الأنعام — Al anam
Ayah 40 / 165 • Meccan
27
40
Al anam
الأنعام • Meccan
قُلۡ أَرَءَيۡتَكُمۡ إِنۡ أَتَىٰكُمۡ عَذَابُ ٱللَّهِ أَوۡ أَتَتۡكُمُ ٱلسَّاعَةُ أَغَيۡرَ ٱللَّهِ تَدۡعُونَ إِن كُنتُمۡ صَٰدِقِينَ
Say, “What is your opinion – if the punishment of Allah comes upon you or the Hour arrives, will you call upon anyone (deity) besides Allah; if you are truthful?”
آپ (ان کافروں سے) فرمائیے: ذرا یہ تو بتاؤ اگر تم پر اللہ کا عذاب آجائے یا تم پر قیامت آپہنچے تو کیا (اس وقت عذاب سے بچنے کے لیے) اللہ کے سوا کسی اور کو پکارو گے؟ (بتاؤ) اگر تم سچے ہو
Tafsir Ibn Kathir
The Idolators Call On Allah Alone During Torment and Distress
Allah states that He does what He wills with His creatures and none can resist His decision or avert what He decrees for them. He is the One Who has no partners, Who accepts the supplication from whomever He wills. Allah said,
قُلْ أَرَأَيْتُكُم إِنْ أَتَـكُمْ عَذَابُ اللَّهِ أَوْ أَتَتْكُمْ السَّاعَةُ أَغَيْرَ اللَّهِ تَدْعُونَ إِن كُنتُمْ صَـدِقِينَ
(Say: "Tell me if Allah's torment comes upon you, or the Hour comes upon you, would you then call upon any one other than Allah (Reply) if you are truthful!") This means, you -- disbelievers -- will not call other than Allah in this case, because you know that none except He is able to remove the affliction. Allah said,
إِن كُنتُمْ صَـدِقِينَ
(if you are truthful) by taking gods besides Him.
بَلْ إِيَّـهُ تَدْعُونَ فَيَكْشِفُ مَا تَدْعُونَ إِلَيْهِ إِنْ شَآءَ وَتَنسَوْنَ مَا تُشْرِكُونَ
(Nay! To Him alone you call, and, if He willed, He would remove that (distress) for which you call upon Him, and you forget at that time whatever partners you joined with Him (in worship)!) for in times of necessity, you only call on Allah and forget your idols and false deities. In another Ayah, Allah said;
وَإِذَا مَسَّكُمُ الْضُّرُّ فِى الْبَحْرِ ضَلَّ مَن تَدْعُونَ إِلاَ إِيَّاهُ
(And when harm touches you upon the sea, those that you call upon besides Him vanish from you except Him (Allah)) 17:67. Allah said;
وَلَقَدْ أَرْسَلنَآ إِلَى أُمَمٍ مِّن قَبْلِكَ فَأَخَذْنَـهُمْ بِالْبَأْسَآءِ
(Verily, We sent (Messengers) to many nations before you. And We seized them with extreme poverty...) That is, loss of wealth and diminished provisions,
وَالضَّرَّآءِ
(and loss of health) various illnesses, diseases and pain,
لَعَلَّهُمْ يَتَضَرَّعُونَ
(so that they might believe with humility) and call Allah and supplicate to Him with humbleness and humility. Allah said;
فَلَوْلا إِذْ جَآءَهُمْ بَأْسُنَا تَضَرَّعُواْ
(When Our torment reached them, why then did they not believe with humility) Meaning: Why do they not believe and humble themselves before Us when We test them with disaster'
وَلَـكِن قَسَتْ قُلُوبُهُمْ
(But their hearts became hardened,) for their hearts are not soft or humble,
وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطَـنُ مَا كَانُواّ يَعْمَلُونَ
(and Shaytan made fair-seeming to them that which they used to do. ) That is, Shirk, defiance and rebellion.
فَلَمَّا نَسُواْ مَا ذُكِّرُواْ بِهِ
(So, when they forgot (the warning) with which they had been reminded,) by ignoring and turning away from it,
فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ أَبْوَابَ كُلِّ شَىْءٍ
(We opened to them the gates of everything,) Meaning: `We opened the gates of provisions for them from wherever they wished, so that We deceive them.' We seek refuge with Allah from such an end. This is why Allah said,
حَتَّى إِذَا فَرِحُواْ بِمَآ أُوتُواْ
f(until in the midst of their enjoyment in that which they were given,) such as wealth, children and provisions,
أَخَذْنَـهُمْ بَغْتَةً فَإِذَا هُمْ مُّبْلِسُونَ
(all of a sudden, We took them to punishment and lo! They were plunged into destruction with deep regrets and sorrows.) They have no hope for any type of good thing. Al-Hasan Al-Basri said, "Whomever Allah gives provision and he thinks that Allah is not testing him, has no wisdom. Whomever has little provision and thinks that Allah will not look at (provide for) him, has no wisdom." He then recited the Ayah,
فَلَمَّا نَسُواْ مَا ذُكِّرُواْ بِهِ فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ أَبْوَابَ كُلِّ شَىْءٍ حَتَّى إِذَا فَرِحُواْ بِمَآ أُوتُواْ أَخَذْنَـهُمْ بَغْتَةً فَإِذَا هُمْ مُّبْلِسُونَ
(So, when they forgot (the warning) with which they had been reminded, We opened to them the gates of every (pleasant) thing, until in the midst of their enjoyment in that which they were given, all of a sudden, We took them to punishment, and lo! They were plunged into destruction with deep regrets and sorrows.) He added, "By the Lord of the Ka`bah! Allah deceived these people, when He gave them what they wished, and then they were punished." Ibn Abi Hatim recorded this statement.
سخت لوگ اور کثرت دولت مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ قادر مطلق ہے تمام مخلوق اس کے آگے پست و لا چار ہے جو چاہتا ہے حکم کرتا ہے، اس کا کوئی ارادہ بدلتا نہیں، اس کا کوئی حکم ٹلتا نہیں کوئی نہیں جو اس کی چاہت کے خلاف کرسکے یا اس کے حکم کو ٹال سکے یا اس کی قضا کو پھیر سکے وہ سارے ملک کا تنہا مالک ہے اس کی کسی بات میں کوئی سریک یا دخیل نہیں جو اسے مانگے وہ اسے دیتا ہے، جس کی چاہے دعا قبول فرماتا ہے پس فرماتا ہے خود تمہیں بھی ان تمام باتوں کا علم و اقرار ہے یہی وجہ ہے کہ آسمانی سزاؤں کے آ پڑنے پر تم اپنے تمام شریکوں کو بھول جاتے ہو اور صرف اللہ واحد کو پکارتے ہو، اگر تم سچے ہو کہ اللہ کے ساتھ اس کے کچھ اور ریک بھی ہیں تو ایسے کٹھن موقعوں پر ان میں سے کسی کو کیوں نہیں پکارتے ؟ بلکہ صرف اللہ واحد کو پکارتے ہو اور اپنے تمام معبودان باطل کو بھول جاتے ہو، چناچہ اور آیت میں ہے کہ سمندر میں جب ضرر پہنچتا ہے تو اللہ کے سوا ہر ایک تمہاری یاد سے نکل جاتا ہے، ہم نے اگلی امتوں کی طرف بھی رسول بھیجے پھر ان کے نہ ماننے پر ہم نے انہیں فقرو فاقہ میں تنگی ترشی میں بیماریوں اور دکھ درد میں مبتلا کردیا کہ اب بھی وہ ہمارے سامنے گریہ وزاری کریں عاجزانہ طور پر ہمارے سامنے جھک جائیں، ہم سے ڈر جائیں اور ہمارے دامن سے چمٹ جائیں، پھر انہوں نے ہمارے عذابوں کے آجانے کے بعد بھی ہمارے سامنے عاجزی کیوں نہ کی ؟ مسکینی کیوں نہ جتائی ؟ بلکہ ان کے دل سخت ہوگئے، شرک، دشمنی، ضد، تعصب، سرکشی، نافرمانی وغیرہ کو شیطان نے انہیں بڑا حسن میں دکھایا اور یہ اس پر جمے رہے، جب یہ لوگ ہماری باتوں کو فراموش کر گئے ہماری کتاب کو پس پشت ڈال دیا ہمارے فرمان سے منہ موڑ لیا تو ہم نے بھی انہیں ڈھیل دے دی کہ یہ اپنی برائیوں میں اور آگے نکل جائیں، ہر طرح کی روزیاں اور زیادہ سے زیادہ مال انہیں دیتے رہے یہاں تک کہ مال اولاد و رزق وغیرہ کی وسعت پر وہ بھولنے لگے اور غفلت کے گہرے گڑھے میں اتر گئے تو ہم نے انہیں ناگہاں پکڑ لیا، اس وقت وہ مایوس ہوگئے، امام حسن بصری ؒ کا صوفیانہ مقولہ ہے کہ جس نے کشادگی کے وقت اللہ تعالیٰ کی ڈھیل نہ سمجھی وہ محض بےعقل ہے اور جس نے تنگی کے وقت رب کی رحمت کی امید چھوڑ دی وہ بھی محض بیوقوف ہے۔ پھر آپ اسی آیت کی تلاوت فرماتے ہیں رب کعبہ کی قسم ایسے لوگ بھی ہیں جو اپنی چاہتوں کو پوری ہوتے ہوئے دیکھ کر اللہ کو بھول جاتے ہیں اور پھر رب کی گرفت میں آجاتے ہیں، حضرت قتادہ کا فرمان ہے کہ جب کوئی قوم اللہ کے فرمان سے سر تابی کرتی ہے تو اول تو انہیں دنیا خوب مل جاتی ہے جب وہ نعمتوں میں پڑ کر بد مست ہوجاتے ہیں تو اچانک پکڑ لئے جاتے ہیں لوگو اللہ کی ڈھیل کو سمجھ جایا کرو نافرمانیوں پر نعمتیں ملیں تو غافل ہو کر نافرمانیوں میں بڑھ نہ جاؤ۔ اس لئے کہ یہ تو بدکار اور بےنصیب لوگوں کا کام ہے، زہری فرماتے ہیں ہر چیز کے دروازے کھول دینے سے مراد دنیا میں آسائش و آرام کا دینا ہے، مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جب تم دیکھو کہ کسی گنہگار شخص کو اس کی گنہگاری کے باوجود اللہ کی نعمتیں دنیا میں مل رہی ہیں تو اسے استدراج سمجھنا یعنی وہ ایک مہلت ہے، پھر حضور نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی اور حدیث میں ہے کہ جب کسی قوم کی بربادی کا وقت آجاتا ہے تو ان پر خیانت کا دروازہ کھل جاتا ہے یہاں تک کہ وہ ان دی گئی ہوئی چیزوں پر اترانے لگتے ہیں تو ہم انہیں ناگہاں پکڑ لیتے ہیں اور اس وقت وہ محض ناامید ہوجاتے ہیں۔ پھر فرمایا ظالموں کی باگ ڈور کاٹ دی جاتی ہے۔ تعریفوں کے لائق وہ معبود برحق ہے جو سب کا پالنہار ہے (مسند وغیرہ)۔
ٱلۡحَمۡدُ لِلَّهِ ٱلَّذِي خَلَقَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضَ وَجَعَلَ ٱلظُّلُمَٰتِ وَٱلنُّورَۖ ثُمَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ بِرَبِّهِمۡ يَعۡدِلُونَ
All praise is to Allah, Who has created the heavens and the earth, and has created darkness and light; yet the disbelievers appoint equals (false deities) to their Lord!
تمام تعریفیں اللہ ہی کے لئے ہیں جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا فرمایا اور تاریکیوں اور روشنی کو بنایا، پھر بھی کافر لوگ (معبودانِ باطلہ کو) اپنے رب کے برابر ٹھہراتے ہیں
Tafsir Ibn Kathir
Which was revealed in Makkah
The Virtue of Surat Al-An`am and When it Was Revealed
Al-`Awfi, `Ikrimah and `Ata' said that Ibn `Abbas said, "Surat Al-An`am was revealed in Makkah" At-Tabarani recorded that Ibn `Abbas said, "All of Surat Al-An`am was revealed in Makkah at night, accompanied by seventy thousand angels, raising their voices in glorification of Allah" As-Suddi said that Murrah said that `Abdullah said, "Surat Al-An`am was revealed in the company of seventy thousand angels."
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـنِ الرَّحِيمِ
In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
All Praise is Due to Allah for His Glorious Ability and Great Power
Allah praises and glorifies His Most Honorable Self for creating the heavens and earth, as a dwelling for His servants, and for making the darkness and the light to benefit them in the night and the day. In this Ayah, Allah describes darkness in the plural, Zulumat where Zulmah is singular for darkness, while describing the light in the singular, An-Nur, because An-Nur is more honored. In other Ayat, Allah said,
ظِلَـلُهُ عَنِ الْيَمِينِ
(To the right and to the lefts.) 16:48 Near the end of this Surah (chapter 6), Allah also said;
وَأَنَّ هَـذَا صِرَطِي مُسْتَقِيمًا فَاتَّبِعُوهُ وَلاَ تَتَّبِعُواْ السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَن سَبِيلِهِ
(And verily, this is my straight path, so follow it, and follow no (other) ways, for they will separate you away from His way.) 6:153 Allah said next,
ثْمَّ الَّذِينَ كَفَرُواْ بِرَبِّهِمْ يَعْدِلُونَ
(Yet those who disbelieve hold others as equal with their Lord.) meaning, in spite of all this, some of Allah's servants disbelieve in Him and hold others as partners and rivals with Him. Some of Allah's servants claimed a wife and a son for Allah, hallowed be He far above what they attribute to Him. Allah's statement,
هُوَ الَّذِى خَلَقَكُمْ مِّن طِينٍ
(He it is Who has created you from clay,) refers to the father of mankind, Adam, from whom mankind originated, multiplied in numbers and spread about, east and west. Allah said,
ثُمَّ قَضَى أَجَلاً وَأَجَلٌ مُّسمًّى عِندَهُ
(Then has decreed a stated term. And there is with Him another determined term...) His saying;
ثُمَّ قَضَى أَجَلاً
(Then has decreed a stated term,) refers to death, while,
وَأَجَلٌ مُّسمًّى عِندَهُ
(And there is with Him another determined term...) refers to the Hereafter, according to Sa`id bin Jubayr who reported this from Ibn `Abbas. Similar statements were narrated from Mujahid, `Ikrimah, Sa`id bin Jubayr, Al-Hasan, Qatadah, Ad-Dahhak, Zayd bin Aslam, `Atiyyah, As-Suddi, Muqatil bin Hayyan and others. Ibn `Abbas and Mujahid said that,
ثُمَّ قَضَى أَجَلاً
(And then has decreed a stated term,) is the term of this earthly life, while,
وَأَجَلٌ مُّسمًّى عِندَهُ
(And there is with Him another determined term) refers to man's extent of life until he dies as mentioned in Allah's statement;
وَهُوَ الَّذِى يَتَوَفَّـكُم بِالَّيْلِ وَيَعْلَمُ مَا جَرَحْتُم بِالنَّهَارِ
(It is He, Who takes your souls by night (when you are asleep), and has knowledge of all that you have done by day, then He raises (wakes) you up again that a term appointed (life) be fulfilled.) 6:60 The meaning of Allah's statement,
عِندَهُ
(With Him) is that none but Him knows when it will occur. Allah said in other Ayat,
إِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ رَبِّي لاَ يُجَلِّيهَا لِوَقْتِهَآ إِلاَّ هُوَ
(The knowledge thereof is with my Lord. None can reveal its time but He.) 7:187, and,
يَسْأَلُونَكَ عَنِ السَّاعَةِ أَيَّانَ مُرْسَـهَا - فِيمَ أَنتَ مِن ذِكْرَاهَا - إِلَى رَبِّكَ مُنتَهَـهَآ
(They ask you about the Hour -- when will be its appointed time You have no knowledge to say anything about it. To your Lord belongs (the knowledge of) the term thereof.) 79:42-44 Allah said,
ثُمَّ أَنتُمْ تَمْتَرُونَ
(Yet you doubt.) the coming of the (last) Hour, according to As-Suddi. Allah said next,
وَهُوَ اللَّهُ فِى السَّمَـوَتِ وَفِى الاٌّرْضِ يَعْلَمُ سِرَّكُمْ وَجَهْرَكُمْ وَيَعْلَمُ مَا تَكْسِبُونَ
(And He is Allah in the heavens and the earth, He knows what you conceal and what you reveal, and He knows what you earn.) Meaning, it is He Who is called Allah, throughout the heavens and the earth, that is, it is He who is worshipped, singled out, whose divinity is believed in by the inhabitants of the heavens and the earth. They call Him Allah, and they supplicate to Him in fear and hope, except those who disbelieve among the Jinns and mankind. In another Ayah, Allah said;
وَهُوَ الَّذِى فِى السَّمآءِ إِلَـهٌ وَفِى الاٌّرْضِ إِلَـهٌ
(It is He Who is God in the heavens and the earth.)43:84 meaning, He is the God of those in heaven and those on earth, and He knows all affairs, public and secret.
وَيَعْلَمُ مَا تَكْسِبُونَ
(And He knows what you earn) all the good and bad deeds that you perform.
اللہ کی بعض صفات اللہ تعالیٰ اپنی تعریف کر رہا ہے گویا ہمیں اپنی تعریفوں کا حکم دے رہا ہے، اس کی تعریف جن امور پر ہے ان میں سے ایک زمین و آسمان کی پیدائش بھی ہے دن کی روشنی اور رات کا اندھیرا بھی ہے اندھیرے کو جمع کے لفظ سے اور نور کو واحد کے لفظ سے لانا نور کی شرافت کی وجہ سے ہے، جیسے فرمان ربانی آیت (عن الیمین و الشمائل) میں اور اس سورت کے آخری حصے کی آیت (وَاَنَّ ھٰذَا صِرَاطِيْ مُسْتَقِـيْمًا فَاتَّبِعُوْهُ ۚ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِيْلِهٖ ۭذٰلِكُمْ وَصّٰىكُمْ بِهٖ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ) 6۔ الانعام :153) میں یہاں بھی راہ راست کو واحد رکھا اور غلط راہوں کو جمع کے لفظ سے بتایا، اللہ ہی قابل حمد ہے، کیونکہ وہی خالق کل ہے مگر پھر بھی کافر لوگ اپنی نادانی سے اس کے شریک ٹھہرا رہے ہیں کبھی بیوی اور اولاد قائم کرتے ہیں کبھی شریک اور ساجھی ثابت کرنے بیٹھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان تمام باتوں سے پاک ہے، اس رب نے تمہارے باپ حضرت آدم کو مٹی سے پیدا کیا اور پھر تمہیں اس کی نسل سے مشرق مغرب میں پھیلا دیا، موت کا وقت بھی اسی کا مقرر کیا ہوا ہے، آخرت کے آنے کا وقت بھی اسی کا مقرر کیا ہوا ہے، پہلی اجل سے مراد دنیاوی زندگی دوسری اجل سے مراد قبر کی رہائش، گویا پہلی اجل خاص ہے یعنی ہر شخص کی عمر اور دوسری اجل عام ہے یعنی دنیا کی انتہا اور اس کا خاتمہ، ابن عباس اور مجاہد وغیرہ سے مروی ہے کہ قضی اجلا سے مراد مدت دنیا ہے اور اجل مسمی سے مراد عمر انسان ہے۔ بہت ممکن ہے کہ اس کا استدلال آنے والی آیت آیت (وَهُوَ الَّذِيْ يَتَوَفّٰىكُمْ بالَّيْلِ وَيَعْلَمُ مَا جَرَحْتُمْ بالنَّهَارِ ثُمَّ يَبْعَثُكُمْ فِيْهِ لِيُقْضٰٓى اَجَلٌ مُّسَمًّى) 6۔ الانعام :60) سے ہو، ابن عباس سے مروی ہے کہ آیت (ثم قضی اجلا) سے مراد نیند ہے جس میں روح قبض کی جاتی ہے، پھر جاگنے کے وقت لوٹا دی جاتی ہے اور اجل مسمی سے مراد موت ہے یہ قول غریب ہے عندہ سے مراد اس کے علم کا اللہ ہی کے ساتھ مخصوص ہونا ہے جیسے فرمایا آیت (قُلْ اِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ رَبِّيْ ۚ لَا يُجَلِّيْهَا لِوَقْتِهَآ اِلَّا هُوَ) 7۔ الاعراف :187) یعنی قیامت کا علم تو صرف میرے رب کے پاس ہی ہے، سورة نازعات میں بھی فرمان ہے کہ لوگ تجھ سے قیامت کے صحیح وقت کا حال دریافت کرتے ہیں حالانکہ تجھے اس کا علم کچھ بھی نہیں وہ تو صرف اللہ ہی کو معلوم ہے، باوجود اتنی پختگی کے اور باوجود کسی قسم کا شک شبہ نہ ہونے کے پھر بھی لوگ قیامت کے آنے نہ آنے میں تردد اور شک کر رہے ہیں اس کے بعد جو ارشاد جناب باری نے فرمایا ہے، اس میں مفسرین کے کئی ایک اقوال ہیں لیکن کسی کا بھی وہ مطلب نہیں جو جہمیہ لے رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنی ذات سے ہر جگہ ہے، نعوذ باللہ اللہ کی برتر وبالا ذات اس سے بالکل پاک ہے، آیت کا بالکل صحیح مطلب یہ ہے کہ آسمانوں میں بھی اسی کی ذات کی عبادت کی جاتی ہے اور زمینوں میں بھی، اسی کی الوہیت وہاں بھی ہے اور یہاں بھی، اوپر والے اور نیچے والے سب اللہ تعالیٰ ہی کو پکارتے ہیں، سب کی اسی سے امیدیں وابستہ ہیں اور سب کے دل اسی سے لرز رہے ہیں جن و انس سب اسی کی الوہیت اور بادشاہی مانتے ہیں جیسے اور آیت میں ہے آیت (وَهُوَ الَّذِيْ فِي السَّمَاۗءِ اِلٰهٌ وَّفِي الْاَرْضِ اِلٰهٌ ۭ وَهُوَ الْحَكِيْمُ الْعَلِيْمُ) 43۔ الزخرف :84) یعنی وہی آسمانوں میں معبود برحق ہے اور وہی زمین میں معبود برحق ہے، یعنی آسمانوں میں جو ہیں، سب کا معبود وہی ہے اور اسی طرح زمین والوں کا بھی سب کا معبود وہی ہے، اب اس آیت کا اور جملہ آیت (يَعْلَمُ سِرَّكُمْ وَجَهْرَكُمْ وَيَعْلَمُ مَا تَكْسِبُوْنَ) 6۔ الانعام :3) خبر ہوجائے گا یا حال سمجھا جائے گا اور یہ بھی قول ہے کہ اللہ وہ ہے جو آسمانوں کی سب چیزوں کو اس زمین کی سب چیزوں کو چاہے وہ ظاہر ہوں یا پوشیدہ، جانتا ہے۔ پس یعلم متعلق ہوگا فی السموات وفی الارض کا اور تقدیر آیت یوں ہوجائے گی آیت (وھو اللہ یعلم سر کم و جھر کم فی السموات وفی الارض و یعلم ما تکسبون) ایک قول یہ بھی ہے کہ آیت (وھو اللہ فی السموات) پر وقف تام ہے اور پھر جملہ مستانفہ کے طور پر خبر ہے کہ آیت (وفی الارض یعلم سر کم و جھر کم) امام ابن جریر اسی تیسرے قول کو پسند کرتے ہیں۔ پھر فرماتا ہے تمہارے کل اعمال سے خیر و شر سے وہ واقف ہے۔
هُوَ ٱلَّذِي خَلَقَكُم مِّن طِينٖ ثُمَّ قَضَىٰٓ أَجَلٗاۖ وَأَجَلٞ مُّسَمًّى عِندَهُۥۖ ثُمَّ أَنتُمۡ تَمۡتَرُونَ
It is He Who has created you from clay, and then decreed a term for you; and it is a fixed promise before Him, yet you still doubt!
(اللہ) وہی ہے جس نے تمہیں مٹی کے گارے سے پیدا فرمایا (یعنی کرّۂ اَرضی پر حیاتِ انسانی کی کیمیائی ابتداء اس سے کی)۔ پھر اس نے (تمہاری موت کی) میعاد مقرر فرما دی، اور (انعقادِ قیامت کا) معیّنہ وقت اسی کے پاس (مقرر) ہے پھر (بھی) تم شک کرتے ہو
Tafsir Ibn Kathir
Which was revealed in Makkah
The Virtue of Surat Al-An`am and When it Was Revealed
Al-`Awfi, `Ikrimah and `Ata' said that Ibn `Abbas said, "Surat Al-An`am was revealed in Makkah" At-Tabarani recorded that Ibn `Abbas said, "All of Surat Al-An`am was revealed in Makkah at night, accompanied by seventy thousand angels, raising their voices in glorification of Allah" As-Suddi said that Murrah said that `Abdullah said, "Surat Al-An`am was revealed in the company of seventy thousand angels."
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـنِ الرَّحِيمِ
In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
All Praise is Due to Allah for His Glorious Ability and Great Power
Allah praises and glorifies His Most Honorable Self for creating the heavens and earth, as a dwelling for His servants, and for making the darkness and the light to benefit them in the night and the day. In this Ayah, Allah describes darkness in the plural, Zulumat where Zulmah is singular for darkness, while describing the light in the singular, An-Nur, because An-Nur is more honored. In other Ayat, Allah said,
ظِلَـلُهُ عَنِ الْيَمِينِ
(To the right and to the lefts.) 16:48 Near the end of this Surah (chapter 6), Allah also said;
وَأَنَّ هَـذَا صِرَطِي مُسْتَقِيمًا فَاتَّبِعُوهُ وَلاَ تَتَّبِعُواْ السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَن سَبِيلِهِ
(And verily, this is my straight path, so follow it, and follow no (other) ways, for they will separate you away from His way.) 6:153 Allah said next,
ثْمَّ الَّذِينَ كَفَرُواْ بِرَبِّهِمْ يَعْدِلُونَ
(Yet those who disbelieve hold others as equal with their Lord.) meaning, in spite of all this, some of Allah's servants disbelieve in Him and hold others as partners and rivals with Him. Some of Allah's servants claimed a wife and a son for Allah, hallowed be He far above what they attribute to Him. Allah's statement,
هُوَ الَّذِى خَلَقَكُمْ مِّن طِينٍ
(He it is Who has created you from clay,) refers to the father of mankind, Adam, from whom mankind originated, multiplied in numbers and spread about, east and west. Allah said,
ثُمَّ قَضَى أَجَلاً وَأَجَلٌ مُّسمًّى عِندَهُ
(Then has decreed a stated term. And there is with Him another determined term...) His saying;
ثُمَّ قَضَى أَجَلاً
(Then has decreed a stated term,) refers to death, while,
وَأَجَلٌ مُّسمًّى عِندَهُ
(And there is with Him another determined term...) refers to the Hereafter, according to Sa`id bin Jubayr who reported this from Ibn `Abbas. Similar statements were narrated from Mujahid, `Ikrimah, Sa`id bin Jubayr, Al-Hasan, Qatadah, Ad-Dahhak, Zayd bin Aslam, `Atiyyah, As-Suddi, Muqatil bin Hayyan and others. Ibn `Abbas and Mujahid said that,
ثُمَّ قَضَى أَجَلاً
(And then has decreed a stated term,) is the term of this earthly life, while,
وَأَجَلٌ مُّسمًّى عِندَهُ
(And there is with Him another determined term) refers to man's extent of life until he dies as mentioned in Allah's statement;
وَهُوَ الَّذِى يَتَوَفَّـكُم بِالَّيْلِ وَيَعْلَمُ مَا جَرَحْتُم بِالنَّهَارِ
(It is He, Who takes your souls by night (when you are asleep), and has knowledge of all that you have done by day, then He raises (wakes) you up again that a term appointed (life) be fulfilled.) 6:60 The meaning of Allah's statement,
عِندَهُ
(With Him) is that none but Him knows when it will occur. Allah said in other Ayat,
إِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ رَبِّي لاَ يُجَلِّيهَا لِوَقْتِهَآ إِلاَّ هُوَ
(The knowledge thereof is with my Lord. None can reveal its time but He.) 7:187, and,
يَسْأَلُونَكَ عَنِ السَّاعَةِ أَيَّانَ مُرْسَـهَا - فِيمَ أَنتَ مِن ذِكْرَاهَا - إِلَى رَبِّكَ مُنتَهَـهَآ
(They ask you about the Hour -- when will be its appointed time You have no knowledge to say anything about it. To your Lord belongs (the knowledge of) the term thereof.) 79:42-44 Allah said,
ثُمَّ أَنتُمْ تَمْتَرُونَ
(Yet you doubt.) the coming of the (last) Hour, according to As-Suddi. Allah said next,
وَهُوَ اللَّهُ فِى السَّمَـوَتِ وَفِى الاٌّرْضِ يَعْلَمُ سِرَّكُمْ وَجَهْرَكُمْ وَيَعْلَمُ مَا تَكْسِبُونَ
(And He is Allah in the heavens and the earth, He knows what you conceal and what you reveal, and He knows what you earn.) Meaning, it is He Who is called Allah, throughout the heavens and the earth, that is, it is He who is worshipped, singled out, whose divinity is believed in by the inhabitants of the heavens and the earth. They call Him Allah, and they supplicate to Him in fear and hope, except those who disbelieve among the Jinns and mankind. In another Ayah, Allah said;
وَهُوَ الَّذِى فِى السَّمآءِ إِلَـهٌ وَفِى الاٌّرْضِ إِلَـهٌ
(It is He Who is God in the heavens and the earth.)43:84 meaning, He is the God of those in heaven and those on earth, and He knows all affairs, public and secret.
وَيَعْلَمُ مَا تَكْسِبُونَ
(And He knows what you earn) all the good and bad deeds that you perform.
اللہ کی بعض صفات اللہ تعالیٰ اپنی تعریف کر رہا ہے گویا ہمیں اپنی تعریفوں کا حکم دے رہا ہے، اس کی تعریف جن امور پر ہے ان میں سے ایک زمین و آسمان کی پیدائش بھی ہے دن کی روشنی اور رات کا اندھیرا بھی ہے اندھیرے کو جمع کے لفظ سے اور نور کو واحد کے لفظ سے لانا نور کی شرافت کی وجہ سے ہے، جیسے فرمان ربانی آیت (عن الیمین و الشمائل) میں اور اس سورت کے آخری حصے کی آیت (وَاَنَّ ھٰذَا صِرَاطِيْ مُسْتَقِـيْمًا فَاتَّبِعُوْهُ ۚ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِيْلِهٖ ۭذٰلِكُمْ وَصّٰىكُمْ بِهٖ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ) 6۔ الانعام :153) میں یہاں بھی راہ راست کو واحد رکھا اور غلط راہوں کو جمع کے لفظ سے بتایا، اللہ ہی قابل حمد ہے، کیونکہ وہی خالق کل ہے مگر پھر بھی کافر لوگ اپنی نادانی سے اس کے شریک ٹھہرا رہے ہیں کبھی بیوی اور اولاد قائم کرتے ہیں کبھی شریک اور ساجھی ثابت کرنے بیٹھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان تمام باتوں سے پاک ہے، اس رب نے تمہارے باپ حضرت آدم کو مٹی سے پیدا کیا اور پھر تمہیں اس کی نسل سے مشرق مغرب میں پھیلا دیا، موت کا وقت بھی اسی کا مقرر کیا ہوا ہے، آخرت کے آنے کا وقت بھی اسی کا مقرر کیا ہوا ہے، پہلی اجل سے مراد دنیاوی زندگی دوسری اجل سے مراد قبر کی رہائش، گویا پہلی اجل خاص ہے یعنی ہر شخص کی عمر اور دوسری اجل عام ہے یعنی دنیا کی انتہا اور اس کا خاتمہ، ابن عباس اور مجاہد وغیرہ سے مروی ہے کہ قضی اجلا سے مراد مدت دنیا ہے اور اجل مسمی سے مراد عمر انسان ہے۔ بہت ممکن ہے کہ اس کا استدلال آنے والی آیت آیت (وَهُوَ الَّذِيْ يَتَوَفّٰىكُمْ بالَّيْلِ وَيَعْلَمُ مَا جَرَحْتُمْ بالنَّهَارِ ثُمَّ يَبْعَثُكُمْ فِيْهِ لِيُقْضٰٓى اَجَلٌ مُّسَمًّى) 6۔ الانعام :60) سے ہو، ابن عباس سے مروی ہے کہ آیت (ثم قضی اجلا) سے مراد نیند ہے جس میں روح قبض کی جاتی ہے، پھر جاگنے کے وقت لوٹا دی جاتی ہے اور اجل مسمی سے مراد موت ہے یہ قول غریب ہے عندہ سے مراد اس کے علم کا اللہ ہی کے ساتھ مخصوص ہونا ہے جیسے فرمایا آیت (قُلْ اِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ رَبِّيْ ۚ لَا يُجَلِّيْهَا لِوَقْتِهَآ اِلَّا هُوَ) 7۔ الاعراف :187) یعنی قیامت کا علم تو صرف میرے رب کے پاس ہی ہے، سورة نازعات میں بھی فرمان ہے کہ لوگ تجھ سے قیامت کے صحیح وقت کا حال دریافت کرتے ہیں حالانکہ تجھے اس کا علم کچھ بھی نہیں وہ تو صرف اللہ ہی کو معلوم ہے، باوجود اتنی پختگی کے اور باوجود کسی قسم کا شک شبہ نہ ہونے کے پھر بھی لوگ قیامت کے آنے نہ آنے میں تردد اور شک کر رہے ہیں اس کے بعد جو ارشاد جناب باری نے فرمایا ہے، اس میں مفسرین کے کئی ایک اقوال ہیں لیکن کسی کا بھی وہ مطلب نہیں جو جہمیہ لے رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنی ذات سے ہر جگہ ہے، نعوذ باللہ اللہ کی برتر وبالا ذات اس سے بالکل پاک ہے، آیت کا بالکل صحیح مطلب یہ ہے کہ آسمانوں میں بھی اسی کی ذات کی عبادت کی جاتی ہے اور زمینوں میں بھی، اسی کی الوہیت وہاں بھی ہے اور یہاں بھی، اوپر والے اور نیچے والے سب اللہ تعالیٰ ہی کو پکارتے ہیں، سب کی اسی سے امیدیں وابستہ ہیں اور سب کے دل اسی سے لرز رہے ہیں جن و انس سب اسی کی الوہیت اور بادشاہی مانتے ہیں جیسے اور آیت میں ہے آیت (وَهُوَ الَّذِيْ فِي السَّمَاۗءِ اِلٰهٌ وَّفِي الْاَرْضِ اِلٰهٌ ۭ وَهُوَ الْحَكِيْمُ الْعَلِيْمُ) 43۔ الزخرف :84) یعنی وہی آسمانوں میں معبود برحق ہے اور وہی زمین میں معبود برحق ہے، یعنی آسمانوں میں جو ہیں، سب کا معبود وہی ہے اور اسی طرح زمین والوں کا بھی سب کا معبود وہی ہے، اب اس آیت کا اور جملہ آیت (يَعْلَمُ سِرَّكُمْ وَجَهْرَكُمْ وَيَعْلَمُ مَا تَكْسِبُوْنَ) 6۔ الانعام :3) خبر ہوجائے گا یا حال سمجھا جائے گا اور یہ بھی قول ہے کہ اللہ وہ ہے جو آسمانوں کی سب چیزوں کو اس زمین کی سب چیزوں کو چاہے وہ ظاہر ہوں یا پوشیدہ، جانتا ہے۔ پس یعلم متعلق ہوگا فی السموات وفی الارض کا اور تقدیر آیت یوں ہوجائے گی آیت (وھو اللہ یعلم سر کم و جھر کم فی السموات وفی الارض و یعلم ما تکسبون) ایک قول یہ بھی ہے کہ آیت (وھو اللہ فی السموات) پر وقف تام ہے اور پھر جملہ مستانفہ کے طور پر خبر ہے کہ آیت (وفی الارض یعلم سر کم و جھر کم) امام ابن جریر اسی تیسرے قول کو پسند کرتے ہیں۔ پھر فرماتا ہے تمہارے کل اعمال سے خیر و شر سے وہ واقف ہے۔
وَهُوَ ٱللَّهُ فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَفِي ٱلۡأَرۡضِ يَعۡلَمُ سِرَّكُمۡ وَجَهۡرَكُمۡ وَيَعۡلَمُ مَا تَكۡسِبُونَ
And He is Allah (the God) of the heavens and in the earth; He knows all, your secrets and your disclosures, and He knows your deeds.
اور آسمانوں میں اور زمین میں وہی اللہ ہی (معبودِ برحق) ہے، جو تمہاری پوشیدہ اور تمہاری ظاہر(سب باتوں) کو جانتا ہے اور جو کچھ تم کما رہے ہو وہ (اسے بھی) جانتا ہے
Tafsir Ibn Kathir
Which was revealed in Makkah
The Virtue of Surat Al-An`am and When it Was Revealed
Al-`Awfi, `Ikrimah and `Ata' said that Ibn `Abbas said, "Surat Al-An`am was revealed in Makkah" At-Tabarani recorded that Ibn `Abbas said, "All of Surat Al-An`am was revealed in Makkah at night, accompanied by seventy thousand angels, raising their voices in glorification of Allah" As-Suddi said that Murrah said that `Abdullah said, "Surat Al-An`am was revealed in the company of seventy thousand angels."
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـنِ الرَّحِيمِ
In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
All Praise is Due to Allah for His Glorious Ability and Great Power
Allah praises and glorifies His Most Honorable Self for creating the heavens and earth, as a dwelling for His servants, and for making the darkness and the light to benefit them in the night and the day. In this Ayah, Allah describes darkness in the plural, Zulumat where Zulmah is singular for darkness, while describing the light in the singular, An-Nur, because An-Nur is more honored. In other Ayat, Allah said,
ظِلَـلُهُ عَنِ الْيَمِينِ
(To the right and to the lefts.) 16:48 Near the end of this Surah (chapter 6), Allah also said;
وَأَنَّ هَـذَا صِرَطِي مُسْتَقِيمًا فَاتَّبِعُوهُ وَلاَ تَتَّبِعُواْ السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَن سَبِيلِهِ
(And verily, this is my straight path, so follow it, and follow no (other) ways, for they will separate you away from His way.) 6:153 Allah said next,
ثْمَّ الَّذِينَ كَفَرُواْ بِرَبِّهِمْ يَعْدِلُونَ
(Yet those who disbelieve hold others as equal with their Lord.) meaning, in spite of all this, some of Allah's servants disbelieve in Him and hold others as partners and rivals with Him. Some of Allah's servants claimed a wife and a son for Allah, hallowed be He far above what they attribute to Him. Allah's statement,
هُوَ الَّذِى خَلَقَكُمْ مِّن طِينٍ
(He it is Who has created you from clay,) refers to the father of mankind, Adam, from whom mankind originated, multiplied in numbers and spread about, east and west. Allah said,
ثُمَّ قَضَى أَجَلاً وَأَجَلٌ مُّسمًّى عِندَهُ
(Then has decreed a stated term. And there is with Him another determined term...) His saying;
ثُمَّ قَضَى أَجَلاً
(Then has decreed a stated term,) refers to death, while,
وَأَجَلٌ مُّسمًّى عِندَهُ
(And there is with Him another determined term...) refers to the Hereafter, according to Sa`id bin Jubayr who reported this from Ibn `Abbas. Similar statements were narrated from Mujahid, `Ikrimah, Sa`id bin Jubayr, Al-Hasan, Qatadah, Ad-Dahhak, Zayd bin Aslam, `Atiyyah, As-Suddi, Muqatil bin Hayyan and others. Ibn `Abbas and Mujahid said that,
ثُمَّ قَضَى أَجَلاً
(And then has decreed a stated term,) is the term of this earthly life, while,
وَأَجَلٌ مُّسمًّى عِندَهُ
(And there is with Him another determined term) refers to man's extent of life until he dies as mentioned in Allah's statement;
وَهُوَ الَّذِى يَتَوَفَّـكُم بِالَّيْلِ وَيَعْلَمُ مَا جَرَحْتُم بِالنَّهَارِ
(It is He, Who takes your souls by night (when you are asleep), and has knowledge of all that you have done by day, then He raises (wakes) you up again that a term appointed (life) be fulfilled.) 6:60 The meaning of Allah's statement,
عِندَهُ
(With Him) is that none but Him knows when it will occur. Allah said in other Ayat,
إِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ رَبِّي لاَ يُجَلِّيهَا لِوَقْتِهَآ إِلاَّ هُوَ
(The knowledge thereof is with my Lord. None can reveal its time but He.) 7:187, and,
يَسْأَلُونَكَ عَنِ السَّاعَةِ أَيَّانَ مُرْسَـهَا - فِيمَ أَنتَ مِن ذِكْرَاهَا - إِلَى رَبِّكَ مُنتَهَـهَآ
(They ask you about the Hour -- when will be its appointed time You have no knowledge to say anything about it. To your Lord belongs (the knowledge of) the term thereof.) 79:42-44 Allah said,
ثُمَّ أَنتُمْ تَمْتَرُونَ
(Yet you doubt.) the coming of the (last) Hour, according to As-Suddi. Allah said next,
وَهُوَ اللَّهُ فِى السَّمَـوَتِ وَفِى الاٌّرْضِ يَعْلَمُ سِرَّكُمْ وَجَهْرَكُمْ وَيَعْلَمُ مَا تَكْسِبُونَ
(And He is Allah in the heavens and the earth, He knows what you conceal and what you reveal, and He knows what you earn.) Meaning, it is He Who is called Allah, throughout the heavens and the earth, that is, it is He who is worshipped, singled out, whose divinity is believed in by the inhabitants of the heavens and the earth. They call Him Allah, and they supplicate to Him in fear and hope, except those who disbelieve among the Jinns and mankind. In another Ayah, Allah said;
وَهُوَ الَّذِى فِى السَّمآءِ إِلَـهٌ وَفِى الاٌّرْضِ إِلَـهٌ
(It is He Who is God in the heavens and the earth.)43:84 meaning, He is the God of those in heaven and those on earth, and He knows all affairs, public and secret.
وَيَعْلَمُ مَا تَكْسِبُونَ
(And He knows what you earn) all the good and bad deeds that you perform.
اللہ کی بعض صفات اللہ تعالیٰ اپنی تعریف کر رہا ہے گویا ہمیں اپنی تعریفوں کا حکم دے رہا ہے، اس کی تعریف جن امور پر ہے ان میں سے ایک زمین و آسمان کی پیدائش بھی ہے دن کی روشنی اور رات کا اندھیرا بھی ہے اندھیرے کو جمع کے لفظ سے اور نور کو واحد کے لفظ سے لانا نور کی شرافت کی وجہ سے ہے، جیسے فرمان ربانی آیت (عن الیمین و الشمائل) میں اور اس سورت کے آخری حصے کی آیت (وَاَنَّ ھٰذَا صِرَاطِيْ مُسْتَقِـيْمًا فَاتَّبِعُوْهُ ۚ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِيْلِهٖ ۭذٰلِكُمْ وَصّٰىكُمْ بِهٖ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ) 6۔ الانعام :153) میں یہاں بھی راہ راست کو واحد رکھا اور غلط راہوں کو جمع کے لفظ سے بتایا، اللہ ہی قابل حمد ہے، کیونکہ وہی خالق کل ہے مگر پھر بھی کافر لوگ اپنی نادانی سے اس کے شریک ٹھہرا رہے ہیں کبھی بیوی اور اولاد قائم کرتے ہیں کبھی شریک اور ساجھی ثابت کرنے بیٹھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان تمام باتوں سے پاک ہے، اس رب نے تمہارے باپ حضرت آدم کو مٹی سے پیدا کیا اور پھر تمہیں اس کی نسل سے مشرق مغرب میں پھیلا دیا، موت کا وقت بھی اسی کا مقرر کیا ہوا ہے، آخرت کے آنے کا وقت بھی اسی کا مقرر کیا ہوا ہے، پہلی اجل سے مراد دنیاوی زندگی دوسری اجل سے مراد قبر کی رہائش، گویا پہلی اجل خاص ہے یعنی ہر شخص کی عمر اور دوسری اجل عام ہے یعنی دنیا کی انتہا اور اس کا خاتمہ، ابن عباس اور مجاہد وغیرہ سے مروی ہے کہ قضی اجلا سے مراد مدت دنیا ہے اور اجل مسمی سے مراد عمر انسان ہے۔ بہت ممکن ہے کہ اس کا استدلال آنے والی آیت آیت (وَهُوَ الَّذِيْ يَتَوَفّٰىكُمْ بالَّيْلِ وَيَعْلَمُ مَا جَرَحْتُمْ بالنَّهَارِ ثُمَّ يَبْعَثُكُمْ فِيْهِ لِيُقْضٰٓى اَجَلٌ مُّسَمًّى) 6۔ الانعام :60) سے ہو، ابن عباس سے مروی ہے کہ آیت (ثم قضی اجلا) سے مراد نیند ہے جس میں روح قبض کی جاتی ہے، پھر جاگنے کے وقت لوٹا دی جاتی ہے اور اجل مسمی سے مراد موت ہے یہ قول غریب ہے عندہ سے مراد اس کے علم کا اللہ ہی کے ساتھ مخصوص ہونا ہے جیسے فرمایا آیت (قُلْ اِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ رَبِّيْ ۚ لَا يُجَلِّيْهَا لِوَقْتِهَآ اِلَّا هُوَ) 7۔ الاعراف :187) یعنی قیامت کا علم تو صرف میرے رب کے پاس ہی ہے، سورة نازعات میں بھی فرمان ہے کہ لوگ تجھ سے قیامت کے صحیح وقت کا حال دریافت کرتے ہیں حالانکہ تجھے اس کا علم کچھ بھی نہیں وہ تو صرف اللہ ہی کو معلوم ہے، باوجود اتنی پختگی کے اور باوجود کسی قسم کا شک شبہ نہ ہونے کے پھر بھی لوگ قیامت کے آنے نہ آنے میں تردد اور شک کر رہے ہیں اس کے بعد جو ارشاد جناب باری نے فرمایا ہے، اس میں مفسرین کے کئی ایک اقوال ہیں لیکن کسی کا بھی وہ مطلب نہیں جو جہمیہ لے رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنی ذات سے ہر جگہ ہے، نعوذ باللہ اللہ کی برتر وبالا ذات اس سے بالکل پاک ہے، آیت کا بالکل صحیح مطلب یہ ہے کہ آسمانوں میں بھی اسی کی ذات کی عبادت کی جاتی ہے اور زمینوں میں بھی، اسی کی الوہیت وہاں بھی ہے اور یہاں بھی، اوپر والے اور نیچے والے سب اللہ تعالیٰ ہی کو پکارتے ہیں، سب کی اسی سے امیدیں وابستہ ہیں اور سب کے دل اسی سے لرز رہے ہیں جن و انس سب اسی کی الوہیت اور بادشاہی مانتے ہیں جیسے اور آیت میں ہے آیت (وَهُوَ الَّذِيْ فِي السَّمَاۗءِ اِلٰهٌ وَّفِي الْاَرْضِ اِلٰهٌ ۭ وَهُوَ الْحَكِيْمُ الْعَلِيْمُ) 43۔ الزخرف :84) یعنی وہی آسمانوں میں معبود برحق ہے اور وہی زمین میں معبود برحق ہے، یعنی آسمانوں میں جو ہیں، سب کا معبود وہی ہے اور اسی طرح زمین والوں کا بھی سب کا معبود وہی ہے، اب اس آیت کا اور جملہ آیت (يَعْلَمُ سِرَّكُمْ وَجَهْرَكُمْ وَيَعْلَمُ مَا تَكْسِبُوْنَ) 6۔ الانعام :3) خبر ہوجائے گا یا حال سمجھا جائے گا اور یہ بھی قول ہے کہ اللہ وہ ہے جو آسمانوں کی سب چیزوں کو اس زمین کی سب چیزوں کو چاہے وہ ظاہر ہوں یا پوشیدہ، جانتا ہے۔ پس یعلم متعلق ہوگا فی السموات وفی الارض کا اور تقدیر آیت یوں ہوجائے گی آیت (وھو اللہ یعلم سر کم و جھر کم فی السموات وفی الارض و یعلم ما تکسبون) ایک قول یہ بھی ہے کہ آیت (وھو اللہ فی السموات) پر وقف تام ہے اور پھر جملہ مستانفہ کے طور پر خبر ہے کہ آیت (وفی الارض یعلم سر کم و جھر کم) امام ابن جریر اسی تیسرے قول کو پسند کرتے ہیں۔ پھر فرماتا ہے تمہارے کل اعمال سے خیر و شر سے وہ واقف ہے۔
وَمَا تَأۡتِيهِم مِّنۡ ءَايَةٖ مِّنۡ ءَايَٰتِ رَبِّهِمۡ إِلَّا كَانُواْ عَنۡهَا مُعۡرِضِينَ
And never does a sign come to them from among the signs of Allah, except that they* turn away from it. (* The disbelievers)
اور ان کے رب کی نشانیوں میں سے ان کے پاس کوئی نشانی نہیں آتی مگر (یہ کہ) وہ اس سے روگردانی کرتے ہیں
Tafsir Ibn Kathir
Threatening the Idolators for their Stubbornness
Allah states that the rebellious, stubborn polytheists will turn away from every Ayah, meaning, sign, miracle and proof that is evidence of Allah's Uniqueness and the truth of His honorable Messengers. They will not contemplate about these Ayat or care about them. Allah said,
فَقَدْ كَذَّبُواْ بِالْحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمْ فَسَوْفَ يَأْتِيهِمْ أَنْبَاءُ مَا كَانُواْ بِهِ يَسْتَهْزِءُونَ
(Indeed, they rejected the truth when it came to them, but there will come to them the news of that which they used to mock at.) This Ayah contains a warning and a stern threat for the disbelievers' rejection of the truth, stating that the disbelievers will surely know the truth of what they used to deny and taste the evil end of their behavior. Allah advises and warns the disbelievers, that they should avoid the torments and afflictions of this life, similar to what befell their likes from previous nations, who were stronger, wealthier, had more offspring, and were more exploitive on the earth. Allah said,
أَلَمْ يَرَوْاْ كَمْ أَهْلَكْنَا مِن قَبْلِهِم مِّن قَرْنٍ مَّكَّنَّـهُمْ فِى الاٌّرْضِ مَا لَمْ نُمَكِّن لَّكُمْ
(Have they not seen how many a generation before them We have destroyed whom We had established on the earth such as We have not established you) meaning, they had more wealth, children, buildings, abundant provision, riches and soldiers. Allah said next,
وَأَرْسَلْنَا السَّمَآءَ عَلَيْهِم مَّدْرَاراً
(and We poured out on them rain from the sky in abundance, ) in reference to rain that comes often,
وَجَعَلْنَا الاٌّنْهَـرَ تَجْرِى مِن تَحْتِهِمْ
(And made the rivers flow under them.) as rain was abundant and the springs were plentiful, so that We deceived them.
فَأَهْلَكْنَـهُمْ بِذُنُوبِهِمْ
(Yet We destroyed them for their sins) meaning the mistakes and errors that they committed,
وَأَنْشَأْنَا مِن بَعْدِهِمْ قَرْناً ءَاخَرِينَ
(and created after them other generations,) for, these generations of old perished and became as legends and stories,
وَأَنْشَأْنَا مِن بَعْدِهِمْ قَرْناً ءَاخَرِينَ
(And created after them other generations.) so that We test the new generations, as well. Yet, they committed similar errors and were destroyed, as their ancestors were destroyed. Therefore, beware of the same end that might befall you, for you are not dearer to Allah than these previous nations, but the Messenger whom you defied is dearer to Allah than the Messengers they defied. Thus, you are more liable than them to receive torment, if it was not for Allah's mercy and kindness.
کفار کو نافرمانی پر سخت انتباہ کفار کی سرکشی کی انتہا بیان ہو رہی ہے کہ ہر امر کی تکذیب پر گویا انہوں نے کمر باندھ لی ہے، نیت کر کے بیٹھے ہیں کہ جو نشانی دیکھیں گے، اسی کا انکار کریں گے، ان کی یہ خطرناک روش انہیں ایک دن ذلیل کرے گی اور وہ ذائقہ آئے گا کہ ہونٹ کاٹتے رہیں، یہ یوں نہ سمجھیں کہ ہم نے انہیں چھوڑ دیا ہے نہیں بلکہ عنقریب انہیں اللہ کی پکڑ ہوگی، کیا ان سے پہلے کے ایسے سرکشوں کے حالات ان کے کان میں نہیں پڑے ؟ کیا ان کے عبرتناک انجام ان کی نگاہوں کے سامنے نہیں ؟ وہ تو قوت طاقت میں اور زور میں ان سے بہت بڑھے چڑھے ہوئے تھے، وہ اپنی رہائش میں اور زمین کو بسانے میں ان سے کہیں زیادہ آگے تھے، ان کے لاؤ لشکر، ان کی جاہ و عزت، غرور و تمکنت ان سے کہیں زیادہ تھی، ہم نے انہیں خوب مست بنا رکھا تھا، بارشیں پے درپے حسن ضرورت ان پر برابر برسا کرتی تھیں، زمین ہر وقت ترو تازہ رہتی تھی چاروں طرف پانی کی ریل پیل کی وجہ سے آبشاریں اور چشمے صاف شفاف پانی کے بہتے رہتے تھے۔ جب وہ تکبر میں آگئے، ہماری نشانیوں کی حقارت کرنے لگے تو آخر نتیجہ یہ ہوا کہ برباد کردیئے گئے۔ تہس نہس ہوگئے، بھوسی اڑ گئی۔ لوگوں میں ان کے فسانے باقی رہ گئے اور ان میں سے ایک بھی نہ بچا حرف غلط کی طرح صفحہ ہستی سے مٹا دیئے گئے اور ان کے بعد ان کے قائم مقام اور زمانہ آیا۔ اگر وہ بھی اسی روش پر چلا تو یہی سلوک ان کے ساتھی بھی ہوتا، اتنی نظریں جب تمہاری آنکھوں کے سامنے موجود ہیں پھر بھی تم عبرت حاصل نہیں کرتے، یہ کس قدر تمہاری غفلت ہے، یاد رکھو تم کچھ اللہ کے ایسے لاڈلے نہیں ہو کہ جن کاموں کی وجہ سے اوروں کو وہ تباہ کر دے وہ کام تم کرتے رہو اور تباہی سے بچ جاؤ۔ اسی طرح جن رسولوں کو جھٹلانے اور ان کو نہ ماننے کی وجہ سے وہ ہلاک ہوئے ان رسولوں سے کسی طرح یہ رسول کم درجے کے نہیں بلکہ ان سے زیادہ اللہ کے ہاں یہ با عزت ہیں۔ یقین مانو کہ پہلوں سے بھی سخت اور نہایت سخت عذاب تم پر آئیں گے، پس تم اپنی اس غلط روش کو چھوڑ دو ، یہ صرف اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم ہے کہ اس نے تمہاری بدترین اور انتہائی شرارتوں کے باوجود تمہیں ڈھیل دے رکھی ہے۔
فَقَدۡ كَذَّبُواْ بِٱلۡحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمۡ فَسَوۡفَ يَأۡتِيهِمۡ أَنۢبَـٰٓؤُاْ مَا كَانُواْ بِهِۦ يَسۡتَهۡزِءُونَ
So indeed they denied the truth* when it came to them; so now the tidings of the thing they used to mock at, will come to them. (Prophet Mohammed -peace and blessings be upon him, or the Holy Qur’an).
پھر بیشک انہوں نے (اسی طرح) حق (یعنی قرآن) کو (بھی) جھٹلا دیا جب وہ ان کے پاس (اُلوہی نشانی کے طور پر) آیا، پس عنقریب ان کے پاس اس کی خبریں آیا چاہتی ہیں جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے
Tafsir Ibn Kathir
Threatening the Idolators for their Stubbornness
Allah states that the rebellious, stubborn polytheists will turn away from every Ayah, meaning, sign, miracle and proof that is evidence of Allah's Uniqueness and the truth of His honorable Messengers. They will not contemplate about these Ayat or care about them. Allah said,
فَقَدْ كَذَّبُواْ بِالْحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمْ فَسَوْفَ يَأْتِيهِمْ أَنْبَاءُ مَا كَانُواْ بِهِ يَسْتَهْزِءُونَ
(Indeed, they rejected the truth when it came to them, but there will come to them the news of that which they used to mock at.) This Ayah contains a warning and a stern threat for the disbelievers' rejection of the truth, stating that the disbelievers will surely know the truth of what they used to deny and taste the evil end of their behavior. Allah advises and warns the disbelievers, that they should avoid the torments and afflictions of this life, similar to what befell their likes from previous nations, who were stronger, wealthier, had more offspring, and were more exploitive on the earth. Allah said,
أَلَمْ يَرَوْاْ كَمْ أَهْلَكْنَا مِن قَبْلِهِم مِّن قَرْنٍ مَّكَّنَّـهُمْ فِى الاٌّرْضِ مَا لَمْ نُمَكِّن لَّكُمْ
(Have they not seen how many a generation before them We have destroyed whom We had established on the earth such as We have not established you) meaning, they had more wealth, children, buildings, abundant provision, riches and soldiers. Allah said next,
وَأَرْسَلْنَا السَّمَآءَ عَلَيْهِم مَّدْرَاراً
(and We poured out on them rain from the sky in abundance, ) in reference to rain that comes often,
وَجَعَلْنَا الاٌّنْهَـرَ تَجْرِى مِن تَحْتِهِمْ
(And made the rivers flow under them.) as rain was abundant and the springs were plentiful, so that We deceived them.
فَأَهْلَكْنَـهُمْ بِذُنُوبِهِمْ
(Yet We destroyed them for their sins) meaning the mistakes and errors that they committed,
وَأَنْشَأْنَا مِن بَعْدِهِمْ قَرْناً ءَاخَرِينَ
(and created after them other generations,) for, these generations of old perished and became as legends and stories,
وَأَنْشَأْنَا مِن بَعْدِهِمْ قَرْناً ءَاخَرِينَ
(And created after them other generations.) so that We test the new generations, as well. Yet, they committed similar errors and were destroyed, as their ancestors were destroyed. Therefore, beware of the same end that might befall you, for you are not dearer to Allah than these previous nations, but the Messenger whom you defied is dearer to Allah than the Messengers they defied. Thus, you are more liable than them to receive torment, if it was not for Allah's mercy and kindness.
کفار کو نافرمانی پر سخت انتباہ کفار کی سرکشی کی انتہا بیان ہو رہی ہے کہ ہر امر کی تکذیب پر گویا انہوں نے کمر باندھ لی ہے، نیت کر کے بیٹھے ہیں کہ جو نشانی دیکھیں گے، اسی کا انکار کریں گے، ان کی یہ خطرناک روش انہیں ایک دن ذلیل کرے گی اور وہ ذائقہ آئے گا کہ ہونٹ کاٹتے رہیں، یہ یوں نہ سمجھیں کہ ہم نے انہیں چھوڑ دیا ہے نہیں بلکہ عنقریب انہیں اللہ کی پکڑ ہوگی، کیا ان سے پہلے کے ایسے سرکشوں کے حالات ان کے کان میں نہیں پڑے ؟ کیا ان کے عبرتناک انجام ان کی نگاہوں کے سامنے نہیں ؟ وہ تو قوت طاقت میں اور زور میں ان سے بہت بڑھے چڑھے ہوئے تھے، وہ اپنی رہائش میں اور زمین کو بسانے میں ان سے کہیں زیادہ آگے تھے، ان کے لاؤ لشکر، ان کی جاہ و عزت، غرور و تمکنت ان سے کہیں زیادہ تھی، ہم نے انہیں خوب مست بنا رکھا تھا، بارشیں پے درپے حسن ضرورت ان پر برابر برسا کرتی تھیں، زمین ہر وقت ترو تازہ رہتی تھی چاروں طرف پانی کی ریل پیل کی وجہ سے آبشاریں اور چشمے صاف شفاف پانی کے بہتے رہتے تھے۔ جب وہ تکبر میں آگئے، ہماری نشانیوں کی حقارت کرنے لگے تو آخر نتیجہ یہ ہوا کہ برباد کردیئے گئے۔ تہس نہس ہوگئے، بھوسی اڑ گئی۔ لوگوں میں ان کے فسانے باقی رہ گئے اور ان میں سے ایک بھی نہ بچا حرف غلط کی طرح صفحہ ہستی سے مٹا دیئے گئے اور ان کے بعد ان کے قائم مقام اور زمانہ آیا۔ اگر وہ بھی اسی روش پر چلا تو یہی سلوک ان کے ساتھی بھی ہوتا، اتنی نظریں جب تمہاری آنکھوں کے سامنے موجود ہیں پھر بھی تم عبرت حاصل نہیں کرتے، یہ کس قدر تمہاری غفلت ہے، یاد رکھو تم کچھ اللہ کے ایسے لاڈلے نہیں ہو کہ جن کاموں کی وجہ سے اوروں کو وہ تباہ کر دے وہ کام تم کرتے رہو اور تباہی سے بچ جاؤ۔ اسی طرح جن رسولوں کو جھٹلانے اور ان کو نہ ماننے کی وجہ سے وہ ہلاک ہوئے ان رسولوں سے کسی طرح یہ رسول کم درجے کے نہیں بلکہ ان سے زیادہ اللہ کے ہاں یہ با عزت ہیں۔ یقین مانو کہ پہلوں سے بھی سخت اور نہایت سخت عذاب تم پر آئیں گے، پس تم اپنی اس غلط روش کو چھوڑ دو ، یہ صرف اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم ہے کہ اس نے تمہاری بدترین اور انتہائی شرارتوں کے باوجود تمہیں ڈھیل دے رکھی ہے۔
أَلَمۡ يَرَوۡاْ كَمۡ أَهۡلَكۡنَا مِن قَبۡلِهِم مِّن قَرۡنٖ مَّكَّنَّـٰهُمۡ فِي ٱلۡأَرۡضِ مَا لَمۡ نُمَكِّن لَّكُمۡ وَأَرۡسَلۡنَا ٱلسَّمَآءَ عَلَيۡهِم مِّدۡرَارٗا وَجَعَلۡنَا ٱلۡأَنۡهَٰرَ تَجۡرِي مِن تَحۡتِهِمۡ فَأَهۡلَكۡنَٰهُم بِذُنُوبِهِمۡ وَأَنشَأۡنَا مِنۢ بَعۡدِهِمۡ قَرۡنًا ءَاخَرِينَ
Do they not see how many civilisations We destroyed before them, whom We had established more firmly in the earth than We have established you, and We sent on them abundant rain from the sky, and made the rivers flow beneath them? So we destroyed them because of their sins, and created another civilisation after them.
کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے ان سے پہلے کتنی ہی قوموں کو ہلاک کردیا جنہیں ہم نے زمین میں (ایسا مستحکم) اقتدار دیا تھا کہ ایسا اقتدار (اور جماؤ) تمہیں بھی نہیں دیا اور ہم نے ان پر لگا تار برسنے والی بارش بھیجی اور ہم نے ان (کے مکانات و محلّات) کے نیچے سے نہریں بہائیں پھر (اتنی پُرعشرت زندگی دینے کے باوجود) ہم نے ان کے گناہوں کے باعث انہیں ہلاک کردیا اور ان کے بعد ہم نے دوسری اُمتوں کو پیدا کیا
Tafsir Ibn Kathir
Threatening the Idolators for their Stubbornness
Allah states that the rebellious, stubborn polytheists will turn away from every Ayah, meaning, sign, miracle and proof that is evidence of Allah's Uniqueness and the truth of His honorable Messengers. They will not contemplate about these Ayat or care about them. Allah said,
فَقَدْ كَذَّبُواْ بِالْحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمْ فَسَوْفَ يَأْتِيهِمْ أَنْبَاءُ مَا كَانُواْ بِهِ يَسْتَهْزِءُونَ
(Indeed, they rejected the truth when it came to them, but there will come to them the news of that which they used to mock at.) This Ayah contains a warning and a stern threat for the disbelievers' rejection of the truth, stating that the disbelievers will surely know the truth of what they used to deny and taste the evil end of their behavior. Allah advises and warns the disbelievers, that they should avoid the torments and afflictions of this life, similar to what befell their likes from previous nations, who were stronger, wealthier, had more offspring, and were more exploitive on the earth. Allah said,
أَلَمْ يَرَوْاْ كَمْ أَهْلَكْنَا مِن قَبْلِهِم مِّن قَرْنٍ مَّكَّنَّـهُمْ فِى الاٌّرْضِ مَا لَمْ نُمَكِّن لَّكُمْ
(Have they not seen how many a generation before them We have destroyed whom We had established on the earth such as We have not established you) meaning, they had more wealth, children, buildings, abundant provision, riches and soldiers. Allah said next,
وَأَرْسَلْنَا السَّمَآءَ عَلَيْهِم مَّدْرَاراً
(and We poured out on them rain from the sky in abundance, ) in reference to rain that comes often,
وَجَعَلْنَا الاٌّنْهَـرَ تَجْرِى مِن تَحْتِهِمْ
(And made the rivers flow under them.) as rain was abundant and the springs were plentiful, so that We deceived them.
فَأَهْلَكْنَـهُمْ بِذُنُوبِهِمْ
(Yet We destroyed them for their sins) meaning the mistakes and errors that they committed,
وَأَنْشَأْنَا مِن بَعْدِهِمْ قَرْناً ءَاخَرِينَ
(and created after them other generations,) for, these generations of old perished and became as legends and stories,
وَأَنْشَأْنَا مِن بَعْدِهِمْ قَرْناً ءَاخَرِينَ
(And created after them other generations.) so that We test the new generations, as well. Yet, they committed similar errors and were destroyed, as their ancestors were destroyed. Therefore, beware of the same end that might befall you, for you are not dearer to Allah than these previous nations, but the Messenger whom you defied is dearer to Allah than the Messengers they defied. Thus, you are more liable than them to receive torment, if it was not for Allah's mercy and kindness.
کفار کو نافرمانی پر سخت انتباہ کفار کی سرکشی کی انتہا بیان ہو رہی ہے کہ ہر امر کی تکذیب پر گویا انہوں نے کمر باندھ لی ہے، نیت کر کے بیٹھے ہیں کہ جو نشانی دیکھیں گے، اسی کا انکار کریں گے، ان کی یہ خطرناک روش انہیں ایک دن ذلیل کرے گی اور وہ ذائقہ آئے گا کہ ہونٹ کاٹتے رہیں، یہ یوں نہ سمجھیں کہ ہم نے انہیں چھوڑ دیا ہے نہیں بلکہ عنقریب انہیں اللہ کی پکڑ ہوگی، کیا ان سے پہلے کے ایسے سرکشوں کے حالات ان کے کان میں نہیں پڑے ؟ کیا ان کے عبرتناک انجام ان کی نگاہوں کے سامنے نہیں ؟ وہ تو قوت طاقت میں اور زور میں ان سے بہت بڑھے چڑھے ہوئے تھے، وہ اپنی رہائش میں اور زمین کو بسانے میں ان سے کہیں زیادہ آگے تھے، ان کے لاؤ لشکر، ان کی جاہ و عزت، غرور و تمکنت ان سے کہیں زیادہ تھی، ہم نے انہیں خوب مست بنا رکھا تھا، بارشیں پے درپے حسن ضرورت ان پر برابر برسا کرتی تھیں، زمین ہر وقت ترو تازہ رہتی تھی چاروں طرف پانی کی ریل پیل کی وجہ سے آبشاریں اور چشمے صاف شفاف پانی کے بہتے رہتے تھے۔ جب وہ تکبر میں آگئے، ہماری نشانیوں کی حقارت کرنے لگے تو آخر نتیجہ یہ ہوا کہ برباد کردیئے گئے۔ تہس نہس ہوگئے، بھوسی اڑ گئی۔ لوگوں میں ان کے فسانے باقی رہ گئے اور ان میں سے ایک بھی نہ بچا حرف غلط کی طرح صفحہ ہستی سے مٹا دیئے گئے اور ان کے بعد ان کے قائم مقام اور زمانہ آیا۔ اگر وہ بھی اسی روش پر چلا تو یہی سلوک ان کے ساتھی بھی ہوتا، اتنی نظریں جب تمہاری آنکھوں کے سامنے موجود ہیں پھر بھی تم عبرت حاصل نہیں کرتے، یہ کس قدر تمہاری غفلت ہے، یاد رکھو تم کچھ اللہ کے ایسے لاڈلے نہیں ہو کہ جن کاموں کی وجہ سے اوروں کو وہ تباہ کر دے وہ کام تم کرتے رہو اور تباہی سے بچ جاؤ۔ اسی طرح جن رسولوں کو جھٹلانے اور ان کو نہ ماننے کی وجہ سے وہ ہلاک ہوئے ان رسولوں سے کسی طرح یہ رسول کم درجے کے نہیں بلکہ ان سے زیادہ اللہ کے ہاں یہ با عزت ہیں۔ یقین مانو کہ پہلوں سے بھی سخت اور نہایت سخت عذاب تم پر آئیں گے، پس تم اپنی اس غلط روش کو چھوڑ دو ، یہ صرف اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم ہے کہ اس نے تمہاری بدترین اور انتہائی شرارتوں کے باوجود تمہیں ڈھیل دے رکھی ہے۔
وَلَوۡ نَزَّلۡنَا عَلَيۡكَ كِتَٰبٗا فِي قِرۡطَاسٖ فَلَمَسُوهُ بِأَيۡدِيهِمۡ لَقَالَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوٓاْ إِنۡ هَٰذَآ إِلَّا سِحۡرٞ مُّبِينٞ
And had We sent down to you (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him) something written on paper so that they could feel it with their hands, even then the disbelievers would have said, “This is nothing but clear magic.”
اور ہم اگر آپ پر کاغذ پہ لکھی ہوئی کتاب نازل فرما دیتے پھر یہ لوگ اسے اپنے ہاتھوں سے چھو بھی لیتے تب (بھی) کافر لوگ (یہی) کہتے کہ یہ صریح جادو کے سوا (کچھ) نہیں
Tafsir Ibn Kathir
Censuring the Rebellious and their Refusal to Accept Human Messengers
Allah describes the rebellion and stubbornness of the idolators in defying the truth and arguing against it,
وَلَوْ نَزَّلْنَا عَلَيْكَ كِتَـباً فِى قِرْطَاسٍ فَلَمَسُوهُ بِأَيْدِيهِمْ
(And even if We had sent down unto you a Message written on paper so that they could touch it with their hands,) meaning, if they saw this Message's descent and were eye- witnesses to that,
لَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُواْ إِنْ هَـذَآ إِلاَّ سِحْرٌ مُّبِينٌ
(the disbelievers would have said: "This is nothing but obvious magic!") This is similar to Allah's description of the disbelievers' defiance of facts and truth,
وَلَوْ فَتَحْنَا عَلَيْهِم بَاباً مِّنَ السَّمَاءِ فَظَلُّواْ فِيهِ يَعْرُجُونَ - لَقَالُواْ إِنَّمَا سُكِّرَتْ أَبْصَـرُنَا بَلْ نَحْنُ قَوْمٌ مَّسْحُورُونَ
(And even if We opened to them a gate from the heaven and they were to continue ascending thereto. They would surely say: "Our eyes have been (as if) dazzled. Nay, we are a people bewitched.") 15:14-15, and,
وَإِن يَرَوْاْ كِسْفاً مِّنَ السَّمَآءِ سَـقِطاً يَقُولُواْ سَحَـبٌ مَّرْكُومٌ
(And if they were to see a piece of the heaven falling down, they would say, "Clouds gathered in heaps!") 52:44.
وَقَالُواْ لَوْلا أُنزِلَ عَلَيْهِ مَلَكٌ
(And they say: "Why has not an angel been sent down to him") to convey the Message with admonition along with him. Allah replied,
وَلَوْ أَنزَلْنَا مَلَكاً لَّقُضِىَ الاٌّمْرُ ثُمَّ لاَ يُنظَرُونَ
(Had We sent down an angel, the matter would have been judged at once, and no respite would be granted to them.) Consequently, even if the angels descend, while the disbelievers still had the same attitude, then the torment will surely befall them from Allah as a consequence. Allah said in other Ayat,
مَا نُنَزِّلُ الْمَلَـئِكَةَ إِلاَّ بِالحَقِّ وَمَا كَانُواْ إِذًا مُّنظَرِينَ
(We send not the angels down except with the truth (i.e. for torment, etc.), and in that case, they (the disbelievers) would have no respite!) 15:8, and,
يَوْمَ يَرَوْنَ الْمَلَـئِكَةَ لاَ بُشْرَى يَوْمَئِذٍ لِّلْمُجْرِمِينَ
(On the Day they will see the angels, no glad tidings will there be for the criminals that day.) 25:22 Allah's statement,
وَلَوْ جَعَلْنَـهُ مَلَكاً لَّجَعَلْنَـهُ رَجُلاً وَلَلَبَسْنَا عَلَيْهِم مَّا يَلْبِسُونَ
(And had We appointed him an angel, We indeed would have made him a man, and We would have certainly caused them confusion in a matter which they have already covered with confusion.) meaning, if We send an angel along with the human Messenger, or if We send an angel as a Messenger to mankind, he would be in the shape of a man so that they would be able to speak to him and benefit from his teachings. In this case, the angel (in the shape of a human) will also cause confusion for them, just as the confusion they caused themselves over accepting humans as Messengers! Allah said,
قُل لَوْ كَانَ فِى الاٌّرْضِ مَلَـئِكَةٌ يَمْشُونَ مُطْمَئِنِّينَ لَنَزَّلْنَا عَلَيْهِم مِّنَ السَّمَآءِ مَلَكًا رَّسُولاً
(Say: "If there were on the earth, angels walking about in peace and security, We should certainly have sent down for them from the heaven an angel as a Messenger.") 17:95 It is a mercy from Allah to His creation that He sends every type of creation, Messengers from among their kind, so that they are able to call their people to Allah, and their people able to talk to them, ask them and benefit from them. In another Ayah, Allah said;
لَقَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَى الْمُؤمِنِينَ إِذْ بَعَثَ فِيهِمْ رَسُولاً مِّنْ أَنفُسِهِمْ يَتْلُواْ عَلَيْهِمْ ءَايَـتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ
(Indeed Allah conferred a great favor on the believers when He sent among them a Messenger from among themselves, reciting unto them His verses (the Qur'an), and purifying them.) 3:164 Ad-Dahhak said that Ibn `Abbas said about the Ayah 6:9 above, "If an angel was sent to them, he would come in the shape of a man. This is because they will not be able to look at the angel due to light."
وَلَلَبَسْنَا عَلَيْهِم مَّا يَلْبِسُونَ
(... and We would have certainly caused them confusion in a matter which they have already covered with confusion. ) meaning, We would confuse them over their confusion. And Al-Walibi reported Ibn `Abbas saying; "We brought doubts around them." Allah's statement,
وَلَقَدِ اسْتُهْزِىءَ بِرُسُلٍ مِّن قَبْلِكَ فَحَاقَ بِالَّذِينَ سَخِرُواْ مِنْهُمْ مَّا كَانُواْ بِهِ يَسْتَهْزِءُونَ
(And indeed Messengers were mocked before you, but their scoffers were surrounded by the very thing that they used to mock at.) comforts the Messenger concerning the denial of him by his people. The Ayah also promises the Messenger , and his believers, of Allah's victory and the good end in this life and the Hereafter. Allah said next,
قُلْ سِيرُواْ فِى الاٌّرْضِ ثُمَّ انْظُرُواْ كَيْفَ كَانَ عَـقِبَةُ الْمُكَذِّبِينَ
(Say: "Travel in the land and see what was the end of those who rejected truth.") meaning, contemplate about yourselves and think about the afflictions Allah struck the previous nations with, those who defied His Messengers and denied them. Allah sent torment, afflictions and punishment on them in this life, as well as the painful torment in the Hereafter, while saving His Messengers and believing servants.
انسانوں میں سے ہی رسول اللہ کا عظیم احسان کفار کی ضد اور سرکشی بیان ہو رہی ہے کہ یہ تو حق کے دشمن ہیں۔ بالفرض یہ کتاب اللہ کو آسمان سے اترتی ہوئی اپنی آنکھوں دیکھ لیتے اور اپنے ہاتھ لگا کر اسے اچھی طرح معلوم کرلیتے پھر بھی ان کا کفر نہ ٹوٹتا اور یہ کہہ دیتے کہ یہ تو کھلا جادو ہے، محسوسات کا انکار بھی ان سے بعید نہیں، جیسے اور جگہ ہے آیت (وَلَوْ فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ بَابًا مِّنَ السَّمَاۗءِ فَظَلُّوْا فِيْهِ يَعْرُجُوْنَ) 15۔ الحجر :14) یعنی اگر ہم آسمان کا دروازہ کھول دیتے اور یہ خود اوپر چڑھ جاتے، جب یہ بھی یہی کہتے کہ ہماری آنکھوں پر پٹی باندھ دی گئی ہے بلکہ ہم پر جادو کردیا گیا ہے اور ایک آیت میں ہے آیت (وَاِنْ يَّرَوْا كِسْفًا مِّنَ السَّمَاۗءِ سَاقِـطًا يَّقُوْلُوْا سَحَابٌ مَّرْكُوْمٌ) 52۔ الطور :44) غرض کہ جن باتوں کے ماننے کے عادی نہیں انہیں ہوتے ہوئے دیکھ کر بھی ایمان نصیب نہیں ہونے کا، یہ کہتے ہیں کہ اگر حضور سچے رسول ہیں تو ان کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے کسی فرشتے کی ڈیوٹی کیوں نہیں لگائی ؟ اللہ تعالیٰ جواب دیتا ہے کہ ان کی اس بےایمانی پر اگر فرشتے آجاتے تو پھر تو کام ہی ختم کردیا جاتا، چناچہ اور آیت میں ہے آیت (مَا نُنَزِّلُ الْمَلٰۗىِٕكَةَ اِلَّا بالْحَقِّ وَمَا كَانُوْٓا اِذًا مُّنْظَرِيْنَ) 15۔ الحجر :8) یعنی فرشتوں کو ہم حق کے ساتھ ہی اتارتے ہیں۔ اگر یہ آجائیں تو پھر مہلت و تاخیر ناممکن ہے اور جگہ ہے آیت (يَوْمَ يَرَوْنَ الْمَلٰۗىِٕكَةَ لَا بُشْرٰى يَوْمَىِٕذٍ لِّلْمُجْرِمِيْنَ وَيَقُوْلُوْنَ حِجْـرًا مَّحْجُوْرًا) 25۔ الفرقان :22) جس دن یہ لوگ فرشتوں کو دیکھ لیں گے اس دن گہنگار کو کوئی بشارت نہیں ہوگی، پھر فرماتا ہے بالفرض رسول کے ساتھ کوئی فرشتہ ہم اتارتے یا خود فرشتے ہی کو اپنا رسول بنا کر انسانوں میں بھیجتے تو لا محالہ اسے بصورت انسانی ہی بھیجتے تاکہ یہ لوگ اس کے ساتھ بیٹھ اٹھ سکیں، بات چیت کرسکیں اس سے حکم احکام سیکھ سکیں۔ یکجہتی کی وجہ سے طبیت مانوس ہوجائے اور اگر ایسا ہوتا تو پھر انہیں اسی شک کا موقعہ ملتا کہ نہ جانیں یہ سچ مچ فرشتہ ہے بھی یا نہیں ؟ کیونکہ وہ بھی انسان جیسا ہے اور آیت میں ہے آیت (قُلْ لَّوْ كَانَ فِي الْاَرْضِ مَلٰۗىِٕكَةٌ يَّمْشُوْنَ مُطْمَىِٕنِّيْنَ لَنَزَّلْنَا عَلَيْهِمْ مِّنَ السَّمَاۗءِ مَلَكًا رَّسُوْلًا) 17۔ الاسراء :95) یعنی اگر زمین میں فرشتوں کی آبادی ہوتی تو ہم ان کی طرف فرشتے ہی کو رسول بنا کر نازل فرماتے، پس درحقیقت اس رب محسن کا ایک احسان یہ بھی ہے کہ انسانوں کی طرف انہی کی جنس میں سے انسان ہی کو رسول بنا کر بھیجا تاکہ اس کے پاس اٹھ بیٹھ سکیں اس سے پوچھ گچھ لیں اور ہم جنسی کی وجہ سے خلط ملط ہو کر فائدہ اٹھا سکیں۔ چناچہ ارشاد ہے آیت (لَقَدْ مَنَّ اللّٰهُ عَلَي الْمُؤْمِنِيْنَ اِذْ بَعَثَ فِيْھِمْ رَسُوْلًا مِّنْ اَنْفُسِھِمْ يَتْلُوْا عَلَيْھِمْ اٰيٰتِھٖ وَيُزَكِّيْھِمْ وَيُعَلِّمُھُمُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَةَ) 3۔ آل عمران :164) یعنی یقینا اللہ تعالیٰ محسن حقیقی کا ایک زبردست احسان مسلمانوں پر یہ بھی ہے کہ اس نے انہی میں سے ایک رسول بھیجا جو آیات الہیہ ان کے سامنے تلاوت کرتا رہتا ہے اور انہیں پاک کرتا ہے، مطلب یہ ہے کہ اگر فرشتہ ہی اترتا تو چونکہ اس نور محض کو یہ لوگ دیکھ ہی نہیں سکتے اس لئے اے انسانی صورت میں ہی بھیجتے تو پھر بھی ان پر شبہ ہی رہتا، پھر اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو تسکین اور تسلی دیتا ہے کہ آپ دل گرفتہ نہ ہوں آپ سے پہلے بھی جتنے انبیاء آئے ان کا بھی مذاق اڑایا گیا لیکن بالاخر مذاق اڑانے والے تو برباد ہوگئے اسی طرح آپ کے ساتھ بھی جو لوگ بےادبی سے پیش آتے ہیں ایک رو پیس دیئے جائیں گے، لوگو ! ادھر ادھر پھر پھرا کر عبرت کی آنکھوں سے ان کے انجام کو دیکھو جنہوں نے تم سے پہلے رسولوں کے ساتھ بد سلوکی کی، ان کی نہ مانی اور ان پر پھبتیاں کسیں دنیا میں بھی وہ خراب و خستہ ہوئے اور آخرت کی مار ابھی باقی ہے، رسولوں کو اور ان کے ماننے والوں کو ہم نے یہاں بھی ترقی دی اور وہاں بھی انہیں بلند درجے عطا فرمائے۔
وَقَالُواْ لَوۡلَآ أُنزِلَ عَلَيۡهِ مَلَكٞۖ وَلَوۡ أَنزَلۡنَا مَلَكٗا لَّقُضِيَ ٱلۡأَمۡرُ ثُمَّ لَا يُنظَرُونَ
And they said, “Why has not an angel been sent down to him?” And had We sent down an angel, then the matter would have been finished, and they would not get any respite.
اور وہ (کفّار) کہتے ہیں کہ اس (رسولِ مکرّم) پر کوئی فرشتہ کیوں نہ اتارا گیا (جسے ہم ظاہراً دیکھ سکتے اور وہ ان کی تصدیق کردیتا)، اور ہم اگر فرشتہ اتار دیتے تو (ان کا) کام ہی تمام ہوچکا ہوتا پھر انہیں (ذرا بھی) مہلت نہ دی جاتی
Tafsir Ibn Kathir
Censuring the Rebellious and their Refusal to Accept Human Messengers
Allah describes the rebellion and stubbornness of the idolators in defying the truth and arguing against it,
وَلَوْ نَزَّلْنَا عَلَيْكَ كِتَـباً فِى قِرْطَاسٍ فَلَمَسُوهُ بِأَيْدِيهِمْ
(And even if We had sent down unto you a Message written on paper so that they could touch it with their hands,) meaning, if they saw this Message's descent and were eye- witnesses to that,
لَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُواْ إِنْ هَـذَآ إِلاَّ سِحْرٌ مُّبِينٌ
(the disbelievers would have said: "This is nothing but obvious magic!") This is similar to Allah's description of the disbelievers' defiance of facts and truth,
وَلَوْ فَتَحْنَا عَلَيْهِم بَاباً مِّنَ السَّمَاءِ فَظَلُّواْ فِيهِ يَعْرُجُونَ - لَقَالُواْ إِنَّمَا سُكِّرَتْ أَبْصَـرُنَا بَلْ نَحْنُ قَوْمٌ مَّسْحُورُونَ
(And even if We opened to them a gate from the heaven and they were to continue ascending thereto. They would surely say: "Our eyes have been (as if) dazzled. Nay, we are a people bewitched.") 15:14-15, and,
وَإِن يَرَوْاْ كِسْفاً مِّنَ السَّمَآءِ سَـقِطاً يَقُولُواْ سَحَـبٌ مَّرْكُومٌ
(And if they were to see a piece of the heaven falling down, they would say, "Clouds gathered in heaps!") 52:44.
وَقَالُواْ لَوْلا أُنزِلَ عَلَيْهِ مَلَكٌ
(And they say: "Why has not an angel been sent down to him") to convey the Message with admonition along with him. Allah replied,
وَلَوْ أَنزَلْنَا مَلَكاً لَّقُضِىَ الاٌّمْرُ ثُمَّ لاَ يُنظَرُونَ
(Had We sent down an angel, the matter would have been judged at once, and no respite would be granted to them.) Consequently, even if the angels descend, while the disbelievers still had the same attitude, then the torment will surely befall them from Allah as a consequence. Allah said in other Ayat,
مَا نُنَزِّلُ الْمَلَـئِكَةَ إِلاَّ بِالحَقِّ وَمَا كَانُواْ إِذًا مُّنظَرِينَ
(We send not the angels down except with the truth (i.e. for torment, etc.), and in that case, they (the disbelievers) would have no respite!) 15:8, and,
يَوْمَ يَرَوْنَ الْمَلَـئِكَةَ لاَ بُشْرَى يَوْمَئِذٍ لِّلْمُجْرِمِينَ
(On the Day they will see the angels, no glad tidings will there be for the criminals that day.) 25:22 Allah's statement,
وَلَوْ جَعَلْنَـهُ مَلَكاً لَّجَعَلْنَـهُ رَجُلاً وَلَلَبَسْنَا عَلَيْهِم مَّا يَلْبِسُونَ
(And had We appointed him an angel, We indeed would have made him a man, and We would have certainly caused them confusion in a matter which they have already covered with confusion.) meaning, if We send an angel along with the human Messenger, or if We send an angel as a Messenger to mankind, he would be in the shape of a man so that they would be able to speak to him and benefit from his teachings. In this case, the angel (in the shape of a human) will also cause confusion for them, just as the confusion they caused themselves over accepting humans as Messengers! Allah said,
قُل لَوْ كَانَ فِى الاٌّرْضِ مَلَـئِكَةٌ يَمْشُونَ مُطْمَئِنِّينَ لَنَزَّلْنَا عَلَيْهِم مِّنَ السَّمَآءِ مَلَكًا رَّسُولاً
(Say: "If there were on the earth, angels walking about in peace and security, We should certainly have sent down for them from the heaven an angel as a Messenger.") 17:95 It is a mercy from Allah to His creation that He sends every type of creation, Messengers from among their kind, so that they are able to call their people to Allah, and their people able to talk to them, ask them and benefit from them. In another Ayah, Allah said;
لَقَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَى الْمُؤمِنِينَ إِذْ بَعَثَ فِيهِمْ رَسُولاً مِّنْ أَنفُسِهِمْ يَتْلُواْ عَلَيْهِمْ ءَايَـتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ
(Indeed Allah conferred a great favor on the believers when He sent among them a Messenger from among themselves, reciting unto them His verses (the Qur'an), and purifying them.) 3:164 Ad-Dahhak said that Ibn `Abbas said about the Ayah 6:9 above, "If an angel was sent to them, he would come in the shape of a man. This is because they will not be able to look at the angel due to light."
وَلَلَبَسْنَا عَلَيْهِم مَّا يَلْبِسُونَ
(... and We would have certainly caused them confusion in a matter which they have already covered with confusion. ) meaning, We would confuse them over their confusion. And Al-Walibi reported Ibn `Abbas saying; "We brought doubts around them." Allah's statement,
وَلَقَدِ اسْتُهْزِىءَ بِرُسُلٍ مِّن قَبْلِكَ فَحَاقَ بِالَّذِينَ سَخِرُواْ مِنْهُمْ مَّا كَانُواْ بِهِ يَسْتَهْزِءُونَ
(And indeed Messengers were mocked before you, but their scoffers were surrounded by the very thing that they used to mock at.) comforts the Messenger concerning the denial of him by his people. The Ayah also promises the Messenger , and his believers, of Allah's victory and the good end in this life and the Hereafter. Allah said next,
قُلْ سِيرُواْ فِى الاٌّرْضِ ثُمَّ انْظُرُواْ كَيْفَ كَانَ عَـقِبَةُ الْمُكَذِّبِينَ
(Say: "Travel in the land and see what was the end of those who rejected truth.") meaning, contemplate about yourselves and think about the afflictions Allah struck the previous nations with, those who defied His Messengers and denied them. Allah sent torment, afflictions and punishment on them in this life, as well as the painful torment in the Hereafter, while saving His Messengers and believing servants.
انسانوں میں سے ہی رسول اللہ کا عظیم احسان کفار کی ضد اور سرکشی بیان ہو رہی ہے کہ یہ تو حق کے دشمن ہیں۔ بالفرض یہ کتاب اللہ کو آسمان سے اترتی ہوئی اپنی آنکھوں دیکھ لیتے اور اپنے ہاتھ لگا کر اسے اچھی طرح معلوم کرلیتے پھر بھی ان کا کفر نہ ٹوٹتا اور یہ کہہ دیتے کہ یہ تو کھلا جادو ہے، محسوسات کا انکار بھی ان سے بعید نہیں، جیسے اور جگہ ہے آیت (وَلَوْ فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ بَابًا مِّنَ السَّمَاۗءِ فَظَلُّوْا فِيْهِ يَعْرُجُوْنَ) 15۔ الحجر :14) یعنی اگر ہم آسمان کا دروازہ کھول دیتے اور یہ خود اوپر چڑھ جاتے، جب یہ بھی یہی کہتے کہ ہماری آنکھوں پر پٹی باندھ دی گئی ہے بلکہ ہم پر جادو کردیا گیا ہے اور ایک آیت میں ہے آیت (وَاِنْ يَّرَوْا كِسْفًا مِّنَ السَّمَاۗءِ سَاقِـطًا يَّقُوْلُوْا سَحَابٌ مَّرْكُوْمٌ) 52۔ الطور :44) غرض کہ جن باتوں کے ماننے کے عادی نہیں انہیں ہوتے ہوئے دیکھ کر بھی ایمان نصیب نہیں ہونے کا، یہ کہتے ہیں کہ اگر حضور سچے رسول ہیں تو ان کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے کسی فرشتے کی ڈیوٹی کیوں نہیں لگائی ؟ اللہ تعالیٰ جواب دیتا ہے کہ ان کی اس بےایمانی پر اگر فرشتے آجاتے تو پھر تو کام ہی ختم کردیا جاتا، چناچہ اور آیت میں ہے آیت (مَا نُنَزِّلُ الْمَلٰۗىِٕكَةَ اِلَّا بالْحَقِّ وَمَا كَانُوْٓا اِذًا مُّنْظَرِيْنَ) 15۔ الحجر :8) یعنی فرشتوں کو ہم حق کے ساتھ ہی اتارتے ہیں۔ اگر یہ آجائیں تو پھر مہلت و تاخیر ناممکن ہے اور جگہ ہے آیت (يَوْمَ يَرَوْنَ الْمَلٰۗىِٕكَةَ لَا بُشْرٰى يَوْمَىِٕذٍ لِّلْمُجْرِمِيْنَ وَيَقُوْلُوْنَ حِجْـرًا مَّحْجُوْرًا) 25۔ الفرقان :22) جس دن یہ لوگ فرشتوں کو دیکھ لیں گے اس دن گہنگار کو کوئی بشارت نہیں ہوگی، پھر فرماتا ہے بالفرض رسول کے ساتھ کوئی فرشتہ ہم اتارتے یا خود فرشتے ہی کو اپنا رسول بنا کر انسانوں میں بھیجتے تو لا محالہ اسے بصورت انسانی ہی بھیجتے تاکہ یہ لوگ اس کے ساتھ بیٹھ اٹھ سکیں، بات چیت کرسکیں اس سے حکم احکام سیکھ سکیں۔ یکجہتی کی وجہ سے طبیت مانوس ہوجائے اور اگر ایسا ہوتا تو پھر انہیں اسی شک کا موقعہ ملتا کہ نہ جانیں یہ سچ مچ فرشتہ ہے بھی یا نہیں ؟ کیونکہ وہ بھی انسان جیسا ہے اور آیت میں ہے آیت (قُلْ لَّوْ كَانَ فِي الْاَرْضِ مَلٰۗىِٕكَةٌ يَّمْشُوْنَ مُطْمَىِٕنِّيْنَ لَنَزَّلْنَا عَلَيْهِمْ مِّنَ السَّمَاۗءِ مَلَكًا رَّسُوْلًا) 17۔ الاسراء :95) یعنی اگر زمین میں فرشتوں کی آبادی ہوتی تو ہم ان کی طرف فرشتے ہی کو رسول بنا کر نازل فرماتے، پس درحقیقت اس رب محسن کا ایک احسان یہ بھی ہے کہ انسانوں کی طرف انہی کی جنس میں سے انسان ہی کو رسول بنا کر بھیجا تاکہ اس کے پاس اٹھ بیٹھ سکیں اس سے پوچھ گچھ لیں اور ہم جنسی کی وجہ سے خلط ملط ہو کر فائدہ اٹھا سکیں۔ چناچہ ارشاد ہے آیت (لَقَدْ مَنَّ اللّٰهُ عَلَي الْمُؤْمِنِيْنَ اِذْ بَعَثَ فِيْھِمْ رَسُوْلًا مِّنْ اَنْفُسِھِمْ يَتْلُوْا عَلَيْھِمْ اٰيٰتِھٖ وَيُزَكِّيْھِمْ وَيُعَلِّمُھُمُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَةَ) 3۔ آل عمران :164) یعنی یقینا اللہ تعالیٰ محسن حقیقی کا ایک زبردست احسان مسلمانوں پر یہ بھی ہے کہ اس نے انہی میں سے ایک رسول بھیجا جو آیات الہیہ ان کے سامنے تلاوت کرتا رہتا ہے اور انہیں پاک کرتا ہے، مطلب یہ ہے کہ اگر فرشتہ ہی اترتا تو چونکہ اس نور محض کو یہ لوگ دیکھ ہی نہیں سکتے اس لئے اے انسانی صورت میں ہی بھیجتے تو پھر بھی ان پر شبہ ہی رہتا، پھر اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو تسکین اور تسلی دیتا ہے کہ آپ دل گرفتہ نہ ہوں آپ سے پہلے بھی جتنے انبیاء آئے ان کا بھی مذاق اڑایا گیا لیکن بالاخر مذاق اڑانے والے تو برباد ہوگئے اسی طرح آپ کے ساتھ بھی جو لوگ بےادبی سے پیش آتے ہیں ایک رو پیس دیئے جائیں گے، لوگو ! ادھر ادھر پھر پھرا کر عبرت کی آنکھوں سے ان کے انجام کو دیکھو جنہوں نے تم سے پہلے رسولوں کے ساتھ بد سلوکی کی، ان کی نہ مانی اور ان پر پھبتیاں کسیں دنیا میں بھی وہ خراب و خستہ ہوئے اور آخرت کی مار ابھی باقی ہے، رسولوں کو اور ان کے ماننے والوں کو ہم نے یہاں بھی ترقی دی اور وہاں بھی انہیں بلند درجے عطا فرمائے۔
وَلَوۡ جَعَلۡنَٰهُ مَلَكٗا لَّجَعَلۡنَٰهُ رَجُلٗا وَلَلَبَسۡنَا عَلَيۡهِم مَّا يَلۡبِسُونَ
And had we appointed an angel as a Prophet, We would still have made him as a man and would keep them in the same doubt, as they are now in.
اور اگر ہم رسول کو فرشتہ بناتے تو اسے بھی آدمی ہی (کی صورت) بناتے اور ہم ان پر(تب بھی) وہی شبہ وارد کردیتے جو شبہ (و التباس) وہ (اب) کر رہے ہیں (یعنی اس کی بھی ظاہری صورت دیکھ کر کہتے کہ یہ ہماری مثل بشر ہے)
Tafsir Ibn Kathir
Censuring the Rebellious and their Refusal to Accept Human Messengers
Allah describes the rebellion and stubbornness of the idolators in defying the truth and arguing against it,
وَلَوْ نَزَّلْنَا عَلَيْكَ كِتَـباً فِى قِرْطَاسٍ فَلَمَسُوهُ بِأَيْدِيهِمْ
(And even if We had sent down unto you a Message written on paper so that they could touch it with their hands,) meaning, if they saw this Message's descent and were eye- witnesses to that,
لَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُواْ إِنْ هَـذَآ إِلاَّ سِحْرٌ مُّبِينٌ
(the disbelievers would have said: "This is nothing but obvious magic!") This is similar to Allah's description of the disbelievers' defiance of facts and truth,
وَلَوْ فَتَحْنَا عَلَيْهِم بَاباً مِّنَ السَّمَاءِ فَظَلُّواْ فِيهِ يَعْرُجُونَ - لَقَالُواْ إِنَّمَا سُكِّرَتْ أَبْصَـرُنَا بَلْ نَحْنُ قَوْمٌ مَّسْحُورُونَ
(And even if We opened to them a gate from the heaven and they were to continue ascending thereto. They would surely say: "Our eyes have been (as if) dazzled. Nay, we are a people bewitched.") 15:14-15, and,
وَإِن يَرَوْاْ كِسْفاً مِّنَ السَّمَآءِ سَـقِطاً يَقُولُواْ سَحَـبٌ مَّرْكُومٌ
(And if they were to see a piece of the heaven falling down, they would say, "Clouds gathered in heaps!") 52:44.
وَقَالُواْ لَوْلا أُنزِلَ عَلَيْهِ مَلَكٌ
(And they say: "Why has not an angel been sent down to him") to convey the Message with admonition along with him. Allah replied,
وَلَوْ أَنزَلْنَا مَلَكاً لَّقُضِىَ الاٌّمْرُ ثُمَّ لاَ يُنظَرُونَ
(Had We sent down an angel, the matter would have been judged at once, and no respite would be granted to them.) Consequently, even if the angels descend, while the disbelievers still had the same attitude, then the torment will surely befall them from Allah as a consequence. Allah said in other Ayat,
مَا نُنَزِّلُ الْمَلَـئِكَةَ إِلاَّ بِالحَقِّ وَمَا كَانُواْ إِذًا مُّنظَرِينَ
(We send not the angels down except with the truth (i.e. for torment, etc.), and in that case, they (the disbelievers) would have no respite!) 15:8, and,
يَوْمَ يَرَوْنَ الْمَلَـئِكَةَ لاَ بُشْرَى يَوْمَئِذٍ لِّلْمُجْرِمِينَ
(On the Day they will see the angels, no glad tidings will there be for the criminals that day.) 25:22 Allah's statement,
وَلَوْ جَعَلْنَـهُ مَلَكاً لَّجَعَلْنَـهُ رَجُلاً وَلَلَبَسْنَا عَلَيْهِم مَّا يَلْبِسُونَ
(And had We appointed him an angel, We indeed would have made him a man, and We would have certainly caused them confusion in a matter which they have already covered with confusion.) meaning, if We send an angel along with the human Messenger, or if We send an angel as a Messenger to mankind, he would be in the shape of a man so that they would be able to speak to him and benefit from his teachings. In this case, the angel (in the shape of a human) will also cause confusion for them, just as the confusion they caused themselves over accepting humans as Messengers! Allah said,
قُل لَوْ كَانَ فِى الاٌّرْضِ مَلَـئِكَةٌ يَمْشُونَ مُطْمَئِنِّينَ لَنَزَّلْنَا عَلَيْهِم مِّنَ السَّمَآءِ مَلَكًا رَّسُولاً
(Say: "If there were on the earth, angels walking about in peace and security, We should certainly have sent down for them from the heaven an angel as a Messenger.") 17:95 It is a mercy from Allah to His creation that He sends every type of creation, Messengers from among their kind, so that they are able to call their people to Allah, and their people able to talk to them, ask them and benefit from them. In another Ayah, Allah said;
لَقَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَى الْمُؤمِنِينَ إِذْ بَعَثَ فِيهِمْ رَسُولاً مِّنْ أَنفُسِهِمْ يَتْلُواْ عَلَيْهِمْ ءَايَـتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ
(Indeed Allah conferred a great favor on the believers when He sent among them a Messenger from among themselves, reciting unto them His verses (the Qur'an), and purifying them.) 3:164 Ad-Dahhak said that Ibn `Abbas said about the Ayah 6:9 above, "If an angel was sent to them, he would come in the shape of a man. This is because they will not be able to look at the angel due to light."
وَلَلَبَسْنَا عَلَيْهِم مَّا يَلْبِسُونَ
(... and We would have certainly caused them confusion in a matter which they have already covered with confusion. ) meaning, We would confuse them over their confusion. And Al-Walibi reported Ibn `Abbas saying; "We brought doubts around them." Allah's statement,
وَلَقَدِ اسْتُهْزِىءَ بِرُسُلٍ مِّن قَبْلِكَ فَحَاقَ بِالَّذِينَ سَخِرُواْ مِنْهُمْ مَّا كَانُواْ بِهِ يَسْتَهْزِءُونَ
(And indeed Messengers were mocked before you, but their scoffers were surrounded by the very thing that they used to mock at.) comforts the Messenger concerning the denial of him by his people. The Ayah also promises the Messenger , and his believers, of Allah's victory and the good end in this life and the Hereafter. Allah said next,
قُلْ سِيرُواْ فِى الاٌّرْضِ ثُمَّ انْظُرُواْ كَيْفَ كَانَ عَـقِبَةُ الْمُكَذِّبِينَ
(Say: "Travel in the land and see what was the end of those who rejected truth.") meaning, contemplate about yourselves and think about the afflictions Allah struck the previous nations with, those who defied His Messengers and denied them. Allah sent torment, afflictions and punishment on them in this life, as well as the painful torment in the Hereafter, while saving His Messengers and believing servants.
انسانوں میں سے ہی رسول اللہ کا عظیم احسان کفار کی ضد اور سرکشی بیان ہو رہی ہے کہ یہ تو حق کے دشمن ہیں۔ بالفرض یہ کتاب اللہ کو آسمان سے اترتی ہوئی اپنی آنکھوں دیکھ لیتے اور اپنے ہاتھ لگا کر اسے اچھی طرح معلوم کرلیتے پھر بھی ان کا کفر نہ ٹوٹتا اور یہ کہہ دیتے کہ یہ تو کھلا جادو ہے، محسوسات کا انکار بھی ان سے بعید نہیں، جیسے اور جگہ ہے آیت (وَلَوْ فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ بَابًا مِّنَ السَّمَاۗءِ فَظَلُّوْا فِيْهِ يَعْرُجُوْنَ) 15۔ الحجر :14) یعنی اگر ہم آسمان کا دروازہ کھول دیتے اور یہ خود اوپر چڑھ جاتے، جب یہ بھی یہی کہتے کہ ہماری آنکھوں پر پٹی باندھ دی گئی ہے بلکہ ہم پر جادو کردیا گیا ہے اور ایک آیت میں ہے آیت (وَاِنْ يَّرَوْا كِسْفًا مِّنَ السَّمَاۗءِ سَاقِـطًا يَّقُوْلُوْا سَحَابٌ مَّرْكُوْمٌ) 52۔ الطور :44) غرض کہ جن باتوں کے ماننے کے عادی نہیں انہیں ہوتے ہوئے دیکھ کر بھی ایمان نصیب نہیں ہونے کا، یہ کہتے ہیں کہ اگر حضور سچے رسول ہیں تو ان کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے کسی فرشتے کی ڈیوٹی کیوں نہیں لگائی ؟ اللہ تعالیٰ جواب دیتا ہے کہ ان کی اس بےایمانی پر اگر فرشتے آجاتے تو پھر تو کام ہی ختم کردیا جاتا، چناچہ اور آیت میں ہے آیت (مَا نُنَزِّلُ الْمَلٰۗىِٕكَةَ اِلَّا بالْحَقِّ وَمَا كَانُوْٓا اِذًا مُّنْظَرِيْنَ) 15۔ الحجر :8) یعنی فرشتوں کو ہم حق کے ساتھ ہی اتارتے ہیں۔ اگر یہ آجائیں تو پھر مہلت و تاخیر ناممکن ہے اور جگہ ہے آیت (يَوْمَ يَرَوْنَ الْمَلٰۗىِٕكَةَ لَا بُشْرٰى يَوْمَىِٕذٍ لِّلْمُجْرِمِيْنَ وَيَقُوْلُوْنَ حِجْـرًا مَّحْجُوْرًا) 25۔ الفرقان :22) جس دن یہ لوگ فرشتوں کو دیکھ لیں گے اس دن گہنگار کو کوئی بشارت نہیں ہوگی، پھر فرماتا ہے بالفرض رسول کے ساتھ کوئی فرشتہ ہم اتارتے یا خود فرشتے ہی کو اپنا رسول بنا کر انسانوں میں بھیجتے تو لا محالہ اسے بصورت انسانی ہی بھیجتے تاکہ یہ لوگ اس کے ساتھ بیٹھ اٹھ سکیں، بات چیت کرسکیں اس سے حکم احکام سیکھ سکیں۔ یکجہتی کی وجہ سے طبیت مانوس ہوجائے اور اگر ایسا ہوتا تو پھر انہیں اسی شک کا موقعہ ملتا کہ نہ جانیں یہ سچ مچ فرشتہ ہے بھی یا نہیں ؟ کیونکہ وہ بھی انسان جیسا ہے اور آیت میں ہے آیت (قُلْ لَّوْ كَانَ فِي الْاَرْضِ مَلٰۗىِٕكَةٌ يَّمْشُوْنَ مُطْمَىِٕنِّيْنَ لَنَزَّلْنَا عَلَيْهِمْ مِّنَ السَّمَاۗءِ مَلَكًا رَّسُوْلًا) 17۔ الاسراء :95) یعنی اگر زمین میں فرشتوں کی آبادی ہوتی تو ہم ان کی طرف فرشتے ہی کو رسول بنا کر نازل فرماتے، پس درحقیقت اس رب محسن کا ایک احسان یہ بھی ہے کہ انسانوں کی طرف انہی کی جنس میں سے انسان ہی کو رسول بنا کر بھیجا تاکہ اس کے پاس اٹھ بیٹھ سکیں اس سے پوچھ گچھ لیں اور ہم جنسی کی وجہ سے خلط ملط ہو کر فائدہ اٹھا سکیں۔ چناچہ ارشاد ہے آیت (لَقَدْ مَنَّ اللّٰهُ عَلَي الْمُؤْمِنِيْنَ اِذْ بَعَثَ فِيْھِمْ رَسُوْلًا مِّنْ اَنْفُسِھِمْ يَتْلُوْا عَلَيْھِمْ اٰيٰتِھٖ وَيُزَكِّيْھِمْ وَيُعَلِّمُھُمُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَةَ) 3۔ آل عمران :164) یعنی یقینا اللہ تعالیٰ محسن حقیقی کا ایک زبردست احسان مسلمانوں پر یہ بھی ہے کہ اس نے انہی میں سے ایک رسول بھیجا جو آیات الہیہ ان کے سامنے تلاوت کرتا رہتا ہے اور انہیں پاک کرتا ہے، مطلب یہ ہے کہ اگر فرشتہ ہی اترتا تو چونکہ اس نور محض کو یہ لوگ دیکھ ہی نہیں سکتے اس لئے اے انسانی صورت میں ہی بھیجتے تو پھر بھی ان پر شبہ ہی رہتا، پھر اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو تسکین اور تسلی دیتا ہے کہ آپ دل گرفتہ نہ ہوں آپ سے پہلے بھی جتنے انبیاء آئے ان کا بھی مذاق اڑایا گیا لیکن بالاخر مذاق اڑانے والے تو برباد ہوگئے اسی طرح آپ کے ساتھ بھی جو لوگ بےادبی سے پیش آتے ہیں ایک رو پیس دیئے جائیں گے، لوگو ! ادھر ادھر پھر پھرا کر عبرت کی آنکھوں سے ان کے انجام کو دیکھو جنہوں نے تم سے پہلے رسولوں کے ساتھ بد سلوکی کی، ان کی نہ مانی اور ان پر پھبتیاں کسیں دنیا میں بھی وہ خراب و خستہ ہوئے اور آخرت کی مار ابھی باقی ہے، رسولوں کو اور ان کے ماننے والوں کو ہم نے یہاں بھی ترقی دی اور وہاں بھی انہیں بلند درجے عطا فرمائے۔
10
View Single
وَلَقَدِ ٱسۡتُهۡزِئَ بِرُسُلٖ مِّن قَبۡلِكَ فَحَاقَ بِٱلَّذِينَ سَخِرُواْ مِنۡهُم مَّا كَانُواْ بِهِۦ يَسۡتَهۡزِءُونَ
And certainly, O dear Prophet (Mohammed – peace and blessings be upon him) the Noble Messengers before you have also been mocked at, so those who laughed at them were themselves ruined by their own mocking.
اور بیشک آپ سے پہلے (بھی) رسولوں کے ساتھ مذاق کیا جاتا رہا، پھر ان میں سے مسخرہ پن کرنے والوں کو(حق کے) اسی (عذاب) نے آگھیرا جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے
Tafsir Ibn Kathir
Censuring the Rebellious and their Refusal to Accept Human Messengers
Allah describes the rebellion and stubbornness of the idolators in defying the truth and arguing against it,
وَلَوْ نَزَّلْنَا عَلَيْكَ كِتَـباً فِى قِرْطَاسٍ فَلَمَسُوهُ بِأَيْدِيهِمْ
(And even if We had sent down unto you a Message written on paper so that they could touch it with their hands,) meaning, if they saw this Message's descent and were eye- witnesses to that,
لَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُواْ إِنْ هَـذَآ إِلاَّ سِحْرٌ مُّبِينٌ
(the disbelievers would have said: "This is nothing but obvious magic!") This is similar to Allah's description of the disbelievers' defiance of facts and truth,
وَلَوْ فَتَحْنَا عَلَيْهِم بَاباً مِّنَ السَّمَاءِ فَظَلُّواْ فِيهِ يَعْرُجُونَ - لَقَالُواْ إِنَّمَا سُكِّرَتْ أَبْصَـرُنَا بَلْ نَحْنُ قَوْمٌ مَّسْحُورُونَ
(And even if We opened to them a gate from the heaven and they were to continue ascending thereto. They would surely say: "Our eyes have been (as if) dazzled. Nay, we are a people bewitched.") 15:14-15, and,
وَإِن يَرَوْاْ كِسْفاً مِّنَ السَّمَآءِ سَـقِطاً يَقُولُواْ سَحَـبٌ مَّرْكُومٌ
(And if they were to see a piece of the heaven falling down, they would say, "Clouds gathered in heaps!") 52:44.
وَقَالُواْ لَوْلا أُنزِلَ عَلَيْهِ مَلَكٌ
(And they say: "Why has not an angel been sent down to him") to convey the Message with admonition along with him. Allah replied,
وَلَوْ أَنزَلْنَا مَلَكاً لَّقُضِىَ الاٌّمْرُ ثُمَّ لاَ يُنظَرُونَ
(Had We sent down an angel, the matter would have been judged at once, and no respite would be granted to them.) Consequently, even if the angels descend, while the disbelievers still had the same attitude, then the torment will surely befall them from Allah as a consequence. Allah said in other Ayat,
مَا نُنَزِّلُ الْمَلَـئِكَةَ إِلاَّ بِالحَقِّ وَمَا كَانُواْ إِذًا مُّنظَرِينَ
(We send not the angels down except with the truth (i.e. for torment, etc.), and in that case, they (the disbelievers) would have no respite!) 15:8, and,
يَوْمَ يَرَوْنَ الْمَلَـئِكَةَ لاَ بُشْرَى يَوْمَئِذٍ لِّلْمُجْرِمِينَ
(On the Day they will see the angels, no glad tidings will there be for the criminals that day.) 25:22 Allah's statement,
وَلَوْ جَعَلْنَـهُ مَلَكاً لَّجَعَلْنَـهُ رَجُلاً وَلَلَبَسْنَا عَلَيْهِم مَّا يَلْبِسُونَ
(And had We appointed him an angel, We indeed would have made him a man, and We would have certainly caused them confusion in a matter which they have already covered with confusion.) meaning, if We send an angel along with the human Messenger, or if We send an angel as a Messenger to mankind, he would be in the shape of a man so that they would be able to speak to him and benefit from his teachings. In this case, the angel (in the shape of a human) will also cause confusion for them, just as the confusion they caused themselves over accepting humans as Messengers! Allah said,
قُل لَوْ كَانَ فِى الاٌّرْضِ مَلَـئِكَةٌ يَمْشُونَ مُطْمَئِنِّينَ لَنَزَّلْنَا عَلَيْهِم مِّنَ السَّمَآءِ مَلَكًا رَّسُولاً
(Say: "If there were on the earth, angels walking about in peace and security, We should certainly have sent down for them from the heaven an angel as a Messenger.") 17:95 It is a mercy from Allah to His creation that He sends every type of creation, Messengers from among their kind, so that they are able to call their people to Allah, and their people able to talk to them, ask them and benefit from them. In another Ayah, Allah said;
لَقَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَى الْمُؤمِنِينَ إِذْ بَعَثَ فِيهِمْ رَسُولاً مِّنْ أَنفُسِهِمْ يَتْلُواْ عَلَيْهِمْ ءَايَـتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ
(Indeed Allah conferred a great favor on the believers when He sent among them a Messenger from among themselves, reciting unto them His verses (the Qur'an), and purifying them.) 3:164 Ad-Dahhak said that Ibn `Abbas said about the Ayah 6:9 above, "If an angel was sent to them, he would come in the shape of a man. This is because they will not be able to look at the angel due to light."
وَلَلَبَسْنَا عَلَيْهِم مَّا يَلْبِسُونَ
(... and We would have certainly caused them confusion in a matter which they have already covered with confusion. ) meaning, We would confuse them over their confusion. And Al-Walibi reported Ibn `Abbas saying; "We brought doubts around them." Allah's statement,
وَلَقَدِ اسْتُهْزِىءَ بِرُسُلٍ مِّن قَبْلِكَ فَحَاقَ بِالَّذِينَ سَخِرُواْ مِنْهُمْ مَّا كَانُواْ بِهِ يَسْتَهْزِءُونَ
(And indeed Messengers were mocked before you, but their scoffers were surrounded by the very thing that they used to mock at.) comforts the Messenger concerning the denial of him by his people. The Ayah also promises the Messenger , and his believers, of Allah's victory and the good end in this life and the Hereafter. Allah said next,
قُلْ سِيرُواْ فِى الاٌّرْضِ ثُمَّ انْظُرُواْ كَيْفَ كَانَ عَـقِبَةُ الْمُكَذِّبِينَ
(Say: "Travel in the land and see what was the end of those who rejected truth.") meaning, contemplate about yourselves and think about the afflictions Allah struck the previous nations with, those who defied His Messengers and denied them. Allah sent torment, afflictions and punishment on them in this life, as well as the painful torment in the Hereafter, while saving His Messengers and believing servants.
انسانوں میں سے ہی رسول اللہ کا عظیم احسان کفار کی ضد اور سرکشی بیان ہو رہی ہے کہ یہ تو حق کے دشمن ہیں۔ بالفرض یہ کتاب اللہ کو آسمان سے اترتی ہوئی اپنی آنکھوں دیکھ لیتے اور اپنے ہاتھ لگا کر اسے اچھی طرح معلوم کرلیتے پھر بھی ان کا کفر نہ ٹوٹتا اور یہ کہہ دیتے کہ یہ تو کھلا جادو ہے، محسوسات کا انکار بھی ان سے بعید نہیں، جیسے اور جگہ ہے آیت (وَلَوْ فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ بَابًا مِّنَ السَّمَاۗءِ فَظَلُّوْا فِيْهِ يَعْرُجُوْنَ) 15۔ الحجر :14) یعنی اگر ہم آسمان کا دروازہ کھول دیتے اور یہ خود اوپر چڑھ جاتے، جب یہ بھی یہی کہتے کہ ہماری آنکھوں پر پٹی باندھ دی گئی ہے بلکہ ہم پر جادو کردیا گیا ہے اور ایک آیت میں ہے آیت (وَاِنْ يَّرَوْا كِسْفًا مِّنَ السَّمَاۗءِ سَاقِـطًا يَّقُوْلُوْا سَحَابٌ مَّرْكُوْمٌ) 52۔ الطور :44) غرض کہ جن باتوں کے ماننے کے عادی نہیں انہیں ہوتے ہوئے دیکھ کر بھی ایمان نصیب نہیں ہونے کا، یہ کہتے ہیں کہ اگر حضور سچے رسول ہیں تو ان کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے کسی فرشتے کی ڈیوٹی کیوں نہیں لگائی ؟ اللہ تعالیٰ جواب دیتا ہے کہ ان کی اس بےایمانی پر اگر فرشتے آجاتے تو پھر تو کام ہی ختم کردیا جاتا، چناچہ اور آیت میں ہے آیت (مَا نُنَزِّلُ الْمَلٰۗىِٕكَةَ اِلَّا بالْحَقِّ وَمَا كَانُوْٓا اِذًا مُّنْظَرِيْنَ) 15۔ الحجر :8) یعنی فرشتوں کو ہم حق کے ساتھ ہی اتارتے ہیں۔ اگر یہ آجائیں تو پھر مہلت و تاخیر ناممکن ہے اور جگہ ہے آیت (يَوْمَ يَرَوْنَ الْمَلٰۗىِٕكَةَ لَا بُشْرٰى يَوْمَىِٕذٍ لِّلْمُجْرِمِيْنَ وَيَقُوْلُوْنَ حِجْـرًا مَّحْجُوْرًا) 25۔ الفرقان :22) جس دن یہ لوگ فرشتوں کو دیکھ لیں گے اس دن گہنگار کو کوئی بشارت نہیں ہوگی، پھر فرماتا ہے بالفرض رسول کے ساتھ کوئی فرشتہ ہم اتارتے یا خود فرشتے ہی کو اپنا رسول بنا کر انسانوں میں بھیجتے تو لا محالہ اسے بصورت انسانی ہی بھیجتے تاکہ یہ لوگ اس کے ساتھ بیٹھ اٹھ سکیں، بات چیت کرسکیں اس سے حکم احکام سیکھ سکیں۔ یکجہتی کی وجہ سے طبیت مانوس ہوجائے اور اگر ایسا ہوتا تو پھر انہیں اسی شک کا موقعہ ملتا کہ نہ جانیں یہ سچ مچ فرشتہ ہے بھی یا نہیں ؟ کیونکہ وہ بھی انسان جیسا ہے اور آیت میں ہے آیت (قُلْ لَّوْ كَانَ فِي الْاَرْضِ مَلٰۗىِٕكَةٌ يَّمْشُوْنَ مُطْمَىِٕنِّيْنَ لَنَزَّلْنَا عَلَيْهِمْ مِّنَ السَّمَاۗءِ مَلَكًا رَّسُوْلًا) 17۔ الاسراء :95) یعنی اگر زمین میں فرشتوں کی آبادی ہوتی تو ہم ان کی طرف فرشتے ہی کو رسول بنا کر نازل فرماتے، پس درحقیقت اس رب محسن کا ایک احسان یہ بھی ہے کہ انسانوں کی طرف انہی کی جنس میں سے انسان ہی کو رسول بنا کر بھیجا تاکہ اس کے پاس اٹھ بیٹھ سکیں اس سے پوچھ گچھ لیں اور ہم جنسی کی وجہ سے خلط ملط ہو کر فائدہ اٹھا سکیں۔ چناچہ ارشاد ہے آیت (لَقَدْ مَنَّ اللّٰهُ عَلَي الْمُؤْمِنِيْنَ اِذْ بَعَثَ فِيْھِمْ رَسُوْلًا مِّنْ اَنْفُسِھِمْ يَتْلُوْا عَلَيْھِمْ اٰيٰتِھٖ وَيُزَكِّيْھِمْ وَيُعَلِّمُھُمُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَةَ) 3۔ آل عمران :164) یعنی یقینا اللہ تعالیٰ محسن حقیقی کا ایک زبردست احسان مسلمانوں پر یہ بھی ہے کہ اس نے انہی میں سے ایک رسول بھیجا جو آیات الہیہ ان کے سامنے تلاوت کرتا رہتا ہے اور انہیں پاک کرتا ہے، مطلب یہ ہے کہ اگر فرشتہ ہی اترتا تو چونکہ اس نور محض کو یہ لوگ دیکھ ہی نہیں سکتے اس لئے اے انسانی صورت میں ہی بھیجتے تو پھر بھی ان پر شبہ ہی رہتا، پھر اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو تسکین اور تسلی دیتا ہے کہ آپ دل گرفتہ نہ ہوں آپ سے پہلے بھی جتنے انبیاء آئے ان کا بھی مذاق اڑایا گیا لیکن بالاخر مذاق اڑانے والے تو برباد ہوگئے اسی طرح آپ کے ساتھ بھی جو لوگ بےادبی سے پیش آتے ہیں ایک رو پیس دیئے جائیں گے، لوگو ! ادھر ادھر پھر پھرا کر عبرت کی آنکھوں سے ان کے انجام کو دیکھو جنہوں نے تم سے پہلے رسولوں کے ساتھ بد سلوکی کی، ان کی نہ مانی اور ان پر پھبتیاں کسیں دنیا میں بھی وہ خراب و خستہ ہوئے اور آخرت کی مار ابھی باقی ہے، رسولوں کو اور ان کے ماننے والوں کو ہم نے یہاں بھی ترقی دی اور وہاں بھی انہیں بلند درجے عطا فرمائے۔
11
View Single
قُلۡ سِيرُواْ فِي ٱلۡأَرۡضِ ثُمَّ ٱنظُرُواْ كَيۡفَ كَانَ عَٰقِبَةُ ٱلۡمُكَذِّبِينَ
Proclaim, “Travel in the land, and see what sort of fate befell those who denied.”
فرمادیجئے کہ تم زمین پر چلو پھرو، پھر (نگاہِ عبرت سے) دیکھو کہ (حق کو) جھٹلانے والوں کا انجام کیسا ہوا
Tafsir Ibn Kathir
Censuring the Rebellious and their Refusal to Accept Human Messengers
Allah describes the rebellion and stubbornness of the idolators in defying the truth and arguing against it,
وَلَوْ نَزَّلْنَا عَلَيْكَ كِتَـباً فِى قِرْطَاسٍ فَلَمَسُوهُ بِأَيْدِيهِمْ
(And even if We had sent down unto you a Message written on paper so that they could touch it with their hands,) meaning, if they saw this Message's descent and were eye- witnesses to that,
لَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُواْ إِنْ هَـذَآ إِلاَّ سِحْرٌ مُّبِينٌ
(the disbelievers would have said: "This is nothing but obvious magic!") This is similar to Allah's description of the disbelievers' defiance of facts and truth,
وَلَوْ فَتَحْنَا عَلَيْهِم بَاباً مِّنَ السَّمَاءِ فَظَلُّواْ فِيهِ يَعْرُجُونَ - لَقَالُواْ إِنَّمَا سُكِّرَتْ أَبْصَـرُنَا بَلْ نَحْنُ قَوْمٌ مَّسْحُورُونَ
(And even if We opened to them a gate from the heaven and they were to continue ascending thereto. They would surely say: "Our eyes have been (as if) dazzled. Nay, we are a people bewitched.") 15:14-15, and,
وَإِن يَرَوْاْ كِسْفاً مِّنَ السَّمَآءِ سَـقِطاً يَقُولُواْ سَحَـبٌ مَّرْكُومٌ
(And if they were to see a piece of the heaven falling down, they would say, "Clouds gathered in heaps!") 52:44.
وَقَالُواْ لَوْلا أُنزِلَ عَلَيْهِ مَلَكٌ
(And they say: "Why has not an angel been sent down to him") to convey the Message with admonition along with him. Allah replied,
وَلَوْ أَنزَلْنَا مَلَكاً لَّقُضِىَ الاٌّمْرُ ثُمَّ لاَ يُنظَرُونَ
(Had We sent down an angel, the matter would have been judged at once, and no respite would be granted to them.) Consequently, even if the angels descend, while the disbelievers still had the same attitude, then the torment will surely befall them from Allah as a consequence. Allah said in other Ayat,
مَا نُنَزِّلُ الْمَلَـئِكَةَ إِلاَّ بِالحَقِّ وَمَا كَانُواْ إِذًا مُّنظَرِينَ
(We send not the angels down except with the truth (i.e. for torment, etc.), and in that case, they (the disbelievers) would have no respite!) 15:8, and,
يَوْمَ يَرَوْنَ الْمَلَـئِكَةَ لاَ بُشْرَى يَوْمَئِذٍ لِّلْمُجْرِمِينَ
(On the Day they will see the angels, no glad tidings will there be for the criminals that day.) 25:22 Allah's statement,
وَلَوْ جَعَلْنَـهُ مَلَكاً لَّجَعَلْنَـهُ رَجُلاً وَلَلَبَسْنَا عَلَيْهِم مَّا يَلْبِسُونَ
(And had We appointed him an angel, We indeed would have made him a man, and We would have certainly caused them confusion in a matter which they have already covered with confusion.) meaning, if We send an angel along with the human Messenger, or if We send an angel as a Messenger to mankind, he would be in the shape of a man so that they would be able to speak to him and benefit from his teachings. In this case, the angel (in the shape of a human) will also cause confusion for them, just as the confusion they caused themselves over accepting humans as Messengers! Allah said,
قُل لَوْ كَانَ فِى الاٌّرْضِ مَلَـئِكَةٌ يَمْشُونَ مُطْمَئِنِّينَ لَنَزَّلْنَا عَلَيْهِم مِّنَ السَّمَآءِ مَلَكًا رَّسُولاً
(Say: "If there were on the earth, angels walking about in peace and security, We should certainly have sent down for them from the heaven an angel as a Messenger.") 17:95 It is a mercy from Allah to His creation that He sends every type of creation, Messengers from among their kind, so that they are able to call their people to Allah, and their people able to talk to them, ask them and benefit from them. In another Ayah, Allah said;
لَقَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَى الْمُؤمِنِينَ إِذْ بَعَثَ فِيهِمْ رَسُولاً مِّنْ أَنفُسِهِمْ يَتْلُواْ عَلَيْهِمْ ءَايَـتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ
(Indeed Allah conferred a great favor on the believers when He sent among them a Messenger from among themselves, reciting unto them His verses (the Qur'an), and purifying them.) 3:164 Ad-Dahhak said that Ibn `Abbas said about the Ayah 6:9 above, "If an angel was sent to them, he would come in the shape of a man. This is because they will not be able to look at the angel due to light."
وَلَلَبَسْنَا عَلَيْهِم مَّا يَلْبِسُونَ
(... and We would have certainly caused them confusion in a matter which they have already covered with confusion. ) meaning, We would confuse them over their confusion. And Al-Walibi reported Ibn `Abbas saying; "We brought doubts around them." Allah's statement,
وَلَقَدِ اسْتُهْزِىءَ بِرُسُلٍ مِّن قَبْلِكَ فَحَاقَ بِالَّذِينَ سَخِرُواْ مِنْهُمْ مَّا كَانُواْ بِهِ يَسْتَهْزِءُونَ
(And indeed Messengers were mocked before you, but their scoffers were surrounded by the very thing that they used to mock at.) comforts the Messenger concerning the denial of him by his people. The Ayah also promises the Messenger , and his believers, of Allah's victory and the good end in this life and the Hereafter. Allah said next,
قُلْ سِيرُواْ فِى الاٌّرْضِ ثُمَّ انْظُرُواْ كَيْفَ كَانَ عَـقِبَةُ الْمُكَذِّبِينَ
(Say: "Travel in the land and see what was the end of those who rejected truth.") meaning, contemplate about yourselves and think about the afflictions Allah struck the previous nations with, those who defied His Messengers and denied them. Allah sent torment, afflictions and punishment on them in this life, as well as the painful torment in the Hereafter, while saving His Messengers and believing servants.
انسانوں میں سے ہی رسول اللہ کا عظیم احسان کفار کی ضد اور سرکشی بیان ہو رہی ہے کہ یہ تو حق کے دشمن ہیں۔ بالفرض یہ کتاب اللہ کو آسمان سے اترتی ہوئی اپنی آنکھوں دیکھ لیتے اور اپنے ہاتھ لگا کر اسے اچھی طرح معلوم کرلیتے پھر بھی ان کا کفر نہ ٹوٹتا اور یہ کہہ دیتے کہ یہ تو کھلا جادو ہے، محسوسات کا انکار بھی ان سے بعید نہیں، جیسے اور جگہ ہے آیت (وَلَوْ فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ بَابًا مِّنَ السَّمَاۗءِ فَظَلُّوْا فِيْهِ يَعْرُجُوْنَ) 15۔ الحجر :14) یعنی اگر ہم آسمان کا دروازہ کھول دیتے اور یہ خود اوپر چڑھ جاتے، جب یہ بھی یہی کہتے کہ ہماری آنکھوں پر پٹی باندھ دی گئی ہے بلکہ ہم پر جادو کردیا گیا ہے اور ایک آیت میں ہے آیت (وَاِنْ يَّرَوْا كِسْفًا مِّنَ السَّمَاۗءِ سَاقِـطًا يَّقُوْلُوْا سَحَابٌ مَّرْكُوْمٌ) 52۔ الطور :44) غرض کہ جن باتوں کے ماننے کے عادی نہیں انہیں ہوتے ہوئے دیکھ کر بھی ایمان نصیب نہیں ہونے کا، یہ کہتے ہیں کہ اگر حضور سچے رسول ہیں تو ان کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے کسی فرشتے کی ڈیوٹی کیوں نہیں لگائی ؟ اللہ تعالیٰ جواب دیتا ہے کہ ان کی اس بےایمانی پر اگر فرشتے آجاتے تو پھر تو کام ہی ختم کردیا جاتا، چناچہ اور آیت میں ہے آیت (مَا نُنَزِّلُ الْمَلٰۗىِٕكَةَ اِلَّا بالْحَقِّ وَمَا كَانُوْٓا اِذًا مُّنْظَرِيْنَ) 15۔ الحجر :8) یعنی فرشتوں کو ہم حق کے ساتھ ہی اتارتے ہیں۔ اگر یہ آجائیں تو پھر مہلت و تاخیر ناممکن ہے اور جگہ ہے آیت (يَوْمَ يَرَوْنَ الْمَلٰۗىِٕكَةَ لَا بُشْرٰى يَوْمَىِٕذٍ لِّلْمُجْرِمِيْنَ وَيَقُوْلُوْنَ حِجْـرًا مَّحْجُوْرًا) 25۔ الفرقان :22) جس دن یہ لوگ فرشتوں کو دیکھ لیں گے اس دن گہنگار کو کوئی بشارت نہیں ہوگی، پھر فرماتا ہے بالفرض رسول کے ساتھ کوئی فرشتہ ہم اتارتے یا خود فرشتے ہی کو اپنا رسول بنا کر انسانوں میں بھیجتے تو لا محالہ اسے بصورت انسانی ہی بھیجتے تاکہ یہ لوگ اس کے ساتھ بیٹھ اٹھ سکیں، بات چیت کرسکیں اس سے حکم احکام سیکھ سکیں۔ یکجہتی کی وجہ سے طبیت مانوس ہوجائے اور اگر ایسا ہوتا تو پھر انہیں اسی شک کا موقعہ ملتا کہ نہ جانیں یہ سچ مچ فرشتہ ہے بھی یا نہیں ؟ کیونکہ وہ بھی انسان جیسا ہے اور آیت میں ہے آیت (قُلْ لَّوْ كَانَ فِي الْاَرْضِ مَلٰۗىِٕكَةٌ يَّمْشُوْنَ مُطْمَىِٕنِّيْنَ لَنَزَّلْنَا عَلَيْهِمْ مِّنَ السَّمَاۗءِ مَلَكًا رَّسُوْلًا) 17۔ الاسراء :95) یعنی اگر زمین میں فرشتوں کی آبادی ہوتی تو ہم ان کی طرف فرشتے ہی کو رسول بنا کر نازل فرماتے، پس درحقیقت اس رب محسن کا ایک احسان یہ بھی ہے کہ انسانوں کی طرف انہی کی جنس میں سے انسان ہی کو رسول بنا کر بھیجا تاکہ اس کے پاس اٹھ بیٹھ سکیں اس سے پوچھ گچھ لیں اور ہم جنسی کی وجہ سے خلط ملط ہو کر فائدہ اٹھا سکیں۔ چناچہ ارشاد ہے آیت (لَقَدْ مَنَّ اللّٰهُ عَلَي الْمُؤْمِنِيْنَ اِذْ بَعَثَ فِيْھِمْ رَسُوْلًا مِّنْ اَنْفُسِھِمْ يَتْلُوْا عَلَيْھِمْ اٰيٰتِھٖ وَيُزَكِّيْھِمْ وَيُعَلِّمُھُمُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَةَ) 3۔ آل عمران :164) یعنی یقینا اللہ تعالیٰ محسن حقیقی کا ایک زبردست احسان مسلمانوں پر یہ بھی ہے کہ اس نے انہی میں سے ایک رسول بھیجا جو آیات الہیہ ان کے سامنے تلاوت کرتا رہتا ہے اور انہیں پاک کرتا ہے، مطلب یہ ہے کہ اگر فرشتہ ہی اترتا تو چونکہ اس نور محض کو یہ لوگ دیکھ ہی نہیں سکتے اس لئے اے انسانی صورت میں ہی بھیجتے تو پھر بھی ان پر شبہ ہی رہتا، پھر اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو تسکین اور تسلی دیتا ہے کہ آپ دل گرفتہ نہ ہوں آپ سے پہلے بھی جتنے انبیاء آئے ان کا بھی مذاق اڑایا گیا لیکن بالاخر مذاق اڑانے والے تو برباد ہوگئے اسی طرح آپ کے ساتھ بھی جو لوگ بےادبی سے پیش آتے ہیں ایک رو پیس دیئے جائیں گے، لوگو ! ادھر ادھر پھر پھرا کر عبرت کی آنکھوں سے ان کے انجام کو دیکھو جنہوں نے تم سے پہلے رسولوں کے ساتھ بد سلوکی کی، ان کی نہ مانی اور ان پر پھبتیاں کسیں دنیا میں بھی وہ خراب و خستہ ہوئے اور آخرت کی مار ابھی باقی ہے، رسولوں کو اور ان کے ماننے والوں کو ہم نے یہاں بھی ترقی دی اور وہاں بھی انہیں بلند درجے عطا فرمائے۔
12
View Single
قُل لِّمَن مَّا فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۖ قُل لِّلَّهِۚ كَتَبَ عَلَىٰ نَفۡسِهِ ٱلرَّحۡمَةَۚ لَيَجۡمَعَنَّكُمۡ إِلَىٰ يَوۡمِ ٱلۡقِيَٰمَةِ لَا رَيۡبَ فِيهِۚ ٱلَّذِينَ خَسِرُوٓاْ أَنفُسَهُمۡ فَهُمۡ لَا يُؤۡمِنُونَ
Say, “To Whom does all whatever is in the heavens and the earth, belong?” Proclaim, “To Allah”; He has made mercy obligatory upon His grace; undoubtedly, He will surely gather you all together on the Day of Resurrection in which there is no doubt; those who put their souls to ruin, do not accept faith.
آپ (ان سے سوال) فرمائیں کہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے کس کا ہے؟ (پھر یہ بھی) فرما دیں کہ اللہ ہی کا ہے، اس نے اپنی ذات (کے ذمہ کرم) پر رحمت لازم فرمالی ہے، وہ تمہیں روزِ قیامت جس میں کوئی شک نہیں ضرور جمع فرمائے گا، جنہوں نے اپنی جانوں کو (دائمی) خسارے میں ڈال دیا ہے سو وہ ایمان نہیں لائیں گے
Tafsir Ibn Kathir
Allah is the Creator and the Sustainer
Allah states that He is the King and Owner of the heavens and earth and all of what is in them, and that He has written mercy on His Most Honorable Self. It is recorded in the Two Sahihs, that Abu Hurayrah said that the Prophet said,
«إِنَّ اللهَ لَمَّا خَلَقَ الْخَلْقَ، كَتَبَ كِتَابًا عِنْدَهُ فَوْقَ الْعَرْشِ، إِنَّ رَحْمَتِي تَغْلِبُ غَضَبِي»
(When Allah created the creation, He wrote in a Book that He has with Him above the Throne; `My mercy overcomes My anger.') Allah said;
لَيَجْمَعَنَّكُمْ إِلَى يَوْمِ الْقِيَـمَةِ لاَ رَيْبَ فِيهِ
(Indeed He will gather you together on the Day of Resurrection, about which there is no doubt.) swearing by His Most Honored Self that He will gather His servants,
إِلَى مِيقَـتِ يَوْمٍ مَّعْلُومٍ
(For appointed meeting of a known Day.) 56:50, the Day of Resurrection that will certainly occur, and there is no doubt for His believing servants in this fact. As for those who deny and refuse, they are in confusion and disarray. Allah's statement,
الَّذِينَ خَسِرُواْ أَنفُسَهُم
(Those who destroy themselves) on the Day of Resurrection,
فَهُمْ لاَ يُؤْمِنُونَ
(will not believe. ) in the Return and thus do not fear the repercussions of that Day. Allah said next,
وَلَهُ مَا سَكَنَ فِى الَّيْلِ وَالنَّهَارِ
(And to Him belongs whatsoever exists in the night and the day.) meaning, all creatures in the heavens and earth are Allah's servants and creatures, and they are all under His authority, power and will; there is no deity worthy of worship except Him,
وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ
(and He is the All-Hearing, the All-Knowing.) He hears the statements of His servants and knows their actions, secrets and what they conceal. Allah then said to His servant and Messenger Muhammad ﷺ, whom He sent with the pure Tawhid and the straight religion, commanding him to call the people to Allah's straight path;
قُلْ أَغَيْرَ اللَّهِ أَتَّخِذُ وَلِيّاً فَاطِرِ السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ
(Say: "Shall I take as a guardian any other than Allah, the Creator of the heavens and the earth") Similarly, Allah said,
قُلْ أَفَغَيْرَ اللَّهِ تَأْمُرُونِّى أَعْبُدُ أَيُّهَا الْجَـهِلُونَ
(Say: "Do you order me to worship other than Allah, O you fools") 39:64. The meaning here is, I will not take a guardian except Allah, without partners, for He is the Creator of the heavens and earth Who orignated them without precedent,
وَهُوَ يُطْعِمُ وَلاَ يُطْعَمُ
(And it is He Who feeds but is not fed.) For He sustains His creatures without needing them. Allah also said;
وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالإِنسَ إِلاَّ لِيَعْبُدُونِ
(And I created not the Jinn and humans except that they should worship Me (Alone).) 51:56 Some scholars read it, وَهُوَ يُطْعِمُ وَلَا يَطْعَمُ "And it is He Who feeds but He does not eat." meaning, Allah does not eat. Abu Hurayrah narrated, "A man from Al-Ansar from the area of Quba' invited the Prophet to eat some food, and we went along with the Prophet . When the Prophet ate and washed his hands, he said,
«الْحَمْدُ للهِ الَّذِي يُطْعِمُ وَلَا يُطْعَمُ، وَمَنَّ عَلَيْنَا فَهَدَانَا وَأَطْعَمَنَا، وَسَقَانَا مِنَ الشَّرَابِ، وَكَسَانَا مِنَ العُرْيِ، وَكُلَّ بَلَاءٍ حَسَنٍ أَبْلَانَا، الْحَمْدُ للهِ غَيْرَ مُوَدَّعٍ رَبِّي وَلَا مُكَافأً وَلَا مَكْفُورٍ، وَلَا مُسْتَغْنًى عَنْهُ، الْحَمْدُ للهِ الَّذِي أَطْعَمَنَا مِنَ الطَّعَامِ، وَسَقَانَا مِنَ الشَّرَابِ، وَكَسَانَا مِنَ الْعُرْيِ، وَهَدَانَا مِنَ الضَّلَالِ، وَبَصَّرَنَا مِنَ العَمَى، وَفَضَّلَنَا عَلَى كَثِيرٍ مِمَّنَ خَلَقَ تَفْضِيلًا، الْحَمْدُ للهِ رَبِّ الْعَالَمِين»
(All praise is due to Allah, Who feeds but is never fed, He bestowed bounty unto us, Who gave us guidance and fed us, gave us something to drink, covered our nakedness; and for every favor He has given us. All praise is due to Allah, praise that should not be neglected, my Lord, all the while affirming that we will never be able to duly thank Him; nor be appreciative enough of Him, nor be free of needing Him. All thanks and praises are due to Allah Who fed us the food, gave us the drink, covered our nudity, guided us from misguidance, gave us sight from blindness, and honored us above many of His creaturers. All praise is due to Allah, Lord of all that exists.")
قُلْ إِنِّى أُمِرْتُ أَنْ أَكُونَ أَوَّلَ مَنْ أَسْلَمَ
(Say: "Verily, I am commanded to be the first of those who submit themselves to Allah as (Muslims).") from this Ummah,
قُلْ أَغَيْرَ اللَّهِ أَتَّخِذُ وَلِيّاً فَاطِرِ السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ وَهُوَ يُطْعِمُ وَلاَ يُطْعَمُ قُلْ إِنِّى أُمِرْتُ أَنْ أَكُونَ أَوَّلَ مَنْ أَسْلَمَ وَلاَ تَكُونَنَّ مِنَ الْمُشْرِكَينَ - قُلْ إِنِّى أَخَافُ إِنْ عَصَيْتُ رَبِّى عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ
(And be not you of the idolaters. Say: "I fear, if I disobey my Lord, the torment of a Mighty Day.") 6:14-15, the Day of Resurrection,
مَّن يُصْرَفْ عَنْهُ
(Who is averted from) such a torment,
يَوْمَئِذٍ فَقَدْ رَحِمَهُ
(on that Day, He has surely been Merciful to him) meaning, Allah will have been merciful to him,
وَذَلِكَ الْفَوْزُ الْمُبِينُ
(And that would be the obvious success.) Allah also said,
فَمَن زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَأُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ
(And whoever is moved away from the Fire and admitted to Paradise, he indeed is successful.) 3:185, success here indicates acquiring profit and negates loss.
ہر چیز کا مالک اللہ ہے آسمان و زمین اور جو کچھ ان میں ہے، سب اللہ کا ہے، اس نے اپنے نفس مقدس پر رحمت لکھ لی ہے، بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو جب پیدا کیا تو ایک کتاب لکھی جو اس کے پاس اس کے عرش کے اوپر ہے کہ میری رحمت غضب پر غالب ہے، پھر اپنے پاک نفس کی قسم کھا کر فرماتا ہے کہ وہ اپنے بندوں کو قیامت کے دن ضرور جمع کرے گا اور وہ دن یقینا آنے والا ہے شکی لوگ چاہے شک شبہ کریں لیکن وہ ساعت اٹل ہے، حضور سے سوال ہوا کہ کیا اس دن پانی بھی ہوگا ؟ آپ نے فرمایا اس اللہ کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے اس دن پانی ہوگا، اولیاء اللہ ان ہوضوں پر آئیں گے جو انبیاء کی ہوں گی۔ ان حوضوں کی نگہبانی کیلئے ایک ہزار فرشتے نور کی لکڑیاں لئے ہوئے مقرر ہوں گے جو کافروں کو وہاں سے ہٹا دیں گے، یہ حدیث ابن مردویہ میں ہے لیکن ہے غریب، ترمذی شریف کی حدیث میں ہے ہر نبی کے لئے ہوض ہوگا مجھے امید ہے کہ سب سے زیادہ لوگ میرے حوض پر آئیں گے، جو لوگ اللہ پر ایمان نہیں رکھتے اور اس دن کو نہیں مانتے وہ اپنی جانوں سے خود ہی دشمنی رکھتے ہیں اور اپنا نقصان آپ ہی کرتے ہیں، زمین و آسمان کی ساکن چیزیں یعنی کل مخلوق اللہ کی ہی پیدا کردہ ہے اور سب اس کے ماتحت ہے، سب کا مالک وہی ہے، وہ سب کی باتیں سننے والا اور سب کی حرکتیں جاننے والا ہے، چھپا کھلا سب اس پر روشن ہے۔ پھر اپنے نبی کو جنہیں توحید خالص کے ساتھ اور کامل شریعت کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے۔ حکم دیتا ہے کہ آپ اعلان کردیں کہ آسمان و زمین پیدا کرنے والے اللہ کے سوا میں کسی اور کو اپنا دوست و مددگار نہیں جانتا، وہ ساری مخلوق کا رازق ہے سب اس کے محتاج ہیں اور وہ سب سے بےنیاز ہے، فرماتا ہے میں نے تمام انسانوں جنوں کو اپنی غلامی اور عبادت کیلئے پیدا کیا ہے، ایک قرأت میں والا یطعم بھی ہے یعنی وہ خود نہیں کھاتا، قبا کے رہنے والے ایک انصاری ؓ نے آنحضرت ﷺ کی دعوت کی۔ حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں، ہم بھی آپ کے ساتھ گئے، جب حضور کھانا تناول فرما کر ہاتھ دھو چکے تو آپ نے فرمایا اللہ کا شکر ہے جو سب کو کھلاتا ہے اور خود نہیں کھاتا، اس کے بہت بڑے احسان ہم پر ہیں کہ اس نے ہمیں ہدایت دی اور کھانے پینے کو دیا اور تمام بھلائیاں عطا فرمائیں اللہ کا شکر ہے جسے ہم پورا ادا کر ہی نہیں سکتے اور نہ اسے چھوڑ سکتے ہیں، ہم اس کی ناشکری نہیں کرتے، نہ اس سے کسی وقت ہم بےنیاز ہوسکتے ہیں، الحمد للہ اللہ نے ہمیں کھانا کھلایا، پانی پلایا، کپڑے پہنائے، گمراہی سے نکال کر رہ راست کھائی، اندھے پن سے ہٹا کر آنکھیں عطا فرمائیں اور اپنی بہت سی مخلوق پر ہمیں فضیلت عنایت فرمائی۔ اللہ ہی کے لئے سب تعریفیں مختص ہیں جو تمام جہان کا پالنہار ہے، پھر فرماتا ہے کہ اے پیغمبر اعلان کردو کہ مجھے حکم ملا ہے کہ اس امت میں سب سے پہلے اللہ کا غلام میں بن جاؤں، پھر فرماتا ہے خبردار ہرگز ہرگز مشرکوں سے نہ ملنا، یہ بھی اعلان کر دیجئے کہ مجھے خوف ہے اگر میں اللہ کی نافرمانی کروں تو مجھے قیامت کے دن عذاب ہوں گے جو اس روز عذابوں سے محفوظ رکھا گیا یقین ماننا کہ اس پر رحمت رب نازل ہوئی، سچی کامیابی یہی ہے اور آیت میں فرمایا ہے جو بھی جہنم سے ہٹا دیا گیا اور جنت میں پہنچا دیا گیا اس نے منہ مانگی مراد پالی۔ فوز کے معنی نفع مل جانے اور نقصان سے بچ جانے کے ہیں۔
13
View Single
۞وَلَهُۥ مَا سَكَنَ فِي ٱلَّيۡلِ وَٱلنَّهَارِۚ وَهُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلۡعَلِيمُ
And to Him only belongs all whatever exists in the night and in the day; and He only is the All Hearing, the All Knowing.
اور وہ (ساری مخلوق) جو رات میں اور دن میں آرام کرتی ہے، اسی کی ہے، اور وہ خوب سننے والا جاننے والا ہے
Tafsir Ibn Kathir
Allah is the Creator and the Sustainer
Allah states that He is the King and Owner of the heavens and earth and all of what is in them, and that He has written mercy on His Most Honorable Self. It is recorded in the Two Sahihs, that Abu Hurayrah said that the Prophet said,
«إِنَّ اللهَ لَمَّا خَلَقَ الْخَلْقَ، كَتَبَ كِتَابًا عِنْدَهُ فَوْقَ الْعَرْشِ، إِنَّ رَحْمَتِي تَغْلِبُ غَضَبِي»
(When Allah created the creation, He wrote in a Book that He has with Him above the Throne; `My mercy overcomes My anger.') Allah said;
لَيَجْمَعَنَّكُمْ إِلَى يَوْمِ الْقِيَـمَةِ لاَ رَيْبَ فِيهِ
(Indeed He will gather you together on the Day of Resurrection, about which there is no doubt.) swearing by His Most Honored Self that He will gather His servants,
إِلَى مِيقَـتِ يَوْمٍ مَّعْلُومٍ
(For appointed meeting of a known Day.) 56:50, the Day of Resurrection that will certainly occur, and there is no doubt for His believing servants in this fact. As for those who deny and refuse, they are in confusion and disarray. Allah's statement,
الَّذِينَ خَسِرُواْ أَنفُسَهُم
(Those who destroy themselves) on the Day of Resurrection,
فَهُمْ لاَ يُؤْمِنُونَ
(will not believe. ) in the Return and thus do not fear the repercussions of that Day. Allah said next,
وَلَهُ مَا سَكَنَ فِى الَّيْلِ وَالنَّهَارِ
(And to Him belongs whatsoever exists in the night and the day.) meaning, all creatures in the heavens and earth are Allah's servants and creatures, and they are all under His authority, power and will; there is no deity worthy of worship except Him,
وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ
(and He is the All-Hearing, the All-Knowing.) He hears the statements of His servants and knows their actions, secrets and what they conceal. Allah then said to His servant and Messenger Muhammad ﷺ, whom He sent with the pure Tawhid and the straight religion, commanding him to call the people to Allah's straight path;
قُلْ أَغَيْرَ اللَّهِ أَتَّخِذُ وَلِيّاً فَاطِرِ السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ
(Say: "Shall I take as a guardian any other than Allah, the Creator of the heavens and the earth") Similarly, Allah said,
قُلْ أَفَغَيْرَ اللَّهِ تَأْمُرُونِّى أَعْبُدُ أَيُّهَا الْجَـهِلُونَ
(Say: "Do you order me to worship other than Allah, O you fools") 39:64. The meaning here is, I will not take a guardian except Allah, without partners, for He is the Creator of the heavens and earth Who orignated them without precedent,
وَهُوَ يُطْعِمُ وَلاَ يُطْعَمُ
(And it is He Who feeds but is not fed.) For He sustains His creatures without needing them. Allah also said;
وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالإِنسَ إِلاَّ لِيَعْبُدُونِ
(And I created not the Jinn and humans except that they should worship Me (Alone).) 51:56 Some scholars read it, وَهُوَ يُطْعِمُ وَلَا يَطْعَمُ "And it is He Who feeds but He does not eat." meaning, Allah does not eat. Abu Hurayrah narrated, "A man from Al-Ansar from the area of Quba' invited the Prophet to eat some food, and we went along with the Prophet . When the Prophet ate and washed his hands, he said,
«الْحَمْدُ للهِ الَّذِي يُطْعِمُ وَلَا يُطْعَمُ، وَمَنَّ عَلَيْنَا فَهَدَانَا وَأَطْعَمَنَا، وَسَقَانَا مِنَ الشَّرَابِ، وَكَسَانَا مِنَ العُرْيِ، وَكُلَّ بَلَاءٍ حَسَنٍ أَبْلَانَا، الْحَمْدُ للهِ غَيْرَ مُوَدَّعٍ رَبِّي وَلَا مُكَافأً وَلَا مَكْفُورٍ، وَلَا مُسْتَغْنًى عَنْهُ، الْحَمْدُ للهِ الَّذِي أَطْعَمَنَا مِنَ الطَّعَامِ، وَسَقَانَا مِنَ الشَّرَابِ، وَكَسَانَا مِنَ الْعُرْيِ، وَهَدَانَا مِنَ الضَّلَالِ، وَبَصَّرَنَا مِنَ العَمَى، وَفَضَّلَنَا عَلَى كَثِيرٍ مِمَّنَ خَلَقَ تَفْضِيلًا، الْحَمْدُ للهِ رَبِّ الْعَالَمِين»
(All praise is due to Allah, Who feeds but is never fed, He bestowed bounty unto us, Who gave us guidance and fed us, gave us something to drink, covered our nakedness; and for every favor He has given us. All praise is due to Allah, praise that should not be neglected, my Lord, all the while affirming that we will never be able to duly thank Him; nor be appreciative enough of Him, nor be free of needing Him. All thanks and praises are due to Allah Who fed us the food, gave us the drink, covered our nudity, guided us from misguidance, gave us sight from blindness, and honored us above many of His creaturers. All praise is due to Allah, Lord of all that exists.")
قُلْ إِنِّى أُمِرْتُ أَنْ أَكُونَ أَوَّلَ مَنْ أَسْلَمَ
(Say: "Verily, I am commanded to be the first of those who submit themselves to Allah as (Muslims).") from this Ummah,
قُلْ أَغَيْرَ اللَّهِ أَتَّخِذُ وَلِيّاً فَاطِرِ السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ وَهُوَ يُطْعِمُ وَلاَ يُطْعَمُ قُلْ إِنِّى أُمِرْتُ أَنْ أَكُونَ أَوَّلَ مَنْ أَسْلَمَ وَلاَ تَكُونَنَّ مِنَ الْمُشْرِكَينَ - قُلْ إِنِّى أَخَافُ إِنْ عَصَيْتُ رَبِّى عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ
(And be not you of the idolaters. Say: "I fear, if I disobey my Lord, the torment of a Mighty Day.") 6:14-15, the Day of Resurrection,
مَّن يُصْرَفْ عَنْهُ
(Who is averted from) such a torment,
يَوْمَئِذٍ فَقَدْ رَحِمَهُ
(on that Day, He has surely been Merciful to him) meaning, Allah will have been merciful to him,
وَذَلِكَ الْفَوْزُ الْمُبِينُ
(And that would be the obvious success.) Allah also said,
فَمَن زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَأُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ
(And whoever is moved away from the Fire and admitted to Paradise, he indeed is successful.) 3:185, success here indicates acquiring profit and negates loss.
ہر چیز کا مالک اللہ ہے آسمان و زمین اور جو کچھ ان میں ہے، سب اللہ کا ہے، اس نے اپنے نفس مقدس پر رحمت لکھ لی ہے، بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو جب پیدا کیا تو ایک کتاب لکھی جو اس کے پاس اس کے عرش کے اوپر ہے کہ میری رحمت غضب پر غالب ہے، پھر اپنے پاک نفس کی قسم کھا کر فرماتا ہے کہ وہ اپنے بندوں کو قیامت کے دن ضرور جمع کرے گا اور وہ دن یقینا آنے والا ہے شکی لوگ چاہے شک شبہ کریں لیکن وہ ساعت اٹل ہے، حضور سے سوال ہوا کہ کیا اس دن پانی بھی ہوگا ؟ آپ نے فرمایا اس اللہ کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے اس دن پانی ہوگا، اولیاء اللہ ان ہوضوں پر آئیں گے جو انبیاء کی ہوں گی۔ ان حوضوں کی نگہبانی کیلئے ایک ہزار فرشتے نور کی لکڑیاں لئے ہوئے مقرر ہوں گے جو کافروں کو وہاں سے ہٹا دیں گے، یہ حدیث ابن مردویہ میں ہے لیکن ہے غریب، ترمذی شریف کی حدیث میں ہے ہر نبی کے لئے ہوض ہوگا مجھے امید ہے کہ سب سے زیادہ لوگ میرے حوض پر آئیں گے، جو لوگ اللہ پر ایمان نہیں رکھتے اور اس دن کو نہیں مانتے وہ اپنی جانوں سے خود ہی دشمنی رکھتے ہیں اور اپنا نقصان آپ ہی کرتے ہیں، زمین و آسمان کی ساکن چیزیں یعنی کل مخلوق اللہ کی ہی پیدا کردہ ہے اور سب اس کے ماتحت ہے، سب کا مالک وہی ہے، وہ سب کی باتیں سننے والا اور سب کی حرکتیں جاننے والا ہے، چھپا کھلا سب اس پر روشن ہے۔ پھر اپنے نبی کو جنہیں توحید خالص کے ساتھ اور کامل شریعت کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے۔ حکم دیتا ہے کہ آپ اعلان کردیں کہ آسمان و زمین پیدا کرنے والے اللہ کے سوا میں کسی اور کو اپنا دوست و مددگار نہیں جانتا، وہ ساری مخلوق کا رازق ہے سب اس کے محتاج ہیں اور وہ سب سے بےنیاز ہے، فرماتا ہے میں نے تمام انسانوں جنوں کو اپنی غلامی اور عبادت کیلئے پیدا کیا ہے، ایک قرأت میں والا یطعم بھی ہے یعنی وہ خود نہیں کھاتا، قبا کے رہنے والے ایک انصاری ؓ نے آنحضرت ﷺ کی دعوت کی۔ حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں، ہم بھی آپ کے ساتھ گئے، جب حضور کھانا تناول فرما کر ہاتھ دھو چکے تو آپ نے فرمایا اللہ کا شکر ہے جو سب کو کھلاتا ہے اور خود نہیں کھاتا، اس کے بہت بڑے احسان ہم پر ہیں کہ اس نے ہمیں ہدایت دی اور کھانے پینے کو دیا اور تمام بھلائیاں عطا فرمائیں اللہ کا شکر ہے جسے ہم پورا ادا کر ہی نہیں سکتے اور نہ اسے چھوڑ سکتے ہیں، ہم اس کی ناشکری نہیں کرتے، نہ اس سے کسی وقت ہم بےنیاز ہوسکتے ہیں، الحمد للہ اللہ نے ہمیں کھانا کھلایا، پانی پلایا، کپڑے پہنائے، گمراہی سے نکال کر رہ راست کھائی، اندھے پن سے ہٹا کر آنکھیں عطا فرمائیں اور اپنی بہت سی مخلوق پر ہمیں فضیلت عنایت فرمائی۔ اللہ ہی کے لئے سب تعریفیں مختص ہیں جو تمام جہان کا پالنہار ہے، پھر فرماتا ہے کہ اے پیغمبر اعلان کردو کہ مجھے حکم ملا ہے کہ اس امت میں سب سے پہلے اللہ کا غلام میں بن جاؤں، پھر فرماتا ہے خبردار ہرگز ہرگز مشرکوں سے نہ ملنا، یہ بھی اعلان کر دیجئے کہ مجھے خوف ہے اگر میں اللہ کی نافرمانی کروں تو مجھے قیامت کے دن عذاب ہوں گے جو اس روز عذابوں سے محفوظ رکھا گیا یقین ماننا کہ اس پر رحمت رب نازل ہوئی، سچی کامیابی یہی ہے اور آیت میں فرمایا ہے جو بھی جہنم سے ہٹا دیا گیا اور جنت میں پہنچا دیا گیا اس نے منہ مانگی مراد پالی۔ فوز کے معنی نفع مل جانے اور نقصان سے بچ جانے کے ہیں۔
14
View Single
قُلۡ أَغَيۡرَ ٱللَّهِ أَتَّخِذُ وَلِيّٗا فَاطِرِ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ وَهُوَ يُطۡعِمُ وَلَا يُطۡعَمُۗ قُلۡ إِنِّيٓ أُمِرۡتُ أَنۡ أَكُونَ أَوَّلَ مَنۡ أَسۡلَمَۖ وَلَا تَكُونَنَّ مِنَ ٱلۡمُشۡرِكِينَ
Say, “Shall I choose as a supporter someone other than Allah, Who is the Originator of the heavens and the earth and Who feeds and does not need to eat?” Say, “I have been ordered to be the first to submit myself (to Him), and O people, do not be of the polytheists.”
فرما دیجئے: کیا میں کسی دوسرے کو (عبادت کے لئے اپنا) دوست بنا لوں (اس) اللہ کے سوا جو آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے اور وہ (سب کو) کھلاتا ہے اور (خود اسے) کھلایا نہیں جاتا۔ فرما دیں: مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں (اس کے حضور) سب سے پہلا (سرجھکانے والا) مسلمان ہوجاؤں اور (یہ بھی فرما دیا گیا ہے کہ) تم مشرکوں میں سے ہرگز نہ ہوجانا
Tafsir Ibn Kathir
Allah is the Creator and the Sustainer
Allah states that He is the King and Owner of the heavens and earth and all of what is in them, and that He has written mercy on His Most Honorable Self. It is recorded in the Two Sahihs, that Abu Hurayrah said that the Prophet said,
«إِنَّ اللهَ لَمَّا خَلَقَ الْخَلْقَ، كَتَبَ كِتَابًا عِنْدَهُ فَوْقَ الْعَرْشِ، إِنَّ رَحْمَتِي تَغْلِبُ غَضَبِي»
(When Allah created the creation, He wrote in a Book that He has with Him above the Throne; `My mercy overcomes My anger.') Allah said;
لَيَجْمَعَنَّكُمْ إِلَى يَوْمِ الْقِيَـمَةِ لاَ رَيْبَ فِيهِ
(Indeed He will gather you together on the Day of Resurrection, about which there is no doubt.) swearing by His Most Honored Self that He will gather His servants,
إِلَى مِيقَـتِ يَوْمٍ مَّعْلُومٍ
(For appointed meeting of a known Day.) 56:50, the Day of Resurrection that will certainly occur, and there is no doubt for His believing servants in this fact. As for those who deny and refuse, they are in confusion and disarray. Allah's statement,
الَّذِينَ خَسِرُواْ أَنفُسَهُم
(Those who destroy themselves) on the Day of Resurrection,
فَهُمْ لاَ يُؤْمِنُونَ
(will not believe. ) in the Return and thus do not fear the repercussions of that Day. Allah said next,
وَلَهُ مَا سَكَنَ فِى الَّيْلِ وَالنَّهَارِ
(And to Him belongs whatsoever exists in the night and the day.) meaning, all creatures in the heavens and earth are Allah's servants and creatures, and they are all under His authority, power and will; there is no deity worthy of worship except Him,
وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ
(and He is the All-Hearing, the All-Knowing.) He hears the statements of His servants and knows their actions, secrets and what they conceal. Allah then said to His servant and Messenger Muhammad ﷺ, whom He sent with the pure Tawhid and the straight religion, commanding him to call the people to Allah's straight path;
قُلْ أَغَيْرَ اللَّهِ أَتَّخِذُ وَلِيّاً فَاطِرِ السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ
(Say: "Shall I take as a guardian any other than Allah, the Creator of the heavens and the earth") Similarly, Allah said,
قُلْ أَفَغَيْرَ اللَّهِ تَأْمُرُونِّى أَعْبُدُ أَيُّهَا الْجَـهِلُونَ
(Say: "Do you order me to worship other than Allah, O you fools") 39:64. The meaning here is, I will not take a guardian except Allah, without partners, for He is the Creator of the heavens and earth Who orignated them without precedent,
وَهُوَ يُطْعِمُ وَلاَ يُطْعَمُ
(And it is He Who feeds but is not fed.) For He sustains His creatures without needing them. Allah also said;
وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالإِنسَ إِلاَّ لِيَعْبُدُونِ
(And I created not the Jinn and humans except that they should worship Me (Alone).) 51:56 Some scholars read it, وَهُوَ يُطْعِمُ وَلَا يَطْعَمُ "And it is He Who feeds but He does not eat." meaning, Allah does not eat. Abu Hurayrah narrated, "A man from Al-Ansar from the area of Quba' invited the Prophet to eat some food, and we went along with the Prophet . When the Prophet ate and washed his hands, he said,
«الْحَمْدُ للهِ الَّذِي يُطْعِمُ وَلَا يُطْعَمُ، وَمَنَّ عَلَيْنَا فَهَدَانَا وَأَطْعَمَنَا، وَسَقَانَا مِنَ الشَّرَابِ، وَكَسَانَا مِنَ العُرْيِ، وَكُلَّ بَلَاءٍ حَسَنٍ أَبْلَانَا، الْحَمْدُ للهِ غَيْرَ مُوَدَّعٍ رَبِّي وَلَا مُكَافأً وَلَا مَكْفُورٍ، وَلَا مُسْتَغْنًى عَنْهُ، الْحَمْدُ للهِ الَّذِي أَطْعَمَنَا مِنَ الطَّعَامِ، وَسَقَانَا مِنَ الشَّرَابِ، وَكَسَانَا مِنَ الْعُرْيِ، وَهَدَانَا مِنَ الضَّلَالِ، وَبَصَّرَنَا مِنَ العَمَى، وَفَضَّلَنَا عَلَى كَثِيرٍ مِمَّنَ خَلَقَ تَفْضِيلًا، الْحَمْدُ للهِ رَبِّ الْعَالَمِين»
(All praise is due to Allah, Who feeds but is never fed, He bestowed bounty unto us, Who gave us guidance and fed us, gave us something to drink, covered our nakedness; and for every favor He has given us. All praise is due to Allah, praise that should not be neglected, my Lord, all the while affirming that we will never be able to duly thank Him; nor be appreciative enough of Him, nor be free of needing Him. All thanks and praises are due to Allah Who fed us the food, gave us the drink, covered our nudity, guided us from misguidance, gave us sight from blindness, and honored us above many of His creaturers. All praise is due to Allah, Lord of all that exists.")
قُلْ إِنِّى أُمِرْتُ أَنْ أَكُونَ أَوَّلَ مَنْ أَسْلَمَ
(Say: "Verily, I am commanded to be the first of those who submit themselves to Allah as (Muslims).") from this Ummah,
قُلْ أَغَيْرَ اللَّهِ أَتَّخِذُ وَلِيّاً فَاطِرِ السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ وَهُوَ يُطْعِمُ وَلاَ يُطْعَمُ قُلْ إِنِّى أُمِرْتُ أَنْ أَكُونَ أَوَّلَ مَنْ أَسْلَمَ وَلاَ تَكُونَنَّ مِنَ الْمُشْرِكَينَ - قُلْ إِنِّى أَخَافُ إِنْ عَصَيْتُ رَبِّى عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ
(And be not you of the idolaters. Say: "I fear, if I disobey my Lord, the torment of a Mighty Day.") 6:14-15, the Day of Resurrection,
مَّن يُصْرَفْ عَنْهُ
(Who is averted from) such a torment,
يَوْمَئِذٍ فَقَدْ رَحِمَهُ
(on that Day, He has surely been Merciful to him) meaning, Allah will have been merciful to him,
وَذَلِكَ الْفَوْزُ الْمُبِينُ
(And that would be the obvious success.) Allah also said,
فَمَن زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَأُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ
(And whoever is moved away from the Fire and admitted to Paradise, he indeed is successful.) 3:185, success here indicates acquiring profit and negates loss.
ہر چیز کا مالک اللہ ہے آسمان و زمین اور جو کچھ ان میں ہے، سب اللہ کا ہے، اس نے اپنے نفس مقدس پر رحمت لکھ لی ہے، بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو جب پیدا کیا تو ایک کتاب لکھی جو اس کے پاس اس کے عرش کے اوپر ہے کہ میری رحمت غضب پر غالب ہے، پھر اپنے پاک نفس کی قسم کھا کر فرماتا ہے کہ وہ اپنے بندوں کو قیامت کے دن ضرور جمع کرے گا اور وہ دن یقینا آنے والا ہے شکی لوگ چاہے شک شبہ کریں لیکن وہ ساعت اٹل ہے، حضور سے سوال ہوا کہ کیا اس دن پانی بھی ہوگا ؟ آپ نے فرمایا اس اللہ کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے اس دن پانی ہوگا، اولیاء اللہ ان ہوضوں پر آئیں گے جو انبیاء کی ہوں گی۔ ان حوضوں کی نگہبانی کیلئے ایک ہزار فرشتے نور کی لکڑیاں لئے ہوئے مقرر ہوں گے جو کافروں کو وہاں سے ہٹا دیں گے، یہ حدیث ابن مردویہ میں ہے لیکن ہے غریب، ترمذی شریف کی حدیث میں ہے ہر نبی کے لئے ہوض ہوگا مجھے امید ہے کہ سب سے زیادہ لوگ میرے حوض پر آئیں گے، جو لوگ اللہ پر ایمان نہیں رکھتے اور اس دن کو نہیں مانتے وہ اپنی جانوں سے خود ہی دشمنی رکھتے ہیں اور اپنا نقصان آپ ہی کرتے ہیں، زمین و آسمان کی ساکن چیزیں یعنی کل مخلوق اللہ کی ہی پیدا کردہ ہے اور سب اس کے ماتحت ہے، سب کا مالک وہی ہے، وہ سب کی باتیں سننے والا اور سب کی حرکتیں جاننے والا ہے، چھپا کھلا سب اس پر روشن ہے۔ پھر اپنے نبی کو جنہیں توحید خالص کے ساتھ اور کامل شریعت کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے۔ حکم دیتا ہے کہ آپ اعلان کردیں کہ آسمان و زمین پیدا کرنے والے اللہ کے سوا میں کسی اور کو اپنا دوست و مددگار نہیں جانتا، وہ ساری مخلوق کا رازق ہے سب اس کے محتاج ہیں اور وہ سب سے بےنیاز ہے، فرماتا ہے میں نے تمام انسانوں جنوں کو اپنی غلامی اور عبادت کیلئے پیدا کیا ہے، ایک قرأت میں والا یطعم بھی ہے یعنی وہ خود نہیں کھاتا، قبا کے رہنے والے ایک انصاری ؓ نے آنحضرت ﷺ کی دعوت کی۔ حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں، ہم بھی آپ کے ساتھ گئے، جب حضور کھانا تناول فرما کر ہاتھ دھو چکے تو آپ نے فرمایا اللہ کا شکر ہے جو سب کو کھلاتا ہے اور خود نہیں کھاتا، اس کے بہت بڑے احسان ہم پر ہیں کہ اس نے ہمیں ہدایت دی اور کھانے پینے کو دیا اور تمام بھلائیاں عطا فرمائیں اللہ کا شکر ہے جسے ہم پورا ادا کر ہی نہیں سکتے اور نہ اسے چھوڑ سکتے ہیں، ہم اس کی ناشکری نہیں کرتے، نہ اس سے کسی وقت ہم بےنیاز ہوسکتے ہیں، الحمد للہ اللہ نے ہمیں کھانا کھلایا، پانی پلایا، کپڑے پہنائے، گمراہی سے نکال کر رہ راست کھائی، اندھے پن سے ہٹا کر آنکھیں عطا فرمائیں اور اپنی بہت سی مخلوق پر ہمیں فضیلت عنایت فرمائی۔ اللہ ہی کے لئے سب تعریفیں مختص ہیں جو تمام جہان کا پالنہار ہے، پھر فرماتا ہے کہ اے پیغمبر اعلان کردو کہ مجھے حکم ملا ہے کہ اس امت میں سب سے پہلے اللہ کا غلام میں بن جاؤں، پھر فرماتا ہے خبردار ہرگز ہرگز مشرکوں سے نہ ملنا، یہ بھی اعلان کر دیجئے کہ مجھے خوف ہے اگر میں اللہ کی نافرمانی کروں تو مجھے قیامت کے دن عذاب ہوں گے جو اس روز عذابوں سے محفوظ رکھا گیا یقین ماننا کہ اس پر رحمت رب نازل ہوئی، سچی کامیابی یہی ہے اور آیت میں فرمایا ہے جو بھی جہنم سے ہٹا دیا گیا اور جنت میں پہنچا دیا گیا اس نے منہ مانگی مراد پالی۔ فوز کے معنی نفع مل جانے اور نقصان سے بچ جانے کے ہیں۔
15
View Single
قُلۡ إِنِّيٓ أَخَافُ إِنۡ عَصَيۡتُ رَبِّي عَذَابَ يَوۡمٍ عَظِيمٖ
Say, “If I disobey my Lord, I then fear the punishment of the Great Day (of Resurrection).”
فرما دیجئے کہ بیشک میں (تو) بڑے عذاب کے دن سے ڈرتا ہوں، اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں (سو یہ کیسے ممکن ہے؟)
Tafsir Ibn Kathir
Allah is the Creator and the Sustainer
Allah states that He is the King and Owner of the heavens and earth and all of what is in them, and that He has written mercy on His Most Honorable Self. It is recorded in the Two Sahihs, that Abu Hurayrah said that the Prophet said,
«إِنَّ اللهَ لَمَّا خَلَقَ الْخَلْقَ، كَتَبَ كِتَابًا عِنْدَهُ فَوْقَ الْعَرْشِ، إِنَّ رَحْمَتِي تَغْلِبُ غَضَبِي»
(When Allah created the creation, He wrote in a Book that He has with Him above the Throne; `My mercy overcomes My anger.') Allah said;
لَيَجْمَعَنَّكُمْ إِلَى يَوْمِ الْقِيَـمَةِ لاَ رَيْبَ فِيهِ
(Indeed He will gather you together on the Day of Resurrection, about which there is no doubt.) swearing by His Most Honored Self that He will gather His servants,
إِلَى مِيقَـتِ يَوْمٍ مَّعْلُومٍ
(For appointed meeting of a known Day.) 56:50, the Day of Resurrection that will certainly occur, and there is no doubt for His believing servants in this fact. As for those who deny and refuse, they are in confusion and disarray. Allah's statement,
الَّذِينَ خَسِرُواْ أَنفُسَهُم
(Those who destroy themselves) on the Day of Resurrection,
فَهُمْ لاَ يُؤْمِنُونَ
(will not believe. ) in the Return and thus do not fear the repercussions of that Day. Allah said next,
وَلَهُ مَا سَكَنَ فِى الَّيْلِ وَالنَّهَارِ
(And to Him belongs whatsoever exists in the night and the day.) meaning, all creatures in the heavens and earth are Allah's servants and creatures, and they are all under His authority, power and will; there is no deity worthy of worship except Him,
وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ
(and He is the All-Hearing, the All-Knowing.) He hears the statements of His servants and knows their actions, secrets and what they conceal. Allah then said to His servant and Messenger Muhammad ﷺ, whom He sent with the pure Tawhid and the straight religion, commanding him to call the people to Allah's straight path;
قُلْ أَغَيْرَ اللَّهِ أَتَّخِذُ وَلِيّاً فَاطِرِ السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ
(Say: "Shall I take as a guardian any other than Allah, the Creator of the heavens and the earth") Similarly, Allah said,
قُلْ أَفَغَيْرَ اللَّهِ تَأْمُرُونِّى أَعْبُدُ أَيُّهَا الْجَـهِلُونَ
(Say: "Do you order me to worship other than Allah, O you fools") 39:64. The meaning here is, I will not take a guardian except Allah, without partners, for He is the Creator of the heavens and earth Who orignated them without precedent,
وَهُوَ يُطْعِمُ وَلاَ يُطْعَمُ
(And it is He Who feeds but is not fed.) For He sustains His creatures without needing them. Allah also said;
وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالإِنسَ إِلاَّ لِيَعْبُدُونِ
(And I created not the Jinn and humans except that they should worship Me (Alone).) 51:56 Some scholars read it, وَهُوَ يُطْعِمُ وَلَا يَطْعَمُ "And it is He Who feeds but He does not eat." meaning, Allah does not eat. Abu Hurayrah narrated, "A man from Al-Ansar from the area of Quba' invited the Prophet to eat some food, and we went along with the Prophet . When the Prophet ate and washed his hands, he said,
«الْحَمْدُ للهِ الَّذِي يُطْعِمُ وَلَا يُطْعَمُ، وَمَنَّ عَلَيْنَا فَهَدَانَا وَأَطْعَمَنَا، وَسَقَانَا مِنَ الشَّرَابِ، وَكَسَانَا مِنَ العُرْيِ، وَكُلَّ بَلَاءٍ حَسَنٍ أَبْلَانَا، الْحَمْدُ للهِ غَيْرَ مُوَدَّعٍ رَبِّي وَلَا مُكَافأً وَلَا مَكْفُورٍ، وَلَا مُسْتَغْنًى عَنْهُ، الْحَمْدُ للهِ الَّذِي أَطْعَمَنَا مِنَ الطَّعَامِ، وَسَقَانَا مِنَ الشَّرَابِ، وَكَسَانَا مِنَ الْعُرْيِ، وَهَدَانَا مِنَ الضَّلَالِ، وَبَصَّرَنَا مِنَ العَمَى، وَفَضَّلَنَا عَلَى كَثِيرٍ مِمَّنَ خَلَقَ تَفْضِيلًا، الْحَمْدُ للهِ رَبِّ الْعَالَمِين»
(All praise is due to Allah, Who feeds but is never fed, He bestowed bounty unto us, Who gave us guidance and fed us, gave us something to drink, covered our nakedness; and for every favor He has given us. All praise is due to Allah, praise that should not be neglected, my Lord, all the while affirming that we will never be able to duly thank Him; nor be appreciative enough of Him, nor be free of needing Him. All thanks and praises are due to Allah Who fed us the food, gave us the drink, covered our nudity, guided us from misguidance, gave us sight from blindness, and honored us above many of His creaturers. All praise is due to Allah, Lord of all that exists.")
قُلْ إِنِّى أُمِرْتُ أَنْ أَكُونَ أَوَّلَ مَنْ أَسْلَمَ
(Say: "Verily, I am commanded to be the first of those who submit themselves to Allah as (Muslims).") from this Ummah,
قُلْ أَغَيْرَ اللَّهِ أَتَّخِذُ وَلِيّاً فَاطِرِ السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ وَهُوَ يُطْعِمُ وَلاَ يُطْعَمُ قُلْ إِنِّى أُمِرْتُ أَنْ أَكُونَ أَوَّلَ مَنْ أَسْلَمَ وَلاَ تَكُونَنَّ مِنَ الْمُشْرِكَينَ - قُلْ إِنِّى أَخَافُ إِنْ عَصَيْتُ رَبِّى عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ
(And be not you of the idolaters. Say: "I fear, if I disobey my Lord, the torment of a Mighty Day.") 6:14-15, the Day of Resurrection,
مَّن يُصْرَفْ عَنْهُ
(Who is averted from) such a torment,
يَوْمَئِذٍ فَقَدْ رَحِمَهُ
(on that Day, He has surely been Merciful to him) meaning, Allah will have been merciful to him,
وَذَلِكَ الْفَوْزُ الْمُبِينُ
(And that would be the obvious success.) Allah also said,
فَمَن زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَأُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ
(And whoever is moved away from the Fire and admitted to Paradise, he indeed is successful.) 3:185, success here indicates acquiring profit and negates loss.
ہر چیز کا مالک اللہ ہے آسمان و زمین اور جو کچھ ان میں ہے، سب اللہ کا ہے، اس نے اپنے نفس مقدس پر رحمت لکھ لی ہے، بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو جب پیدا کیا تو ایک کتاب لکھی جو اس کے پاس اس کے عرش کے اوپر ہے کہ میری رحمت غضب پر غالب ہے، پھر اپنے پاک نفس کی قسم کھا کر فرماتا ہے کہ وہ اپنے بندوں کو قیامت کے دن ضرور جمع کرے گا اور وہ دن یقینا آنے والا ہے شکی لوگ چاہے شک شبہ کریں لیکن وہ ساعت اٹل ہے، حضور سے سوال ہوا کہ کیا اس دن پانی بھی ہوگا ؟ آپ نے فرمایا اس اللہ کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے اس دن پانی ہوگا، اولیاء اللہ ان ہوضوں پر آئیں گے جو انبیاء کی ہوں گی۔ ان حوضوں کی نگہبانی کیلئے ایک ہزار فرشتے نور کی لکڑیاں لئے ہوئے مقرر ہوں گے جو کافروں کو وہاں سے ہٹا دیں گے، یہ حدیث ابن مردویہ میں ہے لیکن ہے غریب، ترمذی شریف کی حدیث میں ہے ہر نبی کے لئے ہوض ہوگا مجھے امید ہے کہ سب سے زیادہ لوگ میرے حوض پر آئیں گے، جو لوگ اللہ پر ایمان نہیں رکھتے اور اس دن کو نہیں مانتے وہ اپنی جانوں سے خود ہی دشمنی رکھتے ہیں اور اپنا نقصان آپ ہی کرتے ہیں، زمین و آسمان کی ساکن چیزیں یعنی کل مخلوق اللہ کی ہی پیدا کردہ ہے اور سب اس کے ماتحت ہے، سب کا مالک وہی ہے، وہ سب کی باتیں سننے والا اور سب کی حرکتیں جاننے والا ہے، چھپا کھلا سب اس پر روشن ہے۔ پھر اپنے نبی کو جنہیں توحید خالص کے ساتھ اور کامل شریعت کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے۔ حکم دیتا ہے کہ آپ اعلان کردیں کہ آسمان و زمین پیدا کرنے والے اللہ کے سوا میں کسی اور کو اپنا دوست و مددگار نہیں جانتا، وہ ساری مخلوق کا رازق ہے سب اس کے محتاج ہیں اور وہ سب سے بےنیاز ہے، فرماتا ہے میں نے تمام انسانوں جنوں کو اپنی غلامی اور عبادت کیلئے پیدا کیا ہے، ایک قرأت میں والا یطعم بھی ہے یعنی وہ خود نہیں کھاتا، قبا کے رہنے والے ایک انصاری ؓ نے آنحضرت ﷺ کی دعوت کی۔ حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں، ہم بھی آپ کے ساتھ گئے، جب حضور کھانا تناول فرما کر ہاتھ دھو چکے تو آپ نے فرمایا اللہ کا شکر ہے جو سب کو کھلاتا ہے اور خود نہیں کھاتا، اس کے بہت بڑے احسان ہم پر ہیں کہ اس نے ہمیں ہدایت دی اور کھانے پینے کو دیا اور تمام بھلائیاں عطا فرمائیں اللہ کا شکر ہے جسے ہم پورا ادا کر ہی نہیں سکتے اور نہ اسے چھوڑ سکتے ہیں، ہم اس کی ناشکری نہیں کرتے، نہ اس سے کسی وقت ہم بےنیاز ہوسکتے ہیں، الحمد للہ اللہ نے ہمیں کھانا کھلایا، پانی پلایا، کپڑے پہنائے، گمراہی سے نکال کر رہ راست کھائی، اندھے پن سے ہٹا کر آنکھیں عطا فرمائیں اور اپنی بہت سی مخلوق پر ہمیں فضیلت عنایت فرمائی۔ اللہ ہی کے لئے سب تعریفیں مختص ہیں جو تمام جہان کا پالنہار ہے، پھر فرماتا ہے کہ اے پیغمبر اعلان کردو کہ مجھے حکم ملا ہے کہ اس امت میں سب سے پہلے اللہ کا غلام میں بن جاؤں، پھر فرماتا ہے خبردار ہرگز ہرگز مشرکوں سے نہ ملنا، یہ بھی اعلان کر دیجئے کہ مجھے خوف ہے اگر میں اللہ کی نافرمانی کروں تو مجھے قیامت کے دن عذاب ہوں گے جو اس روز عذابوں سے محفوظ رکھا گیا یقین ماننا کہ اس پر رحمت رب نازل ہوئی، سچی کامیابی یہی ہے اور آیت میں فرمایا ہے جو بھی جہنم سے ہٹا دیا گیا اور جنت میں پہنچا دیا گیا اس نے منہ مانگی مراد پالی۔ فوز کے معنی نفع مل جانے اور نقصان سے بچ جانے کے ہیں۔
16
View Single
مَّن يُصۡرَفۡ عَنۡهُ يَوۡمَئِذٖ فَقَدۡ رَحِمَهُۥۚ وَذَٰلِكَ ٱلۡفَوۡزُ ٱلۡمُبِينُ
Indeed Allah’s mercy has been upon him, from whom the punishment has been averted on that Day; and this is the clear success.
اس دن جس شخص سے وہ (عذاب) پھیر دیا گیا تو بیشک (اللہ نے) اس پر رحم فرمایا، اور یہی (اُخروی بخشش) کھلی کامیابی ہے
Tafsir Ibn Kathir
Allah is the Creator and the Sustainer
Allah states that He is the King and Owner of the heavens and earth and all of what is in them, and that He has written mercy on His Most Honorable Self. It is recorded in the Two Sahihs, that Abu Hurayrah said that the Prophet said,
«إِنَّ اللهَ لَمَّا خَلَقَ الْخَلْقَ، كَتَبَ كِتَابًا عِنْدَهُ فَوْقَ الْعَرْشِ، إِنَّ رَحْمَتِي تَغْلِبُ غَضَبِي»
(When Allah created the creation, He wrote in a Book that He has with Him above the Throne; `My mercy overcomes My anger.') Allah said;
لَيَجْمَعَنَّكُمْ إِلَى يَوْمِ الْقِيَـمَةِ لاَ رَيْبَ فِيهِ
(Indeed He will gather you together on the Day of Resurrection, about which there is no doubt.) swearing by His Most Honored Self that He will gather His servants,
إِلَى مِيقَـتِ يَوْمٍ مَّعْلُومٍ
(For appointed meeting of a known Day.) 56:50, the Day of Resurrection that will certainly occur, and there is no doubt for His believing servants in this fact. As for those who deny and refuse, they are in confusion and disarray. Allah's statement,
الَّذِينَ خَسِرُواْ أَنفُسَهُم
(Those who destroy themselves) on the Day of Resurrection,
فَهُمْ لاَ يُؤْمِنُونَ
(will not believe. ) in the Return and thus do not fear the repercussions of that Day. Allah said next,
وَلَهُ مَا سَكَنَ فِى الَّيْلِ وَالنَّهَارِ
(And to Him belongs whatsoever exists in the night and the day.) meaning, all creatures in the heavens and earth are Allah's servants and creatures, and they are all under His authority, power and will; there is no deity worthy of worship except Him,
وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ
(and He is the All-Hearing, the All-Knowing.) He hears the statements of His servants and knows their actions, secrets and what they conceal. Allah then said to His servant and Messenger Muhammad ﷺ, whom He sent with the pure Tawhid and the straight religion, commanding him to call the people to Allah's straight path;
قُلْ أَغَيْرَ اللَّهِ أَتَّخِذُ وَلِيّاً فَاطِرِ السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ
(Say: "Shall I take as a guardian any other than Allah, the Creator of the heavens and the earth") Similarly, Allah said,
قُلْ أَفَغَيْرَ اللَّهِ تَأْمُرُونِّى أَعْبُدُ أَيُّهَا الْجَـهِلُونَ
(Say: "Do you order me to worship other than Allah, O you fools") 39:64. The meaning here is, I will not take a guardian except Allah, without partners, for He is the Creator of the heavens and earth Who orignated them without precedent,
وَهُوَ يُطْعِمُ وَلاَ يُطْعَمُ
(And it is He Who feeds but is not fed.) For He sustains His creatures without needing them. Allah also said;
وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالإِنسَ إِلاَّ لِيَعْبُدُونِ
(And I created not the Jinn and humans except that they should worship Me (Alone).) 51:56 Some scholars read it, وَهُوَ يُطْعِمُ وَلَا يَطْعَمُ "And it is He Who feeds but He does not eat." meaning, Allah does not eat. Abu Hurayrah narrated, "A man from Al-Ansar from the area of Quba' invited the Prophet to eat some food, and we went along with the Prophet . When the Prophet ate and washed his hands, he said,
«الْحَمْدُ للهِ الَّذِي يُطْعِمُ وَلَا يُطْعَمُ، وَمَنَّ عَلَيْنَا فَهَدَانَا وَأَطْعَمَنَا، وَسَقَانَا مِنَ الشَّرَابِ، وَكَسَانَا مِنَ العُرْيِ، وَكُلَّ بَلَاءٍ حَسَنٍ أَبْلَانَا، الْحَمْدُ للهِ غَيْرَ مُوَدَّعٍ رَبِّي وَلَا مُكَافأً وَلَا مَكْفُورٍ، وَلَا مُسْتَغْنًى عَنْهُ، الْحَمْدُ للهِ الَّذِي أَطْعَمَنَا مِنَ الطَّعَامِ، وَسَقَانَا مِنَ الشَّرَابِ، وَكَسَانَا مِنَ الْعُرْيِ، وَهَدَانَا مِنَ الضَّلَالِ، وَبَصَّرَنَا مِنَ العَمَى، وَفَضَّلَنَا عَلَى كَثِيرٍ مِمَّنَ خَلَقَ تَفْضِيلًا، الْحَمْدُ للهِ رَبِّ الْعَالَمِين»
(All praise is due to Allah, Who feeds but is never fed, He bestowed bounty unto us, Who gave us guidance and fed us, gave us something to drink, covered our nakedness; and for every favor He has given us. All praise is due to Allah, praise that should not be neglected, my Lord, all the while affirming that we will never be able to duly thank Him; nor be appreciative enough of Him, nor be free of needing Him. All thanks and praises are due to Allah Who fed us the food, gave us the drink, covered our nudity, guided us from misguidance, gave us sight from blindness, and honored us above many of His creaturers. All praise is due to Allah, Lord of all that exists.")
قُلْ إِنِّى أُمِرْتُ أَنْ أَكُونَ أَوَّلَ مَنْ أَسْلَمَ
(Say: "Verily, I am commanded to be the first of those who submit themselves to Allah as (Muslims).") from this Ummah,
قُلْ أَغَيْرَ اللَّهِ أَتَّخِذُ وَلِيّاً فَاطِرِ السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ وَهُوَ يُطْعِمُ وَلاَ يُطْعَمُ قُلْ إِنِّى أُمِرْتُ أَنْ أَكُونَ أَوَّلَ مَنْ أَسْلَمَ وَلاَ تَكُونَنَّ مِنَ الْمُشْرِكَينَ - قُلْ إِنِّى أَخَافُ إِنْ عَصَيْتُ رَبِّى عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ
(And be not you of the idolaters. Say: "I fear, if I disobey my Lord, the torment of a Mighty Day.") 6:14-15, the Day of Resurrection,
مَّن يُصْرَفْ عَنْهُ
(Who is averted from) such a torment,
يَوْمَئِذٍ فَقَدْ رَحِمَهُ
(on that Day, He has surely been Merciful to him) meaning, Allah will have been merciful to him,
وَذَلِكَ الْفَوْزُ الْمُبِينُ
(And that would be the obvious success.) Allah also said,
فَمَن زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَأُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ
(And whoever is moved away from the Fire and admitted to Paradise, he indeed is successful.) 3:185, success here indicates acquiring profit and negates loss.
ہر چیز کا مالک اللہ ہے آسمان و زمین اور جو کچھ ان میں ہے، سب اللہ کا ہے، اس نے اپنے نفس مقدس پر رحمت لکھ لی ہے، بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو جب پیدا کیا تو ایک کتاب لکھی جو اس کے پاس اس کے عرش کے اوپر ہے کہ میری رحمت غضب پر غالب ہے، پھر اپنے پاک نفس کی قسم کھا کر فرماتا ہے کہ وہ اپنے بندوں کو قیامت کے دن ضرور جمع کرے گا اور وہ دن یقینا آنے والا ہے شکی لوگ چاہے شک شبہ کریں لیکن وہ ساعت اٹل ہے، حضور سے سوال ہوا کہ کیا اس دن پانی بھی ہوگا ؟ آپ نے فرمایا اس اللہ کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے اس دن پانی ہوگا، اولیاء اللہ ان ہوضوں پر آئیں گے جو انبیاء کی ہوں گی۔ ان حوضوں کی نگہبانی کیلئے ایک ہزار فرشتے نور کی لکڑیاں لئے ہوئے مقرر ہوں گے جو کافروں کو وہاں سے ہٹا دیں گے، یہ حدیث ابن مردویہ میں ہے لیکن ہے غریب، ترمذی شریف کی حدیث میں ہے ہر نبی کے لئے ہوض ہوگا مجھے امید ہے کہ سب سے زیادہ لوگ میرے حوض پر آئیں گے، جو لوگ اللہ پر ایمان نہیں رکھتے اور اس دن کو نہیں مانتے وہ اپنی جانوں سے خود ہی دشمنی رکھتے ہیں اور اپنا نقصان آپ ہی کرتے ہیں، زمین و آسمان کی ساکن چیزیں یعنی کل مخلوق اللہ کی ہی پیدا کردہ ہے اور سب اس کے ماتحت ہے، سب کا مالک وہی ہے، وہ سب کی باتیں سننے والا اور سب کی حرکتیں جاننے والا ہے، چھپا کھلا سب اس پر روشن ہے۔ پھر اپنے نبی کو جنہیں توحید خالص کے ساتھ اور کامل شریعت کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے۔ حکم دیتا ہے کہ آپ اعلان کردیں کہ آسمان و زمین پیدا کرنے والے اللہ کے سوا میں کسی اور کو اپنا دوست و مددگار نہیں جانتا، وہ ساری مخلوق کا رازق ہے سب اس کے محتاج ہیں اور وہ سب سے بےنیاز ہے، فرماتا ہے میں نے تمام انسانوں جنوں کو اپنی غلامی اور عبادت کیلئے پیدا کیا ہے، ایک قرأت میں والا یطعم بھی ہے یعنی وہ خود نہیں کھاتا، قبا کے رہنے والے ایک انصاری ؓ نے آنحضرت ﷺ کی دعوت کی۔ حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں، ہم بھی آپ کے ساتھ گئے، جب حضور کھانا تناول فرما کر ہاتھ دھو چکے تو آپ نے فرمایا اللہ کا شکر ہے جو سب کو کھلاتا ہے اور خود نہیں کھاتا، اس کے بہت بڑے احسان ہم پر ہیں کہ اس نے ہمیں ہدایت دی اور کھانے پینے کو دیا اور تمام بھلائیاں عطا فرمائیں اللہ کا شکر ہے جسے ہم پورا ادا کر ہی نہیں سکتے اور نہ اسے چھوڑ سکتے ہیں، ہم اس کی ناشکری نہیں کرتے، نہ اس سے کسی وقت ہم بےنیاز ہوسکتے ہیں، الحمد للہ اللہ نے ہمیں کھانا کھلایا، پانی پلایا، کپڑے پہنائے، گمراہی سے نکال کر رہ راست کھائی، اندھے پن سے ہٹا کر آنکھیں عطا فرمائیں اور اپنی بہت سی مخلوق پر ہمیں فضیلت عنایت فرمائی۔ اللہ ہی کے لئے سب تعریفیں مختص ہیں جو تمام جہان کا پالنہار ہے، پھر فرماتا ہے کہ اے پیغمبر اعلان کردو کہ مجھے حکم ملا ہے کہ اس امت میں سب سے پہلے اللہ کا غلام میں بن جاؤں، پھر فرماتا ہے خبردار ہرگز ہرگز مشرکوں سے نہ ملنا، یہ بھی اعلان کر دیجئے کہ مجھے خوف ہے اگر میں اللہ کی نافرمانی کروں تو مجھے قیامت کے دن عذاب ہوں گے جو اس روز عذابوں سے محفوظ رکھا گیا یقین ماننا کہ اس پر رحمت رب نازل ہوئی، سچی کامیابی یہی ہے اور آیت میں فرمایا ہے جو بھی جہنم سے ہٹا دیا گیا اور جنت میں پہنچا دیا گیا اس نے منہ مانگی مراد پالی۔ فوز کے معنی نفع مل جانے اور نقصان سے بچ جانے کے ہیں۔
17
View Single
وَإِن يَمۡسَسۡكَ ٱللَّهُ بِضُرّٖ فَلَا كَاشِفَ لَهُۥٓ إِلَّا هُوَۖ وَإِن يَمۡسَسۡكَ بِخَيۡرٖ فَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ قَدِيرٞ
And if Allah afflicts you with some misfortune, then there is none who can remove it, except Him; and if He sends you some good fortune, then (know that) He is Able to do all things.
اور اگر اللہ تجھے کوئی تکلیف پہنچائے تو اس کے سوا اسے کوئی دور کرنے والا نہیں، اور اگر وہ تجھے کوئی بھلائی پہنچائے تو وہ ہر چیز پر خوب قادر ہے
Tafsir Ibn Kathir
Allah is the Irresistible, Able to Bring Benefit and Protect from Harm
Allah states that He Alone brings benefit or harm, and that He does what He wills with His creatures, none can resist His judgment or prevent what He decrees,
وَإِن يَمْسَسْكَ اللَّهُ بِضُرٍّ فَلاَ كَـشِفَ لَهُ إِلاَّ هُوَ وَإِن يَمْسَسْكَ بِخَيْرٍ فَهُوَ عَلَى كُلِّ شَىْءٍ قَدُيرٌ
(And if Allah touches you with harm, none can remove it but He, and if He touches you with good, then He is able to do all things.) Similarly, Allah said,
مَّا يَفْتَحِ اللَّهُ لِلنَّاسِ مِن رَّحْمَةٍ فَلاَ مُمْسِكَ لَهَا وَمَا يُمْسِكْ فَلاَ مُرْسِلَ لَهُ مِن بَعْدِهِ
(Whatever mercy, Allah may grant to mankind, none can withhold it, and whatever He may withhold, none can grant it thereafter) 35:2. It is recorded in the Sahih that the Messenger of Allah ﷺ used to supplicate,
«اللَّهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَد»
(O Allah, there is none Who can avert what You grant or give what You deprive, and no fortune ever helps the fortunate against You.) This is why Allah said,
وَهُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهِ
(And He is the Irresistible, above His servants,) meaning, to Him the necks are subservient, the tyrants humble before Him and He has complete control over all things. The creatures have all bowed to Allah and are humbled before His grace, honor, pride, greatness, highness and ability over all things. The creatures are insignificant before Him, for they are all under His irresistible decision and power,
وَهُوَ الْحَكِيمُ
(and He is the All-Wise,) in all His actions,
الْخَبِيرُ
(Well-Acquainted with all things.) Who places everything in its rightful place, grants and favors whomever deserves His favor. Allah said next,
قُلْ أَىُّ شَىْءٍ أَكْبَرُ شَهَـدةً
(Say: "What thing is the most great in witness") or what is the greatest witness,
قُلِ اللَّهِ شَهِيدٌ بِيْنِى وَبَيْنَكُمْ
(Say: "Allah (the Most Great!) is Witness between you and I") for He knows what I brought you and what you will answer me with,
وَأُوحِىَ إِلَىَّ هَـذَا الْقُرْءَانُ لاٌّنذِرَكُمْ بِهِ وَمَن بَلَغَ
(this Qur'an has been revealed to me that I may therewith warn you and whomsoever it may reach.) Therefore, this Qur'an is a warner for all those who hear of it. In another Ayah, Allah said,
وَمَن يَكْفُرْ بِهِ مِنَ الاٌّحْزَابِ فَالنَّارُ مَوْعِدُهُ
(But those of the sects that reject it, the Fire will be their promised meeting place.) 11:17 Ar-Rabi` bin Anas said, "Those who follow the Messenger of Allah ﷺ ought to call to what the Messenger of Allah ﷺ called to and warn against what he warned against." Allah said next,
أَئِنَّكُمْ لَتَشْهَدُونَ
("Can you verily bear witness...") O idolators,
أَنَّ مَعَ اللَّهِ ءَالِهَةً أُخْرَى قُل لاَّ أَشْهَدُ
("that besides Allah there are other gods" Say, "I bear no (such) witness!") Similarly, in another Ayah, Allah said;
فَإِن شَهِدُواْ فَلاَ تَشْهَدْ مَعَهُمْ
(Then if they testify, testify not you with them.) 6:150 Allah said next,
قُلْ إِنَّمَا هُوَ إِلَـهٌ وَحِدٌ وَإِنَّنِى بَرِىءٌ مِّمَّا تُشْرِكُونَ
(Say: "Only He is God, alone, and truly I am innocent of what you join in worship with Him.")
People of the Book Recognize the Prophet Just as They Recognize Their Own Children
Allah says, the People of the Book know what you brought them, O Muhammad , as they know their own children. This is because they received good news from the previous Messengers and Prophets about the coming of Muhammad ﷺ, his attributes, homeland, his migration, and the description of his Ummah. Allah said next,
الَّذِينَ خَسِرُواْ أَنفُسَهُم
(Those who have lost (destroyed) themselves) and thus incurred the ultimate loss,
فَهُمْ لاَ يُؤْمِنُونَ
(will not believe.) in this clear matter. A matter about which the previous Prophets gave good news, and a matter extolled about in ancient and modern times. Allah said next,
وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَى عَلَى اللَّهِ كَذِباً أَوْ كَذَّبَ بِـَايَـتِهِ
(And who does more wrong than he who invents a lie against Allah or rejects His Ayat) meaning, there is no person more unjust than he who lies about Allah and claims that Allah has sent him, while Allah did not send him. There is no person more unjust than he who denies Allah's proofs, signs and evidences,
إِنَّهُ لاَ يُفْلِحُ الظَّـلِمُونَ
(Verily, the wrongdoers shall never be successful.) Surely, both of these people will never acquire success, whoever falsely claims that Allah sent him and whoever refuses Allah's Ayat.
قرآن حکیم کا باغی جہنم کا ایندھن اللہ تعالیٰ خبر دے رہا ہے کہ نفع و نقصان کا مالک وہی ہے اپنی مخلوق میں جیسی وہ چاہے تبدیلیاں کرتا ہے اس کے احکام کو کوئی ٹال نہیں سکتا اس کے فیصلوں کو کوئی رد نہیں کرسکتا اسی آیت جیسی آیت (مَا يَفْتَحِ اللّٰهُ للنَّاسِ مِنْ رَّحْمَةٍ فَلَا مُمْسِكَ لَهَا ۚ وَمَا يُمْسِكْ ۙ فَلَا مُرْسِلَ لَهٗ مِنْۢ بَعْدِهٖ ۭ وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ) 35۔ فاطر :2) ہے یعنی اللہ مقتدر اعلی جسے جو رحمت دینا چاہے اسے کوئی روک نہیں سکتا، اور جس سے وہ روک لے اسے کوئی دے نہیں سکتا، اس آیت میں خاص اپنے نبی کو خطاب کر کے بھی یہی فرمایا، صحیح حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ فرمایا کرتے تھے اے اللہ جسے تو دے اس سے کوئی روک نہیں سکتا اور جس سے تو روک لے اسے کوئی دے نہیں سکتا، اس کے بعد فرماتا ہے وہ اپنے بندوں پر قاہر و غالب ہے، سب کی گردنین اس کے سامنے پست ہیں، سب بڑے اس کے سامنے چھوٹے ہیں، ہر چیز اس کے قبضے اور قدرت میں ہے تمام مخلوق اس کی تابعدار ہے اس کے جلال اسکی کبریائی اس کی عظمت اسکی بلندی اس کی قدرت تمام چیزوں پر غالب ہے ہر ایک کا مالک وہی ہے، حکم اسی کا چلتا ہے، حقیقی شہنشاہ اور کامل قدرت والا وہی ہے، اپنے تمام کاموں میں وہ باحکمت ہے، وہ ہر چھوٹی بڑی چھپی کھلی چیز سے باخبر ہے، وہ جسے جو دے وہ بھی حکمت سے اور جس سے جو روک لے وہ بھی حکمت سے، پھر فرماتا ہے پوچھو تو سب سے بڑا اور زبردست اور بالکل سچا گواہ کون ہے ؟ جواب دے کر مجھ میں تم میں اللہ ہی گواہ ہے، جو میں تمہارے پاس لایا ہوں اور جو تم مجھ سے کر رہے ہو اسے وہ خوب دیکھ بھال رہا ہے اور بخوبی جانتا ہے، میری جانب اس قرآن کی وحی کی گئی ہے تاکہ میں تم سب حاضرین کو بھی اس سے آگاہ کر دوں اور جسے بھی یہ پہنچی اس تک میرا پیغام پہنچ جائے، جیسے اور آیت میں ہے آیت (وَمَنْ يَّكْفُرْ بِهٖ مِنَ الْاَحْزَابِ فَالنَّارُ مَوْعِدُهٗ ۚ فَلَا تَكُ فِيْ مِرْيَةٍ مِّنْهُ) 11۔ ہود :17) یعنی دنیا کے تمام لوگوں میں سے جو بھی اس قرآن سے انکار کرے اس کا ٹھکانا جہم ہی ہے۔ حضرت محمد بن کعب فرماتے ہیں جسے قرآن پہنچ گیا اس نے گویا خود رسول اللہ ﷺ کو دیکھ لیا بلکہ گویا آپ سے باتیں کرلیں اور اس پر اللہ کے رسول ﷺ نے اللہ کا دین پیش کردیا۔ حضرت قتادہ کا قول ہے اللہ کا پیغام اس کے بندوں کو پہنچاؤ جسے ایک آیت قرآنی پہنچ گئی اسے اللہ کا امر پہنچ گیا۔ حضرت ربیع بن انس کا قول ہے اللہ کے نبی کے تمام تابعی لوگوں پر حق ہے کہ وہ مثل دعوت رسول کے لوگوں کو دعوت خیر دیں اور جن چیزوں اور کاموں سے آپ نے ڈرا دیا ہے یہ بھی اس سے ڈراتے رہیں مشرکو تم چاہے اللہ کے ساتھ اور معبود بھی بتاؤ لیکن میں تو ہرگز ایسا نہیں کروں گا جیسے اور آیت میں ہے آیت (فَاِنْ شَهِدُوْا فَلَا تَشْهَدْ مَعَهُمْ ۚ وَلَا تَتَّبِعْ اَهْوَاۗءَ الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا وَالَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بالْاٰخِرَةِ وَهُمْ بِرَبِّهِمْ يَعْدِلُوْنَ) 6۔ الانعام :150) یہ گو شہادت دیں لیکن تو ان کا ہمنوا نہ بن۔ یہاں فرمایا تم صاف کہہ دو کہ اللہ تو ایک ہی ہے اور تمہارے تمام معبودان باطل سے میں الگ تھلگ ہوں۔ میں ان سب سے بیزار ہوں کسی کا بھی روادار نہیں پھر فرماتا ہے یہ اہل کتاب اس قرآن کو اور اس نبی کو خوب جانتے ہیں جس طرح انسان اپنی اولاد سے واقف ہوتا ہے اسی طرح یہ لوگ آپ سے اور آپ کے دین سے واقف اور باخبر ہیں کیونکہ خود ان کی کتابوں میں یہ سب خبریں موجود ہیں۔ آنحضرت ﷺ کے وجود کی آپ کی نبوت کی خبریں ان کی آسمانی کتابوں میں لکھی ہوئی ہیں آپ کی صفتیں، آپ کا وطن، آپ کی ہجرت، آپ کی امت کی صفت، ان تمام چیزوں سے یہ لوگ آگاہ ہیں اور ایسے صاف طور پر کہ جس میں کسی قسم کا شک شبہ نہیں، پھر ایسے ظاہر باہر صاف شفاف کھلم کھلا امر سے بےایمانی کرنا انہی کا حصہ ہے جو خود اپنا برا چاہنے والے ہوں اور اپنی جانوں کو ہلاک کرنے والے ہوں، حضور کی آمد سے پہلے ہی نشان ظاہر ہوچکے جو نبی آپ سے پہلے آپ کی بشارتیں دیتا ہوا آیا، پھر انکار کرنا سورج چاند کے وجود سے انکار کرنا ہے، اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹ باندھ لے ؟ اور فی الواقع اس سے بھی زیادہ ظالم کوئی نہیں جو سچ کو جھوٹ کہے اور اپنے رب کی باتوں اور اس کی اٹل حجتوں اور روشن دلیلوں سے انکار کرے، ایسے لوگ فلاح سے، کامیابی سے، اپنا مقصد پانے سے اور نجات و آرام سے محروم محض ہیں۔
18
View Single
وَهُوَ ٱلۡقَاهِرُ فَوۡقَ عِبَادِهِۦۚ وَهُوَ ٱلۡحَكِيمُ ٱلۡخَبِيرُ
He is the Omnipotent over His bondmen; and He is the Wise, the Aware.
اور وہی اپنے بندوں پر غالب ہے، اور وہ بڑی حکمت والا خبردار ہے
Tafsir Ibn Kathir
Allah is the Irresistible, Able to Bring Benefit and Protect from Harm
Allah states that He Alone brings benefit or harm, and that He does what He wills with His creatures, none can resist His judgment or prevent what He decrees,
وَإِن يَمْسَسْكَ اللَّهُ بِضُرٍّ فَلاَ كَـشِفَ لَهُ إِلاَّ هُوَ وَإِن يَمْسَسْكَ بِخَيْرٍ فَهُوَ عَلَى كُلِّ شَىْءٍ قَدُيرٌ
(And if Allah touches you with harm, none can remove it but He, and if He touches you with good, then He is able to do all things.) Similarly, Allah said,
مَّا يَفْتَحِ اللَّهُ لِلنَّاسِ مِن رَّحْمَةٍ فَلاَ مُمْسِكَ لَهَا وَمَا يُمْسِكْ فَلاَ مُرْسِلَ لَهُ مِن بَعْدِهِ
(Whatever mercy, Allah may grant to mankind, none can withhold it, and whatever He may withhold, none can grant it thereafter) 35:2. It is recorded in the Sahih that the Messenger of Allah ﷺ used to supplicate,
«اللَّهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَد»
(O Allah, there is none Who can avert what You grant or give what You deprive, and no fortune ever helps the fortunate against You.) This is why Allah said,
وَهُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهِ
(And He is the Irresistible, above His servants,) meaning, to Him the necks are subservient, the tyrants humble before Him and He has complete control over all things. The creatures have all bowed to Allah and are humbled before His grace, honor, pride, greatness, highness and ability over all things. The creatures are insignificant before Him, for they are all under His irresistible decision and power,
وَهُوَ الْحَكِيمُ
(and He is the All-Wise,) in all His actions,
الْخَبِيرُ
(Well-Acquainted with all things.) Who places everything in its rightful place, grants and favors whomever deserves His favor. Allah said next,
قُلْ أَىُّ شَىْءٍ أَكْبَرُ شَهَـدةً
(Say: "What thing is the most great in witness") or what is the greatest witness,
قُلِ اللَّهِ شَهِيدٌ بِيْنِى وَبَيْنَكُمْ
(Say: "Allah (the Most Great!) is Witness between you and I") for He knows what I brought you and what you will answer me with,
وَأُوحِىَ إِلَىَّ هَـذَا الْقُرْءَانُ لاٌّنذِرَكُمْ بِهِ وَمَن بَلَغَ
(this Qur'an has been revealed to me that I may therewith warn you and whomsoever it may reach.) Therefore, this Qur'an is a warner for all those who hear of it. In another Ayah, Allah said,
وَمَن يَكْفُرْ بِهِ مِنَ الاٌّحْزَابِ فَالنَّارُ مَوْعِدُهُ
(But those of the sects that reject it, the Fire will be their promised meeting place.) 11:17 Ar-Rabi` bin Anas said, "Those who follow the Messenger of Allah ﷺ ought to call to what the Messenger of Allah ﷺ called to and warn against what he warned against." Allah said next,
أَئِنَّكُمْ لَتَشْهَدُونَ
("Can you verily bear witness...") O idolators,
أَنَّ مَعَ اللَّهِ ءَالِهَةً أُخْرَى قُل لاَّ أَشْهَدُ
("that besides Allah there are other gods" Say, "I bear no (such) witness!") Similarly, in another Ayah, Allah said;
فَإِن شَهِدُواْ فَلاَ تَشْهَدْ مَعَهُمْ
(Then if they testify, testify not you with them.) 6:150 Allah said next,
قُلْ إِنَّمَا هُوَ إِلَـهٌ وَحِدٌ وَإِنَّنِى بَرِىءٌ مِّمَّا تُشْرِكُونَ
(Say: "Only He is God, alone, and truly I am innocent of what you join in worship with Him.")
People of the Book Recognize the Prophet Just as They Recognize Their Own Children
Allah says, the People of the Book know what you brought them, O Muhammad , as they know their own children. This is because they received good news from the previous Messengers and Prophets about the coming of Muhammad ﷺ, his attributes, homeland, his migration, and the description of his Ummah. Allah said next,
الَّذِينَ خَسِرُواْ أَنفُسَهُم
(Those who have lost (destroyed) themselves) and thus incurred the ultimate loss,
فَهُمْ لاَ يُؤْمِنُونَ
(will not believe.) in this clear matter. A matter about which the previous Prophets gave good news, and a matter extolled about in ancient and modern times. Allah said next,
وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَى عَلَى اللَّهِ كَذِباً أَوْ كَذَّبَ بِـَايَـتِهِ
(And who does more wrong than he who invents a lie against Allah or rejects His Ayat) meaning, there is no person more unjust than he who lies about Allah and claims that Allah has sent him, while Allah did not send him. There is no person more unjust than he who denies Allah's proofs, signs and evidences,
إِنَّهُ لاَ يُفْلِحُ الظَّـلِمُونَ
(Verily, the wrongdoers shall never be successful.) Surely, both of these people will never acquire success, whoever falsely claims that Allah sent him and whoever refuses Allah's Ayat.
قرآن حکیم کا باغی جہنم کا ایندھن اللہ تعالیٰ خبر دے رہا ہے کہ نفع و نقصان کا مالک وہی ہے اپنی مخلوق میں جیسی وہ چاہے تبدیلیاں کرتا ہے اس کے احکام کو کوئی ٹال نہیں سکتا اس کے فیصلوں کو کوئی رد نہیں کرسکتا اسی آیت جیسی آیت (مَا يَفْتَحِ اللّٰهُ للنَّاسِ مِنْ رَّحْمَةٍ فَلَا مُمْسِكَ لَهَا ۚ وَمَا يُمْسِكْ ۙ فَلَا مُرْسِلَ لَهٗ مِنْۢ بَعْدِهٖ ۭ وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ) 35۔ فاطر :2) ہے یعنی اللہ مقتدر اعلی جسے جو رحمت دینا چاہے اسے کوئی روک نہیں سکتا، اور جس سے وہ روک لے اسے کوئی دے نہیں سکتا، اس آیت میں خاص اپنے نبی کو خطاب کر کے بھی یہی فرمایا، صحیح حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ فرمایا کرتے تھے اے اللہ جسے تو دے اس سے کوئی روک نہیں سکتا اور جس سے تو روک لے اسے کوئی دے نہیں سکتا، اس کے بعد فرماتا ہے وہ اپنے بندوں پر قاہر و غالب ہے، سب کی گردنین اس کے سامنے پست ہیں، سب بڑے اس کے سامنے چھوٹے ہیں، ہر چیز اس کے قبضے اور قدرت میں ہے تمام مخلوق اس کی تابعدار ہے اس کے جلال اسکی کبریائی اس کی عظمت اسکی بلندی اس کی قدرت تمام چیزوں پر غالب ہے ہر ایک کا مالک وہی ہے، حکم اسی کا چلتا ہے، حقیقی شہنشاہ اور کامل قدرت والا وہی ہے، اپنے تمام کاموں میں وہ باحکمت ہے، وہ ہر چھوٹی بڑی چھپی کھلی چیز سے باخبر ہے، وہ جسے جو دے وہ بھی حکمت سے اور جس سے جو روک لے وہ بھی حکمت سے، پھر فرماتا ہے پوچھو تو سب سے بڑا اور زبردست اور بالکل سچا گواہ کون ہے ؟ جواب دے کر مجھ میں تم میں اللہ ہی گواہ ہے، جو میں تمہارے پاس لایا ہوں اور جو تم مجھ سے کر رہے ہو اسے وہ خوب دیکھ بھال رہا ہے اور بخوبی جانتا ہے، میری جانب اس قرآن کی وحی کی گئی ہے تاکہ میں تم سب حاضرین کو بھی اس سے آگاہ کر دوں اور جسے بھی یہ پہنچی اس تک میرا پیغام پہنچ جائے، جیسے اور آیت میں ہے آیت (وَمَنْ يَّكْفُرْ بِهٖ مِنَ الْاَحْزَابِ فَالنَّارُ مَوْعِدُهٗ ۚ فَلَا تَكُ فِيْ مِرْيَةٍ مِّنْهُ) 11۔ ہود :17) یعنی دنیا کے تمام لوگوں میں سے جو بھی اس قرآن سے انکار کرے اس کا ٹھکانا جہم ہی ہے۔ حضرت محمد بن کعب فرماتے ہیں جسے قرآن پہنچ گیا اس نے گویا خود رسول اللہ ﷺ کو دیکھ لیا بلکہ گویا آپ سے باتیں کرلیں اور اس پر اللہ کے رسول ﷺ نے اللہ کا دین پیش کردیا۔ حضرت قتادہ کا قول ہے اللہ کا پیغام اس کے بندوں کو پہنچاؤ جسے ایک آیت قرآنی پہنچ گئی اسے اللہ کا امر پہنچ گیا۔ حضرت ربیع بن انس کا قول ہے اللہ کے نبی کے تمام تابعی لوگوں پر حق ہے کہ وہ مثل دعوت رسول کے لوگوں کو دعوت خیر دیں اور جن چیزوں اور کاموں سے آپ نے ڈرا دیا ہے یہ بھی اس سے ڈراتے رہیں مشرکو تم چاہے اللہ کے ساتھ اور معبود بھی بتاؤ لیکن میں تو ہرگز ایسا نہیں کروں گا جیسے اور آیت میں ہے آیت (فَاِنْ شَهِدُوْا فَلَا تَشْهَدْ مَعَهُمْ ۚ وَلَا تَتَّبِعْ اَهْوَاۗءَ الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا وَالَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بالْاٰخِرَةِ وَهُمْ بِرَبِّهِمْ يَعْدِلُوْنَ) 6۔ الانعام :150) یہ گو شہادت دیں لیکن تو ان کا ہمنوا نہ بن۔ یہاں فرمایا تم صاف کہہ دو کہ اللہ تو ایک ہی ہے اور تمہارے تمام معبودان باطل سے میں الگ تھلگ ہوں۔ میں ان سب سے بیزار ہوں کسی کا بھی روادار نہیں پھر فرماتا ہے یہ اہل کتاب اس قرآن کو اور اس نبی کو خوب جانتے ہیں جس طرح انسان اپنی اولاد سے واقف ہوتا ہے اسی طرح یہ لوگ آپ سے اور آپ کے دین سے واقف اور باخبر ہیں کیونکہ خود ان کی کتابوں میں یہ سب خبریں موجود ہیں۔ آنحضرت ﷺ کے وجود کی آپ کی نبوت کی خبریں ان کی آسمانی کتابوں میں لکھی ہوئی ہیں آپ کی صفتیں، آپ کا وطن، آپ کی ہجرت، آپ کی امت کی صفت، ان تمام چیزوں سے یہ لوگ آگاہ ہیں اور ایسے صاف طور پر کہ جس میں کسی قسم کا شک شبہ نہیں، پھر ایسے ظاہر باہر صاف شفاف کھلم کھلا امر سے بےایمانی کرنا انہی کا حصہ ہے جو خود اپنا برا چاہنے والے ہوں اور اپنی جانوں کو ہلاک کرنے والے ہوں، حضور کی آمد سے پہلے ہی نشان ظاہر ہوچکے جو نبی آپ سے پہلے آپ کی بشارتیں دیتا ہوا آیا، پھر انکار کرنا سورج چاند کے وجود سے انکار کرنا ہے، اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹ باندھ لے ؟ اور فی الواقع اس سے بھی زیادہ ظالم کوئی نہیں جو سچ کو جھوٹ کہے اور اپنے رب کی باتوں اور اس کی اٹل حجتوں اور روشن دلیلوں سے انکار کرے، ایسے لوگ فلاح سے، کامیابی سے، اپنا مقصد پانے سے اور نجات و آرام سے محروم محض ہیں۔
19
View Single
قُلۡ أَيُّ شَيۡءٍ أَكۡبَرُ شَهَٰدَةٗۖ قُلِ ٱللَّهُۖ شَهِيدُۢ بَيۡنِي وَبَيۡنَكُمۡۚ وَأُوحِيَ إِلَيَّ هَٰذَا ٱلۡقُرۡءَانُ لِأُنذِرَكُم بِهِۦ وَمَنۢ بَلَغَۚ أَئِنَّكُمۡ لَتَشۡهَدُونَ أَنَّ مَعَ ٱللَّهِ ءَالِهَةً أُخۡرَىٰۚ قُل لَّآ أَشۡهَدُۚ قُلۡ إِنَّمَا هُوَ إِلَٰهٞ وَٰحِدٞ وَإِنَّنِي بَرِيٓءٞ مِّمَّا تُشۡرِكُونَ
Proclaim (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), “Whose testimony is the greatest?” Say, “Allah is the Witness between me and you; and this Qur’an has been sent down upon me, so I may warn you with it and whomever it may reach; so do you bear witness that there are other Gods along with Allah?” Say, “I do not bear witness to it”; Say, “He is the only One God and I do not have any relation with whatever you ascribe as partners (to Him).”
آپ (ان سے دریافت) فرمائیے کہ گواہی دینے میں سب سے بڑھ کر کون ہے؟ آپ (ہی) فرما دیجئے کہ اللہ میرے اور تمہارے درمیان گواہ ہے، اور میری طرف یہ قرآن اس لئے وحی کیا گیا ہے کہ اس کے ذریعے تمہیں اور ہر اس شخص کو جس تک (یہ قرآن) پہنچے ڈر سناؤں۔ کیا تم واقعی اس بات کی گواہی دیتے ہو کہ اللہ کے ساتھ دوسرے معبود (بھی) ہیں؟ آپ فرما دیں: میں (تو اس غلط بات کی) گواہی نہیں دیتا، فرما دیجئے: بس معبود تو وہی ایک ہی ہے اور میں ان (سب) چیزوں سے بیزار ہوں جنہیں تم (اللہ کا) شریک ٹھہراتے ہو
Tafsir Ibn Kathir
Allah is the Irresistible, Able to Bring Benefit and Protect from Harm
Allah states that He Alone brings benefit or harm, and that He does what He wills with His creatures, none can resist His judgment or prevent what He decrees,
وَإِن يَمْسَسْكَ اللَّهُ بِضُرٍّ فَلاَ كَـشِفَ لَهُ إِلاَّ هُوَ وَإِن يَمْسَسْكَ بِخَيْرٍ فَهُوَ عَلَى كُلِّ شَىْءٍ قَدُيرٌ
(And if Allah touches you with harm, none can remove it but He, and if He touches you with good, then He is able to do all things.) Similarly, Allah said,
مَّا يَفْتَحِ اللَّهُ لِلنَّاسِ مِن رَّحْمَةٍ فَلاَ مُمْسِكَ لَهَا وَمَا يُمْسِكْ فَلاَ مُرْسِلَ لَهُ مِن بَعْدِهِ
(Whatever mercy, Allah may grant to mankind, none can withhold it, and whatever He may withhold, none can grant it thereafter) 35:2. It is recorded in the Sahih that the Messenger of Allah ﷺ used to supplicate,
«اللَّهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَد»
(O Allah, there is none Who can avert what You grant or give what You deprive, and no fortune ever helps the fortunate against You.) This is why Allah said,
وَهُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهِ
(And He is the Irresistible, above His servants,) meaning, to Him the necks are subservient, the tyrants humble before Him and He has complete control over all things. The creatures have all bowed to Allah and are humbled before His grace, honor, pride, greatness, highness and ability over all things. The creatures are insignificant before Him, for they are all under His irresistible decision and power,
وَهُوَ الْحَكِيمُ
(and He is the All-Wise,) in all His actions,
الْخَبِيرُ
(Well-Acquainted with all things.) Who places everything in its rightful place, grants and favors whomever deserves His favor. Allah said next,
قُلْ أَىُّ شَىْءٍ أَكْبَرُ شَهَـدةً
(Say: "What thing is the most great in witness") or what is the greatest witness,
قُلِ اللَّهِ شَهِيدٌ بِيْنِى وَبَيْنَكُمْ
(Say: "Allah (the Most Great!) is Witness between you and I") for He knows what I brought you and what you will answer me with,
وَأُوحِىَ إِلَىَّ هَـذَا الْقُرْءَانُ لاٌّنذِرَكُمْ بِهِ وَمَن بَلَغَ
(this Qur'an has been revealed to me that I may therewith warn you and whomsoever it may reach.) Therefore, this Qur'an is a warner for all those who hear of it. In another Ayah, Allah said,
وَمَن يَكْفُرْ بِهِ مِنَ الاٌّحْزَابِ فَالنَّارُ مَوْعِدُهُ
(But those of the sects that reject it, the Fire will be their promised meeting place.) 11:17 Ar-Rabi` bin Anas said, "Those who follow the Messenger of Allah ﷺ ought to call to what the Messenger of Allah ﷺ called to and warn against what he warned against." Allah said next,
أَئِنَّكُمْ لَتَشْهَدُونَ
("Can you verily bear witness...") O idolators,
أَنَّ مَعَ اللَّهِ ءَالِهَةً أُخْرَى قُل لاَّ أَشْهَدُ
("that besides Allah there are other gods" Say, "I bear no (such) witness!") Similarly, in another Ayah, Allah said;
فَإِن شَهِدُواْ فَلاَ تَشْهَدْ مَعَهُمْ
(Then if they testify, testify not you with them.) 6:150 Allah said next,
قُلْ إِنَّمَا هُوَ إِلَـهٌ وَحِدٌ وَإِنَّنِى بَرِىءٌ مِّمَّا تُشْرِكُونَ
(Say: "Only He is God, alone, and truly I am innocent of what you join in worship with Him.")
People of the Book Recognize the Prophet Just as They Recognize Their Own Children
Allah says, the People of the Book know what you brought them, O Muhammad , as they know their own children. This is because they received good news from the previous Messengers and Prophets about the coming of Muhammad ﷺ, his attributes, homeland, his migration, and the description of his Ummah. Allah said next,
الَّذِينَ خَسِرُواْ أَنفُسَهُم
(Those who have lost (destroyed) themselves) and thus incurred the ultimate loss,
فَهُمْ لاَ يُؤْمِنُونَ
(will not believe.) in this clear matter. A matter about which the previous Prophets gave good news, and a matter extolled about in ancient and modern times. Allah said next,
وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَى عَلَى اللَّهِ كَذِباً أَوْ كَذَّبَ بِـَايَـتِهِ
(And who does more wrong than he who invents a lie against Allah or rejects His Ayat) meaning, there is no person more unjust than he who lies about Allah and claims that Allah has sent him, while Allah did not send him. There is no person more unjust than he who denies Allah's proofs, signs and evidences,
إِنَّهُ لاَ يُفْلِحُ الظَّـلِمُونَ
(Verily, the wrongdoers shall never be successful.) Surely, both of these people will never acquire success, whoever falsely claims that Allah sent him and whoever refuses Allah's Ayat.
قرآن حکیم کا باغی جہنم کا ایندھن اللہ تعالیٰ خبر دے رہا ہے کہ نفع و نقصان کا مالک وہی ہے اپنی مخلوق میں جیسی وہ چاہے تبدیلیاں کرتا ہے اس کے احکام کو کوئی ٹال نہیں سکتا اس کے فیصلوں کو کوئی رد نہیں کرسکتا اسی آیت جیسی آیت (مَا يَفْتَحِ اللّٰهُ للنَّاسِ مِنْ رَّحْمَةٍ فَلَا مُمْسِكَ لَهَا ۚ وَمَا يُمْسِكْ ۙ فَلَا مُرْسِلَ لَهٗ مِنْۢ بَعْدِهٖ ۭ وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ) 35۔ فاطر :2) ہے یعنی اللہ مقتدر اعلی جسے جو رحمت دینا چاہے اسے کوئی روک نہیں سکتا، اور جس سے وہ روک لے اسے کوئی دے نہیں سکتا، اس آیت میں خاص اپنے نبی کو خطاب کر کے بھی یہی فرمایا، صحیح حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ فرمایا کرتے تھے اے اللہ جسے تو دے اس سے کوئی روک نہیں سکتا اور جس سے تو روک لے اسے کوئی دے نہیں سکتا، اس کے بعد فرماتا ہے وہ اپنے بندوں پر قاہر و غالب ہے، سب کی گردنین اس کے سامنے پست ہیں، سب بڑے اس کے سامنے چھوٹے ہیں، ہر چیز اس کے قبضے اور قدرت میں ہے تمام مخلوق اس کی تابعدار ہے اس کے جلال اسکی کبریائی اس کی عظمت اسکی بلندی اس کی قدرت تمام چیزوں پر غالب ہے ہر ایک کا مالک وہی ہے، حکم اسی کا چلتا ہے، حقیقی شہنشاہ اور کامل قدرت والا وہی ہے، اپنے تمام کاموں میں وہ باحکمت ہے، وہ ہر چھوٹی بڑی چھپی کھلی چیز سے باخبر ہے، وہ جسے جو دے وہ بھی حکمت سے اور جس سے جو روک لے وہ بھی حکمت سے، پھر فرماتا ہے پوچھو تو سب سے بڑا اور زبردست اور بالکل سچا گواہ کون ہے ؟ جواب دے کر مجھ میں تم میں اللہ ہی گواہ ہے، جو میں تمہارے پاس لایا ہوں اور جو تم مجھ سے کر رہے ہو اسے وہ خوب دیکھ بھال رہا ہے اور بخوبی جانتا ہے، میری جانب اس قرآن کی وحی کی گئی ہے تاکہ میں تم سب حاضرین کو بھی اس سے آگاہ کر دوں اور جسے بھی یہ پہنچی اس تک میرا پیغام پہنچ جائے، جیسے اور آیت میں ہے آیت (وَمَنْ يَّكْفُرْ بِهٖ مِنَ الْاَحْزَابِ فَالنَّارُ مَوْعِدُهٗ ۚ فَلَا تَكُ فِيْ مِرْيَةٍ مِّنْهُ) 11۔ ہود :17) یعنی دنیا کے تمام لوگوں میں سے جو بھی اس قرآن سے انکار کرے اس کا ٹھکانا جہم ہی ہے۔ حضرت محمد بن کعب فرماتے ہیں جسے قرآن پہنچ گیا اس نے گویا خود رسول اللہ ﷺ کو دیکھ لیا بلکہ گویا آپ سے باتیں کرلیں اور اس پر اللہ کے رسول ﷺ نے اللہ کا دین پیش کردیا۔ حضرت قتادہ کا قول ہے اللہ کا پیغام اس کے بندوں کو پہنچاؤ جسے ایک آیت قرآنی پہنچ گئی اسے اللہ کا امر پہنچ گیا۔ حضرت ربیع بن انس کا قول ہے اللہ کے نبی کے تمام تابعی لوگوں پر حق ہے کہ وہ مثل دعوت رسول کے لوگوں کو دعوت خیر دیں اور جن چیزوں اور کاموں سے آپ نے ڈرا دیا ہے یہ بھی اس سے ڈراتے رہیں مشرکو تم چاہے اللہ کے ساتھ اور معبود بھی بتاؤ لیکن میں تو ہرگز ایسا نہیں کروں گا جیسے اور آیت میں ہے آیت (فَاِنْ شَهِدُوْا فَلَا تَشْهَدْ مَعَهُمْ ۚ وَلَا تَتَّبِعْ اَهْوَاۗءَ الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا وَالَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بالْاٰخِرَةِ وَهُمْ بِرَبِّهِمْ يَعْدِلُوْنَ) 6۔ الانعام :150) یہ گو شہادت دیں لیکن تو ان کا ہمنوا نہ بن۔ یہاں فرمایا تم صاف کہہ دو کہ اللہ تو ایک ہی ہے اور تمہارے تمام معبودان باطل سے میں الگ تھلگ ہوں۔ میں ان سب سے بیزار ہوں کسی کا بھی روادار نہیں پھر فرماتا ہے یہ اہل کتاب اس قرآن کو اور اس نبی کو خوب جانتے ہیں جس طرح انسان اپنی اولاد سے واقف ہوتا ہے اسی طرح یہ لوگ آپ سے اور آپ کے دین سے واقف اور باخبر ہیں کیونکہ خود ان کی کتابوں میں یہ سب خبریں موجود ہیں۔ آنحضرت ﷺ کے وجود کی آپ کی نبوت کی خبریں ان کی آسمانی کتابوں میں لکھی ہوئی ہیں آپ کی صفتیں، آپ کا وطن، آپ کی ہجرت، آپ کی امت کی صفت، ان تمام چیزوں سے یہ لوگ آگاہ ہیں اور ایسے صاف طور پر کہ جس میں کسی قسم کا شک شبہ نہیں، پھر ایسے ظاہر باہر صاف شفاف کھلم کھلا امر سے بےایمانی کرنا انہی کا حصہ ہے جو خود اپنا برا چاہنے والے ہوں اور اپنی جانوں کو ہلاک کرنے والے ہوں، حضور کی آمد سے پہلے ہی نشان ظاہر ہوچکے جو نبی آپ سے پہلے آپ کی بشارتیں دیتا ہوا آیا، پھر انکار کرنا سورج چاند کے وجود سے انکار کرنا ہے، اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹ باندھ لے ؟ اور فی الواقع اس سے بھی زیادہ ظالم کوئی نہیں جو سچ کو جھوٹ کہے اور اپنے رب کی باتوں اور اس کی اٹل حجتوں اور روشن دلیلوں سے انکار کرے، ایسے لوگ فلاح سے، کامیابی سے، اپنا مقصد پانے سے اور نجات و آرام سے محروم محض ہیں۔
20
View Single
ٱلَّذِينَ ءَاتَيۡنَٰهُمُ ٱلۡكِتَٰبَ يَعۡرِفُونَهُۥ كَمَا يَعۡرِفُونَ أَبۡنَآءَهُمُۘ ٱلَّذِينَ خَسِرُوٓاْ أَنفُسَهُمۡ فَهُمۡ لَا يُؤۡمِنُونَ
The people to whom We gave the Book(s) recognise this Prophet (Mohammed – peace and blessings be upon him) as they recognise their own sons; those who put their own souls to ruin, do not accept faith.
وہ لوگ جنہیں ہم نے کتاب دی تھی اس (نبئ آخر الزماں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ویسے ہی پہچانتے ہیں جیسے اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں، جنہوں نے اپنی جانوں کو (دائمی) خسارے میں ڈال دیا ہے سو وہ ایمان نہیں لائیں گے
Tafsir Ibn Kathir
Allah is the Irresistible, Able to Bring Benefit and Protect from Harm
Allah states that He Alone brings benefit or harm, and that He does what He wills with His creatures, none can resist His judgment or prevent what He decrees,
وَإِن يَمْسَسْكَ اللَّهُ بِضُرٍّ فَلاَ كَـشِفَ لَهُ إِلاَّ هُوَ وَإِن يَمْسَسْكَ بِخَيْرٍ فَهُوَ عَلَى كُلِّ شَىْءٍ قَدُيرٌ
(And if Allah touches you with harm, none can remove it but He, and if He touches you with good, then He is able to do all things.) Similarly, Allah said,
مَّا يَفْتَحِ اللَّهُ لِلنَّاسِ مِن رَّحْمَةٍ فَلاَ مُمْسِكَ لَهَا وَمَا يُمْسِكْ فَلاَ مُرْسِلَ لَهُ مِن بَعْدِهِ
(Whatever mercy, Allah may grant to mankind, none can withhold it, and whatever He may withhold, none can grant it thereafter) 35:2. It is recorded in the Sahih that the Messenger of Allah ﷺ used to supplicate,
«اللَّهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَد»
(O Allah, there is none Who can avert what You grant or give what You deprive, and no fortune ever helps the fortunate against You.) This is why Allah said,
وَهُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهِ
(And He is the Irresistible, above His servants,) meaning, to Him the necks are subservient, the tyrants humble before Him and He has complete control over all things. The creatures have all bowed to Allah and are humbled before His grace, honor, pride, greatness, highness and ability over all things. The creatures are insignificant before Him, for they are all under His irresistible decision and power,
وَهُوَ الْحَكِيمُ
(and He is the All-Wise,) in all His actions,
الْخَبِيرُ
(Well-Acquainted with all things.) Who places everything in its rightful place, grants and favors whomever deserves His favor. Allah said next,
قُلْ أَىُّ شَىْءٍ أَكْبَرُ شَهَـدةً
(Say: "What thing is the most great in witness") or what is the greatest witness,
قُلِ اللَّهِ شَهِيدٌ بِيْنِى وَبَيْنَكُمْ
(Say: "Allah (the Most Great!) is Witness between you and I") for He knows what I brought you and what you will answer me with,
وَأُوحِىَ إِلَىَّ هَـذَا الْقُرْءَانُ لاٌّنذِرَكُمْ بِهِ وَمَن بَلَغَ
(this Qur'an has been revealed to me that I may therewith warn you and whomsoever it may reach.) Therefore, this Qur'an is a warner for all those who hear of it. In another Ayah, Allah said,
وَمَن يَكْفُرْ بِهِ مِنَ الاٌّحْزَابِ فَالنَّارُ مَوْعِدُهُ
(But those of the sects that reject it, the Fire will be their promised meeting place.) 11:17 Ar-Rabi` bin Anas said, "Those who follow the Messenger of Allah ﷺ ought to call to what the Messenger of Allah ﷺ called to and warn against what he warned against." Allah said next,
أَئِنَّكُمْ لَتَشْهَدُونَ
("Can you verily bear witness...") O idolators,
أَنَّ مَعَ اللَّهِ ءَالِهَةً أُخْرَى قُل لاَّ أَشْهَدُ
("that besides Allah there are other gods" Say, "I bear no (such) witness!") Similarly, in another Ayah, Allah said;
فَإِن شَهِدُواْ فَلاَ تَشْهَدْ مَعَهُمْ
(Then if they testify, testify not you with them.) 6:150 Allah said next,
قُلْ إِنَّمَا هُوَ إِلَـهٌ وَحِدٌ وَإِنَّنِى بَرِىءٌ مِّمَّا تُشْرِكُونَ
(Say: "Only He is God, alone, and truly I am innocent of what you join in worship with Him.")
People of the Book Recognize the Prophet Just as They Recognize Their Own Children
Allah says, the People of the Book know what you brought them, O Muhammad , as they know their own children. This is because they received good news from the previous Messengers and Prophets about the coming of Muhammad ﷺ, his attributes, homeland, his migration, and the description of his Ummah. Allah said next,
الَّذِينَ خَسِرُواْ أَنفُسَهُم
(Those who have lost (destroyed) themselves) and thus incurred the ultimate loss,
فَهُمْ لاَ يُؤْمِنُونَ
(will not believe.) in this clear matter. A matter about which the previous Prophets gave good news, and a matter extolled about in ancient and modern times. Allah said next,
وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَى عَلَى اللَّهِ كَذِباً أَوْ كَذَّبَ بِـَايَـتِهِ
(And who does more wrong than he who invents a lie against Allah or rejects His Ayat) meaning, there is no person more unjust than he who lies about Allah and claims that Allah has sent him, while Allah did not send him. There is no person more unjust than he who denies Allah's proofs, signs and evidences,
إِنَّهُ لاَ يُفْلِحُ الظَّـلِمُونَ
(Verily, the wrongdoers shall never be successful.) Surely, both of these people will never acquire success, whoever falsely claims that Allah sent him and whoever refuses Allah's Ayat.
قرآن حکیم کا باغی جہنم کا ایندھن اللہ تعالیٰ خبر دے رہا ہے کہ نفع و نقصان کا مالک وہی ہے اپنی مخلوق میں جیسی وہ چاہے تبدیلیاں کرتا ہے اس کے احکام کو کوئی ٹال نہیں سکتا اس کے فیصلوں کو کوئی رد نہیں کرسکتا اسی آیت جیسی آیت (مَا يَفْتَحِ اللّٰهُ للنَّاسِ مِنْ رَّحْمَةٍ فَلَا مُمْسِكَ لَهَا ۚ وَمَا يُمْسِكْ ۙ فَلَا مُرْسِلَ لَهٗ مِنْۢ بَعْدِهٖ ۭ وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ) 35۔ فاطر :2) ہے یعنی اللہ مقتدر اعلی جسے جو رحمت دینا چاہے اسے کوئی روک نہیں سکتا، اور جس سے وہ روک لے اسے کوئی دے نہیں سکتا، اس آیت میں خاص اپنے نبی کو خطاب کر کے بھی یہی فرمایا، صحیح حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ فرمایا کرتے تھے اے اللہ جسے تو دے اس سے کوئی روک نہیں سکتا اور جس سے تو روک لے اسے کوئی دے نہیں سکتا، اس کے بعد فرماتا ہے وہ اپنے بندوں پر قاہر و غالب ہے، سب کی گردنین اس کے سامنے پست ہیں، سب بڑے اس کے سامنے چھوٹے ہیں، ہر چیز اس کے قبضے اور قدرت میں ہے تمام مخلوق اس کی تابعدار ہے اس کے جلال اسکی کبریائی اس کی عظمت اسکی بلندی اس کی قدرت تمام چیزوں پر غالب ہے ہر ایک کا مالک وہی ہے، حکم اسی کا چلتا ہے، حقیقی شہنشاہ اور کامل قدرت والا وہی ہے، اپنے تمام کاموں میں وہ باحکمت ہے، وہ ہر چھوٹی بڑی چھپی کھلی چیز سے باخبر ہے، وہ جسے جو دے وہ بھی حکمت سے اور جس سے جو روک لے وہ بھی حکمت سے، پھر فرماتا ہے پوچھو تو سب سے بڑا اور زبردست اور بالکل سچا گواہ کون ہے ؟ جواب دے کر مجھ میں تم میں اللہ ہی گواہ ہے، جو میں تمہارے پاس لایا ہوں اور جو تم مجھ سے کر رہے ہو اسے وہ خوب دیکھ بھال رہا ہے اور بخوبی جانتا ہے، میری جانب اس قرآن کی وحی کی گئی ہے تاکہ میں تم سب حاضرین کو بھی اس سے آگاہ کر دوں اور جسے بھی یہ پہنچی اس تک میرا پیغام پہنچ جائے، جیسے اور آیت میں ہے آیت (وَمَنْ يَّكْفُرْ بِهٖ مِنَ الْاَحْزَابِ فَالنَّارُ مَوْعِدُهٗ ۚ فَلَا تَكُ فِيْ مِرْيَةٍ مِّنْهُ) 11۔ ہود :17) یعنی دنیا کے تمام لوگوں میں سے جو بھی اس قرآن سے انکار کرے اس کا ٹھکانا جہم ہی ہے۔ حضرت محمد بن کعب فرماتے ہیں جسے قرآن پہنچ گیا اس نے گویا خود رسول اللہ ﷺ کو دیکھ لیا بلکہ گویا آپ سے باتیں کرلیں اور اس پر اللہ کے رسول ﷺ نے اللہ کا دین پیش کردیا۔ حضرت قتادہ کا قول ہے اللہ کا پیغام اس کے بندوں کو پہنچاؤ جسے ایک آیت قرآنی پہنچ گئی اسے اللہ کا امر پہنچ گیا۔ حضرت ربیع بن انس کا قول ہے اللہ کے نبی کے تمام تابعی لوگوں پر حق ہے کہ وہ مثل دعوت رسول کے لوگوں کو دعوت خیر دیں اور جن چیزوں اور کاموں سے آپ نے ڈرا دیا ہے یہ بھی اس سے ڈراتے رہیں مشرکو تم چاہے اللہ کے ساتھ اور معبود بھی بتاؤ لیکن میں تو ہرگز ایسا نہیں کروں گا جیسے اور آیت میں ہے آیت (فَاِنْ شَهِدُوْا فَلَا تَشْهَدْ مَعَهُمْ ۚ وَلَا تَتَّبِعْ اَهْوَاۗءَ الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا وَالَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بالْاٰخِرَةِ وَهُمْ بِرَبِّهِمْ يَعْدِلُوْنَ) 6۔ الانعام :150) یہ گو شہادت دیں لیکن تو ان کا ہمنوا نہ بن۔ یہاں فرمایا تم صاف کہہ دو کہ اللہ تو ایک ہی ہے اور تمہارے تمام معبودان باطل سے میں الگ تھلگ ہوں۔ میں ان سب سے بیزار ہوں کسی کا بھی روادار نہیں پھر فرماتا ہے یہ اہل کتاب اس قرآن کو اور اس نبی کو خوب جانتے ہیں جس طرح انسان اپنی اولاد سے واقف ہوتا ہے اسی طرح یہ لوگ آپ سے اور آپ کے دین سے واقف اور باخبر ہیں کیونکہ خود ان کی کتابوں میں یہ سب خبریں موجود ہیں۔ آنحضرت ﷺ کے وجود کی آپ کی نبوت کی خبریں ان کی آسمانی کتابوں میں لکھی ہوئی ہیں آپ کی صفتیں، آپ کا وطن، آپ کی ہجرت، آپ کی امت کی صفت، ان تمام چیزوں سے یہ لوگ آگاہ ہیں اور ایسے صاف طور پر کہ جس میں کسی قسم کا شک شبہ نہیں، پھر ایسے ظاہر باہر صاف شفاف کھلم کھلا امر سے بےایمانی کرنا انہی کا حصہ ہے جو خود اپنا برا چاہنے والے ہوں اور اپنی جانوں کو ہلاک کرنے والے ہوں، حضور کی آمد سے پہلے ہی نشان ظاہر ہوچکے جو نبی آپ سے پہلے آپ کی بشارتیں دیتا ہوا آیا، پھر انکار کرنا سورج چاند کے وجود سے انکار کرنا ہے، اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹ باندھ لے ؟ اور فی الواقع اس سے بھی زیادہ ظالم کوئی نہیں جو سچ کو جھوٹ کہے اور اپنے رب کی باتوں اور اس کی اٹل حجتوں اور روشن دلیلوں سے انکار کرے، ایسے لوگ فلاح سے، کامیابی سے، اپنا مقصد پانے سے اور نجات و آرام سے محروم محض ہیں۔
21
View Single
وَمَنۡ أَظۡلَمُ مِمَّنِ ٱفۡتَرَىٰ عَلَى ٱللَّهِ كَذِبًا أَوۡ كَذَّبَ بِـَٔايَٰتِهِۦٓۚ إِنَّهُۥ لَا يُفۡلِحُ ٱلظَّـٰلِمُونَ
And who is more unjust than one who fabricates lies against Allah or denies His signs? Undoubtedly, the unjust will never succeed.
اور اس سے بڑا ظالم کون ہوسکتا ہے جس نے اللہ پر جھوٹا بہتان باندھا یا اس نے اس کی آیتوں کو جھٹلایا؟ بیشک ظالم لوگ فلاح نہیں پائیں گے
Tafsir Ibn Kathir
Allah is the Irresistible, Able to Bring Benefit and Protect from Harm
Allah states that He Alone brings benefit or harm, and that He does what He wills with His creatures, none can resist His judgment or prevent what He decrees,
وَإِن يَمْسَسْكَ اللَّهُ بِضُرٍّ فَلاَ كَـشِفَ لَهُ إِلاَّ هُوَ وَإِن يَمْسَسْكَ بِخَيْرٍ فَهُوَ عَلَى كُلِّ شَىْءٍ قَدُيرٌ
(And if Allah touches you with harm, none can remove it but He, and if He touches you with good, then He is able to do all things.) Similarly, Allah said,
مَّا يَفْتَحِ اللَّهُ لِلنَّاسِ مِن رَّحْمَةٍ فَلاَ مُمْسِكَ لَهَا وَمَا يُمْسِكْ فَلاَ مُرْسِلَ لَهُ مِن بَعْدِهِ
(Whatever mercy, Allah may grant to mankind, none can withhold it, and whatever He may withhold, none can grant it thereafter) 35:2. It is recorded in the Sahih that the Messenger of Allah ﷺ used to supplicate,
«اللَّهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَد»
(O Allah, there is none Who can avert what You grant or give what You deprive, and no fortune ever helps the fortunate against You.) This is why Allah said,
وَهُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهِ
(And He is the Irresistible, above His servants,) meaning, to Him the necks are subservient, the tyrants humble before Him and He has complete control over all things. The creatures have all bowed to Allah and are humbled before His grace, honor, pride, greatness, highness and ability over all things. The creatures are insignificant before Him, for they are all under His irresistible decision and power,
وَهُوَ الْحَكِيمُ
(and He is the All-Wise,) in all His actions,
الْخَبِيرُ
(Well-Acquainted with all things.) Who places everything in its rightful place, grants and favors whomever deserves His favor. Allah said next,
قُلْ أَىُّ شَىْءٍ أَكْبَرُ شَهَـدةً
(Say: "What thing is the most great in witness") or what is the greatest witness,
قُلِ اللَّهِ شَهِيدٌ بِيْنِى وَبَيْنَكُمْ
(Say: "Allah (the Most Great!) is Witness between you and I") for He knows what I brought you and what you will answer me with,
وَأُوحِىَ إِلَىَّ هَـذَا الْقُرْءَانُ لاٌّنذِرَكُمْ بِهِ وَمَن بَلَغَ
(this Qur'an has been revealed to me that I may therewith warn you and whomsoever it may reach.) Therefore, this Qur'an is a warner for all those who hear of it. In another Ayah, Allah said,
وَمَن يَكْفُرْ بِهِ مِنَ الاٌّحْزَابِ فَالنَّارُ مَوْعِدُهُ
(But those of the sects that reject it, the Fire will be their promised meeting place.) 11:17 Ar-Rabi` bin Anas said, "Those who follow the Messenger of Allah ﷺ ought to call to what the Messenger of Allah ﷺ called to and warn against what he warned against." Allah said next,
أَئِنَّكُمْ لَتَشْهَدُونَ
("Can you verily bear witness...") O idolators,
أَنَّ مَعَ اللَّهِ ءَالِهَةً أُخْرَى قُل لاَّ أَشْهَدُ
("that besides Allah there are other gods" Say, "I bear no (such) witness!") Similarly, in another Ayah, Allah said;
فَإِن شَهِدُواْ فَلاَ تَشْهَدْ مَعَهُمْ
(Then if they testify, testify not you with them.) 6:150 Allah said next,
قُلْ إِنَّمَا هُوَ إِلَـهٌ وَحِدٌ وَإِنَّنِى بَرِىءٌ مِّمَّا تُشْرِكُونَ
(Say: "Only He is God, alone, and truly I am innocent of what you join in worship with Him.")
People of the Book Recognize the Prophet Just as They Recognize Their Own Children
Allah says, the People of the Book know what you brought them, O Muhammad , as they know their own children. This is because they received good news from the previous Messengers and Prophets about the coming of Muhammad ﷺ, his attributes, homeland, his migration, and the description of his Ummah. Allah said next,
الَّذِينَ خَسِرُواْ أَنفُسَهُم
(Those who have lost (destroyed) themselves) and thus incurred the ultimate loss,
فَهُمْ لاَ يُؤْمِنُونَ
(will not believe.) in this clear matter. A matter about which the previous Prophets gave good news, and a matter extolled about in ancient and modern times. Allah said next,
وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَى عَلَى اللَّهِ كَذِباً أَوْ كَذَّبَ بِـَايَـتِهِ
(And who does more wrong than he who invents a lie against Allah or rejects His Ayat) meaning, there is no person more unjust than he who lies about Allah and claims that Allah has sent him, while Allah did not send him. There is no person more unjust than he who denies Allah's proofs, signs and evidences,
إِنَّهُ لاَ يُفْلِحُ الظَّـلِمُونَ
(Verily, the wrongdoers shall never be successful.) Surely, both of these people will never acquire success, whoever falsely claims that Allah sent him and whoever refuses Allah's Ayat.
قرآن حکیم کا باغی جہنم کا ایندھن اللہ تعالیٰ خبر دے رہا ہے کہ نفع و نقصان کا مالک وہی ہے اپنی مخلوق میں جیسی وہ چاہے تبدیلیاں کرتا ہے اس کے احکام کو کوئی ٹال نہیں سکتا اس کے فیصلوں کو کوئی رد نہیں کرسکتا اسی آیت جیسی آیت (مَا يَفْتَحِ اللّٰهُ للنَّاسِ مِنْ رَّحْمَةٍ فَلَا مُمْسِكَ لَهَا ۚ وَمَا يُمْسِكْ ۙ فَلَا مُرْسِلَ لَهٗ مِنْۢ بَعْدِهٖ ۭ وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ) 35۔ فاطر :2) ہے یعنی اللہ مقتدر اعلی جسے جو رحمت دینا چاہے اسے کوئی روک نہیں سکتا، اور جس سے وہ روک لے اسے کوئی دے نہیں سکتا، اس آیت میں خاص اپنے نبی کو خطاب کر کے بھی یہی فرمایا، صحیح حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ فرمایا کرتے تھے اے اللہ جسے تو دے اس سے کوئی روک نہیں سکتا اور جس سے تو روک لے اسے کوئی دے نہیں سکتا، اس کے بعد فرماتا ہے وہ اپنے بندوں پر قاہر و غالب ہے، سب کی گردنین اس کے سامنے پست ہیں، سب بڑے اس کے سامنے چھوٹے ہیں، ہر چیز اس کے قبضے اور قدرت میں ہے تمام مخلوق اس کی تابعدار ہے اس کے جلال اسکی کبریائی اس کی عظمت اسکی بلندی اس کی قدرت تمام چیزوں پر غالب ہے ہر ایک کا مالک وہی ہے، حکم اسی کا چلتا ہے، حقیقی شہنشاہ اور کامل قدرت والا وہی ہے، اپنے تمام کاموں میں وہ باحکمت ہے، وہ ہر چھوٹی بڑی چھپی کھلی چیز سے باخبر ہے، وہ جسے جو دے وہ بھی حکمت سے اور جس سے جو روک لے وہ بھی حکمت سے، پھر فرماتا ہے پوچھو تو سب سے بڑا اور زبردست اور بالکل سچا گواہ کون ہے ؟ جواب دے کر مجھ میں تم میں اللہ ہی گواہ ہے، جو میں تمہارے پاس لایا ہوں اور جو تم مجھ سے کر رہے ہو اسے وہ خوب دیکھ بھال رہا ہے اور بخوبی جانتا ہے، میری جانب اس قرآن کی وحی کی گئی ہے تاکہ میں تم سب حاضرین کو بھی اس سے آگاہ کر دوں اور جسے بھی یہ پہنچی اس تک میرا پیغام پہنچ جائے، جیسے اور آیت میں ہے آیت (وَمَنْ يَّكْفُرْ بِهٖ مِنَ الْاَحْزَابِ فَالنَّارُ مَوْعِدُهٗ ۚ فَلَا تَكُ فِيْ مِرْيَةٍ مِّنْهُ) 11۔ ہود :17) یعنی دنیا کے تمام لوگوں میں سے جو بھی اس قرآن سے انکار کرے اس کا ٹھکانا جہم ہی ہے۔ حضرت محمد بن کعب فرماتے ہیں جسے قرآن پہنچ گیا اس نے گویا خود رسول اللہ ﷺ کو دیکھ لیا بلکہ گویا آپ سے باتیں کرلیں اور اس پر اللہ کے رسول ﷺ نے اللہ کا دین پیش کردیا۔ حضرت قتادہ کا قول ہے اللہ کا پیغام اس کے بندوں کو پہنچاؤ جسے ایک آیت قرآنی پہنچ گئی اسے اللہ کا امر پہنچ گیا۔ حضرت ربیع بن انس کا قول ہے اللہ کے نبی کے تمام تابعی لوگوں پر حق ہے کہ وہ مثل دعوت رسول کے لوگوں کو دعوت خیر دیں اور جن چیزوں اور کاموں سے آپ نے ڈرا دیا ہے یہ بھی اس سے ڈراتے رہیں مشرکو تم چاہے اللہ کے ساتھ اور معبود بھی بتاؤ لیکن میں تو ہرگز ایسا نہیں کروں گا جیسے اور آیت میں ہے آیت (فَاِنْ شَهِدُوْا فَلَا تَشْهَدْ مَعَهُمْ ۚ وَلَا تَتَّبِعْ اَهْوَاۗءَ الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا وَالَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بالْاٰخِرَةِ وَهُمْ بِرَبِّهِمْ يَعْدِلُوْنَ) 6۔ الانعام :150) یہ گو شہادت دیں لیکن تو ان کا ہمنوا نہ بن۔ یہاں فرمایا تم صاف کہہ دو کہ اللہ تو ایک ہی ہے اور تمہارے تمام معبودان باطل سے میں الگ تھلگ ہوں۔ میں ان سب سے بیزار ہوں کسی کا بھی روادار نہیں پھر فرماتا ہے یہ اہل کتاب اس قرآن کو اور اس نبی کو خوب جانتے ہیں جس طرح انسان اپنی اولاد سے واقف ہوتا ہے اسی طرح یہ لوگ آپ سے اور آپ کے دین سے واقف اور باخبر ہیں کیونکہ خود ان کی کتابوں میں یہ سب خبریں موجود ہیں۔ آنحضرت ﷺ کے وجود کی آپ کی نبوت کی خبریں ان کی آسمانی کتابوں میں لکھی ہوئی ہیں آپ کی صفتیں، آپ کا وطن، آپ کی ہجرت، آپ کی امت کی صفت، ان تمام چیزوں سے یہ لوگ آگاہ ہیں اور ایسے صاف طور پر کہ جس میں کسی قسم کا شک شبہ نہیں، پھر ایسے ظاہر باہر صاف شفاف کھلم کھلا امر سے بےایمانی کرنا انہی کا حصہ ہے جو خود اپنا برا چاہنے والے ہوں اور اپنی جانوں کو ہلاک کرنے والے ہوں، حضور کی آمد سے پہلے ہی نشان ظاہر ہوچکے جو نبی آپ سے پہلے آپ کی بشارتیں دیتا ہوا آیا، پھر انکار کرنا سورج چاند کے وجود سے انکار کرنا ہے، اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹ باندھ لے ؟ اور فی الواقع اس سے بھی زیادہ ظالم کوئی نہیں جو سچ کو جھوٹ کہے اور اپنے رب کی باتوں اور اس کی اٹل حجتوں اور روشن دلیلوں سے انکار کرے، ایسے لوگ فلاح سے، کامیابی سے، اپنا مقصد پانے سے اور نجات و آرام سے محروم محض ہیں۔
22
View Single
وَيَوۡمَ نَحۡشُرُهُمۡ جَمِيعٗا ثُمَّ نَقُولُ لِلَّذِينَ أَشۡرَكُوٓاْ أَيۡنَ شُرَكَآؤُكُمُ ٱلَّذِينَ كُنتُمۡ تَزۡعُمُونَ
And on the day when We will resurrect everyone together, then say to the polytheists, “Where are those partners (your false deities) whom you professed?”
اور جس دن ہم سب کو جمع کریں گے پھر ہم ان لوگوں سے کہیں گے جو شرک کرتے تھے: تمہارے وہ شریک کہاں ہیں جنہیں تم (معبود) خیال کرتے تھے
Tafsir Ibn Kathir
The Polythiests Shall be Questioned About the Shirk They Committed
About the polytheists, Allah said:
وَيَوْمَ نَحْشُرُهُمْ جَمِيعاً
(And on the Day when We shall gather them all together,) This is on the Day of Resurrection, when He will ask them about the idols and rivals that they worshipped instead of Him. Allah will say to them,
أَيْنَ شُرَكَآؤُكُمُ الَّذِينَ كُنتُمْ تَزْعُمُونَ
(Where are your partners (false deities) whom you used to assert (as partners in worship with Allah)) Allah said in Surat Al-Qasas,
وَيَوْمَ يُنَـدِيهِمْ فَيَقُولُ أَيْنَ شُرَكَآئِىَ الَّذِينَ كُنتُمْ تَزْعُمُونَ
(And (remember) the Day when He will call to them, and say, "Where are My (so-called) partners whom you used to assert") 28:62. Allah's statement,
ثُمَّ لَمْ تَكُنْ فِتْنَتُهُمْ
(There will then be (left) no Fitnah for them) means, argument. `Ata' Al-Khurasani said that,
ثُمَّ لَمْ تَكُنْ فِتْنَتُهُمْ
(There will then be (left) no Fitnah for them) in the face of the affliction that will be placed on them,
إِلاَّ أَن قَالُواْ وَاللَّهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِينَ
(but to say: "By Allah, our Lord, we were not those who joined others (in worship with Allah).") Allah said next,
انظُرْ كَيْفَ كَذَبُواْ عَلَى أَنفُسِهِمْ وَضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُواْ يَفْتَرُونَ
(Look! How they lie against themselves! But the (lie) which they invented will disappear from them.) which is similar to His other statement,
ثُمَّ قِيلَ لَهُمْ أَيْنَ مَا كُنتُمْ تُشْرِكُونَ - مِن دُونِ اللَّهِ قَـالُواْ ضَـلُّواْ عَنَّا بَل لَّمْ نَكُنْ نَّدْعُواْ مِن قَبْلُ شَيْئاً كَذَلِكَ يُضِلُّ اللَّهُ الْكَـفِرِينَ
(Then it will be said to them: "Where are (all) those whom you used to join in worship as partners. Besides Allah" They will say, "They have vanished from us: Nay, we did not invoke (worship) anything before." Thus Allah leads astray the disbelievers.) 40:73-74
The Miserable Do Not Benefit from the Qur'an
Allah's statement,
وَمِنْهُمْ مَّن يَسْتَمِعُ إِلَيْكَ وَجَعَلْنَا عَلَى قُلُوبِهِمْ أَكِنَّةً أَن يَفْقَهُوهُ وَفِى ءَاذَانِهِمْ وَقْراً وَإِن يَرَوْاْ كُلَّ ءَايَةٍ لاَّ يُؤْمِنُواْ بِهَا
(And of them there are some who listen to you; but We have set veils on their hearts, so they understand it not, and deafness in their ears; if they see every one of the Ayat they will not believe therein;) means, they come to you, (O Muhammad ), so that they hear you recite the Qur'an, but its recitation does not benefit them, because Allah has set veils on their hearts, and so they do not understand the Qur'an,
وَفِى ءَاذَانِهِمْ وَقْرًا
(and (set) deafness in their ears;) that prevents them from hearing what benefits them. In another Ayah, Allah said;
وَمَثَلُ الَّذِينَ كَفَرُواْ كَمَثَلِ الَّذِى يَنْعِقُ بِمَا لاَ يَسْمَعُ إِلاَّ دُعَآءً وَنِدَآءً
(And the example of those who disbelieve, is as that of him who shouts at one who hears nothing but calls and cries.) 2:171 Allah said next,
وَإِن يَرَوْاْ كُلَّ ءَايَةٍ لاَّ يُؤْمِنُواْ بِهَا
(if they see every one of the Ayat they will not believe therein;) meaning, they will not believe in any of the Ayat, proofs, clear evidences and signs they witness because they do not have sound comprehension or fair judgment. In another Ayah, Allah said,
وَلَوْ عَلِمَ اللَّهُ فِيهِمْ خَيْرًا لأَسْمَعَهُمْ
(Had Allah known of any good in them, He would indeed have made them listen.) 8:23 Allah said,
حَتَّى إِذَا جَآءُوكَ يُجَـدِلُونَكَ
(to the point that when they come to you to argue with you...) using falsehood against truth,
يَقُولُ الَّذِينَ كَفَرُواْ إِنْ هَـذَآ إِلاَّ أَسَـطِيرُ الاٌّوَّلِينَ
(those who disbelieve say: "These are nothing but tales of the men of old.") The disbelievers say, what you (O Muhammad ) brought us was taken from the books of those who were before us, meaning plagiarized,
وَهُمْ يَنْهَوْنَ عَنْهُ وَيَنْأَوْنَ عَنْهُ
(And they prevent others from him and they themselves keep away from him,) They discourage people from following the truth, believing in Muhammad ﷺ and obeying the Qur'an,
وَيَنْأَوْنَ عَنْهُ
(and they themselves keep away from him,) They thus combine both evil acts, for they neither benefit themselves, nor let others benefit from the Prophet . `Ali bin Abi Talhah said that Ibn `Abbas said that the Ayah,
وَهُمْ يَنْهَوْنَ عَنْهُ
(And they prevent others from him.) means, they hinder people from believing in Muhammad ﷺ. Muhammad bin Al-Hanafiyyah said, "The disbelievers of Quraysh used to refrain from meeting Muhammad and they discouraged people from coming to him." Similar was reported from Qatadah, Mujahid and Ad-Dahhak and several others.
وَإِن يُهْلِكُونَ إِلاَّ أَنفُسَهُمْ وَمَا يَشْعُرُونَ
(and (by doing so) they destroy not but themselves, yet they perceive (it) not.) They destroy themselves by committing this evil action, and its harm will only touch them. Yet, they do not perceive this fact!
قیامت کے دن مشرکوں کا حشر قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تمام مخلوق کا حشر اپنے سامنے کرے گا پھر جو لوگ اللہ کے سوا اوروں کی پرستش کرتے تھے انہیں لا جواب شرمندہ اور بےدلیل کرنے کے لئے ان سے فرمائے گا کہ جن جن کو تم میرا شریک ٹھہراتے رہے آج وہ کہاں ہیں ؟ سورة قصص کی آیت (وَيَوْمَ يُنَادِيْهِمْ فَيَقُوْلُ اَيْنَ شُرَكَاۗءِيَ الَّذِيْنَ كُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ) 28۔ القصص :62) میں بھی یہ موجود ہے۔ اس کے بعد کی آیت میں جو لفظ فتنتھم ہے اس کا مطلب فتنہ سے مراد حجت و دلیل، عذرو معذرت، ابتلا اور جواب ہے۔ حضرت ابن عباس سے کسی نے مشرکین کے اس انکار شرک کی بابت سوال کیا تو آپ نے جواب دیا کہ ایک وقت یہ ہوگا کہ اور ایک اور وقت ہوگا کہ اللہ سے کوئی بات چھپائیں گے نہیں۔ پس ان دونوں آیتوں میں کوئی تعارض و اختلاف نہیں جب مشرکین دیکھیں گے کہ موحد نمازی جنت میں جانے لگے تو کہیں گے آؤ ہم بھی اپنے مشرک ہونے کا انکار کردیں، اس انکار کے بعد ان کی زبانیں بند کردی جائیں گی اور ان کے ہاتھ پاؤں گواہیاں دینے لگیں گے تو اب کوئی بات اللہ سے نہ چھپائیں گے۔ یہ توجہ بیان فرما کر حضرت عبداللہ نے فرمایا اب تو تیرے دل میں کوئی شک نہیں رہا ؟ سنو بات یہ ہے کہ قرآن میں ایسی چیزوں کا دوسری جگہ بیان و توجیہ موجود ہے لیکن بےعلمی کی وجہ سے لوگوں کی نگاہیں وہاں تک نہیں پہنچتیں۔ یہ بھی مروی ہے کہ یہ آیت منافقوں کے بارے میں ہے۔ لیکن یہ کچھ ٹھیک نہیں۔ اس لئے کہ آیت مکی ہے اور منافقوں کا وجود مکہ شریف میں تھا ہی نہیں۔ ہاں منافقوں کے بارے میں آیت (يَوْمَ يَبْعَثُهُمُ اللّٰهُ جَمِيْعًا فَيَحْلِفُوْنَ لَهٗ كَمَا يَحْلِفُوْنَ لَكُمْ وَيَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ عَلٰي شَيْءٍ ۭ اَلَآ اِنَّهُمْ هُمُ الْكٰذِبُوْنَ) 58۔ المجادلہ :18) ہے۔ دیکھ لو کہ کس طرح انہوں نے خود اپنے اوپر جھوٹ بولا ؟ اور جن جھوٹے معبودوں کا افترا انہوں نے کر رکھا تھا کیسے ان سے خالی ہاتھ ہوگئے ؟ چناچہ دوسری جگہ ہے کہ جب ان سے یہ سوال ہوگا خود یہ کہیں گے ضلو عنا وہ سب آج ہم سے دور ہوگئے، پھر فرماتا ہے بعض ان میں وہ بھی ہیں جو قرآن سننے کو تیرے پاس آتے ہیں لیکن اس سے کوئی فائدہ نہیں اٹھاتے۔ ان کے دلوں پر پردے ہیں وہ سمجھتے ہی نہیں ان کے کان انہیں یہ مبارک آوازیں اس طرح سناتے ہی نہیں کہ یہ اس سے فائدہ اٹھا سکیں اور احکام قرآنی کو قبول کریں، جیسے اور جگہ ان کی مثال ان چوپائے جانوروں سے دی گئی جو اپنے چروا ہے کی آواز تو سنتے ہیں لیکن مطلب خاک نہیں سمجھتے، یہ وہ لوگ ہیں جو بکثرت دلائل و براہن اور معجزات اور نشانیاں دیکھتے ہوئے بھی ایمان قبول نہیں کرتے، ان ازلی بد قسمتوں کے نصیب میں ایمان ہے ہی نہیں، یہ بےانصاف ہونے کے ساتھ ہی بےسمجھ بھی ہیں، اگر اب ان میں بھلائی دیکھتا تو ضرور انہیں سننے کی توفیق کے ساتھ ہی توفیق عمل و قبول بھی مرحمت فرماتا، ہاں انہیں اگر سوجھتی ہے تو یہ کہ اپنے باطل کے ساتھ تیرے حق کو دبا دیں تجھ سے جھگڑتے ہیں اور صاف کہہ جاتے ہیں کہ یہ تو اگلوں کے فسانے ہیں جو پہلی کتابوں سے نقل کر لئے گئے ہیں اس کے بعد کی آیت کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ یہ کفار خود بھی ایمان نہیں لاتے ہیں اور دوسروں کو بھی ایمان لانے سے روکتے ہیں حضور کی حمایت کرتے ہیں آپ کو برحق جانتے ہیں اور خود حق کو قبول نہیں کرتے، جیسے کہ ابو طالب کہ حضور کا بڑا ہی حمایتی تھا لیکن ایمان نصیب نہیں ہوا۔ آپ کے دس چچا تھے جو علانیہ تو آپ کے ساتھی تھے لیکن خفیہ مخالف تھے۔ لوگوں کو آپ کے قتل وغیرہ سے روکتے تھے لیکن خود آپ سے اور آپ کے دین سے دور ہوتے جاتے تھے۔ افسوس اس اپنے فعل سے خود اپنے ہی تئیں غارت کرتے تھے لیکن جانتے ہی نہ تھے کہ اس کرتوت کا وبال ہمیں ہی یڑ رہا ہے۔
23
View Single
ثُمَّ لَمۡ تَكُن فِتۡنَتُهُمۡ إِلَّآ أَن قَالُواْ وَٱللَّهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشۡرِكِينَ
Then they had no fabrication except that they said, “By Allah, our Lord, we were never polytheists!”
پھر ان کی (کوئی) معذرت نہ رہے گی بجز اس کے کہ وہ کہیں (گے): ہمیں اپنے رب اللہ کی قَسم ہے! ہم مشرک نہ تھے
Tafsir Ibn Kathir
The Polythiests Shall be Questioned About the Shirk They Committed
About the polytheists, Allah said:
وَيَوْمَ نَحْشُرُهُمْ جَمِيعاً
(And on the Day when We shall gather them all together,) This is on the Day of Resurrection, when He will ask them about the idols and rivals that they worshipped instead of Him. Allah will say to them,
أَيْنَ شُرَكَآؤُكُمُ الَّذِينَ كُنتُمْ تَزْعُمُونَ
(Where are your partners (false deities) whom you used to assert (as partners in worship with Allah)) Allah said in Surat Al-Qasas,
وَيَوْمَ يُنَـدِيهِمْ فَيَقُولُ أَيْنَ شُرَكَآئِىَ الَّذِينَ كُنتُمْ تَزْعُمُونَ
(And (remember) the Day when He will call to them, and say, "Where are My (so-called) partners whom you used to assert") 28:62. Allah's statement,
ثُمَّ لَمْ تَكُنْ فِتْنَتُهُمْ
(There will then be (left) no Fitnah for them) means, argument. `Ata' Al-Khurasani said that,
ثُمَّ لَمْ تَكُنْ فِتْنَتُهُمْ
(There will then be (left) no Fitnah for them) in the face of the affliction that will be placed on them,
إِلاَّ أَن قَالُواْ وَاللَّهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِينَ
(but to say: "By Allah, our Lord, we were not those who joined others (in worship with Allah).") Allah said next,
انظُرْ كَيْفَ كَذَبُواْ عَلَى أَنفُسِهِمْ وَضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُواْ يَفْتَرُونَ
(Look! How they lie against themselves! But the (lie) which they invented will disappear from them.) which is similar to His other statement,
ثُمَّ قِيلَ لَهُمْ أَيْنَ مَا كُنتُمْ تُشْرِكُونَ - مِن دُونِ اللَّهِ قَـالُواْ ضَـلُّواْ عَنَّا بَل لَّمْ نَكُنْ نَّدْعُواْ مِن قَبْلُ شَيْئاً كَذَلِكَ يُضِلُّ اللَّهُ الْكَـفِرِينَ
(Then it will be said to them: "Where are (all) those whom you used to join in worship as partners. Besides Allah" They will say, "They have vanished from us: Nay, we did not invoke (worship) anything before." Thus Allah leads astray the disbelievers.) 40:73-74
The Miserable Do Not Benefit from the Qur'an
Allah's statement,
وَمِنْهُمْ مَّن يَسْتَمِعُ إِلَيْكَ وَجَعَلْنَا عَلَى قُلُوبِهِمْ أَكِنَّةً أَن يَفْقَهُوهُ وَفِى ءَاذَانِهِمْ وَقْراً وَإِن يَرَوْاْ كُلَّ ءَايَةٍ لاَّ يُؤْمِنُواْ بِهَا
(And of them there are some who listen to you; but We have set veils on their hearts, so they understand it not, and deafness in their ears; if they see every one of the Ayat they will not believe therein;) means, they come to you, (O Muhammad ), so that they hear you recite the Qur'an, but its recitation does not benefit them, because Allah has set veils on their hearts, and so they do not understand the Qur'an,
وَفِى ءَاذَانِهِمْ وَقْرًا
(and (set) deafness in their ears;) that prevents them from hearing what benefits them. In another Ayah, Allah said;
وَمَثَلُ الَّذِينَ كَفَرُواْ كَمَثَلِ الَّذِى يَنْعِقُ بِمَا لاَ يَسْمَعُ إِلاَّ دُعَآءً وَنِدَآءً
(And the example of those who disbelieve, is as that of him who shouts at one who hears nothing but calls and cries.) 2:171 Allah said next,
وَإِن يَرَوْاْ كُلَّ ءَايَةٍ لاَّ يُؤْمِنُواْ بِهَا
(if they see every one of the Ayat they will not believe therein;) meaning, they will not believe in any of the Ayat, proofs, clear evidences and signs they witness because they do not have sound comprehension or fair judgment. In another Ayah, Allah said,
وَلَوْ عَلِمَ اللَّهُ فِيهِمْ خَيْرًا لأَسْمَعَهُمْ
(Had Allah known of any good in them, He would indeed have made them listen.) 8:23 Allah said,
حَتَّى إِذَا جَآءُوكَ يُجَـدِلُونَكَ
(to the point that when they come to you to argue with you...) using falsehood against truth,
يَقُولُ الَّذِينَ كَفَرُواْ إِنْ هَـذَآ إِلاَّ أَسَـطِيرُ الاٌّوَّلِينَ
(those who disbelieve say: "These are nothing but tales of the men of old.") The disbelievers say, what you (O Muhammad ) brought us was taken from the books of those who were before us, meaning plagiarized,
وَهُمْ يَنْهَوْنَ عَنْهُ وَيَنْأَوْنَ عَنْهُ
(And they prevent others from him and they themselves keep away from him,) They discourage people from following the truth, believing in Muhammad ﷺ and obeying the Qur'an,
وَيَنْأَوْنَ عَنْهُ
(and they themselves keep away from him,) They thus combine both evil acts, for they neither benefit themselves, nor let others benefit from the Prophet . `Ali bin Abi Talhah said that Ibn `Abbas said that the Ayah,
وَهُمْ يَنْهَوْنَ عَنْهُ
(And they prevent others from him.) means, they hinder people from believing in Muhammad ﷺ. Muhammad bin Al-Hanafiyyah said, "The disbelievers of Quraysh used to refrain from meeting Muhammad and they discouraged people from coming to him." Similar was reported from Qatadah, Mujahid and Ad-Dahhak and several others.
وَإِن يُهْلِكُونَ إِلاَّ أَنفُسَهُمْ وَمَا يَشْعُرُونَ
(and (by doing so) they destroy not but themselves, yet they perceive (it) not.) They destroy themselves by committing this evil action, and its harm will only touch them. Yet, they do not perceive this fact!
قیامت کے دن مشرکوں کا حشر قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تمام مخلوق کا حشر اپنے سامنے کرے گا پھر جو لوگ اللہ کے سوا اوروں کی پرستش کرتے تھے انہیں لا جواب شرمندہ اور بےدلیل کرنے کے لئے ان سے فرمائے گا کہ جن جن کو تم میرا شریک ٹھہراتے رہے آج وہ کہاں ہیں ؟ سورة قصص کی آیت (وَيَوْمَ يُنَادِيْهِمْ فَيَقُوْلُ اَيْنَ شُرَكَاۗءِيَ الَّذِيْنَ كُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ) 28۔ القصص :62) میں بھی یہ موجود ہے۔ اس کے بعد کی آیت میں جو لفظ فتنتھم ہے اس کا مطلب فتنہ سے مراد حجت و دلیل، عذرو معذرت، ابتلا اور جواب ہے۔ حضرت ابن عباس سے کسی نے مشرکین کے اس انکار شرک کی بابت سوال کیا تو آپ نے جواب دیا کہ ایک وقت یہ ہوگا کہ اور ایک اور وقت ہوگا کہ اللہ سے کوئی بات چھپائیں گے نہیں۔ پس ان دونوں آیتوں میں کوئی تعارض و اختلاف نہیں جب مشرکین دیکھیں گے کہ موحد نمازی جنت میں جانے لگے تو کہیں گے آؤ ہم بھی اپنے مشرک ہونے کا انکار کردیں، اس انکار کے بعد ان کی زبانیں بند کردی جائیں گی اور ان کے ہاتھ پاؤں گواہیاں دینے لگیں گے تو اب کوئی بات اللہ سے نہ چھپائیں گے۔ یہ توجہ بیان فرما کر حضرت عبداللہ نے فرمایا اب تو تیرے دل میں کوئی شک نہیں رہا ؟ سنو بات یہ ہے کہ قرآن میں ایسی چیزوں کا دوسری جگہ بیان و توجیہ موجود ہے لیکن بےعلمی کی وجہ سے لوگوں کی نگاہیں وہاں تک نہیں پہنچتیں۔ یہ بھی مروی ہے کہ یہ آیت منافقوں کے بارے میں ہے۔ لیکن یہ کچھ ٹھیک نہیں۔ اس لئے کہ آیت مکی ہے اور منافقوں کا وجود مکہ شریف میں تھا ہی نہیں۔ ہاں منافقوں کے بارے میں آیت (يَوْمَ يَبْعَثُهُمُ اللّٰهُ جَمِيْعًا فَيَحْلِفُوْنَ لَهٗ كَمَا يَحْلِفُوْنَ لَكُمْ وَيَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ عَلٰي شَيْءٍ ۭ اَلَآ اِنَّهُمْ هُمُ الْكٰذِبُوْنَ) 58۔ المجادلہ :18) ہے۔ دیکھ لو کہ کس طرح انہوں نے خود اپنے اوپر جھوٹ بولا ؟ اور جن جھوٹے معبودوں کا افترا انہوں نے کر رکھا تھا کیسے ان سے خالی ہاتھ ہوگئے ؟ چناچہ دوسری جگہ ہے کہ جب ان سے یہ سوال ہوگا خود یہ کہیں گے ضلو عنا وہ سب آج ہم سے دور ہوگئے، پھر فرماتا ہے بعض ان میں وہ بھی ہیں جو قرآن سننے کو تیرے پاس آتے ہیں لیکن اس سے کوئی فائدہ نہیں اٹھاتے۔ ان کے دلوں پر پردے ہیں وہ سمجھتے ہی نہیں ان کے کان انہیں یہ مبارک آوازیں اس طرح سناتے ہی نہیں کہ یہ اس سے فائدہ اٹھا سکیں اور احکام قرآنی کو قبول کریں، جیسے اور جگہ ان کی مثال ان چوپائے جانوروں سے دی گئی جو اپنے چروا ہے کی آواز تو سنتے ہیں لیکن مطلب خاک نہیں سمجھتے، یہ وہ لوگ ہیں جو بکثرت دلائل و براہن اور معجزات اور نشانیاں دیکھتے ہوئے بھی ایمان قبول نہیں کرتے، ان ازلی بد قسمتوں کے نصیب میں ایمان ہے ہی نہیں، یہ بےانصاف ہونے کے ساتھ ہی بےسمجھ بھی ہیں، اگر اب ان میں بھلائی دیکھتا تو ضرور انہیں سننے کی توفیق کے ساتھ ہی توفیق عمل و قبول بھی مرحمت فرماتا، ہاں انہیں اگر سوجھتی ہے تو یہ کہ اپنے باطل کے ساتھ تیرے حق کو دبا دیں تجھ سے جھگڑتے ہیں اور صاف کہہ جاتے ہیں کہ یہ تو اگلوں کے فسانے ہیں جو پہلی کتابوں سے نقل کر لئے گئے ہیں اس کے بعد کی آیت کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ یہ کفار خود بھی ایمان نہیں لاتے ہیں اور دوسروں کو بھی ایمان لانے سے روکتے ہیں حضور کی حمایت کرتے ہیں آپ کو برحق جانتے ہیں اور خود حق کو قبول نہیں کرتے، جیسے کہ ابو طالب کہ حضور کا بڑا ہی حمایتی تھا لیکن ایمان نصیب نہیں ہوا۔ آپ کے دس چچا تھے جو علانیہ تو آپ کے ساتھی تھے لیکن خفیہ مخالف تھے۔ لوگوں کو آپ کے قتل وغیرہ سے روکتے تھے لیکن خود آپ سے اور آپ کے دین سے دور ہوتے جاتے تھے۔ افسوس اس اپنے فعل سے خود اپنے ہی تئیں غارت کرتے تھے لیکن جانتے ہی نہ تھے کہ اس کرتوت کا وبال ہمیں ہی یڑ رہا ہے۔
24
View Single
ٱنظُرۡ كَيۡفَ كَذَبُواْ عَلَىٰٓ أَنفُسِهِمۡۚ وَضَلَّ عَنۡهُم مَّا كَانُواْ يَفۡتَرُونَ
Observe how they lied against themselves, and how they lost the things they fabricated!
دیکھئے انہوں نے خود اپنے اوپر کیسا جھوٹ بولا اور جو بہتان وہ (دنیا میں) تراشا کرتے تھے وہ ان سے غائب ہوگیا
Tafsir Ibn Kathir
The Polythiests Shall be Questioned About the Shirk They Committed
About the polytheists, Allah said:
وَيَوْمَ نَحْشُرُهُمْ جَمِيعاً
(And on the Day when We shall gather them all together,) This is on the Day of Resurrection, when He will ask them about the idols and rivals that they worshipped instead of Him. Allah will say to them,
أَيْنَ شُرَكَآؤُكُمُ الَّذِينَ كُنتُمْ تَزْعُمُونَ
(Where are your partners (false deities) whom you used to assert (as partners in worship with Allah)) Allah said in Surat Al-Qasas,
وَيَوْمَ يُنَـدِيهِمْ فَيَقُولُ أَيْنَ شُرَكَآئِىَ الَّذِينَ كُنتُمْ تَزْعُمُونَ
(And (remember) the Day when He will call to them, and say, "Where are My (so-called) partners whom you used to assert") 28:62. Allah's statement,
ثُمَّ لَمْ تَكُنْ فِتْنَتُهُمْ
(There will then be (left) no Fitnah for them) means, argument. `Ata' Al-Khurasani said that,
ثُمَّ لَمْ تَكُنْ فِتْنَتُهُمْ
(There will then be (left) no Fitnah for them) in the face of the affliction that will be placed on them,
إِلاَّ أَن قَالُواْ وَاللَّهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِينَ
(but to say: "By Allah, our Lord, we were not those who joined others (in worship with Allah).") Allah said next,
انظُرْ كَيْفَ كَذَبُواْ عَلَى أَنفُسِهِمْ وَضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُواْ يَفْتَرُونَ
(Look! How they lie against themselves! But the (lie) which they invented will disappear from them.) which is similar to His other statement,
ثُمَّ قِيلَ لَهُمْ أَيْنَ مَا كُنتُمْ تُشْرِكُونَ - مِن دُونِ اللَّهِ قَـالُواْ ضَـلُّواْ عَنَّا بَل لَّمْ نَكُنْ نَّدْعُواْ مِن قَبْلُ شَيْئاً كَذَلِكَ يُضِلُّ اللَّهُ الْكَـفِرِينَ
(Then it will be said to them: "Where are (all) those whom you used to join in worship as partners. Besides Allah" They will say, "They have vanished from us: Nay, we did not invoke (worship) anything before." Thus Allah leads astray the disbelievers.) 40:73-74
The Miserable Do Not Benefit from the Qur'an
Allah's statement,
وَمِنْهُمْ مَّن يَسْتَمِعُ إِلَيْكَ وَجَعَلْنَا عَلَى قُلُوبِهِمْ أَكِنَّةً أَن يَفْقَهُوهُ وَفِى ءَاذَانِهِمْ وَقْراً وَإِن يَرَوْاْ كُلَّ ءَايَةٍ لاَّ يُؤْمِنُواْ بِهَا
(And of them there are some who listen to you; but We have set veils on their hearts, so they understand it not, and deafness in their ears; if they see every one of the Ayat they will not believe therein;) means, they come to you, (O Muhammad ), so that they hear you recite the Qur'an, but its recitation does not benefit them, because Allah has set veils on their hearts, and so they do not understand the Qur'an,
وَفِى ءَاذَانِهِمْ وَقْرًا
(and (set) deafness in their ears;) that prevents them from hearing what benefits them. In another Ayah, Allah said;
وَمَثَلُ الَّذِينَ كَفَرُواْ كَمَثَلِ الَّذِى يَنْعِقُ بِمَا لاَ يَسْمَعُ إِلاَّ دُعَآءً وَنِدَآءً
(And the example of those who disbelieve, is as that of him who shouts at one who hears nothing but calls and cries.) 2:171 Allah said next,
وَإِن يَرَوْاْ كُلَّ ءَايَةٍ لاَّ يُؤْمِنُواْ بِهَا
(if they see every one of the Ayat they will not believe therein;) meaning, they will not believe in any of the Ayat, proofs, clear evidences and signs they witness because they do not have sound comprehension or fair judgment. In another Ayah, Allah said,
وَلَوْ عَلِمَ اللَّهُ فِيهِمْ خَيْرًا لأَسْمَعَهُمْ
(Had Allah known of any good in them, He would indeed have made them listen.) 8:23 Allah said,
حَتَّى إِذَا جَآءُوكَ يُجَـدِلُونَكَ
(to the point that when they come to you to argue with you...) using falsehood against truth,
يَقُولُ الَّذِينَ كَفَرُواْ إِنْ هَـذَآ إِلاَّ أَسَـطِيرُ الاٌّوَّلِينَ
(those who disbelieve say: "These are nothing but tales of the men of old.") The disbelievers say, what you (O Muhammad ) brought us was taken from the books of those who were before us, meaning plagiarized,
وَهُمْ يَنْهَوْنَ عَنْهُ وَيَنْأَوْنَ عَنْهُ
(And they prevent others from him and they themselves keep away from him,) They discourage people from following the truth, believing in Muhammad ﷺ and obeying the Qur'an,
وَيَنْأَوْنَ عَنْهُ
(and they themselves keep away from him,) They thus combine both evil acts, for they neither benefit themselves, nor let others benefit from the Prophet . `Ali bin Abi Talhah said that Ibn `Abbas said that the Ayah,
وَهُمْ يَنْهَوْنَ عَنْهُ
(And they prevent others from him.) means, they hinder people from believing in Muhammad ﷺ. Muhammad bin Al-Hanafiyyah said, "The disbelievers of Quraysh used to refrain from meeting Muhammad and they discouraged people from coming to him." Similar was reported from Qatadah, Mujahid and Ad-Dahhak and several others.
وَإِن يُهْلِكُونَ إِلاَّ أَنفُسَهُمْ وَمَا يَشْعُرُونَ
(and (by doing so) they destroy not but themselves, yet they perceive (it) not.) They destroy themselves by committing this evil action, and its harm will only touch them. Yet, they do not perceive this fact!
قیامت کے دن مشرکوں کا حشر قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تمام مخلوق کا حشر اپنے سامنے کرے گا پھر جو لوگ اللہ کے سوا اوروں کی پرستش کرتے تھے انہیں لا جواب شرمندہ اور بےدلیل کرنے کے لئے ان سے فرمائے گا کہ جن جن کو تم میرا شریک ٹھہراتے رہے آج وہ کہاں ہیں ؟ سورة قصص کی آیت (وَيَوْمَ يُنَادِيْهِمْ فَيَقُوْلُ اَيْنَ شُرَكَاۗءِيَ الَّذِيْنَ كُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ) 28۔ القصص :62) میں بھی یہ موجود ہے۔ اس کے بعد کی آیت میں جو لفظ فتنتھم ہے اس کا مطلب فتنہ سے مراد حجت و دلیل، عذرو معذرت، ابتلا اور جواب ہے۔ حضرت ابن عباس سے کسی نے مشرکین کے اس انکار شرک کی بابت سوال کیا تو آپ نے جواب دیا کہ ایک وقت یہ ہوگا کہ اور ایک اور وقت ہوگا کہ اللہ سے کوئی بات چھپائیں گے نہیں۔ پس ان دونوں آیتوں میں کوئی تعارض و اختلاف نہیں جب مشرکین دیکھیں گے کہ موحد نمازی جنت میں جانے لگے تو کہیں گے آؤ ہم بھی اپنے مشرک ہونے کا انکار کردیں، اس انکار کے بعد ان کی زبانیں بند کردی جائیں گی اور ان کے ہاتھ پاؤں گواہیاں دینے لگیں گے تو اب کوئی بات اللہ سے نہ چھپائیں گے۔ یہ توجہ بیان فرما کر حضرت عبداللہ نے فرمایا اب تو تیرے دل میں کوئی شک نہیں رہا ؟ سنو بات یہ ہے کہ قرآن میں ایسی چیزوں کا دوسری جگہ بیان و توجیہ موجود ہے لیکن بےعلمی کی وجہ سے لوگوں کی نگاہیں وہاں تک نہیں پہنچتیں۔ یہ بھی مروی ہے کہ یہ آیت منافقوں کے بارے میں ہے۔ لیکن یہ کچھ ٹھیک نہیں۔ اس لئے کہ آیت مکی ہے اور منافقوں کا وجود مکہ شریف میں تھا ہی نہیں۔ ہاں منافقوں کے بارے میں آیت (يَوْمَ يَبْعَثُهُمُ اللّٰهُ جَمِيْعًا فَيَحْلِفُوْنَ لَهٗ كَمَا يَحْلِفُوْنَ لَكُمْ وَيَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ عَلٰي شَيْءٍ ۭ اَلَآ اِنَّهُمْ هُمُ الْكٰذِبُوْنَ) 58۔ المجادلہ :18) ہے۔ دیکھ لو کہ کس طرح انہوں نے خود اپنے اوپر جھوٹ بولا ؟ اور جن جھوٹے معبودوں کا افترا انہوں نے کر رکھا تھا کیسے ان سے خالی ہاتھ ہوگئے ؟ چناچہ دوسری جگہ ہے کہ جب ان سے یہ سوال ہوگا خود یہ کہیں گے ضلو عنا وہ سب آج ہم سے دور ہوگئے، پھر فرماتا ہے بعض ان میں وہ بھی ہیں جو قرآن سننے کو تیرے پاس آتے ہیں لیکن اس سے کوئی فائدہ نہیں اٹھاتے۔ ان کے دلوں پر پردے ہیں وہ سمجھتے ہی نہیں ان کے کان انہیں یہ مبارک آوازیں اس طرح سناتے ہی نہیں کہ یہ اس سے فائدہ اٹھا سکیں اور احکام قرآنی کو قبول کریں، جیسے اور جگہ ان کی مثال ان چوپائے جانوروں سے دی گئی جو اپنے چروا ہے کی آواز تو سنتے ہیں لیکن مطلب خاک نہیں سمجھتے، یہ وہ لوگ ہیں جو بکثرت دلائل و براہن اور معجزات اور نشانیاں دیکھتے ہوئے بھی ایمان قبول نہیں کرتے، ان ازلی بد قسمتوں کے نصیب میں ایمان ہے ہی نہیں، یہ بےانصاف ہونے کے ساتھ ہی بےسمجھ بھی ہیں، اگر اب ان میں بھلائی دیکھتا تو ضرور انہیں سننے کی توفیق کے ساتھ ہی توفیق عمل و قبول بھی مرحمت فرماتا، ہاں انہیں اگر سوجھتی ہے تو یہ کہ اپنے باطل کے ساتھ تیرے حق کو دبا دیں تجھ سے جھگڑتے ہیں اور صاف کہہ جاتے ہیں کہ یہ تو اگلوں کے فسانے ہیں جو پہلی کتابوں سے نقل کر لئے گئے ہیں اس کے بعد کی آیت کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ یہ کفار خود بھی ایمان نہیں لاتے ہیں اور دوسروں کو بھی ایمان لانے سے روکتے ہیں حضور کی حمایت کرتے ہیں آپ کو برحق جانتے ہیں اور خود حق کو قبول نہیں کرتے، جیسے کہ ابو طالب کہ حضور کا بڑا ہی حمایتی تھا لیکن ایمان نصیب نہیں ہوا۔ آپ کے دس چچا تھے جو علانیہ تو آپ کے ساتھی تھے لیکن خفیہ مخالف تھے۔ لوگوں کو آپ کے قتل وغیرہ سے روکتے تھے لیکن خود آپ سے اور آپ کے دین سے دور ہوتے جاتے تھے۔ افسوس اس اپنے فعل سے خود اپنے ہی تئیں غارت کرتے تھے لیکن جانتے ہی نہ تھے کہ اس کرتوت کا وبال ہمیں ہی یڑ رہا ہے۔
25
View Single
وَمِنۡهُم مَّن يَسۡتَمِعُ إِلَيۡكَۖ وَجَعَلۡنَا عَلَىٰ قُلُوبِهِمۡ أَكِنَّةً أَن يَفۡقَهُوهُ وَفِيٓ ءَاذَانِهِمۡ وَقۡرٗاۚ وَإِن يَرَوۡاْ كُلَّ ءَايَةٖ لَّا يُؤۡمِنُواْ بِهَاۖ حَتَّىٰٓ إِذَا جَآءُوكَ يُجَٰدِلُونَكَ يَقُولُ ٱلَّذِينَ كَفَرُوٓاْ إِنۡ هَٰذَآ إِلَّآ أَسَٰطِيرُ ٱلۡأَوَّلِينَ
And among them is one who listens to you; and We have put covers upon their hearts so they may not understand it, and deafness in their ears; and (even) if they see all the signs, they will not believe in them; to the extent that when they come to you to debate with you, the disbelievers say, “This is nothing but stories of former people.”
اور ان میں کچھ وہ (بھی) ہیں جو آپ کی طرف کان لگائے رہتے ہیں اور ہم نے ان کے دلوں پر (ان کی اپنی بدنیتی کے باعث) پردے ڈال دیئے ہیں سو (اب ان کے لئے) ممکن نہیں کہ وہ اس (قرآن) کو سمجھ سکیں اور (ہم نے) ان کے کانوں میں ڈاٹ دے دی ہے، اور اگر وہ تمام نشانیوں کو (کھلا بھی) دیکھ لیں تو (بھی) اس پر ایمان نہیں لائیں گے۔ حتیٰ کہ جب آپ کے پاس آتے ہیں، آپ سے جھگڑا کرتے ہیں (اس وقت) کافر لوگ کہتے ہیں کہ یہ (قرآن) پہلے لوگوں کی جھوٹی کہانیوں کے سوا (کچھ) نہیں
Tafsir Ibn Kathir
The Polythiests Shall be Questioned About the Shirk They Committed
About the polytheists, Allah said:
وَيَوْمَ نَحْشُرُهُمْ جَمِيعاً
(And on the Day when We shall gather them all together,) This is on the Day of Resurrection, when He will ask them about the idols and rivals that they worshipped instead of Him. Allah will say to them,
أَيْنَ شُرَكَآؤُكُمُ الَّذِينَ كُنتُمْ تَزْعُمُونَ
(Where are your partners (false deities) whom you used to assert (as partners in worship with Allah)) Allah said in Surat Al-Qasas,
وَيَوْمَ يُنَـدِيهِمْ فَيَقُولُ أَيْنَ شُرَكَآئِىَ الَّذِينَ كُنتُمْ تَزْعُمُونَ
(And (remember) the Day when He will call to them, and say, "Where are My (so-called) partners whom you used to assert") 28:62. Allah's statement,
ثُمَّ لَمْ تَكُنْ فِتْنَتُهُمْ
(There will then be (left) no Fitnah for them) means, argument. `Ata' Al-Khurasani said that,
ثُمَّ لَمْ تَكُنْ فِتْنَتُهُمْ
(There will then be (left) no Fitnah for them) in the face of the affliction that will be placed on them,
إِلاَّ أَن قَالُواْ وَاللَّهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِينَ
(but to say: "By Allah, our Lord, we were not those who joined others (in worship with Allah).") Allah said next,
انظُرْ كَيْفَ كَذَبُواْ عَلَى أَنفُسِهِمْ وَضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُواْ يَفْتَرُونَ
(Look! How they lie against themselves! But the (lie) which they invented will disappear from them.) which is similar to His other statement,
ثُمَّ قِيلَ لَهُمْ أَيْنَ مَا كُنتُمْ تُشْرِكُونَ - مِن دُونِ اللَّهِ قَـالُواْ ضَـلُّواْ عَنَّا بَل لَّمْ نَكُنْ نَّدْعُواْ مِن قَبْلُ شَيْئاً كَذَلِكَ يُضِلُّ اللَّهُ الْكَـفِرِينَ
(Then it will be said to them: "Where are (all) those whom you used to join in worship as partners. Besides Allah" They will say, "They have vanished from us: Nay, we did not invoke (worship) anything before." Thus Allah leads astray the disbelievers.) 40:73-74
The Miserable Do Not Benefit from the Qur'an
Allah's statement,
وَمِنْهُمْ مَّن يَسْتَمِعُ إِلَيْكَ وَجَعَلْنَا عَلَى قُلُوبِهِمْ أَكِنَّةً أَن يَفْقَهُوهُ وَفِى ءَاذَانِهِمْ وَقْراً وَإِن يَرَوْاْ كُلَّ ءَايَةٍ لاَّ يُؤْمِنُواْ بِهَا
(And of them there are some who listen to you; but We have set veils on their hearts, so they understand it not, and deafness in their ears; if they see every one of the Ayat they will not believe therein;) means, they come to you, (O Muhammad ), so that they hear you recite the Qur'an, but its recitation does not benefit them, because Allah has set veils on their hearts, and so they do not understand the Qur'an,
وَفِى ءَاذَانِهِمْ وَقْرًا
(and (set) deafness in their ears;) that prevents them from hearing what benefits them. In another Ayah, Allah said;
وَمَثَلُ الَّذِينَ كَفَرُواْ كَمَثَلِ الَّذِى يَنْعِقُ بِمَا لاَ يَسْمَعُ إِلاَّ دُعَآءً وَنِدَآءً
(And the example of those who disbelieve, is as that of him who shouts at one who hears nothing but calls and cries.) 2:171 Allah said next,
وَإِن يَرَوْاْ كُلَّ ءَايَةٍ لاَّ يُؤْمِنُواْ بِهَا
(if they see every one of the Ayat they will not believe therein;) meaning, they will not believe in any of the Ayat, proofs, clear evidences and signs they witness because they do not have sound comprehension or fair judgment. In another Ayah, Allah said,
وَلَوْ عَلِمَ اللَّهُ فِيهِمْ خَيْرًا لأَسْمَعَهُمْ
(Had Allah known of any good in them, He would indeed have made them listen.) 8:23 Allah said,
حَتَّى إِذَا جَآءُوكَ يُجَـدِلُونَكَ
(to the point that when they come to you to argue with you...) using falsehood against truth,
يَقُولُ الَّذِينَ كَفَرُواْ إِنْ هَـذَآ إِلاَّ أَسَـطِيرُ الاٌّوَّلِينَ
(those who disbelieve say: "These are nothing but tales of the men of old.") The disbelievers say, what you (O Muhammad ) brought us was taken from the books of those who were before us, meaning plagiarized,
وَهُمْ يَنْهَوْنَ عَنْهُ وَيَنْأَوْنَ عَنْهُ
(And they prevent others from him and they themselves keep away from him,) They discourage people from following the truth, believing in Muhammad ﷺ and obeying the Qur'an,
وَيَنْأَوْنَ عَنْهُ
(and they themselves keep away from him,) They thus combine both evil acts, for they neither benefit themselves, nor let others benefit from the Prophet . `Ali bin Abi Talhah said that Ibn `Abbas said that the Ayah,
وَهُمْ يَنْهَوْنَ عَنْهُ
(And they prevent others from him.) means, they hinder people from believing in Muhammad ﷺ. Muhammad bin Al-Hanafiyyah said, "The disbelievers of Quraysh used to refrain from meeting Muhammad and they discouraged people from coming to him." Similar was reported from Qatadah, Mujahid and Ad-Dahhak and several others.
وَإِن يُهْلِكُونَ إِلاَّ أَنفُسَهُمْ وَمَا يَشْعُرُونَ
(and (by doing so) they destroy not but themselves, yet they perceive (it) not.) They destroy themselves by committing this evil action, and its harm will only touch them. Yet, they do not perceive this fact!
قیامت کے دن مشرکوں کا حشر قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تمام مخلوق کا حشر اپنے سامنے کرے گا پھر جو لوگ اللہ کے سوا اوروں کی پرستش کرتے تھے انہیں لا جواب شرمندہ اور بےدلیل کرنے کے لئے ان سے فرمائے گا کہ جن جن کو تم میرا شریک ٹھہراتے رہے آج وہ کہاں ہیں ؟ سورة قصص کی آیت (وَيَوْمَ يُنَادِيْهِمْ فَيَقُوْلُ اَيْنَ شُرَكَاۗءِيَ الَّذِيْنَ كُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ) 28۔ القصص :62) میں بھی یہ موجود ہے۔ اس کے بعد کی آیت میں جو لفظ فتنتھم ہے اس کا مطلب فتنہ سے مراد حجت و دلیل، عذرو معذرت، ابتلا اور جواب ہے۔ حضرت ابن عباس سے کسی نے مشرکین کے اس انکار شرک کی بابت سوال کیا تو آپ نے جواب دیا کہ ایک وقت یہ ہوگا کہ اور ایک اور وقت ہوگا کہ اللہ سے کوئی بات چھپائیں گے نہیں۔ پس ان دونوں آیتوں میں کوئی تعارض و اختلاف نہیں جب مشرکین دیکھیں گے کہ موحد نمازی جنت میں جانے لگے تو کہیں گے آؤ ہم بھی اپنے مشرک ہونے کا انکار کردیں، اس انکار کے بعد ان کی زبانیں بند کردی جائیں گی اور ان کے ہاتھ پاؤں گواہیاں دینے لگیں گے تو اب کوئی بات اللہ سے نہ چھپائیں گے۔ یہ توجہ بیان فرما کر حضرت عبداللہ نے فرمایا اب تو تیرے دل میں کوئی شک نہیں رہا ؟ سنو بات یہ ہے کہ قرآن میں ایسی چیزوں کا دوسری جگہ بیان و توجیہ موجود ہے لیکن بےعلمی کی وجہ سے لوگوں کی نگاہیں وہاں تک نہیں پہنچتیں۔ یہ بھی مروی ہے کہ یہ آیت منافقوں کے بارے میں ہے۔ لیکن یہ کچھ ٹھیک نہیں۔ اس لئے کہ آیت مکی ہے اور منافقوں کا وجود مکہ شریف میں تھا ہی نہیں۔ ہاں منافقوں کے بارے میں آیت (يَوْمَ يَبْعَثُهُمُ اللّٰهُ جَمِيْعًا فَيَحْلِفُوْنَ لَهٗ كَمَا يَحْلِفُوْنَ لَكُمْ وَيَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ عَلٰي شَيْءٍ ۭ اَلَآ اِنَّهُمْ هُمُ الْكٰذِبُوْنَ) 58۔ المجادلہ :18) ہے۔ دیکھ لو کہ کس طرح انہوں نے خود اپنے اوپر جھوٹ بولا ؟ اور جن جھوٹے معبودوں کا افترا انہوں نے کر رکھا تھا کیسے ان سے خالی ہاتھ ہوگئے ؟ چناچہ دوسری جگہ ہے کہ جب ان سے یہ سوال ہوگا خود یہ کہیں گے ضلو عنا وہ سب آج ہم سے دور ہوگئے، پھر فرماتا ہے بعض ان میں وہ بھی ہیں جو قرآن سننے کو تیرے پاس آتے ہیں لیکن اس سے کوئی فائدہ نہیں اٹھاتے۔ ان کے دلوں پر پردے ہیں وہ سمجھتے ہی نہیں ان کے کان انہیں یہ مبارک آوازیں اس طرح سناتے ہی نہیں کہ یہ اس سے فائدہ اٹھا سکیں اور احکام قرآنی کو قبول کریں، جیسے اور جگہ ان کی مثال ان چوپائے جانوروں سے دی گئی جو اپنے چروا ہے کی آواز تو سنتے ہیں لیکن مطلب خاک نہیں سمجھتے، یہ وہ لوگ ہیں جو بکثرت دلائل و براہن اور معجزات اور نشانیاں دیکھتے ہوئے بھی ایمان قبول نہیں کرتے، ان ازلی بد قسمتوں کے نصیب میں ایمان ہے ہی نہیں، یہ بےانصاف ہونے کے ساتھ ہی بےسمجھ بھی ہیں، اگر اب ان میں بھلائی دیکھتا تو ضرور انہیں سننے کی توفیق کے ساتھ ہی توفیق عمل و قبول بھی مرحمت فرماتا، ہاں انہیں اگر سوجھتی ہے تو یہ کہ اپنے باطل کے ساتھ تیرے حق کو دبا دیں تجھ سے جھگڑتے ہیں اور صاف کہہ جاتے ہیں کہ یہ تو اگلوں کے فسانے ہیں جو پہلی کتابوں سے نقل کر لئے گئے ہیں اس کے بعد کی آیت کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ یہ کفار خود بھی ایمان نہیں لاتے ہیں اور دوسروں کو بھی ایمان لانے سے روکتے ہیں حضور کی حمایت کرتے ہیں آپ کو برحق جانتے ہیں اور خود حق کو قبول نہیں کرتے، جیسے کہ ابو طالب کہ حضور کا بڑا ہی حمایتی تھا لیکن ایمان نصیب نہیں ہوا۔ آپ کے دس چچا تھے جو علانیہ تو آپ کے ساتھی تھے لیکن خفیہ مخالف تھے۔ لوگوں کو آپ کے قتل وغیرہ سے روکتے تھے لیکن خود آپ سے اور آپ کے دین سے دور ہوتے جاتے تھے۔ افسوس اس اپنے فعل سے خود اپنے ہی تئیں غارت کرتے تھے لیکن جانتے ہی نہ تھے کہ اس کرتوت کا وبال ہمیں ہی یڑ رہا ہے۔
26
View Single
وَهُمۡ يَنۡهَوۡنَ عَنۡهُ وَيَنۡـَٔوۡنَ عَنۡهُۖ وَإِن يُهۡلِكُونَ إِلَّآ أَنفُسَهُمۡ وَمَا يَشۡعُرُونَ
And they stop (others) from it and run away from it; and they ruin none except themselves, and they do not have sense.
اور وہ (دوسروں کو) اس (نبی کی اتباع اور قرآن) سے روکتے ہیں اور (خود بھی) اس سے دور بھاگتے ہیں، اور وہ محض اپنی ہی جانوں کو ہلاک کررہے ہیں اور وہ (اس ہلاکت کا) شعور (بھی) نہیں رکھتے
Tafsir Ibn Kathir
The Polythiests Shall be Questioned About the Shirk They Committed
About the polytheists, Allah said:
وَيَوْمَ نَحْشُرُهُمْ جَمِيعاً
(And on the Day when We shall gather them all together,) This is on the Day of Resurrection, when He will ask them about the idols and rivals that they worshipped instead of Him. Allah will say to them,
أَيْنَ شُرَكَآؤُكُمُ الَّذِينَ كُنتُمْ تَزْعُمُونَ
(Where are your partners (false deities) whom you used to assert (as partners in worship with Allah)) Allah said in Surat Al-Qasas,
وَيَوْمَ يُنَـدِيهِمْ فَيَقُولُ أَيْنَ شُرَكَآئِىَ الَّذِينَ كُنتُمْ تَزْعُمُونَ
(And (remember) the Day when He will call to them, and say, "Where are My (so-called) partners whom you used to assert") 28:62. Allah's statement,
ثُمَّ لَمْ تَكُنْ فِتْنَتُهُمْ
(There will then be (left) no Fitnah for them) means, argument. `Ata' Al-Khurasani said that,
ثُمَّ لَمْ تَكُنْ فِتْنَتُهُمْ
(There will then be (left) no Fitnah for them) in the face of the affliction that will be placed on them,
إِلاَّ أَن قَالُواْ وَاللَّهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِينَ
(but to say: "By Allah, our Lord, we were not those who joined others (in worship with Allah).") Allah said next,
انظُرْ كَيْفَ كَذَبُواْ عَلَى أَنفُسِهِمْ وَضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُواْ يَفْتَرُونَ
(Look! How they lie against themselves! But the (lie) which they invented will disappear from them.) which is similar to His other statement,
ثُمَّ قِيلَ لَهُمْ أَيْنَ مَا كُنتُمْ تُشْرِكُونَ - مِن دُونِ اللَّهِ قَـالُواْ ضَـلُّواْ عَنَّا بَل لَّمْ نَكُنْ نَّدْعُواْ مِن قَبْلُ شَيْئاً كَذَلِكَ يُضِلُّ اللَّهُ الْكَـفِرِينَ
(Then it will be said to them: "Where are (all) those whom you used to join in worship as partners. Besides Allah" They will say, "They have vanished from us: Nay, we did not invoke (worship) anything before." Thus Allah leads astray the disbelievers.) 40:73-74
The Miserable Do Not Benefit from the Qur'an
Allah's statement,
وَمِنْهُمْ مَّن يَسْتَمِعُ إِلَيْكَ وَجَعَلْنَا عَلَى قُلُوبِهِمْ أَكِنَّةً أَن يَفْقَهُوهُ وَفِى ءَاذَانِهِمْ وَقْراً وَإِن يَرَوْاْ كُلَّ ءَايَةٍ لاَّ يُؤْمِنُواْ بِهَا
(And of them there are some who listen to you; but We have set veils on their hearts, so they understand it not, and deafness in their ears; if they see every one of the Ayat they will not believe therein;) means, they come to you, (O Muhammad ), so that they hear you recite the Qur'an, but its recitation does not benefit them, because Allah has set veils on their hearts, and so they do not understand the Qur'an,
وَفِى ءَاذَانِهِمْ وَقْرًا
(and (set) deafness in their ears;) that prevents them from hearing what benefits them. In another Ayah, Allah said;
وَمَثَلُ الَّذِينَ كَفَرُواْ كَمَثَلِ الَّذِى يَنْعِقُ بِمَا لاَ يَسْمَعُ إِلاَّ دُعَآءً وَنِدَآءً
(And the example of those who disbelieve, is as that of him who shouts at one who hears nothing but calls and cries.) 2:171 Allah said next,
وَإِن يَرَوْاْ كُلَّ ءَايَةٍ لاَّ يُؤْمِنُواْ بِهَا
(if they see every one of the Ayat they will not believe therein;) meaning, they will not believe in any of the Ayat, proofs, clear evidences and signs they witness because they do not have sound comprehension or fair judgment. In another Ayah, Allah said,
وَلَوْ عَلِمَ اللَّهُ فِيهِمْ خَيْرًا لأَسْمَعَهُمْ
(Had Allah known of any good in them, He would indeed have made them listen.) 8:23 Allah said,
حَتَّى إِذَا جَآءُوكَ يُجَـدِلُونَكَ
(to the point that when they come to you to argue with you...) using falsehood against truth,
يَقُولُ الَّذِينَ كَفَرُواْ إِنْ هَـذَآ إِلاَّ أَسَـطِيرُ الاٌّوَّلِينَ
(those who disbelieve say: "These are nothing but tales of the men of old.") The disbelievers say, what you (O Muhammad ) brought us was taken from the books of those who were before us, meaning plagiarized,
وَهُمْ يَنْهَوْنَ عَنْهُ وَيَنْأَوْنَ عَنْهُ
(And they prevent others from him and they themselves keep away from him,) They discourage people from following the truth, believing in Muhammad ﷺ and obeying the Qur'an,
وَيَنْأَوْنَ عَنْهُ
(and they themselves keep away from him,) They thus combine both evil acts, for they neither benefit themselves, nor let others benefit from the Prophet . `Ali bin Abi Talhah said that Ibn `Abbas said that the Ayah,
وَهُمْ يَنْهَوْنَ عَنْهُ
(And they prevent others from him.) means, they hinder people from believing in Muhammad ﷺ. Muhammad bin Al-Hanafiyyah said, "The disbelievers of Quraysh used to refrain from meeting Muhammad and they discouraged people from coming to him." Similar was reported from Qatadah, Mujahid and Ad-Dahhak and several others.
وَإِن يُهْلِكُونَ إِلاَّ أَنفُسَهُمْ وَمَا يَشْعُرُونَ
(and (by doing so) they destroy not but themselves, yet they perceive (it) not.) They destroy themselves by committing this evil action, and its harm will only touch them. Yet, they do not perceive this fact!
قیامت کے دن مشرکوں کا حشر قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تمام مخلوق کا حشر اپنے سامنے کرے گا پھر جو لوگ اللہ کے سوا اوروں کی پرستش کرتے تھے انہیں لا جواب شرمندہ اور بےدلیل کرنے کے لئے ان سے فرمائے گا کہ جن جن کو تم میرا شریک ٹھہراتے رہے آج وہ کہاں ہیں ؟ سورة قصص کی آیت (وَيَوْمَ يُنَادِيْهِمْ فَيَقُوْلُ اَيْنَ شُرَكَاۗءِيَ الَّذِيْنَ كُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ) 28۔ القصص :62) میں بھی یہ موجود ہے۔ اس کے بعد کی آیت میں جو لفظ فتنتھم ہے اس کا مطلب فتنہ سے مراد حجت و دلیل، عذرو معذرت، ابتلا اور جواب ہے۔ حضرت ابن عباس سے کسی نے مشرکین کے اس انکار شرک کی بابت سوال کیا تو آپ نے جواب دیا کہ ایک وقت یہ ہوگا کہ اور ایک اور وقت ہوگا کہ اللہ سے کوئی بات چھپائیں گے نہیں۔ پس ان دونوں آیتوں میں کوئی تعارض و اختلاف نہیں جب مشرکین دیکھیں گے کہ موحد نمازی جنت میں جانے لگے تو کہیں گے آؤ ہم بھی اپنے مشرک ہونے کا انکار کردیں، اس انکار کے بعد ان کی زبانیں بند کردی جائیں گی اور ان کے ہاتھ پاؤں گواہیاں دینے لگیں گے تو اب کوئی بات اللہ سے نہ چھپائیں گے۔ یہ توجہ بیان فرما کر حضرت عبداللہ نے فرمایا اب تو تیرے دل میں کوئی شک نہیں رہا ؟ سنو بات یہ ہے کہ قرآن میں ایسی چیزوں کا دوسری جگہ بیان و توجیہ موجود ہے لیکن بےعلمی کی وجہ سے لوگوں کی نگاہیں وہاں تک نہیں پہنچتیں۔ یہ بھی مروی ہے کہ یہ آیت منافقوں کے بارے میں ہے۔ لیکن یہ کچھ ٹھیک نہیں۔ اس لئے کہ آیت مکی ہے اور منافقوں کا وجود مکہ شریف میں تھا ہی نہیں۔ ہاں منافقوں کے بارے میں آیت (يَوْمَ يَبْعَثُهُمُ اللّٰهُ جَمِيْعًا فَيَحْلِفُوْنَ لَهٗ كَمَا يَحْلِفُوْنَ لَكُمْ وَيَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ عَلٰي شَيْءٍ ۭ اَلَآ اِنَّهُمْ هُمُ الْكٰذِبُوْنَ) 58۔ المجادلہ :18) ہے۔ دیکھ لو کہ کس طرح انہوں نے خود اپنے اوپر جھوٹ بولا ؟ اور جن جھوٹے معبودوں کا افترا انہوں نے کر رکھا تھا کیسے ان سے خالی ہاتھ ہوگئے ؟ چناچہ دوسری جگہ ہے کہ جب ان سے یہ سوال ہوگا خود یہ کہیں گے ضلو عنا وہ سب آج ہم سے دور ہوگئے، پھر فرماتا ہے بعض ان میں وہ بھی ہیں جو قرآن سننے کو تیرے پاس آتے ہیں لیکن اس سے کوئی فائدہ نہیں اٹھاتے۔ ان کے دلوں پر پردے ہیں وہ سمجھتے ہی نہیں ان کے کان انہیں یہ مبارک آوازیں اس طرح سناتے ہی نہیں کہ یہ اس سے فائدہ اٹھا سکیں اور احکام قرآنی کو قبول کریں، جیسے اور جگہ ان کی مثال ان چوپائے جانوروں سے دی گئی جو اپنے چروا ہے کی آواز تو سنتے ہیں لیکن مطلب خاک نہیں سمجھتے، یہ وہ لوگ ہیں جو بکثرت دلائل و براہن اور معجزات اور نشانیاں دیکھتے ہوئے بھی ایمان قبول نہیں کرتے، ان ازلی بد قسمتوں کے نصیب میں ایمان ہے ہی نہیں، یہ بےانصاف ہونے کے ساتھ ہی بےسمجھ بھی ہیں، اگر اب ان میں بھلائی دیکھتا تو ضرور انہیں سننے کی توفیق کے ساتھ ہی توفیق عمل و قبول بھی مرحمت فرماتا، ہاں انہیں اگر سوجھتی ہے تو یہ کہ اپنے باطل کے ساتھ تیرے حق کو دبا دیں تجھ سے جھگڑتے ہیں اور صاف کہہ جاتے ہیں کہ یہ تو اگلوں کے فسانے ہیں جو پہلی کتابوں سے نقل کر لئے گئے ہیں اس کے بعد کی آیت کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ یہ کفار خود بھی ایمان نہیں لاتے ہیں اور دوسروں کو بھی ایمان لانے سے روکتے ہیں حضور کی حمایت کرتے ہیں آپ کو برحق جانتے ہیں اور خود حق کو قبول نہیں کرتے، جیسے کہ ابو طالب کہ حضور کا بڑا ہی حمایتی تھا لیکن ایمان نصیب نہیں ہوا۔ آپ کے دس چچا تھے جو علانیہ تو آپ کے ساتھی تھے لیکن خفیہ مخالف تھے۔ لوگوں کو آپ کے قتل وغیرہ سے روکتے تھے لیکن خود آپ سے اور آپ کے دین سے دور ہوتے جاتے تھے۔ افسوس اس اپنے فعل سے خود اپنے ہی تئیں غارت کرتے تھے لیکن جانتے ہی نہ تھے کہ اس کرتوت کا وبال ہمیں ہی یڑ رہا ہے۔
27
View Single
وَلَوۡ تَرَىٰٓ إِذۡ وُقِفُواْ عَلَى ٱلنَّارِ فَقَالُواْ يَٰلَيۡتَنَا نُرَدُّ وَلَا نُكَذِّبَ بِـَٔايَٰتِ رَبِّنَا وَنَكُونَ مِنَ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ
And if you see them when they will be placed above hell, they will say, “Alas, if only we might be sent back and not deny the signs of our Lord, and become Muslims!”
اگر آپ (انہیں اس وقت) دیکھیں جب وہ آگ (کے کنارے) پر کھڑے کئے جائیں گے تو کہیں گے: اے کاش! ہم (دنیا میں) پلٹا دیئے جائیں تو (اب) ہم اپنے رب کی آیتوں کو (کبھی) نہیں جھٹلائیں گے اور ایمان والوں میں سے ہو جائیں گے
Tafsir Ibn Kathir
Wishes and Hopes Do Not Help One When He Sees the Torment
Allah mentions the condition of the disbelievers when they are made to stand before the Fire on the Day of Resurrection and witness its chains and restraints, along with seeing the horrible, momentous conditions in the Fire with their own eyes. This is when the disbelievers will say,
يلَيْتَنَا نُرَدُّ وَلاَ نُكَذِّبَ بِـَايَـتِ رَبِّنَا وَنَكُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ
("Would that we were but sent back (to the world)! Then we would not deny the Ayat of our Lord, and we would be of the believers!") They wish that they would be sent back to the life of the world so that they could perform righteous deeds, refrain from disbelieving in the Ayat of their Lord and be among the believers. Allah said,
بَلْ بَدَا لَهُمْ مَّا كَانُواْ يُخْفُونَ مِن قَبْلُ
(Nay, what they had been concealing before has become manifest to them.) meaning, the disbelief, denial and rebellion that they used to hide in their hearts will then be uncovered, even though they will try to hide this fact in this life and the Hereafter. Earlier, Allah said,
ثُمَّ لَمْ تَكُنْ فِتْنَتُهُمْ إِلاَّ أَن قَالُواْ وَاللَّهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِينَ - انظُرْ كَيْفَ كَذَبُواْ عَلَى أَنفُسِهِمْ وَضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُواْ يَفْتَرُونَ
(There will then be (left) no trial for them but to say: "By Allah, our Lord, we were not those who joined others in worship with Allah." Look! How they lie against themselves! But the (lie) which they invented will disappear from them. ) It is also possible that the meaning here is that the disbelievers will realize the truth that they knew all along in their hearts, that is, that what the Messengers brought them in this life is true, although they used to deny his Message before their followers. Allah said that Musa said to Fir`awn,
لَقَدْ عَلِمْتَ مَآ أَنزَلَ هَـؤُلاءِ إِلاَّ رَبُّ السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ بَصَآئِرَ
("Verily, you know that these signs have clearly been sent down by none but the Lord of the heavens and the earth as eye-opening evidence.") 17:102 Allah said about Fir`awn and his people,
وَجَحَدُواْ بِهَا وَاسْتَيْقَنَتْهَآ أَنفُسُهُمْ ظُلْماً وَعُلُوّاً
(And they belied them (those Ayat) wrongfully and arrogantly, though they were themselves convinced thereof.) 27:14
بَلْ بَدَا لَهُمْ مَّا كَانُواْ يُخْفُونَ مِن قَبْلُ
(Nay, it has become manifest to them what they had been concealing before.) 6:28 When this occurs, and the disbelievers ask to be returned to this life, they will not do so because they truly wish to embrace the faith. Rather, they ask to be returned to this life for fear of the torment that they are witnessing before them, as punishment for the disbelief they committed, and to try and avoid the Fire that they see before their eyes.
وَلَوْ رُدُّواْ لَعَـدُواْ لِمَا نُهُواْ عَنْهُ وَإِنَّهُمْ لَكَـذِبُونَ
(But if they were returned, they would certainly revert to that which they were forbidden. And indeed they are liars.) meaning, they lie when they say they wish to go back to this life so that they can embrace the faith. Allah states that even if they were sent back to the life of this world, they will again commit the disbelief and defiance that they were prohibited.
وَإِنَّهُمْ لَكَـذِبُونَ
(And indeed they are liars.) in their statement that,
وَلَوْ تَرَى إِذْ وُقِفُواْ عَلَى النَّارِ فَقَالُواْ يلَيْتَنَا نُرَدُّ وَلاَ نُكَذِّبَ بِـَايَـتِ رَبِّنَا وَنَكُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ - بَلْ بَدَا لَهُمْ مَّا كَانُواْ يُخْفُونَ مِن قَبْلُ وَلَوْ رُدُّواْ لَعَـدُواْ لِمَا نُهُواْ عَنْهُ وَإِنَّهُمْ لَكَـذِبُونَ - وَقَالُواْ إِنْ هِىَ إِلاَّ حَيَاتُنَا الدُّنْيَا وَمَا نَحْنُ بِمَبْعُوثِينَ
("Would that we were but sent back! Then we would not deny the Ayat of our Lord, and we would be of the believers!" Nay, what they had been concealing before has become manifest to them. But if they were returned, they would certainly revert to that which they were forbidden. And indeed they are liars. And they said: "There is no (other life) but our (present) life of this world, and never shall we be resurrected.") Therefore, they will revert to their old behavior and say,
إِنْ هِىَ إِلاَّ حَيَاتُنَا الدُّنْيَا
(There is no life but our life of this world) and there is no Hereafter,
وَمَا نَحْنُ بِمَبْعُوثِينَ
(and never shall we be resurrected. ) Allah said,
وَلَوْ تَرَى إِذْ وُقِفُواْ عَلَى رَبِّهِمْ
(If you could but see when they will stand before their Lord!) in front of Him,
أَلَيْسَ هَـذَا بِالْحَقِّ
("Is not this the truth") meaning, is not Resurrection true, contarary to what you thought,
قَالُواْ بَلَى وَرَبِّنَا قَالَ فَذُوقُواْ العَذَابَ بِمَا كُنتُمْ تَكْفُرُونَ
(They will say: "Yes, by our Lord!" He will then say: "So taste you the torment because you used not to believe.") and because you today denied Resurrection. Therefore, taste the torment,
أَفَسِحْرٌ هَـذَا أَمْ أَنتُمْ لاَ تُبْصِرُونَ
("Is this magic, or do you not see") 52:15
کفار کا واویلا مگر سب بےسود کفار کا حال اور ان کا برا انجام بیان ہو رہا ہے کہ جب یہ جہنم کو وہاں کے طرح طرح کے عذابوں وہاں کی بدترین سزاؤں طوق و زنجیر کو دیکھ لیں گے اس وقت ہائے وائے مچائیں گے اور تمنا کریں گے کہ کیا اچھا ہو کہ دنیا کی طرف لوٹائے جائیں تاکہ وہاں جا کر نیکیاں کریں اللہ کی باتوں کو نہ جھٹلائیں اور پکے سچے موحد بن جائیں، حقیقت یہ ہے کہ جس کفر و تکذیب کو اور سختی و بےایمانی کو یہ چھپا رہے تھے وہ ان کے سامنے کھل گئی، جیسے اس سے اوپر کی آیتوں میں گزرا کہ اپنے کفر کا تھوڑی دیر پہلے انکار تھا اب یہ تمنا گویا اس انکار کے بعد کا اقرار ہے اور اپنے جھوٹ کا خود اعتراف ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جس سچائی کو دنیا میں چھپاتے رہے اسے آج کھول دیں گے، چناچہ حضرت موسیٰ ؑ نے فرعون سے کہا تھا کہ تو بخوبی جانتا ہے کہ یہ تمام نشانیاں آسمان و زمین کے رب کی اتاری ہوئی ہیں۔ خود اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے آیت (وَجَحَدُوْا بِهَا وَاسْتَيْقَنَتْهَآ اَنْفُسُهُمْ ظُلْمًا وَّعُلُوًّا ۭ فَانْظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِيْنَ) 17۔ النمل :14) یعنی فرعونیوں کے دلوں میں تو کامل یقین تھا لیکن صرف اپنی بڑائی اور سنگدلی کی وجہ سے بہ بظاہر منکر تھے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس سے مراد منافق ہوں جو ظاہرا مومن تھے اور دراصل کافر تھے اور یہ خبر جماعت کفار سے متعلق ہو۔ اگرچہ منافقوں کا وجود مدینے میں پیدا ہوا لیکن اس عادت کے موجود ہونے کی خبر مکی سورتوں میں بھی ہے۔ ملاحظہ ہو سورة عنکبوت جہاں صاف فرمان ہے آیت (وَلَيَعْلَمَنَّ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَلَيَعْلَمَنَّ الْمُنٰفِقِيْنَ) 29۔ العنکبوت :11) پس یہ منافقین دار آخرت میں عذابوں کو دیکھ لیں گے اور جو کفر و نفاق چھپا رہے تھے وہ آج ان پر ظاہر ہوجائیں گے، واللہ اعلم، اب ان کی تمنا ہوگی کاش کہ ہم دنیا کی طرف لوٹائے جائیں یہ بھی دراصل طمع ایمانی کی وجہ سے نہیں ہوگی بلکہ عذابوں سے چھوٹ جانے کے لئے ہوگی، چناچہ عالم الغیب اللہ فرماتا ہے کہ اگر یہ لوٹا دیئے جائیں جب بھی ان ہی نافرمانیوں میں پھر سے مشغول ہوجائیں گے۔ ان کا یہ قول کہ وہ رغبت ایمان کر رہے ہیں اب بھی غلط ہے۔ نہ یہ ایمان لائیں گے نہ جھٹلانے سے باز رہیں گے بلکہ لوٹنے کے بعد بھی وہی پہلا سبق رٹنے لگیں گے کہ بس اب تو یہی دنیا ہی زندگانی ہے، دوسری زندگی اور آخرت کوئی چیز نہیں۔ نہ مرنے کے بعد ہم اٹھائے جائیں گے، پھر ایک اور حال بیان ہو رہا ہے کہ یہ اللہ عزوجل کے سامنے کھڑے ہو نگے۔ اس وقت جناب باری ان سے فرمائے گا کہو اب تو اس کا سچا ہونا تم پر ثابت ہوگیا ؟ اب تو مان گئے کہ یہ غلط اور باطل نہیں ؟ اس وقت سرنگوں ہو کر کہیں گے کہ ہاں اللہ کی قسم یہ بالکل سچ اور سراسر حق ہے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا اب اپنے جھٹلانے اور نہ ماننے اور کفر و انکار کا خمیازہ بھگتو اور عذابوں کا مزہ چکھو۔ بتاؤ جادو ہے یا تم اندھے ہو۔
28
View Single
بَلۡ بَدَا لَهُم مَّا كَانُواْ يُخۡفُونَ مِن قَبۡلُۖ وَلَوۡ رُدُّواْ لَعَادُواْ لِمَا نُهُواْ عَنۡهُ وَإِنَّهُمۡ لَكَٰذِبُونَ
In fact it has become clear to them what they used to hide before; and were they to be sent back, they would commit the same which they were forbidden to, and undoubtedly they are liars.
(اس اقرار میں کوئی سچائی نہیں) بلکہ ان پر وہ (سب کچھ) ظاہر ہوگیا ہے جو وہ پہلے چھپایا کرتے تھے، اور اگر وہ (دنیا میں) لوٹا (بھی) دیئے جائیں تو (پھر) وہی دہرائیں گے جس سے وہ روکے گئے تھے اور بیشک وہ (پکے) جھوٹے ہیں
Tafsir Ibn Kathir
Wishes and Hopes Do Not Help One When He Sees the Torment
Allah mentions the condition of the disbelievers when they are made to stand before the Fire on the Day of Resurrection and witness its chains and restraints, along with seeing the horrible, momentous conditions in the Fire with their own eyes. This is when the disbelievers will say,
يلَيْتَنَا نُرَدُّ وَلاَ نُكَذِّبَ بِـَايَـتِ رَبِّنَا وَنَكُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ
("Would that we were but sent back (to the world)! Then we would not deny the Ayat of our Lord, and we would be of the believers!") They wish that they would be sent back to the life of the world so that they could perform righteous deeds, refrain from disbelieving in the Ayat of their Lord and be among the believers. Allah said,
بَلْ بَدَا لَهُمْ مَّا كَانُواْ يُخْفُونَ مِن قَبْلُ
(Nay, what they had been concealing before has become manifest to them.) meaning, the disbelief, denial and rebellion that they used to hide in their hearts will then be uncovered, even though they will try to hide this fact in this life and the Hereafter. Earlier, Allah said,
ثُمَّ لَمْ تَكُنْ فِتْنَتُهُمْ إِلاَّ أَن قَالُواْ وَاللَّهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِينَ - انظُرْ كَيْفَ كَذَبُواْ عَلَى أَنفُسِهِمْ وَضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُواْ يَفْتَرُونَ
(There will then be (left) no trial for them but to say: "By Allah, our Lord, we were not those who joined others in worship with Allah." Look! How they lie against themselves! But the (lie) which they invented will disappear from them. ) It is also possible that the meaning here is that the disbelievers will realize the truth that they knew all along in their hearts, that is, that what the Messengers brought them in this life is true, although they used to deny his Message before their followers. Allah said that Musa said to Fir`awn,
لَقَدْ عَلِمْتَ مَآ أَنزَلَ هَـؤُلاءِ إِلاَّ رَبُّ السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ بَصَآئِرَ
("Verily, you know that these signs have clearly been sent down by none but the Lord of the heavens and the earth as eye-opening evidence.") 17:102 Allah said about Fir`awn and his people,
وَجَحَدُواْ بِهَا وَاسْتَيْقَنَتْهَآ أَنفُسُهُمْ ظُلْماً وَعُلُوّاً
(And they belied them (those Ayat) wrongfully and arrogantly, though they were themselves convinced thereof.) 27:14
بَلْ بَدَا لَهُمْ مَّا كَانُواْ يُخْفُونَ مِن قَبْلُ
(Nay, it has become manifest to them what they had been concealing before.) 6:28 When this occurs, and the disbelievers ask to be returned to this life, they will not do so because they truly wish to embrace the faith. Rather, they ask to be returned to this life for fear of the torment that they are witnessing before them, as punishment for the disbelief they committed, and to try and avoid the Fire that they see before their eyes.
وَلَوْ رُدُّواْ لَعَـدُواْ لِمَا نُهُواْ عَنْهُ وَإِنَّهُمْ لَكَـذِبُونَ
(But if they were returned, they would certainly revert to that which they were forbidden. And indeed they are liars.) meaning, they lie when they say they wish to go back to this life so that they can embrace the faith. Allah states that even if they were sent back to the life of this world, they will again commit the disbelief and defiance that they were prohibited.
وَإِنَّهُمْ لَكَـذِبُونَ
(And indeed they are liars.) in their statement that,
وَلَوْ تَرَى إِذْ وُقِفُواْ عَلَى النَّارِ فَقَالُواْ يلَيْتَنَا نُرَدُّ وَلاَ نُكَذِّبَ بِـَايَـتِ رَبِّنَا وَنَكُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ - بَلْ بَدَا لَهُمْ مَّا كَانُواْ يُخْفُونَ مِن قَبْلُ وَلَوْ رُدُّواْ لَعَـدُواْ لِمَا نُهُواْ عَنْهُ وَإِنَّهُمْ لَكَـذِبُونَ - وَقَالُواْ إِنْ هِىَ إِلاَّ حَيَاتُنَا الدُّنْيَا وَمَا نَحْنُ بِمَبْعُوثِينَ
("Would that we were but sent back! Then we would not deny the Ayat of our Lord, and we would be of the believers!" Nay, what they had been concealing before has become manifest to them. But if they were returned, they would certainly revert to that which they were forbidden. And indeed they are liars. And they said: "There is no (other life) but our (present) life of this world, and never shall we be resurrected.") Therefore, they will revert to their old behavior and say,
إِنْ هِىَ إِلاَّ حَيَاتُنَا الدُّنْيَا
(There is no life but our life of this world) and there is no Hereafter,
وَمَا نَحْنُ بِمَبْعُوثِينَ
(and never shall we be resurrected. ) Allah said,
وَلَوْ تَرَى إِذْ وُقِفُواْ عَلَى رَبِّهِمْ
(If you could but see when they will stand before their Lord!) in front of Him,
أَلَيْسَ هَـذَا بِالْحَقِّ
("Is not this the truth") meaning, is not Resurrection true, contarary to what you thought,
قَالُواْ بَلَى وَرَبِّنَا قَالَ فَذُوقُواْ العَذَابَ بِمَا كُنتُمْ تَكْفُرُونَ
(They will say: "Yes, by our Lord!" He will then say: "So taste you the torment because you used not to believe.") and because you today denied Resurrection. Therefore, taste the torment,
أَفَسِحْرٌ هَـذَا أَمْ أَنتُمْ لاَ تُبْصِرُونَ
("Is this magic, or do you not see") 52:15
کفار کا واویلا مگر سب بےسود کفار کا حال اور ان کا برا انجام بیان ہو رہا ہے کہ جب یہ جہنم کو وہاں کے طرح طرح کے عذابوں وہاں کی بدترین سزاؤں طوق و زنجیر کو دیکھ لیں گے اس وقت ہائے وائے مچائیں گے اور تمنا کریں گے کہ کیا اچھا ہو کہ دنیا کی طرف لوٹائے جائیں تاکہ وہاں جا کر نیکیاں کریں اللہ کی باتوں کو نہ جھٹلائیں اور پکے سچے موحد بن جائیں، حقیقت یہ ہے کہ جس کفر و تکذیب کو اور سختی و بےایمانی کو یہ چھپا رہے تھے وہ ان کے سامنے کھل گئی، جیسے اس سے اوپر کی آیتوں میں گزرا کہ اپنے کفر کا تھوڑی دیر پہلے انکار تھا اب یہ تمنا گویا اس انکار کے بعد کا اقرار ہے اور اپنے جھوٹ کا خود اعتراف ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جس سچائی کو دنیا میں چھپاتے رہے اسے آج کھول دیں گے، چناچہ حضرت موسیٰ ؑ نے فرعون سے کہا تھا کہ تو بخوبی جانتا ہے کہ یہ تمام نشانیاں آسمان و زمین کے رب کی اتاری ہوئی ہیں۔ خود اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے آیت (وَجَحَدُوْا بِهَا وَاسْتَيْقَنَتْهَآ اَنْفُسُهُمْ ظُلْمًا وَّعُلُوًّا ۭ فَانْظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِيْنَ) 17۔ النمل :14) یعنی فرعونیوں کے دلوں میں تو کامل یقین تھا لیکن صرف اپنی بڑائی اور سنگدلی کی وجہ سے بہ بظاہر منکر تھے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس سے مراد منافق ہوں جو ظاہرا مومن تھے اور دراصل کافر تھے اور یہ خبر جماعت کفار سے متعلق ہو۔ اگرچہ منافقوں کا وجود مدینے میں پیدا ہوا لیکن اس عادت کے موجود ہونے کی خبر مکی سورتوں میں بھی ہے۔ ملاحظہ ہو سورة عنکبوت جہاں صاف فرمان ہے آیت (وَلَيَعْلَمَنَّ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَلَيَعْلَمَنَّ الْمُنٰفِقِيْنَ) 29۔ العنکبوت :11) پس یہ منافقین دار آخرت میں عذابوں کو دیکھ لیں گے اور جو کفر و نفاق چھپا رہے تھے وہ آج ان پر ظاہر ہوجائیں گے، واللہ اعلم، اب ان کی تمنا ہوگی کاش کہ ہم دنیا کی طرف لوٹائے جائیں یہ بھی دراصل طمع ایمانی کی وجہ سے نہیں ہوگی بلکہ عذابوں سے چھوٹ جانے کے لئے ہوگی، چناچہ عالم الغیب اللہ فرماتا ہے کہ اگر یہ لوٹا دیئے جائیں جب بھی ان ہی نافرمانیوں میں پھر سے مشغول ہوجائیں گے۔ ان کا یہ قول کہ وہ رغبت ایمان کر رہے ہیں اب بھی غلط ہے۔ نہ یہ ایمان لائیں گے نہ جھٹلانے سے باز رہیں گے بلکہ لوٹنے کے بعد بھی وہی پہلا سبق رٹنے لگیں گے کہ بس اب تو یہی دنیا ہی زندگانی ہے، دوسری زندگی اور آخرت کوئی چیز نہیں۔ نہ مرنے کے بعد ہم اٹھائے جائیں گے، پھر ایک اور حال بیان ہو رہا ہے کہ یہ اللہ عزوجل کے سامنے کھڑے ہو نگے۔ اس وقت جناب باری ان سے فرمائے گا کہو اب تو اس کا سچا ہونا تم پر ثابت ہوگیا ؟ اب تو مان گئے کہ یہ غلط اور باطل نہیں ؟ اس وقت سرنگوں ہو کر کہیں گے کہ ہاں اللہ کی قسم یہ بالکل سچ اور سراسر حق ہے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا اب اپنے جھٹلانے اور نہ ماننے اور کفر و انکار کا خمیازہ بھگتو اور عذابوں کا مزہ چکھو۔ بتاؤ جادو ہے یا تم اندھے ہو۔
29
View Single
وَقَالُوٓاْ إِنۡ هِيَ إِلَّا حَيَاتُنَا ٱلدُّنۡيَا وَمَا نَحۡنُ بِمَبۡعُوثِينَ
And they said, “There is no other life except our life of this world, and we are not to be raised.”
اور وہ (یہی) کہتے رہیں گے (جیسے انہوں نے پہلے کہا تھا) کہ ہماری اس دنیوی زندگی کے سوا (اور) کوئی (زندگی) نہیں اور ہم (مرنے کے بعد) نہیں اٹھائے جائیں گے
Tafsir Ibn Kathir
Wishes and Hopes Do Not Help One When He Sees the Torment
Allah mentions the condition of the disbelievers when they are made to stand before the Fire on the Day of Resurrection and witness its chains and restraints, along with seeing the horrible, momentous conditions in the Fire with their own eyes. This is when the disbelievers will say,
يلَيْتَنَا نُرَدُّ وَلاَ نُكَذِّبَ بِـَايَـتِ رَبِّنَا وَنَكُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ
("Would that we were but sent back (to the world)! Then we would not deny the Ayat of our Lord, and we would be of the believers!") They wish that they would be sent back to the life of the world so that they could perform righteous deeds, refrain from disbelieving in the Ayat of their Lord and be among the believers. Allah said,
بَلْ بَدَا لَهُمْ مَّا كَانُواْ يُخْفُونَ مِن قَبْلُ
(Nay, what they had been concealing before has become manifest to them.) meaning, the disbelief, denial and rebellion that they used to hide in their hearts will then be uncovered, even though they will try to hide this fact in this life and the Hereafter. Earlier, Allah said,
ثُمَّ لَمْ تَكُنْ فِتْنَتُهُمْ إِلاَّ أَن قَالُواْ وَاللَّهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِينَ - انظُرْ كَيْفَ كَذَبُواْ عَلَى أَنفُسِهِمْ وَضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُواْ يَفْتَرُونَ
(There will then be (left) no trial for them but to say: "By Allah, our Lord, we were not those who joined others in worship with Allah." Look! How they lie against themselves! But the (lie) which they invented will disappear from them. ) It is also possible that the meaning here is that the disbelievers will realize the truth that they knew all along in their hearts, that is, that what the Messengers brought them in this life is true, although they used to deny his Message before their followers. Allah said that Musa said to Fir`awn,
لَقَدْ عَلِمْتَ مَآ أَنزَلَ هَـؤُلاءِ إِلاَّ رَبُّ السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ بَصَآئِرَ
("Verily, you know that these signs have clearly been sent down by none but the Lord of the heavens and the earth as eye-opening evidence.") 17:102 Allah said about Fir`awn and his people,
وَجَحَدُواْ بِهَا وَاسْتَيْقَنَتْهَآ أَنفُسُهُمْ ظُلْماً وَعُلُوّاً
(And they belied them (those Ayat) wrongfully and arrogantly, though they were themselves convinced thereof.) 27:14
بَلْ بَدَا لَهُمْ مَّا كَانُواْ يُخْفُونَ مِن قَبْلُ
(Nay, it has become manifest to them what they had been concealing before.) 6:28 When this occurs, and the disbelievers ask to be returned to this life, they will not do so because they truly wish to embrace the faith. Rather, they ask to be returned to this life for fear of the torment that they are witnessing before them, as punishment for the disbelief they committed, and to try and avoid the Fire that they see before their eyes.
وَلَوْ رُدُّواْ لَعَـدُواْ لِمَا نُهُواْ عَنْهُ وَإِنَّهُمْ لَكَـذِبُونَ
(But if they were returned, they would certainly revert to that which they were forbidden. And indeed they are liars.) meaning, they lie when they say they wish to go back to this life so that they can embrace the faith. Allah states that even if they were sent back to the life of this world, they will again commit the disbelief and defiance that they were prohibited.
وَإِنَّهُمْ لَكَـذِبُونَ
(And indeed they are liars.) in their statement that,
وَلَوْ تَرَى إِذْ وُقِفُواْ عَلَى النَّارِ فَقَالُواْ يلَيْتَنَا نُرَدُّ وَلاَ نُكَذِّبَ بِـَايَـتِ رَبِّنَا وَنَكُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ - بَلْ بَدَا لَهُمْ مَّا كَانُواْ يُخْفُونَ مِن قَبْلُ وَلَوْ رُدُّواْ لَعَـدُواْ لِمَا نُهُواْ عَنْهُ وَإِنَّهُمْ لَكَـذِبُونَ - وَقَالُواْ إِنْ هِىَ إِلاَّ حَيَاتُنَا الدُّنْيَا وَمَا نَحْنُ بِمَبْعُوثِينَ
("Would that we were but sent back! Then we would not deny the Ayat of our Lord, and we would be of the believers!" Nay, what they had been concealing before has become manifest to them. But if they were returned, they would certainly revert to that which they were forbidden. And indeed they are liars. And they said: "There is no (other life) but our (present) life of this world, and never shall we be resurrected.") Therefore, they will revert to their old behavior and say,
إِنْ هِىَ إِلاَّ حَيَاتُنَا الدُّنْيَا
(There is no life but our life of this world) and there is no Hereafter,
وَمَا نَحْنُ بِمَبْعُوثِينَ
(and never shall we be resurrected. ) Allah said,
وَلَوْ تَرَى إِذْ وُقِفُواْ عَلَى رَبِّهِمْ
(If you could but see when they will stand before their Lord!) in front of Him,
أَلَيْسَ هَـذَا بِالْحَقِّ
("Is not this the truth") meaning, is not Resurrection true, contarary to what you thought,
قَالُواْ بَلَى وَرَبِّنَا قَالَ فَذُوقُواْ العَذَابَ بِمَا كُنتُمْ تَكْفُرُونَ
(They will say: "Yes, by our Lord!" He will then say: "So taste you the torment because you used not to believe.") and because you today denied Resurrection. Therefore, taste the torment,
أَفَسِحْرٌ هَـذَا أَمْ أَنتُمْ لاَ تُبْصِرُونَ
("Is this magic, or do you not see") 52:15
کفار کا واویلا مگر سب بےسود کفار کا حال اور ان کا برا انجام بیان ہو رہا ہے کہ جب یہ جہنم کو وہاں کے طرح طرح کے عذابوں وہاں کی بدترین سزاؤں طوق و زنجیر کو دیکھ لیں گے اس وقت ہائے وائے مچائیں گے اور تمنا کریں گے کہ کیا اچھا ہو کہ دنیا کی طرف لوٹائے جائیں تاکہ وہاں جا کر نیکیاں کریں اللہ کی باتوں کو نہ جھٹلائیں اور پکے سچے موحد بن جائیں، حقیقت یہ ہے کہ جس کفر و تکذیب کو اور سختی و بےایمانی کو یہ چھپا رہے تھے وہ ان کے سامنے کھل گئی، جیسے اس سے اوپر کی آیتوں میں گزرا کہ اپنے کفر کا تھوڑی دیر پہلے انکار تھا اب یہ تمنا گویا اس انکار کے بعد کا اقرار ہے اور اپنے جھوٹ کا خود اعتراف ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جس سچائی کو دنیا میں چھپاتے رہے اسے آج کھول دیں گے، چناچہ حضرت موسیٰ ؑ نے فرعون سے کہا تھا کہ تو بخوبی جانتا ہے کہ یہ تمام نشانیاں آسمان و زمین کے رب کی اتاری ہوئی ہیں۔ خود اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے آیت (وَجَحَدُوْا بِهَا وَاسْتَيْقَنَتْهَآ اَنْفُسُهُمْ ظُلْمًا وَّعُلُوًّا ۭ فَانْظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِيْنَ) 17۔ النمل :14) یعنی فرعونیوں کے دلوں میں تو کامل یقین تھا لیکن صرف اپنی بڑائی اور سنگدلی کی وجہ سے بہ بظاہر منکر تھے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس سے مراد منافق ہوں جو ظاہرا مومن تھے اور دراصل کافر تھے اور یہ خبر جماعت کفار سے متعلق ہو۔ اگرچہ منافقوں کا وجود مدینے میں پیدا ہوا لیکن اس عادت کے موجود ہونے کی خبر مکی سورتوں میں بھی ہے۔ ملاحظہ ہو سورة عنکبوت جہاں صاف فرمان ہے آیت (وَلَيَعْلَمَنَّ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَلَيَعْلَمَنَّ الْمُنٰفِقِيْنَ) 29۔ العنکبوت :11) پس یہ منافقین دار آخرت میں عذابوں کو دیکھ لیں گے اور جو کفر و نفاق چھپا رہے تھے وہ آج ان پر ظاہر ہوجائیں گے، واللہ اعلم، اب ان کی تمنا ہوگی کاش کہ ہم دنیا کی طرف لوٹائے جائیں یہ بھی دراصل طمع ایمانی کی وجہ سے نہیں ہوگی بلکہ عذابوں سے چھوٹ جانے کے لئے ہوگی، چناچہ عالم الغیب اللہ فرماتا ہے کہ اگر یہ لوٹا دیئے جائیں جب بھی ان ہی نافرمانیوں میں پھر سے مشغول ہوجائیں گے۔ ان کا یہ قول کہ وہ رغبت ایمان کر رہے ہیں اب بھی غلط ہے۔ نہ یہ ایمان لائیں گے نہ جھٹلانے سے باز رہیں گے بلکہ لوٹنے کے بعد بھی وہی پہلا سبق رٹنے لگیں گے کہ بس اب تو یہی دنیا ہی زندگانی ہے، دوسری زندگی اور آخرت کوئی چیز نہیں۔ نہ مرنے کے بعد ہم اٹھائے جائیں گے، پھر ایک اور حال بیان ہو رہا ہے کہ یہ اللہ عزوجل کے سامنے کھڑے ہو نگے۔ اس وقت جناب باری ان سے فرمائے گا کہو اب تو اس کا سچا ہونا تم پر ثابت ہوگیا ؟ اب تو مان گئے کہ یہ غلط اور باطل نہیں ؟ اس وقت سرنگوں ہو کر کہیں گے کہ ہاں اللہ کی قسم یہ بالکل سچ اور سراسر حق ہے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا اب اپنے جھٹلانے اور نہ ماننے اور کفر و انکار کا خمیازہ بھگتو اور عذابوں کا مزہ چکھو۔ بتاؤ جادو ہے یا تم اندھے ہو۔
30
View Single
وَلَوۡ تَرَىٰٓ إِذۡ وُقِفُواْ عَلَىٰ رَبِّهِمۡۚ قَالَ أَلَيۡسَ هَٰذَا بِٱلۡحَقِّۚ قَالُواْ بَلَىٰ وَرَبِّنَاۚ قَالَ فَذُوقُواْ ٱلۡعَذَابَ بِمَا كُنتُمۡ تَكۡفُرُونَ
And if you see when they are placed before their Lord, He will say, “Is this not real (the truth)? They will say, “Yes – why not, by our Lord!” He will say, “So now taste the punishment – the recompense of your disbelief.”
اور اگر آپ (انہیں اس وقت) دیکھیں جب وہ اپنے رب کے حضور کھڑے کئے جائیں گے، (اور انہیں) اللہ فرمائے گا: کیا یہ (زندگی) حق نہیں ہے؟ (تو) کہیں گے: کیوں نہیں! ہمارے رب کی قسم (یہ حق ہے، پھر) اللہ فرمائے گا: پس (اب) تم عذاب کا مزہ چکھو اس وجہ سے کہ تم کفر کیا کرتے تھے
Tafsir Ibn Kathir
Wishes and Hopes Do Not Help One When He Sees the Torment
Allah mentions the condition of the disbelievers when they are made to stand before the Fire on the Day of Resurrection and witness its chains and restraints, along with seeing the horrible, momentous conditions in the Fire with their own eyes. This is when the disbelievers will say,
يلَيْتَنَا نُرَدُّ وَلاَ نُكَذِّبَ بِـَايَـتِ رَبِّنَا وَنَكُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ
("Would that we were but sent back (to the world)! Then we would not deny the Ayat of our Lord, and we would be of the believers!") They wish that they would be sent back to the life of the world so that they could perform righteous deeds, refrain from disbelieving in the Ayat of their Lord and be among the believers. Allah said,
بَلْ بَدَا لَهُمْ مَّا كَانُواْ يُخْفُونَ مِن قَبْلُ
(Nay, what they had been concealing before has become manifest to them.) meaning, the disbelief, denial and rebellion that they used to hide in their hearts will then be uncovered, even though they will try to hide this fact in this life and the Hereafter. Earlier, Allah said,
ثُمَّ لَمْ تَكُنْ فِتْنَتُهُمْ إِلاَّ أَن قَالُواْ وَاللَّهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِينَ - انظُرْ كَيْفَ كَذَبُواْ عَلَى أَنفُسِهِمْ وَضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُواْ يَفْتَرُونَ
(There will then be (left) no trial for them but to say: "By Allah, our Lord, we were not those who joined others in worship with Allah." Look! How they lie against themselves! But the (lie) which they invented will disappear from them. ) It is also possible that the meaning here is that the disbelievers will realize the truth that they knew all along in their hearts, that is, that what the Messengers brought them in this life is true, although they used to deny his Message before their followers. Allah said that Musa said to Fir`awn,
لَقَدْ عَلِمْتَ مَآ أَنزَلَ هَـؤُلاءِ إِلاَّ رَبُّ السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ بَصَآئِرَ
("Verily, you know that these signs have clearly been sent down by none but the Lord of the heavens and the earth as eye-opening evidence.") 17:102 Allah said about Fir`awn and his people,
وَجَحَدُواْ بِهَا وَاسْتَيْقَنَتْهَآ أَنفُسُهُمْ ظُلْماً وَعُلُوّاً
(And they belied them (those Ayat) wrongfully and arrogantly, though they were themselves convinced thereof.) 27:14
بَلْ بَدَا لَهُمْ مَّا كَانُواْ يُخْفُونَ مِن قَبْلُ
(Nay, it has become manifest to them what they had been concealing before.) 6:28 When this occurs, and the disbelievers ask to be returned to this life, they will not do so because they truly wish to embrace the faith. Rather, they ask to be returned to this life for fear of the torment that they are witnessing before them, as punishment for the disbelief they committed, and to try and avoid the Fire that they see before their eyes.
وَلَوْ رُدُّواْ لَعَـدُواْ لِمَا نُهُواْ عَنْهُ وَإِنَّهُمْ لَكَـذِبُونَ
(But if they were returned, they would certainly revert to that which they were forbidden. And indeed they are liars.) meaning, they lie when they say they wish to go back to this life so that they can embrace the faith. Allah states that even if they were sent back to the life of this world, they will again commit the disbelief and defiance that they were prohibited.
وَإِنَّهُمْ لَكَـذِبُونَ
(And indeed they are liars.) in their statement that,
وَلَوْ تَرَى إِذْ وُقِفُواْ عَلَى النَّارِ فَقَالُواْ يلَيْتَنَا نُرَدُّ وَلاَ نُكَذِّبَ بِـَايَـتِ رَبِّنَا وَنَكُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ - بَلْ بَدَا لَهُمْ مَّا كَانُواْ يُخْفُونَ مِن قَبْلُ وَلَوْ رُدُّواْ لَعَـدُواْ لِمَا نُهُواْ عَنْهُ وَإِنَّهُمْ لَكَـذِبُونَ - وَقَالُواْ إِنْ هِىَ إِلاَّ حَيَاتُنَا الدُّنْيَا وَمَا نَحْنُ بِمَبْعُوثِينَ
("Would that we were but sent back! Then we would not deny the Ayat of our Lord, and we would be of the believers!" Nay, what they had been concealing before has become manifest to them. But if they were returned, they would certainly revert to that which they were forbidden. And indeed they are liars. And they said: "There is no (other life) but our (present) life of this world, and never shall we be resurrected.") Therefore, they will revert to their old behavior and say,
إِنْ هِىَ إِلاَّ حَيَاتُنَا الدُّنْيَا
(There is no life but our life of this world) and there is no Hereafter,
وَمَا نَحْنُ بِمَبْعُوثِينَ
(and never shall we be resurrected. ) Allah said,
وَلَوْ تَرَى إِذْ وُقِفُواْ عَلَى رَبِّهِمْ
(If you could but see when they will stand before their Lord!) in front of Him,
أَلَيْسَ هَـذَا بِالْحَقِّ
("Is not this the truth") meaning, is not Resurrection true, contarary to what you thought,
قَالُواْ بَلَى وَرَبِّنَا قَالَ فَذُوقُواْ العَذَابَ بِمَا كُنتُمْ تَكْفُرُونَ
(They will say: "Yes, by our Lord!" He will then say: "So taste you the torment because you used not to believe.") and because you today denied Resurrection. Therefore, taste the torment,
أَفَسِحْرٌ هَـذَا أَمْ أَنتُمْ لاَ تُبْصِرُونَ
("Is this magic, or do you not see") 52:15
کفار کا واویلا مگر سب بےسود کفار کا حال اور ان کا برا انجام بیان ہو رہا ہے کہ جب یہ جہنم کو وہاں کے طرح طرح کے عذابوں وہاں کی بدترین سزاؤں طوق و زنجیر کو دیکھ لیں گے اس وقت ہائے وائے مچائیں گے اور تمنا کریں گے کہ کیا اچھا ہو کہ دنیا کی طرف لوٹائے جائیں تاکہ وہاں جا کر نیکیاں کریں اللہ کی باتوں کو نہ جھٹلائیں اور پکے سچے موحد بن جائیں، حقیقت یہ ہے کہ جس کفر و تکذیب کو اور سختی و بےایمانی کو یہ چھپا رہے تھے وہ ان کے سامنے کھل گئی، جیسے اس سے اوپر کی آیتوں میں گزرا کہ اپنے کفر کا تھوڑی دیر پہلے انکار تھا اب یہ تمنا گویا اس انکار کے بعد کا اقرار ہے اور اپنے جھوٹ کا خود اعتراف ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جس سچائی کو دنیا میں چھپاتے رہے اسے آج کھول دیں گے، چناچہ حضرت موسیٰ ؑ نے فرعون سے کہا تھا کہ تو بخوبی جانتا ہے کہ یہ تمام نشانیاں آسمان و زمین کے رب کی اتاری ہوئی ہیں۔ خود اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے آیت (وَجَحَدُوْا بِهَا وَاسْتَيْقَنَتْهَآ اَنْفُسُهُمْ ظُلْمًا وَّعُلُوًّا ۭ فَانْظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِيْنَ) 17۔ النمل :14) یعنی فرعونیوں کے دلوں میں تو کامل یقین تھا لیکن صرف اپنی بڑائی اور سنگدلی کی وجہ سے بہ بظاہر منکر تھے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس سے مراد منافق ہوں جو ظاہرا مومن تھے اور دراصل کافر تھے اور یہ خبر جماعت کفار سے متعلق ہو۔ اگرچہ منافقوں کا وجود مدینے میں پیدا ہوا لیکن اس عادت کے موجود ہونے کی خبر مکی سورتوں میں بھی ہے۔ ملاحظہ ہو سورة عنکبوت جہاں صاف فرمان ہے آیت (وَلَيَعْلَمَنَّ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَلَيَعْلَمَنَّ الْمُنٰفِقِيْنَ) 29۔ العنکبوت :11) پس یہ منافقین دار آخرت میں عذابوں کو دیکھ لیں گے اور جو کفر و نفاق چھپا رہے تھے وہ آج ان پر ظاہر ہوجائیں گے، واللہ اعلم، اب ان کی تمنا ہوگی کاش کہ ہم دنیا کی طرف لوٹائے جائیں یہ بھی دراصل طمع ایمانی کی وجہ سے نہیں ہوگی بلکہ عذابوں سے چھوٹ جانے کے لئے ہوگی، چناچہ عالم الغیب اللہ فرماتا ہے کہ اگر یہ لوٹا دیئے جائیں جب بھی ان ہی نافرمانیوں میں پھر سے مشغول ہوجائیں گے۔ ان کا یہ قول کہ وہ رغبت ایمان کر رہے ہیں اب بھی غلط ہے۔ نہ یہ ایمان لائیں گے نہ جھٹلانے سے باز رہیں گے بلکہ لوٹنے کے بعد بھی وہی پہلا سبق رٹنے لگیں گے کہ بس اب تو یہی دنیا ہی زندگانی ہے، دوسری زندگی اور آخرت کوئی چیز نہیں۔ نہ مرنے کے بعد ہم اٹھائے جائیں گے، پھر ایک اور حال بیان ہو رہا ہے کہ یہ اللہ عزوجل کے سامنے کھڑے ہو نگے۔ اس وقت جناب باری ان سے فرمائے گا کہو اب تو اس کا سچا ہونا تم پر ثابت ہوگیا ؟ اب تو مان گئے کہ یہ غلط اور باطل نہیں ؟ اس وقت سرنگوں ہو کر کہیں گے کہ ہاں اللہ کی قسم یہ بالکل سچ اور سراسر حق ہے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا اب اپنے جھٹلانے اور نہ ماننے اور کفر و انکار کا خمیازہ بھگتو اور عذابوں کا مزہ چکھو۔ بتاؤ جادو ہے یا تم اندھے ہو۔
31
View Single
قَدۡ خَسِرَ ٱلَّذِينَ كَذَّبُواْ بِلِقَآءِ ٱللَّهِۖ حَتَّىٰٓ إِذَا جَآءَتۡهُمُ ٱلسَّاعَةُ بَغۡتَةٗ قَالُواْ يَٰحَسۡرَتَنَا عَلَىٰ مَا فَرَّطۡنَا فِيهَا وَهُمۡ يَحۡمِلُونَ أَوۡزَارَهُمۡ عَلَىٰ ظُهُورِهِمۡۚ أَلَا سَآءَ مَا يَزِرُونَ
Those who denied their meeting with Allah, have indeed failed; to the extent that when the Last Day suddenly came upon them they said, “Woe to us that we failed to believe in it” – and they carry their burdens on their backs; what an evil burden they carry!
پس ایسے لوگ نقصان میں رہے جنہوں نے اللہ کی ملاقات کو جھٹلا دیا یہاں تک کہ جب ان کے پاس اچانک قیامت آپہنچے گی (تو) کہیں گے: ہائے افسوس! ہم پر جو ہم نے اس (قیامت پر ایمان لانے) کے بارے میں (تقصیر) کی، اور وہ اپنی پیٹھوں پر اپنے (گناہوں کے) بوجھ لادے ہوئے ہوں گے، سن لو! وہ بہت برا بوجھ ہے جو یہ اٹھا رہے ہیں
Tafsir Ibn Kathir
Allah describes the regret of the disbelievers when facing Him, and their disappointment at the commencement, along with theirsorrow for not performing good deeds and for their evil deeds
This is why Allah said,
حَتَّى إِذَا جَآءَتْهُمُ السَّاعَةُ بَغْتَةً قَالُواْ يحَسْرَتَنَا عَلَى مَا فَرَّطْنَا فِيهَا
(until all of a sudden, the Hour (signs of death) is upon them, and they say: "Alas for us that we gave no thought to it.") `It' here refers to either the life of this world, or the affairs of the Hereafter. Allah's statement,
وَهُمْ يَحْمِلُونَ أَوْزَارَهُمْ عَلَى ظُهُورِهِمْ أَلاَ سَآءَ مَا يَزِرُونَ
(while they will bear their burdens on their backs; and evil indeed are the burdens that they will bear!) Asbat said that As-Suddi said, "Upon entering his grave, every unjust person will meet a man with an ugly face, dark skin, awful odor, wearing dirty clothes, who will enter his grave with him. When the unjust person sees him, he will say, `How ugly is your face!' He will reply, `So was your work, it was ugly.' The unjust person will say, `How foul is the odor coming from you!' He will reply, `Such was the case with your work, it stunk.' The unjust person will say, `How dirty are your clothes!' He will reply, `And your work too was dirty.' The unjust person will ask, `Who are you' He will reply, `I am your deeds.' So he will remain with the unjust person in his grave, and when he is resurrected on the Day of Resurrection, his companion will say to him, `In the life of the world, I used to carry you because you followed desire and lust. Today, you carry me.' So he will ride on the unjust person's back and lead him until he enters the Fire. So Allah said,
وَهُمْ يَحْمِلُونَ أَوْزَارَهُمْ عَلَى ظُهُورِهِمْ أَلاَ سَآءَ مَا يَزِرُونَ
(while they will bear their burdens on their backs; and evil indeed are the burdens that they will bear!) 6:31" Allah's statement,
وَمَا الْحَيَوةُ الدُّنْيَآ إِلاَّ لَعِبٌ وَلَهْوٌ
(And the life of this world is nothing but play and amusement.) means, most of it is play and amusement,
وَلَلدَّارُ الاٌّخِرَةُ خَيْرٌ لِّلَّذِينَ يَتَّقُونَ أَفَلاَ تَعْقِلُونَ
(But far better is the abode of the Hereafter for those who have Taqwa. Will you not then understand)
پشیمانی مگر جہنم دیکھ کر ! قیامت کو جھٹلانے والوں کا نقصان ان کا افسوس اور ان کی ندامت و خجالت کا بیان ہو رہا ہے جو اچانک قیامت کے آجانے کے بعد انہیں ہوگا۔ نیک اعمال کے ترک افسوس الگ، بد اعمالیوں پر پچھتاوا جدا ہے۔ فیھا کی ضمیر کا مرجع ممکن ہے حیاۃ ہو اور ممکن ہے اعمال ہو اور ممکن ہے دار آخرت ہو، یہ اپنے گناہوں کے بوجھ سے لدے ہوئے ہوں گے، اپنی بد کرداریاں اپنے اوپر اٹھائے ہوئے ہوں گے۔ آہ ! کیا برا بوجھ ہے ؟ حضرت ابو مرزوق فرماتے ہیں کافر یا فاجر جب اپنی قبر سے اٹھے گا اسی وقت اس کے سامنے ایک شخص آئے گا جو نہایت بھیانک، خوفناک اور بد صورت ہوگا اس کے جسم سے تعفن والی سڑاند کی سخت بدبو آرہی ہوگی وہ اس کے پاس جب پہنچے گا یہ دہشت و وحشت سے گھبرا کر اس سے پوچھے گا تو کون ہے ؟ وہ کہے گا خواب ! کیا تو مجھے پہچانتا نہیں ؟ یہ جواب دے گا ہرگز نہیں صرف اتنا جانتا ہوں کہ تو نہایت بد صورت کریہہ منظر اور تیز بدبو والا ہے تجھ سے زیادہ بد صورت کوئی بھی نہ ہوگا، وہ کہے گا سن میں تیرا خبیث عمل ہوں جسے تو دنیا میں مزے لے کر کرتا رہا۔ سن تو دنیا میں مجھ پر سوار رہا اب کمر جھکا میں تجھ پر سوار ہوجاؤں گا چناچہ وہ اس پر سوار ہوجائے گا یہی مطلب ہے اس آیت کا کہ وہ لوگ اپنے بد اعمال کو اپنی پیٹھ پر لادے ہوئے ہوں گے، حضرت سدی فرماتے ہیں کہ جو بھی ظالم شخص قبر میں جاتا ہے اس کی لاش کے قبر میں پہنچتے ہی ایک شخص اس کے پاس جاتا ہے سخت بد صورت سخت بد بودار سخت میلے اور قابل نفرت لباس والا یہ اسے دیکھتے ہی کہتا ہے تو تو بڑا ہی بد صورت ہے بدبو دار ہے یہ کہتا ہے تیرے اعمال ایسے ہی گندے تھے وہ کہتا ہے تیرا لباس نہایت متعفن ہے، یہ کہتا ہے تیرے اعمال ایسے ہی قابل نفرت تھے وہ کہتا ہے اچھا بتا تو سہی اے منحوس تو ہے کون ؟ یہ کہتا ہے تیرے عمل کا مجسمہ، اب یہ اس کے ساتھ ہی رہتا ہے اور اس کیلئے عذابوں کے ساتھ ہی ایک عذاب ہوتا ہے جب قیامت کے دن یہ اپنی قبر سے چلے گا تو یہ کہے گا ٹھہر جاؤ دنیا میں تو نے میری سواری لی ہے اب میں تیری سواری لوں گا چناچہ وہ اس پر سوار ہوجاتا ہے اور اسے مارتا پیٹتا ذلت کے ساتھ جانوروں کی طرح ہنکاتا ہوا جہنم میں پہنچاتا ہے۔ یہی معنی ہیں اس آیت کے اس جملے کے ہیں۔ دنیا کی زندگانی بجز کھیل تماشے کے ہے ہی کیا، آنکھ بند ہوئی اور خواب ختم، البتہ اللہ سے ڈرنے والے لوگوں کیلئے آخرت کی زندگانی بڑی چیز ہے اور بہت ہی بہتر چیز ہے تمہیں کیا ہوگیا کہ تم عقل سے کام ہی نہیں لیتے ؟
32
View Single
وَمَا ٱلۡحَيَوٰةُ ٱلدُّنۡيَآ إِلَّا لَعِبٞ وَلَهۡوٞۖ وَلَلدَّارُ ٱلۡأٓخِرَةُ خَيۡرٞ لِّلَّذِينَ يَتَّقُونَۚ أَفَلَا تَعۡقِلُونَ
The life of this world is nothing except a pastime and sport; and undoubtedly the abode of the Hereafter is better for the pious; so do you not have sense?
اور دنیوی زندگی (کی عیش و عشرت) کھیل اور تماشے کے سوا کچھ نہیں، اور یقیناً آخرت کا گھر ہی ان لوگوں کے لئے بہتر ہے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں، کیا تم (یہ حقیقت) نہیں سمجھتے
Tafsir Ibn Kathir
Allah describes the regret of the disbelievers when facing Him, and their disappointment at the commencement, along with theirsorrow for not performing good deeds and for their evil deeds
This is why Allah said,
حَتَّى إِذَا جَآءَتْهُمُ السَّاعَةُ بَغْتَةً قَالُواْ يحَسْرَتَنَا عَلَى مَا فَرَّطْنَا فِيهَا
(until all of a sudden, the Hour (signs of death) is upon them, and they say: "Alas for us that we gave no thought to it.") `It' here refers to either the life of this world, or the affairs of the Hereafter. Allah's statement,
وَهُمْ يَحْمِلُونَ أَوْزَارَهُمْ عَلَى ظُهُورِهِمْ أَلاَ سَآءَ مَا يَزِرُونَ
(while they will bear their burdens on their backs; and evil indeed are the burdens that they will bear!) Asbat said that As-Suddi said, "Upon entering his grave, every unjust person will meet a man with an ugly face, dark skin, awful odor, wearing dirty clothes, who will enter his grave with him. When the unjust person sees him, he will say, `How ugly is your face!' He will reply, `So was your work, it was ugly.' The unjust person will say, `How foul is the odor coming from you!' He will reply, `Such was the case with your work, it stunk.' The unjust person will say, `How dirty are your clothes!' He will reply, `And your work too was dirty.' The unjust person will ask, `Who are you' He will reply, `I am your deeds.' So he will remain with the unjust person in his grave, and when he is resurrected on the Day of Resurrection, his companion will say to him, `In the life of the world, I used to carry you because you followed desire and lust. Today, you carry me.' So he will ride on the unjust person's back and lead him until he enters the Fire. So Allah said,
وَهُمْ يَحْمِلُونَ أَوْزَارَهُمْ عَلَى ظُهُورِهِمْ أَلاَ سَآءَ مَا يَزِرُونَ
(while they will bear their burdens on their backs; and evil indeed are the burdens that they will bear!) 6:31" Allah's statement,
وَمَا الْحَيَوةُ الدُّنْيَآ إِلاَّ لَعِبٌ وَلَهْوٌ
(And the life of this world is nothing but play and amusement.) means, most of it is play and amusement,
وَلَلدَّارُ الاٌّخِرَةُ خَيْرٌ لِّلَّذِينَ يَتَّقُونَ أَفَلاَ تَعْقِلُونَ
(But far better is the abode of the Hereafter for those who have Taqwa. Will you not then understand)
پشیمانی مگر جہنم دیکھ کر ! قیامت کو جھٹلانے والوں کا نقصان ان کا افسوس اور ان کی ندامت و خجالت کا بیان ہو رہا ہے جو اچانک قیامت کے آجانے کے بعد انہیں ہوگا۔ نیک اعمال کے ترک افسوس الگ، بد اعمالیوں پر پچھتاوا جدا ہے۔ فیھا کی ضمیر کا مرجع ممکن ہے حیاۃ ہو اور ممکن ہے اعمال ہو اور ممکن ہے دار آخرت ہو، یہ اپنے گناہوں کے بوجھ سے لدے ہوئے ہوں گے، اپنی بد کرداریاں اپنے اوپر اٹھائے ہوئے ہوں گے۔ آہ ! کیا برا بوجھ ہے ؟ حضرت ابو مرزوق فرماتے ہیں کافر یا فاجر جب اپنی قبر سے اٹھے گا اسی وقت اس کے سامنے ایک شخص آئے گا جو نہایت بھیانک، خوفناک اور بد صورت ہوگا اس کے جسم سے تعفن والی سڑاند کی سخت بدبو آرہی ہوگی وہ اس کے پاس جب پہنچے گا یہ دہشت و وحشت سے گھبرا کر اس سے پوچھے گا تو کون ہے ؟ وہ کہے گا خواب ! کیا تو مجھے پہچانتا نہیں ؟ یہ جواب دے گا ہرگز نہیں صرف اتنا جانتا ہوں کہ تو نہایت بد صورت کریہہ منظر اور تیز بدبو والا ہے تجھ سے زیادہ بد صورت کوئی بھی نہ ہوگا، وہ کہے گا سن میں تیرا خبیث عمل ہوں جسے تو دنیا میں مزے لے کر کرتا رہا۔ سن تو دنیا میں مجھ پر سوار رہا اب کمر جھکا میں تجھ پر سوار ہوجاؤں گا چناچہ وہ اس پر سوار ہوجائے گا یہی مطلب ہے اس آیت کا کہ وہ لوگ اپنے بد اعمال کو اپنی پیٹھ پر لادے ہوئے ہوں گے، حضرت سدی فرماتے ہیں کہ جو بھی ظالم شخص قبر میں جاتا ہے اس کی لاش کے قبر میں پہنچتے ہی ایک شخص اس کے پاس جاتا ہے سخت بد صورت سخت بد بودار سخت میلے اور قابل نفرت لباس والا یہ اسے دیکھتے ہی کہتا ہے تو تو بڑا ہی بد صورت ہے بدبو دار ہے یہ کہتا ہے تیرے اعمال ایسے ہی گندے تھے وہ کہتا ہے تیرا لباس نہایت متعفن ہے، یہ کہتا ہے تیرے اعمال ایسے ہی قابل نفرت تھے وہ کہتا ہے اچھا بتا تو سہی اے منحوس تو ہے کون ؟ یہ کہتا ہے تیرے عمل کا مجسمہ، اب یہ اس کے ساتھ ہی رہتا ہے اور اس کیلئے عذابوں کے ساتھ ہی ایک عذاب ہوتا ہے جب قیامت کے دن یہ اپنی قبر سے چلے گا تو یہ کہے گا ٹھہر جاؤ دنیا میں تو نے میری سواری لی ہے اب میں تیری سواری لوں گا چناچہ وہ اس پر سوار ہوجاتا ہے اور اسے مارتا پیٹتا ذلت کے ساتھ جانوروں کی طرح ہنکاتا ہوا جہنم میں پہنچاتا ہے۔ یہی معنی ہیں اس آیت کے اس جملے کے ہیں۔ دنیا کی زندگانی بجز کھیل تماشے کے ہے ہی کیا، آنکھ بند ہوئی اور خواب ختم، البتہ اللہ سے ڈرنے والے لوگوں کیلئے آخرت کی زندگانی بڑی چیز ہے اور بہت ہی بہتر چیز ہے تمہیں کیا ہوگیا کہ تم عقل سے کام ہی نہیں لیتے ؟
33
View Single
قَدۡ نَعۡلَمُ إِنَّهُۥ لَيَحۡزُنُكَ ٱلَّذِي يَقُولُونَۖ فَإِنَّهُمۡ لَا يُكَذِّبُونَكَ وَلَٰكِنَّ ٱلظَّـٰلِمِينَ بِـَٔايَٰتِ ٱللَّهِ يَجۡحَدُونَ
We know well that their statement grieves you – so they do not deny you (Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him) but in fact the unjust deny the signs of Allah.
(اے حبیب!) بیشک ہم جانتے ہیں کہ وہ (بات) یقیناً آپ کو رنجیدہ کررہی ہے کہ جو یہ لوگ کہتے ہیں، پس یہ آپ کو نہیں جھٹلا رہے لیکن (حقیقت یہ ہے کہ) ظالم لوگ اللہ کی آیتوں سے ہی انکار کررہے ہیں
Tafsir Ibn Kathir
Comforting the Prophet
Allah comforts the Prophet in his grief over his people's denial and defiance of him,
قَدْ نَعْلَمُ إِنَّهُ لَيَحْزُنُكَ الَّذِى يَقُولُونَ
(We know indeed the grief which their words cause you;) meaning, We know about their denial of you and your sadness and sorrow for them. Allah said in other Ayat,
فَلاَ تَذْهَبْ نَفْسُكَ عَلَيْهِمْ حَسَرَتٍ
(So destroy not yourself in sorrow for them.) 35:8, and
لَعَلَّكَ بَـخِعٌ نَّفْسَكَ أَلاَّ يَكُونُواْ مُؤْمِنِينَ
(It may be that you are going to kill yourself with grief, that they do not become believers.) 26:3, and,
فَلَعَلَّكَ بَـخِعٌ نَّفْسَكَ عَلَى ءَاثَـرِهِمْ إِن لَّمْ يُؤْمِنُواْ بِهَـذَا الْحَدِيثِ أَسَفاً
(Perhaps, you, would kill yourself in grief, over their footsteps (for their turning away from you), because they believe not in this narration.) 18:6 Allah's statement,
فَإِنَّهُمْ لاَ يُكَذِّبُونَكَ وَلَـكِنَّ الظَّـلِمِينَ بِـَايَـتِ اللَّهِ يَجْحَدُونَ
(it is not you that they deny, but it is the verses of Allah that the wrongdoers deny.) means, they do not accuse you of being a liar,
وَلَـكِنَّ الظَّـلِمِينَ بِـَايَـتِ اللَّهِ يَجْحَدُونَ
(but it is the Verses of Allah that the wrongdoers deny. ) It is only the truth that they reject and refuse. Muhammad bin Ishaq mentioned that Az-Zuhri said that Abu Jahl, Abu Sufyan Sakhr bin Harb and Al-Akhnas bin Shurayq once came to listen to the Prophet reciting the Qur'an at night, but these three men were not aware of the presence of each other. So they listened to the Prophet's recitation until the morning, and then left. They met each other on their way back and each one of them asked the others, "What brought you" So they mentioned to each other the reason why they came. They vowed not to repeat this incident so that the young men of Quraysh would not hear of what they did and imitate them. On the second night, each one of the three came back thinking that the other two would not come because of the vows they made to each other. In the morning, they again met each other on their way back and criticized each other, vowing not to repeat what they did. On the third night, they again went to listen to the Prophet and in the morning they again vowed not to repeat this incident. During that day, Al-Akhnas bin Shurayq took his staff and went to Abu Sufyan bin Harb in his house saying, "O Abu Hanzalah! What is your opinion concerning what you heard from Muhammad ﷺ." Abu Sufyan said, "O Abu Tha`labah! By Allah, I have heard some things that I recognize and know their implications. I also heard some things whose meaning and implications were unknown to me." Al-Akhnas said, "And I the same, by He Whom you swore by!" Al-Akhnas left Abu Sufyan and went to Abu Jahl and asked him, "O Abu Al-Hakam! What is your opinion about what you heard from Muhammad ﷺ. " Abu Jahl said, "We competed with Bani `Abd Manaf (the Prophet's subtribe) and so we fed as they fed and gave away as they gave away. So, when we were neck and neck with them, just as two horses in a race, they said, `There is a Prophet from among us, to whom revelation from the heaven comes.' So how can we ever beat them at that By Allah we will never believe in him or accept what he says.' This is when Al-Akhnas left Abu Jahl and went away." Allah's statement,
وَلَقَدْ كُذِّبَتْ رُسُلٌ مِّن قَبْلِكَ فَصَبَرُواْ عَلَى مَا كُذِّبُواْ وَأُوذُواْ حَتَّى أَتَـهُمْ نَصْرُنَا
(Verily, (many) Messengers were denied before you, but with patience they bore the denial, and they were hurt, till Our help reached them,) This comforts the Prophet's concern for those who denied and rejected him. Allah also commands the Prophet to be patient, just as the mighty Messengers before him were. He also promised him victory, just as the previous Messengers were victorious and the good end was theirs, after the denial and harm their people placed on them. Then, victory came to them in this life, just as victory is theirs in the Hereafter. Allah said,
وَلاَ مُبَدِّلَ لِكَلِمَـتِ اللَّهِ
(and none can alter the Words of Allah.) This refers to His decision that victory in this life and the Hereafter is for His believing servants. Allah said in other Ayat,
وَلَقَدْ سَبَقَتْ كَلِمَتُنَا لِعِبَادِنَا الْمُرْسَلِينَ - إِنَّهُمْ لَهُمُ الْمَنصُورُونَ - وَإِنَّ جُندَنَا لَهُمُ الْغَـلِبُونَ
(And, verily, Our Word has gone forth of old for Our servants, the Messengers. That they verily would be made triumphant. And that Our hosts, they verily would be the victors.) 37:171-173, and,
كَتَبَ اللَّهُ لاّغْلِبَنَّ أَنَاْ وَرُسُلِى إِنَّ اللَّهَ قَوِىٌّ عَزِيزٌ
(Allah has decreed: "Verily! It is I and My Messengers who shall be the victorious." Verily, Allah is All-Powerful, Almighty.) 58:21 Allah said;
وَلَقدْ جَآءَكَ مِن نَّبَإِ الْمُرْسَلِينَ
(Surely, there has reached you the information about the Messengers (before you).) who were given victory and prevailed over the people who rejected them. And you (O Muhammad ), have a good example in them. Allah said next,
وَإِن كَانَ كَبُرَ عَلَيْكَ إِعْرَاضُهُمْ
(If their aversion is hard on you,) and you cannot be patient because of their aversion,
فَإِن اسْتَطَعْتَ أَن تَبْتَغِىَ نَفَقاً فِى الاٌّرْضِ أَوْ سُلَّماً فِى السَّمَآءِ
(then if you were able to seek a tunnel in the ground or a ladder to the sky...) `Ali bin Abi Talhah reported that Ibn `Abbas commented, "If you were able to seek a tunnel and bring them an Ayah, or go up a ladder in the sky and bring a better Ayah than the one I (Allah) gave them, then do that." Similar was reported from Qatadah, As-Suddi and others. Allah's statement,
وَلَوْ شَآءَ اللَّهُ لَجَمَعَهُمْ عَلَى الْهُدَى فَلاَ تَكُونَنَّ مِنَ الْجَـهِلِينَ
(And had Allah willed, He could have gathered them together upon true guidance, so be not you one of the ignorant.) is similar to His statement,
وَلَوْ شَآءَ رَبُّكَ لآمَنَ مَن فِى الاٌّرْضِ كُلُّهُمْ جَمِيعًا
(And had your Lord willed, those on earth would have believed, all of them together) `Ali bin Abi Talhah reported that Ibn `Abbas said about Allah's statement,
وَلَوْ شَآءَ اللَّهُ لَجَمَعَهُمْ عَلَى الْهُدَى
(And had Allah willed, He could have gathered them together upon true guidance,) "The Messenger of Allah ﷺ was eager that all people believe and be guided to follow him. Allah told him that only those whose happiness Allah has written in the first Dhikr will believe." Allah's statement,
إِنَّمَا يَسْتَجِيبُ الَّذِينَ يَسْمَعُونَ
(It is only those who listen, that will respond,) means, only those who hear the speech, comprehend and understand it, will accept your call, O Muhammad ! In another Ayah, Allah said;
لِّيُنذِرَ مَن كَانَ حَيّاً وَيَحِقَّ الْقَوْلُ عَلَى الْكَـفِرِينَ
(That it may give warning to him who is living, and that the Word may be justified against the disbelievers.) 36:70. Allah's statement,
وَالْمَوْتَى يَبْعَثُهُمُ اللَّهُ ثُمَّ إِلَيْهِ يُرْجَعُونَ
(but as for the dead, Allah will raise them up, then to Him they will be returned.) refers to the disbelievers because their hearts are dead. Therefore, Allah resembled them to dead corpses as a way of mocking and belittling them, saying,
وَالْمَوْتَى يَبْعَثُهُمُ اللَّهُ ثُمَّ إِلَيْهِ يُرْجَعُونَ
(but as for the dead (disbelievers), Allah will raise them up, then to Him they will be returned (for their recompense).)
حق کے دشمن کو اس کے حال پر چھوڑئیے آپ ﷺ سچے ہیں اللہ تعالیٰ اپنے نبی محترم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو تسلی دیتا ہے کہ آپ اپنی قوم کو جھٹلانے نہ ماننے اور ایذائیں پہنچانے سے تنگ دل نہ ہوں، فرماتا ہے کہ ہمیں ان کی حرکت خوب معلوم ہے، آپ ان کی اس لغویت پر ملال نہ کرو، کیا اگر یہ ایمان نہ لائیں تو آپ ان کے پیچھے اپنی جان کو روگ لگا لیں گے ؟ کہاں تک ان کے لئے حسرت و افسوس کریں گے ؟ سمجھا دیجئے اور ان کا معاملہ سپرد الہ کیجئے۔ یہ لوگ دراصل آپ کو جھوٹا نہیں جانتے بلکہ یہ تو حق کے دشمن ہیں۔ چنانجہ ابو جہل نے صاف کہا تھا کہ ہم تجھے نہیں جھٹلاتے لیکن تو جو لے کر آیا ہے اسے نہیں مانتے، حکم کی روایت میں ہے کہ اسی بارے میں یہ آیت نازل ہوئی، ابن ابی حاتم میں ہے کہ ابو جہل کو حضور سے مصافحہ کرتے ہوئے دیکھ کر کسی نے اس سے کہا کہ اس بےدین سے تو مصافحہ کرتا ہے ؟ تو اس نے جواب دیا کہ اللہ کی قسم مجھے خوب علم ہے اور کامل یقین ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کے سچے نبی ہیں۔ ہم صرف خاندانی بنا پر ان کی نبوت کے ماتحت نہیں ہوتے۔ ہم نے آج تک نبی عبد عناف کی تابعداری نہیں کی۔ الغرض حضور کو رسول اللہ مانتے ہوئے آپ کی فرمانبرداری سے بھاگتے تھے، امام محمد بن اسحاق ؒ نے بیان فرمایا ہے کہ حضرت زہری ؒ اس قصے کو بیان کرتے ہوئے جس میں ابو جہل، ابو سفیان، صحر بن حرب، اخنس بن شریق کا رات کے وقت پوشیدہ طور پر آن کر ایک دوسرے کی بیخبر ی میں رسول اللہ ﷺ کا زبانی قرآن سننا ہے کہتے ہیں کہ ان لوگوں نے صبح تک قرآن سنا روشنی ذرا سی نمودار ہوئی تھی تو یہ واپس چلے۔ اتفاقاً ایک چوک میں ایک دوسرے سے ملاقات ہوگئی حیرت سے ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں کہ اس وقت یہاں کہاں ؟ پھر ہر ایک دوسرے سے صاف صاف کہہ دیتا ہے کہ حضور سے قرآن سننے کے لئے چپ چاپ آگئے تھے۔ اب تینوں بیٹھ کر معاہدہ کرتے ہیں کہ آئندہ ایسا نہ کرنا ورنہ اگر اوروں کو خبر ہوئی اور وہ آئے تو وہ تو سچے پکے مسلمان ہوجائیں گے۔ دوسری رات کو ہر ایک نے اپنے طور یہ گمان کر کے کہ کل رات کے وعدے کے مطابق وہ دونوں تو آئیں گے نہیں میں تنہا کیوں نہ جاؤں ؟ میرے جانے کی کسے خبر ہوگی ؟ اپنے گھر سے پچھلی رات کے اندھیرے اور سوفتے میں ہر ایک چلا اور ایک کونے میں دب کر اللہ کے نبی کی زبانی تلاوت قرآن کا مزہ لیتا رہا اور صبح کے وقت واپس چلا۔ اتفاقاً آج بھی اسی جگہ تینوں کا میل ہوگیا۔ ہر ایک نے ایک دوسرے کو بڑی ملامت کی بہت طعن ملامت کی اور نئے سرے سے عہد کیا کہ اب ایسی حرکت نہیں کریں گے۔ لیکن تیسری شب پھر صبر نہ ہوسکا اور ہر ایک اسی طرح پوشیدہ طور پر پہنچا اور ہر ایک کو دوسرے کے آنے کا علم بھی ہوگیا، پھر جمع ہو کر اپنے تئیں برا بھلا کہنے لگے اور بڑی سخت قسمیں کھا کر قول قرار کئے کہ اب ایسا نہیں کریں گے۔ صبح ہوتے ہی اخنس بن شریق کپڑے پہن کر تیار ہو کر ابو سفیان بن حرب کے پاس اس کے گھر میں گیا اور کہنے لگا اے ابو حنظلہ ایمان سے بتاؤ سچ سچ کہو جو قرآن تم نے محمد ﷺ کی زبانی سنا اس کی بابت تمہاری اپنی ذاتی رائے کیا ہے ؟ اس نے کہا ابو ثعلبہ سنو ! واللہ بہت سی آیتوں کے الفاظ معنی اور مطلب تو میں سمجھ گیا اور بہت سی آیتوں کو ان کی مراد کو میں جانتا ہی نہیں۔ اخنس نے کہا واللہ یہی حال میرا بھی ہے، اب یہاں سے اٹھ کر اخنس سیدھا ابو جہل کے پاس پہنچا اور کہنے لگا ابو الحکم تم سچ بتاؤ جو کچھ تم حضور سے سنتے ہو اس میں تمہارا خیال کیا ہے ؟ اس نے کہا سن جو سنا ہے اسے تو ایک طرف رکھ دے بات یہ یہ کہ بنو عبد مناف اور ہم میں چشمک ہے وہ ہم سے اور ہم ان سے بڑھنا اور سبقت کرنا چاہتے ہیں اور مدت سے یہ رسہ کسی ہو رہی ہے، انہوں نے مہمانداریاں اور دعوتیں کیں تو ہم نے بھی کیں انہوں نے لوگوں کو سواریاں دیں تو ہم نے بھی یہی کیا۔ انہوں نے عوام الناس کے ساتھ احسان و سلوک کئے تو ہم نے بھی اپنی تھیلیوں کے منہ کھول ڈالے گویا ہم کسی معاملہ میں ان سے کم نہیں رہے، اب جبکہ برابر کی ٹکر چلی جا رہی تھی تو انہوں نے کہا ہم میں ایک نبی ہے، سنو چاہے ادھر کی دنیا ادھر ہوجائے نہ تو ہم اس کی تصدیق کریں گے نہ مانیں گے۔ اخنس مایوس ہوگیا اور اٹھ کر چل دیا۔ اسی آیت کی تفسیر میں ابن جریر میں ہے کہ بدر والے دن اخنس بن شریق نے قبیلہ بنو زہرہ سے کہا کہ محمد ﷺ تمہاری قرابت کے ہیں تم ان کی ننہیال میں ہو تمہیں چاہئیے کہ اپنے بھانجے کی مدد کرو، اگر وہ واقعی نبی ہے تو مقابلہ بےسود ہی نہیں بلکہ سراسر نقصان دہ ہے اور بالفرض نہ بھی ہو تو بھی وہ تمہارا ہے، اچھا ٹھہرو دیکھو میں ابو الحکم (یعنی ابو جہل) سے بھی ملتا ہوں سنو ! اگر محمد ﷺ غالب آگئے تو وہ تمہیں کچھ نہیں کہیں گے تم سلامتی کے ساتھ واپس چلے جاؤ گے اور اگر تمہاری قوم غالب آگئی تو ان میں تو تم ہی ہو، اسی دن سے اس کا نام اخنس ہوا اصل نام ابی تھا، اب خنس تنہائی میں ابو جہل سے ملا اور کہنے لگا سچ بتا محمد ﷺ تمہارے نزدیک سچے ہیں یا جھوٹے ؟ دیکھو یہاں میرے اور تمہارے سوا کوئی اور نہیں دل کی بات مجھ سے نہ چھپانا، اس نے کہا جب یہی بات ہے تو سو اللہ کی قسم محمد ﷺ بالکل سچے اور یقینا صادق ہیں عمر بھر میں کسی چھوٹی سی چھوٹی بات میں کبھی بھی آپ نے جھوٹ نہیں بولا۔ ہمارا رکنے اور مخالفت کرنے کی وجہ ایک اور صرف ایک ہی ہے وہ یہ کہ جب بنو قصی کے خاندان میں جھنڈے اور پھر یرے چلے گئے جب حج کے حاجیوں کے اور بیت اللہ شریف کے مہتمم و منتظم یہی ہوگئے پھر سب سے بڑھ کر یہ کہ نبوت بھی اسی قبیلے میں چلی گئی تو اب اور قریشیوں کے لئے کون سی فضیلت باقی رہ گئی ؟ اسی کا ذکر اس آیت میں ہے، پس آیات اللہ سے مراد ذات حضرت محمد ﷺ ہے۔ پھر دوبارہ تسلی دی جاتی ہے کہ آپ اپنی قوم کی تکذیب ایذاء رسانی وغیرہ پر صبر کیجئے جیسے اولوالعزم پیغمبروں نے صبر کیا اور یقین مانئے کہ جس طرح انجام کار گزشہ نبیوں کا غلبہ رہا اور ان کے مخالفین تباہ و برباد ہوئے اسی طرح اللہ تعالیٰ آپ کو غالب کرے گا اور آپ کے مخالفین مغلوب ہوں گے۔ دونوں جہان میں حقیقی بلندی آپ کی ہی ہوگی۔ رب تو یہ بات فرما چکا ہے اور اللہ کی باتوں کو کوئی بدل نہیں سکتا جیسے اور آیت میں ہے آیت (وَلَقَدْ سَبَقَتْ كَلِمَتُنَا لِعِبَادِنَا الْمُرْسَلِيْنَ) 37۔ الصافات :171) یعنی ہم تو پہلے سے ہی یہ فرما چکے ہیں کہ ہمارے رسولوں کو مدد دی جائے گی اور ہمارا لشکر ہی غالب رہے گا اور آیت میں فرماتا ہے آیت (كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِيْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ قَوِيٌّ عَزِيْزٌ) 58۔ المجادلہ :21) اللہ تعالیٰ یہ لکھ چکا ہے کہ میں اور میرے رسول ہی غالب آئیں گے یقیناً اللہ تعالیٰ قوت ولا اور غلبہ والا ہے، ان نبیوں کے اکثر قصے آپ کے سامنے بیان ہوچکے ہیں ان کے حالات آپ کو پہنچ چکے ہیں، آپ خوب جانتے ہیں کہ کس طرح ان کی نصرت و تائید ہوئی اور مخالفین پر انہیں کامیابی حاصل ہوئی، پھر فرماتا ہے اگر ان کی یہ بےرخی تجھ پر گراں گزرتی ہے اگر تجھ سے ہو سکے تو زمین میں کوئی سرنگ کھو دلے اور جو معجزہ یہ تجھ سے مانگتے ہیں لا دے یا تیرے بس میں ہو تو کوئی زینہ لگا کر آسمان پر چڑھ جا اور وہاں سے ان کی چاہت کی کوئی نشانی لے آ۔ میں نے تجھے اتنی نشانیاں اس قدر معجزے دیئے ہیں کہ ایک اندھا بھی شک نہ کرسکے۔ اب ان کی طلب معجزات محض مذاق ہے اور عناد و ضد ہے کوئی ضرورت نہیں کہ تو انہیں ان کی چاہت کے معجزے ہر وقت دیکھتا پھرے، یا اگر وہ تیرے بس کے نہ ہوں تو غم کر کے رہو، اگر اللہ چاہتا تو ان سب کو ہدایت پر متفق کردیتا، تجھے نادانوں میں نہ ملنا چاہیے جیسے اور روایت میں ہے کہ اگر رب چاہتا تو روئے زمین کی مخلوق کو مومن بنا دیتا، آپ کی حرص تھی کہ سب لوگ ایماندار بن کر آپ کی تابعداری کریں تو رب نے فرما دیا کہ یہ سعادت جس کے حصے میں ہے توفیق کی اسی رفیق ہوگئی۔ پھر فرمایا کہ آپ کی دعوت پر لبیک کہنا اسے نصیب ہوگی جو کان لگا کر آپ کے کام کو سنے سمجھے یاد رکھے اور دل میں جگہ دے، جیسے اور آیت میں ہے کہ یہ اسے آگاہ کرتا ہے جو زندگی ہو، کفار پر تو کلمہ عذاب ثابت ہوچکا ہے۔ اللہ تعالیٰ مردوں کو اٹھا کر بٹھائے گا پھر اسی کی طرف سب کے سب لوٹائے جائیں گے۔ مردوں سے مراد یہاں کفار ہیں کیونکہ وہ مردہ دل ہیں تو انہیں مردہ جسموں سے تشبیہ دی۔ جس میں ان کی ذلت و خواری ظاہر ہوتی ہے۔
34
View Single
وَلَقَدۡ كُذِّبَتۡ رُسُلٞ مِّن قَبۡلِكَ فَصَبَرُواْ عَلَىٰ مَا كُذِّبُواْ وَأُوذُواْ حَتَّىٰٓ أَتَىٰهُمۡ نَصۡرُنَاۚ وَلَا مُبَدِّلَ لِكَلِمَٰتِ ٱللَّهِۚ وَلَقَدۡ جَآءَكَ مِن نَّبَإِيْ ٱلۡمُرۡسَلِينَ
And indeed Noble Messengers have been denied before you, so they patiently bore the denial and torture till Our help reached them; and there is none to alter the decisions of Allah; and the news of the Noble Messengers have already reached you.
اور بیشک آپ سے قبل (بھی بہت سے) رسول جھٹلائے گئے مگر انہوں نے جھٹلائے جانے اور اذیت پہنچائے جانے پر صبر کیا حتٰی کہ انہیں ہماری مدد آپہنچی، اور اللہ کی باتوں (یعنی وعدوں کو) کوئی بدلنے والا نہیں، اور بیشک آپ کے پاس (تسکینِ قلب کے لیے) رسولوں کی خبریں آچکی ہیں
Tafsir Ibn Kathir
Comforting the Prophet
Allah comforts the Prophet in his grief over his people's denial and defiance of him,
قَدْ نَعْلَمُ إِنَّهُ لَيَحْزُنُكَ الَّذِى يَقُولُونَ
(We know indeed the grief which their words cause you;) meaning, We know about their denial of you and your sadness and sorrow for them. Allah said in other Ayat,
فَلاَ تَذْهَبْ نَفْسُكَ عَلَيْهِمْ حَسَرَتٍ
(So destroy not yourself in sorrow for them.) 35:8, and
لَعَلَّكَ بَـخِعٌ نَّفْسَكَ أَلاَّ يَكُونُواْ مُؤْمِنِينَ
(It may be that you are going to kill yourself with grief, that they do not become believers.) 26:3, and,
فَلَعَلَّكَ بَـخِعٌ نَّفْسَكَ عَلَى ءَاثَـرِهِمْ إِن لَّمْ يُؤْمِنُواْ بِهَـذَا الْحَدِيثِ أَسَفاً
(Perhaps, you, would kill yourself in grief, over their footsteps (for their turning away from you), because they believe not in this narration.) 18:6 Allah's statement,
فَإِنَّهُمْ لاَ يُكَذِّبُونَكَ وَلَـكِنَّ الظَّـلِمِينَ بِـَايَـتِ اللَّهِ يَجْحَدُونَ
(it is not you that they deny, but it is the verses of Allah that the wrongdoers deny.) means, they do not accuse you of being a liar,
وَلَـكِنَّ الظَّـلِمِينَ بِـَايَـتِ اللَّهِ يَجْحَدُونَ
(but it is the Verses of Allah that the wrongdoers deny. ) It is only the truth that they reject and refuse. Muhammad bin Ishaq mentioned that Az-Zuhri said that Abu Jahl, Abu Sufyan Sakhr bin Harb and Al-Akhnas bin Shurayq once came to listen to the Prophet reciting the Qur'an at night, but these three men were not aware of the presence of each other. So they listened to the Prophet's recitation until the morning, and then left. They met each other on their way back and each one of them asked the others, "What brought you" So they mentioned to each other the reason why they came. They vowed not to repeat this incident so that the young men of Quraysh would not hear of what they did and imitate them. On the second night, each one of the three came back thinking that the other two would not come because of the vows they made to each other. In the morning, they again met each other on their way back and criticized each other, vowing not to repeat what they did. On the third night, they again went to listen to the Prophet and in the morning they again vowed not to repeat this incident. During that day, Al-Akhnas bin Shurayq took his staff and went to Abu Sufyan bin Harb in his house saying, "O Abu Hanzalah! What is your opinion concerning what you heard from Muhammad ﷺ." Abu Sufyan said, "O Abu Tha`labah! By Allah, I have heard some things that I recognize and know their implications. I also heard some things whose meaning and implications were unknown to me." Al-Akhnas said, "And I the same, by He Whom you swore by!" Al-Akhnas left Abu Sufyan and went to Abu Jahl and asked him, "O Abu Al-Hakam! What is your opinion about what you heard from Muhammad ﷺ. " Abu Jahl said, "We competed with Bani `Abd Manaf (the Prophet's subtribe) and so we fed as they fed and gave away as they gave away. So, when we were neck and neck with them, just as two horses in a race, they said, `There is a Prophet from among us, to whom revelation from the heaven comes.' So how can we ever beat them at that By Allah we will never believe in him or accept what he says.' This is when Al-Akhnas left Abu Jahl and went away." Allah's statement,
وَلَقَدْ كُذِّبَتْ رُسُلٌ مِّن قَبْلِكَ فَصَبَرُواْ عَلَى مَا كُذِّبُواْ وَأُوذُواْ حَتَّى أَتَـهُمْ نَصْرُنَا
(Verily, (many) Messengers were denied before you, but with patience they bore the denial, and they were hurt, till Our help reached them,) This comforts the Prophet's concern for those who denied and rejected him. Allah also commands the Prophet to be patient, just as the mighty Messengers before him were. He also promised him victory, just as the previous Messengers were victorious and the good end was theirs, after the denial and harm their people placed on them. Then, victory came to them in this life, just as victory is theirs in the Hereafter. Allah said,
وَلاَ مُبَدِّلَ لِكَلِمَـتِ اللَّهِ
(and none can alter the Words of Allah.) This refers to His decision that victory in this life and the Hereafter is for His believing servants. Allah said in other Ayat,
وَلَقَدْ سَبَقَتْ كَلِمَتُنَا لِعِبَادِنَا الْمُرْسَلِينَ - إِنَّهُمْ لَهُمُ الْمَنصُورُونَ - وَإِنَّ جُندَنَا لَهُمُ الْغَـلِبُونَ
(And, verily, Our Word has gone forth of old for Our servants, the Messengers. That they verily would be made triumphant. And that Our hosts, they verily would be the victors.) 37:171-173, and,
كَتَبَ اللَّهُ لاّغْلِبَنَّ أَنَاْ وَرُسُلِى إِنَّ اللَّهَ قَوِىٌّ عَزِيزٌ
(Allah has decreed: "Verily! It is I and My Messengers who shall be the victorious." Verily, Allah is All-Powerful, Almighty.) 58:21 Allah said;
وَلَقدْ جَآءَكَ مِن نَّبَإِ الْمُرْسَلِينَ
(Surely, there has reached you the information about the Messengers (before you).) who were given victory and prevailed over the people who rejected them. And you (O Muhammad ), have a good example in them. Allah said next,
وَإِن كَانَ كَبُرَ عَلَيْكَ إِعْرَاضُهُمْ
(If their aversion is hard on you,) and you cannot be patient because of their aversion,
فَإِن اسْتَطَعْتَ أَن تَبْتَغِىَ نَفَقاً فِى الاٌّرْضِ أَوْ سُلَّماً فِى السَّمَآءِ
(then if you were able to seek a tunnel in the ground or a ladder to the sky...) `Ali bin Abi Talhah reported that Ibn `Abbas commented, "If you were able to seek a tunnel and bring them an Ayah, or go up a ladder in the sky and bring a better Ayah than the one I (Allah) gave them, then do that." Similar was reported from Qatadah, As-Suddi and others. Allah's statement,
وَلَوْ شَآءَ اللَّهُ لَجَمَعَهُمْ عَلَى الْهُدَى فَلاَ تَكُونَنَّ مِنَ الْجَـهِلِينَ
(And had Allah willed, He could have gathered them together upon true guidance, so be not you one of the ignorant.) is similar to His statement,
وَلَوْ شَآءَ رَبُّكَ لآمَنَ مَن فِى الاٌّرْضِ كُلُّهُمْ جَمِيعًا
(And had your Lord willed, those on earth would have believed, all of them together) `Ali bin Abi Talhah reported that Ibn `Abbas said about Allah's statement,
وَلَوْ شَآءَ اللَّهُ لَجَمَعَهُمْ عَلَى الْهُدَى
(And had Allah willed, He could have gathered them together upon true guidance,) "The Messenger of Allah ﷺ was eager that all people believe and be guided to follow him. Allah told him that only those whose happiness Allah has written in the first Dhikr will believe." Allah's statement,
إِنَّمَا يَسْتَجِيبُ الَّذِينَ يَسْمَعُونَ
(It is only those who listen, that will respond,) means, only those who hear the speech, comprehend and understand it, will accept your call, O Muhammad ! In another Ayah, Allah said;
لِّيُنذِرَ مَن كَانَ حَيّاً وَيَحِقَّ الْقَوْلُ عَلَى الْكَـفِرِينَ
(That it may give warning to him who is living, and that the Word may be justified against the disbelievers.) 36:70. Allah's statement,
وَالْمَوْتَى يَبْعَثُهُمُ اللَّهُ ثُمَّ إِلَيْهِ يُرْجَعُونَ
(but as for the dead, Allah will raise them up, then to Him they will be returned.) refers to the disbelievers because their hearts are dead. Therefore, Allah resembled them to dead corpses as a way of mocking and belittling them, saying,
وَالْمَوْتَى يَبْعَثُهُمُ اللَّهُ ثُمَّ إِلَيْهِ يُرْجَعُونَ
(but as for the dead (disbelievers), Allah will raise them up, then to Him they will be returned (for their recompense).)
حق کے دشمن کو اس کے حال پر چھوڑئیے آپ ﷺ سچے ہیں اللہ تعالیٰ اپنے نبی محترم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو تسلی دیتا ہے کہ آپ اپنی قوم کو جھٹلانے نہ ماننے اور ایذائیں پہنچانے سے تنگ دل نہ ہوں، فرماتا ہے کہ ہمیں ان کی حرکت خوب معلوم ہے، آپ ان کی اس لغویت پر ملال نہ کرو، کیا اگر یہ ایمان نہ لائیں تو آپ ان کے پیچھے اپنی جان کو روگ لگا لیں گے ؟ کہاں تک ان کے لئے حسرت و افسوس کریں گے ؟ سمجھا دیجئے اور ان کا معاملہ سپرد الہ کیجئے۔ یہ لوگ دراصل آپ کو جھوٹا نہیں جانتے بلکہ یہ تو حق کے دشمن ہیں۔ چنانجہ ابو جہل نے صاف کہا تھا کہ ہم تجھے نہیں جھٹلاتے لیکن تو جو لے کر آیا ہے اسے نہیں مانتے، حکم کی روایت میں ہے کہ اسی بارے میں یہ آیت نازل ہوئی، ابن ابی حاتم میں ہے کہ ابو جہل کو حضور سے مصافحہ کرتے ہوئے دیکھ کر کسی نے اس سے کہا کہ اس بےدین سے تو مصافحہ کرتا ہے ؟ تو اس نے جواب دیا کہ اللہ کی قسم مجھے خوب علم ہے اور کامل یقین ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کے سچے نبی ہیں۔ ہم صرف خاندانی بنا پر ان کی نبوت کے ماتحت نہیں ہوتے۔ ہم نے آج تک نبی عبد عناف کی تابعداری نہیں کی۔ الغرض حضور کو رسول اللہ مانتے ہوئے آپ کی فرمانبرداری سے بھاگتے تھے، امام محمد بن اسحاق ؒ نے بیان فرمایا ہے کہ حضرت زہری ؒ اس قصے کو بیان کرتے ہوئے جس میں ابو جہل، ابو سفیان، صحر بن حرب، اخنس بن شریق کا رات کے وقت پوشیدہ طور پر آن کر ایک دوسرے کی بیخبر ی میں رسول اللہ ﷺ کا زبانی قرآن سننا ہے کہتے ہیں کہ ان لوگوں نے صبح تک قرآن سنا روشنی ذرا سی نمودار ہوئی تھی تو یہ واپس چلے۔ اتفاقاً ایک چوک میں ایک دوسرے سے ملاقات ہوگئی حیرت سے ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں کہ اس وقت یہاں کہاں ؟ پھر ہر ایک دوسرے سے صاف صاف کہہ دیتا ہے کہ حضور سے قرآن سننے کے لئے چپ چاپ آگئے تھے۔ اب تینوں بیٹھ کر معاہدہ کرتے ہیں کہ آئندہ ایسا نہ کرنا ورنہ اگر اوروں کو خبر ہوئی اور وہ آئے تو وہ تو سچے پکے مسلمان ہوجائیں گے۔ دوسری رات کو ہر ایک نے اپنے طور یہ گمان کر کے کہ کل رات کے وعدے کے مطابق وہ دونوں تو آئیں گے نہیں میں تنہا کیوں نہ جاؤں ؟ میرے جانے کی کسے خبر ہوگی ؟ اپنے گھر سے پچھلی رات کے اندھیرے اور سوفتے میں ہر ایک چلا اور ایک کونے میں دب کر اللہ کے نبی کی زبانی تلاوت قرآن کا مزہ لیتا رہا اور صبح کے وقت واپس چلا۔ اتفاقاً آج بھی اسی جگہ تینوں کا میل ہوگیا۔ ہر ایک نے ایک دوسرے کو بڑی ملامت کی بہت طعن ملامت کی اور نئے سرے سے عہد کیا کہ اب ایسی حرکت نہیں کریں گے۔ لیکن تیسری شب پھر صبر نہ ہوسکا اور ہر ایک اسی طرح پوشیدہ طور پر پہنچا اور ہر ایک کو دوسرے کے آنے کا علم بھی ہوگیا، پھر جمع ہو کر اپنے تئیں برا بھلا کہنے لگے اور بڑی سخت قسمیں کھا کر قول قرار کئے کہ اب ایسا نہیں کریں گے۔ صبح ہوتے ہی اخنس بن شریق کپڑے پہن کر تیار ہو کر ابو سفیان بن حرب کے پاس اس کے گھر میں گیا اور کہنے لگا اے ابو حنظلہ ایمان سے بتاؤ سچ سچ کہو جو قرآن تم نے محمد ﷺ کی زبانی سنا اس کی بابت تمہاری اپنی ذاتی رائے کیا ہے ؟ اس نے کہا ابو ثعلبہ سنو ! واللہ بہت سی آیتوں کے الفاظ معنی اور مطلب تو میں سمجھ گیا اور بہت سی آیتوں کو ان کی مراد کو میں جانتا ہی نہیں۔ اخنس نے کہا واللہ یہی حال میرا بھی ہے، اب یہاں سے اٹھ کر اخنس سیدھا ابو جہل کے پاس پہنچا اور کہنے لگا ابو الحکم تم سچ بتاؤ جو کچھ تم حضور سے سنتے ہو اس میں تمہارا خیال کیا ہے ؟ اس نے کہا سن جو سنا ہے اسے تو ایک طرف رکھ دے بات یہ یہ کہ بنو عبد مناف اور ہم میں چشمک ہے وہ ہم سے اور ہم ان سے بڑھنا اور سبقت کرنا چاہتے ہیں اور مدت سے یہ رسہ کسی ہو رہی ہے، انہوں نے مہمانداریاں اور دعوتیں کیں تو ہم نے بھی کیں انہوں نے لوگوں کو سواریاں دیں تو ہم نے بھی یہی کیا۔ انہوں نے عوام الناس کے ساتھ احسان و سلوک کئے تو ہم نے بھی اپنی تھیلیوں کے منہ کھول ڈالے گویا ہم کسی معاملہ میں ان سے کم نہیں رہے، اب جبکہ برابر کی ٹکر چلی جا رہی تھی تو انہوں نے کہا ہم میں ایک نبی ہے، سنو چاہے ادھر کی دنیا ادھر ہوجائے نہ تو ہم اس کی تصدیق کریں گے نہ مانیں گے۔ اخنس مایوس ہوگیا اور اٹھ کر چل دیا۔ اسی آیت کی تفسیر میں ابن جریر میں ہے کہ بدر والے دن اخنس بن شریق نے قبیلہ بنو زہرہ سے کہا کہ محمد ﷺ تمہاری قرابت کے ہیں تم ان کی ننہیال میں ہو تمہیں چاہئیے کہ اپنے بھانجے کی مدد کرو، اگر وہ واقعی نبی ہے تو مقابلہ بےسود ہی نہیں بلکہ سراسر نقصان دہ ہے اور بالفرض نہ بھی ہو تو بھی وہ تمہارا ہے، اچھا ٹھہرو دیکھو میں ابو الحکم (یعنی ابو جہل) سے بھی ملتا ہوں سنو ! اگر محمد ﷺ غالب آگئے تو وہ تمہیں کچھ نہیں کہیں گے تم سلامتی کے ساتھ واپس چلے جاؤ گے اور اگر تمہاری قوم غالب آگئی تو ان میں تو تم ہی ہو، اسی دن سے اس کا نام اخنس ہوا اصل نام ابی تھا، اب خنس تنہائی میں ابو جہل سے ملا اور کہنے لگا سچ بتا محمد ﷺ تمہارے نزدیک سچے ہیں یا جھوٹے ؟ دیکھو یہاں میرے اور تمہارے سوا کوئی اور نہیں دل کی بات مجھ سے نہ چھپانا، اس نے کہا جب یہی بات ہے تو سو اللہ کی قسم محمد ﷺ بالکل سچے اور یقینا صادق ہیں عمر بھر میں کسی چھوٹی سی چھوٹی بات میں کبھی بھی آپ نے جھوٹ نہیں بولا۔ ہمارا رکنے اور مخالفت کرنے کی وجہ ایک اور صرف ایک ہی ہے وہ یہ کہ جب بنو قصی کے خاندان میں جھنڈے اور پھر یرے چلے گئے جب حج کے حاجیوں کے اور بیت اللہ شریف کے مہتمم و منتظم یہی ہوگئے پھر سب سے بڑھ کر یہ کہ نبوت بھی اسی قبیلے میں چلی گئی تو اب اور قریشیوں کے لئے کون سی فضیلت باقی رہ گئی ؟ اسی کا ذکر اس آیت میں ہے، پس آیات اللہ سے مراد ذات حضرت محمد ﷺ ہے۔ پھر دوبارہ تسلی دی جاتی ہے کہ آپ اپنی قوم کی تکذیب ایذاء رسانی وغیرہ پر صبر کیجئے جیسے اولوالعزم پیغمبروں نے صبر کیا اور یقین مانئے کہ جس طرح انجام کار گزشہ نبیوں کا غلبہ رہا اور ان کے مخالفین تباہ و برباد ہوئے اسی طرح اللہ تعالیٰ آپ کو غالب کرے گا اور آپ کے مخالفین مغلوب ہوں گے۔ دونوں جہان میں حقیقی بلندی آپ کی ہی ہوگی۔ رب تو یہ بات فرما چکا ہے اور اللہ کی باتوں کو کوئی بدل نہیں سکتا جیسے اور آیت میں ہے آیت (وَلَقَدْ سَبَقَتْ كَلِمَتُنَا لِعِبَادِنَا الْمُرْسَلِيْنَ) 37۔ الصافات :171) یعنی ہم تو پہلے سے ہی یہ فرما چکے ہیں کہ ہمارے رسولوں کو مدد دی جائے گی اور ہمارا لشکر ہی غالب رہے گا اور آیت میں فرماتا ہے آیت (كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِيْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ قَوِيٌّ عَزِيْزٌ) 58۔ المجادلہ :21) اللہ تعالیٰ یہ لکھ چکا ہے کہ میں اور میرے رسول ہی غالب آئیں گے یقیناً اللہ تعالیٰ قوت ولا اور غلبہ والا ہے، ان نبیوں کے اکثر قصے آپ کے سامنے بیان ہوچکے ہیں ان کے حالات آپ کو پہنچ چکے ہیں، آپ خوب جانتے ہیں کہ کس طرح ان کی نصرت و تائید ہوئی اور مخالفین پر انہیں کامیابی حاصل ہوئی، پھر فرماتا ہے اگر ان کی یہ بےرخی تجھ پر گراں گزرتی ہے اگر تجھ سے ہو سکے تو زمین میں کوئی سرنگ کھو دلے اور جو معجزہ یہ تجھ سے مانگتے ہیں لا دے یا تیرے بس میں ہو تو کوئی زینہ لگا کر آسمان پر چڑھ جا اور وہاں سے ان کی چاہت کی کوئی نشانی لے آ۔ میں نے تجھے اتنی نشانیاں اس قدر معجزے دیئے ہیں کہ ایک اندھا بھی شک نہ کرسکے۔ اب ان کی طلب معجزات محض مذاق ہے اور عناد و ضد ہے کوئی ضرورت نہیں کہ تو انہیں ان کی چاہت کے معجزے ہر وقت دیکھتا پھرے، یا اگر وہ تیرے بس کے نہ ہوں تو غم کر کے رہو، اگر اللہ چاہتا تو ان سب کو ہدایت پر متفق کردیتا، تجھے نادانوں میں نہ ملنا چاہیے جیسے اور روایت میں ہے کہ اگر رب چاہتا تو روئے زمین کی مخلوق کو مومن بنا دیتا، آپ کی حرص تھی کہ سب لوگ ایماندار بن کر آپ کی تابعداری کریں تو رب نے فرما دیا کہ یہ سعادت جس کے حصے میں ہے توفیق کی اسی رفیق ہوگئی۔ پھر فرمایا کہ آپ کی دعوت پر لبیک کہنا اسے نصیب ہوگی جو کان لگا کر آپ کے کام کو سنے سمجھے یاد رکھے اور دل میں جگہ دے، جیسے اور آیت میں ہے کہ یہ اسے آگاہ کرتا ہے جو زندگی ہو، کفار پر تو کلمہ عذاب ثابت ہوچکا ہے۔ اللہ تعالیٰ مردوں کو اٹھا کر بٹھائے گا پھر اسی کی طرف سب کے سب لوٹائے جائیں گے۔ مردوں سے مراد یہاں کفار ہیں کیونکہ وہ مردہ دل ہیں تو انہیں مردہ جسموں سے تشبیہ دی۔ جس میں ان کی ذلت و خواری ظاہر ہوتی ہے۔
35
View Single
وَإِن كَانَ كَبُرَ عَلَيۡكَ إِعۡرَاضُهُمۡ فَإِنِ ٱسۡتَطَعۡتَ أَن تَبۡتَغِيَ نَفَقٗا فِي ٱلۡأَرۡضِ أَوۡ سُلَّمٗا فِي ٱلسَّمَآءِ فَتَأۡتِيَهُم بِـَٔايَةٖۚ وَلَوۡ شَآءَ ٱللَّهُ لَجَمَعَهُمۡ عَلَى ٱلۡهُدَىٰۚ فَلَا تَكُونَنَّ مِنَ ٱلۡجَٰهِلِينَ
And if their turning away has grieved you, then if you can, seek a tunnel into the earth or a ladder into the sky to bring a sign for them; and if Allah willed, He could have brought them all together upon guidance, so O listener (followers of this Prophet) do not ever be of the ignorant.
اور اگر آپ پر ان کی رُوگردانی شاق گزر رہی ہے (اور آپ بہر صورت ان کے ایمان لانے کے خواہش مند ہیں) تو اگر آپ سے (یہ) ہو سکے کہ زمین میں (اترنے والی) کوئی سرنگ یا آسمان میں (چڑھنے والی) کوئی سیڑھی تلاش کرلیں پھر (انہیں دکھانے کے لیے) ان کے پاس کوئی (خاص) نشانی لے آئیں (وہ تب بھی ایمان نہیں لائیں گے)، اور اگر اللہ چاہتا تو ان کو ہدایت پر ضرور جمع فرما دیتا پس آپ (اپنی رحمت و شفقت کے بے پایاں جوش کے باعث ان کی بدبختی سے) بے خبر نہ ہوجائیں
Tafsir Ibn Kathir
Comforting the Prophet
Allah comforts the Prophet in his grief over his people's denial and defiance of him,
قَدْ نَعْلَمُ إِنَّهُ لَيَحْزُنُكَ الَّذِى يَقُولُونَ
(We know indeed the grief which their words cause you;) meaning, We know about their denial of you and your sadness and sorrow for them. Allah said in other Ayat,
فَلاَ تَذْهَبْ نَفْسُكَ عَلَيْهِمْ حَسَرَتٍ
(So destroy not yourself in sorrow for them.) 35:8, and
لَعَلَّكَ بَـخِعٌ نَّفْسَكَ أَلاَّ يَكُونُواْ مُؤْمِنِينَ
(It may be that you are going to kill yourself with grief, that they do not become believers.) 26:3, and,
فَلَعَلَّكَ بَـخِعٌ نَّفْسَكَ عَلَى ءَاثَـرِهِمْ إِن لَّمْ يُؤْمِنُواْ بِهَـذَا الْحَدِيثِ أَسَفاً
(Perhaps, you, would kill yourself in grief, over their footsteps (for their turning away from you), because they believe not in this narration.) 18:6 Allah's statement,
فَإِنَّهُمْ لاَ يُكَذِّبُونَكَ وَلَـكِنَّ الظَّـلِمِينَ بِـَايَـتِ اللَّهِ يَجْحَدُونَ
(it is not you that they deny, but it is the verses of Allah that the wrongdoers deny.) means, they do not accuse you of being a liar,
وَلَـكِنَّ الظَّـلِمِينَ بِـَايَـتِ اللَّهِ يَجْحَدُونَ
(but it is the Verses of Allah that the wrongdoers deny. ) It is only the truth that they reject and refuse. Muhammad bin Ishaq mentioned that Az-Zuhri said that Abu Jahl, Abu Sufyan Sakhr bin Harb and Al-Akhnas bin Shurayq once came to listen to the Prophet reciting the Qur'an at night, but these three men were not aware of the presence of each other. So they listened to the Prophet's recitation until the morning, and then left. They met each other on their way back and each one of them asked the others, "What brought you" So they mentioned to each other the reason why they came. They vowed not to repeat this incident so that the young men of Quraysh would not hear of what they did and imitate them. On the second night, each one of the three came back thinking that the other two would not come because of the vows they made to each other. In the morning, they again met each other on their way back and criticized each other, vowing not to repeat what they did. On the third night, they again went to listen to the Prophet and in the morning they again vowed not to repeat this incident. During that day, Al-Akhnas bin Shurayq took his staff and went to Abu Sufyan bin Harb in his house saying, "O Abu Hanzalah! What is your opinion concerning what you heard from Muhammad ﷺ." Abu Sufyan said, "O Abu Tha`labah! By Allah, I have heard some things that I recognize and know their implications. I also heard some things whose meaning and implications were unknown to me." Al-Akhnas said, "And I the same, by He Whom you swore by!" Al-Akhnas left Abu Sufyan and went to Abu Jahl and asked him, "O Abu Al-Hakam! What is your opinion about what you heard from Muhammad ﷺ. " Abu Jahl said, "We competed with Bani `Abd Manaf (the Prophet's subtribe) and so we fed as they fed and gave away as they gave away. So, when we were neck and neck with them, just as two horses in a race, they said, `There is a Prophet from among us, to whom revelation from the heaven comes.' So how can we ever beat them at that By Allah we will never believe in him or accept what he says.' This is when Al-Akhnas left Abu Jahl and went away." Allah's statement,
وَلَقَدْ كُذِّبَتْ رُسُلٌ مِّن قَبْلِكَ فَصَبَرُواْ عَلَى مَا كُذِّبُواْ وَأُوذُواْ حَتَّى أَتَـهُمْ نَصْرُنَا
(Verily, (many) Messengers were denied before you, but with patience they bore the denial, and they were hurt, till Our help reached them,) This comforts the Prophet's concern for those who denied and rejected him. Allah also commands the Prophet to be patient, just as the mighty Messengers before him were. He also promised him victory, just as the previous Messengers were victorious and the good end was theirs, after the denial and harm their people placed on them. Then, victory came to them in this life, just as victory is theirs in the Hereafter. Allah said,
وَلاَ مُبَدِّلَ لِكَلِمَـتِ اللَّهِ
(and none can alter the Words of Allah.) This refers to His decision that victory in this life and the Hereafter is for His believing servants. Allah said in other Ayat,
وَلَقَدْ سَبَقَتْ كَلِمَتُنَا لِعِبَادِنَا الْمُرْسَلِينَ - إِنَّهُمْ لَهُمُ الْمَنصُورُونَ - وَإِنَّ جُندَنَا لَهُمُ الْغَـلِبُونَ
(And, verily, Our Word has gone forth of old for Our servants, the Messengers. That they verily would be made triumphant. And that Our hosts, they verily would be the victors.) 37:171-173, and,
كَتَبَ اللَّهُ لاّغْلِبَنَّ أَنَاْ وَرُسُلِى إِنَّ اللَّهَ قَوِىٌّ عَزِيزٌ
(Allah has decreed: "Verily! It is I and My Messengers who shall be the victorious." Verily, Allah is All-Powerful, Almighty.) 58:21 Allah said;
وَلَقدْ جَآءَكَ مِن نَّبَإِ الْمُرْسَلِينَ
(Surely, there has reached you the information about the Messengers (before you).) who were given victory and prevailed over the people who rejected them. And you (O Muhammad ), have a good example in them. Allah said next,
وَإِن كَانَ كَبُرَ عَلَيْكَ إِعْرَاضُهُمْ
(If their aversion is hard on you,) and you cannot be patient because of their aversion,
فَإِن اسْتَطَعْتَ أَن تَبْتَغِىَ نَفَقاً فِى الاٌّرْضِ أَوْ سُلَّماً فِى السَّمَآءِ
(then if you were able to seek a tunnel in the ground or a ladder to the sky...) `Ali bin Abi Talhah reported that Ibn `Abbas commented, "If you were able to seek a tunnel and bring them an Ayah, or go up a ladder in the sky and bring a better Ayah than the one I (Allah) gave them, then do that." Similar was reported from Qatadah, As-Suddi and others. Allah's statement,
وَلَوْ شَآءَ اللَّهُ لَجَمَعَهُمْ عَلَى الْهُدَى فَلاَ تَكُونَنَّ مِنَ الْجَـهِلِينَ
(And had Allah willed, He could have gathered them together upon true guidance, so be not you one of the ignorant.) is similar to His statement,
وَلَوْ شَآءَ رَبُّكَ لآمَنَ مَن فِى الاٌّرْضِ كُلُّهُمْ جَمِيعًا
(And had your Lord willed, those on earth would have believed, all of them together) `Ali bin Abi Talhah reported that Ibn `Abbas said about Allah's statement,
وَلَوْ شَآءَ اللَّهُ لَجَمَعَهُمْ عَلَى الْهُدَى
(And had Allah willed, He could have gathered them together upon true guidance,) "The Messenger of Allah ﷺ was eager that all people believe and be guided to follow him. Allah told him that only those whose happiness Allah has written in the first Dhikr will believe." Allah's statement,
إِنَّمَا يَسْتَجِيبُ الَّذِينَ يَسْمَعُونَ
(It is only those who listen, that will respond,) means, only those who hear the speech, comprehend and understand it, will accept your call, O Muhammad ! In another Ayah, Allah said;
لِّيُنذِرَ مَن كَانَ حَيّاً وَيَحِقَّ الْقَوْلُ عَلَى الْكَـفِرِينَ
(That it may give warning to him who is living, and that the Word may be justified against the disbelievers.) 36:70. Allah's statement,
وَالْمَوْتَى يَبْعَثُهُمُ اللَّهُ ثُمَّ إِلَيْهِ يُرْجَعُونَ
(but as for the dead, Allah will raise them up, then to Him they will be returned.) refers to the disbelievers because their hearts are dead. Therefore, Allah resembled them to dead corpses as a way of mocking and belittling them, saying,
وَالْمَوْتَى يَبْعَثُهُمُ اللَّهُ ثُمَّ إِلَيْهِ يُرْجَعُونَ
(but as for the dead (disbelievers), Allah will raise them up, then to Him they will be returned (for their recompense).)
حق کے دشمن کو اس کے حال پر چھوڑئیے آپ ﷺ سچے ہیں اللہ تعالیٰ اپنے نبی محترم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو تسلی دیتا ہے کہ آپ اپنی قوم کو جھٹلانے نہ ماننے اور ایذائیں پہنچانے سے تنگ دل نہ ہوں، فرماتا ہے کہ ہمیں ان کی حرکت خوب معلوم ہے، آپ ان کی اس لغویت پر ملال نہ کرو، کیا اگر یہ ایمان نہ لائیں تو آپ ان کے پیچھے اپنی جان کو روگ لگا لیں گے ؟ کہاں تک ان کے لئے حسرت و افسوس کریں گے ؟ سمجھا دیجئے اور ان کا معاملہ سپرد الہ کیجئے۔ یہ لوگ دراصل آپ کو جھوٹا نہیں جانتے بلکہ یہ تو حق کے دشمن ہیں۔ چنانجہ ابو جہل نے صاف کہا تھا کہ ہم تجھے نہیں جھٹلاتے لیکن تو جو لے کر آیا ہے اسے نہیں مانتے، حکم کی روایت میں ہے کہ اسی بارے میں یہ آیت نازل ہوئی، ابن ابی حاتم میں ہے کہ ابو جہل کو حضور سے مصافحہ کرتے ہوئے دیکھ کر کسی نے اس سے کہا کہ اس بےدین سے تو مصافحہ کرتا ہے ؟ تو اس نے جواب دیا کہ اللہ کی قسم مجھے خوب علم ہے اور کامل یقین ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کے سچے نبی ہیں۔ ہم صرف خاندانی بنا پر ان کی نبوت کے ماتحت نہیں ہوتے۔ ہم نے آج تک نبی عبد عناف کی تابعداری نہیں کی۔ الغرض حضور کو رسول اللہ مانتے ہوئے آپ کی فرمانبرداری سے بھاگتے تھے، امام محمد بن اسحاق ؒ نے بیان فرمایا ہے کہ حضرت زہری ؒ اس قصے کو بیان کرتے ہوئے جس میں ابو جہل، ابو سفیان، صحر بن حرب، اخنس بن شریق کا رات کے وقت پوشیدہ طور پر آن کر ایک دوسرے کی بیخبر ی میں رسول اللہ ﷺ کا زبانی قرآن سننا ہے کہتے ہیں کہ ان لوگوں نے صبح تک قرآن سنا روشنی ذرا سی نمودار ہوئی تھی تو یہ واپس چلے۔ اتفاقاً ایک چوک میں ایک دوسرے سے ملاقات ہوگئی حیرت سے ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں کہ اس وقت یہاں کہاں ؟ پھر ہر ایک دوسرے سے صاف صاف کہہ دیتا ہے کہ حضور سے قرآن سننے کے لئے چپ چاپ آگئے تھے۔ اب تینوں بیٹھ کر معاہدہ کرتے ہیں کہ آئندہ ایسا نہ کرنا ورنہ اگر اوروں کو خبر ہوئی اور وہ آئے تو وہ تو سچے پکے مسلمان ہوجائیں گے۔ دوسری رات کو ہر ایک نے اپنے طور یہ گمان کر کے کہ کل رات کے وعدے کے مطابق وہ دونوں تو آئیں گے نہیں میں تنہا کیوں نہ جاؤں ؟ میرے جانے کی کسے خبر ہوگی ؟ اپنے گھر سے پچھلی رات کے اندھیرے اور سوفتے میں ہر ایک چلا اور ایک کونے میں دب کر اللہ کے نبی کی زبانی تلاوت قرآن کا مزہ لیتا رہا اور صبح کے وقت واپس چلا۔ اتفاقاً آج بھی اسی جگہ تینوں کا میل ہوگیا۔ ہر ایک نے ایک دوسرے کو بڑی ملامت کی بہت طعن ملامت کی اور نئے سرے سے عہد کیا کہ اب ایسی حرکت نہیں کریں گے۔ لیکن تیسری شب پھر صبر نہ ہوسکا اور ہر ایک اسی طرح پوشیدہ طور پر پہنچا اور ہر ایک کو دوسرے کے آنے کا علم بھی ہوگیا، پھر جمع ہو کر اپنے تئیں برا بھلا کہنے لگے اور بڑی سخت قسمیں کھا کر قول قرار کئے کہ اب ایسا نہیں کریں گے۔ صبح ہوتے ہی اخنس بن شریق کپڑے پہن کر تیار ہو کر ابو سفیان بن حرب کے پاس اس کے گھر میں گیا اور کہنے لگا اے ابو حنظلہ ایمان سے بتاؤ سچ سچ کہو جو قرآن تم نے محمد ﷺ کی زبانی سنا اس کی بابت تمہاری اپنی ذاتی رائے کیا ہے ؟ اس نے کہا ابو ثعلبہ سنو ! واللہ بہت سی آیتوں کے الفاظ معنی اور مطلب تو میں سمجھ گیا اور بہت سی آیتوں کو ان کی مراد کو میں جانتا ہی نہیں۔ اخنس نے کہا واللہ یہی حال میرا بھی ہے، اب یہاں سے اٹھ کر اخنس سیدھا ابو جہل کے پاس پہنچا اور کہنے لگا ابو الحکم تم سچ بتاؤ جو کچھ تم حضور سے سنتے ہو اس میں تمہارا خیال کیا ہے ؟ اس نے کہا سن جو سنا ہے اسے تو ایک طرف رکھ دے بات یہ یہ کہ بنو عبد مناف اور ہم میں چشمک ہے وہ ہم سے اور ہم ان سے بڑھنا اور سبقت کرنا چاہتے ہیں اور مدت سے یہ رسہ کسی ہو رہی ہے، انہوں نے مہمانداریاں اور دعوتیں کیں تو ہم نے بھی کیں انہوں نے لوگوں کو سواریاں دیں تو ہم نے بھی یہی کیا۔ انہوں نے عوام الناس کے ساتھ احسان و سلوک کئے تو ہم نے بھی اپنی تھیلیوں کے منہ کھول ڈالے گویا ہم کسی معاملہ میں ان سے کم نہیں رہے، اب جبکہ برابر کی ٹکر چلی جا رہی تھی تو انہوں نے کہا ہم میں ایک نبی ہے، سنو چاہے ادھر کی دنیا ادھر ہوجائے نہ تو ہم اس کی تصدیق کریں گے نہ مانیں گے۔ اخنس مایوس ہوگیا اور اٹھ کر چل دیا۔ اسی آیت کی تفسیر میں ابن جریر میں ہے کہ بدر والے دن اخنس بن شریق نے قبیلہ بنو زہرہ سے کہا کہ محمد ﷺ تمہاری قرابت کے ہیں تم ان کی ننہیال میں ہو تمہیں چاہئیے کہ اپنے بھانجے کی مدد کرو، اگر وہ واقعی نبی ہے تو مقابلہ بےسود ہی نہیں بلکہ سراسر نقصان دہ ہے اور بالفرض نہ بھی ہو تو بھی وہ تمہارا ہے، اچھا ٹھہرو دیکھو میں ابو الحکم (یعنی ابو جہل) سے بھی ملتا ہوں سنو ! اگر محمد ﷺ غالب آگئے تو وہ تمہیں کچھ نہیں کہیں گے تم سلامتی کے ساتھ واپس چلے جاؤ گے اور اگر تمہاری قوم غالب آگئی تو ان میں تو تم ہی ہو، اسی دن سے اس کا نام اخنس ہوا اصل نام ابی تھا، اب خنس تنہائی میں ابو جہل سے ملا اور کہنے لگا سچ بتا محمد ﷺ تمہارے نزدیک سچے ہیں یا جھوٹے ؟ دیکھو یہاں میرے اور تمہارے سوا کوئی اور نہیں دل کی بات مجھ سے نہ چھپانا، اس نے کہا جب یہی بات ہے تو سو اللہ کی قسم محمد ﷺ بالکل سچے اور یقینا صادق ہیں عمر بھر میں کسی چھوٹی سی چھوٹی بات میں کبھی بھی آپ نے جھوٹ نہیں بولا۔ ہمارا رکنے اور مخالفت کرنے کی وجہ ایک اور صرف ایک ہی ہے وہ یہ کہ جب بنو قصی کے خاندان میں جھنڈے اور پھر یرے چلے گئے جب حج کے حاجیوں کے اور بیت اللہ شریف کے مہتمم و منتظم یہی ہوگئے پھر سب سے بڑھ کر یہ کہ نبوت بھی اسی قبیلے میں چلی گئی تو اب اور قریشیوں کے لئے کون سی فضیلت باقی رہ گئی ؟ اسی کا ذکر اس آیت میں ہے، پس آیات اللہ سے مراد ذات حضرت محمد ﷺ ہے۔ پھر دوبارہ تسلی دی جاتی ہے کہ آپ اپنی قوم کی تکذیب ایذاء رسانی وغیرہ پر صبر کیجئے جیسے اولوالعزم پیغمبروں نے صبر کیا اور یقین مانئے کہ جس طرح انجام کار گزشہ نبیوں کا غلبہ رہا اور ان کے مخالفین تباہ و برباد ہوئے اسی طرح اللہ تعالیٰ آپ کو غالب کرے گا اور آپ کے مخالفین مغلوب ہوں گے۔ دونوں جہان میں حقیقی بلندی آپ کی ہی ہوگی۔ رب تو یہ بات فرما چکا ہے اور اللہ کی باتوں کو کوئی بدل نہیں سکتا جیسے اور آیت میں ہے آیت (وَلَقَدْ سَبَقَتْ كَلِمَتُنَا لِعِبَادِنَا الْمُرْسَلِيْنَ) 37۔ الصافات :171) یعنی ہم تو پہلے سے ہی یہ فرما چکے ہیں کہ ہمارے رسولوں کو مدد دی جائے گی اور ہمارا لشکر ہی غالب رہے گا اور آیت میں فرماتا ہے آیت (كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِيْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ قَوِيٌّ عَزِيْزٌ) 58۔ المجادلہ :21) اللہ تعالیٰ یہ لکھ چکا ہے کہ میں اور میرے رسول ہی غالب آئیں گے یقیناً اللہ تعالیٰ قوت ولا اور غلبہ والا ہے، ان نبیوں کے اکثر قصے آپ کے سامنے بیان ہوچکے ہیں ان کے حالات آپ کو پہنچ چکے ہیں، آپ خوب جانتے ہیں کہ کس طرح ان کی نصرت و تائید ہوئی اور مخالفین پر انہیں کامیابی حاصل ہوئی، پھر فرماتا ہے اگر ان کی یہ بےرخی تجھ پر گراں گزرتی ہے اگر تجھ سے ہو سکے تو زمین میں کوئی سرنگ کھو دلے اور جو معجزہ یہ تجھ سے مانگتے ہیں لا دے یا تیرے بس میں ہو تو کوئی زینہ لگا کر آسمان پر چڑھ جا اور وہاں سے ان کی چاہت کی کوئی نشانی لے آ۔ میں نے تجھے اتنی نشانیاں اس قدر معجزے دیئے ہیں کہ ایک اندھا بھی شک نہ کرسکے۔ اب ان کی طلب معجزات محض مذاق ہے اور عناد و ضد ہے کوئی ضرورت نہیں کہ تو انہیں ان کی چاہت کے معجزے ہر وقت دیکھتا پھرے، یا اگر وہ تیرے بس کے نہ ہوں تو غم کر کے رہو، اگر اللہ چاہتا تو ان سب کو ہدایت پر متفق کردیتا، تجھے نادانوں میں نہ ملنا چاہیے جیسے اور روایت میں ہے کہ اگر رب چاہتا تو روئے زمین کی مخلوق کو مومن بنا دیتا، آپ کی حرص تھی کہ سب لوگ ایماندار بن کر آپ کی تابعداری کریں تو رب نے فرما دیا کہ یہ سعادت جس کے حصے میں ہے توفیق کی اسی رفیق ہوگئی۔ پھر فرمایا کہ آپ کی دعوت پر لبیک کہنا اسے نصیب ہوگی جو کان لگا کر آپ کے کام کو سنے سمجھے یاد رکھے اور دل میں جگہ دے، جیسے اور آیت میں ہے کہ یہ اسے آگاہ کرتا ہے جو زندگی ہو، کفار پر تو کلمہ عذاب ثابت ہوچکا ہے۔ اللہ تعالیٰ مردوں کو اٹھا کر بٹھائے گا پھر اسی کی طرف سب کے سب لوٹائے جائیں گے۔ مردوں سے مراد یہاں کفار ہیں کیونکہ وہ مردہ دل ہیں تو انہیں مردہ جسموں سے تشبیہ دی۔ جس میں ان کی ذلت و خواری ظاہر ہوتی ہے۔
36
View Single
۞إِنَّمَا يَسۡتَجِيبُ ٱلَّذِينَ يَسۡمَعُونَۘ وَٱلۡمَوۡتَىٰ يَبۡعَثُهُمُ ٱللَّهُ ثُمَّ إِلَيۡهِ يُرۡجَعُونَ
It is only those who hear (with sincere hearts) that accept faith; and Allah will raise these people dead of heart, then towards Him they will be herded.
بات یہ ہے کہ (دعوتِ حق) صرف وہی لوگ قبول کرتے ہیں جو (اسے سچے دل سے) سنتے ہیں، اور مُردوں (یعنی حق کے منکروں) کو اللہ (حالتِ کفر میں ہی قبروں سے) اٹھائے گا پھر وہ اسی (رب) کی طرف (جس کا انکار کرتے تھے) لوٹائے جائیں گے
Tafsir Ibn Kathir
Comforting the Prophet
Allah comforts the Prophet in his grief over his people's denial and defiance of him,
قَدْ نَعْلَمُ إِنَّهُ لَيَحْزُنُكَ الَّذِى يَقُولُونَ
(We know indeed the grief which their words cause you;) meaning, We know about their denial of you and your sadness and sorrow for them. Allah said in other Ayat,
فَلاَ تَذْهَبْ نَفْسُكَ عَلَيْهِمْ حَسَرَتٍ
(So destroy not yourself in sorrow for them.) 35:8, and
لَعَلَّكَ بَـخِعٌ نَّفْسَكَ أَلاَّ يَكُونُواْ مُؤْمِنِينَ
(It may be that you are going to kill yourself with grief, that they do not become believers.) 26:3, and,
فَلَعَلَّكَ بَـخِعٌ نَّفْسَكَ عَلَى ءَاثَـرِهِمْ إِن لَّمْ يُؤْمِنُواْ بِهَـذَا الْحَدِيثِ أَسَفاً
(Perhaps, you, would kill yourself in grief, over their footsteps (for their turning away from you), because they believe not in this narration.) 18:6 Allah's statement,
فَإِنَّهُمْ لاَ يُكَذِّبُونَكَ وَلَـكِنَّ الظَّـلِمِينَ بِـَايَـتِ اللَّهِ يَجْحَدُونَ
(it is not you that they deny, but it is the verses of Allah that the wrongdoers deny.) means, they do not accuse you of being a liar,
وَلَـكِنَّ الظَّـلِمِينَ بِـَايَـتِ اللَّهِ يَجْحَدُونَ
(but it is the Verses of Allah that the wrongdoers deny. ) It is only the truth that they reject and refuse. Muhammad bin Ishaq mentioned that Az-Zuhri said that Abu Jahl, Abu Sufyan Sakhr bin Harb and Al-Akhnas bin Shurayq once came to listen to the Prophet reciting the Qur'an at night, but these three men were not aware of the presence of each other. So they listened to the Prophet's recitation until the morning, and then left. They met each other on their way back and each one of them asked the others, "What brought you" So they mentioned to each other the reason why they came. They vowed not to repeat this incident so that the young men of Quraysh would not hear of what they did and imitate them. On the second night, each one of the three came back thinking that the other two would not come because of the vows they made to each other. In the morning, they again met each other on their way back and criticized each other, vowing not to repeat what they did. On the third night, they again went to listen to the Prophet and in the morning they again vowed not to repeat this incident. During that day, Al-Akhnas bin Shurayq took his staff and went to Abu Sufyan bin Harb in his house saying, "O Abu Hanzalah! What is your opinion concerning what you heard from Muhammad ﷺ." Abu Sufyan said, "O Abu Tha`labah! By Allah, I have heard some things that I recognize and know their implications. I also heard some things whose meaning and implications were unknown to me." Al-Akhnas said, "And I the same, by He Whom you swore by!" Al-Akhnas left Abu Sufyan and went to Abu Jahl and asked him, "O Abu Al-Hakam! What is your opinion about what you heard from Muhammad ﷺ. " Abu Jahl said, "We competed with Bani `Abd Manaf (the Prophet's subtribe) and so we fed as they fed and gave away as they gave away. So, when we were neck and neck with them, just as two horses in a race, they said, `There is a Prophet from among us, to whom revelation from the heaven comes.' So how can we ever beat them at that By Allah we will never believe in him or accept what he says.' This is when Al-Akhnas left Abu Jahl and went away." Allah's statement,
وَلَقَدْ كُذِّبَتْ رُسُلٌ مِّن قَبْلِكَ فَصَبَرُواْ عَلَى مَا كُذِّبُواْ وَأُوذُواْ حَتَّى أَتَـهُمْ نَصْرُنَا
(Verily, (many) Messengers were denied before you, but with patience they bore the denial, and they were hurt, till Our help reached them,) This comforts the Prophet's concern for those who denied and rejected him. Allah also commands the Prophet to be patient, just as the mighty Messengers before him were. He also promised him victory, just as the previous Messengers were victorious and the good end was theirs, after the denial and harm their people placed on them. Then, victory came to them in this life, just as victory is theirs in the Hereafter. Allah said,
وَلاَ مُبَدِّلَ لِكَلِمَـتِ اللَّهِ
(and none can alter the Words of Allah.) This refers to His decision that victory in this life and the Hereafter is for His believing servants. Allah said in other Ayat,
وَلَقَدْ سَبَقَتْ كَلِمَتُنَا لِعِبَادِنَا الْمُرْسَلِينَ - إِنَّهُمْ لَهُمُ الْمَنصُورُونَ - وَإِنَّ جُندَنَا لَهُمُ الْغَـلِبُونَ
(And, verily, Our Word has gone forth of old for Our servants, the Messengers. That they verily would be made triumphant. And that Our hosts, they verily would be the victors.) 37:171-173, and,
كَتَبَ اللَّهُ لاّغْلِبَنَّ أَنَاْ وَرُسُلِى إِنَّ اللَّهَ قَوِىٌّ عَزِيزٌ
(Allah has decreed: "Verily! It is I and My Messengers who shall be the victorious." Verily, Allah is All-Powerful, Almighty.) 58:21 Allah said;
وَلَقدْ جَآءَكَ مِن نَّبَإِ الْمُرْسَلِينَ
(Surely, there has reached you the information about the Messengers (before you).) who were given victory and prevailed over the people who rejected them. And you (O Muhammad ), have a good example in them. Allah said next,
وَإِن كَانَ كَبُرَ عَلَيْكَ إِعْرَاضُهُمْ
(If their aversion is hard on you,) and you cannot be patient because of their aversion,
فَإِن اسْتَطَعْتَ أَن تَبْتَغِىَ نَفَقاً فِى الاٌّرْضِ أَوْ سُلَّماً فِى السَّمَآءِ
(then if you were able to seek a tunnel in the ground or a ladder to the sky...) `Ali bin Abi Talhah reported that Ibn `Abbas commented, "If you were able to seek a tunnel and bring them an Ayah, or go up a ladder in the sky and bring a better Ayah than the one I (Allah) gave them, then do that." Similar was reported from Qatadah, As-Suddi and others. Allah's statement,
وَلَوْ شَآءَ اللَّهُ لَجَمَعَهُمْ عَلَى الْهُدَى فَلاَ تَكُونَنَّ مِنَ الْجَـهِلِينَ
(And had Allah willed, He could have gathered them together upon true guidance, so be not you one of the ignorant.) is similar to His statement,
وَلَوْ شَآءَ رَبُّكَ لآمَنَ مَن فِى الاٌّرْضِ كُلُّهُمْ جَمِيعًا
(And had your Lord willed, those on earth would have believed, all of them together) `Ali bin Abi Talhah reported that Ibn `Abbas said about Allah's statement,
وَلَوْ شَآءَ اللَّهُ لَجَمَعَهُمْ عَلَى الْهُدَى
(And had Allah willed, He could have gathered them together upon true guidance,) "The Messenger of Allah ﷺ was eager that all people believe and be guided to follow him. Allah told him that only those whose happiness Allah has written in the first Dhikr will believe." Allah's statement,
إِنَّمَا يَسْتَجِيبُ الَّذِينَ يَسْمَعُونَ
(It is only those who listen, that will respond,) means, only those who hear the speech, comprehend and understand it, will accept your call, O Muhammad ! In another Ayah, Allah said;
لِّيُنذِرَ مَن كَانَ حَيّاً وَيَحِقَّ الْقَوْلُ عَلَى الْكَـفِرِينَ
(That it may give warning to him who is living, and that the Word may be justified against the disbelievers.) 36:70. Allah's statement,
وَالْمَوْتَى يَبْعَثُهُمُ اللَّهُ ثُمَّ إِلَيْهِ يُرْجَعُونَ
(but as for the dead, Allah will raise them up, then to Him they will be returned.) refers to the disbelievers because their hearts are dead. Therefore, Allah resembled them to dead corpses as a way of mocking and belittling them, saying,
وَالْمَوْتَى يَبْعَثُهُمُ اللَّهُ ثُمَّ إِلَيْهِ يُرْجَعُونَ
(but as for the dead (disbelievers), Allah will raise them up, then to Him they will be returned (for their recompense).)
حق کے دشمن کو اس کے حال پر چھوڑئیے آپ ﷺ سچے ہیں اللہ تعالیٰ اپنے نبی محترم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو تسلی دیتا ہے کہ آپ اپنی قوم کو جھٹلانے نہ ماننے اور ایذائیں پہنچانے سے تنگ دل نہ ہوں، فرماتا ہے کہ ہمیں ان کی حرکت خوب معلوم ہے، آپ ان کی اس لغویت پر ملال نہ کرو، کیا اگر یہ ایمان نہ لائیں تو آپ ان کے پیچھے اپنی جان کو روگ لگا لیں گے ؟ کہاں تک ان کے لئے حسرت و افسوس کریں گے ؟ سمجھا دیجئے اور ان کا معاملہ سپرد الہ کیجئے۔ یہ لوگ دراصل آپ کو جھوٹا نہیں جانتے بلکہ یہ تو حق کے دشمن ہیں۔ چنانجہ ابو جہل نے صاف کہا تھا کہ ہم تجھے نہیں جھٹلاتے لیکن تو جو لے کر آیا ہے اسے نہیں مانتے، حکم کی روایت میں ہے کہ اسی بارے میں یہ آیت نازل ہوئی، ابن ابی حاتم میں ہے کہ ابو جہل کو حضور سے مصافحہ کرتے ہوئے دیکھ کر کسی نے اس سے کہا کہ اس بےدین سے تو مصافحہ کرتا ہے ؟ تو اس نے جواب دیا کہ اللہ کی قسم مجھے خوب علم ہے اور کامل یقین ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کے سچے نبی ہیں۔ ہم صرف خاندانی بنا پر ان کی نبوت کے ماتحت نہیں ہوتے۔ ہم نے آج تک نبی عبد عناف کی تابعداری نہیں کی۔ الغرض حضور کو رسول اللہ مانتے ہوئے آپ کی فرمانبرداری سے بھاگتے تھے، امام محمد بن اسحاق ؒ نے بیان فرمایا ہے کہ حضرت زہری ؒ اس قصے کو بیان کرتے ہوئے جس میں ابو جہل، ابو سفیان، صحر بن حرب، اخنس بن شریق کا رات کے وقت پوشیدہ طور پر آن کر ایک دوسرے کی بیخبر ی میں رسول اللہ ﷺ کا زبانی قرآن سننا ہے کہتے ہیں کہ ان لوگوں نے صبح تک قرآن سنا روشنی ذرا سی نمودار ہوئی تھی تو یہ واپس چلے۔ اتفاقاً ایک چوک میں ایک دوسرے سے ملاقات ہوگئی حیرت سے ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں کہ اس وقت یہاں کہاں ؟ پھر ہر ایک دوسرے سے صاف صاف کہہ دیتا ہے کہ حضور سے قرآن سننے کے لئے چپ چاپ آگئے تھے۔ اب تینوں بیٹھ کر معاہدہ کرتے ہیں کہ آئندہ ایسا نہ کرنا ورنہ اگر اوروں کو خبر ہوئی اور وہ آئے تو وہ تو سچے پکے مسلمان ہوجائیں گے۔ دوسری رات کو ہر ایک نے اپنے طور یہ گمان کر کے کہ کل رات کے وعدے کے مطابق وہ دونوں تو آئیں گے نہیں میں تنہا کیوں نہ جاؤں ؟ میرے جانے کی کسے خبر ہوگی ؟ اپنے گھر سے پچھلی رات کے اندھیرے اور سوفتے میں ہر ایک چلا اور ایک کونے میں دب کر اللہ کے نبی کی زبانی تلاوت قرآن کا مزہ لیتا رہا اور صبح کے وقت واپس چلا۔ اتفاقاً آج بھی اسی جگہ تینوں کا میل ہوگیا۔ ہر ایک نے ایک دوسرے کو بڑی ملامت کی بہت طعن ملامت کی اور نئے سرے سے عہد کیا کہ اب ایسی حرکت نہیں کریں گے۔ لیکن تیسری شب پھر صبر نہ ہوسکا اور ہر ایک اسی طرح پوشیدہ طور پر پہنچا اور ہر ایک کو دوسرے کے آنے کا علم بھی ہوگیا، پھر جمع ہو کر اپنے تئیں برا بھلا کہنے لگے اور بڑی سخت قسمیں کھا کر قول قرار کئے کہ اب ایسا نہیں کریں گے۔ صبح ہوتے ہی اخنس بن شریق کپڑے پہن کر تیار ہو کر ابو سفیان بن حرب کے پاس اس کے گھر میں گیا اور کہنے لگا اے ابو حنظلہ ایمان سے بتاؤ سچ سچ کہو جو قرآن تم نے محمد ﷺ کی زبانی سنا اس کی بابت تمہاری اپنی ذاتی رائے کیا ہے ؟ اس نے کہا ابو ثعلبہ سنو ! واللہ بہت سی آیتوں کے الفاظ معنی اور مطلب تو میں سمجھ گیا اور بہت سی آیتوں کو ان کی مراد کو میں جانتا ہی نہیں۔ اخنس نے کہا واللہ یہی حال میرا بھی ہے، اب یہاں سے اٹھ کر اخنس سیدھا ابو جہل کے پاس پہنچا اور کہنے لگا ابو الحکم تم سچ بتاؤ جو کچھ تم حضور سے سنتے ہو اس میں تمہارا خیال کیا ہے ؟ اس نے کہا سن جو سنا ہے اسے تو ایک طرف رکھ دے بات یہ یہ کہ بنو عبد مناف اور ہم میں چشمک ہے وہ ہم سے اور ہم ان سے بڑھنا اور سبقت کرنا چاہتے ہیں اور مدت سے یہ رسہ کسی ہو رہی ہے، انہوں نے مہمانداریاں اور دعوتیں کیں تو ہم نے بھی کیں انہوں نے لوگوں کو سواریاں دیں تو ہم نے بھی یہی کیا۔ انہوں نے عوام الناس کے ساتھ احسان و سلوک کئے تو ہم نے بھی اپنی تھیلیوں کے منہ کھول ڈالے گویا ہم کسی معاملہ میں ان سے کم نہیں رہے، اب جبکہ برابر کی ٹکر چلی جا رہی تھی تو انہوں نے کہا ہم میں ایک نبی ہے، سنو چاہے ادھر کی دنیا ادھر ہوجائے نہ تو ہم اس کی تصدیق کریں گے نہ مانیں گے۔ اخنس مایوس ہوگیا اور اٹھ کر چل دیا۔ اسی آیت کی تفسیر میں ابن جریر میں ہے کہ بدر والے دن اخنس بن شریق نے قبیلہ بنو زہرہ سے کہا کہ محمد ﷺ تمہاری قرابت کے ہیں تم ان کی ننہیال میں ہو تمہیں چاہئیے کہ اپنے بھانجے کی مدد کرو، اگر وہ واقعی نبی ہے تو مقابلہ بےسود ہی نہیں بلکہ سراسر نقصان دہ ہے اور بالفرض نہ بھی ہو تو بھی وہ تمہارا ہے، اچھا ٹھہرو دیکھو میں ابو الحکم (یعنی ابو جہل) سے بھی ملتا ہوں سنو ! اگر محمد ﷺ غالب آگئے تو وہ تمہیں کچھ نہیں کہیں گے تم سلامتی کے ساتھ واپس چلے جاؤ گے اور اگر تمہاری قوم غالب آگئی تو ان میں تو تم ہی ہو، اسی دن سے اس کا نام اخنس ہوا اصل نام ابی تھا، اب خنس تنہائی میں ابو جہل سے ملا اور کہنے لگا سچ بتا محمد ﷺ تمہارے نزدیک سچے ہیں یا جھوٹے ؟ دیکھو یہاں میرے اور تمہارے سوا کوئی اور نہیں دل کی بات مجھ سے نہ چھپانا، اس نے کہا جب یہی بات ہے تو سو اللہ کی قسم محمد ﷺ بالکل سچے اور یقینا صادق ہیں عمر بھر میں کسی چھوٹی سی چھوٹی بات میں کبھی بھی آپ نے جھوٹ نہیں بولا۔ ہمارا رکنے اور مخالفت کرنے کی وجہ ایک اور صرف ایک ہی ہے وہ یہ کہ جب بنو قصی کے خاندان میں جھنڈے اور پھر یرے چلے گئے جب حج کے حاجیوں کے اور بیت اللہ شریف کے مہتمم و منتظم یہی ہوگئے پھر سب سے بڑھ کر یہ کہ نبوت بھی اسی قبیلے میں چلی گئی تو اب اور قریشیوں کے لئے کون سی فضیلت باقی رہ گئی ؟ اسی کا ذکر اس آیت میں ہے، پس آیات اللہ سے مراد ذات حضرت محمد ﷺ ہے۔ پھر دوبارہ تسلی دی جاتی ہے کہ آپ اپنی قوم کی تکذیب ایذاء رسانی وغیرہ پر صبر کیجئے جیسے اولوالعزم پیغمبروں نے صبر کیا اور یقین مانئے کہ جس طرح انجام کار گزشہ نبیوں کا غلبہ رہا اور ان کے مخالفین تباہ و برباد ہوئے اسی طرح اللہ تعالیٰ آپ کو غالب کرے گا اور آپ کے مخالفین مغلوب ہوں گے۔ دونوں جہان میں حقیقی بلندی آپ کی ہی ہوگی۔ رب تو یہ بات فرما چکا ہے اور اللہ کی باتوں کو کوئی بدل نہیں سکتا جیسے اور آیت میں ہے آیت (وَلَقَدْ سَبَقَتْ كَلِمَتُنَا لِعِبَادِنَا الْمُرْسَلِيْنَ) 37۔ الصافات :171) یعنی ہم تو پہلے سے ہی یہ فرما چکے ہیں کہ ہمارے رسولوں کو مدد دی جائے گی اور ہمارا لشکر ہی غالب رہے گا اور آیت میں فرماتا ہے آیت (كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِيْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ قَوِيٌّ عَزِيْزٌ) 58۔ المجادلہ :21) اللہ تعالیٰ یہ لکھ چکا ہے کہ میں اور میرے رسول ہی غالب آئیں گے یقیناً اللہ تعالیٰ قوت ولا اور غلبہ والا ہے، ان نبیوں کے اکثر قصے آپ کے سامنے بیان ہوچکے ہیں ان کے حالات آپ کو پہنچ چکے ہیں، آپ خوب جانتے ہیں کہ کس طرح ان کی نصرت و تائید ہوئی اور مخالفین پر انہیں کامیابی حاصل ہوئی، پھر فرماتا ہے اگر ان کی یہ بےرخی تجھ پر گراں گزرتی ہے اگر تجھ سے ہو سکے تو زمین میں کوئی سرنگ کھو دلے اور جو معجزہ یہ تجھ سے مانگتے ہیں لا دے یا تیرے بس میں ہو تو کوئی زینہ لگا کر آسمان پر چڑھ جا اور وہاں سے ان کی چاہت کی کوئی نشانی لے آ۔ میں نے تجھے اتنی نشانیاں اس قدر معجزے دیئے ہیں کہ ایک اندھا بھی شک نہ کرسکے۔ اب ان کی طلب معجزات محض مذاق ہے اور عناد و ضد ہے کوئی ضرورت نہیں کہ تو انہیں ان کی چاہت کے معجزے ہر وقت دیکھتا پھرے، یا اگر وہ تیرے بس کے نہ ہوں تو غم کر کے رہو، اگر اللہ چاہتا تو ان سب کو ہدایت پر متفق کردیتا، تجھے نادانوں میں نہ ملنا چاہیے جیسے اور روایت میں ہے کہ اگر رب چاہتا تو روئے زمین کی مخلوق کو مومن بنا دیتا، آپ کی حرص تھی کہ سب لوگ ایماندار بن کر آپ کی تابعداری کریں تو رب نے فرما دیا کہ یہ سعادت جس کے حصے میں ہے توفیق کی اسی رفیق ہوگئی۔ پھر فرمایا کہ آپ کی دعوت پر لبیک کہنا اسے نصیب ہوگی جو کان لگا کر آپ کے کام کو سنے سمجھے یاد رکھے اور دل میں جگہ دے، جیسے اور آیت میں ہے کہ یہ اسے آگاہ کرتا ہے جو زندگی ہو، کفار پر تو کلمہ عذاب ثابت ہوچکا ہے۔ اللہ تعالیٰ مردوں کو اٹھا کر بٹھائے گا پھر اسی کی طرف سب کے سب لوٹائے جائیں گے۔ مردوں سے مراد یہاں کفار ہیں کیونکہ وہ مردہ دل ہیں تو انہیں مردہ جسموں سے تشبیہ دی۔ جس میں ان کی ذلت و خواری ظاہر ہوتی ہے۔
37
View Single
وَقَالُواْ لَوۡلَا نُزِّلَ عَلَيۡهِ ءَايَةٞ مِّن رَّبِّهِۦۚ قُلۡ إِنَّ ٱللَّهَ قَادِرٌ عَلَىٰٓ أَن يُنَزِّلَ ءَايَةٗ وَلَٰكِنَّ أَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُونَ
And they said, “Why has no sign been sent down upon him from his Lord?” Say, “Indeed Allah is Able to send down a sign”, but most of them are totally ignorant.
اور انہوں نے کہا کہ اس (رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پراس کے رب کی طرف سے (ہروقت ساتھ رہنے والی) کوئی نشانی کیوں نہیں اتاری گئی؟ فرما دیجئے: بیشک اللہ اس بات پر (بھی) قادر ہے کہ وہ (ایسی) کوئی نشانی اتار دے لیکن ان میں سے اکثر لوگ (اس کی حکمتوں کو) نہیں جانتے
Tafsir Ibn Kathir
The Idolators Ask for a Miracle
Allah states that the idolators used to proclaim, "Why does not (Muhammad) bring an Ayah from his Lord," meaning, a miracle of their choice! They would sometimes say,
لَن نُّؤْمِنَ لَكَ حَتَّى تَفْجُرَ لَنَا مِنَ الاٌّرْضِ يَنْبُوعًا
("We shall not believe in you, until you cause a spring to gush forth from the ground for us.") 17:90.
قُلْ إِنَّ اللَّهَ قَادِرٌ عَلَى أَن يُنَزِّلٍ ءايَةً وَلَـكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لاَ يَعْلَمُونَ
(Say: "Allah is certainly able to send down a sign, but most of them know not.") Certainly, Allah is able to send an Ayah (sign). But, He decided out of His wisdom to delay that, because if He sends an Ayah of their liking and they still do not believe, this will hasten their punishment as with the previous nations. Allah said in other Ayat,
وَمَا مَنَعَنَآ أَن نُّرْسِلَ بِالاٌّيَـتِ إِلاَّ أَن كَذَّبَ بِهَا الاٌّوَّلُونَ وَءَاتَيْنَا ثَمُودَ النَّاقَةَ مُبْصِرَةً فَظَلَمُواْ بِهَا وَمَا نُرْسِلُ بِالاٌّيَـتِ إِلاَّ تَخْوِيفًا
(And nothing stops Us from sending the Ayat but that the people of old denied them. And We sent the she-camel to Thamud as a clear sign, but they did her wrong. And We sent not the signs except to warn, and to make them afraid (of destruction).) 17:59, and,
إِن نَّشَأْ نُنَزِّلْ عَلَيْهِمْ مِّنَ السَّمَآءِ ءَايَةً فَظَلَّتْ أَعْنَـقُهُمْ لَهَا خَـضِعِينَ
(If We will, We could send down to them from the heaven a sign, to which they would bend their necks in humility) 26:4.
The Meaning of Umam
Allah said,
وَمَا مِن دَآبَّةٍ فِى الاٌّرْضِ وَلاَ طَائِرٍ يَطِيرُ بِجَنَاحَيْهِ إِلاَّ أُمَمٌ أَمْثَـلُكُمْ
(There is not a moving (living) creature on earth, nor a bird that flies with its two wings, but are Umam like you.) Mujahid commented, "Meaning, various species that have distinct names." Qatadah said, "Birds are an Ummah, humans are an Ummah and the Jinns are an Ummah." As-Suddi said that,
إِلاَّ أُمَمٌ أَمْثَـلُكُمْ
(but are Umam like you.) means, creations (or species). Allah's statement,
مَّا فَرَّطْنَا فِى الكِتَـبِ مِن شَىْءٍ
(We have neglected nothing in the Book,) means, the knowledge about all things is with Allah, and He never forgets any of His creatures, nor their sustenance, nor their affairs, whether these creatures live in the sea or on land. In another Ayah, Allah said;
وَمَا مِن دَآبَّةٍ فِي الاٌّرْضِ إِلاَّ عَلَى اللَّهِ رِزْقُهَا وَيَعْلَمُ مُسْتَقَرَّهَا وَمُسْتَوْدَعَهَا كُلٌّ فِى كِتَابٍ مُّبِينٍ
(And no moving creature is there on earth but its provision is due from Allah. And He knows its dwelling place and its deposit (in the uterus, grave, etc.). All is in a Clear Book.) 11:6, there is a record of their names, numbers, movements, and lack of movement. In another Ayah, Allah said;
وَكَأَيِّن مِّن دَآبَّةٍ لاَّ تَحْمِلُ رِزْقَهَا اللَّهُ يَرْزُقُهَا وَإِيَّاكُمْ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ
(And so many a moving creature there is, that carries not its own provision! Allah provides for it and for you. And He is the All-Hearer, the All-Knower.) 29:60 Ibn Abi Hatim reported that Ibn `Abbas said about the Ayah,
ثُمَّ إِلَى رَبِّهِمْ يُحْشَرُونَ
(then unto their Lord they (all) shall be gathered.) "Death gathers them." It was also said that the Day of Resurrection gathers them, for in another Ayah, Allah said;
وَإِذَا الْوُحُوشُ حُشِرَتْ
(And when the wild beasts shall be gathered together.) 81:5 `Abdur-Razzaq recorded that Abu Hurayrah said about Allah's statement,
إِلاَّ أُمَمٌ أَمْثَـلُكُمْ مَّا فَرَّطْنَا فِى الكِتَـبِ مِن شَىْءٍ ثُمَّ إِلَى رَبِّهِمْ يُحْشَرُونَ
(but are Umam like you. We have neglected nothing in the Book, then unto their Lord they (all) shall be gathered.) "All creatures will be gathered on the Day of Resurrection, the beasts, birds and all others. Allah's justice will be so perfect, that the un-horned sheep will receive retribution from the horned sheep. Allah will then command them, `Be dust!' This is when the disbeliever will say,
يَـلَيْتَنِى كُنتُ تُرَباً
("Woe to me! Would that I were dust!")"78: 40. And this was reported from the Prophet in the Hadith about the Trumpet.
The Disbelievers will be Deaf and Mute in Darkness
Allah said,
وَالَّذِينَ كَذَّبُواْ بِـْايَـتِنَا صُمٌّ وَبُكْمٌ فِى الظُّلُمَـتِ
(Those who reject Our Ayat are deaf and dumb in darkness.) due to their ignorance, little knowledge and minute comprehension. Their example is that of the deaf-mute who cannot hear nor speak, as well as being blinded by darkness. Therefore, how can such a person find guidance to the path or change the condition he is in Allah said in other Ayat,
مَثَلُهُمْ كَمَثَلِ الَّذِى اسْتَوْقَدَ نَاراً فَلَمَّآ أَضَاءَتْ مَا حَوْلَهُ ذَهَبَ اللَّهُ بِنُورِهِمْ وَتَرَكَهُمْ فِي ظُلُمَـتٍ لاَّ يُبْصِرُونَ - صُمٌّ بُكْمٌ عُمْىٌ فَهُمْ لاَ يَرْجِعُونَ
(Their parable is that of one who kindled a fire; then, when it illuminated all around him, Allah took away their light and left them in darkness. (So) they could not see. They are deaf, dumb, and blind, so they return not (to the right path)) 2:17-18, and,
أَوْ كَظُلُمَـتٍ فِى بَحْرٍ لُّجِّىٍّ يَغْشَـهُ مَوْجٌ مِّن فَوْقِهِ مَوْجٌ مِّن فَوْقِهِ سَحَابٌ ظُلُمَـتٌ بَعْضُهَا فَوْقَ بَعْضٍ إِذَآ أَخْرَجَ يَدَهُ لَمْ يَكَدْ يَرَاهَا وَمَن لَّمْ يَجْعَلِ اللَّهُ لَهُ نُوراً فَمَا لَهُ مِن نُورٍ
(Or like the darkness in a vast deep sea, overwhelmed with a great wave topped by a great wave, topped by dark clouds, darkness, one above another, if a man stretches out his hand, he can hardly see it! And he for whom Allah has not appointed light, for him there is no light. ) 24:40 This is why Allah said here,
مَن يَشَإِ اللَّهُ يُضْلِلْهُ وَمَن يَشَأْ يَجْعَلْهُ عَلَى صِرَطٍ مُّسْتَقِيمٍ
(Allah sends astray whom He wills and He guides on the straight path whom He wills.) for He does what He wills with His creatures.
معجزات کے عدم اظہار کی حکمت کافر لوگ بطور اعتراض کہا کرتے تھے کہ جو معجزہ ہم طلب کرتے ہیں یہ کیوں نہیں دکھاتے ؟ مثلاً عرب کی کل زمین میں چشموں اور آبشاروں کا جاری ہوجانا وغیرہ، فرماتا ہے کہ قدرت الٰہی سے تو کوئی چیز باہر نہیں لیکن اس وقت حکمت الہیہ کا تقاضا یہ نہیں۔ اس میں ایک ظاہری حکمت تو یہ ہے کہ تمہارے چاہے ہوئے معجزے کو دیکھ لینے کے بعد بھی اگر تم ایمان نہ لائے تو اصول الہیہ کے مطابق تم سب کو اسی جگہ ہلاک کردیا جائے گا جیسے تم سے اگلے لوگوں کے ساتھ ہوا، ثمودیوں کی نظیر تمہارے سامنے موجود ہے ہم تو جو چاہیں نشان بھی دکھا سکتے ہیں اور جو چاہیں عذاب بھی کرسکتے ہیں، چرنے چگنے والے جانور اڑنے والے پرند بھی تمہاری طرح قسم قسم کے ہیں مثلاً پرند ایک امت، انسان ایک امت، جنات ایک امت وغیرہ، یا یہ کہ وہ بھی سب تمہاری ہی طرح مخلوق ہیں، سب پر اللہ کا علم محیط ہے، سب اس کی کتاب میں لکھے ہوئے ہیں، نہ کسی کا وہ رزق بھولے نہ کسی کی حاجت اٹکے نہ کسی کی حسن تدبیر سے وہ غافل خشکی تری کا ایک ایک جاندار اس کی حفاظت میں ہے۔ جیسے فرمان ہے آیت (وَمَا مِنْ دَاۗبَّةٍ فِي الْاَرْضِ اِلَّا عَلَي اللّٰهِ رِزْقُهَا وَيَعْلَمُ مُسْتَــقَرَّهَا وَمُسْـتَوْدَعَهَا ۭ كُلٌّ فِيْ كِتٰبٍ مُّبِيْنٍ) 11۔ ہود :6) یعنی جتنے جاندار زمین پر چلتے پھرتے ہیں سب کی روزیاں اللہ کے ذمہ ہیں وہی ان کے جیتے جی کے ٹھکانے کو اور مرنے کے بعد سونپے جانے کے مقام کو بخوبی جانتا ہے اس کے پاس لوح محفوظ میں یہ سب کچھ درج بھی ہے، ان کے نام، ان کی گنتی، ان کی حرکات و سکنات سب سے وہ واقف ہے اس کے وسیع علم سے کوئی چیز خارج اور باہر نہیں اور مقام پر ارشاد ہے آیت (وَكَاَيِّنْ مِّنْ دَاۗبَّةٍ لَّا تَحْمِلُ رِزْقَهَا004اَللّٰهُ يَرْزُقُهَا وَاِيَّاكُمْ ڮ وَهُوَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ) 29۔ العنکبوت :60) بہت سے وہ جاندار ہیں جن کی روزی تیرے ذمہ نہیں انہیں اور تم سب کو اللہ ہی روزیاں دیتا ہے وہ باریک آواز کو سننے والا ہے اور ہر چھوٹی بڑی چیز کا جاننے والا ہے، ابو یعلی میں حضرت جابر بن عبداللہ سے مروی ہے کہ حضرت عمر کی دو سال کی خلافت کے زمانہ میں سے ایک سال ٹڈیاں دکھائی ہی نہیں دیں تو آپ کو بہت خیال ہوا اور سام عراق یمن وغیرہ کی طرف سوار دوڑائے کہ دریافت کر آئیں کہ ٹڈیاں اس سال کہیں نظر بھی پڑیں یا نہیں ؟ یمن و الا قاصد جب واپس آیا تو آپ نے ساتھ مٹھی بھر ٹڈیاں بھی لیتا آیا اور حضرت فاروق اعظم کے سامنے ڈال دیں آپ نے انہیں دیکھ کر تین مرتبہ تکبیر کہی اور فرمایا میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ اللہ عزوجل نے ایک ہزار امتیں پیدا کی ہیں جن میں سے چھ سو تری میں ہیں اور چار سو خشکی میں۔ ان تمام امتوں میں سے سب سے پہلے ٹڈی ہلاک ہوگی اس کے بعد تو ہلاک ہوگی اس کے بعد تو ہلاکت کا سلسلہ شروع ہوجائے گا بالکل اس طرح جیسے کسی تسبیح کا دھاگہ ٹوٹ گیا اور موتی یکے بعد دیگرے جھڑنے لگ گئے، پھر فرماتا ہے سب کا حشر اللہ کی طرف ہے یعنی سب کو مت ہے، چوپایوں کی موت ہی ان کا حشر ہے، ایک قول تو یہ ہے، دوسرا قول یہ ہے کہ میدان محشر میں بروز قیامت یہ بھی اللہ جل شانہ کے سامنے جمع کئے جائیں گے جیسے فرمایا آیت (وَاِذَا الْوُحُوْشُ حُشِرَتْ) 81۔ التکویر :5) مسند احمد میں ہے کہ دو بکریوں کو آپس میں لڑتے ہوئے دیکھ کر رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابوذر سے دریافت فرمایا کہ جانتے ہو یہ کیوں لڑ رہی ہیں ؟ جواب ملا کہ میں کیا جانوں ؟ فرمایا لیکن اللہ تعالیٰ جانتا ہے اور ان کے درمیان وہ فیصلہ بھی کرے گا، ابن جریر کی ایک اور روایت میں اتنی زیادتی بھی ہے کہ اڑنے والے ہر ایک پرند کا علم بھی ہمارے سامنے بیان کیا گیا ہے، مسند کی اور روایت میں ہے کہ بےسینگ بکری قیامت کے دن سینگ والی بکری سے اپنا بدلہ لے گی۔ حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے کہ تمام مخلوق چوپائے بہائم پرند وغیرہ غرض تمام چیزیں اللہ کے سامنے حاضر ہوں گی۔ پھر ان میں یہاں تک عدل ہوگا کہ بےسینگ والی بکری کو اگر سینگ والی بکری نے مارا ہوگا تو اس کا بھی بدلہ دلوایا جائے گا پھر ان سے جناب باری فرمائے گا تم مٹی ہوجاؤ۔ اس وقت کافر بھی یہی آرزو کریں گے کہ کاش ہم بھی مٹی ہوجاتے۔ صور والی حدیث میں یہ مرفوعاً بھی مروی ہے۔ پھر کافروں کی مال بیان کی گئی ہے کہ وہ اپنی کم علمی اور کج فہمی میں ان بہروں گونگوں کے مثل ہیں جو اندھیروں میں ہوں۔ بتاؤ تو وہ کیسے راہ راست پر آسکتے ہیں ؟ نہ کسی کی سنیں نہ اپنی کہیں نہ کچھ دیکھ سکیں۔ جیسے سورة بقرہ کی ابتداء میں ہے کہ ان کی مثال اس شخص جیسی ہے جو آگ سلگائے جب آس پاس کی چیزیں اس پر روشن ہوجائیں اس وقت آگ بجھ جائے اور وہ اندھیریوں میں رہ جائے اور کچھ نہ دیکھ سکے۔ ایسے لوگ بہرے گونگے اندھے ہیں وہ راہ راست کی طرف لوٹ نہیں سکتے اور آیت میں ہے آیت (اَوْ كَظُلُمٰتٍ فِيْ بَحْرٍ لُّـجِّيٍّ يَّغْشٰـىهُ مَوْجٌ مِّنْ فَوْقِهٖ مَوْجٌ مِّنْ فَوْقِهٖ سَحَابٌ ۭ ظُلُمٰتٌۢ بَعْضُهَا فَوْقَ بَعْضٍ) 24۔ النور :40) یعنی مثل ان اندھیروں کے جو گہرے سمندر میں ہوں جس کی موجوں پر موجیں اٹھ رہی ہوں اور اوپر سے ابر چھایا ہو اندھیروں پر اندھیریاں ہوں کہ ہاتھ بھی نظر نہ آسکے۔ جسے قدرت نے نور نہیں بخشا وہ بےنور ہے۔ پھر فرمایا ساری مخلوق میں اللہ ہی کا تصرف ہے وہ جسے چاہے صراط مستقیم پر کر دے۔
38
View Single
وَمَا مِن دَآبَّةٖ فِي ٱلۡأَرۡضِ وَلَا طَـٰٓئِرٖ يَطِيرُ بِجَنَاحَيۡهِ إِلَّآ أُمَمٌ أَمۡثَالُكُمۚ مَّا فَرَّطۡنَا فِي ٱلۡكِتَٰبِ مِن شَيۡءٖۚ ثُمَّ إِلَىٰ رَبِّهِمۡ يُحۡشَرُونَ
And there is not an animal moving in the earth nor a bird flying on its wings, but they are a nation like you; We have left out nothing in this Book – then towards their Lord they will be raised.
اور (اے انسانو!) کوئی بھی چلنے پھرنے والا (جانور) اور پرندہ جو اپنے دو بازوؤں سے اڑتا ہو (ایسا) نہیں ہے مگر یہ کہ (بہت سی صفات میں) وہ سب تمہارے ہی مماثل طبقات ہیں، ہم نے کتاب میں کوئی چیز نہیں چھوڑی (جسے صراحۃً یا اشارۃً بیان نہ کردیا ہو) پھر سب (لوگ) اپنے رب کے پاس جمع کئے جائیں گے
Tafsir Ibn Kathir
The Idolators Ask for a Miracle
Allah states that the idolators used to proclaim, "Why does not (Muhammad) bring an Ayah from his Lord," meaning, a miracle of their choice! They would sometimes say,
لَن نُّؤْمِنَ لَكَ حَتَّى تَفْجُرَ لَنَا مِنَ الاٌّرْضِ يَنْبُوعًا
("We shall not believe in you, until you cause a spring to gush forth from the ground for us.") 17:90.
قُلْ إِنَّ اللَّهَ قَادِرٌ عَلَى أَن يُنَزِّلٍ ءايَةً وَلَـكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لاَ يَعْلَمُونَ
(Say: "Allah is certainly able to send down a sign, but most of them know not.") Certainly, Allah is able to send an Ayah (sign). But, He decided out of His wisdom to delay that, because if He sends an Ayah of their liking and they still do not believe, this will hasten their punishment as with the previous nations. Allah said in other Ayat,
وَمَا مَنَعَنَآ أَن نُّرْسِلَ بِالاٌّيَـتِ إِلاَّ أَن كَذَّبَ بِهَا الاٌّوَّلُونَ وَءَاتَيْنَا ثَمُودَ النَّاقَةَ مُبْصِرَةً فَظَلَمُواْ بِهَا وَمَا نُرْسِلُ بِالاٌّيَـتِ إِلاَّ تَخْوِيفًا
(And nothing stops Us from sending the Ayat but that the people of old denied them. And We sent the she-camel to Thamud as a clear sign, but they did her wrong. And We sent not the signs except to warn, and to make them afraid (of destruction).) 17:59, and,
إِن نَّشَأْ نُنَزِّلْ عَلَيْهِمْ مِّنَ السَّمَآءِ ءَايَةً فَظَلَّتْ أَعْنَـقُهُمْ لَهَا خَـضِعِينَ
(If We will, We could send down to them from the heaven a sign, to which they would bend their necks in humility) 26:4.
The Meaning of Umam
Allah said,
وَمَا مِن دَآبَّةٍ فِى الاٌّرْضِ وَلاَ طَائِرٍ يَطِيرُ بِجَنَاحَيْهِ إِلاَّ أُمَمٌ أَمْثَـلُكُمْ
(There is not a moving (living) creature on earth, nor a bird that flies with its two wings, but are Umam like you.) Mujahid commented, "Meaning, various species that have distinct names." Qatadah said, "Birds are an Ummah, humans are an Ummah and the Jinns are an Ummah." As-Suddi said that,
إِلاَّ أُمَمٌ أَمْثَـلُكُمْ
(but are Umam like you.) means, creations (or species). Allah's statement,
مَّا فَرَّطْنَا فِى الكِتَـبِ مِن شَىْءٍ
(We have neglected nothing in the Book,) means, the knowledge about all things is with Allah, and He never forgets any of His creatures, nor their sustenance, nor their affairs, whether these creatures live in the sea or on land. In another Ayah, Allah said;
وَمَا مِن دَآبَّةٍ فِي الاٌّرْضِ إِلاَّ عَلَى اللَّهِ رِزْقُهَا وَيَعْلَمُ مُسْتَقَرَّهَا وَمُسْتَوْدَعَهَا كُلٌّ فِى كِتَابٍ مُّبِينٍ
(And no moving creature is there on earth but its provision is due from Allah. And He knows its dwelling place and its deposit (in the uterus, grave, etc.). All is in a Clear Book.) 11:6, there is a record of their names, numbers, movements, and lack of movement. In another Ayah, Allah said;
وَكَأَيِّن مِّن دَآبَّةٍ لاَّ تَحْمِلُ رِزْقَهَا اللَّهُ يَرْزُقُهَا وَإِيَّاكُمْ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ
(And so many a moving creature there is, that carries not its own provision! Allah provides for it and for you. And He is the All-Hearer, the All-Knower.) 29:60 Ibn Abi Hatim reported that Ibn `Abbas said about the Ayah,
ثُمَّ إِلَى رَبِّهِمْ يُحْشَرُونَ
(then unto their Lord they (all) shall be gathered.) "Death gathers them." It was also said that the Day of Resurrection gathers them, for in another Ayah, Allah said;
وَإِذَا الْوُحُوشُ حُشِرَتْ
(And when the wild beasts shall be gathered together.) 81:5 `Abdur-Razzaq recorded that Abu Hurayrah said about Allah's statement,
إِلاَّ أُمَمٌ أَمْثَـلُكُمْ مَّا فَرَّطْنَا فِى الكِتَـبِ مِن شَىْءٍ ثُمَّ إِلَى رَبِّهِمْ يُحْشَرُونَ
(but are Umam like you. We have neglected nothing in the Book, then unto their Lord they (all) shall be gathered.) "All creatures will be gathered on the Day of Resurrection, the beasts, birds and all others. Allah's justice will be so perfect, that the un-horned sheep will receive retribution from the horned sheep. Allah will then command them, `Be dust!' This is when the disbeliever will say,
يَـلَيْتَنِى كُنتُ تُرَباً
("Woe to me! Would that I were dust!")"78: 40. And this was reported from the Prophet in the Hadith about the Trumpet.
The Disbelievers will be Deaf and Mute in Darkness
Allah said,
وَالَّذِينَ كَذَّبُواْ بِـْايَـتِنَا صُمٌّ وَبُكْمٌ فِى الظُّلُمَـتِ
(Those who reject Our Ayat are deaf and dumb in darkness.) due to their ignorance, little knowledge and minute comprehension. Their example is that of the deaf-mute who cannot hear nor speak, as well as being blinded by darkness. Therefore, how can such a person find guidance to the path or change the condition he is in Allah said in other Ayat,
مَثَلُهُمْ كَمَثَلِ الَّذِى اسْتَوْقَدَ نَاراً فَلَمَّآ أَضَاءَتْ مَا حَوْلَهُ ذَهَبَ اللَّهُ بِنُورِهِمْ وَتَرَكَهُمْ فِي ظُلُمَـتٍ لاَّ يُبْصِرُونَ - صُمٌّ بُكْمٌ عُمْىٌ فَهُمْ لاَ يَرْجِعُونَ
(Their parable is that of one who kindled a fire; then, when it illuminated all around him, Allah took away their light and left them in darkness. (So) they could not see. They are deaf, dumb, and blind, so they return not (to the right path)) 2:17-18, and,
أَوْ كَظُلُمَـتٍ فِى بَحْرٍ لُّجِّىٍّ يَغْشَـهُ مَوْجٌ مِّن فَوْقِهِ مَوْجٌ مِّن فَوْقِهِ سَحَابٌ ظُلُمَـتٌ بَعْضُهَا فَوْقَ بَعْضٍ إِذَآ أَخْرَجَ يَدَهُ لَمْ يَكَدْ يَرَاهَا وَمَن لَّمْ يَجْعَلِ اللَّهُ لَهُ نُوراً فَمَا لَهُ مِن نُورٍ
(Or like the darkness in a vast deep sea, overwhelmed with a great wave topped by a great wave, topped by dark clouds, darkness, one above another, if a man stretches out his hand, he can hardly see it! And he for whom Allah has not appointed light, for him there is no light. ) 24:40 This is why Allah said here,
مَن يَشَإِ اللَّهُ يُضْلِلْهُ وَمَن يَشَأْ يَجْعَلْهُ عَلَى صِرَطٍ مُّسْتَقِيمٍ
(Allah sends astray whom He wills and He guides on the straight path whom He wills.) for He does what He wills with His creatures.
معجزات کے عدم اظہار کی حکمت کافر لوگ بطور اعتراض کہا کرتے تھے کہ جو معجزہ ہم طلب کرتے ہیں یہ کیوں نہیں دکھاتے ؟ مثلاً عرب کی کل زمین میں چشموں اور آبشاروں کا جاری ہوجانا وغیرہ، فرماتا ہے کہ قدرت الٰہی سے تو کوئی چیز باہر نہیں لیکن اس وقت حکمت الہیہ کا تقاضا یہ نہیں۔ اس میں ایک ظاہری حکمت تو یہ ہے کہ تمہارے چاہے ہوئے معجزے کو دیکھ لینے کے بعد بھی اگر تم ایمان نہ لائے تو اصول الہیہ کے مطابق تم سب کو اسی جگہ ہلاک کردیا جائے گا جیسے تم سے اگلے لوگوں کے ساتھ ہوا، ثمودیوں کی نظیر تمہارے سامنے موجود ہے ہم تو جو چاہیں نشان بھی دکھا سکتے ہیں اور جو چاہیں عذاب بھی کرسکتے ہیں، چرنے چگنے والے جانور اڑنے والے پرند بھی تمہاری طرح قسم قسم کے ہیں مثلاً پرند ایک امت، انسان ایک امت، جنات ایک امت وغیرہ، یا یہ کہ وہ بھی سب تمہاری ہی طرح مخلوق ہیں، سب پر اللہ کا علم محیط ہے، سب اس کی کتاب میں لکھے ہوئے ہیں، نہ کسی کا وہ رزق بھولے نہ کسی کی حاجت اٹکے نہ کسی کی حسن تدبیر سے وہ غافل خشکی تری کا ایک ایک جاندار اس کی حفاظت میں ہے۔ جیسے فرمان ہے آیت (وَمَا مِنْ دَاۗبَّةٍ فِي الْاَرْضِ اِلَّا عَلَي اللّٰهِ رِزْقُهَا وَيَعْلَمُ مُسْتَــقَرَّهَا وَمُسْـتَوْدَعَهَا ۭ كُلٌّ فِيْ كِتٰبٍ مُّبِيْنٍ) 11۔ ہود :6) یعنی جتنے جاندار زمین پر چلتے پھرتے ہیں سب کی روزیاں اللہ کے ذمہ ہیں وہی ان کے جیتے جی کے ٹھکانے کو اور مرنے کے بعد سونپے جانے کے مقام کو بخوبی جانتا ہے اس کے پاس لوح محفوظ میں یہ سب کچھ درج بھی ہے، ان کے نام، ان کی گنتی، ان کی حرکات و سکنات سب سے وہ واقف ہے اس کے وسیع علم سے کوئی چیز خارج اور باہر نہیں اور مقام پر ارشاد ہے آیت (وَكَاَيِّنْ مِّنْ دَاۗبَّةٍ لَّا تَحْمِلُ رِزْقَهَا004اَللّٰهُ يَرْزُقُهَا وَاِيَّاكُمْ ڮ وَهُوَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ) 29۔ العنکبوت :60) بہت سے وہ جاندار ہیں جن کی روزی تیرے ذمہ نہیں انہیں اور تم سب کو اللہ ہی روزیاں دیتا ہے وہ باریک آواز کو سننے والا ہے اور ہر چھوٹی بڑی چیز کا جاننے والا ہے، ابو یعلی میں حضرت جابر بن عبداللہ سے مروی ہے کہ حضرت عمر کی دو سال کی خلافت کے زمانہ میں سے ایک سال ٹڈیاں دکھائی ہی نہیں دیں تو آپ کو بہت خیال ہوا اور سام عراق یمن وغیرہ کی طرف سوار دوڑائے کہ دریافت کر آئیں کہ ٹڈیاں اس سال کہیں نظر بھی پڑیں یا نہیں ؟ یمن و الا قاصد جب واپس آیا تو آپ نے ساتھ مٹھی بھر ٹڈیاں بھی لیتا آیا اور حضرت فاروق اعظم کے سامنے ڈال دیں آپ نے انہیں دیکھ کر تین مرتبہ تکبیر کہی اور فرمایا میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ اللہ عزوجل نے ایک ہزار امتیں پیدا کی ہیں جن میں سے چھ سو تری میں ہیں اور چار سو خشکی میں۔ ان تمام امتوں میں سے سب سے پہلے ٹڈی ہلاک ہوگی اس کے بعد تو ہلاک ہوگی اس کے بعد تو ہلاکت کا سلسلہ شروع ہوجائے گا بالکل اس طرح جیسے کسی تسبیح کا دھاگہ ٹوٹ گیا اور موتی یکے بعد دیگرے جھڑنے لگ گئے، پھر فرماتا ہے سب کا حشر اللہ کی طرف ہے یعنی سب کو مت ہے، چوپایوں کی موت ہی ان کا حشر ہے، ایک قول تو یہ ہے، دوسرا قول یہ ہے کہ میدان محشر میں بروز قیامت یہ بھی اللہ جل شانہ کے سامنے جمع کئے جائیں گے جیسے فرمایا آیت (وَاِذَا الْوُحُوْشُ حُشِرَتْ) 81۔ التکویر :5) مسند احمد میں ہے کہ دو بکریوں کو آپس میں لڑتے ہوئے دیکھ کر رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابوذر سے دریافت فرمایا کہ جانتے ہو یہ کیوں لڑ رہی ہیں ؟ جواب ملا کہ میں کیا جانوں ؟ فرمایا لیکن اللہ تعالیٰ جانتا ہے اور ان کے درمیان وہ فیصلہ بھی کرے گا، ابن جریر کی ایک اور روایت میں اتنی زیادتی بھی ہے کہ اڑنے والے ہر ایک پرند کا علم بھی ہمارے سامنے بیان کیا گیا ہے، مسند کی اور روایت میں ہے کہ بےسینگ بکری قیامت کے دن سینگ والی بکری سے اپنا بدلہ لے گی۔ حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے کہ تمام مخلوق چوپائے بہائم پرند وغیرہ غرض تمام چیزیں اللہ کے سامنے حاضر ہوں گی۔ پھر ان میں یہاں تک عدل ہوگا کہ بےسینگ والی بکری کو اگر سینگ والی بکری نے مارا ہوگا تو اس کا بھی بدلہ دلوایا جائے گا پھر ان سے جناب باری فرمائے گا تم مٹی ہوجاؤ۔ اس وقت کافر بھی یہی آرزو کریں گے کہ کاش ہم بھی مٹی ہوجاتے۔ صور والی حدیث میں یہ مرفوعاً بھی مروی ہے۔ پھر کافروں کی مال بیان کی گئی ہے کہ وہ اپنی کم علمی اور کج فہمی میں ان بہروں گونگوں کے مثل ہیں جو اندھیروں میں ہوں۔ بتاؤ تو وہ کیسے راہ راست پر آسکتے ہیں ؟ نہ کسی کی سنیں نہ اپنی کہیں نہ کچھ دیکھ سکیں۔ جیسے سورة بقرہ کی ابتداء میں ہے کہ ان کی مثال اس شخص جیسی ہے جو آگ سلگائے جب آس پاس کی چیزیں اس پر روشن ہوجائیں اس وقت آگ بجھ جائے اور وہ اندھیریوں میں رہ جائے اور کچھ نہ دیکھ سکے۔ ایسے لوگ بہرے گونگے اندھے ہیں وہ راہ راست کی طرف لوٹ نہیں سکتے اور آیت میں ہے آیت (اَوْ كَظُلُمٰتٍ فِيْ بَحْرٍ لُّـجِّيٍّ يَّغْشٰـىهُ مَوْجٌ مِّنْ فَوْقِهٖ مَوْجٌ مِّنْ فَوْقِهٖ سَحَابٌ ۭ ظُلُمٰتٌۢ بَعْضُهَا فَوْقَ بَعْضٍ) 24۔ النور :40) یعنی مثل ان اندھیروں کے جو گہرے سمندر میں ہوں جس کی موجوں پر موجیں اٹھ رہی ہوں اور اوپر سے ابر چھایا ہو اندھیروں پر اندھیریاں ہوں کہ ہاتھ بھی نظر نہ آسکے۔ جسے قدرت نے نور نہیں بخشا وہ بےنور ہے۔ پھر فرمایا ساری مخلوق میں اللہ ہی کا تصرف ہے وہ جسے چاہے صراط مستقیم پر کر دے۔
39
View Single
وَٱلَّذِينَ كَذَّبُواْ بِـَٔايَٰتِنَا صُمّٞ وَبُكۡمٞ فِي ٱلظُّلُمَٰتِۗ مَن يَشَإِ ٱللَّهُ يُضۡلِلۡهُ وَمَن يَشَأۡ يَجۡعَلۡهُ عَلَىٰ صِرَٰطٖ مُّسۡتَقِيمٖ
And those who deny Our signs are deaf and dumb in realms of darkness; Allah may send astray whomever He wills; and may place on the Straight Path whomever He wills.
اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا وہ بہرے اور گونگے ہیں، تاریکیوں میں (بھٹک رہے) ہیں۔ اللہ جسے چاہتا ہے اسے (انکارِ حق اور ضد کے باعث) گمراہ کردیتا ہے، اور جسے چاہتا ہے اسے (قبولِ حق کے باعث) سیدھی راہ پر لگا دیتا ہے
Tafsir Ibn Kathir
The Idolators Ask for a Miracle
Allah states that the idolators used to proclaim, "Why does not (Muhammad) bring an Ayah from his Lord," meaning, a miracle of their choice! They would sometimes say,
لَن نُّؤْمِنَ لَكَ حَتَّى تَفْجُرَ لَنَا مِنَ الاٌّرْضِ يَنْبُوعًا
("We shall not believe in you, until you cause a spring to gush forth from the ground for us.") 17:90.
قُلْ إِنَّ اللَّهَ قَادِرٌ عَلَى أَن يُنَزِّلٍ ءايَةً وَلَـكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لاَ يَعْلَمُونَ
(Say: "Allah is certainly able to send down a sign, but most of them know not.") Certainly, Allah is able to send an Ayah (sign). But, He decided out of His wisdom to delay that, because if He sends an Ayah of their liking and they still do not believe, this will hasten their punishment as with the previous nations. Allah said in other Ayat,
وَمَا مَنَعَنَآ أَن نُّرْسِلَ بِالاٌّيَـتِ إِلاَّ أَن كَذَّبَ بِهَا الاٌّوَّلُونَ وَءَاتَيْنَا ثَمُودَ النَّاقَةَ مُبْصِرَةً فَظَلَمُواْ بِهَا وَمَا نُرْسِلُ بِالاٌّيَـتِ إِلاَّ تَخْوِيفًا
(And nothing stops Us from sending the Ayat but that the people of old denied them. And We sent the she-camel to Thamud as a clear sign, but they did her wrong. And We sent not the signs except to warn, and to make them afraid (of destruction).) 17:59, and,
إِن نَّشَأْ نُنَزِّلْ عَلَيْهِمْ مِّنَ السَّمَآءِ ءَايَةً فَظَلَّتْ أَعْنَـقُهُمْ لَهَا خَـضِعِينَ
(If We will, We could send down to them from the heaven a sign, to which they would bend their necks in humility) 26:4.
The Meaning of Umam
Allah said,
وَمَا مِن دَآبَّةٍ فِى الاٌّرْضِ وَلاَ طَائِرٍ يَطِيرُ بِجَنَاحَيْهِ إِلاَّ أُمَمٌ أَمْثَـلُكُمْ
(There is not a moving (living) creature on earth, nor a bird that flies with its two wings, but are Umam like you.) Mujahid commented, "Meaning, various species that have distinct names." Qatadah said, "Birds are an Ummah, humans are an Ummah and the Jinns are an Ummah." As-Suddi said that,
إِلاَّ أُمَمٌ أَمْثَـلُكُمْ
(but are Umam like you.) means, creations (or species). Allah's statement,
مَّا فَرَّطْنَا فِى الكِتَـبِ مِن شَىْءٍ
(We have neglected nothing in the Book,) means, the knowledge about all things is with Allah, and He never forgets any of His creatures, nor their sustenance, nor their affairs, whether these creatures live in the sea or on land. In another Ayah, Allah said;
وَمَا مِن دَآبَّةٍ فِي الاٌّرْضِ إِلاَّ عَلَى اللَّهِ رِزْقُهَا وَيَعْلَمُ مُسْتَقَرَّهَا وَمُسْتَوْدَعَهَا كُلٌّ فِى كِتَابٍ مُّبِينٍ
(And no moving creature is there on earth but its provision is due from Allah. And He knows its dwelling place and its deposit (in the uterus, grave, etc.). All is in a Clear Book.) 11:6, there is a record of their names, numbers, movements, and lack of movement. In another Ayah, Allah said;
وَكَأَيِّن مِّن دَآبَّةٍ لاَّ تَحْمِلُ رِزْقَهَا اللَّهُ يَرْزُقُهَا وَإِيَّاكُمْ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ
(And so many a moving creature there is, that carries not its own provision! Allah provides for it and for you. And He is the All-Hearer, the All-Knower.) 29:60 Ibn Abi Hatim reported that Ibn `Abbas said about the Ayah,
ثُمَّ إِلَى رَبِّهِمْ يُحْشَرُونَ
(then unto their Lord they (all) shall be gathered.) "Death gathers them." It was also said that the Day of Resurrection gathers them, for in another Ayah, Allah said;
وَإِذَا الْوُحُوشُ حُشِرَتْ
(And when the wild beasts shall be gathered together.) 81:5 `Abdur-Razzaq recorded that Abu Hurayrah said about Allah's statement,
إِلاَّ أُمَمٌ أَمْثَـلُكُمْ مَّا فَرَّطْنَا فِى الكِتَـبِ مِن شَىْءٍ ثُمَّ إِلَى رَبِّهِمْ يُحْشَرُونَ
(but are Umam like you. We have neglected nothing in the Book, then unto their Lord they (all) shall be gathered.) "All creatures will be gathered on the Day of Resurrection, the beasts, birds and all others. Allah's justice will be so perfect, that the un-horned sheep will receive retribution from the horned sheep. Allah will then command them, `Be dust!' This is when the disbeliever will say,
يَـلَيْتَنِى كُنتُ تُرَباً
("Woe to me! Would that I were dust!")"78: 40. And this was reported from the Prophet in the Hadith about the Trumpet.
The Disbelievers will be Deaf and Mute in Darkness
Allah said,
وَالَّذِينَ كَذَّبُواْ بِـْايَـتِنَا صُمٌّ وَبُكْمٌ فِى الظُّلُمَـتِ
(Those who reject Our Ayat are deaf and dumb in darkness.) due to their ignorance, little knowledge and minute comprehension. Their example is that of the deaf-mute who cannot hear nor speak, as well as being blinded by darkness. Therefore, how can such a person find guidance to the path or change the condition he is in Allah said in other Ayat,
مَثَلُهُمْ كَمَثَلِ الَّذِى اسْتَوْقَدَ نَاراً فَلَمَّآ أَضَاءَتْ مَا حَوْلَهُ ذَهَبَ اللَّهُ بِنُورِهِمْ وَتَرَكَهُمْ فِي ظُلُمَـتٍ لاَّ يُبْصِرُونَ - صُمٌّ بُكْمٌ عُمْىٌ فَهُمْ لاَ يَرْجِعُونَ
(Their parable is that of one who kindled a fire; then, when it illuminated all around him, Allah took away their light and left them in darkness. (So) they could not see. They are deaf, dumb, and blind, so they return not (to the right path)) 2:17-18, and,
أَوْ كَظُلُمَـتٍ فِى بَحْرٍ لُّجِّىٍّ يَغْشَـهُ مَوْجٌ مِّن فَوْقِهِ مَوْجٌ مِّن فَوْقِهِ سَحَابٌ ظُلُمَـتٌ بَعْضُهَا فَوْقَ بَعْضٍ إِذَآ أَخْرَجَ يَدَهُ لَمْ يَكَدْ يَرَاهَا وَمَن لَّمْ يَجْعَلِ اللَّهُ لَهُ نُوراً فَمَا لَهُ مِن نُورٍ
(Or like the darkness in a vast deep sea, overwhelmed with a great wave topped by a great wave, topped by dark clouds, darkness, one above another, if a man stretches out his hand, he can hardly see it! And he for whom Allah has not appointed light, for him there is no light. ) 24:40 This is why Allah said here,
مَن يَشَإِ اللَّهُ يُضْلِلْهُ وَمَن يَشَأْ يَجْعَلْهُ عَلَى صِرَطٍ مُّسْتَقِيمٍ
(Allah sends astray whom He wills and He guides on the straight path whom He wills.) for He does what He wills with His creatures.
معجزات کے عدم اظہار کی حکمت کافر لوگ بطور اعتراض کہا کرتے تھے کہ جو معجزہ ہم طلب کرتے ہیں یہ کیوں نہیں دکھاتے ؟ مثلاً عرب کی کل زمین میں چشموں اور آبشاروں کا جاری ہوجانا وغیرہ، فرماتا ہے کہ قدرت الٰہی سے تو کوئی چیز باہر نہیں لیکن اس وقت حکمت الہیہ کا تقاضا یہ نہیں۔ اس میں ایک ظاہری حکمت تو یہ ہے کہ تمہارے چاہے ہوئے معجزے کو دیکھ لینے کے بعد بھی اگر تم ایمان نہ لائے تو اصول الہیہ کے مطابق تم سب کو اسی جگہ ہلاک کردیا جائے گا جیسے تم سے اگلے لوگوں کے ساتھ ہوا، ثمودیوں کی نظیر تمہارے سامنے موجود ہے ہم تو جو چاہیں نشان بھی دکھا سکتے ہیں اور جو چاہیں عذاب بھی کرسکتے ہیں، چرنے چگنے والے جانور اڑنے والے پرند بھی تمہاری طرح قسم قسم کے ہیں مثلاً پرند ایک امت، انسان ایک امت، جنات ایک امت وغیرہ، یا یہ کہ وہ بھی سب تمہاری ہی طرح مخلوق ہیں، سب پر اللہ کا علم محیط ہے، سب اس کی کتاب میں لکھے ہوئے ہیں، نہ کسی کا وہ رزق بھولے نہ کسی کی حاجت اٹکے نہ کسی کی حسن تدبیر سے وہ غافل خشکی تری کا ایک ایک جاندار اس کی حفاظت میں ہے۔ جیسے فرمان ہے آیت (وَمَا مِنْ دَاۗبَّةٍ فِي الْاَرْضِ اِلَّا عَلَي اللّٰهِ رِزْقُهَا وَيَعْلَمُ مُسْتَــقَرَّهَا وَمُسْـتَوْدَعَهَا ۭ كُلٌّ فِيْ كِتٰبٍ مُّبِيْنٍ) 11۔ ہود :6) یعنی جتنے جاندار زمین پر چلتے پھرتے ہیں سب کی روزیاں اللہ کے ذمہ ہیں وہی ان کے جیتے جی کے ٹھکانے کو اور مرنے کے بعد سونپے جانے کے مقام کو بخوبی جانتا ہے اس کے پاس لوح محفوظ میں یہ سب کچھ درج بھی ہے، ان کے نام، ان کی گنتی، ان کی حرکات و سکنات سب سے وہ واقف ہے اس کے وسیع علم سے کوئی چیز خارج اور باہر نہیں اور مقام پر ارشاد ہے آیت (وَكَاَيِّنْ مِّنْ دَاۗبَّةٍ لَّا تَحْمِلُ رِزْقَهَا004اَللّٰهُ يَرْزُقُهَا وَاِيَّاكُمْ ڮ وَهُوَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ) 29۔ العنکبوت :60) بہت سے وہ جاندار ہیں جن کی روزی تیرے ذمہ نہیں انہیں اور تم سب کو اللہ ہی روزیاں دیتا ہے وہ باریک آواز کو سننے والا ہے اور ہر چھوٹی بڑی چیز کا جاننے والا ہے، ابو یعلی میں حضرت جابر بن عبداللہ سے مروی ہے کہ حضرت عمر کی دو سال کی خلافت کے زمانہ میں سے ایک سال ٹڈیاں دکھائی ہی نہیں دیں تو آپ کو بہت خیال ہوا اور سام عراق یمن وغیرہ کی طرف سوار دوڑائے کہ دریافت کر آئیں کہ ٹڈیاں اس سال کہیں نظر بھی پڑیں یا نہیں ؟ یمن و الا قاصد جب واپس آیا تو آپ نے ساتھ مٹھی بھر ٹڈیاں بھی لیتا آیا اور حضرت فاروق اعظم کے سامنے ڈال دیں آپ نے انہیں دیکھ کر تین مرتبہ تکبیر کہی اور فرمایا میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ اللہ عزوجل نے ایک ہزار امتیں پیدا کی ہیں جن میں سے چھ سو تری میں ہیں اور چار سو خشکی میں۔ ان تمام امتوں میں سے سب سے پہلے ٹڈی ہلاک ہوگی اس کے بعد تو ہلاک ہوگی اس کے بعد تو ہلاکت کا سلسلہ شروع ہوجائے گا بالکل اس طرح جیسے کسی تسبیح کا دھاگہ ٹوٹ گیا اور موتی یکے بعد دیگرے جھڑنے لگ گئے، پھر فرماتا ہے سب کا حشر اللہ کی طرف ہے یعنی سب کو مت ہے، چوپایوں کی موت ہی ان کا حشر ہے، ایک قول تو یہ ہے، دوسرا قول یہ ہے کہ میدان محشر میں بروز قیامت یہ بھی اللہ جل شانہ کے سامنے جمع کئے جائیں گے جیسے فرمایا آیت (وَاِذَا الْوُحُوْشُ حُشِرَتْ) 81۔ التکویر :5) مسند احمد میں ہے کہ دو بکریوں کو آپس میں لڑتے ہوئے دیکھ کر رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابوذر سے دریافت فرمایا کہ جانتے ہو یہ کیوں لڑ رہی ہیں ؟ جواب ملا کہ میں کیا جانوں ؟ فرمایا لیکن اللہ تعالیٰ جانتا ہے اور ان کے درمیان وہ فیصلہ بھی کرے گا، ابن جریر کی ایک اور روایت میں اتنی زیادتی بھی ہے کہ اڑنے والے ہر ایک پرند کا علم بھی ہمارے سامنے بیان کیا گیا ہے، مسند کی اور روایت میں ہے کہ بےسینگ بکری قیامت کے دن سینگ والی بکری سے اپنا بدلہ لے گی۔ حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے کہ تمام مخلوق چوپائے بہائم پرند وغیرہ غرض تمام چیزیں اللہ کے سامنے حاضر ہوں گی۔ پھر ان میں یہاں تک عدل ہوگا کہ بےسینگ والی بکری کو اگر سینگ والی بکری نے مارا ہوگا تو اس کا بھی بدلہ دلوایا جائے گا پھر ان سے جناب باری فرمائے گا تم مٹی ہوجاؤ۔ اس وقت کافر بھی یہی آرزو کریں گے کہ کاش ہم بھی مٹی ہوجاتے۔ صور والی حدیث میں یہ مرفوعاً بھی مروی ہے۔ پھر کافروں کی مال بیان کی گئی ہے کہ وہ اپنی کم علمی اور کج فہمی میں ان بہروں گونگوں کے مثل ہیں جو اندھیروں میں ہوں۔ بتاؤ تو وہ کیسے راہ راست پر آسکتے ہیں ؟ نہ کسی کی سنیں نہ اپنی کہیں نہ کچھ دیکھ سکیں۔ جیسے سورة بقرہ کی ابتداء میں ہے کہ ان کی مثال اس شخص جیسی ہے جو آگ سلگائے جب آس پاس کی چیزیں اس پر روشن ہوجائیں اس وقت آگ بجھ جائے اور وہ اندھیریوں میں رہ جائے اور کچھ نہ دیکھ سکے۔ ایسے لوگ بہرے گونگے اندھے ہیں وہ راہ راست کی طرف لوٹ نہیں سکتے اور آیت میں ہے آیت (اَوْ كَظُلُمٰتٍ فِيْ بَحْرٍ لُّـجِّيٍّ يَّغْشٰـىهُ مَوْجٌ مِّنْ فَوْقِهٖ مَوْجٌ مِّنْ فَوْقِهٖ سَحَابٌ ۭ ظُلُمٰتٌۢ بَعْضُهَا فَوْقَ بَعْضٍ) 24۔ النور :40) یعنی مثل ان اندھیروں کے جو گہرے سمندر میں ہوں جس کی موجوں پر موجیں اٹھ رہی ہوں اور اوپر سے ابر چھایا ہو اندھیروں پر اندھیریاں ہوں کہ ہاتھ بھی نظر نہ آسکے۔ جسے قدرت نے نور نہیں بخشا وہ بےنور ہے۔ پھر فرمایا ساری مخلوق میں اللہ ہی کا تصرف ہے وہ جسے چاہے صراط مستقیم پر کر دے۔
40
View Single
قُلۡ أَرَءَيۡتَكُمۡ إِنۡ أَتَىٰكُمۡ عَذَابُ ٱللَّهِ أَوۡ أَتَتۡكُمُ ٱلسَّاعَةُ أَغَيۡرَ ٱللَّهِ تَدۡعُونَ إِن كُنتُمۡ صَٰدِقِينَ
Say, “What is your opinion – if the punishment of Allah comes upon you or the Hour arrives, will you call upon anyone (deity) besides Allah; if you are truthful?”
آپ (ان کافروں سے) فرمائیے: ذرا یہ تو بتاؤ اگر تم پر اللہ کا عذاب آجائے یا تم پر قیامت آپہنچے تو کیا (اس وقت عذاب سے بچنے کے لیے) اللہ کے سوا کسی اور کو پکارو گے؟ (بتاؤ) اگر تم سچے ہو
Tafsir Ibn Kathir
The Idolators Call On Allah Alone During Torment and Distress
Allah states that He does what He wills with His creatures and none can resist His decision or avert what He decrees for them. He is the One Who has no partners, Who accepts the supplication from whomever He wills. Allah said,
قُلْ أَرَأَيْتُكُم إِنْ أَتَـكُمْ عَذَابُ اللَّهِ أَوْ أَتَتْكُمْ السَّاعَةُ أَغَيْرَ اللَّهِ تَدْعُونَ إِن كُنتُمْ صَـدِقِينَ
(Say: "Tell me if Allah's torment comes upon you, or the Hour comes upon you, would you then call upon any one other than Allah (Reply) if you are truthful!") This means, you -- disbelievers -- will not call other than Allah in this case, because you know that none except He is able to remove the affliction. Allah said,
إِن كُنتُمْ صَـدِقِينَ
(if you are truthful) by taking gods besides Him.
بَلْ إِيَّـهُ تَدْعُونَ فَيَكْشِفُ مَا تَدْعُونَ إِلَيْهِ إِنْ شَآءَ وَتَنسَوْنَ مَا تُشْرِكُونَ
(Nay! To Him alone you call, and, if He willed, He would remove that (distress) for which you call upon Him, and you forget at that time whatever partners you joined with Him (in worship)!) for in times of necessity, you only call on Allah and forget your idols and false deities. In another Ayah, Allah said;
وَإِذَا مَسَّكُمُ الْضُّرُّ فِى الْبَحْرِ ضَلَّ مَن تَدْعُونَ إِلاَ إِيَّاهُ
(And when harm touches you upon the sea, those that you call upon besides Him vanish from you except Him (Allah)) 17:67. Allah said;
وَلَقَدْ أَرْسَلنَآ إِلَى أُمَمٍ مِّن قَبْلِكَ فَأَخَذْنَـهُمْ بِالْبَأْسَآءِ
(Verily, We sent (Messengers) to many nations before you. And We seized them with extreme poverty...) That is, loss of wealth and diminished provisions,
وَالضَّرَّآءِ
(and loss of health) various illnesses, diseases and pain,
لَعَلَّهُمْ يَتَضَرَّعُونَ
(so that they might believe with humility) and call Allah and supplicate to Him with humbleness and humility. Allah said;
فَلَوْلا إِذْ جَآءَهُمْ بَأْسُنَا تَضَرَّعُواْ
(When Our torment reached them, why then did they not believe with humility) Meaning: Why do they not believe and humble themselves before Us when We test them with disaster'
وَلَـكِن قَسَتْ قُلُوبُهُمْ
(But their hearts became hardened,) for their hearts are not soft or humble,
وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطَـنُ مَا كَانُواّ يَعْمَلُونَ
(and Shaytan made fair-seeming to them that which they used to do. ) That is, Shirk, defiance and rebellion.
فَلَمَّا نَسُواْ مَا ذُكِّرُواْ بِهِ
(So, when they forgot (the warning) with which they had been reminded,) by ignoring and turning away from it,
فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ أَبْوَابَ كُلِّ شَىْءٍ
(We opened to them the gates of everything,) Meaning: `We opened the gates of provisions for them from wherever they wished, so that We deceive them.' We seek refuge with Allah from such an end. This is why Allah said,
حَتَّى إِذَا فَرِحُواْ بِمَآ أُوتُواْ
f(until in the midst of their enjoyment in that which they were given,) such as wealth, children and provisions,
أَخَذْنَـهُمْ بَغْتَةً فَإِذَا هُمْ مُّبْلِسُونَ
(all of a sudden, We took them to punishment and lo! They were plunged into destruction with deep regrets and sorrows.) They have no hope for any type of good thing. Al-Hasan Al-Basri said, "Whomever Allah gives provision and he thinks that Allah is not testing him, has no wisdom. Whomever has little provision and thinks that Allah will not look at (provide for) him, has no wisdom." He then recited the Ayah,
فَلَمَّا نَسُواْ مَا ذُكِّرُواْ بِهِ فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ أَبْوَابَ كُلِّ شَىْءٍ حَتَّى إِذَا فَرِحُواْ بِمَآ أُوتُواْ أَخَذْنَـهُمْ بَغْتَةً فَإِذَا هُمْ مُّبْلِسُونَ
(So, when they forgot (the warning) with which they had been reminded, We opened to them the gates of every (pleasant) thing, until in the midst of their enjoyment in that which they were given, all of a sudden, We took them to punishment, and lo! They were plunged into destruction with deep regrets and sorrows.) He added, "By the Lord of the Ka`bah! Allah deceived these people, when He gave them what they wished, and then they were punished." Ibn Abi Hatim recorded this statement.
سخت لوگ اور کثرت دولت مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ قادر مطلق ہے تمام مخلوق اس کے آگے پست و لا چار ہے جو چاہتا ہے حکم کرتا ہے، اس کا کوئی ارادہ بدلتا نہیں، اس کا کوئی حکم ٹلتا نہیں کوئی نہیں جو اس کی چاہت کے خلاف کرسکے یا اس کے حکم کو ٹال سکے یا اس کی قضا کو پھیر سکے وہ سارے ملک کا تنہا مالک ہے اس کی کسی بات میں کوئی سریک یا دخیل نہیں جو اسے مانگے وہ اسے دیتا ہے، جس کی چاہے دعا قبول فرماتا ہے پس فرماتا ہے خود تمہیں بھی ان تمام باتوں کا علم و اقرار ہے یہی وجہ ہے کہ آسمانی سزاؤں کے آ پڑنے پر تم اپنے تمام شریکوں کو بھول جاتے ہو اور صرف اللہ واحد کو پکارتے ہو، اگر تم سچے ہو کہ اللہ کے ساتھ اس کے کچھ اور ریک بھی ہیں تو ایسے کٹھن موقعوں پر ان میں سے کسی کو کیوں نہیں پکارتے ؟ بلکہ صرف اللہ واحد کو پکارتے ہو اور اپنے تمام معبودان باطل کو بھول جاتے ہو، چناچہ اور آیت میں ہے کہ سمندر میں جب ضرر پہنچتا ہے تو اللہ کے سوا ہر ایک تمہاری یاد سے نکل جاتا ہے، ہم نے اگلی امتوں کی طرف بھی رسول بھیجے پھر ان کے نہ ماننے پر ہم نے انہیں فقرو فاقہ میں تنگی ترشی میں بیماریوں اور دکھ درد میں مبتلا کردیا کہ اب بھی وہ ہمارے سامنے گریہ وزاری کریں عاجزانہ طور پر ہمارے سامنے جھک جائیں، ہم سے ڈر جائیں اور ہمارے دامن سے چمٹ جائیں، پھر انہوں نے ہمارے عذابوں کے آجانے کے بعد بھی ہمارے سامنے عاجزی کیوں نہ کی ؟ مسکینی کیوں نہ جتائی ؟ بلکہ ان کے دل سخت ہوگئے، شرک، دشمنی، ضد، تعصب، سرکشی، نافرمانی وغیرہ کو شیطان نے انہیں بڑا حسن میں دکھایا اور یہ اس پر جمے رہے، جب یہ لوگ ہماری باتوں کو فراموش کر گئے ہماری کتاب کو پس پشت ڈال دیا ہمارے فرمان سے منہ موڑ لیا تو ہم نے بھی انہیں ڈھیل دے دی کہ یہ اپنی برائیوں میں اور آگے نکل جائیں، ہر طرح کی روزیاں اور زیادہ سے زیادہ مال انہیں دیتے رہے یہاں تک کہ مال اولاد و رزق وغیرہ کی وسعت پر وہ بھولنے لگے اور غفلت کے گہرے گڑھے میں اتر گئے تو ہم نے انہیں ناگہاں پکڑ لیا، اس وقت وہ مایوس ہوگئے، امام حسن بصری ؒ کا صوفیانہ مقولہ ہے کہ جس نے کشادگی کے وقت اللہ تعالیٰ کی ڈھیل نہ سمجھی وہ محض بےعقل ہے اور جس نے تنگی کے وقت رب کی رحمت کی امید چھوڑ دی وہ بھی محض بیوقوف ہے۔ پھر آپ اسی آیت کی تلاوت فرماتے ہیں رب کعبہ کی قسم ایسے لوگ بھی ہیں جو اپنی چاہتوں کو پوری ہوتے ہوئے دیکھ کر اللہ کو بھول جاتے ہیں اور پھر رب کی گرفت میں آجاتے ہیں، حضرت قتادہ کا فرمان ہے کہ جب کوئی قوم اللہ کے فرمان سے سر تابی کرتی ہے تو اول تو انہیں دنیا خوب مل جاتی ہے جب وہ نعمتوں میں پڑ کر بد مست ہوجاتے ہیں تو اچانک پکڑ لئے جاتے ہیں لوگو اللہ کی ڈھیل کو سمجھ جایا کرو نافرمانیوں پر نعمتیں ملیں تو غافل ہو کر نافرمانیوں میں بڑھ نہ جاؤ۔ اس لئے کہ یہ تو بدکار اور بےنصیب لوگوں کا کام ہے، زہری فرماتے ہیں ہر چیز کے دروازے کھول دینے سے مراد دنیا میں آسائش و آرام کا دینا ہے، مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جب تم دیکھو کہ کسی گنہگار شخص کو اس کی گنہگاری کے باوجود اللہ کی نعمتیں دنیا میں مل رہی ہیں تو اسے استدراج سمجھنا یعنی وہ ایک مہلت ہے، پھر حضور نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی اور حدیث میں ہے کہ جب کسی قوم کی بربادی کا وقت آجاتا ہے تو ان پر خیانت کا دروازہ کھل جاتا ہے یہاں تک کہ وہ ان دی گئی ہوئی چیزوں پر اترانے لگتے ہیں تو ہم انہیں ناگہاں پکڑ لیتے ہیں اور اس وقت وہ محض ناامید ہوجاتے ہیں۔ پھر فرمایا ظالموں کی باگ ڈور کاٹ دی جاتی ہے۔ تعریفوں کے لائق وہ معبود برحق ہے جو سب کا پالنہار ہے (مسند وغیرہ)۔
41
View Single
بَلۡ إِيَّاهُ تَدۡعُونَ فَيَكۡشِفُ مَا تَدۡعُونَ إِلَيۡهِ إِن شَآءَ وَتَنسَوۡنَ مَا تُشۡرِكُونَ
“In fact you will only call upon Him, and if He wills, He may remove that because of which you prayed to Him, and you will forget the partners (you ascribe to Him).”
(ایسا ہرگز ممکن نہیں) بلکہ تم (اب بھی) اسی (اللہ) کو ہی پکارتے ہو پھر اگر وہ چاہے تو ان (مصیبتوں) کو دور فرما دیتا ہے جن کے لئے تم (اسے) پکارتے ہو اور (اس وقت) تم ان (بتوں) کو بھول جاتے ہو جنہیں (اللہ کا) شریک ٹھہراتے ہو
Tafsir Ibn Kathir
The Idolators Call On Allah Alone During Torment and Distress
Allah states that He does what He wills with His creatures and none can resist His decision or avert what He decrees for them. He is the One Who has no partners, Who accepts the supplication from whomever He wills. Allah said,
قُلْ أَرَأَيْتُكُم إِنْ أَتَـكُمْ عَذَابُ اللَّهِ أَوْ أَتَتْكُمْ السَّاعَةُ أَغَيْرَ اللَّهِ تَدْعُونَ إِن كُنتُمْ صَـدِقِينَ
(Say: "Tell me if Allah's torment comes upon you, or the Hour comes upon you, would you then call upon any one other than Allah (Reply) if you are truthful!") This means, you -- disbelievers -- will not call other than Allah in this case, because you know that none except He is able to remove the affliction. Allah said,
إِن كُنتُمْ صَـدِقِينَ
(if you are truthful) by taking gods besides Him.
بَلْ إِيَّـهُ تَدْعُونَ فَيَكْشِفُ مَا تَدْعُونَ إِلَيْهِ إِنْ شَآءَ وَتَنسَوْنَ مَا تُشْرِكُونَ
(Nay! To Him alone you call, and, if He willed, He would remove that (distress) for which you call upon Him, and you forget at that time whatever partners you joined with Him (in worship)!) for in times of necessity, you only call on Allah and forget your idols and false deities. In another Ayah, Allah said;
وَإِذَا مَسَّكُمُ الْضُّرُّ فِى الْبَحْرِ ضَلَّ مَن تَدْعُونَ إِلاَ إِيَّاهُ
(And when harm touches you upon the sea, those that you call upon besides Him vanish from you except Him (Allah)) 17:67. Allah said;
وَلَقَدْ أَرْسَلنَآ إِلَى أُمَمٍ مِّن قَبْلِكَ فَأَخَذْنَـهُمْ بِالْبَأْسَآءِ
(Verily, We sent (Messengers) to many nations before you. And We seized them with extreme poverty...) That is, loss of wealth and diminished provisions,
وَالضَّرَّآءِ
(and loss of health) various illnesses, diseases and pain,
لَعَلَّهُمْ يَتَضَرَّعُونَ
(so that they might believe with humility) and call Allah and supplicate to Him with humbleness and humility. Allah said;
فَلَوْلا إِذْ جَآءَهُمْ بَأْسُنَا تَضَرَّعُواْ
(When Our torment reached them, why then did they not believe with humility) Meaning: Why do they not believe and humble themselves before Us when We test them with disaster'
وَلَـكِن قَسَتْ قُلُوبُهُمْ
(But their hearts became hardened,) for their hearts are not soft or humble,
وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطَـنُ مَا كَانُواّ يَعْمَلُونَ
(and Shaytan made fair-seeming to them that which they used to do. ) That is, Shirk, defiance and rebellion.
فَلَمَّا نَسُواْ مَا ذُكِّرُواْ بِهِ
(So, when they forgot (the warning) with which they had been reminded,) by ignoring and turning away from it,
فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ أَبْوَابَ كُلِّ شَىْءٍ
(We opened to them the gates of everything,) Meaning: `We opened the gates of provisions for them from wherever they wished, so that We deceive them.' We seek refuge with Allah from such an end. This is why Allah said,
حَتَّى إِذَا فَرِحُواْ بِمَآ أُوتُواْ
f(until in the midst of their enjoyment in that which they were given,) such as wealth, children and provisions,
أَخَذْنَـهُمْ بَغْتَةً فَإِذَا هُمْ مُّبْلِسُونَ
(all of a sudden, We took them to punishment and lo! They were plunged into destruction with deep regrets and sorrows.) They have no hope for any type of good thing. Al-Hasan Al-Basri said, "Whomever Allah gives provision and he thinks that Allah is not testing him, has no wisdom. Whomever has little provision and thinks that Allah will not look at (provide for) him, has no wisdom." He then recited the Ayah,
فَلَمَّا نَسُواْ مَا ذُكِّرُواْ بِهِ فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ أَبْوَابَ كُلِّ شَىْءٍ حَتَّى إِذَا فَرِحُواْ بِمَآ أُوتُواْ أَخَذْنَـهُمْ بَغْتَةً فَإِذَا هُمْ مُّبْلِسُونَ
(So, when they forgot (the warning) with which they had been reminded, We opened to them the gates of every (pleasant) thing, until in the midst of their enjoyment in that which they were given, all of a sudden, We took them to punishment, and lo! They were plunged into destruction with deep regrets and sorrows.) He added, "By the Lord of the Ka`bah! Allah deceived these people, when He gave them what they wished, and then they were punished." Ibn Abi Hatim recorded this statement.
سخت لوگ اور کثرت دولت مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ قادر مطلق ہے تمام مخلوق اس کے آگے پست و لا چار ہے جو چاہتا ہے حکم کرتا ہے، اس کا کوئی ارادہ بدلتا نہیں، اس کا کوئی حکم ٹلتا نہیں کوئی نہیں جو اس کی چاہت کے خلاف کرسکے یا اس کے حکم کو ٹال سکے یا اس کی قضا کو پھیر سکے وہ سارے ملک کا تنہا مالک ہے اس کی کسی بات میں کوئی سریک یا دخیل نہیں جو اسے مانگے وہ اسے دیتا ہے، جس کی چاہے دعا قبول فرماتا ہے پس فرماتا ہے خود تمہیں بھی ان تمام باتوں کا علم و اقرار ہے یہی وجہ ہے کہ آسمانی سزاؤں کے آ پڑنے پر تم اپنے تمام شریکوں کو بھول جاتے ہو اور صرف اللہ واحد کو پکارتے ہو، اگر تم سچے ہو کہ اللہ کے ساتھ اس کے کچھ اور ریک بھی ہیں تو ایسے کٹھن موقعوں پر ان میں سے کسی کو کیوں نہیں پکارتے ؟ بلکہ صرف اللہ واحد کو پکارتے ہو اور اپنے تمام معبودان باطل کو بھول جاتے ہو، چناچہ اور آیت میں ہے کہ سمندر میں جب ضرر پہنچتا ہے تو اللہ کے سوا ہر ایک تمہاری یاد سے نکل جاتا ہے، ہم نے اگلی امتوں کی طرف بھی رسول بھیجے پھر ان کے نہ ماننے پر ہم نے انہیں فقرو فاقہ میں تنگی ترشی میں بیماریوں اور دکھ درد میں مبتلا کردیا کہ اب بھی وہ ہمارے سامنے گریہ وزاری کریں عاجزانہ طور پر ہمارے سامنے جھک جائیں، ہم سے ڈر جائیں اور ہمارے دامن سے چمٹ جائیں، پھر انہوں نے ہمارے عذابوں کے آجانے کے بعد بھی ہمارے سامنے عاجزی کیوں نہ کی ؟ مسکینی کیوں نہ جتائی ؟ بلکہ ان کے دل سخت ہوگئے، شرک، دشمنی، ضد، تعصب، سرکشی، نافرمانی وغیرہ کو شیطان نے انہیں بڑا حسن میں دکھایا اور یہ اس پر جمے رہے، جب یہ لوگ ہماری باتوں کو فراموش کر گئے ہماری کتاب کو پس پشت ڈال دیا ہمارے فرمان سے منہ موڑ لیا تو ہم نے بھی انہیں ڈھیل دے دی کہ یہ اپنی برائیوں میں اور آگے نکل جائیں، ہر طرح کی روزیاں اور زیادہ سے زیادہ مال انہیں دیتے رہے یہاں تک کہ مال اولاد و رزق وغیرہ کی وسعت پر وہ بھولنے لگے اور غفلت کے گہرے گڑھے میں اتر گئے تو ہم نے انہیں ناگہاں پکڑ لیا، اس وقت وہ مایوس ہوگئے، امام حسن بصری ؒ کا صوفیانہ مقولہ ہے کہ جس نے کشادگی کے وقت اللہ تعالیٰ کی ڈھیل نہ سمجھی وہ محض بےعقل ہے اور جس نے تنگی کے وقت رب کی رحمت کی امید چھوڑ دی وہ بھی محض بیوقوف ہے۔ پھر آپ اسی آیت کی تلاوت فرماتے ہیں رب کعبہ کی قسم ایسے لوگ بھی ہیں جو اپنی چاہتوں کو پوری ہوتے ہوئے دیکھ کر اللہ کو بھول جاتے ہیں اور پھر رب کی گرفت میں آجاتے ہیں، حضرت قتادہ کا فرمان ہے کہ جب کوئی قوم اللہ کے فرمان سے سر تابی کرتی ہے تو اول تو انہیں دنیا خوب مل جاتی ہے جب وہ نعمتوں میں پڑ کر بد مست ہوجاتے ہیں تو اچانک پکڑ لئے جاتے ہیں لوگو اللہ کی ڈھیل کو سمجھ جایا کرو نافرمانیوں پر نعمتیں ملیں تو غافل ہو کر نافرمانیوں میں بڑھ نہ جاؤ۔ اس لئے کہ یہ تو بدکار اور بےنصیب لوگوں کا کام ہے، زہری فرماتے ہیں ہر چیز کے دروازے کھول دینے سے مراد دنیا میں آسائش و آرام کا دینا ہے، مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جب تم دیکھو کہ کسی گنہگار شخص کو اس کی گنہگاری کے باوجود اللہ کی نعمتیں دنیا میں مل رہی ہیں تو اسے استدراج سمجھنا یعنی وہ ایک مہلت ہے، پھر حضور نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی اور حدیث میں ہے کہ جب کسی قوم کی بربادی کا وقت آجاتا ہے تو ان پر خیانت کا دروازہ کھل جاتا ہے یہاں تک کہ وہ ان دی گئی ہوئی چیزوں پر اترانے لگتے ہیں تو ہم انہیں ناگہاں پکڑ لیتے ہیں اور اس وقت وہ محض ناامید ہوجاتے ہیں۔ پھر فرمایا ظالموں کی باگ ڈور کاٹ دی جاتی ہے۔ تعریفوں کے لائق وہ معبود برحق ہے جو سب کا پالنہار ہے (مسند وغیرہ)۔
42
View Single
وَلَقَدۡ أَرۡسَلۡنَآ إِلَىٰٓ أُمَمٖ مِّن قَبۡلِكَ فَأَخَذۡنَٰهُم بِٱلۡبَأۡسَآءِ وَٱلضَّرَّآءِ لَعَلَّهُمۡ يَتَضَرَّعُونَ
And We have indeed sent Noble Messengers towards the nations that were before you – We therefore seized them with hardship and adversity so that, in some way, they may humbly plead.
اور بیشک ہم نے آپ سے پہلے بہت سی اُمتوں کی طرف رسول بھیجے، پھر ہم نے ان کو (نافرمانی کے باعث) تنگ دستی اور تکلیف کے ذریعے پکڑ لیا تاکہ وہ (عجز و نیاز کے ساتھ) گِڑگڑائیں
Tafsir Ibn Kathir
The Idolators Call On Allah Alone During Torment and Distress
Allah states that He does what He wills with His creatures and none can resist His decision or avert what He decrees for them. He is the One Who has no partners, Who accepts the supplication from whomever He wills. Allah said,
قُلْ أَرَأَيْتُكُم إِنْ أَتَـكُمْ عَذَابُ اللَّهِ أَوْ أَتَتْكُمْ السَّاعَةُ أَغَيْرَ اللَّهِ تَدْعُونَ إِن كُنتُمْ صَـدِقِينَ
(Say: "Tell me if Allah's torment comes upon you, or the Hour comes upon you, would you then call upon any one other than Allah (Reply) if you are truthful!") This means, you -- disbelievers -- will not call other than Allah in this case, because you know that none except He is able to remove the affliction. Allah said,
إِن كُنتُمْ صَـدِقِينَ
(if you are truthful) by taking gods besides Him.
بَلْ إِيَّـهُ تَدْعُونَ فَيَكْشِفُ مَا تَدْعُونَ إِلَيْهِ إِنْ شَآءَ وَتَنسَوْنَ مَا تُشْرِكُونَ
(Nay! To Him alone you call, and, if He willed, He would remove that (distress) for which you call upon Him, and you forget at that time whatever partners you joined with Him (in worship)!) for in times of necessity, you only call on Allah and forget your idols and false deities. In another Ayah, Allah said;
وَإِذَا مَسَّكُمُ الْضُّرُّ فِى الْبَحْرِ ضَلَّ مَن تَدْعُونَ إِلاَ إِيَّاهُ
(And when harm touches you upon the sea, those that you call upon besides Him vanish from you except Him (Allah)) 17:67. Allah said;
وَلَقَدْ أَرْسَلنَآ إِلَى أُمَمٍ مِّن قَبْلِكَ فَأَخَذْنَـهُمْ بِالْبَأْسَآءِ
(Verily, We sent (Messengers) to many nations before you. And We seized them with extreme poverty...) That is, loss of wealth and diminished provisions,
وَالضَّرَّآءِ
(and loss of health) various illnesses, diseases and pain,
لَعَلَّهُمْ يَتَضَرَّعُونَ
(so that they might believe with humility) and call Allah and supplicate to Him with humbleness and humility. Allah said;
فَلَوْلا إِذْ جَآءَهُمْ بَأْسُنَا تَضَرَّعُواْ
(When Our torment reached them, why then did they not believe with humility) Meaning: Why do they not believe and humble themselves before Us when We test them with disaster'
وَلَـكِن قَسَتْ قُلُوبُهُمْ
(But their hearts became hardened,) for their hearts are not soft or humble,
وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطَـنُ مَا كَانُواّ يَعْمَلُونَ
(and Shaytan made fair-seeming to them that which they used to do. ) That is, Shirk, defiance and rebellion.
فَلَمَّا نَسُواْ مَا ذُكِّرُواْ بِهِ
(So, when they forgot (the warning) with which they had been reminded,) by ignoring and turning away from it,
فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ أَبْوَابَ كُلِّ شَىْءٍ
(We opened to them the gates of everything,) Meaning: `We opened the gates of provisions for them from wherever they wished, so that We deceive them.' We seek refuge with Allah from such an end. This is why Allah said,
حَتَّى إِذَا فَرِحُواْ بِمَآ أُوتُواْ
f(until in the midst of their enjoyment in that which they were given,) such as wealth, children and provisions,
أَخَذْنَـهُمْ بَغْتَةً فَإِذَا هُمْ مُّبْلِسُونَ
(all of a sudden, We took them to punishment and lo! They were plunged into destruction with deep regrets and sorrows.) They have no hope for any type of good thing. Al-Hasan Al-Basri said, "Whomever Allah gives provision and he thinks that Allah is not testing him, has no wisdom. Whomever has little provision and thinks that Allah will not look at (provide for) him, has no wisdom." He then recited the Ayah,
فَلَمَّا نَسُواْ مَا ذُكِّرُواْ بِهِ فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ أَبْوَابَ كُلِّ شَىْءٍ حَتَّى إِذَا فَرِحُواْ بِمَآ أُوتُواْ أَخَذْنَـهُمْ بَغْتَةً فَإِذَا هُمْ مُّبْلِسُونَ
(So, when they forgot (the warning) with which they had been reminded, We opened to them the gates of every (pleasant) thing, until in the midst of their enjoyment in that which they were given, all of a sudden, We took them to punishment, and lo! They were plunged into destruction with deep regrets and sorrows.) He added, "By the Lord of the Ka`bah! Allah deceived these people, when He gave them what they wished, and then they were punished." Ibn Abi Hatim recorded this statement.
سخت لوگ اور کثرت دولت مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ قادر مطلق ہے تمام مخلوق اس کے آگے پست و لا چار ہے جو چاہتا ہے حکم کرتا ہے، اس کا کوئی ارادہ بدلتا نہیں، اس کا کوئی حکم ٹلتا نہیں کوئی نہیں جو اس کی چاہت کے خلاف کرسکے یا اس کے حکم کو ٹال سکے یا اس کی قضا کو پھیر سکے وہ سارے ملک کا تنہا مالک ہے اس کی کسی بات میں کوئی سریک یا دخیل نہیں جو اسے مانگے وہ اسے دیتا ہے، جس کی چاہے دعا قبول فرماتا ہے پس فرماتا ہے خود تمہیں بھی ان تمام باتوں کا علم و اقرار ہے یہی وجہ ہے کہ آسمانی سزاؤں کے آ پڑنے پر تم اپنے تمام شریکوں کو بھول جاتے ہو اور صرف اللہ واحد کو پکارتے ہو، اگر تم سچے ہو کہ اللہ کے ساتھ اس کے کچھ اور ریک بھی ہیں تو ایسے کٹھن موقعوں پر ان میں سے کسی کو کیوں نہیں پکارتے ؟ بلکہ صرف اللہ واحد کو پکارتے ہو اور اپنے تمام معبودان باطل کو بھول جاتے ہو، چناچہ اور آیت میں ہے کہ سمندر میں جب ضرر پہنچتا ہے تو اللہ کے سوا ہر ایک تمہاری یاد سے نکل جاتا ہے، ہم نے اگلی امتوں کی طرف بھی رسول بھیجے پھر ان کے نہ ماننے پر ہم نے انہیں فقرو فاقہ میں تنگی ترشی میں بیماریوں اور دکھ درد میں مبتلا کردیا کہ اب بھی وہ ہمارے سامنے گریہ وزاری کریں عاجزانہ طور پر ہمارے سامنے جھک جائیں، ہم سے ڈر جائیں اور ہمارے دامن سے چمٹ جائیں، پھر انہوں نے ہمارے عذابوں کے آجانے کے بعد بھی ہمارے سامنے عاجزی کیوں نہ کی ؟ مسکینی کیوں نہ جتائی ؟ بلکہ ان کے دل سخت ہوگئے، شرک، دشمنی، ضد، تعصب، سرکشی، نافرمانی وغیرہ کو شیطان نے انہیں بڑا حسن میں دکھایا اور یہ اس پر جمے رہے، جب یہ لوگ ہماری باتوں کو فراموش کر گئے ہماری کتاب کو پس پشت ڈال دیا ہمارے فرمان سے منہ موڑ لیا تو ہم نے بھی انہیں ڈھیل دے دی کہ یہ اپنی برائیوں میں اور آگے نکل جائیں، ہر طرح کی روزیاں اور زیادہ سے زیادہ مال انہیں دیتے رہے یہاں تک کہ مال اولاد و رزق وغیرہ کی وسعت پر وہ بھولنے لگے اور غفلت کے گہرے گڑھے میں اتر گئے تو ہم نے انہیں ناگہاں پکڑ لیا، اس وقت وہ مایوس ہوگئے، امام حسن بصری ؒ کا صوفیانہ مقولہ ہے کہ جس نے کشادگی کے وقت اللہ تعالیٰ کی ڈھیل نہ سمجھی وہ محض بےعقل ہے اور جس نے تنگی کے وقت رب کی رحمت کی امید چھوڑ دی وہ بھی محض بیوقوف ہے۔ پھر آپ اسی آیت کی تلاوت فرماتے ہیں رب کعبہ کی قسم ایسے لوگ بھی ہیں جو اپنی چاہتوں کو پوری ہوتے ہوئے دیکھ کر اللہ کو بھول جاتے ہیں اور پھر رب کی گرفت میں آجاتے ہیں، حضرت قتادہ کا فرمان ہے کہ جب کوئی قوم اللہ کے فرمان سے سر تابی کرتی ہے تو اول تو انہیں دنیا خوب مل جاتی ہے جب وہ نعمتوں میں پڑ کر بد مست ہوجاتے ہیں تو اچانک پکڑ لئے جاتے ہیں لوگو اللہ کی ڈھیل کو سمجھ جایا کرو نافرمانیوں پر نعمتیں ملیں تو غافل ہو کر نافرمانیوں میں بڑھ نہ جاؤ۔ اس لئے کہ یہ تو بدکار اور بےنصیب لوگوں کا کام ہے، زہری فرماتے ہیں ہر چیز کے دروازے کھول دینے سے مراد دنیا میں آسائش و آرام کا دینا ہے، مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جب تم دیکھو کہ کسی گنہگار شخص کو اس کی گنہگاری کے باوجود اللہ کی نعمتیں دنیا میں مل رہی ہیں تو اسے استدراج سمجھنا یعنی وہ ایک مہلت ہے، پھر حضور نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی اور حدیث میں ہے کہ جب کسی قوم کی بربادی کا وقت آجاتا ہے تو ان پر خیانت کا دروازہ کھل جاتا ہے یہاں تک کہ وہ ان دی گئی ہوئی چیزوں پر اترانے لگتے ہیں تو ہم انہیں ناگہاں پکڑ لیتے ہیں اور اس وقت وہ محض ناامید ہوجاتے ہیں۔ پھر فرمایا ظالموں کی باگ ڈور کاٹ دی جاتی ہے۔ تعریفوں کے لائق وہ معبود برحق ہے جو سب کا پالنہار ہے (مسند وغیرہ)۔
43
View Single
فَلَوۡلَآ إِذۡ جَآءَهُم بَأۡسُنَا تَضَرَّعُواْ وَلَٰكِن قَسَتۡ قُلُوبُهُمۡ وَزَيَّنَ لَهُمُ ٱلشَّيۡطَٰنُ مَا كَانُواْ يَعۡمَلُونَ
So why did they not humbly plead when Our punishment came to them? But their hearts were hardened and the devil made all their deeds appear good to them!
پھر جب ان تک ہمارا عذاب آپہنچا تو انہوں نے عاجزی و زاری کیوں نہ کی؟ لیکن (حقیقت یہ ہے کہ) ان کے دل سخت ہوگئے تھے اور شیطان نے ان کے لئے وہ (گناہ) آراستہ کر دکھائے تھے جو وہ کیا کرتے تھے
Tafsir Ibn Kathir
The Idolators Call On Allah Alone During Torment and Distress
Allah states that He does what He wills with His creatures and none can resist His decision or avert what He decrees for them. He is the One Who has no partners, Who accepts the supplication from whomever He wills. Allah said,
قُلْ أَرَأَيْتُكُم إِنْ أَتَـكُمْ عَذَابُ اللَّهِ أَوْ أَتَتْكُمْ السَّاعَةُ أَغَيْرَ اللَّهِ تَدْعُونَ إِن كُنتُمْ صَـدِقِينَ
(Say: "Tell me if Allah's torment comes upon you, or the Hour comes upon you, would you then call upon any one other than Allah (Reply) if you are truthful!") This means, you -- disbelievers -- will not call other than Allah in this case, because you know that none except He is able to remove the affliction. Allah said,
إِن كُنتُمْ صَـدِقِينَ
(if you are truthful) by taking gods besides Him.
بَلْ إِيَّـهُ تَدْعُونَ فَيَكْشِفُ مَا تَدْعُونَ إِلَيْهِ إِنْ شَآءَ وَتَنسَوْنَ مَا تُشْرِكُونَ
(Nay! To Him alone you call, and, if He willed, He would remove that (distress) for which you call upon Him, and you forget at that time whatever partners you joined with Him (in worship)!) for in times of necessity, you only call on Allah and forget your idols and false deities. In another Ayah, Allah said;
وَإِذَا مَسَّكُمُ الْضُّرُّ فِى الْبَحْرِ ضَلَّ مَن تَدْعُونَ إِلاَ إِيَّاهُ
(And when harm touches you upon the sea, those that you call upon besides Him vanish from you except Him (Allah)) 17:67. Allah said;
وَلَقَدْ أَرْسَلنَآ إِلَى أُمَمٍ مِّن قَبْلِكَ فَأَخَذْنَـهُمْ بِالْبَأْسَآءِ
(Verily, We sent (Messengers) to many nations before you. And We seized them with extreme poverty...) That is, loss of wealth and diminished provisions,
وَالضَّرَّآءِ
(and loss of health) various illnesses, diseases and pain,
لَعَلَّهُمْ يَتَضَرَّعُونَ
(so that they might believe with humility) and call Allah and supplicate to Him with humbleness and humility. Allah said;
فَلَوْلا إِذْ جَآءَهُمْ بَأْسُنَا تَضَرَّعُواْ
(When Our torment reached them, why then did they not believe with humility) Meaning: Why do they not believe and humble themselves before Us when We test them with disaster'
وَلَـكِن قَسَتْ قُلُوبُهُمْ
(But their hearts became hardened,) for their hearts are not soft or humble,
وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطَـنُ مَا كَانُواّ يَعْمَلُونَ
(and Shaytan made fair-seeming to them that which they used to do. ) That is, Shirk, defiance and rebellion.
فَلَمَّا نَسُواْ مَا ذُكِّرُواْ بِهِ
(So, when they forgot (the warning) with which they had been reminded,) by ignoring and turning away from it,
فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ أَبْوَابَ كُلِّ شَىْءٍ
(We opened to them the gates of everything,) Meaning: `We opened the gates of provisions for them from wherever they wished, so that We deceive them.' We seek refuge with Allah from such an end. This is why Allah said,
حَتَّى إِذَا فَرِحُواْ بِمَآ أُوتُواْ
f(until in the midst of their enjoyment in that which they were given,) such as wealth, children and provisions,
أَخَذْنَـهُمْ بَغْتَةً فَإِذَا هُمْ مُّبْلِسُونَ
(all of a sudden, We took them to punishment and lo! They were plunged into destruction with deep regrets and sorrows.) They have no hope for any type of good thing. Al-Hasan Al-Basri said, "Whomever Allah gives provision and he thinks that Allah is not testing him, has no wisdom. Whomever has little provision and thinks that Allah will not look at (provide for) him, has no wisdom." He then recited the Ayah,
فَلَمَّا نَسُواْ مَا ذُكِّرُواْ بِهِ فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ أَبْوَابَ كُلِّ شَىْءٍ حَتَّى إِذَا فَرِحُواْ بِمَآ أُوتُواْ أَخَذْنَـهُمْ بَغْتَةً فَإِذَا هُمْ مُّبْلِسُونَ
(So, when they forgot (the warning) with which they had been reminded, We opened to them the gates of every (pleasant) thing, until in the midst of their enjoyment in that which they were given, all of a sudden, We took them to punishment, and lo! They were plunged into destruction with deep regrets and sorrows.) He added, "By the Lord of the Ka`bah! Allah deceived these people, when He gave them what they wished, and then they were punished." Ibn Abi Hatim recorded this statement.
سخت لوگ اور کثرت دولت مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ قادر مطلق ہے تمام مخلوق اس کے آگے پست و لا چار ہے جو چاہتا ہے حکم کرتا ہے، اس کا کوئی ارادہ بدلتا نہیں، اس کا کوئی حکم ٹلتا نہیں کوئی نہیں جو اس کی چاہت کے خلاف کرسکے یا اس کے حکم کو ٹال سکے یا اس کی قضا کو پھیر سکے وہ سارے ملک کا تنہا مالک ہے اس کی کسی بات میں کوئی سریک یا دخیل نہیں جو اسے مانگے وہ اسے دیتا ہے، جس کی چاہے دعا قبول فرماتا ہے پس فرماتا ہے خود تمہیں بھی ان تمام باتوں کا علم و اقرار ہے یہی وجہ ہے کہ آسمانی سزاؤں کے آ پڑنے پر تم اپنے تمام شریکوں کو بھول جاتے ہو اور صرف اللہ واحد کو پکارتے ہو، اگر تم سچے ہو کہ اللہ کے ساتھ اس کے کچھ اور ریک بھی ہیں تو ایسے کٹھن موقعوں پر ان میں سے کسی کو کیوں نہیں پکارتے ؟ بلکہ صرف اللہ واحد کو پکارتے ہو اور اپنے تمام معبودان باطل کو بھول جاتے ہو، چناچہ اور آیت میں ہے کہ سمندر میں جب ضرر پہنچتا ہے تو اللہ کے سوا ہر ایک تمہاری یاد سے نکل جاتا ہے، ہم نے اگلی امتوں کی طرف بھی رسول بھیجے پھر ان کے نہ ماننے پر ہم نے انہیں فقرو فاقہ میں تنگی ترشی میں بیماریوں اور دکھ درد میں مبتلا کردیا کہ اب بھی وہ ہمارے سامنے گریہ وزاری کریں عاجزانہ طور پر ہمارے سامنے جھک جائیں، ہم سے ڈر جائیں اور ہمارے دامن سے چمٹ جائیں، پھر انہوں نے ہمارے عذابوں کے آجانے کے بعد بھی ہمارے سامنے عاجزی کیوں نہ کی ؟ مسکینی کیوں نہ جتائی ؟ بلکہ ان کے دل سخت ہوگئے، شرک، دشمنی، ضد، تعصب، سرکشی، نافرمانی وغیرہ کو شیطان نے انہیں بڑا حسن میں دکھایا اور یہ اس پر جمے رہے، جب یہ لوگ ہماری باتوں کو فراموش کر گئے ہماری کتاب کو پس پشت ڈال دیا ہمارے فرمان سے منہ موڑ لیا تو ہم نے بھی انہیں ڈھیل دے دی کہ یہ اپنی برائیوں میں اور آگے نکل جائیں، ہر طرح کی روزیاں اور زیادہ سے زیادہ مال انہیں دیتے رہے یہاں تک کہ مال اولاد و رزق وغیرہ کی وسعت پر وہ بھولنے لگے اور غفلت کے گہرے گڑھے میں اتر گئے تو ہم نے انہیں ناگہاں پکڑ لیا، اس وقت وہ مایوس ہوگئے، امام حسن بصری ؒ کا صوفیانہ مقولہ ہے کہ جس نے کشادگی کے وقت اللہ تعالیٰ کی ڈھیل نہ سمجھی وہ محض بےعقل ہے اور جس نے تنگی کے وقت رب کی رحمت کی امید چھوڑ دی وہ بھی محض بیوقوف ہے۔ پھر آپ اسی آیت کی تلاوت فرماتے ہیں رب کعبہ کی قسم ایسے لوگ بھی ہیں جو اپنی چاہتوں کو پوری ہوتے ہوئے دیکھ کر اللہ کو بھول جاتے ہیں اور پھر رب کی گرفت میں آجاتے ہیں، حضرت قتادہ کا فرمان ہے کہ جب کوئی قوم اللہ کے فرمان سے سر تابی کرتی ہے تو اول تو انہیں دنیا خوب مل جاتی ہے جب وہ نعمتوں میں پڑ کر بد مست ہوجاتے ہیں تو اچانک پکڑ لئے جاتے ہیں لوگو اللہ کی ڈھیل کو سمجھ جایا کرو نافرمانیوں پر نعمتیں ملیں تو غافل ہو کر نافرمانیوں میں بڑھ نہ جاؤ۔ اس لئے کہ یہ تو بدکار اور بےنصیب لوگوں کا کام ہے، زہری فرماتے ہیں ہر چیز کے دروازے کھول دینے سے مراد دنیا میں آسائش و آرام کا دینا ہے، مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جب تم دیکھو کہ کسی گنہگار شخص کو اس کی گنہگاری کے باوجود اللہ کی نعمتیں دنیا میں مل رہی ہیں تو اسے استدراج سمجھنا یعنی وہ ایک مہلت ہے، پھر حضور نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی اور حدیث میں ہے کہ جب کسی قوم کی بربادی کا وقت آجاتا ہے تو ان پر خیانت کا دروازہ کھل جاتا ہے یہاں تک کہ وہ ان دی گئی ہوئی چیزوں پر اترانے لگتے ہیں تو ہم انہیں ناگہاں پکڑ لیتے ہیں اور اس وقت وہ محض ناامید ہوجاتے ہیں۔ پھر فرمایا ظالموں کی باگ ڈور کاٹ دی جاتی ہے۔ تعریفوں کے لائق وہ معبود برحق ہے جو سب کا پالنہار ہے (مسند وغیرہ)۔
44
View Single
فَلَمَّا نَسُواْ مَا ذُكِّرُواْ بِهِۦ فَتَحۡنَا عَلَيۡهِمۡ أَبۡوَٰبَ كُلِّ شَيۡءٍ حَتَّىٰٓ إِذَا فَرِحُواْ بِمَآ أُوتُوٓاْ أَخَذۡنَٰهُم بَغۡتَةٗ فَإِذَا هُم مُّبۡلِسُونَ
So when they forgot the advices made to them, We opened the gates of all things for them; to the extent that when they were rejoicing for what they had received, We seized them suddenly, hence they remained dejected.
پھر جب انہوں نے اس نصیحت کو فراموش کردیا جو ان سے کی گئی تھی تو ہم نے (انہیں اپنے انجام تک پہنچانے کے لیے) ان پر ہر چیز (کی فراوانی) کے دروازے کھول دیئے، یہاں تک کہ جب وہ ان چیزوں (کی لذتوں اور راحتوں) سے خوب خوش ہو (کر مدہوش ہو) گئے جو انہیں دی گئی تھیں تو ہم نے اچانک انہیں (عذاب میں) پکڑ لیا تو اس وقت وہ مایوس ہوکر رہ گئے
Tafsir Ibn Kathir
The Idolators Call On Allah Alone During Torment and Distress
Allah states that He does what He wills with His creatures and none can resist His decision or avert what He decrees for them. He is the One Who has no partners, Who accepts the supplication from whomever He wills. Allah said,
قُلْ أَرَأَيْتُكُم إِنْ أَتَـكُمْ عَذَابُ اللَّهِ أَوْ أَتَتْكُمْ السَّاعَةُ أَغَيْرَ اللَّهِ تَدْعُونَ إِن كُنتُمْ صَـدِقِينَ
(Say: "Tell me if Allah's torment comes upon you, or the Hour comes upon you, would you then call upon any one other than Allah (Reply) if you are truthful!") This means, you -- disbelievers -- will not call other than Allah in this case, because you know that none except He is able to remove the affliction. Allah said,
إِن كُنتُمْ صَـدِقِينَ
(if you are truthful) by taking gods besides Him.
بَلْ إِيَّـهُ تَدْعُونَ فَيَكْشِفُ مَا تَدْعُونَ إِلَيْهِ إِنْ شَآءَ وَتَنسَوْنَ مَا تُشْرِكُونَ
(Nay! To Him alone you call, and, if He willed, He would remove that (distress) for which you call upon Him, and you forget at that time whatever partners you joined with Him (in worship)!) for in times of necessity, you only call on Allah and forget your idols and false deities. In another Ayah, Allah said;
وَإِذَا مَسَّكُمُ الْضُّرُّ فِى الْبَحْرِ ضَلَّ مَن تَدْعُونَ إِلاَ إِيَّاهُ
(And when harm touches you upon the sea, those that you call upon besides Him vanish from you except Him (Allah)) 17:67. Allah said;
وَلَقَدْ أَرْسَلنَآ إِلَى أُمَمٍ مِّن قَبْلِكَ فَأَخَذْنَـهُمْ بِالْبَأْسَآءِ
(Verily, We sent (Messengers) to many nations before you. And We seized them with extreme poverty...) That is, loss of wealth and diminished provisions,
وَالضَّرَّآءِ
(and loss of health) various illnesses, diseases and pain,
لَعَلَّهُمْ يَتَضَرَّعُونَ
(so that they might believe with humility) and call Allah and supplicate to Him with humbleness and humility. Allah said;
فَلَوْلا إِذْ جَآءَهُمْ بَأْسُنَا تَضَرَّعُواْ
(When Our torment reached them, why then did they not believe with humility) Meaning: Why do they not believe and humble themselves before Us when We test them with disaster'
وَلَـكِن قَسَتْ قُلُوبُهُمْ
(But their hearts became hardened,) for their hearts are not soft or humble,
وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطَـنُ مَا كَانُواّ يَعْمَلُونَ
(and Shaytan made fair-seeming to them that which they used to do. ) That is, Shirk, defiance and rebellion.
فَلَمَّا نَسُواْ مَا ذُكِّرُواْ بِهِ
(So, when they forgot (the warning) with which they had been reminded,) by ignoring and turning away from it,
فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ أَبْوَابَ كُلِّ شَىْءٍ
(We opened to them the gates of everything,) Meaning: `We opened the gates of provisions for them from wherever they wished, so that We deceive them.' We seek refuge with Allah from such an end. This is why Allah said,
حَتَّى إِذَا فَرِحُواْ بِمَآ أُوتُواْ
f(until in the midst of their enjoyment in that which they were given,) such as wealth, children and provisions,
أَخَذْنَـهُمْ بَغْتَةً فَإِذَا هُمْ مُّبْلِسُونَ
(all of a sudden, We took them to punishment and lo! They were plunged into destruction with deep regrets and sorrows.) They have no hope for any type of good thing. Al-Hasan Al-Basri said, "Whomever Allah gives provision and he thinks that Allah is not testing him, has no wisdom. Whomever has little provision and thinks that Allah will not look at (provide for) him, has no wisdom." He then recited the Ayah,
فَلَمَّا نَسُواْ مَا ذُكِّرُواْ بِهِ فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ أَبْوَابَ كُلِّ شَىْءٍ حَتَّى إِذَا فَرِحُواْ بِمَآ أُوتُواْ أَخَذْنَـهُمْ بَغْتَةً فَإِذَا هُمْ مُّبْلِسُونَ
(So, when they forgot (the warning) with which they had been reminded, We opened to them the gates of every (pleasant) thing, until in the midst of their enjoyment in that which they were given, all of a sudden, We took them to punishment, and lo! They were plunged into destruction with deep regrets and sorrows.) He added, "By the Lord of the Ka`bah! Allah deceived these people, when He gave them what they wished, and then they were punished." Ibn Abi Hatim recorded this statement.
سخت لوگ اور کثرت دولت مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ قادر مطلق ہے تمام مخلوق اس کے آگے پست و لا چار ہے جو چاہتا ہے حکم کرتا ہے، اس کا کوئی ارادہ بدلتا نہیں، اس کا کوئی حکم ٹلتا نہیں کوئی نہیں جو اس کی چاہت کے خلاف کرسکے یا اس کے حکم کو ٹال سکے یا اس کی قضا کو پھیر سکے وہ سارے ملک کا تنہا مالک ہے اس کی کسی بات میں کوئی سریک یا دخیل نہیں جو اسے مانگے وہ اسے دیتا ہے، جس کی چاہے دعا قبول فرماتا ہے پس فرماتا ہے خود تمہیں بھی ان تمام باتوں کا علم و اقرار ہے یہی وجہ ہے کہ آسمانی سزاؤں کے آ پڑنے پر تم اپنے تمام شریکوں کو بھول جاتے ہو اور صرف اللہ واحد کو پکارتے ہو، اگر تم سچے ہو کہ اللہ کے ساتھ اس کے کچھ اور ریک بھی ہیں تو ایسے کٹھن موقعوں پر ان میں سے کسی کو کیوں نہیں پکارتے ؟ بلکہ صرف اللہ واحد کو پکارتے ہو اور اپنے تمام معبودان باطل کو بھول جاتے ہو، چناچہ اور آیت میں ہے کہ سمندر میں جب ضرر پہنچتا ہے تو اللہ کے سوا ہر ایک تمہاری یاد سے نکل جاتا ہے، ہم نے اگلی امتوں کی طرف بھی رسول بھیجے پھر ان کے نہ ماننے پر ہم نے انہیں فقرو فاقہ میں تنگی ترشی میں بیماریوں اور دکھ درد میں مبتلا کردیا کہ اب بھی وہ ہمارے سامنے گریہ وزاری کریں عاجزانہ طور پر ہمارے سامنے جھک جائیں، ہم سے ڈر جائیں اور ہمارے دامن سے چمٹ جائیں، پھر انہوں نے ہمارے عذابوں کے آجانے کے بعد بھی ہمارے سامنے عاجزی کیوں نہ کی ؟ مسکینی کیوں نہ جتائی ؟ بلکہ ان کے دل سخت ہوگئے، شرک، دشمنی، ضد، تعصب، سرکشی، نافرمانی وغیرہ کو شیطان نے انہیں بڑا حسن میں دکھایا اور یہ اس پر جمے رہے، جب یہ لوگ ہماری باتوں کو فراموش کر گئے ہماری کتاب کو پس پشت ڈال دیا ہمارے فرمان سے منہ موڑ لیا تو ہم نے بھی انہیں ڈھیل دے دی کہ یہ اپنی برائیوں میں اور آگے نکل جائیں، ہر طرح کی روزیاں اور زیادہ سے زیادہ مال انہیں دیتے رہے یہاں تک کہ مال اولاد و رزق وغیرہ کی وسعت پر وہ بھولنے لگے اور غفلت کے گہرے گڑھے میں اتر گئے تو ہم نے انہیں ناگہاں پکڑ لیا، اس وقت وہ مایوس ہوگئے، امام حسن بصری ؒ کا صوفیانہ مقولہ ہے کہ جس نے کشادگی کے وقت اللہ تعالیٰ کی ڈھیل نہ سمجھی وہ محض بےعقل ہے اور جس نے تنگی کے وقت رب کی رحمت کی امید چھوڑ دی وہ بھی محض بیوقوف ہے۔ پھر آپ اسی آیت کی تلاوت فرماتے ہیں رب کعبہ کی قسم ایسے لوگ بھی ہیں جو اپنی چاہتوں کو پوری ہوتے ہوئے دیکھ کر اللہ کو بھول جاتے ہیں اور پھر رب کی گرفت میں آجاتے ہیں، حضرت قتادہ کا فرمان ہے کہ جب کوئی قوم اللہ کے فرمان سے سر تابی کرتی ہے تو اول تو انہیں دنیا خوب مل جاتی ہے جب وہ نعمتوں میں پڑ کر بد مست ہوجاتے ہیں تو اچانک پکڑ لئے جاتے ہیں لوگو اللہ کی ڈھیل کو سمجھ جایا کرو نافرمانیوں پر نعمتیں ملیں تو غافل ہو کر نافرمانیوں میں بڑھ نہ جاؤ۔ اس لئے کہ یہ تو بدکار اور بےنصیب لوگوں کا کام ہے، زہری فرماتے ہیں ہر چیز کے دروازے کھول دینے سے مراد دنیا میں آسائش و آرام کا دینا ہے، مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جب تم دیکھو کہ کسی گنہگار شخص کو اس کی گنہگاری کے باوجود اللہ کی نعمتیں دنیا میں مل رہی ہیں تو اسے استدراج سمجھنا یعنی وہ ایک مہلت ہے، پھر حضور نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی اور حدیث میں ہے کہ جب کسی قوم کی بربادی کا وقت آجاتا ہے تو ان پر خیانت کا دروازہ کھل جاتا ہے یہاں تک کہ وہ ان دی گئی ہوئی چیزوں پر اترانے لگتے ہیں تو ہم انہیں ناگہاں پکڑ لیتے ہیں اور اس وقت وہ محض ناامید ہوجاتے ہیں۔ پھر فرمایا ظالموں کی باگ ڈور کاٹ دی جاتی ہے۔ تعریفوں کے لائق وہ معبود برحق ہے جو سب کا پالنہار ہے (مسند وغیرہ)۔
45
View Single
فَقُطِعَ دَابِرُ ٱلۡقَوۡمِ ٱلَّذِينَ ظَلَمُواْۚ وَٱلۡحَمۡدُ لِلَّهِ رَبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ
The origins of the unjust people were therefore cut off; and all praise is to Allah, Lord Of The Creation.
پس ظلم کرنے والی قوم کی جڑ کاٹ دی گئی، اور تمام تعریفیں اللہ ہی کے لئے ہیں جو سارے جہانوں کا پروردگار ہے
Tafsir Ibn Kathir
The Idolators Call On Allah Alone During Torment and Distress
Allah states that He does what He wills with His creatures and none can resist His decision or avert what He decrees for them. He is the One Who has no partners, Who accepts the supplication from whomever He wills. Allah said,
قُلْ أَرَأَيْتُكُم إِنْ أَتَـكُمْ عَذَابُ اللَّهِ أَوْ أَتَتْكُمْ السَّاعَةُ أَغَيْرَ اللَّهِ تَدْعُونَ إِن كُنتُمْ صَـدِقِينَ
(Say: "Tell me if Allah's torment comes upon you, or the Hour comes upon you, would you then call upon any one other than Allah (Reply) if you are truthful!") This means, you -- disbelievers -- will not call other than Allah in this case, because you know that none except He is able to remove the affliction. Allah said,
إِن كُنتُمْ صَـدِقِينَ
(if you are truthful) by taking gods besides Him.
بَلْ إِيَّـهُ تَدْعُونَ فَيَكْشِفُ مَا تَدْعُونَ إِلَيْهِ إِنْ شَآءَ وَتَنسَوْنَ مَا تُشْرِكُونَ
(Nay! To Him alone you call, and, if He willed, He would remove that (distress) for which you call upon Him, and you forget at that time whatever partners you joined with Him (in worship)!) for in times of necessity, you only call on Allah and forget your idols and false deities. In another Ayah, Allah said;
وَإِذَا مَسَّكُمُ الْضُّرُّ فِى الْبَحْرِ ضَلَّ مَن تَدْعُونَ إِلاَ إِيَّاهُ
(And when harm touches you upon the sea, those that you call upon besides Him vanish from you except Him (Allah)) 17:67. Allah said;
وَلَقَدْ أَرْسَلنَآ إِلَى أُمَمٍ مِّن قَبْلِكَ فَأَخَذْنَـهُمْ بِالْبَأْسَآءِ
(Verily, We sent (Messengers) to many nations before you. And We seized them with extreme poverty...) That is, loss of wealth and diminished provisions,
وَالضَّرَّآءِ
(and loss of health) various illnesses, diseases and pain,
لَعَلَّهُمْ يَتَضَرَّعُونَ
(so that they might believe with humility) and call Allah and supplicate to Him with humbleness and humility. Allah said;
فَلَوْلا إِذْ جَآءَهُمْ بَأْسُنَا تَضَرَّعُواْ
(When Our torment reached them, why then did they not believe with humility) Meaning: Why do they not believe and humble themselves before Us when We test them with disaster'
وَلَـكِن قَسَتْ قُلُوبُهُمْ
(But their hearts became hardened,) for their hearts are not soft or humble,
وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطَـنُ مَا كَانُواّ يَعْمَلُونَ
(and Shaytan made fair-seeming to them that which they used to do. ) That is, Shirk, defiance and rebellion.
فَلَمَّا نَسُواْ مَا ذُكِّرُواْ بِهِ
(So, when they forgot (the warning) with which they had been reminded,) by ignoring and turning away from it,
فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ أَبْوَابَ كُلِّ شَىْءٍ
(We opened to them the gates of everything,) Meaning: `We opened the gates of provisions for them from wherever they wished, so that We deceive them.' We seek refuge with Allah from such an end. This is why Allah said,
حَتَّى إِذَا فَرِحُواْ بِمَآ أُوتُواْ
f(until in the midst of their enjoyment in that which they were given,) such as wealth, children and provisions,
أَخَذْنَـهُمْ بَغْتَةً فَإِذَا هُمْ مُّبْلِسُونَ
(all of a sudden, We took them to punishment and lo! They were plunged into destruction with deep regrets and sorrows.) They have no hope for any type of good thing. Al-Hasan Al-Basri said, "Whomever Allah gives provision and he thinks that Allah is not testing him, has no wisdom. Whomever has little provision and thinks that Allah will not look at (provide for) him, has no wisdom." He then recited the Ayah,
فَلَمَّا نَسُواْ مَا ذُكِّرُواْ بِهِ فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ أَبْوَابَ كُلِّ شَىْءٍ حَتَّى إِذَا فَرِحُواْ بِمَآ أُوتُواْ أَخَذْنَـهُمْ بَغْتَةً فَإِذَا هُمْ مُّبْلِسُونَ
(So, when they forgot (the warning) with which they had been reminded, We opened to them the gates of every (pleasant) thing, until in the midst of their enjoyment in that which they were given, all of a sudden, We took them to punishment, and lo! They were plunged into destruction with deep regrets and sorrows.) He added, "By the Lord of the Ka`bah! Allah deceived these people, when He gave them what they wished, and then they were punished." Ibn Abi Hatim recorded this statement.
سخت لوگ اور کثرت دولت مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ قادر مطلق ہے تمام مخلوق اس کے آگے پست و لا چار ہے جو چاہتا ہے حکم کرتا ہے، اس کا کوئی ارادہ بدلتا نہیں، اس کا کوئی حکم ٹلتا نہیں کوئی نہیں جو اس کی چاہت کے خلاف کرسکے یا اس کے حکم کو ٹال سکے یا اس کی قضا کو پھیر سکے وہ سارے ملک کا تنہا مالک ہے اس کی کسی بات میں کوئی سریک یا دخیل نہیں جو اسے مانگے وہ اسے دیتا ہے، جس کی چاہے دعا قبول فرماتا ہے پس فرماتا ہے خود تمہیں بھی ان تمام باتوں کا علم و اقرار ہے یہی وجہ ہے کہ آسمانی سزاؤں کے آ پڑنے پر تم اپنے تمام شریکوں کو بھول جاتے ہو اور صرف اللہ واحد کو پکارتے ہو، اگر تم سچے ہو کہ اللہ کے ساتھ اس کے کچھ اور ریک بھی ہیں تو ایسے کٹھن موقعوں پر ان میں سے کسی کو کیوں نہیں پکارتے ؟ بلکہ صرف اللہ واحد کو پکارتے ہو اور اپنے تمام معبودان باطل کو بھول جاتے ہو، چناچہ اور آیت میں ہے کہ سمندر میں جب ضرر پہنچتا ہے تو اللہ کے سوا ہر ایک تمہاری یاد سے نکل جاتا ہے، ہم نے اگلی امتوں کی طرف بھی رسول بھیجے پھر ان کے نہ ماننے پر ہم نے انہیں فقرو فاقہ میں تنگی ترشی میں بیماریوں اور دکھ درد میں مبتلا کردیا کہ اب بھی وہ ہمارے سامنے گریہ وزاری کریں عاجزانہ طور پر ہمارے سامنے جھک جائیں، ہم سے ڈر جائیں اور ہمارے دامن سے چمٹ جائیں، پھر انہوں نے ہمارے عذابوں کے آجانے کے بعد بھی ہمارے سامنے عاجزی کیوں نہ کی ؟ مسکینی کیوں نہ جتائی ؟ بلکہ ان کے دل سخت ہوگئے، شرک، دشمنی، ضد، تعصب، سرکشی، نافرمانی وغیرہ کو شیطان نے انہیں بڑا حسن میں دکھایا اور یہ اس پر جمے رہے، جب یہ لوگ ہماری باتوں کو فراموش کر گئے ہماری کتاب کو پس پشت ڈال دیا ہمارے فرمان سے منہ موڑ لیا تو ہم نے بھی انہیں ڈھیل دے دی کہ یہ اپنی برائیوں میں اور آگے نکل جائیں، ہر طرح کی روزیاں اور زیادہ سے زیادہ مال انہیں دیتے رہے یہاں تک کہ مال اولاد و رزق وغیرہ کی وسعت پر وہ بھولنے لگے اور غفلت کے گہرے گڑھے میں اتر گئے تو ہم نے انہیں ناگہاں پکڑ لیا، اس وقت وہ مایوس ہوگئے، امام حسن بصری ؒ کا صوفیانہ مقولہ ہے کہ جس نے کشادگی کے وقت اللہ تعالیٰ کی ڈھیل نہ سمجھی وہ محض بےعقل ہے اور جس نے تنگی کے وقت رب کی رحمت کی امید چھوڑ دی وہ بھی محض بیوقوف ہے۔ پھر آپ اسی آیت کی تلاوت فرماتے ہیں رب کعبہ کی قسم ایسے لوگ بھی ہیں جو اپنی چاہتوں کو پوری ہوتے ہوئے دیکھ کر اللہ کو بھول جاتے ہیں اور پھر رب کی گرفت میں آجاتے ہیں، حضرت قتادہ کا فرمان ہے کہ جب کوئی قوم اللہ کے فرمان سے سر تابی کرتی ہے تو اول تو انہیں دنیا خوب مل جاتی ہے جب وہ نعمتوں میں پڑ کر بد مست ہوجاتے ہیں تو اچانک پکڑ لئے جاتے ہیں لوگو اللہ کی ڈھیل کو سمجھ جایا کرو نافرمانیوں پر نعمتیں ملیں تو غافل ہو کر نافرمانیوں میں بڑھ نہ جاؤ۔ اس لئے کہ یہ تو بدکار اور بےنصیب لوگوں کا کام ہے، زہری فرماتے ہیں ہر چیز کے دروازے کھول دینے سے مراد دنیا میں آسائش و آرام کا دینا ہے، مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جب تم دیکھو کہ کسی گنہگار شخص کو اس کی گنہگاری کے باوجود اللہ کی نعمتیں دنیا میں مل رہی ہیں تو اسے استدراج سمجھنا یعنی وہ ایک مہلت ہے، پھر حضور نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی اور حدیث میں ہے کہ جب کسی قوم کی بربادی کا وقت آجاتا ہے تو ان پر خیانت کا دروازہ کھل جاتا ہے یہاں تک کہ وہ ان دی گئی ہوئی چیزوں پر اترانے لگتے ہیں تو ہم انہیں ناگہاں پکڑ لیتے ہیں اور اس وقت وہ محض ناامید ہوجاتے ہیں۔ پھر فرمایا ظالموں کی باگ ڈور کاٹ دی جاتی ہے۔ تعریفوں کے لائق وہ معبود برحق ہے جو سب کا پالنہار ہے (مسند وغیرہ)۔
46
View Single
قُلۡ أَرَءَيۡتُمۡ إِنۡ أَخَذَ ٱللَّهُ سَمۡعَكُمۡ وَأَبۡصَٰرَكُمۡ وَخَتَمَ عَلَىٰ قُلُوبِكُم مَّنۡ إِلَٰهٌ غَيۡرُ ٱللَّهِ يَأۡتِيكُم بِهِۗ ٱنظُرۡ كَيۡفَ نُصَرِّفُ ٱلۡأٓيَٰتِ ثُمَّ هُمۡ يَصۡدِفُونَ
Say, “What is your opinion – if Allah were to take away your hearing and your sight and seal your hearts, then is there a God besides Allah who could restore it for you?” Observe how We explain the verses to them, yet they turn away!
(ان سے) فرما دیجئے کہ تم یہ تو بتاؤ اگر اللہ تمہاری سماعت اور تمہاری آنکھیں لے لے اور تمہارے دلوں پر مُہر لگا دے (تو) اللہ کے سوا کون معبود ایسا ہے جو یہ (نعمتیں دوبارہ) تمہارے پاس لے آئے؟ دیکھئے ہم کس طرح گونا گوں آیتیں بیان کرتے ہیں پھر(بھی) وہ روگردانی کئے جاتے ہیں
Tafsir Ibn Kathir
أَرَأَيْتُمْ إِنْ أَخَذَ اللَّهُ سَمْعَكُمْ وَأَبْصَـرَكُمْ
(Tell me, if Allah took away your hearing and your sight.) just as He gave these senses to you. In another Ayah, Allah said;
هُوَ الَّذِى أَنشَأَكُمْ وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالاٌّبْصَـرَ
(It is He Who has created you, and endowed you with hearing, seeing.) 67:23. The Ayah above might also mean that Allah will not allow the disbelievers to benefit from these senses in religious terms. This is why He said next,
وَخَتَمَ عَلَى قُلُوبِكُمْ
(and sealed up your hearts,.) He also said in other Ayat,
أَمَّن يَمْلِكُ السَّمْعَ والاٌّبْصَـرَ
(Or who owns hearing and sight) 10:31, and,
وَاعْلَمُواْ أَنَّ اللَّهَ يَحُولُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهِ
(And know that Allah comes in between a person and his heart.) Allah said;
مَّنْ إِلَـهٌ غَيْرُ اللَّهِ يَأْتِيكُمْ بِهِ
(Is there a god other than Allah who could restore them to you) Meaning, is there anyone except Allah who is able to give you back these senses if Allah took them from you Only Allah is able to do so, and this is why He said here,
انْظُرْ كَيْفَ نُصَرِّفُ الاٌّيَـتِ
(See how variously We explain the Ayat,) and make them plain and clear, testifying to Allah's Oneness in lordship and that those worshipped besides Him are all false and unworthy.
ثُمَّ هُمْ يَصْدِفُونَ
(yet they turn aside.) After this explanation, they still turn away from the truth and hinder people from following it. Allah's statement,
قُلْ أَرَأَيْتَكُمْ إِنْ أَتَـكُمْ عَذَابُ اللَّهِ بَغْتَةً
(Say: "Tell me, if the punishment of Allah comes to you suddenly...") means, while you are unaware -- or during the night -- striking you all of a sudden,
أَوْ جَهْرَةً
(or openly) during the day, or publicly,
هَلْ يُهْلَكُ إِلاَّ الْقَوْمُ الظَّـلِمُونَ
(will any be destroyed except the wrongdoing people) This torment only strikes those who commit injustice against themselves by associating others with Allah, while those who worship Allah alone without partners will be saved from it, and they will have no fear or sorrow. In another Ayah, Allah said;
الَّذِينَ ءَامَنُواْ وَلَمْ يَلْبِسُواْ إِيمَـنَهُمْ بِظُلْمٍ
(It is those who believe and confuse not their belief with Zulm, (wrong or Shirk).) 6:82 Allah's statement,
وَمَا نُرْسِلُ الْمُرْسَلِينَ إِلاَّ مُبَشِّرِينَ وَمُنذِرِينَ
(And We send not the Messengers but as bearers of glad tidings and as warners.) means, the Messengers ﷺ bring good news to Allah's servants, as well as, command all that is good and righteous. They also warn those who disbelieve in Allah of His anger and of all types of torment. Allah said,
فَمَنْ ءَامَنَ وَأَصْلَحَ
(So whosoever believes and does righteous good deeds.) meaning, whoever believes in his heart with what the Messengers were sent with and makes his works righteous by imitating them;
فَلاَ خَوْفٌ عَلَيْهِمْ
(upon such shall come no fear,) concerning the future,
وَلاَ هُمْ يَحْزَنُونَ
(nor shall they grieve.) about what they missed in the past and left behind them in this world. Certainly, Allah will be the Wali and Protector over what they left behind. Allah said next,
وَالَّذِينَ كَذَّبُواْ بِـَايَـتِنَا يَمَسُّهُمُ الْعَذَابُ بِمَا كَانُواْ يَفْسُقُونَ
(But those who reject Our Ayat, the torment will strike them for their rebelling.) The torment will strike them because of disbelieving in the Message of the Messengers, defying Allah's commands, committing what He prohibited and transgressing His set limits.
محروم اور کامران کون ؟ فرمان ہے کہ ان مخالفین اسلام سے پوچھو تو کہ اگر اللہ تعالیٰ تم سے تمہارے کان اور تمہاری آنکھیں چھین لے جیسے کہ اس نے تمہیں دیئے ہیں جیسے فرمان ہے آیت (وَهُوَ الَّذِيْٓ اَنْشَاَ لَـكُمُ السَّمْعَ وَالْاَبْصَارَ وَالْاَفْـــِٕدَةَ ۭ قَلِيْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ) 23۔ المؤمنون :78) یعنی اللہ خالق کل وہ ہے جس نے تمہیں پیدا کیا اور تمہیں سننے کو کان اور دیکھنے کو آنکھیں دیں، یہ بھی ہوسکتا ہے کہ مراد چھین لینے سے شرعی نفع نہ پہنچانا ہو اس کی دلیل اس کے بعد کا جملہ دل پر مہر لگا دینا ہے، جیسے فرمان ہے آیت (اَمَّنْ يَّمْلِكُ السَّمْعَ وَالْاَبْصَارَ وَمَنْ يُّخْرِجُ الْـحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَيُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَيِّ وَمَنْ يُّدَبِّرُ الْاَمْرَ) 10۔ یونس :31) کون ہے جو کان کا اور آنکھوں کا مالک ہو ؟ اور فرمان ہے آیت (وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ يَحُوْلُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهٖ وَاَنَّهٗٓ اِلَيْهِ تُحْشَرُوْنَ) 8۔ الانفال :24) جان لو کہ اللہ تعالیٰ انسان کے اور اس کے دل کے درمیان حائل ہے، یہاں ان سے سوال ہوتا ہے کہ بتلاؤ تو کہ اللہ کے سوا اور کوئی ان چیزوں کے واپس دلانے پر قدرت رکھتا ہے ؟ یعنی کوئی نہیں رکھتا، دیکھ لے کہ میں نے اپنی توحید کے کس قدر زبردست، پرزور صاف اور جچے تلے دلائل بیان کردیئے ہیں اور یہ ثابت کردیا کہ میرے سوا سب بےبس ہیں لیکن یہ مشرک لوگ باوجود اس قدر کھلی روشن اور صاف دلیلوں کے حق کو نہیں مانتے بلکہ اوروں کو بھی حق کو تسلیم کرنے سے روکتے ہیں، پھر فرماتا ہے ذرا اس سوال کا جواب بھی دو کہ اللہ کا عذاب تمہاری بیخبر ی میں یا ظاہر کھلم کھلا تمہارے پاس آجائے تو کیا سوا ظالموں اور مشرکوں کے کسی اور کو بھی ہلاکت ہوگی ؟ یعنی نہ ہوگی۔ اللہ کی عبادت کرنے والے اس ہلاکت سے محفوظ رہیں گے جیسے اور آیت میں ہے آیت (اَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَلَمْ يَلْبِسُوْٓا اِيْمَانَهُمْ بِظُلْمٍ اُولٰۗىِٕكَ لَهُمُ الْاَمْنُ وَهُمْ مُّهْتَدُوْنَ) 6۔ الانعام :82) جو لوگ ایمان لائے اور اپنے ایمان کو شرک سے خراب نہ کیا ان کیلئے امن وامان ہے اور وہ ہدایت یافتہ ہیں۔ پھر فرمایا کہ رسولوں کا کام تو یہی ہے کہ ایمان والوں کو ان کے درجوں کی خوشخبریاں سنائیں اور کفار کو اللہ کے عذاب سے ڈرائیں، جو لوگ دل سے آپ کی بات مان لیں اور اللہ کے فرمان کے مطابق اعمال بجا لائیں، انہیں آخرت میں کوئی ڈر خوف نہیں اور دنیا کے چھوڑنے پر کوئی ملال نہیں، ان کے بال بچوں کا اللہ والی ہے اور ان کے ترکے کا وہی حافظ ہے کافروں کو اور جھٹلانے والوں کو ان کے کفر و فسق کی وجہ سے بڑے سخت عذاب ہوں گے کیونکہ انہوں نے اللہ کے فرمان چھوڑ رکھے تھے اور اس کی نافرمانیوں میں مشغول تھے۔ اس کے حرام کردہ کاموں کو کرتے تھے اور اس کے بتائے ہوئے کاموں سے بھاگتے تھے۔
47
View Single
قُلۡ أَرَءَيۡتَكُمۡ إِنۡ أَتَىٰكُمۡ عَذَابُ ٱللَّهِ بَغۡتَةً أَوۡ جَهۡرَةً هَلۡ يُهۡلَكُ إِلَّا ٱلۡقَوۡمُ ٱلظَّـٰلِمُونَ
Say, “What is your opinion – if the punishment of Allah were to come upon you suddenly or openly (with forewarning), who would be destroyed except the disbelieving people?”
آپ (ان سے یہ بھی) فرما دیجئے کہ تم مجھے بتاؤ اگر تم پر اللہ کا عذاب اچانک یا کھلم کھلا آن پڑے تو کیا ظالم قوم کے سوا (کوئی اور) ہلاک کیا جائے گا
Tafsir Ibn Kathir
أَرَأَيْتُمْ إِنْ أَخَذَ اللَّهُ سَمْعَكُمْ وَأَبْصَـرَكُمْ
(Tell me, if Allah took away your hearing and your sight.) just as He gave these senses to you. In another Ayah, Allah said;
هُوَ الَّذِى أَنشَأَكُمْ وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالاٌّبْصَـرَ
(It is He Who has created you, and endowed you with hearing, seeing.) 67:23. The Ayah above might also mean that Allah will not allow the disbelievers to benefit from these senses in religious terms. This is why He said next,
وَخَتَمَ عَلَى قُلُوبِكُمْ
(and sealed up your hearts,.) He also said in other Ayat,
أَمَّن يَمْلِكُ السَّمْعَ والاٌّبْصَـرَ
(Or who owns hearing and sight) 10:31, and,
وَاعْلَمُواْ أَنَّ اللَّهَ يَحُولُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهِ
(And know that Allah comes in between a person and his heart.) Allah said;
مَّنْ إِلَـهٌ غَيْرُ اللَّهِ يَأْتِيكُمْ بِهِ
(Is there a god other than Allah who could restore them to you) Meaning, is there anyone except Allah who is able to give you back these senses if Allah took them from you Only Allah is able to do so, and this is why He said here,
انْظُرْ كَيْفَ نُصَرِّفُ الاٌّيَـتِ
(See how variously We explain the Ayat,) and make them plain and clear, testifying to Allah's Oneness in lordship and that those worshipped besides Him are all false and unworthy.
ثُمَّ هُمْ يَصْدِفُونَ
(yet they turn aside.) After this explanation, they still turn away from the truth and hinder people from following it. Allah's statement,
قُلْ أَرَأَيْتَكُمْ إِنْ أَتَـكُمْ عَذَابُ اللَّهِ بَغْتَةً
(Say: "Tell me, if the punishment of Allah comes to you suddenly...") means, while you are unaware -- or during the night -- striking you all of a sudden,
أَوْ جَهْرَةً
(or openly) during the day, or publicly,
هَلْ يُهْلَكُ إِلاَّ الْقَوْمُ الظَّـلِمُونَ
(will any be destroyed except the wrongdoing people) This torment only strikes those who commit injustice against themselves by associating others with Allah, while those who worship Allah alone without partners will be saved from it, and they will have no fear or sorrow. In another Ayah, Allah said;
الَّذِينَ ءَامَنُواْ وَلَمْ يَلْبِسُواْ إِيمَـنَهُمْ بِظُلْمٍ
(It is those who believe and confuse not their belief with Zulm, (wrong or Shirk).) 6:82 Allah's statement,
وَمَا نُرْسِلُ الْمُرْسَلِينَ إِلاَّ مُبَشِّرِينَ وَمُنذِرِينَ
(And We send not the Messengers but as bearers of glad tidings and as warners.) means, the Messengers ﷺ bring good news to Allah's servants, as well as, command all that is good and righteous. They also warn those who disbelieve in Allah of His anger and of all types of torment. Allah said,
فَمَنْ ءَامَنَ وَأَصْلَحَ
(So whosoever believes and does righteous good deeds.) meaning, whoever believes in his heart with what the Messengers were sent with and makes his works righteous by imitating them;
فَلاَ خَوْفٌ عَلَيْهِمْ
(upon such shall come no fear,) concerning the future,
وَلاَ هُمْ يَحْزَنُونَ
(nor shall they grieve.) about what they missed in the past and left behind them in this world. Certainly, Allah will be the Wali and Protector over what they left behind. Allah said next,
وَالَّذِينَ كَذَّبُواْ بِـَايَـتِنَا يَمَسُّهُمُ الْعَذَابُ بِمَا كَانُواْ يَفْسُقُونَ
(But those who reject Our Ayat, the torment will strike them for their rebelling.) The torment will strike them because of disbelieving in the Message of the Messengers, defying Allah's commands, committing what He prohibited and transgressing His set limits.
محروم اور کامران کون ؟ فرمان ہے کہ ان مخالفین اسلام سے پوچھو تو کہ اگر اللہ تعالیٰ تم سے تمہارے کان اور تمہاری آنکھیں چھین لے جیسے کہ اس نے تمہیں دیئے ہیں جیسے فرمان ہے آیت (وَهُوَ الَّذِيْٓ اَنْشَاَ لَـكُمُ السَّمْعَ وَالْاَبْصَارَ وَالْاَفْـــِٕدَةَ ۭ قَلِيْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ) 23۔ المؤمنون :78) یعنی اللہ خالق کل وہ ہے جس نے تمہیں پیدا کیا اور تمہیں سننے کو کان اور دیکھنے کو آنکھیں دیں، یہ بھی ہوسکتا ہے کہ مراد چھین لینے سے شرعی نفع نہ پہنچانا ہو اس کی دلیل اس کے بعد کا جملہ دل پر مہر لگا دینا ہے، جیسے فرمان ہے آیت (اَمَّنْ يَّمْلِكُ السَّمْعَ وَالْاَبْصَارَ وَمَنْ يُّخْرِجُ الْـحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَيُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَيِّ وَمَنْ يُّدَبِّرُ الْاَمْرَ) 10۔ یونس :31) کون ہے جو کان کا اور آنکھوں کا مالک ہو ؟ اور فرمان ہے آیت (وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ يَحُوْلُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهٖ وَاَنَّهٗٓ اِلَيْهِ تُحْشَرُوْنَ) 8۔ الانفال :24) جان لو کہ اللہ تعالیٰ انسان کے اور اس کے دل کے درمیان حائل ہے، یہاں ان سے سوال ہوتا ہے کہ بتلاؤ تو کہ اللہ کے سوا اور کوئی ان چیزوں کے واپس دلانے پر قدرت رکھتا ہے ؟ یعنی کوئی نہیں رکھتا، دیکھ لے کہ میں نے اپنی توحید کے کس قدر زبردست، پرزور صاف اور جچے تلے دلائل بیان کردیئے ہیں اور یہ ثابت کردیا کہ میرے سوا سب بےبس ہیں لیکن یہ مشرک لوگ باوجود اس قدر کھلی روشن اور صاف دلیلوں کے حق کو نہیں مانتے بلکہ اوروں کو بھی حق کو تسلیم کرنے سے روکتے ہیں، پھر فرماتا ہے ذرا اس سوال کا جواب بھی دو کہ اللہ کا عذاب تمہاری بیخبر ی میں یا ظاہر کھلم کھلا تمہارے پاس آجائے تو کیا سوا ظالموں اور مشرکوں کے کسی اور کو بھی ہلاکت ہوگی ؟ یعنی نہ ہوگی۔ اللہ کی عبادت کرنے والے اس ہلاکت سے محفوظ رہیں گے جیسے اور آیت میں ہے آیت (اَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَلَمْ يَلْبِسُوْٓا اِيْمَانَهُمْ بِظُلْمٍ اُولٰۗىِٕكَ لَهُمُ الْاَمْنُ وَهُمْ مُّهْتَدُوْنَ) 6۔ الانعام :82) جو لوگ ایمان لائے اور اپنے ایمان کو شرک سے خراب نہ کیا ان کیلئے امن وامان ہے اور وہ ہدایت یافتہ ہیں۔ پھر فرمایا کہ رسولوں کا کام تو یہی ہے کہ ایمان والوں کو ان کے درجوں کی خوشخبریاں سنائیں اور کفار کو اللہ کے عذاب سے ڈرائیں، جو لوگ دل سے آپ کی بات مان لیں اور اللہ کے فرمان کے مطابق اعمال بجا لائیں، انہیں آخرت میں کوئی ڈر خوف نہیں اور دنیا کے چھوڑنے پر کوئی ملال نہیں، ان کے بال بچوں کا اللہ والی ہے اور ان کے ترکے کا وہی حافظ ہے کافروں کو اور جھٹلانے والوں کو ان کے کفر و فسق کی وجہ سے بڑے سخت عذاب ہوں گے کیونکہ انہوں نے اللہ کے فرمان چھوڑ رکھے تھے اور اس کی نافرمانیوں میں مشغول تھے۔ اس کے حرام کردہ کاموں کو کرتے تھے اور اس کے بتائے ہوئے کاموں سے بھاگتے تھے۔
48
View Single
وَمَا نُرۡسِلُ ٱلۡمُرۡسَلِينَ إِلَّا مُبَشِّرِينَ وَمُنذِرِينَۖ فَمَنۡ ءَامَنَ وَأَصۡلَحَ فَلَا خَوۡفٌ عَلَيۡهِمۡ وَلَا هُمۡ يَحۡزَنُونَ
And We did not send Noble Messengers except as Heralds of glad tidings and warnings; so upon those who accept faith and reform themselves, shall be no fear nor shall they grieve.
اور ہم پیغمبروں کو نہیں بھیجتے مگر خوشخبری سنانے والے اور ڈر سنانے والے بنا کر، سو جو شخص ایمان لے آیا اور (عملاً) درست ہوگیا تو ان پرنہ کوئی خوف ہوگا اور نہ ہی وہ غمگین ہوں گے
Tafsir Ibn Kathir
أَرَأَيْتُمْ إِنْ أَخَذَ اللَّهُ سَمْعَكُمْ وَأَبْصَـرَكُمْ
(Tell me, if Allah took away your hearing and your sight.) just as He gave these senses to you. In another Ayah, Allah said;
هُوَ الَّذِى أَنشَأَكُمْ وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالاٌّبْصَـرَ
(It is He Who has created you, and endowed you with hearing, seeing.) 67:23. The Ayah above might also mean that Allah will not allow the disbelievers to benefit from these senses in religious terms. This is why He said next,
وَخَتَمَ عَلَى قُلُوبِكُمْ
(and sealed up your hearts,.) He also said in other Ayat,
أَمَّن يَمْلِكُ السَّمْعَ والاٌّبْصَـرَ
(Or who owns hearing and sight) 10:31, and,
وَاعْلَمُواْ أَنَّ اللَّهَ يَحُولُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهِ
(And know that Allah comes in between a person and his heart.) Allah said;
مَّنْ إِلَـهٌ غَيْرُ اللَّهِ يَأْتِيكُمْ بِهِ
(Is there a god other than Allah who could restore them to you) Meaning, is there anyone except Allah who is able to give you back these senses if Allah took them from you Only Allah is able to do so, and this is why He said here,
انْظُرْ كَيْفَ نُصَرِّفُ الاٌّيَـتِ
(See how variously We explain the Ayat,) and make them plain and clear, testifying to Allah's Oneness in lordship and that those worshipped besides Him are all false and unworthy.
ثُمَّ هُمْ يَصْدِفُونَ
(yet they turn aside.) After this explanation, they still turn away from the truth and hinder people from following it. Allah's statement,
قُلْ أَرَأَيْتَكُمْ إِنْ أَتَـكُمْ عَذَابُ اللَّهِ بَغْتَةً
(Say: "Tell me, if the punishment of Allah comes to you suddenly...") means, while you are unaware -- or during the night -- striking you all of a sudden,
أَوْ جَهْرَةً
(or openly) during the day, or publicly,
هَلْ يُهْلَكُ إِلاَّ الْقَوْمُ الظَّـلِمُونَ
(will any be destroyed except the wrongdoing people) This torment only strikes those who commit injustice against themselves by associating others with Allah, while those who worship Allah alone without partners will be saved from it, and they will have no fear or sorrow. In another Ayah, Allah said;
الَّذِينَ ءَامَنُواْ وَلَمْ يَلْبِسُواْ إِيمَـنَهُمْ بِظُلْمٍ
(It is those who believe and confuse not their belief with Zulm, (wrong or Shirk).) 6:82 Allah's statement,
وَمَا نُرْسِلُ الْمُرْسَلِينَ إِلاَّ مُبَشِّرِينَ وَمُنذِرِينَ
(And We send not the Messengers but as bearers of glad tidings and as warners.) means, the Messengers ﷺ bring good news to Allah's servants, as well as, command all that is good and righteous. They also warn those who disbelieve in Allah of His anger and of all types of torment. Allah said,
فَمَنْ ءَامَنَ وَأَصْلَحَ
(So whosoever believes and does righteous good deeds.) meaning, whoever believes in his heart with what the Messengers were sent with and makes his works righteous by imitating them;
فَلاَ خَوْفٌ عَلَيْهِمْ
(upon such shall come no fear,) concerning the future,
وَلاَ هُمْ يَحْزَنُونَ
(nor shall they grieve.) about what they missed in the past and left behind them in this world. Certainly, Allah will be the Wali and Protector over what they left behind. Allah said next,
وَالَّذِينَ كَذَّبُواْ بِـَايَـتِنَا يَمَسُّهُمُ الْعَذَابُ بِمَا كَانُواْ يَفْسُقُونَ
(But those who reject Our Ayat, the torment will strike them for their rebelling.) The torment will strike them because of disbelieving in the Message of the Messengers, defying Allah's commands, committing what He prohibited and transgressing His set limits.
محروم اور کامران کون ؟ فرمان ہے کہ ان مخالفین اسلام سے پوچھو تو کہ اگر اللہ تعالیٰ تم سے تمہارے کان اور تمہاری آنکھیں چھین لے جیسے کہ اس نے تمہیں دیئے ہیں جیسے فرمان ہے آیت (وَهُوَ الَّذِيْٓ اَنْشَاَ لَـكُمُ السَّمْعَ وَالْاَبْصَارَ وَالْاَفْـــِٕدَةَ ۭ قَلِيْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ) 23۔ المؤمنون :78) یعنی اللہ خالق کل وہ ہے جس نے تمہیں پیدا کیا اور تمہیں سننے کو کان اور دیکھنے کو آنکھیں دیں، یہ بھی ہوسکتا ہے کہ مراد چھین لینے سے شرعی نفع نہ پہنچانا ہو اس کی دلیل اس کے بعد کا جملہ دل پر مہر لگا دینا ہے، جیسے فرمان ہے آیت (اَمَّنْ يَّمْلِكُ السَّمْعَ وَالْاَبْصَارَ وَمَنْ يُّخْرِجُ الْـحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَيُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَيِّ وَمَنْ يُّدَبِّرُ الْاَمْرَ) 10۔ یونس :31) کون ہے جو کان کا اور آنکھوں کا مالک ہو ؟ اور فرمان ہے آیت (وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ يَحُوْلُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهٖ وَاَنَّهٗٓ اِلَيْهِ تُحْشَرُوْنَ) 8۔ الانفال :24) جان لو کہ اللہ تعالیٰ انسان کے اور اس کے دل کے درمیان حائل ہے، یہاں ان سے سوال ہوتا ہے کہ بتلاؤ تو کہ اللہ کے سوا اور کوئی ان چیزوں کے واپس دلانے پر قدرت رکھتا ہے ؟ یعنی کوئی نہیں رکھتا، دیکھ لے کہ میں نے اپنی توحید کے کس قدر زبردست، پرزور صاف اور جچے تلے دلائل بیان کردیئے ہیں اور یہ ثابت کردیا کہ میرے سوا سب بےبس ہیں لیکن یہ مشرک لوگ باوجود اس قدر کھلی روشن اور صاف دلیلوں کے حق کو نہیں مانتے بلکہ اوروں کو بھی حق کو تسلیم کرنے سے روکتے ہیں، پھر فرماتا ہے ذرا اس سوال کا جواب بھی دو کہ اللہ کا عذاب تمہاری بیخبر ی میں یا ظاہر کھلم کھلا تمہارے پاس آجائے تو کیا سوا ظالموں اور مشرکوں کے کسی اور کو بھی ہلاکت ہوگی ؟ یعنی نہ ہوگی۔ اللہ کی عبادت کرنے والے اس ہلاکت سے محفوظ رہیں گے جیسے اور آیت میں ہے آیت (اَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَلَمْ يَلْبِسُوْٓا اِيْمَانَهُمْ بِظُلْمٍ اُولٰۗىِٕكَ لَهُمُ الْاَمْنُ وَهُمْ مُّهْتَدُوْنَ) 6۔ الانعام :82) جو لوگ ایمان لائے اور اپنے ایمان کو شرک سے خراب نہ کیا ان کیلئے امن وامان ہے اور وہ ہدایت یافتہ ہیں۔ پھر فرمایا کہ رسولوں کا کام تو یہی ہے کہ ایمان والوں کو ان کے درجوں کی خوشخبریاں سنائیں اور کفار کو اللہ کے عذاب سے ڈرائیں، جو لوگ دل سے آپ کی بات مان لیں اور اللہ کے فرمان کے مطابق اعمال بجا لائیں، انہیں آخرت میں کوئی ڈر خوف نہیں اور دنیا کے چھوڑنے پر کوئی ملال نہیں، ان کے بال بچوں کا اللہ والی ہے اور ان کے ترکے کا وہی حافظ ہے کافروں کو اور جھٹلانے والوں کو ان کے کفر و فسق کی وجہ سے بڑے سخت عذاب ہوں گے کیونکہ انہوں نے اللہ کے فرمان چھوڑ رکھے تھے اور اس کی نافرمانیوں میں مشغول تھے۔ اس کے حرام کردہ کاموں کو کرتے تھے اور اس کے بتائے ہوئے کاموں سے بھاگتے تھے۔
49
View Single
وَٱلَّذِينَ كَذَّبُواْ بِـَٔايَٰتِنَا يَمَسُّهُمُ ٱلۡعَذَابُ بِمَا كَانُواْ يَفۡسُقُونَ
And those who deny Our signs – the punishment will afflict them for their disobedience.
اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا انہیں عذاب چھو کر رہے گا، اس وجہ سے کہ وہ نافرمانی کیا کرتے تھے
Tafsir Ibn Kathir
أَرَأَيْتُمْ إِنْ أَخَذَ اللَّهُ سَمْعَكُمْ وَأَبْصَـرَكُمْ
(Tell me, if Allah took away your hearing and your sight.) just as He gave these senses to you. In another Ayah, Allah said;
هُوَ الَّذِى أَنشَأَكُمْ وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالاٌّبْصَـرَ
(It is He Who has created you, and endowed you with hearing, seeing.) 67:23. The Ayah above might also mean that Allah will not allow the disbelievers to benefit from these senses in religious terms. This is why He said next,
وَخَتَمَ عَلَى قُلُوبِكُمْ
(and sealed up your hearts,.) He also said in other Ayat,
أَمَّن يَمْلِكُ السَّمْعَ والاٌّبْصَـرَ
(Or who owns hearing and sight) 10:31, and,
وَاعْلَمُواْ أَنَّ اللَّهَ يَحُولُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهِ
(And know that Allah comes in between a person and his heart.) Allah said;
مَّنْ إِلَـهٌ غَيْرُ اللَّهِ يَأْتِيكُمْ بِهِ
(Is there a god other than Allah who could restore them to you) Meaning, is there anyone except Allah who is able to give you back these senses if Allah took them from you Only Allah is able to do so, and this is why He said here,
انْظُرْ كَيْفَ نُصَرِّفُ الاٌّيَـتِ
(See how variously We explain the Ayat,) and make them plain and clear, testifying to Allah's Oneness in lordship and that those worshipped besides Him are all false and unworthy.
ثُمَّ هُمْ يَصْدِفُونَ
(yet they turn aside.) After this explanation, they still turn away from the truth and hinder people from following it. Allah's statement,
قُلْ أَرَأَيْتَكُمْ إِنْ أَتَـكُمْ عَذَابُ اللَّهِ بَغْتَةً
(Say: "Tell me, if the punishment of Allah comes to you suddenly...") means, while you are unaware -- or during the night -- striking you all of a sudden,
أَوْ جَهْرَةً
(or openly) during the day, or publicly,
هَلْ يُهْلَكُ إِلاَّ الْقَوْمُ الظَّـلِمُونَ
(will any be destroyed except the wrongdoing people) This torment only strikes those who commit injustice against themselves by associating others with Allah, while those who worship Allah alone without partners will be saved from it, and they will have no fear or sorrow. In another Ayah, Allah said;
الَّذِينَ ءَامَنُواْ وَلَمْ يَلْبِسُواْ إِيمَـنَهُمْ بِظُلْمٍ
(It is those who believe and confuse not their belief with Zulm, (wrong or Shirk).) 6:82 Allah's statement,
وَمَا نُرْسِلُ الْمُرْسَلِينَ إِلاَّ مُبَشِّرِينَ وَمُنذِرِينَ
(And We send not the Messengers but as bearers of glad tidings and as warners.) means, the Messengers ﷺ bring good news to Allah's servants, as well as, command all that is good and righteous. They also warn those who disbelieve in Allah of His anger and of all types of torment. Allah said,
فَمَنْ ءَامَنَ وَأَصْلَحَ
(So whosoever believes and does righteous good deeds.) meaning, whoever believes in his heart with what the Messengers were sent with and makes his works righteous by imitating them;
فَلاَ خَوْفٌ عَلَيْهِمْ
(upon such shall come no fear,) concerning the future,
وَلاَ هُمْ يَحْزَنُونَ
(nor shall they grieve.) about what they missed in the past and left behind them in this world. Certainly, Allah will be the Wali and Protector over what they left behind. Allah said next,
وَالَّذِينَ كَذَّبُواْ بِـَايَـتِنَا يَمَسُّهُمُ الْعَذَابُ بِمَا كَانُواْ يَفْسُقُونَ
(But those who reject Our Ayat, the torment will strike them for their rebelling.) The torment will strike them because of disbelieving in the Message of the Messengers, defying Allah's commands, committing what He prohibited and transgressing His set limits.
محروم اور کامران کون ؟ فرمان ہے کہ ان مخالفین اسلام سے پوچھو تو کہ اگر اللہ تعالیٰ تم سے تمہارے کان اور تمہاری آنکھیں چھین لے جیسے کہ اس نے تمہیں دیئے ہیں جیسے فرمان ہے آیت (وَهُوَ الَّذِيْٓ اَنْشَاَ لَـكُمُ السَّمْعَ وَالْاَبْصَارَ وَالْاَفْـــِٕدَةَ ۭ قَلِيْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ) 23۔ المؤمنون :78) یعنی اللہ خالق کل وہ ہے جس نے تمہیں پیدا کیا اور تمہیں سننے کو کان اور دیکھنے کو آنکھیں دیں، یہ بھی ہوسکتا ہے کہ مراد چھین لینے سے شرعی نفع نہ پہنچانا ہو اس کی دلیل اس کے بعد کا جملہ دل پر مہر لگا دینا ہے، جیسے فرمان ہے آیت (اَمَّنْ يَّمْلِكُ السَّمْعَ وَالْاَبْصَارَ وَمَنْ يُّخْرِجُ الْـحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَيُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَيِّ وَمَنْ يُّدَبِّرُ الْاَمْرَ) 10۔ یونس :31) کون ہے جو کان کا اور آنکھوں کا مالک ہو ؟ اور فرمان ہے آیت (وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ يَحُوْلُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهٖ وَاَنَّهٗٓ اِلَيْهِ تُحْشَرُوْنَ) 8۔ الانفال :24) جان لو کہ اللہ تعالیٰ انسان کے اور اس کے دل کے درمیان حائل ہے، یہاں ان سے سوال ہوتا ہے کہ بتلاؤ تو کہ اللہ کے سوا اور کوئی ان چیزوں کے واپس دلانے پر قدرت رکھتا ہے ؟ یعنی کوئی نہیں رکھتا، دیکھ لے کہ میں نے اپنی توحید کے کس قدر زبردست، پرزور صاف اور جچے تلے دلائل بیان کردیئے ہیں اور یہ ثابت کردیا کہ میرے سوا سب بےبس ہیں لیکن یہ مشرک لوگ باوجود اس قدر کھلی روشن اور صاف دلیلوں کے حق کو نہیں مانتے بلکہ اوروں کو بھی حق کو تسلیم کرنے سے روکتے ہیں، پھر فرماتا ہے ذرا اس سوال کا جواب بھی دو کہ اللہ کا عذاب تمہاری بیخبر ی میں یا ظاہر کھلم کھلا تمہارے پاس آجائے تو کیا سوا ظالموں اور مشرکوں کے کسی اور کو بھی ہلاکت ہوگی ؟ یعنی نہ ہوگی۔ اللہ کی عبادت کرنے والے اس ہلاکت سے محفوظ رہیں گے جیسے اور آیت میں ہے آیت (اَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَلَمْ يَلْبِسُوْٓا اِيْمَانَهُمْ بِظُلْمٍ اُولٰۗىِٕكَ لَهُمُ الْاَمْنُ وَهُمْ مُّهْتَدُوْنَ) 6۔ الانعام :82) جو لوگ ایمان لائے اور اپنے ایمان کو شرک سے خراب نہ کیا ان کیلئے امن وامان ہے اور وہ ہدایت یافتہ ہیں۔ پھر فرمایا کہ رسولوں کا کام تو یہی ہے کہ ایمان والوں کو ان کے درجوں کی خوشخبریاں سنائیں اور کفار کو اللہ کے عذاب سے ڈرائیں، جو لوگ دل سے آپ کی بات مان لیں اور اللہ کے فرمان کے مطابق اعمال بجا لائیں، انہیں آخرت میں کوئی ڈر خوف نہیں اور دنیا کے چھوڑنے پر کوئی ملال نہیں، ان کے بال بچوں کا اللہ والی ہے اور ان کے ترکے کا وہی حافظ ہے کافروں کو اور جھٹلانے والوں کو ان کے کفر و فسق کی وجہ سے بڑے سخت عذاب ہوں گے کیونکہ انہوں نے اللہ کے فرمان چھوڑ رکھے تھے اور اس کی نافرمانیوں میں مشغول تھے۔ اس کے حرام کردہ کاموں کو کرتے تھے اور اس کے بتائے ہوئے کاموں سے بھاگتے تھے۔
50
View Single
قُل لَّآ أَقُولُ لَكُمۡ عِندِي خَزَآئِنُ ٱللَّهِ وَلَآ أَعۡلَمُ ٱلۡغَيۡبَ وَلَآ أَقُولُ لَكُمۡ إِنِّي مَلَكٌۖ إِنۡ أَتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحَىٰٓ إِلَيَّۚ قُلۡ هَلۡ يَسۡتَوِي ٱلۡأَعۡمَىٰ وَٱلۡبَصِيرُۚ أَفَلَا تَتَفَكَّرُونَ
Say (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), “I do not say to you that I possess the treasures of Allah, nor do I say that I gain knowledge of the hidden on my own, nor do I say to you that I am an angel; I only follow what is divinely revealed to me”; say, “Will the blind and the sighted ever be equal? So do you not think?”
آپ (ان کافروں سے) فرما دیجئے کہ میں تم سے (یہ) نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں اور نہ میں اَز خود غیب جانتا ہوں اور نہ میں تم سے (یہ) کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں، میں تو صرف اسی (حکم) کی پیروی کرتا ہوں جو میری طرف وحی کیا جاتاہے۔ فرما دیجئے: کیا اندھا اور بینا برابر ہوسکتے ہیں؟ سو کیا تم غور نہیں کرتے
Tafsir Ibn Kathir
The Messenger Neither has the Key to Allah's Treasures, Nor Knows the Unseen
Allah said to His Messenger ,
قُل لاَّ أَقُولُ لَكُمْ عِندِى خَزَآئِنُ اللَّهِ
(Say: "I don't tell you that with me are the treasures of Allah.") meaning, I do not own Allah's treasures or have any power over them,
وَلا أَعْلَمُ الْغَيْبَ
(nor (that) I know the Unseen,) and I do not say that I know the Unseen, because its knowledge is with Allah and I only know what He conveys of it to me.
وَلا أَقُولُ لَكُمْ إِنِّى مَلَكٌ
(nor I tell you that I am an angel.) meaning, I do not claim that I am an angel. I am only a human to whom Allah sends revelation, and He honored me with this duty and favored me with it.
إِنْ أَتَّبِعُ إِلاَّ مَا يُوحَى إِلَىَّ
(I but follow what is revealed to me.) and I never disobey the revelation in the least.
قُلْ هَلْ يَسْتَوِى الاٌّعْمَى وَالْبَصِيرُ
(Say: "Are the blind and the one who sees equal") meaning, `Is the one who is guided, following the truth, equal to the one misled'
أَفَلاَ تَتَفَكَّرُونَ
(Will you not then consider) In another Ayah, Allah said;
أَفَمَن يَعْلَمُ أَنَّمَآ أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَبِّكَ الْحَقُّ كَمَنْ هُوَ أَعْمَى إِنَّمَا يَتَذَكَّرُ أُوْلُواْ الأَلْبَـبِ
(Shall he then who knows that what has been revealed to you from your Lord is the truth, be like him who is blind But it is only the men of understanding that pay heed.) 13:19 Allah's statement,
وَأَنذِرْ بِهِ الَّذِينَ يَخَافُونَ أَن يُحْشَرُواْ إِلَى رَبِّهِمْ لَيْسَ لَهُمْ مِّن دُونِهِ وَلِىٌّ وَلاَ شَفِيعٌ
(And warn therewith those who fear that they will be gathered before their Lord, when there will be neither a protector nor an intercessor for them besides Him,) means, warn with this Qur'an, O Muhammad ,
الَّذِينَ هُم مِّنْ خَشْيةِ رَبِّهِمْ مُّشْفِقُونَ
(Those who live in awe for fear of their Lord) 23:57, who,
يَخْشَوْنَ رَبَّهُموَيَخَافُونَ سُوءَ الحِسَابِ
(Fear their Lord, and dread the terrible reckoning.) 13:21,
الَّذِينَ يَخَافُونَ أَن يُحْشَرُواْ إِلَى رَبِّهِمْ
(those who fear that they will be gathered before their Lord,) on the Day of Resurrection,
لَيْسَ لَهُمْ مِّن دُونِهِ وَلِىٌّ وَلاَ شَفِيعٌ
(when there will be neither a protector nor an intercessor for them besides Him, ) for on that Day, they will have no relative or intercessor who can prevent His torment if He decides to punish them with it,
لَعَلَّهُمْ يَتَّقُونَ
(so that they may have Taqwa.) Therefore, warn of the Day when there will be no judge except Allah,
لَعَلَّهُمْ يَتَّقُونَ
(so that they may have Taqwa.) and thus work good deeds in this life, so that their good deeds may save them on the Day of Resurrection from Allah's torment, and so that He will grant them multiple rewards.
Prohibiting the Messenger from Turning the Weak Away and the Order to Honor Them
Allah said,
وَلاَ تَطْرُدِ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِىِّ يُرِيدُونَ وَجْهَهُ
(And turn not away those who invoke their Lord, morning and evening seeking His Face.) meaning, do not turn away those who have these qualities, instead make them your companions and associates. In another Ayah, Allah said;
وَاصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُم بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِىِّ يُرِيدُونَ وَجْهَهُ وَلاَ تَعْدُ عَيْنَاكَ عَنْهُمْ تُرِيدُ زِينَةَ الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَلاَ تُطِعْ مَنْ أَغْفَلْنَا قَلْبَهُ عَن ذِكْرِنَا وَاتَّبَعَ هَوَاهُ وَكَانَ أَمْرُهُ فُرُطًا
(And keep yourself patiently with those who call on their Lord morning and evening, seeking His Face, and let not your eyes overlook them, desiring the pomp and glitter of the life of the world; and obey not him whose heart We have made heedless of Our remembrance, one who follows his own lusts and whose affair (deeds) has been lost.)18:28 Allah's statement,
يَدْعُونَ رَبَّهُمْ
(invoke their Lord...) refers to those who worship Him and supplicate to Him,
بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِىِّ
(morning and evening.) referring to the obligatory prayers, according to Sa`id bin Al-Musayyib, Mujahid, Al-Hasan and Qatadah. In another Ayah, Allah said;
وَقَالَ رَبُّكُـمْ ادْعُونِى أَسْتَجِبْ لَكُمْ
(And your Lord said, "Invoke Me, I will respond (to your invocation).") 40:60, I will accept your supplication. Allah said next,
يُرِيدُونَ وَجْهَهُ
(seeking His Face.) meaning, they seek Allah's Most Generous Face, by sincerity for Him in the acts of worship and obedience they perform. Allah said;
مَا عَلَيْكَ مِنْ حِسَابِهِم مِّن شَىْءٍ وَمَا مِنْ حِسَابِكَ عَلَيْهِمْ مِّن شَىْءٍ
(You are accountable for them in nothing, and they are accountable for you in nothing,) This is similar to the answer Nuh gave to his people when they said,
أَنُؤْمِنُ لَكَ وَاتَّبَعَكَ الاٌّرْذَلُونَ
(Shall we believe in you, when the meekest (of the people) follow you") 26:111. Nuh answered them,
قَالَ وَمَا عِلْمِى بِمَا كَانُواْ يَعْمَلُونَ - إِنْ حِسَابُهُمْ إِلاَّ عَلَى رَبِّى لَوْ تَشْعُرُونَ
(And what knowledge have I of what they used to do Their account is only with my Lord, if you could (but) know.) 26:112-113, meaning, their reckoning is for Allah not me, just as my reckoning is not up to them. Allah said here,
فَتَطْرُدَهُمْ فَتَكُونَ مِنَ الظَّـلِمِينَ
(that you may turn them away, and thus become of the wrongdoers.) meaning, you will be unjust if you turn them away. Allah's statement,
وَكَذلِكَ فَتَنَّا بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ
(Thus We have tried some of them with others) means, We tested, tried and checked them with each other,
لِّيَقُولواْ أَهَـؤُلاءِ مَنَّ اللَّهُ عَلَيْهِم مِّن بَيْنِنَآ
(That they might say: "Is it these (poor believers) that Allah has favored from amongst us") This is because at first, most of those who followed the Messenger of Allah ﷺ were the weak among the people, men, women, slaves, and only a few chiefs or noted men followed him. Nuh, was also addressed by his people
وَمَا نَرَاكَ اتَّبَعَكَ إِلاَّ الَّذِينَ هُمْ أَرَاذِلُنَا بَادِىَ الرَّأْى
(Nor do we see any follow you but the meekest among us and they (too) followed you without thinking.) 11:27 KHeraclius, emperor of Rome, asked Abu Sufyan, "Do the noblemen or the weak among people follow him (Muhammad )" Abu Sufyan replied, "Rather the weak among them." Heraclius commented, "Such is the case with followers of the Messengers." The idolators of Quraysh used to mock the weak among them who believed in the Prophet and they even tortured some of them. They used to say, "Are these the ones whom Allah favored above us," meaning, Allah would not guide these people, instead of us, to all that is good, if indeed what they embraced is good. Allah mentioned similar statements in the Qur'an from the disbelievers,
لَوْ كَانَ خَيْراً مَّا سَبَقُونَآ إِلَيْهِ
(Had it been a good thing, they (weak and poor) would not have preceded us to it!) 46:11, and,
وَإِذَا تُتْلَى عَلَيْهِمْ ءَايَـتُنَا بِيِّنَـتٍ قَالَ الَّذِينَ كَفَرُواْ لِلَّذِينَ ءَامَنُواْ أَىُّ الْفَرِيقَيْنِ خَيْرٌ مَّقَاماً وَأَحْسَنُ نَدِيّاً
(And when Our clear verses are recited to them, those who disbelieve say to those who believe: "Which of the two groups is best in position and station.") 19:73 Allah said in reply,
وَكَمْ أَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّن قَرْنٍ هُمْ أَحْسَنُ أَثَاثاً وَرِءْياً
(And how many a generation (past nations) have We destroyed before them, who were better in wealth, goods and outward appearance) 19:74. Here, Allah answered the disbelievers when they said,
أَهَـؤُلاءِ مَنَّ اللَّهُ عَلَيْهِم مِّن بَيْنِنَآ أَلَيْسَ اللَّهُ بِأَعْلَمَ بِالشَّـكِرِينَ
("Is it these (poor believers) that Allah has favored from amongst us" Does not Allah know best those who are grateful) Meaning is not Allah more knowledgeable of those who thank and appreciate Him in statement, action and heart Thus Allah directs these believers to the ways of peace, transfers them from darkness to light by His leave, and guides them to the straight path. In another Ayah, Allah said;
وَالَّذِينَ جَـهَدُواْ فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا وَإِنَّ اللَّهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِينَ
(As for those who strive hard for Us (Our cause), We will surely guide them to Our paths (i.e. Allah's religion). And verily, Allah is with the doers of good") 29:69. An authentic Hadith states,
«إِنَّ اللهَ لَا يَنْظُرُ إِلَى صُوَرِكُمْ وَلَا إِلَى أَلْوَانِكُمْ، وَلَكِنْ يَنْظُرُ إِلَى قُلُوبِكُمْ وَأَعْمَالِكُم»
(Allah does not look at your shapes or colors, but He looks at your heart and actions.) Allah's statement,
وَإِذَا جَآءَكَ الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِـَايَـتِنَا فَقُلْ سَلَـمٌ عَلَيْكُمْ
(When those who believe in Our Ayat come to you, say: "Salamun `Alaykum" (peace be on you);) means, honor them by returning the Salam and give them the good news of Allah's exclusive, encompassing mercy for them. So Allah said;
كَتَبَ رَبُّكُمْ عَلَى نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ
(your Lord has written Mercy for Himself,) meaning, He has obliged His Most Honored Self to grant mercy, as a favor, out of His compassion and beneficence,
أَنَّهُ مَن عَمِلَ مِنكُمْ سُوءًا بِجَهَالَةٍ
(So that, if any of you does evil in ignorance...) as every person who disobeys Allah does it in ignorance,
ثُمَّ تَابَ مِن بَعْدِهِ وَأَصْلَحَ
(and thereafter repents and does righteous good deeds,) by repenting from the sins that he committed, intending not to repeat the sin in the future, but to perform righteous deeds,
فَأَنَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ
(then surely, He is Oft-Forgiving Most Merciful.) Imam Ahmad recorded that Abu Hurayrah said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«لَمَّا قَضَى اللهُ الْخَلْقَ كَتَبَ فِي كِتَابٍ فَهُوَ عِنْدَهُ فَوْقَ الْعَرْشِ: إِنَّ رَحْمَتِي غَلَبَتْ غَضَبِي»
(When Allah finished with the creation, He wrote in a Book that He has with Him above the Throne, `My mercy prevails over My anger'.) This Hadith was also recorded in the The Two Sahihs.
مسلمانو ! طبقاتی عصبیت سے بچو اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ سے فرماتا ہے کہ لوگوں میں اعلان کردو کہ میں اللہ کے خزانوں کا مالک نہیں نہ مجھے ان میں کسی طرح کا اختیار ہے، نہ میں یہ کہتا ہوں کہ میں غیب کا جاننے والا ہوں، رب نے جو چیزیں خاص اپنے علم میں رکھی ہیں مجھے ان میں سے کچھ بھی معلوم نہیں، ہاں جن چیزوں سے خود اللہ نے مجھے مطلع کر دے ان پر مجھے اطلاع ہوجاتی ہے، میرا یہ بھی دعوی نہیں کہ میں کوئی فرشتہ ہوں، میں تو انسان ہوں، اللہ تعالیٰ نے مجھے جو شرف دیا ہے یعنی میری طرف جو وحی نازل فرمائی ہے میں اسی کا عمل پیرا ہوں، اس سے ایک بالشت ادھر ادھر نہیں ہٹتا۔ کیا حق کے تابعدار جو بصارت والے ہیں اور حق سے محروم جو اندھے ہیں برابر ہوسکتے ہیں ؟ کیا تم اتنا غور بھی نہیں کرتے ؟ اور آیت میں ہے کہ کیا وہ شخص جو جانتا ہے کہ جو کچھ تیری طرف تیرے رب کی جانب سے اترا ہے حق ہے اس شخص جیسا ہوسکتا ہے جو نابینا ہے ؟ نصیحت تو صرف وہی حاصل کرتے ہیں جو عقلمند ہیں ؟ اے نبی ﷺ آپ قرآن کے ذریعہ انہیں راہ راست پر لائیں جو رب کے سامنے کھڑے ہونے کا خوف دل میں رکھتے ہیں، حساب کا کھٹکار رکھتے ہیں، جانتے ہیں کہ رب کے سامنے پیش ہونا ہے اس دن اس کے سوا اور کوئی ان کا قریبی یا سفارشی نہ ہوگا، وہ اگر عذاب کرنا چاہے تو کوئی شفاعت نہیں کرسکتا۔ یہ تیرا ڈرانا اس لئے ہے کہ شاید وہ تقی بن جائیں حاکم حقیقی سے ڈر کر نیکیاں کریں اور قیامت کے عذابوں سے چھوٹیں اور ثابت کے مستحق بن جائیں، پھر فرماتا ہے یہ مسلمان غرباء جو صبح شام اپنے پروردگار کا نام جپتے ہیں خبردار انہیں حقیر نہ سمجھنا انہیں اپنے پاس سے نہ ہٹانا بلکہ انہی کو اپنی صحبت میں رکھ کر انہی کے ساتھ بیٹھ اٹھ۔ جیسے اور آیت میں ہے آیت (وَاصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بالْغَدٰوةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيْدُوْنَ وَجْهَهٗ وَلَا تَعْدُ عَيْنٰكَ عَنْهُمْ) 18۔ الکہف :28) یعنی انہی کے ساتھ رہ جو صبح شام اپنے پروردگار کو پکارتے ہیں اسی کی رضا مندی کی طلب کرتے ہیں، خبردار ان کی طرف سے آنکھیں نہ پھیرنا کہ دنیا کی زندگی کی آسائش طلب کرنے لگو اس کا کہا نہ کرنا جس کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کردیا ہے اور اس نے اپنی خواہش کی پیروی کی ہے اور اس کا ہر کام حد سے گزرا ہوا ہے بلکہ ان کا ساتھ دے جو صبح شام اللہ کی عبادت کرتے ہیں اور اسی سے دعائیں مانگتے ہیں بعض بزرگ فرماتے ہیں مراد اس سے فرض نمازیں ہیں اور آیت میں ہے آیت (وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُوْنِيْٓ اَسْتَجِبْ لَكُمْ ۭ اِنَّ الَّذِيْنَ يَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِيْ سَيَدْخُلُوْنَ جَهَنَّمَ دٰخِرِيْنَ) 40۔ غافر :60) تمہارے رب کا اعلان ہے کہ مجھ سے دعائیں کرو میں قبول کروں گا ان اطاعتوں اور عبادتوں سے ان کا ارادہ اللہ کریم کے دیدار کا ہے، محض خلوص اخلاص والی ان کی نیتیں ہیں، ان کا کوئی حساب تجھ پر نہیں نہ تیرا کوئی حساب ان پر، جناب نوح ؑ سے جب ان کی قوم کے شرفا نے کہا تھا کہ ہم تجھے کیسے مان لیں تیرے ماننے والے تو اکثر غریب مسکین لوگ ہیں تو آپ نے یہی جواب دیا کہ ان کے اعمال کا مجھے کیا علم ہے ان کا حساب تو میرے رب پر ہے لیکن تمہیں اتنا بھی شعور نہیں پھر بھی تم نے ان غریب مسکین لوگوں کو اپنی مجلس میں نہ بیٹھنے دیا۔ ان سے ذرا بھی بےرخی کی تو یاد رکھنا تمہارا شمار بھی ظالموں میں ہوجائے گا، مسند احمد میں ہے کہ قریش کے بڑے لوگ نبی ﷺ کے پاس گئے اس وقت آپ کی مجلس مبارک میں حضرت صہیب ؓ ، حضرت بلال ؓ ، حضرت خباب ؓ حضرت عمار ؓ تھے، انہیں دیکھ کر یہ لوگ کہنے لگے دیکھو تو ہمیں چھوڑ کر کن کے ساتھ بیٹھے ہیں ؟ تو آیت (و انذر بہ سے بالشاکرین تک اتری۔ ابن جریر میں ہے کہ ان لوگوں اور ان جیسے اوروں کو حضور کی مجلس میں دیکھ کر مشرک سرداروں نے یہ بھی کہا تھا کہ کیا یہی لوگ رہ گئے ہیں کہ اللہ نے ہم سب میں سے چن چن کر انہی پر احسان کیا ؟ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ یہ پے در پے سہارا لوگ بھی ہم امیروں رئیسوں کے برابر بیٹھیں دیکھئے حضرت اگر آپ انہیں اپنی مجلس سے نکال دیں تو وہ آپ کی مجلس میں بیٹھ سکتے ہیں اس پر آیت (وَلَا تَطْرُدِ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بالْغَدٰوةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيْدُوْنَ وَجْهَهٗ) 6۔ الانعام :52) شاکرین تک اتری۔ ابن ابی حاتم میں قریش کے ان معززین لوگوں میں سے دو کے نام یہ ہیں اقرع بن حابس تیمی، عینیہ بن حصن فزاری، اس روایت میں یہ بھی ہے کہ تنہائی میں مل کر انہوں نے حضور کو سمجھایا کہ ان غلام اور گرے پڑے بےحیثیت لوگوں کے ساتھ ہمیں بیٹھتے ہوئے شرم معلوم ہوتی ہے، آپ کی مجلس میں عرب کا وفد آیا کرتے ہیں وہ ہمیں ان کے ساتھ دیکھ کر ہمیں بھی ذلیل خیال کریں گے تو آپ کم سے کم اتنا ہی کیجئے کہ جب ہم آئیں تب خاص مجلس ہو اور ان جیسے گرے پڑے لوگ اس میں شامل نہ کئے جائین، ہاں جب ہم نہ ہوں تو آپ کو اختیار ہے جب یہ بات طے ہوگئی اور آپ نے بھی اس کا اقرار کرلیا تو انہوں نے کہا ہمارا یہ معاہدہ تحریر میں آجانا چاہیے آپ نے کاغذ منگوایا اور حضرت علی کو لکھنے کیلئے بلوایا، مسلمانوں کا یہ غریب طبقہ ایک کونے میں بیٹھا ہوا تھا اسی وقت حضرت جبرائیل اترے اور یہ آیت نازل ہوئی حضور نے کاغذ پھینک دیا اور ہمیں اپنے پاس بلا لیا اور ہم نے پھر سے رسول اللہ ﷺ کو اپنے حلقے میں لے لیا، لیکن یہ حدیث غریب ہے آیت مکی ہے اوراقرع اور عینیہ ہجرت کے بہت سارے زمانے کے بعد اسلام میں آئے ہیں حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ بھی تھے ہم لوگ سب سے پہلے خدمت نبوی میں جاتے اور آپ کے اردگرد بیٹھتے تاکہ پور طرح اور شروع سے آخر تک آپ کی حدیثیں سنیں۔ قریش کے بڑے لوگوں پر یہ بات گراں گزرتی تھی اس کے برخلاف یہ آیت اتری (مستدرک حاکم) پھر فرماتا ہے اسی طرح ہم ایک دورے کو پرکھ لیتے ہیں اور ایک سے ایک کا امتحان لے لیتے ہیں کہ یہ امرا ان غرباء سے متعلق اپنی رائے ظاہر کردیں کہ کیا یہی لوگ ہیں جن پر اللہ نے احسان کیا اور ہم سب میں سے اللہ کو یہی لوگ پسند آئے ؟ حضور ﷺ کو سب سے پہلے تسلیم کرنے والے یہی بیچارے بےمایہ غریب غرباء لوگ تھے مرد عورت لونڈی غلام وغیرہ، بڑے بڑے اور ذی وقعت لوگوں میں سے تو اس وقت یونہی کوئی اکا دکا آگیا تھا۔ یہی لوگ دراصل انبیاء (علیہم السلام) کے مطیع اور فرمانبردار ہوتے رہے۔ قوم نوح نے کہا تھا (وَمَا نَرٰىكَ اتَّبَعَكَ اِلَّا الَّذِيْنَ هُمْ اَرَاذِلُـنَا بَادِيَ الرَّاْيِ) 11۔ ہود :27) یعنی ہم تو دیکھتے ہیں کہ تیری تابعداری رذیل اور بیوقوف لوگوں نے ہی کی ہے، شاہ روم ہرقل نے جب ابو سفیان سے حضور کی بابت یہ دریافت کیا کہ شریف لوگوں نے اس کی پیروی اختیار کی ہے ؟ یا ضعیف لوگوں نے ؟ تو ابو سفیان نے جواب دیا تھا کہ ضعیف لوگوں نے، بادشاہ نے اس سے یہ نتیجہ نکالا کہ فی الواقع تمام نبیوں کا اول پیرو یہی طبقہ ہوتا ہے، الغرض مشرکین مکہ ان ایمان داروں کا مزاق اڑاتے اور انہیں ستاتے تھے جہاں تک بس چلتا انہیں سزائیں دیتے اور کہتے کہ یہ ناممکن ہے کہ بھلائی انہیں تو نظر آجائے اور ہم یونہی رہ جائیں ؟ قرآن میں ان کا قول یہ بھی ہے کہ آیت (لَوْ كَانَ خَيْرًا مَّا سَبَقُوْنَآ اِلَيْهِ) 46۔ الاحقاف :11) اگر یہ کوئی اچھی چیز ہوتی تو یہ لوگ ہم سے آگے نہ بڑھ سکتے اور آیت میں ہے جب ان کے سامنے ہماری صاف اور واضح آیتیں تلاوت کی جاتی ہیں تو یہ کفار ایمانداروں سے کہتے یہیں کہ بتاؤ تو مرتبے میں عزت میں حسب نسب میں کون شریف ہے ؟ اس کے جواب میں رب نے فرمایا آیت (وَكَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنْ قَرْنٍ هُمْ اَحْسَنُ اَثَاثًا وَّرِءْيًا) 19۔ مریم :74) یعنی ان سے پہلے ہم نے بہت سی بستیاں تباہ کردی ہیں جو باعتبار سامان و اسباب کے اور باعتبار نمود و ریا کے ان سے بہت ہی آگے بڑھی ہوئی تھیں، چناچہ یہاں بھی ان کے ایسے ہی قول کے جواب میں فرمایا گیا کہ شکر گزاروں تو اللہ کو رب جانتا ہے جو اپنے اقوال و افعال اور ولی ارادوں کو درست رکھتے ہیں اللہ تعالیٰ انہیں سلامتیوں کی راہیں دکھاتا ہے اور اندھیروں سے نکال کر نور کی طرف لاتا ہے اور صحیح راہ کی رہنمائی کرتا ہے، جیسے فرمان ہے آیت (وَالَّذِيْنَ جَاهَدُوْا فِيْنَا لَـنَهْدِيَنَّهُمْ سُـبُلَنَا ۭ وَاِنَّ اللّٰهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِيْنَ) 29۔ العنکبوت :69) جو لوگ ہماری فرمانبرداری کی کوشش کرتے ہیں ہم انہیں اپنی صحیح رہ پر لگا دیتے ہیں اللہ تعالیٰ نیک کاروں کا ساتھ دیتا ہے، صحیح حدیث میں ہے اللہ تعالیٰ تمہاری صورتوں اور رنگوں کو نہیں دیکھتا بلکہ نیتوں اور اعمال کو دیھکتا ہے، عکرمہ فرماتے ہیں ربیعہ کے دونوں بیٹے عتبہ اور شیبہ اور عدی کا بیٹا مطعم اور نوفل کا بیٹا حارث اور عمرو کا بیٹا قرطہ اور ابن عبد مناف کے قبیلے کے کافر سب کے سب جمع ہو کر ابو طالب کے پاس گئے اور کہنے لگے دیکھ آپ کے بھتیجے اگر ہماری ایک درخواست قبول کرلیں تو ہمارے دلوں میں ان کی عظمت و عزت ہوگی اور پھر ان کی مجلس میں بھی آمدو رفت شروع کردیں گے اور ہوسکتا ہے کہ ان کی سچائی سمجھ میں آجائے اور ہم بھی مان لیں، ابو طالب نے قوم کے بڑوں کا یہ پیغام رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پہنچایا حضرت عمر بن خطاب ؓ بھی اس وقت اس مجلس میں تھے فرمانے لگے یا رسول اللہ ﷺ ایسا کرنے میں کیا حرج ہے ؟ اللہ عزوجل نے وانذو سے بالشاکرین تک آیتیں اتریں۔ یہ غرباء جنہیں یہ لوگ فیض صحبت سے محروم کرنا چاہتے تھے یہ تھے بلال، عمار، سالم صبیح، ابن مسعود، مقداد، مسعود، واقد، عمرو ذوالشمالین، یزید اور انہی جیسے اور حضرات ؓ اجمعین، انہی دونوں جماعتوں کے بارے میں آیت (وَكَذٰلِكَ فَتَنَّا بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لِّيَقُوْلُوْٓا اَهٰٓؤُلَاۗءِ مَنَّ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ مِّنْۢ بَيْنِنَا ۭ اَلَيْسَ اللّٰهُ بِاَعْلَمَ بالشّٰكِرِيْنَ) 6۔ الانعام :53) بھی نازل ہوئی۔ حضرت عمر ان آیتوں کو سن کر عذر معذرت کرنے لگے اس پر آیت (وَاِذَا جَاۗءَكَ الَّذِيْنَ يُؤْمِنُوْنَ بِاٰيٰتِنَا فَقُلْ سَلٰمٌ عَلَيْكُمْ كَتَبَ رَبُّكُمْ عَلٰي نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ ۙ اَنَّهٗ مَنْ عَمِلَ مِنْكُمْ سُوْۗءًۢا بِجَهَالَةٍ ثُمَّ تَابَ مِنْۢ بَعْدِهٖ وَاَصْلَحَ ۙ فَاَنَّهٗ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ) 6۔ الانعام :54) نازل ہوئی، آخری آیت میں حکم ہوتا ہے کہ ایمان والے جب تیرے پاس آ کر سلام کریں تو ان کے سلام کا جواب دو ان کا احترام کرو اور انہیں اللہ کی وسیع رحمت کی خبر دو کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے اپنے نفس پر رح پر واجب کرلیا ہے، بعض سلف سے منقول ہے کہ گناہ ہر شخص جہالت سے ہی کرتا ہے، عکرمہ فرماتے ہیں دنیا ساری جہالت ہے، غرض جو بھی کوئی برائی کرے پھر اس سے ہٹ جائے اور پورا ارادہ کرلے کہ آئندہ کبھی ایسی حرکت نہیں کرے گا اور آگے کیلئے اپنے عمل کی اصلاح بھی کرلے تو وہ یقین مانے کہ غفور و رحیم اللہ اسے بخشے گا بھی اور اس پر مہربانی بھی کرے گا۔ مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جب مخلوق کی قضا و قدر مقرر کی تو اپنی کتاب میں لکھا جو اس کے پاس عرش کے اوپر ہے کہ میری رحمت میرے غضب پر غالب ہے۔ ابن مردویہ میں حضور کا فرمان ہے کہ جس وقت اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے فیصلے کر دے گا اپنے عرش کے نیچے سے ایک کتاب نکالے گا جس میں یہ تحریر ہے کہ میرا رحم و کرم میرے غصے اور غضب سے زیادہ بڑھا ہوا ہے اور میں سب سے زیادہ رحمت کرنے والا ہوں پھر اللہ تبارک و تعالیٰ ایک بار مٹھیاں بھر کر اپنی مخلوق کو جہنم میں سے نکالے گا جنہوں نے کوئی بھلائی نہیں کی ان کی پیشانیوں پر لکھا ہوا ہوگا کہ یہ اللہ تعالیٰ کے آزاد کردہ ہیں۔ حضرت سلمان فارسی ؓ فرماتے ہیں کہ توراۃ میں ہم لکھا دیکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کو پیدا کیا اور اپنی رحمت کے سو حصے کئے پھر ساری مخلوق میں ان میں سے ایک حصہ رکھا اور ننانوے حصے اپنے پاس باقی رکھے اسی ایک حصہ رحمت کا یہ ظہور ہے کہ مخلوق بھی ایک دوسرے پر مہربانی کرتی ہے اور تواضع سے پیش آتی ہے اور آپس کے تعلقات قائم ہیں، اونٹنی گائے بکری پرند مچھلی وغیرہ جانور اپنے بچوں کی پرورش میں تکلیفیں جھیلتے ہیں اور ان پر پیار و محبت کرتے ہیں، روز قیامت میں اس حصے کو کامل کرنے کے بعد اس میں ننانوے حصے ملا لئے جائیں گے فی الواقع رب کی رحمت اور اس کا فضل بہت ہی وسیع اور کشادہ ہے، یہ حدیث دوسری سند ہے مرفوعاً بھی مروی ہے اور ایسی ہی اکثر حدیثیں آیت (وَرَحْمَتِيْ وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ) 7۔ الاعراف :156) کی تفسیر میں آئیں گی انشاء اللہ تعالیٰ ایسی ہی احادیث میں سے ایک یہ بھی ہے کہ حضور نے حضرت معاذ بن جبل ؓ سے پوجھا جانتے ہو اللہ کا حق بندوں پر کیا ہے ؟ وہ یہ ہے کہ وہ سب اسی کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں۔ پھر فرمایا جانتے ہو بندے جب یہ کرلیں تو ان کا حق اللہ تعالیٰ کے ذمہ کیا ہے ؟ یہ ہے کہ وہ انہیں عذاب نہ کرے، مسند احمد میں یہ حدیث بروایت حضرت ابوہریرہ مروی ہے۔
51
View Single
وَأَنذِرۡ بِهِ ٱلَّذِينَ يَخَافُونَ أَن يُحۡشَرُوٓاْ إِلَىٰ رَبِّهِمۡ لَيۡسَ لَهُم مِّن دُونِهِۦ وَلِيّٞ وَلَا شَفِيعٞ لَّعَلَّهُمۡ يَتَّقُونَ
And with this Qur’an warn those who fear, that they will be raised towards their Lord in a state when, except Allah, there will be no protector for them nor an intercessor, so that they may be pious.
اور آپ اس (قرآن) کے ذریعے ان لوگوں کو ڈر سنائیے جو اپنے رب کے پاس اس حال میں جمع کئے جانے سے خوف زدہ ہیں کہ ان کے لئے اس کے سوا نہ کوئی مددگار ہو اور نہ (کوئی) سفارشی تاکہ وہ پرہیزگار بن جائیں
Tafsir Ibn Kathir
The Messenger Neither has the Key to Allah's Treasures, Nor Knows the Unseen
Allah said to His Messenger ,
قُل لاَّ أَقُولُ لَكُمْ عِندِى خَزَآئِنُ اللَّهِ
(Say: "I don't tell you that with me are the treasures of Allah.") meaning, I do not own Allah's treasures or have any power over them,
وَلا أَعْلَمُ الْغَيْبَ
(nor (that) I know the Unseen,) and I do not say that I know the Unseen, because its knowledge is with Allah and I only know what He conveys of it to me.
وَلا أَقُولُ لَكُمْ إِنِّى مَلَكٌ
(nor I tell you that I am an angel.) meaning, I do not claim that I am an angel. I am only a human to whom Allah sends revelation, and He honored me with this duty and favored me with it.
إِنْ أَتَّبِعُ إِلاَّ مَا يُوحَى إِلَىَّ
(I but follow what is revealed to me.) and I never disobey the revelation in the least.
قُلْ هَلْ يَسْتَوِى الاٌّعْمَى وَالْبَصِيرُ
(Say: "Are the blind and the one who sees equal") meaning, `Is the one who is guided, following the truth, equal to the one misled'
أَفَلاَ تَتَفَكَّرُونَ
(Will you not then consider) In another Ayah, Allah said;
أَفَمَن يَعْلَمُ أَنَّمَآ أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَبِّكَ الْحَقُّ كَمَنْ هُوَ أَعْمَى إِنَّمَا يَتَذَكَّرُ أُوْلُواْ الأَلْبَـبِ
(Shall he then who knows that what has been revealed to you from your Lord is the truth, be like him who is blind But it is only the men of understanding that pay heed.) 13:19 Allah's statement,
وَأَنذِرْ بِهِ الَّذِينَ يَخَافُونَ أَن يُحْشَرُواْ إِلَى رَبِّهِمْ لَيْسَ لَهُمْ مِّن دُونِهِ وَلِىٌّ وَلاَ شَفِيعٌ
(And warn therewith those who fear that they will be gathered before their Lord, when there will be neither a protector nor an intercessor for them besides Him,) means, warn with this Qur'an, O Muhammad ,
الَّذِينَ هُم مِّنْ خَشْيةِ رَبِّهِمْ مُّشْفِقُونَ
(Those who live in awe for fear of their Lord) 23:57, who,
يَخْشَوْنَ رَبَّهُموَيَخَافُونَ سُوءَ الحِسَابِ
(Fear their Lord, and dread the terrible reckoning.) 13:21,
الَّذِينَ يَخَافُونَ أَن يُحْشَرُواْ إِلَى رَبِّهِمْ
(those who fear that they will be gathered before their Lord,) on the Day of Resurrection,
لَيْسَ لَهُمْ مِّن دُونِهِ وَلِىٌّ وَلاَ شَفِيعٌ
(when there will be neither a protector nor an intercessor for them besides Him, ) for on that Day, they will have no relative or intercessor who can prevent His torment if He decides to punish them with it,
لَعَلَّهُمْ يَتَّقُونَ
(so that they may have Taqwa.) Therefore, warn of the Day when there will be no judge except Allah,
لَعَلَّهُمْ يَتَّقُونَ
(so that they may have Taqwa.) and thus work good deeds in this life, so that their good deeds may save them on the Day of Resurrection from Allah's torment, and so that He will grant them multiple rewards.
Prohibiting the Messenger from Turning the Weak Away and the Order to Honor Them
Allah said,
وَلاَ تَطْرُدِ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِىِّ يُرِيدُونَ وَجْهَهُ
(And turn not away those who invoke their Lord, morning and evening seeking His Face.) meaning, do not turn away those who have these qualities, instead make them your companions and associates. In another Ayah, Allah said;
وَاصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُم بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِىِّ يُرِيدُونَ وَجْهَهُ وَلاَ تَعْدُ عَيْنَاكَ عَنْهُمْ تُرِيدُ زِينَةَ الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَلاَ تُطِعْ مَنْ أَغْفَلْنَا قَلْبَهُ عَن ذِكْرِنَا وَاتَّبَعَ هَوَاهُ وَكَانَ أَمْرُهُ فُرُطًا
(And keep yourself patiently with those who call on their Lord morning and evening, seeking His Face, and let not your eyes overlook them, desiring the pomp and glitter of the life of the world; and obey not him whose heart We have made heedless of Our remembrance, one who follows his own lusts and whose affair (deeds) has been lost.)18:28 Allah's statement,
يَدْعُونَ رَبَّهُمْ
(invoke their Lord...) refers to those who worship Him and supplicate to Him,
بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِىِّ
(morning and evening.) referring to the obligatory prayers, according to Sa`id bin Al-Musayyib, Mujahid, Al-Hasan and Qatadah. In another Ayah, Allah said;
وَقَالَ رَبُّكُـمْ ادْعُونِى أَسْتَجِبْ لَكُمْ
(And your Lord said, "Invoke Me, I will respond (to your invocation).") 40:60, I will accept your supplication. Allah said next,
يُرِيدُونَ وَجْهَهُ
(seeking His Face.) meaning, they seek Allah's Most Generous Face, by sincerity for Him in the acts of worship and obedience they perform. Allah said;
مَا عَلَيْكَ مِنْ حِسَابِهِم مِّن شَىْءٍ وَمَا مِنْ حِسَابِكَ عَلَيْهِمْ مِّن شَىْءٍ
(You are accountable for them in nothing, and they are accountable for you in nothing,) This is similar to the answer Nuh gave to his people when they said,
أَنُؤْمِنُ لَكَ وَاتَّبَعَكَ الاٌّرْذَلُونَ
(Shall we believe in you, when the meekest (of the people) follow you") 26:111. Nuh answered them,
قَالَ وَمَا عِلْمِى بِمَا كَانُواْ يَعْمَلُونَ - إِنْ حِسَابُهُمْ إِلاَّ عَلَى رَبِّى لَوْ تَشْعُرُونَ
(And what knowledge have I of what they used to do Their account is only with my Lord, if you could (but) know.) 26:112-113, meaning, their reckoning is for Allah not me, just as my reckoning is not up to them. Allah said here,
فَتَطْرُدَهُمْ فَتَكُونَ مِنَ الظَّـلِمِينَ
(that you may turn them away, and thus become of the wrongdoers.) meaning, you will be unjust if you turn them away. Allah's statement,
وَكَذلِكَ فَتَنَّا بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ
(Thus We have tried some of them with others) means, We tested, tried and checked them with each other,
لِّيَقُولواْ أَهَـؤُلاءِ مَنَّ اللَّهُ عَلَيْهِم مِّن بَيْنِنَآ
(That they might say: "Is it these (poor believers) that Allah has favored from amongst us") This is because at first, most of those who followed the Messenger of Allah ﷺ were the weak among the people, men, women, slaves, and only a few chiefs or noted men followed him. Nuh, was also addressed by his people
وَمَا نَرَاكَ اتَّبَعَكَ إِلاَّ الَّذِينَ هُمْ أَرَاذِلُنَا بَادِىَ الرَّأْى
(Nor do we see any follow you but the meekest among us and they (too) followed you without thinking.) 11:27 KHeraclius, emperor of Rome, asked Abu Sufyan, "Do the noblemen or the weak among people follow him (Muhammad )" Abu Sufyan replied, "Rather the weak among them." Heraclius commented, "Such is the case with followers of the Messengers." The idolators of Quraysh used to mock the weak among them who believed in the Prophet and they even tortured some of them. They used to say, "Are these the ones whom Allah favored above us," meaning, Allah would not guide these people, instead of us, to all that is good, if indeed what they embraced is good. Allah mentioned similar statements in the Qur'an from the disbelievers,
لَوْ كَانَ خَيْراً مَّا سَبَقُونَآ إِلَيْهِ
(Had it been a good thing, they (weak and poor) would not have preceded us to it!) 46:11, and,
وَإِذَا تُتْلَى عَلَيْهِمْ ءَايَـتُنَا بِيِّنَـتٍ قَالَ الَّذِينَ كَفَرُواْ لِلَّذِينَ ءَامَنُواْ أَىُّ الْفَرِيقَيْنِ خَيْرٌ مَّقَاماً وَأَحْسَنُ نَدِيّاً
(And when Our clear verses are recited to them, those who disbelieve say to those who believe: "Which of the two groups is best in position and station.") 19:73 Allah said in reply,
وَكَمْ أَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّن قَرْنٍ هُمْ أَحْسَنُ أَثَاثاً وَرِءْياً
(And how many a generation (past nations) have We destroyed before them, who were better in wealth, goods and outward appearance) 19:74. Here, Allah answered the disbelievers when they said,
أَهَـؤُلاءِ مَنَّ اللَّهُ عَلَيْهِم مِّن بَيْنِنَآ أَلَيْسَ اللَّهُ بِأَعْلَمَ بِالشَّـكِرِينَ
("Is it these (poor believers) that Allah has favored from amongst us" Does not Allah know best those who are grateful) Meaning is not Allah more knowledgeable of those who thank and appreciate Him in statement, action and heart Thus Allah directs these believers to the ways of peace, transfers them from darkness to light by His leave, and guides them to the straight path. In another Ayah, Allah said;
وَالَّذِينَ جَـهَدُواْ فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا وَإِنَّ اللَّهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِينَ
(As for those who strive hard for Us (Our cause), We will surely guide them to Our paths (i.e. Allah's religion). And verily, Allah is with the doers of good") 29:69. An authentic Hadith states,
«إِنَّ اللهَ لَا يَنْظُرُ إِلَى صُوَرِكُمْ وَلَا إِلَى أَلْوَانِكُمْ، وَلَكِنْ يَنْظُرُ إِلَى قُلُوبِكُمْ وَأَعْمَالِكُم»
(Allah does not look at your shapes or colors, but He looks at your heart and actions.) Allah's statement,
وَإِذَا جَآءَكَ الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِـَايَـتِنَا فَقُلْ سَلَـمٌ عَلَيْكُمْ
(When those who believe in Our Ayat come to you, say: "Salamun `Alaykum" (peace be on you);) means, honor them by returning the Salam and give them the good news of Allah's exclusive, encompassing mercy for them. So Allah said;
كَتَبَ رَبُّكُمْ عَلَى نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ
(your Lord has written Mercy for Himself,) meaning, He has obliged His Most Honored Self to grant mercy, as a favor, out of His compassion and beneficence,
أَنَّهُ مَن عَمِلَ مِنكُمْ سُوءًا بِجَهَالَةٍ
(So that, if any of you does evil in ignorance...) as every person who disobeys Allah does it in ignorance,
ثُمَّ تَابَ مِن بَعْدِهِ وَأَصْلَحَ
(and thereafter repents and does righteous good deeds,) by repenting from the sins that he committed, intending not to repeat the sin in the future, but to perform righteous deeds,
فَأَنَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ
(then surely, He is Oft-Forgiving Most Merciful.) Imam Ahmad recorded that Abu Hurayrah said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«لَمَّا قَضَى اللهُ الْخَلْقَ كَتَبَ فِي كِتَابٍ فَهُوَ عِنْدَهُ فَوْقَ الْعَرْشِ: إِنَّ رَحْمَتِي غَلَبَتْ غَضَبِي»
(When Allah finished with the creation, He wrote in a Book that He has with Him above the Throne, `My mercy prevails over My anger'.) This Hadith was also recorded in the The Two Sahihs.
مسلمانو ! طبقاتی عصبیت سے بچو اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ سے فرماتا ہے کہ لوگوں میں اعلان کردو کہ میں اللہ کے خزانوں کا مالک نہیں نہ مجھے ان میں کسی طرح کا اختیار ہے، نہ میں یہ کہتا ہوں کہ میں غیب کا جاننے والا ہوں، رب نے جو چیزیں خاص اپنے علم میں رکھی ہیں مجھے ان میں سے کچھ بھی معلوم نہیں، ہاں جن چیزوں سے خود اللہ نے مجھے مطلع کر دے ان پر مجھے اطلاع ہوجاتی ہے، میرا یہ بھی دعوی نہیں کہ میں کوئی فرشتہ ہوں، میں تو انسان ہوں، اللہ تعالیٰ نے مجھے جو شرف دیا ہے یعنی میری طرف جو وحی نازل فرمائی ہے میں اسی کا عمل پیرا ہوں، اس سے ایک بالشت ادھر ادھر نہیں ہٹتا۔ کیا حق کے تابعدار جو بصارت والے ہیں اور حق سے محروم جو اندھے ہیں برابر ہوسکتے ہیں ؟ کیا تم اتنا غور بھی نہیں کرتے ؟ اور آیت میں ہے کہ کیا وہ شخص جو جانتا ہے کہ جو کچھ تیری طرف تیرے رب کی جانب سے اترا ہے حق ہے اس شخص جیسا ہوسکتا ہے جو نابینا ہے ؟ نصیحت تو صرف وہی حاصل کرتے ہیں جو عقلمند ہیں ؟ اے نبی ﷺ آپ قرآن کے ذریعہ انہیں راہ راست پر لائیں جو رب کے سامنے کھڑے ہونے کا خوف دل میں رکھتے ہیں، حساب کا کھٹکار رکھتے ہیں، جانتے ہیں کہ رب کے سامنے پیش ہونا ہے اس دن اس کے سوا اور کوئی ان کا قریبی یا سفارشی نہ ہوگا، وہ اگر عذاب کرنا چاہے تو کوئی شفاعت نہیں کرسکتا۔ یہ تیرا ڈرانا اس لئے ہے کہ شاید وہ تقی بن جائیں حاکم حقیقی سے ڈر کر نیکیاں کریں اور قیامت کے عذابوں سے چھوٹیں اور ثابت کے مستحق بن جائیں، پھر فرماتا ہے یہ مسلمان غرباء جو صبح شام اپنے پروردگار کا نام جپتے ہیں خبردار انہیں حقیر نہ سمجھنا انہیں اپنے پاس سے نہ ہٹانا بلکہ انہی کو اپنی صحبت میں رکھ کر انہی کے ساتھ بیٹھ اٹھ۔ جیسے اور آیت میں ہے آیت (وَاصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بالْغَدٰوةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيْدُوْنَ وَجْهَهٗ وَلَا تَعْدُ عَيْنٰكَ عَنْهُمْ) 18۔ الکہف :28) یعنی انہی کے ساتھ رہ جو صبح شام اپنے پروردگار کو پکارتے ہیں اسی کی رضا مندی کی طلب کرتے ہیں، خبردار ان کی طرف سے آنکھیں نہ پھیرنا کہ دنیا کی زندگی کی آسائش طلب کرنے لگو اس کا کہا نہ کرنا جس کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کردیا ہے اور اس نے اپنی خواہش کی پیروی کی ہے اور اس کا ہر کام حد سے گزرا ہوا ہے بلکہ ان کا ساتھ دے جو صبح شام اللہ کی عبادت کرتے ہیں اور اسی سے دعائیں مانگتے ہیں بعض بزرگ فرماتے ہیں مراد اس سے فرض نمازیں ہیں اور آیت میں ہے آیت (وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُوْنِيْٓ اَسْتَجِبْ لَكُمْ ۭ اِنَّ الَّذِيْنَ يَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِيْ سَيَدْخُلُوْنَ جَهَنَّمَ دٰخِرِيْنَ) 40۔ غافر :60) تمہارے رب کا اعلان ہے کہ مجھ سے دعائیں کرو میں قبول کروں گا ان اطاعتوں اور عبادتوں سے ان کا ارادہ اللہ کریم کے دیدار کا ہے، محض خلوص اخلاص والی ان کی نیتیں ہیں، ان کا کوئی حساب تجھ پر نہیں نہ تیرا کوئی حساب ان پر، جناب نوح ؑ سے جب ان کی قوم کے شرفا نے کہا تھا کہ ہم تجھے کیسے مان لیں تیرے ماننے والے تو اکثر غریب مسکین لوگ ہیں تو آپ نے یہی جواب دیا کہ ان کے اعمال کا مجھے کیا علم ہے ان کا حساب تو میرے رب پر ہے لیکن تمہیں اتنا بھی شعور نہیں پھر بھی تم نے ان غریب مسکین لوگوں کو اپنی مجلس میں نہ بیٹھنے دیا۔ ان سے ذرا بھی بےرخی کی تو یاد رکھنا تمہارا شمار بھی ظالموں میں ہوجائے گا، مسند احمد میں ہے کہ قریش کے بڑے لوگ نبی ﷺ کے پاس گئے اس وقت آپ کی مجلس مبارک میں حضرت صہیب ؓ ، حضرت بلال ؓ ، حضرت خباب ؓ حضرت عمار ؓ تھے، انہیں دیکھ کر یہ لوگ کہنے لگے دیکھو تو ہمیں چھوڑ کر کن کے ساتھ بیٹھے ہیں ؟ تو آیت (و انذر بہ سے بالشاکرین تک اتری۔ ابن جریر میں ہے کہ ان لوگوں اور ان جیسے اوروں کو حضور کی مجلس میں دیکھ کر مشرک سرداروں نے یہ بھی کہا تھا کہ کیا یہی لوگ رہ گئے ہیں کہ اللہ نے ہم سب میں سے چن چن کر انہی پر احسان کیا ؟ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ یہ پے در پے سہارا لوگ بھی ہم امیروں رئیسوں کے برابر بیٹھیں دیکھئے حضرت اگر آپ انہیں اپنی مجلس سے نکال دیں تو وہ آپ کی مجلس میں بیٹھ سکتے ہیں اس پر آیت (وَلَا تَطْرُدِ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بالْغَدٰوةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيْدُوْنَ وَجْهَهٗ) 6۔ الانعام :52) شاکرین تک اتری۔ ابن ابی حاتم میں قریش کے ان معززین لوگوں میں سے دو کے نام یہ ہیں اقرع بن حابس تیمی، عینیہ بن حصن فزاری، اس روایت میں یہ بھی ہے کہ تنہائی میں مل کر انہوں نے حضور کو سمجھایا کہ ان غلام اور گرے پڑے بےحیثیت لوگوں کے ساتھ ہمیں بیٹھتے ہوئے شرم معلوم ہوتی ہے، آپ کی مجلس میں عرب کا وفد آیا کرتے ہیں وہ ہمیں ان کے ساتھ دیکھ کر ہمیں بھی ذلیل خیال کریں گے تو آپ کم سے کم اتنا ہی کیجئے کہ جب ہم آئیں تب خاص مجلس ہو اور ان جیسے گرے پڑے لوگ اس میں شامل نہ کئے جائین، ہاں جب ہم نہ ہوں تو آپ کو اختیار ہے جب یہ بات طے ہوگئی اور آپ نے بھی اس کا اقرار کرلیا تو انہوں نے کہا ہمارا یہ معاہدہ تحریر میں آجانا چاہیے آپ نے کاغذ منگوایا اور حضرت علی کو لکھنے کیلئے بلوایا، مسلمانوں کا یہ غریب طبقہ ایک کونے میں بیٹھا ہوا تھا اسی وقت حضرت جبرائیل اترے اور یہ آیت نازل ہوئی حضور نے کاغذ پھینک دیا اور ہمیں اپنے پاس بلا لیا اور ہم نے پھر سے رسول اللہ ﷺ کو اپنے حلقے میں لے لیا، لیکن یہ حدیث غریب ہے آیت مکی ہے اوراقرع اور عینیہ ہجرت کے بہت سارے زمانے کے بعد اسلام میں آئے ہیں حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ بھی تھے ہم لوگ سب سے پہلے خدمت نبوی میں جاتے اور آپ کے اردگرد بیٹھتے تاکہ پور طرح اور شروع سے آخر تک آپ کی حدیثیں سنیں۔ قریش کے بڑے لوگوں پر یہ بات گراں گزرتی تھی اس کے برخلاف یہ آیت اتری (مستدرک حاکم) پھر فرماتا ہے اسی طرح ہم ایک دورے کو پرکھ لیتے ہیں اور ایک سے ایک کا امتحان لے لیتے ہیں کہ یہ امرا ان غرباء سے متعلق اپنی رائے ظاہر کردیں کہ کیا یہی لوگ ہیں جن پر اللہ نے احسان کیا اور ہم سب میں سے اللہ کو یہی لوگ پسند آئے ؟ حضور ﷺ کو سب سے پہلے تسلیم کرنے والے یہی بیچارے بےمایہ غریب غرباء لوگ تھے مرد عورت لونڈی غلام وغیرہ، بڑے بڑے اور ذی وقعت لوگوں میں سے تو اس وقت یونہی کوئی اکا دکا آگیا تھا۔ یہی لوگ دراصل انبیاء (علیہم السلام) کے مطیع اور فرمانبردار ہوتے رہے۔ قوم نوح نے کہا تھا (وَمَا نَرٰىكَ اتَّبَعَكَ اِلَّا الَّذِيْنَ هُمْ اَرَاذِلُـنَا بَادِيَ الرَّاْيِ) 11۔ ہود :27) یعنی ہم تو دیکھتے ہیں کہ تیری تابعداری رذیل اور بیوقوف لوگوں نے ہی کی ہے، شاہ روم ہرقل نے جب ابو سفیان سے حضور کی بابت یہ دریافت کیا کہ شریف لوگوں نے اس کی پیروی اختیار کی ہے ؟ یا ضعیف لوگوں نے ؟ تو ابو سفیان نے جواب دیا تھا کہ ضعیف لوگوں نے، بادشاہ نے اس سے یہ نتیجہ نکالا کہ فی الواقع تمام نبیوں کا اول پیرو یہی طبقہ ہوتا ہے، الغرض مشرکین مکہ ان ایمان داروں کا مزاق اڑاتے اور انہیں ستاتے تھے جہاں تک بس چلتا انہیں سزائیں دیتے اور کہتے کہ یہ ناممکن ہے کہ بھلائی انہیں تو نظر آجائے اور ہم یونہی رہ جائیں ؟ قرآن میں ان کا قول یہ بھی ہے کہ آیت (لَوْ كَانَ خَيْرًا مَّا سَبَقُوْنَآ اِلَيْهِ) 46۔ الاحقاف :11) اگر یہ کوئی اچھی چیز ہوتی تو یہ لوگ ہم سے آگے نہ بڑھ سکتے اور آیت میں ہے جب ان کے سامنے ہماری صاف اور واضح آیتیں تلاوت کی جاتی ہیں تو یہ کفار ایمانداروں سے کہتے یہیں کہ بتاؤ تو مرتبے میں عزت میں حسب نسب میں کون شریف ہے ؟ اس کے جواب میں رب نے فرمایا آیت (وَكَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنْ قَرْنٍ هُمْ اَحْسَنُ اَثَاثًا وَّرِءْيًا) 19۔ مریم :74) یعنی ان سے پہلے ہم نے بہت سی بستیاں تباہ کردی ہیں جو باعتبار سامان و اسباب کے اور باعتبار نمود و ریا کے ان سے بہت ہی آگے بڑھی ہوئی تھیں، چناچہ یہاں بھی ان کے ایسے ہی قول کے جواب میں فرمایا گیا کہ شکر گزاروں تو اللہ کو رب جانتا ہے جو اپنے اقوال و افعال اور ولی ارادوں کو درست رکھتے ہیں اللہ تعالیٰ انہیں سلامتیوں کی راہیں دکھاتا ہے اور اندھیروں سے نکال کر نور کی طرف لاتا ہے اور صحیح راہ کی رہنمائی کرتا ہے، جیسے فرمان ہے آیت (وَالَّذِيْنَ جَاهَدُوْا فِيْنَا لَـنَهْدِيَنَّهُمْ سُـبُلَنَا ۭ وَاِنَّ اللّٰهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِيْنَ) 29۔ العنکبوت :69) جو لوگ ہماری فرمانبرداری کی کوشش کرتے ہیں ہم انہیں اپنی صحیح رہ پر لگا دیتے ہیں اللہ تعالیٰ نیک کاروں کا ساتھ دیتا ہے، صحیح حدیث میں ہے اللہ تعالیٰ تمہاری صورتوں اور رنگوں کو نہیں دیکھتا بلکہ نیتوں اور اعمال کو دیھکتا ہے، عکرمہ فرماتے ہیں ربیعہ کے دونوں بیٹے عتبہ اور شیبہ اور عدی کا بیٹا مطعم اور نوفل کا بیٹا حارث اور عمرو کا بیٹا قرطہ اور ابن عبد مناف کے قبیلے کے کافر سب کے سب جمع ہو کر ابو طالب کے پاس گئے اور کہنے لگے دیکھ آپ کے بھتیجے اگر ہماری ایک درخواست قبول کرلیں تو ہمارے دلوں میں ان کی عظمت و عزت ہوگی اور پھر ان کی مجلس میں بھی آمدو رفت شروع کردیں گے اور ہوسکتا ہے کہ ان کی سچائی سمجھ میں آجائے اور ہم بھی مان لیں، ابو طالب نے قوم کے بڑوں کا یہ پیغام رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پہنچایا حضرت عمر بن خطاب ؓ بھی اس وقت اس مجلس میں تھے فرمانے لگے یا رسول اللہ ﷺ ایسا کرنے میں کیا حرج ہے ؟ اللہ عزوجل نے وانذو سے بالشاکرین تک آیتیں اتریں۔ یہ غرباء جنہیں یہ لوگ فیض صحبت سے محروم کرنا چاہتے تھے یہ تھے بلال، عمار، سالم صبیح، ابن مسعود، مقداد، مسعود، واقد، عمرو ذوالشمالین، یزید اور انہی جیسے اور حضرات ؓ اجمعین، انہی دونوں جماعتوں کے بارے میں آیت (وَكَذٰلِكَ فَتَنَّا بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لِّيَقُوْلُوْٓا اَهٰٓؤُلَاۗءِ مَنَّ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ مِّنْۢ بَيْنِنَا ۭ اَلَيْسَ اللّٰهُ بِاَعْلَمَ بالشّٰكِرِيْنَ) 6۔ الانعام :53) بھی نازل ہوئی۔ حضرت عمر ان آیتوں کو سن کر عذر معذرت کرنے لگے اس پر آیت (وَاِذَا جَاۗءَكَ الَّذِيْنَ يُؤْمِنُوْنَ بِاٰيٰتِنَا فَقُلْ سَلٰمٌ عَلَيْكُمْ كَتَبَ رَبُّكُمْ عَلٰي نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ ۙ اَنَّهٗ مَنْ عَمِلَ مِنْكُمْ سُوْۗءًۢا بِجَهَالَةٍ ثُمَّ تَابَ مِنْۢ بَعْدِهٖ وَاَصْلَحَ ۙ فَاَنَّهٗ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ) 6۔ الانعام :54) نازل ہوئی، آخری آیت میں حکم ہوتا ہے کہ ایمان والے جب تیرے پاس آ کر سلام کریں تو ان کے سلام کا جواب دو ان کا احترام کرو اور انہیں اللہ کی وسیع رحمت کی خبر دو کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے اپنے نفس پر رح پر واجب کرلیا ہے، بعض سلف سے منقول ہے کہ گناہ ہر شخص جہالت سے ہی کرتا ہے، عکرمہ فرماتے ہیں دنیا ساری جہالت ہے، غرض جو بھی کوئی برائی کرے پھر اس سے ہٹ جائے اور پورا ارادہ کرلے کہ آئندہ کبھی ایسی حرکت نہیں کرے گا اور آگے کیلئے اپنے عمل کی اصلاح بھی کرلے تو وہ یقین مانے کہ غفور و رحیم اللہ اسے بخشے گا بھی اور اس پر مہربانی بھی کرے گا۔ مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جب مخلوق کی قضا و قدر مقرر کی تو اپنی کتاب میں لکھا جو اس کے پاس عرش کے اوپر ہے کہ میری رحمت میرے غضب پر غالب ہے۔ ابن مردویہ میں حضور کا فرمان ہے کہ جس وقت اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے فیصلے کر دے گا اپنے عرش کے نیچے سے ایک کتاب نکالے گا جس میں یہ تحریر ہے کہ میرا رحم و کرم میرے غصے اور غضب سے زیادہ بڑھا ہوا ہے اور میں سب سے زیادہ رحمت کرنے والا ہوں پھر اللہ تبارک و تعالیٰ ایک بار مٹھیاں بھر کر اپنی مخلوق کو جہنم میں سے نکالے گا جنہوں نے کوئی بھلائی نہیں کی ان کی پیشانیوں پر لکھا ہوا ہوگا کہ یہ اللہ تعالیٰ کے آزاد کردہ ہیں۔ حضرت سلمان فارسی ؓ فرماتے ہیں کہ توراۃ میں ہم لکھا دیکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کو پیدا کیا اور اپنی رحمت کے سو حصے کئے پھر ساری مخلوق میں ان میں سے ایک حصہ رکھا اور ننانوے حصے اپنے پاس باقی رکھے اسی ایک حصہ رحمت کا یہ ظہور ہے کہ مخلوق بھی ایک دوسرے پر مہربانی کرتی ہے اور تواضع سے پیش آتی ہے اور آپس کے تعلقات قائم ہیں، اونٹنی گائے بکری پرند مچھلی وغیرہ جانور اپنے بچوں کی پرورش میں تکلیفیں جھیلتے ہیں اور ان پر پیار و محبت کرتے ہیں، روز قیامت میں اس حصے کو کامل کرنے کے بعد اس میں ننانوے حصے ملا لئے جائیں گے فی الواقع رب کی رحمت اور اس کا فضل بہت ہی وسیع اور کشادہ ہے، یہ حدیث دوسری سند ہے مرفوعاً بھی مروی ہے اور ایسی ہی اکثر حدیثیں آیت (وَرَحْمَتِيْ وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ) 7۔ الاعراف :156) کی تفسیر میں آئیں گی انشاء اللہ تعالیٰ ایسی ہی احادیث میں سے ایک یہ بھی ہے کہ حضور نے حضرت معاذ بن جبل ؓ سے پوجھا جانتے ہو اللہ کا حق بندوں پر کیا ہے ؟ وہ یہ ہے کہ وہ سب اسی کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں۔ پھر فرمایا جانتے ہو بندے جب یہ کرلیں تو ان کا حق اللہ تعالیٰ کے ذمہ کیا ہے ؟ یہ ہے کہ وہ انہیں عذاب نہ کرے، مسند احمد میں یہ حدیث بروایت حضرت ابوہریرہ مروی ہے۔
52
View Single
وَلَا تَطۡرُدِ ٱلَّذِينَ يَدۡعُونَ رَبَّهُم بِٱلۡغَدَوٰةِ وَٱلۡعَشِيِّ يُرِيدُونَ وَجۡهَهُۥۖ مَا عَلَيۡكَ مِنۡ حِسَابِهِم مِّن شَيۡءٖ وَمَا مِنۡ حِسَابِكَ عَلَيۡهِم مِّن شَيۡءٖ فَتَطۡرُدَهُمۡ فَتَكُونَ مِنَ ٱلظَّـٰلِمِينَ
And do not repel those who call upon their Lord in the morning and evening, seeking His pleasure; you are not responsible for their account nor are they responsible for your account – then your repelling them would be far from justice.
اور آپ ان (شکستہ دل اور خستہ حال) لوگوں کو (اپنی صحبت و قربت سے) دور نہ کیجئے جو صبح و شام اپنے رب کو صرف اس کی رضا چاہتے ہوئے پکارتے رہتے ہیں، ان کے (عمل و جزا کے) حساب میں سے آپ پر کوئی چیز (واجب) نہیں اور نہ آپ کے حساب میں سے کوئی چیز ان پر (واجب) ہے (اگر) پھر بھی آپ انہیں (اپنے لطف و کرم سے) دور کردیں تو آپ حق تلفی کرنے والوں میں سے ہوجائیں گے (جوآپ کے شایانِ شان نہیں)
Tafsir Ibn Kathir
The Messenger Neither has the Key to Allah's Treasures, Nor Knows the Unseen
Allah said to His Messenger ,
قُل لاَّ أَقُولُ لَكُمْ عِندِى خَزَآئِنُ اللَّهِ
(Say: "I don't tell you that with me are the treasures of Allah.") meaning, I do not own Allah's treasures or have any power over them,
وَلا أَعْلَمُ الْغَيْبَ
(nor (that) I know the Unseen,) and I do not say that I know the Unseen, because its knowledge is with Allah and I only know what He conveys of it to me.
وَلا أَقُولُ لَكُمْ إِنِّى مَلَكٌ
(nor I tell you that I am an angel.) meaning, I do not claim that I am an angel. I am only a human to whom Allah sends revelation, and He honored me with this duty and favored me with it.
إِنْ أَتَّبِعُ إِلاَّ مَا يُوحَى إِلَىَّ
(I but follow what is revealed to me.) and I never disobey the revelation in the least.
قُلْ هَلْ يَسْتَوِى الاٌّعْمَى وَالْبَصِيرُ
(Say: "Are the blind and the one who sees equal") meaning, `Is the one who is guided, following the truth, equal to the one misled'
أَفَلاَ تَتَفَكَّرُونَ
(Will you not then consider) In another Ayah, Allah said;
أَفَمَن يَعْلَمُ أَنَّمَآ أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَبِّكَ الْحَقُّ كَمَنْ هُوَ أَعْمَى إِنَّمَا يَتَذَكَّرُ أُوْلُواْ الأَلْبَـبِ
(Shall he then who knows that what has been revealed to you from your Lord is the truth, be like him who is blind But it is only the men of understanding that pay heed.) 13:19 Allah's statement,
وَأَنذِرْ بِهِ الَّذِينَ يَخَافُونَ أَن يُحْشَرُواْ إِلَى رَبِّهِمْ لَيْسَ لَهُمْ مِّن دُونِهِ وَلِىٌّ وَلاَ شَفِيعٌ
(And warn therewith those who fear that they will be gathered before their Lord, when there will be neither a protector nor an intercessor for them besides Him,) means, warn with this Qur'an, O Muhammad ,
الَّذِينَ هُم مِّنْ خَشْيةِ رَبِّهِمْ مُّشْفِقُونَ
(Those who live in awe for fear of their Lord) 23:57, who,
يَخْشَوْنَ رَبَّهُموَيَخَافُونَ سُوءَ الحِسَابِ
(Fear their Lord, and dread the terrible reckoning.) 13:21,
الَّذِينَ يَخَافُونَ أَن يُحْشَرُواْ إِلَى رَبِّهِمْ
(those who fear that they will be gathered before their Lord,) on the Day of Resurrection,
لَيْسَ لَهُمْ مِّن دُونِهِ وَلِىٌّ وَلاَ شَفِيعٌ
(when there will be neither a protector nor an intercessor for them besides Him, ) for on that Day, they will have no relative or intercessor who can prevent His torment if He decides to punish them with it,
لَعَلَّهُمْ يَتَّقُونَ
(so that they may have Taqwa.) Therefore, warn of the Day when there will be no judge except Allah,
لَعَلَّهُمْ يَتَّقُونَ
(so that they may have Taqwa.) and thus work good deeds in this life, so that their good deeds may save them on the Day of Resurrection from Allah's torment, and so that He will grant them multiple rewards.
Prohibiting the Messenger from Turning the Weak Away and the Order to Honor Them
Allah said,
وَلاَ تَطْرُدِ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِىِّ يُرِيدُونَ وَجْهَهُ
(And turn not away those who invoke their Lord, morning and evening seeking His Face.) meaning, do not turn away those who have these qualities, instead make them your companions and associates. In another Ayah, Allah said;
وَاصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُم بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِىِّ يُرِيدُونَ وَجْهَهُ وَلاَ تَعْدُ عَيْنَاكَ عَنْهُمْ تُرِيدُ زِينَةَ الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَلاَ تُطِعْ مَنْ أَغْفَلْنَا قَلْبَهُ عَن ذِكْرِنَا وَاتَّبَعَ هَوَاهُ وَكَانَ أَمْرُهُ فُرُطًا
(And keep yourself patiently with those who call on their Lord morning and evening, seeking His Face, and let not your eyes overlook them, desiring the pomp and glitter of the life of the world; and obey not him whose heart We have made heedless of Our remembrance, one who follows his own lusts and whose affair (deeds) has been lost.)18:28 Allah's statement,
يَدْعُونَ رَبَّهُمْ
(invoke their Lord...) refers to those who worship Him and supplicate to Him,
بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِىِّ
(morning and evening.) referring to the obligatory prayers, according to Sa`id bin Al-Musayyib, Mujahid, Al-Hasan and Qatadah. In another Ayah, Allah said;
وَقَالَ رَبُّكُـمْ ادْعُونِى أَسْتَجِبْ لَكُمْ
(And your Lord said, "Invoke Me, I will respond (to your invocation).") 40:60, I will accept your supplication. Allah said next,
يُرِيدُونَ وَجْهَهُ
(seeking His Face.) meaning, they seek Allah's Most Generous Face, by sincerity for Him in the acts of worship and obedience they perform. Allah said;
مَا عَلَيْكَ مِنْ حِسَابِهِم مِّن شَىْءٍ وَمَا مِنْ حِسَابِكَ عَلَيْهِمْ مِّن شَىْءٍ
(You are accountable for them in nothing, and they are accountable for you in nothing,) This is similar to the answer Nuh gave to his people when they said,
أَنُؤْمِنُ لَكَ وَاتَّبَعَكَ الاٌّرْذَلُونَ
(Shall we believe in you, when the meekest (of the people) follow you") 26:111. Nuh answered them,
قَالَ وَمَا عِلْمِى بِمَا كَانُواْ يَعْمَلُونَ - إِنْ حِسَابُهُمْ إِلاَّ عَلَى رَبِّى لَوْ تَشْعُرُونَ
(And what knowledge have I of what they used to do Their account is only with my Lord, if you could (but) know.) 26:112-113, meaning, their reckoning is for Allah not me, just as my reckoning is not up to them. Allah said here,
فَتَطْرُدَهُمْ فَتَكُونَ مِنَ الظَّـلِمِينَ
(that you may turn them away, and thus become of the wrongdoers.) meaning, you will be unjust if you turn them away. Allah's statement,
وَكَذلِكَ فَتَنَّا بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ
(Thus We have tried some of them with others) means, We tested, tried and checked them with each other,
لِّيَقُولواْ أَهَـؤُلاءِ مَنَّ اللَّهُ عَلَيْهِم مِّن بَيْنِنَآ
(That they might say: "Is it these (poor believers) that Allah has favored from amongst us") This is because at first, most of those who followed the Messenger of Allah ﷺ were the weak among the people, men, women, slaves, and only a few chiefs or noted men followed him. Nuh, was also addressed by his people
وَمَا نَرَاكَ اتَّبَعَكَ إِلاَّ الَّذِينَ هُمْ أَرَاذِلُنَا بَادِىَ الرَّأْى
(Nor do we see any follow you but the meekest among us and they (too) followed you without thinking.) 11:27 KHeraclius, emperor of Rome, asked Abu Sufyan, "Do the noblemen or the weak among people follow him (Muhammad )" Abu Sufyan replied, "Rather the weak among them." Heraclius commented, "Such is the case with followers of the Messengers." The idolators of Quraysh used to mock the weak among them who believed in the Prophet and they even tortured some of them. They used to say, "Are these the ones whom Allah favored above us," meaning, Allah would not guide these people, instead of us, to all that is good, if indeed what they embraced is good. Allah mentioned similar statements in the Qur'an from the disbelievers,
لَوْ كَانَ خَيْراً مَّا سَبَقُونَآ إِلَيْهِ
(Had it been a good thing, they (weak and poor) would not have preceded us to it!) 46:11, and,
وَإِذَا تُتْلَى عَلَيْهِمْ ءَايَـتُنَا بِيِّنَـتٍ قَالَ الَّذِينَ كَفَرُواْ لِلَّذِينَ ءَامَنُواْ أَىُّ الْفَرِيقَيْنِ خَيْرٌ مَّقَاماً وَأَحْسَنُ نَدِيّاً
(And when Our clear verses are recited to them, those who disbelieve say to those who believe: "Which of the two groups is best in position and station.") 19:73 Allah said in reply,
وَكَمْ أَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّن قَرْنٍ هُمْ أَحْسَنُ أَثَاثاً وَرِءْياً
(And how many a generation (past nations) have We destroyed before them, who were better in wealth, goods and outward appearance) 19:74. Here, Allah answered the disbelievers when they said,
أَهَـؤُلاءِ مَنَّ اللَّهُ عَلَيْهِم مِّن بَيْنِنَآ أَلَيْسَ اللَّهُ بِأَعْلَمَ بِالشَّـكِرِينَ
("Is it these (poor believers) that Allah has favored from amongst us" Does not Allah know best those who are grateful) Meaning is not Allah more knowledgeable of those who thank and appreciate Him in statement, action and heart Thus Allah directs these believers to the ways of peace, transfers them from darkness to light by His leave, and guides them to the straight path. In another Ayah, Allah said;
وَالَّذِينَ جَـهَدُواْ فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا وَإِنَّ اللَّهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِينَ
(As for those who strive hard for Us (Our cause), We will surely guide them to Our paths (i.e. Allah's religion). And verily, Allah is with the doers of good") 29:69. An authentic Hadith states,
«إِنَّ اللهَ لَا يَنْظُرُ إِلَى صُوَرِكُمْ وَلَا إِلَى أَلْوَانِكُمْ، وَلَكِنْ يَنْظُرُ إِلَى قُلُوبِكُمْ وَأَعْمَالِكُم»
(Allah does not look at your shapes or colors, but He looks at your heart and actions.) Allah's statement,
وَإِذَا جَآءَكَ الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِـَايَـتِنَا فَقُلْ سَلَـمٌ عَلَيْكُمْ
(When those who believe in Our Ayat come to you, say: "Salamun `Alaykum" (peace be on you);) means, honor them by returning the Salam and give them the good news of Allah's exclusive, encompassing mercy for them. So Allah said;
كَتَبَ رَبُّكُمْ عَلَى نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ
(your Lord has written Mercy for Himself,) meaning, He has obliged His Most Honored Self to grant mercy, as a favor, out of His compassion and beneficence,
أَنَّهُ مَن عَمِلَ مِنكُمْ سُوءًا بِجَهَالَةٍ
(So that, if any of you does evil in ignorance...) as every person who disobeys Allah does it in ignorance,
ثُمَّ تَابَ مِن بَعْدِهِ وَأَصْلَحَ
(and thereafter repents and does righteous good deeds,) by repenting from the sins that he committed, intending not to repeat the sin in the future, but to perform righteous deeds,
فَأَنَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ
(then surely, He is Oft-Forgiving Most Merciful.) Imam Ahmad recorded that Abu Hurayrah said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«لَمَّا قَضَى اللهُ الْخَلْقَ كَتَبَ فِي كِتَابٍ فَهُوَ عِنْدَهُ فَوْقَ الْعَرْشِ: إِنَّ رَحْمَتِي غَلَبَتْ غَضَبِي»
(When Allah finished with the creation, He wrote in a Book that He has with Him above the Throne, `My mercy prevails over My anger'.) This Hadith was also recorded in the The Two Sahihs.
مسلمانو ! طبقاتی عصبیت سے بچو اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ سے فرماتا ہے کہ لوگوں میں اعلان کردو کہ میں اللہ کے خزانوں کا مالک نہیں نہ مجھے ان میں کسی طرح کا اختیار ہے، نہ میں یہ کہتا ہوں کہ میں غیب کا جاننے والا ہوں، رب نے جو چیزیں خاص اپنے علم میں رکھی ہیں مجھے ان میں سے کچھ بھی معلوم نہیں، ہاں جن چیزوں سے خود اللہ نے مجھے مطلع کر دے ان پر مجھے اطلاع ہوجاتی ہے، میرا یہ بھی دعوی نہیں کہ میں کوئی فرشتہ ہوں، میں تو انسان ہوں، اللہ تعالیٰ نے مجھے جو شرف دیا ہے یعنی میری طرف جو وحی نازل فرمائی ہے میں اسی کا عمل پیرا ہوں، اس سے ایک بالشت ادھر ادھر نہیں ہٹتا۔ کیا حق کے تابعدار جو بصارت والے ہیں اور حق سے محروم جو اندھے ہیں برابر ہوسکتے ہیں ؟ کیا تم اتنا غور بھی نہیں کرتے ؟ اور آیت میں ہے کہ کیا وہ شخص جو جانتا ہے کہ جو کچھ تیری طرف تیرے رب کی جانب سے اترا ہے حق ہے اس شخص جیسا ہوسکتا ہے جو نابینا ہے ؟ نصیحت تو صرف وہی حاصل کرتے ہیں جو عقلمند ہیں ؟ اے نبی ﷺ آپ قرآن کے ذریعہ انہیں راہ راست پر لائیں جو رب کے سامنے کھڑے ہونے کا خوف دل میں رکھتے ہیں، حساب کا کھٹکار رکھتے ہیں، جانتے ہیں کہ رب کے سامنے پیش ہونا ہے اس دن اس کے سوا اور کوئی ان کا قریبی یا سفارشی نہ ہوگا، وہ اگر عذاب کرنا چاہے تو کوئی شفاعت نہیں کرسکتا۔ یہ تیرا ڈرانا اس لئے ہے کہ شاید وہ تقی بن جائیں حاکم حقیقی سے ڈر کر نیکیاں کریں اور قیامت کے عذابوں سے چھوٹیں اور ثابت کے مستحق بن جائیں، پھر فرماتا ہے یہ مسلمان غرباء جو صبح شام اپنے پروردگار کا نام جپتے ہیں خبردار انہیں حقیر نہ سمجھنا انہیں اپنے پاس سے نہ ہٹانا بلکہ انہی کو اپنی صحبت میں رکھ کر انہی کے ساتھ بیٹھ اٹھ۔ جیسے اور آیت میں ہے آیت (وَاصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بالْغَدٰوةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيْدُوْنَ وَجْهَهٗ وَلَا تَعْدُ عَيْنٰكَ عَنْهُمْ) 18۔ الکہف :28) یعنی انہی کے ساتھ رہ جو صبح شام اپنے پروردگار کو پکارتے ہیں اسی کی رضا مندی کی طلب کرتے ہیں، خبردار ان کی طرف سے آنکھیں نہ پھیرنا کہ دنیا کی زندگی کی آسائش طلب کرنے لگو اس کا کہا نہ کرنا جس کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کردیا ہے اور اس نے اپنی خواہش کی پیروی کی ہے اور اس کا ہر کام حد سے گزرا ہوا ہے بلکہ ان کا ساتھ دے جو صبح شام اللہ کی عبادت کرتے ہیں اور اسی سے دعائیں مانگتے ہیں بعض بزرگ فرماتے ہیں مراد اس سے فرض نمازیں ہیں اور آیت میں ہے آیت (وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُوْنِيْٓ اَسْتَجِبْ لَكُمْ ۭ اِنَّ الَّذِيْنَ يَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِيْ سَيَدْخُلُوْنَ جَهَنَّمَ دٰخِرِيْنَ) 40۔ غافر :60) تمہارے رب کا اعلان ہے کہ مجھ سے دعائیں کرو میں قبول کروں گا ان اطاعتوں اور عبادتوں سے ان کا ارادہ اللہ کریم کے دیدار کا ہے، محض خلوص اخلاص والی ان کی نیتیں ہیں، ان کا کوئی حساب تجھ پر نہیں نہ تیرا کوئی حساب ان پر، جناب نوح ؑ سے جب ان کی قوم کے شرفا نے کہا تھا کہ ہم تجھے کیسے مان لیں تیرے ماننے والے تو اکثر غریب مسکین لوگ ہیں تو آپ نے یہی جواب دیا کہ ان کے اعمال کا مجھے کیا علم ہے ان کا حساب تو میرے رب پر ہے لیکن تمہیں اتنا بھی شعور نہیں پھر بھی تم نے ان غریب مسکین لوگوں کو اپنی مجلس میں نہ بیٹھنے دیا۔ ان سے ذرا بھی بےرخی کی تو یاد رکھنا تمہارا شمار بھی ظالموں میں ہوجائے گا، مسند احمد میں ہے کہ قریش کے بڑے لوگ نبی ﷺ کے پاس گئے اس وقت آپ کی مجلس مبارک میں حضرت صہیب ؓ ، حضرت بلال ؓ ، حضرت خباب ؓ حضرت عمار ؓ تھے، انہیں دیکھ کر یہ لوگ کہنے لگے دیکھو تو ہمیں چھوڑ کر کن کے ساتھ بیٹھے ہیں ؟ تو آیت (و انذر بہ سے بالشاکرین تک اتری۔ ابن جریر میں ہے کہ ان لوگوں اور ان جیسے اوروں کو حضور کی مجلس میں دیکھ کر مشرک سرداروں نے یہ بھی کہا تھا کہ کیا یہی لوگ رہ گئے ہیں کہ اللہ نے ہم سب میں سے چن چن کر انہی پر احسان کیا ؟ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ یہ پے در پے سہارا لوگ بھی ہم امیروں رئیسوں کے برابر بیٹھیں دیکھئے حضرت اگر آپ انہیں اپنی مجلس سے نکال دیں تو وہ آپ کی مجلس میں بیٹھ سکتے ہیں اس پر آیت (وَلَا تَطْرُدِ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بالْغَدٰوةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيْدُوْنَ وَجْهَهٗ) 6۔ الانعام :52) شاکرین تک اتری۔ ابن ابی حاتم میں قریش کے ان معززین لوگوں میں سے دو کے نام یہ ہیں اقرع بن حابس تیمی، عینیہ بن حصن فزاری، اس روایت میں یہ بھی ہے کہ تنہائی میں مل کر انہوں نے حضور کو سمجھایا کہ ان غلام اور گرے پڑے بےحیثیت لوگوں کے ساتھ ہمیں بیٹھتے ہوئے شرم معلوم ہوتی ہے، آپ کی مجلس میں عرب کا وفد آیا کرتے ہیں وہ ہمیں ان کے ساتھ دیکھ کر ہمیں بھی ذلیل خیال کریں گے تو آپ کم سے کم اتنا ہی کیجئے کہ جب ہم آئیں تب خاص مجلس ہو اور ان جیسے گرے پڑے لوگ اس میں شامل نہ کئے جائین، ہاں جب ہم نہ ہوں تو آپ کو اختیار ہے جب یہ بات طے ہوگئی اور آپ نے بھی اس کا اقرار کرلیا تو انہوں نے کہا ہمارا یہ معاہدہ تحریر میں آجانا چاہیے آپ نے کاغذ منگوایا اور حضرت علی کو لکھنے کیلئے بلوایا، مسلمانوں کا یہ غریب طبقہ ایک کونے میں بیٹھا ہوا تھا اسی وقت حضرت جبرائیل اترے اور یہ آیت نازل ہوئی حضور نے کاغذ پھینک دیا اور ہمیں اپنے پاس بلا لیا اور ہم نے پھر سے رسول اللہ ﷺ کو اپنے حلقے میں لے لیا، لیکن یہ حدیث غریب ہے آیت مکی ہے اوراقرع اور عینیہ ہجرت کے بہت سارے زمانے کے بعد اسلام میں آئے ہیں حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ بھی تھے ہم لوگ سب سے پہلے خدمت نبوی میں جاتے اور آپ کے اردگرد بیٹھتے تاکہ پور طرح اور شروع سے آخر تک آپ کی حدیثیں سنیں۔ قریش کے بڑے لوگوں پر یہ بات گراں گزرتی تھی اس کے برخلاف یہ آیت اتری (مستدرک حاکم) پھر فرماتا ہے اسی طرح ہم ایک دورے کو پرکھ لیتے ہیں اور ایک سے ایک کا امتحان لے لیتے ہیں کہ یہ امرا ان غرباء سے متعلق اپنی رائے ظاہر کردیں کہ کیا یہی لوگ ہیں جن پر اللہ نے احسان کیا اور ہم سب میں سے اللہ کو یہی لوگ پسند آئے ؟ حضور ﷺ کو سب سے پہلے تسلیم کرنے والے یہی بیچارے بےمایہ غریب غرباء لوگ تھے مرد عورت لونڈی غلام وغیرہ، بڑے بڑے اور ذی وقعت لوگوں میں سے تو اس وقت یونہی کوئی اکا دکا آگیا تھا۔ یہی لوگ دراصل انبیاء (علیہم السلام) کے مطیع اور فرمانبردار ہوتے رہے۔ قوم نوح نے کہا تھا (وَمَا نَرٰىكَ اتَّبَعَكَ اِلَّا الَّذِيْنَ هُمْ اَرَاذِلُـنَا بَادِيَ الرَّاْيِ) 11۔ ہود :27) یعنی ہم تو دیکھتے ہیں کہ تیری تابعداری رذیل اور بیوقوف لوگوں نے ہی کی ہے، شاہ روم ہرقل نے جب ابو سفیان سے حضور کی بابت یہ دریافت کیا کہ شریف لوگوں نے اس کی پیروی اختیار کی ہے ؟ یا ضعیف لوگوں نے ؟ تو ابو سفیان نے جواب دیا تھا کہ ضعیف لوگوں نے، بادشاہ نے اس سے یہ نتیجہ نکالا کہ فی الواقع تمام نبیوں کا اول پیرو یہی طبقہ ہوتا ہے، الغرض مشرکین مکہ ان ایمان داروں کا مزاق اڑاتے اور انہیں ستاتے تھے جہاں تک بس چلتا انہیں سزائیں دیتے اور کہتے کہ یہ ناممکن ہے کہ بھلائی انہیں تو نظر آجائے اور ہم یونہی رہ جائیں ؟ قرآن میں ان کا قول یہ بھی ہے کہ آیت (لَوْ كَانَ خَيْرًا مَّا سَبَقُوْنَآ اِلَيْهِ) 46۔ الاحقاف :11) اگر یہ کوئی اچھی چیز ہوتی تو یہ لوگ ہم سے آگے نہ بڑھ سکتے اور آیت میں ہے جب ان کے سامنے ہماری صاف اور واضح آیتیں تلاوت کی جاتی ہیں تو یہ کفار ایمانداروں سے کہتے یہیں کہ بتاؤ تو مرتبے میں عزت میں حسب نسب میں کون شریف ہے ؟ اس کے جواب میں رب نے فرمایا آیت (وَكَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنْ قَرْنٍ هُمْ اَحْسَنُ اَثَاثًا وَّرِءْيًا) 19۔ مریم :74) یعنی ان سے پہلے ہم نے بہت سی بستیاں تباہ کردی ہیں جو باعتبار سامان و اسباب کے اور باعتبار نمود و ریا کے ان سے بہت ہی آگے بڑھی ہوئی تھیں، چناچہ یہاں بھی ان کے ایسے ہی قول کے جواب میں فرمایا گیا کہ شکر گزاروں تو اللہ کو رب جانتا ہے جو اپنے اقوال و افعال اور ولی ارادوں کو درست رکھتے ہیں اللہ تعالیٰ انہیں سلامتیوں کی راہیں دکھاتا ہے اور اندھیروں سے نکال کر نور کی طرف لاتا ہے اور صحیح راہ کی رہنمائی کرتا ہے، جیسے فرمان ہے آیت (وَالَّذِيْنَ جَاهَدُوْا فِيْنَا لَـنَهْدِيَنَّهُمْ سُـبُلَنَا ۭ وَاِنَّ اللّٰهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِيْنَ) 29۔ العنکبوت :69) جو لوگ ہماری فرمانبرداری کی کوشش کرتے ہیں ہم انہیں اپنی صحیح رہ پر لگا دیتے ہیں اللہ تعالیٰ نیک کاروں کا ساتھ دیتا ہے، صحیح حدیث میں ہے اللہ تعالیٰ تمہاری صورتوں اور رنگوں کو نہیں دیکھتا بلکہ نیتوں اور اعمال کو دیھکتا ہے، عکرمہ فرماتے ہیں ربیعہ کے دونوں بیٹے عتبہ اور شیبہ اور عدی کا بیٹا مطعم اور نوفل کا بیٹا حارث اور عمرو کا بیٹا قرطہ اور ابن عبد مناف کے قبیلے کے کافر سب کے سب جمع ہو کر ابو طالب کے پاس گئے اور کہنے لگے دیکھ آپ کے بھتیجے اگر ہماری ایک درخواست قبول کرلیں تو ہمارے دلوں میں ان کی عظمت و عزت ہوگی اور پھر ان کی مجلس میں بھی آمدو رفت شروع کردیں گے اور ہوسکتا ہے کہ ان کی سچائی سمجھ میں آجائے اور ہم بھی مان لیں، ابو طالب نے قوم کے بڑوں کا یہ پیغام رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پہنچایا حضرت عمر بن خطاب ؓ بھی اس وقت اس مجلس میں تھے فرمانے لگے یا رسول اللہ ﷺ ایسا کرنے میں کیا حرج ہے ؟ اللہ عزوجل نے وانذو سے بالشاکرین تک آیتیں اتریں۔ یہ غرباء جنہیں یہ لوگ فیض صحبت سے محروم کرنا چاہتے تھے یہ تھے بلال، عمار، سالم صبیح، ابن مسعود، مقداد، مسعود، واقد، عمرو ذوالشمالین، یزید اور انہی جیسے اور حضرات ؓ اجمعین، انہی دونوں جماعتوں کے بارے میں آیت (وَكَذٰلِكَ فَتَنَّا بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لِّيَقُوْلُوْٓا اَهٰٓؤُلَاۗءِ مَنَّ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ مِّنْۢ بَيْنِنَا ۭ اَلَيْسَ اللّٰهُ بِاَعْلَمَ بالشّٰكِرِيْنَ) 6۔ الانعام :53) بھی نازل ہوئی۔ حضرت عمر ان آیتوں کو سن کر عذر معذرت کرنے لگے اس پر آیت (وَاِذَا جَاۗءَكَ الَّذِيْنَ يُؤْمِنُوْنَ بِاٰيٰتِنَا فَقُلْ سَلٰمٌ عَلَيْكُمْ كَتَبَ رَبُّكُمْ عَلٰي نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ ۙ اَنَّهٗ مَنْ عَمِلَ مِنْكُمْ سُوْۗءًۢا بِجَهَالَةٍ ثُمَّ تَابَ مِنْۢ بَعْدِهٖ وَاَصْلَحَ ۙ فَاَنَّهٗ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ) 6۔ الانعام :54) نازل ہوئی، آخری آیت میں حکم ہوتا ہے کہ ایمان والے جب تیرے پاس آ کر سلام کریں تو ان کے سلام کا جواب دو ان کا احترام کرو اور انہیں اللہ کی وسیع رحمت کی خبر دو کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے اپنے نفس پر رح پر واجب کرلیا ہے، بعض سلف سے منقول ہے کہ گناہ ہر شخص جہالت سے ہی کرتا ہے، عکرمہ فرماتے ہیں دنیا ساری جہالت ہے، غرض جو بھی کوئی برائی کرے پھر اس سے ہٹ جائے اور پورا ارادہ کرلے کہ آئندہ کبھی ایسی حرکت نہیں کرے گا اور آگے کیلئے اپنے عمل کی اصلاح بھی کرلے تو وہ یقین مانے کہ غفور و رحیم اللہ اسے بخشے گا بھی اور اس پر مہربانی بھی کرے گا۔ مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جب مخلوق کی قضا و قدر مقرر کی تو اپنی کتاب میں لکھا جو اس کے پاس عرش کے اوپر ہے کہ میری رحمت میرے غضب پر غالب ہے۔ ابن مردویہ میں حضور کا فرمان ہے کہ جس وقت اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے فیصلے کر دے گا اپنے عرش کے نیچے سے ایک کتاب نکالے گا جس میں یہ تحریر ہے کہ میرا رحم و کرم میرے غصے اور غضب سے زیادہ بڑھا ہوا ہے اور میں سب سے زیادہ رحمت کرنے والا ہوں پھر اللہ تبارک و تعالیٰ ایک بار مٹھیاں بھر کر اپنی مخلوق کو جہنم میں سے نکالے گا جنہوں نے کوئی بھلائی نہیں کی ان کی پیشانیوں پر لکھا ہوا ہوگا کہ یہ اللہ تعالیٰ کے آزاد کردہ ہیں۔ حضرت سلمان فارسی ؓ فرماتے ہیں کہ توراۃ میں ہم لکھا دیکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کو پیدا کیا اور اپنی رحمت کے سو حصے کئے پھر ساری مخلوق میں ان میں سے ایک حصہ رکھا اور ننانوے حصے اپنے پاس باقی رکھے اسی ایک حصہ رحمت کا یہ ظہور ہے کہ مخلوق بھی ایک دوسرے پر مہربانی کرتی ہے اور تواضع سے پیش آتی ہے اور آپس کے تعلقات قائم ہیں، اونٹنی گائے بکری پرند مچھلی وغیرہ جانور اپنے بچوں کی پرورش میں تکلیفیں جھیلتے ہیں اور ان پر پیار و محبت کرتے ہیں، روز قیامت میں اس حصے کو کامل کرنے کے بعد اس میں ننانوے حصے ملا لئے جائیں گے فی الواقع رب کی رحمت اور اس کا فضل بہت ہی وسیع اور کشادہ ہے، یہ حدیث دوسری سند ہے مرفوعاً بھی مروی ہے اور ایسی ہی اکثر حدیثیں آیت (وَرَحْمَتِيْ وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ) 7۔ الاعراف :156) کی تفسیر میں آئیں گی انشاء اللہ تعالیٰ ایسی ہی احادیث میں سے ایک یہ بھی ہے کہ حضور نے حضرت معاذ بن جبل ؓ سے پوجھا جانتے ہو اللہ کا حق بندوں پر کیا ہے ؟ وہ یہ ہے کہ وہ سب اسی کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں۔ پھر فرمایا جانتے ہو بندے جب یہ کرلیں تو ان کا حق اللہ تعالیٰ کے ذمہ کیا ہے ؟ یہ ہے کہ وہ انہیں عذاب نہ کرے، مسند احمد میں یہ حدیث بروایت حضرت ابوہریرہ مروی ہے۔
53
View Single
وَكَذَٰلِكَ فَتَنَّا بَعۡضَهُم بِبَعۡضٖ لِّيَقُولُوٓاْ أَهَـٰٓؤُلَآءِ مَنَّ ٱللَّهُ عَلَيۡهِم مِّنۢ بَيۡنِنَآۗ أَلَيۡسَ ٱللَّهُ بِأَعۡلَمَ بِٱلشَّـٰكِرِينَ
And similarly We have made some as a trial for others – that the wealthy disbelievers upon seeing the needy Muslims say, “Are these whom Allah has favoured among us?” Does not Allah recognise those who are thankful?
اور اسی طرح ہم ان میں سے بعض کو بعض کے ذریعے آزماتے ہیں تاکہ وہ (دولت مند کافر غریب مسلمانوں کو دیکھ کر استہزاءً یہ) کہیں: کیا ہم میں سے یہی وہ لوگ ہیں جن پر اللہ نے احسان کیا ہے؟ کیا اللہ شکر گزاروں کو خوب جاننے والا نہیں ہے
Tafsir Ibn Kathir
The Messenger Neither has the Key to Allah's Treasures, Nor Knows the Unseen
Allah said to His Messenger ,
قُل لاَّ أَقُولُ لَكُمْ عِندِى خَزَآئِنُ اللَّهِ
(Say: "I don't tell you that with me are the treasures of Allah.") meaning, I do not own Allah's treasures or have any power over them,
وَلا أَعْلَمُ الْغَيْبَ
(nor (that) I know the Unseen,) and I do not say that I know the Unseen, because its knowledge is with Allah and I only know what He conveys of it to me.
وَلا أَقُولُ لَكُمْ إِنِّى مَلَكٌ
(nor I tell you that I am an angel.) meaning, I do not claim that I am an angel. I am only a human to whom Allah sends revelation, and He honored me with this duty and favored me with it.
إِنْ أَتَّبِعُ إِلاَّ مَا يُوحَى إِلَىَّ
(I but follow what is revealed to me.) and I never disobey the revelation in the least.
قُلْ هَلْ يَسْتَوِى الاٌّعْمَى وَالْبَصِيرُ
(Say: "Are the blind and the one who sees equal") meaning, `Is the one who is guided, following the truth, equal to the one misled'
أَفَلاَ تَتَفَكَّرُونَ
(Will you not then consider) In another Ayah, Allah said;
أَفَمَن يَعْلَمُ أَنَّمَآ أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَبِّكَ الْحَقُّ كَمَنْ هُوَ أَعْمَى إِنَّمَا يَتَذَكَّرُ أُوْلُواْ الأَلْبَـبِ
(Shall he then who knows that what has been revealed to you from your Lord is the truth, be like him who is blind But it is only the men of understanding that pay heed.) 13:19 Allah's statement,
وَأَنذِرْ بِهِ الَّذِينَ يَخَافُونَ أَن يُحْشَرُواْ إِلَى رَبِّهِمْ لَيْسَ لَهُمْ مِّن دُونِهِ وَلِىٌّ وَلاَ شَفِيعٌ
(And warn therewith those who fear that they will be gathered before their Lord, when there will be neither a protector nor an intercessor for them besides Him,) means, warn with this Qur'an, O Muhammad ,
الَّذِينَ هُم مِّنْ خَشْيةِ رَبِّهِمْ مُّشْفِقُونَ
(Those who live in awe for fear of their Lord) 23:57, who,
يَخْشَوْنَ رَبَّهُموَيَخَافُونَ سُوءَ الحِسَابِ
(Fear their Lord, and dread the terrible reckoning.) 13:21,
الَّذِينَ يَخَافُونَ أَن يُحْشَرُواْ إِلَى رَبِّهِمْ
(those who fear that they will be gathered before their Lord,) on the Day of Resurrection,
لَيْسَ لَهُمْ مِّن دُونِهِ وَلِىٌّ وَلاَ شَفِيعٌ
(when there will be neither a protector nor an intercessor for them besides Him, ) for on that Day, they will have no relative or intercessor who can prevent His torment if He decides to punish them with it,
لَعَلَّهُمْ يَتَّقُونَ
(so that they may have Taqwa.) Therefore, warn of the Day when there will be no judge except Allah,
لَعَلَّهُمْ يَتَّقُونَ
(so that they may have Taqwa.) and thus work good deeds in this life, so that their good deeds may save them on the Day of Resurrection from Allah's torment, and so that He will grant them multiple rewards.
Prohibiting the Messenger from Turning the Weak Away and the Order to Honor Them
Allah said,
وَلاَ تَطْرُدِ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِىِّ يُرِيدُونَ وَجْهَهُ
(And turn not away those who invoke their Lord, morning and evening seeking His Face.) meaning, do not turn away those who have these qualities, instead make them your companions and associates. In another Ayah, Allah said;
وَاصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُم بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِىِّ يُرِيدُونَ وَجْهَهُ وَلاَ تَعْدُ عَيْنَاكَ عَنْهُمْ تُرِيدُ زِينَةَ الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَلاَ تُطِعْ مَنْ أَغْفَلْنَا قَلْبَهُ عَن ذِكْرِنَا وَاتَّبَعَ هَوَاهُ وَكَانَ أَمْرُهُ فُرُطًا
(And keep yourself patiently with those who call on their Lord morning and evening, seeking His Face, and let not your eyes overlook them, desiring the pomp and glitter of the life of the world; and obey not him whose heart We have made heedless of Our remembrance, one who follows his own lusts and whose affair (deeds) has been lost.)18:28 Allah's statement,
يَدْعُونَ رَبَّهُمْ
(invoke their Lord...) refers to those who worship Him and supplicate to Him,
بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِىِّ
(morning and evening.) referring to the obligatory prayers, according to Sa`id bin Al-Musayyib, Mujahid, Al-Hasan and Qatadah. In another Ayah, Allah said;
وَقَالَ رَبُّكُـمْ ادْعُونِى أَسْتَجِبْ لَكُمْ
(And your Lord said, "Invoke Me, I will respond (to your invocation).") 40:60, I will accept your supplication. Allah said next,
يُرِيدُونَ وَجْهَهُ
(seeking His Face.) meaning, they seek Allah's Most Generous Face, by sincerity for Him in the acts of worship and obedience they perform. Allah said;
مَا عَلَيْكَ مِنْ حِسَابِهِم مِّن شَىْءٍ وَمَا مِنْ حِسَابِكَ عَلَيْهِمْ مِّن شَىْءٍ
(You are accountable for them in nothing, and they are accountable for you in nothing,) This is similar to the answer Nuh gave to his people when they said,
أَنُؤْمِنُ لَكَ وَاتَّبَعَكَ الاٌّرْذَلُونَ
(Shall we believe in you, when the meekest (of the people) follow you") 26:111. Nuh answered them,
قَالَ وَمَا عِلْمِى بِمَا كَانُواْ يَعْمَلُونَ - إِنْ حِسَابُهُمْ إِلاَّ عَلَى رَبِّى لَوْ تَشْعُرُونَ
(And what knowledge have I of what they used to do Their account is only with my Lord, if you could (but) know.) 26:112-113, meaning, their reckoning is for Allah not me, just as my reckoning is not up to them. Allah said here,
فَتَطْرُدَهُمْ فَتَكُونَ مِنَ الظَّـلِمِينَ
(that you may turn them away, and thus become of the wrongdoers.) meaning, you will be unjust if you turn them away. Allah's statement,
وَكَذلِكَ فَتَنَّا بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ
(Thus We have tried some of them with others) means, We tested, tried and checked them with each other,
لِّيَقُولواْ أَهَـؤُلاءِ مَنَّ اللَّهُ عَلَيْهِم مِّن بَيْنِنَآ
(That they might say: "Is it these (poor believers) that Allah has favored from amongst us") This is because at first, most of those who followed the Messenger of Allah ﷺ were the weak among the people, men, women, slaves, and only a few chiefs or noted men followed him. Nuh, was also addressed by his people
وَمَا نَرَاكَ اتَّبَعَكَ إِلاَّ الَّذِينَ هُمْ أَرَاذِلُنَا بَادِىَ الرَّأْى
(Nor do we see any follow you but the meekest among us and they (too) followed you without thinking.) 11:27 KHeraclius, emperor of Rome, asked Abu Sufyan, "Do the noblemen or the weak among people follow him (Muhammad )" Abu Sufyan replied, "Rather the weak among them." Heraclius commented, "Such is the case with followers of the Messengers." The idolators of Quraysh used to mock the weak among them who believed in the Prophet and they even tortured some of them. They used to say, "Are these the ones whom Allah favored above us," meaning, Allah would not guide these people, instead of us, to all that is good, if indeed what they embraced is good. Allah mentioned similar statements in the Qur'an from the disbelievers,
لَوْ كَانَ خَيْراً مَّا سَبَقُونَآ إِلَيْهِ
(Had it been a good thing, they (weak and poor) would not have preceded us to it!) 46:11, and,
وَإِذَا تُتْلَى عَلَيْهِمْ ءَايَـتُنَا بِيِّنَـتٍ قَالَ الَّذِينَ كَفَرُواْ لِلَّذِينَ ءَامَنُواْ أَىُّ الْفَرِيقَيْنِ خَيْرٌ مَّقَاماً وَأَحْسَنُ نَدِيّاً
(And when Our clear verses are recited to them, those who disbelieve say to those who believe: "Which of the two groups is best in position and station.") 19:73 Allah said in reply,
وَكَمْ أَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّن قَرْنٍ هُمْ أَحْسَنُ أَثَاثاً وَرِءْياً
(And how many a generation (past nations) have We destroyed before them, who were better in wealth, goods and outward appearance) 19:74. Here, Allah answered the disbelievers when they said,
أَهَـؤُلاءِ مَنَّ اللَّهُ عَلَيْهِم مِّن بَيْنِنَآ أَلَيْسَ اللَّهُ بِأَعْلَمَ بِالشَّـكِرِينَ
("Is it these (poor believers) that Allah has favored from amongst us" Does not Allah know best those who are grateful) Meaning is not Allah more knowledgeable of those who thank and appreciate Him in statement, action and heart Thus Allah directs these believers to the ways of peace, transfers them from darkness to light by His leave, and guides them to the straight path. In another Ayah, Allah said;
وَالَّذِينَ جَـهَدُواْ فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا وَإِنَّ اللَّهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِينَ
(As for those who strive hard for Us (Our cause), We will surely guide them to Our paths (i.e. Allah's religion). And verily, Allah is with the doers of good") 29:69. An authentic Hadith states,
«إِنَّ اللهَ لَا يَنْظُرُ إِلَى صُوَرِكُمْ وَلَا إِلَى أَلْوَانِكُمْ، وَلَكِنْ يَنْظُرُ إِلَى قُلُوبِكُمْ وَأَعْمَالِكُم»
(Allah does not look at your shapes or colors, but He looks at your heart and actions.) Allah's statement,
وَإِذَا جَآءَكَ الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِـَايَـتِنَا فَقُلْ سَلَـمٌ عَلَيْكُمْ
(When those who believe in Our Ayat come to you, say: "Salamun `Alaykum" (peace be on you);) means, honor them by returning the Salam and give them the good news of Allah's exclusive, encompassing mercy for them. So Allah said;
كَتَبَ رَبُّكُمْ عَلَى نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ
(your Lord has written Mercy for Himself,) meaning, He has obliged His Most Honored Self to grant mercy, as a favor, out of His compassion and beneficence,
أَنَّهُ مَن عَمِلَ مِنكُمْ سُوءًا بِجَهَالَةٍ
(So that, if any of you does evil in ignorance...) as every person who disobeys Allah does it in ignorance,
ثُمَّ تَابَ مِن بَعْدِهِ وَأَصْلَحَ
(and thereafter repents and does righteous good deeds,) by repenting from the sins that he committed, intending not to repeat the sin in the future, but to perform righteous deeds,
فَأَنَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ
(then surely, He is Oft-Forgiving Most Merciful.) Imam Ahmad recorded that Abu Hurayrah said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«لَمَّا قَضَى اللهُ الْخَلْقَ كَتَبَ فِي كِتَابٍ فَهُوَ عِنْدَهُ فَوْقَ الْعَرْشِ: إِنَّ رَحْمَتِي غَلَبَتْ غَضَبِي»
(When Allah finished with the creation, He wrote in a Book that He has with Him above the Throne, `My mercy prevails over My anger'.) This Hadith was also recorded in the The Two Sahihs.
مسلمانو ! طبقاتی عصبیت سے بچو اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ سے فرماتا ہے کہ لوگوں میں اعلان کردو کہ میں اللہ کے خزانوں کا مالک نہیں نہ مجھے ان میں کسی طرح کا اختیار ہے، نہ میں یہ کہتا ہوں کہ میں غیب کا جاننے والا ہوں، رب نے جو چیزیں خاص اپنے علم میں رکھی ہیں مجھے ان میں سے کچھ بھی معلوم نہیں، ہاں جن چیزوں سے خود اللہ نے مجھے مطلع کر دے ان پر مجھے اطلاع ہوجاتی ہے، میرا یہ بھی دعوی نہیں کہ میں کوئی فرشتہ ہوں، میں تو انسان ہوں، اللہ تعالیٰ نے مجھے جو شرف دیا ہے یعنی میری طرف جو وحی نازل فرمائی ہے میں اسی کا عمل پیرا ہوں، اس سے ایک بالشت ادھر ادھر نہیں ہٹتا۔ کیا حق کے تابعدار جو بصارت والے ہیں اور حق سے محروم جو اندھے ہیں برابر ہوسکتے ہیں ؟ کیا تم اتنا غور بھی نہیں کرتے ؟ اور آیت میں ہے کہ کیا وہ شخص جو جانتا ہے کہ جو کچھ تیری طرف تیرے رب کی جانب سے اترا ہے حق ہے اس شخص جیسا ہوسکتا ہے جو نابینا ہے ؟ نصیحت تو صرف وہی حاصل کرتے ہیں جو عقلمند ہیں ؟ اے نبی ﷺ آپ قرآن کے ذریعہ انہیں راہ راست پر لائیں جو رب کے سامنے کھڑے ہونے کا خوف دل میں رکھتے ہیں، حساب کا کھٹکار رکھتے ہیں، جانتے ہیں کہ رب کے سامنے پیش ہونا ہے اس دن اس کے سوا اور کوئی ان کا قریبی یا سفارشی نہ ہوگا، وہ اگر عذاب کرنا چاہے تو کوئی شفاعت نہیں کرسکتا۔ یہ تیرا ڈرانا اس لئے ہے کہ شاید وہ تقی بن جائیں حاکم حقیقی سے ڈر کر نیکیاں کریں اور قیامت کے عذابوں سے چھوٹیں اور ثابت کے مستحق بن جائیں، پھر فرماتا ہے یہ مسلمان غرباء جو صبح شام اپنے پروردگار کا نام جپتے ہیں خبردار انہیں حقیر نہ سمجھنا انہیں اپنے پاس سے نہ ہٹانا بلکہ انہی کو اپنی صحبت میں رکھ کر انہی کے ساتھ بیٹھ اٹھ۔ جیسے اور آیت میں ہے آیت (وَاصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بالْغَدٰوةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيْدُوْنَ وَجْهَهٗ وَلَا تَعْدُ عَيْنٰكَ عَنْهُمْ) 18۔ الکہف :28) یعنی انہی کے ساتھ رہ جو صبح شام اپنے پروردگار کو پکارتے ہیں اسی کی رضا مندی کی طلب کرتے ہیں، خبردار ان کی طرف سے آنکھیں نہ پھیرنا کہ دنیا کی زندگی کی آسائش طلب کرنے لگو اس کا کہا نہ کرنا جس کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کردیا ہے اور اس نے اپنی خواہش کی پیروی کی ہے اور اس کا ہر کام حد سے گزرا ہوا ہے بلکہ ان کا ساتھ دے جو صبح شام اللہ کی عبادت کرتے ہیں اور اسی سے دعائیں مانگتے ہیں بعض بزرگ فرماتے ہیں مراد اس سے فرض نمازیں ہیں اور آیت میں ہے آیت (وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُوْنِيْٓ اَسْتَجِبْ لَكُمْ ۭ اِنَّ الَّذِيْنَ يَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِيْ سَيَدْخُلُوْنَ جَهَنَّمَ دٰخِرِيْنَ) 40۔ غافر :60) تمہارے رب کا اعلان ہے کہ مجھ سے دعائیں کرو میں قبول کروں گا ان اطاعتوں اور عبادتوں سے ان کا ارادہ اللہ کریم کے دیدار کا ہے، محض خلوص اخلاص والی ان کی نیتیں ہیں، ان کا کوئی حساب تجھ پر نہیں نہ تیرا کوئی حساب ان پر، جناب نوح ؑ سے جب ان کی قوم کے شرفا نے کہا تھا کہ ہم تجھے کیسے مان لیں تیرے ماننے والے تو اکثر غریب مسکین لوگ ہیں تو آپ نے یہی جواب دیا کہ ان کے اعمال کا مجھے کیا علم ہے ان کا حساب تو میرے رب پر ہے لیکن تمہیں اتنا بھی شعور نہیں پھر بھی تم نے ان غریب مسکین لوگوں کو اپنی مجلس میں نہ بیٹھنے دیا۔ ان سے ذرا بھی بےرخی کی تو یاد رکھنا تمہارا شمار بھی ظالموں میں ہوجائے گا، مسند احمد میں ہے کہ قریش کے بڑے لوگ نبی ﷺ کے پاس گئے اس وقت آپ کی مجلس مبارک میں حضرت صہیب ؓ ، حضرت بلال ؓ ، حضرت خباب ؓ حضرت عمار ؓ تھے، انہیں دیکھ کر یہ لوگ کہنے لگے دیکھو تو ہمیں چھوڑ کر کن کے ساتھ بیٹھے ہیں ؟ تو آیت (و انذر بہ سے بالشاکرین تک اتری۔ ابن جریر میں ہے کہ ان لوگوں اور ان جیسے اوروں کو حضور کی مجلس میں دیکھ کر مشرک سرداروں نے یہ بھی کہا تھا کہ کیا یہی لوگ رہ گئے ہیں کہ اللہ نے ہم سب میں سے چن چن کر انہی پر احسان کیا ؟ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ یہ پے در پے سہارا لوگ بھی ہم امیروں رئیسوں کے برابر بیٹھیں دیکھئے حضرت اگر آپ انہیں اپنی مجلس سے نکال دیں تو وہ آپ کی مجلس میں بیٹھ سکتے ہیں اس پر آیت (وَلَا تَطْرُدِ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بالْغَدٰوةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيْدُوْنَ وَجْهَهٗ) 6۔ الانعام :52) شاکرین تک اتری۔ ابن ابی حاتم میں قریش کے ان معززین لوگوں میں سے دو کے نام یہ ہیں اقرع بن حابس تیمی، عینیہ بن حصن فزاری، اس روایت میں یہ بھی ہے کہ تنہائی میں مل کر انہوں نے حضور کو سمجھایا کہ ان غلام اور گرے پڑے بےحیثیت لوگوں کے ساتھ ہمیں بیٹھتے ہوئے شرم معلوم ہوتی ہے، آپ کی مجلس میں عرب کا وفد آیا کرتے ہیں وہ ہمیں ان کے ساتھ دیکھ کر ہمیں بھی ذلیل خیال کریں گے تو آپ کم سے کم اتنا ہی کیجئے کہ جب ہم آئیں تب خاص مجلس ہو اور ان جیسے گرے پڑے لوگ اس میں شامل نہ کئے جائین، ہاں جب ہم نہ ہوں تو آپ کو اختیار ہے جب یہ بات طے ہوگئی اور آپ نے بھی اس کا اقرار کرلیا تو انہوں نے کہا ہمارا یہ معاہدہ تحریر میں آجانا چاہیے آپ نے کاغذ منگوایا اور حضرت علی کو لکھنے کیلئے بلوایا، مسلمانوں کا یہ غریب طبقہ ایک کونے میں بیٹھا ہوا تھا اسی وقت حضرت جبرائیل اترے اور یہ آیت نازل ہوئی حضور نے کاغذ پھینک دیا اور ہمیں اپنے پاس بلا لیا اور ہم نے پھر سے رسول اللہ ﷺ کو اپنے حلقے میں لے لیا، لیکن یہ حدیث غریب ہے آیت مکی ہے اوراقرع اور عینیہ ہجرت کے بہت سارے زمانے کے بعد اسلام میں آئے ہیں حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ بھی تھے ہم لوگ سب سے پہلے خدمت نبوی میں جاتے اور آپ کے اردگرد بیٹھتے تاکہ پور طرح اور شروع سے آخر تک آپ کی حدیثیں سنیں۔ قریش کے بڑے لوگوں پر یہ بات گراں گزرتی تھی اس کے برخلاف یہ آیت اتری (مستدرک حاکم) پھر فرماتا ہے اسی طرح ہم ایک دورے کو پرکھ لیتے ہیں اور ایک سے ایک کا امتحان لے لیتے ہیں کہ یہ امرا ان غرباء سے متعلق اپنی رائے ظاہر کردیں کہ کیا یہی لوگ ہیں جن پر اللہ نے احسان کیا اور ہم سب میں سے اللہ کو یہی لوگ پسند آئے ؟ حضور ﷺ کو سب سے پہلے تسلیم کرنے والے یہی بیچارے بےمایہ غریب غرباء لوگ تھے مرد عورت لونڈی غلام وغیرہ، بڑے بڑے اور ذی وقعت لوگوں میں سے تو اس وقت یونہی کوئی اکا دکا آگیا تھا۔ یہی لوگ دراصل انبیاء (علیہم السلام) کے مطیع اور فرمانبردار ہوتے رہے۔ قوم نوح نے کہا تھا (وَمَا نَرٰىكَ اتَّبَعَكَ اِلَّا الَّذِيْنَ هُمْ اَرَاذِلُـنَا بَادِيَ الرَّاْيِ) 11۔ ہود :27) یعنی ہم تو دیکھتے ہیں کہ تیری تابعداری رذیل اور بیوقوف لوگوں نے ہی کی ہے، شاہ روم ہرقل نے جب ابو سفیان سے حضور کی بابت یہ دریافت کیا کہ شریف لوگوں نے اس کی پیروی اختیار کی ہے ؟ یا ضعیف لوگوں نے ؟ تو ابو سفیان نے جواب دیا تھا کہ ضعیف لوگوں نے، بادشاہ نے اس سے یہ نتیجہ نکالا کہ فی الواقع تمام نبیوں کا اول پیرو یہی طبقہ ہوتا ہے، الغرض مشرکین مکہ ان ایمان داروں کا مزاق اڑاتے اور انہیں ستاتے تھے جہاں تک بس چلتا انہیں سزائیں دیتے اور کہتے کہ یہ ناممکن ہے کہ بھلائی انہیں تو نظر آجائے اور ہم یونہی رہ جائیں ؟ قرآن میں ان کا قول یہ بھی ہے کہ آیت (لَوْ كَانَ خَيْرًا مَّا سَبَقُوْنَآ اِلَيْهِ) 46۔ الاحقاف :11) اگر یہ کوئی اچھی چیز ہوتی تو یہ لوگ ہم سے آگے نہ بڑھ سکتے اور آیت میں ہے جب ان کے سامنے ہماری صاف اور واضح آیتیں تلاوت کی جاتی ہیں تو یہ کفار ایمانداروں سے کہتے یہیں کہ بتاؤ تو مرتبے میں عزت میں حسب نسب میں کون شریف ہے ؟ اس کے جواب میں رب نے فرمایا آیت (وَكَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنْ قَرْنٍ هُمْ اَحْسَنُ اَثَاثًا وَّرِءْيًا) 19۔ مریم :74) یعنی ان سے پہلے ہم نے بہت سی بستیاں تباہ کردی ہیں جو باعتبار سامان و اسباب کے اور باعتبار نمود و ریا کے ان سے بہت ہی آگے بڑھی ہوئی تھیں، چناچہ یہاں بھی ان کے ایسے ہی قول کے جواب میں فرمایا گیا کہ شکر گزاروں تو اللہ کو رب جانتا ہے جو اپنے اقوال و افعال اور ولی ارادوں کو درست رکھتے ہیں اللہ تعالیٰ انہیں سلامتیوں کی راہیں دکھاتا ہے اور اندھیروں سے نکال کر نور کی طرف لاتا ہے اور صحیح راہ کی رہنمائی کرتا ہے، جیسے فرمان ہے آیت (وَالَّذِيْنَ جَاهَدُوْا فِيْنَا لَـنَهْدِيَنَّهُمْ سُـبُلَنَا ۭ وَاِنَّ اللّٰهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِيْنَ) 29۔ العنکبوت :69) جو لوگ ہماری فرمانبرداری کی کوشش کرتے ہیں ہم انہیں اپنی صحیح رہ پر لگا دیتے ہیں اللہ تعالیٰ نیک کاروں کا ساتھ دیتا ہے، صحیح حدیث میں ہے اللہ تعالیٰ تمہاری صورتوں اور رنگوں کو نہیں دیکھتا بلکہ نیتوں اور اعمال کو دیھکتا ہے، عکرمہ فرماتے ہیں ربیعہ کے دونوں بیٹے عتبہ اور شیبہ اور عدی کا بیٹا مطعم اور نوفل کا بیٹا حارث اور عمرو کا بیٹا قرطہ اور ابن عبد مناف کے قبیلے کے کافر سب کے سب جمع ہو کر ابو طالب کے پاس گئے اور کہنے لگے دیکھ آپ کے بھتیجے اگر ہماری ایک درخواست قبول کرلیں تو ہمارے دلوں میں ان کی عظمت و عزت ہوگی اور پھر ان کی مجلس میں بھی آمدو رفت شروع کردیں گے اور ہوسکتا ہے کہ ان کی سچائی سمجھ میں آجائے اور ہم بھی مان لیں، ابو طالب نے قوم کے بڑوں کا یہ پیغام رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پہنچایا حضرت عمر بن خطاب ؓ بھی اس وقت اس مجلس میں تھے فرمانے لگے یا رسول اللہ ﷺ ایسا کرنے میں کیا حرج ہے ؟ اللہ عزوجل نے وانذو سے بالشاکرین تک آیتیں اتریں۔ یہ غرباء جنہیں یہ لوگ فیض صحبت سے محروم کرنا چاہتے تھے یہ تھے بلال، عمار، سالم صبیح، ابن مسعود، مقداد، مسعود، واقد، عمرو ذوالشمالین، یزید اور انہی جیسے اور حضرات ؓ اجمعین، انہی دونوں جماعتوں کے بارے میں آیت (وَكَذٰلِكَ فَتَنَّا بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لِّيَقُوْلُوْٓا اَهٰٓؤُلَاۗءِ مَنَّ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ مِّنْۢ بَيْنِنَا ۭ اَلَيْسَ اللّٰهُ بِاَعْلَمَ بالشّٰكِرِيْنَ) 6۔ الانعام :53) بھی نازل ہوئی۔ حضرت عمر ان آیتوں کو سن کر عذر معذرت کرنے لگے اس پر آیت (وَاِذَا جَاۗءَكَ الَّذِيْنَ يُؤْمِنُوْنَ بِاٰيٰتِنَا فَقُلْ سَلٰمٌ عَلَيْكُمْ كَتَبَ رَبُّكُمْ عَلٰي نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ ۙ اَنَّهٗ مَنْ عَمِلَ مِنْكُمْ سُوْۗءًۢا بِجَهَالَةٍ ثُمَّ تَابَ مِنْۢ بَعْدِهٖ وَاَصْلَحَ ۙ فَاَنَّهٗ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ) 6۔ الانعام :54) نازل ہوئی، آخری آیت میں حکم ہوتا ہے کہ ایمان والے جب تیرے پاس آ کر سلام کریں تو ان کے سلام کا جواب دو ان کا احترام کرو اور انہیں اللہ کی وسیع رحمت کی خبر دو کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے اپنے نفس پر رح پر واجب کرلیا ہے، بعض سلف سے منقول ہے کہ گناہ ہر شخص جہالت سے ہی کرتا ہے، عکرمہ فرماتے ہیں دنیا ساری جہالت ہے، غرض جو بھی کوئی برائی کرے پھر اس سے ہٹ جائے اور پورا ارادہ کرلے کہ آئندہ کبھی ایسی حرکت نہیں کرے گا اور آگے کیلئے اپنے عمل کی اصلاح بھی کرلے تو وہ یقین مانے کہ غفور و رحیم اللہ اسے بخشے گا بھی اور اس پر مہربانی بھی کرے گا۔ مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جب مخلوق کی قضا و قدر مقرر کی تو اپنی کتاب میں لکھا جو اس کے پاس عرش کے اوپر ہے کہ میری رحمت میرے غضب پر غالب ہے۔ ابن مردویہ میں حضور کا فرمان ہے کہ جس وقت اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے فیصلے کر دے گا اپنے عرش کے نیچے سے ایک کتاب نکالے گا جس میں یہ تحریر ہے کہ میرا رحم و کرم میرے غصے اور غضب سے زیادہ بڑھا ہوا ہے اور میں سب سے زیادہ رحمت کرنے والا ہوں پھر اللہ تبارک و تعالیٰ ایک بار مٹھیاں بھر کر اپنی مخلوق کو جہنم میں سے نکالے گا جنہوں نے کوئی بھلائی نہیں کی ان کی پیشانیوں پر لکھا ہوا ہوگا کہ یہ اللہ تعالیٰ کے آزاد کردہ ہیں۔ حضرت سلمان فارسی ؓ فرماتے ہیں کہ توراۃ میں ہم لکھا دیکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کو پیدا کیا اور اپنی رحمت کے سو حصے کئے پھر ساری مخلوق میں ان میں سے ایک حصہ رکھا اور ننانوے حصے اپنے پاس باقی رکھے اسی ایک حصہ رحمت کا یہ ظہور ہے کہ مخلوق بھی ایک دوسرے پر مہربانی کرتی ہے اور تواضع سے پیش آتی ہے اور آپس کے تعلقات قائم ہیں، اونٹنی گائے بکری پرند مچھلی وغیرہ جانور اپنے بچوں کی پرورش میں تکلیفیں جھیلتے ہیں اور ان پر پیار و محبت کرتے ہیں، روز قیامت میں اس حصے کو کامل کرنے کے بعد اس میں ننانوے حصے ملا لئے جائیں گے فی الواقع رب کی رحمت اور اس کا فضل بہت ہی وسیع اور کشادہ ہے، یہ حدیث دوسری سند ہے مرفوعاً بھی مروی ہے اور ایسی ہی اکثر حدیثیں آیت (وَرَحْمَتِيْ وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ) 7۔ الاعراف :156) کی تفسیر میں آئیں گی انشاء اللہ تعالیٰ ایسی ہی احادیث میں سے ایک یہ بھی ہے کہ حضور نے حضرت معاذ بن جبل ؓ سے پوجھا جانتے ہو اللہ کا حق بندوں پر کیا ہے ؟ وہ یہ ہے کہ وہ سب اسی کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں۔ پھر فرمایا جانتے ہو بندے جب یہ کرلیں تو ان کا حق اللہ تعالیٰ کے ذمہ کیا ہے ؟ یہ ہے کہ وہ انہیں عذاب نہ کرے، مسند احمد میں یہ حدیث بروایت حضرت ابوہریرہ مروی ہے۔
54
View Single
وَإِذَا جَآءَكَ ٱلَّذِينَ يُؤۡمِنُونَ بِـَٔايَٰتِنَا فَقُلۡ سَلَٰمٌ عَلَيۡكُمۡۖ كَتَبَ رَبُّكُمۡ عَلَىٰ نَفۡسِهِ ٱلرَّحۡمَةَ أَنَّهُۥ مَنۡ عَمِلَ مِنكُمۡ سُوٓءَۢا بِجَهَٰلَةٖ ثُمَّ تَابَ مِنۢ بَعۡدِهِۦ وَأَصۡلَحَ فَأَنَّهُۥ غَفُورٞ رَّحِيمٞ
And when those who believe in Our signs come humbly in your presence, say to them, “Peace be upon you – your Lord has prescribed mercy for Himself by His grace – that whoever among you commits a sin by folly and thereafter repents and reforms (himself), then indeed Allah is Oft Forgiving, Most Merciful.”
اور جب آپ کے پاس وہ لوگ آئیں جو ہماری آیتوں پرایمان رکھتے ہیں تو آپ (ان سے شفقتًا) فرمائیں کہ تم پر سلام ہو تمہارے رب نے اپنی ذات (کے ذمّہ کرم) پر رحمت لازم کرلی ہے، سو تم میں سے جو شخص نادانی سے کوئی برائی کر بیٹھے پھر اس کے بعد توبہ کرلے اور (اپنی) اصلاح کر لے تو بیشک وہ بڑا بخشنے والا بہت رحم فرمانے والا ہے
Tafsir Ibn Kathir
The Messenger Neither has the Key to Allah's Treasures, Nor Knows the Unseen
Allah said to His Messenger ,
قُل لاَّ أَقُولُ لَكُمْ عِندِى خَزَآئِنُ اللَّهِ
(Say: "I don't tell you that with me are the treasures of Allah.") meaning, I do not own Allah's treasures or have any power over them,
وَلا أَعْلَمُ الْغَيْبَ
(nor (that) I know the Unseen,) and I do not say that I know the Unseen, because its knowledge is with Allah and I only know what He conveys of it to me.
وَلا أَقُولُ لَكُمْ إِنِّى مَلَكٌ
(nor I tell you that I am an angel.) meaning, I do not claim that I am an angel. I am only a human to whom Allah sends revelation, and He honored me with this duty and favored me with it.
إِنْ أَتَّبِعُ إِلاَّ مَا يُوحَى إِلَىَّ
(I but follow what is revealed to me.) and I never disobey the revelation in the least.
قُلْ هَلْ يَسْتَوِى الاٌّعْمَى وَالْبَصِيرُ
(Say: "Are the blind and the one who sees equal") meaning, `Is the one who is guided, following the truth, equal to the one misled'
أَفَلاَ تَتَفَكَّرُونَ
(Will you not then consider) In another Ayah, Allah said;
أَفَمَن يَعْلَمُ أَنَّمَآ أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَبِّكَ الْحَقُّ كَمَنْ هُوَ أَعْمَى إِنَّمَا يَتَذَكَّرُ أُوْلُواْ الأَلْبَـبِ
(Shall he then who knows that what has been revealed to you from your Lord is the truth, be like him who is blind But it is only the men of understanding that pay heed.) 13:19 Allah's statement,
وَأَنذِرْ بِهِ الَّذِينَ يَخَافُونَ أَن يُحْشَرُواْ إِلَى رَبِّهِمْ لَيْسَ لَهُمْ مِّن دُونِهِ وَلِىٌّ وَلاَ شَفِيعٌ
(And warn therewith those who fear that they will be gathered before their Lord, when there will be neither a protector nor an intercessor for them besides Him,) means, warn with this Qur'an, O Muhammad ,
الَّذِينَ هُم مِّنْ خَشْيةِ رَبِّهِمْ مُّشْفِقُونَ
(Those who live in awe for fear of their Lord) 23:57, who,
يَخْشَوْنَ رَبَّهُموَيَخَافُونَ سُوءَ الحِسَابِ
(Fear their Lord, and dread the terrible reckoning.) 13:21,
الَّذِينَ يَخَافُونَ أَن يُحْشَرُواْ إِلَى رَبِّهِمْ
(those who fear that they will be gathered before their Lord,) on the Day of Resurrection,
لَيْسَ لَهُمْ مِّن دُونِهِ وَلِىٌّ وَلاَ شَفِيعٌ
(when there will be neither a protector nor an intercessor for them besides Him, ) for on that Day, they will have no relative or intercessor who can prevent His torment if He decides to punish them with it,
لَعَلَّهُمْ يَتَّقُونَ
(so that they may have Taqwa.) Therefore, warn of the Day when there will be no judge except Allah,
لَعَلَّهُمْ يَتَّقُونَ
(so that they may have Taqwa.) and thus work good deeds in this life, so that their good deeds may save them on the Day of Resurrection from Allah's torment, and so that He will grant them multiple rewards.
Prohibiting the Messenger from Turning the Weak Away and the Order to Honor Them
Allah said,
وَلاَ تَطْرُدِ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِىِّ يُرِيدُونَ وَجْهَهُ
(And turn not away those who invoke their Lord, morning and evening seeking His Face.) meaning, do not turn away those who have these qualities, instead make them your companions and associates. In another Ayah, Allah said;
وَاصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُم بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِىِّ يُرِيدُونَ وَجْهَهُ وَلاَ تَعْدُ عَيْنَاكَ عَنْهُمْ تُرِيدُ زِينَةَ الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَلاَ تُطِعْ مَنْ أَغْفَلْنَا قَلْبَهُ عَن ذِكْرِنَا وَاتَّبَعَ هَوَاهُ وَكَانَ أَمْرُهُ فُرُطًا
(And keep yourself patiently with those who call on their Lord morning and evening, seeking His Face, and let not your eyes overlook them, desiring the pomp and glitter of the life of the world; and obey not him whose heart We have made heedless of Our remembrance, one who follows his own lusts and whose affair (deeds) has been lost.)18:28 Allah's statement,
يَدْعُونَ رَبَّهُمْ
(invoke their Lord...) refers to those who worship Him and supplicate to Him,
بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِىِّ
(morning and evening.) referring to the obligatory prayers, according to Sa`id bin Al-Musayyib, Mujahid, Al-Hasan and Qatadah. In another Ayah, Allah said;
وَقَالَ رَبُّكُـمْ ادْعُونِى أَسْتَجِبْ لَكُمْ
(And your Lord said, "Invoke Me, I will respond (to your invocation).") 40:60, I will accept your supplication. Allah said next,
يُرِيدُونَ وَجْهَهُ
(seeking His Face.) meaning, they seek Allah's Most Generous Face, by sincerity for Him in the acts of worship and obedience they perform. Allah said;
مَا عَلَيْكَ مِنْ حِسَابِهِم مِّن شَىْءٍ وَمَا مِنْ حِسَابِكَ عَلَيْهِمْ مِّن شَىْءٍ
(You are accountable for them in nothing, and they are accountable for you in nothing,) This is similar to the answer Nuh gave to his people when they said,
أَنُؤْمِنُ لَكَ وَاتَّبَعَكَ الاٌّرْذَلُونَ
(Shall we believe in you, when the meekest (of the people) follow you") 26:111. Nuh answered them,
قَالَ وَمَا عِلْمِى بِمَا كَانُواْ يَعْمَلُونَ - إِنْ حِسَابُهُمْ إِلاَّ عَلَى رَبِّى لَوْ تَشْعُرُونَ
(And what knowledge have I of what they used to do Their account is only with my Lord, if you could (but) know.) 26:112-113, meaning, their reckoning is for Allah not me, just as my reckoning is not up to them. Allah said here,
فَتَطْرُدَهُمْ فَتَكُونَ مِنَ الظَّـلِمِينَ
(that you may turn them away, and thus become of the wrongdoers.) meaning, you will be unjust if you turn them away. Allah's statement,
وَكَذلِكَ فَتَنَّا بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ
(Thus We have tried some of them with others) means, We tested, tried and checked them with each other,
لِّيَقُولواْ أَهَـؤُلاءِ مَنَّ اللَّهُ عَلَيْهِم مِّن بَيْنِنَآ
(That they might say: "Is it these (poor believers) that Allah has favored from amongst us") This is because at first, most of those who followed the Messenger of Allah ﷺ were the weak among the people, men, women, slaves, and only a few chiefs or noted men followed him. Nuh, was also addressed by his people
وَمَا نَرَاكَ اتَّبَعَكَ إِلاَّ الَّذِينَ هُمْ أَرَاذِلُنَا بَادِىَ الرَّأْى
(Nor do we see any follow you but the meekest among us and they (too) followed you without thinking.) 11:27 KHeraclius, emperor of Rome, asked Abu Sufyan, "Do the noblemen or the weak among people follow him (Muhammad )" Abu Sufyan replied, "Rather the weak among them." Heraclius commented, "Such is the case with followers of the Messengers." The idolators of Quraysh used to mock the weak among them who believed in the Prophet and they even tortured some of them. They used to say, "Are these the ones whom Allah favored above us," meaning, Allah would not guide these people, instead of us, to all that is good, if indeed what they embraced is good. Allah mentioned similar statements in the Qur'an from the disbelievers,
لَوْ كَانَ خَيْراً مَّا سَبَقُونَآ إِلَيْهِ
(Had it been a good thing, they (weak and poor) would not have preceded us to it!) 46:11, and,
وَإِذَا تُتْلَى عَلَيْهِمْ ءَايَـتُنَا بِيِّنَـتٍ قَالَ الَّذِينَ كَفَرُواْ لِلَّذِينَ ءَامَنُواْ أَىُّ الْفَرِيقَيْنِ خَيْرٌ مَّقَاماً وَأَحْسَنُ نَدِيّاً
(And when Our clear verses are recited to them, those who disbelieve say to those who believe: "Which of the two groups is best in position and station.") 19:73 Allah said in reply,
وَكَمْ أَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّن قَرْنٍ هُمْ أَحْسَنُ أَثَاثاً وَرِءْياً
(And how many a generation (past nations) have We destroyed before them, who were better in wealth, goods and outward appearance) 19:74. Here, Allah answered the disbelievers when they said,
أَهَـؤُلاءِ مَنَّ اللَّهُ عَلَيْهِم مِّن بَيْنِنَآ أَلَيْسَ اللَّهُ بِأَعْلَمَ بِالشَّـكِرِينَ
("Is it these (poor believers) that Allah has favored from amongst us" Does not Allah know best those who are grateful) Meaning is not Allah more knowledgeable of those who thank and appreciate Him in statement, action and heart Thus Allah directs these believers to the ways of peace, transfers them from darkness to light by His leave, and guides them to the straight path. In another Ayah, Allah said;
وَالَّذِينَ جَـهَدُواْ فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا وَإِنَّ اللَّهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِينَ
(As for those who strive hard for Us (Our cause), We will surely guide them to Our paths (i.e. Allah's religion). And verily, Allah is with the doers of good") 29:69. An authentic Hadith states,
«إِنَّ اللهَ لَا يَنْظُرُ إِلَى صُوَرِكُمْ وَلَا إِلَى أَلْوَانِكُمْ، وَلَكِنْ يَنْظُرُ إِلَى قُلُوبِكُمْ وَأَعْمَالِكُم»
(Allah does not look at your shapes or colors, but He looks at your heart and actions.) Allah's statement,
وَإِذَا جَآءَكَ الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِـَايَـتِنَا فَقُلْ سَلَـمٌ عَلَيْكُمْ
(When those who believe in Our Ayat come to you, say: "Salamun `Alaykum" (peace be on you);) means, honor them by returning the Salam and give them the good news of Allah's exclusive, encompassing mercy for them. So Allah said;
كَتَبَ رَبُّكُمْ عَلَى نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ
(your Lord has written Mercy for Himself,) meaning, He has obliged His Most Honored Self to grant mercy, as a favor, out of His compassion and beneficence,
أَنَّهُ مَن عَمِلَ مِنكُمْ سُوءًا بِجَهَالَةٍ
(So that, if any of you does evil in ignorance...) as every person who disobeys Allah does it in ignorance,
ثُمَّ تَابَ مِن بَعْدِهِ وَأَصْلَحَ
(and thereafter repents and does righteous good deeds,) by repenting from the sins that he committed, intending not to repeat the sin in the future, but to perform righteous deeds,
فَأَنَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ
(then surely, He is Oft-Forgiving Most Merciful.) Imam Ahmad recorded that Abu Hurayrah said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«لَمَّا قَضَى اللهُ الْخَلْقَ كَتَبَ فِي كِتَابٍ فَهُوَ عِنْدَهُ فَوْقَ الْعَرْشِ: إِنَّ رَحْمَتِي غَلَبَتْ غَضَبِي»
(When Allah finished with the creation, He wrote in a Book that He has with Him above the Throne, `My mercy prevails over My anger'.) This Hadith was also recorded in the The Two Sahihs.
مسلمانو ! طبقاتی عصبیت سے بچو اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ سے فرماتا ہے کہ لوگوں میں اعلان کردو کہ میں اللہ کے خزانوں کا مالک نہیں نہ مجھے ان میں کسی طرح کا اختیار ہے، نہ میں یہ کہتا ہوں کہ میں غیب کا جاننے والا ہوں، رب نے جو چیزیں خاص اپنے علم میں رکھی ہیں مجھے ان میں سے کچھ بھی معلوم نہیں، ہاں جن چیزوں سے خود اللہ نے مجھے مطلع کر دے ان پر مجھے اطلاع ہوجاتی ہے، میرا یہ بھی دعوی نہیں کہ میں کوئی فرشتہ ہوں، میں تو انسان ہوں، اللہ تعالیٰ نے مجھے جو شرف دیا ہے یعنی میری طرف جو وحی نازل فرمائی ہے میں اسی کا عمل پیرا ہوں، اس سے ایک بالشت ادھر ادھر نہیں ہٹتا۔ کیا حق کے تابعدار جو بصارت والے ہیں اور حق سے محروم جو اندھے ہیں برابر ہوسکتے ہیں ؟ کیا تم اتنا غور بھی نہیں کرتے ؟ اور آیت میں ہے کہ کیا وہ شخص جو جانتا ہے کہ جو کچھ تیری طرف تیرے رب کی جانب سے اترا ہے حق ہے اس شخص جیسا ہوسکتا ہے جو نابینا ہے ؟ نصیحت تو صرف وہی حاصل کرتے ہیں جو عقلمند ہیں ؟ اے نبی ﷺ آپ قرآن کے ذریعہ انہیں راہ راست پر لائیں جو رب کے سامنے کھڑے ہونے کا خوف دل میں رکھتے ہیں، حساب کا کھٹکار رکھتے ہیں، جانتے ہیں کہ رب کے سامنے پیش ہونا ہے اس دن اس کے سوا اور کوئی ان کا قریبی یا سفارشی نہ ہوگا، وہ اگر عذاب کرنا چاہے تو کوئی شفاعت نہیں کرسکتا۔ یہ تیرا ڈرانا اس لئے ہے کہ شاید وہ تقی بن جائیں حاکم حقیقی سے ڈر کر نیکیاں کریں اور قیامت کے عذابوں سے چھوٹیں اور ثابت کے مستحق بن جائیں، پھر فرماتا ہے یہ مسلمان غرباء جو صبح شام اپنے پروردگار کا نام جپتے ہیں خبردار انہیں حقیر نہ سمجھنا انہیں اپنے پاس سے نہ ہٹانا بلکہ انہی کو اپنی صحبت میں رکھ کر انہی کے ساتھ بیٹھ اٹھ۔ جیسے اور آیت میں ہے آیت (وَاصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بالْغَدٰوةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيْدُوْنَ وَجْهَهٗ وَلَا تَعْدُ عَيْنٰكَ عَنْهُمْ) 18۔ الکہف :28) یعنی انہی کے ساتھ رہ جو صبح شام اپنے پروردگار کو پکارتے ہیں اسی کی رضا مندی کی طلب کرتے ہیں، خبردار ان کی طرف سے آنکھیں نہ پھیرنا کہ دنیا کی زندگی کی آسائش طلب کرنے لگو اس کا کہا نہ کرنا جس کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کردیا ہے اور اس نے اپنی خواہش کی پیروی کی ہے اور اس کا ہر کام حد سے گزرا ہوا ہے بلکہ ان کا ساتھ دے جو صبح شام اللہ کی عبادت کرتے ہیں اور اسی سے دعائیں مانگتے ہیں بعض بزرگ فرماتے ہیں مراد اس سے فرض نمازیں ہیں اور آیت میں ہے آیت (وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُوْنِيْٓ اَسْتَجِبْ لَكُمْ ۭ اِنَّ الَّذِيْنَ يَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِيْ سَيَدْخُلُوْنَ جَهَنَّمَ دٰخِرِيْنَ) 40۔ غافر :60) تمہارے رب کا اعلان ہے کہ مجھ سے دعائیں کرو میں قبول کروں گا ان اطاعتوں اور عبادتوں سے ان کا ارادہ اللہ کریم کے دیدار کا ہے، محض خلوص اخلاص والی ان کی نیتیں ہیں، ان کا کوئی حساب تجھ پر نہیں نہ تیرا کوئی حساب ان پر، جناب نوح ؑ سے جب ان کی قوم کے شرفا نے کہا تھا کہ ہم تجھے کیسے مان لیں تیرے ماننے والے تو اکثر غریب مسکین لوگ ہیں تو آپ نے یہی جواب دیا کہ ان کے اعمال کا مجھے کیا علم ہے ان کا حساب تو میرے رب پر ہے لیکن تمہیں اتنا بھی شعور نہیں پھر بھی تم نے ان غریب مسکین لوگوں کو اپنی مجلس میں نہ بیٹھنے دیا۔ ان سے ذرا بھی بےرخی کی تو یاد رکھنا تمہارا شمار بھی ظالموں میں ہوجائے گا، مسند احمد میں ہے کہ قریش کے بڑے لوگ نبی ﷺ کے پاس گئے اس وقت آپ کی مجلس مبارک میں حضرت صہیب ؓ ، حضرت بلال ؓ ، حضرت خباب ؓ حضرت عمار ؓ تھے، انہیں دیکھ کر یہ لوگ کہنے لگے دیکھو تو ہمیں چھوڑ کر کن کے ساتھ بیٹھے ہیں ؟ تو آیت (و انذر بہ سے بالشاکرین تک اتری۔ ابن جریر میں ہے کہ ان لوگوں اور ان جیسے اوروں کو حضور کی مجلس میں دیکھ کر مشرک سرداروں نے یہ بھی کہا تھا کہ کیا یہی لوگ رہ گئے ہیں کہ اللہ نے ہم سب میں سے چن چن کر انہی پر احسان کیا ؟ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ یہ پے در پے سہارا لوگ بھی ہم امیروں رئیسوں کے برابر بیٹھیں دیکھئے حضرت اگر آپ انہیں اپنی مجلس سے نکال دیں تو وہ آپ کی مجلس میں بیٹھ سکتے ہیں اس پر آیت (وَلَا تَطْرُدِ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بالْغَدٰوةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيْدُوْنَ وَجْهَهٗ) 6۔ الانعام :52) شاکرین تک اتری۔ ابن ابی حاتم میں قریش کے ان معززین لوگوں میں سے دو کے نام یہ ہیں اقرع بن حابس تیمی، عینیہ بن حصن فزاری، اس روایت میں یہ بھی ہے کہ تنہائی میں مل کر انہوں نے حضور کو سمجھایا کہ ان غلام اور گرے پڑے بےحیثیت لوگوں کے ساتھ ہمیں بیٹھتے ہوئے شرم معلوم ہوتی ہے، آپ کی مجلس میں عرب کا وفد آیا کرتے ہیں وہ ہمیں ان کے ساتھ دیکھ کر ہمیں بھی ذلیل خیال کریں گے تو آپ کم سے کم اتنا ہی کیجئے کہ جب ہم آئیں تب خاص مجلس ہو اور ان جیسے گرے پڑے لوگ اس میں شامل نہ کئے جائین، ہاں جب ہم نہ ہوں تو آپ کو اختیار ہے جب یہ بات طے ہوگئی اور آپ نے بھی اس کا اقرار کرلیا تو انہوں نے کہا ہمارا یہ معاہدہ تحریر میں آجانا چاہیے آپ نے کاغذ منگوایا اور حضرت علی کو لکھنے کیلئے بلوایا، مسلمانوں کا یہ غریب طبقہ ایک کونے میں بیٹھا ہوا تھا اسی وقت حضرت جبرائیل اترے اور یہ آیت نازل ہوئی حضور نے کاغذ پھینک دیا اور ہمیں اپنے پاس بلا لیا اور ہم نے پھر سے رسول اللہ ﷺ کو اپنے حلقے میں لے لیا، لیکن یہ حدیث غریب ہے آیت مکی ہے اوراقرع اور عینیہ ہجرت کے بہت سارے زمانے کے بعد اسلام میں آئے ہیں حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ بھی تھے ہم لوگ سب سے پہلے خدمت نبوی میں جاتے اور آپ کے اردگرد بیٹھتے تاکہ پور طرح اور شروع سے آخر تک آپ کی حدیثیں سنیں۔ قریش کے بڑے لوگوں پر یہ بات گراں گزرتی تھی اس کے برخلاف یہ آیت اتری (مستدرک حاکم) پھر فرماتا ہے اسی طرح ہم ایک دورے کو پرکھ لیتے ہیں اور ایک سے ایک کا امتحان لے لیتے ہیں کہ یہ امرا ان غرباء سے متعلق اپنی رائے ظاہر کردیں کہ کیا یہی لوگ ہیں جن پر اللہ نے احسان کیا اور ہم سب میں سے اللہ کو یہی لوگ پسند آئے ؟ حضور ﷺ کو سب سے پہلے تسلیم کرنے والے یہی بیچارے بےمایہ غریب غرباء لوگ تھے مرد عورت لونڈی غلام وغیرہ، بڑے بڑے اور ذی وقعت لوگوں میں سے تو اس وقت یونہی کوئی اکا دکا آگیا تھا۔ یہی لوگ دراصل انبیاء (علیہم السلام) کے مطیع اور فرمانبردار ہوتے رہے۔ قوم نوح نے کہا تھا (وَمَا نَرٰىكَ اتَّبَعَكَ اِلَّا الَّذِيْنَ هُمْ اَرَاذِلُـنَا بَادِيَ الرَّاْيِ) 11۔ ہود :27) یعنی ہم تو دیکھتے ہیں کہ تیری تابعداری رذیل اور بیوقوف لوگوں نے ہی کی ہے، شاہ روم ہرقل نے جب ابو سفیان سے حضور کی بابت یہ دریافت کیا کہ شریف لوگوں نے اس کی پیروی اختیار کی ہے ؟ یا ضعیف لوگوں نے ؟ تو ابو سفیان نے جواب دیا تھا کہ ضعیف لوگوں نے، بادشاہ نے اس سے یہ نتیجہ نکالا کہ فی الواقع تمام نبیوں کا اول پیرو یہی طبقہ ہوتا ہے، الغرض مشرکین مکہ ان ایمان داروں کا مزاق اڑاتے اور انہیں ستاتے تھے جہاں تک بس چلتا انہیں سزائیں دیتے اور کہتے کہ یہ ناممکن ہے کہ بھلائی انہیں تو نظر آجائے اور ہم یونہی رہ جائیں ؟ قرآن میں ان کا قول یہ بھی ہے کہ آیت (لَوْ كَانَ خَيْرًا مَّا سَبَقُوْنَآ اِلَيْهِ) 46۔ الاحقاف :11) اگر یہ کوئی اچھی چیز ہوتی تو یہ لوگ ہم سے آگے نہ بڑھ سکتے اور آیت میں ہے جب ان کے سامنے ہماری صاف اور واضح آیتیں تلاوت کی جاتی ہیں تو یہ کفار ایمانداروں سے کہتے یہیں کہ بتاؤ تو مرتبے میں عزت میں حسب نسب میں کون شریف ہے ؟ اس کے جواب میں رب نے فرمایا آیت (وَكَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنْ قَرْنٍ هُمْ اَحْسَنُ اَثَاثًا وَّرِءْيًا) 19۔ مریم :74) یعنی ان سے پہلے ہم نے بہت سی بستیاں تباہ کردی ہیں جو باعتبار سامان و اسباب کے اور باعتبار نمود و ریا کے ان سے بہت ہی آگے بڑھی ہوئی تھیں، چناچہ یہاں بھی ان کے ایسے ہی قول کے جواب میں فرمایا گیا کہ شکر گزاروں تو اللہ کو رب جانتا ہے جو اپنے اقوال و افعال اور ولی ارادوں کو درست رکھتے ہیں اللہ تعالیٰ انہیں سلامتیوں کی راہیں دکھاتا ہے اور اندھیروں سے نکال کر نور کی طرف لاتا ہے اور صحیح راہ کی رہنمائی کرتا ہے، جیسے فرمان ہے آیت (وَالَّذِيْنَ جَاهَدُوْا فِيْنَا لَـنَهْدِيَنَّهُمْ سُـبُلَنَا ۭ وَاِنَّ اللّٰهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِيْنَ) 29۔ العنکبوت :69) جو لوگ ہماری فرمانبرداری کی کوشش کرتے ہیں ہم انہیں اپنی صحیح رہ پر لگا دیتے ہیں اللہ تعالیٰ نیک کاروں کا ساتھ دیتا ہے، صحیح حدیث میں ہے اللہ تعالیٰ تمہاری صورتوں اور رنگوں کو نہیں دیکھتا بلکہ نیتوں اور اعمال کو دیھکتا ہے، عکرمہ فرماتے ہیں ربیعہ کے دونوں بیٹے عتبہ اور شیبہ اور عدی کا بیٹا مطعم اور نوفل کا بیٹا حارث اور عمرو کا بیٹا قرطہ اور ابن عبد مناف کے قبیلے کے کافر سب کے سب جمع ہو کر ابو طالب کے پاس گئے اور کہنے لگے دیکھ آپ کے بھتیجے اگر ہماری ایک درخواست قبول کرلیں تو ہمارے دلوں میں ان کی عظمت و عزت ہوگی اور پھر ان کی مجلس میں بھی آمدو رفت شروع کردیں گے اور ہوسکتا ہے کہ ان کی سچائی سمجھ میں آجائے اور ہم بھی مان لیں، ابو طالب نے قوم کے بڑوں کا یہ پیغام رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پہنچایا حضرت عمر بن خطاب ؓ بھی اس وقت اس مجلس میں تھے فرمانے لگے یا رسول اللہ ﷺ ایسا کرنے میں کیا حرج ہے ؟ اللہ عزوجل نے وانذو سے بالشاکرین تک آیتیں اتریں۔ یہ غرباء جنہیں یہ لوگ فیض صحبت سے محروم کرنا چاہتے تھے یہ تھے بلال، عمار، سالم صبیح، ابن مسعود، مقداد، مسعود، واقد، عمرو ذوالشمالین، یزید اور انہی جیسے اور حضرات ؓ اجمعین، انہی دونوں جماعتوں کے بارے میں آیت (وَكَذٰلِكَ فَتَنَّا بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لِّيَقُوْلُوْٓا اَهٰٓؤُلَاۗءِ مَنَّ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ مِّنْۢ بَيْنِنَا ۭ اَلَيْسَ اللّٰهُ بِاَعْلَمَ بالشّٰكِرِيْنَ) 6۔ الانعام :53) بھی نازل ہوئی۔ حضرت عمر ان آیتوں کو سن کر عذر معذرت کرنے لگے اس پر آیت (وَاِذَا جَاۗءَكَ الَّذِيْنَ يُؤْمِنُوْنَ بِاٰيٰتِنَا فَقُلْ سَلٰمٌ عَلَيْكُمْ كَتَبَ رَبُّكُمْ عَلٰي نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ ۙ اَنَّهٗ مَنْ عَمِلَ مِنْكُمْ سُوْۗءًۢا بِجَهَالَةٍ ثُمَّ تَابَ مِنْۢ بَعْدِهٖ وَاَصْلَحَ ۙ فَاَنَّهٗ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ) 6۔ الانعام :54) نازل ہوئی، آخری آیت میں حکم ہوتا ہے کہ ایمان والے جب تیرے پاس آ کر سلام کریں تو ان کے سلام کا جواب دو ان کا احترام کرو اور انہیں اللہ کی وسیع رحمت کی خبر دو کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے اپنے نفس پر رح پر واجب کرلیا ہے، بعض سلف سے منقول ہے کہ گناہ ہر شخص جہالت سے ہی کرتا ہے، عکرمہ فرماتے ہیں دنیا ساری جہالت ہے، غرض جو بھی کوئی برائی کرے پھر اس سے ہٹ جائے اور پورا ارادہ کرلے کہ آئندہ کبھی ایسی حرکت نہیں کرے گا اور آگے کیلئے اپنے عمل کی اصلاح بھی کرلے تو وہ یقین مانے کہ غفور و رحیم اللہ اسے بخشے گا بھی اور اس پر مہربانی بھی کرے گا۔ مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جب مخلوق کی قضا و قدر مقرر کی تو اپنی کتاب میں لکھا جو اس کے پاس عرش کے اوپر ہے کہ میری رحمت میرے غضب پر غالب ہے۔ ابن مردویہ میں حضور کا فرمان ہے کہ جس وقت اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے فیصلے کر دے گا اپنے عرش کے نیچے سے ایک کتاب نکالے گا جس میں یہ تحریر ہے کہ میرا رحم و کرم میرے غصے اور غضب سے زیادہ بڑھا ہوا ہے اور میں سب سے زیادہ رحمت کرنے والا ہوں پھر اللہ تبارک و تعالیٰ ایک بار مٹھیاں بھر کر اپنی مخلوق کو جہنم میں سے نکالے گا جنہوں نے کوئی بھلائی نہیں کی ان کی پیشانیوں پر لکھا ہوا ہوگا کہ یہ اللہ تعالیٰ کے آزاد کردہ ہیں۔ حضرت سلمان فارسی ؓ فرماتے ہیں کہ توراۃ میں ہم لکھا دیکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کو پیدا کیا اور اپنی رحمت کے سو حصے کئے پھر ساری مخلوق میں ان میں سے ایک حصہ رکھا اور ننانوے حصے اپنے پاس باقی رکھے اسی ایک حصہ رحمت کا یہ ظہور ہے کہ مخلوق بھی ایک دوسرے پر مہربانی کرتی ہے اور تواضع سے پیش آتی ہے اور آپس کے تعلقات قائم ہیں، اونٹنی گائے بکری پرند مچھلی وغیرہ جانور اپنے بچوں کی پرورش میں تکلیفیں جھیلتے ہیں اور ان پر پیار و محبت کرتے ہیں، روز قیامت میں اس حصے کو کامل کرنے کے بعد اس میں ننانوے حصے ملا لئے جائیں گے فی الواقع رب کی رحمت اور اس کا فضل بہت ہی وسیع اور کشادہ ہے، یہ حدیث دوسری سند ہے مرفوعاً بھی مروی ہے اور ایسی ہی اکثر حدیثیں آیت (وَرَحْمَتِيْ وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ) 7۔ الاعراف :156) کی تفسیر میں آئیں گی انشاء اللہ تعالیٰ ایسی ہی احادیث میں سے ایک یہ بھی ہے کہ حضور نے حضرت معاذ بن جبل ؓ سے پوجھا جانتے ہو اللہ کا حق بندوں پر کیا ہے ؟ وہ یہ ہے کہ وہ سب اسی کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں۔ پھر فرمایا جانتے ہو بندے جب یہ کرلیں تو ان کا حق اللہ تعالیٰ کے ذمہ کیا ہے ؟ یہ ہے کہ وہ انہیں عذاب نہ کرے، مسند احمد میں یہ حدیث بروایت حضرت ابوہریرہ مروی ہے۔
55
View Single
وَكَذَٰلِكَ نُفَصِّلُ ٱلۡأٓيَٰتِ وَلِتَسۡتَبِينَ سَبِيلُ ٱلۡمُجۡرِمِينَ
And this is how We explain Our verses clearly and so that the way of the criminals become well exposed.
اور اسی طرح ہم آیتوں کو تفصیلاً بیان کرتے ہیں اور (یہ) اس لئے کہ مجرموں کا راستہ (سب پر) ظاہر ہوجائے
Tafsir Ibn Kathir
The Prophet Understands What He Conveys; Torment is in Allah's Hands Not the Prophet's
Allah says, just as We mentioned the clear signs that testify and direct to the path of guidance, all the while chastising useless arguments and defiance,
كَذلِكَ نُفَصِّلُ الآيَـتِ
(And thus do We explain the Ayat in detail,) that is, whatever responsible adults need explained to them, in the affairs of life and religion,
وَلِتَسْتَبِينَ سَبِيلُ الْمُجْرِمِينَ
(That the way of the criminals may become manifest.) so that the path of the criminals who defy the Prophets is apparent and clear. This Ayah was also said to mean, so that you, O Muhammad , are aware of the path of the criminals. Allah's statement,
قُلْ إِنِّى عَلَى بَيِّنَةٍ مِّن رَّبِّى
(Say: "I am on clear proof from my Lord...") means: I have a clear understanding of the Law of Allah that He has revealed to me,
وَكَذَّبْتُم بِهِ
(but you deny it.) meaning, but you disbelieve in the truth that came to me from Allah.
مَا عِندِى مَا تَسْتَعْجِلُونَ بِهِ
(I do not have what you are hastily seeking) meaning, the torment,
إِنِ الْحُكْمُ إِلاَّ للَّهِ
(The decision is only for Allah,) for the ruling of this is with Allah. If He wills, He will punish you soon in response to your wish! If He wills, He will give you respite, out of His great wisdom. This is why Allah said,
يَقُصُّ الْحَقَّ وَهُوَ خَيْرُ الْفَـصِلِينَ
(He declares the truth, and He is the best of judges.) and the best in reckoning between His servants. Allah's statement,
قُل لَّوْ أَنَّ عِندِى مَا تَسْتَعْجِلُونَ بِهِ لَقُضِىَ الاٌّمْرُ بَيْنِى وَبَيْنَكُمْ
(Say: "If I had that which you are asking for impatiently (the torment), the matter would have been settled at once between you and I,") means, if I have what you ask for, I will surely send down what you deserve of it,
وَاللهُ أَعْلَمْ بِالظَّالِمِيَن
(but Allah knows best the wrongdoers) Someone might ask about the meaning of this Ayah compared to the Hadith in the Two Sahihs, from `A'ishah, may Allah be pleased with her, that she said to the Messenger ﷺ, "O Allah's Messenger ! Have you encountered a day harder than the day (of the battle) of Uhud" The Prophet replied,
«لَقَدْ لَقِيتُ مِنْ قَوْمِكِ، وَكَانَ أَشَدَّ مَا لَقِيتُ مِنْهُمْ يَوْمَ الْعَقَبَةِ،إِذْ عَرَضْتُ نَفْسِي عَلَى ابْنِ عَبْدِيَالِيلَ بْنِ عَبْدِكُلَالٍ، فَلَمْ يُجِبْنِي إِلَى مَا أَرَدْتُ، فَانْطَلَقْتُ وَأَنَا مَهْمُومٌ عَلَى وَجْهِي، فَلَمْ أَسْتَفِقْ إِلَّا بِقَرْنِ الثَّعَالِبِ، فَرَفَعْتُ رَأْسِي، فَإِذَا أَنَا بِسَحَاَبَةٍ قَدْ ظَلَّلَتْنِي، فَنَظَرْتُ فَإِذَا فِيهَا جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَنَادَانِي فَقَالَ: إِنَّ الله قَدْ سَمِعَ قَوْلَ قَوْمِكَ لَكَ، وَمَا رَدُّوا عَلَيْكَ، وَقَدْ بَعَثَ إِلَيْكَ مَلَكَ الْجِبَالِ، لِتَأْمُرَهُ بِمَا شِئْتَ فِيهِمْ، قَالَ: فَنَادَانِي مَلَكُ الْجِبَالِ وَسَلَّمَ عَلَيَّ، ثُمَّ قَالَ: يَا مُحَمَّدُ إِنَّ اللهَ قَدْ سَمِعَ قَوْلَ قَوْمِكَ لَكَ، وَقَدْ بَعَثَنِي رَبُّكَ إِلَيْكَ، لِتَأْمُرَنِي بِأَمْرِكَ فِيمَا شِئْتَ، إِنْ شِئْتَ أَطْبَقْتُ عَلَيْهِمُ الْأَخْشَبَيْن»
فَقَالَ رَسُولُ اللهِصلى الله عليه وسلّم:
«بَلْ أَرْجُو أَنْ يُخْرِجَ اللهُ مِنْ أَصْلَابِهِمْ، مَنْ يَعْبُدُ اللهَ لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا»
(Your people have troubled me alot and the worst trouble was on the day of `Aqabah when I presented myself to Ibn `Abd Yalil bin `Abd Kulal, who did not respond to my call. So I departed, overwhelmed with severe sorrow, proceeded on and could not relax until I found myself at Qarn Ath-Tha`alib where I raised my head towards the sky to see a cloud unexpectedly shading me. I looked up and saw Jibril in it and he called me saying, `Indeed Allah has heard what you said to the people and what they have responded to you. Therefore, Allah has sent the Angel of the Mountains to you so that you may order him to do whatever you wish to these people.' The Angel of the Mountains called and greeted me, and then said, `O Muhammad! verily, Allah has heard how your people responded to you and He has sent me to you so that you could order me to do what you wish. If you like, I will let Al-Akhshabayn (two mountains to the north and south of Makkah) fall on them.' The Prophet said, No, but I hope that Allah will let them generate offspring who will worship Allah Alone, and will worship none besides Him.) This is the wording of Muslim. Tormenting the disbelievers of Quraysh was offered to the Prophet , but he chose patience and asked Allah for respite for them, so that Allah might let them generate offspring who will not associate anything with Him in worship. Therefore, how can we combine the meaning of this Hadith and the honorable Ayah,
قُل لَّوْ أَنَّ عِندِى مَا تَسْتَعْجِلُونَ بِهِ لَقُضِىَ الاٌّمْرُ بَيْنِى وَبَيْنَكُمْ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِالظَّـلِمِينَ
(Say: "If I had that which you are asking for impatiently (the torment), the matter would have been settled at once between you and I, but Allah knows best the wrongdoers.") The answer to this question is, Allah knows the best, that the Ayah states that if the punishment that they asked for was in the Prophet's hand at the time, he would have sent it on them as they asked. As for the Hadith, the disbelievers did not ask the Prophet to send the torment down on them. Rather, the angel responsible for the mountains offered him the choice to let the two mountains to the north and south of Makkah close in on the disbelievers and crush them. The Prophet did not wish that and asked for respite out of compassion for them.
Allah said next,
وَعِندَهُ مَفَاتِحُ الْغَيْبِ لاَ يَعْلَمُهَآ إِلاَّ هُوَ
(And with Him are the keys of the Ghayb (all that is hidden), none knows them but He.) Al-Bukhari recorded that Salim bin `Abdullah said that his father said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«مَفَاتِيحُ الْغَيْبِ خَمْسٌ لَا يَعْلَمُهُنَّ إِلَّا الله»
(The keys of the Unseen are five and none except Allah knows them:
إِنَّ اللَّهَ عِندَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِى الاٌّرْحَامِ وَمَا تَدْرِى نَفْسٌ مَّاذَا تَكْسِبُ غَداً وَمَا تَدْرِى نَفْسٌ بِأَىِّ أَرْضٍ تَمُوتُ إِنَّ اللَّهَ عَلَيمٌ خَبِيرٌ
(Verily, Allah! With Him (Alone) is the knowledge of the Hour, He sends down the rain, and knows that which is in the wombs. No person knows what he will earn tomorrow, and no person knows in what land he will die. Verily, Allah is All-Knower, All-Aware)") 31:34. Allah's statement,
وَيَعْلَمُ مَا فِى الْبَرِّ وَالْبَحْرِ
(And He knows whatever there is on the land and in the sea;) means, Allah's honored knowledge encompasses everything, including the creatures living in the sea and on land, and none of it, not even the weight of an atom on earth or in heaven, ever escapes His knowledge. Allah's statement,
وَمَا تَسْقُطُ مِن وَرَقَةٍ إِلاَّ يَعْلَمُهَا
(not a leaf falls, but He knows it.) means, He knows the movements of everything including inanimate things. Therefore, what about His knowledge of the living creatures, especially, those whom the Divine laws have been imposed upon such as mankind and the Jinns In another Ayah, Allah said;
يَعْلَمُ خَآئِنَةَ الاٌّعْيُنِ وَمَا تُخْفِى الصُّدُورُ
(Allah knows the fraud of the eyes, and all that the breasts conceal.) 40:19
نیک و بد کی وضاحت کے بعد ؟ یعنی جس طرح ہم نے اس سے پہلے ہدایت کی باتیں اور بھلائی کی راہیں واضح کردیں نیکی بدی کھول کھول کر بیان کردی اسی طرح ہم ہر اس چیز کا تفصیلی بیان کرتے ہیں جس کی تمہیں ضرورت پیش آنے والی ہے۔ اس میں علاوہ اور فوائد کے ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ مجرموں کا راستہ نیکوں پر عیاں ہوجائے۔ ایک اور قرأت کے اعتبار سے یہ مطلب ہے تاکہ تو گنہگاروں کا طریقہ واردات لوگوں کے سامنے کھول دے۔ پھر حکم ہوتا ہے کہ اے نبی ﷺ لوگوں میں اعلان کردو کہ میرے پاس الٰہی دلیل ہے میں اپنے رب کی دی ہوئی سچی شریعت پر قائم ہوں۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے میرے پاس وحی آتی ہے، افسوس کہ تم اس حق کو جھٹلا رہے ہو، تم اگرچہ عذابوں کی جلدی مچا رہے ہو لیکن عذاب کا لانا میرے اختیار کی چیز نہیں۔ یہ سب کچھ اللہ کے حکم کے ماتحت ہے۔ اس کی مصلحت وہی جانتا ہے اگر چاہے دیر سے لائے اگر چاہے تو جلدی لائے، وہ حق بیان فرمانے والا اور اپنے بندوں کے درمیان بہترین فیصلے کرنے والا ہے، سنو اگر میرا ہی حکم چلتا میرے ہی اختیار میں ثواب و عذاب ہوتا، میرے بس میں بقا اور فنا ہوتی تو میں جو چاہتا ہوجایا کرتا اور میں تو ابھی اپنے اور تمہارے درمیان فیصلہ کرلیتا اور تم پر وہ عذاب برس پڑتے جن سے میں تمہیں ڈرا رہا ہوں، بات یہ ہے کہ میرے بس میں کوئی بات نہیں، اختیار والا اللہ تعالیٰ اکیلا ہی ہے، وہ ظالموں کو بخوبی جانتا ہے، بخاری و مسلم کی ایک حدیث میں ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے ایک بار رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ احد سے زیادہ سختی کا تو آپ پر کوئی دن نہ آیا ہوگا ؟ آپ نے فرمایا عائشہ کیا پوچھتی ہو کہ مجھے اس قوم نے کیا کیا ایذائیں پہنچیں ؟ سب سے زیادہ بھاری دن مجھ پر عقبہ کا دن تھا جبکہ میں عبدالیل بن عبد کلال کے پاس پہنچا اور میں نے اس سے آرزو کی کہ وہ میرا ساتھ دے مگر اس نے میری بات نہ مانی، واللہ میں سخت غمگین ہو کر وہاں سے چلا مجھے نہیں معلوم تھا کہ میں کدھر جا رہا ہوں، قرن ثعالب میں آ کر میرے حواس ٹھیک ہوئے تو میں نے دیکھا کہ اوپر سے ایک بادل نے مجھے ڈھک لیا ہے، سر اٹھا کر دیکھتا ہوں تو حضرت جبرائیل ؑ مجھے آواز دے کر فرما رہے ہیں اللہ تعالیٰ نے تیری قوم کی باتیں سنیں اور جو جواب انہوں نے تجھے دیا وہ بھی سنا۔ اب پہاڑوں کے داروغہ فرشتے کو اس نے بھیجا ہے آپ جو چاہیں انہیں حکم دیجئے یہ بجا لائیں گے، اسی وقت اس فرشتے نے مجھے پکارا سلام کیا اور کہا اللہ تعالیٰ نے آپ کی قوم کی باتیں سنیں اور مجھے آپ کے پاس بھیجا ہے کہ ان کے بارے میں جو ارشاد آپ فرمائیں میں بجا لاؤں، اگر آپ حکم دیں تو مکہ شریف کے ان دونوں پہاڑوں کو جو جنوب شمال میں ہیں میں اکٹھے کر دوں اور ان تمام کو ان دونوں کے درمیان پیس دوں۔ آنحضرت ﷺ نے انہیں جواب دیا کہ نہیں میں یہ نہیں چاہتا بلکہ مجھے تو امید ہے کہ کیا عجب ان کی نسل میں آگے جا کر ہی کچھ ایسے لوگ ہوں جو اللہ وحدہ لا شریک لہ کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں، ہاں یہاں یہ بات خیال میں رہے کہ کوئی اس شبہ میں نہ پڑے کہ قرآن کی اس آیت میں تو ہے کہ اگر میرے بس میں عذاب ہوتے تو ابھی ہی فیصلہ کردیا جاتا اور حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بس میں کردیئے پھر بھی آپ نے ان کیلئے تاخیر طلب کی۔ اس شبہ کا جواب یہ ہے کہ آیت سے اتنا معلوم ہوتا ہے کہ جب وہ عذاب طلب کرتے اس وقت اگر آپ کے بس میں ہوتا تو اسی وقت ان پر عذاب آجاتا اور حدیث میں یہ نہیں کہ اس وقت انہوں نے کوئی عذاب مانگا تھا۔ حدیث میں تو صرف اتنا ہے کہ پہاڑوں کے فرشتے نے آپ کو یہ بتلایا کہ بحکم الہ میں یہ کرسکتا ہوں صرف آپ کی زبان مبارک کے ہلنے کا منتظر ہوں لیکن رحمتہ للعالمین کو رحم آگیا اور نرمی برتی، پس آیت و حدیث میں کوئی معارضہ نہیں۔ واللہ اعلم۔ حضور کا فرمان ہے غیب کی کنجیاں پانچ ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا پھر آپ نے آیت (اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ ۚ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ ۚ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْاَرْحَامِ ۭ وَمَا تَدْرِيْ نَفْسٌ مَّاذَا تَكْسِبُ غَدًا ۭ وَمَا تَدْرِيْ نَفْسٌۢ بِاَيِّ اَرْضٍ تَمُوْتُ ۭ اِنَّ اللّٰهَ عَلِيْمٌ خَبِيْرٌ) 31۔ لقمان :34) پڑھی، یعنی قیامت کا علم، بارش کا علم، پیٹ کے بچے کا علم، کل کے کام کا علم، موت کی جگہ کا علم۔ اس حدیث میں جس میں حضرت جبرائیل ؑ کا بصورت انسان آ کر حضور سے ایمان اسلام احسان کی تفصیل پوچھنا بھی مروی ہے یہ بھی ہے کہ جب قیامت کے صحیح وقت کا سوال ہوا تو آپ نے فرمایا یہ ان پانچ چیزوں میں سے ہے جن کا علم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کو نہیں۔ پھر آپ نے آیت (اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ ۚ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ ۚ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْاَرْحَامِ ۭ وَمَا تَدْرِيْ نَفْسٌ مَّاذَا تَكْسِبُ غَدًا ۭ وَمَا تَدْرِيْ نَفْسٌۢ بِاَيِّ اَرْضٍ تَمُوْتُ ۭ اِنَّ اللّٰهَ عَلِيْمٌ خَبِيْرٌ) 31۔ لقمان :34) تلاوت فرمائی۔ پھر فرماتا ہے اس کا علم تمام موجودات کو احاطہ کئے ہوئے ہے۔ بری بحری کوئی چیز اس کے علم سے باہر نہیں۔ آسمان و زمین کا ایک ذرہ اس پر پوشیدہ نہیں۔ صرصری کا کیا ہی اچھا شعر ہے۔ فلا یحفی علیہ الذراما یترای للنواظر او تواری یعنی کسی کو کچھ دکھائی دے نہ دے رب پر کچھ بھی پوشیدہ نہیں، وہ سب کی حرکات سے بھی واقف ہے، جمادات کا ہلنا جلنا یہاں تک کہ پتے کا جھڑنا بھی اس کے وسیع علم سے باہر نہیں۔ پھر بھلا جنات اور انسان کا کونسا علم اس پر مخفی رہ سکتا ہے ؟ جیسے فرمان عالی شان ہے آیت (يَعْلَمُ خَاۗىِٕنَةَ الْاَعْيُنِ وَمَا تُخْفِي الصُّدُوْرُ) 40۔ غافر :19) آنکھوں کی خیانت اور دلوں کے پوشیدہ بھید بھی اس پر عیاں ہیں۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ خشکی تری کا کوئی درخت ایسا نہیں جس پر اللہ کی طرف سے کوئی فرشتہ مقرر نہ ہو جو اس کے جھڑ جانے والے پتوں کو بھی لکھ لے، پھر فرماتا ہے زمین کے اندھیروں کے دانوں کا بھی اس اللہ کو علم ہے۔ حضرت عمرو بن عاص ؓ فرماتے ہیں، تیسری زمین کے اوپر اور چوتھی کے نیچے اتنے جن بستے ہیں کہ اگر وہ اس زمین پر آجائیں تو ان کی وجہ سے کوئی روشنی نظر نہ پڑے، زمین کے ہر کونے پر اللہ کی مہروں میں سے ایک مہر اور ہر مہر پر ایک فرشتہ مقرر ہے اور ہر دن اللہ کی طرف سے ہے اس کے پاس ایک اور فرشتے کے ذریعہ سے حکم پہنچتا ہے کہ تیرے پاس جو ہے اس کی بخوبی حفاظت کر۔ حضرت عبداللہ بن حارث فرماتے ہیں کہ زمین کے ہر ایک درخت وغیرہ پر فرشتے مقرر ہیں جو ان کی خشکی تری وغیرہ کی بابت اللہ کی جناب میں عرض کردیتے ہیں۔ ابن عباس سے مروی ہے اللہ تعالیٰ نے نون یعنی دوات کو پیدا کیا اور تختیاں بنائیں اور اس میں دنیا کے تمام ہونے والے اموار لکھے۔ کل مخلوق کی روزیاں، حلال حرام نیکی بدی سب کچھ لکھ دیا ہے پھر یہی آیت پڑھی۔
56
View Single
قُلۡ إِنِّي نُهِيتُ أَنۡ أَعۡبُدَ ٱلَّذِينَ تَدۡعُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِۚ قُل لَّآ أَتَّبِعُ أَهۡوَآءَكُمۡ قَدۡ ضَلَلۡتُ إِذٗا وَمَآ أَنَا۠ مِنَ ٱلۡمُهۡتَدِينَ
Say, “I have been forbidden to worship those whom you worship other than Allah”; say, “I do not follow your desires – if it were, I would then go astray and not be on the right path.”
فرمادیجئے کہ مجھے اس بات سے روک دیا گیا ہے کہ میں ان (جھوٹے معبودوں) کی عبادت کروں جن کی تم اللہ کے سوا پرستش کرتے ہو۔ فرما دیجئے کہ میں تمہاری خواہشات کی پیروی نہیں کرسکتا اگر ایسے ہو تو میں یقیناً بہک جاؤں اور میں ہدایت یافتہ لوگوں سے (بھی) نہ رہوں (جو کہ ناممکن ہے)
Tafsir Ibn Kathir
The Prophet Understands What He Conveys; Torment is in Allah's Hands Not the Prophet's
Allah says, just as We mentioned the clear signs that testify and direct to the path of guidance, all the while chastising useless arguments and defiance,
كَذلِكَ نُفَصِّلُ الآيَـتِ
(And thus do We explain the Ayat in detail,) that is, whatever responsible adults need explained to them, in the affairs of life and religion,
وَلِتَسْتَبِينَ سَبِيلُ الْمُجْرِمِينَ
(That the way of the criminals may become manifest.) so that the path of the criminals who defy the Prophets is apparent and clear. This Ayah was also said to mean, so that you, O Muhammad , are aware of the path of the criminals. Allah's statement,
قُلْ إِنِّى عَلَى بَيِّنَةٍ مِّن رَّبِّى
(Say: "I am on clear proof from my Lord...") means: I have a clear understanding of the Law of Allah that He has revealed to me,
وَكَذَّبْتُم بِهِ
(but you deny it.) meaning, but you disbelieve in the truth that came to me from Allah.
مَا عِندِى مَا تَسْتَعْجِلُونَ بِهِ
(I do not have what you are hastily seeking) meaning, the torment,
إِنِ الْحُكْمُ إِلاَّ للَّهِ
(The decision is only for Allah,) for the ruling of this is with Allah. If He wills, He will punish you soon in response to your wish! If He wills, He will give you respite, out of His great wisdom. This is why Allah said,
يَقُصُّ الْحَقَّ وَهُوَ خَيْرُ الْفَـصِلِينَ
(He declares the truth, and He is the best of judges.) and the best in reckoning between His servants. Allah's statement,
قُل لَّوْ أَنَّ عِندِى مَا تَسْتَعْجِلُونَ بِهِ لَقُضِىَ الاٌّمْرُ بَيْنِى وَبَيْنَكُمْ
(Say: "If I had that which you are asking for impatiently (the torment), the matter would have been settled at once between you and I,") means, if I have what you ask for, I will surely send down what you deserve of it,
وَاللهُ أَعْلَمْ بِالظَّالِمِيَن
(but Allah knows best the wrongdoers) Someone might ask about the meaning of this Ayah compared to the Hadith in the Two Sahihs, from `A'ishah, may Allah be pleased with her, that she said to the Messenger ﷺ, "O Allah's Messenger ! Have you encountered a day harder than the day (of the battle) of Uhud" The Prophet replied,
«لَقَدْ لَقِيتُ مِنْ قَوْمِكِ، وَكَانَ أَشَدَّ مَا لَقِيتُ مِنْهُمْ يَوْمَ الْعَقَبَةِ،إِذْ عَرَضْتُ نَفْسِي عَلَى ابْنِ عَبْدِيَالِيلَ بْنِ عَبْدِكُلَالٍ، فَلَمْ يُجِبْنِي إِلَى مَا أَرَدْتُ، فَانْطَلَقْتُ وَأَنَا مَهْمُومٌ عَلَى وَجْهِي، فَلَمْ أَسْتَفِقْ إِلَّا بِقَرْنِ الثَّعَالِبِ، فَرَفَعْتُ رَأْسِي، فَإِذَا أَنَا بِسَحَاَبَةٍ قَدْ ظَلَّلَتْنِي، فَنَظَرْتُ فَإِذَا فِيهَا جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَنَادَانِي فَقَالَ: إِنَّ الله قَدْ سَمِعَ قَوْلَ قَوْمِكَ لَكَ، وَمَا رَدُّوا عَلَيْكَ، وَقَدْ بَعَثَ إِلَيْكَ مَلَكَ الْجِبَالِ، لِتَأْمُرَهُ بِمَا شِئْتَ فِيهِمْ، قَالَ: فَنَادَانِي مَلَكُ الْجِبَالِ وَسَلَّمَ عَلَيَّ، ثُمَّ قَالَ: يَا مُحَمَّدُ إِنَّ اللهَ قَدْ سَمِعَ قَوْلَ قَوْمِكَ لَكَ، وَقَدْ بَعَثَنِي رَبُّكَ إِلَيْكَ، لِتَأْمُرَنِي بِأَمْرِكَ فِيمَا شِئْتَ، إِنْ شِئْتَ أَطْبَقْتُ عَلَيْهِمُ الْأَخْشَبَيْن»
فَقَالَ رَسُولُ اللهِصلى الله عليه وسلّم:
«بَلْ أَرْجُو أَنْ يُخْرِجَ اللهُ مِنْ أَصْلَابِهِمْ، مَنْ يَعْبُدُ اللهَ لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا»
(Your people have troubled me alot and the worst trouble was on the day of `Aqabah when I presented myself to Ibn `Abd Yalil bin `Abd Kulal, who did not respond to my call. So I departed, overwhelmed with severe sorrow, proceeded on and could not relax until I found myself at Qarn Ath-Tha`alib where I raised my head towards the sky to see a cloud unexpectedly shading me. I looked up and saw Jibril in it and he called me saying, `Indeed Allah has heard what you said to the people and what they have responded to you. Therefore, Allah has sent the Angel of the Mountains to you so that you may order him to do whatever you wish to these people.' The Angel of the Mountains called and greeted me, and then said, `O Muhammad! verily, Allah has heard how your people responded to you and He has sent me to you so that you could order me to do what you wish. If you like, I will let Al-Akhshabayn (two mountains to the north and south of Makkah) fall on them.' The Prophet said, No, but I hope that Allah will let them generate offspring who will worship Allah Alone, and will worship none besides Him.) This is the wording of Muslim. Tormenting the disbelievers of Quraysh was offered to the Prophet , but he chose patience and asked Allah for respite for them, so that Allah might let them generate offspring who will not associate anything with Him in worship. Therefore, how can we combine the meaning of this Hadith and the honorable Ayah,
قُل لَّوْ أَنَّ عِندِى مَا تَسْتَعْجِلُونَ بِهِ لَقُضِىَ الاٌّمْرُ بَيْنِى وَبَيْنَكُمْ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِالظَّـلِمِينَ
(Say: "If I had that which you are asking for impatiently (the torment), the matter would have been settled at once between you and I, but Allah knows best the wrongdoers.") The answer to this question is, Allah knows the best, that the Ayah states that if the punishment that they asked for was in the Prophet's hand at the time, he would have sent it on them as they asked. As for the Hadith, the disbelievers did not ask the Prophet to send the torment down on them. Rather, the angel responsible for the mountains offered him the choice to let the two mountains to the north and south of Makkah close in on the disbelievers and crush them. The Prophet did not wish that and asked for respite out of compassion for them.
Allah said next,
وَعِندَهُ مَفَاتِحُ الْغَيْبِ لاَ يَعْلَمُهَآ إِلاَّ هُوَ
(And with Him are the keys of the Ghayb (all that is hidden), none knows them but He.) Al-Bukhari recorded that Salim bin `Abdullah said that his father said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«مَفَاتِيحُ الْغَيْبِ خَمْسٌ لَا يَعْلَمُهُنَّ إِلَّا الله»
(The keys of the Unseen are five and none except Allah knows them:
إِنَّ اللَّهَ عِندَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِى الاٌّرْحَامِ وَمَا تَدْرِى نَفْسٌ مَّاذَا تَكْسِبُ غَداً وَمَا تَدْرِى نَفْسٌ بِأَىِّ أَرْضٍ تَمُوتُ إِنَّ اللَّهَ عَلَيمٌ خَبِيرٌ
(Verily, Allah! With Him (Alone) is the knowledge of the Hour, He sends down the rain, and knows that which is in the wombs. No person knows what he will earn tomorrow, and no person knows in what land he will die. Verily, Allah is All-Knower, All-Aware)") 31:34. Allah's statement,
وَيَعْلَمُ مَا فِى الْبَرِّ وَالْبَحْرِ
(And He knows whatever there is on the land and in the sea;) means, Allah's honored knowledge encompasses everything, including the creatures living in the sea and on land, and none of it, not even the weight of an atom on earth or in heaven, ever escapes His knowledge. Allah's statement,
وَمَا تَسْقُطُ مِن وَرَقَةٍ إِلاَّ يَعْلَمُهَا
(not a leaf falls, but He knows it.) means, He knows the movements of everything including inanimate things. Therefore, what about His knowledge of the living creatures, especially, those whom the Divine laws have been imposed upon such as mankind and the Jinns In another Ayah, Allah said;
يَعْلَمُ خَآئِنَةَ الاٌّعْيُنِ وَمَا تُخْفِى الصُّدُورُ
(Allah knows the fraud of the eyes, and all that the breasts conceal.) 40:19
نیک و بد کی وضاحت کے بعد ؟ یعنی جس طرح ہم نے اس سے پہلے ہدایت کی باتیں اور بھلائی کی راہیں واضح کردیں نیکی بدی کھول کھول کر بیان کردی اسی طرح ہم ہر اس چیز کا تفصیلی بیان کرتے ہیں جس کی تمہیں ضرورت پیش آنے والی ہے۔ اس میں علاوہ اور فوائد کے ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ مجرموں کا راستہ نیکوں پر عیاں ہوجائے۔ ایک اور قرأت کے اعتبار سے یہ مطلب ہے تاکہ تو گنہگاروں کا طریقہ واردات لوگوں کے سامنے کھول دے۔ پھر حکم ہوتا ہے کہ اے نبی ﷺ لوگوں میں اعلان کردو کہ میرے پاس الٰہی دلیل ہے میں اپنے رب کی دی ہوئی سچی شریعت پر قائم ہوں۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے میرے پاس وحی آتی ہے، افسوس کہ تم اس حق کو جھٹلا رہے ہو، تم اگرچہ عذابوں کی جلدی مچا رہے ہو لیکن عذاب کا لانا میرے اختیار کی چیز نہیں۔ یہ سب کچھ اللہ کے حکم کے ماتحت ہے۔ اس کی مصلحت وہی جانتا ہے اگر چاہے دیر سے لائے اگر چاہے تو جلدی لائے، وہ حق بیان فرمانے والا اور اپنے بندوں کے درمیان بہترین فیصلے کرنے والا ہے، سنو اگر میرا ہی حکم چلتا میرے ہی اختیار میں ثواب و عذاب ہوتا، میرے بس میں بقا اور فنا ہوتی تو میں جو چاہتا ہوجایا کرتا اور میں تو ابھی اپنے اور تمہارے درمیان فیصلہ کرلیتا اور تم پر وہ عذاب برس پڑتے جن سے میں تمہیں ڈرا رہا ہوں، بات یہ ہے کہ میرے بس میں کوئی بات نہیں، اختیار والا اللہ تعالیٰ اکیلا ہی ہے، وہ ظالموں کو بخوبی جانتا ہے، بخاری و مسلم کی ایک حدیث میں ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے ایک بار رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ احد سے زیادہ سختی کا تو آپ پر کوئی دن نہ آیا ہوگا ؟ آپ نے فرمایا عائشہ کیا پوچھتی ہو کہ مجھے اس قوم نے کیا کیا ایذائیں پہنچیں ؟ سب سے زیادہ بھاری دن مجھ پر عقبہ کا دن تھا جبکہ میں عبدالیل بن عبد کلال کے پاس پہنچا اور میں نے اس سے آرزو کی کہ وہ میرا ساتھ دے مگر اس نے میری بات نہ مانی، واللہ میں سخت غمگین ہو کر وہاں سے چلا مجھے نہیں معلوم تھا کہ میں کدھر جا رہا ہوں، قرن ثعالب میں آ کر میرے حواس ٹھیک ہوئے تو میں نے دیکھا کہ اوپر سے ایک بادل نے مجھے ڈھک لیا ہے، سر اٹھا کر دیکھتا ہوں تو حضرت جبرائیل ؑ مجھے آواز دے کر فرما رہے ہیں اللہ تعالیٰ نے تیری قوم کی باتیں سنیں اور جو جواب انہوں نے تجھے دیا وہ بھی سنا۔ اب پہاڑوں کے داروغہ فرشتے کو اس نے بھیجا ہے آپ جو چاہیں انہیں حکم دیجئے یہ بجا لائیں گے، اسی وقت اس فرشتے نے مجھے پکارا سلام کیا اور کہا اللہ تعالیٰ نے آپ کی قوم کی باتیں سنیں اور مجھے آپ کے پاس بھیجا ہے کہ ان کے بارے میں جو ارشاد آپ فرمائیں میں بجا لاؤں، اگر آپ حکم دیں تو مکہ شریف کے ان دونوں پہاڑوں کو جو جنوب شمال میں ہیں میں اکٹھے کر دوں اور ان تمام کو ان دونوں کے درمیان پیس دوں۔ آنحضرت ﷺ نے انہیں جواب دیا کہ نہیں میں یہ نہیں چاہتا بلکہ مجھے تو امید ہے کہ کیا عجب ان کی نسل میں آگے جا کر ہی کچھ ایسے لوگ ہوں جو اللہ وحدہ لا شریک لہ کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں، ہاں یہاں یہ بات خیال میں رہے کہ کوئی اس شبہ میں نہ پڑے کہ قرآن کی اس آیت میں تو ہے کہ اگر میرے بس میں عذاب ہوتے تو ابھی ہی فیصلہ کردیا جاتا اور حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بس میں کردیئے پھر بھی آپ نے ان کیلئے تاخیر طلب کی۔ اس شبہ کا جواب یہ ہے کہ آیت سے اتنا معلوم ہوتا ہے کہ جب وہ عذاب طلب کرتے اس وقت اگر آپ کے بس میں ہوتا تو اسی وقت ان پر عذاب آجاتا اور حدیث میں یہ نہیں کہ اس وقت انہوں نے کوئی عذاب مانگا تھا۔ حدیث میں تو صرف اتنا ہے کہ پہاڑوں کے فرشتے نے آپ کو یہ بتلایا کہ بحکم الہ میں یہ کرسکتا ہوں صرف آپ کی زبان مبارک کے ہلنے کا منتظر ہوں لیکن رحمتہ للعالمین کو رحم آگیا اور نرمی برتی، پس آیت و حدیث میں کوئی معارضہ نہیں۔ واللہ اعلم۔ حضور کا فرمان ہے غیب کی کنجیاں پانچ ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا پھر آپ نے آیت (اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ ۚ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ ۚ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْاَرْحَامِ ۭ وَمَا تَدْرِيْ نَفْسٌ مَّاذَا تَكْسِبُ غَدًا ۭ وَمَا تَدْرِيْ نَفْسٌۢ بِاَيِّ اَرْضٍ تَمُوْتُ ۭ اِنَّ اللّٰهَ عَلِيْمٌ خَبِيْرٌ) 31۔ لقمان :34) پڑھی، یعنی قیامت کا علم، بارش کا علم، پیٹ کے بچے کا علم، کل کے کام کا علم، موت کی جگہ کا علم۔ اس حدیث میں جس میں حضرت جبرائیل ؑ کا بصورت انسان آ کر حضور سے ایمان اسلام احسان کی تفصیل پوچھنا بھی مروی ہے یہ بھی ہے کہ جب قیامت کے صحیح وقت کا سوال ہوا تو آپ نے فرمایا یہ ان پانچ چیزوں میں سے ہے جن کا علم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کو نہیں۔ پھر آپ نے آیت (اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ ۚ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ ۚ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْاَرْحَامِ ۭ وَمَا تَدْرِيْ نَفْسٌ مَّاذَا تَكْسِبُ غَدًا ۭ وَمَا تَدْرِيْ نَفْسٌۢ بِاَيِّ اَرْضٍ تَمُوْتُ ۭ اِنَّ اللّٰهَ عَلِيْمٌ خَبِيْرٌ) 31۔ لقمان :34) تلاوت فرمائی۔ پھر فرماتا ہے اس کا علم تمام موجودات کو احاطہ کئے ہوئے ہے۔ بری بحری کوئی چیز اس کے علم سے باہر نہیں۔ آسمان و زمین کا ایک ذرہ اس پر پوشیدہ نہیں۔ صرصری کا کیا ہی اچھا شعر ہے۔ فلا یحفی علیہ الذراما یترای للنواظر او تواری یعنی کسی کو کچھ دکھائی دے نہ دے رب پر کچھ بھی پوشیدہ نہیں، وہ سب کی حرکات سے بھی واقف ہے، جمادات کا ہلنا جلنا یہاں تک کہ پتے کا جھڑنا بھی اس کے وسیع علم سے باہر نہیں۔ پھر بھلا جنات اور انسان کا کونسا علم اس پر مخفی رہ سکتا ہے ؟ جیسے فرمان عالی شان ہے آیت (يَعْلَمُ خَاۗىِٕنَةَ الْاَعْيُنِ وَمَا تُخْفِي الصُّدُوْرُ) 40۔ غافر :19) آنکھوں کی خیانت اور دلوں کے پوشیدہ بھید بھی اس پر عیاں ہیں۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ خشکی تری کا کوئی درخت ایسا نہیں جس پر اللہ کی طرف سے کوئی فرشتہ مقرر نہ ہو جو اس کے جھڑ جانے والے پتوں کو بھی لکھ لے، پھر فرماتا ہے زمین کے اندھیروں کے دانوں کا بھی اس اللہ کو علم ہے۔ حضرت عمرو بن عاص ؓ فرماتے ہیں، تیسری زمین کے اوپر اور چوتھی کے نیچے اتنے جن بستے ہیں کہ اگر وہ اس زمین پر آجائیں تو ان کی وجہ سے کوئی روشنی نظر نہ پڑے، زمین کے ہر کونے پر اللہ کی مہروں میں سے ایک مہر اور ہر مہر پر ایک فرشتہ مقرر ہے اور ہر دن اللہ کی طرف سے ہے اس کے پاس ایک اور فرشتے کے ذریعہ سے حکم پہنچتا ہے کہ تیرے پاس جو ہے اس کی بخوبی حفاظت کر۔ حضرت عبداللہ بن حارث فرماتے ہیں کہ زمین کے ہر ایک درخت وغیرہ پر فرشتے مقرر ہیں جو ان کی خشکی تری وغیرہ کی بابت اللہ کی جناب میں عرض کردیتے ہیں۔ ابن عباس سے مروی ہے اللہ تعالیٰ نے نون یعنی دوات کو پیدا کیا اور تختیاں بنائیں اور اس میں دنیا کے تمام ہونے والے اموار لکھے۔ کل مخلوق کی روزیاں، حلال حرام نیکی بدی سب کچھ لکھ دیا ہے پھر یہی آیت پڑھی۔
57
View Single
قُلۡ إِنِّي عَلَىٰ بَيِّنَةٖ مِّن رَّبِّي وَكَذَّبۡتُم بِهِۦۚ مَا عِندِي مَا تَسۡتَعۡجِلُونَ بِهِۦٓۚ إِنِ ٱلۡحُكۡمُ إِلَّا لِلَّهِۖ يَقُصُّ ٱلۡحَقَّۖ وَهُوَ خَيۡرُ ٱلۡفَٰصِلِينَ
Say, “I am on the clear proof from my Lord, whereas you deny Him; I do not have what you are impatient for; there is no command except that of Allah; He states the truth and He is the Best of Judges."
فرما دیجئے: (کافرو!) بیشک میں اپنے رب کی طرف سے روشن دلیل پر (قائم) ہوں اور تم اسے جھٹلاتے ہو۔ میرے پاس وہ (عذاب) نہیں ہے جس کی تم جلدی مچا رہے ہو۔ حکم صرف اللہ ہی کا ہے۔ وہ حق بیان فرماتا ہے اور وہی بہتر فیصلہ فرمانے والاہے
Tafsir Ibn Kathir
The Prophet Understands What He Conveys; Torment is in Allah's Hands Not the Prophet's
Allah says, just as We mentioned the clear signs that testify and direct to the path of guidance, all the while chastising useless arguments and defiance,
كَذلِكَ نُفَصِّلُ الآيَـتِ
(And thus do We explain the Ayat in detail,) that is, whatever responsible adults need explained to them, in the affairs of life and religion,
وَلِتَسْتَبِينَ سَبِيلُ الْمُجْرِمِينَ
(That the way of the criminals may become manifest.) so that the path of the criminals who defy the Prophets is apparent and clear. This Ayah was also said to mean, so that you, O Muhammad , are aware of the path of the criminals. Allah's statement,
قُلْ إِنِّى عَلَى بَيِّنَةٍ مِّن رَّبِّى
(Say: "I am on clear proof from my Lord...") means: I have a clear understanding of the Law of Allah that He has revealed to me,
وَكَذَّبْتُم بِهِ
(but you deny it.) meaning, but you disbelieve in the truth that came to me from Allah.
مَا عِندِى مَا تَسْتَعْجِلُونَ بِهِ
(I do not have what you are hastily seeking) meaning, the torment,
إِنِ الْحُكْمُ إِلاَّ للَّهِ
(The decision is only for Allah,) for the ruling of this is with Allah. If He wills, He will punish you soon in response to your wish! If He wills, He will give you respite, out of His great wisdom. This is why Allah said,
يَقُصُّ الْحَقَّ وَهُوَ خَيْرُ الْفَـصِلِينَ
(He declares the truth, and He is the best of judges.) and the best in reckoning between His servants. Allah's statement,
قُل لَّوْ أَنَّ عِندِى مَا تَسْتَعْجِلُونَ بِهِ لَقُضِىَ الاٌّمْرُ بَيْنِى وَبَيْنَكُمْ
(Say: "If I had that which you are asking for impatiently (the torment), the matter would have been settled at once between you and I,") means, if I have what you ask for, I will surely send down what you deserve of it,
وَاللهُ أَعْلَمْ بِالظَّالِمِيَن
(but Allah knows best the wrongdoers) Someone might ask about the meaning of this Ayah compared to the Hadith in the Two Sahihs, from `A'ishah, may Allah be pleased with her, that she said to the Messenger ﷺ, "O Allah's Messenger ! Have you encountered a day harder than the day (of the battle) of Uhud" The Prophet replied,
«لَقَدْ لَقِيتُ مِنْ قَوْمِكِ، وَكَانَ أَشَدَّ مَا لَقِيتُ مِنْهُمْ يَوْمَ الْعَقَبَةِ،إِذْ عَرَضْتُ نَفْسِي عَلَى ابْنِ عَبْدِيَالِيلَ بْنِ عَبْدِكُلَالٍ، فَلَمْ يُجِبْنِي إِلَى مَا أَرَدْتُ، فَانْطَلَقْتُ وَأَنَا مَهْمُومٌ عَلَى وَجْهِي، فَلَمْ أَسْتَفِقْ إِلَّا بِقَرْنِ الثَّعَالِبِ، فَرَفَعْتُ رَأْسِي، فَإِذَا أَنَا بِسَحَاَبَةٍ قَدْ ظَلَّلَتْنِي، فَنَظَرْتُ فَإِذَا فِيهَا جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَنَادَانِي فَقَالَ: إِنَّ الله قَدْ سَمِعَ قَوْلَ قَوْمِكَ لَكَ، وَمَا رَدُّوا عَلَيْكَ، وَقَدْ بَعَثَ إِلَيْكَ مَلَكَ الْجِبَالِ، لِتَأْمُرَهُ بِمَا شِئْتَ فِيهِمْ، قَالَ: فَنَادَانِي مَلَكُ الْجِبَالِ وَسَلَّمَ عَلَيَّ، ثُمَّ قَالَ: يَا مُحَمَّدُ إِنَّ اللهَ قَدْ سَمِعَ قَوْلَ قَوْمِكَ لَكَ، وَقَدْ بَعَثَنِي رَبُّكَ إِلَيْكَ، لِتَأْمُرَنِي بِأَمْرِكَ فِيمَا شِئْتَ، إِنْ شِئْتَ أَطْبَقْتُ عَلَيْهِمُ الْأَخْشَبَيْن»
فَقَالَ رَسُولُ اللهِصلى الله عليه وسلّم:
«بَلْ أَرْجُو أَنْ يُخْرِجَ اللهُ مِنْ أَصْلَابِهِمْ، مَنْ يَعْبُدُ اللهَ لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا»
(Your people have troubled me alot and the worst trouble was on the day of `Aqabah when I presented myself to Ibn `Abd Yalil bin `Abd Kulal, who did not respond to my call. So I departed, overwhelmed with severe sorrow, proceeded on and could not relax until I found myself at Qarn Ath-Tha`alib where I raised my head towards the sky to see a cloud unexpectedly shading me. I looked up and saw Jibril in it and he called me saying, `Indeed Allah has heard what you said to the people and what they have responded to you. Therefore, Allah has sent the Angel of the Mountains to you so that you may order him to do whatever you wish to these people.' The Angel of the Mountains called and greeted me, and then said, `O Muhammad! verily, Allah has heard how your people responded to you and He has sent me to you so that you could order me to do what you wish. If you like, I will let Al-Akhshabayn (two mountains to the north and south of Makkah) fall on them.' The Prophet said, No, but I hope that Allah will let them generate offspring who will worship Allah Alone, and will worship none besides Him.) This is the wording of Muslim. Tormenting the disbelievers of Quraysh was offered to the Prophet , but he chose patience and asked Allah for respite for them, so that Allah might let them generate offspring who will not associate anything with Him in worship. Therefore, how can we combine the meaning of this Hadith and the honorable Ayah,
قُل لَّوْ أَنَّ عِندِى مَا تَسْتَعْجِلُونَ بِهِ لَقُضِىَ الاٌّمْرُ بَيْنِى وَبَيْنَكُمْ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِالظَّـلِمِينَ
(Say: "If I had that which you are asking for impatiently (the torment), the matter would have been settled at once between you and I, but Allah knows best the wrongdoers.") The answer to this question is, Allah knows the best, that the Ayah states that if the punishment that they asked for was in the Prophet's hand at the time, he would have sent it on them as they asked. As for the Hadith, the disbelievers did not ask the Prophet to send the torment down on them. Rather, the angel responsible for the mountains offered him the choice to let the two mountains to the north and south of Makkah close in on the disbelievers and crush them. The Prophet did not wish that and asked for respite out of compassion for them.
Allah said next,
وَعِندَهُ مَفَاتِحُ الْغَيْبِ لاَ يَعْلَمُهَآ إِلاَّ هُوَ
(And with Him are the keys of the Ghayb (all that is hidden), none knows them but He.) Al-Bukhari recorded that Salim bin `Abdullah said that his father said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«مَفَاتِيحُ الْغَيْبِ خَمْسٌ لَا يَعْلَمُهُنَّ إِلَّا الله»
(The keys of the Unseen are five and none except Allah knows them:
إِنَّ اللَّهَ عِندَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِى الاٌّرْحَامِ وَمَا تَدْرِى نَفْسٌ مَّاذَا تَكْسِبُ غَداً وَمَا تَدْرِى نَفْسٌ بِأَىِّ أَرْضٍ تَمُوتُ إِنَّ اللَّهَ عَلَيمٌ خَبِيرٌ
(Verily, Allah! With Him (Alone) is the knowledge of the Hour, He sends down the rain, and knows that which is in the wombs. No person knows what he will earn tomorrow, and no person knows in what land he will die. Verily, Allah is All-Knower, All-Aware)") 31:34. Allah's statement,
وَيَعْلَمُ مَا فِى الْبَرِّ وَالْبَحْرِ
(And He knows whatever there is on the land and in the sea;) means, Allah's honored knowledge encompasses everything, including the creatures living in the sea and on land, and none of it, not even the weight of an atom on earth or in heaven, ever escapes His knowledge. Allah's statement,
وَمَا تَسْقُطُ مِن وَرَقَةٍ إِلاَّ يَعْلَمُهَا
(not a leaf falls, but He knows it.) means, He knows the movements of everything including inanimate things. Therefore, what about His knowledge of the living creatures, especially, those whom the Divine laws have been imposed upon such as mankind and the Jinns In another Ayah, Allah said;
يَعْلَمُ خَآئِنَةَ الاٌّعْيُنِ وَمَا تُخْفِى الصُّدُورُ
(Allah knows the fraud of the eyes, and all that the breasts conceal.) 40:19
نیک و بد کی وضاحت کے بعد ؟ یعنی جس طرح ہم نے اس سے پہلے ہدایت کی باتیں اور بھلائی کی راہیں واضح کردیں نیکی بدی کھول کھول کر بیان کردی اسی طرح ہم ہر اس چیز کا تفصیلی بیان کرتے ہیں جس کی تمہیں ضرورت پیش آنے والی ہے۔ اس میں علاوہ اور فوائد کے ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ مجرموں کا راستہ نیکوں پر عیاں ہوجائے۔ ایک اور قرأت کے اعتبار سے یہ مطلب ہے تاکہ تو گنہگاروں کا طریقہ واردات لوگوں کے سامنے کھول دے۔ پھر حکم ہوتا ہے کہ اے نبی ﷺ لوگوں میں اعلان کردو کہ میرے پاس الٰہی دلیل ہے میں اپنے رب کی دی ہوئی سچی شریعت پر قائم ہوں۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے میرے پاس وحی آتی ہے، افسوس کہ تم اس حق کو جھٹلا رہے ہو، تم اگرچہ عذابوں کی جلدی مچا رہے ہو لیکن عذاب کا لانا میرے اختیار کی چیز نہیں۔ یہ سب کچھ اللہ کے حکم کے ماتحت ہے۔ اس کی مصلحت وہی جانتا ہے اگر چاہے دیر سے لائے اگر چاہے تو جلدی لائے، وہ حق بیان فرمانے والا اور اپنے بندوں کے درمیان بہترین فیصلے کرنے والا ہے، سنو اگر میرا ہی حکم چلتا میرے ہی اختیار میں ثواب و عذاب ہوتا، میرے بس میں بقا اور فنا ہوتی تو میں جو چاہتا ہوجایا کرتا اور میں تو ابھی اپنے اور تمہارے درمیان فیصلہ کرلیتا اور تم پر وہ عذاب برس پڑتے جن سے میں تمہیں ڈرا رہا ہوں، بات یہ ہے کہ میرے بس میں کوئی بات نہیں، اختیار والا اللہ تعالیٰ اکیلا ہی ہے، وہ ظالموں کو بخوبی جانتا ہے، بخاری و مسلم کی ایک حدیث میں ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے ایک بار رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ احد سے زیادہ سختی کا تو آپ پر کوئی دن نہ آیا ہوگا ؟ آپ نے فرمایا عائشہ کیا پوچھتی ہو کہ مجھے اس قوم نے کیا کیا ایذائیں پہنچیں ؟ سب سے زیادہ بھاری دن مجھ پر عقبہ کا دن تھا جبکہ میں عبدالیل بن عبد کلال کے پاس پہنچا اور میں نے اس سے آرزو کی کہ وہ میرا ساتھ دے مگر اس نے میری بات نہ مانی، واللہ میں سخت غمگین ہو کر وہاں سے چلا مجھے نہیں معلوم تھا کہ میں کدھر جا رہا ہوں، قرن ثعالب میں آ کر میرے حواس ٹھیک ہوئے تو میں نے دیکھا کہ اوپر سے ایک بادل نے مجھے ڈھک لیا ہے، سر اٹھا کر دیکھتا ہوں تو حضرت جبرائیل ؑ مجھے آواز دے کر فرما رہے ہیں اللہ تعالیٰ نے تیری قوم کی باتیں سنیں اور جو جواب انہوں نے تجھے دیا وہ بھی سنا۔ اب پہاڑوں کے داروغہ فرشتے کو اس نے بھیجا ہے آپ جو چاہیں انہیں حکم دیجئے یہ بجا لائیں گے، اسی وقت اس فرشتے نے مجھے پکارا سلام کیا اور کہا اللہ تعالیٰ نے آپ کی قوم کی باتیں سنیں اور مجھے آپ کے پاس بھیجا ہے کہ ان کے بارے میں جو ارشاد آپ فرمائیں میں بجا لاؤں، اگر آپ حکم دیں تو مکہ شریف کے ان دونوں پہاڑوں کو جو جنوب شمال میں ہیں میں اکٹھے کر دوں اور ان تمام کو ان دونوں کے درمیان پیس دوں۔ آنحضرت ﷺ نے انہیں جواب دیا کہ نہیں میں یہ نہیں چاہتا بلکہ مجھے تو امید ہے کہ کیا عجب ان کی نسل میں آگے جا کر ہی کچھ ایسے لوگ ہوں جو اللہ وحدہ لا شریک لہ کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں، ہاں یہاں یہ بات خیال میں رہے کہ کوئی اس شبہ میں نہ پڑے کہ قرآن کی اس آیت میں تو ہے کہ اگر میرے بس میں عذاب ہوتے تو ابھی ہی فیصلہ کردیا جاتا اور حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بس میں کردیئے پھر بھی آپ نے ان کیلئے تاخیر طلب کی۔ اس شبہ کا جواب یہ ہے کہ آیت سے اتنا معلوم ہوتا ہے کہ جب وہ عذاب طلب کرتے اس وقت اگر آپ کے بس میں ہوتا تو اسی وقت ان پر عذاب آجاتا اور حدیث میں یہ نہیں کہ اس وقت انہوں نے کوئی عذاب مانگا تھا۔ حدیث میں تو صرف اتنا ہے کہ پہاڑوں کے فرشتے نے آپ کو یہ بتلایا کہ بحکم الہ میں یہ کرسکتا ہوں صرف آپ کی زبان مبارک کے ہلنے کا منتظر ہوں لیکن رحمتہ للعالمین کو رحم آگیا اور نرمی برتی، پس آیت و حدیث میں کوئی معارضہ نہیں۔ واللہ اعلم۔ حضور کا فرمان ہے غیب کی کنجیاں پانچ ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا پھر آپ نے آیت (اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ ۚ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ ۚ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْاَرْحَامِ ۭ وَمَا تَدْرِيْ نَفْسٌ مَّاذَا تَكْسِبُ غَدًا ۭ وَمَا تَدْرِيْ نَفْسٌۢ بِاَيِّ اَرْضٍ تَمُوْتُ ۭ اِنَّ اللّٰهَ عَلِيْمٌ خَبِيْرٌ) 31۔ لقمان :34) پڑھی، یعنی قیامت کا علم، بارش کا علم، پیٹ کے بچے کا علم، کل کے کام کا علم، موت کی جگہ کا علم۔ اس حدیث میں جس میں حضرت جبرائیل ؑ کا بصورت انسان آ کر حضور سے ایمان اسلام احسان کی تفصیل پوچھنا بھی مروی ہے یہ بھی ہے کہ جب قیامت کے صحیح وقت کا سوال ہوا تو آپ نے فرمایا یہ ان پانچ چیزوں میں سے ہے جن کا علم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کو نہیں۔ پھر آپ نے آیت (اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ ۚ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ ۚ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْاَرْحَامِ ۭ وَمَا تَدْرِيْ نَفْسٌ مَّاذَا تَكْسِبُ غَدًا ۭ وَمَا تَدْرِيْ نَفْسٌۢ بِاَيِّ اَرْضٍ تَمُوْتُ ۭ اِنَّ اللّٰهَ عَلِيْمٌ خَبِيْرٌ) 31۔ لقمان :34) تلاوت فرمائی۔ پھر فرماتا ہے اس کا علم تمام موجودات کو احاطہ کئے ہوئے ہے۔ بری بحری کوئی چیز اس کے علم سے باہر نہیں۔ آسمان و زمین کا ایک ذرہ اس پر پوشیدہ نہیں۔ صرصری کا کیا ہی اچھا شعر ہے۔ فلا یحفی علیہ الذراما یترای للنواظر او تواری یعنی کسی کو کچھ دکھائی دے نہ دے رب پر کچھ بھی پوشیدہ نہیں، وہ سب کی حرکات سے بھی واقف ہے، جمادات کا ہلنا جلنا یہاں تک کہ پتے کا جھڑنا بھی اس کے وسیع علم سے باہر نہیں۔ پھر بھلا جنات اور انسان کا کونسا علم اس پر مخفی رہ سکتا ہے ؟ جیسے فرمان عالی شان ہے آیت (يَعْلَمُ خَاۗىِٕنَةَ الْاَعْيُنِ وَمَا تُخْفِي الصُّدُوْرُ) 40۔ غافر :19) آنکھوں کی خیانت اور دلوں کے پوشیدہ بھید بھی اس پر عیاں ہیں۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ خشکی تری کا کوئی درخت ایسا نہیں جس پر اللہ کی طرف سے کوئی فرشتہ مقرر نہ ہو جو اس کے جھڑ جانے والے پتوں کو بھی لکھ لے، پھر فرماتا ہے زمین کے اندھیروں کے دانوں کا بھی اس اللہ کو علم ہے۔ حضرت عمرو بن عاص ؓ فرماتے ہیں، تیسری زمین کے اوپر اور چوتھی کے نیچے اتنے جن بستے ہیں کہ اگر وہ اس زمین پر آجائیں تو ان کی وجہ سے کوئی روشنی نظر نہ پڑے، زمین کے ہر کونے پر اللہ کی مہروں میں سے ایک مہر اور ہر مہر پر ایک فرشتہ مقرر ہے اور ہر دن اللہ کی طرف سے ہے اس کے پاس ایک اور فرشتے کے ذریعہ سے حکم پہنچتا ہے کہ تیرے پاس جو ہے اس کی بخوبی حفاظت کر۔ حضرت عبداللہ بن حارث فرماتے ہیں کہ زمین کے ہر ایک درخت وغیرہ پر فرشتے مقرر ہیں جو ان کی خشکی تری وغیرہ کی بابت اللہ کی جناب میں عرض کردیتے ہیں۔ ابن عباس سے مروی ہے اللہ تعالیٰ نے نون یعنی دوات کو پیدا کیا اور تختیاں بنائیں اور اس میں دنیا کے تمام ہونے والے اموار لکھے۔ کل مخلوق کی روزیاں، حلال حرام نیکی بدی سب کچھ لکھ دیا ہے پھر یہی آیت پڑھی۔
58
View Single
قُل لَّوۡ أَنَّ عِندِي مَا تَسۡتَعۡجِلُونَ بِهِۦ لَقُضِيَ ٱلۡأَمۡرُ بَيۡنِي وَبَيۡنَكُمۡۗ وَٱللَّهُ أَعۡلَمُ بِٱلظَّـٰلِمِينَ
Say, “If I had the thing for which you are impatient, then the matter between me and you would have already been decided”; and Allah is Well Aware of the unjust.
(ان سے) فرما دیں: اگر وہ (عذاب) میرے پاس ہوتا جسے تم جلدی چاہتے ہو تو یقیناً میرے اور تمہارے درمیان کام تمام ہوچکا ہوتا۔ اور اللہ ظالموں کو خوب جاننے والا ہے
Tafsir Ibn Kathir
The Prophet Understands What He Conveys; Torment is in Allah's Hands Not the Prophet's
Allah says, just as We mentioned the clear signs that testify and direct to the path of guidance, all the while chastising useless arguments and defiance,
كَذلِكَ نُفَصِّلُ الآيَـتِ
(And thus do We explain the Ayat in detail,) that is, whatever responsible adults need explained to them, in the affairs of life and religion,
وَلِتَسْتَبِينَ سَبِيلُ الْمُجْرِمِينَ
(That the way of the criminals may become manifest.) so that the path of the criminals who defy the Prophets is apparent and clear. This Ayah was also said to mean, so that you, O Muhammad , are aware of the path of the criminals. Allah's statement,
قُلْ إِنِّى عَلَى بَيِّنَةٍ مِّن رَّبِّى
(Say: "I am on clear proof from my Lord...") means: I have a clear understanding of the Law of Allah that He has revealed to me,
وَكَذَّبْتُم بِهِ
(but you deny it.) meaning, but you disbelieve in the truth that came to me from Allah.
مَا عِندِى مَا تَسْتَعْجِلُونَ بِهِ
(I do not have what you are hastily seeking) meaning, the torment,
إِنِ الْحُكْمُ إِلاَّ للَّهِ
(The decision is only for Allah,) for the ruling of this is with Allah. If He wills, He will punish you soon in response to your wish! If He wills, He will give you respite, out of His great wisdom. This is why Allah said,
يَقُصُّ الْحَقَّ وَهُوَ خَيْرُ الْفَـصِلِينَ
(He declares the truth, and He is the best of judges.) and the best in reckoning between His servants. Allah's statement,
قُل لَّوْ أَنَّ عِندِى مَا تَسْتَعْجِلُونَ بِهِ لَقُضِىَ الاٌّمْرُ بَيْنِى وَبَيْنَكُمْ
(Say: "If I had that which you are asking for impatiently (the torment), the matter would have been settled at once between you and I,") means, if I have what you ask for, I will surely send down what you deserve of it,
وَاللهُ أَعْلَمْ بِالظَّالِمِيَن
(but Allah knows best the wrongdoers) Someone might ask about the meaning of this Ayah compared to the Hadith in the Two Sahihs, from `A'ishah, may Allah be pleased with her, that she said to the Messenger ﷺ, "O Allah's Messenger ! Have you encountered a day harder than the day (of the battle) of Uhud" The Prophet replied,
«لَقَدْ لَقِيتُ مِنْ قَوْمِكِ، وَكَانَ أَشَدَّ مَا لَقِيتُ مِنْهُمْ يَوْمَ الْعَقَبَةِ،إِذْ عَرَضْتُ نَفْسِي عَلَى ابْنِ عَبْدِيَالِيلَ بْنِ عَبْدِكُلَالٍ، فَلَمْ يُجِبْنِي إِلَى مَا أَرَدْتُ، فَانْطَلَقْتُ وَأَنَا مَهْمُومٌ عَلَى وَجْهِي، فَلَمْ أَسْتَفِقْ إِلَّا بِقَرْنِ الثَّعَالِبِ، فَرَفَعْتُ رَأْسِي، فَإِذَا أَنَا بِسَحَاَبَةٍ قَدْ ظَلَّلَتْنِي، فَنَظَرْتُ فَإِذَا فِيهَا جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَنَادَانِي فَقَالَ: إِنَّ الله قَدْ سَمِعَ قَوْلَ قَوْمِكَ لَكَ، وَمَا رَدُّوا عَلَيْكَ، وَقَدْ بَعَثَ إِلَيْكَ مَلَكَ الْجِبَالِ، لِتَأْمُرَهُ بِمَا شِئْتَ فِيهِمْ، قَالَ: فَنَادَانِي مَلَكُ الْجِبَالِ وَسَلَّمَ عَلَيَّ، ثُمَّ قَالَ: يَا مُحَمَّدُ إِنَّ اللهَ قَدْ سَمِعَ قَوْلَ قَوْمِكَ لَكَ، وَقَدْ بَعَثَنِي رَبُّكَ إِلَيْكَ، لِتَأْمُرَنِي بِأَمْرِكَ فِيمَا شِئْتَ، إِنْ شِئْتَ أَطْبَقْتُ عَلَيْهِمُ الْأَخْشَبَيْن»
فَقَالَ رَسُولُ اللهِصلى الله عليه وسلّم:
«بَلْ أَرْجُو أَنْ يُخْرِجَ اللهُ مِنْ أَصْلَابِهِمْ، مَنْ يَعْبُدُ اللهَ لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا»
(Your people have troubled me alot and the worst trouble was on the day of `Aqabah when I presented myself to Ibn `Abd Yalil bin `Abd Kulal, who did not respond to my call. So I departed, overwhelmed with severe sorrow, proceeded on and could not relax until I found myself at Qarn Ath-Tha`alib where I raised my head towards the sky to see a cloud unexpectedly shading me. I looked up and saw Jibril in it and he called me saying, `Indeed Allah has heard what you said to the people and what they have responded to you. Therefore, Allah has sent the Angel of the Mountains to you so that you may order him to do whatever you wish to these people.' The Angel of the Mountains called and greeted me, and then said, `O Muhammad! verily, Allah has heard how your people responded to you and He has sent me to you so that you could order me to do what you wish. If you like, I will let Al-Akhshabayn (two mountains to the north and south of Makkah) fall on them.' The Prophet said, No, but I hope that Allah will let them generate offspring who will worship Allah Alone, and will worship none besides Him.) This is the wording of Muslim. Tormenting the disbelievers of Quraysh was offered to the Prophet , but he chose patience and asked Allah for respite for them, so that Allah might let them generate offspring who will not associate anything with Him in worship. Therefore, how can we combine the meaning of this Hadith and the honorable Ayah,
قُل لَّوْ أَنَّ عِندِى مَا تَسْتَعْجِلُونَ بِهِ لَقُضِىَ الاٌّمْرُ بَيْنِى وَبَيْنَكُمْ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِالظَّـلِمِينَ
(Say: "If I had that which you are asking for impatiently (the torment), the matter would have been settled at once between you and I, but Allah knows best the wrongdoers.") The answer to this question is, Allah knows the best, that the Ayah states that if the punishment that they asked for was in the Prophet's hand at the time, he would have sent it on them as they asked. As for the Hadith, the disbelievers did not ask the Prophet to send the torment down on them. Rather, the angel responsible for the mountains offered him the choice to let the two mountains to the north and south of Makkah close in on the disbelievers and crush them. The Prophet did not wish that and asked for respite out of compassion for them.
Allah said next,
وَعِندَهُ مَفَاتِحُ الْغَيْبِ لاَ يَعْلَمُهَآ إِلاَّ هُوَ
(And with Him are the keys of the Ghayb (all that is hidden), none knows them but He.) Al-Bukhari recorded that Salim bin `Abdullah said that his father said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«مَفَاتِيحُ الْغَيْبِ خَمْسٌ لَا يَعْلَمُهُنَّ إِلَّا الله»
(The keys of the Unseen are five and none except Allah knows them:
إِنَّ اللَّهَ عِندَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِى الاٌّرْحَامِ وَمَا تَدْرِى نَفْسٌ مَّاذَا تَكْسِبُ غَداً وَمَا تَدْرِى نَفْسٌ بِأَىِّ أَرْضٍ تَمُوتُ إِنَّ اللَّهَ عَلَيمٌ خَبِيرٌ
(Verily, Allah! With Him (Alone) is the knowledge of the Hour, He sends down the rain, and knows that which is in the wombs. No person knows what he will earn tomorrow, and no person knows in what land he will die. Verily, Allah is All-Knower, All-Aware)") 31:34. Allah's statement,
وَيَعْلَمُ مَا فِى الْبَرِّ وَالْبَحْرِ
(And He knows whatever there is on the land and in the sea;) means, Allah's honored knowledge encompasses everything, including the creatures living in the sea and on land, and none of it, not even the weight of an atom on earth or in heaven, ever escapes His knowledge. Allah's statement,
وَمَا تَسْقُطُ مِن وَرَقَةٍ إِلاَّ يَعْلَمُهَا
(not a leaf falls, but He knows it.) means, He knows the movements of everything including inanimate things. Therefore, what about His knowledge of the living creatures, especially, those whom the Divine laws have been imposed upon such as mankind and the Jinns In another Ayah, Allah said;
يَعْلَمُ خَآئِنَةَ الاٌّعْيُنِ وَمَا تُخْفِى الصُّدُورُ
(Allah knows the fraud of the eyes, and all that the breasts conceal.) 40:19
نیک و بد کی وضاحت کے بعد ؟ یعنی جس طرح ہم نے اس سے پہلے ہدایت کی باتیں اور بھلائی کی راہیں واضح کردیں نیکی بدی کھول کھول کر بیان کردی اسی طرح ہم ہر اس چیز کا تفصیلی بیان کرتے ہیں جس کی تمہیں ضرورت پیش آنے والی ہے۔ اس میں علاوہ اور فوائد کے ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ مجرموں کا راستہ نیکوں پر عیاں ہوجائے۔ ایک اور قرأت کے اعتبار سے یہ مطلب ہے تاکہ تو گنہگاروں کا طریقہ واردات لوگوں کے سامنے کھول دے۔ پھر حکم ہوتا ہے کہ اے نبی ﷺ لوگوں میں اعلان کردو کہ میرے پاس الٰہی دلیل ہے میں اپنے رب کی دی ہوئی سچی شریعت پر قائم ہوں۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے میرے پاس وحی آتی ہے، افسوس کہ تم اس حق کو جھٹلا رہے ہو، تم اگرچہ عذابوں کی جلدی مچا رہے ہو لیکن عذاب کا لانا میرے اختیار کی چیز نہیں۔ یہ سب کچھ اللہ کے حکم کے ماتحت ہے۔ اس کی مصلحت وہی جانتا ہے اگر چاہے دیر سے لائے اگر چاہے تو جلدی لائے، وہ حق بیان فرمانے والا اور اپنے بندوں کے درمیان بہترین فیصلے کرنے والا ہے، سنو اگر میرا ہی حکم چلتا میرے ہی اختیار میں ثواب و عذاب ہوتا، میرے بس میں بقا اور فنا ہوتی تو میں جو چاہتا ہوجایا کرتا اور میں تو ابھی اپنے اور تمہارے درمیان فیصلہ کرلیتا اور تم پر وہ عذاب برس پڑتے جن سے میں تمہیں ڈرا رہا ہوں، بات یہ ہے کہ میرے بس میں کوئی بات نہیں، اختیار والا اللہ تعالیٰ اکیلا ہی ہے، وہ ظالموں کو بخوبی جانتا ہے، بخاری و مسلم کی ایک حدیث میں ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے ایک بار رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ احد سے زیادہ سختی کا تو آپ پر کوئی دن نہ آیا ہوگا ؟ آپ نے فرمایا عائشہ کیا پوچھتی ہو کہ مجھے اس قوم نے کیا کیا ایذائیں پہنچیں ؟ سب سے زیادہ بھاری دن مجھ پر عقبہ کا دن تھا جبکہ میں عبدالیل بن عبد کلال کے پاس پہنچا اور میں نے اس سے آرزو کی کہ وہ میرا ساتھ دے مگر اس نے میری بات نہ مانی، واللہ میں سخت غمگین ہو کر وہاں سے چلا مجھے نہیں معلوم تھا کہ میں کدھر جا رہا ہوں، قرن ثعالب میں آ کر میرے حواس ٹھیک ہوئے تو میں نے دیکھا کہ اوپر سے ایک بادل نے مجھے ڈھک لیا ہے، سر اٹھا کر دیکھتا ہوں تو حضرت جبرائیل ؑ مجھے آواز دے کر فرما رہے ہیں اللہ تعالیٰ نے تیری قوم کی باتیں سنیں اور جو جواب انہوں نے تجھے دیا وہ بھی سنا۔ اب پہاڑوں کے داروغہ فرشتے کو اس نے بھیجا ہے آپ جو چاہیں انہیں حکم دیجئے یہ بجا لائیں گے، اسی وقت اس فرشتے نے مجھے پکارا سلام کیا اور کہا اللہ تعالیٰ نے آپ کی قوم کی باتیں سنیں اور مجھے آپ کے پاس بھیجا ہے کہ ان کے بارے میں جو ارشاد آپ فرمائیں میں بجا لاؤں، اگر آپ حکم دیں تو مکہ شریف کے ان دونوں پہاڑوں کو جو جنوب شمال میں ہیں میں اکٹھے کر دوں اور ان تمام کو ان دونوں کے درمیان پیس دوں۔ آنحضرت ﷺ نے انہیں جواب دیا کہ نہیں میں یہ نہیں چاہتا بلکہ مجھے تو امید ہے کہ کیا عجب ان کی نسل میں آگے جا کر ہی کچھ ایسے لوگ ہوں جو اللہ وحدہ لا شریک لہ کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں، ہاں یہاں یہ بات خیال میں رہے کہ کوئی اس شبہ میں نہ پڑے کہ قرآن کی اس آیت میں تو ہے کہ اگر میرے بس میں عذاب ہوتے تو ابھی ہی فیصلہ کردیا جاتا اور حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بس میں کردیئے پھر بھی آپ نے ان کیلئے تاخیر طلب کی۔ اس شبہ کا جواب یہ ہے کہ آیت سے اتنا معلوم ہوتا ہے کہ جب وہ عذاب طلب کرتے اس وقت اگر آپ کے بس میں ہوتا تو اسی وقت ان پر عذاب آجاتا اور حدیث میں یہ نہیں کہ اس وقت انہوں نے کوئی عذاب مانگا تھا۔ حدیث میں تو صرف اتنا ہے کہ پہاڑوں کے فرشتے نے آپ کو یہ بتلایا کہ بحکم الہ میں یہ کرسکتا ہوں صرف آپ کی زبان مبارک کے ہلنے کا منتظر ہوں لیکن رحمتہ للعالمین کو رحم آگیا اور نرمی برتی، پس آیت و حدیث میں کوئی معارضہ نہیں۔ واللہ اعلم۔ حضور کا فرمان ہے غیب کی کنجیاں پانچ ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا پھر آپ نے آیت (اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ ۚ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ ۚ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْاَرْحَامِ ۭ وَمَا تَدْرِيْ نَفْسٌ مَّاذَا تَكْسِبُ غَدًا ۭ وَمَا تَدْرِيْ نَفْسٌۢ بِاَيِّ اَرْضٍ تَمُوْتُ ۭ اِنَّ اللّٰهَ عَلِيْمٌ خَبِيْرٌ) 31۔ لقمان :34) پڑھی، یعنی قیامت کا علم، بارش کا علم، پیٹ کے بچے کا علم، کل کے کام کا علم، موت کی جگہ کا علم۔ اس حدیث میں جس میں حضرت جبرائیل ؑ کا بصورت انسان آ کر حضور سے ایمان اسلام احسان کی تفصیل پوچھنا بھی مروی ہے یہ بھی ہے کہ جب قیامت کے صحیح وقت کا سوال ہوا تو آپ نے فرمایا یہ ان پانچ چیزوں میں سے ہے جن کا علم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کو نہیں۔ پھر آپ نے آیت (اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ ۚ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ ۚ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْاَرْحَامِ ۭ وَمَا تَدْرِيْ نَفْسٌ مَّاذَا تَكْسِبُ غَدًا ۭ وَمَا تَدْرِيْ نَفْسٌۢ بِاَيِّ اَرْضٍ تَمُوْتُ ۭ اِنَّ اللّٰهَ عَلِيْمٌ خَبِيْرٌ) 31۔ لقمان :34) تلاوت فرمائی۔ پھر فرماتا ہے اس کا علم تمام موجودات کو احاطہ کئے ہوئے ہے۔ بری بحری کوئی چیز اس کے علم سے باہر نہیں۔ آسمان و زمین کا ایک ذرہ اس پر پوشیدہ نہیں۔ صرصری کا کیا ہی اچھا شعر ہے۔ فلا یحفی علیہ الذراما یترای للنواظر او تواری یعنی کسی کو کچھ دکھائی دے نہ دے رب پر کچھ بھی پوشیدہ نہیں، وہ سب کی حرکات سے بھی واقف ہے، جمادات کا ہلنا جلنا یہاں تک کہ پتے کا جھڑنا بھی اس کے وسیع علم سے باہر نہیں۔ پھر بھلا جنات اور انسان کا کونسا علم اس پر مخفی رہ سکتا ہے ؟ جیسے فرمان عالی شان ہے آیت (يَعْلَمُ خَاۗىِٕنَةَ الْاَعْيُنِ وَمَا تُخْفِي الصُّدُوْرُ) 40۔ غافر :19) آنکھوں کی خیانت اور دلوں کے پوشیدہ بھید بھی اس پر عیاں ہیں۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ خشکی تری کا کوئی درخت ایسا نہیں جس پر اللہ کی طرف سے کوئی فرشتہ مقرر نہ ہو جو اس کے جھڑ جانے والے پتوں کو بھی لکھ لے، پھر فرماتا ہے زمین کے اندھیروں کے دانوں کا بھی اس اللہ کو علم ہے۔ حضرت عمرو بن عاص ؓ فرماتے ہیں، تیسری زمین کے اوپر اور چوتھی کے نیچے اتنے جن بستے ہیں کہ اگر وہ اس زمین پر آجائیں تو ان کی وجہ سے کوئی روشنی نظر نہ پڑے، زمین کے ہر کونے پر اللہ کی مہروں میں سے ایک مہر اور ہر مہر پر ایک فرشتہ مقرر ہے اور ہر دن اللہ کی طرف سے ہے اس کے پاس ایک اور فرشتے کے ذریعہ سے حکم پہنچتا ہے کہ تیرے پاس جو ہے اس کی بخوبی حفاظت کر۔ حضرت عبداللہ بن حارث فرماتے ہیں کہ زمین کے ہر ایک درخت وغیرہ پر فرشتے مقرر ہیں جو ان کی خشکی تری وغیرہ کی بابت اللہ کی جناب میں عرض کردیتے ہیں۔ ابن عباس سے مروی ہے اللہ تعالیٰ نے نون یعنی دوات کو پیدا کیا اور تختیاں بنائیں اور اس میں دنیا کے تمام ہونے والے اموار لکھے۔ کل مخلوق کی روزیاں، حلال حرام نیکی بدی سب کچھ لکھ دیا ہے پھر یہی آیت پڑھی۔
59
View Single
۞وَعِندَهُۥ مَفَاتِحُ ٱلۡغَيۡبِ لَا يَعۡلَمُهَآ إِلَّا هُوَۚ وَيَعۡلَمُ مَا فِي ٱلۡبَرِّ وَٱلۡبَحۡرِۚ وَمَا تَسۡقُطُ مِن وَرَقَةٍ إِلَّا يَعۡلَمُهَا وَلَا حَبَّةٖ فِي ظُلُمَٰتِ ٱلۡأَرۡضِ وَلَا رَطۡبٖ وَلَا يَابِسٍ إِلَّا فِي كِتَٰبٖ مُّبِينٖ
And it is He Who has the keys of the hidden – only He knows them; and He knows all that is in the land and the sea; and no leaf falls but He knows it – and there is not a grain in the darkness of the earth, nor anything wet or dry, which is not recorded in a clear Book.
اور غیب کی کُنجیاں (یعنی وہ راستے جن سے غیب کسی پر آشکار کیا جاتا ہے) اسی کے پاس (اس کی قدرت و ملکیت میں) ہیں، انہیں اس کے سوا (اَز خود) کوئی نہیں جانتا، اور وہ ہر اس چیز کو (بلاواسطہ) جانتا ہے جو خشکی میں اور دریاؤں میں ہے، اور کوئی پتّا نہیں گرتا مگر (یہ کہ) وہ اسے جانتا ہے اور نہ زمین کی تاریکیوں میں کوئی (ایسا) دانہ ہے اور نہ کوئی تر چیز ہے اور نہ کوئی خشک چیز مگر روشن کتاب میں (سب کچھ لکھ دیا گیا ہے)
Tafsir Ibn Kathir
The Prophet Understands What He Conveys; Torment is in Allah's Hands Not the Prophet's
Allah says, just as We mentioned the clear signs that testify and direct to the path of guidance, all the while chastising useless arguments and defiance,
كَذلِكَ نُفَصِّلُ الآيَـتِ
(And thus do We explain the Ayat in detail,) that is, whatever responsible adults need explained to them, in the affairs of life and religion,
وَلِتَسْتَبِينَ سَبِيلُ الْمُجْرِمِينَ
(That the way of the criminals may become manifest.) so that the path of the criminals who defy the Prophets is apparent and clear. This Ayah was also said to mean, so that you, O Muhammad , are aware of the path of the criminals. Allah's statement,
قُلْ إِنِّى عَلَى بَيِّنَةٍ مِّن رَّبِّى
(Say: "I am on clear proof from my Lord...") means: I have a clear understanding of the Law of Allah that He has revealed to me,
وَكَذَّبْتُم بِهِ
(but you deny it.) meaning, but you disbelieve in the truth that came to me from Allah.
مَا عِندِى مَا تَسْتَعْجِلُونَ بِهِ
(I do not have what you are hastily seeking) meaning, the torment,
إِنِ الْحُكْمُ إِلاَّ للَّهِ
(The decision is only for Allah,) for the ruling of this is with Allah. If He wills, He will punish you soon in response to your wish! If He wills, He will give you respite, out of His great wisdom. This is why Allah said,
يَقُصُّ الْحَقَّ وَهُوَ خَيْرُ الْفَـصِلِينَ
(He declares the truth, and He is the best of judges.) and the best in reckoning between His servants. Allah's statement,
قُل لَّوْ أَنَّ عِندِى مَا تَسْتَعْجِلُونَ بِهِ لَقُضِىَ الاٌّمْرُ بَيْنِى وَبَيْنَكُمْ
(Say: "If I had that which you are asking for impatiently (the torment), the matter would have been settled at once between you and I,") means, if I have what you ask for, I will surely send down what you deserve of it,
وَاللهُ أَعْلَمْ بِالظَّالِمِيَن
(but Allah knows best the wrongdoers) Someone might ask about the meaning of this Ayah compared to the Hadith in the Two Sahihs, from `A'ishah, may Allah be pleased with her, that she said to the Messenger ﷺ, "O Allah's Messenger ! Have you encountered a day harder than the day (of the battle) of Uhud" The Prophet replied,
«لَقَدْ لَقِيتُ مِنْ قَوْمِكِ، وَكَانَ أَشَدَّ مَا لَقِيتُ مِنْهُمْ يَوْمَ الْعَقَبَةِ،إِذْ عَرَضْتُ نَفْسِي عَلَى ابْنِ عَبْدِيَالِيلَ بْنِ عَبْدِكُلَالٍ، فَلَمْ يُجِبْنِي إِلَى مَا أَرَدْتُ، فَانْطَلَقْتُ وَأَنَا مَهْمُومٌ عَلَى وَجْهِي، فَلَمْ أَسْتَفِقْ إِلَّا بِقَرْنِ الثَّعَالِبِ، فَرَفَعْتُ رَأْسِي، فَإِذَا أَنَا بِسَحَاَبَةٍ قَدْ ظَلَّلَتْنِي، فَنَظَرْتُ فَإِذَا فِيهَا جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَنَادَانِي فَقَالَ: إِنَّ الله قَدْ سَمِعَ قَوْلَ قَوْمِكَ لَكَ، وَمَا رَدُّوا عَلَيْكَ، وَقَدْ بَعَثَ إِلَيْكَ مَلَكَ الْجِبَالِ، لِتَأْمُرَهُ بِمَا شِئْتَ فِيهِمْ، قَالَ: فَنَادَانِي مَلَكُ الْجِبَالِ وَسَلَّمَ عَلَيَّ، ثُمَّ قَالَ: يَا مُحَمَّدُ إِنَّ اللهَ قَدْ سَمِعَ قَوْلَ قَوْمِكَ لَكَ، وَقَدْ بَعَثَنِي رَبُّكَ إِلَيْكَ، لِتَأْمُرَنِي بِأَمْرِكَ فِيمَا شِئْتَ، إِنْ شِئْتَ أَطْبَقْتُ عَلَيْهِمُ الْأَخْشَبَيْن»
فَقَالَ رَسُولُ اللهِصلى الله عليه وسلّم:
«بَلْ أَرْجُو أَنْ يُخْرِجَ اللهُ مِنْ أَصْلَابِهِمْ، مَنْ يَعْبُدُ اللهَ لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا»
(Your people have troubled me alot and the worst trouble was on the day of `Aqabah when I presented myself to Ibn `Abd Yalil bin `Abd Kulal, who did not respond to my call. So I departed, overwhelmed with severe sorrow, proceeded on and could not relax until I found myself at Qarn Ath-Tha`alib where I raised my head towards the sky to see a cloud unexpectedly shading me. I looked up and saw Jibril in it and he called me saying, `Indeed Allah has heard what you said to the people and what they have responded to you. Therefore, Allah has sent the Angel of the Mountains to you so that you may order him to do whatever you wish to these people.' The Angel of the Mountains called and greeted me, and then said, `O Muhammad! verily, Allah has heard how your people responded to you and He has sent me to you so that you could order me to do what you wish. If you like, I will let Al-Akhshabayn (two mountains to the north and south of Makkah) fall on them.' The Prophet said, No, but I hope that Allah will let them generate offspring who will worship Allah Alone, and will worship none besides Him.) This is the wording of Muslim. Tormenting the disbelievers of Quraysh was offered to the Prophet , but he chose patience and asked Allah for respite for them, so that Allah might let them generate offspring who will not associate anything with Him in worship. Therefore, how can we combine the meaning of this Hadith and the honorable Ayah,
قُل لَّوْ أَنَّ عِندِى مَا تَسْتَعْجِلُونَ بِهِ لَقُضِىَ الاٌّمْرُ بَيْنِى وَبَيْنَكُمْ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِالظَّـلِمِينَ
(Say: "If I had that which you are asking for impatiently (the torment), the matter would have been settled at once between you and I, but Allah knows best the wrongdoers.") The answer to this question is, Allah knows the best, that the Ayah states that if the punishment that they asked for was in the Prophet's hand at the time, he would have sent it on them as they asked. As for the Hadith, the disbelievers did not ask the Prophet to send the torment down on them. Rather, the angel responsible for the mountains offered him the choice to let the two mountains to the north and south of Makkah close in on the disbelievers and crush them. The Prophet did not wish that and asked for respite out of compassion for them.
Allah said next,
وَعِندَهُ مَفَاتِحُ الْغَيْبِ لاَ يَعْلَمُهَآ إِلاَّ هُوَ
(And with Him are the keys of the Ghayb (all that is hidden), none knows them but He.) Al-Bukhari recorded that Salim bin `Abdullah said that his father said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«مَفَاتِيحُ الْغَيْبِ خَمْسٌ لَا يَعْلَمُهُنَّ إِلَّا الله»
(The keys of the Unseen are five and none except Allah knows them:
إِنَّ اللَّهَ عِندَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِى الاٌّرْحَامِ وَمَا تَدْرِى نَفْسٌ مَّاذَا تَكْسِبُ غَداً وَمَا تَدْرِى نَفْسٌ بِأَىِّ أَرْضٍ تَمُوتُ إِنَّ اللَّهَ عَلَيمٌ خَبِيرٌ
(Verily, Allah! With Him (Alone) is the knowledge of the Hour, He sends down the rain, and knows that which is in the wombs. No person knows what he will earn tomorrow, and no person knows in what land he will die. Verily, Allah is All-Knower, All-Aware)") 31:34. Allah's statement,
وَيَعْلَمُ مَا فِى الْبَرِّ وَالْبَحْرِ
(And He knows whatever there is on the land and in the sea;) means, Allah's honored knowledge encompasses everything, including the creatures living in the sea and on land, and none of it, not even the weight of an atom on earth or in heaven, ever escapes His knowledge. Allah's statement,
وَمَا تَسْقُطُ مِن وَرَقَةٍ إِلاَّ يَعْلَمُهَا
(not a leaf falls, but He knows it.) means, He knows the movements of everything including inanimate things. Therefore, what about His knowledge of the living creatures, especially, those whom the Divine laws have been imposed upon such as mankind and the Jinns In another Ayah, Allah said;
يَعْلَمُ خَآئِنَةَ الاٌّعْيُنِ وَمَا تُخْفِى الصُّدُورُ
(Allah knows the fraud of the eyes, and all that the breasts conceal.) 40:19
نیک و بد کی وضاحت کے بعد ؟ یعنی جس طرح ہم نے اس سے پہلے ہدایت کی باتیں اور بھلائی کی راہیں واضح کردیں نیکی بدی کھول کھول کر بیان کردی اسی طرح ہم ہر اس چیز کا تفصیلی بیان کرتے ہیں جس کی تمہیں ضرورت پیش آنے والی ہے۔ اس میں علاوہ اور فوائد کے ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ مجرموں کا راستہ نیکوں پر عیاں ہوجائے۔ ایک اور قرأت کے اعتبار سے یہ مطلب ہے تاکہ تو گنہگاروں کا طریقہ واردات لوگوں کے سامنے کھول دے۔ پھر حکم ہوتا ہے کہ اے نبی ﷺ لوگوں میں اعلان کردو کہ میرے پاس الٰہی دلیل ہے میں اپنے رب کی دی ہوئی سچی شریعت پر قائم ہوں۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے میرے پاس وحی آتی ہے، افسوس کہ تم اس حق کو جھٹلا رہے ہو، تم اگرچہ عذابوں کی جلدی مچا رہے ہو لیکن عذاب کا لانا میرے اختیار کی چیز نہیں۔ یہ سب کچھ اللہ کے حکم کے ماتحت ہے۔ اس کی مصلحت وہی جانتا ہے اگر چاہے دیر سے لائے اگر چاہے تو جلدی لائے، وہ حق بیان فرمانے والا اور اپنے بندوں کے درمیان بہترین فیصلے کرنے والا ہے، سنو اگر میرا ہی حکم چلتا میرے ہی اختیار میں ثواب و عذاب ہوتا، میرے بس میں بقا اور فنا ہوتی تو میں جو چاہتا ہوجایا کرتا اور میں تو ابھی اپنے اور تمہارے درمیان فیصلہ کرلیتا اور تم پر وہ عذاب برس پڑتے جن سے میں تمہیں ڈرا رہا ہوں، بات یہ ہے کہ میرے بس میں کوئی بات نہیں، اختیار والا اللہ تعالیٰ اکیلا ہی ہے، وہ ظالموں کو بخوبی جانتا ہے، بخاری و مسلم کی ایک حدیث میں ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے ایک بار رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ احد سے زیادہ سختی کا تو آپ پر کوئی دن نہ آیا ہوگا ؟ آپ نے فرمایا عائشہ کیا پوچھتی ہو کہ مجھے اس قوم نے کیا کیا ایذائیں پہنچیں ؟ سب سے زیادہ بھاری دن مجھ پر عقبہ کا دن تھا جبکہ میں عبدالیل بن عبد کلال کے پاس پہنچا اور میں نے اس سے آرزو کی کہ وہ میرا ساتھ دے مگر اس نے میری بات نہ مانی، واللہ میں سخت غمگین ہو کر وہاں سے چلا مجھے نہیں معلوم تھا کہ میں کدھر جا رہا ہوں، قرن ثعالب میں آ کر میرے حواس ٹھیک ہوئے تو میں نے دیکھا کہ اوپر سے ایک بادل نے مجھے ڈھک لیا ہے، سر اٹھا کر دیکھتا ہوں تو حضرت جبرائیل ؑ مجھے آواز دے کر فرما رہے ہیں اللہ تعالیٰ نے تیری قوم کی باتیں سنیں اور جو جواب انہوں نے تجھے دیا وہ بھی سنا۔ اب پہاڑوں کے داروغہ فرشتے کو اس نے بھیجا ہے آپ جو چاہیں انہیں حکم دیجئے یہ بجا لائیں گے، اسی وقت اس فرشتے نے مجھے پکارا سلام کیا اور کہا اللہ تعالیٰ نے آپ کی قوم کی باتیں سنیں اور مجھے آپ کے پاس بھیجا ہے کہ ان کے بارے میں جو ارشاد آپ فرمائیں میں بجا لاؤں، اگر آپ حکم دیں تو مکہ شریف کے ان دونوں پہاڑوں کو جو جنوب شمال میں ہیں میں اکٹھے کر دوں اور ان تمام کو ان دونوں کے درمیان پیس دوں۔ آنحضرت ﷺ نے انہیں جواب دیا کہ نہیں میں یہ نہیں چاہتا بلکہ مجھے تو امید ہے کہ کیا عجب ان کی نسل میں آگے جا کر ہی کچھ ایسے لوگ ہوں جو اللہ وحدہ لا شریک لہ کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں، ہاں یہاں یہ بات خیال میں رہے کہ کوئی اس شبہ میں نہ پڑے کہ قرآن کی اس آیت میں تو ہے کہ اگر میرے بس میں عذاب ہوتے تو ابھی ہی فیصلہ کردیا جاتا اور حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بس میں کردیئے پھر بھی آپ نے ان کیلئے تاخیر طلب کی۔ اس شبہ کا جواب یہ ہے کہ آیت سے اتنا معلوم ہوتا ہے کہ جب وہ عذاب طلب کرتے اس وقت اگر آپ کے بس میں ہوتا تو اسی وقت ان پر عذاب آجاتا اور حدیث میں یہ نہیں کہ اس وقت انہوں نے کوئی عذاب مانگا تھا۔ حدیث میں تو صرف اتنا ہے کہ پہاڑوں کے فرشتے نے آپ کو یہ بتلایا کہ بحکم الہ میں یہ کرسکتا ہوں صرف آپ کی زبان مبارک کے ہلنے کا منتظر ہوں لیکن رحمتہ للعالمین کو رحم آگیا اور نرمی برتی، پس آیت و حدیث میں کوئی معارضہ نہیں۔ واللہ اعلم۔ حضور کا فرمان ہے غیب کی کنجیاں پانچ ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا پھر آپ نے آیت (اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ ۚ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ ۚ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْاَرْحَامِ ۭ وَمَا تَدْرِيْ نَفْسٌ مَّاذَا تَكْسِبُ غَدًا ۭ وَمَا تَدْرِيْ نَفْسٌۢ بِاَيِّ اَرْضٍ تَمُوْتُ ۭ اِنَّ اللّٰهَ عَلِيْمٌ خَبِيْرٌ) 31۔ لقمان :34) پڑھی، یعنی قیامت کا علم، بارش کا علم، پیٹ کے بچے کا علم، کل کے کام کا علم، موت کی جگہ کا علم۔ اس حدیث میں جس میں حضرت جبرائیل ؑ کا بصورت انسان آ کر حضور سے ایمان اسلام احسان کی تفصیل پوچھنا بھی مروی ہے یہ بھی ہے کہ جب قیامت کے صحیح وقت کا سوال ہوا تو آپ نے فرمایا یہ ان پانچ چیزوں میں سے ہے جن کا علم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کو نہیں۔ پھر آپ نے آیت (اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ ۚ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ ۚ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْاَرْحَامِ ۭ وَمَا تَدْرِيْ نَفْسٌ مَّاذَا تَكْسِبُ غَدًا ۭ وَمَا تَدْرِيْ نَفْسٌۢ بِاَيِّ اَرْضٍ تَمُوْتُ ۭ اِنَّ اللّٰهَ عَلِيْمٌ خَبِيْرٌ) 31۔ لقمان :34) تلاوت فرمائی۔ پھر فرماتا ہے اس کا علم تمام موجودات کو احاطہ کئے ہوئے ہے۔ بری بحری کوئی چیز اس کے علم سے باہر نہیں۔ آسمان و زمین کا ایک ذرہ اس پر پوشیدہ نہیں۔ صرصری کا کیا ہی اچھا شعر ہے۔ فلا یحفی علیہ الذراما یترای للنواظر او تواری یعنی کسی کو کچھ دکھائی دے نہ دے رب پر کچھ بھی پوشیدہ نہیں، وہ سب کی حرکات سے بھی واقف ہے، جمادات کا ہلنا جلنا یہاں تک کہ پتے کا جھڑنا بھی اس کے وسیع علم سے باہر نہیں۔ پھر بھلا جنات اور انسان کا کونسا علم اس پر مخفی رہ سکتا ہے ؟ جیسے فرمان عالی شان ہے آیت (يَعْلَمُ خَاۗىِٕنَةَ الْاَعْيُنِ وَمَا تُخْفِي الصُّدُوْرُ) 40۔ غافر :19) آنکھوں کی خیانت اور دلوں کے پوشیدہ بھید بھی اس پر عیاں ہیں۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ خشکی تری کا کوئی درخت ایسا نہیں جس پر اللہ کی طرف سے کوئی فرشتہ مقرر نہ ہو جو اس کے جھڑ جانے والے پتوں کو بھی لکھ لے، پھر فرماتا ہے زمین کے اندھیروں کے دانوں کا بھی اس اللہ کو علم ہے۔ حضرت عمرو بن عاص ؓ فرماتے ہیں، تیسری زمین کے اوپر اور چوتھی کے نیچے اتنے جن بستے ہیں کہ اگر وہ اس زمین پر آجائیں تو ان کی وجہ سے کوئی روشنی نظر نہ پڑے، زمین کے ہر کونے پر اللہ کی مہروں میں سے ایک مہر اور ہر مہر پر ایک فرشتہ مقرر ہے اور ہر دن اللہ کی طرف سے ہے اس کے پاس ایک اور فرشتے کے ذریعہ سے حکم پہنچتا ہے کہ تیرے پاس جو ہے اس کی بخوبی حفاظت کر۔ حضرت عبداللہ بن حارث فرماتے ہیں کہ زمین کے ہر ایک درخت وغیرہ پر فرشتے مقرر ہیں جو ان کی خشکی تری وغیرہ کی بابت اللہ کی جناب میں عرض کردیتے ہیں۔ ابن عباس سے مروی ہے اللہ تعالیٰ نے نون یعنی دوات کو پیدا کیا اور تختیاں بنائیں اور اس میں دنیا کے تمام ہونے والے اموار لکھے۔ کل مخلوق کی روزیاں، حلال حرام نیکی بدی سب کچھ لکھ دیا ہے پھر یہی آیت پڑھی۔
60
View Single
وَهُوَ ٱلَّذِي يَتَوَفَّىٰكُم بِٱلَّيۡلِ وَيَعۡلَمُ مَا جَرَحۡتُم بِٱلنَّهَارِ ثُمَّ يَبۡعَثُكُمۡ فِيهِ لِيُقۡضَىٰٓ أَجَلٞ مُّسَمّٗىۖ ثُمَّ إِلَيۡهِ مَرۡجِعُكُمۡ ثُمَّ يُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمۡ تَعۡمَلُونَ
And it is He Who removes your souls at night (while asleep) and knows whatever you commit by day; then He raises you again during the day, to complete the term appointed (for you); then it is to Him that you are to return – He will then inform you of what you used to do.
اور وہی ہے جو رات کے وقت تمہاری روحیں قبض فرما لیتا ہے اور جو کچھ تم دن کے وقت کماتے ہو وہ جانتا ہے پھر وہ تمہیں دن میں اٹھا دیتا ہے تاکہ (تمہاری زندگی کی) معینّہ میعاد پوری کر دی جائے پھر تمہارا پلٹنا اسی کی طرف ہے، پھر وہ (روزِ محشر) تمہیں ان (تمام اعمال) سے آگاہ فرما دے گا جو تم (اس زندگانی میں) کرتے رہے تھے
Tafsir Ibn Kathir
The Servants are in Allah's Hands Before and After Death
Allah states that He brings death to His servants in their sleep at night, for sleep is minor death. Allah said in other Ayat,
إِذْ قَالَ اللَّهُ يعِيسَى إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَىَّ
(And (remember) when Allah said: "O `Isa! I will take you and raise you to Myself...") 3:55, and,
اللَّهُ يَتَوَفَّى الاٌّنفُسَ حِينَ مِوْتِـهَا وَالَّتِى لَمْ تَمُتْ فِى مَنَامِـهَا فَيُمْسِكُ الَّتِى قَضَى عَلَيْهَا الْمَوْتَ وَيُرْسِلُ الاٍّخْرَى إِلَى أَجَلٍ مُّسَمًّى
(It is Allah Who takes away the souls at the time of their death, and those that die not during their sleep. He keeps those (souls) for which He has ordained death and sends the rest for a term appointed.)39:42, ,thus mentioning both minor and major death. Allah says,
وَهُوَ الَّذِى يَتَوَفَّـكُم بِالَّيْلِ وَيَعْلَمُ مَا جَرَحْتُم بِالنَّهَارِ
(It is He, Who takes your souls by night (when you are asleep), and has knowledge of all that you have done by day,) meaning, He knows the deeds and actions that you perform during the day. This Ayah demonstrates Allah's perfect knowledge of His creation, by day and night, and in their movements and idleness. Allah said in other Ayat,
سَوَآءٌ مِّنْكُمْ مَّنْ أَسَرَّ الْقَوْلَ وَمَنْ جَهَرَ بِهِ وَمَنْ هُوَ مُسْتَخْفٍ بِالَّيْلِ وَسَارِبٌ بِالنَّهَارِ
(It is the same (to Him) whether any of you conceal his speech or declare it openly, whether he be hid by night or go forth freely by day.) 13:10, and
وَمِن رَّحْمَتِهِ جَعَلَ لَكُمُ الَّيْلَ وَالنَّهَارَ لِتَسْكُنُواْ فِيهِ
(It is out of His mercy that He made night and day, so that you may rest therein), by night,
وَلِتَبْتَغُواْ مِن فَضْلِهِ
(and that you may seek of His bounty) by day. Allah said,
وَجَعَلْنَا الَّيْلَ لِبَاساً - وَجَعَلْنَا النَّهَارَ مَعَاشاً
(And (We) have made the night as a covering. And (We) have made the day for livelihood.) 78:10-11. Allah said here,
وَهُوَ الَّذِى يَتَوَفَّـكُم بِالَّيْلِ وَيَعْلَمُ مَا جَرَحْتُم بِالنَّهَارِ
(It is He, Who takes your souls by night (when you are asleep), and has knowledge of all that you have done by day,) 6:60, Then said,
ثُمَّ يَبْعَثُكُمْ فِيهِ
(then he raises (wakes) you up again,) by day, according to Mujahid, Qatadah and As-Suddi. Allah's statement,
لِيُقْضَى أَجَلٌ مّسَمًّى
(that a term appointed be fulfilled) refers to the life span of every person,
ثُمَّ إِلَيْهِ مَرْجِعُكُمْ
(then (in the end), unto Him will be your return.) on the Day of Resurrection,
ثُمَّ يُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ
(Then He will inform you of what you used to do.) He will reward you, good for good, and evil for evil. Allah's statement,
وَهُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهِ
(He is the Qahir over His servants.) The Qahir means, the one who controls everything, all are subservient to His supreme grace, greatness and majesty,
وَيُرْسِلُ عَلَيْكُم حَفَظَةً
(and He sends guardians over you,) angels who guard mankind. In another Ayah, Allah said;
لَهُ مُعَقِّبَـتٌ مِّن بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ يَحْفَظُونَهُ مِنْ أَمْرِ اللَّهِ
(For each (person), there are angels in succession, before and behind him. They guard him by the command of Allah.) 13:11, watching his deeds and recording them. Allah said,
وَإِنَّ عَلَيْكُمْ لَحَـفِظِينَ
(But verily, over you (are appointed angels in charge of mankind) to watch you.) 82:10, and,
إِذْ يَتَلَقَّى الْمُتَلَقِّيَانِ عَنِ الْيَمِينِ وَعَنِ الشِّمَالِ قَعِيدٌ - مَّا يَلْفِظُ مِن قَوْلٍ إِلاَّ لَدَيْهِ رَقِيبٌ عَتِيدٌ
((Remember!) that the two receivers (recording angels) receive, one sitting on the right and one on the left. Not a word does he utter, but there is a watcher by him, ready.) 50:17-18. Allah's statement,
حَتَّى إِذَا جَآءَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ
(until when death approaches one of you...) refers to, when one's life span comes to an end and he is dying,
تَوَفَّتْهُ رُسُلُنَا
(Our messengers take his soul...) meaning, there are angels who are responsible for this job. Ibn `Abbas and several others said that the Angel of Death has angels who pull the soul from its body and when it reaches the throat, the Angel of Death captures it. Allah said;
وَهُمْ لاَ يُفَرِّطُونَ
(and they never neglect their duty.) They guard the soul of the dead person and take it to wherever Allah wills, to `Illiyyin if he was among the righteous, and to Sijjin if he was among the wicked (disbelievers, sinners, etc.), we seek refuge with Allah from this end. Allah said next,
ثُمَّ رُدُّواْ إِلَى اللَّهِ مَوْلَـهُمُ الْحَقِّ
(Then they are returned to Allah, their Master, the Just Lord.) Imam Ahmad recorded that Abu Hurayrah said that the Prophet said,
«إِنَّ الْمَيِّتَ تَحْضُرُهُ الْمَلَائِكَةُ فَإِذَا كَانَ الرَّجُلُ الصَّالِحُ، قَالُوا: اخْرُجِي أَيَّتُهَا النَّفْسُ الطَّيِّبَةُ كَانَتْ فِي الْجَسَدِ الطَّيِّبِ،اخْرُجِي حَمِيدَةً، وَأَبْشِرِي بِرَوْحٍ وَرَيْحَانٍ، وَرَبَ غَيْرِ غَضْبَانَ، فَلَا تَزَالُ يُقَالُ لَهَا ذَلِكَ حَتَّى تَخْرُجَ، ثُمَّ يُعْرَجَ بِهَا إِلَى السَّمَاءِ، فَيَسْتَفْتَحُ لَهَا فَيُقَالُ مَنْ هَذَا؟ فَيُقَالُ: فُلَانٌ، فَيُقَالَ: مَرْحبًا بِالنَّفْسِ الطَّيِّبَةِ، كَانَتْ فِي الْجَسَدِ الطَّيِّبِ، ادْخُلي حَمِيدَةً وَأَبْشِرِي بِرَوْحٍ وَرَيْحَانٍ وَرَبَ غَيْرِ غَضْبَانَ، فَلَا تَزَالُ يُقَالُ لَهَا ذَلِكَ حَتَّى يُنْتَهَى بِهَا إِلَى السَّمَاءِ الَّتِي فِيهَا اللهُ عَزَّ وَجَلَّ، وَإِذَا كَانَ الرَّجُلُ السَّوْءُ، قَالُوا: اخْرُجِي أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْخَبِيثَةُ كَانَتْ فِي الْجَسَدِ الْخَبِيثِ، اخْرُجِي ذَمِيمَةً وَأَبْشِري بِحَمِيمٍ وَغَسَّاقٍ، وَآخَرَ مِنْ شَكْلِهِ أَزْوَاج، فَلَا تَزَالُ يُقَالُ لَهَا ذَلِكَ حَتَّى تَخْرُجَ، ثُمَّ يُعْرَجَ بِهَا إِلَى السَّمَاءِ، فَيُسْتَفْتَحُ لَهًا فَيُقَالُ: مَنْ هَذَا؟ فَيُقَالُ: فُلَانٌ، فَيُقَالُ: لَا مَرْحَبًا بِالنَّفْسِ الْخَبِيثَةِ كَانَتْ فِي الْجَسَدِ الْخَبِيثِ، ارْجِعِي ذَمِيمَةً، فَإِنَّهُ لَا يُفْتَحُ لَكَ أَبْوَابُ السَّمَاءِ، فَتُرْسَلُ مِنَ السَّمَاءِ ثُمَّ تَصِيرُ إِلَى الْقَبْرِ، فَيُجْلَسُ الرَّجُلُ الصَّالِحُ، فَيُقَالُ لَهُ مِثْلُ مَا قِيلَ فِي الْحَدِيثِ الأَوَّلِ، وَيُجْلَسُ الرَّجُلُ السَّوْءُ فَيُقَالُ لَهُ مِثْلُ مَا قِيلَ فِي الْحَدِيثِ الثَّانِي»
(The angels attend the dying person. If he is a righteous person, the angels will say, `O pure soul from a pure body! Come out with honor and receive the good news of rest, satisfaction and a Lord Who is not angry.' The angels will keep saying this until the soul leaves its body, and they will then raise it up to heaven and will ask that the door be opened for the soul and it will be asked, `Who is this' It will be said, `(The soul of) so-and-so.' It will be said, `Welcome, to the pure soul that inhabited the pure body. Enter with honor and receive the good news of rest, satisfaction and a Lord Who is not angry.' This statement will be repeated until the soul reaches the heaven above which there is Allah. If the dying person is evil, the angels will say, `Get out (of your body), O wicked soul from a wicked body! Get out in disgrace and receive the news of boiling fluid, a fluid dark, murky, intensely cold and other (torments) of similar kind - all together - to match them.' This statement will be said repeatedly until the evil soul leaves its body. The soul will be raised up to heaven and a request will be made that the door be opened for it. It will be asked, `Who is this' It will be said, `(The soul of) so and so.' It will be said, `No welcome to the wicked soul from the wicked body. Return with disgrace, for the doors of heaven will not be opened for you.' So it will be thrown from heaven until it returns to the grave. So the righteous person sits and similar is said to him as before. And the evil person sits and similar is said to him as before.) It is also possible that the meaning of,
ثُمَّ رُدُّواْ
(Then they are returned...) refers to the return of all creation to Allah on the Day of Resurrection, when He will subject them to His just decision. Allah said in other Ayat,
قُلْ إِنَّ الاٌّوَّلِينَ وَالاٌّخِرِينَ - لَمَجْمُوعُونَ إِلَى مِيقَـتِ يَوْمٍ مَّعْلُومٍ
(Say: "(Yes) verily, those of old, and those of later times. All will surely be gathered together for an appointed meeting of a known Day.") 56:49-50 and,
وَحَشَرْنَـهُمْ فَلَمْ نُغَادِرْ مِنْهُمْ أَحَداً
(And We shall gather them all together so as to leave not one of them behind...) 18:47 until,
وَلاَ يَظْلِمُ رَبُّكَ أَحَدًا
(And your Lord treats no one with injustice.) 18:49 Allah said here,
مَوْلَـهُمُ الْحَقِّ أَلاَ لَهُ الْحُكْمُ وَهُوَ أَسْرَعُ الْحَـسِبِينَ
(their Master, the Just Lord. Surely, His is the judgement and He is the swiftest in taking account.) 6:62
نیند موت کی چھوٹی بہن وفاۃ صغریٰ یعنی چھوٹی موت کا بیان ہو رہا ہے اس سے مراد نیند ہے، جیسے اس آیت میں ہے آیت (اِذْ قَال اللّٰهُ يٰعِيْسٰٓى اِنِّىْ مُتَوَفِّيْكَ وَرَافِعُكَ اِلَيَّ وَمُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَجَاعِلُ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْكَ فَوْقَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ ۚثُمَّ اِلَيَّ مَرْجِعُكُمْ فَاَحْكُمُ بَيْنَكُمْ فِيْمَا كُنْتُمْ فِيْهِ تَخْتَلِفُوْنَ) 3۔ آل عمران :55) یعنی جبکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے عیسیٰ میں تجھے فوت کرنے والا ہوں (یعنی تجھ پر نیند ڈالنے والا ہوں) اور اپنی طرف چڑھا لینے والا ہوں اور جیسے اس آیت میں ہے آیت (اَللّٰهُ يَتَوَفَّى الْاَنْفُسَ حِيْنَ مَوْتِهَا وَالَّتِيْ لَمْ تَمُتْ فِيْ مَنَامِهَا ۚ فَيُمْسِكُ الَّتِيْ قَضٰى عَلَيْهَا الْمَوْتَ وَيُرْسِلُ الْاُخْرٰٓى اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى ۭ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّــقَوْمٍ يَّتَفَكَّرُوْنَ) 39۔ الزمر :42) یعنی اللہ تعالیٰ نفسوں کو ان کی موت کے وقت مار ڈالتا ہے اور جن کی موت نہیں آئی انہیں نیند کے وقت فوت کرلیتا ہے (یعنی سلا دیتا ہے) موت والے نفس کو تو اپنے پاس روک لیتا ہے اور دوسرے کو مقررہ وقت پورا کرنے کے لئے پھر بھیج دیتا ہے، اس آیت میں دونوں وفاۃ بیان کردی ہیں۔ وفاۃ کبریٰ اور وفاۃ صغریٰ اور جس آیت کی اس وقت تفسیر ہو رہی ہے اس میں بھی دونوں وفاتوں کا ذکر ہے، وفاۃ صغری ٰ یعنی نیند کا پہلے پھر وفاۃ کبریٰ یعنی حقیقی موت کا۔ بیچ کا جملہ آیت (وَيَعْلَمُ مَا جَرَحْتُمْ بالنَّهَارِ ثُمَّ يَبْعَثُكُمْ فِيْهِ لِيُقْضٰٓى اَجَلٌ مُّسَمًّى) 6۔ الانعام :60) جملہ معترضہ ہے جس سے اللہ کے وسیع علم کی دلالت ہو رہی ہے کہ وہ دن رات کے کسی وقت اپنی مخلوق کی کسی حالت سے بےعلم نہیں، ان کی حرکات و سکنات سب جانتا ہے، جیسے فرمان ہے آیت (سَوَاۗءٌ مِّنْكُمْ مَّنْ اَسَرَّ الْقَوْلَ وَمَنْ جَهَرَ بِهٖ وَمَنْ هُوَ مُسْتَخْفٍۢ بِالَّيْلِ وَسَارِبٌۢ بِالنَّهَارِ) 13۔ الرعد :10) یعنی چھپا کھلا رات کا دن کا سب باتوں کا اسے علم ہے اور آیت میں ہے (وَمِنْ رَّحْمَتِهٖ جَعَلَ لَكُمُ الَّيْلَ وَالنَّهَارَ لِتَسْكُنُوْا فِيْهِ وَلِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ) 28۔ القصص :73) یعنی یہ بھی رب کی رحمت ہے کہ اس نے تمہارے سکون کا وقت رات کو بنایا اور دن کو تلاش معاش کا وقت بنایا اور آیت میں ارشاد ہے آیت (وَّجَعَلْنَا الَّيْلَ لِبَاسًا) 78۔ النبأ :10) رات کو ہم نے لباس اور دن کو سبب معاش بنایا یہاں فرمایا رات کو وہ تمہیں سلا دیتا ہے اور دنوں کو جو تم کرتے ہو اس سے وہ آگاہ ہے، پھر دن میں تمہیں اٹھا بٹھا دیتا ہے۔ ایک معنی یہ بھی بیان کئے گئے ہیں کہ وہ نیند میں یعنی خواب میں تمہیں اٹھا کھڑا کرتا ہے لیکن اول معنی ہی اولی ہیں، ابن مردویہ کی ایک مرفوع روایت میں ہے کہ ہر انسان کے ساتھ ایک فرشتہ مقرر ہے جو سونے کے وقت اس کی روح کو لے جاتا ہے پھر اگر قبض کرنے کا حکم ہوتا ہے تو وہ اس روح کو نہیں لوٹاتا ورنہ بحکم الہی لوٹا دیتا ہے، یہی معنی اس آیت کے جملے آیت (وَهُوَ الَّذِيْ يَتَوَفّٰىكُمْ بالَّيْلِ وَيَعْلَمُ مَا جَرَحْتُمْ بالنَّهَارِ) 6۔ الانعام :60) کا ہے تاکہ اس طرح عمر کا پورا وقت گزرے اور جو اجل مقرر ہے وہ پوری ہو، قیامت کے دن سب کا لوٹنا اللہ ہی کی طرف ہے پھر وہ ہر ایک کو اس کے عمال کا بدلہ دے گا نیکوں کو نیک اور بدوں کو برا، وہی ذات ہے جو ہر چیز پر غالب و قادر ہے اس کی جلالت عظمت عزت کے سامنے ہر کوئی پست ہے بڑائی اس کی ہے اور سب اس کے سامنے عاجز و مسکین ہیں وہ اپنے محافظ فرشتوں کو بھیجتا ہے جو انسان کی دیکھ بھال رکھتے ہیں جیسے فرمان عالیشان ہے آیت (لَهٗ مُعَقِّبٰتٌ مِّنْۢ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهٖ يَحْفَظُوْنَهٗ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ) 13۔ الرعد :11) پس یہ فرشتے تو وہ ہیں جو انسان کی جسمانی حفاظت رکھتے ہیں اور دائیں بائیں آگے پیچھے سے اسے بحکم الہی بلاؤں سے بچاتے رہتے ہیں، دوسری قسم کے وہ فرشتے ہیں جو اس کے اعمال کی دیکھ بھال کرتے ہیں اور ان کی نگہبانی کرتے رہتے ہیں جیسے فرمایا آیت (وَاِنَّ عَلَيْكُمْ لَحٰفِظِيْنَ) 82۔ الانفطار :10) ان ہی فرشتوں کا ذکر آیت (اِذْ يَتَلَقَّى الْمُتَلَقِّيٰنِ عَنِ الْيَمِيْنِ وَعَنِ الشِّمَالِ قَعِيْدٌ) 50۔ ق :17) میں ہے پھر فرمایا یہاں تک کہ تم میں سے کسی کی موت کا وقت آجاتا ہے تو سکرات کے عالم میں اس کے پاس ہمارے وہ فرشتے آتے ہیں جو اسی کام پر مقرر ہیں۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں ملک الموت کے بہتے مددگار فرشتے ہیں جو روح کو جسم سے نکالتے ہیں اور حلقوم تک جب روح آجاتی ہے پھر ملک الموت اسے قبض کرلیتے ہیں۔ اس کا مفصل بیان آیت (یثبت اللہ میں آئے گا انشاء اللہ تعالیٰ۔ پھر فرمایا وہ کوئی کمی نہیں کرتے یعنی روح کی حفاظت میں کوتاہی نہیں کرتے۔ اسے پوری حفاظت کے ساتھ یا تو علین میں یک روحوں سے ملا دیتے ہیں یا سجبین میں بری روحوں ڈال دیتے ہیں۔ پھر وہ سب اپنے سچے مولی کی طرف بلا لئے جائیں گے۔ مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ مرنے والے کی روح کو نکالنے کے لئے فرشتے آتے ہیں اور اگر وہ نیک ہے تو اس سے کہتے ہیں اے مطمئن روح جو پاک جسم میں تھی تو نہایت اچھائیوں اور بھلائیوں سے چل تو راحت و آرام کی خوسخبری سن تو اس رب کی طرف چل جو تجھ پر کبھی خفا نہ ہوگا، وہ اسے سنتے ہی نکلتی ہے اور جب تک وہ نکل نہ چکے تب تک یہی مبارک صدا اسے سنائی جاتی ہے پھر اسے آسمانوں پر لے جاتے ہیں اس کیلئے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور فرشتے اس کی آؤ بھگت کرتے ہیں مرحبا کہتے ہوئے ہاتھوں ہاتھ لیتے ہیں اور جو موت کے فرشتوں نے کہا تھا وہی خوشخبری یہ بھی سناتے ہیں یہاں تک کہ اسی طرح نہایت تپاک اور گرم جوشی سے فرشتوں کے استقبال کے ساتھ یہ نیک روح اس آسمان تک پہنچتی ہے جس میں اللہ تعالیٰ ہے، (اللہ تعالیٰ ہماری موت بھی نیک پر کرے) اور جب کوئی برا آدمی ہوتا ہے تو موت کے فرشتے اس سے کہتے ہیں کہ اے خبیث روح جو گندے جسم میں تھی تو بری بن کر چل گرم کھولتے ہوئے پانی اور سڑی بھسی غذا اور طرح طرح کے عذابوں کی طرف چل، پھر وہ اس روح کو نکالتے ہیں اور یہی کہتے رہے ہیں پھر اسے آسمان کی طرف چڑھاتے ہیں دروازہ کھولنا چاہتے ہیں، آسمان کے فرشتے پوچھتے ہیں کون ہے ؟ یہ اس کا نام بتاتے ہیں تو وہ کہتے ہیں اس خبیث نفس کے لئے مرحبا نہیں، یہ تھا بھی ناپاک جسم میں تو برائی کے ساتھ لوٹ جا، تیرے لئے آسمانوں کے دروازے نہیں کھلتے، چناچہ اسے زمین کی طرف پھینک دیا جاتا ہے، پھر قبر پر لائی جاتی ہے، پھر قبر میں ان دونوں روحوں سے سوال جواب ہوتے ہیں جیسے پہلی حدیثیں گزر چکیں۔ پھر اللہ کی طرف لوٹائے جاتے ہیں اس سے مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ فرشتے لوٹائے جاتے ہیں۔ اس سے مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ فرشتے لوٹائے جاتے ہیں یا یہ کہ مخلوق لوٹائی جاتی ہے یعنی قیامت کے دن، پھر جناب باری ان میں عدل و انصاف کرے گا اور احکام جاری فرمائے گا، جیسے فرمایا آیت (قُلْ اِنَّ الْاَوَّلِيْنَ وَالْاٰخِرِيْنَ) 56۔ الواقعہ :49) یعنی کہہ دے کہ اول آخر والے سب قیامت کے دن جمع ہوں گے اور آیت میں ہے آیت (وحشرنا ھم فلم نغادر من ھم احدا) ہم سب کو جمع کریں گے اور کسی کو بھی باقی نہ چھوڑیں گے یہاں بھی فرمایا کہ اپنے سچے مولی کی طرف سب کو لوٹنا ہے۔ جو بہت جلدی حساب لینے والا ہے۔ اس سے زیادہ جلدی حساب میں کوئی نہیں کرسکتا۔
61
View Single
وَهُوَ ٱلۡقَاهِرُ فَوۡقَ عِبَادِهِۦۖ وَيُرۡسِلُ عَلَيۡكُمۡ حَفَظَةً حَتَّىٰٓ إِذَا جَآءَ أَحَدَكُمُ ٱلۡمَوۡتُ تَوَفَّتۡهُ رُسُلُنَا وَهُمۡ لَا يُفَرِّطُونَ
And He is Omnipotent over His bondmen and sends guardians over you; to the extent that when death comes to one of you, Our angels remove his soul, and they do not err.
اور وہی اپنے بندوں پر غالب ہے اور وہ تم پر (فرشتوں کو بطور) نگہبان بھیجتا ہے، یہاں تک کہ جب تم میں سے کسی کو موت آتی ہے (تو) ہمارے بھیجے ہوئے (فرشتے) اس کی روح قبض کرلیتے ہیں اور وہ خطا (یا کوتاہی) نہیں کرتے
Tafsir Ibn Kathir
The Servants are in Allah's Hands Before and After Death
Allah states that He brings death to His servants in their sleep at night, for sleep is minor death. Allah said in other Ayat,
إِذْ قَالَ اللَّهُ يعِيسَى إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَىَّ
(And (remember) when Allah said: "O `Isa! I will take you and raise you to Myself...") 3:55, and,
اللَّهُ يَتَوَفَّى الاٌّنفُسَ حِينَ مِوْتِـهَا وَالَّتِى لَمْ تَمُتْ فِى مَنَامِـهَا فَيُمْسِكُ الَّتِى قَضَى عَلَيْهَا الْمَوْتَ وَيُرْسِلُ الاٍّخْرَى إِلَى أَجَلٍ مُّسَمًّى
(It is Allah Who takes away the souls at the time of their death, and those that die not during their sleep. He keeps those (souls) for which He has ordained death and sends the rest for a term appointed.)39:42, ,thus mentioning both minor and major death. Allah says,
وَهُوَ الَّذِى يَتَوَفَّـكُم بِالَّيْلِ وَيَعْلَمُ مَا جَرَحْتُم بِالنَّهَارِ
(It is He, Who takes your souls by night (when you are asleep), and has knowledge of all that you have done by day,) meaning, He knows the deeds and actions that you perform during the day. This Ayah demonstrates Allah's perfect knowledge of His creation, by day and night, and in their movements and idleness. Allah said in other Ayat,
سَوَآءٌ مِّنْكُمْ مَّنْ أَسَرَّ الْقَوْلَ وَمَنْ جَهَرَ بِهِ وَمَنْ هُوَ مُسْتَخْفٍ بِالَّيْلِ وَسَارِبٌ بِالنَّهَارِ
(It is the same (to Him) whether any of you conceal his speech or declare it openly, whether he be hid by night or go forth freely by day.) 13:10, and
وَمِن رَّحْمَتِهِ جَعَلَ لَكُمُ الَّيْلَ وَالنَّهَارَ لِتَسْكُنُواْ فِيهِ
(It is out of His mercy that He made night and day, so that you may rest therein), by night,
وَلِتَبْتَغُواْ مِن فَضْلِهِ
(and that you may seek of His bounty) by day. Allah said,
وَجَعَلْنَا الَّيْلَ لِبَاساً - وَجَعَلْنَا النَّهَارَ مَعَاشاً
(And (We) have made the night as a covering. And (We) have made the day for livelihood.) 78:10-11. Allah said here,
وَهُوَ الَّذِى يَتَوَفَّـكُم بِالَّيْلِ وَيَعْلَمُ مَا جَرَحْتُم بِالنَّهَارِ
(It is He, Who takes your souls by night (when you are asleep), and has knowledge of all that you have done by day,) 6:60, Then said,
ثُمَّ يَبْعَثُكُمْ فِيهِ
(then he raises (wakes) you up again,) by day, according to Mujahid, Qatadah and As-Suddi. Allah's statement,
لِيُقْضَى أَجَلٌ مّسَمًّى
(that a term appointed be fulfilled) refers to the life span of every person,
ثُمَّ إِلَيْهِ مَرْجِعُكُمْ
(then (in the end), unto Him will be your return.) on the Day of Resurrection,
ثُمَّ يُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ
(Then He will inform you of what you used to do.) He will reward you, good for good, and evil for evil. Allah's statement,
وَهُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهِ
(He is the Qahir over His servants.) The Qahir means, the one who controls everything, all are subservient to His supreme grace, greatness and majesty,
وَيُرْسِلُ عَلَيْكُم حَفَظَةً
(and He sends guardians over you,) angels who guard mankind. In another Ayah, Allah said;
لَهُ مُعَقِّبَـتٌ مِّن بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ يَحْفَظُونَهُ مِنْ أَمْرِ اللَّهِ
(For each (person), there are angels in succession, before and behind him. They guard him by the command of Allah.) 13:11, watching his deeds and recording them. Allah said,
وَإِنَّ عَلَيْكُمْ لَحَـفِظِينَ
(But verily, over you (are appointed angels in charge of mankind) to watch you.) 82:10, and,
إِذْ يَتَلَقَّى الْمُتَلَقِّيَانِ عَنِ الْيَمِينِ وَعَنِ الشِّمَالِ قَعِيدٌ - مَّا يَلْفِظُ مِن قَوْلٍ إِلاَّ لَدَيْهِ رَقِيبٌ عَتِيدٌ
((Remember!) that the two receivers (recording angels) receive, one sitting on the right and one on the left. Not a word does he utter, but there is a watcher by him, ready.) 50:17-18. Allah's statement,
حَتَّى إِذَا جَآءَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ
(until when death approaches one of you...) refers to, when one's life span comes to an end and he is dying,
تَوَفَّتْهُ رُسُلُنَا
(Our messengers take his soul...) meaning, there are angels who are responsible for this job. Ibn `Abbas and several others said that the Angel of Death has angels who pull the soul from its body and when it reaches the throat, the Angel of Death captures it. Allah said;
وَهُمْ لاَ يُفَرِّطُونَ
(and they never neglect their duty.) They guard the soul of the dead person and take it to wherever Allah wills, to `Illiyyin if he was among the righteous, and to Sijjin if he was among the wicked (disbelievers, sinners, etc.), we seek refuge with Allah from this end. Allah said next,
ثُمَّ رُدُّواْ إِلَى اللَّهِ مَوْلَـهُمُ الْحَقِّ
(Then they are returned to Allah, their Master, the Just Lord.) Imam Ahmad recorded that Abu Hurayrah said that the Prophet said,
«إِنَّ الْمَيِّتَ تَحْضُرُهُ الْمَلَائِكَةُ فَإِذَا كَانَ الرَّجُلُ الصَّالِحُ، قَالُوا: اخْرُجِي أَيَّتُهَا النَّفْسُ الطَّيِّبَةُ كَانَتْ فِي الْجَسَدِ الطَّيِّبِ،اخْرُجِي حَمِيدَةً، وَأَبْشِرِي بِرَوْحٍ وَرَيْحَانٍ، وَرَبَ غَيْرِ غَضْبَانَ، فَلَا تَزَالُ يُقَالُ لَهَا ذَلِكَ حَتَّى تَخْرُجَ، ثُمَّ يُعْرَجَ بِهَا إِلَى السَّمَاءِ، فَيَسْتَفْتَحُ لَهَا فَيُقَالُ مَنْ هَذَا؟ فَيُقَالُ: فُلَانٌ، فَيُقَالَ: مَرْحبًا بِالنَّفْسِ الطَّيِّبَةِ، كَانَتْ فِي الْجَسَدِ الطَّيِّبِ، ادْخُلي حَمِيدَةً وَأَبْشِرِي بِرَوْحٍ وَرَيْحَانٍ وَرَبَ غَيْرِ غَضْبَانَ، فَلَا تَزَالُ يُقَالُ لَهَا ذَلِكَ حَتَّى يُنْتَهَى بِهَا إِلَى السَّمَاءِ الَّتِي فِيهَا اللهُ عَزَّ وَجَلَّ، وَإِذَا كَانَ الرَّجُلُ السَّوْءُ، قَالُوا: اخْرُجِي أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْخَبِيثَةُ كَانَتْ فِي الْجَسَدِ الْخَبِيثِ، اخْرُجِي ذَمِيمَةً وَأَبْشِري بِحَمِيمٍ وَغَسَّاقٍ، وَآخَرَ مِنْ شَكْلِهِ أَزْوَاج، فَلَا تَزَالُ يُقَالُ لَهَا ذَلِكَ حَتَّى تَخْرُجَ، ثُمَّ يُعْرَجَ بِهَا إِلَى السَّمَاءِ، فَيُسْتَفْتَحُ لَهًا فَيُقَالُ: مَنْ هَذَا؟ فَيُقَالُ: فُلَانٌ، فَيُقَالُ: لَا مَرْحَبًا بِالنَّفْسِ الْخَبِيثَةِ كَانَتْ فِي الْجَسَدِ الْخَبِيثِ، ارْجِعِي ذَمِيمَةً، فَإِنَّهُ لَا يُفْتَحُ لَكَ أَبْوَابُ السَّمَاءِ، فَتُرْسَلُ مِنَ السَّمَاءِ ثُمَّ تَصِيرُ إِلَى الْقَبْرِ، فَيُجْلَسُ الرَّجُلُ الصَّالِحُ، فَيُقَالُ لَهُ مِثْلُ مَا قِيلَ فِي الْحَدِيثِ الأَوَّلِ، وَيُجْلَسُ الرَّجُلُ السَّوْءُ فَيُقَالُ لَهُ مِثْلُ مَا قِيلَ فِي الْحَدِيثِ الثَّانِي»
(The angels attend the dying person. If he is a righteous person, the angels will say, `O pure soul from a pure body! Come out with honor and receive the good news of rest, satisfaction and a Lord Who is not angry.' The angels will keep saying this until the soul leaves its body, and they will then raise it up to heaven and will ask that the door be opened for the soul and it will be asked, `Who is this' It will be said, `(The soul of) so-and-so.' It will be said, `Welcome, to the pure soul that inhabited the pure body. Enter with honor and receive the good news of rest, satisfaction and a Lord Who is not angry.' This statement will be repeated until the soul reaches the heaven above which there is Allah. If the dying person is evil, the angels will say, `Get out (of your body), O wicked soul from a wicked body! Get out in disgrace and receive the news of boiling fluid, a fluid dark, murky, intensely cold and other (torments) of similar kind - all together - to match them.' This statement will be said repeatedly until the evil soul leaves its body. The soul will be raised up to heaven and a request will be made that the door be opened for it. It will be asked, `Who is this' It will be said, `(The soul of) so and so.' It will be said, `No welcome to the wicked soul from the wicked body. Return with disgrace, for the doors of heaven will not be opened for you.' So it will be thrown from heaven until it returns to the grave. So the righteous person sits and similar is said to him as before. And the evil person sits and similar is said to him as before.) It is also possible that the meaning of,
ثُمَّ رُدُّواْ
(Then they are returned...) refers to the return of all creation to Allah on the Day of Resurrection, when He will subject them to His just decision. Allah said in other Ayat,
قُلْ إِنَّ الاٌّوَّلِينَ وَالاٌّخِرِينَ - لَمَجْمُوعُونَ إِلَى مِيقَـتِ يَوْمٍ مَّعْلُومٍ
(Say: "(Yes) verily, those of old, and those of later times. All will surely be gathered together for an appointed meeting of a known Day.") 56:49-50 and,
وَحَشَرْنَـهُمْ فَلَمْ نُغَادِرْ مِنْهُمْ أَحَداً
(And We shall gather them all together so as to leave not one of them behind...) 18:47 until,
وَلاَ يَظْلِمُ رَبُّكَ أَحَدًا
(And your Lord treats no one with injustice.) 18:49 Allah said here,
مَوْلَـهُمُ الْحَقِّ أَلاَ لَهُ الْحُكْمُ وَهُوَ أَسْرَعُ الْحَـسِبِينَ
(their Master, the Just Lord. Surely, His is the judgement and He is the swiftest in taking account.) 6:62
نیند موت کی چھوٹی بہن وفاۃ صغریٰ یعنی چھوٹی موت کا بیان ہو رہا ہے اس سے مراد نیند ہے، جیسے اس آیت میں ہے آیت (اِذْ قَال اللّٰهُ يٰعِيْسٰٓى اِنِّىْ مُتَوَفِّيْكَ وَرَافِعُكَ اِلَيَّ وَمُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَجَاعِلُ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْكَ فَوْقَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ ۚثُمَّ اِلَيَّ مَرْجِعُكُمْ فَاَحْكُمُ بَيْنَكُمْ فِيْمَا كُنْتُمْ فِيْهِ تَخْتَلِفُوْنَ) 3۔ آل عمران :55) یعنی جبکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے عیسیٰ میں تجھے فوت کرنے والا ہوں (یعنی تجھ پر نیند ڈالنے والا ہوں) اور اپنی طرف چڑھا لینے والا ہوں اور جیسے اس آیت میں ہے آیت (اَللّٰهُ يَتَوَفَّى الْاَنْفُسَ حِيْنَ مَوْتِهَا وَالَّتِيْ لَمْ تَمُتْ فِيْ مَنَامِهَا ۚ فَيُمْسِكُ الَّتِيْ قَضٰى عَلَيْهَا الْمَوْتَ وَيُرْسِلُ الْاُخْرٰٓى اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى ۭ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّــقَوْمٍ يَّتَفَكَّرُوْنَ) 39۔ الزمر :42) یعنی اللہ تعالیٰ نفسوں کو ان کی موت کے وقت مار ڈالتا ہے اور جن کی موت نہیں آئی انہیں نیند کے وقت فوت کرلیتا ہے (یعنی سلا دیتا ہے) موت والے نفس کو تو اپنے پاس روک لیتا ہے اور دوسرے کو مقررہ وقت پورا کرنے کے لئے پھر بھیج دیتا ہے، اس آیت میں دونوں وفاۃ بیان کردی ہیں۔ وفاۃ کبریٰ اور وفاۃ صغریٰ اور جس آیت کی اس وقت تفسیر ہو رہی ہے اس میں بھی دونوں وفاتوں کا ذکر ہے، وفاۃ صغری ٰ یعنی نیند کا پہلے پھر وفاۃ کبریٰ یعنی حقیقی موت کا۔ بیچ کا جملہ آیت (وَيَعْلَمُ مَا جَرَحْتُمْ بالنَّهَارِ ثُمَّ يَبْعَثُكُمْ فِيْهِ لِيُقْضٰٓى اَجَلٌ مُّسَمًّى) 6۔ الانعام :60) جملہ معترضہ ہے جس سے اللہ کے وسیع علم کی دلالت ہو رہی ہے کہ وہ دن رات کے کسی وقت اپنی مخلوق کی کسی حالت سے بےعلم نہیں، ان کی حرکات و سکنات سب جانتا ہے، جیسے فرمان ہے آیت (سَوَاۗءٌ مِّنْكُمْ مَّنْ اَسَرَّ الْقَوْلَ وَمَنْ جَهَرَ بِهٖ وَمَنْ هُوَ مُسْتَخْفٍۢ بِالَّيْلِ وَسَارِبٌۢ بِالنَّهَارِ) 13۔ الرعد :10) یعنی چھپا کھلا رات کا دن کا سب باتوں کا اسے علم ہے اور آیت میں ہے (وَمِنْ رَّحْمَتِهٖ جَعَلَ لَكُمُ الَّيْلَ وَالنَّهَارَ لِتَسْكُنُوْا فِيْهِ وَلِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ) 28۔ القصص :73) یعنی یہ بھی رب کی رحمت ہے کہ اس نے تمہارے سکون کا وقت رات کو بنایا اور دن کو تلاش معاش کا وقت بنایا اور آیت میں ارشاد ہے آیت (وَّجَعَلْنَا الَّيْلَ لِبَاسًا) 78۔ النبأ :10) رات کو ہم نے لباس اور دن کو سبب معاش بنایا یہاں فرمایا رات کو وہ تمہیں سلا دیتا ہے اور دنوں کو جو تم کرتے ہو اس سے وہ آگاہ ہے، پھر دن میں تمہیں اٹھا بٹھا دیتا ہے۔ ایک معنی یہ بھی بیان کئے گئے ہیں کہ وہ نیند میں یعنی خواب میں تمہیں اٹھا کھڑا کرتا ہے لیکن اول معنی ہی اولی ہیں، ابن مردویہ کی ایک مرفوع روایت میں ہے کہ ہر انسان کے ساتھ ایک فرشتہ مقرر ہے جو سونے کے وقت اس کی روح کو لے جاتا ہے پھر اگر قبض کرنے کا حکم ہوتا ہے تو وہ اس روح کو نہیں لوٹاتا ورنہ بحکم الہی لوٹا دیتا ہے، یہی معنی اس آیت کے جملے آیت (وَهُوَ الَّذِيْ يَتَوَفّٰىكُمْ بالَّيْلِ وَيَعْلَمُ مَا جَرَحْتُمْ بالنَّهَارِ) 6۔ الانعام :60) کا ہے تاکہ اس طرح عمر کا پورا وقت گزرے اور جو اجل مقرر ہے وہ پوری ہو، قیامت کے دن سب کا لوٹنا اللہ ہی کی طرف ہے پھر وہ ہر ایک کو اس کے عمال کا بدلہ دے گا نیکوں کو نیک اور بدوں کو برا، وہی ذات ہے جو ہر چیز پر غالب و قادر ہے اس کی جلالت عظمت عزت کے سامنے ہر کوئی پست ہے بڑائی اس کی ہے اور سب اس کے سامنے عاجز و مسکین ہیں وہ اپنے محافظ فرشتوں کو بھیجتا ہے جو انسان کی دیکھ بھال رکھتے ہیں جیسے فرمان عالیشان ہے آیت (لَهٗ مُعَقِّبٰتٌ مِّنْۢ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهٖ يَحْفَظُوْنَهٗ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ) 13۔ الرعد :11) پس یہ فرشتے تو وہ ہیں جو انسان کی جسمانی حفاظت رکھتے ہیں اور دائیں بائیں آگے پیچھے سے اسے بحکم الہی بلاؤں سے بچاتے رہتے ہیں، دوسری قسم کے وہ فرشتے ہیں جو اس کے اعمال کی دیکھ بھال کرتے ہیں اور ان کی نگہبانی کرتے رہتے ہیں جیسے فرمایا آیت (وَاِنَّ عَلَيْكُمْ لَحٰفِظِيْنَ) 82۔ الانفطار :10) ان ہی فرشتوں کا ذکر آیت (اِذْ يَتَلَقَّى الْمُتَلَقِّيٰنِ عَنِ الْيَمِيْنِ وَعَنِ الشِّمَالِ قَعِيْدٌ) 50۔ ق :17) میں ہے پھر فرمایا یہاں تک کہ تم میں سے کسی کی موت کا وقت آجاتا ہے تو سکرات کے عالم میں اس کے پاس ہمارے وہ فرشتے آتے ہیں جو اسی کام پر مقرر ہیں۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں ملک الموت کے بہتے مددگار فرشتے ہیں جو روح کو جسم سے نکالتے ہیں اور حلقوم تک جب روح آجاتی ہے پھر ملک الموت اسے قبض کرلیتے ہیں۔ اس کا مفصل بیان آیت (یثبت اللہ میں آئے گا انشاء اللہ تعالیٰ۔ پھر فرمایا وہ کوئی کمی نہیں کرتے یعنی روح کی حفاظت میں کوتاہی نہیں کرتے۔ اسے پوری حفاظت کے ساتھ یا تو علین میں یک روحوں سے ملا دیتے ہیں یا سجبین میں بری روحوں ڈال دیتے ہیں۔ پھر وہ سب اپنے سچے مولی کی طرف بلا لئے جائیں گے۔ مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ مرنے والے کی روح کو نکالنے کے لئے فرشتے آتے ہیں اور اگر وہ نیک ہے تو اس سے کہتے ہیں اے مطمئن روح جو پاک جسم میں تھی تو نہایت اچھائیوں اور بھلائیوں سے چل تو راحت و آرام کی خوسخبری سن تو اس رب کی طرف چل جو تجھ پر کبھی خفا نہ ہوگا، وہ اسے سنتے ہی نکلتی ہے اور جب تک وہ نکل نہ چکے تب تک یہی مبارک صدا اسے سنائی جاتی ہے پھر اسے آسمانوں پر لے جاتے ہیں اس کیلئے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور فرشتے اس کی آؤ بھگت کرتے ہیں مرحبا کہتے ہوئے ہاتھوں ہاتھ لیتے ہیں اور جو موت کے فرشتوں نے کہا تھا وہی خوشخبری یہ بھی سناتے ہیں یہاں تک کہ اسی طرح نہایت تپاک اور گرم جوشی سے فرشتوں کے استقبال کے ساتھ یہ نیک روح اس آسمان تک پہنچتی ہے جس میں اللہ تعالیٰ ہے، (اللہ تعالیٰ ہماری موت بھی نیک پر کرے) اور جب کوئی برا آدمی ہوتا ہے تو موت کے فرشتے اس سے کہتے ہیں کہ اے خبیث روح جو گندے جسم میں تھی تو بری بن کر چل گرم کھولتے ہوئے پانی اور سڑی بھسی غذا اور طرح طرح کے عذابوں کی طرف چل، پھر وہ اس روح کو نکالتے ہیں اور یہی کہتے رہے ہیں پھر اسے آسمان کی طرف چڑھاتے ہیں دروازہ کھولنا چاہتے ہیں، آسمان کے فرشتے پوچھتے ہیں کون ہے ؟ یہ اس کا نام بتاتے ہیں تو وہ کہتے ہیں اس خبیث نفس کے لئے مرحبا نہیں، یہ تھا بھی ناپاک جسم میں تو برائی کے ساتھ لوٹ جا، تیرے لئے آسمانوں کے دروازے نہیں کھلتے، چناچہ اسے زمین کی طرف پھینک دیا جاتا ہے، پھر قبر پر لائی جاتی ہے، پھر قبر میں ان دونوں روحوں سے سوال جواب ہوتے ہیں جیسے پہلی حدیثیں گزر چکیں۔ پھر اللہ کی طرف لوٹائے جاتے ہیں اس سے مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ فرشتے لوٹائے جاتے ہیں۔ اس سے مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ فرشتے لوٹائے جاتے ہیں یا یہ کہ مخلوق لوٹائی جاتی ہے یعنی قیامت کے دن، پھر جناب باری ان میں عدل و انصاف کرے گا اور احکام جاری فرمائے گا، جیسے فرمایا آیت (قُلْ اِنَّ الْاَوَّلِيْنَ وَالْاٰخِرِيْنَ) 56۔ الواقعہ :49) یعنی کہہ دے کہ اول آخر والے سب قیامت کے دن جمع ہوں گے اور آیت میں ہے آیت (وحشرنا ھم فلم نغادر من ھم احدا) ہم سب کو جمع کریں گے اور کسی کو بھی باقی نہ چھوڑیں گے یہاں بھی فرمایا کہ اپنے سچے مولی کی طرف سب کو لوٹنا ہے۔ جو بہت جلدی حساب لینے والا ہے۔ اس سے زیادہ جلدی حساب میں کوئی نہیں کرسکتا۔
62
View Single
ثُمَّ رُدُّوٓاْ إِلَى ٱللَّهِ مَوۡلَىٰهُمُ ٱلۡحَقِّۚ أَلَا لَهُ ٱلۡحُكۡمُ وَهُوَ أَسۡرَعُ ٱلۡحَٰسِبِينَ
They (the souls) are then returned towards their True Lord – Allah; pay heed! Only His is the command; and He is the Swiftest At Taking Account.
پھر وہ (سب) اللہ کے حضور لوٹائے جائیں گے جو ان کا مالکِ حقیقی ہے، جان لو! حکم (فرمانا) اسی کا (کام) ہے، اور وہ سب سے جلد حساب کرنے والا ہے
Tafsir Ibn Kathir
The Servants are in Allah's Hands Before and After Death
Allah states that He brings death to His servants in their sleep at night, for sleep is minor death. Allah said in other Ayat,
إِذْ قَالَ اللَّهُ يعِيسَى إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَىَّ
(And (remember) when Allah said: "O `Isa! I will take you and raise you to Myself...") 3:55, and,
اللَّهُ يَتَوَفَّى الاٌّنفُسَ حِينَ مِوْتِـهَا وَالَّتِى لَمْ تَمُتْ فِى مَنَامِـهَا فَيُمْسِكُ الَّتِى قَضَى عَلَيْهَا الْمَوْتَ وَيُرْسِلُ الاٍّخْرَى إِلَى أَجَلٍ مُّسَمًّى
(It is Allah Who takes away the souls at the time of their death, and those that die not during their sleep. He keeps those (souls) for which He has ordained death and sends the rest for a term appointed.)39:42, ,thus mentioning both minor and major death. Allah says,
وَهُوَ الَّذِى يَتَوَفَّـكُم بِالَّيْلِ وَيَعْلَمُ مَا جَرَحْتُم بِالنَّهَارِ
(It is He, Who takes your souls by night (when you are asleep), and has knowledge of all that you have done by day,) meaning, He knows the deeds and actions that you perform during the day. This Ayah demonstrates Allah's perfect knowledge of His creation, by day and night, and in their movements and idleness. Allah said in other Ayat,
سَوَآءٌ مِّنْكُمْ مَّنْ أَسَرَّ الْقَوْلَ وَمَنْ جَهَرَ بِهِ وَمَنْ هُوَ مُسْتَخْفٍ بِالَّيْلِ وَسَارِبٌ بِالنَّهَارِ
(It is the same (to Him) whether any of you conceal his speech or declare it openly, whether he be hid by night or go forth freely by day.) 13:10, and
وَمِن رَّحْمَتِهِ جَعَلَ لَكُمُ الَّيْلَ وَالنَّهَارَ لِتَسْكُنُواْ فِيهِ
(It is out of His mercy that He made night and day, so that you may rest therein), by night,
وَلِتَبْتَغُواْ مِن فَضْلِهِ
(and that you may seek of His bounty) by day. Allah said,
وَجَعَلْنَا الَّيْلَ لِبَاساً - وَجَعَلْنَا النَّهَارَ مَعَاشاً
(And (We) have made the night as a covering. And (We) have made the day for livelihood.) 78:10-11. Allah said here,
وَهُوَ الَّذِى يَتَوَفَّـكُم بِالَّيْلِ وَيَعْلَمُ مَا جَرَحْتُم بِالنَّهَارِ
(It is He, Who takes your souls by night (when you are asleep), and has knowledge of all that you have done by day,) 6:60, Then said,
ثُمَّ يَبْعَثُكُمْ فِيهِ
(then he raises (wakes) you up again,) by day, according to Mujahid, Qatadah and As-Suddi. Allah's statement,
لِيُقْضَى أَجَلٌ مّسَمًّى
(that a term appointed be fulfilled) refers to the life span of every person,
ثُمَّ إِلَيْهِ مَرْجِعُكُمْ
(then (in the end), unto Him will be your return.) on the Day of Resurrection,
ثُمَّ يُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ
(Then He will inform you of what you used to do.) He will reward you, good for good, and evil for evil. Allah's statement,
وَهُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهِ
(He is the Qahir over His servants.) The Qahir means, the one who controls everything, all are subservient to His supreme grace, greatness and majesty,
وَيُرْسِلُ عَلَيْكُم حَفَظَةً
(and He sends guardians over you,) angels who guard mankind. In another Ayah, Allah said;
لَهُ مُعَقِّبَـتٌ مِّن بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ يَحْفَظُونَهُ مِنْ أَمْرِ اللَّهِ
(For each (person), there are angels in succession, before and behind him. They guard him by the command of Allah.) 13:11, watching his deeds and recording them. Allah said,
وَإِنَّ عَلَيْكُمْ لَحَـفِظِينَ
(But verily, over you (are appointed angels in charge of mankind) to watch you.) 82:10, and,
إِذْ يَتَلَقَّى الْمُتَلَقِّيَانِ عَنِ الْيَمِينِ وَعَنِ الشِّمَالِ قَعِيدٌ - مَّا يَلْفِظُ مِن قَوْلٍ إِلاَّ لَدَيْهِ رَقِيبٌ عَتِيدٌ
((Remember!) that the two receivers (recording angels) receive, one sitting on the right and one on the left. Not a word does he utter, but there is a watcher by him, ready.) 50:17-18. Allah's statement,
حَتَّى إِذَا جَآءَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ
(until when death approaches one of you...) refers to, when one's life span comes to an end and he is dying,
تَوَفَّتْهُ رُسُلُنَا
(Our messengers take his soul...) meaning, there are angels who are responsible for this job. Ibn `Abbas and several others said that the Angel of Death has angels who pull the soul from its body and when it reaches the throat, the Angel of Death captures it. Allah said;
وَهُمْ لاَ يُفَرِّطُونَ
(and they never neglect their duty.) They guard the soul of the dead person and take it to wherever Allah wills, to `Illiyyin if he was among the righteous, and to Sijjin if he was among the wicked (disbelievers, sinners, etc.), we seek refuge with Allah from this end. Allah said next,
ثُمَّ رُدُّواْ إِلَى اللَّهِ مَوْلَـهُمُ الْحَقِّ
(Then they are returned to Allah, their Master, the Just Lord.) Imam Ahmad recorded that Abu Hurayrah said that the Prophet said,
«إِنَّ الْمَيِّتَ تَحْضُرُهُ الْمَلَائِكَةُ فَإِذَا كَانَ الرَّجُلُ الصَّالِحُ، قَالُوا: اخْرُجِي أَيَّتُهَا النَّفْسُ الطَّيِّبَةُ كَانَتْ فِي الْجَسَدِ الطَّيِّبِ،اخْرُجِي حَمِيدَةً، وَأَبْشِرِي بِرَوْحٍ وَرَيْحَانٍ، وَرَبَ غَيْرِ غَضْبَانَ، فَلَا تَزَالُ يُقَالُ لَهَا ذَلِكَ حَتَّى تَخْرُجَ، ثُمَّ يُعْرَجَ بِهَا إِلَى السَّمَاءِ، فَيَسْتَفْتَحُ لَهَا فَيُقَالُ مَنْ هَذَا؟ فَيُقَالُ: فُلَانٌ، فَيُقَالَ: مَرْحبًا بِالنَّفْسِ الطَّيِّبَةِ، كَانَتْ فِي الْجَسَدِ الطَّيِّبِ، ادْخُلي حَمِيدَةً وَأَبْشِرِي بِرَوْحٍ وَرَيْحَانٍ وَرَبَ غَيْرِ غَضْبَانَ، فَلَا تَزَالُ يُقَالُ لَهَا ذَلِكَ حَتَّى يُنْتَهَى بِهَا إِلَى السَّمَاءِ الَّتِي فِيهَا اللهُ عَزَّ وَجَلَّ، وَإِذَا كَانَ الرَّجُلُ السَّوْءُ، قَالُوا: اخْرُجِي أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْخَبِيثَةُ كَانَتْ فِي الْجَسَدِ الْخَبِيثِ، اخْرُجِي ذَمِيمَةً وَأَبْشِري بِحَمِيمٍ وَغَسَّاقٍ، وَآخَرَ مِنْ شَكْلِهِ أَزْوَاج، فَلَا تَزَالُ يُقَالُ لَهَا ذَلِكَ حَتَّى تَخْرُجَ، ثُمَّ يُعْرَجَ بِهَا إِلَى السَّمَاءِ، فَيُسْتَفْتَحُ لَهًا فَيُقَالُ: مَنْ هَذَا؟ فَيُقَالُ: فُلَانٌ، فَيُقَالُ: لَا مَرْحَبًا بِالنَّفْسِ الْخَبِيثَةِ كَانَتْ فِي الْجَسَدِ الْخَبِيثِ، ارْجِعِي ذَمِيمَةً، فَإِنَّهُ لَا يُفْتَحُ لَكَ أَبْوَابُ السَّمَاءِ، فَتُرْسَلُ مِنَ السَّمَاءِ ثُمَّ تَصِيرُ إِلَى الْقَبْرِ، فَيُجْلَسُ الرَّجُلُ الصَّالِحُ، فَيُقَالُ لَهُ مِثْلُ مَا قِيلَ فِي الْحَدِيثِ الأَوَّلِ، وَيُجْلَسُ الرَّجُلُ السَّوْءُ فَيُقَالُ لَهُ مِثْلُ مَا قِيلَ فِي الْحَدِيثِ الثَّانِي»
(The angels attend the dying person. If he is a righteous person, the angels will say, `O pure soul from a pure body! Come out with honor and receive the good news of rest, satisfaction and a Lord Who is not angry.' The angels will keep saying this until the soul leaves its body, and they will then raise it up to heaven and will ask that the door be opened for the soul and it will be asked, `Who is this' It will be said, `(The soul of) so-and-so.' It will be said, `Welcome, to the pure soul that inhabited the pure body. Enter with honor and receive the good news of rest, satisfaction and a Lord Who is not angry.' This statement will be repeated until the soul reaches the heaven above which there is Allah. If the dying person is evil, the angels will say, `Get out (of your body), O wicked soul from a wicked body! Get out in disgrace and receive the news of boiling fluid, a fluid dark, murky, intensely cold and other (torments) of similar kind - all together - to match them.' This statement will be said repeatedly until the evil soul leaves its body. The soul will be raised up to heaven and a request will be made that the door be opened for it. It will be asked, `Who is this' It will be said, `(The soul of) so and so.' It will be said, `No welcome to the wicked soul from the wicked body. Return with disgrace, for the doors of heaven will not be opened for you.' So it will be thrown from heaven until it returns to the grave. So the righteous person sits and similar is said to him as before. And the evil person sits and similar is said to him as before.) It is also possible that the meaning of,
ثُمَّ رُدُّواْ
(Then they are returned...) refers to the return of all creation to Allah on the Day of Resurrection, when He will subject them to His just decision. Allah said in other Ayat,
قُلْ إِنَّ الاٌّوَّلِينَ وَالاٌّخِرِينَ - لَمَجْمُوعُونَ إِلَى مِيقَـتِ يَوْمٍ مَّعْلُومٍ
(Say: "(Yes) verily, those of old, and those of later times. All will surely be gathered together for an appointed meeting of a known Day.") 56:49-50 and,
وَحَشَرْنَـهُمْ فَلَمْ نُغَادِرْ مِنْهُمْ أَحَداً
(And We shall gather them all together so as to leave not one of them behind...) 18:47 until,
وَلاَ يَظْلِمُ رَبُّكَ أَحَدًا
(And your Lord treats no one with injustice.) 18:49 Allah said here,
مَوْلَـهُمُ الْحَقِّ أَلاَ لَهُ الْحُكْمُ وَهُوَ أَسْرَعُ الْحَـسِبِينَ
(their Master, the Just Lord. Surely, His is the judgement and He is the swiftest in taking account.) 6:62
نیند موت کی چھوٹی بہن وفاۃ صغریٰ یعنی چھوٹی موت کا بیان ہو رہا ہے اس سے مراد نیند ہے، جیسے اس آیت میں ہے آیت (اِذْ قَال اللّٰهُ يٰعِيْسٰٓى اِنِّىْ مُتَوَفِّيْكَ وَرَافِعُكَ اِلَيَّ وَمُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَجَاعِلُ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْكَ فَوْقَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ ۚثُمَّ اِلَيَّ مَرْجِعُكُمْ فَاَحْكُمُ بَيْنَكُمْ فِيْمَا كُنْتُمْ فِيْهِ تَخْتَلِفُوْنَ) 3۔ آل عمران :55) یعنی جبکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے عیسیٰ میں تجھے فوت کرنے والا ہوں (یعنی تجھ پر نیند ڈالنے والا ہوں) اور اپنی طرف چڑھا لینے والا ہوں اور جیسے اس آیت میں ہے آیت (اَللّٰهُ يَتَوَفَّى الْاَنْفُسَ حِيْنَ مَوْتِهَا وَالَّتِيْ لَمْ تَمُتْ فِيْ مَنَامِهَا ۚ فَيُمْسِكُ الَّتِيْ قَضٰى عَلَيْهَا الْمَوْتَ وَيُرْسِلُ الْاُخْرٰٓى اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى ۭ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّــقَوْمٍ يَّتَفَكَّرُوْنَ) 39۔ الزمر :42) یعنی اللہ تعالیٰ نفسوں کو ان کی موت کے وقت مار ڈالتا ہے اور جن کی موت نہیں آئی انہیں نیند کے وقت فوت کرلیتا ہے (یعنی سلا دیتا ہے) موت والے نفس کو تو اپنے پاس روک لیتا ہے اور دوسرے کو مقررہ وقت پورا کرنے کے لئے پھر بھیج دیتا ہے، اس آیت میں دونوں وفاۃ بیان کردی ہیں۔ وفاۃ کبریٰ اور وفاۃ صغریٰ اور جس آیت کی اس وقت تفسیر ہو رہی ہے اس میں بھی دونوں وفاتوں کا ذکر ہے، وفاۃ صغری ٰ یعنی نیند کا پہلے پھر وفاۃ کبریٰ یعنی حقیقی موت کا۔ بیچ کا جملہ آیت (وَيَعْلَمُ مَا جَرَحْتُمْ بالنَّهَارِ ثُمَّ يَبْعَثُكُمْ فِيْهِ لِيُقْضٰٓى اَجَلٌ مُّسَمًّى) 6۔ الانعام :60) جملہ معترضہ ہے جس سے اللہ کے وسیع علم کی دلالت ہو رہی ہے کہ وہ دن رات کے کسی وقت اپنی مخلوق کی کسی حالت سے بےعلم نہیں، ان کی حرکات و سکنات سب جانتا ہے، جیسے فرمان ہے آیت (سَوَاۗءٌ مِّنْكُمْ مَّنْ اَسَرَّ الْقَوْلَ وَمَنْ جَهَرَ بِهٖ وَمَنْ هُوَ مُسْتَخْفٍۢ بِالَّيْلِ وَسَارِبٌۢ بِالنَّهَارِ) 13۔ الرعد :10) یعنی چھپا کھلا رات کا دن کا سب باتوں کا اسے علم ہے اور آیت میں ہے (وَمِنْ رَّحْمَتِهٖ جَعَلَ لَكُمُ الَّيْلَ وَالنَّهَارَ لِتَسْكُنُوْا فِيْهِ وَلِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ) 28۔ القصص :73) یعنی یہ بھی رب کی رحمت ہے کہ اس نے تمہارے سکون کا وقت رات کو بنایا اور دن کو تلاش معاش کا وقت بنایا اور آیت میں ارشاد ہے آیت (وَّجَعَلْنَا الَّيْلَ لِبَاسًا) 78۔ النبأ :10) رات کو ہم نے لباس اور دن کو سبب معاش بنایا یہاں فرمایا رات کو وہ تمہیں سلا دیتا ہے اور دنوں کو جو تم کرتے ہو اس سے وہ آگاہ ہے، پھر دن میں تمہیں اٹھا بٹھا دیتا ہے۔ ایک معنی یہ بھی بیان کئے گئے ہیں کہ وہ نیند میں یعنی خواب میں تمہیں اٹھا کھڑا کرتا ہے لیکن اول معنی ہی اولی ہیں، ابن مردویہ کی ایک مرفوع روایت میں ہے کہ ہر انسان کے ساتھ ایک فرشتہ مقرر ہے جو سونے کے وقت اس کی روح کو لے جاتا ہے پھر اگر قبض کرنے کا حکم ہوتا ہے تو وہ اس روح کو نہیں لوٹاتا ورنہ بحکم الہی لوٹا دیتا ہے، یہی معنی اس آیت کے جملے آیت (وَهُوَ الَّذِيْ يَتَوَفّٰىكُمْ بالَّيْلِ وَيَعْلَمُ مَا جَرَحْتُمْ بالنَّهَارِ) 6۔ الانعام :60) کا ہے تاکہ اس طرح عمر کا پورا وقت گزرے اور جو اجل مقرر ہے وہ پوری ہو، قیامت کے دن سب کا لوٹنا اللہ ہی کی طرف ہے پھر وہ ہر ایک کو اس کے عمال کا بدلہ دے گا نیکوں کو نیک اور بدوں کو برا، وہی ذات ہے جو ہر چیز پر غالب و قادر ہے اس کی جلالت عظمت عزت کے سامنے ہر کوئی پست ہے بڑائی اس کی ہے اور سب اس کے سامنے عاجز و مسکین ہیں وہ اپنے محافظ فرشتوں کو بھیجتا ہے جو انسان کی دیکھ بھال رکھتے ہیں جیسے فرمان عالیشان ہے آیت (لَهٗ مُعَقِّبٰتٌ مِّنْۢ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهٖ يَحْفَظُوْنَهٗ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ) 13۔ الرعد :11) پس یہ فرشتے تو وہ ہیں جو انسان کی جسمانی حفاظت رکھتے ہیں اور دائیں بائیں آگے پیچھے سے اسے بحکم الہی بلاؤں سے بچاتے رہتے ہیں، دوسری قسم کے وہ فرشتے ہیں جو اس کے اعمال کی دیکھ بھال کرتے ہیں اور ان کی نگہبانی کرتے رہتے ہیں جیسے فرمایا آیت (وَاِنَّ عَلَيْكُمْ لَحٰفِظِيْنَ) 82۔ الانفطار :10) ان ہی فرشتوں کا ذکر آیت (اِذْ يَتَلَقَّى الْمُتَلَقِّيٰنِ عَنِ الْيَمِيْنِ وَعَنِ الشِّمَالِ قَعِيْدٌ) 50۔ ق :17) میں ہے پھر فرمایا یہاں تک کہ تم میں سے کسی کی موت کا وقت آجاتا ہے تو سکرات کے عالم میں اس کے پاس ہمارے وہ فرشتے آتے ہیں جو اسی کام پر مقرر ہیں۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں ملک الموت کے بہتے مددگار فرشتے ہیں جو روح کو جسم سے نکالتے ہیں اور حلقوم تک جب روح آجاتی ہے پھر ملک الموت اسے قبض کرلیتے ہیں۔ اس کا مفصل بیان آیت (یثبت اللہ میں آئے گا انشاء اللہ تعالیٰ۔ پھر فرمایا وہ کوئی کمی نہیں کرتے یعنی روح کی حفاظت میں کوتاہی نہیں کرتے۔ اسے پوری حفاظت کے ساتھ یا تو علین میں یک روحوں سے ملا دیتے ہیں یا سجبین میں بری روحوں ڈال دیتے ہیں۔ پھر وہ سب اپنے سچے مولی کی طرف بلا لئے جائیں گے۔ مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ مرنے والے کی روح کو نکالنے کے لئے فرشتے آتے ہیں اور اگر وہ نیک ہے تو اس سے کہتے ہیں اے مطمئن روح جو پاک جسم میں تھی تو نہایت اچھائیوں اور بھلائیوں سے چل تو راحت و آرام کی خوسخبری سن تو اس رب کی طرف چل جو تجھ پر کبھی خفا نہ ہوگا، وہ اسے سنتے ہی نکلتی ہے اور جب تک وہ نکل نہ چکے تب تک یہی مبارک صدا اسے سنائی جاتی ہے پھر اسے آسمانوں پر لے جاتے ہیں اس کیلئے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور فرشتے اس کی آؤ بھگت کرتے ہیں مرحبا کہتے ہوئے ہاتھوں ہاتھ لیتے ہیں اور جو موت کے فرشتوں نے کہا تھا وہی خوشخبری یہ بھی سناتے ہیں یہاں تک کہ اسی طرح نہایت تپاک اور گرم جوشی سے فرشتوں کے استقبال کے ساتھ یہ نیک روح اس آسمان تک پہنچتی ہے جس میں اللہ تعالیٰ ہے، (اللہ تعالیٰ ہماری موت بھی نیک پر کرے) اور جب کوئی برا آدمی ہوتا ہے تو موت کے فرشتے اس سے کہتے ہیں کہ اے خبیث روح جو گندے جسم میں تھی تو بری بن کر چل گرم کھولتے ہوئے پانی اور سڑی بھسی غذا اور طرح طرح کے عذابوں کی طرف چل، پھر وہ اس روح کو نکالتے ہیں اور یہی کہتے رہے ہیں پھر اسے آسمان کی طرف چڑھاتے ہیں دروازہ کھولنا چاہتے ہیں، آسمان کے فرشتے پوچھتے ہیں کون ہے ؟ یہ اس کا نام بتاتے ہیں تو وہ کہتے ہیں اس خبیث نفس کے لئے مرحبا نہیں، یہ تھا بھی ناپاک جسم میں تو برائی کے ساتھ لوٹ جا، تیرے لئے آسمانوں کے دروازے نہیں کھلتے، چناچہ اسے زمین کی طرف پھینک دیا جاتا ہے، پھر قبر پر لائی جاتی ہے، پھر قبر میں ان دونوں روحوں سے سوال جواب ہوتے ہیں جیسے پہلی حدیثیں گزر چکیں۔ پھر اللہ کی طرف لوٹائے جاتے ہیں اس سے مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ فرشتے لوٹائے جاتے ہیں۔ اس سے مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ فرشتے لوٹائے جاتے ہیں یا یہ کہ مخلوق لوٹائی جاتی ہے یعنی قیامت کے دن، پھر جناب باری ان میں عدل و انصاف کرے گا اور احکام جاری فرمائے گا، جیسے فرمایا آیت (قُلْ اِنَّ الْاَوَّلِيْنَ وَالْاٰخِرِيْنَ) 56۔ الواقعہ :49) یعنی کہہ دے کہ اول آخر والے سب قیامت کے دن جمع ہوں گے اور آیت میں ہے آیت (وحشرنا ھم فلم نغادر من ھم احدا) ہم سب کو جمع کریں گے اور کسی کو بھی باقی نہ چھوڑیں گے یہاں بھی فرمایا کہ اپنے سچے مولی کی طرف سب کو لوٹنا ہے۔ جو بہت جلدی حساب لینے والا ہے۔ اس سے زیادہ جلدی حساب میں کوئی نہیں کرسکتا۔
63
View Single
قُلۡ مَن يُنَجِّيكُم مِّن ظُلُمَٰتِ ٱلۡبَرِّ وَٱلۡبَحۡرِ تَدۡعُونَهُۥ تَضَرُّعٗا وَخُفۡيَةٗ لَّئِنۡ أَنجَىٰنَا مِنۡ هَٰذِهِۦ لَنَكُونَنَّ مِنَ ٱلشَّـٰكِرِينَ
Say, “Who rescues you from the calamities of the land and the sea – Whom you call upon crying loudly and in whispers that, ‘If we are saved from this we will surely be grateful’?”
آپ (ان سے دریافت) فرمائیں کہ بیابان اور دریا کی تاریکیوں سے تمہیں کون نجات دیتا ہے؟ (اس وقت تو) تم گڑگڑا کر (بھی) اور چپکے چپکے (بھی) اسی کو پکارتے ہو کہ اگر وہ ہمیں اس (مصیبت) سے نجات دے دے تو ہم ضرور شکر گزاروں میں سے ہو جائیں گے
Tafsir Ibn Kathir
Allah's Compassion and Generosity, and His Power and Torment
Allah mentions how He favors His servants, saving them during times of need, in the darkness of land and at sea, such as when storms strike. In such cases, they call on Allah alone, without partners, in supplication. In other Ayat, Allah said,
وَإِذَا مَسَّكُمُ الْضُّرُّ فِى الْبَحْرِ ضَلَّ مَن تَدْعُونَ إِلاَ إِيَّاهُ
(And when harm strikes you at sea, those that you call upon besides Him vanish from you except Him.) 17:67,
هُوَ الَّذِى يُسَيِّرُكُمْ فِى الْبَرِّ وَالْبَحْرِ حَتَّى إِذَا كُنتُمْ فِى الْفُلْكِ وَجَرَيْنَ بِهِم بِرِيحٍ طَيِّبَةٍ وَفَرِحُواْ بِهَا جَآءَتْهَا رِيحٌ عَاصِفٌ وَجَآءَهُمُ الْمَوْجُ مِن كُلِّ مَكَانٍ وَظَنُّواْ أَنَّهُمْ أُحِيطَ بِهِمْ دَعَوُاْ اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ لَئِنْ أَنْجَيْتَنَا مِنْ هَـذِهِ لَنَكُونَنَّ مِنَ الشَّـكِرِينَ
(He it is Who enables you to travel through the land and the sea, till when you are in the ships and they sail with them with a favorable wind, and they rejoice, then comes a stormy wind and the waves come to them from all sides, and they think that they are encircled therein, they invoke Allah, making their faith pure for Him alone, saying: "If You deliver us from this, we shall truly be of the grateful".) 10:22, and,
أَمَّن يَهْدِيكُمْ فِى ظُلُمَـتِ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَمَن يُرْسِلُ الرِّيَاحَ بُشْرًاَ بَيْنَ يَدَىْ رَحْمَتِهِ أَءِلَـهٌ مَّعَ اللَّهِ تَعَالَى اللَّهُ عَمَّا يُشْرِكُونَ
(Is not He (better than your gods) Who guides you in the darkness of the land and the sea, and Who sends the winds as heralds of glad tidings, going before His mercy Is there any god with Allah High Exalted be Allah above all that they associate as partners (with Him)!) 27:63. Allah said in this honorable Ayah,
قُلْ مَن يُنَجِّيكُمْ مِّن ظُلُمَـتِ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ تَدْعُونَهُ تَضَرُّعاً وَخُفْيَةً
(Say: "Who rescues you from the dark recesses of the land and the sea, when you call upon Him begging and in secret.") i.e., in public and secret,
لَّئِنْ أَنجَـنَا
((Saying): `If He (Allah) only saves us...) from this distress,
لَنَكُونَنَّ مِنَ الشَّـكِرِينَ
(we shall truly be grateful.) thereafter. Allah said,
قُلِ اللَّهُ يُنَجِّيكُمْ مِّنْهَا وَمِن كُلِّ كَرْبٍ ثُمَّ أَنتُمْ تُشْرِكُونَ
(Say: "Allah rescues you from these (dangers) and from all distress, and yet you commit Shirk.") meaning, yet you call other gods besides Him in times of comfort. Allah said;
قُلْ هُوَ الْقَادِرُ عَلَى أَن يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عَذَاباً مِّن فَوْقِكُمْ أَوْ مِن تَحْتِ أَرْجُلِكُمْ
(Say: "He has the power to send torment on you from above or from under your feet,") He said this after His statement,
ثُمَّ أَنتُمْ تُشْرِكُونَ
(And yet you commit Shirk. ) Allah said next,
قُلْ هُوَ الْقَادِرُ عَلَى أَن يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عَذَاباً
(Say: "He has the power to send torment on you.."), after He saves you. Allah said in Surah Subhan (chapter 17),
رَّبُّكُمُ الَّذِى يُزْجِى لَكُمُ الْفُلْكَ فِى الْبَحْرِ لِتَبْتَغُواْ مِن فَضْلِهِ إِنَّهُ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًا - وَإِذَا مَسَّكُمُ الْضُّرُّ فِى الْبَحْرِ ضَلَّ مَن تَدْعُونَ إِلاَ إِيَّاهُ فَلَمَّا نَجَّـكُمْ إِلَى الْبَرِّ أَعْرَضْتُمْ وَكَانَ الإِنْسَـنُ كَفُورًا - أَفَأَمِنتُمْ أَن يَخْسِفَ بِكُمْ جَانِبَ الْبَرِّ أَوْ يُرْسِلَ عَلَيْكُمْ حَاصِبًا ثُمَّ لاَ تَجِدُواْ لَكُمْ وَكِيلاً - أَمْ أَمِنتُمْ أَن يُعِيدَكُمْ فِيهِ تَارَةً أُخْرَى فَيُرْسِلَ عَلَيْكُمْ قَاصِفًا مِّنَ الرِّيحِ فَيُغْرِقَكُم بِمَا كَفَرْتُمْ ثُمَّ لاَ تَجِدُواْ لَكُمْ عَلَيْنَا بِهِ تَبِيعًا
(Your Lord is He Who drives the ship for you through the sea, in order that you may seek of His bounty. Truly! He is Ever Merciful towards you. And when harm strikes you upon the sea, those that you call upon besides Him vanish from you except Him. But when He brings you safely to land, you turn away (from Him). And man is ever ungrateful. Do you then feel secure that He will not cause a side of the land to swallow you up, or that He will not send against you a storm of stones Then, you shall find no guardian. Or do you feel secure that He will not send you back a second time to sea, and send against you a hurricane of wind and drown you because of your disbelief, then you will not find any avenger therein against Us) 17:66-69. Al-Bukhari, may Allah grant him His mercy, commented on Allah's statement,
قُلْ هُوَ الْقَادِرُ عَلَى أَن يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عَذَاباً مِّن فَوْقِكُمْ أَوْ مِن تَحْتِ أَرْجُلِكُمْ أَوْ يَلْبِسَكُمْ شِيَعاً وَيُذِيقَ بَعْضَكُمْ بَأْسَ بَعْضٍ انْظُرْ كَيْفَ نُصَرِّفُ الاٌّيَـتِ لَعَلَّهُمْ يَفْقَهُونَ
(Say: "He has the power to send torment on you from above or from under your feet, or to Yalbisakum in party strife, and make you taste the violence of one another." See how variously We explain the Ayat, so that they may understand.) "Yalbisakum means, `cover you with confusion', So it means to, `divide into parties and sects'. Jabir bin `Abdullah said, `When this Ayah was revealed,
قُلْ هُوَ الْقَادِرُ عَلَى أَن يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عَذَاباً مِّن فَوْقِكُمْ
(Say: "He has power to send torment on you from above") Allah's Messenger ﷺ said,
«أَعُوذُ بِوَجْهِك»
(I seek refuge with Your Face.)
أَوْ مِن تَحْتِ أَرْجُلِكُمْ
(or from under your feet,) he again said,
«أَعُوذُ بِوَجْهِك»
(I seek refuge with Your Face.)
أَوْ يَلْبِسَكُمْ شِيَعاً وَيُذِيقَ بَعْضَكُمْ بَأْسَ بَعْضٍ
(or to cover you with confusion in party strife, and make you to taste the violence of one another.) he said,
«هَذهِ أَهْوَنُ أَوْ أَيْسَر»
(This is less burdensome or easier.)"' Al-Bukhari recorded this Hadith again in the book of Tawhid (in his Sahih), and An-Nasa'i also recorded it in the book of Tafsir.
Another Hadith
Imam Ahmad recorded that Sa`d bin Abi Waqqas said, We accompanied the Messenger of Allah ﷺ and passed by the Masjid of Bani Mu`awiyah. The Prophet went in and offered a two Rak`ah prayer, and we prayed behind him. He supplicated to his Lord for a long time and then said,
«سَأَلْتُ رَبِّي ثَلَاثًا: سَأَلْتُهُ أَنْ لَا يُهْلِكَ أُمَّتِي بِالْغَرَقِ فَأَعْطَانِيهَا، وَسَأَلْتُهُ أَنْ لَا يُهْلِكَ أُمَّتِي بِالسَّنَةِ فَأَعْطَانِيهَا، وَسَأَلْتُهُ أَنْ لَا يَجْعَلَ بَأْسَهُمْ بَيْنَهُمْ فَمَنَعَنِيهَا»
(I asked my Lord for three: I asked Him not to destroy my Ummah (Muslims) by drowning and He gave that to me. I asked Him not to destroy my Ummah by famine and He gave that to me. And I asked Him not to make them taste the violence of one another, but He did not give that to me.) Muslim, but not Al-Bukhari, recorded this Hadith in the book on Fitan (trials) (of his Sahih).
Another Hadith
Imam Ahmad recorded that Khabbab bin Al-Aratt, who attended the battle of Badr with the Messenger of Allah ﷺ , said, "I met Allah's Messenger during a night in which he prayed throughout it, until dawn. When the Messenger of Allah ﷺ ended his prayer, I said, `O Allah's Messenger! This night, you have performed a prayer that I never saw you perform before.' Allah's Messenger ﷺ said,
«أَجَلْ إِنَّهَا صَلَاةُ رَغَبٍ وَرَهَبٍ، سَأَلْتُ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ فِيهَا ثَلَاثَ خِصَالٍ، فَأَعْطَانِي اثْنَتَيْنِ وَمَنَعَنِي وَاحِدَةً، سَأَلْتُ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ أَنْ لَا يُهْلِكْنَا بِمَا أَهْلَكَ بِهِ الْأُمَمَ قَبْلَنَا فَأَعْطَانِيهَا، وَسَأَلْتُ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ أَنْ لَا يُظْهِرَ عَلَيْنَا عَدُوًّا مِنْ غَيْرِنَا فَأَعْطَانِيهَا، وَسَأَلْتُ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ أَنْ لَا يُلْبِسَنَا شِيَعًا فَمَنَعَنِيهَا»
(Yes, it was a prayer of eagerness and fear. During this prayer, I asked my Lord for three things and He gave me two and refused to give me the third. I asked my Lord not to destroy us with what He destroyed the nations before us and He gave me that. I asked my Lord not to make our enemies prevail above us and He gave me that. I asked my Lord not to cover us with confusion in party strife, but He refused.) An-Nasa'i, Ibn Hibban in his Sahih, and At-Tirmidhi also recorded it. In the book on Fitan, in Al-Jami`, At-Tirmidhi said, "Hasan Sahih". Allah's statement,
أَوْ يَلْبِسَكُمْ شِيَعاً
(or to cover you with confusion in party strife, ) means, He causes you to be in disarray and separate into opposing parties and groups. Al-Walibi (`Ali bin Abi Talhah) reported that Ibn `Abbas said that this Ayah refers to desires. Mujahid and several others said similarly. A Hadith from the Prophet , collected from various chains of narration, states,
«وَسَتَفْتَرِقُ هَذِهِ الأُمَّةُ عَلَى ثَلَاثٍ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً، كُلُّهَا فِي النَّارِ إِلَّا وَاحِدَة»
(And this Ummah (Muslims) will divide into seventy - three groups, all of them in the Fire except one.) Allah said;
وَيُذِيقَ بَعْضَكُمْ بَأْسَ بَعْضٍ
(and make you taste the violence of one another.) meaning, some of you will esperience torture and murder from one another, according to Ibn `Abbas and others. Allah said next,
انْظُرْ كَيْفَ نُصَرِّفُ الاٌّيَـتِ
(See how variously We explain the Ayat,) by making them clear, plain and duly explained,
لَعَلَّهُمْ يَفْقَهُونَ
(So that they may understand.) and comprehend Allah's Ayat, proofs and evidences.
احسان فراموش نہ بنو اللہ تعالیٰ اپنا احسان بیان فرماتا ہے کہ جب تم خشکی کے بیابانوں اور لق و دق سنسان جنگلوں میں راہ بھٹکے ہوئے قدم قدم پر خوف و خطر میں مبتلا ہوتے ہو اور جب تم کشتیوں میں بیٹھے ہوئے طوفان کے وقت سمندر کے تلاطم میں مایوس و عاجز ہوجاتے ہو۔ اس وقت اپنے دیوتاؤں اور بتوں کو چھوڑ کر صرف اللہ تعالیٰ ہی کو پکارتے ہو۔ یہی مضمون قرآن کریم کی آیت (وَاِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فِي الْبَحْرِ ضَلَّ مَنْ تَدْعُوْنَ اِلَّآ اِيَّاهُ) 17۔ الاسراء :67) میں اور آیت (ھُوَ الَّذِيْ يُسَيِّرُكُمْ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ) 10۔ یونس :22) میں اور آیت (اَمَّنْ يَّهْدِيْكُمْ فِيْ ظُلُمٰتِ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَمَنْ يُّرْسِلُ الرِّيٰحَ بُشْرًۢا بَيْنَ يَدَيْ رَحْمَتِهٖ ۭ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ ۭ تَعٰلَى اللّٰهُ عَمَّا يُشْرِكُوْنَ) 27۔ النمل :63) میں بھی بیان ہوا ہے۔ تصرعا و خفیتہ کے معنی جھرا او سرا یعنی بلند آواز اور پست آواز کے ہیں۔ الغرض اس وقت صرف اللہ کو ہی پکارتے ہیں اور وعدہ کرتے ہیں کہ اگر تو ہمیں اس وقت سے نجات دے گا تو ہم ہمیشہ تیرے شکر گزار رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے باوجود اس عہد و پیمان کے ادھر ہم نے انہیں تنگی اور مصیبت سے چھوڑا اور ادھر یہ آزاد ہوتے ہی ہمارے ساتھ شرک کرنے لگے اور اپنے جھوٹے معبودوں کو پھر پکارنے لگے، پھر فرماتا ہے کیا تم نہیں جانتے کہ جس اللہ نے تمہیں اس وقت آفت میں ڈالا تھا وہ اب بھی قادر ہے کہ تم پر کوئی اور عذاب اوپر سے یا نیجے سے لے آئے جیسے کہ سورة سبحان میں آیت (رَبُّكُمُ الَّذِيْ يُزْجِيْ لَكُمُ الْفُلْكَ فِي الْبَحْرِ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ ۭ اِنَّهٗ كَانَ بِكُمْ رَحِـيْمًا) 17۔ الاسراء :66) تک بیان فرمایا۔ یعنی تمہارا پروردگار وہ ہے جو دریا میں تمہارے لئے کشتیاں چلاتا ہے تاکہ تم اس کا فضل حاصل کرو اور وہ تم پر بہت ہی مہربان ہے۔ لیکن جب تمہیں دریا میں کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو جن کی تم عبادت کرتے رہتے تھے وہ سب تمہارے خیال سے نکل جاتے ہیں اور صرف اللہ ہی کی طرف لو لگ جاتی ہے، پھر جب وہ تمہیں خشکی پر پہنچا دیتا ہے تو تم اس سے منہ پھیر لیتے ہو فی الواقع انسان بڑا ہی ناشکرا ہے کیا تم اس سے بےخوف ہو کہ وہ تمہیں خشکی میں ہی دھنسا دے یا تم پر آندھی کا عذاب بھیج دے پھر تم کسی کو بھی اپنا کار ساز نہ پاؤ۔ کیا تم اس بات سے بھی نڈر ہو کہ وہ تمہیں پھر دوبارہ دریا میں لے جائے اور تم پر تندو تیز ہوا بھیج دے اور تمہیں تمہارے کفر کے باعث غرق کر دے تو پھر کسی کو نہ پاؤ جو ہمارا پیچھا کرسکے۔ حضرت حسن فرماتے ہیں اوپر نیچے کے عذاب مشرکوں کیلئے ہیں حضرت مجاہد فرماتے ہیں اس آیت میں اسی امت کو ڈریا گیا تھا لیکن پھر اللہ تعالیٰ نے معافی دے دی۔ ہم یہاں اس آیت سے تعلق رکھنے والی حدیثیں اور آثار بیان کرتے ہیں ملاحظہ ہوں۔ اللہ تعالیٰ پر ہمارا بھروسہ ہے اور اس سے ہم مدد چاہتے ہیں صحیح بخاری شریف میں ہے یلبسکم کے معنی یخلطکم کے ہیں یہ لفظ التباس سے ماخوذ ہے شیعا کے معنی فرقا کے ہیں۔ حضرت جابر بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت اتری کہ اللہ قادر ہے کہ تمہارے اوپر سے عذاب نازل فرمائے تو رسول اللہ ﷺ نے دعا کی کہ یا اللہ میں تیرے پر عظمت و جلال چہرہ کی پناہ میں آتا ہوں اور جب یہ سنا کہ نیچے سے عذاب لے آئے تو بھی آپ ﷺ نے یہ دعا کی۔ پھر یہ سن کر کہ یا وہ تم میں اختلاف ڈال دے اور تمہیں ایک دوسرے سے تکلیف پہنچے تو حضور نے فرمایا یہ بہت زیادہ ہلکا ہے، ابن مردویہ کی اس حدیث کے آخر میں حضرت جابر کا یہ فرمان بھی مروی ہے کہ اگر اس آپ کی ناچاقی سے بھی پناہ مانگتے تو پناہ مل جاتی۔ مسند میں ہے حضور سے جب اس آیت کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا یہ تو ہونے والا ہی ہے اب تک یہ ہوا نہیں۔ یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور امام ترمذی اسے غریب بتاتے ہیں، مسند احمد میں حضرت سعد بن ابی وقاص سے مروی ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ آ رہے تھے آپ مسجد بنی معاویہ میں گئے اور دور رکعت نماز ادا کی ہم نے بھی آپ کے ساتھ پڑھی پھر آپ نے لمبی مناجات کی اور فرمایا میں نے اپنے رب سے تین چیزیں طلب کیں ایک تو یہ کہ میری تمام امت کو ڈبوئے نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ چیز عطا فرمائی، پھر میں نے دعا کی کہ میرے عام امت کو قحط سالی سے اللہ تعالیٰ ہلاک نہ کرے اللہ تعالیٰ نے میری یہ دعا بھی قبول فرمائی۔ پھر میں نے دعا کی کہ میری عام امت کو قحط سالی سے اللہ تعالیٰ ہلاک نہ کرے اللہ تعالیٰ نے میری یہ دعا بھی قبول فرمائی پھر میں نے دعا کی کہ ان میں آپس میں پھوٹ نہ پڑے میری یہ دعا قبول نہ ہوئی۔ صحیح مسلم وغیرہ میں بھی یہ حدیث ہے۔ مسند احمد میں ہے حضرت عبداللہ بن عبداللہ فرماتے ہیں ہمارے پاس عبداللہ بن عمر بنی معاویہ کے محلے میں آئے اور مجھ سے دریافت فرمایا کہ جانتے ہو تمہاری اس مسجد میں رسول اللہ ﷺ نے نماز کس جگہ پڑھی ؟ میں نے مسجد کے ایک کونے کو دکھا کر کہا یہاں پھر پوچھا جانتے ہو یہاں تین دعائیں حضور نے کیا کیا کیں ؟ میں نے کہا ایک تو یہ کہ آپ کی امت پر کوئی غیر مسلم طاقت اس طرح غالب نہ آجائے کہ ان کو پیس ڈالے دوسرے یہ کہ ان پر عام قحط سالی ایسی نہ آئے کہ یہ سب تباہ ہوجائیں اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کی یہ دونوں دعائیں قبول فرمائیں پھر تیسری دعا یہ کی کہ ان میں آپس میں لڑائیاں نہ ہوں لیکن یہ دعا قبول نہ ہوئی یہ سن کر حضرت عبداللہ نے فرمایا تم نے سچ کہا یاد رکھو قیامت تک یہ آپس کی لڑائیاں چلی جائیں گی، ابن مردویہ میں ہے کہحضور ﷺ بنو معاویہ کے محلے میں گئے اور وہاں آٹھ رکعت نماز ادا کی، بڑی لمبی رکعت پڑھیں پھر میری طرف توجہ فرما کر فرمایا میں نے اپنے رب سے تین چیزیں مانگیں اللہ پاک نے دو تو دیں اور ایک نہ دی، میں نے سوال کیا کہ میری امت پر ان کے دشمن اس طرح نہ چھا جائیں کہ انہیں برباد کردیں اور ان سب کو ڈبو یا نہ جائے، اللہ نے ان دونوں باتوں سے مجھے امن دیا پھر میں نے آپ سے لڑائیاں نہ ہونے کی دعا کی لیکن اس سے مجھے منع کردیا، ابن ماجہ اور مسند احمد میں ہے حضرت معاذ بن جبل ؓ فرماتے ہیں میں رسول مقبول ﷺ کے پاس آیا تو مجھے معلوم ہوا کہ آپ تشریف لے گئے اب دریافت کرتا کرتا حضور جہاں تھے وہیں پہنچا دیکھا تو آپ نماز پڑھ رہے ہیں میں بھی آپ کے پیچھے نماز میں کھڑا ہوگیا، آپ نے بڑی لمبی نماز پڑھی، جب فارغ ہوئے تو میں کہا حضور بڑی لمبی نماز تھی پھر آپ نے اپنی تینوں دعاؤں کا ذکر کیا، نسائی وغیرہ میں حضرت انس سے مروی ہے کہ ایک سفر میں رسول اکرم ﷺ نے صبح کی نماز کی آٹھ009رکعت پڑھیں اور حضرت انس کے سوال پر اپنی دعاؤں کا ذکر کیا اس میں عام قحط سالی کا ذکر ہے، نسائی وعیرہ میں ہے کہ حضور نے ایک مرتبہ ساری رات نماز میں گزار دی صبح کے وقت سلام پھیرا تو حضرت خباب بن ارث ؓ نے جو بدری صحابی ہیں پوچھا کہ ایسی طویل نماز میں تو میں نے آپ کو کبھی نہیں دیکھا آپ نے اس کے جواب میں وہی فرمایا جو اوپر مذکور ہوا، اس میں ایک دعا یہ ہے کہ اگلی امتوں پر جو عام عذاب آئے وہ میری امت پر عام طور پر نہ آئیں۔ تفسیر ابن جریر میں ہے کہ حضور نے نماز پڑھی جس کے رکوع سجود پورے تھے اور نماز ہلکی تھی پھر سوال و جواب وہی ہیں جو اوپر بیان ہوئے مسند احمد میں ہے رسول اکرام ﷺ فرماتے ہیں میرے لئے زمین لپیٹ دی گئی یہاں تک کہ میں نے مشرقین مغربین دیکھ لئے جہاں جہاں تک یہ زمین میری لئے لپیٹ دی گئی تھی وہاں وہاں تک میری امت کی بادشاہت پہنچے گی، مجھے دونوں خزانے دیئے گئے ہیں سفید اور سرخ، میں نے اپنے رب عزوجل سے سوال کیا کہ میری امت کو عام قحط سالی سے ہلاک نہ کر اور ان پر کوئی ان کے سوا ایسا دشمن مسلط نہ کر جو انہیں عام طور پر ہلاک کر دے یہاں تک کہ یہ خود آپس میں ایک دوسروں کو ہلاک کرنے لگیں اور ایک دوسروں کو قتل کرنے لگیں اور ایک دوسروں کو قید کرنے لگیں اور حضور نے فرمایا میں اپنی امت پر کسی چیز سے نہیں ڈرتا بجز گمراہ کرنے والے اماموں کے پھر جب میری امت میں تلوار رکھ دی جائے گی تو قیامت تک ان میں سے اٹھائی نہ جائے گی، ابن مردویہ میں ہے کہ جب آپ لوگوں میں نماز پڑھتے تو نماز ہلکی ہوتی، رکوع و سجود پورے ہوتے ایک روز آپ بہت دیر تک بیٹھے رہے یہاں تک کہ ہم نے ایک دوسرے کو اشارے سے سمجھا دیا کہ شاید آپ پر وحی اتر رہی ہے خاموشی سے بیٹھے رہو۔ جب آپ فارغ ہوئے تو بعض لوگوں نے کہا حضور آج تو اس قدر زیادہ دیر تک آپ کے بیٹھے رہنے سے ہم نے یہ خیال کیا تھا اور آپس میں ایک دوسرے کو اشارے سے یہ سمجھایا تھا کہ آپ نے فرمایا نہیں یہ بات تو نہ تھی بلکہ میں نے یہ نماز بڑی رغبت و یکسوئی سے ادا کی تھی، میں نے اس میں تین چیزیں اللہ تبارک و تعالیٰ سے طلب کی تھیں جن میں سے دو تو اللہ تعالیٰ نے دے دیں اور ایک نہیں دی۔ میں نے اللہ تعالیٰ سے سوال کیا کہ وہ تمہیں وہ عذاب نہ کرے جو تم سے پہلی قوموں کو کئے ہیں، اللہ تعالیٰ نے اسے پورا کیا میں نے پھر کہا کہ یا اللہ میری امت پر کوئی ایسا دشمن چھا نہ جائے جو ان کا صفایا کر دے تو اللہ تعالیٰ نے میری یہ مراد بھی پوری کردی، پھر میں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ تم میں پھوٹ نہ ڈالے کہ ایک دوسرے کو ایذاء پہنچائیں مگر اللہ تعالیٰ نے یہ دعا قبول نہ فرمائی۔ مسند احمد کی حدیث میں ہے میں نے اللہ تبارک و تعالیٰ سے چار دعائیں کیں تو تین پوری ہوئیں اور ایک رد ہوگئی۔ چوتھی دعا اس میں یہ ہے کہ میری امت گمراہی پر جمع نہ ہوجائے اور حدیث میں ہے دو چیزیں اللہ نے دیں دو نہ دیں آسمان سے پتھروں کا سب پر برسانا موقوف کردیا گیا زمین کے پانی کے طوفان سے سب کا غرق ہوجانا موقوف کردیا گیا لیکن قتل اور آپس کی لڑائی موقوف نہیں کی گئی (ابن مردویہ) ابن عباس فرماتے ہیں جب یہ آیت اتری تو آنحضرت ﷺ وضو کر کے اٹھ کھرے ہوئے اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ میری امت پر نہ تو ان کے اوپر سے عذاب اتار نہ نیچے سے انہیں عذاب چکھا اور نہ ان میں تفرقہ ڈال کر ایک دوسرے کی مصیبت پہنچا، اسی وقت حضرت جبرائیل ؑ اترے اور فرمایا اللہ تعالیٰ نے آپ کی امت کو اس سے پناہ دے دی کہ ان کے اوپر سے یا ان کے نیچے سے ان پر عام عذاب اتارا جائے (ابن مردویہ ابن ابی کعب سے مروی ہے کہ دو چیزیں اس امت سے ہٹ گئیں اور دور رہ گئیں اوپر کا عذاب یعنی پتھراؤ اور نیچے کا عذاب یعنی زمین کا دھنساؤ ہٹ گیا اور آپس کی پھوٹ اور ایک کا ایک کو ایذائیں پہنچانا رہ گیا، آپ فرماتے ہیں کہ اس آیت میں چار چیزوں کا ذکر ہے جن میں سے دو تو حضور کی وفات کے پجیس سال بعد ہی شروع ہوگئیں یعنی پھوٹ اور آپس کی دشمنی۔ دو باقی رہ گئیں وہ بھی ضرور ہی آنے والی ہیں یعنی رجم اور خسف آسمان سے سنگباری اور زمین میں دھنسایا جانا (احمد) حضرت حسن اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں گناہ سے لوگ بچے ہوئے تھے عذاب رکے ہوئے تھے جب گناہ شروع ہوئے عذاب اتر پڑے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ با آواز بلند مجلس میں یا منبر پر فرماتے تھے لوگو تم پر آیت (قُلْ هُوَ الْقَادِرُ عَلٰٓي اَنْ يَّبْعَثَ عَلَيْكُمْ عَذَابًا مِّنْ فَوْقِكُمْ اَوْ مِنْ تَحْتِ اَرْجُلِكُمْ اَوْ يَلْبِسَكُمْ شِيَعًا وَّيُذِيْقَ بَعْضَكُمْ بَاْسَ بَعْضٍ) 6۔ الانعام :65) اتر چکی ہے اگر آسمانی عذاب آجائے ایک بھی باقی نہ بچے اگر تمہیں وہ زمین میں دھنسا دے تو تم سب ہلاک ہوجاؤ اور تم میں سے ایک بھی نہ بچے لیکن تم پر آپس کی پھوٹ کا تیسرا عذاب آچکا ہے، ابن عباس سے مروی ہے کہ اوپر کا عذاب برے امام اور بد بادشاہ ہیں نیچے کا عذاب بد باطن غلام اور بددیانت نو کر چاکر ہیں یہ قول بھی گو صحیح ہوسکتا ہے لیکن پہلا قول ہی زیادہ ظاہر اور قوی ہے، اس کی شہادت میں آیت (ءَاَمِنْتُمْ مَّنْ فِي السَّمَاۗءِ اَنْ يَّخْسِفَ بِكُمُ الْاَرْضَ فَاِذَا هِيَ تَمُوْرُ) 67۔ الملک :16) پیش ہوسکتی ہے، ایک حدیث میں ہے میری امت میں سنگ باری اور زمین میں دھنس جانا اور صورت بدل جانا ہوگا، اس قسم کی بہت سی حدیثیں ہیں جو قیامت کے قرب کی علامتوں کے بیان میں اس کے موقعہ پر جابجا آئیں گی۔ انشاء اللہ تعالیٰ۔ آپس کی پھوٹ سے مراد فرقہ بندی ہے، خواہشوں کو پیشوا بنانا ہے، ایک حدیث میں ہے یہ امت تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی سب جہنمی ہوں گے سوائے ایک کے، ایک دوسرے کی تکلیف کا مزہ چکھے اس سے مراد سزا اور قتل ہے، دیکھ لے کہ ہم کس طرح اپنی آیتیں وضاحت کے ساتھ بیان فرما رہے ہیں۔ تاکہ لوگ غورو تدبر کریں سوچیں سمجھیں۔ اس آیت کے نازل ہونے کے بعد حضور ﷺ نے فرمایا لوگو ! میرے بعد کافر بن کر نہ لوٹ جانا کہ ایک دوسروں کی گردنوں پر تلواریں چلانے لگو، اس پر لوگوں نے کہا حضور کیا ہم اللہ کی واحدانیت اور آپ کی رسالت کو مانتے ہوئے ایسا کرسکتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا ہاں ہاں یہی ہوگا۔ کسی نے کہا ایسا نہیں ہوسکتا کہ ہم مسلمان رہتے ہوئے مسلمانوں ہی کو قتل کریں اس پر آیت کا آخری حصہ اور اس کے بعد کی آیت (وکذب بہ) الخ، اتری (ابن ابی حاتم اور ابن جریر)
64
View Single
قُلِ ٱللَّهُ يُنَجِّيكُم مِّنۡهَا وَمِن كُلِّ كَرۡبٖ ثُمَّ أَنتُمۡ تُشۡرِكُونَ
Say, “Allah delivers you from these and from all distresses – yet you ascribe partners to Him!”
فرما دیجئے کہ اللہ ہی تمہیں اس (مصیبت) سے اور ہر تکلیف سے نجات دیتا ہے تم پھر (بھی) شرک کرتے ہو
Tafsir Ibn Kathir
Allah's Compassion and Generosity, and His Power and Torment
Allah mentions how He favors His servants, saving them during times of need, in the darkness of land and at sea, such as when storms strike. In such cases, they call on Allah alone, without partners, in supplication. In other Ayat, Allah said,
وَإِذَا مَسَّكُمُ الْضُّرُّ فِى الْبَحْرِ ضَلَّ مَن تَدْعُونَ إِلاَ إِيَّاهُ
(And when harm strikes you at sea, those that you call upon besides Him vanish from you except Him.) 17:67,
هُوَ الَّذِى يُسَيِّرُكُمْ فِى الْبَرِّ وَالْبَحْرِ حَتَّى إِذَا كُنتُمْ فِى الْفُلْكِ وَجَرَيْنَ بِهِم بِرِيحٍ طَيِّبَةٍ وَفَرِحُواْ بِهَا جَآءَتْهَا رِيحٌ عَاصِفٌ وَجَآءَهُمُ الْمَوْجُ مِن كُلِّ مَكَانٍ وَظَنُّواْ أَنَّهُمْ أُحِيطَ بِهِمْ دَعَوُاْ اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ لَئِنْ أَنْجَيْتَنَا مِنْ هَـذِهِ لَنَكُونَنَّ مِنَ الشَّـكِرِينَ
(He it is Who enables you to travel through the land and the sea, till when you are in the ships and they sail with them with a favorable wind, and they rejoice, then comes a stormy wind and the waves come to them from all sides, and they think that they are encircled therein, they invoke Allah, making their faith pure for Him alone, saying: "If You deliver us from this, we shall truly be of the grateful".) 10:22, and,
أَمَّن يَهْدِيكُمْ فِى ظُلُمَـتِ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَمَن يُرْسِلُ الرِّيَاحَ بُشْرًاَ بَيْنَ يَدَىْ رَحْمَتِهِ أَءِلَـهٌ مَّعَ اللَّهِ تَعَالَى اللَّهُ عَمَّا يُشْرِكُونَ
(Is not He (better than your gods) Who guides you in the darkness of the land and the sea, and Who sends the winds as heralds of glad tidings, going before His mercy Is there any god with Allah High Exalted be Allah above all that they associate as partners (with Him)!) 27:63. Allah said in this honorable Ayah,
قُلْ مَن يُنَجِّيكُمْ مِّن ظُلُمَـتِ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ تَدْعُونَهُ تَضَرُّعاً وَخُفْيَةً
(Say: "Who rescues you from the dark recesses of the land and the sea, when you call upon Him begging and in secret.") i.e., in public and secret,
لَّئِنْ أَنجَـنَا
((Saying): `If He (Allah) only saves us...) from this distress,
لَنَكُونَنَّ مِنَ الشَّـكِرِينَ
(we shall truly be grateful.) thereafter. Allah said,
قُلِ اللَّهُ يُنَجِّيكُمْ مِّنْهَا وَمِن كُلِّ كَرْبٍ ثُمَّ أَنتُمْ تُشْرِكُونَ
(Say: "Allah rescues you from these (dangers) and from all distress, and yet you commit Shirk.") meaning, yet you call other gods besides Him in times of comfort. Allah said;
قُلْ هُوَ الْقَادِرُ عَلَى أَن يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عَذَاباً مِّن فَوْقِكُمْ أَوْ مِن تَحْتِ أَرْجُلِكُمْ
(Say: "He has the power to send torment on you from above or from under your feet,") He said this after His statement,
ثُمَّ أَنتُمْ تُشْرِكُونَ
(And yet you commit Shirk. ) Allah said next,
قُلْ هُوَ الْقَادِرُ عَلَى أَن يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عَذَاباً
(Say: "He has the power to send torment on you.."), after He saves you. Allah said in Surah Subhan (chapter 17),
رَّبُّكُمُ الَّذِى يُزْجِى لَكُمُ الْفُلْكَ فِى الْبَحْرِ لِتَبْتَغُواْ مِن فَضْلِهِ إِنَّهُ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًا - وَإِذَا مَسَّكُمُ الْضُّرُّ فِى الْبَحْرِ ضَلَّ مَن تَدْعُونَ إِلاَ إِيَّاهُ فَلَمَّا نَجَّـكُمْ إِلَى الْبَرِّ أَعْرَضْتُمْ وَكَانَ الإِنْسَـنُ كَفُورًا - أَفَأَمِنتُمْ أَن يَخْسِفَ بِكُمْ جَانِبَ الْبَرِّ أَوْ يُرْسِلَ عَلَيْكُمْ حَاصِبًا ثُمَّ لاَ تَجِدُواْ لَكُمْ وَكِيلاً - أَمْ أَمِنتُمْ أَن يُعِيدَكُمْ فِيهِ تَارَةً أُخْرَى فَيُرْسِلَ عَلَيْكُمْ قَاصِفًا مِّنَ الرِّيحِ فَيُغْرِقَكُم بِمَا كَفَرْتُمْ ثُمَّ لاَ تَجِدُواْ لَكُمْ عَلَيْنَا بِهِ تَبِيعًا
(Your Lord is He Who drives the ship for you through the sea, in order that you may seek of His bounty. Truly! He is Ever Merciful towards you. And when harm strikes you upon the sea, those that you call upon besides Him vanish from you except Him. But when He brings you safely to land, you turn away (from Him). And man is ever ungrateful. Do you then feel secure that He will not cause a side of the land to swallow you up, or that He will not send against you a storm of stones Then, you shall find no guardian. Or do you feel secure that He will not send you back a second time to sea, and send against you a hurricane of wind and drown you because of your disbelief, then you will not find any avenger therein against Us) 17:66-69. Al-Bukhari, may Allah grant him His mercy, commented on Allah's statement,
قُلْ هُوَ الْقَادِرُ عَلَى أَن يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عَذَاباً مِّن فَوْقِكُمْ أَوْ مِن تَحْتِ أَرْجُلِكُمْ أَوْ يَلْبِسَكُمْ شِيَعاً وَيُذِيقَ بَعْضَكُمْ بَأْسَ بَعْضٍ انْظُرْ كَيْفَ نُصَرِّفُ الاٌّيَـتِ لَعَلَّهُمْ يَفْقَهُونَ
(Say: "He has the power to send torment on you from above or from under your feet, or to Yalbisakum in party strife, and make you taste the violence of one another." See how variously We explain the Ayat, so that they may understand.) "Yalbisakum means, `cover you with confusion', So it means to, `divide into parties and sects'. Jabir bin `Abdullah said, `When this Ayah was revealed,
قُلْ هُوَ الْقَادِرُ عَلَى أَن يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عَذَاباً مِّن فَوْقِكُمْ
(Say: "He has power to send torment on you from above") Allah's Messenger ﷺ said,
«أَعُوذُ بِوَجْهِك»
(I seek refuge with Your Face.)
أَوْ مِن تَحْتِ أَرْجُلِكُمْ
(or from under your feet,) he again said,
«أَعُوذُ بِوَجْهِك»
(I seek refuge with Your Face.)
أَوْ يَلْبِسَكُمْ شِيَعاً وَيُذِيقَ بَعْضَكُمْ بَأْسَ بَعْضٍ
(or to cover you with confusion in party strife, and make you to taste the violence of one another.) he said,
«هَذهِ أَهْوَنُ أَوْ أَيْسَر»
(This is less burdensome or easier.)"' Al-Bukhari recorded this Hadith again in the book of Tawhid (in his Sahih), and An-Nasa'i also recorded it in the book of Tafsir.
Another Hadith
Imam Ahmad recorded that Sa`d bin Abi Waqqas said, We accompanied the Messenger of Allah ﷺ and passed by the Masjid of Bani Mu`awiyah. The Prophet went in and offered a two Rak`ah prayer, and we prayed behind him. He supplicated to his Lord for a long time and then said,
«سَأَلْتُ رَبِّي ثَلَاثًا: سَأَلْتُهُ أَنْ لَا يُهْلِكَ أُمَّتِي بِالْغَرَقِ فَأَعْطَانِيهَا، وَسَأَلْتُهُ أَنْ لَا يُهْلِكَ أُمَّتِي بِالسَّنَةِ فَأَعْطَانِيهَا، وَسَأَلْتُهُ أَنْ لَا يَجْعَلَ بَأْسَهُمْ بَيْنَهُمْ فَمَنَعَنِيهَا»
(I asked my Lord for three: I asked Him not to destroy my Ummah (Muslims) by drowning and He gave that to me. I asked Him not to destroy my Ummah by famine and He gave that to me. And I asked Him not to make them taste the violence of one another, but He did not give that to me.) Muslim, but not Al-Bukhari, recorded this Hadith in the book on Fitan (trials) (of his Sahih).
Another Hadith
Imam Ahmad recorded that Khabbab bin Al-Aratt, who attended the battle of Badr with the Messenger of Allah ﷺ , said, "I met Allah's Messenger during a night in which he prayed throughout it, until dawn. When the Messenger of Allah ﷺ ended his prayer, I said, `O Allah's Messenger! This night, you have performed a prayer that I never saw you perform before.' Allah's Messenger ﷺ said,
«أَجَلْ إِنَّهَا صَلَاةُ رَغَبٍ وَرَهَبٍ، سَأَلْتُ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ فِيهَا ثَلَاثَ خِصَالٍ، فَأَعْطَانِي اثْنَتَيْنِ وَمَنَعَنِي وَاحِدَةً، سَأَلْتُ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ أَنْ لَا يُهْلِكْنَا بِمَا أَهْلَكَ بِهِ الْأُمَمَ قَبْلَنَا فَأَعْطَانِيهَا، وَسَأَلْتُ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ أَنْ لَا يُظْهِرَ عَلَيْنَا عَدُوًّا مِنْ غَيْرِنَا فَأَعْطَانِيهَا، وَسَأَلْتُ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ أَنْ لَا يُلْبِسَنَا شِيَعًا فَمَنَعَنِيهَا»
(Yes, it was a prayer of eagerness and fear. During this prayer, I asked my Lord for three things and He gave me two and refused to give me the third. I asked my Lord not to destroy us with what He destroyed the nations before us and He gave me that. I asked my Lord not to make our enemies prevail above us and He gave me that. I asked my Lord not to cover us with confusion in party strife, but He refused.) An-Nasa'i, Ibn Hibban in his Sahih, and At-Tirmidhi also recorded it. In the book on Fitan, in Al-Jami`, At-Tirmidhi said, "Hasan Sahih". Allah's statement,
أَوْ يَلْبِسَكُمْ شِيَعاً
(or to cover you with confusion in party strife, ) means, He causes you to be in disarray and separate into opposing parties and groups. Al-Walibi (`Ali bin Abi Talhah) reported that Ibn `Abbas said that this Ayah refers to desires. Mujahid and several others said similarly. A Hadith from the Prophet , collected from various chains of narration, states,
«وَسَتَفْتَرِقُ هَذِهِ الأُمَّةُ عَلَى ثَلَاثٍ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً، كُلُّهَا فِي النَّارِ إِلَّا وَاحِدَة»
(And this Ummah (Muslims) will divide into seventy - three groups, all of them in the Fire except one.) Allah said;
وَيُذِيقَ بَعْضَكُمْ بَأْسَ بَعْضٍ
(and make you taste the violence of one another.) meaning, some of you will esperience torture and murder from one another, according to Ibn `Abbas and others. Allah said next,
انْظُرْ كَيْفَ نُصَرِّفُ الاٌّيَـتِ
(See how variously We explain the Ayat,) by making them clear, plain and duly explained,
لَعَلَّهُمْ يَفْقَهُونَ
(So that they may understand.) and comprehend Allah's Ayat, proofs and evidences.
احسان فراموش نہ بنو اللہ تعالیٰ اپنا احسان بیان فرماتا ہے کہ جب تم خشکی کے بیابانوں اور لق و دق سنسان جنگلوں میں راہ بھٹکے ہوئے قدم قدم پر خوف و خطر میں مبتلا ہوتے ہو اور جب تم کشتیوں میں بیٹھے ہوئے طوفان کے وقت سمندر کے تلاطم میں مایوس و عاجز ہوجاتے ہو۔ اس وقت اپنے دیوتاؤں اور بتوں کو چھوڑ کر صرف اللہ تعالیٰ ہی کو پکارتے ہو۔ یہی مضمون قرآن کریم کی آیت (وَاِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فِي الْبَحْرِ ضَلَّ مَنْ تَدْعُوْنَ اِلَّآ اِيَّاهُ) 17۔ الاسراء :67) میں اور آیت (ھُوَ الَّذِيْ يُسَيِّرُكُمْ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ) 10۔ یونس :22) میں اور آیت (اَمَّنْ يَّهْدِيْكُمْ فِيْ ظُلُمٰتِ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَمَنْ يُّرْسِلُ الرِّيٰحَ بُشْرًۢا بَيْنَ يَدَيْ رَحْمَتِهٖ ۭ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ ۭ تَعٰلَى اللّٰهُ عَمَّا يُشْرِكُوْنَ) 27۔ النمل :63) میں بھی بیان ہوا ہے۔ تصرعا و خفیتہ کے معنی جھرا او سرا یعنی بلند آواز اور پست آواز کے ہیں۔ الغرض اس وقت صرف اللہ کو ہی پکارتے ہیں اور وعدہ کرتے ہیں کہ اگر تو ہمیں اس وقت سے نجات دے گا تو ہم ہمیشہ تیرے شکر گزار رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے باوجود اس عہد و پیمان کے ادھر ہم نے انہیں تنگی اور مصیبت سے چھوڑا اور ادھر یہ آزاد ہوتے ہی ہمارے ساتھ شرک کرنے لگے اور اپنے جھوٹے معبودوں کو پھر پکارنے لگے، پھر فرماتا ہے کیا تم نہیں جانتے کہ جس اللہ نے تمہیں اس وقت آفت میں ڈالا تھا وہ اب بھی قادر ہے کہ تم پر کوئی اور عذاب اوپر سے یا نیجے سے لے آئے جیسے کہ سورة سبحان میں آیت (رَبُّكُمُ الَّذِيْ يُزْجِيْ لَكُمُ الْفُلْكَ فِي الْبَحْرِ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ ۭ اِنَّهٗ كَانَ بِكُمْ رَحِـيْمًا) 17۔ الاسراء :66) تک بیان فرمایا۔ یعنی تمہارا پروردگار وہ ہے جو دریا میں تمہارے لئے کشتیاں چلاتا ہے تاکہ تم اس کا فضل حاصل کرو اور وہ تم پر بہت ہی مہربان ہے۔ لیکن جب تمہیں دریا میں کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو جن کی تم عبادت کرتے رہتے تھے وہ سب تمہارے خیال سے نکل جاتے ہیں اور صرف اللہ ہی کی طرف لو لگ جاتی ہے، پھر جب وہ تمہیں خشکی پر پہنچا دیتا ہے تو تم اس سے منہ پھیر لیتے ہو فی الواقع انسان بڑا ہی ناشکرا ہے کیا تم اس سے بےخوف ہو کہ وہ تمہیں خشکی میں ہی دھنسا دے یا تم پر آندھی کا عذاب بھیج دے پھر تم کسی کو بھی اپنا کار ساز نہ پاؤ۔ کیا تم اس بات سے بھی نڈر ہو کہ وہ تمہیں پھر دوبارہ دریا میں لے جائے اور تم پر تندو تیز ہوا بھیج دے اور تمہیں تمہارے کفر کے باعث غرق کر دے تو پھر کسی کو نہ پاؤ جو ہمارا پیچھا کرسکے۔ حضرت حسن فرماتے ہیں اوپر نیچے کے عذاب مشرکوں کیلئے ہیں حضرت مجاہد فرماتے ہیں اس آیت میں اسی امت کو ڈریا گیا تھا لیکن پھر اللہ تعالیٰ نے معافی دے دی۔ ہم یہاں اس آیت سے تعلق رکھنے والی حدیثیں اور آثار بیان کرتے ہیں ملاحظہ ہوں۔ اللہ تعالیٰ پر ہمارا بھروسہ ہے اور اس سے ہم مدد چاہتے ہیں صحیح بخاری شریف میں ہے یلبسکم کے معنی یخلطکم کے ہیں یہ لفظ التباس سے ماخوذ ہے شیعا کے معنی فرقا کے ہیں۔ حضرت جابر بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت اتری کہ اللہ قادر ہے کہ تمہارے اوپر سے عذاب نازل فرمائے تو رسول اللہ ﷺ نے دعا کی کہ یا اللہ میں تیرے پر عظمت و جلال چہرہ کی پناہ میں آتا ہوں اور جب یہ سنا کہ نیچے سے عذاب لے آئے تو بھی آپ ﷺ نے یہ دعا کی۔ پھر یہ سن کر کہ یا وہ تم میں اختلاف ڈال دے اور تمہیں ایک دوسرے سے تکلیف پہنچے تو حضور نے فرمایا یہ بہت زیادہ ہلکا ہے، ابن مردویہ کی اس حدیث کے آخر میں حضرت جابر کا یہ فرمان بھی مروی ہے کہ اگر اس آپ کی ناچاقی سے بھی پناہ مانگتے تو پناہ مل جاتی۔ مسند میں ہے حضور سے جب اس آیت کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا یہ تو ہونے والا ہی ہے اب تک یہ ہوا نہیں۔ یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور امام ترمذی اسے غریب بتاتے ہیں، مسند احمد میں حضرت سعد بن ابی وقاص سے مروی ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ آ رہے تھے آپ مسجد بنی معاویہ میں گئے اور دور رکعت نماز ادا کی ہم نے بھی آپ کے ساتھ پڑھی پھر آپ نے لمبی مناجات کی اور فرمایا میں نے اپنے رب سے تین چیزیں طلب کیں ایک تو یہ کہ میری تمام امت کو ڈبوئے نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ چیز عطا فرمائی، پھر میں نے دعا کی کہ میرے عام امت کو قحط سالی سے اللہ تعالیٰ ہلاک نہ کرے اللہ تعالیٰ نے میری یہ دعا بھی قبول فرمائی۔ پھر میں نے دعا کی کہ میری عام امت کو قحط سالی سے اللہ تعالیٰ ہلاک نہ کرے اللہ تعالیٰ نے میری یہ دعا بھی قبول فرمائی پھر میں نے دعا کی کہ ان میں آپس میں پھوٹ نہ پڑے میری یہ دعا قبول نہ ہوئی۔ صحیح مسلم وغیرہ میں بھی یہ حدیث ہے۔ مسند احمد میں ہے حضرت عبداللہ بن عبداللہ فرماتے ہیں ہمارے پاس عبداللہ بن عمر بنی معاویہ کے محلے میں آئے اور مجھ سے دریافت فرمایا کہ جانتے ہو تمہاری اس مسجد میں رسول اللہ ﷺ نے نماز کس جگہ پڑھی ؟ میں نے مسجد کے ایک کونے کو دکھا کر کہا یہاں پھر پوچھا جانتے ہو یہاں تین دعائیں حضور نے کیا کیا کیں ؟ میں نے کہا ایک تو یہ کہ آپ کی امت پر کوئی غیر مسلم طاقت اس طرح غالب نہ آجائے کہ ان کو پیس ڈالے دوسرے یہ کہ ان پر عام قحط سالی ایسی نہ آئے کہ یہ سب تباہ ہوجائیں اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کی یہ دونوں دعائیں قبول فرمائیں پھر تیسری دعا یہ کی کہ ان میں آپس میں لڑائیاں نہ ہوں لیکن یہ دعا قبول نہ ہوئی یہ سن کر حضرت عبداللہ نے فرمایا تم نے سچ کہا یاد رکھو قیامت تک یہ آپس کی لڑائیاں چلی جائیں گی، ابن مردویہ میں ہے کہحضور ﷺ بنو معاویہ کے محلے میں گئے اور وہاں آٹھ رکعت نماز ادا کی، بڑی لمبی رکعت پڑھیں پھر میری طرف توجہ فرما کر فرمایا میں نے اپنے رب سے تین چیزیں مانگیں اللہ پاک نے دو تو دیں اور ایک نہ دی، میں نے سوال کیا کہ میری امت پر ان کے دشمن اس طرح نہ چھا جائیں کہ انہیں برباد کردیں اور ان سب کو ڈبو یا نہ جائے، اللہ نے ان دونوں باتوں سے مجھے امن دیا پھر میں نے آپ سے لڑائیاں نہ ہونے کی دعا کی لیکن اس سے مجھے منع کردیا، ابن ماجہ اور مسند احمد میں ہے حضرت معاذ بن جبل ؓ فرماتے ہیں میں رسول مقبول ﷺ کے پاس آیا تو مجھے معلوم ہوا کہ آپ تشریف لے گئے اب دریافت کرتا کرتا حضور جہاں تھے وہیں پہنچا دیکھا تو آپ نماز پڑھ رہے ہیں میں بھی آپ کے پیچھے نماز میں کھڑا ہوگیا، آپ نے بڑی لمبی نماز پڑھی، جب فارغ ہوئے تو میں کہا حضور بڑی لمبی نماز تھی پھر آپ نے اپنی تینوں دعاؤں کا ذکر کیا، نسائی وغیرہ میں حضرت انس سے مروی ہے کہ ایک سفر میں رسول اکرم ﷺ نے صبح کی نماز کی آٹھ009رکعت پڑھیں اور حضرت انس کے سوال پر اپنی دعاؤں کا ذکر کیا اس میں عام قحط سالی کا ذکر ہے، نسائی وعیرہ میں ہے کہ حضور نے ایک مرتبہ ساری رات نماز میں گزار دی صبح کے وقت سلام پھیرا تو حضرت خباب بن ارث ؓ نے جو بدری صحابی ہیں پوچھا کہ ایسی طویل نماز میں تو میں نے آپ کو کبھی نہیں دیکھا آپ نے اس کے جواب میں وہی فرمایا جو اوپر مذکور ہوا، اس میں ایک دعا یہ ہے کہ اگلی امتوں پر جو عام عذاب آئے وہ میری امت پر عام طور پر نہ آئیں۔ تفسیر ابن جریر میں ہے کہ حضور نے نماز پڑھی جس کے رکوع سجود پورے تھے اور نماز ہلکی تھی پھر سوال و جواب وہی ہیں جو اوپر بیان ہوئے مسند احمد میں ہے رسول اکرام ﷺ فرماتے ہیں میرے لئے زمین لپیٹ دی گئی یہاں تک کہ میں نے مشرقین مغربین دیکھ لئے جہاں جہاں تک یہ زمین میری لئے لپیٹ دی گئی تھی وہاں وہاں تک میری امت کی بادشاہت پہنچے گی، مجھے دونوں خزانے دیئے گئے ہیں سفید اور سرخ، میں نے اپنے رب عزوجل سے سوال کیا کہ میری امت کو عام قحط سالی سے ہلاک نہ کر اور ان پر کوئی ان کے سوا ایسا دشمن مسلط نہ کر جو انہیں عام طور پر ہلاک کر دے یہاں تک کہ یہ خود آپس میں ایک دوسروں کو ہلاک کرنے لگیں اور ایک دوسروں کو قتل کرنے لگیں اور ایک دوسروں کو قید کرنے لگیں اور حضور نے فرمایا میں اپنی امت پر کسی چیز سے نہیں ڈرتا بجز گمراہ کرنے والے اماموں کے پھر جب میری امت میں تلوار رکھ دی جائے گی تو قیامت تک ان میں سے اٹھائی نہ جائے گی، ابن مردویہ میں ہے کہ جب آپ لوگوں میں نماز پڑھتے تو نماز ہلکی ہوتی، رکوع و سجود پورے ہوتے ایک روز آپ بہت دیر تک بیٹھے رہے یہاں تک کہ ہم نے ایک دوسرے کو اشارے سے سمجھا دیا کہ شاید آپ پر وحی اتر رہی ہے خاموشی سے بیٹھے رہو۔ جب آپ فارغ ہوئے تو بعض لوگوں نے کہا حضور آج تو اس قدر زیادہ دیر تک آپ کے بیٹھے رہنے سے ہم نے یہ خیال کیا تھا اور آپس میں ایک دوسرے کو اشارے سے یہ سمجھایا تھا کہ آپ نے فرمایا نہیں یہ بات تو نہ تھی بلکہ میں نے یہ نماز بڑی رغبت و یکسوئی سے ادا کی تھی، میں نے اس میں تین چیزیں اللہ تبارک و تعالیٰ سے طلب کی تھیں جن میں سے دو تو اللہ تعالیٰ نے دے دیں اور ایک نہیں دی۔ میں نے اللہ تعالیٰ سے سوال کیا کہ وہ تمہیں وہ عذاب نہ کرے جو تم سے پہلی قوموں کو کئے ہیں، اللہ تعالیٰ نے اسے پورا کیا میں نے پھر کہا کہ یا اللہ میری امت پر کوئی ایسا دشمن چھا نہ جائے جو ان کا صفایا کر دے تو اللہ تعالیٰ نے میری یہ مراد بھی پوری کردی، پھر میں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ تم میں پھوٹ نہ ڈالے کہ ایک دوسرے کو ایذاء پہنچائیں مگر اللہ تعالیٰ نے یہ دعا قبول نہ فرمائی۔ مسند احمد کی حدیث میں ہے میں نے اللہ تبارک و تعالیٰ سے چار دعائیں کیں تو تین پوری ہوئیں اور ایک رد ہوگئی۔ چوتھی دعا اس میں یہ ہے کہ میری امت گمراہی پر جمع نہ ہوجائے اور حدیث میں ہے دو چیزیں اللہ نے دیں دو نہ دیں آسمان سے پتھروں کا سب پر برسانا موقوف کردیا گیا زمین کے پانی کے طوفان سے سب کا غرق ہوجانا موقوف کردیا گیا لیکن قتل اور آپس کی لڑائی موقوف نہیں کی گئی (ابن مردویہ) ابن عباس فرماتے ہیں جب یہ آیت اتری تو آنحضرت ﷺ وضو کر کے اٹھ کھرے ہوئے اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ میری امت پر نہ تو ان کے اوپر سے عذاب اتار نہ نیچے سے انہیں عذاب چکھا اور نہ ان میں تفرقہ ڈال کر ایک دوسرے کی مصیبت پہنچا، اسی وقت حضرت جبرائیل ؑ اترے اور فرمایا اللہ تعالیٰ نے آپ کی امت کو اس سے پناہ دے دی کہ ان کے اوپر سے یا ان کے نیچے سے ان پر عام عذاب اتارا جائے (ابن مردویہ ابن ابی کعب سے مروی ہے کہ دو چیزیں اس امت سے ہٹ گئیں اور دور رہ گئیں اوپر کا عذاب یعنی پتھراؤ اور نیچے کا عذاب یعنی زمین کا دھنساؤ ہٹ گیا اور آپس کی پھوٹ اور ایک کا ایک کو ایذائیں پہنچانا رہ گیا، آپ فرماتے ہیں کہ اس آیت میں چار چیزوں کا ذکر ہے جن میں سے دو تو حضور کی وفات کے پجیس سال بعد ہی شروع ہوگئیں یعنی پھوٹ اور آپس کی دشمنی۔ دو باقی رہ گئیں وہ بھی ضرور ہی آنے والی ہیں یعنی رجم اور خسف آسمان سے سنگباری اور زمین میں دھنسایا جانا (احمد) حضرت حسن اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں گناہ سے لوگ بچے ہوئے تھے عذاب رکے ہوئے تھے جب گناہ شروع ہوئے عذاب اتر پڑے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ با آواز بلند مجلس میں یا منبر پر فرماتے تھے لوگو تم پر آیت (قُلْ هُوَ الْقَادِرُ عَلٰٓي اَنْ يَّبْعَثَ عَلَيْكُمْ عَذَابًا مِّنْ فَوْقِكُمْ اَوْ مِنْ تَحْتِ اَرْجُلِكُمْ اَوْ يَلْبِسَكُمْ شِيَعًا وَّيُذِيْقَ بَعْضَكُمْ بَاْسَ بَعْضٍ) 6۔ الانعام :65) اتر چکی ہے اگر آسمانی عذاب آجائے ایک بھی باقی نہ بچے اگر تمہیں وہ زمین میں دھنسا دے تو تم سب ہلاک ہوجاؤ اور تم میں سے ایک بھی نہ بچے لیکن تم پر آپس کی پھوٹ کا تیسرا عذاب آچکا ہے، ابن عباس سے مروی ہے کہ اوپر کا عذاب برے امام اور بد بادشاہ ہیں نیچے کا عذاب بد باطن غلام اور بددیانت نو کر چاکر ہیں یہ قول بھی گو صحیح ہوسکتا ہے لیکن پہلا قول ہی زیادہ ظاہر اور قوی ہے، اس کی شہادت میں آیت (ءَاَمِنْتُمْ مَّنْ فِي السَّمَاۗءِ اَنْ يَّخْسِفَ بِكُمُ الْاَرْضَ فَاِذَا هِيَ تَمُوْرُ) 67۔ الملک :16) پیش ہوسکتی ہے، ایک حدیث میں ہے میری امت میں سنگ باری اور زمین میں دھنس جانا اور صورت بدل جانا ہوگا، اس قسم کی بہت سی حدیثیں ہیں جو قیامت کے قرب کی علامتوں کے بیان میں اس کے موقعہ پر جابجا آئیں گی۔ انشاء اللہ تعالیٰ۔ آپس کی پھوٹ سے مراد فرقہ بندی ہے، خواہشوں کو پیشوا بنانا ہے، ایک حدیث میں ہے یہ امت تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی سب جہنمی ہوں گے سوائے ایک کے، ایک دوسرے کی تکلیف کا مزہ چکھے اس سے مراد سزا اور قتل ہے، دیکھ لے کہ ہم کس طرح اپنی آیتیں وضاحت کے ساتھ بیان فرما رہے ہیں۔ تاکہ لوگ غورو تدبر کریں سوچیں سمجھیں۔ اس آیت کے نازل ہونے کے بعد حضور ﷺ نے فرمایا لوگو ! میرے بعد کافر بن کر نہ لوٹ جانا کہ ایک دوسروں کی گردنوں پر تلواریں چلانے لگو، اس پر لوگوں نے کہا حضور کیا ہم اللہ کی واحدانیت اور آپ کی رسالت کو مانتے ہوئے ایسا کرسکتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا ہاں ہاں یہی ہوگا۔ کسی نے کہا ایسا نہیں ہوسکتا کہ ہم مسلمان رہتے ہوئے مسلمانوں ہی کو قتل کریں اس پر آیت کا آخری حصہ اور اس کے بعد کی آیت (وکذب بہ) الخ، اتری (ابن ابی حاتم اور ابن جریر)
65
View Single
قُلۡ هُوَ ٱلۡقَادِرُ عَلَىٰٓ أَن يَبۡعَثَ عَلَيۡكُمۡ عَذَابٗا مِّن فَوۡقِكُمۡ أَوۡ مِن تَحۡتِ أَرۡجُلِكُمۡ أَوۡ يَلۡبِسَكُمۡ شِيَعٗا وَيُذِيقَ بَعۡضَكُم بَأۡسَ بَعۡضٍۗ ٱنظُرۡ كَيۡفَ نُصَرِّفُ ٱلۡأٓيَٰتِ لَعَلَّهُمۡ يَفۡقَهُونَ
Say, “He is Able to send punishment upon you from above you or from beneath your feet, or to cause you to fight each other by dividing you into different groups, and make you taste the harshness of one another”; observe how We explain the verses so that they may understand.
فرما دیجئے: وہ اس پر قادر ہے کہ تم پر عذاب بھیجے (خواہ) تمہارے اوپر کی طرف سے یا تمہارے پاؤں کے نیچے سے یا تمہیں فرقہ فرقہ کر کے آپس میں بھڑائے اور تم میں سے بعض کو بعض کی لڑائی کا مزہ چکھا دے۔ دیکھئے! ہم کس کس طرح آیتیں بیان کرتے ہیں تاکہ یہ (لوگ) سمجھ سکیں
Tafsir Ibn Kathir
Allah's Compassion and Generosity, and His Power and Torment
Allah mentions how He favors His servants, saving them during times of need, in the darkness of land and at sea, such as when storms strike. In such cases, they call on Allah alone, without partners, in supplication. In other Ayat, Allah said,
وَإِذَا مَسَّكُمُ الْضُّرُّ فِى الْبَحْرِ ضَلَّ مَن تَدْعُونَ إِلاَ إِيَّاهُ
(And when harm strikes you at sea, those that you call upon besides Him vanish from you except Him.) 17:67,
هُوَ الَّذِى يُسَيِّرُكُمْ فِى الْبَرِّ وَالْبَحْرِ حَتَّى إِذَا كُنتُمْ فِى الْفُلْكِ وَجَرَيْنَ بِهِم بِرِيحٍ طَيِّبَةٍ وَفَرِحُواْ بِهَا جَآءَتْهَا رِيحٌ عَاصِفٌ وَجَآءَهُمُ الْمَوْجُ مِن كُلِّ مَكَانٍ وَظَنُّواْ أَنَّهُمْ أُحِيطَ بِهِمْ دَعَوُاْ اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ لَئِنْ أَنْجَيْتَنَا مِنْ هَـذِهِ لَنَكُونَنَّ مِنَ الشَّـكِرِينَ
(He it is Who enables you to travel through the land and the sea, till when you are in the ships and they sail with them with a favorable wind, and they rejoice, then comes a stormy wind and the waves come to them from all sides, and they think that they are encircled therein, they invoke Allah, making their faith pure for Him alone, saying: "If You deliver us from this, we shall truly be of the grateful".) 10:22, and,
أَمَّن يَهْدِيكُمْ فِى ظُلُمَـتِ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَمَن يُرْسِلُ الرِّيَاحَ بُشْرًاَ بَيْنَ يَدَىْ رَحْمَتِهِ أَءِلَـهٌ مَّعَ اللَّهِ تَعَالَى اللَّهُ عَمَّا يُشْرِكُونَ
(Is not He (better than your gods) Who guides you in the darkness of the land and the sea, and Who sends the winds as heralds of glad tidings, going before His mercy Is there any god with Allah High Exalted be Allah above all that they associate as partners (with Him)!) 27:63. Allah said in this honorable Ayah,
قُلْ مَن يُنَجِّيكُمْ مِّن ظُلُمَـتِ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ تَدْعُونَهُ تَضَرُّعاً وَخُفْيَةً
(Say: "Who rescues you from the dark recesses of the land and the sea, when you call upon Him begging and in secret.") i.e., in public and secret,
لَّئِنْ أَنجَـنَا
((Saying): `If He (Allah) only saves us...) from this distress,
لَنَكُونَنَّ مِنَ الشَّـكِرِينَ
(we shall truly be grateful.) thereafter. Allah said,
قُلِ اللَّهُ يُنَجِّيكُمْ مِّنْهَا وَمِن كُلِّ كَرْبٍ ثُمَّ أَنتُمْ تُشْرِكُونَ
(Say: "Allah rescues you from these (dangers) and from all distress, and yet you commit Shirk.") meaning, yet you call other gods besides Him in times of comfort. Allah said;
قُلْ هُوَ الْقَادِرُ عَلَى أَن يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عَذَاباً مِّن فَوْقِكُمْ أَوْ مِن تَحْتِ أَرْجُلِكُمْ
(Say: "He has the power to send torment on you from above or from under your feet,") He said this after His statement,
ثُمَّ أَنتُمْ تُشْرِكُونَ
(And yet you commit Shirk. ) Allah said next,
قُلْ هُوَ الْقَادِرُ عَلَى أَن يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عَذَاباً
(Say: "He has the power to send torment on you.."), after He saves you. Allah said in Surah Subhan (chapter 17),
رَّبُّكُمُ الَّذِى يُزْجِى لَكُمُ الْفُلْكَ فِى الْبَحْرِ لِتَبْتَغُواْ مِن فَضْلِهِ إِنَّهُ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًا - وَإِذَا مَسَّكُمُ الْضُّرُّ فِى الْبَحْرِ ضَلَّ مَن تَدْعُونَ إِلاَ إِيَّاهُ فَلَمَّا نَجَّـكُمْ إِلَى الْبَرِّ أَعْرَضْتُمْ وَكَانَ الإِنْسَـنُ كَفُورًا - أَفَأَمِنتُمْ أَن يَخْسِفَ بِكُمْ جَانِبَ الْبَرِّ أَوْ يُرْسِلَ عَلَيْكُمْ حَاصِبًا ثُمَّ لاَ تَجِدُواْ لَكُمْ وَكِيلاً - أَمْ أَمِنتُمْ أَن يُعِيدَكُمْ فِيهِ تَارَةً أُخْرَى فَيُرْسِلَ عَلَيْكُمْ قَاصِفًا مِّنَ الرِّيحِ فَيُغْرِقَكُم بِمَا كَفَرْتُمْ ثُمَّ لاَ تَجِدُواْ لَكُمْ عَلَيْنَا بِهِ تَبِيعًا
(Your Lord is He Who drives the ship for you through the sea, in order that you may seek of His bounty. Truly! He is Ever Merciful towards you. And when harm strikes you upon the sea, those that you call upon besides Him vanish from you except Him. But when He brings you safely to land, you turn away (from Him). And man is ever ungrateful. Do you then feel secure that He will not cause a side of the land to swallow you up, or that He will not send against you a storm of stones Then, you shall find no guardian. Or do you feel secure that He will not send you back a second time to sea, and send against you a hurricane of wind and drown you because of your disbelief, then you will not find any avenger therein against Us) 17:66-69. Al-Bukhari, may Allah grant him His mercy, commented on Allah's statement,
قُلْ هُوَ الْقَادِرُ عَلَى أَن يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عَذَاباً مِّن فَوْقِكُمْ أَوْ مِن تَحْتِ أَرْجُلِكُمْ أَوْ يَلْبِسَكُمْ شِيَعاً وَيُذِيقَ بَعْضَكُمْ بَأْسَ بَعْضٍ انْظُرْ كَيْفَ نُصَرِّفُ الاٌّيَـتِ لَعَلَّهُمْ يَفْقَهُونَ
(Say: "He has the power to send torment on you from above or from under your feet, or to Yalbisakum in party strife, and make you taste the violence of one another." See how variously We explain the Ayat, so that they may understand.) "Yalbisakum means, `cover you with confusion', So it means to, `divide into parties and sects'. Jabir bin `Abdullah said, `When this Ayah was revealed,
قُلْ هُوَ الْقَادِرُ عَلَى أَن يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عَذَاباً مِّن فَوْقِكُمْ
(Say: "He has power to send torment on you from above") Allah's Messenger ﷺ said,
«أَعُوذُ بِوَجْهِك»
(I seek refuge with Your Face.)
أَوْ مِن تَحْتِ أَرْجُلِكُمْ
(or from under your feet,) he again said,
«أَعُوذُ بِوَجْهِك»
(I seek refuge with Your Face.)
أَوْ يَلْبِسَكُمْ شِيَعاً وَيُذِيقَ بَعْضَكُمْ بَأْسَ بَعْضٍ
(or to cover you with confusion in party strife, and make you to taste the violence of one another.) he said,
«هَذهِ أَهْوَنُ أَوْ أَيْسَر»
(This is less burdensome or easier.)"' Al-Bukhari recorded this Hadith again in the book of Tawhid (in his Sahih), and An-Nasa'i also recorded it in the book of Tafsir.
Another Hadith
Imam Ahmad recorded that Sa`d bin Abi Waqqas said, We accompanied the Messenger of Allah ﷺ and passed by the Masjid of Bani Mu`awiyah. The Prophet went in and offered a two Rak`ah prayer, and we prayed behind him. He supplicated to his Lord for a long time and then said,
«سَأَلْتُ رَبِّي ثَلَاثًا: سَأَلْتُهُ أَنْ لَا يُهْلِكَ أُمَّتِي بِالْغَرَقِ فَأَعْطَانِيهَا، وَسَأَلْتُهُ أَنْ لَا يُهْلِكَ أُمَّتِي بِالسَّنَةِ فَأَعْطَانِيهَا، وَسَأَلْتُهُ أَنْ لَا يَجْعَلَ بَأْسَهُمْ بَيْنَهُمْ فَمَنَعَنِيهَا»
(I asked my Lord for three: I asked Him not to destroy my Ummah (Muslims) by drowning and He gave that to me. I asked Him not to destroy my Ummah by famine and He gave that to me. And I asked Him not to make them taste the violence of one another, but He did not give that to me.) Muslim, but not Al-Bukhari, recorded this Hadith in the book on Fitan (trials) (of his Sahih).
Another Hadith
Imam Ahmad recorded that Khabbab bin Al-Aratt, who attended the battle of Badr with the Messenger of Allah ﷺ , said, "I met Allah's Messenger during a night in which he prayed throughout it, until dawn. When the Messenger of Allah ﷺ ended his prayer, I said, `O Allah's Messenger! This night, you have performed a prayer that I never saw you perform before.' Allah's Messenger ﷺ said,
«أَجَلْ إِنَّهَا صَلَاةُ رَغَبٍ وَرَهَبٍ، سَأَلْتُ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ فِيهَا ثَلَاثَ خِصَالٍ، فَأَعْطَانِي اثْنَتَيْنِ وَمَنَعَنِي وَاحِدَةً، سَأَلْتُ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ أَنْ لَا يُهْلِكْنَا بِمَا أَهْلَكَ بِهِ الْأُمَمَ قَبْلَنَا فَأَعْطَانِيهَا، وَسَأَلْتُ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ أَنْ لَا يُظْهِرَ عَلَيْنَا عَدُوًّا مِنْ غَيْرِنَا فَأَعْطَانِيهَا، وَسَأَلْتُ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ أَنْ لَا يُلْبِسَنَا شِيَعًا فَمَنَعَنِيهَا»
(Yes, it was a prayer of eagerness and fear. During this prayer, I asked my Lord for three things and He gave me two and refused to give me the third. I asked my Lord not to destroy us with what He destroyed the nations before us and He gave me that. I asked my Lord not to make our enemies prevail above us and He gave me that. I asked my Lord not to cover us with confusion in party strife, but He refused.) An-Nasa'i, Ibn Hibban in his Sahih, and At-Tirmidhi also recorded it. In the book on Fitan, in Al-Jami`, At-Tirmidhi said, "Hasan Sahih". Allah's statement,
أَوْ يَلْبِسَكُمْ شِيَعاً
(or to cover you with confusion in party strife, ) means, He causes you to be in disarray and separate into opposing parties and groups. Al-Walibi (`Ali bin Abi Talhah) reported that Ibn `Abbas said that this Ayah refers to desires. Mujahid and several others said similarly. A Hadith from the Prophet , collected from various chains of narration, states,
«وَسَتَفْتَرِقُ هَذِهِ الأُمَّةُ عَلَى ثَلَاثٍ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً، كُلُّهَا فِي النَّارِ إِلَّا وَاحِدَة»
(And this Ummah (Muslims) will divide into seventy - three groups, all of them in the Fire except one.) Allah said;
وَيُذِيقَ بَعْضَكُمْ بَأْسَ بَعْضٍ
(and make you taste the violence of one another.) meaning, some of you will esperience torture and murder from one another, according to Ibn `Abbas and others. Allah said next,
انْظُرْ كَيْفَ نُصَرِّفُ الاٌّيَـتِ
(See how variously We explain the Ayat,) by making them clear, plain and duly explained,
لَعَلَّهُمْ يَفْقَهُونَ
(So that they may understand.) and comprehend Allah's Ayat, proofs and evidences.
احسان فراموش نہ بنو اللہ تعالیٰ اپنا احسان بیان فرماتا ہے کہ جب تم خشکی کے بیابانوں اور لق و دق سنسان جنگلوں میں راہ بھٹکے ہوئے قدم قدم پر خوف و خطر میں مبتلا ہوتے ہو اور جب تم کشتیوں میں بیٹھے ہوئے طوفان کے وقت سمندر کے تلاطم میں مایوس و عاجز ہوجاتے ہو۔ اس وقت اپنے دیوتاؤں اور بتوں کو چھوڑ کر صرف اللہ تعالیٰ ہی کو پکارتے ہو۔ یہی مضمون قرآن کریم کی آیت (وَاِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فِي الْبَحْرِ ضَلَّ مَنْ تَدْعُوْنَ اِلَّآ اِيَّاهُ) 17۔ الاسراء :67) میں اور آیت (ھُوَ الَّذِيْ يُسَيِّرُكُمْ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ) 10۔ یونس :22) میں اور آیت (اَمَّنْ يَّهْدِيْكُمْ فِيْ ظُلُمٰتِ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَمَنْ يُّرْسِلُ الرِّيٰحَ بُشْرًۢا بَيْنَ يَدَيْ رَحْمَتِهٖ ۭ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ ۭ تَعٰلَى اللّٰهُ عَمَّا يُشْرِكُوْنَ) 27۔ النمل :63) میں بھی بیان ہوا ہے۔ تصرعا و خفیتہ کے معنی جھرا او سرا یعنی بلند آواز اور پست آواز کے ہیں۔ الغرض اس وقت صرف اللہ کو ہی پکارتے ہیں اور وعدہ کرتے ہیں کہ اگر تو ہمیں اس وقت سے نجات دے گا تو ہم ہمیشہ تیرے شکر گزار رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے باوجود اس عہد و پیمان کے ادھر ہم نے انہیں تنگی اور مصیبت سے چھوڑا اور ادھر یہ آزاد ہوتے ہی ہمارے ساتھ شرک کرنے لگے اور اپنے جھوٹے معبودوں کو پھر پکارنے لگے، پھر فرماتا ہے کیا تم نہیں جانتے کہ جس اللہ نے تمہیں اس وقت آفت میں ڈالا تھا وہ اب بھی قادر ہے کہ تم پر کوئی اور عذاب اوپر سے یا نیجے سے لے آئے جیسے کہ سورة سبحان میں آیت (رَبُّكُمُ الَّذِيْ يُزْجِيْ لَكُمُ الْفُلْكَ فِي الْبَحْرِ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ ۭ اِنَّهٗ كَانَ بِكُمْ رَحِـيْمًا) 17۔ الاسراء :66) تک بیان فرمایا۔ یعنی تمہارا پروردگار وہ ہے جو دریا میں تمہارے لئے کشتیاں چلاتا ہے تاکہ تم اس کا فضل حاصل کرو اور وہ تم پر بہت ہی مہربان ہے۔ لیکن جب تمہیں دریا میں کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو جن کی تم عبادت کرتے رہتے تھے وہ سب تمہارے خیال سے نکل جاتے ہیں اور صرف اللہ ہی کی طرف لو لگ جاتی ہے، پھر جب وہ تمہیں خشکی پر پہنچا دیتا ہے تو تم اس سے منہ پھیر لیتے ہو فی الواقع انسان بڑا ہی ناشکرا ہے کیا تم اس سے بےخوف ہو کہ وہ تمہیں خشکی میں ہی دھنسا دے یا تم پر آندھی کا عذاب بھیج دے پھر تم کسی کو بھی اپنا کار ساز نہ پاؤ۔ کیا تم اس بات سے بھی نڈر ہو کہ وہ تمہیں پھر دوبارہ دریا میں لے جائے اور تم پر تندو تیز ہوا بھیج دے اور تمہیں تمہارے کفر کے باعث غرق کر دے تو پھر کسی کو نہ پاؤ جو ہمارا پیچھا کرسکے۔ حضرت حسن فرماتے ہیں اوپر نیچے کے عذاب مشرکوں کیلئے ہیں حضرت مجاہد فرماتے ہیں اس آیت میں اسی امت کو ڈریا گیا تھا لیکن پھر اللہ تعالیٰ نے معافی دے دی۔ ہم یہاں اس آیت سے تعلق رکھنے والی حدیثیں اور آثار بیان کرتے ہیں ملاحظہ ہوں۔ اللہ تعالیٰ پر ہمارا بھروسہ ہے اور اس سے ہم مدد چاہتے ہیں صحیح بخاری شریف میں ہے یلبسکم کے معنی یخلطکم کے ہیں یہ لفظ التباس سے ماخوذ ہے شیعا کے معنی فرقا کے ہیں۔ حضرت جابر بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت اتری کہ اللہ قادر ہے کہ تمہارے اوپر سے عذاب نازل فرمائے تو رسول اللہ ﷺ نے دعا کی کہ یا اللہ میں تیرے پر عظمت و جلال چہرہ کی پناہ میں آتا ہوں اور جب یہ سنا کہ نیچے سے عذاب لے آئے تو بھی آپ ﷺ نے یہ دعا کی۔ پھر یہ سن کر کہ یا وہ تم میں اختلاف ڈال دے اور تمہیں ایک دوسرے سے تکلیف پہنچے تو حضور نے فرمایا یہ بہت زیادہ ہلکا ہے، ابن مردویہ کی اس حدیث کے آخر میں حضرت جابر کا یہ فرمان بھی مروی ہے کہ اگر اس آپ کی ناچاقی سے بھی پناہ مانگتے تو پناہ مل جاتی۔ مسند میں ہے حضور سے جب اس آیت کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا یہ تو ہونے والا ہی ہے اب تک یہ ہوا نہیں۔ یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور امام ترمذی اسے غریب بتاتے ہیں، مسند احمد میں حضرت سعد بن ابی وقاص سے مروی ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ آ رہے تھے آپ مسجد بنی معاویہ میں گئے اور دور رکعت نماز ادا کی ہم نے بھی آپ کے ساتھ پڑھی پھر آپ نے لمبی مناجات کی اور فرمایا میں نے اپنے رب سے تین چیزیں طلب کیں ایک تو یہ کہ میری تمام امت کو ڈبوئے نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ چیز عطا فرمائی، پھر میں نے دعا کی کہ میرے عام امت کو قحط سالی سے اللہ تعالیٰ ہلاک نہ کرے اللہ تعالیٰ نے میری یہ دعا بھی قبول فرمائی۔ پھر میں نے دعا کی کہ میری عام امت کو قحط سالی سے اللہ تعالیٰ ہلاک نہ کرے اللہ تعالیٰ نے میری یہ دعا بھی قبول فرمائی پھر میں نے دعا کی کہ ان میں آپس میں پھوٹ نہ پڑے میری یہ دعا قبول نہ ہوئی۔ صحیح مسلم وغیرہ میں بھی یہ حدیث ہے۔ مسند احمد میں ہے حضرت عبداللہ بن عبداللہ فرماتے ہیں ہمارے پاس عبداللہ بن عمر بنی معاویہ کے محلے میں آئے اور مجھ سے دریافت فرمایا کہ جانتے ہو تمہاری اس مسجد میں رسول اللہ ﷺ نے نماز کس جگہ پڑھی ؟ میں نے مسجد کے ایک کونے کو دکھا کر کہا یہاں پھر پوچھا جانتے ہو یہاں تین دعائیں حضور نے کیا کیا کیں ؟ میں نے کہا ایک تو یہ کہ آپ کی امت پر کوئی غیر مسلم طاقت اس طرح غالب نہ آجائے کہ ان کو پیس ڈالے دوسرے یہ کہ ان پر عام قحط سالی ایسی نہ آئے کہ یہ سب تباہ ہوجائیں اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کی یہ دونوں دعائیں قبول فرمائیں پھر تیسری دعا یہ کی کہ ان میں آپس میں لڑائیاں نہ ہوں لیکن یہ دعا قبول نہ ہوئی یہ سن کر حضرت عبداللہ نے فرمایا تم نے سچ کہا یاد رکھو قیامت تک یہ آپس کی لڑائیاں چلی جائیں گی، ابن مردویہ میں ہے کہحضور ﷺ بنو معاویہ کے محلے میں گئے اور وہاں آٹھ رکعت نماز ادا کی، بڑی لمبی رکعت پڑھیں پھر میری طرف توجہ فرما کر فرمایا میں نے اپنے رب سے تین چیزیں مانگیں اللہ پاک نے دو تو دیں اور ایک نہ دی، میں نے سوال کیا کہ میری امت پر ان کے دشمن اس طرح نہ چھا جائیں کہ انہیں برباد کردیں اور ان سب کو ڈبو یا نہ جائے، اللہ نے ان دونوں باتوں سے مجھے امن دیا پھر میں نے آپ سے لڑائیاں نہ ہونے کی دعا کی لیکن اس سے مجھے منع کردیا، ابن ماجہ اور مسند احمد میں ہے حضرت معاذ بن جبل ؓ فرماتے ہیں میں رسول مقبول ﷺ کے پاس آیا تو مجھے معلوم ہوا کہ آپ تشریف لے گئے اب دریافت کرتا کرتا حضور جہاں تھے وہیں پہنچا دیکھا تو آپ نماز پڑھ رہے ہیں میں بھی آپ کے پیچھے نماز میں کھڑا ہوگیا، آپ نے بڑی لمبی نماز پڑھی، جب فارغ ہوئے تو میں کہا حضور بڑی لمبی نماز تھی پھر آپ نے اپنی تینوں دعاؤں کا ذکر کیا، نسائی وغیرہ میں حضرت انس سے مروی ہے کہ ایک سفر میں رسول اکرم ﷺ نے صبح کی نماز کی آٹھ009رکعت پڑھیں اور حضرت انس کے سوال پر اپنی دعاؤں کا ذکر کیا اس میں عام قحط سالی کا ذکر ہے، نسائی وعیرہ میں ہے کہ حضور نے ایک مرتبہ ساری رات نماز میں گزار دی صبح کے وقت سلام پھیرا تو حضرت خباب بن ارث ؓ نے جو بدری صحابی ہیں پوچھا کہ ایسی طویل نماز میں تو میں نے آپ کو کبھی نہیں دیکھا آپ نے اس کے جواب میں وہی فرمایا جو اوپر مذکور ہوا، اس میں ایک دعا یہ ہے کہ اگلی امتوں پر جو عام عذاب آئے وہ میری امت پر عام طور پر نہ آئیں۔ تفسیر ابن جریر میں ہے کہ حضور نے نماز پڑھی جس کے رکوع سجود پورے تھے اور نماز ہلکی تھی پھر سوال و جواب وہی ہیں جو اوپر بیان ہوئے مسند احمد میں ہے رسول اکرام ﷺ فرماتے ہیں میرے لئے زمین لپیٹ دی گئی یہاں تک کہ میں نے مشرقین مغربین دیکھ لئے جہاں جہاں تک یہ زمین میری لئے لپیٹ دی گئی تھی وہاں وہاں تک میری امت کی بادشاہت پہنچے گی، مجھے دونوں خزانے دیئے گئے ہیں سفید اور سرخ، میں نے اپنے رب عزوجل سے سوال کیا کہ میری امت کو عام قحط سالی سے ہلاک نہ کر اور ان پر کوئی ان کے سوا ایسا دشمن مسلط نہ کر جو انہیں عام طور پر ہلاک کر دے یہاں تک کہ یہ خود آپس میں ایک دوسروں کو ہلاک کرنے لگیں اور ایک دوسروں کو قتل کرنے لگیں اور ایک دوسروں کو قید کرنے لگیں اور حضور نے فرمایا میں اپنی امت پر کسی چیز سے نہیں ڈرتا بجز گمراہ کرنے والے اماموں کے پھر جب میری امت میں تلوار رکھ دی جائے گی تو قیامت تک ان میں سے اٹھائی نہ جائے گی، ابن مردویہ میں ہے کہ جب آپ لوگوں میں نماز پڑھتے تو نماز ہلکی ہوتی، رکوع و سجود پورے ہوتے ایک روز آپ بہت دیر تک بیٹھے رہے یہاں تک کہ ہم نے ایک دوسرے کو اشارے سے سمجھا دیا کہ شاید آپ پر وحی اتر رہی ہے خاموشی سے بیٹھے رہو۔ جب آپ فارغ ہوئے تو بعض لوگوں نے کہا حضور آج تو اس قدر زیادہ دیر تک آپ کے بیٹھے رہنے سے ہم نے یہ خیال کیا تھا اور آپس میں ایک دوسرے کو اشارے سے یہ سمجھایا تھا کہ آپ نے فرمایا نہیں یہ بات تو نہ تھی بلکہ میں نے یہ نماز بڑی رغبت و یکسوئی سے ادا کی تھی، میں نے اس میں تین چیزیں اللہ تبارک و تعالیٰ سے طلب کی تھیں جن میں سے دو تو اللہ تعالیٰ نے دے دیں اور ایک نہیں دی۔ میں نے اللہ تعالیٰ سے سوال کیا کہ وہ تمہیں وہ عذاب نہ کرے جو تم سے پہلی قوموں کو کئے ہیں، اللہ تعالیٰ نے اسے پورا کیا میں نے پھر کہا کہ یا اللہ میری امت پر کوئی ایسا دشمن چھا نہ جائے جو ان کا صفایا کر دے تو اللہ تعالیٰ نے میری یہ مراد بھی پوری کردی، پھر میں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ تم میں پھوٹ نہ ڈالے کہ ایک دوسرے کو ایذاء پہنچائیں مگر اللہ تعالیٰ نے یہ دعا قبول نہ فرمائی۔ مسند احمد کی حدیث میں ہے میں نے اللہ تبارک و تعالیٰ سے چار دعائیں کیں تو تین پوری ہوئیں اور ایک رد ہوگئی۔ چوتھی دعا اس میں یہ ہے کہ میری امت گمراہی پر جمع نہ ہوجائے اور حدیث میں ہے دو چیزیں اللہ نے دیں دو نہ دیں آسمان سے پتھروں کا سب پر برسانا موقوف کردیا گیا زمین کے پانی کے طوفان سے سب کا غرق ہوجانا موقوف کردیا گیا لیکن قتل اور آپس کی لڑائی موقوف نہیں کی گئی (ابن مردویہ) ابن عباس فرماتے ہیں جب یہ آیت اتری تو آنحضرت ﷺ وضو کر کے اٹھ کھرے ہوئے اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ میری امت پر نہ تو ان کے اوپر سے عذاب اتار نہ نیچے سے انہیں عذاب چکھا اور نہ ان میں تفرقہ ڈال کر ایک دوسرے کی مصیبت پہنچا، اسی وقت حضرت جبرائیل ؑ اترے اور فرمایا اللہ تعالیٰ نے آپ کی امت کو اس سے پناہ دے دی کہ ان کے اوپر سے یا ان کے نیچے سے ان پر عام عذاب اتارا جائے (ابن مردویہ ابن ابی کعب سے مروی ہے کہ دو چیزیں اس امت سے ہٹ گئیں اور دور رہ گئیں اوپر کا عذاب یعنی پتھراؤ اور نیچے کا عذاب یعنی زمین کا دھنساؤ ہٹ گیا اور آپس کی پھوٹ اور ایک کا ایک کو ایذائیں پہنچانا رہ گیا، آپ فرماتے ہیں کہ اس آیت میں چار چیزوں کا ذکر ہے جن میں سے دو تو حضور کی وفات کے پجیس سال بعد ہی شروع ہوگئیں یعنی پھوٹ اور آپس کی دشمنی۔ دو باقی رہ گئیں وہ بھی ضرور ہی آنے والی ہیں یعنی رجم اور خسف آسمان سے سنگباری اور زمین میں دھنسایا جانا (احمد) حضرت حسن اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں گناہ سے لوگ بچے ہوئے تھے عذاب رکے ہوئے تھے جب گناہ شروع ہوئے عذاب اتر پڑے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ با آواز بلند مجلس میں یا منبر پر فرماتے تھے لوگو تم پر آیت (قُلْ هُوَ الْقَادِرُ عَلٰٓي اَنْ يَّبْعَثَ عَلَيْكُمْ عَذَابًا مِّنْ فَوْقِكُمْ اَوْ مِنْ تَحْتِ اَرْجُلِكُمْ اَوْ يَلْبِسَكُمْ شِيَعًا وَّيُذِيْقَ بَعْضَكُمْ بَاْسَ بَعْضٍ) 6۔ الانعام :65) اتر چکی ہے اگر آسمانی عذاب آجائے ایک بھی باقی نہ بچے اگر تمہیں وہ زمین میں دھنسا دے تو تم سب ہلاک ہوجاؤ اور تم میں سے ایک بھی نہ بچے لیکن تم پر آپس کی پھوٹ کا تیسرا عذاب آچکا ہے، ابن عباس سے مروی ہے کہ اوپر کا عذاب برے امام اور بد بادشاہ ہیں نیچے کا عذاب بد باطن غلام اور بددیانت نو کر چاکر ہیں یہ قول بھی گو صحیح ہوسکتا ہے لیکن پہلا قول ہی زیادہ ظاہر اور قوی ہے، اس کی شہادت میں آیت (ءَاَمِنْتُمْ مَّنْ فِي السَّمَاۗءِ اَنْ يَّخْسِفَ بِكُمُ الْاَرْضَ فَاِذَا هِيَ تَمُوْرُ) 67۔ الملک :16) پیش ہوسکتی ہے، ایک حدیث میں ہے میری امت میں سنگ باری اور زمین میں دھنس جانا اور صورت بدل جانا ہوگا، اس قسم کی بہت سی حدیثیں ہیں جو قیامت کے قرب کی علامتوں کے بیان میں اس کے موقعہ پر جابجا آئیں گی۔ انشاء اللہ تعالیٰ۔ آپس کی پھوٹ سے مراد فرقہ بندی ہے، خواہشوں کو پیشوا بنانا ہے، ایک حدیث میں ہے یہ امت تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی سب جہنمی ہوں گے سوائے ایک کے، ایک دوسرے کی تکلیف کا مزہ چکھے اس سے مراد سزا اور قتل ہے، دیکھ لے کہ ہم کس طرح اپنی آیتیں وضاحت کے ساتھ بیان فرما رہے ہیں۔ تاکہ لوگ غورو تدبر کریں سوچیں سمجھیں۔ اس آیت کے نازل ہونے کے بعد حضور ﷺ نے فرمایا لوگو ! میرے بعد کافر بن کر نہ لوٹ جانا کہ ایک دوسروں کی گردنوں پر تلواریں چلانے لگو، اس پر لوگوں نے کہا حضور کیا ہم اللہ کی واحدانیت اور آپ کی رسالت کو مانتے ہوئے ایسا کرسکتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا ہاں ہاں یہی ہوگا۔ کسی نے کہا ایسا نہیں ہوسکتا کہ ہم مسلمان رہتے ہوئے مسلمانوں ہی کو قتل کریں اس پر آیت کا آخری حصہ اور اس کے بعد کی آیت (وکذب بہ) الخ، اتری (ابن ابی حاتم اور ابن جریر)
66
View Single
وَكَذَّبَ بِهِۦ قَوۡمُكَ وَهُوَ ٱلۡحَقُّۚ قُل لَّسۡتُ عَلَيۡكُم بِوَكِيلٖ
And your people (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him) denied it whereas this is undoubtedly the truth; say, “I am not responsible for you.”
اور آپ کی قوم نے اس (قرآن) کو جھٹلا ڈالا حالانکہ وہ سراسر حق ہے۔ فرما دیجئے: میں تم پر نگہبان نہیں ہوں
Tafsir Ibn Kathir
The Invitation to the Truth is Guidance Without Coercion
Allah said,
وَكَذَّبَ بِهِ
(But have denied it) denied the Qur'an, guidance and clear explanation that you (O Muhammad ) have brought them,
قَوْمُكَ
(your people) meaning, Quraysh,
وَهُوَ الْحَقُّ
(though it is the truth.) beyond which there is no other truth.
قُل لَّسْتُ عَلَيْكُمْ بِوَكِيلٍ
(Say: "I am not responsible for your affairs.") meaning, I have not been appointed a guardian or watcher over you. Allah also said;
وَقُلِ الْحَقُّ مِن رَّبِّكُمْ فَمَن شَآءَ فَلْيُؤْمِن وَمَن شَآءَ فَلْيَكْفُرْ
(And say: "The truth is from your Lord." Then whosoever wills, let him believe, and whosoever wills, let him disbelieve.) 18:29, This means, my duty is to convey the Message and your duty is to hear and obey. Those who follow me, will acquire happiness in this life and the Hereafter. Those who defy me will become miserable in this life and the Hereafter. So Allah said;
لِّكُلِّ نَبَإٍ مُّسْتَقَرٌّ
(For every news there is a reality...) meaning, for every news, there is a reality, in that, this news will occur, perhaps after a while, according to Ibn `Abbas and others. Allah said in other Ayat,
وَلَتَعْلَمُنَّ نَبَأَهُ بَعْدَ حِينِ
(And you shall certainly know the truth of it after a while.) 38:88 and,
لِكُلِّ أَجَلٍ كِتَابٌ
((For) each and every matter there is a decree (from Allah).) 13:38. This, indeed, is a warning and a promise that will surely occur,
وَسَوْفَ تَعْلَمُونَ
(and you will come to know.) Allah's statement,
وَإِذَا رَأَيْتَ الَّذِينَ يَخُوضُونَ فِى ءَايَـتِنَا
(And when you see those who engage in false conversation about Our verses (of the Qur'an)), by denying and mocking them.
The Prohibition of Sitting with Those Who Deny and Mock Allah's Ayat
فَأَعْرِضْ عَنْهُمْ حَتَّى يَخُوضُواْ فِى حَدِيثٍ غَيْرِهِ
(stay away from them till they turn to another topic.) until they talk about a subject other than the denial they were engaged in.
وَإِمَّا يُنسِيَنَّكَ الشَّيْطَـنُ
(And if Shaytan causes you to forget...) This command includes every member of this Ummah. No one is to sit with those who deny and distort Allah's Ayat and explain them incorrectly. If one forgets and sits with such people,
فَلاَ تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّكْرَى
(then after the remembrance sit not you) after you remember,
مَعَ الْقَوْمِ الظَّـلِمِينَ
(in the company of those people who are the wrongdoers.). A Hadith states,
«رُفِعَ عَنْ أُمَّتِي الْخَطَأُ وَالنِّسْيَانُ وَمَا اسْتُكْرِهُوا عَلَيْه»
(My Ummah was forgiven unintentional errors, forgetfulness and what they are coerced to do.) The Ayah above 6:68 is the Ayah mentioned in Allah's statement,
وَقَدْ نَزَّلَ عَلَيْكُمْ فِى الْكِتَـبِ أَنْ إِذَا سَمِعْتُمْ ءَايَـتِ اللَّهِ يُكَفَرُ بِهَا وَيُسْتَهْزَأُ بِهَا فَلاَ تَقْعُدُواْ مَعَهُمْ حَتَّى يَخُوضُواْ فِى حَدِيثٍ غَيْرِهِ إِنَّكُمْ إِذاً مِّثْلُهُمْ
(And it has already been revealed to you in the Book that when you hear the Verses of Allah being denied and mocked at, then sit not with them, until they engage in a talk other than that; (but if you stayed with them) certainly in that case you would be like them.) 4:140, for, if you still sit with them, agreeing to what they say, you will be just like them. Allah's statement,
وَمَا عَلَى الَّذِينَ يَتَّقُونَ مِنْ حِسَابِهِم مِّن شَىْءٍ
(There is no responsibility for them upon those who have Taqwa,) means, when the believers avoid sitting with wrongdoers in this case, they will be innocent of them and they will have saved themselves from their sin. Allah's statement,
وَلَـكِن ذِكْرَى لَعَلَّهُمْ يَتَّقُونَ
(but (their duty) is to remind them, that they may avoid that.), means, We commanded you to ignore and avoid them, so that they become aware of the error they are indulging in, that they may avoid this behavior and never repeat it again.
غلط تاویلیں کرنے والوں سے نہ ملو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جس قرآن کو اور جس ہدایت وبیان کو تو اللہ عالی کی طرف سے لایا ہے اور جسے تیری قوم قریش جھتلا رہی ہے حقیقتاً وہ سرا سر حق ہے بلکہ اس کے سوا اور کوئی حق ہے ہی نہیں ان سے کہہ دیجئے میں نہ تو تمہارا محافظ ہوں نہ تم پر وکیل ہوں، جیسے اور آیت میں ہے کہہ دے کہ یہ تمہارے رب کی طرف سے حق ہے جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے نہ مانے، یعنی مجھ پر صرف تبلیغ کرنا فرض ہے، تمہارے ذمہ سننا اور ماننا ہے ماننے والے دنیا اور آخرت میں نیکی پائیں گے اور نہ ماننے والے دونوں جہان میں بدنصیب رہیں گے، ہر خبر کی حقیقت ہے وہ ضرور واقع ہونے والی ہے اس کا وقت مقرر ہے، تمہیں عنقریب حقیقت حال معلوم ہوجائے گی، واقعہ کا انکشاف ہوجائے گا اور جان لو گے، پھر فرمایا جب تو انہیں دیکھے جو میری آیتوں کو جھٹلاتے ہیں اور ان کا مذاق اڑاتے ہیں تو تو ان سے منہ پھیر لے اور جب تک وہ اپنی شیطانیت سے باز نہ آجائیں تو ان کے ساتھ نہ اٹھو نہ بیٹھو، اس آیت میں گو فرمان حضرت رسالت مآب ﷺ کو ہے لیکن حکم عام ہے۔ آپ کی امت کے ہر شخص پر حرام ہے کہ وہ ایسی مجلس میں یا ایسے لوگوں کے ساتھ بیٹھے جو اللہ کی آیتوں کی تکذیب کرتے ہوں ان کے معنی الٹ پلٹ کرتے ہوں اور ان کی بےجا تاویلیں کرتے ہوں، اگر بالفرض کوئی شخص بھولے سے ان میں بیٹھ بھی جائے تو یاد آنے کے بعد ایسے ظالموں کے پاس بیٹھنا ممنوع ہے حدیث شریف میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے میری امت کو خطا اور بھول سے درگزر فرما لیا ہے اور ان کاموں سے بھی جو ان سے زبر دستی مجبور کر کے کرائے جائیں۔ اس آیت کے اسی حکم کی طرف اشارہ اس آیت میں ہے آیت (وَقَدْ نَزَّلَ عَلَيْكُمْ فِي الْكِتٰبِ اَنْ اِذَا سَمِعْتُمْ اٰيٰتِ اللّٰهِ يُكْفَرُ بِھَا وَيُسْتَهْزَاُ بِھَا فَلَا تَقْعُدُوْا مَعَھُمْ حَتّٰي يَخُوْضُوْا فِيْ حَدِيْثٍ غَيْرِهٖٓ) 4۔ النسآء :140) یعنی تم پر اس کتاب میں یہ فرمان نازل ہوچکا ہے کہ جب اللہ کی آیتوں کے ساتھ کفر اور مذاق ہوتا ہوا سنو تو ایسے لوگوں کے ساتھ نہ بیٹھو اور اگر تم نے ایسا کیا تو تم بھی اس صورت میں ان جیسے ہی ہوجاؤ گے ہاں جب وہ اور باتوں میں مشغول ہوں تو خیر، مطلب یہ ہے کہ اگر تم ان کے ساتھ بیٹھے اور ان کی باتوں کو برداشت کرلیا تو تم بھی ان کی طرح ہی ہو، پھر فرمان ہے کہ جو لوگ ان سے دوری کریں ان کے ساتھ شریک نہ ہوں ان کی ایسی مجلسوں سے الگ رہیں وہ بری الذمہ ہیں ان پر ان کا کوئی گناہ نہیں، ان پر اس بدکرداری کا کوئی بوجھ ان کے سر نہیں، دیگر مفسرین کہتے ہیں کہ اس کے یہ معنی ہیں کہ اگرچہ ان کے ساتھ بیٹھیں لیکن جبکہ ان کے کام میں اور ان کے خیال میں ان کی شرکت نہیں تو یہ بےگناہ ہیں لیکن یہ حضرات یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ حکم سورة نساء مدنی کی آیت (اِنَّكُمْ اِذًا مِّثْلُھُمْ) 4۔ النسآء :140) سے منسوخ ہے۔ ان مفسرین کی اس تفسیر کے مطابق آیت کے آخری جملے کے یہ معنی ہوں گے کہ ہم نے تمہیں ان سے الگ رہنے کا حکم اس لئے دیا ہے کہ انہیں عبرت حاصل ہو اور ہوسکتا ہے کہ وہ اپنے گناہ سے باز آجائیں اور ایسا نہ کریں۔
67
View Single
لِّكُلِّ نَبَإٖ مُّسۡتَقَرّٞۚ وَسَوۡفَ تَعۡلَمُونَ
All matters have a fixed time and soon you will come to know.
ہر خبر (کے واقع ہونے) کا وقت مقرر ہے اور تم عنقریب جان لو گے
Tafsir Ibn Kathir
The Invitation to the Truth is Guidance Without Coercion
Allah said,
وَكَذَّبَ بِهِ
(But have denied it) denied the Qur'an, guidance and clear explanation that you (O Muhammad ) have brought them,
قَوْمُكَ
(your people) meaning, Quraysh,
وَهُوَ الْحَقُّ
(though it is the truth.) beyond which there is no other truth.
قُل لَّسْتُ عَلَيْكُمْ بِوَكِيلٍ
(Say: "I am not responsible for your affairs.") meaning, I have not been appointed a guardian or watcher over you. Allah also said;
وَقُلِ الْحَقُّ مِن رَّبِّكُمْ فَمَن شَآءَ فَلْيُؤْمِن وَمَن شَآءَ فَلْيَكْفُرْ
(And say: "The truth is from your Lord." Then whosoever wills, let him believe, and whosoever wills, let him disbelieve.) 18:29, This means, my duty is to convey the Message and your duty is to hear and obey. Those who follow me, will acquire happiness in this life and the Hereafter. Those who defy me will become miserable in this life and the Hereafter. So Allah said;
لِّكُلِّ نَبَإٍ مُّسْتَقَرٌّ
(For every news there is a reality...) meaning, for every news, there is a reality, in that, this news will occur, perhaps after a while, according to Ibn `Abbas and others. Allah said in other Ayat,
وَلَتَعْلَمُنَّ نَبَأَهُ بَعْدَ حِينِ
(And you shall certainly know the truth of it after a while.) 38:88 and,
لِكُلِّ أَجَلٍ كِتَابٌ
((For) each and every matter there is a decree (from Allah).) 13:38. This, indeed, is a warning and a promise that will surely occur,
وَسَوْفَ تَعْلَمُونَ
(and you will come to know.) Allah's statement,
وَإِذَا رَأَيْتَ الَّذِينَ يَخُوضُونَ فِى ءَايَـتِنَا
(And when you see those who engage in false conversation about Our verses (of the Qur'an)), by denying and mocking them.
The Prohibition of Sitting with Those Who Deny and Mock Allah's Ayat
فَأَعْرِضْ عَنْهُمْ حَتَّى يَخُوضُواْ فِى حَدِيثٍ غَيْرِهِ
(stay away from them till they turn to another topic.) until they talk about a subject other than the denial they were engaged in.
وَإِمَّا يُنسِيَنَّكَ الشَّيْطَـنُ
(And if Shaytan causes you to forget...) This command includes every member of this Ummah. No one is to sit with those who deny and distort Allah's Ayat and explain them incorrectly. If one forgets and sits with such people,
فَلاَ تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّكْرَى
(then after the remembrance sit not you) after you remember,
مَعَ الْقَوْمِ الظَّـلِمِينَ
(in the company of those people who are the wrongdoers.). A Hadith states,
«رُفِعَ عَنْ أُمَّتِي الْخَطَأُ وَالنِّسْيَانُ وَمَا اسْتُكْرِهُوا عَلَيْه»
(My Ummah was forgiven unintentional errors, forgetfulness and what they are coerced to do.) The Ayah above 6:68 is the Ayah mentioned in Allah's statement,
وَقَدْ نَزَّلَ عَلَيْكُمْ فِى الْكِتَـبِ أَنْ إِذَا سَمِعْتُمْ ءَايَـتِ اللَّهِ يُكَفَرُ بِهَا وَيُسْتَهْزَأُ بِهَا فَلاَ تَقْعُدُواْ مَعَهُمْ حَتَّى يَخُوضُواْ فِى حَدِيثٍ غَيْرِهِ إِنَّكُمْ إِذاً مِّثْلُهُمْ
(And it has already been revealed to you in the Book that when you hear the Verses of Allah being denied and mocked at, then sit not with them, until they engage in a talk other than that; (but if you stayed with them) certainly in that case you would be like them.) 4:140, for, if you still sit with them, agreeing to what they say, you will be just like them. Allah's statement,
وَمَا عَلَى الَّذِينَ يَتَّقُونَ مِنْ حِسَابِهِم مِّن شَىْءٍ
(There is no responsibility for them upon those who have Taqwa,) means, when the believers avoid sitting with wrongdoers in this case, they will be innocent of them and they will have saved themselves from their sin. Allah's statement,
وَلَـكِن ذِكْرَى لَعَلَّهُمْ يَتَّقُونَ
(but (their duty) is to remind them, that they may avoid that.), means, We commanded you to ignore and avoid them, so that they become aware of the error they are indulging in, that they may avoid this behavior and never repeat it again.
غلط تاویلیں کرنے والوں سے نہ ملو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جس قرآن کو اور جس ہدایت وبیان کو تو اللہ عالی کی طرف سے لایا ہے اور جسے تیری قوم قریش جھتلا رہی ہے حقیقتاً وہ سرا سر حق ہے بلکہ اس کے سوا اور کوئی حق ہے ہی نہیں ان سے کہہ دیجئے میں نہ تو تمہارا محافظ ہوں نہ تم پر وکیل ہوں، جیسے اور آیت میں ہے کہہ دے کہ یہ تمہارے رب کی طرف سے حق ہے جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے نہ مانے، یعنی مجھ پر صرف تبلیغ کرنا فرض ہے، تمہارے ذمہ سننا اور ماننا ہے ماننے والے دنیا اور آخرت میں نیکی پائیں گے اور نہ ماننے والے دونوں جہان میں بدنصیب رہیں گے، ہر خبر کی حقیقت ہے وہ ضرور واقع ہونے والی ہے اس کا وقت مقرر ہے، تمہیں عنقریب حقیقت حال معلوم ہوجائے گی، واقعہ کا انکشاف ہوجائے گا اور جان لو گے، پھر فرمایا جب تو انہیں دیکھے جو میری آیتوں کو جھٹلاتے ہیں اور ان کا مذاق اڑاتے ہیں تو تو ان سے منہ پھیر لے اور جب تک وہ اپنی شیطانیت سے باز نہ آجائیں تو ان کے ساتھ نہ اٹھو نہ بیٹھو، اس آیت میں گو فرمان حضرت رسالت مآب ﷺ کو ہے لیکن حکم عام ہے۔ آپ کی امت کے ہر شخص پر حرام ہے کہ وہ ایسی مجلس میں یا ایسے لوگوں کے ساتھ بیٹھے جو اللہ کی آیتوں کی تکذیب کرتے ہوں ان کے معنی الٹ پلٹ کرتے ہوں اور ان کی بےجا تاویلیں کرتے ہوں، اگر بالفرض کوئی شخص بھولے سے ان میں بیٹھ بھی جائے تو یاد آنے کے بعد ایسے ظالموں کے پاس بیٹھنا ممنوع ہے حدیث شریف میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے میری امت کو خطا اور بھول سے درگزر فرما لیا ہے اور ان کاموں سے بھی جو ان سے زبر دستی مجبور کر کے کرائے جائیں۔ اس آیت کے اسی حکم کی طرف اشارہ اس آیت میں ہے آیت (وَقَدْ نَزَّلَ عَلَيْكُمْ فِي الْكِتٰبِ اَنْ اِذَا سَمِعْتُمْ اٰيٰتِ اللّٰهِ يُكْفَرُ بِھَا وَيُسْتَهْزَاُ بِھَا فَلَا تَقْعُدُوْا مَعَھُمْ حَتّٰي يَخُوْضُوْا فِيْ حَدِيْثٍ غَيْرِهٖٓ) 4۔ النسآء :140) یعنی تم پر اس کتاب میں یہ فرمان نازل ہوچکا ہے کہ جب اللہ کی آیتوں کے ساتھ کفر اور مذاق ہوتا ہوا سنو تو ایسے لوگوں کے ساتھ نہ بیٹھو اور اگر تم نے ایسا کیا تو تم بھی اس صورت میں ان جیسے ہی ہوجاؤ گے ہاں جب وہ اور باتوں میں مشغول ہوں تو خیر، مطلب یہ ہے کہ اگر تم ان کے ساتھ بیٹھے اور ان کی باتوں کو برداشت کرلیا تو تم بھی ان کی طرح ہی ہو، پھر فرمان ہے کہ جو لوگ ان سے دوری کریں ان کے ساتھ شریک نہ ہوں ان کی ایسی مجلسوں سے الگ رہیں وہ بری الذمہ ہیں ان پر ان کا کوئی گناہ نہیں، ان پر اس بدکرداری کا کوئی بوجھ ان کے سر نہیں، دیگر مفسرین کہتے ہیں کہ اس کے یہ معنی ہیں کہ اگرچہ ان کے ساتھ بیٹھیں لیکن جبکہ ان کے کام میں اور ان کے خیال میں ان کی شرکت نہیں تو یہ بےگناہ ہیں لیکن یہ حضرات یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ حکم سورة نساء مدنی کی آیت (اِنَّكُمْ اِذًا مِّثْلُھُمْ) 4۔ النسآء :140) سے منسوخ ہے۔ ان مفسرین کی اس تفسیر کے مطابق آیت کے آخری جملے کے یہ معنی ہوں گے کہ ہم نے تمہیں ان سے الگ رہنے کا حکم اس لئے دیا ہے کہ انہیں عبرت حاصل ہو اور ہوسکتا ہے کہ وہ اپنے گناہ سے باز آجائیں اور ایسا نہ کریں۔
68
View Single
وَإِذَا رَأَيۡتَ ٱلَّذِينَ يَخُوضُونَ فِيٓ ءَايَٰتِنَا فَأَعۡرِضۡ عَنۡهُمۡ حَتَّىٰ يَخُوضُواْ فِي حَدِيثٍ غَيۡرِهِۦۚ وَإِمَّا يُنسِيَنَّكَ ٱلشَّيۡطَٰنُ فَلَا تَقۡعُدۡ بَعۡدَ ٱلذِّكۡرَىٰ مَعَ ٱلۡقَوۡمِ ٱلظَّـٰلِمِينَ
And O listener (followers of this Prophet) when you see those who argue in Our verses, turn away from them until they engage in another topic; and if the devil causes you to forget, then do not sit with the unjust after remembering.
اور جب تم ایسے لوگوں کو دیکھو جو ہماری آیتوں میں (کج بحثی اور استہزاء میں) مشغول ہوں تو تم ان سے کنارہ کش ہوجایا کرو یہاں تک کہ وہ کسی دوسری بات میں مشغول ہوجائیں، اور اگر شیطان تمہیں (یہ بات) بھلا دے تو یاد آنے کے بعد تم (کبھی بھی) ظالم قوم کے ساتھ نہ بیٹھا کرو
Tafsir Ibn Kathir
The Invitation to the Truth is Guidance Without Coercion
Allah said,
وَكَذَّبَ بِهِ
(But have denied it) denied the Qur'an, guidance and clear explanation that you (O Muhammad ) have brought them,
قَوْمُكَ
(your people) meaning, Quraysh,
وَهُوَ الْحَقُّ
(though it is the truth.) beyond which there is no other truth.
قُل لَّسْتُ عَلَيْكُمْ بِوَكِيلٍ
(Say: "I am not responsible for your affairs.") meaning, I have not been appointed a guardian or watcher over you. Allah also said;
وَقُلِ الْحَقُّ مِن رَّبِّكُمْ فَمَن شَآءَ فَلْيُؤْمِن وَمَن شَآءَ فَلْيَكْفُرْ
(And say: "The truth is from your Lord." Then whosoever wills, let him believe, and whosoever wills, let him disbelieve.) 18:29, This means, my duty is to convey the Message and your duty is to hear and obey. Those who follow me, will acquire happiness in this life and the Hereafter. Those who defy me will become miserable in this life and the Hereafter. So Allah said;
لِّكُلِّ نَبَإٍ مُّسْتَقَرٌّ
(For every news there is a reality...) meaning, for every news, there is a reality, in that, this news will occur, perhaps after a while, according to Ibn `Abbas and others. Allah said in other Ayat,
وَلَتَعْلَمُنَّ نَبَأَهُ بَعْدَ حِينِ
(And you shall certainly know the truth of it after a while.) 38:88 and,
لِكُلِّ أَجَلٍ كِتَابٌ
((For) each and every matter there is a decree (from Allah).) 13:38. This, indeed, is a warning and a promise that will surely occur,
وَسَوْفَ تَعْلَمُونَ
(and you will come to know.) Allah's statement,
وَإِذَا رَأَيْتَ الَّذِينَ يَخُوضُونَ فِى ءَايَـتِنَا
(And when you see those who engage in false conversation about Our verses (of the Qur'an)), by denying and mocking them.
The Prohibition of Sitting with Those Who Deny and Mock Allah's Ayat
فَأَعْرِضْ عَنْهُمْ حَتَّى يَخُوضُواْ فِى حَدِيثٍ غَيْرِهِ
(stay away from them till they turn to another topic.) until they talk about a subject other than the denial they were engaged in.
وَإِمَّا يُنسِيَنَّكَ الشَّيْطَـنُ
(And if Shaytan causes you to forget...) This command includes every member of this Ummah. No one is to sit with those who deny and distort Allah's Ayat and explain them incorrectly. If one forgets and sits with such people,
فَلاَ تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّكْرَى
(then after the remembrance sit not you) after you remember,
مَعَ الْقَوْمِ الظَّـلِمِينَ
(in the company of those people who are the wrongdoers.). A Hadith states,
«رُفِعَ عَنْ أُمَّتِي الْخَطَأُ وَالنِّسْيَانُ وَمَا اسْتُكْرِهُوا عَلَيْه»
(My Ummah was forgiven unintentional errors, forgetfulness and what they are coerced to do.) The Ayah above 6:68 is the Ayah mentioned in Allah's statement,
وَقَدْ نَزَّلَ عَلَيْكُمْ فِى الْكِتَـبِ أَنْ إِذَا سَمِعْتُمْ ءَايَـتِ اللَّهِ يُكَفَرُ بِهَا وَيُسْتَهْزَأُ بِهَا فَلاَ تَقْعُدُواْ مَعَهُمْ حَتَّى يَخُوضُواْ فِى حَدِيثٍ غَيْرِهِ إِنَّكُمْ إِذاً مِّثْلُهُمْ
(And it has already been revealed to you in the Book that when you hear the Verses of Allah being denied and mocked at, then sit not with them, until they engage in a talk other than that; (but if you stayed with them) certainly in that case you would be like them.) 4:140, for, if you still sit with them, agreeing to what they say, you will be just like them. Allah's statement,
وَمَا عَلَى الَّذِينَ يَتَّقُونَ مِنْ حِسَابِهِم مِّن شَىْءٍ
(There is no responsibility for them upon those who have Taqwa,) means, when the believers avoid sitting with wrongdoers in this case, they will be innocent of them and they will have saved themselves from their sin. Allah's statement,
وَلَـكِن ذِكْرَى لَعَلَّهُمْ يَتَّقُونَ
(but (their duty) is to remind them, that they may avoid that.), means, We commanded you to ignore and avoid them, so that they become aware of the error they are indulging in, that they may avoid this behavior and never repeat it again.
غلط تاویلیں کرنے والوں سے نہ ملو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جس قرآن کو اور جس ہدایت وبیان کو تو اللہ عالی کی طرف سے لایا ہے اور جسے تیری قوم قریش جھتلا رہی ہے حقیقتاً وہ سرا سر حق ہے بلکہ اس کے سوا اور کوئی حق ہے ہی نہیں ان سے کہہ دیجئے میں نہ تو تمہارا محافظ ہوں نہ تم پر وکیل ہوں، جیسے اور آیت میں ہے کہہ دے کہ یہ تمہارے رب کی طرف سے حق ہے جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے نہ مانے، یعنی مجھ پر صرف تبلیغ کرنا فرض ہے، تمہارے ذمہ سننا اور ماننا ہے ماننے والے دنیا اور آخرت میں نیکی پائیں گے اور نہ ماننے والے دونوں جہان میں بدنصیب رہیں گے، ہر خبر کی حقیقت ہے وہ ضرور واقع ہونے والی ہے اس کا وقت مقرر ہے، تمہیں عنقریب حقیقت حال معلوم ہوجائے گی، واقعہ کا انکشاف ہوجائے گا اور جان لو گے، پھر فرمایا جب تو انہیں دیکھے جو میری آیتوں کو جھٹلاتے ہیں اور ان کا مذاق اڑاتے ہیں تو تو ان سے منہ پھیر لے اور جب تک وہ اپنی شیطانیت سے باز نہ آجائیں تو ان کے ساتھ نہ اٹھو نہ بیٹھو، اس آیت میں گو فرمان حضرت رسالت مآب ﷺ کو ہے لیکن حکم عام ہے۔ آپ کی امت کے ہر شخص پر حرام ہے کہ وہ ایسی مجلس میں یا ایسے لوگوں کے ساتھ بیٹھے جو اللہ کی آیتوں کی تکذیب کرتے ہوں ان کے معنی الٹ پلٹ کرتے ہوں اور ان کی بےجا تاویلیں کرتے ہوں، اگر بالفرض کوئی شخص بھولے سے ان میں بیٹھ بھی جائے تو یاد آنے کے بعد ایسے ظالموں کے پاس بیٹھنا ممنوع ہے حدیث شریف میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے میری امت کو خطا اور بھول سے درگزر فرما لیا ہے اور ان کاموں سے بھی جو ان سے زبر دستی مجبور کر کے کرائے جائیں۔ اس آیت کے اسی حکم کی طرف اشارہ اس آیت میں ہے آیت (وَقَدْ نَزَّلَ عَلَيْكُمْ فِي الْكِتٰبِ اَنْ اِذَا سَمِعْتُمْ اٰيٰتِ اللّٰهِ يُكْفَرُ بِھَا وَيُسْتَهْزَاُ بِھَا فَلَا تَقْعُدُوْا مَعَھُمْ حَتّٰي يَخُوْضُوْا فِيْ حَدِيْثٍ غَيْرِهٖٓ) 4۔ النسآء :140) یعنی تم پر اس کتاب میں یہ فرمان نازل ہوچکا ہے کہ جب اللہ کی آیتوں کے ساتھ کفر اور مذاق ہوتا ہوا سنو تو ایسے لوگوں کے ساتھ نہ بیٹھو اور اگر تم نے ایسا کیا تو تم بھی اس صورت میں ان جیسے ہی ہوجاؤ گے ہاں جب وہ اور باتوں میں مشغول ہوں تو خیر، مطلب یہ ہے کہ اگر تم ان کے ساتھ بیٹھے اور ان کی باتوں کو برداشت کرلیا تو تم بھی ان کی طرح ہی ہو، پھر فرمان ہے کہ جو لوگ ان سے دوری کریں ان کے ساتھ شریک نہ ہوں ان کی ایسی مجلسوں سے الگ رہیں وہ بری الذمہ ہیں ان پر ان کا کوئی گناہ نہیں، ان پر اس بدکرداری کا کوئی بوجھ ان کے سر نہیں، دیگر مفسرین کہتے ہیں کہ اس کے یہ معنی ہیں کہ اگرچہ ان کے ساتھ بیٹھیں لیکن جبکہ ان کے کام میں اور ان کے خیال میں ان کی شرکت نہیں تو یہ بےگناہ ہیں لیکن یہ حضرات یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ حکم سورة نساء مدنی کی آیت (اِنَّكُمْ اِذًا مِّثْلُھُمْ) 4۔ النسآء :140) سے منسوخ ہے۔ ان مفسرین کی اس تفسیر کے مطابق آیت کے آخری جملے کے یہ معنی ہوں گے کہ ہم نے تمہیں ان سے الگ رہنے کا حکم اس لئے دیا ہے کہ انہیں عبرت حاصل ہو اور ہوسکتا ہے کہ وہ اپنے گناہ سے باز آجائیں اور ایسا نہ کریں۔
69
View Single
وَمَا عَلَى ٱلَّذِينَ يَتَّقُونَ مِنۡ حِسَابِهِم مِّن شَيۡءٖ وَلَٰكِن ذِكۡرَىٰ لَعَلَّهُمۡ يَتَّقُونَ
And the pious are not accountable for them in the least, apart from the giving of advice so that they may avoid.
اور لوگوں پر جو پرہیزگاری اختیار کئے ہوئے ہیں ان (کافروں) کے حساب سے کچھ بھی (لازم) نہیں ہے مگر (انہیں) نصیحت (کرنا چاہیے) تاکہ وہ (کفر سے اور قرآن کی مذمت سے) بچ جائیں
Tafsir Ibn Kathir
The Invitation to the Truth is Guidance Without Coercion
Allah said,
وَكَذَّبَ بِهِ
(But have denied it) denied the Qur'an, guidance and clear explanation that you (O Muhammad ) have brought them,
قَوْمُكَ
(your people) meaning, Quraysh,
وَهُوَ الْحَقُّ
(though it is the truth.) beyond which there is no other truth.
قُل لَّسْتُ عَلَيْكُمْ بِوَكِيلٍ
(Say: "I am not responsible for your affairs.") meaning, I have not been appointed a guardian or watcher over you. Allah also said;
وَقُلِ الْحَقُّ مِن رَّبِّكُمْ فَمَن شَآءَ فَلْيُؤْمِن وَمَن شَآءَ فَلْيَكْفُرْ
(And say: "The truth is from your Lord." Then whosoever wills, let him believe, and whosoever wills, let him disbelieve.) 18:29, This means, my duty is to convey the Message and your duty is to hear and obey. Those who follow me, will acquire happiness in this life and the Hereafter. Those who defy me will become miserable in this life and the Hereafter. So Allah said;
لِّكُلِّ نَبَإٍ مُّسْتَقَرٌّ
(For every news there is a reality...) meaning, for every news, there is a reality, in that, this news will occur, perhaps after a while, according to Ibn `Abbas and others. Allah said in other Ayat,
وَلَتَعْلَمُنَّ نَبَأَهُ بَعْدَ حِينِ
(And you shall certainly know the truth of it after a while.) 38:88 and,
لِكُلِّ أَجَلٍ كِتَابٌ
((For) each and every matter there is a decree (from Allah).) 13:38. This, indeed, is a warning and a promise that will surely occur,
وَسَوْفَ تَعْلَمُونَ
(and you will come to know.) Allah's statement,
وَإِذَا رَأَيْتَ الَّذِينَ يَخُوضُونَ فِى ءَايَـتِنَا
(And when you see those who engage in false conversation about Our verses (of the Qur'an)), by denying and mocking them.
The Prohibition of Sitting with Those Who Deny and Mock Allah's Ayat
فَأَعْرِضْ عَنْهُمْ حَتَّى يَخُوضُواْ فِى حَدِيثٍ غَيْرِهِ
(stay away from them till they turn to another topic.) until they talk about a subject other than the denial they were engaged in.
وَإِمَّا يُنسِيَنَّكَ الشَّيْطَـنُ
(And if Shaytan causes you to forget...) This command includes every member of this Ummah. No one is to sit with those who deny and distort Allah's Ayat and explain them incorrectly. If one forgets and sits with such people,
فَلاَ تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّكْرَى
(then after the remembrance sit not you) after you remember,
مَعَ الْقَوْمِ الظَّـلِمِينَ
(in the company of those people who are the wrongdoers.). A Hadith states,
«رُفِعَ عَنْ أُمَّتِي الْخَطَأُ وَالنِّسْيَانُ وَمَا اسْتُكْرِهُوا عَلَيْه»
(My Ummah was forgiven unintentional errors, forgetfulness and what they are coerced to do.) The Ayah above 6:68 is the Ayah mentioned in Allah's statement,
وَقَدْ نَزَّلَ عَلَيْكُمْ فِى الْكِتَـبِ أَنْ إِذَا سَمِعْتُمْ ءَايَـتِ اللَّهِ يُكَفَرُ بِهَا وَيُسْتَهْزَأُ بِهَا فَلاَ تَقْعُدُواْ مَعَهُمْ حَتَّى يَخُوضُواْ فِى حَدِيثٍ غَيْرِهِ إِنَّكُمْ إِذاً مِّثْلُهُمْ
(And it has already been revealed to you in the Book that when you hear the Verses of Allah being denied and mocked at, then sit not with them, until they engage in a talk other than that; (but if you stayed with them) certainly in that case you would be like them.) 4:140, for, if you still sit with them, agreeing to what they say, you will be just like them. Allah's statement,
وَمَا عَلَى الَّذِينَ يَتَّقُونَ مِنْ حِسَابِهِم مِّن شَىْءٍ
(There is no responsibility for them upon those who have Taqwa,) means, when the believers avoid sitting with wrongdoers in this case, they will be innocent of them and they will have saved themselves from their sin. Allah's statement,
وَلَـكِن ذِكْرَى لَعَلَّهُمْ يَتَّقُونَ
(but (their duty) is to remind them, that they may avoid that.), means, We commanded you to ignore and avoid them, so that they become aware of the error they are indulging in, that they may avoid this behavior and never repeat it again.
غلط تاویلیں کرنے والوں سے نہ ملو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جس قرآن کو اور جس ہدایت وبیان کو تو اللہ عالی کی طرف سے لایا ہے اور جسے تیری قوم قریش جھتلا رہی ہے حقیقتاً وہ سرا سر حق ہے بلکہ اس کے سوا اور کوئی حق ہے ہی نہیں ان سے کہہ دیجئے میں نہ تو تمہارا محافظ ہوں نہ تم پر وکیل ہوں، جیسے اور آیت میں ہے کہہ دے کہ یہ تمہارے رب کی طرف سے حق ہے جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے نہ مانے، یعنی مجھ پر صرف تبلیغ کرنا فرض ہے، تمہارے ذمہ سننا اور ماننا ہے ماننے والے دنیا اور آخرت میں نیکی پائیں گے اور نہ ماننے والے دونوں جہان میں بدنصیب رہیں گے، ہر خبر کی حقیقت ہے وہ ضرور واقع ہونے والی ہے اس کا وقت مقرر ہے، تمہیں عنقریب حقیقت حال معلوم ہوجائے گی، واقعہ کا انکشاف ہوجائے گا اور جان لو گے، پھر فرمایا جب تو انہیں دیکھے جو میری آیتوں کو جھٹلاتے ہیں اور ان کا مذاق اڑاتے ہیں تو تو ان سے منہ پھیر لے اور جب تک وہ اپنی شیطانیت سے باز نہ آجائیں تو ان کے ساتھ نہ اٹھو نہ بیٹھو، اس آیت میں گو فرمان حضرت رسالت مآب ﷺ کو ہے لیکن حکم عام ہے۔ آپ کی امت کے ہر شخص پر حرام ہے کہ وہ ایسی مجلس میں یا ایسے لوگوں کے ساتھ بیٹھے جو اللہ کی آیتوں کی تکذیب کرتے ہوں ان کے معنی الٹ پلٹ کرتے ہوں اور ان کی بےجا تاویلیں کرتے ہوں، اگر بالفرض کوئی شخص بھولے سے ان میں بیٹھ بھی جائے تو یاد آنے کے بعد ایسے ظالموں کے پاس بیٹھنا ممنوع ہے حدیث شریف میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے میری امت کو خطا اور بھول سے درگزر فرما لیا ہے اور ان کاموں سے بھی جو ان سے زبر دستی مجبور کر کے کرائے جائیں۔ اس آیت کے اسی حکم کی طرف اشارہ اس آیت میں ہے آیت (وَقَدْ نَزَّلَ عَلَيْكُمْ فِي الْكِتٰبِ اَنْ اِذَا سَمِعْتُمْ اٰيٰتِ اللّٰهِ يُكْفَرُ بِھَا وَيُسْتَهْزَاُ بِھَا فَلَا تَقْعُدُوْا مَعَھُمْ حَتّٰي يَخُوْضُوْا فِيْ حَدِيْثٍ غَيْرِهٖٓ) 4۔ النسآء :140) یعنی تم پر اس کتاب میں یہ فرمان نازل ہوچکا ہے کہ جب اللہ کی آیتوں کے ساتھ کفر اور مذاق ہوتا ہوا سنو تو ایسے لوگوں کے ساتھ نہ بیٹھو اور اگر تم نے ایسا کیا تو تم بھی اس صورت میں ان جیسے ہی ہوجاؤ گے ہاں جب وہ اور باتوں میں مشغول ہوں تو خیر، مطلب یہ ہے کہ اگر تم ان کے ساتھ بیٹھے اور ان کی باتوں کو برداشت کرلیا تو تم بھی ان کی طرح ہی ہو، پھر فرمان ہے کہ جو لوگ ان سے دوری کریں ان کے ساتھ شریک نہ ہوں ان کی ایسی مجلسوں سے الگ رہیں وہ بری الذمہ ہیں ان پر ان کا کوئی گناہ نہیں، ان پر اس بدکرداری کا کوئی بوجھ ان کے سر نہیں، دیگر مفسرین کہتے ہیں کہ اس کے یہ معنی ہیں کہ اگرچہ ان کے ساتھ بیٹھیں لیکن جبکہ ان کے کام میں اور ان کے خیال میں ان کی شرکت نہیں تو یہ بےگناہ ہیں لیکن یہ حضرات یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ حکم سورة نساء مدنی کی آیت (اِنَّكُمْ اِذًا مِّثْلُھُمْ) 4۔ النسآء :140) سے منسوخ ہے۔ ان مفسرین کی اس تفسیر کے مطابق آیت کے آخری جملے کے یہ معنی ہوں گے کہ ہم نے تمہیں ان سے الگ رہنے کا حکم اس لئے دیا ہے کہ انہیں عبرت حاصل ہو اور ہوسکتا ہے کہ وہ اپنے گناہ سے باز آجائیں اور ایسا نہ کریں۔
70
View Single
وَذَرِ ٱلَّذِينَ ٱتَّخَذُواْ دِينَهُمۡ لَعِبٗا وَلَهۡوٗا وَغَرَّتۡهُمُ ٱلۡحَيَوٰةُ ٱلدُّنۡيَاۚ وَذَكِّرۡ بِهِۦٓ أَن تُبۡسَلَ نَفۡسُۢ بِمَا كَسَبَتۡ لَيۡسَ لَهَا مِن دُونِ ٱللَّهِ وَلِيّٞ وَلَا شَفِيعٞ وَإِن تَعۡدِلۡ كُلَّ عَدۡلٖ لَّا يُؤۡخَذۡ مِنۡهَآۗ أُوْلَـٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ أُبۡسِلُواْ بِمَا كَسَبُواْۖ لَهُمۡ شَرَابٞ مِّنۡ حَمِيمٖ وَعَذَابٌ أَلِيمُۢ بِمَا كَانُواْ يَكۡفُرُونَ
And forsake those who have made their religion a mockery and play, and whom the worldly life has deceived – and advise them with this Qur’an so that a soul may not be seized for what it earns; other than Allah it will not have a protector nor an intercessor; and if it offers every recompense in exchange for itself, it will not be accepted from it; these are the ones who are seized for their own deeds; for them is boiling water to drink and a painful punishment, as a recompense of their disbelief. (The disbelievers will not have any intercessors.)
اور آپ ان لوگوں کو چھوڑے رکھیئے جنہوں نے اپنے دین کو کھیل اور تماشا بنا لیا ہے اور جنہیں دنیا کی زندگی نے فریب دے رکھا ہے اور اس (قرآن) کے ذریعے (ان کی آگاہی کی خاطر) نصیحت فرماتے رہئے تاکہ کوئی جان اپنے کئے کے بدلے سپردِ ہلاکت نہ کر دی جائے، (پھر) اس کے لئے اللہ کے سوا نہ کوئی مدد گار ہوگا اور نہ کوئی سفارشی, اور اگر وہ (جان اپنے گناہوں کا) پورا پورا بدلہ (یعنی معاوضہ) بھی دے تو (بھی) اس سے قبول نہیں کیا جائے گا۔ یہی وہ لوگ ہیں جو اپنے کئے کے بدلے ہلاکت میں ڈال دیئے گئے ان کے لئے کھولتے ہوئے پانی کا پینا ہے اور دردناک عذاب ہے اس وجہ سے کہ وہ کفر کیا کرتے تھے
Tafsir Ibn Kathir
وَذَرِ الَّذِينَ اتَّخَذُواْ دِينَهُمْ لَعِباً وَلَهْواً وَغَرَّتْهُمُ الْحَيَوةُ الدُّنْيَا
(And leave alone those who take their religion as play and amusement, and are deceived by the life of this world.) The Ayah commands to leave such people, ignore them and give them respite, for soon, they will taste a tremendous torment. This is why Allah said,
وَذَكِّرْ بِهِ
(But remind with it) meaning, remind the people with this Qur'an and warn them against Allah's revenge and painful torment on the Day of Resurrection. Allah said;
أَن تُبْسَلَ نَفْسٌ بِمَا كَسَبَتْ
(lest a soul Tubsal for that which one has earned,) meaning, so that it is not Tubsal. Ad-Dahhak from Ibn `Abbas, Mujahid, `Ikrimah, Al-Hasan and As-Suddi said that Tubsal means, be submissive. Al-Walibi said that Ibn `Abbas said that Tubsal means, `be exposed'. Qatadah said that Tubsal means, `be prevented', Murrah and Ibn Zayd said that it means, `be recompensed', Al-Kalbi said, `be reckoned'. All these statements and expressions are similar, for they all mean exposure to destruction, being kept away from all that is good, and being restrained from attaining what is desired. Allah also said;
كُلُّ نَفْسٍ بِمَا كَسَبَتْ رَهِينَةٌ - إِلاَّ أَصْحَـبَ الْيَمِينِ
(Every person is restrained by what he has earned. Except those on the Right.) 74:38-39, and
لَيْسَ لَهَا مِن دُونِ اللَّهِ وَلِىٌّ وَلاَ شَفِيعٌ
(when he will find for himself no protector or intercessor besides Allah,) and,
وَإِن تَعْدِلْ كُلَّ عَدْلٍ لاَّ يُؤْخَذْ مِنْهَآ
(and even if he offers every ransom, it will not be accepted from him.) meaning, whatever the ransom such people offer, it will not be accepted from them. Allah said in a similar statement,
إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُواْ وَمَاتُواْ وَهُمْ كُفَّارٌ فَلَن يُقْبَلَ مِنْ أَحَدِهِم مِّلْءُ الاٌّرْضِ ذَهَبًا
(Verily, those who disbelieved, and died while they were disbelievers, the (whole) earth full of gold will not be accepted from anyone of them.) 3:91 Allah said here,
أُوْلَـئِكَ الَّذِينَ أُبْسِلُواْ بِمَا كَسَبُواْ لَهُمْ شَرَابٌ مِّنْ حَمِيمٍ وَعَذَابٌ أَلِيمٌ بِمَا كَانُواْ يَكْفُرُونَ
(Such are they who are given up to destruction because of that which they have earned. For them will be a drink of boiling water and a painful torment because they used to disbelieve. )
یعنی بےدینوں سے منہ پھیر لو ان کا انجام نہایت برا ہے اس قرآن کو پڑھ کر سنا کر لوگوں کو ہوشیار کردو اللہ کی ناراضگی سے اور اس کے عذابوں سے انہیں ڈرا دو تاکہ کوئی شخص اپنی بد اعمالیوں کی وجہ سے ہلاک نہ ہو پکڑا نہ جائے رسوا نہ کیا جائے اپنے مطلوب سے محروم نہ رہ جائے، جیسے فرمان ہے آیت (كُلُّ نَفْسٍۢ بِمَا كَسَبَتْ رَهِيْنَةٌ) 74۔ المدثر :38) ہر شخص اپنے اعمال کا گروی ہوا ہے مگر داہنے ہاتھ والے، یاد رکھو کسی کا کوئی والی اور سفارشی نہیں جیسے ارشاد فرمایا آیت (مِّنْ قَبْلِ اَنْ يَّاْتِيَ يَوْمٌ لَّا بَيْعٌ فِيْهِ وَلَا خُلَّةٌ وَّلَا شَفَاعَةٌ ۭ وَالْكٰفِرُوْنَ ھُمُ الظّٰلِمُوْنَ) 2۔ البقرۃ :154) اس سے پہلے کہ وہ دن آجائے جس میں نہ خریدو فروخت ہے نہ دوستی اور محبت سفارش اور شفاعت کافر پورے طالم ہیں اگر یہ لوگ قیامت کے دن تمام دنیا کی چیزیں فدئیے یا بدلے میں دے دینا چاہیں تو بھی ان سے نہ فدیہ لیا جائے گا نہ بدلہ۔ کسی چیز کے بدلے وہ عذابوں سے نجات نہیں پاسکتے۔ جیسے فرمان ہے آیت (اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَمَاتُوْا وَھُمْ كُفَّارٌ فَلَنْ يُّقْبَلَ مِنْ اَحَدِھِمْ مِّلْءُ الْاَرْضِ ذَھَبًا وَّلَوِ افْتَدٰى بِهٖ ۭ اُولٰۗىِٕكَ لَھُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ وَّمَا لَھُمْ مِّنْ نّٰصِرِيْنَ) 3۔ آل عمران :91) جو لوگ کفر پر جئے اور کفر پر ہی مرے یہ اگر زمین بھر کر سونا بھی دیں تو ناممکن ہے کہ قبول کیا جائے اور انہیں چھوڑا جائے پس فرما دیا گیا کہ یہی وہ لوگ ہیں جو اپنی بد اعمالیوں کی وجہ سے رسوا کردیئے گئے انہیں گرم کھولتا ہوا پانی پینے کو ملے گا اور انہیں سخت المناک عذاب ہوگا کیونکہ یہ کافر تھے۔
71
View Single
قُلۡ أَنَدۡعُواْ مِن دُونِ ٱللَّهِ مَا لَا يَنفَعُنَا وَلَا يَضُرُّنَا وَنُرَدُّ عَلَىٰٓ أَعۡقَابِنَا بَعۡدَ إِذۡ هَدَىٰنَا ٱللَّهُ كَٱلَّذِي ٱسۡتَهۡوَتۡهُ ٱلشَّيَٰطِينُ فِي ٱلۡأَرۡضِ حَيۡرَانَ لَهُۥٓ أَصۡحَٰبٞ يَدۡعُونَهُۥٓ إِلَى ٱلۡهُدَى ٱئۡتِنَاۗ قُلۡ إِنَّ هُدَى ٱللَّهِ هُوَ ٱلۡهُدَىٰۖ وَأُمِرۡنَا لِنُسۡلِمَ لِرَبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ
Say, “Shall we worship, other than Allah, that which neither benefits us nor harms us, and (therefore) be turned back after Allah has guided us, like one whom the devils have led astray in the earth – bewildered?; his companions call him to the path (saying), ‘Come here’”; say, “Indeed only the guidance of Allah is (the true) guidance; and we are commanded to submit to the Lord Of The Creation.”
فرما دیجئے: کیا ہم اللہ کے سوا ایسی چیز کی عبادت کریں جو ہمیں نہ (تو) نفع پہنچا سکے اور نہ (ہی) ہمیں نقصان دے سکے اور اس کے بعد کہ اللہ نے ہمیں ہدایت دے دی ہم اس شخص کی طرح اپنے الٹے پاؤں پھر جائیں جسے زمین میں شیطانوں نے راہ بھلا کر درماندہ و حیرت زدہ کر دیا ہو جس کے ساتھی اسے سیدھی راہ کی طرف بلا رہے ہوں کہ ہمارے پاس آجا (مگر اسے کچھ سوجھتا نہ ہو)، فرما دیں کہ اللہ کی ہدایت ہی (حقیقی) ہدایت ہے، اور (اسی لیے) ہمیں (یہ) حکم دیا گیا ہے کہ ہم تمام جہانوں کے رب کی فرمانبرداری کریں
Tafsir Ibn Kathir
The Parable of Those Who Revert to Disbelief After Faith and Good Deeds
As-Suddi said, "Some idolators said to some Muslims, `Follow us and abandon the religion of Muhammad ﷺ.' Allah sent down the revelation,
قُلْ أَنَدْعُواْ مِن دُونِ اللَّهِ مَا لاَ يَنفَعُنَا وَلاَ يَضُرُّنَا وَنُرَدُّ عَلَى أَعْقَـبِنَا
(Say: "Shall we invoke others besides Allah, that can do us neither good nor harm, and shall we turn on our heels...") by reverting to disbelief,
بَعْدَ إِذْ هَدَانَا اللَّهُ
("...after Allah has guided us.") for if we do this, our example will be like he whom the devils have caused to wander in confusion throughout the land. Allah says here, your example, if you revert to disbelief after you believed, is that of a man who went with some people on a road, but he lost his way and the devils led him to wander in confusion over the land. Meanwhile, his companions on the road were calling him to come to them saying, `Come back to us, for we are on the path.' But, he refused to go back to them. This is the example of he who follows the devil after recognizing Muhammad ﷺ, and Muhammad ﷺ is the person who is calling the people to the path, and the path is Islam." Ibn Jarir recorded this statement.Allah's statement, j
كَالَّذِى اسْتَهْوَتْهُ الشَّيَـطِينُ فِى الاٌّرْضِ
(Like one whom the Shayatin (devils) have made to go astray (wandering) through the land, ) refers to ghouls,
يَدْعُونَهُ
(calling him) by his name, his father's and his grandfather's names. So he follows the devils' call thinking that it is a path of guidance, but by the morning he will find himself destroyed and perhaps they eat him. The Jinns will then let him wander in a wasteland where he will die of thirst. This is the example of those who follow the false gods that are being worshipped instead of Allah, Most Honored. Ibn Jarir also recorded this. Allah said,
قُلْ إِنَّ هُدَى اللَّهِ هُوَ الْهُدَى
(Say: "Verily, Allah's guidance is the only guidance,") Allah said in other instances,
وَمَن يَهْدِ اللَّهُ فَمَا لَهُ مِن مُّضِلٍّ
(And whomsoever Allah guides, for him there will be none to misguide him.) 39:37, and,
إِن تَحْرِصْ عَلَى هُدَاهُمْ فَإِنَّ اللَّهَ لاَ يَهْدِى مَن يُضِلُّ وَمَا لَهُمْ مِّن نَّـصِرِينَ
(If you covet for their guidance, then verily Allah guides not those whom He makes to go astray. And they will have no helpers.) 17:37 Allah's statement,
وَأُمِرْنَا لِنُسْلِمَ لِرَبِّ الْعَـلَمِينَ
(and we have been commanded to submit to the Lord of all that exists.) means, we were commanded to worship Allah in sincerity to Him alone, without partners.
وَأَنْ أَقِيمُواْ الصَّلوةَ وَاتَّقُوهُ
(And to perform the Salah, and have Taqwa of Him.) meaning, we were commanded to perform the prayer and to fear Allah in all circumstances,
وَهُوَ الَّذِى إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ
(and it is He to Whom you shall be gathered.) on the Day of Resurrection.
وَهُوَ الَّذِى خَلَقَ السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضَ بِالْحَقِّ
(It is He Who has created the heavens and the earth in truth.) meaning, in justice, and He is their Originator and Owner Who governs their affairs and the affairs of their inhabitants. Allah said,
وَيَوْمَ يَقُولُ كُن فَيَكُونُ
(and on the Day He will say: "Be!" it shall become.) Referring to the Day of Resurrection, which will come faster than the blink of an eye, when Allah says to it, `Be.'
As-Sur; The Trumpet
Allah's statement,
يَوْمَ يُنفَخُ فِى الصُّوَرِ
(on the Day when the Sur will be blown...) refers to His statement,
وَيَوْمَ يَقُولُ كُن فَيَكُونُ
(and on the Day He will say: "Be!" it shall become.) as we stated above. Or, it means,
وَلَهُ الْمُلْكُ يَوْمَ يُنفَخُ فِى الصُّوَرِ
(His will be the dominion on the Day when the Sur will be blown.) Allah said in other Ayat,
لِّمَنِ الْمُلْكُ الْيَوْمَ لِلَّهِ الْوَحِدِ الْقَهَّارِ
(Whose is the kingdom this Day It is Allah's, the One, the Irresistible!) 40:16, and,
الْمُلْكُ يَوْمَئِذٍ الْحَقُّ لِلرَّحْمَـنِ وَكَانَ يَوْماً عَلَى الْكَـفِرِينَ عَسِيراً
(The sovereignty on that Day will be the true (sovereignty), belonging to the Most Beneficent (Allah), and it will be a hard Day for the disbelievers.) 25:26 The Sur is the Trumpet into which the angel Israfil, peace be upon him, will blow. The Messenger of Allah ﷺ said,
«إِنَّ إِسْرَافِيلَ قَدِ الْتَقَمَ الصُّورَ، وَحَنَى جَبْهَتَهُ يَنْتَظِرُ مَتَى يُؤْمَر فَيَنْفُخ»
(Israfil has held the Sur in his mouth and lowered his forehead, awaiting the command to blow in it.) Muslim recorded this Hadith in his Sahih. Imam Ahmad recorded that `Abdullah bin `Amr said, "A bedouin man said, `O Allah's Messenger! What is the Sur' He said,
«قَرْنٌ يُنْفَخُ فِيه»
(A Trumpet which will be blown.)"
اسلام کے سوا سب راستوں کی منزل جہنم ہے مشرکوں نے مسلمانوں سے کہا تھا کہ ہمارے دین میں آجاؤ اور اسلام چھوڑ دو اس پر یہ آیت اتری کہ کیا ہم بھی تمہاری طرح بےجان و بےنفع و نقصان معبودوں کو پوجنے لگیں ؟ اور جس کفر سے ہٹ گئے ہیں کیا پھر لوٹ کر اسی پر آجائیں ؟ اور تم جیسے ہی ہوجائیں ؟ بھلا یہ کیسے ہوسکتا ہے ؟ اب تو ہماری آنکھیں کھل گئیں صحیح راہ مل گئی اب اسے کیسے چھوڑ دیں ؟ اگر ہم ایسا کرلیں تو ہماری مثال اس شخص جیسی ہوگی جو لوگوں کے ساتھ سیدھے راستے پر جا رہا تھا مگر راستہ گم ہوگیا شیطان نے اسے پر یسان کردیا اور ادھر ادھر بھٹکانے لگا اس کے ساتھ جو راستے پر تھے وہ اسے پکارنے لگے کہ ہمارے ساتھ مل جا ہم صحیح راستے پر جا رہے ہیں یہی مثال اس شخص کی ہے جو آنحضرت ﷺ کو جان اور پہچان کے بعد مشرکوں کا ساتھ دے۔ آنحضرت ﷺ ہی پکارنے والے ہیں اور اسلام ہی سیدھا اور صحیح راستہ ہے، ابن عباس فرماتے ہیں یہ مثال اللہ تعالیٰ نے معبودان باطل کی طرف بلانے والوں کی بیان فرمائی ہے اور ان کی بھی جو اللہ کی طرف بلاتے ہیں، ایک شخص راستہ بھولتا ہے وہیں اس کے کان میں آواز آتی ہے کہ اے فلاں ادھر آ سیدھی راہ یہی ہے لیکن اس کے ساتھی جس غلط راستے پر لگ گئے ہیں وہ اسے تھپکتے ہیں اور کہتے ہیں یہی راستہ صحیح ہے اسی پر چلا چل۔ اب اگر یہ سچے شخص کو مانے گا تو راہ راست لگ جائے گا ورنہ بھٹکتا پھرے گا۔ اللہ کے سوا دوسروں کی عبادت کرنے والے اس امید میں ہوتے ہیں کہ ہم بھی کچھ ہیں لیکن مرنے کے بعد انہیں معلوم ہوجاتا ہے کہ وہ کچھ نہ تھے اس وقت بہت نادم ہوتے ہیں اور سوائے ہلاکت کے کوئی چیز انہیں دکھائی نہیں دیتی، یعنی جس طرح کسی جنگ میں گم شدہ انسان کو جنات اس کا نام لے کر آوازیں دے کر اسے اور غلط راستوں پر ڈال دیتے ہیں جہاں وہ مارا مارا پھرتا ہے اور بالآخر ہلاک اور تباہ ہوجاتا ہے اسی طرح جھوت معبودوں کا پجاری بھی برباد ہوجاتا ہے، ہدایت کے بعد گمراہ ہونے والے کی یہی مثال ہے جس راہ کی طرف شیطان اسے بلا رہے ہیں وہ تو تباہی اور بربادی کی راہ ہے اور جس راہ کی طرف اللہ بلا رہا ہے اور اس کے نیک بندے جس راہ کو سجھا رہے ہیں وہ ہدایت ہے گو وہ اپنے ساتھیوں کے مجمع میں سے نہ نکلے اور انہیں ہی راہ راست پر سمجھتا رہے اور وہ ساتھی بھی اپنے تئیں ہدایت یافتہ کہتے رہیں۔ لیکن یہ قول آیت کے لفظوں سے مطابق نہیں کیونکہ آیت میں موجد ہے کہ وہ اسے ہدایت کی طرف بلاتے ہیں پھر یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ وہ ضلالت ہو ؟ حیران پر زبر حال ہونے کی وجہ سے ہے صحیح مطلب یہی ہے کہ اس کے ساتھی جو ہدایت پر ہیں اب اسے غلط راہ پر دیکھتے ہیں تو اس کی خیر خواہی کے لئے پکار پکار کر کہتے ہیں کہ ہمارے پاس آ جا سیدھا راستہ یہی ہے لیکن یہ بدنصیب ان کی بات پر اعتماد نہیں کرتا بلکہ توجہ تک نہیں کرتا، سچ تو یہ ہے کہ ہدایت اللہ کے قبضے میں ہے، وہ جسے راہ دکھائے اسے کوئی گمراہ نہیں کرسکتا، چناچہ خود قرآن میں ہے کہ تو چاہے ان کی ہدایت پر حرص کرے لیکن جسے اللہ بھٹکا دے اسے وہی راہ پر لاسکتا ہے ایسوں کا کوئی مددگار نہیں، ہم سب کو یہی حکم کیا گیا ہے کہ ہم خلوص سے ساری عبادتیں محض اسی وحدہ لا شریک لہ کے لئے کریں اور یہ بھی حکم ہے کہ نمازیں قائم رکھیں اور ہر حال میں اس سے ڈرتے رہیں قیامت کے دن اسی کے سامنے حشر کیا جائے گا سب وہیں جمع کئے جائیں گے، اسی نے آسمان و زمین کو عدل کے ساتھ پیدا کیا ہے وہی مالک اور مدبر ہے قیامت کے دن فرمائے گا ہوجا تو ہوجائے گا ایک لمحہ بھی دیر نہ لگے گی یوم کا زبر یا تو وانقوہ پر عطف ہونے کی وجہ سے ہے یعنی اس دن سے ڈرو جس دن اللہ فرمائے گا ہو اور ہوجائے گا اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یوم کا زبر خلق السموات والارض پر عطف ہونے کی بنا پر ہو تو گویا ابتدا پیدائش کو بیان فرما کر پھر دوبارہ پیدائش کو بیان فرمایا یہی زیادہ مناسب ہے، یہ بھی ہوسکتا ہے کہ فعل مضمر ہو یعنی اذکر اور اس وجہ سے یوم پر زبر آیا ہو، اس کے بعد کے دونوں جملے محلاً مجرور ہیں، پس یہ دونوں جملے بھی محلاً مجرور ہیں۔ ان میں پہلی صفت یہ ہے کہ اللہ کا قول حق ہے رب کے فرمان سب کے سب سچ ہیں، تمام ملک کا وہی اکیلا مالک ہے، سب چیزیں اسی کی ملکیت ہیں یوم ینفخ میں یوم ممکن ہے کہ یوم یقول کا بدل ہو اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ولہ الملک کا ظرف ہو جیسے اور آیت میں ہے آیت (لِمَنِ الْمُلْكُ الْيَوْمَ) 40۔ غافر :16) آج کس کا ملک ہے ؟ صرف اللہ اکیلے غالب کا اور جیسے اس آیت میں ارشاد ہوا ہے آیت (اَلْمُلْكُ يَوْمَىِٕذِۨ الْحَقُّ للرَّحْمٰنِ ۭ وَكَانَ يَوْمًا عَلَي الْكٰفِرِيْنَ عَسِيْرًا) 25۔ الفرقان :26) یعنی ملک آج صرف رحمان کا ہے اور آج کا دن کفار پر بہت سخت ہے اور بھی اس طرح کی اور اس مضمون کی بہت سی آیتیں ہیں بعض کہتے ہیں صور جمع ہے صورۃ کی جیسے سورة شہر پناہ کو کہتے ہیں اور وہ جمع ہے سورة کی لیکن صحیح یہ ہے کہ مراد صور سے قرن ہے جسے حضرت اسرافیل پھونکین گے، امام بن جریر بھی اسی کو پسند فرماتے ہیں حضور کا ارشاد ہے کہ حضرت اسرافیل صور کو اپنے منہ میں لئے ہوئے اپنی پیشانی جھکائے ہوئے حکم الٰہی کے منتظر ہیں۔ مسند احمد میں ہے کہ ایک صہابی کے سوال پر حضور نے فرمایا صور ایک نر سنگھے جیسا ہے جو پھونکا جائے گا، طبرانی کی مطولات میں ہے حضور فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کی پیدائش کے بعدصور کو پیدا کیا اور اسے حضرت اسرافیل کو دیا وہ اسے لئے ہوئے ہیں اور عرش کی طرف نگاہ جمائے ہوئے ہیں کہ کب حکم ہو اور میں اسے پھونک دوں۔ حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں میں نے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ صور کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا ایک نرسنگھا ہے میں نے کہا وہ کیسا ہے ؟ آپ نے فرمایا بہت ہی بڑا ہے والالہ اس کے دائرے کی چوڑائی آسمان وہ زمین کے برابر ہے اس میں سے تین نفحے پھونکے جائیں گے، پہلا گھبراہٹ کا دوسرا بیہوشی کا تیسرا رب العلمین کے سامنے کھڑے ہونے کا۔ اول اول جناب باری حضرت اسرافیل کو صور پھونکنے کا حکم دے گا وہ پھونک دیں گے جس سے آسمان و زمین کی تمام مخلوق گھبرا اٹھے گی مگر جسے اللہ چاہے یہ صور بحکم رب دیر تک برابر پھونکا جائے گا اسی طرف اشارہ اس آیت میں ہے و ما ینظر ھو لاء الا صبیحتہ واہدۃ مالھا من فوق یعنی انہیں صرف بلند زور دار چیخ کا انتظار ہے پہاڑ اس صور سے مثل بادلوں کے چلنے پھرنے لگیں گے پھر ریت ریت ہوجائیں گے زمین میں بھونچال آجائے گا اور وہ اس طرح تھر تھرانے لگے گی جیسے کوئی کشتی دریا کے بیچ زبردست طوفان میں موجوں سے ادھر ادھر ہو رہی ہو اور غوطے کھا رہی ہو۔ مثل اس ہانڈی کے جو عرش میں لٹکی ہوئی ہے جسے ہوائیں ہلا جلا رہی ہیں اسی کا بیان اس آیت میں ہے یوم ترجف الراجفتہ الخ، اس دن زمین جنبش میں آجائے گی اور بہت ہی ہلنے لگے گی اس کے پیچھے ہی پیچھے لگنے والی آجائے گی دل دھرکنے لگیں گے اور کلیجے الٹنے لگیں گے لوگ ادھر ادھر گرنے لگیں گے مائیں اپنے دودھ پیتے بچوں کو بھول جائیں گی، حاملہ عورتوں کے حمل گرجائیں گے بجے بوڑھے ہوجائیں گے شیاطین مارے گھبراہٹ اور پریشانی کے بھاگتے بھاگتے زمین کے کناروں پر آجائیں گے، یہاں سے فرشتے انہیں مار مار کر ہٹائیں گے، لوگ پر یسان حال حواس باختہ ہوں گے کوئی جائے پناہ نظر نہ آئے گی امر الٰہی سے بچاؤ نہ ہو سکے گا ایک دوسرے کو آوازیں دیں گے لیکن سب اپنی اپنی مصیبت میں پڑے ہوئے ہوں گے کہ ناگہاں زمین پھتنی شروع ہوگی کہیں ادھر سے پھٹی کہیں ادھر سے پھتی اب تو ابتر حالت ہوجائے گی کلیجہ کپکپانے لگے گا دل الٹ جائے گا اور اتنا صدرمہ اور غم ہوگا جس کا اندازہ نہیں ہوسکتا، جو آسمان کی طرف نظر اٹھائیں گے تو دیکھیں گے کہ گھل رہا ہے اور وہ بھی پھٹ رہا ہے ستارے جھڑ رہے ہیں سورج چاند بےنور ہوگیا ہے، ہاں مردوں کو اس کا کچھ علم نہ ہوگا حضرت ابوہریرہ نے سوال کیا کہ یا رسول اللہ قرآن کی آیت میں جو فرمایا گیا ہے ففذع من فی السموات و من فی الارض الا من شاء اللہ یعنی زمین و آسمان کے سب لوگ گھبرا اٹھیں گے لیکن جنہیں اللہ چاہے اس سے مراد کون لوگ ہیں ؟ آپ نے فرمایا یہ شہید لوگ ہیں کہ وہ اللہ کے ہاں زندہ ہیں روزیاں پاتے ہیں اور سب زندہ لوگ گھبراہٹ میں ہوں گے لیکن اللہ تعلای انہیں پریشانی سے محفوظ رکھے گا یہ تو عذاب ہے جو وہ اپنی بدترین مخلوق پر بھیجے گا، اسی کا بیان آیت (يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمُ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ وَّخَلَقَ مِنْھَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيْرًا وَّنِسَاۗءً) 4۔ النسآء :1) میں ہے یعنی اے لوگو اپنے رب سے ڈرویاد رکھو قیامت کا زلزلہ بہت بڑی چیز ہے جس دن تم اسے دیکھ لو گے ہر ایک دودھ پلانے والی اپنے دودھ پیتے بچے سے غافل ہوجائے گی ہر حمل والی کا حمل گرجائے گا تو دیکھا جائے گا کہ سب لوگ بیہوش ہوں گے حالانکہ وہ نشہ پئے ہوئے نہیں بلکہ اللہ کے سخت عذابوں نے انہیں بدحواس کر رکھا ہے یہی حالت رہے گی جب تک اللہ چاہے بہت دیر تک یہی گھبراہٹ کا عالم رہے گا پھر اللہ تبارک و تعالیٰ حضرت جبرائیل کو بیہوشی کے نفحے کا حکم دے گا اس نفحہ کے پھونکتے ہی زمین و آسمان کی تمام مخلوق بیہوش ہوجائیں گی مگر جسے اللہ چاہے اور اچانک سب کے سب مرجائیں گے۔ حضرت ملک الموت اللہ تعالیٰ کے حضور میں حاضر ہو کر عرض کریں گے کہ اے باری تعالیٰ زمین آسمان کی تمام مخلوق مرگئی مگر جسے تو نے چاہا، اللہ تعالیٰ باوجود علم کے سوال کرے گا کہ یہ بتاؤ اب باقی کون کون ہے ؟ وہ جواب دین گے تو باقی ہے تو حی وقیوم ہے تجھ پر کبھی فنا نہیں اور عرش کے اٹھانے والے فرشتے اور جبرائیل و میکائیل اس وقت عرش کو زبان ملے گی اور وہ کہے گا اے پروردگار کیا جبرئل وہ میکائل بھی مریں گے ؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا میں نے اپنے عرش سے نیچے والوں پر سب پر موت لکھ دی ہے چناچہ یہ دونوں بھی فوت ہوجائیں گے پھر ملک الموت رب جبار وقہار کے پاس آئیں گے اور خبر دیں گے کہ جبرائیل و میکائیل بھی انتقال کر گئے۔ جناب اللہ علم کے باوجودہ پھر دریافت فرمائے گا کہ اب باقی کون ہے ؟ ملک الموت جواب دیں گے کہ باقی ایک تو تو ہے ایسی بقا ولا جس پر فنا ہے ہی نہیں اور تیرے عرش کے اٹھانے والے اللہ فرمائے گا عرش کے اٹھانے والے بھی مرجائیں گے اس وقت وہ بھی مرجائیں گے، پھر اللہ کے حکم سے حضرت اسرافیل سے صور کو عرش لے لے گا، ملک الموت حاضر ہو کر عرض کریں گے کہ یا اللہ عرش کے اٹھانے والے فرشتے بھی مرگئے اللہ تعالیٰ دریافت فرمائے گا حالانکہ وہ خوب جانتا ہے کہ اب باقی کون رہا ؟ ملک الموت جواب دیں گے کہ ایک تو جس پر موت ہے ہی نہیں اور ایک تیرا غلام میں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ فرمائے گا تو بھی میری مخلوق میں سے ایک مخلوق ہے تجھے میں نے ایک کام کیلئے پیدا کیا تھا جسے تو کرچکا اب تو بھی مرجا چناچہ وہ بھی مرجائیں گے۔ اب اللہ تعالیٰ اکیلا باقی رہ جائے گا جو غلبہ والا یگانگت والا بےماں باپ اور بےاولاد کے ہے۔ جس طرح مخلوق کے پیدا کرنے سے پہلے وہ یکتا اور اکیلا تھا۔ پھر آسمانوں اور زمینوں کو وہ اس طرح لپیٹ لے گا جیسے دفتری کاغذ کو لپیٹتا ہے پھر انہیں تین مرتبہ الٹ پلٹ کرے گا اور فرمائے گا میں جبار ہوں میں کبریائی والا وہں۔ پھر تین مرتبہ فرمائے گا آج ملک کا مالک کون ہے ؟ کوئی نہ ہوگا جو جواب دے تو خود ہی جواب دے گا اللہ واحد وقہار۔ قرآن میں ہے اس دن آسمان و زمین بدل دیئے جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ انہیں پھیلا دے گا اور کھینچ دے گا جس طرح چمڑا کھینچا جاتا ہے کہیں کوئی اونچ نیچ باقی نہ رہے گی، پھر ایک الٰہی آواز کے ساتھ ہی ساری مخلوق اس تبدیل شدہ زمین میں آجائے گی اندر والے اندر اور اوپر ولے اوپر پھر اللہ تعالیٰ اپنے عرش تلے سے اس پر بارش برسائے گا پھر آسمان کو حکم ہوگا اور وہ چالیس دن تک مینہ برسائے گا یہاں تک کہ پانی ان کے اوپر بارہ ہاتھ چڑھ جائے گا، پھر جسموں کو حکم ہوگا کہ وہ اگیں اور وہ اس طرح اگنے لگیں گے جیسے سبزیاں اور ترکاریاں اور وہ پورے پورے کامل جسم جیسے تھے ویسے ہی ہوجائیں گے پھر حکم فرمائے گا کہ میرے عرش کے اٹھانے والے فرشتے جی اٹھیں چناچہ وہ زندہ ہوجائیں گے پھر اسرافیل کو حکم ہوگا کہ صور لے کر منہ سے لگالیں۔ پھر فرمان ہوگا کہ جبرائیل و میکائیل زندہ ہوجائیں یہ دونوں بھی اٹھیں گے، پھر اللہ تعالیٰ روحوں کو بلائے گا مومنوں کو نورانی ارواح اور کفار کی ظلماتی روحیں آئیں گی انہیں لے کر اللہ تعالیٰ صور میں ڈال دے گا، پھر اسرافیل کو حکم ہوگا کہ اب صور پھونک دو چناچہ بعث کا صور پھونکا جائے گا جس سے ارواہ اس طرح نکلین گی جیسے شہید کی مکھیاں۔ تمام خلا ان سے بھر جائے گا پھر رب عالم کا ارشاد ہوگا کہ مجھے اپنی عزت و جلال کی قسم ہے ہر روح اپنے اپنے جسم میں چلی جائے، چنانجہ سب روحیں اپنے اپنے جسموں میں نتھنوں کے راستے چلی جائیں گی اور جس طرح زہر رگ وپے میں اثر کرجاتا ہے روہ روئیں روئیں میں دوڑ جائے گی، پھر زمین پھٹ جائے گی اور لوگ اپنی قبروں سے نکل کھڑے ہوں گے، سب سے پہلے میرے اوپر سے زمین شق ہوگی، لوگ نکل کر دوڑ تے ہوئے اپنے رب کی طرف چل دیں گے، اس وقت کافر کہیں گے کہ آج کا دن بڑا بھاری ہے، سب ننگے پیروں ننگے بدن بےختنہ ہوں گے ایک میدان میں بقدر ستر سال کے کھڑے رہیں گے، نہ ان کی طرف نگاہ اٹھائی جائے گی نہ ان کے درمیان فیصلے کئے جائیں گے، لوگ بےطرح گریہ وزاری میں مبتلا ہوں گے یہاں تک کہ آنسو ختم ہوجائیں گے اور خون آنکھوں سے نکلنے لگے گا، پسینہ اس قدر آئے گا کہ منہ تک یا ٹھوریوں تک اس میں ڈوبے ہوئے ہوں گے، آپس میں کہیں گے آؤ کسی سے کہیں کہ وہ ہماری شفاعت کرے، ہمارے پروردگار سے عرض کرے کہ وہ آئے اور ہمارے فیصلے کرے تو کہیں گے کہ اس کے لائق ہمارے باپ حضرت آدم ؑ سے بہتر کون ہوگا ؟ جنہیں اللہ نے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا، اپنی روح ان میں پھونکی اور آمنے سامنے ان سے باتین کیں۔ چناچہ سب مل کر آپ کے پا سجأایں گے اور سفاش طلب کریں گے لیکن حضرت آدم ؑ صاف انکار کر جائیں گے اور فرمائیں گے مجھ میں اتنی قابلیت نہیں پھر وہ اسی طرح ایک ایک نبی کے پاس جائیں گے اور سب انکار کر دین گے۔ حضور فرماتے ہیں پھر سب کے سب یرے پاس آئیں گے، میں عرش کے آگے جاؤں گا اور سجدے میں گر پڑوں گا، اللہ تعالیٰ میرے پاس فرشتہ بھیجے گا وہ میرا بازو تھام کر مجھے سجدے سے اٹھائے گا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا اے محمد ﷺ میں جواب دوں گا کہ ہاں اے میرے رب، اللہ عزوجل باو وجد عالم کل ہونے کے مجھے سے دریافت فرمائے گا کہ کیا بات ہے ؟ میں کہوں گا یا اللہ تو نے مجھ سے شفاعت کی قبولیت کا وعدہ فرمایا ہے اپنی مخلوق کے بارے میں میری شفاعت کو قبول فرما اور ان کے فیصلوں کے لئے تشریف لے آ۔ رب العالمین فرمائے گا میں نے تیری سفارش قبول کی اور میں آ کر تم میں فیصلے کئے دیتا ہوں۔ میں لوٹ کر لوگوں کے ساتھ ٹھہر جاؤں گا کہ ناگہاں آسمانوں سے ایک بہت بڑا دھماکہ سنائی دے گا جس سے لوگ خوفزدہ ہوجائیں گے اتنے میں آسمان کے فرشتے اترنے شروع ہوں گے جن کی تعداد کل انسانوں اور سارے جنوں کے برابر ہوگی۔ جب وہ زمین کے قریب پہنچیں گے تو ان کے نور سے زمین جگمگا اٹھے گی وہ صفیں باندھ کر کھڑے ہوجائیں گے ہم سب ان سے دریافت کریں گے کہ کیا تم میں ہمارا رب آیا ہے ؟ وہ جواب دیں گے نہیں پھر اس تعداد سے بھی زیادہ تعداد میں اور فرشتے آئیں گے۔ آخر ہمارا رب عزوجل ابر کے سائے میں نزول فرمائے گا اور فرشتے بھی اس کے ساتھ ہوں گے اس کا عرش اس دن آٹھ فرشتے اٹھائے ہوئے ہوں گے اس وقت عرش کے اٹھانے والے جار فرشتے ہیں ان کے قدم آخری نیچے والی زمین کی تہ میں ہیں زمین و آسمان ان کے نصف جسم کے مقابلے میں ہے ان کے کندھوں پر عرش الٰہی ہے۔ ان کی زبانین ہر وقت اللہ تبارک و تعالیٰ کی پاکیزگی کے بیان میں تر ہیں۔ ان کی تسبیح یہ ہے سبحان ذی العرش والجبروت سبحان ذی الملک والملکوت سبحان الحی الذی لا یموت سبحان الذی یمیت الخلائق ولا یموت سبوح قدوس قدوس قدوس سبہان ربنا الاعلی رب الملا ئکتہ والروہ سبحان ربنا الا علی الذی یمیت الخلائق ولا یموت پھر اللہ جس جگہ چاہے گا پانی کرسی زمین پر رکھے گا اور بلند آواز سے فرمائے گا اے جنو اور انسانو میں نے تمہیں جس دن سے پیدا کیا تھا اس دن سے آج تک میں خاموش رہا تمہاری باتیں سنتا رہا تمہارے اعمال دیکھتا رہا سنو تمہارے اعمال نامے میرے سامنے پڑھے جائیں گے جو اس میں بھلائی پائے وہ اللہ کی حمد کرے اور جو اس میں اور کچھ پائے وہ اپنی جان کو ملامت کرے، پھر بحکم الہ جہنم میں سے ایک دیھکتی ہوئی گردن نکلے گی اللہ تعالیٰ فرمائے گا اے آدم کی اوالد کیا میں نے تم سے عہد نہیں لیا تھا کہ شیطان کی پوجانہ کرنا وہ تمہارا کھلا دشمن ہے ؟ اور صرف میری ہی عبادت کرتے رہنا یہی سیدھی راہ ہے، شیطان نے تو بہت سی مخلوق کو گومراہ کردیا ہے کیا تمہیں عقل نہیں ؟ یہ ہے وہ جہنم جس کا تم وعدہ دیئے جاتے تھے اور جسے تم جھٹلاتے رہے اے گنہگارو ! آج تم نیک بندوں سے الگ ہوجاؤ، اس فرمان کے ساتھ ہی بد لوگ نیکوں سے الگ ہوجائیں گے تمام امتیں گھٹنوں کے بل گرپڑیں گی جیسے قرآن کریم میں ہے کہ تو ہر امت کو گھٹنوں کے بل گرے ہوئے دیکھے گا ہر امت اپنے نامہ اعمال کی طرف بلائی جائے گی، پھر اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں فیصلے کرے گا پہلے جانوروں میں فیصلے ہوں گے یہاں تک کہ بےسینگ والی بکری کا بدلہ سینگ والی بکری سے لیا جائے گا، جب کسی کا کسی کے ذمہ کوئی دعوی باقی نہ رہے گا تو اللہ تعالیٰ انہیں فرمائے گا تم سب مٹی ہوجاؤ، اس فرمان کے ساتھ ہی تمام جانور مٹی بن جائیں گے، اس وقت کافر بھی یہی آرزو کریں گے کہ کاش ہم بھی مٹی ہوجاتے، پھر اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کے فیصلے شروع کرے گا سب سے پہلے قتل و خون کا فیصلہ ہوگا، اللہ تعالیٰ اپنی راہ کے شہیدوں کو بھی بلائے گا ان کے ہاتھوں سے قتل شدہ لوگ اپنا سر اٹھائے ہوئے حاضر ہوں گے رگوں سے خون بہ رہا ہوگا کہیں گے کہ باری تعالیٰ دریافت فرما کہ اس نے مجھے کیوں قتل کیا ؟ پس باوجود علم کے اللہ عزوجل مجاہدین سے پوچھے گا کہ تم نے انہیں کیوں قتل کیا ؟ وہ جواب دیں گے اس لئے کہ تیری بات بلند ہو اور تیری عزت ہو اللہ عالی فرمائے گا تم سجے ہو اسی وقت ان کا چہرہ نورانی ہوجائے گا سورج کی طرح چمکنے لگے گا اور فرشتے انہیں اپنے جھرمٹ میں لے کر جنت کی طرف چلیں گے پھر باقی کے اور تمام قاتل و مقتول اسی طرح پیش ہوں گے اور جو نفس ظلم سے قتل کیا گیا ہے اس کا بدلہ ظالم قاتل سے دلوایا جائے گا اسی طرح ہر مظلوم کو ظالم سے بدلہ دلوایا جائے گا یہاں تک کہ جو شخص دودھ میں پانی ملا کر بیچتا تھا اسے فرمایا جائے گا کہ اپنے دودھ سے پانی جدا کر دے، ان فیصلوں کے بع دایک منادی باآواز بلند ندا کرے گا جسے سب سنیں گے، ہر عابد اپنے معبود کے پیچھے ہولے اور اللہ کے سوا جس نے کسی اور کی عبادت کی ہے وہ جہنم میں چل دے، سنو اگر یہ سچے معبود ہوتے تو جہنم میں واردنہ ہوتے یہ سب تو جہنم میں ہی ہمیشہ رہیں گے اب صرف باایمان لوگ باقی رہیں گے ان میں منافقین بھی شامل ہوں گے اللہ تعالیٰ ان کے پاس جس ہیئت میں چاہے تشریف لائے گا اور ان سے فرمائے گا کہ سب اپنے معبودوں کے پیچھے چلے گئے تم بھی جس کی عباد کرتے تھے اس کے پاس چلے جاؤ۔ یہ جواب دیں گے کہ واللہ ہمارا تو کوئی معبود نہیں بجزالہ العالمین کے۔ ہم نے کسی اور کی عبادت نہیں کی۔ اب ان کے لئے پنڈلی کھول دی جائے گی اور اللہ تعالیٰ اپنی عظمت کی تجلیاں ان پر ڈالے گا جس سے یہ اللہ تعالیٰ کو پہچان لیں گے اور سجدے میں گرپڑیں گے لیکن منافق سجدہ نہیں کرسکیں گے یہ اوندھے اور الٹے ہوجائیں گے اور اپنی کمر کے بل گرپڑیں گے۔ ان کی پیٹھ سیدھی کردی جائے گی مڑ نہیں سکیں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ مومنوں کو سجدے سے اٹھنے کا حکم دے گا اور جہنم پر پل صراط رکھی جائے گی جو تلوار جیسی تیز دھار والی ہوگی اور جگہ جگہ آنکڑے اور کانٹے ہوں گے بڑی پھسلنی اور خطرانک ہوگی ایماندار تو اس پر سے اتنی سی دیر میں گذر جائیں گے جتنی دیر میں کوئی آنکھ بند کر کے کھول دے جس طرح بجلی گذرجاتی ہے اور جیسے ہوا تیزی سے چلتی ہے۔ یا جیسے تیز روگھوڑے یا اونٹ ہوتے ہیں یا خوب بھاگنے والے آدمی ہوتے ہیں بعض صحیح سالم گذر جائیں گے بعض زخمی ہو کر پار اتر جائیں گے بعض کٹ کر جہنم میں گرجائیں گے جتنی لوگ جب جنت کے پاس پہنچیں گے تو کہیں گے کون ہمارے رب سے ہماری سفارش کرے کہ ہم جنت میں چلے جائیں ؟ دوسرے لوگ جواب دیں گے اس کے حقدار تمہارے باپ حضرت آدم ؑ سے زیادہ اور کون ہوں گے ؟ جنہیں رب ذوالکریم نے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا اور اپنی روح ان میں پھونکی اور آمنے سامنے باتیں کیں پس سب لوگ آپ کے پاس آئیں گے اور آپ سے سفارش کرانی چاہیں گے لیکن اپنا گناہ یاد کر کے جواب دیں گے کہ میں اس لائق نہیں ہوں تم نوح ؑ کے پاس جاؤ وہ اللہ کے پہلے رسول ہیں، لوگ حضرت نوح کے پاس آ کر ان سے یہ درخواست کریں گے لیکن وہ بھی اپنے گناہ کو یاد کر کے یہی فرمائیں گے اور کہیں گے کہ تم سب حضرت نوح کے پاس آ کر ان سے یہ درخواست کریں گے لیکن وہ بھی اپنے گناہ کو یاد کر کے یہی فرمائیں گے اور کہیں گے کہ تم سب حضرت ابراہیم کے پاس جاؤ وہ خلیل اللہ ہیں لوگ آپ کے پاس آئیں گے اور یہی کہیں گے آپ بھی اپنے گناہ کو یاد کر کے یہی جواب دیں گے اور حضرت موسیٰ کے پاس جانے کی ہدایت کریں گے کہ اللہ نے انہیں سرگوشیاں کرتے ہوئے نزدیک کیا تھا وہ کلیم اللہ ہیں ان پر توراۃ نازل فرمائی گئی تھی لوگ آپ کے پاس آئیں گے اور آپ سے طلب سفارش کریں گے آپ بھی اپنے گناہ کا ذکر کریں گے اور روح اللہ اور کلمتہ اللہ حضرت عیسیٰ ابن مریم کے پاس بھیجیں گے لیکن حضرت عیسیٰ ؑ فرمائیں گے میں اس قابل نہیں تم حضرت محمد ﷺ کے پاس جاؤ۔ حضور فرماتے ہیں پس سب لوگ میرے پاس آئیں گے، میں اللہ کے سامنے تین شفاعتیں کروں گا میں جاؤں گا جنت کے پاس پہنچ کر دروازے کا کنڈا پکڑ کر کھٹکھٹاؤں گا مجھے مرحبا کہا جائے گا اور خوش آمدید کہا جائے گا میں جنت میں جا کر اپنے رب کو دیکھ کر سجدے میں گر پڑوں گا اور وہ وہ حمد و ثنا جناب باری کی بیان کروں گا جو کسی نے نہ کی ہو، پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا اے محمد ﷺ اپنا سر اٹھاؤ شفاعت کرو قبول کی جائے گی مانگو ملے گا میں سر اٹھاؤں گا اللہ تعالیٰ تو دلوں کے بھید بھی جانتا ہے تاہم وہ دریافت فرمائے گا کہ کیا کہنا چاہتے ہو ؟ میں کہوں گا اے اللہ تو نے میری شفاعت کے قبول فرمانے کا وعدہ کیا ہے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ میری شفاعت ان جنتیوں کے بارے میں قبول فرمائے گا اور انہیں جنت کے داخلے کی اجازت ہوجائے گی۔ واللہ جیسے تم اپنے گھر سے اپنے بال بچوں سے آگاہ ہو اس سے بہت زیادہ یہ جنتی اپنی جگہ اور اپنی بیویوں سے واقف ہوں گے ہر ایک اپنے اپنے ٹھکانے پہنچ جائے گا ستر ستر حوریں اور دو دو عورتیں ملیں گی، یہ دونوں عورتیں اپنی کی ہوئی نیکیوں کے سبب پر فضیلت چہروں کی مالک ہوں گی جتنی ان میں سے ایک کے پاس جائے گا جو یاقوت کے بالا خانے میں سونے کے جڑاؤ تخت پر ستر ریشمی حلے پہنے ہوئے ہوگی اس کا جسم اس قدر نورانی ہوگا کہ ایک طرف اگر جنتی اپنا ہاتھ رکھے تو دوسری طرف سے نظر آئے گا اس کی صفائی کی وجہ سے اس کی پنڈلی کا گودا گوشت پوست میں نظر آ رہا ہوگا اس کا دل اس کا آئینہ ہوگا نہ یہ اس سے بس کرے نہ وہ اس سے اکتائے، جب کبھی اس کے پاس جائے گا باکرہ پائے گا، نہ یہ تھکے نہ اسے تکلیف ہو، نہ کوئی مکرو چیز ہو، یہ اپنی اسی مشغولی میں مزے میں اور لطف و راحت میں اللہ جانے کتنی مدت گزار دے گا جو ایک آواز آئے گی کہ مانا نہ تمہارا دل اس سے بھرتا ہے نہ ان کا دل تم سے بھرے گا۔ لیکن اللہ نے تمہارے لئے اور بیویاں بھی رکھی ہوئی ہیں۔ اب یہ اوروں کے پاس جائے گا جس کے پاس جائے گا بےساختہ زبان سے یہی نکلے گا اللہ کی قسم کی سازی جنت میں تم سے بہتر کوئی چیز نہیں مجھے تو جنت کی تمام چیزوں سے زیادہ تم سے محبت ہے، ہاں جنہیں ان کی بد عملیوں اور گناہوں نے تباہ کر رکھا ہے وہ جہنم میں جائیں گے اپنے اپنے اعمال کے مطابق آگ میں جلیں گے، بعض قدموں تک بعض آدھی پنڈلی تک بعض گھٹنے تک بعض آدھے بدن تک بعض گردن تک، صرف چہرہ باقی رہ جائے گا کیونکہ صورت کا بگاڑنا اللہ نے آگ پر حرام کردیا ہے، رسول کریم ﷺ اللہ تعالیٰ سے اپنی امت کے گنہگار دوزخیوں کی شفاعت کریں گے اللہ تعالیٰ فرمائے گا جاؤ جنہیں پہچانو انہیں نکال لاؤ، پھر یہ لوگ جہنم سے آزاد ہوں گے یہاں تک کہ ان میں سے کوئی باقی نہ رہے گا پھر تو شفاعت کی عام اجازت مل جائے گی کل انبیاء اور شہداء شفاعت کریں گے، جناب باری کا ارشاد ہوگا کہ جس کے دل میں ایک دینار برابر بھی ایمان پاؤ اسے نکال لاؤ، پس یہ لوگ بھی آزاد ہوں گے اور ان میں سے بھی کوئی باقی نہ رہے گا، پھر فرمائے گا انہیں بھی نکال لاؤ جس کے دل میں دو ثلث دینار کے برابر ایمان ہو، پھر فرمائے گا ایک ثلث والوں کو بھی، پھر ارشاد ہوگا چوتھائی دینار کے برابر والوں کو بھی، پھر فرمائے گا ایک قیراط کے برابر والوں کو بھی، پھر ارشاد ہوگا انہیں بھی جہنم سے نکال لاؤ جن کے دل میں رائی کے دانے کے برابر ایمان ہو، پس یہ سب بھی نکل آئیں گے اور ان میں سے ایک شخص بھی باقی نہ بچے گا، بلکہ جہنم میں ایک شخص بھی ایسا نہ رہ جائے گا جس نے خلوص کے ساتھ کوئی نیکی بھی اللہ کی فرمانبرداری کے ماتحت کی ہو، جتنے شفیع ہوں گے سب سفارش کرلیں گے یہاں تک کہ ابلیس کو بھی امید بندھ جائے گی اور وہ بھی گردن اٹھا اٹھا کر دیکھے گا کہ شاید کوئی میری بھی شفاعت کرے کیونکہ وہ اللہ کی رحمت کا جوش دیکھ رہا ہوگا اس کے بعد اللہ تعالیٰ ارحم الراحمین فرمائے گا کہ اب تو صرف میں ہی باقی رہ گیا اور میں تو سب سے زیادہ رحم و کرم کرنے والا ہوں، پس اپنا ہاتھ ڈال کر خود اللہ تبارک و تعالیٰ جہنم میں سے لوگوں کو نکالے گا جن کی تعداد سوائے اس کے اور کوئی نہیں جانتا وہ جلتے جھلستے ہوئے کوئلے کی طرح ہوگئے ہوں گے، انہیں نہر حیوان میں ڈالا جائے گا جہاں وہ اس طرح اگیں گے جس طرح دانہ اگتا ہے جو کسی دریا کے کنارے بویا گیا ہو کہ اس کا دھوپ کا رخ تو سبز رہتا ہے اور سائے کا رخ زرد رہتا ہے ان کی گردنوں پر تحریر ہوگا کہ یہ رحمان کے آزاد کردہ ہیں، اس تحریر سے انہیں دوسرے جنتی پہچان لیں گے۔ ایک مدت تک تو یونہی رہیں گے پھر اللہ تعالیٰ سے دعا کریں گے کہ اے اللہ یہ حروف بھی مٹ جائیں اللہ عزوجل یہ بھی مٹا دے گا یہ حدیث اور آگے بھی ہے اور بہت ہی غریب ہے اور اس کے بعض حصوں کے شواہد متفرق احادیث میں ملتے ہیں، اس کے بعض الفاظ منکر ہیں۔ اسماعیل بن رافع قاضی اہل مدینہ اس کی روایت کے ساتھ منفرد ہیں ان کو بعض محدثین نے تو ثقہ کہا ہے اور بعض نے ضعیف کہا ہے اور ان کی حدیث کی نسبت کئی ایک محدثین نے منکر ہونے کی صراحت کی ہے، جیسے امام احمد امام ابو حاتم امام عمرو بن علی، بعض نے ان کے بارے میں فرمایا ہے کہ یہ متروک ہیں، امام ابن عدی فرماتے ہیں ان کی سب احادیث میں نظر ہے مگر ان کی حدیثیں ضعیف احادیث میں لکھنے کے قابل ہیں، میں نے اس حدیث کی سندوں میں نے جو اختلاف کئی وجوہ سے ہے اسے علیحدہ ایک جزو میں بیان کردیا ہے اس میں شک نہیں کہ اس کا بیان بہت ہی غریب ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ بہت سی احادیث کو ملا کر ایک حدیث بنا لی ہے اسی وجہ سے اسے منکر کہا گیا ہے، میں نے اپنے استاد حافظ ابو الحجاج مزی سے سنا ہے کہ انہوں نے امام ولید بن مسلم کی ایک کتاب دیکھی ہے جس میں ان باتوں کے جو اس حدیث میں ہی ہیں شواہد بیان کئے ہیں واللہ اعلم۔
72
View Single
وَأَنۡ أَقِيمُواْ ٱلصَّلَوٰةَ وَٱتَّقُوهُۚ وَهُوَ ٱلَّذِيٓ إِلَيۡهِ تُحۡشَرُونَ
“And to keep the (obligatory) prayer established and to fear Him; and it is to Him that you are to be raised.”
اور یہ (بھی حکم ہوا ہے) کہ تم نماز قائم رکھو اور اس سے ڈرتے رہو اور وہی اللہ ہے جس کی طرف تم (سب) جمع کئے جاؤ گے
Tafsir Ibn Kathir
The Parable of Those Who Revert to Disbelief After Faith and Good Deeds
As-Suddi said, "Some idolators said to some Muslims, `Follow us and abandon the religion of Muhammad ﷺ.' Allah sent down the revelation,
قُلْ أَنَدْعُواْ مِن دُونِ اللَّهِ مَا لاَ يَنفَعُنَا وَلاَ يَضُرُّنَا وَنُرَدُّ عَلَى أَعْقَـبِنَا
(Say: "Shall we invoke others besides Allah, that can do us neither good nor harm, and shall we turn on our heels...") by reverting to disbelief,
بَعْدَ إِذْ هَدَانَا اللَّهُ
("...after Allah has guided us.") for if we do this, our example will be like he whom the devils have caused to wander in confusion throughout the land. Allah says here, your example, if you revert to disbelief after you believed, is that of a man who went with some people on a road, but he lost his way and the devils led him to wander in confusion over the land. Meanwhile, his companions on the road were calling him to come to them saying, `Come back to us, for we are on the path.' But, he refused to go back to them. This is the example of he who follows the devil after recognizing Muhammad ﷺ, and Muhammad ﷺ is the person who is calling the people to the path, and the path is Islam." Ibn Jarir recorded this statement.Allah's statement, j
كَالَّذِى اسْتَهْوَتْهُ الشَّيَـطِينُ فِى الاٌّرْضِ
(Like one whom the Shayatin (devils) have made to go astray (wandering) through the land, ) refers to ghouls,
يَدْعُونَهُ
(calling him) by his name, his father's and his grandfather's names. So he follows the devils' call thinking that it is a path of guidance, but by the morning he will find himself destroyed and perhaps they eat him. The Jinns will then let him wander in a wasteland where he will die of thirst. This is the example of those who follow the false gods that are being worshipped instead of Allah, Most Honored. Ibn Jarir also recorded this. Allah said,
قُلْ إِنَّ هُدَى اللَّهِ هُوَ الْهُدَى
(Say: "Verily, Allah's guidance is the only guidance,") Allah said in other instances,
وَمَن يَهْدِ اللَّهُ فَمَا لَهُ مِن مُّضِلٍّ
(And whomsoever Allah guides, for him there will be none to misguide him.) 39:37, and,
إِن تَحْرِصْ عَلَى هُدَاهُمْ فَإِنَّ اللَّهَ لاَ يَهْدِى مَن يُضِلُّ وَمَا لَهُمْ مِّن نَّـصِرِينَ
(If you covet for their guidance, then verily Allah guides not those whom He makes to go astray. And they will have no helpers.) 17:37 Allah's statement,
وَأُمِرْنَا لِنُسْلِمَ لِرَبِّ الْعَـلَمِينَ
(and we have been commanded to submit to the Lord of all that exists.) means, we were commanded to worship Allah in sincerity to Him alone, without partners.
وَأَنْ أَقِيمُواْ الصَّلوةَ وَاتَّقُوهُ
(And to perform the Salah, and have Taqwa of Him.) meaning, we were commanded to perform the prayer and to fear Allah in all circumstances,
وَهُوَ الَّذِى إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ
(and it is He to Whom you shall be gathered.) on the Day of Resurrection.
وَهُوَ الَّذِى خَلَقَ السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضَ بِالْحَقِّ
(It is He Who has created the heavens and the earth in truth.) meaning, in justice, and He is their Originator and Owner Who governs their affairs and the affairs of their inhabitants. Allah said,
وَيَوْمَ يَقُولُ كُن فَيَكُونُ
(and on the Day He will say: "Be!" it shall become.) Referring to the Day of Resurrection, which will come faster than the blink of an eye, when Allah says to it, `Be.'
As-Sur; The Trumpet
Allah's statement,
يَوْمَ يُنفَخُ فِى الصُّوَرِ
(on the Day when the Sur will be blown...) refers to His statement,
وَيَوْمَ يَقُولُ كُن فَيَكُونُ
(and on the Day He will say: "Be!" it shall become.) as we stated above. Or, it means,
وَلَهُ الْمُلْكُ يَوْمَ يُنفَخُ فِى الصُّوَرِ
(His will be the dominion on the Day when the Sur will be blown.) Allah said in other Ayat,
لِّمَنِ الْمُلْكُ الْيَوْمَ لِلَّهِ الْوَحِدِ الْقَهَّارِ
(Whose is the kingdom this Day It is Allah's, the One, the Irresistible!) 40:16, and,
الْمُلْكُ يَوْمَئِذٍ الْحَقُّ لِلرَّحْمَـنِ وَكَانَ يَوْماً عَلَى الْكَـفِرِينَ عَسِيراً
(The sovereignty on that Day will be the true (sovereignty), belonging to the Most Beneficent (Allah), and it will be a hard Day for the disbelievers.) 25:26 The Sur is the Trumpet into which the angel Israfil, peace be upon him, will blow. The Messenger of Allah ﷺ said,
«إِنَّ إِسْرَافِيلَ قَدِ الْتَقَمَ الصُّورَ، وَحَنَى جَبْهَتَهُ يَنْتَظِرُ مَتَى يُؤْمَر فَيَنْفُخ»
(Israfil has held the Sur in his mouth and lowered his forehead, awaiting the command to blow in it.) Muslim recorded this Hadith in his Sahih. Imam Ahmad recorded that `Abdullah bin `Amr said, "A bedouin man said, `O Allah's Messenger! What is the Sur' He said,
«قَرْنٌ يُنْفَخُ فِيه»
(A Trumpet which will be blown.)"
اسلام کے سوا سب راستوں کی منزل جہنم ہے مشرکوں نے مسلمانوں سے کہا تھا کہ ہمارے دین میں آجاؤ اور اسلام چھوڑ دو اس پر یہ آیت اتری کہ کیا ہم بھی تمہاری طرح بےجان و بےنفع و نقصان معبودوں کو پوجنے لگیں ؟ اور جس کفر سے ہٹ گئے ہیں کیا پھر لوٹ کر اسی پر آجائیں ؟ اور تم جیسے ہی ہوجائیں ؟ بھلا یہ کیسے ہوسکتا ہے ؟ اب تو ہماری آنکھیں کھل گئیں صحیح راہ مل گئی اب اسے کیسے چھوڑ دیں ؟ اگر ہم ایسا کرلیں تو ہماری مثال اس شخص جیسی ہوگی جو لوگوں کے ساتھ سیدھے راستے پر جا رہا تھا مگر راستہ گم ہوگیا شیطان نے اسے پر یسان کردیا اور ادھر ادھر بھٹکانے لگا اس کے ساتھ جو راستے پر تھے وہ اسے پکارنے لگے کہ ہمارے ساتھ مل جا ہم صحیح راستے پر جا رہے ہیں یہی مثال اس شخص کی ہے جو آنحضرت ﷺ کو جان اور پہچان کے بعد مشرکوں کا ساتھ دے۔ آنحضرت ﷺ ہی پکارنے والے ہیں اور اسلام ہی سیدھا اور صحیح راستہ ہے، ابن عباس فرماتے ہیں یہ مثال اللہ تعالیٰ نے معبودان باطل کی طرف بلانے والوں کی بیان فرمائی ہے اور ان کی بھی جو اللہ کی طرف بلاتے ہیں، ایک شخص راستہ بھولتا ہے وہیں اس کے کان میں آواز آتی ہے کہ اے فلاں ادھر آ سیدھی راہ یہی ہے لیکن اس کے ساتھی جس غلط راستے پر لگ گئے ہیں وہ اسے تھپکتے ہیں اور کہتے ہیں یہی راستہ صحیح ہے اسی پر چلا چل۔ اب اگر یہ سچے شخص کو مانے گا تو راہ راست لگ جائے گا ورنہ بھٹکتا پھرے گا۔ اللہ کے سوا دوسروں کی عبادت کرنے والے اس امید میں ہوتے ہیں کہ ہم بھی کچھ ہیں لیکن مرنے کے بعد انہیں معلوم ہوجاتا ہے کہ وہ کچھ نہ تھے اس وقت بہت نادم ہوتے ہیں اور سوائے ہلاکت کے کوئی چیز انہیں دکھائی نہیں دیتی، یعنی جس طرح کسی جنگ میں گم شدہ انسان کو جنات اس کا نام لے کر آوازیں دے کر اسے اور غلط راستوں پر ڈال دیتے ہیں جہاں وہ مارا مارا پھرتا ہے اور بالآخر ہلاک اور تباہ ہوجاتا ہے اسی طرح جھوت معبودوں کا پجاری بھی برباد ہوجاتا ہے، ہدایت کے بعد گمراہ ہونے والے کی یہی مثال ہے جس راہ کی طرف شیطان اسے بلا رہے ہیں وہ تو تباہی اور بربادی کی راہ ہے اور جس راہ کی طرف اللہ بلا رہا ہے اور اس کے نیک بندے جس راہ کو سجھا رہے ہیں وہ ہدایت ہے گو وہ اپنے ساتھیوں کے مجمع میں سے نہ نکلے اور انہیں ہی راہ راست پر سمجھتا رہے اور وہ ساتھی بھی اپنے تئیں ہدایت یافتہ کہتے رہیں۔ لیکن یہ قول آیت کے لفظوں سے مطابق نہیں کیونکہ آیت میں موجد ہے کہ وہ اسے ہدایت کی طرف بلاتے ہیں پھر یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ وہ ضلالت ہو ؟ حیران پر زبر حال ہونے کی وجہ سے ہے صحیح مطلب یہی ہے کہ اس کے ساتھی جو ہدایت پر ہیں اب اسے غلط راہ پر دیکھتے ہیں تو اس کی خیر خواہی کے لئے پکار پکار کر کہتے ہیں کہ ہمارے پاس آ جا سیدھا راستہ یہی ہے لیکن یہ بدنصیب ان کی بات پر اعتماد نہیں کرتا بلکہ توجہ تک نہیں کرتا، سچ تو یہ ہے کہ ہدایت اللہ کے قبضے میں ہے، وہ جسے راہ دکھائے اسے کوئی گمراہ نہیں کرسکتا، چناچہ خود قرآن میں ہے کہ تو چاہے ان کی ہدایت پر حرص کرے لیکن جسے اللہ بھٹکا دے اسے وہی راہ پر لاسکتا ہے ایسوں کا کوئی مددگار نہیں، ہم سب کو یہی حکم کیا گیا ہے کہ ہم خلوص سے ساری عبادتیں محض اسی وحدہ لا شریک لہ کے لئے کریں اور یہ بھی حکم ہے کہ نمازیں قائم رکھیں اور ہر حال میں اس سے ڈرتے رہیں قیامت کے دن اسی کے سامنے حشر کیا جائے گا سب وہیں جمع کئے جائیں گے، اسی نے آسمان و زمین کو عدل کے ساتھ پیدا کیا ہے وہی مالک اور مدبر ہے قیامت کے دن فرمائے گا ہوجا تو ہوجائے گا ایک لمحہ بھی دیر نہ لگے گی یوم کا زبر یا تو وانقوہ پر عطف ہونے کی وجہ سے ہے یعنی اس دن سے ڈرو جس دن اللہ فرمائے گا ہو اور ہوجائے گا اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یوم کا زبر خلق السموات والارض پر عطف ہونے کی بنا پر ہو تو گویا ابتدا پیدائش کو بیان فرما کر پھر دوبارہ پیدائش کو بیان فرمایا یہی زیادہ مناسب ہے، یہ بھی ہوسکتا ہے کہ فعل مضمر ہو یعنی اذکر اور اس وجہ سے یوم پر زبر آیا ہو، اس کے بعد کے دونوں جملے محلاً مجرور ہیں، پس یہ دونوں جملے بھی محلاً مجرور ہیں۔ ان میں پہلی صفت یہ ہے کہ اللہ کا قول حق ہے رب کے فرمان سب کے سب سچ ہیں، تمام ملک کا وہی اکیلا مالک ہے، سب چیزیں اسی کی ملکیت ہیں یوم ینفخ میں یوم ممکن ہے کہ یوم یقول کا بدل ہو اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ولہ الملک کا ظرف ہو جیسے اور آیت میں ہے آیت (لِمَنِ الْمُلْكُ الْيَوْمَ) 40۔ غافر :16) آج کس کا ملک ہے ؟ صرف اللہ اکیلے غالب کا اور جیسے اس آیت میں ارشاد ہوا ہے آیت (اَلْمُلْكُ يَوْمَىِٕذِۨ الْحَقُّ للرَّحْمٰنِ ۭ وَكَانَ يَوْمًا عَلَي الْكٰفِرِيْنَ عَسِيْرًا) 25۔ الفرقان :26) یعنی ملک آج صرف رحمان کا ہے اور آج کا دن کفار پر بہت سخت ہے اور بھی اس طرح کی اور اس مضمون کی بہت سی آیتیں ہیں بعض کہتے ہیں صور جمع ہے صورۃ کی جیسے سورة شہر پناہ کو کہتے ہیں اور وہ جمع ہے سورة کی لیکن صحیح یہ ہے کہ مراد صور سے قرن ہے جسے حضرت اسرافیل پھونکین گے، امام بن جریر بھی اسی کو پسند فرماتے ہیں حضور کا ارشاد ہے کہ حضرت اسرافیل صور کو اپنے منہ میں لئے ہوئے اپنی پیشانی جھکائے ہوئے حکم الٰہی کے منتظر ہیں۔ مسند احمد میں ہے کہ ایک صہابی کے سوال پر حضور نے فرمایا صور ایک نر سنگھے جیسا ہے جو پھونکا جائے گا، طبرانی کی مطولات میں ہے حضور فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کی پیدائش کے بعدصور کو پیدا کیا اور اسے حضرت اسرافیل کو دیا وہ اسے لئے ہوئے ہیں اور عرش کی طرف نگاہ جمائے ہوئے ہیں کہ کب حکم ہو اور میں اسے پھونک دوں۔ حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں میں نے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ صور کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا ایک نرسنگھا ہے میں نے کہا وہ کیسا ہے ؟ آپ نے فرمایا بہت ہی بڑا ہے والالہ اس کے دائرے کی چوڑائی آسمان وہ زمین کے برابر ہے اس میں سے تین نفحے پھونکے جائیں گے، پہلا گھبراہٹ کا دوسرا بیہوشی کا تیسرا رب العلمین کے سامنے کھڑے ہونے کا۔ اول اول جناب باری حضرت اسرافیل کو صور پھونکنے کا حکم دے گا وہ پھونک دیں گے جس سے آسمان و زمین کی تمام مخلوق گھبرا اٹھے گی مگر جسے اللہ چاہے یہ صور بحکم رب دیر تک برابر پھونکا جائے گا اسی طرف اشارہ اس آیت میں ہے و ما ینظر ھو لاء الا صبیحتہ واہدۃ مالھا من فوق یعنی انہیں صرف بلند زور دار چیخ کا انتظار ہے پہاڑ اس صور سے مثل بادلوں کے چلنے پھرنے لگیں گے پھر ریت ریت ہوجائیں گے زمین میں بھونچال آجائے گا اور وہ اس طرح تھر تھرانے لگے گی جیسے کوئی کشتی دریا کے بیچ زبردست طوفان میں موجوں سے ادھر ادھر ہو رہی ہو اور غوطے کھا رہی ہو۔ مثل اس ہانڈی کے جو عرش میں لٹکی ہوئی ہے جسے ہوائیں ہلا جلا رہی ہیں اسی کا بیان اس آیت میں ہے یوم ترجف الراجفتہ الخ، اس دن زمین جنبش میں آجائے گی اور بہت ہی ہلنے لگے گی اس کے پیچھے ہی پیچھے لگنے والی آجائے گی دل دھرکنے لگیں گے اور کلیجے الٹنے لگیں گے لوگ ادھر ادھر گرنے لگیں گے مائیں اپنے دودھ پیتے بچوں کو بھول جائیں گی، حاملہ عورتوں کے حمل گرجائیں گے بجے بوڑھے ہوجائیں گے شیاطین مارے گھبراہٹ اور پریشانی کے بھاگتے بھاگتے زمین کے کناروں پر آجائیں گے، یہاں سے فرشتے انہیں مار مار کر ہٹائیں گے، لوگ پر یسان حال حواس باختہ ہوں گے کوئی جائے پناہ نظر نہ آئے گی امر الٰہی سے بچاؤ نہ ہو سکے گا ایک دوسرے کو آوازیں دیں گے لیکن سب اپنی اپنی مصیبت میں پڑے ہوئے ہوں گے کہ ناگہاں زمین پھتنی شروع ہوگی کہیں ادھر سے پھٹی کہیں ادھر سے پھتی اب تو ابتر حالت ہوجائے گی کلیجہ کپکپانے لگے گا دل الٹ جائے گا اور اتنا صدرمہ اور غم ہوگا جس کا اندازہ نہیں ہوسکتا، جو آسمان کی طرف نظر اٹھائیں گے تو دیکھیں گے کہ گھل رہا ہے اور وہ بھی پھٹ رہا ہے ستارے جھڑ رہے ہیں سورج چاند بےنور ہوگیا ہے، ہاں مردوں کو اس کا کچھ علم نہ ہوگا حضرت ابوہریرہ نے سوال کیا کہ یا رسول اللہ قرآن کی آیت میں جو فرمایا گیا ہے ففذع من فی السموات و من فی الارض الا من شاء اللہ یعنی زمین و آسمان کے سب لوگ گھبرا اٹھیں گے لیکن جنہیں اللہ چاہے اس سے مراد کون لوگ ہیں ؟ آپ نے فرمایا یہ شہید لوگ ہیں کہ وہ اللہ کے ہاں زندہ ہیں روزیاں پاتے ہیں اور سب زندہ لوگ گھبراہٹ میں ہوں گے لیکن اللہ تعلای انہیں پریشانی سے محفوظ رکھے گا یہ تو عذاب ہے جو وہ اپنی بدترین مخلوق پر بھیجے گا، اسی کا بیان آیت (يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمُ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ وَّخَلَقَ مِنْھَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيْرًا وَّنِسَاۗءً) 4۔ النسآء :1) میں ہے یعنی اے لوگو اپنے رب سے ڈرویاد رکھو قیامت کا زلزلہ بہت بڑی چیز ہے جس دن تم اسے دیکھ لو گے ہر ایک دودھ پلانے والی اپنے دودھ پیتے بچے سے غافل ہوجائے گی ہر حمل والی کا حمل گرجائے گا تو دیکھا جائے گا کہ سب لوگ بیہوش ہوں گے حالانکہ وہ نشہ پئے ہوئے نہیں بلکہ اللہ کے سخت عذابوں نے انہیں بدحواس کر رکھا ہے یہی حالت رہے گی جب تک اللہ چاہے بہت دیر تک یہی گھبراہٹ کا عالم رہے گا پھر اللہ تبارک و تعالیٰ حضرت جبرائیل کو بیہوشی کے نفحے کا حکم دے گا اس نفحہ کے پھونکتے ہی زمین و آسمان کی تمام مخلوق بیہوش ہوجائیں گی مگر جسے اللہ چاہے اور اچانک سب کے سب مرجائیں گے۔ حضرت ملک الموت اللہ تعالیٰ کے حضور میں حاضر ہو کر عرض کریں گے کہ اے باری تعالیٰ زمین آسمان کی تمام مخلوق مرگئی مگر جسے تو نے چاہا، اللہ تعالیٰ باوجود علم کے سوال کرے گا کہ یہ بتاؤ اب باقی کون کون ہے ؟ وہ جواب دین گے تو باقی ہے تو حی وقیوم ہے تجھ پر کبھی فنا نہیں اور عرش کے اٹھانے والے فرشتے اور جبرائیل و میکائیل اس وقت عرش کو زبان ملے گی اور وہ کہے گا اے پروردگار کیا جبرئل وہ میکائل بھی مریں گے ؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا میں نے اپنے عرش سے نیچے والوں پر سب پر موت لکھ دی ہے چناچہ یہ دونوں بھی فوت ہوجائیں گے پھر ملک الموت رب جبار وقہار کے پاس آئیں گے اور خبر دیں گے کہ جبرائیل و میکائیل بھی انتقال کر گئے۔ جناب اللہ علم کے باوجودہ پھر دریافت فرمائے گا کہ اب باقی کون ہے ؟ ملک الموت جواب دیں گے کہ باقی ایک تو تو ہے ایسی بقا ولا جس پر فنا ہے ہی نہیں اور تیرے عرش کے اٹھانے والے اللہ فرمائے گا عرش کے اٹھانے والے بھی مرجائیں گے اس وقت وہ بھی مرجائیں گے، پھر اللہ کے حکم سے حضرت اسرافیل سے صور کو عرش لے لے گا، ملک الموت حاضر ہو کر عرض کریں گے کہ یا اللہ عرش کے اٹھانے والے فرشتے بھی مرگئے اللہ تعالیٰ دریافت فرمائے گا حالانکہ وہ خوب جانتا ہے کہ اب باقی کون رہا ؟ ملک الموت جواب دیں گے کہ ایک تو جس پر موت ہے ہی نہیں اور ایک تیرا غلام میں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ فرمائے گا تو بھی میری مخلوق میں سے ایک مخلوق ہے تجھے میں نے ایک کام کیلئے پیدا کیا تھا جسے تو کرچکا اب تو بھی مرجا چناچہ وہ بھی مرجائیں گے۔ اب اللہ تعالیٰ اکیلا باقی رہ جائے گا جو غلبہ والا یگانگت والا بےماں باپ اور بےاولاد کے ہے۔ جس طرح مخلوق کے پیدا کرنے سے پہلے وہ یکتا اور اکیلا تھا۔ پھر آسمانوں اور زمینوں کو وہ اس طرح لپیٹ لے گا جیسے دفتری کاغذ کو لپیٹتا ہے پھر انہیں تین مرتبہ الٹ پلٹ کرے گا اور فرمائے گا میں جبار ہوں میں کبریائی والا وہں۔ پھر تین مرتبہ فرمائے گا آج ملک کا مالک کون ہے ؟ کوئی نہ ہوگا جو جواب دے تو خود ہی جواب دے گا اللہ واحد وقہار۔ قرآن میں ہے اس دن آسمان و زمین بدل دیئے جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ انہیں پھیلا دے گا اور کھینچ دے گا جس طرح چمڑا کھینچا جاتا ہے کہیں کوئی اونچ نیچ باقی نہ رہے گی، پھر ایک الٰہی آواز کے ساتھ ہی ساری مخلوق اس تبدیل شدہ زمین میں آجائے گی اندر والے اندر اور اوپر ولے اوپر پھر اللہ تعالیٰ اپنے عرش تلے سے اس پر بارش برسائے گا پھر آسمان کو حکم ہوگا اور وہ چالیس دن تک مینہ برسائے گا یہاں تک کہ پانی ان کے اوپر بارہ ہاتھ چڑھ جائے گا، پھر جسموں کو حکم ہوگا کہ وہ اگیں اور وہ اس طرح اگنے لگیں گے جیسے سبزیاں اور ترکاریاں اور وہ پورے پورے کامل جسم جیسے تھے ویسے ہی ہوجائیں گے پھر حکم فرمائے گا کہ میرے عرش کے اٹھانے والے فرشتے جی اٹھیں چناچہ وہ زندہ ہوجائیں گے پھر اسرافیل کو حکم ہوگا کہ صور لے کر منہ سے لگالیں۔ پھر فرمان ہوگا کہ جبرائیل و میکائیل زندہ ہوجائیں یہ دونوں بھی اٹھیں گے، پھر اللہ تعالیٰ روحوں کو بلائے گا مومنوں کو نورانی ارواح اور کفار کی ظلماتی روحیں آئیں گی انہیں لے کر اللہ تعالیٰ صور میں ڈال دے گا، پھر اسرافیل کو حکم ہوگا کہ اب صور پھونک دو چناچہ بعث کا صور پھونکا جائے گا جس سے ارواہ اس طرح نکلین گی جیسے شہید کی مکھیاں۔ تمام خلا ان سے بھر جائے گا پھر رب عالم کا ارشاد ہوگا کہ مجھے اپنی عزت و جلال کی قسم ہے ہر روح اپنے اپنے جسم میں چلی جائے، چنانجہ سب روحیں اپنے اپنے جسموں میں نتھنوں کے راستے چلی جائیں گی اور جس طرح زہر رگ وپے میں اثر کرجاتا ہے روہ روئیں روئیں میں دوڑ جائے گی، پھر زمین پھٹ جائے گی اور لوگ اپنی قبروں سے نکل کھڑے ہوں گے، سب سے پہلے میرے اوپر سے زمین شق ہوگی، لوگ نکل کر دوڑ تے ہوئے اپنے رب کی طرف چل دیں گے، اس وقت کافر کہیں گے کہ آج کا دن بڑا بھاری ہے، سب ننگے پیروں ننگے بدن بےختنہ ہوں گے ایک میدان میں بقدر ستر سال کے کھڑے رہیں گے، نہ ان کی طرف نگاہ اٹھائی جائے گی نہ ان کے درمیان فیصلے کئے جائیں گے، لوگ بےطرح گریہ وزاری میں مبتلا ہوں گے یہاں تک کہ آنسو ختم ہوجائیں گے اور خون آنکھوں سے نکلنے لگے گا، پسینہ اس قدر آئے گا کہ منہ تک یا ٹھوریوں تک اس میں ڈوبے ہوئے ہوں گے، آپس میں کہیں گے آؤ کسی سے کہیں کہ وہ ہماری شفاعت کرے، ہمارے پروردگار سے عرض کرے کہ وہ آئے اور ہمارے فیصلے کرے تو کہیں گے کہ اس کے لائق ہمارے باپ حضرت آدم ؑ سے بہتر کون ہوگا ؟ جنہیں اللہ نے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا، اپنی روح ان میں پھونکی اور آمنے سامنے ان سے باتین کیں۔ چناچہ سب مل کر آپ کے پا سجأایں گے اور سفاش طلب کریں گے لیکن حضرت آدم ؑ صاف انکار کر جائیں گے اور فرمائیں گے مجھ میں اتنی قابلیت نہیں پھر وہ اسی طرح ایک ایک نبی کے پاس جائیں گے اور سب انکار کر دین گے۔ حضور فرماتے ہیں پھر سب کے سب یرے پاس آئیں گے، میں عرش کے آگے جاؤں گا اور سجدے میں گر پڑوں گا، اللہ تعالیٰ میرے پاس فرشتہ بھیجے گا وہ میرا بازو تھام کر مجھے سجدے سے اٹھائے گا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا اے محمد ﷺ میں جواب دوں گا کہ ہاں اے میرے رب، اللہ عزوجل باو وجد عالم کل ہونے کے مجھے سے دریافت فرمائے گا کہ کیا بات ہے ؟ میں کہوں گا یا اللہ تو نے مجھ سے شفاعت کی قبولیت کا وعدہ فرمایا ہے اپنی مخلوق کے بارے میں میری شفاعت کو قبول فرما اور ان کے فیصلوں کے لئے تشریف لے آ۔ رب العالمین فرمائے گا میں نے تیری سفارش قبول کی اور میں آ کر تم میں فیصلے کئے دیتا ہوں۔ میں لوٹ کر لوگوں کے ساتھ ٹھہر جاؤں گا کہ ناگہاں آسمانوں سے ایک بہت بڑا دھماکہ سنائی دے گا جس سے لوگ خوفزدہ ہوجائیں گے اتنے میں آسمان کے فرشتے اترنے شروع ہوں گے جن کی تعداد کل انسانوں اور سارے جنوں کے برابر ہوگی۔ جب وہ زمین کے قریب پہنچیں گے تو ان کے نور سے زمین جگمگا اٹھے گی وہ صفیں باندھ کر کھڑے ہوجائیں گے ہم سب ان سے دریافت کریں گے کہ کیا تم میں ہمارا رب آیا ہے ؟ وہ جواب دیں گے نہیں پھر اس تعداد سے بھی زیادہ تعداد میں اور فرشتے آئیں گے۔ آخر ہمارا رب عزوجل ابر کے سائے میں نزول فرمائے گا اور فرشتے بھی اس کے ساتھ ہوں گے اس کا عرش اس دن آٹھ فرشتے اٹھائے ہوئے ہوں گے اس وقت عرش کے اٹھانے والے جار فرشتے ہیں ان کے قدم آخری نیچے والی زمین کی تہ میں ہیں زمین و آسمان ان کے نصف جسم کے مقابلے میں ہے ان کے کندھوں پر عرش الٰہی ہے۔ ان کی زبانین ہر وقت اللہ تبارک و تعالیٰ کی پاکیزگی کے بیان میں تر ہیں۔ ان کی تسبیح یہ ہے سبحان ذی العرش والجبروت سبحان ذی الملک والملکوت سبحان الحی الذی لا یموت سبحان الذی یمیت الخلائق ولا یموت سبوح قدوس قدوس قدوس سبہان ربنا الاعلی رب الملا ئکتہ والروہ سبحان ربنا الا علی الذی یمیت الخلائق ولا یموت پھر اللہ جس جگہ چاہے گا پانی کرسی زمین پر رکھے گا اور بلند آواز سے فرمائے گا اے جنو اور انسانو میں نے تمہیں جس دن سے پیدا کیا تھا اس دن سے آج تک میں خاموش رہا تمہاری باتیں سنتا رہا تمہارے اعمال دیکھتا رہا سنو تمہارے اعمال نامے میرے سامنے پڑھے جائیں گے جو اس میں بھلائی پائے وہ اللہ کی حمد کرے اور جو اس میں اور کچھ پائے وہ اپنی جان کو ملامت کرے، پھر بحکم الہ جہنم میں سے ایک دیھکتی ہوئی گردن نکلے گی اللہ تعالیٰ فرمائے گا اے آدم کی اوالد کیا میں نے تم سے عہد نہیں لیا تھا کہ شیطان کی پوجانہ کرنا وہ تمہارا کھلا دشمن ہے ؟ اور صرف میری ہی عبادت کرتے رہنا یہی سیدھی راہ ہے، شیطان نے تو بہت سی مخلوق کو گومراہ کردیا ہے کیا تمہیں عقل نہیں ؟ یہ ہے وہ جہنم جس کا تم وعدہ دیئے جاتے تھے اور جسے تم جھٹلاتے رہے اے گنہگارو ! آج تم نیک بندوں سے الگ ہوجاؤ، اس فرمان کے ساتھ ہی بد لوگ نیکوں سے الگ ہوجائیں گے تمام امتیں گھٹنوں کے بل گرپڑیں گی جیسے قرآن کریم میں ہے کہ تو ہر امت کو گھٹنوں کے بل گرے ہوئے دیکھے گا ہر امت اپنے نامہ اعمال کی طرف بلائی جائے گی، پھر اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں فیصلے کرے گا پہلے جانوروں میں فیصلے ہوں گے یہاں تک کہ بےسینگ والی بکری کا بدلہ سینگ والی بکری سے لیا جائے گا، جب کسی کا کسی کے ذمہ کوئی دعوی باقی نہ رہے گا تو اللہ تعالیٰ انہیں فرمائے گا تم سب مٹی ہوجاؤ، اس فرمان کے ساتھ ہی تمام جانور مٹی بن جائیں گے، اس وقت کافر بھی یہی آرزو کریں گے کہ کاش ہم بھی مٹی ہوجاتے، پھر اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کے فیصلے شروع کرے گا سب سے پہلے قتل و خون کا فیصلہ ہوگا، اللہ تعالیٰ اپنی راہ کے شہیدوں کو بھی بلائے گا ان کے ہاتھوں سے قتل شدہ لوگ اپنا سر اٹھائے ہوئے حاضر ہوں گے رگوں سے خون بہ رہا ہوگا کہیں گے کہ باری تعالیٰ دریافت فرما کہ اس نے مجھے کیوں قتل کیا ؟ پس باوجود علم کے اللہ عزوجل مجاہدین سے پوچھے گا کہ تم نے انہیں کیوں قتل کیا ؟ وہ جواب دیں گے اس لئے کہ تیری بات بلند ہو اور تیری عزت ہو اللہ عالی فرمائے گا تم سجے ہو اسی وقت ان کا چہرہ نورانی ہوجائے گا سورج کی طرح چمکنے لگے گا اور فرشتے انہیں اپنے جھرمٹ میں لے کر جنت کی طرف چلیں گے پھر باقی کے اور تمام قاتل و مقتول اسی طرح پیش ہوں گے اور جو نفس ظلم سے قتل کیا گیا ہے اس کا بدلہ ظالم قاتل سے دلوایا جائے گا اسی طرح ہر مظلوم کو ظالم سے بدلہ دلوایا جائے گا یہاں تک کہ جو شخص دودھ میں پانی ملا کر بیچتا تھا اسے فرمایا جائے گا کہ اپنے دودھ سے پانی جدا کر دے، ان فیصلوں کے بع دایک منادی باآواز بلند ندا کرے گا جسے سب سنیں گے، ہر عابد اپنے معبود کے پیچھے ہولے اور اللہ کے سوا جس نے کسی اور کی عبادت کی ہے وہ جہنم میں چل دے، سنو اگر یہ سچے معبود ہوتے تو جہنم میں واردنہ ہوتے یہ سب تو جہنم میں ہی ہمیشہ رہیں گے اب صرف باایمان لوگ باقی رہیں گے ان میں منافقین بھی شامل ہوں گے اللہ تعالیٰ ان کے پاس جس ہیئت میں چاہے تشریف لائے گا اور ان سے فرمائے گا کہ سب اپنے معبودوں کے پیچھے چلے گئے تم بھی جس کی عباد کرتے تھے اس کے پاس چلے جاؤ۔ یہ جواب دیں گے کہ واللہ ہمارا تو کوئی معبود نہیں بجزالہ العالمین کے۔ ہم نے کسی اور کی عبادت نہیں کی۔ اب ان کے لئے پنڈلی کھول دی جائے گی اور اللہ تعالیٰ اپنی عظمت کی تجلیاں ان پر ڈالے گا جس سے یہ اللہ تعالیٰ کو پہچان لیں گے اور سجدے میں گرپڑیں گے لیکن منافق سجدہ نہیں کرسکیں گے یہ اوندھے اور الٹے ہوجائیں گے اور اپنی کمر کے بل گرپڑیں گے۔ ان کی پیٹھ سیدھی کردی جائے گی مڑ نہیں سکیں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ مومنوں کو سجدے سے اٹھنے کا حکم دے گا اور جہنم پر پل صراط رکھی جائے گی جو تلوار جیسی تیز دھار والی ہوگی اور جگہ جگہ آنکڑے اور کانٹے ہوں گے بڑی پھسلنی اور خطرانک ہوگی ایماندار تو اس پر سے اتنی سی دیر میں گذر جائیں گے جتنی دیر میں کوئی آنکھ بند کر کے کھول دے جس طرح بجلی گذرجاتی ہے اور جیسے ہوا تیزی سے چلتی ہے۔ یا جیسے تیز روگھوڑے یا اونٹ ہوتے ہیں یا خوب بھاگنے والے آدمی ہوتے ہیں بعض صحیح سالم گذر جائیں گے بعض زخمی ہو کر پار اتر جائیں گے بعض کٹ کر جہنم میں گرجائیں گے جتنی لوگ جب جنت کے پاس پہنچیں گے تو کہیں گے کون ہمارے رب سے ہماری سفارش کرے کہ ہم جنت میں چلے جائیں ؟ دوسرے لوگ جواب دیں گے اس کے حقدار تمہارے باپ حضرت آدم ؑ سے زیادہ اور کون ہوں گے ؟ جنہیں رب ذوالکریم نے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا اور اپنی روح ان میں پھونکی اور آمنے سامنے باتیں کیں پس سب لوگ آپ کے پاس آئیں گے اور آپ سے سفارش کرانی چاہیں گے لیکن اپنا گناہ یاد کر کے جواب دیں گے کہ میں اس لائق نہیں ہوں تم نوح ؑ کے پاس جاؤ وہ اللہ کے پہلے رسول ہیں، لوگ حضرت نوح کے پاس آ کر ان سے یہ درخواست کریں گے لیکن وہ بھی اپنے گناہ کو یاد کر کے یہی فرمائیں گے اور کہیں گے کہ تم سب حضرت نوح کے پاس آ کر ان سے یہ درخواست کریں گے لیکن وہ بھی اپنے گناہ کو یاد کر کے یہی فرمائیں گے اور کہیں گے کہ تم سب حضرت ابراہیم کے پاس جاؤ وہ خلیل اللہ ہیں لوگ آپ کے پاس آئیں گے اور یہی کہیں گے آپ بھی اپنے گناہ کو یاد کر کے یہی جواب دیں گے اور حضرت موسیٰ کے پاس جانے کی ہدایت کریں گے کہ اللہ نے انہیں سرگوشیاں کرتے ہوئے نزدیک کیا تھا وہ کلیم اللہ ہیں ان پر توراۃ نازل فرمائی گئی تھی لوگ آپ کے پاس آئیں گے اور آپ سے طلب سفارش کریں گے آپ بھی اپنے گناہ کا ذکر کریں گے اور روح اللہ اور کلمتہ اللہ حضرت عیسیٰ ابن مریم کے پاس بھیجیں گے لیکن حضرت عیسیٰ ؑ فرمائیں گے میں اس قابل نہیں تم حضرت محمد ﷺ کے پاس جاؤ۔ حضور فرماتے ہیں پس سب لوگ میرے پاس آئیں گے، میں اللہ کے سامنے تین شفاعتیں کروں گا میں جاؤں گا جنت کے پاس پہنچ کر دروازے کا کنڈا پکڑ کر کھٹکھٹاؤں گا مجھے مرحبا کہا جائے گا اور خوش آمدید کہا جائے گا میں جنت میں جا کر اپنے رب کو دیکھ کر سجدے میں گر پڑوں گا اور وہ وہ حمد و ثنا جناب باری کی بیان کروں گا جو کسی نے نہ کی ہو، پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا اے محمد ﷺ اپنا سر اٹھاؤ شفاعت کرو قبول کی جائے گی مانگو ملے گا میں سر اٹھاؤں گا اللہ تعالیٰ تو دلوں کے بھید بھی جانتا ہے تاہم وہ دریافت فرمائے گا کہ کیا کہنا چاہتے ہو ؟ میں کہوں گا اے اللہ تو نے میری شفاعت کے قبول فرمانے کا وعدہ کیا ہے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ میری شفاعت ان جنتیوں کے بارے میں قبول فرمائے گا اور انہیں جنت کے داخلے کی اجازت ہوجائے گی۔ واللہ جیسے تم اپنے گھر سے اپنے بال بچوں سے آگاہ ہو اس سے بہت زیادہ یہ جنتی اپنی جگہ اور اپنی بیویوں سے واقف ہوں گے ہر ایک اپنے اپنے ٹھکانے پہنچ جائے گا ستر ستر حوریں اور دو دو عورتیں ملیں گی، یہ دونوں عورتیں اپنی کی ہوئی نیکیوں کے سبب پر فضیلت چہروں کی مالک ہوں گی جتنی ان میں سے ایک کے پاس جائے گا جو یاقوت کے بالا خانے میں سونے کے جڑاؤ تخت پر ستر ریشمی حلے پہنے ہوئے ہوگی اس کا جسم اس قدر نورانی ہوگا کہ ایک طرف اگر جنتی اپنا ہاتھ رکھے تو دوسری طرف سے نظر آئے گا اس کی صفائی کی وجہ سے اس کی پنڈلی کا گودا گوشت پوست میں نظر آ رہا ہوگا اس کا دل اس کا آئینہ ہوگا نہ یہ اس سے بس کرے نہ وہ اس سے اکتائے، جب کبھی اس کے پاس جائے گا باکرہ پائے گا، نہ یہ تھکے نہ اسے تکلیف ہو، نہ کوئی مکرو چیز ہو، یہ اپنی اسی مشغولی میں مزے میں اور لطف و راحت میں اللہ جانے کتنی مدت گزار دے گا جو ایک آواز آئے گی کہ مانا نہ تمہارا دل اس سے بھرتا ہے نہ ان کا دل تم سے بھرے گا۔ لیکن اللہ نے تمہارے لئے اور بیویاں بھی رکھی ہوئی ہیں۔ اب یہ اوروں کے پاس جائے گا جس کے پاس جائے گا بےساختہ زبان سے یہی نکلے گا اللہ کی قسم کی سازی جنت میں تم سے بہتر کوئی چیز نہیں مجھے تو جنت کی تمام چیزوں سے زیادہ تم سے محبت ہے، ہاں جنہیں ان کی بد عملیوں اور گناہوں نے تباہ کر رکھا ہے وہ جہنم میں جائیں گے اپنے اپنے اعمال کے مطابق آگ میں جلیں گے، بعض قدموں تک بعض آدھی پنڈلی تک بعض گھٹنے تک بعض آدھے بدن تک بعض گردن تک، صرف چہرہ باقی رہ جائے گا کیونکہ صورت کا بگاڑنا اللہ نے آگ پر حرام کردیا ہے، رسول کریم ﷺ اللہ تعالیٰ سے اپنی امت کے گنہگار دوزخیوں کی شفاعت کریں گے اللہ تعالیٰ فرمائے گا جاؤ جنہیں پہچانو انہیں نکال لاؤ، پھر یہ لوگ جہنم سے آزاد ہوں گے یہاں تک کہ ان میں سے کوئی باقی نہ رہے گا پھر تو شفاعت کی عام اجازت مل جائے گی کل انبیاء اور شہداء شفاعت کریں گے، جناب باری کا ارشاد ہوگا کہ جس کے دل میں ایک دینار برابر بھی ایمان پاؤ اسے نکال لاؤ، پس یہ لوگ بھی آزاد ہوں گے اور ان میں سے بھی کوئی باقی نہ رہے گا، پھر فرمائے گا انہیں بھی نکال لاؤ جس کے دل میں دو ثلث دینار کے برابر ایمان ہو، پھر فرمائے گا ایک ثلث والوں کو بھی، پھر ارشاد ہوگا چوتھائی دینار کے برابر والوں کو بھی، پھر فرمائے گا ایک قیراط کے برابر والوں کو بھی، پھر ارشاد ہوگا انہیں بھی جہنم سے نکال لاؤ جن کے دل میں رائی کے دانے کے برابر ایمان ہو، پس یہ سب بھی نکل آئیں گے اور ان میں سے ایک شخص بھی باقی نہ بچے گا، بلکہ جہنم میں ایک شخص بھی ایسا نہ رہ جائے گا جس نے خلوص کے ساتھ کوئی نیکی بھی اللہ کی فرمانبرداری کے ماتحت کی ہو، جتنے شفیع ہوں گے سب سفارش کرلیں گے یہاں تک کہ ابلیس کو بھی امید بندھ جائے گی اور وہ بھی گردن اٹھا اٹھا کر دیکھے گا کہ شاید کوئی میری بھی شفاعت کرے کیونکہ وہ اللہ کی رحمت کا جوش دیکھ رہا ہوگا اس کے بعد اللہ تعالیٰ ارحم الراحمین فرمائے گا کہ اب تو صرف میں ہی باقی رہ گیا اور میں تو سب سے زیادہ رحم و کرم کرنے والا ہوں، پس اپنا ہاتھ ڈال کر خود اللہ تبارک و تعالیٰ جہنم میں سے لوگوں کو نکالے گا جن کی تعداد سوائے اس کے اور کوئی نہیں جانتا وہ جلتے جھلستے ہوئے کوئلے کی طرح ہوگئے ہوں گے، انہیں نہر حیوان میں ڈالا جائے گا جہاں وہ اس طرح اگیں گے جس طرح دانہ اگتا ہے جو کسی دریا کے کنارے بویا گیا ہو کہ اس کا دھوپ کا رخ تو سبز رہتا ہے اور سائے کا رخ زرد رہتا ہے ان کی گردنوں پر تحریر ہوگا کہ یہ رحمان کے آزاد کردہ ہیں، اس تحریر سے انہیں دوسرے جنتی پہچان لیں گے۔ ایک مدت تک تو یونہی رہیں گے پھر اللہ تعالیٰ سے دعا کریں گے کہ اے اللہ یہ حروف بھی مٹ جائیں اللہ عزوجل یہ بھی مٹا دے گا یہ حدیث اور آگے بھی ہے اور بہت ہی غریب ہے اور اس کے بعض حصوں کے شواہد متفرق احادیث میں ملتے ہیں، اس کے بعض الفاظ منکر ہیں۔ اسماعیل بن رافع قاضی اہل مدینہ اس کی روایت کے ساتھ منفرد ہیں ان کو بعض محدثین نے تو ثقہ کہا ہے اور بعض نے ضعیف کہا ہے اور ان کی حدیث کی نسبت کئی ایک محدثین نے منکر ہونے کی صراحت کی ہے، جیسے امام احمد امام ابو حاتم امام عمرو بن علی، بعض نے ان کے بارے میں فرمایا ہے کہ یہ متروک ہیں، امام ابن عدی فرماتے ہیں ان کی سب احادیث میں نظر ہے مگر ان کی حدیثیں ضعیف احادیث میں لکھنے کے قابل ہیں، میں نے اس حدیث کی سندوں میں نے جو اختلاف کئی وجوہ سے ہے اسے علیحدہ ایک جزو میں بیان کردیا ہے اس میں شک نہیں کہ اس کا بیان بہت ہی غریب ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ بہت سی احادیث کو ملا کر ایک حدیث بنا لی ہے اسی وجہ سے اسے منکر کہا گیا ہے، میں نے اپنے استاد حافظ ابو الحجاج مزی سے سنا ہے کہ انہوں نے امام ولید بن مسلم کی ایک کتاب دیکھی ہے جس میں ان باتوں کے جو اس حدیث میں ہی ہیں شواہد بیان کئے ہیں واللہ اعلم۔
73
View Single
وَهُوَ ٱلَّذِي خَلَقَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضَ بِٱلۡحَقِّۖ وَيَوۡمَ يَقُولُ كُن فَيَكُونُۚ قَوۡلُهُ ٱلۡحَقُّۚ وَلَهُ ٱلۡمُلۡكُ يَوۡمَ يُنفَخُ فِي ٱلصُّورِۚ عَٰلِمُ ٱلۡغَيۡبِ وَٱلشَّهَٰدَةِۚ وَهُوَ ٱلۡحَكِيمُ ٱلۡخَبِيرُ
And it is He Who perfectly created the heavens and the earth; and when He will say “Be” on the Day (of resurrection) to all the extinct things, it will happen immediately; His Word is true; and it will be His kingship on the day when the Trumpet is blown; All Knowing of all the hidden and the revealed; and He only is the Wise, the Aware.
اور وہی (اللہ) ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو حق (پر مبنی تدبیر) کے ساتھ پیدا فرمایا ہے اور جس دن وہ فرمائے گا: ہوجا، تو وہ (روزِ محشر بپا) ہو جائے گا۔ اس کا فرمان حق ہے، اور اس دن اسی کی بادشاہی ہوگی جب (اسرافیل کے ذریعے صور میں پھونک ماری جائے گے، (وہی) ہر پوشیدہ اور ظاہر کا جاننے والا ہے، اور وہی بڑا حکمت والا خبردار ہے
Tafsir Ibn Kathir
The Parable of Those Who Revert to Disbelief After Faith and Good Deeds
As-Suddi said, "Some idolators said to some Muslims, `Follow us and abandon the religion of Muhammad ﷺ.' Allah sent down the revelation,
قُلْ أَنَدْعُواْ مِن دُونِ اللَّهِ مَا لاَ يَنفَعُنَا وَلاَ يَضُرُّنَا وَنُرَدُّ عَلَى أَعْقَـبِنَا
(Say: "Shall we invoke others besides Allah, that can do us neither good nor harm, and shall we turn on our heels...") by reverting to disbelief,
بَعْدَ إِذْ هَدَانَا اللَّهُ
("...after Allah has guided us.") for if we do this, our example will be like he whom the devils have caused to wander in confusion throughout the land. Allah says here, your example, if you revert to disbelief after you believed, is that of a man who went with some people on a road, but he lost his way and the devils led him to wander in confusion over the land. Meanwhile, his companions on the road were calling him to come to them saying, `Come back to us, for we are on the path.' But, he refused to go back to them. This is the example of he who follows the devil after recognizing Muhammad ﷺ, and Muhammad ﷺ is the person who is calling the people to the path, and the path is Islam." Ibn Jarir recorded this statement.Allah's statement, j
كَالَّذِى اسْتَهْوَتْهُ الشَّيَـطِينُ فِى الاٌّرْضِ
(Like one whom the Shayatin (devils) have made to go astray (wandering) through the land, ) refers to ghouls,
يَدْعُونَهُ
(calling him) by his name, his father's and his grandfather's names. So he follows the devils' call thinking that it is a path of guidance, but by the morning he will find himself destroyed and perhaps they eat him. The Jinns will then let him wander in a wasteland where he will die of thirst. This is the example of those who follow the false gods that are being worshipped instead of Allah, Most Honored. Ibn Jarir also recorded this. Allah said,
قُلْ إِنَّ هُدَى اللَّهِ هُوَ الْهُدَى
(Say: "Verily, Allah's guidance is the only guidance,") Allah said in other instances,
وَمَن يَهْدِ اللَّهُ فَمَا لَهُ مِن مُّضِلٍّ
(And whomsoever Allah guides, for him there will be none to misguide him.) 39:37, and,
إِن تَحْرِصْ عَلَى هُدَاهُمْ فَإِنَّ اللَّهَ لاَ يَهْدِى مَن يُضِلُّ وَمَا لَهُمْ مِّن نَّـصِرِينَ
(If you covet for their guidance, then verily Allah guides not those whom He makes to go astray. And they will have no helpers.) 17:37 Allah's statement,
وَأُمِرْنَا لِنُسْلِمَ لِرَبِّ الْعَـلَمِينَ
(and we have been commanded to submit to the Lord of all that exists.) means, we were commanded to worship Allah in sincerity to Him alone, without partners.
وَأَنْ أَقِيمُواْ الصَّلوةَ وَاتَّقُوهُ
(And to perform the Salah, and have Taqwa of Him.) meaning, we were commanded to perform the prayer and to fear Allah in all circumstances,
وَهُوَ الَّذِى إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ
(and it is He to Whom you shall be gathered.) on the Day of Resurrection.
وَهُوَ الَّذِى خَلَقَ السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضَ بِالْحَقِّ
(It is He Who has created the heavens and the earth in truth.) meaning, in justice, and He is their Originator and Owner Who governs their affairs and the affairs of their inhabitants. Allah said,
وَيَوْمَ يَقُولُ كُن فَيَكُونُ
(and on the Day He will say: "Be!" it shall become.) Referring to the Day of Resurrection, which will come faster than the blink of an eye, when Allah says to it, `Be.'
As-Sur; The Trumpet
Allah's statement,
يَوْمَ يُنفَخُ فِى الصُّوَرِ
(on the Day when the Sur will be blown...) refers to His statement,
وَيَوْمَ يَقُولُ كُن فَيَكُونُ
(and on the Day He will say: "Be!" it shall become.) as we stated above. Or, it means,
وَلَهُ الْمُلْكُ يَوْمَ يُنفَخُ فِى الصُّوَرِ
(His will be the dominion on the Day when the Sur will be blown.) Allah said in other Ayat,
لِّمَنِ الْمُلْكُ الْيَوْمَ لِلَّهِ الْوَحِدِ الْقَهَّارِ
(Whose is the kingdom this Day It is Allah's, the One, the Irresistible!) 40:16, and,
الْمُلْكُ يَوْمَئِذٍ الْحَقُّ لِلرَّحْمَـنِ وَكَانَ يَوْماً عَلَى الْكَـفِرِينَ عَسِيراً
(The sovereignty on that Day will be the true (sovereignty), belonging to the Most Beneficent (Allah), and it will be a hard Day for the disbelievers.) 25:26 The Sur is the Trumpet into which the angel Israfil, peace be upon him, will blow. The Messenger of Allah ﷺ said,
«إِنَّ إِسْرَافِيلَ قَدِ الْتَقَمَ الصُّورَ، وَحَنَى جَبْهَتَهُ يَنْتَظِرُ مَتَى يُؤْمَر فَيَنْفُخ»
(Israfil has held the Sur in his mouth and lowered his forehead, awaiting the command to blow in it.) Muslim recorded this Hadith in his Sahih. Imam Ahmad recorded that `Abdullah bin `Amr said, "A bedouin man said, `O Allah's Messenger! What is the Sur' He said,
«قَرْنٌ يُنْفَخُ فِيه»
(A Trumpet which will be blown.)"
اسلام کے سوا سب راستوں کی منزل جہنم ہے مشرکوں نے مسلمانوں سے کہا تھا کہ ہمارے دین میں آجاؤ اور اسلام چھوڑ دو اس پر یہ آیت اتری کہ کیا ہم بھی تمہاری طرح بےجان و بےنفع و نقصان معبودوں کو پوجنے لگیں ؟ اور جس کفر سے ہٹ گئے ہیں کیا پھر لوٹ کر اسی پر آجائیں ؟ اور تم جیسے ہی ہوجائیں ؟ بھلا یہ کیسے ہوسکتا ہے ؟ اب تو ہماری آنکھیں کھل گئیں صحیح راہ مل گئی اب اسے کیسے چھوڑ دیں ؟ اگر ہم ایسا کرلیں تو ہماری مثال اس شخص جیسی ہوگی جو لوگوں کے ساتھ سیدھے راستے پر جا رہا تھا مگر راستہ گم ہوگیا شیطان نے اسے پر یسان کردیا اور ادھر ادھر بھٹکانے لگا اس کے ساتھ جو راستے پر تھے وہ اسے پکارنے لگے کہ ہمارے ساتھ مل جا ہم صحیح راستے پر جا رہے ہیں یہی مثال اس شخص کی ہے جو آنحضرت ﷺ کو جان اور پہچان کے بعد مشرکوں کا ساتھ دے۔ آنحضرت ﷺ ہی پکارنے والے ہیں اور اسلام ہی سیدھا اور صحیح راستہ ہے، ابن عباس فرماتے ہیں یہ مثال اللہ تعالیٰ نے معبودان باطل کی طرف بلانے والوں کی بیان فرمائی ہے اور ان کی بھی جو اللہ کی طرف بلاتے ہیں، ایک شخص راستہ بھولتا ہے وہیں اس کے کان میں آواز آتی ہے کہ اے فلاں ادھر آ سیدھی راہ یہی ہے لیکن اس کے ساتھی جس غلط راستے پر لگ گئے ہیں وہ اسے تھپکتے ہیں اور کہتے ہیں یہی راستہ صحیح ہے اسی پر چلا چل۔ اب اگر یہ سچے شخص کو مانے گا تو راہ راست لگ جائے گا ورنہ بھٹکتا پھرے گا۔ اللہ کے سوا دوسروں کی عبادت کرنے والے اس امید میں ہوتے ہیں کہ ہم بھی کچھ ہیں لیکن مرنے کے بعد انہیں معلوم ہوجاتا ہے کہ وہ کچھ نہ تھے اس وقت بہت نادم ہوتے ہیں اور سوائے ہلاکت کے کوئی چیز انہیں دکھائی نہیں دیتی، یعنی جس طرح کسی جنگ میں گم شدہ انسان کو جنات اس کا نام لے کر آوازیں دے کر اسے اور غلط راستوں پر ڈال دیتے ہیں جہاں وہ مارا مارا پھرتا ہے اور بالآخر ہلاک اور تباہ ہوجاتا ہے اسی طرح جھوت معبودوں کا پجاری بھی برباد ہوجاتا ہے، ہدایت کے بعد گمراہ ہونے والے کی یہی مثال ہے جس راہ کی طرف شیطان اسے بلا رہے ہیں وہ تو تباہی اور بربادی کی راہ ہے اور جس راہ کی طرف اللہ بلا رہا ہے اور اس کے نیک بندے جس راہ کو سجھا رہے ہیں وہ ہدایت ہے گو وہ اپنے ساتھیوں کے مجمع میں سے نہ نکلے اور انہیں ہی راہ راست پر سمجھتا رہے اور وہ ساتھی بھی اپنے تئیں ہدایت یافتہ کہتے رہیں۔ لیکن یہ قول آیت کے لفظوں سے مطابق نہیں کیونکہ آیت میں موجد ہے کہ وہ اسے ہدایت کی طرف بلاتے ہیں پھر یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ وہ ضلالت ہو ؟ حیران پر زبر حال ہونے کی وجہ سے ہے صحیح مطلب یہی ہے کہ اس کے ساتھی جو ہدایت پر ہیں اب اسے غلط راہ پر دیکھتے ہیں تو اس کی خیر خواہی کے لئے پکار پکار کر کہتے ہیں کہ ہمارے پاس آ جا سیدھا راستہ یہی ہے لیکن یہ بدنصیب ان کی بات پر اعتماد نہیں کرتا بلکہ توجہ تک نہیں کرتا، سچ تو یہ ہے کہ ہدایت اللہ کے قبضے میں ہے، وہ جسے راہ دکھائے اسے کوئی گمراہ نہیں کرسکتا، چناچہ خود قرآن میں ہے کہ تو چاہے ان کی ہدایت پر حرص کرے لیکن جسے اللہ بھٹکا دے اسے وہی راہ پر لاسکتا ہے ایسوں کا کوئی مددگار نہیں، ہم سب کو یہی حکم کیا گیا ہے کہ ہم خلوص سے ساری عبادتیں محض اسی وحدہ لا شریک لہ کے لئے کریں اور یہ بھی حکم ہے کہ نمازیں قائم رکھیں اور ہر حال میں اس سے ڈرتے رہیں قیامت کے دن اسی کے سامنے حشر کیا جائے گا سب وہیں جمع کئے جائیں گے، اسی نے آسمان و زمین کو عدل کے ساتھ پیدا کیا ہے وہی مالک اور مدبر ہے قیامت کے دن فرمائے گا ہوجا تو ہوجائے گا ایک لمحہ بھی دیر نہ لگے گی یوم کا زبر یا تو وانقوہ پر عطف ہونے کی وجہ سے ہے یعنی اس دن سے ڈرو جس دن اللہ فرمائے گا ہو اور ہوجائے گا اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یوم کا زبر خلق السموات والارض پر عطف ہونے کی بنا پر ہو تو گویا ابتدا پیدائش کو بیان فرما کر پھر دوبارہ پیدائش کو بیان فرمایا یہی زیادہ مناسب ہے، یہ بھی ہوسکتا ہے کہ فعل مضمر ہو یعنی اذکر اور اس وجہ سے یوم پر زبر آیا ہو، اس کے بعد کے دونوں جملے محلاً مجرور ہیں، پس یہ دونوں جملے بھی محلاً مجرور ہیں۔ ان میں پہلی صفت یہ ہے کہ اللہ کا قول حق ہے رب کے فرمان سب کے سب سچ ہیں، تمام ملک کا وہی اکیلا مالک ہے، سب چیزیں اسی کی ملکیت ہیں یوم ینفخ میں یوم ممکن ہے کہ یوم یقول کا بدل ہو اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ولہ الملک کا ظرف ہو جیسے اور آیت میں ہے آیت (لِمَنِ الْمُلْكُ الْيَوْمَ) 40۔ غافر :16) آج کس کا ملک ہے ؟ صرف اللہ اکیلے غالب کا اور جیسے اس آیت میں ارشاد ہوا ہے آیت (اَلْمُلْكُ يَوْمَىِٕذِۨ الْحَقُّ للرَّحْمٰنِ ۭ وَكَانَ يَوْمًا عَلَي الْكٰفِرِيْنَ عَسِيْرًا) 25۔ الفرقان :26) یعنی ملک آج صرف رحمان کا ہے اور آج کا دن کفار پر بہت سخت ہے اور بھی اس طرح کی اور اس مضمون کی بہت سی آیتیں ہیں بعض کہتے ہیں صور جمع ہے صورۃ کی جیسے سورة شہر پناہ کو کہتے ہیں اور وہ جمع ہے سورة کی لیکن صحیح یہ ہے کہ مراد صور سے قرن ہے جسے حضرت اسرافیل پھونکین گے، امام بن جریر بھی اسی کو پسند فرماتے ہیں حضور کا ارشاد ہے کہ حضرت اسرافیل صور کو اپنے منہ میں لئے ہوئے اپنی پیشانی جھکائے ہوئے حکم الٰہی کے منتظر ہیں۔ مسند احمد میں ہے کہ ایک صہابی کے سوال پر حضور نے فرمایا صور ایک نر سنگھے جیسا ہے جو پھونکا جائے گا، طبرانی کی مطولات میں ہے حضور فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کی پیدائش کے بعدصور کو پیدا کیا اور اسے حضرت اسرافیل کو دیا وہ اسے لئے ہوئے ہیں اور عرش کی طرف نگاہ جمائے ہوئے ہیں کہ کب حکم ہو اور میں اسے پھونک دوں۔ حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں میں نے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ صور کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا ایک نرسنگھا ہے میں نے کہا وہ کیسا ہے ؟ آپ نے فرمایا بہت ہی بڑا ہے والالہ اس کے دائرے کی چوڑائی آسمان وہ زمین کے برابر ہے اس میں سے تین نفحے پھونکے جائیں گے، پہلا گھبراہٹ کا دوسرا بیہوشی کا تیسرا رب العلمین کے سامنے کھڑے ہونے کا۔ اول اول جناب باری حضرت اسرافیل کو صور پھونکنے کا حکم دے گا وہ پھونک دیں گے جس سے آسمان و زمین کی تمام مخلوق گھبرا اٹھے گی مگر جسے اللہ چاہے یہ صور بحکم رب دیر تک برابر پھونکا جائے گا اسی طرف اشارہ اس آیت میں ہے و ما ینظر ھو لاء الا صبیحتہ واہدۃ مالھا من فوق یعنی انہیں صرف بلند زور دار چیخ کا انتظار ہے پہاڑ اس صور سے مثل بادلوں کے چلنے پھرنے لگیں گے پھر ریت ریت ہوجائیں گے زمین میں بھونچال آجائے گا اور وہ اس طرح تھر تھرانے لگے گی جیسے کوئی کشتی دریا کے بیچ زبردست طوفان میں موجوں سے ادھر ادھر ہو رہی ہو اور غوطے کھا رہی ہو۔ مثل اس ہانڈی کے جو عرش میں لٹکی ہوئی ہے جسے ہوائیں ہلا جلا رہی ہیں اسی کا بیان اس آیت میں ہے یوم ترجف الراجفتہ الخ، اس دن زمین جنبش میں آجائے گی اور بہت ہی ہلنے لگے گی اس کے پیچھے ہی پیچھے لگنے والی آجائے گی دل دھرکنے لگیں گے اور کلیجے الٹنے لگیں گے لوگ ادھر ادھر گرنے لگیں گے مائیں اپنے دودھ پیتے بچوں کو بھول جائیں گی، حاملہ عورتوں کے حمل گرجائیں گے بجے بوڑھے ہوجائیں گے شیاطین مارے گھبراہٹ اور پریشانی کے بھاگتے بھاگتے زمین کے کناروں پر آجائیں گے، یہاں سے فرشتے انہیں مار مار کر ہٹائیں گے، لوگ پر یسان حال حواس باختہ ہوں گے کوئی جائے پناہ نظر نہ آئے گی امر الٰہی سے بچاؤ نہ ہو سکے گا ایک دوسرے کو آوازیں دیں گے لیکن سب اپنی اپنی مصیبت میں پڑے ہوئے ہوں گے کہ ناگہاں زمین پھتنی شروع ہوگی کہیں ادھر سے پھٹی کہیں ادھر سے پھتی اب تو ابتر حالت ہوجائے گی کلیجہ کپکپانے لگے گا دل الٹ جائے گا اور اتنا صدرمہ اور غم ہوگا جس کا اندازہ نہیں ہوسکتا، جو آسمان کی طرف نظر اٹھائیں گے تو دیکھیں گے کہ گھل رہا ہے اور وہ بھی پھٹ رہا ہے ستارے جھڑ رہے ہیں سورج چاند بےنور ہوگیا ہے، ہاں مردوں کو اس کا کچھ علم نہ ہوگا حضرت ابوہریرہ نے سوال کیا کہ یا رسول اللہ قرآن کی آیت میں جو فرمایا گیا ہے ففذع من فی السموات و من فی الارض الا من شاء اللہ یعنی زمین و آسمان کے سب لوگ گھبرا اٹھیں گے لیکن جنہیں اللہ چاہے اس سے مراد کون لوگ ہیں ؟ آپ نے فرمایا یہ شہید لوگ ہیں کہ وہ اللہ کے ہاں زندہ ہیں روزیاں پاتے ہیں اور سب زندہ لوگ گھبراہٹ میں ہوں گے لیکن اللہ تعلای انہیں پریشانی سے محفوظ رکھے گا یہ تو عذاب ہے جو وہ اپنی بدترین مخلوق پر بھیجے گا، اسی کا بیان آیت (يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمُ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ وَّخَلَقَ مِنْھَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيْرًا وَّنِسَاۗءً) 4۔ النسآء :1) میں ہے یعنی اے لوگو اپنے رب سے ڈرویاد رکھو قیامت کا زلزلہ بہت بڑی چیز ہے جس دن تم اسے دیکھ لو گے ہر ایک دودھ پلانے والی اپنے دودھ پیتے بچے سے غافل ہوجائے گی ہر حمل والی کا حمل گرجائے گا تو دیکھا جائے گا کہ سب لوگ بیہوش ہوں گے حالانکہ وہ نشہ پئے ہوئے نہیں بلکہ اللہ کے سخت عذابوں نے انہیں بدحواس کر رکھا ہے یہی حالت رہے گی جب تک اللہ چاہے بہت دیر تک یہی گھبراہٹ کا عالم رہے گا پھر اللہ تبارک و تعالیٰ حضرت جبرائیل کو بیہوشی کے نفحے کا حکم دے گا اس نفحہ کے پھونکتے ہی زمین و آسمان کی تمام مخلوق بیہوش ہوجائیں گی مگر جسے اللہ چاہے اور اچانک سب کے سب مرجائیں گے۔ حضرت ملک الموت اللہ تعالیٰ کے حضور میں حاضر ہو کر عرض کریں گے کہ اے باری تعالیٰ زمین آسمان کی تمام مخلوق مرگئی مگر جسے تو نے چاہا، اللہ تعالیٰ باوجود علم کے سوال کرے گا کہ یہ بتاؤ اب باقی کون کون ہے ؟ وہ جواب دین گے تو باقی ہے تو حی وقیوم ہے تجھ پر کبھی فنا نہیں اور عرش کے اٹھانے والے فرشتے اور جبرائیل و میکائیل اس وقت عرش کو زبان ملے گی اور وہ کہے گا اے پروردگار کیا جبرئل وہ میکائل بھی مریں گے ؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا میں نے اپنے عرش سے نیچے والوں پر سب پر موت لکھ دی ہے چناچہ یہ دونوں بھی فوت ہوجائیں گے پھر ملک الموت رب جبار وقہار کے پاس آئیں گے اور خبر دیں گے کہ جبرائیل و میکائیل بھی انتقال کر گئے۔ جناب اللہ علم کے باوجودہ پھر دریافت فرمائے گا کہ اب باقی کون ہے ؟ ملک الموت جواب دیں گے کہ باقی ایک تو تو ہے ایسی بقا ولا جس پر فنا ہے ہی نہیں اور تیرے عرش کے اٹھانے والے اللہ فرمائے گا عرش کے اٹھانے والے بھی مرجائیں گے اس وقت وہ بھی مرجائیں گے، پھر اللہ کے حکم سے حضرت اسرافیل سے صور کو عرش لے لے گا، ملک الموت حاضر ہو کر عرض کریں گے کہ یا اللہ عرش کے اٹھانے والے فرشتے بھی مرگئے اللہ تعالیٰ دریافت فرمائے گا حالانکہ وہ خوب جانتا ہے کہ اب باقی کون رہا ؟ ملک الموت جواب دیں گے کہ ایک تو جس پر موت ہے ہی نہیں اور ایک تیرا غلام میں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ فرمائے گا تو بھی میری مخلوق میں سے ایک مخلوق ہے تجھے میں نے ایک کام کیلئے پیدا کیا تھا جسے تو کرچکا اب تو بھی مرجا چناچہ وہ بھی مرجائیں گے۔ اب اللہ تعالیٰ اکیلا باقی رہ جائے گا جو غلبہ والا یگانگت والا بےماں باپ اور بےاولاد کے ہے۔ جس طرح مخلوق کے پیدا کرنے سے پہلے وہ یکتا اور اکیلا تھا۔ پھر آسمانوں اور زمینوں کو وہ اس طرح لپیٹ لے گا جیسے دفتری کاغذ کو لپیٹتا ہے پھر انہیں تین مرتبہ الٹ پلٹ کرے گا اور فرمائے گا میں جبار ہوں میں کبریائی والا وہں۔ پھر تین مرتبہ فرمائے گا آج ملک کا مالک کون ہے ؟ کوئی نہ ہوگا جو جواب دے تو خود ہی جواب دے گا اللہ واحد وقہار۔ قرآن میں ہے اس دن آسمان و زمین بدل دیئے جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ انہیں پھیلا دے گا اور کھینچ دے گا جس طرح چمڑا کھینچا جاتا ہے کہیں کوئی اونچ نیچ باقی نہ رہے گی، پھر ایک الٰہی آواز کے ساتھ ہی ساری مخلوق اس تبدیل شدہ زمین میں آجائے گی اندر والے اندر اور اوپر ولے اوپر پھر اللہ تعالیٰ اپنے عرش تلے سے اس پر بارش برسائے گا پھر آسمان کو حکم ہوگا اور وہ چالیس دن تک مینہ برسائے گا یہاں تک کہ پانی ان کے اوپر بارہ ہاتھ چڑھ جائے گا، پھر جسموں کو حکم ہوگا کہ وہ اگیں اور وہ اس طرح اگنے لگیں گے جیسے سبزیاں اور ترکاریاں اور وہ پورے پورے کامل جسم جیسے تھے ویسے ہی ہوجائیں گے پھر حکم فرمائے گا کہ میرے عرش کے اٹھانے والے فرشتے جی اٹھیں چناچہ وہ زندہ ہوجائیں گے پھر اسرافیل کو حکم ہوگا کہ صور لے کر منہ سے لگالیں۔ پھر فرمان ہوگا کہ جبرائیل و میکائیل زندہ ہوجائیں یہ دونوں بھی اٹھیں گے، پھر اللہ تعالیٰ روحوں کو بلائے گا مومنوں کو نورانی ارواح اور کفار کی ظلماتی روحیں آئیں گی انہیں لے کر اللہ تعالیٰ صور میں ڈال دے گا، پھر اسرافیل کو حکم ہوگا کہ اب صور پھونک دو چناچہ بعث کا صور پھونکا جائے گا جس سے ارواہ اس طرح نکلین گی جیسے شہید کی مکھیاں۔ تمام خلا ان سے بھر جائے گا پھر رب عالم کا ارشاد ہوگا کہ مجھے اپنی عزت و جلال کی قسم ہے ہر روح اپنے اپنے جسم میں چلی جائے، چنانجہ سب روحیں اپنے اپنے جسموں میں نتھنوں کے راستے چلی جائیں گی اور جس طرح زہر رگ وپے میں اثر کرجاتا ہے روہ روئیں روئیں میں دوڑ جائے گی، پھر زمین پھٹ جائے گی اور لوگ اپنی قبروں سے نکل کھڑے ہوں گے، سب سے پہلے میرے اوپر سے زمین شق ہوگی، لوگ نکل کر دوڑ تے ہوئے اپنے رب کی طرف چل دیں گے، اس وقت کافر کہیں گے کہ آج کا دن بڑا بھاری ہے، سب ننگے پیروں ننگے بدن بےختنہ ہوں گے ایک میدان میں بقدر ستر سال کے کھڑے رہیں گے، نہ ان کی طرف نگاہ اٹھائی جائے گی نہ ان کے درمیان فیصلے کئے جائیں گے، لوگ بےطرح گریہ وزاری میں مبتلا ہوں گے یہاں تک کہ آنسو ختم ہوجائیں گے اور خون آنکھوں سے نکلنے لگے گا، پسینہ اس قدر آئے گا کہ منہ تک یا ٹھوریوں تک اس میں ڈوبے ہوئے ہوں گے، آپس میں کہیں گے آؤ کسی سے کہیں کہ وہ ہماری شفاعت کرے، ہمارے پروردگار سے عرض کرے کہ وہ آئے اور ہمارے فیصلے کرے تو کہیں گے کہ اس کے لائق ہمارے باپ حضرت آدم ؑ سے بہتر کون ہوگا ؟ جنہیں اللہ نے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا، اپنی روح ان میں پھونکی اور آمنے سامنے ان سے باتین کیں۔ چناچہ سب مل کر آپ کے پا سجأایں گے اور سفاش طلب کریں گے لیکن حضرت آدم ؑ صاف انکار کر جائیں گے اور فرمائیں گے مجھ میں اتنی قابلیت نہیں پھر وہ اسی طرح ایک ایک نبی کے پاس جائیں گے اور سب انکار کر دین گے۔ حضور فرماتے ہیں پھر سب کے سب یرے پاس آئیں گے، میں عرش کے آگے جاؤں گا اور سجدے میں گر پڑوں گا، اللہ تعالیٰ میرے پاس فرشتہ بھیجے گا وہ میرا بازو تھام کر مجھے سجدے سے اٹھائے گا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا اے محمد ﷺ میں جواب دوں گا کہ ہاں اے میرے رب، اللہ عزوجل باو وجد عالم کل ہونے کے مجھے سے دریافت فرمائے گا کہ کیا بات ہے ؟ میں کہوں گا یا اللہ تو نے مجھ سے شفاعت کی قبولیت کا وعدہ فرمایا ہے اپنی مخلوق کے بارے میں میری شفاعت کو قبول فرما اور ان کے فیصلوں کے لئے تشریف لے آ۔ رب العالمین فرمائے گا میں نے تیری سفارش قبول کی اور میں آ کر تم میں فیصلے کئے دیتا ہوں۔ میں لوٹ کر لوگوں کے ساتھ ٹھہر جاؤں گا کہ ناگہاں آسمانوں سے ایک بہت بڑا دھماکہ سنائی دے گا جس سے لوگ خوفزدہ ہوجائیں گے اتنے میں آسمان کے فرشتے اترنے شروع ہوں گے جن کی تعداد کل انسانوں اور سارے جنوں کے برابر ہوگی۔ جب وہ زمین کے قریب پہنچیں گے تو ان کے نور سے زمین جگمگا اٹھے گی وہ صفیں باندھ کر کھڑے ہوجائیں گے ہم سب ان سے دریافت کریں گے کہ کیا تم میں ہمارا رب آیا ہے ؟ وہ جواب دیں گے نہیں پھر اس تعداد سے بھی زیادہ تعداد میں اور فرشتے آئیں گے۔ آخر ہمارا رب عزوجل ابر کے سائے میں نزول فرمائے گا اور فرشتے بھی اس کے ساتھ ہوں گے اس کا عرش اس دن آٹھ فرشتے اٹھائے ہوئے ہوں گے اس وقت عرش کے اٹھانے والے جار فرشتے ہیں ان کے قدم آخری نیچے والی زمین کی تہ میں ہیں زمین و آسمان ان کے نصف جسم کے مقابلے میں ہے ان کے کندھوں پر عرش الٰہی ہے۔ ان کی زبانین ہر وقت اللہ تبارک و تعالیٰ کی پاکیزگی کے بیان میں تر ہیں۔ ان کی تسبیح یہ ہے سبحان ذی العرش والجبروت سبحان ذی الملک والملکوت سبحان الحی الذی لا یموت سبحان الذی یمیت الخلائق ولا یموت سبوح قدوس قدوس قدوس سبہان ربنا الاعلی رب الملا ئکتہ والروہ سبحان ربنا الا علی الذی یمیت الخلائق ولا یموت پھر اللہ جس جگہ چاہے گا پانی کرسی زمین پر رکھے گا اور بلند آواز سے فرمائے گا اے جنو اور انسانو میں نے تمہیں جس دن سے پیدا کیا تھا اس دن سے آج تک میں خاموش رہا تمہاری باتیں سنتا رہا تمہارے اعمال دیکھتا رہا سنو تمہارے اعمال نامے میرے سامنے پڑھے جائیں گے جو اس میں بھلائی پائے وہ اللہ کی حمد کرے اور جو اس میں اور کچھ پائے وہ اپنی جان کو ملامت کرے، پھر بحکم الہ جہنم میں سے ایک دیھکتی ہوئی گردن نکلے گی اللہ تعالیٰ فرمائے گا اے آدم کی اوالد کیا میں نے تم سے عہد نہیں لیا تھا کہ شیطان کی پوجانہ کرنا وہ تمہارا کھلا دشمن ہے ؟ اور صرف میری ہی عبادت کرتے رہنا یہی سیدھی راہ ہے، شیطان نے تو بہت سی مخلوق کو گومراہ کردیا ہے کیا تمہیں عقل نہیں ؟ یہ ہے وہ جہنم جس کا تم وعدہ دیئے جاتے تھے اور جسے تم جھٹلاتے رہے اے گنہگارو ! آج تم نیک بندوں سے الگ ہوجاؤ، اس فرمان کے ساتھ ہی بد لوگ نیکوں سے الگ ہوجائیں گے تمام امتیں گھٹنوں کے بل گرپڑیں گی جیسے قرآن کریم میں ہے کہ تو ہر امت کو گھٹنوں کے بل گرے ہوئے دیکھے گا ہر امت اپنے نامہ اعمال کی طرف بلائی جائے گی، پھر اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں فیصلے کرے گا پہلے جانوروں میں فیصلے ہوں گے یہاں تک کہ بےسینگ والی بکری کا بدلہ سینگ والی بکری سے لیا جائے گا، جب کسی کا کسی کے ذمہ کوئی دعوی باقی نہ رہے گا تو اللہ تعالیٰ انہیں فرمائے گا تم سب مٹی ہوجاؤ، اس فرمان کے ساتھ ہی تمام جانور مٹی بن جائیں گے، اس وقت کافر بھی یہی آرزو کریں گے کہ کاش ہم بھی مٹی ہوجاتے، پھر اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کے فیصلے شروع کرے گا سب سے پہلے قتل و خون کا فیصلہ ہوگا، اللہ تعالیٰ اپنی راہ کے شہیدوں کو بھی بلائے گا ان کے ہاتھوں سے قتل شدہ لوگ اپنا سر اٹھائے ہوئے حاضر ہوں گے رگوں سے خون بہ رہا ہوگا کہیں گے کہ باری تعالیٰ دریافت فرما کہ اس نے مجھے کیوں قتل کیا ؟ پس باوجود علم کے اللہ عزوجل مجاہدین سے پوچھے گا کہ تم نے انہیں کیوں قتل کیا ؟ وہ جواب دیں گے اس لئے کہ تیری بات بلند ہو اور تیری عزت ہو اللہ عالی فرمائے گا تم سجے ہو اسی وقت ان کا چہرہ نورانی ہوجائے گا سورج کی طرح چمکنے لگے گا اور فرشتے انہیں اپنے جھرمٹ میں لے کر جنت کی طرف چلیں گے پھر باقی کے اور تمام قاتل و مقتول اسی طرح پیش ہوں گے اور جو نفس ظلم سے قتل کیا گیا ہے اس کا بدلہ ظالم قاتل سے دلوایا جائے گا اسی طرح ہر مظلوم کو ظالم سے بدلہ دلوایا جائے گا یہاں تک کہ جو شخص دودھ میں پانی ملا کر بیچتا تھا اسے فرمایا جائے گا کہ اپنے دودھ سے پانی جدا کر دے، ان فیصلوں کے بع دایک منادی باآواز بلند ندا کرے گا جسے سب سنیں گے، ہر عابد اپنے معبود کے پیچھے ہولے اور اللہ کے سوا جس نے کسی اور کی عبادت کی ہے وہ جہنم میں چل دے، سنو اگر یہ سچے معبود ہوتے تو جہنم میں واردنہ ہوتے یہ سب تو جہنم میں ہی ہمیشہ رہیں گے اب صرف باایمان لوگ باقی رہیں گے ان میں منافقین بھی شامل ہوں گے اللہ تعالیٰ ان کے پاس جس ہیئت میں چاہے تشریف لائے گا اور ان سے فرمائے گا کہ سب اپنے معبودوں کے پیچھے چلے گئے تم بھی جس کی عباد کرتے تھے اس کے پاس چلے جاؤ۔ یہ جواب دیں گے کہ واللہ ہمارا تو کوئی معبود نہیں بجزالہ العالمین کے۔ ہم نے کسی اور کی عبادت نہیں کی۔ اب ان کے لئے پنڈلی کھول دی جائے گی اور اللہ تعالیٰ اپنی عظمت کی تجلیاں ان پر ڈالے گا جس سے یہ اللہ تعالیٰ کو پہچان لیں گے اور سجدے میں گرپڑیں گے لیکن منافق سجدہ نہیں کرسکیں گے یہ اوندھے اور الٹے ہوجائیں گے اور اپنی کمر کے بل گرپڑیں گے۔ ان کی پیٹھ سیدھی کردی جائے گی مڑ نہیں سکیں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ مومنوں کو سجدے سے اٹھنے کا حکم دے گا اور جہنم پر پل صراط رکھی جائے گی جو تلوار جیسی تیز دھار والی ہوگی اور جگہ جگہ آنکڑے اور کانٹے ہوں گے بڑی پھسلنی اور خطرانک ہوگی ایماندار تو اس پر سے اتنی سی دیر میں گذر جائیں گے جتنی دیر میں کوئی آنکھ بند کر کے کھول دے جس طرح بجلی گذرجاتی ہے اور جیسے ہوا تیزی سے چلتی ہے۔ یا جیسے تیز روگھوڑے یا اونٹ ہوتے ہیں یا خوب بھاگنے والے آدمی ہوتے ہیں بعض صحیح سالم گذر جائیں گے بعض زخمی ہو کر پار اتر جائیں گے بعض کٹ کر جہنم میں گرجائیں گے جتنی لوگ جب جنت کے پاس پہنچیں گے تو کہیں گے کون ہمارے رب سے ہماری سفارش کرے کہ ہم جنت میں چلے جائیں ؟ دوسرے لوگ جواب دیں گے اس کے حقدار تمہارے باپ حضرت آدم ؑ سے زیادہ اور کون ہوں گے ؟ جنہیں رب ذوالکریم نے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا اور اپنی روح ان میں پھونکی اور آمنے سامنے باتیں کیں پس سب لوگ آپ کے پاس آئیں گے اور آپ سے سفارش کرانی چاہیں گے لیکن اپنا گناہ یاد کر کے جواب دیں گے کہ میں اس لائق نہیں ہوں تم نوح ؑ کے پاس جاؤ وہ اللہ کے پہلے رسول ہیں، لوگ حضرت نوح کے پاس آ کر ان سے یہ درخواست کریں گے لیکن وہ بھی اپنے گناہ کو یاد کر کے یہی فرمائیں گے اور کہیں گے کہ تم سب حضرت نوح کے پاس آ کر ان سے یہ درخواست کریں گے لیکن وہ بھی اپنے گناہ کو یاد کر کے یہی فرمائیں گے اور کہیں گے کہ تم سب حضرت ابراہیم کے پاس جاؤ وہ خلیل اللہ ہیں لوگ آپ کے پاس آئیں گے اور یہی کہیں گے آپ بھی اپنے گناہ کو یاد کر کے یہی جواب دیں گے اور حضرت موسیٰ کے پاس جانے کی ہدایت کریں گے کہ اللہ نے انہیں سرگوشیاں کرتے ہوئے نزدیک کیا تھا وہ کلیم اللہ ہیں ان پر توراۃ نازل فرمائی گئی تھی لوگ آپ کے پاس آئیں گے اور آپ سے طلب سفارش کریں گے آپ بھی اپنے گناہ کا ذکر کریں گے اور روح اللہ اور کلمتہ اللہ حضرت عیسیٰ ابن مریم کے پاس بھیجیں گے لیکن حضرت عیسیٰ ؑ فرمائیں گے میں اس قابل نہیں تم حضرت محمد ﷺ کے پاس جاؤ۔ حضور فرماتے ہیں پس سب لوگ میرے پاس آئیں گے، میں اللہ کے سامنے تین شفاعتیں کروں گا میں جاؤں گا جنت کے پاس پہنچ کر دروازے کا کنڈا پکڑ کر کھٹکھٹاؤں گا مجھے مرحبا کہا جائے گا اور خوش آمدید کہا جائے گا میں جنت میں جا کر اپنے رب کو دیکھ کر سجدے میں گر پڑوں گا اور وہ وہ حمد و ثنا جناب باری کی بیان کروں گا جو کسی نے نہ کی ہو، پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا اے محمد ﷺ اپنا سر اٹھاؤ شفاعت کرو قبول کی جائے گی مانگو ملے گا میں سر اٹھاؤں گا اللہ تعالیٰ تو دلوں کے بھید بھی جانتا ہے تاہم وہ دریافت فرمائے گا کہ کیا کہنا چاہتے ہو ؟ میں کہوں گا اے اللہ تو نے میری شفاعت کے قبول فرمانے کا وعدہ کیا ہے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ میری شفاعت ان جنتیوں کے بارے میں قبول فرمائے گا اور انہیں جنت کے داخلے کی اجازت ہوجائے گی۔ واللہ جیسے تم اپنے گھر سے اپنے بال بچوں سے آگاہ ہو اس سے بہت زیادہ یہ جنتی اپنی جگہ اور اپنی بیویوں سے واقف ہوں گے ہر ایک اپنے اپنے ٹھکانے پہنچ جائے گا ستر ستر حوریں اور دو دو عورتیں ملیں گی، یہ دونوں عورتیں اپنی کی ہوئی نیکیوں کے سبب پر فضیلت چہروں کی مالک ہوں گی جتنی ان میں سے ایک کے پاس جائے گا جو یاقوت کے بالا خانے میں سونے کے جڑاؤ تخت پر ستر ریشمی حلے پہنے ہوئے ہوگی اس کا جسم اس قدر نورانی ہوگا کہ ایک طرف اگر جنتی اپنا ہاتھ رکھے تو دوسری طرف سے نظر آئے گا اس کی صفائی کی وجہ سے اس کی پنڈلی کا گودا گوشت پوست میں نظر آ رہا ہوگا اس کا دل اس کا آئینہ ہوگا نہ یہ اس سے بس کرے نہ وہ اس سے اکتائے، جب کبھی اس کے پاس جائے گا باکرہ پائے گا، نہ یہ تھکے نہ اسے تکلیف ہو، نہ کوئی مکرو چیز ہو، یہ اپنی اسی مشغولی میں مزے میں اور لطف و راحت میں اللہ جانے کتنی مدت گزار دے گا جو ایک آواز آئے گی کہ مانا نہ تمہارا دل اس سے بھرتا ہے نہ ان کا دل تم سے بھرے گا۔ لیکن اللہ نے تمہارے لئے اور بیویاں بھی رکھی ہوئی ہیں۔ اب یہ اوروں کے پاس جائے گا جس کے پاس جائے گا بےساختہ زبان سے یہی نکلے گا اللہ کی قسم کی سازی جنت میں تم سے بہتر کوئی چیز نہیں مجھے تو جنت کی تمام چیزوں سے زیادہ تم سے محبت ہے، ہاں جنہیں ان کی بد عملیوں اور گناہوں نے تباہ کر رکھا ہے وہ جہنم میں جائیں گے اپنے اپنے اعمال کے مطابق آگ میں جلیں گے، بعض قدموں تک بعض آدھی پنڈلی تک بعض گھٹنے تک بعض آدھے بدن تک بعض گردن تک، صرف چہرہ باقی رہ جائے گا کیونکہ صورت کا بگاڑنا اللہ نے آگ پر حرام کردیا ہے، رسول کریم ﷺ اللہ تعالیٰ سے اپنی امت کے گنہگار دوزخیوں کی شفاعت کریں گے اللہ تعالیٰ فرمائے گا جاؤ جنہیں پہچانو انہیں نکال لاؤ، پھر یہ لوگ جہنم سے آزاد ہوں گے یہاں تک کہ ان میں سے کوئی باقی نہ رہے گا پھر تو شفاعت کی عام اجازت مل جائے گی کل انبیاء اور شہداء شفاعت کریں گے، جناب باری کا ارشاد ہوگا کہ جس کے دل میں ایک دینار برابر بھی ایمان پاؤ اسے نکال لاؤ، پس یہ لوگ بھی آزاد ہوں گے اور ان میں سے بھی کوئی باقی نہ رہے گا، پھر فرمائے گا انہیں بھی نکال لاؤ جس کے دل میں دو ثلث دینار کے برابر ایمان ہو، پھر فرمائے گا ایک ثلث والوں کو بھی، پھر ارشاد ہوگا چوتھائی دینار کے برابر والوں کو بھی، پھر فرمائے گا ایک قیراط کے برابر والوں کو بھی، پھر ارشاد ہوگا انہیں بھی جہنم سے نکال لاؤ جن کے دل میں رائی کے دانے کے برابر ایمان ہو، پس یہ سب بھی نکل آئیں گے اور ان میں سے ایک شخص بھی باقی نہ بچے گا، بلکہ جہنم میں ایک شخص بھی ایسا نہ رہ جائے گا جس نے خلوص کے ساتھ کوئی نیکی بھی اللہ کی فرمانبرداری کے ماتحت کی ہو، جتنے شفیع ہوں گے سب سفارش کرلیں گے یہاں تک کہ ابلیس کو بھی امید بندھ جائے گی اور وہ بھی گردن اٹھا اٹھا کر دیکھے گا کہ شاید کوئی میری بھی شفاعت کرے کیونکہ وہ اللہ کی رحمت کا جوش دیکھ رہا ہوگا اس کے بعد اللہ تعالیٰ ارحم الراحمین فرمائے گا کہ اب تو صرف میں ہی باقی رہ گیا اور میں تو سب سے زیادہ رحم و کرم کرنے والا ہوں، پس اپنا ہاتھ ڈال کر خود اللہ تبارک و تعالیٰ جہنم میں سے لوگوں کو نکالے گا جن کی تعداد سوائے اس کے اور کوئی نہیں جانتا وہ جلتے جھلستے ہوئے کوئلے کی طرح ہوگئے ہوں گے، انہیں نہر حیوان میں ڈالا جائے گا جہاں وہ اس طرح اگیں گے جس طرح دانہ اگتا ہے جو کسی دریا کے کنارے بویا گیا ہو کہ اس کا دھوپ کا رخ تو سبز رہتا ہے اور سائے کا رخ زرد رہتا ہے ان کی گردنوں پر تحریر ہوگا کہ یہ رحمان کے آزاد کردہ ہیں، اس تحریر سے انہیں دوسرے جنتی پہچان لیں گے۔ ایک مدت تک تو یونہی رہیں گے پھر اللہ تعالیٰ سے دعا کریں گے کہ اے اللہ یہ حروف بھی مٹ جائیں اللہ عزوجل یہ بھی مٹا دے گا یہ حدیث اور آگے بھی ہے اور بہت ہی غریب ہے اور اس کے بعض حصوں کے شواہد متفرق احادیث میں ملتے ہیں، اس کے بعض الفاظ منکر ہیں۔ اسماعیل بن رافع قاضی اہل مدینہ اس کی روایت کے ساتھ منفرد ہیں ان کو بعض محدثین نے تو ثقہ کہا ہے اور بعض نے ضعیف کہا ہے اور ان کی حدیث کی نسبت کئی ایک محدثین نے منکر ہونے کی صراحت کی ہے، جیسے امام احمد امام ابو حاتم امام عمرو بن علی، بعض نے ان کے بارے میں فرمایا ہے کہ یہ متروک ہیں، امام ابن عدی فرماتے ہیں ان کی سب احادیث میں نظر ہے مگر ان کی حدیثیں ضعیف احادیث میں لکھنے کے قابل ہیں، میں نے اس حدیث کی سندوں میں نے جو اختلاف کئی وجوہ سے ہے اسے علیحدہ ایک جزو میں بیان کردیا ہے اس میں شک نہیں کہ اس کا بیان بہت ہی غریب ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ بہت سی احادیث کو ملا کر ایک حدیث بنا لی ہے اسی وجہ سے اسے منکر کہا گیا ہے، میں نے اپنے استاد حافظ ابو الحجاج مزی سے سنا ہے کہ انہوں نے امام ولید بن مسلم کی ایک کتاب دیکھی ہے جس میں ان باتوں کے جو اس حدیث میں ہی ہیں شواہد بیان کئے ہیں واللہ اعلم۔
74
View Single
۞وَإِذۡ قَالَ إِبۡرَٰهِيمُ لِأَبِيهِ ءَازَرَ أَتَتَّخِذُ أَصۡنَامًا ءَالِهَةً إِنِّيٓ أَرَىٰكَ وَقَوۡمَكَ فِي ضَلَٰلٖ مُّبِينٖ
And remember when Ibrahim said to his father (paternal uncle) Azar, “What! You appoint idols as Gods? Indeed I find you and your people in open error.” (Prophet Ibrahim was rightly guided since birth).
اور (یاد کیجئے) جب ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ آزر (جو حقیقت میں چچا تھا محاورۂ عرب میں اسے باپ کہا گیا ہے) سے کہا: کیا تم بتوں کو معبود بناتے ہو؟ بیشک میں تمہیں اور تمہاری قوم کو صریح گمراہی میں (مبتلا) دیکھتا ہوں
Tafsir Ibn Kathir
Ibrahim Advises his Father
Ibrahim advised, discouraged and forbade his father from worshipping idols, just as Allah stated,
وَإِذْ قَالَ إِبْرَهِيمُ لاًّبِيهِ ءَازَرَ أَتَتَّخِذُ أَصْنَاماً ءَالِهَةً
(And (remember) when Ibrahim said to his father Azar: "Do you take idols as gods") meaning, do you worship an idol instead of Allah
إِنِّى أَرَاكَ وَقَوْمَكَ
(Verily, I see you and your people...) who follow your path,
فِى ضَلَـلٍ مُّبِينٍ
(in manifest error) wandering in confusion unaware of where to go. Therefore, you are in disarray and ignorance, and this fact is clear to all those who have sound reason. Allah also said,
وَاذْكُرْ فِى الْكِتَـبِ إِبْرَهِيمَ إِنَّهُ كَانَ صِدِّيقاً نَّبِيّاً - إِذْ قَالَ لاًّبِيهِ يأَبَتِ لِمَ تَعْبُدُ مَا لاَ يَسْمَعُ وَلاَ يَبْصِرُ وَلاَ يُغْنِى عَنكَ شَيْئاً - يأَبَتِ إِنِّى قَدْ جَآءَنِى مِنَ الْعِلْمِ مَا لَمْ يَأْتِكَ فَاتَّبِعْنِى أَهْدِكَ صِرَاطاً سَوِيّاً - يأَبَتِ لاَ تَعْبُدِ الشَّيْطَـنَ إِنَّ الشَّيْطَـنَ كَانَ لِلرَّحْمَـنِ عَصِيّاً - يأَبَتِ إِنِّى أَخَافُ أَن يَمَسَّكَ عَذَابٌ مِّنَ الرَّحْمَـنِ فَتَكُونَ لِلشَّيْطَـنِ وَلِيّاً - قَالَ أَرَاغِبٌ أَنتَ عَنْ آلِهَتِى يإِبْرَهِيمُ لَئِن لَّمْ تَنتَهِ لأَرْجُمَنَّكَ وَاهْجُرْنِى مَلِيّاً - قَالَ سَلَـمٌ عَلَيْكَ سَأَسْتَغْفِرُ لَكَ رَبِّي إِنَّهُ كَانَ بِى حَفِيّاً - وَأَعْتَزِلُكُمْ وَمَا تَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّهِ وَأَدْعُو رَبِّى عَسَى أَلاَّ أَكُونَ بِدُعَآءِ رَبِّى شَقِيًّا
(And mention in the Book (the Qur'an, the story of) Ibrahim. Verily! He was a man of truth, a Prophet. When he said to his father: "O my father! Why do you worship that which hears not, sees not and cannot avail you in anything O my father! Verily! There has come to me of knowledge that which came not unto you. So follow me. I will guide you to a straight path. O my father! Worship not Shaytan. Verily! Shaytan has been a rebel against the Most Beneficent (Allah). O my father! Verily! I fear lest a torment from the Most Beneficent (Allah) overtakes you, so that you become a companion of Shaytan (in the Hell-fire)." He (the father) said: "Do you reject my gods, O Ibrahim If you stop not (this), I will indeed stone you. So get away from me safely before I punish you." Ibrahim said: "Peace be on you! I will ask forgiveness of my Lord for you. Verily! He is unto me, Ever Most Gracious. And I shall turn away from you and from those whom you invoke besides Allah. And I shall call on my Lord; and I hope that I shall not be unanswered in my invocation to my Lord.") 19:41-48 Ibrahim continued asking for forgiveness for his father for the rest of his father's life. When his father died an idolator and Ibrahim realized this fact, he stopped asking Allah for forgiveness for him and disassociated himself from him. Allah said,
وَمَا كَانَ اسْتِغْفَارُ إِبْرَهِيمَ لاًّبِيهِ إِلاَّ عَن مَّوْعِدَةٍ وَعَدَهَآ إِيَّاهُ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُ أَنَّهُ عَدُوٌّ لِلَّهِ تَبَرَّأَ مِنْهُ إِنَّ إِبْرَهِيمَ لأَوَّاهٌ حَلِيمٌ
(And invoking for his father's forgiveness was only because of a promise he had made to him. But when it became clear to him that he was an enemy to Allah, he dissociated himself from him. Verily Ibrahim was patient in supplication and forbearing.) 9:114. It was recorded in the Sahih that Ibrahim will meet his father Azar on the Day of Resurrection and Azar will say to him, "My son! This Day, I will not disobey you." Ibrahim will say, "O Lord! You promised me not to disgrace me on the Day they are resurrected; and what will be more disgraceful to me than cursing and dishonoring my father" Then Allah will say, "O Ibrahim! Look behind you!" He will look and there he will see (that his father was changed into) a male hyena covered in dung, which will be caught by the legs and thrown in the (Hell) Fire."
Tawhid Becomes Apparent to Ibrahim
Allah's statement,
وَكَذَلِكَ نُرِى إِبْرَهِيمَ مَلَكُوتَ السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ
(Thus did We show Ibrahim the kingdom of the heavens and the earth...) 6:75, means, when he contemplated about the creation of the heaven and earth, We showed Ibrahim the proofs of Allah's Oneness over His dominion and His creation, which indicate that there is no god or Lord except Allah. Allah said in other Ayat;
قُلِ انظُرُواْ مَاذَا فِى السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ
(Say: "Behold all that is in the heavens and the earth.") 10:101, and,
أَفَلَمْ يَرَوْاْ إِلَى مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ مِّنَ السَّمَآءِ وَالاٌّرْضِ إِن نَّشَأْ نَخْسِفْ بِهِمُ الاٌّرْضَ أَوْ نُسْقِطْ عَلَيْهِمْ كِسَفاً مِّنَ السَّمَآءِ إِنَّ فِى ذَلِكَ لاّيَةً لِّكُلِّ عَبْدٍ مُّنِيبٍ
(See they not what is before them and what is behind them, of the heaven and the earth If We will, We sink the earth with them, or cause a piece of the sky to fall upon them. Verily, in this is a sign for every servant who turns to Allah.) 34:9 Allah said next,
فَلَمَّا جَنَّ عَلَيْهِ الَّيْلُ
(When the night overcame him) covered him with darkness,
رَأَى كَوْكَباً
(He saw a Kawkab) a star.
قَالَ هَـذَا رَبِّى فَلَمَّآ أَفَلَ
(He said: "This is my lord." But when it Afala,) meaning, set, he said,
لا أُحِبُّ الاٌّفِلِينَ
(I like not those that set.) Qatadah commented, "Ibrahim knew that his Lord is Eternal and never ceases."
فَلَمَّآ رَأَى الْقَمَرَ بَازِغاً قَالَ هَـذَا رَبِّى فَلَمَّآ أَفَلَ قَالَ لَئِن لَّمْ يَهْدِنِى رَبِّى لاّكُونَنَّ مِنَ الْقَوْمِ الضَّآلِّينَ
رَبِّى
(When he saw the moon rising up, he said: "This is my lord." But when it set, he said: "Unless my Lord guides me, I shall surely be among the misguided people." When he saw the sun rising up, he said: "This is my lord.") this radiating, rising star is my lord,
هَـذَآ أَكْبَرُ
(This is greater) bigger than the star and the moon, and more radiant.
فَلَمَّآ أَفَلَتْ
(But when it Afalat) set,
قَالَ يقَوْمِ إِنِّى بَرِىءٌ مِّمَّا تُشْرِكُونَإِنِّى وَجَّهْتُ وَجْهِىَ
(he said: "O my people! I am indeed free from all that you join as partners in worship with Allah. Verily, I have turned my face..."), meaning, I have purified my religion and made my worship sincere,
لِلَّذِى فَطَرَ السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضَ
("towards Him Who has created the heavens and the earth,") Who originated them and shaped them without precedence,
حَنِيفاً
(Hanifan) avoiding Shirk and embracing Tawhid. This is why he said next,
وَمَآ أَنَاْ مِنَ الْمُشْرِكِينَ
("and I am not of the idolators.")
Prophet Ibrahim Debates with his People
We should note here that, in these Ayat, Ibrahim, peace be upon him, was debating with his people, explaining to them the error of their way in worshipping idols and images. In the first case with his father, Ibrahim explained to his people their error in worshipping the idols of earth, which they made in the shape of heavenly angels, so that they intercede on their behalf with the Glorious Creator. His people thought that they are too insignificant to worship Allah directly, and this is why they turned to the worship of angels as intercessors with Allah for their provisions, gaining victory and attaining their various needs. He then explained to them the error and deviation of worshipping the seven planets, which they said were the Moon, Mercury, Venus, the Sun, Mars, Jupiter and Saturn. The brightest of these objects and the most honored to them was the Sun, the Moon then Venus. Ibrahim, may Allah's peace and blessings be on him, first proved that Venus is not worthy of being worshipped, for it is subservient to a term and course appointed that it does not defy, nor swerving right or left. Venus does not have any say in its affairs, for it is only a heavenly object that Allah created and made bright out of His wisdom. Venus rises from the east and sets in the west where it disappears from sight. This rotation is repeated the next night, and so forth. Such an object is not worthy of being a god. Ibrahim then went on to mention the Moon in the same manner in which he mentioned Venus, and then the Sun. When he proved that these three objects were not gods, although they are the brightest objects the eyes can see,
قَالَ يقَوْمِ إِنِّى بَرِىءٌ مِّمَّا تُشْرِكُونَ
(he said: "O my people! I am indeed free from all that you join as partners in worship with Allah.") meaning, I am free from worshipping these objects and from taking them as protectors. Therefore, if they are indeed gods as you claim, then all of you bring your plot against me and do not give me respite.
إِنِّى وَجَّهْتُ وَجْهِىَ لِلَّذِى فَطَرَ السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضَ حَنِيفاً وَمَآ أَنَاْ مِنَ الْمُشْرِكِينَ
(Verily, I have turned my face towards Him Who has created the heavens and the earth, Hanifan, and I am not one of the idolators.) meaning, I worship the Creator of these things, Who originated and decreed them, and Who governs their affairs and made them subservient. It is He in Whose Hand is the dominion of all things, and He is the Creator, Lord, King and God of all things in existence. In another Ayah, Allah said؛
إِنَّ رَبَّكُمُ اللَّهُ الَّذِى خَلَقَ السَمَـوَتِ وَالاٌّرْضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى الْعَرْشِ يُغْشِى الَّيْلَ النَّهَارَ يَطْلُبُهُ حَثِيثًا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ وَالنُّجُومَ مُسَخَّرَتٍ بِأَمْرِهِ أَلاَ لَهُ الْخَلْقُ وَالاٌّمْرُ تَبَارَكَ اللَّهُ رَبُّ الْعَـلَمِينَ
(Indeed your Lord is Allah, Who created the heavens and the earth in six Days, and then He Istawa (rose over) the Throne. He brings the night as a cover over the day, seeking it rapidly, and (He created) the sun, the moon, the stars, subjecting them to His command. Surely, His is the creation and commandment. Blessed be Allah, the Lord of all that exists!) 7:54. Allah described Prophet Ibrahim,
وَلَقَدْ ءَاتَيْنَآ إِبْرَهِيمَ رُشْدَهُ مِن قَبْلُ وَكُنَّا بِهِ عَـلِمِينَ - إِذْ قَالَ لاًّبِيهِ وَقَوْمِهِ مَا هَـذِهِ التَّمَـثِيلُ الَّتِى أَنتُمْ لَهَا عَـكِفُونَ
(And indeed We bestowed aforetime on Ibrahim his (portion of) guidance, and We were well-acquainted with him. When he said to his father and his people: "What are these images, to which you are devoted") 21:51-52. These Ayat indicate that Ibrahim was debating with his people about the Shirk they practiced.
ابراہیم ؑ اور آزر میں مکالمہ حضرت عباس کا قول ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہم السلام) کے والد کا نام آزر نہ تھا بلکہ تارخ تھا۔ آزر سے مراد بت ہے۔ آپ کی والدہ کا نام مثلے تھا آپ کی بیوی صاحبہ کا نام سارہ تھا۔ حضرت اسماعیل کی والدہ کا نام ہاجرہ تھا یہ حضرت ابراہیم کی سریہ تھیں۔ علماء نسب میں سے اوروں کا بھی قول ہے کہ آپ کے والد کا نام تارخ تھا۔ مجاہد اور سدی فرماتے ہیں آزر اس بت کا نام تھا جس کے پجاری اور خادم حضرت ابراہیم ؑ کے والد تھے ہوسکتا ہے کہ اس بت کے نام کی وجہ سے انہیں بھی اسی نام سے یاد کیا جاتا ہو اور یہی نام مشہور ہوگیا ہو۔ واللہ اعلم۔ ابن جریر فرماتے ہیں کہ آزر کا لفظ ان میں بطور عیب گیری کے استعمال کیا جاتا تھا اس کے معنی ٹیڑھے آدمی کے ہیں۔ لیکن اس کلام کی سند نہیں نہ امام صاحب نے اسے کسی سے نقل کیا ہے۔ سلیمان کا قول ہے کہ اس کے معنی ٹیڑھے پن کے ہیں اور یہی سب سے سخت لفظ ہے جو خلیل اللہ کی زبان سے نکلا۔ ابن جریر کا فرمان ہے کہ ٹھیک بات یہی ہے کہ حضرت ابراہیم کے والد کا نام آزر تھا اور یہ جو عام تاریخ داں کہتے ہیں کہ ان کا نام تارخ تھا اس کا جواب یہ ہے کہ ممکن ہے دونوں نام ہوں یا ایک تو نام ہو اور دوسرا لقب ہو۔ بات تو یہ ٹھیک اور نہایت قوی ہے واللہ اعلم۔ آزَر اور آزُر دونوں قرأتیں ہیں پچھلی قرأت یعنی راء کے زبر کے ساتھ تو جمہور کی ہے۔ پیش والی قرأت میں ندا کی وجہ سے پیش ہے اور زبر والی قرأت لابیہ سے بدل ہونے کی ہے اور ممکن ہے کہ عطف بیان ہو اور یہی زیادہ مشابہ ہے۔ یہ لفظ علمیت اور عجمیت کی بنا پر غیر منصرف ہے بعض لوگ اسے صفت بتلاتے ہیں اس بنا پر بھی یہ غیر منصرف رہے گا جیسے احمر اور اسود۔ بعض اسے اتتخذ کا معمول مان کر منصوب کہتے ہیں۔ گویا حضرت ابراہیم یوں فرماتے کہ ہم لوگ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے جب ہم مدینہ شریف سے باہر نکل گئے تو ہم نے دیکھا کہ ایک اونٹ سوار بہت تیزی سے اپنے اونٹ کو دوڑتا ہوا آ رہا ہے حضور نے فرمایا تمہاری طرف ہی آ رہا ہے اس نے پہنچ کر سلام کیا ہم نے جواب دیا حضور نے ان سے پوچھا کہاں سے آ رہے ہو ؟ اس نے کہا اپنے گھر سے، اپنے بال بچوں میں سے، اپنے کنبے قبیلے میں سے۔ دریافت فرمایا کیا ارادہ ہے ؟ کیسے نکلے ہو ؟ جواب دیا اللہ کے رسول ﷺ کی جستجو میں۔ آپ نے فرمایا پھر تو تم اپنے مقصد میں کامیاب ہوگئے میں ہی اللہ کا رسول ہوں۔ اس نے خوش ہو کر کہا یا رسول اللہ مجھے سمجھائیے کہ ایمان کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا یہ کہہ دو کہ اللہ ایک ہے اور محمد اللہ کے رسول ہیں اور نمازوں کو قائم رکھے اور زکوٰۃ ادا کرتا رہے اور رمصان کے روزے رکھے اور بیت اللہ کا حج کرے اس نے کہا مجھے سب باتیں منظور ہیں میں سب اقرار کرتا ہوں، اتنے میں ان کے اونٹ کا پاؤں ایک سوراخ میں گرپڑا اور اونٹ ایک دم سے جھٹکالے کر جھک گیا اور وہ اوپر سے گرے اور سر کے بل گرے اور اسی وقت روح پرواز کرگئی حضور نے ان کے گرتے ہی فرمایا کہ دیکھو انہیں سنبھالو اسی وقت حضرت عمار بن یاسر اور حضرت حذیفہ بن یمان اپنے اونٹوں سے کود پڑے اور انہیں اٹھا لیا دیکھا تو روح جسم سے علیحدہ ہوچکی ہے حضور سے کہنے لگے یا رسول اللہ یہ تو فوت ہوگئے آپ نے منہ پھیرلیا پھر ذرا سی دیر میں فرمانے لگے تم نے مجھے منہ موڑتے ہوئے دیکھا ہوگا اس کی وجہ یہ تھی کہ میں نے دیکھا دو فرشتے آئے تھے اور مرحوم کے منہ میں جنت کے پھول دے رہے تھے اس سے میں نے جان لیا کہ بھوکے فوت ہوئے ہیں۔ سنو یہ انہیں لوگوں میں سے ہیں جن کی بابت اللہ تبارک و تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ جو لوگ ایمان لائے اور اپنے ایمان کو ظلم سے نہ ملایا ان کے لئے امن وامان ہے اور وہ راہ یافتہ ہیں۔ اجھا اپنے پیارے بھائی کو دفن کرو چناچہ ہم انہیں پانی کے پاس اٹھا لے گئے غسل دیا خوشبو ملی اور قبر کی طرف جنازہ لے کر چلے آنحضرت ﷺ قبر کے کنارے بیٹھ گئے اور فرمانے لگے بغلی قبر بناؤ سیدھی نہ بناؤ بغلی قبر ہمارے لئے ہے اور سیدھی ہمارے سوا اوروں کے لئے ہے، لوگو یہ وہ شخص ہے جس نے عمل بہت ہی کم کیا اور ثواب زیادہ پایا۔ یہ ایک اعرابی تھے انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ یا رسول اللہ ﷺ اس سلسلہ کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے میں اپنے گھر سے اپنے بال بجوں سے اپنے مال سے اپنے کنبے قبیلے سے اس لئے اور صرف اس لئے الگ ہوا ہوں کہ آپ کی ہدایت کو قبول کروں آپ کی سنتوں پر علم کروں آپ کی حدیثیں لوں۔ یا رسول اللہ ﷺ میں گھاس پھوس کھاتا ہوا آپ تک پہنچا ہوں۔ آپ مجھ اسلام سکھائیے حضور نے سکھایا اس نے قبول کیا ہم سب ان کے ارد گرد بھیڑ لگائے کھڑے تھے اتنے میں جنگلی چوہے کے بل میں ان کے اونٹ کا پاؤں پڑگیا یہ گرپڑے اور گردن ٹوٹ گئی آپ نے فرمایا اس اللہ کی قسم جس نے مجھے حق کے ساتھ مبعوث فرمایا یہ سچ مچ فی الواقع اپنے گھر سے اپنی اہل و عیال سے اور اپنے مال مویشی سے صرف میری تابعداری کی دھن میں نکلا تھا اور وہ اس بات میں بھی سچے تھے کہ وہ میرے پاس نہیں پہنچے یہاں تک کہ ان کا کھانا صرف سبز پتے اور گھاس رہ گیا تھا تم نے ایسے لوگ بھی سنے ہوں گے جو عمل کم کرتے ہیں اور ثواب بہت پاتے ہیں۔ یہ بزرگ انہی میں سے تھے۔ تم نے سنا ہوگا کہ باری تعالیٰ فرماتا ہے جو ایمان لائیں اور ظلم نہ کریں وہ امن و ہدایت والے ہیں یہ انہی میں سے تھے ؓ پھر فرمایا ابراہیم ؑ کو یہ دلیلیں ہم نے سکھائیں جن سے وہ اپنی قوم پر غالب آگئے جیسے انہوں نے ایک اللہ کے پرستار کا امن اور اس کی ہدایت بیان فرمائی اور خود اللہ کی طرف سے اس بات کی تصدیق کی گئی آیت (نَرْفَعُ دَرَجٰتٍ مَّنْ نَّشَاۗءُ ۭاِنَّ رَبَّكَ حَكِيْمٌ عَلِيْمٌ) 6۔ الانعام :83) کی یہی ایک قرأت ہے، اضافت کے ساتھ اور بےاضافت دونوں طرح پڑھا یا گیا ہے جیسے سورة یوسف میں ہے اور معنی دونوں قرأتوں کے قریب قریب برابر ہیں۔ تیرے رب کے اقوال رحمت والے اور اس کے کام بھی حکمت والے ہیں۔ وہ صحیح راستے والوں کو اور گمراہوں کو بخوبی جانتا ہے جیسے فرمان ہے جن پر تیرے کی ٹھنڈک میں نے اپنے سینے میں محسوس کی پھر تو تمام چیزیں میرے سامنے کھل گئیں اور میں نے اسے پہچان لیا ولیکون کا واؤ زائدہ ہے۔ جیسے ولتستبین میں اور کہا گیا ہے کہ وہ اپنی جگہ پر ہے یعنی اس لئے کہ وہ عالم اور یقین والے ہوجائیں، رات کے اندھیرے میں خلیل اللہ ستارے کو دیکھ کر فرماتے ہیں کہ یہ میرا رب ہے جب وہ غروب ہوجاتا ہے تو آپ سمجھ لیتے ہیں کہ یہ پروردگار نہیں کیونکہ رب دوام والا ہوتا ہے وہ زوال اور انقلاب سے پاک ہوتا ہے۔ پھر جب چاند چڑھتا ہے تو یہی فرماتے ہیں جب وہ بھی غروب ہوجاتا ہے تو اس سے بھی یکسوئی کرلیتے ہیں۔ پھر سورج کے طلوع ہونے پر اسے سب سے بڑا پا کر سب سے زیادہ روشن دیکھ کر یہی کہتے ہیں جب وہ بھی ڈھل جاتا ہے تو اللہ کے سوا تمام معبودوں سے بیزار ہوجاتے ہیں۔ اور پکار اٹھتے ہیں کہ میں تو اپنی عبادت کے لئے اللہ کی ذات کو مخصوص کرتا ہوں جس نے ابتداء میں بغیر کسی نمونے کے آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کیا ہے میں شرک سے ہٹ کر توحید کی طرف لوٹتا ہوں اور میں مشرکوں میں شامل رہنا نہیں چاہتا، مفسرین ان آیتوں کی بابت دو خیال ظاہر کرتے ہیں۔ ایک تو یہ کہ یہ بطور نظر اور غور و فکر کے تھا دوسرے یہ کہ یہ سب بطور مناظرہ کے تھا۔ ابن عباس سے دوسری بات ہی مروی ہے ابن جریر میں بھی اسی کو پسند کیا گیا ہے اس کی دلیل میں آپ کا یہ قول لاتے ہیں کہ اگر مجھے میرا رب ہدایت نہ کرتا تو میں گمراہ میں ہوجاتا۔ امام محمد بن اسہاق ؒ نے ایک لمبا قصہ نقل کیا ہے جس میں ہے کہ نمرود بن کنعان بادشاہ سے یہ کہا گیا تھا کہ ایک بچہ پیدا ہونے والا ہے جس کے ہاتھوں تیرا تخت تارج ہوگا تو اس نے حکم دے دیا تھا کہ اس سال میری مملکت میں جتنے بچے پیدا ہوں سب قتل کردیئے جائیں حضرت ابراہیم ؑ کی والدہ نے جب یہ سنا تو کجھ وقت قبل شہر کے باہر ایک غار میں چلی گئیں، وہیں حضرت خلیل اللہ پیدا ہوئے، تو جب آپ اس غار سے باہر نکلے تب آپ نے یہ سب فرمایا تھا جس کا ذکر ان آیتوں میں ہے، بالکل صحیح بات یہ ہے کہ یہ گفتگو اللہ کے خلیل حضرت ابراہیم ؑ کی مناظرانہ تھی اپنی قوم کی باطل پرستی کا احوال اللہ کو سمجھا رہے تھے، اول تو آپ نے اپنے والد کی خطا ظاہر کی کہ وہ زمین کے ان بتوں کی پوجا کرتے تھے جنہیں انہوں نے فرشتوں وغیرہ کی شکل پر بنا لیا تھا اور جنہیں وہ سفارشی سمجھ رہے تھے۔ یہ لوگ بزعم خود اپنے آپ کو اس قابل نہیں جانتے تھے کہ براہ راست اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں۔ اس لئے بطور وسیلے کے فرشتوں کو پوجتے تھے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے ان کے بارے میں کہہ سن کر ان کی روزی وغیرہ بڑھوا دیں اور ان کی حاجتیں پوری کرا دیں پھر جن آسمانی چیزوں کو یہ پوجتے تھے ان میں ان کی خطا بیان کی۔ یہ ستارہ پرست بھی تھے ساتوں ستاروں کو جو چلنے پھرنے والے ہیں۔ پوجتے تھے، چاند، عطارد، زہرہ، سورج، مریخ، مستری، زحل۔ ان کے نزدیک سب سے زیادہ روشن سورج ہے، پھر چاند پھر زہرہ پس آپ نے آدنیٰ سے شروع کیا اور اعلی تک لے گئے۔ پہلے تو زہرہ کی نسبت فرمایا کہ وہ پوجا کے قابل نہیں کیونکہ یہ دوسرے کے قابو میں ہیں۔ یہ مقررہ جال سے چلتا۔ مقررہ جگہ پر چلتا ہے دائیں بائیں ذرا بھی کھسک نہیں سکتا۔ تو جبکہ وہ خود بیشمار چیزوں میں سے ایک چیز ہے۔ اس میں روشنی بھی اللہ کی دی ہوئی ہے یہ مشرق سے نکلتا ہے پھر چلتا پھرتا رہتا ہے اور ڈوب جاتا ہے پھر دوسری رات اسی طرح ظاہر ہوتا ہے تو ایسی چیز معبود ہونے کی صلاحیت کیا رکھتی ہے ؟ پھر اس سے زیادہ روشن چیز یعنی چاند کو دیکھتے ہیں اور اس کو بھی عبادت کے قابل نہ ہونا ظاہر فرما کر پھر سورج کو لیا اور اس کی مجبوری اور اس کی غلامی اور مسکینی کا اظہار کیا اور کہا کہ لوگو میں تمہارے ان شرکاء سے، ان کی عبادت سے، ان کی عقیدت سے، ان کی محبت سے دور ہوں۔ سنو اگر یہ سچے معبود ہیں اور کچھ قدرت رکھتے ہیں تو ان سب کو ملا لو اور جو تم سب سے ہو سکے میرے خلاف کرلو۔ میں تو اس اللہ کا عابد ہوں جو ان مصنوعات کا صانع جو ان مخلوقات کا خالق ہے جو ہر چیز کا مالک رب اور سچا معبود ہے جیسے قرآنی ارشاد ہے کہ تمہارا رب صرف وہی ہے جس نے چھ دن میں آسمان و زمین کو پیدا کیا پھر عرش پر مستوی ہوگیا رات کو دن سے دن کو رات سے ڈھانپتا ہے ایک دوسرے کے برابر پیچھے جا آ رہا ہے سورج چاند اور تارے سب اس کے فرمان کے تحت ہیں خلق و امر اسی کی ملکیت میں ہیں وہ رب العالمین ہے بڑی برکتوں والا ہے، یہ تو بالکل ناممکن سا معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ اسللام کے یہ سب فرمان بطور واقعہ کے ہوں اور حقیقت میں آپ اللہ کو پہچانتے ہی نہ ہوں۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے آیت (وَلَـقَدْ اٰتَيْنَآ اِبْرٰهِيْمَ رُشْدَهٗ مِنْ قَبْلُ وَكُنَّا بِهٖ عٰلِمِيْنَ) 21۔ الانبیآء :51) یعنی ہم نے پہلے سے حضرت ابراہیم کو سیدھا راستہ دے دیا تھا اور ہم اس سے خوب واقف تھے جبکہ اس نے اپنے باپ سے اور اپنی قوم سے فرمایا یہ صورتیں کیا ہیں جن کی تم پرستش اور مجاورت کر رہے ہو ؟ اور آیت میں ہے آیت (اِنَّ اِبْرٰهِيْمَ كَانَ اُمَّةً قَانِتًا لِّلّٰهِ حَنِيْفًا ۭ وَلَمْ يَكُ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ) 16۔ النحل :120) ابراہیم تو بڑے خلوص والے اللہ کے سچے فرمانبردار تھے وہ مشرکوں میں سے نہ تھے اللہ کی نعمتوں کے شکر گزار تھے اللہ نے انہیں پسند فرما لیا تھا اور صراط مستقیم کی ہدایت دی تھی دنیا کی بھلائیاں دی تھیں اور آخرت میں بھی انہیں صالح لوگوں میں ملا دیا تھا اب ہم تیری طرف وحی کر رہے ہیں کہ ابراہیم حنیف کے دین کا تابعدار رہ وہ مشرک نہ تھا، بخاری و مسلم میں ہے،حضور ﷺ فرماتے ہیں کہ ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے۔ صحیح مسلم کی حدیث قدسی میں ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں نے اپنے بندوں کو موحد پیدا کیا ہے۔ کتاب اللہ میں ہے آیت (فِطْرَتَ اللّٰهِ الَّتِيْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا ۭ لَا تَبْدِيْلَ لِخَلْقِ اللّٰهِ ۭ ذٰلِكَ الدِّيْنُ الْـقَيِّمُ ڎ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ) 30۔ الروم :30) اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو فطرت اللہ پر پیدا کیا ہے، اللہ کی خلق کی تبدیلی نہیں اور آیت میں ہے تیرے رب نے آدم کی پیٹھ سے ان کی اولاد نکال کر انہیں ان کی جانوں پر گواہ کیا کہ کیا میں تمہارا سب کا رب نہیں ہوں ؟ سب نے اقرار کیا کہ ہاں بیشک تو ہمارا رب ہے پس یہی فطرت اللہ ہے جیسے کہ اس کا ثبوت عنقریب آئے گا انشاء اللہ پس جبکہ تمام مخلوق کی پیدائش دین اسلام پر اللہ کی سچی توحید پر ہے تو ابراہیم خلیل اللہ ؑ جن کی توحید اور اللہ پرستی کا ثنا خواں خود کلام رحمان ہے ان کی نسبت کون کہہ سکتا ہے کہ آپ اللہ جل شانہ سے آگاہ نہ تھے اور کبھی تارے کو اور کبھی چاند سورج کو اپنا اللہ سمجھ رہے تھے۔ نہیں نہیں آپ کی فطرت سالم تھی آپ کی عقل صحیح تھی آپ اللہ کے سچے دین پر اور خالص توحید پر تھے۔ آپ کا یہ تمام کلام بحیثیت مناظرہ تھا اور اس کی زبر دست دلیل اس کے بعد کی آیت ہے۔
75
View Single
وَكَذَٰلِكَ نُرِيٓ إِبۡرَٰهِيمَ مَلَكُوتَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ وَلِيَكُونَ مِنَ ٱلۡمُوقِنِينَ
And likewise We showed Ibrahim the entire kingdom of the heavens and the earth and so that he be of those who believe as eyewitnesses.
اور اسی طرح ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کو آسمانوں اور زمین کی تمام بادشاہتیں (یعنی عجائباتِ خلق) دکھائیں اور (یہ) اس لئے کہ وہ عین الیقین والوں میں ہوجائے
Tafsir Ibn Kathir
Ibrahim Advises his Father
Ibrahim advised, discouraged and forbade his father from worshipping idols, just as Allah stated,
وَإِذْ قَالَ إِبْرَهِيمُ لاًّبِيهِ ءَازَرَ أَتَتَّخِذُ أَصْنَاماً ءَالِهَةً
(And (remember) when Ibrahim said to his father Azar: "Do you take idols as gods") meaning, do you worship an idol instead of Allah
إِنِّى أَرَاكَ وَقَوْمَكَ
(Verily, I see you and your people...) who follow your path,
فِى ضَلَـلٍ مُّبِينٍ
(in manifest error) wandering in confusion unaware of where to go. Therefore, you are in disarray and ignorance, and this fact is clear to all those who have sound reason. Allah also said,
وَاذْكُرْ فِى الْكِتَـبِ إِبْرَهِيمَ إِنَّهُ كَانَ صِدِّيقاً نَّبِيّاً - إِذْ قَالَ لاًّبِيهِ يأَبَتِ لِمَ تَعْبُدُ مَا لاَ يَسْمَعُ وَلاَ يَبْصِرُ وَلاَ يُغْنِى عَنكَ شَيْئاً - يأَبَتِ إِنِّى قَدْ جَآءَنِى مِنَ الْعِلْمِ مَا لَمْ يَأْتِكَ فَاتَّبِعْنِى أَهْدِكَ صِرَاطاً سَوِيّاً - يأَبَتِ لاَ تَعْبُدِ الشَّيْطَـنَ إِنَّ الشَّيْطَـنَ كَانَ لِلرَّحْمَـنِ عَصِيّاً - يأَبَتِ إِنِّى أَخَافُ أَن يَمَسَّكَ عَذَابٌ مِّنَ الرَّحْمَـنِ فَتَكُونَ لِلشَّيْطَـنِ وَلِيّاً - قَالَ أَرَاغِبٌ أَنتَ عَنْ آلِهَتِى يإِبْرَهِيمُ لَئِن لَّمْ تَنتَهِ لأَرْجُمَنَّكَ وَاهْجُرْنِى مَلِيّاً - قَالَ سَلَـمٌ عَلَيْكَ سَأَسْتَغْفِرُ لَكَ رَبِّي إِنَّهُ كَانَ بِى حَفِيّاً - وَأَعْتَزِلُكُمْ وَمَا تَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّهِ وَأَدْعُو رَبِّى عَسَى أَلاَّ أَكُونَ بِدُعَآءِ رَبِّى شَقِيًّا
(And mention in the Book (the Qur'an, the story of) Ibrahim. Verily! He was a man of truth, a Prophet. When he said to his father: "O my father! Why do you worship that which hears not, sees not and cannot avail you in anything O my father! Verily! There has come to me of knowledge that which came not unto you. So follow me. I will guide you to a straight path. O my father! Worship not Shaytan. Verily! Shaytan has been a rebel against the Most Beneficent (Allah). O my father! Verily! I fear lest a torment from the Most Beneficent (Allah) overtakes you, so that you become a companion of Shaytan (in the Hell-fire)." He (the father) said: "Do you reject my gods, O Ibrahim If you stop not (this), I will indeed stone you. So get away from me safely before I punish you." Ibrahim said: "Peace be on you! I will ask forgiveness of my Lord for you. Verily! He is unto me, Ever Most Gracious. And I shall turn away from you and from those whom you invoke besides Allah. And I shall call on my Lord; and I hope that I shall not be unanswered in my invocation to my Lord.") 19:41-48 Ibrahim continued asking for forgiveness for his father for the rest of his father's life. When his father died an idolator and Ibrahim realized this fact, he stopped asking Allah for forgiveness for him and disassociated himself from him. Allah said,
وَمَا كَانَ اسْتِغْفَارُ إِبْرَهِيمَ لاًّبِيهِ إِلاَّ عَن مَّوْعِدَةٍ وَعَدَهَآ إِيَّاهُ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُ أَنَّهُ عَدُوٌّ لِلَّهِ تَبَرَّأَ مِنْهُ إِنَّ إِبْرَهِيمَ لأَوَّاهٌ حَلِيمٌ
(And invoking for his father's forgiveness was only because of a promise he had made to him. But when it became clear to him that he was an enemy to Allah, he dissociated himself from him. Verily Ibrahim was patient in supplication and forbearing.) 9:114. It was recorded in the Sahih that Ibrahim will meet his father Azar on the Day of Resurrection and Azar will say to him, "My son! This Day, I will not disobey you." Ibrahim will say, "O Lord! You promised me not to disgrace me on the Day they are resurrected; and what will be more disgraceful to me than cursing and dishonoring my father" Then Allah will say, "O Ibrahim! Look behind you!" He will look and there he will see (that his father was changed into) a male hyena covered in dung, which will be caught by the legs and thrown in the (Hell) Fire."
Tawhid Becomes Apparent to Ibrahim
Allah's statement,
وَكَذَلِكَ نُرِى إِبْرَهِيمَ مَلَكُوتَ السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ
(Thus did We show Ibrahim the kingdom of the heavens and the earth...) 6:75, means, when he contemplated about the creation of the heaven and earth, We showed Ibrahim the proofs of Allah's Oneness over His dominion and His creation, which indicate that there is no god or Lord except Allah. Allah said in other Ayat;
قُلِ انظُرُواْ مَاذَا فِى السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ
(Say: "Behold all that is in the heavens and the earth.") 10:101, and,
أَفَلَمْ يَرَوْاْ إِلَى مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ مِّنَ السَّمَآءِ وَالاٌّرْضِ إِن نَّشَأْ نَخْسِفْ بِهِمُ الاٌّرْضَ أَوْ نُسْقِطْ عَلَيْهِمْ كِسَفاً مِّنَ السَّمَآءِ إِنَّ فِى ذَلِكَ لاّيَةً لِّكُلِّ عَبْدٍ مُّنِيبٍ
(See they not what is before them and what is behind them, of the heaven and the earth If We will, We sink the earth with them, or cause a piece of the sky to fall upon them. Verily, in this is a sign for every servant who turns to Allah.) 34:9 Allah said next,
فَلَمَّا جَنَّ عَلَيْهِ الَّيْلُ
(When the night overcame him) covered him with darkness,
رَأَى كَوْكَباً
(He saw a Kawkab) a star.
قَالَ هَـذَا رَبِّى فَلَمَّآ أَفَلَ
(He said: "This is my lord." But when it Afala,) meaning, set, he said,
لا أُحِبُّ الاٌّفِلِينَ
(I like not those that set.) Qatadah commented, "Ibrahim knew that his Lord is Eternal and never ceases."
فَلَمَّآ رَأَى الْقَمَرَ بَازِغاً قَالَ هَـذَا رَبِّى فَلَمَّآ أَفَلَ قَالَ لَئِن لَّمْ يَهْدِنِى رَبِّى لاّكُونَنَّ مِنَ الْقَوْمِ الضَّآلِّينَ
رَبِّى
(When he saw the moon rising up, he said: "This is my lord." But when it set, he said: "Unless my Lord guides me, I shall surely be among the misguided people." When he saw the sun rising up, he said: "This is my lord.") this radiating, rising star is my lord,
هَـذَآ أَكْبَرُ
(This is greater) bigger than the star and the moon, and more radiant.
فَلَمَّآ أَفَلَتْ
(But when it Afalat) set,
قَالَ يقَوْمِ إِنِّى بَرِىءٌ مِّمَّا تُشْرِكُونَإِنِّى وَجَّهْتُ وَجْهِىَ
(he said: "O my people! I am indeed free from all that you join as partners in worship with Allah. Verily, I have turned my face..."), meaning, I have purified my religion and made my worship sincere,
لِلَّذِى فَطَرَ السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضَ
("towards Him Who has created the heavens and the earth,") Who originated them and shaped them without precedence,
حَنِيفاً
(Hanifan) avoiding Shirk and embracing Tawhid. This is why he said next,
وَمَآ أَنَاْ مِنَ الْمُشْرِكِينَ
("and I am not of the idolators.")
Prophet Ibrahim Debates with his People
We should note here that, in these Ayat, Ibrahim, peace be upon him, was debating with his people, explaining to them the error of their way in worshipping idols and images. In the first case with his father, Ibrahim explained to his people their error in worshipping the idols of earth, which they made in the shape of heavenly angels, so that they intercede on their behalf with the Glorious Creator. His people thought that they are too insignificant to worship Allah directly, and this is why they turned to the worship of angels as intercessors with Allah for their provisions, gaining victory and attaining their various needs. He then explained to them the error and deviation of worshipping the seven planets, which they said were the Moon, Mercury, Venus, the Sun, Mars, Jupiter and Saturn. The brightest of these objects and the most honored to them was the Sun, the Moon then Venus. Ibrahim, may Allah's peace and blessings be on him, first proved that Venus is not worthy of being worshipped, for it is subservient to a term and course appointed that it does not defy, nor swerving right or left. Venus does not have any say in its affairs, for it is only a heavenly object that Allah created and made bright out of His wisdom. Venus rises from the east and sets in the west where it disappears from sight. This rotation is repeated the next night, and so forth. Such an object is not worthy of being a god. Ibrahim then went on to mention the Moon in the same manner in which he mentioned Venus, and then the Sun. When he proved that these three objects were not gods, although they are the brightest objects the eyes can see,
قَالَ يقَوْمِ إِنِّى بَرِىءٌ مِّمَّا تُشْرِكُونَ
(he said: "O my people! I am indeed free from all that you join as partners in worship with Allah.") meaning, I am free from worshipping these objects and from taking them as protectors. Therefore, if they are indeed gods as you claim, then all of you bring your plot against me and do not give me respite.
إِنِّى وَجَّهْتُ وَجْهِىَ لِلَّذِى فَطَرَ السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضَ حَنِيفاً وَمَآ أَنَاْ مِنَ الْمُشْرِكِينَ
(Verily, I have turned my face towards Him Who has created the heavens and the earth, Hanifan, and I am not one of the idolators.) meaning, I worship the Creator of these things, Who originated and decreed them, and Who governs their affairs and made them subservient. It is He in Whose Hand is the dominion of all things, and He is the Creator, Lord, King and God of all things in existence. In another Ayah, Allah said؛
إِنَّ رَبَّكُمُ اللَّهُ الَّذِى خَلَقَ السَمَـوَتِ وَالاٌّرْضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى الْعَرْشِ يُغْشِى الَّيْلَ النَّهَارَ يَطْلُبُهُ حَثِيثًا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ وَالنُّجُومَ مُسَخَّرَتٍ بِأَمْرِهِ أَلاَ لَهُ الْخَلْقُ وَالاٌّمْرُ تَبَارَكَ اللَّهُ رَبُّ الْعَـلَمِينَ
(Indeed your Lord is Allah, Who created the heavens and the earth in six Days, and then He Istawa (rose over) the Throne. He brings the night as a cover over the day, seeking it rapidly, and (He created) the sun, the moon, the stars, subjecting them to His command. Surely, His is the creation and commandment. Blessed be Allah, the Lord of all that exists!) 7:54. Allah described Prophet Ibrahim,
وَلَقَدْ ءَاتَيْنَآ إِبْرَهِيمَ رُشْدَهُ مِن قَبْلُ وَكُنَّا بِهِ عَـلِمِينَ - إِذْ قَالَ لاًّبِيهِ وَقَوْمِهِ مَا هَـذِهِ التَّمَـثِيلُ الَّتِى أَنتُمْ لَهَا عَـكِفُونَ
(And indeed We bestowed aforetime on Ibrahim his (portion of) guidance, and We were well-acquainted with him. When he said to his father and his people: "What are these images, to which you are devoted") 21:51-52. These Ayat indicate that Ibrahim was debating with his people about the Shirk they practiced.
ابراہیم ؑ اور آزر میں مکالمہ حضرت عباس کا قول ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہم السلام) کے والد کا نام آزر نہ تھا بلکہ تارخ تھا۔ آزر سے مراد بت ہے۔ آپ کی والدہ کا نام مثلے تھا آپ کی بیوی صاحبہ کا نام سارہ تھا۔ حضرت اسماعیل کی والدہ کا نام ہاجرہ تھا یہ حضرت ابراہیم کی سریہ تھیں۔ علماء نسب میں سے اوروں کا بھی قول ہے کہ آپ کے والد کا نام تارخ تھا۔ مجاہد اور سدی فرماتے ہیں آزر اس بت کا نام تھا جس کے پجاری اور خادم حضرت ابراہیم ؑ کے والد تھے ہوسکتا ہے کہ اس بت کے نام کی وجہ سے انہیں بھی اسی نام سے یاد کیا جاتا ہو اور یہی نام مشہور ہوگیا ہو۔ واللہ اعلم۔ ابن جریر فرماتے ہیں کہ آزر کا لفظ ان میں بطور عیب گیری کے استعمال کیا جاتا تھا اس کے معنی ٹیڑھے آدمی کے ہیں۔ لیکن اس کلام کی سند نہیں نہ امام صاحب نے اسے کسی سے نقل کیا ہے۔ سلیمان کا قول ہے کہ اس کے معنی ٹیڑھے پن کے ہیں اور یہی سب سے سخت لفظ ہے جو خلیل اللہ کی زبان سے نکلا۔ ابن جریر کا فرمان ہے کہ ٹھیک بات یہی ہے کہ حضرت ابراہیم کے والد کا نام آزر تھا اور یہ جو عام تاریخ داں کہتے ہیں کہ ان کا نام تارخ تھا اس کا جواب یہ ہے کہ ممکن ہے دونوں نام ہوں یا ایک تو نام ہو اور دوسرا لقب ہو۔ بات تو یہ ٹھیک اور نہایت قوی ہے واللہ اعلم۔ آزَر اور آزُر دونوں قرأتیں ہیں پچھلی قرأت یعنی راء کے زبر کے ساتھ تو جمہور کی ہے۔ پیش والی قرأت میں ندا کی وجہ سے پیش ہے اور زبر والی قرأت لابیہ سے بدل ہونے کی ہے اور ممکن ہے کہ عطف بیان ہو اور یہی زیادہ مشابہ ہے۔ یہ لفظ علمیت اور عجمیت کی بنا پر غیر منصرف ہے بعض لوگ اسے صفت بتلاتے ہیں اس بنا پر بھی یہ غیر منصرف رہے گا جیسے احمر اور اسود۔ بعض اسے اتتخذ کا معمول مان کر منصوب کہتے ہیں۔ گویا حضرت ابراہیم یوں فرماتے کہ ہم لوگ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے جب ہم مدینہ شریف سے باہر نکل گئے تو ہم نے دیکھا کہ ایک اونٹ سوار بہت تیزی سے اپنے اونٹ کو دوڑتا ہوا آ رہا ہے حضور نے فرمایا تمہاری طرف ہی آ رہا ہے اس نے پہنچ کر سلام کیا ہم نے جواب دیا حضور نے ان سے پوچھا کہاں سے آ رہے ہو ؟ اس نے کہا اپنے گھر سے، اپنے بال بچوں میں سے، اپنے کنبے قبیلے میں سے۔ دریافت فرمایا کیا ارادہ ہے ؟ کیسے نکلے ہو ؟ جواب دیا اللہ کے رسول ﷺ کی جستجو میں۔ آپ نے فرمایا پھر تو تم اپنے مقصد میں کامیاب ہوگئے میں ہی اللہ کا رسول ہوں۔ اس نے خوش ہو کر کہا یا رسول اللہ مجھے سمجھائیے کہ ایمان کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا یہ کہہ دو کہ اللہ ایک ہے اور محمد اللہ کے رسول ہیں اور نمازوں کو قائم رکھے اور زکوٰۃ ادا کرتا رہے اور رمصان کے روزے رکھے اور بیت اللہ کا حج کرے اس نے کہا مجھے سب باتیں منظور ہیں میں سب اقرار کرتا ہوں، اتنے میں ان کے اونٹ کا پاؤں ایک سوراخ میں گرپڑا اور اونٹ ایک دم سے جھٹکالے کر جھک گیا اور وہ اوپر سے گرے اور سر کے بل گرے اور اسی وقت روح پرواز کرگئی حضور نے ان کے گرتے ہی فرمایا کہ دیکھو انہیں سنبھالو اسی وقت حضرت عمار بن یاسر اور حضرت حذیفہ بن یمان اپنے اونٹوں سے کود پڑے اور انہیں اٹھا لیا دیکھا تو روح جسم سے علیحدہ ہوچکی ہے حضور سے کہنے لگے یا رسول اللہ یہ تو فوت ہوگئے آپ نے منہ پھیرلیا پھر ذرا سی دیر میں فرمانے لگے تم نے مجھے منہ موڑتے ہوئے دیکھا ہوگا اس کی وجہ یہ تھی کہ میں نے دیکھا دو فرشتے آئے تھے اور مرحوم کے منہ میں جنت کے پھول دے رہے تھے اس سے میں نے جان لیا کہ بھوکے فوت ہوئے ہیں۔ سنو یہ انہیں لوگوں میں سے ہیں جن کی بابت اللہ تبارک و تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ جو لوگ ایمان لائے اور اپنے ایمان کو ظلم سے نہ ملایا ان کے لئے امن وامان ہے اور وہ راہ یافتہ ہیں۔ اجھا اپنے پیارے بھائی کو دفن کرو چناچہ ہم انہیں پانی کے پاس اٹھا لے گئے غسل دیا خوشبو ملی اور قبر کی طرف جنازہ لے کر چلے آنحضرت ﷺ قبر کے کنارے بیٹھ گئے اور فرمانے لگے بغلی قبر بناؤ سیدھی نہ بناؤ بغلی قبر ہمارے لئے ہے اور سیدھی ہمارے سوا اوروں کے لئے ہے، لوگو یہ وہ شخص ہے جس نے عمل بہت ہی کم کیا اور ثواب زیادہ پایا۔ یہ ایک اعرابی تھے انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ یا رسول اللہ ﷺ اس سلسلہ کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے میں اپنے گھر سے اپنے بال بجوں سے اپنے مال سے اپنے کنبے قبیلے سے اس لئے اور صرف اس لئے الگ ہوا ہوں کہ آپ کی ہدایت کو قبول کروں آپ کی سنتوں پر علم کروں آپ کی حدیثیں لوں۔ یا رسول اللہ ﷺ میں گھاس پھوس کھاتا ہوا آپ تک پہنچا ہوں۔ آپ مجھ اسلام سکھائیے حضور نے سکھایا اس نے قبول کیا ہم سب ان کے ارد گرد بھیڑ لگائے کھڑے تھے اتنے میں جنگلی چوہے کے بل میں ان کے اونٹ کا پاؤں پڑگیا یہ گرپڑے اور گردن ٹوٹ گئی آپ نے فرمایا اس اللہ کی قسم جس نے مجھے حق کے ساتھ مبعوث فرمایا یہ سچ مچ فی الواقع اپنے گھر سے اپنی اہل و عیال سے اور اپنے مال مویشی سے صرف میری تابعداری کی دھن میں نکلا تھا اور وہ اس بات میں بھی سچے تھے کہ وہ میرے پاس نہیں پہنچے یہاں تک کہ ان کا کھانا صرف سبز پتے اور گھاس رہ گیا تھا تم نے ایسے لوگ بھی سنے ہوں گے جو عمل کم کرتے ہیں اور ثواب بہت پاتے ہیں۔ یہ بزرگ انہی میں سے تھے۔ تم نے سنا ہوگا کہ باری تعالیٰ فرماتا ہے جو ایمان لائیں اور ظلم نہ کریں وہ امن و ہدایت والے ہیں یہ انہی میں سے تھے ؓ پھر فرمایا ابراہیم ؑ کو یہ دلیلیں ہم نے سکھائیں جن سے وہ اپنی قوم پر غالب آگئے جیسے انہوں نے ایک اللہ کے پرستار کا امن اور اس کی ہدایت بیان فرمائی اور خود اللہ کی طرف سے اس بات کی تصدیق کی گئی آیت (نَرْفَعُ دَرَجٰتٍ مَّنْ نَّشَاۗءُ ۭاِنَّ رَبَّكَ حَكِيْمٌ عَلِيْمٌ) 6۔ الانعام :83) کی یہی ایک قرأت ہے، اضافت کے ساتھ اور بےاضافت دونوں طرح پڑھا یا گیا ہے جیسے سورة یوسف میں ہے اور معنی دونوں قرأتوں کے قریب قریب برابر ہیں۔ تیرے رب کے اقوال رحمت والے اور اس کے کام بھی حکمت والے ہیں۔ وہ صحیح راستے والوں کو اور گمراہوں کو بخوبی جانتا ہے جیسے فرمان ہے جن پر تیرے کی ٹھنڈک میں نے اپنے سینے میں محسوس کی پھر تو تمام چیزیں میرے سامنے کھل گئیں اور میں نے اسے پہچان لیا ولیکون کا واؤ زائدہ ہے۔ جیسے ولتستبین میں اور کہا گیا ہے کہ وہ اپنی جگہ پر ہے یعنی اس لئے کہ وہ عالم اور یقین والے ہوجائیں، رات کے اندھیرے میں خلیل اللہ ستارے کو دیکھ کر فرماتے ہیں کہ یہ میرا رب ہے جب وہ غروب ہوجاتا ہے تو آپ سمجھ لیتے ہیں کہ یہ پروردگار نہیں کیونکہ رب دوام والا ہوتا ہے وہ زوال اور انقلاب سے پاک ہوتا ہے۔ پھر جب چاند چڑھتا ہے تو یہی فرماتے ہیں جب وہ بھی غروب ہوجاتا ہے تو اس سے بھی یکسوئی کرلیتے ہیں۔ پھر سورج کے طلوع ہونے پر اسے سب سے بڑا پا کر سب سے زیادہ روشن دیکھ کر یہی کہتے ہیں جب وہ بھی ڈھل جاتا ہے تو اللہ کے سوا تمام معبودوں سے بیزار ہوجاتے ہیں۔ اور پکار اٹھتے ہیں کہ میں تو اپنی عبادت کے لئے اللہ کی ذات کو مخصوص کرتا ہوں جس نے ابتداء میں بغیر کسی نمونے کے آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کیا ہے میں شرک سے ہٹ کر توحید کی طرف لوٹتا ہوں اور میں مشرکوں میں شامل رہنا نہیں چاہتا، مفسرین ان آیتوں کی بابت دو خیال ظاہر کرتے ہیں۔ ایک تو یہ کہ یہ بطور نظر اور غور و فکر کے تھا دوسرے یہ کہ یہ سب بطور مناظرہ کے تھا۔ ابن عباس سے دوسری بات ہی مروی ہے ابن جریر میں بھی اسی کو پسند کیا گیا ہے اس کی دلیل میں آپ کا یہ قول لاتے ہیں کہ اگر مجھے میرا رب ہدایت نہ کرتا تو میں گمراہ میں ہوجاتا۔ امام محمد بن اسہاق ؒ نے ایک لمبا قصہ نقل کیا ہے جس میں ہے کہ نمرود بن کنعان بادشاہ سے یہ کہا گیا تھا کہ ایک بچہ پیدا ہونے والا ہے جس کے ہاتھوں تیرا تخت تارج ہوگا تو اس نے حکم دے دیا تھا کہ اس سال میری مملکت میں جتنے بچے پیدا ہوں سب قتل کردیئے جائیں حضرت ابراہیم ؑ کی والدہ نے جب یہ سنا تو کجھ وقت قبل شہر کے باہر ایک غار میں چلی گئیں، وہیں حضرت خلیل اللہ پیدا ہوئے، تو جب آپ اس غار سے باہر نکلے تب آپ نے یہ سب فرمایا تھا جس کا ذکر ان آیتوں میں ہے، بالکل صحیح بات یہ ہے کہ یہ گفتگو اللہ کے خلیل حضرت ابراہیم ؑ کی مناظرانہ تھی اپنی قوم کی باطل پرستی کا احوال اللہ کو سمجھا رہے تھے، اول تو آپ نے اپنے والد کی خطا ظاہر کی کہ وہ زمین کے ان بتوں کی پوجا کرتے تھے جنہیں انہوں نے فرشتوں وغیرہ کی شکل پر بنا لیا تھا اور جنہیں وہ سفارشی سمجھ رہے تھے۔ یہ لوگ بزعم خود اپنے آپ کو اس قابل نہیں جانتے تھے کہ براہ راست اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں۔ اس لئے بطور وسیلے کے فرشتوں کو پوجتے تھے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے ان کے بارے میں کہہ سن کر ان کی روزی وغیرہ بڑھوا دیں اور ان کی حاجتیں پوری کرا دیں پھر جن آسمانی چیزوں کو یہ پوجتے تھے ان میں ان کی خطا بیان کی۔ یہ ستارہ پرست بھی تھے ساتوں ستاروں کو جو چلنے پھرنے والے ہیں۔ پوجتے تھے، چاند، عطارد، زہرہ، سورج، مریخ، مستری، زحل۔ ان کے نزدیک سب سے زیادہ روشن سورج ہے، پھر چاند پھر زہرہ پس آپ نے آدنیٰ سے شروع کیا اور اعلی تک لے گئے۔ پہلے تو زہرہ کی نسبت فرمایا کہ وہ پوجا کے قابل نہیں کیونکہ یہ دوسرے کے قابو میں ہیں۔ یہ مقررہ جال سے چلتا۔ مقررہ جگہ پر چلتا ہے دائیں بائیں ذرا بھی کھسک نہیں سکتا۔ تو جبکہ وہ خود بیشمار چیزوں میں سے ایک چیز ہے۔ اس میں روشنی بھی اللہ کی دی ہوئی ہے یہ مشرق سے نکلتا ہے پھر چلتا پھرتا رہتا ہے اور ڈوب جاتا ہے پھر دوسری رات اسی طرح ظاہر ہوتا ہے تو ایسی چیز معبود ہونے کی صلاحیت کیا رکھتی ہے ؟ پھر اس سے زیادہ روشن چیز یعنی چاند کو دیکھتے ہیں اور اس کو بھی عبادت کے قابل نہ ہونا ظاہر فرما کر پھر سورج کو لیا اور اس کی مجبوری اور اس کی غلامی اور مسکینی کا اظہار کیا اور کہا کہ لوگو میں تمہارے ان شرکاء سے، ان کی عبادت سے، ان کی عقیدت سے، ان کی محبت سے دور ہوں۔ سنو اگر یہ سچے معبود ہیں اور کچھ قدرت رکھتے ہیں تو ان سب کو ملا لو اور جو تم سب سے ہو سکے میرے خلاف کرلو۔ میں تو اس اللہ کا عابد ہوں جو ان مصنوعات کا صانع جو ان مخلوقات کا خالق ہے جو ہر چیز کا مالک رب اور سچا معبود ہے جیسے قرآنی ارشاد ہے کہ تمہارا رب صرف وہی ہے جس نے چھ دن میں آسمان و زمین کو پیدا کیا پھر عرش پر مستوی ہوگیا رات کو دن سے دن کو رات سے ڈھانپتا ہے ایک دوسرے کے برابر پیچھے جا آ رہا ہے سورج چاند اور تارے سب اس کے فرمان کے تحت ہیں خلق و امر اسی کی ملکیت میں ہیں وہ رب العالمین ہے بڑی برکتوں والا ہے، یہ تو بالکل ناممکن سا معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ اسللام کے یہ سب فرمان بطور واقعہ کے ہوں اور حقیقت میں آپ اللہ کو پہچانتے ہی نہ ہوں۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے آیت (وَلَـقَدْ اٰتَيْنَآ اِبْرٰهِيْمَ رُشْدَهٗ مِنْ قَبْلُ وَكُنَّا بِهٖ عٰلِمِيْنَ) 21۔ الانبیآء :51) یعنی ہم نے پہلے سے حضرت ابراہیم کو سیدھا راستہ دے دیا تھا اور ہم اس سے خوب واقف تھے جبکہ اس نے اپنے باپ سے اور اپنی قوم سے فرمایا یہ صورتیں کیا ہیں جن کی تم پرستش اور مجاورت کر رہے ہو ؟ اور آیت میں ہے آیت (اِنَّ اِبْرٰهِيْمَ كَانَ اُمَّةً قَانِتًا لِّلّٰهِ حَنِيْفًا ۭ وَلَمْ يَكُ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ) 16۔ النحل :120) ابراہیم تو بڑے خلوص والے اللہ کے سچے فرمانبردار تھے وہ مشرکوں میں سے نہ تھے اللہ کی نعمتوں کے شکر گزار تھے اللہ نے انہیں پسند فرما لیا تھا اور صراط مستقیم کی ہدایت دی تھی دنیا کی بھلائیاں دی تھیں اور آخرت میں بھی انہیں صالح لوگوں میں ملا دیا تھا اب ہم تیری طرف وحی کر رہے ہیں کہ ابراہیم حنیف کے دین کا تابعدار رہ وہ مشرک نہ تھا، بخاری و مسلم میں ہے،حضور ﷺ فرماتے ہیں کہ ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے۔ صحیح مسلم کی حدیث قدسی میں ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں نے اپنے بندوں کو موحد پیدا کیا ہے۔ کتاب اللہ میں ہے آیت (فِطْرَتَ اللّٰهِ الَّتِيْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا ۭ لَا تَبْدِيْلَ لِخَلْقِ اللّٰهِ ۭ ذٰلِكَ الدِّيْنُ الْـقَيِّمُ ڎ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ) 30۔ الروم :30) اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو فطرت اللہ پر پیدا کیا ہے، اللہ کی خلق کی تبدیلی نہیں اور آیت میں ہے تیرے رب نے آدم کی پیٹھ سے ان کی اولاد نکال کر انہیں ان کی جانوں پر گواہ کیا کہ کیا میں تمہارا سب کا رب نہیں ہوں ؟ سب نے اقرار کیا کہ ہاں بیشک تو ہمارا رب ہے پس یہی فطرت اللہ ہے جیسے کہ اس کا ثبوت عنقریب آئے گا انشاء اللہ پس جبکہ تمام مخلوق کی پیدائش دین اسلام پر اللہ کی سچی توحید پر ہے تو ابراہیم خلیل اللہ ؑ جن کی توحید اور اللہ پرستی کا ثنا خواں خود کلام رحمان ہے ان کی نسبت کون کہہ سکتا ہے کہ آپ اللہ جل شانہ سے آگاہ نہ تھے اور کبھی تارے کو اور کبھی چاند سورج کو اپنا اللہ سمجھ رہے تھے۔ نہیں نہیں آپ کی فطرت سالم تھی آپ کی عقل صحیح تھی آپ اللہ کے سچے دین پر اور خالص توحید پر تھے۔ آپ کا یہ تمام کلام بحیثیت مناظرہ تھا اور اس کی زبر دست دلیل اس کے بعد کی آیت ہے۔
76
View Single
فَلَمَّا جَنَّ عَلَيۡهِ ٱلَّيۡلُ رَءَا كَوۡكَبٗاۖ قَالَ هَٰذَا رَبِّيۖ فَلَمَّآ أَفَلَ قَالَ لَآ أُحِبُّ ٱلۡأٓفِلِينَ
So when the night became dark upon him he saw a star; he said (to Azar / the people), “(You portray that) this is my Lord?”; then when it set he said, “I do not like the things that set.”
پھر جب ان پر رات نے اندھیرا کر دیا تو انہوں نے (ایک) ستارہ دیکھا (تو) کہا: (کیا تمہارے خیال میں) یہ میرا رب ہے؟ پھر جب وہ ڈوب گیا تو (اپنی قوم کو سنا کر) کہنے لگے: میں ڈوب جانے والوں کو پسند نہیں کرتا
Tafsir Ibn Kathir
Ibrahim Advises his Father
Ibrahim advised, discouraged and forbade his father from worshipping idols, just as Allah stated,
وَإِذْ قَالَ إِبْرَهِيمُ لاًّبِيهِ ءَازَرَ أَتَتَّخِذُ أَصْنَاماً ءَالِهَةً
(And (remember) when Ibrahim said to his father Azar: "Do you take idols as gods") meaning, do you worship an idol instead of Allah
إِنِّى أَرَاكَ وَقَوْمَكَ
(Verily, I see you and your people...) who follow your path,
فِى ضَلَـلٍ مُّبِينٍ
(in manifest error) wandering in confusion unaware of where to go. Therefore, you are in disarray and ignorance, and this fact is clear to all those who have sound reason. Allah also said,
وَاذْكُرْ فِى الْكِتَـبِ إِبْرَهِيمَ إِنَّهُ كَانَ صِدِّيقاً نَّبِيّاً - إِذْ قَالَ لاًّبِيهِ يأَبَتِ لِمَ تَعْبُدُ مَا لاَ يَسْمَعُ وَلاَ يَبْصِرُ وَلاَ يُغْنِى عَنكَ شَيْئاً - يأَبَتِ إِنِّى قَدْ جَآءَنِى مِنَ الْعِلْمِ مَا لَمْ يَأْتِكَ فَاتَّبِعْنِى أَهْدِكَ صِرَاطاً سَوِيّاً - يأَبَتِ لاَ تَعْبُدِ الشَّيْطَـنَ إِنَّ الشَّيْطَـنَ كَانَ لِلرَّحْمَـنِ عَصِيّاً - يأَبَتِ إِنِّى أَخَافُ أَن يَمَسَّكَ عَذَابٌ مِّنَ الرَّحْمَـنِ فَتَكُونَ لِلشَّيْطَـنِ وَلِيّاً - قَالَ أَرَاغِبٌ أَنتَ عَنْ آلِهَتِى يإِبْرَهِيمُ لَئِن لَّمْ تَنتَهِ لأَرْجُمَنَّكَ وَاهْجُرْنِى مَلِيّاً - قَالَ سَلَـمٌ عَلَيْكَ سَأَسْتَغْفِرُ لَكَ رَبِّي إِنَّهُ كَانَ بِى حَفِيّاً - وَأَعْتَزِلُكُمْ وَمَا تَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّهِ وَأَدْعُو رَبِّى عَسَى أَلاَّ أَكُونَ بِدُعَآءِ رَبِّى شَقِيًّا
(And mention in the Book (the Qur'an, the story of) Ibrahim. Verily! He was a man of truth, a Prophet. When he said to his father: "O my father! Why do you worship that which hears not, sees not and cannot avail you in anything O my father! Verily! There has come to me of knowledge that which came not unto you. So follow me. I will guide you to a straight path. O my father! Worship not Shaytan. Verily! Shaytan has been a rebel against the Most Beneficent (Allah). O my father! Verily! I fear lest a torment from the Most Beneficent (Allah) overtakes you, so that you become a companion of Shaytan (in the Hell-fire)." He (the father) said: "Do you reject my gods, O Ibrahim If you stop not (this), I will indeed stone you. So get away from me safely before I punish you." Ibrahim said: "Peace be on you! I will ask forgiveness of my Lord for you. Verily! He is unto me, Ever Most Gracious. And I shall turn away from you and from those whom you invoke besides Allah. And I shall call on my Lord; and I hope that I shall not be unanswered in my invocation to my Lord.") 19:41-48 Ibrahim continued asking for forgiveness for his father for the rest of his father's life. When his father died an idolator and Ibrahim realized this fact, he stopped asking Allah for forgiveness for him and disassociated himself from him. Allah said,
وَمَا كَانَ اسْتِغْفَارُ إِبْرَهِيمَ لاًّبِيهِ إِلاَّ عَن مَّوْعِدَةٍ وَعَدَهَآ إِيَّاهُ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُ أَنَّهُ عَدُوٌّ لِلَّهِ تَبَرَّأَ مِنْهُ إِنَّ إِبْرَهِيمَ لأَوَّاهٌ حَلِيمٌ
(And invoking for his father's forgiveness was only because of a promise he had made to him. But when it became clear to him that he was an enemy to Allah, he dissociated himself from him. Verily Ibrahim was patient in supplication and forbearing.) 9:114. It was recorded in the Sahih that Ibrahim will meet his father Azar on the Day of Resurrection and Azar will say to him, "My son! This Day, I will not disobey you." Ibrahim will say, "O Lord! You promised me not to disgrace me on the Day they are resurrected; and what will be more disgraceful to me than cursing and dishonoring my father" Then Allah will say, "O Ibrahim! Look behind you!" He will look and there he will see (that his father was changed into) a male hyena covered in dung, which will be caught by the legs and thrown in the (Hell) Fire."
Tawhid Becomes Apparent to Ibrahim
Allah's statement,
وَكَذَلِكَ نُرِى إِبْرَهِيمَ مَلَكُوتَ السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ
(Thus did We show Ibrahim the kingdom of the heavens and the earth...) 6:75, means, when he contemplated about the creation of the heaven and earth, We showed Ibrahim the proofs of Allah's Oneness over His dominion and His creation, which indicate that there is no god or Lord except Allah. Allah said in other Ayat;
قُلِ انظُرُواْ مَاذَا فِى السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ
(Say: "Behold all that is in the heavens and the earth.") 10:101, and,
أَفَلَمْ يَرَوْاْ إِلَى مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ مِّنَ السَّمَآءِ وَالاٌّرْضِ إِن نَّشَأْ نَخْسِفْ بِهِمُ الاٌّرْضَ أَوْ نُسْقِطْ عَلَيْهِمْ كِسَفاً مِّنَ السَّمَآءِ إِنَّ فِى ذَلِكَ لاّيَةً لِّكُلِّ عَبْدٍ مُّنِيبٍ
(See they not what is before them and what is behind them, of the heaven and the earth If We will, We sink the earth with them, or cause a piece of the sky to fall upon them. Verily, in this is a sign for every servant who turns to Allah.) 34:9 Allah said next,
فَلَمَّا جَنَّ عَلَيْهِ الَّيْلُ
(When the night overcame him) covered him with darkness,
رَأَى كَوْكَباً
(He saw a Kawkab) a star.
قَالَ هَـذَا رَبِّى فَلَمَّآ أَفَلَ
(He said: "This is my lord." But when it Afala,) meaning, set, he said,
لا أُحِبُّ الاٌّفِلِينَ
(I like not those that set.) Qatadah commented, "Ibrahim knew that his Lord is Eternal and never ceases."
فَلَمَّآ رَأَى الْقَمَرَ بَازِغاً قَالَ هَـذَا رَبِّى فَلَمَّآ أَفَلَ قَالَ لَئِن لَّمْ يَهْدِنِى رَبِّى لاّكُونَنَّ مِنَ الْقَوْمِ الضَّآلِّينَ
رَبِّى
(When he saw the moon rising up, he said: "This is my lord." But when it set, he said: "Unless my Lord guides me, I shall surely be among the misguided people." When he saw the sun rising up, he said: "This is my lord.") this radiating, rising star is my lord,
هَـذَآ أَكْبَرُ
(This is greater) bigger than the star and the moon, and more radiant.
فَلَمَّآ أَفَلَتْ
(But when it Afalat) set,
قَالَ يقَوْمِ إِنِّى بَرِىءٌ مِّمَّا تُشْرِكُونَإِنِّى وَجَّهْتُ وَجْهِىَ
(he said: "O my people! I am indeed free from all that you join as partners in worship with Allah. Verily, I have turned my face..."), meaning, I have purified my religion and made my worship sincere,
لِلَّذِى فَطَرَ السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضَ
("towards Him Who has created the heavens and the earth,") Who originated them and shaped them without precedence,
حَنِيفاً
(Hanifan) avoiding Shirk and embracing Tawhid. This is why he said next,
وَمَآ أَنَاْ مِنَ الْمُشْرِكِينَ
("and I am not of the idolators.")
Prophet Ibrahim Debates with his People
We should note here that, in these Ayat, Ibrahim, peace be upon him, was debating with his people, explaining to them the error of their way in worshipping idols and images. In the first case with his father, Ibrahim explained to his people their error in worshipping the idols of earth, which they made in the shape of heavenly angels, so that they intercede on their behalf with the Glorious Creator. His people thought that they are too insignificant to worship Allah directly, and this is why they turned to the worship of angels as intercessors with Allah for their provisions, gaining victory and attaining their various needs. He then explained to them the error and deviation of worshipping the seven planets, which they said were the Moon, Mercury, Venus, the Sun, Mars, Jupiter and Saturn. The brightest of these objects and the most honored to them was the Sun, the Moon then Venus. Ibrahim, may Allah's peace and blessings be on him, first proved that Venus is not worthy of being worshipped, for it is subservient to a term and course appointed that it does not defy, nor swerving right or left. Venus does not have any say in its affairs, for it is only a heavenly object that Allah created and made bright out of His wisdom. Venus rises from the east and sets in the west where it disappears from sight. This rotation is repeated the next night, and so forth. Such an object is not worthy of being a god. Ibrahim then went on to mention the Moon in the same manner in which he mentioned Venus, and then the Sun. When he proved that these three objects were not gods, although they are the brightest objects the eyes can see,
قَالَ يقَوْمِ إِنِّى بَرِىءٌ مِّمَّا تُشْرِكُونَ
(he said: "O my people! I am indeed free from all that you join as partners in worship with Allah.") meaning, I am free from worshipping these objects and from taking them as protectors. Therefore, if they are indeed gods as you claim, then all of you bring your plot against me and do not give me respite.
إِنِّى وَجَّهْتُ وَجْهِىَ لِلَّذِى فَطَرَ السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضَ حَنِيفاً وَمَآ أَنَاْ مِنَ الْمُشْرِكِينَ
(Verily, I have turned my face towards Him Who has created the heavens and the earth, Hanifan, and I am not one of the idolators.) meaning, I worship the Creator of these things, Who originated and decreed them, and Who governs their affairs and made them subservient. It is He in Whose Hand is the dominion of all things, and He is the Creator, Lord, King and God of all things in existence. In another Ayah, Allah said؛
إِنَّ رَبَّكُمُ اللَّهُ الَّذِى خَلَقَ السَمَـوَتِ وَالاٌّرْضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى الْعَرْشِ يُغْشِى الَّيْلَ النَّهَارَ يَطْلُبُهُ حَثِيثًا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ وَالنُّجُومَ مُسَخَّرَتٍ بِأَمْرِهِ أَلاَ لَهُ الْخَلْقُ وَالاٌّمْرُ تَبَارَكَ اللَّهُ رَبُّ الْعَـلَمِينَ
(Indeed your Lord is Allah, Who created the heavens and the earth in six Days, and then He Istawa (rose over) the Throne. He brings the night as a cover over the day, seeking it rapidly, and (He created) the sun, the moon, the stars, subjecting them to His command. Surely, His is the creation and commandment. Blessed be Allah, the Lord of all that exists!) 7:54. Allah described Prophet Ibrahim,
وَلَقَدْ ءَاتَيْنَآ إِبْرَهِيمَ رُشْدَهُ مِن قَبْلُ وَكُنَّا بِهِ عَـلِمِينَ - إِذْ قَالَ لاًّبِيهِ وَقَوْمِهِ مَا هَـذِهِ التَّمَـثِيلُ الَّتِى أَنتُمْ لَهَا عَـكِفُونَ
(And indeed We bestowed aforetime on Ibrahim his (portion of) guidance, and We were well-acquainted with him. When he said to his father and his people: "What are these images, to which you are devoted") 21:51-52. These Ayat indicate that Ibrahim was debating with his people about the Shirk they practiced.
ابراہیم ؑ اور آزر میں مکالمہ حضرت عباس کا قول ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہم السلام) کے والد کا نام آزر نہ تھا بلکہ تارخ تھا۔ آزر سے مراد بت ہے۔ آپ کی والدہ کا نام مثلے تھا آپ کی بیوی صاحبہ کا نام سارہ تھا۔ حضرت اسماعیل کی والدہ کا نام ہاجرہ تھا یہ حضرت ابراہیم کی سریہ تھیں۔ علماء نسب میں سے اوروں کا بھی قول ہے کہ آپ کے والد کا نام تارخ تھا۔ مجاہد اور سدی فرماتے ہیں آزر اس بت کا نام تھا جس کے پجاری اور خادم حضرت ابراہیم ؑ کے والد تھے ہوسکتا ہے کہ اس بت کے نام کی وجہ سے انہیں بھی اسی نام سے یاد کیا جاتا ہو اور یہی نام مشہور ہوگیا ہو۔ واللہ اعلم۔ ابن جریر فرماتے ہیں کہ آزر کا لفظ ان میں بطور عیب گیری کے استعمال کیا جاتا تھا اس کے معنی ٹیڑھے آدمی کے ہیں۔ لیکن اس کلام کی سند نہیں نہ امام صاحب نے اسے کسی سے نقل کیا ہے۔ سلیمان کا قول ہے کہ اس کے معنی ٹیڑھے پن کے ہیں اور یہی سب سے سخت لفظ ہے جو خلیل اللہ کی زبان سے نکلا۔ ابن جریر کا فرمان ہے کہ ٹھیک بات یہی ہے کہ حضرت ابراہیم کے والد کا نام آزر تھا اور یہ جو عام تاریخ داں کہتے ہیں کہ ان کا نام تارخ تھا اس کا جواب یہ ہے کہ ممکن ہے دونوں نام ہوں یا ایک تو نام ہو اور دوسرا لقب ہو۔ بات تو یہ ٹھیک اور نہایت قوی ہے واللہ اعلم۔ آزَر اور آزُر دونوں قرأتیں ہیں پچھلی قرأت یعنی راء کے زبر کے ساتھ تو جمہور کی ہے۔ پیش والی قرأت میں ندا کی وجہ سے پیش ہے اور زبر والی قرأت لابیہ سے بدل ہونے کی ہے اور ممکن ہے کہ عطف بیان ہو اور یہی زیادہ مشابہ ہے۔ یہ لفظ علمیت اور عجمیت کی بنا پر غیر منصرف ہے بعض لوگ اسے صفت بتلاتے ہیں اس بنا پر بھی یہ غیر منصرف رہے گا جیسے احمر اور اسود۔ بعض اسے اتتخذ کا معمول مان کر منصوب کہتے ہیں۔ گویا حضرت ابراہیم یوں فرماتے کہ ہم لوگ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے جب ہم مدینہ شریف سے باہر نکل گئے تو ہم نے دیکھا کہ ایک اونٹ سوار بہت تیزی سے اپنے اونٹ کو دوڑتا ہوا آ رہا ہے حضور نے فرمایا تمہاری طرف ہی آ رہا ہے اس نے پہنچ کر سلام کیا ہم نے جواب دیا حضور نے ان سے پوچھا کہاں سے آ رہے ہو ؟ اس نے کہا اپنے گھر سے، اپنے بال بچوں میں سے، اپنے کنبے قبیلے میں سے۔ دریافت فرمایا کیا ارادہ ہے ؟ کیسے نکلے ہو ؟ جواب دیا اللہ کے رسول ﷺ کی جستجو میں۔ آپ نے فرمایا پھر تو تم اپنے مقصد میں کامیاب ہوگئے میں ہی اللہ کا رسول ہوں۔ اس نے خوش ہو کر کہا یا رسول اللہ مجھے سمجھائیے کہ ایمان کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا یہ کہہ دو کہ اللہ ایک ہے اور محمد اللہ کے رسول ہیں اور نمازوں کو قائم رکھے اور زکوٰۃ ادا کرتا رہے اور رمصان کے روزے رکھے اور بیت اللہ کا حج کرے اس نے کہا مجھے سب باتیں منظور ہیں میں سب اقرار کرتا ہوں، اتنے میں ان کے اونٹ کا پاؤں ایک سوراخ میں گرپڑا اور اونٹ ایک دم سے جھٹکالے کر جھک گیا اور وہ اوپر سے گرے اور سر کے بل گرے اور اسی وقت روح پرواز کرگئی حضور نے ان کے گرتے ہی فرمایا کہ دیکھو انہیں سنبھالو اسی وقت حضرت عمار بن یاسر اور حضرت حذیفہ بن یمان اپنے اونٹوں سے کود پڑے اور انہیں اٹھا لیا دیکھا تو روح جسم سے علیحدہ ہوچکی ہے حضور سے کہنے لگے یا رسول اللہ یہ تو فوت ہوگئے آپ نے منہ پھیرلیا پھر ذرا سی دیر میں فرمانے لگے تم نے مجھے منہ موڑتے ہوئے دیکھا ہوگا اس کی وجہ یہ تھی کہ میں نے دیکھا دو فرشتے آئے تھے اور مرحوم کے منہ میں جنت کے پھول دے رہے تھے اس سے میں نے جان لیا کہ بھوکے فوت ہوئے ہیں۔ سنو یہ انہیں لوگوں میں سے ہیں جن کی بابت اللہ تبارک و تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ جو لوگ ایمان لائے اور اپنے ایمان کو ظلم سے نہ ملایا ان کے لئے امن وامان ہے اور وہ راہ یافتہ ہیں۔ اجھا اپنے پیارے بھائی کو دفن کرو چناچہ ہم انہیں پانی کے پاس اٹھا لے گئے غسل دیا خوشبو ملی اور قبر کی طرف جنازہ لے کر چلے آنحضرت ﷺ قبر کے کنارے بیٹھ گئے اور فرمانے لگے بغلی قبر بناؤ سیدھی نہ بناؤ بغلی قبر ہمارے لئے ہے اور سیدھی ہمارے سوا اوروں کے لئے ہے، لوگو یہ وہ شخص ہے جس نے عمل بہت ہی کم کیا اور ثواب زیادہ پایا۔ یہ ایک اعرابی تھے انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ یا رسول اللہ ﷺ اس سلسلہ کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے میں اپنے گھر سے اپنے بال بجوں سے اپنے مال سے اپنے کنبے قبیلے سے اس لئے اور صرف اس لئے الگ ہوا ہوں کہ آپ کی ہدایت کو قبول کروں آپ کی سنتوں پر علم کروں آپ کی حدیثیں لوں۔ یا رسول اللہ ﷺ میں گھاس پھوس کھاتا ہوا آپ تک پہنچا ہوں۔ آپ مجھ اسلام سکھائیے حضور نے سکھایا اس نے قبول کیا ہم سب ان کے ارد گرد بھیڑ لگائے کھڑے تھے اتنے میں جنگلی چوہے کے بل میں ان کے اونٹ کا پاؤں پڑگیا یہ گرپڑے اور گردن ٹوٹ گئی آپ نے فرمایا اس اللہ کی قسم جس نے مجھے حق کے ساتھ مبعوث فرمایا یہ سچ مچ فی الواقع اپنے گھر سے اپنی اہل و عیال سے اور اپنے مال مویشی سے صرف میری تابعداری کی دھن میں نکلا تھا اور وہ اس بات میں بھی سچے تھے کہ وہ میرے پاس نہیں پہنچے یہاں تک کہ ان کا کھانا صرف سبز پتے اور گھاس رہ گیا تھا تم نے ایسے لوگ بھی سنے ہوں گے جو عمل کم کرتے ہیں اور ثواب بہت پاتے ہیں۔ یہ بزرگ انہی میں سے تھے۔ تم نے سنا ہوگا کہ باری تعالیٰ فرماتا ہے جو ایمان لائیں اور ظلم نہ کریں وہ امن و ہدایت والے ہیں یہ انہی میں سے تھے ؓ پھر فرمایا ابراہیم ؑ کو یہ دلیلیں ہم نے سکھائیں جن سے وہ اپنی قوم پر غالب آگئے جیسے انہوں نے ایک اللہ کے پرستار کا امن اور اس کی ہدایت بیان فرمائی اور خود اللہ کی طرف سے اس بات کی تصدیق کی گئی آیت (نَرْفَعُ دَرَجٰتٍ مَّنْ نَّشَاۗءُ ۭاِنَّ رَبَّكَ حَكِيْمٌ عَلِيْمٌ) 6۔ الانعام :83) کی یہی ایک قرأت ہے، اضافت کے ساتھ اور بےاضافت دونوں طرح پڑھا یا گیا ہے جیسے سورة یوسف میں ہے اور معنی دونوں قرأتوں کے قریب قریب برابر ہیں۔ تیرے رب کے اقوال رحمت والے اور اس کے کام بھی حکمت والے ہیں۔ وہ صحیح راستے والوں کو اور گمراہوں کو بخوبی جانتا ہے جیسے فرمان ہے جن پر تیرے کی ٹھنڈک میں نے اپنے سینے میں محسوس کی پھر تو تمام چیزیں میرے سامنے کھل گئیں اور میں نے اسے پہچان لیا ولیکون کا واؤ زائدہ ہے۔ جیسے ولتستبین میں اور کہا گیا ہے کہ وہ اپنی جگہ پر ہے یعنی اس لئے کہ وہ عالم اور یقین والے ہوجائیں، رات کے اندھیرے میں خلیل اللہ ستارے کو دیکھ کر فرماتے ہیں کہ یہ میرا رب ہے جب وہ غروب ہوجاتا ہے تو آپ سمجھ لیتے ہیں کہ یہ پروردگار نہیں کیونکہ رب دوام والا ہوتا ہے وہ زوال اور انقلاب سے پاک ہوتا ہے۔ پھر جب چاند چڑھتا ہے تو یہی فرماتے ہیں جب وہ بھی غروب ہوجاتا ہے تو اس سے بھی یکسوئی کرلیتے ہیں۔ پھر سورج کے طلوع ہونے پر اسے سب سے بڑا پا کر سب سے زیادہ روشن دیکھ کر یہی کہتے ہیں جب وہ بھی ڈھل جاتا ہے تو اللہ کے سوا تمام معبودوں سے بیزار ہوجاتے ہیں۔ اور پکار اٹھتے ہیں کہ میں تو اپنی عبادت کے لئے اللہ کی ذات کو مخصوص کرتا ہوں جس نے ابتداء میں بغیر کسی نمونے کے آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کیا ہے میں شرک سے ہٹ کر توحید کی طرف لوٹتا ہوں اور میں مشرکوں میں شامل رہنا نہیں چاہتا، مفسرین ان آیتوں کی بابت دو خیال ظاہر کرتے ہیں۔ ایک تو یہ کہ یہ بطور نظر اور غور و فکر کے تھا دوسرے یہ کہ یہ سب بطور مناظرہ کے تھا۔ ابن عباس سے دوسری بات ہی مروی ہے ابن جریر میں بھی اسی کو پسند کیا گیا ہے اس کی دلیل میں آپ کا یہ قول لاتے ہیں کہ اگر مجھے میرا رب ہدایت نہ کرتا تو میں گمراہ میں ہوجاتا۔ امام محمد بن اسہاق ؒ نے ایک لمبا قصہ نقل کیا ہے جس میں ہے کہ نمرود بن کنعان بادشاہ سے یہ کہا گیا تھا کہ ایک بچہ پیدا ہونے والا ہے جس کے ہاتھوں تیرا تخت تارج ہوگا تو اس نے حکم دے دیا تھا کہ اس سال میری مملکت میں جتنے بچے پیدا ہوں سب قتل کردیئے جائیں حضرت ابراہیم ؑ کی والدہ نے جب یہ سنا تو کجھ وقت قبل شہر کے باہر ایک غار میں چلی گئیں، وہیں حضرت خلیل اللہ پیدا ہوئے، تو جب آپ اس غار سے باہر نکلے تب آپ نے یہ سب فرمایا تھا جس کا ذکر ان آیتوں میں ہے، بالکل صحیح بات یہ ہے کہ یہ گفتگو اللہ کے خلیل حضرت ابراہیم ؑ کی مناظرانہ تھی اپنی قوم کی باطل پرستی کا احوال اللہ کو سمجھا رہے تھے، اول تو آپ نے اپنے والد کی خطا ظاہر کی کہ وہ زمین کے ان بتوں کی پوجا کرتے تھے جنہیں انہوں نے فرشتوں وغیرہ کی شکل پر بنا لیا تھا اور جنہیں وہ سفارشی سمجھ رہے تھے۔ یہ لوگ بزعم خود اپنے آپ کو اس قابل نہیں جانتے تھے کہ براہ راست اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں۔ اس لئے بطور وسیلے کے فرشتوں کو پوجتے تھے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے ان کے بارے میں کہہ سن کر ان کی روزی وغیرہ بڑھوا دیں اور ان کی حاجتیں پوری کرا دیں پھر جن آسمانی چیزوں کو یہ پوجتے تھے ان میں ان کی خطا بیان کی۔ یہ ستارہ پرست بھی تھے ساتوں ستاروں کو جو چلنے پھرنے والے ہیں۔ پوجتے تھے، چاند، عطارد، زہرہ، سورج، مریخ، مستری، زحل۔ ان کے نزدیک سب سے زیادہ روشن سورج ہے، پھر چاند پھر زہرہ پس آپ نے آدنیٰ سے شروع کیا اور اعلی تک لے گئے۔ پہلے تو زہرہ کی نسبت فرمایا کہ وہ پوجا کے قابل نہیں کیونکہ یہ دوسرے کے قابو میں ہیں۔ یہ مقررہ جال سے چلتا۔ مقررہ جگہ پر چلتا ہے دائیں بائیں ذرا بھی کھسک نہیں سکتا۔ تو جبکہ وہ خود بیشمار چیزوں میں سے ایک چیز ہے۔ اس میں روشنی بھی اللہ کی دی ہوئی ہے یہ مشرق سے نکلتا ہے پھر چلتا پھرتا رہتا ہے اور ڈوب جاتا ہے پھر دوسری رات اسی طرح ظاہر ہوتا ہے تو ایسی چیز معبود ہونے کی صلاحیت کیا رکھتی ہے ؟ پھر اس سے زیادہ روشن چیز یعنی چاند کو دیکھتے ہیں اور اس کو بھی عبادت کے قابل نہ ہونا ظاہر فرما کر پھر سورج کو لیا اور اس کی مجبوری اور اس کی غلامی اور مسکینی کا اظہار کیا اور کہا کہ لوگو میں تمہارے ان شرکاء سے، ان کی عبادت سے، ان کی عقیدت سے، ان کی محبت سے دور ہوں۔ سنو اگر یہ سچے معبود ہیں اور کچھ قدرت رکھتے ہیں تو ان سب کو ملا لو اور جو تم سب سے ہو سکے میرے خلاف کرلو۔ میں تو اس اللہ کا عابد ہوں جو ان مصنوعات کا صانع جو ان مخلوقات کا خالق ہے جو ہر چیز کا مالک رب اور سچا معبود ہے جیسے قرآنی ارشاد ہے کہ تمہارا رب صرف وہی ہے جس نے چھ دن میں آسمان و زمین کو پیدا کیا پھر عرش پر مستوی ہوگیا رات کو دن سے دن کو رات سے ڈھانپتا ہے ایک دوسرے کے برابر پیچھے جا آ رہا ہے سورج چاند اور تارے سب اس کے فرمان کے تحت ہیں خلق و امر اسی کی ملکیت میں ہیں وہ رب العالمین ہے بڑی برکتوں والا ہے، یہ تو بالکل ناممکن سا معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ اسللام کے یہ سب فرمان بطور واقعہ کے ہوں اور حقیقت میں آپ اللہ کو پہچانتے ہی نہ ہوں۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے آیت (وَلَـقَدْ اٰتَيْنَآ اِبْرٰهِيْمَ رُشْدَهٗ مِنْ قَبْلُ وَكُنَّا بِهٖ عٰلِمِيْنَ) 21۔ الانبیآء :51) یعنی ہم نے پہلے سے حضرت ابراہیم کو سیدھا راستہ دے دیا تھا اور ہم اس سے خوب واقف تھے جبکہ اس نے اپنے باپ سے اور اپنی قوم سے فرمایا یہ صورتیں کیا ہیں جن کی تم پرستش اور مجاورت کر رہے ہو ؟ اور آیت میں ہے آیت (اِنَّ اِبْرٰهِيْمَ كَانَ اُمَّةً قَانِتًا لِّلّٰهِ حَنِيْفًا ۭ وَلَمْ يَكُ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ) 16۔ النحل :120) ابراہیم تو بڑے خلوص والے اللہ کے سچے فرمانبردار تھے وہ مشرکوں میں سے نہ تھے اللہ کی نعمتوں کے شکر گزار تھے اللہ نے انہیں پسند فرما لیا تھا اور صراط مستقیم کی ہدایت دی تھی دنیا کی بھلائیاں دی تھیں اور آخرت میں بھی انہیں صالح لوگوں میں ملا دیا تھا اب ہم تیری طرف وحی کر رہے ہیں کہ ابراہیم حنیف کے دین کا تابعدار رہ وہ مشرک نہ تھا، بخاری و مسلم میں ہے،حضور ﷺ فرماتے ہیں کہ ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے۔ صحیح مسلم کی حدیث قدسی میں ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں نے اپنے بندوں کو موحد پیدا کیا ہے۔ کتاب اللہ میں ہے آیت (فِطْرَتَ اللّٰهِ الَّتِيْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا ۭ لَا تَبْدِيْلَ لِخَلْقِ اللّٰهِ ۭ ذٰلِكَ الدِّيْنُ الْـقَيِّمُ ڎ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ) 30۔ الروم :30) اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو فطرت اللہ پر پیدا کیا ہے، اللہ کی خلق کی تبدیلی نہیں اور آیت میں ہے تیرے رب نے آدم کی پیٹھ سے ان کی اولاد نکال کر انہیں ان کی جانوں پر گواہ کیا کہ کیا میں تمہارا سب کا رب نہیں ہوں ؟ سب نے اقرار کیا کہ ہاں بیشک تو ہمارا رب ہے پس یہی فطرت اللہ ہے جیسے کہ اس کا ثبوت عنقریب آئے گا انشاء اللہ پس جبکہ تمام مخلوق کی پیدائش دین اسلام پر اللہ کی سچی توحید پر ہے تو ابراہیم خلیل اللہ ؑ جن کی توحید اور اللہ پرستی کا ثنا خواں خود کلام رحمان ہے ان کی نسبت کون کہہ سکتا ہے کہ آپ اللہ جل شانہ سے آگاہ نہ تھے اور کبھی تارے کو اور کبھی چاند سورج کو اپنا اللہ سمجھ رہے تھے۔ نہیں نہیں آپ کی فطرت سالم تھی آپ کی عقل صحیح تھی آپ اللہ کے سچے دین پر اور خالص توحید پر تھے۔ آپ کا یہ تمام کلام بحیثیت مناظرہ تھا اور اس کی زبر دست دلیل اس کے بعد کی آیت ہے۔
77
View Single
فَلَمَّا رَءَا ٱلۡقَمَرَ بَازِغٗا قَالَ هَٰذَا رَبِّيۖ فَلَمَّآ أَفَلَ قَالَ لَئِن لَّمۡ يَهۡدِنِي رَبِّي لَأَكُونَنَّ مِنَ ٱلۡقَوۡمِ ٱلضَّآلِّينَ
Then when he saw the moon shining, he said, “(You proclaim that) this is my Lord?”; then when it set, he said, “If my Lord had not guided me*, I too would be one of these astray people.” (* Prophet Ibrahim was rightly guided before this event).
پھر جب چاند کو چمکتے دیکھا (تو) کہا: (کیا تمہارے خیال میں) یہ میرا رب ہے؟ پھرجب وہ (بھی) غائب ہوگیا تو (اپنی قوم کو سنا کر) کہنے لگے: اگر میرا رب مجھے ہدایت نہ فرماتا تو میں بھی ضرور (تمہاری طرح) گمراہوں کی قوم میں سے ہو جاتا
Tafsir Ibn Kathir
Ibrahim Advises his Father
Ibrahim advised, discouraged and forbade his father from worshipping idols, just as Allah stated,
وَإِذْ قَالَ إِبْرَهِيمُ لاًّبِيهِ ءَازَرَ أَتَتَّخِذُ أَصْنَاماً ءَالِهَةً
(And (remember) when Ibrahim said to his father Azar: "Do you take idols as gods") meaning, do you worship an idol instead of Allah
إِنِّى أَرَاكَ وَقَوْمَكَ
(Verily, I see you and your people...) who follow your path,
فِى ضَلَـلٍ مُّبِينٍ
(in manifest error) wandering in confusion unaware of where to go. Therefore, you are in disarray and ignorance, and this fact is clear to all those who have sound reason. Allah also said,
وَاذْكُرْ فِى الْكِتَـبِ إِبْرَهِيمَ إِنَّهُ كَانَ صِدِّيقاً نَّبِيّاً - إِذْ قَالَ لاًّبِيهِ يأَبَتِ لِمَ تَعْبُدُ مَا لاَ يَسْمَعُ وَلاَ يَبْصِرُ وَلاَ يُغْنِى عَنكَ شَيْئاً - يأَبَتِ إِنِّى قَدْ جَآءَنِى مِنَ الْعِلْمِ مَا لَمْ يَأْتِكَ فَاتَّبِعْنِى أَهْدِكَ صِرَاطاً سَوِيّاً - يأَبَتِ لاَ تَعْبُدِ الشَّيْطَـنَ إِنَّ الشَّيْطَـنَ كَانَ لِلرَّحْمَـنِ عَصِيّاً - يأَبَتِ إِنِّى أَخَافُ أَن يَمَسَّكَ عَذَابٌ مِّنَ الرَّحْمَـنِ فَتَكُونَ لِلشَّيْطَـنِ وَلِيّاً - قَالَ أَرَاغِبٌ أَنتَ عَنْ آلِهَتِى يإِبْرَهِيمُ لَئِن لَّمْ تَنتَهِ لأَرْجُمَنَّكَ وَاهْجُرْنِى مَلِيّاً - قَالَ سَلَـمٌ عَلَيْكَ سَأَسْتَغْفِرُ لَكَ رَبِّي إِنَّهُ كَانَ بِى حَفِيّاً - وَأَعْتَزِلُكُمْ وَمَا تَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّهِ وَأَدْعُو رَبِّى عَسَى أَلاَّ أَكُونَ بِدُعَآءِ رَبِّى شَقِيًّا
(And mention in the Book (the Qur'an, the story of) Ibrahim. Verily! He was a man of truth, a Prophet. When he said to his father: "O my father! Why do you worship that which hears not, sees not and cannot avail you in anything O my father! Verily! There has come to me of knowledge that which came not unto you. So follow me. I will guide you to a straight path. O my father! Worship not Shaytan. Verily! Shaytan has been a rebel against the Most Beneficent (Allah). O my father! Verily! I fear lest a torment from the Most Beneficent (Allah) overtakes you, so that you become a companion of Shaytan (in the Hell-fire)." He (the father) said: "Do you reject my gods, O Ibrahim If you stop not (this), I will indeed stone you. So get away from me safely before I punish you." Ibrahim said: "Peace be on you! I will ask forgiveness of my Lord for you. Verily! He is unto me, Ever Most Gracious. And I shall turn away from you and from those whom you invoke besides Allah. And I shall call on my Lord; and I hope that I shall not be unanswered in my invocation to my Lord.") 19:41-48 Ibrahim continued asking for forgiveness for his father for the rest of his father's life. When his father died an idolator and Ibrahim realized this fact, he stopped asking Allah for forgiveness for him and disassociated himself from him. Allah said,
وَمَا كَانَ اسْتِغْفَارُ إِبْرَهِيمَ لاًّبِيهِ إِلاَّ عَن مَّوْعِدَةٍ وَعَدَهَآ إِيَّاهُ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُ أَنَّهُ عَدُوٌّ لِلَّهِ تَبَرَّأَ مِنْهُ إِنَّ إِبْرَهِيمَ لأَوَّاهٌ حَلِيمٌ
(And invoking for his father's forgiveness was only because of a promise he had made to him. But when it became clear to him that he was an enemy to Allah, he dissociated himself from him. Verily Ibrahim was patient in supplication and forbearing.) 9:114. It was recorded in the Sahih that Ibrahim will meet his father Azar on the Day of Resurrection and Azar will say to him, "My son! This Day, I will not disobey you." Ibrahim will say, "O Lord! You promised me not to disgrace me on the Day they are resurrected; and what will be more disgraceful to me than cursing and dishonoring my father" Then Allah will say, "O Ibrahim! Look behind you!" He will look and there he will see (that his father was changed into) a male hyena covered in dung, which will be caught by the legs and thrown in the (Hell) Fire."
Tawhid Becomes Apparent to Ibrahim
Allah's statement,
وَكَذَلِكَ نُرِى إِبْرَهِيمَ مَلَكُوتَ السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ
(Thus did We show Ibrahim the kingdom of the heavens and the earth...) 6:75, means, when he contemplated about the creation of the heaven and earth, We showed Ibrahim the proofs of Allah's Oneness over His dominion and His creation, which indicate that there is no god or Lord except Allah. Allah said in other Ayat;
قُلِ انظُرُواْ مَاذَا فِى السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ
(Say: "Behold all that is in the heavens and the earth.") 10:101, and,
أَفَلَمْ يَرَوْاْ إِلَى مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ مِّنَ السَّمَآءِ وَالاٌّرْضِ إِن نَّشَأْ نَخْسِفْ بِهِمُ الاٌّرْضَ أَوْ نُسْقِطْ عَلَيْهِمْ كِسَفاً مِّنَ السَّمَآءِ إِنَّ فِى ذَلِكَ لاّيَةً لِّكُلِّ عَبْدٍ مُّنِيبٍ
(See they not what is before them and what is behind them, of the heaven and the earth If We will, We sink the earth with them, or cause a piece of the sky to fall upon them. Verily, in this is a sign for every servant who turns to Allah.) 34:9 Allah said next,
فَلَمَّا جَنَّ عَلَيْهِ الَّيْلُ
(When the night overcame him) covered him with darkness,
رَأَى كَوْكَباً
(He saw a Kawkab) a star.
قَالَ هَـذَا رَبِّى فَلَمَّآ أَفَلَ
(He said: "This is my lord." But when it Afala,) meaning, set, he said,
لا أُحِبُّ الاٌّفِلِينَ
(I like not those that set.) Qatadah commented, "Ibrahim knew that his Lord is Eternal and never ceases."
فَلَمَّآ رَأَى الْقَمَرَ بَازِغاً قَالَ هَـذَا رَبِّى فَلَمَّآ أَفَلَ قَالَ لَئِن لَّمْ يَهْدِنِى رَبِّى لاّكُونَنَّ مِنَ الْقَوْمِ الضَّآلِّينَ
رَبِّى
(When he saw the moon rising up, he said: "This is my lord." But when it set, he said: "Unless my Lord guides me, I shall surely be among the misguided people." When he saw the sun rising up, he said: "This is my lord.") this radiating, rising star is my lord,
هَـذَآ أَكْبَرُ
(This is greater) bigger than the star and the moon, and more radiant.
فَلَمَّآ أَفَلَتْ
(But when it Afalat) set,
قَالَ يقَوْمِ إِنِّى بَرِىءٌ مِّمَّا تُشْرِكُونَإِنِّى وَجَّهْتُ وَجْهِىَ
(he said: "O my people! I am indeed free from all that you join as partners in worship with Allah. Verily, I have turned my face..."), meaning, I have purified my religion and made my worship sincere,
لِلَّذِى فَطَرَ السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضَ
("towards Him Who has created the heavens and the earth,") Who originated them and shaped them without precedence,
حَنِيفاً
(Hanifan) avoiding Shirk and embracing Tawhid. This is why he said next,
وَمَآ أَنَاْ مِنَ الْمُشْرِكِينَ
("and I am not of the idolators.")
Prophet Ibrahim Debates with his People
We should note here that, in these Ayat, Ibrahim, peace be upon him, was debating with his people, explaining to them the error of their way in worshipping idols and images. In the first case with his father, Ibrahim explained to his people their error in worshipping the idols of earth, which they made in the shape of heavenly angels, so that they intercede on their behalf with the Glorious Creator. His people thought that they are too insignificant to worship Allah directly, and this is why they turned to the worship of angels as intercessors with Allah for their provisions, gaining victory and attaining their various needs. He then explained to them the error and deviation of worshipping the seven planets, which they said were the Moon, Mercury, Venus, the Sun, Mars, Jupiter and Saturn. The brightest of these objects and the most honored to them was the Sun, the Moon then Venus. Ibrahim, may Allah's peace and blessings be on him, first proved that Venus is not worthy of being worshipped, for it is subservient to a term and course appointed that it does not defy, nor swerving right or left. Venus does not have any say in its affairs, for it is only a heavenly object that Allah created and made bright out of His wisdom. Venus rises from the east and sets in the west where it disappears from sight. This rotation is repeated the next night, and so forth. Such an object is not worthy of being a god. Ibrahim then went on to mention the Moon in the same manner in which he mentioned Venus, and then the Sun. When he proved that these three objects were not gods, although they are the brightest objects the eyes can see,
قَالَ يقَوْمِ إِنِّى بَرِىءٌ مِّمَّا تُشْرِكُونَ
(he said: "O my people! I am indeed free from all that you join as partners in worship with Allah.") meaning, I am free from worshipping these objects and from taking them as protectors. Therefore, if they are indeed gods as you claim, then all of you bring your plot against me and do not give me respite.
إِنِّى وَجَّهْتُ وَجْهِىَ لِلَّذِى فَطَرَ السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضَ حَنِيفاً وَمَآ أَنَاْ مِنَ الْمُشْرِكِينَ
(Verily, I have turned my face towards Him Who has created the heavens and the earth, Hanifan, and I am not one of the idolators.) meaning, I worship the Creator of these things, Who originated and decreed them, and Who governs their affairs and made them subservient. It is He in Whose Hand is the dominion of all things, and He is the Creator, Lord, King and God of all things in existence. In another Ayah, Allah said؛
إِنَّ رَبَّكُمُ اللَّهُ الَّذِى خَلَقَ السَمَـوَتِ وَالاٌّرْضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى الْعَرْشِ يُغْشِى الَّيْلَ النَّهَارَ يَطْلُبُهُ حَثِيثًا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ وَالنُّجُومَ مُسَخَّرَتٍ بِأَمْرِهِ أَلاَ لَهُ الْخَلْقُ وَالاٌّمْرُ تَبَارَكَ اللَّهُ رَبُّ الْعَـلَمِينَ
(Indeed your Lord is Allah, Who created the heavens and the earth in six Days, and then He Istawa (rose over) the Throne. He brings the night as a cover over the day, seeking it rapidly, and (He created) the sun, the moon, the stars, subjecting them to His command. Surely, His is the creation and commandment. Blessed be Allah, the Lord of all that exists!) 7:54. Allah described Prophet Ibrahim,
وَلَقَدْ ءَاتَيْنَآ إِبْرَهِيمَ رُشْدَهُ مِن قَبْلُ وَكُنَّا بِهِ عَـلِمِينَ - إِذْ قَالَ لاًّبِيهِ وَقَوْمِهِ مَا هَـذِهِ التَّمَـثِيلُ الَّتِى أَنتُمْ لَهَا عَـكِفُونَ
(And indeed We bestowed aforetime on Ibrahim his (portion of) guidance, and We were well-acquainted with him. When he said to his father and his people: "What are these images, to which you are devoted") 21:51-52. These Ayat indicate that Ibrahim was debating with his people about the Shirk they practiced.
ابراہیم ؑ اور آزر میں مکالمہ حضرت عباس کا قول ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہم السلام) کے والد کا نام آزر نہ تھا بلکہ تارخ تھا۔ آزر سے مراد بت ہے۔ آپ کی والدہ کا نام مثلے تھا آپ کی بیوی صاحبہ کا نام سارہ تھا۔ حضرت اسماعیل کی والدہ کا نام ہاجرہ تھا یہ حضرت ابراہیم کی سریہ تھیں۔ علماء نسب میں سے اوروں کا بھی قول ہے کہ آپ کے والد کا نام تارخ تھا۔ مجاہد اور سدی فرماتے ہیں آزر اس بت کا نام تھا جس کے پجاری اور خادم حضرت ابراہیم ؑ کے والد تھے ہوسکتا ہے کہ اس بت کے نام کی وجہ سے انہیں بھی اسی نام سے یاد کیا جاتا ہو اور یہی نام مشہور ہوگیا ہو۔ واللہ اعلم۔ ابن جریر فرماتے ہیں کہ آزر کا لفظ ان میں بطور عیب گیری کے استعمال کیا جاتا تھا اس کے معنی ٹیڑھے آدمی کے ہیں۔ لیکن اس کلام کی سند نہیں نہ امام صاحب نے اسے کسی سے نقل کیا ہے۔ سلیمان کا قول ہے کہ اس کے معنی ٹیڑھے پن کے ہیں اور یہی سب سے سخت لفظ ہے جو خلیل اللہ کی زبان سے نکلا۔ ابن جریر کا فرمان ہے کہ ٹھیک بات یہی ہے کہ حضرت ابراہیم کے والد کا نام آزر تھا اور یہ جو عام تاریخ داں کہتے ہیں کہ ان کا نام تارخ تھا اس کا جواب یہ ہے کہ ممکن ہے دونوں نام ہوں یا ایک تو نام ہو اور دوسرا لقب ہو۔ بات تو یہ ٹھیک اور نہایت قوی ہے واللہ اعلم۔ آزَر اور آزُر دونوں قرأتیں ہیں پچھلی قرأت یعنی راء کے زبر کے ساتھ تو جمہور کی ہے۔ پیش والی قرأت میں ندا کی وجہ سے پیش ہے اور زبر والی قرأت لابیہ سے بدل ہونے کی ہے اور ممکن ہے کہ عطف بیان ہو اور یہی زیادہ مشابہ ہے۔ یہ لفظ علمیت اور عجمیت کی بنا پر غیر منصرف ہے بعض لوگ اسے صفت بتلاتے ہیں اس بنا پر بھی یہ غیر منصرف رہے گا جیسے احمر اور اسود۔ بعض اسے اتتخذ کا معمول مان کر منصوب کہتے ہیں۔ گویا حضرت ابراہیم یوں فرماتے کہ ہم لوگ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے جب ہم مدینہ شریف سے باہر نکل گئے تو ہم نے دیکھا کہ ایک اونٹ سوار بہت تیزی سے اپنے اونٹ کو دوڑتا ہوا آ رہا ہے حضور نے فرمایا تمہاری طرف ہی آ رہا ہے اس نے پہنچ کر سلام کیا ہم نے جواب دیا حضور نے ان سے پوچھا کہاں سے آ رہے ہو ؟ اس نے کہا اپنے گھر سے، اپنے بال بچوں میں سے، اپنے کنبے قبیلے میں سے۔ دریافت فرمایا کیا ارادہ ہے ؟ کیسے نکلے ہو ؟ جواب دیا اللہ کے رسول ﷺ کی جستجو میں۔ آپ نے فرمایا پھر تو تم اپنے مقصد میں کامیاب ہوگئے میں ہی اللہ کا رسول ہوں۔ اس نے خوش ہو کر کہا یا رسول اللہ مجھے سمجھائیے کہ ایمان کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا یہ کہہ دو کہ اللہ ایک ہے اور محمد اللہ کے رسول ہیں اور نمازوں کو قائم رکھے اور زکوٰۃ ادا کرتا رہے اور رمصان کے روزے رکھے اور بیت اللہ کا حج کرے اس نے کہا مجھے سب باتیں منظور ہیں میں سب اقرار کرتا ہوں، اتنے میں ان کے اونٹ کا پاؤں ایک سوراخ میں گرپڑا اور اونٹ ایک دم سے جھٹکالے کر جھک گیا اور وہ اوپر سے گرے اور سر کے بل گرے اور اسی وقت روح پرواز کرگئی حضور نے ان کے گرتے ہی فرمایا کہ دیکھو انہیں سنبھالو اسی وقت حضرت عمار بن یاسر اور حضرت حذیفہ بن یمان اپنے اونٹوں سے کود پڑے اور انہیں اٹھا لیا دیکھا تو روح جسم سے علیحدہ ہوچکی ہے حضور سے کہنے لگے یا رسول اللہ یہ تو فوت ہوگئے آپ نے منہ پھیرلیا پھر ذرا سی دیر میں فرمانے لگے تم نے مجھے منہ موڑتے ہوئے دیکھا ہوگا اس کی وجہ یہ تھی کہ میں نے دیکھا دو فرشتے آئے تھے اور مرحوم کے منہ میں جنت کے پھول دے رہے تھے اس سے میں نے جان لیا کہ بھوکے فوت ہوئے ہیں۔ سنو یہ انہیں لوگوں میں سے ہیں جن کی بابت اللہ تبارک و تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ جو لوگ ایمان لائے اور اپنے ایمان کو ظلم سے نہ ملایا ان کے لئے امن وامان ہے اور وہ راہ یافتہ ہیں۔ اجھا اپنے پیارے بھائی کو دفن کرو چناچہ ہم انہیں پانی کے پاس اٹھا لے گئے غسل دیا خوشبو ملی اور قبر کی طرف جنازہ لے کر چلے آنحضرت ﷺ قبر کے کنارے بیٹھ گئے اور فرمانے لگے بغلی قبر بناؤ سیدھی نہ بناؤ بغلی قبر ہمارے لئے ہے اور سیدھی ہمارے سوا اوروں کے لئے ہے، لوگو یہ وہ شخص ہے جس نے عمل بہت ہی کم کیا اور ثواب زیادہ پایا۔ یہ ایک اعرابی تھے انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ یا رسول اللہ ﷺ اس سلسلہ کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے میں اپنے گھر سے اپنے بال بجوں سے اپنے مال سے اپنے کنبے قبیلے سے اس لئے اور صرف اس لئے الگ ہوا ہوں کہ آپ کی ہدایت کو قبول کروں آپ کی سنتوں پر علم کروں آپ کی حدیثیں لوں۔ یا رسول اللہ ﷺ میں گھاس پھوس کھاتا ہوا آپ تک پہنچا ہوں۔ آپ مجھ اسلام سکھائیے حضور نے سکھایا اس نے قبول کیا ہم سب ان کے ارد گرد بھیڑ لگائے کھڑے تھے اتنے میں جنگلی چوہے کے بل میں ان کے اونٹ کا پاؤں پڑگیا یہ گرپڑے اور گردن ٹوٹ گئی آپ نے فرمایا اس اللہ کی قسم جس نے مجھے حق کے ساتھ مبعوث فرمایا یہ سچ مچ فی الواقع اپنے گھر سے اپنی اہل و عیال سے اور اپنے مال مویشی سے صرف میری تابعداری کی دھن میں نکلا تھا اور وہ اس بات میں بھی سچے تھے کہ وہ میرے پاس نہیں پہنچے یہاں تک کہ ان کا کھانا صرف سبز پتے اور گھاس رہ گیا تھا تم نے ایسے لوگ بھی سنے ہوں گے جو عمل کم کرتے ہیں اور ثواب بہت پاتے ہیں۔ یہ بزرگ انہی میں سے تھے۔ تم نے سنا ہوگا کہ باری تعالیٰ فرماتا ہے جو ایمان لائیں اور ظلم نہ کریں وہ امن و ہدایت والے ہیں یہ انہی میں سے تھے ؓ پھر فرمایا ابراہیم ؑ کو یہ دلیلیں ہم نے سکھائیں جن سے وہ اپنی قوم پر غالب آگئے جیسے انہوں نے ایک اللہ کے پرستار کا امن اور اس کی ہدایت بیان فرمائی اور خود اللہ کی طرف سے اس بات کی تصدیق کی گئی آیت (نَرْفَعُ دَرَجٰتٍ مَّنْ نَّشَاۗءُ ۭاِنَّ رَبَّكَ حَكِيْمٌ عَلِيْمٌ) 6۔ الانعام :83) کی یہی ایک قرأت ہے، اضافت کے ساتھ اور بےاضافت دونوں طرح پڑھا یا گیا ہے جیسے سورة یوسف میں ہے اور معنی دونوں قرأتوں کے قریب قریب برابر ہیں۔ تیرے رب کے اقوال رحمت والے اور اس کے کام بھی حکمت والے ہیں۔ وہ صحیح راستے والوں کو اور گمراہوں کو بخوبی جانتا ہے جیسے فرمان ہے جن پر تیرے کی ٹھنڈک میں نے اپنے سینے میں محسوس کی پھر تو تمام چیزیں میرے سامنے کھل گئیں اور میں نے اسے پہچان لیا ولیکون کا واؤ زائدہ ہے۔ جیسے ولتستبین میں اور کہا گیا ہے کہ وہ اپنی جگہ پر ہے یعنی اس لئے کہ وہ عالم اور یقین والے ہوجائیں، رات کے اندھیرے میں خلیل اللہ ستارے کو دیکھ کر فرماتے ہیں کہ یہ میرا رب ہے جب وہ غروب ہوجاتا ہے تو آپ سمجھ لیتے ہیں کہ یہ پروردگار نہیں کیونکہ رب دوام والا ہوتا ہے وہ زوال اور انقلاب سے پاک ہوتا ہے۔ پھر جب چاند چڑھتا ہے تو یہی فرماتے ہیں جب وہ بھی غروب ہوجاتا ہے تو اس سے بھی یکسوئی کرلیتے ہیں۔ پھر سورج کے طلوع ہونے پر اسے سب سے بڑا پا کر سب سے زیادہ روشن دیکھ کر یہی کہتے ہیں جب وہ بھی ڈھل جاتا ہے تو اللہ کے سوا تمام معبودوں سے بیزار ہوجاتے ہیں۔ اور پکار اٹھتے ہیں کہ میں تو اپنی عبادت کے لئے اللہ کی ذات کو مخصوص کرتا ہوں جس نے ابتداء میں بغیر کسی نمونے کے آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کیا ہے میں شرک سے ہٹ کر توحید کی طرف لوٹتا ہوں اور میں مشرکوں میں شامل رہنا نہیں چاہتا، مفسرین ان آیتوں کی بابت دو خیال ظاہر کرتے ہیں۔ ایک تو یہ کہ یہ بطور نظر اور غور و فکر کے تھا دوسرے یہ کہ یہ سب بطور مناظرہ کے تھا۔ ابن عباس سے دوسری بات ہی مروی ہے ابن جریر میں بھی اسی کو پسند کیا گیا ہے اس کی دلیل میں آپ کا یہ قول لاتے ہیں کہ اگر مجھے میرا رب ہدایت نہ کرتا تو میں گمراہ میں ہوجاتا۔ امام محمد بن اسہاق ؒ نے ایک لمبا قصہ نقل کیا ہے جس میں ہے کہ نمرود بن کنعان بادشاہ سے یہ کہا گیا تھا کہ ایک بچہ پیدا ہونے والا ہے جس کے ہاتھوں تیرا تخت تارج ہوگا تو اس نے حکم دے دیا تھا کہ اس سال میری مملکت میں جتنے بچے پیدا ہوں سب قتل کردیئے جائیں حضرت ابراہیم ؑ کی والدہ نے جب یہ سنا تو کجھ وقت قبل شہر کے باہر ایک غار میں چلی گئیں، وہیں حضرت خلیل اللہ پیدا ہوئے، تو جب آپ اس غار سے باہر نکلے تب آپ نے یہ سب فرمایا تھا جس کا ذکر ان آیتوں میں ہے، بالکل صحیح بات یہ ہے کہ یہ گفتگو اللہ کے خلیل حضرت ابراہیم ؑ کی مناظرانہ تھی اپنی قوم کی باطل پرستی کا احوال اللہ کو سمجھا رہے تھے، اول تو آپ نے اپنے والد کی خطا ظاہر کی کہ وہ زمین کے ان بتوں کی پوجا کرتے تھے جنہیں انہوں نے فرشتوں وغیرہ کی شکل پر بنا لیا تھا اور جنہیں وہ سفارشی سمجھ رہے تھے۔ یہ لوگ بزعم خود اپنے آپ کو اس قابل نہیں جانتے تھے کہ براہ راست اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں۔ اس لئے بطور وسیلے کے فرشتوں کو پوجتے تھے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے ان کے بارے میں کہہ سن کر ان کی روزی وغیرہ بڑھوا دیں اور ان کی حاجتیں پوری کرا دیں پھر جن آسمانی چیزوں کو یہ پوجتے تھے ان میں ان کی خطا بیان کی۔ یہ ستارہ پرست بھی تھے ساتوں ستاروں کو جو چلنے پھرنے والے ہیں۔ پوجتے تھے، چاند، عطارد، زہرہ، سورج، مریخ، مستری، زحل۔ ان کے نزدیک سب سے زیادہ روشن سورج ہے، پھر چاند پھر زہرہ پس آپ نے آدنیٰ سے شروع کیا اور اعلی تک لے گئے۔ پہلے تو زہرہ کی نسبت فرمایا کہ وہ پوجا کے قابل نہیں کیونکہ یہ دوسرے کے قابو میں ہیں۔ یہ مقررہ جال سے چلتا۔ مقررہ جگہ پر چلتا ہے دائیں بائیں ذرا بھی کھسک نہیں سکتا۔ تو جبکہ وہ خود بیشمار چیزوں میں سے ایک چیز ہے۔ اس میں روشنی بھی اللہ کی دی ہوئی ہے یہ مشرق سے نکلتا ہے پھر چلتا پھرتا رہتا ہے اور ڈوب جاتا ہے پھر دوسری رات اسی طرح ظاہر ہوتا ہے تو ایسی چیز معبود ہونے کی صلاحیت کیا رکھتی ہے ؟ پھر اس سے زیادہ روشن چیز یعنی چاند کو دیکھتے ہیں اور اس کو بھی عبادت کے قابل نہ ہونا ظاہر فرما کر پھر سورج کو لیا اور اس کی مجبوری اور اس کی غلامی اور مسکینی کا اظہار کیا اور کہا کہ لوگو میں تمہارے ان شرکاء سے، ان کی عبادت سے، ان کی عقیدت سے، ان کی محبت سے دور ہوں۔ سنو اگر یہ سچے معبود ہیں اور کچھ قدرت رکھتے ہیں تو ان سب کو ملا لو اور جو تم سب سے ہو سکے میرے خلاف کرلو۔ میں تو اس اللہ کا عابد ہوں جو ان مصنوعات کا صانع جو ان مخلوقات کا خالق ہے جو ہر چیز کا مالک رب اور سچا معبود ہے جیسے قرآنی ارشاد ہے کہ تمہارا رب صرف وہی ہے جس نے چھ دن میں آسمان و زمین کو پیدا کیا پھر عرش پر مستوی ہوگیا رات کو دن سے دن کو رات سے ڈھانپتا ہے ایک دوسرے کے برابر پیچھے جا آ رہا ہے سورج چاند اور تارے سب اس کے فرمان کے تحت ہیں خلق و امر اسی کی ملکیت میں ہیں وہ رب العالمین ہے بڑی برکتوں والا ہے، یہ تو بالکل ناممکن سا معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ اسللام کے یہ سب فرمان بطور واقعہ کے ہوں اور حقیقت میں آپ اللہ کو پہچانتے ہی نہ ہوں۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے آیت (وَلَـقَدْ اٰتَيْنَآ اِبْرٰهِيْمَ رُشْدَهٗ مِنْ قَبْلُ وَكُنَّا بِهٖ عٰلِمِيْنَ) 21۔ الانبیآء :51) یعنی ہم نے پہلے سے حضرت ابراہیم کو سیدھا راستہ دے دیا تھا اور ہم اس سے خوب واقف تھے جبکہ اس نے اپنے باپ سے اور اپنی قوم سے فرمایا یہ صورتیں کیا ہیں جن کی تم پرستش اور مجاورت کر رہے ہو ؟ اور آیت میں ہے آیت (اِنَّ اِبْرٰهِيْمَ كَانَ اُمَّةً قَانِتًا لِّلّٰهِ حَنِيْفًا ۭ وَلَمْ يَكُ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ) 16۔ النحل :120) ابراہیم تو بڑے خلوص والے اللہ کے سچے فرمانبردار تھے وہ مشرکوں میں سے نہ تھے اللہ کی نعمتوں کے شکر گزار تھے اللہ نے انہیں پسند فرما لیا تھا اور صراط مستقیم کی ہدایت دی تھی دنیا کی بھلائیاں دی تھیں اور آخرت میں بھی انہیں صالح لوگوں میں ملا دیا تھا اب ہم تیری طرف وحی کر رہے ہیں کہ ابراہیم حنیف کے دین کا تابعدار رہ وہ مشرک نہ تھا، بخاری و مسلم میں ہے،حضور ﷺ فرماتے ہیں کہ ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے۔ صحیح مسلم کی حدیث قدسی میں ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں نے اپنے بندوں کو موحد پیدا کیا ہے۔ کتاب اللہ میں ہے آیت (فِطْرَتَ اللّٰهِ الَّتِيْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا ۭ لَا تَبْدِيْلَ لِخَلْقِ اللّٰهِ ۭ ذٰلِكَ الدِّيْنُ الْـقَيِّمُ ڎ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ) 30۔ الروم :30) اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو فطرت اللہ پر پیدا کیا ہے، اللہ کی خلق کی تبدیلی نہیں اور آیت میں ہے تیرے رب نے آدم کی پیٹھ سے ان کی اولاد نکال کر انہیں ان کی جانوں پر گواہ کیا کہ کیا میں تمہارا سب کا رب نہیں ہوں ؟ سب نے اقرار کیا کہ ہاں بیشک تو ہمارا رب ہے پس یہی فطرت اللہ ہے جیسے کہ اس کا ثبوت عنقریب آئے گا انشاء اللہ پس جبکہ تمام مخلوق کی پیدائش دین اسلام پر اللہ کی سچی توحید پر ہے تو ابراہیم خلیل اللہ ؑ جن کی توحید اور اللہ پرستی کا ثنا خواں خود کلام رحمان ہے ان کی نسبت کون کہہ سکتا ہے کہ آپ اللہ جل شانہ سے آگاہ نہ تھے اور کبھی تارے کو اور کبھی چاند سورج کو اپنا اللہ سمجھ رہے تھے۔ نہیں نہیں آپ کی فطرت سالم تھی آپ کی عقل صحیح تھی آپ اللہ کے سچے دین پر اور خالص توحید پر تھے۔ آپ کا یہ تمام کلام بحیثیت مناظرہ تھا اور اس کی زبر دست دلیل اس کے بعد کی آیت ہے۔
78
View Single
فَلَمَّا رَءَا ٱلشَّمۡسَ بَازِغَةٗ قَالَ هَٰذَا رَبِّي هَٰذَآ أَكۡبَرُۖ فَلَمَّآ أَفَلَتۡ قَالَ يَٰقَوۡمِ إِنِّي بَرِيٓءٞ مِّمَّا تُشۡرِكُونَ
Then when he saw the sun shining brightly, he said, “(You say that) this is my Lord? This is the biggest of them all!”; then when it set he said, “O people! I do not have any relation with the whatever you ascribe as partners (to Him).”
پھر جب سورج کو چمکتے دیکھا (تو) کہا: (کیا اب تمہارے خیال میں) یہ میرا رب ہے (کیونکہ) یہ سب سے بڑا ہے؟ پھر جب وہ (بھی) چھپ گیا تو بول اٹھے: اے لوگو! میں ان (سب چیزوں) سے بیزار ہوں جنہیں تم (اللہ کا) شریک گردانتے ہو
Tafsir Ibn Kathir
Ibrahim Advises his Father
Ibrahim advised, discouraged and forbade his father from worshipping idols, just as Allah stated,
وَإِذْ قَالَ إِبْرَهِيمُ لاًّبِيهِ ءَازَرَ أَتَتَّخِذُ أَصْنَاماً ءَالِهَةً
(And (remember) when Ibrahim said to his father Azar: "Do you take idols as gods") meaning, do you worship an idol instead of Allah
إِنِّى أَرَاكَ وَقَوْمَكَ
(Verily, I see you and your people...) who follow your path,
فِى ضَلَـلٍ مُّبِينٍ
(in manifest error) wandering in confusion unaware of where to go. Therefore, you are in disarray and ignorance, and this fact is clear to all those who have sound reason. Allah also said,
وَاذْكُرْ فِى الْكِتَـبِ إِبْرَهِيمَ إِنَّهُ كَانَ صِدِّيقاً نَّبِيّاً - إِذْ قَالَ لاًّبِيهِ يأَبَتِ لِمَ تَعْبُدُ مَا لاَ يَسْمَعُ وَلاَ يَبْصِرُ وَلاَ يُغْنِى عَنكَ شَيْئاً - يأَبَتِ إِنِّى قَدْ جَآءَنِى مِنَ الْعِلْمِ مَا لَمْ يَأْتِكَ فَاتَّبِعْنِى أَهْدِكَ صِرَاطاً سَوِيّاً - يأَبَتِ لاَ تَعْبُدِ الشَّيْطَـنَ إِنَّ الشَّيْطَـنَ كَانَ لِلرَّحْمَـنِ عَصِيّاً - يأَبَتِ إِنِّى أَخَافُ أَن يَمَسَّكَ عَذَابٌ مِّنَ الرَّحْمَـنِ فَتَكُونَ لِلشَّيْطَـنِ وَلِيّاً - قَالَ أَرَاغِبٌ أَنتَ عَنْ آلِهَتِى يإِبْرَهِيمُ لَئِن لَّمْ تَنتَهِ لأَرْجُمَنَّكَ وَاهْجُرْنِى مَلِيّاً - قَالَ سَلَـمٌ عَلَيْكَ سَأَسْتَغْفِرُ لَكَ رَبِّي إِنَّهُ كَانَ بِى حَفِيّاً - وَأَعْتَزِلُكُمْ وَمَا تَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّهِ وَأَدْعُو رَبِّى عَسَى أَلاَّ أَكُونَ بِدُعَآءِ رَبِّى شَقِيًّا
(And mention in the Book (the Qur'an, the story of) Ibrahim. Verily! He was a man of truth, a Prophet. When he said to his father: "O my father! Why do you worship that which hears not, sees not and cannot avail you in anything O my father! Verily! There has come to me of knowledge that which came not unto you. So follow me. I will guide you to a straight path. O my father! Worship not Shaytan. Verily! Shaytan has been a rebel against the Most Beneficent (Allah). O my father! Verily! I fear lest a torment from the Most Beneficent (Allah) overtakes you, so that you become a companion of Shaytan (in the Hell-fire)." He (the father) said: "Do you reject my gods, O Ibrahim If you stop not (this), I will indeed stone you. So get away from me safely before I punish you." Ibrahim said: "Peace be on you! I will ask forgiveness of my Lord for you. Verily! He is unto me, Ever Most Gracious. And I shall turn away from you and from those whom you invoke besides Allah. And I shall call on my Lord; and I hope that I shall not be unanswered in my invocation to my Lord.") 19:41-48 Ibrahim continued asking for forgiveness for his father for the rest of his father's life. When his father died an idolator and Ibrahim realized this fact, he stopped asking Allah for forgiveness for him and disassociated himself from him. Allah said,
وَمَا كَانَ اسْتِغْفَارُ إِبْرَهِيمَ لاًّبِيهِ إِلاَّ عَن مَّوْعِدَةٍ وَعَدَهَآ إِيَّاهُ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُ أَنَّهُ عَدُوٌّ لِلَّهِ تَبَرَّأَ مِنْهُ إِنَّ إِبْرَهِيمَ لأَوَّاهٌ حَلِيمٌ
(And invoking for his father's forgiveness was only because of a promise he had made to him. But when it became clear to him that he was an enemy to Allah, he dissociated himself from him. Verily Ibrahim was patient in supplication and forbearing.) 9:114. It was recorded in the Sahih that Ibrahim will meet his father Azar on the Day of Resurrection and Azar will say to him, "My son! This Day, I will not disobey you." Ibrahim will say, "O Lord! You promised me not to disgrace me on the Day they are resurrected; and what will be more disgraceful to me than cursing and dishonoring my father" Then Allah will say, "O Ibrahim! Look behind you!" He will look and there he will see (that his father was changed into) a male hyena covered in dung, which will be caught by the legs and thrown in the (Hell) Fire."
Tawhid Becomes Apparent to Ibrahim
Allah's statement,
وَكَذَلِكَ نُرِى إِبْرَهِيمَ مَلَكُوتَ السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ
(Thus did We show Ibrahim the kingdom of the heavens and the earth...) 6:75, means, when he contemplated about the creation of the heaven and earth, We showed Ibrahim the proofs of Allah's Oneness over His dominion and His creation, which indicate that there is no god or Lord except Allah. Allah said in other Ayat;
قُلِ انظُرُواْ مَاذَا فِى السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ
(Say: "Behold all that is in the heavens and the earth.") 10:101, and,
أَفَلَمْ يَرَوْاْ إِلَى مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ مِّنَ السَّمَآءِ وَالاٌّرْضِ إِن نَّشَأْ نَخْسِفْ بِهِمُ الاٌّرْضَ أَوْ نُسْقِطْ عَلَيْهِمْ كِسَفاً مِّنَ السَّمَآءِ إِنَّ فِى ذَلِكَ لاّيَةً لِّكُلِّ عَبْدٍ مُّنِيبٍ
(See they not what is before them and what is behind them, of the heaven and the earth If We will, We sink the earth with them, or cause a piece of the sky to fall upon them. Verily, in this is a sign for every servant who turns to Allah.) 34:9 Allah said next,
فَلَمَّا جَنَّ عَلَيْهِ الَّيْلُ
(When the night overcame him) covered him with darkness,
رَأَى كَوْكَباً
(He saw a Kawkab) a star.
قَالَ هَـذَا رَبِّى فَلَمَّآ أَفَلَ
(He said: "This is my lord." But when it Afala,) meaning, set, he said,
لا أُحِبُّ الاٌّفِلِينَ
(I like not those that set.) Qatadah commented, "Ibrahim knew that his Lord is Eternal and never ceases."
فَلَمَّآ رَأَى الْقَمَرَ بَازِغاً قَالَ هَـذَا رَبِّى فَلَمَّآ أَفَلَ قَالَ لَئِن لَّمْ يَهْدِنِى رَبِّى لاّكُونَنَّ مِنَ الْقَوْمِ الضَّآلِّينَ
رَبِّى
(When he saw the moon rising up, he said: "This is my lord." But when it set, he said: "Unless my Lord guides me, I shall surely be among the misguided people." When he saw the sun rising up, he said: "This is my lord.") this radiating, rising star is my lord,
هَـذَآ أَكْبَرُ
(This is greater) bigger than the star and the moon, and more radiant.
فَلَمَّآ أَفَلَتْ
(But when it Afalat) set,
قَالَ يقَوْمِ إِنِّى بَرِىءٌ مِّمَّا تُشْرِكُونَإِنِّى وَجَّهْتُ وَجْهِىَ
(he said: "O my people! I am indeed free from all that you join as partners in worship with Allah. Verily, I have turned my face..."), meaning, I have purified my religion and made my worship sincere,
لِلَّذِى فَطَرَ السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضَ
("towards Him Who has created the heavens and the earth,") Who originated them and shaped them without precedence,
حَنِيفاً
(Hanifan) avoiding Shirk and embracing Tawhid. This is why he said next,
وَمَآ أَنَاْ مِنَ الْمُشْرِكِينَ
("and I am not of the idolators.")
Prophet Ibrahim Debates with his People
We should note here that, in these Ayat, Ibrahim, peace be upon him, was debating with his people, explaining to them the error of their way in worshipping idols and images. In the first case with his father, Ibrahim explained to his people their error in worshipping the idols of earth, which they made in the shape of heavenly angels, so that they intercede on their behalf with the Glorious Creator. His people thought that they are too insignificant to worship Allah directly, and this is why they turned to the worship of angels as intercessors with Allah for their provisions, gaining victory and attaining their various needs. He then explained to them the error and deviation of worshipping the seven planets, which they said were the Moon, Mercury, Venus, the Sun, Mars, Jupiter and Saturn. The brightest of these objects and the most honored to them was the Sun, the Moon then Venus. Ibrahim, may Allah's peace and blessings be on him, first proved that Venus is not worthy of being worshipped, for it is subservient to a term and course appointed that it does not defy, nor swerving right or left. Venus does not have any say in its affairs, for it is only a heavenly object that Allah created and made bright out of His wisdom. Venus rises from the east and sets in the west where it disappears from sight. This rotation is repeated the next night, and so forth. Such an object is not worthy of being a god. Ibrahim then went on to mention the Moon in the same manner in which he mentioned Venus, and then the Sun. When he proved that these three objects were not gods, although they are the brightest objects the eyes can see,
قَالَ يقَوْمِ إِنِّى بَرِىءٌ مِّمَّا تُشْرِكُونَ
(he said: "O my people! I am indeed free from all that you join as partners in worship with Allah.") meaning, I am free from worshipping these objects and from taking them as protectors. Therefore, if they are indeed gods as you claim, then all of you bring your plot against me and do not give me respite.
إِنِّى وَجَّهْتُ وَجْهِىَ لِلَّذِى فَطَرَ السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضَ حَنِيفاً وَمَآ أَنَاْ مِنَ الْمُشْرِكِينَ
(Verily, I have turned my face towards Him Who has created the heavens and the earth, Hanifan, and I am not one of the idolators.) meaning, I worship the Creator of these things, Who originated and decreed them, and Who governs their affairs and made them subservient. It is He in Whose Hand is the dominion of all things, and He is the Creator, Lord, King and God of all things in existence. In another Ayah, Allah said؛
إِنَّ رَبَّكُمُ اللَّهُ الَّذِى خَلَقَ السَمَـوَتِ وَالاٌّرْضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى الْعَرْشِ يُغْشِى الَّيْلَ النَّهَارَ يَطْلُبُهُ حَثِيثًا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ وَالنُّجُومَ مُسَخَّرَتٍ بِأَمْرِهِ أَلاَ لَهُ الْخَلْقُ وَالاٌّمْرُ تَبَارَكَ اللَّهُ رَبُّ الْعَـلَمِينَ
(Indeed your Lord is Allah, Who created the heavens and the earth in six Days, and then He Istawa (rose over) the Throne. He brings the night as a cover over the day, seeking it rapidly, and (He created) the sun, the moon, the stars, subjecting them to His command. Surely, His is the creation and commandment. Blessed be Allah, the Lord of all that exists!) 7:54. Allah described Prophet Ibrahim,
وَلَقَدْ ءَاتَيْنَآ إِبْرَهِيمَ رُشْدَهُ مِن قَبْلُ وَكُنَّا بِهِ عَـلِمِينَ - إِذْ قَالَ لاًّبِيهِ وَقَوْمِهِ مَا هَـذِهِ التَّمَـثِيلُ الَّتِى أَنتُمْ لَهَا عَـكِفُونَ
(And indeed We bestowed aforetime on Ibrahim his (portion of) guidance, and We were well-acquainted with him. When he said to his father and his people: "What are these images, to which you are devoted") 21:51-52. These Ayat indicate that Ibrahim was debating with his people about the Shirk they practiced.
ابراہیم ؑ اور آزر میں مکالمہ حضرت عباس کا قول ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہم السلام) کے والد کا نام آزر نہ تھا بلکہ تارخ تھا۔ آزر سے مراد بت ہے۔ آپ کی والدہ کا نام مثلے تھا آپ کی بیوی صاحبہ کا نام سارہ تھا۔ حضرت اسماعیل کی والدہ کا نام ہاجرہ تھا یہ حضرت ابراہیم کی سریہ تھیں۔ علماء نسب میں سے اوروں کا بھی قول ہے کہ آپ کے والد کا نام تارخ تھا۔ مجاہد اور سدی فرماتے ہیں آزر اس بت کا نام تھا جس کے پجاری اور خادم حضرت ابراہیم ؑ کے والد تھے ہوسکتا ہے کہ اس بت کے نام کی وجہ سے انہیں بھی اسی نام سے یاد کیا جاتا ہو اور یہی نام مشہور ہوگیا ہو۔ واللہ اعلم۔ ابن جریر فرماتے ہیں کہ آزر کا لفظ ان میں بطور عیب گیری کے استعمال کیا جاتا تھا اس کے معنی ٹیڑھے آدمی کے ہیں۔ لیکن اس کلام کی سند نہیں نہ امام صاحب نے اسے کسی سے نقل کیا ہے۔ سلیمان کا قول ہے کہ اس کے معنی ٹیڑھے پن کے ہیں اور یہی سب سے سخت لفظ ہے جو خلیل اللہ کی زبان سے نکلا۔ ابن جریر کا فرمان ہے کہ ٹھیک بات یہی ہے کہ حضرت ابراہیم کے والد کا نام آزر تھا اور یہ جو عام تاریخ داں کہتے ہیں کہ ان کا نام تارخ تھا اس کا جواب یہ ہے کہ ممکن ہے دونوں نام ہوں یا ایک تو نام ہو اور دوسرا لقب ہو۔ بات تو یہ ٹھیک اور نہایت قوی ہے واللہ اعلم۔ آزَر اور آزُر دونوں قرأتیں ہیں پچھلی قرأت یعنی راء کے زبر کے ساتھ تو جمہور کی ہے۔ پیش والی قرأت میں ندا کی وجہ سے پیش ہے اور زبر والی قرأت لابیہ سے بدل ہونے کی ہے اور ممکن ہے کہ عطف بیان ہو اور یہی زیادہ مشابہ ہے۔ یہ لفظ علمیت اور عجمیت کی بنا پر غیر منصرف ہے بعض لوگ اسے صفت بتلاتے ہیں اس بنا پر بھی یہ غیر منصرف رہے گا جیسے احمر اور اسود۔ بعض اسے اتتخذ کا معمول مان کر منصوب کہتے ہیں۔ گویا حضرت ابراہیم یوں فرماتے کہ ہم لوگ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے جب ہم مدینہ شریف سے باہر نکل گئے تو ہم نے دیکھا کہ ایک اونٹ سوار بہت تیزی سے اپنے اونٹ کو دوڑتا ہوا آ رہا ہے حضور نے فرمایا تمہاری طرف ہی آ رہا ہے اس نے پہنچ کر سلام کیا ہم نے جواب دیا حضور نے ان سے پوچھا کہاں سے آ رہے ہو ؟ اس نے کہا اپنے گھر سے، اپنے بال بچوں میں سے، اپنے کنبے قبیلے میں سے۔ دریافت فرمایا کیا ارادہ ہے ؟ کیسے نکلے ہو ؟ جواب دیا اللہ کے رسول ﷺ کی جستجو میں۔ آپ نے فرمایا پھر تو تم اپنے مقصد میں کامیاب ہوگئے میں ہی اللہ کا رسول ہوں۔ اس نے خوش ہو کر کہا یا رسول اللہ مجھے سمجھائیے کہ ایمان کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا یہ کہہ دو کہ اللہ ایک ہے اور محمد اللہ کے رسول ہیں اور نمازوں کو قائم رکھے اور زکوٰۃ ادا کرتا رہے اور رمصان کے روزے رکھے اور بیت اللہ کا حج کرے اس نے کہا مجھے سب باتیں منظور ہیں میں سب اقرار کرتا ہوں، اتنے میں ان کے اونٹ کا پاؤں ایک سوراخ میں گرپڑا اور اونٹ ایک دم سے جھٹکالے کر جھک گیا اور وہ اوپر سے گرے اور سر کے بل گرے اور اسی وقت روح پرواز کرگئی حضور نے ان کے گرتے ہی فرمایا کہ دیکھو انہیں سنبھالو اسی وقت حضرت عمار بن یاسر اور حضرت حذیفہ بن یمان اپنے اونٹوں سے کود پڑے اور انہیں اٹھا لیا دیکھا تو روح جسم سے علیحدہ ہوچکی ہے حضور سے کہنے لگے یا رسول اللہ یہ تو فوت ہوگئے آپ نے منہ پھیرلیا پھر ذرا سی دیر میں فرمانے لگے تم نے مجھے منہ موڑتے ہوئے دیکھا ہوگا اس کی وجہ یہ تھی کہ میں نے دیکھا دو فرشتے آئے تھے اور مرحوم کے منہ میں جنت کے پھول دے رہے تھے اس سے میں نے جان لیا کہ بھوکے فوت ہوئے ہیں۔ سنو یہ انہیں لوگوں میں سے ہیں جن کی بابت اللہ تبارک و تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ جو لوگ ایمان لائے اور اپنے ایمان کو ظلم سے نہ ملایا ان کے لئے امن وامان ہے اور وہ راہ یافتہ ہیں۔ اجھا اپنے پیارے بھائی کو دفن کرو چناچہ ہم انہیں پانی کے پاس اٹھا لے گئے غسل دیا خوشبو ملی اور قبر کی طرف جنازہ لے کر چلے آنحضرت ﷺ قبر کے کنارے بیٹھ گئے اور فرمانے لگے بغلی قبر بناؤ سیدھی نہ بناؤ بغلی قبر ہمارے لئے ہے اور سیدھی ہمارے سوا اوروں کے لئے ہے، لوگو یہ وہ شخص ہے جس نے عمل بہت ہی کم کیا اور ثواب زیادہ پایا۔ یہ ایک اعرابی تھے انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ یا رسول اللہ ﷺ اس سلسلہ کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے میں اپنے گھر سے اپنے بال بجوں سے اپنے مال سے اپنے کنبے قبیلے سے اس لئے اور صرف اس لئے الگ ہوا ہوں کہ آپ کی ہدایت کو قبول کروں آپ کی سنتوں پر علم کروں آپ کی حدیثیں لوں۔ یا رسول اللہ ﷺ میں گھاس پھوس کھاتا ہوا آپ تک پہنچا ہوں۔ آپ مجھ اسلام سکھائیے حضور نے سکھایا اس نے قبول کیا ہم سب ان کے ارد گرد بھیڑ لگائے کھڑے تھے اتنے میں جنگلی چوہے کے بل میں ان کے اونٹ کا پاؤں پڑگیا یہ گرپڑے اور گردن ٹوٹ گئی آپ نے فرمایا اس اللہ کی قسم جس نے مجھے حق کے ساتھ مبعوث فرمایا یہ سچ مچ فی الواقع اپنے گھر سے اپنی اہل و عیال سے اور اپنے مال مویشی سے صرف میری تابعداری کی دھن میں نکلا تھا اور وہ اس بات میں بھی سچے تھے کہ وہ میرے پاس نہیں پہنچے یہاں تک کہ ان کا کھانا صرف سبز پتے اور گھاس رہ گیا تھا تم نے ایسے لوگ بھی سنے ہوں گے جو عمل کم کرتے ہیں اور ثواب بہت پاتے ہیں۔ یہ بزرگ انہی میں سے تھے۔ تم نے سنا ہوگا کہ باری تعالیٰ فرماتا ہے جو ایمان لائیں اور ظلم نہ کریں وہ امن و ہدایت والے ہیں یہ انہی میں سے تھے ؓ پھر فرمایا ابراہیم ؑ کو یہ دلیلیں ہم نے سکھائیں جن سے وہ اپنی قوم پر غالب آگئے جیسے انہوں نے ایک اللہ کے پرستار کا امن اور اس کی ہدایت بیان فرمائی اور خود اللہ کی طرف سے اس بات کی تصدیق کی گئی آیت (نَرْفَعُ دَرَجٰتٍ مَّنْ نَّشَاۗءُ ۭاِنَّ رَبَّكَ حَكِيْمٌ عَلِيْمٌ) 6۔ الانعام :83) کی یہی ایک قرأت ہے، اضافت کے ساتھ اور بےاضافت دونوں طرح پڑھا یا گیا ہے جیسے سورة یوسف میں ہے اور معنی دونوں قرأتوں کے قریب قریب برابر ہیں۔ تیرے رب کے اقوال رحمت والے اور اس کے کام بھی حکمت والے ہیں۔ وہ صحیح راستے والوں کو اور گمراہوں کو بخوبی جانتا ہے جیسے فرمان ہے جن پر تیرے کی ٹھنڈک میں نے اپنے سینے میں محسوس کی پھر تو تمام چیزیں میرے سامنے کھل گئیں اور میں نے اسے پہچان لیا ولیکون کا واؤ زائدہ ہے۔ جیسے ولتستبین میں اور کہا گیا ہے کہ وہ اپنی جگہ پر ہے یعنی اس لئے کہ وہ عالم اور یقین والے ہوجائیں، رات کے اندھیرے میں خلیل اللہ ستارے کو دیکھ کر فرماتے ہیں کہ یہ میرا رب ہے جب وہ غروب ہوجاتا ہے تو آپ سمجھ لیتے ہیں کہ یہ پروردگار نہیں کیونکہ رب دوام والا ہوتا ہے وہ زوال اور انقلاب سے پاک ہوتا ہے۔ پھر جب چاند چڑھتا ہے تو یہی فرماتے ہیں جب وہ بھی غروب ہوجاتا ہے تو اس سے بھی یکسوئی کرلیتے ہیں۔ پھر سورج کے طلوع ہونے پر اسے سب سے بڑا پا کر سب سے زیادہ روشن دیکھ کر یہی کہتے ہیں جب وہ بھی ڈھل جاتا ہے تو اللہ کے سوا تمام معبودوں سے بیزار ہوجاتے ہیں۔ اور پکار اٹھتے ہیں کہ میں تو اپنی عبادت کے لئے اللہ کی ذات کو مخصوص کرتا ہوں جس نے ابتداء میں بغیر کسی نمونے کے آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کیا ہے میں شرک سے ہٹ کر توحید کی طرف لوٹتا ہوں اور میں مشرکوں میں شامل رہنا نہیں چاہتا، مفسرین ان آیتوں کی بابت دو خیال ظاہر کرتے ہیں۔ ایک تو یہ کہ یہ بطور نظر اور غور و فکر کے تھا دوسرے یہ کہ یہ سب بطور مناظرہ کے تھا۔ ابن عباس سے دوسری بات ہی مروی ہے ابن جریر میں بھی اسی کو پسند کیا گیا ہے اس کی دلیل میں آپ کا یہ قول لاتے ہیں کہ اگر مجھے میرا رب ہدایت نہ کرتا تو میں گمراہ میں ہوجاتا۔ امام محمد بن اسہاق ؒ نے ایک لمبا قصہ نقل کیا ہے جس میں ہے کہ نمرود بن کنعان بادشاہ سے یہ کہا گیا تھا کہ ایک بچہ پیدا ہونے والا ہے جس کے ہاتھوں تیرا تخت تارج ہوگا تو اس نے حکم دے دیا تھا کہ اس سال میری مملکت میں جتنے بچے پیدا ہوں سب قتل کردیئے جائیں حضرت ابراہیم ؑ کی والدہ نے جب یہ سنا تو کجھ وقت قبل شہر کے باہر ایک غار میں چلی گئیں، وہیں حضرت خلیل اللہ پیدا ہوئے، تو جب آپ اس غار سے باہر نکلے تب آپ نے یہ سب فرمایا تھا جس کا ذکر ان آیتوں میں ہے، بالکل صحیح بات یہ ہے کہ یہ گفتگو اللہ کے خلیل حضرت ابراہیم ؑ کی مناظرانہ تھی اپنی قوم کی باطل پرستی کا احوال اللہ کو سمجھا رہے تھے، اول تو آپ نے اپنے والد کی خطا ظاہر کی کہ وہ زمین کے ان بتوں کی پوجا کرتے تھے جنہیں انہوں نے فرشتوں وغیرہ کی شکل پر بنا لیا تھا اور جنہیں وہ سفارشی سمجھ رہے تھے۔ یہ لوگ بزعم خود اپنے آپ کو اس قابل نہیں جانتے تھے کہ براہ راست اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں۔ اس لئے بطور وسیلے کے فرشتوں کو پوجتے تھے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے ان کے بارے میں کہہ سن کر ان کی روزی وغیرہ بڑھوا دیں اور ان کی حاجتیں پوری کرا دیں پھر جن آسمانی چیزوں کو یہ پوجتے تھے ان میں ان کی خطا بیان کی۔ یہ ستارہ پرست بھی تھے ساتوں ستاروں کو جو چلنے پھرنے والے ہیں۔ پوجتے تھے، چاند، عطارد، زہرہ، سورج، مریخ، مستری، زحل۔ ان کے نزدیک سب سے زیادہ روشن سورج ہے، پھر چاند پھر زہرہ پس آپ نے آدنیٰ سے شروع کیا اور اعلی تک لے گئے۔ پہلے تو زہرہ کی نسبت فرمایا کہ وہ پوجا کے قابل نہیں کیونکہ یہ دوسرے کے قابو میں ہیں۔ یہ مقررہ جال سے چلتا۔ مقررہ جگہ پر چلتا ہے دائیں بائیں ذرا بھی کھسک نہیں سکتا۔ تو جبکہ وہ خود بیشمار چیزوں میں سے ایک چیز ہے۔ اس میں روشنی بھی اللہ کی دی ہوئی ہے یہ مشرق سے نکلتا ہے پھر چلتا پھرتا رہتا ہے اور ڈوب جاتا ہے پھر دوسری رات اسی طرح ظاہر ہوتا ہے تو ایسی چیز معبود ہونے کی صلاحیت کیا رکھتی ہے ؟ پھر اس سے زیادہ روشن چیز یعنی چاند کو دیکھتے ہیں اور اس کو بھی عبادت کے قابل نہ ہونا ظاہر فرما کر پھر سورج کو لیا اور اس کی مجبوری اور اس کی غلامی اور مسکینی کا اظہار کیا اور کہا کہ لوگو میں تمہارے ان شرکاء سے، ان کی عبادت سے، ان کی عقیدت سے، ان کی محبت سے دور ہوں۔ سنو اگر یہ سچے معبود ہیں اور کچھ قدرت رکھتے ہیں تو ان سب کو ملا لو اور جو تم سب سے ہو سکے میرے خلاف کرلو۔ میں تو اس اللہ کا عابد ہوں جو ان مصنوعات کا صانع جو ان مخلوقات کا خالق ہے جو ہر چیز کا مالک رب اور سچا معبود ہے جیسے قرآنی ارشاد ہے کہ تمہارا رب صرف وہی ہے جس نے چھ دن میں آسمان و زمین کو پیدا کیا پھر عرش پر مستوی ہوگیا رات کو دن سے دن کو رات سے ڈھانپتا ہے ایک دوسرے کے برابر پیچھے جا آ رہا ہے سورج چاند اور تارے سب اس کے فرمان کے تحت ہیں خلق و امر اسی کی ملکیت میں ہیں وہ رب العالمین ہے بڑی برکتوں والا ہے، یہ تو بالکل ناممکن سا معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ اسللام کے یہ سب فرمان بطور واقعہ کے ہوں اور حقیقت میں آپ اللہ کو پہچانتے ہی نہ ہوں۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے آیت (وَلَـقَدْ اٰتَيْنَآ اِبْرٰهِيْمَ رُشْدَهٗ مِنْ قَبْلُ وَكُنَّا بِهٖ عٰلِمِيْنَ) 21۔ الانبیآء :51) یعنی ہم نے پہلے سے حضرت ابراہیم کو سیدھا راستہ دے دیا تھا اور ہم اس سے خوب واقف تھے جبکہ اس نے اپنے باپ سے اور اپنی قوم سے فرمایا یہ صورتیں کیا ہیں جن کی تم پرستش اور مجاورت کر رہے ہو ؟ اور آیت میں ہے آیت (اِنَّ اِبْرٰهِيْمَ كَانَ اُمَّةً قَانِتًا لِّلّٰهِ حَنِيْفًا ۭ وَلَمْ يَكُ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ) 16۔ النحل :120) ابراہیم تو بڑے خلوص والے اللہ کے سچے فرمانبردار تھے وہ مشرکوں میں سے نہ تھے اللہ کی نعمتوں کے شکر گزار تھے اللہ نے انہیں پسند فرما لیا تھا اور صراط مستقیم کی ہدایت دی تھی دنیا کی بھلائیاں دی تھیں اور آخرت میں بھی انہیں صالح لوگوں میں ملا دیا تھا اب ہم تیری طرف وحی کر رہے ہیں کہ ابراہیم حنیف کے دین کا تابعدار رہ وہ مشرک نہ تھا، بخاری و مسلم میں ہے،حضور ﷺ فرماتے ہیں کہ ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے۔ صحیح مسلم کی حدیث قدسی میں ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں نے اپنے بندوں کو موحد پیدا کیا ہے۔ کتاب اللہ میں ہے آیت (فِطْرَتَ اللّٰهِ الَّتِيْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا ۭ لَا تَبْدِيْلَ لِخَلْقِ اللّٰهِ ۭ ذٰلِكَ الدِّيْنُ الْـقَيِّمُ ڎ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ) 30۔ الروم :30) اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو فطرت اللہ پر پیدا کیا ہے، اللہ کی خلق کی تبدیلی نہیں اور آیت میں ہے تیرے رب نے آدم کی پیٹھ سے ان کی اولاد نکال کر انہیں ان کی جانوں پر گواہ کیا کہ کیا میں تمہارا سب کا رب نہیں ہوں ؟ سب نے اقرار کیا کہ ہاں بیشک تو ہمارا رب ہے پس یہی فطرت اللہ ہے جیسے کہ اس کا ثبوت عنقریب آئے گا انشاء اللہ پس جبکہ تمام مخلوق کی پیدائش دین اسلام پر اللہ کی سچی توحید پر ہے تو ابراہیم خلیل اللہ ؑ جن کی توحید اور اللہ پرستی کا ثنا خواں خود کلام رحمان ہے ان کی نسبت کون کہہ سکتا ہے کہ آپ اللہ جل شانہ سے آگاہ نہ تھے اور کبھی تارے کو اور کبھی چاند سورج کو اپنا اللہ سمجھ رہے تھے۔ نہیں نہیں آپ کی فطرت سالم تھی آپ کی عقل صحیح تھی آپ اللہ کے سچے دین پر اور خالص توحید پر تھے۔ آپ کا یہ تمام کلام بحیثیت مناظرہ تھا اور اس کی زبر دست دلیل اس کے بعد کی آیت ہے۔
79
View Single
إِنِّي وَجَّهۡتُ وَجۡهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضَ حَنِيفٗاۖ وَمَآ أَنَا۠ مِنَ ٱلۡمُشۡرِكِينَ
“I have directed my attention towards Him Who has created the heavens and the earth, am devoted solely to Him, and am not of the polytheists.”
بیشک میں نے اپنا رُخ (ہر سمت سے ہٹا کر) یکسوئی سے اس (ذات) کی طرف پھیر لیا ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو بے مثال پیدا فرمایا ہے اور (جان لو کہ) میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں
Tafsir Ibn Kathir
Ibrahim Advises his Father
Ibrahim advised, discouraged and forbade his father from worshipping idols, just as Allah stated,
وَإِذْ قَالَ إِبْرَهِيمُ لاًّبِيهِ ءَازَرَ أَتَتَّخِذُ أَصْنَاماً ءَالِهَةً
(And (remember) when Ibrahim said to his father Azar: "Do you take idols as gods") meaning, do you worship an idol instead of Allah
إِنِّى أَرَاكَ وَقَوْمَكَ
(Verily, I see you and your people...) who follow your path,
فِى ضَلَـلٍ مُّبِينٍ
(in manifest error) wandering in confusion unaware of where to go. Therefore, you are in disarray and ignorance, and this fact is clear to all those who have sound reason. Allah also said,
وَاذْكُرْ فِى الْكِتَـبِ إِبْرَهِيمَ إِنَّهُ كَانَ صِدِّيقاً نَّبِيّاً - إِذْ قَالَ لاًّبِيهِ يأَبَتِ لِمَ تَعْبُدُ مَا لاَ يَسْمَعُ وَلاَ يَبْصِرُ وَلاَ يُغْنِى عَنكَ شَيْئاً - يأَبَتِ إِنِّى قَدْ جَآءَنِى مِنَ الْعِلْمِ مَا لَمْ يَأْتِكَ فَاتَّبِعْنِى أَهْدِكَ صِرَاطاً سَوِيّاً - يأَبَتِ لاَ تَعْبُدِ الشَّيْطَـنَ إِنَّ الشَّيْطَـنَ كَانَ لِلرَّحْمَـنِ عَصِيّاً - يأَبَتِ إِنِّى أَخَافُ أَن يَمَسَّكَ عَذَابٌ مِّنَ الرَّحْمَـنِ فَتَكُونَ لِلشَّيْطَـنِ وَلِيّاً - قَالَ أَرَاغِبٌ أَنتَ عَنْ آلِهَتِى يإِبْرَهِيمُ لَئِن لَّمْ تَنتَهِ لأَرْجُمَنَّكَ وَاهْجُرْنِى مَلِيّاً - قَالَ سَلَـمٌ عَلَيْكَ سَأَسْتَغْفِرُ لَكَ رَبِّي إِنَّهُ كَانَ بِى حَفِيّاً - وَأَعْتَزِلُكُمْ وَمَا تَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّهِ وَأَدْعُو رَبِّى عَسَى أَلاَّ أَكُونَ بِدُعَآءِ رَبِّى شَقِيًّا
(And mention in the Book (the Qur'an, the story of) Ibrahim. Verily! He was a man of truth, a Prophet. When he said to his father: "O my father! Why do you worship that which hears not, sees not and cannot avail you in anything O my father! Verily! There has come to me of knowledge that which came not unto you. So follow me. I will guide you to a straight path. O my father! Worship not Shaytan. Verily! Shaytan has been a rebel against the Most Beneficent (Allah). O my father! Verily! I fear lest a torment from the Most Beneficent (Allah) overtakes you, so that you become a companion of Shaytan (in the Hell-fire)." He (the father) said: "Do you reject my gods, O Ibrahim If you stop not (this), I will indeed stone you. So get away from me safely before I punish you." Ibrahim said: "Peace be on you! I will ask forgiveness of my Lord for you. Verily! He is unto me, Ever Most Gracious. And I shall turn away from you and from those whom you invoke besides Allah. And I shall call on my Lord; and I hope that I shall not be unanswered in my invocation to my Lord.") 19:41-48 Ibrahim continued asking for forgiveness for his father for the rest of his father's life. When his father died an idolator and Ibrahim realized this fact, he stopped asking Allah for forgiveness for him and disassociated himself from him. Allah said,
وَمَا كَانَ اسْتِغْفَارُ إِبْرَهِيمَ لاًّبِيهِ إِلاَّ عَن مَّوْعِدَةٍ وَعَدَهَآ إِيَّاهُ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُ أَنَّهُ عَدُوٌّ لِلَّهِ تَبَرَّأَ مِنْهُ إِنَّ إِبْرَهِيمَ لأَوَّاهٌ حَلِيمٌ
(And invoking for his father's forgiveness was only because of a promise he had made to him. But when it became clear to him that he was an enemy to Allah, he dissociated himself from him. Verily Ibrahim was patient in supplication and forbearing.) 9:114. It was recorded in the Sahih that Ibrahim will meet his father Azar on the Day of Resurrection and Azar will say to him, "My son! This Day, I will not disobey you." Ibrahim will say, "O Lord! You promised me not to disgrace me on the Day they are resurrected; and what will be more disgraceful to me than cursing and dishonoring my father" Then Allah will say, "O Ibrahim! Look behind you!" He will look and there he will see (that his father was changed into) a male hyena covered in dung, which will be caught by the legs and thrown in the (Hell) Fire."
Tawhid Becomes Apparent to Ibrahim
Allah's statement,
وَكَذَلِكَ نُرِى إِبْرَهِيمَ مَلَكُوتَ السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ
(Thus did We show Ibrahim the kingdom of the heavens and the earth...) 6:75, means, when he contemplated about the creation of the heaven and earth, We showed Ibrahim the proofs of Allah's Oneness over His dominion and His creation, which indicate that there is no god or Lord except Allah. Allah said in other Ayat;
قُلِ انظُرُواْ مَاذَا فِى السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ
(Say: "Behold all that is in the heavens and the earth.") 10:101, and,
أَفَلَمْ يَرَوْاْ إِلَى مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ مِّنَ السَّمَآءِ وَالاٌّرْضِ إِن نَّشَأْ نَخْسِفْ بِهِمُ الاٌّرْضَ أَوْ نُسْقِطْ عَلَيْهِمْ كِسَفاً مِّنَ السَّمَآءِ إِنَّ فِى ذَلِكَ لاّيَةً لِّكُلِّ عَبْدٍ مُّنِيبٍ
(See they not what is before them and what is behind them, of the heaven and the earth If We will, We sink the earth with them, or cause a piece of the sky to fall upon them. Verily, in this is a sign for every servant who turns to Allah.) 34:9 Allah said next,
فَلَمَّا جَنَّ عَلَيْهِ الَّيْلُ
(When the night overcame him) covered him with darkness,
رَأَى كَوْكَباً
(He saw a Kawkab) a star.
قَالَ هَـذَا رَبِّى فَلَمَّآ أَفَلَ
(He said: "This is my lord." But when it Afala,) meaning, set, he said,
لا أُحِبُّ الاٌّفِلِينَ
(I like not those that set.) Qatadah commented, "Ibrahim knew that his Lord is Eternal and never ceases."
فَلَمَّآ رَأَى الْقَمَرَ بَازِغاً قَالَ هَـذَا رَبِّى فَلَمَّآ أَفَلَ قَالَ لَئِن لَّمْ يَهْدِنِى رَبِّى لاّكُونَنَّ مِنَ الْقَوْمِ الضَّآلِّينَ
رَبِّى
(When he saw the moon rising up, he said: "This is my lord." But when it set, he said: "Unless my Lord guides me, I shall surely be among the misguided people." When he saw the sun rising up, he said: "This is my lord.") this radiating, rising star is my lord,
هَـذَآ أَكْبَرُ
(This is greater) bigger than the star and the moon, and more radiant.
فَلَمَّآ أَفَلَتْ
(But when it Afalat) set,
قَالَ يقَوْمِ إِنِّى بَرِىءٌ مِّمَّا تُشْرِكُونَإِنِّى وَجَّهْتُ وَجْهِىَ
(he said: "O my people! I am indeed free from all that you join as partners in worship with Allah. Verily, I have turned my face..."), meaning, I have purified my religion and made my worship sincere,
لِلَّذِى فَطَرَ السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضَ
("towards Him Who has created the heavens and the earth,") Who originated them and shaped them without precedence,
حَنِيفاً
(Hanifan) avoiding Shirk and embracing Tawhid. This is why he said next,
وَمَآ أَنَاْ مِنَ الْمُشْرِكِينَ
("and I am not of the idolators.")
Prophet Ibrahim Debates with his People
We should note here that, in these Ayat, Ibrahim, peace be upon him, was debating with his people, explaining to them the error of their way in worshipping idols and images. In the first case with his father, Ibrahim explained to his people their error in worshipping the idols of earth, which they made in the shape of heavenly angels, so that they intercede on their behalf with the Glorious Creator. His people thought that they are too insignificant to worship Allah directly, and this is why they turned to the worship of angels as intercessors with Allah for their provisions, gaining victory and attaining their various needs. He then explained to them the error and deviation of worshipping the seven planets, which they said were the Moon, Mercury, Venus, the Sun, Mars, Jupiter and Saturn. The brightest of these objects and the most honored to them was the Sun, the Moon then Venus. Ibrahim, may Allah's peace and blessings be on him, first proved that Venus is not worthy of being worshipped, for it is subservient to a term and course appointed that it does not defy, nor swerving right or left. Venus does not have any say in its affairs, for it is only a heavenly object that Allah created and made bright out of His wisdom. Venus rises from the east and sets in the west where it disappears from sight. This rotation is repeated the next night, and so forth. Such an object is not worthy of being a god. Ibrahim then went on to mention the Moon in the same manner in which he mentioned Venus, and then the Sun. When he proved that these three objects were not gods, although they are the brightest objects the eyes can see,
قَالَ يقَوْمِ إِنِّى بَرِىءٌ مِّمَّا تُشْرِكُونَ
(he said: "O my people! I am indeed free from all that you join as partners in worship with Allah.") meaning, I am free from worshipping these objects and from taking them as protectors. Therefore, if they are indeed gods as you claim, then all of you bring your plot against me and do not give me respite.
إِنِّى وَجَّهْتُ وَجْهِىَ لِلَّذِى فَطَرَ السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضَ حَنِيفاً وَمَآ أَنَاْ مِنَ الْمُشْرِكِينَ
(Verily, I have turned my face towards Him Who has created the heavens and the earth, Hanifan, and I am not one of the idolators.) meaning, I worship the Creator of these things, Who originated and decreed them, and Who governs their affairs and made them subservient. It is He in Whose Hand is the dominion of all things, and He is the Creator, Lord, King and God of all things in existence. In another Ayah, Allah said؛
إِنَّ رَبَّكُمُ اللَّهُ الَّذِى خَلَقَ السَمَـوَتِ وَالاٌّرْضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى الْعَرْشِ يُغْشِى الَّيْلَ النَّهَارَ يَطْلُبُهُ حَثِيثًا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ وَالنُّجُومَ مُسَخَّرَتٍ بِأَمْرِهِ أَلاَ لَهُ الْخَلْقُ وَالاٌّمْرُ تَبَارَكَ اللَّهُ رَبُّ الْعَـلَمِينَ
(Indeed your Lord is Allah, Who created the heavens and the earth in six Days, and then He Istawa (rose over) the Throne. He brings the night as a cover over the day, seeking it rapidly, and (He created) the sun, the moon, the stars, subjecting them to His command. Surely, His is the creation and commandment. Blessed be Allah, the Lord of all that exists!) 7:54. Allah described Prophet Ibrahim,
وَلَقَدْ ءَاتَيْنَآ إِبْرَهِيمَ رُشْدَهُ مِن قَبْلُ وَكُنَّا بِهِ عَـلِمِينَ - إِذْ قَالَ لاًّبِيهِ وَقَوْمِهِ مَا هَـذِهِ التَّمَـثِيلُ الَّتِى أَنتُمْ لَهَا عَـكِفُونَ
(And indeed We bestowed aforetime on Ibrahim his (portion of) guidance, and We were well-acquainted with him. When he said to his father and his people: "What are these images, to which you are devoted") 21:51-52. These Ayat indicate that Ibrahim was debating with his people about the Shirk they practiced.
ابراہیم ؑ اور آزر میں مکالمہ حضرت عباس کا قول ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہم السلام) کے والد کا نام آزر نہ تھا بلکہ تارخ تھا۔ آزر سے مراد بت ہے۔ آپ کی والدہ کا نام مثلے تھا آپ کی بیوی صاحبہ کا نام سارہ تھا۔ حضرت اسماعیل کی والدہ کا نام ہاجرہ تھا یہ حضرت ابراہیم کی سریہ تھیں۔ علماء نسب میں سے اوروں کا بھی قول ہے کہ آپ کے والد کا نام تارخ تھا۔ مجاہد اور سدی فرماتے ہیں آزر اس بت کا نام تھا جس کے پجاری اور خادم حضرت ابراہیم ؑ کے والد تھے ہوسکتا ہے کہ اس بت کے نام کی وجہ سے انہیں بھی اسی نام سے یاد کیا جاتا ہو اور یہی نام مشہور ہوگیا ہو۔ واللہ اعلم۔ ابن جریر فرماتے ہیں کہ آزر کا لفظ ان میں بطور عیب گیری کے استعمال کیا جاتا تھا اس کے معنی ٹیڑھے آدمی کے ہیں۔ لیکن اس کلام کی سند نہیں نہ امام صاحب نے اسے کسی سے نقل کیا ہے۔ سلیمان کا قول ہے کہ اس کے معنی ٹیڑھے پن کے ہیں اور یہی سب سے سخت لفظ ہے جو خلیل اللہ کی زبان سے نکلا۔ ابن جریر کا فرمان ہے کہ ٹھیک بات یہی ہے کہ حضرت ابراہیم کے والد کا نام آزر تھا اور یہ جو عام تاریخ داں کہتے ہیں کہ ان کا نام تارخ تھا اس کا جواب یہ ہے کہ ممکن ہے دونوں نام ہوں یا ایک تو نام ہو اور دوسرا لقب ہو۔ بات تو یہ ٹھیک اور نہایت قوی ہے واللہ اعلم۔ آزَر اور آزُر دونوں قرأتیں ہیں پچھلی قرأت یعنی راء کے زبر کے ساتھ تو جمہور کی ہے۔ پیش والی قرأت میں ندا کی وجہ سے پیش ہے اور زبر والی قرأت لابیہ سے بدل ہونے کی ہے اور ممکن ہے کہ عطف بیان ہو اور یہی زیادہ مشابہ ہے۔ یہ لفظ علمیت اور عجمیت کی بنا پر غیر منصرف ہے بعض لوگ اسے صفت بتلاتے ہیں اس بنا پر بھی یہ غیر منصرف رہے گا جیسے احمر اور اسود۔ بعض اسے اتتخذ کا معمول مان کر منصوب کہتے ہیں۔ گویا حضرت ابراہیم یوں فرماتے کہ ہم لوگ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے جب ہم مدینہ شریف سے باہر نکل گئے تو ہم نے دیکھا کہ ایک اونٹ سوار بہت تیزی سے اپنے اونٹ کو دوڑتا ہوا آ رہا ہے حضور نے فرمایا تمہاری طرف ہی آ رہا ہے اس نے پہنچ کر سلام کیا ہم نے جواب دیا حضور نے ان سے پوچھا کہاں سے آ رہے ہو ؟ اس نے کہا اپنے گھر سے، اپنے بال بچوں میں سے، اپنے کنبے قبیلے میں سے۔ دریافت فرمایا کیا ارادہ ہے ؟ کیسے نکلے ہو ؟ جواب دیا اللہ کے رسول ﷺ کی جستجو میں۔ آپ نے فرمایا پھر تو تم اپنے مقصد میں کامیاب ہوگئے میں ہی اللہ کا رسول ہوں۔ اس نے خوش ہو کر کہا یا رسول اللہ مجھے سمجھائیے کہ ایمان کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا یہ کہہ دو کہ اللہ ایک ہے اور محمد اللہ کے رسول ہیں اور نمازوں کو قائم رکھے اور زکوٰۃ ادا کرتا رہے اور رمصان کے روزے رکھے اور بیت اللہ کا حج کرے اس نے کہا مجھے سب باتیں منظور ہیں میں سب اقرار کرتا ہوں، اتنے میں ان کے اونٹ کا پاؤں ایک سوراخ میں گرپڑا اور اونٹ ایک دم سے جھٹکالے کر جھک گیا اور وہ اوپر سے گرے اور سر کے بل گرے اور اسی وقت روح پرواز کرگئی حضور نے ان کے گرتے ہی فرمایا کہ دیکھو انہیں سنبھالو اسی وقت حضرت عمار بن یاسر اور حضرت حذیفہ بن یمان اپنے اونٹوں سے کود پڑے اور انہیں اٹھا لیا دیکھا تو روح جسم سے علیحدہ ہوچکی ہے حضور سے کہنے لگے یا رسول اللہ یہ تو فوت ہوگئے آپ نے منہ پھیرلیا پھر ذرا سی دیر میں فرمانے لگے تم نے مجھے منہ موڑتے ہوئے دیکھا ہوگا اس کی وجہ یہ تھی کہ میں نے دیکھا دو فرشتے آئے تھے اور مرحوم کے منہ میں جنت کے پھول دے رہے تھے اس سے میں نے جان لیا کہ بھوکے فوت ہوئے ہیں۔ سنو یہ انہیں لوگوں میں سے ہیں جن کی بابت اللہ تبارک و تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ جو لوگ ایمان لائے اور اپنے ایمان کو ظلم سے نہ ملایا ان کے لئے امن وامان ہے اور وہ راہ یافتہ ہیں۔ اجھا اپنے پیارے بھائی کو دفن کرو چناچہ ہم انہیں پانی کے پاس اٹھا لے گئے غسل دیا خوشبو ملی اور قبر کی طرف جنازہ لے کر چلے آنحضرت ﷺ قبر کے کنارے بیٹھ گئے اور فرمانے لگے بغلی قبر بناؤ سیدھی نہ بناؤ بغلی قبر ہمارے لئے ہے اور سیدھی ہمارے سوا اوروں کے لئے ہے، لوگو یہ وہ شخص ہے جس نے عمل بہت ہی کم کیا اور ثواب زیادہ پایا۔ یہ ایک اعرابی تھے انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ یا رسول اللہ ﷺ اس سلسلہ کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے میں اپنے گھر سے اپنے بال بجوں سے اپنے مال سے اپنے کنبے قبیلے سے اس لئے اور صرف اس لئے الگ ہوا ہوں کہ آپ کی ہدایت کو قبول کروں آپ کی سنتوں پر علم کروں آپ کی حدیثیں لوں۔ یا رسول اللہ ﷺ میں گھاس پھوس کھاتا ہوا آپ تک پہنچا ہوں۔ آپ مجھ اسلام سکھائیے حضور نے سکھایا اس نے قبول کیا ہم سب ان کے ارد گرد بھیڑ لگائے کھڑے تھے اتنے میں جنگلی چوہے کے بل میں ان کے اونٹ کا پاؤں پڑگیا یہ گرپڑے اور گردن ٹوٹ گئی آپ نے فرمایا اس اللہ کی قسم جس نے مجھے حق کے ساتھ مبعوث فرمایا یہ سچ مچ فی الواقع اپنے گھر سے اپنی اہل و عیال سے اور اپنے مال مویشی سے صرف میری تابعداری کی دھن میں نکلا تھا اور وہ اس بات میں بھی سچے تھے کہ وہ میرے پاس نہیں پہنچے یہاں تک کہ ان کا کھانا صرف سبز پتے اور گھاس رہ گیا تھا تم نے ایسے لوگ بھی سنے ہوں گے جو عمل کم کرتے ہیں اور ثواب بہت پاتے ہیں۔ یہ بزرگ انہی میں سے تھے۔ تم نے سنا ہوگا کہ باری تعالیٰ فرماتا ہے جو ایمان لائیں اور ظلم نہ کریں وہ امن و ہدایت والے ہیں یہ انہی میں سے تھے ؓ پھر فرمایا ابراہیم ؑ کو یہ دلیلیں ہم نے سکھائیں جن سے وہ اپنی قوم پر غالب آگئے جیسے انہوں نے ایک اللہ کے پرستار کا امن اور اس کی ہدایت بیان فرمائی اور خود اللہ کی طرف سے اس بات کی تصدیق کی گئی آیت (نَرْفَعُ دَرَجٰتٍ مَّنْ نَّشَاۗءُ ۭاِنَّ رَبَّكَ حَكِيْمٌ عَلِيْمٌ) 6۔ الانعام :83) کی یہی ایک قرأت ہے، اضافت کے ساتھ اور بےاضافت دونوں طرح پڑھا یا گیا ہے جیسے سورة یوسف میں ہے اور معنی دونوں قرأتوں کے قریب قریب برابر ہیں۔ تیرے رب کے اقوال رحمت والے اور اس کے کام بھی حکمت والے ہیں۔ وہ صحیح راستے والوں کو اور گمراہوں کو بخوبی جانتا ہے جیسے فرمان ہے جن پر تیرے کی ٹھنڈک میں نے اپنے سینے میں محسوس کی پھر تو تمام چیزیں میرے سامنے کھل گئیں اور میں نے اسے پہچان لیا ولیکون کا واؤ زائدہ ہے۔ جیسے ولتستبین میں اور کہا گیا ہے کہ وہ اپنی جگہ پر ہے یعنی اس لئے کہ وہ عالم اور یقین والے ہوجائیں، رات کے اندھیرے میں خلیل اللہ ستارے کو دیکھ کر فرماتے ہیں کہ یہ میرا رب ہے جب وہ غروب ہوجاتا ہے تو آپ سمجھ لیتے ہیں کہ یہ پروردگار نہیں کیونکہ رب دوام والا ہوتا ہے وہ زوال اور انقلاب سے پاک ہوتا ہے۔ پھر جب چاند چڑھتا ہے تو یہی فرماتے ہیں جب وہ بھی غروب ہوجاتا ہے تو اس سے بھی یکسوئی کرلیتے ہیں۔ پھر سورج کے طلوع ہونے پر اسے سب سے بڑا پا کر سب سے زیادہ روشن دیکھ کر یہی کہتے ہیں جب وہ بھی ڈھل جاتا ہے تو اللہ کے سوا تمام معبودوں سے بیزار ہوجاتے ہیں۔ اور پکار اٹھتے ہیں کہ میں تو اپنی عبادت کے لئے اللہ کی ذات کو مخصوص کرتا ہوں جس نے ابتداء میں بغیر کسی نمونے کے آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کیا ہے میں شرک سے ہٹ کر توحید کی طرف لوٹتا ہوں اور میں مشرکوں میں شامل رہنا نہیں چاہتا، مفسرین ان آیتوں کی بابت دو خیال ظاہر کرتے ہیں۔ ایک تو یہ کہ یہ بطور نظر اور غور و فکر کے تھا دوسرے یہ کہ یہ سب بطور مناظرہ کے تھا۔ ابن عباس سے دوسری بات ہی مروی ہے ابن جریر میں بھی اسی کو پسند کیا گیا ہے اس کی دلیل میں آپ کا یہ قول لاتے ہیں کہ اگر مجھے میرا رب ہدایت نہ کرتا تو میں گمراہ میں ہوجاتا۔ امام محمد بن اسہاق ؒ نے ایک لمبا قصہ نقل کیا ہے جس میں ہے کہ نمرود بن کنعان بادشاہ سے یہ کہا گیا تھا کہ ایک بچہ پیدا ہونے والا ہے جس کے ہاتھوں تیرا تخت تارج ہوگا تو اس نے حکم دے دیا تھا کہ اس سال میری مملکت میں جتنے بچے پیدا ہوں سب قتل کردیئے جائیں حضرت ابراہیم ؑ کی والدہ نے جب یہ سنا تو کجھ وقت قبل شہر کے باہر ایک غار میں چلی گئیں، وہیں حضرت خلیل اللہ پیدا ہوئے، تو جب آپ اس غار سے باہر نکلے تب آپ نے یہ سب فرمایا تھا جس کا ذکر ان آیتوں میں ہے، بالکل صحیح بات یہ ہے کہ یہ گفتگو اللہ کے خلیل حضرت ابراہیم ؑ کی مناظرانہ تھی اپنی قوم کی باطل پرستی کا احوال اللہ کو سمجھا رہے تھے، اول تو آپ نے اپنے والد کی خطا ظاہر کی کہ وہ زمین کے ان بتوں کی پوجا کرتے تھے جنہیں انہوں نے فرشتوں وغیرہ کی شکل پر بنا لیا تھا اور جنہیں وہ سفارشی سمجھ رہے تھے۔ یہ لوگ بزعم خود اپنے آپ کو اس قابل نہیں جانتے تھے کہ براہ راست اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں۔ اس لئے بطور وسیلے کے فرشتوں کو پوجتے تھے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے ان کے بارے میں کہہ سن کر ان کی روزی وغیرہ بڑھوا دیں اور ان کی حاجتیں پوری کرا دیں پھر جن آسمانی چیزوں کو یہ پوجتے تھے ان میں ان کی خطا بیان کی۔ یہ ستارہ پرست بھی تھے ساتوں ستاروں کو جو چلنے پھرنے والے ہیں۔ پوجتے تھے، چاند، عطارد، زہرہ، سورج، مریخ، مستری، زحل۔ ان کے نزدیک سب سے زیادہ روشن سورج ہے، پھر چاند پھر زہرہ پس آپ نے آدنیٰ سے شروع کیا اور اعلی تک لے گئے۔ پہلے تو زہرہ کی نسبت فرمایا کہ وہ پوجا کے قابل نہیں کیونکہ یہ دوسرے کے قابو میں ہیں۔ یہ مقررہ جال سے چلتا۔ مقررہ جگہ پر چلتا ہے دائیں بائیں ذرا بھی کھسک نہیں سکتا۔ تو جبکہ وہ خود بیشمار چیزوں میں سے ایک چیز ہے۔ اس میں روشنی بھی اللہ کی دی ہوئی ہے یہ مشرق سے نکلتا ہے پھر چلتا پھرتا رہتا ہے اور ڈوب جاتا ہے پھر دوسری رات اسی طرح ظاہر ہوتا ہے تو ایسی چیز معبود ہونے کی صلاحیت کیا رکھتی ہے ؟ پھر اس سے زیادہ روشن چیز یعنی چاند کو دیکھتے ہیں اور اس کو بھی عبادت کے قابل نہ ہونا ظاہر فرما کر پھر سورج کو لیا اور اس کی مجبوری اور اس کی غلامی اور مسکینی کا اظہار کیا اور کہا کہ لوگو میں تمہارے ان شرکاء سے، ان کی عبادت سے، ان کی عقیدت سے، ان کی محبت سے دور ہوں۔ سنو اگر یہ سچے معبود ہیں اور کچھ قدرت رکھتے ہیں تو ان سب کو ملا لو اور جو تم سب سے ہو سکے میرے خلاف کرلو۔ میں تو اس اللہ کا عابد ہوں جو ان مصنوعات کا صانع جو ان مخلوقات کا خالق ہے جو ہر چیز کا مالک رب اور سچا معبود ہے جیسے قرآنی ارشاد ہے کہ تمہارا رب صرف وہی ہے جس نے چھ دن میں آسمان و زمین کو پیدا کیا پھر عرش پر مستوی ہوگیا رات کو دن سے دن کو رات سے ڈھانپتا ہے ایک دوسرے کے برابر پیچھے جا آ رہا ہے سورج چاند اور تارے سب اس کے فرمان کے تحت ہیں خلق و امر اسی کی ملکیت میں ہیں وہ رب العالمین ہے بڑی برکتوں والا ہے، یہ تو بالکل ناممکن سا معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ اسللام کے یہ سب فرمان بطور واقعہ کے ہوں اور حقیقت میں آپ اللہ کو پہچانتے ہی نہ ہوں۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے آیت (وَلَـقَدْ اٰتَيْنَآ اِبْرٰهِيْمَ رُشْدَهٗ مِنْ قَبْلُ وَكُنَّا بِهٖ عٰلِمِيْنَ) 21۔ الانبیآء :51) یعنی ہم نے پہلے سے حضرت ابراہیم کو سیدھا راستہ دے دیا تھا اور ہم اس سے خوب واقف تھے جبکہ اس نے اپنے باپ سے اور اپنی قوم سے فرمایا یہ صورتیں کیا ہیں جن کی تم پرستش اور مجاورت کر رہے ہو ؟ اور آیت میں ہے آیت (اِنَّ اِبْرٰهِيْمَ كَانَ اُمَّةً قَانِتًا لِّلّٰهِ حَنِيْفًا ۭ وَلَمْ يَكُ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ) 16۔ النحل :120) ابراہیم تو بڑے خلوص والے اللہ کے سچے فرمانبردار تھے وہ مشرکوں میں سے نہ تھے اللہ کی نعمتوں کے شکر گزار تھے اللہ نے انہیں پسند فرما لیا تھا اور صراط مستقیم کی ہدایت دی تھی دنیا کی بھلائیاں دی تھیں اور آخرت میں بھی انہیں صالح لوگوں میں ملا دیا تھا اب ہم تیری طرف وحی کر رہے ہیں کہ ابراہیم حنیف کے دین کا تابعدار رہ وہ مشرک نہ تھا، بخاری و مسلم میں ہے،حضور ﷺ فرماتے ہیں کہ ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے۔ صحیح مسلم کی حدیث قدسی میں ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں نے اپنے بندوں کو موحد پیدا کیا ہے۔ کتاب اللہ میں ہے آیت (فِطْرَتَ اللّٰهِ الَّتِيْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا ۭ لَا تَبْدِيْلَ لِخَلْقِ اللّٰهِ ۭ ذٰلِكَ الدِّيْنُ الْـقَيِّمُ ڎ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ) 30۔ الروم :30) اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو فطرت اللہ پر پیدا کیا ہے، اللہ کی خلق کی تبدیلی نہیں اور آیت میں ہے تیرے رب نے آدم کی پیٹھ سے ان کی اولاد نکال کر انہیں ان کی جانوں پر گواہ کیا کہ کیا میں تمہارا سب کا رب نہیں ہوں ؟ سب نے اقرار کیا کہ ہاں بیشک تو ہمارا رب ہے پس یہی فطرت اللہ ہے جیسے کہ اس کا ثبوت عنقریب آئے گا انشاء اللہ پس جبکہ تمام مخلوق کی پیدائش دین اسلام پر اللہ کی سچی توحید پر ہے تو ابراہیم خلیل اللہ ؑ جن کی توحید اور اللہ پرستی کا ثنا خواں خود کلام رحمان ہے ان کی نسبت کون کہہ سکتا ہے کہ آپ اللہ جل شانہ سے آگاہ نہ تھے اور کبھی تارے کو اور کبھی چاند سورج کو اپنا اللہ سمجھ رہے تھے۔ نہیں نہیں آپ کی فطرت سالم تھی آپ کی عقل صحیح تھی آپ اللہ کے سچے دین پر اور خالص توحید پر تھے۔ آپ کا یہ تمام کلام بحیثیت مناظرہ تھا اور اس کی زبر دست دلیل اس کے بعد کی آیت ہے۔
80
View Single
وَحَآجَّهُۥ قَوۡمُهُۥۚ قَالَ أَتُحَـٰٓجُّوٓنِّي فِي ٱللَّهِ وَقَدۡ هَدَىٰنِۚ وَلَآ أَخَافُ مَا تُشۡرِكُونَ بِهِۦٓ إِلَّآ أَن يَشَآءَ رَبِّي شَيۡـٔٗاۚ وَسِعَ رَبِّي كُلَّ شَيۡءٍ عِلۡمًاۚ أَفَلَا تَتَذَكَّرُونَ
And his people argued with him; he said, “What! You dispute with me concerning Allah? So He has guided me; and I do not have any fear of whatever you ascribe as partners, except what my Lord wills (to happen); my Lord’s knowledge encompasses all things; so will you not accept advice?”
اور ان کی قوم ان سے بحث و جدال کرنے لگی (تو) انہوں نے کہا: بھلا تم مجھ سے اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہو حالانکہ اس نے مجھے ہدایت فرما دی ہے، اور میں ان (باطل معبودوں) سے نہیں ڈرتا جنہیں تم اس کا شریک ٹھہرا رہے ہو مگر (یہ کہ) میرا رب جو کچھ (ضرر) چاہے (پہنچا سکتا ہے)۔ میرے رب نے ہر چیز کو (اپنے) علم سے احاطہ میں لے رکھا ہے، سو کیا تم نصیحت قبول نہیں کرتے
Tafsir Ibn Kathir
أَتُحَاجُّونِّى فِى اللَّهِ وَقَدْ هَدَانِى
(Do you dispute with me about Allah while He has guided me). The Ayah means, do you argue with me about Allah, other than Whom there is no god worthy of worship, while He has guided me to the Truth and made me aware of it Therefore, how can I ever consider your misguided statements and false doubts Ibrahim said next,
وَلاَ أَخَافُ مَا تُشْرِكُونَ بِهِ إِلاَّ أَن يَشَآءَ رَبِّى شَيْئاً
(and I fear not those whom you associate with Allah in worship. (Nothing can happen to me) except when my Lord wills something.) Ibrahim said, among the proofs to the falsehood of your creed, is that these false gods that you worship do not bring about any effect, and I do not fear them or care about them. Therefore, if these gods are able to cause harm, then use them against me and do not give me respite. Ibrahim's statement,
إِلاَّ أَن يَشَآءَ رَبِّى شَيْئاً
(except when my Lord wills something.) means, only Allah causes benefit or harm.
وَسِعَ رَبِّى كُلَّ شَىْءٍ عِلْماً
(My Lord comprehends in His knowledge all things. ) meaning, Allah's knowledge encompasses all things and nothing escapes His complete observation,
أَفَلاَ تَتَذَكَّرُونَ
(Will you not then remember) what I explained to you, considering your idols as false gods and refraining from worshipping them This reasoning from Prophet Ibrahim is similar to the argument that Prophet Hud used against his people, `Ad. Allah mentioned this incident in His Book, when He said,
قَالُواْ يَهُودُ مَا جِئْتَنَا بِبَيِّنَةٍ وَمَا نَحْنُ بِتَارِكِى ءالِهَتِنَا عَن قَوْلِكَ وَمَا نَحْنُ لَكَ بِمُؤْمِنِينَ - إِن نَّقُولُ إِلاَّ اعْتَرَاكَ بَعْضُ ءَالِهَتِنَا بِسُوءٍ قَالَ إِنِّى أُشْهِدُ اللَّهِ وَاشْهَدُواْ أَنِّى بَرِىءٌ مِّمَّا تُشْرِكُونَ - مِن دُونِهِ فَكِيدُونِى جَمِيعًا ثُمَّ لاَ تُنظِرُونِ - إِنِّى تَوَكَّلْتُ عَلَى اللَّهِ رَبِّى وَرَبِّكُمْ مَّا مِن دَآبَّةٍ إِلاَّ هُوَ ءاخِذٌ بِنَاصِيَتِهَآ إِنَّ رَبِّى عَلَى صِرَطٍ مُّسْتَقِيمٍ
(They said: "O Hud! No evidence have you brought us, and we shall not leave our gods for your (mere) saying! And we are not believers in you. All that we say is that some of our gods have seized you with evil." He said: "I call Allah to witness - and bear you witness - that I am free from that which you ascribe as partners in worship with Him (Allah). So plot against me, all of you, and give me no respite. I put my trust in Allah, my Lord and your Lord! There is not a moving creature but He has grasp of its forelock. Verily, my Lord is on the straight path (the truth).") 11:53-56 Ibrahim's statement,
وَكَيْفَ أَخَافُ مَآ أَشْرَكْتُمْ
(And how should I fear those whom you associate. ..) means, how should I fear the idols that you worship instead of Allah,
وَلاَ تَخَافُونَ أَنَّكُمْ أَشْرَكْتُم بِاللَّهِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِهِ عَلَيْكُمْ سُلْطَـناً
(while you fear not that you have joined in worship with Allah things for which He has not sent down to you any Sultan.) meaning, proof, according to Ibn `Abbas and others among the Salaf. Allah said in similar Ayat;
أَمْ لَهُمْ شُرَكَاءُ شَرَعُواْ لَهُمْ مِّنَ الدِّينِ مَا لَمْ يَأْذَن بِهِ اللَّهُ
(Or have they partners who have instituted for them a religion which Allah has not allowed) 42:21, and,
إِنْ هِىَ إِلاَّ أَسْمَآءٌ سَمَّيْتُمُوهَآ أَنتُمْ وَءَابَآؤُكُم مَّآ أَنزَلَ اللَّهُ بِهَا مِن سُلْطَـنٍ
(They are but names which you have named, you and your fathers, for which Allah has sent down no authority.) 53:21 His statement,
فَأَىُّ الْفَرِيقَيْنِ أَحَقُّ بِالاٌّمْنِ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ
((So) which of the two parties has more right to be in security If you but know.) means, which of the two parties is on the truth, those who worship Him in Whose Hand is harm and benefit, or those who worship what cannot bring harm or benefit, without authority to justify worshipping them Who among these two parties has more right to be saved from Allah's torment on the Day of Resurrection Allah said,
الَّذِينَ ءَامَنُواْ وَلَمْ يَلْبِسُواْ إِيمَـنَهُمْ بِظُلْمٍ أُوْلَـئِكَ لَهُمُ الاٌّمْنُ وَهُمْ مُّهْتَدُونَ
(It is those who believe and confuse not their belief with Zulm (wrong), for them (only) there is security and they are the guided.) Therefore, those who worship Allah alone without partners, will acquire safety on the Day of Resurrection, and they are the guided ones in this life and the Hereafter.
Shirk is the Greatest Zulm (Wrong)
Al-Bukhari recorded that `Abdullah said, "When the Ayah,
وَلَمْ يَلْبِسُواْ إِيمَـنَهُمْ بِظُلْمٍ
(and confuse not their belief with Zulm (wrong).) was revealed, the Companions of the Prophet said, `And who among us did not commit Zulm against himself' The Ayah,
إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ
(Verily! Joining others in worship with Allah is a great Zulm (wrong) indeed.) 31:13, was later revealed." Imam Ahmad recorded that `Abdullah said, "When this Ayah was revealed,
الَّذِينَ ءَامَنُواْ وَلَمْ يَلْبِسُواْ إِيمَـنَهُمْ بِظُلْمٍ
(It is those who believe and confuse not their belief with Zulm (wrong),) it was hard on the people. They said, `O Allah's Messenger! Who among us did not commit Zulm against himself' He said,
«إِنَّهُ لَيْسَ الَّذِي تَعْنُونَ، أَلَمْ تَسْمَعُوا مَا قَالَ الْعَبْدُ الصَّالِحُ
(It is not what you understood from it. Did you not hear what the righteous servant (Luqman) said,
يَبُنَىَّ لاَ تُشْرِكْ بِاللَّهِ إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ
(O my son! Join not in worship others with Allah. Verily! Shirk is a great Zulm (wrong) indeed.)) 31:13. Therefore, it is about Shirk. Allah's statement,
وَتِلْكَ حُجَّتُنَآ ءَاتَيْنَـهَآ إِبْرَهِيمَ عَلَى قَوْمِهِ
(And that was Our proof which We gave Ibrahim against his people.) means, We directed him to proclaim Our proof against them. Mujahid and others said that `Our proof' refers to,
وَكَيْفَ أَخَافُ مَآ أَشْرَكْتُمْ وَلاَ تَخَافُونَ أَنَّكُمْ أَشْرَكْتُم بِاللَّهِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِهِ عَلَيْكُمْ سُلْطَـناً فَأَىُّ الْفَرِيقَيْنِ أَحَقُّ بِالاٌّمْنِ
(And how should I fear those whom you associate in worship with Allah (though they can neither benefit nor harm), while you fear not that you have joined in worship with Allah things for which He has not sent down to you any Sultan. (So) which of the two parties has more right to be in security) Allah has testified Ibrahim's statement and affirmed security and guidance, saying;
الَّذِينَ ءَامَنُواْ وَلَمْ يَلْبِسُواْ إِيمَـنَهُمْ بِظُلْمٍ أُوْلَـئِكَ لَهُمُ الاٌّمْنُ وَهُمْ مُّهْتَدُونَ
(It is those who believe and confuse not their belief with Zulm, for them there is security and they are the guided.) Allah said,
وَتِلْكَ حُجَّتُنَآ ءَاتَيْنَـهَآ إِبْرَهِيمَ عَلَى قَوْمِهِ نَرْفَعُ دَرَجَـتٍ مَّن نَّشَآءُ
(And that was Our proof which We gave Ibrahim against his people. We raise in degrees whom We will.) And;
إِنَّ رَبَّكَ حَكِيمٌ عَلِيمٌ
(Certainly your Lord is All-Wise, All-Knowing.) He is All-Wise in His statements and actions, All-Knower of those whom He guides or misguides, and whether the proof was established against them or not. Allah also said,
إِنَّ الَّذِينَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَةُ رَبِّكَ لاَ يُؤْمِنُونَ - وَلَوْ جَآءَتْهُمْ كُلُّ ءايَةٍ حَتَّى يَرَوُاْ الْعَذَابَ الاٌّلِيمَ
(Truly! Those, against whom the Word (wrath) of your Lord has been justified, will not believe. Even if every sign should come to them -- until they see the painful torment.) 10:96-97 This is why Allah said here,
إِنَّ رَبَّكَ حَكِيمٌ عَلِيمٌ
(Certainly your Lord is All-Wise, All-Knowing.)
مشرکین کا توحید سے فرار ابراہیم ؑ کی سچی توحید کے دلائل سن کر پھر بھی مشرکین آپ سے بحث جاری رکھتے ہیں تو آپ ان سے فرماتے ہیں تعجب ہے کہ تم مجھ سے اللہ جل جلالہ کے بارے میں جھگڑا کر رہے ہو ؟ حالانکہ وہ یکتا اور لا شریک ہے اس نے مجھے راہ دکھا دی ہے اور دلیل عطا فرمائی ہے میں یقینا جانتا ہوں کہ تمہارے یہ سب معبود محض بےبس اور بےطاقت ہیں، میں نہ تو تمہاری فضول اور باطل باتوں میں آؤں گا نہ تمہاری دھمکیاں سچی جانوں گا، جاؤ تم سے اور تمہارے باطل معبودوں سے جو ہو سکے کرلو۔ ہرگز ہرگز کمی نہ کرو بلکہ جلدی کر گزرو اگر تمہارے اور ان کے قبضے میں میرا کوئی نقصان ہے تو جاؤ پہنچا دو۔ میرے رب کی منشا بغیر کچھ بھی نہیں ہوسکتا ضرر نفع سب اسی کی طرف سے ہے تمام جیزیں اسی کے علم میں ہیں اس پر چھوٹی سے جھوتی چیز بھی پوشیدہ نہیں۔ افسوس اتنی دلیلیں سن کر بھی تمہارے دل نصیحت حاصل نہیں کرتے۔ حضور ہود ؑ نے بھی اپنی قوم کے سامنے یہی دلیل پیش کی تھی۔ قرآن میں موجود ہے کہ ان کی قوم نے ان سے کہا اے ہود تم کوئی دلیل تو لائے نہیں ہو اور صرف تمہارے قول سے ہم اپنے معبودوں سے دست بردار نہیں ہوسکتے نہ ہم تجھ پر ایمان لائیں گے۔ ہمارا اپنا خیال تو یہ ہے کہ ہمارے معبودوں نے تجھے کچھ کردیا ہے۔ آپ نے جواب دیا کہ میں اللہ کو گواہ کرتا ہوں اور تم بھی گواہ رہو کہ تم جن کو بھی اللہ کا شریک ٹھہرا رہے ہو، میں سب سے بیزار ہوں۔ جاؤ تم سب مل کر جو کچھ مکر میرے ساتھ کرنا چاہتے ہو وہ کرلو اور مجھے مہلت بھی نہ دو ، میں نے تو اس رب پر توکل کرلیا ہے جو تمہارا میرا سب کا پالنہار ہے۔ تمام جانداروں کی پیشانیاں اسی کے ہاتھ میں ہیں۔ سمجھو اور سوچو تو سہی کہ میں تمہارے ان باطل معبودوں سے کیوں ڈراؤں گا ؟ جبکہ تم اس اکیلے اللہ وحدہ لا شریک سے نہیں ڈرتے اور کھلم کھلا اس کی ذات کے ساتھ دوسروں کو شریک ٹھہرا رہے ہو۔ تم ہی بتلاؤ کہ ہم تم میں سے امن کا زیادہ حقدار کون ہے ؟ دلیل میں اعلی کون ہے ؟ یہ آیت مثل آیت (اَمْ لَهُمْ شُرَكَاۗءُ ڔ فَلْيَاْتُوْا بِشُرَكَاۗىِٕهِمْ اِنْ كَانُوْا صٰدِقِيْنَ) 68۔ القلم :41) اور آیت (اِنْ هِىَ اِلَّآ اَسْمَاۗءٌ سَمَّيْتُمُوْهَآ اَنْتُمْ وَاٰبَاۗؤُكُمْ مَّآ اَنْزَلَ اللّٰهُ بِهَا مِنْ سُلْطٰنٍ) 53۔ النجم :23) کے ہے مطلب یہ ہے کہ اس کا بندہ جو خیرو شر، کا نفع و ضر کا مالک ہے امن والا ہوگا یا اس کا بندہ جو محض بےبس اور بےقدرت ہے قیامت کے دن کے عذابوں سے امن میں رہے گا پھر جناب باری تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو لوگ صرف اللہ ہی کی عبادت کریں اور خلوص کے ساتھ دینداری کریں رب کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں امن وامان اور راہ راست والے یہی لوگ ہیں جب یہ آیت اتری تو صحابہ ظلم کا لفط سن کر چونک اٹھے اور کہنے لگے یا رسول اللہ ہم میں سے ایسا کون ہے جس نے کوئی گناہ ہی نہ کیا ہو ؟ اس پر آیت (اِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيْمٌ) 31۔ لقمان :13) نازل ہوئی یعنی یہاں مراد ظلم سے شرک ہے (بخاری شریف) اور روایت میں ہے کہ حضور نے ان کے اس سوال پر فرمایا کیا تم نے اللہ کے نیک بندے کا یہ قول نہیں سنا کہ اے میرے پیارے بچے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا شرک بڑا بھاری ظلم ہے۔ پس مراد یہاں ظلم سے شرک ہے اور روایت میں ہے کہ آپ نے یہ بھی فرمایا کہ تم جو سمجھ رہے ہو وہ مقصد نہیں اور حدیث میں آپ کا خود لظلم کی تفسیر بشرک سے کرنا مروی ہے۔ بہت سے صحابیوں سے بہت سی سندوں کے ساتھ بہت سی کتابوں میں یہ حدیث مروی ہے۔ ایک روایت میں حضور کا فرمان ہے کہ مجھ سے کہا گیا کہ تو ان ہی لوگوں میں سے ہے۔ مسند احمد میں زاذان اور جریر ؓ سے مروی ہے کہ اے باپ کیا آپ آزر بت کو معبود مانتے ہیں ؟ لیکن یہ دور کی بات ہے خلاف لغت ہے کیونکہ حرف استفہام کے بعد والا اپنے سے پہلے والے میں عامل نہیں ہوتا اس لئے کہ اس کے لئے ابتداء کلام کا حق ہے، عربی کا یہ تو مشہور قاعدہ ہے، الغرض حضرت ابراہیم خلیل اللہ ؑ اپنے باپ کو وعظ سنا رہے ہیں اور انہیں بت پرستی سے روک رہے ہیں لیکن وہ باز نہ آئے۔ آپ فرماتے ہیں کہ یہ تو نہایت بری بات ہے کہ تم ایک بت کے سامنے الحاج اور عاجزی کرو۔ جو اللہ تعالیٰ کا حق ہے یقینا اس مسلک کے لوگ سب کے سب بہکے ہوئے اور راہ بھٹکے ہوئے ہیں اور آیت میں ہے کہ صدیق نبی ابراہیم خلیل نے اپنے والد سے فرمایا ابا آپ ان کی پرستش کیوں کرتے ہیں جو نہ سنیں نہ دیکھیں نہ کچھ فائدہ پہنچائیں، ابا میں آپ کو وہ کھری بات سناتا ہوں جو اب تک آپ کے علم میں نہیں آئی تھی، آپ میری بات مان لیجئے میں آپ کو صحیح راہ کی رہنمائی کروں گا، ابا شیطان کی عبادت سے ہٹ جائیے، وہ تو رحمان کا نافرمان ہے، ابا مجھے تو ڈر لگتا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو آپ پر اللہ کا کوئی عذاب آجائے اور آپ شیطان کے رفیق کار بن جائیں۔ باپ نے جواب دیا کہ ابراہیم کیا تو میرے معبودوں سے ناراض ہے ؟ سن اگر تو اس سے باز نہ آیا تو میں تجھے سنگسار کر دوں گا، پس اب تو مجھ سے الگ ہوجا۔ آپ نے فرمایا اچھا میرا سلام لو میں تو اب بھی اپنے پروردگار سے تمہاری معافی کی درخواست کروں گا وہ مجھ پر بہت مہربان ہے، میں تم سب کو اور تمہارے ان معبودوں کو جو اللہ کے سوا ہیں چھوڑتا ہوں اپنے رب کی عبادت میں مشغول ہوتا ہوں ناممکن ہے کہ میں اس کی عبادت بھی کروں اور پھر بےنصیب اور خالی ہاتھ رہوں چناچہ حسب وعدہ خلیل اللہ اپنے والد کی زندگی تک استغفار کرتے رہے لیکن جبکہ مرتے ہوئے بھی وہ شرک سے باز نہ آئے تو آپ نے استغفار بند کردیا اور بیزار ہوگئے، چناچہ قرآن کریم میں ہے حضرت ابراہیم کا اپنے باپ کے لئے استغفار کرنا ایک وعدے کی بنا پر تھا جب آپ پر یہ کھل گیا کہ وہ دشمن اللہ ہے تو آپ اس سے بیزار اور بری ہوگئے، ابراہیم بڑے ہی اللہ سے ڈرنے والے نرم دل حلیم الطبع تھے، حدیث صحیح میں ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ قیامت کے دن اپنے باپ آزر سے ملاقات کریں گے آزر آپ کو دیکھ کر کہے گا بیٹا آج میں تیری کسی بات کی مخالفت نہ کروں گا، آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں گے کہ اے اللہ تو نے مجھ سے وعدہ کیا ہے کہ قیامت کے دن تو مجھے رسوانہ کرے گا اس سے زیادہ سوائی کیا ہوگی کہ میرا باپ رحمت سے دور کردیا جائے، آپ سے فرمایا جائے گا کہ تم اپنے پیچھے کی طرف دیکھو، دیکھیں گے کہ ایک بجو کیچڑ میں لتھڑا کھڑا ہے اس کے پاؤں پکڑے جائیں گے اور آگ میں ڈال دیا جائے گا، مخلوق کو دیکھ کر خالق کی وحدانیت سمجھ میں آجائے اس لئے ہم نے ابراہیم کو آسمان و زمین کی مخلوق دکھا دی جیسے اور آیت میں ہے آیت (اَوَلَمْ يَنْظُرُوْا فِيْ مَلَكُوْتِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَا خَلَقَ اللّٰهُ مِنْ شَيْءٍ ۙ وَّاَنْ عَسٰٓي اَنْ يَّكُوْنَ قَدِ اقْتَرَبَ اَجَلُهُمْ) 7۔ الاعراف :185) اور جگہ ہے آیت (اَفَلَمْ يَرَوْا اِلٰى مَا بَيْنَ اَيْدِيْهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ مِّنَ السَّمَاۗءِ وَالْاَرْضِ ۭاِنْ نَّشَاْ نَخْسِفْ بِهِمُ الْاَرْضَ اَوْ نُسْقِطْ عَلَيْهِمْ كِسَفًا مِّنَ السَّمَاۗءِ) 34۔ سبأ :9) یعنی لوگوں کو آسمان و زمین کی مخلوق پر عبرت کی نظریں ڈالنی چاہئیں انہیں اپنے آگے پیچھے آسمان و زمین کو دیکھنا چاہیے اگر ہم چاہیں تو انہیں زمین میں دھنسا دیں اگر چاہیں آسمان کا ٹکڑا ان پر گرا دیں رغبت و رجو والے بندوں کیلئے اس میں نشانیاں ہیں۔ مجاہد وغیرہ سے منقول ہے کہ آسمان حضرت ابراہیم کے سامنے کھول دیئے گئے عرش تک آپ کی نظریں پہنچیں۔ حجاب اٹھا دیئے گئے اور آپ نے سب کچھ دیکھا، بندوں کو گناہوں میں دیکھ کر ان کے لئے بد دعا کرنے لگے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا تجھ سے زیادہ میں ان پر رحیم ہوں بہت ممکن ہے کہ یہ توبہ کرلیں اور بد اعمالیوں سے ہٹ جائیں۔ پس یہ دکھلانا موقوف کردیا گیا ممکن ہے یہ کشف کے طور پر ہو اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس سے مراد معلوم کرانا اور حقائق سے متعارف کرا دینا ہو۔ چناچہ مسند احمد اور ترمذی کی ایک حدیث میں حضور کے خواب کا ذکر ہے کہ میرے پاس میرا رب بہت اچھی صورت میں آیا اور مجھ سے دریافت فرمایا کہ اونچی جماعت کے فرشتے اس وقت کس بارے میں گفتگو کر رہے ہیں ؟ میں نے اپنی لا علمی ظاہر کی تو اللہ تعالیٰ نے اپنی ہتھیلی میری دونوں بازوؤں کے درمیان رکھ دی یہاں تک کہ اس کی پوریوں رب کی بات صادق آگئی ہے ان کے پاس چاہے تم تمام نشانیاں لے آؤ پھر بھی انہیں ایمان نصیب نہیں ہوگا یہاں تک کہ وہ اپنی آنکھوں سے عذاب دیکھ لیں۔ پس رب کی حکمت اور اس کے علم میں کوئی شبہ نہیں۔
81
View Single
وَكَيۡفَ أَخَافُ مَآ أَشۡرَكۡتُمۡ وَلَا تَخَافُونَ أَنَّكُمۡ أَشۡرَكۡتُم بِٱللَّهِ مَا لَمۡ يُنَزِّلۡ بِهِۦ عَلَيۡكُمۡ سُلۡطَٰنٗاۚ فَأَيُّ ٱلۡفَرِيقَيۡنِ أَحَقُّ بِٱلۡأَمۡنِۖ إِن كُنتُمۡ تَعۡلَمُونَ
“And how should I fear whatever you ascribe as partners, whilst you do not fear that you have ascribed partners to Allah – for which He has not sent down on you any proof? So which of the two groups has more right to refuge, if you know?”
اور میں ان (معبودانِ باطلہ) سے کیونکر خوفزدہ ہوسکتا ہوں جنہیں تم (اللہ کا) شریک ٹھہراتے ہو درآنحالیکہ تم اس بات سے نہیں ڈرتے کہ تم نے اللہ کے ساتھ (بتوں کو) شریک بنا رکھا ہے (جبکہ) اس نے تم پر اس (شرک) کی کوئی دلیل نہیں اتاری (اب تم ہی جواب دو!) سو ہر دو فریق میں سے (عذاب سے) بے خوف رہنے کا زیادہ حق دار کون ہے؟ اگر تم جانتے ہو
Tafsir Ibn Kathir
أَتُحَاجُّونِّى فِى اللَّهِ وَقَدْ هَدَانِى
(Do you dispute with me about Allah while He has guided me). The Ayah means, do you argue with me about Allah, other than Whom there is no god worthy of worship, while He has guided me to the Truth and made me aware of it Therefore, how can I ever consider your misguided statements and false doubts Ibrahim said next,
وَلاَ أَخَافُ مَا تُشْرِكُونَ بِهِ إِلاَّ أَن يَشَآءَ رَبِّى شَيْئاً
(and I fear not those whom you associate with Allah in worship. (Nothing can happen to me) except when my Lord wills something.) Ibrahim said, among the proofs to the falsehood of your creed, is that these false gods that you worship do not bring about any effect, and I do not fear them or care about them. Therefore, if these gods are able to cause harm, then use them against me and do not give me respite. Ibrahim's statement,
إِلاَّ أَن يَشَآءَ رَبِّى شَيْئاً
(except when my Lord wills something.) means, only Allah causes benefit or harm.
وَسِعَ رَبِّى كُلَّ شَىْءٍ عِلْماً
(My Lord comprehends in His knowledge all things. ) meaning, Allah's knowledge encompasses all things and nothing escapes His complete observation,
أَفَلاَ تَتَذَكَّرُونَ
(Will you not then remember) what I explained to you, considering your idols as false gods and refraining from worshipping them This reasoning from Prophet Ibrahim is similar to the argument that Prophet Hud used against his people, `Ad. Allah mentioned this incident in His Book, when He said,
قَالُواْ يَهُودُ مَا جِئْتَنَا بِبَيِّنَةٍ وَمَا نَحْنُ بِتَارِكِى ءالِهَتِنَا عَن قَوْلِكَ وَمَا نَحْنُ لَكَ بِمُؤْمِنِينَ - إِن نَّقُولُ إِلاَّ اعْتَرَاكَ بَعْضُ ءَالِهَتِنَا بِسُوءٍ قَالَ إِنِّى أُشْهِدُ اللَّهِ وَاشْهَدُواْ أَنِّى بَرِىءٌ مِّمَّا تُشْرِكُونَ - مِن دُونِهِ فَكِيدُونِى جَمِيعًا ثُمَّ لاَ تُنظِرُونِ - إِنِّى تَوَكَّلْتُ عَلَى اللَّهِ رَبِّى وَرَبِّكُمْ مَّا مِن دَآبَّةٍ إِلاَّ هُوَ ءاخِذٌ بِنَاصِيَتِهَآ إِنَّ رَبِّى عَلَى صِرَطٍ مُّسْتَقِيمٍ
(They said: "O Hud! No evidence have you brought us, and we shall not leave our gods for your (mere) saying! And we are not believers in you. All that we say is that some of our gods have seized you with evil." He said: "I call Allah to witness - and bear you witness - that I am free from that which you ascribe as partners in worship with Him (Allah). So plot against me, all of you, and give me no respite. I put my trust in Allah, my Lord and your Lord! There is not a moving creature but He has grasp of its forelock. Verily, my Lord is on the straight path (the truth).") 11:53-56 Ibrahim's statement,
وَكَيْفَ أَخَافُ مَآ أَشْرَكْتُمْ
(And how should I fear those whom you associate. ..) means, how should I fear the idols that you worship instead of Allah,
وَلاَ تَخَافُونَ أَنَّكُمْ أَشْرَكْتُم بِاللَّهِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِهِ عَلَيْكُمْ سُلْطَـناً
(while you fear not that you have joined in worship with Allah things for which He has not sent down to you any Sultan.) meaning, proof, according to Ibn `Abbas and others among the Salaf. Allah said in similar Ayat;
أَمْ لَهُمْ شُرَكَاءُ شَرَعُواْ لَهُمْ مِّنَ الدِّينِ مَا لَمْ يَأْذَن بِهِ اللَّهُ
(Or have they partners who have instituted for them a religion which Allah has not allowed) 42:21, and,
إِنْ هِىَ إِلاَّ أَسْمَآءٌ سَمَّيْتُمُوهَآ أَنتُمْ وَءَابَآؤُكُم مَّآ أَنزَلَ اللَّهُ بِهَا مِن سُلْطَـنٍ
(They are but names which you have named, you and your fathers, for which Allah has sent down no authority.) 53:21 His statement,
فَأَىُّ الْفَرِيقَيْنِ أَحَقُّ بِالاٌّمْنِ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ
((So) which of the two parties has more right to be in security If you but know.) means, which of the two parties is on the truth, those who worship Him in Whose Hand is harm and benefit, or those who worship what cannot bring harm or benefit, without authority to justify worshipping them Who among these two parties has more right to be saved from Allah's torment on the Day of Resurrection Allah said,
الَّذِينَ ءَامَنُواْ وَلَمْ يَلْبِسُواْ إِيمَـنَهُمْ بِظُلْمٍ أُوْلَـئِكَ لَهُمُ الاٌّمْنُ وَهُمْ مُّهْتَدُونَ
(It is those who believe and confuse not their belief with Zulm (wrong), for them (only) there is security and they are the guided.) Therefore, those who worship Allah alone without partners, will acquire safety on the Day of Resurrection, and they are the guided ones in this life and the Hereafter.
Shirk is the Greatest Zulm (Wrong)
Al-Bukhari recorded that `Abdullah said, "When the Ayah,
وَلَمْ يَلْبِسُواْ إِيمَـنَهُمْ بِظُلْمٍ
(and confuse not their belief with Zulm (wrong).) was revealed, the Companions of the Prophet said, `And who among us did not commit Zulm against himself' The Ayah,
إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ
(Verily! Joining others in worship with Allah is a great Zulm (wrong) indeed.) 31:13, was later revealed." Imam Ahmad recorded that `Abdullah said, "When this Ayah was revealed,
الَّذِينَ ءَامَنُواْ وَلَمْ يَلْبِسُواْ إِيمَـنَهُمْ بِظُلْمٍ
(It is those who believe and confuse not their belief with Zulm (wrong),) it was hard on the people. They said, `O Allah's Messenger! Who among us did not commit Zulm against himself' He said,
«إِنَّهُ لَيْسَ الَّذِي تَعْنُونَ، أَلَمْ تَسْمَعُوا مَا قَالَ الْعَبْدُ الصَّالِحُ
(It is not what you understood from it. Did you not hear what the righteous servant (Luqman) said,
يَبُنَىَّ لاَ تُشْرِكْ بِاللَّهِ إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ
(O my son! Join not in worship others with Allah. Verily! Shirk is a great Zulm (wrong) indeed.)) 31:13. Therefore, it is about Shirk. Allah's statement,
وَتِلْكَ حُجَّتُنَآ ءَاتَيْنَـهَآ إِبْرَهِيمَ عَلَى قَوْمِهِ
(And that was Our proof which We gave Ibrahim against his people.) means, We directed him to proclaim Our proof against them. Mujahid and others said that `Our proof' refers to,
وَكَيْفَ أَخَافُ مَآ أَشْرَكْتُمْ وَلاَ تَخَافُونَ أَنَّكُمْ أَشْرَكْتُم بِاللَّهِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِهِ عَلَيْكُمْ سُلْطَـناً فَأَىُّ الْفَرِيقَيْنِ أَحَقُّ بِالاٌّمْنِ
(And how should I fear those whom you associate in worship with Allah (though they can neither benefit nor harm), while you fear not that you have joined in worship with Allah things for which He has not sent down to you any Sultan. (So) which of the two parties has more right to be in security) Allah has testified Ibrahim's statement and affirmed security and guidance, saying;
الَّذِينَ ءَامَنُواْ وَلَمْ يَلْبِسُواْ إِيمَـنَهُمْ بِظُلْمٍ أُوْلَـئِكَ لَهُمُ الاٌّمْنُ وَهُمْ مُّهْتَدُونَ
(It is those who believe and confuse not their belief with Zulm, for them there is security and they are the guided.) Allah said,
وَتِلْكَ حُجَّتُنَآ ءَاتَيْنَـهَآ إِبْرَهِيمَ عَلَى قَوْمِهِ نَرْفَعُ دَرَجَـتٍ مَّن نَّشَآءُ
(And that was Our proof which We gave Ibrahim against his people. We raise in degrees whom We will.) And;
إِنَّ رَبَّكَ حَكِيمٌ عَلِيمٌ
(Certainly your Lord is All-Wise, All-Knowing.) He is All-Wise in His statements and actions, All-Knower of those whom He guides or misguides, and whether the proof was established against them or not. Allah also said,
إِنَّ الَّذِينَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَةُ رَبِّكَ لاَ يُؤْمِنُونَ - وَلَوْ جَآءَتْهُمْ كُلُّ ءايَةٍ حَتَّى يَرَوُاْ الْعَذَابَ الاٌّلِيمَ
(Truly! Those, against whom the Word (wrath) of your Lord has been justified, will not believe. Even if every sign should come to them -- until they see the painful torment.) 10:96-97 This is why Allah said here,
إِنَّ رَبَّكَ حَكِيمٌ عَلِيمٌ
(Certainly your Lord is All-Wise, All-Knowing.)
مشرکین کا توحید سے فرار ابراہیم ؑ کی سچی توحید کے دلائل سن کر پھر بھی مشرکین آپ سے بحث جاری رکھتے ہیں تو آپ ان سے فرماتے ہیں تعجب ہے کہ تم مجھ سے اللہ جل جلالہ کے بارے میں جھگڑا کر رہے ہو ؟ حالانکہ وہ یکتا اور لا شریک ہے اس نے مجھے راہ دکھا دی ہے اور دلیل عطا فرمائی ہے میں یقینا جانتا ہوں کہ تمہارے یہ سب معبود محض بےبس اور بےطاقت ہیں، میں نہ تو تمہاری فضول اور باطل باتوں میں آؤں گا نہ تمہاری دھمکیاں سچی جانوں گا، جاؤ تم سے اور تمہارے باطل معبودوں سے جو ہو سکے کرلو۔ ہرگز ہرگز کمی نہ کرو بلکہ جلدی کر گزرو اگر تمہارے اور ان کے قبضے میں میرا کوئی نقصان ہے تو جاؤ پہنچا دو۔ میرے رب کی منشا بغیر کچھ بھی نہیں ہوسکتا ضرر نفع سب اسی کی طرف سے ہے تمام جیزیں اسی کے علم میں ہیں اس پر چھوٹی سے جھوتی چیز بھی پوشیدہ نہیں۔ افسوس اتنی دلیلیں سن کر بھی تمہارے دل نصیحت حاصل نہیں کرتے۔ حضور ہود ؑ نے بھی اپنی قوم کے سامنے یہی دلیل پیش کی تھی۔ قرآن میں موجود ہے کہ ان کی قوم نے ان سے کہا اے ہود تم کوئی دلیل تو لائے نہیں ہو اور صرف تمہارے قول سے ہم اپنے معبودوں سے دست بردار نہیں ہوسکتے نہ ہم تجھ پر ایمان لائیں گے۔ ہمارا اپنا خیال تو یہ ہے کہ ہمارے معبودوں نے تجھے کچھ کردیا ہے۔ آپ نے جواب دیا کہ میں اللہ کو گواہ کرتا ہوں اور تم بھی گواہ رہو کہ تم جن کو بھی اللہ کا شریک ٹھہرا رہے ہو، میں سب سے بیزار ہوں۔ جاؤ تم سب مل کر جو کچھ مکر میرے ساتھ کرنا چاہتے ہو وہ کرلو اور مجھے مہلت بھی نہ دو ، میں نے تو اس رب پر توکل کرلیا ہے جو تمہارا میرا سب کا پالنہار ہے۔ تمام جانداروں کی پیشانیاں اسی کے ہاتھ میں ہیں۔ سمجھو اور سوچو تو سہی کہ میں تمہارے ان باطل معبودوں سے کیوں ڈراؤں گا ؟ جبکہ تم اس اکیلے اللہ وحدہ لا شریک سے نہیں ڈرتے اور کھلم کھلا اس کی ذات کے ساتھ دوسروں کو شریک ٹھہرا رہے ہو۔ تم ہی بتلاؤ کہ ہم تم میں سے امن کا زیادہ حقدار کون ہے ؟ دلیل میں اعلی کون ہے ؟ یہ آیت مثل آیت (اَمْ لَهُمْ شُرَكَاۗءُ ڔ فَلْيَاْتُوْا بِشُرَكَاۗىِٕهِمْ اِنْ كَانُوْا صٰدِقِيْنَ) 68۔ القلم :41) اور آیت (اِنْ هِىَ اِلَّآ اَسْمَاۗءٌ سَمَّيْتُمُوْهَآ اَنْتُمْ وَاٰبَاۗؤُكُمْ مَّآ اَنْزَلَ اللّٰهُ بِهَا مِنْ سُلْطٰنٍ) 53۔ النجم :23) کے ہے مطلب یہ ہے کہ اس کا بندہ جو خیرو شر، کا نفع و ضر کا مالک ہے امن والا ہوگا یا اس کا بندہ جو محض بےبس اور بےقدرت ہے قیامت کے دن کے عذابوں سے امن میں رہے گا پھر جناب باری تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو لوگ صرف اللہ ہی کی عبادت کریں اور خلوص کے ساتھ دینداری کریں رب کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں امن وامان اور راہ راست والے یہی لوگ ہیں جب یہ آیت اتری تو صحابہ ظلم کا لفط سن کر چونک اٹھے اور کہنے لگے یا رسول اللہ ہم میں سے ایسا کون ہے جس نے کوئی گناہ ہی نہ کیا ہو ؟ اس پر آیت (اِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيْمٌ) 31۔ لقمان :13) نازل ہوئی یعنی یہاں مراد ظلم سے شرک ہے (بخاری شریف) اور روایت میں ہے کہ حضور نے ان کے اس سوال پر فرمایا کیا تم نے اللہ کے نیک بندے کا یہ قول نہیں سنا کہ اے میرے پیارے بچے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا شرک بڑا بھاری ظلم ہے۔ پس مراد یہاں ظلم سے شرک ہے اور روایت میں ہے کہ آپ نے یہ بھی فرمایا کہ تم جو سمجھ رہے ہو وہ مقصد نہیں اور حدیث میں آپ کا خود لظلم کی تفسیر بشرک سے کرنا مروی ہے۔ بہت سے صحابیوں سے بہت سی سندوں کے ساتھ بہت سی کتابوں میں یہ حدیث مروی ہے۔ ایک روایت میں حضور کا فرمان ہے کہ مجھ سے کہا گیا کہ تو ان ہی لوگوں میں سے ہے۔ مسند احمد میں زاذان اور جریر ؓ سے مروی ہے کہ اے باپ کیا آپ آزر بت کو معبود مانتے ہیں ؟ لیکن یہ دور کی بات ہے خلاف لغت ہے کیونکہ حرف استفہام کے بعد والا اپنے سے پہلے والے میں عامل نہیں ہوتا اس لئے کہ اس کے لئے ابتداء کلام کا حق ہے، عربی کا یہ تو مشہور قاعدہ ہے، الغرض حضرت ابراہیم خلیل اللہ ؑ اپنے باپ کو وعظ سنا رہے ہیں اور انہیں بت پرستی سے روک رہے ہیں لیکن وہ باز نہ آئے۔ آپ فرماتے ہیں کہ یہ تو نہایت بری بات ہے کہ تم ایک بت کے سامنے الحاج اور عاجزی کرو۔ جو اللہ تعالیٰ کا حق ہے یقینا اس مسلک کے لوگ سب کے سب بہکے ہوئے اور راہ بھٹکے ہوئے ہیں اور آیت میں ہے کہ صدیق نبی ابراہیم خلیل نے اپنے والد سے فرمایا ابا آپ ان کی پرستش کیوں کرتے ہیں جو نہ سنیں نہ دیکھیں نہ کچھ فائدہ پہنچائیں، ابا میں آپ کو وہ کھری بات سناتا ہوں جو اب تک آپ کے علم میں نہیں آئی تھی، آپ میری بات مان لیجئے میں آپ کو صحیح راہ کی رہنمائی کروں گا، ابا شیطان کی عبادت سے ہٹ جائیے، وہ تو رحمان کا نافرمان ہے، ابا مجھے تو ڈر لگتا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو آپ پر اللہ کا کوئی عذاب آجائے اور آپ شیطان کے رفیق کار بن جائیں۔ باپ نے جواب دیا کہ ابراہیم کیا تو میرے معبودوں سے ناراض ہے ؟ سن اگر تو اس سے باز نہ آیا تو میں تجھے سنگسار کر دوں گا، پس اب تو مجھ سے الگ ہوجا۔ آپ نے فرمایا اچھا میرا سلام لو میں تو اب بھی اپنے پروردگار سے تمہاری معافی کی درخواست کروں گا وہ مجھ پر بہت مہربان ہے، میں تم سب کو اور تمہارے ان معبودوں کو جو اللہ کے سوا ہیں چھوڑتا ہوں اپنے رب کی عبادت میں مشغول ہوتا ہوں ناممکن ہے کہ میں اس کی عبادت بھی کروں اور پھر بےنصیب اور خالی ہاتھ رہوں چناچہ حسب وعدہ خلیل اللہ اپنے والد کی زندگی تک استغفار کرتے رہے لیکن جبکہ مرتے ہوئے بھی وہ شرک سے باز نہ آئے تو آپ نے استغفار بند کردیا اور بیزار ہوگئے، چناچہ قرآن کریم میں ہے حضرت ابراہیم کا اپنے باپ کے لئے استغفار کرنا ایک وعدے کی بنا پر تھا جب آپ پر یہ کھل گیا کہ وہ دشمن اللہ ہے تو آپ اس سے بیزار اور بری ہوگئے، ابراہیم بڑے ہی اللہ سے ڈرنے والے نرم دل حلیم الطبع تھے، حدیث صحیح میں ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ قیامت کے دن اپنے باپ آزر سے ملاقات کریں گے آزر آپ کو دیکھ کر کہے گا بیٹا آج میں تیری کسی بات کی مخالفت نہ کروں گا، آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں گے کہ اے اللہ تو نے مجھ سے وعدہ کیا ہے کہ قیامت کے دن تو مجھے رسوانہ کرے گا اس سے زیادہ سوائی کیا ہوگی کہ میرا باپ رحمت سے دور کردیا جائے، آپ سے فرمایا جائے گا کہ تم اپنے پیچھے کی طرف دیکھو، دیکھیں گے کہ ایک بجو کیچڑ میں لتھڑا کھڑا ہے اس کے پاؤں پکڑے جائیں گے اور آگ میں ڈال دیا جائے گا، مخلوق کو دیکھ کر خالق کی وحدانیت سمجھ میں آجائے اس لئے ہم نے ابراہیم کو آسمان و زمین کی مخلوق دکھا دی جیسے اور آیت میں ہے آیت (اَوَلَمْ يَنْظُرُوْا فِيْ مَلَكُوْتِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَا خَلَقَ اللّٰهُ مِنْ شَيْءٍ ۙ وَّاَنْ عَسٰٓي اَنْ يَّكُوْنَ قَدِ اقْتَرَبَ اَجَلُهُمْ) 7۔ الاعراف :185) اور جگہ ہے آیت (اَفَلَمْ يَرَوْا اِلٰى مَا بَيْنَ اَيْدِيْهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ مِّنَ السَّمَاۗءِ وَالْاَرْضِ ۭاِنْ نَّشَاْ نَخْسِفْ بِهِمُ الْاَرْضَ اَوْ نُسْقِطْ عَلَيْهِمْ كِسَفًا مِّنَ السَّمَاۗءِ) 34۔ سبأ :9) یعنی لوگوں کو آسمان و زمین کی مخلوق پر عبرت کی نظریں ڈالنی چاہئیں انہیں اپنے آگے پیچھے آسمان و زمین کو دیکھنا چاہیے اگر ہم چاہیں تو انہیں زمین میں دھنسا دیں اگر چاہیں آسمان کا ٹکڑا ان پر گرا دیں رغبت و رجو والے بندوں کیلئے اس میں نشانیاں ہیں۔ مجاہد وغیرہ سے منقول ہے کہ آسمان حضرت ابراہیم کے سامنے کھول دیئے گئے عرش تک آپ کی نظریں پہنچیں۔ حجاب اٹھا دیئے گئے اور آپ نے سب کچھ دیکھا، بندوں کو گناہوں میں دیکھ کر ان کے لئے بد دعا کرنے لگے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا تجھ سے زیادہ میں ان پر رحیم ہوں بہت ممکن ہے کہ یہ توبہ کرلیں اور بد اعمالیوں سے ہٹ جائیں۔ پس یہ دکھلانا موقوف کردیا گیا ممکن ہے یہ کشف کے طور پر ہو اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس سے مراد معلوم کرانا اور حقائق سے متعارف کرا دینا ہو۔ چناچہ مسند احمد اور ترمذی کی ایک حدیث میں حضور کے خواب کا ذکر ہے کہ میرے پاس میرا رب بہت اچھی صورت میں آیا اور مجھ سے دریافت فرمایا کہ اونچی جماعت کے فرشتے اس وقت کس بارے میں گفتگو کر رہے ہیں ؟ میں نے اپنی لا علمی ظاہر کی تو اللہ تعالیٰ نے اپنی ہتھیلی میری دونوں بازوؤں کے درمیان رکھ دی یہاں تک کہ اس کی پوریوں رب کی بات صادق آگئی ہے ان کے پاس چاہے تم تمام نشانیاں لے آؤ پھر بھی انہیں ایمان نصیب نہیں ہوگا یہاں تک کہ وہ اپنی آنکھوں سے عذاب دیکھ لیں۔ پس رب کی حکمت اور اس کے علم میں کوئی شبہ نہیں۔
82
View Single
ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَلَمۡ يَلۡبِسُوٓاْ إِيمَٰنَهُم بِظُلۡمٍ أُوْلَـٰٓئِكَ لَهُمُ ٱلۡأَمۡنُ وَهُم مُّهۡتَدُونَ
Those who believed and did not mix it with injustice (disbelief), the refuge is only for them, and only they are on guidance.
جو لوگ ایمان لائے اور اپنے ایمان کو (شرک کے) ظلم کے ساتھ نہیں ملایا انہی لوگوں کے لئے امن (یعنی اُخروی بے خوفی) ہے اور وہی ہدایت یافتہ ہیں
Tafsir Ibn Kathir
أَتُحَاجُّونِّى فِى اللَّهِ وَقَدْ هَدَانِى
(Do you dispute with me about Allah while He has guided me). The Ayah means, do you argue with me about Allah, other than Whom there is no god worthy of worship, while He has guided me to the Truth and made me aware of it Therefore, how can I ever consider your misguided statements and false doubts Ibrahim said next,
وَلاَ أَخَافُ مَا تُشْرِكُونَ بِهِ إِلاَّ أَن يَشَآءَ رَبِّى شَيْئاً
(and I fear not those whom you associate with Allah in worship. (Nothing can happen to me) except when my Lord wills something.) Ibrahim said, among the proofs to the falsehood of your creed, is that these false gods that you worship do not bring about any effect, and I do not fear them or care about them. Therefore, if these gods are able to cause harm, then use them against me and do not give me respite. Ibrahim's statement,
إِلاَّ أَن يَشَآءَ رَبِّى شَيْئاً
(except when my Lord wills something.) means, only Allah causes benefit or harm.
وَسِعَ رَبِّى كُلَّ شَىْءٍ عِلْماً
(My Lord comprehends in His knowledge all things. ) meaning, Allah's knowledge encompasses all things and nothing escapes His complete observation,
أَفَلاَ تَتَذَكَّرُونَ
(Will you not then remember) what I explained to you, considering your idols as false gods and refraining from worshipping them This reasoning from Prophet Ibrahim is similar to the argument that Prophet Hud used against his people, `Ad. Allah mentioned this incident in His Book, when He said,
قَالُواْ يَهُودُ مَا جِئْتَنَا بِبَيِّنَةٍ وَمَا نَحْنُ بِتَارِكِى ءالِهَتِنَا عَن قَوْلِكَ وَمَا نَحْنُ لَكَ بِمُؤْمِنِينَ - إِن نَّقُولُ إِلاَّ اعْتَرَاكَ بَعْضُ ءَالِهَتِنَا بِسُوءٍ قَالَ إِنِّى أُشْهِدُ اللَّهِ وَاشْهَدُواْ أَنِّى بَرِىءٌ مِّمَّا تُشْرِكُونَ - مِن دُونِهِ فَكِيدُونِى جَمِيعًا ثُمَّ لاَ تُنظِرُونِ - إِنِّى تَوَكَّلْتُ عَلَى اللَّهِ رَبِّى وَرَبِّكُمْ مَّا مِن دَآبَّةٍ إِلاَّ هُوَ ءاخِذٌ بِنَاصِيَتِهَآ إِنَّ رَبِّى عَلَى صِرَطٍ مُّسْتَقِيمٍ
(They said: "O Hud! No evidence have you brought us, and we shall not leave our gods for your (mere) saying! And we are not believers in you. All that we say is that some of our gods have seized you with evil." He said: "I call Allah to witness - and bear you witness - that I am free from that which you ascribe as partners in worship with Him (Allah). So plot against me, all of you, and give me no respite. I put my trust in Allah, my Lord and your Lord! There is not a moving creature but He has grasp of its forelock. Verily, my Lord is on the straight path (the truth).") 11:53-56 Ibrahim's statement,
وَكَيْفَ أَخَافُ مَآ أَشْرَكْتُمْ
(And how should I fear those whom you associate. ..) means, how should I fear the idols that you worship instead of Allah,
وَلاَ تَخَافُونَ أَنَّكُمْ أَشْرَكْتُم بِاللَّهِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِهِ عَلَيْكُمْ سُلْطَـناً
(while you fear not that you have joined in worship with Allah things for which He has not sent down to you any Sultan.) meaning, proof, according to Ibn `Abbas and others among the Salaf. Allah said in similar Ayat;
أَمْ لَهُمْ شُرَكَاءُ شَرَعُواْ لَهُمْ مِّنَ الدِّينِ مَا لَمْ يَأْذَن بِهِ اللَّهُ
(Or have they partners who have instituted for them a religion which Allah has not allowed) 42:21, and,
إِنْ هِىَ إِلاَّ أَسْمَآءٌ سَمَّيْتُمُوهَآ أَنتُمْ وَءَابَآؤُكُم مَّآ أَنزَلَ اللَّهُ بِهَا مِن سُلْطَـنٍ
(They are but names which you have named, you and your fathers, for which Allah has sent down no authority.) 53:21 His statement,
فَأَىُّ الْفَرِيقَيْنِ أَحَقُّ بِالاٌّمْنِ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ
((So) which of the two parties has more right to be in security If you but know.) means, which of the two parties is on the truth, those who worship Him in Whose Hand is harm and benefit, or those who worship what cannot bring harm or benefit, without authority to justify worshipping them Who among these two parties has more right to be saved from Allah's torment on the Day of Resurrection Allah said,
الَّذِينَ ءَامَنُواْ وَلَمْ يَلْبِسُواْ إِيمَـنَهُمْ بِظُلْمٍ أُوْلَـئِكَ لَهُمُ الاٌّمْنُ وَهُمْ مُّهْتَدُونَ
(It is those who believe and confuse not their belief with Zulm (wrong), for them (only) there is security and they are the guided.) Therefore, those who worship Allah alone without partners, will acquire safety on the Day of Resurrection, and they are the guided ones in this life and the Hereafter.
Shirk is the Greatest Zulm (Wrong)
Al-Bukhari recorded that `Abdullah said, "When the Ayah,
وَلَمْ يَلْبِسُواْ إِيمَـنَهُمْ بِظُلْمٍ
(and confuse not their belief with Zulm (wrong).) was revealed, the Companions of the Prophet said, `And who among us did not commit Zulm against himself' The Ayah,
إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ
(Verily! Joining others in worship with Allah is a great Zulm (wrong) indeed.) 31:13, was later revealed." Imam Ahmad recorded that `Abdullah said, "When this Ayah was revealed,
الَّذِينَ ءَامَنُواْ وَلَمْ يَلْبِسُواْ إِيمَـنَهُمْ بِظُلْمٍ
(It is those who believe and confuse not their belief with Zulm (wrong),) it was hard on the people. They said, `O Allah's Messenger! Who among us did not commit Zulm against himself' He said,
«إِنَّهُ لَيْسَ الَّذِي تَعْنُونَ، أَلَمْ تَسْمَعُوا مَا قَالَ الْعَبْدُ الصَّالِحُ
(It is not what you understood from it. Did you not hear what the righteous servant (Luqman) said,
يَبُنَىَّ لاَ تُشْرِكْ بِاللَّهِ إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ
(O my son! Join not in worship others with Allah. Verily! Shirk is a great Zulm (wrong) indeed.)) 31:13. Therefore, it is about Shirk. Allah's statement,
وَتِلْكَ حُجَّتُنَآ ءَاتَيْنَـهَآ إِبْرَهِيمَ عَلَى قَوْمِهِ
(And that was Our proof which We gave Ibrahim against his people.) means, We directed him to proclaim Our proof against them. Mujahid and others said that `Our proof' refers to,
وَكَيْفَ أَخَافُ مَآ أَشْرَكْتُمْ وَلاَ تَخَافُونَ أَنَّكُمْ أَشْرَكْتُم بِاللَّهِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِهِ عَلَيْكُمْ سُلْطَـناً فَأَىُّ الْفَرِيقَيْنِ أَحَقُّ بِالاٌّمْنِ
(And how should I fear those whom you associate in worship with Allah (though they can neither benefit nor harm), while you fear not that you have joined in worship with Allah things for which He has not sent down to you any Sultan. (So) which of the two parties has more right to be in security) Allah has testified Ibrahim's statement and affirmed security and guidance, saying;
الَّذِينَ ءَامَنُواْ وَلَمْ يَلْبِسُواْ إِيمَـنَهُمْ بِظُلْمٍ أُوْلَـئِكَ لَهُمُ الاٌّمْنُ وَهُمْ مُّهْتَدُونَ
(It is those who believe and confuse not their belief with Zulm, for them there is security and they are the guided.) Allah said,
وَتِلْكَ حُجَّتُنَآ ءَاتَيْنَـهَآ إِبْرَهِيمَ عَلَى قَوْمِهِ نَرْفَعُ دَرَجَـتٍ مَّن نَّشَآءُ
(And that was Our proof which We gave Ibrahim against his people. We raise in degrees whom We will.) And;
إِنَّ رَبَّكَ حَكِيمٌ عَلِيمٌ
(Certainly your Lord is All-Wise, All-Knowing.) He is All-Wise in His statements and actions, All-Knower of those whom He guides or misguides, and whether the proof was established against them or not. Allah also said,
إِنَّ الَّذِينَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَةُ رَبِّكَ لاَ يُؤْمِنُونَ - وَلَوْ جَآءَتْهُمْ كُلُّ ءايَةٍ حَتَّى يَرَوُاْ الْعَذَابَ الاٌّلِيمَ
(Truly! Those, against whom the Word (wrath) of your Lord has been justified, will not believe. Even if every sign should come to them -- until they see the painful torment.) 10:96-97 This is why Allah said here,
إِنَّ رَبَّكَ حَكِيمٌ عَلِيمٌ
(Certainly your Lord is All-Wise, All-Knowing.)
مشرکین کا توحید سے فرار ابراہیم ؑ کی سچی توحید کے دلائل سن کر پھر بھی مشرکین آپ سے بحث جاری رکھتے ہیں تو آپ ان سے فرماتے ہیں تعجب ہے کہ تم مجھ سے اللہ جل جلالہ کے بارے میں جھگڑا کر رہے ہو ؟ حالانکہ وہ یکتا اور لا شریک ہے اس نے مجھے راہ دکھا دی ہے اور دلیل عطا فرمائی ہے میں یقینا جانتا ہوں کہ تمہارے یہ سب معبود محض بےبس اور بےطاقت ہیں، میں نہ تو تمہاری فضول اور باطل باتوں میں آؤں گا نہ تمہاری دھمکیاں سچی جانوں گا، جاؤ تم سے اور تمہارے باطل معبودوں سے جو ہو سکے کرلو۔ ہرگز ہرگز کمی نہ کرو بلکہ جلدی کر گزرو اگر تمہارے اور ان کے قبضے میں میرا کوئی نقصان ہے تو جاؤ پہنچا دو۔ میرے رب کی منشا بغیر کچھ بھی نہیں ہوسکتا ضرر نفع سب اسی کی طرف سے ہے تمام جیزیں اسی کے علم میں ہیں اس پر چھوٹی سے جھوتی چیز بھی پوشیدہ نہیں۔ افسوس اتنی دلیلیں سن کر بھی تمہارے دل نصیحت حاصل نہیں کرتے۔ حضور ہود ؑ نے بھی اپنی قوم کے سامنے یہی دلیل پیش کی تھی۔ قرآن میں موجود ہے کہ ان کی قوم نے ان سے کہا اے ہود تم کوئی دلیل تو لائے نہیں ہو اور صرف تمہارے قول سے ہم اپنے معبودوں سے دست بردار نہیں ہوسکتے نہ ہم تجھ پر ایمان لائیں گے۔ ہمارا اپنا خیال تو یہ ہے کہ ہمارے معبودوں نے تجھے کچھ کردیا ہے۔ آپ نے جواب دیا کہ میں اللہ کو گواہ کرتا ہوں اور تم بھی گواہ رہو کہ تم جن کو بھی اللہ کا شریک ٹھہرا رہے ہو، میں سب سے بیزار ہوں۔ جاؤ تم سب مل کر جو کچھ مکر میرے ساتھ کرنا چاہتے ہو وہ کرلو اور مجھے مہلت بھی نہ دو ، میں نے تو اس رب پر توکل کرلیا ہے جو تمہارا میرا سب کا پالنہار ہے۔ تمام جانداروں کی پیشانیاں اسی کے ہاتھ میں ہیں۔ سمجھو اور سوچو تو سہی کہ میں تمہارے ان باطل معبودوں سے کیوں ڈراؤں گا ؟ جبکہ تم اس اکیلے اللہ وحدہ لا شریک سے نہیں ڈرتے اور کھلم کھلا اس کی ذات کے ساتھ دوسروں کو شریک ٹھہرا رہے ہو۔ تم ہی بتلاؤ کہ ہم تم میں سے امن کا زیادہ حقدار کون ہے ؟ دلیل میں اعلی کون ہے ؟ یہ آیت مثل آیت (اَمْ لَهُمْ شُرَكَاۗءُ ڔ فَلْيَاْتُوْا بِشُرَكَاۗىِٕهِمْ اِنْ كَانُوْا صٰدِقِيْنَ) 68۔ القلم :41) اور آیت (اِنْ هِىَ اِلَّآ اَسْمَاۗءٌ سَمَّيْتُمُوْهَآ اَنْتُمْ وَاٰبَاۗؤُكُمْ مَّآ اَنْزَلَ اللّٰهُ بِهَا مِنْ سُلْطٰنٍ) 53۔ النجم :23) کے ہے مطلب یہ ہے کہ اس کا بندہ جو خیرو شر، کا نفع و ضر کا مالک ہے امن والا ہوگا یا اس کا بندہ جو محض بےبس اور بےقدرت ہے قیامت کے دن کے عذابوں سے امن میں رہے گا پھر جناب باری تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو لوگ صرف اللہ ہی کی عبادت کریں اور خلوص کے ساتھ دینداری کریں رب کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں امن وامان اور راہ راست والے یہی لوگ ہیں جب یہ آیت اتری تو صحابہ ظلم کا لفط سن کر چونک اٹھے اور کہنے لگے یا رسول اللہ ہم میں سے ایسا کون ہے جس نے کوئی گناہ ہی نہ کیا ہو ؟ اس پر آیت (اِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيْمٌ) 31۔ لقمان :13) نازل ہوئی یعنی یہاں مراد ظلم سے شرک ہے (بخاری شریف) اور روایت میں ہے کہ حضور نے ان کے اس سوال پر فرمایا کیا تم نے اللہ کے نیک بندے کا یہ قول نہیں سنا کہ اے میرے پیارے بچے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا شرک بڑا بھاری ظلم ہے۔ پس مراد یہاں ظلم سے شرک ہے اور روایت میں ہے کہ آپ نے یہ بھی فرمایا کہ تم جو سمجھ رہے ہو وہ مقصد نہیں اور حدیث میں آپ کا خود لظلم کی تفسیر بشرک سے کرنا مروی ہے۔ بہت سے صحابیوں سے بہت سی سندوں کے ساتھ بہت سی کتابوں میں یہ حدیث مروی ہے۔ ایک روایت میں حضور کا فرمان ہے کہ مجھ سے کہا گیا کہ تو ان ہی لوگوں میں سے ہے۔ مسند احمد میں زاذان اور جریر ؓ سے مروی ہے کہ اے باپ کیا آپ آزر بت کو معبود مانتے ہیں ؟ لیکن یہ دور کی بات ہے خلاف لغت ہے کیونکہ حرف استفہام کے بعد والا اپنے سے پہلے والے میں عامل نہیں ہوتا اس لئے کہ اس کے لئے ابتداء کلام کا حق ہے، عربی کا یہ تو مشہور قاعدہ ہے، الغرض حضرت ابراہیم خلیل اللہ ؑ اپنے باپ کو وعظ سنا رہے ہیں اور انہیں بت پرستی سے روک رہے ہیں لیکن وہ باز نہ آئے۔ آپ فرماتے ہیں کہ یہ تو نہایت بری بات ہے کہ تم ایک بت کے سامنے الحاج اور عاجزی کرو۔ جو اللہ تعالیٰ کا حق ہے یقینا اس مسلک کے لوگ سب کے سب بہکے ہوئے اور راہ بھٹکے ہوئے ہیں اور آیت میں ہے کہ صدیق نبی ابراہیم خلیل نے اپنے والد سے فرمایا ابا آپ ان کی پرستش کیوں کرتے ہیں جو نہ سنیں نہ دیکھیں نہ کچھ فائدہ پہنچائیں، ابا میں آپ کو وہ کھری بات سناتا ہوں جو اب تک آپ کے علم میں نہیں آئی تھی، آپ میری بات مان لیجئے میں آپ کو صحیح راہ کی رہنمائی کروں گا، ابا شیطان کی عبادت سے ہٹ جائیے، وہ تو رحمان کا نافرمان ہے، ابا مجھے تو ڈر لگتا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو آپ پر اللہ کا کوئی عذاب آجائے اور آپ شیطان کے رفیق کار بن جائیں۔ باپ نے جواب دیا کہ ابراہیم کیا تو میرے معبودوں سے ناراض ہے ؟ سن اگر تو اس سے باز نہ آیا تو میں تجھے سنگسار کر دوں گا، پس اب تو مجھ سے الگ ہوجا۔ آپ نے فرمایا اچھا میرا سلام لو میں تو اب بھی اپنے پروردگار سے تمہاری معافی کی درخواست کروں گا وہ مجھ پر بہت مہربان ہے، میں تم سب کو اور تمہارے ان معبودوں کو جو اللہ کے سوا ہیں چھوڑتا ہوں اپنے رب کی عبادت میں مشغول ہوتا ہوں ناممکن ہے کہ میں اس کی عبادت بھی کروں اور پھر بےنصیب اور خالی ہاتھ رہوں چناچہ حسب وعدہ خلیل اللہ اپنے والد کی زندگی تک استغفار کرتے رہے لیکن جبکہ مرتے ہوئے بھی وہ شرک سے باز نہ آئے تو آپ نے استغفار بند کردیا اور بیزار ہوگئے، چناچہ قرآن کریم میں ہے حضرت ابراہیم کا اپنے باپ کے لئے استغفار کرنا ایک وعدے کی بنا پر تھا جب آپ پر یہ کھل گیا کہ وہ دشمن اللہ ہے تو آپ اس سے بیزار اور بری ہوگئے، ابراہیم بڑے ہی اللہ سے ڈرنے والے نرم دل حلیم الطبع تھے، حدیث صحیح میں ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ قیامت کے دن اپنے باپ آزر سے ملاقات کریں گے آزر آپ کو دیکھ کر کہے گا بیٹا آج میں تیری کسی بات کی مخالفت نہ کروں گا، آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں گے کہ اے اللہ تو نے مجھ سے وعدہ کیا ہے کہ قیامت کے دن تو مجھے رسوانہ کرے گا اس سے زیادہ سوائی کیا ہوگی کہ میرا باپ رحمت سے دور کردیا جائے، آپ سے فرمایا جائے گا کہ تم اپنے پیچھے کی طرف دیکھو، دیکھیں گے کہ ایک بجو کیچڑ میں لتھڑا کھڑا ہے اس کے پاؤں پکڑے جائیں گے اور آگ میں ڈال دیا جائے گا، مخلوق کو دیکھ کر خالق کی وحدانیت سمجھ میں آجائے اس لئے ہم نے ابراہیم کو آسمان و زمین کی مخلوق دکھا دی جیسے اور آیت میں ہے آیت (اَوَلَمْ يَنْظُرُوْا فِيْ مَلَكُوْتِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَا خَلَقَ اللّٰهُ مِنْ شَيْءٍ ۙ وَّاَنْ عَسٰٓي اَنْ يَّكُوْنَ قَدِ اقْتَرَبَ اَجَلُهُمْ) 7۔ الاعراف :185) اور جگہ ہے آیت (اَفَلَمْ يَرَوْا اِلٰى مَا بَيْنَ اَيْدِيْهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ مِّنَ السَّمَاۗءِ وَالْاَرْضِ ۭاِنْ نَّشَاْ نَخْسِفْ بِهِمُ الْاَرْضَ اَوْ نُسْقِطْ عَلَيْهِمْ كِسَفًا مِّنَ السَّمَاۗءِ) 34۔ سبأ :9) یعنی لوگوں کو آسمان و زمین کی مخلوق پر عبرت کی نظریں ڈالنی چاہئیں انہیں اپنے آگے پیچھے آسمان و زمین کو دیکھنا چاہیے اگر ہم چاہیں تو انہیں زمین میں دھنسا دیں اگر چاہیں آسمان کا ٹکڑا ان پر گرا دیں رغبت و رجو والے بندوں کیلئے اس میں نشانیاں ہیں۔ مجاہد وغیرہ سے منقول ہے کہ آسمان حضرت ابراہیم کے سامنے کھول دیئے گئے عرش تک آپ کی نظریں پہنچیں۔ حجاب اٹھا دیئے گئے اور آپ نے سب کچھ دیکھا، بندوں کو گناہوں میں دیکھ کر ان کے لئے بد دعا کرنے لگے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا تجھ سے زیادہ میں ان پر رحیم ہوں بہت ممکن ہے کہ یہ توبہ کرلیں اور بد اعمالیوں سے ہٹ جائیں۔ پس یہ دکھلانا موقوف کردیا گیا ممکن ہے یہ کشف کے طور پر ہو اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس سے مراد معلوم کرانا اور حقائق سے متعارف کرا دینا ہو۔ چناچہ مسند احمد اور ترمذی کی ایک حدیث میں حضور کے خواب کا ذکر ہے کہ میرے پاس میرا رب بہت اچھی صورت میں آیا اور مجھ سے دریافت فرمایا کہ اونچی جماعت کے فرشتے اس وقت کس بارے میں گفتگو کر رہے ہیں ؟ میں نے اپنی لا علمی ظاہر کی تو اللہ تعالیٰ نے اپنی ہتھیلی میری دونوں بازوؤں کے درمیان رکھ دی یہاں تک کہ اس کی پوریوں رب کی بات صادق آگئی ہے ان کے پاس چاہے تم تمام نشانیاں لے آؤ پھر بھی انہیں ایمان نصیب نہیں ہوگا یہاں تک کہ وہ اپنی آنکھوں سے عذاب دیکھ لیں۔ پس رب کی حکمت اور اس کے علم میں کوئی شبہ نہیں۔
83
View Single
وَتِلۡكَ حُجَّتُنَآ ءَاتَيۡنَٰهَآ إِبۡرَٰهِيمَ عَلَىٰ قَوۡمِهِۦۚ نَرۡفَعُ دَرَجَٰتٖ مَّن نَّشَآءُۗ إِنَّ رَبَّكَ حَكِيمٌ عَلِيمٞ
And this is Our argument, which We gave Ibrahim against his people; We raise to high ranks whomever We will; indeed your Lord is Wise, All Knowing.
اور یہی ہماری (توحید کی) دلیل تھی جو ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کو ان کی (مخالف) قوم کے مقابلہ میں دی تھی۔ ہم جس کے چاہتے ہیں درجات بلند کر دیتے ہیں۔ بیشک آپ کا رب بڑی حکمت والا خوب جاننے والا ہے
Tafsir Ibn Kathir
أَتُحَاجُّونِّى فِى اللَّهِ وَقَدْ هَدَانِى
(Do you dispute with me about Allah while He has guided me). The Ayah means, do you argue with me about Allah, other than Whom there is no god worthy of worship, while He has guided me to the Truth and made me aware of it Therefore, how can I ever consider your misguided statements and false doubts Ibrahim said next,
وَلاَ أَخَافُ مَا تُشْرِكُونَ بِهِ إِلاَّ أَن يَشَآءَ رَبِّى شَيْئاً
(and I fear not those whom you associate with Allah in worship. (Nothing can happen to me) except when my Lord wills something.) Ibrahim said, among the proofs to the falsehood of your creed, is that these false gods that you worship do not bring about any effect, and I do not fear them or care about them. Therefore, if these gods are able to cause harm, then use them against me and do not give me respite. Ibrahim's statement,
إِلاَّ أَن يَشَآءَ رَبِّى شَيْئاً
(except when my Lord wills something.) means, only Allah causes benefit or harm.
وَسِعَ رَبِّى كُلَّ شَىْءٍ عِلْماً
(My Lord comprehends in His knowledge all things. ) meaning, Allah's knowledge encompasses all things and nothing escapes His complete observation,
أَفَلاَ تَتَذَكَّرُونَ
(Will you not then remember) what I explained to you, considering your idols as false gods and refraining from worshipping them This reasoning from Prophet Ibrahim is similar to the argument that Prophet Hud used against his people, `Ad. Allah mentioned this incident in His Book, when He said,
قَالُواْ يَهُودُ مَا جِئْتَنَا بِبَيِّنَةٍ وَمَا نَحْنُ بِتَارِكِى ءالِهَتِنَا عَن قَوْلِكَ وَمَا نَحْنُ لَكَ بِمُؤْمِنِينَ - إِن نَّقُولُ إِلاَّ اعْتَرَاكَ بَعْضُ ءَالِهَتِنَا بِسُوءٍ قَالَ إِنِّى أُشْهِدُ اللَّهِ وَاشْهَدُواْ أَنِّى بَرِىءٌ مِّمَّا تُشْرِكُونَ - مِن دُونِهِ فَكِيدُونِى جَمِيعًا ثُمَّ لاَ تُنظِرُونِ - إِنِّى تَوَكَّلْتُ عَلَى اللَّهِ رَبِّى وَرَبِّكُمْ مَّا مِن دَآبَّةٍ إِلاَّ هُوَ ءاخِذٌ بِنَاصِيَتِهَآ إِنَّ رَبِّى عَلَى صِرَطٍ مُّسْتَقِيمٍ
(They said: "O Hud! No evidence have you brought us, and we shall not leave our gods for your (mere) saying! And we are not believers in you. All that we say is that some of our gods have seized you with evil." He said: "I call Allah to witness - and bear you witness - that I am free from that which you ascribe as partners in worship with Him (Allah). So plot against me, all of you, and give me no respite. I put my trust in Allah, my Lord and your Lord! There is not a moving creature but He has grasp of its forelock. Verily, my Lord is on the straight path (the truth).") 11:53-56 Ibrahim's statement,
وَكَيْفَ أَخَافُ مَآ أَشْرَكْتُمْ
(And how should I fear those whom you associate. ..) means, how should I fear the idols that you worship instead of Allah,
وَلاَ تَخَافُونَ أَنَّكُمْ أَشْرَكْتُم بِاللَّهِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِهِ عَلَيْكُمْ سُلْطَـناً
(while you fear not that you have joined in worship with Allah things for which He has not sent down to you any Sultan.) meaning, proof, according to Ibn `Abbas and others among the Salaf. Allah said in similar Ayat;
أَمْ لَهُمْ شُرَكَاءُ شَرَعُواْ لَهُمْ مِّنَ الدِّينِ مَا لَمْ يَأْذَن بِهِ اللَّهُ
(Or have they partners who have instituted for them a religion which Allah has not allowed) 42:21, and,
إِنْ هِىَ إِلاَّ أَسْمَآءٌ سَمَّيْتُمُوهَآ أَنتُمْ وَءَابَآؤُكُم مَّآ أَنزَلَ اللَّهُ بِهَا مِن سُلْطَـنٍ
(They are but names which you have named, you and your fathers, for which Allah has sent down no authority.) 53:21 His statement,
فَأَىُّ الْفَرِيقَيْنِ أَحَقُّ بِالاٌّمْنِ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ
((So) which of the two parties has more right to be in security If you but know.) means, which of the two parties is on the truth, those who worship Him in Whose Hand is harm and benefit, or those who worship what cannot bring harm or benefit, without authority to justify worshipping them Who among these two parties has more right to be saved from Allah's torment on the Day of Resurrection Allah said,
الَّذِينَ ءَامَنُواْ وَلَمْ يَلْبِسُواْ إِيمَـنَهُمْ بِظُلْمٍ أُوْلَـئِكَ لَهُمُ الاٌّمْنُ وَهُمْ مُّهْتَدُونَ
(It is those who believe and confuse not their belief with Zulm (wrong), for them (only) there is security and they are the guided.) Therefore, those who worship Allah alone without partners, will acquire safety on the Day of Resurrection, and they are the guided ones in this life and the Hereafter.
Shirk is the Greatest Zulm (Wrong)
Al-Bukhari recorded that `Abdullah said, "When the Ayah,
وَلَمْ يَلْبِسُواْ إِيمَـنَهُمْ بِظُلْمٍ
(and confuse not their belief with Zulm (wrong).) was revealed, the Companions of the Prophet said, `And who among us did not commit Zulm against himself' The Ayah,
إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ
(Verily! Joining others in worship with Allah is a great Zulm (wrong) indeed.) 31:13, was later revealed." Imam Ahmad recorded that `Abdullah said, "When this Ayah was revealed,
الَّذِينَ ءَامَنُواْ وَلَمْ يَلْبِسُواْ إِيمَـنَهُمْ بِظُلْمٍ
(It is those who believe and confuse not their belief with Zulm (wrong),) it was hard on the people. They said, `O Allah's Messenger! Who among us did not commit Zulm against himself' He said,
«إِنَّهُ لَيْسَ الَّذِي تَعْنُونَ، أَلَمْ تَسْمَعُوا مَا قَالَ الْعَبْدُ الصَّالِحُ
(It is not what you understood from it. Did you not hear what the righteous servant (Luqman) said,
يَبُنَىَّ لاَ تُشْرِكْ بِاللَّهِ إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ
(O my son! Join not in worship others with Allah. Verily! Shirk is a great Zulm (wrong) indeed.)) 31:13. Therefore, it is about Shirk. Allah's statement,
وَتِلْكَ حُجَّتُنَآ ءَاتَيْنَـهَآ إِبْرَهِيمَ عَلَى قَوْمِهِ
(And that was Our proof which We gave Ibrahim against his people.) means, We directed him to proclaim Our proof against them. Mujahid and others said that `Our proof' refers to,
وَكَيْفَ أَخَافُ مَآ أَشْرَكْتُمْ وَلاَ تَخَافُونَ أَنَّكُمْ أَشْرَكْتُم بِاللَّهِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِهِ عَلَيْكُمْ سُلْطَـناً فَأَىُّ الْفَرِيقَيْنِ أَحَقُّ بِالاٌّمْنِ
(And how should I fear those whom you associate in worship with Allah (though they can neither benefit nor harm), while you fear not that you have joined in worship with Allah things for which He has not sent down to you any Sultan. (So) which of the two parties has more right to be in security) Allah has testified Ibrahim's statement and affirmed security and guidance, saying;
الَّذِينَ ءَامَنُواْ وَلَمْ يَلْبِسُواْ إِيمَـنَهُمْ بِظُلْمٍ أُوْلَـئِكَ لَهُمُ الاٌّمْنُ وَهُمْ مُّهْتَدُونَ
(It is those who believe and confuse not their belief with Zulm, for them there is security and they are the guided.) Allah said,
وَتِلْكَ حُجَّتُنَآ ءَاتَيْنَـهَآ إِبْرَهِيمَ عَلَى قَوْمِهِ نَرْفَعُ دَرَجَـتٍ مَّن نَّشَآءُ
(And that was Our proof which We gave Ibrahim against his people. We raise in degrees whom We will.) And;
إِنَّ رَبَّكَ حَكِيمٌ عَلِيمٌ
(Certainly your Lord is All-Wise, All-Knowing.) He is All-Wise in His statements and actions, All-Knower of those whom He guides or misguides, and whether the proof was established against them or not. Allah also said,
إِنَّ الَّذِينَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَةُ رَبِّكَ لاَ يُؤْمِنُونَ - وَلَوْ جَآءَتْهُمْ كُلُّ ءايَةٍ حَتَّى يَرَوُاْ الْعَذَابَ الاٌّلِيمَ
(Truly! Those, against whom the Word (wrath) of your Lord has been justified, will not believe. Even if every sign should come to them -- until they see the painful torment.) 10:96-97 This is why Allah said here,
إِنَّ رَبَّكَ حَكِيمٌ عَلِيمٌ
(Certainly your Lord is All-Wise, All-Knowing.)
مشرکین کا توحید سے فرار ابراہیم ؑ کی سچی توحید کے دلائل سن کر پھر بھی مشرکین آپ سے بحث جاری رکھتے ہیں تو آپ ان سے فرماتے ہیں تعجب ہے کہ تم مجھ سے اللہ جل جلالہ کے بارے میں جھگڑا کر رہے ہو ؟ حالانکہ وہ یکتا اور لا شریک ہے اس نے مجھے راہ دکھا دی ہے اور دلیل عطا فرمائی ہے میں یقینا جانتا ہوں کہ تمہارے یہ سب معبود محض بےبس اور بےطاقت ہیں، میں نہ تو تمہاری فضول اور باطل باتوں میں آؤں گا نہ تمہاری دھمکیاں سچی جانوں گا، جاؤ تم سے اور تمہارے باطل معبودوں سے جو ہو سکے کرلو۔ ہرگز ہرگز کمی نہ کرو بلکہ جلدی کر گزرو اگر تمہارے اور ان کے قبضے میں میرا کوئی نقصان ہے تو جاؤ پہنچا دو۔ میرے رب کی منشا بغیر کچھ بھی نہیں ہوسکتا ضرر نفع سب اسی کی طرف سے ہے تمام جیزیں اسی کے علم میں ہیں اس پر چھوٹی سے جھوتی چیز بھی پوشیدہ نہیں۔ افسوس اتنی دلیلیں سن کر بھی تمہارے دل نصیحت حاصل نہیں کرتے۔ حضور ہود ؑ نے بھی اپنی قوم کے سامنے یہی دلیل پیش کی تھی۔ قرآن میں موجود ہے کہ ان کی قوم نے ان سے کہا اے ہود تم کوئی دلیل تو لائے نہیں ہو اور صرف تمہارے قول سے ہم اپنے معبودوں سے دست بردار نہیں ہوسکتے نہ ہم تجھ پر ایمان لائیں گے۔ ہمارا اپنا خیال تو یہ ہے کہ ہمارے معبودوں نے تجھے کچھ کردیا ہے۔ آپ نے جواب دیا کہ میں اللہ کو گواہ کرتا ہوں اور تم بھی گواہ رہو کہ تم جن کو بھی اللہ کا شریک ٹھہرا رہے ہو، میں سب سے بیزار ہوں۔ جاؤ تم سب مل کر جو کچھ مکر میرے ساتھ کرنا چاہتے ہو وہ کرلو اور مجھے مہلت بھی نہ دو ، میں نے تو اس رب پر توکل کرلیا ہے جو تمہارا میرا سب کا پالنہار ہے۔ تمام جانداروں کی پیشانیاں اسی کے ہاتھ میں ہیں۔ سمجھو اور سوچو تو سہی کہ میں تمہارے ان باطل معبودوں سے کیوں ڈراؤں گا ؟ جبکہ تم اس اکیلے اللہ وحدہ لا شریک سے نہیں ڈرتے اور کھلم کھلا اس کی ذات کے ساتھ دوسروں کو شریک ٹھہرا رہے ہو۔ تم ہی بتلاؤ کہ ہم تم میں سے امن کا زیادہ حقدار کون ہے ؟ دلیل میں اعلی کون ہے ؟ یہ آیت مثل آیت (اَمْ لَهُمْ شُرَكَاۗءُ ڔ فَلْيَاْتُوْا بِشُرَكَاۗىِٕهِمْ اِنْ كَانُوْا صٰدِقِيْنَ) 68۔ القلم :41) اور آیت (اِنْ هِىَ اِلَّآ اَسْمَاۗءٌ سَمَّيْتُمُوْهَآ اَنْتُمْ وَاٰبَاۗؤُكُمْ مَّآ اَنْزَلَ اللّٰهُ بِهَا مِنْ سُلْطٰنٍ) 53۔ النجم :23) کے ہے مطلب یہ ہے کہ اس کا بندہ جو خیرو شر، کا نفع و ضر کا مالک ہے امن والا ہوگا یا اس کا بندہ جو محض بےبس اور بےقدرت ہے قیامت کے دن کے عذابوں سے امن میں رہے گا پھر جناب باری تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو لوگ صرف اللہ ہی کی عبادت کریں اور خلوص کے ساتھ دینداری کریں رب کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں امن وامان اور راہ راست والے یہی لوگ ہیں جب یہ آیت اتری تو صحابہ ظلم کا لفط سن کر چونک اٹھے اور کہنے لگے یا رسول اللہ ہم میں سے ایسا کون ہے جس نے کوئی گناہ ہی نہ کیا ہو ؟ اس پر آیت (اِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيْمٌ) 31۔ لقمان :13) نازل ہوئی یعنی یہاں مراد ظلم سے شرک ہے (بخاری شریف) اور روایت میں ہے کہ حضور نے ان کے اس سوال پر فرمایا کیا تم نے اللہ کے نیک بندے کا یہ قول نہیں سنا کہ اے میرے پیارے بچے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا شرک بڑا بھاری ظلم ہے۔ پس مراد یہاں ظلم سے شرک ہے اور روایت میں ہے کہ آپ نے یہ بھی فرمایا کہ تم جو سمجھ رہے ہو وہ مقصد نہیں اور حدیث میں آپ کا خود لظلم کی تفسیر بشرک سے کرنا مروی ہے۔ بہت سے صحابیوں سے بہت سی سندوں کے ساتھ بہت سی کتابوں میں یہ حدیث مروی ہے۔ ایک روایت میں حضور کا فرمان ہے کہ مجھ سے کہا گیا کہ تو ان ہی لوگوں میں سے ہے۔ مسند احمد میں زاذان اور جریر ؓ سے مروی ہے کہ اے باپ کیا آپ آزر بت کو معبود مانتے ہیں ؟ لیکن یہ دور کی بات ہے خلاف لغت ہے کیونکہ حرف استفہام کے بعد والا اپنے سے پہلے والے میں عامل نہیں ہوتا اس لئے کہ اس کے لئے ابتداء کلام کا حق ہے، عربی کا یہ تو مشہور قاعدہ ہے، الغرض حضرت ابراہیم خلیل اللہ ؑ اپنے باپ کو وعظ سنا رہے ہیں اور انہیں بت پرستی سے روک رہے ہیں لیکن وہ باز نہ آئے۔ آپ فرماتے ہیں کہ یہ تو نہایت بری بات ہے کہ تم ایک بت کے سامنے الحاج اور عاجزی کرو۔ جو اللہ تعالیٰ کا حق ہے یقینا اس مسلک کے لوگ سب کے سب بہکے ہوئے اور راہ بھٹکے ہوئے ہیں اور آیت میں ہے کہ صدیق نبی ابراہیم خلیل نے اپنے والد سے فرمایا ابا آپ ان کی پرستش کیوں کرتے ہیں جو نہ سنیں نہ دیکھیں نہ کچھ فائدہ پہنچائیں، ابا میں آپ کو وہ کھری بات سناتا ہوں جو اب تک آپ کے علم میں نہیں آئی تھی، آپ میری بات مان لیجئے میں آپ کو صحیح راہ کی رہنمائی کروں گا، ابا شیطان کی عبادت سے ہٹ جائیے، وہ تو رحمان کا نافرمان ہے، ابا مجھے تو ڈر لگتا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو آپ پر اللہ کا کوئی عذاب آجائے اور آپ شیطان کے رفیق کار بن جائیں۔ باپ نے جواب دیا کہ ابراہیم کیا تو میرے معبودوں سے ناراض ہے ؟ سن اگر تو اس سے باز نہ آیا تو میں تجھے سنگسار کر دوں گا، پس اب تو مجھ سے الگ ہوجا۔ آپ نے فرمایا اچھا میرا سلام لو میں تو اب بھی اپنے پروردگار سے تمہاری معافی کی درخواست کروں گا وہ مجھ پر بہت مہربان ہے، میں تم سب کو اور تمہارے ان معبودوں کو جو اللہ کے سوا ہیں چھوڑتا ہوں اپنے رب کی عبادت میں مشغول ہوتا ہوں ناممکن ہے کہ میں اس کی عبادت بھی کروں اور پھر بےنصیب اور خالی ہاتھ رہوں چناچہ حسب وعدہ خلیل اللہ اپنے والد کی زندگی تک استغفار کرتے رہے لیکن جبکہ مرتے ہوئے بھی وہ شرک سے باز نہ آئے تو آپ نے استغفار بند کردیا اور بیزار ہوگئے، چناچہ قرآن کریم میں ہے حضرت ابراہیم کا اپنے باپ کے لئے استغفار کرنا ایک وعدے کی بنا پر تھا جب آپ پر یہ کھل گیا کہ وہ دشمن اللہ ہے تو آپ اس سے بیزار اور بری ہوگئے، ابراہیم بڑے ہی اللہ سے ڈرنے والے نرم دل حلیم الطبع تھے، حدیث صحیح میں ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ قیامت کے دن اپنے باپ آزر سے ملاقات کریں گے آزر آپ کو دیکھ کر کہے گا بیٹا آج میں تیری کسی بات کی مخالفت نہ کروں گا، آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں گے کہ اے اللہ تو نے مجھ سے وعدہ کیا ہے کہ قیامت کے دن تو مجھے رسوانہ کرے گا اس سے زیادہ سوائی کیا ہوگی کہ میرا باپ رحمت سے دور کردیا جائے، آپ سے فرمایا جائے گا کہ تم اپنے پیچھے کی طرف دیکھو، دیکھیں گے کہ ایک بجو کیچڑ میں لتھڑا کھڑا ہے اس کے پاؤں پکڑے جائیں گے اور آگ میں ڈال دیا جائے گا، مخلوق کو دیکھ کر خالق کی وحدانیت سمجھ میں آجائے اس لئے ہم نے ابراہیم کو آسمان و زمین کی مخلوق دکھا دی جیسے اور آیت میں ہے آیت (اَوَلَمْ يَنْظُرُوْا فِيْ مَلَكُوْتِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَا خَلَقَ اللّٰهُ مِنْ شَيْءٍ ۙ وَّاَنْ عَسٰٓي اَنْ يَّكُوْنَ قَدِ اقْتَرَبَ اَجَلُهُمْ) 7۔ الاعراف :185) اور جگہ ہے آیت (اَفَلَمْ يَرَوْا اِلٰى مَا بَيْنَ اَيْدِيْهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ مِّنَ السَّمَاۗءِ وَالْاَرْضِ ۭاِنْ نَّشَاْ نَخْسِفْ بِهِمُ الْاَرْضَ اَوْ نُسْقِطْ عَلَيْهِمْ كِسَفًا مِّنَ السَّمَاۗءِ) 34۔ سبأ :9) یعنی لوگوں کو آسمان و زمین کی مخلوق پر عبرت کی نظریں ڈالنی چاہئیں انہیں اپنے آگے پیچھے آسمان و زمین کو دیکھنا چاہیے اگر ہم چاہیں تو انہیں زمین میں دھنسا دیں اگر چاہیں آسمان کا ٹکڑا ان پر گرا دیں رغبت و رجو والے بندوں کیلئے اس میں نشانیاں ہیں۔ مجاہد وغیرہ سے منقول ہے کہ آسمان حضرت ابراہیم کے سامنے کھول دیئے گئے عرش تک آپ کی نظریں پہنچیں۔ حجاب اٹھا دیئے گئے اور آپ نے سب کچھ دیکھا، بندوں کو گناہوں میں دیکھ کر ان کے لئے بد دعا کرنے لگے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا تجھ سے زیادہ میں ان پر رحیم ہوں بہت ممکن ہے کہ یہ توبہ کرلیں اور بد اعمالیوں سے ہٹ جائیں۔ پس یہ دکھلانا موقوف کردیا گیا ممکن ہے یہ کشف کے طور پر ہو اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس سے مراد معلوم کرانا اور حقائق سے متعارف کرا دینا ہو۔ چناچہ مسند احمد اور ترمذی کی ایک حدیث میں حضور کے خواب کا ذکر ہے کہ میرے پاس میرا رب بہت اچھی صورت میں آیا اور مجھ سے دریافت فرمایا کہ اونچی جماعت کے فرشتے اس وقت کس بارے میں گفتگو کر رہے ہیں ؟ میں نے اپنی لا علمی ظاہر کی تو اللہ تعالیٰ نے اپنی ہتھیلی میری دونوں بازوؤں کے درمیان رکھ دی یہاں تک کہ اس کی پوریوں رب کی بات صادق آگئی ہے ان کے پاس چاہے تم تمام نشانیاں لے آؤ پھر بھی انہیں ایمان نصیب نہیں ہوگا یہاں تک کہ وہ اپنی آنکھوں سے عذاب دیکھ لیں۔ پس رب کی حکمت اور اس کے علم میں کوئی شبہ نہیں۔
84
View Single
وَوَهَبۡنَا لَهُۥٓ إِسۡحَٰقَ وَيَعۡقُوبَۚ كُلًّا هَدَيۡنَاۚ وَنُوحًا هَدَيۡنَا مِن قَبۡلُۖ وَمِن ذُرِّيَّتِهِۦ دَاوُۥدَ وَسُلَيۡمَٰنَ وَأَيُّوبَ وَيُوسُفَ وَمُوسَىٰ وَهَٰرُونَۚ وَكَذَٰلِكَ نَجۡزِي ٱلۡمُحۡسِنِينَ
And We bestowed upon him Ishaq (Isaac) and Yaqub (Jacob); We guided all of them; and We guided Nooh before them and of his descendants, Dawud and Sulaiman and Ayyub and Yusuf and Moosa and Haroon; and this is the way We reward the virtuous.
اور ہم نے ان (ابراہیم علیہ السلام) کو اسحاق اور یعقوب (بیٹا اور پوتا علیھما السلام) عطا کئے، ہم نے (ان) سب کو ہدایت سے نوازا، اور ہم نے (ان سے) پہلے نوح (علیہ السلام) کو (بھی) ہدایت سے نوازا تھا اور ان کی اولاد میں سے داؤد اور سلیمان اور ایوب اور یوسف اور موسٰی اور ہارون (علیھم السلام کو بھی ہدایت عطا فرمائی تھی)، اور ہم اسی طرح نیکو کاروں کو جزا دیا کرتے ہیں
Tafsir Ibn Kathir
Ibrahim Receives the News of Ishaq and Ya`qub During His Old Age
Allah states that after Ibrahim became old and he, and his wife, Sarah, lost hope of having children, He gave them Ishaq. The angels came to Ibrahim on their way to the people of Prophet Lut (to destroy them) and they delivered the good news of a child to Ibrahim and his wife. Ibrahim's wife was amazed at the news,
قَالَتْ يوَيْلَتَا ءَأَلِدُ وَأَنَاْ عَجُوزٌ وَهَـذَا بَعْلِى شَيْخًا إِنَّ هَـذَا لَشَىْءٌ عَجِيبٌ - قَالُواْ أَتَعْجَبِينَ مِنْ أَمْرِ اللَّهِ رَحْمَتُ اللَّهِ وَبَرَكَـتُهُ عَلَيْكُمْ أَهْلَ الْبَيْتِ إِنَّهُ حَمِيدٌ مَّجِيدٌ
(She said (in astonishment): "Woe unto me! Shall I bear a child while I am an old woman, and here is my husband, an old man Verily! This is a strange thing!" They said: "Do you wonder at the decree of Allah The mercy of Allah and His blessings be on you, O the family of Ibrahim. Surely, He (Allah) is All-Praiseworthy, All-Glorious.") 11:72-73 The angels also gave them the good news that Ishaq will be a Prophet and that he will have offspring of his own. In another Ayah, Allah said;
وَبَشَّرْنَـهُ بِإِسْحَـقَ نَبِيّاً مِّنَ الصَّـلِحِينَ
(And We gave him the good news of Ishaq a Prophet from the righteous.)37:112, which perfects this good news and completes the favor. Allah said,
بِإِسْحَـقَ وَمِن وَرَآءِ إِسْحَـقَ يَعْقُوبَ
(of Ishaq, and after him, of Ya`qub...) 11:71, meaning, this child will have another child in your lifetime, so that your eyes are comforted by him, just as your eyes will be comforted by his father. Certainly, one becomes jubilant and joyous when he becomes a grandfather, because this means that his offspring will continue to exist. It was also expected that if an elderly couple had children, due to the child's weakness, he would have no offspring. This is why Allah delivered the good news of Ishaq and of his son Ya`qub, whose name literally means `multiplying and having offspring'. This was a reward for Ibrahim who left his people and migrated from their land so that he could worship Allah alone. Allah compensated Ibrahim with better than his people and tribe when He gave him righteous children of his own, who would follow his religion, so that his eyes would be comforted by them. In another Ayah, Allah said; a
فَلَمَّا اعْتَزَلَهُمْ وَمَا يَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّهِ وَهَبْنَا لَهُ إِسْحَـقَ وَيَعْقُوبَ وَكُلاًّ جَعَلْنَا نَبِيّاً
(So when he turned away from them and from those whom they worshipped besides Allah, We gave him Ishaq and Ya`qub, and each one of them We made a Prophet.) 19:49 Allah said here,
وَوَهَبْنَا لَهُ إِسْحَـقَ وَيَعْقُوبَ كُلاًّ هَدَيْنَا
(And We bestowed upon him Ishaq and Ya`qub, each of them We guided,) Allah said;
وَنُوحاً هَدَيْنَا مِن قَبْلُ
(and before him, We guided Nuh...) meaning, We guided Nuh before and gave him righteous offspring, just as We guided Ibrahim and gave him righteous children.
Qualities of Nuh and Ibrahim
Each of these two Prophets had special qualities. When Allah caused the people of the earth to drown, except those who believed in Nuh and accompanied him in the ark, Allah made the offspring of Nuh the dwellers of the earth thereafter. Ever since that occurred, the people of the earth were and still are the descendants of Nuh. As for Ibrahim, Allah did not send a Prophet after him but from his descendants. Allah said in other Ayat,
وَجَعَلْنَا فِى ذُرِّيَّتِهِمَا النُّبُوَّةَ وَالْكِتَـبَ
(And We ordained among his (Ibrahim's) offspring prophethood and the Book.) 29:27,
وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا نُوحاً وَإِبْرَهِيمَ وَجَعَلْنَا فِى ذُرِّيَّتِهِمَا النُّبُوَّةَ وَالْكِتَـبَ
(And indeed, We sent Nuh and Ibrahim, and placed in their offspring Prophethood and the Book.) 57:26, and,
أُولَـئِكَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِم مِّنَ النَّبِيِّيْنَ مِن ذُرِّيَّةِ ءادَمَ وَمِمَّنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوحٍ وَمِن ذُرِّيَّةِ إِبْرَهِيمَ وَإِسْرَءِيلَ وَمِمَّنْ هَدَيْنَا وَاجْتَبَيْنَآ إِذَا تُتْلَى عَلَيْهِمْ ءايَـتُ الرَّحْمَـنِ خَرُّواْ سُجَّداً وَبُكِيّاً
(Those were they unto whom Allah bestowed His grace from among the Prophets, of the offspring of Adam, and of those whom We carried (in the ship) with Nuh, and of the offspring of Ibrahim and Isra'il and from among those whom We guided and chose. When the verses of the Most Beneficent (Allah) were recited unto them, they fell down prostrating and weeping.) 19:58 Allah said in this honorable Ayah here,
وَمِن ذُرِّيَّتِهِ
(and among his progeny...) meaning, We guided from among his offspring,
دَاوُودَ وَسُلَيْمَـنَ
(Dawud, Sulayman...) from the offspring of Nuh, according to Ibn Jarir. It is also possible that the Ayah refers to Ibrahim since it is about him that the blessings were originally mentioned here, although Lut is not from his offspring, for he was Ibrahim's nephew, the son of his brother Maran, the son of Azar. It is possible to say that Lut was mentioned in Ibrahim's offspring as a generalization. As Allah said,
أَمْ كُنتُمْ شُهَدَآءَ إِذْ حَضَرَ يَعْقُوبَ الْمَوْتُ إِذْ قَالَ لِبَنِيهِ مَا تَعْبُدُونَ مِن بَعْدِى قَالُواْ نَعْبُدُ إِلَـهَكَ وَإِلَـهَ آبَآئِكَ إِبْرَهِيمَ وَإِسْمَـعِيلَ وَإِسْحَـقَ إِلَـهًا وَاحِدًا وَنَحْنُ لَهُ مُسْلِمُونَ
(Or were you witnesses when death approached Ya`qub When he said unto his sons, "What will you worship after me" They said, "We shall worship your God, and the God of your fathers, Ibrahim, Isma`il, Ishaq, One God, and to Him we submit.") 2:133. Here, Isma`il was mentioned among the ascendants of Ya`qub, although he was Ya`qub's uncle. Similarly Allah said,
فَسَجَدَ الْمَلَـئِكَةُ كُلُّهُمْ أَجْمَعُونَ - إِلاَّ إِبْلِيسَ أَبَى أَن يَكُونَ مَعَ السَّـجِدِينَ
(So the angels prostrated themselves, all of them together. Except Iblis -- he refused to be among those to prostrate.) 15:30-31. Allah included Iblis in His order to the angels to prostrate, and chastised him for his opposition, all because he was similar to them in that (order), so he was considered among them in general, although he was a Jinn. Iblis was created from fire while the angels were created from light. Mentioning `Isa in the offspring of Ibrahim, or Nuh as we stated above, is proof that the grandchildren from a man's daughter's side are included among his offspring. `Isa is included among Ibrahim's progeny through his mother, although `Isa did not have a father. Ibn Abi Hatim recorded that Abu Harb bin Abi Al-Aswad said, "Al-Hajjaj sent to Yahya bin Ya`mar, saying, `I was told that you claim that Al-Hasan and Al-Husayn are from the offspring of the Prophet , did you find it in the Book of Allah I read the Qur'an from beginning to end and did not find it.' Yahya said, `Do you not read in Surat Al-An`am,
وَمِن ذُرِّيَّتِهِ دَاوُودَ وَسُلَيْمَـنَ
(and among his progeny Dawud, Sulayman...) until,
وَيَحْيَى وَعِيسَى
(and Yahya and `Isa...) Al-Hajjaj said, `Yes.' Yahya said, `Is not `Isa from the offspring of Ibrahim, although he did not have a father' Al-Hajjaj said, `You have said the truth."' For example, when a man leaves behind a legacy, a trust, or gift to his "offspring" then the children of his daughters are included. But if a man gives something to his "sons", or he leaves a trust behind for them, then that would be particular to his male children and their male children. Allah's statement,
وَمِنْ ءابَائِهِمْ وَذُرِّيَّـتِهِمْ وَإِخْوَنِهِمْ
(And also some of their fathers and their progeny and their brethren,) 6:87, mentions that some of these Prophets' ascendants and descendants were also guided and chosen. So Allah said,
وَاجْتَبَيْنَـهُمْ وَهَدَيْنَـهُمْ إِلَى صِرَطٍ مُّسْتَقِيمٍ
(We chose them, and We guided them to a straight path.)
Shirk Eradicates the Deeds, Even the Deeds of the Messengers
Allah said next,
ذلِكَ هُدَى اللَّهِ يَهْدِى بِهِ مَن يَشَآءُ مِنْ عِبَادِهِ
(This is the guidance of Allah with which He guides whomsoever He wills of His servants.) meaning, this occurred to them by Allah's leave and because He directed them to guidance. Allah said;
وَلَوْ أَشْرَكُواْ لَحَبِطَ عَنْهُمْ مَّا كَانُواْ يَعْمَلُونَ
(But if they had joined in worship others with Allah, all that they used to do would have been of no benefit to them.) This magnifies the serious danger of Shirk and the gravity of committing it. In another Ayah, Allah said;
وَلَقَدْ أُوْحِىَ إِلَيْكَ وَإِلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكَ لَئِنْ أَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ
(And indeed it has been revealed to you, as it was to those (Allah's Messengers) before you: "If you join others in worship with Allah, surely your deeds will be in vain.") 39:65 `If' here does not mean that this would ever occur, as is similar in Allah's statement;
قُلْ إِن كَانَ لِلرَّحْمَـنِ وَلَدٌ فَأَنَاْ أَوَّلُ الْعَـبِدِينَ
(Say: "If the Most Beneficent had a son, then I am the first of Allah's worshippers.") 43:81, and
لَوْ أَرَدْنَآ أَن نَّتَّخِذَ لَهْواً لاَّتَّخَذْنَـهُ مِن لَّدُنَّآ إِن كُنَّا فَـعِلِينَ
(If We intended to take a pastime (a wife or a son, etc.) We could surely have taken it from Us, if We were going to do (that)) 21:17, and,
لَّوْ أَرَادَ اللَّهُ أَن يَتَّخِذَ وَلَداً لاَّصْطَفَى مِمَّا يَخْلُقُ مَا يَشَآءُ سُبْحَـنَهُ هُوَ اللَّهُ الْوَحِدُ الْقَهَّارُ
(If Allah willed to take a son, He could have chosen whom He pleased out of those whom He created. But glory be to Him! He is Allah, the One, the Compelling.) 39:4 Allah said,
أُوْلَـئِكَ الَّذِينَ ءَاتَيْنَـهُمُ الْكِتَـبَ وَالْحُكْمَ وَالنُّبُوَّةَ
(They are those whom We gave the Book, Al-Hukm, and prophethood.) We bestowed these bounties on them, as a mercy for the servants, and out of our kindness for creation.
فَإِن يَكْفُرْ بِهَا
(But if they disbelieve therein...) in the prophethood, or the three things; the Book, the Hukm and the prophethood,
هَـؤُلاءِ
(They...) refers to the people of Makkah, according to Ibn `Abbas, Sa`id bin Al-Musayyib, Ad-Dahhak, Qatadah, As-Suddi, and others.
فَقَدْ وَكَّلْنَا بِهَا قَوْماً لَّيْسُواْ بِهَا بِكَـفِرِينَ
(then, indeed We have entrusted it to a people who are not disbelievers therein.) This Ayah means, if the Quraysh and the rest of the people of the earth - Arabs and non-Arabs, illiterate and the People of the Scripture - disbelieve in these bounties, then We have entrusted them to another people, the Muhajirun and Ansar, and those who follow their lead until the Day of Resurrection,
لَّيْسُواْ بِهَا بِكَـفِرِينَ
(who are not disbelievers therein.) They will not deny any of these favors, not even one letter. Rather, they will believe in them totally, even the parts that are not so clear to some of them. We ask Allah to make us among them by His favor, generosity and kindness. Addressing His servant and Messenger, Muhammad , Allah said;
أُوْلَـئِكَ
(They are...) the Prophets mentioned here, along with their righteous fathers, offspring and bretheren,
الَّذِينَ هَدَى اللَّهُ
(those whom Allah had guided.) meaning, they alone are the people of guidance,
فَبِهُدَاهُمُ اقْتَدِهْ
(So follow their guidance.) Imitate them. This command to the Messenger certainly applies to his Ummah, according to what he legislates and commands them. While mentioning this Ayah, Al-Bukhari recorded that Mujahid asked Ibn `Abbas, "Is there an instance where prostration is warranted in Surah Sad" Ibn `Abbas said, "Yes." He then recited,
وَوَهَبْنَا لَهُ إِسْحَـقَ وَيَعْقُوبَ
(...And We bestowed upon him Ishaq and Ya`qub...) until,
فَبِهُدَاهُمُ اقْتَدِهْ
(...So follow their guidance.) He commented, "He (our Prophet, Muhammad ) was among them." In another narration, Mujahid added that Ibn `Abbas said, "Your Prophet was among those whose guidance we were commanded to follow." Allah's statement,
قُل لاَّ أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْراً
(Say: "No reward I ask of you for this.") means, I do not ask you for any reward for delivering the Qur'an to you, nor anything else,
إِنْ هُوَ إِلاَّ ذِكْرَى لِلْعَـلَمِينَ
("It is only a reminder for the `Alamin (mankind and Jinns).") so they are reminded by it and guided from blindness to clarity, from misguidance to guidance, and from disbelief to faith.
خلیل الرحمن کو بشارت اولاد اللہ تعالیٰ اپنا احسان بیان فرما رہا ہے کہ خلیل الرحمن کو اس نے ان کے بڑھاپے کے وقت بیٹا عطا فرمایا جن کا نام اسحاق ہے اس وقت آپ بھی اولاد سے مایوس ہوچکے تھے اور آپ کی بیوی صاحبہ حضرت سارہ بھی مایوس ہوچکی تھیں جو فرشتے بشارت سنانے آتے ہیں وہ قوم لوط کی ہلاکت کیلئے جا رہے تھے۔ ان سے بشارت سن کر مائی صاحبہ سخت متعجب ہو کر کہتی ہیں میں بڑھیا کھوسٹ ہوچکی میرے خاوند عمر سے اتر چکے ہمارے ہاں بچہ ہونا تعجب کی بات ہے۔ فرشتوں نے جواب دیا اللہ کی قدرت میں ایسے تعجبات عام ہوتے ہیں۔ اے نبی کے گھرانے والو تم پر رب کی رحمتیں اور برکتیں نازل ہوں اللہ بڑی تعریفوں والا اور بڑی بزرگیوں والا ہے اتنا ہی نہیں کہ تمہارے ہاں بچہ ہوگا بلکہ وہ نبی زادہ خود بھی نبی ہوگا اور اس سے تمہاری نسل پھیلے گی اور باقی رہے گی، قرآن کی اور آیت میں بشارت کے الفاظ میں نبیا کا لفظ بھی ہے پھر لطف یہ ہے کہ اولاد کی اولاد بھی تم دیکھ لو گے اسحاق کے گھر یعقوب پیدا ہوں گے اور تمہیں خوشی پر خوشی ہوگی اور پھر پوتے کا نام یعقوب رکھنا جو عقب سے مشتق ہے خوشخبری ہے اس امر کی کہ یہ نسل جاری رہے گی۔ فی الواقع خلیل اللہ ؑ اس بشارت کے قابل بھی تھے قوم کو چھوڑ ان سے منہ موڑا شہر کو چھوڑا ہجرت کی، اللہ نے دنیا میں بھی انعام دیئے، اتنی نسل پھیلائی جو آج تک دنیا میں آباد ہے۔ فرمان الہی ہے کہ جب ابراہیم نے اپنی قوم کو اور ان کے معبودوں کو چھوڑا تو ہم نے انہیں اسحاق و یعقوب بخشا اور دونوں کو نبی بنایا، یہاں فرمایا ان سب کو ہم نے ہدایت دی تھی اور ان کی بھی نیک اولاد دنیا میں باقی رہی، طوفان نوح میں کفار سب غرق ہوگئے پھر حضرت نوح کی نسل پھیلی انبیاء انہی کی نسل میں سے ہوتے رہے، حضرت ابراہیم کے بعد تو نبوت انہی کے گھرانے میں رہی جیسے فرمان ہے آیت (وَجَعَلْنَا فِيْ ذُرِّيَّتِهِ النُّبُوَّةَ وَالْكِتٰبَ وَاٰتَيْنٰهُ اَجْرَهٗ فِي الدُّنْيَا) 29۔ العنکبوت :27) ہم نے ان ہی کی اولاد میں نبوت اور کتاب رکھی اور آیت میں ہے آیت (وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا وَّاِبْرٰهِيْمَ وَجَعَلْنَا فِيْ ذُرِّيَّـتِهِمَا النُّبُوَّةَ وَالْكِتٰبَ فَمِنْهُمْ مُّهْتَدٍ ۚ وَكَثِيْرٌ مِّنْهُمْ فٰسِقُوْنَ) 57۔ الحدید :26) یعنی ہم نے نوح اور ابراہیم کو رسول بنا کر پھر ان ہی دونوں کی اولاد میں نبوت اور کتاب کردی اور آیت میں ہے یہ ہیں جن پر انعام الہی ہوا۔ نبیوں میں سے آدم کو اولاد میں سے اور جنہیں ہم نے نوح کے ساتھ کشتی میں لے لیا تھا اور ابراہیم اور اسرائیل کی اولاد میں سے اور جنہیں ہم نے ہدایت کی تھی اور پسند کرلیا تھا ان پر جب رحمان کی آیتیں پڑھی جاتی تھیں تو روتے گڑگڑاتے سجدے میں گرپڑتے تھے پھر فرمایا ہم نے اس کی اولاد میں سے داؤد و سلیمان کو ہدایت کی، اس میں اگر ضمیر کا مرجع نوح کو کیا جائے تو ٹھیک ہے اس لئے کہ ضمیر سے پہلے سب سے قریب نام یہی ہے۔ امام ابن جریر اسی کو پسند فرماتے ہیں اور ہے بھی یہ بالکل ظاہر جس میں کوئی اشکال نہیں ہاں اسے حضرت ابراہیم کی طرف لوٹانا بھی ہے تو اچھا اس لئے کہ کلام انہی کے بارے میں ہے قصہ انہی کا بیان ہو رہا ہے لیکن بعد کے ناموں میں سے لوط کا نام اولاد آدم میں ہونا ذرا مشکل ہے اس لئے کہ حضرت لوط خلیل اللہ کی اولاد میں نہیں بلکہ ان کے والد کا نام ماران ہے وہ آزر کے لڑکے تھے تو وہ آپ کے بھتیجے ہوئے ہاں اس کا جواب یہ ہوسکتا ہے کہ باعتبار غلبے کے انہیں بھی اولاد میں شامل کرلیا گیا جیسے کہ آیت (اَمْ كُنْتُمْ شُهَدَاۗءَ اِذْ حَضَرَ يَعْقُوْبَ الْمَوْتُ ۙ اِذْ قَالَ لِبَنِيْهِ مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْۢ بَعْدِيْ) 2۔ البقرۃ :133) میں حضرت اسمعیل کو جو اولاد یعقوب کے چچا تھا باپوں میں شمار کرلیا گیا ہے، ہاں یہ بھی خیال رہے کہ حضرت عیسیٰ کو اولاد ابراہیم یا اولاد نوح میں گننا اس بنا پر ہے کہ لڑکیوں کی اولاد یعنی نواسے بھی اولاد میں داخل ہیں کیونکہ حضرت عیسیٰ بن باپ کے پیدا ہوئے تھے، روایت میں ہے حجاج نے حضرت یحییٰ بن یعمر کے پاس آدمی بھیجا کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ تو حسن حسین کو آنحضرت ﷺ کی اولاد میں گنتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ قرآن سے ثابت ہے لیکن میں تو پورے قرآن میں کسی جگہ یہ نہیں پاتا، آپ نے جواب دیا کیا تو نے سورة انعام میں آیت (وَمِنْ ذُرِّيَّتِهٖ دَاوٗدَ وَسُلَيْمٰنَ وَاَيُّوْبَ وَيُوْسُفَ وَمُوْسٰي وَهٰرُوْنَ ۭوَكَذٰلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِيْنَ) 6۔ الانعام :84) نہیں پڑھا اس نے کہا ہاں یہ تو پڑھا ہے کہا پھر دیکھو اس میں حضرت عیسیٰ کا نام ہے اور ان کا کوئی باپ تھا ہی نہیں تو معلوم ہوا کہ لڑکی کی اولاد بھی اولاد ہی ہے حجاج نے کہا بیشک آپ سچے ہیں اسی لئے مسئلہ ہے کہ جب کوئی شخص اپنی ذریت کے لئے وصیت کرے یا وقف کرے یا ہبہ کرے تو لڑکیوں کی اولاد بھی اس میں داخل ہے ہاں اگر اس نے اپنے لڑکوں کو دیا ہے یا ان پر وقف کیا ہے تو اس کے اپنے صلبی لڑکے اور لڑکوں کے لڑکے اس میں شامل ہوں گے اس کی دلیل عربی شاعر کا یہ شعر سنئے۔ بنو نا بنوا ابنا ئنا و بنا تنا بنو ھن ابناء الرجال الا جانب یعنی ہمارے لڑکوں کے لڑکے تو ہمارے لڑکے ہیں اور ہماری لڑکیوں کے لڑکے اجنبیوں کے لڑکے ہیں اور لوگ کہتے ہیں کہ لڑکیوں کے لڑکے بھی ان میں داخل ہیں کیونکہ صحیح بخاری شریف کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت حسن بن علی ؓ عنمہا کی نسبت فرمایا میرا یہ لڑکا سید ہے اور انشاء اللہ اس کی وجہ سے مسلمانوں کی دو بڑی جماعتوں میں اللہ تعالیٰ صلح کرا دے گا، پس نواسے کو اپنا لڑکا کہنے سے لڑکیوں کی اولاد کا بھی اپنی اولاد میں داخل ہونا ثابت ہوا اور لوگ کہتے ہیں کہ یہ مجاز ہے، اس کے بعد فرمایا ان کے باپ دادے ان کی اولادیں ان کے بھائی الغرض اصول و فروع اور اہل طبقہ کا ذکر آگیا کہ ہدایت اور پسندیدگی ان سب کو گھیرے ہوئے ہے، یہ اللہ کی سچی اور سیدھی راہ پر لگا دیئے گئے ہیں۔ یہ جو کچھ انہیں حاصل ہوا یہ اللہ کی مہربانی اس کی توفیق اور اس کی ہدایت سے ہے۔ پھر شرک کا کامل برائی لوگوں کے ذہن میں آجائے اس لئے فرمایا کہ اگر بالفرض نبیوں کا یہ گروہ بھی شرک کر بیٹھے تو ان کی بھی تمام تر نیکیاں ضائع ہوجائیں جیسے ارشاد ہے آیت (وَلَقَدْ اُوْحِيَ اِلَيْكَ وَاِلَى الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكَ ۚ لَىِٕنْ اَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ) 39۔ الزمر :65) تجھ پر اور تجھ سے پہلے کے ایک ایک نبی پر یہ وحی بھیج دی گئی کہ اگر تو نے شرک کیا تو تیرے اعمال اکارت ہوجائیں گے یہ یاد رہے کہ یہ شرط ہے اور شرط کا واقع ہونا ہی ضروری نہیں جیسے فرمان ہے آیت (قُلْ اِنْ كَان للرَّحْمٰنِ وَلَدٌ ڰ فَاَنَا اَوَّلُ الْعٰبِدِيْنَ) 43۔ الزخرف :81) یعنی اگر اللہ کی اولاد ہو تو میں تو سب سے پہلے ماننے والا بن جاؤں اور جیسے اور آیت میں ہے آیت (لَـوْ اَرَدْنَآ اَنْ نَّتَّخِذَ لَهْوًا لَّاتَّخَذْنٰهُ مِنْ لَّدُنَّآ ڰ اِنْ كُنَّا فٰعِلِيْنَ) 21۔ الانبیآء :17) یعنی اگر کھیل تماشا بنانا ہی چاہتے ہو تو اپنے پاس سے ہی بنا لیتے اور فرمان ہے آیت (لَوْ اَرَاد اللّٰهُ اَنْ يَّتَّخِذَ وَلَدًا لَّاصْطَفٰى مِمَّا يَخْلُقُ مَا يَشَاۗءُ ۙ سُبْحٰنَهٗ) 39۔ الزمر :4) اگر اللہ تعالیٰ اولاد کا ہی ارادہ کرتا تو اپنی مخلوق میں سے جسے چاہتا چن لیتا لیکن وہ اس سے پاک ہے اور وہ یکتا اور غالب ہے، پھر فرمایا بندوں پر رحمت نازل فرمانے کیلئے ہم نے انہیں کتاب حکمت اور نبوت عطا فرمائی پس اگر یہ لوگ یعنی اہل مکہ اس کے ساتھ یعنی نبوت کے ساتھ یا کتاب و حکمت و نبوت کے ساتھ کفر کریں یہ اگر ان نعمتوں کا انکار کریں خواہ قریش ہوں خواہ اہل کتاب ہوں خواہ کوئی اور عربی یا عجمی ہوں تو کوئی حرج نہیں۔ ہم نے ایک قوم ایسی بھی تیار کر رکھی ہے جو اس کے ساتھ کبھی کفر نہ کرے گی۔ یعنی مہاجرین انصار اور ان کی تابعداری کرنے والے ان کے بعد آنے والے یہ لوگ نہ کسی امر کا انکار کریں گے نہ تحریف یا ردوبدل کریں گے بلکہ ایمان کامل لے آئیں گے ہر ہر حرف کو مانیں گے محکم متشابہ سب کا اقرار کریں گے سب پر عقیدہ رکھیں گے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اپنے فضل و کرم سے ان ہی باایمان لوگوں میں کر دے، پھر اپنے پیغمبر ﷺ سے خطاب کر کے فرماتا ہے جن انبیاء کرام (علیہم السلام) کا ذکر ہوا اور جو مجمل طور پر ان کے بڑوں چھوٹوں اور لواحقین میں سے مذکور ہوئے یہی سب اہل ہدایت ہیں تو اپنے نبی آخر الزمان ہی کی اقتدا اور اتباع کرو اور جب یہ حکم نبی ﷺ کو ہے تو ظاہر ہے کہ آپ کی امت بطور اولی اس میں داخل ہے صحیح بخاری شریف میں اس آیت کی تفسیر میں حدیث لائے ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ سے آپ کے شاگرد رشید حضرت مجاہد ؒ نے سوال کیا کہ کیا سورة ص میں سجدہ ہے ؟ آپ نے فرمایا ہاں ہے پھر آپ نے یہ یہ آیت تلاوت فرمائی اور فرمایا آنحضرت ﷺ کو ان کی تابعداری کا حکم ہوا ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ اے نبی ان میں اعلان کردو کہ یہ میں تو قرآن پہنچانے کا کوئی معاوضہ یا بدلہ یا اجرت تم سے نہیں چاہتا۔ یہ تو صرف دنیا کیلئے نصیحت ہے کہ وہ اندھے پن کو چھوڑ کر آنکھوں کا نور حاصل کرلیں اور برائی سے کٹ کر بھلائی پالیں اور کفر سے نکل کر ایمان میں آجائیں۔
85
View Single
وَزَكَرِيَّا وَيَحۡيَىٰ وَعِيسَىٰ وَإِلۡيَاسَۖ كُلّٞ مِّنَ ٱلصَّـٰلِحِينَ
And (We guided) Zakaria and Yahya (John) and Eisa and Elias; all these are worthy of Our proximity.
اور زکریا اور یحیٰی اور عیسٰی اور الیاس (علیھم السلام کو بھی ہدایت بخشی)۔ یہ سب نیکو کار (قربت اور حضوری والے) لوگ تھے
Tafsir Ibn Kathir
Ibrahim Receives the News of Ishaq and Ya`qub During His Old Age
Allah states that after Ibrahim became old and he, and his wife, Sarah, lost hope of having children, He gave them Ishaq. The angels came to Ibrahim on their way to the people of Prophet Lut (to destroy them) and they delivered the good news of a child to Ibrahim and his wife. Ibrahim's wife was amazed at the news,
قَالَتْ يوَيْلَتَا ءَأَلِدُ وَأَنَاْ عَجُوزٌ وَهَـذَا بَعْلِى شَيْخًا إِنَّ هَـذَا لَشَىْءٌ عَجِيبٌ - قَالُواْ أَتَعْجَبِينَ مِنْ أَمْرِ اللَّهِ رَحْمَتُ اللَّهِ وَبَرَكَـتُهُ عَلَيْكُمْ أَهْلَ الْبَيْتِ إِنَّهُ حَمِيدٌ مَّجِيدٌ
(She said (in astonishment): "Woe unto me! Shall I bear a child while I am an old woman, and here is my husband, an old man Verily! This is a strange thing!" They said: "Do you wonder at the decree of Allah The mercy of Allah and His blessings be on you, O the family of Ibrahim. Surely, He (Allah) is All-Praiseworthy, All-Glorious.") 11:72-73 The angels also gave them the good news that Ishaq will be a Prophet and that he will have offspring of his own. In another Ayah, Allah said;
وَبَشَّرْنَـهُ بِإِسْحَـقَ نَبِيّاً مِّنَ الصَّـلِحِينَ
(And We gave him the good news of Ishaq a Prophet from the righteous.)37:112, which perfects this good news and completes the favor. Allah said,
بِإِسْحَـقَ وَمِن وَرَآءِ إِسْحَـقَ يَعْقُوبَ
(of Ishaq, and after him, of Ya`qub...) 11:71, meaning, this child will have another child in your lifetime, so that your eyes are comforted by him, just as your eyes will be comforted by his father. Certainly, one becomes jubilant and joyous when he becomes a grandfather, because this means that his offspring will continue to exist. It was also expected that if an elderly couple had children, due to the child's weakness, he would have no offspring. This is why Allah delivered the good news of Ishaq and of his son Ya`qub, whose name literally means `multiplying and having offspring'. This was a reward for Ibrahim who left his people and migrated from their land so that he could worship Allah alone. Allah compensated Ibrahim with better than his people and tribe when He gave him righteous children of his own, who would follow his religion, so that his eyes would be comforted by them. In another Ayah, Allah said; a
فَلَمَّا اعْتَزَلَهُمْ وَمَا يَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّهِ وَهَبْنَا لَهُ إِسْحَـقَ وَيَعْقُوبَ وَكُلاًّ جَعَلْنَا نَبِيّاً
(So when he turned away from them and from those whom they worshipped besides Allah, We gave him Ishaq and Ya`qub, and each one of them We made a Prophet.) 19:49 Allah said here,
وَوَهَبْنَا لَهُ إِسْحَـقَ وَيَعْقُوبَ كُلاًّ هَدَيْنَا
(And We bestowed upon him Ishaq and Ya`qub, each of them We guided,) Allah said;
وَنُوحاً هَدَيْنَا مِن قَبْلُ
(and before him, We guided Nuh...) meaning, We guided Nuh before and gave him righteous offspring, just as We guided Ibrahim and gave him righteous children.
Qualities of Nuh and Ibrahim
Each of these two Prophets had special qualities. When Allah caused the people of the earth to drown, except those who believed in Nuh and accompanied him in the ark, Allah made the offspring of Nuh the dwellers of the earth thereafter. Ever since that occurred, the people of the earth were and still are the descendants of Nuh. As for Ibrahim, Allah did not send a Prophet after him but from his descendants. Allah said in other Ayat,
وَجَعَلْنَا فِى ذُرِّيَّتِهِمَا النُّبُوَّةَ وَالْكِتَـبَ
(And We ordained among his (Ibrahim's) offspring prophethood and the Book.) 29:27,
وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا نُوحاً وَإِبْرَهِيمَ وَجَعَلْنَا فِى ذُرِّيَّتِهِمَا النُّبُوَّةَ وَالْكِتَـبَ
(And indeed, We sent Nuh and Ibrahim, and placed in their offspring Prophethood and the Book.) 57:26, and,
أُولَـئِكَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِم مِّنَ النَّبِيِّيْنَ مِن ذُرِّيَّةِ ءادَمَ وَمِمَّنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوحٍ وَمِن ذُرِّيَّةِ إِبْرَهِيمَ وَإِسْرَءِيلَ وَمِمَّنْ هَدَيْنَا وَاجْتَبَيْنَآ إِذَا تُتْلَى عَلَيْهِمْ ءايَـتُ الرَّحْمَـنِ خَرُّواْ سُجَّداً وَبُكِيّاً
(Those were they unto whom Allah bestowed His grace from among the Prophets, of the offspring of Adam, and of those whom We carried (in the ship) with Nuh, and of the offspring of Ibrahim and Isra'il and from among those whom We guided and chose. When the verses of the Most Beneficent (Allah) were recited unto them, they fell down prostrating and weeping.) 19:58 Allah said in this honorable Ayah here,
وَمِن ذُرِّيَّتِهِ
(and among his progeny...) meaning, We guided from among his offspring,
دَاوُودَ وَسُلَيْمَـنَ
(Dawud, Sulayman...) from the offspring of Nuh, according to Ibn Jarir. It is also possible that the Ayah refers to Ibrahim since it is about him that the blessings were originally mentioned here, although Lut is not from his offspring, for he was Ibrahim's nephew, the son of his brother Maran, the son of Azar. It is possible to say that Lut was mentioned in Ibrahim's offspring as a generalization. As Allah said,
أَمْ كُنتُمْ شُهَدَآءَ إِذْ حَضَرَ يَعْقُوبَ الْمَوْتُ إِذْ قَالَ لِبَنِيهِ مَا تَعْبُدُونَ مِن بَعْدِى قَالُواْ نَعْبُدُ إِلَـهَكَ وَإِلَـهَ آبَآئِكَ إِبْرَهِيمَ وَإِسْمَـعِيلَ وَإِسْحَـقَ إِلَـهًا وَاحِدًا وَنَحْنُ لَهُ مُسْلِمُونَ
(Or were you witnesses when death approached Ya`qub When he said unto his sons, "What will you worship after me" They said, "We shall worship your God, and the God of your fathers, Ibrahim, Isma`il, Ishaq, One God, and to Him we submit.") 2:133. Here, Isma`il was mentioned among the ascendants of Ya`qub, although he was Ya`qub's uncle. Similarly Allah said,
فَسَجَدَ الْمَلَـئِكَةُ كُلُّهُمْ أَجْمَعُونَ - إِلاَّ إِبْلِيسَ أَبَى أَن يَكُونَ مَعَ السَّـجِدِينَ
(So the angels prostrated themselves, all of them together. Except Iblis -- he refused to be among those to prostrate.) 15:30-31. Allah included Iblis in His order to the angels to prostrate, and chastised him for his opposition, all because he was similar to them in that (order), so he was considered among them in general, although he was a Jinn. Iblis was created from fire while the angels were created from light. Mentioning `Isa in the offspring of Ibrahim, or Nuh as we stated above, is proof that the grandchildren from a man's daughter's side are included among his offspring. `Isa is included among Ibrahim's progeny through his mother, although `Isa did not have a father. Ibn Abi Hatim recorded that Abu Harb bin Abi Al-Aswad said, "Al-Hajjaj sent to Yahya bin Ya`mar, saying, `I was told that you claim that Al-Hasan and Al-Husayn are from the offspring of the Prophet , did you find it in the Book of Allah I read the Qur'an from beginning to end and did not find it.' Yahya said, `Do you not read in Surat Al-An`am,
وَمِن ذُرِّيَّتِهِ دَاوُودَ وَسُلَيْمَـنَ
(and among his progeny Dawud, Sulayman...) until,
وَيَحْيَى وَعِيسَى
(and Yahya and `Isa...) Al-Hajjaj said, `Yes.' Yahya said, `Is not `Isa from the offspring of Ibrahim, although he did not have a father' Al-Hajjaj said, `You have said the truth."' For example, when a man leaves behind a legacy, a trust, or gift to his "offspring" then the children of his daughters are included. But if a man gives something to his "sons", or he leaves a trust behind for them, then that would be particular to his male children and their male children. Allah's statement,
وَمِنْ ءابَائِهِمْ وَذُرِّيَّـتِهِمْ وَإِخْوَنِهِمْ
(And also some of their fathers and their progeny and their brethren,) 6:87, mentions that some of these Prophets' ascendants and descendants were also guided and chosen. So Allah said,
وَاجْتَبَيْنَـهُمْ وَهَدَيْنَـهُمْ إِلَى صِرَطٍ مُّسْتَقِيمٍ
(We chose them, and We guided them to a straight path.)
Shirk Eradicates the Deeds, Even the Deeds of the Messengers
Allah said next,
ذلِكَ هُدَى اللَّهِ يَهْدِى بِهِ مَن يَشَآءُ مِنْ عِبَادِهِ
(This is the guidance of Allah with which He guides whomsoever He wills of His servants.) meaning, this occurred to them by Allah's leave and because He directed them to guidance. Allah said;
وَلَوْ أَشْرَكُواْ لَحَبِطَ عَنْهُمْ مَّا كَانُواْ يَعْمَلُونَ
(But if they had joined in worship others with Allah, all that they used to do would have been of no benefit to them.) This magnifies the serious danger of Shirk and the gravity of committing it. In another Ayah, Allah said;
وَلَقَدْ أُوْحِىَ إِلَيْكَ وَإِلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكَ لَئِنْ أَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ
(And indeed it has been revealed to you, as it was to those (Allah's Messengers) before you: "If you join others in worship with Allah, surely your deeds will be in vain.") 39:65 `If' here does not mean that this would ever occur, as is similar in Allah's statement;
قُلْ إِن كَانَ لِلرَّحْمَـنِ وَلَدٌ فَأَنَاْ أَوَّلُ الْعَـبِدِينَ
(Say: "If the Most Beneficent had a son, then I am the first of Allah's worshippers.") 43:81, and
لَوْ أَرَدْنَآ أَن نَّتَّخِذَ لَهْواً لاَّتَّخَذْنَـهُ مِن لَّدُنَّآ إِن كُنَّا فَـعِلِينَ
(If We intended to take a pastime (a wife or a son, etc.) We could surely have taken it from Us, if We were going to do (that)) 21:17, and,
لَّوْ أَرَادَ اللَّهُ أَن يَتَّخِذَ وَلَداً لاَّصْطَفَى مِمَّا يَخْلُقُ مَا يَشَآءُ سُبْحَـنَهُ هُوَ اللَّهُ الْوَحِدُ الْقَهَّارُ
(If Allah willed to take a son, He could have chosen whom He pleased out of those whom He created. But glory be to Him! He is Allah, the One, the Compelling.) 39:4 Allah said,
أُوْلَـئِكَ الَّذِينَ ءَاتَيْنَـهُمُ الْكِتَـبَ وَالْحُكْمَ وَالنُّبُوَّةَ
(They are those whom We gave the Book, Al-Hukm, and prophethood.) We bestowed these bounties on them, as a mercy for the servants, and out of our kindness for creation.
فَإِن يَكْفُرْ بِهَا
(But if they disbelieve therein...) in the prophethood, or the three things; the Book, the Hukm and the prophethood,
هَـؤُلاءِ
(They...) refers to the people of Makkah, according to Ibn `Abbas, Sa`id bin Al-Musayyib, Ad-Dahhak, Qatadah, As-Suddi, and others.
فَقَدْ وَكَّلْنَا بِهَا قَوْماً لَّيْسُواْ بِهَا بِكَـفِرِينَ
(then, indeed We have entrusted it to a people who are not disbelievers therein.) This Ayah means, if the Quraysh and the rest of the people of the earth - Arabs and non-Arabs, illiterate and the People of the Scripture - disbelieve in these bounties, then We have entrusted them to another people, the Muhajirun and Ansar, and those who follow their lead until the Day of Resurrection,
لَّيْسُواْ بِهَا بِكَـفِرِينَ
(who are not disbelievers therein.) They will not deny any of these favors, not even one letter. Rather, they will believe in them totally, even the parts that are not so clear to some of them. We ask Allah to make us among them by His favor, generosity and kindness. Addressing His servant and Messenger, Muhammad , Allah said;
أُوْلَـئِكَ
(They are...) the Prophets mentioned here, along with their righteous fathers, offspring and bretheren,
الَّذِينَ هَدَى اللَّهُ
(those whom Allah had guided.) meaning, they alone are the people of guidance,
فَبِهُدَاهُمُ اقْتَدِهْ
(So follow their guidance.) Imitate them. This command to the Messenger certainly applies to his Ummah, according to what he legislates and commands them. While mentioning this Ayah, Al-Bukhari recorded that Mujahid asked Ibn `Abbas, "Is there an instance where prostration is warranted in Surah Sad" Ibn `Abbas said, "Yes." He then recited,
وَوَهَبْنَا لَهُ إِسْحَـقَ وَيَعْقُوبَ
(...And We bestowed upon him Ishaq and Ya`qub...) until,
فَبِهُدَاهُمُ اقْتَدِهْ
(...So follow their guidance.) He commented, "He (our Prophet, Muhammad ) was among them." In another narration, Mujahid added that Ibn `Abbas said, "Your Prophet was among those whose guidance we were commanded to follow." Allah's statement,
قُل لاَّ أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْراً
(Say: "No reward I ask of you for this.") means, I do not ask you for any reward for delivering the Qur'an to you, nor anything else,
إِنْ هُوَ إِلاَّ ذِكْرَى لِلْعَـلَمِينَ
("It is only a reminder for the `Alamin (mankind and Jinns).") so they are reminded by it and guided from blindness to clarity, from misguidance to guidance, and from disbelief to faith.
خلیل الرحمن کو بشارت اولاد اللہ تعالیٰ اپنا احسان بیان فرما رہا ہے کہ خلیل الرحمن کو اس نے ان کے بڑھاپے کے وقت بیٹا عطا فرمایا جن کا نام اسحاق ہے اس وقت آپ بھی اولاد سے مایوس ہوچکے تھے اور آپ کی بیوی صاحبہ حضرت سارہ بھی مایوس ہوچکی تھیں جو فرشتے بشارت سنانے آتے ہیں وہ قوم لوط کی ہلاکت کیلئے جا رہے تھے۔ ان سے بشارت سن کر مائی صاحبہ سخت متعجب ہو کر کہتی ہیں میں بڑھیا کھوسٹ ہوچکی میرے خاوند عمر سے اتر چکے ہمارے ہاں بچہ ہونا تعجب کی بات ہے۔ فرشتوں نے جواب دیا اللہ کی قدرت میں ایسے تعجبات عام ہوتے ہیں۔ اے نبی کے گھرانے والو تم پر رب کی رحمتیں اور برکتیں نازل ہوں اللہ بڑی تعریفوں والا اور بڑی بزرگیوں والا ہے اتنا ہی نہیں کہ تمہارے ہاں بچہ ہوگا بلکہ وہ نبی زادہ خود بھی نبی ہوگا اور اس سے تمہاری نسل پھیلے گی اور باقی رہے گی، قرآن کی اور آیت میں بشارت کے الفاظ میں نبیا کا لفظ بھی ہے پھر لطف یہ ہے کہ اولاد کی اولاد بھی تم دیکھ لو گے اسحاق کے گھر یعقوب پیدا ہوں گے اور تمہیں خوشی پر خوشی ہوگی اور پھر پوتے کا نام یعقوب رکھنا جو عقب سے مشتق ہے خوشخبری ہے اس امر کی کہ یہ نسل جاری رہے گی۔ فی الواقع خلیل اللہ ؑ اس بشارت کے قابل بھی تھے قوم کو چھوڑ ان سے منہ موڑا شہر کو چھوڑا ہجرت کی، اللہ نے دنیا میں بھی انعام دیئے، اتنی نسل پھیلائی جو آج تک دنیا میں آباد ہے۔ فرمان الہی ہے کہ جب ابراہیم نے اپنی قوم کو اور ان کے معبودوں کو چھوڑا تو ہم نے انہیں اسحاق و یعقوب بخشا اور دونوں کو نبی بنایا، یہاں فرمایا ان سب کو ہم نے ہدایت دی تھی اور ان کی بھی نیک اولاد دنیا میں باقی رہی، طوفان نوح میں کفار سب غرق ہوگئے پھر حضرت نوح کی نسل پھیلی انبیاء انہی کی نسل میں سے ہوتے رہے، حضرت ابراہیم کے بعد تو نبوت انہی کے گھرانے میں رہی جیسے فرمان ہے آیت (وَجَعَلْنَا فِيْ ذُرِّيَّتِهِ النُّبُوَّةَ وَالْكِتٰبَ وَاٰتَيْنٰهُ اَجْرَهٗ فِي الدُّنْيَا) 29۔ العنکبوت :27) ہم نے ان ہی کی اولاد میں نبوت اور کتاب رکھی اور آیت میں ہے آیت (وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا وَّاِبْرٰهِيْمَ وَجَعَلْنَا فِيْ ذُرِّيَّـتِهِمَا النُّبُوَّةَ وَالْكِتٰبَ فَمِنْهُمْ مُّهْتَدٍ ۚ وَكَثِيْرٌ مِّنْهُمْ فٰسِقُوْنَ) 57۔ الحدید :26) یعنی ہم نے نوح اور ابراہیم کو رسول بنا کر پھر ان ہی دونوں کی اولاد میں نبوت اور کتاب کردی اور آیت میں ہے یہ ہیں جن پر انعام الہی ہوا۔ نبیوں میں سے آدم کو اولاد میں سے اور جنہیں ہم نے نوح کے ساتھ کشتی میں لے لیا تھا اور ابراہیم اور اسرائیل کی اولاد میں سے اور جنہیں ہم نے ہدایت کی تھی اور پسند کرلیا تھا ان پر جب رحمان کی آیتیں پڑھی جاتی تھیں تو روتے گڑگڑاتے سجدے میں گرپڑتے تھے پھر فرمایا ہم نے اس کی اولاد میں سے داؤد و سلیمان کو ہدایت کی، اس میں اگر ضمیر کا مرجع نوح کو کیا جائے تو ٹھیک ہے اس لئے کہ ضمیر سے پہلے سب سے قریب نام یہی ہے۔ امام ابن جریر اسی کو پسند فرماتے ہیں اور ہے بھی یہ بالکل ظاہر جس میں کوئی اشکال نہیں ہاں اسے حضرت ابراہیم کی طرف لوٹانا بھی ہے تو اچھا اس لئے کہ کلام انہی کے بارے میں ہے قصہ انہی کا بیان ہو رہا ہے لیکن بعد کے ناموں میں سے لوط کا نام اولاد آدم میں ہونا ذرا مشکل ہے اس لئے کہ حضرت لوط خلیل اللہ کی اولاد میں نہیں بلکہ ان کے والد کا نام ماران ہے وہ آزر کے لڑکے تھے تو وہ آپ کے بھتیجے ہوئے ہاں اس کا جواب یہ ہوسکتا ہے کہ باعتبار غلبے کے انہیں بھی اولاد میں شامل کرلیا گیا جیسے کہ آیت (اَمْ كُنْتُمْ شُهَدَاۗءَ اِذْ حَضَرَ يَعْقُوْبَ الْمَوْتُ ۙ اِذْ قَالَ لِبَنِيْهِ مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْۢ بَعْدِيْ) 2۔ البقرۃ :133) میں حضرت اسمعیل کو جو اولاد یعقوب کے چچا تھا باپوں میں شمار کرلیا گیا ہے، ہاں یہ بھی خیال رہے کہ حضرت عیسیٰ کو اولاد ابراہیم یا اولاد نوح میں گننا اس بنا پر ہے کہ لڑکیوں کی اولاد یعنی نواسے بھی اولاد میں داخل ہیں کیونکہ حضرت عیسیٰ بن باپ کے پیدا ہوئے تھے، روایت میں ہے حجاج نے حضرت یحییٰ بن یعمر کے پاس آدمی بھیجا کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ تو حسن حسین کو آنحضرت ﷺ کی اولاد میں گنتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ قرآن سے ثابت ہے لیکن میں تو پورے قرآن میں کسی جگہ یہ نہیں پاتا، آپ نے جواب دیا کیا تو نے سورة انعام میں آیت (وَمِنْ ذُرِّيَّتِهٖ دَاوٗدَ وَسُلَيْمٰنَ وَاَيُّوْبَ وَيُوْسُفَ وَمُوْسٰي وَهٰرُوْنَ ۭوَكَذٰلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِيْنَ) 6۔ الانعام :84) نہیں پڑھا اس نے کہا ہاں یہ تو پڑھا ہے کہا پھر دیکھو اس میں حضرت عیسیٰ کا نام ہے اور ان کا کوئی باپ تھا ہی نہیں تو معلوم ہوا کہ لڑکی کی اولاد بھی اولاد ہی ہے حجاج نے کہا بیشک آپ سچے ہیں اسی لئے مسئلہ ہے کہ جب کوئی شخص اپنی ذریت کے لئے وصیت کرے یا وقف کرے یا ہبہ کرے تو لڑکیوں کی اولاد بھی اس میں داخل ہے ہاں اگر اس نے اپنے لڑکوں کو دیا ہے یا ان پر وقف کیا ہے تو اس کے اپنے صلبی لڑکے اور لڑکوں کے لڑکے اس میں شامل ہوں گے اس کی دلیل عربی شاعر کا یہ شعر سنئے۔ بنو نا بنوا ابنا ئنا و بنا تنا بنو ھن ابناء الرجال الا جانب یعنی ہمارے لڑکوں کے لڑکے تو ہمارے لڑکے ہیں اور ہماری لڑکیوں کے لڑکے اجنبیوں کے لڑکے ہیں اور لوگ کہتے ہیں کہ لڑکیوں کے لڑکے بھی ان میں داخل ہیں کیونکہ صحیح بخاری شریف کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت حسن بن علی ؓ عنمہا کی نسبت فرمایا میرا یہ لڑکا سید ہے اور انشاء اللہ اس کی وجہ سے مسلمانوں کی دو بڑی جماعتوں میں اللہ تعالیٰ صلح کرا دے گا، پس نواسے کو اپنا لڑکا کہنے سے لڑکیوں کی اولاد کا بھی اپنی اولاد میں داخل ہونا ثابت ہوا اور لوگ کہتے ہیں کہ یہ مجاز ہے، اس کے بعد فرمایا ان کے باپ دادے ان کی اولادیں ان کے بھائی الغرض اصول و فروع اور اہل طبقہ کا ذکر آگیا کہ ہدایت اور پسندیدگی ان سب کو گھیرے ہوئے ہے، یہ اللہ کی سچی اور سیدھی راہ پر لگا دیئے گئے ہیں۔ یہ جو کچھ انہیں حاصل ہوا یہ اللہ کی مہربانی اس کی توفیق اور اس کی ہدایت سے ہے۔ پھر شرک کا کامل برائی لوگوں کے ذہن میں آجائے اس لئے فرمایا کہ اگر بالفرض نبیوں کا یہ گروہ بھی شرک کر بیٹھے تو ان کی بھی تمام تر نیکیاں ضائع ہوجائیں جیسے ارشاد ہے آیت (وَلَقَدْ اُوْحِيَ اِلَيْكَ وَاِلَى الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكَ ۚ لَىِٕنْ اَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ) 39۔ الزمر :65) تجھ پر اور تجھ سے پہلے کے ایک ایک نبی پر یہ وحی بھیج دی گئی کہ اگر تو نے شرک کیا تو تیرے اعمال اکارت ہوجائیں گے یہ یاد رہے کہ یہ شرط ہے اور شرط کا واقع ہونا ہی ضروری نہیں جیسے فرمان ہے آیت (قُلْ اِنْ كَان للرَّحْمٰنِ وَلَدٌ ڰ فَاَنَا اَوَّلُ الْعٰبِدِيْنَ) 43۔ الزخرف :81) یعنی اگر اللہ کی اولاد ہو تو میں تو سب سے پہلے ماننے والا بن جاؤں اور جیسے اور آیت میں ہے آیت (لَـوْ اَرَدْنَآ اَنْ نَّتَّخِذَ لَهْوًا لَّاتَّخَذْنٰهُ مِنْ لَّدُنَّآ ڰ اِنْ كُنَّا فٰعِلِيْنَ) 21۔ الانبیآء :17) یعنی اگر کھیل تماشا بنانا ہی چاہتے ہو تو اپنے پاس سے ہی بنا لیتے اور فرمان ہے آیت (لَوْ اَرَاد اللّٰهُ اَنْ يَّتَّخِذَ وَلَدًا لَّاصْطَفٰى مِمَّا يَخْلُقُ مَا يَشَاۗءُ ۙ سُبْحٰنَهٗ) 39۔ الزمر :4) اگر اللہ تعالیٰ اولاد کا ہی ارادہ کرتا تو اپنی مخلوق میں سے جسے چاہتا چن لیتا لیکن وہ اس سے پاک ہے اور وہ یکتا اور غالب ہے، پھر فرمایا بندوں پر رحمت نازل فرمانے کیلئے ہم نے انہیں کتاب حکمت اور نبوت عطا فرمائی پس اگر یہ لوگ یعنی اہل مکہ اس کے ساتھ یعنی نبوت کے ساتھ یا کتاب و حکمت و نبوت کے ساتھ کفر کریں یہ اگر ان نعمتوں کا انکار کریں خواہ قریش ہوں خواہ اہل کتاب ہوں خواہ کوئی اور عربی یا عجمی ہوں تو کوئی حرج نہیں۔ ہم نے ایک قوم ایسی بھی تیار کر رکھی ہے جو اس کے ساتھ کبھی کفر نہ کرے گی۔ یعنی مہاجرین انصار اور ان کی تابعداری کرنے والے ان کے بعد آنے والے یہ لوگ نہ کسی امر کا انکار کریں گے نہ تحریف یا ردوبدل کریں گے بلکہ ایمان کامل لے آئیں گے ہر ہر حرف کو مانیں گے محکم متشابہ سب کا اقرار کریں گے سب پر عقیدہ رکھیں گے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اپنے فضل و کرم سے ان ہی باایمان لوگوں میں کر دے، پھر اپنے پیغمبر ﷺ سے خطاب کر کے فرماتا ہے جن انبیاء کرام (علیہم السلام) کا ذکر ہوا اور جو مجمل طور پر ان کے بڑوں چھوٹوں اور لواحقین میں سے مذکور ہوئے یہی سب اہل ہدایت ہیں تو اپنے نبی آخر الزمان ہی کی اقتدا اور اتباع کرو اور جب یہ حکم نبی ﷺ کو ہے تو ظاہر ہے کہ آپ کی امت بطور اولی اس میں داخل ہے صحیح بخاری شریف میں اس آیت کی تفسیر میں حدیث لائے ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ سے آپ کے شاگرد رشید حضرت مجاہد ؒ نے سوال کیا کہ کیا سورة ص میں سجدہ ہے ؟ آپ نے فرمایا ہاں ہے پھر آپ نے یہ یہ آیت تلاوت فرمائی اور فرمایا آنحضرت ﷺ کو ان کی تابعداری کا حکم ہوا ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ اے نبی ان میں اعلان کردو کہ یہ میں تو قرآن پہنچانے کا کوئی معاوضہ یا بدلہ یا اجرت تم سے نہیں چاہتا۔ یہ تو صرف دنیا کیلئے نصیحت ہے کہ وہ اندھے پن کو چھوڑ کر آنکھوں کا نور حاصل کرلیں اور برائی سے کٹ کر بھلائی پالیں اور کفر سے نکل کر ایمان میں آجائیں۔
86
View Single
وَإِسۡمَٰعِيلَ وَٱلۡيَسَعَ وَيُونُسَ وَلُوطٗاۚ وَكُلّٗا فَضَّلۡنَا عَلَى ٱلۡعَٰلَمِينَ
And Ismael (Ishmael) and Yasa’a (Elisha) and Yunus (Jonah) and Lut (Lot); and to each one during their times, We gave excellence over all others.
اور اسمٰعیل اور الیسع اور یونس اور لوط (علیھم السلام کو بھی ہدایت سے شرف یاب فرمایا)، اور ہم نے ان سب کو (اپنے زمانے کے) تمام جہان والوں پر فضیلت بخشی
Tafsir Ibn Kathir
Ibrahim Receives the News of Ishaq and Ya`qub During His Old Age
Allah states that after Ibrahim became old and he, and his wife, Sarah, lost hope of having children, He gave them Ishaq. The angels came to Ibrahim on their way to the people of Prophet Lut (to destroy them) and they delivered the good news of a child to Ibrahim and his wife. Ibrahim's wife was amazed at the news,
قَالَتْ يوَيْلَتَا ءَأَلِدُ وَأَنَاْ عَجُوزٌ وَهَـذَا بَعْلِى شَيْخًا إِنَّ هَـذَا لَشَىْءٌ عَجِيبٌ - قَالُواْ أَتَعْجَبِينَ مِنْ أَمْرِ اللَّهِ رَحْمَتُ اللَّهِ وَبَرَكَـتُهُ عَلَيْكُمْ أَهْلَ الْبَيْتِ إِنَّهُ حَمِيدٌ مَّجِيدٌ
(She said (in astonishment): "Woe unto me! Shall I bear a child while I am an old woman, and here is my husband, an old man Verily! This is a strange thing!" They said: "Do you wonder at the decree of Allah The mercy of Allah and His blessings be on you, O the family of Ibrahim. Surely, He (Allah) is All-Praiseworthy, All-Glorious.") 11:72-73 The angels also gave them the good news that Ishaq will be a Prophet and that he will have offspring of his own. In another Ayah, Allah said;
وَبَشَّرْنَـهُ بِإِسْحَـقَ نَبِيّاً مِّنَ الصَّـلِحِينَ
(And We gave him the good news of Ishaq a Prophet from the righteous.)37:112, which perfects this good news and completes the favor. Allah said,
بِإِسْحَـقَ وَمِن وَرَآءِ إِسْحَـقَ يَعْقُوبَ
(of Ishaq, and after him, of Ya`qub...) 11:71, meaning, this child will have another child in your lifetime, so that your eyes are comforted by him, just as your eyes will be comforted by his father. Certainly, one becomes jubilant and joyous when he becomes a grandfather, because this means that his offspring will continue to exist. It was also expected that if an elderly couple had children, due to the child's weakness, he would have no offspring. This is why Allah delivered the good news of Ishaq and of his son Ya`qub, whose name literally means `multiplying and having offspring'. This was a reward for Ibrahim who left his people and migrated from their land so that he could worship Allah alone. Allah compensated Ibrahim with better than his people and tribe when He gave him righteous children of his own, who would follow his religion, so that his eyes would be comforted by them. In another Ayah, Allah said; a
فَلَمَّا اعْتَزَلَهُمْ وَمَا يَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّهِ وَهَبْنَا لَهُ إِسْحَـقَ وَيَعْقُوبَ وَكُلاًّ جَعَلْنَا نَبِيّاً
(So when he turned away from them and from those whom they worshipped besides Allah, We gave him Ishaq and Ya`qub, and each one of them We made a Prophet.) 19:49 Allah said here,
وَوَهَبْنَا لَهُ إِسْحَـقَ وَيَعْقُوبَ كُلاًّ هَدَيْنَا
(And We bestowed upon him Ishaq and Ya`qub, each of them We guided,) Allah said;
وَنُوحاً هَدَيْنَا مِن قَبْلُ
(and before him, We guided Nuh...) meaning, We guided Nuh before and gave him righteous offspring, just as We guided Ibrahim and gave him righteous children.
Qualities of Nuh and Ibrahim
Each of these two Prophets had special qualities. When Allah caused the people of the earth to drown, except those who believed in Nuh and accompanied him in the ark, Allah made the offspring of Nuh the dwellers of the earth thereafter. Ever since that occurred, the people of the earth were and still are the descendants of Nuh. As for Ibrahim, Allah did not send a Prophet after him but from his descendants. Allah said in other Ayat,
وَجَعَلْنَا فِى ذُرِّيَّتِهِمَا النُّبُوَّةَ وَالْكِتَـبَ
(And We ordained among his (Ibrahim's) offspring prophethood and the Book.) 29:27,
وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا نُوحاً وَإِبْرَهِيمَ وَجَعَلْنَا فِى ذُرِّيَّتِهِمَا النُّبُوَّةَ وَالْكِتَـبَ
(And indeed, We sent Nuh and Ibrahim, and placed in their offspring Prophethood and the Book.) 57:26, and,
أُولَـئِكَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِم مِّنَ النَّبِيِّيْنَ مِن ذُرِّيَّةِ ءادَمَ وَمِمَّنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوحٍ وَمِن ذُرِّيَّةِ إِبْرَهِيمَ وَإِسْرَءِيلَ وَمِمَّنْ هَدَيْنَا وَاجْتَبَيْنَآ إِذَا تُتْلَى عَلَيْهِمْ ءايَـتُ الرَّحْمَـنِ خَرُّواْ سُجَّداً وَبُكِيّاً
(Those were they unto whom Allah bestowed His grace from among the Prophets, of the offspring of Adam, and of those whom We carried (in the ship) with Nuh, and of the offspring of Ibrahim and Isra'il and from among those whom We guided and chose. When the verses of the Most Beneficent (Allah) were recited unto them, they fell down prostrating and weeping.) 19:58 Allah said in this honorable Ayah here,
وَمِن ذُرِّيَّتِهِ
(and among his progeny...) meaning, We guided from among his offspring,
دَاوُودَ وَسُلَيْمَـنَ
(Dawud, Sulayman...) from the offspring of Nuh, according to Ibn Jarir. It is also possible that the Ayah refers to Ibrahim since it is about him that the blessings were originally mentioned here, although Lut is not from his offspring, for he was Ibrahim's nephew, the son of his brother Maran, the son of Azar. It is possible to say that Lut was mentioned in Ibrahim's offspring as a generalization. As Allah said,
أَمْ كُنتُمْ شُهَدَآءَ إِذْ حَضَرَ يَعْقُوبَ الْمَوْتُ إِذْ قَالَ لِبَنِيهِ مَا تَعْبُدُونَ مِن بَعْدِى قَالُواْ نَعْبُدُ إِلَـهَكَ وَإِلَـهَ آبَآئِكَ إِبْرَهِيمَ وَإِسْمَـعِيلَ وَإِسْحَـقَ إِلَـهًا وَاحِدًا وَنَحْنُ لَهُ مُسْلِمُونَ
(Or were you witnesses when death approached Ya`qub When he said unto his sons, "What will you worship after me" They said, "We shall worship your God, and the God of your fathers, Ibrahim, Isma`il, Ishaq, One God, and to Him we submit.") 2:133. Here, Isma`il was mentioned among the ascendants of Ya`qub, although he was Ya`qub's uncle. Similarly Allah said,
فَسَجَدَ الْمَلَـئِكَةُ كُلُّهُمْ أَجْمَعُونَ - إِلاَّ إِبْلِيسَ أَبَى أَن يَكُونَ مَعَ السَّـجِدِينَ
(So the angels prostrated themselves, all of them together. Except Iblis -- he refused to be among those to prostrate.) 15:30-31. Allah included Iblis in His order to the angels to prostrate, and chastised him for his opposition, all because he was similar to them in that (order), so he was considered among them in general, although he was a Jinn. Iblis was created from fire while the angels were created from light. Mentioning `Isa in the offspring of Ibrahim, or Nuh as we stated above, is proof that the grandchildren from a man's daughter's side are included among his offspring. `Isa is included among Ibrahim's progeny through his mother, although `Isa did not have a father. Ibn Abi Hatim recorded that Abu Harb bin Abi Al-Aswad said, "Al-Hajjaj sent to Yahya bin Ya`mar, saying, `I was told that you claim that Al-Hasan and Al-Husayn are from the offspring of the Prophet , did you find it in the Book of Allah I read the Qur'an from beginning to end and did not find it.' Yahya said, `Do you not read in Surat Al-An`am,
وَمِن ذُرِّيَّتِهِ دَاوُودَ وَسُلَيْمَـنَ
(and among his progeny Dawud, Sulayman...) until,
وَيَحْيَى وَعِيسَى
(and Yahya and `Isa...) Al-Hajjaj said, `Yes.' Yahya said, `Is not `Isa from the offspring of Ibrahim, although he did not have a father' Al-Hajjaj said, `You have said the truth."' For example, when a man leaves behind a legacy, a trust, or gift to his "offspring" then the children of his daughters are included. But if a man gives something to his "sons", or he leaves a trust behind for them, then that would be particular to his male children and their male children. Allah's statement,
وَمِنْ ءابَائِهِمْ وَذُرِّيَّـتِهِمْ وَإِخْوَنِهِمْ
(And also some of their fathers and their progeny and their brethren,) 6:87, mentions that some of these Prophets' ascendants and descendants were also guided and chosen. So Allah said,
وَاجْتَبَيْنَـهُمْ وَهَدَيْنَـهُمْ إِلَى صِرَطٍ مُّسْتَقِيمٍ
(We chose them, and We guided them to a straight path.)
Shirk Eradicates the Deeds, Even the Deeds of the Messengers
Allah said next,
ذلِكَ هُدَى اللَّهِ يَهْدِى بِهِ مَن يَشَآءُ مِنْ عِبَادِهِ
(This is the guidance of Allah with which He guides whomsoever He wills of His servants.) meaning, this occurred to them by Allah's leave and because He directed them to guidance. Allah said;
وَلَوْ أَشْرَكُواْ لَحَبِطَ عَنْهُمْ مَّا كَانُواْ يَعْمَلُونَ
(But if they had joined in worship others with Allah, all that they used to do would have been of no benefit to them.) This magnifies the serious danger of Shirk and the gravity of committing it. In another Ayah, Allah said;
وَلَقَدْ أُوْحِىَ إِلَيْكَ وَإِلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكَ لَئِنْ أَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ
(And indeed it has been revealed to you, as it was to those (Allah's Messengers) before you: "If you join others in worship with Allah, surely your deeds will be in vain.") 39:65 `If' here does not mean that this would ever occur, as is similar in Allah's statement;
قُلْ إِن كَانَ لِلرَّحْمَـنِ وَلَدٌ فَأَنَاْ أَوَّلُ الْعَـبِدِينَ
(Say: "If the Most Beneficent had a son, then I am the first of Allah's worshippers.") 43:81, and
لَوْ أَرَدْنَآ أَن نَّتَّخِذَ لَهْواً لاَّتَّخَذْنَـهُ مِن لَّدُنَّآ إِن كُنَّا فَـعِلِينَ
(If We intended to take a pastime (a wife or a son, etc.) We could surely have taken it from Us, if We were going to do (that)) 21:17, and,
لَّوْ أَرَادَ اللَّهُ أَن يَتَّخِذَ وَلَداً لاَّصْطَفَى مِمَّا يَخْلُقُ مَا يَشَآءُ سُبْحَـنَهُ هُوَ اللَّهُ الْوَحِدُ الْقَهَّارُ
(If Allah willed to take a son, He could have chosen whom He pleased out of those whom He created. But glory be to Him! He is Allah, the One, the Compelling.) 39:4 Allah said,
أُوْلَـئِكَ الَّذِينَ ءَاتَيْنَـهُمُ الْكِتَـبَ وَالْحُكْمَ وَالنُّبُوَّةَ
(They are those whom We gave the Book, Al-Hukm, and prophethood.) We bestowed these bounties on them, as a mercy for the servants, and out of our kindness for creation.
فَإِن يَكْفُرْ بِهَا
(But if they disbelieve therein...) in the prophethood, or the three things; the Book, the Hukm and the prophethood,
هَـؤُلاءِ
(They...) refers to the people of Makkah, according to Ibn `Abbas, Sa`id bin Al-Musayyib, Ad-Dahhak, Qatadah, As-Suddi, and others.
فَقَدْ وَكَّلْنَا بِهَا قَوْماً لَّيْسُواْ بِهَا بِكَـفِرِينَ
(then, indeed We have entrusted it to a people who are not disbelievers therein.) This Ayah means, if the Quraysh and the rest of the people of the earth - Arabs and non-Arabs, illiterate and the People of the Scripture - disbelieve in these bounties, then We have entrusted them to another people, the Muhajirun and Ansar, and those who follow their lead until the Day of Resurrection,
لَّيْسُواْ بِهَا بِكَـفِرِينَ
(who are not disbelievers therein.) They will not deny any of these favors, not even one letter. Rather, they will believe in them totally, even the parts that are not so clear to some of them. We ask Allah to make us among them by His favor, generosity and kindness. Addressing His servant and Messenger, Muhammad , Allah said;
أُوْلَـئِكَ
(They are...) the Prophets mentioned here, along with their righteous fathers, offspring and bretheren,
الَّذِينَ هَدَى اللَّهُ
(those whom Allah had guided.) meaning, they alone are the people of guidance,
فَبِهُدَاهُمُ اقْتَدِهْ
(So follow their guidance.) Imitate them. This command to the Messenger certainly applies to his Ummah, according to what he legislates and commands them. While mentioning this Ayah, Al-Bukhari recorded that Mujahid asked Ibn `Abbas, "Is there an instance where prostration is warranted in Surah Sad" Ibn `Abbas said, "Yes." He then recited,
وَوَهَبْنَا لَهُ إِسْحَـقَ وَيَعْقُوبَ
(...And We bestowed upon him Ishaq and Ya`qub...) until,
فَبِهُدَاهُمُ اقْتَدِهْ
(...So follow their guidance.) He commented, "He (our Prophet, Muhammad ) was among them." In another narration, Mujahid added that Ibn `Abbas said, "Your Prophet was among those whose guidance we were commanded to follow." Allah's statement,
قُل لاَّ أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْراً
(Say: "No reward I ask of you for this.") means, I do not ask you for any reward for delivering the Qur'an to you, nor anything else,
إِنْ هُوَ إِلاَّ ذِكْرَى لِلْعَـلَمِينَ
("It is only a reminder for the `Alamin (mankind and Jinns).") so they are reminded by it and guided from blindness to clarity, from misguidance to guidance, and from disbelief to faith.
خلیل الرحمن کو بشارت اولاد اللہ تعالیٰ اپنا احسان بیان فرما رہا ہے کہ خلیل الرحمن کو اس نے ان کے بڑھاپے کے وقت بیٹا عطا فرمایا جن کا نام اسحاق ہے اس وقت آپ بھی اولاد سے مایوس ہوچکے تھے اور آپ کی بیوی صاحبہ حضرت سارہ بھی مایوس ہوچکی تھیں جو فرشتے بشارت سنانے آتے ہیں وہ قوم لوط کی ہلاکت کیلئے جا رہے تھے۔ ان سے بشارت سن کر مائی صاحبہ سخت متعجب ہو کر کہتی ہیں میں بڑھیا کھوسٹ ہوچکی میرے خاوند عمر سے اتر چکے ہمارے ہاں بچہ ہونا تعجب کی بات ہے۔ فرشتوں نے جواب دیا اللہ کی قدرت میں ایسے تعجبات عام ہوتے ہیں۔ اے نبی کے گھرانے والو تم پر رب کی رحمتیں اور برکتیں نازل ہوں اللہ بڑی تعریفوں والا اور بڑی بزرگیوں والا ہے اتنا ہی نہیں کہ تمہارے ہاں بچہ ہوگا بلکہ وہ نبی زادہ خود بھی نبی ہوگا اور اس سے تمہاری نسل پھیلے گی اور باقی رہے گی، قرآن کی اور آیت میں بشارت کے الفاظ میں نبیا کا لفظ بھی ہے پھر لطف یہ ہے کہ اولاد کی اولاد بھی تم دیکھ لو گے اسحاق کے گھر یعقوب پیدا ہوں گے اور تمہیں خوشی پر خوشی ہوگی اور پھر پوتے کا نام یعقوب رکھنا جو عقب سے مشتق ہے خوشخبری ہے اس امر کی کہ یہ نسل جاری رہے گی۔ فی الواقع خلیل اللہ ؑ اس بشارت کے قابل بھی تھے قوم کو چھوڑ ان سے منہ موڑا شہر کو چھوڑا ہجرت کی، اللہ نے دنیا میں بھی انعام دیئے، اتنی نسل پھیلائی جو آج تک دنیا میں آباد ہے۔ فرمان الہی ہے کہ جب ابراہیم نے اپنی قوم کو اور ان کے معبودوں کو چھوڑا تو ہم نے انہیں اسحاق و یعقوب بخشا اور دونوں کو نبی بنایا، یہاں فرمایا ان سب کو ہم نے ہدایت دی تھی اور ان کی بھی نیک اولاد دنیا میں باقی رہی، طوفان نوح میں کفار سب غرق ہوگئے پھر حضرت نوح کی نسل پھیلی انبیاء انہی کی نسل میں سے ہوتے رہے، حضرت ابراہیم کے بعد تو نبوت انہی کے گھرانے میں رہی جیسے فرمان ہے آیت (وَجَعَلْنَا فِيْ ذُرِّيَّتِهِ النُّبُوَّةَ وَالْكِتٰبَ وَاٰتَيْنٰهُ اَجْرَهٗ فِي الدُّنْيَا) 29۔ العنکبوت :27) ہم نے ان ہی کی اولاد میں نبوت اور کتاب رکھی اور آیت میں ہے آیت (وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا وَّاِبْرٰهِيْمَ وَجَعَلْنَا فِيْ ذُرِّيَّـتِهِمَا النُّبُوَّةَ وَالْكِتٰبَ فَمِنْهُمْ مُّهْتَدٍ ۚ وَكَثِيْرٌ مِّنْهُمْ فٰسِقُوْنَ) 57۔ الحدید :26) یعنی ہم نے نوح اور ابراہیم کو رسول بنا کر پھر ان ہی دونوں کی اولاد میں نبوت اور کتاب کردی اور آیت میں ہے یہ ہیں جن پر انعام الہی ہوا۔ نبیوں میں سے آدم کو اولاد میں سے اور جنہیں ہم نے نوح کے ساتھ کشتی میں لے لیا تھا اور ابراہیم اور اسرائیل کی اولاد میں سے اور جنہیں ہم نے ہدایت کی تھی اور پسند کرلیا تھا ان پر جب رحمان کی آیتیں پڑھی جاتی تھیں تو روتے گڑگڑاتے سجدے میں گرپڑتے تھے پھر فرمایا ہم نے اس کی اولاد میں سے داؤد و سلیمان کو ہدایت کی، اس میں اگر ضمیر کا مرجع نوح کو کیا جائے تو ٹھیک ہے اس لئے کہ ضمیر سے پہلے سب سے قریب نام یہی ہے۔ امام ابن جریر اسی کو پسند فرماتے ہیں اور ہے بھی یہ بالکل ظاہر جس میں کوئی اشکال نہیں ہاں اسے حضرت ابراہیم کی طرف لوٹانا بھی ہے تو اچھا اس لئے کہ کلام انہی کے بارے میں ہے قصہ انہی کا بیان ہو رہا ہے لیکن بعد کے ناموں میں سے لوط کا نام اولاد آدم میں ہونا ذرا مشکل ہے اس لئے کہ حضرت لوط خلیل اللہ کی اولاد میں نہیں بلکہ ان کے والد کا نام ماران ہے وہ آزر کے لڑکے تھے تو وہ آپ کے بھتیجے ہوئے ہاں اس کا جواب یہ ہوسکتا ہے کہ باعتبار غلبے کے انہیں بھی اولاد میں شامل کرلیا گیا جیسے کہ آیت (اَمْ كُنْتُمْ شُهَدَاۗءَ اِذْ حَضَرَ يَعْقُوْبَ الْمَوْتُ ۙ اِذْ قَالَ لِبَنِيْهِ مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْۢ بَعْدِيْ) 2۔ البقرۃ :133) میں حضرت اسمعیل کو جو اولاد یعقوب کے چچا تھا باپوں میں شمار کرلیا گیا ہے، ہاں یہ بھی خیال رہے کہ حضرت عیسیٰ کو اولاد ابراہیم یا اولاد نوح میں گننا اس بنا پر ہے کہ لڑکیوں کی اولاد یعنی نواسے بھی اولاد میں داخل ہیں کیونکہ حضرت عیسیٰ بن باپ کے پیدا ہوئے تھے، روایت میں ہے حجاج نے حضرت یحییٰ بن یعمر کے پاس آدمی بھیجا کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ تو حسن حسین کو آنحضرت ﷺ کی اولاد میں گنتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ قرآن سے ثابت ہے لیکن میں تو پورے قرآن میں کسی جگہ یہ نہیں پاتا، آپ نے جواب دیا کیا تو نے سورة انعام میں آیت (وَمِنْ ذُرِّيَّتِهٖ دَاوٗدَ وَسُلَيْمٰنَ وَاَيُّوْبَ وَيُوْسُفَ وَمُوْسٰي وَهٰرُوْنَ ۭوَكَذٰلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِيْنَ) 6۔ الانعام :84) نہیں پڑھا اس نے کہا ہاں یہ تو پڑھا ہے کہا پھر دیکھو اس میں حضرت عیسیٰ کا نام ہے اور ان کا کوئی باپ تھا ہی نہیں تو معلوم ہوا کہ لڑکی کی اولاد بھی اولاد ہی ہے حجاج نے کہا بیشک آپ سچے ہیں اسی لئے مسئلہ ہے کہ جب کوئی شخص اپنی ذریت کے لئے وصیت کرے یا وقف کرے یا ہبہ کرے تو لڑکیوں کی اولاد بھی اس میں داخل ہے ہاں اگر اس نے اپنے لڑکوں کو دیا ہے یا ان پر وقف کیا ہے تو اس کے اپنے صلبی لڑکے اور لڑکوں کے لڑکے اس میں شامل ہوں گے اس کی دلیل عربی شاعر کا یہ شعر سنئے۔ بنو نا بنوا ابنا ئنا و بنا تنا بنو ھن ابناء الرجال الا جانب یعنی ہمارے لڑکوں کے لڑکے تو ہمارے لڑکے ہیں اور ہماری لڑکیوں کے لڑکے اجنبیوں کے لڑکے ہیں اور لوگ کہتے ہیں کہ لڑکیوں کے لڑکے بھی ان میں داخل ہیں کیونکہ صحیح بخاری شریف کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت حسن بن علی ؓ عنمہا کی نسبت فرمایا میرا یہ لڑکا سید ہے اور انشاء اللہ اس کی وجہ سے مسلمانوں کی دو بڑی جماعتوں میں اللہ تعالیٰ صلح کرا دے گا، پس نواسے کو اپنا لڑکا کہنے سے لڑکیوں کی اولاد کا بھی اپنی اولاد میں داخل ہونا ثابت ہوا اور لوگ کہتے ہیں کہ یہ مجاز ہے، اس کے بعد فرمایا ان کے باپ دادے ان کی اولادیں ان کے بھائی الغرض اصول و فروع اور اہل طبقہ کا ذکر آگیا کہ ہدایت اور پسندیدگی ان سب کو گھیرے ہوئے ہے، یہ اللہ کی سچی اور سیدھی راہ پر لگا دیئے گئے ہیں۔ یہ جو کچھ انہیں حاصل ہوا یہ اللہ کی مہربانی اس کی توفیق اور اس کی ہدایت سے ہے۔ پھر شرک کا کامل برائی لوگوں کے ذہن میں آجائے اس لئے فرمایا کہ اگر بالفرض نبیوں کا یہ گروہ بھی شرک کر بیٹھے تو ان کی بھی تمام تر نیکیاں ضائع ہوجائیں جیسے ارشاد ہے آیت (وَلَقَدْ اُوْحِيَ اِلَيْكَ وَاِلَى الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكَ ۚ لَىِٕنْ اَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ) 39۔ الزمر :65) تجھ پر اور تجھ سے پہلے کے ایک ایک نبی پر یہ وحی بھیج دی گئی کہ اگر تو نے شرک کیا تو تیرے اعمال اکارت ہوجائیں گے یہ یاد رہے کہ یہ شرط ہے اور شرط کا واقع ہونا ہی ضروری نہیں جیسے فرمان ہے آیت (قُلْ اِنْ كَان للرَّحْمٰنِ وَلَدٌ ڰ فَاَنَا اَوَّلُ الْعٰبِدِيْنَ) 43۔ الزخرف :81) یعنی اگر اللہ کی اولاد ہو تو میں تو سب سے پہلے ماننے والا بن جاؤں اور جیسے اور آیت میں ہے آیت (لَـوْ اَرَدْنَآ اَنْ نَّتَّخِذَ لَهْوًا لَّاتَّخَذْنٰهُ مِنْ لَّدُنَّآ ڰ اِنْ كُنَّا فٰعِلِيْنَ) 21۔ الانبیآء :17) یعنی اگر کھیل تماشا بنانا ہی چاہتے ہو تو اپنے پاس سے ہی بنا لیتے اور فرمان ہے آیت (لَوْ اَرَاد اللّٰهُ اَنْ يَّتَّخِذَ وَلَدًا لَّاصْطَفٰى مِمَّا يَخْلُقُ مَا يَشَاۗءُ ۙ سُبْحٰنَهٗ) 39۔ الزمر :4) اگر اللہ تعالیٰ اولاد کا ہی ارادہ کرتا تو اپنی مخلوق میں سے جسے چاہتا چن لیتا لیکن وہ اس سے پاک ہے اور وہ یکتا اور غالب ہے، پھر فرمایا بندوں پر رحمت نازل فرمانے کیلئے ہم نے انہیں کتاب حکمت اور نبوت عطا فرمائی پس اگر یہ لوگ یعنی اہل مکہ اس کے ساتھ یعنی نبوت کے ساتھ یا کتاب و حکمت و نبوت کے ساتھ کفر کریں یہ اگر ان نعمتوں کا انکار کریں خواہ قریش ہوں خواہ اہل کتاب ہوں خواہ کوئی اور عربی یا عجمی ہوں تو کوئی حرج نہیں۔ ہم نے ایک قوم ایسی بھی تیار کر رکھی ہے جو اس کے ساتھ کبھی کفر نہ کرے گی۔ یعنی مہاجرین انصار اور ان کی تابعداری کرنے والے ان کے بعد آنے والے یہ لوگ نہ کسی امر کا انکار کریں گے نہ تحریف یا ردوبدل کریں گے بلکہ ایمان کامل لے آئیں گے ہر ہر حرف کو مانیں گے محکم متشابہ سب کا اقرار کریں گے سب پر عقیدہ رکھیں گے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اپنے فضل و کرم سے ان ہی باایمان لوگوں میں کر دے، پھر اپنے پیغمبر ﷺ سے خطاب کر کے فرماتا ہے جن انبیاء کرام (علیہم السلام) کا ذکر ہوا اور جو مجمل طور پر ان کے بڑوں چھوٹوں اور لواحقین میں سے مذکور ہوئے یہی سب اہل ہدایت ہیں تو اپنے نبی آخر الزمان ہی کی اقتدا اور اتباع کرو اور جب یہ حکم نبی ﷺ کو ہے تو ظاہر ہے کہ آپ کی امت بطور اولی اس میں داخل ہے صحیح بخاری شریف میں اس آیت کی تفسیر میں حدیث لائے ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ سے آپ کے شاگرد رشید حضرت مجاہد ؒ نے سوال کیا کہ کیا سورة ص میں سجدہ ہے ؟ آپ نے فرمایا ہاں ہے پھر آپ نے یہ یہ آیت تلاوت فرمائی اور فرمایا آنحضرت ﷺ کو ان کی تابعداری کا حکم ہوا ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ اے نبی ان میں اعلان کردو کہ یہ میں تو قرآن پہنچانے کا کوئی معاوضہ یا بدلہ یا اجرت تم سے نہیں چاہتا۔ یہ تو صرف دنیا کیلئے نصیحت ہے کہ وہ اندھے پن کو چھوڑ کر آنکھوں کا نور حاصل کرلیں اور برائی سے کٹ کر بھلائی پالیں اور کفر سے نکل کر ایمان میں آجائیں۔
87
View Single
وَمِنۡ ءَابَآئِهِمۡ وَذُرِّيَّـٰتِهِمۡ وَإِخۡوَٰنِهِمۡۖ وَٱجۡتَبَيۡنَٰهُمۡ وَهَدَيۡنَٰهُمۡ إِلَىٰ صِرَٰطٖ مُّسۡتَقِيمٖ
And some of their ancestors and their descendants and their brothers; and We chose them and guided them to the Straight Path.
اور ان کے آباؤ (و اجداد) اور ان کی اولاد اور ان کے بھائیوں میں سے بھی (بعض کو ایسی فضیلت عطا فرمائی) اور ہم نے انہیں (اپنے لطفِ خاص اور بزرگی کے لئے) چن لیا تھا اور انہیں سیدھی راہ کی طرف ہدایت فرما دی تھی
Tafsir Ibn Kathir
Ibrahim Receives the News of Ishaq and Ya`qub During His Old Age
Allah states that after Ibrahim became old and he, and his wife, Sarah, lost hope of having children, He gave them Ishaq. The angels came to Ibrahim on their way to the people of Prophet Lut (to destroy them) and they delivered the good news of a child to Ibrahim and his wife. Ibrahim's wife was amazed at the news,
قَالَتْ يوَيْلَتَا ءَأَلِدُ وَأَنَاْ عَجُوزٌ وَهَـذَا بَعْلِى شَيْخًا إِنَّ هَـذَا لَشَىْءٌ عَجِيبٌ - قَالُواْ أَتَعْجَبِينَ مِنْ أَمْرِ اللَّهِ رَحْمَتُ اللَّهِ وَبَرَكَـتُهُ عَلَيْكُمْ أَهْلَ الْبَيْتِ إِنَّهُ حَمِيدٌ مَّجِيدٌ
(She said (in astonishment): "Woe unto me! Shall I bear a child while I am an old woman, and here is my husband, an old man Verily! This is a strange thing!" They said: "Do you wonder at the decree of Allah The mercy of Allah and His blessings be on you, O the family of Ibrahim. Surely, He (Allah) is All-Praiseworthy, All-Glorious.") 11:72-73 The angels also gave them the good news that Ishaq will be a Prophet and that he will have offspring of his own. In another Ayah, Allah said;
وَبَشَّرْنَـهُ بِإِسْحَـقَ نَبِيّاً مِّنَ الصَّـلِحِينَ
(And We gave him the good news of Ishaq a Prophet from the righteous.)37:112, which perfects this good news and completes the favor. Allah said,
بِإِسْحَـقَ وَمِن وَرَآءِ إِسْحَـقَ يَعْقُوبَ
(of Ishaq, and after him, of Ya`qub...) 11:71, meaning, this child will have another child in your lifetime, so that your eyes are comforted by him, just as your eyes will be comforted by his father. Certainly, one becomes jubilant and joyous when he becomes a grandfather, because this means that his offspring will continue to exist. It was also expected that if an elderly couple had children, due to the child's weakness, he would have no offspring. This is why Allah delivered the good news of Ishaq and of his son Ya`qub, whose name literally means `multiplying and having offspring'. This was a reward for Ibrahim who left his people and migrated from their land so that he could worship Allah alone. Allah compensated Ibrahim with better than his people and tribe when He gave him righteous children of his own, who would follow his religion, so that his eyes would be comforted by them. In another Ayah, Allah said; a
فَلَمَّا اعْتَزَلَهُمْ وَمَا يَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّهِ وَهَبْنَا لَهُ إِسْحَـقَ وَيَعْقُوبَ وَكُلاًّ جَعَلْنَا نَبِيّاً
(So when he turned away from them and from those whom they worshipped besides Allah, We gave him Ishaq and Ya`qub, and each one of them We made a Prophet.) 19:49 Allah said here,
وَوَهَبْنَا لَهُ إِسْحَـقَ وَيَعْقُوبَ كُلاًّ هَدَيْنَا
(And We bestowed upon him Ishaq and Ya`qub, each of them We guided,) Allah said;
وَنُوحاً هَدَيْنَا مِن قَبْلُ
(and before him, We guided Nuh...) meaning, We guided Nuh before and gave him righteous offspring, just as We guided Ibrahim and gave him righteous children.
Qualities of Nuh and Ibrahim
Each of these two Prophets had special qualities. When Allah caused the people of the earth to drown, except those who believed in Nuh and accompanied him in the ark, Allah made the offspring of Nuh the dwellers of the earth thereafter. Ever since that occurred, the people of the earth were and still are the descendants of Nuh. As for Ibrahim, Allah did not send a Prophet after him but from his descendants. Allah said in other Ayat,
وَجَعَلْنَا فِى ذُرِّيَّتِهِمَا النُّبُوَّةَ وَالْكِتَـبَ
(And We ordained among his (Ibrahim's) offspring prophethood and the Book.) 29:27,
وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا نُوحاً وَإِبْرَهِيمَ وَجَعَلْنَا فِى ذُرِّيَّتِهِمَا النُّبُوَّةَ وَالْكِتَـبَ
(And indeed, We sent Nuh and Ibrahim, and placed in their offspring Prophethood and the Book.) 57:26, and,
أُولَـئِكَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِم مِّنَ النَّبِيِّيْنَ مِن ذُرِّيَّةِ ءادَمَ وَمِمَّنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوحٍ وَمِن ذُرِّيَّةِ إِبْرَهِيمَ وَإِسْرَءِيلَ وَمِمَّنْ هَدَيْنَا وَاجْتَبَيْنَآ إِذَا تُتْلَى عَلَيْهِمْ ءايَـتُ الرَّحْمَـنِ خَرُّواْ سُجَّداً وَبُكِيّاً
(Those were they unto whom Allah bestowed His grace from among the Prophets, of the offspring of Adam, and of those whom We carried (in the ship) with Nuh, and of the offspring of Ibrahim and Isra'il and from among those whom We guided and chose. When the verses of the Most Beneficent (Allah) were recited unto them, they fell down prostrating and weeping.) 19:58 Allah said in this honorable Ayah here,
وَمِن ذُرِّيَّتِهِ
(and among his progeny...) meaning, We guided from among his offspring,
دَاوُودَ وَسُلَيْمَـنَ
(Dawud, Sulayman...) from the offspring of Nuh, according to Ibn Jarir. It is also possible that the Ayah refers to Ibrahim since it is about him that the blessings were originally mentioned here, although Lut is not from his offspring, for he was Ibrahim's nephew, the son of his brother Maran, the son of Azar. It is possible to say that Lut was mentioned in Ibrahim's offspring as a generalization. As Allah said,
أَمْ كُنتُمْ شُهَدَآءَ إِذْ حَضَرَ يَعْقُوبَ الْمَوْتُ إِذْ قَالَ لِبَنِيهِ مَا تَعْبُدُونَ مِن بَعْدِى قَالُواْ نَعْبُدُ إِلَـهَكَ وَإِلَـهَ آبَآئِكَ إِبْرَهِيمَ وَإِسْمَـعِيلَ وَإِسْحَـقَ إِلَـهًا وَاحِدًا وَنَحْنُ لَهُ مُسْلِمُونَ
(Or were you witnesses when death approached Ya`qub When he said unto his sons, "What will you worship after me" They said, "We shall worship your God, and the God of your fathers, Ibrahim, Isma`il, Ishaq, One God, and to Him we submit.") 2:133. Here, Isma`il was mentioned among the ascendants of Ya`qub, although he was Ya`qub's uncle. Similarly Allah said,
فَسَجَدَ الْمَلَـئِكَةُ كُلُّهُمْ أَجْمَعُونَ - إِلاَّ إِبْلِيسَ أَبَى أَن يَكُونَ مَعَ السَّـجِدِينَ
(So the angels prostrated themselves, all of them together. Except Iblis -- he refused to be among those to prostrate.) 15:30-31. Allah included Iblis in His order to the angels to prostrate, and chastised him for his opposition, all because he was similar to them in that (order), so he was considered among them in general, although he was a Jinn. Iblis was created from fire while the angels were created from light. Mentioning `Isa in the offspring of Ibrahim, or Nuh as we stated above, is proof that the grandchildren from a man's daughter's side are included among his offspring. `Isa is included among Ibrahim's progeny through his mother, although `Isa did not have a father. Ibn Abi Hatim recorded that Abu Harb bin Abi Al-Aswad said, "Al-Hajjaj sent to Yahya bin Ya`mar, saying, `I was told that you claim that Al-Hasan and Al-Husayn are from the offspring of the Prophet , did you find it in the Book of Allah I read the Qur'an from beginning to end and did not find it.' Yahya said, `Do you not read in Surat Al-An`am,
وَمِن ذُرِّيَّتِهِ دَاوُودَ وَسُلَيْمَـنَ
(and among his progeny Dawud, Sulayman...) until,
وَيَحْيَى وَعِيسَى
(and Yahya and `Isa...) Al-Hajjaj said, `Yes.' Yahya said, `Is not `Isa from the offspring of Ibrahim, although he did not have a father' Al-Hajjaj said, `You have said the truth."' For example, when a man leaves behind a legacy, a trust, or gift to his "offspring" then the children of his daughters are included. But if a man gives something to his "sons", or he leaves a trust behind for them, then that would be particular to his male children and their male children. Allah's statement,
وَمِنْ ءابَائِهِمْ وَذُرِّيَّـتِهِمْ وَإِخْوَنِهِمْ
(And also some of their fathers and their progeny and their brethren,) 6:87, mentions that some of these Prophets' ascendants and descendants were also guided and chosen. So Allah said,
وَاجْتَبَيْنَـهُمْ وَهَدَيْنَـهُمْ إِلَى صِرَطٍ مُّسْتَقِيمٍ
(We chose them, and We guided them to a straight path.)
Shirk Eradicates the Deeds, Even the Deeds of the Messengers
Allah said next,
ذلِكَ هُدَى اللَّهِ يَهْدِى بِهِ مَن يَشَآءُ مِنْ عِبَادِهِ
(This is the guidance of Allah with which He guides whomsoever He wills of His servants.) meaning, this occurred to them by Allah's leave and because He directed them to guidance. Allah said;
وَلَوْ أَشْرَكُواْ لَحَبِطَ عَنْهُمْ مَّا كَانُواْ يَعْمَلُونَ
(But if they had joined in worship others with Allah, all that they used to do would have been of no benefit to them.) This magnifies the serious danger of Shirk and the gravity of committing it. In another Ayah, Allah said;
وَلَقَدْ أُوْحِىَ إِلَيْكَ وَإِلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكَ لَئِنْ أَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ
(And indeed it has been revealed to you, as it was to those (Allah's Messengers) before you: "If you join others in worship with Allah, surely your deeds will be in vain.") 39:65 `If' here does not mean that this would ever occur, as is similar in Allah's statement;
قُلْ إِن كَانَ لِلرَّحْمَـنِ وَلَدٌ فَأَنَاْ أَوَّلُ الْعَـبِدِينَ
(Say: "If the Most Beneficent had a son, then I am the first of Allah's worshippers.") 43:81, and
لَوْ أَرَدْنَآ أَن نَّتَّخِذَ لَهْواً لاَّتَّخَذْنَـهُ مِن لَّدُنَّآ إِن كُنَّا فَـعِلِينَ
(If We intended to take a pastime (a wife or a son, etc.) We could surely have taken it from Us, if We were going to do (that)) 21:17, and,
لَّوْ أَرَادَ اللَّهُ أَن يَتَّخِذَ وَلَداً لاَّصْطَفَى مِمَّا يَخْلُقُ مَا يَشَآءُ سُبْحَـنَهُ هُوَ اللَّهُ الْوَحِدُ الْقَهَّارُ
(If Allah willed to take a son, He could have chosen whom He pleased out of those whom He created. But glory be to Him! He is Allah, the One, the Compelling.) 39:4 Allah said,
أُوْلَـئِكَ الَّذِينَ ءَاتَيْنَـهُمُ الْكِتَـبَ وَالْحُكْمَ وَالنُّبُوَّةَ
(They are those whom We gave the Book, Al-Hukm, and prophethood.) We bestowed these bounties on them, as a mercy for the servants, and out of our kindness for creation.
فَإِن يَكْفُرْ بِهَا
(But if they disbelieve therein...) in the prophethood, or the three things; the Book, the Hukm and the prophethood,
هَـؤُلاءِ
(They...) refers to the people of Makkah, according to Ibn `Abbas, Sa`id bin Al-Musayyib, Ad-Dahhak, Qatadah, As-Suddi, and others.
فَقَدْ وَكَّلْنَا بِهَا قَوْماً لَّيْسُواْ بِهَا بِكَـفِرِينَ
(then, indeed We have entrusted it to a people who are not disbelievers therein.) This Ayah means, if the Quraysh and the rest of the people of the earth - Arabs and non-Arabs, illiterate and the People of the Scripture - disbelieve in these bounties, then We have entrusted them to another people, the Muhajirun and Ansar, and those who follow their lead until the Day of Resurrection,
لَّيْسُواْ بِهَا بِكَـفِرِينَ
(who are not disbelievers therein.) They will not deny any of these favors, not even one letter. Rather, they will believe in them totally, even the parts that are not so clear to some of them. We ask Allah to make us among them by His favor, generosity and kindness. Addressing His servant and Messenger, Muhammad , Allah said;
أُوْلَـئِكَ
(They are...) the Prophets mentioned here, along with their righteous fathers, offspring and bretheren,
الَّذِينَ هَدَى اللَّهُ
(those whom Allah had guided.) meaning, they alone are the people of guidance,
فَبِهُدَاهُمُ اقْتَدِهْ
(So follow their guidance.) Imitate them. This command to the Messenger certainly applies to his Ummah, according to what he legislates and commands them. While mentioning this Ayah, Al-Bukhari recorded that Mujahid asked Ibn `Abbas, "Is there an instance where prostration is warranted in Surah Sad" Ibn `Abbas said, "Yes." He then recited,
وَوَهَبْنَا لَهُ إِسْحَـقَ وَيَعْقُوبَ
(...And We bestowed upon him Ishaq and Ya`qub...) until,
فَبِهُدَاهُمُ اقْتَدِهْ
(...So follow their guidance.) He commented, "He (our Prophet, Muhammad ) was among them." In another narration, Mujahid added that Ibn `Abbas said, "Your Prophet was among those whose guidance we were commanded to follow." Allah's statement,
قُل لاَّ أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْراً
(Say: "No reward I ask of you for this.") means, I do not ask you for any reward for delivering the Qur'an to you, nor anything else,
إِنْ هُوَ إِلاَّ ذِكْرَى لِلْعَـلَمِينَ
("It is only a reminder for the `Alamin (mankind and Jinns).") so they are reminded by it and guided from blindness to clarity, from misguidance to guidance, and from disbelief to faith.
خلیل الرحمن کو بشارت اولاد اللہ تعالیٰ اپنا احسان بیان فرما رہا ہے کہ خلیل الرحمن کو اس نے ان کے بڑھاپے کے وقت بیٹا عطا فرمایا جن کا نام اسحاق ہے اس وقت آپ بھی اولاد سے مایوس ہوچکے تھے اور آپ کی بیوی صاحبہ حضرت سارہ بھی مایوس ہوچکی تھیں جو فرشتے بشارت سنانے آتے ہیں وہ قوم لوط کی ہلاکت کیلئے جا رہے تھے۔ ان سے بشارت سن کر مائی صاحبہ سخت متعجب ہو کر کہتی ہیں میں بڑھیا کھوسٹ ہوچکی میرے خاوند عمر سے اتر چکے ہمارے ہاں بچہ ہونا تعجب کی بات ہے۔ فرشتوں نے جواب دیا اللہ کی قدرت میں ایسے تعجبات عام ہوتے ہیں۔ اے نبی کے گھرانے والو تم پر رب کی رحمتیں اور برکتیں نازل ہوں اللہ بڑی تعریفوں والا اور بڑی بزرگیوں والا ہے اتنا ہی نہیں کہ تمہارے ہاں بچہ ہوگا بلکہ وہ نبی زادہ خود بھی نبی ہوگا اور اس سے تمہاری نسل پھیلے گی اور باقی رہے گی، قرآن کی اور آیت میں بشارت کے الفاظ میں نبیا کا لفظ بھی ہے پھر لطف یہ ہے کہ اولاد کی اولاد بھی تم دیکھ لو گے اسحاق کے گھر یعقوب پیدا ہوں گے اور تمہیں خوشی پر خوشی ہوگی اور پھر پوتے کا نام یعقوب رکھنا جو عقب سے مشتق ہے خوشخبری ہے اس امر کی کہ یہ نسل جاری رہے گی۔ فی الواقع خلیل اللہ ؑ اس بشارت کے قابل بھی تھے قوم کو چھوڑ ان سے منہ موڑا شہر کو چھوڑا ہجرت کی، اللہ نے دنیا میں بھی انعام دیئے، اتنی نسل پھیلائی جو آج تک دنیا میں آباد ہے۔ فرمان الہی ہے کہ جب ابراہیم نے اپنی قوم کو اور ان کے معبودوں کو چھوڑا تو ہم نے انہیں اسحاق و یعقوب بخشا اور دونوں کو نبی بنایا، یہاں فرمایا ان سب کو ہم نے ہدایت دی تھی اور ان کی بھی نیک اولاد دنیا میں باقی رہی، طوفان نوح میں کفار سب غرق ہوگئے پھر حضرت نوح کی نسل پھیلی انبیاء انہی کی نسل میں سے ہوتے رہے، حضرت ابراہیم کے بعد تو نبوت انہی کے گھرانے میں رہی جیسے فرمان ہے آیت (وَجَعَلْنَا فِيْ ذُرِّيَّتِهِ النُّبُوَّةَ وَالْكِتٰبَ وَاٰتَيْنٰهُ اَجْرَهٗ فِي الدُّنْيَا) 29۔ العنکبوت :27) ہم نے ان ہی کی اولاد میں نبوت اور کتاب رکھی اور آیت میں ہے آیت (وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا وَّاِبْرٰهِيْمَ وَجَعَلْنَا فِيْ ذُرِّيَّـتِهِمَا النُّبُوَّةَ وَالْكِتٰبَ فَمِنْهُمْ مُّهْتَدٍ ۚ وَكَثِيْرٌ مِّنْهُمْ فٰسِقُوْنَ) 57۔ الحدید :26) یعنی ہم نے نوح اور ابراہیم کو رسول بنا کر پھر ان ہی دونوں کی اولاد میں نبوت اور کتاب کردی اور آیت میں ہے یہ ہیں جن پر انعام الہی ہوا۔ نبیوں میں سے آدم کو اولاد میں سے اور جنہیں ہم نے نوح کے ساتھ کشتی میں لے لیا تھا اور ابراہیم اور اسرائیل کی اولاد میں سے اور جنہیں ہم نے ہدایت کی تھی اور پسند کرلیا تھا ان پر جب رحمان کی آیتیں پڑھی جاتی تھیں تو روتے گڑگڑاتے سجدے میں گرپڑتے تھے پھر فرمایا ہم نے اس کی اولاد میں سے داؤد و سلیمان کو ہدایت کی، اس میں اگر ضمیر کا مرجع نوح کو کیا جائے تو ٹھیک ہے اس لئے کہ ضمیر سے پہلے سب سے قریب نام یہی ہے۔ امام ابن جریر اسی کو پسند فرماتے ہیں اور ہے بھی یہ بالکل ظاہر جس میں کوئی اشکال نہیں ہاں اسے حضرت ابراہیم کی طرف لوٹانا بھی ہے تو اچھا اس لئے کہ کلام انہی کے بارے میں ہے قصہ انہی کا بیان ہو رہا ہے لیکن بعد کے ناموں میں سے لوط کا نام اولاد آدم میں ہونا ذرا مشکل ہے اس لئے کہ حضرت لوط خلیل اللہ کی اولاد میں نہیں بلکہ ان کے والد کا نام ماران ہے وہ آزر کے لڑکے تھے تو وہ آپ کے بھتیجے ہوئے ہاں اس کا جواب یہ ہوسکتا ہے کہ باعتبار غلبے کے انہیں بھی اولاد میں شامل کرلیا گیا جیسے کہ آیت (اَمْ كُنْتُمْ شُهَدَاۗءَ اِذْ حَضَرَ يَعْقُوْبَ الْمَوْتُ ۙ اِذْ قَالَ لِبَنِيْهِ مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْۢ بَعْدِيْ) 2۔ البقرۃ :133) میں حضرت اسمعیل کو جو اولاد یعقوب کے چچا تھا باپوں میں شمار کرلیا گیا ہے، ہاں یہ بھی خیال رہے کہ حضرت عیسیٰ کو اولاد ابراہیم یا اولاد نوح میں گننا اس بنا پر ہے کہ لڑکیوں کی اولاد یعنی نواسے بھی اولاد میں داخل ہیں کیونکہ حضرت عیسیٰ بن باپ کے پیدا ہوئے تھے، روایت میں ہے حجاج نے حضرت یحییٰ بن یعمر کے پاس آدمی بھیجا کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ تو حسن حسین کو آنحضرت ﷺ کی اولاد میں گنتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ قرآن سے ثابت ہے لیکن میں تو پورے قرآن میں کسی جگہ یہ نہیں پاتا، آپ نے جواب دیا کیا تو نے سورة انعام میں آیت (وَمِنْ ذُرِّيَّتِهٖ دَاوٗدَ وَسُلَيْمٰنَ وَاَيُّوْبَ وَيُوْسُفَ وَمُوْسٰي وَهٰرُوْنَ ۭوَكَذٰلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِيْنَ) 6۔ الانعام :84) نہیں پڑھا اس نے کہا ہاں یہ تو پڑھا ہے کہا پھر دیکھو اس میں حضرت عیسیٰ کا نام ہے اور ان کا کوئی باپ تھا ہی نہیں تو معلوم ہوا کہ لڑکی کی اولاد بھی اولاد ہی ہے حجاج نے کہا بیشک آپ سچے ہیں اسی لئے مسئلہ ہے کہ جب کوئی شخص اپنی ذریت کے لئے وصیت کرے یا وقف کرے یا ہبہ کرے تو لڑکیوں کی اولاد بھی اس میں داخل ہے ہاں اگر اس نے اپنے لڑکوں کو دیا ہے یا ان پر وقف کیا ہے تو اس کے اپنے صلبی لڑکے اور لڑکوں کے لڑکے اس میں شامل ہوں گے اس کی دلیل عربی شاعر کا یہ شعر سنئے۔ بنو نا بنوا ابنا ئنا و بنا تنا بنو ھن ابناء الرجال الا جانب یعنی ہمارے لڑکوں کے لڑکے تو ہمارے لڑکے ہیں اور ہماری لڑکیوں کے لڑکے اجنبیوں کے لڑکے ہیں اور لوگ کہتے ہیں کہ لڑکیوں کے لڑکے بھی ان میں داخل ہیں کیونکہ صحیح بخاری شریف کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت حسن بن علی ؓ عنمہا کی نسبت فرمایا میرا یہ لڑکا سید ہے اور انشاء اللہ اس کی وجہ سے مسلمانوں کی دو بڑی جماعتوں میں اللہ تعالیٰ صلح کرا دے گا، پس نواسے کو اپنا لڑکا کہنے سے لڑکیوں کی اولاد کا بھی اپنی اولاد میں داخل ہونا ثابت ہوا اور لوگ کہتے ہیں کہ یہ مجاز ہے، اس کے بعد فرمایا ان کے باپ دادے ان کی اولادیں ان کے بھائی الغرض اصول و فروع اور اہل طبقہ کا ذکر آگیا کہ ہدایت اور پسندیدگی ان سب کو گھیرے ہوئے ہے، یہ اللہ کی سچی اور سیدھی راہ پر لگا دیئے گئے ہیں۔ یہ جو کچھ انہیں حاصل ہوا یہ اللہ کی مہربانی اس کی توفیق اور اس کی ہدایت سے ہے۔ پھر شرک کا کامل برائی لوگوں کے ذہن میں آجائے اس لئے فرمایا کہ اگر بالفرض نبیوں کا یہ گروہ بھی شرک کر بیٹھے تو ان کی بھی تمام تر نیکیاں ضائع ہوجائیں جیسے ارشاد ہے آیت (وَلَقَدْ اُوْحِيَ اِلَيْكَ وَاِلَى الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكَ ۚ لَىِٕنْ اَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ) 39۔ الزمر :65) تجھ پر اور تجھ سے پہلے کے ایک ایک نبی پر یہ وحی بھیج دی گئی کہ اگر تو نے شرک کیا تو تیرے اعمال اکارت ہوجائیں گے یہ یاد رہے کہ یہ شرط ہے اور شرط کا واقع ہونا ہی ضروری نہیں جیسے فرمان ہے آیت (قُلْ اِنْ كَان للرَّحْمٰنِ وَلَدٌ ڰ فَاَنَا اَوَّلُ الْعٰبِدِيْنَ) 43۔ الزخرف :81) یعنی اگر اللہ کی اولاد ہو تو میں تو سب سے پہلے ماننے والا بن جاؤں اور جیسے اور آیت میں ہے آیت (لَـوْ اَرَدْنَآ اَنْ نَّتَّخِذَ لَهْوًا لَّاتَّخَذْنٰهُ مِنْ لَّدُنَّآ ڰ اِنْ كُنَّا فٰعِلِيْنَ) 21۔ الانبیآء :17) یعنی اگر کھیل تماشا بنانا ہی چاہتے ہو تو اپنے پاس سے ہی بنا لیتے اور فرمان ہے آیت (لَوْ اَرَاد اللّٰهُ اَنْ يَّتَّخِذَ وَلَدًا لَّاصْطَفٰى مِمَّا يَخْلُقُ مَا يَشَاۗءُ ۙ سُبْحٰنَهٗ) 39۔ الزمر :4) اگر اللہ تعالیٰ اولاد کا ہی ارادہ کرتا تو اپنی مخلوق میں سے جسے چاہتا چن لیتا لیکن وہ اس سے پاک ہے اور وہ یکتا اور غالب ہے، پھر فرمایا بندوں پر رحمت نازل فرمانے کیلئے ہم نے انہیں کتاب حکمت اور نبوت عطا فرمائی پس اگر یہ لوگ یعنی اہل مکہ اس کے ساتھ یعنی نبوت کے ساتھ یا کتاب و حکمت و نبوت کے ساتھ کفر کریں یہ اگر ان نعمتوں کا انکار کریں خواہ قریش ہوں خواہ اہل کتاب ہوں خواہ کوئی اور عربی یا عجمی ہوں تو کوئی حرج نہیں۔ ہم نے ایک قوم ایسی بھی تیار کر رکھی ہے جو اس کے ساتھ کبھی کفر نہ کرے گی۔ یعنی مہاجرین انصار اور ان کی تابعداری کرنے والے ان کے بعد آنے والے یہ لوگ نہ کسی امر کا انکار کریں گے نہ تحریف یا ردوبدل کریں گے بلکہ ایمان کامل لے آئیں گے ہر ہر حرف کو مانیں گے محکم متشابہ سب کا اقرار کریں گے سب پر عقیدہ رکھیں گے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اپنے فضل و کرم سے ان ہی باایمان لوگوں میں کر دے، پھر اپنے پیغمبر ﷺ سے خطاب کر کے فرماتا ہے جن انبیاء کرام (علیہم السلام) کا ذکر ہوا اور جو مجمل طور پر ان کے بڑوں چھوٹوں اور لواحقین میں سے مذکور ہوئے یہی سب اہل ہدایت ہیں تو اپنے نبی آخر الزمان ہی کی اقتدا اور اتباع کرو اور جب یہ حکم نبی ﷺ کو ہے تو ظاہر ہے کہ آپ کی امت بطور اولی اس میں داخل ہے صحیح بخاری شریف میں اس آیت کی تفسیر میں حدیث لائے ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ سے آپ کے شاگرد رشید حضرت مجاہد ؒ نے سوال کیا کہ کیا سورة ص میں سجدہ ہے ؟ آپ نے فرمایا ہاں ہے پھر آپ نے یہ یہ آیت تلاوت فرمائی اور فرمایا آنحضرت ﷺ کو ان کی تابعداری کا حکم ہوا ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ اے نبی ان میں اعلان کردو کہ یہ میں تو قرآن پہنچانے کا کوئی معاوضہ یا بدلہ یا اجرت تم سے نہیں چاہتا۔ یہ تو صرف دنیا کیلئے نصیحت ہے کہ وہ اندھے پن کو چھوڑ کر آنکھوں کا نور حاصل کرلیں اور برائی سے کٹ کر بھلائی پالیں اور کفر سے نکل کر ایمان میں آجائیں۔
88
View Single
ذَٰلِكَ هُدَى ٱللَّهِ يَهۡدِي بِهِۦ مَن يَشَآءُ مِنۡ عِبَادِهِۦۚ وَلَوۡ أَشۡرَكُواْ لَحَبِطَ عَنۡهُم مَّا كَانُواْ يَعۡمَلُونَ
This is the guidance of Allah, which He may give to whomever He wills among His bondmen; and had they ascribed partners (to Allah), their deeds would have been wasted.
یہ اللہ کی ہدایت ہے وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے اس کے ذریعے رہنمائی فرماتا ہے، اور اگر (بالفرض) یہ لوگ شرک کرتے تو ان سے وہ سارے اعمالِ (خیر) ضبط (یعنی نیست و نابود) ہو جاتے جو وہ انجام دیتے تھے
Tafsir Ibn Kathir
Ibrahim Receives the News of Ishaq and Ya`qub During His Old Age
Allah states that after Ibrahim became old and he, and his wife, Sarah, lost hope of having children, He gave them Ishaq. The angels came to Ibrahim on their way to the people of Prophet Lut (to destroy them) and they delivered the good news of a child to Ibrahim and his wife. Ibrahim's wife was amazed at the news,
قَالَتْ يوَيْلَتَا ءَأَلِدُ وَأَنَاْ عَجُوزٌ وَهَـذَا بَعْلِى شَيْخًا إِنَّ هَـذَا لَشَىْءٌ عَجِيبٌ - قَالُواْ أَتَعْجَبِينَ مِنْ أَمْرِ اللَّهِ رَحْمَتُ اللَّهِ وَبَرَكَـتُهُ عَلَيْكُمْ أَهْلَ الْبَيْتِ إِنَّهُ حَمِيدٌ مَّجِيدٌ
(She said (in astonishment): "Woe unto me! Shall I bear a child while I am an old woman, and here is my husband, an old man Verily! This is a strange thing!" They said: "Do you wonder at the decree of Allah The mercy of Allah and His blessings be on you, O the family of Ibrahim. Surely, He (Allah) is All-Praiseworthy, All-Glorious.") 11:72-73 The angels also gave them the good news that Ishaq will be a Prophet and that he will have offspring of his own. In another Ayah, Allah said;
وَبَشَّرْنَـهُ بِإِسْحَـقَ نَبِيّاً مِّنَ الصَّـلِحِينَ
(And We gave him the good news of Ishaq a Prophet from the righteous.)37:112, which perfects this good news and completes the favor. Allah said,
بِإِسْحَـقَ وَمِن وَرَآءِ إِسْحَـقَ يَعْقُوبَ
(of Ishaq, and after him, of Ya`qub...) 11:71, meaning, this child will have another child in your lifetime, so that your eyes are comforted by him, just as your eyes will be comforted by his father. Certainly, one becomes jubilant and joyous when he becomes a grandfather, because this means that his offspring will continue to exist. It was also expected that if an elderly couple had children, due to the child's weakness, he would have no offspring. This is why Allah delivered the good news of Ishaq and of his son Ya`qub, whose name literally means `multiplying and having offspring'. This was a reward for Ibrahim who left his people and migrated from their land so that he could worship Allah alone. Allah compensated Ibrahim with better than his people and tribe when He gave him righteous children of his own, who would follow his religion, so that his eyes would be comforted by them. In another Ayah, Allah said; a
فَلَمَّا اعْتَزَلَهُمْ وَمَا يَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّهِ وَهَبْنَا لَهُ إِسْحَـقَ وَيَعْقُوبَ وَكُلاًّ جَعَلْنَا نَبِيّاً
(So when he turned away from them and from those whom they worshipped besides Allah, We gave him Ishaq and Ya`qub, and each one of them We made a Prophet.) 19:49 Allah said here,
وَوَهَبْنَا لَهُ إِسْحَـقَ وَيَعْقُوبَ كُلاًّ هَدَيْنَا
(And We bestowed upon him Ishaq and Ya`qub, each of them We guided,) Allah said;
وَنُوحاً هَدَيْنَا مِن قَبْلُ
(and before him, We guided Nuh...) meaning, We guided Nuh before and gave him righteous offspring, just as We guided Ibrahim and gave him righteous children.
Qualities of Nuh and Ibrahim
Each of these two Prophets had special qualities. When Allah caused the people of the earth to drown, except those who believed in Nuh and accompanied him in the ark, Allah made the offspring of Nuh the dwellers of the earth thereafter. Ever since that occurred, the people of the earth were and still are the descendants of Nuh. As for Ibrahim, Allah did not send a Prophet after him but from his descendants. Allah said in other Ayat,
وَجَعَلْنَا فِى ذُرِّيَّتِهِمَا النُّبُوَّةَ وَالْكِتَـبَ
(And We ordained among his (Ibrahim's) offspring prophethood and the Book.) 29:27,
وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا نُوحاً وَإِبْرَهِيمَ وَجَعَلْنَا فِى ذُرِّيَّتِهِمَا النُّبُوَّةَ وَالْكِتَـبَ
(And indeed, We sent Nuh and Ibrahim, and placed in their offspring Prophethood and the Book.) 57:26, and,
أُولَـئِكَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِم مِّنَ النَّبِيِّيْنَ مِن ذُرِّيَّةِ ءادَمَ وَمِمَّنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوحٍ وَمِن ذُرِّيَّةِ إِبْرَهِيمَ وَإِسْرَءِيلَ وَمِمَّنْ هَدَيْنَا وَاجْتَبَيْنَآ إِذَا تُتْلَى عَلَيْهِمْ ءايَـتُ الرَّحْمَـنِ خَرُّواْ سُجَّداً وَبُكِيّاً
(Those were they unto whom Allah bestowed His grace from among the Prophets, of the offspring of Adam, and of those whom We carried (in the ship) with Nuh, and of the offspring of Ibrahim and Isra'il and from among those whom We guided and chose. When the verses of the Most Beneficent (Allah) were recited unto them, they fell down prostrating and weeping.) 19:58 Allah said in this honorable Ayah here,
وَمِن ذُرِّيَّتِهِ
(and among his progeny...) meaning, We guided from among his offspring,
دَاوُودَ وَسُلَيْمَـنَ
(Dawud, Sulayman...) from the offspring of Nuh, according to Ibn Jarir. It is also possible that the Ayah refers to Ibrahim since it is about him that the blessings were originally mentioned here, although Lut is not from his offspring, for he was Ibrahim's nephew, the son of his brother Maran, the son of Azar. It is possible to say that Lut was mentioned in Ibrahim's offspring as a generalization. As Allah said,
أَمْ كُنتُمْ شُهَدَآءَ إِذْ حَضَرَ يَعْقُوبَ الْمَوْتُ إِذْ قَالَ لِبَنِيهِ مَا تَعْبُدُونَ مِن بَعْدِى قَالُواْ نَعْبُدُ إِلَـهَكَ وَإِلَـهَ آبَآئِكَ إِبْرَهِيمَ وَإِسْمَـعِيلَ وَإِسْحَـقَ إِلَـهًا وَاحِدًا وَنَحْنُ لَهُ مُسْلِمُونَ
(Or were you witnesses when death approached Ya`qub When he said unto his sons, "What will you worship after me" They said, "We shall worship your God, and the God of your fathers, Ibrahim, Isma`il, Ishaq, One God, and to Him we submit.") 2:133. Here, Isma`il was mentioned among the ascendants of Ya`qub, although he was Ya`qub's uncle. Similarly Allah said,
فَسَجَدَ الْمَلَـئِكَةُ كُلُّهُمْ أَجْمَعُونَ - إِلاَّ إِبْلِيسَ أَبَى أَن يَكُونَ مَعَ السَّـجِدِينَ
(So the angels prostrated themselves, all of them together. Except Iblis -- he refused to be among those to prostrate.) 15:30-31. Allah included Iblis in His order to the angels to prostrate, and chastised him for his opposition, all because he was similar to them in that (order), so he was considered among them in general, although he was a Jinn. Iblis was created from fire while the angels were created from light. Mentioning `Isa in the offspring of Ibrahim, or Nuh as we stated above, is proof that the grandchildren from a man's daughter's side are included among his offspring. `Isa is included among Ibrahim's progeny through his mother, although `Isa did not have a father. Ibn Abi Hatim recorded that Abu Harb bin Abi Al-Aswad said, "Al-Hajjaj sent to Yahya bin Ya`mar, saying, `I was told that you claim that Al-Hasan and Al-Husayn are from the offspring of the Prophet , did you find it in the Book of Allah I read the Qur'an from beginning to end and did not find it.' Yahya said, `Do you not read in Surat Al-An`am,
وَمِن ذُرِّيَّتِهِ دَاوُودَ وَسُلَيْمَـنَ
(and among his progeny Dawud, Sulayman...) until,
وَيَحْيَى وَعِيسَى
(and Yahya and `Isa...) Al-Hajjaj said, `Yes.' Yahya said, `Is not `Isa from the offspring of Ibrahim, although he did not have a father' Al-Hajjaj said, `You have said the truth."' For example, when a man leaves behind a legacy, a trust, or gift to his "offspring" then the children of his daughters are included. But if a man gives something to his "sons", or he leaves a trust behind for them, then that would be particular to his male children and their male children. Allah's statement,
وَمِنْ ءابَائِهِمْ وَذُرِّيَّـتِهِمْ وَإِخْوَنِهِمْ
(And also some of their fathers and their progeny and their brethren,) 6:87, mentions that some of these Prophets' ascendants and descendants were also guided and chosen. So Allah said,
وَاجْتَبَيْنَـهُمْ وَهَدَيْنَـهُمْ إِلَى صِرَطٍ مُّسْتَقِيمٍ
(We chose them, and We guided them to a straight path.)
Shirk Eradicates the Deeds, Even the Deeds of the Messengers
Allah said next,
ذلِكَ هُدَى اللَّهِ يَهْدِى بِهِ مَن يَشَآءُ مِنْ عِبَادِهِ
(This is the guidance of Allah with which He guides whomsoever He wills of His servants.) meaning, this occurred to them by Allah's leave and because He directed them to guidance. Allah said;
وَلَوْ أَشْرَكُواْ لَحَبِطَ عَنْهُمْ مَّا كَانُواْ يَعْمَلُونَ
(But if they had joined in worship others with Allah, all that they used to do would have been of no benefit to them.) This magnifies the serious danger of Shirk and the gravity of committing it. In another Ayah, Allah said;
وَلَقَدْ أُوْحِىَ إِلَيْكَ وَإِلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكَ لَئِنْ أَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ
(And indeed it has been revealed to you, as it was to those (Allah's Messengers) before you: "If you join others in worship with Allah, surely your deeds will be in vain.") 39:65 `If' here does not mean that this would ever occur, as is similar in Allah's statement;
قُلْ إِن كَانَ لِلرَّحْمَـنِ وَلَدٌ فَأَنَاْ أَوَّلُ الْعَـبِدِينَ
(Say: "If the Most Beneficent had a son, then I am the first of Allah's worshippers.") 43:81, and
لَوْ أَرَدْنَآ أَن نَّتَّخِذَ لَهْواً لاَّتَّخَذْنَـهُ مِن لَّدُنَّآ إِن كُنَّا فَـعِلِينَ
(If We intended to take a pastime (a wife or a son, etc.) We could surely have taken it from Us, if We were going to do (that)) 21:17, and,
لَّوْ أَرَادَ اللَّهُ أَن يَتَّخِذَ وَلَداً لاَّصْطَفَى مِمَّا يَخْلُقُ مَا يَشَآءُ سُبْحَـنَهُ هُوَ اللَّهُ الْوَحِدُ الْقَهَّارُ
(If Allah willed to take a son, He could have chosen whom He pleased out of those whom He created. But glory be to Him! He is Allah, the One, the Compelling.) 39:4 Allah said,
أُوْلَـئِكَ الَّذِينَ ءَاتَيْنَـهُمُ الْكِتَـبَ وَالْحُكْمَ وَالنُّبُوَّةَ
(They are those whom We gave the Book, Al-Hukm, and prophethood.) We bestowed these bounties on them, as a mercy for the servants, and out of our kindness for creation.
فَإِن يَكْفُرْ بِهَا
(But if they disbelieve therein...) in the prophethood, or the three things; the Book, the Hukm and the prophethood,
هَـؤُلاءِ
(They...) refers to the people of Makkah, according to Ibn `Abbas, Sa`id bin Al-Musayyib, Ad-Dahhak, Qatadah, As-Suddi, and others.
فَقَدْ وَكَّلْنَا بِهَا قَوْماً لَّيْسُواْ بِهَا بِكَـفِرِينَ
(then, indeed We have entrusted it to a people who are not disbelievers therein.) This Ayah means, if the Quraysh and the rest of the people of the earth - Arabs and non-Arabs, illiterate and the People of the Scripture - disbelieve in these bounties, then We have entrusted them to another people, the Muhajirun and Ansar, and those who follow their lead until the Day of Resurrection,
لَّيْسُواْ بِهَا بِكَـفِرِينَ
(who are not disbelievers therein.) They will not deny any of these favors, not even one letter. Rather, they will believe in them totally, even the parts that are not so clear to some of them. We ask Allah to make us among them by His favor, generosity and kindness. Addressing His servant and Messenger, Muhammad , Allah said;
أُوْلَـئِكَ
(They are...) the Prophets mentioned here, along with their righteous fathers, offspring and bretheren,
الَّذِينَ هَدَى اللَّهُ
(those whom Allah had guided.) meaning, they alone are the people of guidance,
فَبِهُدَاهُمُ اقْتَدِهْ
(So follow their guidance.) Imitate them. This command to the Messenger certainly applies to his Ummah, according to what he legislates and commands them. While mentioning this Ayah, Al-Bukhari recorded that Mujahid asked Ibn `Abbas, "Is there an instance where prostration is warranted in Surah Sad" Ibn `Abbas said, "Yes." He then recited,
وَوَهَبْنَا لَهُ إِسْحَـقَ وَيَعْقُوبَ
(...And We bestowed upon him Ishaq and Ya`qub...) until,
فَبِهُدَاهُمُ اقْتَدِهْ
(...So follow their guidance.) He commented, "He (our Prophet, Muhammad ) was among them." In another narration, Mujahid added that Ibn `Abbas said, "Your Prophet was among those whose guidance we were commanded to follow." Allah's statement,
قُل لاَّ أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْراً
(Say: "No reward I ask of you for this.") means, I do not ask you for any reward for delivering the Qur'an to you, nor anything else,
إِنْ هُوَ إِلاَّ ذِكْرَى لِلْعَـلَمِينَ
("It is only a reminder for the `Alamin (mankind and Jinns).") so they are reminded by it and guided from blindness to clarity, from misguidance to guidance, and from disbelief to faith.
خلیل الرحمن کو بشارت اولاد اللہ تعالیٰ اپنا احسان بیان فرما رہا ہے کہ خلیل الرحمن کو اس نے ان کے بڑھاپے کے وقت بیٹا عطا فرمایا جن کا نام اسحاق ہے اس وقت آپ بھی اولاد سے مایوس ہوچکے تھے اور آپ کی بیوی صاحبہ حضرت سارہ بھی مایوس ہوچکی تھیں جو فرشتے بشارت سنانے آتے ہیں وہ قوم لوط کی ہلاکت کیلئے جا رہے تھے۔ ان سے بشارت سن کر مائی صاحبہ سخت متعجب ہو کر کہتی ہیں میں بڑھیا کھوسٹ ہوچکی میرے خاوند عمر سے اتر چکے ہمارے ہاں بچہ ہونا تعجب کی بات ہے۔ فرشتوں نے جواب دیا اللہ کی قدرت میں ایسے تعجبات عام ہوتے ہیں۔ اے نبی کے گھرانے والو تم پر رب کی رحمتیں اور برکتیں نازل ہوں اللہ بڑی تعریفوں والا اور بڑی بزرگیوں والا ہے اتنا ہی نہیں کہ تمہارے ہاں بچہ ہوگا بلکہ وہ نبی زادہ خود بھی نبی ہوگا اور اس سے تمہاری نسل پھیلے گی اور باقی رہے گی، قرآن کی اور آیت میں بشارت کے الفاظ میں نبیا کا لفظ بھی ہے پھر لطف یہ ہے کہ اولاد کی اولاد بھی تم دیکھ لو گے اسحاق کے گھر یعقوب پیدا ہوں گے اور تمہیں خوشی پر خوشی ہوگی اور پھر پوتے کا نام یعقوب رکھنا جو عقب سے مشتق ہے خوشخبری ہے اس امر کی کہ یہ نسل جاری رہے گی۔ فی الواقع خلیل اللہ ؑ اس بشارت کے قابل بھی تھے قوم کو چھوڑ ان سے منہ موڑا شہر کو چھوڑا ہجرت کی، اللہ نے دنیا میں بھی انعام دیئے، اتنی نسل پھیلائی جو آج تک دنیا میں آباد ہے۔ فرمان الہی ہے کہ جب ابراہیم نے اپنی قوم کو اور ان کے معبودوں کو چھوڑا تو ہم نے انہیں اسحاق و یعقوب بخشا اور دونوں کو نبی بنایا، یہاں فرمایا ان سب کو ہم نے ہدایت دی تھی اور ان کی بھی نیک اولاد دنیا میں باقی رہی، طوفان نوح میں کفار سب غرق ہوگئے پھر حضرت نوح کی نسل پھیلی انبیاء انہی کی نسل میں سے ہوتے رہے، حضرت ابراہیم کے بعد تو نبوت انہی کے گھرانے میں رہی جیسے فرمان ہے آیت (وَجَعَلْنَا فِيْ ذُرِّيَّتِهِ النُّبُوَّةَ وَالْكِتٰبَ وَاٰتَيْنٰهُ اَجْرَهٗ فِي الدُّنْيَا) 29۔ العنکبوت :27) ہم نے ان ہی کی اولاد میں نبوت اور کتاب رکھی اور آیت میں ہے آیت (وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا وَّاِبْرٰهِيْمَ وَجَعَلْنَا فِيْ ذُرِّيَّـتِهِمَا النُّبُوَّةَ وَالْكِتٰبَ فَمِنْهُمْ مُّهْتَدٍ ۚ وَكَثِيْرٌ مِّنْهُمْ فٰسِقُوْنَ) 57۔ الحدید :26) یعنی ہم نے نوح اور ابراہیم کو رسول بنا کر پھر ان ہی دونوں کی اولاد میں نبوت اور کتاب کردی اور آیت میں ہے یہ ہیں جن پر انعام الہی ہوا۔ نبیوں میں سے آدم کو اولاد میں سے اور جنہیں ہم نے نوح کے ساتھ کشتی میں لے لیا تھا اور ابراہیم اور اسرائیل کی اولاد میں سے اور جنہیں ہم نے ہدایت کی تھی اور پسند کرلیا تھا ان پر جب رحمان کی آیتیں پڑھی جاتی تھیں تو روتے گڑگڑاتے سجدے میں گرپڑتے تھے پھر فرمایا ہم نے اس کی اولاد میں سے داؤد و سلیمان کو ہدایت کی، اس میں اگر ضمیر کا مرجع نوح کو کیا جائے تو ٹھیک ہے اس لئے کہ ضمیر سے پہلے سب سے قریب نام یہی ہے۔ امام ابن جریر اسی کو پسند فرماتے ہیں اور ہے بھی یہ بالکل ظاہر جس میں کوئی اشکال نہیں ہاں اسے حضرت ابراہیم کی طرف لوٹانا بھی ہے تو اچھا اس لئے کہ کلام انہی کے بارے میں ہے قصہ انہی کا بیان ہو رہا ہے لیکن بعد کے ناموں میں سے لوط کا نام اولاد آدم میں ہونا ذرا مشکل ہے اس لئے کہ حضرت لوط خلیل اللہ کی اولاد میں نہیں بلکہ ان کے والد کا نام ماران ہے وہ آزر کے لڑکے تھے تو وہ آپ کے بھتیجے ہوئے ہاں اس کا جواب یہ ہوسکتا ہے کہ باعتبار غلبے کے انہیں بھی اولاد میں شامل کرلیا گیا جیسے کہ آیت (اَمْ كُنْتُمْ شُهَدَاۗءَ اِذْ حَضَرَ يَعْقُوْبَ الْمَوْتُ ۙ اِذْ قَالَ لِبَنِيْهِ مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْۢ بَعْدِيْ) 2۔ البقرۃ :133) میں حضرت اسمعیل کو جو اولاد یعقوب کے چچا تھا باپوں میں شمار کرلیا گیا ہے، ہاں یہ بھی خیال رہے کہ حضرت عیسیٰ کو اولاد ابراہیم یا اولاد نوح میں گننا اس بنا پر ہے کہ لڑکیوں کی اولاد یعنی نواسے بھی اولاد میں داخل ہیں کیونکہ حضرت عیسیٰ بن باپ کے پیدا ہوئے تھے، روایت میں ہے حجاج نے حضرت یحییٰ بن یعمر کے پاس آدمی بھیجا کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ تو حسن حسین کو آنحضرت ﷺ کی اولاد میں گنتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ قرآن سے ثابت ہے لیکن میں تو پورے قرآن میں کسی جگہ یہ نہیں پاتا، آپ نے جواب دیا کیا تو نے سورة انعام میں آیت (وَمِنْ ذُرِّيَّتِهٖ دَاوٗدَ وَسُلَيْمٰنَ وَاَيُّوْبَ وَيُوْسُفَ وَمُوْسٰي وَهٰرُوْنَ ۭوَكَذٰلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِيْنَ) 6۔ الانعام :84) نہیں پڑھا اس نے کہا ہاں یہ تو پڑھا ہے کہا پھر دیکھو اس میں حضرت عیسیٰ کا نام ہے اور ان کا کوئی باپ تھا ہی نہیں تو معلوم ہوا کہ لڑکی کی اولاد بھی اولاد ہی ہے حجاج نے کہا بیشک آپ سچے ہیں اسی لئے مسئلہ ہے کہ جب کوئی شخص اپنی ذریت کے لئے وصیت کرے یا وقف کرے یا ہبہ کرے تو لڑکیوں کی اولاد بھی اس میں داخل ہے ہاں اگر اس نے اپنے لڑکوں کو دیا ہے یا ان پر وقف کیا ہے تو اس کے اپنے صلبی لڑکے اور لڑکوں کے لڑکے اس میں شامل ہوں گے اس کی دلیل عربی شاعر کا یہ شعر سنئے۔ بنو نا بنوا ابنا ئنا و بنا تنا بنو ھن ابناء الرجال الا جانب یعنی ہمارے لڑکوں کے لڑکے تو ہمارے لڑکے ہیں اور ہماری لڑکیوں کے لڑکے اجنبیوں کے لڑکے ہیں اور لوگ کہتے ہیں کہ لڑکیوں کے لڑکے بھی ان میں داخل ہیں کیونکہ صحیح بخاری شریف کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت حسن بن علی ؓ عنمہا کی نسبت فرمایا میرا یہ لڑکا سید ہے اور انشاء اللہ اس کی وجہ سے مسلمانوں کی دو بڑی جماعتوں میں اللہ تعالیٰ صلح کرا دے گا، پس نواسے کو اپنا لڑکا کہنے سے لڑکیوں کی اولاد کا بھی اپنی اولاد میں داخل ہونا ثابت ہوا اور لوگ کہتے ہیں کہ یہ مجاز ہے، اس کے بعد فرمایا ان کے باپ دادے ان کی اولادیں ان کے بھائی الغرض اصول و فروع اور اہل طبقہ کا ذکر آگیا کہ ہدایت اور پسندیدگی ان سب کو گھیرے ہوئے ہے، یہ اللہ کی سچی اور سیدھی راہ پر لگا دیئے گئے ہیں۔ یہ جو کچھ انہیں حاصل ہوا یہ اللہ کی مہربانی اس کی توفیق اور اس کی ہدایت سے ہے۔ پھر شرک کا کامل برائی لوگوں کے ذہن میں آجائے اس لئے فرمایا کہ اگر بالفرض نبیوں کا یہ گروہ بھی شرک کر بیٹھے تو ان کی بھی تمام تر نیکیاں ضائع ہوجائیں جیسے ارشاد ہے آیت (وَلَقَدْ اُوْحِيَ اِلَيْكَ وَاِلَى الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكَ ۚ لَىِٕنْ اَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ) 39۔ الزمر :65) تجھ پر اور تجھ سے پہلے کے ایک ایک نبی پر یہ وحی بھیج دی گئی کہ اگر تو نے شرک کیا تو تیرے اعمال اکارت ہوجائیں گے یہ یاد رہے کہ یہ شرط ہے اور شرط کا واقع ہونا ہی ضروری نہیں جیسے فرمان ہے آیت (قُلْ اِنْ كَان للرَّحْمٰنِ وَلَدٌ ڰ فَاَنَا اَوَّلُ الْعٰبِدِيْنَ) 43۔ الزخرف :81) یعنی اگر اللہ کی اولاد ہو تو میں تو سب سے پہلے ماننے والا بن جاؤں اور جیسے اور آیت میں ہے آیت (لَـوْ اَرَدْنَآ اَنْ نَّتَّخِذَ لَهْوًا لَّاتَّخَذْنٰهُ مِنْ لَّدُنَّآ ڰ اِنْ كُنَّا فٰعِلِيْنَ) 21۔ الانبیآء :17) یعنی اگر کھیل تماشا بنانا ہی چاہتے ہو تو اپنے پاس سے ہی بنا لیتے اور فرمان ہے آیت (لَوْ اَرَاد اللّٰهُ اَنْ يَّتَّخِذَ وَلَدًا لَّاصْطَفٰى مِمَّا يَخْلُقُ مَا يَشَاۗءُ ۙ سُبْحٰنَهٗ) 39۔ الزمر :4) اگر اللہ تعالیٰ اولاد کا ہی ارادہ کرتا تو اپنی مخلوق میں سے جسے چاہتا چن لیتا لیکن وہ اس سے پاک ہے اور وہ یکتا اور غالب ہے، پھر فرمایا بندوں پر رحمت نازل فرمانے کیلئے ہم نے انہیں کتاب حکمت اور نبوت عطا فرمائی پس اگر یہ لوگ یعنی اہل مکہ اس کے ساتھ یعنی نبوت کے ساتھ یا کتاب و حکمت و نبوت کے ساتھ کفر کریں یہ اگر ان نعمتوں کا انکار کریں خواہ قریش ہوں خواہ اہل کتاب ہوں خواہ کوئی اور عربی یا عجمی ہوں تو کوئی حرج نہیں۔ ہم نے ایک قوم ایسی بھی تیار کر رکھی ہے جو اس کے ساتھ کبھی کفر نہ کرے گی۔ یعنی مہاجرین انصار اور ان کی تابعداری کرنے والے ان کے بعد آنے والے یہ لوگ نہ کسی امر کا انکار کریں گے نہ تحریف یا ردوبدل کریں گے بلکہ ایمان کامل لے آئیں گے ہر ہر حرف کو مانیں گے محکم متشابہ سب کا اقرار کریں گے سب پر عقیدہ رکھیں گے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اپنے فضل و کرم سے ان ہی باایمان لوگوں میں کر دے، پھر اپنے پیغمبر ﷺ سے خطاب کر کے فرماتا ہے جن انبیاء کرام (علیہم السلام) کا ذکر ہوا اور جو مجمل طور پر ان کے بڑوں چھوٹوں اور لواحقین میں سے مذکور ہوئے یہی سب اہل ہدایت ہیں تو اپنے نبی آخر الزمان ہی کی اقتدا اور اتباع کرو اور جب یہ حکم نبی ﷺ کو ہے تو ظاہر ہے کہ آپ کی امت بطور اولی اس میں داخل ہے صحیح بخاری شریف میں اس آیت کی تفسیر میں حدیث لائے ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ سے آپ کے شاگرد رشید حضرت مجاہد ؒ نے سوال کیا کہ کیا سورة ص میں سجدہ ہے ؟ آپ نے فرمایا ہاں ہے پھر آپ نے یہ یہ آیت تلاوت فرمائی اور فرمایا آنحضرت ﷺ کو ان کی تابعداری کا حکم ہوا ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ اے نبی ان میں اعلان کردو کہ یہ میں تو قرآن پہنچانے کا کوئی معاوضہ یا بدلہ یا اجرت تم سے نہیں چاہتا۔ یہ تو صرف دنیا کیلئے نصیحت ہے کہ وہ اندھے پن کو چھوڑ کر آنکھوں کا نور حاصل کرلیں اور برائی سے کٹ کر بھلائی پالیں اور کفر سے نکل کر ایمان میں آجائیں۔
89
View Single
أُوْلَـٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ ءَاتَيۡنَٰهُمُ ٱلۡكِتَٰبَ وَٱلۡحُكۡمَ وَٱلنُّبُوَّةَۚ فَإِن يَكۡفُرۡ بِهَا هَـٰٓؤُلَآءِ فَقَدۡ وَكَّلۡنَا بِهَا قَوۡمٗا لَّيۡسُواْ بِهَا بِكَٰفِرِينَ
These are the ones whom We gave the Book and the wisdom and the Prophethood; so if these people do not believe in it, We have then kept ready for it a nation who do not reject (the truth).
(یہی) وہ لوگ ہیں جنہیں ہم نے کتاب اور حکمِ (شریعت) اور نبوّت عطا فرمائی تھی۔ پھر اگر یہ لوگ (یعنی کفّار) ان باتوں سے انکار کر دیں تو بیشک ہم نے ان (باتوں) پر (ایمان لانے کے لیے) ایسی قوم کو مقرر کردیا ہے جو ان سے انکار کرنے والے نہیں (ہوں گے)
Tafsir Ibn Kathir
Ibrahim Receives the News of Ishaq and Ya`qub During His Old Age
Allah states that after Ibrahim became old and he, and his wife, Sarah, lost hope of having children, He gave them Ishaq. The angels came to Ibrahim on their way to the people of Prophet Lut (to destroy them) and they delivered the good news of a child to Ibrahim and his wife. Ibrahim's wife was amazed at the news,
قَالَتْ يوَيْلَتَا ءَأَلِدُ وَأَنَاْ عَجُوزٌ وَهَـذَا بَعْلِى شَيْخًا إِنَّ هَـذَا لَشَىْءٌ عَجِيبٌ - قَالُواْ أَتَعْجَبِينَ مِنْ أَمْرِ اللَّهِ رَحْمَتُ اللَّهِ وَبَرَكَـتُهُ عَلَيْكُمْ أَهْلَ الْبَيْتِ إِنَّهُ حَمِيدٌ مَّجِيدٌ
(She said (in astonishment): "Woe unto me! Shall I bear a child while I am an old woman, and here is my husband, an old man Verily! This is a strange thing!" They said: "Do you wonder at the decree of Allah The mercy of Allah and His blessings be on you, O the family of Ibrahim. Surely, He (Allah) is All-Praiseworthy, All-Glorious.") 11:72-73 The angels also gave them the good news that Ishaq will be a Prophet and that he will have offspring of his own. In another Ayah, Allah said;
وَبَشَّرْنَـهُ بِإِسْحَـقَ نَبِيّاً مِّنَ الصَّـلِحِينَ
(And We gave him the good news of Ishaq a Prophet from the righteous.)37:112, which perfects this good news and completes the favor. Allah said,
بِإِسْحَـقَ وَمِن وَرَآءِ إِسْحَـقَ يَعْقُوبَ
(of Ishaq, and after him, of Ya`qub...) 11:71, meaning, this child will have another child in your lifetime, so that your eyes are comforted by him, just as your eyes will be comforted by his father. Certainly, one becomes jubilant and joyous when he becomes a grandfather, because this means that his offspring will continue to exist. It was also expected that if an elderly couple had children, due to the child's weakness, he would have no offspring. This is why Allah delivered the good news of Ishaq and of his son Ya`qub, whose name literally means `multiplying and having offspring'. This was a reward for Ibrahim who left his people and migrated from their land so that he could worship Allah alone. Allah compensated Ibrahim with better than his people and tribe when He gave him righteous children of his own, who would follow his religion, so that his eyes would be comforted by them. In another Ayah, Allah said; a
فَلَمَّا اعْتَزَلَهُمْ وَمَا يَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّهِ وَهَبْنَا لَهُ إِسْحَـقَ وَيَعْقُوبَ وَكُلاًّ جَعَلْنَا نَبِيّاً
(So when he turned away from them and from those whom they worshipped besides Allah, We gave him Ishaq and Ya`qub, and each one of them We made a Prophet.) 19:49 Allah said here,
وَوَهَبْنَا لَهُ إِسْحَـقَ وَيَعْقُوبَ كُلاًّ هَدَيْنَا
(And We bestowed upon him Ishaq and Ya`qub, each of them We guided,) Allah said;
وَنُوحاً هَدَيْنَا مِن قَبْلُ
(and before him, We guided Nuh...) meaning, We guided Nuh before and gave him righteous offspring, just as We guided Ibrahim and gave him righteous children.
Qualities of Nuh and Ibrahim
Each of these two Prophets had special qualities. When Allah caused the people of the earth to drown, except those who believed in Nuh and accompanied him in the ark, Allah made the offspring of Nuh the dwellers of the earth thereafter. Ever since that occurred, the people of the earth were and still are the descendants of Nuh. As for Ibrahim, Allah did not send a Prophet after him but from his descendants. Allah said in other Ayat,
وَجَعَلْنَا فِى ذُرِّيَّتِهِمَا النُّبُوَّةَ وَالْكِتَـبَ
(And We ordained among his (Ibrahim's) offspring prophethood and the Book.) 29:27,
وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا نُوحاً وَإِبْرَهِيمَ وَجَعَلْنَا فِى ذُرِّيَّتِهِمَا النُّبُوَّةَ وَالْكِتَـبَ
(And indeed, We sent Nuh and Ibrahim, and placed in their offspring Prophethood and the Book.) 57:26, and,
أُولَـئِكَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِم مِّنَ النَّبِيِّيْنَ مِن ذُرِّيَّةِ ءادَمَ وَمِمَّنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوحٍ وَمِن ذُرِّيَّةِ إِبْرَهِيمَ وَإِسْرَءِيلَ وَمِمَّنْ هَدَيْنَا وَاجْتَبَيْنَآ إِذَا تُتْلَى عَلَيْهِمْ ءايَـتُ الرَّحْمَـنِ خَرُّواْ سُجَّداً وَبُكِيّاً
(Those were they unto whom Allah bestowed His grace from among the Prophets, of the offspring of Adam, and of those whom We carried (in the ship) with Nuh, and of the offspring of Ibrahim and Isra'il and from among those whom We guided and chose. When the verses of the Most Beneficent (Allah) were recited unto them, they fell down prostrating and weeping.) 19:58 Allah said in this honorable Ayah here,
وَمِن ذُرِّيَّتِهِ
(and among his progeny...) meaning, We guided from among his offspring,
دَاوُودَ وَسُلَيْمَـنَ
(Dawud, Sulayman...) from the offspring of Nuh, according to Ibn Jarir. It is also possible that the Ayah refers to Ibrahim since it is about him that the blessings were originally mentioned here, although Lut is not from his offspring, for he was Ibrahim's nephew, the son of his brother Maran, the son of Azar. It is possible to say that Lut was mentioned in Ibrahim's offspring as a generalization. As Allah said,
أَمْ كُنتُمْ شُهَدَآءَ إِذْ حَضَرَ يَعْقُوبَ الْمَوْتُ إِذْ قَالَ لِبَنِيهِ مَا تَعْبُدُونَ مِن بَعْدِى قَالُواْ نَعْبُدُ إِلَـهَكَ وَإِلَـهَ آبَآئِكَ إِبْرَهِيمَ وَإِسْمَـعِيلَ وَإِسْحَـقَ إِلَـهًا وَاحِدًا وَنَحْنُ لَهُ مُسْلِمُونَ
(Or were you witnesses when death approached Ya`qub When he said unto his sons, "What will you worship after me" They said, "We shall worship your God, and the God of your fathers, Ibrahim, Isma`il, Ishaq, One God, and to Him we submit.") 2:133. Here, Isma`il was mentioned among the ascendants of Ya`qub, although he was Ya`qub's uncle. Similarly Allah said,
فَسَجَدَ الْمَلَـئِكَةُ كُلُّهُمْ أَجْمَعُونَ - إِلاَّ إِبْلِيسَ أَبَى أَن يَكُونَ مَعَ السَّـجِدِينَ
(So the angels prostrated themselves, all of them together. Except Iblis -- he refused to be among those to prostrate.) 15:30-31. Allah included Iblis in His order to the angels to prostrate, and chastised him for his opposition, all because he was similar to them in that (order), so he was considered among them in general, although he was a Jinn. Iblis was created from fire while the angels were created from light. Mentioning `Isa in the offspring of Ibrahim, or Nuh as we stated above, is proof that the grandchildren from a man's daughter's side are included among his offspring. `Isa is included among Ibrahim's progeny through his mother, although `Isa did not have a father. Ibn Abi Hatim recorded that Abu Harb bin Abi Al-Aswad said, "Al-Hajjaj sent to Yahya bin Ya`mar, saying, `I was told that you claim that Al-Hasan and Al-Husayn are from the offspring of the Prophet , did you find it in the Book of Allah I read the Qur'an from beginning to end and did not find it.' Yahya said, `Do you not read in Surat Al-An`am,
وَمِن ذُرِّيَّتِهِ دَاوُودَ وَسُلَيْمَـنَ
(and among his progeny Dawud, Sulayman...) until,
وَيَحْيَى وَعِيسَى
(and Yahya and `Isa...) Al-Hajjaj said, `Yes.' Yahya said, `Is not `Isa from the offspring of Ibrahim, although he did not have a father' Al-Hajjaj said, `You have said the truth."' For example, when a man leaves behind a legacy, a trust, or gift to his "offspring" then the children of his daughters are included. But if a man gives something to his "sons", or he leaves a trust behind for them, then that would be particular to his male children and their male children. Allah's statement,
وَمِنْ ءابَائِهِمْ وَذُرِّيَّـتِهِمْ وَإِخْوَنِهِمْ
(And also some of their fathers and their progeny and their brethren,) 6:87, mentions that some of these Prophets' ascendants and descendants were also guided and chosen. So Allah said,
وَاجْتَبَيْنَـهُمْ وَهَدَيْنَـهُمْ إِلَى صِرَطٍ مُّسْتَقِيمٍ
(We chose them, and We guided them to a straight path.)
Shirk Eradicates the Deeds, Even the Deeds of the Messengers
Allah said next,
ذلِكَ هُدَى اللَّهِ يَهْدِى بِهِ مَن يَشَآءُ مِنْ عِبَادِهِ
(This is the guidance of Allah with which He guides whomsoever He wills of His servants.) meaning, this occurred to them by Allah's leave and because He directed them to guidance. Allah said;
وَلَوْ أَشْرَكُواْ لَحَبِطَ عَنْهُمْ مَّا كَانُواْ يَعْمَلُونَ
(But if they had joined in worship others with Allah, all that they used to do would have been of no benefit to them.) This magnifies the serious danger of Shirk and the gravity of committing it. In another Ayah, Allah said;
وَلَقَدْ أُوْحِىَ إِلَيْكَ وَإِلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكَ لَئِنْ أَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ
(And indeed it has been revealed to you, as it was to those (Allah's Messengers) before you: "If you join others in worship with Allah, surely your deeds will be in vain.") 39:65 `If' here does not mean that this would ever occur, as is similar in Allah's statement;
قُلْ إِن كَانَ لِلرَّحْمَـنِ وَلَدٌ فَأَنَاْ أَوَّلُ الْعَـبِدِينَ
(Say: "If the Most Beneficent had a son, then I am the first of Allah's worshippers.") 43:81, and
لَوْ أَرَدْنَآ أَن نَّتَّخِذَ لَهْواً لاَّتَّخَذْنَـهُ مِن لَّدُنَّآ إِن كُنَّا فَـعِلِينَ
(If We intended to take a pastime (a wife or a son, etc.) We could surely have taken it from Us, if We were going to do (that)) 21:17, and,
لَّوْ أَرَادَ اللَّهُ أَن يَتَّخِذَ وَلَداً لاَّصْطَفَى مِمَّا يَخْلُقُ مَا يَشَآءُ سُبْحَـنَهُ هُوَ اللَّهُ الْوَحِدُ الْقَهَّارُ
(If Allah willed to take a son, He could have chosen whom He pleased out of those whom He created. But glory be to Him! He is Allah, the One, the Compelling.) 39:4 Allah said,
أُوْلَـئِكَ الَّذِينَ ءَاتَيْنَـهُمُ الْكِتَـبَ وَالْحُكْمَ وَالنُّبُوَّةَ
(They are those whom We gave the Book, Al-Hukm, and prophethood.) We bestowed these bounties on them, as a mercy for the servants, and out of our kindness for creation.
فَإِن يَكْفُرْ بِهَا
(But if they disbelieve therein...) in the prophethood, or the three things; the Book, the Hukm and the prophethood,
هَـؤُلاءِ
(They...) refers to the people of Makkah, according to Ibn `Abbas, Sa`id bin Al-Musayyib, Ad-Dahhak, Qatadah, As-Suddi, and others.
فَقَدْ وَكَّلْنَا بِهَا قَوْماً لَّيْسُواْ بِهَا بِكَـفِرِينَ
(then, indeed We have entrusted it to a people who are not disbelievers therein.) This Ayah means, if the Quraysh and the rest of the people of the earth - Arabs and non-Arabs, illiterate and the People of the Scripture - disbelieve in these bounties, then We have entrusted them to another people, the Muhajirun and Ansar, and those who follow their lead until the Day of Resurrection,
لَّيْسُواْ بِهَا بِكَـفِرِينَ
(who are not disbelievers therein.) They will not deny any of these favors, not even one letter. Rather, they will believe in them totally, even the parts that are not so clear to some of them. We ask Allah to make us among them by His favor, generosity and kindness. Addressing His servant and Messenger, Muhammad , Allah said;
أُوْلَـئِكَ
(They are...) the Prophets mentioned here, along with their righteous fathers, offspring and bretheren,
الَّذِينَ هَدَى اللَّهُ
(those whom Allah had guided.) meaning, they alone are the people of guidance,
فَبِهُدَاهُمُ اقْتَدِهْ
(So follow their guidance.) Imitate them. This command to the Messenger certainly applies to his Ummah, according to what he legislates and commands them. While mentioning this Ayah, Al-Bukhari recorded that Mujahid asked Ibn `Abbas, "Is there an instance where prostration is warranted in Surah Sad" Ibn `Abbas said, "Yes." He then recited,
وَوَهَبْنَا لَهُ إِسْحَـقَ وَيَعْقُوبَ
(...And We bestowed upon him Ishaq and Ya`qub...) until,
فَبِهُدَاهُمُ اقْتَدِهْ
(...So follow their guidance.) He commented, "He (our Prophet, Muhammad ) was among them." In another narration, Mujahid added that Ibn `Abbas said, "Your Prophet was among those whose guidance we were commanded to follow." Allah's statement,
قُل لاَّ أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْراً
(Say: "No reward I ask of you for this.") means, I do not ask you for any reward for delivering the Qur'an to you, nor anything else,
إِنْ هُوَ إِلاَّ ذِكْرَى لِلْعَـلَمِينَ
("It is only a reminder for the `Alamin (mankind and Jinns).") so they are reminded by it and guided from blindness to clarity, from misguidance to guidance, and from disbelief to faith.
خلیل الرحمن کو بشارت اولاد اللہ تعالیٰ اپنا احسان بیان فرما رہا ہے کہ خلیل الرحمن کو اس نے ان کے بڑھاپے کے وقت بیٹا عطا فرمایا جن کا نام اسحاق ہے اس وقت آپ بھی اولاد سے مایوس ہوچکے تھے اور آپ کی بیوی صاحبہ حضرت سارہ بھی مایوس ہوچکی تھیں جو فرشتے بشارت سنانے آتے ہیں وہ قوم لوط کی ہلاکت کیلئے جا رہے تھے۔ ان سے بشارت سن کر مائی صاحبہ سخت متعجب ہو کر کہتی ہیں میں بڑھیا کھوسٹ ہوچکی میرے خاوند عمر سے اتر چکے ہمارے ہاں بچہ ہونا تعجب کی بات ہے۔ فرشتوں نے جواب دیا اللہ کی قدرت میں ایسے تعجبات عام ہوتے ہیں۔ اے نبی کے گھرانے والو تم پر رب کی رحمتیں اور برکتیں نازل ہوں اللہ بڑی تعریفوں والا اور بڑی بزرگیوں والا ہے اتنا ہی نہیں کہ تمہارے ہاں بچہ ہوگا بلکہ وہ نبی زادہ خود بھی نبی ہوگا اور اس سے تمہاری نسل پھیلے گی اور باقی رہے گی، قرآن کی اور آیت میں بشارت کے الفاظ میں نبیا کا لفظ بھی ہے پھر لطف یہ ہے کہ اولاد کی اولاد بھی تم دیکھ لو گے اسحاق کے گھر یعقوب پیدا ہوں گے اور تمہیں خوشی پر خوشی ہوگی اور پھر پوتے کا نام یعقوب رکھنا جو عقب سے مشتق ہے خوشخبری ہے اس امر کی کہ یہ نسل جاری رہے گی۔ فی الواقع خلیل اللہ ؑ اس بشارت کے قابل بھی تھے قوم کو چھوڑ ان سے منہ موڑا شہر کو چھوڑا ہجرت کی، اللہ نے دنیا میں بھی انعام دیئے، اتنی نسل پھیلائی جو آج تک دنیا میں آباد ہے۔ فرمان الہی ہے کہ جب ابراہیم نے اپنی قوم کو اور ان کے معبودوں کو چھوڑا تو ہم نے انہیں اسحاق و یعقوب بخشا اور دونوں کو نبی بنایا، یہاں فرمایا ان سب کو ہم نے ہدایت دی تھی اور ان کی بھی نیک اولاد دنیا میں باقی رہی، طوفان نوح میں کفار سب غرق ہوگئے پھر حضرت نوح کی نسل پھیلی انبیاء انہی کی نسل میں سے ہوتے رہے، حضرت ابراہیم کے بعد تو نبوت انہی کے گھرانے میں رہی جیسے فرمان ہے آیت (وَجَعَلْنَا فِيْ ذُرِّيَّتِهِ النُّبُوَّةَ وَالْكِتٰبَ وَاٰتَيْنٰهُ اَجْرَهٗ فِي الدُّنْيَا) 29۔ العنکبوت :27) ہم نے ان ہی کی اولاد میں نبوت اور کتاب رکھی اور آیت میں ہے آیت (وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا وَّاِبْرٰهِيْمَ وَجَعَلْنَا فِيْ ذُرِّيَّـتِهِمَا النُّبُوَّةَ وَالْكِتٰبَ فَمِنْهُمْ مُّهْتَدٍ ۚ وَكَثِيْرٌ مِّنْهُمْ فٰسِقُوْنَ) 57۔ الحدید :26) یعنی ہم نے نوح اور ابراہیم کو رسول بنا کر پھر ان ہی دونوں کی اولاد میں نبوت اور کتاب کردی اور آیت میں ہے یہ ہیں جن پر انعام الہی ہوا۔ نبیوں میں سے آدم کو اولاد میں سے اور جنہیں ہم نے نوح کے ساتھ کشتی میں لے لیا تھا اور ابراہیم اور اسرائیل کی اولاد میں سے اور جنہیں ہم نے ہدایت کی تھی اور پسند کرلیا تھا ان پر جب رحمان کی آیتیں پڑھی جاتی تھیں تو روتے گڑگڑاتے سجدے میں گرپڑتے تھے پھر فرمایا ہم نے اس کی اولاد میں سے داؤد و سلیمان کو ہدایت کی، اس میں اگر ضمیر کا مرجع نوح کو کیا جائے تو ٹھیک ہے اس لئے کہ ضمیر سے پہلے سب سے قریب نام یہی ہے۔ امام ابن جریر اسی کو پسند فرماتے ہیں اور ہے بھی یہ بالکل ظاہر جس میں کوئی اشکال نہیں ہاں اسے حضرت ابراہیم کی طرف لوٹانا بھی ہے تو اچھا اس لئے کہ کلام انہی کے بارے میں ہے قصہ انہی کا بیان ہو رہا ہے لیکن بعد کے ناموں میں سے لوط کا نام اولاد آدم میں ہونا ذرا مشکل ہے اس لئے کہ حضرت لوط خلیل اللہ کی اولاد میں نہیں بلکہ ان کے والد کا نام ماران ہے وہ آزر کے لڑکے تھے تو وہ آپ کے بھتیجے ہوئے ہاں اس کا جواب یہ ہوسکتا ہے کہ باعتبار غلبے کے انہیں بھی اولاد میں شامل کرلیا گیا جیسے کہ آیت (اَمْ كُنْتُمْ شُهَدَاۗءَ اِذْ حَضَرَ يَعْقُوْبَ الْمَوْتُ ۙ اِذْ قَالَ لِبَنِيْهِ مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْۢ بَعْدِيْ) 2۔ البقرۃ :133) میں حضرت اسمعیل کو جو اولاد یعقوب کے چچا تھا باپوں میں شمار کرلیا گیا ہے، ہاں یہ بھی خیال رہے کہ حضرت عیسیٰ کو اولاد ابراہیم یا اولاد نوح میں گننا اس بنا پر ہے کہ لڑکیوں کی اولاد یعنی نواسے بھی اولاد میں داخل ہیں کیونکہ حضرت عیسیٰ بن باپ کے پیدا ہوئے تھے، روایت میں ہے حجاج نے حضرت یحییٰ بن یعمر کے پاس آدمی بھیجا کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ تو حسن حسین کو آنحضرت ﷺ کی اولاد میں گنتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ قرآن سے ثابت ہے لیکن میں تو پورے قرآن میں کسی جگہ یہ نہیں پاتا، آپ نے جواب دیا کیا تو نے سورة انعام میں آیت (وَمِنْ ذُرِّيَّتِهٖ دَاوٗدَ وَسُلَيْمٰنَ وَاَيُّوْبَ وَيُوْسُفَ وَمُوْسٰي وَهٰرُوْنَ ۭوَكَذٰلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِيْنَ) 6۔ الانعام :84) نہیں پڑھا اس نے کہا ہاں یہ تو پڑھا ہے کہا پھر دیکھو اس میں حضرت عیسیٰ کا نام ہے اور ان کا کوئی باپ تھا ہی نہیں تو معلوم ہوا کہ لڑکی کی اولاد بھی اولاد ہی ہے حجاج نے کہا بیشک آپ سچے ہیں اسی لئے مسئلہ ہے کہ جب کوئی شخص اپنی ذریت کے لئے وصیت کرے یا وقف کرے یا ہبہ کرے تو لڑکیوں کی اولاد بھی اس میں داخل ہے ہاں اگر اس نے اپنے لڑکوں کو دیا ہے یا ان پر وقف کیا ہے تو اس کے اپنے صلبی لڑکے اور لڑکوں کے لڑکے اس میں شامل ہوں گے اس کی دلیل عربی شاعر کا یہ شعر سنئے۔ بنو نا بنوا ابنا ئنا و بنا تنا بنو ھن ابناء الرجال الا جانب یعنی ہمارے لڑکوں کے لڑکے تو ہمارے لڑکے ہیں اور ہماری لڑکیوں کے لڑکے اجنبیوں کے لڑکے ہیں اور لوگ کہتے ہیں کہ لڑکیوں کے لڑکے بھی ان میں داخل ہیں کیونکہ صحیح بخاری شریف کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت حسن بن علی ؓ عنمہا کی نسبت فرمایا میرا یہ لڑکا سید ہے اور انشاء اللہ اس کی وجہ سے مسلمانوں کی دو بڑی جماعتوں میں اللہ تعالیٰ صلح کرا دے گا، پس نواسے کو اپنا لڑکا کہنے سے لڑکیوں کی اولاد کا بھی اپنی اولاد میں داخل ہونا ثابت ہوا اور لوگ کہتے ہیں کہ یہ مجاز ہے، اس کے بعد فرمایا ان کے باپ دادے ان کی اولادیں ان کے بھائی الغرض اصول و فروع اور اہل طبقہ کا ذکر آگیا کہ ہدایت اور پسندیدگی ان سب کو گھیرے ہوئے ہے، یہ اللہ کی سچی اور سیدھی راہ پر لگا دیئے گئے ہیں۔ یہ جو کچھ انہیں حاصل ہوا یہ اللہ کی مہربانی اس کی توفیق اور اس کی ہدایت سے ہے۔ پھر شرک کا کامل برائی لوگوں کے ذہن میں آجائے اس لئے فرمایا کہ اگر بالفرض نبیوں کا یہ گروہ بھی شرک کر بیٹھے تو ان کی بھی تمام تر نیکیاں ضائع ہوجائیں جیسے ارشاد ہے آیت (وَلَقَدْ اُوْحِيَ اِلَيْكَ وَاِلَى الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكَ ۚ لَىِٕنْ اَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ) 39۔ الزمر :65) تجھ پر اور تجھ سے پہلے کے ایک ایک نبی پر یہ وحی بھیج دی گئی کہ اگر تو نے شرک کیا تو تیرے اعمال اکارت ہوجائیں گے یہ یاد رہے کہ یہ شرط ہے اور شرط کا واقع ہونا ہی ضروری نہیں جیسے فرمان ہے آیت (قُلْ اِنْ كَان للرَّحْمٰنِ وَلَدٌ ڰ فَاَنَا اَوَّلُ الْعٰبِدِيْنَ) 43۔ الزخرف :81) یعنی اگر اللہ کی اولاد ہو تو میں تو سب سے پہلے ماننے والا بن جاؤں اور جیسے اور آیت میں ہے آیت (لَـوْ اَرَدْنَآ اَنْ نَّتَّخِذَ لَهْوًا لَّاتَّخَذْنٰهُ مِنْ لَّدُنَّآ ڰ اِنْ كُنَّا فٰعِلِيْنَ) 21۔ الانبیآء :17) یعنی اگر کھیل تماشا بنانا ہی چاہتے ہو تو اپنے پاس سے ہی بنا لیتے اور فرمان ہے آیت (لَوْ اَرَاد اللّٰهُ اَنْ يَّتَّخِذَ وَلَدًا لَّاصْطَفٰى مِمَّا يَخْلُقُ مَا يَشَاۗءُ ۙ سُبْحٰنَهٗ) 39۔ الزمر :4) اگر اللہ تعالیٰ اولاد کا ہی ارادہ کرتا تو اپنی مخلوق میں سے جسے چاہتا چن لیتا لیکن وہ اس سے پاک ہے اور وہ یکتا اور غالب ہے، پھر فرمایا بندوں پر رحمت نازل فرمانے کیلئے ہم نے انہیں کتاب حکمت اور نبوت عطا فرمائی پس اگر یہ لوگ یعنی اہل مکہ اس کے ساتھ یعنی نبوت کے ساتھ یا کتاب و حکمت و نبوت کے ساتھ کفر کریں یہ اگر ان نعمتوں کا انکار کریں خواہ قریش ہوں خواہ اہل کتاب ہوں خواہ کوئی اور عربی یا عجمی ہوں تو کوئی حرج نہیں۔ ہم نے ایک قوم ایسی بھی تیار کر رکھی ہے جو اس کے ساتھ کبھی کفر نہ کرے گی۔ یعنی مہاجرین انصار اور ان کی تابعداری کرنے والے ان کے بعد آنے والے یہ لوگ نہ کسی امر کا انکار کریں گے نہ تحریف یا ردوبدل کریں گے بلکہ ایمان کامل لے آئیں گے ہر ہر حرف کو مانیں گے محکم متشابہ سب کا اقرار کریں گے سب پر عقیدہ رکھیں گے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اپنے فضل و کرم سے ان ہی باایمان لوگوں میں کر دے، پھر اپنے پیغمبر ﷺ سے خطاب کر کے فرماتا ہے جن انبیاء کرام (علیہم السلام) کا ذکر ہوا اور جو مجمل طور پر ان کے بڑوں چھوٹوں اور لواحقین میں سے مذکور ہوئے یہی سب اہل ہدایت ہیں تو اپنے نبی آخر الزمان ہی کی اقتدا اور اتباع کرو اور جب یہ حکم نبی ﷺ کو ہے تو ظاہر ہے کہ آپ کی امت بطور اولی اس میں داخل ہے صحیح بخاری شریف میں اس آیت کی تفسیر میں حدیث لائے ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ سے آپ کے شاگرد رشید حضرت مجاہد ؒ نے سوال کیا کہ کیا سورة ص میں سجدہ ہے ؟ آپ نے فرمایا ہاں ہے پھر آپ نے یہ یہ آیت تلاوت فرمائی اور فرمایا آنحضرت ﷺ کو ان کی تابعداری کا حکم ہوا ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ اے نبی ان میں اعلان کردو کہ یہ میں تو قرآن پہنچانے کا کوئی معاوضہ یا بدلہ یا اجرت تم سے نہیں چاہتا۔ یہ تو صرف دنیا کیلئے نصیحت ہے کہ وہ اندھے پن کو چھوڑ کر آنکھوں کا نور حاصل کرلیں اور برائی سے کٹ کر بھلائی پالیں اور کفر سے نکل کر ایمان میں آجائیں۔
90
View Single
أُوْلَـٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ هَدَى ٱللَّهُۖ فَبِهُدَىٰهُمُ ٱقۡتَدِهۡۗ قُل لَّآ أَسۡـَٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ أَجۡرًاۖ إِنۡ هُوَ إِلَّا ذِكۡرَىٰ لِلۡعَٰلَمِينَ
These are the ones whom Allah guided, so follow their guidance; say (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), “I do not ask from you any fee for the Qur’an; it is nothing but an advice to the entire world.”
(یہی) وہ لوگ (یعنی پیغمبرانِ خدا) ہیں جنہیں اللہ نے ہدایت فرمائی ہے پس (اے رسولِ آخر الزمان!) آپ ان کے (فضیلت والے سب) طریقوں (کو اپنی سیرت میں جمع کر کے ان) کی پیروی کریں (تاکہ آپ کی ذات میں ان تمام انبیاء و رسل کے فضائل و کمالات یکجا ہوجائیں)، آپ فرما دیجئے: (اے لوگو!) میں تم سے اس (ہدایت کی فراہمی پر کوئی اجرت نہیں مانگتا۔ یہ تو صرف جہان والوں کے لئے نصیحت ہے)
Tafsir Ibn Kathir
Ibrahim Receives the News of Ishaq and Ya`qub During His Old Age
Allah states that after Ibrahim became old and he, and his wife, Sarah, lost hope of having children, He gave them Ishaq. The angels came to Ibrahim on their way to the people of Prophet Lut (to destroy them) and they delivered the good news of a child to Ibrahim and his wife. Ibrahim's wife was amazed at the news,
قَالَتْ يوَيْلَتَا ءَأَلِدُ وَأَنَاْ عَجُوزٌ وَهَـذَا بَعْلِى شَيْخًا إِنَّ هَـذَا لَشَىْءٌ عَجِيبٌ - قَالُواْ أَتَعْجَبِينَ مِنْ أَمْرِ اللَّهِ رَحْمَتُ اللَّهِ وَبَرَكَـتُهُ عَلَيْكُمْ أَهْلَ الْبَيْتِ إِنَّهُ حَمِيدٌ مَّجِيدٌ
(She said (in astonishment): "Woe unto me! Shall I bear a child while I am an old woman, and here is my husband, an old man Verily! This is a strange thing!" They said: "Do you wonder at the decree of Allah The mercy of Allah and His blessings be on you, O the family of Ibrahim. Surely, He (Allah) is All-Praiseworthy, All-Glorious.") 11:72-73 The angels also gave them the good news that Ishaq will be a Prophet and that he will have offspring of his own. In another Ayah, Allah said;
وَبَشَّرْنَـهُ بِإِسْحَـقَ نَبِيّاً مِّنَ الصَّـلِحِينَ
(And We gave him the good news of Ishaq a Prophet from the righteous.)37:112, which perfects this good news and completes the favor. Allah said,
بِإِسْحَـقَ وَمِن وَرَآءِ إِسْحَـقَ يَعْقُوبَ
(of Ishaq, and after him, of Ya`qub...) 11:71, meaning, this child will have another child in your lifetime, so that your eyes are comforted by him, just as your eyes will be comforted by his father. Certainly, one becomes jubilant and joyous when he becomes a grandfather, because this means that his offspring will continue to exist. It was also expected that if an elderly couple had children, due to the child's weakness, he would have no offspring. This is why Allah delivered the good news of Ishaq and of his son Ya`qub, whose name literally means `multiplying and having offspring'. This was a reward for Ibrahim who left his people and migrated from their land so that he could worship Allah alone. Allah compensated Ibrahim with better than his people and tribe when He gave him righteous children of his own, who would follow his religion, so that his eyes would be comforted by them. In another Ayah, Allah said; a
فَلَمَّا اعْتَزَلَهُمْ وَمَا يَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّهِ وَهَبْنَا لَهُ إِسْحَـقَ وَيَعْقُوبَ وَكُلاًّ جَعَلْنَا نَبِيّاً
(So when he turned away from them and from those whom they worshipped besides Allah, We gave him Ishaq and Ya`qub, and each one of them We made a Prophet.) 19:49 Allah said here,
وَوَهَبْنَا لَهُ إِسْحَـقَ وَيَعْقُوبَ كُلاًّ هَدَيْنَا
(And We bestowed upon him Ishaq and Ya`qub, each of them We guided,) Allah said;
وَنُوحاً هَدَيْنَا مِن قَبْلُ
(and before him, We guided Nuh...) meaning, We guided Nuh before and gave him righteous offspring, just as We guided Ibrahim and gave him righteous children.
Qualities of Nuh and Ibrahim
Each of these two Prophets had special qualities. When Allah caused the people of the earth to drown, except those who believed in Nuh and accompanied him in the ark, Allah made the offspring of Nuh the dwellers of the earth thereafter. Ever since that occurred, the people of the earth were and still are the descendants of Nuh. As for Ibrahim, Allah did not send a Prophet after him but from his descendants. Allah said in other Ayat,
وَجَعَلْنَا فِى ذُرِّيَّتِهِمَا النُّبُوَّةَ وَالْكِتَـبَ
(And We ordained among his (Ibrahim's) offspring prophethood and the Book.) 29:27,
وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا نُوحاً وَإِبْرَهِيمَ وَجَعَلْنَا فِى ذُرِّيَّتِهِمَا النُّبُوَّةَ وَالْكِتَـبَ
(And indeed, We sent Nuh and Ibrahim, and placed in their offspring Prophethood and the Book.) 57:26, and,
أُولَـئِكَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِم مِّنَ النَّبِيِّيْنَ مِن ذُرِّيَّةِ ءادَمَ وَمِمَّنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوحٍ وَمِن ذُرِّيَّةِ إِبْرَهِيمَ وَإِسْرَءِيلَ وَمِمَّنْ هَدَيْنَا وَاجْتَبَيْنَآ إِذَا تُتْلَى عَلَيْهِمْ ءايَـتُ الرَّحْمَـنِ خَرُّواْ سُجَّداً وَبُكِيّاً
(Those were they unto whom Allah bestowed His grace from among the Prophets, of the offspring of Adam, and of those whom We carried (in the ship) with Nuh, and of the offspring of Ibrahim and Isra'il and from among those whom We guided and chose. When the verses of the Most Beneficent (Allah) were recited unto them, they fell down prostrating and weeping.) 19:58 Allah said in this honorable Ayah here,
وَمِن ذُرِّيَّتِهِ
(and among his progeny...) meaning, We guided from among his offspring,
دَاوُودَ وَسُلَيْمَـنَ
(Dawud, Sulayman...) from the offspring of Nuh, according to Ibn Jarir. It is also possible that the Ayah refers to Ibrahim since it is about him that the blessings were originally mentioned here, although Lut is not from his offspring, for he was Ibrahim's nephew, the son of his brother Maran, the son of Azar. It is possible to say that Lut was mentioned in Ibrahim's offspring as a generalization. As Allah said,
أَمْ كُنتُمْ شُهَدَآءَ إِذْ حَضَرَ يَعْقُوبَ الْمَوْتُ إِذْ قَالَ لِبَنِيهِ مَا تَعْبُدُونَ مِن بَعْدِى قَالُواْ نَعْبُدُ إِلَـهَكَ وَإِلَـهَ آبَآئِكَ إِبْرَهِيمَ وَإِسْمَـعِيلَ وَإِسْحَـقَ إِلَـهًا وَاحِدًا وَنَحْنُ لَهُ مُسْلِمُونَ
(Or were you witnesses when death approached Ya`qub When he said unto his sons, "What will you worship after me" They said, "We shall worship your God, and the God of your fathers, Ibrahim, Isma`il, Ishaq, One God, and to Him we submit.") 2:133. Here, Isma`il was mentioned among the ascendants of Ya`qub, although he was Ya`qub's uncle. Similarly Allah said,
فَسَجَدَ الْمَلَـئِكَةُ كُلُّهُمْ أَجْمَعُونَ - إِلاَّ إِبْلِيسَ أَبَى أَن يَكُونَ مَعَ السَّـجِدِينَ
(So the angels prostrated themselves, all of them together. Except Iblis -- he refused to be among those to prostrate.) 15:30-31. Allah included Iblis in His order to the angels to prostrate, and chastised him for his opposition, all because he was similar to them in that (order), so he was considered among them in general, although he was a Jinn. Iblis was created from fire while the angels were created from light. Mentioning `Isa in the offspring of Ibrahim, or Nuh as we stated above, is proof that the grandchildren from a man's daughter's side are included among his offspring. `Isa is included among Ibrahim's progeny through his mother, although `Isa did not have a father. Ibn Abi Hatim recorded that Abu Harb bin Abi Al-Aswad said, "Al-Hajjaj sent to Yahya bin Ya`mar, saying, `I was told that you claim that Al-Hasan and Al-Husayn are from the offspring of the Prophet , did you find it in the Book of Allah I read the Qur'an from beginning to end and did not find it.' Yahya said, `Do you not read in Surat Al-An`am,
وَمِن ذُرِّيَّتِهِ دَاوُودَ وَسُلَيْمَـنَ
(and among his progeny Dawud, Sulayman...) until,
وَيَحْيَى وَعِيسَى
(and Yahya and `Isa...) Al-Hajjaj said, `Yes.' Yahya said, `Is not `Isa from the offspring of Ibrahim, although he did not have a father' Al-Hajjaj said, `You have said the truth."' For example, when a man leaves behind a legacy, a trust, or gift to his "offspring" then the children of his daughters are included. But if a man gives something to his "sons", or he leaves a trust behind for them, then that would be particular to his male children and their male children. Allah's statement,
وَمِنْ ءابَائِهِمْ وَذُرِّيَّـتِهِمْ وَإِخْوَنِهِمْ
(And also some of their fathers and their progeny and their brethren,) 6:87, mentions that some of these Prophets' ascendants and descendants were also guided and chosen. So Allah said,
وَاجْتَبَيْنَـهُمْ وَهَدَيْنَـهُمْ إِلَى صِرَطٍ مُّسْتَقِيمٍ
(We chose them, and We guided them to a straight path.)
Shirk Eradicates the Deeds, Even the Deeds of the Messengers
Allah said next,
ذلِكَ هُدَى اللَّهِ يَهْدِى بِهِ مَن يَشَآءُ مِنْ عِبَادِهِ
(This is the guidance of Allah with which He guides whomsoever He wills of His servants.) meaning, this occurred to them by Allah's leave and because He directed them to guidance. Allah said;
وَلَوْ أَشْرَكُواْ لَحَبِطَ عَنْهُمْ مَّا كَانُواْ يَعْمَلُونَ
(But if they had joined in worship others with Allah, all that they used to do would have been of no benefit to them.) This magnifies the serious danger of Shirk and the gravity of committing it. In another Ayah, Allah said;
وَلَقَدْ أُوْحِىَ إِلَيْكَ وَإِلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكَ لَئِنْ أَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ
(And indeed it has been revealed to you, as it was to those (Allah's Messengers) before you: "If you join others in worship with Allah, surely your deeds will be in vain.") 39:65 `If' here does not mean that this would ever occur, as is similar in Allah's statement;
قُلْ إِن كَانَ لِلرَّحْمَـنِ وَلَدٌ فَأَنَاْ أَوَّلُ الْعَـبِدِينَ
(Say: "If the Most Beneficent had a son, then I am the first of Allah's worshippers.") 43:81, and
لَوْ أَرَدْنَآ أَن نَّتَّخِذَ لَهْواً لاَّتَّخَذْنَـهُ مِن لَّدُنَّآ إِن كُنَّا فَـعِلِينَ
(If We intended to take a pastime (a wife or a son, etc.) We could surely have taken it from Us, if We were going to do (that)) 21:17, and,
لَّوْ أَرَادَ اللَّهُ أَن يَتَّخِذَ وَلَداً لاَّصْطَفَى مِمَّا يَخْلُقُ مَا يَشَآءُ سُبْحَـنَهُ هُوَ اللَّهُ الْوَحِدُ الْقَهَّارُ
(If Allah willed to take a son, He could have chosen whom He pleased out of those whom He created. But glory be to Him! He is Allah, the One, the Compelling.) 39:4 Allah said,
أُوْلَـئِكَ الَّذِينَ ءَاتَيْنَـهُمُ الْكِتَـبَ وَالْحُكْمَ وَالنُّبُوَّةَ
(They are those whom We gave the Book, Al-Hukm, and prophethood.) We bestowed these bounties on them, as a mercy for the servants, and out of our kindness for creation.
فَإِن يَكْفُرْ بِهَا
(But if they disbelieve therein...) in the prophethood, or the three things; the Book, the Hukm and the prophethood,
هَـؤُلاءِ
(They...) refers to the people of Makkah, according to Ibn `Abbas, Sa`id bin Al-Musayyib, Ad-Dahhak, Qatadah, As-Suddi, and others.
فَقَدْ وَكَّلْنَا بِهَا قَوْماً لَّيْسُواْ بِهَا بِكَـفِرِينَ
(then, indeed We have entrusted it to a people who are not disbelievers therein.) This Ayah means, if the Quraysh and the rest of the people of the earth - Arabs and non-Arabs, illiterate and the People of the Scripture - disbelieve in these bounties, then We have entrusted them to another people, the Muhajirun and Ansar, and those who follow their lead until the Day of Resurrection,
لَّيْسُواْ بِهَا بِكَـفِرِينَ
(who are not disbelievers therein.) They will not deny any of these favors, not even one letter. Rather, they will believe in them totally, even the parts that are not so clear to some of them. We ask Allah to make us among them by His favor, generosity and kindness. Addressing His servant and Messenger, Muhammad , Allah said;
أُوْلَـئِكَ
(They are...) the Prophets mentioned here, along with their righteous fathers, offspring and bretheren,
الَّذِينَ هَدَى اللَّهُ
(those whom Allah had guided.) meaning, they alone are the people of guidance,
فَبِهُدَاهُمُ اقْتَدِهْ
(So follow their guidance.) Imitate them. This command to the Messenger certainly applies to his Ummah, according to what he legislates and commands them. While mentioning this Ayah, Al-Bukhari recorded that Mujahid asked Ibn `Abbas, "Is there an instance where prostration is warranted in Surah Sad" Ibn `Abbas said, "Yes." He then recited,
وَوَهَبْنَا لَهُ إِسْحَـقَ وَيَعْقُوبَ
(...And We bestowed upon him Ishaq and Ya`qub...) until,
فَبِهُدَاهُمُ اقْتَدِهْ
(...So follow their guidance.) He commented, "He (our Prophet, Muhammad ) was among them." In another narration, Mujahid added that Ibn `Abbas said, "Your Prophet was among those whose guidance we were commanded to follow." Allah's statement,
قُل لاَّ أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْراً
(Say: "No reward I ask of you for this.") means, I do not ask you for any reward for delivering the Qur'an to you, nor anything else,
إِنْ هُوَ إِلاَّ ذِكْرَى لِلْعَـلَمِينَ
("It is only a reminder for the `Alamin (mankind and Jinns).") so they are reminded by it and guided from blindness to clarity, from misguidance to guidance, and from disbelief to faith.
خلیل الرحمن کو بشارت اولاد اللہ تعالیٰ اپنا احسان بیان فرما رہا ہے کہ خلیل الرحمن کو اس نے ان کے بڑھاپے کے وقت بیٹا عطا فرمایا جن کا نام اسحاق ہے اس وقت آپ بھی اولاد سے مایوس ہوچکے تھے اور آپ کی بیوی صاحبہ حضرت سارہ بھی مایوس ہوچکی تھیں جو فرشتے بشارت سنانے آتے ہیں وہ قوم لوط کی ہلاکت کیلئے جا رہے تھے۔ ان سے بشارت سن کر مائی صاحبہ سخت متعجب ہو کر کہتی ہیں میں بڑھیا کھوسٹ ہوچکی میرے خاوند عمر سے اتر چکے ہمارے ہاں بچہ ہونا تعجب کی بات ہے۔ فرشتوں نے جواب دیا اللہ کی قدرت میں ایسے تعجبات عام ہوتے ہیں۔ اے نبی کے گھرانے والو تم پر رب کی رحمتیں اور برکتیں نازل ہوں اللہ بڑی تعریفوں والا اور بڑی بزرگیوں والا ہے اتنا ہی نہیں کہ تمہارے ہاں بچہ ہوگا بلکہ وہ نبی زادہ خود بھی نبی ہوگا اور اس سے تمہاری نسل پھیلے گی اور باقی رہے گی، قرآن کی اور آیت میں بشارت کے الفاظ میں نبیا کا لفظ بھی ہے پھر لطف یہ ہے کہ اولاد کی اولاد بھی تم دیکھ لو گے اسحاق کے گھر یعقوب پیدا ہوں گے اور تمہیں خوشی پر خوشی ہوگی اور پھر پوتے کا نام یعقوب رکھنا جو عقب سے مشتق ہے خوشخبری ہے اس امر کی کہ یہ نسل جاری رہے گی۔ فی الواقع خلیل اللہ ؑ اس بشارت کے قابل بھی تھے قوم کو چھوڑ ان سے منہ موڑا شہر کو چھوڑا ہجرت کی، اللہ نے دنیا میں بھی انعام دیئے، اتنی نسل پھیلائی جو آج تک دنیا میں آباد ہے۔ فرمان الہی ہے کہ جب ابراہیم نے اپنی قوم کو اور ان کے معبودوں کو چھوڑا تو ہم نے انہیں اسحاق و یعقوب بخشا اور دونوں کو نبی بنایا، یہاں فرمایا ان سب کو ہم نے ہدایت دی تھی اور ان کی بھی نیک اولاد دنیا میں باقی رہی، طوفان نوح میں کفار سب غرق ہوگئے پھر حضرت نوح کی نسل پھیلی انبیاء انہی کی نسل میں سے ہوتے رہے، حضرت ابراہیم کے بعد تو نبوت انہی کے گھرانے میں رہی جیسے فرمان ہے آیت (وَجَعَلْنَا فِيْ ذُرِّيَّتِهِ النُّبُوَّةَ وَالْكِتٰبَ وَاٰتَيْنٰهُ اَجْرَهٗ فِي الدُّنْيَا) 29۔ العنکبوت :27) ہم نے ان ہی کی اولاد میں نبوت اور کتاب رکھی اور آیت میں ہے آیت (وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا وَّاِبْرٰهِيْمَ وَجَعَلْنَا فِيْ ذُرِّيَّـتِهِمَا النُّبُوَّةَ وَالْكِتٰبَ فَمِنْهُمْ مُّهْتَدٍ ۚ وَكَثِيْرٌ مِّنْهُمْ فٰسِقُوْنَ) 57۔ الحدید :26) یعنی ہم نے نوح اور ابراہیم کو رسول بنا کر پھر ان ہی دونوں کی اولاد میں نبوت اور کتاب کردی اور آیت میں ہے یہ ہیں جن پر انعام الہی ہوا۔ نبیوں میں سے آدم کو اولاد میں سے اور جنہیں ہم نے نوح کے ساتھ کشتی میں لے لیا تھا اور ابراہیم اور اسرائیل کی اولاد میں سے اور جنہیں ہم نے ہدایت کی تھی اور پسند کرلیا تھا ان پر جب رحمان کی آیتیں پڑھی جاتی تھیں تو روتے گڑگڑاتے سجدے میں گرپڑتے تھے پھر فرمایا ہم نے اس کی اولاد میں سے داؤد و سلیمان کو ہدایت کی، اس میں اگر ضمیر کا مرجع نوح کو کیا جائے تو ٹھیک ہے اس لئے کہ ضمیر سے پہلے سب سے قریب نام یہی ہے۔ امام ابن جریر اسی کو پسند فرماتے ہیں اور ہے بھی یہ بالکل ظاہر جس میں کوئی اشکال نہیں ہاں اسے حضرت ابراہیم کی طرف لوٹانا بھی ہے تو اچھا اس لئے کہ کلام انہی کے بارے میں ہے قصہ انہی کا بیان ہو رہا ہے لیکن بعد کے ناموں میں سے لوط کا نام اولاد آدم میں ہونا ذرا مشکل ہے اس لئے کہ حضرت لوط خلیل اللہ کی اولاد میں نہیں بلکہ ان کے والد کا نام ماران ہے وہ آزر کے لڑکے تھے تو وہ آپ کے بھتیجے ہوئے ہاں اس کا جواب یہ ہوسکتا ہے کہ باعتبار غلبے کے انہیں بھی اولاد میں شامل کرلیا گیا جیسے کہ آیت (اَمْ كُنْتُمْ شُهَدَاۗءَ اِذْ حَضَرَ يَعْقُوْبَ الْمَوْتُ ۙ اِذْ قَالَ لِبَنِيْهِ مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْۢ بَعْدِيْ) 2۔ البقرۃ :133) میں حضرت اسمعیل کو جو اولاد یعقوب کے چچا تھا باپوں میں شمار کرلیا گیا ہے، ہاں یہ بھی خیال رہے کہ حضرت عیسیٰ کو اولاد ابراہیم یا اولاد نوح میں گننا اس بنا پر ہے کہ لڑکیوں کی اولاد یعنی نواسے بھی اولاد میں داخل ہیں کیونکہ حضرت عیسیٰ بن باپ کے پیدا ہوئے تھے، روایت میں ہے حجاج نے حضرت یحییٰ بن یعمر کے پاس آدمی بھیجا کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ تو حسن حسین کو آنحضرت ﷺ کی اولاد میں گنتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ قرآن سے ثابت ہے لیکن میں تو پورے قرآن میں کسی جگہ یہ نہیں پاتا، آپ نے جواب دیا کیا تو نے سورة انعام میں آیت (وَمِنْ ذُرِّيَّتِهٖ دَاوٗدَ وَسُلَيْمٰنَ وَاَيُّوْبَ وَيُوْسُفَ وَمُوْسٰي وَهٰرُوْنَ ۭوَكَذٰلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِيْنَ) 6۔ الانعام :84) نہیں پڑھا اس نے کہا ہاں یہ تو پڑھا ہے کہا پھر دیکھو اس میں حضرت عیسیٰ کا نام ہے اور ان کا کوئی باپ تھا ہی نہیں تو معلوم ہوا کہ لڑکی کی اولاد بھی اولاد ہی ہے حجاج نے کہا بیشک آپ سچے ہیں اسی لئے مسئلہ ہے کہ جب کوئی شخص اپنی ذریت کے لئے وصیت کرے یا وقف کرے یا ہبہ کرے تو لڑکیوں کی اولاد بھی اس میں داخل ہے ہاں اگر اس نے اپنے لڑکوں کو دیا ہے یا ان پر وقف کیا ہے تو اس کے اپنے صلبی لڑکے اور لڑکوں کے لڑکے اس میں شامل ہوں گے اس کی دلیل عربی شاعر کا یہ شعر سنئے۔ بنو نا بنوا ابنا ئنا و بنا تنا بنو ھن ابناء الرجال الا جانب یعنی ہمارے لڑکوں کے لڑکے تو ہمارے لڑکے ہیں اور ہماری لڑکیوں کے لڑکے اجنبیوں کے لڑکے ہیں اور لوگ کہتے ہیں کہ لڑکیوں کے لڑکے بھی ان میں داخل ہیں کیونکہ صحیح بخاری شریف کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت حسن بن علی ؓ عنمہا کی نسبت فرمایا میرا یہ لڑکا سید ہے اور انشاء اللہ اس کی وجہ سے مسلمانوں کی دو بڑی جماعتوں میں اللہ تعالیٰ صلح کرا دے گا، پس نواسے کو اپنا لڑکا کہنے سے لڑکیوں کی اولاد کا بھی اپنی اولاد میں داخل ہونا ثابت ہوا اور لوگ کہتے ہیں کہ یہ مجاز ہے، اس کے بعد فرمایا ان کے باپ دادے ان کی اولادیں ان کے بھائی الغرض اصول و فروع اور اہل طبقہ کا ذکر آگیا کہ ہدایت اور پسندیدگی ان سب کو گھیرے ہوئے ہے، یہ اللہ کی سچی اور سیدھی راہ پر لگا دیئے گئے ہیں۔ یہ جو کچھ انہیں حاصل ہوا یہ اللہ کی مہربانی اس کی توفیق اور اس کی ہدایت سے ہے۔ پھر شرک کا کامل برائی لوگوں کے ذہن میں آجائے اس لئے فرمایا کہ اگر بالفرض نبیوں کا یہ گروہ بھی شرک کر بیٹھے تو ان کی بھی تمام تر نیکیاں ضائع ہوجائیں جیسے ارشاد ہے آیت (وَلَقَدْ اُوْحِيَ اِلَيْكَ وَاِلَى الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكَ ۚ لَىِٕنْ اَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ) 39۔ الزمر :65) تجھ پر اور تجھ سے پہلے کے ایک ایک نبی پر یہ وحی بھیج دی گئی کہ اگر تو نے شرک کیا تو تیرے اعمال اکارت ہوجائیں گے یہ یاد رہے کہ یہ شرط ہے اور شرط کا واقع ہونا ہی ضروری نہیں جیسے فرمان ہے آیت (قُلْ اِنْ كَان للرَّحْمٰنِ وَلَدٌ ڰ فَاَنَا اَوَّلُ الْعٰبِدِيْنَ) 43۔ الزخرف :81) یعنی اگر اللہ کی اولاد ہو تو میں تو سب سے پہلے ماننے والا بن جاؤں اور جیسے اور آیت میں ہے آیت (لَـوْ اَرَدْنَآ اَنْ نَّتَّخِذَ لَهْوًا لَّاتَّخَذْنٰهُ مِنْ لَّدُنَّآ ڰ اِنْ كُنَّا فٰعِلِيْنَ) 21۔ الانبیآء :17) یعنی اگر کھیل تماشا بنانا ہی چاہتے ہو تو اپنے پاس سے ہی بنا لیتے اور فرمان ہے آیت (لَوْ اَرَاد اللّٰهُ اَنْ يَّتَّخِذَ وَلَدًا لَّاصْطَفٰى مِمَّا يَخْلُقُ مَا يَشَاۗءُ ۙ سُبْحٰنَهٗ) 39۔ الزمر :4) اگر اللہ تعالیٰ اولاد کا ہی ارادہ کرتا تو اپنی مخلوق میں سے جسے چاہتا چن لیتا لیکن وہ اس سے پاک ہے اور وہ یکتا اور غالب ہے، پھر فرمایا بندوں پر رحمت نازل فرمانے کیلئے ہم نے انہیں کتاب حکمت اور نبوت عطا فرمائی پس اگر یہ لوگ یعنی اہل مکہ اس کے ساتھ یعنی نبوت کے ساتھ یا کتاب و حکمت و نبوت کے ساتھ کفر کریں یہ اگر ان نعمتوں کا انکار کریں خواہ قریش ہوں خواہ اہل کتاب ہوں خواہ کوئی اور عربی یا عجمی ہوں تو کوئی حرج نہیں۔ ہم نے ایک قوم ایسی بھی تیار کر رکھی ہے جو اس کے ساتھ کبھی کفر نہ کرے گی۔ یعنی مہاجرین انصار اور ان کی تابعداری کرنے والے ان کے بعد آنے والے یہ لوگ نہ کسی امر کا انکار کریں گے نہ تحریف یا ردوبدل کریں گے بلکہ ایمان کامل لے آئیں گے ہر ہر حرف کو مانیں گے محکم متشابہ سب کا اقرار کریں گے سب پر عقیدہ رکھیں گے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اپنے فضل و کرم سے ان ہی باایمان لوگوں میں کر دے، پھر اپنے پیغمبر ﷺ سے خطاب کر کے فرماتا ہے جن انبیاء کرام (علیہم السلام) کا ذکر ہوا اور جو مجمل طور پر ان کے بڑوں چھوٹوں اور لواحقین میں سے مذکور ہوئے یہی سب اہل ہدایت ہیں تو اپنے نبی آخر الزمان ہی کی اقتدا اور اتباع کرو اور جب یہ حکم نبی ﷺ کو ہے تو ظاہر ہے کہ آپ کی امت بطور اولی اس میں داخل ہے صحیح بخاری شریف میں اس آیت کی تفسیر میں حدیث لائے ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ سے آپ کے شاگرد رشید حضرت مجاہد ؒ نے سوال کیا کہ کیا سورة ص میں سجدہ ہے ؟ آپ نے فرمایا ہاں ہے پھر آپ نے یہ یہ آیت تلاوت فرمائی اور فرمایا آنحضرت ﷺ کو ان کی تابعداری کا حکم ہوا ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ اے نبی ان میں اعلان کردو کہ یہ میں تو قرآن پہنچانے کا کوئی معاوضہ یا بدلہ یا اجرت تم سے نہیں چاہتا۔ یہ تو صرف دنیا کیلئے نصیحت ہے کہ وہ اندھے پن کو چھوڑ کر آنکھوں کا نور حاصل کرلیں اور برائی سے کٹ کر بھلائی پالیں اور کفر سے نکل کر ایمان میں آجائیں۔
91
View Single
وَمَا قَدَرُواْ ٱللَّهَ حَقَّ قَدۡرِهِۦٓ إِذۡ قَالُواْ مَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ عَلَىٰ بَشَرٖ مِّن شَيۡءٖۗ قُلۡ مَنۡ أَنزَلَ ٱلۡكِتَٰبَ ٱلَّذِي جَآءَ بِهِۦ مُوسَىٰ نُورٗا وَهُدٗى لِّلنَّاسِۖ تَجۡعَلُونَهُۥ قَرَاطِيسَ تُبۡدُونَهَا وَتُخۡفُونَ كَثِيرٗاۖ وَعُلِّمۡتُم مَّا لَمۡ تَعۡلَمُوٓاْ أَنتُمۡ وَلَآ ءَابَآؤُكُمۡۖ قُلِ ٱللَّهُۖ ثُمَّ ذَرۡهُمۡ فِي خَوۡضِهِمۡ يَلۡعَبُونَ
And they (the Jews) did not realise (or appreciate) the importance of Allah as was required when they said, “Allah has not sent down anything upon any human being”; say, “Who has sent down the Book which Moosa brought, a light and guidance for mankind, which you have divided into different papers, some which you show and hide most of them? And (by which) you are taught what you did not know nor did your forefathers?” Say, “Allah” – then leave them playing in their indecency.
اور انہوں نے (یعنی یہود نے) اللہ کی وہ قدر نہ جانی جیسی قدر جاننا چاہیے تھی، جب انہوں نے یہ کہہ (کر رسالتِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انکار کر) دیا کہ اللہ نے کسی آدمی پر کوئی چیز نہیں اتاری۔ آپ فرما دیجئے: وہ کتاب کس نے اتاری تھی جو موسٰی (علیہ السلام) لے کر آئے تھے جو لوگوں کے لئے روشنی اور ہدایت تھی؟ تم نے جس کے الگ الگ کاغذ بنا لئے ہیں تم اسے (لوگوں پر) ظاہر (بھی) کرتے ہو اور (اس میں سے) بہت کچھ چھپاتے (بھی) ہو، اور تمہیں وہ (کچھ) سکھایا گیا ہے جو نہ تم جانتے تھے اور نہ تمہارے باپ دادا، آپ فرما دیجئے: (یہ سب) اللہ (ہی کا کرم ہے) پھر آپ انہیں (ان کے حال پر) چھوڑ دیں کہ وہ اپنی خرافات میں کھیلتے رہیں
Tafsir Ibn Kathir
The Messenger is but a Human to Whom the Book was Revealed by Inspiration
Allah says that those who rejected His Messengers did not give Allah due consideration. Ibn `Abbas, Mujahid and `Abdullah bin Kathir said that this Ayah was revealed about the Quraysh. It was also said that it was revealed about some Jews.
قَالُواْ مَآ أَنزَلَ اللَّهُ عَلَى بَشَرٍ مِّن شَىْءٍ
(They said: "Nothing did Allah send down to any human being (by inspiration).") Allah also, said,
أَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا أَنْ أَوْحَيْنَآ إِلَى رَجُلٍ مِّنْهُمْ أَنْ أَنذِرِ النَّاسَ
(Is it a wonder for mankind that We have inspired to a man from among themselves (saying): "Warn mankind.") 10:2, and,
وَمَا مَنَعَ النَّاسَ أَن يُؤْمِنُواْ إِذْ جَآءَهُمُ الْهُدَى إِلاَّ أَن قَالُواْ أَبَعَثَ اللَّهُ بَشَرًا رَّسُولاً - قُل لَوْ كَانَ فِى الاٌّرْضِ مَلَـئِكَةٌ يَمْشُونَ مُطْمَئِنِّينَ لَنَزَّلْنَا عَلَيْهِم مِّنَ السَّمَآءِ مَلَكًا رَّسُولاً
(And nothing prevented men from believing when the guidance came to them, except that they said: "Has Allah sent a man as Messenger" Say: "If there were on the earth, angels walking about in peace and security, We should certainly have sent down for them from the heaven an angel as a Messenger.") 17:94-95. Allah said here,
وَمَا قَدَرُواْ اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ إِذْ قَالُواْ مَآ أَنزَلَ اللَّهُ عَلَى بَشَرٍ مِّن شَىْءٍ
(They did not estimate Allah with an estimation due to Him when they said: "Nothing did Allah send down to any human being (by inspiration).") Allah answered them,
قُلْ مَنْ أَنزَلَ الْكِتَـبَ الَّذِى جَآءَ بِهِ مُوسَى نُوراً وَهُدًى لِّلنَّاسِ
(Say : "Who then sent down the Book which Musa brought, a light and a guidance to mankind") meaning, say, O Muhammad , to those who deny the concept that Allah sent down Books by revelation, answering them specifically,
مَنْ أَنزَلَ الْكِتَـبَ الَّذِى جَآءَ بِهِ مُوسَى
(Who then sent down the Book which Musa brought) in reference to the Tawrah that you and all others know that Allah sent down to Musa, son of `Imran. Allah sent the Tawrah as a light and a guidance for people, so that it could shed light on the answers to various disputes, and to guide away from the darkness of doubts. Allah's statement, .
تَجْعَلُونَهُ قَرَطِيسَ تُبْدُونَهَا وَتُخْفُونَ كَثِيراً
(which you have made into (separate) papersheets, disclosing (some of it) and concealing (much).) means, you made the Tawrah into separate sheets which you copied from the original and altered, changed and distorted as you wished. You then said, "this is from Allah," meaning it is in the revealed Book of Allah, when in fact, it is not from Allah. This is why Allah said here,
تَجْعَلُونَهُ قَرَطِيسَ تُبْدُونَهَا وَتُخْفُونَ كَثِيراً
(which you have made into (separate) papersheets, disclosing (some of it) and concealing (much).) Allah said;
وَعُلِّمْتُمْ مَّا لَمْ تَعْلَمُواْ أَنتُمْ وَلاَ ءَابَاؤُكُمْ
(And you were taught that which neither you nor your fathers knew.) meaning, Who sent down the Qur'an in which Allah taught you the news of those who were before you and the news of what will come after, that neither you nor your fathers had knowledge of. Allah's statement,
قُلِ اللَّهُ
(Say: "Allah.") `Ali bin Abi Talhah reported that Ibn `Abbas said, "Meaning, `Say, Allah sent it down."' Allah said,
ثُمَّ ذَرْهُمْ فِى خَوْضِهِمْ يَلْعَبُونَ
(Then leave them to play in their vain discussions.) leave them to play in ignorance and misguidance until the true news comes to them from Allah. Then, they will know whether the good end is theirs or for the fearful servants of Allah. Allah said,
وَهَـذَا كِتَـبٌ
(And this is a Book,) the Qur'an,
أَنزَلْنَـهُ مُبَارَكٌ مُّصَدِّقُ الَّذِى بَيْنَ يَدَيْهِ وَلِتُنذِرَ أُمَّ الْقُرَى
(Blessed, which We have sent down, confirming which came before it, so that you may warn the Mother of Towns) that is, Makkah,
وَمَنْ حَوْلَهَا
(and all those around it...) refering to the Arabs and the rest of the children of Adam, Arabs and non-Arabs alike. Allah said in other Ayat,
قُلْ يَأَيُّهَا النَّاسُ إِنِّى رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا
(Say: "O mankind! Verily, I am sent to you all as the Messenger of Allah.") 7:158, and
لاٌّنذِرَكُمْ بِهِ وَمَن بَلَغَ
("that I may therewith warn you and whomsoever it may reach.") 6:19, and
وَمَن يَكْفُرْ بِهِ مِنَ الاٌّحْزَابِ فَالنَّارُ مَوْعِدُهُ
(but those of the sects who reject it, the Fire will be their promised meeting place) 11:17 and,
تَبَارَكَ الَّذِى نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلَى عَبْدِهِ لِيَكُونَ لِلْعَـلَمِينَ نَذِيراً
(Blessed be He Who sent down the criterion to His servant that he may be a warner to the `Alamin (mankind and Jinn).) 25:1, and,
وَقُلْ لِّلَّذِينَ أُوتُواْ الْكِتَـبَ وَالاٍّمِّيِّينَ ءَأَسْلَمْتُمْ فَإِنْ أَسْلَمُواْ فَقَدِ اهْتَدَواْ وَّإِن تَوَلَّوْاْ فَإِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلَـغُ وَاللَّهُ بَصِيرٌ بِالْعِبَادِ
(And say to those who were given the Scripture and to those who are illiterates: "Do you submit yourselves" If they do, they are rightly guided; but if they turn away, your duty is only to convey the Message; and Allah is All-Seer of (His) servants.) 3:20. It is recorded in the Two Sahihs, that the Messenger of Allah ﷺ said,
«أُعْطِيتُ خَمْسًا لَمْ يُعْطَهُنَّ أَحَدٌ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ قَبْلِي»
(I have been given five things which were not given to any one else before me.) The Prophet mentioned among these five things,
«وَكَانَ النَّبِيُّ يُبْعَثُ إِلَى قَوْمِهِ خَاصَّةً، وَبُعِثْتُ إِلَى النَّاسِ عَامَّة»
(Every Prophet was sent only to his nation, but I have been sent to all people.) This is why Allah said,
وَالَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالاٌّخِرَةِ يُؤْمِنُونَ بِهِ
(Those who believe in the Hereafter believe in it,) meaning, those who believe in Allah and the Last Day, believe in this blessed Book, the Qur'an, which We revealed to you, O Muhammad ,
وَهُمْ عَلَى صَلاَتِهِمْ يُحَافِظُونَ
(and they are constant in guarding their Salah.) for they perform what Allah ordered them, offering the prayers perfectly and on time.
تمام رسول انسان ہی ہیں اللہ کے رسولوں کے جھٹلانے والے دراصل اللہ کی عظمت کے ماننے والے نہیں۔ عبداللہ بن کثیر کہتے ہیں کفار قریش کے حق میں یہ آیت اتری ہے اور قول ہے کہ یہود کی ایک جماعت کے حق میں ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ فخاص یہودی کے حق میں اور یہ بھی ہے کہ مالک بن صیف کے بارے میں کہا گیا ہے۔ صحیح بات یہ ہے کہ پہلا قول حق اس لئے ہے کہ آیت مکیہ ہے اور اس لئے بھی کہ یہودی آسمان سے کتاب اترنے کے بالکل منکر نہ تھے، ہاں البتہ قریشی اور عام عرب حضور کی رسالت کے قائیل نہ تھے اور کہتے تھے کہ انسان اللہ کا رسول نہیں ہوسکتا جیسے قرآن ان کا تعجب نقل کرتا ہے آیت (اَكَان للنَّاسِ عَجَبًا اَنْ اَوْحَيْنَآ اِلٰى رَجُلٍ مِّنْھُمْ اَنْ اَنْذِرِ النَّاسَ وَبَشِّرِ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَنَّ لَھُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَ رَبِّهِمْ) 10۔ یونس :2) یعنی کیا لوگوں کو اس بات پر اچنبھا ہوا کہ ہم نے انہی میں سے ایک شخص کی طرف وحی نزول فرمائی کہ وہ لوگوں کو ہوشیار کر دے اور آیت میں ہے آیت (وَمَا مَنَعَ النَّاسَ اَنْ يُّؤْمِنُوْٓا اِذْ جَاۗءَهُمُ الْهُدٰٓى اِلَّآ اَنْ قَالُوْٓا اَبَعَثَ اللّٰهُ بَشَرًا رَّسُوْلًا) 17۔ الاسراء :94) لوگوں کے اس خیال نے ہی کہ کیا اللہ نے انسان کو اپنا رسول بنا لیا انہیں ایمان سے روک دیا ہے، سنو اگر زمین میں فرشتے بستے ہوتے تو ہم بھی آسمان سے کسی فرشتے کو رسول بنا کر بھیجتے۔ یہاں بھی کفار کا یہی اعتراض بیان کر کے فرماتا ہے کہ انہیں جواب دو کہ تم جو بالکل انکار کرتے ہو کہ کسی انسان پر اللہ تعالیٰ نے کچھ بھی نازل نہیں فرمایا یہ تمہاری کیسی کھلی غلطی ہے ؟ بھلا بتلاؤ موسیٰ پر تورات کس نے اتاری تھی جو سراسر نور و ہدایت تھی الغرض تورات کے تم سب قائل ہو جو مشکل مسائل آسان کرنے والی، کفر کے اندھیروں کو جھانٹنے، شبہ کو ہٹانے اور راہ راست دکھانے والی ہے، تم نے اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر رکھے ہیں صحیح اور اصلی کتاب میں سے بہت سا حصہ چھپا رکھا ہے کچھ اس میں سے لکھ لاتے ہو اور پھر اسے بھی تحریف کر کے لوگوں کو بتا رہے ہو، اپنی باتوں اپنے خیالات کو اللہ کی کتاب کی طرف منسوب کرتے ہو، قرآن تو وہ ہے جو تمہارے سامنے وہ علوم پیش کرتا ہے جن سے تم اور تمہارے اگلے اور تمہارے بڑے سب محروم تھے، پجھلی سچی خبریں اس میں موجود، آنے والے واقعات کی صحیح خبریں اس میں موجود ہیں جو آج تک دنیا کے علم میں نہیں آئی تھیں کہتے ہیں اس سے مراد مشرکین عرب ہیں اور بعض کہتے ہیں اس سے مراد مسلمان ہیں۔ پھر حکم دیتا ہے کہ یہ لوگ تو اس کا جواب کیا دیں گے کہ تورات کس نے اتاری ؟ تو خود کہہ دے کہ اللہ نے اتاری ہے پھر انہیں ان کی جھالت و ضلالت میں ہی کھیلتا ہوا چھوڑ دے یہاں تک کہ انہیں موت آئے اور یقین کی آنکھوں سے خود ہی دیکھ لیں کہ اس جہان میں یہ اچھے رہتے ہیں یا مسلمان متقی ؟ یہ کتاب یعنی قرآن کریم ہمارا اتارا ہوا ہے، یہ بابرکت ہے یہ اگلی کتابوں کی تصدیق کرنے والا ہے ہم نے اسے تیری طرف اس لئے نازل فرمایا کہ تو اہل مکہ کو، اس کے پاس والوں کو یعنی عرب کے قبائل اور عجمیوں کو ہوشیار کر دے اور ڈراوا دے دے۔ من حولھا سے مراد ساری دنیا ہے اور آیت میں ہے (قُلْ يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ اِنِّىْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَيْكُمْ جَمِيْعَۨا الَّذِيْ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ) 7۔ الاعراف :158) یعنی اے دنیا جہان کے لوگو میں تم سب کی طرف اللہ کا پیغمبر ہوں اور آیت میں ہے (ۣوَاُوْحِيَ اِلَيَّ هٰذَا الْقُرْاٰنُ لِاُنْذِرَكُمْ بِهٖ وَمَنْۢ بَلَغَ) 6۔ الانعام :19) تاکہ میں تمہیں بھی اور جسے یہ پہنچے اسے ڈرا دوں اور قرآن سنا کر عذابوں سے خبردار کر دوں اور فرمان ہے آیت (وَمَنْ يَّكْفُرْ بِهٖ مِنَ الْاَحْزَابِ فَالنَّارُ مَوْعِدُهٗ ۚ فَلَا تَكُ فِيْ مِرْيَةٍ مِّنْهُ ۤ اِنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يُؤْمِنُوْنَ) 11۔ ہود :17) جو بھی اس کے ساتھ کفر کرے اس کا ٹھکانا جہنم ہے اور آیت میں فرمایا گیا آیت (تَبٰرَكَ الَّذِيْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلٰي عَبْدِهٖ لِيَكُوْنَ لِلْعٰلَمِيْنَ نَذِيْرَۨا) 25۔ الفرقان :1) یعنی اللہ برکتوں والا ہے جس نے اپنے بندے پر قرآن نازل فرمایا تاکہ وہ تمام جہان والوں کو آگاہ کر دے اور آیت میں ارشاد ہے آیت (وَقُلْ لِّلَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ وَالْاُمِّيّٖنَ ءَاَسْلَمْتُمْ ۭ فَاِنْ اَسْلَمُوْا فَقَدِ اھْتَدَوْا ۚ وَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلٰغُ ۭ وَاللّٰهُ بَصِيْرٌۢ بِالْعِبَادِ) 3۔ آل عمران :20) یعنی اہل کتاب سے اور ان پڑھوں سے بس سے کہہ دو کہ کیا تم اسلام قبول کرتے ہو ؟ اگر قبول کرلیں تو راہ راست پر ہیں اور اگر منہ موڑ لیں تو تجھ پر تو صرف پہنچا دینا ہے اللہ اپنے بندے کو خوب دیکھ رہا ہے، بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں مجھے پانچ چیزیں دی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئیں ان کو بیان فرماتے ہوئے ایک یہ بیان فرمایا کہ ہر نبی صرف ایک قوم کی طرف بھیجا جاتا تھا لیکن میں تمام لوگوں کی طرف بھیجا گیا ہوں اسی لئے یہاں بھی ارشاد ہوا کہ قیامت کے معتقد تو اسے مانتے ہیں جانتے ہیں کہ یہ قرآن اللہ کی سچی کتاب ہے اور وہ نمازیں بھی صحیح وقتوں پر برابر پڑھا کرتے ہیں اللہ کے اس فرض کے قیام میں اور اس کی حفاظت میں سستی اور کاہلی نہیں کرتے۔
92
View Single
وَهَٰذَا كِتَٰبٌ أَنزَلۡنَٰهُ مُبَارَكٞ مُّصَدِّقُ ٱلَّذِي بَيۡنَ يَدَيۡهِ وَلِتُنذِرَ أُمَّ ٱلۡقُرَىٰ وَمَنۡ حَوۡلَهَاۚ وَٱلَّذِينَ يُؤۡمِنُونَ بِٱلۡأٓخِرَةِ يُؤۡمِنُونَ بِهِۦۖ وَهُمۡ عَلَىٰ صَلَاتِهِمۡ يُحَافِظُونَ
And this is the blessed Book which We have sent down, confirming the Books preceding it, and in order that you may warn the leader of all villages and all those around it in the entire world; and those who believe in the Hereafter accept faith in this Book, and guard their prayers.
اور یہ (وہ) کتاب ہے جسے ہم نے نازل فرمایا ہے، بابرکت ہے، جو کتابیں اس سے پہلے تھیں ان کی (اصلاً) تصدیق کرنے والی ہے۔ اور (یہ) اس لئے (نازل کی گئی ہے) کہ آپ (اولاً) سب (انسانی) بستیوں کے مرکز (مکّہ) والوں کو اور (ثانیاً ساری دنیا میں) اس کے ارد گرد والوں کو ڈر سنائیں، اور جو لوگ آخرت پر ایمان رکھتے ہیں اس پر وہی ایمان لاتے ہیں اور وہی لوگ اپنی نماز کی پوری حفاظت کرتے ہیں
Tafsir Ibn Kathir
The Messenger is but a Human to Whom the Book was Revealed by Inspiration
Allah says that those who rejected His Messengers did not give Allah due consideration. Ibn `Abbas, Mujahid and `Abdullah bin Kathir said that this Ayah was revealed about the Quraysh. It was also said that it was revealed about some Jews.
قَالُواْ مَآ أَنزَلَ اللَّهُ عَلَى بَشَرٍ مِّن شَىْءٍ
(They said: "Nothing did Allah send down to any human being (by inspiration).") Allah also, said,
أَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا أَنْ أَوْحَيْنَآ إِلَى رَجُلٍ مِّنْهُمْ أَنْ أَنذِرِ النَّاسَ
(Is it a wonder for mankind that We have inspired to a man from among themselves (saying): "Warn mankind.") 10:2, and,
وَمَا مَنَعَ النَّاسَ أَن يُؤْمِنُواْ إِذْ جَآءَهُمُ الْهُدَى إِلاَّ أَن قَالُواْ أَبَعَثَ اللَّهُ بَشَرًا رَّسُولاً - قُل لَوْ كَانَ فِى الاٌّرْضِ مَلَـئِكَةٌ يَمْشُونَ مُطْمَئِنِّينَ لَنَزَّلْنَا عَلَيْهِم مِّنَ السَّمَآءِ مَلَكًا رَّسُولاً
(And nothing prevented men from believing when the guidance came to them, except that they said: "Has Allah sent a man as Messenger" Say: "If there were on the earth, angels walking about in peace and security, We should certainly have sent down for them from the heaven an angel as a Messenger.") 17:94-95. Allah said here,
وَمَا قَدَرُواْ اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ إِذْ قَالُواْ مَآ أَنزَلَ اللَّهُ عَلَى بَشَرٍ مِّن شَىْءٍ
(They did not estimate Allah with an estimation due to Him when they said: "Nothing did Allah send down to any human being (by inspiration).") Allah answered them,
قُلْ مَنْ أَنزَلَ الْكِتَـبَ الَّذِى جَآءَ بِهِ مُوسَى نُوراً وَهُدًى لِّلنَّاسِ
(Say : "Who then sent down the Book which Musa brought, a light and a guidance to mankind") meaning, say, O Muhammad , to those who deny the concept that Allah sent down Books by revelation, answering them specifically,
مَنْ أَنزَلَ الْكِتَـبَ الَّذِى جَآءَ بِهِ مُوسَى
(Who then sent down the Book which Musa brought) in reference to the Tawrah that you and all others know that Allah sent down to Musa, son of `Imran. Allah sent the Tawrah as a light and a guidance for people, so that it could shed light on the answers to various disputes, and to guide away from the darkness of doubts. Allah's statement, .
تَجْعَلُونَهُ قَرَطِيسَ تُبْدُونَهَا وَتُخْفُونَ كَثِيراً
(which you have made into (separate) papersheets, disclosing (some of it) and concealing (much).) means, you made the Tawrah into separate sheets which you copied from the original and altered, changed and distorted as you wished. You then said, "this is from Allah," meaning it is in the revealed Book of Allah, when in fact, it is not from Allah. This is why Allah said here,
تَجْعَلُونَهُ قَرَطِيسَ تُبْدُونَهَا وَتُخْفُونَ كَثِيراً
(which you have made into (separate) papersheets, disclosing (some of it) and concealing (much).) Allah said;
وَعُلِّمْتُمْ مَّا لَمْ تَعْلَمُواْ أَنتُمْ وَلاَ ءَابَاؤُكُمْ
(And you were taught that which neither you nor your fathers knew.) meaning, Who sent down the Qur'an in which Allah taught you the news of those who were before you and the news of what will come after, that neither you nor your fathers had knowledge of. Allah's statement,
قُلِ اللَّهُ
(Say: "Allah.") `Ali bin Abi Talhah reported that Ibn `Abbas said, "Meaning, `Say, Allah sent it down."' Allah said,
ثُمَّ ذَرْهُمْ فِى خَوْضِهِمْ يَلْعَبُونَ
(Then leave them to play in their vain discussions.) leave them to play in ignorance and misguidance until the true news comes to them from Allah. Then, they will know whether the good end is theirs or for the fearful servants of Allah. Allah said,
وَهَـذَا كِتَـبٌ
(And this is a Book,) the Qur'an,
أَنزَلْنَـهُ مُبَارَكٌ مُّصَدِّقُ الَّذِى بَيْنَ يَدَيْهِ وَلِتُنذِرَ أُمَّ الْقُرَى
(Blessed, which We have sent down, confirming which came before it, so that you may warn the Mother of Towns) that is, Makkah,
وَمَنْ حَوْلَهَا
(and all those around it...) refering to the Arabs and the rest of the children of Adam, Arabs and non-Arabs alike. Allah said in other Ayat,
قُلْ يَأَيُّهَا النَّاسُ إِنِّى رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا
(Say: "O mankind! Verily, I am sent to you all as the Messenger of Allah.") 7:158, and
لاٌّنذِرَكُمْ بِهِ وَمَن بَلَغَ
("that I may therewith warn you and whomsoever it may reach.") 6:19, and
وَمَن يَكْفُرْ بِهِ مِنَ الاٌّحْزَابِ فَالنَّارُ مَوْعِدُهُ
(but those of the sects who reject it, the Fire will be their promised meeting place) 11:17 and,
تَبَارَكَ الَّذِى نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلَى عَبْدِهِ لِيَكُونَ لِلْعَـلَمِينَ نَذِيراً
(Blessed be He Who sent down the criterion to His servant that he may be a warner to the `Alamin (mankind and Jinn).) 25:1, and,
وَقُلْ لِّلَّذِينَ أُوتُواْ الْكِتَـبَ وَالاٍّمِّيِّينَ ءَأَسْلَمْتُمْ فَإِنْ أَسْلَمُواْ فَقَدِ اهْتَدَواْ وَّإِن تَوَلَّوْاْ فَإِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلَـغُ وَاللَّهُ بَصِيرٌ بِالْعِبَادِ
(And say to those who were given the Scripture and to those who are illiterates: "Do you submit yourselves" If they do, they are rightly guided; but if they turn away, your duty is only to convey the Message; and Allah is All-Seer of (His) servants.) 3:20. It is recorded in the Two Sahihs, that the Messenger of Allah ﷺ said,
«أُعْطِيتُ خَمْسًا لَمْ يُعْطَهُنَّ أَحَدٌ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ قَبْلِي»
(I have been given five things which were not given to any one else before me.) The Prophet mentioned among these five things,
«وَكَانَ النَّبِيُّ يُبْعَثُ إِلَى قَوْمِهِ خَاصَّةً، وَبُعِثْتُ إِلَى النَّاسِ عَامَّة»
(Every Prophet was sent only to his nation, but I have been sent to all people.) This is why Allah said,
وَالَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالاٌّخِرَةِ يُؤْمِنُونَ بِهِ
(Those who believe in the Hereafter believe in it,) meaning, those who believe in Allah and the Last Day, believe in this blessed Book, the Qur'an, which We revealed to you, O Muhammad ,
وَهُمْ عَلَى صَلاَتِهِمْ يُحَافِظُونَ
(and they are constant in guarding their Salah.) for they perform what Allah ordered them, offering the prayers perfectly and on time.
تمام رسول انسان ہی ہیں اللہ کے رسولوں کے جھٹلانے والے دراصل اللہ کی عظمت کے ماننے والے نہیں۔ عبداللہ بن کثیر کہتے ہیں کفار قریش کے حق میں یہ آیت اتری ہے اور قول ہے کہ یہود کی ایک جماعت کے حق میں ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ فخاص یہودی کے حق میں اور یہ بھی ہے کہ مالک بن صیف کے بارے میں کہا گیا ہے۔ صحیح بات یہ ہے کہ پہلا قول حق اس لئے ہے کہ آیت مکیہ ہے اور اس لئے بھی کہ یہودی آسمان سے کتاب اترنے کے بالکل منکر نہ تھے، ہاں البتہ قریشی اور عام عرب حضور کی رسالت کے قائیل نہ تھے اور کہتے تھے کہ انسان اللہ کا رسول نہیں ہوسکتا جیسے قرآن ان کا تعجب نقل کرتا ہے آیت (اَكَان للنَّاسِ عَجَبًا اَنْ اَوْحَيْنَآ اِلٰى رَجُلٍ مِّنْھُمْ اَنْ اَنْذِرِ النَّاسَ وَبَشِّرِ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَنَّ لَھُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَ رَبِّهِمْ) 10۔ یونس :2) یعنی کیا لوگوں کو اس بات پر اچنبھا ہوا کہ ہم نے انہی میں سے ایک شخص کی طرف وحی نزول فرمائی کہ وہ لوگوں کو ہوشیار کر دے اور آیت میں ہے آیت (وَمَا مَنَعَ النَّاسَ اَنْ يُّؤْمِنُوْٓا اِذْ جَاۗءَهُمُ الْهُدٰٓى اِلَّآ اَنْ قَالُوْٓا اَبَعَثَ اللّٰهُ بَشَرًا رَّسُوْلًا) 17۔ الاسراء :94) لوگوں کے اس خیال نے ہی کہ کیا اللہ نے انسان کو اپنا رسول بنا لیا انہیں ایمان سے روک دیا ہے، سنو اگر زمین میں فرشتے بستے ہوتے تو ہم بھی آسمان سے کسی فرشتے کو رسول بنا کر بھیجتے۔ یہاں بھی کفار کا یہی اعتراض بیان کر کے فرماتا ہے کہ انہیں جواب دو کہ تم جو بالکل انکار کرتے ہو کہ کسی انسان پر اللہ تعالیٰ نے کچھ بھی نازل نہیں فرمایا یہ تمہاری کیسی کھلی غلطی ہے ؟ بھلا بتلاؤ موسیٰ پر تورات کس نے اتاری تھی جو سراسر نور و ہدایت تھی الغرض تورات کے تم سب قائل ہو جو مشکل مسائل آسان کرنے والی، کفر کے اندھیروں کو جھانٹنے، شبہ کو ہٹانے اور راہ راست دکھانے والی ہے، تم نے اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر رکھے ہیں صحیح اور اصلی کتاب میں سے بہت سا حصہ چھپا رکھا ہے کچھ اس میں سے لکھ لاتے ہو اور پھر اسے بھی تحریف کر کے لوگوں کو بتا رہے ہو، اپنی باتوں اپنے خیالات کو اللہ کی کتاب کی طرف منسوب کرتے ہو، قرآن تو وہ ہے جو تمہارے سامنے وہ علوم پیش کرتا ہے جن سے تم اور تمہارے اگلے اور تمہارے بڑے سب محروم تھے، پجھلی سچی خبریں اس میں موجود، آنے والے واقعات کی صحیح خبریں اس میں موجود ہیں جو آج تک دنیا کے علم میں نہیں آئی تھیں کہتے ہیں اس سے مراد مشرکین عرب ہیں اور بعض کہتے ہیں اس سے مراد مسلمان ہیں۔ پھر حکم دیتا ہے کہ یہ لوگ تو اس کا جواب کیا دیں گے کہ تورات کس نے اتاری ؟ تو خود کہہ دے کہ اللہ نے اتاری ہے پھر انہیں ان کی جھالت و ضلالت میں ہی کھیلتا ہوا چھوڑ دے یہاں تک کہ انہیں موت آئے اور یقین کی آنکھوں سے خود ہی دیکھ لیں کہ اس جہان میں یہ اچھے رہتے ہیں یا مسلمان متقی ؟ یہ کتاب یعنی قرآن کریم ہمارا اتارا ہوا ہے، یہ بابرکت ہے یہ اگلی کتابوں کی تصدیق کرنے والا ہے ہم نے اسے تیری طرف اس لئے نازل فرمایا کہ تو اہل مکہ کو، اس کے پاس والوں کو یعنی عرب کے قبائل اور عجمیوں کو ہوشیار کر دے اور ڈراوا دے دے۔ من حولھا سے مراد ساری دنیا ہے اور آیت میں ہے (قُلْ يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ اِنِّىْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَيْكُمْ جَمِيْعَۨا الَّذِيْ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ) 7۔ الاعراف :158) یعنی اے دنیا جہان کے لوگو میں تم سب کی طرف اللہ کا پیغمبر ہوں اور آیت میں ہے (ۣوَاُوْحِيَ اِلَيَّ هٰذَا الْقُرْاٰنُ لِاُنْذِرَكُمْ بِهٖ وَمَنْۢ بَلَغَ) 6۔ الانعام :19) تاکہ میں تمہیں بھی اور جسے یہ پہنچے اسے ڈرا دوں اور قرآن سنا کر عذابوں سے خبردار کر دوں اور فرمان ہے آیت (وَمَنْ يَّكْفُرْ بِهٖ مِنَ الْاَحْزَابِ فَالنَّارُ مَوْعِدُهٗ ۚ فَلَا تَكُ فِيْ مِرْيَةٍ مِّنْهُ ۤ اِنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يُؤْمِنُوْنَ) 11۔ ہود :17) جو بھی اس کے ساتھ کفر کرے اس کا ٹھکانا جہنم ہے اور آیت میں فرمایا گیا آیت (تَبٰرَكَ الَّذِيْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلٰي عَبْدِهٖ لِيَكُوْنَ لِلْعٰلَمِيْنَ نَذِيْرَۨا) 25۔ الفرقان :1) یعنی اللہ برکتوں والا ہے جس نے اپنے بندے پر قرآن نازل فرمایا تاکہ وہ تمام جہان والوں کو آگاہ کر دے اور آیت میں ارشاد ہے آیت (وَقُلْ لِّلَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ وَالْاُمِّيّٖنَ ءَاَسْلَمْتُمْ ۭ فَاِنْ اَسْلَمُوْا فَقَدِ اھْتَدَوْا ۚ وَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلٰغُ ۭ وَاللّٰهُ بَصِيْرٌۢ بِالْعِبَادِ) 3۔ آل عمران :20) یعنی اہل کتاب سے اور ان پڑھوں سے بس سے کہہ دو کہ کیا تم اسلام قبول کرتے ہو ؟ اگر قبول کرلیں تو راہ راست پر ہیں اور اگر منہ موڑ لیں تو تجھ پر تو صرف پہنچا دینا ہے اللہ اپنے بندے کو خوب دیکھ رہا ہے، بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں مجھے پانچ چیزیں دی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئیں ان کو بیان فرماتے ہوئے ایک یہ بیان فرمایا کہ ہر نبی صرف ایک قوم کی طرف بھیجا جاتا تھا لیکن میں تمام لوگوں کی طرف بھیجا گیا ہوں اسی لئے یہاں بھی ارشاد ہوا کہ قیامت کے معتقد تو اسے مانتے ہیں جانتے ہیں کہ یہ قرآن اللہ کی سچی کتاب ہے اور وہ نمازیں بھی صحیح وقتوں پر برابر پڑھا کرتے ہیں اللہ کے اس فرض کے قیام میں اور اس کی حفاظت میں سستی اور کاہلی نہیں کرتے۔
93
View Single
وَمَنۡ أَظۡلَمُ مِمَّنِ ٱفۡتَرَىٰ عَلَى ٱللَّهِ كَذِبًا أَوۡ قَالَ أُوحِيَ إِلَيَّ وَلَمۡ يُوحَ إِلَيۡهِ شَيۡءٞ وَمَن قَالَ سَأُنزِلُ مِثۡلَ مَآ أَنزَلَ ٱللَّهُۗ وَلَوۡ تَرَىٰٓ إِذِ ٱلظَّـٰلِمُونَ فِي غَمَرَٰتِ ٱلۡمَوۡتِ وَٱلۡمَلَـٰٓئِكَةُ بَاسِطُوٓاْ أَيۡدِيهِمۡ أَخۡرِجُوٓاْ أَنفُسَكُمُۖ ٱلۡيَوۡمَ تُجۡزَوۡنَ عَذَابَ ٱلۡهُونِ بِمَا كُنتُمۡ تَقُولُونَ عَلَى ٱللَّهِ غَيۡرَ ٱلۡحَقِّ وَكُنتُمۡ عَنۡ ءَايَٰتِهِۦ تَسۡتَكۡبِرُونَ
Who is more unjust than one who fabricates lies against Allah or says, “I have received divine inspiration”, whereas he has not been inspired at all – and one who says, “I will now reveal something similar to what Allah has sent down”? And if you see when the unjust are in the throes of death and the angels are with their hands outstretched; (saying) “Surrender your souls; this day you shall be given a disgraceful punishment – the recompense of your fabricating lies against Allah, and your scorning His signs.”
اور اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹا بہتان باندھے یا (نبوت کا جھوٹا دعوٰی کرتے ہوئے یہ) کہے کہ میری طرف وحی کی گئی ہے حالانکہ اس کی طرف کچھ بھی وحی نہ کی گئی ہو اور (اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا) جو (خدائی کا جھوٹا دعویٰ کرتے ہوئے یہ) کہے کہ میں (بھی) عنقریب ایسی ہی (کتاب) نازل کرتا ہوں جیسی اللہ نے نازل کی ہے۔ اور اگر آپ (اس وقت کا منظر) دیکھیں جب ظالم لوگ موت کی سختیوں میں (مبتلا) ہوں گے اور فرشتے (ان کی طرف) اپنے ہاتھ پھیلائے ہوئے ہوں گے اور (ان سے کہتے ہوں گے:) تم اپنی جانیں جسموں سے نکالو۔ آج تمہیں سزا میں ذلّت کا عذاب دیا جائے گا۔ اس وجہ سے کہ تم اللہ پر ناحق باتیں کیا کرتے تھے اور تم اس کی آیتوں سے سرکشی کیا کرتے تھے
Tafsir Ibn Kathir
None is Worse Than One who Invents a Lie Against Allah and Claims that Revelation Came to Him
Allah said,
وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَى عَلَى اللَّهِ كَذِباً
(And who can be more unjust than he who invents a lie against Allah,) Therefore, none is more unjust than one who lies about Allah claiming that He has partners or a son, or falsely claiming that Allah sent him as a Prophet;
أَوْ قَالَ أُوْحِى إِلَىَّ وَلَمْ يُوحَ إِلَيْهِ شَىْءٌ
(or says: "I have received inspiration," whereas he is not inspired with anything;) `Ikrimah and Qatadah said that this Ayah was revealed about Musaylimah Al-Kadhdhab.
وَمَن قَالَ سَأُنزِلُ مِثْلَ مَآ أَنَزلَ اللَّهُ
(and who says, "I will reveal the like of what Allah has revealed.") This refers to he, who claims that the lies he invents rival the revelation that came from Allah. In another Ayah, Allah said,
وَإِذَا تُتْلَى عَلَيْهِمْ ءَايَـتُنَا قَالُواْ قَدْ سَمِعْنَا لَوْ نَشَآءُ لَقُلْنَا مِثْلَ هَـذَآ
(And when Our verses (of the Qur'an) are recited to them, they say: "We have heard this (the Qur'an); if we wish we can say the like of this.")
The Condition of These Unjust People Upon Death and on the Day of Resurrection
Allah, the Most Honored, said,
وَلَوْ تَرَى إِذِ الظَّـلِمُونَ فِى غَمَرَاتِ الْمَوْتِ
(And if you could but see when the wrongdoers are in the agonies of death...) suffering from the hardhips, agonies and afflictions of death,
وَالْمَلَـئِكَةُ بَاسِطُواْ أَيْدِيهِمْ
(while the angels are stretching forth their hands...) beating them. Allah said in other Ayat:
لَئِن بَسَطتَ إِلَىَّ يَدَكَ لِتَقْتُلَنِى
(If you do stretch your hand against me to kill me..) 5:28and,
وَيَبْسُطُواْ إِلَيْكُمْ أَيْدِيَهُمْ وَأَلْسِنَتَهُمْ بِالسُّوءِ
(And stretch forth their hands and their tongues against you with evil.)60:2 Ad-Dahhak and Abu Salih said that, `stretch forth their hands,' means, `with torment'. In another Ayah, Allah said,
وَلَوْ تَرَى إِذْ يَتَوَفَّى الَّذِينَ كَفَرُواْ الْمَلَـئِكَةُ يَضْرِبُونَ وُجُوهَهُمْ وَأَدْبَـرَهُمْ
(And if you could see when the angels take away the souls of those who disbelieve they smite their faces and their backs. )8:50 Allah said,
وَالْمَلَـئِكَةُ بَاسِطُواْ أَيْدِيهِمْ
(while the angels are stretching forth their hands) beating them, until their souls leave their bodies, saying,
أَخْرِجُواْ أَنفُسَكُمُ
("Deliver your souls!") When the disbeliever is near death, the angels will convey the `good news' to him of torment, vengeance, chains, restraints, Hell, boiling water and the anger of the Most Beneficent, Most Merciful. The soul will then scatter in the body of the disbeliever and refuse to get out of it. The angels will keep beating the disbeliever until his soul exits from his body,
أَخْرِجُواْ أَنفُسَكُمُ الْيَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُونِ بِمَا كُنتُمْ تَقُولُونَ عَلَى اللَّهِ غَيْرَ الْحَقِّ
((Saying): "Deliver your souls! This day you shall be recompensed with the torment of degradation because of what you used to say about Allah other than the truth.") This Ayah means, today, you will be utterly humiliated because you used to invent lies against Allah and arrogantly refused to follow His Ayat and obey His Mesengers. There are many Hadiths, of Mutawatir grade, that explain what occurs when the believers and disbelievers die, and we will mention these Hadiths when explaining Allah's statement,
يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ ءَامَنُواْ بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِى الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَفِى الاٌّخِرَةِ
(Allah will keep firm those who believe, with the word that stands firm in this world, and in the Hereafter.) 14:27 Allah said next,
وَلَقَدْ جِئْتُمُونَا فُرَادَى كَمَا خَلَقْنَـكُمْ أَوَّلَ مَرَّةٍ
(And truly you have come unto Us alone as We created you the first time.) 6:94, and this statement will be said on the Day of Return. In another Ayah, Allah said,
وَعُرِضُواْ عَلَى رَبِّكَ صَفَا لَّقَدْ جِئْتُمُونَا كَمَا خَلَقْنَـكُمْ أَوَّلَ مَرَّةٍ
(And they will be set before your Lord in rows, (and Allah will say): "Now indeed, you have come to Us as We created you the first time.') 18:48, meaning, just as We started your creation, We brought you back, although you used to deny Resurrection and reject its possibility. Therefore, this is the Day of Resurrection! Allah said,
وَتَرَكْتُمْ مَّا خَوَّلْنَـكُمْ وَرَاءَ ظُهُورِكُمْ
(You have left behind you all that which We had bestowed on you.) 6:94, The wealth and the money that you collected in the life of the world, you left all this behind you. It is recorded in the Sahih that Allah's Messenger ﷺ said,
«يَقُولُ ابْنُ آدَمَ مَالِي مَالِي وَهَلْ لَكَ مِنْ مَالِكَ إِلَّا مَا أَكَلْتَ فَأَفْنَيْتَ، أَوْ لَبِسْتَ فَأَبْلَيْتَ، أَوْ تَصَدَّقْتَ فَأَمْضَيْتَ، وَمَا سِوَى ذَلِكَ فَذَاهِبٌ وَتَارِكُهُ لِلنَّاس»
(The Son of Adam says, `My money, my money!' But, what part of your money do you have, other than what you eat of it and is thus spent, what you wear and tear and what you gave in chairty and thus remains (in the record of good deeds) Other than that, you will depart and leave it to the people.) Al-Hasan Al-Basri said, "On the Day of Resurrection, the Son of Adam will be brought, as if he were a golden chariot and Allah, the Most Honored, will ask, `Where is what you collected' He will reply, `O Lord! I collected it and left it as intact as ever.' Allah will say to him, `O Son of Adam! Where is what you sent forth for yourself (of righteous, good deeds),' and he will realize that he did not send forth anything for himself." Al-Hasan then recited the Ayah,
وَلَقَدْ جِئْتُمُونَا فُرَادَى كَمَا خَلَقْنَـكُمْ أَوَّلَ مَرَّةٍ وَتَرَكْتُمْ مَّا خَوَّلْنَـكُمْ وَرَاءَ ظُهُورِكُمْ
(And truly you have come unto Us alone as We created you the first time. You have left behind you all that which We had bestowed on you.) Ibn Abi Hatim recorded this statement. Allah said;
وَمَا نَرَى مَعَكُمْ شُفَعَآءَكُمُ الَّذِينَ زَعَمْتُمْ أَنَّهُمْ فِيكُمْ شُرَكَآءُ
(We see not with you your intercessors whom you claimed to be your partners.) This chastises and criticizes the disbelievers for the rivals, idols and images that they worshipped in this life, thinking they will avail them in this life and upon Resurrection, if there is Resurrection, as they thought. On the Day of Resurrection, all relationships will be cut off, misguidance will be exposed, and those whom they used to call upon as gods will disappear from them. Allah will then call them, while the rest of creation is listening,
أَيْنَ شُرَكَآئِىَ الَّذِينَ كُنتُمْ تَزْعُمُونَ
(Where are My (so-called) partners whom you used to assert) 28:62 And,
وَقِيلَ لَهُمْ أَيْنَ مَا كُنتُمْ تَعْبُدُونَ - مِن دُونِ اللَّهِ هَلْ يَنصُرُونَكُمْ أَوْ يَنتَصِرُونَ
(And it will be said to them: "Where are those that you used to worship. Instead of Allah Can they help you or help themselves") 26:92-93 Allah said here,
وَمَا نَرَى مَعَكُمْ شُفَعَآءَكُمُ الَّذِينَ زَعَمْتُمْ أَنَّهُمْ فِيكُمْ شُرَكَآءُ
(We see not with you your intercessors whom you claimed were partners.) meaning partners in worship. That is, partners in a share of your worship.
لَقَد تَّقَطَّعَ بَيْنَكُمْ
(Now you and they have been cut off) or, the Ayah is recited with the meaning: all connections, means, and ties between you and them have been severed.
وَضَلَّ عَنكُم
(and vanished from you) you have lost,
مَّا كُنتُمْ تَزْعُمُونَ
(all that you used to claim) of hope in the benefit of the idols and rivals (you worshipped with Allah). Allah said in other Ayat,
إِذْ تَبَرَّأَ الَّذِينَ اتُّبِعُواْ مِنَ الَّذِينَ اتَّبَعُواْ وَرَأَوُاْ الْعَذَابَ وَتَقَطَّعَتْ بِهِمُ الاٌّسْبَابُ - وَقَالَ الَّذِينَ اتَّبَعُواْ لَوْ أَنَّ لَنَا كَرَّةً فَنَتَبَرَّأَ مِنْهُمْ كَمَا تَبَرَّءُواْ مِنَّا كَذَلِكَ يُرِيهِمُ اللَّهُ أَعْمَـلَهُمْ حَسَرَتٍ عَلَيْهِمْ وَمَا هُم بِخَـرِجِينَ مِنَ النَّارِ
(When those who were followed, declare themselves innocent of those who followed (them), and they see the torment, then all their relations will be cut off from them. And those who followed will say: "If only we had one more chance to return, we would disown them as they have disowned us." Thus Allah will show them their deeds as regret for them. And they will never get out of the Fire.) 2:166-167, and
فَإِذَا نُفِخَ فِى الصُّورِ فَلاَ أَنسَـبَ بَيْنَهُمْ يَوْمَئِذٍ وَلاَ يَتَسَآءَلُونَ
(Then, when the Trumpet is blown, there will be no kinship among them that Day, nor will they ask of one another.) 23:101, and
إِنَّمَا اتَّخَذْتُمْ مِّن دُونِ اللَّهِ أَوْثَـناً مَّوَدَّةَ بَيْنِكُمْ فِى الْحَيَوةِ الدُّنْيَا ثُمَّ يَوْمَ الْقِيَـمَةِ يَكْفُرُ بَعْضُكُمْ بِبَعْضٍ وَيَلْعَنُ بَعْضُكُمْ بَعْضاً وَمَأْوَاكُمُ النَّارُ وَمَا لَكُمْ مِّن نَّـصِرِينَ
(You have taken (for worship) idols instead of Allah, and the love between you is only in the life of this world, but on the Day of Resurrection, you shall disown each other, and curse each other, and your abode will be the Fire, and you shall have no helper.) 29:25, and
وَقِيلَ ادْعُواْ شُرَكَآءَكُمْ فَدَعَوْهُمْ فَلَمْ يَسْتَجِيبُواْ لَهُمْ
(And it will be said (to them): "Call upon your partners", and they will call upon them, but they will give no answer to them.) 28:64, and
وَيَوْمَ نَحْشُرُهُمْ جَمِيعاً ثُمَّ نَقُولُ لِلَّذِينَ أَشْرَكُواْ
(And the Day whereon We shall gather them all together, then We shall say to those who committed Shirk...) 10:28 until,
وَضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُواْ يَفْتَرُونَ
(And their invented false deities will vanish from them.) 10:30
مغضوب لوگ اللہ پر جھوٹ باندھنے والوں سے زیادہ ظالم اور کوئی نہیں خواہ اس جھوٹ کی نوعیت یہ ہو کہ اللہ کی اولاد ہے یا اس کے کئی شریک ہیں یا یوں کہے کہ وہ اللہ کا رسول ہے حالانکہ دراصل رسول نہیں۔ خواہ مخواہ کہہ دے کہ میری طرف وحی نازل ہوتی ہے حالانکہ کوئی وحی نہ اتری ہو اور اس سے بڑھ کر بھی کوئی ظالم نہیں ہو جو اللہ کی سچی وحی سے صف آرائی کا مدعی ہو۔ چناچہ اور آیتوں میں ایسے لوگوں کا بیان ہے کہ وہ قرآن کی آیتوں کو سن کر کہا کرتے تھے کہ اگر ہم چاہیں تو ہم بھی ایسا کلام کہہ سکتے ہیں، کاش کہ تو ان ظالموں کو سکرات موت کی حالت میں دیکھتا جبکہ فرشتوں کے ہاتھ ان کی طرف بڑھ رہے ہوں گے اور وہ مار پیٹ کر رہے ہونگے، یہ محاورہ مار پیٹ سے ہے، جسیے ہابیل قابیل کے قصے میں آیت (لَىِٕنْۢ بَسَطْتَّ اِلَيَّ يَدَكَ لِتَقْتُلَنِيْ مَآ اَنَا بِبَاسِطٍ يَّدِيَ اِلَيْكَ لِاَقْتُلَكَ ۚ اِنِّىْٓ اَخَاف اللّٰهَ رَبَّ الْعٰلَمِيْنَ) 5۔ المائدہ :28) ہے اور آیت میں (وَّيَبْسُطُوْٓا اِلَيْكُمْ اَيْدِيَهُمْ وَاَلْسِنَتَهُمْ بالسُّوْۗءِ وَوَدُّوْا لَوْ تَكْفُرُوْنَ) 60۔ الممتحنہ :2) ہے ضحاک اور ابو صالح نے بھی یہی تفسیر کی ہے، خواہ قرآن کی آیت میں (يَضْرِبُوْنَ وُجُوْهَهُمْ وَاَدْبَارَهُمْ ۚ وَذُوْقُوْا عَذَابَ الْحَرِيْقِ) 8۔ الانفال :50) موجود ہے یعنی کافروں کی موت کے وقت فرشتے ان کے منہ پر اور کمر پر مارتے ہیں۔ یہی بیان یہاں ہے کہ فرشتے ان کی جان نکالنے کیلئے انہیں مار پیٹ کرتے ہیں اور کہتے ہیں اپنی جانیں نکا لو۔ کافروں کی موت کے وقت فرشتے انہیں عذابوں، زنجیروں، طوقوں کی، گرم کھولتے ہوئے جہنم کے پانی اور اللہ کے غضب و غصے کی خبر سناتے ہیں جس سے ان کی روح ان کے بدن میں چھپتی پھرتی ہے اور نکلنا نہیں چاہتی، اس پر فرشتے انہیں مار پیٹ کر جبراً گھسیٹتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اب تمہاری بدترین اہانت ہوگی اور تم بری طرح رسوا کئے جاؤ گے جیسے کہ تم اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے تھے اس کے فرمان کو نہیں مانتے تھے اور اس کے رسولوں کی تابعداری سے چڑتے تھے۔ مومن و کافر کی موت کا منظر جو احادیث میں آیا ہے وہ سب آیت (يُثَبِّتُ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَفِي الْاٰخِرَةِ ۚ وَيُضِلُّ اللّٰهُ الظّٰلِمِيْنَ ڐ وَيَفْعَلُ اللّٰهُ مَا يَشَاۗءُ) 14۔ ابراہیم :27) کی تفسیر میں ہے، ابن مردویہ نے اس جگہ ایک بہت لمبی حدیث بیان کی ہے لیکن اس کی سند غریب ہے واللہ اعلم، پھر فرماتا ہے کہ جس دن انہیں ان کی قبروں سے اٹھایا جائے گا اس دن ان سے کہا جائے گا کہ تم تو اسے بہت دور اور محال مانتے تھے تو اب دیکھ لو جس طرح شروع شروع میں ہم نے تمہیں پیدا کیا تھا اوب دوبارہ بھی پیدا کردیا۔ جو کچھ مال متا ہم نے تمہیں دنیا میں دیا تھا سب تم وہیں اپنے پیچھے چھوڑ آئے۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں انسان کہتا ہے میرا مال میرا مال حالانکہ تیرا مال وہی ہے جسے تو نے کھاپی لیا وہ تو فنا ہوگیا یا تو نے پہن اوڑھ لیا وہ پھٹا پرانا ہو کر ضائے ہوگیا یا تو نے نام مولی پر خیرات کیا وہ باقی رہا اس کے سوا جو کچھ ہے اسے تو تو اوروں کے لئے چھوڑ کر یہاں سے جانے والا ہے۔ حسن بصری فرماتے ہیں انسان کو قیامت کے دن اللہ کے سامنے کھڑا کیا جائے گا اور رب العالمین اس سے دریافت فرمائے گا کہ جو تو نے جمع کیا تھا وہ کہاں ہے ؟ یہ جواب دے گا کہ خوب بڑھا چڑھا کر اسے دنیا میں چھوڑ آیا ہوں۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا اے ابن آدم پیچھے چھوڑا ہوا تو یہاں نہیں ہے البتہ آگے بھیجا ہوا یہاں موجود ہے اب جو یہ دیکھے گا تو کچھ بھی نہ پائے گا پھر آپ نے یہی آیت پڑھی، پھر انہیں ان کا شرک یاد دلا کر دھمکایا جائے گا کہ جنہیں تم اپنا شریک سمجھ رہے تھے اور جن پر ناز کر رہے تھے کہ ہمیں بچا لیں گے اور نفع دیں گے وہ آج تمہارے ساتھ کیوں نہیں ؟ وہ کہاں رہ گئے ؟ انہیں شفاعت کے لئے کیوں آگے نہیں بڑھاتے ؟ حق یہ ہے کہ قیامت کے دن سارے جھوٹ بہتان افترا کھل جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ سب کو سنا کر ان سے فرمائے گا جنہیں تم نے میرے شریک ٹھہرا رکھا تھا وہ کہاں ہیں ؟ اور ان سے کہا جائے گا کہ جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے تھے وہ کہاں ہیں ؟ کیا وجہ ہے کہ نہ وہ تمہاری مدد کرتے ہیں نہ خود اپنی مدد وہ آپ کرتے ہیں۔ تم تو دنیا میں انہیں مستحق عبادت سمجھتے رہے۔ بینکم کی ایک قرأت بینکم بھی ہے یعنی تمہاری یکجہتی ٹوٹ گئی اور پہلی قرأت پر یہ معنی ہیں کہ جو تعلقات تم میں تھے جو وسیلے تم نے بنا رکھے تھے سب کٹ گئے معبودان باطل سے جو غلط منصوبے تم نے باندھ رکھے تھے سب برباد ہوگئے جیسے فرمان باری ہے آیت (اِذْ تَبَرَّاَ الَّذِيْنَ اتُّبِعُوْا مِنَ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْا وَرَاَوُا الْعَذَابَ وَتَقَطَّعَتْ بِهِمُ الْاَسْـبَابُ) 2۔ البقرۃ :266) یعنی تابعداری کرنے والے ان سے بیزار ہوں گے جن کی تابعداری وہ کرتے رہے اور سارے رشتے ناتے اور تعلقات کٹ جائیں گے اس وقت تابعدار لوگ حسرت و افسوس سے کہیں گے کہ اگر ہم دنیا میں واپس جائیں تو تم سے بھی ایسے ہی بیزار ہوجائیں گے جیسے تم ہم سے بیزار ہوئے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ انہیں ان کے کرتوت دکھائے گا ان پر حسرتیں ہوں گی اور یہ جہنم سے نہیں نکلیں گے اور آیت میں ہے جب صور پھونکا جائے گا تو آپس کے نسب منقطع ہوجائیں گے اور کوئی کسی کا پرسان حال نہ ہوگا اور آیت میں ہے کہ جن جن کو تم نے اپنا معبود ٹھہرا رکھا ہے اور ان سے دوستیاں رکھتے ہو وہ قیامت کے دن تمہارے اور تم ان کے منکر ہوجاؤ گے اور ایک دوسرے پر لعنت کرو گے تو تم سب کا ٹھکانا جہنم ہوگا اور کوئی بھی تمہارا مددگار کھڑا نہ ہوگا اور آیت میں ہے آیت (وَقِيْلَ ادْعُوْا شُرَكَاۗءَكُمْ فَدَعَوْهُمْ فَلَمْ يَسْتَجِيْبُوْا لَهُمْ وَرَاَوُا الْعَذَابَ ۚ لَوْ اَنَّهُمْ كَانُوْا يَهْتَدُوْنَ) 28۔ القصص :64) یعنی ان سے کہا جائے گا کہ اپنے شریکوں کو آواز دو وہ پکاریں گے لیکن انہیں کوئی جواب نہ ملے گا اور آیت میں ہے آیت (وَيَوْمَ نَحْشُرُهُمْ جَمِيْعًا ثُمَّ نَقُوْلُ لِلَّذِيْنَ اَشْرَكُوْٓا اَيْنَ شُرَكَاۗؤُكُمُ الَّذِيْنَ كُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ) 6۔ الانعام :22) یعنی قیامت کے دن ہم ان سب کا حشر کریں گے پھر مشرکوں سے فرمائیں گے کہاں ہیں تمہارے شریک ؟ اس بارے کی اور آیتیں بھی بہت ہیں۔
94
View Single
وَلَقَدۡ جِئۡتُمُونَا فُرَٰدَىٰ كَمَا خَلَقۡنَٰكُمۡ أَوَّلَ مَرَّةٖ وَتَرَكۡتُم مَّا خَوَّلۡنَٰكُمۡ وَرَآءَ ظُهُورِكُمۡۖ وَمَا نَرَىٰ مَعَكُمۡ شُفَعَآءَكُمُ ٱلَّذِينَ زَعَمۡتُمۡ أَنَّهُمۡ فِيكُمۡ شُرَكَـٰٓؤُاْۚ لَقَد تَّقَطَّعَ بَيۡنَكُمۡ وَضَلَّ عَنكُم مَّا كُنتُمۡ تَزۡعُمُونَ
“And indeed you (the disbelievers) have now come to Us alone as We had created you at first, and you have left behind you all the wealth and riches We had bestowed upon you; and We do not see your intercessors along with you, whom you claimed to possess a share in you; indeed the link between yourselves is cut off, and you have lost all what you contended.”
اور بیشک تم (روزِ قیامت) ہمارے پاس اسی طرح تنہا آؤ گے جیسے ہم نے تمہیں پہلی مرتبہ (تنہا) پیدا کیا تھا اور (اموال و اولاد میں سے) جو کچھ ہم نے تمہیں دے رکھا تھا وہ سب اپنی پیٹھ پیچھے چھوڑ آؤ گے، اور ہم تمہارے ساتھ تمہارے ان سفارشیوں کو نہیں دیکھیں گے جن کی نسبت تم (یہ) گمان کرتے تھے کہ وہ تمہارے (معاملات) میں ہمارے شریک ہیں۔ بیشک (آج) تمہارا باہمی تعلق (و اعتماد) منقطع ہوگیا اور وہ (سب) دعوے جو تم کیا کرتے تھے تم سے جاتے رہے
Tafsir Ibn Kathir
None is Worse Than One who Invents a Lie Against Allah and Claims that Revelation Came to Him
Allah said,
وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَى عَلَى اللَّهِ كَذِباً
(And who can be more unjust than he who invents a lie against Allah,) Therefore, none is more unjust than one who lies about Allah claiming that He has partners or a son, or falsely claiming that Allah sent him as a Prophet;
أَوْ قَالَ أُوْحِى إِلَىَّ وَلَمْ يُوحَ إِلَيْهِ شَىْءٌ
(or says: "I have received inspiration," whereas he is not inspired with anything;) `Ikrimah and Qatadah said that this Ayah was revealed about Musaylimah Al-Kadhdhab.
وَمَن قَالَ سَأُنزِلُ مِثْلَ مَآ أَنَزلَ اللَّهُ
(and who says, "I will reveal the like of what Allah has revealed.") This refers to he, who claims that the lies he invents rival the revelation that came from Allah. In another Ayah, Allah said,
وَإِذَا تُتْلَى عَلَيْهِمْ ءَايَـتُنَا قَالُواْ قَدْ سَمِعْنَا لَوْ نَشَآءُ لَقُلْنَا مِثْلَ هَـذَآ
(And when Our verses (of the Qur'an) are recited to them, they say: "We have heard this (the Qur'an); if we wish we can say the like of this.")
The Condition of These Unjust People Upon Death and on the Day of Resurrection
Allah, the Most Honored, said,
وَلَوْ تَرَى إِذِ الظَّـلِمُونَ فِى غَمَرَاتِ الْمَوْتِ
(And if you could but see when the wrongdoers are in the agonies of death...) suffering from the hardhips, agonies and afflictions of death,
وَالْمَلَـئِكَةُ بَاسِطُواْ أَيْدِيهِمْ
(while the angels are stretching forth their hands...) beating them. Allah said in other Ayat:
لَئِن بَسَطتَ إِلَىَّ يَدَكَ لِتَقْتُلَنِى
(If you do stretch your hand against me to kill me..) 5:28and,
وَيَبْسُطُواْ إِلَيْكُمْ أَيْدِيَهُمْ وَأَلْسِنَتَهُمْ بِالسُّوءِ
(And stretch forth their hands and their tongues against you with evil.)60:2 Ad-Dahhak and Abu Salih said that, `stretch forth their hands,' means, `with torment'. In another Ayah, Allah said,
وَلَوْ تَرَى إِذْ يَتَوَفَّى الَّذِينَ كَفَرُواْ الْمَلَـئِكَةُ يَضْرِبُونَ وُجُوهَهُمْ وَأَدْبَـرَهُمْ
(And if you could see when the angels take away the souls of those who disbelieve they smite their faces and their backs. )8:50 Allah said,
وَالْمَلَـئِكَةُ بَاسِطُواْ أَيْدِيهِمْ
(while the angels are stretching forth their hands) beating them, until their souls leave their bodies, saying,
أَخْرِجُواْ أَنفُسَكُمُ
("Deliver your souls!") When the disbeliever is near death, the angels will convey the `good news' to him of torment, vengeance, chains, restraints, Hell, boiling water and the anger of the Most Beneficent, Most Merciful. The soul will then scatter in the body of the disbeliever and refuse to get out of it. The angels will keep beating the disbeliever until his soul exits from his body,
أَخْرِجُواْ أَنفُسَكُمُ الْيَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُونِ بِمَا كُنتُمْ تَقُولُونَ عَلَى اللَّهِ غَيْرَ الْحَقِّ
((Saying): "Deliver your souls! This day you shall be recompensed with the torment of degradation because of what you used to say about Allah other than the truth.") This Ayah means, today, you will be utterly humiliated because you used to invent lies against Allah and arrogantly refused to follow His Ayat and obey His Mesengers. There are many Hadiths, of Mutawatir grade, that explain what occurs when the believers and disbelievers die, and we will mention these Hadiths when explaining Allah's statement,
يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ ءَامَنُواْ بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِى الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَفِى الاٌّخِرَةِ
(Allah will keep firm those who believe, with the word that stands firm in this world, and in the Hereafter.) 14:27 Allah said next,
وَلَقَدْ جِئْتُمُونَا فُرَادَى كَمَا خَلَقْنَـكُمْ أَوَّلَ مَرَّةٍ
(And truly you have come unto Us alone as We created you the first time.) 6:94, and this statement will be said on the Day of Return. In another Ayah, Allah said,
وَعُرِضُواْ عَلَى رَبِّكَ صَفَا لَّقَدْ جِئْتُمُونَا كَمَا خَلَقْنَـكُمْ أَوَّلَ مَرَّةٍ
(And they will be set before your Lord in rows, (and Allah will say): "Now indeed, you have come to Us as We created you the first time.') 18:48, meaning, just as We started your creation, We brought you back, although you used to deny Resurrection and reject its possibility. Therefore, this is the Day of Resurrection! Allah said,
وَتَرَكْتُمْ مَّا خَوَّلْنَـكُمْ وَرَاءَ ظُهُورِكُمْ
(You have left behind you all that which We had bestowed on you.) 6:94, The wealth and the money that you collected in the life of the world, you left all this behind you. It is recorded in the Sahih that Allah's Messenger ﷺ said,
«يَقُولُ ابْنُ آدَمَ مَالِي مَالِي وَهَلْ لَكَ مِنْ مَالِكَ إِلَّا مَا أَكَلْتَ فَأَفْنَيْتَ، أَوْ لَبِسْتَ فَأَبْلَيْتَ، أَوْ تَصَدَّقْتَ فَأَمْضَيْتَ، وَمَا سِوَى ذَلِكَ فَذَاهِبٌ وَتَارِكُهُ لِلنَّاس»
(The Son of Adam says, `My money, my money!' But, what part of your money do you have, other than what you eat of it and is thus spent, what you wear and tear and what you gave in chairty and thus remains (in the record of good deeds) Other than that, you will depart and leave it to the people.) Al-Hasan Al-Basri said, "On the Day of Resurrection, the Son of Adam will be brought, as if he were a golden chariot and Allah, the Most Honored, will ask, `Where is what you collected' He will reply, `O Lord! I collected it and left it as intact as ever.' Allah will say to him, `O Son of Adam! Where is what you sent forth for yourself (of righteous, good deeds),' and he will realize that he did not send forth anything for himself." Al-Hasan then recited the Ayah,
وَلَقَدْ جِئْتُمُونَا فُرَادَى كَمَا خَلَقْنَـكُمْ أَوَّلَ مَرَّةٍ وَتَرَكْتُمْ مَّا خَوَّلْنَـكُمْ وَرَاءَ ظُهُورِكُمْ
(And truly you have come unto Us alone as We created you the first time. You have left behind you all that which We had bestowed on you.) Ibn Abi Hatim recorded this statement. Allah said;
وَمَا نَرَى مَعَكُمْ شُفَعَآءَكُمُ الَّذِينَ زَعَمْتُمْ أَنَّهُمْ فِيكُمْ شُرَكَآءُ
(We see not with you your intercessors whom you claimed to be your partners.) This chastises and criticizes the disbelievers for the rivals, idols and images that they worshipped in this life, thinking they will avail them in this life and upon Resurrection, if there is Resurrection, as they thought. On the Day of Resurrection, all relationships will be cut off, misguidance will be exposed, and those whom they used to call upon as gods will disappear from them. Allah will then call them, while the rest of creation is listening,
أَيْنَ شُرَكَآئِىَ الَّذِينَ كُنتُمْ تَزْعُمُونَ
(Where are My (so-called) partners whom you used to assert) 28:62 And,
وَقِيلَ لَهُمْ أَيْنَ مَا كُنتُمْ تَعْبُدُونَ - مِن دُونِ اللَّهِ هَلْ يَنصُرُونَكُمْ أَوْ يَنتَصِرُونَ
(And it will be said to them: "Where are those that you used to worship. Instead of Allah Can they help you or help themselves") 26:92-93 Allah said here,
وَمَا نَرَى مَعَكُمْ شُفَعَآءَكُمُ الَّذِينَ زَعَمْتُمْ أَنَّهُمْ فِيكُمْ شُرَكَآءُ
(We see not with you your intercessors whom you claimed were partners.) meaning partners in worship. That is, partners in a share of your worship.
لَقَد تَّقَطَّعَ بَيْنَكُمْ
(Now you and they have been cut off) or, the Ayah is recited with the meaning: all connections, means, and ties between you and them have been severed.
وَضَلَّ عَنكُم
(and vanished from you) you have lost,
مَّا كُنتُمْ تَزْعُمُونَ
(all that you used to claim) of hope in the benefit of the idols and rivals (you worshipped with Allah). Allah said in other Ayat,
إِذْ تَبَرَّأَ الَّذِينَ اتُّبِعُواْ مِنَ الَّذِينَ اتَّبَعُواْ وَرَأَوُاْ الْعَذَابَ وَتَقَطَّعَتْ بِهِمُ الاٌّسْبَابُ - وَقَالَ الَّذِينَ اتَّبَعُواْ لَوْ أَنَّ لَنَا كَرَّةً فَنَتَبَرَّأَ مِنْهُمْ كَمَا تَبَرَّءُواْ مِنَّا كَذَلِكَ يُرِيهِمُ اللَّهُ أَعْمَـلَهُمْ حَسَرَتٍ عَلَيْهِمْ وَمَا هُم بِخَـرِجِينَ مِنَ النَّارِ
(When those who were followed, declare themselves innocent of those who followed (them), and they see the torment, then all their relations will be cut off from them. And those who followed will say: "If only we had one more chance to return, we would disown them as they have disowned us." Thus Allah will show them their deeds as regret for them. And they will never get out of the Fire.) 2:166-167, and
فَإِذَا نُفِخَ فِى الصُّورِ فَلاَ أَنسَـبَ بَيْنَهُمْ يَوْمَئِذٍ وَلاَ يَتَسَآءَلُونَ
(Then, when the Trumpet is blown, there will be no kinship among them that Day, nor will they ask of one another.) 23:101, and
إِنَّمَا اتَّخَذْتُمْ مِّن دُونِ اللَّهِ أَوْثَـناً مَّوَدَّةَ بَيْنِكُمْ فِى الْحَيَوةِ الدُّنْيَا ثُمَّ يَوْمَ الْقِيَـمَةِ يَكْفُرُ بَعْضُكُمْ بِبَعْضٍ وَيَلْعَنُ بَعْضُكُمْ بَعْضاً وَمَأْوَاكُمُ النَّارُ وَمَا لَكُمْ مِّن نَّـصِرِينَ
(You have taken (for worship) idols instead of Allah, and the love between you is only in the life of this world, but on the Day of Resurrection, you shall disown each other, and curse each other, and your abode will be the Fire, and you shall have no helper.) 29:25, and
وَقِيلَ ادْعُواْ شُرَكَآءَكُمْ فَدَعَوْهُمْ فَلَمْ يَسْتَجِيبُواْ لَهُمْ
(And it will be said (to them): "Call upon your partners", and they will call upon them, but they will give no answer to them.) 28:64, and
وَيَوْمَ نَحْشُرُهُمْ جَمِيعاً ثُمَّ نَقُولُ لِلَّذِينَ أَشْرَكُواْ
(And the Day whereon We shall gather them all together, then We shall say to those who committed Shirk...) 10:28 until,
وَضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُواْ يَفْتَرُونَ
(And their invented false deities will vanish from them.) 10:30
مغضوب لوگ اللہ پر جھوٹ باندھنے والوں سے زیادہ ظالم اور کوئی نہیں خواہ اس جھوٹ کی نوعیت یہ ہو کہ اللہ کی اولاد ہے یا اس کے کئی شریک ہیں یا یوں کہے کہ وہ اللہ کا رسول ہے حالانکہ دراصل رسول نہیں۔ خواہ مخواہ کہہ دے کہ میری طرف وحی نازل ہوتی ہے حالانکہ کوئی وحی نہ اتری ہو اور اس سے بڑھ کر بھی کوئی ظالم نہیں ہو جو اللہ کی سچی وحی سے صف آرائی کا مدعی ہو۔ چناچہ اور آیتوں میں ایسے لوگوں کا بیان ہے کہ وہ قرآن کی آیتوں کو سن کر کہا کرتے تھے کہ اگر ہم چاہیں تو ہم بھی ایسا کلام کہہ سکتے ہیں، کاش کہ تو ان ظالموں کو سکرات موت کی حالت میں دیکھتا جبکہ فرشتوں کے ہاتھ ان کی طرف بڑھ رہے ہوں گے اور وہ مار پیٹ کر رہے ہونگے، یہ محاورہ مار پیٹ سے ہے، جسیے ہابیل قابیل کے قصے میں آیت (لَىِٕنْۢ بَسَطْتَّ اِلَيَّ يَدَكَ لِتَقْتُلَنِيْ مَآ اَنَا بِبَاسِطٍ يَّدِيَ اِلَيْكَ لِاَقْتُلَكَ ۚ اِنِّىْٓ اَخَاف اللّٰهَ رَبَّ الْعٰلَمِيْنَ) 5۔ المائدہ :28) ہے اور آیت میں (وَّيَبْسُطُوْٓا اِلَيْكُمْ اَيْدِيَهُمْ وَاَلْسِنَتَهُمْ بالسُّوْۗءِ وَوَدُّوْا لَوْ تَكْفُرُوْنَ) 60۔ الممتحنہ :2) ہے ضحاک اور ابو صالح نے بھی یہی تفسیر کی ہے، خواہ قرآن کی آیت میں (يَضْرِبُوْنَ وُجُوْهَهُمْ وَاَدْبَارَهُمْ ۚ وَذُوْقُوْا عَذَابَ الْحَرِيْقِ) 8۔ الانفال :50) موجود ہے یعنی کافروں کی موت کے وقت فرشتے ان کے منہ پر اور کمر پر مارتے ہیں۔ یہی بیان یہاں ہے کہ فرشتے ان کی جان نکالنے کیلئے انہیں مار پیٹ کرتے ہیں اور کہتے ہیں اپنی جانیں نکا لو۔ کافروں کی موت کے وقت فرشتے انہیں عذابوں، زنجیروں، طوقوں کی، گرم کھولتے ہوئے جہنم کے پانی اور اللہ کے غضب و غصے کی خبر سناتے ہیں جس سے ان کی روح ان کے بدن میں چھپتی پھرتی ہے اور نکلنا نہیں چاہتی، اس پر فرشتے انہیں مار پیٹ کر جبراً گھسیٹتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اب تمہاری بدترین اہانت ہوگی اور تم بری طرح رسوا کئے جاؤ گے جیسے کہ تم اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے تھے اس کے فرمان کو نہیں مانتے تھے اور اس کے رسولوں کی تابعداری سے چڑتے تھے۔ مومن و کافر کی موت کا منظر جو احادیث میں آیا ہے وہ سب آیت (يُثَبِّتُ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَفِي الْاٰخِرَةِ ۚ وَيُضِلُّ اللّٰهُ الظّٰلِمِيْنَ ڐ وَيَفْعَلُ اللّٰهُ مَا يَشَاۗءُ) 14۔ ابراہیم :27) کی تفسیر میں ہے، ابن مردویہ نے اس جگہ ایک بہت لمبی حدیث بیان کی ہے لیکن اس کی سند غریب ہے واللہ اعلم، پھر فرماتا ہے کہ جس دن انہیں ان کی قبروں سے اٹھایا جائے گا اس دن ان سے کہا جائے گا کہ تم تو اسے بہت دور اور محال مانتے تھے تو اب دیکھ لو جس طرح شروع شروع میں ہم نے تمہیں پیدا کیا تھا اوب دوبارہ بھی پیدا کردیا۔ جو کچھ مال متا ہم نے تمہیں دنیا میں دیا تھا سب تم وہیں اپنے پیچھے چھوڑ آئے۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں انسان کہتا ہے میرا مال میرا مال حالانکہ تیرا مال وہی ہے جسے تو نے کھاپی لیا وہ تو فنا ہوگیا یا تو نے پہن اوڑھ لیا وہ پھٹا پرانا ہو کر ضائے ہوگیا یا تو نے نام مولی پر خیرات کیا وہ باقی رہا اس کے سوا جو کچھ ہے اسے تو تو اوروں کے لئے چھوڑ کر یہاں سے جانے والا ہے۔ حسن بصری فرماتے ہیں انسان کو قیامت کے دن اللہ کے سامنے کھڑا کیا جائے گا اور رب العالمین اس سے دریافت فرمائے گا کہ جو تو نے جمع کیا تھا وہ کہاں ہے ؟ یہ جواب دے گا کہ خوب بڑھا چڑھا کر اسے دنیا میں چھوڑ آیا ہوں۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا اے ابن آدم پیچھے چھوڑا ہوا تو یہاں نہیں ہے البتہ آگے بھیجا ہوا یہاں موجود ہے اب جو یہ دیکھے گا تو کچھ بھی نہ پائے گا پھر آپ نے یہی آیت پڑھی، پھر انہیں ان کا شرک یاد دلا کر دھمکایا جائے گا کہ جنہیں تم اپنا شریک سمجھ رہے تھے اور جن پر ناز کر رہے تھے کہ ہمیں بچا لیں گے اور نفع دیں گے وہ آج تمہارے ساتھ کیوں نہیں ؟ وہ کہاں رہ گئے ؟ انہیں شفاعت کے لئے کیوں آگے نہیں بڑھاتے ؟ حق یہ ہے کہ قیامت کے دن سارے جھوٹ بہتان افترا کھل جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ سب کو سنا کر ان سے فرمائے گا جنہیں تم نے میرے شریک ٹھہرا رکھا تھا وہ کہاں ہیں ؟ اور ان سے کہا جائے گا کہ جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے تھے وہ کہاں ہیں ؟ کیا وجہ ہے کہ نہ وہ تمہاری مدد کرتے ہیں نہ خود اپنی مدد وہ آپ کرتے ہیں۔ تم تو دنیا میں انہیں مستحق عبادت سمجھتے رہے۔ بینکم کی ایک قرأت بینکم بھی ہے یعنی تمہاری یکجہتی ٹوٹ گئی اور پہلی قرأت پر یہ معنی ہیں کہ جو تعلقات تم میں تھے جو وسیلے تم نے بنا رکھے تھے سب کٹ گئے معبودان باطل سے جو غلط منصوبے تم نے باندھ رکھے تھے سب برباد ہوگئے جیسے فرمان باری ہے آیت (اِذْ تَبَرَّاَ الَّذِيْنَ اتُّبِعُوْا مِنَ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْا وَرَاَوُا الْعَذَابَ وَتَقَطَّعَتْ بِهِمُ الْاَسْـبَابُ) 2۔ البقرۃ :266) یعنی تابعداری کرنے والے ان سے بیزار ہوں گے جن کی تابعداری وہ کرتے رہے اور سارے رشتے ناتے اور تعلقات کٹ جائیں گے اس وقت تابعدار لوگ حسرت و افسوس سے کہیں گے کہ اگر ہم دنیا میں واپس جائیں تو تم سے بھی ایسے ہی بیزار ہوجائیں گے جیسے تم ہم سے بیزار ہوئے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ انہیں ان کے کرتوت دکھائے گا ان پر حسرتیں ہوں گی اور یہ جہنم سے نہیں نکلیں گے اور آیت میں ہے جب صور پھونکا جائے گا تو آپس کے نسب منقطع ہوجائیں گے اور کوئی کسی کا پرسان حال نہ ہوگا اور آیت میں ہے کہ جن جن کو تم نے اپنا معبود ٹھہرا رکھا ہے اور ان سے دوستیاں رکھتے ہو وہ قیامت کے دن تمہارے اور تم ان کے منکر ہوجاؤ گے اور ایک دوسرے پر لعنت کرو گے تو تم سب کا ٹھکانا جہنم ہوگا اور کوئی بھی تمہارا مددگار کھڑا نہ ہوگا اور آیت میں ہے آیت (وَقِيْلَ ادْعُوْا شُرَكَاۗءَكُمْ فَدَعَوْهُمْ فَلَمْ يَسْتَجِيْبُوْا لَهُمْ وَرَاَوُا الْعَذَابَ ۚ لَوْ اَنَّهُمْ كَانُوْا يَهْتَدُوْنَ) 28۔ القصص :64) یعنی ان سے کہا جائے گا کہ اپنے شریکوں کو آواز دو وہ پکاریں گے لیکن انہیں کوئی جواب نہ ملے گا اور آیت میں ہے آیت (وَيَوْمَ نَحْشُرُهُمْ جَمِيْعًا ثُمَّ نَقُوْلُ لِلَّذِيْنَ اَشْرَكُوْٓا اَيْنَ شُرَكَاۗؤُكُمُ الَّذِيْنَ كُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ) 6۔ الانعام :22) یعنی قیامت کے دن ہم ان سب کا حشر کریں گے پھر مشرکوں سے فرمائیں گے کہاں ہیں تمہارے شریک ؟ اس بارے کی اور آیتیں بھی بہت ہیں۔
95
View Single
۞إِنَّ ٱللَّهَ فَالِقُ ٱلۡحَبِّ وَٱلنَّوَىٰۖ يُخۡرِجُ ٱلۡحَيَّ مِنَ ٱلۡمَيِّتِ وَمُخۡرِجُ ٱلۡمَيِّتِ مِنَ ٱلۡحَيِّۚ ذَٰلِكُمُ ٱللَّهُۖ فَأَنَّىٰ تُؤۡفَكُونَ
Indeed it is Allah Who splits the grain and the seed; it is He Who brings forth living from the dead, and it is He Who brings forth dead from the living; such is Allah; so where are you reverting?
بیشک اللہ دانے اور گٹھلی کو پھاڑ نکالنے والا ہے وہ مُردہ سے زندہ کو پیدا فرماتا ہے اور زندہ سے مُردہ کو نکالنے والا ہے، یہی (شان والا) تو اللہ ہے پھر تم کہاں بہکے پھرتے ہو
Tafsir Ibn Kathir
Recognizing Allah Through Some of His Ayat
Allah states that He causes the seed grain and the fruit stone to split and sprout in the ground, producing various types, colors, shapes, and tastes of grains and produce. The Ayah,
فَالِقُ الْحَبِّ وَالنَّوَى
(Who causes the seed grain and the fruit stone to split and sprout.) is explained by the next statement,
يُخْرِجُ الْحَىَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَمُخْرِجُ الْمَيِّتِ مِنَ الْحَىِّ
(He brings forth the living from the dead, and it is He Who brings forth the deed from the living.) meaning, He brings the living plant from the seed grain and the fruit stone, which is a lifless and inanimate object. Allah said,
وَءَايَةٌ لَّهُمُ الاٌّرْضُ الْمَيْتَةُ أَحْيَيْنَـهَا وَأَخْرَجْنَا مِنْهَا حَبّاً فَمِنْهُ يَأْكُلُونَ
(And a sign for them is the dead land. We gave it life, and We brought forth from it grains, so that they eat thereof.) 36:33 until,
وَمِنْ أَنفُسِهِمْ وَمِمَّا لاَ يَعْلَمُونَ
(as well as of their own (human) kind (male and female), and of that which they know not.) 36:36 Allah's statement,
وَيُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَىِّ
(and it is He Who brings forth the dead from the living. ) There are similar expressions in meaning such as, He brings the egg from the chicken, and the opposite. Others said that it means, He brings the wicked offspring from the righteous parent and the opposite, and there are other possible meanings for the Ayah. Allah said,
ذَلِكُـمُ اللَّهُ
(Such is Allah,) meaning, He Who does all this, is Allah, the One and Only without partners,
فَأَنَّى تُؤْفَكُونَ
(then how are you deluded away from the truth) meaning, look how you are deluded from Truth to the falsehood of worshipping others besides Allah. Allah's statement,
فَالِقُ الإِصْبَاحِ وَجَعَلَ الَّيْلَ سَكَناً
((He is the) Cleaver of the daybreak. He has appointed the night for resting,) means, He is the Creator of light and darkness. Allah said in the beginning of the Surah,
وَجَعَلَ الظُّلُمَـتِ وَالنُّورَ
(And originated the darkness and the light.) Indeed, Allah causes the darkness of the night to disappear and brings forth the day, thus bringing brighteness to the world and light to the horizon, while dissipating darkness and ending the night with its depth of darkness and starting the day with its brightness and light. Allah said,
يُغْشِى الَّيْلَ النَّهَارَ يَطْلُبُهُ حَثِيثًا
(He brings the night as a cover over the day, seeking it rapidly.) 7:54 In this Ayah, Allah reminds of His ability to create diversified things in opposites, testifying to His perfect greatness and supreme power. Allah states that He is the Cleaver of the daybreak and mentioned its opposite, when He said,
وَجَعَلَ الَّيْلَ سَكَناً
(He has appointed the night for resting,) meaning, created darkness, in order for the creation to become halt and rest during it. Allah said in other Ayat,
وَالضُّحَى - وَالَّيْلِ إِذَا سَجَى
(By the forenoon. And by the night when it is still.) 93:1-2,
وَالَّيْلِ إِذَا يَغْشَى - وَالنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّى
(By the night as it envelops. And by the day as it appears in brightness.) 92:1,2 and,
وَالنَّهَارِ إِذَا جَلَّـهَا - وَالَّيْلِ إِذَا يَغْشَـهَا
(And by the day as it shows up (the sun's) brightness. And by the night as it conceals it.) 91:3-4 Allah's statement,
وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ حُسْبَاناً
(...And the sun and the moon for reckoning.) means, the sun and the moon have specific orbits, according to a term appointed with magnificent precision that never changes or alters. Both the sun and the moon have distinct positions that they assume in summer and winter, effecting changes in the length of night and day. Allah said in other Ayat,
هُوَ الَّذِى جَعَلَ الشَّمْسَ ضِيَآءً وَالْقَمَرَ نُوراً وَقَدَّرَهُ مَنَازِلَ
(It is He Who made the sun a shining thing and the Moon as a light and measured out stages for it.) 10:5,
لاَ الشَّمْسُ يَنبَغِى لَهَآ أَن تدْرِكَ القَمَرَ وَلاَ الَّيْلُ سَابِقُ النَّهَارِ وَكُلٌّ فِى فَلَكٍ يَسْبَحُونَ
(It is not for the sun to overtake the moon, nor does the night outstrip the day. They all float, each in an orbit.) 36:40, And,
وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ وَالنُّجُومَ مُسَخَّرَتٍ بِأَمْرِهِ
(The sun and the moon; and the stars are subjected by His command.) 16:12 Allah's statement,
ذَلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ
(Such is the measuring of the Almighty, the All-Knowing.) means, all of this occurs according to the decree and due measurement of the Almighty Who is never resisted or contradicted. He is the Knower of all things and nothing ever escapes His knowledge, not even the weight of an atom on earth or in heavens. Allah often mentions the creation of the night, the day, the sun and the moon and then ends His Speech by mentioning His attributes of power and knowledge, as in this Ayah above 6:96, and in His statement,
وَءَايَةٌ لَّهُمُ الَّيْلُ نَسْلَخُ مِنْهُ النَّهَارَ فَإِذَا هُم مُّظْلِمُونَ - وَالشَّمْسُ تَجْرِى لِمُسْتَقَرٍّ لَّهَـا ذَلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ
(And a sign for them is the night, We withdraw therefrom the day, and behold, they are in darkness. And the sun runs on its fixed course for a term. That is the decree of the Almighty, the All-Knowing.) 36:37-38 In the beginning of Surat Ha-Mim As-Sajdah, after mentioning the creation of the heavens and earth and all that is in them, Allah said:
وَزَيَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنْيَا بِمَصَـبِيحَ وَحِفْظاً ذَلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ
(And We adorned the nearest (lowest) heaven with lamps (stars) to be an adornment as well as to guard. Such is the decree of Him, the Almighty, the All-Knower.) 41:12 Allah said next,
وَهُوَ الَّذِى جَعَلَ لَكُمُ النُّجُومَ لِتَهْتَدُواْ بِهَا فِى ظُلُمَـتِ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ
(It is He Who has set the stars for you, so that you may guide your course with their help through the darkness of the land and the sea.) Some of the Salaf said; Whoever believes in other than three things about these stars, then he has made a mistake, and lied against Allah. Indeed Allah made them as decorations for the heavens, and to shoot at the Shayatin, and for directions in the dark recesses of the land and sea. Then, Allah said,
قَدْ فَصَّلْنَا الآيَـتِ
(We have explained in detail Our Ayat.) meaning, We made them clear and plain,
لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ
(for people who know. ) who have sound minds and are able to recognize the truth and avoid falsehood.
وَهُوَ الَّذِى أَنشَأَكُم مِّن نَّفْسٍ وَحِدَةٍ فَمُسْتَقَرٌّ وَمُسْتَوْدَعٌ قَدْ فَصَّلْنَا الاٌّيَـتِ لِقَوْمٍ يَفْقَهُونَ
اس کی حیرت ناک قدرت دانوں سے کھیتیاں بیج اور گٹھلی سے درخت اللہ ہی اگاتا ہے تم تو انہیں مٹی میں ڈال کر چلے آتے ہو وہاں انہیں اللہ تعالیٰ پھاڑتا ہے۔ کونپل نکالتا ہے پھر وہ بڑھتے ہیں قوی درخت بن جاتے ہیں اور دانے اور پھل پیدا ہوتے ہیں۔ پھر گویا اسی کی تفسیر میں فرمایا کہ زندہ درخت اور زندہ کھیتی کو مردہ بیج اور مردہ دانے سے وہ نکالتا ہے جیسے سورة یٰسین میں ارشاد ہے آیت (وَاٰيَةٌ لَّهُمُ الْاَرْضُ الْمَيْتَةُ ښ اَحْيَيْنٰهَا وَاَخْرَجْنَا مِنْهَا حَبًّا فَمِنْهُ يَاْكُلُوْنَ) 36۔ یس :33) مخرج کا عطف فالق پر ہے اور مفسرین نے دوسرے انداز سے ان جملوں میں ربط قائم کیا ہے لیکن مطلب سب کا یہی ہے اور اسی کے قریب قریب ہے، کوئی کہتا ہے مرغی کا انڈے سے نکلنا اور مرغ سے انڈے کا نکلنا مراد ہے۔ بد شخص کے ہاں نیک اولاد ہونا اور نیکوں کی اولاد کا بد ہونا مراد ہے۔ وغیرہ۔ آیت درحقیقت ان تمام صورتوں کو گھیرے ہوئے ہے۔ پھر فرماتا ہے ان تمام کاموں کا کرنے والا اکیلا اللہ ہی ہے پھر کیا وجہ کہ تم حق سے پھرجاتے ہو ؟ اور اس لا شریک کے ساتھ دوسروں کو شریک کرنے لگتے ہو ؟ وہی دن کی روشنی کا لانے والا اور رات کے اندھیرے کا پیدا کرنے والا ہے۔ جیسے کہ اس سورت کے شروع میں فرمایا تھا کہ وہی نور و ظلمت کا پیدا کرنے والا ہے۔ رات کے گھٹا ٹوپ اندھیرے کو دن کی نورانیت سے بدل دیتا ہے۔ رات اپنے اندھیروں سمیت چھپ جاتی ہے اور دن اپنی تجلیوں سمیت کائنات پر قبضہ جما لیتا ہے، جیسے فرمان ہے وہی دن رات چڑھاتا ہے۔ الغرض چیز اور اس کی ضد اس کے زیر اختیار ہے اور یہ اس کی بےانتہا عظمت اور بہت بڑی سلطنت پر دلیل ہے۔ دن کی روشنی اور اس کی چہل پہل کی ظلمت اور اس کا سکون اس کی عظیم الشان قدرت کی نشانیاں ہیں۔ جیسے فرمان ہے آیت (وَالضُّحٰى ۙ وَالَّيْلِ اِذَا سَـجٰى ۙ) اور جیسے اس آیت میں فرمایا آیت (وَالَّيْلِ اِذَا يَغْشٰى ۙ وَالنَّهَارِ اِذَا تَجَلّٰى ۙ) 92۔ اللیل :12) اور آیت میں ہے (وَالنَّهَارِ اِذَا جَلّٰىهَا ۽ وَاللَّيْلِ اِذَا يَغْشٰـىهَا ۽) 91۔ والشمس :34) ان تمام آیتوں میں دن رات کا اور نور و ظلمت روشنی اور اندھیرے کا ذکر ہے حضرت صہیب رومی ؒ سے ایک بار ان کی بیوی صاحبہ نے کہا کہ رات ہر ایک کے لئے آرام کی ہے لیکن میرے خاوند حضرت صہیب کے لئے وہ بھی آرام کی نہیں اس لئے کہ وہ رات کو اکثر حصہ جاگ کر کاٹتے ہیں۔ جب انہیں جنت یاد آتی ہے تو شوق بڑھ جاتا ہے اور یاد اللہ میں رات گزار دیتے ہیں اور جب جہنم کا خیال آجاتا ہے تو مارے خوف کے ان کی نیند اڑ جاتی ہے۔ سورج چاند اس کو مقرر کئے ہوئے اندازے پر برابر چل رہے ہیں کوئی تغیر اور اضطراب اس میں نہیں ہوتا ہر ایک کی منزل مقرر ہے جاڑے کی الگ گرمی کی الگ اور اسی اعتبار سے دن رات ظاہر ہوتے ہیں چھوٹے اور بڑے ہوتے ہیں جیسے فرمان ہے آیت (ھُوَ الَّذِيْ جَعَلَ الشَّمْسَ ضِيَاۗءً وَّالْقَمَرَ نُوْرًا وَّقَدَّرَهٗ مَنَازِلَ لِتَعْلَمُوْا عَدَدَ السِّـنِيْنَ وَالْحِسَابَ) 10۔ یونس :5) اسی اللہ نے سورج کو روشن اور چاند کو منور کیا ہے ان کی منزلیں مقرر کردی ہیں اور آیت میں ہے (لَا الشَّمْسُ يَنْۢبَغِيْ لَهَآ اَنْ تُدْرِكَ الْقَمَرَ وَلَا الَّيْلُ سَابِقُ النَّهَارِ) 36۔ یس :40) نہ تو آفتاب ہی سے بن پڑتا ہے کہ چاند کو جا لے اور نہ رات دن پر سبق لے سکتی ہے ہر ایک اپنے فلک میں تیرتا پھرتا ہے اور جگہ فرمایا سورج چاند ستارے سب اس کے فرمان کے ما تحت ہیں۔ یہاں فرمایا یہ سب اندازے اس اللہ کے مقرر کردہ ہیں جسے کوئی روک نہیں سکتا جس کے خلاف کوئی کچھ نہیں کرسکتا۔ جو ہر چیز کو جانتا ہے جس کے علم سے ایک ذرہ باہر نہیں۔ زمین و آسمان کی کوئی مخلوق اس سے پوشیدہ نہیں۔ عموماً قرآن کریم جہاں کہیں رات دن سورج چاند کی پیدائش کا ذکر کرتا ہے وہاں کلام کا خاتمہ اللہ جل و علا نے اپنی عزت و علم کی خبر پر کیا ہے جیسے اس آیت میں اور (واٰیتہ لھم اللیل) میں اور سورة حم سجدہ کی شروع کی آیت (وَزَيَّنَّا السَّمَاۗءَ الدُّنْيَا بِمَصَابِيْحَ ڰ وَحِفْظًا ۭ ذٰلِكَ تَقْدِيْرُ الْعَزِيْزِ الْعَلِيْمِ) 41۔ فصلت :12) میں۔ پھر فرمایا ستارے تمہیں خشکی اور تری میں راہ دکھانے کے لئے ہیں بعض سلف کا قول ہے کہ ستاروں میں ان تین فوائد کے علاوہ اگر کوئی اور کچھ مانے تو اس نے خطا کی اور اللہ پر چھوٹ باندھا ایک تو یہ کہ یہ آسمان کی زینت ہیں دوسرے یہ شیاطین پر آگ بن کر برستے ہیں جبکہ وہ آسمانوں کی خبریں لینے کو چڑھیں تیسرے یہ کہ مسافروں اور مقیم لوگوں کو یہ راستہ دکھاتے ہیں۔ پھر فرمایا ہم نے عقلمندوں عالموں اور واقف کار لوگوں کیلئے اپنی آیتیں بالتفصیل بیان فرما دی ہیں۔
96
View Single
فَالِقُ ٱلۡإِصۡبَاحِ وَجَعَلَ ٱلَّيۡلَ سَكَنٗا وَٱلشَّمۡسَ وَٱلۡقَمَرَ حُسۡبَانٗاۚ ذَٰلِكَ تَقۡدِيرُ ٱلۡعَزِيزِ ٱلۡعَلِيمِ
It is He Who breaks dawn (by splitting the dark); and He has made the night a calmness, and the sun and the moon a count (for time); this is the command set by the Almighty, the All Knowing.
(وہی) صبح (کی روشنی) کو رات کا اندھیرا چاک کر کے نکالنے والاہے، اور اسی نے رات کو آرام کے لئے بنایا ہے اور سورج اور چاند کوحساب و شمار کے لئے، یہ بہت غالب بڑے علم والے (ربّ) کا مقررہ اندازہ ہے
Tafsir Ibn Kathir
Recognizing Allah Through Some of His Ayat
Allah states that He causes the seed grain and the fruit stone to split and sprout in the ground, producing various types, colors, shapes, and tastes of grains and produce. The Ayah,
فَالِقُ الْحَبِّ وَالنَّوَى
(Who causes the seed grain and the fruit stone to split and sprout.) is explained by the next statement,
يُخْرِجُ الْحَىَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَمُخْرِجُ الْمَيِّتِ مِنَ الْحَىِّ
(He brings forth the living from the dead, and it is He Who brings forth the deed from the living.) meaning, He brings the living plant from the seed grain and the fruit stone, which is a lifless and inanimate object. Allah said,
وَءَايَةٌ لَّهُمُ الاٌّرْضُ الْمَيْتَةُ أَحْيَيْنَـهَا وَأَخْرَجْنَا مِنْهَا حَبّاً فَمِنْهُ يَأْكُلُونَ
(And a sign for them is the dead land. We gave it life, and We brought forth from it grains, so that they eat thereof.) 36:33 until,
وَمِنْ أَنفُسِهِمْ وَمِمَّا لاَ يَعْلَمُونَ
(as well as of their own (human) kind (male and female), and of that which they know not.) 36:36 Allah's statement,
وَيُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَىِّ
(and it is He Who brings forth the dead from the living. ) There are similar expressions in meaning such as, He brings the egg from the chicken, and the opposite. Others said that it means, He brings the wicked offspring from the righteous parent and the opposite, and there are other possible meanings for the Ayah. Allah said,
ذَلِكُـمُ اللَّهُ
(Such is Allah,) meaning, He Who does all this, is Allah, the One and Only without partners,
فَأَنَّى تُؤْفَكُونَ
(then how are you deluded away from the truth) meaning, look how you are deluded from Truth to the falsehood of worshipping others besides Allah. Allah's statement,
فَالِقُ الإِصْبَاحِ وَجَعَلَ الَّيْلَ سَكَناً
((He is the) Cleaver of the daybreak. He has appointed the night for resting,) means, He is the Creator of light and darkness. Allah said in the beginning of the Surah,
وَجَعَلَ الظُّلُمَـتِ وَالنُّورَ
(And originated the darkness and the light.) Indeed, Allah causes the darkness of the night to disappear and brings forth the day, thus bringing brighteness to the world and light to the horizon, while dissipating darkness and ending the night with its depth of darkness and starting the day with its brightness and light. Allah said,
يُغْشِى الَّيْلَ النَّهَارَ يَطْلُبُهُ حَثِيثًا
(He brings the night as a cover over the day, seeking it rapidly.) 7:54 In this Ayah, Allah reminds of His ability to create diversified things in opposites, testifying to His perfect greatness and supreme power. Allah states that He is the Cleaver of the daybreak and mentioned its opposite, when He said,
وَجَعَلَ الَّيْلَ سَكَناً
(He has appointed the night for resting,) meaning, created darkness, in order for the creation to become halt and rest during it. Allah said in other Ayat,
وَالضُّحَى - وَالَّيْلِ إِذَا سَجَى
(By the forenoon. And by the night when it is still.) 93:1-2,
وَالَّيْلِ إِذَا يَغْشَى - وَالنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّى
(By the night as it envelops. And by the day as it appears in brightness.) 92:1,2 and,
وَالنَّهَارِ إِذَا جَلَّـهَا - وَالَّيْلِ إِذَا يَغْشَـهَا
(And by the day as it shows up (the sun's) brightness. And by the night as it conceals it.) 91:3-4 Allah's statement,
وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ حُسْبَاناً
(...And the sun and the moon for reckoning.) means, the sun and the moon have specific orbits, according to a term appointed with magnificent precision that never changes or alters. Both the sun and the moon have distinct positions that they assume in summer and winter, effecting changes in the length of night and day. Allah said in other Ayat,
هُوَ الَّذِى جَعَلَ الشَّمْسَ ضِيَآءً وَالْقَمَرَ نُوراً وَقَدَّرَهُ مَنَازِلَ
(It is He Who made the sun a shining thing and the Moon as a light and measured out stages for it.) 10:5,
لاَ الشَّمْسُ يَنبَغِى لَهَآ أَن تدْرِكَ القَمَرَ وَلاَ الَّيْلُ سَابِقُ النَّهَارِ وَكُلٌّ فِى فَلَكٍ يَسْبَحُونَ
(It is not for the sun to overtake the moon, nor does the night outstrip the day. They all float, each in an orbit.) 36:40, And,
وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ وَالنُّجُومَ مُسَخَّرَتٍ بِأَمْرِهِ
(The sun and the moon; and the stars are subjected by His command.) 16:12 Allah's statement,
ذَلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ
(Such is the measuring of the Almighty, the All-Knowing.) means, all of this occurs according to the decree and due measurement of the Almighty Who is never resisted or contradicted. He is the Knower of all things and nothing ever escapes His knowledge, not even the weight of an atom on earth or in heavens. Allah often mentions the creation of the night, the day, the sun and the moon and then ends His Speech by mentioning His attributes of power and knowledge, as in this Ayah above 6:96, and in His statement,
وَءَايَةٌ لَّهُمُ الَّيْلُ نَسْلَخُ مِنْهُ النَّهَارَ فَإِذَا هُم مُّظْلِمُونَ - وَالشَّمْسُ تَجْرِى لِمُسْتَقَرٍّ لَّهَـا ذَلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ
(And a sign for them is the night, We withdraw therefrom the day, and behold, they are in darkness. And the sun runs on its fixed course for a term. That is the decree of the Almighty, the All-Knowing.) 36:37-38 In the beginning of Surat Ha-Mim As-Sajdah, after mentioning the creation of the heavens and earth and all that is in them, Allah said:
وَزَيَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنْيَا بِمَصَـبِيحَ وَحِفْظاً ذَلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ
(And We adorned the nearest (lowest) heaven with lamps (stars) to be an adornment as well as to guard. Such is the decree of Him, the Almighty, the All-Knower.) 41:12 Allah said next,
وَهُوَ الَّذِى جَعَلَ لَكُمُ النُّجُومَ لِتَهْتَدُواْ بِهَا فِى ظُلُمَـتِ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ
(It is He Who has set the stars for you, so that you may guide your course with their help through the darkness of the land and the sea.) Some of the Salaf said; Whoever believes in other than three things about these stars, then he has made a mistake, and lied against Allah. Indeed Allah made them as decorations for the heavens, and to shoot at the Shayatin, and for directions in the dark recesses of the land and sea. Then, Allah said,
قَدْ فَصَّلْنَا الآيَـتِ
(We have explained in detail Our Ayat.) meaning, We made them clear and plain,
لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ
(for people who know. ) who have sound minds and are able to recognize the truth and avoid falsehood.
وَهُوَ الَّذِى أَنشَأَكُم مِّن نَّفْسٍ وَحِدَةٍ فَمُسْتَقَرٌّ وَمُسْتَوْدَعٌ قَدْ فَصَّلْنَا الاٌّيَـتِ لِقَوْمٍ يَفْقَهُونَ
اس کی حیرت ناک قدرت دانوں سے کھیتیاں بیج اور گٹھلی سے درخت اللہ ہی اگاتا ہے تم تو انہیں مٹی میں ڈال کر چلے آتے ہو وہاں انہیں اللہ تعالیٰ پھاڑتا ہے۔ کونپل نکالتا ہے پھر وہ بڑھتے ہیں قوی درخت بن جاتے ہیں اور دانے اور پھل پیدا ہوتے ہیں۔ پھر گویا اسی کی تفسیر میں فرمایا کہ زندہ درخت اور زندہ کھیتی کو مردہ بیج اور مردہ دانے سے وہ نکالتا ہے جیسے سورة یٰسین میں ارشاد ہے آیت (وَاٰيَةٌ لَّهُمُ الْاَرْضُ الْمَيْتَةُ ښ اَحْيَيْنٰهَا وَاَخْرَجْنَا مِنْهَا حَبًّا فَمِنْهُ يَاْكُلُوْنَ) 36۔ یس :33) مخرج کا عطف فالق پر ہے اور مفسرین نے دوسرے انداز سے ان جملوں میں ربط قائم کیا ہے لیکن مطلب سب کا یہی ہے اور اسی کے قریب قریب ہے، کوئی کہتا ہے مرغی کا انڈے سے نکلنا اور مرغ سے انڈے کا نکلنا مراد ہے۔ بد شخص کے ہاں نیک اولاد ہونا اور نیکوں کی اولاد کا بد ہونا مراد ہے۔ وغیرہ۔ آیت درحقیقت ان تمام صورتوں کو گھیرے ہوئے ہے۔ پھر فرماتا ہے ان تمام کاموں کا کرنے والا اکیلا اللہ ہی ہے پھر کیا وجہ کہ تم حق سے پھرجاتے ہو ؟ اور اس لا شریک کے ساتھ دوسروں کو شریک کرنے لگتے ہو ؟ وہی دن کی روشنی کا لانے والا اور رات کے اندھیرے کا پیدا کرنے والا ہے۔ جیسے کہ اس سورت کے شروع میں فرمایا تھا کہ وہی نور و ظلمت کا پیدا کرنے والا ہے۔ رات کے گھٹا ٹوپ اندھیرے کو دن کی نورانیت سے بدل دیتا ہے۔ رات اپنے اندھیروں سمیت چھپ جاتی ہے اور دن اپنی تجلیوں سمیت کائنات پر قبضہ جما لیتا ہے، جیسے فرمان ہے وہی دن رات چڑھاتا ہے۔ الغرض چیز اور اس کی ضد اس کے زیر اختیار ہے اور یہ اس کی بےانتہا عظمت اور بہت بڑی سلطنت پر دلیل ہے۔ دن کی روشنی اور اس کی چہل پہل کی ظلمت اور اس کا سکون اس کی عظیم الشان قدرت کی نشانیاں ہیں۔ جیسے فرمان ہے آیت (وَالضُّحٰى ۙ وَالَّيْلِ اِذَا سَـجٰى ۙ) اور جیسے اس آیت میں فرمایا آیت (وَالَّيْلِ اِذَا يَغْشٰى ۙ وَالنَّهَارِ اِذَا تَجَلّٰى ۙ) 92۔ اللیل :12) اور آیت میں ہے (وَالنَّهَارِ اِذَا جَلّٰىهَا ۽ وَاللَّيْلِ اِذَا يَغْشٰـىهَا ۽) 91۔ والشمس :34) ان تمام آیتوں میں دن رات کا اور نور و ظلمت روشنی اور اندھیرے کا ذکر ہے حضرت صہیب رومی ؒ سے ایک بار ان کی بیوی صاحبہ نے کہا کہ رات ہر ایک کے لئے آرام کی ہے لیکن میرے خاوند حضرت صہیب کے لئے وہ بھی آرام کی نہیں اس لئے کہ وہ رات کو اکثر حصہ جاگ کر کاٹتے ہیں۔ جب انہیں جنت یاد آتی ہے تو شوق بڑھ جاتا ہے اور یاد اللہ میں رات گزار دیتے ہیں اور جب جہنم کا خیال آجاتا ہے تو مارے خوف کے ان کی نیند اڑ جاتی ہے۔ سورج چاند اس کو مقرر کئے ہوئے اندازے پر برابر چل رہے ہیں کوئی تغیر اور اضطراب اس میں نہیں ہوتا ہر ایک کی منزل مقرر ہے جاڑے کی الگ گرمی کی الگ اور اسی اعتبار سے دن رات ظاہر ہوتے ہیں چھوٹے اور بڑے ہوتے ہیں جیسے فرمان ہے آیت (ھُوَ الَّذِيْ جَعَلَ الشَّمْسَ ضِيَاۗءً وَّالْقَمَرَ نُوْرًا وَّقَدَّرَهٗ مَنَازِلَ لِتَعْلَمُوْا عَدَدَ السِّـنِيْنَ وَالْحِسَابَ) 10۔ یونس :5) اسی اللہ نے سورج کو روشن اور چاند کو منور کیا ہے ان کی منزلیں مقرر کردی ہیں اور آیت میں ہے (لَا الشَّمْسُ يَنْۢبَغِيْ لَهَآ اَنْ تُدْرِكَ الْقَمَرَ وَلَا الَّيْلُ سَابِقُ النَّهَارِ) 36۔ یس :40) نہ تو آفتاب ہی سے بن پڑتا ہے کہ چاند کو جا لے اور نہ رات دن پر سبق لے سکتی ہے ہر ایک اپنے فلک میں تیرتا پھرتا ہے اور جگہ فرمایا سورج چاند ستارے سب اس کے فرمان کے ما تحت ہیں۔ یہاں فرمایا یہ سب اندازے اس اللہ کے مقرر کردہ ہیں جسے کوئی روک نہیں سکتا جس کے خلاف کوئی کچھ نہیں کرسکتا۔ جو ہر چیز کو جانتا ہے جس کے علم سے ایک ذرہ باہر نہیں۔ زمین و آسمان کی کوئی مخلوق اس سے پوشیدہ نہیں۔ عموماً قرآن کریم جہاں کہیں رات دن سورج چاند کی پیدائش کا ذکر کرتا ہے وہاں کلام کا خاتمہ اللہ جل و علا نے اپنی عزت و علم کی خبر پر کیا ہے جیسے اس آیت میں اور (واٰیتہ لھم اللیل) میں اور سورة حم سجدہ کی شروع کی آیت (وَزَيَّنَّا السَّمَاۗءَ الدُّنْيَا بِمَصَابِيْحَ ڰ وَحِفْظًا ۭ ذٰلِكَ تَقْدِيْرُ الْعَزِيْزِ الْعَلِيْمِ) 41۔ فصلت :12) میں۔ پھر فرمایا ستارے تمہیں خشکی اور تری میں راہ دکھانے کے لئے ہیں بعض سلف کا قول ہے کہ ستاروں میں ان تین فوائد کے علاوہ اگر کوئی اور کچھ مانے تو اس نے خطا کی اور اللہ پر چھوٹ باندھا ایک تو یہ کہ یہ آسمان کی زینت ہیں دوسرے یہ شیاطین پر آگ بن کر برستے ہیں جبکہ وہ آسمانوں کی خبریں لینے کو چڑھیں تیسرے یہ کہ مسافروں اور مقیم لوگوں کو یہ راستہ دکھاتے ہیں۔ پھر فرمایا ہم نے عقلمندوں عالموں اور واقف کار لوگوں کیلئے اپنی آیتیں بالتفصیل بیان فرما دی ہیں۔
97
View Single
وَهُوَ ٱلَّذِي جَعَلَ لَكُمُ ٱلنُّجُومَ لِتَهۡتَدُواْ بِهَا فِي ظُلُمَٰتِ ٱلۡبَرِّ وَٱلۡبَحۡرِۗ قَدۡ فَصَّلۡنَا ٱلۡأٓيَٰتِ لِقَوۡمٖ يَعۡلَمُونَ
And it is He Who has created the stars for you, so that you may find your way by them in the darkness of the land and the sea; indeed We have explained Our verses in detail for the people of knowledge.
اور وہی ہے جس نے تمہارے لئے ستاروں کو بنایا تاکہ تم ان کے ذریعے بیابانوں اور دریاؤں کی تاریکیوں میں راستے پاسکو۔ بیشک ہم نے علم رکھنے والی قوم کے لئے (اپنی) نشانیاں کھول کر بیان کر دی ہیں
Tafsir Ibn Kathir
Recognizing Allah Through Some of His Ayat
Allah states that He causes the seed grain and the fruit stone to split and sprout in the ground, producing various types, colors, shapes, and tastes of grains and produce. The Ayah,
فَالِقُ الْحَبِّ وَالنَّوَى
(Who causes the seed grain and the fruit stone to split and sprout.) is explained by the next statement,
يُخْرِجُ الْحَىَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَمُخْرِجُ الْمَيِّتِ مِنَ الْحَىِّ
(He brings forth the living from the dead, and it is He Who brings forth the deed from the living.) meaning, He brings the living plant from the seed grain and the fruit stone, which is a lifless and inanimate object. Allah said,
وَءَايَةٌ لَّهُمُ الاٌّرْضُ الْمَيْتَةُ أَحْيَيْنَـهَا وَأَخْرَجْنَا مِنْهَا حَبّاً فَمِنْهُ يَأْكُلُونَ
(And a sign for them is the dead land. We gave it life, and We brought forth from it grains, so that they eat thereof.) 36:33 until,
وَمِنْ أَنفُسِهِمْ وَمِمَّا لاَ يَعْلَمُونَ
(as well as of their own (human) kind (male and female), and of that which they know not.) 36:36 Allah's statement,
وَيُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَىِّ
(and it is He Who brings forth the dead from the living. ) There are similar expressions in meaning such as, He brings the egg from the chicken, and the opposite. Others said that it means, He brings the wicked offspring from the righteous parent and the opposite, and there are other possible meanings for the Ayah. Allah said,
ذَلِكُـمُ اللَّهُ
(Such is Allah,) meaning, He Who does all this, is Allah, the One and Only without partners,
فَأَنَّى تُؤْفَكُونَ
(then how are you deluded away from the truth) meaning, look how you are deluded from Truth to the falsehood of worshipping others besides Allah. Allah's statement,
فَالِقُ الإِصْبَاحِ وَجَعَلَ الَّيْلَ سَكَناً
((He is the) Cleaver of the daybreak. He has appointed the night for resting,) means, He is the Creator of light and darkness. Allah said in the beginning of the Surah,
وَجَعَلَ الظُّلُمَـتِ وَالنُّورَ
(And originated the darkness and the light.) Indeed, Allah causes the darkness of the night to disappear and brings forth the day, thus bringing brighteness to the world and light to the horizon, while dissipating darkness and ending the night with its depth of darkness and starting the day with its brightness and light. Allah said,
يُغْشِى الَّيْلَ النَّهَارَ يَطْلُبُهُ حَثِيثًا
(He brings the night as a cover over the day, seeking it rapidly.) 7:54 In this Ayah, Allah reminds of His ability to create diversified things in opposites, testifying to His perfect greatness and supreme power. Allah states that He is the Cleaver of the daybreak and mentioned its opposite, when He said,
وَجَعَلَ الَّيْلَ سَكَناً
(He has appointed the night for resting,) meaning, created darkness, in order for the creation to become halt and rest during it. Allah said in other Ayat,
وَالضُّحَى - وَالَّيْلِ إِذَا سَجَى
(By the forenoon. And by the night when it is still.) 93:1-2,
وَالَّيْلِ إِذَا يَغْشَى - وَالنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّى
(By the night as it envelops. And by the day as it appears in brightness.) 92:1,2 and,
وَالنَّهَارِ إِذَا جَلَّـهَا - وَالَّيْلِ إِذَا يَغْشَـهَا
(And by the day as it shows up (the sun's) brightness. And by the night as it conceals it.) 91:3-4 Allah's statement,
وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ حُسْبَاناً
(...And the sun and the moon for reckoning.) means, the sun and the moon have specific orbits, according to a term appointed with magnificent precision that never changes or alters. Both the sun and the moon have distinct positions that they assume in summer and winter, effecting changes in the length of night and day. Allah said in other Ayat,
هُوَ الَّذِى جَعَلَ الشَّمْسَ ضِيَآءً وَالْقَمَرَ نُوراً وَقَدَّرَهُ مَنَازِلَ
(It is He Who made the sun a shining thing and the Moon as a light and measured out stages for it.) 10:5,
لاَ الشَّمْسُ يَنبَغِى لَهَآ أَن تدْرِكَ القَمَرَ وَلاَ الَّيْلُ سَابِقُ النَّهَارِ وَكُلٌّ فِى فَلَكٍ يَسْبَحُونَ
(It is not for the sun to overtake the moon, nor does the night outstrip the day. They all float, each in an orbit.) 36:40, And,
وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ وَالنُّجُومَ مُسَخَّرَتٍ بِأَمْرِهِ
(The sun and the moon; and the stars are subjected by His command.) 16:12 Allah's statement,
ذَلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ
(Such is the measuring of the Almighty, the All-Knowing.) means, all of this occurs according to the decree and due measurement of the Almighty Who is never resisted or contradicted. He is the Knower of all things and nothing ever escapes His knowledge, not even the weight of an atom on earth or in heavens. Allah often mentions the creation of the night, the day, the sun and the moon and then ends His Speech by mentioning His attributes of power and knowledge, as in this Ayah above 6:96, and in His statement,
وَءَايَةٌ لَّهُمُ الَّيْلُ نَسْلَخُ مِنْهُ النَّهَارَ فَإِذَا هُم مُّظْلِمُونَ - وَالشَّمْسُ تَجْرِى لِمُسْتَقَرٍّ لَّهَـا ذَلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ
(And a sign for them is the night, We withdraw therefrom the day, and behold, they are in darkness. And the sun runs on its fixed course for a term. That is the decree of the Almighty, the All-Knowing.) 36:37-38 In the beginning of Surat Ha-Mim As-Sajdah, after mentioning the creation of the heavens and earth and all that is in them, Allah said:
وَزَيَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنْيَا بِمَصَـبِيحَ وَحِفْظاً ذَلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ
(And We adorned the nearest (lowest) heaven with lamps (stars) to be an adornment as well as to guard. Such is the decree of Him, the Almighty, the All-Knower.) 41:12 Allah said next,
وَهُوَ الَّذِى جَعَلَ لَكُمُ النُّجُومَ لِتَهْتَدُواْ بِهَا فِى ظُلُمَـتِ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ
(It is He Who has set the stars for you, so that you may guide your course with their help through the darkness of the land and the sea.) Some of the Salaf said; Whoever believes in other than three things about these stars, then he has made a mistake, and lied against Allah. Indeed Allah made them as decorations for the heavens, and to shoot at the Shayatin, and for directions in the dark recesses of the land and sea. Then, Allah said,
قَدْ فَصَّلْنَا الآيَـتِ
(We have explained in detail Our Ayat.) meaning, We made them clear and plain,
لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ
(for people who know. ) who have sound minds and are able to recognize the truth and avoid falsehood.
وَهُوَ الَّذِى أَنشَأَكُم مِّن نَّفْسٍ وَحِدَةٍ فَمُسْتَقَرٌّ وَمُسْتَوْدَعٌ قَدْ فَصَّلْنَا الاٌّيَـتِ لِقَوْمٍ يَفْقَهُونَ
اس کی حیرت ناک قدرت دانوں سے کھیتیاں بیج اور گٹھلی سے درخت اللہ ہی اگاتا ہے تم تو انہیں مٹی میں ڈال کر چلے آتے ہو وہاں انہیں اللہ تعالیٰ پھاڑتا ہے۔ کونپل نکالتا ہے پھر وہ بڑھتے ہیں قوی درخت بن جاتے ہیں اور دانے اور پھل پیدا ہوتے ہیں۔ پھر گویا اسی کی تفسیر میں فرمایا کہ زندہ درخت اور زندہ کھیتی کو مردہ بیج اور مردہ دانے سے وہ نکالتا ہے جیسے سورة یٰسین میں ارشاد ہے آیت (وَاٰيَةٌ لَّهُمُ الْاَرْضُ الْمَيْتَةُ ښ اَحْيَيْنٰهَا وَاَخْرَجْنَا مِنْهَا حَبًّا فَمِنْهُ يَاْكُلُوْنَ) 36۔ یس :33) مخرج کا عطف فالق پر ہے اور مفسرین نے دوسرے انداز سے ان جملوں میں ربط قائم کیا ہے لیکن مطلب سب کا یہی ہے اور اسی کے قریب قریب ہے، کوئی کہتا ہے مرغی کا انڈے سے نکلنا اور مرغ سے انڈے کا نکلنا مراد ہے۔ بد شخص کے ہاں نیک اولاد ہونا اور نیکوں کی اولاد کا بد ہونا مراد ہے۔ وغیرہ۔ آیت درحقیقت ان تمام صورتوں کو گھیرے ہوئے ہے۔ پھر فرماتا ہے ان تمام کاموں کا کرنے والا اکیلا اللہ ہی ہے پھر کیا وجہ کہ تم حق سے پھرجاتے ہو ؟ اور اس لا شریک کے ساتھ دوسروں کو شریک کرنے لگتے ہو ؟ وہی دن کی روشنی کا لانے والا اور رات کے اندھیرے کا پیدا کرنے والا ہے۔ جیسے کہ اس سورت کے شروع میں فرمایا تھا کہ وہی نور و ظلمت کا پیدا کرنے والا ہے۔ رات کے گھٹا ٹوپ اندھیرے کو دن کی نورانیت سے بدل دیتا ہے۔ رات اپنے اندھیروں سمیت چھپ جاتی ہے اور دن اپنی تجلیوں سمیت کائنات پر قبضہ جما لیتا ہے، جیسے فرمان ہے وہی دن رات چڑھاتا ہے۔ الغرض چیز اور اس کی ضد اس کے زیر اختیار ہے اور یہ اس کی بےانتہا عظمت اور بہت بڑی سلطنت پر دلیل ہے۔ دن کی روشنی اور اس کی چہل پہل کی ظلمت اور اس کا سکون اس کی عظیم الشان قدرت کی نشانیاں ہیں۔ جیسے فرمان ہے آیت (وَالضُّحٰى ۙ وَالَّيْلِ اِذَا سَـجٰى ۙ) اور جیسے اس آیت میں فرمایا آیت (وَالَّيْلِ اِذَا يَغْشٰى ۙ وَالنَّهَارِ اِذَا تَجَلّٰى ۙ) 92۔ اللیل :12) اور آیت میں ہے (وَالنَّهَارِ اِذَا جَلّٰىهَا ۽ وَاللَّيْلِ اِذَا يَغْشٰـىهَا ۽) 91۔ والشمس :34) ان تمام آیتوں میں دن رات کا اور نور و ظلمت روشنی اور اندھیرے کا ذکر ہے حضرت صہیب رومی ؒ سے ایک بار ان کی بیوی صاحبہ نے کہا کہ رات ہر ایک کے لئے آرام کی ہے لیکن میرے خاوند حضرت صہیب کے لئے وہ بھی آرام کی نہیں اس لئے کہ وہ رات کو اکثر حصہ جاگ کر کاٹتے ہیں۔ جب انہیں جنت یاد آتی ہے تو شوق بڑھ جاتا ہے اور یاد اللہ میں رات گزار دیتے ہیں اور جب جہنم کا خیال آجاتا ہے تو مارے خوف کے ان کی نیند اڑ جاتی ہے۔ سورج چاند اس کو مقرر کئے ہوئے اندازے پر برابر چل رہے ہیں کوئی تغیر اور اضطراب اس میں نہیں ہوتا ہر ایک کی منزل مقرر ہے جاڑے کی الگ گرمی کی الگ اور اسی اعتبار سے دن رات ظاہر ہوتے ہیں چھوٹے اور بڑے ہوتے ہیں جیسے فرمان ہے آیت (ھُوَ الَّذِيْ جَعَلَ الشَّمْسَ ضِيَاۗءً وَّالْقَمَرَ نُوْرًا وَّقَدَّرَهٗ مَنَازِلَ لِتَعْلَمُوْا عَدَدَ السِّـنِيْنَ وَالْحِسَابَ) 10۔ یونس :5) اسی اللہ نے سورج کو روشن اور چاند کو منور کیا ہے ان کی منزلیں مقرر کردی ہیں اور آیت میں ہے (لَا الشَّمْسُ يَنْۢبَغِيْ لَهَآ اَنْ تُدْرِكَ الْقَمَرَ وَلَا الَّيْلُ سَابِقُ النَّهَارِ) 36۔ یس :40) نہ تو آفتاب ہی سے بن پڑتا ہے کہ چاند کو جا لے اور نہ رات دن پر سبق لے سکتی ہے ہر ایک اپنے فلک میں تیرتا پھرتا ہے اور جگہ فرمایا سورج چاند ستارے سب اس کے فرمان کے ما تحت ہیں۔ یہاں فرمایا یہ سب اندازے اس اللہ کے مقرر کردہ ہیں جسے کوئی روک نہیں سکتا جس کے خلاف کوئی کچھ نہیں کرسکتا۔ جو ہر چیز کو جانتا ہے جس کے علم سے ایک ذرہ باہر نہیں۔ زمین و آسمان کی کوئی مخلوق اس سے پوشیدہ نہیں۔ عموماً قرآن کریم جہاں کہیں رات دن سورج چاند کی پیدائش کا ذکر کرتا ہے وہاں کلام کا خاتمہ اللہ جل و علا نے اپنی عزت و علم کی خبر پر کیا ہے جیسے اس آیت میں اور (واٰیتہ لھم اللیل) میں اور سورة حم سجدہ کی شروع کی آیت (وَزَيَّنَّا السَّمَاۗءَ الدُّنْيَا بِمَصَابِيْحَ ڰ وَحِفْظًا ۭ ذٰلِكَ تَقْدِيْرُ الْعَزِيْزِ الْعَلِيْمِ) 41۔ فصلت :12) میں۔ پھر فرمایا ستارے تمہیں خشکی اور تری میں راہ دکھانے کے لئے ہیں بعض سلف کا قول ہے کہ ستاروں میں ان تین فوائد کے علاوہ اگر کوئی اور کچھ مانے تو اس نے خطا کی اور اللہ پر چھوٹ باندھا ایک تو یہ کہ یہ آسمان کی زینت ہیں دوسرے یہ شیاطین پر آگ بن کر برستے ہیں جبکہ وہ آسمانوں کی خبریں لینے کو چڑھیں تیسرے یہ کہ مسافروں اور مقیم لوگوں کو یہ راستہ دکھاتے ہیں۔ پھر فرمایا ہم نے عقلمندوں عالموں اور واقف کار لوگوں کیلئے اپنی آیتیں بالتفصیل بیان فرما دی ہیں۔
98
View Single
وَهُوَ ٱلَّذِيٓ أَنشَأَكُم مِّن نَّفۡسٖ وَٰحِدَةٖ فَمُسۡتَقَرّٞ وَمُسۡتَوۡدَعٞۗ قَدۡ فَصَّلۡنَا ٱلۡأٓيَٰتِ لِقَوۡمٖ يَفۡقَهُونَ
And it is He Who has created you from a single soul – then you have to stop over* in one place and stay entrusted** in another; indeed We have explained Our verses in detail for people of understanding. (* This earth. ** The grave.)
اور وہی (اللہ) ہے جس نے تمہیں ایک جان (یعنی ایک خلیہ) سے پیدا فرمایا ہے پھر (تمہارے لئے) ایک جائے اقامت (ہے) اور ایک جائے امانت (مراد رحمِ مادر اور دنیا ہے یا دنیا اور قبر ہے)۔ بیشک ہم نے سمجھنے والے لوگوں کے لئے (اپنی قدرت کی) نشانیاں کھول کر بیان کردی ہیں
Tafsir Ibn Kathir
وَهُوَ الَّذِى أَنشَأَكُم مِّن نَّفْسٍ وَحِدَةٍ
(It is He Who has created you from a single person,) 6:98 in reference to Adam, peace be upon him. In another Ayah, Allah said;
يَـأَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُواْ رَبَّكُمُ الَّذِى خَلَقَكُمْ مِّن نَّفْسٍ وَحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالاً كَثِيراً وَنِسَآءً
(O mankind! Have Taqwa of your Lord, Who created you from a single person, and from him He created his mate, and from them both He created many men and women.)4:1 Allah said,
فَمُسْتَقَرٌّ وَمُسْتَوْدَعٌ
(Mustaqar and Mustawda`) Ibn Mas`ud, Ibn `Abbas, Abu `Abdur-Rahman As-Sulami, Qays bin Abu Hazim, Mujahid, `Ata', Ibrahim An-Nakha`i, Ad-Dahhak, Qatadah, As-Suddi and `Ata' Al-Khurasani and others said that,
فَمُسْتَقَرٌّ
(Mustaqar), `in the wombs'. They, or most of them, also said that,
وَمُسْتَوْدَعٌ
(And Mustawda`,) means, `in your father's loins'. Ibn Mas`ud and several others said that, Mustaqar, means residence in this life, while, Mustawda`, means the place of storage after death (the grave). Allah's statement,
قَدْ فَصَّلْنَا الاٌّيَـتِ لِقَوْمٍ يَفْقَهُونَ
(Indeed, We have explained in detail Our revelations for people who understand.) refers to those who comprehend and understand Allah's Words and its meanings. Allah said next,
وَهُوَ الَّذِى أَنزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً
(It is He Who sends down water (rain) from the sky) in due measure, as a blessing and provision for the servants, relief and means of survival for the creatures and mercy from Allah for His creation. Allah's statement,
فَأَخْرَجْنَا بِهِ نَبَاتَ كُلِّ شَىْءٍ
(And with it We bring forth vegetation of all kinds,) is similar to,
وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَآءِ كُلَّ شَىْءٍ حَىٍّ
(And We have made from water every living thing.) 21:30
فَأَخْرَجْنَا مِنْهُ خَضِراً
(and out of it We bring forth green stalks,) green produce and trees, on which We grow seeds and fruits.
نُّخْرِجُ مِنْهُ حَبّاً مُّتَرَاكِباً
(from which We bring forth thick clustered grain.) lined on top of each other in clusters, like an ear or spike of grain.
وَمِنَ النَّخْلِ مِن طَلْعِهَا قِنْوَنٌ
(And out of the date-palm and its sprouts come forth clusters) of dates
دَانِيَةٌ
(hanging low) Within reach and easy to pick. `Ali bin Abi Talhah Al-Walibi said that Ibn `Abbas said that,
قِنْوَنٌ دَانِيَةٌ
(clusters hanging low) refers to short date trees whose branches hang low, close to the ground. This was recorded by Ibn Jarir. Allah's statement
وَجَنَّـتٍ مِّنْ أَعْنَـبٍ
(and gardens of grapes,) means, We bring forth gardens of grapes. Grapes and dates are the most precious fruits to the people of Al-Hijaz (Western Arabia), and perhaps both are the best fruits in this world. Allah has reminded His servants of His favor in making these two fruits for them, when He said,
وَمِن ثَمَرَتِ النَّخِيلِ وَالاٌّعْنَـبِ تَتَّخِذُونَ مِنْهُ سَكَرًا وَرِزْقًا حَسَنًا
(And from the fruits of date-palms and grapes, you derive strong drink and a goodly provision.) 16:67 before intoxicating drinks were prohibited, and;
وَجَعَلْنَا فِيهَا جَنَّـتٍ مِّن نَّخِيلٍ وَأَعْنَـبٍ
(And We have made therein gardens of date-palms and grapes.) 36:34. Allah said,
وَالزَّيْتُونَ وَالرُّمَّانَ مُشْتَبِهاً وَغَيْرَ مُتَشَـبِهٍ
(olives and pomegranates, each similar yet different.) The leaves are similar in shape and appearence, yet different in the shape, and taste. And the kind of fruit each plant produces is different, according to the explanation of Qatadah and several others. Allah's statement,
انْظُرُواْ إِلِى ثَمَرِهِ إِذَآ أَثْمَرَ وَيَنْعِهِ
(Look at their fruits when they begin to bear, and Yan`ih.) means, when the fruits become ripe, according to Al-Bara' bin `Azib, Ibn `Abbas, Ad-Dahhak, `Ata' Al-Khurasani, As-Suddi, Qatadah and others. This Ayah means, contemplate the ability of the Creator of these fruits, Who brought them into existence after they were dry wood, and they later became grapes and dates; and similar is the case with the various colors, shapes, tastes and fragrance of whatever Allah created. Allah said,
وَفِى الاٌّرْضِ قِطَعٌ مُّتَجَـوِرَتٌ وَجَنَّـتٌ مِّنْ أَعْنَـبٍ وَزَرْعٌ وَنَخِيلٌ صِنْوَنٌ وَغَيْرُ صِنْوَنٍ يُسْقَى بِمَآءٍ وَحِدٍ وَنُفَضِّلُ بَعْضَهَا عَلَى بَعْضٍ فِى الاٍّكُلِ
(And in the earth are neighbouring tracts, and gardens of vines, and green crops, and date-palms, growing out, two or three from a single stem root, or otherwise, watered with the same water, yet some of them We make better than others to eat.) 13:4 This is why Allah said here,
إِنَّ فِى ذلِكُمْ
(In these things there are...) O people,
لاّيَـتٍ
(signs...) and proofs that testify to the perfect ability, wisdom and mercy of He Who created these things,
لِّقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ
(for people who believe. ) in Allah and obey His Messengers.
قدرت کی نشانیاں فرماتا ہے کہ تم سب انسانوں کو اللہ تعالیٰ نے تن واحد یعنی حضرت آدم سے پیدا کیا ہے جیسے اور آیت میں ہے لوگو اپنے اس رب سے ڈور جس نے تمہیں ایک نفس سے پیدا کی اسی سے اس کا جوڑ پیدا کیا پھر ان دونوں سے مرد و عورت خوب پھیلا دیئے مستقر سے مراد ماں کا پیٹ اور مستودع سے مراد باپ کی پیٹھ ہے اور قول ہے کہ جائے قرار دنیا ہے اور سپردگی کی جگہ موت کا وقت ہے۔ سعید بن جبیر فرماتے ہیں ماں کا پیٹ، زمین اور جب مرتا ہے سب جائے قرار کی تفسیر ہے، حسن بصری فرماتے ہیں جو مرگیا اس کے عمل رک گئے یہی مراد مستقر سے ہے۔ ابن مسعود کا فرمان ہے مستقر آخرت میں ہے لیکن پہلا قول ہی زیادہ ظاہر ہے، واللہ اعلم، سمجھداروں کے سامنے نشان ہائے قدرت بہت کچھ آ چکے، اللہ کی بہت سی باتیں بیان ہو چکیں جو کافی وافی ہیں۔ وہی اللہ ہے جس نے آسمان سے پانی اتارا نہایت صحیح اندازے سے بڑا بابرکت پانی جو بندوں کی زندگانی کا باعث بنا اور سارے جہاں پر اللہ کی رحمت بن کر برسا، اسی سے تمام تر تروتازہ چیزیں اگیں جیسے فرمان ہے آیت (وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاۗءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍّ ۭ اَفَلَا يُؤْمِنُوْنَ) 21۔ الانبیآء :30) پانی سے ہم نے ہر چیز کی زندگانی قائم کردی۔ پھر اس سے سبزہ یعنی کھیتی اور درخت اگتے ہیں جس میں سے دانے اور پھل نکلتے ہیں، دانے بہت سارے ہوتے ہیں گتھے ہوئے تہ بہ تہ چڑھے ہوئے اور کجھور کے خوشے جو زمین کی طرف جھکے پڑتے ہیں۔ بعض درخت خرما چھوٹے ہوتے ہیں اور خوشے چمٹے ہوئے ہوتے ہیں۔ قنوان کو قبیلہ تمیم قنیان کہتا ہے اس کا مفرد قنو ہے، جیسے صنوان صنو کی جمع ہے اور باغات انگوروں کے۔ پس عرب کے نزدیک یہی دنوں میوے سب میوں سے اعلیٰ ہیں کھجور اور انگور اور فی الحقیقت ہیں بھی یہ اسی درجے کے۔ قرآن کی دوسری آیت (وَمِنْ ثَمَرٰتِ النَّخِيْلِ وَالْاَعْنَابِ تَتَّخِذُوْنَ مِنْهُ سَكَرًا وَّرِزْقًا حَسَـنًا ۭ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيَةً لِّقَوْمٍ يَّعْقِلُوْنَ) 16۔ النحل :67) میں اللہ تعالیٰ نے ان ہی دونوں چیزوں کا ذکر فرما کر اپنا احسان بیان فرمایا ہے اس میں جو شراب بنانے کا ذکر ہے اس پر بعض حضرات کہتے ہیں کہ حرمت شراب کے نازل ہونے سے پہلے کی یہ آیت ہے اور آیت میں بھی باغ کے ذکر میں فرمایا کہ ہم نے اس میں کھجور و انگور کے درخت پیدا کئے تھے۔ زیتون بھی ہیں انار بھی ہیں آپس میں ملتے جلتے پھل الگ الگ، شکل صورت مزہ حلاوت فوائد وغیرہ ہر ایک کے جدا گانہ، ان درختوں میں پھلوں کا آنا اور ان کا پکنا ملاحظہ کر اور اللہ کی ان قدرتوں کا نظارہ اپنی آنکھوں سے کرو کہ لکڑی میں میوہ نکالتا ہے۔ عدم وجود میں لاتا ہے۔ سوکھے کو گیلا کرتا ہے۔ مٹھاس لذت خوشبو سب کچھ پیدا کرتا ہے رنگ روپ شکل صورت دیتا ہے فوائد رکھتا ہے۔ جیسے اور جگہ فرمایا ہے کہ پانی ایک زمین ایک کھیتیاں باغات ملے جلے لیکن ہم جسے چاہیں جب چاہیں بنادیں کھٹاس مٹھاس کمی زیادتی سب ہمارے قبضہ میں ہے یہ سب خالق کی قدرت کی نشانیاں ہیں جن سے ایماندار اپنا عقیدہ مضبوط کرتے ہیں۔
99
View Single
وَهُوَ ٱلَّذِيٓ أَنزَلَ مِنَ ٱلسَّمَآءِ مَآءٗ فَأَخۡرَجۡنَا بِهِۦ نَبَاتَ كُلِّ شَيۡءٖ فَأَخۡرَجۡنَا مِنۡهُ خَضِرٗا نُّخۡرِجُ مِنۡهُ حَبّٗا مُّتَرَاكِبٗا وَمِنَ ٱلنَّخۡلِ مِن طَلۡعِهَا قِنۡوَانٞ دَانِيَةٞ وَجَنَّـٰتٖ مِّنۡ أَعۡنَابٖ وَٱلزَّيۡتُونَ وَٱلرُّمَّانَ مُشۡتَبِهٗا وَغَيۡرَ مُتَشَٰبِهٍۗ ٱنظُرُوٓاْ إِلَىٰ ثَمَرِهِۦٓ إِذَآ أَثۡمَرَ وَيَنۡعِهِۦٓۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكُمۡ لَأٓيَٰتٖ لِّقَوۡمٖ يُؤۡمِنُونَ
And it is He Who sends down water from the sky; so with it We produced all things that grow; hence We produce from it vegetation from which We bring forth grains in clusters; and from the pollen of dates, dense bunches – and gardens of grapes and olives and pomegranates, similar in some ways and unlike in some; look at its fruit when it bears yield, and its ripening; indeed in it are signs for the people who believe.
اور وہی ہے جس نے آسمان کی طرف سے پانی اتارا پھر ہم نے اس (بارش) سے ہر قسم کی روئیدگی نکالی پھر ہم نے اس سے سرسبز (کھیتی) نکالی جس سے ہم اوپر تلے پیوستہ دانے نکالتے ہیں اور کھجور کے گابھے سے لٹکتے ہوئے گچھے اور انگوروں کے باغات اور زیتون اور انار (بھی پیدا کئے جو کئی اعتبارات سے) آپس میں ایک جیسے (لگتے) ہیں اور (پھل، ذائقے اور تاثیرات) جداگانہ ہیں۔ تم درخت کے پھل کی طرف دیکھو جب وہ پھل لائے اور اس کے پکنے کو (بھی دیکھو)، بیشک ان میں ایمان رکھنے والے لوگوں کے لئے نشانیاں ہیں
Tafsir Ibn Kathir
وَهُوَ الَّذِى أَنشَأَكُم مِّن نَّفْسٍ وَحِدَةٍ
(It is He Who has created you from a single person,) 6:98 in reference to Adam, peace be upon him. In another Ayah, Allah said;
يَـأَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُواْ رَبَّكُمُ الَّذِى خَلَقَكُمْ مِّن نَّفْسٍ وَحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالاً كَثِيراً وَنِسَآءً
(O mankind! Have Taqwa of your Lord, Who created you from a single person, and from him He created his mate, and from them both He created many men and women.)4:1 Allah said,
فَمُسْتَقَرٌّ وَمُسْتَوْدَعٌ
(Mustaqar and Mustawda`) Ibn Mas`ud, Ibn `Abbas, Abu `Abdur-Rahman As-Sulami, Qays bin Abu Hazim, Mujahid, `Ata', Ibrahim An-Nakha`i, Ad-Dahhak, Qatadah, As-Suddi and `Ata' Al-Khurasani and others said that,
فَمُسْتَقَرٌّ
(Mustaqar), `in the wombs'. They, or most of them, also said that,
وَمُسْتَوْدَعٌ
(And Mustawda`,) means, `in your father's loins'. Ibn Mas`ud and several others said that, Mustaqar, means residence in this life, while, Mustawda`, means the place of storage after death (the grave). Allah's statement,
قَدْ فَصَّلْنَا الاٌّيَـتِ لِقَوْمٍ يَفْقَهُونَ
(Indeed, We have explained in detail Our revelations for people who understand.) refers to those who comprehend and understand Allah's Words and its meanings. Allah said next,
وَهُوَ الَّذِى أَنزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً
(It is He Who sends down water (rain) from the sky) in due measure, as a blessing and provision for the servants, relief and means of survival for the creatures and mercy from Allah for His creation. Allah's statement,
فَأَخْرَجْنَا بِهِ نَبَاتَ كُلِّ شَىْءٍ
(And with it We bring forth vegetation of all kinds,) is similar to,
وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَآءِ كُلَّ شَىْءٍ حَىٍّ
(And We have made from water every living thing.) 21:30
فَأَخْرَجْنَا مِنْهُ خَضِراً
(and out of it We bring forth green stalks,) green produce and trees, on which We grow seeds and fruits.
نُّخْرِجُ مِنْهُ حَبّاً مُّتَرَاكِباً
(from which We bring forth thick clustered grain.) lined on top of each other in clusters, like an ear or spike of grain.
وَمِنَ النَّخْلِ مِن طَلْعِهَا قِنْوَنٌ
(And out of the date-palm and its sprouts come forth clusters) of dates
دَانِيَةٌ
(hanging low) Within reach and easy to pick. `Ali bin Abi Talhah Al-Walibi said that Ibn `Abbas said that,
قِنْوَنٌ دَانِيَةٌ
(clusters hanging low) refers to short date trees whose branches hang low, close to the ground. This was recorded by Ibn Jarir. Allah's statement
وَجَنَّـتٍ مِّنْ أَعْنَـبٍ
(and gardens of grapes,) means, We bring forth gardens of grapes. Grapes and dates are the most precious fruits to the people of Al-Hijaz (Western Arabia), and perhaps both are the best fruits in this world. Allah has reminded His servants of His favor in making these two fruits for them, when He said,
وَمِن ثَمَرَتِ النَّخِيلِ وَالاٌّعْنَـبِ تَتَّخِذُونَ مِنْهُ سَكَرًا وَرِزْقًا حَسَنًا
(And from the fruits of date-palms and grapes, you derive strong drink and a goodly provision.) 16:67 before intoxicating drinks were prohibited, and;
وَجَعَلْنَا فِيهَا جَنَّـتٍ مِّن نَّخِيلٍ وَأَعْنَـبٍ
(And We have made therein gardens of date-palms and grapes.) 36:34. Allah said,
وَالزَّيْتُونَ وَالرُّمَّانَ مُشْتَبِهاً وَغَيْرَ مُتَشَـبِهٍ
(olives and pomegranates, each similar yet different.) The leaves are similar in shape and appearence, yet different in the shape, and taste. And the kind of fruit each plant produces is different, according to the explanation of Qatadah and several others. Allah's statement,
انْظُرُواْ إِلِى ثَمَرِهِ إِذَآ أَثْمَرَ وَيَنْعِهِ
(Look at their fruits when they begin to bear, and Yan`ih.) means, when the fruits become ripe, according to Al-Bara' bin `Azib, Ibn `Abbas, Ad-Dahhak, `Ata' Al-Khurasani, As-Suddi, Qatadah and others. This Ayah means, contemplate the ability of the Creator of these fruits, Who brought them into existence after they were dry wood, and they later became grapes and dates; and similar is the case with the various colors, shapes, tastes and fragrance of whatever Allah created. Allah said,
وَفِى الاٌّرْضِ قِطَعٌ مُّتَجَـوِرَتٌ وَجَنَّـتٌ مِّنْ أَعْنَـبٍ وَزَرْعٌ وَنَخِيلٌ صِنْوَنٌ وَغَيْرُ صِنْوَنٍ يُسْقَى بِمَآءٍ وَحِدٍ وَنُفَضِّلُ بَعْضَهَا عَلَى بَعْضٍ فِى الاٍّكُلِ
(And in the earth are neighbouring tracts, and gardens of vines, and green crops, and date-palms, growing out, two or three from a single stem root, or otherwise, watered with the same water, yet some of them We make better than others to eat.) 13:4 This is why Allah said here,
إِنَّ فِى ذلِكُمْ
(In these things there are...) O people,
لاّيَـتٍ
(signs...) and proofs that testify to the perfect ability, wisdom and mercy of He Who created these things,
لِّقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ
(for people who believe. ) in Allah and obey His Messengers.
قدرت کی نشانیاں فرماتا ہے کہ تم سب انسانوں کو اللہ تعالیٰ نے تن واحد یعنی حضرت آدم سے پیدا کیا ہے جیسے اور آیت میں ہے لوگو اپنے اس رب سے ڈور جس نے تمہیں ایک نفس سے پیدا کی اسی سے اس کا جوڑ پیدا کیا پھر ان دونوں سے مرد و عورت خوب پھیلا دیئے مستقر سے مراد ماں کا پیٹ اور مستودع سے مراد باپ کی پیٹھ ہے اور قول ہے کہ جائے قرار دنیا ہے اور سپردگی کی جگہ موت کا وقت ہے۔ سعید بن جبیر فرماتے ہیں ماں کا پیٹ، زمین اور جب مرتا ہے سب جائے قرار کی تفسیر ہے، حسن بصری فرماتے ہیں جو مرگیا اس کے عمل رک گئے یہی مراد مستقر سے ہے۔ ابن مسعود کا فرمان ہے مستقر آخرت میں ہے لیکن پہلا قول ہی زیادہ ظاہر ہے، واللہ اعلم، سمجھداروں کے سامنے نشان ہائے قدرت بہت کچھ آ چکے، اللہ کی بہت سی باتیں بیان ہو چکیں جو کافی وافی ہیں۔ وہی اللہ ہے جس نے آسمان سے پانی اتارا نہایت صحیح اندازے سے بڑا بابرکت پانی جو بندوں کی زندگانی کا باعث بنا اور سارے جہاں پر اللہ کی رحمت بن کر برسا، اسی سے تمام تر تروتازہ چیزیں اگیں جیسے فرمان ہے آیت (وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاۗءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍّ ۭ اَفَلَا يُؤْمِنُوْنَ) 21۔ الانبیآء :30) پانی سے ہم نے ہر چیز کی زندگانی قائم کردی۔ پھر اس سے سبزہ یعنی کھیتی اور درخت اگتے ہیں جس میں سے دانے اور پھل نکلتے ہیں، دانے بہت سارے ہوتے ہیں گتھے ہوئے تہ بہ تہ چڑھے ہوئے اور کجھور کے خوشے جو زمین کی طرف جھکے پڑتے ہیں۔ بعض درخت خرما چھوٹے ہوتے ہیں اور خوشے چمٹے ہوئے ہوتے ہیں۔ قنوان کو قبیلہ تمیم قنیان کہتا ہے اس کا مفرد قنو ہے، جیسے صنوان صنو کی جمع ہے اور باغات انگوروں کے۔ پس عرب کے نزدیک یہی دنوں میوے سب میوں سے اعلیٰ ہیں کھجور اور انگور اور فی الحقیقت ہیں بھی یہ اسی درجے کے۔ قرآن کی دوسری آیت (وَمِنْ ثَمَرٰتِ النَّخِيْلِ وَالْاَعْنَابِ تَتَّخِذُوْنَ مِنْهُ سَكَرًا وَّرِزْقًا حَسَـنًا ۭ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيَةً لِّقَوْمٍ يَّعْقِلُوْنَ) 16۔ النحل :67) میں اللہ تعالیٰ نے ان ہی دونوں چیزوں کا ذکر فرما کر اپنا احسان بیان فرمایا ہے اس میں جو شراب بنانے کا ذکر ہے اس پر بعض حضرات کہتے ہیں کہ حرمت شراب کے نازل ہونے سے پہلے کی یہ آیت ہے اور آیت میں بھی باغ کے ذکر میں فرمایا کہ ہم نے اس میں کھجور و انگور کے درخت پیدا کئے تھے۔ زیتون بھی ہیں انار بھی ہیں آپس میں ملتے جلتے پھل الگ الگ، شکل صورت مزہ حلاوت فوائد وغیرہ ہر ایک کے جدا گانہ، ان درختوں میں پھلوں کا آنا اور ان کا پکنا ملاحظہ کر اور اللہ کی ان قدرتوں کا نظارہ اپنی آنکھوں سے کرو کہ لکڑی میں میوہ نکالتا ہے۔ عدم وجود میں لاتا ہے۔ سوکھے کو گیلا کرتا ہے۔ مٹھاس لذت خوشبو سب کچھ پیدا کرتا ہے رنگ روپ شکل صورت دیتا ہے فوائد رکھتا ہے۔ جیسے اور جگہ فرمایا ہے کہ پانی ایک زمین ایک کھیتیاں باغات ملے جلے لیکن ہم جسے چاہیں جب چاہیں بنادیں کھٹاس مٹھاس کمی زیادتی سب ہمارے قبضہ میں ہے یہ سب خالق کی قدرت کی نشانیاں ہیں جن سے ایماندار اپنا عقیدہ مضبوط کرتے ہیں۔
100
View Single
وَجَعَلُواْ لِلَّهِ شُرَكَآءَ ٱلۡجِنَّ وَخَلَقَهُمۡۖ وَخَرَقُواْ لَهُۥ بَنِينَ وَبَنَٰتِۭ بِغَيۡرِ عِلۡمٖۚ سُبۡحَٰنَهُۥ وَتَعَٰلَىٰ عَمَّا يَصِفُونَ
And out of sheer ignorance they have ascribed jinns as partners of Allah, whereas it is He Who created them, and they have invented sons and daughters for Him! Purity and Supremacy is to Him, from all what they ascribe.
اور ان کافروں نے جِنّات کو اللہ کا شریک بنایا حالانکہ اسی نے ان کو پیدا کیا تھا اورانہوں نے اللہ کے لئے بغیر علم (و دانش) کے لڑکے اور لڑکیاں (بھی) گھڑ لیں۔ وہ ان (تمام) باتوں سے پاک اور بلند و بالا ہے جو یہ (اس سے متعلق) کرتے پھرتے ہیں
Tafsir Ibn Kathir
Rebuking the Idolators
This Ayah refutes the idolators who worshipped others besides Allah and associated the Jinns with Him in worship. Glory be to Allah above this Shirk and Kufr. If someone asks, how did the idolators worship the Jinns, although they only were idol worshippers The answer is that in fact, they worshipped the idols by obeying the Jinns who commanded them to do so. Allah said in other Ayat,
إِن يَدْعُونَ مِن دُونِهِ إِلاَّ إِنَـثاً وَإِن يَدْعُونَ إِلاَّ شَيْطَـناً مَّرِيداً - لَّعَنَهُ اللَّهُ وَقَالَ لاّتَّخِذَنَّ مِنْ عِبَادِكَ نَصِيباً مَّفْرُوضاً - وَلأضِلَّنَّهُمْ وَلأُمَنِّيَنَّهُمْ وَلاّمُرَنَّهُمْ فَلَيُبَتِّكُنَّ ءَاذَانَ الاٌّنْعَـمِ وَلاّمُرَنَّهُمْ فَلَيُغَيِّرُنَّ خَلْقَ اللَّهِ وَمَن يَتَّخِذِ الشَّيْطَـنَ وَلِيّاً مِّن دُونِ اللَّهِ فَقَدْ خَسِرَ خُسْرَاناً مُّبِيناً - يَعِدُهُمْ وَيُمَنِّيهِمْ وَمَا يَعِدُهُمْ الشَّيْطَـنُ إِلاَّ غُرُوراً
(They invoke nothing but female deities besides Him, and they invoke nothing but Shaytan, a persistent rebel! Allah cursed him. And he Shaytan said: "I will take an appointed portion of your servants. Verily, I will mislead them, and surely, I will arouse in them false desires; and certainly, I will order them to slit the ears of cattle, and indeed I will order them to change the nature created by Allah." And whoever takes Shaytan as a protector instead of Allah, has surely suffered a manifest loss. He Shaytan makes promises to them, and arouses in them false desires; and Shaytan's promises are nothing but deceptions. ) 4:117-120 and,
أَفَتَتَّخِذُونَهُ وَذُرِّيَّتَهُ أَوْلِيَآءَ مِن دُونِى
(Will you then take him (Iblis) and his offspring as protectors and helpers rather than Me) 18:50 Ibrahim said to his father,
يأَبَتِ لاَ تَعْبُدِ الشَّيْطَـنَ إِنَّ الشَّيْطَـنَ كَانَ لِلرَّحْمَـنِ عَصِيّاً
("O my father! Worship not Shaytan. Verily! Shaytan has been a rebel against the Most Beneficent (Allah).") 19:44 Allah said,
أَلَمْ أَعْهَدْ إِلَيْكُمْ يبَنِى ءَادَمَ أَن لاَّ تَعْبُدُواْ الشَّيطَـنَ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِينٌ - وَأَنِ اعْبُدُونِى هَـذَا صِرَطٌ مُّسْتَقِيمٌ
(Did I not ordain for you, O Children of Adam, that you should not worship Shaytan. Verily, he is a plain enemy to you. And that you should worship Me. That is a straight path.) 36:60-61 On the Day of Resurrection, the angels will proclaim,
سُبْحَـنَكَ أَنتَ وَلِيُّنَا مِن دُونِهِمْ بَلْ كَانُواْ يَعْبُدُونَ الْجِنَّ أَكْـثَرُهُم بِهِم مُّؤْمِنُونَ
(Glorified be You! You are our Protector instead of them. Nay, but they used to worship the Jinn; most of them were believers in them.) 34:41 This is why Allah said here,
وَجَعَلُواْ للَّهِ شُرَكَآءَ الْجِنَّ وَخَلَقَهُمْ
(Yet, they join the Jinns as partners in worship with Allah, though He has created them.) 6:100, Alone without partners. Consequently, how is it that another deity is being worshipped along with Him As Ibrahim said,
قَالَ أَتَعْبُدُونَ مَا تَنْحِتُونَ - وَاللَّهُ خَلَقَكُمْ وَمَا تَعْمَلُونَ
("Worship you that which you (yourselves) carve While Allah has created you and what you make!") 37:95-96 Allah alone is the Creator without partners. Therefore, He Alone deserves to be worshipped without partners. Allah said next,
وَخَرَقُواْ لَهُ بَنِينَ وَبَنَاتٍ بِغَيْرِ عِلْمٍ
(And they Kharaqu (attribute falsely) without knowledge, sons and daughters to Him.) Allah mentions the misguidance of those who were led astray and claimed a son or offspring for Him, as the Jews did with `Uzayr, the Christians with `Isa and the Arab pagans with the angels whom they claimed were Allah's daughters. Allah is far holier than what the unjust, polytheist people associate with Him. The word, Kharaqu, means `falsely attributed, invented, claimed and lied', according to the scholars of the Salaf. Allah's statement next,
سُبْحَـنَهُ وَتَعَـلَى عَمَّا يَصِفُونَ
(Be He Glorified and Exalted above (all) that they attribute to Him.) means, He is holier than, hallowed, and Exalted above the sons, rivals, equals and partners that these ignorant, misled people attribute to Him.
شیطانی وعدے دھوکہ ہیں جو لوگ اللہ کے سوا اوروں کی عبادت کرتے تھے جنات کو پوجتے تھے ان پر انکار فرما رہا ہے۔ ان کے کفر و شرک سے اپنی بیزاری کا اعلان فرماتا ہے اگر کوئی کہے کہ جنوں کی عبادت کیسے ہوئی وہ تو بتوں کی پوجا پاٹ کرتے تھے تو جواب یہ ہے کہ بت پرستی کے سکھانے والے جنات ہی تھے جیسے خود قرآن کریم میں ہے آیت (اِنْ يَّدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖٓ اِلَّآ اِنَاثًا ۚ وَاِنْ يَّدْعُوْنَ اِلَّا شَيْطٰنًا مَّرِيْدًا) 4۔ النسآء :117) یعنی یہ لوگ اللہ کے سوا جنہیں پکار رہے ہیں وہ سب عورتیں ہیں اور یہ سوائے سرکش ملعون شیطان کے اور کسی کو نہیں پکارتے وہ تو پہلے ہی کہہ چکا ہے کہ کچھ نہ کچھ انسانوں کو تو میں اپنا کر ہی لوں گا انہیں بہکا کر سبز باغ دکھا کر اپنا مطیع بنا لوں گا۔ پھر تو وہ بتوں کے نام پر جانوروں کے کان کاٹ کر چھوڑ دیں گے۔ اللہ کی پیدا کردہ ہئیت کو بگاڑنے لگیں گے۔ حقیقتاً اللہ کو چھوڑ کر شیطان کی دوستی کرنے والے کے نقصان میں کیا شک ہے ؟ شیطانی وعدے تو صرف دھوکے بازیاں ہیں اور آیت میں ہے آیت (اَفَتَتَّخِذُوْنَهٗ وَذُرِّيَّتَهٗٓ اَوْلِيَاۗءَ مِنْ دُوْنِيْ وَهُمْ لَكُمْ عَدُوٌّ ۭ بِئْسَ للظّٰلِمِيْنَ بَدَلًا) 18۔ الکہف :50) کیا تم مجھے چھوڑ کر شیطان اور اولاد شیطان کو اپنا ولی بناتے ہو ؟ حضرت خلیل اللہ ؑ نے اپنے والد سے فرمایا آیت (يٰٓاَبَتِ لَا تَعْبُدِ الشَّيْطٰنَ ۭ اِنَّ الشَّيْطٰنَ كَان للرَّحْمٰنِ عَصِيًّا) 19۔ مریم :44) میرے باپ ! شیطان کی پرستش نہ کرو وہ تو اللہ کا نافرمان ہے۔ سورة یٰسین میں ہے کہ کیا میں نے تم سے یہ عہد نہیں لیا تھا کہ اے اولاد آدم تم شیطان کی عبادت نہ کرنا وہ تمہارا کھلا دشمن ہے اور یہ کہ تم صرف میری ہی عبادت کرنا سیدھی راہ یہی ہے قیامت کے دن فرشتے بھی کہیں گے آیت (قَالُوْا سُبْحٰنَكَ اَنْتَ وَلِيُّنَا مِنْ دُوْنِهِمْ ۚ بَلْ كَانُوْا يَعْبُدُوْنَ الْجِنَّ ۚ اَكْثَرُهُمْ بِهِمْ مُّؤْمِنُوْنَ) 34۔ سبأ :41) یعنی تو پاک ہے یہ نہیں بلکہ سچا والی ہمارا تو تو ہی ہے یہ لوگ تو جنوں کو پوجتے تھے ان میں سے اکثر لوگوں کا ان پر ایمان تھا۔ پس یہاں فرمایا ہے کہ انہوں نے جنات کی پرستش شروع کردی حالانکہ پرستش کے لیے صرف اللہ ہے وہ سب کا خالق ہے۔ جب خالق وہی ہے تو معبود بھی وہی ہے۔ جیسے حضرت خلیل اللہ نے فرمایا آیت (قَالَ اَ تَعْبُدُوْنَ مَا تَنْحِتُوْنَ) 37۔ الصافات :95) یعنی کیا تم ان کی عباد کرتے ہو جنہیں خود گھڑ لیتے ہو حالانکہ تمہارے اور تمہارے تمام کاموں کا خالق اللہ تعالیٰ ہے۔ یعنی معبود وہی ہے جو خالق ہے۔ پھر ان لوگوں کی حماقت و ضلالت بیان ہو رہی ہے۔ جو اللہ کی اولاد بیٹے بیٹیاں قرار دیتے تھے۔ یہودی حضرت عزیر کو اور نصرانی حضرت عیسیٰ کو اللہ کا بیٹا جبکہ مشرکین عرب فرشتوں کو اللہ کی لڑکیاں کہتے تھے۔ یہ سب ان کی من گھڑت اور خود تراشیدہ بات تھی اور محض غلط اور جھوٹ تھا۔ حقیقت سے بہت دور نرا بہتان باندھا تھا اور بےسمجھی سے اللہ کی شان کے خلاف ایک زبان سے اپنی جہالت سے کہہ دیا تھا بھلا اللہ کو بیٹوں اور بیٹیوں سے کیا واسطہ نہ اس کی اولاد نہ اس کی بیوی نہ اس کی کفو کا کوئی۔ وہ سب کا خالق وہ کسی کی شرکت سے پاک وہ کسی کی حصہ داری سے پاک، یہ گمراہ جو کہہ رہے ہیں سب سے وہ پاک اور برتر سب سے دور اور بالا تر ہے۔
101
View Single
بَدِيعُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۖ أَنَّىٰ يَكُونُ لَهُۥ وَلَدٞ وَلَمۡ تَكُن لَّهُۥ صَٰحِبَةٞۖ وَخَلَقَ كُلَّ شَيۡءٖۖ وَهُوَ بِكُلِّ شَيۡءٍ عَلِيمٞ
The Originator of the heavens and the earth; how can He possibly have a child when, in fact, He does not have a spouse? And He has created all things; and He knows everything.
وہی آسمانوں اور زمینوں کا مُوجِد ہے، بھلا اس کی اولاد کیونکر ہو سکتی ہے حالانکہ اس کی بیوی (ہی) نہیں ہے، اور اسی نے ہر چیز کو پیدا فرمایا ہے اور وہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے
Tafsir Ibn Kathir
Meaning of Badi`
بَدِيعُ السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ
(He is the Badi` of the heavens and the earth) Meaning He originated, created, invented and brought them into existence without precedence, as Mujahid and As-Suddi said. This is why the word for innovation - Bid`ah - comes from it, because it is something that did not have a precedence.
أَنَّى يَكُونُ لَهُ وَلَدٌ وَلَمْ تَكُنْ لَّهُ صَـحِبَةٌ
(How can He have children when He has no wife) for the child is the offspring of two compatible spouses. Allah does not have an equal, none of His creatures are similar to Him, for He alone created the entire creation. Allah said;
وَقَالُواْ اتَّخَذَ الرَّحْمَـنُ وَلَداً - لَقَدْ جِئْتُمْ شَيْئاً إِدّاً
(And they say: "The Most Beneficent (Allah) has begotten a son." Indeed you have brought forth (said) a terrible evil thing.) 19:88-89, until,
وَكُلُّهُمْ ءَاتِيهِ يَوْمَ الْقِيَـمَةِ فَرْداً
(And everyone of them will come to Him alone on the Day of Resurrection.)19:95.
وَخَلَقَ كُلَّ شَىْءٍ وهُوَ بِكُلِّ شَىْءٍ عَلِيمٌ
(He created all things and He is the All-Knower of everything.) He has created everything and He is All-Knower of all things. How can He have a wife from His creation who is suitable for His majesty, when there is none like Him How can He have a child then Verily, Allah is Glorified above having a son.
اللہ بےمثال ہے وحدہ لاشریک ہے زمین و آسمان کا موجد بغیر کسی مثال اور نمونے کے انہیں عدم سے وجود میں لانے والا اللہ ہی ہے۔ بدعت کو بھی بدعت اسی لئے کہتے ہیں کہ پہلے اس کی کوئی نظیر نہیں ہوتی، بھلا اس کا صاحب اولاد ہونا کیسے ممکن ہے جبکہ اس کی بیوی ہی نہیں، اولاد کیلئے تو جہاں باپ کا ہونا ضروری ہے وہیں ماں کا وجود بھی لازمی ہے، اللہ کے مشابہ جبکہ کوئی نہیں ہے اور جوڑا تو ساتھ کا اور جنس کا ہوتا ہے پھر اس کی بیوی کیسے ؟ اور بیوی نہیں تو اولاد کہاں ؟ وہ ہر چیز کا خالق ہے اور یہ بھی اس کے منافی ہے کہ اس کی اولاد اور زوجہ ہو۔ جیسے فرمان ہے آیت (وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمٰنُ وَلَدًا) 19۔ مریم :88) لوگ کہتے ہیں اللہ کی اولاد ہے۔ ان کی بڑی فضول اور غلط افواہ ہے عجب نہیں کہ اس بات کو سن کر آسمان پھٹ جائیں اور زمین شق ہوجائے اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجائیں۔ رحمن اور اولاد ؟ وہ تو ایسا ہے کہ آسمان و زمین کی کل مخلوق اس کی بندگی میں مصروف ہے۔ سب پر اس کا علبہ سب پر اس کا علم سب اس کے سامنے فردا فرداً آنے والے۔ وہ خالق کل ہے اور عالم کل ہے۔ اس کی جوڑ کا کوئی نہیں وہ اولاد سے اور بیوی سے پاک ہے اور مشرکوں کے اس بیان سے بھی پاک ہے۔
102
View Single
ذَٰلِكُمُ ٱللَّهُ رَبُّكُمۡۖ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَۖ خَٰلِقُ كُلِّ شَيۡءٖ فَٱعۡبُدُوهُۚ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ وَكِيلٞ
Such is Allah, your Lord; and none is worthy of worship except Him; the Creator of all things – therefore worship Him; and He is the Trustee over all things.
یہی (اللہ) تمہارا پروردگار ہے، اس کے سوا کوئی لائقِ عبادت نہیں، (وہی) ہر چیز کا خالق ہے پس تم اسی کی عبادت کیا کرو اور وہ ہر چیز پر نگہبان ہے
Tafsir Ibn Kathir
Allah is Your Lord
Allah said,
ذَلِكُـمُ اللَّهُ رَبُّـكُمْ
(Such is Allah, your Lord!) Who created everything and has neither a son nor a wife,
لا إِلَـهَ إِلاَّ هُوَ خَـلِقُ كُلِّ شَىْءٍ فَاعْبُدُوهُ
(None has the right to be worshipped but He, the Creator of all things. So worship Him,) Alone without partners, and attest to His Oneness, affirming that there is no deity worthy of worship except Him. Allah has neither descendants, nor acsendants, wife, equal or rival,
وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَىْءٍ وَكِيلٌ
(And He is the Guardian over all things.) meaning, Trustee, Watcher and Disposer of affairs for all things in existence, giving them provisions and protection by day and night. Seeing Allah in the Hereafter Allah said,
لاَّ تُدْرِكُهُ الاٌّبْصَـرُ
(No vision can grasp Him) in this life. The vision will be able to look at Allah in the Hereafter, as affirmed and attested to by the numerous Hadiths from the Prophet through authentic chains of narration in the collections of the Sahihs, Musnad and Sunan collections. As for this life, Masruq narrated that `A'ishah said, "Whoever claims that Muhammad has seen his Lord, will have uttered a lie against Allah, for Allah the Most Honored, says,
لاَّ تُدْرِكُهُ الاٌّبْصَـرُ وَهُوَ يُدْرِكُ الاٌّبْصَـرَ
(No vision can grasp Him, but His grasp is over all vision.)" In the Sahih (Muslim) it is recorded that Abu Musa Al-Ash`ari narrated from the Prophet ,
«إِنَّ اللهَ لَا يَنَامُ وَلَا يَنْبَغِي لَهُ أَنْ يَنَامَ، يَخْفِضُ الْقِسْطَ وَيَرْفَعُهُ، يُرْفَعُ إِلَيْهِ عَمَلُ النَّهَارِ قَبْلَ اللَّيْلِ، وَعَمَلُ اللَّيْلِ قَبْلَ النَّهَارِ، حِجَابُهُ النُّورُ أَوِ النَّارُ لَوْ كَشَفَهُ لَأَحْرَقَتْ سَبُحَاتُ وَجْهِهِ مَا انْتَهَى إِلَيْهِ بَصَرُهُ مِنْ خَلْقِه»
(Verily, Allah does not sleep and it does not befit His majesty that He should sleep. He lowers the scale (of everything) and raises it. The deeds of the day are ascended to Him before the night, and the deeds of the night before the day. His Veil is the Light -- or Fire -- and if He removes it (the veil), the Light of His Face will burn every created thing that His sight reaches.) In the previous revealed Books there is this statement, "When Musa requested to see Him, Allah said to Musa: `O Musa! Verily, no living thing sees Me, but it dies and no dried things sees me, but it rolls up.' " Allah said,
فَلَمَّا تَجَلَّى رَبُّهُ لِلْجَبَلِ جَعَلَهُ دَكًّا وَخَرَّ موسَى صَعِقًا فَلَمَّآ أَفَاقَ قَالَ سُبْحَـنَكَ تُبْتُ إِلَيْكَ وَأَنَاْ أَوَّلُ الْمُؤْمِنِينَ
(So when his Lord appeared to the mountain, He made it collapse to dust, and Musa fell down unconscious. Then when he recovered his senses he said: "Glory be to You, I turn to You in repentance and I am the first of the believers.") 7:143. These Ayat, Hadiths and statements do not negate the fact that Allah will be seen on the Day of Resurrection by His believing servants, in the manner that He decides, all the while preserving His might and grace as they are. The Mother of the Faithful, `A'ishah, used to affirm that Allah will be seen in the Hereafter, but denied that it could occur in this life, mentioning this Ayah as evidence,
لاَّ تُدْرِكُهُ الاٌّبْصَـرُ وَهُوَ يُدْرِكُ الاٌّبْصَـرَ
(No vision can grasp Him, but His grasp is over all vision.) Her denial was a denial of the ability to encompass Him, meaning to perfectly see His grace and magnificance as He is, for that is not possible for any human, angel or anything created. Allah's statement,
وَهُوَ يُدْرِكُ الاٌّبْصَـرَ
(but His grasp is over all vision.) means, He encompasses all vision and He has full knowledge of them, for He created them all. In another Ayah, Allah said;
أَلاَ يَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ وَهُوَ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ
(Should not He Who has created know And He is the Most Subtle, Well Acquainted (with all things).) 67:14 It is also possible that `all vision' refers to those who have the vision. As-Suddi said that Allah's statement,
لاَّ تُدْرِكُهُ الاٌّبْصَـرُ وَهُوَ يُدْرِكُ الاٌّبْصَـرَ
(No vision can grasp Him, but His grasp is over all vision.) means, "Nothing sees Him (in this life), but He sees all creation." Abu Al-`Aliyah said that Allah's statement,
وَهُوَ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ
(He is the Most Subtle, Well-Acquainted (with all things).) means, "He is the Most Subtle, bringing forth all things, Well-Acquainted with their position and place." Allah knows best. In another Ayah, Allah mentions Luqman's advice to his son,
يبُنَىَّ إِنَّهَآ إِن تَكُ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ فَتَكُنْ فِى صَخْرَةٍ أَوْ فِى السَّمَـوَتِ أَوْ فِى الاٌّرْضِ يَأْتِ بِهَا اللَّهُ إِنَّ اللَّهَ لَطِيفٌ خَبِيرٌ
(O my son! If it be (anything) equal to the weight of grain of mustard seed, and though it be in a rock, or in the heavens or in the earth, Allah will bring it forth. Verily, Allah is Most Subtle, Well Acquainted) 31:16
ہماری آنکھیں اور اللہ جل شانہ جس کے یہ اوصاف ہیں یہی تمہارا اللہ ہے، یہی تمہارا پالنہار ہے، یہی سب کا خالق ہے تم اسی ایک کی عبادت کرو، اس کی وحدانیت کا اقرار کرو۔ اس کے سوا کسی کو عبادت کے لائق نہ سمجھو۔ اس کی اولاد نہیں، اس کے ماں باپ نہیں، اس کی بیوی نہیں، اس کی برابری کا اس جیسا کوئی نہیں، وہ ہر چیز کا حافظ نگہبان اور وکیل ہے ہر کام کی تدبیر وہی کرتا ہے سب کی روزیاں اسی کے ذمہ ہیں، ہر ایک کی ہر وقت وہی حفاظت کرتا ہے۔ سلف کہتے ہیں دنیا میں کوئی آنکھ اللہ کو نہیں دیکھ سکتی۔ ہاں قیامت کے دن مومنوں کو اللہ کا دیدار ہوگا، حضرت عائشہ صدیقہ سے مروی ہے کہ جو کہے کہ حضور نے اپنے رب کو دیکھا ہے اس نے جھوٹ کہا پھر آپ نے یہی آیت پڑھی۔ ابن عباس سے اس کے بر خلاف مروی ہے انہوں نے روایت کو مطلق رکھا ہے اور فرماتے ہیں اپنے دل سے حضور نے دو مرتبہ اللہ کو دیکھا سور نجم میں یہ مسئلہ پوری تفصیل سے بیان ہوگا انشاء اللہ تعالیٰ ، اسمعیل بن علی فرماتے ہیں کہ دنیا میں کوئی شخص اللہ کو نہیں دیکھ سکتا اور حضرات فرماتے ہیں یہ تو عام طور پر بیان ہوا ہے پھر اس میں سے قیامت کے دن مومنوں کا اللہ کو دیکھنا مخصوص کرلیا ہے ہاں معتزلہ کہتے ہیں دنیا اور آخرت میں کہیں بھی اللہ کا دیدار نہ ہوگا۔ اس میں انہوں نے اہلسنت کی مخالفت کے علاوہ کتاب اللہ اور سنت رسول ﷺ سے بھی نادانی برتی، کتاب اللہ میں موجود ہے آیت (وُجُوْهٌ يَّوْمَىِٕذٍ نَّاضِرَةٌ 22ۙ اِلٰى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ 23ۚ) 75۔ القیامۃ :2223) یعنی اس دن بہت سے چہرے ترو تازہ ہوں گے اپنے رب کی طرف دیکھنے والے ہوں گے اور فرمان ہے آیت (كَلَّآ اِنَّهُمْ عَنْ رَّبِّهِمْ يَوْمَىِٕذٍ لَّمَحْجُوْبُوْنَ) 83۔ المطففین :15) یعنی کفار قیامت والے دن اپنے رب کے دیدار سے محروم ہوں گے۔ امام شافعی فرماتے ہیں اس سے صاف ظاہر ہے کہ مومنوں کے لیے اللہ تعالیٰ کا حجاب نہیں ہوگا متواتر احادیث سے بھی یہی ثابت ہے۔ حضرت ابو سعید ابوہریرہ انس جریج صہیب بلال وغیرہ سے مروی ہے کہحضور ﷺ نے فرمایا کہ مومن اللہ تبارک و تعالیٰ کو قیامت کے میدانوں میں جنت کے باغوں میں دیکھیں گے۔ اللہ تعالیٰ اپنے فضل وکرم سے ہمیں بھی انہیں میں سے کرے آمین ! یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسے آنکھیں نہیں دیکھ پاتیں یعنی عقلیں، لیکن یہ قول بہت دور کا ہے اور ظاہر کے خلاف ہے اور گویا کہ ادراک کو اس نے رؤیت کے معنی میں سمجھا، واللہ اعلم، اور حضرات دیدار کے دیکھنے کو ثابت شدہ مانتے ہوئے لیکن ادراک کے انکار کے بھی مخالف نہیں اس لئے کہ ادراک رؤیت سے خاص ہے اور خاص کی نفی عام کی نفی کو لازم نہیں ہوتی۔ اب جس ادراک کی یہاں نفی کی گئی ہے یہ ادراک کیا ہے اور کس قسم کا ہے اس میں کئی قول ہیں مثلاً معرفت حقیقت پس حقیقت کا عالم بجز اللہ کے اور کوئی نہیں گو مومن دیدار کریں گے لیکن حقیقت اور چیز ہے چاند کو لوگ دیکھتے ہیں لیکن اس کی حقیقت اس کی ذات اس کی ساخت تک کس کی رسائی ہوتی ہے ؟ پس اللہ تعالیٰ تو بےمثل ہے ابن علی فرماتے ہیں نہ دیکھنا دنیا کی آنکھوں کے ساتھ مخصوص ہے، بعض کہتے ہیں ادراک اخص ہے رؤیت سے کیونکہ ادراک کہتے ہیں احاطہ کرلینے کو اور عدم احاطہ سے عدم رؤیت لازم نہیں آتی جیسے علم کا احاطہ نہ ہونے سے مطلق علم کا نہ ہونا ثابت نہیں ہوتا۔ احاطہ علم کا نہ ہونا اس آیت سے ثابت ہے کہ آیت (يَعْلَمُ مَا بَيْنَ اَيْدِيْهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وَلَا يُحِيْطُوْنَ بِهٖ عِلْمًا) 20۔ طہ :110) صحیح مسلم میں ہے حدیث (لا احصی ثناء علیک کما اثنیت علی نفسک) یعنی اے اللہ میں تیری ثنا کا احاطہ نہیں کرسکتا لیکن ظاہر ہے کہ اس سے مراد مطلق ثنا کا نہ کرنا نہیں، ابن عباس کا قول ہے کہ کسی کی نگاہ مالک الملک کو گھیر نہیں سکتی۔ حضرت عکرمہ سے کہا گیا کہ آیت (لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ ۡ وَهُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ ۚ وَهُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ) 6۔ الانعام :103) تو آپ نے فرمایا کیا تو آسمان کو نہیں دیکھ رہا ؟ اس نے کہا ہاں فرمایا پھر سب دیکھ چکا ہے ؟ قتادہ فرماتے ہیں اللہ اس سے بہت بڑا ہے کہ اسے آنکھیں ادراک کرلیں۔ چناچہ ابن جرید میں آیت (وُجُوْهٌ يَّوْمَىِٕذٍ نَّاضِرَةٌ) 75۔ القیامۃ :22) کی تفسیر میں ہے کہ اللہ کی طرف دیکھیں گے ان کی نگاہیں اس کی عظمت کے باعث احاطہ نہ کرسکیں گی اور اس کی نگاہ ان سب کو گھیرے ہوئے ہوگی۔ اس آیت کی تفسیر میں ایک مرفوع حدیث میں ہے اگر انسان جن شیطان فرشتے سب کے سب ایک صف باندھ لیں اور شروع سے لے کر آخر تک کے سب موجودہ ہوں تاہم ناممکن ہے کہ کبھی بھی وہ اللہ کا احاطہ کرسکیں۔ یہ حدیث غریب ہے اس کی اس کے سوا کوئی سند نہیں نہ صحاح ستہ والوں میں سے کسی نے اس حدیث کو روایت کیا ہے۔ واللہ اعلم حضرت عکرمہ فرماتے ہیں میں نے حضرت ابن عباس سے سنا کہ آنحضرت ﷺ نے اللہ تبارک و تعالیٰ کو دیکھا تو میں نے کہا کیا اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ اللہ کو آنکھیں نہیں پا سکتیں اور وہ تمام نگاہوں کو گھیر لیتا ہے، تو آپ نے مجھے فرمایا یہ اللہ کا نور ہے اور وہ جو اس کا ذاتی نور ہے جب وہ اپنی تجلی کرے تو اس کا ادراک کوئی نہیں کرسکتا اور روایت میں ہے اس کے بالمقابل کوئی چیز نہیں ٹھہر سکتی، اسی جواب کے مترادف معنی وہ حدیث ہے جو بخاری مسلم میں ہے کہ اللہ تعالیٰ سوتا نہیں نہ اسے سونا لائق ہے وہ ترازو کو جھکاتا ہے اور اٹھاتا ہے اس کی طرف دن کے عمل رات سے پہلے اور رات کے عمل دن سے پہلے چڑھ جاتے ہیں اس کا حجاب نور ہے یا نار ہے اگر وہ ہٹ جائے تو اس کے چہرے کی تجلیاں ہر اس چیز کو جلا دیں جو اس کی نگاہوں تلے ہے۔ اگلی کتابوں میں ہے کہ حضرت موسیٰ کلیم اللہ نے اللہ تعالیٰ سے دیدار دیکھنے کی خواہش کی تو جواب ملا کہ اے موسیٰ جو زندہ مجھے دیکھے گا وہ مرجائے گا اور جو خشک مجھے دیکھ لے گا وہ ریزہ ریزہ ہوجائے گا، خود قرآن میں ہے کہ جب تیرے رب نے پہاڑ پر تجلی ڈالی تو وہ ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا اور موسیٰ بیہوش ہو کر گرپڑے افاقہ کے بعد کہنے لگے اللہ تو پاک ہے میں تیری طرف توبہ کرتا ہوں اور میں سب سے پہلا مومن ہوں۔ یاد رہے کہ اس خاص ادراک کے انکار سے قیامت کے دن مومنوں کے اپنے رب کے دیکھنے سے انکار نہیں ہوسکتا۔ اس کی کیفیت کا علم اسی کو ہے۔ ہاں بیشک اس کی حقیقی عظمت جلالت قدرت بزرگی وغیرہ جیسی ہے وہ بھلا کہاں کسی کی سمجھ میں آسکتی ہے ؟ حضرت عائشہ فرماتی ہیں آخرت میں دیدار ہوگا اور دنیا میں کوئی بھی اللہ کو نہیں دیکھ سکتا اور یہی آیت تلاوت فرمائی۔ پس جس ادراک کی نفی کی ہے وہ معنی میں عظمت و جلال کی روایت کے ہے جیسا کہ وہ ہے۔ یہ تو انسان کیا فرشتوں کے لئے بھی ناممکن ہے ہاں وہ سب کو گھیرے ہوئے ہے جب وہ خالق ہے تو عالم کیوں نہ ہوگا جیسے فرمان ہے آیت (اَلَا يَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ ۭ وَهُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ) 67۔ الملک :14) کیا وہ نہیں جانے گا جو پیدا کرتا ہے جو لطف و کرم والا اور بڑی خبرداری والا ہے اور ہوسکتا ہے کہ نگاہ سے مراد نگاہ ولا ہو یعنی اسے کوئی نہیں دیکھ سکتا اور وہ سب کو دیکھتا ہے وہ ہر ایک کو نکالنے میں لطیف ہے اور ان کی جگہ سے خبیر ہے واللہ اعلم جیسے کہ حضرت لقمان نے اپنے بیٹے کو وعظ کہتے ہوئے فرمایا تھا کہ بیٹا اگر کوئی بھلائی یا برائی رائی کے دانہ کے برابر بھی ہو خواہ پتھر میں ہو یا آسمانوں میں یا زمین میں اللہ اسے لائے گا اللہ تعالیٰ بڑا باریک بین اور خبردار ہے۔
103
View Single
لَّا تُدۡرِكُهُ ٱلۡأَبۡصَٰرُ وَهُوَ يُدۡرِكُ ٱلۡأَبۡصَٰرَۖ وَهُوَ ٱللَّطِيفُ ٱلۡخَبِيرُ
Eyes do not encompass Him – and all eyes are within His domain*; He is the Most Subtle, the Fully Aware. (* control / knowledge)
نگاہیں اس کا احاطہ نہیں کر سکتیں اور وہ سب نگاہوں کا احاطہ کئے ہوئے ہے، اور وہ بڑا باریک بین بڑا باخبر ہے
Tafsir Ibn Kathir
Allah is Your Lord
Allah said,
ذَلِكُـمُ اللَّهُ رَبُّـكُمْ
(Such is Allah, your Lord!) Who created everything and has neither a son nor a wife,
لا إِلَـهَ إِلاَّ هُوَ خَـلِقُ كُلِّ شَىْءٍ فَاعْبُدُوهُ
(None has the right to be worshipped but He, the Creator of all things. So worship Him,) Alone without partners, and attest to His Oneness, affirming that there is no deity worthy of worship except Him. Allah has neither descendants, nor acsendants, wife, equal or rival,
وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَىْءٍ وَكِيلٌ
(And He is the Guardian over all things.) meaning, Trustee, Watcher and Disposer of affairs for all things in existence, giving them provisions and protection by day and night. Seeing Allah in the Hereafter Allah said,
لاَّ تُدْرِكُهُ الاٌّبْصَـرُ
(No vision can grasp Him) in this life. The vision will be able to look at Allah in the Hereafter, as affirmed and attested to by the numerous Hadiths from the Prophet through authentic chains of narration in the collections of the Sahihs, Musnad and Sunan collections. As for this life, Masruq narrated that `A'ishah said, "Whoever claims that Muhammad has seen his Lord, will have uttered a lie against Allah, for Allah the Most Honored, says,
لاَّ تُدْرِكُهُ الاٌّبْصَـرُ وَهُوَ يُدْرِكُ الاٌّبْصَـرَ
(No vision can grasp Him, but His grasp is over all vision.)" In the Sahih (Muslim) it is recorded that Abu Musa Al-Ash`ari narrated from the Prophet ,
«إِنَّ اللهَ لَا يَنَامُ وَلَا يَنْبَغِي لَهُ أَنْ يَنَامَ، يَخْفِضُ الْقِسْطَ وَيَرْفَعُهُ، يُرْفَعُ إِلَيْهِ عَمَلُ النَّهَارِ قَبْلَ اللَّيْلِ، وَعَمَلُ اللَّيْلِ قَبْلَ النَّهَارِ، حِجَابُهُ النُّورُ أَوِ النَّارُ لَوْ كَشَفَهُ لَأَحْرَقَتْ سَبُحَاتُ وَجْهِهِ مَا انْتَهَى إِلَيْهِ بَصَرُهُ مِنْ خَلْقِه»
(Verily, Allah does not sleep and it does not befit His majesty that He should sleep. He lowers the scale (of everything) and raises it. The deeds of the day are ascended to Him before the night, and the deeds of the night before the day. His Veil is the Light -- or Fire -- and if He removes it (the veil), the Light of His Face will burn every created thing that His sight reaches.) In the previous revealed Books there is this statement, "When Musa requested to see Him, Allah said to Musa: `O Musa! Verily, no living thing sees Me, but it dies and no dried things sees me, but it rolls up.' " Allah said,
فَلَمَّا تَجَلَّى رَبُّهُ لِلْجَبَلِ جَعَلَهُ دَكًّا وَخَرَّ موسَى صَعِقًا فَلَمَّآ أَفَاقَ قَالَ سُبْحَـنَكَ تُبْتُ إِلَيْكَ وَأَنَاْ أَوَّلُ الْمُؤْمِنِينَ
(So when his Lord appeared to the mountain, He made it collapse to dust, and Musa fell down unconscious. Then when he recovered his senses he said: "Glory be to You, I turn to You in repentance and I am the first of the believers.") 7:143. These Ayat, Hadiths and statements do not negate the fact that Allah will be seen on the Day of Resurrection by His believing servants, in the manner that He decides, all the while preserving His might and grace as they are. The Mother of the Faithful, `A'ishah, used to affirm that Allah will be seen in the Hereafter, but denied that it could occur in this life, mentioning this Ayah as evidence,
لاَّ تُدْرِكُهُ الاٌّبْصَـرُ وَهُوَ يُدْرِكُ الاٌّبْصَـرَ
(No vision can grasp Him, but His grasp is over all vision.) Her denial was a denial of the ability to encompass Him, meaning to perfectly see His grace and magnificance as He is, for that is not possible for any human, angel or anything created. Allah's statement,
وَهُوَ يُدْرِكُ الاٌّبْصَـرَ
(but His grasp is over all vision.) means, He encompasses all vision and He has full knowledge of them, for He created them all. In another Ayah, Allah said;
أَلاَ يَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ وَهُوَ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ
(Should not He Who has created know And He is the Most Subtle, Well Acquainted (with all things).) 67:14 It is also possible that `all vision' refers to those who have the vision. As-Suddi said that Allah's statement,
لاَّ تُدْرِكُهُ الاٌّبْصَـرُ وَهُوَ يُدْرِكُ الاٌّبْصَـرَ
(No vision can grasp Him, but His grasp is over all vision.) means, "Nothing sees Him (in this life), but He sees all creation." Abu Al-`Aliyah said that Allah's statement,
وَهُوَ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ
(He is the Most Subtle, Well-Acquainted (with all things).) means, "He is the Most Subtle, bringing forth all things, Well-Acquainted with their position and place." Allah knows best. In another Ayah, Allah mentions Luqman's advice to his son,
يبُنَىَّ إِنَّهَآ إِن تَكُ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ فَتَكُنْ فِى صَخْرَةٍ أَوْ فِى السَّمَـوَتِ أَوْ فِى الاٌّرْضِ يَأْتِ بِهَا اللَّهُ إِنَّ اللَّهَ لَطِيفٌ خَبِيرٌ
(O my son! If it be (anything) equal to the weight of grain of mustard seed, and though it be in a rock, or in the heavens or in the earth, Allah will bring it forth. Verily, Allah is Most Subtle, Well Acquainted) 31:16
ہماری آنکھیں اور اللہ جل شانہ جس کے یہ اوصاف ہیں یہی تمہارا اللہ ہے، یہی تمہارا پالنہار ہے، یہی سب کا خالق ہے تم اسی ایک کی عبادت کرو، اس کی وحدانیت کا اقرار کرو۔ اس کے سوا کسی کو عبادت کے لائق نہ سمجھو۔ اس کی اولاد نہیں، اس کے ماں باپ نہیں، اس کی بیوی نہیں، اس کی برابری کا اس جیسا کوئی نہیں، وہ ہر چیز کا حافظ نگہبان اور وکیل ہے ہر کام کی تدبیر وہی کرتا ہے سب کی روزیاں اسی کے ذمہ ہیں، ہر ایک کی ہر وقت وہی حفاظت کرتا ہے۔ سلف کہتے ہیں دنیا میں کوئی آنکھ اللہ کو نہیں دیکھ سکتی۔ ہاں قیامت کے دن مومنوں کو اللہ کا دیدار ہوگا، حضرت عائشہ صدیقہ سے مروی ہے کہ جو کہے کہ حضور نے اپنے رب کو دیکھا ہے اس نے جھوٹ کہا پھر آپ نے یہی آیت پڑھی۔ ابن عباس سے اس کے بر خلاف مروی ہے انہوں نے روایت کو مطلق رکھا ہے اور فرماتے ہیں اپنے دل سے حضور نے دو مرتبہ اللہ کو دیکھا سور نجم میں یہ مسئلہ پوری تفصیل سے بیان ہوگا انشاء اللہ تعالیٰ ، اسمعیل بن علی فرماتے ہیں کہ دنیا میں کوئی شخص اللہ کو نہیں دیکھ سکتا اور حضرات فرماتے ہیں یہ تو عام طور پر بیان ہوا ہے پھر اس میں سے قیامت کے دن مومنوں کا اللہ کو دیکھنا مخصوص کرلیا ہے ہاں معتزلہ کہتے ہیں دنیا اور آخرت میں کہیں بھی اللہ کا دیدار نہ ہوگا۔ اس میں انہوں نے اہلسنت کی مخالفت کے علاوہ کتاب اللہ اور سنت رسول ﷺ سے بھی نادانی برتی، کتاب اللہ میں موجود ہے آیت (وُجُوْهٌ يَّوْمَىِٕذٍ نَّاضِرَةٌ 22ۙ اِلٰى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ 23ۚ) 75۔ القیامۃ :2223) یعنی اس دن بہت سے چہرے ترو تازہ ہوں گے اپنے رب کی طرف دیکھنے والے ہوں گے اور فرمان ہے آیت (كَلَّآ اِنَّهُمْ عَنْ رَّبِّهِمْ يَوْمَىِٕذٍ لَّمَحْجُوْبُوْنَ) 83۔ المطففین :15) یعنی کفار قیامت والے دن اپنے رب کے دیدار سے محروم ہوں گے۔ امام شافعی فرماتے ہیں اس سے صاف ظاہر ہے کہ مومنوں کے لیے اللہ تعالیٰ کا حجاب نہیں ہوگا متواتر احادیث سے بھی یہی ثابت ہے۔ حضرت ابو سعید ابوہریرہ انس جریج صہیب بلال وغیرہ سے مروی ہے کہحضور ﷺ نے فرمایا کہ مومن اللہ تبارک و تعالیٰ کو قیامت کے میدانوں میں جنت کے باغوں میں دیکھیں گے۔ اللہ تعالیٰ اپنے فضل وکرم سے ہمیں بھی انہیں میں سے کرے آمین ! یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسے آنکھیں نہیں دیکھ پاتیں یعنی عقلیں، لیکن یہ قول بہت دور کا ہے اور ظاہر کے خلاف ہے اور گویا کہ ادراک کو اس نے رؤیت کے معنی میں سمجھا، واللہ اعلم، اور حضرات دیدار کے دیکھنے کو ثابت شدہ مانتے ہوئے لیکن ادراک کے انکار کے بھی مخالف نہیں اس لئے کہ ادراک رؤیت سے خاص ہے اور خاص کی نفی عام کی نفی کو لازم نہیں ہوتی۔ اب جس ادراک کی یہاں نفی کی گئی ہے یہ ادراک کیا ہے اور کس قسم کا ہے اس میں کئی قول ہیں مثلاً معرفت حقیقت پس حقیقت کا عالم بجز اللہ کے اور کوئی نہیں گو مومن دیدار کریں گے لیکن حقیقت اور چیز ہے چاند کو لوگ دیکھتے ہیں لیکن اس کی حقیقت اس کی ذات اس کی ساخت تک کس کی رسائی ہوتی ہے ؟ پس اللہ تعالیٰ تو بےمثل ہے ابن علی فرماتے ہیں نہ دیکھنا دنیا کی آنکھوں کے ساتھ مخصوص ہے، بعض کہتے ہیں ادراک اخص ہے رؤیت سے کیونکہ ادراک کہتے ہیں احاطہ کرلینے کو اور عدم احاطہ سے عدم رؤیت لازم نہیں آتی جیسے علم کا احاطہ نہ ہونے سے مطلق علم کا نہ ہونا ثابت نہیں ہوتا۔ احاطہ علم کا نہ ہونا اس آیت سے ثابت ہے کہ آیت (يَعْلَمُ مَا بَيْنَ اَيْدِيْهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وَلَا يُحِيْطُوْنَ بِهٖ عِلْمًا) 20۔ طہ :110) صحیح مسلم میں ہے حدیث (لا احصی ثناء علیک کما اثنیت علی نفسک) یعنی اے اللہ میں تیری ثنا کا احاطہ نہیں کرسکتا لیکن ظاہر ہے کہ اس سے مراد مطلق ثنا کا نہ کرنا نہیں، ابن عباس کا قول ہے کہ کسی کی نگاہ مالک الملک کو گھیر نہیں سکتی۔ حضرت عکرمہ سے کہا گیا کہ آیت (لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ ۡ وَهُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ ۚ وَهُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ) 6۔ الانعام :103) تو آپ نے فرمایا کیا تو آسمان کو نہیں دیکھ رہا ؟ اس نے کہا ہاں فرمایا پھر سب دیکھ چکا ہے ؟ قتادہ فرماتے ہیں اللہ اس سے بہت بڑا ہے کہ اسے آنکھیں ادراک کرلیں۔ چناچہ ابن جرید میں آیت (وُجُوْهٌ يَّوْمَىِٕذٍ نَّاضِرَةٌ) 75۔ القیامۃ :22) کی تفسیر میں ہے کہ اللہ کی طرف دیکھیں گے ان کی نگاہیں اس کی عظمت کے باعث احاطہ نہ کرسکیں گی اور اس کی نگاہ ان سب کو گھیرے ہوئے ہوگی۔ اس آیت کی تفسیر میں ایک مرفوع حدیث میں ہے اگر انسان جن شیطان فرشتے سب کے سب ایک صف باندھ لیں اور شروع سے لے کر آخر تک کے سب موجودہ ہوں تاہم ناممکن ہے کہ کبھی بھی وہ اللہ کا احاطہ کرسکیں۔ یہ حدیث غریب ہے اس کی اس کے سوا کوئی سند نہیں نہ صحاح ستہ والوں میں سے کسی نے اس حدیث کو روایت کیا ہے۔ واللہ اعلم حضرت عکرمہ فرماتے ہیں میں نے حضرت ابن عباس سے سنا کہ آنحضرت ﷺ نے اللہ تبارک و تعالیٰ کو دیکھا تو میں نے کہا کیا اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ اللہ کو آنکھیں نہیں پا سکتیں اور وہ تمام نگاہوں کو گھیر لیتا ہے، تو آپ نے مجھے فرمایا یہ اللہ کا نور ہے اور وہ جو اس کا ذاتی نور ہے جب وہ اپنی تجلی کرے تو اس کا ادراک کوئی نہیں کرسکتا اور روایت میں ہے اس کے بالمقابل کوئی چیز نہیں ٹھہر سکتی، اسی جواب کے مترادف معنی وہ حدیث ہے جو بخاری مسلم میں ہے کہ اللہ تعالیٰ سوتا نہیں نہ اسے سونا لائق ہے وہ ترازو کو جھکاتا ہے اور اٹھاتا ہے اس کی طرف دن کے عمل رات سے پہلے اور رات کے عمل دن سے پہلے چڑھ جاتے ہیں اس کا حجاب نور ہے یا نار ہے اگر وہ ہٹ جائے تو اس کے چہرے کی تجلیاں ہر اس چیز کو جلا دیں جو اس کی نگاہوں تلے ہے۔ اگلی کتابوں میں ہے کہ حضرت موسیٰ کلیم اللہ نے اللہ تعالیٰ سے دیدار دیکھنے کی خواہش کی تو جواب ملا کہ اے موسیٰ جو زندہ مجھے دیکھے گا وہ مرجائے گا اور جو خشک مجھے دیکھ لے گا وہ ریزہ ریزہ ہوجائے گا، خود قرآن میں ہے کہ جب تیرے رب نے پہاڑ پر تجلی ڈالی تو وہ ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا اور موسیٰ بیہوش ہو کر گرپڑے افاقہ کے بعد کہنے لگے اللہ تو پاک ہے میں تیری طرف توبہ کرتا ہوں اور میں سب سے پہلا مومن ہوں۔ یاد رہے کہ اس خاص ادراک کے انکار سے قیامت کے دن مومنوں کے اپنے رب کے دیکھنے سے انکار نہیں ہوسکتا۔ اس کی کیفیت کا علم اسی کو ہے۔ ہاں بیشک اس کی حقیقی عظمت جلالت قدرت بزرگی وغیرہ جیسی ہے وہ بھلا کہاں کسی کی سمجھ میں آسکتی ہے ؟ حضرت عائشہ فرماتی ہیں آخرت میں دیدار ہوگا اور دنیا میں کوئی بھی اللہ کو نہیں دیکھ سکتا اور یہی آیت تلاوت فرمائی۔ پس جس ادراک کی نفی کی ہے وہ معنی میں عظمت و جلال کی روایت کے ہے جیسا کہ وہ ہے۔ یہ تو انسان کیا فرشتوں کے لئے بھی ناممکن ہے ہاں وہ سب کو گھیرے ہوئے ہے جب وہ خالق ہے تو عالم کیوں نہ ہوگا جیسے فرمان ہے آیت (اَلَا يَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ ۭ وَهُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ) 67۔ الملک :14) کیا وہ نہیں جانے گا جو پیدا کرتا ہے جو لطف و کرم والا اور بڑی خبرداری والا ہے اور ہوسکتا ہے کہ نگاہ سے مراد نگاہ ولا ہو یعنی اسے کوئی نہیں دیکھ سکتا اور وہ سب کو دیکھتا ہے وہ ہر ایک کو نکالنے میں لطیف ہے اور ان کی جگہ سے خبیر ہے واللہ اعلم جیسے کہ حضرت لقمان نے اپنے بیٹے کو وعظ کہتے ہوئے فرمایا تھا کہ بیٹا اگر کوئی بھلائی یا برائی رائی کے دانہ کے برابر بھی ہو خواہ پتھر میں ہو یا آسمانوں میں یا زمین میں اللہ اسے لائے گا اللہ تعالیٰ بڑا باریک بین اور خبردار ہے۔
104
View Single
قَدۡ جَآءَكُم بَصَآئِرُ مِن رَّبِّكُمۡۖ فَمَنۡ أَبۡصَرَ فَلِنَفۡسِهِۦۖ وَمَنۡ عَمِيَ فَعَلَيۡهَاۚ وَمَآ أَنَا۠ عَلَيۡكُم بِحَفِيظٖ
“Enlightening proofs came to you from your Lord; so whoever observes, it is for his own good; and whoever is blind, it is for his own harm; and I am not a guardian over you.”
بیشک تمہارے پاس تمہارے رب کی جانب سے (ہدایت کی) نشانیاں آچکی ہیں پس جس نے (انہیں نگاہِ بصیرت سے) دیکھ لیا تو (یہ) اس کی اپنی ذات کے لئے (فائدہ مند) ہے، اور جو اندھا رہا تو اس کا وبال (بھی) اسی پر ہے، اور میں تم پر نگہبان نہیں ہوں
Tafsir Ibn Kathir
The Meaning of Basa'ir
Basa'ir are the proofs and evidences in the Qur'an and the Message of Allah's Messenger ﷺ . The Ayah,
فَمَنْ أَبْصَرَ فَلِنَفْسِهِ
(so whosoever sees, will do so for (the good of) himself.) is similar to,
فَمَنُ اهْتَدَى فَإِنَّمَا يَهْتَدِى لِنَفْسِهِ وَمَن ضَلَّ فَإِنَّمَا يَضِلُّ عَلَيْهَا
(So whosoever receives guidance, he does so for the good of himself, and whosoever goes astray, he does so at his own loss.) 10:108 After Allah mentioned the Basa'ir, He said,
وَمَنْ عَمِىَ فَعَلَيْهَا
(And whosoever blinds himself, will do so against himself,) meaning, he will only harm himself. Allah said,
فَإِنَّهَا لاَ تَعْمَى الاٌّبْصَـرُ وَلَـكِن تَعْمَى الْقُلُوبُ الَّتِى فِى الصُّدُورِ
(Verily, it is not the eyes that grow blind, but it is the hearts which are in the breasts that grow blind.) 22:46
وَمَآ أَنَاْ عَلَيْكُمْ بِحَفِيظٍ
(And I (Muhammad) am not a Hafiz over you. ) neither responsible, nor a watcher over you. Rather, I only convey, Allah guides whom He wills and misguides whom He wills. Allah said,
وَكَذلِكَ نُصَرِّفُ الاٌّيَـتِ
(Thus We explain variously the verses...)6:105, meaning, just as We explained the Ayat in this Surah, such as explaining Tawhid and that there is no deity worthy of worship except Allah. This is how We explain the Ayat and make them plain and clear in all circumstances, to suffice the ignorance of the ignorant; and so that the idolators and disbelievers who deny you say, `O Muhammad! You have Darasta with those who were before you from among the People of the Book and learned with them'. Ibn `Abbas, Mujahid, Sa`id bin Jubayr and Ad-Dahhak said similarly. At-Tabarani narrated that `Amr bin Kaysan said that he heard Ibn `Abbas saying, "Darasta, means, `recited, argued and debated."' This is similar to Allah's statement about the denial and rebellion of the disbelievers, e
وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُواْ إِنْ هَـذَا إِلاَّ إِفْكٌ افْتَرَاهُ وَأَعَانَهُ عَلَيْهِ قَوْمٌ ءَاخَرُونَ فَقَدْ جَآءُوا ظُلْماً وَزُوراً - وَقَالُواْ أَسَـطِيرُ الاٌّوَّلِينَ اكْتَتَبَهَا فَهِىَ تُمْلَى عَلَيْهِ بُكْرَةً وَأَصِيلاً
(Those who disbelieve say, "This (the Qur'an) is nothing but a lie that he has invented, and others have helped him at it, so that they have produced an unjust wrong (thing) and a lie." And they say, "Tales of the ancients, which he has written down, and they are dictated to him morning and afternoon.") 25:4-5 Allah described the chief liar of the disbelievers Al-Walid bin Al-Mughirah Al-Makhzumi,
إِنَّهُ فَكَّرَ وَقَدَّرَ - فَقُتِلَ كَيْفَ قَدَّرَ - ثُمَّ قُتِلَ كَيْفَ قَدَّرَ - ثُمَّ نَظَرَ - ثُمَّ عَبَسَ وَبَسَرَ - ثُمَّ أَدْبَرَ وَاسْتَكْبَرَ - فَقَالَ إِنْ هَـذَآ إِلاَّ سِحْرٌ يُؤْثَرُ - إِنْ هَـذَآ إِلاَّ قَوْلُ الْبَشَرِ
(Verily, he thought and plotted. So let him be cursed! How he plotted! And once more let him be cursed, how he plotted! Then he thought. Then he frowned and he looked in a bad tempered way. Then he turned back and was proud. Then he said, "This is nothing but magic from that of old. This is nothing but the word of a human being!") 74:18-25 Allah said next,
وَلِنُبَيِّنَهُ لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ
(And that We may make the matter clear for the people who have knowledge.) The Ayah means, so that We explain the matter to a people who know truth, and thus follow it, and know falsehood, and thus avoid it. Allah's wisdom is perfect, He allows the disbelievers to stray, and He guides the people who have knowledge. Allah said in other Ayat,
يُضِلُّ بِهِ كَثِيرًا وَيَهْدِي بِهِ كَثِيرًا
(By it He misleads many, and many He guides thereby.) 2:26, and;
لِّيَجْعَلَ مَا يُلْقِى الشَّيْطَـنُ فِتْنَةً لِّلَّذِينَ فِى قُلُوبِهِم مَّرَضٌ وَالْقَاسِيَةِ قُلُوبُهُمْ
(That He (Allah) may make what is thrown in by Shaytan a trial for those in whose hearts is a disease and whose hearts are hardened. ) 22:53 and,
وَإِنَّ اللَّهَ لَهَادِ الَّذِينَ ءَامَنُواْ إِلَى صِرَطٍ مُّسْتَقِيمٍ
(And verily, Allah is the Guide of those who believe, to the straight path.) 22:54,
وَمَا جَعَلْنَآ أَصْحَـبَ النَّارِ إِلاَّ مَلَـئِكَةً وَمَا جَعَلْنَا عِدَّتَهُمْ إِلاَّ فِتْنَةً لِّلَّذِينَ كَفَرُواْ لِيَسْتَيْقِنَ الَّذِينَ أُوتُواْ الْكِتَـبَ وَيَزْدَادَ الَّذِينَ ءَامَنُواْ إِيمَـناً وَلاَ يَرْتَابَ الَّذِينَ أُوتُواْ الْكِتَـبَ وَالْمُؤْمِنُونَ وَلِيَقُولَ الَّذِينَ فِى قُلُوبِهِم مَّرَضٌ وَالْكَـفِرُونَ مَاذَآ أَرَادَ اللَّهُ بِهَـذَا مَثَلاً كَذَلِكَ يُضِلُّ اللَّهُ مَن يَشَآءُ وَيَهْدِى مَن يَشَآءُ وَمَا يَعْلَمُ جُنُودَ رَبِّكَ إِلاَّ هُوَ
(And We have set none but angels as guardians of the Fire, and We have fixed their number only as a trial for the disbelievers, in order that the People of the Scripture may arrive at a certainty and the believers may increase in faith, and that no doubts may be left for the People of the Scripture and the believers, and that those in whose hearts is a disease (of hypocrisy) and the disbelievers may say, "What does Allah intend by this example" Thus Allah leads astray whom He wills and guides whom He wills. And none can know the hosts of your Lord but He.) 74:31, and;
وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْءَانِ مَا هُوَ شِفَآءٌ وَرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِينَ وَلاَ يَزِيدُ الظَّـلِمِينَ إَلاَّ خَسَارًا
(And We send down in the Qur'an that which is a healing and a mercy to the believers, and it increases the wrongdoers in nothing but loss.) 17:82, and,
قُلْ هُوَ لِلَّذِينَ ءَامَنُواْ هُدًى وَشِفَآءٌ وَالَّذِينَ لاَ يُؤْمِنُونَ فِى ءَاذَانِهِمْ وَقْرٌ وَهُوَ عَلَيْهِمْ عَمًى أُوْلَـئِكَ يُنَادَوْنَ مِن مَّكَانٍ بَعِيدٍ
(Say, "It is for those who believe, a guide and a healing. And as for those who disbelieve, there is heaviness in their ears, and it is blindness for them. They are those who are called from a place far away.") 41:44 There are similar Ayat that testify that Allah sent down the Qur'an as guidance to those who fear Him and that He guides or misguides whom He wills by the Qur'an.
ہدایت و شفا قرآن و حدیث میں ہے بصائر سے مراد دلیلیں اور حجتیں ہیں جو قرآن و حدیث میں موجود ہیں جو انہیں دیکھے اور ان سے نفع حاصل کرے وہ اپنا ہی بھلا کرتا ہے جیسے فرمان ہے کہ راہ پانے والا اپنے لئے راہ پاتا ہے اور گمراہ ہونے والا اپنا ہی بگاڑتا ہے۔ یہاں بھی فرمایا اندھا اپنا ہی نقصان کرتا ہے کیونکہ آخر گمراہی کا اسی پر اثر پڑتا ہے جیسے ارشاد ہے آنکھیں اندھی نہیں ہوتی بلکہ سینوں کے اندر دل اندھے ہوجاتے ہیں، میں تم پر نگہبان حافظ چوکیدار نہیں بلکہ میں تو صرف مبلغ ہوں ہدایت اللہ کے ہاتھ ہے، جس طرح توحید کے دلائل واضح فرمائے اسی طرح اپنی آیتوں کو کھول کھول کر تفسیر اور وضاحت کے ساتھ بیان فرمایا تاکہ کوئی جاہل نہ رہ جائے اور مشرکین مکذبین اور کافرین یہ نہ کہہ دیں کہ تو نے اے نبی اہل کتاب سے یہ درس لیا ہے ان سے پڑھا ہے انہی نے تجھے سکھایا ہے۔ ابن عباس سے یہ معنی بھی مروی ہیں کہ تو نے پڑھ سنایا تو نے جھگڑا کیا تو یہ اسی آیت کی طرح آیت ہوگی جہاں بیان ہے آیت (وَقَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا اِنْ ھٰذَآ اِلَّآ اِفْكُۨ افْتَرٰىهُ وَاَعَانَهٗ عَلَيْهِ قَوْمٌ اٰخَرُوْنَ ڔ فَقَدْ جَاۗءُوْ ظُلْمًا وَّزُوْرًا) 25۔ الفرقان :4) کافروں نے کہا کہ یہ تو صرف بہتان ہے جسے اس نے گھڑ لیا ہے اور دوسروں نے اس کی تائید کی ہے اور آیتوں میں ان کے بڑے کا قول ہے کہ اس نے بہت کچھ غور وخوض کے بعد فیصلہ کیا کہ یہ تو چلتا ہوا جادو ہے، یقینا یہ انسانی قول ہے اور اس لئے کہ ہم علماء کے سامنے وضاحت کردیں تاکہ وہ حق کے قائل اور باطل کے دشمن بن جائیں۔ رب کی مصلحت وہی جانتا ہے کہ جو ایک گروہ کو ہدایت اور دوسرے کو ضلالت عطا کرتا ہے، جیسے فرمایا اس کے ساتھ بہت کو ہدایت کرتا ہے اور بہت کو گمراہ کرتا ہے اور آیت میں ہے تاکہ وہ شیطان کے القا کو بیمار دلوں کیلئے سبب فتنہ کر دے اور فرمایا آیت (وَمَا جَعَلْنَآ اَصْحٰبَ النَّارِ اِلَّا مَلٰۗىِٕكَةً ۠ وَّمَا جَعَلْنَا عِدَّتَهُمْ اِلَّا فِتْنَةً لِّلَّذِيْنَ كَفَرُوْا) 74۔ المدثر :31) یعنی ہم نے دوزخ کے پاسبان فرشتے مقرر کئے ہیں ان کی مقررہ تعداد بھی کافروں کے لئے فتنہ ہے تاکہ اہل کتاب کامل یقین کرلیں ایماندار ایمان میں بڑھ جائیں اہل کتاب اور مومن شک شبہ سے الگ ہوجائیں اور بیمار دل کفر والے کہتے ہیں کہ اس مثال سے اللہ کی کیا مراد ہے اسی طرح جسے اللہ چاہے گمراہ کرتا ہے اور جسے چاہے راہ راست دکھاتا ہے، تیرے رب کے لشکروں کو بجز اس کے کوئی نہیں جانتا اور آیت میں ہے آیت (وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْاٰنِ مَا هُوَ شِفَاۗءٌ وَّرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ ۙ وَلَا يَزِيْدُ الظّٰلِمِيْنَ اِلَّا خَسَارًا) 17۔ الاسراء :82) یعنی ہم نے قرآن اتارا ہے جو مومنوں کے لئے شفا اور رحمت ہے البتہ ظالموں کو تو نقصان ہی ملتا ہے اور آیت میں ہے کہ یہ ایمان والوں کے لئے ہدایت و شفا ہے اور بےایمانوں کے کانوں میں بوجھ ہے اور ان پر اندھا پن غالب ہے یہ دور کی جگہ سے پکارے جا رہے ہیں اور بھی اس مضمون کی بہت سی آیتیں ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ قرآن سے لوگ نصیحت حاصل کرتے ہیں اور گمراہ بھی ہوتے ہیں۔ دارست کی دوسری قرأت درست بھی ہے یعنی پڑھا اور سیکھا اور یہ معنی ہیں کہ اسے تو مدت گزر چکی یہ تو تو پہلے سے لایا ہوا ہے، یہ تو تو پڑھایا گیا ہے اور سکھایا گیا ہے۔ ایک قرأت میں درس بھی ہے لیکن یہ غریب ہے ابی بن کعب فرماتے ہیں رسول ﷺ نے درست پڑھایا ہے۔
105
View Single
وَكَذَٰلِكَ نُصَرِّفُ ٱلۡأٓيَٰتِ وَلِيَقُولُواْ دَرَسۡتَ وَلِنُبَيِّنَهُۥ لِقَوۡمٖ يَعۡلَمُونَ
And this is how We explain Our verses in different ways that they (the disbelievers) may say to you, (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), “You have studied” – and to make it clear for the people of knowledge.
اور ہم اسی طرح (اپنی) آیتوں کو بار بار (انداز بدل کر) بیان کرتے ہیں اور یہ اس لئے کہ وہ(کافر) بول اٹھیں کہ آپ نے (تو کہیں سے) پڑھ لیا ہے تاکہ ہم اس کو جاننے والے لوگوں کے لئے خوب واضح کردیں
Tafsir Ibn Kathir
The Meaning of Basa'ir
Basa'ir are the proofs and evidences in the Qur'an and the Message of Allah's Messenger ﷺ . The Ayah,
فَمَنْ أَبْصَرَ فَلِنَفْسِهِ
(so whosoever sees, will do so for (the good of) himself.) is similar to,
فَمَنُ اهْتَدَى فَإِنَّمَا يَهْتَدِى لِنَفْسِهِ وَمَن ضَلَّ فَإِنَّمَا يَضِلُّ عَلَيْهَا
(So whosoever receives guidance, he does so for the good of himself, and whosoever goes astray, he does so at his own loss.) 10:108 After Allah mentioned the Basa'ir, He said,
وَمَنْ عَمِىَ فَعَلَيْهَا
(And whosoever blinds himself, will do so against himself,) meaning, he will only harm himself. Allah said,
فَإِنَّهَا لاَ تَعْمَى الاٌّبْصَـرُ وَلَـكِن تَعْمَى الْقُلُوبُ الَّتِى فِى الصُّدُورِ
(Verily, it is not the eyes that grow blind, but it is the hearts which are in the breasts that grow blind.) 22:46
وَمَآ أَنَاْ عَلَيْكُمْ بِحَفِيظٍ
(And I (Muhammad) am not a Hafiz over you. ) neither responsible, nor a watcher over you. Rather, I only convey, Allah guides whom He wills and misguides whom He wills. Allah said,
وَكَذلِكَ نُصَرِّفُ الاٌّيَـتِ
(Thus We explain variously the verses...)6:105, meaning, just as We explained the Ayat in this Surah, such as explaining Tawhid and that there is no deity worthy of worship except Allah. This is how We explain the Ayat and make them plain and clear in all circumstances, to suffice the ignorance of the ignorant; and so that the idolators and disbelievers who deny you say, `O Muhammad! You have Darasta with those who were before you from among the People of the Book and learned with them'. Ibn `Abbas, Mujahid, Sa`id bin Jubayr and Ad-Dahhak said similarly. At-Tabarani narrated that `Amr bin Kaysan said that he heard Ibn `Abbas saying, "Darasta, means, `recited, argued and debated."' This is similar to Allah's statement about the denial and rebellion of the disbelievers, e
وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُواْ إِنْ هَـذَا إِلاَّ إِفْكٌ افْتَرَاهُ وَأَعَانَهُ عَلَيْهِ قَوْمٌ ءَاخَرُونَ فَقَدْ جَآءُوا ظُلْماً وَزُوراً - وَقَالُواْ أَسَـطِيرُ الاٌّوَّلِينَ اكْتَتَبَهَا فَهِىَ تُمْلَى عَلَيْهِ بُكْرَةً وَأَصِيلاً
(Those who disbelieve say, "This (the Qur'an) is nothing but a lie that he has invented, and others have helped him at it, so that they have produced an unjust wrong (thing) and a lie." And they say, "Tales of the ancients, which he has written down, and they are dictated to him morning and afternoon.") 25:4-5 Allah described the chief liar of the disbelievers Al-Walid bin Al-Mughirah Al-Makhzumi,
إِنَّهُ فَكَّرَ وَقَدَّرَ - فَقُتِلَ كَيْفَ قَدَّرَ - ثُمَّ قُتِلَ كَيْفَ قَدَّرَ - ثُمَّ نَظَرَ - ثُمَّ عَبَسَ وَبَسَرَ - ثُمَّ أَدْبَرَ وَاسْتَكْبَرَ - فَقَالَ إِنْ هَـذَآ إِلاَّ سِحْرٌ يُؤْثَرُ - إِنْ هَـذَآ إِلاَّ قَوْلُ الْبَشَرِ
(Verily, he thought and plotted. So let him be cursed! How he plotted! And once more let him be cursed, how he plotted! Then he thought. Then he frowned and he looked in a bad tempered way. Then he turned back and was proud. Then he said, "This is nothing but magic from that of old. This is nothing but the word of a human being!") 74:18-25 Allah said next,
وَلِنُبَيِّنَهُ لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ
(And that We may make the matter clear for the people who have knowledge.) The Ayah means, so that We explain the matter to a people who know truth, and thus follow it, and know falsehood, and thus avoid it. Allah's wisdom is perfect, He allows the disbelievers to stray, and He guides the people who have knowledge. Allah said in other Ayat,
يُضِلُّ بِهِ كَثِيرًا وَيَهْدِي بِهِ كَثِيرًا
(By it He misleads many, and many He guides thereby.) 2:26, and;
لِّيَجْعَلَ مَا يُلْقِى الشَّيْطَـنُ فِتْنَةً لِّلَّذِينَ فِى قُلُوبِهِم مَّرَضٌ وَالْقَاسِيَةِ قُلُوبُهُمْ
(That He (Allah) may make what is thrown in by Shaytan a trial for those in whose hearts is a disease and whose hearts are hardened. ) 22:53 and,
وَإِنَّ اللَّهَ لَهَادِ الَّذِينَ ءَامَنُواْ إِلَى صِرَطٍ مُّسْتَقِيمٍ
(And verily, Allah is the Guide of those who believe, to the straight path.) 22:54,
وَمَا جَعَلْنَآ أَصْحَـبَ النَّارِ إِلاَّ مَلَـئِكَةً وَمَا جَعَلْنَا عِدَّتَهُمْ إِلاَّ فِتْنَةً لِّلَّذِينَ كَفَرُواْ لِيَسْتَيْقِنَ الَّذِينَ أُوتُواْ الْكِتَـبَ وَيَزْدَادَ الَّذِينَ ءَامَنُواْ إِيمَـناً وَلاَ يَرْتَابَ الَّذِينَ أُوتُواْ الْكِتَـبَ وَالْمُؤْمِنُونَ وَلِيَقُولَ الَّذِينَ فِى قُلُوبِهِم مَّرَضٌ وَالْكَـفِرُونَ مَاذَآ أَرَادَ اللَّهُ بِهَـذَا مَثَلاً كَذَلِكَ يُضِلُّ اللَّهُ مَن يَشَآءُ وَيَهْدِى مَن يَشَآءُ وَمَا يَعْلَمُ جُنُودَ رَبِّكَ إِلاَّ هُوَ
(And We have set none but angels as guardians of the Fire, and We have fixed their number only as a trial for the disbelievers, in order that the People of the Scripture may arrive at a certainty and the believers may increase in faith, and that no doubts may be left for the People of the Scripture and the believers, and that those in whose hearts is a disease (of hypocrisy) and the disbelievers may say, "What does Allah intend by this example" Thus Allah leads astray whom He wills and guides whom He wills. And none can know the hosts of your Lord but He.) 74:31, and;
وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْءَانِ مَا هُوَ شِفَآءٌ وَرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِينَ وَلاَ يَزِيدُ الظَّـلِمِينَ إَلاَّ خَسَارًا
(And We send down in the Qur'an that which is a healing and a mercy to the believers, and it increases the wrongdoers in nothing but loss.) 17:82, and,
قُلْ هُوَ لِلَّذِينَ ءَامَنُواْ هُدًى وَشِفَآءٌ وَالَّذِينَ لاَ يُؤْمِنُونَ فِى ءَاذَانِهِمْ وَقْرٌ وَهُوَ عَلَيْهِمْ عَمًى أُوْلَـئِكَ يُنَادَوْنَ مِن مَّكَانٍ بَعِيدٍ
(Say, "It is for those who believe, a guide and a healing. And as for those who disbelieve, there is heaviness in their ears, and it is blindness for them. They are those who are called from a place far away.") 41:44 There are similar Ayat that testify that Allah sent down the Qur'an as guidance to those who fear Him and that He guides or misguides whom He wills by the Qur'an.
ہدایت و شفا قرآن و حدیث میں ہے بصائر سے مراد دلیلیں اور حجتیں ہیں جو قرآن و حدیث میں موجود ہیں جو انہیں دیکھے اور ان سے نفع حاصل کرے وہ اپنا ہی بھلا کرتا ہے جیسے فرمان ہے کہ راہ پانے والا اپنے لئے راہ پاتا ہے اور گمراہ ہونے والا اپنا ہی بگاڑتا ہے۔ یہاں بھی فرمایا اندھا اپنا ہی نقصان کرتا ہے کیونکہ آخر گمراہی کا اسی پر اثر پڑتا ہے جیسے ارشاد ہے آنکھیں اندھی نہیں ہوتی بلکہ سینوں کے اندر دل اندھے ہوجاتے ہیں، میں تم پر نگہبان حافظ چوکیدار نہیں بلکہ میں تو صرف مبلغ ہوں ہدایت اللہ کے ہاتھ ہے، جس طرح توحید کے دلائل واضح فرمائے اسی طرح اپنی آیتوں کو کھول کھول کر تفسیر اور وضاحت کے ساتھ بیان فرمایا تاکہ کوئی جاہل نہ رہ جائے اور مشرکین مکذبین اور کافرین یہ نہ کہہ دیں کہ تو نے اے نبی اہل کتاب سے یہ درس لیا ہے ان سے پڑھا ہے انہی نے تجھے سکھایا ہے۔ ابن عباس سے یہ معنی بھی مروی ہیں کہ تو نے پڑھ سنایا تو نے جھگڑا کیا تو یہ اسی آیت کی طرح آیت ہوگی جہاں بیان ہے آیت (وَقَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا اِنْ ھٰذَآ اِلَّآ اِفْكُۨ افْتَرٰىهُ وَاَعَانَهٗ عَلَيْهِ قَوْمٌ اٰخَرُوْنَ ڔ فَقَدْ جَاۗءُوْ ظُلْمًا وَّزُوْرًا) 25۔ الفرقان :4) کافروں نے کہا کہ یہ تو صرف بہتان ہے جسے اس نے گھڑ لیا ہے اور دوسروں نے اس کی تائید کی ہے اور آیتوں میں ان کے بڑے کا قول ہے کہ اس نے بہت کچھ غور وخوض کے بعد فیصلہ کیا کہ یہ تو چلتا ہوا جادو ہے، یقینا یہ انسانی قول ہے اور اس لئے کہ ہم علماء کے سامنے وضاحت کردیں تاکہ وہ حق کے قائل اور باطل کے دشمن بن جائیں۔ رب کی مصلحت وہی جانتا ہے کہ جو ایک گروہ کو ہدایت اور دوسرے کو ضلالت عطا کرتا ہے، جیسے فرمایا اس کے ساتھ بہت کو ہدایت کرتا ہے اور بہت کو گمراہ کرتا ہے اور آیت میں ہے تاکہ وہ شیطان کے القا کو بیمار دلوں کیلئے سبب فتنہ کر دے اور فرمایا آیت (وَمَا جَعَلْنَآ اَصْحٰبَ النَّارِ اِلَّا مَلٰۗىِٕكَةً ۠ وَّمَا جَعَلْنَا عِدَّتَهُمْ اِلَّا فِتْنَةً لِّلَّذِيْنَ كَفَرُوْا) 74۔ المدثر :31) یعنی ہم نے دوزخ کے پاسبان فرشتے مقرر کئے ہیں ان کی مقررہ تعداد بھی کافروں کے لئے فتنہ ہے تاکہ اہل کتاب کامل یقین کرلیں ایماندار ایمان میں بڑھ جائیں اہل کتاب اور مومن شک شبہ سے الگ ہوجائیں اور بیمار دل کفر والے کہتے ہیں کہ اس مثال سے اللہ کی کیا مراد ہے اسی طرح جسے اللہ چاہے گمراہ کرتا ہے اور جسے چاہے راہ راست دکھاتا ہے، تیرے رب کے لشکروں کو بجز اس کے کوئی نہیں جانتا اور آیت میں ہے آیت (وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْاٰنِ مَا هُوَ شِفَاۗءٌ وَّرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ ۙ وَلَا يَزِيْدُ الظّٰلِمِيْنَ اِلَّا خَسَارًا) 17۔ الاسراء :82) یعنی ہم نے قرآن اتارا ہے جو مومنوں کے لئے شفا اور رحمت ہے البتہ ظالموں کو تو نقصان ہی ملتا ہے اور آیت میں ہے کہ یہ ایمان والوں کے لئے ہدایت و شفا ہے اور بےایمانوں کے کانوں میں بوجھ ہے اور ان پر اندھا پن غالب ہے یہ دور کی جگہ سے پکارے جا رہے ہیں اور بھی اس مضمون کی بہت سی آیتیں ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ قرآن سے لوگ نصیحت حاصل کرتے ہیں اور گمراہ بھی ہوتے ہیں۔ دارست کی دوسری قرأت درست بھی ہے یعنی پڑھا اور سیکھا اور یہ معنی ہیں کہ اسے تو مدت گزر چکی یہ تو تو پہلے سے لایا ہوا ہے، یہ تو تو پڑھایا گیا ہے اور سکھایا گیا ہے۔ ایک قرأت میں درس بھی ہے لیکن یہ غریب ہے ابی بن کعب فرماتے ہیں رسول ﷺ نے درست پڑھایا ہے۔
106
View Single
ٱتَّبِعۡ مَآ أُوحِيَ إِلَيۡكَ مِن رَّبِّكَۖ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَۖ وَأَعۡرِضۡ عَنِ ٱلۡمُشۡرِكِينَ
Follow what is divinely revealed to you from your Lord; there is none worthy of worship except Him; and turn away from the polytheists.
آپ اس (قرآن) کی پیروی کیجئے جو آپ کی طرف آپ کے رب کی جانب سے وحی کیا گیا ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اور آپ مشرکوں سے کنارہ کشی کر لیجئے
Tafsir Ibn Kathir
The Command to Follow the Revelation
Allah commands His Messenger and those who followed his path,
اتَّبِعْ مَآ أُوحِىَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ
(Follow what has been inspired to you from your Lord,) meaning, follow it, obey it and act according to it. What has been revealed to you from your Lord is the Truth, no doubt, and there is no deity worthy of worship except Him,
وَأَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِكِينَ
(and turn aside from the idolators) meaning, forgive them, be forbearing and endure their harm until Allah brings relief to you, supports you and makes you triumphant over them. Know -- O Muhammad -- that there is a wisdom behind misleading the idolators, and that had Allah willed, He would have directed all people to guidance,
وَلَوْ شَآءَ اللَّهُ مَآ أَشْرَكُواْ
(Had Allah willed, they would not have taken others besides Him in worship.) Allah's is the perfect will and wisdom in all decrees and decisions, and He is never questioned about what He does, while they all will be questioned. Allah's statement,
وَمَا جَعَلْنَـكَ عَلَيْهِمْ حَفِيظاً
(And We have not made you Hafiz over them.) means, a watcher who observes their statements and deeds,
وَمَآ أَنتَ عَلَيْهِم بِوَكِيلٍ
(Nor are you set over them to dispose of their affairs. ) or to control their provision. Rather, your only job is to convey, just as Allah said,
فَذَكِّرْ إِنَّمَآ أَنتَ مُذَكِّرٌ - لَّسْتَ عَلَيْهِم بِمُسَيْطِرٍ
(So remind them, you are only one who reminds. You are not a dictator over them.) 88:21-22 and,
فَإِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلَـغُ وَعَلَيْنَا الْحِسَابُ
(Your duty is only to convey and on Us is the reckoning.) 13:40
وحی کے مطابق عمل کرو حضور کو اور آپ کی امت کو حکم ہو رہا ہے کہ وحی الہی کی اتباع اور اسی کے مطابق عمل کرو جو وحی اللہ کی جانب سے اترتی ہے وہ سراسر حق ہے اس کے حق ہونے میں زرا سا بھی شبہ نہیں۔ معبود برحق صرف وہی ہے، مشرکین سے درگزر کر، ان کی ایذاء دہی پر صبر کر، ان کی بد زبانی برداشت کرلے، ان کی بد زبانی سن لے، یقین مان کر تیری فتح کا تیرے غلبہ کا تیری طاقت و قوت کا وقت دور نہیں۔ اللہ کی مصلحتوں کو کوئی نہیں جانتا دیر گو ہو لیکن اندھیرا نہیں۔ اگر اللہ چاہتا تو سب کو ہدایت دیتا اس کی مشیت اس کی حکمت وہی جانتا ہے نہ کوئی اس سے باز پرس کرسکے نہ اس کا ہاتھ تھام سکے وہ سب کا حاکم اور سب سے سوال کرنے پر قادر ہے تو اس کے اقوال و اعمال کا محافظ نہیں تو ان کے رزق وغیرہ امور کا وکیل نہیں تیرے ذمہ صرف اللہ کے حکم کو پہنچا دینا ہے جیسے فرمایا نصیحت کر دے کیونکہ تیرا کام یہی ہے تو ان پر داروغہ نہیں اور فرمایا تمہاری ذمہ داری تو صرف پہنچا دینا ہے حساب ہمارے ذمہ ہے۔
107
View Single
وَلَوۡ شَآءَ ٱللَّهُ مَآ أَشۡرَكُواْۗ وَمَا جَعَلۡنَٰكَ عَلَيۡهِمۡ حَفِيظٗاۖ وَمَآ أَنتَ عَلَيۡهِم بِوَكِيلٖ
And if Allah willed, they would not ascribe (any partner to Him); We have not made you as a guardian over them; and you are not responsible for them.
اور اگر اللہ (ان کو جبراً روکنا) چاہتا تو یہ لوگ (کبھی) شرک نہ کرتے، اور ہم نے آپ کو (بھی) ان پر نگہبان نہیں بنایا اور نہ آپ ان پر پاسبان ہیں
Tafsir Ibn Kathir
The Command to Follow the Revelation
Allah commands His Messenger and those who followed his path,
اتَّبِعْ مَآ أُوحِىَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ
(Follow what has been inspired to you from your Lord,) meaning, follow it, obey it and act according to it. What has been revealed to you from your Lord is the Truth, no doubt, and there is no deity worthy of worship except Him,
وَأَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِكِينَ
(and turn aside from the idolators) meaning, forgive them, be forbearing and endure their harm until Allah brings relief to you, supports you and makes you triumphant over them. Know -- O Muhammad -- that there is a wisdom behind misleading the idolators, and that had Allah willed, He would have directed all people to guidance,
وَلَوْ شَآءَ اللَّهُ مَآ أَشْرَكُواْ
(Had Allah willed, they would not have taken others besides Him in worship.) Allah's is the perfect will and wisdom in all decrees and decisions, and He is never questioned about what He does, while they all will be questioned. Allah's statement,
وَمَا جَعَلْنَـكَ عَلَيْهِمْ حَفِيظاً
(And We have not made you Hafiz over them.) means, a watcher who observes their statements and deeds,
وَمَآ أَنتَ عَلَيْهِم بِوَكِيلٍ
(Nor are you set over them to dispose of their affairs. ) or to control their provision. Rather, your only job is to convey, just as Allah said,
فَذَكِّرْ إِنَّمَآ أَنتَ مُذَكِّرٌ - لَّسْتَ عَلَيْهِم بِمُسَيْطِرٍ
(So remind them, you are only one who reminds. You are not a dictator over them.) 88:21-22 and,
فَإِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلَـغُ وَعَلَيْنَا الْحِسَابُ
(Your duty is only to convey and on Us is the reckoning.) 13:40
وحی کے مطابق عمل کرو حضور کو اور آپ کی امت کو حکم ہو رہا ہے کہ وحی الہی کی اتباع اور اسی کے مطابق عمل کرو جو وحی اللہ کی جانب سے اترتی ہے وہ سراسر حق ہے اس کے حق ہونے میں زرا سا بھی شبہ نہیں۔ معبود برحق صرف وہی ہے، مشرکین سے درگزر کر، ان کی ایذاء دہی پر صبر کر، ان کی بد زبانی برداشت کرلے، ان کی بد زبانی سن لے، یقین مان کر تیری فتح کا تیرے غلبہ کا تیری طاقت و قوت کا وقت دور نہیں۔ اللہ کی مصلحتوں کو کوئی نہیں جانتا دیر گو ہو لیکن اندھیرا نہیں۔ اگر اللہ چاہتا تو سب کو ہدایت دیتا اس کی مشیت اس کی حکمت وہی جانتا ہے نہ کوئی اس سے باز پرس کرسکے نہ اس کا ہاتھ تھام سکے وہ سب کا حاکم اور سب سے سوال کرنے پر قادر ہے تو اس کے اقوال و اعمال کا محافظ نہیں تو ان کے رزق وغیرہ امور کا وکیل نہیں تیرے ذمہ صرف اللہ کے حکم کو پہنچا دینا ہے جیسے فرمایا نصیحت کر دے کیونکہ تیرا کام یہی ہے تو ان پر داروغہ نہیں اور فرمایا تمہاری ذمہ داری تو صرف پہنچا دینا ہے حساب ہمارے ذمہ ہے۔
108
View Single
وَلَا تَسُبُّواْ ٱلَّذِينَ يَدۡعُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ فَيَسُبُّواْ ٱللَّهَ عَدۡوَۢا بِغَيۡرِ عِلۡمٖۗ كَذَٰلِكَ زَيَّنَّا لِكُلِّ أُمَّةٍ عَمَلَهُمۡ ثُمَّ إِلَىٰ رَبِّهِم مَّرۡجِعُهُمۡ فَيُنَبِّئُهُم بِمَا كَانُواْ يَعۡمَلُونَ
Do not abuse those whom they worship besides Allah lest they become disrespectful towards Allah’s Majesty, through injustice and ignorance; likewise, in the eyes of every nation, We have made their deeds appear good – then towards their Lord they have to return and He will inform them of what they used to do.
اور (اے مسلمانو!) تم ان (جھوٹے معبودوں) کو گالی مت دو جنہیں یہ (مشرک لوگ) اللہ کے سوا پوجتے ہیں پھر وہ لوگ (بھی جواباً) جہالت کے باعث ظلم کرتے ہوئے اللہ کی شان میں دشنام طرازی کرنے لگیں گے۔ اسی طرح ہم نے ہر فرقہ (و جماعت) کے لئے ان کا عمل (ان کی آنکھوں میں) مرغوب کر رکھا ہے (اور وہ اسی کو حق سمجھتے رہتے ہیں)، پھر سب کو اپنے رب ہی کی طرف لوٹنا ہے اور وہ انہیں ان اعمال کے نتائج سے آگاہ فرما دے گا جو وہ انجام دیتے تھے
Tafsir Ibn Kathir
The Prohibition of Insulting the False gods of the Disbelievers, So that they Do not Insult Allah
Allah prohibits His Messenger and the believers from insulting the false deities of the idolators, although there is a clear benefit in doing so. Insulting their deities will lead to a bigger evil than its benefit, for the idolators might retaliate by insulting the God of the believers, Allah, none has the right to be worshipped but He. `Ali bin Abi Talhah said that Ibn `Abbas commented on this Ayah 6:108; "They (disbelievers) said, `O Muhammad! You will stop insulting our gods, or we will insult your Lord.' Thereafter, Allah prohibited the believers from insulting the disbelievers' idols,
فَيَسُبُّواْ اللَّهَ عَدْواً بِغَيْرِ عِلْمٍ
(lest they insult Allah wrongfully without knowledge.)" `Abdur-Razzaq narrated that Ma`mar said that Qatadah said, "Muslims used to insult the idols of the disbelievers and the disbelievers would retaliate by insulting Allah wrongfully without knowledge. Allah revealed,
وَلاَ تَسُبُّواْ الَّذِينَ يَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّهِ
(And insult not those whom they worship besides Allah.)" On this same subject -- abandoning what carries benefit to avert a greater evil - it is recorded in the Sahih that the Messenger of Allah ﷺ said,
«مَلْعُونٌ مَنْ سَبَّ وَالِدَيْه»
(Cursed is he who insults his own parents!) They said, "O Allah's Messenger! And how would a man insult his own parents" He said,
«يَسُبُّ أَبَا الرَّجُلِ فَيَسُبُّ أَبَاهُ وَيَسُبُّ أُمَّهُ فَيَسُبُّ أُمَّه»
(He insults a man's father, and that man insults his father, and insults his mother and that man insults his mother.) Allah's statement,
كَذَلِكَ زَيَّنَّا لِكُلِّ أُمَّةٍ عَمَلَهُمْ
(Thus We have made fair seeming to each people its own doings;) means, as We made fair seeming to the idolators loving their idols and defending them, likewise We made fair seeming to every previous nation the misguidance they indulged in. Allah's is the most perfect proof, and the most complete wisdom in all that He wills and chooses.
ثُمَّ إِلَى رَبِّهِمْ مَّرْجِعُهُمْ
(then to their Lord is their return,) gathering and final destination,
فَيُنَبِّئُهُمْ بِمَا كَانُواْ يَعْمَلُونَ
(and He shall then inform them of all that they used to do.) He will compensate them for their deeds, good for good and evil for evil.
سودا بازی نہیں ہوگی اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو اور آپ کے ماننے والوں کو مشرکین کے معبودوں کو گالیاں دینے سے منع فرماتا ہے گو کہ اس میں کچھ مصلحت بھی ہو لیکن اس میں مفسدہ بھی ہے اور وہ بہت بڑا ہے یعنی ایسا نہ ہو کہ مشرک اپنی نادانی سے اللہ کو گالیاں دینے لگ جائیں ایک روایت میں ہے کہ مشرکین نے ایسا ارادہ ظاہر کیا تھا اس پر یہ آیت اتری، قتادہ کا قول ہے کہ ایسا ہوا تھا اس لئے یہ آیت اتری اور ممانعت کردی گئی۔ ابن ابی حاتم میں سدی سے مروی ہے کہ ابو طالب کی موت کی بیماری کے وقت قریشیوں نے آپس میں کہا کہ چلو چل کر ابو طالب سے کہیں کہ وہ اپنے بھتیجے (حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کو روک دیں ورنہ یہ یقینی بات ہے کہ اب ہم اسے مار ڈالیں گے تو ممکن ہے کہ عرب کی طرف سے آواز اٹھے کہ چچا کی موجودگی میں تو قریشیوں کو چلی نہیں اس کی موت کے بعد مار ڈالا۔ یہ مشورہ کر کے ابو جہل ابو سفیان نضیر بن حارث امیہ بن ابی خلف عقبہ بن ابو محیط عمرو بن عاص اور اسود بن بختری چلے۔ مطلب نامی ایک شخص کو ابو طالب کے پاس بھیجا کہ وہ ان کے آنے کی خبر دیں اور اجازت لیں۔ اس نے جا کر کہا کہ آپ کی قوم کے سردار آپ سے ملنا چاہتے ہیں ابو طالب نے کہا بلالو یہ لوگ گئے اور کہنے لگے آپ کو ہم اپنا بڑا اور سردار مانتے ہیں آپ کو معلوم ہے کہ محمد ﷺ نے ہمیں ستار کھا ہے وہ ہمارے معبودوں کو برا کہتا ہے، ہم چاہتے ہیں کہ آپ بلا کر منع کر دیجئے ہم بھی اس سے رک جائیں گے، ابو طالب نے حضور ﷺ کو بلایا آپ تشریف لائے ابو طالب نے کہا آپ دیکھتے ہیں آپ کی قوم کے بڑے یہاں جمع ہیں یہ سب آپ کے کنبے قبیلے اور رشتے کے ہیں یہ چاہتے ہیں کہ آپ انہیں اور ان کے معبودوں کو چھوڑ دیں یہ بھی آپ کو اور آپ کے اللہ کو چھوڑ دیں گے۔ آپ نے فرمایا خیر ایک بات میں کہتا ہوں یہ سب لوگ سوچ سمجھ کر اس کا جواب دیں۔ میں ان سے صرف ایک کلمہ طلب کرتا ہوں اور وعدہ کرتا ہوں کہ اگر یہ میری ایک بات مان لیں تو تمام عرب ان کا ماتحت ہوجائے تمام عجم ان کی مملکت میں آجائے بڑی بڑی سلطنتیں انہیں خراج ادا کریں، یہ سن کر ابو جہل نے کہا قسم ہے ایک ہی نہیں ایسی دس باتیں بھی اگر آپ کی ہوں تو ہم ماننے کو موجود ہیں فرمائیے وہ کلمہ کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا بس لا الہ الا اللہ کہہ دو۔ اس پر ان سب نے انکار کیا اور ناک بھوں چڑھائی۔ یہ بات دیکھ کر ابو طالب نے کہا پیارے بھتیجے اور کوئی بات کہو دیکھو تمہاری قوم کے سرداروں کو تمہاری یہ بات پسند نہیں آئی آپ نے فرمایا چچا جان آپ مجھے کیا سمجھتے ہیں اللہ کی قسم مجھے اسی ایک کلمہ کی دھن ہے اگر یہ لوگ سورج کو لا کر میرے ہاتھ میں رکھ دیں جب بھی میں کوئی اور کلمہ نہیں کہوں گا یہ سن کر وہ لوگ اور بگڑے اور کہنے لگے بس ہم کہہ دیتے ہیں کہ یا تو آپ ہمارے معبودوں کو گالیاں دینے سے رک جائیں ورنہ پھر ہم بھی آپ کو اور آپ کے معبود کو گالیاں دیں گے اس پر رب العالمین نے یہ آیت اتاری، اسی مصلحت کو مد نظر رکھ کر رسول ﷺ نے فرمایا وہ ملعون ہے جو اپنے ماں باپ کو گالیاں دے۔ صحابہ نے کہا حضور ﷺ کوئی شخص اپنے ماں باپ کو گالی کیسے دے گا ؟ آپ نے فرمایا اس طرح کہ یہ دوسرے کے باپ کو گالی دے دوسرا کے باپ کو، یہ کسی کی ماں کو گالی دے وہ اس کی ماں کو، پھر فرماتا ہے اسی طرح اگلی امتیں بھی اپنی گمراہی کو اپنے حق میں ہدایت سمجھتی رہیں۔ یہ بھی رب کی حکمت ہے یاد رہے کہ سب کا لوٹنا اللہ ہی کی طرف ہے وہ انہیں ان کے سب برے بھلے اعمال کا بدلہ دے گا اور ضرور دے گا۔
109
View Single
وَأَقۡسَمُواْ بِٱللَّهِ جَهۡدَ أَيۡمَٰنِهِمۡ لَئِن جَآءَتۡهُمۡ ءَايَةٞ لَّيُؤۡمِنُنَّ بِهَاۚ قُلۡ إِنَّمَا ٱلۡأٓيَٰتُ عِندَ ٱللَّهِۖ وَمَا يُشۡعِرُكُمۡ أَنَّهَآ إِذَا جَآءَتۡ لَا يُؤۡمِنُونَ
And they swore by Allah vehemently in their oaths that if any sign came to them, they will certainly believe in it; say, “The signs are with Allah, and what do you people know that if they came to them, they will not believe.”
وہ بڑے تاکیدی حلف کے ساتھ اللہ کی قَسم کھاتے ہیں کہ اگر ان کے پاس کوئی (کھلی) نشانی آجائے تو وہ اس پر ضرور ایمان لے آئیں گے۔ (ان سے) کہہ دو کہ نشانیاں توصرف اللہ ہی کے پاس ہیں، اور (اے مسلمانو!) تمہیں کیا خبر کہ جب وہ نشانی آجائے گی (تو) وہ (پھر بھی) ایمان نہیں لائیں گے
Tafsir Ibn Kathir
Asking for Miracles and Swearing to Believe if They Come
Allah states that the idolators swore their strongest oaths by Allah,
لَئِن جَآءَتْهُمْ ءَايَةٌ
(that if there came to them a sign...) a miracle or phenomenon,
لَّيُؤْمِنُنَّ بِهَا
(they would surely believe therein.) affirming its truth,
قُلْ إِنَّمَا الاٌّيَـتُ عِندَ اللَّهِ
(Say: "Signs are but with Allah.") 6:109 meaning: Say, O Muhammad - to those who ask you for signs out of defiance, disbelief and rebellion, not out of the desire for guidance and knowledge - "The matter of sending signs is for Allah. If He wills, He sends them to you, and if He wills, He ignores your request." Allah said next,
وَمَا يُشْعِرُكُمْ أَنَّهَآ إِذَا جَآءَتْ لاَ يُؤْمِنُونَ
(And what will make you perceive that (even) if it came, they will not believe) It was said that `you' in `make you preceive' refers to the idolators, according to Mujahid. In this case, the Ayah would mean, what makes you -- you idolators -- preceive that you are truthful in the vows that you swore Therefore, in this recitation, the Ayah means, the idolators will still not believe if the sign that they asked for came. It was also said that `you' in, `what will make you preceive', refers to the believers, meaning, what will make you preceive, O believers, that the idolators will still not believe if the signs come. Allah also said,
مَا مَنَعَكَ أَلاَّ تَسْجُدَ إِذْ أَمَرْتُكَ
("What prevented you (O Iblis) that you did not prostrate, when I commanded you") 7:12 and,
وَحَرَامٌ عَلَى قَرْيَةٍ أَهْلَكْنَـهَآ أَنَّهُمْ لاَ يَرْجِعُونَ
(And a ban is laid on every town (population) which We have destroyed that they shall not return (to this world again).) 21:95 These Ayat mean: `What made you, O Iblis, refrain from prostrating, although I commanded you to do so, and, in the second Ayah, that village shall not return to this world again. In the Ayah above 6:109, the meaning thus becomes: What makes you perceive, O believers, who wish eagerly for the disbelievers to believe, that if the Ayat came to them they would believe Allah said next,
وَنُقَلِّبُ أَفْئِدَتَهُمْ وَأَبْصَـرَهُمْ كَمَا لَمْ يُؤْمِنُواْ بِهِ أَوَّلَ مَرَّةٍ
(And We shall turn their hearts and their eyes away, as they refused to believe therein for the first time,) Al-`Awfi said that Ibn `Abbas said about this Ayah, "When the idolators rejected what Allah sent down, their hearts did not settle on any one thing and they turned away from every matter (of benefit)." Mujahid said that Allah's statement,
وَنُقَلِّبُ أَفْئِدَتَهُمْ وَأَبْصَـرَهُمْ
(and We shall turn their hearts and their eyes away, ) means, We prevent them from the faith, and even if every sign came to them, they will not believe, just as We prevented them from faith the first time. Similar was said by `Ikrimah and `Abdur-Rahman bin Zayd bin Aslam. `Ali bin Abi Talhah said that Ibn `Abbas said, "Allah mentions what the servants will say before they say it and what they will do before they do it. Allah said;
وَلاَ يُنَبِّئُكَ مِثْلُ خَبِيرٍ
(And none can inform you like Him Who is the All-Knower.) 35:14 and,
أَن تَقُولَ نَفْسٌ يحَسْرَتَى عَلَى مَا فَرَّطَتُ فِى جَنبِ اللَّهِ
(Lest a person should say, "Alas, my grief that I was undutiful to Allah.") 39:56 until,
لَوْ أَنَّ لِى كَـرَّةً فَأَكُونَ مِنَ الْمُحْسِنِينَ
("If only I had another chance, then I should indeed be among the doers of good.") 39:58. So Allah, glory be to Him, states that if they were sent back to life, they would not accept the guidance,
وَلَوْ رُدُّواْ لَعَـدُواْ لِمَا نُهُواْ عَنْهُ وَإِنَّهُمْ لَكَـذِبُونَ
(But if they were returned, they would certainly revert to that which they were forbidden. And indeed they are liars.) 6:28 Allah said,
وَنُقَلِّبُ أَفْئِدَتَهُمْ وَأَبْصَـرَهُمْ كَمَا لَمْ يُؤْمِنُواْ بِهِ أَوَّلَ مَرَّةٍ
(And We shall turn their hearts and their eyes away (from guidance), as they refused to believe therein for the first time,) meaning: `If they were sent back to this life, they would be prevented from embracing the guidance, just as We prevented them from it the first time, when they were in the life of this world." Allah said,
وَنَذَرُهُمْ
(and We shall leave them...) and abandon them,
فِي طُغْيَـنِهِمْ
(in their trespass...) meaning, disbelief, according to Ibn `Abbas and As-Suddi. Abu Al-`Aliyah, Ar-Rabi` bin Anas and Qatadah said that `their trespass' means, `their misguidance'. m
يَعْمَهُونَ
(to wander blindly) or playfully, according to Al-A`mash. Ibn `Abbas, Mujahid, Abu Al-`Aliyah, Ar-Rabi`, Abu Malik and others commented, "to wander in their disbelief."
معجزوں کے طالب لوگ صرف مسلمانوں کو دھوکا دینے کیلئے اور اس لئے بھی کہ خود مسلمان شک شبہ میں پڑجائیں کافر لوگ قسمیں کھا کھا کر بڑے زور سے کہتے تھے کہ ہمارے طلب کردہ معجزے ہمیں دکھا دیئے جائیں تو واللہ ہم بھی مسلمان ہوجائیں۔ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو ہدایت فرماتا ہے کہ آپ کہہ دیں کہ معجزے میرے قبضے میں نہیں یہ اللہ کے ہاتھ میں ہیں وہ چاہے دکھائے چاہے نہ دکھائے ابن جریر میں ہے کہ مشرکین نے حضور سے کہا کہ آپ فرماتے ہیں حضرت موسیٰ ایک پتھر پر لکڑی مارتے تھے تو اس سے بارہ چشمے نکلے تھے اور حضرت عیسیٰ مردوں میں جان ڈال دیتے تھے اور حضرت ثمود نے اونٹنی کا معجزہ دکھایا تھا تو آپ بھی جو معجزہ ہم کہیں دکھا دیں واللہ ہم سب آپ کی نبوت کو مان لیں گے، آپ نے فرمایا کیا معجزہ دیکھنا چاہتے ہو ؟ انہوں نے کہا کہ آپ صفا پہاڑ کو ہمارے لئے سونے کا بنادیں پھر تو قسم اللہ کی ہم سب آپ کو سچا جاننے لگیں گے۔ آپ کو ان کے اس کلام سے کچھ امید بندھ گئی اور آپ نے کھڑے ہو کر اللہ تعالیٰ سے دعا مانگنی شروع کی وہیں حضرت جبرائیل آئے اور فرمانے لگے سنئے اگر آپ چاہیں تو اللہ بھی اس صفا پہار کو سونے کا کر دے گا لیکن اگر یہ ایمان نہ لائے تو اللہ کا عذاب ان سب کو فنا کر دے گا ورنہ اللہ تعالیٰ اپنے عذابوں کو روکے ہوئے ہے ممکن ہے ان میں نیک سمجھ والے بھی ہوں اور وہ ہدایت پر آجائیں، آپ نے فرمایا نہیں اللہ تعالیٰ میں صفا کا سونا نہیں جاہتا بلکہ میں چاہتا ہوں کہ تو ان پر مہربانی فرما کر انہیں عذاب نہ کر اور ان میں سے جسے چاہے ہدایت نصیب فرما۔ اسی پر یہ آیتیں (وَلٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ يَجْهَلُوْنَ) 6۔ الانعام :111) تک نازل ہوئیں یہ حدیث گو مرسل ہے لیکن اس کے شاہد بہت ہیں چناچہ قرآن کریم میں اور جگہ ہے آیت (وَمَا مَنَعَنَآ اَنْ نُّرْسِلَ بالْاٰيٰتِ اِلَّآ اَنْ كَذَّبَ بِهَا الْاَوَّلُوْنَ) 17۔ الاسراء :59) یعنی معجزوں کے اتارنے سے صرف یہ چیز مانع ہے کہ ان سے اگلوں نے بھی انہیں جھٹلا یا۔ انھا کی دوسری قرأت انھا بھی ہے اور لا یومنون کی دوسری قرأت لا تو منون ہے اس صورت میں معنی یہ ہوں گے کہ اے مشرکین کیا خبر ممکن ہے خود تمہارے طلب کردہ معجزوں کے آجانے کے بعد بھی تمہیں ایمان لانا نصیب نہ ہو اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس آیت میں خطاب مومنوں سے ہے یعنی اے مسلمانو تم نہیں جانتے یہ لوگ ان نشانیوں کے ظاہر ہو چکنے پر بھی بےایمان ہی رہیں گے۔ اس صورت میں انھا الف کے زیر کے ساتھ بھی ہوسکتا ہے اور الف کے زبر کے ساتھ بھی یشعر کم کا معمول ہو کر اور لا یومنون کا لام اس صورت میں صلہ ہوگا جیسے آیت (قَالَ مَا مَنَعَكَ اَلَّا تَسْجُدَ اِذْ اَمَرْتُكَ) 7۔ الاعراف :12) میں۔ اور آیت (وَحَرٰمٌ عَلٰي قَرْيَةٍ اَهْلَكْنٰهَآ اَنَّهُمْ لَا يَرْجِعُوْنَ) 21۔ الانبیآء :95) میں تو مطلب یہ ہوتا کہ اے مومنو تمہارے پاس اس کا کیا ثبوت ہے کہ یہ اپنی من مانی اور منہ مانگی نشانی دیکھ کر ایمان لائیں گے بھی ؟ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ انھا معنی میں لعلھا کے ہے بلکہ حضرت ابی بن کعب کی قرأت میں انھا کے بدلے لعلھا ہی ہے، عرب کے محاورے میں اور شعروں میں بھی یہی پایا گیا ہے، امام ابن جرید ؒ اسی کو پسند فرماتے ہیں اور اس کے بہت سے شواہد بھی انہوں نے پیش کئے ہیں، واللہ اعلم پھر فرماتا ہے کہ ان کے انکار اور کفر کی وجہ سے ان کے دل اور ان کی نگاہیں ہم نے پھیر دی ہیں، اب یہ کسی بات پر ایمان لانے والے ہی نہیں۔ ایمان اور ان کے درمیان دیوار حائل ہوچکی ہے، روئے زمین کے نشانات دیکھ لیں گے تو بھی بےایمان ہی رہیں گے اگر ایمان قسمت میں ہوتا تو حق کی آواز پر پہلے ہی لبیک پکار اٹھتے۔ اللہ تعالیٰ ان کی بات سے پہلے یہ جانتا تھا کہ یہ کیا کہیں گے ؟ اور ان کے عمل سے پہلے جانتا تھا کہ یہ کیا کریں گے ؟ اسی لئے اس نے بتلا دیا کہ ایسا ہوگا فرماتا ہے آیت (وَلَا يُنَبِّئُكَ مِثْلُ خَبِيْرٍ) 35۔ فاطر :14) اللہ تعالیٰ جو کامل خبر رکھنے والا ہے اور اس جیسی خبر اور کون دے سکتا ہے ؟ اس نے فرمایا کہ یہ لوگ قیامت کے روز حسرت و افسوس کے ساتھ آرزو کریں گے کہ اگر اب لوٹ کر دنیا کی طرف جائیں تو نیک اور بھلے بن کر رہیں۔ لیکن اللہ سبحانہ و تعالیٰ فرماتا ہے اگر بالفرض یہ لوٹا بھی دیئے جائیں تو بھی یہ ایسے کے ایسے ہی رہیں گے اور جن کاموں سے روکے گئے ہیں انہی کو کریں گے، ہرگز نہ چھوڑیں گے، یہاں بھی فرمایا کہ معجزوں کا دیکھنا بھی ان کے لئے مفید نہ ہوگا ان کی نگاہیں حق کو دیکھنے والی ہی نہیں رہیں ان کے دل میں حق کیلئے کوئی جگہ خالی ہی نہیں۔ پہلی بار ہی انہیں ایمان نصیب نہیں ہوا اسی طرح نشانوں کے ظاہر ہونے کے بعد بھی ایمان سے محروم رہیں گے۔ بلکہ اپنی سرکشی اور گمراہی میں ہی بہکتے اور بھٹکتے حیران و سرگرداں رہیں گے۔ (اللہ تعالیٰ ہمارے دلوں کو اپنے دین پر ثابت رکھے۔ آمین)۔
110
View Single
وَنُقَلِّبُ أَفۡـِٔدَتَهُمۡ وَأَبۡصَٰرَهُمۡ كَمَا لَمۡ يُؤۡمِنُواْ بِهِۦٓ أَوَّلَ مَرَّةٖ وَنَذَرُهُمۡ فِي طُغۡيَٰنِهِمۡ يَعۡمَهُونَ
And We revert their hearts and their eyes – the way they had not believed the first time – and We leave them to keep wandering blindly in their rebellion.
اور ہم ان کے دلوں کو اور ان کی آنکھوں کو (ان کی اپنی بدنیتی کے باعث قبولِ حق) سے (اسی طرح) پھیر دیں گے جس طرح وہ اس (نبی) پر پہلی بار ایمان نہیں لائے (سو وہ نشانی دیکھ کر بھی ایمان نہیں لائیں گے) اور ہم انہیں ان کی سرکشی میں (ہی) چھوڑ دیں گے کہ وہ بھٹکتے پھریں
Tafsir Ibn Kathir
Asking for Miracles and Swearing to Believe if They Come
Allah states that the idolators swore their strongest oaths by Allah,
لَئِن جَآءَتْهُمْ ءَايَةٌ
(that if there came to them a sign...) a miracle or phenomenon,
لَّيُؤْمِنُنَّ بِهَا
(they would surely believe therein.) affirming its truth,
قُلْ إِنَّمَا الاٌّيَـتُ عِندَ اللَّهِ
(Say: "Signs are but with Allah.") 6:109 meaning: Say, O Muhammad - to those who ask you for signs out of defiance, disbelief and rebellion, not out of the desire for guidance and knowledge - "The matter of sending signs is for Allah. If He wills, He sends them to you, and if He wills, He ignores your request." Allah said next,
وَمَا يُشْعِرُكُمْ أَنَّهَآ إِذَا جَآءَتْ لاَ يُؤْمِنُونَ
(And what will make you perceive that (even) if it came, they will not believe) It was said that `you' in `make you preceive' refers to the idolators, according to Mujahid. In this case, the Ayah would mean, what makes you -- you idolators -- preceive that you are truthful in the vows that you swore Therefore, in this recitation, the Ayah means, the idolators will still not believe if the sign that they asked for came. It was also said that `you' in, `what will make you preceive', refers to the believers, meaning, what will make you preceive, O believers, that the idolators will still not believe if the signs come. Allah also said,
مَا مَنَعَكَ أَلاَّ تَسْجُدَ إِذْ أَمَرْتُكَ
("What prevented you (O Iblis) that you did not prostrate, when I commanded you") 7:12 and,
وَحَرَامٌ عَلَى قَرْيَةٍ أَهْلَكْنَـهَآ أَنَّهُمْ لاَ يَرْجِعُونَ
(And a ban is laid on every town (population) which We have destroyed that they shall not return (to this world again).) 21:95 These Ayat mean: `What made you, O Iblis, refrain from prostrating, although I commanded you to do so, and, in the second Ayah, that village shall not return to this world again. In the Ayah above 6:109, the meaning thus becomes: What makes you perceive, O believers, who wish eagerly for the disbelievers to believe, that if the Ayat came to them they would believe Allah said next,
وَنُقَلِّبُ أَفْئِدَتَهُمْ وَأَبْصَـرَهُمْ كَمَا لَمْ يُؤْمِنُواْ بِهِ أَوَّلَ مَرَّةٍ
(And We shall turn their hearts and their eyes away, as they refused to believe therein for the first time,) Al-`Awfi said that Ibn `Abbas said about this Ayah, "When the idolators rejected what Allah sent down, their hearts did not settle on any one thing and they turned away from every matter (of benefit)." Mujahid said that Allah's statement,
وَنُقَلِّبُ أَفْئِدَتَهُمْ وَأَبْصَـرَهُمْ
(and We shall turn their hearts and their eyes away, ) means, We prevent them from the faith, and even if every sign came to them, they will not believe, just as We prevented them from faith the first time. Similar was said by `Ikrimah and `Abdur-Rahman bin Zayd bin Aslam. `Ali bin Abi Talhah said that Ibn `Abbas said, "Allah mentions what the servants will say before they say it and what they will do before they do it. Allah said;
وَلاَ يُنَبِّئُكَ مِثْلُ خَبِيرٍ
(And none can inform you like Him Who is the All-Knower.) 35:14 and,
أَن تَقُولَ نَفْسٌ يحَسْرَتَى عَلَى مَا فَرَّطَتُ فِى جَنبِ اللَّهِ
(Lest a person should say, "Alas, my grief that I was undutiful to Allah.") 39:56 until,
لَوْ أَنَّ لِى كَـرَّةً فَأَكُونَ مِنَ الْمُحْسِنِينَ
("If only I had another chance, then I should indeed be among the doers of good.") 39:58. So Allah, glory be to Him, states that if they were sent back to life, they would not accept the guidance,
وَلَوْ رُدُّواْ لَعَـدُواْ لِمَا نُهُواْ عَنْهُ وَإِنَّهُمْ لَكَـذِبُونَ
(But if they were returned, they would certainly revert to that which they were forbidden. And indeed they are liars.) 6:28 Allah said,
وَنُقَلِّبُ أَفْئِدَتَهُمْ وَأَبْصَـرَهُمْ كَمَا لَمْ يُؤْمِنُواْ بِهِ أَوَّلَ مَرَّةٍ
(And We shall turn their hearts and their eyes away (from guidance), as they refused to believe therein for the first time,) meaning: `If they were sent back to this life, they would be prevented from embracing the guidance, just as We prevented them from it the first time, when they were in the life of this world." Allah said,
وَنَذَرُهُمْ
(and We shall leave them...) and abandon them,
فِي طُغْيَـنِهِمْ
(in their trespass...) meaning, disbelief, according to Ibn `Abbas and As-Suddi. Abu Al-`Aliyah, Ar-Rabi` bin Anas and Qatadah said that `their trespass' means, `their misguidance'. m
يَعْمَهُونَ
(to wander blindly) or playfully, according to Al-A`mash. Ibn `Abbas, Mujahid, Abu Al-`Aliyah, Ar-Rabi`, Abu Malik and others commented, "to wander in their disbelief."
معجزوں کے طالب لوگ صرف مسلمانوں کو دھوکا دینے کیلئے اور اس لئے بھی کہ خود مسلمان شک شبہ میں پڑجائیں کافر لوگ قسمیں کھا کھا کر بڑے زور سے کہتے تھے کہ ہمارے طلب کردہ معجزے ہمیں دکھا دیئے جائیں تو واللہ ہم بھی مسلمان ہوجائیں۔ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو ہدایت فرماتا ہے کہ آپ کہہ دیں کہ معجزے میرے قبضے میں نہیں یہ اللہ کے ہاتھ میں ہیں وہ چاہے دکھائے چاہے نہ دکھائے ابن جریر میں ہے کہ مشرکین نے حضور سے کہا کہ آپ فرماتے ہیں حضرت موسیٰ ایک پتھر پر لکڑی مارتے تھے تو اس سے بارہ چشمے نکلے تھے اور حضرت عیسیٰ مردوں میں جان ڈال دیتے تھے اور حضرت ثمود نے اونٹنی کا معجزہ دکھایا تھا تو آپ بھی جو معجزہ ہم کہیں دکھا دیں واللہ ہم سب آپ کی نبوت کو مان لیں گے، آپ نے فرمایا کیا معجزہ دیکھنا چاہتے ہو ؟ انہوں نے کہا کہ آپ صفا پہاڑ کو ہمارے لئے سونے کا بنادیں پھر تو قسم اللہ کی ہم سب آپ کو سچا جاننے لگیں گے۔ آپ کو ان کے اس کلام سے کچھ امید بندھ گئی اور آپ نے کھڑے ہو کر اللہ تعالیٰ سے دعا مانگنی شروع کی وہیں حضرت جبرائیل آئے اور فرمانے لگے سنئے اگر آپ چاہیں تو اللہ بھی اس صفا پہار کو سونے کا کر دے گا لیکن اگر یہ ایمان نہ لائے تو اللہ کا عذاب ان سب کو فنا کر دے گا ورنہ اللہ تعالیٰ اپنے عذابوں کو روکے ہوئے ہے ممکن ہے ان میں نیک سمجھ والے بھی ہوں اور وہ ہدایت پر آجائیں، آپ نے فرمایا نہیں اللہ تعالیٰ میں صفا کا سونا نہیں جاہتا بلکہ میں چاہتا ہوں کہ تو ان پر مہربانی فرما کر انہیں عذاب نہ کر اور ان میں سے جسے چاہے ہدایت نصیب فرما۔ اسی پر یہ آیتیں (وَلٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ يَجْهَلُوْنَ) 6۔ الانعام :111) تک نازل ہوئیں یہ حدیث گو مرسل ہے لیکن اس کے شاہد بہت ہیں چناچہ قرآن کریم میں اور جگہ ہے آیت (وَمَا مَنَعَنَآ اَنْ نُّرْسِلَ بالْاٰيٰتِ اِلَّآ اَنْ كَذَّبَ بِهَا الْاَوَّلُوْنَ) 17۔ الاسراء :59) یعنی معجزوں کے اتارنے سے صرف یہ چیز مانع ہے کہ ان سے اگلوں نے بھی انہیں جھٹلا یا۔ انھا کی دوسری قرأت انھا بھی ہے اور لا یومنون کی دوسری قرأت لا تو منون ہے اس صورت میں معنی یہ ہوں گے کہ اے مشرکین کیا خبر ممکن ہے خود تمہارے طلب کردہ معجزوں کے آجانے کے بعد بھی تمہیں ایمان لانا نصیب نہ ہو اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس آیت میں خطاب مومنوں سے ہے یعنی اے مسلمانو تم نہیں جانتے یہ لوگ ان نشانیوں کے ظاہر ہو چکنے پر بھی بےایمان ہی رہیں گے۔ اس صورت میں انھا الف کے زیر کے ساتھ بھی ہوسکتا ہے اور الف کے زبر کے ساتھ بھی یشعر کم کا معمول ہو کر اور لا یومنون کا لام اس صورت میں صلہ ہوگا جیسے آیت (قَالَ مَا مَنَعَكَ اَلَّا تَسْجُدَ اِذْ اَمَرْتُكَ) 7۔ الاعراف :12) میں۔ اور آیت (وَحَرٰمٌ عَلٰي قَرْيَةٍ اَهْلَكْنٰهَآ اَنَّهُمْ لَا يَرْجِعُوْنَ) 21۔ الانبیآء :95) میں تو مطلب یہ ہوتا کہ اے مومنو تمہارے پاس اس کا کیا ثبوت ہے کہ یہ اپنی من مانی اور منہ مانگی نشانی دیکھ کر ایمان لائیں گے بھی ؟ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ انھا معنی میں لعلھا کے ہے بلکہ حضرت ابی بن کعب کی قرأت میں انھا کے بدلے لعلھا ہی ہے، عرب کے محاورے میں اور شعروں میں بھی یہی پایا گیا ہے، امام ابن جرید ؒ اسی کو پسند فرماتے ہیں اور اس کے بہت سے شواہد بھی انہوں نے پیش کئے ہیں، واللہ اعلم پھر فرماتا ہے کہ ان کے انکار اور کفر کی وجہ سے ان کے دل اور ان کی نگاہیں ہم نے پھیر دی ہیں، اب یہ کسی بات پر ایمان لانے والے ہی نہیں۔ ایمان اور ان کے درمیان دیوار حائل ہوچکی ہے، روئے زمین کے نشانات دیکھ لیں گے تو بھی بےایمان ہی رہیں گے اگر ایمان قسمت میں ہوتا تو حق کی آواز پر پہلے ہی لبیک پکار اٹھتے۔ اللہ تعالیٰ ان کی بات سے پہلے یہ جانتا تھا کہ یہ کیا کہیں گے ؟ اور ان کے عمل سے پہلے جانتا تھا کہ یہ کیا کریں گے ؟ اسی لئے اس نے بتلا دیا کہ ایسا ہوگا فرماتا ہے آیت (وَلَا يُنَبِّئُكَ مِثْلُ خَبِيْرٍ) 35۔ فاطر :14) اللہ تعالیٰ جو کامل خبر رکھنے والا ہے اور اس جیسی خبر اور کون دے سکتا ہے ؟ اس نے فرمایا کہ یہ لوگ قیامت کے روز حسرت و افسوس کے ساتھ آرزو کریں گے کہ اگر اب لوٹ کر دنیا کی طرف جائیں تو نیک اور بھلے بن کر رہیں۔ لیکن اللہ سبحانہ و تعالیٰ فرماتا ہے اگر بالفرض یہ لوٹا بھی دیئے جائیں تو بھی یہ ایسے کے ایسے ہی رہیں گے اور جن کاموں سے روکے گئے ہیں انہی کو کریں گے، ہرگز نہ چھوڑیں گے، یہاں بھی فرمایا کہ معجزوں کا دیکھنا بھی ان کے لئے مفید نہ ہوگا ان کی نگاہیں حق کو دیکھنے والی ہی نہیں رہیں ان کے دل میں حق کیلئے کوئی جگہ خالی ہی نہیں۔ پہلی بار ہی انہیں ایمان نصیب نہیں ہوا اسی طرح نشانوں کے ظاہر ہونے کے بعد بھی ایمان سے محروم رہیں گے۔ بلکہ اپنی سرکشی اور گمراہی میں ہی بہکتے اور بھٹکتے حیران و سرگرداں رہیں گے۔ (اللہ تعالیٰ ہمارے دلوں کو اپنے دین پر ثابت رکھے۔ آمین)۔
111
View Single
۞وَلَوۡ أَنَّنَا نَزَّلۡنَآ إِلَيۡهِمُ ٱلۡمَلَـٰٓئِكَةَ وَكَلَّمَهُمُ ٱلۡمَوۡتَىٰ وَحَشَرۡنَا عَلَيۡهِمۡ كُلَّ شَيۡءٖ قُبُلٗا مَّا كَانُواْ لِيُؤۡمِنُوٓاْ إِلَّآ أَن يَشَآءَ ٱللَّهُ وَلَٰكِنَّ أَكۡثَرَهُمۡ يَجۡهَلُونَ
And had We sent down the angels towards them, and had the dead spoken to them, and had We raised all things in front of them, they would still not have believed unless Allah willed – but most of them are totally ignorant.
اور اگر ہم ان کی طرف فرشتے اتار دیتے اور ان سے مُردے باتیں کرنے لگتے اور ہم ان پر ہر چیز (آنکھوں کے سامنے) گروہ در گروہ جمع کر دیتے وہ تب بھی ایمان نہ لاتے سوائے اس کے جو اللہ چاہتا اور ان میں سے اکثر لوگ جہالت سے کام لیتے ہیں
Tafsir Ibn Kathir
أَوْ تَأْتِىَ بِاللَّهِ وَالْمَلَـئِكَةِ قَبِيلاً
(or you bring Allah and the angels before (us) face to face.) 17:92
قَالُواْ لَن نُّؤْمِنَ حَتَّى نُؤْتَى مِثْلَ مَآ أُوتِىَ رُسُلُ اللَّهِ
(They said: "We shall not believe until we receive the like of that which the Messengers of Allah had received.") 6:124 and,
وَقَالَ الَّذِينَ لاَ يَرْجُونَ لِقَآءَنَا لَوْلاَ أُنزِلَ عَلَيْنَا الْمَلَـئِكَةُ أَوْ نَرَى رَبَّنَا لَقَدِ اسْتَكْبَرُواْ فِى أَنفُسِهِمْ وَعَتَوْا عُتُوّاً كَبِيراً
(And those who expect not a meeting with Us said: "Why are not the angels sent down to us, or why do we not see our Lord" Indeed they think too highly of themselves, and are scornful with great pride.) 25:21 Allah said,
وَكَلَّمَهُمُ الْمَوْتَى
(and the dead had spoken unto them,) This is, to inform them of the truth of what the Messengers brought them;
وَحَشَرْنَا عَلَيْهِمْ كُلَّ شَىْءٍ قُبُلاً
(and We had gathered together all things before them,) before their eyes, as `Ali bin Abi Talhah and Al-`Awfi reported from Ibn `Abbas. This is the view of Qatadah and `Abdur-Rahman bin Zayd bin Aslam. This Ayah means, if all nations were gathered before them, one after the other, and each one testifies to the truth of what the Messengers came with,
مَّا كَانُواْ لِيُؤْمِنُواْ إِلاَّ أَن يَشَآءَ اللَّهُ
(they would not have believed, unless Allah willed,) for guidance is with Allah not with them. Certainly, Allah guides whom He wills and misguides whom He wills, and He does what He wills,
لاَ يُسْأَلُ عَمَّا يَفْعَلُ وَهُمْ يُسْـَلُونَ
(He cannot be questioned about what He does, while they will be questioned.) 21:23, This is due to His knowledge, wisdom, power, supreme authority and irresistibility. Similarly, Allah said,
إِنَّ الَّذِينَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَةُ رَبِّكَ لاَ يُؤْمِنُونَ - وَلَوْ جَآءَتْهُمْ كُلُّ ءايَةٍ حَتَّى يَرَوُاْ الْعَذَابَ الاٌّلِيمَ
(Truly, those, against whom the Word (wrath) of your Lord has been justified, will not believe. Even if every sign should come to them, until they see the painful torment.) 10:96-97
فرماتا ہے کہ یہ کفار جو قسمیں کھا کھا کر تم سے کہتے ہیں کہ اگر کوئی معجزہ وہ دیکھ لیتے تو ضرور ایمان لے آتے۔ یہ غلط کہتے ہیں تمہیں ان کے ایمان لانے سے مایوس ہوجانا چاہیے۔ یہ کہتے ہیں کہ اگر فرشتے اتر تے تو ہم مان لیتے لیکن یہ بھی جھوٹ ہے فرشتوں کے آجانے پر بھی اور ان کے کہہ دینے پر بھی کہ یہ رسول برحق ہیں انہیں ایمان نصیب نہیں ہوگا، یہ صرف ایمان نہ لانے کے بہانے تراشتے ہیں کہ کبھی کہہ دیتے ہیں اللہ کو لے آ۔ کبھی کہتے ہیں فرشتوں کو لے آ۔ کبھی کہتے ہیں اگلے نبیوں جیسے معجزے لے آ، یہ سب حجت بازی اور حیلے حوالے ہیں، دلوں میں تکبر بھرا ہوا ہے زبان سے سرکشی اور برائی ظاہر کرتے ہیں، اگر مردے بھی قبروں سے اٹھ کر آجائیں اور کہہ دیں کہ یہ رسول برحق ہیں ان کے دلوں پر اس کا بھی کوئی اثر نہیں ہوگا (قُبلاً) کی دوسری قرأت (قبلاً) ہے جس کے معنی مقابلے اور معائنہ کے ہوتے ہیں ایک قول میں (قبلا) کے معنی بھی یہی بیان کئے گئے ہیں ہاں مجاہد سے مروی ہے کہ اس کے معنی گروہ گروہ کے ہیں ان کے سامنے اگر ایک امت آجاتی اور رسولوں کی ہدایت دے دے وہ جو کرنا چاہے کوئی اس سے پوچھ نہیں سکتا اور وہ چونکہ حاکم کل ہے ہر ایک سے باز پرس کرسکتا ہے وہ علیم و حکیم ہے، حاکم و غالب وقہار ہے اور آیت میں ہے (اِنَّ الَّذِيْنَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَتُ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُوْنَ) 10۔ یونس :96) یعنی جن لوگوں کے ذمہ کلمہ عذاب ثابت ہوگیا ہے وہ تمام تر نشانیاں دیکھتے ہوئے بھی ایمان نہ لائیں گے جب تک کہ المناک عذاب نہ دیکھ لیں۔
112
View Single
وَكَذَٰلِكَ جَعَلۡنَا لِكُلِّ نَبِيٍّ عَدُوّٗا شَيَٰطِينَ ٱلۡإِنسِ وَٱلۡجِنِّ يُوحِي بَعۡضُهُمۡ إِلَىٰ بَعۡضٖ زُخۡرُفَ ٱلۡقَوۡلِ غُرُورٗاۚ وَلَوۡ شَآءَ رَبُّكَ مَا فَعَلُوهُۖ فَذَرۡهُمۡ وَمَا يَفۡتَرُونَ
And similarly We have appointed enemies for every Prophet – devils from men and jinns – one inspires the other with fabrications to deceive; and had your Lord willed they would not do so, therefore leave them with their fabrications.
اور اسی طرح ہم نے ہر نبی کے لئے انسانوں اور جِنّوں میں سے شیطانوں کو دشمن بنا دیا جو ایک دوسرے کے دل میں ملمع کی ہوئی (چکنی چپڑی) باتیں (وسوسہ کے طور پر) دھوکہ دینے کے لئے ڈالتے رہتے ہیں، اور اگر آپ کا ربّ (انہیں جبراً روکنا) چاہتا (تو) وہ ایسا نہ کر پاتے، سو آپ انہیں (بھی) چھوڑ دیں اور جو کچھ وہ بہتان باندھ رہے ہیں (اسے بھی)
Tafsir Ibn Kathir
Every Prophet Has Enemies
Allah says, just as We made enemies for you, O Muhammad, who will oppose and rebel against you and become your adversaries, We also made enemies for every Prophet who came before you. Therefore, do not be saddened by this fact. Allah said in other Ayat:
وَلَقَدْ كُذِّبَتْ رُسُلٌ مِّن قَبْلِكَ فَصَبَرُواْ عَلَى مَا كُذِّبُواْ وَأُوذُواْ
(Verily, Messengers were denied before you, but with patience they bore the denial, and they were hurt...) 6:34, and,
مَّا يُقَالُ لَكَ إِلاَّ مَا قَدْ قِيلَ لِلرُّسُلِ مِن قَبْلِكَ إِنَّ رَبَّكَ لَذُو مَغْفِرَةَ وَذُو عِقَابٍ أَلِيمٍ
(Nothing is said to you except what was said to the Messengers before you. Verily, your Lord is the Possessor of forgiveness, and (also) the Possessor of painful punishment.) 41:43 and,
وَكَذَلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِىٍّ عَدُوّاً مِّنَ الْمُجْرِمِينَ
(Thus have We made for every Prophet an enemy among the criminals.) 25:31. Waraqah bin Nawfal said to Allah's Messenger ﷺ, "None came with what you came with but he was the subject of enmity." Allah's statement,
شَيَـطِينَ الإِنْسِ
(Shayatin among mankind...) refers to,
عَدُوًّا
(enemies. ..) meaning, the Prophets have enemies among the devils of mankind and the devils of the Jinns. The word, Shaytan, describes one who is dissimilar to his kind due to his or her wickedness. Indeed, only the Shayatin, may Allah humiliate and curse them, from among mankind and the Jinns oppose the Messengers. `Abdur-Razzaq said that Ma`mar narrated that Qatadah commented on Allah's statement,
شَيَـطِينَ الإِنْسِ وَالْجِنِّ
(Shayatin (devils) among mankind and Jinn...) "There are devils among the Jinns and devils among mankind who inspire each other." Allah's statement,
يُوحِى بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُوراً
(inspiring one another with adorned speech as a delusion.) means, they inspire each other with beautified, adorned speech that deceives the ignorant who hear it,
وَلَوْ شَآءَ رَبُّكَ مَا فَعَلُوهُ
(If your Lord had so willed, they would not have done it;) for all this occurs by Allah's decree, will and decision, that every Prophet had enemies from these devils,
فَذَرْهُمْ وَمَا يَفْتَرُونَ
(so leave them alone with their fabrications.) and lies. This Ayah orders patience in the face of the harm of the wicked and to trust in Allah against their enmity, for, "Allah shall suffice for you (O Muhammad) and aid you against them." Allah's statement,
وَلِتَصْغَى إِلَيْهِ
(And Tasgha to it.) means, according to Ibn `Abbas, "incline to it."
أَفْئِدَةُ الَّذِينَ لاَ يُؤْمِنُونَ بِالاٌّخِرَةِ
(the hearts of those who do not believe in the Hereafter...) their hearts, mind and hearing. As-Suddi said that this Ayah refers to the hearts of the disbelievers.
وَلِيَرْضَوْهُ
(And that they may remain pleased with it.) they like and adore it. Only those who disbelieve in the Hereafter accept this evil speech, being enemies of the Prophets, etc., just as Allah said in other Ayat,
فَإِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ - مَآ أَنتُمْ عَلَيْهِ بِفَـتِنِينَ - إِلاَّ مَنْ هُوَ صَالِ الْجَحِيمِ
(So, verily, you (pagans) and those whom you worship (idols). Cannot lead astray. Except those who are predestined to burn in Hell!) 37:161-163 and,
إِنَّكُمْ لَفِى قَوْلٍ مُّخْتَلِفٍ - يُؤْفَكُ عَنْهُ مَنْ أُفِكَ
(Certainly, you have different ideas. Turned aside therefrom is he who is turned aside.) 51:8-9 Allah said;
وَلِيَقْتَرِفُواْ مَا هُم مُّقْتَرِفُونَ
(And that they may commit what they are committing. ) meaning, "let them earn whatever they will earn", according to `Ali bin Abi Talhah who reported this from Ibn `Abbas. As-Suddi and Ibn Zayd also commented, "Let them do whatever they will do."
ہر نبی کو ایذاء دی گئی ارشاد ہوتا ہے کہ اے نبی ﷺ آپ تنگ دل اور مغموم نہ ہوں جس طرح آپ کے زمانے کے یہ کفار آپ کی دشمنی کرتے ہیں اسی طرح ہر نبی کے زمانے کے کفار اپنے اپنے نبیوں کے ساتھ دشمنی کرتے رہے ہیں جیسے اور آیت میں تسلی دیتے ہوئے فرمایا آیت (وَلَقَدْ كُذِّبَتْ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِكَ فَصَبَرُوْا عَلٰي مَا كُذِّبُوْا وَاُوْذُوْا حَتّٰى اَتٰىهُمْ نَصْرُنَا ۚ وَلَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِ اللّٰهِ ۚ وَلَقَدْ جَاۗءَكَ مِنْ نَّبَاِى الْمُرْسَلِيْنَ) 6۔ الانعام :34) تجھ سے پہلے کے پیغمبروں کو بھی جھٹلایا گیا انہیں بھی ایذائیں پہنچائی گئیں جس پر انہوں نے صبر کی اور آیت میں کہا گیا ہے کہ تجھ سے بھی وہی کہا جاتا ہے جو تجھ سے پہلے کے نبیوں کو کہا گیا تھا تیرا رب بڑی مغفرت والا ہے اور سات ہی المناک عذاب کرنے والا بھی ہے اور آیت میں ہے (وَكَذٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِيٍّ عَدُوًّا مِّنَ الْمُجْرِمِيْنَ ۭ وَكَفٰى بِرَبِّكَ هَادِيًا وَّنَصِيْرًا) 25۔ الفرقان :31) ہم نے گنہگاروں کو ہر نبی کا دشمن بنادیا ہے یہی بات ورقہ بن نوفل نے آنحضرت ﷺ سے کہی تھی کہ آپ جیسی چیز جو رسول بھی لے کر آیا اس سے عداوت کی گئی نبیوں کے دشمن شریر انسان بھی ہوتے ہیں اور جنات بھی عدوا سے بدل شیاطین الانس والجن ہے، انسانوں میں بھی شیطان ہیں اور جنوں میں بھی، حضرت ابا ذر ؓ ایک دن نماز پڑھ رہے تھے تو آنحضرت ﷺ نے ان سے فرمایا کیا تم نے شیاطین انس و جن سے اللہ کی پناہ بھی مانگ لی ؟ صحابی نے پوچھا کیا انسانوں میں بھی شیطان ہیں ؟ آپ نے فرمایا ہاں، یہ حدیث منقطع ہے، ایک اور روایت میں ہے کہ میں حضور کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس مجلس میں آپ دیر تک تشریف فرما رہے، مجھ سے فرمانے لگے ابوذر تم نے نماز پڑھ لی ؟ صحابی نے پوچھا کیا انسانوں میں بھی شیطان ہیں ؟ آپ نے فرمایا ہاں، یہ حدیث منقطع ہے، ایک اور روایت میں ہے کہ میں حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس مجلس میں آپ دیر تک تشریف فرما رہے، مجھ سے فرمانے لگے ابوذر تم نے نماز پڑھ لی ؟ میں نے کہا یا رسول اللہ نہیں پڑھی آپ نے فرمایا اٹھو اور دو رکعت ادا کرلو، جب میں فارغ ہو کر آیا تو فرمانے لگے کیا تم نے انسان و جنات شیاطین سے اللہ کی پناہ مانگی تھی ؟ میں نے کہا نہیں، کیا انسانوں میں بھی شیطان ہیں ؟ آپ نے فرمایا ہاں اور وہ جنوں کے شیطانوں سے بھی زیادہ شریر ہیں اس میں بھی انقطاع ہے، ایک متصل روایت مسند احمد میں مطول ہے اس میں یہ بھی ہے کہ یہ واقعہ مسجد کا ہے اور روایت میں حضور ﷺ کا اس فرمان کے بعد یہ پڑھنا بھی مروی ہے کہ آیت (وَكَذٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِيٍّ عَدُوًّا شَـيٰطِيْنَ الْاِنْسِ وَالْجِنِّ يُوْحِيْ بَعْضُهُمْ اِلٰى بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُوْرًا) 6۔ الانعام :112) الغرض یہ حدیث بہت سی سندوں سے مروی ہے جس سے قوت صحت کا فائدہ ہوجاتا ہے واللہ اعلم، عکرمہ سے مروی ہے کہ انسانوں میں شیطان نہیں جنات کے شیاطین ایک دوسرے سے کانا پھوسی کرتے ہیں، آپ سے یہ بھی مروی ہے کہ انسانوں میں شیطان نہیں جنات کے شیاطن ایک دوسرے سے کانا پھوسی کرتے ہیں آپ سے یہ بھی مروی ہے کہ انسانوں کے شیطان جو انسانوں کو گمراہ کرتے ہیں اور جنوں کے شیطان جو جنون کو گمراہ کرتے ہیں جب آپس میں ملتے ہیں تو ایک دوسرے سے اپنی کار گذاری بیان کرتے ہیں کہ میں نے فلاں کو اس طرح بہکا یا تو فلاں کو اس طرح بہکایا ایک دوسرے کو گمراہی کے طریقے بتاتے ہیں اس سے امام ابن جریر تو یہ سمجھے ہیں کہ شیطان تو جنوں میں سے ہی ہوتے ہیں لیکن بعض انسانوں پر لگے ہوئے ہوتے ہیں بعض جنات پر تو یہ مطلب عکرمہ کے قول سے تو ظاہر ہے ہاں سدی کے قول میں متحمل ہے ایک قول میں عکرمہ اور سدی دونوں سے یہ مروی ہے، ابن عباس فرماتے ہیں جنات کے شیاطین ہیں جو انہیں بہکاتے ہیں جیسے انسانوں کے شیطان جو انہیں بہکاتے ہیں اور ایک دوسرے سے مل کر مشورہ دیتے ہیں کہ اسے اس طرح بہکا۔ صحیح وہی ہے جو حضرت ابوذر والی حدیث میں اوپر گذرا۔ عربی میں ہر سرکش شریر کو شیطان کہتے ہیں صحیح مسلم میں ہے کہ حضور نے سیاہ رنگ کے کتے کو شیطان فرمایا ہے تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ وہ کتوں میں شیطان ہے واللہ اعلم۔ مجاہد فرماتے ہیں کفار جن کفار انسانوں کے کانوں میں صور پھونکتے رہتے ہیں۔ عکرمہ فرماتے ہیں میں مختار ابن ابی عبید کے پاس گیا اس نے میری بڑی تعظیم تکریم کی اپنے ہاں مہمان بنا کر ٹھہرایا رات کو بھی شاید اپنے ہاں سلاتا لیکن مجھ سے اس نے کہا کہ جاؤ لوگوں کو کجھ سناؤ میں جا کر بیٹھا ہی تھا کہ ایک شخص نے مجھ سے پوچھا آپ وحی کے بارے میں کیا فرماتے ہیں ؟ میں نے کہا وحی کی دو قسمیں ہیں ایک اللہ کی طرف سے جیسے فرمان ہے آیت (بِمَآ اَوْحَيْنَآ اِلَيْكَ ھٰذَا الْقُرْاٰنَ ڰ وَاِنْ كُنْتَ مِنْ قَبْلِهٖ لَمِنَ الْغٰفِلِيْنَ) 12۔ یوسف :3) اور دوسری وحی شیطانی جیسے فرمان ہے (وَكَذٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِيٍّ عَدُوًّا شَـيٰطِيْنَ الْاِنْسِ وَالْجِنِّ يُوْحِيْ بَعْضُهُمْ اِلٰى بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُوْرًا) 6۔ الانعام :112) اتنا سنتے ہی لوگ میرے اوپر پل پڑے قریب تھا کہ پکڑ کر مارپیٹ شروع کردیں میں نے کہا ارے بھائیو ! یہ تم میرے ساتھ کیا کرنے لگے ؟ میں نے تو تمہارے سوال کا جواب دیا اور میں تو تمہارا مہمان ہوں چناچہ انہوں نے مجھے چھوڑ دیا۔ مختار ملعون لوگوں سے کہتا تھا کہ میرے پاس وحی آتی ہے اس کی بہن حضرت صفیہ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کے گھر میں تھیں اور بڑی دیندار تھیں جب حضرت عبداللہ کو مختار کا یہ قول معلوم ہوا تو آپ نے فرمایا وہ ٹھیک کہتا ہے قرآن میں ہے (وَاِنَّ الشَّيٰطِيْنَ لَيُوْحُوْنَ اِلٰٓي اَوْلِيٰۗـــِٕــهِمْ لِيُجَادِلُوْكُمْ ۚ وَاِنْ اَطَعْتُمُوْهُمْ اِنَّكُمْ لَمُشْرِكُوْنَ) 6۔ الانعام :121) یعنی شیطان بھی اپنے دوستوں کی طرف وحی لے جاتے ہیں، الغرض ایسے متکبر سرکش جنات و انس آپ میں ایک دوسرے کو دھوکے بازی کی باتین سکھاتے ہیں یہ بھی اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر اور چاہت و مشیت ہے وہ ان کی وجہ سے اپنے نبیوں کی اولوالعزمی اپنے بندوں کو دکھا دیتا ہے، تو ان کی عداوت کا خیال بھی نہ کر، ان کا جھوٹ تجھے کچھ بھی نقصان نہ پہنچا سکے گا تو اللہ پر بھروسہ رکھ اسی پر توکل کر اور اپنے کام اسے سونپ کر بےفکر ہوجا، وہ تجھے کافی ہے اور وہی تیرا مددگار ہے، یہ لوگ جو اس طرح کی خرافات کرتے ہیں یہ محض اسلئے کہ بےایمانوں کے دل ان کی نگاہیں اور ان کے کان ان کی طرف جھک جائیں وہ ایسی باتوں کو پسند کریں اس سے خوش ہوجائیں پس ان کی باتیں وہی قبول کرتے ہیں جنہیں آخرت پر ایمان نہیں ہوتا، ایسے واصل جہنم ہونے والے بہکے ہوئے لوگ ہی ان کی فضول اور چکنی چپڑی باتوں میں پھنس جاتے ہیں پھر وہ کرتے ہیں جو ان کے قابل ہے۔
113
View Single
وَلِتَصۡغَىٰٓ إِلَيۡهِ أَفۡـِٔدَةُ ٱلَّذِينَ لَا يُؤۡمِنُونَ بِٱلۡأٓخِرَةِ وَلِيَرۡضَوۡهُ وَلِيَقۡتَرِفُواْ مَا هُم مُّقۡتَرِفُونَ
And in order that the hearts of those who do not believe in the Hereafter may lean towards it and that they may like it, and earn the sins which they are to earn.
اور (یہ) اس لئے کہ ان لوگوں کے دل اس (فریب) کی طرف مائل ہو جائیں جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے اور (یہ) کہ وہ اسے پسند کرنے لگیں اور (یہ بھی) کہ وہ (انہی اعمالِ بد کا) ارتکاب کرنے لگیں جن کے وہ خود (مرتکب) ہو رہے ہیں
Tafsir Ibn Kathir
Every Prophet Has Enemies
Allah says, just as We made enemies for you, O Muhammad, who will oppose and rebel against you and become your adversaries, We also made enemies for every Prophet who came before you. Therefore, do not be saddened by this fact. Allah said in other Ayat:
وَلَقَدْ كُذِّبَتْ رُسُلٌ مِّن قَبْلِكَ فَصَبَرُواْ عَلَى مَا كُذِّبُواْ وَأُوذُواْ
(Verily, Messengers were denied before you, but with patience they bore the denial, and they were hurt...) 6:34, and,
مَّا يُقَالُ لَكَ إِلاَّ مَا قَدْ قِيلَ لِلرُّسُلِ مِن قَبْلِكَ إِنَّ رَبَّكَ لَذُو مَغْفِرَةَ وَذُو عِقَابٍ أَلِيمٍ
(Nothing is said to you except what was said to the Messengers before you. Verily, your Lord is the Possessor of forgiveness, and (also) the Possessor of painful punishment.) 41:43 and,
وَكَذَلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِىٍّ عَدُوّاً مِّنَ الْمُجْرِمِينَ
(Thus have We made for every Prophet an enemy among the criminals.) 25:31. Waraqah bin Nawfal said to Allah's Messenger ﷺ, "None came with what you came with but he was the subject of enmity." Allah's statement,
شَيَـطِينَ الإِنْسِ
(Shayatin among mankind...) refers to,
عَدُوًّا
(enemies. ..) meaning, the Prophets have enemies among the devils of mankind and the devils of the Jinns. The word, Shaytan, describes one who is dissimilar to his kind due to his or her wickedness. Indeed, only the Shayatin, may Allah humiliate and curse them, from among mankind and the Jinns oppose the Messengers. `Abdur-Razzaq said that Ma`mar narrated that Qatadah commented on Allah's statement,
شَيَـطِينَ الإِنْسِ وَالْجِنِّ
(Shayatin (devils) among mankind and Jinn...) "There are devils among the Jinns and devils among mankind who inspire each other." Allah's statement,
يُوحِى بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُوراً
(inspiring one another with adorned speech as a delusion.) means, they inspire each other with beautified, adorned speech that deceives the ignorant who hear it,
وَلَوْ شَآءَ رَبُّكَ مَا فَعَلُوهُ
(If your Lord had so willed, they would not have done it;) for all this occurs by Allah's decree, will and decision, that every Prophet had enemies from these devils,
فَذَرْهُمْ وَمَا يَفْتَرُونَ
(so leave them alone with their fabrications.) and lies. This Ayah orders patience in the face of the harm of the wicked and to trust in Allah against their enmity, for, "Allah shall suffice for you (O Muhammad) and aid you against them." Allah's statement,
وَلِتَصْغَى إِلَيْهِ
(And Tasgha to it.) means, according to Ibn `Abbas, "incline to it."
أَفْئِدَةُ الَّذِينَ لاَ يُؤْمِنُونَ بِالاٌّخِرَةِ
(the hearts of those who do not believe in the Hereafter...) their hearts, mind and hearing. As-Suddi said that this Ayah refers to the hearts of the disbelievers.
وَلِيَرْضَوْهُ
(And that they may remain pleased with it.) they like and adore it. Only those who disbelieve in the Hereafter accept this evil speech, being enemies of the Prophets, etc., just as Allah said in other Ayat,
فَإِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ - مَآ أَنتُمْ عَلَيْهِ بِفَـتِنِينَ - إِلاَّ مَنْ هُوَ صَالِ الْجَحِيمِ
(So, verily, you (pagans) and those whom you worship (idols). Cannot lead astray. Except those who are predestined to burn in Hell!) 37:161-163 and,
إِنَّكُمْ لَفِى قَوْلٍ مُّخْتَلِفٍ - يُؤْفَكُ عَنْهُ مَنْ أُفِكَ
(Certainly, you have different ideas. Turned aside therefrom is he who is turned aside.) 51:8-9 Allah said;
وَلِيَقْتَرِفُواْ مَا هُم مُّقْتَرِفُونَ
(And that they may commit what they are committing. ) meaning, "let them earn whatever they will earn", according to `Ali bin Abi Talhah who reported this from Ibn `Abbas. As-Suddi and Ibn Zayd also commented, "Let them do whatever they will do."
ہر نبی کو ایذاء دی گئی ارشاد ہوتا ہے کہ اے نبی ﷺ آپ تنگ دل اور مغموم نہ ہوں جس طرح آپ کے زمانے کے یہ کفار آپ کی دشمنی کرتے ہیں اسی طرح ہر نبی کے زمانے کے کفار اپنے اپنے نبیوں کے ساتھ دشمنی کرتے رہے ہیں جیسے اور آیت میں تسلی دیتے ہوئے فرمایا آیت (وَلَقَدْ كُذِّبَتْ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِكَ فَصَبَرُوْا عَلٰي مَا كُذِّبُوْا وَاُوْذُوْا حَتّٰى اَتٰىهُمْ نَصْرُنَا ۚ وَلَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِ اللّٰهِ ۚ وَلَقَدْ جَاۗءَكَ مِنْ نَّبَاِى الْمُرْسَلِيْنَ) 6۔ الانعام :34) تجھ سے پہلے کے پیغمبروں کو بھی جھٹلایا گیا انہیں بھی ایذائیں پہنچائی گئیں جس پر انہوں نے صبر کی اور آیت میں کہا گیا ہے کہ تجھ سے بھی وہی کہا جاتا ہے جو تجھ سے پہلے کے نبیوں کو کہا گیا تھا تیرا رب بڑی مغفرت والا ہے اور سات ہی المناک عذاب کرنے والا بھی ہے اور آیت میں ہے (وَكَذٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِيٍّ عَدُوًّا مِّنَ الْمُجْرِمِيْنَ ۭ وَكَفٰى بِرَبِّكَ هَادِيًا وَّنَصِيْرًا) 25۔ الفرقان :31) ہم نے گنہگاروں کو ہر نبی کا دشمن بنادیا ہے یہی بات ورقہ بن نوفل نے آنحضرت ﷺ سے کہی تھی کہ آپ جیسی چیز جو رسول بھی لے کر آیا اس سے عداوت کی گئی نبیوں کے دشمن شریر انسان بھی ہوتے ہیں اور جنات بھی عدوا سے بدل شیاطین الانس والجن ہے، انسانوں میں بھی شیطان ہیں اور جنوں میں بھی، حضرت ابا ذر ؓ ایک دن نماز پڑھ رہے تھے تو آنحضرت ﷺ نے ان سے فرمایا کیا تم نے شیاطین انس و جن سے اللہ کی پناہ بھی مانگ لی ؟ صحابی نے پوچھا کیا انسانوں میں بھی شیطان ہیں ؟ آپ نے فرمایا ہاں، یہ حدیث منقطع ہے، ایک اور روایت میں ہے کہ میں حضور کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس مجلس میں آپ دیر تک تشریف فرما رہے، مجھ سے فرمانے لگے ابوذر تم نے نماز پڑھ لی ؟ صحابی نے پوچھا کیا انسانوں میں بھی شیطان ہیں ؟ آپ نے فرمایا ہاں، یہ حدیث منقطع ہے، ایک اور روایت میں ہے کہ میں حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس مجلس میں آپ دیر تک تشریف فرما رہے، مجھ سے فرمانے لگے ابوذر تم نے نماز پڑھ لی ؟ میں نے کہا یا رسول اللہ نہیں پڑھی آپ نے فرمایا اٹھو اور دو رکعت ادا کرلو، جب میں فارغ ہو کر آیا تو فرمانے لگے کیا تم نے انسان و جنات شیاطین سے اللہ کی پناہ مانگی تھی ؟ میں نے کہا نہیں، کیا انسانوں میں بھی شیطان ہیں ؟ آپ نے فرمایا ہاں اور وہ جنوں کے شیطانوں سے بھی زیادہ شریر ہیں اس میں بھی انقطاع ہے، ایک متصل روایت مسند احمد میں مطول ہے اس میں یہ بھی ہے کہ یہ واقعہ مسجد کا ہے اور روایت میں حضور ﷺ کا اس فرمان کے بعد یہ پڑھنا بھی مروی ہے کہ آیت (وَكَذٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِيٍّ عَدُوًّا شَـيٰطِيْنَ الْاِنْسِ وَالْجِنِّ يُوْحِيْ بَعْضُهُمْ اِلٰى بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُوْرًا) 6۔ الانعام :112) الغرض یہ حدیث بہت سی سندوں سے مروی ہے جس سے قوت صحت کا فائدہ ہوجاتا ہے واللہ اعلم، عکرمہ سے مروی ہے کہ انسانوں میں شیطان نہیں جنات کے شیاطین ایک دوسرے سے کانا پھوسی کرتے ہیں، آپ سے یہ بھی مروی ہے کہ انسانوں میں شیطان نہیں جنات کے شیاطن ایک دوسرے سے کانا پھوسی کرتے ہیں آپ سے یہ بھی مروی ہے کہ انسانوں کے شیطان جو انسانوں کو گمراہ کرتے ہیں اور جنوں کے شیطان جو جنون کو گمراہ کرتے ہیں جب آپس میں ملتے ہیں تو ایک دوسرے سے اپنی کار گذاری بیان کرتے ہیں کہ میں نے فلاں کو اس طرح بہکا یا تو فلاں کو اس طرح بہکایا ایک دوسرے کو گمراہی کے طریقے بتاتے ہیں اس سے امام ابن جریر تو یہ سمجھے ہیں کہ شیطان تو جنوں میں سے ہی ہوتے ہیں لیکن بعض انسانوں پر لگے ہوئے ہوتے ہیں بعض جنات پر تو یہ مطلب عکرمہ کے قول سے تو ظاہر ہے ہاں سدی کے قول میں متحمل ہے ایک قول میں عکرمہ اور سدی دونوں سے یہ مروی ہے، ابن عباس فرماتے ہیں جنات کے شیاطین ہیں جو انہیں بہکاتے ہیں جیسے انسانوں کے شیطان جو انہیں بہکاتے ہیں اور ایک دوسرے سے مل کر مشورہ دیتے ہیں کہ اسے اس طرح بہکا۔ صحیح وہی ہے جو حضرت ابوذر والی حدیث میں اوپر گذرا۔ عربی میں ہر سرکش شریر کو شیطان کہتے ہیں صحیح مسلم میں ہے کہ حضور نے سیاہ رنگ کے کتے کو شیطان فرمایا ہے تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ وہ کتوں میں شیطان ہے واللہ اعلم۔ مجاہد فرماتے ہیں کفار جن کفار انسانوں کے کانوں میں صور پھونکتے رہتے ہیں۔ عکرمہ فرماتے ہیں میں مختار ابن ابی عبید کے پاس گیا اس نے میری بڑی تعظیم تکریم کی اپنے ہاں مہمان بنا کر ٹھہرایا رات کو بھی شاید اپنے ہاں سلاتا لیکن مجھ سے اس نے کہا کہ جاؤ لوگوں کو کجھ سناؤ میں جا کر بیٹھا ہی تھا کہ ایک شخص نے مجھ سے پوچھا آپ وحی کے بارے میں کیا فرماتے ہیں ؟ میں نے کہا وحی کی دو قسمیں ہیں ایک اللہ کی طرف سے جیسے فرمان ہے آیت (بِمَآ اَوْحَيْنَآ اِلَيْكَ ھٰذَا الْقُرْاٰنَ ڰ وَاِنْ كُنْتَ مِنْ قَبْلِهٖ لَمِنَ الْغٰفِلِيْنَ) 12۔ یوسف :3) اور دوسری وحی شیطانی جیسے فرمان ہے (وَكَذٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِيٍّ عَدُوًّا شَـيٰطِيْنَ الْاِنْسِ وَالْجِنِّ يُوْحِيْ بَعْضُهُمْ اِلٰى بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُوْرًا) 6۔ الانعام :112) اتنا سنتے ہی لوگ میرے اوپر پل پڑے قریب تھا کہ پکڑ کر مارپیٹ شروع کردیں میں نے کہا ارے بھائیو ! یہ تم میرے ساتھ کیا کرنے لگے ؟ میں نے تو تمہارے سوال کا جواب دیا اور میں تو تمہارا مہمان ہوں چناچہ انہوں نے مجھے چھوڑ دیا۔ مختار ملعون لوگوں سے کہتا تھا کہ میرے پاس وحی آتی ہے اس کی بہن حضرت صفیہ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کے گھر میں تھیں اور بڑی دیندار تھیں جب حضرت عبداللہ کو مختار کا یہ قول معلوم ہوا تو آپ نے فرمایا وہ ٹھیک کہتا ہے قرآن میں ہے (وَاِنَّ الشَّيٰطِيْنَ لَيُوْحُوْنَ اِلٰٓي اَوْلِيٰۗـــِٕــهِمْ لِيُجَادِلُوْكُمْ ۚ وَاِنْ اَطَعْتُمُوْهُمْ اِنَّكُمْ لَمُشْرِكُوْنَ) 6۔ الانعام :121) یعنی شیطان بھی اپنے دوستوں کی طرف وحی لے جاتے ہیں، الغرض ایسے متکبر سرکش جنات و انس آپ میں ایک دوسرے کو دھوکے بازی کی باتین سکھاتے ہیں یہ بھی اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر اور چاہت و مشیت ہے وہ ان کی وجہ سے اپنے نبیوں کی اولوالعزمی اپنے بندوں کو دکھا دیتا ہے، تو ان کی عداوت کا خیال بھی نہ کر، ان کا جھوٹ تجھے کچھ بھی نقصان نہ پہنچا سکے گا تو اللہ پر بھروسہ رکھ اسی پر توکل کر اور اپنے کام اسے سونپ کر بےفکر ہوجا، وہ تجھے کافی ہے اور وہی تیرا مددگار ہے، یہ لوگ جو اس طرح کی خرافات کرتے ہیں یہ محض اسلئے کہ بےایمانوں کے دل ان کی نگاہیں اور ان کے کان ان کی طرف جھک جائیں وہ ایسی باتوں کو پسند کریں اس سے خوش ہوجائیں پس ان کی باتیں وہی قبول کرتے ہیں جنہیں آخرت پر ایمان نہیں ہوتا، ایسے واصل جہنم ہونے والے بہکے ہوئے لوگ ہی ان کی فضول اور چکنی چپڑی باتوں میں پھنس جاتے ہیں پھر وہ کرتے ہیں جو ان کے قابل ہے۔
114
View Single
أَفَغَيۡرَ ٱللَّهِ أَبۡتَغِي حَكَمٗا وَهُوَ ٱلَّذِيٓ أَنزَلَ إِلَيۡكُمُ ٱلۡكِتَٰبَ مُفَصَّلٗاۚ وَٱلَّذِينَ ءَاتَيۡنَٰهُمُ ٱلۡكِتَٰبَ يَعۡلَمُونَ أَنَّهُۥ مُنَزَّلٞ مِّن رَّبِّكَ بِٱلۡحَقِّۖ فَلَا تَكُونَنَّ مِنَ ٱلۡمُمۡتَرِينَ
“So shall I seek the command other than that of Allah, whereas it is He Who has sent down the detailed Book towards you?” And those whom We gave the Book know that this is the truth sent down from your Lord, so O listener, (followers of this Prophet) do not ever be of those who doubt.
(فرما دیجئے:) کیا میں اللہ کے سوا کسی اور کو حَکَم (و فیصل) تلاش کروں حالاں کہ وہ (اللہ) ہی ہے جس نے تمہاری طرف مفصّل کتاب نازل فرمائی ہے، اور وہ لوگ جن کو ہم نے (پہلے) کتاب دی تھی (دل سے) جانتے ہیں کہ یہ (قرآن) آپ کے رب کی طرف سے (مبنی) برحق اتارا ہوا ہے پس آپ (ان اہلِ کتاب کی نسبت) شک کرنے والوں میں نہ ہوں (کہ یہ لوگ قرآن کا وحی ہونا جانتے ہیں یا نہیں)
Tafsir Ibn Kathir
أَفَغَيْرَ اللَّهِ أَبْتَغِى حَكَماً
(Shall I seek a judge other than Allah...) between you and I,
وَهُوَ الَّذِى أَنَزَلَ إِلَيْكُمُ الْكِتَـبَ مُفَصَّلاً
(while it is He Who has sent down unto you the Book, explained...) in detail,
وَالَّذِينَ ءَاتَيْنَـهُمُ الْكِتَـبَ
(and those unto whom We gave the Scripture) the Jews and the Christians,
يَعْلَمُونَ أَنَّهُ مُنَزَّلٌ مِّن رَّبِّكَ بِالْحَقِّ
(know that it is revealed from your Lord in truth.) because the previous Prophets have conveyed the good news of you coming to them. Allah's statement,
فَلاَ تَكُونَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِينَ
(So be not you of those who doubt.) is similar to His other statement,
فَإِن كُنتَ فِي شَكٍّ مِّمَّآ أَنزَلْنَآ إِلَيْكَ فَاسْأَلِ الَّذِينَ يَقْرَءُونَ الْكِتَـبَ مِن قَبْلِكَ لَقَدْ جَآءَكَ الْحَقُّ مِن رَّبِّكَ فَلاَ تَكُونَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِينَ
(So if you are in doubt concerning that which We have revealed unto you, then ask those who are reading the Book before you. Verily, the truth has come to you from your Lord. So be not of those who doubt (it).) 10:94 The conditional `if' in this Ayah does not mean that `doubt' will ever occur to the Prophet . Allah said,
وَتَمَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ صِدْقاً وَعَدْلاً
(And the Word of your Lord has been fulfilled in truth and in justice.) Qatadah commented, "In truth concerning what He stated and in justice concerning what He decided." Surely, whatever Allah says is the truth and He is Most Just in what He commands. All of Allah's statements are true, there is no doubt or cause for speculation about this fact, and all His commandments are pure justice, besides which there is no justice. All that He forbade is evil, for He only forbids what brings about evil consequences. Allah said in another Ayah,
يَأْمُرُهُم بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَـهُمْ عَنِ الْمُنْكَرِ
(He commands them with good; and forbids them from evil...) 7:157 until the end of the Ayah.
لاَ مُبَدِّلَ لِكَلِمَـتِهِ
(None can change His Words.) meaning, none can avert Allah's judgment whether in this life or the Hereafter,
وَهُوَ السَّمِيعُ
(And He is the All-Hearer,) Hearing, His servants' statements,
الْعَلِيمُ
(The All-Knower.) of their activities and lack of activity, Who awards each according to their deeds.
اللہ کے فیصلے اٹل ہیں حکم ہوتا ہے کہ مشرک جو کہ اللہ کے سوا دوسروں کی پرستش کر رہے ہیں ان سے کہہ دیجئے کہ کیا میں آپس میں فیصلہ کرنے والا بجز اللہ تعالیٰ کے کسی اور کو تلاش کروں ؟ اسی نے صاف کھلے فیصلے کرنے والی کتاب نازل فرما دی ہے یہود و نصاری جو صاحب کتاب ہیں اور جن کے پاس اگلے نبیوں کی بشارتیں ہیں وہ بخوبی جانتے ہیں کہ یہ قرآن کریم اللہ کی طرف سے حق کے ساتھ نازل شدہ ہے تجھے شکی لوگوں میں نہ ملنا چاہیے، جیسے فرمان ہے (فَاِنْ كُنْتَ فِيْ شَكٍّ مِّمَّآ اَنْزَلْنَآ اِلَيْكَ فَسْــــَٔـلِ الَّذِيْنَ يَقْرَءُوْنَ الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكَ ۚ لَقَدْ جَاۗءَكَ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِيْنَ) 10۔ یونس :94) یعنی ہم نے جو کچھ وحی تیری طرف اتاری ہے اگر تجھے اس میں شک ہو تو جو لگو اگلی کتابیں پڑھتے ہیں تو ان سے پوچھ لے یقین مان کہ تیرے رب کی جانب سے تیری طرف حق اتر چکا ہے پس تو شک کرنے والوں میں نہ ہو، یہ شرط ہے اور شرط کا واقع ہونا کچھ ضروری نہیں اسی لئے مروی ہے کہ حضور نے فرمایا نہ میں شک کروں نہ کسی سے سوال کروں، تیرے رب کی باتیں صداقت میں پوری ہیں، اس کا ہر حکم عدل ہے، وہ اپنے حکم میں بھی عادل ہے اور خبروں میں صادق ہے اور یہ خبر صداقت پر مبنی ہے، جو خبریں اس نے دی ہیں وہ بلا شبہ درست ہیں اور جو حکم فرمایا ہے وہ سراسر عدل ہے اور جس چیز سے روکا وہ یکسر باطل ہے کیونکہ وہ جس چیز سے روکتا ہے وہ برائی والی ہی ہوتی ہے جیسے فرمان ہے آیت (يَاْمُرُهُمْ بالْمَعْرُوْفِ وَيَنْهٰىهُمْ عَنِ الْمُنْكَرِ وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبٰتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ الْخَـبٰۗىِٕثَ وَيَضَعُ عَنْهُمْ اِصْرَهُمْ وَالْاَغْلٰلَ الَّتِيْ كَانَتْ عَلَيْهِمْ) 7۔ الاعراف :157) وہ انہیں بھلی باتوں کا حکم دیتا ہے اور بری باتوں سے روکتا ہے کوئی نہیں جو اس کے فرمان کو بدل سکے، اس کے حکم اٹل ہیں، دنیا میں کیا اور آخرت میں کیا اس کا کوئی حکم ٹل نہیں سکتا۔ اس کا تعاقب کوئی نہیں کرسکتا۔ وہ اپنے بندوں کی باتیں سنتا ہے اور ان کی حرکات سکنات کو بخوبی جانتا ہے۔ ہر عامل کو اس کے برے بھلے عمل کا بدلہ وہ ضرور دے گا۔
115
View Single
وَتَمَّتۡ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدۡقٗا وَعَدۡلٗاۚ لَّا مُبَدِّلَ لِكَلِمَٰتِهِۦۚ وَهُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلۡعَلِيمُ
And the Word of your Lord is complete in truth and justice; there is none to change His Words; He is the All Hearing, the All Knowing.
اور آپ کے رب کی بات سچائی اور عدل کی رُو سے پوری ہو چکی، اس کی باتوں کو کوئی بدلنے والا نہیں، اور وہ خوب سننے والا خوب جاننے والا ہے
Tafsir Ibn Kathir
أَفَغَيْرَ اللَّهِ أَبْتَغِى حَكَماً
(Shall I seek a judge other than Allah...) between you and I,
وَهُوَ الَّذِى أَنَزَلَ إِلَيْكُمُ الْكِتَـبَ مُفَصَّلاً
(while it is He Who has sent down unto you the Book, explained...) in detail,
وَالَّذِينَ ءَاتَيْنَـهُمُ الْكِتَـبَ
(and those unto whom We gave the Scripture) the Jews and the Christians,
يَعْلَمُونَ أَنَّهُ مُنَزَّلٌ مِّن رَّبِّكَ بِالْحَقِّ
(know that it is revealed from your Lord in truth.) because the previous Prophets have conveyed the good news of you coming to them. Allah's statement,
فَلاَ تَكُونَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِينَ
(So be not you of those who doubt.) is similar to His other statement,
فَإِن كُنتَ فِي شَكٍّ مِّمَّآ أَنزَلْنَآ إِلَيْكَ فَاسْأَلِ الَّذِينَ يَقْرَءُونَ الْكِتَـبَ مِن قَبْلِكَ لَقَدْ جَآءَكَ الْحَقُّ مِن رَّبِّكَ فَلاَ تَكُونَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِينَ
(So if you are in doubt concerning that which We have revealed unto you, then ask those who are reading the Book before you. Verily, the truth has come to you from your Lord. So be not of those who doubt (it).) 10:94 The conditional `if' in this Ayah does not mean that `doubt' will ever occur to the Prophet . Allah said,
وَتَمَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ صِدْقاً وَعَدْلاً
(And the Word of your Lord has been fulfilled in truth and in justice.) Qatadah commented, "In truth concerning what He stated and in justice concerning what He decided." Surely, whatever Allah says is the truth and He is Most Just in what He commands. All of Allah's statements are true, there is no doubt or cause for speculation about this fact, and all His commandments are pure justice, besides which there is no justice. All that He forbade is evil, for He only forbids what brings about evil consequences. Allah said in another Ayah,
يَأْمُرُهُم بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَـهُمْ عَنِ الْمُنْكَرِ
(He commands them with good; and forbids them from evil...) 7:157 until the end of the Ayah.
لاَ مُبَدِّلَ لِكَلِمَـتِهِ
(None can change His Words.) meaning, none can avert Allah's judgment whether in this life or the Hereafter,
وَهُوَ السَّمِيعُ
(And He is the All-Hearer,) Hearing, His servants' statements,
الْعَلِيمُ
(The All-Knower.) of their activities and lack of activity, Who awards each according to their deeds.
اللہ کے فیصلے اٹل ہیں حکم ہوتا ہے کہ مشرک جو کہ اللہ کے سوا دوسروں کی پرستش کر رہے ہیں ان سے کہہ دیجئے کہ کیا میں آپس میں فیصلہ کرنے والا بجز اللہ تعالیٰ کے کسی اور کو تلاش کروں ؟ اسی نے صاف کھلے فیصلے کرنے والی کتاب نازل فرما دی ہے یہود و نصاری جو صاحب کتاب ہیں اور جن کے پاس اگلے نبیوں کی بشارتیں ہیں وہ بخوبی جانتے ہیں کہ یہ قرآن کریم اللہ کی طرف سے حق کے ساتھ نازل شدہ ہے تجھے شکی لوگوں میں نہ ملنا چاہیے، جیسے فرمان ہے (فَاِنْ كُنْتَ فِيْ شَكٍّ مِّمَّآ اَنْزَلْنَآ اِلَيْكَ فَسْــــَٔـلِ الَّذِيْنَ يَقْرَءُوْنَ الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكَ ۚ لَقَدْ جَاۗءَكَ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِيْنَ) 10۔ یونس :94) یعنی ہم نے جو کچھ وحی تیری طرف اتاری ہے اگر تجھے اس میں شک ہو تو جو لگو اگلی کتابیں پڑھتے ہیں تو ان سے پوچھ لے یقین مان کہ تیرے رب کی جانب سے تیری طرف حق اتر چکا ہے پس تو شک کرنے والوں میں نہ ہو، یہ شرط ہے اور شرط کا واقع ہونا کچھ ضروری نہیں اسی لئے مروی ہے کہ حضور نے فرمایا نہ میں شک کروں نہ کسی سے سوال کروں، تیرے رب کی باتیں صداقت میں پوری ہیں، اس کا ہر حکم عدل ہے، وہ اپنے حکم میں بھی عادل ہے اور خبروں میں صادق ہے اور یہ خبر صداقت پر مبنی ہے، جو خبریں اس نے دی ہیں وہ بلا شبہ درست ہیں اور جو حکم فرمایا ہے وہ سراسر عدل ہے اور جس چیز سے روکا وہ یکسر باطل ہے کیونکہ وہ جس چیز سے روکتا ہے وہ برائی والی ہی ہوتی ہے جیسے فرمان ہے آیت (يَاْمُرُهُمْ بالْمَعْرُوْفِ وَيَنْهٰىهُمْ عَنِ الْمُنْكَرِ وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبٰتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ الْخَـبٰۗىِٕثَ وَيَضَعُ عَنْهُمْ اِصْرَهُمْ وَالْاَغْلٰلَ الَّتِيْ كَانَتْ عَلَيْهِمْ) 7۔ الاعراف :157) وہ انہیں بھلی باتوں کا حکم دیتا ہے اور بری باتوں سے روکتا ہے کوئی نہیں جو اس کے فرمان کو بدل سکے، اس کے حکم اٹل ہیں، دنیا میں کیا اور آخرت میں کیا اس کا کوئی حکم ٹل نہیں سکتا۔ اس کا تعاقب کوئی نہیں کرسکتا۔ وہ اپنے بندوں کی باتیں سنتا ہے اور ان کی حرکات سکنات کو بخوبی جانتا ہے۔ ہر عامل کو اس کے برے بھلے عمل کا بدلہ وہ ضرور دے گا۔
116
View Single
وَإِن تُطِعۡ أَكۡثَرَ مَن فِي ٱلۡأَرۡضِ يُضِلُّوكَ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِۚ إِن يَتَّبِعُونَ إِلَّا ٱلظَّنَّ وَإِنۡ هُمۡ إِلَّا يَخۡرُصُونَ
And O listener, (followers of the Prophet) most of the people on earth are such that were you to obey them, they would mislead you from Allah’s way; they follow only assumptions and they only make guesses.
اور اگر تو زمین میں (موجود) لوگوں کی اکثریت کا کہنا مان لے تو وہ تجھے اللہ کی راہ سے بھٹکا دیں گے۔ وہ (حق و یقین کی بجائے) صرف وہم و گمان کی پیروی کرتے ہیں اور محض غلط قیاس آرائی (اور دروغ گوئی) کرتے رہتے ہیں
Tafsir Ibn Kathir
Most People are Misguided
Allah states that most of the people of the earth, are misguided. Allah said in other Ayat,
وَلَقَدْ ضَلَّ قَبْلَهُمْ أَكْثَرُ الاٌّوَّلِينَ
(And indeed most of the men of old went astray before them.) 37:71 and,
وَمَآ أَكْثَرُ النَّاسِ وَلَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِينَ
(And most of mankind will not believe even if you eagerly desire it.)12:103 They are misguided, yet they have doubts about their way, and they rely on wishful thinking and delusions.
إِن يَتَّبِعُونَ إِلاَّ الظَّنَّ وَإِنْ هُمْ إِلاَّ يَخْرُصُونَ
(They follow nothing but conjecture, and they do nothing but lie.) Thus, they fulfill Allah's decree and decision concerning them,
هُوَ أَعْلَمُ مَن يَضِلُّ عَن سَبِيلِهِ
(It is He Who knows best who strays from His way.) and facilitates that for him,
وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَ
(And He knows best the rightly guided.) He facilitates that for them, all of them are facilitated for what He created them.
فَكُلُواْ مِمَّا ذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ إِن كُنتُم بِآيَـتِهِ مُؤْمِنِينَ
بیکار خیالوں میں گرفتار لوگ اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ اکثر لوگ دنیا میں گمراہ کن ہوتے ہیں جیسے فرمان ہے آیت (وَلَقَدْ ضَلَّ قَبْلَهُمْ اَكْثَرُ الْاَوَّلِيْنَ) 37۔ الصافات :71) اور جگہ ہے آیت (وَمَآ اَكْثَرُ النَّاسِ وَلَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِيْنَ) 12۔ یوسف :103) گو تو حرص کرے لیکن اکثر لوگ ایمان لانے والے نہیں۔ پھر یہ لوگ اپنی گمراہی میں بھی کسی یقین پر نہیں صرف باطل گمان اور بیکار خیالوں کا شکار ہیں اندازے سے باتیں بنا لیتے ہیں پھر ان کے پیچھے ہو لیتے ہیں، خیالات کے پرو ہیں تو ہم پرستی میں گھرے ہوئے ہیں یہ سب مشیت الٰہی ہے وہ گمراہوں کو بھی جانتا ہے اور ان پر گمراہیاں آسان کردیتا ہے، وہ راہ یافتہ لوگوں سے بھی واقف ہے اور انہیں ہدایت آسان کردیتا ہے، ہر شخص پر وہی کام آسان ہوتے ہیں جن کیلئے وہ پیدا کیا گیا ہے۔
117
View Single
إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعۡلَمُ مَن يَضِلُّ عَن سَبِيلِهِۦۖ وَهُوَ أَعۡلَمُ بِٱلۡمُهۡتَدِينَ
Your Lord well knows who has strayed from His way; and He well knows the people on guidance.
بیشک آپ کا رب ہی اسے خوب جانتا ہے جو اس کی راہ سے بہکا ہے اور وہی ہدایت یافتہ لوگوں سے (بھی) خوب واقف ہے
Tafsir Ibn Kathir
Most People are Misguided
Allah states that most of the people of the earth, are misguided. Allah said in other Ayat,
وَلَقَدْ ضَلَّ قَبْلَهُمْ أَكْثَرُ الاٌّوَّلِينَ
(And indeed most of the men of old went astray before them.) 37:71 and,
وَمَآ أَكْثَرُ النَّاسِ وَلَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِينَ
(And most of mankind will not believe even if you eagerly desire it.)12:103 They are misguided, yet they have doubts about their way, and they rely on wishful thinking and delusions.
إِن يَتَّبِعُونَ إِلاَّ الظَّنَّ وَإِنْ هُمْ إِلاَّ يَخْرُصُونَ
(They follow nothing but conjecture, and they do nothing but lie.) Thus, they fulfill Allah's decree and decision concerning them,
هُوَ أَعْلَمُ مَن يَضِلُّ عَن سَبِيلِهِ
(It is He Who knows best who strays from His way.) and facilitates that for him,
وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَ
(And He knows best the rightly guided.) He facilitates that for them, all of them are facilitated for what He created them.
فَكُلُواْ مِمَّا ذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ إِن كُنتُم بِآيَـتِهِ مُؤْمِنِينَ
بیکار خیالوں میں گرفتار لوگ اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ اکثر لوگ دنیا میں گمراہ کن ہوتے ہیں جیسے فرمان ہے آیت (وَلَقَدْ ضَلَّ قَبْلَهُمْ اَكْثَرُ الْاَوَّلِيْنَ) 37۔ الصافات :71) اور جگہ ہے آیت (وَمَآ اَكْثَرُ النَّاسِ وَلَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِيْنَ) 12۔ یوسف :103) گو تو حرص کرے لیکن اکثر لوگ ایمان لانے والے نہیں۔ پھر یہ لوگ اپنی گمراہی میں بھی کسی یقین پر نہیں صرف باطل گمان اور بیکار خیالوں کا شکار ہیں اندازے سے باتیں بنا لیتے ہیں پھر ان کے پیچھے ہو لیتے ہیں، خیالات کے پرو ہیں تو ہم پرستی میں گھرے ہوئے ہیں یہ سب مشیت الٰہی ہے وہ گمراہوں کو بھی جانتا ہے اور ان پر گمراہیاں آسان کردیتا ہے، وہ راہ یافتہ لوگوں سے بھی واقف ہے اور انہیں ہدایت آسان کردیتا ہے، ہر شخص پر وہی کام آسان ہوتے ہیں جن کیلئے وہ پیدا کیا گیا ہے۔
118
View Single
فَكُلُواْ مِمَّا ذُكِرَ ٱسۡمُ ٱللَّهِ عَلَيۡهِ إِن كُنتُم بِـَٔايَٰتِهِۦ مُؤۡمِنِينَ
So eat from that over which Allah’s name has been mentioned, if you believe in His signs.
سو تم اس (ذبیحہ) سے کھایا کرو جس پر (ذبح کے وقت) اللہ کا نام لیا گیا ہو اگر تم اس کی آیتوں پر ایمان رکھنے والے ہو
Tafsir Ibn Kathir
Allowing What was Slaughtered in the Name of Allah
This is a statement of permission from Allah, for His servants, allowing them to eat the slaughtered animals werein His Name was mentioned when slaughtering them. It is understood from it that He has not allowed that over which Allah's Name was not mentioned when slaughtering. This was the practice of the pagans of Quraysh who used to eat dead animals and eat what was slaughtered for the idols. Allah next encourages eating from the meat of sacrificed animals on which His Name was mentioned upon slaughtering,
وَمَا لَكُمْ أَلاَّ تَأْكُلُواْ مِمَّا ذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ وَقَدْ فَصَّلَ لَكُم مَّا حَرَّمَ عَلَيْكُمْ
(And why should you not eat of that on which Allah's Name has been mentioned, while He has explained to you what is forbidden to you...) meaning, He has explained and made clear to you what He has prohibited for you in detail,
إِلاَّ مَا اضْطُرِرْتُمْ إِلَيْهِ
(except under compulsion of necessity.) In which case, you are allowed to eat whatever you can find. Allah next mentions the ignorance of the idolators in their misguided ideas, such as eating dead animals and what was sacrificed while other than Allah's Name was mentioned when slaughtering them. Allah said,
وَإِنَّ كَثِيرًا لَّيُضِلُّونَ بِأَهْوَائِهِم بِغَيْرِ عِلْمٍ إِنَّ رَّبَّكَ هُوَ أَعْلَمُ بِالْمُعْتَدِينَ
(And surely, many do lead astray by their own desires through lack of knowledge. Certainly your Lord knows best the transgressors.) He has complete knowledge of their transgression, lies and inventions.
صرف اللہ تعالیٰ کے نام کا ذبیحہ حلال باقی سب حرام حکم بیان ہو رہا ہے کہ جس جانور کو اللہ کا نام لے کر ذبح کیا جائے اسے کھالیا کرو اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جس جانور کے ذبح کے وقت اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو اس کا کھانا مباح نہیں، جیسے مشرکین از خود مرگیا ہو اور مردار جانور، بتوں اور تھالوں پر ذبح کیا ہوا جانور کھالیا کرتے تھے، کوئی وجہ نہیں کہ جن حلال جانوروں کو شریعت کے حکم کے مطابق ذبح کیا جائے اس کے کھانے میں حرج سمجھا جائے بالخصوص اس وقت کہ ہر حرام جانور کا بیان کھول کھول کردیا گیا ہے فصل کی دوسری قرأت فصل ہے وہ ہر ام جانور کھانے ممنوع ہیں سوائے مجبوری اور سخت بےبسی کے کہ اس وقت جو مل جائے اس کے کھا لینے کی اجازت ہے۔ پھر کافروں کی زیادتی بیان ہو رہی ہے کہ وہ مردار جانور کو اور ان جانوروں کو جن پر اللہ کے سوا دوسروں کے نام لئے گئے ہوں حلال جانتے تھے۔ یہ لوگ بلا علم صرف خواہش پرستی کر کے دوسروں کو بھی راہ حق سے ہٹا رہے ہیں۔ ایسوں کی افتراء پردازی دروغ بافی اور زیادتی کو اللہ بخوبی جانتا ہے۔
119
View Single
وَمَا لَكُمۡ أَلَّا تَأۡكُلُواْ مِمَّا ذُكِرَ ٱسۡمُ ٱللَّهِ عَلَيۡهِ وَقَدۡ فَصَّلَ لَكُم مَّا حَرَّمَ عَلَيۡكُمۡ إِلَّا مَا ٱضۡطُرِرۡتُمۡ إِلَيۡهِۗ وَإِنَّ كَثِيرٗا لَّيُضِلُّونَ بِأَهۡوَآئِهِم بِغَيۡرِ عِلۡمٍۚ إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعۡلَمُ بِٱلۡمُعۡتَدِينَ
And what is the matter with you that you should not eat from that over which Allah’s name has been mentioned whereas He has explained in detail to you all what is forbidden to you except when you are forced (by circumstances) towards it? And indeed many lead astray by their own desires, out of ignorance; indeed your Lord well knows the transgressors.
اور تمہیں کیا ہے کہ تم اس (ذبیحہ) سے نہیں کھاتے جس پر (ذبح کے وقت) اللہ کا نام لیا گیا ہے (تم ان حلال جانوروں کو بلاوجہ حرام ٹھہراتے ہو)؟ حالانکہ اس نے تمہارے لئے ان (تمام) چیزوں کو تفصیلاً بیان کر دیا ہے جو اس نے تم پر حرام کی ہیں، سوائے اس (صورت) کے کہ تم (محض جان بچانے کے لئے) ان (کے بقدرِ حاجت کھانے) کی طرف انتہائی مجبور ہو جاؤ (سو اب تم اپنی طرف سے اور چیزوں کو مزید حرام نہ ٹھہرایا کرو)۔ بیشک بہت سے لوگ بغیر (پختہ) علم کے اپنی خواہشات (اور من گھڑت تصورات) کے ذریعے (لوگوں کو) بہکاتے رہتے ہیں، اور یقینا آپ کا ربّ حد سے تجاوز کرنے والوں کو خوب جانتا ہے
Tafsir Ibn Kathir
Allowing What was Slaughtered in the Name of Allah
This is a statement of permission from Allah, for His servants, allowing them to eat the slaughtered animals werein His Name was mentioned when slaughtering them. It is understood from it that He has not allowed that over which Allah's Name was not mentioned when slaughtering. This was the practice of the pagans of Quraysh who used to eat dead animals and eat what was slaughtered for the idols. Allah next encourages eating from the meat of sacrificed animals on which His Name was mentioned upon slaughtering,
وَمَا لَكُمْ أَلاَّ تَأْكُلُواْ مِمَّا ذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ وَقَدْ فَصَّلَ لَكُم مَّا حَرَّمَ عَلَيْكُمْ
(And why should you not eat of that on which Allah's Name has been mentioned, while He has explained to you what is forbidden to you...) meaning, He has explained and made clear to you what He has prohibited for you in detail,
إِلاَّ مَا اضْطُرِرْتُمْ إِلَيْهِ
(except under compulsion of necessity.) In which case, you are allowed to eat whatever you can find. Allah next mentions the ignorance of the idolators in their misguided ideas, such as eating dead animals and what was sacrificed while other than Allah's Name was mentioned when slaughtering them. Allah said,
وَإِنَّ كَثِيرًا لَّيُضِلُّونَ بِأَهْوَائِهِم بِغَيْرِ عِلْمٍ إِنَّ رَّبَّكَ هُوَ أَعْلَمُ بِالْمُعْتَدِينَ
(And surely, many do lead astray by their own desires through lack of knowledge. Certainly your Lord knows best the transgressors.) He has complete knowledge of their transgression, lies and inventions.
صرف اللہ تعالیٰ کے نام کا ذبیحہ حلال باقی سب حرام حکم بیان ہو رہا ہے کہ جس جانور کو اللہ کا نام لے کر ذبح کیا جائے اسے کھالیا کرو اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جس جانور کے ذبح کے وقت اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو اس کا کھانا مباح نہیں، جیسے مشرکین از خود مرگیا ہو اور مردار جانور، بتوں اور تھالوں پر ذبح کیا ہوا جانور کھالیا کرتے تھے، کوئی وجہ نہیں کہ جن حلال جانوروں کو شریعت کے حکم کے مطابق ذبح کیا جائے اس کے کھانے میں حرج سمجھا جائے بالخصوص اس وقت کہ ہر حرام جانور کا بیان کھول کھول کردیا گیا ہے فصل کی دوسری قرأت فصل ہے وہ ہر ام جانور کھانے ممنوع ہیں سوائے مجبوری اور سخت بےبسی کے کہ اس وقت جو مل جائے اس کے کھا لینے کی اجازت ہے۔ پھر کافروں کی زیادتی بیان ہو رہی ہے کہ وہ مردار جانور کو اور ان جانوروں کو جن پر اللہ کے سوا دوسروں کے نام لئے گئے ہوں حلال جانتے تھے۔ یہ لوگ بلا علم صرف خواہش پرستی کر کے دوسروں کو بھی راہ حق سے ہٹا رہے ہیں۔ ایسوں کی افتراء پردازی دروغ بافی اور زیادتی کو اللہ بخوبی جانتا ہے۔
120
View Single
وَذَرُواْ ظَٰهِرَ ٱلۡإِثۡمِ وَبَاطِنَهُۥٓۚ إِنَّ ٱلَّذِينَ يَكۡسِبُونَ ٱلۡإِثۡمَ سَيُجۡزَوۡنَ بِمَا كَانُواْ يَقۡتَرِفُونَ
And give up the open and hidden sins; those who earn sins will soon receive the punishment of their earnings.
اور تم ظاہری اور باطنی (یعنی آشکار و پنہاں دونوں قسم کے) گناہ چھوڑ دو۔ بیشک جو لوگ گناہ کما رہے ہیں انہیں عنقریب سزا دی جائے گی ان (اَعمالِ بد) کے باعث جن کا وہ ارتکاب کرتے تھے
Tafsir Ibn Kathir
وَذَرُواْ ظَـهِرَ الإِثْمِ وَبَاطِنَهُ
(Leave evil, open and secret...) refers to all kinds of sins committed in public and secret. Qatadah said that,
وَذَرُواْ ظَـهِرَ الإِثْمِ وَبَاطِنَهُ
(Leave sin, open and secret...) encompasses sins committed in public and secret, whether few or many. In another statement, Allah said,
قُلْ إِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّيَ الْفَوَحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ
(Say: "(But) the things that my Lord has indeed forbidden are Al-Fawahish (evil sins) whether committed openly or secretly.) 7:33 This is why Allah said,
إِنَّ الَّذِينَ يَكْسِبُونَ الإِثْمَ سَيُجْزَوْنَ بِمَا كَانُواْ يَقْتَرِفُونَ
(Verily, those who commit sin will get due recompense for that which they used to commit.) Whether the sins they committed were public or secret, Allah will compensate them for these sins. Ibn Abi Hatim recorded that An-Nawwas bin Sam`an said, "I asked Allah's Messenger ﷺ about Al-Ithm. He said,
«الْإِثمُ مَا حَاكَ فِي صَدْرِكَ وَكَرِهْتَ أَنْ يَطَّلِعَ النَّاسُ عَلَيْه»
(The sin is that which you find in your heart and you dislike that people become aware of it.)
ظاہری اور باطنی گناہوں کو ترک کردو چھوٹے بڑے پوشیدہ اور ظاہر، ہر گناہ کو چھوڑو۔ نہ کھلی بدکار عورتوں کے ہاں جاؤ نہ چوری چھپے بدکاریاں کرو، کھلم کھلا ان عورتوں سے نکاح نہ کرو جو تم پر حرام کردی گئی ہیں، غرض ہر گناہ سے دور رہو، کیونکہ ہر بدکاری کا برا بدلہ ہے، حضور سے سوال ہوا کہ گناہ کسے کہتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا جو تیرے دل میں کھٹکے اور تو نہ چاہے کہ کسی کو اس کی اطلاع ہوجائے۔
121
View Single
وَلَا تَأۡكُلُواْ مِمَّا لَمۡ يُذۡكَرِ ٱسۡمُ ٱللَّهِ عَلَيۡهِ وَإِنَّهُۥ لَفِسۡقٞۗ وَإِنَّ ٱلشَّيَٰطِينَ لَيُوحُونَ إِلَىٰٓ أَوۡلِيَآئِهِمۡ لِيُجَٰدِلُوكُمۡۖ وَإِنۡ أَطَعۡتُمُوهُمۡ إِنَّكُمۡ لَمُشۡرِكُونَ
And do not eat that on which Allah’s name has not been mentioned, and indeed that is disobedience; and undoubtedly the devils inspire in the hearts of their friends to fight with you; and if you obey them, you are then polytheists.
اور تم اس (جانور کے گوشت) سے نہ کھایا کرو جس پر (ذبح کے وقت) اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو اور بیشک وہ (گوشت کھانا) گناہ ہے، اور بیشک شیاطین اپنے دوستوں کے دلوں میں (وسوسے) ڈالتے رہتے ہیں تاکہ وہ تم سے جھگڑا کریں اور اگر تم ان کے کہنے پر چل پڑے (تو) تم بھی مشرک ہو جاؤ گے
Tafsir Ibn Kathir
The Prohibition of what was Slaughtered in other than Allah's Name
This Ayah is used to prove that slaughtered animals are not lawful when Allah's Name is not mentioned over them -- even if slaughtered by a Muslim. The Ayah about hunting game,
فَكُلُواْ مِمَّآ أَمْسَكْنَ عَلَيْكُمْ وَاذْكُرُواْ اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِ
(So eat of what they (trained hunting dogs or birds of prey) catch for you, but pronounce the Name of Allah over it.) 5:4 supports this. The Ayah here emphasized this ruling, when Allah said,
وَإِنَّهُ لَفِسْقٌ
(for surely it is disobedience.) They say that "it" refers to eating it, and others say that it refers to the sacrifice for other than Allah. There are various Hadiths that order mentioning Allah's Name when slaughtering and hunting. The Hadith narrated by `Adi bin Hatim and Abu Tha`labah (that the Prophet said);
«إِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ الْمُعَلَّمَ وَذَكْرتَ اسْمَ اللهِ عَلَيْهِ فَكُلْ مَا أَمْسَكَ عَلَيْك»
(When you send your trained hunting dog and mention Allah's Name on releasing it, then eat from whatever it catches for you.) This Hadith was collected in the Two Sahihs. The Rafi` bin Khadij narrated that the Prophet said;
«مَا أَنْهَرَ الدَّمَ وَذُكِرَ اسْمُ اللهِ عَلَيْهِ فَكُلُوه»
(You can use what would make blood flow (i. e., slaughter) and you can eat what is slaughtered and the Name of Allah is mentioned at the time of slaughtering.) This Hadith was also collected in the Two Sahihs. Ibn Mas`ud narrated that Allah's Messenger ﷺ said to the Jinns.
«لَكُمْ كُلُّ عَظْمٍ ذُكِرَ اسْمُ اللهِ عَلَيْه»
((For food) you have every bone on which Allah's Name was mentioned on slaughtering.) Muslim collected this Hadith. Jundub bin Sufyan Al-Bajali said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«مَنْ ذَبَحَ قَبْلَ أَنْ يُصَلِّيَ فَلْيَذْبَحْ مَكَانَهَا أُخْرَى، وَمَنْ لَمْ يَكُنْ ذَبَحَ، حَتَّى صَلَّيْنَا فَلْيَذْبَحْ بِاسْمِ الله»
(Whoever slaughtered before he prayed (the `Id prayer), let him slaughter another sacrifice in its place. Whoever did not offer the sacrifice before we finished the prayer, let him slaughter and mention Allah's Name.) The Two Sahihs recorded this Hadith.
The Devil's Inspiration
Allah said,
وَإِنَّ الشَّيَـطِينَ لَيُوحُونَ إِلَى أَوْلِيَآئِهِمْ لِيُجَـدِلُوكُمْ
(And certainly, the Shayatin do inspire their friends to dispute with you,) Ibn Abi Hatim recorded that Abu Ishaq said that a man said to Ibn `Umar that Al-Mukhtar claimed that he received revelation. So Ibn `Umar said, "He has said the truth," and recited this Ayah,
وَإِنَّ الشَّيَـطِينَ لَيُوحُونَ إِلَى أَوْلِيَآئِهِمْ
(And certainly, the Shayatin do inspire their friends...) Abu Zamil said, "I was sitting next to Ibn `Abbas at a time when Al-Mukhtar bin Abi `Ubayd was performing Hajj. So a man came to Ibn `Abbas and said, `O Ibn `Abbas! Abu Ishaq (Al-Mukhtar) claimed that he received revelation this night.' Ibn `Abbas said, He has said the truth.' I was upset and said, `Ibn `Abbas says that Al-Mukhtar has said the truth' Ibn `Abbas replied, `There are two types of revelation, one from Allah and one from the devil. Allah's revelation came to Muhammad ﷺ, while the Shaytan's revelation comes to his friends.' He then recited,
وَإِنَّ الشَّيَـطِينَ لَيُوحُونَ إِلَى أَوْلِيَآئِهِمْ
(And certainly, the Shayatin do inspire their friends...) We also mentioned `Ikrimah's commentary on the Ayah,
يُوحِى بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُوراً
(Inspiring one another with adorned speech as a delusion.) Allah said next,
لِيُجَـدِلُوكُمْ
(to dispute with you,) Ibn Jarir recorded that Ibn `Abbas commented;
وَلاَ تَأْكُلُواْ مِمَّا لَمْ يُذْكَرِ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ
(Eat not of that on which Allah's Name has not been mentioned...) until,
لِيُجَـدِلُوكُمْ
(...to dispute with you,) "The devils inspire their loyal supporters, `Do you eat from what you kill but not from what Allah causes to die"' As-Suddi said; "Some idolators said to the Muslims, `You claim that you seek Allah's pleasure. Yet, you do not eat what Allah causes to die, but you eat what you slaughter' Allah said,
وَإِنْ أَطَعْتُمُوهُمْ
(and if you obey them...), and eat dead animals,
إِنَّكُمْ لَمُشْرِكُونَ
(then you would indeed be polytheists. ) Similar was said by Mujahid, Ad-Dahhak and several others among scholars of the Salaf.
Giving Preference to Anyone's Saying Over the Legislation of Allah is Shirk
Allah's statement,
وَإِنْ أَطَعْتُمُوهُمْ إِنَّكُمْ لَمُشْرِكُونَ
(and if you obey them, then you would indeed be polytheists.) means, when you turn away from Allah's command and Legislation to the saying of anyone else, preferring other than what Allah has said, then this constitutes Shirk. Allah said in another Ayah,
اتَّخَذُواْ أَحْبَـرَهُمْ وَرُهْبَـنَهُمْ أَرْبَاباً مِّن دُونِ اللَّهِ
(They (Jews and Christians) took their rabbis and their monks to be their lords besides Allah.)9:31 In explanation of this Ayah, At-Tirmidhi recorded that `Adi bin Hatim said, "O Allah's Messenger! They did not worship them." The Prophet said,
«بَلَى إِنَّهُمْ أَحَلُّوا لَهُمُ الْحَرَامَ وَحَرَّمُوا عَلَيْهِمُ الْحَلَالَ فَاتَّبعُوهُمْ فَذَلِكَ عِبَادَتُهُمْ إِيَّاهُم»
(Yes they did. They (monks and rabbis) allowed the impermissible for them and they prohibited the lawful for them, and they followed them in that. That was their worship of them.)
سدھائے ہوئے کتوں کا شکار یہی آیت ہے جس سے بعض علماء نے یہ سمجھا ہے کہ گو کسی مسلمان نے ہی ذبح کیا ہو لیکن اگر بوقت ذبح اللہ کا نام نہیں لیا تو اس ذبیحہ کا کھانا حرام ہے، اس بارے میں علماء کے تین قول ہیں ایک تو وہی جو مذکور ہوا، خواہ جان بوجھ کر اللہ کا نام نہ لیا ہو یا بھول کر، اس کی دلیل آیت (فَكُلُوْا مِمَّآ اَمْسَكْنَ عَلَيْكُمْ وَاذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ عَلَيْهِ ۠ وَاتَّقُوا اللّٰهَ ۭاِنَّ اللّٰهَ سَرِيْعُ الْحِسَابِ) 5۔ المائدہ :4) ہے یعنی جس شکار کو تمہارے شکاری کتے روک رکھیں تم اسے کھالو اور اللہ کا نام اس پر لو، اس آیت میں اسی کی تاکید کی اور فرمایا کہ یہ کھلی نافرمانی ہے یعنی اس کا کھانا یا غیر اللہ کے نام پر ذبح کرنا، احادیث میں بھی شکار کے اور ذبیحہ کے متعلق حکم وارد ہوا ہے آپ فرماتے ہیں جب تو اپنے سدھائے ہوئے کتے کو اللہ کا نام لے کر چھوڑے جس جانور کو وہ تیرے لئے پکڑ کر روک لے تو اسے کھالے اور حدیث میں ہے جو چیز خون بہا دے اور اللہ کا نام بھی اس پر لیا گیا ہو اسے کھالیا کرو، جنوں سے حضور نے فرمایا تھا تمہارے لئے ہر وہ ہڈی غذا ہے جس پر اللہ کا نام لیا جائے، عید کی قربانی کے متعلق آپ کا ارشاد مروی ہے کہ جس نے نماز عید پڑھنے سے پہلے ہی ذبح کرلیا وہ اس کے بدلے دوسرا جانور ذبح کرلے اور جس نے قربانی نہیں کی وہ ہمارے ساتھ عید کی نماز پڑھے پھر اللہ کا نام لے کر اپنی قربانی کے جانور کو ذبح کرے، چند لوگوں نے حضور سے پوچھا کہ بعض نو مسلم ہمیں گوشت دیتے ہیں کیا خبر انہوں نے ان جانوروں کے ذبح کرنے کے وقت اللہ کا نام بھی لیا یا نہیں ؟ تو آپ نے فرمایا تم ان پر اللہ کا نام لو اور کھالو، الغرض اس حدیث سے بھی یہ مذہب قومی ہوتا ہے کیونکہ صحابہ نے بھی سمجھا کر بسم اللہ پڑھنا ضروری ہے اور یہ لوگ احکام اسلام سے صحیح طور پر واقف نہیں ابھی ابھی مسلمان ہوئے ہیں کیا خبر اللہ کا نام لیتے بھی ہیں یا نہیں ؟ تو حضور نے انہیں بطور مزید احتیاط فرما دیا کہ تم خود اللہ کا نام لے لو تاکہ بالفرض انہوں نے نہ بھی لیا ہو تو یہ اس کا بدلہ ہوجائے، ورنہ ہر مسلمان پر ظاہر احسن ظن ہی ہوگا، دوسرا قول اس مسئلہ میں یہ ہے کہ بوقت ذبح بسم اللہ کا پڑھنا شرط نہیں بلکہ مستحب ہے اگر چھوٹ جائے گوہ عمداً ہو یا بھول کر، کوئی حرج نہیں۔ اس آیت میں جو فرمایا گیا ہے کہ یہ فسق ہے اس کا مطلب یہ لوگ یہ لیتے ہیں کہ اس سے مراد غیر اللہ کے لئے ذبح کیا ہوا جانور ہے جیسے اور آیت میں ہے (اَوْ فِسْقًا اُهِلَّ لِغَيْرِ اللّٰهِ بِهٖ) 6۔ الانعام :145) بقول عطا ان جانوروں سے روکا گیا ہے جنہیں کفار اپنے معبودوں کے نام ذبح کرتے تھے اور مجوسیوں کے ذبیحہ سے بھی ممکن کی گئی، اس کا جواب بعض متأخرین نے یہ بھی دیا ہے کہ (وانہ) میں واؤ حالیہ یہ۔ تو فسق فعلیہ حالیہ پر لازم آئے گا، لیکن یہ دلیل اس کے بعد کے جملے (وان الشیاطین) سے ہی ٹوٹ جاتی ہے اس لئے کہ وہ تو یقینا عاطفہ جملہ ہے۔ تو جس اگلے واؤ کو حالیہ کہا گیا ہے اگر اسے حالیہ مان لیا جائے تو پھر اس پر اس جملے کا عطف ناجائز ہوگا اور اگر اسے پہلے کے حالیہ جملے پر عطف ڈالا جائے تو جو اعتراض یہ دوسرے پر وارد کر رہے تھے وہی ان پر پڑے گا ہاں اگر اس واؤ کو حالیہ نہ مانا جائے تو یہ اعتراض ہٹ سکتا ہے لیکن جو بات اور دعویٰ تھا وہ سرے سے باطل ہوجائے گا۔ واللہ اعلم۔ ابن عباس کا قول ہے مراد اس سے مردار جانور ہے جو اپنی موت آپ مرگیا ہو۔ اس مذہب کی تائید ابو داؤد کی ایک مرسل حدیث سے بھی ہوسکتی ہے جس میں حضور کا فرمان ہے کہ مسلمان کا ذبیحہ حلال ہے اس نے اللہ کا نام لیا ہو یا نہ لیا ہو کیونکہ اگر وہ لیتا تو اللہ کا نام ہی لیتا۔ اس کی مضبوطی دار قطنی کی اس روایت سے ہوتی ہے کہ حضرت ابن عباس نے فرمایا جب مسلمان ذبح کرے اور اللہ کا نام نہ ذکر کرے تو کھالیا کرو کیونکہ مسلمان اللہ کے ناموں میں سے ایک نام ہے، اسی مذہب کی دلیل میں وہ حدیث بھی پیش ہوسکتی ہے جو پہلے بیان ہوچکی ہے کہ نو مسلموں کے ذبیحہ کے کھانے کی جس میں دونوں اہتمال تھے آپ نے اجازت دی تو اگر بم اللہ کا کہنا شرط اور لازم ہوتا تو حضور تحقیق کرنے کا حکم دیتے، تیسرا قول یہ ہے کہ اگر بسم اللہ کہنا بوقت ذبح بھول گیا ہے تو ذبیحہ پر عمداً بسم اللہ نہ کہی جائے وہ حرام ہے اسی لئے امام ابو یوسف اور مشائخ نے کہا ہے کہ اگر کوئی حاکم اسے بچنے کا حکم بھی دے تو وہ حکم جاری نہیں ہوسکتا کیونکہ اجماع کے خلاف ہے لیکن صاحب ہدایہ کا یہ قول محض غلط ہے، امام شافعی سے پہلے بھی بہت سے ائمہ اس کے خلاف تھے چناچہ اوپر جو دوسرا مذہب بیان ہوا ہے کہ بسم اللہ پڑھنا شرط نہیں بلکہ مستحب ہے یہ امام شافعی کا ان کے سب ساتھیوں کا اور ایک روایت میں امام احمد کا اور امام مالک کا اور اشہب بن عبدالعزیز کا مذہب ہے اور یہی بیان کیا گیا ہے۔ حضرت ابن عباس حضرت ابوہریرہ حضرت عطاء بن ابی رباح کا اس سے اختلاف ہے۔ پھر اجماع کا دعویٰ کرنا کیسے درست ہوسکتا ہے واللہ اعلم۔ امام ابو جعفر بن جریر ؒ فرماتے ہیں کہ جن لوگوں نے بوقت ذبح بسم اللہ بھول کر نہ کہے جانے پر بھی ذبیحہ حرام کہا ہے انہوں نے اور دلائل سے اس حدیث کی بھی مخالفت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مسلم کو اس کا نام ہی کافی ہے اگر وہ ذبح کے وقت اللہ کا نام ذکر کرنا بھول گیا تو اللہ کا نام لے اور کھالے۔ یہ حدیث بیہقی میں ہے لیکن اس کا مرفوع روایت کرنا خطا ہے اور یہ خطا معقل بن عبید اللہ خرزمی کی ہے، ہیں تو یہ صحیح مسلم کے راویوں میں سے مگر سعید بن منصور اور عبداللہ بن زبیر حمیری اسے عبداللہ بن عباس سے موقوف روایت کرتے ہیں۔ بقول امام بہیقی یہ روایت سب سے زیادہ صحیح ہے۔ شعبی اور محمد بن سیرین اس جانور کا کھانا مکروہ جانتے تھے جس پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو گو بھول سے ہی رہ گیا ہو۔ ظاہر ہے کہ سلف کراہئیت کا اطلاق حرمت پر کرتے تھے۔ واللہ اعلم۔ ہاں یہ یاد رہے کہ امام ابن جریر کا قاعدہ یہ ہے کہ وہ ان دو ایک قولوں کو کوئی چیز نہیں سمجھتے جو جمہور کے مخالف ہوں اور اسے اجماع شمار کرتے ہیں۔ واللہ الموفق۔ امام حسن بصری ؒ سے ایک شخص نے مسئلہ پوچھا کہ میرے پاس بہت سے پرند ذبح شدہ آئے ہیں ان سے بعض کے ذبح کے وقت بسم اللہ پڑھی گئی ہے اور بعض پر بھول سے رہ گئی ہے اور سب غلط ملط ہوگئے ہیں آپ نے فتوی دیا کہ سب کھالو، پھر محمد بن سیرین سے یہی سوال ہوا تو آپ نے فرمایا جن پر اللہ کا نام ذکر نہیں کیا گیا انہیں نہ کھاؤ۔ اس تیسرے مذہب کی دلیل میں یہ حدیث بھی پیش کی جاتی ہے کہحضور ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے میری امت کی خطاء کو بھول کو اور جس کام پر زبردستی کی جائے اس کو معاف فرما دیا ہے لیکن اس میں ضعف ہے ایک حدیث میں ہے کہ ایک شخص نبی ﷺ کے پاس آیا اور کہا یا رسول اللہ بتائیے تو ہم میں سے کوئی شخص ذبح کرے اور بسم اللہ کہنا بھول جائے ؟ آپ نے فرمایا اللہ کا نام ہر مسلمان کی زبان پر ہے (یعنی وہ حلال ہے) لیکن اس کی اسناد ضعیف ہے، مردان بن سالم ابو عبداللہ شامی اس حدیث کا راوی ہے اور ان پر بہت سے ائمہ نے جرح کی ہے، واللہ اعلم، میں نے اس مسئلہ پر ایک مستقل کتاب لکھی ہے اس میں تمام مذاہب اور ان کے دلائل وغیرہ تفصیل سے لکھے ہیں اور پوری بحث کی ہے، بظاہر دلیلوں سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ ذبح کے وقت بسم اللہ کہنا ضروری ہے لیکن اگر کسی مسلمان کی زبان سے جلدی میں یا بھولے سے یا کسی اور وجہ سے نہ نکلے اور ذبح ہوگیا تو وہ حرما نہیں ہوتا (واللہ اعلم مترجم) عام اہل علم تو کہتے ہیں کہ اس آیت کا کوئی حصہ منسوخ نہیں لیکن بعض حضرات کہتے ہیں اس میں اہل کتاب کے ذبیحہ کا استثناء کرلیا گیا ہے اور ان کا ذبح کیا ہوا حلال جانور کھا لینا ہمارے ہاں حلال ہے تو گو وہ اپنی اصطلاح میں اسے نسخ سے تعبیر کریں لیکن دراصل یہ ایک مخصوص صورت ہے پھر فرمایا کہ شیطان اپنے ولیوں کی طرف وحی کرتے ہیں حضرت عبداللہ بن عمر سے جب کہا گیا کہ مختار گمان کرتا ہے کہ اس کے پاس وحی آتی ہے تو آپ نے اسی آیت کی تلاوت فرما کر فرمایا وہ ٹھیک کہتا ہے۔ شیطان بھی اپنے دوستوں کی طرف وحی کرتے ہیں اور روایت میں ہے کہ اس وقت مختار حج کو آیا ہوا تھا۔ ابن عباس کے اس جواب سے کہ وہ سچا ہے اس شخص کو سخت تعجب ہوا اس وقت آپ نے تفصیل بیان فرمائی کہ ایک تو اللہ کی وحی جو آنحضرت کی طرف آئی اور ایک شیطانی وحی ہے جو شیطان کے دوستوں کی طرف آتی ہے۔ شیطانی وساوس کو لے کر لشکر شیطان اللہ والوں سے جھگڑتے ہیں۔ چناچہ یہودیوں نے آنحضرت ﷺ سے کہا کہ یہ کیا اندھیر ہے ؟ کہ ہم اپنے ہاتھ سے مارا ہوا جانور تو کھا لیں اور جسے اللہ مار دے یعنی اپنی موت آپ مرجائے اسے نہ کھائیں ؟ اس پر یہ آیت اتری اور بیان فرمایا کہ وجہ حلت اللہ کے نام کا ذکر ہے لیکن ہے یہ قصہ غور طلب اولاً اس وجہ سے کہ یہودی از خود مرے ہوئے جانور کا کھانا حلال نہیں جانتے تھے دوسرے اس وجہ سے بھی کہ یہودی تو مدینے میں تھے اور یہ پوری سورت مکہ میں اتری ہے۔ تیسرے یہ کہ یہ حدیث ترمذی میں مروی تو ہے لیکن مرسل طبرانی میں ہے کہ اس حکم کے نازل ہونے کے بعد کہ جس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو اسے کھالو اور جس پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو اسے نہ کھاؤ تو اہل فارس نے قریشوں سے کہلوا بھیجا کہ آنحضرت ﷺ سے وہ جھگڑیں اور کہیں کہ جسے تم اپنی چھری سے ذبح کرو وہ تو حلال اور جسے اللہ تعالیٰ سونے کی چھری سے خود ذبح کرے وہ حرام ؟ یعنی میتہ از خود مرا ہوا جانور۔ اس پر یہ آیت اتری، پس شیاطین سے مراد فارسی ہیں اور ان کے اولیاء قریش ہیں اور بھی اس طرح کی بہت سی روایتیں کئی ایک سندوں سے مروی ہیں لیکن کسی میں بھی یہود کا ذکر نہیں پس صحیح یہی ہے کیونکہ آیت مکی ہے اور یہود مدینے میں تھے اور اس لئے بھی کہ یہودی خود مردار خوار نہ تھے۔ ابن عباس فرماتے ہیں جسے تم نے ذبح کیا یہ تو وہ ہے جس پر اللہ کا نام لیا گیا اور جو از خود مرگیا وہ وہ ہے جس پر اللہ کا نام نہیں لیا گیا، مشرکین قریش فارسیوں سے خط و کتابت کر رہے تھے اور رومیوں کے خلاف انہیں مشورے اور امداد پہنچاتے تھے اور فارسی قریشیوں سے خط و کتابت رکھتے تھے اور آنحضرت ﷺ کے خلاف انہیں اکساتے اور ان کی امداد کرتے تھے، اسی میں انہوں نے مشرکین کی طرف یہ اعتراض بھی بھیجا تھا اور مشرکین نے صحابہ سے یہی اعتراض کیا اور بعض صحابہ کے دل میں بھی یہ بات کھٹکی اس پر یہ آیت اتری۔ پھر فرمایا اگر تم نے ان کی تابعداری کی تو تم مشرک ہوجاؤ گے کہ تم نے اللہ کی شریعت اور فرمان قرآن کے خلاف دوسرے کی مان لی اور یہی شرک ہے کہ اللہ کے قول کے مقابل دوسرے کا قول مان لیا چناچہ قرآن کریم میں ہے آیت (اِتَّخَذُوْٓا اَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَالْمَسِيْحَ ابْنَ مَرْيَمَ ۚ وَمَآ اُمِرُوْٓا اِلَّا لِيَعْبُدُوْٓا اِلٰــهًا وَّاحِدًا ۚ لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ۭسُبْحٰنَهٗ عَمَّا يُشْرِكُوْنَ) 9۔ التوبہ :31) یعنی انہوں نے اپنے عالموں اور درویشوں کو الہ بنا لیا ہے، ترمذی میں ہے کہ جب حضرت عدی بن حاتم نے رسول ﷺ سے کہا کہ حضور انہوں نے ان کی عبادت نہیں کی تو آپ نے فرمایا انہوں نے حرام کو حلال کہا اور حلال کو حرام کہا اور انہوں نے ان کا کہنا مانا یہی عبادت ہے۔
122
View Single
أَوَمَن كَانَ مَيۡتٗا فَأَحۡيَيۡنَٰهُ وَجَعَلۡنَا لَهُۥ نُورٗا يَمۡشِي بِهِۦ فِي ٱلنَّاسِ كَمَن مَّثَلُهُۥ فِي ٱلظُّلُمَٰتِ لَيۡسَ بِخَارِجٖ مِّنۡهَاۚ كَذَٰلِكَ زُيِّنَ لِلۡكَٰفِرِينَ مَا كَانُواْ يَعۡمَلُونَ
And will the one who was dead and so We raised him to life and set for him a light with which he walks among the people, ever be like the one who is in realms of darkness never to emerge from them? Similarly, the deeds of disbelievers are made to appear good to them.
بھلا وہ شخص جو مُردہ (یعنی ایمان سے محروم) تھا پھر ہم نے اسے (ہدایت کی بدولت) زندہ کیا اور ہم نے اس کے لئے (ایمان و معرفت کا) نور پیدا فرما دیا (اب) وہ اس کے ذریعے (بقیہ) لوگوں میں (بھی روشنی پھیلانے کے لئے) چلتا ہے اس شخص کی مانند ہو سکتا ہے جس کا حال یہ ہو کہ (وہ جہالت اور گمراہی کے) اندھیروں میں (اس طرح گھِرا) پڑا ہے کہ اس سے نکل ہی نہیں سکتا۔ اسی طرح کافروں کے لئے ان کے وہ اعمال (ان کی نظروں میں) خوش نما دکھائے جاتے ہیں جو وہ انجام دیتے رہتے ہیں
Tafsir Ibn Kathir
The Parable of the Disbeliever and the Believer
This is an example that Allah has given of the believer who was dead, meaning, wandering in confusion and misguidance. Then, Allah brought life to him, by bringing life to his heart with faith, guiding him to it and guiding him to obeying His Messengers,
لَهُ نُورًا يَمْشِي بِهِ فِى النَّاسِ كَمَن
(And set for him a light whereby he can walk amongst men.) for he became guided to where he should go and how to remain on the correct path. The light mentioned here is the Qur'an, according to Ibn `Abbas, as Al-`Awfi and Ibn Abi Talhah reported from him. As-Suddi said that the light mentioned here is Islam. Both meanings are correct.
مَّثَلُهُ فِي الظُّلُمَـتِ لَيْسَ
(Like him who is in the darkness) of ignorance, desires and various types of deviation,
بِخَارِجٍ مِّنْهَا كَذَلِكَ
(From which he can never come out) for he is unable to find a way out from what he is in. In Musnad Ahmad, it is recorded that the Prophet said;
«إِنَّ اللهَ خَلَقَ خَلْقَهُ فِي ظُلْمَةٍ، ثُمَّ رَشَّ عَلَيْهِمْ مِنْ نُورِهِ، فَمَنْ أَصَابَهُ ذَلِكَ النُّورُ اهْتَدَى، وَمَنَ أَخْطَأَهُ ضَل»
(Allah created creation in darkness, then He showered His Light upon them. Whoever was struck by that light is guided, whoever it missed is astray.) Allah said in other Ayat,
اللَّهُ وَلِيُّ الَّذِينَ ءامَنُواْ يُخْرِجُهُم مِّنَ الظُّلُمَـتِ إِلَى النُّورِ وَالَّذِينَ كَفَرُواْ أَوْلِيَآؤُهُمُ الطَّـغُوتُ يُخْرِجُونَهُم مِّنَ النُّورِ إِلَى الظُّلُمَـتِ أُوْلَـئِكَ أَصْحَـبُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَـلِدُونَ
(Allah is the Guardian of those who believe. He brings them out from darkness into light. But as for those who disbelieve, their friends are Taghut, they bring them out from light into darkness. Those are the dwellers of the Fire, and they will abide therein forever.) 2:257, and
أَفَمَن يَمْشِى مُكِبّاً عَلَى وَجْهِهِ أَهْدَى أَمَّن يَمْشِى سَوِيّاً عَلَى صِرَطٍ مُّسْتَقِيمٍ
(Is he who walks prone on his face, more rightly guided, or he who walks upright on the straight way) 67:22, and
مَثَلُ الْفَرِيقَيْنِ كَالاٌّعْمَى وَالاٌّصَمِّ وَالْبَصِيرِ وَالسَّمِيعِ هَلْ يَسْتَوِيَانِ مَثَلاً أَفَلاَ تَذَكَّرُونَ
(The parable of the two parties is as the blind and the deaf and the seer and the hearer. Are they equal when compared Will you not then take heed) 11:24, and,
وَمَا يَسْتَوِى الاٌّعْمَى وَالْبَصِيرُ - وَلاَ الظُّلُمَاتُ وَلاَ النُّورُ - وَلاَ الظِّلُّ وَلاَ الْحَرُورُ - وَمَا يَسْتَوِى الاٌّحْيَآءُ وَلاَ الاٌّمْوَاتُ إِنَّ اللَّهَ يُسْمِعُ مَن يَشَآءُ وَمَآ أَنتَ بِمُسْمِعٍ مَّن فِى الْقُبُورِ - إِنْ أَنتَ إِلاَّ نَذِيرٌ
(Not alike are the blind and the seeing. Nor are darkness and light. Nor are the shade and the sun's heat. Nor are the living and the dead. Verily, Allah makes whom He wills to hear, but you cannot make hear those who are in the graves. You are only a warner.) 35:19-23 There are many other Ayat on this subject. We explained before why Allah mentioned the light in the singular sense and the darkness in the plural sense when we explained the Ayah at the beginning of the Surah,
وَجَعَلَ الظُّلُمَـتِ وَالنُّورَ
(And originated the darknesses and the light.) 6:1 Allah's statement,
زُيِّنَ لِلْكَـفِرِينَ مَا كَانُواْ يَعْمَلُونَ
(Thus it is made fair seeming to the disbelievers that which they used to do.) means, We made their ignorance and misguidance appear fair to them, as Allah decreed out of His wisdom, there is no deity worthy of worship except Him alone without partners.
مومن اور کافر کا تقابلی جائزہ مومن اور کافر کی مثال بیان ہو رہی ہے ایک تو وہ جو پہلے مردہ تھا یعنی کفر و گمراہی کی حالت میں حیران و سرگشتہ تھا اللہ نے اسے زندہ کیا، ایمان و ہدایت بخشی اتباع رسول کا چسکا دیا قرآن جیسا نور عطا فرمایا جس کے منور احکام کی روشنی میں وہ اپنی زندگی گزارتا ہے اسلام کی نورانیت اس کے دل میں رچ گئی ہے، دوسرا وہ جو جہالت و ضلالت کی تاریکیوں میں گھرا ہوا ہے جو ان میں سے نکلنے کی کوئی راہ نہیں پاتا کیا یہ دونوں برابر ہوسکتے ہیں ؟ اسی طرح مسلم و کافر میں بھی تفاوت ہے نور و ظلمت کا فرق اور ایمان و کفر کا فرق ظاہر ہے اور آیت میں ہے (اَللّٰهُ وَلِيُّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا ۙيُخْرِجُهُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ) 2۔ البقرۃ :257) ایمان داروں کا ولی اللہ تعالیٰ ہے وہ انہیں اندھیروں سے نکال کر نور کی طرف لاتا ہے اور کافروں کے ولی طاغوت ہیں جو انہیں نور سے ہٹا کر اندھیروں میں لے جاتے ہیں یہ ابدی جہنمی ہیں اور آیت میں ہے (افمن یمشی مکبا علی وجھہ) یعنی خمیدہ قامت والا ٹیڑھی راہ چلنے والا اور سیدھے قامت والا سیدھی راہ چلنے والا کیا برابر ہے ؟ اور آیت میں ہے ان دونوں فرقوں کی مثال اندھے بہرے اور سنتے دیکھتے کی طرح ہے کہ دونوں میں فرق نمایاں ہے افسوس پھر بھی تم عبرت حاصل نہیں کرتے اور جگہ فرمان ہے اندھا اور بینا، اندھیرا اور روشنی، سایہ اور دوپ، زندے اور مردے برابر نہیں۔ اللہ جسے چاہے سنا دے لیکن تو قبر والوں کو سنا نہیں سکتا تو تو صرف آگاہ کردینے والا ہے اور بھی آیتیں اس مضمون کی بہت سی ہیں اس سورت کے شروع میں ظلمات اور نور کا ذکر تھا اسی مناسبت سے یہاں بھی مومن اور کافر کی یہی مثال بیان فرمائی گئی بعض کہتے ہیں مراد اس سے وہ خاص معین شخص ہیں جیسے حضرت عمر بن خطاب ؓ کہ یہ پہلے گمراہ تھے اللہ نے انہیں اسلامی زندگی بخشی اور انہیں نور عطا فرمایا جسے لے کر لوگوں میں چلتے پھرتے ہیں اور کہا گیا ہے کہ اس سے مراد حضرت عمار بن یاسر ؓ ہیں اور ظلمات میں جو پھنسا ہوا ہے اس سے مراد ابو جہل ہے۔ صحیح یہی ہے کہ آیت عام ہے ہر مومن اور کافر کی مثال ہے، کافروں کی نگاہ میں ان کی اپنی جہالت و ضلالت اسی طرح آراستہ و پیراستہ کر کے دکھائی جاتی ہے۔ یہ بھی اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر ہے کہ وہ اپنی برائیوں کو ہی اچھائیاں سمجھتے ہیں۔ مسند کی ایک حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کو اندھیرے میں پیدا کر کے پھر اپنا نور ان پر ڈالا جسے اس نور کا حصہ ملا اس نے دنیا میں آ کر راہ پائی اور جو وہاں محروم رہا وہ یہاں بھی بہکا ہی رہا، جیسے فرمان ہے کہ اللہ نے اپنے بندوں کو اندھیروں سے اجالے کی طرف لے جاتا ہے اور جیسے فرمان ہے اندھا اور دیکھتا اور اندھیرا اور روشنی برابر نہیں۔
123
View Single
وَكَذَٰلِكَ جَعَلۡنَا فِي كُلِّ قَرۡيَةٍ أَكَٰبِرَ مُجۡرِمِيهَا لِيَمۡكُرُواْ فِيهَاۖ وَمَا يَمۡكُرُونَ إِلَّا بِأَنفُسِهِمۡ وَمَا يَشۡعُرُونَ
And similarly, We have made in every town leaders among its criminals that they may conspire in it; and they do not conspire except against themselves and they do not have perception.
اور اسی طرح ہم نے ہر بستی میں وڈیروں (اور رئیسوں) کو وہاں کے جرائم کا سرغنہ بنایا تاکہ وہ اس (بستی) میں مکاریاں کریں، اور وہ (حقیقت میں) اپنی جانوں کے سوا کسی (اور) سے فریب نہیں کر رہے اور وہ (اس کے انجامِ بد کا) شعور نہیں رکھتے
Tafsir Ibn Kathir
Evil Plots of the Leaders of the Criminals and their Subsequent Demise
Allah says: Just as We appointed chiefs and leaders for the criminals who call to disbelief, hinder from the path of Allah, and oppose and defy you in your town, O Muhammad. Such was also the case with the Messengers before you, who were tested with the same. But the good end was always theirs.' Allah said in other Ayat,
وَكَذَلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِىٍّ عَدُوّاً مِّنَ الْمُجْرِمِينَ
(Thus have We made for every Prophet an enemy among the criminals.) 25:31 Allah said,
وَإِذَآ أَرَدْنَآ أَن نُّهْلِكَ قَرْيَةً أَمَرْنَا مُتْرَفِيهَا فَفَسَقُواْ فِيهَا
(And when We decide to destroy a town, We send a definite order to those among them who lead a life of luxury, and they transgress therein.) 17:16 meaning, We command them to obey Us, but they defy the command and as a consequence, We destroy them. It was also said that, "We send a definite order", in the last Ayah means, "We decree for them," as Allah stated here
لِيَمْكُرُواْ فِيهَا
(to plot therein.) Ibn Abi Talhah reported that Ibn `Abbas explained the Ayah
أَكَـبِرَ مُجْرِمِيهَا لِيَمْكُرُواْ فِيهَا
(. ..great ones of its wicked people to plot therein.) "We give the leadership to these wicked ones and they commit evil in it. When they do this, We destroy them with Our torment." Mujahid and Qatadah said that in the Ayah,
أَكَـبِرَ مُجْرِمِيهَا
(great ones) refers to leaders. I say that this is also the meaning of Allah's statements,
وَمَآ أَرْسَلْنَا فِى قَرْيَةٍ مِّن نَّذِيرٍ إِلاَّ قَالَ مُتْرَفُوهَآ إِنَّا بِمَآ أُرْسِلْتُمْ بِهِ كَـفِرُونَ - وَقَالُواْ نَحْنُ أَكْثَـرُ أَمْوَلاً وَأَوْلَـداً وَمَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِينَ
(And We did not send a warner to a township, but those who were given the worldly wealth and luxuries among them, said: "We believe not in what you have been sent with." And they say: "We have too much wealth and too many children and we are not going to suffer punishment.") 34:34-35 And,
وَكَذَلِكَ مَآ أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ فِى قَرْيَةٍ مِّن نَّذِيرٍ إِلاَّ قَالَ مُتْرَفُوهَآ إِنَّا وَجَدْنَآ ءَابَآءَنَا عَلَى أُمَّةٍ وَإِنَّا عَلَى ءَاثَـرِهِم مُّقْتَدُونَ
(And similarly, We sent not a warner before you to any town but the luxurious ones among them said: "We found our fathers following a certain way and religion, and we will indeed follow their footsteps.") 43:23 `Plot' in the Ayah 6:123 refers to beautified speech and various actions with which the evil ones call to misguidance. Allah said about the people of Prophet Nuh, peace be upon him,
وَمَكَرُواْ مَكْراً كُبَّاراً
(And they have plotted a mighty plot. ) 71:22 Allah said,
وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُواْ لَن نُّؤْمِنَ بِهَـذَا الْقُرْءَانِ وَلاَ بِالَّذِى بَيْنَ يَدَيْهِ وَلَوْ تَرَى إِذِ الظَّـلِمُونَ مَوْقُوفُونَ عِندَ رَبِّهِمْ يَرْجِعُ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ الْقَوْلَ يَقُولُ الَّذِينَ اسْتُضْعِفُواْ لِلَّذِينَ اسْتَكْبَرُواْ لَوْلاَ أَنتُمْ لَكُنَّا مُؤْمِنِينَ - قَالَ الَّذِينَ اسْتَكْبَرُواْ لِلَّذِينَ اسْتُضْعِفُواْ أَنَحْنُ صَدَدنَـكُمْ عَنِ الْهُدَى بَعْدَ إِذْ جَآءَكُمْ بَلْ كُنتُمْ مُّجْرِمِينَ وَقَالَ الَّذِينَ اسْتُضْعِفُواْ لِلَّذِينَ اسْتَكْبَرُواْ بَلْ مَكْرُ الَّيْلِ وَالنَّهَارِ إِذْ تَأْمُرُونَنَآ أَن نَّكْفُرَ بِاللَّهِ وَنَجْعَلَ لَهُ أَندَاداً
(But if you could see when the wrongdoers will be made to stand before their Lord, how they will cast the (blaming) word one to another! Those who were deemed weak will say to those who were arrogant: "Had it not been for you, we should certainly have been believers." And those who were arrogant will say to those who were deemed weak: "Did we keep you back from guidance after it had come to you Nay, but you were criminals." Those who were deemed weak will say to those who were arrogant: "Nay, but it was your plotting by night and day, when you ordered us to disbelieve in Allah and set up rivals for Him!") 34:31-33. Ibn Abi Hatim reported that Ibn Abi `Umar said that Sufyan said, "Every `plot' mentioned in the Qur'an refers to actions." Allah's statement,
وَمَا يَمْكُرُونَ إِلاَّ بِأَنفُسِهِمْ وَمَا يَشْعُرُونَ
(But they plot not except against themselves, and they perceive (it) not.) means, the harm of their wicked plots, as well as misguiding those whom they lead astray, will only strike them. Allah said in other Ayat,
وَلَيَحْمِلُنَّ أَثْقَالَهُمْ وَأَثْقَالاً مَّعَ أَثْقَالِهِمْ
(And verily, they shall bear their own loads, and other loads besides their own.) 29:13 and,
وَمِنْ أَوْزَارِ الَّذِينَ يُضِلُّونَهُمْ بِغَيْرِ عِلْمٍ أَلاَ سَآءَ مَا يَزِرُونَ
(And also of the burdens of those whom they misled without knowledge. Evil indeed is that which they shall bear!) 16:25. Allah said;
وَإِذَا جَآءَتْهُمْ ءَايَةٌ قَالُواْ لَن نُّؤْمِنَ حَتَّى نُؤْتَى مِثْلَ مَآ أُوتِىَ رُسُلُ اللَّهِ
(And when there comes to them a sign they say: "We shall not believe until we receive the like of that which the Messengers of Allah received.") When there comes to them a sign they say,
لَن نُّؤْمِنَ حَتَّى نُؤْتَى مِثْلَ مَآ أُوتِىَ رُسُلُ اللَّهِ
("We shall not believe until we receive the like of that which the Messengers of Allah received.") until the angels bring us the Message from Allah, just as they brought it to the Messengers. In another Ayah, Allah said,
وَقَالَ الَّذِينَ لاَ يَرْجُونَ لِقَآءَنَا لَوْلاَ أُنزِلَ عَلَيْنَا الْمَلَـئِكَةُ أَوْ نَرَى رَبَّنَا
(And those who expect not a meeting with Us said: "Why are not the angels sent down to us, or why do we not see our Lord") 25:21. Allah's statement,
اللَّهُ أَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهُ
(Allah knows best with whom to entrust His Message.) means, He knows best with whom His Message should be given and which of His creatures are suitable for it. Allah said in other Ayat,
وَقَالُواْ لَوْلاَ نُزِّلَ هَـذَا الْقُرْءَانُ عَلَى رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْيَتَيْنِ عَظِيمٍ أَهُمْ يَقْسِمُونَ رَحْمَةَ رَبِّكَ
(And they say: "Why is not this Qur'an sent down to some great man of the two towns" Is it they who would portion out the mercy of your Lord) 43:31-32. They said, why was not this Qur'an revealed to a mighty, respectable leader, honored by us,
مِّنَ الْقَرْيَتَيْنِ
(...from one of the two towns) Of Makkah and At-Ta'if. This is because they, may Allah curse them, belittled the Messenger out of envy, transgression, rebellion and defiance. Allah described them,
وَإِذَا رَأَوْكَ إِن يَتَّخِذُونَكَ إِلاَّ هُزُواً أَهَـذَا الَّذِى بَعَثَ اللَّهُ رَسُولاً
(And when they see you, they only mock: "Is this the one whom Allah has sent as a Messenger") 25:41 and
وَإِذَا رَآكَ الَّذِينَ كَفَرُواْ إِن يَتَّخِذُونَكَ إِلاَّ هُزُواً أَهَـذَا الَّذِى يَذْكُرُ آلِهَتَكُمْ وَهُمْ بِذِكْرِ الرَّحْمَـنِ هُمْ كَـفِرُونَ
(And when those who disbelieved see you, they only mock at you: "Is this the one who talks about your gods" While they disbelieve at the mention of the Most Gracious (Allah).) 21:36, and,
وَلَقَدِ اسْتُهْزِىءَ بِرُسُلٍ مِّن قَبْلِكَ فَحَاقَ بِالَّذِينَ سَخِرُواْ مِنْهُمْ مَّا كَانُواْ بِهِ يَسْتَهْزِءُونَ
(Indeed Messengers were mocked before, but the scoffers were surrounded by that, whereat they used to mock.) 21:41
The Disbelievers Admit to the Prophet's Nobility of Lineage
The disbelievers did all of this although they admitted to the Prophet's virtue, honorable lineage, respectable ancestry and purity of household and upbringing, may Allah, His angels, and the believers send blessings upon him. The disbelievers used to call the Prophet , before he received revelation, `Al-Amin' -- the Truthful. The leader of the Quraysh disbelievers, Abu Sufyan, had to admit to this fact when Heraclius, emperor of Rome, asked him, "How honorable is his (the Prophet's) ancestral lineage among you" Abu Sufyan answered, "His ancestry is highly regarded among us." Heraclius asked, "Do you find that he lied, before he started his mission" Abu Sufyan replied, "No." The emperor of Rome relied on the honor and purity of the Prophet to recognize the truth of his prophethood and what he came with. Imam Ahmad recorded that Wathilah bin Al-Asqa` said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«إِنَّ اللهَ اصْطَفَى مِنْ وَلَدِ إِبْرَاهِيمَ إِسْمَاعِيلَ، وَاصْطَفَى مِنْ بَنِي إِسْمَاعِيلَ بَنِي كِنَانَةَ وَاصْطَفَى مِنْ بَنِي كِنَانَةَ قُرَيْشًا وَاصْطَفَى مِنْنُقرَيْشٍ بَنِي هَاشِمٍ وَاصْطَفَانِي مِنْ بَنِي هَاشِم»
(Verily, Allah has chosen Isma`il from the offspring of Ibrahim, Bani Kinanah from the offspring of Isma`il, Quraysh from Bani Kinanah, Bani Hashim from Quraysh and, He has chosen me from Bani Hashim.) Muslim recorded this Hadith. Al-Bukhari recorded that Abu Hurayrah said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«بُعِثْتُ مِنْ خَيْرِ قُرُونِ بَنِي آدَمَ قَرْنًا فَقَرْنًا، حَتَّى بُعِثْتُ مِنَ الْقَرْنِ الَّذِي كُنْتُ فِيه»
(I was chosen from a succession of the best generations of the Children of Adam, until the generation I was sent in.) Allah's said,
سَيُصِيبُ الَّذِينَ أَجْرَمُواْ صَغَارٌ عِندَ اللَّهِ وَعَذَابٌ شَدِيدٌ
(Humiliation and disgrace from Allah and a severe torment will overtake the criminals...) This is a stern threat and sure promise from Allah for those who arrogantly refrain from obeying His Messengers and adhering to what they came with. On the Day of Resurrection, they will suffer humiliation and eternal disgrace before Allah, because they were arrogant in the worldly life. This is why it is befitting that they earn disgrace on the Day of Resurrection. Allah said in another Ayah,
إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِى سَيَدْخُلُونَ جَهَنَّمَ دَخِرِينَ
(Verily, those who scorn My worship, they will surely enter Hell in humiliation!) 40:60 disgrace and dishonor. Allah said next,
وَعَذَابٌ شَدِيدٌ بِمَا كَانُواْ يَمْكُرُونَ
(and a severe torment for that which they used to plot.) Since plotting usually takes place in secret and involves treachery and deceit, the disbelievers were recompensed with severe torment from Allah on the Day of Resurrection, as a just reckoning,
وَلاَ يَظْلِمُ رَبُّكَ أَحَدًا
(And your Lord treats no one with injustice) 18:49 Allah said in another Ayah,
يَوْمَ تُبْلَى السَّرَآئِرُ
(The Day when all the secrets will be examined. ) 86:9 Meaning, the secrets, hidden thoughts and intentions will be exposed. In the Two Sahihs, it is recorded that the Messenger of Allah ﷺ said,
«يُنْصَبُ لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ عِنْدَ اسْتِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَيُقَالُ: هَذِهِ غَدْرَةُ فُلَانِ بْنِ فُلَانِ بْنِ فُلَان»
(A banner will be raised for every deceitful person from his anus on the Day of Resurrection, and it will say; `This is the treacherous plot of so-and-so, son of so-and-so, son of so-and-so.,) The wisdom in this is that since a plot occurs in secret, and people are usually unaware of it, then on the Day of Resurrection the plot itself will become public news testifying to the actions of those who committed it.
بستیوں کے رئیس گمراہ ہوجائیں تو تباہی کی علامت ہوتے ہیں ان آیتوں میں بھی اللہ تعالیٰ اپنے نبی کی تسکین فرماتا ہے اور ساتھ ہی کفار کو ہوشیار کرتا ہے، فرماتا ہے کہ جیسے آپ کی اس بستی میں روسائے کفر موجود ہیں جو دوسروں کو بھی دین برحق سے روکتے ہیں اسی طرح ہر پیغمبر کے زمانے میں اس کی بستی میں کفر کے ستون اور مرکز رہے ہیں لیکن آخر کار و غارت اور تباہ ہوتے ہیں اور نتیجہ ہمیشہ نبیوں کا ہی اچھا رہتا ہے جیسے فرمایا کہ ہر نبی کے دشمن ان کے زمانے کے گنہگار رہے اور آیت میں ہے ہم جب کسی بستی کو تباہ کرنا چاہتے ہیں تو وہاں کے رئیسوں کو کچھ حکم احکام دیتے ہیں جس میں وہ کھلم کھلا ہماری نافرمانی کرتے ہیں پس اطاعت سے گریز کرنے پر عذابوں میں گھر جاتے ہیں، وہاں کے شریر لوگ اوج پر آجاتے ہیں پھر بستی ہلاک ہوتی ہے اور قسمت کا ان مٹ لکھا سامنے آجاتا ہے، چناچہ اور آیتوں میں ہے کہ جہاں کہیں کوئی پیغمبر آیا وہاں کے رئیسوں اور بڑے لوگوں نے جھٹ سے کہہ دیا کہ ہم تمہارے رسالت کے منکر ہیں، مال میں اولاد میں ہم تم سے زیادہ ہیں اور ہم اسے بھی مانتے نہیں کہ ہمیں سزا ہو اور آیت میں ہے کہ ہم نے جس بستی میں جس رسول کو بھیجا وہاں کے بڑے لوگوں نے جواب دیا کہ ہم نے تو جس طریقے پر اپنے بڑوں کو پایا ہے ہم تو اسی پر چلے چلیں گے، مکر سے مراد گمراہی کی طرف بلانا ہے اور اپنی چکنی چپڑی باتوں میں لوگوں کو پھنسانا ہے جیسے کہ قوم نوح کے بارے میں ہے آیت (وَمَكَرُوْا مَكْرًا كُبَّارًا) 71۔ نوح :22) قیامت کے دن بھی جبکہ یہ ظالم اللہ کے سامنے کھڑے ہوں گے ایک دوسرے کو مورد الزام ٹھہرائیں گے جھوٹے لوگ بڑے لوگوں سے کہیں گے کہ اگر تم نہ ہوتے تو ہم تو مسلمان ہوجاتے وہ جواب دیں گے کہ ہم نے تمہیں ہدایت سے کب روکا تھا ؟ تم تو خود گنہگار تھے، یہ کہیں گے تمہاری دن رات کی فتنہ انگیزیوں نے اور کفر و شرک کی دعوت نے ہمیں گمراہ کردیا، مکر کے معنی حضرت سفیان نے ہر جگہ عمل کے کئے ہیں پھر فرماتا ہے کہ ان کے مکر کا وبال انہی پر پڑے گا لیکن انہیں اس کا شعور نہیں، جن لوگوں کو انہوں نے بہکایا ان کا وبال بھی انہیں کے دوش پر ہوگا جیسے فرمان ہے آیت (وَلَيَحْمِلُنَّ اَثْــقَالَهُمْ وَاَثْــقَالًا مَّعَ اَثْقَالِهِمْ ۡ وَلَيُسْـَٔــلُنَّ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ عَمَّا كَانُوْا يَفْتَرُوْنَ) 29۔ العنکبوت :13) یعنی اپنے بوجھ کے ساتھ ان کے بوجھ بھی ڈھوئیں گے، جن کو بےعلمی کے ساتھ انہوں نے بہکایا تھا۔ جب کوئی نشان اور دلیل دیکھتے ہیں تو کہہ دیتے ہیں کہ کچھ بھی ہو جب تک اللہ کا پیغام فرشتے کی معرفت خود ہمیں نہ آئے ہم تو باور کرنے والے نہیں۔ کہا کرتے تھے کہ ہم پر فرشتے کیوں نازل نہیں ہوتے ؟ اللہ ہمیں اپنا دیدار کیوں نہیں دکھاتا ؟ حالانکہ رسالت کے مستحق کی اصلی جگہ کو اللہ ہی جانتا ہے۔ ان کا ایک اعتراض یہ بھی تھا کہ ان دونوں بستیوں میں کسی بڑے رئیس پر یہ قرآن کیوں نہ اترا ؟ جس کے جواب میں اللہ عز وجل نے فرمایا کیا تیرے رب کی رحمت کے تقسیم کرنے والے وہ ہیں ؟ پس مکہ یا طائف کے کسی رئیس پر قرآن کے نازل نہ ہونے سے وہ آنحضرت کی تحقیر کا ارادہ کرتے تھے اور یہ صرف ضد اور تکبر کی بنا پر تھا، جیسے فرمان ہے کہ تجھے دیکھتے ہی یہ لوگ مذاق اڑاتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں کہ کیا یہی ہے جو تمہارے معبودوں کا ذکر کیا کرتا ہے ؟ یہ لوگ ذکر رحمن کے منکر ہیں، کہا کرتے تھے کہ اچھا یہی ہیں جنہیں اللہ نے اپنا رسول بنایا ؟ نتیجہ یہ ہوا کہ ان مسخروں کا مسخرا پن انہی پر الٹا پڑا، انہیں ماننا ہی پڑا تھا کہ آپ شریف النسب ہیں آپ سچے اور امین ہیں یہاں تک کہ نبوت سے پہلے قوم کی طرف سے آپ کو امین کا خطاب ملا تھا۔ ابو سفیان جیسے ان کافر قریشیوں کے سردار نے بھی دربار ہرقل میں بھی حضور کے عالی نسب ہونے اور سچے ہونے کی شہادت دی تھی۔ جس سے شاہ روم نے حضور کی صداقت طہارت نبوت وغیرہ کو مان لیا تھا، مسند کی حدیث میں ہے حضور فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے اولاد ابراہیم سے اسمعیل کو پسند فرمایا۔ اولاد اسماعیل سے بنو کنانہ کو پسند فرمایا۔ بنو کنانہ سے قریش کو قریش میں سے بنو ہاشم کو اور بنو ہاشم میں سے مجھے۔ فرمان ہے کہ یکے بعد دیگرے قرنوں میں سے میں سب سے بہتر زمانے میں پیغمبر بنایا گیا۔ ایک مرتبہ جبکہ آپ کو لوگوں کی بعض کہی ہوئی باتیں پہنچیں تو آپ منبر پر تشریف لائے اور لوگوں سے پوچھا میں کون ہوں ؟ انہوں نے کہا آپ اللہ کے رسول ہیں۔ فرمایا میں محمد بن عبداللہ بن عبد المطلب ہوں اللہ تعالیٰ نے اپنی تمام مخلوق میں مجھے بہتر بنایا ہے مخلوق کو جب دو حصوں میں تقسیم کیا تو مجھے ان دونوں میں جو بہتر حصہ تھا اس میں کیا پھر قبیلوں کی تقسیم کے وقت مجھے سب سے بہتر قیبلے میں کیا پھر جب گھرداریوں میں تقسیم کیا تو مجھے سب سے اچھے گھرانے میں بنایا پس میں گھرانے کے اعتبار سے اور ذات کے اعتبار سے تم سب سے بہتر ہوں صلوات اللہ وسلامیہ علیہ حضرت جبرائیل نے ایک مرتبہ آپ سے فرمایا میں نے تمام مشرق و مغرب ٹٹول لیا لیکن آپ سے زیادہ افضل کسی کو نہیں پایا (حاکم بہیقی) مسند احمد میں ہے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے دلوں کو دیکھا اور سب سے بہتر دل حضرت محمد ﷺ کا پایا۔ پھر مخلوق کے دلوں پر نگاہ ڈالی تو سب سے بہتر دل والے اصہاب رسول پائے پس حضور کو اپنا خاص چیدہ رسول بنایا اور اصہاب کو آپ کا وزیر بنایا جو آپ کے دین کے دشمنوں کے دشمن ہیں۔ پس یہ مسلمان جس چیز کو بہتر سمجھیں وہ اللہ وحدہ لاشریک کے نزدیک بھی بہتر ہے اور جسے یہ برا سمجھیں وہ اللہ کے نزدیک بھی بری ہے۔ ایک باہر کے شخص نے حضرت عبداللہ بن عباس کو مسجد کے دروازے سے آتا ہوا دیکھ کر مرعوب ہو کر لوگوں سے پوچھا یہ کون بزرگ ہیں ؟ لوگوں نے کہا یہ رسول کریم ﷺ کے چچا کے لڑکے حضرت عبداللہ بن عباس ہیں ؓ۔ تو ان کے منہ سے بےساختہ یہ آیت نکلی کہ نبویت کی جگہ کو اللہ ہی بخوبی جانتا ہے، پھر فرماتا ہے کہ جو لوگ اس عظیم الشان نبی کی نبوت میں شک شبہ کر رہے ہیں اطاعت سے منہ پھیر رہے ہیں انہیں اللہ کے سامنے قیامت کے دن بڑی ذلت اٹھانی پڑے گی دنیا کے تکبر کی سزا خواری کی صورت میں انہیں ملے گی جو ان پر دائمی ہوگی۔ جیسے فرمان ہے کہ جو لوگ میری عبادت سے جی چراتے ہیں وہ ذلیل و خوار ہو کر جہنم میں جائیں گے۔ انہیں ان کے مکر کی سزا اور سخت سزا ملے گی چونکہ مکاروں کی چالیں خفیہ اور ہلکی ہوتی ہیں اس کے بدلے میں عذاب علانیہ اور سخت ہوں گے۔ یہ اللہ کا ظلم نہیں بلکہ ان کا پورا بدلہ ہے اس دن ساری چھپی عیاریاں کھل جائیں گی حضور کا ارشاد ہے کہ ہر بد عہد کی رانوں کے پاس قیامت کے دن ایک جھنڈا لہراتا ہوگا اور اعلان ہوتا ہوگا کہ یہ فلاں بن فلاں کی غداری ہے پس اس دنیا کی پوشیدگی اس طرح قیامت کے دن ظاہر ہوگی۔ اللہ ہمیں بچائے۔
124
View Single
وَإِذَا جَآءَتۡهُمۡ ءَايَةٞ قَالُواْ لَن نُّؤۡمِنَ حَتَّىٰ نُؤۡتَىٰ مِثۡلَ مَآ أُوتِيَ رُسُلُ ٱللَّهِۘ ٱللَّهُ أَعۡلَمُ حَيۡثُ يَجۡعَلُ رِسَالَتَهُۥۗ سَيُصِيبُ ٱلَّذِينَ أَجۡرَمُواْ صَغَارٌ عِندَ ٱللَّهِ وَعَذَابٞ شَدِيدُۢ بِمَا كَانُواْ يَمۡكُرُونَ
And when a sign comes to them, they say, “We will not believe until we are given the same which Allah’s Noble Messengers were given”; Allah knows best where to place His message (prophethood); soon the guilty will be afflicted with disgrace before Allah and a severe punishment due to their scheming.
اور جب ان کے پاس کوئی نشانی آتی ہے (تو) کہتے ہیں: ہم ہرگز ایمان نہیں لائیں گے یہاں تک کہ ہمیں بھی ویسی ہی (نشانی) دی جائے جیسی اللہ کے رسولوں کو دی گئی ہے۔ اللہ خوب جانتا ہے کہ اسے اپنی رسالت کا محل کسے بنانا ہے۔ عنقریب مجرموں کو اللہ کے حضور ذلت رسید ہوگی اور سخت عذاب بھی (ملے گا) اس وجہ سے کہ وہ مکر (اور دھوکہ دہی) کرتے تھے
Tafsir Ibn Kathir
Evil Plots of the Leaders of the Criminals and their Subsequent Demise
Allah says: Just as We appointed chiefs and leaders for the criminals who call to disbelief, hinder from the path of Allah, and oppose and defy you in your town, O Muhammad. Such was also the case with the Messengers before you, who were tested with the same. But the good end was always theirs.' Allah said in other Ayat,
وَكَذَلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِىٍّ عَدُوّاً مِّنَ الْمُجْرِمِينَ
(Thus have We made for every Prophet an enemy among the criminals.) 25:31 Allah said,
وَإِذَآ أَرَدْنَآ أَن نُّهْلِكَ قَرْيَةً أَمَرْنَا مُتْرَفِيهَا فَفَسَقُواْ فِيهَا
(And when We decide to destroy a town, We send a definite order to those among them who lead a life of luxury, and they transgress therein.) 17:16 meaning, We command them to obey Us, but they defy the command and as a consequence, We destroy them. It was also said that, "We send a definite order", in the last Ayah means, "We decree for them," as Allah stated here
لِيَمْكُرُواْ فِيهَا
(to plot therein.) Ibn Abi Talhah reported that Ibn `Abbas explained the Ayah
أَكَـبِرَ مُجْرِمِيهَا لِيَمْكُرُواْ فِيهَا
(. ..great ones of its wicked people to plot therein.) "We give the leadership to these wicked ones and they commit evil in it. When they do this, We destroy them with Our torment." Mujahid and Qatadah said that in the Ayah,
أَكَـبِرَ مُجْرِمِيهَا
(great ones) refers to leaders. I say that this is also the meaning of Allah's statements,
وَمَآ أَرْسَلْنَا فِى قَرْيَةٍ مِّن نَّذِيرٍ إِلاَّ قَالَ مُتْرَفُوهَآ إِنَّا بِمَآ أُرْسِلْتُمْ بِهِ كَـفِرُونَ - وَقَالُواْ نَحْنُ أَكْثَـرُ أَمْوَلاً وَأَوْلَـداً وَمَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِينَ
(And We did not send a warner to a township, but those who were given the worldly wealth and luxuries among them, said: "We believe not in what you have been sent with." And they say: "We have too much wealth and too many children and we are not going to suffer punishment.") 34:34-35 And,
وَكَذَلِكَ مَآ أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ فِى قَرْيَةٍ مِّن نَّذِيرٍ إِلاَّ قَالَ مُتْرَفُوهَآ إِنَّا وَجَدْنَآ ءَابَآءَنَا عَلَى أُمَّةٍ وَإِنَّا عَلَى ءَاثَـرِهِم مُّقْتَدُونَ
(And similarly, We sent not a warner before you to any town but the luxurious ones among them said: "We found our fathers following a certain way and religion, and we will indeed follow their footsteps.") 43:23 `Plot' in the Ayah 6:123 refers to beautified speech and various actions with which the evil ones call to misguidance. Allah said about the people of Prophet Nuh, peace be upon him,
وَمَكَرُواْ مَكْراً كُبَّاراً
(And they have plotted a mighty plot. ) 71:22 Allah said,
وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُواْ لَن نُّؤْمِنَ بِهَـذَا الْقُرْءَانِ وَلاَ بِالَّذِى بَيْنَ يَدَيْهِ وَلَوْ تَرَى إِذِ الظَّـلِمُونَ مَوْقُوفُونَ عِندَ رَبِّهِمْ يَرْجِعُ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ الْقَوْلَ يَقُولُ الَّذِينَ اسْتُضْعِفُواْ لِلَّذِينَ اسْتَكْبَرُواْ لَوْلاَ أَنتُمْ لَكُنَّا مُؤْمِنِينَ - قَالَ الَّذِينَ اسْتَكْبَرُواْ لِلَّذِينَ اسْتُضْعِفُواْ أَنَحْنُ صَدَدنَـكُمْ عَنِ الْهُدَى بَعْدَ إِذْ جَآءَكُمْ بَلْ كُنتُمْ مُّجْرِمِينَ وَقَالَ الَّذِينَ اسْتُضْعِفُواْ لِلَّذِينَ اسْتَكْبَرُواْ بَلْ مَكْرُ الَّيْلِ وَالنَّهَارِ إِذْ تَأْمُرُونَنَآ أَن نَّكْفُرَ بِاللَّهِ وَنَجْعَلَ لَهُ أَندَاداً
(But if you could see when the wrongdoers will be made to stand before their Lord, how they will cast the (blaming) word one to another! Those who were deemed weak will say to those who were arrogant: "Had it not been for you, we should certainly have been believers." And those who were arrogant will say to those who were deemed weak: "Did we keep you back from guidance after it had come to you Nay, but you were criminals." Those who were deemed weak will say to those who were arrogant: "Nay, but it was your plotting by night and day, when you ordered us to disbelieve in Allah and set up rivals for Him!") 34:31-33. Ibn Abi Hatim reported that Ibn Abi `Umar said that Sufyan said, "Every `plot' mentioned in the Qur'an refers to actions." Allah's statement,
وَمَا يَمْكُرُونَ إِلاَّ بِأَنفُسِهِمْ وَمَا يَشْعُرُونَ
(But they plot not except against themselves, and they perceive (it) not.) means, the harm of their wicked plots, as well as misguiding those whom they lead astray, will only strike them. Allah said in other Ayat,
وَلَيَحْمِلُنَّ أَثْقَالَهُمْ وَأَثْقَالاً مَّعَ أَثْقَالِهِمْ
(And verily, they shall bear their own loads, and other loads besides their own.) 29:13 and,
وَمِنْ أَوْزَارِ الَّذِينَ يُضِلُّونَهُمْ بِغَيْرِ عِلْمٍ أَلاَ سَآءَ مَا يَزِرُونَ
(And also of the burdens of those whom they misled without knowledge. Evil indeed is that which they shall bear!) 16:25. Allah said;
وَإِذَا جَآءَتْهُمْ ءَايَةٌ قَالُواْ لَن نُّؤْمِنَ حَتَّى نُؤْتَى مِثْلَ مَآ أُوتِىَ رُسُلُ اللَّهِ
(And when there comes to them a sign they say: "We shall not believe until we receive the like of that which the Messengers of Allah received.") When there comes to them a sign they say,
لَن نُّؤْمِنَ حَتَّى نُؤْتَى مِثْلَ مَآ أُوتِىَ رُسُلُ اللَّهِ
("We shall not believe until we receive the like of that which the Messengers of Allah received.") until the angels bring us the Message from Allah, just as they brought it to the Messengers. In another Ayah, Allah said,
وَقَالَ الَّذِينَ لاَ يَرْجُونَ لِقَآءَنَا لَوْلاَ أُنزِلَ عَلَيْنَا الْمَلَـئِكَةُ أَوْ نَرَى رَبَّنَا
(And those who expect not a meeting with Us said: "Why are not the angels sent down to us, or why do we not see our Lord") 25:21. Allah's statement,
اللَّهُ أَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهُ
(Allah knows best with whom to entrust His Message.) means, He knows best with whom His Message should be given and which of His creatures are suitable for it. Allah said in other Ayat,
وَقَالُواْ لَوْلاَ نُزِّلَ هَـذَا الْقُرْءَانُ عَلَى رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْيَتَيْنِ عَظِيمٍ أَهُمْ يَقْسِمُونَ رَحْمَةَ رَبِّكَ
(And they say: "Why is not this Qur'an sent down to some great man of the two towns" Is it they who would portion out the mercy of your Lord) 43:31-32. They said, why was not this Qur'an revealed to a mighty, respectable leader, honored by us,
مِّنَ الْقَرْيَتَيْنِ
(...from one of the two towns) Of Makkah and At-Ta'if. This is because they, may Allah curse them, belittled the Messenger out of envy, transgression, rebellion and defiance. Allah described them,
وَإِذَا رَأَوْكَ إِن يَتَّخِذُونَكَ إِلاَّ هُزُواً أَهَـذَا الَّذِى بَعَثَ اللَّهُ رَسُولاً
(And when they see you, they only mock: "Is this the one whom Allah has sent as a Messenger") 25:41 and
وَإِذَا رَآكَ الَّذِينَ كَفَرُواْ إِن يَتَّخِذُونَكَ إِلاَّ هُزُواً أَهَـذَا الَّذِى يَذْكُرُ آلِهَتَكُمْ وَهُمْ بِذِكْرِ الرَّحْمَـنِ هُمْ كَـفِرُونَ
(And when those who disbelieved see you, they only mock at you: "Is this the one who talks about your gods" While they disbelieve at the mention of the Most Gracious (Allah).) 21:36, and,
وَلَقَدِ اسْتُهْزِىءَ بِرُسُلٍ مِّن قَبْلِكَ فَحَاقَ بِالَّذِينَ سَخِرُواْ مِنْهُمْ مَّا كَانُواْ بِهِ يَسْتَهْزِءُونَ
(Indeed Messengers were mocked before, but the scoffers were surrounded by that, whereat they used to mock.) 21:41
The Disbelievers Admit to the Prophet's Nobility of Lineage
The disbelievers did all of this although they admitted to the Prophet's virtue, honorable lineage, respectable ancestry and purity of household and upbringing, may Allah, His angels, and the believers send blessings upon him. The disbelievers used to call the Prophet , before he received revelation, `Al-Amin' -- the Truthful. The leader of the Quraysh disbelievers, Abu Sufyan, had to admit to this fact when Heraclius, emperor of Rome, asked him, "How honorable is his (the Prophet's) ancestral lineage among you" Abu Sufyan answered, "His ancestry is highly regarded among us." Heraclius asked, "Do you find that he lied, before he started his mission" Abu Sufyan replied, "No." The emperor of Rome relied on the honor and purity of the Prophet to recognize the truth of his prophethood and what he came with. Imam Ahmad recorded that Wathilah bin Al-Asqa` said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«إِنَّ اللهَ اصْطَفَى مِنْ وَلَدِ إِبْرَاهِيمَ إِسْمَاعِيلَ، وَاصْطَفَى مِنْ بَنِي إِسْمَاعِيلَ بَنِي كِنَانَةَ وَاصْطَفَى مِنْ بَنِي كِنَانَةَ قُرَيْشًا وَاصْطَفَى مِنْنُقرَيْشٍ بَنِي هَاشِمٍ وَاصْطَفَانِي مِنْ بَنِي هَاشِم»
(Verily, Allah has chosen Isma`il from the offspring of Ibrahim, Bani Kinanah from the offspring of Isma`il, Quraysh from Bani Kinanah, Bani Hashim from Quraysh and, He has chosen me from Bani Hashim.) Muslim recorded this Hadith. Al-Bukhari recorded that Abu Hurayrah said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«بُعِثْتُ مِنْ خَيْرِ قُرُونِ بَنِي آدَمَ قَرْنًا فَقَرْنًا، حَتَّى بُعِثْتُ مِنَ الْقَرْنِ الَّذِي كُنْتُ فِيه»
(I was chosen from a succession of the best generations of the Children of Adam, until the generation I was sent in.) Allah's said,
سَيُصِيبُ الَّذِينَ أَجْرَمُواْ صَغَارٌ عِندَ اللَّهِ وَعَذَابٌ شَدِيدٌ
(Humiliation and disgrace from Allah and a severe torment will overtake the criminals...) This is a stern threat and sure promise from Allah for those who arrogantly refrain from obeying His Messengers and adhering to what they came with. On the Day of Resurrection, they will suffer humiliation and eternal disgrace before Allah, because they were arrogant in the worldly life. This is why it is befitting that they earn disgrace on the Day of Resurrection. Allah said in another Ayah,
إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِى سَيَدْخُلُونَ جَهَنَّمَ دَخِرِينَ
(Verily, those who scorn My worship, they will surely enter Hell in humiliation!) 40:60 disgrace and dishonor. Allah said next,
وَعَذَابٌ شَدِيدٌ بِمَا كَانُواْ يَمْكُرُونَ
(and a severe torment for that which they used to plot.) Since plotting usually takes place in secret and involves treachery and deceit, the disbelievers were recompensed with severe torment from Allah on the Day of Resurrection, as a just reckoning,
وَلاَ يَظْلِمُ رَبُّكَ أَحَدًا
(And your Lord treats no one with injustice) 18:49 Allah said in another Ayah,
يَوْمَ تُبْلَى السَّرَآئِرُ
(The Day when all the secrets will be examined. ) 86:9 Meaning, the secrets, hidden thoughts and intentions will be exposed. In the Two Sahihs, it is recorded that the Messenger of Allah ﷺ said,
«يُنْصَبُ لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ عِنْدَ اسْتِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَيُقَالُ: هَذِهِ غَدْرَةُ فُلَانِ بْنِ فُلَانِ بْنِ فُلَان»
(A banner will be raised for every deceitful person from his anus on the Day of Resurrection, and it will say; `This is the treacherous plot of so-and-so, son of so-and-so, son of so-and-so.,) The wisdom in this is that since a plot occurs in secret, and people are usually unaware of it, then on the Day of Resurrection the plot itself will become public news testifying to the actions of those who committed it.
بستیوں کے رئیس گمراہ ہوجائیں تو تباہی کی علامت ہوتے ہیں ان آیتوں میں بھی اللہ تعالیٰ اپنے نبی کی تسکین فرماتا ہے اور ساتھ ہی کفار کو ہوشیار کرتا ہے، فرماتا ہے کہ جیسے آپ کی اس بستی میں روسائے کفر موجود ہیں جو دوسروں کو بھی دین برحق سے روکتے ہیں اسی طرح ہر پیغمبر کے زمانے میں اس کی بستی میں کفر کے ستون اور مرکز رہے ہیں لیکن آخر کار و غارت اور تباہ ہوتے ہیں اور نتیجہ ہمیشہ نبیوں کا ہی اچھا رہتا ہے جیسے فرمایا کہ ہر نبی کے دشمن ان کے زمانے کے گنہگار رہے اور آیت میں ہے ہم جب کسی بستی کو تباہ کرنا چاہتے ہیں تو وہاں کے رئیسوں کو کچھ حکم احکام دیتے ہیں جس میں وہ کھلم کھلا ہماری نافرمانی کرتے ہیں پس اطاعت سے گریز کرنے پر عذابوں میں گھر جاتے ہیں، وہاں کے شریر لوگ اوج پر آجاتے ہیں پھر بستی ہلاک ہوتی ہے اور قسمت کا ان مٹ لکھا سامنے آجاتا ہے، چناچہ اور آیتوں میں ہے کہ جہاں کہیں کوئی پیغمبر آیا وہاں کے رئیسوں اور بڑے لوگوں نے جھٹ سے کہہ دیا کہ ہم تمہارے رسالت کے منکر ہیں، مال میں اولاد میں ہم تم سے زیادہ ہیں اور ہم اسے بھی مانتے نہیں کہ ہمیں سزا ہو اور آیت میں ہے کہ ہم نے جس بستی میں جس رسول کو بھیجا وہاں کے بڑے لوگوں نے جواب دیا کہ ہم نے تو جس طریقے پر اپنے بڑوں کو پایا ہے ہم تو اسی پر چلے چلیں گے، مکر سے مراد گمراہی کی طرف بلانا ہے اور اپنی چکنی چپڑی باتوں میں لوگوں کو پھنسانا ہے جیسے کہ قوم نوح کے بارے میں ہے آیت (وَمَكَرُوْا مَكْرًا كُبَّارًا) 71۔ نوح :22) قیامت کے دن بھی جبکہ یہ ظالم اللہ کے سامنے کھڑے ہوں گے ایک دوسرے کو مورد الزام ٹھہرائیں گے جھوٹے لوگ بڑے لوگوں سے کہیں گے کہ اگر تم نہ ہوتے تو ہم تو مسلمان ہوجاتے وہ جواب دیں گے کہ ہم نے تمہیں ہدایت سے کب روکا تھا ؟ تم تو خود گنہگار تھے، یہ کہیں گے تمہاری دن رات کی فتنہ انگیزیوں نے اور کفر و شرک کی دعوت نے ہمیں گمراہ کردیا، مکر کے معنی حضرت سفیان نے ہر جگہ عمل کے کئے ہیں پھر فرماتا ہے کہ ان کے مکر کا وبال انہی پر پڑے گا لیکن انہیں اس کا شعور نہیں، جن لوگوں کو انہوں نے بہکایا ان کا وبال بھی انہیں کے دوش پر ہوگا جیسے فرمان ہے آیت (وَلَيَحْمِلُنَّ اَثْــقَالَهُمْ وَاَثْــقَالًا مَّعَ اَثْقَالِهِمْ ۡ وَلَيُسْـَٔــلُنَّ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ عَمَّا كَانُوْا يَفْتَرُوْنَ) 29۔ العنکبوت :13) یعنی اپنے بوجھ کے ساتھ ان کے بوجھ بھی ڈھوئیں گے، جن کو بےعلمی کے ساتھ انہوں نے بہکایا تھا۔ جب کوئی نشان اور دلیل دیکھتے ہیں تو کہہ دیتے ہیں کہ کچھ بھی ہو جب تک اللہ کا پیغام فرشتے کی معرفت خود ہمیں نہ آئے ہم تو باور کرنے والے نہیں۔ کہا کرتے تھے کہ ہم پر فرشتے کیوں نازل نہیں ہوتے ؟ اللہ ہمیں اپنا دیدار کیوں نہیں دکھاتا ؟ حالانکہ رسالت کے مستحق کی اصلی جگہ کو اللہ ہی جانتا ہے۔ ان کا ایک اعتراض یہ بھی تھا کہ ان دونوں بستیوں میں کسی بڑے رئیس پر یہ قرآن کیوں نہ اترا ؟ جس کے جواب میں اللہ عز وجل نے فرمایا کیا تیرے رب کی رحمت کے تقسیم کرنے والے وہ ہیں ؟ پس مکہ یا طائف کے کسی رئیس پر قرآن کے نازل نہ ہونے سے وہ آنحضرت کی تحقیر کا ارادہ کرتے تھے اور یہ صرف ضد اور تکبر کی بنا پر تھا، جیسے فرمان ہے کہ تجھے دیکھتے ہی یہ لوگ مذاق اڑاتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں کہ کیا یہی ہے جو تمہارے معبودوں کا ذکر کیا کرتا ہے ؟ یہ لوگ ذکر رحمن کے منکر ہیں، کہا کرتے تھے کہ اچھا یہی ہیں جنہیں اللہ نے اپنا رسول بنایا ؟ نتیجہ یہ ہوا کہ ان مسخروں کا مسخرا پن انہی پر الٹا پڑا، انہیں ماننا ہی پڑا تھا کہ آپ شریف النسب ہیں آپ سچے اور امین ہیں یہاں تک کہ نبوت سے پہلے قوم کی طرف سے آپ کو امین کا خطاب ملا تھا۔ ابو سفیان جیسے ان کافر قریشیوں کے سردار نے بھی دربار ہرقل میں بھی حضور کے عالی نسب ہونے اور سچے ہونے کی شہادت دی تھی۔ جس سے شاہ روم نے حضور کی صداقت طہارت نبوت وغیرہ کو مان لیا تھا، مسند کی حدیث میں ہے حضور فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے اولاد ابراہیم سے اسمعیل کو پسند فرمایا۔ اولاد اسماعیل سے بنو کنانہ کو پسند فرمایا۔ بنو کنانہ سے قریش کو قریش میں سے بنو ہاشم کو اور بنو ہاشم میں سے مجھے۔ فرمان ہے کہ یکے بعد دیگرے قرنوں میں سے میں سب سے بہتر زمانے میں پیغمبر بنایا گیا۔ ایک مرتبہ جبکہ آپ کو لوگوں کی بعض کہی ہوئی باتیں پہنچیں تو آپ منبر پر تشریف لائے اور لوگوں سے پوچھا میں کون ہوں ؟ انہوں نے کہا آپ اللہ کے رسول ہیں۔ فرمایا میں محمد بن عبداللہ بن عبد المطلب ہوں اللہ تعالیٰ نے اپنی تمام مخلوق میں مجھے بہتر بنایا ہے مخلوق کو جب دو حصوں میں تقسیم کیا تو مجھے ان دونوں میں جو بہتر حصہ تھا اس میں کیا پھر قبیلوں کی تقسیم کے وقت مجھے سب سے بہتر قیبلے میں کیا پھر جب گھرداریوں میں تقسیم کیا تو مجھے سب سے اچھے گھرانے میں بنایا پس میں گھرانے کے اعتبار سے اور ذات کے اعتبار سے تم سب سے بہتر ہوں صلوات اللہ وسلامیہ علیہ حضرت جبرائیل نے ایک مرتبہ آپ سے فرمایا میں نے تمام مشرق و مغرب ٹٹول لیا لیکن آپ سے زیادہ افضل کسی کو نہیں پایا (حاکم بہیقی) مسند احمد میں ہے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے دلوں کو دیکھا اور سب سے بہتر دل حضرت محمد ﷺ کا پایا۔ پھر مخلوق کے دلوں پر نگاہ ڈالی تو سب سے بہتر دل والے اصہاب رسول پائے پس حضور کو اپنا خاص چیدہ رسول بنایا اور اصہاب کو آپ کا وزیر بنایا جو آپ کے دین کے دشمنوں کے دشمن ہیں۔ پس یہ مسلمان جس چیز کو بہتر سمجھیں وہ اللہ وحدہ لاشریک کے نزدیک بھی بہتر ہے اور جسے یہ برا سمجھیں وہ اللہ کے نزدیک بھی بری ہے۔ ایک باہر کے شخص نے حضرت عبداللہ بن عباس کو مسجد کے دروازے سے آتا ہوا دیکھ کر مرعوب ہو کر لوگوں سے پوچھا یہ کون بزرگ ہیں ؟ لوگوں نے کہا یہ رسول کریم ﷺ کے چچا کے لڑکے حضرت عبداللہ بن عباس ہیں ؓ۔ تو ان کے منہ سے بےساختہ یہ آیت نکلی کہ نبویت کی جگہ کو اللہ ہی بخوبی جانتا ہے، پھر فرماتا ہے کہ جو لوگ اس عظیم الشان نبی کی نبوت میں شک شبہ کر رہے ہیں اطاعت سے منہ پھیر رہے ہیں انہیں اللہ کے سامنے قیامت کے دن بڑی ذلت اٹھانی پڑے گی دنیا کے تکبر کی سزا خواری کی صورت میں انہیں ملے گی جو ان پر دائمی ہوگی۔ جیسے فرمان ہے کہ جو لوگ میری عبادت سے جی چراتے ہیں وہ ذلیل و خوار ہو کر جہنم میں جائیں گے۔ انہیں ان کے مکر کی سزا اور سخت سزا ملے گی چونکہ مکاروں کی چالیں خفیہ اور ہلکی ہوتی ہیں اس کے بدلے میں عذاب علانیہ اور سخت ہوں گے۔ یہ اللہ کا ظلم نہیں بلکہ ان کا پورا بدلہ ہے اس دن ساری چھپی عیاریاں کھل جائیں گی حضور کا ارشاد ہے کہ ہر بد عہد کی رانوں کے پاس قیامت کے دن ایک جھنڈا لہراتا ہوگا اور اعلان ہوتا ہوگا کہ یہ فلاں بن فلاں کی غداری ہے پس اس دنیا کی پوشیدگی اس طرح قیامت کے دن ظاہر ہوگی۔ اللہ ہمیں بچائے۔
125
View Single
فَمَن يُرِدِ ٱللَّهُ أَن يَهۡدِيَهُۥ يَشۡرَحۡ صَدۡرَهُۥ لِلۡإِسۡلَٰمِۖ وَمَن يُرِدۡ أَن يُضِلَّهُۥ يَجۡعَلۡ صَدۡرَهُۥ ضَيِّقًا حَرَجٗا كَأَنَّمَا يَصَّعَّدُ فِي ٱلسَّمَآءِۚ كَذَٰلِكَ يَجۡعَلُ ٱللَّهُ ٱلرِّجۡسَ عَلَى ٱلَّذِينَ لَا يُؤۡمِنُونَ
And whomever Allah wills to guide, He opens his bosom for Islam; and whomever He wills to send astray, He makes his bosom narrow and firmly bound as if he were being forced by someone to climb the skies; this is how Allah places the punishment on those who do not believe.
پس اللہ جس کسی کو (فضلاً) ہدایت دینے کا ارادہ فرماتا ہے اس کا سینہ اسلام کے لئے کشادہ فرما دیتا ہے اور جس کسی کو (عدلاً اس کی اپنی خرید کردہ) گمراہی پر ہی رکھنے کا ارادہ فرماتا ہے اس کا سینہ (ایسی) شدید گھٹن کے ساتھ تنگ کر دیتا ہے گویا وہ بمشکل آسمان (یعنی بلندی) پر چڑھ رہا ہو، اسی طرح اللہ ان لوگوں پر عذابِ (ذّلت) واقع فرماتا ہے جو ایمان نہیں لاتے
Tafsir Ibn Kathir
فَمَن يُرِدِ اللَّهُ أَن يَهْدِيَهُ يَشْرَحْ صَدْرَهُ لِلإِسْلَـمِ
(And whomsoever Allah wills to guide, He opens his breast to Islam;) He makes Islam easy for him and strengthens his resolve to embrace it, and these are good signs. Allah said in other Ayat,
أَفَمَن شَرَحَ اللَّهُ صَدْرَهُ لِلإِسْلَـمِ فَهُوَ عَلَى نُورٍ مِّن رَّبِّهِ
(Is he whose breast Allah has opened to Islam, so that he is in light from His Lord (as he who is a non-Muslim)) 39:22 and,
وَلَـكِنَّ اللَّهَ حَبَّبَ إِلَيْكُمُ الايمَـنَ وَزَيَّنَهُ فِى قُلُوبِكُمْ وَكَرَّهَ إِلَيْكُمُ الْكُفْرَ وَالْفُسُوقَ وَالْعِصْيَانَ أُوْلَـئِكَ هُمُ الرَشِدُونَ
(But Allah has endeared the faith to you and has beautified it in your hearts, and has made disbelief, wickedness and disobedience hated by you. Such are they who are the rightly guided.) 49:7 Ibn `Abbas commented on Allah's statement,
فَمَن يُرِدِ اللَّهُ أَن يَهْدِيَهُ يَشْرَحْ صَدْرَهُ لِلإِسْلَـمِ
(And whomsoever Allah wills to guide, He opens his breast to Islam;), "Allah says that He will open his heart to Tawhid and faith in Him." This is the same as was reported from Abu Malik and several others, and it is sound. Allah's statement,
وَمَن يُرِدْ أَن يُضِلَّهُ يَجْعَلْ صَدْرَهُ ضَيِّقاً حَرَجاً
(and whomsoever He wills to send astray, He makes his breast closed and constricted,) refers to inability to accept guidance, thus being deprived of beneficial faith.
كَأَنَّمَا يَصَّعَّدُ فِى السَّمَآءِ
(. ..as if he is climbing up to the sky.) because of the heaviness of faith on him. Sa`id bin Jubayr commented that in this case, "(Islam) finds every path in his heart impassable." Al-Hakam bin Aban said that `Ikrimah narrated from Ibn `Abbas that he commented on:
كَأَنَّمَا يَصَّعَّدُ فِى السَّمَآءِ
(...as if he is climbing up to the sky), "Just as the Son of Adam cannot climb up to the sky, Tawhid and faith will not be able to enter his heart, until Allah decides to allow it into his heart." Imam Abu Ja`far bin Jarir commented: "This is a parable that Allah has given for the heart of the disbeliever, which is completely impassable and closed to faith. Allah says, the example of the disbeliever's inability to accept faith in his heart and that it is too small to accommodate it, is the example of his inability to climb up to the sky, which is beyond his capability and power." He also commented on Allah's statement,
كَذَلِكَ يَجْعَلُ اللَّهُ الرِّجْسَ عَلَى الَّذِينَ لاَ يُؤْمِنُونَ
(Thus Allah puts the Rijs (wrath) on those who believe not.) "Allah says that just as He makes the heart of whomever He decides to misguide, closed and constricted, He also appoints Shaytan for him and for his likes, those who refused to believe in Allah and His Messenger. Consequently, Shaytan lures and hinders them from the path of Allah." `Ali bin Abi Talhah reported that Ibn `Abbas said that, Rijs, refers to Shaytan, while Mujahid said that it refers to all that does not contain goodness. `Abdur-Rahman bin Zayd bin Aslam said that, Rijs, means, `torment'.
جس پر اللہ کا کرم اس پہ راہ ہدایت آسان اللہ کا ارادہ جسے ہدایت کرنے کا ہوتا ہے اس پر نیکی کے راستے آسان ہوجاتے ہیں جیسے فرمان ہے آیت (افمن شرح اللہ صدرہ للاسلام فھو علی نور من ربہ) الخ، یعنی اللہ ان کے سینے اسلام کی طرف کھول دیتا ہے اور انہیں اپنا نور عطا فرماتا ہے اور آیت میں فرمایا آیت (وَلٰكِنَّ اللّٰهَ حَبَّبَ اِلَيْكُمُ الْاِيْمَانَ وَزَيَّنَهٗ فِيْ قُلُوْبِكُمْ وَكَرَّهَ اِلَيْكُمُ الْكُفْرَ وَالْفُسُوْقَ وَالْعِصْيَانَ ۭاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الرّٰشِدُوْنَ) 49۔ الحجرات :7) اللہ نے تمہارے دلوں میں ایمان کی محبت پیدا کردی اور اسے تمہارے دلوں میں زینت دار بنادیا اور کفر فسق اور نافرمانی کی تمہارے دلوں میں کراہیت ڈال دہی یہی لوگ راہ یافتہ اور نیک بخت ہیں۔ ابن عباس فرماتے ہیں اس کا دل ایمان و توہید کی طرف کشادہ ہوجاتا ہے۔ حضور ﷺ سے سوال ہوا کہ سب سے زیادہ دان کون سا مومن ہے ؟ فرمایا سب سے زیادہ موت کو یاد رکھنے والا اور سب سے زیادہ موت کے بعد کی زندگی کے لئے تیاریاں کرنے والا۔ حضور ﷺ سے اس آیت کی بابت سوال ہوا تو فرمایا کہ اس کے دل میں ایک نور ڈال دیا جاتا ہے جس سے اس کا سینہ کھل جاتا ہے لوگوں نے اس کی نشانی درریافت کی تو فرمایا جنت کی طرف جھکنا اور اس کی جانب رغبت کام رکھنا اور دنیا کے فریب سے بھاگنا اور الگ ہونا اور موت کے آنے سے پہلے تیاریاں کرنا ضیقا کی ایک قرأت (ضیقا) بھی ہے (حرجا) کی دوسری (حرجا) بھی ہے یعنی گنہگار یا دونوں کے ایک ہی معنی یعنی تنگ جو ہدایت کے لئے نہ کھلے اور ایمان اس میں جگہ نہ پائے، ایک مرتبہ ایک بادیہ نشین بزرگ سے حضرت عمر فاروق ؓ نے حرجہ کے بارے میں دریافت فرمایا تو اس نے کہا یہ ایک درخت ہوتا ہے جس کے پاس نہ تو چرواہے جاتے ہیں نہ جانور نہ وحشی۔ آپ نے فرمایا سچ ہے ایسا ہی منافق کا دل ہوتا ہے کہ اس میں کوئی بھلائی جگہ پاتی ہی نہیں۔ ابن عباس کا قول ہے کہ اسلام باوجود آسان اور کشادہ ہونے کے اسے سخت اور تنگ معلوم ہوتا ہے خود قرآن میں ہے آیت (وَمَا جَعَلَ عَلَيْكُمْ فِي الدِّيْنِ مِنْ حَرَجٍ) 22۔ الحج :78) اللہ نے تمہارے دین میں کوئی تنگی نہیں رکھی۔ لیکن منافق کا شکی دل اس نعمت سے محروم رہتا ہے اسے لا الہ الا اللہ کا اقرار ایک مصیبت معلوم ہوتی ہے، جیسے کسی پر آسمان پر جڑھائی مشکل ہو، جیے وہ اس کے بس کی بات نہیں اسی طرح توحید و ایمان بھی اس کے قبضے سے باہر ہیں پس مردہ دل والے کبھی بھی اسلام قبول نہیں کرتے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ بےایمانوں پر شیطان مقرر کردیتا ہے جو انہیں بہکاتے رہتے ہیں اور خیر سے ان کے دل کو تنگ کرتے رہتے ہیں۔ نحوست ان پر برستی رہتی ہے اور عذاب ان پر اتر آتے ہیں۔
126
View Single
وَهَٰذَا صِرَٰطُ رَبِّكَ مُسۡتَقِيمٗاۗ قَدۡ فَصَّلۡنَا ٱلۡأٓيَٰتِ لِقَوۡمٖ يَذَّكَّرُونَ
And this is the Straight Path of your Lord; We have explained in detail Our verses for the people who accept advice.
اور یہ (اسلام ہی) آپ کے رب کا سیدھا راستہ ہے، بیشک ہم نے نصیحت قبول کرنے والے لوگوں کے لئے آیتیں تفصیل سے بیان کر دی ہیں
Tafsir Ibn Kathir
وَهَـذَا صِرَطُ رَبِّكَ مُسْتَقِيماً
(And this is the path of your Lord leading straight.) that is, Islam, that We have legislated for you, O Muhammad, by revealing this Qur'an to you, is Allah's straight path.
قَدْ فَصَّلْنَا الآيَـتِ
(We have detailed Our Ayat...) We have explained the Ayat and made them clear and plain,
لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ
(for a people who take heed) those who have sound comprehension and understand what Allah and His Messenger convey to them,
لَهُمْ دَارُ السَّلَـمِ
(For them will be the abode of peace) Paradise,
عِندَ رَبِّهِمْ
(with their Lord.) on the Day of Resurrection. Allah described Paradise as `the abode of peace', because its residents are safe due to their access to the straight path, which conforms to the way of the Prophets. And just as their way was not wicked, they earned the abode of peace which is free from all wickedness.
وَهُوَ وَلِيُّهُم
(And He will be their Wali) Protector, Supporter and Helper,
بِمَا كَانُواْ يَعْمَلُونَ
(because of what they used to do,) As reward for their good deeds, Allah has favored them and been generous with them, and awarded them Paradise.
قرآن حکیم ہی صراط مستقیم کی تشریح ہے گمراہوں کا طریقہ بیان فرما کر اپنے اس دین حق کی نسبت فرماتا ہے کہ سیدھی اور صاف راہ جو بےروک اللہ کی طرف پہنچا دے یہی ہے (مستقیما) کا نصب حالیت کی وجہ سے ہے۔ پس شرع محمدی کلام باری تعالیٰ ہی راہ راست ہے چناچہ حدیث میں بھی قرآن کی صفت میں کہا گیا ہے کہ اللہ کی سیدھی راہ اللہ کی مضبوط رسی اور حکمت والا ذکر یہی ہے (ملاحظہ ہو ترمذی مسند وغیرہ) جنہیں اللہ کی جانب سے عقل و فہم و عمل دیا گیا ہے ان کے سامنے تو وضاحت کے ساتھ اللہ کی آیتیں آچکیں۔ ان ایمانداروں کیلئے اللہ کے ہاں جنت ہے، جیسے کہ یہ سلامتی کی راہ یہاں چلے ویسے ہی قیامت کے دن سلامتی کا گھر انہیں ملے گا۔ وہی سلامتیوں کا مالک اللہ تعالیٰ ہے ان کا کار ساز اور دلی دوست ہے۔ حافظ و ناصر مویدو مولی ان کا وہی ہے ان کے نیک اعمال کا بدلہ یہ پاک گھر ہوگا جہاں ہمیشگی ہے اور یکسر راحت و اطمینان، سرور اور خوشی ہی خوشی ہے۔
127
View Single
۞لَهُمۡ دَارُ ٱلسَّلَٰمِ عِندَ رَبِّهِمۡۖ وَهُوَ وَلِيُّهُم بِمَا كَانُواْ يَعۡمَلُونَ
For them is the abode of peace with their Lord and He is their Master – the result of their deeds.
انہی کے لئے ان کے رب کے حضور سلامتی کا گھر ہے اور وہی ان کا مولٰی ہے ان اعمالِ (صالحہ) کے باعث جو وہ انجام دیا کرتے تھے
Tafsir Ibn Kathir
وَهَـذَا صِرَطُ رَبِّكَ مُسْتَقِيماً
(And this is the path of your Lord leading straight.) that is, Islam, that We have legislated for you, O Muhammad, by revealing this Qur'an to you, is Allah's straight path.
قَدْ فَصَّلْنَا الآيَـتِ
(We have detailed Our Ayat...) We have explained the Ayat and made them clear and plain,
لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ
(for a people who take heed) those who have sound comprehension and understand what Allah and His Messenger convey to them,
لَهُمْ دَارُ السَّلَـمِ
(For them will be the abode of peace) Paradise,
عِندَ رَبِّهِمْ
(with their Lord.) on the Day of Resurrection. Allah described Paradise as `the abode of peace', because its residents are safe due to their access to the straight path, which conforms to the way of the Prophets. And just as their way was not wicked, they earned the abode of peace which is free from all wickedness.
وَهُوَ وَلِيُّهُم
(And He will be their Wali) Protector, Supporter and Helper,
بِمَا كَانُواْ يَعْمَلُونَ
(because of what they used to do,) As reward for their good deeds, Allah has favored them and been generous with them, and awarded them Paradise.
قرآن حکیم ہی صراط مستقیم کی تشریح ہے گمراہوں کا طریقہ بیان فرما کر اپنے اس دین حق کی نسبت فرماتا ہے کہ سیدھی اور صاف راہ جو بےروک اللہ کی طرف پہنچا دے یہی ہے (مستقیما) کا نصب حالیت کی وجہ سے ہے۔ پس شرع محمدی کلام باری تعالیٰ ہی راہ راست ہے چناچہ حدیث میں بھی قرآن کی صفت میں کہا گیا ہے کہ اللہ کی سیدھی راہ اللہ کی مضبوط رسی اور حکمت والا ذکر یہی ہے (ملاحظہ ہو ترمذی مسند وغیرہ) جنہیں اللہ کی جانب سے عقل و فہم و عمل دیا گیا ہے ان کے سامنے تو وضاحت کے ساتھ اللہ کی آیتیں آچکیں۔ ان ایمانداروں کیلئے اللہ کے ہاں جنت ہے، جیسے کہ یہ سلامتی کی راہ یہاں چلے ویسے ہی قیامت کے دن سلامتی کا گھر انہیں ملے گا۔ وہی سلامتیوں کا مالک اللہ تعالیٰ ہے ان کا کار ساز اور دلی دوست ہے۔ حافظ و ناصر مویدو مولی ان کا وہی ہے ان کے نیک اعمال کا بدلہ یہ پاک گھر ہوگا جہاں ہمیشگی ہے اور یکسر راحت و اطمینان، سرور اور خوشی ہی خوشی ہے۔
128
View Single
وَيَوۡمَ يَحۡشُرُهُمۡ جَمِيعٗا يَٰمَعۡشَرَ ٱلۡجِنِّ قَدِ ٱسۡتَكۡثَرۡتُم مِّنَ ٱلۡإِنسِۖ وَقَالَ أَوۡلِيَآؤُهُم مِّنَ ٱلۡإِنسِ رَبَّنَا ٱسۡتَمۡتَعَ بَعۡضُنَا بِبَعۡضٖ وَبَلَغۡنَآ أَجَلَنَا ٱلَّذِيٓ أَجَّلۡتَ لَنَاۚ قَالَ ٱلنَّارُ مَثۡوَىٰكُمۡ خَٰلِدِينَ فِيهَآ إِلَّا مَا شَآءَ ٱللَّهُۚ إِنَّ رَبَّكَ حَكِيمٌ عَلِيمٞ
And the Day when He will raise them all and will proclaim, “O you group of jinns, you have enticed a lot of men”; and their human friends will submit, “Our Lord, some of us have benefited from one another and have reached the appointed term which You had set for us”; He will say, “Your home is hell – remain in it for ever, except whomever Allah wills”; O dear Prophet (Mohammed – peace and blessings be upon him), indeed your Lord is the Wise, the All Knowing.
اور جس دن وہ ان سب کو جمع فرمائے گا (تو ارشاد ہوگا:) اے گروہِ جنّات (یعنی شیاطین!) بیشک تم نے بہت سے انسانوں کو (گمراہ) کر لیا، اور انسانوں میں سے ان کے دوست کہیں گے: اے ہمارے رب! ہم نے ایک دوسرے سے (خوب) فائدے حاصل کئے اور (اسی غفلت اور مفاد پرستی کے عالم میں) ہم اپنی اس میعاد کو پہنچ گئے جو تو نے ہمارے لئے مقرر فرمائی تھی (مگر ہم اس کے لئے کچھ تیاری نہ کر سکے)۔ اللہ فرمائے گا کہ (اب) دوزخ ہی تمہارا ٹھکانا ہے ہمیشہ اسی میں رہو گے مگر جو اللہ چاہے۔ بیشک آپ کا رب بڑی حکمت والا خوب جاننے والا ہے
Tafsir Ibn Kathir
وَيَوْمَ يَحْشُرُهُمْ جَمِيعاً
(on the Day when He will gather them (all) together.) gather the Jinns and their loyal supporters from mankind who used to worship them in this life, seek refuge with them, obey them and inspire each other with adorned, deceitful speech. Allah will proclaim then,
يَـمَعْشَرَ الْجِنِّ قَدِ اسْتَكْثَرْتُم مِّنَ الإِنْسِ
(O you assembly of Jinn! Many did you mislead of men,) So the Ayah;
قَدِ اسْتَكْثَرْتُم مِّنَ الإِنْسِ
(Many did you mislead of men) refers to their misguiding and leading them astray. Allah also said;
أَلَمْ أَعْهَدْ إِلَيْكُمْ يبَنِى ءَادَمَ أَن لاَّ تَعْبُدُواْ الشَّيطَـنَ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِينٌ - وَأَنِ اعْبُدُونِى هَـذَا صِرَطٌ مُّسْتَقِيمٌ - وَلَقَدْ أَضَلَّ مِنْكُمْ جِبِلاًّ كَثِيراً أَفَلَمْ تَكُونُواْ تَعْقِلُونَ
(Did I not command you, O Children of Adam, that you should not worship Shaytan. Verily, he is a plain enemy to you. And that you should worship Me. That is the straight path. And indeed he (Shaytan) did lead astray a great multitude of you. Did you not, then, understand) 36:60-62, and
وَقَالَ أَوْلِيَآؤُهُم مِّنَ الإِنْسِ رَبَّنَا اسْتَمْتَعَ بَعْضُنَا بِبَعْضٍ
(and their friends among the people will say: "Our Lord! We benefited one from the other...") The friends of the Jinns among humanity will give this answer to Allah, after Allah chastises them for being misguided by the Jinns. Al-Hasan commented, "They benefited from each other when the Jinns merely commanded and mankind obeyed." Ibn Jurayj said, "During the time of Jahiliyyah, a man would reach a land and proclaim, `I seek refuge with the master (Jinn) of this valley,' and this is how they benefited from each other. They used this as an excuse for them on the Day of Resurrection." Therefore, the Jinns benefit from humans since humans revere the Jinns by invoking them for help. The Jinns would then proclaim, "We became the masters of both mankind and the Jinns."
وَبَلَغْنَآ أَجَلَنَا الَّذِى أَجَّلْتَ لَنَا
(but now we have reached our appointed term which You did appoint for us.) meaning, death, according to As-Suddi.
قَالَ النَّارُ مَثْوَاكُمْ
(He (Allah) will say: "The Fire be your dwelling place...") where you will reside and live, you and your friends,
خَـلِدِينَ فِيهَآ
(you will dwell therein forever. ) and will never depart except what Allah may will.
یوم حشر وہ دن بھی قریب ہے جبکہ اللہ تعالیٰ ان سب کو جمع کرے گا۔ جناب انسان عابد معبود سب ایک میدان میں کھڑے ہوں گے اس وقت جنات سے ارشاد ہوگا کہ تم نے انسانوں کو خوب بہکایا اور ورغلایا۔ انسانوں کو یاد دلایا جائے گا کہ میں نے تو تمہیں پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ شیطان کی نہ ماننا وہ تمہارا دشمن ہے میری ہی عبادت کرتے رہنا یہی سیدھی راہ ہے لیکن تم نے سمجھ سے کام نہ لیا اور شیطانی راگ میں آگئے اس وقت جنات کے دوست انسان جواب دیں گے کہ ہاں انہوں نے حکم دیا اور ہم نے عمل کیا دنیا میں ایک دوسرے کے ساتھ رہے اور فائدہ حاصل کرتے رہے، جاہلیت کے زمانہ میں جو مسافر کہیں اترتا تو کہتا کہ اس وادی کے بڑے جن کی پناہ میں میں آتا ہوں۔ انسانوں سے جنات کو بھی فائدہ پہنچتا تھا کہ وہ اپنے آپ کو ان کے سردار سمجھنے لگے تھے موت کے وقت تک یہی حالت رہی اس وقت انہیں کہا جائے گا کہ اچھا اب بھی تم ساتھ ہی جہنم میں جاؤ وہیں ہمیشہ پڑے رہنا۔ یہ استثناء جو ہے وہ راجع ہے برزخ کی طرف بعض کہتے ہیں دنیا کی مدت کی طرف، اس کا پورا بیان سورة ہود کی آیت (خٰلِدِيْنَ فِيْهَا مَا دَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ اِلَّا مَا شَاۗءَ رَبُّكَ ۭ اِنَّ رَبَّكَ فَعَّالٌ لِّمَا يُرِيْدُ) 11۔ ہود :107) کی تفسیر میں آئے گا انشا اللہ۔ اس آیت سے معلوم ہو رہا ہے کہ کوئی کسی کے لئے جنت دوزخ کا فیصلہ نہیں کرسکتا۔ سب مشیت رب پر موقوف ہے۔
129
View Single
وَكَذَٰلِكَ نُوَلِّي بَعۡضَ ٱلظَّـٰلِمِينَ بَعۡضَۢا بِمَا كَانُواْ يَكۡسِبُونَ
And similarly We empower some of the oppressors over others – the recompense of their deeds.
اسی طرح ہم ظالموں میں سے بعض کو بعض پر مسلط کرتے رہتے ہیں ان اعمالِ(بد) کے باعث جو وہ کمایا کرتے ہیں
Tafsir Ibn Kathir
The Wrongdoers Are the Supporters of Each other
Ma`mar said that Qatadah commented on this Ayah, "Allah makes the wrongdoers supporters for each other in the Fire by following one another into it." `Abdur-Rahman bin Zayd bin Aslam commented on Allah's statement,
وَكَذَلِكَ نُوَلِّى بَعْضَ الظَّـلِمِينَ بَعْضاً
(And thus We do make the wrongdoers supporters of one another.) "It refers to the wrongdoers of the Jinns and mankind." He then recited,
وَمَن يَعْشُ عَن ذِكْرِ الرَّحْمَـنِ نُقَيِّضْ لَهُ شَيْطَاناً فَهُوَ لَهُ قَرِينٌ
(And whosoever turns away blindly from the remembrance of the Most Gracious (Allah), We appoint for him Shaytan to be a companion to him.)43:36 He said next -- concerning the meaning of the Ayah; "We appoint the wrongdoer of the Jinns over the wrongdoer of mankind." A poet once said, "There is no hand, but Allah's Hand is above it, and no wrongdoer but will be tested by another wrongdoer." The meaning of this honorable Ayah thus becomes: `Just as We made this losing group of mankind supporters of the Jinns that misguided them, We also appoint the wrongdoers over one another, destroy them by the hands of one another, and take revenge from them with one another. This is the just recompense for their injustice and transgression.'
ہم مزاج ہی دوست ہوتے ہیں لوگوں کی دوستیاں اعمال پر ہوتی ہیں مومن کا دل مومن سے ہی لگتا ہے گو وہ کہیں کا ہو اور کیسا ہی ہو اور کافر کافر بھی ایک ہی ہیں گو وہ مختلف ممالک اور مختلف ذات پات کے ہوں۔ ایمان تمناؤں اور ظاہر داریوں کا نام نہیں۔ اس مطلب کے علاوہ اس آیت کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ اسی طرح یکے بعد دیگرے تمام کفار جہنم میں جھونک دیئے جائیں گے۔ مالک بن دینار کہتے ہیں میں نے زبور میں پڑھا ہے اللہ فرماتا ہے میں منافقوں سے انتقام منافقوں کے ساتھ ہی لوں گا پھر سب سے ہی انتقام لوں گا۔ اس کی تصدیق قرآن کی مندرجہ بالا آیت سے بھی ہوتی ہے کہ ہم ولی بنائیں گے بعض ظالموں کا یعنی ظالم جن اور ظالم انس۔ پھر آپ نے آیت (وَمَنْ يَّعْشُ عَنْ ذِكْرِ الرَّحْمٰنِ نُـقَيِّضْ لَهٗ شَيْطٰنًا فَهُوَ لَهٗ قَرِيْنٌ) 43۔ الزخرف :36) کی تلاوت کی اور فرمایا کہ ہم سرکش جنوں کو سرکش انسانوں پر مسلط کردیں گے۔ ایک مرفوع حدیث میں ہے جو ظالم کی مدد کرے گا اللہ اسی کو اس پر مسلط کر دے گا۔ کسی شاعر کا قول ہے۔ وما من یدالا ید اللہ فوقھا وما ظالم الا سیبلی بظالم یعنی ہر ہاتھ ہر طاقت پر اللہ کا ہاتھ اور اللہ کی طاقت بالا ہے اور ہر ظالم دوسرے ظالم کے پنجے میں پھنسنے والا ہے۔ مطلب آیت کا یہ ہے کہ ہم نے جس طرح ان نقصان یافتہ انسانوں کے دوست ان بہکانے والے جنوں کو بنادیا اسی طرح ظالموں کو بعض کو بعض کا ولی بنا دیتے ہیں اور بعض بعض سے ہلاک ہوتے ہیں اور ہم ان کے ظلم و سرکشی اور بغاوت کا بدلہ بعض سے بعض کو دلا دیتے ہیں۔
130
View Single
يَٰمَعۡشَرَ ٱلۡجِنِّ وَٱلۡإِنسِ أَلَمۡ يَأۡتِكُمۡ رُسُلٞ مِّنكُمۡ يَقُصُّونَ عَلَيۡكُمۡ ءَايَٰتِي وَيُنذِرُونَكُمۡ لِقَآءَ يَوۡمِكُمۡ هَٰذَاۚ قَالُواْ شَهِدۡنَا عَلَىٰٓ أَنفُسِنَاۖ وَغَرَّتۡهُمُ ٱلۡحَيَوٰةُ ٱلدُّنۡيَا وَشَهِدُواْ عَلَىٰٓ أَنفُسِهِمۡ أَنَّهُمۡ كَانُواْ كَٰفِرِينَ
“O you groups of jinns and men! Did not the Noble Messengers amongst you come to you reciting My verses and warning you of confronting this day?” They will say, “We testify against ourselves” – and the worldly life deceived them and they will testify against themselves that they were disbelievers.
اے گروہِ جن و انس! کیا تمہارے پاس تم ہی میں سے رسول نہیں آئے تھے جو تم پر میری آیتیں بیان کرتے تھے اور تمہاری اس دن کی پیشی سے تمہیں ڈراتے تھے؟ (تو) وہ کہیں گے: ہم اپنی جانوں کے خلاف گواہی دیتے ہیں، اور انہیں دنیا کی زندگی نے دھوکہ میں ڈال رکھا تھا اور وہ اپنی جانوں کے خلاف اس (بات) کی گواہی دیں گے کہ وہ (دنیا میں) کافر (یعنی حق کے انکاری) تھے
Tafsir Ibn Kathir
Chastising the Jinns and Humans after their Admission that Allah Sent Messengers to Them
Allah will chastise the disbelieving Jinns and humans on the Day of Resurrection, when He asks them, while having better knowledge, if the Messengers delivered His Messages to them,
يَـمَعْشَرَ الْجِنِّ وَالإِنْسِ أَلَمْ يَأْتِكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ
("O you assembly of Jinn and humans! Did not there come to you Messengers from among you") We should note here that the Messengers are from among mankind only, not vice versa, as Mujahid, Ibn Jurayj and others from the Imams of Salaf and later generations have stated. The proof for this is that Allah said,
إِنَّآ أَوْحَيْنَآ إِلَيْكَ كَمَآ أَوْحَيْنَآ إِلَى نُوحٍ وَالنَّبِيِّينَ مِن بَعْدِهِ
(Verily, We have sent the revelation to you as We sent the revelation to Nuh and the Prophets after him.) 4:163, until,
رُّسُلاً مُّبَشِّرِينَ وَمُنذِرِينَ لِئَلاَّ يَكُونَ لِلنَّاسِ عَلَى اللَّهِ حُجَّةٌ بَعْدَ الرُّسُلِ
(Messengers as bearers of good news as well as of warning in order that mankind should have no plea against Allah after the (coming of) Messengers.) 4:165 Allah said, concerning the Prophet Ibrahim,
وَجَعَلْنَا فِى ذُرِّيَّتِهِ النُّبُوَّةَ وَالْكِتَـبَ
(And We ordained among his offspring prophethood and the Book) 29: 27, thus sending the prophethood and the Book exclusively through the offspring of the Prophet Ibrahim. No one has claimed that there were Prophets from among the Jinns before the time of Ibrahim, but not after that. Allah said,
وَمَآ أَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنَ الْمُرْسَلِينَ إِلاَّ إِنَّهُمْ لَيَأْكُلُونَ الطَّعَامَ وَيَمْشُونَ فِى الاٌّسْوَاقِ
(And We never sent before you any of the Messengers but verily, they ate food and walked in the markets.) 25:20, and,
وَمَآ أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ إِلاَّ رِجَالاً نُّوحِى إِلَيْهِمْ مِّنْ أَهْلِ الْقُرَى
(And We sent not before you any but men unto whom We revealed, from among the people of townships.) 12:109 Therefore, concerning prophethood, the Jinns follow mankind in this regard and this is why Allah said about them,
وَإِذْ صَرَفْنَآ إِلَيْكَ نَفَراً مِّنَ الْجِنِّ يَسْتَمِعُونَ الْقُرْءَانَ فَلَمَّا حَضَرُوهُ قَالُواْ أَنصِتُواْ فَلَمَّا قُضِىَ وَلَّوْاْ إِلَى قَوْمِهِم مُّنذِرِينَ - قَالُواْ يقَوْمَنَآ إِنَّا سَمِعْنَا كِتَـباً أُنزِلَ مِن بَعْدِ مُوسَى مُصَدِّقاً لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ يَهْدِى إِلَى الْحَقِّ وَإِلَى طَرِيقٍ مُّسْتَقِيمٍ - يقَوْمَنَآ أَجِيبُواْ دَاعِىَ اللَّهِ وَءَامِنُواْ بِهِ يَغْفِرْ لَكُمْ مِّن ذُنُوبِكُمْ وَيُجِرْكُمْ مِّنْ عَذَابٍ أَلِيمٍ - وَمَن لاَّ يُجِبْ دَاعِىَ اللَّهِ فَلَيْسَ بِمُعْجِزٍ فِى الاٌّرْضَ وَلَيْسَ لَهُ مِن دُونِهِ أَوْلِيَآءُ أُوْلَـئِكَ فِى ضَلَـلٍ مُّبِينٍ
(And (remember) when We sent towards you a group of the Jinn, listening to the Qur'an. When they stood in the presence thereof, they said: "Listen in silence!" And when it was finished, they returned to their people, as warners. They said: "O our people! Verily, we have heard a Book sent down after Musa, confirming what came before it, it guides to the truth and to the straight way. O our people! Respond to Allah's caller, and believe in him. He (Allah) will forgive you your sins, and will save you from a painful torment (i.e. Hell-fire). And whosoever does not respond to Allah's caller, he cannot escape on earth, and there will be no helpers for him besides Allah. Those are in manifest error.) 46:29-32 A Hadith collected by At-Tirmidhi stated that the Messenger of Allah ﷺ recited Surat Ar-Rahman, to these Jinns, in which Allah said,
سَنَفْرُغُ لَكُمْ أَيُّهَا الثَّقَلاَنِ فَبِأَىِّ ءَالاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ
(We shall attend to you, O you two classes (Jinn and men)! Then which of the blessings of your Lord will you both (Jinn and men) deny) 55:31-32 Allah said in this honorable Ayah,
يَـمَعْشَرَ الْجِنِّ وَالإِنْسِ أَلَمْ يَأْتِكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ يَقُصُّونَ عَلَيْكُمْ آيَـتِي وَيُنذِرُونَكُمْ لِقَآءَ يَوْمِكُمْ هَـذَا قَالُواْ شَهِدْنَا عَلَى أَنْفُسِنَا
(O you assembly of Jinn and humans! "Did not there come to you Messengers from amongst you, reciting unto you My verses and warning you of the meeting of this Day of yours" They will say: "We bear witness against ourselves.") meaning, we affirm that the Messengers ﷺ have conveyed Your Messages to us and warned us about the meeting with You, and that this Day will certainly occur. Allah said next,
وَغَرَّتْهُمُ الْحَيَوةُ الدُّنْيَا
(It was the life of this world that deceived them.) and they wasted their lives and brought destruction to themselves by rejecting the Messengers ﷺ and denying their miracles. This is because they were deceived by the beauty, adornment and lusts of this life.
وَشَهِدُواْ عَلَى أَنفُسِهِمْ
(And they will bear witness against themselves) on the Day of Resurrection,
أَنَّهُمْ كَانُواْ كَـفِرِينَ
(that they were disbelievers...) in this worldly life, rejecting what the Messengers, may Allah's peace and blessings be on them, brought them.
جن اور انسان اور پاداش عمل یہ اور سرزنش اور ڈانت ڈپٹ ہے جو قیامت کے دن اللہ کی طرف سے انسانوں اور جنوں کو ہوگی ان سے سوال ہوگا کہ کیا تم میں سے ہی تمہارے پاس میرے بھیجے ہوئے رسول نہیں آئے تھے۔ یہ یاد رہے کہ رسول کل کے کل انسان ہی تھے کوئی جن رسول نہیں ہوا۔ ائمہ سلف خلف کا مذہب یہی ہے جنات میں نیک لوگ اور جنوں کو نیکی کی تعلیم کرتے تھے۔ بدی سے روکتے تھے لیکن رسول صرف انسانوں میں سے ہی آتے رہے۔ ضحاک بن مزاحم سے ایک روایت مروی ہے کہ جنات میں بھی رسول ہوتے ہیں اور ان کی دلیل ایک تو یہ آیت ہے سو یہ کوئی دلیل نہیں اس لئے کہ اس میں صراحت نہیں اور یہ آیت تو بالکل ویسی ہی ہے جیسے آیت (مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ يَلْتَقِيٰنِ) 55۔ الرحمن :19) سے (يَخْرُجُ مِنْهُمَا اللُّؤْلُؤُ وَالْمَرْجَانُ) 55۔ الرحمن :22) تک کی آیتیں صاف ظاہر ہے کہ موتی مرجان صرف کھاری پانی کے سمندروں میں نکلتے ہیں۔ میٹھے پانی سے نہیں نکلتے لیکن ان آیتوں میں دونوں قسم کے سمندروں میں سے موتیوں کا نکلنا پایا جاتا ہے کہ ان کی جنس میں سے مراد یہی ہے اس طرح اس آیت میں مراد جنوں انسانوں کی جنس میں سے ہے نہ کہ ان دونوں میں سے ہر ایک میں سے اور رسولوں کے صرف انسان ہی ہونے کی دلیل آیت (اِنَّآ اَوْحَيْنَآ اِلَيْكَ كَمَآ اَوْحَيْنَآ اِلٰي نُوْحٍ وَّالنَّـبِيّٖنَ مِنْۢ بَعْدِهٖ ۚ وَاَوْحَيْنَآ اِلٰٓي اِبْرٰهِيْمَ وَاِسْمٰعِيْلَ وَاِسْحٰقَ وَيَعْقُوْبَ وَالْاَسْبَاطِ وَعِيْسٰى وَاَيُّوْبَ وَيُوْنُسَ وَهٰرُوْنَ وَسُلَيْمٰنَ ۚ وَاٰتَيْنَا دَاوٗدَ زَبُوْرًا01603ۚ وَرُسُلًا قَدْ قَصَصْنٰهُمْ عَلَيْكَ مِنْ قَبْلُ وَرُسُلًا لَّمْ نَقْصُصْهُمْ عَلَيْكَ ۭ وَكَلَّمَ اللّٰهُ مُوْسٰى تَكْلِــيْمًا01604ۚ رُسُلًا مُّبَشِّرِيْنَ وَمُنْذِرِيْنَ لِئَلَّا يَكُوْنَ للنَّاسِ عَلَي اللّٰهِ حُجَّــةٌۢ بَعْدَ الرُّسُلِ) 4۔ النسآء :163) اور (وَجَعَلْنَا فِيْ ذُرِّيَّـتِهِمَا النُّبُوَّةَ وَالْكِتٰبَ فَمِنْهُمْ مُّهْتَدٍ ۚ وَكَثِيْرٌ مِّنْهُمْ فٰسِقُوْنَ) 57۔ الحدید :26) پس ثابت ہوتا ہے کہ خلیل اللہ حضرت ابراہیم ؑ کے بعد نبوت کا انحصار آپ ہی کی اولاد میں ہو رہا۔ اور یہ بھی ظاہر ہے کہ اس انوکھی بات کا قائل ایک بھی نہیں کہ آپ سے پہلے نبی ہوتے تھے اور پھر ان میں سے نبوت جھین لی گئی اور آیت اس سے بھی صاف ہے فرمان ہے آیت (وَمَآ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنَ الْمُرْسَلِيْنَ اِلَّآ اِنَّهُمْ لَيَاْكُلُوْنَ الطَّعَامَ وَيَمْشُوْنَ فِي الْاَسْوَاقِ ۭ وَجَعَلْنَا بَعْضَكُمْ لِبَعْضٍ فِتْنَةً ۭ اَتَصْبِرُوْنَ ۚ وَكَانَ رَبُّكَ بَصِيْرًا) 25۔ الفرقان :20) یعنی تجھ سے پہلے جتنے رسول ہم نے بھیجے سب کھانا کھاتے تھے اور بازاروں میں آتے جاتے تھے اور آیت میں ہے اور اس نے یہ مسئلہ بالکل صاف کردیا ہے فرماتا ہے آیت (وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِيْٓ اِلَيْهِمْ مِّنْ اَهْلِ الْقُرٰى) 12۔ یوسف :109) یعنی تجھ سے پہلے ہم نے مردوں کو ہی بھیجا ہے جو شہروں کے ہی تھے جن کی طرف ہم نے اپنی وحی نازل فرمائی تھی۔ چناچہ جنات کا یہی قول قرآن میں موجود ہے آیت (وَاِذْ صَرَفْنَآ اِلَيْكَ نَفَرًا مِّنَ الْجِنِّ يَسْتَمِعُوْنَ الْقُرْاٰنَ ۚ فَلَمَّا حَضَرُوْهُ قَالُوْٓا اَنْصِتُوْا ۚ فَلَمَّا قُضِيَ وَلَّوْا اِلٰى قَوْمِهِمْ مُّنْذِرِيْنَ) 46۔ الاحقاف :29) جبکہ ہم نے جنوں کی ایک جماعت کو تیری طرف پھیرا جو قرآن سنتے رہے جب سن چکے تو واپس اپنی قوم کے پاس گئے اور انہیں آگاہ کرتے ہوئے کہنے لگے کہ ہم نے موسیٰ کے بعد کی نازل شدہ کتاب سنی جو اپنے سے پہلے کی کتابوں کی تصدیق کرتی ہے اور راہ حق دکھاتی ہے اور صراط مستقیم کی رہبری کرتی ہے، پس تم سب اللہ کی طرف دعوت دینے والے کی مانو اور اس پر ایمان لاؤ تاکہ اللہ تمہارے گناہوں کو بخشے اور تمہیں المناک عذابوں سے بچائے اللہ کی طرف سے جو پکارنے والا ہے اس کی نہ ماننے والے اللہ کو عاجز نہیں کرسکتے نہ اس کے سوا اپنا کوئی اور کار ساز اور والی پاسکتے ہیں بلکہ ایسے لوگ کھلی گمراہی میں ہیں۔ ترمذی وغیرہ کی حدیث میں ہے کہ اس موقعہ پر جنات کو رسول اللہ ﷺ نے سورة الرحمن پڑھ کر سنائی تھی جس میں ایک آیت (سَنَفْرُغُ لَكُمْ اَيُّهَا الثَّقَلٰنِ) 55۔ الرحمن :31) ہے یعنی اے جنو انسانوں ہم صرف تمہاری ہی طرف تمام تر توجہ کرنے کیلئے عنقریب فارغ ہوں گے۔ پھر تم اپنے رب کی کس نعمت کو جھٹلا رہے ہو ؟ الغرض انسانوں اور جنوں کو اس آیت میں نبیوں کے ان میں سے بھیجنے میں بطور خطاب کے شامل کرلیا ہے ورنہ رسول سب انسان ہی ہوتے ہیں۔ نبیوں کا کام یہی رہا کہ وہ اللہ کی آیتیں سنائیں اور قیامت کے دن سے ڈرائیں۔ اس سوال کے جواب میں سب کہیں گے کہ ہاں ہمیں اقرار ہے تیرے رسول ہمارے پاس آئے اور تیرا کلام بھی پہنچایا اور اس دن سے بھی متنبہ کردیا تھا۔ پھر جناب باری فرماتا ہے انہوں نے دنیا کی زندگی دھوکے میں گذاری رسولوں کو جھٹلاتے رہے۔ معجزوں کی مخالفت کرتے رہے دنیا کی آرائش پر جان دیتے رہے گئے۔ شہوت پرستی میں پڑے رہے قیامت کے دن اپنی زبانوں سے اپنے کفر کا اقرار کریں گے کہ ہاں بیشک ہم نے نبیوں کی نہیں مانی۔ صلوات اللہ وسلامہ علیہم
131
View Single
ذَٰلِكَ أَن لَّمۡ يَكُن رَّبُّكَ مُهۡلِكَ ٱلۡقُرَىٰ بِظُلۡمٖ وَأَهۡلُهَا غَٰفِلُونَ
This is because your Lord does not unjustly destroy townships for their people may be unaware.
یہ (رسولوں کا بھیجنا) اس لئے تھا کہ آپ کا رب بستیوں کو ظلم کے باعث ایسی حالت میں تباہ کرنے والا نہیں ہے کہ وہاں کے رہنے والے (حق کی تعلیمات سے بالکل) بے خبر ہوں (یعنی انہیں کسی نے حق سے آگاہ ہی نہ کیا ہو)
Tafsir Ibn Kathir
ذَلِكَ أَن لَّمْ يَكُنْ رَّبُّكَ مُهْلِكَ الْقُرَى بِظُلْمٍ وَأَهْلُهَا غَـفِلُونَ
(This is because your Lord would not destroy the (populations of) towns for their wrongdoing while their people were unaware. ) meaning: `We sent the Messengers and revealed the Books to the Jinns and mankind, so that no one has an excuse that he is being punished for his wrongs although he did not receive Allah's Message. Therefore, We did not punish any of the nations, except after sending Messengers to them, so that they have no excuse.' Allah said in other Ayat,
وَإِن مِّنْ أُمَّةٍ إِلاَّ خَلاَ فِيهَا نَذِيرٌ
(And there never was a nation but a warner had passed among them.) 35:24, and
وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِى كُلِّ أُمَّةٍ رَّسُولاً أَنِ اعْبُدُواْ اللَّهَ وَاجْتَنِبُواْ الْطَّـغُوتَ
(And verily, We have sent among every Ummah a Messenger (proclaiming): "Worship Allah, and stay away from At-Taghut (all false deities).") 16:36, and
وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِينَ حَتَّى نَبْعَثَ رَسُولاً
(And We never punish until We have sent a Messenger.) 17:15, and,
كُلَّمَا أُلْقِىَ فِيهَا فَوْجٌ سَأَلَهُمْ خَزَنَتُهَآ أَلَمْ يَأْتِكُمْ نَذِيرٌقَالُواْ بَلَى قَدْ جَآءَنَا نَذِيرٌ فَكَذَّبْنَا
(Every time a group is cast therein, its keeper will ask: "Did no warner come to you" They will say: "Yes, indeed a warner did come to us, but we belied him.") 67:8-9 There are many other Ayat on this subject. At-Tabari said, "Allah's statement,
وَلِكُلٍّ دَرَجَـتٌ مِّمَّا عَمِلُواْ
(For all there will be degrees according to what they did.) means, every person who obeys Allah or behaves disobediently, has grades and ranks according to their works, which Allah gives them as recompense, good for good and evil for evil." I say, it is possible that Allah's statement,
وَلِكُلٍّ دَرَجَـتٌ مِّمَّا عَمِلُواْ
(For all there will be degrees according to what they did.) refers to the disbelievers of the Jinns and mankind who will earn a place in the Fire according to their evil deeds. Allah said,
قَالَ لِكُلٍّ ضِعْفٌ
(He will say: "For each one there is double (torment).")7:38, and,
الَّذِينَ كَفَرُواْ وَصَدُّواْ عَن سَبِيلِ اللَّهِ زِدْنَـهُمْ عَذَابًا فَوْقَ الْعَذَابِ بِمَا كَانُواْ يُفْسِدُونَ
(Those who disbelieved and hinder (others) from the path of Allah, for them We will add torment to the torment because they used to spread corruption.) 16:88 Allah said next,
وَمَا رَبُّكَ بِغَـفِلٍ عَمَّا يَعْمَلُونَ
(And your Lord is not unaware of what they do.) Ibn Jarir commented, "All these deeds that they did, O Muhammad, they did while your Lord is aware of them, and He collects and records these deeds with Him, so that He recompenses them when they meet Him and return to Him.
حجت تمام جن اور انسانوں کی طرف رسول بھیج کر، کتابیں اتار کر ان کے عذر ختم کردیئے اس لئے کہ یہ اللہ کا اصول نہیں کہ وہ کسی بستی کے لوگوں کو اپنی منشاء معلوم کرائے بغیر چپ چاپ اپنے عذابوں میں جکڑ لے اور اپنا پیغام پہنچائے بغیر بلا وجہ ظلم کے ساتھ ہلاک کر دے، فرماتا ہے آیت (وَاِنْ مِّنْ اُمَّةٍ اِلَّا خَلَا فِيْهَا نَذِيْرٌ) 35۔ فاطر :24) یعنی کوئی بستی ایسی نہیں جہاں کوئی آگاہ کرنے والا نہ آیا ہو اور آیت میں ہے ہم نے ہر امت میں رسول بھیجا کہ اے لوگو اللہ ہی کی عبادت کرو اور اس کے سوا ہر ایک کی عبادت سے بچو اور جگہ ہے ہم رسولوں کو بھیجنے سے پہلے عذاب نہیں کیا کرتے۔ سورة تبارک میں ہے جب جہنم میں کوئی جماعت جائے گی تو وہاں کے داروغے ان سے کہیں گے کہ کیا تمہارے پاس آ گاہ کرنے والے نہیں آئے تھے ؟ وہ کہیں گے آئے تھے اور بھی اس مضمون کی بہت سی آیتیں ہیں اس آیت کے پہلے جملے کے ایک معنی امام ابن جریر نے اور بھی بیان کئے ہیں اور فی الواقع وہ معنی بہت درست ہیں امام صاحب نے بھی اسی کو ترجیح دی ہے یعنی یہ کہ کسی بستی والوں کے ظلم اور گناہوں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ انہیں اسی وقت ہلاک نہیں کرتا جب تک نبیوں کو بھیج کر انہیں غفلت سے بیدار نہ کر دے، ہر عامل اپنے عمل کے بدلے کا مستحق ہے۔ نیک نیکی کا اور بد بدی کا۔ خواہ انسان ہو خواہ جن ہو۔ بدکاروں کے جہنم میں درجے ان کی بدکاری کے مطابق مقرر ہیں جو لوگ خود بھی کفر کرتے ہیں اور دوسروں کو بھی راہ الہیہ سے روکتے ہیں انہیں عذاب پر عذاب ہوں گے اور ان کے فساد کا بدلہ ملے گا ہر عامل کا عمل اللہ پر روشن ہے تاکہ قیامت کے دن ہر شخص کو اس کے کئے ہوئے کا بدلہ مل جائے۔
132
View Single
وَلِكُلّٖ دَرَجَٰتٞ مِّمَّا عَمِلُواْۚ وَمَا رَبُّكَ بِغَٰفِلٍ عَمَّا يَعۡمَلُونَ
And for everyone are ranks from what they do; and your Lord is not unaware of their deeds.
اور ہر ایک کے لئے ان کے اعمال کے لحاظ سے درجات (مقرر) ہیں، اور آپ کا رب ان کاموں سے بے خبر نہیں جو وہ انجام دیتے ہیں
Tafsir Ibn Kathir
ذَلِكَ أَن لَّمْ يَكُنْ رَّبُّكَ مُهْلِكَ الْقُرَى بِظُلْمٍ وَأَهْلُهَا غَـفِلُونَ
(This is because your Lord would not destroy the (populations of) towns for their wrongdoing while their people were unaware. ) meaning: `We sent the Messengers and revealed the Books to the Jinns and mankind, so that no one has an excuse that he is being punished for his wrongs although he did not receive Allah's Message. Therefore, We did not punish any of the nations, except after sending Messengers to them, so that they have no excuse.' Allah said in other Ayat,
وَإِن مِّنْ أُمَّةٍ إِلاَّ خَلاَ فِيهَا نَذِيرٌ
(And there never was a nation but a warner had passed among them.) 35:24, and
وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِى كُلِّ أُمَّةٍ رَّسُولاً أَنِ اعْبُدُواْ اللَّهَ وَاجْتَنِبُواْ الْطَّـغُوتَ
(And verily, We have sent among every Ummah a Messenger (proclaiming): "Worship Allah, and stay away from At-Taghut (all false deities).") 16:36, and
وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِينَ حَتَّى نَبْعَثَ رَسُولاً
(And We never punish until We have sent a Messenger.) 17:15, and,
كُلَّمَا أُلْقِىَ فِيهَا فَوْجٌ سَأَلَهُمْ خَزَنَتُهَآ أَلَمْ يَأْتِكُمْ نَذِيرٌقَالُواْ بَلَى قَدْ جَآءَنَا نَذِيرٌ فَكَذَّبْنَا
(Every time a group is cast therein, its keeper will ask: "Did no warner come to you" They will say: "Yes, indeed a warner did come to us, but we belied him.") 67:8-9 There are many other Ayat on this subject. At-Tabari said, "Allah's statement,
وَلِكُلٍّ دَرَجَـتٌ مِّمَّا عَمِلُواْ
(For all there will be degrees according to what they did.) means, every person who obeys Allah or behaves disobediently, has grades and ranks according to their works, which Allah gives them as recompense, good for good and evil for evil." I say, it is possible that Allah's statement,
وَلِكُلٍّ دَرَجَـتٌ مِّمَّا عَمِلُواْ
(For all there will be degrees according to what they did.) refers to the disbelievers of the Jinns and mankind who will earn a place in the Fire according to their evil deeds. Allah said,
قَالَ لِكُلٍّ ضِعْفٌ
(He will say: "For each one there is double (torment).")7:38, and,
الَّذِينَ كَفَرُواْ وَصَدُّواْ عَن سَبِيلِ اللَّهِ زِدْنَـهُمْ عَذَابًا فَوْقَ الْعَذَابِ بِمَا كَانُواْ يُفْسِدُونَ
(Those who disbelieved and hinder (others) from the path of Allah, for them We will add torment to the torment because they used to spread corruption.) 16:88 Allah said next,
وَمَا رَبُّكَ بِغَـفِلٍ عَمَّا يَعْمَلُونَ
(And your Lord is not unaware of what they do.) Ibn Jarir commented, "All these deeds that they did, O Muhammad, they did while your Lord is aware of them, and He collects and records these deeds with Him, so that He recompenses them when they meet Him and return to Him.
حجت تمام جن اور انسانوں کی طرف رسول بھیج کر، کتابیں اتار کر ان کے عذر ختم کردیئے اس لئے کہ یہ اللہ کا اصول نہیں کہ وہ کسی بستی کے لوگوں کو اپنی منشاء معلوم کرائے بغیر چپ چاپ اپنے عذابوں میں جکڑ لے اور اپنا پیغام پہنچائے بغیر بلا وجہ ظلم کے ساتھ ہلاک کر دے، فرماتا ہے آیت (وَاِنْ مِّنْ اُمَّةٍ اِلَّا خَلَا فِيْهَا نَذِيْرٌ) 35۔ فاطر :24) یعنی کوئی بستی ایسی نہیں جہاں کوئی آگاہ کرنے والا نہ آیا ہو اور آیت میں ہے ہم نے ہر امت میں رسول بھیجا کہ اے لوگو اللہ ہی کی عبادت کرو اور اس کے سوا ہر ایک کی عبادت سے بچو اور جگہ ہے ہم رسولوں کو بھیجنے سے پہلے عذاب نہیں کیا کرتے۔ سورة تبارک میں ہے جب جہنم میں کوئی جماعت جائے گی تو وہاں کے داروغے ان سے کہیں گے کہ کیا تمہارے پاس آ گاہ کرنے والے نہیں آئے تھے ؟ وہ کہیں گے آئے تھے اور بھی اس مضمون کی بہت سی آیتیں ہیں اس آیت کے پہلے جملے کے ایک معنی امام ابن جریر نے اور بھی بیان کئے ہیں اور فی الواقع وہ معنی بہت درست ہیں امام صاحب نے بھی اسی کو ترجیح دی ہے یعنی یہ کہ کسی بستی والوں کے ظلم اور گناہوں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ انہیں اسی وقت ہلاک نہیں کرتا جب تک نبیوں کو بھیج کر انہیں غفلت سے بیدار نہ کر دے، ہر عامل اپنے عمل کے بدلے کا مستحق ہے۔ نیک نیکی کا اور بد بدی کا۔ خواہ انسان ہو خواہ جن ہو۔ بدکاروں کے جہنم میں درجے ان کی بدکاری کے مطابق مقرر ہیں جو لوگ خود بھی کفر کرتے ہیں اور دوسروں کو بھی راہ الہیہ سے روکتے ہیں انہیں عذاب پر عذاب ہوں گے اور ان کے فساد کا بدلہ ملے گا ہر عامل کا عمل اللہ پر روشن ہے تاکہ قیامت کے دن ہر شخص کو اس کے کئے ہوئے کا بدلہ مل جائے۔
133
View Single
وَرَبُّكَ ٱلۡغَنِيُّ ذُو ٱلرَّحۡمَةِۚ إِن يَشَأۡ يُذۡهِبۡكُمۡ وَيَسۡتَخۡلِفۡ مِنۢ بَعۡدِكُم مَّا يَشَآءُ كَمَآ أَنشَأَكُم مِّن ذُرِّيَّةِ قَوۡمٍ ءَاخَرِينَ
And O dear Prophet (Mohammed – peace and blessings be upon him), your Lord is the Perfect (Not needing anything), the Merciful; O people! If He wills, He can remove you and bring others in your stead – the way He created you from the descendants of others.
اور آپ کا رب بے نیاز ہے، (بڑی) رحمت والا ہے، اگر چاہے تو تمہیں نابود کر دے اور تمہارے بعد جسے چاہے (تمہارا) جانشین بنا دے جیسا کہ اس نے دوسرے لوگوں کی اولاد سے تم کو پیدا فرمایا ہے
Tafsir Ibn Kathir
If They Disobey, They Will Perish
Allah said,
وَرَبُّكَ
(And your Lord...), O Muhammad,
الْغَنِىُّ
(is Al-Ghani) Rich, free from needing His creatures in any way or form, while they stand in need of Him in all situations,
ذُو الرَّحْمَةِ
(full of mercy;) towards creation. Allah said in another Ayah,
إِنَّ اللَّهَ بِالنَّاسِ لَرَءُوفٌ رَّحِيمٌ
(Truly, Allah is full of kindness, the Most Merciful towards mankind.) 2:143
إِن يَشَأْ يُذْهِبْكُمْ
(if He wills, He can destroy you.) if you defy His commandments,
وَيَسْتَخْلِفْ مِن بَعْدِكُم مَّا يَشَآءُ
(And in your place make whom He wills as your successors,) who behave obediently,
كَمَآ أَنشَأَكُمْ مِّن ذُرِّيَّةِ قَوْمٍ ءَاخَرِينَ
(As He raised you from the seed of other people.) and surely, He is able to do this, and it is easy for Him. And just as Allah has destroyed the earlier nations and brought their successors, He is able to do away with these generations and bring other people in their place. Allah has also said;
إِن يَشَأْ يُذْهِبْكُمْ أَيُّهَا النَّاسُ وَيَأْتِ بِـاخَرِينَ وَكَانَ اللَّهُ عَلَى ذلِكَ قَدِيراً
(If He wills, He can take you away, O people, and bring others. And Allah is Ever Capable over that.) 4:133,
يأَيُّهَا النَّاسُ أَنتُمُ الْفُقَرَآءُ إِلَى اللَّهِ وَاللَّهُ هُوَ الْغَنِىُّ الْحَمِيدُ - إِن يَشَأْ يُذْهِبْكُـمْ وَيَأْتِ بِخَلْقٍ جَدِيدٍ وَمَا ذَلِكَ عَلَى اللَّهِ بِعَزِيزٍ
(O mankind! It is you who stand in need of Allah. But Allah is Rich (free of all needs), Worthy of all praise. If He willed, He could destroy you and bring about a new creation. And that is not hard for Allah.) 35:15-17, and,
نَّفْسِهِ وَاللَّهُ الْغَنِىُّ وَأَنتُمُ الْفُقَرَآءُ وَإِن تَتَوَلَّوْاْ يَسْتَبْدِلْ قَوْماً غَيْرَكُمْ ثُمَّ لاَ يَكُونُواْ
(But Allah is Rich (free of all needs), and you are poor. And if you turn away, He will exchange you for some other people and they will not be your likes.) 47:38. Muhammad bin Ishaq said that Ya`qub bin `Utbah said that he heard Aban bin `Uthman saying about this Ayah,
كَمَآ أَنشَأَكُمْ مِّن ذُرِّيَّةِ قَوْمٍ ءَاخَرِينَ
(As He raised you from the seed of other people. ) "`The seed' means the offspring and the children." Allah's statement,
إِنَّ مَا تُوعَدُونَ لأَتٍ وَمَآ أَنتُم بِمُعْجِزِينَ
(Surely, that which you are promised, will verily, come to pass and you cannot escape.) means, tell them, O Muhammad, that what they have been promised of Resurrection will surely occur,
وَمَآ أَنتُم بِمُعْجِزِينَ
(and you cannot escape.) from Allah. Rather, He is able to resurrect you even after you become dust and bones. Certainly, Allah is able to do all things and nothing ever escapes His power. Allah said;
قُلْ يَـقَوْمِ اعْمَلُواْ عَلَى مَكَانَتِكُمْ إِنِّى عَامِلٌ فَسَوْفَ تَعْلَمُونَ
(Say: "O my people! Work according to your way, surely, I too am working and you will come to know.") This contains a stern warning and a sure promise, saying; remain on your way, if you think that you are rightly guided, for I will remain on mine. Allah said in another Ayah,
وَقُل لِّلَّذِينَ لاَ يُؤْمِنُونَ اعْمَلُواْ عَلَى مَكَانَتِكُمْ إِنَّا عَامِلُونَ - وَانْتَظِرُواْ إِنَّا مُنتَظِرُونَ
(And say to those who do not believe: "Act according to Makanatikum, We are acting (in our way). And you wait! We (too) are waiting.") 11:121-122. `Ali bin Abi Talhah reported that Ibn `Abbas said that,
عَلَى مَكَانَتِكُمْ
(according to Makanatikum...) means, your way.
فَسَوْفَ تَعْلَمُونَ مَن تَكُونُ لَهُ عَـقِبَةُ الدَّارِ إِنَّهُ لاَ يُفْلِحُ الظَّـلِمُونَ
(And you will come to know for which of us will be the (happy) end in the Hereafter. Certainly the wrongdoers will not be successful) 6:135, You will come to know if the happy end will be mine (Muhammad's) or yours (the disbelievers). Allah has indeed kept His promise and allowed Muhammad ﷺ to prevail in the land and rise above those who defied him. He conquered Makkah for him and made him triumphant over his people who rejected and showed enmity towards him. The Prophet's rule soon spread over the Arabian Peninsula, Yemen and Bahrain, and all this occurred during his lifetime. After his death, the various lands and provinces were conquered during the time of his successors, may Allah be pleased with them all. Allah also said,
كَتَبَ اللَّهُ لاّغْلِبَنَّ أَنَاْ وَرُسُلِى إِنَّ اللَّهَ قَوِىٌّ عَزِيزٌ
(Allah has decreed: "Verily, it is I and My Messengers who shall be the victorious." Verily, Allah is All-Powerful, Almighty.) 58:21
إِنَّا لَنَنصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِينَ ءَامَنُواْ فِى الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُومُ الاٌّشْهَـدُ - يَوْمَ لاَ يَنفَعُ الظَّـلِمِينَ مَعْذِرَتُهُمْ وَلَهُمُ الْلَّعْنَةُ وَلَهُمْ سُوءُ الدَّارِ
(Verily, We will indeed make victorious Our Messengers and those who believe in this world's life and on the Day when the witnesses will stand forth. The Day when their excuses will be of no profit to the wrongdoers. Theirs will be the curse, and theirs will be the evil abode.) 40:51-52 and,
وَلَقَدْ كَتَبْنَا فِى الزَّبُورِ مِن بَعْدِ الذِّكْرِ أَنَّ الاٌّرْضَ يَرِثُهَا عِبَادِىَ الصَّـلِحُونَ
(And indeed We have written in the Zabur after the Dhikr that My righteous servants shall inherit the land.) 21:105
سب سے بےنیاز اللہ اللہ تعالیٰ اپنی تمام مخلوق سے بےنیاز ہے، اسے کسی کی کوئی حاجت نہیں۔ اسے کسی سے کوئی فائدہ نہیں وہ کسی کا محتاج نہیں۔ ساری مخلوق اپنے ہر حال میں اس کی محتاج ہے۔ وہ بڑی ہی رافت و رحمت والا ہے رحم و کرم اس کی خاص صفتیں ہیں۔ جیسے فرمان ہے آیت (اِنَّ اللّٰهَ بالنَّاسِ لَرَءُوْفٌ رَّحِيْمٌ) 2۔ البقرۃ :143) اللہ اپنے بندوں کے ساتھ مہربانی اور لطف سے پیش آنے والا ہے تو جو اس کی مخالفت کر رہے ہو تو یاد رکھو کہ اگر وہ چاہے تو تمہیں ایک آن میں غارت کرسکتا ہے اور تمہارے بعد ایسے لوگوں کو بسا سکتا ہے جو اس کی اطاعت کریں۔ یہ اس کی قدرت میں ہے تم دیکھ لو اس نے آخر اوروں کے قائم مقام تمہیں بھی کیا ہے۔ ایک قرن کے بعد دوسرا قرن وہی لاتا ہے ایک کو مار ڈالتا ہے دوسرے کو پیدا کردیتا ہے لانے لے جانے پر اسے مکمل قدرت ہے جیسے فرمان ہے اگر وہ چاہے تو اے لوگو تم سب کو فنا کر دے اور دوسروں کو لے آئے وہ اس پر قادر ہے۔ فرمان ہے آیت (يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ اَنْتُمُ الْفُقَرَاۗءُ اِلَى اللّٰهِ ۚ وَاللّٰهُ هُوَ الْغَنِيُّ الْحَمِيْدُ) 35۔ فاطر :15) لوگو تم سب کے سب اللہ کے محتاج ہو اور اللہ تعالیٰ بےنیاز اور تعریفوں والا ہے۔ اگر وہ چاہے تو تم سب کو فنا کر دے اور نئی مخلوق لے آئے اللہ کے لئے کوئی انوکھی بات نہیں اور فرمان ہے آیت (وَاللّٰهُ الْغَنِيُّ وَاَنْتُمُ الْفُقَرَاۗءُ) 47۔ محمد :38) اللہ غنی ہے اور تم سب فقیر ہو۔ فرماتا ہے اگر تم نافرمان ہوگئے تو وہ تمہیں بدل کر اور قوم لائے گا جو تم جیسے نہ ہوں گے۔ ذریت سے مراد اصل و نسل ہے، اے نبی آپ ان سے کہہ دیجئے کہ قیامت جنت دوزخ وغیرہ کے جو وعدے تم سے کئے جا رہے ہیں وہ یقینا سچے ہیں اور یہ سب کچھ ہونے والا ہے تم اللہ کو عاجز نہیں کرسکتے وہ تمہارے اعادے پر قادر ہے۔ تم گل سڑ کر مٹی ہوجاؤ گے پھر وہ تمہیں نئی پیدائش میں پیدا کرے گا اس پر کوئی عمل مشکل نہیں۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں اے بنی آدم اگر تم میں عقل ہے تو اپنے تئیں مردوں میں شمار کرو واللہ اللہ کی فرمائی ہوئی سب باتیں بہ یقین ہونے والی ہیں کوئی نہیں جو اللہ کے ارادے میں اسے ناکام کر دے، اس کی چاہت کو نہ ہونے دے، لوگوں تم اپنی کرنی کئے جاؤ میں اپنے طریقے پر قائم ہوں ابھی ابھی معلوم ہوجائے گا کہ ہدایت پر کون تھا ؟ اور ضلالت پر کون تھا ؟ کون نیک انجام ہوتا ہے اور کون گھٹنوں میں سر ڈال کر روتا ہے۔ جیسے فرمایا بےایمانوں سے کہہ دو کہ تم اپنے شغل میں رہو میں بھی اپنے کام میں لگا ہوں۔ تم منتظر رہو ہم بھی انتظار میں ہیں معلوم ہوجائے گا کہ انجام کے لحاظ سے کون اچھا رہا ؟ یاد رکھو اللہ نے جو وعدے اپنے رسول سے کئے ہیں سب اٹل ہیں۔ چناچہ دنیا نے دیکھ لیا کہ وہ نبی جس کا چپہ چپہ مخالف تھا جس کا نام لینا دو بھر تھا جو یکہ وتنہا تھا جو وطن سے نکال دیا گیا تھا جس کی دشمنی ایک ایک کرتا تھا اللہ نے اسے غلبہ دیا لاکھوں دلوں پر اس کی حکومت ہوگئی اس کی زندگی میں ہی تمام جزیرہ عرب کا وہ تنہا مالک بن گیا یمن اور بحرین پر بھی اس کے سامنے اس کا جھنڈا لہرانے لگا، پھر اس کے جانشینوں نے دنیا کو کھنگال ڈالا بڑی بڑی سلطنتوں کے منہ پھیر دیئے، جہاں گئے غلبہ پایا جدھر رخ کیا، فتح حاصل کی، یہی اللہ کا وعدہ تھا کہ میں اور میرے رسول غالب آئیں گے، مجھ سے زیادہ قوت وعزت کسی کی نہیں۔ فرما دیا تھا کہ ہم اپنے رسولوں کی اور ایمانداروں کی مدد فرمائیں گے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ رسولوں کی طرف اس نے وحی بھیجی تھی کہ ہم ظالموں کو تہ وبالا کردیں گے اور ان کے بعد زمینوں کے سرتاج تمہیں بنادیں گے کیونکہ تم مجھ سے اور میرے عذابوں سے ڈرنے والے ہو۔ وہ پہلے ہی فرما چکا تھا کہ تم میں سے ایمانداروں اور نیک کاروں کو میں زمین کا سلطان بنا دوں گا جیسے کہ پہلے سے یہ دستور چلا آ رہا ہے ایسے لوگوں کو اللہ تعالیٰ ان کے دین میں مضبوطی اور کشائش دے گا جس کے دین سے وہ خوش ہے اور ان کے خوف کو امن سے بدل دے گا کہ وہ میری عبادت کریں اور میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھرائیں۔ الحمد اللہ اللہ تعالیٰ نے اس امت سے اپنا یہ وعدہ پورا فرمایا۔ فللہ احمد والمنہ اولا و اخر او ظاہر او باطنا
134
View Single
إِنَّ مَا تُوعَدُونَ لَأٓتٖۖ وَمَآ أَنتُم بِمُعۡجِزِينَ
Indeed the thing which you are promised will definitely come to pass, and you cannot escape.
بیشک جس (عذاب) کا تم سے وعدہ کیا جا رہا ہے وہ ضرور آنے والا ہے اور تم (اللہ کو) عاجز نہیں کر سکتے
Tafsir Ibn Kathir
If They Disobey, They Will Perish
Allah said,
وَرَبُّكَ
(And your Lord...), O Muhammad,
الْغَنِىُّ
(is Al-Ghani) Rich, free from needing His creatures in any way or form, while they stand in need of Him in all situations,
ذُو الرَّحْمَةِ
(full of mercy;) towards creation. Allah said in another Ayah,
إِنَّ اللَّهَ بِالنَّاسِ لَرَءُوفٌ رَّحِيمٌ
(Truly, Allah is full of kindness, the Most Merciful towards mankind.) 2:143
إِن يَشَأْ يُذْهِبْكُمْ
(if He wills, He can destroy you.) if you defy His commandments,
وَيَسْتَخْلِفْ مِن بَعْدِكُم مَّا يَشَآءُ
(And in your place make whom He wills as your successors,) who behave obediently,
كَمَآ أَنشَأَكُمْ مِّن ذُرِّيَّةِ قَوْمٍ ءَاخَرِينَ
(As He raised you from the seed of other people.) and surely, He is able to do this, and it is easy for Him. And just as Allah has destroyed the earlier nations and brought their successors, He is able to do away with these generations and bring other people in their place. Allah has also said;
إِن يَشَأْ يُذْهِبْكُمْ أَيُّهَا النَّاسُ وَيَأْتِ بِـاخَرِينَ وَكَانَ اللَّهُ عَلَى ذلِكَ قَدِيراً
(If He wills, He can take you away, O people, and bring others. And Allah is Ever Capable over that.) 4:133,
يأَيُّهَا النَّاسُ أَنتُمُ الْفُقَرَآءُ إِلَى اللَّهِ وَاللَّهُ هُوَ الْغَنِىُّ الْحَمِيدُ - إِن يَشَأْ يُذْهِبْكُـمْ وَيَأْتِ بِخَلْقٍ جَدِيدٍ وَمَا ذَلِكَ عَلَى اللَّهِ بِعَزِيزٍ
(O mankind! It is you who stand in need of Allah. But Allah is Rich (free of all needs), Worthy of all praise. If He willed, He could destroy you and bring about a new creation. And that is not hard for Allah.) 35:15-17, and,
نَّفْسِهِ وَاللَّهُ الْغَنِىُّ وَأَنتُمُ الْفُقَرَآءُ وَإِن تَتَوَلَّوْاْ يَسْتَبْدِلْ قَوْماً غَيْرَكُمْ ثُمَّ لاَ يَكُونُواْ
(But Allah is Rich (free of all needs), and you are poor. And if you turn away, He will exchange you for some other people and they will not be your likes.) 47:38. Muhammad bin Ishaq said that Ya`qub bin `Utbah said that he heard Aban bin `Uthman saying about this Ayah,
كَمَآ أَنشَأَكُمْ مِّن ذُرِّيَّةِ قَوْمٍ ءَاخَرِينَ
(As He raised you from the seed of other people. ) "`The seed' means the offspring and the children." Allah's statement,
إِنَّ مَا تُوعَدُونَ لأَتٍ وَمَآ أَنتُم بِمُعْجِزِينَ
(Surely, that which you are promised, will verily, come to pass and you cannot escape.) means, tell them, O Muhammad, that what they have been promised of Resurrection will surely occur,
وَمَآ أَنتُم بِمُعْجِزِينَ
(and you cannot escape.) from Allah. Rather, He is able to resurrect you even after you become dust and bones. Certainly, Allah is able to do all things and nothing ever escapes His power. Allah said;
قُلْ يَـقَوْمِ اعْمَلُواْ عَلَى مَكَانَتِكُمْ إِنِّى عَامِلٌ فَسَوْفَ تَعْلَمُونَ
(Say: "O my people! Work according to your way, surely, I too am working and you will come to know.") This contains a stern warning and a sure promise, saying; remain on your way, if you think that you are rightly guided, for I will remain on mine. Allah said in another Ayah,
وَقُل لِّلَّذِينَ لاَ يُؤْمِنُونَ اعْمَلُواْ عَلَى مَكَانَتِكُمْ إِنَّا عَامِلُونَ - وَانْتَظِرُواْ إِنَّا مُنتَظِرُونَ
(And say to those who do not believe: "Act according to Makanatikum, We are acting (in our way). And you wait! We (too) are waiting.") 11:121-122. `Ali bin Abi Talhah reported that Ibn `Abbas said that,
عَلَى مَكَانَتِكُمْ
(according to Makanatikum...) means, your way.
فَسَوْفَ تَعْلَمُونَ مَن تَكُونُ لَهُ عَـقِبَةُ الدَّارِ إِنَّهُ لاَ يُفْلِحُ الظَّـلِمُونَ
(And you will come to know for which of us will be the (happy) end in the Hereafter. Certainly the wrongdoers will not be successful) 6:135, You will come to know if the happy end will be mine (Muhammad's) or yours (the disbelievers). Allah has indeed kept His promise and allowed Muhammad ﷺ to prevail in the land and rise above those who defied him. He conquered Makkah for him and made him triumphant over his people who rejected and showed enmity towards him. The Prophet's rule soon spread over the Arabian Peninsula, Yemen and Bahrain, and all this occurred during his lifetime. After his death, the various lands and provinces were conquered during the time of his successors, may Allah be pleased with them all. Allah also said,
كَتَبَ اللَّهُ لاّغْلِبَنَّ أَنَاْ وَرُسُلِى إِنَّ اللَّهَ قَوِىٌّ عَزِيزٌ
(Allah has decreed: "Verily, it is I and My Messengers who shall be the victorious." Verily, Allah is All-Powerful, Almighty.) 58:21
إِنَّا لَنَنصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِينَ ءَامَنُواْ فِى الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُومُ الاٌّشْهَـدُ - يَوْمَ لاَ يَنفَعُ الظَّـلِمِينَ مَعْذِرَتُهُمْ وَلَهُمُ الْلَّعْنَةُ وَلَهُمْ سُوءُ الدَّارِ
(Verily, We will indeed make victorious Our Messengers and those who believe in this world's life and on the Day when the witnesses will stand forth. The Day when their excuses will be of no profit to the wrongdoers. Theirs will be the curse, and theirs will be the evil abode.) 40:51-52 and,
وَلَقَدْ كَتَبْنَا فِى الزَّبُورِ مِن بَعْدِ الذِّكْرِ أَنَّ الاٌّرْضَ يَرِثُهَا عِبَادِىَ الصَّـلِحُونَ
(And indeed We have written in the Zabur after the Dhikr that My righteous servants shall inherit the land.) 21:105
سب سے بےنیاز اللہ اللہ تعالیٰ اپنی تمام مخلوق سے بےنیاز ہے، اسے کسی کی کوئی حاجت نہیں۔ اسے کسی سے کوئی فائدہ نہیں وہ کسی کا محتاج نہیں۔ ساری مخلوق اپنے ہر حال میں اس کی محتاج ہے۔ وہ بڑی ہی رافت و رحمت والا ہے رحم و کرم اس کی خاص صفتیں ہیں۔ جیسے فرمان ہے آیت (اِنَّ اللّٰهَ بالنَّاسِ لَرَءُوْفٌ رَّحِيْمٌ) 2۔ البقرۃ :143) اللہ اپنے بندوں کے ساتھ مہربانی اور لطف سے پیش آنے والا ہے تو جو اس کی مخالفت کر رہے ہو تو یاد رکھو کہ اگر وہ چاہے تو تمہیں ایک آن میں غارت کرسکتا ہے اور تمہارے بعد ایسے لوگوں کو بسا سکتا ہے جو اس کی اطاعت کریں۔ یہ اس کی قدرت میں ہے تم دیکھ لو اس نے آخر اوروں کے قائم مقام تمہیں بھی کیا ہے۔ ایک قرن کے بعد دوسرا قرن وہی لاتا ہے ایک کو مار ڈالتا ہے دوسرے کو پیدا کردیتا ہے لانے لے جانے پر اسے مکمل قدرت ہے جیسے فرمان ہے اگر وہ چاہے تو اے لوگو تم سب کو فنا کر دے اور دوسروں کو لے آئے وہ اس پر قادر ہے۔ فرمان ہے آیت (يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ اَنْتُمُ الْفُقَرَاۗءُ اِلَى اللّٰهِ ۚ وَاللّٰهُ هُوَ الْغَنِيُّ الْحَمِيْدُ) 35۔ فاطر :15) لوگو تم سب کے سب اللہ کے محتاج ہو اور اللہ تعالیٰ بےنیاز اور تعریفوں والا ہے۔ اگر وہ چاہے تو تم سب کو فنا کر دے اور نئی مخلوق لے آئے اللہ کے لئے کوئی انوکھی بات نہیں اور فرمان ہے آیت (وَاللّٰهُ الْغَنِيُّ وَاَنْتُمُ الْفُقَرَاۗءُ) 47۔ محمد :38) اللہ غنی ہے اور تم سب فقیر ہو۔ فرماتا ہے اگر تم نافرمان ہوگئے تو وہ تمہیں بدل کر اور قوم لائے گا جو تم جیسے نہ ہوں گے۔ ذریت سے مراد اصل و نسل ہے، اے نبی آپ ان سے کہہ دیجئے کہ قیامت جنت دوزخ وغیرہ کے جو وعدے تم سے کئے جا رہے ہیں وہ یقینا سچے ہیں اور یہ سب کچھ ہونے والا ہے تم اللہ کو عاجز نہیں کرسکتے وہ تمہارے اعادے پر قادر ہے۔ تم گل سڑ کر مٹی ہوجاؤ گے پھر وہ تمہیں نئی پیدائش میں پیدا کرے گا اس پر کوئی عمل مشکل نہیں۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں اے بنی آدم اگر تم میں عقل ہے تو اپنے تئیں مردوں میں شمار کرو واللہ اللہ کی فرمائی ہوئی سب باتیں بہ یقین ہونے والی ہیں کوئی نہیں جو اللہ کے ارادے میں اسے ناکام کر دے، اس کی چاہت کو نہ ہونے دے، لوگوں تم اپنی کرنی کئے جاؤ میں اپنے طریقے پر قائم ہوں ابھی ابھی معلوم ہوجائے گا کہ ہدایت پر کون تھا ؟ اور ضلالت پر کون تھا ؟ کون نیک انجام ہوتا ہے اور کون گھٹنوں میں سر ڈال کر روتا ہے۔ جیسے فرمایا بےایمانوں سے کہہ دو کہ تم اپنے شغل میں رہو میں بھی اپنے کام میں لگا ہوں۔ تم منتظر رہو ہم بھی انتظار میں ہیں معلوم ہوجائے گا کہ انجام کے لحاظ سے کون اچھا رہا ؟ یاد رکھو اللہ نے جو وعدے اپنے رسول سے کئے ہیں سب اٹل ہیں۔ چناچہ دنیا نے دیکھ لیا کہ وہ نبی جس کا چپہ چپہ مخالف تھا جس کا نام لینا دو بھر تھا جو یکہ وتنہا تھا جو وطن سے نکال دیا گیا تھا جس کی دشمنی ایک ایک کرتا تھا اللہ نے اسے غلبہ دیا لاکھوں دلوں پر اس کی حکومت ہوگئی اس کی زندگی میں ہی تمام جزیرہ عرب کا وہ تنہا مالک بن گیا یمن اور بحرین پر بھی اس کے سامنے اس کا جھنڈا لہرانے لگا، پھر اس کے جانشینوں نے دنیا کو کھنگال ڈالا بڑی بڑی سلطنتوں کے منہ پھیر دیئے، جہاں گئے غلبہ پایا جدھر رخ کیا، فتح حاصل کی، یہی اللہ کا وعدہ تھا کہ میں اور میرے رسول غالب آئیں گے، مجھ سے زیادہ قوت وعزت کسی کی نہیں۔ فرما دیا تھا کہ ہم اپنے رسولوں کی اور ایمانداروں کی مدد فرمائیں گے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ رسولوں کی طرف اس نے وحی بھیجی تھی کہ ہم ظالموں کو تہ وبالا کردیں گے اور ان کے بعد زمینوں کے سرتاج تمہیں بنادیں گے کیونکہ تم مجھ سے اور میرے عذابوں سے ڈرنے والے ہو۔ وہ پہلے ہی فرما چکا تھا کہ تم میں سے ایمانداروں اور نیک کاروں کو میں زمین کا سلطان بنا دوں گا جیسے کہ پہلے سے یہ دستور چلا آ رہا ہے ایسے لوگوں کو اللہ تعالیٰ ان کے دین میں مضبوطی اور کشائش دے گا جس کے دین سے وہ خوش ہے اور ان کے خوف کو امن سے بدل دے گا کہ وہ میری عبادت کریں اور میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھرائیں۔ الحمد اللہ اللہ تعالیٰ نے اس امت سے اپنا یہ وعدہ پورا فرمایا۔ فللہ احمد والمنہ اولا و اخر او ظاہر او باطنا
135
View Single
قُلۡ يَٰقَوۡمِ ٱعۡمَلُواْ عَلَىٰ مَكَانَتِكُمۡ إِنِّي عَامِلٞۖ فَسَوۡفَ تَعۡلَمُونَ مَن تَكُونُ لَهُۥ عَٰقِبَةُ ٱلدَّارِۚ إِنَّهُۥ لَا يُفۡلِحُ ٱلظَّـٰلِمُونَ
Say (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), “O my people! Keep on with your works* in your positions, I am doing mine; soon you will come to know for whom is the abode of the Hereafter; undoubtedly the unjust are never successful.” (* This is said as a challenge)
فرما دیجئے: اے (میری) قوم! تم اپنی جگہ پر عمل کرتے رہو بیشک میں (اپنی جگہ) عمل کئے جا رہا ہوں۔ پھر تم عنقریب جان لو گے کہ آخرت کا انجام کس کے لئے (بہتر ہے)۔ بیشک ظالم لوگ نجات نہیں پائیں گے
Tafsir Ibn Kathir
If They Disobey, They Will Perish
Allah said,
وَرَبُّكَ
(And your Lord...), O Muhammad,
الْغَنِىُّ
(is Al-Ghani) Rich, free from needing His creatures in any way or form, while they stand in need of Him in all situations,
ذُو الرَّحْمَةِ
(full of mercy;) towards creation. Allah said in another Ayah,
إِنَّ اللَّهَ بِالنَّاسِ لَرَءُوفٌ رَّحِيمٌ
(Truly, Allah is full of kindness, the Most Merciful towards mankind.) 2:143
إِن يَشَأْ يُذْهِبْكُمْ
(if He wills, He can destroy you.) if you defy His commandments,
وَيَسْتَخْلِفْ مِن بَعْدِكُم مَّا يَشَآءُ
(And in your place make whom He wills as your successors,) who behave obediently,
كَمَآ أَنشَأَكُمْ مِّن ذُرِّيَّةِ قَوْمٍ ءَاخَرِينَ
(As He raised you from the seed of other people.) and surely, He is able to do this, and it is easy for Him. And just as Allah has destroyed the earlier nations and brought their successors, He is able to do away with these generations and bring other people in their place. Allah has also said;
إِن يَشَأْ يُذْهِبْكُمْ أَيُّهَا النَّاسُ وَيَأْتِ بِـاخَرِينَ وَكَانَ اللَّهُ عَلَى ذلِكَ قَدِيراً
(If He wills, He can take you away, O people, and bring others. And Allah is Ever Capable over that.) 4:133,
يأَيُّهَا النَّاسُ أَنتُمُ الْفُقَرَآءُ إِلَى اللَّهِ وَاللَّهُ هُوَ الْغَنِىُّ الْحَمِيدُ - إِن يَشَأْ يُذْهِبْكُـمْ وَيَأْتِ بِخَلْقٍ جَدِيدٍ وَمَا ذَلِكَ عَلَى اللَّهِ بِعَزِيزٍ
(O mankind! It is you who stand in need of Allah. But Allah is Rich (free of all needs), Worthy of all praise. If He willed, He could destroy you and bring about a new creation. And that is not hard for Allah.) 35:15-17, and,
نَّفْسِهِ وَاللَّهُ الْغَنِىُّ وَأَنتُمُ الْفُقَرَآءُ وَإِن تَتَوَلَّوْاْ يَسْتَبْدِلْ قَوْماً غَيْرَكُمْ ثُمَّ لاَ يَكُونُواْ
(But Allah is Rich (free of all needs), and you are poor. And if you turn away, He will exchange you for some other people and they will not be your likes.) 47:38. Muhammad bin Ishaq said that Ya`qub bin `Utbah said that he heard Aban bin `Uthman saying about this Ayah,
كَمَآ أَنشَأَكُمْ مِّن ذُرِّيَّةِ قَوْمٍ ءَاخَرِينَ
(As He raised you from the seed of other people. ) "`The seed' means the offspring and the children." Allah's statement,
إِنَّ مَا تُوعَدُونَ لأَتٍ وَمَآ أَنتُم بِمُعْجِزِينَ
(Surely, that which you are promised, will verily, come to pass and you cannot escape.) means, tell them, O Muhammad, that what they have been promised of Resurrection will surely occur,
وَمَآ أَنتُم بِمُعْجِزِينَ
(and you cannot escape.) from Allah. Rather, He is able to resurrect you even after you become dust and bones. Certainly, Allah is able to do all things and nothing ever escapes His power. Allah said;
قُلْ يَـقَوْمِ اعْمَلُواْ عَلَى مَكَانَتِكُمْ إِنِّى عَامِلٌ فَسَوْفَ تَعْلَمُونَ
(Say: "O my people! Work according to your way, surely, I too am working and you will come to know.") This contains a stern warning and a sure promise, saying; remain on your way, if you think that you are rightly guided, for I will remain on mine. Allah said in another Ayah,
وَقُل لِّلَّذِينَ لاَ يُؤْمِنُونَ اعْمَلُواْ عَلَى مَكَانَتِكُمْ إِنَّا عَامِلُونَ - وَانْتَظِرُواْ إِنَّا مُنتَظِرُونَ
(And say to those who do not believe: "Act according to Makanatikum, We are acting (in our way). And you wait! We (too) are waiting.") 11:121-122. `Ali bin Abi Talhah reported that Ibn `Abbas said that,
عَلَى مَكَانَتِكُمْ
(according to Makanatikum...) means, your way.
فَسَوْفَ تَعْلَمُونَ مَن تَكُونُ لَهُ عَـقِبَةُ الدَّارِ إِنَّهُ لاَ يُفْلِحُ الظَّـلِمُونَ
(And you will come to know for which of us will be the (happy) end in the Hereafter. Certainly the wrongdoers will not be successful) 6:135, You will come to know if the happy end will be mine (Muhammad's) or yours (the disbelievers). Allah has indeed kept His promise and allowed Muhammad ﷺ to prevail in the land and rise above those who defied him. He conquered Makkah for him and made him triumphant over his people who rejected and showed enmity towards him. The Prophet's rule soon spread over the Arabian Peninsula, Yemen and Bahrain, and all this occurred during his lifetime. After his death, the various lands and provinces were conquered during the time of his successors, may Allah be pleased with them all. Allah also said,
كَتَبَ اللَّهُ لاّغْلِبَنَّ أَنَاْ وَرُسُلِى إِنَّ اللَّهَ قَوِىٌّ عَزِيزٌ
(Allah has decreed: "Verily, it is I and My Messengers who shall be the victorious." Verily, Allah is All-Powerful, Almighty.) 58:21
إِنَّا لَنَنصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِينَ ءَامَنُواْ فِى الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُومُ الاٌّشْهَـدُ - يَوْمَ لاَ يَنفَعُ الظَّـلِمِينَ مَعْذِرَتُهُمْ وَلَهُمُ الْلَّعْنَةُ وَلَهُمْ سُوءُ الدَّارِ
(Verily, We will indeed make victorious Our Messengers and those who believe in this world's life and on the Day when the witnesses will stand forth. The Day when their excuses will be of no profit to the wrongdoers. Theirs will be the curse, and theirs will be the evil abode.) 40:51-52 and,
وَلَقَدْ كَتَبْنَا فِى الزَّبُورِ مِن بَعْدِ الذِّكْرِ أَنَّ الاٌّرْضَ يَرِثُهَا عِبَادِىَ الصَّـلِحُونَ
(And indeed We have written in the Zabur after the Dhikr that My righteous servants shall inherit the land.) 21:105
سب سے بےنیاز اللہ اللہ تعالیٰ اپنی تمام مخلوق سے بےنیاز ہے، اسے کسی کی کوئی حاجت نہیں۔ اسے کسی سے کوئی فائدہ نہیں وہ کسی کا محتاج نہیں۔ ساری مخلوق اپنے ہر حال میں اس کی محتاج ہے۔ وہ بڑی ہی رافت و رحمت والا ہے رحم و کرم اس کی خاص صفتیں ہیں۔ جیسے فرمان ہے آیت (اِنَّ اللّٰهَ بالنَّاسِ لَرَءُوْفٌ رَّحِيْمٌ) 2۔ البقرۃ :143) اللہ اپنے بندوں کے ساتھ مہربانی اور لطف سے پیش آنے والا ہے تو جو اس کی مخالفت کر رہے ہو تو یاد رکھو کہ اگر وہ چاہے تو تمہیں ایک آن میں غارت کرسکتا ہے اور تمہارے بعد ایسے لوگوں کو بسا سکتا ہے جو اس کی اطاعت کریں۔ یہ اس کی قدرت میں ہے تم دیکھ لو اس نے آخر اوروں کے قائم مقام تمہیں بھی کیا ہے۔ ایک قرن کے بعد دوسرا قرن وہی لاتا ہے ایک کو مار ڈالتا ہے دوسرے کو پیدا کردیتا ہے لانے لے جانے پر اسے مکمل قدرت ہے جیسے فرمان ہے اگر وہ چاہے تو اے لوگو تم سب کو فنا کر دے اور دوسروں کو لے آئے وہ اس پر قادر ہے۔ فرمان ہے آیت (يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ اَنْتُمُ الْفُقَرَاۗءُ اِلَى اللّٰهِ ۚ وَاللّٰهُ هُوَ الْغَنِيُّ الْحَمِيْدُ) 35۔ فاطر :15) لوگو تم سب کے سب اللہ کے محتاج ہو اور اللہ تعالیٰ بےنیاز اور تعریفوں والا ہے۔ اگر وہ چاہے تو تم سب کو فنا کر دے اور نئی مخلوق لے آئے اللہ کے لئے کوئی انوکھی بات نہیں اور فرمان ہے آیت (وَاللّٰهُ الْغَنِيُّ وَاَنْتُمُ الْفُقَرَاۗءُ) 47۔ محمد :38) اللہ غنی ہے اور تم سب فقیر ہو۔ فرماتا ہے اگر تم نافرمان ہوگئے تو وہ تمہیں بدل کر اور قوم لائے گا جو تم جیسے نہ ہوں گے۔ ذریت سے مراد اصل و نسل ہے، اے نبی آپ ان سے کہہ دیجئے کہ قیامت جنت دوزخ وغیرہ کے جو وعدے تم سے کئے جا رہے ہیں وہ یقینا سچے ہیں اور یہ سب کچھ ہونے والا ہے تم اللہ کو عاجز نہیں کرسکتے وہ تمہارے اعادے پر قادر ہے۔ تم گل سڑ کر مٹی ہوجاؤ گے پھر وہ تمہیں نئی پیدائش میں پیدا کرے گا اس پر کوئی عمل مشکل نہیں۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں اے بنی آدم اگر تم میں عقل ہے تو اپنے تئیں مردوں میں شمار کرو واللہ اللہ کی فرمائی ہوئی سب باتیں بہ یقین ہونے والی ہیں کوئی نہیں جو اللہ کے ارادے میں اسے ناکام کر دے، اس کی چاہت کو نہ ہونے دے، لوگوں تم اپنی کرنی کئے جاؤ میں اپنے طریقے پر قائم ہوں ابھی ابھی معلوم ہوجائے گا کہ ہدایت پر کون تھا ؟ اور ضلالت پر کون تھا ؟ کون نیک انجام ہوتا ہے اور کون گھٹنوں میں سر ڈال کر روتا ہے۔ جیسے فرمایا بےایمانوں سے کہہ دو کہ تم اپنے شغل میں رہو میں بھی اپنے کام میں لگا ہوں۔ تم منتظر رہو ہم بھی انتظار میں ہیں معلوم ہوجائے گا کہ انجام کے لحاظ سے کون اچھا رہا ؟ یاد رکھو اللہ نے جو وعدے اپنے رسول سے کئے ہیں سب اٹل ہیں۔ چناچہ دنیا نے دیکھ لیا کہ وہ نبی جس کا چپہ چپہ مخالف تھا جس کا نام لینا دو بھر تھا جو یکہ وتنہا تھا جو وطن سے نکال دیا گیا تھا جس کی دشمنی ایک ایک کرتا تھا اللہ نے اسے غلبہ دیا لاکھوں دلوں پر اس کی حکومت ہوگئی اس کی زندگی میں ہی تمام جزیرہ عرب کا وہ تنہا مالک بن گیا یمن اور بحرین پر بھی اس کے سامنے اس کا جھنڈا لہرانے لگا، پھر اس کے جانشینوں نے دنیا کو کھنگال ڈالا بڑی بڑی سلطنتوں کے منہ پھیر دیئے، جہاں گئے غلبہ پایا جدھر رخ کیا، فتح حاصل کی، یہی اللہ کا وعدہ تھا کہ میں اور میرے رسول غالب آئیں گے، مجھ سے زیادہ قوت وعزت کسی کی نہیں۔ فرما دیا تھا کہ ہم اپنے رسولوں کی اور ایمانداروں کی مدد فرمائیں گے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ رسولوں کی طرف اس نے وحی بھیجی تھی کہ ہم ظالموں کو تہ وبالا کردیں گے اور ان کے بعد زمینوں کے سرتاج تمہیں بنادیں گے کیونکہ تم مجھ سے اور میرے عذابوں سے ڈرنے والے ہو۔ وہ پہلے ہی فرما چکا تھا کہ تم میں سے ایمانداروں اور نیک کاروں کو میں زمین کا سلطان بنا دوں گا جیسے کہ پہلے سے یہ دستور چلا آ رہا ہے ایسے لوگوں کو اللہ تعالیٰ ان کے دین میں مضبوطی اور کشائش دے گا جس کے دین سے وہ خوش ہے اور ان کے خوف کو امن سے بدل دے گا کہ وہ میری عبادت کریں اور میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھرائیں۔ الحمد اللہ اللہ تعالیٰ نے اس امت سے اپنا یہ وعدہ پورا فرمایا۔ فللہ احمد والمنہ اولا و اخر او ظاہر او باطنا
136
View Single
وَجَعَلُواْ لِلَّهِ مِمَّا ذَرَأَ مِنَ ٱلۡحَرۡثِ وَٱلۡأَنۡعَٰمِ نَصِيبٗا فَقَالُواْ هَٰذَا لِلَّهِ بِزَعۡمِهِمۡ وَهَٰذَا لِشُرَكَآئِنَاۖ فَمَا كَانَ لِشُرَكَآئِهِمۡ فَلَا يَصِلُ إِلَى ٱللَّهِۖ وَمَا كَانَ لِلَّهِ فَهُوَ يَصِلُ إِلَىٰ شُرَكَآئِهِمۡۗ سَآءَ مَا يَحۡكُمُونَ
And among the crops and animals that Allah has created, they assigned (only) a portion to Him and therefore said “This is for Allah” – in their opinion – “and this is for our partners (false deities)”; so the portion for their partners does not reach Allah; and the portion for Allah reaches their partners; what an evil judgement they impose!
انہوں نے اللہ کے لئے انہی (چیزوں) میں سے ایک حصہ مقرر کر لیا ہے جنہیں اس نے کھیتی اور مویشیوں میں سے پیدا فرمایا ہے پھر اپنے گمانِ (باطل) سے کہتے ہیں کہ یہ (حصہ) اللہ کے لئے ہے اور یہ ہمارے (خود ساختہ) شریکوں کے لئے ہے، پھر جو (حصہ) ان کے شریکوں کے لئے ہے سو وہ تو اللہ تک نہیں پہنچتا اور جو (حصہ) اللہ کے لئے ہے تو وہ ان کے شریکوں تک پہنچ جاتا ہے، (وہ) کیا ہی برا فیصلہ کر رہے ہیں
Tafsir Ibn Kathir
Some Acts of Shirk
Allah chastises and criticizes the idolators who invented innovations, Kufr and Shirk, and called on partners and rivals with Allah among His creation, although He created every thing, all praise is due to Him. This is why Allah said,
وَجَعَلُواْ لِلَّهِ مِمَّا ذَرَأَ
(And they assign to Allah from that which He has created,)
مِنَ الْحَرْثِ
(of the tilth) meaning, fruits and produce,
وَالاٌّنْعَامِ نَصِيباً
(and of the cattle a share) meaning a part and a section.
فَقَالُواْ هَـذَا لِلَّهِ بِزَعْمِهِمْ وَهَـذَا لِشُرَكَآئِنَا
(and they say: "This is for Allah," according to their claim, "and this is for our partners.") Allah said next,
فَمَا كَانَ لِشُرَكَآئِهِمْ فَلاَ يَصِلُ إِلَى اللَّهِ وَمَا كَانَ لِلَّهِ فَهُوَ يَصِلُ إِلَى شُرَكَآئِهِمْ
(But the share of their "partners" reaches not Allah, while the share of Allah reaches their "partners"!) `Ali bin Abi Talhah and Al-`Awfi narrated that Ibn `Abbas said; "When they, the enemies of Allah, would cultivate the land or collect produce, they would assign a part of it to Allah and another part to the idol. They would keep the share for the idol, whether land, produce or anything else, and preserve its division to such an extent that they would collect anything that accidentally falls from the share they assigned to Allah and add it to the share of the idol. If the water that they assigned for the idol irrigated something (a section of land, for instance) that they assigned for Allah, they would add whatever this water irrigated to the idol's share! If the land or produce that they assigned for Allah was accidentally mixed with the share that they assigned for the idol, they would say that the idol is poor. Therefore, they would add it to the share they assigned for the idol and would not return it to the share they assigned for Allah. If the water that they assigned for Allah irrigated what they assigned for the idol they would leave it (the produce) for the idol. They also made some of their other property sacred, like the Bahirah, Sa'ibah, Wasilah and Ham, assigning them to the idols, claiming that they do so as way of seeking a means of approach to Allah. Allah said,
وَجَعَلُواْ لِلَّهِ مِمَّا ذَرَأَ مِنَ الْحَرْثِ وَالاٌّنْعَامِ نَصِيباً
(And they assign to Allah a share of the tilth and cattle which He has created...)." Similar was said by Mujahid, Qatadah, As-Suddi and others. `Abdur-Rahman bin Zayd bin Aslam commented; "Every type of slaughter that they would assign for Allah, would never be eaten unless they mentioned the names of their idols when slaughtering it. Yet for what they sacrificed in the names of the idols, they would not mention Allah's Name when slaughtering it." He then recited the Ayah (6:136) until he reached,
سَآءَ مَا يَحْكُمُونَ
(Evil is the way they judge!) This Ayah means, evil is that which they determined, for they committed error in the division. Certainly, Allah is the Lord, Owner and Creator of all things and His is the dominion. All things are His property and under His supreme control, will and decree. There is no deity worthy of worship, or Lord, except Him. And even when the polytheists made this evil division, they did not preserve it, but cheated in it. Allah said in other Ayat,
وَيَجْعَلُونَ لِلَّهِ الْبَنَـتِ سُبْحَانَهُ وَلَهُمْ مَّا يَشْتَهُونَ
(And they assign daughters unto Allah -- glory be to Him -- and unto themselves what they desire.) 16:57, and
وَجَعَلُواْ لَهُ مِنْ عِبَادِهِ جُزْءًا إِنَّ الإنسَـنَ لَكَفُورٌ مُّبِينٌ
(Yet, they assign to some of His servants a share with Him. Verily, man is indeed a manifest ingrate!) 43:15, and,
أَلَكُمُ الذَّكَرُ وَلَهُ الاٍّنثَى - تِلْكَ إِذاً قِسْمَةٌ ضِيزَى
(Is it for you the males and for Him the females That indeed is a division most unfair!) 53:21-22.
ہدعت کا آغاز مشرکین کی ایک نو ایجاد (بدعت) جو کفر و شرک کا ایک طریقہ تھی بیان ہو رہی ہے کہ ہر چیز پیدا کی ہوئی تو ہماری ہے پھر یہ اس میں سے نذرانہ کا کچھ حصہ ہمارے نام کا ٹھہراتے ہیں اور کچھ اپنے گھڑے ہوئے معبودوں کا جنہیں وہ ہمارا شریک بنائے ہوئے ہیں، اسی کے ساتھ ہی یہ بھی کرتے ہیں کہ اللہ کے نام کا ٹھہرایا ہوا نذرانہ بتوں کے نام والے میں مل گیا تو وہ تو بتوں کا ہوگیا لیکن اگر بتوں کے لئے ٹھہرائے ہوئے میں سے کچھ اللہ کے نام والے میں مل گیا تو اسے جھٹ سے نکال لیتے تھے۔ کوئی ذبیحہ اپنے معبودوں کے نام کا کریں تو بھول کر بھی اس پر اللہ کا نام نہیں لیتے یہ کیسی بری تقسیم کرتے ہیں۔ اولاً تو یہ تقسیم ہی جہالت کی علامت ہے کہ سب چیزیں اللہ کی پیدا کی ہوئی اسی کی ملکیت پھر ان میں سے دوسرے کے نام کی کسی چیز کو نذر کرنے والے یہ کون ؟ جو اللہ لا شریک ہے انہیں اس کے شریک ٹھہرانے کا کیا مقصد ؟ پھر اس ظلم کو دیکھو اللہ کے حصے میں سے تو بتوں کو پہنچ جائے اور بتوں کا حصہ ہرگز اللہ کو نہ پہنچ سکے یہ کیسے بد ترین اصول ہیں۔ ایسی ہی غلطی یہ بھی تھی کہ اللہ کے لئے لڑکیاں اور اپنے لئے لڑکے تو تمہارے ہوں اور جن لڑکیوں سے تم بیزار وہ اللہ کی ہوں۔ کیسی بری تقسیم ہے۔
137
View Single
وَكَذَٰلِكَ زَيَّنَ لِكَثِيرٖ مِّنَ ٱلۡمُشۡرِكِينَ قَتۡلَ أَوۡلَٰدِهِمۡ شُرَكَآؤُهُمۡ لِيُرۡدُوهُمۡ وَلِيَلۡبِسُواْ عَلَيۡهِمۡ دِينَهُمۡۖ وَلَوۡ شَآءَ ٱللَّهُ مَا فَعَلُوهُۖ فَذَرۡهُمۡ وَمَا يَفۡتَرُونَ
And similarly, their partners (the devils) have made the killing of their children seem righteous in the sight of many of the polytheists, in order to ruin them and make their religion blurred to them; and if Allah willed they would not do so, therefore leave them alone with their fabrications.
اور اسی طرح بہت سے مشرکوں کے لئے ان کے شریکوں نے اپنی اولاد کو مار ڈالنا (ان کی نگاہ میں) خوش نما کر دکھایا ہے تاکہ وہ انہیں برباد کر ڈالیں اور ان کے (بچے کھچے) دین کو (بھی) ان پر مشتبہ کر دیں، اور اگر اللہ (انہیں جبراً روکنا) چاہتا تو وہ ایسا نہ کر پاتے پس آپ انہیں اور جو افترا پردازی وہ کر رہے ہیں (اسے نظرانداز کرتے ہوئے) چھوڑ دیجئے
Tafsir Ibn Kathir
Shaytan Lured the Idolators to Kill Their Children
Allah says, just as the Shayatin lured the idolators to assign a share for Allah from what He created of agriculture and cattle - and a share for the idols, they also made it seem fair for them to kill their children, for fear of poverty, and burying their daughters alive, for fear of dishonor. `Ali bin Abi Talhah reported from Ibn `Abbas that he commented;
وَكَذَلِكَ زَيَّنَ لِكَثِيرٍ مِّنَ الْمُشْرِكِينَ قَتْلَ أَوْلَـدِهِمْ شُرَكَآؤُهُمْ
(And so to many of the idolators, their "partners" have made fair seeming the killing of their children...) "They make killing their children attractive to them." Mujahid said, "Idolators' partners among the devils ordered them to bury their children for fear of poverty." As-Suddi said, "The devils commanded them to kill their daughters so that they,
لِيُرْدُوهُمْ
(lead them to their own destruction), and to,
وَلِيَلْبِسُواْ عَلَيْهِمْ دِينَهُمْ
(cause confusion in their religion.)" Allah said,
وَلَوْ شَآءَ اللَّهُ مَا فَعَلُوهُ
(And if Allah had willed, they would not have done so.) meaning, all this occurred by Allah's leave, will and decree, but He dislikes these practices, and He has the perfect wisdom in every decree. He is never questioned about what He does, but they all will be questioned.
فَذَرْهُمْ وَمَا يَفْتَرُونَ
(So leave them alone with their fabrications.) meaning, avoid and abandon them and what they do, for Allah will judge between you and them.
شیطان کے چیلے جیسے کہ شیطانوں نے انہیں راہ پر لگا دیا ہے کہ وہ اللہ کے لئے خیرات کریں تو اپنے بزرگوں کا نام کا بھی حصہ نکالیں اسی طرح انہیں شیطان نے اس راہ پر بھی لگا رکھا ہے کہ وہ اپنی اولادوں کو بےوجہ قتل کردیں۔ کوئی اس وجہ سے کہ ہم اسے کھلائیں گے کہاں سے ؟ کوئی اس وجہ سے کہ ان بیٹیوں کی بنا پر ہم کسی کے خسر بنیں گے وغیرہ۔ اس شیطانی حرکت کا نتیجہ ہلاکت اور دین کی الجھن ہے۔ یہاں تک کہ یہ بدترین طریقہ ان میں پھیل گیا تھا کہ لڑکی کے ہونے کی خبر ان کے چہرے سیاہ کردیتی تھی ان کے منہ سے یہ نکلتا نہ تھا کہ میرے ہاں لڑکی ہوئی، قرآن نے فرمایا کہ ان بےگناہ زندہ درگور کی ہوئی بچیوں سے قیامت کے دن سوال ہوگا کہ وہ کس گناہ پر قتل کردی گئیں پس یہ سب وسوسے شیطانی تھے لیکن یہ یاد رہے کہ رب کا ارادہ اور اختیار اس سے الگ نہ تھا اگر وہ چاہتا تو مشرک ایسا نہ کرسکتے۔ لیکن اس میں بھی اس کی حکمت ہے، اس سے کوئی باز پرس نہیں کرسکتا اور اس کی باز پرس سے کوئی بچ نہیں سکتا۔ پس اے نبی تو ان سے اور ان کی اس افترا پردازی سے علیحدگی اختیار کرلو اللہ خود ان سے نمٹ لے گا۔
138
View Single
وَقَالُواْ هَٰذِهِۦٓ أَنۡعَٰمٞ وَحَرۡثٌ حِجۡرٞ لَّا يَطۡعَمُهَآ إِلَّا مَن نَّشَآءُ بِزَعۡمِهِمۡ وَأَنۡعَٰمٌ حُرِّمَتۡ ظُهُورُهَا وَأَنۡعَٰمٞ لَّا يَذۡكُرُونَ ٱسۡمَ ٱللَّهِ عَلَيۡهَا ٱفۡتِرَآءً عَلَيۡهِۚ سَيَجۡزِيهِم بِمَا كَانُواْ يَفۡتَرُونَ
And they said, “These cattle and crops are forbidden; only those whom we wish can eat them” – in their opinion – and some cattle are those which they have forbidden riding upon, and some cattle over which they do not mention the name of Allah while slaughtering – all this is fabricating lies against Allah; He will soon repay them for their fabrications.
اور اپنے خیالِ (باطل) سے (یہ بھی) کہتے ہیں کہ یہ (مخصوص) مویشی اور کھیتی ممنوع ہے، اسے کوئی نہیں کھا سکتا سوائے اس کے جسے ہم چاہیں اور (یہ کہ بعض) چوپائے ایسے ہیں جن کی پیٹھ (پر سواری) کو حرام کیا گیا ہے اور (بعض) مویشی ایسے ہیں کہ جن پر (ذبح کے وقت) یہ لوگ اللہ کا نام نہیں لیتے (یہ سب) اللہ پر بہتان باندھنا ہے، عنقریب وہ انہیں (اس بات کی) سزا دے گا جو وہ بہتان باندھتے تھے
Tafsir Ibn Kathir
The Idolators Forbade Certain Types of Cattle
`Ali bin Abi Talhah reported that Ibn `Abbas said, "Hijr refers to what they forbade, such as the Wasilah, and the like." Similar was said by Mujahid, Ad-Dahhak, As-Suddi, Qatadah, `Abdur-Rahman bin Zayd bin Aslam and others. Qatadah commented on,
وَقَالُواْ هَـذِهِ أَنْعَـمٌ وَحَرْثٌ حِجْرٌ
(They say that such and such cattle and crops are Hijr,) "It is a prohibition that the Shayatin appointed for their wealth, and a type of exaggeration and extremism that did not come from Allah." `Abdur-Rahman Ibn Zayd bin Aslam said that, d
حِجْرٍ
(Hijr,) refers to what the idolators designated for their deities. As-Suddi said that the Ayah,
لاَّ يَطْعَمُهَآ إِلاَّ مَن نَّشَآءُ بِزَعْمِهِمْ
(And none should eat of them except those whom we allow, they claimed...) means, "They said, only those whom we choose can eat of them., and the rest are prohibited from eating them." Similar to this honorable Ayah, Allah said,
قُلْ أَرَأَيْتُمْ مَّآ أَنزَلَ اللَّهُ لَكُمْ مِّن رِّزْقٍ فَجَعَلْتُمْ مِّنْهُ حَرَامًا وَحَلاَلاً قُلْ ءَآللَّهُ أَذِنَ لَكُمْ أَمْ عَلَى اللَّهِ تَفْتَرُونَ
(Say: "Tell me, what provision Allah has sent down to you! And you have made of it lawful and unlawful." Say: "Has Allah permitted you (to do so), or do you invent a lie against Allah") 10:59, and,
مَا جَعَلَ اللَّهُ مِن بَحِيرَةٍ وَلاَ سَآئِبَةٍ وَلاَ وَصِيلَةٍ وَلاَ حَامٍ وَلَـكِنَّ الَّذِينَ كَفَرُواْ يَفْتَرُونَ عَلَى اللَّهِ الْكَذِبَ وَأَكْثَرُهُمْ لاَ يَعْقِلُونَ
(Allah has not instituted things like Bahirah or a Sa'ibah or a Wasilah or a Ham. But those who disbelieve invent lies against Allah, and most of them have no understanding.) 5:103 As-Suddi said that cattle forbidden to be used for burden were the Bahirah, Sa'ibah, Wasilah and Ham, as well as cattle for which the idolators did not mention Allah's Name when slaughtering them nor when they were born. Abu Bakr bin `Ayyash said that `Asim bin Abi An-Najud said, "Abu Wa'il said to me, `Do you know the meaning of the Ayah,
وَأَنْعَـمٌ حُرِّمَتْ ظُهُورُهَا وَأَنْعَـمٌ لاَّ يَذْكُرُونَ اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهَا
(And (they say) there are cattle forbidden to be used for burden, and cattle on which the Name of Allah is not pronounced.) I said, `No.' He said, `It is the Bahirah, which they would not use to for Hajj (either by riding it or carrying things on it)."' Mujahid also said that they were some of the camels belonging to idolators on which Allah's Name was not mentioned when riding, milking, carrying things, copulation or any other action.
افْتِرَآءً عَلَيْهِ
(lying against Him.) against Allah. The idolators indeed lied when they attributed this evil to Allah's religion and Law; He did not allow them to do that nor did He approve of it,
سَيَجْزِيهِم بِمَا كَانُواْ يَفْتَرُونَ
(He will recompense them for what they used to fabricate.) against Him, and falsely attribute to Him.
اللہ کا مقرر کردہ راستہ حجر کے معنی احرام کے ہیں۔ یہ طریقے شیطانی تھے کوئی اللہ کا مقرر کردہ راستہ نہ تھا۔ اپنے معبودوں کے نام یہ چیزیں کردیتے تھے۔ پھر جسے چاہتے کھلاتے۔ جیسے فرمان ہے آیت (قُلْ اَرَءَيْتُمْ مَّآ اَنْزَلَ اللّٰهُ لَكُمْ مِّنْ رِّزْقٍ فَجَــعَلْتُمْ مِّنْهُ حَرَامًا وَّحَلٰلًا) 10۔ یونس :59) یعنی بتلاؤ تو یہ اللہ کے دیئے رزق میں سے تم جو اپنے طور پر حلال حرام مقرر کرلیتے ہو اس کا حکم تمہیں اللہ نے دیا ہے یا تم نے خود ہی خود پر تراش لیا ہے ؟ دوسری آیت میں صاف فرمایا آیت (مَا جَعَلَ اللّٰهُ مِنْۢ بَحِيْرَةٍ وَّلَا سَاۗىِٕبَةٍ وَّلَا وَصِيْلَةٍ وَّلَا حَامٍ ۙ وَّلٰكِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا يَفْتَرُوْنَ عَلَي اللّٰهِ الْكَذِبَ ۭ وَاَكْثَرُهُمْ لَا يَعْقِلُوْنَ) 5۔ المائدہ :103) یعنی یہ کافروں کی نادانی، افتراء اور جھوٹ ہے۔ بحیرہ سائبہ اور حام نام رکھ کر ان جانوروں کو اپنے معبودان باطل کے نام پر داغ دیتے تھے پھر ان سے سواری نہیں لیتے تھے، جب ان کے بچے ہوتے تھے تو انہیں ذبح کرتے تھے حج کے لئے بھی ان جانوروں پر سواری کرنا حرام جانتے تھے۔ نہ کسی کام میں ان کو لگاتے تھے نہ ان کا دودھ نکالتے تھے پھر ان کاموں کو شرعی کام قرار دیتے تھے اور اللہ کا فرمان جانتے تھے اللہ انہیں ان کے اس کرتوت کا اور بہتان بازی کا بدلہ دے گا۔
139
View Single
وَقَالُواْ مَا فِي بُطُونِ هَٰذِهِ ٱلۡأَنۡعَٰمِ خَالِصَةٞ لِّذُكُورِنَا وَمُحَرَّمٌ عَلَىٰٓ أَزۡوَٰجِنَاۖ وَإِن يَكُن مَّيۡتَةٗ فَهُمۡ فِيهِ شُرَكَآءُۚ سَيَجۡزِيهِمۡ وَصۡفَهُمۡۚ إِنَّهُۥ حَكِيمٌ عَلِيمٞ
And they said, “The animals in the bellies of such cattle are purely for our males and forbidden to our women; and if the animal is stillborn, they all have a share of it”; soon Allah will repay them for their utterances; indeed He is Wise, All Knowing.
اور (یہ بھی) کہتے ہیں کہ جو (بچہ) ان چوپایوں کے پیٹ میں ہے وہ ہمارے مَردوں کے لئے مخصوص ہے اور ہماری عورتوں پر حرام کر دیا گیا ہے، اور اگر وہ (بچہ) مرا ہوا (پیدا) ہو تو وہ (مرد اور عورتیں) سب اس میں شریک ہوتے ہیں، عنقریب وہ انہیں ان کی (من گھڑت) باتوں کی سزا دے گا، بیشک وہ بڑی حکمت والا خوب جاننے والا ہے
Tafsir Ibn Kathir
وَقَالُواْ مَا فِى بُطُونِ هَـذِهِ الأَنْعَـمِ خَالِصَةٌ لِّذُكُورِنَا
(And they say: "What is in the bellies of such and such cattle is for our males alone...") refers to milk. `Awfi said that Ibn `Abbas said about this Ayah,
وَقَالُواْ مَا فِى بُطُونِ هَـذِهِ الأَنْعَـمِ خَالِصَةٌ لِّذُكُورِنَا
(And they say: "What is in the bellies of such and such cattle is for our males alone...") "It is about milk, which they prohibited for their females and allowed only their males to drink. When a sheep would give birth to a male sheep, they would slaughter it and feed it to their males, but not to their females. If the newly born lamb was a female, they would not slaughter it, but if it was stillborn, they would share in it (with their females)! Allah forbade this practice." Similar was said by As-Suddi. Ash-Sha`bi said, "The Bahirah's milk was only given to the men. But if any cattle from the Bahirah died, both men and women would share in eating it." Similar was said by `Ikrimah, Qatadah and `Abdur-Rahman bin Zayd bin Aslam. Mujahid commented;
وَقَالُواْ مَا فِى بُطُونِ هَـذِهِ الأَنْعَـمِ خَالِصَةٌ لِّذُكُورِنَا وَمُحَرَّمٌ عَلَى أَزْوَجِنَا
(And they say: "What is in the bellies of such and such cattle is for our males alone, and forbidden to our females...") "It refers to the Sa'ibah and the Bahirah." Abu Al-`Aliyah, Mujahid and Qatadah said that Allah's statement,
سَيَجْزِيهِمْ وَصْفَهُمْ
(He will punish them for their attribution. ) means, uttering such falsehood. This is explained by Allah's statement,
وَلاَ تَقُولُواْ لِمَا تَصِفُ أَلْسِنَتُكُمُ الْكَذِبَ هَـذَا حَلَـلٌ وَهَـذَا حَرَامٌ لِّتَفْتَرُواْ عَلَى اللَّهِ الْكَذِبَ إِنَّ الَّذِينَ يَفْتَرُونَ عَلَى اللَّهِ الْكَذِبَ لاَ يُفْلِحُونَ
(And say not concerning that which your tongues falsely utter: "This is lawful and this is forbidden." so as to invent lies against Allah. Verily, those who invent lies against Allah will never prosper.) 16:116 Allah said,
إِنَّهُ حَكِيمٌ
(Verily, He is All-Wise.) in His actions, statements, Law and decree,
عَلِيمٌ
(All-Knower), in the actions of His servants, whether good or evil, and He will recompense them for these deeds completely.
نذر نیاز ابن عباس فرماتے ہیں جاہلیت میں یہ بھی رواج تھا کہ جن چوپایوں کو وہ اپنے معبودان باطل کے نام کردیتے تھے ان کا دودھ صرف مرد پیتے تھے جب انہیں بچہ ہوتا تو اگر نر ہوتا تو صرف مرد ہی کھاتے اگر مادہ ہوتا تو اسے ذبح ہی نہ کرتے اور اگر پیٹ ہی سے مردہ نکلتا تو مرد عورت سب کھاتے اللہ نے اس فعل سے بھی روکا۔ شعبی کا قول ہے کہ بحیرہ کا دودھ صرف مرد پیتے اور اگر وہ مرجاتا تو گوشت مرد عورت سب کھاتے۔ ان کی ان جھوٹی باتوں کا بدلہ اللہ انہیں دے گا کیونکہ یہ سب ان کا جھوٹ اللہ پر باندھا ہوا تھا، فلاح و نجات اسی لئے ان سے دور کردی گئی تھی۔ یہ اپنی مرضی سے کسی کو حلال کسی کو حرام کرلیتے تھے پھر اسے رب کی طرف منسوب کردیتے تھے اللہ جیسے حکیم کا کوئی فعل کوئی قول کوئی شرع کوئی تقدیر بےحکمت نہیں تھی وہ اپنے بندوں کے خیر و شر سے دانا ہے اور انہیں بدلے دینے والا ہے۔
140
View Single
قَدۡ خَسِرَ ٱلَّذِينَ قَتَلُوٓاْ أَوۡلَٰدَهُمۡ سَفَهَۢا بِغَيۡرِ عِلۡمٖ وَحَرَّمُواْ مَا رَزَقَهُمُ ٱللَّهُ ٱفۡتِرَآءً عَلَى ٱللَّهِۚ قَدۡ ضَلُّواْ وَمَا كَانُواْ مُهۡتَدِينَ
Indeed ruined are those who slay their children out of senseless ignorance and forbid the sustenance which Allah has bestowed upon them, in order to fabricate lies against Allah; they have undoubtedly gone astray and not attained the path.
واقعی ایسے لوگ برباد ہوگئے جنہوں نے اپنی اولاد کو بغیر علمِ (صحیح) کے (محض) بیوقوفی سے قتل کر ڈالا اور ان (چیزوں) کو جو اللہ نے انہیں (روزی کے طور پر) بخشی تھیں اللہ پر بہتان باندھتے ہوئے حرام کر ڈالا، بیشک وہ گمراہ ہو گئے اور ہدایت یافتہ نہ ہو سکے
Tafsir Ibn Kathir
Allah says that those who committed these evil acts have earned the loss of this life and the Hereafter.
As for this life, they lost when they killed their children and made it difficult for themselves by prohibiting some types of their wealth, as an act of innovation that they invented on their own. As for the Hereafter, they will end up in the worst dwellings, because they used to lie about Allah and invent falsehood about Him. Allah also said,
قُلْ إِنَّ الَّذِينَ يَفْتَرُونَ عَلَى اللَّهِ الْكَذِبَ لاَ يُفْلِحُونَ - مَتَـعٌ فِى الدُّنْيَا ثُمَّ إِلَيْنَا مَرْجِعُهُمْ ثُمَّ نُذِيقُهُمُ الْعَذَابَ الشَّدِيدَ بِمَا كَانُواْ يَكْفُرُونَ
(Say: "Verily, those who invent a lie against Allah will never be successful." (A brief) enjoyment in this world! And then unto Us will be their return, then We shall make them taste the severest torment because they used to disbelieve.) 10:69-70 Al-Hafiz Abu Bakr bin Marduwyah recorded that Ibn `Abbas commented, "If it pleases you to know how ignorant the Arabs used to be, then recite the Ayat beyond Ayah one hundred and thirty in Surat Al-An`am,
قَدْ خَسِرَ الَّذِينَ قَتَلُواْ أَوْلَـدَهُمْ سَفَهاً بِغَيْرِ عِلْمٍ وَحَرَّمُواْ مَا رَزَقَهُمُ اللَّهُ افْتِرَآءً عَلَى اللَّهِ قَدْ ضَلُّواْ وَمَا كَانُواْ مُهْتَدِينَ
(Indeed lost are they who have killed their children, foolishly, without knowledge, and they have forbidden that which Allah has provided for them, inventing a lie against Allah. They have indeed gone astray and were not guided.)" Al-Bukhari also recorded this in the section of his Sahih on the virtues of the Quraysh.
اولاد کے قاتل اولاد کے قاتل اللہ کے حلال کو حرام کرنے والے دونوں جہان کی بربادی اپنے اوپر لینے والے ہیں۔ دنیا کا گھاٹا تو ظاہر ہے ان کے یہ دونوں کام خود انہیں نقصان پہنچانے والے ہیں بےاولاد یہ ہوجائیں گے مال کا ایک حصہ ان کا تباہ ہوجائے گا۔ رہا آخرت کا نقصان سو چونکہ یہ مفتری ہیں، کذاب ہیں، وہاں کی بدترین جگہ انہیں ملے گی، عذابوں کے سزاوار ہوں گے جیسے فرمان ہے کہ اللہ پر جھوٹ باندھنے والے نجات سے محروم کامیابی سے دور ہیں یہ دنیا میں گو کچھ فائدہ اٹھا لیں لیکن آخر تو ہمارے بس میں آئیں گے پھر تو ہم انہیں سخت تر عذاب چکھائیں گے کیونکہ یہ کافر تھے۔ ابن عباس سے مروی ہے کہ اگر تو اسلام سے پہلے کے عربوں کی بد خصلتی معلوم کرنا چاہے تو سورة انعام کی ایک سو تیس آیات کے بعد آیت (قَدْ خَسِرَ الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِلِقَاۗءِ اللّٰهِ) 6۔ الانعام :31) والی روایت پڑھو (بخاری کتاب مناقب قریش)
141
View Single
۞وَهُوَ ٱلَّذِيٓ أَنشَأَ جَنَّـٰتٖ مَّعۡرُوشَٰتٖ وَغَيۡرَ مَعۡرُوشَٰتٖ وَٱلنَّخۡلَ وَٱلزَّرۡعَ مُخۡتَلِفًا أُكُلُهُۥ وَٱلزَّيۡتُونَ وَٱلرُّمَّانَ مُتَشَٰبِهٗا وَغَيۡرَ مُتَشَٰبِهٖۚ كُلُواْ مِن ثَمَرِهِۦٓ إِذَآ أَثۡمَرَ وَءَاتُواْ حَقَّهُۥ يَوۡمَ حَصَادِهِۦۖ وَلَا تُسۡرِفُوٓاْۚ إِنَّهُۥ لَا يُحِبُّ ٱلۡمُسۡرِفِينَ
It is He Who produces gardens spread on the ground and above, and the date-palm, and crops of various flavours, and the olive and the pomegranate, similar in some respects and unlike in others; eat from its fruit when it bears yield, and pay the due (obligatory charity) from it on the day it is harvested; and do not be wasteful; indeed the wasteful are not liked by Allah.
اور وہی ہے جس نے برداشتہ اور غیر برداشتہ (یعنی بیلوں کے ذریعے اوپر چڑھائے گئے اور بغیر اوپر چڑھائے گئے) باغات پیدا فرمائے اور کھجور (کے درخت) اور زراعت جس کے پھل گوناگوں ہیں اور زیتون اور انار (جو شکل میں) ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں اور (ذائقہ میں) جداگانہ ہیں (بھی پیدا کئے)۔ جب (یہ درخت) پھل لائیں تو تم ان کے پھل کھایا (بھی) کرو اور اس (کھیتی اور پھل) کے کٹنے کے دن اس کا (اللہ کی طرف سے مقرر کردہ) حق (بھی) ادا کر دیا کرو اور فضول خرچی نہ کیا کرو، بیشک وہ بے جا خرچ کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا
Tafsir Ibn Kathir
Allah Created the Produce, Seed Grains and Cattle
Allah states that He created everything, including the produce, fruits and cattle that the idolators mishandled by their misguided ideas, dividing them into various designated parts, allowing some and prohibiting some. Allah said,
وَهُوَ الَّذِى أَنشَأَ جَنَّـتٍ مَّعْرُوشَـتٍ وَغَيْرَ مَعْرُوشَـتٍ
(And it is He Who produces gardens Ma`rushat and not Ma`rushat,) `Ali bin Abi Talhah reported that Ibn `Abbas commented, "Ma`rushat refers to what the people trellise, while `not Ma`rushat' refers to fruits (and produce) that grow wild inland and on mountains." `Ata' Al-Khurasani said that Ibn `Abbas said, "Ma`rushat are the grapevines that are trellised, while `not Ma`rushat' refers to grapevines that are not trellised." As-Suddi said similarly. As for these fruits being similar, yet different, Ibn Jurayj said, "They are similar in shape, but different in taste." Muhammad bin Ka`b said that the Ayah,
كُلُواْ مِن ثَمَرِهِ إِذَآ أَثْمَرَ
(Eat of their fruit when they ripen,) means, "(Eat) from the dates and grapes they produce." Allah said next,
وَءَاتُواْ حَقَّهُ يَوْمَ حَصَادِهِ
(but pay the due thereof on the day of their harvest, ) Mujahid commented, "When the poor people are present (on the day of harvest), give them some of the produce." `Abdur-Razzaq recorded that Mujahid commented on the Ayah,
وَءَاتُواْ حَقَّهُ يَوْمَ حَصَادِهِ
(but pay the due thereof on the day of their harvest.) "When planting, one gives away handfuls (of seed grains) and on harvest, he gives away handfuls and allows them to pick whatever is left on the ground of the harvest." Ath-Thawri said that Hammad narrated that Ibrahim An-Nakha`i said, "One gives away some of the hay." Ibn Al-Mubarak said that Shurayk said that Salim said that Sa`id bin Jubayr commented;
وَءَاتُواْ حَقَّهُ يَوْمَ حَصَادِهِ
(but pay the due thereof on the day of their harvest,) "This ruling, giving the poor the handfuls (of seed grains) and some of the hay as food for their animals, was before Zakah became obligatory." Allah has chastised those who harvest, without giving away a part of it as charity. Allah mentioned the story of the owners of the garden in Surat Nun,
إِنَّا بَلَوْنَـهُمْ كَمَا بَلَوْنَآ أَصْحَـبَ الْجَنَّةِ إِذْ أَقْسَمُواْ لَيَصْرِمُنَّهَا مُصْبِحِينَ - وَلاَ يَسْتَثْنُونَ - فَطَافَ عَلَيْهَا طَآئِفٌ مِّن رَّبِّكَ وَهُمْ نَآئِمُونَ - فَأَصْبَحَتْ كَالصَّرِيمِ - فَتَنَادَوْاْ مُصْبِحِينَ - أَنِ اغْدُواْ عَلَى حَرْثِكُمْ إِن كُنتُمْ صَـرِمِينَ - فَانطَلَقُواْ وَهُمْ يَتَخَـفَتُونَ - أَن لاَّ يَدْخُلَنَّهَا الْيَوْمَ عَلَيْكُمْ مِّسْكِينٌ - وَغَدَوْاْ عَلَى حَرْدٍ قَـدِرِينَ - فَلَمَّا رَأَوْهَا قَالُواْ إِنَّا لَضَآلُّونَ بَلْ نَحْنُ مَحْرُومُونَ قَالَ أَوْسَطُهُمْ أَلَمْ أَقُلْ لَّكُمْ لَوْلاَ تُسَبِّحُونَ قَالُواْ سُبْحَـنَ رَبِّنَآ إِنَّا كُنَّا ظَـلِمِينَ فَأَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ يَتَلَـوَمُونَ قَالُواْ يوَيْلَنَآ إِنَّا كُنَّا طَـغِينَ عَسَى رَبُّنَآ أَن يُبْدِلَنَا خَيْراً مِّنْهَآ إِنَّآ إِلَى رَبِّنَا رَغِبُونَ كَذَلِكَ الْعَذَابُ وَلَعَذَابُ الاٌّخِرَةِ أَكْبَرُ لَوْ كَانُواْ يَعْلَمُونَ
(When they swore to pluck the fruits of the (garden) in the morning. Without saying: "If Allah wills." Then there passed by on the (garden) a visitation (fire) from your Lord at night, burning it while they were asleep. So the (garden) became black by the morning, like a pitch dark night (in complete ruins). Then they called out one to another as soon as the morning broke. Saying: "Go to your tilth in the morning, if you would pluck the fruits." So they departed, conversing in secret low tones (saying). "No poor person shall enter upon you into it today." And they went in the morning with strong intention, thinking that they have power (to prevent the poor taking anything of the fruits therefrom). But when they saw the (garden), they said: "Verily, we have gone astray." (Then they said): "Nay! Indeed we are deprived of (the fruits)!" The best among them said: "Did I not tell you, why say you not: `If Allah wills'." They said: "Glory to Our Lord! Verily, we have been wrongdoers." Then they turned one against another, blaming. They said: "Woe to us! We have transgressed. We hope that our Lord will give us in exchange a better (garden) than this. Truly, we turn to our Lord." Such is the punishment (in this life), but truly, the punishment of the Hereafter is greater if they but knew.) 68:18-33.
Prohibiting Extravagance
Allah said,
وَلاَ تُسْرِفُواْ إِنَّهُ لاَ يُحِبُّ الْمُسْرِفِينَ
(And waste not by extravagance. Verily, He likes not the wasteful.) It was said that the extravagance prohibited here refers to excessive charity beyond normal amounts. Ibn Jurayj said, "This Ayah was revealed concerning Thabit bin Qays bin Shammas, who plucked the fruits of his date palms. Then he said to himself, `This day, every person who comes to me, I will feed him from it.' So he kept feeding (them) until the evening came and he ended up with no dates. Allah sent down,
وَلاَ تُسْرِفُواْ إِنَّهُ لاَ يُحِبُّ الْمُسْرِفِينَ
(And waste not by extravagance. Verily, He likes not the wasteful.)" Ibn Jarir recorded this statement from Ibn Jurayj. However, thhe apparent meaning of this Ayah, and Allah knows best, is that;
كُلُواْ مِن ثَمَرِهِ إِذَآ أَثْمَرَ وَءَاتُواْ حَقَّهُ يَوْمَ حَصَادِهِ وَلاَ تُسْرِفُواْ
(Eat of their fruit when they ripen, but pay the due thereof on the day of their harvest, and waste not...) refers to eating, meaning, do not waste in eating because this spoils the mind and the body. Allah said in another Ayah,
وكُلُواْ وَاشْرَبُواْ وَلاَ تُسْرِفُواْ
(And eat and drink but waste not by extravagance.) 7: 31 In his Sahih, Al-Bukhari recorded a Hadith without a chain of narration; a
«كُلُوا وَاشْرَبُوا وَالْبَسُوا مِنْ غَيْرِ إِسْرَافٍ وَلَا مَخِيلَة»
(Eat, drink and clothe yourselves without extravagance or arrogance.) Therefore, these Ayat have the same meaning as this Hadith. and Allah knows best.
Benefits of Cattle
Allah's statement,
وَمِنَ الأَنْعَـمِ حَمُولَةً وَفَرْشًا
(And of the cattle (are some) for burden and (some smaller) for Farsh.) means, He created cattle for you, some of which are suitable for burden, such as camels, and some are Farsh. Ath-Thawri narrated that Abu Ishaq said that Abu Al-Ahwas said that `Abdullah said that `animals for burden' are the camels that are used for carrying things, while, `Farsh', refers to small camels. Al-Hakim recorded it and said, "Its chain is Sahih and they did not record it." `Abdur-Rahman bin Zayd bin Aslam said that `animals for burden' refers to the animals that people ride, while, `Farsh' is that they eat (its meat) and milk it. The sheep is not able to carry things, so you eat its meat and use its wool for covers and mats (or clothes). This statement of `Abdur-Rahman is sound, and the following Ayat testify to it,
أَوَلَمْ يَرَوْاْ أَنَّا خَلَقْنَا لَهُم مِمَّا عَمِلَتْ أَيْدِينَآ أَنْعـماً فَهُمْ لَهَا مَـلِكُونَ - وَذَلَّلْنَـهَا لَهُمْ فَمِنْهَا رَكُوبُهُمْ وَمِنْهَا يَأْكُلُونَ
(Do they not see that We have created for them of what Our Hands have created, the cattle, so that they are their owners. And We have subdued them unto them so that some of them they have for riding and some they eat.) 36:71-72, and,
وَإِنَّ لَكُمْ فِى الاٌّنْعَـمِ لَعِبْرَةً نُّسْقِيكُمْ مِّمَّا فِى بُطُونِهِ مِن بَيْنِ فَرْثٍ وَدَمٍ لَّبَنًا خَالِصًا سَآئِغًا لِلشَّارِبِينَ
(And verily, in the cattle, there is a lesson for you. We give you to drink of that which is in their bellies, from between excretions and blood, pure milk; palatable to the drinkers.) 16:66, until,
وَمِنْ أَصْوَافِهَا وَأَوْبَارِهَا وَأَشْعَارِهَآ أَثَـثاً وَمَتَـعاً إِلَى حِينٍ
(And of their wool, fur and hair, furnishings and articles of convenience, comfort for a while.) 16:80.
Eat the Meat of These Cattle, But Do Not Follow Shaytan's Law Concerning Them
Allah said,
كُلُواْ مِمَّا رَزَقَكُمُ اللَّهُ
(Eat of what Allah has provided for you,) of fruits, produce and cattle. Allah created all these and provided you with them as provision.
وَلاَ تَتَّبِعُواْ خُطُوَتِ الشَّيْطَـنِ
(and follow not the footsteps of Shaytan.) meaning, his way and orders, just as the idolators followed him and prohibited fruits and produce that Allah provided for them, claiming that this falsehood came from Allah.
إِنَّهُ لَكُمْ
(Surely, he is to you) meaning; Shaytan, O people, is to you,
عَدُوٌّ مُّبِينٌ
(an open enemy) and his enmity to you is clear and apparent. Allah said in other Ayat,
إِنَّ الشَّيْطَـنَ لَكُمْ عَدُوٌّ فَاتَّخِذُوهُ عَدُوّاً إِنَّمَا يَدْعُو حِزْبَهُ لِيَكُونُواْ مِنْ أَصْحَـبِ السَّعِيرِ
(Surely, Shaytan is an enemy to you, so take (treat) him as an enemy. He only invites his Hizb (followers) that they may become the dwellers of the blazing Fire. ) 35:6 and,
يَـبَنِى آدَمَ لاَ يَفْتِنَنَّكُمُ الشَّيْطَـنُ كَمَآ أَخْرَجَ أَبَوَيْكُم مِّنَ الْجَنَّةِ يَنزِعُ عَنْهُمَا لِبَاسَهُمَا لِيُرِيَهُمَا سَوْءَتِهِمَآ
(O Children of Adam! Let not Shaytan deceive you, as he got your parents out of Paradise, stripping them of their raiment, to show them their private parts.) 7:27 and,
أَفَتَتَّخِذُونَهُ وَذُرِّيَّتَهُ أَوْلِيَآءَ مِن دُونِى وَهُمْ لَكُمْ عَدُوٌّ بِئْسَ لِلظَّـلِمِينَ بَدَلاً
(Will you then take him (Iblis) and his offspring as protectors and helpers rather than Me while they are enemies to you What an evil is the exchange for the wrongdoers.)18:50 There are many other Ayat on this subject.
مسائل زکوٰۃ اور عشر مظاہر قدرت خالق کل اللہ تعالیٰ ہی ہے کھیتیاں پھل چوپائے سب اسی کے پیدا کئے ہوئے ہیں کافروں کو کوئی حق نہیں کہ حرام حلال کی تقسیم از خود کریں۔ درخت بعض تو بیل والے ہیں جیسے انگور وغیرہ کہ وہ محفوظ ہوتے ہیں بعض کھڑے جو جنگلوں اور پہاڑوں پر کھڑے ہوئے ہیں۔ دیکھنے میں ایک دورے سے ملتے جلتے مگر پھلوں کے ذائقے کے لحاظ سے الگ الگ۔ انگور کھجور یہ درخت تمہیں دیتے ہیں کہ تم کھاؤ مزہ اٹھاؤ لطف پاؤ۔ اس کا حق اس کے کٹنے اور ناپ تول ہونے کے دن ہی دو یعنی فرض زکوٰۃ جو اس میں مقرر ہو وہ ادا کردو۔ پہلے لوگ کچھ نہیں دیتے تھے شریعت نے دسواں حصہ مقرر کیا اور ویسے بھی مسکینوں اور بھوکوں کا خیال رکھنا۔ چناچہ مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ حضور نے فرمان صادر فرمایا تھا کہ جس کی کھجوریں دس وسق سے زیادہ ہوں وہ چند خوشے مسجد میں لا کر لٹکا دے تاکہ مساکین کھا لیں۔ یہ بھی مراد ہے کہ زکوٰۃ کے سوا اور کچھ سلوک بھی اپنی کھیتیوں باڑیوں اور باغات کے پھلوں سے اللہ کے بندوں کے ساتھ کرتے رہو، مثلاً پھل توڑنے اور کھیت کاٹنے کے وقت عموماً مفلس لوگ پہنچ جایا کرتے ہیں انہیں کچھ چھوڑ دو تاکہ مسکینوں کے کام آئے۔ ان کے جانوروں کا چارہ ہو، زکوٰۃ سے پہلے بھی حقداروں کو کچھ نہ کچھ دیتے رہا کرو، پہلے تو یہ بطور وجوب تھا لیکن زکوٰۃ کی فرضیت کے بعد بطور نفل رہ گیا زکوٰۃ اس میں عشر یا نصف عشر مقرر کردی گئی لیکن اس سے فسخ نہ سمجھا جائے۔ پہلے کچھ دینار ہوتا تھا پھر مقدار مقرر کردی گئی زکوٰۃ کی مقدار سنہ002ہجری میں مقرر ہوئی۔ واللہ اعلم۔ کھیتی کاٹتے وقت اور پھل اتارتے وقت صدقہ نہ دینے والوں کی اللہ تعالیٰ نے مذمت بیان فرمائی سورة کہف، میں ان کا قصہ بیان فرمایا کہ ان باغ والوں نے قسمیں کھا کر کہا کہ صبح ہوتے ہی آج کے پھل ہم اتار لیں گے اس پر انہوں نے انشاء اللہ بھی نہ کہا۔ یہ ابھی رات کو بیخبر ی کی نیند میں ہی تھے وہاں آفت ناگہانی آگئی اور سارا باع ایسا ہوگیا گویا پھل توڑ لیا گیا ہے بلکہ جلا کر خاکستر کردیا گیا ہے یہ صبح کو اٹھ کر ایک دوسرے کو جگا کر پوشیدہ طور سے چپ چاپ چلے کہ ایسا نہ ہو حسب عادت فقیر مسکین جمع ہوجائیں اور انہیں کچھ دینا پڑے یہ اپنے دلوں میں یہی سوچتے ہوئے کہ ابھی پھل توڑ لائیں گے بڑے اہتمام کے ساتھ صبح سویرے ہی وہاں پہنچے تو کیا دیکھتے ہیں کہ سارا باغ تو خاک بنا ہوا ہے اولاً تو کہنے لگے بھئی ہم راستہ بھول گئے کسی اور جگہ آگئے ہمارا باغ تو شام تک لہلہا رہا تھا پھر کہنے لگا نہیں باغ تو یہی ہے ہماری قسمت پھوٹ گئی ہم محروم ہوگئے۔ اس وقت ان میں جو باخبر شخص تھا کہنے لگا دیکھو میں تم سے نہ کہتا تھا کہ اللہ کا شکر کرو اس کی پاکیزگی بیان کرو۔ اب تو سب کے سب کہنے لگے ہمارا رب پاک ہے یقینا ہم نے ظلم کیا پھر ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگے کہ ہائے ہماری بدبختی کہ ہم سرکش اور حد سے گذر جانے والے بن گئے تھے۔ ہمیں اب بھی اللہ عزوجل سے امید ہے کہ وہ ہمیں اس سے بہتر عطا فرمائے گا ہم اب صرف اپنے رب سے امید رکھتے ہیں۔ ناشکری کرنے اور تنہا خوری پسند کرنے والوں پر اسی طرح ہمارے عذاب آیا کرتے ہیں اور بھی آخرت کے بڑے عذاب باقی ہیں لیکن افسوس کہ یہ سمجھ بوجھ اور علم و عقل سے کام ہی نہیں لیتے۔ یہاں اس آیت میں صدقہ دینے کا حکم فرما کر خاتمے پر فرمایا کہ فضول خرچی سے بچو فضول خرچ اللہ کا دوست نہیں۔ اپنی اوقات سے زیادہ نہ لٹا فخر دریا کے طور پر اپنا مال برباد نہ کرو۔ حضرت ثابت بن قیس بن شماس نے اپنے کھجوروں کے باغ سے کھجوریں اتاریں اور عہد کرلیا کہ آج جو لینے آئے گا میں اسے دوں گا لوگ ٹوٹ پڑے شام کو ان کے پاس ایک کھجور بھی نہ رہی۔ اس پر یہ فرمان اترا۔ ہر چیز میں اسراف منع ہے، اللہ کے حکم سے تجاوز کر جانے کا نام اسراف ہے خواہ وہ کسی بارے میں ہو۔ اپنا سارا ہی مال لٹا کر فقیر ہو کر دوسروں پر اپنا انبار ڈال دینا بھی اسراف ہے اور منع ہے، یہ بھی مطلب ہے کہ صدقہ نہ روکو جس سے اللہ کے نافرمان بن جاؤ یہ بھی اسراف ہے گویہ مطلب اس آیت کے ہیں لیکن بظاہر الفاظ یہ معلوم ہوتا ہے کہ پہلے کھانے کا ذکر ہے تو اسراف اپنے کھانے پینے میں کرنے کی ممانعت یہاں ہے کیونکہ اس سے عقل میں اور بدن میں ضرر پہنچا ہے۔ قرآن کی اور آیت میں ہے آیت (وَّكُلُوْا وَاشْرَبُوْا وَلَا تُسْرِفُوْا ۚ اِنَّهٗ لَا يُحِبُّ الْمُسْرِفِيْنَ) 7۔ الاعراف :31) کھاؤ پیو اور اسراف نہ کرو۔ صحیح بخاری میں ہے کھاؤ پیو پہنو اوڑھو لیکن اسراف اور کبر سے بچوں واللہ اعلم۔ اسی اللہ نے تمہارے لئے چوپائے پیدا کئے ہیں ان میں سے بعض تو بوجھ ڈھونے والے ہیں جیسے اونٹ گھوڑے خچر گدھے وغیرہ اور بعض پستہ قد ہیں جیسے بکری وغیرہ، انہیں (فرش) اس لئے کہا گیا کہ یہ قد و قامت میں پست ہوتے ہیں زمین سے ملے رہتے ہیں۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ (حمولہ) سے مراد سواری کے جانور اور (فرشا) سے مراد جن کا دودھ پیا جاتا ہے اور جن کا گوشت کھایا جاتا ہے جو سواری کے قابل نہیں ان کے بالوں سے لحاف اور فرش تیار ہوتے ہیں۔ یہ قول حضرت سدی کا ہے اور بہت ہی مناسب ہے خود قرآن کی سورة یاسین میں موجود ہے کہ کیا انہوں نے اس بات پر نظر نہیں کی ؟ کہ ہم نے ان کے لئے چوپائے پیدا کردیئے ہیں جو ہمارے ہی ہاتھوں کے بنائے ہوئے ہیں اور اب یہ ان کے مالک بن بیٹھے ہیں ہم نے ہی تو انہیں ان کے بس میں کردیا ہے کہ بعض سوریاں کر رہے ہیں اور بعض کو یہ کھانے کے کام میں لاتے ہیں اور آیت میں ہے آیت (وَاِنَّ لَكُمْ فِي الْاَنْعَامِ لَعِبْرَةً ۭ نُسْقِيْكُمْ مِّمَّا فِيْ بُطُوْنِهٖ مِنْۢ بَيْنِ فَرْثٍ وَّدَمٍ لَّبَنًا خَالِصًا سَاۗىِٕغًا لِّلشّٰرِبِيْنَ) 16۔ النحل :66) مطلب یہ ہے کہ ہم تمہیں ان چوپایوں کا دودھ پلاتے ہیں اور ان کے بال اون وغیرہ سے تمہارے اوڑھنے بچھونے اور طرح طرح کے فائدے اٹھانے کی چیزیں بناتے ہیں اور جگہ ہے اللہ وہ ہے جس نے تمہارے لئے چوپائے جانور پیدا کئے تاکہ تم ان پر سواریاں کرو انہیں کھاؤ اور بھی فائدے اٹھاؤ ان پر اپنے سفر طے کر کے اپنے کام پورے کرو اسی نے تمہاری سواری کیلئے کشتیاں بنادیں وہ تمہیں اپنی بیشمار نشانیاں دکھا رہا ہے بتاؤ تو کس کس نشانی کا انکار کرو گے ؟ پھر فرماتا ہے اللہ کی روزی کھاؤ پھل، اناج، گوشت وغیرہ۔ شیطانی راہ پر نہ چلو، اس کی تابعداری نہ رو جیسے کہ مشرکوں نے اللہ کی چیزوں میں از خود حلال حرام کی تقسیم کردی تم بھی یہ کر کے شیطان کے ساتھی نہ بنو۔ وہ تمہارا دشمن ہے، اسے دوست نہ سمجھو۔ وہ تو اپنے ساتھ تمہیں بھی اللہ کے عذابوں میں پھنسانا چاہتا ہے، دیکھو کہیں اس کے بہکانے میں نہ آجانا اسی نے تمہارے باپ آدم کو جنت سے باہر نکلوایا، اس کھلے دشمن کو بھولے سے بھی اپنا دوست نہ سمجھو۔ اس کی ذریت سے اور اس کے یاروں سے بھی بچو۔ یاد رکھو ظالموں کو برا بدلہ ملے گا۔ اس مضمون کی اور بھی آیتیں کلام اللہ شریف میں بہت سی ہیں۔
142
View Single
وَمِنَ ٱلۡأَنۡعَٰمِ حَمُولَةٗ وَفَرۡشٗاۚ كُلُواْ مِمَّا رَزَقَكُمُ ٱللَّهُ وَلَا تَتَّبِعُواْ خُطُوَٰتِ ٱلشَّيۡطَٰنِۚ إِنَّهُۥ لَكُمۡ عَدُوّٞ مُّبِينٞ
And from the cattle, some for burdens, some spread on the earth; eat of the sustenance which Allah has bestowed upon you, and do not follow the footsteps of the devil; undoubtedly he is your open enemy.
اور (اس نے) بار برداری کرنے والے (بلند قامت) چوپائے اور زمین پر (ذبح کے لئے یا چھوٹے قد کے باعث) بچھنے والے (مویشی پیدا فرمائے)، تم اس (رزق) میں سے (بھی بطریقِ ذبح) کھایا کرو جو اللہ نے تمہیں بخشا ہے اور شیطان کے راستوں پر نہ چلا کرو، بیشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے
Tafsir Ibn Kathir
Allah Created the Produce, Seed Grains and Cattle
Allah states that He created everything, including the produce, fruits and cattle that the idolators mishandled by their misguided ideas, dividing them into various designated parts, allowing some and prohibiting some. Allah said,
وَهُوَ الَّذِى أَنشَأَ جَنَّـتٍ مَّعْرُوشَـتٍ وَغَيْرَ مَعْرُوشَـتٍ
(And it is He Who produces gardens Ma`rushat and not Ma`rushat,) `Ali bin Abi Talhah reported that Ibn `Abbas commented, "Ma`rushat refers to what the people trellise, while `not Ma`rushat' refers to fruits (and produce) that grow wild inland and on mountains." `Ata' Al-Khurasani said that Ibn `Abbas said, "Ma`rushat are the grapevines that are trellised, while `not Ma`rushat' refers to grapevines that are not trellised." As-Suddi said similarly. As for these fruits being similar, yet different, Ibn Jurayj said, "They are similar in shape, but different in taste." Muhammad bin Ka`b said that the Ayah,
كُلُواْ مِن ثَمَرِهِ إِذَآ أَثْمَرَ
(Eat of their fruit when they ripen,) means, "(Eat) from the dates and grapes they produce." Allah said next,
وَءَاتُواْ حَقَّهُ يَوْمَ حَصَادِهِ
(but pay the due thereof on the day of their harvest, ) Mujahid commented, "When the poor people are present (on the day of harvest), give them some of the produce." `Abdur-Razzaq recorded that Mujahid commented on the Ayah,
وَءَاتُواْ حَقَّهُ يَوْمَ حَصَادِهِ
(but pay the due thereof on the day of their harvest.) "When planting, one gives away handfuls (of seed grains) and on harvest, he gives away handfuls and allows them to pick whatever is left on the ground of the harvest." Ath-Thawri said that Hammad narrated that Ibrahim An-Nakha`i said, "One gives away some of the hay." Ibn Al-Mubarak said that Shurayk said that Salim said that Sa`id bin Jubayr commented;
وَءَاتُواْ حَقَّهُ يَوْمَ حَصَادِهِ
(but pay the due thereof on the day of their harvest,) "This ruling, giving the poor the handfuls (of seed grains) and some of the hay as food for their animals, was before Zakah became obligatory." Allah has chastised those who harvest, without giving away a part of it as charity. Allah mentioned the story of the owners of the garden in Surat Nun,
إِنَّا بَلَوْنَـهُمْ كَمَا بَلَوْنَآ أَصْحَـبَ الْجَنَّةِ إِذْ أَقْسَمُواْ لَيَصْرِمُنَّهَا مُصْبِحِينَ - وَلاَ يَسْتَثْنُونَ - فَطَافَ عَلَيْهَا طَآئِفٌ مِّن رَّبِّكَ وَهُمْ نَآئِمُونَ - فَأَصْبَحَتْ كَالصَّرِيمِ - فَتَنَادَوْاْ مُصْبِحِينَ - أَنِ اغْدُواْ عَلَى حَرْثِكُمْ إِن كُنتُمْ صَـرِمِينَ - فَانطَلَقُواْ وَهُمْ يَتَخَـفَتُونَ - أَن لاَّ يَدْخُلَنَّهَا الْيَوْمَ عَلَيْكُمْ مِّسْكِينٌ - وَغَدَوْاْ عَلَى حَرْدٍ قَـدِرِينَ - فَلَمَّا رَأَوْهَا قَالُواْ إِنَّا لَضَآلُّونَ بَلْ نَحْنُ مَحْرُومُونَ قَالَ أَوْسَطُهُمْ أَلَمْ أَقُلْ لَّكُمْ لَوْلاَ تُسَبِّحُونَ قَالُواْ سُبْحَـنَ رَبِّنَآ إِنَّا كُنَّا ظَـلِمِينَ فَأَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ يَتَلَـوَمُونَ قَالُواْ يوَيْلَنَآ إِنَّا كُنَّا طَـغِينَ عَسَى رَبُّنَآ أَن يُبْدِلَنَا خَيْراً مِّنْهَآ إِنَّآ إِلَى رَبِّنَا رَغِبُونَ كَذَلِكَ الْعَذَابُ وَلَعَذَابُ الاٌّخِرَةِ أَكْبَرُ لَوْ كَانُواْ يَعْلَمُونَ
(When they swore to pluck the fruits of the (garden) in the morning. Without saying: "If Allah wills." Then there passed by on the (garden) a visitation (fire) from your Lord at night, burning it while they were asleep. So the (garden) became black by the morning, like a pitch dark night (in complete ruins). Then they called out one to another as soon as the morning broke. Saying: "Go to your tilth in the morning, if you would pluck the fruits." So they departed, conversing in secret low tones (saying). "No poor person shall enter upon you into it today." And they went in the morning with strong intention, thinking that they have power (to prevent the poor taking anything of the fruits therefrom). But when they saw the (garden), they said: "Verily, we have gone astray." (Then they said): "Nay! Indeed we are deprived of (the fruits)!" The best among them said: "Did I not tell you, why say you not: `If Allah wills'." They said: "Glory to Our Lord! Verily, we have been wrongdoers." Then they turned one against another, blaming. They said: "Woe to us! We have transgressed. We hope that our Lord will give us in exchange a better (garden) than this. Truly, we turn to our Lord." Such is the punishment (in this life), but truly, the punishment of the Hereafter is greater if they but knew.) 68:18-33.
Prohibiting Extravagance
Allah said,
وَلاَ تُسْرِفُواْ إِنَّهُ لاَ يُحِبُّ الْمُسْرِفِينَ
(And waste not by extravagance. Verily, He likes not the wasteful.) It was said that the extravagance prohibited here refers to excessive charity beyond normal amounts. Ibn Jurayj said, "This Ayah was revealed concerning Thabit bin Qays bin Shammas, who plucked the fruits of his date palms. Then he said to himself, `This day, every person who comes to me, I will feed him from it.' So he kept feeding (them) until the evening came and he ended up with no dates. Allah sent down,
وَلاَ تُسْرِفُواْ إِنَّهُ لاَ يُحِبُّ الْمُسْرِفِينَ
(And waste not by extravagance. Verily, He likes not the wasteful.)" Ibn Jarir recorded this statement from Ibn Jurayj. However, thhe apparent meaning of this Ayah, and Allah knows best, is that;
كُلُواْ مِن ثَمَرِهِ إِذَآ أَثْمَرَ وَءَاتُواْ حَقَّهُ يَوْمَ حَصَادِهِ وَلاَ تُسْرِفُواْ
(Eat of their fruit when they ripen, but pay the due thereof on the day of their harvest, and waste not...) refers to eating, meaning, do not waste in eating because this spoils the mind and the body. Allah said in another Ayah,
وكُلُواْ وَاشْرَبُواْ وَلاَ تُسْرِفُواْ
(And eat and drink but waste not by extravagance.) 7: 31 In his Sahih, Al-Bukhari recorded a Hadith without a chain of narration; a
«كُلُوا وَاشْرَبُوا وَالْبَسُوا مِنْ غَيْرِ إِسْرَافٍ وَلَا مَخِيلَة»
(Eat, drink and clothe yourselves without extravagance or arrogance.) Therefore, these Ayat have the same meaning as this Hadith. and Allah knows best.
Benefits of Cattle
Allah's statement,
وَمِنَ الأَنْعَـمِ حَمُولَةً وَفَرْشًا
(And of the cattle (are some) for burden and (some smaller) for Farsh.) means, He created cattle for you, some of which are suitable for burden, such as camels, and some are Farsh. Ath-Thawri narrated that Abu Ishaq said that Abu Al-Ahwas said that `Abdullah said that `animals for burden' are the camels that are used for carrying things, while, `Farsh', refers to small camels. Al-Hakim recorded it and said, "Its chain is Sahih and they did not record it." `Abdur-Rahman bin Zayd bin Aslam said that `animals for burden' refers to the animals that people ride, while, `Farsh' is that they eat (its meat) and milk it. The sheep is not able to carry things, so you eat its meat and use its wool for covers and mats (or clothes). This statement of `Abdur-Rahman is sound, and the following Ayat testify to it,
أَوَلَمْ يَرَوْاْ أَنَّا خَلَقْنَا لَهُم مِمَّا عَمِلَتْ أَيْدِينَآ أَنْعـماً فَهُمْ لَهَا مَـلِكُونَ - وَذَلَّلْنَـهَا لَهُمْ فَمِنْهَا رَكُوبُهُمْ وَمِنْهَا يَأْكُلُونَ
(Do they not see that We have created for them of what Our Hands have created, the cattle, so that they are their owners. And We have subdued them unto them so that some of them they have for riding and some they eat.) 36:71-72, and,
وَإِنَّ لَكُمْ فِى الاٌّنْعَـمِ لَعِبْرَةً نُّسْقِيكُمْ مِّمَّا فِى بُطُونِهِ مِن بَيْنِ فَرْثٍ وَدَمٍ لَّبَنًا خَالِصًا سَآئِغًا لِلشَّارِبِينَ
(And verily, in the cattle, there is a lesson for you. We give you to drink of that which is in their bellies, from between excretions and blood, pure milk; palatable to the drinkers.) 16:66, until,
وَمِنْ أَصْوَافِهَا وَأَوْبَارِهَا وَأَشْعَارِهَآ أَثَـثاً وَمَتَـعاً إِلَى حِينٍ
(And of their wool, fur and hair, furnishings and articles of convenience, comfort for a while.) 16:80.
Eat the Meat of These Cattle, But Do Not Follow Shaytan's Law Concerning Them
Allah said,
كُلُواْ مِمَّا رَزَقَكُمُ اللَّهُ
(Eat of what Allah has provided for you,) of fruits, produce and cattle. Allah created all these and provided you with them as provision.
وَلاَ تَتَّبِعُواْ خُطُوَتِ الشَّيْطَـنِ
(and follow not the footsteps of Shaytan.) meaning, his way and orders, just as the idolators followed him and prohibited fruits and produce that Allah provided for them, claiming that this falsehood came from Allah.
إِنَّهُ لَكُمْ
(Surely, he is to you) meaning; Shaytan, O people, is to you,
عَدُوٌّ مُّبِينٌ
(an open enemy) and his enmity to you is clear and apparent. Allah said in other Ayat,
إِنَّ الشَّيْطَـنَ لَكُمْ عَدُوٌّ فَاتَّخِذُوهُ عَدُوّاً إِنَّمَا يَدْعُو حِزْبَهُ لِيَكُونُواْ مِنْ أَصْحَـبِ السَّعِيرِ
(Surely, Shaytan is an enemy to you, so take (treat) him as an enemy. He only invites his Hizb (followers) that they may become the dwellers of the blazing Fire. ) 35:6 and,
يَـبَنِى آدَمَ لاَ يَفْتِنَنَّكُمُ الشَّيْطَـنُ كَمَآ أَخْرَجَ أَبَوَيْكُم مِّنَ الْجَنَّةِ يَنزِعُ عَنْهُمَا لِبَاسَهُمَا لِيُرِيَهُمَا سَوْءَتِهِمَآ
(O Children of Adam! Let not Shaytan deceive you, as he got your parents out of Paradise, stripping them of their raiment, to show them their private parts.) 7:27 and,
أَفَتَتَّخِذُونَهُ وَذُرِّيَّتَهُ أَوْلِيَآءَ مِن دُونِى وَهُمْ لَكُمْ عَدُوٌّ بِئْسَ لِلظَّـلِمِينَ بَدَلاً
(Will you then take him (Iblis) and his offspring as protectors and helpers rather than Me while they are enemies to you What an evil is the exchange for the wrongdoers.)18:50 There are many other Ayat on this subject.
مسائل زکوٰۃ اور عشر مظاہر قدرت خالق کل اللہ تعالیٰ ہی ہے کھیتیاں پھل چوپائے سب اسی کے پیدا کئے ہوئے ہیں کافروں کو کوئی حق نہیں کہ حرام حلال کی تقسیم از خود کریں۔ درخت بعض تو بیل والے ہیں جیسے انگور وغیرہ کہ وہ محفوظ ہوتے ہیں بعض کھڑے جو جنگلوں اور پہاڑوں پر کھڑے ہوئے ہیں۔ دیکھنے میں ایک دورے سے ملتے جلتے مگر پھلوں کے ذائقے کے لحاظ سے الگ الگ۔ انگور کھجور یہ درخت تمہیں دیتے ہیں کہ تم کھاؤ مزہ اٹھاؤ لطف پاؤ۔ اس کا حق اس کے کٹنے اور ناپ تول ہونے کے دن ہی دو یعنی فرض زکوٰۃ جو اس میں مقرر ہو وہ ادا کردو۔ پہلے لوگ کچھ نہیں دیتے تھے شریعت نے دسواں حصہ مقرر کیا اور ویسے بھی مسکینوں اور بھوکوں کا خیال رکھنا۔ چناچہ مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ حضور نے فرمان صادر فرمایا تھا کہ جس کی کھجوریں دس وسق سے زیادہ ہوں وہ چند خوشے مسجد میں لا کر لٹکا دے تاکہ مساکین کھا لیں۔ یہ بھی مراد ہے کہ زکوٰۃ کے سوا اور کچھ سلوک بھی اپنی کھیتیوں باڑیوں اور باغات کے پھلوں سے اللہ کے بندوں کے ساتھ کرتے رہو، مثلاً پھل توڑنے اور کھیت کاٹنے کے وقت عموماً مفلس لوگ پہنچ جایا کرتے ہیں انہیں کچھ چھوڑ دو تاکہ مسکینوں کے کام آئے۔ ان کے جانوروں کا چارہ ہو، زکوٰۃ سے پہلے بھی حقداروں کو کچھ نہ کچھ دیتے رہا کرو، پہلے تو یہ بطور وجوب تھا لیکن زکوٰۃ کی فرضیت کے بعد بطور نفل رہ گیا زکوٰۃ اس میں عشر یا نصف عشر مقرر کردی گئی لیکن اس سے فسخ نہ سمجھا جائے۔ پہلے کچھ دینار ہوتا تھا پھر مقدار مقرر کردی گئی زکوٰۃ کی مقدار سنہ002ہجری میں مقرر ہوئی۔ واللہ اعلم۔ کھیتی کاٹتے وقت اور پھل اتارتے وقت صدقہ نہ دینے والوں کی اللہ تعالیٰ نے مذمت بیان فرمائی سورة کہف، میں ان کا قصہ بیان فرمایا کہ ان باغ والوں نے قسمیں کھا کر کہا کہ صبح ہوتے ہی آج کے پھل ہم اتار لیں گے اس پر انہوں نے انشاء اللہ بھی نہ کہا۔ یہ ابھی رات کو بیخبر ی کی نیند میں ہی تھے وہاں آفت ناگہانی آگئی اور سارا باع ایسا ہوگیا گویا پھل توڑ لیا گیا ہے بلکہ جلا کر خاکستر کردیا گیا ہے یہ صبح کو اٹھ کر ایک دوسرے کو جگا کر پوشیدہ طور سے چپ چاپ چلے کہ ایسا نہ ہو حسب عادت فقیر مسکین جمع ہوجائیں اور انہیں کچھ دینا پڑے یہ اپنے دلوں میں یہی سوچتے ہوئے کہ ابھی پھل توڑ لائیں گے بڑے اہتمام کے ساتھ صبح سویرے ہی وہاں پہنچے تو کیا دیکھتے ہیں کہ سارا باغ تو خاک بنا ہوا ہے اولاً تو کہنے لگے بھئی ہم راستہ بھول گئے کسی اور جگہ آگئے ہمارا باغ تو شام تک لہلہا رہا تھا پھر کہنے لگا نہیں باغ تو یہی ہے ہماری قسمت پھوٹ گئی ہم محروم ہوگئے۔ اس وقت ان میں جو باخبر شخص تھا کہنے لگا دیکھو میں تم سے نہ کہتا تھا کہ اللہ کا شکر کرو اس کی پاکیزگی بیان کرو۔ اب تو سب کے سب کہنے لگے ہمارا رب پاک ہے یقینا ہم نے ظلم کیا پھر ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگے کہ ہائے ہماری بدبختی کہ ہم سرکش اور حد سے گذر جانے والے بن گئے تھے۔ ہمیں اب بھی اللہ عزوجل سے امید ہے کہ وہ ہمیں اس سے بہتر عطا فرمائے گا ہم اب صرف اپنے رب سے امید رکھتے ہیں۔ ناشکری کرنے اور تنہا خوری پسند کرنے والوں پر اسی طرح ہمارے عذاب آیا کرتے ہیں اور بھی آخرت کے بڑے عذاب باقی ہیں لیکن افسوس کہ یہ سمجھ بوجھ اور علم و عقل سے کام ہی نہیں لیتے۔ یہاں اس آیت میں صدقہ دینے کا حکم فرما کر خاتمے پر فرمایا کہ فضول خرچی سے بچو فضول خرچ اللہ کا دوست نہیں۔ اپنی اوقات سے زیادہ نہ لٹا فخر دریا کے طور پر اپنا مال برباد نہ کرو۔ حضرت ثابت بن قیس بن شماس نے اپنے کھجوروں کے باغ سے کھجوریں اتاریں اور عہد کرلیا کہ آج جو لینے آئے گا میں اسے دوں گا لوگ ٹوٹ پڑے شام کو ان کے پاس ایک کھجور بھی نہ رہی۔ اس پر یہ فرمان اترا۔ ہر چیز میں اسراف منع ہے، اللہ کے حکم سے تجاوز کر جانے کا نام اسراف ہے خواہ وہ کسی بارے میں ہو۔ اپنا سارا ہی مال لٹا کر فقیر ہو کر دوسروں پر اپنا انبار ڈال دینا بھی اسراف ہے اور منع ہے، یہ بھی مطلب ہے کہ صدقہ نہ روکو جس سے اللہ کے نافرمان بن جاؤ یہ بھی اسراف ہے گویہ مطلب اس آیت کے ہیں لیکن بظاہر الفاظ یہ معلوم ہوتا ہے کہ پہلے کھانے کا ذکر ہے تو اسراف اپنے کھانے پینے میں کرنے کی ممانعت یہاں ہے کیونکہ اس سے عقل میں اور بدن میں ضرر پہنچا ہے۔ قرآن کی اور آیت میں ہے آیت (وَّكُلُوْا وَاشْرَبُوْا وَلَا تُسْرِفُوْا ۚ اِنَّهٗ لَا يُحِبُّ الْمُسْرِفِيْنَ) 7۔ الاعراف :31) کھاؤ پیو اور اسراف نہ کرو۔ صحیح بخاری میں ہے کھاؤ پیو پہنو اوڑھو لیکن اسراف اور کبر سے بچوں واللہ اعلم۔ اسی اللہ نے تمہارے لئے چوپائے پیدا کئے ہیں ان میں سے بعض تو بوجھ ڈھونے والے ہیں جیسے اونٹ گھوڑے خچر گدھے وغیرہ اور بعض پستہ قد ہیں جیسے بکری وغیرہ، انہیں (فرش) اس لئے کہا گیا کہ یہ قد و قامت میں پست ہوتے ہیں زمین سے ملے رہتے ہیں۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ (حمولہ) سے مراد سواری کے جانور اور (فرشا) سے مراد جن کا دودھ پیا جاتا ہے اور جن کا گوشت کھایا جاتا ہے جو سواری کے قابل نہیں ان کے بالوں سے لحاف اور فرش تیار ہوتے ہیں۔ یہ قول حضرت سدی کا ہے اور بہت ہی مناسب ہے خود قرآن کی سورة یاسین میں موجود ہے کہ کیا انہوں نے اس بات پر نظر نہیں کی ؟ کہ ہم نے ان کے لئے چوپائے پیدا کردیئے ہیں جو ہمارے ہی ہاتھوں کے بنائے ہوئے ہیں اور اب یہ ان کے مالک بن بیٹھے ہیں ہم نے ہی تو انہیں ان کے بس میں کردیا ہے کہ بعض سوریاں کر رہے ہیں اور بعض کو یہ کھانے کے کام میں لاتے ہیں اور آیت میں ہے آیت (وَاِنَّ لَكُمْ فِي الْاَنْعَامِ لَعِبْرَةً ۭ نُسْقِيْكُمْ مِّمَّا فِيْ بُطُوْنِهٖ مِنْۢ بَيْنِ فَرْثٍ وَّدَمٍ لَّبَنًا خَالِصًا سَاۗىِٕغًا لِّلشّٰرِبِيْنَ) 16۔ النحل :66) مطلب یہ ہے کہ ہم تمہیں ان چوپایوں کا دودھ پلاتے ہیں اور ان کے بال اون وغیرہ سے تمہارے اوڑھنے بچھونے اور طرح طرح کے فائدے اٹھانے کی چیزیں بناتے ہیں اور جگہ ہے اللہ وہ ہے جس نے تمہارے لئے چوپائے جانور پیدا کئے تاکہ تم ان پر سواریاں کرو انہیں کھاؤ اور بھی فائدے اٹھاؤ ان پر اپنے سفر طے کر کے اپنے کام پورے کرو اسی نے تمہاری سواری کیلئے کشتیاں بنادیں وہ تمہیں اپنی بیشمار نشانیاں دکھا رہا ہے بتاؤ تو کس کس نشانی کا انکار کرو گے ؟ پھر فرماتا ہے اللہ کی روزی کھاؤ پھل، اناج، گوشت وغیرہ۔ شیطانی راہ پر نہ چلو، اس کی تابعداری نہ رو جیسے کہ مشرکوں نے اللہ کی چیزوں میں از خود حلال حرام کی تقسیم کردی تم بھی یہ کر کے شیطان کے ساتھی نہ بنو۔ وہ تمہارا دشمن ہے، اسے دوست نہ سمجھو۔ وہ تو اپنے ساتھ تمہیں بھی اللہ کے عذابوں میں پھنسانا چاہتا ہے، دیکھو کہیں اس کے بہکانے میں نہ آجانا اسی نے تمہارے باپ آدم کو جنت سے باہر نکلوایا، اس کھلے دشمن کو بھولے سے بھی اپنا دوست نہ سمجھو۔ اس کی ذریت سے اور اس کے یاروں سے بھی بچو۔ یاد رکھو ظالموں کو برا بدلہ ملے گا۔ اس مضمون کی اور بھی آیتیں کلام اللہ شریف میں بہت سی ہیں۔
143
View Single
ثَمَٰنِيَةَ أَزۡوَٰجٖۖ مِّنَ ٱلضَّأۡنِ ٱثۡنَيۡنِ وَمِنَ ٱلۡمَعۡزِ ٱثۡنَيۡنِۗ قُلۡ ءَآلذَّكَرَيۡنِ حَرَّمَ أَمِ ٱلۡأُنثَيَيۡنِ أَمَّا ٱشۡتَمَلَتۡ عَلَيۡهِ أَرۡحَامُ ٱلۡأُنثَيَيۡنِۖ نَبِّـُٔونِي بِعِلۡمٍ إِن كُنتُمۡ صَٰدِقِينَ
“Eight males and females; one pair of sheep and one of goats”; say, “Has He forbidden the two males or the two females, or what the two females carry in their wombs? Answer with some knowledge, if you are truthful.”
(اللہ نے) آٹھ (نر اور مادہ) جوڑے پیدا کیے، دو (نر اور مادہ) بھیڑ سے اور دو (نر اور مادہ) بکری سے۔ (آپ ان سے) فرما دیجیے: کیا اُس نے دونوں نر حرام کیے ہیں یا دونوں مادہ یا وہ (بچہ) جو دونوں ماداؤں کے رحموں میں موجود ہے؟ مجھے علم و دانش کے ساتھ بتاؤ اگر تم سچے ہو
Tafsir Ibn Kathir
These Ayat demonstrate the ignorance of the Arabs before Islam.
They used to prohibit the usage of some of their cattle and designate them as Bahirah, Sa'ibah, Wasilah and Ham etc. These were some of the innovations they invented for cattle, fruits and produce. Allah stated that He has created gardens, trellised and untrellised, and cattle, as animals of burden and as Farsh. Allah next mentioned various kinds of cattle, male and female, such as sheep and goats. He also created male and female camels and the same with cows. Allah did not prohibit any of these cattle or their offspring. Rather, they all were created for the sons of Adam as a source for food, transportation, work, milk, and other benefits, which are many. Allah said,
وَأَنزَلَ لَكُمْ مِّنَ الاٌّنْعَـمِ ثَمَـنِيَةَ أَزْوَجٍ
(And He has sent down for you of cattle eight pairs...) 39:6 Allah said;
أَمَّا اشْتَمَلَتْ عَلَيْهِ أَرْحَامُ الأُنثَيَيْنِ
(...or (the young) which the wombs of the two females enclose...) This refutes the idolators' statement,
مَا فِى بُطُونِ هَـذِهِ الأَنْعَـمِ خَالِصَةٌ لِّذُكُورِنَا وَمُحَرَّمٌ عَلَى أَزْوَجِنَا
(What is in the bellies of such and such cattle is for our males alone, and forbidden to our females.) 6:139 Allah said,
نَبِّئُونِي بِعِلْمٍ إِن كُنتُمْ صَـدِقِينَ
(Inform me with knowledge if you are truthful.) meaning, tell me with sure knowledge, how and when did Allah prohibit what you claimed is prohibited, such as the Bahirah, Sa'ibah, Wasilah and Ham etc. Al-`Awfi said that Ibn `Abbas said, "Allah's statement,
ثَمَـنِيَةَ أَزْوَجٍ مِّنَ الضَّأْنِ اثْنَيْنِ وَمِنَ الْمَعْزِ اثْنَيْنِ
(Eight pairs: of the sheep two, and of the goats two...) these are four pairs,
قُلْ ءَآلذَّكَرَيْنِ حَرَّمَ أَمِ الأُنثَيَيْنِ
(Say: "Has He forbidden the two males or the two females...") I (Allah) did not prohibit any of these.
أَمَّا اشْتَمَلَتْ عَلَيْهِ أَرْحَامُ الأُنثَيَيْنِ
(or (the young) which the wombs of the two females enclose) and does the womb produce but males and females So why do you prohibit some and allow some others
نَبِّئُونِي بِعِلْمٍ إِن كُنتُمْ صَـدِقِينَ
(Inform me with knowledge if you are truthful. ) Allah is saying that all of this is allowed." Allah said,
أَمْ كُنتُمْ شُهَدَآءَ إِذْ وَصَّـكُمُ اللَّهُ بِهَـذَا
(Or, were you present when Allah ordered you such a thing) mocking the idolators' innovations, and their lies that Allah made sacred what they have prohibited.
فَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَى عَلَى اللَّهِ كَذِبًا لِيُضِلَّ النَّاسَ بِغَيْرِ عِلْمٍ
(Then who does more wrong than one who invents a lie against Allah, to lead mankind astray without knowledge.) Therefore, no one is more unjust than the people described here and
إِنَّ اللَّهَ لاَ يَهْدِى الْقَوْمَ الظَّـلِمِينَ
(Certainly, Allah guides not the people who are wrongdoers.) The person most worthy of this condemnation is `Amr bin Luhay bin Qum`ah. He was the first person to change the religion of the Prophets and designate the Sa'ibah, Wasilah and Ham, as mentioned in the Sahih.
خود ساختہ حلال و حرام جہالت کا ثمر ہے اسلام سے پہلے عربوں کی جہالت بیان ہو رہی ہے کہ انہوں نے چوپائے جانوروں میں تقسیم کر کے اپنے طور پر بہت سے حلال بنائے تھے اور بہت سے حرام کر لئے تھے جیسے بحیرہ، سائبہ، وسیلہ اور حام وغیرہ۔ اسی طرح کھیت اور باغات میں بھی تقسیم کر رکھی تھی۔ اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ سب کا خالق اللہ ہے، کھیت ہوں باغات ہوں، چوپائے ہوں " پھر ان چوپایوں کی قسمیں بیان فرمائیں " بھیڑ، مینڈھا، بکری، بکرا، اونٹ، اونٹنی، گائے، بیل۔ اللہ نے یہ سب چیزیں تمہارے کھانے پینے، سواریاں لینے، اور دوری قسم کے فائدوں کے لئے پیدا کی ہیں " جیسے فرمان ہے آیت (وَاَنْزَلَ لَكُمْ مِّنَ الْاَنْعَامِ ثَمٰنِيَةَ اَزْوَاجٍ ۭ يَخْلُقُكُمْ فِيْ بُطُوْنِ اُمَّهٰتِكُمْ خَلْقًا مِّنْۢ بَعْدِ خَلْقٍ فِيْ ظُلُمٰتٍ ثَلٰثٍ) 39۔ الزمر :6) " اس نے تمہارے لئے آٹھ قسم کے مویشی پیدا کئے ہیں۔ بچوں کا ذکر اس لئے کیا کہ ان میں بھی کبھی وہ مردوں کیلئے مخصوص کر کے عورتوں پر حرام کردیتے تھے پھر ان سے ہی سوال ہوتا ہے کہ آخر اس حرمت کی کوئی دلیل کوئی کیفیت کوئی وجہ تو پیش کرو۔ چار قسم کے جانور اور مادہ اور نر ملا کر آٹھ قسم کے ہوگئے، ان سب کو اللہ نے حلال کیا ہے کیا تو اپنی دیکھی سنی کہہ رہے ہو ؟ اس فرمان الٰہی کے وقت تم موجود تھے ؟ کیوں جھوٹ کہہ کر افترا پردازی کر کے بغیر علم کے باتیں بنا کر اللہ کی مخلوق کی گمراہی کا بوجھ اپنے اوپر لاد کر سب سے بڑھ کر ظالم بن رہے ہو ؟ اگر یہی حال رہا تو دستور ربانی کے ماتحت ہدایت الٰہی سے محروم ہوجاؤ گے۔ سب سے پہلے یہ ناپاک رسم عمرو بن لحی بن قمعہ خبیث نے نکالی تھی اسی نے انبیاء کے دین کو سب سے پہلے بدلا اور غیر اللہ کے نام پر جانور چھوڑے۔ جیسے کہ صحیح حدیث میں آچکا ہے۔
144
View Single
وَمِنَ ٱلۡإِبِلِ ٱثۡنَيۡنِ وَمِنَ ٱلۡبَقَرِ ٱثۡنَيۡنِۗ قُلۡ ءَآلذَّكَرَيۡنِ حَرَّمَ أَمِ ٱلۡأُنثَيَيۡنِ أَمَّا ٱشۡتَمَلَتۡ عَلَيۡهِ أَرۡحَامُ ٱلۡأُنثَيَيۡنِۖ أَمۡ كُنتُمۡ شُهَدَآءَ إِذۡ وَصَّىٰكُمُ ٱللَّهُ بِهَٰذَاۚ فَمَنۡ أَظۡلَمُ مِمَّنِ ٱفۡتَرَىٰ عَلَى ٱللَّهِ كَذِبٗا لِّيُضِلَّ ٱلنَّاسَ بِغَيۡرِ عِلۡمٍۚ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَهۡدِي ٱلۡقَوۡمَ ٱلظَّـٰلِمِينَ
“And a pair of camels and a pair of oxen”; say, “Has He forbidden the two males or the two females, or what the two females carry in their wombs? Were you present when Allah commanded this to you?” So who is more unjust than one who fabricates a lie against Allah in order to lead mankind astray with his ignorance? Indeed Allah does not guide the unjust.
اور دو (نر اور مادہ) اونٹ سے اور دو (نر اور مادہ) گائے سے۔ (آپ ان سے) فرما دیجیے: کیا اُس نے دونوں نر حرام کیے ہیں یا دونوں مادہ یا وہ (بچہ) جو دونوں ماداؤں کے رحموں میں موجود ہے؟ کیا تم اُس وقت موجود تھے جب اللہ نے تمہیں اِس (حرمت) کا حکم دیا تھا؟ پھر اُس سے بڑھ کر ظالم کون ہو سکتا ہے جو اللہ پر جھوٹا بہتان باندھتا ہے تاکہ لوگوں کو بغیر جانے گمراہ کرتا پھرے؟ بے شک اللہ ظالم قوم کو ہدایت نہیں فرماتا
Tafsir Ibn Kathir
These Ayat demonstrate the ignorance of the Arabs before Islam.
They used to prohibit the usage of some of their cattle and designate them as Bahirah, Sa'ibah, Wasilah and Ham etc. These were some of the innovations they invented for cattle, fruits and produce. Allah stated that He has created gardens, trellised and untrellised, and cattle, as animals of burden and as Farsh. Allah next mentioned various kinds of cattle, male and female, such as sheep and goats. He also created male and female camels and the same with cows. Allah did not prohibit any of these cattle or their offspring. Rather, they all were created for the sons of Adam as a source for food, transportation, work, milk, and other benefits, which are many. Allah said,
وَأَنزَلَ لَكُمْ مِّنَ الاٌّنْعَـمِ ثَمَـنِيَةَ أَزْوَجٍ
(And He has sent down for you of cattle eight pairs...) 39:6 Allah said;
أَمَّا اشْتَمَلَتْ عَلَيْهِ أَرْحَامُ الأُنثَيَيْنِ
(...or (the young) which the wombs of the two females enclose...) This refutes the idolators' statement,
مَا فِى بُطُونِ هَـذِهِ الأَنْعَـمِ خَالِصَةٌ لِّذُكُورِنَا وَمُحَرَّمٌ عَلَى أَزْوَجِنَا
(What is in the bellies of such and such cattle is for our males alone, and forbidden to our females.) 6:139 Allah said,
نَبِّئُونِي بِعِلْمٍ إِن كُنتُمْ صَـدِقِينَ
(Inform me with knowledge if you are truthful.) meaning, tell me with sure knowledge, how and when did Allah prohibit what you claimed is prohibited, such as the Bahirah, Sa'ibah, Wasilah and Ham etc. Al-`Awfi said that Ibn `Abbas said, "Allah's statement,
ثَمَـنِيَةَ أَزْوَجٍ مِّنَ الضَّأْنِ اثْنَيْنِ وَمِنَ الْمَعْزِ اثْنَيْنِ
(Eight pairs: of the sheep two, and of the goats two...) these are four pairs,
قُلْ ءَآلذَّكَرَيْنِ حَرَّمَ أَمِ الأُنثَيَيْنِ
(Say: "Has He forbidden the two males or the two females...") I (Allah) did not prohibit any of these.
أَمَّا اشْتَمَلَتْ عَلَيْهِ أَرْحَامُ الأُنثَيَيْنِ
(or (the young) which the wombs of the two females enclose) and does the womb produce but males and females So why do you prohibit some and allow some others
نَبِّئُونِي بِعِلْمٍ إِن كُنتُمْ صَـدِقِينَ
(Inform me with knowledge if you are truthful. ) Allah is saying that all of this is allowed." Allah said,
أَمْ كُنتُمْ شُهَدَآءَ إِذْ وَصَّـكُمُ اللَّهُ بِهَـذَا
(Or, were you present when Allah ordered you such a thing) mocking the idolators' innovations, and their lies that Allah made sacred what they have prohibited.
فَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَى عَلَى اللَّهِ كَذِبًا لِيُضِلَّ النَّاسَ بِغَيْرِ عِلْمٍ
(Then who does more wrong than one who invents a lie against Allah, to lead mankind astray without knowledge.) Therefore, no one is more unjust than the people described here and
إِنَّ اللَّهَ لاَ يَهْدِى الْقَوْمَ الظَّـلِمِينَ
(Certainly, Allah guides not the people who are wrongdoers.) The person most worthy of this condemnation is `Amr bin Luhay bin Qum`ah. He was the first person to change the religion of the Prophets and designate the Sa'ibah, Wasilah and Ham, as mentioned in the Sahih.
خود ساختہ حلال و حرام جہالت کا ثمر ہے اسلام سے پہلے عربوں کی جہالت بیان ہو رہی ہے کہ انہوں نے چوپائے جانوروں میں تقسیم کر کے اپنے طور پر بہت سے حلال بنائے تھے اور بہت سے حرام کر لئے تھے جیسے بحیرہ، سائبہ، وسیلہ اور حام وغیرہ۔ اسی طرح کھیت اور باغات میں بھی تقسیم کر رکھی تھی۔ اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ سب کا خالق اللہ ہے، کھیت ہوں باغات ہوں، چوپائے ہوں " پھر ان چوپایوں کی قسمیں بیان فرمائیں " بھیڑ، مینڈھا، بکری، بکرا، اونٹ، اونٹنی، گائے، بیل۔ اللہ نے یہ سب چیزیں تمہارے کھانے پینے، سواریاں لینے، اور دوری قسم کے فائدوں کے لئے پیدا کی ہیں " جیسے فرمان ہے آیت (وَاَنْزَلَ لَكُمْ مِّنَ الْاَنْعَامِ ثَمٰنِيَةَ اَزْوَاجٍ ۭ يَخْلُقُكُمْ فِيْ بُطُوْنِ اُمَّهٰتِكُمْ خَلْقًا مِّنْۢ بَعْدِ خَلْقٍ فِيْ ظُلُمٰتٍ ثَلٰثٍ) 39۔ الزمر :6) " اس نے تمہارے لئے آٹھ قسم کے مویشی پیدا کئے ہیں۔ بچوں کا ذکر اس لئے کیا کہ ان میں بھی کبھی وہ مردوں کیلئے مخصوص کر کے عورتوں پر حرام کردیتے تھے پھر ان سے ہی سوال ہوتا ہے کہ آخر اس حرمت کی کوئی دلیل کوئی کیفیت کوئی وجہ تو پیش کرو۔ چار قسم کے جانور اور مادہ اور نر ملا کر آٹھ قسم کے ہوگئے، ان سب کو اللہ نے حلال کیا ہے کیا تو اپنی دیکھی سنی کہہ رہے ہو ؟ اس فرمان الٰہی کے وقت تم موجود تھے ؟ کیوں جھوٹ کہہ کر افترا پردازی کر کے بغیر علم کے باتیں بنا کر اللہ کی مخلوق کی گمراہی کا بوجھ اپنے اوپر لاد کر سب سے بڑھ کر ظالم بن رہے ہو ؟ اگر یہی حال رہا تو دستور ربانی کے ماتحت ہدایت الٰہی سے محروم ہوجاؤ گے۔ سب سے پہلے یہ ناپاک رسم عمرو بن لحی بن قمعہ خبیث نے نکالی تھی اسی نے انبیاء کے دین کو سب سے پہلے بدلا اور غیر اللہ کے نام پر جانور چھوڑے۔ جیسے کہ صحیح حدیث میں آچکا ہے۔
145
View Single
قُل لَّآ أَجِدُ فِي مَآ أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا عَلَىٰ طَاعِمٖ يَطۡعَمُهُۥٓ إِلَّآ أَن يَكُونَ مَيۡتَةً أَوۡ دَمٗا مَّسۡفُوحًا أَوۡ لَحۡمَ خِنزِيرٖ فَإِنَّهُۥ رِجۡسٌ أَوۡ فِسۡقًا أُهِلَّ لِغَيۡرِ ٱللَّهِ بِهِۦۚ فَمَنِ ٱضۡطُرَّ غَيۡرَ بَاغٖ وَلَا عَادٖ فَإِنَّ رَبَّكَ غَفُورٞ رَّحِيمٞ
Say (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), “I do not find in what is sent down to me any eatable prohibited to a consumer, except if it is carrion, or blood flowing from blood vessels, or the flesh of swine – for that is indeed foul, or the sin causing animal over which the name of any other than Allah is taken at the time of slaughtering; so for one compelled by circumstances, neither himself desiring nor eating more than necessary, indeed your Lord is Oft Forgiving, Most Merciful.”
آپ فرما دیں کہ میری طرف جو وحی بھیجی گئی ہے اس میں تو میں کسی (بھی) کھانے والے پر (ایسی چیز کو) جسے وہ کھاتا ہو حرام نہیں پاتا سوائے اس کے کہ وہ مُردار ہو یا بہتا ہوا خون ہو یا سؤر کا گوشت ہو کیو نکہ یہ ناپاک ہے یا نافرمانی کا جانور جس پر ذبح کے وقت غیر اللہ کا نام بلند کیا گیا ہو۔ پھر جو شخص (بھوک کے باعث) سخت لاچار ہو جائے نہ تو نافرمانی کر رہا ہو اور نہ حد سے تجاوز کر رہا ہو تو بیشک آپ کا رب بڑا بخشنے والا نہایت مہربان ہے
Tafsir Ibn Kathir
Forbidden Things
Allah commands His servant and Messenger, Muhammad ,
قُلْ
(Say) O Muhammad to those who prohibited what Allah has provided them, claiming this falsehood to be from Allah,
لاَ أَجِدُ فِى مَآ أُوْحِىَ إِلَىَّ مُحَرَّمًا عَلَى طَاعِمٍ يَطْعَمُهُ
(I find not in that which has been revealed to me anything forbidden to be eaten by one who wishes to eat it,) This Ayah means, I do not find any animals that are prohibited, except these mentioned here. We should mention here that the prohibited things mentioned in Surat Al-Ma'idah and the Hadiths on this subject amend the meaning of this Ayah.
أَوْ دَمًا مَّسْفُوحًا
(or blood poured.) Qatadah commented, "Poured blood was prohibited, but the meat that still has some blood in it is allowed." Al-Humaydi said that Sufyan narrated to us that `Amr bin Dinar narrated to us, "I said to Jabir bin `Abdullah, `They claim that the Messenger of Allah ﷺ prohibited the meat of donkeys during (the day of) Khaybar.' He said, `Al-Hakam bin `Amr narrated that from the Messenger of Allah ﷺ. That scholar - refering to Ibn `Abbas - denied it, reciting the Ayah;
قُل لاَ أَجِدُ فِى مَآ أُوْحِىَ إِلَىَّ مُحَرَّمًا عَلَى طَاعِمٍ يَطْعَمُهُ
(Say: "I find not in that which has been revealed to me anything forbidden to be eaten by one who wishes to eat it...")"' Al-Bukhari and Abu Dawud collected it. Abu Bakr bin Marduwyah and Al-Hakim, in his Mustadrak, recorded that Ibn `Abbas said, "During the time of Jahiliyyah, the people used to eat some things and avoid some other things, because they disliked them. Later on, Allah sent His Prophet , revealed His Book, allowed what He allowed, and prohibited what He prohibited. Therefore, whatever Allah allowed is lawful and whatever He prohibited is unlawful. Whatever He did not mention, there is no sin in it." He then recited the Ayah,
قُل لاَ أَجِدُ فِى مَآ أُوْحِىَ إِلَىَّ مُحَرَّمًا عَلَى طَاعِمٍ يَطْعَمُهُ
(Say: "I find not in that which has been revealed to me anything forbidden to be eaten by one who wishes to eat it...") This is the wording with Ibn Marduwyah. Abu Dawud also recorded this statement, and Al-Hakim said, "Its chain is Sahih and they did not record it." Imam Ahmad recorded that Ibn `Abbas said, "A sheep belonging to Sawdah bint Zam`ah died and she said, `O Allah's Messenger! So-and-so (sheep) has died.' He said,
«فَلِمَ لَا أَخَذْتُمْ مَسْكَهَا؟»
(Why did you not use its skin) She said, `Should we use the skin of a sheep that has died' Allah's Messenger ﷺ said,
«إِنَّمَا قَالَ اللهُ:
قُل لاَ أَجِدُ فِى مَآ أُوْحِىَ إِلَىَّ مُحَرَّمًا عَلَى طَاعِمٍ يَطْعَمُهُ إِلاَ أَن يَكُونَ مَيْتَةً أَوْ دَمًا مَّسْفُوحًا أَوْ لَحْمَ خِنزِيرٍ
وَإِنَّكُمْ لَا تَطْعَمُونَهُ أَنْ تَدْبَغُوهُ فَتَنْتَفِعُوا بِه»
(Allah only said, (Say: "I find not in that which has been revealed to me anything forbidden to be eaten by one who wishes to eat it, except Maytah (a dead animal) or blood poured forth, or the flesh of swine....) You will not be eating it if you tan its skin and benefit from it.) So she had the sheep skinned, the skin was tanned and made into a water skin that she kept until it wore out." Al-Bukhari and an-Nasa'i collected a similar Hadith. Allah said,
فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ بَاغٍ وَلاَ عَادٍ
(But whosoever is forced by necessity without willful disobedience, nor transgressing due limits;) Therefore, whoever is forced by necessity to eat anything that Allah has forbidden in this honorable Ayah, without transgressing his limits, then for him,
فَإِنَّ رَبَّكَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ
(certainly, your Lord is Oft-Forgiving, Most Merciful.) We mentioned the explanation of this Ayah in Surat Al-Baqarah. This honorable Ayah contradicts the idolators' innovated prohibitions for certain kinds of wealth, relying merely on their misguided ideas, such as the Bahirah, Sa'ibah, Wasilah and Ham. Allah commanded His Messenger to inform them that he does not find that such types of animals are prohibited in what Allah revealed to him. In this Ayah, Allah only prohibited dead animals, poured blood, the flesh of swine and what has been slaughtered for something other than Allah. Other things were not prohibited here, but rather treated as that which does not have a ruling, i.e., permissible. Therefore, how do you -- idolators -- claim that such items are prohibited, and why did you prohibit them when Allah did not prohibit them
اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ حلال و حرام اللہ تعالیٰ عزوجل اپنے بندے اور نبی حضرت محمد ﷺ کو حکم دیتا ہے کہ آپ ان کافروں سے جو اللہ کے حلال کو اپنی طرف سے حرام کرتے ہیں فرما دیں کہ جو وحی الٰہی میرے پاس آئی ہے اس میں تو حرام صرف ان چیزوں کو کیا گیا ہے، جو میں تمہیں سناتا ہوں، اس میں وہ چیزیں حرمت والی نہیں، جن کی حرمت کو تم رائج کر رہے ہو، کسی کھانے والے پر حیوانوں میں سے سوا ان جانوروں کے جو بیان ہوئے ہیں کوئی بھی حرام نہیں۔ اس آیت کے مفہوم کا رفع کرنے والی سورة مائدہ کی آئیندہ آیتیں اور دوسری حدیثیں ہیں جن میں حرمت کا بیان ہے وہ بیان کی جائیں گی، بعض لوگ اسے نسخ کہتے ہیں اور اکثر متأخرین اسے نسخ نہیں کہتے کیونکہ اس میں تو اصلی مباح کو اٹھا دینا ہے۔ واللہ اعلم۔ خون وہ حرام ہے جو بوقت ذبح بہ جاتا ہے، رگوں میں اور گوشت میں جو خون مخلوط ہو وہ حرام نہیں۔ حضرت عائشہ ؓ گدھوں اور درندوں کا گوشت اور ہنڈیا کے اوپر جو خون کی سرخی آجائے، اس میں کوئی حرج نہیں جانتی تھیں۔ عمرو بن دینار نے حضرت جابر بن عبداللہ سے سوال کیا کہ لوگ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے جنگ خیبر کے موقعہ پر پالتو گدھوں کا کھانا حرام کردیا ہے، آپ نے فرمایا، ہاں حکم بن عمر تو رسول اللہ ﷺ سے یہی روایت کرتے ہیں لیکن حضرت ابن عباس اس کا انکار کرتے ہیں اور آیت (قل لا اجد) تلاوت کرتے ہیں، ابن عباس کا فرمان ہے کہ اہل جاہلیت بعض چیزیں کھاتے تھے بعض کو بوجہ طبعی کراہیت کے چھوڑ دیتے تھے۔ اللہ نے اپنے نبی کو بھیجا، اپنی کتاب اتاری، حلال حرام کی تفصیل کردی، پس جسے حلال کردیا وہ حلال ہے اور جسے ہر ام کردیا وہ حرام ہے اور جس سے خاموش رہے وہ معاف ہے۔ پھر آپ نے اسی آیت (قل لا اجد) کی تلاوت کی۔ حضرت سودہ بنت زمعہ کی بکری مرگئی، جب حضور سے ذکر ہوا تو آپ نے فرمایا تم نے اس کی کھال کیوں نہ اتار لی ؟ جواب دیا کہ کیا مردہ بکری کی کھال اتار لینی جائز ہے ؟ آپ نے یہی آیت تلاوت فرما کر فرمایا کہ " اس کا صرف کھانا حرام ہے، لیکن تم اسے دباغت دے کر نفع حاصل کرسکتے ہوں "۔ چناچہ انہوں نے آدمی بھیج کر کھال اتروالی اور اس کی مشک بنوائی جو ان کے پاس مدتوں رہی اور کام آئی۔ (بخاری وغیرہ) حضرت ابن عمر سے قنفد (یعنی خار پشت جسے اردو میں ساہی بھی کہتے ہیں) کے کھانے کی نسبت سوال ہوا تو آپ نے یہی آیت پڑھی اس پر ایک بزرگ نے فرمایا میں نے حضرت ابوہریرہ سے سنا ہے کہ ایک مرتبہ اس کا ذکر رسول اللہ ﷺ کے سامنے آیا تھا تو آپ نے فرمایا وہ خبیثوں میں سے ایک خبیث ہے اسے سن کر حضرت ابن عمر نے فرمایا اگر حضور نے یہ فرمایا ہے تو وہ یقینا ویسی ہی ہے جیسے آپ نے ارشاد فرما دیا (ابو داؤد وغیرہ) پھر فرمایا جو شخص ان حرام چیزوں کو کھانے پر مجبور ہوجائے لیکن وہ باغی اور ہد سے تجاوز کرنے والا نہ ہو تو اسے اس کا کھا لینا جائز ہے اللہ اسے بخش دے گا کیونکہ وہ غفور و رحیم ہے اس کی کامل تفسیر سورة بقرہ میں گذر چکی ہے یہاں تو مشرکوں کے اس فعل کی تردید منظور ہے جو انہوں نے اللہ کے حلال کو حرام کردیا تھا اب بتادیا گیا کہ یہ چیزیں تم پر حرام ہیں اس کے علاوہ کوئی چیز حرام نہیں۔ اگر اللہ کی طرف سے وہ بھی حرام ہوتیں تو ان کا ذکر بھی آجاتا۔ پھر تم اپنی طرف سے حلال کیوں مقرر کرتے ہو ؟ اس بنا پر پھر اور چیزوں کی حرمت باقی رہتی جیسے کہ گھروں کے پالتو گدھوں کی ممانعت اور درندوں کے گوشت کی اور جنگل والے پرندوں کی جیسے کہ علماء کا مشہور مذہب ہے (یہ یاد رہے کہ ان کی حرمت قطعی ہے کیونکہ صحیح احادیث سے ثابت ہے اور قرآن نے حدیث کا ماننا بھی فرض کیا ہے۔ مترجم)
146
View Single
وَعَلَى ٱلَّذِينَ هَادُواْ حَرَّمۡنَا كُلَّ ذِي ظُفُرٖۖ وَمِنَ ٱلۡبَقَرِ وَٱلۡغَنَمِ حَرَّمۡنَا عَلَيۡهِمۡ شُحُومَهُمَآ إِلَّا مَا حَمَلَتۡ ظُهُورُهُمَآ أَوِ ٱلۡحَوَايَآ أَوۡ مَا ٱخۡتَلَطَ بِعَظۡمٖۚ ذَٰلِكَ جَزَيۡنَٰهُم بِبَغۡيِهِمۡۖ وَإِنَّا لَصَٰدِقُونَ
And for the Jews We forbade all animals with claws; and forbade them the fat of oxen and sheep except which is on their backs or joined to their intestines or to the bone; We awarded this to them for their rebellion; and indeed, surely, We are truthful.
اور یہودیوں پر ہم نے ہر ناخن والا (جانور) حرام کر دیا تھا اور گائے اور بکری میں سے ہم نے ان پر دونوں کی چربی حرام کر دی تھی سوائے اس (چربی) کے جو دونوں کی پیٹھ میں ہو یا اوجھڑی میں لگی ہو یا جو ہڈی کے ساتھ ملی ہو۔ یہ ہم نے ان کی سرکشی کے باعث انہیں سزا دی تھی اور یقینا ہم سچے ہیں
Tafsir Ibn Kathir
Foods that were Prohibited for the Jews Because of their Transgression
Allah says, We forbade for the Jews every bird and animal with undivided hoof, such as the camel, ostrich, duck and goose. Allah said here,
وَمِنَ الْبَقَرِ وَالْغَنَمِ حَرَّمْنَا عَلَيْهِمْ شُحُومَهُمَآ
(and We forbade them the fat of the ox and the sheep...) The Jews used to forbid these types of foods saying that Isra'il, or Ya`qub, used to forbid them for himself so they too forbid them. This was mentioned by As-Suddi. `Ali bin Abi Talhah reported that Ibn `Abbas said that,
إِلاَّ مَا حَمَلَتْ ظُهُورُهُمَآ
(except what adheres to their backs) refers to the fat that clings to their backs. Allah said next,
أَوِ الْحَوَايَآ
(or their Hawaya) that is, the entrails, according to Abu Ja`far bin Jarir. He also said, "The meaning here is, `And from ox and sheep, We forbade their fat for the Jews, except the fat on their backs and what the entrails carry." `Ali bin Abi Talhah said that, Ibn `Abbas said that the, Hawaya, are the entrails. Similar was reported from Mujahid, Sa`id bin Jubayr and Ad-Dahhak. Allah's statement,
أَوْ مَا اخْتَلَطَ بِعَظْمٍ
(....or is mixed up with a bone.) means, We allowed the Jews the fat that is mixed with bones. Ibn Jurayj commented, "The fat on the rump that is mixed with the tailbone was allowed for them, and also the fat on the legs, head, eyes and what adheres to the bones." As-Suddi said similarly. Allah said,
ذَلِكَ جَزَيْنَـهُم بِبَغْيِهِمْ
(Thus We recompensed them for their rebellion.) meaning, We imposed this restriction on them as recompense for their rebellion and defying Our commandments. Allah said in another Ayah,
فَبِظُلْمٍ مِّنَ الَّذِينَ هَادُواْ حَرَّمْنَا عَلَيْهِمْ طَيِّبَـتٍ أُحِلَّتْ لَهُمْ وَبِصَدِّهِمْ عَن سَبِيلِ اللَّهِ كَثِيراً
(For the wrongdoing of the Jews, We made unlawful for them certain good foods which had been lawful for them -- and for their hindering many from Allah's way) 4:160. Allah's statement,
وِإِنَّا لَصَـدِقُونَ
(And verily, We are Truthful.) means, We were justified in the penalty We gave them. Ibn Jarir commented, "We are Truthful in what We informed you of, O Muhammad; Our forbidding these foods for them, not as they claimed, that Israel merely forbade these things for himself (so they imitated him, they claimed)."
The Tricks of the Jews, and Allah's Curse
`Abdullah bin `Abbas narrated, "When `Umar bin Al-Khattab was told that Samurah sold liquor, he commented, `May Allah fight Samurah! Did he not know that the Messenger of Allah ﷺ said,
«لَعَنَ اللهُ الْيَهُودَ حُرِّمَتْ عَلَيْهِمُ الشُّحُومُ فَجَمَلُوهَا فَبَاعُوهَا»
(May Allah curse the Jews! The fats were forbidden for them, so they melted the fat and sold it.)" This Hadith is recorded in the Two Sahihs. Jabir bin `Abdullah said, "In the year of the victory of Makkah, I heard Allah's Messenger ﷺ saying;
«إِنَّ اللهَ وَرَسُولَهُ حَرَّمَ بَيْعَ الْخَمْرِ وَالْمَيْتَةِ وَالْخِنْزِيرِ وَالْأَصْنَام»
(Allah and His Messenger have forbidden selling alcoholic drinks (intoxicants), dead animals, swine and idols.) He was asked, `What about the fat of dead animals They are used to dye skins, paint ships and are used as light by the people.' He said,
«لَا هُوَ حَرَام»
(No, it is still unlawful.) He then said,
«قَاتَلَ اللهُ الْيَهُودَ إِنَّ اللهَ لَمَّا حَرَّمَ عَلَيْهِمْ شُحُومَهَا جَمَلُوهُ ثُمَّ بَاعُوهُ وَأَكَلُوا ثَمَنَه»
(May Allah fight the Jews! When Allah forbade them the fats of animals, they melted the fat, sold it and ate its price.)" The Group recorded this Hadith.
مزید تفصیل متعلقہ حلال و حرام ناخن دار جانور چوپایوں اور پرندوں میں سے وہ ہیں، جن کی انگلیاں کھلی ہوئی نہ ہوں جیسے اونٹ، شتر مرغ، بطخ وغیرہ۔ سعید بن جبیر کا قول ہے کہ " جو کھلی انگلیوں والا نہ ہو "۔ ایک روایت میں ان سے مروی ہے کہ ہر ایک جدا انگلیوں والا اور انہی میں سے مرغ ہے۔ قتادہ کا قول ہے " جیسے اونٹ، شتر مرغ اور بہت سے پرند، مچھلیاں، بطخ اور اس جیسے جانور جن کی انگلیاں الگ الگ ہیں۔ ان کا کھانا یہودیوں پر حرام تھا۔ اسی طرح گائے بکری کی چربی بھی ان پر حرام تھی۔ یہود کا مقولہ تھا کہ اسرائیل نے اسے حرام کرلیا تھا، اس لئے ہم بھی اسے حرام کہتے ہیں۔ ہاں جو چربی پیٹھ کے ساتھ لگی ہوئی ہو، انتڑیوں کے ساتھ، اوجھڑی کے ساتھ، ہڈی کے ساتھ ہو وہ ان پر حلال تھی، یہ بھی ان کے ظلم، تکبر اور سرکشی کا بدلہ تھا اور ہماری نافرمانی کا انجام، جیسے فرمان ہے آیت (فبظلم من الذین ھادوا) یہودیوں کے ظلم وستم اور راہ حق سے روک کی وجہ سے ہم نے ان پر بعض پاکیزہ چیزیں بھی حرام کردی تھیں اور اس جزا میں ہم عادل ہی تھے اور جیسی خبر ہم نے تجھے اسے نبی دی ہے، وہی سچ اور حق ہے۔ یہودیوں کا یہ کہنا کہ حضرت اسرائیل نے اسے حرام کیا تھا، اس لئے ہم اسے اپنے آپ پر بھی حرام کرتے ہیں۔ حضرت عمر بن خطاب ؓ کو جب معلوم ہوا کہ سمرہ نے شراب فروشی کی ہے تو آپ نے فرمایا اللہ اسے غارت کرے، کیا یہ نہیں جانتا کہ حضور نے فرمایا ہے اللہ تعالیٰ نے یہودیوں پر لعنت کی کہ جب ان پر چربی حرام ہوئی تو انہوں نے اسے پگھلا کر بیچنا شروع کردیا۔ حضرت جابر بن عبداللہ نے فتح مکہ والے سال فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اور اس کے رسول نے شراب، مردار، سور اور بتوں کی خریدو فروخت حرام فرمائی ہے آپ سے دریافت کیا گیا کہ مردار کی چربیوں کے بارے میں کیا حکم ہے ؟ اس سے چمڑے رنگے جاتے ہیں اور کشتیوں پر چڑھایا جاتا ہے اور چراغ میں جلایا جاتا ہے آپ نے فرمایا وہ بھی حرام ہے۔ پھر اس کے ساتھ ہی آپ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ یہودیوں کو غارت کرے، جب ان پر چربی حرام ہوئی تو انہوں نے اسے پگھلا کر بیچ کر اس کی قیمت کھانا شروع کردی (بخاری مسلم) ایک مرتبہ آپ خانہ کعبہ میں مقام ابراہیم کے پیچھے بیٹھے ہوئے تھے آسمان کی طرف نظر اٹھائی اور تین مرتبہ یہودیوں پر لعنت فرمائی اور فرمایا ! اللہ نے ان پر چربی حرام کی تو انہوں نے اسے بیچ کر اس کی قیمت کھائی۔ اللہ تعالیٰ جن پر جو چیز حرام کرتا ہے ان پر اس کی قیمت بھی حرام فرما دیتا ہے ایک مرتبہ آپ مسجد حرام میں حطیم کی طرف متوجہ ہو کر بیٹھے ہوئے تھے آسمان کی طرف دیکھ کر ہنسے اور یہی فرمایا (ابوداؤد ابن مردویہ مسند احمد) حضرت اسامہ بن زید وغیرہ رسول اللہ ﷺ کی بیماری کے زمانے میں آپ کی عیادت کے لئے گئے اس وقت آپ عدن کی چادر اوڑھے ہوئے لیٹے تھے، آپ نے چہرہ سے چادر ہٹا کر فرمایا، اللہ یہودیوں پر لعنت کرے کہ بکریوں کی چربی کو حرام مانتے ہوئے اس کی قیمت کھاتے ہیں۔ ابو داؤد میں ابن عباس ؓ سے مرفوعاً مروی ہے کہ اللہ جب کسی قوم پر کسی چیز کا کھانا حرام کرتا ہے تو اس کی قیمت بھی حرام فرما دیتا ہے۔
147
View Single
فَإِن كَذَّبُوكَ فَقُل رَّبُّكُمۡ ذُو رَحۡمَةٖ وَٰسِعَةٖ وَلَا يُرَدُّ بَأۡسُهُۥ عَنِ ٱلۡقَوۡمِ ٱلۡمُجۡرِمِينَ
Then if they deny you (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him) say, “Your Lord has boundless mercy; and His wrath is never withdrawn from the culprits.”
پھر اگر وہ آپ کو جھٹلائیں تو فرما دیجئے کہ تمہارا رب وسیع رحمت والا ہے اور اس کا عذاب مجرم قوم سے نہیں ٹالا جائے گا
Tafsir Ibn Kathir
فَقُل رَّبُّكُمْ ذُو رَحْمَةٍ وَسِعَةٍ
(Say: "Your Lord is the Owner of vast mercy...") encouraging them to seek Allah's vast mercy and follow His Messenger,
وَلاَ يُرَدُّ بَأْسُهُ عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِينَ
(and never will His wrath be turned back from the people who are criminals.) discouraging them from defying the Messenger, the Final Prophet, Muhammad ﷺ. Allah often joins encouragement with threats in the Qur'an. Allah said at the end of this Surah:
إِنَّ رَبَّكَ سَرِيعُ الْعِقَابِ وَإِنَّهُ لَغَفُورٌ رَّحِيمٌ
(Surely, your Lord is swift in retribution, and certainly He is Oft-Forgiving, Most Merciful.) 6:165 Allah also said,
وَإِنَّ رَبَّكَ لَذُو مَغْفِرَةٍ لِّلنَّاسِ عَلَى ظُلْمِهِمْ وَإِنَّ رَبَّكَ لَشَدِيدُ الْعِقَابِ
(But verily, your Lord is full of forgiveness for mankind in spite of their wrongdoing. And verily, your Lord is (also) severe in punishment.) 13:6, and
نَبِّىءْ عِبَادِى أَنِّى أَنَا الْغَفُورُ الرَّحِيمُ - وَأَنَّ عَذَابِى هُوَ ٱلْعَذَابُ ٱلْأَلِيمُ
(Declare unto My servants, that truly, I am the Oft-Forgiving, the Most Merciful. And that My torment is indeed the most painful torment.) 15:49-50, and
غَافِرِ الذَّنبِ وَقَابِلِ التَّوْبِ شَدِيدِ الْعِقَابِ
(The Forgiver of sin, the Acceptor of repentance, the Severe in punishment.) 40:3 and,
إِنَّ بَطْشَ رَبِّكَ لَشَدِيدٌ - إِنَّهُ هُوَ يُبْدِىءُ وَيُعِيدُ - وَهُوَ الْغَفُورُ الْوَدُودُ
(Verily, the punishment of your Lord is severe and painful. Verily, He it is Who begins and repeats. And He is Oft-Forgiving, full of love.)85:12-14. There are many other Ayat on this subject.
مشرک ہو یا کافر توبہ کرلے تو معاف ! اب بھی اگر تیرے مخالف یہودی اور مشرک وغیرہ تجھے جھوٹا بتائیں تو بھی تو انہیں میری رحمت سے مایوس نہ کر بلکہ انہیں رب کی رحمت کی وسعت یاد دلاتا کہ انہیں اللہ کی رضا جوئی کی تبلیغ ہوجائے، ساتھ ہی انہیں اللہ کے اٹل عذابوں سے بچنے کی طرف بھی متوجہ کر۔ پس رغبت رہبت امید ڈر دونوں ہی ایک ساتھ سنا دے۔ قرآن کریم میں امید کے ساتھ خوف اکثر بیان ہوتا ہے اسی سورت کے آخر میں فرمایا تیرا رب جلد عذاب کرنے والا ہے اور غفور و رحیم بھی ہے اور آیت میں ہے (اِنَّ رَبَّكَ لَذُوْ مَغْفِرَةٍ وَّذُوْ عِقَابٍ اَلِيْمٍ) 43۔ فصلت :41 تیرا رب لوگوں کے گناہوں پر انہیں بخشنے والا بھی ہے اور وہ سخت تر عذاب کرنیوالا بھی ہے ایک آیت میں ارشاد ہے میرے بندوں کو میرے غفور و رحیم ہونے کی اور میرے عذابوں کے بڑے ہی درد ناک ہونے کی خبر پہنچا دے اور جگہ ہے وہ گناہوں کا بخشنے والا اور توبہ کا قبول کرنے والاے نیز کئی آیتوں میں ہے تیرے رب کی پکڑ بڑی بھاری اور نہایت سخت ہے۔ وہی ابتداء کرتا ہے اور وہی دوبارہ لوٹائے گا وہ غفور ہے، ودود ہے، بخشش کرنے والا ہے، مہربان اور محبت کرنے والا ہے اور بھی اس مضمون کی بہت سی آیتیں ہیں۔
148
View Single
سَيَقُولُ ٱلَّذِينَ أَشۡرَكُواْ لَوۡ شَآءَ ٱللَّهُ مَآ أَشۡرَكۡنَا وَلَآ ءَابَآؤُنَا وَلَا حَرَّمۡنَا مِن شَيۡءٖۚ كَذَٰلِكَ كَذَّبَ ٱلَّذِينَ مِن قَبۡلِهِمۡ حَتَّىٰ ذَاقُواْ بَأۡسَنَاۗ قُلۡ هَلۡ عِندَكُم مِّنۡ عِلۡمٖ فَتُخۡرِجُوهُ لَنَآۖ إِن تَتَّبِعُونَ إِلَّا ٱلظَّنَّ وَإِنۡ أَنتُمۡ إِلَّا تَخۡرُصُونَ
The polytheists will now say, “Had Allah willed, we would not have ascribed partners (to Him) nor would have our forefathers, nor would we have forbidden anything”; similarly those before them had denied, till the time they tasted Our punishment; say, “Do you have any knowledge so you can offer it to us? You follow only assumptions and only make guesses.”
جلد ہی مشرک لوگ کہیں گے کہ اگر اللہ چاہتا تو نہ (ہی) ہم شرک کرتے اور نہ ہمارے آباء و اجداد اور نہ کسی چیز کو (بلا سند) حرام قرار دیتے۔ اسی طرح ان لوگوں نے بھی جھٹلایا تھا جو ان سے پہلے تھے حتٰی کہ انہوں نے ہمارا عذاب چکھ لیا۔ فرما دیجئے: کیا تمہارے پاس کوئی (قابلِ حجت) علم ہے کہ تم اسے ہمارے لئے نکال لاؤ (تو اسے پیش کرو)، تم (علمِ یقینی کو چھوڑ کر) صرف گمان ہی کی پیروی کرتے ہو اور تم محض (تخمینہ کی بنیاد پر) دروغ گوئی کرتے ہو
Tafsir Ibn Kathir
A False Notion and its Rebuttal
Here Allah mentioned a debate with the idolators, refuting a false notion they have over their Shirk and the things that they prohibited. They said, surely, Allah has full knowledge of the Shirk we indulge in, and that we forbid some kinds of wealth. Allah is able to change this Shirk by directing us to the faith, - they claimed - and prevent us from falling into disbelief, but He did not do that. Therefore - they said Allah indicated that He willed, decided and agreed that we do all this. They said,
لَوْ شَآءَ اللَّهُ مَآ أَشْرَكْنَا وَلاَحَرَّمْنَا مِن شَىْءٍ
("If Allah had willed, we would not have taken partners (in worship) with Him, nor would our fathers, and we would not have forbidden anything.") Allah said in another Ayah,
وَقَالُواْ لَوْ شَآءَ الرَّحْمَـنُ مَا عَبَدْنَـهُمْ
(And they said: "If it had been the will of the Most Gracious (Allah), we should not have worshipped them (false deities)") 43:20. Similar is mentioned in Surat An-Nahl. Allah said next,
كَذَلِكَ كَذَّبَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ
(Likewise belied those who were before them,) for by using and relying on this understanding, the misguided ones before them were led astray. This notion is false and ungrounded, for had it been true, Allah would not have harmed them, destroyed them, aided His honorable Messengers over them, and made them taste His painful punishment.
قُلْ هَلْ عِندَكُم مِّنْ عِلْمٍ
(Say: "Have you any knowledge...") that Allah is pleased with you and with your ways,
فَتُخْرِجُوهُ لَنَآ
(that you can produce before us.) and make it plain, apparent and clear for us. However,
إِن تَتَّبِعُونَ إِلاَّ الظَّنَّ
(Verily, you only follow the Zann) doubts and wishful thinking,
وَإِنْ أَنتُمْ إِلاَّ تَخْرُصُونَ
(and you do nothing but lie) about Allah in the false claims that you utter. Allah said next,
قُلْ فَلِلَّهِ الْحُجَّةُ الْبَـلِغَةُ فَلَوْ شَآءَ لَهَدَاكُمْ أَجْمَعِينَ
(Say: "With Allah is the perfect proof and argument; had He so willed, He would indeed have guided you all.") Allah said to His Prophet
قُلْ
(Say) O Muhammad, to them,
فَلِلَّهِ الْحُجَّةُ الْبَـلِغَةُ
("With Allah is the perfect proof and argument. ..") the perfect wisdom and unequivocal proof to guide whom He wills and misguide whom He wills.
فَلَوْ شَآءَ لَهَدَاكُمْ أَجْمَعِينَ
(had He so willed, He would indeed have guided you all.) All of this happens accordng to His decree, His will, and His choice. So in this way, He is pleased with the believers, and angry with the disbelievers. Allah said in other Ayat,
وَلَوْ شَآءَ اللَّهُ لَجَمَعَهُمْ عَلَى الْهُدَى
(And had Allah willed, He could have gathered them together (all) on true guidance,) 6:35 and
وَلَوْ شَآءَ رَبُّكَ لآمَنَ مَن فِى الاٌّرْضِ
(And had your Lord willed, those on earth would have believed, all of them together.) 10:99 and,
وَلَوْ شَآءَ رَبُّكَ لَجَعَلَ النَّاسَ أُمَّةً وَاحِدَةً وَلاَ يَزَالُونَ مُخْتَلِفِينَ
إِلاَّ مَن رَّحِمَ رَبُّكَ وَلِذلِكَ خَلَقَهُمْ وَتَمَّتْ كَلِمَةُ رَبّكَ لاَمْلاَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ-
(And if your Lord had so willed, He could surely have made mankind one Ummah, but they will not cease to disagree. Except him on whom your Lord has bestowed His mercy and for that did He create them. And the Word of your Lord has been fulfilled: "Surely, I shall fill Hell with Jinns and men all together.") 11:118-119 Ad-Dahhak said, "No one has an excuse if he disobeys Allah. Surely, Allah has the perfect proof established against His servants." Allah said,
قُلْ هَلُمَّ شُهَدَآءَكُمُ
(Bring forward your witnesses,) produce your witnesses,
الَّذِينَ يَشْهَدُونَ أَنَّ اللَّهَ حَرَّمَ هَـذَا
(who can testify that Allah has forbidden this.) which you have forbidden and lied and invented about Allah in this regard,
فَإِن شَهِدُواْ فَلاَ تَشْهَدْ مَعَهُمْ
(Then if they testify, do not testify with them.) because in this case, their testimony is false and untrue,
وَلاَ تَتَّبِعْ أَهْوَآءَ الَّذِينَ كَذَّبُواْ بِآيَـتِنَا وَالَّذِينَ لاَ يُؤْمِنُونَ بِالاٌّخِرَةِ وَهُم بِرَبِّهِمْ يَعْدِلُونَ
(And do not follow the vain desires of those who belie Our Ayat, and such as believe not in the Hereafter, and they hold others as equal with their Lord.) by associating others with Allah in worship and treating them as equals to Him.
غلط سوچ سے باز رہو مشرک لوگ دلیل پیش کرتے تھے کہ ہمارے شرک کا حلال کو حرام کرنے کا حال تو اللہ کو معلوم ہی ہے اور یہ بھی ظاہر ہے کہ وہ اگر چاہے تو اس کے بدلنے پر بھی قادر ہے۔ اس طرح کہ ہمارے دل میں ایمان ڈال دے یا کفر کے کاموں کی ہمیں قدرت ہی نہ دے پھر بھی اگر وہ ہماری اس روش کو نہیں بدلتا تو ظاہر ہے کہ وہ ہمارے ان کاموں سے خوش ہے اگر وہ جاہتا تو ہم کیا ہمارے بزرگ بھی شرک نہ کرتے، جیسے ان کا یہی قول آیت (لوشاء الرحمن) میں اور سورة نحل میں ہے۔ اللہ فرماتا ہے اسی شبہ نے ان سے پہلی قوموں کو تباہ کردیا اگر یہ بات سچ ہوتی تو ان کے پہلے باپ دادا پر ہمارے عذاب کیوں آتے ؟ رسولوں کی نافرمانی اور شرک و کفر پر مصر رہنے کی وجہ سے وہ روئے زمین سے ذلت کے ساتھ یوں ہٹا دیئے جاتے ؟ اچھا تمہارے پاس اللہ کی رضامندی کا کوئی سرٹیفکیٹ ہو تو پیش کرو۔ ہم تو دیکھتے ہیں کہ تم وہم پرست ہو فاسد عقائد پر جمے ہوئے ہو اور اٹکل پچو باتیں اللہ کے ذمے گھڑ لیتے ہو۔ وہ بھی یہی کہتے تھے تم بھی یہی کہتے ہو کہ ہم ان معبودوں کی عبادت اسلئے کرتے ہیں کہ یہ ہمیں اللہ سے ملا دیں حالانکہ وہ نہ ملانے والے ہیں نہ اس کی انہیں قدرت ہے، ان سے تو اللہ نے سمجھ بوجھ چھین رکھی ہے، ہدایت و گمراہی کی تقسیم میں بھی اللہ کی حکمت اور اس کی حجت ہے، سب کام اس کے ارادے سے ہو رہے ہیں وہ مومنوں کو پسند فرماتا ہے اور کافروں سے ناخوش ہے، فرمان ہے آیت (وَلَوْ شَاۗءَ اللّٰهُ لَجَمَعَهُمْ عَلَي الْهُدٰي فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْجٰهِلِيْنَ) 35۔ الانعام :6) اگر اللہ چاہتا تو ان سب کو راہ حق پر جمع کردیتا اور آیت میں ہے اگر تیرے رب کی چاہت ہوتی تو سب لوگوں کو ایک ہی امت کردیتا، یہ تو اختلاف سے نہیں ہٹیں گے سوائے ان لوگوں کے جن پر تیرا رب رحم کرے بلکہ انہیں اللہ نے اسی لئے پیدا کیا ہے تیرے رب کی یہ بات حق ہے کہ میں جنات اور انسان سے جہنم کو پر کر دونگا۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ نافرمانوں کی کوئی حجت اللہ کے ذمہ نہیں بلکہ اللہ کی حجت بندوں پر ہے، تم نے خواہ مخواہ اپنی طرف سے جانوروں کو حرام کر رکھا ہے ان کی حرمت پر کسی کی شہادت تو پیش کردو۔ اگر یہ ایسی شہادت والے لائیں تو تو ان جھوٹے لوگوں کی ہاں میں ہاں نہ ملانا۔ ان منکرین قیامت، منکرین کلام اللہ شریف کے جھانسے میں کہیں تم بھی نہ آجانا۔
149
View Single
قُلۡ فَلِلَّهِ ٱلۡحُجَّةُ ٱلۡبَٰلِغَةُۖ فَلَوۡ شَآءَ لَهَدَىٰكُمۡ أَجۡمَعِينَ
Say, “Then only Allah’s argument is the complete one; so had He willed, He would have guided you all.”
فرما دیجئے کہ دلیلِ محکم تو اللہ ہی کی ہے، پس اگر وہ (تمہیں مجبور کرنا) چاہتا تو یقیناً تم سب کو (پابندِ) ہدایت فرما دیتا٭o٭ وہ حق و باطل کا فرق اور دونوں کا انجام سمجھانے کے بعد ہر ایک کو آزادی سے اپنا راستہ اختیار کرنے کا موقع دیتا ہے، تاکہ ہر شخص اپنے کئے کا خود ذمہ دار ٹھہرے اور اس پر جزا و سزا کا حق دار قرار پائے
Tafsir Ibn Kathir
A False Notion and its Rebuttal
Here Allah mentioned a debate with the idolators, refuting a false notion they have over their Shirk and the things that they prohibited. They said, surely, Allah has full knowledge of the Shirk we indulge in, and that we forbid some kinds of wealth. Allah is able to change this Shirk by directing us to the faith, - they claimed - and prevent us from falling into disbelief, but He did not do that. Therefore - they said Allah indicated that He willed, decided and agreed that we do all this. They said,
لَوْ شَآءَ اللَّهُ مَآ أَشْرَكْنَا وَلاَحَرَّمْنَا مِن شَىْءٍ
("If Allah had willed, we would not have taken partners (in worship) with Him, nor would our fathers, and we would not have forbidden anything.") Allah said in another Ayah,
وَقَالُواْ لَوْ شَآءَ الرَّحْمَـنُ مَا عَبَدْنَـهُمْ
(And they said: "If it had been the will of the Most Gracious (Allah), we should not have worshipped them (false deities)") 43:20. Similar is mentioned in Surat An-Nahl. Allah said next,
كَذَلِكَ كَذَّبَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ
(Likewise belied those who were before them,) for by using and relying on this understanding, the misguided ones before them were led astray. This notion is false and ungrounded, for had it been true, Allah would not have harmed them, destroyed them, aided His honorable Messengers over them, and made them taste His painful punishment.
قُلْ هَلْ عِندَكُم مِّنْ عِلْمٍ
(Say: "Have you any knowledge...") that Allah is pleased with you and with your ways,
فَتُخْرِجُوهُ لَنَآ
(that you can produce before us.) and make it plain, apparent and clear for us. However,
إِن تَتَّبِعُونَ إِلاَّ الظَّنَّ
(Verily, you only follow the Zann) doubts and wishful thinking,
وَإِنْ أَنتُمْ إِلاَّ تَخْرُصُونَ
(and you do nothing but lie) about Allah in the false claims that you utter. Allah said next,
قُلْ فَلِلَّهِ الْحُجَّةُ الْبَـلِغَةُ فَلَوْ شَآءَ لَهَدَاكُمْ أَجْمَعِينَ
(Say: "With Allah is the perfect proof and argument; had He so willed, He would indeed have guided you all.") Allah said to His Prophet
قُلْ
(Say) O Muhammad, to them,
فَلِلَّهِ الْحُجَّةُ الْبَـلِغَةُ
("With Allah is the perfect proof and argument. ..") the perfect wisdom and unequivocal proof to guide whom He wills and misguide whom He wills.
فَلَوْ شَآءَ لَهَدَاكُمْ أَجْمَعِينَ
(had He so willed, He would indeed have guided you all.) All of this happens accordng to His decree, His will, and His choice. So in this way, He is pleased with the believers, and angry with the disbelievers. Allah said in other Ayat,
وَلَوْ شَآءَ اللَّهُ لَجَمَعَهُمْ عَلَى الْهُدَى
(And had Allah willed, He could have gathered them together (all) on true guidance,) 6:35 and
وَلَوْ شَآءَ رَبُّكَ لآمَنَ مَن فِى الاٌّرْضِ
(And had your Lord willed, those on earth would have believed, all of them together.) 10:99 and,
وَلَوْ شَآءَ رَبُّكَ لَجَعَلَ النَّاسَ أُمَّةً وَاحِدَةً وَلاَ يَزَالُونَ مُخْتَلِفِينَ
إِلاَّ مَن رَّحِمَ رَبُّكَ وَلِذلِكَ خَلَقَهُمْ وَتَمَّتْ كَلِمَةُ رَبّكَ لاَمْلاَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ-
(And if your Lord had so willed, He could surely have made mankind one Ummah, but they will not cease to disagree. Except him on whom your Lord has bestowed His mercy and for that did He create them. And the Word of your Lord has been fulfilled: "Surely, I shall fill Hell with Jinns and men all together.") 11:118-119 Ad-Dahhak said, "No one has an excuse if he disobeys Allah. Surely, Allah has the perfect proof established against His servants." Allah said,
قُلْ هَلُمَّ شُهَدَآءَكُمُ
(Bring forward your witnesses,) produce your witnesses,
الَّذِينَ يَشْهَدُونَ أَنَّ اللَّهَ حَرَّمَ هَـذَا
(who can testify that Allah has forbidden this.) which you have forbidden and lied and invented about Allah in this regard,
فَإِن شَهِدُواْ فَلاَ تَشْهَدْ مَعَهُمْ
(Then if they testify, do not testify with them.) because in this case, their testimony is false and untrue,
وَلاَ تَتَّبِعْ أَهْوَآءَ الَّذِينَ كَذَّبُواْ بِآيَـتِنَا وَالَّذِينَ لاَ يُؤْمِنُونَ بِالاٌّخِرَةِ وَهُم بِرَبِّهِمْ يَعْدِلُونَ
(And do not follow the vain desires of those who belie Our Ayat, and such as believe not in the Hereafter, and they hold others as equal with their Lord.) by associating others with Allah in worship and treating them as equals to Him.
غلط سوچ سے باز رہو مشرک لوگ دلیل پیش کرتے تھے کہ ہمارے شرک کا حلال کو حرام کرنے کا حال تو اللہ کو معلوم ہی ہے اور یہ بھی ظاہر ہے کہ وہ اگر چاہے تو اس کے بدلنے پر بھی قادر ہے۔ اس طرح کہ ہمارے دل میں ایمان ڈال دے یا کفر کے کاموں کی ہمیں قدرت ہی نہ دے پھر بھی اگر وہ ہماری اس روش کو نہیں بدلتا تو ظاہر ہے کہ وہ ہمارے ان کاموں سے خوش ہے اگر وہ جاہتا تو ہم کیا ہمارے بزرگ بھی شرک نہ کرتے، جیسے ان کا یہی قول آیت (لوشاء الرحمن) میں اور سورة نحل میں ہے۔ اللہ فرماتا ہے اسی شبہ نے ان سے پہلی قوموں کو تباہ کردیا اگر یہ بات سچ ہوتی تو ان کے پہلے باپ دادا پر ہمارے عذاب کیوں آتے ؟ رسولوں کی نافرمانی اور شرک و کفر پر مصر رہنے کی وجہ سے وہ روئے زمین سے ذلت کے ساتھ یوں ہٹا دیئے جاتے ؟ اچھا تمہارے پاس اللہ کی رضامندی کا کوئی سرٹیفکیٹ ہو تو پیش کرو۔ ہم تو دیکھتے ہیں کہ تم وہم پرست ہو فاسد عقائد پر جمے ہوئے ہو اور اٹکل پچو باتیں اللہ کے ذمے گھڑ لیتے ہو۔ وہ بھی یہی کہتے تھے تم بھی یہی کہتے ہو کہ ہم ان معبودوں کی عبادت اسلئے کرتے ہیں کہ یہ ہمیں اللہ سے ملا دیں حالانکہ وہ نہ ملانے والے ہیں نہ اس کی انہیں قدرت ہے، ان سے تو اللہ نے سمجھ بوجھ چھین رکھی ہے، ہدایت و گمراہی کی تقسیم میں بھی اللہ کی حکمت اور اس کی حجت ہے، سب کام اس کے ارادے سے ہو رہے ہیں وہ مومنوں کو پسند فرماتا ہے اور کافروں سے ناخوش ہے، فرمان ہے آیت (وَلَوْ شَاۗءَ اللّٰهُ لَجَمَعَهُمْ عَلَي الْهُدٰي فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْجٰهِلِيْنَ) 35۔ الانعام :6) اگر اللہ چاہتا تو ان سب کو راہ حق پر جمع کردیتا اور آیت میں ہے اگر تیرے رب کی چاہت ہوتی تو سب لوگوں کو ایک ہی امت کردیتا، یہ تو اختلاف سے نہیں ہٹیں گے سوائے ان لوگوں کے جن پر تیرا رب رحم کرے بلکہ انہیں اللہ نے اسی لئے پیدا کیا ہے تیرے رب کی یہ بات حق ہے کہ میں جنات اور انسان سے جہنم کو پر کر دونگا۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ نافرمانوں کی کوئی حجت اللہ کے ذمہ نہیں بلکہ اللہ کی حجت بندوں پر ہے، تم نے خواہ مخواہ اپنی طرف سے جانوروں کو حرام کر رکھا ہے ان کی حرمت پر کسی کی شہادت تو پیش کردو۔ اگر یہ ایسی شہادت والے لائیں تو تو ان جھوٹے لوگوں کی ہاں میں ہاں نہ ملانا۔ ان منکرین قیامت، منکرین کلام اللہ شریف کے جھانسے میں کہیں تم بھی نہ آجانا۔
150
View Single
قُلۡ هَلُمَّ شُهَدَآءَكُمُ ٱلَّذِينَ يَشۡهَدُونَ أَنَّ ٱللَّهَ حَرَّمَ هَٰذَاۖ فَإِن شَهِدُواْ فَلَا تَشۡهَدۡ مَعَهُمۡۚ وَلَا تَتَّبِعۡ أَهۡوَآءَ ٱلَّذِينَ كَذَّبُواْ بِـَٔايَٰتِنَا وَٱلَّذِينَ لَا يُؤۡمِنُونَ بِٱلۡأٓخِرَةِ وَهُم بِرَبِّهِمۡ يَعۡدِلُونَ
Say, “Bring your witnesses who can testify that Allah has forbidden this”; then if they do testify, O listener (followers of this Prophet) do not bear witness along with them and do not follow the desires of those who deny Our signs, and of those who do not believe in the Hereafter and who ascribed equals to their Lord.
(ان مشرکوں سے) فرما دیجئے کہ تم اپنے ان گواہوں کو پیش کرو جو (آکر) اس بات کی گواہی دیں کہ اللہ نے اسے حرام کیا ہے، پھر اگر وہ (جھوٹی) گواہی دے ہی دیں تو ان کی گواہی کو تسلیم نہ کرنا (بلکہ ان کا جھوٹا ہونا ان پر آشکار کر دینا)، اور نہ ایسے لوگوں کی خواہشات کی پیروی کرنا جو ہماری آیتوں کو جھٹلاتے ہیں اور جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے اور وہ (معبودانِ باطلہ کو) اپنے رب کے برابر ٹھہراتے ہیں
Tafsir Ibn Kathir
A False Notion and its Rebuttal
Here Allah mentioned a debate with the idolators, refuting a false notion they have over their Shirk and the things that they prohibited. They said, surely, Allah has full knowledge of the Shirk we indulge in, and that we forbid some kinds of wealth. Allah is able to change this Shirk by directing us to the faith, - they claimed - and prevent us from falling into disbelief, but He did not do that. Therefore - they said Allah indicated that He willed, decided and agreed that we do all this. They said,
لَوْ شَآءَ اللَّهُ مَآ أَشْرَكْنَا وَلاَحَرَّمْنَا مِن شَىْءٍ
("If Allah had willed, we would not have taken partners (in worship) with Him, nor would our fathers, and we would not have forbidden anything.") Allah said in another Ayah,
وَقَالُواْ لَوْ شَآءَ الرَّحْمَـنُ مَا عَبَدْنَـهُمْ
(And they said: "If it had been the will of the Most Gracious (Allah), we should not have worshipped them (false deities)") 43:20. Similar is mentioned in Surat An-Nahl. Allah said next,
كَذَلِكَ كَذَّبَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ
(Likewise belied those who were before them,) for by using and relying on this understanding, the misguided ones before them were led astray. This notion is false and ungrounded, for had it been true, Allah would not have harmed them, destroyed them, aided His honorable Messengers over them, and made them taste His painful punishment.
قُلْ هَلْ عِندَكُم مِّنْ عِلْمٍ
(Say: "Have you any knowledge...") that Allah is pleased with you and with your ways,
فَتُخْرِجُوهُ لَنَآ
(that you can produce before us.) and make it plain, apparent and clear for us. However,
إِن تَتَّبِعُونَ إِلاَّ الظَّنَّ
(Verily, you only follow the Zann) doubts and wishful thinking,
وَإِنْ أَنتُمْ إِلاَّ تَخْرُصُونَ
(and you do nothing but lie) about Allah in the false claims that you utter. Allah said next,
قُلْ فَلِلَّهِ الْحُجَّةُ الْبَـلِغَةُ فَلَوْ شَآءَ لَهَدَاكُمْ أَجْمَعِينَ
(Say: "With Allah is the perfect proof and argument; had He so willed, He would indeed have guided you all.") Allah said to His Prophet
قُلْ
(Say) O Muhammad, to them,
فَلِلَّهِ الْحُجَّةُ الْبَـلِغَةُ
("With Allah is the perfect proof and argument. ..") the perfect wisdom and unequivocal proof to guide whom He wills and misguide whom He wills.
فَلَوْ شَآءَ لَهَدَاكُمْ أَجْمَعِينَ
(had He so willed, He would indeed have guided you all.) All of this happens accordng to His decree, His will, and His choice. So in this way, He is pleased with the believers, and angry with the disbelievers. Allah said in other Ayat,
وَلَوْ شَآءَ اللَّهُ لَجَمَعَهُمْ عَلَى الْهُدَى
(And had Allah willed, He could have gathered them together (all) on true guidance,) 6:35 and
وَلَوْ شَآءَ رَبُّكَ لآمَنَ مَن فِى الاٌّرْضِ
(And had your Lord willed, those on earth would have believed, all of them together.) 10:99 and,
وَلَوْ شَآءَ رَبُّكَ لَجَعَلَ النَّاسَ أُمَّةً وَاحِدَةً وَلاَ يَزَالُونَ مُخْتَلِفِينَ
إِلاَّ مَن رَّحِمَ رَبُّكَ وَلِذلِكَ خَلَقَهُمْ وَتَمَّتْ كَلِمَةُ رَبّكَ لاَمْلاَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ-
(And if your Lord had so willed, He could surely have made mankind one Ummah, but they will not cease to disagree. Except him on whom your Lord has bestowed His mercy and for that did He create them. And the Word of your Lord has been fulfilled: "Surely, I shall fill Hell with Jinns and men all together.") 11:118-119 Ad-Dahhak said, "No one has an excuse if he disobeys Allah. Surely, Allah has the perfect proof established against His servants." Allah said,
قُلْ هَلُمَّ شُهَدَآءَكُمُ
(Bring forward your witnesses,) produce your witnesses,
الَّذِينَ يَشْهَدُونَ أَنَّ اللَّهَ حَرَّمَ هَـذَا
(who can testify that Allah has forbidden this.) which you have forbidden and lied and invented about Allah in this regard,
فَإِن شَهِدُواْ فَلاَ تَشْهَدْ مَعَهُمْ
(Then if they testify, do not testify with them.) because in this case, their testimony is false and untrue,
وَلاَ تَتَّبِعْ أَهْوَآءَ الَّذِينَ كَذَّبُواْ بِآيَـتِنَا وَالَّذِينَ لاَ يُؤْمِنُونَ بِالاٌّخِرَةِ وَهُم بِرَبِّهِمْ يَعْدِلُونَ
(And do not follow the vain desires of those who belie Our Ayat, and such as believe not in the Hereafter, and they hold others as equal with their Lord.) by associating others with Allah in worship and treating them as equals to Him.
غلط سوچ سے باز رہو مشرک لوگ دلیل پیش کرتے تھے کہ ہمارے شرک کا حلال کو حرام کرنے کا حال تو اللہ کو معلوم ہی ہے اور یہ بھی ظاہر ہے کہ وہ اگر چاہے تو اس کے بدلنے پر بھی قادر ہے۔ اس طرح کہ ہمارے دل میں ایمان ڈال دے یا کفر کے کاموں کی ہمیں قدرت ہی نہ دے پھر بھی اگر وہ ہماری اس روش کو نہیں بدلتا تو ظاہر ہے کہ وہ ہمارے ان کاموں سے خوش ہے اگر وہ جاہتا تو ہم کیا ہمارے بزرگ بھی شرک نہ کرتے، جیسے ان کا یہی قول آیت (لوشاء الرحمن) میں اور سورة نحل میں ہے۔ اللہ فرماتا ہے اسی شبہ نے ان سے پہلی قوموں کو تباہ کردیا اگر یہ بات سچ ہوتی تو ان کے پہلے باپ دادا پر ہمارے عذاب کیوں آتے ؟ رسولوں کی نافرمانی اور شرک و کفر پر مصر رہنے کی وجہ سے وہ روئے زمین سے ذلت کے ساتھ یوں ہٹا دیئے جاتے ؟ اچھا تمہارے پاس اللہ کی رضامندی کا کوئی سرٹیفکیٹ ہو تو پیش کرو۔ ہم تو دیکھتے ہیں کہ تم وہم پرست ہو فاسد عقائد پر جمے ہوئے ہو اور اٹکل پچو باتیں اللہ کے ذمے گھڑ لیتے ہو۔ وہ بھی یہی کہتے تھے تم بھی یہی کہتے ہو کہ ہم ان معبودوں کی عبادت اسلئے کرتے ہیں کہ یہ ہمیں اللہ سے ملا دیں حالانکہ وہ نہ ملانے والے ہیں نہ اس کی انہیں قدرت ہے، ان سے تو اللہ نے سمجھ بوجھ چھین رکھی ہے، ہدایت و گمراہی کی تقسیم میں بھی اللہ کی حکمت اور اس کی حجت ہے، سب کام اس کے ارادے سے ہو رہے ہیں وہ مومنوں کو پسند فرماتا ہے اور کافروں سے ناخوش ہے، فرمان ہے آیت (وَلَوْ شَاۗءَ اللّٰهُ لَجَمَعَهُمْ عَلَي الْهُدٰي فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْجٰهِلِيْنَ) 35۔ الانعام :6) اگر اللہ چاہتا تو ان سب کو راہ حق پر جمع کردیتا اور آیت میں ہے اگر تیرے رب کی چاہت ہوتی تو سب لوگوں کو ایک ہی امت کردیتا، یہ تو اختلاف سے نہیں ہٹیں گے سوائے ان لوگوں کے جن پر تیرا رب رحم کرے بلکہ انہیں اللہ نے اسی لئے پیدا کیا ہے تیرے رب کی یہ بات حق ہے کہ میں جنات اور انسان سے جہنم کو پر کر دونگا۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ نافرمانوں کی کوئی حجت اللہ کے ذمہ نہیں بلکہ اللہ کی حجت بندوں پر ہے، تم نے خواہ مخواہ اپنی طرف سے جانوروں کو حرام کر رکھا ہے ان کی حرمت پر کسی کی شہادت تو پیش کردو۔ اگر یہ ایسی شہادت والے لائیں تو تو ان جھوٹے لوگوں کی ہاں میں ہاں نہ ملانا۔ ان منکرین قیامت، منکرین کلام اللہ شریف کے جھانسے میں کہیں تم بھی نہ آجانا۔
151
View Single
۞قُلۡ تَعَالَوۡاْ أَتۡلُ مَا حَرَّمَ رَبُّكُمۡ عَلَيۡكُمۡۖ أَلَّا تُشۡرِكُواْ بِهِۦ شَيۡـٔٗاۖ وَبِٱلۡوَٰلِدَيۡنِ إِحۡسَٰنٗاۖ وَلَا تَقۡتُلُوٓاْ أَوۡلَٰدَكُم مِّنۡ إِمۡلَٰقٖ نَّحۡنُ نَرۡزُقُكُمۡ وَإِيَّاهُمۡۖ وَلَا تَقۡرَبُواْ ٱلۡفَوَٰحِشَ مَا ظَهَرَ مِنۡهَا وَمَا بَطَنَۖ وَلَا تَقۡتُلُواْ ٱلنَّفۡسَ ٱلَّتِي حَرَّمَ ٱللَّهُ إِلَّا بِٱلۡحَقِّۚ ذَٰلِكُمۡ وَصَّىٰكُم بِهِۦ لَعَلَّكُمۡ تَعۡقِلُونَ
Say, “Come – so that I may recite to you what your Lord has forbidden for you that ‘Do not ascribe any partner to Him and be good to parents; and do not kill your children because of poverty; We shall provide sustenance for all – you and them; and do not approach lewd things, the open among them or concealed; and do not unjustly kill any life which Allah has made sacred; this is the command to you, so that you may have sense.’
فرما دیجئے: آؤ میں وہ چیزیں پڑھ کر سنا دوں جو تمہارے رب نے تم پر حرام کی ہیں (وہ) یہ کہ تم اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہراؤ اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرو، اور مفلسی کے باعث اپنی اولاد کو قتل مت کرو۔ ہم ہی تمہیں رزق دیتے ہیں اور انہیں بھی (دیں گے)، اور بے حیائی کے کاموں کے قریب نہ جاؤ (خواہ) وہ ظاہر ہوں اور (خواہ) وہ پوشیدہ ہوں، اور اس جان کو قتل نہ کرو جسے (قتل کرنا) اللہ نے حرام کیا ہے بجز حق (شرعی) کے (یعنی قانون کے مطابق ذاتی دفاع کی خاطر اور فتنہ و فساد اور دہشت گردی کے خلاف لڑتے ہوئے)، یہی وہ (امور) ہیں جن کا اس نے تمہیں تاکیدی حکم دیا ہے تاکہ تم عقل سے کام لو
Tafsir Ibn Kathir
Ten Commandments
Dawud Al-Awdy narrated that, Ash-Sha`bi said that, `Alqamah said that Ibn Mas`ud said, "Whoever wishes to read the will and testament of the Messenger of Allah on which he placed his seal, let him read these Ayat,
قُلْ تَعَالَوْاْ أَتْلُ مَا حَرَّمَ رَبُّكُمْ عَلَيْكُمْ أَلاَّ تُشْرِكُواْ بِهِ شَيْئاً
(Say: "Come, I will recite what your Lord has prohibited you from: Join not anything in worship with Him...") until,
لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ
(...so that you may have Taqwa) 6:153." In his Mustadrak, Al-Hakim recorded that Ibn `Abbas said, "In Surah Al-An`am 6, there are clear Ayat, and they are the Mother of the Book (the Qur'an)." He then recited,
قُلْ تَعَالَوْاْ أَتْلُ مَا حَرَّمَ رَبُّكُمْ عَلَيْكُمْ
(Say: "Come, I will recite what your Lord has prohibited you from...") Al-Hakim said, "Its chain is Sahih, and they did not record it." In his Mustadrak Al-Hakim also recorded that `Ubadah bin As-Samit said, "The Messenger of Allah said,
«أَيُّكُمْ يُبَايِعُنِي عَلَى ثَلَاث»
(Who among you will give me his pledge to do three things) He then recited the Ayah,
قُلْ تَعَالَوْاْ أَتْلُ مَا حَرَّمَ رَبُّكُمْ عَلَيْكُمْ
(Say: "Come, I will recite what your Lord has prohibited you from...") until the end of the Ayat. He then said,
«فَمَنْ وَفَى فَأَجْرُهُ عَلَى اللهِ وَمَنِ انْتَقَصَ مِنْهُنَّ شَيْئًا فَأَدْرَكَهُ اللهُ بِهِ فِي الدُّنْيَا كَانَتْ عُقُوبَتهُ، وَمَنْ أَخَّرَ إِلَى الْآخِرَةِ فَأَمْرُهُ إِلَى اللهِ إِنْ شَاءَ عَذَّبَهُ وَإِنْ شَاءَ عَفَا عَنْه»
(Whoever fulfills (this pledge), then his reward will be with Allah, but whoever fell into shortcomings and Allah punishes him for it in this life, then that will be his recompense. Whoever Allah delays (his reckoning) until the Hereafter, then his matter is with Allah. If He wills, He will punish him, and if He wills, He will forgive him.)" Al-Hakim said, "Its chain is Sahih and they did not record it." As for the explanation of this Ayah, Allah said to His Prophet and Messenger Muhammad ﷺ: Say, O Muhammad, to those idolators who worshipped other than Allah, forbade what Allah provided them with and killed their children, following their opinions and the lures of the devils,'
قُلْ
(Say) to them
تَعَالَوْاْ
(Come) come here, come close
أَتْلُ مَا حَرَّمَ رَبُّكُمْ عَلَيْكُمْ
(I will recite what your Lord has prohibited you from. ) meaning, I will inform you about what your Lord has forbidden for you in truth, not guessing or wishful thinking. Rather, it is revelation and an order from Him.
Shirk is Forbidden
أَلاَّ تُشْرِكُواْ بِهِ شَيْئاً
(Join not anything in worship with Him;) this Allah has ordained, for He said at the end of the Ayah,
ذلِكُمْ وَصَّـكُمْ بِهِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ
(This He has commanded you that you may understand.) In the the Two Sahihs, it is recorded that Abu Dharr said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«أَتَانِي جِبْرِيلُ فَبَشَّرَنِي أَنَّهُ مَنْ مَاتَ لَا يُشْرِكُ بِاللهِ شَيْئًا مِنْ أُمَّتِكَ دَخَلَ الْجَنَّةَ، قُلْتُ وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ؟ قَالَ: وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ، قُلْتُ: وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ؟ قَالَ: وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ، قُلْت: وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ؟ قَالَ: وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ وَإِنْ شَرِبَ الْخَمْر»
(Jibril came to me and conveyed the good news that, "Whoever among your followers dies, worshipping none along with Allah, will enter Paradise." I said, "Even if he stole or committed illegal sexual intercourse" He said, "Even if he stole or committed illegal sexual intercourse." I said, "Even if he stole or committed illegal sexual intercourse" He said, "Even if he stole or committed illegal sexual intercourse." I said, "Even if he stole or committed illegal sexual intercourse" He said, "Even if he stole or committed illegal sexual intercourse or even if drank alcohol.") Some of the Musnad and Sunan compilers recorded that Abu Dharr said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«يَقُولُ تَعَالَى: يَا ابْنَ آدَمَ إِنَّكَ مَا دَعَوْتَنِي وَرَجَوْتَنِي فَإِنِّي أَغْفِرُ لَكَ عَلَى مَا كَانَ مِنْكَ وَلَا أُبَالِي،وَلَوْ أَتَيْتَنِي بِقُرَابِ الْأَرْضِ خَطِيئَةً أَتَيْتُكَ بِقُرَابِهَا مَغْفِرَةً مَا لَمْ تُشْرِكْ بِي شَيْئًا، وَإِنْ أَخْطَأْتَ حَتَّى تَبْلُغَ خَطَاَياكَ عَنَانَ السَّمَاءِ ثُمَّ اسْتَغْفَرْتَنِي غَفَرْتُ لَك»
(Allah said, `O Son of Adam! As long as you supplicate to Me and hope of Me, I will forgive whatever you committed, and it will be easy for Me to do that. And even if you brought the earth's fill of sins to Me, I will bring forth its fill of forgiveness, as long as you do not associate anything or anyone in worship with Me. And even if you err and your errors accumulate until they reach the boundaries of the sky and you then ask Me for forgiveness, I will forgive you.') This subject is also mentioned in the Qur'an, for Allah said,
إِنَّ اللَّهَ لاَ يَغْفِرُ أَن يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَن يَشَآءُ
(Verily, Allah forgives not (the sin of) setting up partners (in worship) with Him, but He forgives whom He wills, sins other than that.) 4:116 Muslim recorded a Hadith in the Sahih that reads,
«مَنْ مَاتَ لَا يُشْرِكُ بِاللهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّـة»
(Whoever dies associating none with Allah will enter Paradise.) There are many Ayat and Hadiths on this subject.
The Order for Kindness to Parents
Allah said next,
وَبِالْوَلِدَيْنِ إِحْسَانًا
(be kind and dutiful to your parents;) meaning, Allah has commanded and ordered you to be kind to your parents. Allah said in another Ayah,
وَقَضَى رَبُّكَ أَلاَّ تَعْبُدُواْ إِلاَّ إِيَّـهُ وَبِالْوَلِدَيْنِ إِحْسَـناً
(And your Lord has decreed that you worship none but Him. And that you be dutiful to your parents.) 17:23 Allah often mentions obeying Him and being dutiful to parents together. Allah said,
وَوَصَّيْنَا الإِنْسَـنَ بِوَلِدَيْهِ حَمَلَتْهُ أُمُّهُ وَهْناً عَلَى وَهْنٍ وَفِصَالُهُ فِى عَامَيْنِ أَنِ اشْكُرْ لِى وَلِوَلِدَيْكَ إِلَىَّ الْمَصِيرُ - وَإِن جَـهَدَاكَ عَلَى أَن تُشْرِكَ بِى مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ فَلاَ تُطِعْهُمَا وَصَـحِبْهُمَا فِى الدُّنْيَا مَعْرُوفاً وَاتَّبِعْ سَبِيلَ مَنْ أَنَابَ إِلَىَّ ثُمَّ إِلَىَّ مَرْجِعُكُمْ فَأُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ
(Give thanks to Me and to your parents. Unto Me is the final destination. But if they (both) strive with you to make you join in worship with Me others that of which you have no knowledge, then obey them not; but behave with them in this world kindly, and follow the path of him who turns to Me in repentance and in obedience. Then to Me will be your return, and I shall tell you what you used to do.) 31:14-15 Therefore, Allah ordered children to be dutiful and kind to their parents, even if they were idolators. Allah also said,
وَإِذْ أَخَذْنَا مِيثَـقَ بَنِى إِسْرءِيلَ لاَ تَعْبُدُونَ إِلاَّ اللَّهَ وَبِالْوَلِدَيْنِ إِحْسَانًا
(And (remember) when We took a covenant from the Children of Israel, (saying): Worship none but Allah and be dutiful and kind to parents.) 2:83 There are several Ayat on this subject. It is recorded in the Two Sahihs that Ibn Mas`ud said, "I asked Allah's Messenger ﷺ about which deed is the best. He said,
«الصَّلَاةُ عَلَى وَقْتِهَا»
(The prayer, when it is performed on time.) I said, `Then' He said,
«بِرُّ الْوَالِدَيْن»
(Being dutiful to parents.) I asked, `Then' He said,
«الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ الله»
(Jihad in Allah's cause.) Ibn Mas`ud said, "The Messenger of Allah ﷺ said these words to me, and had I asked him for more, he would have said more."
Killing Children is Forbidden
Allah said,
وَلاَ تَقْتُلُواْ أَوْلَـدَكُمْ مِّنْ إمْلَـقٍ نَّحْنُ نَرْزُقُكُمْ وَإِيَّاهُمْ
(Kill not your children because of poverty, We shall provide sustenance for you and for them.) After Allah commanded kindness to parents and grandparents, He next ordered kindness to children and grandchildren. Allah said,
وَلاَ تَقْتُلُواْ أَوْلَـدَكُمْ مِّنْ إمْلَـقٍ
(kill not your children because of poverty,) because the idolators used to kill their children, obeying the lures of the devils. They used to bury their daughters alive for fear of shame, and sometimes kill their sons for fear of poverty. It is recorded in the Two Sahihs that `Abdullah bin Mas`ud said, "I asked the Messenger of Allah ﷺ, `Which sin is the biggest' He said,
«أَنْ تَجْعَلَ للهِ نِدًّا وَهُوَ خَلَقَك»
(To call a rival for Allah, while He Alone created you.) I said, `Then what' He said,
«أَنْ تَقْتُلَ وَلَدَكَ خَشْيَةَ أَنْ يَطْعَمَ مَعَك»
(To kill your son for fear that he might share your food.') I said, `Then what' He said,
«أَنْ تُزَانِي حَلِيلَةَ جَارِك»
(To commit adultery with your neighbor's wife.) Then the Messenger of Allah ﷺ recited the Ayah,
وَالَّذِينَ لاَ يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَـهَا ءَاخَرَ وَلاَ يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِى حَرَّمَ اللَّهُ إِلاَّ بِالْحَقِّ وَلاَ يَزْنُونَ
(And those who invoke not any other god along with Allah, nor kill such person as Allah has forbidden, except for just cause, nor commit illegal sexual intercourse...) 25:68." Allah's statement,
مِّنْ إمْلَـقٍ
(Because of Imlaq) refers to poverty, according to Ibn `Abbas, Qatadah, As-Suddi and others. The Ayah means, do not kill your children because you are poor. Allah said in Surat Al-Isra',
وَلاَ تَقْتُلُواْ أَوْلادَكُمْ خَشْيَةَ إِمْلَـقٍ
(And do not kill your children for fear from Imlaq.) 17:31, that is, do not kill your children for fear that you might become poor in the future. This is why Allah said,
نَّحْنُ نَرْزُقُهُمْ وَإِيَّاكُم
(We shall provide sustenance for them and for you) 17:31, thus mentioning the provision of the children first, meaning, do not fear poverty because of feeding your children. Certainly, their provision is provided by Allah. Allah said,
نَّحْنُ نَرْزُقُكُمْ وَإِيَّاهُمْ
(We provide sustenance for you and for them,) thus starting with parents, because this is the appropriate subject here and Allah knows. Allah said next,
وَلاَ تَقْرَبُواْ الْفَوَحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ
(Come not near Al-Fawahish (immoral sins) whether committed openly or secretly) Allah said in a similar Ayah,
قُلْ إِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّيَ الْفَوَحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ وَالإِثْمَ وَالْبَغْىَ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَأَن تُشْرِكُواْ بِاللَّهِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِهِ سُلْطَـناً وَأَن تَقُولُواْ عَلَى اللَّهِ مَا لاَ تَعْلَمُونَ
(Say: "(But) the things that my Lord has indeed forbidden are Al-Fawahish (immoral sins) whether committed openly or secretly, sins (of all kinds), unrighteous oppression, joining partners (in worship) with Allah for which He has given no authority, and saying things about Allah of which you have no knowledge.") 7:33 We also explained this meaning in the explanation of the Ayah,
وَذَرُواْ ظَـهِرَ الإِثْمِ وَبَاطِنَهُ
(Leave sin, open and secret) 6:120. The Two Sahihs recorded that Ibn Mas`ud said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«لَا أَحَدٌ أَغْيَرَ مِنَ اللهِ، مِنْ أَجْلِ ذَلِكَ حَرَّمَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَن»
(None is more jealous than Allah. This is why He has forbidden the immoral sins committed openly or secretly.) `Abdul-Malik bin `Umayr said that Warrad narrated that Al-Mughirah said that Sa`d bin `Ubadah said, "If I see a man with my wife (committing adultery), I will kill him with the sword." When the matter came to the Messenger of Allah ﷺ, he said,
«أَتَعْجَبُونَ مِنْ غَيْرةِ سَعْدٍ؟ فَوَاللهِ لَأَنَا أَغْيَرُ مِنْ سَعْدٍ، وَاللهُ أَغْيَرُ مِنِّي، مِنْ أَجْلِ ذَلِكَ حَرَّمَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَن»
(Do you wonder at Sa`d's jealousy By Allah, I am more jealous than Sa`d, and Allah is more jealous than I. This is why He has forbidden the immoral sins committed openly and in secret.) This Hadith is in the Two Sahihs).
The Prohibition of Unjustified Killing
Allah said,
وَلاَ تَقْتُلُواْ النَّفْسَ الَّتِى حَرَّمَ اللَّهُ إِلاَّ بِالْحَقِّ
(And kill not anyone whom Allah has forbidden, except for a just cause (according to Islamic law).) This part of the Ayah emphasizes this prohibition in specific, although it is included in the immoral sins committed openly and in secret. In the Two Sahihs, it is recorded that Ibn Mas`ud said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«لَا يَحِلُّ دَمُ امْرِىءٍ مُسْلِمٍ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللهِ، إِلَّا بِإِحْدَى ثَلَاثٍ: الثَّيِّبُ الزَّانِي، وَالنَّفْسُ بِالنَّفْسِ، وَالتَّارِكُ لِدِينِهِ الْمُفَارِقُ لِلْجَمَاعَة»
(The blood of a Muslim person who testifies that there is no deity worthy of worship except Allah and that I am the Messenger of Allah ﷺ is prohibited, except for three offenses: a married person who commits illegal sexual intercourse, life for life, and whoever reverts from the religion and abandons the Jama`ah (the community of faithful believers).) There is a prohibition, a warning and a threat against killing the Mu`ahid, i.e., non-Muslims who have a treaty of peace with Muslims. Al-Bukhari recorded that `Abdullah bin `Amr said that the Prophet said,
«مَنْ قَتَلَ مُعَاهِدًا لَمْ يَرَحْ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ، وَإِنَّ رِيحَهَا لَيُوجَدُ مِنْ مَسِيرَةِ أَرْبَعِينَ عَامًّا»
(Whoever killed a person having a treaty of protection with Muslims, shall not smell the scent of Paradise, though its scent is perceived from a distance of forty years. ) Abu Hurayrah narrated that the Prophet said,
«مَنْ قَتَلَ مُعَاهِدًا لَهُ ذِمَّةُ اللهِ وَذِمَّةُ رَسُولِهِ فَقَدْ أَخْفَرَ بِذِمَّةِ اللهِ، فَلَا يَرَحْ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ، وَإِنَّ رِيحَهَا لَيُوجَدُ مِنْ مَسِيرَةِ سَبْعِينَ خَرِيفًا»
(Whoever killed a person having a treaty of protection with the Muslims, and who enjoys the guarantee of Allah and His Messenger, he will have spoiled the guarantee of Allah for him. He shall not smell the scent of Paradise though its smell is perceived from a distance of seventy years.) Ibn Majah and At-Tirmidhi recorded this Hadith, and At-Tirmidhi said, "Hasan Sahih." Allah's statement,
ذلِكُمْ وَصَّـكُمْ بِهِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ
(This He has commanded you that you may understand.) means, this is what He has commanded you that you may comprehend His commandments and prohibitions.
نبی اکرم ﷺ کی وصیتیں ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں جو شخص رسول اللہ ﷺ کی اس وصیت کو دیکھنا چاہتا ہو جو آپ کی آخری وصیت تھی تو وہ ان آیتوں کو (تتقون) تک پڑھے، ابن عباس ؓ فرماتے ہیں سورة انعام میں محکم آیتیں ہیں پھر یہی آیتیں آپ نے تلاوت فرمائیں۔ ایک مرتبہ حضور نے اپنے اصحاب سے فرمایا، تم میں سے کوئی شخص ہے جو میرے ہاتھ پر ان تین باتوں کی بیعت کرے، پھر آپ نے یہی آیتیں تلاوت فرمائیں اور فرمایا جو اسے پورا کرے گا، وہ اللہ سے اجر پائے گا اور جو ان میں سے کسی بات کو پورا نہ کرے گا تو دنیا میں ہی اسے شرعی سزا دے دی جائے گی اور اگر سزا نہ دی گئی تو پھر اس کا معاملہ قیامت پر ہے اگر اللہ چاہے تو اسے بخش دے چاہے تو سزا دے (مسند، حاکم) بخاری مسلم میں ہے " تم لوگ میرے ہاتھ پر بیعت کرو، اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنے کی " اس آیت میں اللہ تعالیٰ اپنے نبی سلام علیہ سے فرماتا ہے کہ " ان مشرکین کو جو اللہ کی اولاد کے قائل ہیں اللہ کے رزق میں سے بعض کو اپنی طرف سے حلال اور بعض کو حرام کہتے ہیں اللہ کے ساتھ دوسروں کو پوجتے ہیں کہہ دیجئے کہ سچ مچ جو چیزیں اللہ کی حرام کردہ ہیں انہیں مجھ سے سن لو جو میں بذریعہ وحی الٰہی بیان کرتا ہوں تمہاری طرح خواہش نفس، توہم پرستی اور اٹکل و گمان کی بنا پر نہیں کہتا۔ سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ جس کی وہ تمہیں وصیت کرتا ہے کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا، یہ کلام عرب میں ہوتا ہے کہ ایک جملہ کو حذف کردیا پھر دوسرا جملہ ایسا کہہ دیا جس سے حذف شدہ جملہ معلوم ہوجائے اس آیت کے آخری جملے (ذالکم وصاکم) سے (الاتشرکو) اس سے پہلے کے محذوف جملے (اوصاکم) پر دلالت ہوگئی۔ عرب میں یوں بھی کہہ دیا کرتے ہیں (امرتک ان لا تقوم) بخاری و مسلم میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں میرے پاس جبرائیل آئے اور مجھے یہ خوشخبری سنائی کہ آپ کی امت میں سے جو شخص اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرے وہ داخل جنت ہوگا تو میں نے کہا گو اس نے زنا کیا ہو گو اس نے چوری کی ہو آپ نے فرمایا ہاں گو اس نے زنا اور چوری کی ہو میں نے پھر یہی سوال کیا مجھے پھر یہی جواب ملا پھر بھی میں نے یہ بات پوچھی اب کے جواب دیا کہ گو شراب نوشی بھی کی ہو۔ بعض روایتوں میں ہے کہ حضور سے موحد کے جنت میں داخل ہونے کا سن کر حضرت ابوذر نے یہ سوال کیا تھا اور آپ نے یہ جواب دیا تھا اور آخری مرتبہ فرمایا تھا اور ابوذر کی ناک خاک آلود ہو چناچہ راوی حدیث جب اسے بیان فرماتے تو یہی لفظ دوہرا دیتے، سنن میں مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے ابن آدم تو جب تک مجھ سے دعا کرتا رہے گا اور میری ذات سے امید رکھے گا میں بھی تیری خطاؤں کو معاف فرماتا رہوں گا خواہ وہ کیسی ہی ہوں کوئی پرواہ نہ کروں گا تو اگر میرے پاس زمین بھر کر خطائیں لائے گا تو میں تیرے پاس اتنی ہی مغفرت اور بخشش لے کر آؤں گا بشرطیکہ تو میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا ہو گو تو نے خطائیں کی ہوں یہاں تک کہ وہ آسمان تک پہنچ گئی ہوں پھر بھی تو مجھ سے استغفار کرے تو میں تجھے بخش دوں گا، اس حدیث کی شہادت میں یہ آیت آسکتی ہے (اِنَّ اللّٰهَ لَا يَغْفِرُ اَنْ يُّشْرَكَ بِهٖ وَيَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ يَّشَاۗءُ ۚوَمَنْ يُّشْرِكْ باللّٰهِ فَقَدِ افْتَرٰٓى اِثْمًا عَظِيْمًا) 48۔ النسآء :4) یعنی مشرک کو تو اللہ مطلق نہ بخشے گا باقی گنہگار اللہ کی مشیت پر ہیں جسے جا ہے بخش دے۔ صحیح مسلم شریف میں ہے جو توحید پر مرے وہ جنتی ہے اس بارے میں بہت سی آیتیں اور حدیثیں ہیں۔ ابن مردویہ میں ہے کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو گو تمہارے ٹکڑے ٹکڑے کردیئے جائیں یا تمہیں سولی چڑھا دیا جائے یا تمہیں جلا دیا جائے۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ ہمیں رسول اللہ ﷺ نے سات باتوں کا حکم دیا 001 اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا گو تم جلا دیئے جاؤ یا کاٹ دیئے جاؤ یا سولی دے دیئے جاؤ۔ اس آیت میں توحید کا حکم دے کر پھر ماں باپ کے ساتھ احسان کرنے کا حکم ہوا بعض کی قرأت (ووصی ربک الا تعبدو الا ایاہ وبالوالدین احسانا) بھی ہے۔ قرآن کریم میں اکثر یہ دونوں حکم ایک ہی جگہ بیان ہوئے ہیں جیسے آیت (اَنِ اشْكُرْ لِيْ وَلِوَالِدَيْكَ ۭ اِلَيَّ الْمَصِيْرُ) 14۔ لقمان :31) میں مشرک ماں باپ کے ساتھ بھی بقدر ضرورت احسان کرنے کا حکم ہوا ہے اور آیت (لَقَدْ اَخَذْنَا مِيْثَاقَ بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ وَاَرْسَلْنَآ اِلَيْهِمْ رُسُلًا ۭكُلَّمَا جَاۗءَهُمْ رَسُوْلٌۢ بِمَا لَا تَهْوٰٓى اَنْفُسُهُمْ ۙ فَرِيْقًا كَذَّبُوْا وَفَرِيْقًا يَّقْتُلُوْنَ) 70۔ المآئدہ :5) ، میں بھی دونوں حکم ایک ساتھ بیان ہوئے ہیں اور بھی بہت سی اس مفہوم کی آیتیں ہیں۔ بخاری و مسلم میں ہے ابن مسعود فرماتے ہیں میں نے حضور ﷺ سے دریافت کیا کہ کونسا عمل افضل ہے ؟ آپ نے فرمایا نماز وقت پر پڑھنا۔ میں نے پوچھا پھر ؟ فرمایا ماں باپ کے ساتھ نیکی کرنا، میں نے پوچھا پھر ؟ فرمایا اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔ میں اگر اور بھی دریافت کرتا تو حضور بتا دیتے، ابن مردویہ میں عبادہ بن صامت اور ابو درداء سے مروی ہے کہ مجھے میرے خلیل رسول اللہ ﷺ نے وصیت کی کہ اپنے والدین کی اطاعت کر اگرچہ وہ تجھے حکم دیں کہ تو ان کیلئے ساری دنیا سے الگ ہوجائے تو بھی مان لے، اس کی سند ضعیف ہے باپ داداؤں کی وصیت کر کے اولاد اور اولاد کی اولاد کی بات وصیت فرمائی کہ انہیں قتل نہ کرو جیسے کہ شیاطین نے اس کام کو تمہیں سکھا رکھا ہے لڑکیوں کو تو وہ لوگ بوجہ عار کے مار ڈالتے تھے اور بعض لڑکوں کو بھی بوجہ اس کے کہ ان کے کھانے کا سامان کہاں سے لائیں گے، مار ڈالتے تھے، ابن مسعود نے ایک مرتبہ حضور سے دریافت کیا کہ سب سے بڑا گناہ کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا اللہ کے ساتھ شریک کرنا حالانکہ اسی اکیلے نے پیدا کیا ہے۔ پوچھا پھر کونسا گناہ ہے ؟ فرمایا اپنی اولاد کو اس خوف سے قتل کرنا کہ یہ میرے ساتھ کھائے گی۔ پوچھا پھر کونسا ہے ؟ فرمایا اپنی پڑوس کی عورت سے بدکاری کرنا پھر حضور نے آیت (وَالَّذِيْنَ لَا يَدْعُوْنَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰــهًا اٰخَرَ وَلَا يَقْتُلُوْنَ النَّفْسَ الَّتِيْ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا بالْحَقِّ وَلَا يَزْنُوْنَ ۚ وَمَنْ يَّفْعَلْ ذٰلِكَ يَلْقَ اَثَامًا) 68۔ الفرقان :25) کی تلاوت فرمائی اور آیت میں ہے (وَلَا تَقْتُلُوْٓا اَوْلَادَكُمْ خَشْـيَةَ اِمْلَاقٍ ۭ نَحْنُ نَرْزُقُهُمْ وَاِيَّاكُمْ ۭ اِنَّ قَتْلَهُمْ كَانَ خِطْاً كَبِيْرًا) 31۔ الإسراء :17) اپنی اولاد کو فقیری کے خوف سے قتل نہ کرو، اسی لئے اس کے بعد ہی فرمایا کہ ہم انہیں روزی دیتے ہیں اور تمہاری روزی بھی ہمارے ذمہ ہے۔ یہاں چونکہ فرمایا تھا کہ فقیری کی وجہ سے اولاد کا گلا نہ گھونٹو تو ساتھ ہی فرمایا تمہیں روزی ہم دیں گے اور انہیں بھی ہم ہی دے رہے ہیں پھر فرمایا کسی ظاہر اور پوشیدہ برائی کے پاس بھی نہ جاؤ جیسے اور آیت میں ہے (قُلْ اِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّيَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ وَالْاِثْمَ وَالْبَغْيَ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَاَنْ تُشْرِكُوْا باللّٰهِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِهٖ سُلْطٰنًا وَّاَنْ تَقُوْلُوْا عَلَي اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ) 33۔ الاعراف :7) ، یعنی تمام ظاہری، باطنی برائیاں، ظلم و زیادتی، شرک و کفر اور جھوٹ بہتان سب کچھ اللہ نے حرام کردیا ہے۔ اس کی پوری تفسیر آیت (وذروا ظاھر الاثم باطنہ کی تفسیر میں گذر چکی ہے صحیح حدیث میں ہے اللہ سے زیادہ غیرت ولا کوئی نہیں اسی وجہ سے تمام بےحیائیاں اللہ نے حرام کردی ہیں خواہ وہ ظاہر ہوں یا پوشیدہ ہوں۔ سعد بن عبادہ نے کہا کہ اگر میں کسی کو اپنی بیوی کے ساتھ دیکھ لوں تو میں تو ایک ہی وار میں اس کا فیصلہ کر دوں جب حضور کے پاس ان کا یہ قول بیان ہوا تو فرمایا کیا تم سعد کی غیرت پر تعجب کر رہے ہو ؟ واللہ میں اس سے زیادہ غیرت والا ہوں اور میرا رب مجھ سے زیادہ غیرت والا ہے، اسی وجہ سے تمام فحش کام ظاہر و پوشیدہ اس نے حرام کردیئے ہیں (بخاری و مسلم) ایک مرتبہ حضور سے کہا گیا کہ ہم غیرت مند لوگ ہیں آپ نے فرمایا واللہ میں بھی غیرت والا ہوں اور اللہ مجھ سے زیادہ غیرت والا ہے۔ یہ غیرت ہی ہے جو اس نے تمام بری باتوں کو حرام قرار دے دیا ہے اس حدیث کی سند ترمذی کی فباء پر ہے ترمذی میں یہ حدیث ہے کہ میری امت کی عمریں ساٹھ ستر کے درمیان ہیں۔ اس کے بعد کسی کے ناحق قتل کی حرمت کو بیان فرمایا گو وہ بھی فواحش میں داخل ہے لیکن اس کی اہمیت کی وجہ سے اسے الگ کر کے بیان فرما دیا۔ بخاری و مسلم میں ہے کہ جو مسلمان اللہ کی توحید اور میری رسالت اقرار کرتا ہو اسے قتل کرنا بجز تین باتوں کے جائز نہیں یا تو شادی شدہ ہو کر پھر زنا کرے یا کسی کو قتل کر دے یا دین کو چھوڑ دے اور جماعت سے الگ ہوجائے۔ مسلم میں ہے اس کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں کسی مسلمان کا خون حلال نہیں۔ ابو داؤد اور نسائی میں تیسرا شخص وہ بیان کیا گیا ہے جو اسلام سے نکل جائے اور اللہ کے رسولوں سے جنگ کرنے لگے اسے قتل کردیا جائے گا یا صلیب پر چڑھا دیا جائے گا یا مسلمانوں کے ملک سے جلا وطن کردیا جائے گا۔ امیر المومنین حضرت عثمان بن عفان ؓ نے اس وقت جبکہ باغی آپ کو محاصرے میں لئے ہوئے تھے فرمایا میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کسی مسلمان کا خون بجز ان تین کے حلال نہیں ایک تو اسلام کے بعد کافر ہوجانے والا دوسرا شادی ہوجانے کے بعد زنا کرنے والا اور بغیر قصاص کے کسی کو قتل کردینے والا۔ اللہ کی قسم نہ تو میں نے جاہلیت میں زنا کیا نہ اسلام لانے کے بعد، اور نہ اسلام لانے کے بعد کبھی میں نے کسی اور دین کی تمنا کی اور نہ میں نے کسی کو بلا وجہ قتل کیا۔ پھر تم میرا خون بہانے کے درپے کیوں ہو ؟ حربی کافروں میں سے جو امن طلب کرے اور مسلمانوں کے معاہدہ امن میں آجائے اس کے قتل کرنے والے کے حق میں بھی بہت و عید آئی ہے اور اس کا قتل بھی شرعاً حرام ہے۔ بخاری میں ہے معاہدہ امن کا قاتل جنت کی خوشبو بھی نہ پائے گا حالانکہ اس کی خوشبو چالیس سال کے راستے تک پہنچ جاتی ہے اور روایت میں ہے کیونکہ اس نے اللہ کا ذمہ توڑا اس میں ہے پچاس برس کے راستے کے فاصلے سے ہی جنت کی خوشبوں پہنچی ہے۔ پھر فرماتا ہے یہ ہیں اللہ کی وصیتیں اور اس کے احکام تاکہ تم دین حق کو، اس کے احکام کو اور اس کی منع کردہ باتوں کو سمجھ لو۔
152
View Single
وَلَا تَقۡرَبُواْ مَالَ ٱلۡيَتِيمِ إِلَّا بِٱلَّتِي هِيَ أَحۡسَنُ حَتَّىٰ يَبۡلُغَ أَشُدَّهُۥۚ وَأَوۡفُواْ ٱلۡكَيۡلَ وَٱلۡمِيزَانَ بِٱلۡقِسۡطِۖ لَا نُكَلِّفُ نَفۡسًا إِلَّا وُسۡعَهَاۖ وَإِذَا قُلۡتُمۡ فَٱعۡدِلُواْ وَلَوۡ كَانَ ذَا قُرۡبَىٰۖ وَبِعَهۡدِ ٱللَّهِ أَوۡفُواْۚ ذَٰلِكُمۡ وَصَّىٰكُم بِهِۦ لَعَلَّكُمۡ تَذَكَّرُونَ
‘And do not approach the wealth of an orphan except in the best manner, till he reaches his adulthood; and measure and weigh in full, with justice; We do not burden any soul except within its capacity; and always speak fairly, although it may be concerning your relative; and be faithful only to Allah’s covenant; this is commanded to you, so that you may accept advice.’”
اور یتیم کے مال کے قریب مت جانا مگر ایسے طریق سے جو بہت ہی پسندیدہ ہو یہاں تک کہ وہ اپنی جوانی کو پہنچ جائے، اور پیمانے اور ترازو (یعنی ناپ اور تول) کو انصاف کے ساتھ پورا کیا کرو۔ ہم کسی شخص کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتے، اور جب تم (کسی کی نسبت کچھ) کہو تو عدل کرو اگرچہ وہ (تمہارا) قرابت دار ہی ہو، اور اللہ کے عہد کو پورا کیا کرو، یہی (باتیں) ہیں جن کا اس نے تمہیں تاکیدی حکم دیا ہے تاکہ تم نصیحت قبول کرو
Tafsir Ibn Kathir
The Prohibition of Consuming the Orphan's Property
`Ata' bin As-Sa'ib said that Sa`id bin Jubayr said that Ibn `Abbas said, "When Allah revealed,
وَلاَ تَقْرَبُواْ مَالَ الْيَتِيمِ إِلاَّ بِالَّتِى هِىَ أَحْسَنُ
(And come not near to the orphan's property, except to improve it.) and,
إِنَّ الَّذِينَ يَأْكُلُونَ أَمْوَلَ الْيَتَـمَى ظُلْماً
(Verily, those who unjustly eat up the property of orphans.) those who were guardians of orphans separated their food from the orphans' food and their drink from their drink. When any of that food or drink remained, they used to keep it for the orphan until he or she ate it or it spoiled. This became difficult for the companions and they talked about it to the Messenger of Allah ﷺ, and Allah sent down the Ayah,
وَيَسْـَلُونَكَ عَنِ الْيَتَـمَى قُلْ إِصْلاَحٌ لَّهُمْ خَيْرٌ وَإِن تُخَالِطُوهُمْ فَإِخْوَنُكُمْ
(And they ask you about orphans. Say: "The best thing is to work honestly in their property, and if you mix your affairs with theirs, then they are your brothers.") 2:220 Thereafter, they mixed their food and drink with food and drink of the orphans." Abu Dawud collected this statement. Allah's statement,
حَتَّى يَبْلُغَ أَشُدَّهُ
(until he (or she) attains the age of full strength;), refers to reaching the age of adolescence, according to Ash-Sha`bi, Malik and several others among the Salaf.
The Command to Give Full Measure and Full Weight with Justice
Allah's statement,
وَأَوْفُواْ الْكَيْلَ وَالْمِيزَانَ بِالْقِسْطِ
(and give full measure and full weight with justice.) is a command to establish justice while giving and taking. Allah has also warned against abandoning this commandment, when He said,
وَيْلٌ لِّلْمُطَفِّفِينَ - الَّذِينَ إِذَا اكْتَالُواْ عَلَى النَّاسِ يَسْتَوْفُونَ - وَإِذَا كَالُوهُمْ أَوْ وَّزَنُوهُمْ يُخْسِرُونَ - أَلا يَظُنُّ أُوْلَـئِكَ أَنَّهُمْ مَّبْعُوثُونَ - لِيَوْمٍ عَظِيمٍ - يَوْمَ يَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعَـلَمِينَ
(Woe to Al-Mutaffifin. Those who, when they have to receive by measure from men, demand full measure. And when they have to give by measure or weight to (other) men, give less than due. Do they not think that they will be resurrected (for reckoning). On a Great Day The Day when (all) mankind will stand before the Lord of all that exists) 83:1-6. Allah destroyed an entire nation that was accustomed to giving less in weights and measures. Allah said next,
لاَ نُكَلِّفُ نَفْسًا إِلاَّ وُسْعَهَا
(We burden not any person, but that which he can bear.) that is, whoever strives while pursuing his rights and giving other peoples' full rights, then there is no sin on him if he commits an honest mistake after trying his best and striving to do what is right.
The Order for Just Testimony
Allah said;
وَإِذَا قُلْتُمْ فَاعْدِلُواْ وَلَوْ كَانَ ذَا قُرْبَى
(And whenever you give your word, say the truth even if a near relative is concerned.) This is similar to His statement,
يَـأَيُّهَآ الَّذِينَ ءَامَنُواْ كُونُواْ قَوَّامِينَ للَّهِ شُهَدَآءَ بِالْقِسْطِ
(O you who believe! Stand out firmly for Allah as just witnesses.) 5:8 And there is a similar Ayah in Surat An-Nisa'. So Allah commands justice in action and statement, with both near relatives and distant relatives. Indeed, Allah orders justice for everyone at all times and in all situations.
The Command to Follow Allah's Straight Path and to Avoid All Other Paths
`Ali bin Abi Talhah reported that Ibn `Abbas commented on Allah's statements,
وَلاَ تَتَّبِعُواْ السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَن سَبِيلِهِ
(And follow not (other) paths, for they will separate you away from His path.), and,
أَنْ أَقِيمُواْ الدِّينَ وَلاَ تَتَفَرَّقُواْ فِيهِ
((Saying) that you should establish religion and make no divisions in it.) 42:13, and similar Ayat in the Qur'an, "Allah commanded the believers to adhere to the Jama`ah and forbade them from causing divisions and disputes. He informed them that those before them were destroyed because of divisions and disputes in the religion of Allah." Similar was said by Mujahid and several others. Imam Ahmad bin Hanbal recorded that `Abdullah bin Mas`ud said, "The Messenger of Allah ﷺ drew a line with his hand (in the sand) and said,
«هَذَا سَبِيلُ اللهِ مُسْتَقِيمًا»
(This is Allah's path, leading straight.) He then drew lines to the right and left of that line and said,
«هَذِهِ السُّبُلُ لَيْسَ مِنْهَا سَبِيلٌ إِلَّا عَلَيْهِ شَيْطَانٌ يَدْعُو إِلَيْه»
(These are the other paths, on each path there is a devil who calls to it.) He then recited,
وَأَنَّ هَـذَا صِرَطِي مُسْتَقِيمًا فَاتَّبِعُوهُ وَلاَ تَتَّبِعُواْ السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَن سَبِيلِهِ
(And verily, this is My straight path, so follow it, and follow not (other) paths, for they will separate you away from His path.)6:153" Al-Hakim also recorded this Hadith and said; "Its chain is Sahih, but they did not record it." Imam Ahmad and `Abd bin Humayd recorded (and this is the wording of Ahmad) that Jabir said; "We were sitting with the Prophet when he drew a line in front of him and said,
«هَذَا سَبِيلُ الله»
(This is Allah's path.) He also drew two lines to its right and two lines to its left and said,
«هَذِهِ سُبُلُ الشَّيْطَان»
(These are the paths of Shaytan.) He then placed his hand on the middle path and recited this Ayah;
یتیموں کے ساتھ حسن سلوک کی تاکید ابو داؤد وغیرہ میں ہے کہ جب آیت (ولا تقربوا) اور آیت (ان الذین یاکلون اموال الیتامی ظلما) نازل ہوئیں تو اصحاب رسول نے یتیموں کا کھانا پینا اپنے کھانے پینے سے بالکل الگ تھلگ کردیا اس میں علاوہ ان لوگوں کے نقصان اور محنت کے یتیموں کا نقصان بھی ہونے لگا اگر بچ رہا تو یا تو وہ باسی کھائیں یا سڑ کر خراب ہوجائے جب حضور سے اس کا ذکر ہوا تو آیت (فِى الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ ۭ وَيَسْــَٔـلُوْنَكَ عَنِ الْيَتٰمٰي ۭ قُلْ اِصْلَاحٌ لَّھُمْ خَيْرٌ ۭوَاِنْ تُخَالِطُوْھُمْ فَاِخْوَانُكُمْ ۭ وَاللّٰهُ يَعْلَمُ الْمُفْسِدَ مِنَ الْمُصْلِحِ ۭ وَلَوْ شَاۗءَ اللّٰهُ لَاَعْنَتَكُمْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ) 2۔ البقرة :220) نازل ہوئی کہ ان کے لئے خیر خواہی کرو ان کا کھانا پینا ساتھ رکھنے میں کوئی حرج نہیں وہ تمہارے بھائی ہیں اسے پڑھ کر سن کر صحابہ نے ان کا کھانا اپنے ساتھ ملا لیا۔ یہ حکم ان کے سن بلوغ تک پہنچنے تک ہے گو بعض نے تیس سال بعض نے چالیس سال اور بعض نے ساٹھ سال کہے ہیں لیکن یہ سب قول یہاں مناسب نہیں اللہ اعلم، پھر حکم فرمایا کہ لین دین میں ناپ تول میں کمی بیشی نہ کرو، ان کے لئے ہلاکت ہے جو لیتے وقت پورا لیں اور دیتے وقت کم دیں، ان امتوں کو اللہ نے غارت کردیا جن میں یہ بد خصلت تھی، جامع ابو عیسیٰ ترمذی میں ہے کہ حضور نے ناپنے اور تولنے والوں سے فرمایا تم ایک ایسی چیز کے والی بنائے گئے ہو، جس کی صحیح نگرانی نہ رکھنے والے تباہ ہوگئے، پھر فرماتا ہے، کسی پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ ہم نہیں لادتے یعنی اگر کسی شخص نے اپنی طاقت بھر کوشش کرلی دوسرے کا حق دے دیا، اپنے حق سے زیادہ نہ لیا، پھر بھی نادانستگی میں غلطی سے کوئی بات رہ گئی ہو تو اللہ کے ہاں اس کی پکڑ نہیں۔ ایک روایت میں ہے کہ آپ نے آیت کے یہ دونوں جملے تلاوت کر کے فرمایا کہ جس نے صحیح نیت سے وزن کیا، تولا، پھر بھی واقع میں کوئی کمی زیادتی بھول چوک سے ہوگئی تو اس کا مؤاخذہ نہ ہوگا۔ یہ حدیث مرسل اور غریب ہے، پھر فرماتا ہے بات انصاف کی کہا کرو کہ قرابت داری کے معاملے میں ہی کچھ کہنا پڑے۔ جیسے فرمان ہے آیت (يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا كُوْنُوْا قَوّٰمِيْنَ بالْقِسْطِ شُهَدَاۗءَ لِلّٰهِ) 4۔ النسآء :135) اور سورة نساء میں بھی یہی حکم دیا کہ ہر شخص کو ہر حال میں سچائی اور انصاف نہ چھوڑنا چاہئے۔ جھوٹی گواہی اور غلط فیصلے سے بچنا چاہئے، اللہ کے عہد کو پورا کرو، اس کے احکام بجا لاؤ، اس کی منع کردہ چیزوں سے الگ رہو، اس کی کتاب اس کے رسول کی سنت پر چلتے رہو، یہی اس کے عہد کو پورا کرنا ہے، انہی چیزوں کے بارے اللہ کا تاکیدی حکم ہے، یہی فرمان تمہارے وعظ و نصیحت کا ذریعہ ہیں تاکہ تم جو اس سے پہلے نکمے بلکہ برے کاموں میں تھے، اب ان سے الگ ہوجاؤ۔ بعض کی قرأت میں (تذکرون) بھی ہے۔
153
View Single
وَأَنَّ هَٰذَا صِرَٰطِي مُسۡتَقِيمٗا فَٱتَّبِعُوهُۖ وَلَا تَتَّبِعُواْ ٱلسُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمۡ عَن سَبِيلِهِۦۚ ذَٰلِكُمۡ وَصَّىٰكُم بِهِۦ لَعَلَّكُمۡ تَتَّقُونَ
“And that, ‘This is My Straight Path, so follow it; and do not follow other ways for they will sever you from His way; this is commanded to you, so that you may attain piety.’”
اور یہ کہ یہی (شریعت) میرا سیدھا راستہ ہے سو تم اس کی پیروی کرو، اور (دوسرے) راستوں پر نہ چلو پھر وہ (راستے) تمہیں اللہ کی راہ سے جدا کر دیں گے، یہی وہ بات ہے جس کا اس نے تمہیں تاکیدی حکم دیا ہے تاکہ تم پرہیزگار بن جاؤ
Tafsir Ibn Kathir
Imam Ahmad, Ibn Majah, in the Book of the Sunnah in his Sunan, and Al-Bazzar collected this Hadith. Ibn Jarir recorded that a man asked Ibn Mas`ud, "What is As-Sirat Al-Mustaqim (the straight path)" Ibn Mas`ud replied, "Muhammad ﷺ left us at its lower end and its other end is in Paradise. To the right of this Path are other paths, and to the left of it are other paths, and there are men (on these paths) calling those who pass by them. Whoever goes on the other paths will end up in the Fire. Whoever takes the Straight Path, will end up in Paradise." Ibn Mas`ud then recited the Ayah;
وَأَنَّ هَـذَا صِرَطِي مُسْتَقِيمًا فَاتَّبِعُوهُ وَلاَ تَتَّبِعُواْ السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَن سَبِيلِهِ
(And verily, this is My straight path, so follow it, and follow not (other) paths, for they will separate you away from His path.)'" Imam Ahmad recorded that, An-Nawwas bin Sam`an said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«ضَرَبَ اللهُ مَثَلًا صِرَاطًا مُسْتَقِيمًا، وَعَنْ جَنْبَي الصِّرَاطِ سُورَانِ فِيهِمَا أَبْوَابٌ مُفَتَّحَةٌ، وَعَلَى الْأَبْوَابِ سُتُورٌ مُرْخَاةٌ وَعَلَى بَابِ الصِّرَاطِ دَاعٍ يَدْعُو: يَا أَيَّهَا النَّاسُ هَلُمُّوا ادْخُلُوا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا وَدَاعٍ يَدْعُو مِنْ فَوْقِ الصِّرَاطِ فَإِذَا أَرَادَ الِإنْسَانُ أَنْ يَفْتَحَ شَيْئًا مِنْ تِلْكَ الْأَبْوَابِ قَالَ وَيْحَكَ لَا تَفْتَحْهُ فَإِنَّكَ إِنْ فَتَحْتَهُ تَلِجْهُ فَالصِّرَاطُ الإِسْلَامُ وَالسُّورَانِ حُدُودُ اللهِ وَالْأَبْوَابُ الْمُفَتَّحَةُ مَحَارِمُ اللهِ وَذَلِكَ الدَّاعِي عَلَى رَأْسِ الصِّرَاطِ كِتَابُ اللهِ، وَالدَّاعِي مِنْ فَوْقِ الصِّرَاطِ وَاعِظُ اللهِ فِي قَلْبِ كُلِّ مُسْلِم»
(Allah has given a parable of the straight path, and on the two sides of this path, there are two walls containing door ways. On these door ways, there are curtains that are lowered down. on the gate of this path there is a caller heralding, `O people! come and enter the straight path all together and do not divide. ' There is also another caller that heralds from above the path, who says when a person wants to remove the curtain on any of these doors, `Woe to you! Do not open this door, for if you open it, you will enter it. The (straight) path is Islam, the two walls are Allah's set limits, the open doors lead to Allah's prohibitions, the caller on the gate of the path is Allah's Book (the Qur'an), while the caller from above the path is Allah's admonition in the heart of every Muslim.) At-Tirmidhi and An-Nasa'i also recorded this Hadith, and At-Tirmidhi said, "Hasan Gharib." Allah's statement,
فَاتَّبِعُوهُ وَلاَ تَتَّبِعُواْ السُّبُلَ
(so follow it, and follow not (other) paths...) describes Allah's path in the singular sense, because truth is one. Allah describes the other paths in the plural, because they are many and are divided. Allah said in another Ayah,
اللَّهُ وَلِيُّ الَّذِينَ ءامَنُواْ يُخْرِجُهُم مِّنَ الظُّلُمَـتِ إِلَى النُّورِ وَالَّذِينَ كَفَرُواْ أَوْلِيَآؤُهُمُ الطَّـغُوتُ يُخْرِجُونَهُم مِّنَ النُّورِ إِلَى الظُّلُمَـتِ أُوْلَـئِكَ أَصْحَـبُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَـلِدُونَ
(Allah is the Wali (Protector or Guardian) of those who believe. He brings them out from darknesses into light. But as for those who disbelieve, their supporters are Taghut (false deities), they bring them out from light into darknesses. Those are the dwellers of the Fire, and they will abide therein forever.) 2:257
شیطانی راہیں فرقہ سازی یہ اور ان جیسی آیتوں کی تفسیر میں ابن عباس کا قول تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ مومنوں کو باہم اعتماد کا حکم دیتا ہے اور اختلاف و فرقہ بندی سے روکتا ہے اس لئے کہ اگلے لوگ اللہ کے دین میں پھوٹ ڈالنے ہی سے تباہ ہوئے تھے مسند میں ہے کہ اللہ کے نبی نے ایک سیدھی لکیر کھینچی اور فرمایا اللہ کی سیدھی راہ یہی ہے پھر اس کے دائیں بائیں اور لکیریں کھینچ کر اور فرمایا ان تمام راہوں پر شیطان ہے جو اپنی طرف بلا رہا ہے پھر آپ نے اس آیت کا ابتدائی حصہ تلاوت فرمایا۔ اسی حدیث کی شاہد وہ حدیث ہے جو مسند وغیرہ میں حضرت جابر سے مروی ہے کہ ہم نبی ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے جو آپ نے اپنے سامنے ایک سیدھی لکیر کھینچی اور فرمایا یہ شیطانی راہیں ہیں اور بیچ کی لکیر پر انگلی رکھ کر اس آیت کی تلاوت فرمائی۔ اسی حدیث کی شاہد وہ حدیث ہے جو مسند وغیرہ میں حضرت جابر سے مروی ہے کہ ہم نبی ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے جو آپ نے اپنے سامنے ایک سیدھی لکیر کھینچی اور فرمایا یہ شیطانی راہیں ہیں اور بیچ کی لکیر پر انگلی رکھ کر اس آیت کی تلاوت فرمائی۔ ابن ماجہ میں اور بزار میں بھی یہ حدیث ہے ابن مسعود سے کسی نے پوچھا صراط مستقیم کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا جس پر ہم نے اپنے نبی ﷺ کو چھوڑا اسی کا دوسرا سرا جنت میں جا ملتا ہے اس کے دائیں بائیں بہت سی اور راہیں ہیں جن پر لوگ چل رہے ہیں اور دوسروں کو بھی اپنی طرف بلا رہے ہیں جو ان راہوں میں سے کسی راہ ہو لیا وہ جہنم میں پہنچا پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔ حضور فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے صراط مستقیم کی مثال بیان فرمائی۔ اس راستے کے دونوں طرف دو دیواریں ہیں جن میں بہت سے دروازے ہیں اور سب چوپٹ کھلے پڑے ہیں اور ان پر پردے لٹکے ہوئے ہیں اس سیدھی راہ کے سرے پر ایک پکارنے والا ہے پکارتا رہتا ہے کہ لوگو تم سب اس صراط مستقیم پر آجاؤ راستے میں بکھر نہ جاؤ، بیچ راہ کے بھی ایک شخص ہے، جب کوئی شخص ان دروازوں میں سے کسی کو کھولنا چاہتا ہے تو وہ کہتا ہے خبردار اسے نہ کھول، کھولو گے تو سیدھی راہ سے دور نکل جاؤ گے۔ پس سیدھی راہ اسلام ہے دونوں دیواریں اللہ کی حدود ہیں کھلے ہوئے دروازے اللہ کی حرام کردہ چیزیں ہیں نمایاں شخص اللہ کی کتاب ہے اوپر سے پکارنے والا اللہ کی طرف کا نصیحت کرنے والا ہے جو ہر مومن کے دل میں ہے (ترمذی) اس نکتے کو نہ بھولنا چاہئے کہ اپنی راہ کیلئے سبیل واحد کا لفظ بولا گیا اور گمراہی کی راہوں کے لئے سبل جمع کا لفظ استعمال کیا گیا اس لئے کہ راہ حق ایک ہی ہوتی ہے اور ناحق کے بہت سے طریقے ہوا کرتے ہیں جیسے آیت (اَللّٰهُ وَلِيُّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا ۙيُخْرِجُهُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ) 2۔ البقرة :257) میں (ظلمان) کو جمع کے لفظ سے اور نور کو واحد کے لفظ سے ذکر کیا گیا ہے حضور ﷺ نے ایک مرتبہ (قل تعالوا) سے تین آیتوں تک تلاوت کر کے فرمایا تم میں سے کون کون ان باتوں پر مجھ سے بیعت کرتا ہے ؟ پھر فرمایا جس نے اس بیعت کو اپنا لیا اس کا اجر اللہ کے ذمے ہے اور جس نے ان میں سے کسی بات کو توڑ دیا اس کی دو صورتیں ہیں یا تو دنیا میں ہی اس کی سزا شرعی اسے مل جائے گی یا اللہ تعالیٰ آخرت تک اسے مہلت دے پھر رب کی مشیت پر منحصر ہے اگر چاہے سزا دے اگر چاہے تو معاف فرما دے۔
154
View Single
ثُمَّ ءَاتَيۡنَا مُوسَى ٱلۡكِتَٰبَ تَمَامًا عَلَى ٱلَّذِيٓ أَحۡسَنَ وَتَفۡصِيلٗا لِّكُلِّ شَيۡءٖ وَهُدٗى وَرَحۡمَةٗ لَّعَلَّهُم بِلِقَآءِ رَبِّهِمۡ يُؤۡمِنُونَ
Then We gave the Book to Moosa, to complete the favour on one who is virtuous, and an explanation of all things, a guidance and a mercy, so they may believe in meeting their Lord.
پھر ہم نے موسٰی (علیہ السلام) کو کتاب عطا کی اس شخص پر (نعمت) پوری کرنے کے لئے جو نیکو کار بنے اور (اسے) ہر چیز کی تفصیل اور ہدایت اور رحمت بنا کر (اتارا) تاکہ وہ (لوگ قیامت کے دن) اپنے رب سے ملاقات پر ایمان لائیں
Tafsir Ibn Kathir
Praising the Tawrah and the Qur'an
After Allah described the Qur'an by saying,
وَأَنَّ هَـذَا صِرَطِي مُسْتَقِيمًا فَاتَّبِعُوهُ
(And verily, this is My straight path, so follow it...) He then praised the Tawrah and its Messenger,
ثُمَّ ءاتَيْنَا مُوسَى الْكِتَـبَ
(Then, We gave Musa the Book...) Allah often mentions the Qur'an and the Tawrah together. Allah said,
وَمِن قَبْلِهِ كِتَـبُ مُوسَى إِمَاماً وَرَحْمَةً وَهَـذَا كِتَـبٌ مُّصَدِّقٌ لِّسَاناً عَرَبِيّاً
(And before this was the Scripture of Musa as a guide and a mercy. And this is a confirming Book in the Arabic language.) 46:12. Allah said in the beginning of this Surah,
قُلْ مَنْ أَنزَلَ الْكِتَـبَ الَّذِى جَآءَ بِهِ مُوسَى نُوراً وَهُدًى لِّلنَّاسِ تَجْعَلُونَهُ قَرَطِيسَ تُبْدُونَهَا وَتُخْفُونَ كَثِيراً
(Say: "Who then sent down the Book which Musa brought, a light and a guidance to mankind which you have made into paper sheets, disclosing (some of it) and concealing (much)") 6:91, and
وَهَـذَا كِتَـبٌ أَنزَلْنَـهُ مُبَارَكٌ
(And this is a blessed Book which we have sent down. ..) 6:92 Allah said about the idolators,
فَلَمَّا جَآءَهُمُ الْحَقُّ مِنْ عِندِنَا قَالُواْ لَوْلا أُوتِىَ مِثْلَ مَآ أُوتِىَ مُوسَى
(But when the truth has come to them from Us, they say: "Why is he not given the like of what was given to Musa") 28:48. Allah replied,
أَوَلَمْ يَكْفُرُواْ بِمَآ أُوتِىَ مُوسَى مِن قَبْلُ قَالُواْ سِحْرَانِ تَظَـهَرَا وَقَالُواْ إِنَّا بِكُلٍّ كَـفِرُونَ
("Did they not disbelieve in that which was given to Musa of old" They say: "Two kinds of magic the Tawrah and the Qur'an, each helping the other!" And they say: "Verily, in both we are disbelievers.") 28:48 Allah said about the Jinns that they said,
يقَوْمَنَآ إِنَّا سَمِعْنَا كِتَـباً أُنزِلَ مِن بَعْدِ مُوسَى مُصَدِّقاً لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ يَهْدِى إِلَى الْحَقِّ
("O our people! Verily, we have heard a Book sent down after Musa, confirming what came before it, it guides to the truth.") 46:30 Allah's statement,
تَمَامًا عَلَى الَّذِى أَحْسَنَ وَتَفْصِيلاً
(...complete for that which is best, and explaining all things in detail...") means; `We made the Book that We revealed to Musa, a complete and comprehensive Book, sufficient for what he needs to complete his Law.' Similarly, Allah said in another Ayah,
وَكَتَبْنَا لَهُ فِى الاٌّلْوَاحِ مِن كُلِّ شَىْءٍ
(And We wrote for him on the Tablets the lesson to be drawn from all things. ) 7:145 Allah's statement,
عَلَى الَّذِى أَحْسَنَ
(for that which is best,) means: `as a reward for his doing right and obeying Our commands and orders.' Allah said in other Ayat,
هَلْ جَزَآءُ الإِحْسَـنِ إِلاَّ الإِحْسَـنُ
(Is there any reward for good other than what is best)55:60,
وَإِذِ ابْتَلَى إِبْرَهِيمَ رَبُّهُ بِكَلِمَـتٍ فَأَتَمَّهُنَّ قَالَ إِنِّى جَـعِلُكَ لِلنَّاسِ إِمَامًا
(And (remember) when the Lord of Ibrahim tried him with (certain) commands, which he fulfilled. He (Allah) said (to him), "Verily, I am going to make you an Imam for mankind.") 2:124 and,
وَجَعَلْنَا مِنْهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنَا لَمَّا صَبَرُواْ وَكَانُواْ بِـَايَـتِنَا يُوقِنُونَ
y(And We made from among them (Children of Israel), leaders, giving guidance under Our command, when they were patient and believed with certainty in Our Ayat.) 32:24 Allah said;
وَتَفْصِيلاً لِّكُلِّ شَىْءٍ وَهُدًى وَرَحْمَةً
(and explaining all things in detail and a guidance and a mercy) praising the Book that Allah sent down to Musa, while,
ثُمَّ ءاتَيْنَا مُوسَى الْكِتَـبَ تَمَامًا عَلَى الَّذِى أَحْسَنَ وَتَفْصِيلاً لِّكُلِّ شَىْءٍ وَهُدًى وَرَحْمَةً لَّعَلَّهُم بِلِقَآءِ رَبِّهِمْ يُؤْمِنُونَ - وَهَـذَا كِتَـبٌ أَنزَلْنَـهُ مُبَارَكٌ فَاتَّبِعُوهُ وَاتَّقُواْ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ
(. ..that they might believe in the meeting with their Lord. And this is a blessed Book (the Qur'an) which We have sent down, so follow it and have Taqwa so that you may receive mercy.) This calls to following the Qur'an. Allah encourages His servants to follow His Book (the Qur'an) and orders them to understand it, adhere to it and call to it. He also describes it as being blessed, for those who follow and implement it in this life and the Hereafter, because it is the Firm Rope of Allah.
جنوں نے قرآن حکیم سنا امام ابن جریر نے تو لفظ ثم کو ترتیب کے لئے مانا ہے یعنی ان سے یہ بھی کہہ دے اور ہماری طرف سے یہ خبر بھی پہنچا دے لیکن میں کہتا ہوں ثم کو ترتیب کیلئے مان کر خبر کا خبر پر عطف کردیں تو کیا حرج ؟ ایسا ہوتا ہے اور شعروں میں موجود ہے چونکہ قرآن کریم کی مدح آیت (ان ھذا صراطی مستقیما) میں گذری تھی اس لئے اس پر عطف ڈال کر توراۃ کی مدح بیان کردی۔ جیسے کہ اور بھی بہت سی آیتوں میں ہے۔ چناچہ فرمان ہے آیت (ومن قبلہ کتاب موسیٰ اماما و رحمتہ و ھذا کتاب مصدق لسانا عربیا) یعنی اس سے پہلے توراۃ امام رحمت تھی اور اب یہ قرآن عربی تصدیق کرنے والا ہے۔ اسی سورت کے اول میں ہے آیت (قُلْ مَنْ اَنْزَلَ الْكِتٰبَ الَّذِيْ جَاۗءَ بِهٖ مُوْسٰي نُوْرًا وَّهُدًى لِّلنَّاسِ) 6۔ الانعام :91) ، اس آیت میں بھی تورات کے بیان کے بعد اس قرآن کا بیان ہے، کافروں کا حال بیان کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے آیت (فَلَمَّا جَاۗءَھُمُ الْحَقُّ مِنْ عِنْدِنَا) 10۔ یونس :76) ، جب ان کے پاس ہماری طرف سے حق آپہنچا تو کہنے لگے اسے اس جیسا کیوں نہ ملا جو موسیٰ کو ملا تھا جس کے جواب میں فرمایا گیا کیا انہوں نے موسیٰ کی اس کتاب کے ساتھ کفر نہیں کیا تھا ؟ کیا صاف طور سے نہیں کہا تھا کہ یہ دونوں جادوگر ہیں اور ہم تو ہر ایک کے منکر ہیں۔ جنوں کا قول بیان ہوا ہے کہ انہوں نے اپنی قوم سے کہا ہم نے وہ کتاب سنی ہے جو موسیٰ کے بعد اتری ہے جو اپنے سے اگلی کتابوں کو سچا کہتی ہیں اور راہ حق کی ہدایت کرتی ہیں۔ وہ کتاب جامع اور کامل تھی۔ شریعت کی جن باتوں کی اس وقت ضرورت تھی سب اس میں موجود تھیں یہ احسان تھا نیک کاروں کی نیکیوں کے بدلے کا۔ جیسے فرمان ہے احسان کا بدلہ احسان ہی ہے اور جیسے فرمان ہے کہ نبی اسرائیلیوں کو ہم نے ان کا امام بنادیا جبکہ انہوں نے صبر کیا اور ہماری آیتوں پر یقین رکھا۔ غرض یہ بھی اللہ کا فضل تھا اور نیکوں کی نیکیوں کا صلہ۔ احسان کرنے والوں پر اللہ بھی احسان پورا کرتا ہے یہاں اور وہاں بھی۔ امام ابن جریر الذی کو مصدریہ مانتے ہیں جیسے آیت (خفتم کالذی خاصوا) میں ابن رواحہ کا شعر ہے۔ وثبت اللہ ما اتاک من حسن فی المرسلین و نصر کالذی نصروا اللہ تیری اچھائیاں بڑھائے اور اگلے نبیوں کی طرح تیری بھی مدد فرمائے۔ بعض کہتے ہیں یہاں الذی معنی میں الذین کا ہے عبداللہ بن مسعود کی قرأت (لما ما علی الذین احسنوا) ہے۔ پس مومنوں اور نیک لوگوں پر اللہ کا یہ احسان ہے اور پورا احسان ہے۔ بغوی کہتے ہیں مراد اس سے انبیاء اور عام مومن ہیں۔ یعنی ان سب پر ہم نے اس کی فضیلت ظاہر کی جیسے فرمان ہے آیت (قَالَ يٰمُوْسٰٓي اِنِّى اصْطَفَيْتُكَ عَلَي النَّاسِ بِرِسٰلٰتِيْ وَبِكَلَامِيْ) 7۔ الاعراف :144) ، یعنی اے موسیٰ میں نے اپنی رسالت اور اپنے کلام سے تجھے لوگوں پر بزرگی عطا فرمائی۔ ہاں حضرت موسیٰ کی اس بزرگی سے حضرت محمد ﷺ جو خاتم الانبیاء ہیں اور حضرت ابراہیم ؑ جو خلیل اللہ ہیں مستثنیٰ ہیں بہ سبب ان دلائل کے جو وارد ہوچکے ہیں۔ یحییٰ بن یعمر احسن ھو کو مخذوف مان کر احسن پڑھتے تھے ہوسکتا ہے ؟ امام ابن جریر فرماتے ہیں میں اس قرأت کو جائز نہیں رکھوں گا اگرچہ عربیت کی بنا پر اس میں نقصان نہیں۔ آیت کے اس جملے کا ایک مطلب یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ حضرت موسیٰ پر احسان رب کو تمام کرنے کیلئے یہ اللہ کی کتاب ان پر نازل ہوئی، ان دونوں کے مطلب میں کوئی تفاوت نہیں۔ پھر تورات کی تعریف بیان فرمائی کہ اس میں ہر حکم بہ تفصیل ہے اور وہ ہدایت و رحمت ہے تاکہ لوگ قیامت کے دن اپنے رب سے ملنے کا یقین کرلیں۔ پھر قرآن کریم کی اتباع کی رغبت دلاتا ہے اس میں غور و فکر کی دعوت دیتا ہے اور اس پر عمل کرنے کی ہدایت فرماتا ہے اور اس کی طرف لوگوں کو بلانے کا حکم دیتا ہے برکت سے اس کا وصف بیان فرماتا ہے کہ جو بھی اس پر کار بند ہوجائے وہ دونوں جہان کی برکتیں حاصل کرے گا اس لئے کہ یہ اللہ کی طرف مضبوط رسی ہے۔
155
View Single
وَهَٰذَا كِتَٰبٌ أَنزَلۡنَٰهُ مُبَارَكٞ فَٱتَّبِعُوهُ وَٱتَّقُواْ لَعَلَّكُمۡ تُرۡحَمُونَ
And this (the Qur’an) is the blessed Book which We have sent down; so follow it and be pious, so there may be mercy upon you.
اور یہ (قرآن) برکت والی کتاب ہے جسے ہم نے نازل فرمایا ہے سو (اب) تم اس کی پیروی کیا کرو اور (اللہ سے) ڈرتے رہو تاکہ تم پر رحم کیا جائے
Tafsir Ibn Kathir
Praising the Tawrah and the Qur'an
After Allah described the Qur'an by saying,
وَأَنَّ هَـذَا صِرَطِي مُسْتَقِيمًا فَاتَّبِعُوهُ
(And verily, this is My straight path, so follow it...) He then praised the Tawrah and its Messenger,
ثُمَّ ءاتَيْنَا مُوسَى الْكِتَـبَ
(Then, We gave Musa the Book...) Allah often mentions the Qur'an and the Tawrah together. Allah said,
وَمِن قَبْلِهِ كِتَـبُ مُوسَى إِمَاماً وَرَحْمَةً وَهَـذَا كِتَـبٌ مُّصَدِّقٌ لِّسَاناً عَرَبِيّاً
(And before this was the Scripture of Musa as a guide and a mercy. And this is a confirming Book in the Arabic language.) 46:12. Allah said in the beginning of this Surah,
قُلْ مَنْ أَنزَلَ الْكِتَـبَ الَّذِى جَآءَ بِهِ مُوسَى نُوراً وَهُدًى لِّلنَّاسِ تَجْعَلُونَهُ قَرَطِيسَ تُبْدُونَهَا وَتُخْفُونَ كَثِيراً
(Say: "Who then sent down the Book which Musa brought, a light and a guidance to mankind which you have made into paper sheets, disclosing (some of it) and concealing (much)") 6:91, and
وَهَـذَا كِتَـبٌ أَنزَلْنَـهُ مُبَارَكٌ
(And this is a blessed Book which we have sent down. ..) 6:92 Allah said about the idolators,
فَلَمَّا جَآءَهُمُ الْحَقُّ مِنْ عِندِنَا قَالُواْ لَوْلا أُوتِىَ مِثْلَ مَآ أُوتِىَ مُوسَى
(But when the truth has come to them from Us, they say: "Why is he not given the like of what was given to Musa") 28:48. Allah replied,
أَوَلَمْ يَكْفُرُواْ بِمَآ أُوتِىَ مُوسَى مِن قَبْلُ قَالُواْ سِحْرَانِ تَظَـهَرَا وَقَالُواْ إِنَّا بِكُلٍّ كَـفِرُونَ
("Did they not disbelieve in that which was given to Musa of old" They say: "Two kinds of magic the Tawrah and the Qur'an, each helping the other!" And they say: "Verily, in both we are disbelievers.") 28:48 Allah said about the Jinns that they said,
يقَوْمَنَآ إِنَّا سَمِعْنَا كِتَـباً أُنزِلَ مِن بَعْدِ مُوسَى مُصَدِّقاً لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ يَهْدِى إِلَى الْحَقِّ
("O our people! Verily, we have heard a Book sent down after Musa, confirming what came before it, it guides to the truth.") 46:30 Allah's statement,
تَمَامًا عَلَى الَّذِى أَحْسَنَ وَتَفْصِيلاً
(...complete for that which is best, and explaining all things in detail...") means; `We made the Book that We revealed to Musa, a complete and comprehensive Book, sufficient for what he needs to complete his Law.' Similarly, Allah said in another Ayah,
وَكَتَبْنَا لَهُ فِى الاٌّلْوَاحِ مِن كُلِّ شَىْءٍ
(And We wrote for him on the Tablets the lesson to be drawn from all things. ) 7:145 Allah's statement,
عَلَى الَّذِى أَحْسَنَ
(for that which is best,) means: `as a reward for his doing right and obeying Our commands and orders.' Allah said in other Ayat,
هَلْ جَزَآءُ الإِحْسَـنِ إِلاَّ الإِحْسَـنُ
(Is there any reward for good other than what is best)55:60,
وَإِذِ ابْتَلَى إِبْرَهِيمَ رَبُّهُ بِكَلِمَـتٍ فَأَتَمَّهُنَّ قَالَ إِنِّى جَـعِلُكَ لِلنَّاسِ إِمَامًا
(And (remember) when the Lord of Ibrahim tried him with (certain) commands, which he fulfilled. He (Allah) said (to him), "Verily, I am going to make you an Imam for mankind.") 2:124 and,
وَجَعَلْنَا مِنْهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنَا لَمَّا صَبَرُواْ وَكَانُواْ بِـَايَـتِنَا يُوقِنُونَ
y(And We made from among them (Children of Israel), leaders, giving guidance under Our command, when they were patient and believed with certainty in Our Ayat.) 32:24 Allah said;
وَتَفْصِيلاً لِّكُلِّ شَىْءٍ وَهُدًى وَرَحْمَةً
(and explaining all things in detail and a guidance and a mercy) praising the Book that Allah sent down to Musa, while,
ثُمَّ ءاتَيْنَا مُوسَى الْكِتَـبَ تَمَامًا عَلَى الَّذِى أَحْسَنَ وَتَفْصِيلاً لِّكُلِّ شَىْءٍ وَهُدًى وَرَحْمَةً لَّعَلَّهُم بِلِقَآءِ رَبِّهِمْ يُؤْمِنُونَ - وَهَـذَا كِتَـبٌ أَنزَلْنَـهُ مُبَارَكٌ فَاتَّبِعُوهُ وَاتَّقُواْ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ
(. ..that they might believe in the meeting with their Lord. And this is a blessed Book (the Qur'an) which We have sent down, so follow it and have Taqwa so that you may receive mercy.) This calls to following the Qur'an. Allah encourages His servants to follow His Book (the Qur'an) and orders them to understand it, adhere to it and call to it. He also describes it as being blessed, for those who follow and implement it in this life and the Hereafter, because it is the Firm Rope of Allah.
جنوں نے قرآن حکیم سنا امام ابن جریر نے تو لفظ ثم کو ترتیب کے لئے مانا ہے یعنی ان سے یہ بھی کہہ دے اور ہماری طرف سے یہ خبر بھی پہنچا دے لیکن میں کہتا ہوں ثم کو ترتیب کیلئے مان کر خبر کا خبر پر عطف کردیں تو کیا حرج ؟ ایسا ہوتا ہے اور شعروں میں موجود ہے چونکہ قرآن کریم کی مدح آیت (ان ھذا صراطی مستقیما) میں گذری تھی اس لئے اس پر عطف ڈال کر توراۃ کی مدح بیان کردی۔ جیسے کہ اور بھی بہت سی آیتوں میں ہے۔ چناچہ فرمان ہے آیت (ومن قبلہ کتاب موسیٰ اماما و رحمتہ و ھذا کتاب مصدق لسانا عربیا) یعنی اس سے پہلے توراۃ امام رحمت تھی اور اب یہ قرآن عربی تصدیق کرنے والا ہے۔ اسی سورت کے اول میں ہے آیت (قُلْ مَنْ اَنْزَلَ الْكِتٰبَ الَّذِيْ جَاۗءَ بِهٖ مُوْسٰي نُوْرًا وَّهُدًى لِّلنَّاسِ) 6۔ الانعام :91) ، اس آیت میں بھی تورات کے بیان کے بعد اس قرآن کا بیان ہے، کافروں کا حال بیان کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے آیت (فَلَمَّا جَاۗءَھُمُ الْحَقُّ مِنْ عِنْدِنَا) 10۔ یونس :76) ، جب ان کے پاس ہماری طرف سے حق آپہنچا تو کہنے لگے اسے اس جیسا کیوں نہ ملا جو موسیٰ کو ملا تھا جس کے جواب میں فرمایا گیا کیا انہوں نے موسیٰ کی اس کتاب کے ساتھ کفر نہیں کیا تھا ؟ کیا صاف طور سے نہیں کہا تھا کہ یہ دونوں جادوگر ہیں اور ہم تو ہر ایک کے منکر ہیں۔ جنوں کا قول بیان ہوا ہے کہ انہوں نے اپنی قوم سے کہا ہم نے وہ کتاب سنی ہے جو موسیٰ کے بعد اتری ہے جو اپنے سے اگلی کتابوں کو سچا کہتی ہیں اور راہ حق کی ہدایت کرتی ہیں۔ وہ کتاب جامع اور کامل تھی۔ شریعت کی جن باتوں کی اس وقت ضرورت تھی سب اس میں موجود تھیں یہ احسان تھا نیک کاروں کی نیکیوں کے بدلے کا۔ جیسے فرمان ہے احسان کا بدلہ احسان ہی ہے اور جیسے فرمان ہے کہ نبی اسرائیلیوں کو ہم نے ان کا امام بنادیا جبکہ انہوں نے صبر کیا اور ہماری آیتوں پر یقین رکھا۔ غرض یہ بھی اللہ کا فضل تھا اور نیکوں کی نیکیوں کا صلہ۔ احسان کرنے والوں پر اللہ بھی احسان پورا کرتا ہے یہاں اور وہاں بھی۔ امام ابن جریر الذی کو مصدریہ مانتے ہیں جیسے آیت (خفتم کالذی خاصوا) میں ابن رواحہ کا شعر ہے۔ وثبت اللہ ما اتاک من حسن فی المرسلین و نصر کالذی نصروا اللہ تیری اچھائیاں بڑھائے اور اگلے نبیوں کی طرح تیری بھی مدد فرمائے۔ بعض کہتے ہیں یہاں الذی معنی میں الذین کا ہے عبداللہ بن مسعود کی قرأت (لما ما علی الذین احسنوا) ہے۔ پس مومنوں اور نیک لوگوں پر اللہ کا یہ احسان ہے اور پورا احسان ہے۔ بغوی کہتے ہیں مراد اس سے انبیاء اور عام مومن ہیں۔ یعنی ان سب پر ہم نے اس کی فضیلت ظاہر کی جیسے فرمان ہے آیت (قَالَ يٰمُوْسٰٓي اِنِّى اصْطَفَيْتُكَ عَلَي النَّاسِ بِرِسٰلٰتِيْ وَبِكَلَامِيْ) 7۔ الاعراف :144) ، یعنی اے موسیٰ میں نے اپنی رسالت اور اپنے کلام سے تجھے لوگوں پر بزرگی عطا فرمائی۔ ہاں حضرت موسیٰ کی اس بزرگی سے حضرت محمد ﷺ جو خاتم الانبیاء ہیں اور حضرت ابراہیم ؑ جو خلیل اللہ ہیں مستثنیٰ ہیں بہ سبب ان دلائل کے جو وارد ہوچکے ہیں۔ یحییٰ بن یعمر احسن ھو کو مخذوف مان کر احسن پڑھتے تھے ہوسکتا ہے ؟ امام ابن جریر فرماتے ہیں میں اس قرأت کو جائز نہیں رکھوں گا اگرچہ عربیت کی بنا پر اس میں نقصان نہیں۔ آیت کے اس جملے کا ایک مطلب یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ حضرت موسیٰ پر احسان رب کو تمام کرنے کیلئے یہ اللہ کی کتاب ان پر نازل ہوئی، ان دونوں کے مطلب میں کوئی تفاوت نہیں۔ پھر تورات کی تعریف بیان فرمائی کہ اس میں ہر حکم بہ تفصیل ہے اور وہ ہدایت و رحمت ہے تاکہ لوگ قیامت کے دن اپنے رب سے ملنے کا یقین کرلیں۔ پھر قرآن کریم کی اتباع کی رغبت دلاتا ہے اس میں غور و فکر کی دعوت دیتا ہے اور اس پر عمل کرنے کی ہدایت فرماتا ہے اور اس کی طرف لوگوں کو بلانے کا حکم دیتا ہے برکت سے اس کا وصف بیان فرماتا ہے کہ جو بھی اس پر کار بند ہوجائے وہ دونوں جہان کی برکتیں حاصل کرے گا اس لئے کہ یہ اللہ کی طرف مضبوط رسی ہے۔
156
View Single
أَن تَقُولُوٓاْ إِنَّمَآ أُنزِلَ ٱلۡكِتَٰبُ عَلَىٰ طَآئِفَتَيۡنِ مِن قَبۡلِنَا وَإِن كُنَّا عَن دِرَاسَتِهِمۡ لَغَٰفِلِينَ
For you (the disbelievers) may say, “The Book was sent down only to two groups (Jews and Christians) before us; and we were totally unaware of what they read and taught.”
(قرآن اس لئے نازل کیا ہے) کہ تم کہیں یہ (نہ) کہو کہ بس (آسمانی) کتاب تو ہم سے پہلے صرف دو گروہوں (یہود و نصارٰی) پر اتاری گئی تھی اور بیشک ہم ان کے پڑھنے پڑھانے سے بے خبر تھے
Tafsir Ibn Kathir
The Qur'an is Allah's Proof Against His Creation
Ibn Jarir commented on the Ayah, "The Ayah means, this is a Book that We sent down, so that you do not say,
إِنَّمَآ أُنزِلَ الْكِتَـبُ عَلَى طَآئِفَتَيْنِ مِن قَبْلِنَا
("The Book was sent down only to two sects before us.") This way, you will have no excuse. Allah said in another Ayah,
وَلَوْلا أَن تُصِيبَهُم مُّصِيبَةٌ بِمَا قَدَّمَتْ أَيْدِيهِمْ فَيَقُولُواْ رَبَّنَا لَوْلا أَرْسَلْتَ إِلَيْنَا رَسُولاً فَنَتِّبِعَ ءايَـتِكَ
(Otherwise, they would have suffered a calamity because of what their hands sent forth, and said: "Our Lord! Why did You not send us a Messenger We would then have followed Your Ayat.")28:47." The Ayah,
عَلَى طَآئِفَتَيْنِ مِن قَبْلِنَا
(to two sects before us) refers to the Jews and Christians, according to `Ali bin Abi Talhah who narrated it from Ibn `Abbas. Similar was reported from Mujahid, As-Suddi, Qatadah and several others. Allah's statement,
وَإِن كُنَّا عَن دِرَاسَتِهِمْ لَغَـفِلِينَ
("...and for our part, we were in fact unaware of what they studied.") meaning: `we did not understand what they said because the revelation was not in our tongue. We, indeed, were busy and unaware of their message,' so they said. Allah said next,
أَوْ تَقُولُواْ لَوْ أَنَّآ أُنزِلَ عَلَيْنَا الْكِتَـبُ لَكُنَّآ أَهْدَى مِنْهُمْ
(Or lest you should say: "If only the Book had been sent down to us, we would surely, have been better guided than they.") meaning: We also refuted this excuse, had you used it, lest you say, "If a Book was revealed to us, just as they received a Book, we would have been better guided than they are." Allah also said.
وَأَقْسَمُواْ بِاللَّهِ جَهْدَ أَيْمَـنِهِمْ لَئِن جَآءَهُمْ نَذِيرٌ لَّيَكُونُنَّ أَهْدَى مِنْ إِحْدَى الاٍّمَمِ
(And they swore by Allah their most binding oath that if a warner came to them, they would be more guided than any of the nations (before them).) 35:42 Allah replied here,
فَقَدْ جَآءَكُمْ بَيِّنَةٌ مِّن رَّبِّكُمْ وَهُدًى وَرَحْمَةٌ
(So now has come unto you a clear proof from your Lord, and a guidance and a mercy.) Allah says, there has come to you from Allah a Glorious Qur'an revealed to Muhammad ﷺ, the Arab Prophet. In it is the explanation of the lawful and unlawful matters, guidance for the hearts and mercy from Allah to His servants who follow and implement it. Allah said;
فَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّن كَذَّبَ بِآيَـتِ اللَّهِ وَصَدَفَ عَنْهَا
(Who then does more wrong than one who rejects the Ayat of Allah and Sadafa away therefrom) This refers to the one who neither benefited from what the Messenger brought, nor followed what he was sent with by abandoning all other ways. Rather, he Sadafa from following the Ayat of Allah, meaning, he discouraged and hindered people from following it. This is the explanation of As-Suddi for Sadafa, while Ibn `Abbas, Mujahid and Qatadah said that Sadafa means, he turned away from it.
لاف زنی عیب ہے دوسروں کو بھی نیکی سے روکنے والے بدترین انسان ہیں فرماتا ہے کہ اس آخری کتاب نے تمہارے تمام عذر ختم کردیئے جیسے فرمان ہے (وَلَوْلَآ اَنْ تُصِيْبَهُمْ مُّصِيْبَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتْ اَيْدِيْهِمْ فَيَقُوْلُوْا رَبَّنَا لَوْلَآ اَرْسَلْتَ اِلَيْنَا رَسُوْلًا فَنَتَّبِعَ اٰيٰتِكَ وَنَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْن) 28۔ القصص :47) ، یعنی اگر انہیں ان کی بد اعمالیوں کی وجہ سے کوئی مصیبت پہنچتی تو کہہ دیتے کہ تو نے ہماری طرف کوئی رسول کیوں نہ بھیجا کہ ہم تیرے فرمان کو مانتے۔ اگلی دو جماعتوں سے مراد یہود و نصرانی ہیں۔ اگر یہ عربی زبان کا قرآن نہ اترتا تو وہ یہ عذر کردیتے کہ ہم پر تو ہماری زبان میں کوئی کتاب نہیں اتری ہم اللہ کے فرمان سے بالکل غافل رہے پھر ہمیں سزا کیوں ہو ؟ نہ یہ عذر باقی رہا نہ یہ کہ اگر ہم پر آسان کتاب اترتی تو ہم تو اگلوں سے آگے نکل جاتے اور خوب نیکیاں کرتے۔ جیسے فرمان ہے آیت (لَوْلَآ اَرْسَلْتَ اِلَيْنَا رَسُوْلًا فَنَتَّبِعَ اٰيٰتِكَ وَنَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ) 47۔ القصص 28) ، یعنی مؤکد قسمیں کھا کھا کر لاف زنی کرتے تھے کہ ہم میں اگر کوئی نبی آجائے تو ہم ہدایت کو مان لیں۔ اللہ فرماتا ہے اب تو تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے ہدایت و رحمت بھرا قرآن بزبان رسول عربی آچکا جس میں حلال حرام کا بخوبی بیان ہے اور دلوں کی ہدایت کی کافی نورانیت اور رب کی طرف سے ایمان والوں کیلئے سراسر رحمت و رحم ہے، اب تم ہی بتاؤ کہ جس کے پاس اللہ کی آیتیں آجائیں اور وہ انہیں جھٹلائے ان سے فائدہ نہ اٹھائے نہ عمل کرے نہ یقین لائے نہ نیکی کرے نہ بدی چھوڑے نہ خود مانے نہ اوروں کو ماننے دے اس سے بڑھ کر ظالم کون ہے ؟ اسی سورت کے شروع میں فرمایا ہے آیت (وَلَوْلَآ اَنْ تُصِيْبَهُمْ مُّصِيْبَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتْ اَيْدِيْهِمْ فَيَقُوْلُوْا رَبَّنَا لَوْلَآ اَرْسَلْتَ اِلَيْنَا رَسُوْلًا فَنَتَّبِعَ اٰيٰتِكَ وَنَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ) 28۔ القصص :47) خود اس کے مخالف اوروں کو بھی اسے ماننے سے روکتے ہیں دراصل اپنا ہی بگاڑتے ہیں جیسے فرمایا آیت (اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَصَدُّوْا عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ قَدْ ضَلُّوْا ضَلٰلًۢا بَعِيْدًا) 4۔ النسآء :168) یعنی جو لوگ خود کفر کرتے ہیں اور راہ الٰہی سے روکتے ہیں انہیں ہم عذاب بڑھاتے رہیں گے۔ پس یہ لوگ ہیں جو نہ مانتے تھے نہ فرماں بردار ہوتے تھے جیسے فرمان ہے آیت (فَلَا صَدَّقَ وَلَا صَلّٰى) 75۔ القیامة :31) یعنی نہ تو نے مانا نہ نماز پڑھی بلکہ نہ مان کر منہ پھیرلیا۔ ان دونوں تفسیروں میں پہلی بہت اچھی ہے یعنی خود بھی انکار کیا اور دوسروں کا بھی انکار پر آمادہ کیا۔
157
View Single
أَوۡ تَقُولُواْ لَوۡ أَنَّآ أُنزِلَ عَلَيۡنَا ٱلۡكِتَٰبُ لَكُنَّآ أَهۡدَىٰ مِنۡهُمۡۚ فَقَدۡ جَآءَكُم بَيِّنَةٞ مِّن رَّبِّكُمۡ وَهُدٗى وَرَحۡمَةٞۚ فَمَنۡ أَظۡلَمُ مِمَّن كَذَّبَ بِـَٔايَٰتِ ٱللَّهِ وَصَدَفَ عَنۡهَاۗ سَنَجۡزِي ٱلَّذِينَ يَصۡدِفُونَ عَنۡ ءَايَٰتِنَا سُوٓءَ ٱلۡعَذَابِ بِمَا كَانُواْ يَصۡدِفُونَ
Or may say that, “If the Book had been sent down to us, we would have been more upon guidance than them”; so the clear proof and guidance and mercy has come to you, from your Lord; so who is more unjust than one who denies the signs of Allah, and turns away from them? We shall soon punish those who turn away from Our signs with a great punishment, the recompense of their turning away.
یا یہ (نہ) کہو کہ اگر ہم پر کتاب اتاری جاتی تو ہم یقیناً ان سے زیادہ ہدایت یافتہ ہوتے، سو اب تمہارے رب کی طرف تمہارے پاس واضح دلیل اور ہدایت اور رحمت آچکی ہے، پھر اس سے بڑھ کر ظالم کون ہو سکتا ہے جو اللہ کی آیتوں کو جھٹلائے اور ان سے کترائے۔ ہم عنقریب ان لوگوں کو جو ہماری آیتوں سے گریز کرتے ہیں برے عذاب کی سزا دیں گے اس وجہ سے کہ وہ (آیاتِ ربّانی سے) اِعراض کرتے تھے
Tafsir Ibn Kathir
The Qur'an is Allah's Proof Against His Creation
Ibn Jarir commented on the Ayah, "The Ayah means, this is a Book that We sent down, so that you do not say,
إِنَّمَآ أُنزِلَ الْكِتَـبُ عَلَى طَآئِفَتَيْنِ مِن قَبْلِنَا
("The Book was sent down only to two sects before us.") This way, you will have no excuse. Allah said in another Ayah,
وَلَوْلا أَن تُصِيبَهُم مُّصِيبَةٌ بِمَا قَدَّمَتْ أَيْدِيهِمْ فَيَقُولُواْ رَبَّنَا لَوْلا أَرْسَلْتَ إِلَيْنَا رَسُولاً فَنَتِّبِعَ ءايَـتِكَ
(Otherwise, they would have suffered a calamity because of what their hands sent forth, and said: "Our Lord! Why did You not send us a Messenger We would then have followed Your Ayat.")28:47." The Ayah,
عَلَى طَآئِفَتَيْنِ مِن قَبْلِنَا
(to two sects before us) refers to the Jews and Christians, according to `Ali bin Abi Talhah who narrated it from Ibn `Abbas. Similar was reported from Mujahid, As-Suddi, Qatadah and several others. Allah's statement,
وَإِن كُنَّا عَن دِرَاسَتِهِمْ لَغَـفِلِينَ
("...and for our part, we were in fact unaware of what they studied.") meaning: `we did not understand what they said because the revelation was not in our tongue. We, indeed, were busy and unaware of their message,' so they said. Allah said next,
أَوْ تَقُولُواْ لَوْ أَنَّآ أُنزِلَ عَلَيْنَا الْكِتَـبُ لَكُنَّآ أَهْدَى مِنْهُمْ
(Or lest you should say: "If only the Book had been sent down to us, we would surely, have been better guided than they.") meaning: We also refuted this excuse, had you used it, lest you say, "If a Book was revealed to us, just as they received a Book, we would have been better guided than they are." Allah also said.
وَأَقْسَمُواْ بِاللَّهِ جَهْدَ أَيْمَـنِهِمْ لَئِن جَآءَهُمْ نَذِيرٌ لَّيَكُونُنَّ أَهْدَى مِنْ إِحْدَى الاٍّمَمِ
(And they swore by Allah their most binding oath that if a warner came to them, they would be more guided than any of the nations (before them).) 35:42 Allah replied here,
فَقَدْ جَآءَكُمْ بَيِّنَةٌ مِّن رَّبِّكُمْ وَهُدًى وَرَحْمَةٌ
(So now has come unto you a clear proof from your Lord, and a guidance and a mercy.) Allah says, there has come to you from Allah a Glorious Qur'an revealed to Muhammad ﷺ, the Arab Prophet. In it is the explanation of the lawful and unlawful matters, guidance for the hearts and mercy from Allah to His servants who follow and implement it. Allah said;
فَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّن كَذَّبَ بِآيَـتِ اللَّهِ وَصَدَفَ عَنْهَا
(Who then does more wrong than one who rejects the Ayat of Allah and Sadafa away therefrom) This refers to the one who neither benefited from what the Messenger brought, nor followed what he was sent with by abandoning all other ways. Rather, he Sadafa from following the Ayat of Allah, meaning, he discouraged and hindered people from following it. This is the explanation of As-Suddi for Sadafa, while Ibn `Abbas, Mujahid and Qatadah said that Sadafa means, he turned away from it.
لاف زنی عیب ہے دوسروں کو بھی نیکی سے روکنے والے بدترین انسان ہیں فرماتا ہے کہ اس آخری کتاب نے تمہارے تمام عذر ختم کردیئے جیسے فرمان ہے (وَلَوْلَآ اَنْ تُصِيْبَهُمْ مُّصِيْبَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتْ اَيْدِيْهِمْ فَيَقُوْلُوْا رَبَّنَا لَوْلَآ اَرْسَلْتَ اِلَيْنَا رَسُوْلًا فَنَتَّبِعَ اٰيٰتِكَ وَنَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْن) 28۔ القصص :47) ، یعنی اگر انہیں ان کی بد اعمالیوں کی وجہ سے کوئی مصیبت پہنچتی تو کہہ دیتے کہ تو نے ہماری طرف کوئی رسول کیوں نہ بھیجا کہ ہم تیرے فرمان کو مانتے۔ اگلی دو جماعتوں سے مراد یہود و نصرانی ہیں۔ اگر یہ عربی زبان کا قرآن نہ اترتا تو وہ یہ عذر کردیتے کہ ہم پر تو ہماری زبان میں کوئی کتاب نہیں اتری ہم اللہ کے فرمان سے بالکل غافل رہے پھر ہمیں سزا کیوں ہو ؟ نہ یہ عذر باقی رہا نہ یہ کہ اگر ہم پر آسان کتاب اترتی تو ہم تو اگلوں سے آگے نکل جاتے اور خوب نیکیاں کرتے۔ جیسے فرمان ہے آیت (لَوْلَآ اَرْسَلْتَ اِلَيْنَا رَسُوْلًا فَنَتَّبِعَ اٰيٰتِكَ وَنَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ) 47۔ القصص 28) ، یعنی مؤکد قسمیں کھا کھا کر لاف زنی کرتے تھے کہ ہم میں اگر کوئی نبی آجائے تو ہم ہدایت کو مان لیں۔ اللہ فرماتا ہے اب تو تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے ہدایت و رحمت بھرا قرآن بزبان رسول عربی آچکا جس میں حلال حرام کا بخوبی بیان ہے اور دلوں کی ہدایت کی کافی نورانیت اور رب کی طرف سے ایمان والوں کیلئے سراسر رحمت و رحم ہے، اب تم ہی بتاؤ کہ جس کے پاس اللہ کی آیتیں آجائیں اور وہ انہیں جھٹلائے ان سے فائدہ نہ اٹھائے نہ عمل کرے نہ یقین لائے نہ نیکی کرے نہ بدی چھوڑے نہ خود مانے نہ اوروں کو ماننے دے اس سے بڑھ کر ظالم کون ہے ؟ اسی سورت کے شروع میں فرمایا ہے آیت (وَلَوْلَآ اَنْ تُصِيْبَهُمْ مُّصِيْبَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتْ اَيْدِيْهِمْ فَيَقُوْلُوْا رَبَّنَا لَوْلَآ اَرْسَلْتَ اِلَيْنَا رَسُوْلًا فَنَتَّبِعَ اٰيٰتِكَ وَنَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ) 28۔ القصص :47) خود اس کے مخالف اوروں کو بھی اسے ماننے سے روکتے ہیں دراصل اپنا ہی بگاڑتے ہیں جیسے فرمایا آیت (اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَصَدُّوْا عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ قَدْ ضَلُّوْا ضَلٰلًۢا بَعِيْدًا) 4۔ النسآء :168) یعنی جو لوگ خود کفر کرتے ہیں اور راہ الٰہی سے روکتے ہیں انہیں ہم عذاب بڑھاتے رہیں گے۔ پس یہ لوگ ہیں جو نہ مانتے تھے نہ فرماں بردار ہوتے تھے جیسے فرمان ہے آیت (فَلَا صَدَّقَ وَلَا صَلّٰى) 75۔ القیامة :31) یعنی نہ تو نے مانا نہ نماز پڑھی بلکہ نہ مان کر منہ پھیرلیا۔ ان دونوں تفسیروں میں پہلی بہت اچھی ہے یعنی خود بھی انکار کیا اور دوسروں کا بھی انکار پر آمادہ کیا۔
158
View Single
هَلۡ يَنظُرُونَ إِلَّآ أَن تَأۡتِيَهُمُ ٱلۡمَلَـٰٓئِكَةُ أَوۡ يَأۡتِيَ رَبُّكَ أَوۡ يَأۡتِيَ بَعۡضُ ءَايَٰتِ رَبِّكَۗ يَوۡمَ يَأۡتِي بَعۡضُ ءَايَٰتِ رَبِّكَ لَا يَنفَعُ نَفۡسًا إِيمَٰنُهَا لَمۡ تَكُنۡ ءَامَنَتۡ مِن قَبۡلُ أَوۡ كَسَبَتۡ فِيٓ إِيمَٰنِهَا خَيۡرٗاۗ قُلِ ٱنتَظِرُوٓاْ إِنَّا مُنتَظِرُونَ
What are they waiting for – except that the angels come to them, or the punishment from your Lord, or one of the signs of your Lord? On the day when the (foretold) sign of your Lord comes, not a single soul who had not earlier accepted faith nor earned any good from its faith, will benefit from accepting faith; say, “Wait – we too are waiting.”
وہ فقط اسی انتظار میں ہیں کہ ان کے پاس (عذاب کے) فرشتے آپہنچیں یا آپ کا رب (خود) آجائے یا آپ کے رب کی کچھ (مخصوص) نشانیاں (عیاناً) آجائیں۔ (انہیں بتا دیجئے کہ) جس دن آپ کے رب کی بعض نشانیاں (یوں ظاہراً) آپہنچیں گی (تو اس وقت) کسی (ایسے) شخص کا ایمان اسے فائدہ نہیں پہنچائے گا جو پہلے سے ایمان نہیں لایا تھا یا اس نے اپنے ایمان (کی حالت) میں کوئی نیکی نہیں کمائی تھی، فرما دیجئے: تم انتظار کرو ہم (بھی) منتظر ہیں
Tafsir Ibn Kathir
The Disbelievers Await the Commencement of the Hereafter, or Some of its Portents
Allah sternly threatens the disbelievers, those who defy His Messengers, deny His Ayat and hinder from His path,
هَلْ يَنظُرُونَ إِلاَ أَن تَأْتِيهُمُ الْمَلَـئِكَةُ أَوْ يَأْتِىَ رَبُّكَ
(Do they then wait for anything other than that the angels should come to them, or that your Lord (Allah) should come...) on the Day of Resurrection,
أَوْ يَأْتِىَ بَعْضُ ءَايَـتِ رَبِّكَ يَوْمَ يَأْتِى بَعْضُ ءَايَـتِ رَبِّكَ لاَ يَنفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا
(or that some of the signs of your Lord should come! The day that some of the signs of your Lord do come no good will it do to a person to believe then.) Before the commencement of the Day of Resurrection, there will come signs and portents of the Last Hour that will be witnessed by the people living at that time. In a section explaining this Ayah, Al-Bukhari recorded that Abu Hurayrah said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا فَإِذَا رَآهَا النَّاسُ آمَنَ مَنْ عَلَيْهَا فَذَلِكَ حِين»
(The Last Hour will not commence until the sun rises from the west. When the people witness that, they will all believe. This is when.
لاَ يَنفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا لَمْ تَكُنْ ءَامَنَتْ مِن قَبْلُ
(no good will it do to a person to believe then, if he believed not before.)) Ibn Jarir recorded that Abu Hurayrah said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«ثَلَاثٌ إِذَا خَرَجْنَ لَا يَنْفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا لَمْ تَكُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْل أَوْ كَسَبَتْ فِي إِيمَانِهَا خَيْرًا، طُلُوعُ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا وَالدَّجَّالُ وَدَابَّةُ الْأَرْض»
(Three, if they appear, then a soul will not benefit from its faith, if it had not believed before or earned good in its faith: when the sun rises from the west, Ad-Dajjal and the Beast of the earth.) Ahmad also recorded this Hadith, and in his narration, the Prophet mentioned the Smoke. Imam Ahmad recorded that `Amr bin Jarir said, "Three Muslim men sat with Marwan in Al-Madinah and they heard him talking about the signs (of the Last Hour). He said that the first sign will be the appearance of Ad-Dajjal. So these men went to `Abdullah bin `Amr and told him what they heard from Marwan about the signs. Ibn `Amr said, Marwan said nothing. I remember that I heard the Messenger of Allah ﷺ saying,
«إِنَّ أَوَّلَ الْآياتِ خُرُوجًا طُلُوعُ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا وَخُرُوجُ الدَّابَّةِ ضُحًى فَأَيَّتُهُمَا كَانَتْ قَبْلَ صَاحِبَتِهَا فَالْأُخْرَى عَلَى أَثَرِهَا»
(The first of the signs to appear are the sun rising from the west and the Beast that appears in the early morning. Whichever comes before the other, then the second sign will appear soon after it.") Then `Abdullah said - and he used to read the Scriptures - "And I think the first of them is the sun rising from the west. That is because when it sets it comes under the Throne, prostrates and seeks permission to return. So it is permitted to return until Allah wants it to rise from the west. So it does as it normally would, it comes beneath the Throne, it prostrates and seeks permission to return. But it will get no response. Then it will seek permission to return again, but it will get no response, until what Allah wills of the night to pass goes by, and it realizes that if it is permitted to return it would not be able to reach the east. It says; `My Lord! The east is so far, what good would I be to the people' Until the horizons appear as a lightless ring, it seeks permission to return and is told; `Rise from your place,' so it rises upon the people from where it set." Then he recited,
لاَ يَنفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا لَمْ تَكُنْ ءَامَنَتْ مِن قَبْلُ
(no good will it do to a person to believe then, if he believed not before,) This was also recorded by Muslim in his Sahih, and Abu Dawud and Ibn Majah in their Sunans. Allah's statement,
لاَ يَنفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا لَمْ تَكُنْ ءَامَنَتْ مِن قَبْلُ
(no good will it do to a person to believe then, if he believed not before,) means, when the disbeliever believes then, it will not be accepted from him. As for those who were believers before, if they earned righteous deeds, they will have earned a great deal of good. If they had not done good nor repented before then, it will not be accepted from them, according to the Hadiths that we mentioned. This is also the meaning of Allah's statement,
أَوْ كَسَبَتْ فِى إِيمَـنِهَا خَيْرًا
(...nor earned good through his faith. ) meaning, one's good deeds will not be accepted from him unless he performed good deeds before. Allah said next,
قُلِ انتَظِرُواْ إِنَّا مُنتَظِرُونَ
(Say: "Wait you! We (too) are waiting.") This is a stern threat to the disbelievers and a sure promise for those who delay embracing the faith and repenting until a time when faith or repentance shall not avail. This will occur when the sun rises from the west because the Last Hour will then be imminent and its major signs will have begun to appear. Allah said in other Ayat,
فَهَلْ يَنظُرُونَ إِلاَّ السَّاعَةَ أَن تَأْتِيَهُمْ بَغْتَةً فَقَدْ جَآءَ أَشْرَاطُهَا فَأَنَّى لَهُمْ إِذَا جَآءَتْهُمْ ذِكْرَاهُمْ
(Do they then await (anything) other than the Hour, that it should come upon them suddenly But some of its portents have already come; and when it is upon them, how can they benefit then by their reminder) 47:18, and,
فَلَمَّا رَأَوْاْ بَأْسَنَا قَالُواْ ءَامَنَّا بِاللَّهِ وَحْدَهُ وَكَـفَرْنَا بِمَا كُنَّا بِهِ مُشْرِكِينَ فَلَمْ يَكُ يَنفَعُهُمْ إِيمَـنُهُمْ لَمَّا رَأَوْاْ بَأْسَنَا
(So when they saw Our punishment, they said: "We believe in Allah alone and reject (all) that we used to associate with Him as partners." Then their faith could not avail them when they saw Our punishment.) 40:84-85
قیامت اور بےبسی اللہ تعالیٰ کافروں کو اور پیغمبروں کے مخالفوں کو اور اپنی آیات کے جھٹلانے والوں کو اور اپنی راہ سے روکنے والوں کو ڈرا رہا ہے کہ کیا انہیں قیامت کا انتظار ہے ؟ جبکہ فرشتے بھی آئیں گے اور خود اللہ قہار بھی۔ وہ بھی وقت ہوگا جب ایمان بھی بےسود اور توبہ بھی بیکار، بخاری شریف میں اس آیت کی تفسیر میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں قیامت قائم نہ ہوگی جب تک کہ سورج مغرب سے نہ نکلے جب یہ نشان ظاہر ہوجائے گا تو زمین پر جتنے لوگ ہوں گے سب ایمان لائیں گے لیکن اس وقت کا ایمان محض بےسود ہے۔ پھر آپ نے یہی آیت پڑھی اور حدیث ہے جب قیامت کی تین نشانیاں ظاہر ہوجائیں تو بےایمان کو ایمان لانا، خیر سے رکے ہوئے لوگوں کو اس کے بعد نیکی یا توبہ کرنا کچھ سود مند نہ ہوگا۔ سورج کا مغرب سے نکلنا، دجال کا آنا، دابتہ الارض کا ظاہر ہونا۔ ایک اور روایت میں اس کے ساتھ ہی ایک دھویں کے آنے کا بھی بیان ہے اور حدیث میں ہے سورج کے مغرب سے طلوع ہونے سے بیشتر جو توبہ کرے اس کی توبہ مقبول ہے۔ حضرت ابوذر سے ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ نے پوجھا جانتے ہو یہ سورج غروب ہو کر کہاں جاتا ہے ؟ جواب دیا کہ نہیں فرمایا عرش کے قریب جا کر سجدے میں گرپڑتا ہے اور ٹھہرا رہتا ہے یہاں تک کہ اسے اجازت ملے اور کہا جائے لوٹ جا قریب ہے کہ ایک دن اس سے کہہ دیا جائے کہ جہاں سے آیا ہے وہیں لوٹ جا یہی وہ وقت ہوگا کہ ایمان لانا بےنفع ہوجائے گا۔ ایک مرتبہ لوگ قیامت کی نشانیوں کا ذکر کر رہے تھے اتنے میں حضور بھی تشریف لے آئے اور فرمانے لگے قیامت قائم نہ ہوگی جب تک تم دس نشانیاں نہ دیکھ لو گے۔ سورج کا مغرب سے طلوع ہونا، دھواں، دابتہ الارض، یاجوج ماجوج کا آنا، عیسیٰ بن مریم کا آنا اور دجال کا نکلنا، مشرق، مغرب اور جزیرہ عرب میں تین جگہ زمین کا دھنس جانا اور عدن کے درمیان سے ایک زبر دست آگ کا نکلنا جو لوگوں کو ہانک لے جائے گی رات دن ان کے پیچھے ہی پیچھے رہ گی (مسلم وغیرہ) حضرت حذیفہ ؓ نے آنحضرت ﷺ سے دریافت کیا کہ سورج کے مغرب سے طلوع ہونے کا نشان کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا وہ رات بہت لمبی ہوجائے گی بقدر دو راتوں کے لوگ معمول کے مطابق اپنے کام کاج میں ہوں گے اور تہجد گذاری میں بھی۔ ستارے اپنی جگہ ٹھہرے ہوئے ہوں گے پھر لوگ سو جائیں گے پھر اٹھیں گے کام میں لگیں گے پھر سوئیں گے پھر اٹھیں گے لیکن دیکھیں گے کہ نہ ستارے ہٹے ہیں نہ سورج نکلا ہے کروٹیں دکھنے لگیں گی لیکن صبح نہ ہوگی اب تو گھبرا جائیں گے اور دہشت زدہ ہوجائیں گے منتظر ہوں گے کہ کب سورج نکلے مشرق کی طرف نظریں جمائے ہوئے ہوں گے کہ اچانک مغرب کی طرف سے سورج نکل آئے گا اس وقت تو تمام روئے زمین کے انسان مسلمان ہو جائینگے لیکن اس وقت کا ایمان محض بےسود ہوگا۔ (ابن مردویہ) ایک حدیث میں حضور کا اس آیت کے اس جملے کو تلاوت فرما کر اس کی تفسیر میں سورج کا مغرب سے نکلنا فرمانا بھی ہے، ایک روایت میں ہے سب سے پہلی نشانی یہی ہوگی اور حدیث میں ہے اللہ تعالیٰ نے مغرب کی طرف ایک بڑا دروازہ کھول رکھا ہے جس کا عرض ستر سال کا ہے یہ توبہ کا دروازہ ہے یہ بند نہ ہوگا جب تک کہ سورج مغرب سے نہ نکلے اور حدیث میں ہے لوگوں پر ایک رات آئے گی جو تین راتوں کے برابر ہوگی اسے تہجد گذار جان لیں گے یہ کھڑے ہوں گے ایک معمول کے مطابق تہجد پڑھ کر پھر سو جائیں گے پھر اٹھیں گے اپنا معمول ادا کر کے پھر لیٹیں گے لوگ اس لمبائی سے گھبرا کر چیخ پکار شروع کر دین گے اور دوڑے بھاگے مسجدوں کی طرف جائیں گے کہ ناگہاں دیکھیں گے کہ سورج طلوع ہوگیا یہاں تک کہ وسط آسمان میں پہنچ کر پھر لوٹ جائے گا اور اپنے طلوع ہونے کی جگہ سے طلوع ہوگا، یہی وہ وقت ہے جس وقت ایمان سود مند نہیں اور روایت میں ہے کہ تین مسلمان شخص مروان کے پاس بیٹھے ہوئے تھے مروان ان سے کہہ رہے تھے کہ سب سے پہلی نشانی دجال کا خروج ہے یہ سن کر یہ لوگ حضرت عبداللہ بن عمرو کے پاس گئے اور یہ بیان کیا آپ نے فرمایا اس نے کچھ نہیں کہا مجھے حضور کا فرمان خوب محفوظ ہے کہ سب سے پہلی نشانی سورج کا مغرب سے نکلنا ہے اور دآبتہ الارض کا دن چڑھے ظاہر ہونا ہے۔ ان دونوں میں سے جو بھی پہلے ظاہر ہو اسی کے بعد دوسری ظاہر ہوگی، حضرت عبداللہ کتاب پڑھتے جاتے تھے فرمایا میرا خیال ہے کہ پہلے سورج کا نشان ظاہر ہوگا وہ غروب ہوتے ہی عرش تلے جاتا ہے اور سجدہ کر کے اجازت مانگتا ہے اجازت مل جاتی ہے جب مشیت الٰہی سے مغرب سے ہی نکلنا ہوگا تو اس کی بار بار کی اجازت طلبی پر بھی جواب نہ ملے گا رات کا وقت ختم ہونے کے قریب ہوگا اور یہ سمجھ لے گا کہ اب اگر اجازت ملی بھی تو مشرق میں نہیں پہنچ سکتا تو کہے گا کہ یا اللہ دنیا کو سخت تکلیف ہوگی تو اس سے کہا جائے گا یہیں سے طلوع ہو چناچہ وہ مغرب سے ہی نکل آئے گا پھر حضرت عبداللہ نے یہی آیت تلات فرمائی، طبرانی میں ہے کہ جب سورج مغرب سے نکلے گا ابلیس سجدے میں گرپڑے گا اور زور زور سے کہے گا الہی مجھے حکم کر میں مانوں گا جسے تو فرمائے میں سجدہ کرنے کیلئے تیار ہوں اس کی ذریت اس کے پاس جمع ہوجائے گی اور کہے گی یہ ہائے وائے کیسی ہے ؟ وہ کہے گا مجھے یہیں تک کی ڈھیل دی گئی تھی، اب وہ آخری وقت آگیا پھر صفا کی پہاڑی کے غار سے دابتہ الارض نکلے گا اس کا پہلا قدم انطاکیہ میں پڑے گا وہ ابلیس کے پاس پہنچے گا اور اسے تھپڑ مارے گا۔ یہ حدیث بہت ہی غریب ہے اس کی سند بالکل ضعیف ہے ممکن ہے کہ یہ ان کتابوں میں سے حضرت عبداللہ بن عمرو نے لی ہو جن کے دو تھیلے انہیں یرموک کی لڑائی والے دن ملے تھے۔ ان کا فرمان رسول ہونا ناقابل تسلیم ہے اللہ اعلم۔ حضور فرماتے ہیں ہجرت منقطع نہ ہوگی جب تک کہ دشمن برسر پیکار رہے۔ ہجرت کی دو قسمیں ہیں ایک تو گناہوں کو چھوڑنا دوسرے اللہ اور اس کے رسول کے پاس ترک وطن کر کے جانا یہ بھی باقی رہے گا جب تک کہ توبہ قبول ہوتی ہے اور توبہ قبول ہوتی رہے گی جب تک کہ سورج مغرب سے نہ نکلے۔ سورج کے مغرب سے نکلتے ہی پھر جو کچھ جس حال میں ہے اسی پر مہر لگ جائے گی اور اعمال بےسود ہوجائیں گے۔ ابن مسعود کا فرمان ہے کہ بہت سے نشانات گذر چکے صرف چار باقی رہ گئے ہیں، سورج کا نکلنا دجال دابتہ الارض اور یاجوج ماجوج کا آنا جس علامت کے ساتھ اعمال ختم ہوجائیں گے وہ طلوع شمس منجانب مغرب ہے۔ ایک طویل مرفوع غیب منکر حدیث میں ہے کہ اس دن سورج چاند ملے جلے طلوع ہوں گے آدھے آسمان سے واپس چلے جائیں گے پھر حسب عادت ہو جائینگے۔ اس حدیث کا تو مرفوع ہونے کا دعوی اس حدیث کے موضوع ہونے کا ثبوت ہے۔ ہاں ابن عباس یا وہیب بن منبہ پر موقوف ہونے کی حیثیت سے ممکن ہے موضوع کی گنتی سے نکل جائے واللہ اعلم۔ حضرت عائشہ فرماتی ہیں قیامت کی پہلی نشانی کے ساتھ ہی اعمال کا کا تمہ ہے اس دن کسی کافر کا مسلمان ہونا بےسود ہوگا، ہاں مومن جو اس سے پہلے نیک اعمال والا ہوگا وہ بہتری میں رہے گا اور جو نیک عمل نہ ہوگا اس کی توبہ بھی اس وقت مقبول نہ ہوگی جیسے کہ پہلے حدیثیں گذر چکیں برے لوگوں کے نیک اعمال بھی اس نشان عظیم کو دیکھ لیں گے بعد کام نہ آئیں گے۔ پھر کافروں کو تنبیہہ کی جاتی ہے کہ اچھا تم انتظار میں ہی رہو تاآنکہ توبہ کے اور ایمان کے قبول نہ ہونے کا وقت آجائے اور قیامت کے زبردست آثار ظاہر ہوجائیں جیسے اور آیت میں ہے (ھل ینظرون الا الساعتہ) الخ، قیامت کے اچانک آجانے کا ہی انتظار ہے اس کی بھی علامات ظاہر ہوچکی ہیں اس کے آچکنے کے بعد نصیحت کا وقت کہاں ؟ اور آیت میں ہے (فلما راوا باسنا) ہمارے عذابوں کا مشاہدہ کرلینے کے بعد کا ایمان اور شرک سے انکار بےسود ہے۔
159
View Single
إِنَّ ٱلَّذِينَ فَرَّقُواْ دِينَهُمۡ وَكَانُواْ شِيَعٗا لَّسۡتَ مِنۡهُمۡ فِي شَيۡءٍۚ إِنَّمَآ أَمۡرُهُمۡ إِلَى ٱللَّهِ ثُمَّ يُنَبِّئُهُم بِمَا كَانُواْ يَفۡعَلُونَ
You (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him) have no concern with those who divided their religion and became several groups; their case is only with Allah – He will then inform them of what they used to do.
بیشک جن لوگوں نے (جدا جدا راہیں نکال کر) اپنے دین کو پارہ پارہ کر دیا اور وہ (مختلف) فرقوں میں بٹ گئے، آپ کسی چیز میں ان کے (تعلق دار اور ذمہ دار) نہیں ہیں، بس ان کا معاملہ اللہ ہی کے حوالے ہے پھر وہ انہیں ان کاموں سے آگاہ فرما دے گا جو وہ کیا کرتے تھے
Tafsir Ibn Kathir
Criticizing Division in the Religion
Mujahid, Qatadah, Ad-Dahhak and As-Suddi said that this Ayah was revealed about the Jews and Christians. Al-`Awfi said that Ibn `Abbas commented,
إِنَّ الَّذِينَ فَرَّقُواْ دِينَهُمْ وَكَانُواْ شِيَعًا
(Verily, those who divide their religion and break up into sects...) "Before Muhammad was sent, the Jews and Christians disputed and divided into sects. When Muhammad was sent, Allah revealed to him,
إِنَّ الَّذِينَ فَرَّقُواْ دِينَهُمْ وَكَانُواْ شِيَعًا لَّسْتَ مِنْهُمْ فِى شَىْءٍ
(Verily, those who divide their religion and break up into sects, you have no concern with them in the least.) It is apparent that this Ayah refers to all those who defy the religion of Allah, or revert from it. Allah sent His Messenger with guidance and the religion of truth so that He makes it victorious and dominant above all religions. His Law is one and does not contain any contradiction or incongruity. Therefore, those who dispute in the religion,
وَكَانُواْ شِيَعاً
(...and break up into sects,) religious sects, just like those who follow the various sects, desires and misguidance - then Allah has purified His Messenger from their ways. In a similar Ayah, Allah said,
شَرَعَ لَكُم مِّنَ الِدِينِ مَا وَصَّى بِهِ نُوحاً وَالَّذِى أَوْحَيْنَآ إِلَيْكَ
(He (Allah) has ordained for you the same religion which He ordained for Nuh, and that which We have revealed to you.)42:13 A Hadith reads,
«نَحْنُ مَعَاشِرُ الْأَنْبِيَاءِ أَوْلَادُ عَلَّاتٍ دِينُنَا وَاحِد»
(We, the Prophets, are half brothers but have one religion.) This, indeed, is the straight path which the Messengers have brought and which commands worshipping Allah alone without partners and adhering to the Law of the last Messenger whom Allah sent. All other paths are types of misguidance, ignorance, sheer opinion and desires; and as such, the Messengers are free from them. Allah said here,
لَّسْتَ مِنْهُمْ فِى شَىْءٍ
(You have no concern with them in the least...) 6:159. Allah's statement,
إِنَّمَآ أَمْرُهُمْ إِلَى اللَّهِ ثُمَّ يُنَبِّئُهُم بِمَا كَانُواْ يَفْعَلُونَ
(Their affair is only with Allah, Who then will tell them what they used to do.) is similar to His statement,
إِنَّ الَّذِينَ ءَامَنُواْ وَالَّذِينَ هَادُواْ وَالصَّـبِئِينَ وَالنَّصَـرَى وَالْمَجُوسَ وَالَّذِينَ أَشْرَكُواْ إِنَّ اللَّهَ يَفْصِلُ بَيْنَهُمْ يَوْمَ الْقِيـمَةِ
(Verily, those who believe, and those who are Jews, and the Sabians, and the Christians, and the Majus, and those who worship others besides Allah; truly, Allah will judge between them on the Day of Resurrection.) 22:17 eAllah then mentioned His kindness in His decisions and His justice on the Day of Resurrection, when He said,
اہل بدعت گمراہ ہیں کہتے ہیں کہ یہ آیت یہود و نصاریٰ کے بارے میں اتری ہے۔ یہ لوگ حضور کی نبوت سے پہلے سخت اختلافات میں تھے جن کی خبر یہاں دی جا رہی ہے۔ ایک حدیث میں ہے شیئی تک اس آیت کی تلاوت فرما کر حضور نے فرمایا وہ بھی تجھ سے کوئی میل نہیں رکھتے۔ اس امت کے اہل بدعت شک شبہ والے اور گمراہی والے ہیں۔ اس حدیث کی سند صحیح نہیں۔ یعنی ممکن ہے یہ حضرت ابوہریرہ کا قول ہو۔ ابو امامہ فرماتے ہیں اس سے مراد خارجی ہیں۔ یہ بھی مرفوعاً مروی ہے لیکن صحیح نہیں۔ ایک اور غریب حدیث میں ہے حضور فرماتے ہیں مراد اس سے اہل بدعت ہے۔ اس کا بھی مرفوع ہونا صحیح نہیں۔ بات یہ ہے کہ آیت عام ہے جو بھی اللہ رسول کے دین کی مخالفت کرے اور اس میں پھوٹ اور افتراق پیدا کرے گمراہی کی اور خواہش پرستی کی پیروی کرے نیا دین اختیار کرے نیا مذہب قبول کرے وہی وعید میں داخل ہے کیونکہ حضور جس حق کو لے کر آئے ہیں وہ ایک ہی ہے کئی ایک نہیں۔ اللہ نے اپنے رسول کو فرقہ بندی سے بچایا ہے اور آپ کے دین کو بھی اس لعنت سے محفوظ رکھا ہے۔ اسی مضمون کی دوسری آیت (شَرَعَ لَكُمْ مِّنَ الدِّيْنِ) 42۔ الشوری:13) ہے ایک حدیث میں بھی ہے کہ ہم جماعت انبیاء علاقی بھائی ہیں۔ ہم سب کا دین ایک ہی ہے۔ پس صراط مستقیم اور دین پسندیدہ اللہ کی توحید اور رسولوں کی اتباع ہے اس کے خلاف جو ہو ضلالت جہالت رائے خواہش اور بد دینی ہے اور رسول اس سے بیزار ہیں ان کا معاملہ سپرد رب ہے وہی انہیں ان کے کرتوت سے آگاہ کرے گا جیسے اور آیت میں ہے کہ مومنوں، یہودیوں، صابیوں اور نصرانیوں میں مجوسیوں میں مشرکوں میں اللہ خود قیامت کے دن فیصلے کر دے گا اس کے بعد اپنے احسان حکم اور عدل کا بیان فرماتا ہے۔
160
View Single
مَن جَآءَ بِٱلۡحَسَنَةِ فَلَهُۥ عَشۡرُ أَمۡثَالِهَاۖ وَمَن جَآءَ بِٱلسَّيِّئَةِ فَلَا يُجۡزَىٰٓ إِلَّا مِثۡلَهَا وَهُمۡ لَا يُظۡلَمُونَ
For one who brings one good deed, are ten like it; and one who brings an ill-deed will not be repaid but with one like it, and they will not be wronged.
جو کوئی ایک نیکی لائے گا تو اس کے لئے (بطورِ اجر) اس جیسی دس نیکیاں ہیں، اور جو کوئی ایک گناہ لائے گا تو اس کو اس جیسے ایک (گناہ) کے سوا سزا نہیں دی جائے گی اور وہ ظلم نہیں کئے جائیں گے
Tafsir Ibn Kathir
The Good Deed is Multiplied Tenfold, While the Sin is Recompensed with the Same
This Ayah explains the general Ayah;
مَن جَآءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ خَيْرٌ مِّنْهَا
(Whoever comes with good, then he will receive better than that.)28:84 There are several Hadiths that are in agreement with the apparent wording of this honorable Ayah. Imam Ahmad bin Hanbal recorded that Ibn `Abbas said that the Messenger of Allah ﷺ said about his Lord,
«إِنَّ رَبَّكُمْ عَزَّ وَجَلَّ رَحِيمٌ مَنْ هَمَّ بِحَسَنَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا كُتِبَتْ لَهُ حَسَنَةً فَإِنْ عَمِلَهَا كُتِبَتْ لَهُ عَشْرًا إِلَى سَبْعِمِائَةٍ إِلَى أَضْعَافٍ كَثِيرَةٍ. وَمَنْ هَمَّ بِسَيِّئَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا كُتِبَتْ لَهُ حَسَنَةً فَإِنْ عَمِلَهَا كُتِبَتْ لَهُ وَاحِدَةً أَوْ يَمْحُوهَا اللهُ عَزَّ وَجَلَّ وَلَا يَهْلِكُ عَلَى اللهِ إِلَّا هَالِك»
(Your Lord is Most Merciful. Whoever intends to perform a good deed and does not do it, it will be written for him as a good deed. If he performs it, it will be written for him as ten deeds, to seven hundred, to multifold. Whoever intends to commit an evil deed, but does not do it, it will be written for him as a good deed. If he commits it, it will be written for him as a sin, unless Allah erases it. Only those who deserve destruction will be destroyed by Allah.) Al-Bukhari, Muslim and An-Nasa'i also recorded this Hadith. Ahmad also recorded that Abu Dharr said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«يَقُولُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ:مَنْ عَمِلَ حَسَنَةً فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا وَأَزِيدُ وَمَنْ عَمِلَ سَيِّئَةً فَجَزَاؤُهَا مِثْلُهَا أَوْ أَغْفِرُ وَمَنْ عَمِلَ قُرَابَ الْأَرْضِ خَطِيئَةً ثُمَّ لَقِيَنِي لَا يُشْرِكُ بِي شَيْئًا جَعَلْتُ لَهُ مِثْلَهَا مَغْفِرَةً، وَمَنِ اقْتَرَبَ إِليَّ شِبْرًا اقْتَرَبْتُ إِلَيْهِ ذِرَاعًا وَمَنِ اقْتَرَبَ إِلَيَّ ذِرَاعًا اقْتَرَبْتُ إِلَيْهِ بَاعًا وَمَنْ أَتَانِي يَمْشِي أَتَيْتُهُ هَرْوَلَة»
(Allah says, `Whoever performs a good deed, will have tenfold for it and more. Whoever commits a sin, then his recompense will be the same, unless I forgive. Whoever commits the earth's fill of sins and then meets Me while associating none with Me, I will give him its fill of forgiveness. Whoever draws closer to Me by a hand's span, I will draw closer to him by a forearm's length. Whoever draws closer to Me by a forearm's length, I will draw closer to him by an arm's length. And whoever comes to Me walking, I will come to him running.') Muslim also collected this Hadith. Know that there are three types of people who refrain from committing a sin that they intended. There are those who refrain from committing the sin because they fear Allah, and thus will have written for them a good deed as a reward. This type contains both a good intention and a good deed. In some narrations of the Sahih, Allah says about this type, "He has left the sin for My sake." Another type does not commit the sin because of forgetfulness or being busy attending to other affairs. This type of person will neither earn a sin, nor a reward. The reason being that, this person did not intend to do good, nor commit evil. Some people abandon the sin because they were unable to commit it or due to laziness, after trying to commit it and seeking the means that help commit it. This person is just like the person who commits the sin. There is an authentic Hadith that states,
«إِذَا الْتَقَى الْمُسْلِمَانِ بِسَيْفَيْهِمَا فَالْقَاتِلُ وَالْمَقْتُولُ فِي النَّار»
(When two Muslims meet with their swords, then the killer and the killed will be in the Fire.) They said, "O Allah's Messenger! We know about the killer, so what about the killed" He said,
«إِنَّهُ كَانَ حَرِيصًا عَلَى قَتْلِ صَاحِبِه»
(He was eager to kill his companion.) Al-Hafiz Abu Al-Qasim At-Tabarani said that Abu Malik Al-Ash`ari said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«الْجُمُعَةُ كَفَّارَةٌ لِمَا بَيْنَهَا وَبَيْنَ الْجُمُعَةِ الَّتِي تَلِيهَا وَزِيَادَةُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ، وَذَلِكَ لأَنَّ اللهَ تَعَالَى قَالَ:
مَن جَآءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا
»
(Friday (prayer) to the next Friday (preayer), plus three more days, erase whatever was committed (of sins) between them. This is because Allah says: Whoever brings a good deed shall have ten times the like thereof to his credit) Abu Dharr narrated that the Messenger of Allah ﷺ said,
«مَنْ صَامَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ فَقَدْ صَامَ الدَّهْرَ كُلَّه»
(Whoever fasts three days every month, will have fasted all the time.) Ahmad, An-Nasa'i, and Ibn Majah recorded this Hadith, and this is Ahmad's wording. At-Tirmidhi also recorded it with this addition;
«فأنزل الله تصديق ذلك في كتابه»
(So Allah sent down affirmation of this statement in His Book, )
مَن جَآءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا
(Whoever brings a good deed shall have ten times the like thereof to his credit,)
«اليوم بعشرة أيام»
(Therefore, a day earns ten days.) At-Tirmidhi said; "This Hadith is Hasan". There are many other Hadiths and statements on this subject, but what we mentioned should be sufficient, Allah willing, and our trust is in Him.
نیکی کا دس گنا ثواب اور غلطی کی سزا برابر برابر ایک اور آیت میں مجملاً یہ آیا ہے کہ (فلہ خیر منھا) جو نیکی لائے اس کیلئے اس سے بہتر بدلہ ہے۔ اسی آیت کے مطابق بہت سی حدیثیں بھی وارد ہوتی ہیں ایک میں ہے تمہارا رب عزوجل بہت بڑا رحیم ہے نیکی کے صرف قصد پر نیکی کے کرنے کا ثواب عطا فرما دیتا ہے اور ایک نیکی کے کرنے پر دس سے ساٹھ تک بڑھا دیتا ہے اور بھی بہت زیادہ اور بہت زیادہ اور اگر برائی کا قصد ہوا پھر نہ کرسکا تو بھی نیکی ملتی ہے اور اگر اس برائی کو کر گذرا تو ایک برائی ہی لکھی جاتی ہے اور بہت ممکن ہے کہ اللہ معاف ہی فرما دے اور بالکل ہی مٹا دے سچ تو یہ ہے کہ ہلاکت والے ہی اللہ کے ہاں ہلاک ہوتے ہیں (بخاری مسلم نسائی وغیرہ) ایک حدیث قدسی میں ہے نیکی کرنے والے کو دس گنا ثواب ہے اور پھر بھی میں زیادہ کردیتا ہوں اور برائی کرنے والے کو اکہرا عذاب ہے اور میں معاف بھی کردیتا ہوں زمین بھر تک جو شخص خطائیں لے آئے اگر اس نے میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا تو میں اتنی ہی رحمت سے اس کی طرف متوجہ ہوتا ہوں جو میری طرف بالشت بھر آئے میں اس کی طرف ایک ہاتھ بڑھتا ہوں اور جو ہاتھ بھر آئے میں اس کی طرف دو ہاتھ برھتا ہوں اور جو میری طرف چلتا ہوا آئے میں اس کی طرف دوڑتا ہوا جاتا ہوں (مسلم مسند وغیرہ) اس سے پہلے گذری ہوئی حدیث کی طرح ایک اور حدیث بھی ہے اس میں فرمایا ہے کہ برائی کا اردہ کر کے پھر اسے چھوڑ دینے والے کو بھی نیکی ملتی ہے اس سے مراد وہ شخص ہے جو اللہ کے ڈر سے چھوڑ دے چناچہ بعض روایات میں تشریح آ بھی چکی ہے۔ دوسری صورت چھوڑ دینے کی یہ ہے کہ اسے یاد ہی نہ آئے بھول بسر جائے تو اسے نہ ثواب ہے نہ عذاب کیونکہ اس نے اللہ سے ڈر کر نیک نیتی سے اسے ترک نہیں کیا اور اگر بدنیتی سے اس نے کوشش بھی کی اسے پوری طرح کرنا بھی چاہا لیکن عاجز ہوگیا کر نہ سکا موقعہ ہی نہ ملا اسباب ہی نہ بنے تھک کر بیٹھ گیا تو ایسے شخص کو اس برائی کے کرنے کے برابر ہی گناہ ہوتا ہے چناچہ حدیث میں ہے جب دو مسلمان تلواریں لے کر ایک دوسرے سے جنگ کریں تو جو مار ڈالے اور جو مار ڈالا جائے دونوں جہنمی ہیں لوگوں نے کہا مار ڈالنے والا تو خیر لیکن جو مارا گیا وہ جہنم میں کیوں جائے گا ؟ آپ نے فرمایا اس لئے کہ وہ بھی دوسرے کو مار ڈالنے کا آرزو مند تھا اور حدیث میں ہے حضور فرماتے ہیں نیکی کے محض ارادے پر نیکی لکھ لی جاتی ہے اور عمل میں لانے کے بعد دس نیکیاں لکھی جاتی ہیں برائی کے محض ارادے کو لکھا نہیں جاتا اگر عمل کرلے تو ایک ہی گناہ لکھا جاتا ہے اور اگر چھوڑ دے تو نیکی لکھی جاتی ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اس نے گناہ کے کام کو میرے خوف سے ترک کردیا۔ حضور فرماتے ہیں لوگوں کی چار قسمیں ہیں اور اعمال کی چھ قسمیں ہیں۔ بعض لوگ تو وہ ہیں جنہیں دنیا اور آخرت میں وسعت اور کشادگی دی جاتی ہے بعض وہ ہیں جن پر دنیا میں کشادگی ہوتی ہے اور آخرت میں تنگی بعض وہ ہیں جن پر دنیا میں تنگی رہتی ہے اور آخرت میں انہیں کشادگی ملے گی۔ بعض وہ ہیں جو دونوں جہان میں بدبخت رہتے ہیں یہاں بھی وہاں بھی بےآبرو، اعمال کی چھ قسمیں یہ ہیں دو قسمیں تو ثواب واجب کردینے والی ہیں ایک برابر کا، ایک دس گنا اور ایک سات سو گنا۔ واجب کردینے والی دو چیزیں وہ ہیں جو شخص اسلام و ایمان پر مرے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا ہو اس کیلئے جنت واجب ہے اور جو کفر پر مرے اس کیلئے جہنم واجب ہے اور جو نیکی کا ارادہ کرے گو کہ نہ ہو اسے ایک نیکی ملتی ہے اس لئے کہ اللہ جانتا ہے کہ اس کے دل نے اسے سمجھا اس کی حرص کی اور جو شخص برائی کا ارادہ کرے اس کے ذمہ گناہ نہیں لکھا جاتا اور جو کر گذرے اسے ایک ہی گناہ ہوتا ہے اور وہ بڑھتا نہیں ہے اور جو نیکی کا کام کرے اسے دس نیکیاں ملتی ہیں اور جو راہ اللہ عزوجل میں خرچ کرے اسے سات سو گنا ملتا ہے (ترمذی) فرمان ہے کہ جمعہ میں آنے والے لوگ تین طرح کے ہیں ایک وہ جو وہاں لغو کرتا ہے اس کے حصے میں تو وہی لغو ہے، ایک دعا کرتا ہے اسے اگر اللہ چاہے دے چاہے نہ دے۔ تیسرا وہ شخص ہے جو سکوت اور خاموشی کے ساتھ خطبے میں بیٹھتا ہے کسی مسلمان کی گردن پھلانگ کر مسجد میں آگے نہیں بڑھتا نہ کسی کو ایذاء دیتا ہے اس کا جمعہ اگلے جمعہ تک گناہوں کا کفارہ ہوجاتا ہے بلکہ اور تین دن تک کے گناہوں کا بھی اس لئے کہ وعدہ الٰہی میں ہے آیت (مَنْ جَاۗءَ بالْحَسَنَةِ فَلَهٗ عَشْرُ اَمْثَالِهَا ۚ وَمَنْ جَاۗءَ بالسَّيِّئَةِ فَلَا يُجْزٰٓى اِلَّا مِثْلَهَا وَهُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ) 6۔ الانعام :160) جو نیکی کرے اسے دس گنا اجر ملتا ہے۔ طبرانی میں ہے جمعہ جمعہ تک بلکہ اور تین دن تک کفارہ ہے اس لئے کہ اللہ کا فرمان ہے نیکی کرنے والے کو اس جیسی دس نیکیوں کا ثواب ملتا ہے۔ فرماتے ہیں جو شخص ہر مہینے میں تین روزے رکھے اسے سال بھر کے روزوں کا یعنی تمام عمر سارا زمانہ روزے سے رہنے کا ثواب دس روزوں کا ملتا ہے (ترمذی) ابن مسعود ؓ اور سلف کی ایک جماعت سے منقول ہے کہ اس آیت میں حسنہ سے مراد کلمہ توحید ہے اور سیئہ سے مراد شرک ہے، ایک مرفوع حدیث میں بھی یہ ہے لیکن اس کی کوئی صحیح سند میری نظر سے نہیں گذری۔ اس آیت کی تفسیر میں اور بھی بہت سی حدیثیں اور آثار ہیں لیکن انشاء اللہ یہ ہی کافی ہیں۔
161
View Single
قُلۡ إِنَّنِي هَدَىٰنِي رَبِّيٓ إِلَىٰ صِرَٰطٖ مُّسۡتَقِيمٖ دِينٗا قِيَمٗا مِّلَّةَ إِبۡرَٰهِيمَ حَنِيفٗاۚ وَمَا كَانَ مِنَ ٱلۡمُشۡرِكِينَ
Say, “Indeed my Lord has guided me to the Straight Path; the right religion, (of) the community of Ibrahim who was free from all falsehood; and was not a polytheist.”
فرما دیجئے: بیشک مجھے میرے رب نے سیدھے راستے کی ہدایت فرما دی ہے، (یہ) مضبوط دین (کی راہ ہے اور یہی) اللہ کی طرف یک سو اور ہر باطل سے جدا ابراہیم (علیہ السلام) کی ملت ہے، اور وہ مشرکوں میں سے نہ تھے
Tafsir Ibn Kathir
Islam is the Straight Path
Allah commands His Prophet , the chief of the Messengers, to convey the news of being guided to Allah's straight path. This path is neither wicked, nor deviant,
دِينًا قِيَمًا
(a right religion...) that is, established on firm grounds,
مِلَّةَ إِبْرَهِيمَ حَنِيفًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ
(The religion of Ibrahim, Hanifan and he was not of the Mushrikin.) Allah said in similar Ayat,
وَمَن يَرْغَبُ عَن مِّلَّةِ إِبْرَهِيمَ إِلاَّ مَن سَفِهَ نَفْسَهُ
(And who turns away from the religion of Ibrahim except him who deludes himself) 2:130, and,
وَجَـهِدُوا فِى اللَّهِ حَقَّ جِهَـدِهِ هُوَ اجْتَبَـكُمْ وَمَا جَعَلَ عَلَيْكمْ فِى الدِّينِ مِنْ حَرَجٍ مِّلَّةَ أَبِيكُمْ إِبْرَهِيمَ
(And strive hard in Allah's cause as you ought to strive. He has chosen you, and has not laid upon you in religion any hardship: it is the religion of your father Ibrahim.) 22:78, and,
إِنَّ إِبْرَهِيمَ كَانَ أُمَّةً قَـنِتًا لِلَّهِ حَنِيفًا وَلَمْ يَكُ مِنَ الْمُشْرِكِينَ - شَاكِراً لانْعُمِهِ اجْتَبَـهُ وَهَدَاهُ إِلَى صِرَطٍ مُّسْتَقِيمٍ - وَءاتَيْنَـهُ فِى الْدُّنْيَا حَسَنَةً وَإِنَّهُ فِى الاٌّخِرَةِ لَمِنَ الصَّـلِحِينَ - ثُمَّ أَوْحَيْنَآ إِلَيْكَ أَنِ اتَّبِعْ مِلَّةَ إِبْرَهِيمَ حَنِيفًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ
(Verily, Ibrahim was an Ummah (or a nation), obedient to Allah, a Hanif, and he was not one of the Mushrikin. (He was) thankful for His (Allah's) favors. He (Allah) chose him (as an intimate friend) and guided him to a straight path. And We gave him good in this world, and in the Hereafter he shall be of the righteous. Then, We have sent the revelation to you (saying): "Follow the religion of Ibrahim, (he was a) Hanif, and he was not of the Mushrikin") 16:120-123. Ordering the Prophet to follow the religion of Ibrahim, the Hanifiyyah, does not mean that Prophet Ibrahim reached more perfection in it than our Prophet . Rather, our Prophet perfectly established the religion and it was completed for him; and none before him reached this level of perfection. This is why he is the Final Prophet, the chief of all the Children of Adam who holds the station of praise and glory, the honor of intercession on the Day of Resurrection. All creation (on that Day) will seek him, even Ibrahim the friend of Allah, peace be upon him to request the beginning of Judgement. Imam Ahmad recorded that Ibn `Abbas said, "The Messenger of Allah ﷺ was asked, `Which religion is the best with Allah, the Exalted' He said,
«الْحَنِيفِيَّةُ السَّمْحَة»
(Al-Hanifiyyah As-Samhah (the easy monotheism))"
The Command for Sincerity in Worship
Allah said next,
قُلْ إِنَّ صَلاَتِى وَنُسُكِى وَمَحْيَاىَ وَمَمَاتِى للَّهِ رَبِّ الْعَـلَمِينَ
(Say: "Verily, my Salah, my sacrifice, my living, and my dying are for Allah, the Lord of the all that exists.") Allah commands the Prophet to inform the idolators who worship other than Allah and sacrifice to something other than Him, that he opposes them in all this, for his prayer is for Allah, and his rituals are in His Name alone, without partners. Allah said in a similar statement,
فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ
(Therefore turn in prayer to your Lord and sacrifice.) 108:2, meaning, make your prayer and sacrifice for Allah alone. As for the idolators, they used to worship the idols and sacrifice to them, so Allah commanded the Prophet to defy them and contradict their practices. Allah, the Exalted, commanded him to dedicate his intention and heart to being sincere for Him alone. Mujahid commented,
إِنَّ صَلاَتِى وَنُسُكِى
(Verily, my prayer and my Nusuk...) refers to sacrificing during Hajj and `Umrah.
Islam is the Religion of all Prophets
The Ayah,
وَأَنَاْ أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ
(and I am the first of the Muslims.) means, from this Ummah, according to Qatadah. This is a sound meaning, because all Prophets before our Prophet were calling to Islam, which commands worshipping Allah alone without partners. Allah said in another Ayah,
وَمَآ أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ مِن رَّسُولٍ إِلاَّ نُوحِى إِلَيْهِ أَنَّهُ لا إِلَـهَ إِلاَّ أَنَاْ فَاعْبُدُونِ
(And We did not send any Messenger before you but We revealed to him (saying): "None has the right to be worshipped but I, so worship Me.") 21:25 Allah informed us that Nuh said to his people,
فَإِن تَوَلَّيْتُمْ فَمَا سَأَلْتُكُمْ مِّنْ أَجْرٍ إِنْ أَجْرِىَ إِلاَّ عَلَى اللَّهِ وَأُمِرْتُ أَنْ أَكُونَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ
(But if you turn away, then no reward have I asked of you, my reward is only from Allah, and I have been commanded to be of the Muslims.) 10:72 Allah said,
وَمَن يَرْغَبُ عَن مِّلَّةِ إِبْرَهِيمَ إِلاَّ مَن سَفِهَ نَفْسَهُ وَلَقَدِ اصْطَفَيْنَـهُ فِي الدُّنْيَا وَإِنَّهُ فِى الاٌّخِرَةِ لَمِنَ الصَّـلِحِينَ - إِذْ قَالَ لَهُ رَبُّهُ أَسْلِمْ قَالَ أَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعَـلَمِينَ - وَوَصَّى بِهَآ إِبْرَهِيمُ بَنِيهِ وَيَعْقُوبُ يَـبَنِىَّ إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَى لَكُمُ الدِّينَ فَلاَ تَمُوتُنَّ إَلاَّ وَأَنتُم مُّسْلِمُونَ
(And who turns away from the religion of Ibrahim except him who deludes himself Truly, We chose him in this world and verily, in the Hereafter he will be among the righteous. When his Lord said to him, "Submit (i.e. be a Muslim)!" He said, "I have submitted myself (as a Muslim) to the Lord of the all that exists." And this was enjoined by Ibrahim upon his sons and by Ya`qub (saying), "O my sons! Allah has chosen for you the (true) religion, then die not except as Muslims.")2:130-132. Yusuf, peace be upon him, said,
رَبِّ قَدْ آتَيْتَنِى مِنَ الْمُلْكِ وَعَلَّمْتَنِى مِن تَأْوِيلِ الاٌّحَادِيثِ فَاطِرَ السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ أَنتَ وَلِىِّ فِى الدُّنُيَا وَالاٌّخِرَةِ تَوَفَّنِى مُسْلِمًا وَأَلْحِقْنِى بِالصَّـلِحِينَ
(My Lord! You have indeed bestowed on me of the sovereignty, and taught me something of the interpretation of dreams -- the (Only) Creator of the heavens and the earth! You are my Wali (Protector) in this world and in the Hereafter. Cause me to die as a Muslim, and join me with the righteous.) 12:101 Musa said,
وَقَالَ مُوسَى يقَوْمِ إِن كُنتُمْ ءامَنْتُمْ بِاللَّهِ فَعَلَيْهِ تَوَكَّلُواْ إِن كُنْتُم مُّسْلِمِينَ - فَقَالُواْ عَلَى اللَّهِ تَوَكَّلْنَا رَبَّنَا لاَ تَجْعَلْنَا فِتْنَةً لِّلْقَوْمِ الظَّـلِمِينَ - وَنَجِّنَا بِرَحْمَتِكَ مِنَ الْقَوْمِ الْكَـفِرِينَ
(And Musa said: "O my people! If you have believed in Allah, then put your trust in Him if you are Muslims." They said: "In Allah we put our trust. Our Lord! Make us not a trial for the folk who are wrongdoers. And save us by your mercy from the disbelieving folk") 10:84-86 Allah said,
إِنَّآ أَنزَلْنَا التَّوْرَاةَ فِيهَا هُدًى وَنُورٌ يَحْكُمُ بِهَا النَّبِيُّونَ الَّذِينَ أَسْلَمُواْ لِلَّذِينَ هَادُواْ وَالرَّبَّانِيُّونَ وَالاٌّحْبَارُ
(Verily, We did send down the Tawrah, therein was guidance and light, by which the Prophets, who submitted themselves to Allah's will, judged for the Jews. And the rabbis and the priests did also.) 5:44, and,
وَإِذْ أَوْحَيْتُ إِلَى الْحَوَارِيِّينَ أَنْ ءَامِنُواْ بِى وَبِرَسُولِى قَالُواْ ءَامَنَّا وَاشْهَدْ بِأَنَّنَا مُسْلِمُونَ
(And when I (Allah) inspired Al-Hawariyyun (the disciples) of `Isa to believe in Me and My Messenger, they said: "We believe. And bear witness that we are Muslims.") 5:111 Therefore, Allah states that He sent all His Messengers with the religion of Islam, although their respective laws differed from each other, and some of them abrogated others. Later on, the Law sent with Muhammad ﷺ abrogated all previous laws and nothing will ever abrogate it, forever. Certainly, Muhammad's ﷺ Law will always be apparent and its flags raised high, until the Day of Resurrection. The Prophet said, C
«نَحْنُ مَعَاشِرُ الْأَنْبِيَاءِ أَوْلَادُ عَلَّاتٍ دِينُنَا وَاحِد»
(We, the Prophets, are half brothers, but our religion is one.) Half brothers, mentioned in the Hadith, refers to the brothers to one father, but different mothers. Therefore, the religion, representing the one father, is one; worshipping Allah alone without partners, even though the laws which are like the different mothers in this parable, are different. Allah the Most High knows best. Imam Ahmad recorded that `Ali said that when the Messenger of Allah ﷺ used to start the prayer with Takbir saying, "Allahu Akbar" (Allah is the Great) he would then supplicate,
«وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ، إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي للهِ رَبِّ الْعَالَمِين»
(I have directed my face towards He Who has created the heavens and earth, Hanifan and I am not among the Mushrikin. Certainly, my prayer, sacrifice, living and dying are all for Allah, Lord of the worlds.)
«اللَّهُمَّ أَنْتَ الْمَلِكُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، أَنْتَ رَبِّي وَأَنَا عَبْدُكَ ظَلَمْتُ نَفْسِي وَاعْتَرَفْتُ بِذَنْبِي فَاغْفِرْ لِي ذُنُوبِي جَمِيعًا لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ، وَاهْدِنِي لِأَحْسَنِ الْأَخْلَاقِ لَا يَهْدِي لِأَحْسَنِهَا إِلَّا أَنْتَ، وَاصْرِفْ عَنِّي سَيِّئَهَا لَا يَصْرِفُ عَنِّي سَيِّئَهَا إِلَّا أَنْتَ، تَبَارَكْتَ وَتَعَالَيْتَ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْك»
(O Allah! You are the King, there is no deity worthy of worship except You. You are my Lord and I am Your servant. I have committed wrong against myself and admitted to my error, so forgive me all my sins. Verily, You, only You forgive the sins. (O Allah!) Direct me to the best conduct, for none except You directs to the best conduct. Divert me from the worst conduct, for only You divert from the worst conduct. Glorified and Exalted You are. I seek Your forgiveness and repent to You.) This Hadith, which was also recorded by Muslim in the Sahih, continues and mentions the Prophet's supplication in his bowing, prostrating and final sitting positions.
بیوقوف وہی ہے جو دین حنیف سے منہ موڑ لے ورنہ دین اسلام قدیمی ہے سید المرسلین ﷺ کو حکم ہو رہا ہے کہ آپ پر اللہ کی جو نعمت ہے اس کا اعلان کردیں کہ اس رب نے آپ کو صراط مستقیم دکھا دی ہے جس میں کوئی کجی یا کمی نہیں وہ ثابت اور سالم سیدھی اور ستھری راہ ہے۔ ابراہیم حنیف کی ملت ہے جو مشرکوں میں نہ تھے اس دین سے وہی ہٹ جاتا ہے جو محض بیوقوف ہو اور آیت میں ہے اللہ کی راہ میں پورا جہاد کرو وہی اللہ ہے جس نے تمہیں برگزیدہ کیا اور کشادہ دین عطا فرمایا جو تمہارے باپ ابراہیم کا دین ہے، ابراہیم ؑ اللہ کے سچے فرمانبردار تھے مشرک نہ تھے اللہ کی نعمتوں کے شکر گزار تھے اللہ کے پسندیدہ تھے راہ مستقیم کی ہدایت پائے ہوئے تھے دنیا میں بھی ہم نے انہیں بھلائی دی تھی اور میدان قیامت میں بھی وہ نیک کار لوگوں میں ہوں گے، پھر ہم نے تیری طرف وحی کی کہ ملت ابراہیم حنیف کی پیروی کر کہ وہ مشرکین میں نہ تھا یہ یاد رہے کہ حضور کو آپ کی ملت کی پیروی کا حکم ہونے سے یہ لازم نہیں آتا کہ خلیل اللہ آپ سے افضل ہیں اس لئے کہ حضور کا قیام اس پر پورا ہوا اور یہ دین آپ ہی کے ہاتھوں کمال کو پہنچا، اسی لئے حدیث میں ہے کہ میں نبیوں کا ختم کرنے والا ہوں اور تمام اولاد آدم کا علی الاطلاق سردار ہوں اور مقام محمود والا ہوں جس سے ساری مخلوق کو امید ہوگی یہاں تک کہ خلیل اللہ ؑ کو بھی۔ ابن مردویہ میں ہے کہ حضور صبح کے وقت فرمایا کرتے تھے حدیث (اصبحنا علی ملتہ الاسلام وکلمتہ الاخلاص و دین نبینا و ملتہ ابراہیم حنیفا و ما کان من المشرکین) یعنی ہم نے ملت اسلامیہ پر کلمہ اخلاص پر ہمارے نبی کے دین پر اور ملت ابراہیم حنیف پر صبح کی ہے جو مشرک نہ تھےحضور ﷺ سے سوال ہوا کہ سب سے زیادہ محبوب دین اللہ کے نزدیک کونسا ہے ؟ آپ نے فرمایا وہ جو یکسوئی اور آسانی والا ہے، مسند کی حدیث میں ہے کہ جس دن حضرت عائشہ نے رسول اللہ ﷺ کے مونڈھوں پر منہ رکھ کر حبشیوں کے جنگی کرتب ملاحظہ فرمائے تھے اس دن آپ نے یہ بھی فرمایا تھا کہ یہ اس لئے کہ یہودیہ جان لیں کہ ہمارے دین میں کشادگی ہے اور میں یکسوئی والا آسانی والا دین دے کر بھیجا گیا ہوں اور حکم ہوتا ہے کہ آپ مشرکوں سے اپنا مخالف ہونا بھی بیان فرما دیں وہ اللہ کے سوا دوسروں کی عبادت کرتے ہیں دوسروں کے نام پر ذبیحہ کرتے ہیں میں صرف اپنے رب کی عبادت کرتا ہوں اسی کے نام پر ذبیح کرتا ہوں چناچہ بقرہ عید کے دن حضور نے جب دو بھیڑے ذبح کئے تو انی وجھت الخ، کے بعد یہی آیت پڑھی، آپ ہی اس امت میں اول مسلم تھے اس لئے کہ یوں تو ہر نبی اور ان کی ماننے والی امت مسلم ہی تھی، سب کی دعوت اسلام ہی کی تھی سب اللہ کی خالص عبادت کرتے رہے جیسے فرمان ہے آیت (وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِيْٓ اِلَيْهِمْ فَسْـــَٔـلُوْٓا اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ) 43۔ النحل :16) یعنی تجھ سے پہلے بھی جتنے رسول ہم نے بھیجے سب کی طرف وحی کی کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں تم سب میری ہی عبادت کرو۔ حضرت نوح ؑ کا فرمان قرآن میں موجود ہے کہ آپ نے اپنی قوم سے فرمایا کہ میں تم سے کوئی اجرت طلب نہیں کرتا میرا اجر تو میرے رب کے ذمہ ہے مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں مسلمانوں میں رہوں اور آیت میں ہے (وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِيْٓ اِلَيْهِمْ فَسْـــَٔـلُوْٓا اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ) 43۔ النحل :16) ملت ابراہیمی سے وہی ہٹتا ہے جس کی قسمت پھوٹ گئی ہو، وہ دنیا میں بھی برگزیدہ رب تھا اور آخرت میں بھی صالح لوگوں میں سے ہے اسے جب اس کے رب نے فرمایا تو تابعدار بن جا اس نے جواب دیا کہ میں رب العالمین کا فرمانبردار ہوں اسی کی وصیت ابراہیم نے اپنے بچوں کو کی تھی اور یعقوب نے اپنی اولاد کو کہ اے میرے بچو اللہ نے تمہارے لئے دین کو پسند فرما لیا ہے۔ پس تم اسلام ہی پر مرنا۔ حضرت یوسف ؑ کی آخری دعا میں ہے یا اللہ تو نے مجھے ملک عطا فرمایا خواب کی تعبیر سکھائی آسمان و زمین کا ابتداء میں پیدا کرنے والا تو ہی ہے تو ہی دنیا اور آخرت میں میرا ولی ہے مجھے اسلام کی حالت میں فوت کرنا اور نیک کاروں میں ملا دینا۔ حضرت موسیٰ ؑ نے اپنی قوم سے فرمایا تھا میرے بھائیو اگر تم ایماندار ہو اگر تم مسلم ہو تو تمہیں اللہ ہی پر بھروسہ کرنا چاہئے سب نے جواب دیا کہ ہم نے اللہ ہی پر توکل رکھا ہے، اللہ ! ہمیں ظالموں کے لئے فتنہ نہ بنا اور ہمیں اپنی رحمت کے ساتھ ان کافروں سے بچا لے اور آیت میں فرمان باری ہے (اِنَّآ اَنْزَلْنَا التَّوْرٰىةَ فِيْهَا هُدًى وَّنُوْرٌ) 5۔ المآئدہ :44) ہم نے تورات اتاری جس میں ہدایت و نور ہے جس کے مطابق وہ انبیاء حکم کرتے ہیں جو مسلم ہیں یہودیوں کو بھی اور ربانیوں کو بھی اور احبار کو بھی اور فرمان ہے آیت (وَاِذْ اَوْحَيْتُ اِلَى الْحَوَارِيّٖنَ اَنْ اٰمِنُوْا بِيْ وَبِرَسُوْلِيْ ۚ قَالُوْٓا اٰمَنَّا وَاشْهَدْ بِاَنَّنَا مُسْلِمُوْنَ) 5۔ المآئدہ :111) میں نے حواریوں کی طرف وحی کی کہ مجھ پر اور میرے رسول پر ایمان لاؤ سب نے کہا ہم نے ایمان قبول کیا ہمارے مسلمان ہونے پر تم گواہ رہو۔ یہ آیتیں صاف بتلا رہی ہیں کہ اللہ نے اپنے نبیوں کو اسلام کے ساتھ ہی بھیجا ہے ہاں یہ اور بات ہے کہ وہ اپنی اپنی مخصوص شریعتوں کے ساتھ مختص تھے احکام کا ادل بدل ہوتا رہتا تھا یہاں تک کہ حضور کے دین کے ساتھ پہلے کے کل دین منسوخ ہوگئے اور نہ منسوخ ہونے والا نہ بدلنے والا ہمیشہ رہنے والا دین اسلام آپ کو ملا جس پر ایک جماعت قیامت تک قائم رہے گی اور اس پاک دین کا جھنڈا ابدالآباد تک لہراتا رہے گا۔ آنحضرت ﷺ کا فرمان ہے کہ ہم انبیاء کی جماعت علاقی بھائی ہیں ہم سب کا دین ایک ہی ہے، بھائیوں کی ایک قسم تو علاقی ہے جن کا باپ ایک ہو مائیں الگ الگ ہوں ایک قسم اخیافی جن کی ماں ایک ہو اور باپ جدا گانہ ہوں اور ایک عینی بھائی ہیں جن کا باپ بھی ایک ہو اور ماں بھی ایک ہو۔ پس کل انبیاء کا دین ایک ہے یعنی اللہ وحدہ لا شریک لہ کی عبادت اور شریعت مختلف ہیں بہ اعتبار احکام کے۔ اس لئے انہیں علاتی بھائی فرمایا۔ آنحضرت ﷺ تکبیر اولیٰ کے بعد نماز میں (انی وجھت) اور یہ آیت پڑھ کر پھر یہ پڑھتے (اللھم انت الملک لا الہ الا انت انت ربی وانا عبدک ظلمت نفسی و اعترفت بذنبی فاغفرلی ذنوبی جمیعا لا یغفر الذنوب الا انت واھدنی لا حسن الاخلاق لا یھدی لا حسنھا الا انت واصرف عنی سیئھا لا یصرف عنی سیئھا الا انت تبارکت و تعالیٰت استغفرک واتوب الیک یہ حدیث لمبی ہے اس کے بعد راوی نے رکوع و سجدہ اور تشہد کی دعاؤں کا ذکر کیا ہے (مسلم)
162
View Single
قُلۡ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحۡيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ
Say, “Undoubtedly my prayers and my sacrifices, and my living and my dying are all for Allah, the Lord Of The Creation.”
فرما دیجئے کہ بیشک میری نماز اور میرا حج اور قربانی (سمیت سب بندگی) اور میری زندگی اور میری موت اللہ کے لئے ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے
Tafsir Ibn Kathir
Islam is the Straight Path
Allah commands His Prophet , the chief of the Messengers, to convey the news of being guided to Allah's straight path. This path is neither wicked, nor deviant,
دِينًا قِيَمًا
(a right religion...) that is, established on firm grounds,
مِلَّةَ إِبْرَهِيمَ حَنِيفًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ
(The religion of Ibrahim, Hanifan and he was not of the Mushrikin.) Allah said in similar Ayat,
وَمَن يَرْغَبُ عَن مِّلَّةِ إِبْرَهِيمَ إِلاَّ مَن سَفِهَ نَفْسَهُ
(And who turns away from the religion of Ibrahim except him who deludes himself) 2:130, and,
وَجَـهِدُوا فِى اللَّهِ حَقَّ جِهَـدِهِ هُوَ اجْتَبَـكُمْ وَمَا جَعَلَ عَلَيْكمْ فِى الدِّينِ مِنْ حَرَجٍ مِّلَّةَ أَبِيكُمْ إِبْرَهِيمَ
(And strive hard in Allah's cause as you ought to strive. He has chosen you, and has not laid upon you in religion any hardship: it is the religion of your father Ibrahim.) 22:78, and,
إِنَّ إِبْرَهِيمَ كَانَ أُمَّةً قَـنِتًا لِلَّهِ حَنِيفًا وَلَمْ يَكُ مِنَ الْمُشْرِكِينَ - شَاكِراً لانْعُمِهِ اجْتَبَـهُ وَهَدَاهُ إِلَى صِرَطٍ مُّسْتَقِيمٍ - وَءاتَيْنَـهُ فِى الْدُّنْيَا حَسَنَةً وَإِنَّهُ فِى الاٌّخِرَةِ لَمِنَ الصَّـلِحِينَ - ثُمَّ أَوْحَيْنَآ إِلَيْكَ أَنِ اتَّبِعْ مِلَّةَ إِبْرَهِيمَ حَنِيفًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ
(Verily, Ibrahim was an Ummah (or a nation), obedient to Allah, a Hanif, and he was not one of the Mushrikin. (He was) thankful for His (Allah's) favors. He (Allah) chose him (as an intimate friend) and guided him to a straight path. And We gave him good in this world, and in the Hereafter he shall be of the righteous. Then, We have sent the revelation to you (saying): "Follow the religion of Ibrahim, (he was a) Hanif, and he was not of the Mushrikin") 16:120-123. Ordering the Prophet to follow the religion of Ibrahim, the Hanifiyyah, does not mean that Prophet Ibrahim reached more perfection in it than our Prophet . Rather, our Prophet perfectly established the religion and it was completed for him; and none before him reached this level of perfection. This is why he is the Final Prophet, the chief of all the Children of Adam who holds the station of praise and glory, the honor of intercession on the Day of Resurrection. All creation (on that Day) will seek him, even Ibrahim the friend of Allah, peace be upon him to request the beginning of Judgement. Imam Ahmad recorded that Ibn `Abbas said, "The Messenger of Allah ﷺ was asked, `Which religion is the best with Allah, the Exalted' He said,
«الْحَنِيفِيَّةُ السَّمْحَة»
(Al-Hanifiyyah As-Samhah (the easy monotheism))"
The Command for Sincerity in Worship
Allah said next,
قُلْ إِنَّ صَلاَتِى وَنُسُكِى وَمَحْيَاىَ وَمَمَاتِى للَّهِ رَبِّ الْعَـلَمِينَ
(Say: "Verily, my Salah, my sacrifice, my living, and my dying are for Allah, the Lord of the all that exists.") Allah commands the Prophet to inform the idolators who worship other than Allah and sacrifice to something other than Him, that he opposes them in all this, for his prayer is for Allah, and his rituals are in His Name alone, without partners. Allah said in a similar statement,
فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ
(Therefore turn in prayer to your Lord and sacrifice.) 108:2, meaning, make your prayer and sacrifice for Allah alone. As for the idolators, they used to worship the idols and sacrifice to them, so Allah commanded the Prophet to defy them and contradict their practices. Allah, the Exalted, commanded him to dedicate his intention and heart to being sincere for Him alone. Mujahid commented,
إِنَّ صَلاَتِى وَنُسُكِى
(Verily, my prayer and my Nusuk...) refers to sacrificing during Hajj and `Umrah.
Islam is the Religion of all Prophets
The Ayah,
وَأَنَاْ أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ
(and I am the first of the Muslims.) means, from this Ummah, according to Qatadah. This is a sound meaning, because all Prophets before our Prophet were calling to Islam, which commands worshipping Allah alone without partners. Allah said in another Ayah,
وَمَآ أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ مِن رَّسُولٍ إِلاَّ نُوحِى إِلَيْهِ أَنَّهُ لا إِلَـهَ إِلاَّ أَنَاْ فَاعْبُدُونِ
(And We did not send any Messenger before you but We revealed to him (saying): "None has the right to be worshipped but I, so worship Me.") 21:25 Allah informed us that Nuh said to his people,
فَإِن تَوَلَّيْتُمْ فَمَا سَأَلْتُكُمْ مِّنْ أَجْرٍ إِنْ أَجْرِىَ إِلاَّ عَلَى اللَّهِ وَأُمِرْتُ أَنْ أَكُونَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ
(But if you turn away, then no reward have I asked of you, my reward is only from Allah, and I have been commanded to be of the Muslims.) 10:72 Allah said,
وَمَن يَرْغَبُ عَن مِّلَّةِ إِبْرَهِيمَ إِلاَّ مَن سَفِهَ نَفْسَهُ وَلَقَدِ اصْطَفَيْنَـهُ فِي الدُّنْيَا وَإِنَّهُ فِى الاٌّخِرَةِ لَمِنَ الصَّـلِحِينَ - إِذْ قَالَ لَهُ رَبُّهُ أَسْلِمْ قَالَ أَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعَـلَمِينَ - وَوَصَّى بِهَآ إِبْرَهِيمُ بَنِيهِ وَيَعْقُوبُ يَـبَنِىَّ إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَى لَكُمُ الدِّينَ فَلاَ تَمُوتُنَّ إَلاَّ وَأَنتُم مُّسْلِمُونَ
(And who turns away from the religion of Ibrahim except him who deludes himself Truly, We chose him in this world and verily, in the Hereafter he will be among the righteous. When his Lord said to him, "Submit (i.e. be a Muslim)!" He said, "I have submitted myself (as a Muslim) to the Lord of the all that exists." And this was enjoined by Ibrahim upon his sons and by Ya`qub (saying), "O my sons! Allah has chosen for you the (true) religion, then die not except as Muslims.")2:130-132. Yusuf, peace be upon him, said,
رَبِّ قَدْ آتَيْتَنِى مِنَ الْمُلْكِ وَعَلَّمْتَنِى مِن تَأْوِيلِ الاٌّحَادِيثِ فَاطِرَ السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ أَنتَ وَلِىِّ فِى الدُّنُيَا وَالاٌّخِرَةِ تَوَفَّنِى مُسْلِمًا وَأَلْحِقْنِى بِالصَّـلِحِينَ
(My Lord! You have indeed bestowed on me of the sovereignty, and taught me something of the interpretation of dreams -- the (Only) Creator of the heavens and the earth! You are my Wali (Protector) in this world and in the Hereafter. Cause me to die as a Muslim, and join me with the righteous.) 12:101 Musa said,
وَقَالَ مُوسَى يقَوْمِ إِن كُنتُمْ ءامَنْتُمْ بِاللَّهِ فَعَلَيْهِ تَوَكَّلُواْ إِن كُنْتُم مُّسْلِمِينَ - فَقَالُواْ عَلَى اللَّهِ تَوَكَّلْنَا رَبَّنَا لاَ تَجْعَلْنَا فِتْنَةً لِّلْقَوْمِ الظَّـلِمِينَ - وَنَجِّنَا بِرَحْمَتِكَ مِنَ الْقَوْمِ الْكَـفِرِينَ
(And Musa said: "O my people! If you have believed in Allah, then put your trust in Him if you are Muslims." They said: "In Allah we put our trust. Our Lord! Make us not a trial for the folk who are wrongdoers. And save us by your mercy from the disbelieving folk") 10:84-86 Allah said,
إِنَّآ أَنزَلْنَا التَّوْرَاةَ فِيهَا هُدًى وَنُورٌ يَحْكُمُ بِهَا النَّبِيُّونَ الَّذِينَ أَسْلَمُواْ لِلَّذِينَ هَادُواْ وَالرَّبَّانِيُّونَ وَالاٌّحْبَارُ
(Verily, We did send down the Tawrah, therein was guidance and light, by which the Prophets, who submitted themselves to Allah's will, judged for the Jews. And the rabbis and the priests did also.) 5:44, and,
وَإِذْ أَوْحَيْتُ إِلَى الْحَوَارِيِّينَ أَنْ ءَامِنُواْ بِى وَبِرَسُولِى قَالُواْ ءَامَنَّا وَاشْهَدْ بِأَنَّنَا مُسْلِمُونَ
(And when I (Allah) inspired Al-Hawariyyun (the disciples) of `Isa to believe in Me and My Messenger, they said: "We believe. And bear witness that we are Muslims.") 5:111 Therefore, Allah states that He sent all His Messengers with the religion of Islam, although their respective laws differed from each other, and some of them abrogated others. Later on, the Law sent with Muhammad ﷺ abrogated all previous laws and nothing will ever abrogate it, forever. Certainly, Muhammad's ﷺ Law will always be apparent and its flags raised high, until the Day of Resurrection. The Prophet said, C
«نَحْنُ مَعَاشِرُ الْأَنْبِيَاءِ أَوْلَادُ عَلَّاتٍ دِينُنَا وَاحِد»
(We, the Prophets, are half brothers, but our religion is one.) Half brothers, mentioned in the Hadith, refers to the brothers to one father, but different mothers. Therefore, the religion, representing the one father, is one; worshipping Allah alone without partners, even though the laws which are like the different mothers in this parable, are different. Allah the Most High knows best. Imam Ahmad recorded that `Ali said that when the Messenger of Allah ﷺ used to start the prayer with Takbir saying, "Allahu Akbar" (Allah is the Great) he would then supplicate,
«وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ، إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي للهِ رَبِّ الْعَالَمِين»
(I have directed my face towards He Who has created the heavens and earth, Hanifan and I am not among the Mushrikin. Certainly, my prayer, sacrifice, living and dying are all for Allah, Lord of the worlds.)
«اللَّهُمَّ أَنْتَ الْمَلِكُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، أَنْتَ رَبِّي وَأَنَا عَبْدُكَ ظَلَمْتُ نَفْسِي وَاعْتَرَفْتُ بِذَنْبِي فَاغْفِرْ لِي ذُنُوبِي جَمِيعًا لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ، وَاهْدِنِي لِأَحْسَنِ الْأَخْلَاقِ لَا يَهْدِي لِأَحْسَنِهَا إِلَّا أَنْتَ، وَاصْرِفْ عَنِّي سَيِّئَهَا لَا يَصْرِفُ عَنِّي سَيِّئَهَا إِلَّا أَنْتَ، تَبَارَكْتَ وَتَعَالَيْتَ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْك»
(O Allah! You are the King, there is no deity worthy of worship except You. You are my Lord and I am Your servant. I have committed wrong against myself and admitted to my error, so forgive me all my sins. Verily, You, only You forgive the sins. (O Allah!) Direct me to the best conduct, for none except You directs to the best conduct. Divert me from the worst conduct, for only You divert from the worst conduct. Glorified and Exalted You are. I seek Your forgiveness and repent to You.) This Hadith, which was also recorded by Muslim in the Sahih, continues and mentions the Prophet's supplication in his bowing, prostrating and final sitting positions.
بیوقوف وہی ہے جو دین حنیف سے منہ موڑ لے ورنہ دین اسلام قدیمی ہے سید المرسلین ﷺ کو حکم ہو رہا ہے کہ آپ پر اللہ کی جو نعمت ہے اس کا اعلان کردیں کہ اس رب نے آپ کو صراط مستقیم دکھا دی ہے جس میں کوئی کجی یا کمی نہیں وہ ثابت اور سالم سیدھی اور ستھری راہ ہے۔ ابراہیم حنیف کی ملت ہے جو مشرکوں میں نہ تھے اس دین سے وہی ہٹ جاتا ہے جو محض بیوقوف ہو اور آیت میں ہے اللہ کی راہ میں پورا جہاد کرو وہی اللہ ہے جس نے تمہیں برگزیدہ کیا اور کشادہ دین عطا فرمایا جو تمہارے باپ ابراہیم کا دین ہے، ابراہیم ؑ اللہ کے سچے فرمانبردار تھے مشرک نہ تھے اللہ کی نعمتوں کے شکر گزار تھے اللہ کے پسندیدہ تھے راہ مستقیم کی ہدایت پائے ہوئے تھے دنیا میں بھی ہم نے انہیں بھلائی دی تھی اور میدان قیامت میں بھی وہ نیک کار لوگوں میں ہوں گے، پھر ہم نے تیری طرف وحی کی کہ ملت ابراہیم حنیف کی پیروی کر کہ وہ مشرکین میں نہ تھا یہ یاد رہے کہ حضور کو آپ کی ملت کی پیروی کا حکم ہونے سے یہ لازم نہیں آتا کہ خلیل اللہ آپ سے افضل ہیں اس لئے کہ حضور کا قیام اس پر پورا ہوا اور یہ دین آپ ہی کے ہاتھوں کمال کو پہنچا، اسی لئے حدیث میں ہے کہ میں نبیوں کا ختم کرنے والا ہوں اور تمام اولاد آدم کا علی الاطلاق سردار ہوں اور مقام محمود والا ہوں جس سے ساری مخلوق کو امید ہوگی یہاں تک کہ خلیل اللہ ؑ کو بھی۔ ابن مردویہ میں ہے کہ حضور صبح کے وقت فرمایا کرتے تھے حدیث (اصبحنا علی ملتہ الاسلام وکلمتہ الاخلاص و دین نبینا و ملتہ ابراہیم حنیفا و ما کان من المشرکین) یعنی ہم نے ملت اسلامیہ پر کلمہ اخلاص پر ہمارے نبی کے دین پر اور ملت ابراہیم حنیف پر صبح کی ہے جو مشرک نہ تھےحضور ﷺ سے سوال ہوا کہ سب سے زیادہ محبوب دین اللہ کے نزدیک کونسا ہے ؟ آپ نے فرمایا وہ جو یکسوئی اور آسانی والا ہے، مسند کی حدیث میں ہے کہ جس دن حضرت عائشہ نے رسول اللہ ﷺ کے مونڈھوں پر منہ رکھ کر حبشیوں کے جنگی کرتب ملاحظہ فرمائے تھے اس دن آپ نے یہ بھی فرمایا تھا کہ یہ اس لئے کہ یہودیہ جان لیں کہ ہمارے دین میں کشادگی ہے اور میں یکسوئی والا آسانی والا دین دے کر بھیجا گیا ہوں اور حکم ہوتا ہے کہ آپ مشرکوں سے اپنا مخالف ہونا بھی بیان فرما دیں وہ اللہ کے سوا دوسروں کی عبادت کرتے ہیں دوسروں کے نام پر ذبیحہ کرتے ہیں میں صرف اپنے رب کی عبادت کرتا ہوں اسی کے نام پر ذبیح کرتا ہوں چناچہ بقرہ عید کے دن حضور نے جب دو بھیڑے ذبح کئے تو انی وجھت الخ، کے بعد یہی آیت پڑھی، آپ ہی اس امت میں اول مسلم تھے اس لئے کہ یوں تو ہر نبی اور ان کی ماننے والی امت مسلم ہی تھی، سب کی دعوت اسلام ہی کی تھی سب اللہ کی خالص عبادت کرتے رہے جیسے فرمان ہے آیت (وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِيْٓ اِلَيْهِمْ فَسْـــَٔـلُوْٓا اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ) 43۔ النحل :16) یعنی تجھ سے پہلے بھی جتنے رسول ہم نے بھیجے سب کی طرف وحی کی کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں تم سب میری ہی عبادت کرو۔ حضرت نوح ؑ کا فرمان قرآن میں موجود ہے کہ آپ نے اپنی قوم سے فرمایا کہ میں تم سے کوئی اجرت طلب نہیں کرتا میرا اجر تو میرے رب کے ذمہ ہے مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں مسلمانوں میں رہوں اور آیت میں ہے (وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِيْٓ اِلَيْهِمْ فَسْـــَٔـلُوْٓا اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ) 43۔ النحل :16) ملت ابراہیمی سے وہی ہٹتا ہے جس کی قسمت پھوٹ گئی ہو، وہ دنیا میں بھی برگزیدہ رب تھا اور آخرت میں بھی صالح لوگوں میں سے ہے اسے جب اس کے رب نے فرمایا تو تابعدار بن جا اس نے جواب دیا کہ میں رب العالمین کا فرمانبردار ہوں اسی کی وصیت ابراہیم نے اپنے بچوں کو کی تھی اور یعقوب نے اپنی اولاد کو کہ اے میرے بچو اللہ نے تمہارے لئے دین کو پسند فرما لیا ہے۔ پس تم اسلام ہی پر مرنا۔ حضرت یوسف ؑ کی آخری دعا میں ہے یا اللہ تو نے مجھے ملک عطا فرمایا خواب کی تعبیر سکھائی آسمان و زمین کا ابتداء میں پیدا کرنے والا تو ہی ہے تو ہی دنیا اور آخرت میں میرا ولی ہے مجھے اسلام کی حالت میں فوت کرنا اور نیک کاروں میں ملا دینا۔ حضرت موسیٰ ؑ نے اپنی قوم سے فرمایا تھا میرے بھائیو اگر تم ایماندار ہو اگر تم مسلم ہو تو تمہیں اللہ ہی پر بھروسہ کرنا چاہئے سب نے جواب دیا کہ ہم نے اللہ ہی پر توکل رکھا ہے، اللہ ! ہمیں ظالموں کے لئے فتنہ نہ بنا اور ہمیں اپنی رحمت کے ساتھ ان کافروں سے بچا لے اور آیت میں فرمان باری ہے (اِنَّآ اَنْزَلْنَا التَّوْرٰىةَ فِيْهَا هُدًى وَّنُوْرٌ) 5۔ المآئدہ :44) ہم نے تورات اتاری جس میں ہدایت و نور ہے جس کے مطابق وہ انبیاء حکم کرتے ہیں جو مسلم ہیں یہودیوں کو بھی اور ربانیوں کو بھی اور احبار کو بھی اور فرمان ہے آیت (وَاِذْ اَوْحَيْتُ اِلَى الْحَوَارِيّٖنَ اَنْ اٰمِنُوْا بِيْ وَبِرَسُوْلِيْ ۚ قَالُوْٓا اٰمَنَّا وَاشْهَدْ بِاَنَّنَا مُسْلِمُوْنَ) 5۔ المآئدہ :111) میں نے حواریوں کی طرف وحی کی کہ مجھ پر اور میرے رسول پر ایمان لاؤ سب نے کہا ہم نے ایمان قبول کیا ہمارے مسلمان ہونے پر تم گواہ رہو۔ یہ آیتیں صاف بتلا رہی ہیں کہ اللہ نے اپنے نبیوں کو اسلام کے ساتھ ہی بھیجا ہے ہاں یہ اور بات ہے کہ وہ اپنی اپنی مخصوص شریعتوں کے ساتھ مختص تھے احکام کا ادل بدل ہوتا رہتا تھا یہاں تک کہ حضور کے دین کے ساتھ پہلے کے کل دین منسوخ ہوگئے اور نہ منسوخ ہونے والا نہ بدلنے والا ہمیشہ رہنے والا دین اسلام آپ کو ملا جس پر ایک جماعت قیامت تک قائم رہے گی اور اس پاک دین کا جھنڈا ابدالآباد تک لہراتا رہے گا۔ آنحضرت ﷺ کا فرمان ہے کہ ہم انبیاء کی جماعت علاقی بھائی ہیں ہم سب کا دین ایک ہی ہے، بھائیوں کی ایک قسم تو علاقی ہے جن کا باپ ایک ہو مائیں الگ الگ ہوں ایک قسم اخیافی جن کی ماں ایک ہو اور باپ جدا گانہ ہوں اور ایک عینی بھائی ہیں جن کا باپ بھی ایک ہو اور ماں بھی ایک ہو۔ پس کل انبیاء کا دین ایک ہے یعنی اللہ وحدہ لا شریک لہ کی عبادت اور شریعت مختلف ہیں بہ اعتبار احکام کے۔ اس لئے انہیں علاتی بھائی فرمایا۔ آنحضرت ﷺ تکبیر اولیٰ کے بعد نماز میں (انی وجھت) اور یہ آیت پڑھ کر پھر یہ پڑھتے (اللھم انت الملک لا الہ الا انت انت ربی وانا عبدک ظلمت نفسی و اعترفت بذنبی فاغفرلی ذنوبی جمیعا لا یغفر الذنوب الا انت واھدنی لا حسن الاخلاق لا یھدی لا حسنھا الا انت واصرف عنی سیئھا لا یصرف عنی سیئھا الا انت تبارکت و تعالیٰت استغفرک واتوب الیک یہ حدیث لمبی ہے اس کے بعد راوی نے رکوع و سجدہ اور تشہد کی دعاؤں کا ذکر کیا ہے (مسلم)
163
View Single
لَا شَرِيكَ لَهُۥۖ وَبِذَٰلِكَ أُمِرۡتُ وَأَنَا۠ أَوَّلُ ٱلۡمُسۡلِمِينَ
“He has no partner; this is what I have been commanded, and I am the first Muslim.”
اس کا کوئی شریک نہیں اور اسی کا مجھے حکم دیا گیا ہے اور میں (جمیع مخلوقات میں) سب سے پہلا مسلمان ہوں
Tafsir Ibn Kathir
Islam is the Straight Path
Allah commands His Prophet , the chief of the Messengers, to convey the news of being guided to Allah's straight path. This path is neither wicked, nor deviant,
دِينًا قِيَمًا
(a right religion...) that is, established on firm grounds,
مِلَّةَ إِبْرَهِيمَ حَنِيفًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ
(The religion of Ibrahim, Hanifan and he was not of the Mushrikin.) Allah said in similar Ayat,
وَمَن يَرْغَبُ عَن مِّلَّةِ إِبْرَهِيمَ إِلاَّ مَن سَفِهَ نَفْسَهُ
(And who turns away from the religion of Ibrahim except him who deludes himself) 2:130, and,
وَجَـهِدُوا فِى اللَّهِ حَقَّ جِهَـدِهِ هُوَ اجْتَبَـكُمْ وَمَا جَعَلَ عَلَيْكمْ فِى الدِّينِ مِنْ حَرَجٍ مِّلَّةَ أَبِيكُمْ إِبْرَهِيمَ
(And strive hard in Allah's cause as you ought to strive. He has chosen you, and has not laid upon you in religion any hardship: it is the religion of your father Ibrahim.) 22:78, and,
إِنَّ إِبْرَهِيمَ كَانَ أُمَّةً قَـنِتًا لِلَّهِ حَنِيفًا وَلَمْ يَكُ مِنَ الْمُشْرِكِينَ - شَاكِراً لانْعُمِهِ اجْتَبَـهُ وَهَدَاهُ إِلَى صِرَطٍ مُّسْتَقِيمٍ - وَءاتَيْنَـهُ فِى الْدُّنْيَا حَسَنَةً وَإِنَّهُ فِى الاٌّخِرَةِ لَمِنَ الصَّـلِحِينَ - ثُمَّ أَوْحَيْنَآ إِلَيْكَ أَنِ اتَّبِعْ مِلَّةَ إِبْرَهِيمَ حَنِيفًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ
(Verily, Ibrahim was an Ummah (or a nation), obedient to Allah, a Hanif, and he was not one of the Mushrikin. (He was) thankful for His (Allah's) favors. He (Allah) chose him (as an intimate friend) and guided him to a straight path. And We gave him good in this world, and in the Hereafter he shall be of the righteous. Then, We have sent the revelation to you (saying): "Follow the religion of Ibrahim, (he was a) Hanif, and he was not of the Mushrikin") 16:120-123. Ordering the Prophet to follow the religion of Ibrahim, the Hanifiyyah, does not mean that Prophet Ibrahim reached more perfection in it than our Prophet . Rather, our Prophet perfectly established the religion and it was completed for him; and none before him reached this level of perfection. This is why he is the Final Prophet, the chief of all the Children of Adam who holds the station of praise and glory, the honor of intercession on the Day of Resurrection. All creation (on that Day) will seek him, even Ibrahim the friend of Allah, peace be upon him to request the beginning of Judgement. Imam Ahmad recorded that Ibn `Abbas said, "The Messenger of Allah ﷺ was asked, `Which religion is the best with Allah, the Exalted' He said,
«الْحَنِيفِيَّةُ السَّمْحَة»
(Al-Hanifiyyah As-Samhah (the easy monotheism))"
The Command for Sincerity in Worship
Allah said next,
قُلْ إِنَّ صَلاَتِى وَنُسُكِى وَمَحْيَاىَ وَمَمَاتِى للَّهِ رَبِّ الْعَـلَمِينَ
(Say: "Verily, my Salah, my sacrifice, my living, and my dying are for Allah, the Lord of the all that exists.") Allah commands the Prophet to inform the idolators who worship other than Allah and sacrifice to something other than Him, that he opposes them in all this, for his prayer is for Allah, and his rituals are in His Name alone, without partners. Allah said in a similar statement,
فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ
(Therefore turn in prayer to your Lord and sacrifice.) 108:2, meaning, make your prayer and sacrifice for Allah alone. As for the idolators, they used to worship the idols and sacrifice to them, so Allah commanded the Prophet to defy them and contradict their practices. Allah, the Exalted, commanded him to dedicate his intention and heart to being sincere for Him alone. Mujahid commented,
إِنَّ صَلاَتِى وَنُسُكِى
(Verily, my prayer and my Nusuk...) refers to sacrificing during Hajj and `Umrah.
Islam is the Religion of all Prophets
The Ayah,
وَأَنَاْ أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ
(and I am the first of the Muslims.) means, from this Ummah, according to Qatadah. This is a sound meaning, because all Prophets before our Prophet were calling to Islam, which commands worshipping Allah alone without partners. Allah said in another Ayah,
وَمَآ أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ مِن رَّسُولٍ إِلاَّ نُوحِى إِلَيْهِ أَنَّهُ لا إِلَـهَ إِلاَّ أَنَاْ فَاعْبُدُونِ
(And We did not send any Messenger before you but We revealed to him (saying): "None has the right to be worshipped but I, so worship Me.") 21:25 Allah informed us that Nuh said to his people,
فَإِن تَوَلَّيْتُمْ فَمَا سَأَلْتُكُمْ مِّنْ أَجْرٍ إِنْ أَجْرِىَ إِلاَّ عَلَى اللَّهِ وَأُمِرْتُ أَنْ أَكُونَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ
(But if you turn away, then no reward have I asked of you, my reward is only from Allah, and I have been commanded to be of the Muslims.) 10:72 Allah said,
وَمَن يَرْغَبُ عَن مِّلَّةِ إِبْرَهِيمَ إِلاَّ مَن سَفِهَ نَفْسَهُ وَلَقَدِ اصْطَفَيْنَـهُ فِي الدُّنْيَا وَإِنَّهُ فِى الاٌّخِرَةِ لَمِنَ الصَّـلِحِينَ - إِذْ قَالَ لَهُ رَبُّهُ أَسْلِمْ قَالَ أَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعَـلَمِينَ - وَوَصَّى بِهَآ إِبْرَهِيمُ بَنِيهِ وَيَعْقُوبُ يَـبَنِىَّ إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَى لَكُمُ الدِّينَ فَلاَ تَمُوتُنَّ إَلاَّ وَأَنتُم مُّسْلِمُونَ
(And who turns away from the religion of Ibrahim except him who deludes himself Truly, We chose him in this world and verily, in the Hereafter he will be among the righteous. When his Lord said to him, "Submit (i.e. be a Muslim)!" He said, "I have submitted myself (as a Muslim) to the Lord of the all that exists." And this was enjoined by Ibrahim upon his sons and by Ya`qub (saying), "O my sons! Allah has chosen for you the (true) religion, then die not except as Muslims.")2:130-132. Yusuf, peace be upon him, said,
رَبِّ قَدْ آتَيْتَنِى مِنَ الْمُلْكِ وَعَلَّمْتَنِى مِن تَأْوِيلِ الاٌّحَادِيثِ فَاطِرَ السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ أَنتَ وَلِىِّ فِى الدُّنُيَا وَالاٌّخِرَةِ تَوَفَّنِى مُسْلِمًا وَأَلْحِقْنِى بِالصَّـلِحِينَ
(My Lord! You have indeed bestowed on me of the sovereignty, and taught me something of the interpretation of dreams -- the (Only) Creator of the heavens and the earth! You are my Wali (Protector) in this world and in the Hereafter. Cause me to die as a Muslim, and join me with the righteous.) 12:101 Musa said,
وَقَالَ مُوسَى يقَوْمِ إِن كُنتُمْ ءامَنْتُمْ بِاللَّهِ فَعَلَيْهِ تَوَكَّلُواْ إِن كُنْتُم مُّسْلِمِينَ - فَقَالُواْ عَلَى اللَّهِ تَوَكَّلْنَا رَبَّنَا لاَ تَجْعَلْنَا فِتْنَةً لِّلْقَوْمِ الظَّـلِمِينَ - وَنَجِّنَا بِرَحْمَتِكَ مِنَ الْقَوْمِ الْكَـفِرِينَ
(And Musa said: "O my people! If you have believed in Allah, then put your trust in Him if you are Muslims." They said: "In Allah we put our trust. Our Lord! Make us not a trial for the folk who are wrongdoers. And save us by your mercy from the disbelieving folk") 10:84-86 Allah said,
إِنَّآ أَنزَلْنَا التَّوْرَاةَ فِيهَا هُدًى وَنُورٌ يَحْكُمُ بِهَا النَّبِيُّونَ الَّذِينَ أَسْلَمُواْ لِلَّذِينَ هَادُواْ وَالرَّبَّانِيُّونَ وَالاٌّحْبَارُ
(Verily, We did send down the Tawrah, therein was guidance and light, by which the Prophets, who submitted themselves to Allah's will, judged for the Jews. And the rabbis and the priests did also.) 5:44, and,
وَإِذْ أَوْحَيْتُ إِلَى الْحَوَارِيِّينَ أَنْ ءَامِنُواْ بِى وَبِرَسُولِى قَالُواْ ءَامَنَّا وَاشْهَدْ بِأَنَّنَا مُسْلِمُونَ
(And when I (Allah) inspired Al-Hawariyyun (the disciples) of `Isa to believe in Me and My Messenger, they said: "We believe. And bear witness that we are Muslims.") 5:111 Therefore, Allah states that He sent all His Messengers with the religion of Islam, although their respective laws differed from each other, and some of them abrogated others. Later on, the Law sent with Muhammad ﷺ abrogated all previous laws and nothing will ever abrogate it, forever. Certainly, Muhammad's ﷺ Law will always be apparent and its flags raised high, until the Day of Resurrection. The Prophet said, C
«نَحْنُ مَعَاشِرُ الْأَنْبِيَاءِ أَوْلَادُ عَلَّاتٍ دِينُنَا وَاحِد»
(We, the Prophets, are half brothers, but our religion is one.) Half brothers, mentioned in the Hadith, refers to the brothers to one father, but different mothers. Therefore, the religion, representing the one father, is one; worshipping Allah alone without partners, even though the laws which are like the different mothers in this parable, are different. Allah the Most High knows best. Imam Ahmad recorded that `Ali said that when the Messenger of Allah ﷺ used to start the prayer with Takbir saying, "Allahu Akbar" (Allah is the Great) he would then supplicate,
«وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ، إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي للهِ رَبِّ الْعَالَمِين»
(I have directed my face towards He Who has created the heavens and earth, Hanifan and I am not among the Mushrikin. Certainly, my prayer, sacrifice, living and dying are all for Allah, Lord of the worlds.)
«اللَّهُمَّ أَنْتَ الْمَلِكُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، أَنْتَ رَبِّي وَأَنَا عَبْدُكَ ظَلَمْتُ نَفْسِي وَاعْتَرَفْتُ بِذَنْبِي فَاغْفِرْ لِي ذُنُوبِي جَمِيعًا لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ، وَاهْدِنِي لِأَحْسَنِ الْأَخْلَاقِ لَا يَهْدِي لِأَحْسَنِهَا إِلَّا أَنْتَ، وَاصْرِفْ عَنِّي سَيِّئَهَا لَا يَصْرِفُ عَنِّي سَيِّئَهَا إِلَّا أَنْتَ، تَبَارَكْتَ وَتَعَالَيْتَ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْك»
(O Allah! You are the King, there is no deity worthy of worship except You. You are my Lord and I am Your servant. I have committed wrong against myself and admitted to my error, so forgive me all my sins. Verily, You, only You forgive the sins. (O Allah!) Direct me to the best conduct, for none except You directs to the best conduct. Divert me from the worst conduct, for only You divert from the worst conduct. Glorified and Exalted You are. I seek Your forgiveness and repent to You.) This Hadith, which was also recorded by Muslim in the Sahih, continues and mentions the Prophet's supplication in his bowing, prostrating and final sitting positions.
بیوقوف وہی ہے جو دین حنیف سے منہ موڑ لے ورنہ دین اسلام قدیمی ہے سید المرسلین ﷺ کو حکم ہو رہا ہے کہ آپ پر اللہ کی جو نعمت ہے اس کا اعلان کردیں کہ اس رب نے آپ کو صراط مستقیم دکھا دی ہے جس میں کوئی کجی یا کمی نہیں وہ ثابت اور سالم سیدھی اور ستھری راہ ہے۔ ابراہیم حنیف کی ملت ہے جو مشرکوں میں نہ تھے اس دین سے وہی ہٹ جاتا ہے جو محض بیوقوف ہو اور آیت میں ہے اللہ کی راہ میں پورا جہاد کرو وہی اللہ ہے جس نے تمہیں برگزیدہ کیا اور کشادہ دین عطا فرمایا جو تمہارے باپ ابراہیم کا دین ہے، ابراہیم ؑ اللہ کے سچے فرمانبردار تھے مشرک نہ تھے اللہ کی نعمتوں کے شکر گزار تھے اللہ کے پسندیدہ تھے راہ مستقیم کی ہدایت پائے ہوئے تھے دنیا میں بھی ہم نے انہیں بھلائی دی تھی اور میدان قیامت میں بھی وہ نیک کار لوگوں میں ہوں گے، پھر ہم نے تیری طرف وحی کی کہ ملت ابراہیم حنیف کی پیروی کر کہ وہ مشرکین میں نہ تھا یہ یاد رہے کہ حضور کو آپ کی ملت کی پیروی کا حکم ہونے سے یہ لازم نہیں آتا کہ خلیل اللہ آپ سے افضل ہیں اس لئے کہ حضور کا قیام اس پر پورا ہوا اور یہ دین آپ ہی کے ہاتھوں کمال کو پہنچا، اسی لئے حدیث میں ہے کہ میں نبیوں کا ختم کرنے والا ہوں اور تمام اولاد آدم کا علی الاطلاق سردار ہوں اور مقام محمود والا ہوں جس سے ساری مخلوق کو امید ہوگی یہاں تک کہ خلیل اللہ ؑ کو بھی۔ ابن مردویہ میں ہے کہ حضور صبح کے وقت فرمایا کرتے تھے حدیث (اصبحنا علی ملتہ الاسلام وکلمتہ الاخلاص و دین نبینا و ملتہ ابراہیم حنیفا و ما کان من المشرکین) یعنی ہم نے ملت اسلامیہ پر کلمہ اخلاص پر ہمارے نبی کے دین پر اور ملت ابراہیم حنیف پر صبح کی ہے جو مشرک نہ تھےحضور ﷺ سے سوال ہوا کہ سب سے زیادہ محبوب دین اللہ کے نزدیک کونسا ہے ؟ آپ نے فرمایا وہ جو یکسوئی اور آسانی والا ہے، مسند کی حدیث میں ہے کہ جس دن حضرت عائشہ نے رسول اللہ ﷺ کے مونڈھوں پر منہ رکھ کر حبشیوں کے جنگی کرتب ملاحظہ فرمائے تھے اس دن آپ نے یہ بھی فرمایا تھا کہ یہ اس لئے کہ یہودیہ جان لیں کہ ہمارے دین میں کشادگی ہے اور میں یکسوئی والا آسانی والا دین دے کر بھیجا گیا ہوں اور حکم ہوتا ہے کہ آپ مشرکوں سے اپنا مخالف ہونا بھی بیان فرما دیں وہ اللہ کے سوا دوسروں کی عبادت کرتے ہیں دوسروں کے نام پر ذبیحہ کرتے ہیں میں صرف اپنے رب کی عبادت کرتا ہوں اسی کے نام پر ذبیح کرتا ہوں چناچہ بقرہ عید کے دن حضور نے جب دو بھیڑے ذبح کئے تو انی وجھت الخ، کے بعد یہی آیت پڑھی، آپ ہی اس امت میں اول مسلم تھے اس لئے کہ یوں تو ہر نبی اور ان کی ماننے والی امت مسلم ہی تھی، سب کی دعوت اسلام ہی کی تھی سب اللہ کی خالص عبادت کرتے رہے جیسے فرمان ہے آیت (وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِيْٓ اِلَيْهِمْ فَسْـــَٔـلُوْٓا اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ) 43۔ النحل :16) یعنی تجھ سے پہلے بھی جتنے رسول ہم نے بھیجے سب کی طرف وحی کی کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں تم سب میری ہی عبادت کرو۔ حضرت نوح ؑ کا فرمان قرآن میں موجود ہے کہ آپ نے اپنی قوم سے فرمایا کہ میں تم سے کوئی اجرت طلب نہیں کرتا میرا اجر تو میرے رب کے ذمہ ہے مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں مسلمانوں میں رہوں اور آیت میں ہے (وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِيْٓ اِلَيْهِمْ فَسْـــَٔـلُوْٓا اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ) 43۔ النحل :16) ملت ابراہیمی سے وہی ہٹتا ہے جس کی قسمت پھوٹ گئی ہو، وہ دنیا میں بھی برگزیدہ رب تھا اور آخرت میں بھی صالح لوگوں میں سے ہے اسے جب اس کے رب نے فرمایا تو تابعدار بن جا اس نے جواب دیا کہ میں رب العالمین کا فرمانبردار ہوں اسی کی وصیت ابراہیم نے اپنے بچوں کو کی تھی اور یعقوب نے اپنی اولاد کو کہ اے میرے بچو اللہ نے تمہارے لئے دین کو پسند فرما لیا ہے۔ پس تم اسلام ہی پر مرنا۔ حضرت یوسف ؑ کی آخری دعا میں ہے یا اللہ تو نے مجھے ملک عطا فرمایا خواب کی تعبیر سکھائی آسمان و زمین کا ابتداء میں پیدا کرنے والا تو ہی ہے تو ہی دنیا اور آخرت میں میرا ولی ہے مجھے اسلام کی حالت میں فوت کرنا اور نیک کاروں میں ملا دینا۔ حضرت موسیٰ ؑ نے اپنی قوم سے فرمایا تھا میرے بھائیو اگر تم ایماندار ہو اگر تم مسلم ہو تو تمہیں اللہ ہی پر بھروسہ کرنا چاہئے سب نے جواب دیا کہ ہم نے اللہ ہی پر توکل رکھا ہے، اللہ ! ہمیں ظالموں کے لئے فتنہ نہ بنا اور ہمیں اپنی رحمت کے ساتھ ان کافروں سے بچا لے اور آیت میں فرمان باری ہے (اِنَّآ اَنْزَلْنَا التَّوْرٰىةَ فِيْهَا هُدًى وَّنُوْرٌ) 5۔ المآئدہ :44) ہم نے تورات اتاری جس میں ہدایت و نور ہے جس کے مطابق وہ انبیاء حکم کرتے ہیں جو مسلم ہیں یہودیوں کو بھی اور ربانیوں کو بھی اور احبار کو بھی اور فرمان ہے آیت (وَاِذْ اَوْحَيْتُ اِلَى الْحَوَارِيّٖنَ اَنْ اٰمِنُوْا بِيْ وَبِرَسُوْلِيْ ۚ قَالُوْٓا اٰمَنَّا وَاشْهَدْ بِاَنَّنَا مُسْلِمُوْنَ) 5۔ المآئدہ :111) میں نے حواریوں کی طرف وحی کی کہ مجھ پر اور میرے رسول پر ایمان لاؤ سب نے کہا ہم نے ایمان قبول کیا ہمارے مسلمان ہونے پر تم گواہ رہو۔ یہ آیتیں صاف بتلا رہی ہیں کہ اللہ نے اپنے نبیوں کو اسلام کے ساتھ ہی بھیجا ہے ہاں یہ اور بات ہے کہ وہ اپنی اپنی مخصوص شریعتوں کے ساتھ مختص تھے احکام کا ادل بدل ہوتا رہتا تھا یہاں تک کہ حضور کے دین کے ساتھ پہلے کے کل دین منسوخ ہوگئے اور نہ منسوخ ہونے والا نہ بدلنے والا ہمیشہ رہنے والا دین اسلام آپ کو ملا جس پر ایک جماعت قیامت تک قائم رہے گی اور اس پاک دین کا جھنڈا ابدالآباد تک لہراتا رہے گا۔ آنحضرت ﷺ کا فرمان ہے کہ ہم انبیاء کی جماعت علاقی بھائی ہیں ہم سب کا دین ایک ہی ہے، بھائیوں کی ایک قسم تو علاقی ہے جن کا باپ ایک ہو مائیں الگ الگ ہوں ایک قسم اخیافی جن کی ماں ایک ہو اور باپ جدا گانہ ہوں اور ایک عینی بھائی ہیں جن کا باپ بھی ایک ہو اور ماں بھی ایک ہو۔ پس کل انبیاء کا دین ایک ہے یعنی اللہ وحدہ لا شریک لہ کی عبادت اور شریعت مختلف ہیں بہ اعتبار احکام کے۔ اس لئے انہیں علاتی بھائی فرمایا۔ آنحضرت ﷺ تکبیر اولیٰ کے بعد نماز میں (انی وجھت) اور یہ آیت پڑھ کر پھر یہ پڑھتے (اللھم انت الملک لا الہ الا انت انت ربی وانا عبدک ظلمت نفسی و اعترفت بذنبی فاغفرلی ذنوبی جمیعا لا یغفر الذنوب الا انت واھدنی لا حسن الاخلاق لا یھدی لا حسنھا الا انت واصرف عنی سیئھا لا یصرف عنی سیئھا الا انت تبارکت و تعالیٰت استغفرک واتوب الیک یہ حدیث لمبی ہے اس کے بعد راوی نے رکوع و سجدہ اور تشہد کی دعاؤں کا ذکر کیا ہے (مسلم)
164
View Single
قُلۡ أَغَيۡرَ ٱللَّهِ أَبۡغِي رَبّٗا وَهُوَ رَبُّ كُلِّ شَيۡءٖۚ وَلَا تَكۡسِبُ كُلُّ نَفۡسٍ إِلَّا عَلَيۡهَاۚ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٞ وِزۡرَ أُخۡرَىٰۚ ثُمَّ إِلَىٰ رَبِّكُم مَّرۡجِعُكُمۡ فَيُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمۡ فِيهِ تَخۡتَلِفُونَ
Say, “Shall I seek a Lord other than Allah, whereas He is Lord of all things?” And whatever a soul earns is itself responsible for it; and no load bearing soul will bear anyone else’s load; then towards your Lord you have to return and He will inform you about the matters you differed.
فرما دیجئے: کیا میں اللہ کے سوا کوئی دوسرا رب تلاش کروں حالانکہ وہی ہر شے کا پروردگار ہے، اور ہر شخص جو بھی (گناہ) کرتا ہے (اس کا وبال) اسی پر ہوتا ہے اور کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ پھر تمہیں اپنے رب ہی کی طرف لوٹنا ہے پھر وہ تمہیں ان (باتوں کی حقیقت) سے آگاہ فرما دے گا جن میں تم اختلاف کیا کرتے تھے
Tafsir Ibn Kathir
The Command to Sincerely Trust in Allah
Allah said,
قُلْ
(Say), O Muhammad , to those idolators, about worshipping Allah alone and trusting in Him,
أَغَيْرَ اللَّهِ أَبْغِى رَبًّا
(Shall I seek a lord other than Allah...) 6:164,
وَهُوَ رَبُّ كُلِّ شَىْءٍ
(while He is the Lord of all things ) and Who protects and saves me and governs all my affairs But, I only trust in Him and go back to Him, because He is the Lord of everything, Owner of all things and His is the creation and the decision. This Ayah commands sincerely trusting Allah, while the Ayah before it commands sincerely worshipping Allah alone without partners. These two meanings are often mentioned together in the Qur'an. Allah directs His servants to proclaim,
إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ
(You (alone) we worship, and You (alone) we ask for help (for each and every thing).) 1:5 Allah said,
فَاعْبُدْهُ وَتَوَكَّلْ عَلَيْهِ
(So worship Him and put your trust in Him.) 11:123, and
قُلْ هُوَ الرَّحْمَـنُ ءَامَنَّا بِهِ وَعَلَيْهِ تَوَكَّلْنَا
(Say: "He is the Most Gracious (Allah), in Him we believe, and in Him we put our trust".) 67:29, and,
رَّبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ لاَ إِلَـهَ إِلاَّ هُوَ فَاتَّخِذْهُ وَكِيلاً
(Lord of the east and the west; none has the right to be worshipped but He. So take Him a guardian.) 73:9 There are similar Ayat on this subject.
Every Person Carries His Own Burden
Allah said,
وَلاَ تَكْسِبُ كُلُّ نَفْسٍ إِلاَّ عَلَيْهَا وَلاَ تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى
(No person earns any (sin) except against himself (only), and no bearer of burdens shall bear the burden of another.) thus emphasizing Allah's reckoning, decision and justice that will occur on the Day of Resurrection. The souls will only be recompensed for their deeds, good for good and evil for evil. No person shall carry the burden of another person, a fact that indicates Allah's perfect justice. Allah said in other Ayat,
وَإِن تَدْعُ مُثْقَلَةٌ إِلَى حِمْلِهَا لاَ يُحْمَلْ مِنْهُ شَىْءٌ وَلَوْ كَانَ ذَا قُرْبَى
(And if one heavily laden calls another to (bear) his load, nothing of it will be lifted even though he be near of kin.) 35:18, and,
فَلاَ يَخَافُ ظُلْماً وَلاَ هَضْماً
(Then he will have no fear of injustice, nor of any curtailment (of his reward).) 20:112 Scholars of Tafsir commented, "No person will be wronged by carrying the evil deeds of another person, nor will his own good deeds be curtailed or decreased." Allah also said;
كُلُّ نَفْسٍ بِمَا كَسَبَتْ رَهِينَةٌ - إِلاَّ أَصْحَـبَ الْيَمِينِ
(Every person is a pledge for what he has earned. Except those on the Right.) 74:38-39, meaning, every person will be tied to his evil deeds. But, for those on the right -- the believers -- the blessing of their good works will benefit their offspring and relatives, as well. Allah said in Surat At-Tur,
وَالَّذِينَ ءَامَنُواْ وَاتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّيَّتُهُم بِإِيمَـنٍ أَلْحَقْنَا بِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ وَمَآ أَلَتْنَـهُمْ مِّنْ عَمَلِهِم مِّن شَىْءٍ
(And those who believe and whose offspring follow them in faith, to them shall We join their offspring, and We shall not decrease the reward of their deeds in anything.) 52:21, meaning, We shall elevate their offspring to their high grades in Paradise, even though the deeds of the offspring were less righteous, since they shared faith with them in its general form. Allah says, We did not decrease the grades of these righteous believers so that those (their offspring and relatives) who have lesser grades, can share the same grades as them. Rather Allah elevated the lesser believers to the grades of their parents by the blessing of their parents' good works, by His favor and bounty. Allah said next (in Surat At-Tur),
كُلُّ امْرِىءٍ بِمَا كَسَبَ رَهَينٌ
(Every person is a pledge for that which he has earned.) 52:21, meaning, of evil. Allah's statement here,
ثُمَّ إِلَى رَبِّكُمْ مَّرْجِعُكُمْ فَيُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ فِيهِ تَخْتَلِفُونَ
(Then unto your Lord is your return, so He will tell you that wherein you have been differing.) means, work you (disbelievers), and we will also work. Surely, both you and us will be gathered to Allah and He will inform us of our deeds and your deeds and the decision on what we used to dispute about in the life of this world. Allah said in other Ayat,
قُل لاَّ تُسْـَلُونَ عَمَّآ أَجْرَمْنَا وَلاَ نُسْـَلُ عَمَّا تَعْمَلُونَ - قُلْ يَجْمَعُ بَيْنَنَا رَبُّنَا ثُمَّ يَفْتَحُ بَيْنَنَا بِالْحَقِّ وَهُوَ الْفَتَّاحُ الْعَلِيمُ
(Say: "You will not be asked about our sins, nor shall we be asked of what you do." Say: "Our Lord will assemble us all together, then He will judge between us with truth. And He is the Just Judge, the All-Knower of the true state of affairs.") 34:25-26.
جھوٹے معبود غلط سہارے کافروں کو نہ تو خلوص عبادت نصیب ہے نہ سچا توکل رب میسر ہے ان سے کہہ دے کہ کیا میں بھی تمہاری طرح اپنے اور سب کے سچے معبود کو چھوڑ کر جھوٹے معبود بنا لوں ؟ میری پرورش کرنے والا حفاظت کرنے والا مجھے بچانے والا میرے کام بنانے والا میری بگڑی کو سنوارنے والا تو اللہ ہی ہے پھر میں دوسرے کا سہارا کیوں لوں ؟ مالک خالق کو چھوڑ کر بےبس اور محتاج کے پاس کیوں جاؤں ؟ گویا اس آیت میں توکل علی اللہ اور عبادت رب کا حکم ہوتا ہے۔ یہ دونوں چیزیں عموماً ایک ساتھ بیان ہوا کرتی ہیں جیسے آیت (ایاک نعبد وایاک نستعین) میں اور (فاعبدہ و توکل علیہ) میں اور (قُلْ هُوَ الرَّحْمٰنُ اٰمَنَّا بِهٖ وَعَلَيْهِ تَوَكَّلْنَا ۚ فَسَتَعْلَمُوْنَ مَنْ هُوَ فِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ 29) 67۔ الملک :29) میں اور (رَبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ فَاتَّخِذْهُ وَكِيْلًا 973 73۔ المزمل :9) میں اور دوسری آیتوں میں بھی۔ پھر قیامت کے دن کی خبر دیتا ہے کہ ہر شخص کو اس کے اعمال کا بدلہ عدل و انصاف سے ملے گا۔ نیکوں کو نیک بدوں کو بد۔ ایک کے گناہ دوسرے پر نہیں جائیں گے۔ کوئی قرابت دار دوسرے کے عوض پکڑا نہ جائے گا اس دن ظلم بالکل ہی نہ ہوگا۔ نہ کسی کے گناہ بڑھائے جائیں گے نہ کسی کی نیکی گھٹائی جائے گی، اپنی اپنی کرنی اپنی اپنی بھرنی ہاں جن کے دائیں ہاتھ میں اعمال نامے ملے ہیں ان کے نیک اعمال کی برکت ان کی اولاد کو بھی پہنچے گی جیسے فرمان ہے آیت (وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَاتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّيَّــتُهُمْ بِاِيْمَانٍ اَلْحَـقْنَا بِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ وَمَآ اَلَتْنٰهُمْ مِّنْ عَمَلِهِمْ مِّنْ شَيْءٍ ۭ كُلُّ امْرِی بِمَا كَسَبَ رَهِيْنٌ 21) 52۔ الطور :21) یعنی جو ایمان لائے اور ان کی اولاد نے بھی ان کے ایمان میں ان کی تابعداری کی ہم ان کی اولاد کو بھی ان کے بلند درجوں میں پہنچا دیں گے گو ان کے اعمال اس درجے کے نہ ہوں لیکن چونکہ ان کی ایمان میں شرکت ہے اس لئے درجات میں بھی بڑھا دیں گے اور یہ درجے ماں باپ کے درجے گھٹا کر نہ بڑھا دیں گے اور یہ درجے ماں باپ کے درجے گھٹا کر نہ بڑھیں گے بلکہ یہ اللہ کا فضل و کرم ہوگا۔ ہاں برے لوگ اپنے بد اعمال کے جھگڑے میں گھرے ہوں گے تم بھی عمل کئے جا رہے ہو ہم بھی کئے جا رہے ہیں اللہ کے ہاں سب کو جانا ہے وہاں اعمال کا حساب ہونا ہے پھر معلوم ہوجائے گا کہ اس اختلاف میں حق اور رضائے رب، مرضی مولیٰ کس کے ساتھ تھی ؟ ہمارے اعمال سے تم اور تمہارے اعمال سے ہم اللہ کے ہاں پوچھے نہ جائیں گے۔ قیامت کے دن اللہ کے ہاں سچے فیصلے ہوں گے اور وہ باعلم اللہ ہمارے درمیان سچے فیصلے فرما دے گا۔
165
View Single
وَهُوَ ٱلَّذِي جَعَلَكُمۡ خَلَـٰٓئِفَ ٱلۡأَرۡضِ وَرَفَعَ بَعۡضَكُمۡ فَوۡقَ بَعۡضٖ دَرَجَٰتٖ لِّيَبۡلُوَكُمۡ فِي مَآ ءَاتَىٰكُمۡۗ إِنَّ رَبَّكَ سَرِيعُ ٱلۡعِقَابِ وَإِنَّهُۥ لَغَفُورٞ رَّحِيمُۢ
And it is He who made you caliphs (viceroys) in the earth and ranked some of you high above others, in order that He may test you with what He has bestowed upon you; indeed it does not take time for your Lord to mete out punishment; and indeed, surely, He is Oft Forgiving, Most Merciful.
اور وہی ہے جس نے تم کو زمین میں نائب بنایا اور تم میں سے بعض کو بعض پر درجات میں بلند کیا تاکہ وہ ان (چیزوں) میں تمہیں آزمائے جو اس نے تمہیں (امانتاً) عطا کر رکھی ہیں۔ بیشک آپ کا رب (عذاب کے حق داروں کو) جلد سزا دینے والا ہے اور بیشک وہ (مغفرت کے امیدواروں کو) بڑا بخشنے والا اور بے حد رحم فرمانے والا ہے
Tafsir Ibn Kathir
Allah Made Mankind Dwellers on the earth, Generation After Generation, of Various Grades, in order to Test Them
Allah said,
وَهُوَ الَّذِى جَعَلَكُمْ خَلَـئِفَ الاٌّرْضِ
(And it is He Who has made you generations coming after generations, replacing each other on the earth.) meaning, He made you dwell on the earth generation after generation, century after century and offspring after forefathers, according to Ibn Zayd and others. Allah also said,
وَلَوْ نَشَآءُ لَجَعَلْنَا مِنكُمْ مَّلَـئِكَةً فِى الاٌّرْضِ يَخْلُفُونَ
(And if it were Our will, We would have made angels to replace you on the earth) 43:60, and,
وَيَجْعَلُكُمْ حُلَفَآءَ الاٌّرْضِ
(And makes you inheritors of the Earth, generations after generations.) 27:62, and
إِنِّي جَاعِلٌ فِى الأَرْضِ خَلِيفَةً
(Verily, I am going to place (mankind) generations after generations on earth.) 2:30, and,
عَسَى رَبُّكُمْ أَن يُهْلِكَ عَدُوَّكُمْ وَيَسْتَخْلِفَكُمْ فِى الاٌّرْضِ فَيَنظُرَ كَيْفَ تَعْمَلُونَ
(It may be that your Lord will destroy your enemy and make you successors on the earth, so that He may see how you act.) 7:129 Allah's statement,
وَرَفَعَ بَعْضَكُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجَـتٍ
(And He has raised you in ranks, some above others,) means, He has made you different from each other with regards to provision, conduct, qualities, evilness, shapes, color of skin, and so forth, and He has the perfect wisdom in all this. Allah said in other Ayat,
نَحْنُ قَسَمْنَا بَيْنَهُمْ مَّعِيشَتَهُمْ فِى الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَرَفَعْنَا بَعْضَهُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجَـتٍ لِّيَتَّخِذَ بَعْضُهُم بَعْضاً سُخْرِيّاً
(It is We Who portion out between them their livelihood in this world, and We raised some of them above others in ranks, so that some may employ others in their work.) 43:32, and,
انظُرْ كَيْفَ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ وَلَلاٌّخِرَةُ أَكْبَرُ دَرَجَـتٍ وَأَكْبَرُ تَفْضِيلاً
(See how We prefer one above another (in this world), and verily, the Hereafter will be greater in degrees and greater in preferment.) 17:21 Allah's statement,
لِّيَبْلُوَكُمْ فِى مَآ ءَاتَـكُم
(that He may try you in that which He has bestowed on you.) means, so that He tests you in what He has granted you, for Allah tries the rich concerning his wealth and will ask him about how he appreciated it. He also tries the poor concerning his poverty and will ask him about his patience with it. Muslim recorded that Abu Sa`id Al-Khudri said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«إِنَّ الدُّنْيَا حُلْوَةٌ خَضِرَةٌ وَإِنَّ اللهَ مُسْتَخْلِفُكُمْ فِيهَا فَنَاظِرٌ مَاذَا تَعْمَلُونَ، فَاتَّقُوا الدُّنْيَا وَاتَّقُوا النِّسَاءَ فَإِنَّ أَوَّلَ فِتْنَةِ بَنِي إِسْرَائِيلَ كَانَتْ فِي النِّسَاء»
(Verily, this life is beautiful and green, and Allah made you dwell in it generation after generation so that He sees what you will do. Therefore, beware of this life and beware of women, for the first trial that the Children of Israel suffered from was with women.) Allah's statement,
إِنَّ رَبَّكَ سَرِيعُ الْعِقَابِ وَإِنَّهُ لَغَفُورٌ رَّحِيمٌ
(Surely, your Lord is swift in retribution, and certainly He is Oft-Forgiving, Most Merciful.) this is both discouragement and encouragement, by reminding the believers that Allah is swift in reckoning and punishment with those who disobey Him and defy His Messengers,
وَإِنَّهُ لَغَفُورٌ رَّحِيمٌ
(And certainly He is Oft-Forgiving, Most Merciful.) for those who take Him as protector and follow His Messengers in the news and commandments they conveyed. Allah often mentions these two attributes together in the Qur'an. Allah said,
وَإِنَّ رَبَّكَ لَذُو مَغْفِرَةٍ لِّلنَّاسِ عَلَى ظُلْمِهِمْ وَإِنَّ رَبَّكَ لَشَدِيدُ الْعِقَابِ
(But verily, your Lord is full of forgiveness for mankind in spite of their wrongdoing. And verily, your Lord is (also) severe in punishment) 13:6, and,
نَبِّىءْ عِبَادِى أَنِّى أَنَا الْغَفُورُ الرَّحِيمُ - وَأَنَّ عَذَابِى هُوَ ٱلْعَذَابُ ٱلْأَلِيمُ
(Declare unto My servants, that truly, I am the Oft-Forgiving, the Most Merciful. And that My torment is indeed the most painful torment.) 15:49-50 There are similar Ayat that contain encouragement and discouragement. Sometimes Allah calls His servants to Him with encouragement, describing Paradise and making them eager for what He has with Him. Sometimes, He calls His servants with discouragement, mentioning the Fire and its torment and punishment, as well as, the Day of Resurrection and its horrors. Sometimes Allah mentions both so that each person is affected by it according to his or her qualities. We ask Allah that He makes us among those who obey what He has commanded, avoid what He has prohibited, and believe in Him as He has informed. Certainly, He is Near, hears and answers the supplication, and He is the Most Kind, Generous and Bestowing. Imam Ahmad recorded that Abu Hurayrah said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«لَوْ يَعْلَمُ الْمُؤْمِنُ مَا عِنْدَ اللهِ مِنَ الْعُقُوبَةِ مَا طَمِعَ بِجَنَّتِهِ أَحَدٌ، وَلَوْ يَعْلَمُ الْكَافِرُ مَااِعنْدَ اللهِ مِنَ الرَّحْمَةِ مَا قَنَطَ أَحَدٌ مِنَ الْجَنَّةِ، خَلَقَ اللهُ مِائَةَ رَحْمَةٍ فَوَضَعَ وَاحِدَةً بَيْنَ خَلْقِهِ يَتَرَاحَمُونَ بِهَا وَعِنْدَ اللهِ تِسْعَةٌ وَتِسْعُون»
(If the believer knew Allah's punishment, no one will hope in entering His Paradise. And if the disbeliever knew Allah's mercy, no one will feel hopeless of acquiring Paradise. Allah created a hundred kinds of mercy. He sent down one of them to His creation, and they are merciful to each other on that account. With Allah, there remains ninety-nine kinds of mercy.) Muslim and At-Tirmidhi also recorded this Hadith, At-Tirmidhi said "Hasan". Abu Hurayrah narrated that the Messenger of Allah ﷺ said,
«لَمَّا خَلَقَ اللهُ الْخَلْقَ كَتَبَ فِي كِتَابٍ فَهُوَ عِنْدَهُ فَوْقَ الْعَرْشِ إِنَّ رَحْمَتِي تَغْلِبُ غَضَبِي»
(When Allah created the creation, He wrote in a Book, and this Book is with Him above the Throne: `My mercy overcomes My anger.') This is the end of the Tafsir of Surat Al-An`am, all the thanks and appreciation for Allah.
اللہ کی رحمت اللہ کے غضب پر غالب ہے اس اللہ نے تمہیں زمین کا آباد کار بنایا ہے، وہ تمہیں یکے بعد دیگرے پیدا کرتا رہتا ہے ایسا نہیں کیا کہ زمین میں خلیفہ بنا کر آزمائے کہ تم کیسے اعمال کرتے ہو ؟ اس نے تمہارے درمیان مختلف طبقات بنائے، کوئی غریب ہے، کوئی خوش خو ہے، کوئی بد اخلاق، کوئی خوبصورت ہے، کوئی بد صورت، یہ بھی اس کی حکمت ہے، اسی نے روزیاں تقسیم کی ہیں ایک کو ایک کے ماتحت کردیا ہے فرمان ہے آیت (اُنْظُرْ كَيْفَ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلٰي بَعْضٍ ۭ وَلَلْاٰخِرَةُ اَكْبَرُ دَرَجٰتٍ وَّاَكْبَرُ تَفْضِيْلًا 21) 17۔ الإسراء :21) دیکھ لے کہ ہم نے ان میں سے ایک کو ایک پر کیسے فضیلت دی ہے ؟ اس سے منشاء یہ ہے کہ آزمائش و امتحان ہوجائے، امیر آدمیوں کا شکر، فقیروں کا صبر معلوم ہوجائے، رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں دنیا میٹھی اور سبز رنگ ہے اللہ تمہیں اس میں خلیفہ بنا کر دیکھ رہا ہے کہ تم کیسے اعمال کرتے ہو ؟ پس تمہیں دنیا سے ہوشیار رہنا چاہیے اور عورتوں کے بارے میں بہت احتیاط سے رہنا چاہئے، بنی اسرائیل کا پہلا فتنہ عورتیں ہی تھیں۔ اس سورت کی آخری آیت میں اپنے دونوں وصف بیان فرمائے، عذاب کا بھی، ثواب کا بھی، پکڑ کا بھی اور بخشش کا بھی اپنے نافرمانوں پر ناراضگی کا اور اپنے فرمانبرداروں پر رضامندی کا، عموماً قرآن کریم میں یہ دونوں صفتیں ایک ساتھ ہی بیان فرمائی جاتی ہیں۔ جیسے فرمان ہے آیت (وَاِنَّ رَبَّكَ لَذُوْ مَغْفِرَةٍ لِّلنَّاسِ عَلٰي ظُلْمِهِمْ ۚ وَاِنَّ رَبَّكَ لَشَدِيْدُ الْعِقَابِ 6) 13۔ الرعد) اور آیت میں ہے آیت (نَبِّئْ عِبَادِيْٓ اَنِّىْٓ اَنَا الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ 49ۙ) 15۔ الحجر :49) یعنی تریا رب اپنے بندوں کے گناہ بخشنے والا بھی ہے اور وہ سخت اور درد ناک عذاب دینے والا بھی ہے، پس ان آیتوں میں رغبت رہبت دونوں ہیں اپنے فضل کا اور جنت کا لالچ بھی دیتا ہے اور آگ کے عذاب سے دھمکاتا بھی ہے کبھی کبھی ان دونوں وصفوں کو الگ الگ بیان فرماتا ہے تاکہ عذابوں سے بچنے اور نعمتوں کے حاصل کرنے کا خیال پیدا ہو۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے احکام کی پابندی اور اپنی ناراضگی کے کاموں سے نفرت نصیب فرمائے اور ہمیں کامل یقین عطا فرمائے کہ ہم اس کے کلام پر ایمان و یقین رکھیں۔ وہ قریب و مجیب ہے وہ دعاؤں کا سننے والا ہے، وہ جواد، کریم اور وہاب ہے، مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں اگر مومن صحیح طور پر اللہ کے عذاب سے واقف ہوجائے تو اپنے گناہوں کی وجہ سے جنت کے حصول کی آس ہی نہ رہے اور اگر کافر اللہ کی رحمت سے کماحقہ واقف ہوجائے تو کسی کو بھی جنت سے مایوسی نہ ہو اللہ نے سو رحمتیں بنائی ہیں جن میں سے صرف ایک بندوں کے درمیان رکھی ہے اسی سے ایک دوسرے پر رحم و کرم کرتے ہیں باقی ننانوے تو صرف اللہ ہی کے پاس ہیں۔ یہ حدیث ترمذی اور مسلم شریف میں بھی ہے ایک اور روایت میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مخلوق کی پیدائش کے وقت ایک کتاب لکھی جو اس کے پاس عرش پر ہے کہ میری رحمت میرے غضب پر غالب ہے۔ صحیح مسلم شریف میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے رحمت کے سو حصے کئے جن میں سے ایک کم ایک سو تو اپنے پاس رکھے اور ایک حصہ زمین پر نازل فرمایا اسی ایک حصے میں مخلوق کو ایک دوسرے پر شفقت و کرم ہے یہاں تک کہ جانور بھی اپنے بچے کے جسم سے اپنا پاؤں رحم کھا کر اٹھا لیتا ہے کہ کہیں اسے تکلیف نہ ہو۔
Jump to Ayah
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
12
13
14
15
16
17
18
19
20
21
22
23
24
25
26
27
28
29
30
31
32
33
34
35
36
37
38
39
40
41
42
43
44
45
46
47
48
49
50
51
52
53
54
55
56
57
58
59
60
61
62
63
64
65
66
67
68
69
70
71
72
73
74
75
76
77
78
79
80
81
82
83
84
85
86
87
88
89
90
91
92
93
94
95
96
97
98
99
100
101
102
103
104
105
106
107
108
109
110
111
112
113
114
115
116
117
118
119
120
121
122
123
124
125
126
127
128
129
130
131
132
133
134
135
136
137
138
139
140
141
142
143
144
145
146
147
148
149
150
151
152
153
154
155
156
157
158
159
160
161
162
163
164
165