں جدا ہوں۔ ثمودیوں پر حجت الٰہی پوری ہوئی دلائل دے دئیے گئے ان کی طلب کے موافق پتھر میں سے ان کے دیکھتے ہوئے اونٹنی نکلی لیکن تاہم انہیں ایمان نصیب نہ ہوا بلکہ طغیانی میں بڑھتے رہے۔ اللہ کے نبی کو دھمکانے اور ڈرانے لگے اور ایمانداروں سے بھی کہنے لگے کہ ہمارے شہر چھوڑ دو ورنہ ہم تمہیں سنگسار کردیں گے۔ انہیں ایک چیخ سے پارہ پارہ کردیا۔ دل ہل گئے کلیجے اڑگئے اور سب کی روحیں نکل گئیں۔ قارون نے سرکشی اور تکبر کیا۔ طغیانی اور بڑائی کی رب الاعلیٰ کی نافرمانی کی زمین میں فساد مچا دیا۔ اکڑ اکڑ کر چلنے لگا اپنے ڈنٹر بل دیکھنے لگا اترانے لگا اور پھولنے لگا۔ پس اللہ نے اسے مع اس کے محلات کے زمین دوز کردیا جو آج تک دھنستا چلا جارہا ہے۔ فرعون ہامان اور ان کے لشکروں کو صبح ہی صبح ایک ساتھ ایک ہی ساعت میں دریا برد کردیا۔ ان میں سے ایک بھی نہ بچا جو ان کا نام تو کبھی لیتا۔ اللہ نے یہ جو کچھ کیا کچھ ان پر ظلم نہ تھا بلکہ ان کے ظلم کا بدلہ تھا۔ ان کے کرتوت کا پھل تھا ان کی کرنی کی بھرنی تھی۔ یہ بیان یہاں بطور لف ونشر کے ہے۔ اولا جھٹلانے والی امتوں کا ذکر ہوا ہے پھر ان میں سے ہر ایک کو عذابوں سے ہلاک کرنیکا۔ کسی نے کہا کہ سب سے پہلے جن پر پتھروں کا مینہ برسانے کا ذکر ہے ان سے مراد لوطی ہیں اور غرق کی جانے والی قوم قوم نوح ہے لیکن یہ قول ٹھیک نہیں۔ ابن عباس سے یہ مروی تو ہے لیکن سند میں انقطاع ہے۔ ان دونوں قوموں کی حالت کا ذکر اسی صورت میں بہ تفصیل بیان ہوچکا ہے۔ پھر بہت سے فاصلے کے بعد یہ بیان ہوا ہے۔ قتادۃ سے یہ بھی مروی ہے کہ پتھروں کا مینہ جن پر برسایا گیا ان سے مراد لوطی ہیں اور جنہیں چیخ سے ہلاک کیا گیا ان سے مراد قوم شعیب ہے لیکن یہ قول بھی ان آیتوں سے دور دراز ہے واللہ اعلم۔
40
View Single
فَكُلًّا أَخَذۡنَا بِذَنۢبِهِۦۖ فَمِنۡهُم مَّنۡ أَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِ حَاصِبٗا وَمِنۡهُم مَّنۡ أَخَذَتۡهُ ٱلصَّيۡحَةُ وَمِنۡهُم مَّنۡ خَسَفۡنَا بِهِ ٱلۡأَرۡضَ وَمِنۡهُم مَّنۡ أَغۡرَقۡنَاۚ وَمَا كَانَ ٱللَّهُ لِيَظۡلِمَهُمۡ وَلَٰكِن كَانُوٓاْ أَنفُسَهُمۡ يَظۡلِمُونَ
So We caught each one upon his sin; so among them is one upon whom We sent a shower of stones; and among them is one who was seized by the Scream; and among them is one whom We buried in the earth, and among them is one whom We drowned; it did not befit Allah’s Majesty to oppress them, but they were wronging themselves.
سو ہم نے (ان میں سے) ہر ایک کو اس کے گناہ کے باعث پکڑ لیا، اور ان میں سے وہ (طبقہ بھی) تھا جس پر ہم نے پتھر برسانے والی آندھی بھیجی اوران میں سے وہ (طبقہ بھی) تھا جسے دہشت ناک آواز نے آپکڑا اور ان میں سے وہ (طبقہ بھی) تھا جسے ہم نے زمین میں دھنسا دیا اور ان میں سے (ایک) وہ (طبقہ بھی) تھا جسے ہم نے غرق کر دیا اور ہرگز ایسا نہ تھا کہ اللہ ان پر ظلم کرے بلکہ وہ خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کرتے تھے
Tafsir Ibn Kathir
The Destruction of Nations Who rejected Their Messengers
Allah tells us about these nations who disbelieved in their Messengers, and how He destroyed them and sent various kinds of punishments and vengeance upon them. `Ad, the people of Hud, peace be upon him, used to live in the Ahqaf (curved sand-hills), near Hadramawt, in the Yemen. Thamud, the people of Salih, lived in Al-Hijr, near Wadi Al-Qura. The Arabs used to know their dwelling place very well, and they often used to pass by it. Qarun was the owner of great wealth and had the keys to immense treasures. Fir`awn, the king of Egypt at the time of Musa, and his minister Haman were two Coptics who disbelieved in Allah and His Messenger, peace be upon him.
فَكُلاًّ أَخَذْنَا بِذَنبِهِ
(So, We punished each for his sins,) their punishments fit their crimes.
فَمِنْهُم مَّن أَرْسَلْنَا عَلَيْهِ حَاصِباً
(of them were some on whom We sent a Hasib,) This was the case with `Ad, and this happened because they said: "Who is stronger than us" So, there came upon them a violent, intensely cold wind, which was very strong and carried pebbles which it threw upon them. It carried them through the air, lifting a man up to the sky and then hurling him headlong to the ground, so that his head split and he was left as a body without a head, like uprooted stems of date palms.
وَمِنْهُمْ مَّنْ أَخَذَتْهُ الصَّيْحَةُ
(and of them were some who were overtaken by As-Sayhah,) This is what happened to Thamud, against whom evidence was established because of the she-camel who came forth when the rock was split, exactly as they had asked for. Yet despite that they did not believe, rather they persisted in their evil behavior and disbelief, and threatening to expel Allah's Prophet Salih and the believers with him, or to stone them. So the Sayhah struck them, taking away their powers of speech and movement.
وَمِنْهُمْ مَّنْ خَسَفْنَا بِهِ الاٌّرْضَ
(and of them were some whom We caused the earth to swallow,) This refers to Qarun who transgressed, he was evil and arrogant. He disobeyed his Lord, the Most High, and paraded through the land in a boastful manner, filled with self-admiration, thinking that he was better than others. He showed off as he walked, so Allah caused the earth to swallow him and his house, and he will continue sinking into it until the Day of Resurrection.
وَمِنْهُمْ مَّنْ أَغْرَقْنَا
(and of them were some whom We drowned.) This refers to Fir`awn, his minister Haman and their troops, all of whom were drowned in a single morning, not one of them escaped.
وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيَظْلِمَهُمْ
(It was not Allah Who wronged them,) in what He did to them,
وَلَـكِن كَانُواْ أَنفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ
(but they wronged themselves.) that happened to them as a punishment for what they did with their own hands.
احقاف کے لوگ عادی حضرت ہود ؑ کی قوم تھے۔ احقاف میں رہتے تھے جو یمن کے شہروں میں حضرموت کے قریب ہے۔ ثمودی حضرت صالح ؑ کی قوم کے لوگ تھے۔ یہ حجر میں بستے تھے جو وادی القریٰ کے قریب ہے۔ عرب کے راستے میں ان کی بستی آتی تھی جسے یہ بخوبی جانتے تھے۔ قارون ایک دولت مند شخص تھا جس کے بھرپور خزانوں کی کنجیاں ایک جماعت کی جماعت اٹھاتی تھی۔ فرعون مصر کا بادشاہ تھا اور ہامان اسکا وزیر اعظم تھا۔ اسی کے زمانے میں حضرت موسیٰ کلیم اللہ ؑ نبی ہو کر اس کی طرف بھیجے گئے۔ یہ دونوں قبطی کافر تھے جب ان کی سرکشی حد سے گذر گئی اللہ کی توحید کے منکر ہوگئے رسولوں کو ایذائیں دیں اور ان کی نہ مانی تو اللہ تعالیٰ نے ان سب کو طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک کیا۔ عادیوں پر ہوائیں بھیجیں۔ انہیں اپنی قوت وطاقت کا بڑا گھمنڈ تھا کسی کو اپنے مقابلے کا نہ جانتے تھے۔ ان پر ہوا بھیجی جو بڑی تیز وتند تھی جو ان پر زمین کے پتھر اڑا اڑا کر برسانے لگی۔ بالآخر زور پکڑتے پکڑتے یہاں تک بڑھ گئی کہ انہیں اچک لے جاتی اور آسمان کے قریب لے جاکر پھر گرا دیتی۔ سر کے بل گرتے اور سر الگ ہوجاتا دھڑ الگ ہوجاتا اور ایسے ہوجاتے جیسے کجھور کے درخت جس کے تنے الگ ہوں اور شاخیں جدا ہوں۔ ثمودیوں پر حجت الٰہی پوری ہوئی دلائل دے دئیے گئے ان کی طلب کے موافق پتھر میں سے ان کے دیکھتے ہوئے اونٹنی نکلی لیکن تاہم انہیں ایمان نصیب نہ ہوا بلکہ طغیانی میں بڑھتے رہے۔ اللہ کے نبی کو دھمکانے اور ڈرانے لگے اور ایمانداروں سے بھی کہنے لگے کہ ہمارے شہر چھوڑ دو ورنہ ہم تمہیں سنگسار کردیں گے۔ انہیں ایک چیخ سے پارہ پارہ کردیا۔ دل ہل گئے کلیجے اڑگئے اور سب کی روحیں نکل گئیں۔ قارون نے سرکشی اور تکبر کیا۔ طغیانی اور بڑائی کی رب الاعلیٰ کی نافرمانی کی زمین میں فساد مچا دیا۔ اکڑ اکڑ کر چلنے لگا اپنے ڈنٹر بل دیکھنے لگا اترانے لگا اور پھولنے لگا۔ پس اللہ نے اسے مع اس کے محلات کے زمین دوز کردیا جو آج تک دھنستا چلا جارہا ہے۔ فرعون ہامان اور ان کے لشکروں کو صبح ہی صبح ایک ساتھ ایک ہی ساعت میں دریا برد کردیا۔ ان میں سے ایک بھی نہ بچا جو ان کا نام تو کبھی لیتا۔ اللہ نے یہ جو کچھ کیا کچھ ان پر ظلم نہ تھا بلکہ ان کے ظلم کا بدلہ تھا۔ ان کے کرتوت کا پھل تھا ان کی کرنی کی بھرنی تھی۔ یہ بیان یہاں بطور لف ونشر کے ہے۔ اولا جھٹلانے والی امتوں کا ذکر ہوا ہے پھر ان میں سے ہر ایک کو عذابوں سے ہلاک کرنیکا۔ کسی نے کہا کہ سب سے پہلے جن پر پتھروں کا مینہ برسانے کا ذکر ہے ان سے مراد لوطی ہیں اور غرق کی جانے والی قوم قوم نوح ہے لیکن یہ قول ٹھیک نہیں۔ ابن عباس سے یہ مروی تو ہے لیکن سند میں انقطاع ہے۔ ان دونوں قوموں کی حالت کا ذکر اسی صورت میں بہ تفصیل بیان ہوچکا ہے۔ پھر بہت سے فاصلے کے بعد یہ بیان ہوا ہے۔ قتادۃ سے یہ بھی مروی ہے کہ پتھروں کا مینہ جن پر برسایا گیا ان سے مراد لوطی ہیں اور جنہیں چیخ سے ہلاک کیا گیا ان سے مراد قوم شعیب ہے لیکن یہ قول بھی ان آیتوں سے دور دراز ہے واللہ اعلم۔
41
View Single
مَثَلُ ٱلَّذِينَ ٱتَّخَذُواْ مِن دُونِ ٱللَّهِ أَوۡلِيَآءَ كَمَثَلِ ٱلۡعَنكَبُوتِ ٱتَّخَذَتۡ بَيۡتٗاۖ وَإِنَّ أَوۡهَنَ ٱلۡبُيُوتِ لَبَيۡتُ ٱلۡعَنكَبُوتِۚ لَوۡ كَانُواْ يَعۡلَمُونَ
The example of those who choose masters other than Allah is like that of the spider; it makes the web its house; and indeed the weakest house of all is that of the spider; if only they knew.
ایسے (کافر) لوگوں کی مثال جنہوں نے اللہ کو چھوڑ کر اوروں (یعنی بتوں) کو کارساز بنا لیا ہے مکڑی کی داستان جیسی ہے جس نے (اپنے لئے جالے کا) گھر بنایا، اور بیشک سب گھروں سے زیادہ کمزور مکڑی کا گھر ہے، کاش! وہ لوگ (یہ بات) جانتے ہوتے
Tafsir Ibn Kathir
Likening the gods of the Idolators to the House of a Spider
This is how Allah described the idolators in their reverence of gods besides Him, hoping that they would help them and provide for them, and turning to them in times of difficulties. In this regard, they were like the house of a spider, which is so weak and frail, because by clinging to these gods they were like a person who holds on to a spider's web, who does not gain any benefit from that. If they knew this, they would not take any protectors besides Allah. This is unlike the Muslim believer, whose heart is devoted to Allah, yet he still does righteous deeds and follows the Laws of Allah, for he has grasped the most trustworthy handle that will never break because it is so strong and firm. Then Allah warns those who worship others besides Him and associate others with Him that He knows what they do and the rivals they associate with Him. He will punish them for their attribution, for He is All-Wise and All-Knowing. Then He says:
وَتِلْكَ الاٌّمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ وَمَا يَعْقِلُهَآ إِلاَّ الْعَـلِمُونَ
(And these are the examples We give for mankind; but none will understand them except those who have knowledge.) meaning, no one understands them or ponders them except those who are possessed of deep knowledge. Ibn Abi Hatim recorded that `Amr bin Murrah said, "I never came across an Ayah of the Book of Allah that I did not know, but it grieved me, because I heard that Allah says:
وَتِلْكَ الاٌّمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ وَمَا يَعْقِلُهَآ إِلاَّ الْعَـلِمُونَ
(And these are the examples We give for mankind; but none will understand them except those who have knowledge. )"
مکڑی کا جالا جو لوگ اللہ تعالیٰ کے سوا اوروں کی پرستش اور پوجاپاٹ کرتے ہیں ان کی کمزوری اور بےعلمی کا بیان ہو رہا ہے۔ یہ ان سے مدد روزی اور سختی میں کام آنے کے امیدوار رہتے ہیں۔ ان کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی مکڑی کے جالے میں بارش اور دھوپ اور سردی سے پناہ چاہے۔ اگر ان میں علم ہوتا تو یہ خالق کو چھوڑ کر مخلوق سے امیدیں وابستہ نہ کرتے۔ پس ان کا حال ایمانداروں کے حال کے بالکل برعکس ہے۔ وہ ایک مضبوط کڑے کو تھامے ہوئے ہیں اور یہ مکڑی کے جالے میں اپنا سرچھپائے ہوئے ہیں۔ اس کا دل اللہ کی طرف ہے اس کا جسم اعمال صالحہ کی طرف مشغول ہے اور اس کا دل مخلوق کی طرف اور جسم اس کی پرستش کی طرف جھکا ہوا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ مشرکوں کو ڈرا رہا ہے کہ وہ ان سے ان کے شرک سے اور ان کے جھوٹے معبودوں سے خوب آگاہ ہے۔ انہیں ان کی شرارت کا ایسا مزہ چھکائے گا کہ یہ یاد کریں۔ انہیں ڈھیل دینے میں بھی اس کی مصلحت وحکمت ہے۔ نہ یہ کہ وہ علیم اللہ ان سے بیخبر ہو۔ ہم نے تو مثالوں سے بھی مسائل سمجھا دئے۔ لیکن اس کے سوچنے سمجھنے کا مادہ ان میں غور و فکر کرنے کی توفیق صرف باعمل علماء کو ہوتی ہے۔ جو اپنے علم میں پورے ہیں۔ اس آیت سے ثابت ہوا کہ اللہ کی بیان کردہ مثالوں کو سمجھ لینا سچے علم کی دلیل ہے۔ حضرت عمرو بن عاص ؓ فرماتے ہیں میں نے ایک ہزار مثالیں رسول اللہ ﷺ سے سیکھی ہیں (مسند احمد) اس سے آپ کی فضیلت اور آپ کی علمیت ظاہر ہے۔ حضرت عمرو بن مروۃ فرماتے ہیں کہ کلام اللہ شریف کی جو آیت میری تلاوت میں آئے اور اس کا تفصیلی معنوں کا مطلب میری سمجھ میں نہ آئے تو میرا دل دکھتا ہے مجھے سخت تکلیف ہوتی ہے اور میں ڈرنے لگتا ہوں کہ کہیں اللہ کے نزدیک میری گنتی جاہلوں میں تو نہیں ہوگئی کیونکہ فرمان اللہ یہی ہے کہ ہم ان مثالوں کو لوگوں کے سامنے پیش کر رہے ہیں لیکن سوائے عالموں کے انہیں دوسرے سمجھ نہیں سکتے۔
42
View Single
إِنَّ ٱللَّهَ يَعۡلَمُ مَا يَدۡعُونَ مِن دُونِهِۦ مِن شَيۡءٖۚ وَهُوَ ٱلۡعَزِيزُ ٱلۡحَكِيمُ
Allah knows what they worship instead of Him; He is the Almighty, the Wise.
بیشک اللہ ان (بتوں کی حقیقت) کو جانتا ہے جن کی بھی وہ اس کے سوا پوجا کرتے ہیں، اور وہی غالب ہے حکمت والا ہے
Tafsir Ibn Kathir
Likening the gods of the Idolators to the House of a Spider
This is how Allah described the idolators in their reverence of gods besides Him, hoping that they would help them and provide for them, and turning to them in times of difficulties. In this regard, they were like the house of a spider, which is so weak and frail, because by clinging to these gods they were like a person who holds on to a spider's web, who does not gain any benefit from that. If they knew this, they would not take any protectors besides Allah. This is unlike the Muslim believer, whose heart is devoted to Allah, yet he still does righteous deeds and follows the Laws of Allah, for he has grasped the most trustworthy handle that will never break because it is so strong and firm. Then Allah warns those who worship others besides Him and associate others with Him that He knows what they do and the rivals they associate with Him. He will punish them for their attribution, for He is All-Wise and All-Knowing. Then He says:
وَتِلْكَ الاٌّمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ وَمَا يَعْقِلُهَآ إِلاَّ الْعَـلِمُونَ
(And these are the examples We give for mankind; but none will understand them except those who have knowledge.) meaning, no one understands them or ponders them except those who are possessed of deep knowledge. Ibn Abi Hatim recorded that `Amr bin Murrah said, "I never came across an Ayah of the Book of Allah that I did not know, but it grieved me, because I heard that Allah says:
وَتِلْكَ الاٌّمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ وَمَا يَعْقِلُهَآ إِلاَّ الْعَـلِمُونَ
(And these are the examples We give for mankind; but none will understand them except those who have knowledge. )"
مکڑی کا جالا جو لوگ اللہ تعالیٰ کے سوا اوروں کی پرستش اور پوجاپاٹ کرتے ہیں ان کی کمزوری اور بےعلمی کا بیان ہو رہا ہے۔ یہ ان سے مدد روزی اور سختی میں کام آنے کے امیدوار رہتے ہیں۔ ان کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی مکڑی کے جالے میں بارش اور دھوپ اور سردی سے پناہ چاہے۔ اگر ان میں علم ہوتا تو یہ خالق کو چھوڑ کر مخلوق سے امیدیں وابستہ نہ کرتے۔ پس ان کا حال ایمانداروں کے حال کے بالکل برعکس ہے۔ وہ ایک مضبوط کڑے کو تھامے ہوئے ہیں اور یہ مکڑی کے جالے میں اپنا سرچھپائے ہوئے ہیں۔ اس کا دل اللہ کی طرف ہے اس کا جسم اعمال صالحہ کی طرف مشغول ہے اور اس کا دل مخلوق کی طرف اور جسم اس کی پرستش کی طرف جھکا ہوا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ مشرکوں کو ڈرا رہا ہے کہ وہ ان سے ان کے شرک سے اور ان کے جھوٹے معبودوں سے خوب آگاہ ہے۔ انہیں ان کی شرارت کا ایسا مزہ چھکائے گا کہ یہ یاد کریں۔ انہیں ڈھیل دینے میں بھی اس کی مصلحت وحکمت ہے۔ نہ یہ کہ وہ علیم اللہ ان سے بیخبر ہو۔ ہم نے تو مثالوں سے بھی مسائل سمجھا دئے۔ لیکن اس کے سوچنے سمجھنے کا مادہ ان میں غور و فکر کرنے کی توفیق صرف باعمل علماء کو ہوتی ہے۔ جو اپنے علم میں پورے ہیں۔ اس آیت سے ثابت ہوا کہ اللہ کی بیان کردہ مثالوں کو سمجھ لینا سچے علم کی دلیل ہے۔ حضرت عمرو بن عاص ؓ فرماتے ہیں میں نے ایک ہزار مثالیں رسول اللہ ﷺ سے سیکھی ہیں (مسند احمد) اس سے آپ کی فضیلت اور آپ کی علمیت ظاہر ہے۔ حضرت عمرو بن مروۃ فرماتے ہیں کہ کلام اللہ شریف کی جو آیت میری تلاوت میں آئے اور اس کا تفصیلی معنوں کا مطلب میری سمجھ میں نہ آئے تو میرا دل دکھتا ہے مجھے سخت تکلیف ہوتی ہے اور میں ڈرنے لگتا ہوں کہ کہیں اللہ کے نزدیک میری گنتی جاہلوں میں تو نہیں ہوگئی کیونکہ فرمان اللہ یہی ہے کہ ہم ان مثالوں کو لوگوں کے سامنے پیش کر رہے ہیں لیکن سوائے عالموں کے انہیں دوسرے سمجھ نہیں سکتے۔
43
View Single
وَتِلۡكَ ٱلۡأَمۡثَٰلُ نَضۡرِبُهَا لِلنَّاسِۖ وَمَا يَعۡقِلُهَآ إِلَّا ٱلۡعَٰلِمُونَ
And We illustrate these examples for mankind; and none except the knowledgeable understand them.
اور یہ مثالیں ہیں ہم انہیں لوگوں (کے سمجھانے) کے لئے بیان کرتے ہیں، اور انہیں اہلِ علم کے سوا کوئی نہیں سمجھتا
Tafsir Ibn Kathir
Likening the gods of the Idolators to the House of a Spider
This is how Allah described the idolators in their reverence of gods besides Him, hoping that they would help them and provide for them, and turning to them in times of difficulties. In this regard, they were like the house of a spider, which is so weak and frail, because by clinging to these gods they were like a person who holds on to a spider's web, who does not gain any benefit from that. If they knew this, they would not take any protectors besides Allah. This is unlike the Muslim believer, whose heart is devoted to Allah, yet he still does righteous deeds and follows the Laws of Allah, for he has grasped the most trustworthy handle that will never break because it is so strong and firm. Then Allah warns those who worship others besides Him and associate others with Him that He knows what they do and the rivals they associate with Him. He will punish them for their attribution, for He is All-Wise and All-Knowing. Then He says:
وَتِلْكَ الاٌّمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ وَمَا يَعْقِلُهَآ إِلاَّ الْعَـلِمُونَ
(And these are the examples We give for mankind; but none will understand them except those who have knowledge.) meaning, no one understands them or ponders them except those who are possessed of deep knowledge. Ibn Abi Hatim recorded that `Amr bin Murrah said, "I never came across an Ayah of the Book of Allah that I did not know, but it grieved me, because I heard that Allah says:
وَتِلْكَ الاٌّمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ وَمَا يَعْقِلُهَآ إِلاَّ الْعَـلِمُونَ
(And these are the examples We give for mankind; but none will understand them except those who have knowledge. )"
مکڑی کا جالا جو لوگ اللہ تعالیٰ کے سوا اوروں کی پرستش اور پوجاپاٹ کرتے ہیں ان کی کمزوری اور بےعلمی کا بیان ہو رہا ہے۔ یہ ان سے مدد روزی اور سختی میں کام آنے کے امیدوار رہتے ہیں۔ ان کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی مکڑی کے جالے میں بارش اور دھوپ اور سردی سے پناہ چاہے۔ اگر ان میں علم ہوتا تو یہ خالق کو چھوڑ کر مخلوق سے امیدیں وابستہ نہ کرتے۔ پس ان کا حال ایمانداروں کے حال کے بالکل برعکس ہے۔ وہ ایک مضبوط کڑے کو تھامے ہوئے ہیں اور یہ مکڑی کے جالے میں اپنا سرچھپائے ہوئے ہیں۔ اس کا دل اللہ کی طرف ہے اس کا جسم اعمال صالحہ کی طرف مشغول ہے اور اس کا دل مخلوق کی طرف اور جسم اس کی پرستش کی طرف جھکا ہوا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ مشرکوں کو ڈرا رہا ہے کہ وہ ان سے ان کے شرک سے اور ان کے جھوٹے معبودوں سے خوب آگاہ ہے۔ انہیں ان کی شرارت کا ایسا مزہ چھکائے گا کہ یہ یاد کریں۔ انہیں ڈھیل دینے میں بھی اس کی مصلحت وحکمت ہے۔ نہ یہ کہ وہ علیم اللہ ان سے بیخبر ہو۔ ہم نے تو مثالوں سے بھی مسائل سمجھا دئے۔ لیکن اس کے سوچنے سمجھنے کا مادہ ان میں غور و فکر کرنے کی توفیق صرف باعمل علماء کو ہوتی ہے۔ جو اپنے علم میں پورے ہیں۔ اس آیت سے ثابت ہوا کہ اللہ کی بیان کردہ مثالوں کو سمجھ لینا سچے علم کی دلیل ہے۔ حضرت عمرو بن عاص ؓ فرماتے ہیں میں نے ایک ہزار مثالیں رسول اللہ ﷺ سے سیکھی ہیں (مسند احمد) اس سے آپ کی فضیلت اور آپ کی علمیت ظاہر ہے۔ حضرت عمرو بن مروۃ فرماتے ہیں کہ کلام اللہ شریف کی جو آیت میری تلاوت میں آئے اور اس کا تفصیلی معنوں کا مطلب میری سمجھ میں نہ آئے تو میرا دل دکھتا ہے مجھے سخت تکلیف ہوتی ہے اور میں ڈرنے لگتا ہوں کہ کہیں اللہ کے نزدیک میری گنتی جاہلوں میں تو نہیں ہوگئی کیونکہ فرمان اللہ یہی ہے کہ ہم ان مثالوں کو لوگوں کے سامنے پیش کر رہے ہیں لیکن سوائے عالموں کے انہیں دوسرے سمجھ نہیں سکتے۔
44
View Single
خَلَقَ ٱللَّهُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضَ بِٱلۡحَقِّۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَةٗ لِّلۡمُؤۡمِنِينَ
Allah created the heavens and the earth with the truth; indeed in this is a sign for the Muslims.
اللہ نے آسمانوں اور زمین کو درست تدبیر کے ساتھ پیدا فرمایا ہے، بیشک اس (تخلیق) میں اہلِ ایمان کے لئے (اس کی وحدانیت اور قدرت کی) نشانی ہے
Tafsir Ibn Kathir
لِتُجْزَى كُلُّ نَفْسٍ بِمَا تَسْعَى
(that every person may be rewarded for that which he strives) (20:15).
لِيَجْزِىَ الَّذِينَ أَسَاءُواْ بِمَا عَمِلُواْ وَيِجْزِى الَّذِينَ أَحْسَنُواْ بِالْحُسْنَى
(that He may requite those who do evil with that which they have done, and reward those who do good, with what is best) (53:31).
إِنَّ فِى ذَلِكَ لآيَةً لِلْمُؤْمِنِينَ
(Verily, therein is surely a sign for those who believe. ) meaning, there is clear evidence that Allah is alone in creating, controlling, and in His divinity.
The Command to convey the Message, to recite the Qur'an and to pray
Then Allah commands His Messenger and the believers to recite the Qur'an, which means both reciting it and conveying it to people.
وَأَقِمِ الصَّلَوةَ إِنَّ الصَّلَوةَ تَنْهَى عَنِ الْفَحْشَآءِ وَالْمُنْكَرِ وَلَذِكْرُ اللَّهِ أَكْبَرُ
(and perform the Salah. Verily, the Salah prevents from Al-Fahsha' and Al-Munkar and the remembrance of Allah is greater indeed.) Prayer includes two things: the first of which is giving up immoral behavior and evil deeds, i.e., praying regularly enables a person to give up these things. Imam Ahmad recorded that Abu Hurayrah said: "A man came to the Prophet and said, `So-and-so prays at night, but when morning comes, he steals.' The Prophet said:
«إِنَّهُ سَيَنْهَاهُ مَا تَقُول»
(What you are saying (i.e., the Salah) will stop him from doing that.)" Prayer also includes the remembering of Allah, which is the higher objective, Allah says:
وَلَذِكْرُ اللَّهِ أَكْبَرُ
(and the remembrance of Allah is greater indeed.) more important than the former.
وَاللَّهُ يَعْلَمُ مَا تَصْنَعُونَ
(And Allah knows what you do.) means, He knows all that you do and say. Abu Al-`Aliyah commented on the Ayah:
إِنَّ الصَّلَوةَ تَنْهَى عَنِ الْفَحْشَآءِ وَالْمُنْكَرِ
(Verily, the Salah prevents from immoral sins and evil wicked deeds) "Prayer has three attributes, and any prayer that contains none of these attributes is not truly prayer: Being done purely and sincerely for Allah alone (Ikhlas), fear of Allah, and remembrance of Allah. Ikhlas makes a person do good deeds, fear prevents him from doing evil deeds, and the remembrance of Allah is the Qur'an which contains commands and prohibitions." Ibn `Awn Al-Ansari said: "When you are praying, you are doing good, it is keeping you away from immoral sins and evil wicked deeds and what you are doing is part of the remembrance of Allah which is greater."
مقصد کائنات اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی قدرت کا بیان ہو رہا ہے کہ وہی آسمانوں کا اور زمینوں کا خالق ہے اس نے انہیں کھیل تماشے کے طور پر یا لغو و بیکار نہیں بنایا بلکہ اس لئے کہ یہاں لوگوں کو بسائے۔ پھر ان کی نیکیاں بدیاں دیکھے۔ اور قیامت کے دن ان کے اعمال کے مطابق انہیں جزا سزادے۔ بروں کو ان کی بداعمالیوں پر سزا اور نیکوں کو ان کی نیکیوں پر بہترین بدلہ۔
45
View Single
ٱتۡلُ مَآ أُوحِيَ إِلَيۡكَ مِنَ ٱلۡكِتَٰبِ وَأَقِمِ ٱلصَّلَوٰةَۖ إِنَّ ٱلصَّلَوٰةَ تَنۡهَىٰ عَنِ ٱلۡفَحۡشَآءِ وَٱلۡمُنكَرِۗ وَلَذِكۡرُ ٱللَّهِ أَكۡبَرُۗ وَٱللَّهُ يَعۡلَمُ مَا تَصۡنَعُونَ
O dear Prophet (Mohammed – peace and blessings be upon him), recite from the Book which has been sent down to you, and establish the prayer; indeed the prayer stops from indecency and evil; and indeed the remembrance of Allah is the greatest; and Allah knows all what you do.
(اے حبیبِ مکرّم!) آپ وہ کتاب پڑھ کر سنائیے جو آپ کی طرف (بذریعہ) وحی بھیجی گئی ہے، اور نماز قائم کیجئے، بیشک نماز بے حیائی اور برائی سے روکتی ہے، اور واقعی اللہ کا ذکر سب سے بڑا ہے، اور اللہ ان (کاموں) کو جانتا ہے جو تم کرتے ہو
Tafsir Ibn Kathir
لِتُجْزَى كُلُّ نَفْسٍ بِمَا تَسْعَى
(that every person may be rewarded for that which he strives) (20:15).
لِيَجْزِىَ الَّذِينَ أَسَاءُواْ بِمَا عَمِلُواْ وَيِجْزِى الَّذِينَ أَحْسَنُواْ بِالْحُسْنَى
(that He may requite those who do evil with that which they have done, and reward those who do good, with what is best) (53:31).
إِنَّ فِى ذَلِكَ لآيَةً لِلْمُؤْمِنِينَ
(Verily, therein is surely a sign for those who believe. ) meaning, there is clear evidence that Allah is alone in creating, controlling, and in His divinity.
The Command to convey the Message, to recite the Qur'an and to pray
Then Allah commands His Messenger and the believers to recite the Qur'an, which means both reciting it and conveying it to people.
وَأَقِمِ الصَّلَوةَ إِنَّ الصَّلَوةَ تَنْهَى عَنِ الْفَحْشَآءِ وَالْمُنْكَرِ وَلَذِكْرُ اللَّهِ أَكْبَرُ
(and perform the Salah. Verily, the Salah prevents from Al-Fahsha' and Al-Munkar and the remembrance of Allah is greater indeed.) Prayer includes two things: the first of which is giving up immoral behavior and evil deeds, i.e., praying regularly enables a person to give up these things. Imam Ahmad recorded that Abu Hurayrah said: "A man came to the Prophet and said, `So-and-so prays at night, but when morning comes, he steals.' The Prophet said:
«إِنَّهُ سَيَنْهَاهُ مَا تَقُول»
(What you are saying (i.e., the Salah) will stop him from doing that.)" Prayer also includes the remembering of Allah, which is the higher objective, Allah says:
وَلَذِكْرُ اللَّهِ أَكْبَرُ
(and the remembrance of Allah is greater indeed.) more important than the former.
وَاللَّهُ يَعْلَمُ مَا تَصْنَعُونَ
(And Allah knows what you do.) means, He knows all that you do and say. Abu Al-`Aliyah commented on the Ayah:
إِنَّ الصَّلَوةَ تَنْهَى عَنِ الْفَحْشَآءِ وَالْمُنْكَرِ
(Verily, the Salah prevents from immoral sins and evil wicked deeds) "Prayer has three attributes, and any prayer that contains none of these attributes is not truly prayer: Being done purely and sincerely for Allah alone (Ikhlas), fear of Allah, and remembrance of Allah. Ikhlas makes a person do good deeds, fear prevents him from doing evil deeds, and the remembrance of Allah is the Qur'an which contains commands and prohibitions." Ibn `Awn Al-Ansari said: "When you are praying, you are doing good, it is keeping you away from immoral sins and evil wicked deeds and what you are doing is part of the remembrance of Allah which is greater."
اخلاص خوف اور اللہ کا ذکر اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے رسول ﷺ کو اور ایمان داروں کو حکم دے رہا ہے کہ وہ قرآن کریم کی تلاوت کرتے رہیں اور اسے اوروں کو بھی سنائیں اور نمازوں کی نگہبانی کریں اور پابندی سے پڑھتے رہا کریں۔ نماز انسان کو ناشائستہ کاموں اور نالائق حرکتوں سے باز رکھتی ہے۔ نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے کہ جس نمازی کی نماز نے اسے گناہوں سے اور سیاہ کاریوں سے باز نہ رکھا وہ اللہ سے بہت دور ہوجاتا ہے ابن ابی حاتم میں ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ سے اس آیت کی تفسیر دریافت کی گئی تو آپ نے فرمایا جسے اس کی نماز بےجا اور فحش کاموں سے نہ روکے تو سمجھ لو کہ اس کی نماز اللہ کے ہاں مقبول نہیں ہوئی۔ اور روایت میں ہے کہ وہ اللہ سے دور ہی ہوتاچلا جائے گا۔ ایک موقوف روایت میں حضرت عبداللہ بن عباس سے مروی ہے کہ جو نمازی بھلے کاموں میں مشغول اور برے کاموں سے بچنے والا نہ ہو سمجھ لو کہ اس کی نماز اسے اللہ سے اور دور کرتی جارہی ہے۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جو نماز کی بات نہ مانے اس کی نماز نہیں، نماز بےحیائی سے اور بد فعلیوں سے روکتی ہے اس کی اطاعت یہ ہے کہ ان بےہودہ کاموں سے نمازی رک جائے۔ حضرت شعیب سے جب ان کی قوم نے کہا کہ شعیب کیا تمہیں تمہاری نماز حکم کرتی ہے تو حضرت سفیان نے اس کی تفسیر میں فرمایا کہ ہاں اللہ کی قسم نماز حکم بھی کرتی ہے اور منع بھی کرتی ہے۔ حضرت عبداللہ سے کسی نے کہا فلاں شخص بڑی لمبی نماز پڑھتا ہے آپ نے فرمایا نماز اسے نفع دیتی ہے جو اس کا کہا مانے۔ میری تحقیق میں اوپر جو مرفوع روایت بیان ہوئی ہے اس کا بھی موقوف ہونا ہی زیادہ صحیح ہے۔ واللہ اعلم۔ بزار میں ہے کہ حضور اکرم ﷺ سے کسی نے کہا حضور ﷺ فلاں شخص نماز پڑھتا ہے لیکن چوری نہیں چھوڑتا تو آپ ﷺ نے فرمایا عنقریب اس کی نماز اس کی یہ برائی چھڑادے گی۔ چونکہ نماز ذکر اللہ کا نام ہے اسی لیے اس کے بعد ہی فرمایا اللہ کی یاد بڑی چیز ہے اللہ تعالیٰ تمہاری تمام باتوں سے اور تمہارے کل کاموں سے باخبر ہے۔ حضرت ابو العالیہ فرماتے ہیں نماز تین چیزیں ہیں اگر یہ نہ ہوں تو نماز نماز نہیں اخلاص وخلوص خوف اللہ اور ذکر اللہ۔ اخلاص سے تو انسان نیک ہوجاتا ہے اور خوف اللہ سے انسان گناہوں کو چھوڑ دیتا ہے اور ذکر اللہ یعنی قرآن اسے بھلائی و برائی بتادیتا ہے وہ حکم بھی کرتا ہے اور منع بھی کرتا ہے۔ ابن عون انصاری فرماتے ہیں جب تو نماز میں ہو تو نیکی میں ہے اور نماز تجھے فحش اور منکر سے بچائے ہوئے ہے۔ اور اس میں جو کچھ تو ذکر اللہ کرہا ہے وہ تیرے لئے بڑے ہی فائدے کی چیز ہے۔ حماد کا قول ہے کہ کم سے کم حالت نماز میں تو برائیوں سے بچا رہے گا۔ ایک راوی سے ابن عباس کا یہ قول مروی ہے کہ جو بندہ یاد اللہ کرتا ہے اللہ تعالیٰ بھی اسے یاد کرتا ہے۔ اس نے کہا ہمارے ہاں جو صاحب ہیں وہ تو کہتے ہیں کہ مطلب اس کا یہ ہے کہ جب تم اللہ کا ذکر کروگے تو وہ تمہاری یاد کرے گا اور یہ بہت بڑی چیز ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے آیت (فَاذْكُرُوْنِيْٓ اَذْكُرْكُمْ وَاشْكُرُوْا لِيْ وَلَا تَكْفُرُوْنِ01502ۧ) 2۔ البقرة :152) کہ تم میری یاد کرو میں تمہاری یاد کرونگا۔ اسے سن کر آپ نے فرمایا اس نے سچ کہا یعنی دونوں مطلب درست ہیں۔ یہ بھی اور وہ بھی اور خود حضرت ابن عباس سے یہ بھی تفسیر مروی ہے۔ حضرت عبداللہ بن ربیعہ سے ایک مرتبہ حضرت عبداللہ بن عباس نے دریافت فرمایا کہ اس جملے کا مطلب جانتے ہو ؟ انہوں نے کہا ہاں اس سے مراد نماز میں سبحان للہ، الحمدللہ، اللہ اکبر وغیرہ کہنا ہے۔ آپ نے فرمایا تو نے عجیب بات کہی یہ یوں نہیں ہے بلکہ مقصود یہ ہے کہ حکم کے اور منع کے وقت اللہ کا تمہیں یاد کرنا تمہارے ذکر اللہ سے بہت بڑا اور بہت اہم ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود حضرت ابو درداء حضرت سلمان فارسی وغیرہ سے بھی یہی مروی ہے۔ اور اسی کو امام ابن جریر پسند فرماتے ہیں۔
46
View Single
۞وَلَا تُجَٰدِلُوٓاْ أَهۡلَ ٱلۡكِتَٰبِ إِلَّا بِٱلَّتِي هِيَ أَحۡسَنُ إِلَّا ٱلَّذِينَ ظَلَمُواْ مِنۡهُمۡۖ وَقُولُوٓاْ ءَامَنَّا بِٱلَّذِيٓ أُنزِلَ إِلَيۡنَا وَأُنزِلَ إِلَيۡكُمۡ وَإِلَٰهُنَا وَإِلَٰهُكُمۡ وَٰحِدٞ وَنَحۡنُ لَهُۥ مُسۡلِمُونَ
And O Muslims, do not argue with the People given the Book(s) except in the best manner – except (with) those among them who oppress, and say, “We believe in what has been sent down towards us and what has been sent towards you – and ours and your God is One, and we have submitted ourselves to Him.”
اور (اے مومنو!) اہلِ کتاب سے نہ جھگڑا کرو مگر ایسے طریقہ سے جو بہتر ہو سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے ان میں سے ظلم کیا، اور (ان سے) کہہ دو کہ ہم اس (کتاب) پر ایمان لائے (ہیں) جو ہماری طرف اتاری گئی (ہے) اور جو تمہاری طرف اتاری گئی تھی، اور ہمارا معبود اور تمہارا معبود ایک ہی ہے، اور ہم اسی کے فرمانبردار ہیں
Tafsir Ibn Kathir
Arguing with the People of the Book
What is meant here is that anyone who wants to find out about religion from them should argue with them in a manner that is better, as this will be more effective. Allah says:
ادْعُ إِلِى سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ
(Invite to the way of your Lord with wisdom and fair preaching...) (16:125) And Allah said to Musa and Harun when he sent them to Fir`awn:
فَقُولاَ لَهُ قَوْلاً لَّيِّناً لَّعَلَّهُ يَتَذَكَّرُ أَوْ يَخْشَى
(And speak to him mildly, perhaps he may accept admonition or fear.) (20:44) Allah says here:
إِلاَّ الَّذِينَ ظَلَمُواْ مِنْهُمْ
(except with such of them as do wrong;) meaning, those who turn away from the truth, turning a blind eye to clear evidence, being stubborn and arrogant. In this case you should progress from debate to combat, fighting them in such a way as to deter them from committing aggression against you. Allah says:
لَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَيِّنَـتِ وَأَنزَلْنَا مَعَهُمُ الْكِتَـبَ وَالْمِيزَانَ لِيَقُومَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ وَأَنزْلْنَا الْحَدِيدَ فِيهِ بَأْسٌ شَدِيدٌ
(Indeed We have sent Our Messengers with clear proofs, and revealed with them the Scripture and the Balance that mankind may keep up justice. And We brought forth iron wherein is mighty power) until: r
إِنَّ اللَّهَ قَوِىٌّ عَزِيزٌ
(Verily, Allah is All-Strong, All-Mighty) (57:25). Jabir said: "We were commanded to strike with the sword whoever opposes the Book of Allah." And His saying:
وَقُولُواْ ءَامَنَّا بِالَّذِى أُنزِلَ إِلَيْنَا وَأُنزِلَ إِلَيْكُمْ
(and say (to them): "We believe in that which has been revealed to us and revealed to you;) means, `if they tell you something which you do not know to be true or false, say to them: We do not hasten to say it is a lie, because it may be true, and we do not hasten to say it is true because it may be false. We believe in it in general, under the condition that it has been revealed and has not been altered or deliberately misinterpreted.' Imam Al-Bukhari, may Allah have mercy on him, recorded that Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, said, "The People of the Book used to read the Tawrah in Hebrew and explain it in Arabic to the Muslims. The Messenger of Allah ﷺ said:
«لَا تُصَدِّقُوا أَهْلَ الْكِتَابِ وَلَا تُكَذِّبُوهُمْ، وَقُولُوا: آمَنَّا بِاللهِ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْنَا وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْكُمْ، وَإِلَهُنَا وَإِلَهُكُمْ وَاحِدٌ، وَنَحْنُ لَهُ مُسْلِمُون»
(Do not believe the People of the Book and do not deny them. Say: "We believe in Allah and what has been revealed to us and what has been revealed to you. Our God and your God is One, and to Him we have submitted.")" This Hadith was narrated only by Al-Bukhari. Al-Bukhari recorded that Ibn `Abbas said: "How can you ask the People of the Book about anything, when your Book that was revealed to the Messenger of Allah ﷺ is more recent, you read it pure and uncontaminated, it tells you that the People of the Book altered and changed the Book, that they write the Book with their own hands and then say, `This is from Allah,' to purchace with it a small price Should not the knowledge that you have, prevent you from asking them No, by Allah, we have never seen any of them asking you about what was sent down to you." Al-Bukhari recorded that Humayd bin `Abdur-Rahman heard Mu`awiyah talking to a group of Quraysh in Al-Madinah. He mentioned Ka`b Al-Ahbar, and said: "He was one of the most truthful of those who narrated from the People of the Book, even though we found that some of what he said might be lies." I say, this means that some of what he said could be classified linguistically as lies, but he did not intend to lie, because he was narrating from manuscripts which he thought were good, but they contained fabricated material, because they did not have people who were so conscientious in memorizing the Scriptures by heart as the people of this great Ummah.
غیر مسلموں کو دلائل سے قائل کرو حضرت قتادۃ وغیرہ تو فرماتے ہیں کہ یہ آیت تو جہاد کے حکم کے ساتھ منسوخ ہے اب تو یہی ہے کہ یا تو اسلام قبول کرو یا جزیہ ادا کرو یا لڑائی لڑیں۔ لیکن اور بزرگ مفسرین کا قول ہے کہ یہ حکم باقی ہے جو یہودی یا نصرانی دینی امور کو سجھنا چاہے اور اسے مہذب طریقے پر سلجھے ہوئے پیرائے سے سمجھا دینا چاہئے۔ کیا عجیب ہے کہ وہ راہ راست اختیار کرے۔ جیسے اور آیت میں عام حکم موجود ہے آیت (اُدْعُ اِلٰى سَبِيْلِ رَبِّكَ بالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجَادِلْهُمْ بالَّتِيْ هِىَ اَحْسَنُ ۭ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَـبِيْلِهٖ وَهُوَ اَعْلَمُ بالْمُهْتَدِيْنَ01205) 16۔ النحل :125) اپنے رب کی راہ کی دعوت حکمت اور بہترین نصیحت کے ساتھ لوگوں کو دو۔ حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون کو جب فرعون کے طرف بھیجا جاتا ہے تو فرمان ہوتا ہے کہ آیت (فَقُوْلَا لَهٗ قَوْلًا لَّيِّنًا لَّعَلَّهٗ يَتَذَكَّرُ اَوْ يَخْشٰى 44) 20۔ طه :44) یعنی اس سے نرمی سے گفتگو کرنا کیا عجب کہ وہ نصیحت قبول کرلے اور اس کا دل پگھل جائے۔ یہی قول حضرت امام ابن جریر کا پسندیدہ ہے۔ اور حضرت ابن زید سے یہی مروی ہے۔ ہاں ان میں سے جو ظلم پر اڑ جائیں اور ضد اور تعصب برتیں حق کو قبول کرنے سے انکار کردیں پھر مناظرے مباحثے بےسود ہیں پھر تو جدال و قتال کا حکم ہے۔ جیسے جناب باری عز اسمہ کا ارشاد ہے آیت (لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بالْبَيِّنٰتِ وَاَنْزَلْنَا مَعَهُمُ الْكِتٰبَ وَالْمِيْزَانَ لِيَقُوْمَ النَّاس بالْقِسْطِ 25ۧ) 57۔ الحدید :25) ہم نے رسولوں کو واضح دلیلوں کے ساتھ بھیجا اور ان کے ہمراہ کتاب و میزان نازل فرمائی تاکہ لوگوں میں عدل و انصاف کا قیام ہوسکے۔ اور ہم نے لوہا بھی نازل فرمایا جس میں سخت لڑائی ہے۔ پس حکم اللہ یہ ہے کہ بھلائی سے اور نرمی سے جو نہ مانے اس پر پھر سختی کی جائے۔ جو لڑے اسی سے لڑا جائے ہاں یہ اور بات ہے کہ ماتحتی میں رہ کر جزیہ ادا کرے۔ پھر تصدیق کردیا کرو ممکن ہے کسی امر حق کو تم جھٹلادو اور ممکن ہے کسی باطل کی تم تصدیق کر بیٹھو۔ پس شرط یہ ہے کہ تصدیق کرو یعنی کہہ دو کہ ہمارا اللہ کی ہر بات پر ایمان ہے اگر تمہاری پیش کردہ چیز اللہ کی نازل کردہ ہے تو ہم اسے تسلیم کرتے ہیں اور اگر تم نے تبدیل و تحریف کردی ہے تو ہم اسے نہیں مانتے۔ صحیح بخاری شریف میں ہے کہ اہل کتاب توراۃ کو عبرانی زبان میں پڑھتے اور ہمارے سامنے عربی میں اس کا ترجمہ کرتے اس پر آنحضرت ﷺ نے فرمایا نہ تم انہیں سچا کہو نہ جھوٹا بلکہ تم آیت (امنا بالذی) سے آخر آیت تک پڑھ دیاکرو۔ مسند احمد میں ہے کہ حضور ﷺ کے پاس ایک یہودی آیا اور کہنے لگا کیا یہ جنازے بولتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا اللہ ہی کو علم ہے۔ اس نے کہا میں جانتا ہوں یہ یقینا بولتے ہیں اس پر حضور ﷺ نے فرمایا یہ اہل کتاب جب تم سے کوئی بات بیان کریں تو تم نہ ان کی تصدیق کرو نہ تکذیب بلکہ کہہ دو ہمارا اللہ پر اور اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر ایمان ہے۔ یہ اس لئے کہ کہیں ایسا نہ ہو تم کسی جھوٹ کو سچا کہہ دو یا کسی سچ کو جھوٹ بتادو۔ یہاں یہ بھی خیال رہے کہ ان اہل کتاب کی اکثروبیشتر باتیں تو غلط اور جھوٹ ہی ہوتی ہیں عموما بہتان و افتراء ہوتا ہے۔ ان میں تحریف و تبدل تغیر و تاویل رواج پاچکی ہے اور صداقت ایسی رہ گئی ہے کہ گویا کچھ بھی نہیں۔ پھر ایک بات اور بھی ہے کہ بالفرض سچ بھی ہو تو ہمیں کیا فائدہ ؟ ہمارے پاس تو اللہ کی تازہ اور کامل کتاب موجود ہے۔ چناچہ حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں اہل کتاب سے تم کچھ بھی نہ پوچھو۔ وہ خود جبکہ گمراہ ہیں تو تمہاری تصحیح کیا کریں گے ؟ ہاں یہ ہوسکتا ہے کہ ان کی کسی سچ بات کو تم جھوٹا کہہ دو۔ یا ان کی کسی جھوٹی بات کو تم سچ کہہ دو۔ یاد رکھو ہر اہل کتاب کے دل میں اپنے دین کا ایک تعصب ہے۔ جیسے کہ مال کی خواہش ہے (ابن جریر) صحیح بخاری شریف میں ہے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں تم اہل کتاب سے سوالات کیوں کرتے ہو ؟ تم پر تو اللہ کی طرف سے ابھی ابھی کتاب نازل ہوئی ہے جو بالکل خالص ہے جس میں باطل نہ ملا نہ مل جل سکے۔ تم سے تو خود اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اہل کتاب نے اللہ کے دین کو بدل ڈالا۔ اللہ کی کتاب میں تغیر کردیا اور اپنے ہاتھوں کی لکھی ہوئی کتابوں کو اللہ کی کتاب کہنے لگے اور دنیوی نفع حاصل کرنے لگے۔ کیوں بھلا تمہارے پاس جو علم اللہ ہے کیا وہ تمہیں کافی نہیں ؟ کہ تم ان سے دریافت کرو۔ دیکھو تو کس قدر ستم ہے کہ ان میں سے تو ایک بھی تم سے کبھی کچھ نہ پوچھے اور تم ان سے دریافت کرتے پھرو ؟ صحیح بخاری شریف میں ہے کہ ایک مرتبہ حضرت امیر معاویہ ؓ نے مدینے میں قریش کی ایک جماعت کے سامنے فرمایا کہ دیکھو ان تمام اہل کتاب میں اور ان کی باتیں بیان کرنے والوں میں سب سے اچھے حضرت کعب بن احبار ؓ ہے لیکن باوجود اس کے بھی ان کی باتوں میں بھی ہم کبھی کھبی جھوٹ پاتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ عمدا جھوٹ بولتے ہیں بلکہ جن کتابوں پر انہیں اعتماد ہے وہ خود گیلی سوکھی سب جمع کرلیتے ہیں ان میں خود سچ جھوت صحیح غلط بھرا پڑا ہے۔ ان میں مضبوط ذی علم حافظوں کی جماعت تھی ہی نہیں۔ یہ تو اسی امت مرحومہ پر اللہ کا فضل ہے کہ اس میں بہترین دل ودماغ والے اور اعلیٰ فہم وذکا والے اور عمدہ حفظ و اتقان والے لوگ اللہ نے پیدا کردیئے ہیں لیکن پھر بھی آپ دیکھئے کہ کس قدر موضوعات کا ذخیرہ جمع ہوگیا ہے ؟ اور کس طرح لوگوں نے باتیں گھڑلی ہیں۔ محدثین نے اس باطل کو حق سے بالکل جدا کردیا فالحمدللہ۔
47
View Single
وَكَذَٰلِكَ أَنزَلۡنَآ إِلَيۡكَ ٱلۡكِتَٰبَۚ فَٱلَّذِينَ ءَاتَيۡنَٰهُمُ ٱلۡكِتَٰبَ يُؤۡمِنُونَ بِهِۦۖ وَمِنۡ هَـٰٓؤُلَآءِ مَن يُؤۡمِنُ بِهِۦۚ وَمَا يَجۡحَدُ بِـَٔايَٰتِنَآ إِلَّا ٱلۡكَٰفِرُونَ
And this is how We sent down the Book to you O dear Prophet (Mohammed – peace and blessings be upon him); so those to whom We gave the Book believe in it; and some of these (polytheists) accept faith in it; and none except the disbelievers reject Our signs.
اور اسی طرح ہم نے آپ کی طرف کتاب اتاری، تو جن (حق شناس) لوگوں کو ہم نے (پہلے سے) کتاب عطا کر رکھی تھی وہ اس (کتاب) پر ایمان لاتے ہیں، اور اِن (اہلِ مکّہ) میں سے (بھی) ایسے ہیں جو اس پر ایمان لاتے ہیں، اور ہماری آیتوں کا اِنکار کافروں کے سوا کوئی نہیں کرتا
Tafsir Ibn Kathir
Evidence for the Fact that the Qur'an was revealed from Allah
Ibn Jarir said: "Allah says, `just as We revealed the Books to the Messengers who came before you, O Muhammad, so We have also revealed this Book to you."' What he said is good and fits the context. Allah's saying:
فَالَّذِينَ ءَاتَيْنَـهُمُ الْكِتَـبَ يُؤْمِنُونَ بِهِ
(and those whom We gave the Scripture believe therein) means, those knowledgable rabbis and scholars among them who learned it and recited it properly, such as `Abdullah bin Salam, Salman Al-Farisi and others like them.
وَمِنْ هَـؤُلاءِ مَن يُؤْمِنُ بِهِ
(as also believe therein some of these) meaning, the Quraysh Arabs and others.
وَمَا يَجْحَدُ بِـايَـتِنَآ إِلاَّ الْكَـفِرونَ
(and none but the disbelievers reject Our Ayat.) No one disbelieves and rejects them except those who conceal the truth with falsehood, and those who try to hide the rays and light of the sun by their covering an eye. Then Allah says:
وَمَا كُنتَ تَتْلُو مِن قَبْلِهِ مِن كِتَـبٍ وَلاَ تَخُطُّهُ بِيَمِينِكَ
(Neither did you read any book before it (this Qur'an) nor did you write any book with your right hand. ) meaning, `you lived among your people for a long time before you brought this Qur'an. During this time you never read any book or wrote anything. Your people, as well as others all know that you are an unlettered man who does not read or write.' This is how he was also described in the previous Scriptures, as Allah says:
الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ الرَّسُولَ النَّبِىَّ الأُمِّىَّ الَّذِى يَجِدُونَهُ مَكْتُوبًا عِندَهُمْ فِى التَّوْرَاةِ وَالإِنجِيلِ يَأْمُرُهُم بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَـهُمْ عَنِ الْمُنْكَرِ
(Those who follow the Messenger, the Prophet, the unlettered about whom they find written with them in the Tawrah and the Injil, -- he commands them with good; and forbids them from evil.) (7:157) This is how the Messenger of Allah ﷺ will remain until the Day of Resurrection, unable to write even one line or one letter. He used to have scribes who would write down the revelation for him, or would write letters from him to be sent to different places. Allah's saying:
إِذاً لاَّرْتَـبَ الْمُبْطِلُونَ
(In that case, indeed, the followers of falsehood might have doubted.) means, `if you had been literate, some ignorant people would have doubted you. They would have said that you learned this from Books inherited from the Prophets which came before.' Indeed, they did say that, even though they knew that he was unlettered and could not read or write.
وَقَالُواْ أَسَـطِيرُ الاٌّوَّلِينَ اكْتَتَبَهَا فَهِىَ تُمْلَى عَلَيْهِ بُكْرَةً وَأَصِيلاً
(And they say: "Tales of the ancients, which he has written down, and they are dictated to him morning and afternoon.") (25:5) Allah says:
قُلْ أَنزَلَهُ الَّذِى يَعْلَمُ السِّرَّ فِى السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ
(Say: "It has been sent down by Him Who knows the secret of the heavens and the earth) (25:6). And Allah says here:
بَلْ هُوَ ءَايَـتٌ بَيِّنَـتٌ فِى صُدُورِ الَّذِينَ أُوتُواْ الْعِلْمَ
(Nay, but it is (Quran), the clear Ayat, (preserved) in the breasts of those who have been given knowledge.) meaning, this Qur'an is clear Ayat which indicate the truth, commands, prohibitions and stories. It is memorized by the scholars for whom Allah makes it easy to memorize, recite and interpret. This is like the Ayah,
وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْءَانَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ
(And We have indeed made the Qur'an easy to understand and remember; then is there any one who will remember) (54:17). The Messenger of Allah ﷺ said:
«مَا مِنْ نَبِيَ إِلَّا وَقَدْ أُعْطِيَ مَا آمَنَ عَلَى مِثْلِهِ الْبَشَرُ، وَإِنَّمَا كَانَ الَّذِي أُوتِيتُهُ وَحْيًا أَوْحَاهُ اللهُ إِلَيَّ، فَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَكْثَرَهُمْ تَابِعًا»
(There has never been any Prophet who was not given that which would make people believe in him. What I have been given is revelation which Allah reveals to me, and I hope that I will have the most followers among them.) According to the Hadith of `Iyad bin Himar, recorded in Sahih Muslim, Allah says:
«إِنِّي مُبْتَلِيكَ وَمُبْتَلٍ بِكَ، وَمُنْزِلٌ عَلَيْكَ كِتَابًا لَا يَغْسِلُهُ الْمَاءُ، تَقْرَؤُهُ نَائِمًا وَيَقْظَانًا»
("I am testing you and testing others through you, revealing to you a Book which cannot be washed away by water, which you recite while you are asleep and while you are awake.") This means, if the manuscript where it is written were to be washed with water, there is no need for that manuscript. This is because it is preserved in the hearts and is easy on the tongue (i.e., is easy to recite), and is controlling people's hearts and minds. It is miraculous in its wording and in its meanings. In the previous Scriptures this Ummah was described as carrying their holy Books in their hearts.
وَمَا يَجْحَدُ بِـَايَـتِنَآ إِلاَّ الظَّـلِمُونَ
(And none but the wrongdoers deny Our Ayat) Nobody denies it or tries to undermine its status or rejects it except the wrongdoers, i.e., the arrogant transgressors who know the truth but turn away from it, as Allah says:
إِنَّ الَّذِينَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَةُ رَبِّكَ لاَ يُؤْمِنُونَ - وَلَوْ جَآءَتْهُمْ كُلُّ ءايَةٍ حَتَّى يَرَوُاْ الْعَذَابَ الاٌّلِيمَ
(Truly, those, against whom the Word (wrath) of your Lord has been justified, will not believe. Even if every sign should come to them, until they see the painful torment.) (10:96-97)
حق تلاوت فرمان ہے کہ جیسے ہم نے اگلے انبیاء پر اپنی کتابیں نازل فرمائی تھیں اسی طرح یہ کتاب یعنی قرآن شریف ہم نے اے ہمارے آخری رسول ﷺ تم پر نازل فرمایا ہے۔ پس اہل کتاب میں سے جن لوگوں نے ہماری کتاب کی قدر کی اور اس کی تلاوت کا حق ادا کیا وہ جہاں اپنی کتابوں پر ایمان لائے اس پاک کتاب کو بھی مانتے ہیں جیسے حضرت عبداللہ بن سلام ؓ ، اور جیسے حضرت سلمان فارسی ؓ وغیرہ۔ اور ان لوگوں یعنی قریش وغیرہ میں سے بھی بعض لوگ اس پر ایمان لاتے ہیں ہاں جو لوگ باطل سے حق کو چھپانے والے اور سورج کی روشنی سے آنکھیں بند کرنے والے ہیں وہ تو اسکے بھی منکر ہیں۔ پھر فرماتا ہے اے نبی ﷺ تم ان میں مدت العمرتک رہ چکے ہو اس قرآن کے نازل ہونے سے پہلے اپنی عمر کا ایک بڑا حصہ ان میں گزار چکے ہو انہیں خوب معلوم ہے کہ آپ پڑھے لکھے نہیں، ساری قوم اور سارا ملک بخوبی علم رکھتا ہے کہ آپ محض امی ہیں نہ لکھناجانتے ہیں نہ پڑھنا۔ پھر آج جو آپ کو انوکھی فصیح وبلیغ اور پر از حکمت کتاب پڑھتے ہیں ظاہر ہے کہ وہ اللہ کی طرف سے ہے۔ آپ اس حالت میں ایک حرف پڑھے ہوئے نہیں خود تصنیف و تالیف کر نہیں سکتے حضور ﷺ کی یہ صفت اگلی کتابوں میں تھی جیسے قرآن ناقل ہے آیت (اَلَّذِيْنَ يَتَّبِعُوْنَ الرَّسُوْلَ النَّبِيَّ الْاُمِّيَّ الَّذِيْ يَجِدُوْنَهٗ مَكْتُوْبًا عِنْدَهُمْ فِي التَّوْرٰىةِ وَالْاِنْجِيْلِ01507) 7۔ الاعراف :157) یعنی جو لوگ پیروی کرتے ہیں اس رسول و نبی امی کی جس کی صفات وہ اپنی کتاب توراۃ اور انجیل میں لکھی ہوئی پاتے ہیں جو انہیں نیکیوں کا حکم کرتا ہے اور برائیوں سے روکتا ہے۔ لطف یہ ہے کہ اللہ کے معصوم نبی ﷺ ہمشہ لکھنے سے دور ہی رکھے گئے۔ ایک سطر کے معنی، ایک حرف بھی لکھنا آپ کو نہ آتا تھا۔ آپ نے کاتب مقرر کرلئے تھے جو وحی اللہ کو لکھ لیتے تھے اور ضروت کے وقت شاہان دنیا سے خط و کتابت بھی وہی کرتے تھے پچھلے فقہاء میں قاضی ابو الولید باجی وغیرہ نے کہا کہ حدیبیہ والے دن خود رسول کریم ﷺ نے اپنے ہاتھ سے یہ جملہ صلح نامے میں لکھا تھا کہ ھذا ماقاضی علیہ محمدا بن عبداللہ یعنی یہ وہ شرائط ہیں جن پر محمد بن عبداللہ ﷺ نے فیصلہ کیا۔ لیکن یہ قول درست نہیں یہ وہم قاضی صاحب کو بخاری شریف کی اس روایت سے ہوا ہے جس میں یہ الفاظ ہیں کہ ثم اخذ فکتب یعنی پھر حضور ﷺ نے آپ لیکر لکھا۔ لیکن اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے لکھنے کا حکم دیا۔ جیسے دوسری روایت میں صاف موجود ہے کہ ثم امر فکتب یعنی آپ نے پھر حکم دیا اور لکھا گیا۔ مشرق ومغرب کے تمام علماء کا یہی مذہب ہے بلکہ باجی وغیرہ پر انہوں نے اس قول کا بہت سخت رد کیا ہے اور اس سے بیزاری ظاہر کی ہے۔ اور اس قول کی تردید اپنے اشعار اور خطبوں میں بھی کی ہے۔ لیکن یہ بھی خیال رہے کہ قاضی صاحب وغیرہ کا یہ خیال ہرگز نہیں کہ آپ اچھی طرح لکھنا جانتے تھے بلکہ وہ یہ کہتے تھے کہ آپ کا یہ جملہ صلح نامے پر لکھا جانا معجزہ تھا۔ جیسا کہ حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ دجال کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہوا ہوگا اور ایک روایت میں ہے کہ کر لکھا ہوا ہوگا جسے ہر مومن پڑھ لے گا اگرچہ ان پڑھ ہو تب بھی اسے پڑھ لے گا۔ یہ مومن کی ایک کرامت ہوگی اسی طرح یہ فقرہ لکھ لینا اللہ کے نبی ﷺ کا ایک معجزہ تھا اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ آپ لکھنا جانتے تھے۔ یا آپ نے سیکھا تھا۔ بعض لوگ ایک روایت پیش کرتے ہیں جس میں ہے کہ آنحضور ﷺ کا انتقال نہ ہوا جب تک کہ آپ نے لکھنا نہ سیکھ لیا۔ یہ روایت بالکل ضعیف ہے بلکہ محض بےاصل ہے قرآن کریم کی اس آیت کو دیکھئے کس قدر تاکید کے ساتھ آنحضرت ﷺ کے پڑھا ہونے کا انکار کرتی ہے اور کتنی سختی کے ساتھ پرزور الفاظ میں اس کا بھی انکار کرتی ہے کہ آپ لکھناجانتے ہوں۔ یہ جو فرمایا کہ داہنے ہاتھ سے یہ باعتبار غالب کے کہہ دیا ہے ورنہ لکھا تو دائیں ہاتھ سے ہی جاتا ہے اسی کی طرح آیت (وَلَا طٰۗىِٕرٍ يَّطِيْرُ بِجَنَاحَيْهِ اِلَّآ اُمَمٌ اَمْثَالُكُمْ 38) 6۔ الانعام :38) میں ہے کیونکہ ہر پرند اپنے پروں سے ہی اڑتا ہے۔ پس حضور ﷺ کا ان پڑھ ہونا بیان فرما کر ارشاد ہوتا ہے کہ اگر آپ پڑھے لکھے ہوتے تو یہ باطل پرست آپ کی نسبت شکر کرنے کی گنجائش پاتے کہ سابقہ انبیاء کی کتابوں سے پڑھ لکھ کر نقل کرلیتا ہے لیکن یہاں تو ایسا نہیں۔ تعجب ہے کہ باوجود ایسانہ ہونے کے پھر بھی یہ لوگ ہمارے رسول ﷺ پر یہ الزام لگاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ گزرے ہوئے لوگوں کی کہانیاں ہیں جنہیں اس نے لکھ لیا ہے۔ وہی اس کے سامنے صبح شام پڑھی جاتی ہیں۔ باوجودیکہ خود جانتے ہیں کہ ہمارے رسول ﷺ پڑھے لکھے نہیں۔ ان کے اس قول کے جواب میں جناب باری عز اسمہ نے فرمایا انہیں جواب دو کہ اسے اس اللہ نے نازل فرمایا ہے جو زمین و آسمان کی پوشیدگیوں کو جانتا ہے۔ یہاں فرمایا بلکہ یہ روشن آیتیں ہیں جو اہل علم کے سینوں میں ہیں۔ خود آیات واضح صاف اور سلجھے ہوئے الفاظ میں ہیں۔ پھر علماء پر ان کا سمجھنا یاد کرنا پہنچانا سب آسان ہے جیسے فرمان ہے آیت (وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ للذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ 17) 54۔ القمر :17) یعنی ہم نے اس قرآن کو نصیحت کے لئے بالکل آسان کردیا ہے پس کیا کوئی ہے جو اس سے نصیحت حاصل کرے۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں ہر نبی کو ایسی چیز دی گئی جس کے باعث لوگ ان پر ایمان لائے مجھے ایسی چیز وحی اللہ دی گئی ہے جو اللہ نے میری طرف نازل فرمائی ہے تو مجھے ذات اللہ سے امید ہے کہ تمام نبیوں کے تابعداروں سے زیادہ میرے تابعدار ہونگے۔ صحیح مسلم کی حدیث میں ہے کہ اے نبی ! میں تمہیں آزماؤنگا اور تمہاری وجہ سے لوگوں کی بھی آزمائش کرلونگا۔ میں تم پر ایسی کتاب نازل فرماؤنگا جسے پانی دھو نہ سکے۔ تو اسے سوتے جاگتے پڑھتا رہے گا۔ مطلب یہ ہے کہ اس کے حروف پانی سے دھوئے جائیں لیکن وہ ضائع ہونے سے محفوظ ہے۔ جیسے کہ حدیث میں ہے اگر قرآن کسی چمڑے میں ہو تو اسے آگ نہیں جلائے گی۔ اس لئے کہ وہ سینوں میں محفوظ ہے، زبانوں پر آسان ہے اور دلوں میں موجود ہے۔ اور اپنے لفظ اور معنی کے اعتبار سے ایک جیتا جاگتا معجزہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سابقہ کتابوں میں اس امت کی ایک صفت یہ بھی مروی ہے کہ اناجیلھم فی صدورھم ان کی کتاب ان کے سینوں میں ہوگی۔ امام ابن جریر اسے پسند فرماتے ہیں کہ معنی یہ ہیں بلکہ اس کا علم کہ تو اس کتاب سے پہلے کوئی کتاب نہیں پڑھتا تھا اور نہ اپنے ہاتھ سے کچھ لکھتا تھا یہ آیات بینات اہل کتاب کے ذی علم لوگوں کے سینوں میں موجود ہیں۔ قتادۃ اور ابن جریج سے بھی یہی منقول ہے اور پہلا قول حسن بصری کا ہے اور یہی بہ روایت عوفی، ابن عباس سے منقول ہے اور یہ ضحاک نے کہا ہے اور یہی زیادہ ظاہر ہے واللہ اعلم۔ پھر فرماتا ہے کہ ہماری آیتوں کا جھٹلانا قبول نہ کرنا یہ حد سے گذرجانے والوں اور ضدی لوگوں کا ہی کام ہے جو حق ناحق کو سمجھتے ہیں اور نہ اس کی طرف مائل ہوتے ہیں جیسے فرمان ہے جن پر تیرے رب کی بات ثابت ہوچکی ہے وہ ہرگز ایمان نہ لائیں گے اگرچہ ان کے پاس نشانیاں آجائیں۔ یہاں تک کہ وہ المناک عذاب کا مشاہدہ کرلیں۔
48
View Single
وَمَا كُنتَ تَتۡلُواْ مِن قَبۡلِهِۦ مِن كِتَٰبٖ وَلَا تَخُطُّهُۥ بِيَمِينِكَۖ إِذٗا لَّٱرۡتَابَ ٱلۡمُبۡطِلُونَ
And you (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him) were not reading any Book before it, nor writing with your right hand – if it were, the people of falsehood would surely have doubted.
اور (اے حبیب!) اس سے پہلے آپ کوئی کتاب نہیں پڑھا کرتے تھے اور نہ ہی آپ اسے اپنے ہاتھ سے لکھتے تھے ورنہ اہلِ باطل اسی وقت ضرور شک میں پڑ جاتے
Tafsir Ibn Kathir
Evidence for the Fact that the Qur'an was revealed from Allah
Ibn Jarir said: "Allah says, `just as We revealed the Books to the Messengers who came before you, O Muhammad, so We have also revealed this Book to you."' What he said is good and fits the context. Allah's saying:
فَالَّذِينَ ءَاتَيْنَـهُمُ الْكِتَـبَ يُؤْمِنُونَ بِهِ
(and those whom We gave the Scripture believe therein) means, those knowledgable rabbis and scholars among them who learned it and recited it properly, such as `Abdullah bin Salam, Salman Al-Farisi and others like them.
وَمِنْ هَـؤُلاءِ مَن يُؤْمِنُ بِهِ
(as also believe therein some of these) meaning, the Quraysh Arabs and others.
وَمَا يَجْحَدُ بِـايَـتِنَآ إِلاَّ الْكَـفِرونَ
(and none but the disbelievers reject Our Ayat.) No one disbelieves and rejects them except those who conceal the truth with falsehood, and those who try to hide the rays and light of the sun by their covering an eye. Then Allah says:
وَمَا كُنتَ تَتْلُو مِن قَبْلِهِ مِن كِتَـبٍ وَلاَ تَخُطُّهُ بِيَمِينِكَ
(Neither did you read any book before it (this Qur'an) nor did you write any book with your right hand. ) meaning, `you lived among your people for a long time before you brought this Qur'an. During this time you never read any book or wrote anything. Your people, as well as others all know that you are an unlettered man who does not read or write.' This is how he was also described in the previous Scriptures, as Allah says:
الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ الرَّسُولَ النَّبِىَّ الأُمِّىَّ الَّذِى يَجِدُونَهُ مَكْتُوبًا عِندَهُمْ فِى التَّوْرَاةِ وَالإِنجِيلِ يَأْمُرُهُم بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَـهُمْ عَنِ الْمُنْكَرِ
(Those who follow the Messenger, the Prophet, the unlettered about whom they find written with them in the Tawrah and the Injil, -- he commands them with good; and forbids them from evil.) (7:157) This is how the Messenger of Allah ﷺ will remain until the Day of Resurrection, unable to write even one line or one letter. He used to have scribes who would write down the revelation for him, or would write letters from him to be sent to different places. Allah's saying:
إِذاً لاَّرْتَـبَ الْمُبْطِلُونَ
(In that case, indeed, the followers of falsehood might have doubted.) means, `if you had been literate, some ignorant people would have doubted you. They would have said that you learned this from Books inherited from the Prophets which came before.' Indeed, they did say that, even though they knew that he was unlettered and could not read or write.
وَقَالُواْ أَسَـطِيرُ الاٌّوَّلِينَ اكْتَتَبَهَا فَهِىَ تُمْلَى عَلَيْهِ بُكْرَةً وَأَصِيلاً
(And they say: "Tales of the ancients, which he has written down, and they are dictated to him morning and afternoon.") (25:5) Allah says:
قُلْ أَنزَلَهُ الَّذِى يَعْلَمُ السِّرَّ فِى السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ
(Say: "It has been sent down by Him Who knows the secret of the heavens and the earth) (25:6). And Allah says here:
بَلْ هُوَ ءَايَـتٌ بَيِّنَـتٌ فِى صُدُورِ الَّذِينَ أُوتُواْ الْعِلْمَ
(Nay, but it is (Quran), the clear Ayat, (preserved) in the breasts of those who have been given knowledge.) meaning, this Qur'an is clear Ayat which indicate the truth, commands, prohibitions and stories. It is memorized by the scholars for whom Allah makes it easy to memorize, recite and interpret. This is like the Ayah,
وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْءَانَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ
(And We have indeed made the Qur'an easy to understand and remember; then is there any one who will remember) (54:17). The Messenger of Allah ﷺ said:
«مَا مِنْ نَبِيَ إِلَّا وَقَدْ أُعْطِيَ مَا آمَنَ عَلَى مِثْلِهِ الْبَشَرُ، وَإِنَّمَا كَانَ الَّذِي أُوتِيتُهُ وَحْيًا أَوْحَاهُ اللهُ إِلَيَّ، فَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَكْثَرَهُمْ تَابِعًا»
(There has never been any Prophet who was not given that which would make people believe in him. What I have been given is revelation which Allah reveals to me, and I hope that I will have the most followers among them.) According to the Hadith of `Iyad bin Himar, recorded in Sahih Muslim, Allah says:
«إِنِّي مُبْتَلِيكَ وَمُبْتَلٍ بِكَ، وَمُنْزِلٌ عَلَيْكَ كِتَابًا لَا يَغْسِلُهُ الْمَاءُ، تَقْرَؤُهُ نَائِمًا وَيَقْظَانًا»
("I am testing you and testing others through you, revealing to you a Book which cannot be washed away by water, which you recite while you are asleep and while you are awake.") This means, if the manuscript where it is written were to be washed with water, there is no need for that manuscript. This is because it is preserved in the hearts and is easy on the tongue (i.e., is easy to recite), and is controlling people's hearts and minds. It is miraculous in its wording and in its meanings. In the previous Scriptures this Ummah was described as carrying their holy Books in their hearts.
وَمَا يَجْحَدُ بِـَايَـتِنَآ إِلاَّ الظَّـلِمُونَ
(And none but the wrongdoers deny Our Ayat) Nobody denies it or tries to undermine its status or rejects it except the wrongdoers, i.e., the arrogant transgressors who know the truth but turn away from it, as Allah says:
إِنَّ الَّذِينَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَةُ رَبِّكَ لاَ يُؤْمِنُونَ - وَلَوْ جَآءَتْهُمْ كُلُّ ءايَةٍ حَتَّى يَرَوُاْ الْعَذَابَ الاٌّلِيمَ
(Truly, those, against whom the Word (wrath) of your Lord has been justified, will not believe. Even if every sign should come to them, until they see the painful torment.) (10:96-97)
حق تلاوت فرمان ہے کہ جیسے ہم نے اگلے انبیاء پر اپنی کتابیں نازل فرمائی تھیں اسی طرح یہ کتاب یعنی قرآن شریف ہم نے اے ہمارے آخری رسول ﷺ تم پر نازل فرمایا ہے۔ پس اہل کتاب میں سے جن لوگوں نے ہماری کتاب کی قدر کی اور اس کی تلاوت کا حق ادا کیا وہ جہاں اپنی کتابوں پر ایمان لائے اس پاک کتاب کو بھی مانتے ہیں جیسے حضرت عبداللہ بن سلام ؓ ، اور جیسے حضرت سلمان فارسی ؓ وغیرہ۔ اور ان لوگوں یعنی قریش وغیرہ میں سے بھی بعض لوگ اس پر ایمان لاتے ہیں ہاں جو لوگ باطل سے حق کو چھپانے والے اور سورج کی روشنی سے آنکھیں بند کرنے والے ہیں وہ تو اسکے بھی منکر ہیں۔ پھر فرماتا ہے اے نبی ﷺ تم ان میں مدت العمرتک رہ چکے ہو اس قرآن کے نازل ہونے سے پہلے اپنی عمر کا ایک بڑا حصہ ان میں گزار چکے ہو انہیں خوب معلوم ہے کہ آپ پڑھے لکھے نہیں، ساری قوم اور سارا ملک بخوبی علم رکھتا ہے کہ آپ محض امی ہیں نہ لکھناجانتے ہیں نہ پڑھنا۔ پھر آج جو آپ کو انوکھی فصیح وبلیغ اور پر از حکمت کتاب پڑھتے ہیں ظاہر ہے کہ وہ اللہ کی طرف سے ہے۔ آپ اس حالت میں ایک حرف پڑھے ہوئے نہیں خود تصنیف و تالیف کر نہیں سکتے حضور ﷺ کی یہ صفت اگلی کتابوں میں تھی جیسے قرآن ناقل ہے آیت (اَلَّذِيْنَ يَتَّبِعُوْنَ الرَّسُوْلَ النَّبِيَّ الْاُمِّيَّ الَّذِيْ يَجِدُوْنَهٗ مَكْتُوْبًا عِنْدَهُمْ فِي التَّوْرٰىةِ وَالْاِنْجِيْلِ01507) 7۔ الاعراف :157) یعنی جو لوگ پیروی کرتے ہیں اس رسول و نبی امی کی جس کی صفات وہ اپنی کتاب توراۃ اور انجیل میں لکھی ہوئی پاتے ہیں جو انہیں نیکیوں کا حکم کرتا ہے اور برائیوں سے روکتا ہے۔ لطف یہ ہے کہ اللہ کے معصوم نبی ﷺ ہمشہ لکھنے سے دور ہی رکھے گئے۔ ایک سطر کے معنی، ایک حرف بھی لکھنا آپ کو نہ آتا تھا۔ آپ نے کاتب مقرر کرلئے تھے جو وحی اللہ کو لکھ لیتے تھے اور ضروت کے وقت شاہان دنیا سے خط و کتابت بھی وہی کرتے تھے پچھلے فقہاء میں قاضی ابو الولید باجی وغیرہ نے کہا کہ حدیبیہ والے دن خود رسول کریم ﷺ نے اپنے ہاتھ سے یہ جملہ صلح نامے میں لکھا تھا کہ ھذا ماقاضی علیہ محمدا بن عبداللہ یعنی یہ وہ شرائط ہیں جن پر محمد بن عبداللہ ﷺ نے فیصلہ کیا۔ لیکن یہ قول درست نہیں یہ وہم قاضی صاحب کو بخاری شریف کی اس روایت سے ہوا ہے جس میں یہ الفاظ ہیں کہ ثم اخذ فکتب یعنی پھر حضور ﷺ نے آپ لیکر لکھا۔ لیکن اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے لکھنے کا حکم دیا۔ جیسے دوسری روایت میں صاف موجود ہے کہ ثم امر فکتب یعنی آپ نے پھر حکم دیا اور لکھا گیا۔ مشرق ومغرب کے تمام علماء کا یہی مذہب ہے بلکہ باجی وغیرہ پر انہوں نے اس قول کا بہت سخت رد کیا ہے اور اس سے بیزاری ظاہر کی ہے۔ اور اس قول کی تردید اپنے اشعار اور خطبوں میں بھی کی ہے۔ لیکن یہ بھی خیال رہے کہ قاضی صاحب وغیرہ کا یہ خیال ہرگز نہیں کہ آپ اچھی طرح لکھنا جانتے تھے بلکہ وہ یہ کہتے تھے کہ آپ کا یہ جملہ صلح نامے پر لکھا جانا معجزہ تھا۔ جیسا کہ حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ دجال کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہوا ہوگا اور ایک روایت میں ہے کہ کر لکھا ہوا ہوگا جسے ہر مومن پڑھ لے گا اگرچہ ان پڑھ ہو تب بھی اسے پڑھ لے گا۔ یہ مومن کی ایک کرامت ہوگی اسی طرح یہ فقرہ لکھ لینا اللہ کے نبی ﷺ کا ایک معجزہ تھا اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ آپ لکھنا جانتے تھے۔ یا آپ نے سیکھا تھا۔ بعض لوگ ایک روایت پیش کرتے ہیں جس میں ہے کہ آنحضور ﷺ کا انتقال نہ ہوا جب تک کہ آپ نے لکھنا نہ سیکھ لیا۔ یہ روایت بالکل ضعیف ہے بلکہ محض بےاصل ہے قرآن کریم کی اس آیت کو دیکھئے کس قدر تاکید کے ساتھ آنحضرت ﷺ کے پڑھا ہونے کا انکار کرتی ہے اور کتنی سختی کے ساتھ پرزور الفاظ میں اس کا بھی انکار کرتی ہے کہ آپ لکھناجانتے ہوں۔ یہ جو فرمایا کہ داہنے ہاتھ سے یہ باعتبار غالب کے کہہ دیا ہے ورنہ لکھا تو دائیں ہاتھ سے ہی جاتا ہے اسی کی طرح آیت (وَلَا طٰۗىِٕرٍ يَّطِيْرُ بِجَنَاحَيْهِ اِلَّآ اُمَمٌ اَمْثَالُكُمْ 38) 6۔ الانعام :38) میں ہے کیونکہ ہر پرند اپنے پروں سے ہی اڑتا ہے۔ پس حضور ﷺ کا ان پڑھ ہونا بیان فرما کر ارشاد ہوتا ہے کہ اگر آپ پڑھے لکھے ہوتے تو یہ باطل پرست آپ کی نسبت شکر کرنے کی گنجائش پاتے کہ سابقہ انبیاء کی کتابوں سے پڑھ لکھ کر نقل کرلیتا ہے لیکن یہاں تو ایسا نہیں۔ تعجب ہے کہ باوجود ایسانہ ہونے کے پھر بھی یہ لوگ ہمارے رسول ﷺ پر یہ الزام لگاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ گزرے ہوئے لوگوں کی کہانیاں ہیں جنہیں اس نے لکھ لیا ہے۔ وہی اس کے سامنے صبح شام پڑھی جاتی ہیں۔ باوجودیکہ خود جانتے ہیں کہ ہمارے رسول ﷺ پڑھے لکھے نہیں۔ ان کے اس قول کے جواب میں جناب باری عز اسمہ نے فرمایا انہیں جواب دو کہ اسے اس اللہ نے نازل فرمایا ہے جو زمین و آسمان کی پوشیدگیوں کو جانتا ہے۔ یہاں فرمایا بلکہ یہ روشن آیتیں ہیں جو اہل علم کے سینوں میں ہیں۔ خود آیات واضح صاف اور سلجھے ہوئے الفاظ میں ہیں۔ پھر علماء پر ان کا سمجھنا یاد کرنا پہنچانا سب آسان ہے جیسے فرمان ہے آیت (وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ للذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ 17) 54۔ القمر :17) یعنی ہم نے اس قرآن کو نصیحت کے لئے بالکل آسان کردیا ہے پس کیا کوئی ہے جو اس سے نصیحت حاصل کرے۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں ہر نبی کو ایسی چیز دی گئی جس کے باعث لوگ ان پر ایمان لائے مجھے ایسی چیز وحی اللہ دی گئی ہے جو اللہ نے میری طرف نازل فرمائی ہے تو مجھے ذات اللہ سے امید ہے کہ تمام نبیوں کے تابعداروں سے زیادہ میرے تابعدار ہونگے۔ صحیح مسلم کی حدیث میں ہے کہ اے نبی ! میں تمہیں آزماؤنگا اور تمہاری وجہ سے لوگوں کی بھی آزمائش کرلونگا۔ میں تم پر ایسی کتاب نازل فرماؤنگا جسے پانی دھو نہ سکے۔ تو اسے سوتے جاگتے پڑھتا رہے گا۔ مطلب یہ ہے کہ اس کے حروف پانی سے دھوئے جائیں لیکن وہ ضائع ہونے سے محفوظ ہے۔ جیسے کہ حدیث میں ہے اگر قرآن کسی چمڑے میں ہو تو اسے آگ نہیں جلائے گی۔ اس لئے کہ وہ سینوں میں محفوظ ہے، زبانوں پر آسان ہے اور دلوں میں موجود ہے۔ اور اپنے لفظ اور معنی کے اعتبار سے ایک جیتا جاگتا معجزہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سابقہ کتابوں میں اس امت کی ایک صفت یہ بھی مروی ہے کہ اناجیلھم فی صدورھم ان کی کتاب ان کے سینوں میں ہوگی۔ امام ابن جریر اسے پسند فرماتے ہیں کہ معنی یہ ہیں بلکہ اس کا علم کہ تو اس کتاب سے پہلے کوئی کتاب نہیں پڑھتا تھا اور نہ اپنے ہاتھ سے کچھ لکھتا تھا یہ آیات بینات اہل کتاب کے ذی علم لوگوں کے سینوں میں موجود ہیں۔ قتادۃ اور ابن جریج سے بھی یہی منقول ہے اور پہلا قول حسن بصری کا ہے اور یہی بہ روایت عوفی، ابن عباس سے منقول ہے اور یہ ضحاک نے کہا ہے اور یہی زیادہ ظاہر ہے واللہ اعلم۔ پھر فرماتا ہے کہ ہماری آیتوں کا جھٹلانا قبول نہ کرنا یہ حد سے گذرجانے والوں اور ضدی لوگوں کا ہی کام ہے جو حق ناحق کو سمجھتے ہیں اور نہ اس کی طرف مائل ہوتے ہیں جیسے فرمان ہے جن پر تیرے رب کی بات ثابت ہوچکی ہے وہ ہرگز ایمان نہ لائیں گے اگرچہ ان کے پاس نشانیاں آجائیں۔ یہاں تک کہ وہ المناک عذاب کا مشاہدہ کرلیں۔
49
View Single
بَلۡ هُوَ ءَايَٰتُۢ بَيِّنَٰتٞ فِي صُدُورِ ٱلَّذِينَ أُوتُواْ ٱلۡعِلۡمَۚ وَمَا يَجۡحَدُ بِـَٔايَٰتِنَآ إِلَّا ٱلظَّـٰلِمُونَ
In fact they are clear verses in the hearts of those who have been given knowledge; and none deny Our verses except the unjust.
بلکہ وہ (قرآن ہی کی) واضح آیتیں ہیں جو ان لوگوں کے سینوں میں (محفوظ) ہیں جنہیں (صحیح) علم عطا کیا گیا ہے، اور ظالموں کے سوا ہماری آیتوں کا کوئی انکار نہیں کرتا
Tafsir Ibn Kathir
Evidence for the Fact that the Qur'an was revealed from Allah
Ibn Jarir said: "Allah says, `just as We revealed the Books to the Messengers who came before you, O Muhammad, so We have also revealed this Book to you."' What he said is good and fits the context. Allah's saying:
فَالَّذِينَ ءَاتَيْنَـهُمُ الْكِتَـبَ يُؤْمِنُونَ بِهِ
(and those whom We gave the Scripture believe therein) means, those knowledgable rabbis and scholars among them who learned it and recited it properly, such as `Abdullah bin Salam, Salman Al-Farisi and others like them.
وَمِنْ هَـؤُلاءِ مَن يُؤْمِنُ بِهِ
(as also believe therein some of these) meaning, the Quraysh Arabs and others.
وَمَا يَجْحَدُ بِـايَـتِنَآ إِلاَّ الْكَـفِرونَ
(and none but the disbelievers reject Our Ayat.) No one disbelieves and rejects them except those who conceal the truth with falsehood, and those who try to hide the rays and light of the sun by their covering an eye. Then Allah says:
وَمَا كُنتَ تَتْلُو مِن قَبْلِهِ مِن كِتَـبٍ وَلاَ تَخُطُّهُ بِيَمِينِكَ
(Neither did you read any book before it (this Qur'an) nor did you write any book with your right hand. ) meaning, `you lived among your people for a long time before you brought this Qur'an. During this time you never read any book or wrote anything. Your people, as well as others all know that you are an unlettered man who does not read or write.' This is how he was also described in the previous Scriptures, as Allah says:
الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ الرَّسُولَ النَّبِىَّ الأُمِّىَّ الَّذِى يَجِدُونَهُ مَكْتُوبًا عِندَهُمْ فِى التَّوْرَاةِ وَالإِنجِيلِ يَأْمُرُهُم بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَـهُمْ عَنِ الْمُنْكَرِ
(Those who follow the Messenger, the Prophet, the unlettered about whom they find written with them in the Tawrah and the Injil, -- he commands them with good; and forbids them from evil.) (7:157) This is how the Messenger of Allah ﷺ will remain until the Day of Resurrection, unable to write even one line or one letter. He used to have scribes who would write down the revelation for him, or would write letters from him to be sent to different places. Allah's saying:
إِذاً لاَّرْتَـبَ الْمُبْطِلُونَ
(In that case, indeed, the followers of falsehood might have doubted.) means, `if you had been literate, some ignorant people would have doubted you. They would have said that you learned this from Books inherited from the Prophets which came before.' Indeed, they did say that, even though they knew that he was unlettered and could not read or write.
وَقَالُواْ أَسَـطِيرُ الاٌّوَّلِينَ اكْتَتَبَهَا فَهِىَ تُمْلَى عَلَيْهِ بُكْرَةً وَأَصِيلاً
(And they say: "Tales of the ancients, which he has written down, and they are dictated to him morning and afternoon.") (25:5) Allah says:
قُلْ أَنزَلَهُ الَّذِى يَعْلَمُ السِّرَّ فِى السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ
(Say: "It has been sent down by Him Who knows the secret of the heavens and the earth) (25:6). And Allah says here:
بَلْ هُوَ ءَايَـتٌ بَيِّنَـتٌ فِى صُدُورِ الَّذِينَ أُوتُواْ الْعِلْمَ
(Nay, but it is (Quran), the clear Ayat, (preserved) in the breasts of those who have been given knowledge.) meaning, this Qur'an is clear Ayat which indicate the truth, commands, prohibitions and stories. It is memorized by the scholars for whom Allah makes it easy to memorize, recite and interpret. This is like the Ayah,
وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْءَانَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ
(And We have indeed made the Qur'an easy to understand and remember; then is there any one who will remember) (54:17). The Messenger of Allah ﷺ said:
«مَا مِنْ نَبِيَ إِلَّا وَقَدْ أُعْطِيَ مَا آمَنَ عَلَى مِثْلِهِ الْبَشَرُ، وَإِنَّمَا كَانَ الَّذِي أُوتِيتُهُ وَحْيًا أَوْحَاهُ اللهُ إِلَيَّ، فَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَكْثَرَهُمْ تَابِعًا»
(There has never been any Prophet who was not given that which would make people believe in him. What I have been given is revelation which Allah reveals to me, and I hope that I will have the most followers among them.) According to the Hadith of `Iyad bin Himar, recorded in Sahih Muslim, Allah says:
«إِنِّي مُبْتَلِيكَ وَمُبْتَلٍ بِكَ، وَمُنْزِلٌ عَلَيْكَ كِتَابًا لَا يَغْسِلُهُ الْمَاءُ، تَقْرَؤُهُ نَائِمًا وَيَقْظَانًا»
("I am testing you and testing others through you, revealing to you a Book which cannot be washed away by water, which you recite while you are asleep and while you are awake.") This means, if the manuscript where it is written were to be washed with water, there is no need for that manuscript. This is because it is preserved in the hearts and is easy on the tongue (i.e., is easy to recite), and is controlling people's hearts and minds. It is miraculous in its wording and in its meanings. In the previous Scriptures this Ummah was described as carrying their holy Books in their hearts.
وَمَا يَجْحَدُ بِـَايَـتِنَآ إِلاَّ الظَّـلِمُونَ
(And none but the wrongdoers deny Our Ayat) Nobody denies it or tries to undermine its status or rejects it except the wrongdoers, i.e., the arrogant transgressors who know the truth but turn away from it, as Allah says:
إِنَّ الَّذِينَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَةُ رَبِّكَ لاَ يُؤْمِنُونَ - وَلَوْ جَآءَتْهُمْ كُلُّ ءايَةٍ حَتَّى يَرَوُاْ الْعَذَابَ الاٌّلِيمَ
(Truly, those, against whom the Word (wrath) of your Lord has been justified, will not believe. Even if every sign should come to them, until they see the painful torment.) (10:96-97)
حق تلاوت فرمان ہے کہ جیسے ہم نے اگلے انبیاء پر اپنی کتابیں نازل فرمائی تھیں اسی طرح یہ کتاب یعنی قرآن شریف ہم نے اے ہمارے آخری رسول ﷺ تم پر نازل فرمایا ہے۔ پس اہل کتاب میں سے جن لوگوں نے ہماری کتاب کی قدر کی اور اس کی تلاوت کا حق ادا کیا وہ جہاں اپنی کتابوں پر ایمان لائے اس پاک کتاب کو بھی مانتے ہیں جیسے حضرت عبداللہ بن سلام ؓ ، اور جیسے حضرت سلمان فارسی ؓ وغیرہ۔ اور ان لوگوں یعنی قریش وغیرہ میں سے بھی بعض لوگ اس پر ایمان لاتے ہیں ہاں جو لوگ باطل سے حق کو چھپانے والے اور سورج کی روشنی سے آنکھیں بند کرنے والے ہیں وہ تو اسکے بھی منکر ہیں۔ پھر فرماتا ہے اے نبی ﷺ تم ان میں مدت العمرتک رہ چکے ہو اس قرآن کے نازل ہونے سے پہلے اپنی عمر کا ایک بڑا حصہ ان میں گزار چکے ہو انہیں خوب معلوم ہے کہ آپ پڑھے لکھے نہیں، ساری قوم اور سارا ملک بخوبی علم رکھتا ہے کہ آپ محض امی ہیں نہ لکھناجانتے ہیں نہ پڑھنا۔ پھر آج جو آپ کو انوکھی فصیح وبلیغ اور پر از حکمت کتاب پڑھتے ہیں ظاہر ہے کہ وہ اللہ کی طرف سے ہے۔ آپ اس حالت میں ایک حرف پڑھے ہوئے نہیں خود تصنیف و تالیف کر نہیں سکتے حضور ﷺ کی یہ صفت اگلی کتابوں میں تھی جیسے قرآن ناقل ہے آیت (اَلَّذِيْنَ يَتَّبِعُوْنَ الرَّسُوْلَ النَّبِيَّ الْاُمِّيَّ الَّذِيْ يَجِدُوْنَهٗ مَكْتُوْبًا عِنْدَهُمْ فِي التَّوْرٰىةِ وَالْاِنْجِيْلِ01507) 7۔ الاعراف :157) یعنی جو لوگ پیروی کرتے ہیں اس رسول و نبی امی کی جس کی صفات وہ اپنی کتاب توراۃ اور انجیل میں لکھی ہوئی پاتے ہیں جو انہیں نیکیوں کا حکم کرتا ہے اور برائیوں سے روکتا ہے۔ لطف یہ ہے کہ اللہ کے معصوم نبی ﷺ ہمشہ لکھنے سے دور ہی رکھے گئے۔ ایک سطر کے معنی، ایک حرف بھی لکھنا آپ کو نہ آتا تھا۔ آپ نے کاتب مقرر کرلئے تھے جو وحی اللہ کو لکھ لیتے تھے اور ضروت کے وقت شاہان دنیا سے خط و کتابت بھی وہی کرتے تھے پچھلے فقہاء میں قاضی ابو الولید باجی وغیرہ نے کہا کہ حدیبیہ والے دن خود رسول کریم ﷺ نے اپنے ہاتھ سے یہ جملہ صلح نامے میں لکھا تھا کہ ھذا ماقاضی علیہ محمدا بن عبداللہ یعنی یہ وہ شرائط ہیں جن پر محمد بن عبداللہ ﷺ نے فیصلہ کیا۔ لیکن یہ قول درست نہیں یہ وہم قاضی صاحب کو بخاری شریف کی اس روایت سے ہوا ہے جس میں یہ الفاظ ہیں کہ ثم اخذ فکتب یعنی پھر حضور ﷺ نے آپ لیکر لکھا۔ لیکن اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے لکھنے کا حکم دیا۔ جیسے دوسری روایت میں صاف موجود ہے کہ ثم امر فکتب یعنی آپ نے پھر حکم دیا اور لکھا گیا۔ مشرق ومغرب کے تمام علماء کا یہی مذہب ہے بلکہ باجی وغیرہ پر انہوں نے اس قول کا بہت سخت رد کیا ہے اور اس سے بیزاری ظاہر کی ہے۔ اور اس قول کی تردید اپنے اشعار اور خطبوں میں بھی کی ہے۔ لیکن یہ بھی خیال رہے کہ قاضی صاحب وغیرہ کا یہ خیال ہرگز نہیں کہ آپ اچھی طرح لکھنا جانتے تھے بلکہ وہ یہ کہتے تھے کہ آپ کا یہ جملہ صلح نامے پر لکھا جانا معجزہ تھا۔ جیسا کہ حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ دجال کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہوا ہوگا اور ایک روایت میں ہے کہ کر لکھا ہوا ہوگا جسے ہر مومن پڑھ لے گا اگرچہ ان پڑھ ہو تب بھی اسے پڑھ لے گا۔ یہ مومن کی ایک کرامت ہوگی اسی طرح یہ فقرہ لکھ لینا اللہ کے نبی ﷺ کا ایک معجزہ تھا اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ آپ لکھنا جانتے تھے۔ یا آپ نے سیکھا تھا۔ بعض لوگ ایک روایت پیش کرتے ہیں جس میں ہے کہ آنحضور ﷺ کا انتقال نہ ہوا جب تک کہ آپ نے لکھنا نہ سیکھ لیا۔ یہ روایت بالکل ضعیف ہے بلکہ محض بےاصل ہے قرآن کریم کی اس آیت کو دیکھئے کس قدر تاکید کے ساتھ آنحضرت ﷺ کے پڑھا ہونے کا انکار کرتی ہے اور کتنی سختی کے ساتھ پرزور الفاظ میں اس کا بھی انکار کرتی ہے کہ آپ لکھناجانتے ہوں۔ یہ جو فرمایا کہ داہنے ہاتھ سے یہ باعتبار غالب کے کہہ دیا ہے ورنہ لکھا تو دائیں ہاتھ سے ہی جاتا ہے اسی کی طرح آیت (وَلَا طٰۗىِٕرٍ يَّطِيْرُ بِجَنَاحَيْهِ اِلَّآ اُمَمٌ اَمْثَالُكُمْ 38) 6۔ الانعام :38) میں ہے کیونکہ ہر پرند اپنے پروں سے ہی اڑتا ہے۔ پس حضور ﷺ کا ان پڑھ ہونا بیان فرما کر ارشاد ہوتا ہے کہ اگر آپ پڑھے لکھے ہوتے تو یہ باطل پرست آپ کی نسبت شکر کرنے کی گنجائش پاتے کہ سابقہ انبیاء کی کتابوں سے پڑھ لکھ کر نقل کرلیتا ہے لیکن یہاں تو ایسا نہیں۔ تعجب ہے کہ باوجود ایسانہ ہونے کے پھر بھی یہ لوگ ہمارے رسول ﷺ پر یہ الزام لگاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ گزرے ہوئے لوگوں کی کہانیاں ہیں جنہیں اس نے لکھ لیا ہے۔ وہی اس کے سامنے صبح شام پڑھی جاتی ہیں۔ باوجودیکہ خود جانتے ہیں کہ ہمارے رسول ﷺ پڑھے لکھے نہیں۔ ان کے اس قول کے جواب میں جناب باری عز اسمہ نے فرمایا انہیں جواب دو کہ اسے اس اللہ نے نازل فرمایا ہے جو زمین و آسمان کی پوشیدگیوں کو جانتا ہے۔ یہاں فرمایا بلکہ یہ روشن آیتیں ہیں جو اہل علم کے سینوں میں ہیں۔ خود آیات واضح صاف اور سلجھے ہوئے الفاظ میں ہیں۔ پھر علماء پر ان کا سمجھنا یاد کرنا پہنچانا سب آسان ہے جیسے فرمان ہے آیت (وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ للذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ 17) 54۔ القمر :17) یعنی ہم نے اس قرآن کو نصیحت کے لئے بالکل آسان کردیا ہے پس کیا کوئی ہے جو اس سے نصیحت حاصل کرے۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں ہر نبی کو ایسی چیز دی گئی جس کے باعث لوگ ان پر ایمان لائے مجھے ایسی چیز وحی اللہ دی گئی ہے جو اللہ نے میری طرف نازل فرمائی ہے تو مجھے ذات اللہ سے امید ہے کہ تمام نبیوں کے تابعداروں سے زیادہ میرے تابعدار ہونگے۔ صحیح مسلم کی حدیث میں ہے کہ اے نبی ! میں تمہیں آزماؤنگا اور تمہاری وجہ سے لوگوں کی بھی آزمائش کرلونگا۔ میں تم پر ایسی کتاب نازل فرماؤنگا جسے پانی دھو نہ سکے۔ تو اسے سوتے جاگتے پڑھتا رہے گا۔ مطلب یہ ہے کہ اس کے حروف پانی سے دھوئے جائیں لیکن وہ ضائع ہونے سے محفوظ ہے۔ جیسے کہ حدیث میں ہے اگر قرآن کسی چمڑے میں ہو تو اسے آگ نہیں جلائے گی۔ اس لئے کہ وہ سینوں میں محفوظ ہے، زبانوں پر آسان ہے اور دلوں میں موجود ہے۔ اور اپنے لفظ اور معنی کے اعتبار سے ایک جیتا جاگتا معجزہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سابقہ کتابوں میں اس امت کی ایک صفت یہ بھی مروی ہے کہ اناجیلھم فی صدورھم ان کی کتاب ان کے سینوں میں ہوگی۔ امام ابن جریر اسے پسند فرماتے ہیں کہ معنی یہ ہیں بلکہ اس کا علم کہ تو اس کتاب سے پہلے کوئی کتاب نہیں پڑھتا تھا اور نہ اپنے ہاتھ سے کچھ لکھتا تھا یہ آیات بینات اہل کتاب کے ذی علم لوگوں کے سینوں میں موجود ہیں۔ قتادۃ اور ابن جریج سے بھی یہی منقول ہے اور پہلا قول حسن بصری کا ہے اور یہی بہ روایت عوفی، ابن عباس سے منقول ہے اور یہ ضحاک نے کہا ہے اور یہی زیادہ ظاہر ہے واللہ اعلم۔ پھر فرماتا ہے کہ ہماری آیتوں کا جھٹلانا قبول نہ کرنا یہ حد سے گذرجانے والوں اور ضدی لوگوں کا ہی کام ہے جو حق ناحق کو سمجھتے ہیں اور نہ اس کی طرف مائل ہوتے ہیں جیسے فرمان ہے جن پر تیرے رب کی بات ثابت ہوچکی ہے وہ ہرگز ایمان نہ لائیں گے اگرچہ ان کے پاس نشانیاں آجائیں۔ یہاں تک کہ وہ المناک عذاب کا مشاہدہ کرلیں۔
50
View Single
وَقَالُواْ لَوۡلَآ أُنزِلَ عَلَيۡهِ ءَايَٰتٞ مِّن رَّبِّهِۦۚ قُلۡ إِنَّمَا ٱلۡأٓيَٰتُ عِندَ ٱللَّهِ وَإِنَّمَآ أَنَا۠ نَذِيرٞ مُّبِينٌ
And they said, “Why did not signs come down to him from his Lord?” Say, “Signs are only with Allah; and I am purely a Herald of plain warning.”
اور کفّار کہتے ہیں کہ اِن پر (یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر) ان کے رب کی طرف سے نشانیاں کیوں نہیں اتاری گئیں، آپ فرما دیجئے کہ نشانیاں تو اللہ ہی کے پاس ہیں اور میں تو محض صریح ڈر سنانے والا ہوں
Tafsir Ibn Kathir
The Idolators' demand for Signs, and the Response
Allah tells us how the idolators stubbornly demanded signs, meaning that they wanted signs to show them that Muhammad was indeed the Messenger of Allah ﷺ, just as Salih was given the sign of the she-camel. Allah says:
قُلْ
(Say) -- `O Muhammad' --
إِنَّمَا الاٌّيَـتُ عِندَ اللَّهِ
(The signs are only with Allah) meaning, `the matter rests with Allah, and if He knew that you would be guided, He would respond to your request, because it is very easy for Him to do that. Yet He knows that you are merely being stubborn and putting me to the test, so He will not respond to you.' This is like the Ayah,
وَمَا مَنَعَنَآ أَن نُّرْسِلَ بِالاٌّيَـتِ إِلاَّ أَن كَذَّبَ بِهَا الاٌّوَّلُونَ وَءَاتَيْنَا ثَمُودَ النَّاقَةَ مُبْصِرَةً فَظَلَمُواْ بِهَا
(And nothing stops Us from sending the Ayat but that the people of old denied them. And We sent the she-camel to Thamud as a clear sign, but they did her wrong) (17:59).
وَإِنَّمَآ أَنَاْ نَذِيرٌ مُّبِينٌ
(and I am only a plain warner) means, `I have been sent to you only as a warner to bring a clear warning; all I have to do is convey the Message of Allah to you. '
مَن يَهْدِ اللَّهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِ وَمَن يُضْلِلْ فَلَن تَجِدَ لَهُ وَلِيًّا مُّرْشِدًا
(He whom Allah guides, he is the rightly-guided; but he whom He sends astray, for him you will find no guide to lead him.) (18:17)
لَّيْسَ عَلَيْكَ هُدَاهُمْ وَلَـكِنَّ اللَّهَ يَهْدِى مَن يَشَآءُ
(Not upon you is their guidance, but Allah guides whom He wills) (2:272). Then Allah shows us how ignorant and foolish they were when they demanded a sign to prove to them that what Muhammad ﷺ had brought to them was true. He brought them a great Book which falsehood cannot reach, neither from before it or behind it, it was greater than all other miracles, for the most eloquent of men could not match it or produce ten Surahs, or even one Surah like it.
أَوَلَمْ يَكْفِهِمْ أَنَّآ أَنزَلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَـبَ يُتْلَى عَلَيْهِمْ
(Is it not sufficient for them that We have sent down to you the Book which is recited to them) means, `is it not sufficient as a sign for them that We have sent down to you this great Book which tells them about what happened before their time, what will happen after they are gone, and passes judgement between them. Even though you are an unlettered man who can neither read nor write, and you have not mixed with any of the People of the Book. Yet you brought them news of what was said in the first Scriptures showing what is right in the matters that they dispute over, and bringing clear and obvious truth. ' As Allah says:
أَوَلَمْيَكُن لَّهُمْ ءَايَةً أَن يَعْلَمَهُ عُلَمَاءُ بَنِى إِسْرَءِيلَ
(Is it not a sign to them that the learned scholars of the Children of Israel knew it (to be true)) (26:197)
وَقَالُواْ لَوْلاَ يَأْتِينَا بِـَايَةٍ مِّن رَّبِّهِ أَوَلَمْ تَأْتِهِمْ بَيِّنَةُ مَا فِى الصُّحُفِ الاٍّولَى
(They say: "Why does he not bring us a sign from his Lord" Has there not come to them the proof of that which is in the former Scriptures) (20:133) Imam Ahmad recorded that Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, said, "The Messenger of Allah ﷺ said:
«مَا مِنَ الْأَنْبِيَاءِ مِنْ نَبِيَ إِلَّا قَدْ أُعْطِيَ مِنَ الْآيَاتِ مَا مِثْلُهُ آمَنَ عَلَيْهِ الْبَشَرُ، وَإِنَّمَا كَانَ الَّذِي أُوتِيتُهُ وَحْيًا أَوْحَاهُ اللهُ إِلَيَّ، فَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَكْثَرَهُمْ تَابِعًا يَوْمَ الْقِيَامَة»
(There is no Prophet who was not given some miracles that would make the people believe in him. What I have been given is revelation which Allah reveals to me, and I hope that I will have the greatest number of followers on the Day of Resurrection.)" It was also recorded by Al-Bukhari and Muslim. Indeed Allah has said:
إِنَّ فِى ذلِكَ لَرَحْمَةً وَذِكْرَى لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ
(Verily, herein is mercy and a reminder for a people who believe.) In this Qur'an there is mercy, that is, explanation of the truth and removal of falsehood, and a reminder to the believers of the punishment that is to come to the disbelievers and sinners. Then Allah says:
قُلْ كَفَى بِاللَّهِ بَيْنِى وَبَيْنَكُمْ شَهِيداً
(Say: "Sufficient is Allah for a witness between me and you...") `He knows best the words of denial that you utter, and he knows what I am telling you about Him and that He has sent me. If I were telling lies about Him, He would have executed His vengeance upon me,' as Allah says elsewhere:
وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الاٌّقَاوِيلِ - لأَخَذْنَا مِنْهُ بِالْيَمِينِ - ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِينَ - فَمَا مِنكُم مِّنْ أَحَدٍ عَنْهُ حَـجِزِينَ
g(And if he had forged a false saying concerning Us, We surely would have seized him by his right hand, and then We certainly would have cut off his aorta, and none of you could have withheld Us from (punishing) him.) (69:44-47). `But I am telling the truth in what I say to you about Him, so He has supported me with clear miracles and definitive evidence.'
يَعْلَمُ مَا فِى السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ
(He knows what is in the heavens and the earth.) means, nothing is hidden from Him at all.
وَالَّذِينَ ءامَنُواْ بِالْبَـطِلِ وَكَفَرُواْ بِاللَّهِ أُوْلَـئِكَ هُمُ الْخَـسِرُونَ
(And those who believe in falsehood, and disbelieve in Allah, it is they who are the losers.) means, on the Day of Resurrection, they will be punished for what they did, and will get what they justly deserve for rejecting the truth and following falsehood, for disbelieving in the Messengers of Allah ﷺ even when there was proof that they were telling the truth, and for worshipping false gods with no evidence. Allah will punish them for all that, for He is All-Wise and All-Knowing.
محاسن کلام کا بےمثال جمال قرآن حکیم کافروں کی ضد، تکبر اور ہٹ دھرمی بیان ہو رہی ہے کہ انہوں نے اللہ کے رسول ﷺ سے ایسی ہی نشانی طلب کی جیسی کہ حضرت صالح سے ان کی قوم نے مانگی تھی۔ پھر اپنے نبی کو حکم دیتا ہے انہیں جواب دیجئے کہ آیتیں معجزے اور نشانات دکھانا میرے بس کی بات نہیں۔ یہ اللہ کے ہاتھ ہے۔ اگر اس نے تمہاری نیک نیتیں معلوم کرلیں تو وہ معجزہ دکھائے گا اور اگر تم اپنی ضد اور انکار سے بڑھ بڑھ کر باتیں ہی بنا رہے ہو تو وہ اللہ تم سے دبا ہوا نہیں کہ اس کی چاہت تمہاری چاہت کے تابع ہوجائے تم جو مانگو وہ کر ہی دکھائے گا۔ جیسے ایک اور روایت میں ہے کہ آیتیں بھیجنے سے ہمیں کوئی مانع نہیں سوائے اس کے کہ گذشتہ لوگ بھی برابر انکار ہی کرتے رہے۔ قوم ثمود کو دیکھو ہماری نشانی اونٹنی جو ان کے پاس آئی انہوں نے اس پر ظلم کیا۔ کہہ دو کہ میں تو صرف ایک مبلغ ہوں پیغمبر ہوں قاصد ہوں میرا کام تمہارے کانوں تک آواز اللہ کو پہنچا دینا ہے میں نے تو تمہیں تمہارا برا بھلا سمجھا دیا نیک بد سمجھا دیا اب تم جانو تمہارا کام جانے۔ ہدایت ضلالت اللہ کی طرف سے ہے وہ اگر کسی کو گمراہ کردے تو اس کی رہبری کوئی نہیں کرسکتا۔ چناچہ ایک اور جگہ ہے تجھ پر ان کی ہدایت کا ذمہ نہیں یہ اللہ کا کام ہے اور اس کی چاہت پر موقوف ہے۔ بھلا اس فضول گوئی کو تو دیکھو کہ کتاب عزیز ان کے پاس آچکی جس کے پاس کسی طرف سے باطل پھٹک نہیں سکتا اور انہیں اب تک نشانی کی طلب ہے۔ حالانکہ یہ تو تمام معجزات سے بڑھ کر معجزہ ہے۔ تمام دنیا کے فصیح وبلیغ اس کے معارضہ سے اور اس جیسا کلام پیش کرنے سے عاجز آگئے۔ پورے قرآن کا تو معارضہ کیا کرتے ؟ دس سورتوں کا بلکہ ایک سورت کا معارضہ بھی چیلنج کے باوجود نہ کرسکے۔ تو کیا اتنا بڑا اور اتنا بھاری معجزہ انہیں کافی نہیں ؟ جو اور معجزے طلب کرنے بیٹھے ہیں۔ یہ تو وہ پاک کتاب ہے جس میں گذشتہ باتوں کی خبر ہے اور ہونے والی باتوں کی پیش گوئی ہے اور جھگڑوں کا فیصلہ ہے اور یہ اس کی زبان سے پڑھی جاتی ہے جو محض امی ہے جس نے کسی سے الف با بھی نہیں پڑھا جو ایک حرف لکھنا نہیں جانتا بلکہ اہل علم کی صحبت میں بھی کبھی نہیں بیٹھا۔ اور وہ کتاب پڑھتا ہے جس سے گزشتہ کتابوں کی بھی صحت وعدم صحت معلوم ہوتی ہے جس کے الفاظ میں حلاوت جس کی نظم میں ملاحت جس کے انداز میں فصاحت جس کے بیان میں بلاغت جس کا طرز دلربا جس کا سیاق دلچسپ جس میں دنیا بھر کی خوبیاں موجود۔ خود بنی اسرائیل کے علماء بھی اس کی تصدیق پر مجبور۔ اگلی کتابیں جس پر شاہد۔ بھلے لوگ جس کے مداح اور قائل وعامل۔ اس اتنے بڑے معجزے کی موجودگی میں کسی اور معجزہ کی طلب محض بدنیتی اور گریز ہے۔ پھر فرماتا ہے اس میں ایمان والوں کے لئے رحمت و نصیحت ہے۔ یہ قرآن حق کا ظاہر کرنے والا باطل کو برباد کرنے والا ہے۔ گزشتہ لوگوں کے واقعات تمہارے سامنے رکھ کر تمہیں نصیحت وعبرت کا موقعہ دیتا ہے گنہگاروں کا انجام دکھاکر تمہیں گناہوں سے روکتا ہے۔ کہہ دو کہ میرے اور تمہارے درمیان اللہ گواہ ہے اور اس کی گواہی کافی ہے۔ وہ تمہاری تکذیب و سرکشی کو اور میری سچائی وخیر خواہی کو بخوبی جانتا ہے۔ اگر میں اس پر جھوٹ باندھتا تو وہ ضرور مجھ سے انتقام لیتا وہ ایسے لوگوں کو بغیر انتقام نہیں چھوڑتا۔ جیسے خود اس کا فرمان ہے کہ اگر یہ رسول مجھ پر ایک بات بھی گھڑ لیتا تو میں اس کا داہنا ہاتھ پکڑ کر اس کی رگ جاں کاٹ دیتا اور کوئی نہ ہوتا جو اسے میرے ہاتھ سے چھڑاسکے۔ چونکہ اس پر میری سچائی روشن ہے اور میں اسی کا بھیجا ہوا ہوں اور اس کا نام لے کر اس کی کہی ہوئی تم سے کہتا ہوں اس لئے وہ میری تائید کرتا ہے اور مجھے روز بروز غلبہ دیتا جاتا ہے اور مجھ سے معجزات پر معجزات ظاہر کراتا ہے۔ وہ زمین و آسمان کے غیب کا جاننے والا ہے اس پر ایک ذرہ بھی پوشیدہ نہیں باطل کا ماننے والے اور اللہ کو نہ ماننے والے ہی نقصان یافتہ اور ذلیل ہیں قیامت کے دن انہیں ان کی بد اعمالی کا نتیجہ بھگتنا پڑھے گا اور جو سرکشیاں دنیا میں کی ہیں سب کا مزہ چکھنا پڑے گا۔ بھلا اللہ کو نہ ماننا اور بتوں کو ماننا اس سے بڑھ کر اور ظلم کیا ہوگا ؟ وہ علیم وحکیم اللہ اس کا بدلہ دیئے بغیر ہرگز نہیں رہے گا۔
51
View Single
أَوَلَمۡ يَكۡفِهِمۡ أَنَّآ أَنزَلۡنَا عَلَيۡكَ ٱلۡكِتَٰبَ يُتۡلَىٰ عَلَيۡهِمۡۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَرَحۡمَةٗ وَذِكۡرَىٰ لِقَوۡمٖ يُؤۡمِنُونَ
Is it not enough for them that We have sent down the Book upon you, which is read to them? Indeed in it are mercy and advice for the Muslims.
کیا ان کے لئے یہ (نشانی) کافی نہیں ہے کہ ہم نے آپ پر (وہ) کتاب نازل فرمائی ہے جو ان پر پڑھی جاتی ہے (یا ہمیشہ پڑھی جاتی رہے گی)، بیشک اس (کتاب) میں رحمت اور نصیحت ہے ان لوگوں کے لئے جو ایمان رکھتے ہیں
Tafsir Ibn Kathir
The Idolators' demand for Signs, and the Response
Allah tells us how the idolators stubbornly demanded signs, meaning that they wanted signs to show them that Muhammad was indeed the Messenger of Allah ﷺ, just as Salih was given the sign of the she-camel. Allah says:
قُلْ
(Say) -- `O Muhammad' --
إِنَّمَا الاٌّيَـتُ عِندَ اللَّهِ
(The signs are only with Allah) meaning, `the matter rests with Allah, and if He knew that you would be guided, He would respond to your request, because it is very easy for Him to do that. Yet He knows that you are merely being stubborn and putting me to the test, so He will not respond to you.' This is like the Ayah,
وَمَا مَنَعَنَآ أَن نُّرْسِلَ بِالاٌّيَـتِ إِلاَّ أَن كَذَّبَ بِهَا الاٌّوَّلُونَ وَءَاتَيْنَا ثَمُودَ النَّاقَةَ مُبْصِرَةً فَظَلَمُواْ بِهَا
(And nothing stops Us from sending the Ayat but that the people of old denied them. And We sent the she-camel to Thamud as a clear sign, but they did her wrong) (17:59).
وَإِنَّمَآ أَنَاْ نَذِيرٌ مُّبِينٌ
(and I am only a plain warner) means, `I have been sent to you only as a warner to bring a clear warning; all I have to do is convey the Message of Allah to you. '
مَن يَهْدِ اللَّهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِ وَمَن يُضْلِلْ فَلَن تَجِدَ لَهُ وَلِيًّا مُّرْشِدًا
(He whom Allah guides, he is the rightly-guided; but he whom He sends astray, for him you will find no guide to lead him.) (18:17)
لَّيْسَ عَلَيْكَ هُدَاهُمْ وَلَـكِنَّ اللَّهَ يَهْدِى مَن يَشَآءُ
(Not upon you is their guidance, but Allah guides whom He wills) (2:272). Then Allah shows us how ignorant and foolish they were when they demanded a sign to prove to them that what Muhammad ﷺ had brought to them was true. He brought them a great Book which falsehood cannot reach, neither from before it or behind it, it was greater than all other miracles, for the most eloquent of men could not match it or produce ten Surahs, or even one Surah like it.
أَوَلَمْ يَكْفِهِمْ أَنَّآ أَنزَلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَـبَ يُتْلَى عَلَيْهِمْ
(Is it not sufficient for them that We have sent down to you the Book which is recited to them) means, `is it not sufficient as a sign for them that We have sent down to you this great Book which tells them about what happened before their time, what will happen after they are gone, and passes judgement between them. Even though you are an unlettered man who can neither read nor write, and you have not mixed with any of the People of the Book. Yet you brought them news of what was said in the first Scriptures showing what is right in the matters that they dispute over, and bringing clear and obvious truth. ' As Allah says:
أَوَلَمْيَكُن لَّهُمْ ءَايَةً أَن يَعْلَمَهُ عُلَمَاءُ بَنِى إِسْرَءِيلَ
(Is it not a sign to them that the learned scholars of the Children of Israel knew it (to be true)) (26:197)
وَقَالُواْ لَوْلاَ يَأْتِينَا بِـَايَةٍ مِّن رَّبِّهِ أَوَلَمْ تَأْتِهِمْ بَيِّنَةُ مَا فِى الصُّحُفِ الاٍّولَى
(They say: "Why does he not bring us a sign from his Lord" Has there not come to them the proof of that which is in the former Scriptures) (20:133) Imam Ahmad recorded that Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, said, "The Messenger of Allah ﷺ said:
«مَا مِنَ الْأَنْبِيَاءِ مِنْ نَبِيَ إِلَّا قَدْ أُعْطِيَ مِنَ الْآيَاتِ مَا مِثْلُهُ آمَنَ عَلَيْهِ الْبَشَرُ، وَإِنَّمَا كَانَ الَّذِي أُوتِيتُهُ وَحْيًا أَوْحَاهُ اللهُ إِلَيَّ، فَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَكْثَرَهُمْ تَابِعًا يَوْمَ الْقِيَامَة»
(There is no Prophet who was not given some miracles that would make the people believe in him. What I have been given is revelation which Allah reveals to me, and I hope that I will have the greatest number of followers on the Day of Resurrection.)" It was also recorded by Al-Bukhari and Muslim. Indeed Allah has said:
إِنَّ فِى ذلِكَ لَرَحْمَةً وَذِكْرَى لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ
(Verily, herein is mercy and a reminder for a people who believe.) In this Qur'an there is mercy, that is, explanation of the truth and removal of falsehood, and a reminder to the believers of the punishment that is to come to the disbelievers and sinners. Then Allah says:
قُلْ كَفَى بِاللَّهِ بَيْنِى وَبَيْنَكُمْ شَهِيداً
(Say: "Sufficient is Allah for a witness between me and you...") `He knows best the words of denial that you utter, and he knows what I am telling you about Him and that He has sent me. If I were telling lies about Him, He would have executed His vengeance upon me,' as Allah says elsewhere:
وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الاٌّقَاوِيلِ - لأَخَذْنَا مِنْهُ بِالْيَمِينِ - ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِينَ - فَمَا مِنكُم مِّنْ أَحَدٍ عَنْهُ حَـجِزِينَ
g(And if he had forged a false saying concerning Us, We surely would have seized him by his right hand, and then We certainly would have cut off his aorta, and none of you could have withheld Us from (punishing) him.) (69:44-47). `But I am telling the truth in what I say to you about Him, so He has supported me with clear miracles and definitive evidence.'
يَعْلَمُ مَا فِى السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ
(He knows what is in the heavens and the earth.) means, nothing is hidden from Him at all.
وَالَّذِينَ ءامَنُواْ بِالْبَـطِلِ وَكَفَرُواْ بِاللَّهِ أُوْلَـئِكَ هُمُ الْخَـسِرُونَ
(And those who believe in falsehood, and disbelieve in Allah, it is they who are the losers.) means, on the Day of Resurrection, they will be punished for what they did, and will get what they justly deserve for rejecting the truth and following falsehood, for disbelieving in the Messengers of Allah ﷺ even when there was proof that they were telling the truth, and for worshipping false gods with no evidence. Allah will punish them for all that, for He is All-Wise and All-Knowing.
محاسن کلام کا بےمثال جمال قرآن حکیم کافروں کی ضد، تکبر اور ہٹ دھرمی بیان ہو رہی ہے کہ انہوں نے اللہ کے رسول ﷺ سے ایسی ہی نشانی طلب کی جیسی کہ حضرت صالح سے ان کی قوم نے مانگی تھی۔ پھر اپنے نبی کو حکم دیتا ہے انہیں جواب دیجئے کہ آیتیں معجزے اور نشانات دکھانا میرے بس کی بات نہیں۔ یہ اللہ کے ہاتھ ہے۔ اگر اس نے تمہاری نیک نیتیں معلوم کرلیں تو وہ معجزہ دکھائے گا اور اگر تم اپنی ضد اور انکار سے بڑھ بڑھ کر باتیں ہی بنا رہے ہو تو وہ اللہ تم سے دبا ہوا نہیں کہ اس کی چاہت تمہاری چاہت کے تابع ہوجائے تم جو مانگو وہ کر ہی دکھائے گا۔ جیسے ایک اور روایت میں ہے کہ آیتیں بھیجنے سے ہمیں کوئی مانع نہیں سوائے اس کے کہ گذشتہ لوگ بھی برابر انکار ہی کرتے رہے۔ قوم ثمود کو دیکھو ہماری نشانی اونٹنی جو ان کے پاس آئی انہوں نے اس پر ظلم کیا۔ کہہ دو کہ میں تو صرف ایک مبلغ ہوں پیغمبر ہوں قاصد ہوں میرا کام تمہارے کانوں تک آواز اللہ کو پہنچا دینا ہے میں نے تو تمہیں تمہارا برا بھلا سمجھا دیا نیک بد سمجھا دیا اب تم جانو تمہارا کام جانے۔ ہدایت ضلالت اللہ کی طرف سے ہے وہ اگر کسی کو گمراہ کردے تو اس کی رہبری کوئی نہیں کرسکتا۔ چناچہ ایک اور جگہ ہے تجھ پر ان کی ہدایت کا ذمہ نہیں یہ اللہ کا کام ہے اور اس کی چاہت پر موقوف ہے۔ بھلا اس فضول گوئی کو تو دیکھو کہ کتاب عزیز ان کے پاس آچکی جس کے پاس کسی طرف سے باطل پھٹک نہیں سکتا اور انہیں اب تک نشانی کی طلب ہے۔ حالانکہ یہ تو تمام معجزات سے بڑھ کر معجزہ ہے۔ تمام دنیا کے فصیح وبلیغ اس کے معارضہ سے اور اس جیسا کلام پیش کرنے سے عاجز آگئے۔ پورے قرآن کا تو معارضہ کیا کرتے ؟ دس سورتوں کا بلکہ ایک سورت کا معارضہ بھی چیلنج کے باوجود نہ کرسکے۔ تو کیا اتنا بڑا اور اتنا بھاری معجزہ انہیں کافی نہیں ؟ جو اور معجزے طلب کرنے بیٹھے ہیں۔ یہ تو وہ پاک کتاب ہے جس میں گذشتہ باتوں کی خبر ہے اور ہونے والی باتوں کی پیش گوئی ہے اور جھگڑوں کا فیصلہ ہے اور یہ اس کی زبان سے پڑھی جاتی ہے جو محض امی ہے جس نے کسی سے الف با بھی نہیں پڑھا جو ایک حرف لکھنا نہیں جانتا بلکہ اہل علم کی صحبت میں بھی کبھی نہیں بیٹھا۔ اور وہ کتاب پڑھتا ہے جس سے گزشتہ کتابوں کی بھی صحت وعدم صحت معلوم ہوتی ہے جس کے الفاظ میں حلاوت جس کی نظم میں ملاحت جس کے انداز میں فصاحت جس کے بیان میں بلاغت جس کا طرز دلربا جس کا سیاق دلچسپ جس میں دنیا بھر کی خوبیاں موجود۔ خود بنی اسرائیل کے علماء بھی اس کی تصدیق پر مجبور۔ اگلی کتابیں جس پر شاہد۔ بھلے لوگ جس کے مداح اور قائل وعامل۔ اس اتنے بڑے معجزے کی موجودگی میں کسی اور معجزہ کی طلب محض بدنیتی اور گریز ہے۔ پھر فرماتا ہے اس میں ایمان والوں کے لئے رحمت و نصیحت ہے۔ یہ قرآن حق کا ظاہر کرنے والا باطل کو برباد کرنے والا ہے۔ گزشتہ لوگوں کے واقعات تمہارے سامنے رکھ کر تمہیں نصیحت وعبرت کا موقعہ دیتا ہے گنہگاروں کا انجام دکھاکر تمہیں گناہوں سے روکتا ہے۔ کہہ دو کہ میرے اور تمہارے درمیان اللہ گواہ ہے اور اس کی گواہی کافی ہے۔ وہ تمہاری تکذیب و سرکشی کو اور میری سچائی وخیر خواہی کو بخوبی جانتا ہے۔ اگر میں اس پر جھوٹ باندھتا تو وہ ضرور مجھ سے انتقام لیتا وہ ایسے لوگوں کو بغیر انتقام نہیں چھوڑتا۔ جیسے خود اس کا فرمان ہے کہ اگر یہ رسول مجھ پر ایک بات بھی گھڑ لیتا تو میں اس کا داہنا ہاتھ پکڑ کر اس کی رگ جاں کاٹ دیتا اور کوئی نہ ہوتا جو اسے میرے ہاتھ سے چھڑاسکے۔ چونکہ اس پر میری سچائی روشن ہے اور میں اسی کا بھیجا ہوا ہوں اور اس کا نام لے کر اس کی کہی ہوئی تم سے کہتا ہوں اس لئے وہ میری تائید کرتا ہے اور مجھے روز بروز غلبہ دیتا جاتا ہے اور مجھ سے معجزات پر معجزات ظاہر کراتا ہے۔ وہ زمین و آسمان کے غیب کا جاننے والا ہے اس پر ایک ذرہ بھی پوشیدہ نہیں باطل کا ماننے والے اور اللہ کو نہ ماننے والے ہی نقصان یافتہ اور ذلیل ہیں قیامت کے دن انہیں ان کی بد اعمالی کا نتیجہ بھگتنا پڑھے گا اور جو سرکشیاں دنیا میں کی ہیں سب کا مزہ چکھنا پڑے گا۔ بھلا اللہ کو نہ ماننا اور بتوں کو ماننا اس سے بڑھ کر اور ظلم کیا ہوگا ؟ وہ علیم وحکیم اللہ اس کا بدلہ دیئے بغیر ہرگز نہیں رہے گا۔
52
View Single
قُلۡ كَفَىٰ بِٱللَّهِ بَيۡنِي وَبَيۡنَكُمۡ شَهِيدٗاۖ يَعۡلَمُ مَا فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۗ وَٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ بِٱلۡبَٰطِلِ وَكَفَرُواْ بِٱللَّهِ أُوْلَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡخَٰسِرُونَ
Proclaim (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), “Allah is Sufficient as a Witness between me and you; He knows all what is in the heavens and in the earth; and those who accepted faith in falsehood and denied faith in Allah – it is they who are the losers.”
آپ فرما دیجئے: میرے اور تمہارے درمیان اللہ ہی گواہ کافی ہے۔ وہ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے (سب کا حال) جانتا ہے، اور جو لوگ باطل پر ایمان لائے اور اللہ کا انکار کیا وہی نقصان اٹھانے والے ہیں
Tafsir Ibn Kathir
The Idolators' demand for Signs, and the Response
Allah tells us how the idolators stubbornly demanded signs, meaning that they wanted signs to show them that Muhammad was indeed the Messenger of Allah ﷺ, just as Salih was given the sign of the she-camel. Allah says:
قُلْ
(Say) -- `O Muhammad' --
إِنَّمَا الاٌّيَـتُ عِندَ اللَّهِ
(The signs are only with Allah) meaning, `the matter rests with Allah, and if He knew that you would be guided, He would respond to your request, because it is very easy for Him to do that. Yet He knows that you are merely being stubborn and putting me to the test, so He will not respond to you.' This is like the Ayah,
وَمَا مَنَعَنَآ أَن نُّرْسِلَ بِالاٌّيَـتِ إِلاَّ أَن كَذَّبَ بِهَا الاٌّوَّلُونَ وَءَاتَيْنَا ثَمُودَ النَّاقَةَ مُبْصِرَةً فَظَلَمُواْ بِهَا
(And nothing stops Us from sending the Ayat but that the people of old denied them. And We sent the she-camel to Thamud as a clear sign, but they did her wrong) (17:59).
وَإِنَّمَآ أَنَاْ نَذِيرٌ مُّبِينٌ
(and I am only a plain warner) means, `I have been sent to you only as a warner to bring a clear warning; all I have to do is convey the Message of Allah to you. '
مَن يَهْدِ اللَّهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِ وَمَن يُضْلِلْ فَلَن تَجِدَ لَهُ وَلِيًّا مُّرْشِدًا
(He whom Allah guides, he is the rightly-guided; but he whom He sends astray, for him you will find no guide to lead him.) (18:17)
لَّيْسَ عَلَيْكَ هُدَاهُمْ وَلَـكِنَّ اللَّهَ يَهْدِى مَن يَشَآءُ
(Not upon you is their guidance, but Allah guides whom He wills) (2:272). Then Allah shows us how ignorant and foolish they were when they demanded a sign to prove to them that what Muhammad ﷺ had brought to them was true. He brought them a great Book which falsehood cannot reach, neither from before it or behind it, it was greater than all other miracles, for the most eloquent of men could not match it or produce ten Surahs, or even one Surah like it.
أَوَلَمْ يَكْفِهِمْ أَنَّآ أَنزَلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَـبَ يُتْلَى عَلَيْهِمْ
(Is it not sufficient for them that We have sent down to you the Book which is recited to them) means, `is it not sufficient as a sign for them that We have sent down to you this great Book which tells them about what happened before their time, what will happen after they are gone, and passes judgement between them. Even though you are an unlettered man who can neither read nor write, and you have not mixed with any of the People of the Book. Yet you brought them news of what was said in the first Scriptures showing what is right in the matters that they dispute over, and bringing clear and obvious truth. ' As Allah says:
أَوَلَمْيَكُن لَّهُمْ ءَايَةً أَن يَعْلَمَهُ عُلَمَاءُ بَنِى إِسْرَءِيلَ
(Is it not a sign to them that the learned scholars of the Children of Israel knew it (to be true)) (26:197)
وَقَالُواْ لَوْلاَ يَأْتِينَا بِـَايَةٍ مِّن رَّبِّهِ أَوَلَمْ تَأْتِهِمْ بَيِّنَةُ مَا فِى الصُّحُفِ الاٍّولَى
(They say: "Why does he not bring us a sign from his Lord" Has there not come to them the proof of that which is in the former Scriptures) (20:133) Imam Ahmad recorded that Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, said, "The Messenger of Allah ﷺ said:
«مَا مِنَ الْأَنْبِيَاءِ مِنْ نَبِيَ إِلَّا قَدْ أُعْطِيَ مِنَ الْآيَاتِ مَا مِثْلُهُ آمَنَ عَلَيْهِ الْبَشَرُ، وَإِنَّمَا كَانَ الَّذِي أُوتِيتُهُ وَحْيًا أَوْحَاهُ اللهُ إِلَيَّ، فَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَكْثَرَهُمْ تَابِعًا يَوْمَ الْقِيَامَة»
(There is no Prophet who was not given some miracles that would make the people believe in him. What I have been given is revelation which Allah reveals to me, and I hope that I will have the greatest number of followers on the Day of Resurrection.)" It was also recorded by Al-Bukhari and Muslim. Indeed Allah has said:
إِنَّ فِى ذلِكَ لَرَحْمَةً وَذِكْرَى لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ
(Verily, herein is mercy and a reminder for a people who believe.) In this Qur'an there is mercy, that is, explanation of the truth and removal of falsehood, and a reminder to the believers of the punishment that is to come to the disbelievers and sinners. Then Allah says:
قُلْ كَفَى بِاللَّهِ بَيْنِى وَبَيْنَكُمْ شَهِيداً
(Say: "Sufficient is Allah for a witness between me and you...") `He knows best the words of denial that you utter, and he knows what I am telling you about Him and that He has sent me. If I were telling lies about Him, He would have executed His vengeance upon me,' as Allah says elsewhere:
وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الاٌّقَاوِيلِ - لأَخَذْنَا مِنْهُ بِالْيَمِينِ - ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِينَ - فَمَا مِنكُم مِّنْ أَحَدٍ عَنْهُ حَـجِزِينَ
g(And if he had forged a false saying concerning Us, We surely would have seized him by his right hand, and then We certainly would have cut off his aorta, and none of you could have withheld Us from (punishing) him.) (69:44-47). `But I am telling the truth in what I say to you about Him, so He has supported me with clear miracles and definitive evidence.'
يَعْلَمُ مَا فِى السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ
(He knows what is in the heavens and the earth.) means, nothing is hidden from Him at all.
وَالَّذِينَ ءامَنُواْ بِالْبَـطِلِ وَكَفَرُواْ بِاللَّهِ أُوْلَـئِكَ هُمُ الْخَـسِرُونَ
(And those who believe in falsehood, and disbelieve in Allah, it is they who are the losers.) means, on the Day of Resurrection, they will be punished for what they did, and will get what they justly deserve for rejecting the truth and following falsehood, for disbelieving in the Messengers of Allah ﷺ even when there was proof that they were telling the truth, and for worshipping false gods with no evidence. Allah will punish them for all that, for He is All-Wise and All-Knowing.
محاسن کلام کا بےمثال جمال قرآن حکیم کافروں کی ضد، تکبر اور ہٹ دھرمی بیان ہو رہی ہے کہ انہوں نے اللہ کے رسول ﷺ سے ایسی ہی نشانی طلب کی جیسی کہ حضرت صالح سے ان کی قوم نے مانگی تھی۔ پھر اپنے نبی کو حکم دیتا ہے انہیں جواب دیجئے کہ آیتیں معجزے اور نشانات دکھانا میرے بس کی بات نہیں۔ یہ اللہ کے ہاتھ ہے۔ اگر اس نے تمہاری نیک نیتیں معلوم کرلیں تو وہ معجزہ دکھائے گا اور اگر تم اپنی ضد اور انکار سے بڑھ بڑھ کر باتیں ہی بنا رہے ہو تو وہ اللہ تم سے دبا ہوا نہیں کہ اس کی چاہت تمہاری چاہت کے تابع ہوجائے تم جو مانگو وہ کر ہی دکھائے گا۔ جیسے ایک اور روایت میں ہے کہ آیتیں بھیجنے سے ہمیں کوئی مانع نہیں سوائے اس کے کہ گذشتہ لوگ بھی برابر انکار ہی کرتے رہے۔ قوم ثمود کو دیکھو ہماری نشانی اونٹنی جو ان کے پاس آئی انہوں نے اس پر ظلم کیا۔ کہہ دو کہ میں تو صرف ایک مبلغ ہوں پیغمبر ہوں قاصد ہوں میرا کام تمہارے کانوں تک آواز اللہ کو پہنچا دینا ہے میں نے تو تمہیں تمہارا برا بھلا سمجھا دیا نیک بد سمجھا دیا اب تم جانو تمہارا کام جانے۔ ہدایت ضلالت اللہ کی طرف سے ہے وہ اگر کسی کو گمراہ کردے تو اس کی رہبری کوئی نہیں کرسکتا۔ چناچہ ایک اور جگہ ہے تجھ پر ان کی ہدایت کا ذمہ نہیں یہ اللہ کا کام ہے اور اس کی چاہت پر موقوف ہے۔ بھلا اس فضول گوئی کو تو دیکھو کہ کتاب عزیز ان کے پاس آچکی جس کے پاس کسی طرف سے باطل پھٹک نہیں سکتا اور انہیں اب تک نشانی کی طلب ہے۔ حالانکہ یہ تو تمام معجزات سے بڑھ کر معجزہ ہے۔ تمام دنیا کے فصیح وبلیغ اس کے معارضہ سے اور اس جیسا کلام پیش کرنے سے عاجز آگئے۔ پورے قرآن کا تو معارضہ کیا کرتے ؟ دس سورتوں کا بلکہ ایک سورت کا معارضہ بھی چیلنج کے باوجود نہ کرسکے۔ تو کیا اتنا بڑا اور اتنا بھاری معجزہ انہیں کافی نہیں ؟ جو اور معجزے طلب کرنے بیٹھے ہیں۔ یہ تو وہ پاک کتاب ہے جس میں گذشتہ باتوں کی خبر ہے اور ہونے والی باتوں کی پیش گوئی ہے اور جھگڑوں کا فیصلہ ہے اور یہ اس کی زبان سے پڑھی جاتی ہے جو محض امی ہے جس نے کسی سے الف با بھی نہیں پڑھا جو ایک حرف لکھنا نہیں جانتا بلکہ اہل علم کی صحبت میں بھی کبھی نہیں بیٹھا۔ اور وہ کتاب پڑھتا ہے جس سے گزشتہ کتابوں کی بھی صحت وعدم صحت معلوم ہوتی ہے جس کے الفاظ میں حلاوت جس کی نظم میں ملاحت جس کے انداز میں فصاحت جس کے بیان میں بلاغت جس کا طرز دلربا جس کا سیاق دلچسپ جس میں دنیا بھر کی خوبیاں موجود۔ خود بنی اسرائیل کے علماء بھی اس کی تصدیق پر مجبور۔ اگلی کتابیں جس پر شاہد۔ بھلے لوگ جس کے مداح اور قائل وعامل۔ اس اتنے بڑے معجزے کی موجودگی میں کسی اور معجزہ کی طلب محض بدنیتی اور گریز ہے۔ پھر فرماتا ہے اس میں ایمان والوں کے لئے رحمت و نصیحت ہے۔ یہ قرآن حق کا ظاہر کرنے والا باطل کو برباد کرنے والا ہے۔ گزشتہ لوگوں کے واقعات تمہارے سامنے رکھ کر تمہیں نصیحت وعبرت کا موقعہ دیتا ہے گنہگاروں کا انجام دکھاکر تمہیں گناہوں سے روکتا ہے۔ کہہ دو کہ میرے اور تمہارے درمیان اللہ گواہ ہے اور اس کی گواہی کافی ہے۔ وہ تمہاری تکذیب و سرکشی کو اور میری سچائی وخیر خواہی کو بخوبی جانتا ہے۔ اگر میں اس پر جھوٹ باندھتا تو وہ ضرور مجھ سے انتقام لیتا وہ ایسے لوگوں کو بغیر انتقام نہیں چھوڑتا۔ جیسے خود اس کا فرمان ہے کہ اگر یہ رسول مجھ پر ایک بات بھی گھڑ لیتا تو میں اس کا داہنا ہاتھ پکڑ کر اس کی رگ جاں کاٹ دیتا اور کوئی نہ ہوتا جو اسے میرے ہاتھ سے چھڑاسکے۔ چونکہ اس پر میری سچائی روشن ہے اور میں اسی کا بھیجا ہوا ہوں اور اس کا نام لے کر اس کی کہی ہوئی تم سے کہتا ہوں اس لئے وہ میری تائید کرتا ہے اور مجھے روز بروز غلبہ دیتا جاتا ہے اور مجھ سے معجزات پر معجزات ظاہر کراتا ہے۔ وہ زمین و آسمان کے غیب کا جاننے والا ہے اس پر ایک ذرہ بھی پوشیدہ نہیں باطل کا ماننے والے اور اللہ کو نہ ماننے والے ہی نقصان یافتہ اور ذلیل ہیں قیامت کے دن انہیں ان کی بد اعمالی کا نتیجہ بھگتنا پڑھے گا اور جو سرکشیاں دنیا میں کی ہیں سب کا مزہ چکھنا پڑے گا۔ بھلا اللہ کو نہ ماننا اور بتوں کو ماننا اس سے بڑھ کر اور ظلم کیا ہوگا ؟ وہ علیم وحکیم اللہ اس کا بدلہ دیئے بغیر ہرگز نہیں رہے گا۔
53
View Single
وَيَسۡتَعۡجِلُونَكَ بِٱلۡعَذَابِ وَلَوۡلَآ أَجَلٞ مُّسَمّٗى لَّجَآءَهُمُ ٱلۡعَذَابُۚ وَلَيَأۡتِيَنَّهُم بَغۡتَةٗ وَهُمۡ لَا يَشۡعُرُونَ
And they urge you to hasten the punishment; and if a time had not been fixed, the punishment would have certainly come upon them; and it will indeed come upon them suddenly whilst they are unaware.
اور یہ لوگ آپ سے عذاب میں جلدی چاہتے ہیں، اور اگر (عذاب کا) وقت مقرر نہ ہوتا تو ان پر عذاب آچکا ہوتا، اور وہ (عذاب یا وقتِ عذاب) ضرور انہیں اچانک آپہنچے گا اور انہیں خبر بھی نہ ہوگی
Tafsir Ibn Kathir
How the Idolators asked for the Torment to be hastened on
Allah tells us of the ignorance of the idolators and how they asked for the punishment of Allah to be hastened so that it would befall them quickly. This is like the Ayah,
وَإِذْ قَالُواْ اللَّهُمَّ إِن كَانَ هَـذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِندِكَ فَأَمْطِرْ عَلَيْنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَآءِ أَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ أَلِيمٍ
(And when they said: "O Allah! If this is indeed the truth from You, then rain down stones on us from the sky or bring on us a painful torment.") (8:32). And Allah says here:
وَيَسْتَعْجِلُونَكَ بِالْعَذَابِ وَلَوْلاَ أَجَلٌ مُّسَمًّى لَّجَآءَهُمُ الْعَذَابُ
(And they ask you to hasten on the torment, and had it not been for a term appointed, the torment would certainly have come to them.) Were it not for the fact that Allah has decreed that the punishment should be delayed until the Day of Resurrection, the torment would have come upon them quickly as they demanded. Then Allah says:
وَيَسْتَعْجِلُونَكَ بِالْعَذَابِ وَلَوْلاَ أَجَلٌ مُّسَمًّى لَّجَآءَهُمُ الْعَذَابُ وَلَيَأْتِيَنَّهُمْ بَغْتَةً وَهُمْ لاَ يَشْعُرُونَ - يَسْتَعْجِلُونَكَ بِالْعَذَابِ وَإِنَّ جَهَنَّمَ لَمُحِيطَةٌ بِالْكَـفِرِينَ
(And surely, it will come upon them suddenly while they perceive not! They ask you to hasten on the torment. And verily, Hell, of a surety, will encompass the disbelievers.) means, `they ask you to hasten on the punishment, but it will undoubtedly befall them.'
يَوْمَ يَغْشَـهُمُ الْعَذَابُ مِن فَوْقِهِمْ وَمِن تَحْتِ أَرْجُلِهِمْ
(On the Day when the torment (Hellfire) shall cover them from above them and from beneath their feet,) This is like the Ayah,
لَهُم مِّن جَهَنَّمَ مِهَادٌ وَمِن فَوْقِهِمْ غَوَاشٍ
(Theirs will be a bed of Hell, and over them coverings (of Hell-fire)) (7:41).
لَهُمْ مِّن فَوْقِهِمْ ظُلَلٌ مِّنَ النَّارِ وَمِن تَحْتِهِمْ ظُلَلٌ
(They shall have coverings of Fire, above them and coverings (of Fire) beneath them) (39:16).
لَوْ يَعْلَمُ الَّذِينَ كَفَرُواْ حِينَ لاَ يَكُفُّونَ عَن وُجُوهِهِمُ النَّارَ وَلاَ عَن ظُهُورِهِمْ
(If only those who disbelieved knew (the time) when they will not be able to ward off the Fire from their faces, nor from their backs) (21:39). The Fire will cover them from all sides, which is more effective as a physical punishment.
وَيِقُولُ ذُوقُواْ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ
(and it will be said: "Taste what you used to do.") This is a threat and a rebuke, which is a form of psychological punishment, as in the Ayah,
يَوْمَ يُسْحَبُونَ فِى النَّارِ عَلَى وُجُوهِهِمْ ذُوقُواْ مَسَّ سَقَرَ - إِنَّا كُلَّ شَىْءٍ خَلَقْنَـهُ بِقَدَرٍ
(The Day they will be dragged on their faces into the Fire (it will be said to them): "Taste you the touch of Hell!" Verily, We have created all things with a measurement.) (54:48-49)
يَوْمَ يُدَعُّونَ إِلَى نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّا - هَـذِهِ النَّارُ الَّتِى كُنتُم بِهَا تُكَذِّبُونَ - أَفَسِحْرٌ هَـذَا أَمْ أَنتُمْ لاَ تُبْصِرُونَ - اصْلَوْهَا فَاصْبِرُواْ أَوْ لاَ تَصْبِرُواْ سَوَآءٌ عَلَيْكُمْ إِنَّمَا تُجْزَوْنَ مَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ
(The Day when they will be pushed down by force to the fire of Hell, with a horrible, forceful pushing. This is the Fire which you used to deny. Is this magic or do you not see Enter you therein (taste you therein its heat) and whether you are patient of it or impatient of it, it is all the same. You are only being requited for what you used to do.) (52:13-16)
موت کے بعد کفار کو عذاب اور مومنوں کو جنت مشرکوں کا اپنی جہالت سے عذاب الٰہی طلب کرنا بیان ہو رہا ہے یہ اللہ کے نبی سے بھی یہی کہتے تھے اور خود اللہ تعالیٰ سے بھی یہی دعائیں کرتے تھے کی جناب باری اگر یہ تیری طرف سے حق ہے تو تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا یا ہمیں اور کوئی دردناک عذاب کر۔ یہاں انہیں جواب ملتا ہے کہ رب العلمین یہ بات مقرر کرچکا ہے کہ ان کفار کو قیامت کے دن عذاب ہونگے اگر یہ نہ ہوتا تو انکے مانگتے ہی عذاب کے مہیب بادل ان پر برس پڑتے۔ اب بھی یہ یقین مانیں کہ یہ عذاب آئیں گے اور ضرورآئیں گے بلکہ انکی بیخبر ی میں اچانک اور یک بیک آپڑیں گے۔ یہ عذاب کی جلدی مچا رہے ہیں اور جہنم بھی انہیں چاروں طرف سے گھیرے ہوئے ہیں یعنی یقینا انہیں عذاب ہوگا۔ ابن عباس ؓ سے منقول ہے کہ وہ جہنم یہی بحر اخضر ہے ستارے اسی میں جھڑیں گے اور سورج چاند اس میں بےنور کرکے ڈال دئیے جائیں گے اور یہ بھڑک اٹھے گا اور جہنہم بن جائے گا۔ مسند احمد میں مرفوع حدیث ہے کہ سمندر ہی جہنم ہے راوی حدیث حضرت یعلی سے لوگوں نے کہا کہ کیا آپ لوگ نہیں دیکھتے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا آیت (نَارًا ۙ اَحَاطَ بِهِمْ سُرَادِقُهَا ۭ 29) 18۔ الكهف :29) یعنی وہ آگ جسے قناتیں گھیرے ہوئے ہیں تو فرمایا قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں یعلی کی جان ہے کہ میں اس میں ہرگز داخل نہ ہونگا جب تک اللہ کے سامنے پیش نہ کیا جاؤنگا اور مجھے اس کا ایک قطرہ بھی نہ پہنچے گا یہاں تک کہ میں اللہ کے سامنے پیش کیا جاؤں۔ یہ تفسیر بھی بہت غریب ہے اور یہ حدیث بھی بہت ہی غریب ہے۔ واللہ اعلم۔ پھر فرماتا ہے کہ اس دن انہیں نیچے سے آگ ڈھانک لے گی۔ جیسے اور آیت میں ہے (لھم من جھنم مھاد ومن فوقھم غواش) ان کے لئے جہنم میں اوڑھنا بچھونا ہے اور آیت میں ہے (لَهُمْ مِّنْ فَوْقِهِمْ ظُلَــلٌ مِّنَ النَّارِ وَمِنْ تَحْتِهِمْ ظُلَــلٌ ۭ ذٰلِكَ يُخَــوِّفُ اللّٰهُ بِهٖ عِبَادَهٗ ۭ يٰعِبَادِ فَاتَّقُوْنِ 16) 39۔ الزمر :16) یعنی ان کے اوپر نیچے سے آگ ہی کا فرش و سائبان ہوگا۔ اور مقام پر ارشاد ہے (لَوْ يَعْلَمُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا حِيْنَ لَا يَكُفُّوْنَ عَنْ وُّجُوْهِهِمُ النَّارَ وَلَا عَنْ ظُهُوْرِهِمْ وَلَا هُمْ يُنْــصَرُوْنَ 39) 21۔ الأنبیاء :39) یعنی کاش کہ کافر اس وقت کو جان لیں جبکہ نہ یہ اپنے آگے سے آگ کو ہٹاسکیں گے نہ پیچھے سے ان آیتوں سے معلوم ہوگیا کہ ہر طرف سے ان کفار کو آگ کھا رہی ہوگی آگے سے پیچھے سے اوپر سے نیچے سے دائیں سے بائیں سے۔ اس پر اللہ عالم کی ڈانٹ ڈپٹ اور مصیبت ہوگی۔ ادھر ہر وقت کہا جائے گا لواب عذاب کے مزے چکھو پس ایک تو وہ ظاہری جسمانی عذاب دوسرا یہ باطنی روحانی عذاب۔ اسی کا ذکر آیت (يَوْمَ يُسْحَبُوْنَ فِي النَّارِ عَلٰي وُجُوْهِهِمْ ۭ ذُوْقُوْا مَسَّ سَقَرَ 48) 54۔ القمر :48) یعنی جبکہ جہنم میں اوندھے منہ گھسیٹے جائیں گے اور کہا جائے گا کہ لواب آگ کے عذاب کا مزہ چکھو۔ جس دن انہیں دھکے دے دے کر جہنم میں ڈالا جائے گا اور کہا جائے گا یہ وہ جہنم ہے جسے تم جھٹلاتے رہے اب بتاؤ ! یہ جادو ہے ؟ یا تم اندھے ہو ؟ جاؤ اب جہنم میں چلے جاؤ اب تمہارا صبر کرنا یا نہ کرنا یکساں ہے۔ تمہیں اپنے اعمال کا بدلہ ضرور بھگتنا ہے۔
54
View Single
يَسۡتَعۡجِلُونَكَ بِٱلۡعَذَابِ وَإِنَّ جَهَنَّمَ لَمُحِيطَةُۢ بِٱلۡكَٰفِرِينَ
They urge you to hasten the punishment; and indeed hell has encompassed the disbelievers.
یہ لوگ آپ سے عذاب جلد طلب کرتے ہیں، اور بیشک دوزخ کافروں کو گھیر لینے والی ہے
Tafsir Ibn Kathir
How the Idolators asked for the Torment to be hastened on
Allah tells us of the ignorance of the idolators and how they asked for the punishment of Allah to be hastened so that it would befall them quickly. This is like the Ayah,
وَإِذْ قَالُواْ اللَّهُمَّ إِن كَانَ هَـذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِندِكَ فَأَمْطِرْ عَلَيْنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَآءِ أَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ أَلِيمٍ
(And when they said: "O Allah! If this is indeed the truth from You, then rain down stones on us from the sky or bring on us a painful torment.") (8:32). And Allah says here:
وَيَسْتَعْجِلُونَكَ بِالْعَذَابِ وَلَوْلاَ أَجَلٌ مُّسَمًّى لَّجَآءَهُمُ الْعَذَابُ
(And they ask you to hasten on the torment, and had it not been for a term appointed, the torment would certainly have come to them.) Were it not for the fact that Allah has decreed that the punishment should be delayed until the Day of Resurrection, the torment would have come upon them quickly as they demanded. Then Allah says:
وَيَسْتَعْجِلُونَكَ بِالْعَذَابِ وَلَوْلاَ أَجَلٌ مُّسَمًّى لَّجَآءَهُمُ الْعَذَابُ وَلَيَأْتِيَنَّهُمْ بَغْتَةً وَهُمْ لاَ يَشْعُرُونَ - يَسْتَعْجِلُونَكَ بِالْعَذَابِ وَإِنَّ جَهَنَّمَ لَمُحِيطَةٌ بِالْكَـفِرِينَ
(And surely, it will come upon them suddenly while they perceive not! They ask you to hasten on the torment. And verily, Hell, of a surety, will encompass the disbelievers.) means, `they ask you to hasten on the punishment, but it will undoubtedly befall them.'
يَوْمَ يَغْشَـهُمُ الْعَذَابُ مِن فَوْقِهِمْ وَمِن تَحْتِ أَرْجُلِهِمْ
(On the Day when the torment (Hellfire) shall cover them from above them and from beneath their feet,) This is like the Ayah,
لَهُم مِّن جَهَنَّمَ مِهَادٌ وَمِن فَوْقِهِمْ غَوَاشٍ
(Theirs will be a bed of Hell, and over them coverings (of Hell-fire)) (7:41).
لَهُمْ مِّن فَوْقِهِمْ ظُلَلٌ مِّنَ النَّارِ وَمِن تَحْتِهِمْ ظُلَلٌ
(They shall have coverings of Fire, above them and coverings (of Fire) beneath them) (39:16).
لَوْ يَعْلَمُ الَّذِينَ كَفَرُواْ حِينَ لاَ يَكُفُّونَ عَن وُجُوهِهِمُ النَّارَ وَلاَ عَن ظُهُورِهِمْ
(If only those who disbelieved knew (the time) when they will not be able to ward off the Fire from their faces, nor from their backs) (21:39). The Fire will cover them from all sides, which is more effective as a physical punishment.
وَيِقُولُ ذُوقُواْ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ
(and it will be said: "Taste what you used to do.") This is a threat and a rebuke, which is a form of psychological punishment, as in the Ayah,
يَوْمَ يُسْحَبُونَ فِى النَّارِ عَلَى وُجُوهِهِمْ ذُوقُواْ مَسَّ سَقَرَ - إِنَّا كُلَّ شَىْءٍ خَلَقْنَـهُ بِقَدَرٍ
(The Day they will be dragged on their faces into the Fire (it will be said to them): "Taste you the touch of Hell!" Verily, We have created all things with a measurement.) (54:48-49)
يَوْمَ يُدَعُّونَ إِلَى نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّا - هَـذِهِ النَّارُ الَّتِى كُنتُم بِهَا تُكَذِّبُونَ - أَفَسِحْرٌ هَـذَا أَمْ أَنتُمْ لاَ تُبْصِرُونَ - اصْلَوْهَا فَاصْبِرُواْ أَوْ لاَ تَصْبِرُواْ سَوَآءٌ عَلَيْكُمْ إِنَّمَا تُجْزَوْنَ مَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ
(The Day when they will be pushed down by force to the fire of Hell, with a horrible, forceful pushing. This is the Fire which you used to deny. Is this magic or do you not see Enter you therein (taste you therein its heat) and whether you are patient of it or impatient of it, it is all the same. You are only being requited for what you used to do.) (52:13-16)
موت کے بعد کفار کو عذاب اور مومنوں کو جنت مشرکوں کا اپنی جہالت سے عذاب الٰہی طلب کرنا بیان ہو رہا ہے یہ اللہ کے نبی سے بھی یہی کہتے تھے اور خود اللہ تعالیٰ سے بھی یہی دعائیں کرتے تھے کی جناب باری اگر یہ تیری طرف سے حق ہے تو تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا یا ہمیں اور کوئی دردناک عذاب کر۔ یہاں انہیں جواب ملتا ہے کہ رب العلمین یہ بات مقرر کرچکا ہے کہ ان کفار کو قیامت کے دن عذاب ہونگے اگر یہ نہ ہوتا تو انکے مانگتے ہی عذاب کے مہیب بادل ان پر برس پڑتے۔ اب بھی یہ یقین مانیں کہ یہ عذاب آئیں گے اور ضرورآئیں گے بلکہ انکی بیخبر ی میں اچانک اور یک بیک آپڑیں گے۔ یہ عذاب کی جلدی مچا رہے ہیں اور جہنم بھی انہیں چاروں طرف سے گھیرے ہوئے ہیں یعنی یقینا انہیں عذاب ہوگا۔ ابن عباس ؓ سے منقول ہے کہ وہ جہنم یہی بحر اخضر ہے ستارے اسی میں جھڑیں گے اور سورج چاند اس میں بےنور کرکے ڈال دئیے جائیں گے اور یہ بھڑک اٹھے گا اور جہنہم بن جائے گا۔ مسند احمد میں مرفوع حدیث ہے کہ سمندر ہی جہنم ہے راوی حدیث حضرت یعلی سے لوگوں نے کہا کہ کیا آپ لوگ نہیں دیکھتے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا آیت (نَارًا ۙ اَحَاطَ بِهِمْ سُرَادِقُهَا ۭ 29) 18۔ الكهف :29) یعنی وہ آگ جسے قناتیں گھیرے ہوئے ہیں تو فرمایا قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں یعلی کی جان ہے کہ میں اس میں ہرگز داخل نہ ہونگا جب تک اللہ کے سامنے پیش نہ کیا جاؤنگا اور مجھے اس کا ایک قطرہ بھی نہ پہنچے گا یہاں تک کہ میں اللہ کے سامنے پیش کیا جاؤں۔ یہ تفسیر بھی بہت غریب ہے اور یہ حدیث بھی بہت ہی غریب ہے۔ واللہ اعلم۔ پھر فرماتا ہے کہ اس دن انہیں نیچے سے آگ ڈھانک لے گی۔ جیسے اور آیت میں ہے (لھم من جھنم مھاد ومن فوقھم غواش) ان کے لئے جہنم میں اوڑھنا بچھونا ہے اور آیت میں ہے (لَهُمْ مِّنْ فَوْقِهِمْ ظُلَــلٌ مِّنَ النَّارِ وَمِنْ تَحْتِهِمْ ظُلَــلٌ ۭ ذٰلِكَ يُخَــوِّفُ اللّٰهُ بِهٖ عِبَادَهٗ ۭ يٰعِبَادِ فَاتَّقُوْنِ 16) 39۔ الزمر :16) یعنی ان کے اوپر نیچے سے آگ ہی کا فرش و سائبان ہوگا۔ اور مقام پر ارشاد ہے (لَوْ يَعْلَمُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا حِيْنَ لَا يَكُفُّوْنَ عَنْ وُّجُوْهِهِمُ النَّارَ وَلَا عَنْ ظُهُوْرِهِمْ وَلَا هُمْ يُنْــصَرُوْنَ 39) 21۔ الأنبیاء :39) یعنی کاش کہ کافر اس وقت کو جان لیں جبکہ نہ یہ اپنے آگے سے آگ کو ہٹاسکیں گے نہ پیچھے سے ان آیتوں سے معلوم ہوگیا کہ ہر طرف سے ان کفار کو آگ کھا رہی ہوگی آگے سے پیچھے سے اوپر سے نیچے سے دائیں سے بائیں سے۔ اس پر اللہ عالم کی ڈانٹ ڈپٹ اور مصیبت ہوگی۔ ادھر ہر وقت کہا جائے گا لواب عذاب کے مزے چکھو پس ایک تو وہ ظاہری جسمانی عذاب دوسرا یہ باطنی روحانی عذاب۔ اسی کا ذکر آیت (يَوْمَ يُسْحَبُوْنَ فِي النَّارِ عَلٰي وُجُوْهِهِمْ ۭ ذُوْقُوْا مَسَّ سَقَرَ 48) 54۔ القمر :48) یعنی جبکہ جہنم میں اوندھے منہ گھسیٹے جائیں گے اور کہا جائے گا کہ لواب آگ کے عذاب کا مزہ چکھو۔ جس دن انہیں دھکے دے دے کر جہنم میں ڈالا جائے گا اور کہا جائے گا یہ وہ جہنم ہے جسے تم جھٹلاتے رہے اب بتاؤ ! یہ جادو ہے ؟ یا تم اندھے ہو ؟ جاؤ اب جہنم میں چلے جاؤ اب تمہارا صبر کرنا یا نہ کرنا یکساں ہے۔ تمہیں اپنے اعمال کا بدلہ ضرور بھگتنا ہے۔
55
View Single
يَوۡمَ يَغۡشَىٰهُمُ ٱلۡعَذَابُ مِن فَوۡقِهِمۡ وَمِن تَحۡتِ أَرۡجُلِهِمۡ وَيَقُولُ ذُوقُواْ مَا كُنتُمۡ تَعۡمَلُونَ
The day when the punishment will envelop them from above them and from below their feet, and He will say, “Taste the flavour of your deeds!”
جس دن عذاب انہیں ان کے اوپر سے اور ان کے پاؤں کے نیچے سے ڈھانپ لے گا تو ارشاد ہوگا: تم ان کاموں کا مزہ چکھو جو تم کرتے تھے
Tafsir Ibn Kathir
How the Idolators asked for the Torment to be hastened on
Allah tells us of the ignorance of the idolators and how they asked for the punishment of Allah to be hastened so that it would befall them quickly. This is like the Ayah,
وَإِذْ قَالُواْ اللَّهُمَّ إِن كَانَ هَـذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِندِكَ فَأَمْطِرْ عَلَيْنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَآءِ أَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ أَلِيمٍ
(And when they said: "O Allah! If this is indeed the truth from You, then rain down stones on us from the sky or bring on us a painful torment.") (8:32). And Allah says here:
وَيَسْتَعْجِلُونَكَ بِالْعَذَابِ وَلَوْلاَ أَجَلٌ مُّسَمًّى لَّجَآءَهُمُ الْعَذَابُ
(And they ask you to hasten on the torment, and had it not been for a term appointed, the torment would certainly have come to them.) Were it not for the fact that Allah has decreed that the punishment should be delayed until the Day of Resurrection, the torment would have come upon them quickly as they demanded. Then Allah says:
وَيَسْتَعْجِلُونَكَ بِالْعَذَابِ وَلَوْلاَ أَجَلٌ مُّسَمًّى لَّجَآءَهُمُ الْعَذَابُ وَلَيَأْتِيَنَّهُمْ بَغْتَةً وَهُمْ لاَ يَشْعُرُونَ - يَسْتَعْجِلُونَكَ بِالْعَذَابِ وَإِنَّ جَهَنَّمَ لَمُحِيطَةٌ بِالْكَـفِرِينَ
(And surely, it will come upon them suddenly while they perceive not! They ask you to hasten on the torment. And verily, Hell, of a surety, will encompass the disbelievers.) means, `they ask you to hasten on the punishment, but it will undoubtedly befall them.'
يَوْمَ يَغْشَـهُمُ الْعَذَابُ مِن فَوْقِهِمْ وَمِن تَحْتِ أَرْجُلِهِمْ
(On the Day when the torment (Hellfire) shall cover them from above them and from beneath their feet,) This is like the Ayah,
لَهُم مِّن جَهَنَّمَ مِهَادٌ وَمِن فَوْقِهِمْ غَوَاشٍ
(Theirs will be a bed of Hell, and over them coverings (of Hell-fire)) (7:41).
لَهُمْ مِّن فَوْقِهِمْ ظُلَلٌ مِّنَ النَّارِ وَمِن تَحْتِهِمْ ظُلَلٌ
(They shall have coverings of Fire, above them and coverings (of Fire) beneath them) (39:16).
لَوْ يَعْلَمُ الَّذِينَ كَفَرُواْ حِينَ لاَ يَكُفُّونَ عَن وُجُوهِهِمُ النَّارَ وَلاَ عَن ظُهُورِهِمْ
(If only those who disbelieved knew (the time) when they will not be able to ward off the Fire from their faces, nor from their backs) (21:39). The Fire will cover them from all sides, which is more effective as a physical punishment.
وَيِقُولُ ذُوقُواْ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ
(and it will be said: "Taste what you used to do.") This is a threat and a rebuke, which is a form of psychological punishment, as in the Ayah,
يَوْمَ يُسْحَبُونَ فِى النَّارِ عَلَى وُجُوهِهِمْ ذُوقُواْ مَسَّ سَقَرَ - إِنَّا كُلَّ شَىْءٍ خَلَقْنَـهُ بِقَدَرٍ
(The Day they will be dragged on their faces into the Fire (it will be said to them): "Taste you the touch of Hell!" Verily, We have created all things with a measurement.) (54:48-49)
يَوْمَ يُدَعُّونَ إِلَى نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّا - هَـذِهِ النَّارُ الَّتِى كُنتُم بِهَا تُكَذِّبُونَ - أَفَسِحْرٌ هَـذَا أَمْ أَنتُمْ لاَ تُبْصِرُونَ - اصْلَوْهَا فَاصْبِرُواْ أَوْ لاَ تَصْبِرُواْ سَوَآءٌ عَلَيْكُمْ إِنَّمَا تُجْزَوْنَ مَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ
(The Day when they will be pushed down by force to the fire of Hell, with a horrible, forceful pushing. This is the Fire which you used to deny. Is this magic or do you not see Enter you therein (taste you therein its heat) and whether you are patient of it or impatient of it, it is all the same. You are only being requited for what you used to do.) (52:13-16)
موت کے بعد کفار کو عذاب اور مومنوں کو جنت مشرکوں کا اپنی جہالت سے عذاب الٰہی طلب کرنا بیان ہو رہا ہے یہ اللہ کے نبی سے بھی یہی کہتے تھے اور خود اللہ تعالیٰ سے بھی یہی دعائیں کرتے تھے کی جناب باری اگر یہ تیری طرف سے حق ہے تو تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا یا ہمیں اور کوئی دردناک عذاب کر۔ یہاں انہیں جواب ملتا ہے کہ رب العلمین یہ بات مقرر کرچکا ہے کہ ان کفار کو قیامت کے دن عذاب ہونگے اگر یہ نہ ہوتا تو انکے مانگتے ہی عذاب کے مہیب بادل ان پر برس پڑتے۔ اب بھی یہ یقین مانیں کہ یہ عذاب آئیں گے اور ضرورآئیں گے بلکہ انکی بیخبر ی میں اچانک اور یک بیک آپڑیں گے۔ یہ عذاب کی جلدی مچا رہے ہیں اور جہنم بھی انہیں چاروں طرف سے گھیرے ہوئے ہیں یعنی یقینا انہیں عذاب ہوگا۔ ابن عباس ؓ سے منقول ہے کہ وہ جہنم یہی بحر اخضر ہے ستارے اسی میں جھڑیں گے اور سورج چاند اس میں بےنور کرکے ڈال دئیے جائیں گے اور یہ بھڑک اٹھے گا اور جہنہم بن جائے گا۔ مسند احمد میں مرفوع حدیث ہے کہ سمندر ہی جہنم ہے راوی حدیث حضرت یعلی سے لوگوں نے کہا کہ کیا آپ لوگ نہیں دیکھتے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا آیت (نَارًا ۙ اَحَاطَ بِهِمْ سُرَادِقُهَا ۭ 29) 18۔ الكهف :29) یعنی وہ آگ جسے قناتیں گھیرے ہوئے ہیں تو فرمایا قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں یعلی کی جان ہے کہ میں اس میں ہرگز داخل نہ ہونگا جب تک اللہ کے سامنے پیش نہ کیا جاؤنگا اور مجھے اس کا ایک قطرہ بھی نہ پہنچے گا یہاں تک کہ میں اللہ کے سامنے پیش کیا جاؤں۔ یہ تفسیر بھی بہت غریب ہے اور یہ حدیث بھی بہت ہی غریب ہے۔ واللہ اعلم۔ پھر فرماتا ہے کہ اس دن انہیں نیچے سے آگ ڈھانک لے گی۔ جیسے اور آیت میں ہے (لھم من جھنم مھاد ومن فوقھم غواش) ان کے لئے جہنم میں اوڑھنا بچھونا ہے اور آیت میں ہے (لَهُمْ مِّنْ فَوْقِهِمْ ظُلَــلٌ مِّنَ النَّارِ وَمِنْ تَحْتِهِمْ ظُلَــلٌ ۭ ذٰلِكَ يُخَــوِّفُ اللّٰهُ بِهٖ عِبَادَهٗ ۭ يٰعِبَادِ فَاتَّقُوْنِ 16) 39۔ الزمر :16) یعنی ان کے اوپر نیچے سے آگ ہی کا فرش و سائبان ہوگا۔ اور مقام پر ارشاد ہے (لَوْ يَعْلَمُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا حِيْنَ لَا يَكُفُّوْنَ عَنْ وُّجُوْهِهِمُ النَّارَ وَلَا عَنْ ظُهُوْرِهِمْ وَلَا هُمْ يُنْــصَرُوْنَ 39) 21۔ الأنبیاء :39) یعنی کاش کہ کافر اس وقت کو جان لیں جبکہ نہ یہ اپنے آگے سے آگ کو ہٹاسکیں گے نہ پیچھے سے ان آیتوں سے معلوم ہوگیا کہ ہر طرف سے ان کفار کو آگ کھا رہی ہوگی آگے سے پیچھے سے اوپر سے نیچے سے دائیں سے بائیں سے۔ اس پر اللہ عالم کی ڈانٹ ڈپٹ اور مصیبت ہوگی۔ ادھر ہر وقت کہا جائے گا لواب عذاب کے مزے چکھو پس ایک تو وہ ظاہری جسمانی عذاب دوسرا یہ باطنی روحانی عذاب۔ اسی کا ذکر آیت (يَوْمَ يُسْحَبُوْنَ فِي النَّارِ عَلٰي وُجُوْهِهِمْ ۭ ذُوْقُوْا مَسَّ سَقَرَ 48) 54۔ القمر :48) یعنی جبکہ جہنم میں اوندھے منہ گھسیٹے جائیں گے اور کہا جائے گا کہ لواب آگ کے عذاب کا مزہ چکھو۔ جس دن انہیں دھکے دے دے کر جہنم میں ڈالا جائے گا اور کہا جائے گا یہ وہ جہنم ہے جسے تم جھٹلاتے رہے اب بتاؤ ! یہ جادو ہے ؟ یا تم اندھے ہو ؟ جاؤ اب جہنم میں چلے جاؤ اب تمہارا صبر کرنا یا نہ کرنا یکساں ہے۔ تمہیں اپنے اعمال کا بدلہ ضرور بھگتنا ہے۔
56
View Single
يَٰعِبَادِيَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ إِنَّ أَرۡضِي وَٰسِعَةٞ فَإِيَّـٰيَ فَٱعۡبُدُونِ
O My bondmen who believe! Indeed My earth is spacious – therefore worship Me alone.
اے میرے بندو! جو ایمان لے آئے ہو بیشک میری زمین کشادہ ہے سو تم میری ہی عبادت کرو
Tafsir Ibn Kathir
Advice to migrate and the Promise of Provision and a Goodly Reward
Allah commands His believing servants to migrate from a land in which they are not able to establish Islam, to the spacious earth of Allah where they can do so, by declaring Allah to be One and worshipping Him as He has commanded. Allah says:
يَعِبَادِىَ الَّذِينَ ءَامَنُواْ إِنَّ أَرْضِى وَاسِعَةٌ فَإِيَّاىَ فَاعْبُدُونِ
(O My servants who believe! Certainly, spacious is My earth. Therefore worship Me.) When things became too difficult for the believers in Makkah who were in a weak position and were oppressed, they left and migrated to Ethiopia, where they were able to practice their religion. The Muslims found Ethiopia the best place for guest; where Ashamah, the Negus or king, may Allah have mercy on him, gave them refuge, helped them, supported them, and honored them in his land. Later, the Messenger of Allah ﷺ and his remaining Companions migrated to Al-Madinah, formerly known as Yathrib, may Allah protect it. Then Allah says:
كُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَةُ الْمَوْتِ ثُمَّ إِلَيْنَا تُرْجَعُونَ
(Everyone shall taste death. Then unto Us you shall be returned.) meaning, `wherever you are, death with catch up with you, so always obey Allah and be where Allah commands you to be, for this is better for you. Death is inevitable and there is no escape from it, and then you will return to Allah, and whoever was obedient to Him will have the best reward.' Allah says:
وَالَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ الصَّـلِحَـتِ لَنُبَوِّئَنَّهُمْ مِّنَ الْجَنَّةِ غُرَفَاً تَجْرِى مِن تَحْتِهَا الاٌّنْهَـرُ
(And those who believe and do righteous good deeds, to them We shall surely give lofty dwellings in Paradise, underneath which rivers flow,) meaning, `We shall cause them to dwell in lofty homes in Paradise under which various kinds of rivers flow -- water, wine, honey and milk -- which they can direct and cause to flow wherever they wish.'
خَـلِدِينَ فِيهَآ
(to live therein forever.) means, they will remain there forever, never wanting to leave.
نِعْمَ أَجْرُ الْعَـمِلِينَ
(Excellent is the reward for the workers.) these rooms will be a blessed reward for the good deeds of the believers,
الَّذِينَ صَبَرُواْ
(Those who are patient,) in adhering to their religion, who migrated for the sake of Allah and fought the enemy, leaving behind their families and relatives to seek Allah's Face, and hoping for that which is with Him, believing His promise. Ibn Abi Hatim, may Allah have mercy on him, recorded from Abu Mu`aniq Al-Ash`ari that Abu Malik Al-Ash`ari told him that the Messenger of Allah ﷺ told him:
«إِنَّ فِي الْجَنَّةِ غُرَفًا يُرَى ظَاهِرُهَا مِنْ بَاطِنِهَا، وَبَاطِنُهَا مِنْ ظَاهِرِهَا، أَعَدَّهَا اللهُ تَعَالَى لِمَنْ أَطْعَمَ الطَّعَامَ، وَأَطَابَ الْكَلَامَ، وَتَابَعَ الصَّلَاةَ وَالصِّيَامَ، وَقَامَ بِاللَّيْلِ وَالنَّاسُ نِيَام»
(In Paradise there are rooms whose outside can be seen from the inside, and their inside can be seen from the outside; Allah has prepared them for those who feed others, who speak well, who pray and fast continually, and who stand in prayer at night while people are asleep.)
وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ
(and put their trust in their Lord.) in all their affairs, spiritual and worldly alike. Then Allah tells us that provision is not limited only to one place, but it is given to all His creatures no matter where they are. Indeed, when the Muhajirin migrated, their provision was greater and better than before, because after a short time they became rulers in the land, in all regions. Allah says:
وَكَأَيِّن مِّن دَآبَّةٍ لاَّ تَحْمِلُ رِزْقَهَا
(And so many a moving creature carries not its own provision!) meaning, it does not have the ability to gather its provision and save it for tomorrow.
اللَّهُ يَرْزُقُهَا وَإِيَّاكُمْ
(Allah provides for it and for you.) means, Allah allots its provision to it even though it is weak, and makes it easy for it. He sends provision to every creature in the appropriate manner, even the ants in the depths of the earth, the birds in the air and the fish in the sea. Allah says:
وَمَا مِن دَآبَّةٍ فِي الاٌّرْضِ إِلاَّ عَلَى اللَّهِ رِزْقُهَا وَيَعْلَمُ مُسْتَقَرَّهَا وَمُسْتَوْدَعَهَا كُلٌّ فِى كِتَابٍ مُّبِينٍ
(And no moving creature is there on earth but its provision is due from Allah. And He knows its dwelling place and its deposit. All is in a Clear Book.) (11:6)
وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ
(And He is the All-Hearer, the All-Knower.) means, He hears all that His servants say and He knows their every movements.
مہاجرین کے لیے انعامات الٰہی اللہ تبارک وتعالیٰ اس آیت میں ایمان والوں کو ہجرت کا حکم دیتا ہے کہ جہاں وہ دین کو قائم نہ رکھ سکتے ہوں وہاں سے اس جگہ چلے جائیں جہاں ان کے دین میں انہیں آزادی رہے اللہ کی زمین بہت کشادہ ہے جہاں وہ فرمان اللہ کے ماتحت اللہ کی عبادت و توحید بجالاسکیں وہاں چلے جائیں۔ مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں تمام شہر اللہ کے شہر ہیں اور کل بندے اللہ کے غلام ہیں جہاں تو بھلائی پاسکتا ہو وہیں قیام کر چناچہ صحابہ اکرام پر جب مکہ شریف کی رہائش مشکل ہوگئی تو وہ ہجرت کرکے حبشہ چلے گئے تاکہ امن وامان کے ساتھ اللہ کے دین پر قیام کرسکیں وہاں کے سمجھدار دیندار بادشاہ اصحمہ نجاشی نے ان کی پوری تائید ونصرت کی اور وہاں وہ بہت عزت اور خوشی سے رہے سہے۔ پھر اس کے بعد بااجازت الٰہی دوسرے صحابہ نے اور خود حضور ﷺ نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی۔ بعد ازاں فرماتا ہے کہ تم میں سے ہر ایک مرنے والا اور میرے سامنے حاضر ہونے والا ہے۔ تم خواہ کہیں ہو موت کے نیچے سے نجات نہیں پاسکتے پس تمہیں زندگی بھر اللہ کی اطاعت میں اور اس کے راضی کرنے میں رہنا چاہئے تاکہ مرنے کے بعد اللہ کے ہاں جاکر عذاب میں نہ پھنسو۔ ایماندار نیک اعمال لوگوں کو اللہ تعالیٰ جنت عدن کی بلندی وبالا منزلوں میں پہنچائے گا۔ جن کے نیچے قسم قسم کی نہریں بہہ رہی ہیں۔ کہیں صاف شفاف پانی کی کہیں شراب طہور کی کہیں شہد کی کہیں دودھ کی۔ یہ چشمیں خود بخود جہاں چاہیں بہنے لگیں گے۔ یہ وہاں رہیں گے نہ وہاں سے نکالیں جائیں نہ ہٹائے جائیں گے نہ وہ نعمتیں ختم ہونگی نہ ان میں گھاٹا آئے گا۔ مومنوں کے نیک اعمال پر جنتی بالا خانے انہیں مبارک ہوں۔ جنہوں نے اپنے سچے دین پر صبر کیا اور اللہ کی طرف ہجرت کی۔ اس کے دشمنوں کو ترک کیا اپنے اقرباء اور اپنے گھر والوں کو راہ اللہ میں چھوڑا اس کی نعمتوں اور اس کے انعامات کی امید پر دنیا کے عیش و عشرت پر لات ماردی۔ ابن ابی حاتم میں ہے۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جنت میں ایسے بالاخانے ہیں جن کا ظاہر باطن سے نظر آتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے بنائے ہیں جو کھانا کھلائیں خوش کلام نرم گو ہوں۔ روزے نماز کے پابند ہوں اور راتوں کو جبکہ لوگ سوتے ہوئے ہوں۔ یہ نمازیں پڑھتے ہوں اور اپنے کل احوال میں دینی ہوں یا دنیوی اپنے رب پر کامل بھروسہ رکھتے ہوں۔ پھر فرمایا کہ رزق کسی جگہ کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا تقیسم کیا ہوا رزق عام ہے اور ہر جگہ جو جہاں ہو اسے وہ وہیں پہنچ جاتا ہے۔ مہاجرین کے رزق میں ہجرت کے بعد اللہ نے وہ برکتیں دیں کہ یہ دنیا کے کناروں کے مالک ہوگئے اور بادشاہ بن گئے فرمایا کہ بہت سے جانور ہیں جو اپنے رزق کے جمع کرنے کی طاقت نہیں رکھتے اللہ کے ذمہ ان کی روزیاں ہیں۔ پروردگار انہیں ان کے رزق پہنچا دیتا ہے۔ تمہارا رازق بھی وہی ہے وہ کسی بھی صورت اپنی مخلوق کو نہیں بھولتا۔ چینٹیوں کو ان کے سوراخوں میں پرندوں کو آسمان و زمین کے خلا میں مچھلیوں کو پانی میں وہی رزق پہنچاتا ہے۔ جیسے فرمایا آیت (وَمَا مِنْ دَاۗبَّةٍ فِي الْاَرْضِ اِلَّا عَلَي اللّٰهِ رِزْقُهَا وَيَعْلَمُ مُسْتَــقَرَّهَا وَمُسْـتَوْدَعَهَا ۭ كُلٌّ فِيْ كِتٰبٍ مُّبِيْنٍ) 11۔ ھود :6) یعنی کوئی جانور روئے زمین پر ایسا نہیں کہ اس کی روزی اللہ کے ذمہ نہ ہو وہی ان کے ٹھہرنے اور رہنے سہنے کی جگہ کو بخوبی جانتا ہے یہ سب اس کی روشن کتاب میں موجود ہے۔ ابن ابی حاتم میں ہے ابن عمر فرماتے ہیں میں رسول ﷺ کے ساتھ چلا آپ مدینے کے باغات میں سے ایک باغ میں گئے۔ اور گری پڑی ردی کھجوریں کھول کھول کر صاف کرکے کھانے لگے۔ مجھ سے بھی کھانے کو فرمایا۔ میں نے کہا حضور ﷺ مجھ سے تو یہ ردی کجھوریں نہیں کھائی جائیں گی۔ آپ نے فرمایا لیکن مجھے تو یہ بہت اچھی معلوم ہوتی ہیں۔ اس لئے کہ چوتھے دن کی صبح ہے کہ میں نے کھانا نہیں کھایا اور نہ کھانے کی وجہ یہ ہے کہ مجھے کھانا ملا ہی نہیں۔ سنو اگر میں چاہتا تو اللہ سے دعا کرتا اور اللہ مجھے قیصر وکسریٰ کا ملک دے دیتا۔ اے ابن عمر تیرا کیا حال ہوگا جبکہ تو ایسے لوگوں میں ہوگا جو سال سال بھر کے غلے وغیرہ جمع کرلیاکریں گے۔ اور ان کا یقین اور توکل بالکل بودا ہوجائے گا۔ ہم ابھی تو وہیں اسی حالت میں تھے جو آیت (وکاین الخ) ، نازل ہوئی۔ پس رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ عزوجل نے مجھے دنیا کے خزانے جمع کرنے کا اور خواہشوں کے پیچھے لگ جانے کا حکم نہیں کیا جو شخص دنیا کے خزانے جمع کرے اور اس سے باقی والی زندگی چاہے وہ سمجھ لے کہ باقی رہنے والی حیات تو اللہ کے ہاتھ ہے۔ دیکھو میں تو نہ دینار ودرہم جمع کروں نہ کل کے لئے آج روزی کا ذخیرہ جمع کر رکھوں۔ یہ حدیث غریب ہے اور اس کا راوی ابو العطوف جزی ضعیف ہے۔ یہ مشہور ہے کہ کوے کے بچے جب نکلتے ہیں تو ان کے پر وبال سفید ہوتے ہیں یہ دیکھ کر کوا ان سے نفرت کرکے بھاگ جاتا ہے کچھ دنوں کے بعد ان پروں کی رنگت سیاہ ہوجاتی ہے تب ان کے ماں باپ آتے ہیں اور انہیں دانہ وغیرہ کھلاتے ہیں ابتدائی ایام میں جبکہ ماں باپ ان چھوٹے بچوں سے متنفر ہو کر بھاگ جاتے ہیں اور ان کے پاس بھی نہیں آتے اس وقت اللہ تعالیٰ چھوٹے چھوٹے مچھر ان کے پاس بھیج دیتا ہے وہی ان کی غذا بن جاتے ہیں۔ عرب کے شعراء نے اسے نظم بھی کیا ہے۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ سفر کرو تاکہ صحت اور روزی پاؤ اور حدیث میں ہے کہ سفر کرو تاکہ صحت و غنیمت ملے۔ اور حدیث میں ہے کہ سفر کرو نفع اٹھاؤ گے روزے رکھو تندرست رہو گے جہاد کرو غنیمت ملے گی۔ ایک اور روایت میں ہے جد والوں اور آسانی والوں کے ساتھ سفر کرو۔ پھر فرمایا اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی باتیں سننے والا اور ان کی حرکات و سکنات کو جاننے والا ہے۔
57
View Single
كُلُّ نَفۡسٖ ذَآئِقَةُ ٱلۡمَوۡتِۖ ثُمَّ إِلَيۡنَا تُرۡجَعُونَ
Every soul must taste death; then it is to Us that you will return.
ہر جان موت کا مزہ چکھنے والی ہے، پھر تم ہماری ہی طرف لوٹائے جاؤ گے
Tafsir Ibn Kathir
Advice to migrate and the Promise of Provision and a Goodly Reward
Allah commands His believing servants to migrate from a land in which they are not able to establish Islam, to the spacious earth of Allah where they can do so, by declaring Allah to be One and worshipping Him as He has commanded. Allah says:
يَعِبَادِىَ الَّذِينَ ءَامَنُواْ إِنَّ أَرْضِى وَاسِعَةٌ فَإِيَّاىَ فَاعْبُدُونِ
(O My servants who believe! Certainly, spacious is My earth. Therefore worship Me.) When things became too difficult for the believers in Makkah who were in a weak position and were oppressed, they left and migrated to Ethiopia, where they were able to practice their religion. The Muslims found Ethiopia the best place for guest; where Ashamah, the Negus or king, may Allah have mercy on him, gave them refuge, helped them, supported them, and honored them in his land. Later, the Messenger of Allah ﷺ and his remaining Companions migrated to Al-Madinah, formerly known as Yathrib, may Allah protect it. Then Allah says:
كُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَةُ الْمَوْتِ ثُمَّ إِلَيْنَا تُرْجَعُونَ
(Everyone shall taste death. Then unto Us you shall be returned.) meaning, `wherever you are, death with catch up with you, so always obey Allah and be where Allah commands you to be, for this is better for you. Death is inevitable and there is no escape from it, and then you will return to Allah, and whoever was obedient to Him will have the best reward.' Allah says:
وَالَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ الصَّـلِحَـتِ لَنُبَوِّئَنَّهُمْ مِّنَ الْجَنَّةِ غُرَفَاً تَجْرِى مِن تَحْتِهَا الاٌّنْهَـرُ
(And those who believe and do righteous good deeds, to them We shall surely give lofty dwellings in Paradise, underneath which rivers flow,) meaning, `We shall cause them to dwell in lofty homes in Paradise under which various kinds of rivers flow -- water, wine, honey and milk -- which they can direct and cause to flow wherever they wish.'
خَـلِدِينَ فِيهَآ
(to live therein forever.) means, they will remain there forever, never wanting to leave.
نِعْمَ أَجْرُ الْعَـمِلِينَ
(Excellent is the reward for the workers.) these rooms will be a blessed reward for the good deeds of the believers,
الَّذِينَ صَبَرُواْ
(Those who are patient,) in adhering to their religion, who migrated for the sake of Allah and fought the enemy, leaving behind their families and relatives to seek Allah's Face, and hoping for that which is with Him, believing His promise. Ibn Abi Hatim, may Allah have mercy on him, recorded from Abu Mu`aniq Al-Ash`ari that Abu Malik Al-Ash`ari told him that the Messenger of Allah ﷺ told him:
«إِنَّ فِي الْجَنَّةِ غُرَفًا يُرَى ظَاهِرُهَا مِنْ بَاطِنِهَا، وَبَاطِنُهَا مِنْ ظَاهِرِهَا، أَعَدَّهَا اللهُ تَعَالَى لِمَنْ أَطْعَمَ الطَّعَامَ، وَأَطَابَ الْكَلَامَ، وَتَابَعَ الصَّلَاةَ وَالصِّيَامَ، وَقَامَ بِاللَّيْلِ وَالنَّاسُ نِيَام»
(In Paradise there are rooms whose outside can be seen from the inside, and their inside can be seen from the outside; Allah has prepared them for those who feed others, who speak well, who pray and fast continually, and who stand in prayer at night while people are asleep.)
وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ
(and put their trust in their Lord.) in all their affairs, spiritual and worldly alike. Then Allah tells us that provision is not limited only to one place, but it is given to all His creatures no matter where they are. Indeed, when the Muhajirin migrated, their provision was greater and better than before, because after a short time they became rulers in the land, in all regions. Allah says:
وَكَأَيِّن مِّن دَآبَّةٍ لاَّ تَحْمِلُ رِزْقَهَا
(And so many a moving creature carries not its own provision!) meaning, it does not have the ability to gather its provision and save it for tomorrow.
اللَّهُ يَرْزُقُهَا وَإِيَّاكُمْ
(Allah provides for it and for you.) means, Allah allots its provision to it even though it is weak, and makes it easy for it. He sends provision to every creature in the appropriate manner, even the ants in the depths of the earth, the birds in the air and the fish in the sea. Allah says:
وَمَا مِن دَآبَّةٍ فِي الاٌّرْضِ إِلاَّ عَلَى اللَّهِ رِزْقُهَا وَيَعْلَمُ مُسْتَقَرَّهَا وَمُسْتَوْدَعَهَا كُلٌّ فِى كِتَابٍ مُّبِينٍ
(And no moving creature is there on earth but its provision is due from Allah. And He knows its dwelling place and its deposit. All is in a Clear Book.) (11:6)
وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ
(And He is the All-Hearer, the All-Knower.) means, He hears all that His servants say and He knows their every movements.
مہاجرین کے لیے انعامات الٰہی اللہ تبارک وتعالیٰ اس آیت میں ایمان والوں کو ہجرت کا حکم دیتا ہے کہ جہاں وہ دین کو قائم نہ رکھ سکتے ہوں وہاں سے اس جگہ چلے جائیں جہاں ان کے دین میں انہیں آزادی رہے اللہ کی زمین بہت کشادہ ہے جہاں وہ فرمان اللہ کے ماتحت اللہ کی عبادت و توحید بجالاسکیں وہاں چلے جائیں۔ مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں تمام شہر اللہ کے شہر ہیں اور کل بندے اللہ کے غلام ہیں جہاں تو بھلائی پاسکتا ہو وہیں قیام کر چناچہ صحابہ اکرام پر جب مکہ شریف کی رہائش مشکل ہوگئی تو وہ ہجرت کرکے حبشہ چلے گئے تاکہ امن وامان کے ساتھ اللہ کے دین پر قیام کرسکیں وہاں کے سمجھدار دیندار بادشاہ اصحمہ نجاشی نے ان کی پوری تائید ونصرت کی اور وہاں وہ بہت عزت اور خوشی سے رہے سہے۔ پھر اس کے بعد بااجازت الٰہی دوسرے صحابہ نے اور خود حضور ﷺ نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی۔ بعد ازاں فرماتا ہے کہ تم میں سے ہر ایک مرنے والا اور میرے سامنے حاضر ہونے والا ہے۔ تم خواہ کہیں ہو موت کے نیچے سے نجات نہیں پاسکتے پس تمہیں زندگی بھر اللہ کی اطاعت میں اور اس کے راضی کرنے میں رہنا چاہئے تاکہ مرنے کے بعد اللہ کے ہاں جاکر عذاب میں نہ پھنسو۔ ایماندار نیک اعمال لوگوں کو اللہ تعالیٰ جنت عدن کی بلندی وبالا منزلوں میں پہنچائے گا۔ جن کے نیچے قسم قسم کی نہریں بہہ رہی ہیں۔ کہیں صاف شفاف پانی کی کہیں شراب طہور کی کہیں شہد کی کہیں دودھ کی۔ یہ چشمیں خود بخود جہاں چاہیں بہنے لگیں گے۔ یہ وہاں رہیں گے نہ وہاں سے نکالیں جائیں نہ ہٹائے جائیں گے نہ وہ نعمتیں ختم ہونگی نہ ان میں گھاٹا آئے گا۔ مومنوں کے نیک اعمال پر جنتی بالا خانے انہیں مبارک ہوں۔ جنہوں نے اپنے سچے دین پر صبر کیا اور اللہ کی طرف ہجرت کی۔ اس کے دشمنوں کو ترک کیا اپنے اقرباء اور اپنے گھر والوں کو راہ اللہ میں چھوڑا اس کی نعمتوں اور اس کے انعامات کی امید پر دنیا کے عیش و عشرت پر لات ماردی۔ ابن ابی حاتم میں ہے۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جنت میں ایسے بالاخانے ہیں جن کا ظاہر باطن سے نظر آتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے بنائے ہیں جو کھانا کھلائیں خوش کلام نرم گو ہوں۔ روزے نماز کے پابند ہوں اور راتوں کو جبکہ لوگ سوتے ہوئے ہوں۔ یہ نمازیں پڑھتے ہوں اور اپنے کل احوال میں دینی ہوں یا دنیوی اپنے رب پر کامل بھروسہ رکھتے ہوں۔ پھر فرمایا کہ رزق کسی جگہ کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا تقیسم کیا ہوا رزق عام ہے اور ہر جگہ جو جہاں ہو اسے وہ وہیں پہنچ جاتا ہے۔ مہاجرین کے رزق میں ہجرت کے بعد اللہ نے وہ برکتیں دیں کہ یہ دنیا کے کناروں کے مالک ہوگئے اور بادشاہ بن گئے فرمایا کہ بہت سے جانور ہیں جو اپنے رزق کے جمع کرنے کی طاقت نہیں رکھتے اللہ کے ذمہ ان کی روزیاں ہیں۔ پروردگار انہیں ان کے رزق پہنچا دیتا ہے۔ تمہارا رازق بھی وہی ہے وہ کسی بھی صورت اپنی مخلوق کو نہیں بھولتا۔ چینٹیوں کو ان کے سوراخوں میں پرندوں کو آسمان و زمین کے خلا میں مچھلیوں کو پانی میں وہی رزق پہنچاتا ہے۔ جیسے فرمایا آیت (وَمَا مِنْ دَاۗبَّةٍ فِي الْاَرْضِ اِلَّا عَلَي اللّٰهِ رِزْقُهَا وَيَعْلَمُ مُسْتَــقَرَّهَا وَمُسْـتَوْدَعَهَا ۭ كُلٌّ فِيْ كِتٰبٍ مُّبِيْنٍ) 11۔ ھود :6) یعنی کوئی جانور روئے زمین پر ایسا نہیں کہ اس کی روزی اللہ کے ذمہ نہ ہو وہی ان کے ٹھہرنے اور رہنے سہنے کی جگہ کو بخوبی جانتا ہے یہ سب اس کی روشن کتاب میں موجود ہے۔ ابن ابی حاتم میں ہے ابن عمر فرماتے ہیں میں رسول ﷺ کے ساتھ چلا آپ مدینے کے باغات میں سے ایک باغ میں گئے۔ اور گری پڑی ردی کھجوریں کھول کھول کر صاف کرکے کھانے لگے۔ مجھ سے بھی کھانے کو فرمایا۔ میں نے کہا حضور ﷺ مجھ سے تو یہ ردی کجھوریں نہیں کھائی جائیں گی۔ آپ نے فرمایا لیکن مجھے تو یہ بہت اچھی معلوم ہوتی ہیں۔ اس لئے کہ چوتھے دن کی صبح ہے کہ میں نے کھانا نہیں کھایا اور نہ کھانے کی وجہ یہ ہے کہ مجھے کھانا ملا ہی نہیں۔ سنو اگر میں چاہتا تو اللہ سے دعا کرتا اور اللہ مجھے قیصر وکسریٰ کا ملک دے دیتا۔ اے ابن عمر تیرا کیا حال ہوگا جبکہ تو ایسے لوگوں میں ہوگا جو سال سال بھر کے غلے وغیرہ جمع کرلیاکریں گے۔ اور ان کا یقین اور توکل بالکل بودا ہوجائے گا۔ ہم ابھی تو وہیں اسی حالت میں تھے جو آیت (وکاین الخ) ، نازل ہوئی۔ پس رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ عزوجل نے مجھے دنیا کے خزانے جمع کرنے کا اور خواہشوں کے پیچھے لگ جانے کا حکم نہیں کیا جو شخص دنیا کے خزانے جمع کرے اور اس سے باقی والی زندگی چاہے وہ سمجھ لے کہ باقی رہنے والی حیات تو اللہ کے ہاتھ ہے۔ دیکھو میں تو نہ دینار ودرہم جمع کروں نہ کل کے لئے آج روزی کا ذخیرہ جمع کر رکھوں۔ یہ حدیث غریب ہے اور اس کا راوی ابو العطوف جزی ضعیف ہے۔ یہ مشہور ہے کہ کوے کے بچے جب نکلتے ہیں تو ان کے پر وبال سفید ہوتے ہیں یہ دیکھ کر کوا ان سے نفرت کرکے بھاگ جاتا ہے کچھ دنوں کے بعد ان پروں کی رنگت سیاہ ہوجاتی ہے تب ان کے ماں باپ آتے ہیں اور انہیں دانہ وغیرہ کھلاتے ہیں ابتدائی ایام میں جبکہ ماں باپ ان چھوٹے بچوں سے متنفر ہو کر بھاگ جاتے ہیں اور ان کے پاس بھی نہیں آتے اس وقت اللہ تعالیٰ چھوٹے چھوٹے مچھر ان کے پاس بھیج دیتا ہے وہی ان کی غذا بن جاتے ہیں۔ عرب کے شعراء نے اسے نظم بھی کیا ہے۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ سفر کرو تاکہ صحت اور روزی پاؤ اور حدیث میں ہے کہ سفر کرو تاکہ صحت و غنیمت ملے۔ اور حدیث میں ہے کہ سفر کرو نفع اٹھاؤ گے روزے رکھو تندرست رہو گے جہاد کرو غنیمت ملے گی۔ ایک اور روایت میں ہے جد والوں اور آسانی والوں کے ساتھ سفر کرو۔ پھر فرمایا اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی باتیں سننے والا اور ان کی حرکات و سکنات کو جاننے والا ہے۔
58
View Single
وَٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّـٰلِحَٰتِ لَنُبَوِّئَنَّهُم مِّنَ ٱلۡجَنَّةِ غُرَفٗا تَجۡرِي مِن تَحۡتِهَا ٱلۡأَنۡهَٰرُ خَٰلِدِينَ فِيهَاۚ نِعۡمَ أَجۡرُ ٱلۡعَٰمِلِينَ
And those who believed and did good deeds – indeed We will, surely, place them on high positions in Paradise beneath which rivers flow, abiding in it for ever; what an excellent reward of the performers!
اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال کرتے رہے ہم انہیں ضرور جنت کے بالائی محلّات میں جگہ دیں گے جن کے نیچے سے نہریں بہہ رہی ہوں گی وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے، یہ عملِ (صالح) کرنے والوں کا کیا ہی اچھا اجر ہے
Tafsir Ibn Kathir
Advice to migrate and the Promise of Provision and a Goodly Reward
Allah commands His believing servants to migrate from a land in which they are not able to establish Islam, to the spacious earth of Allah where they can do so, by declaring Allah to be One and worshipping Him as He has commanded. Allah says:
يَعِبَادِىَ الَّذِينَ ءَامَنُواْ إِنَّ أَرْضِى وَاسِعَةٌ فَإِيَّاىَ فَاعْبُدُونِ
(O My servants who believe! Certainly, spacious is My earth. Therefore worship Me.) When things became too difficult for the believers in Makkah who were in a weak position and were oppressed, they left and migrated to Ethiopia, where they were able to practice their religion. The Muslims found Ethiopia the best place for guest; where Ashamah, the Negus or king, may Allah have mercy on him, gave them refuge, helped them, supported them, and honored them in his land. Later, the Messenger of Allah ﷺ and his remaining Companions migrated to Al-Madinah, formerly known as Yathrib, may Allah protect it. Then Allah says:
كُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَةُ الْمَوْتِ ثُمَّ إِلَيْنَا تُرْجَعُونَ
(Everyone shall taste death. Then unto Us you shall be returned.) meaning, `wherever you are, death with catch up with you, so always obey Allah and be where Allah commands you to be, for this is better for you. Death is inevitable and there is no escape from it, and then you will return to Allah, and whoever was obedient to Him will have the best reward.' Allah says:
وَالَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ الصَّـلِحَـتِ لَنُبَوِّئَنَّهُمْ مِّنَ الْجَنَّةِ غُرَفَاً تَجْرِى مِن تَحْتِهَا الاٌّنْهَـرُ
(And those who believe and do righteous good deeds, to them We shall surely give lofty dwellings in Paradise, underneath which rivers flow,) meaning, `We shall cause them to dwell in lofty homes in Paradise under which various kinds of rivers flow -- water, wine, honey and milk -- which they can direct and cause to flow wherever they wish.'
خَـلِدِينَ فِيهَآ
(to live therein forever.) means, they will remain there forever, never wanting to leave.
نِعْمَ أَجْرُ الْعَـمِلِينَ
(Excellent is the reward for the workers.) these rooms will be a blessed reward for the good deeds of the believers,
الَّذِينَ صَبَرُواْ
(Those who are patient,) in adhering to their religion, who migrated for the sake of Allah and fought the enemy, leaving behind their families and relatives to seek Allah's Face, and hoping for that which is with Him, believing His promise. Ibn Abi Hatim, may Allah have mercy on him, recorded from Abu Mu`aniq Al-Ash`ari that Abu Malik Al-Ash`ari told him that the Messenger of Allah ﷺ told him:
«إِنَّ فِي الْجَنَّةِ غُرَفًا يُرَى ظَاهِرُهَا مِنْ بَاطِنِهَا، وَبَاطِنُهَا مِنْ ظَاهِرِهَا، أَعَدَّهَا اللهُ تَعَالَى لِمَنْ أَطْعَمَ الطَّعَامَ، وَأَطَابَ الْكَلَامَ، وَتَابَعَ الصَّلَاةَ وَالصِّيَامَ، وَقَامَ بِاللَّيْلِ وَالنَّاسُ نِيَام»
(In Paradise there are rooms whose outside can be seen from the inside, and their inside can be seen from the outside; Allah has prepared them for those who feed others, who speak well, who pray and fast continually, and who stand in prayer at night while people are asleep.)
وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ
(and put their trust in their Lord.) in all their affairs, spiritual and worldly alike. Then Allah tells us that provision is not limited only to one place, but it is given to all His creatures no matter where they are. Indeed, when the Muhajirin migrated, their provision was greater and better than before, because after a short time they became rulers in the land, in all regions. Allah says:
وَكَأَيِّن مِّن دَآبَّةٍ لاَّ تَحْمِلُ رِزْقَهَا
(And so many a moving creature carries not its own provision!) meaning, it does not have the ability to gather its provision and save it for tomorrow.
اللَّهُ يَرْزُقُهَا وَإِيَّاكُمْ
(Allah provides for it and for you.) means, Allah allots its provision to it even though it is weak, and makes it easy for it. He sends provision to every creature in the appropriate manner, even the ants in the depths of the earth, the birds in the air and the fish in the sea. Allah says:
وَمَا مِن دَآبَّةٍ فِي الاٌّرْضِ إِلاَّ عَلَى اللَّهِ رِزْقُهَا وَيَعْلَمُ مُسْتَقَرَّهَا وَمُسْتَوْدَعَهَا كُلٌّ فِى كِتَابٍ مُّبِينٍ
(And no moving creature is there on earth but its provision is due from Allah. And He knows its dwelling place and its deposit. All is in a Clear Book.) (11:6)
وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ
(And He is the All-Hearer, the All-Knower.) means, He hears all that His servants say and He knows their every movements.
مہاجرین کے لیے انعامات الٰہی اللہ تبارک وتعالیٰ اس آیت میں ایمان والوں کو ہجرت کا حکم دیتا ہے کہ جہاں وہ دین کو قائم نہ رکھ سکتے ہوں وہاں سے اس جگہ چلے جائیں جہاں ان کے دین میں انہیں آزادی رہے اللہ کی زمین بہت کشادہ ہے جہاں وہ فرمان اللہ کے ماتحت اللہ کی عبادت و توحید بجالاسکیں وہاں چلے جائیں۔ مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں تمام شہر اللہ کے شہر ہیں اور کل بندے اللہ کے غلام ہیں جہاں تو بھلائی پاسکتا ہو وہیں قیام کر چناچہ صحابہ اکرام پر جب مکہ شریف کی رہائش مشکل ہوگئی تو وہ ہجرت کرکے حبشہ چلے گئے تاکہ امن وامان کے ساتھ اللہ کے دین پر قیام کرسکیں وہاں کے سمجھدار دیندار بادشاہ اصحمہ نجاشی نے ان کی پوری تائید ونصرت کی اور وہاں وہ بہت عزت اور خوشی سے رہے سہے۔ پھر اس کے بعد بااجازت الٰہی دوسرے صحابہ نے اور خود حضور ﷺ نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی۔ بعد ازاں فرماتا ہے کہ تم میں سے ہر ایک مرنے والا اور میرے سامنے حاضر ہونے والا ہے۔ تم خواہ کہیں ہو موت کے نیچے سے نجات نہیں پاسکتے پس تمہیں زندگی بھر اللہ کی اطاعت میں اور اس کے راضی کرنے میں رہنا چاہئے تاکہ مرنے کے بعد اللہ کے ہاں جاکر عذاب میں نہ پھنسو۔ ایماندار نیک اعمال لوگوں کو اللہ تعالیٰ جنت عدن کی بلندی وبالا منزلوں میں پہنچائے گا۔ جن کے نیچے قسم قسم کی نہریں بہہ رہی ہیں۔ کہیں صاف شفاف پانی کی کہیں شراب طہور کی کہیں شہد کی کہیں دودھ کی۔ یہ چشمیں خود بخود جہاں چاہیں بہنے لگیں گے۔ یہ وہاں رہیں گے نہ وہاں سے نکالیں جائیں نہ ہٹائے جائیں گے نہ وہ نعمتیں ختم ہونگی نہ ان میں گھاٹا آئے گا۔ مومنوں کے نیک اعمال پر جنتی بالا خانے انہیں مبارک ہوں۔ جنہوں نے اپنے سچے دین پر صبر کیا اور اللہ کی طرف ہجرت کی۔ اس کے دشمنوں کو ترک کیا اپنے اقرباء اور اپنے گھر والوں کو راہ اللہ میں چھوڑا اس کی نعمتوں اور اس کے انعامات کی امید پر دنیا کے عیش و عشرت پر لات ماردی۔ ابن ابی حاتم میں ہے۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جنت میں ایسے بالاخانے ہیں جن کا ظاہر باطن سے نظر آتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے بنائے ہیں جو کھانا کھلائیں خوش کلام نرم گو ہوں۔ روزے نماز کے پابند ہوں اور راتوں کو جبکہ لوگ سوتے ہوئے ہوں۔ یہ نمازیں پڑھتے ہوں اور اپنے کل احوال میں دینی ہوں یا دنیوی اپنے رب پر کامل بھروسہ رکھتے ہوں۔ پھر فرمایا کہ رزق کسی جگہ کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا تقیسم کیا ہوا رزق عام ہے اور ہر جگہ جو جہاں ہو اسے وہ وہیں پہنچ جاتا ہے۔ مہاجرین کے رزق میں ہجرت کے بعد اللہ نے وہ برکتیں دیں کہ یہ دنیا کے کناروں کے مالک ہوگئے اور بادشاہ بن گئے فرمایا کہ بہت سے جانور ہیں جو اپنے رزق کے جمع کرنے کی طاقت نہیں رکھتے اللہ کے ذمہ ان کی روزیاں ہیں۔ پروردگار انہیں ان کے رزق پہنچا دیتا ہے۔ تمہارا رازق بھی وہی ہے وہ کسی بھی صورت اپنی مخلوق کو نہیں بھولتا۔ چینٹیوں کو ان کے سوراخوں میں پرندوں کو آسمان و زمین کے خلا میں مچھلیوں کو پانی میں وہی رزق پہنچاتا ہے۔ جیسے فرمایا آیت (وَمَا مِنْ دَاۗبَّةٍ فِي الْاَرْضِ اِلَّا عَلَي اللّٰهِ رِزْقُهَا وَيَعْلَمُ مُسْتَــقَرَّهَا وَمُسْـتَوْدَعَهَا ۭ كُلٌّ فِيْ كِتٰبٍ مُّبِيْنٍ) 11۔ ھود :6) یعنی کوئی جانور روئے زمین پر ایسا نہیں کہ اس کی روزی اللہ کے ذمہ نہ ہو وہی ان کے ٹھہرنے اور رہنے سہنے کی جگہ کو بخوبی جانتا ہے یہ سب اس کی روشن کتاب میں موجود ہے۔ ابن ابی حاتم میں ہے ابن عمر فرماتے ہیں میں رسول ﷺ کے ساتھ چلا آپ مدینے کے باغات میں سے ایک باغ میں گئے۔ اور گری پڑی ردی کھجوریں کھول کھول کر صاف کرکے کھانے لگے۔ مجھ سے بھی کھانے کو فرمایا۔ میں نے کہا حضور ﷺ مجھ سے تو یہ ردی کجھوریں نہیں کھائی جائیں گی۔ آپ نے فرمایا لیکن مجھے تو یہ بہت اچھی معلوم ہوتی ہیں۔ اس لئے کہ چوتھے دن کی صبح ہے کہ میں نے کھانا نہیں کھایا اور نہ کھانے کی وجہ یہ ہے کہ مجھے کھانا ملا ہی نہیں۔ سنو اگر میں چاہتا تو اللہ سے دعا کرتا اور اللہ مجھے قیصر وکسریٰ کا ملک دے دیتا۔ اے ابن عمر تیرا کیا حال ہوگا جبکہ تو ایسے لوگوں میں ہوگا جو سال سال بھر کے غلے وغیرہ جمع کرلیاکریں گے۔ اور ان کا یقین اور توکل بالکل بودا ہوجائے گا۔ ہم ابھی تو وہیں اسی حالت میں تھے جو آیت (وکاین الخ) ، نازل ہوئی۔ پس رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ عزوجل نے مجھے دنیا کے خزانے جمع کرنے کا اور خواہشوں کے پیچھے لگ جانے کا حکم نہیں کیا جو شخص دنیا کے خزانے جمع کرے اور اس سے باقی والی زندگی چاہے وہ سمجھ لے کہ باقی رہنے والی حیات تو اللہ کے ہاتھ ہے۔ دیکھو میں تو نہ دینار ودرہم جمع کروں نہ کل کے لئے آج روزی کا ذخیرہ جمع کر رکھوں۔ یہ حدیث غریب ہے اور اس کا راوی ابو العطوف جزی ضعیف ہے۔ یہ مشہور ہے کہ کوے کے بچے جب نکلتے ہیں تو ان کے پر وبال سفید ہوتے ہیں یہ دیکھ کر کوا ان سے نفرت کرکے بھاگ جاتا ہے کچھ دنوں کے بعد ان پروں کی رنگت سیاہ ہوجاتی ہے تب ان کے ماں باپ آتے ہیں اور انہیں دانہ وغیرہ کھلاتے ہیں ابتدائی ایام میں جبکہ ماں باپ ان چھوٹے بچوں سے متنفر ہو کر بھاگ جاتے ہیں اور ان کے پاس بھی نہیں آتے اس وقت اللہ تعالیٰ چھوٹے چھوٹے مچھر ان کے پاس بھیج دیتا ہے وہی ان کی غذا بن جاتے ہیں۔ عرب کے شعراء نے اسے نظم بھی کیا ہے۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ سفر کرو تاکہ صحت اور روزی پاؤ اور حدیث میں ہے کہ سفر کرو تاکہ صحت و غنیمت ملے۔ اور حدیث میں ہے کہ سفر کرو نفع اٹھاؤ گے روزے رکھو تندرست رہو گے جہاد کرو غنیمت ملے گی۔ ایک اور روایت میں ہے جد والوں اور آسانی والوں کے ساتھ سفر کرو۔ پھر فرمایا اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی باتیں سننے والا اور ان کی حرکات و سکنات کو جاننے والا ہے۔
59
View Single
ٱلَّذِينَ صَبَرُواْ وَعَلَىٰ رَبِّهِمۡ يَتَوَكَّلُونَ
Those who patiently endured and who rely only upon their Lord.
(یہ وہ لوگ ہیں) جنہوں نے صبر کیا اور اپنے رب پر ہی توکّل کرتے رہے
Tafsir Ibn Kathir
Advice to migrate and the Promise of Provision and a Goodly Reward
Allah commands His believing servants to migrate from a land in which they are not able to establish Islam, to the spacious earth of Allah where they can do so, by declaring Allah to be One and worshipping Him as He has commanded. Allah says:
يَعِبَادِىَ الَّذِينَ ءَامَنُواْ إِنَّ أَرْضِى وَاسِعَةٌ فَإِيَّاىَ فَاعْبُدُونِ
(O My servants who believe! Certainly, spacious is My earth. Therefore worship Me.) When things became too difficult for the believers in Makkah who were in a weak position and were oppressed, they left and migrated to Ethiopia, where they were able to practice their religion. The Muslims found Ethiopia the best place for guest; where Ashamah, the Negus or king, may Allah have mercy on him, gave them refuge, helped them, supported them, and honored them in his land. Later, the Messenger of Allah ﷺ and his remaining Companions migrated to Al-Madinah, formerly known as Yathrib, may Allah protect it. Then Allah says:
كُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَةُ الْمَوْتِ ثُمَّ إِلَيْنَا تُرْجَعُونَ
(Everyone shall taste death. Then unto Us you shall be returned.) meaning, `wherever you are, death with catch up with you, so always obey Allah and be where Allah commands you to be, for this is better for you. Death is inevitable and there is no escape from it, and then you will return to Allah, and whoever was obedient to Him will have the best reward.' Allah says:
وَالَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ الصَّـلِحَـتِ لَنُبَوِّئَنَّهُمْ مِّنَ الْجَنَّةِ غُرَفَاً تَجْرِى مِن تَحْتِهَا الاٌّنْهَـرُ
(And those who believe and do righteous good deeds, to them We shall surely give lofty dwellings in Paradise, underneath which rivers flow,) meaning, `We shall cause them to dwell in lofty homes in Paradise under which various kinds of rivers flow -- water, wine, honey and milk -- which they can direct and cause to flow wherever they wish.'
خَـلِدِينَ فِيهَآ
(to live therein forever.) means, they will remain there forever, never wanting to leave.
نِعْمَ أَجْرُ الْعَـمِلِينَ
(Excellent is the reward for the workers.) these rooms will be a blessed reward for the good deeds of the believers,
الَّذِينَ صَبَرُواْ
(Those who are patient,) in adhering to their religion, who migrated for the sake of Allah and fought the enemy, leaving behind their families and relatives to seek Allah's Face, and hoping for that which is with Him, believing His promise. Ibn Abi Hatim, may Allah have mercy on him, recorded from Abu Mu`aniq Al-Ash`ari that Abu Malik Al-Ash`ari told him that the Messenger of Allah ﷺ told him:
«إِنَّ فِي الْجَنَّةِ غُرَفًا يُرَى ظَاهِرُهَا مِنْ بَاطِنِهَا، وَبَاطِنُهَا مِنْ ظَاهِرِهَا، أَعَدَّهَا اللهُ تَعَالَى لِمَنْ أَطْعَمَ الطَّعَامَ، وَأَطَابَ الْكَلَامَ، وَتَابَعَ الصَّلَاةَ وَالصِّيَامَ، وَقَامَ بِاللَّيْلِ وَالنَّاسُ نِيَام»
(In Paradise there are rooms whose outside can be seen from the inside, and their inside can be seen from the outside; Allah has prepared them for those who feed others, who speak well, who pray and fast continually, and who stand in prayer at night while people are asleep.)
وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ
(and put their trust in their Lord.) in all their affairs, spiritual and worldly alike. Then Allah tells us that provision is not limited only to one place, but it is given to all His creatures no matter where they are. Indeed, when the Muhajirin migrated, their provision was greater and better than before, because after a short time they became rulers in the land, in all regions. Allah says:
وَكَأَيِّن مِّن دَآبَّةٍ لاَّ تَحْمِلُ رِزْقَهَا
(And so many a moving creature carries not its own provision!) meaning, it does not have the ability to gather its provision and save it for tomorrow.
اللَّهُ يَرْزُقُهَا وَإِيَّاكُمْ
(Allah provides for it and for you.) means, Allah allots its provision to it even though it is weak, and makes it easy for it. He sends provision to every creature in the appropriate manner, even the ants in the depths of the earth, the birds in the air and the fish in the sea. Allah says:
وَمَا مِن دَآبَّةٍ فِي الاٌّرْضِ إِلاَّ عَلَى اللَّهِ رِزْقُهَا وَيَعْلَمُ مُسْتَقَرَّهَا وَمُسْتَوْدَعَهَا كُلٌّ فِى كِتَابٍ مُّبِينٍ
(And no moving creature is there on earth but its provision is due from Allah. And He knows its dwelling place and its deposit. All is in a Clear Book.) (11:6)
وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ
(And He is the All-Hearer, the All-Knower.) means, He hears all that His servants say and He knows their every movements.
مہاجرین کے لیے انعامات الٰہی اللہ تبارک وتعالیٰ اس آیت میں ایمان والوں کو ہجرت کا حکم دیتا ہے کہ جہاں وہ دین کو قائم نہ رکھ سکتے ہوں وہاں سے اس جگہ چلے جائیں جہاں ان کے دین میں انہیں آزادی رہے اللہ کی زمین بہت کشادہ ہے جہاں وہ فرمان اللہ کے ماتحت اللہ کی عبادت و توحید بجالاسکیں وہاں چلے جائیں۔ مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں تمام شہر اللہ کے شہر ہیں اور کل بندے اللہ کے غلام ہیں جہاں تو بھلائی پاسکتا ہو وہیں قیام کر چناچہ صحابہ اکرام پر جب مکہ شریف کی رہائش مشکل ہوگئی تو وہ ہجرت کرکے حبشہ چلے گئے تاکہ امن وامان کے ساتھ اللہ کے دین پر قیام کرسکیں وہاں کے سمجھدار دیندار بادشاہ اصحمہ نجاشی نے ان کی پوری تائید ونصرت کی اور وہاں وہ بہت عزت اور خوشی سے رہے سہے۔ پھر اس کے بعد بااجازت الٰہی دوسرے صحابہ نے اور خود حضور ﷺ نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی۔ بعد ازاں فرماتا ہے کہ تم میں سے ہر ایک مرنے والا اور میرے سامنے حاضر ہونے والا ہے۔ تم خواہ کہیں ہو موت کے نیچے سے نجات نہیں پاسکتے پس تمہیں زندگی بھر اللہ کی اطاعت میں اور اس کے راضی کرنے میں رہنا چاہئے تاکہ مرنے کے بعد اللہ کے ہاں جاکر عذاب میں نہ پھنسو۔ ایماندار نیک اعمال لوگوں کو اللہ تعالیٰ جنت عدن کی بلندی وبالا منزلوں میں پہنچائے گا۔ جن کے نیچے قسم قسم کی نہریں بہہ رہی ہیں۔ کہیں صاف شفاف پانی کی کہیں شراب طہور کی کہیں شہد کی کہیں دودھ کی۔ یہ چشمیں خود بخود جہاں چاہیں بہنے لگیں گے۔ یہ وہاں رہیں گے نہ وہاں سے نکالیں جائیں نہ ہٹائے جائیں گے نہ وہ نعمتیں ختم ہونگی نہ ان میں گھاٹا آئے گا۔ مومنوں کے نیک اعمال پر جنتی بالا خانے انہیں مبارک ہوں۔ جنہوں نے اپنے سچے دین پر صبر کیا اور اللہ کی طرف ہجرت کی۔ اس کے دشمنوں کو ترک کیا اپنے اقرباء اور اپنے گھر والوں کو راہ اللہ میں چھوڑا اس کی نعمتوں اور اس کے انعامات کی امید پر دنیا کے عیش و عشرت پر لات ماردی۔ ابن ابی حاتم میں ہے۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جنت میں ایسے بالاخانے ہیں جن کا ظاہر باطن سے نظر آتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے بنائے ہیں جو کھانا کھلائیں خوش کلام نرم گو ہوں۔ روزے نماز کے پابند ہوں اور راتوں کو جبکہ لوگ سوتے ہوئے ہوں۔ یہ نمازیں پڑھتے ہوں اور اپنے کل احوال میں دینی ہوں یا دنیوی اپنے رب پر کامل بھروسہ رکھتے ہوں۔ پھر فرمایا کہ رزق کسی جگہ کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا تقیسم کیا ہوا رزق عام ہے اور ہر جگہ جو جہاں ہو اسے وہ وہیں پہنچ جاتا ہے۔ مہاجرین کے رزق میں ہجرت کے بعد اللہ نے وہ برکتیں دیں کہ یہ دنیا کے کناروں کے مالک ہوگئے اور بادشاہ بن گئے فرمایا کہ بہت سے جانور ہیں جو اپنے رزق کے جمع کرنے کی طاقت نہیں رکھتے اللہ کے ذمہ ان کی روزیاں ہیں۔ پروردگار انہیں ان کے رزق پہنچا دیتا ہے۔ تمہارا رازق بھی وہی ہے وہ کسی بھی صورت اپنی مخلوق کو نہیں بھولتا۔ چینٹیوں کو ان کے سوراخوں میں پرندوں کو آسمان و زمین کے خلا میں مچھلیوں کو پانی میں وہی رزق پہنچاتا ہے۔ جیسے فرمایا آیت (وَمَا مِنْ دَاۗبَّةٍ فِي الْاَرْضِ اِلَّا عَلَي اللّٰهِ رِزْقُهَا وَيَعْلَمُ مُسْتَــقَرَّهَا وَمُسْـتَوْدَعَهَا ۭ كُلٌّ فِيْ كِتٰبٍ مُّبِيْنٍ) 11۔ ھود :6) یعنی کوئی جانور روئے زمین پر ایسا نہیں کہ اس کی روزی اللہ کے ذمہ نہ ہو وہی ان کے ٹھہرنے اور رہنے سہنے کی جگہ کو بخوبی جانتا ہے یہ سب اس کی روشن کتاب میں موجود ہے۔ ابن ابی حاتم میں ہے ابن عمر فرماتے ہیں میں رسول ﷺ کے ساتھ چلا آپ مدینے کے باغات میں سے ایک باغ میں گئے۔ اور گری پڑی ردی کھجوریں کھول کھول کر صاف کرکے کھانے لگے۔ مجھ سے بھی کھانے کو فرمایا۔ میں نے کہا حضور ﷺ مجھ سے تو یہ ردی کجھوریں نہیں کھائی جائیں گی۔ آپ نے فرمایا لیکن مجھے تو یہ بہت اچھی معلوم ہوتی ہیں۔ اس لئے کہ چوتھے دن کی صبح ہے کہ میں نے کھانا نہیں کھایا اور نہ کھانے کی وجہ یہ ہے کہ مجھے کھانا ملا ہی نہیں۔ سنو اگر میں چاہتا تو اللہ سے دعا کرتا اور اللہ مجھے قیصر وکسریٰ کا ملک دے دیتا۔ اے ابن عمر تیرا کیا حال ہوگا جبکہ تو ایسے لوگوں میں ہوگا جو سال سال بھر کے غلے وغیرہ جمع کرلیاکریں گے۔ اور ان کا یقین اور توکل بالکل بودا ہوجائے گا۔ ہم ابھی تو وہیں اسی حالت میں تھے جو آیت (وکاین الخ) ، نازل ہوئی۔ پس رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ عزوجل نے مجھے دنیا کے خزانے جمع کرنے کا اور خواہشوں کے پیچھے لگ جانے کا حکم نہیں کیا جو شخص دنیا کے خزانے جمع کرے اور اس سے باقی والی زندگی چاہے وہ سمجھ لے کہ باقی رہنے والی حیات تو اللہ کے ہاتھ ہے۔ دیکھو میں تو نہ دینار ودرہم جمع کروں نہ کل کے لئے آج روزی کا ذخیرہ جمع کر رکھوں۔ یہ حدیث غریب ہے اور اس کا راوی ابو العطوف جزی ضعیف ہے۔ یہ مشہور ہے کہ کوے کے بچے جب نکلتے ہیں تو ان کے پر وبال سفید ہوتے ہیں یہ دیکھ کر کوا ان سے نفرت کرکے بھاگ جاتا ہے کچھ دنوں کے بعد ان پروں کی رنگت سیاہ ہوجاتی ہے تب ان کے ماں باپ آتے ہیں اور انہیں دانہ وغیرہ کھلاتے ہیں ابتدائی ایام میں جبکہ ماں باپ ان چھوٹے بچوں سے متنفر ہو کر بھاگ جاتے ہیں اور ان کے پاس بھی نہیں آتے اس وقت اللہ تعالیٰ چھوٹے چھوٹے مچھر ان کے پاس بھیج دیتا ہے وہی ان کی غذا بن جاتے ہیں۔ عرب کے شعراء نے اسے نظم بھی کیا ہے۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ سفر کرو تاکہ صحت اور روزی پاؤ اور حدیث میں ہے کہ سفر کرو تاکہ صحت و غنیمت ملے۔ اور حدیث میں ہے کہ سفر کرو نفع اٹھاؤ گے روزے رکھو تندرست رہو گے جہاد کرو غنیمت ملے گی۔ ایک اور روایت میں ہے جد والوں اور آسانی والوں کے ساتھ سفر کرو۔ پھر فرمایا اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی باتیں سننے والا اور ان کی حرکات و سکنات کو جاننے والا ہے۔
60
View Single
وَكَأَيِّن مِّن دَآبَّةٖ لَّا تَحۡمِلُ رِزۡقَهَا ٱللَّهُ يَرۡزُقُهَا وَإِيَّاكُمۡۚ وَهُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلۡعَلِيمُ
And many creatures walk upon the earth that do not carry their own sustenance; Allah provides the sustenance to them and to you; and only He is the All Hearing, the All Knowing.
اور کتنے ہی جانور ہیں جو اپنی روزی (اپنے ساتھ) نہیں اٹھائے پھرتے، اللہ انہیں بھی رزق عطا کرتا ہے اور تمہیں بھی، اور وہ خوب سننے والا جاننے والا ہے
Tafsir Ibn Kathir
Advice to migrate and the Promise of Provision and a Goodly Reward
Allah commands His believing servants to migrate from a land in which they are not able to establish Islam, to the spacious earth of Allah where they can do so, by declaring Allah to be One and worshipping Him as He has commanded. Allah says:
يَعِبَادِىَ الَّذِينَ ءَامَنُواْ إِنَّ أَرْضِى وَاسِعَةٌ فَإِيَّاىَ فَاعْبُدُونِ
(O My servants who believe! Certainly, spacious is My earth. Therefore worship Me.) When things became too difficult for the believers in Makkah who were in a weak position and were oppressed, they left and migrated to Ethiopia, where they were able to practice their religion. The Muslims found Ethiopia the best place for guest; where Ashamah, the Negus or king, may Allah have mercy on him, gave them refuge, helped them, supported them, and honored them in his land. Later, the Messenger of Allah ﷺ and his remaining Companions migrated to Al-Madinah, formerly known as Yathrib, may Allah protect it. Then Allah says:
كُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَةُ الْمَوْتِ ثُمَّ إِلَيْنَا تُرْجَعُونَ
(Everyone shall taste death. Then unto Us you shall be returned.) meaning, `wherever you are, death with catch up with you, so always obey Allah and be where Allah commands you to be, for this is better for you. Death is inevitable and there is no escape from it, and then you will return to Allah, and whoever was obedient to Him will have the best reward.' Allah says:
وَالَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ الصَّـلِحَـتِ لَنُبَوِّئَنَّهُمْ مِّنَ الْجَنَّةِ غُرَفَاً تَجْرِى مِن تَحْتِهَا الاٌّنْهَـرُ
(And those who believe and do righteous good deeds, to them We shall surely give lofty dwellings in Paradise, underneath which rivers flow,) meaning, `We shall cause them to dwell in lofty homes in Paradise under which various kinds of rivers flow -- water, wine, honey and milk -- which they can direct and cause to flow wherever they wish.'
خَـلِدِينَ فِيهَآ
(to live therein forever.) means, they will remain there forever, never wanting to leave.
نِعْمَ أَجْرُ الْعَـمِلِينَ
(Excellent is the reward for the workers.) these rooms will be a blessed reward for the good deeds of the believers,
الَّذِينَ صَبَرُواْ
(Those who are patient,) in adhering to their religion, who migrated for the sake of Allah and fought the enemy, leaving behind their families and relatives to seek Allah's Face, and hoping for that which is with Him, believing His promise. Ibn Abi Hatim, may Allah have mercy on him, recorded from Abu Mu`aniq Al-Ash`ari that Abu Malik Al-Ash`ari told him that the Messenger of Allah ﷺ told him:
«إِنَّ فِي الْجَنَّةِ غُرَفًا يُرَى ظَاهِرُهَا مِنْ بَاطِنِهَا، وَبَاطِنُهَا مِنْ ظَاهِرِهَا، أَعَدَّهَا اللهُ تَعَالَى لِمَنْ أَطْعَمَ الطَّعَامَ، وَأَطَابَ الْكَلَامَ، وَتَابَعَ الصَّلَاةَ وَالصِّيَامَ، وَقَامَ بِاللَّيْلِ وَالنَّاسُ نِيَام»
(In Paradise there are rooms whose outside can be seen from the inside, and their inside can be seen from the outside; Allah has prepared them for those who feed others, who speak well, who pray and fast continually, and who stand in prayer at night while people are asleep.)
وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ
(and put their trust in their Lord.) in all their affairs, spiritual and worldly alike. Then Allah tells us that provision is not limited only to one place, but it is given to all His creatures no matter where they are. Indeed, when the Muhajirin migrated, their provision was greater and better than before, because after a short time they became rulers in the land, in all regions. Allah says:
وَكَأَيِّن مِّن دَآبَّةٍ لاَّ تَحْمِلُ رِزْقَهَا
(And so many a moving creature carries not its own provision!) meaning, it does not have the ability to gather its provision and save it for tomorrow.
اللَّهُ يَرْزُقُهَا وَإِيَّاكُمْ
(Allah provides for it and for you.) means, Allah allots its provision to it even though it is weak, and makes it easy for it. He sends provision to every creature in the appropriate manner, even the ants in the depths of the earth, the birds in the air and the fish in the sea. Allah says:
وَمَا مِن دَآبَّةٍ فِي الاٌّرْضِ إِلاَّ عَلَى اللَّهِ رِزْقُهَا وَيَعْلَمُ مُسْتَقَرَّهَا وَمُسْتَوْدَعَهَا كُلٌّ فِى كِتَابٍ مُّبِينٍ
(And no moving creature is there on earth but its provision is due from Allah. And He knows its dwelling place and its deposit. All is in a Clear Book.) (11:6)
وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ
(And He is the All-Hearer, the All-Knower.) means, He hears all that His servants say and He knows their every movements.
مہاجرین کے لیے انعامات الٰہی اللہ تبارک وتعالیٰ اس آیت میں ایمان والوں کو ہجرت کا حکم دیتا ہے کہ جہاں وہ دین کو قائم نہ رکھ سکتے ہوں وہاں سے اس جگہ چلے جائیں جہاں ان کے دین میں انہیں آزادی رہے اللہ کی زمین بہت کشادہ ہے جہاں وہ فرمان اللہ کے ماتحت اللہ کی عبادت و توحید بجالاسکیں وہاں چلے جائیں۔ مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں تمام شہر اللہ کے شہر ہیں اور کل بندے اللہ کے غلام ہیں جہاں تو بھلائی پاسکتا ہو وہیں قیام کر چناچہ صحابہ اکرام پر جب مکہ شریف کی رہائش مشکل ہوگئی تو وہ ہجرت کرکے حبشہ چلے گئے تاکہ امن وامان کے ساتھ اللہ کے دین پر قیام کرسکیں وہاں کے سمجھدار دیندار بادشاہ اصحمہ نجاشی نے ان کی پوری تائید ونصرت کی اور وہاں وہ بہت عزت اور خوشی سے رہے سہے۔ پھر اس کے بعد بااجازت الٰہی دوسرے صحابہ نے اور خود حضور ﷺ نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی۔ بعد ازاں فرماتا ہے کہ تم میں سے ہر ایک مرنے والا اور میرے سامنے حاضر ہونے والا ہے۔ تم خواہ کہیں ہو موت کے نیچے سے نجات نہیں پاسکتے پس تمہیں زندگی بھر اللہ کی اطاعت میں اور اس کے راضی کرنے میں رہنا چاہئے تاکہ مرنے کے بعد اللہ کے ہاں جاکر عذاب میں نہ پھنسو۔ ایماندار نیک اعمال لوگوں کو اللہ تعالیٰ جنت عدن کی بلندی وبالا منزلوں میں پہنچائے گا۔ جن کے نیچے قسم قسم کی نہریں بہہ رہی ہیں۔ کہیں صاف شفاف پانی کی کہیں شراب طہور کی کہیں شہد کی کہیں دودھ کی۔ یہ چشمیں خود بخود جہاں چاہیں بہنے لگیں گے۔ یہ وہاں رہیں گے نہ وہاں سے نکالیں جائیں نہ ہٹائے جائیں گے نہ وہ نعمتیں ختم ہونگی نہ ان میں گھاٹا آئے گا۔ مومنوں کے نیک اعمال پر جنتی بالا خانے انہیں مبارک ہوں۔ جنہوں نے اپنے سچے دین پر صبر کیا اور اللہ کی طرف ہجرت کی۔ اس کے دشمنوں کو ترک کیا اپنے اقرباء اور اپنے گھر والوں کو راہ اللہ میں چھوڑا اس کی نعمتوں اور اس کے انعامات کی امید پر دنیا کے عیش و عشرت پر لات ماردی۔ ابن ابی حاتم میں ہے۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جنت میں ایسے بالاخانے ہیں جن کا ظاہر باطن سے نظر آتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے بنائے ہیں جو کھانا کھلائیں خوش کلام نرم گو ہوں۔ روزے نماز کے پابند ہوں اور راتوں کو جبکہ لوگ سوتے ہوئے ہوں۔ یہ نمازیں پڑھتے ہوں اور اپنے کل احوال میں دینی ہوں یا دنیوی اپنے رب پر کامل بھروسہ رکھتے ہوں۔ پھر فرمایا کہ رزق کسی جگہ کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا تقیسم کیا ہوا رزق عام ہے اور ہر جگہ جو جہاں ہو اسے وہ وہیں پہنچ جاتا ہے۔ مہاجرین کے رزق میں ہجرت کے بعد اللہ نے وہ برکتیں دیں کہ یہ دنیا کے کناروں کے مالک ہوگئے اور بادشاہ بن گئے فرمایا کہ بہت سے جانور ہیں جو اپنے رزق کے جمع کرنے کی طاقت نہیں رکھتے اللہ کے ذمہ ان کی روزیاں ہیں۔ پروردگار انہیں ان کے رزق پہنچا دیتا ہے۔ تمہارا رازق بھی وہی ہے وہ کسی بھی صورت اپنی مخلوق کو نہیں بھولتا۔ چینٹیوں کو ان کے سوراخوں میں پرندوں کو آسمان و زمین کے خلا میں مچھلیوں کو پانی میں وہی رزق پہنچاتا ہے۔ جیسے فرمایا آیت (وَمَا مِنْ دَاۗبَّةٍ فِي الْاَرْضِ اِلَّا عَلَي اللّٰهِ رِزْقُهَا وَيَعْلَمُ مُسْتَــقَرَّهَا وَمُسْـتَوْدَعَهَا ۭ كُلٌّ فِيْ كِتٰبٍ مُّبِيْنٍ) 11۔ ھود :6) یعنی کوئی جانور روئے زمین پر ایسا نہیں کہ اس کی روزی اللہ کے ذمہ نہ ہو وہی ان کے ٹھہرنے اور رہنے سہنے کی جگہ کو بخوبی جانتا ہے یہ سب اس کی روشن کتاب میں موجود ہے۔ ابن ابی حاتم میں ہے ابن عمر فرماتے ہیں میں رسول ﷺ کے ساتھ چلا آپ مدینے کے باغات میں سے ایک باغ میں گئے۔ اور گری پڑی ردی کھجوریں کھول کھول کر صاف کرکے کھانے لگے۔ مجھ سے بھی کھانے کو فرمایا۔ میں نے کہا حضور ﷺ مجھ سے تو یہ ردی کجھوریں نہیں کھائی جائیں گی۔ آپ نے فرمایا لیکن مجھے تو یہ بہت اچھی معلوم ہوتی ہیں۔ اس لئے کہ چوتھے دن کی صبح ہے کہ میں نے کھانا نہیں کھایا اور نہ کھانے کی وجہ یہ ہے کہ مجھے کھانا ملا ہی نہیں۔ سنو اگر میں چاہتا تو اللہ سے دعا کرتا اور اللہ مجھے قیصر وکسریٰ کا ملک دے دیتا۔ اے ابن عمر تیرا کیا حال ہوگا جبکہ تو ایسے لوگوں میں ہوگا جو سال سال بھر کے غلے وغیرہ جمع کرلیاکریں گے۔ اور ان کا یقین اور توکل بالکل بودا ہوجائے گا۔ ہم ابھی تو وہیں اسی حالت میں تھے جو آیت (وکاین الخ) ، نازل ہوئی۔ پس رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ عزوجل نے مجھے دنیا کے خزانے جمع کرنے کا اور خواہشوں کے پیچھے لگ جانے کا حکم نہیں کیا جو شخص دنیا کے خزانے جمع کرے اور اس سے باقی والی زندگی چاہے وہ سمجھ لے کہ باقی رہنے والی حیات تو اللہ کے ہاتھ ہے۔ دیکھو میں تو نہ دینار ودرہم جمع کروں نہ کل کے لئے آج روزی کا ذخیرہ جمع کر رکھوں۔ یہ حدیث غریب ہے اور اس کا راوی ابو العطوف جزی ضعیف ہے۔ یہ مشہور ہے کہ کوے کے بچے جب نکلتے ہیں تو ان کے پر وبال سفید ہوتے ہیں یہ دیکھ کر کوا ان سے نفرت کرکے بھاگ جاتا ہے کچھ دنوں کے بعد ان پروں کی رنگت سیاہ ہوجاتی ہے تب ان کے ماں باپ آتے ہیں اور انہیں دانہ وغیرہ کھلاتے ہیں ابتدائی ایام میں جبکہ ماں باپ ان چھوٹے بچوں سے متنفر ہو کر بھاگ جاتے ہیں اور ان کے پاس بھی نہیں آتے اس وقت اللہ تعالیٰ چھوٹے چھوٹے مچھر ان کے پاس بھیج دیتا ہے وہی ان کی غذا بن جاتے ہیں۔ عرب کے شعراء نے اسے نظم بھی کیا ہے۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ سفر کرو تاکہ صحت اور روزی پاؤ اور حدیث میں ہے کہ سفر کرو تاکہ صحت و غنیمت ملے۔ اور حدیث میں ہے کہ سفر کرو نفع اٹھاؤ گے روزے رکھو تندرست رہو گے جہاد کرو غنیمت ملے گی۔ ایک اور روایت میں ہے جد والوں اور آسانی والوں کے ساتھ سفر کرو۔ پھر فرمایا اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی باتیں سننے والا اور ان کی حرکات و سکنات کو جاننے والا ہے۔
61
View Single
وَلَئِن سَأَلۡتَهُم مَّنۡ خَلَقَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضَ وَسَخَّرَ ٱلشَّمۡسَ وَٱلۡقَمَرَ لَيَقُولُنَّ ٱللَّهُۖ فَأَنَّىٰ يُؤۡفَكُونَ
And if you ask them, “Who created the heavens and the earth, and subjected the sun and the moon?”, they will surely say, “Allah”; so where are they reverting?
اور اگر آپ اِن (کفّار) سے پوچھیں کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا اور سورج اور چاند کو کس نے تابع فرمان بنا دیا، تو وہ ضرور کہہ دیں گے: اللہ نے، پھر وہ کدھر الٹے جا رہے ہیں
Tafsir Ibn Kathir
Evidences of Tawhid
Allah states that there is no God but He. The idolators who worshipped others besides Him recognized that He was the sole creator of the heavens and earth, the sun and the moon, alternating the night and day. They acknowledged that He was the Creator Who provided for His servants and decreed how long they should live. He made them and their provision different, so that some were rich and some were poor, and He knew best what was suitable for each of them, who deserved to be rich and who deserved to be poor. So, Allah stated that He has alone created everything, and that He alone is controlling them -- if this is how it is, then why worship anyone else Why put one's trust in anyone else Since dominion is His Alone, then let worship be for Him Alone. Allah often establishes His divinity by referring to their acknowledgement of His Unique Lordship, because the idolators used to acknowledge His Lordship, as they said in their Talbiyah (during Hajj and `Umrah: "At Your service, You have no partner, except the partner that You have, and You possess him and whatever he has."
توحید ربویت توحید الوہیت اللہ تعالیٰ ثابت کرتا ہے کہ معبود برحق صرف وہی ہے۔ خود مشرکین بھی اس بات کے قائل ہیں کہ آسمان و زمین کا پیدا کرنے والا سورج کو مسخر کرنے والا دن رات کو پے درپے لانے والا خالق رازق موت وحیات پر قادر صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ وہ خوب جانتا ہے کہ غنا کے لائق کون ہے اور فقر کے لائق کون ہے ؟ اپنے بندوں کی مصلحتیں اس کو پوری طرح معلوم ہیں۔ پس جبکہ مشرکین خود مانتے ہیں کہ تمام چیزوں کا خالق صرف اللہ تعالیٰ ہے سب پر قابض صرف وہی ہے پھر اس کے سوا دوسروں کی عبادت کیوں کرتے ہیں ؟ اور اس کے سوا دوسروں پر توکل کیوں کرتے ہیں ؟ جبکہ ملک کا مالک وہ تنہا ہے تو عبادتوں کے لائق بھی وہ اکیلا ہے۔ توحید ربوبیت کو مان کر پھر توحید الوہیت سے انحراف عجیب چیز ہے قرآن کریم میں توحید ربوبیت کے ساتھ ہی توحید الوہیت کا ذکر بکثرت سے اس لئے ہے کہ توحید ربویت کے قائل مشرکین مکہ تو تھے ہی انہیں قائل معقول کرکے پھر توحید الوہیت کی طرف دعوت دی جاتی ہے۔ مشرکین حج و عمرے میں لبیک پکارتے ہوئے بھی اللہ کے لاشریک ہونے کا اقرار کرتے تھے لبیک لاشریک لک الا شریکا ھو لک تملکہ وماملک یعنی یا اللہ ہم حاضر ہوئے تیرا کوئی شریک نہیں مگر ایسے شریک کہ جن کا مالک اور جن کے ملک کا مالک بھی تو ہی ہے۔
62
View Single
ٱللَّهُ يَبۡسُطُ ٱلرِّزۡقَ لِمَن يَشَآءُ مِنۡ عِبَادِهِۦ وَيَقۡدِرُ لَهُۥٓۚ إِنَّ ٱللَّهَ بِكُلِّ شَيۡءٍ عَلِيمٞ
Allah eases the sustenance for whomever He wills among His bondmen, and restricts it for whomever He wills; indeed Allah knows all things.
اللہ اپنے بندوں میں سے جس کے لئے چاہتا ہے رزق کشادہ فرما دیتا ہے، اور جس کے لئے (چاہتا ہے) تنگ کر دیتا ہے، بیشک اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے
Tafsir Ibn Kathir
Evidences of Tawhid
Allah states that there is no God but He. The idolators who worshipped others besides Him recognized that He was the sole creator of the heavens and earth, the sun and the moon, alternating the night and day. They acknowledged that He was the Creator Who provided for His servants and decreed how long they should live. He made them and their provision different, so that some were rich and some were poor, and He knew best what was suitable for each of them, who deserved to be rich and who deserved to be poor. So, Allah stated that He has alone created everything, and that He alone is controlling them -- if this is how it is, then why worship anyone else Why put one's trust in anyone else Since dominion is His Alone, then let worship be for Him Alone. Allah often establishes His divinity by referring to their acknowledgement of His Unique Lordship, because the idolators used to acknowledge His Lordship, as they said in their Talbiyah (during Hajj and `Umrah: "At Your service, You have no partner, except the partner that You have, and You possess him and whatever he has."
توحید ربویت توحید الوہیت اللہ تعالیٰ ثابت کرتا ہے کہ معبود برحق صرف وہی ہے۔ خود مشرکین بھی اس بات کے قائل ہیں کہ آسمان و زمین کا پیدا کرنے والا سورج کو مسخر کرنے والا دن رات کو پے درپے لانے والا خالق رازق موت وحیات پر قادر صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ وہ خوب جانتا ہے کہ غنا کے لائق کون ہے اور فقر کے لائق کون ہے ؟ اپنے بندوں کی مصلحتیں اس کو پوری طرح معلوم ہیں۔ پس جبکہ مشرکین خود مانتے ہیں کہ تمام چیزوں کا خالق صرف اللہ تعالیٰ ہے سب پر قابض صرف وہی ہے پھر اس کے سوا دوسروں کی عبادت کیوں کرتے ہیں ؟ اور اس کے سوا دوسروں پر توکل کیوں کرتے ہیں ؟ جبکہ ملک کا مالک وہ تنہا ہے تو عبادتوں کے لائق بھی وہ اکیلا ہے۔ توحید ربوبیت کو مان کر پھر توحید الوہیت سے انحراف عجیب چیز ہے قرآن کریم میں توحید ربوبیت کے ساتھ ہی توحید الوہیت کا ذکر بکثرت سے اس لئے ہے کہ توحید ربویت کے قائل مشرکین مکہ تو تھے ہی انہیں قائل معقول کرکے پھر توحید الوہیت کی طرف دعوت دی جاتی ہے۔ مشرکین حج و عمرے میں لبیک پکارتے ہوئے بھی اللہ کے لاشریک ہونے کا اقرار کرتے تھے لبیک لاشریک لک الا شریکا ھو لک تملکہ وماملک یعنی یا اللہ ہم حاضر ہوئے تیرا کوئی شریک نہیں مگر ایسے شریک کہ جن کا مالک اور جن کے ملک کا مالک بھی تو ہی ہے۔
63
View Single
وَلَئِن سَأَلۡتَهُم مَّن نَّزَّلَ مِنَ ٱلسَّمَآءِ مَآءٗ فَأَحۡيَا بِهِ ٱلۡأَرۡضَ مِنۢ بَعۡدِ مَوۡتِهَا لَيَقُولُنَّ ٱللَّهُۚ قُلِ ٱلۡحَمۡدُ لِلَّهِۚ بَلۡ أَكۡثَرُهُمۡ لَا يَعۡقِلُونَ
And if you ask them, “Who sent down the water from the sky, and with it revived the earth after its death?”, they will surely say, “Allah”; proclaim, “All praise is to Allah”; in fact most of them do not have any sense.
اور اگر آپ ان سے پوچھیں کہ آسمان سے پانی کس نے اتارا پھر اس سے زمین کو اس کی مُردنی کے بعد حیات (اور تازگی) بخشی، تو وہ ضرور کہہ دیں گے: اللہ نے، آپ فرما دیں: ساری تعریفیں اللہ ہی کے لئے ہیں، بلکہ ان میں سے اکثر (لوگ) عقل نہیں رکھتے
Tafsir Ibn Kathir
Evidences of Tawhid
Allah states that there is no God but He. The idolators who worshipped others besides Him recognized that He was the sole creator of the heavens and earth, the sun and the moon, alternating the night and day. They acknowledged that He was the Creator Who provided for His servants and decreed how long they should live. He made them and their provision different, so that some were rich and some were poor, and He knew best what was suitable for each of them, who deserved to be rich and who deserved to be poor. So, Allah stated that He has alone created everything, and that He alone is controlling them -- if this is how it is, then why worship anyone else Why put one's trust in anyone else Since dominion is His Alone, then let worship be for Him Alone. Allah often establishes His divinity by referring to their acknowledgement of His Unique Lordship, because the idolators used to acknowledge His Lordship, as they said in their Talbiyah (during Hajj and `Umrah: "At Your service, You have no partner, except the partner that You have, and You possess him and whatever he has."
توحید ربویت توحید الوہیت اللہ تعالیٰ ثابت کرتا ہے کہ معبود برحق صرف وہی ہے۔ خود مشرکین بھی اس بات کے قائل ہیں کہ آسمان و زمین کا پیدا کرنے والا سورج کو مسخر کرنے والا دن رات کو پے درپے لانے والا خالق رازق موت وحیات پر قادر صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ وہ خوب جانتا ہے کہ غنا کے لائق کون ہے اور فقر کے لائق کون ہے ؟ اپنے بندوں کی مصلحتیں اس کو پوری طرح معلوم ہیں۔ پس جبکہ مشرکین خود مانتے ہیں کہ تمام چیزوں کا خالق صرف اللہ تعالیٰ ہے سب پر قابض صرف وہی ہے پھر اس کے سوا دوسروں کی عبادت کیوں کرتے ہیں ؟ اور اس کے سوا دوسروں پر توکل کیوں کرتے ہیں ؟ جبکہ ملک کا مالک وہ تنہا ہے تو عبادتوں کے لائق بھی وہ اکیلا ہے۔ توحید ربوبیت کو مان کر پھر توحید الوہیت سے انحراف عجیب چیز ہے قرآن کریم میں توحید ربوبیت کے ساتھ ہی توحید الوہیت کا ذکر بکثرت سے اس لئے ہے کہ توحید ربویت کے قائل مشرکین مکہ تو تھے ہی انہیں قائل معقول کرکے پھر توحید الوہیت کی طرف دعوت دی جاتی ہے۔ مشرکین حج و عمرے میں لبیک پکارتے ہوئے بھی اللہ کے لاشریک ہونے کا اقرار کرتے تھے لبیک لاشریک لک الا شریکا ھو لک تملکہ وماملک یعنی یا اللہ ہم حاضر ہوئے تیرا کوئی شریک نہیں مگر ایسے شریک کہ جن کا مالک اور جن کے ملک کا مالک بھی تو ہی ہے۔
64
View Single
وَمَا هَٰذِهِ ٱلۡحَيَوٰةُ ٱلدُّنۡيَآ إِلَّا لَهۡوٞ وَلَعِبٞۚ وَإِنَّ ٱلدَّارَ ٱلۡأٓخِرَةَ لَهِيَ ٱلۡحَيَوَانُۚ لَوۡ كَانُواْ يَعۡلَمُونَ
And this worldly life is nothing but pastime and game; indeed the abode of the Hereafter – that is indeed the true life; if only they knew.
اور (اے لوگو!) یہ دنیا کی زندگی کھیل اور تماشے کے سوا کچھ نہیں ہے، اور حقیقت میں آخرت کا گھر ہی (صحیح) زندگی ہے۔ کاش! وہ لوگ (یہ راز) جانتے ہوتے
Tafsir Ibn Kathir
Allah tells us how insignificant and transient this world is, and how it will soon end. All that it
وَإِنَّ الدَّارَ الاٌّخِرَةَ لَهِىَ الْحَيَوَانُ
(Verily, the home of the Hereafter -- that is the life indeed,) means, the true everlasting life that will never end, but will continue forever and ever.
لَوْ كَانُواْ يَعْلَمُونَ
(if they but knew.) means, they would prefer that which will last over that which will pass away. Then Allah says that at times of calamity, the idolators call upon Him alone, with no partner or associate, so why do they not do that all the time
فَإِذَا رَكِبُواْ فِى الْفُلْكِ دَعَوُاْ اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ
(And when they embark on a ship, they invoke Allah, making their faith pure for Him only,) This is like the Ayah,
وَإِذَا مَسَّكُمُ الْضُّرُّ فِى الْبَحْرِ ضَلَّ مَن تَدْعُونَ إِلاَ إِيَّاهُ فَلَمَّا نَجَّـكُمْ إِلَى الْبَرِّ أَعْرَضْتُمْ
(And when harm touches you upon the sea, those that you call upon vanish from you except Him (Allah Alone). But when He brings you safely to land, you turn away) (17:67). Allah says here:
فَلَمَّا نَجَّاهُمْ إِلَى الْبَرِّ إِذَا هُمْ يُشْرِكُونَ
(but when He brings them safely to land, behold, they give a share of their worship to others.) Muhammad bin Ishaq reported from `Ikrimah bin Abi Jahl that when the Messenger of Allah ﷺ conquered Makkah, he (`Ikrimah) ran away, fleeing from him. When he was on the sea, headed for Ethiopia, the ship started to rock and the crew said: "O people, pray sincerely to your Lord alone, for no one can save us from this except Him." `Ikrimah said: "By Allah, if there is none who can save us on the sea except Him, then there is none who can save us on land except Him either, O Allah, I vow to You that if I come out of this, I will go and put my hand in the hand of Muhammad ﷺ and I will find him kind and merciful." And this is what indeed did happen.
لِيَكْفُرُواْ بِمَآ ءَاتَيْنَـهُمْ وَلِيَتَمَتَّعُواْ
(So that they become ingrate for that which We have given them, and that they take their enjoyment,)
جب عکرمہ طوفان میں گھر گئے دنیا کی حقارت وذلت اس کے زوال وفنا کا ذکر ہو رہا ہے کہ اسے کوئی دوام نہیں اس کا کوئی ثبات نہیں یہ تو صرف لہو ولعب ہے۔ البتہ دار آخرت کی زندگی دوام وبقا کی زندگی ہے وہ زوال وفنا سے قلت وذلت سے دور ہے۔ اگر انہیں علم ہوتا تو اس بقا والی چیز پر اس فانی چیز کو ترجیح نہ دیتے۔ پھر فرمایا کہ مشرکین بےکسی اور بےبسی کے وقت تو اللہ تعالیٰ وحدہ لاشریک لہ کو ہی پکارنے لگتے ہیں۔ پھر مصیبت کے ہٹ جانے اور مشکل کے ٹل جانے کے بعد اس کے ساتھ دوسروں کا نام کیوں لیتے ہیں ؟ جیسے اور جگہ ارشاد ہے آیت (وَاِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فِي الْبَحْرِ ضَلَّ مَنْ تَدْعُوْنَ اِلَّآ اِيَّاهُ ۚ فَلَمَّا نَجّٰىكُمْ اِلَى الْبَرِّ اَعْرَضْتُمْ ۭ وَكَانَ الْاِنْسَانُ كَفُوْرًا 67) 17۔ الإسراء :67) یعنی جب سمندر میں مشکل میں پھنستے ہیں اس وقت اللہ کے سوا سب کو بھول جاتے ہیں اور جب وہاں سے نجات پاکر خشکی میں آجاتے ہیں تو فورا ہی منہ پھیر لیتے ہیں۔ سیرت ابن اسحاق میں ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ نے مکہ فتح کیا تو عکرمہ ابن ابی جہل یہاں سے بھاگ نکلا اور حبشہ جانے کے ارادے سے کشتی میں بیٹھ گیا اتفاقا سخت طوفان آیا اور کشتی ادھر ادھر ہونے لگی۔ جتنے مشرکین کشتی میں تھے سب کہنے لگے یہ موقعہ صرف اللہ کو پکارنے کا ہے اٹھو اور خلوص کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے دعائیں کرو اس وقت نجات اسی کے ہاتھ ہے۔ یہ سنتے ہی عکرمہ نے کہا سنو اللہ کی قسم اگر سمندر کی اس بلا سے سوائے اللہ کے کوئی نجات نہیں دے سکتا تو خشکی کی مصیبتوں کا ٹالنے والا بھی وہی ہے۔ اللہ میں تجھ سے عہد کرتا ہوں کہ اگر میں یہاں سے بچ گیا تو سیدھا جاکر حضرت محمد ﷺ کے ہاتھ میں ہاتھ رکھ دونگا اور آپ کا کلمہ پڑھ لونگا۔ مجھے یقین ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ میری خطاؤں سے درگذر فرمالیں گے اور مجھ پر رحم وکرم فرمائیں گے چناچہ یہی ہوا بھی آیت (لیکفروا) اور (لیتمتعوا) میں لام جو ہے اسے لام عافیت کہتے ہیں اس لئے کہ انکا قصد دراصل یہ نہیں ہوتا اور فی الواقع ان کی طرف نظریں ڈالنے سے بات بھی یہی ہے۔ ہاں اللہ تعالیٰ کی نسبت سے تو یہ لام تعلیل ہے۔ اس کی پوری تقریر ہم آیت (فَالْتَقَطَهٗٓ اٰلُ فِرْعَوْنَ لِيَكُوْنَ لَهُمْ عَدُوًّا وَّحَزَنًا ۭ اِنَّ فِرْعَوْنَ وَهَامٰنَ وَجُنُوْدَهُمَا كَانُوْا خٰطِـــــِٕيْنَ) 28۔ القصص :8) میں کرچکے ہیں۔
65
View Single
فَإِذَا رَكِبُواْ فِي ٱلۡفُلۡكِ دَعَوُاْ ٱللَّهَ مُخۡلِصِينَ لَهُ ٱلدِّينَ فَلَمَّا نَجَّىٰهُمۡ إِلَى ٱلۡبَرِّ إِذَا هُمۡ يُشۡرِكُونَ
And when they board the ships they pray to Allah, believing purely in Him; so when He delivers them safely to land, they immediately begin ascribing partners (to Him)!
پھر جب وہ کشتی میں سوار ہوتے ہیں تو (مشکل وقت میں بتوں کو چھوڑ کر) صرف اللہ کو اس کے لئے (اپنا) دین خالص کرتے ہوئے پکارتے ہیں، پھر جب اللہ انہیں بچا کر خشکی تک پہنچا دیتا ہے تو اس وقت وہ (دوبارہ) شرک کرنے لگتے ہیں
Tafsir Ibn Kathir
Allah tells us how insignificant and transient this world is, and how it will soon end. All that it
وَإِنَّ الدَّارَ الاٌّخِرَةَ لَهِىَ الْحَيَوَانُ
(Verily, the home of the Hereafter -- that is the life indeed,) means, the true everlasting life that will never end, but will continue forever and ever.
لَوْ كَانُواْ يَعْلَمُونَ
(if they but knew.) means, they would prefer that which will last over that which will pass away. Then Allah says that at times of calamity, the idolators call upon Him alone, with no partner or associate, so why do they not do that all the time
فَإِذَا رَكِبُواْ فِى الْفُلْكِ دَعَوُاْ اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ
(And when they embark on a ship, they invoke Allah, making their faith pure for Him only,) This is like the Ayah,
وَإِذَا مَسَّكُمُ الْضُّرُّ فِى الْبَحْرِ ضَلَّ مَن تَدْعُونَ إِلاَ إِيَّاهُ فَلَمَّا نَجَّـكُمْ إِلَى الْبَرِّ أَعْرَضْتُمْ
(And when harm touches you upon the sea, those that you call upon vanish from you except Him (Allah Alone). But when He brings you safely to land, you turn away) (17:67). Allah says here:
فَلَمَّا نَجَّاهُمْ إِلَى الْبَرِّ إِذَا هُمْ يُشْرِكُونَ
(but when He brings them safely to land, behold, they give a share of their worship to others.) Muhammad bin Ishaq reported from `Ikrimah bin Abi Jahl that when the Messenger of Allah ﷺ conquered Makkah, he (`Ikrimah) ran away, fleeing from him. When he was on the sea, headed for Ethiopia, the ship started to rock and the crew said: "O people, pray sincerely to your Lord alone, for no one can save us from this except Him." `Ikrimah said: "By Allah, if there is none who can save us on the sea except Him, then there is none who can save us on land except Him either, O Allah, I vow to You that if I come out of this, I will go and put my hand in the hand of Muhammad ﷺ and I will find him kind and merciful." And this is what indeed did happen.
لِيَكْفُرُواْ بِمَآ ءَاتَيْنَـهُمْ وَلِيَتَمَتَّعُواْ
(So that they become ingrate for that which We have given them, and that they take their enjoyment,)
جب عکرمہ طوفان میں گھر گئے دنیا کی حقارت وذلت اس کے زوال وفنا کا ذکر ہو رہا ہے کہ اسے کوئی دوام نہیں اس کا کوئی ثبات نہیں یہ تو صرف لہو ولعب ہے۔ البتہ دار آخرت کی زندگی دوام وبقا کی زندگی ہے وہ زوال وفنا سے قلت وذلت سے دور ہے۔ اگر انہیں علم ہوتا تو اس بقا والی چیز پر اس فانی چیز کو ترجیح نہ دیتے۔ پھر فرمایا کہ مشرکین بےکسی اور بےبسی کے وقت تو اللہ تعالیٰ وحدہ لاشریک لہ کو ہی پکارنے لگتے ہیں۔ پھر مصیبت کے ہٹ جانے اور مشکل کے ٹل جانے کے بعد اس کے ساتھ دوسروں کا نام کیوں لیتے ہیں ؟ جیسے اور جگہ ارشاد ہے آیت (وَاِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فِي الْبَحْرِ ضَلَّ مَنْ تَدْعُوْنَ اِلَّآ اِيَّاهُ ۚ فَلَمَّا نَجّٰىكُمْ اِلَى الْبَرِّ اَعْرَضْتُمْ ۭ وَكَانَ الْاِنْسَانُ كَفُوْرًا 67) 17۔ الإسراء :67) یعنی جب سمندر میں مشکل میں پھنستے ہیں اس وقت اللہ کے سوا سب کو بھول جاتے ہیں اور جب وہاں سے نجات پاکر خشکی میں آجاتے ہیں تو فورا ہی منہ پھیر لیتے ہیں۔ سیرت ابن اسحاق میں ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ نے مکہ فتح کیا تو عکرمہ ابن ابی جہل یہاں سے بھاگ نکلا اور حبشہ جانے کے ارادے سے کشتی میں بیٹھ گیا اتفاقا سخت طوفان آیا اور کشتی ادھر ادھر ہونے لگی۔ جتنے مشرکین کشتی میں تھے سب کہنے لگے یہ موقعہ صرف اللہ کو پکارنے کا ہے اٹھو اور خلوص کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے دعائیں کرو اس وقت نجات اسی کے ہاتھ ہے۔ یہ سنتے ہی عکرمہ نے کہا سنو اللہ کی قسم اگر سمندر کی اس بلا سے سوائے اللہ کے کوئی نجات نہیں دے سکتا تو خشکی کی مصیبتوں کا ٹالنے والا بھی وہی ہے۔ اللہ میں تجھ سے عہد کرتا ہوں کہ اگر میں یہاں سے بچ گیا تو سیدھا جاکر حضرت محمد ﷺ کے ہاتھ میں ہاتھ رکھ دونگا اور آپ کا کلمہ پڑھ لونگا۔ مجھے یقین ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ میری خطاؤں سے درگذر فرمالیں گے اور مجھ پر رحم وکرم فرمائیں گے چناچہ یہی ہوا بھی آیت (لیکفروا) اور (لیتمتعوا) میں لام جو ہے اسے لام عافیت کہتے ہیں اس لئے کہ انکا قصد دراصل یہ نہیں ہوتا اور فی الواقع ان کی طرف نظریں ڈالنے سے بات بھی یہی ہے۔ ہاں اللہ تعالیٰ کی نسبت سے تو یہ لام تعلیل ہے۔ اس کی پوری تقریر ہم آیت (فَالْتَقَطَهٗٓ اٰلُ فِرْعَوْنَ لِيَكُوْنَ لَهُمْ عَدُوًّا وَّحَزَنًا ۭ اِنَّ فِرْعَوْنَ وَهَامٰنَ وَجُنُوْدَهُمَا كَانُوْا خٰطِـــــِٕيْنَ) 28۔ القصص :8) میں کرچکے ہیں۔
66
View Single
لِيَكۡفُرُواْ بِمَآ ءَاتَيۡنَٰهُمۡ وَلِيَتَمَتَّعُواْۚ فَسَوۡفَ يَعۡلَمُونَ
In order to be ungrateful for Our favours; and to use the comforts; therefore they will soon come to know.
تاکہ اس (نعمتِ نجات) کی ناشکری کریں جو ہم نے انہیں عطا کی اور (کفر کی زندگی کے حرام) فائدے اٹھاتے رہیں۔ پس وہ عنقریب (اپنا انجام) جان لیں گے
Tafsir Ibn Kathir
Allah tells us how insignificant and transient this world is, and how it will soon end. All that it
وَإِنَّ الدَّارَ الاٌّخِرَةَ لَهِىَ الْحَيَوَانُ
(Verily, the home of the Hereafter -- that is the life indeed,) means, the true everlasting life that will never end, but will continue forever and ever.
لَوْ كَانُواْ يَعْلَمُونَ
(if they but knew.) means, they would prefer that which will last over that which will pass away. Then Allah says that at times of calamity, the idolators call upon Him alone, with no partner or associate, so why do they not do that all the time
فَإِذَا رَكِبُواْ فِى الْفُلْكِ دَعَوُاْ اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ
(And when they embark on a ship, they invoke Allah, making their faith pure for Him only,) This is like the Ayah,
وَإِذَا مَسَّكُمُ الْضُّرُّ فِى الْبَحْرِ ضَلَّ مَن تَدْعُونَ إِلاَ إِيَّاهُ فَلَمَّا نَجَّـكُمْ إِلَى الْبَرِّ أَعْرَضْتُمْ
(And when harm touches you upon the sea, those that you call upon vanish from you except Him (Allah Alone). But when He brings you safely to land, you turn away) (17:67). Allah says here:
فَلَمَّا نَجَّاهُمْ إِلَى الْبَرِّ إِذَا هُمْ يُشْرِكُونَ
(but when He brings them safely to land, behold, they give a share of their worship to others.) Muhammad bin Ishaq reported from `Ikrimah bin Abi Jahl that when the Messenger of Allah ﷺ conquered Makkah, he (`Ikrimah) ran away, fleeing from him. When he was on the sea, headed for Ethiopia, the ship started to rock and the crew said: "O people, pray sincerely to your Lord alone, for no one can save us from this except Him." `Ikrimah said: "By Allah, if there is none who can save us on the sea except Him, then there is none who can save us on land except Him either, O Allah, I vow to You that if I come out of this, I will go and put my hand in the hand of Muhammad ﷺ and I will find him kind and merciful." And this is what indeed did happen.
لِيَكْفُرُواْ بِمَآ ءَاتَيْنَـهُمْ وَلِيَتَمَتَّعُواْ
(So that they become ingrate for that which We have given them, and that they take their enjoyment,)
جب عکرمہ طوفان میں گھر گئے دنیا کی حقارت وذلت اس کے زوال وفنا کا ذکر ہو رہا ہے کہ اسے کوئی دوام نہیں اس کا کوئی ثبات نہیں یہ تو صرف لہو ولعب ہے۔ البتہ دار آخرت کی زندگی دوام وبقا کی زندگی ہے وہ زوال وفنا سے قلت وذلت سے دور ہے۔ اگر انہیں علم ہوتا تو اس بقا والی چیز پر اس فانی چیز کو ترجیح نہ دیتے۔ پھر فرمایا کہ مشرکین بےکسی اور بےبسی کے وقت تو اللہ تعالیٰ وحدہ لاشریک لہ کو ہی پکارنے لگتے ہیں۔ پھر مصیبت کے ہٹ جانے اور مشکل کے ٹل جانے کے بعد اس کے ساتھ دوسروں کا نام کیوں لیتے ہیں ؟ جیسے اور جگہ ارشاد ہے آیت (وَاِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فِي الْبَحْرِ ضَلَّ مَنْ تَدْعُوْنَ اِلَّآ اِيَّاهُ ۚ فَلَمَّا نَجّٰىكُمْ اِلَى الْبَرِّ اَعْرَضْتُمْ ۭ وَكَانَ الْاِنْسَانُ كَفُوْرًا 67) 17۔ الإسراء :67) یعنی جب سمندر میں مشکل میں پھنستے ہیں اس وقت اللہ کے سوا سب کو بھول جاتے ہیں اور جب وہاں سے نجات پاکر خشکی میں آجاتے ہیں تو فورا ہی منہ پھیر لیتے ہیں۔ سیرت ابن اسحاق میں ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ نے مکہ فتح کیا تو عکرمہ ابن ابی جہل یہاں سے بھاگ نکلا اور حبشہ جانے کے ارادے سے کشتی میں بیٹھ گیا اتفاقا سخت طوفان آیا اور کشتی ادھر ادھر ہونے لگی۔ جتنے مشرکین کشتی میں تھے سب کہنے لگے یہ موقعہ صرف اللہ کو پکارنے کا ہے اٹھو اور خلوص کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے دعائیں کرو اس وقت نجات اسی کے ہاتھ ہے۔ یہ سنتے ہی عکرمہ نے کہا سنو اللہ کی قسم اگر سمندر کی اس بلا سے سوائے اللہ کے کوئی نجات نہیں دے سکتا تو خشکی کی مصیبتوں کا ٹالنے والا بھی وہی ہے۔ اللہ میں تجھ سے عہد کرتا ہوں کہ اگر میں یہاں سے بچ گیا تو سیدھا جاکر حضرت محمد ﷺ کے ہاتھ میں ہاتھ رکھ دونگا اور آپ کا کلمہ پڑھ لونگا۔ مجھے یقین ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ میری خطاؤں سے درگذر فرمالیں گے اور مجھ پر رحم وکرم فرمائیں گے چناچہ یہی ہوا بھی آیت (لیکفروا) اور (لیتمتعوا) میں لام جو ہے اسے لام عافیت کہتے ہیں اس لئے کہ انکا قصد دراصل یہ نہیں ہوتا اور فی الواقع ان کی طرف نظریں ڈالنے سے بات بھی یہی ہے۔ ہاں اللہ تعالیٰ کی نسبت سے تو یہ لام تعلیل ہے۔ اس کی پوری تقریر ہم آیت (فَالْتَقَطَهٗٓ اٰلُ فِرْعَوْنَ لِيَكُوْنَ لَهُمْ عَدُوًّا وَّحَزَنًا ۭ اِنَّ فِرْعَوْنَ وَهَامٰنَ وَجُنُوْدَهُمَا كَانُوْا خٰطِـــــِٕيْنَ) 28۔ القصص :8) میں کرچکے ہیں۔
67
View Single
أَوَلَمۡ يَرَوۡاْ أَنَّا جَعَلۡنَا حَرَمًا ءَامِنٗا وَيُتَخَطَّفُ ٱلنَّاسُ مِنۡ حَوۡلِهِمۡۚ أَفَبِٱلۡبَٰطِلِ يُؤۡمِنُونَ وَبِنِعۡمَةِ ٱللَّهِ يَكۡفُرُونَ
Did they not observe that We have created a refuge in the Sacred Land, and people around them are snatched away? So do they believe in falsehood and are ungrateful for the favours of Allah?
اور کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے حرمِ (کعبہ) کو جائے امان بنا دیا ہے اور اِن کے اِردگرِد کے لوگ اُچک لئے جاتے ہیں، تو کیا (پھر بھی) وہ باطل پر ایمان رکھتے اور اللہ کے احسان کی ناشکری کرتے رہیں گے
Tafsir Ibn Kathir
The Blessing of the Sanctuary Here
Allah reminds Quraysh how He blessed them by granting them access to His sanctuary which He has made (open) to (all) men, the dweller in it and the visitor from the country are equal there, and whoever enters it is safe, because he is in a place of great security, although the Arabs of the desert round about used to ambush and raid one another and kill one another. As Allah says:
لإِيلَـفِ قُرَيْشٍ - إِيلَـفِهِمْ رِحْلَةَ الشِّتَآءِ وَالصَّيْفِ - فَلْيَعْبُدُواْ رَبَّ هَـذَا الْبَيْتِ - الَّذِى أَطْعَمَهُم مِّن جُوعٍ وَءَامَنَهُم مِّنْ خوْفٍ
(For the protection of the Quraysh. The caravans to set forth safe in winter and in summer. So let them worship the Lord of this House. Who has fed them against hunger, and has made them safe from fear.) (106:1-4)
أَفَبِالْبَـطِلِ يُؤْمِنُونَ وَبِنِعْمَةِ اللَّهِ يَكْفُرُونَ
(Then do they believe in falsehood, and deny the graces of Allah) means, is the thanks that they give for this immense blessing to associate others with Him and worship others besides Him, idols and rivals
بَدَّلُواْ نِعْمَتَ اللَّهِ كُفْرًا وَأَحَلُّواْ قَوْمَهُمْ دَارَ الْبَوَارِ
(Have you not seen those who have changed the blessings of Allah into disbelief, and caused their people to dwell in the house of destruction) (14:28) They disbelieved in the Prophet, servant and Messenger of Allah ﷺ, when what they should have done was to worship Allah Alone and not associate anything with Him, and to believe in, honor and respect the Messenger ﷺ, but they rejected him and fought him, and expelled him from their midst. So, Allah took His blessing away from them, and killed those of them whom He killed at Badr, then His Messenger and the believers gained the upper hand, and Allah enabled His Messenger to conquer Makkah, and He disgraced them and humiliated them (the disbelievers). Then Allah says:
وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ افْتَرَى عَلَى اللَّهِ كَذِباً أَوْ كَذَّبَ بِالْحَقِّ لَمَّا جَآءَهُ
(And who does more wrong than he who invents a lie against Allah or denies the truth, when it comes to him) There is no one who will be more severely punished than one who tells lies about Allah and says that Allah revealed something to him at the time when Allah did not reveal anything to him, or says, `I shall reveal something like that which Allah revealed.' And there is no one who will be more severely punished than one who denies the truth when it comes to him, for the former is a fabricator and the latter is a disbeliever. Allah says:
أَلَيْسَ فِى جَهَنَّمَ مَثْوًى لِّلْكَـفِرِينَ
(Is there not a dwelling in Hell for the disbelievers) Then Allah says:
وَالَّذِينَ جَـهَدُواْ فِينَا
(As for those who strive hard for Us,) meaning the Messenger and his Companions and those who follow him, until the Day of Resurrection,
لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا
(We will surely guide them to Our paths. ) means, `We will help them to follow Our path in this world and the Hereafter.' Ibn Abi Hatim narrated that `Abbas Al-Hamdani Abu Ahmad -- one of the people of `Akka (Palestine) -- said, concerning the Ayah:
وَالَّذِينَ جَـهَدُواْ فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا وَإِنَّ اللَّهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِينَ
(As for those who strive hard for Us (in Our cause), We will surely guide them to Our paths. And verily, Allah is with the doers of good.) "Those who act upon what they know, Allah will guide them to that which they do not know." Ahmad bin Abu Al-Hawari said, "I told this to Abu Sulayman Ad-Darani, and he liked it and said: `No one who is inspired to do something good should do it until he hears a report concerning that; if he hears a report then he should go ahead and do it, and praise Allah because it was in accordance with what he himself felt."'
وَإِنَّ اللَّهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِينَ
(And verily, Allah is with the doers of good.) Ibn Abi Hatim recorded that Ash-Sha`bi said; "Isa bin Maryam, peace be upon him, said: `Righteousness means doing good to those who ill-treat you, it does not mean doing good to those who do good to you."' And Allah knows best. This is the end of the Tafsir of Surat Al-`Ankabut. All praise and thanks are due to Allah.
احسان کے بدلے احسان ؟ اللہ تعالیٰ قریش کو اپنا احسان جتاتا ہے کہ اس نے اپنے حرم میں انہیں جگہ دی۔ جو شخص اس میں آجائے امن میں پہنچ جاتا ہے۔ اس کے آس پاس جدال و قتال لوٹ مار ہوتی رہتی ہے اور یہاں والے امن وامان سے اپنے دن گزارتے ہیں۔ جسے سورة لایلاف قریش الخ میں بیان فرمایا تو کیا اس اتنی بڑی نعمت کا شکریہ یہی ہے کہ یہ اللہ کے ساتھ دوسروں کی بھی عبادت کریں ؟ بجائے ایمان لانے کے شرک کریں اور خود تباہ ہو کر دوسروں کو بھی اسی ہلاکت والی راہ لے چلیں۔ لیکن انہوں نے اس کے برعکس اللہ کے ساتھ شرک وکفر کرنا اور نبی کو جھٹلانا اور ایذاء پہنچانا شروع کر رکھا ہے۔ اپنی سرکشی میں یہاں تک بڑھ گئے کہ اللہ کے پیغمبر کو مکہ سے نکال دیا۔ بالآخر اللہ کی نعمتیں ان سے چھننی شروع ہوگئیں۔ بدر کے دن ان کے بڑے بری طرح قتل ہوئے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کے ہاتھوں مکہ کو فتح کیا اور انہیں ذلیل وپست کیا۔ اس سے بڑھ کر کوئی ظالم نہیں جو اللہ پر جھوٹ باندھے۔ وحی آتی نہ ہو اور کہہ دے کہ میری طرف وحی کی جاتی ہے اور اس سے بھی بڑھ کر ظال کوئی نہیں جو اللہ کی سچی وحی کو جھٹلائے اور باوجود حق پہنچنے کے تکذیب پر کمربستہ رہے۔ ایسے مفرتی اور مکذب لوگ کافر ہیں اور ان کا ٹھکانا جہنم ہے۔ راہ اللہ میں مشقت کرنے والے سے مراد رسول اللہ ﷺ ، آپ کے اصحاب اور آپ کے تابع فرمان لوگ ہیں جو قیامت تک ہونگے۔ فرماتا ہے کہ ہم ان کوشش اور جستجو کرنے والوں کی رہنمائی کریں گے دنیا اور دین میں ان کی رہبری کرتے رہیں گے۔ حضرت ابو عباس ہمدانی فرماتے ہیں مراد یہ ہے کہ جو لوگ اپنے علم پر عمل کرتے ہیں اللہ انہیں ان امور میں بھی ہدایت دیتا ہے جو ان کے علم میں نہیں ہوتے ابو سلیمان دارانی سے جب یہ ذکر کیا جاتا ہے تو آپ فرماتے ہیں کہ جس کے دل میں کوئی بات پیدا ہو گو وہ بھلی بات ہو تاہم اسے اس پر عمل نہ کرنا چاہیے جب تک قرآن و حدیث سے وہ ثابت نہ ہو۔ جب ثابت ہو عمل کریں۔ اور اللہ کی حمد کریں کہ جو اس کے جی میں آتا تھا۔ وہی قرآن و حدیث میں بھی نکلا۔ اللہ تعالیٰ محسنین کے ساتھ ہے۔ حضرت عیسیٰ بن مریم فرماتے ہیں احسان اس کا نام ہے کہ جو تیرے ساتھ بدسلوکی کرے تو اس کے ساتھ نیک سلوک کرے۔ احسان کرنے والوں سے احسان کرنے کا نام احسان نہیں واللہ اعلم۔
68
View Single
وَمَنۡ أَظۡلَمُ مِمَّنِ ٱفۡتَرَىٰ عَلَى ٱللَّهِ كَذِبًا أَوۡ كَذَّبَ بِٱلۡحَقِّ لَمَّا جَآءَهُۥٓۚ أَلَيۡسَ فِي جَهَنَّمَ مَثۡوٗى لِّلۡكَٰفِرِينَ
And who is more unjust than one who fabricates lies against Allah, or denies the truth* when it comes to him? Is there not a place in hell for disbelievers? (* The Holy Prophet and / or the Holy Qur’an).
اور اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہو سکتا ہے جو اللہ پر جھوٹا بہتان باندھے یا حق کو جھٹلا دے جب وہ اس کے پاس آپہنچے۔ کیا دوزخ میں کافروں کے لئے ٹھکانہ (مقرر) نہیں ہے
Tafsir Ibn Kathir
The Blessing of the Sanctuary Here
Allah reminds Quraysh how He blessed them by granting them access to His sanctuary which He has made (open) to (all) men, the dweller in it and the visitor from the country are equal there, and whoever enters it is safe, because he is in a place of great security, although the Arabs of the desert round about used to ambush and raid one another and kill one another. As Allah says:
لإِيلَـفِ قُرَيْشٍ - إِيلَـفِهِمْ رِحْلَةَ الشِّتَآءِ وَالصَّيْفِ - فَلْيَعْبُدُواْ رَبَّ هَـذَا الْبَيْتِ - الَّذِى أَطْعَمَهُم مِّن جُوعٍ وَءَامَنَهُم مِّنْ خوْفٍ
(For the protection of the Quraysh. The caravans to set forth safe in winter and in summer. So let them worship the Lord of this House. Who has fed them against hunger, and has made them safe from fear.) (106:1-4)
أَفَبِالْبَـطِلِ يُؤْمِنُونَ وَبِنِعْمَةِ اللَّهِ يَكْفُرُونَ
(Then do they believe in falsehood, and deny the graces of Allah) means, is the thanks that they give for this immense blessing to associate others with Him and worship others besides Him, idols and rivals
بَدَّلُواْ نِعْمَتَ اللَّهِ كُفْرًا وَأَحَلُّواْ قَوْمَهُمْ دَارَ الْبَوَارِ
(Have you not seen those who have changed the blessings of Allah into disbelief, and caused their people to dwell in the house of destruction) (14:28) They disbelieved in the Prophet, servant and Messenger of Allah ﷺ, when what they should have done was to worship Allah Alone and not associate anything with Him, and to believe in, honor and respect the Messenger ﷺ, but they rejected him and fought him, and expelled him from their midst. So, Allah took His blessing away from them, and killed those of them whom He killed at Badr, then His Messenger and the believers gained the upper hand, and Allah enabled His Messenger to conquer Makkah, and He disgraced them and humiliated them (the disbelievers). Then Allah says:
وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ افْتَرَى عَلَى اللَّهِ كَذِباً أَوْ كَذَّبَ بِالْحَقِّ لَمَّا جَآءَهُ
(And who does more wrong than he who invents a lie against Allah or denies the truth, when it comes to him) There is no one who will be more severely punished than one who tells lies about Allah and says that Allah revealed something to him at the time when Allah did not reveal anything to him, or says, `I shall reveal something like that which Allah revealed.' And there is no one who will be more severely punished than one who denies the truth when it comes to him, for the former is a fabricator and the latter is a disbeliever. Allah says:
أَلَيْسَ فِى جَهَنَّمَ مَثْوًى لِّلْكَـفِرِينَ
(Is there not a dwelling in Hell for the disbelievers) Then Allah says:
وَالَّذِينَ جَـهَدُواْ فِينَا
(As for those who strive hard for Us,) meaning the Messenger and his Companions and those who follow him, until the Day of Resurrection,
لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا
(We will surely guide them to Our paths. ) means, `We will help them to follow Our path in this world and the Hereafter.' Ibn Abi Hatim narrated that `Abbas Al-Hamdani Abu Ahmad -- one of the people of `Akka (Palestine) -- said, concerning the Ayah:
وَالَّذِينَ جَـهَدُواْ فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا وَإِنَّ اللَّهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِينَ
(As for those who strive hard for Us (in Our cause), We will surely guide them to Our paths. And verily, Allah is with the doers of good.) "Those who act upon what they know, Allah will guide them to that which they do not know." Ahmad bin Abu Al-Hawari said, "I told this to Abu Sulayman Ad-Darani, and he liked it and said: `No one who is inspired to do something good should do it until he hears a report concerning that; if he hears a report then he should go ahead and do it, and praise Allah because it was in accordance with what he himself felt."'
وَإِنَّ اللَّهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِينَ
(And verily, Allah is with the doers of good.) Ibn Abi Hatim recorded that Ash-Sha`bi said; "Isa bin Maryam, peace be upon him, said: `Righteousness means doing good to those who ill-treat you, it does not mean doing good to those who do good to you."' And Allah knows best. This is the end of the Tafsir of Surat Al-`Ankabut. All praise and thanks are due to Allah.
احسان کے بدلے احسان ؟ اللہ تعالیٰ قریش کو اپنا احسان جتاتا ہے کہ اس نے اپنے حرم میں انہیں جگہ دی۔ جو شخص اس میں آجائے امن میں پہنچ جاتا ہے۔ اس کے آس پاس جدال و قتال لوٹ مار ہوتی رہتی ہے اور یہاں والے امن وامان سے اپنے دن گزارتے ہیں۔ جسے سورة لایلاف قریش الخ میں بیان فرمایا تو کیا اس اتنی بڑی نعمت کا شکریہ یہی ہے کہ یہ اللہ کے ساتھ دوسروں کی بھی عبادت کریں ؟ بجائے ایمان لانے کے شرک کریں اور خود تباہ ہو کر دوسروں کو بھی اسی ہلاکت والی راہ لے چلیں۔ لیکن انہوں نے اس کے برعکس اللہ کے ساتھ شرک وکفر کرنا اور نبی کو جھٹلانا اور ایذاء پہنچانا شروع کر رکھا ہے۔ اپنی سرکشی میں یہاں تک بڑھ گئے کہ اللہ کے پیغمبر کو مکہ سے نکال دیا۔ بالآخر اللہ کی نعمتیں ان سے چھننی شروع ہوگئیں۔ بدر کے دن ان کے بڑے بری طرح قتل ہوئے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کے ہاتھوں مکہ کو فتح کیا اور انہیں ذلیل وپست کیا۔ اس سے بڑھ کر کوئی ظالم نہیں جو اللہ پر جھوٹ باندھے۔ وحی آتی نہ ہو اور کہہ دے کہ میری طرف وحی کی جاتی ہے اور اس سے بھی بڑھ کر ظال کوئی نہیں جو اللہ کی سچی وحی کو جھٹلائے اور باوجود حق پہنچنے کے تکذیب پر کمربستہ رہے۔ ایسے مفرتی اور مکذب لوگ کافر ہیں اور ان کا ٹھکانا جہنم ہے۔ راہ اللہ میں مشقت کرنے والے سے مراد رسول اللہ ﷺ ، آپ کے اصحاب اور آپ کے تابع فرمان لوگ ہیں جو قیامت تک ہونگے۔ فرماتا ہے کہ ہم ان کوشش اور جستجو کرنے والوں کی رہنمائی کریں گے دنیا اور دین میں ان کی رہبری کرتے رہیں گے۔ حضرت ابو عباس ہمدانی فرماتے ہیں مراد یہ ہے کہ جو لوگ اپنے علم پر عمل کرتے ہیں اللہ انہیں ان امور میں بھی ہدایت دیتا ہے جو ان کے علم میں نہیں ہوتے ابو سلیمان دارانی سے جب یہ ذکر کیا جاتا ہے تو آپ فرماتے ہیں کہ جس کے دل میں کوئی بات پیدا ہو گو وہ بھلی بات ہو تاہم اسے اس پر عمل نہ کرنا چاہیے جب تک قرآن و حدیث سے وہ ثابت نہ ہو۔ جب ثابت ہو عمل کریں۔ اور اللہ کی حمد کریں کہ جو اس کے جی میں آتا تھا۔ وہی قرآن و حدیث میں بھی نکلا۔ اللہ تعالیٰ محسنین کے ساتھ ہے۔ حضرت عیسیٰ بن مریم فرماتے ہیں احسان اس کا نام ہے کہ جو تیرے ساتھ بدسلوکی کرے تو اس کے ساتھ نیک سلوک کرے۔ احسان کرنے والوں سے احسان کرنے کا نام احسان نہیں واللہ اعلم۔
69
View Single
وَٱلَّذِينَ جَٰهَدُواْ فِينَا لَنَهۡدِيَنَّهُمۡ سُبُلَنَاۚ وَإِنَّ ٱللَّهَ لَمَعَ ٱلۡمُحۡسِنِينَ
And those who strove in Our way – We shall surely show them Our paths; and indeed Allah is with the virtuous.
اور جو لوگ ہمارے حق میں جہاد (یعنی مجاہدہ) کرتے ہیں تو ہم یقینا انہیں اپنی (طرف سَیر اور وصول کی) راہیں دکھا دیتے ہیں، اور بے شک اللہ صاحبانِ احسان کو اپنی معیّت سے نوازتا ہے
Tafsir Ibn Kathir
The Blessing of the Sanctuary Here
Allah reminds Quraysh how He blessed them by granting them access to His sanctuary which He has made (open) to (all) men, the dweller in it and the visitor from the country are equal there, and whoever enters it is safe, because he is in a place of great security, although the Arabs of the desert round about used to ambush and raid one another and kill one another. As Allah says:
لإِيلَـفِ قُرَيْشٍ - إِيلَـفِهِمْ رِحْلَةَ الشِّتَآءِ وَالصَّيْفِ - فَلْيَعْبُدُواْ رَبَّ هَـذَا الْبَيْتِ - الَّذِى أَطْعَمَهُم مِّن جُوعٍ وَءَامَنَهُم مِّنْ خوْفٍ
(For the protection of the Quraysh. The caravans to set forth safe in winter and in summer. So let them worship the Lord of this House. Who has fed them against hunger, and has made them safe from fear.) (106:1-4)
أَفَبِالْبَـطِلِ يُؤْمِنُونَ وَبِنِعْمَةِ اللَّهِ يَكْفُرُونَ
(Then do they believe in falsehood, and deny the graces of Allah) means, is the thanks that they give for this immense blessing to associate others with Him and worship others besides Him, idols and rivals
بَدَّلُواْ نِعْمَتَ اللَّهِ كُفْرًا وَأَحَلُّواْ قَوْمَهُمْ دَارَ الْبَوَارِ
(Have you not seen those who have changed the blessings of Allah into disbelief, and caused their people to dwell in the house of destruction) (14:28) They disbelieved in the Prophet, servant and Messenger of Allah ﷺ, when what they should have done was to worship Allah Alone and not associate anything with Him, and to believe in, honor and respect the Messenger ﷺ, but they rejected him and fought him, and expelled him from their midst. So, Allah took His blessing away from them, and killed those of them whom He killed at Badr, then His Messenger and the believers gained the upper hand, and Allah enabled His Messenger to conquer Makkah, and He disgraced them and humiliated them (the disbelievers). Then Allah says:
وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ افْتَرَى عَلَى اللَّهِ كَذِباً أَوْ كَذَّبَ بِالْحَقِّ لَمَّا جَآءَهُ
(And who does more wrong than he who invents a lie against Allah or denies the truth, when it comes to him) There is no one who will be more severely punished than one who tells lies about Allah and says that Allah revealed something to him at the time when Allah did not reveal anything to him, or says, `I shall reveal something like that which Allah revealed.' And there is no one who will be more severely punished than one who denies the truth when it comes to him, for the former is a fabricator and the latter is a disbeliever. Allah says:
أَلَيْسَ فِى جَهَنَّمَ مَثْوًى لِّلْكَـفِرِينَ
(Is there not a dwelling in Hell for the disbelievers) Then Allah says:
وَالَّذِينَ جَـهَدُواْ فِينَا
(As for those who strive hard for Us,) meaning the Messenger and his Companions and those who follow him, until the Day of Resurrection,
لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا
(We will surely guide them to Our paths. ) means, `We will help them to follow Our path in this world and the Hereafter.' Ibn Abi Hatim narrated that `Abbas Al-Hamdani Abu Ahmad -- one of the people of `Akka (Palestine) -- said, concerning the Ayah:
وَالَّذِينَ جَـهَدُواْ فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا وَإِنَّ اللَّهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِينَ
(As for those who strive hard for Us (in Our cause), We will surely guide them to Our paths. And verily, Allah is with the doers of good.) "Those who act upon what they know, Allah will guide them to that which they do not know." Ahmad bin Abu Al-Hawari said, "I told this to Abu Sulayman Ad-Darani, and he liked it and said: `No one who is inspired to do something good should do it until he hears a report concerning that; if he hears a report then he should go ahead and do it, and praise Allah because it was in accordance with what he himself felt."'
وَإِنَّ اللَّهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِينَ
(And verily, Allah is with the doers of good.) Ibn Abi Hatim recorded that Ash-Sha`bi said; "Isa bin Maryam, peace be upon him, said: `Righteousness means doing good to those who ill-treat you, it does not mean doing good to those who do good to you."' And Allah knows best. This is the end of the Tafsir of Surat Al-`Ankabut. All praise and thanks are due to Allah.
احسان کے بدلے احسان ؟ اللہ تعالیٰ قریش کو اپنا احسان جتاتا ہے کہ اس نے اپنے حرم میں انہیں جگہ دی۔ جو شخص اس میں آجائے امن میں پہنچ جاتا ہے۔ اس کے آس پاس جدال و قتال لوٹ مار ہوتی رہتی ہے اور یہاں والے امن وامان سے اپنے دن گزارتے ہیں۔ جسے سورة لایلاف قریش الخ میں بیان فرمایا تو کیا اس اتنی بڑی نعمت کا شکریہ یہی ہے کہ یہ اللہ کے ساتھ دوسروں کی بھی عبادت کریں ؟ بجائے ایمان لانے کے شرک کریں اور خود تباہ ہو کر دوسروں کو بھی اسی ہلاکت والی راہ لے چلیں۔ لیکن انہوں نے اس کے برعکس اللہ کے ساتھ شرک وکفر کرنا اور نبی کو جھٹلانا اور ایذاء پہنچانا شروع کر رکھا ہے۔ اپنی سرکشی میں یہاں تک بڑھ گئے کہ اللہ کے پیغمبر کو مکہ سے نکال دیا۔ بالآخر اللہ کی نعمتیں ان سے چھننی شروع ہوگئیں۔ بدر کے دن ان کے بڑے بری طرح قتل ہوئے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کے ہاتھوں مکہ کو فتح کیا اور انہیں ذلیل وپست کیا۔ اس سے بڑھ کر کوئی ظالم نہیں جو اللہ پر جھوٹ باندھے۔ وحی آتی نہ ہو اور کہہ دے کہ میری طرف وحی کی جاتی ہے اور اس سے بھی بڑھ کر ظال کوئی نہیں جو اللہ کی سچی وحی کو جھٹلائے اور باوجود حق پہنچنے کے تکذیب پر کمربستہ رہے۔ ایسے مفرتی اور مکذب لوگ کافر ہیں اور ان کا ٹھکانا جہنم ہے۔ راہ اللہ میں مشقت کرنے والے سے مراد رسول اللہ ﷺ ، آپ کے اصحاب اور آپ کے تابع فرمان لوگ ہیں جو قیامت تک ہونگے۔ فرماتا ہے کہ ہم ان کوشش اور جستجو کرنے والوں کی رہنمائی کریں گے دنیا اور دین میں ان کی رہبری کرتے رہیں گے۔ حضرت ابو عباس ہمدانی فرماتے ہیں مراد یہ ہے کہ جو لوگ اپنے علم پر عمل کرتے ہیں اللہ انہیں ان امور میں بھی ہدایت دیتا ہے جو ان کے علم میں نہیں ہوتے ابو سلیمان دارانی سے جب یہ ذکر کیا جاتا ہے تو آپ فرماتے ہیں کہ جس کے دل میں کوئی بات پیدا ہو گو وہ بھلی بات ہو تاہم اسے اس پر عمل نہ کرنا چاہیے جب تک قرآن و حدیث سے وہ ثابت نہ ہو۔ جب ثابت ہو عمل کریں۔ اور اللہ کی حمد کریں کہ جو اس کے جی میں آتا تھا۔ وہی قرآن و حدیث میں بھی نکلا۔ اللہ تعالیٰ محسنین کے ساتھ ہے۔ حضرت عیسیٰ بن مریم فرماتے ہیں احسان اس کا نام ہے کہ جو تیرے ساتھ بدسلوکی کرے تو اس کے ساتھ نیک سلوک کرے۔ احسان کرنے والوں سے احسان کرنے کا نام احسان نہیں واللہ اعلم۔