الدخان — Ad dukhan
Ayah 49 / 59 • Meccan
2,609
49
Ad dukhan
الدخان • Meccan
ذُقۡ إِنَّكَ أَنتَ ٱلۡعَزِيزُ ٱلۡكَرِيمُ
Saying “Taste it! Indeed you only are the most honourable, the dignified!”
مَزہ چکھ لے، ہاں تُو ہی (اپنے گمان اور دعوٰی میں) بڑا معزّز و مکرّم ہے
Tafsir Ibn Kathir
The Condition of the Idolators and Their Punishment on the Day of Resurrection
Allah tells us how He will punish the disbelievers who deny the meeting with Him:
إِنَّ شَجَرَةَ الزَّقُّومِ - طَعَامُ الاٌّثِيمِ
(Verily, the tree of Zaqqum will be the food of the sinners.) Those who sinned by their words and in deeds. These are the disbelievers. More than one commentator stated that this referred to Abu Jahl; undoubtedly he is included among those referred to in this Ayah, but it is not specifically about him. Ibn Jarir recorded that Abu Ad-Darda' was reciting to a man:
إِنَّ شَجَرَةَ الزَّقُّومِ - طَعَامُ الاٌّثِيمِ
(Verily, the tree of Zaqqum will be the food of the sinners.) The man said, "The food of the orphan." Abu Ad-Darda', may Allah be pleased with him, said, "Say, the tree of Zaqqum is the food of the evildoer." i.e., he will not have any other food apart from that. Mujahid said, "If a drop of it were to fall on the earth, it would corrupt the living of all the people of earth." A similar Marfu` report has been narrated earlier.
كَالْمُهْلِ
(Like boiling oil,) means, like the dregs of oil.
كَالْمُهْلِ يَغْلِى فِى الْبُطُونِ - كَغَلْىِ الْحَمِيمِ
(it will boil in the bellies, like the boiling of scalding water.) means, because of its heat and rancidity.
خُذُوهُ
(Seize him) means the disbeliever. It was reported that when Allah says to the keepers of Hell, "Seize him," seventy thousand of them will rush to seize him.
فَاعْتِلُوهُ
(and drag him) means, drag him by pulling him and pushing him on his back. Mujahid said:
خُذُوهُ فَاعْتِلُوهُ
(Seize him and drag him) means, take him and push him.
إِلَى سَوَآءِ الْجَحِيمِ
(into the midst of blazing Fire.) means, into the middle of it.
ثُمَّ صُبُّواْ فَوْقَ رَأْسِهِ مِنْ عَذَابِ الْحَمِيمِ
(Then pour over his head the torment of boiling water.) This is like the Ayah:
هَـذَانِ خَصْمَانِ اخْتَصَمُواْ فِى رَبِّهِمْ فَالَّذِينَ كَفَرُواْ قُطِّعَتْ لَهُمْ ثِيَابٌ مِّن نَّارِ يُصَبُّ مِن فَوْقِ رُءُوسِهِمُ الْحَمِيمُ - يُصْهَرُ بِهِ مَا فِى بُطُونِهِمْ وَالْجُلُودُ
(boiling water will be poured down over their heads. With it will melt what is within their bellies, as well as (their) skins.) (22:19-20). The angel will strike him with a hooked rod of iron and split his head open, then he will pour boiling water over his head. It will go down through his body, melting through his stomach and intestines, until it goes through his heels; may Allah protect us from that.
ذُقْ إِنَّكَ أَنتَ الْعَزِيزُ الْكَرِيمُ
(Taste you (this)! Verily, you were (pretending to be) the mighty, the generous.) means, they (the keepers of Hell) will say that to him by way of ridicule and rebuke. Ad-Dahhak reported that Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, said: "This means, you are neither mighty nor generous." And Allah's saying:
إِنَّ هَـذَا مَا كُنتُمْ بِهِ تَمْتَرُونَ
(Verily, this is that whereof you used to doubt!) is like His saying:
يَوْمَ يُدَعُّونَ إِلَى نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّا - هَـذِهِ النَّارُ الَّتِى كُنتُم بِهَا تُكَذِّبُونَ - أَفَسِحْرٌ هَـذَا أَمْ أَنتُمْ لاَ تُبْصِرُونَ
(The Day when they will be pushed down by force to the fire of Hell, with a horrible, forceful pushing. This is the Fire which you used to deny. In this magic, or do you not see) (52: 13-15) Similarly Allah said:
إِنَّ هَـذَا مَا كُنتُمْ بِهِ تَمْتَرُونَ
(Verily, this is that where of you used to doubt!)
زقوم ابو جہل کی خوراک ہوگا منکرین قیامت کو جو سزا وہاں دی جائے گی اس کا بیان ہو رہا ہے کہ ان مجرموں کو جو اپنے قول اور فعل کو نافرمانی سے ملوث کئے ہوئے تھے آج زقوم کا درخت کھلایا جائے گا۔ بعض کہتے ہیں اس سے مراد ابو جہل ہے۔ گو دراصل وہ بھی اس آیت کی وعید میں داخل ہے لیکن یہ نہ سمجھا جائے کہ آیت صرف اسی کے حق میں نازل ہوئی ہے۔ حضرت ابو درداء ایک شخص کو یہ آیت پڑھا رہے تھے مگر اس کی زبان سے لفظ (اثیم) ادا نہیں ہوتا تھا اور وہ بجائے اس کے یتیم کہہ دیا کرتا تھا تو آپ نے اسے (طعام الفاجر) پڑھوایا یعنی اسے اس کے سوا کھانے کو اور کچھ نہ دیا جائے گا۔ حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ اگر زقوم کا ایک قطرہ بھی زمین میں ٹپک جائے تو تمام زمین والوں کی معاش خراب کر دے ایک مرفوع حدیث میں بھی یہ آیا ہے جو پہلے بیان ہوچکی ہے، یہ مثل تلچھٹ کے ہوگا۔ اپنی حرارت بدمزگی اور نقصان کے باعث پیٹ میں جوش مارتا رہے گا اللہ تعالیٰ جہنم کے داروغوں سے فرمائے گا کہ اس کافر کو پکڑ لو وہیں ستر ہزار فرشتے دوڑیں گے اسے اندھا کر کے منہ کے بل گھسیٹ لے جاؤ اور بیچ جہنم میں ڈال دو پھر اس کے سر پر جوش مارتا گرم پانی ڈالو۔ جیسے فرمایا آیت (يُصَبُّ مِنْ فَوْقِ رُءُوْسِهِمُ الْحَمِيْمُ 19ۚ) 22۔ الحج :19) ، یعنی ان کے سروں پر جہنم کا جوش مارتا گرم پانی بہایا جائے گا جس سے ان کی کھالیں اور پیٹ کے اندر کی تمام چیزیں سوخت ہوجائیں گی اور یہ بھی ہم پہلے بیان کر آئے ہیں کہ فرشتے انہیں لوہے کے ہتھوڑے ماریں گے جن سے ان کا دماغ پاش پاش ہوجائیں گے پھر اوپر سے یہ حمیم ان پر ڈالا جائے گا یہ جہاں جہاں پہنچے گا ہڈی کو کھال سے جدا کر دے گا یہاں تک کہ اس کی آنتیں کاٹتا ہوا پنڈلیوں تک پہنچ جائے گا۔ اللہ ہمیں محفوظ رکھے پھر انہیں شرمسار کرنے کے لئے اور زیادہ پشیمان بنانے کے لئے کہا جائے گا کہ لو مزہ چکھو تم ہماری نگاہوں میں نہ عزت والے ہو نہ بزرگی والے۔ مغازی امویہ میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ابو جہل ملعون سے کہا کہ مجھے اللہ کا حکم ہوا ہے کہ تجھ سے کہہ دوں تیرے لئے ویل ہے تجھ پر افسوس ہے پھر مکرر کہتا ہوں کہ تیرے لئے خرابی اور افسوس ہے۔ اس پاجی نے اپنا کپڑا آپ کے ہاتھ سے گھسیٹتے ہوئے کہا جا تو اور تیرا رب میرا کیا بگاڑ سکتے ہو ؟ اس تمام وادی میں سب سے زیادہ عزت و تکریم والا میں ہوں۔ پس اللہ تعالیٰ نے اسے بدر والے دن قتل کرایا اور اسے ذلیل کیا اور اس سے کہا جائے گا کہ لے اب اپنی عزت کا اور اپنی تکریم کا اور اپنی بزرگی اور بڑائی کا لطف اٹھا اور ان کافروں سے کہا جائے گا کہ یہ ہے جس میں ہمیشہ شک شبہ کرتے رہے۔ جیسے اور آیتوں میں ہے کہ جس دن انہیں دھکے دے کر جہنم میں پہنچایا جائے گا اور کہا جائے گا کہ یہ وہ دوزخ ہے جسے تم جھٹلاتے رہے کیا یہ جادو ہے یا تم دیکھ نہیں رہے ؟ اسی کو یہاں بھی فرمایا ہے کہ یہ جس میں تم شک کر رہے تھے۔
حمٓ
Ha-Meem. (Alphabets of the Arabic language – Allah, and to whomever He reveals, know their precise meanings.)
حا، میم (حقیقی معنی اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی بہتر جانتے ہیں)
Tafsir Ibn Kathir
Which was revealed in Makkah
In Musnad Al-Bazzar, it is recorded from Abu At-Tufayl `Amir bin Wathilah from Zayd bin Harithah that the Messenger of Allah ﷺ said to Ibn Sayyad:
«إِنِّي قَدْ خَبَأْتُ خَبْأً فَمَا هُوَ؟»
(I am concealing something, what is it) And the Messenger of Allah ﷺ was concealing Surat Ad-Dukhan from him. He (Ibn Sayyad) said: "It is Ad-Dukh." The Messenger of Allah ﷺ said,
«اخْسَأْ مَا شَاءَ اللهُ (كَانَ)»
(Be off with you! Whatever Allah wills happens.)
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـنِ الرَّحِيمِ
In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
The Qur'an was revealed on Laylatul-Qadr
Allah tells us that He revealed the Magnificent Qur'an on a blessed night, Laylatul-Qadr (the Night of Decree), as He says elsewhere:
إِنَّا أَنزَلْنَـهُ فِى لَيْلَةِ الْقَدْرِ
(Verily, We have sent it down in the Night of Al-Qadr) (97:1). This was in the month of Ramadan, as Allah tells us:
شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِى أُنزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ
(The month of Ramadan in which was revealed the Qur'an) (2:185). We have already quoted the relevant Hadiths in (the Tafsir of) Surat Al-Baqarah, and there is no need to repeat them here.
إِنَّا كُنَّا مُنذِرِينَ
(Verily, We are ever warning.) means, telling them what is good for them and what is harmful for them, according to Shari`ah, so that the proof of Allah may be established against His servants.
فِيهَا يُفْرَقُ كُلُّ أَمْرٍ حَكِيمٍ
(Therein (that night) is decreed every matter, Hakim.) means, on Laylatul-Qadr, the decrees are transferred from Al-Lawh Al-Mahfuz to the (angelic) scribes who write down the decrees of the (coming) year including life span, provision, and what will happen until the end of the year. This was narrated from Ibn `Umar, Mujahid, Abu Malik, Ad-Dahhak and others among the Salaf.
حَكِيمٌ
(Hakim) means decided or confirmed, which cannot be changed or altered. Allah says:
أَمْراً مِّنْ عِنْدِنَآ
(As a command from Us.) meaning, everything that happens and is decreed by Allah and the revelation that He sends down -- it all happens by His command, by His leave and with His knowledge.
إِنَّا كُنَّا مُرْسِلِينَ
(Verily, We are ever sending,) means, to mankind, sending Messenger who will recite to them the clear signs of Allah. The need for this was urgent.
رَحْمَةً مِّن رَّبِّكَ إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ رَّبُّ السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا
((As) a mercy from your Lord. Verily, He is the All-Hearer, the All-Knower. The Lord of the heavens and the earth and all that is between them,) means, the One Who sent down the Qur'an is the Lord, Creator and Sovereign of the heavens and the earth and everything in between them.
إِن كُنتُمْ مُّوقِنِينَ
(if you (but) have a faith with certainty.) Then Allah says:
لاَ إِلَـهَ إِلاَّ هُوَ يُحْىِ وَيُمِيتُ رَبُّكُمْ وَرَبُّ ءَابَآئِكُمُ الاٌّوَّلِينَ
(La ilaha illa Huwa. He gives life and causes death -- your Lord and the Lord of your forefathers.) This is like the Ayah:
قُلْ يَأَيُّهَا النَّاسُ إِنِّى رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا الَّذِى لَهُ مُلْكُ السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ لا إِلَـهَ إِلاَّ هُوَ يُحْىِ وَيُمِيتُ
(Say: "O mankind! Verily, I am sent to you all as the Messenger of Allah -- to Whom belongs the dominion of the heavens and the earth. La ilaha illa Huwa. He gives life and causes death...) (7:158)
جہالت و خباثت کی انتہاء اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک ہے اے نبی آپ اعلان کر دیجئے کہ اگر بالفرض اللہ تعالیٰ کی اولاد ہو تو مجھے سر جھکانے میں کیا تامل ہے ؟ نہ میں اس کے فرمان سے سرتابی کروں نہ اس کے حکم کو ٹالوں اگر ایسا ہوتا تو سب سے پہلے میں اسے مانتا اور اس کا اقرار کرتا لیکن اللہ کی ذات ایسی نہیں جس کا کوئی ہمسر اور جس کا کوئی کفو ہو یاد رہے کہ بطور شرط کے جو کلام وارد کیا جائے اس کا وقوع ضروری نہیں بلکہ امکان بھی ضروری نہیں۔ جیسے فرمان باری ہے آیت (لَوْ اَرَاد اللّٰهُ اَنْ يَّتَّخِذَ وَلَدًا لَّاصْطَفٰى مِمَّا يَخْلُقُ مَا يَشَاۗءُ ۙ سُبْحٰنَهٗ ۭ هُوَ اللّٰهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ) 39۔ الزمر :4) ، یعنی اگر حضرت حق جل و علا اولاد کی خواہش کرتا تو اپنی مخلوق میں سے جسے چاہتا چن لیتا لیکن وہ اس سے پاک ہے اس کی شان وحدانیت اس کے خلاف ہے اس کا تنہا غلبہ اور قہاریت اس کی صریح منافی ہے بعض مفسریں نے (عابدین) کے معنی انکاری کے بھی کئے ہیں جیسے سفیان ثوری۔ صحیح بخاری شریف میں ہے کہ (عابدین) سے مراد یہاں (اول الجاحدین) ہے یعنی پہلا انکار کرنے والا اور یہ (عبد یعبد) کے باب سے ہے اور جو عبادت کے معنی میں ہوتا ہے۔ وہ (عبد یعبد) سے ہوتا ہے۔ اسی کی شہادت میں یہ واقعہ بھی ہے کہ ایک عورت کے نکاح کے چھ ماہ بعد بچہ ہوا حضرت عثمان نے اسے رجم کرنے کا حکم دیا لیکن حضرت علی نے اس کی مخالفت کی اور فرمایا اللہ تعالیٰ کی کتاب میں ہے آیت (وَحَمْلُهٗ وَفِصٰلُهٗ ثَلٰثُوْنَ شَهْرًا 15) 46۔ الأحقاف :15) یعنی حمل کی اور دودھ کی چھٹائی کی مدت ڈھائی سال کی ہے۔ اور جگہ اللہ عزوجل نے فرمایا آیت (وفصالہ فی عامین) دو سال کے اندر اندر دودھ چھڑانے کی مدت ہے حضرت عثمان ان کا انکار نہ کرسکے اور فوراً آدمی بھیجا کہ اس عورت کو واپس کرو یہاں بھی لفظ (عبد) ہے یعنی انکار نہ کرسکے۔ ابن وہب کہتے ہیں (عبد) کے معنی نہ ماننا انکار کرنا ہے۔ شاعر کے شعر میں بھی (عبد) انکار کے اور نہ ماننے کے معنی میں ہے۔ لیکن اس قول میں نر ہے اس لئے کہ شرط کے جواب میں یہ کچھ ٹھیک طور پر لگتا نہیں اسے ماننے کے بعد مطلب یہ ہوگا کہ اگر رحمان کی اولاد ہے تو میں پہلا منکر ہوں۔ اور اس میں کلام کی خوبصورتی قائم نہیں رہتی۔ ہاں صرف یہ کہہ سکتے ہیں کہ (ان) شرط کے لئے نہیں ہے۔ بلکہ نفی کے لئے ہے جیسے کہ ابن عباس سے منقول بھی ہے۔ تو اب مضمون کلام یہ ہوگا کہ چونکہ رحمان کی اولاد نہیں پس میں اس کا پہلا گواہ ہوں حضرت قتادہ فرماتے ہیں یہ کلام عرب کے محاورے کے مطابق ہے یعنی نہ رحمان کی اولاد نہ میں اس کا قائل و عابد۔ ابو صخر فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ میں تو پہلے ہی اس کا عابد ہوں کہ اس کی اولاد ہے ہی نہیں اور میں اس کی توحید کو ماننے میں بھی آگے آگے ہوں مجاہد فرماتے ہیں میں اس کا پہلا عبادت گذار ہوں اور موحد ہوں اور تمہاری تکذیب کرنے والا ہوں۔ امام بخاری فرماتے ہیں میں پہلا انکاری ہوں یہ دونوں لغت میں (عابد) اور (عبد) اور اول ہی زیادہ قریب ہے اس وجہ سے کہ یہ شرط و جزا ہے لیکن یہ ممتنع اور محال محض ناممکن۔ سدی فرماتے ہیں اگر اس کی اولاد ہوتی تو میں اسے پہلے مان لیتا کہ اس کی اولاد ہے لیکن وہ اس سے پاک ہے ابن جریر اسی کو پسند فرماتے ہیں اور جو لوگ (ان) کو نافیہ بتلاتے ہیں ان کے قول کی تردید کرتے ہیں اسی لئے باری تعالیٰ عزوجل فرماتا ہے کہ آسمان و زمین اور تمام چیزوں کا حال اس سے پاک بہت دور اور بالکل منزہ ہے کہ اس کی اولاد ہو وہ فرد احمد صمد ہے اس کی نظیر کفو اولاد کوئی نہیں ارشاد ہوتا ہے کہ نبی انہیں اپنی جہالت میں غوطے کھاتے چھوڑو اور دنیا کے کھیل تماشوں میں مشغول رہنے دو اسی غفلت میں ان پر قیامت ٹوٹ پڑے گی۔ اس وقت اپنا انجام معلوم کرلیں پھر ذات حق کی بزرگی اور عظمت اور جلال کا مزید بیان ہوتا ہے کہ زمین و آسمان کی تمام مخلوقات اس کی عابد ہے اس کے سامنے پست اور عاجز ہے۔ وہ خبیر وعلیم ہے جیسے اور آیت میں ہے کہ زمین و آسمان میں اللہ وہی ہے ہر پوشیدہ اور ظاہر کو اور تمہارے ہر ہر عمل کو جانتا ہے وہ سب کا خالق ومالک سب کو بسانے اور بنانے والا سب پر حکومت اور سلطنت رکھنے والا بڑی برکتوں والا ہے۔ وہ تمام عیبوں سے کل نقصانات سے پاک ہے وہ سب کا مالک ہے بلندیوں اور عظمتوں والا ہے کوئی نہیں جو اس کا حکم ٹال سکے کوئی نہیں جو اس کی مرضی بدل سکے ہر ایک پر قابض وہی ہے ہر ایک کام اس کی قدرت کے ماتحت ہے قیامت آنے کے وقت کو وہی جانتا ہے اس کے سوا کسی کو اس کے آنے کے ٹھیک وقت کا علم نہیں ساری مخلوق اسی کی طرف لوٹائی جائے گی وہ ہر ایک کو اپنے اپنے اعمال کا بدلہ دے گا پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ان کافروں کے معبودان باطل جنہیں یہ اپنا سفارشی خیال کئے بیٹھے ہیں ان میں سے کوئی بھی سفارش کے لئے آگے بڑھ نہیں سکتا کسی کی شفاعت انہیں کام نہ آئے گی اسکے بعد استثناء منقطع ہے یعنی لیکن جو شخص حق کا اقراری اور شاہد ہو اور وہ خود بھی بصیرت و بصارت پر یعنی علم و معرفت والا ہو اسے اللہ کے حکم سے نیک لوگوں کی شفاعت کار آمد ہوگی ان سے اگر تو پوچھے کہ ان کا خالق کون ہے ؟ تو یہ اقرار کریں گے کہ اللہ ہی ہے افسوس کہ خالق اسی ایک کو مان کر پھر عبادت دوسروں کی بھی کرتے ہیں جو محض مجبور اور بالکل بےقدرت ہیں اور کبھی اپنی عقل کو کام میں نہیں لاتے کہ جب پیدا اسی ایک نے کیا تو ہم دوسرے کی عبادت کیوں کریں ؟ جہالت و خباثت کند ذہنی اور بےوقوفی اتنی بڑھ گئی ہے کہ ایسی سیدھی سی بات مرتے دم تک سمجھ نہ آئی۔ بلکہ سمجھانے سے بھی نہ سمجھا اسی لئے تعجب سے ارشاد ہوا کہ اتنا مانتے ہوئے پھر کیوں اندھے ہوجاتے ہو ؟ پھر ارشاد ہے کہ محمد ﷺ نے اپنا یہ کہنا کہا یعنی اپنے رب کی طرف شکایت کی اور اپنی قوم کی تکذیب کا بیان کیا کہ یہ ایمان قبول نہیں کرتے جیسے اور آیت میں ہے (وَقَال الرَّسُوْلُ يٰرَبِّ اِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوْا ھٰذَا الْقُرْاٰنَ مَهْجُوْرًا 30) 25۔ الفرقان :30) یعنی رسول ﷺ کی یہ شکایت اللہ کے سامنے ہوگی کہ میری امت نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا۔ امام ابن جریر بھی یہی تفسیر بیان کرتے ہیں امام بخاری فرماتے ہیں ابن مسعود کی قرأت لام کے زیر کیساتھ بھی نقل کی ہے اس کی ایک توجیہ تو یہ ہوسکتی ہے کہ آیت (اَمْ يَحْسَبُوْنَ اَنَّا لَا نَسْمَعُ سِرَّهُمْ وَنَجْوٰىهُمْ ۭ بَلٰى وَرُسُلُنَا لَدَيْهِمْ يَكْتُبُوْنَ 80) 43۔ الزخرف :80) پر معطوف ہے دوسرے یہ کہ یہاں فعل مقدر مانا جائے یعنی (قال) کو مقدر مانا جائے۔ دوسری قرأت یعنی لام کے زیر کیساتھ جب ہو تو یہ عجب ہوگا آیت (وَعِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ ۚ وَاِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ 85 ) 43۔ الزخرف :85) پر تو تقدیر یوں ہوگی۔ کہ قیامت کا علم اور اس قول کا علم اس کے پاس ہے ختم سورة پر ارشاد ہوتا ہے کہ مشرکین سے منہ موڑ لے اور ان کی بدزبانی کا بد کالمی سے جواب نہ دو بلکہ ان کے دل پر چانے کی خاطر قول میں اور فعل میں دونوں میں نرمی برتو کہہ دو کہ سلام ہے۔ انہیں ابھی حقیقت حال معلوم ہوجائے گی۔ اس میں رب قدوس کی طرف سے مشرکین کو بڑی دھمکی ہے اور یہی ہو کر بھی رہا۔ کہ ان پر وہ عذاب آیا جو ان سے ٹل نہ سکا حضرت حق جل و علا نے اپنے دین کو بلند وبالا کیا اپنے کلمہ کو چاروں طرف پھیلا دیا اپنے موحد مومن اور مسلم بندوں کو قوی کردیا اور پھر انہیں جہاد کے اور جلا وطن کرنے کے احکام دے کر اس طرح دنیا میں غالب کردیا اللہ کے دین میں بیشمار آدمی داخل ہوئے اور مشرق و مغرب میں اسلام پھیل گیا فالحمدللہ۔ واللہ اعلم۔
وَٱلۡكِتَٰبِ ٱلۡمُبِينِ
By oath of this clear Book.
اس روشن کتاب کی قسم
Tafsir Ibn Kathir
Which was revealed in Makkah
In Musnad Al-Bazzar, it is recorded from Abu At-Tufayl `Amir bin Wathilah from Zayd bin Harithah that the Messenger of Allah ﷺ said to Ibn Sayyad:
«إِنِّي قَدْ خَبَأْتُ خَبْأً فَمَا هُوَ؟»
(I am concealing something, what is it) And the Messenger of Allah ﷺ was concealing Surat Ad-Dukhan from him. He (Ibn Sayyad) said: "It is Ad-Dukh." The Messenger of Allah ﷺ said,
«اخْسَأْ مَا شَاءَ اللهُ (كَانَ)»
(Be off with you! Whatever Allah wills happens.)
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـنِ الرَّحِيمِ
In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
The Qur'an was revealed on Laylatul-Qadr
Allah tells us that He revealed the Magnificent Qur'an on a blessed night, Laylatul-Qadr (the Night of Decree), as He says elsewhere:
إِنَّا أَنزَلْنَـهُ فِى لَيْلَةِ الْقَدْرِ
(Verily, We have sent it down in the Night of Al-Qadr) (97:1). This was in the month of Ramadan, as Allah tells us:
شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِى أُنزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ
(The month of Ramadan in which was revealed the Qur'an) (2:185). We have already quoted the relevant Hadiths in (the Tafsir of) Surat Al-Baqarah, and there is no need to repeat them here.
إِنَّا كُنَّا مُنذِرِينَ
(Verily, We are ever warning.) means, telling them what is good for them and what is harmful for them, according to Shari`ah, so that the proof of Allah may be established against His servants.
فِيهَا يُفْرَقُ كُلُّ أَمْرٍ حَكِيمٍ
(Therein (that night) is decreed every matter, Hakim.) means, on Laylatul-Qadr, the decrees are transferred from Al-Lawh Al-Mahfuz to the (angelic) scribes who write down the decrees of the (coming) year including life span, provision, and what will happen until the end of the year. This was narrated from Ibn `Umar, Mujahid, Abu Malik, Ad-Dahhak and others among the Salaf.
حَكِيمٌ
(Hakim) means decided or confirmed, which cannot be changed or altered. Allah says:
أَمْراً مِّنْ عِنْدِنَآ
(As a command from Us.) meaning, everything that happens and is decreed by Allah and the revelation that He sends down -- it all happens by His command, by His leave and with His knowledge.
إِنَّا كُنَّا مُرْسِلِينَ
(Verily, We are ever sending,) means, to mankind, sending Messenger who will recite to them the clear signs of Allah. The need for this was urgent.
رَحْمَةً مِّن رَّبِّكَ إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ رَّبُّ السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا
((As) a mercy from your Lord. Verily, He is the All-Hearer, the All-Knower. The Lord of the heavens and the earth and all that is between them,) means, the One Who sent down the Qur'an is the Lord, Creator and Sovereign of the heavens and the earth and everything in between them.
إِن كُنتُمْ مُّوقِنِينَ
(if you (but) have a faith with certainty.) Then Allah says:
لاَ إِلَـهَ إِلاَّ هُوَ يُحْىِ وَيُمِيتُ رَبُّكُمْ وَرَبُّ ءَابَآئِكُمُ الاٌّوَّلِينَ
(La ilaha illa Huwa. He gives life and causes death -- your Lord and the Lord of your forefathers.) This is like the Ayah:
قُلْ يَأَيُّهَا النَّاسُ إِنِّى رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا الَّذِى لَهُ مُلْكُ السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ لا إِلَـهَ إِلاَّ هُوَ يُحْىِ وَيُمِيتُ
(Say: "O mankind! Verily, I am sent to you all as the Messenger of Allah -- to Whom belongs the dominion of the heavens and the earth. La ilaha illa Huwa. He gives life and causes death...) (7:158)
جہالت و خباثت کی انتہاء اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک ہے اے نبی آپ اعلان کر دیجئے کہ اگر بالفرض اللہ تعالیٰ کی اولاد ہو تو مجھے سر جھکانے میں کیا تامل ہے ؟ نہ میں اس کے فرمان سے سرتابی کروں نہ اس کے حکم کو ٹالوں اگر ایسا ہوتا تو سب سے پہلے میں اسے مانتا اور اس کا اقرار کرتا لیکن اللہ کی ذات ایسی نہیں جس کا کوئی ہمسر اور جس کا کوئی کفو ہو یاد رہے کہ بطور شرط کے جو کلام وارد کیا جائے اس کا وقوع ضروری نہیں بلکہ امکان بھی ضروری نہیں۔ جیسے فرمان باری ہے آیت (لَوْ اَرَاد اللّٰهُ اَنْ يَّتَّخِذَ وَلَدًا لَّاصْطَفٰى مِمَّا يَخْلُقُ مَا يَشَاۗءُ ۙ سُبْحٰنَهٗ ۭ هُوَ اللّٰهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ) 39۔ الزمر :4) ، یعنی اگر حضرت حق جل و علا اولاد کی خواہش کرتا تو اپنی مخلوق میں سے جسے چاہتا چن لیتا لیکن وہ اس سے پاک ہے اس کی شان وحدانیت اس کے خلاف ہے اس کا تنہا غلبہ اور قہاریت اس کی صریح منافی ہے بعض مفسریں نے (عابدین) کے معنی انکاری کے بھی کئے ہیں جیسے سفیان ثوری۔ صحیح بخاری شریف میں ہے کہ (عابدین) سے مراد یہاں (اول الجاحدین) ہے یعنی پہلا انکار کرنے والا اور یہ (عبد یعبد) کے باب سے ہے اور جو عبادت کے معنی میں ہوتا ہے۔ وہ (عبد یعبد) سے ہوتا ہے۔ اسی کی شہادت میں یہ واقعہ بھی ہے کہ ایک عورت کے نکاح کے چھ ماہ بعد بچہ ہوا حضرت عثمان نے اسے رجم کرنے کا حکم دیا لیکن حضرت علی نے اس کی مخالفت کی اور فرمایا اللہ تعالیٰ کی کتاب میں ہے آیت (وَحَمْلُهٗ وَفِصٰلُهٗ ثَلٰثُوْنَ شَهْرًا 15) 46۔ الأحقاف :15) یعنی حمل کی اور دودھ کی چھٹائی کی مدت ڈھائی سال کی ہے۔ اور جگہ اللہ عزوجل نے فرمایا آیت (وفصالہ فی عامین) دو سال کے اندر اندر دودھ چھڑانے کی مدت ہے حضرت عثمان ان کا انکار نہ کرسکے اور فوراً آدمی بھیجا کہ اس عورت کو واپس کرو یہاں بھی لفظ (عبد) ہے یعنی انکار نہ کرسکے۔ ابن وہب کہتے ہیں (عبد) کے معنی نہ ماننا انکار کرنا ہے۔ شاعر کے شعر میں بھی (عبد) انکار کے اور نہ ماننے کے معنی میں ہے۔ لیکن اس قول میں نر ہے اس لئے کہ شرط کے جواب میں یہ کچھ ٹھیک طور پر لگتا نہیں اسے ماننے کے بعد مطلب یہ ہوگا کہ اگر رحمان کی اولاد ہے تو میں پہلا منکر ہوں۔ اور اس میں کلام کی خوبصورتی قائم نہیں رہتی۔ ہاں صرف یہ کہہ سکتے ہیں کہ (ان) شرط کے لئے نہیں ہے۔ بلکہ نفی کے لئے ہے جیسے کہ ابن عباس سے منقول بھی ہے۔ تو اب مضمون کلام یہ ہوگا کہ چونکہ رحمان کی اولاد نہیں پس میں اس کا پہلا گواہ ہوں حضرت قتادہ فرماتے ہیں یہ کلام عرب کے محاورے کے مطابق ہے یعنی نہ رحمان کی اولاد نہ میں اس کا قائل و عابد۔ ابو صخر فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ میں تو پہلے ہی اس کا عابد ہوں کہ اس کی اولاد ہے ہی نہیں اور میں اس کی توحید کو ماننے میں بھی آگے آگے ہوں مجاہد فرماتے ہیں میں اس کا پہلا عبادت گذار ہوں اور موحد ہوں اور تمہاری تکذیب کرنے والا ہوں۔ امام بخاری فرماتے ہیں میں پہلا انکاری ہوں یہ دونوں لغت میں (عابد) اور (عبد) اور اول ہی زیادہ قریب ہے اس وجہ سے کہ یہ شرط و جزا ہے لیکن یہ ممتنع اور محال محض ناممکن۔ سدی فرماتے ہیں اگر اس کی اولاد ہوتی تو میں اسے پہلے مان لیتا کہ اس کی اولاد ہے لیکن وہ اس سے پاک ہے ابن جریر اسی کو پسند فرماتے ہیں اور جو لوگ (ان) کو نافیہ بتلاتے ہیں ان کے قول کی تردید کرتے ہیں اسی لئے باری تعالیٰ عزوجل فرماتا ہے کہ آسمان و زمین اور تمام چیزوں کا حال اس سے پاک بہت دور اور بالکل منزہ ہے کہ اس کی اولاد ہو وہ فرد احمد صمد ہے اس کی نظیر کفو اولاد کوئی نہیں ارشاد ہوتا ہے کہ نبی انہیں اپنی جہالت میں غوطے کھاتے چھوڑو اور دنیا کے کھیل تماشوں میں مشغول رہنے دو اسی غفلت میں ان پر قیامت ٹوٹ پڑے گی۔ اس وقت اپنا انجام معلوم کرلیں پھر ذات حق کی بزرگی اور عظمت اور جلال کا مزید بیان ہوتا ہے کہ زمین و آسمان کی تمام مخلوقات اس کی عابد ہے اس کے سامنے پست اور عاجز ہے۔ وہ خبیر وعلیم ہے جیسے اور آیت میں ہے کہ زمین و آسمان میں اللہ وہی ہے ہر پوشیدہ اور ظاہر کو اور تمہارے ہر ہر عمل کو جانتا ہے وہ سب کا خالق ومالک سب کو بسانے اور بنانے والا سب پر حکومت اور سلطنت رکھنے والا بڑی برکتوں والا ہے۔ وہ تمام عیبوں سے کل نقصانات سے پاک ہے وہ سب کا مالک ہے بلندیوں اور عظمتوں والا ہے کوئی نہیں جو اس کا حکم ٹال سکے کوئی نہیں جو اس کی مرضی بدل سکے ہر ایک پر قابض وہی ہے ہر ایک کام اس کی قدرت کے ماتحت ہے قیامت آنے کے وقت کو وہی جانتا ہے اس کے سوا کسی کو اس کے آنے کے ٹھیک وقت کا علم نہیں ساری مخلوق اسی کی طرف لوٹائی جائے گی وہ ہر ایک کو اپنے اپنے اعمال کا بدلہ دے گا پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ان کافروں کے معبودان باطل جنہیں یہ اپنا سفارشی خیال کئے بیٹھے ہیں ان میں سے کوئی بھی سفارش کے لئے آگے بڑھ نہیں سکتا کسی کی شفاعت انہیں کام نہ آئے گی اسکے بعد استثناء منقطع ہے یعنی لیکن جو شخص حق کا اقراری اور شاہد ہو اور وہ خود بھی بصیرت و بصارت پر یعنی علم و معرفت والا ہو اسے اللہ کے حکم سے نیک لوگوں کی شفاعت کار آمد ہوگی ان سے اگر تو پوچھے کہ ان کا خالق کون ہے ؟ تو یہ اقرار کریں گے کہ اللہ ہی ہے افسوس کہ خالق اسی ایک کو مان کر پھر عبادت دوسروں کی بھی کرتے ہیں جو محض مجبور اور بالکل بےقدرت ہیں اور کبھی اپنی عقل کو کام میں نہیں لاتے کہ جب پیدا اسی ایک نے کیا تو ہم دوسرے کی عبادت کیوں کریں ؟ جہالت و خباثت کند ذہنی اور بےوقوفی اتنی بڑھ گئی ہے کہ ایسی سیدھی سی بات مرتے دم تک سمجھ نہ آئی۔ بلکہ سمجھانے سے بھی نہ سمجھا اسی لئے تعجب سے ارشاد ہوا کہ اتنا مانتے ہوئے پھر کیوں اندھے ہوجاتے ہو ؟ پھر ارشاد ہے کہ محمد ﷺ نے اپنا یہ کہنا کہا یعنی اپنے رب کی طرف شکایت کی اور اپنی قوم کی تکذیب کا بیان کیا کہ یہ ایمان قبول نہیں کرتے جیسے اور آیت میں ہے (وَقَال الرَّسُوْلُ يٰرَبِّ اِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوْا ھٰذَا الْقُرْاٰنَ مَهْجُوْرًا 30) 25۔ الفرقان :30) یعنی رسول ﷺ کی یہ شکایت اللہ کے سامنے ہوگی کہ میری امت نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا۔ امام ابن جریر بھی یہی تفسیر بیان کرتے ہیں امام بخاری فرماتے ہیں ابن مسعود کی قرأت لام کے زیر کیساتھ بھی نقل کی ہے اس کی ایک توجیہ تو یہ ہوسکتی ہے کہ آیت (اَمْ يَحْسَبُوْنَ اَنَّا لَا نَسْمَعُ سِرَّهُمْ وَنَجْوٰىهُمْ ۭ بَلٰى وَرُسُلُنَا لَدَيْهِمْ يَكْتُبُوْنَ 80) 43۔ الزخرف :80) پر معطوف ہے دوسرے یہ کہ یہاں فعل مقدر مانا جائے یعنی (قال) کو مقدر مانا جائے۔ دوسری قرأت یعنی لام کے زیر کیساتھ جب ہو تو یہ عجب ہوگا آیت (وَعِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ ۚ وَاِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ 85 ) 43۔ الزخرف :85) پر تو تقدیر یوں ہوگی۔ کہ قیامت کا علم اور اس قول کا علم اس کے پاس ہے ختم سورة پر ارشاد ہوتا ہے کہ مشرکین سے منہ موڑ لے اور ان کی بدزبانی کا بد کالمی سے جواب نہ دو بلکہ ان کے دل پر چانے کی خاطر قول میں اور فعل میں دونوں میں نرمی برتو کہہ دو کہ سلام ہے۔ انہیں ابھی حقیقت حال معلوم ہوجائے گی۔ اس میں رب قدوس کی طرف سے مشرکین کو بڑی دھمکی ہے اور یہی ہو کر بھی رہا۔ کہ ان پر وہ عذاب آیا جو ان سے ٹل نہ سکا حضرت حق جل و علا نے اپنے دین کو بلند وبالا کیا اپنے کلمہ کو چاروں طرف پھیلا دیا اپنے موحد مومن اور مسلم بندوں کو قوی کردیا اور پھر انہیں جہاد کے اور جلا وطن کرنے کے احکام دے کر اس طرح دنیا میں غالب کردیا اللہ کے دین میں بیشمار آدمی داخل ہوئے اور مشرق و مغرب میں اسلام پھیل گیا فالحمدللہ۔ واللہ اعلم۔
إِنَّآ أَنزَلۡنَٰهُ فِي لَيۡلَةٖ مُّبَٰرَكَةٍۚ إِنَّا كُنَّا مُنذِرِينَ
We have indeed sent it down in a blessed night – indeed it is We Who warn.
بیشک ہم نے اسے ایک بابرکت رات میں اتارا ہے بیشک ہم ڈر سنانے والے ہیں
Tafsir Ibn Kathir
Which was revealed in Makkah
In Musnad Al-Bazzar, it is recorded from Abu At-Tufayl `Amir bin Wathilah from Zayd bin Harithah that the Messenger of Allah ﷺ said to Ibn Sayyad:
«إِنِّي قَدْ خَبَأْتُ خَبْأً فَمَا هُوَ؟»
(I am concealing something, what is it) And the Messenger of Allah ﷺ was concealing Surat Ad-Dukhan from him. He (Ibn Sayyad) said: "It is Ad-Dukh." The Messenger of Allah ﷺ said,
«اخْسَأْ مَا شَاءَ اللهُ (كَانَ)»
(Be off with you! Whatever Allah wills happens.)
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـنِ الرَّحِيمِ
In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
The Qur'an was revealed on Laylatul-Qadr
Allah tells us that He revealed the Magnificent Qur'an on a blessed night, Laylatul-Qadr (the Night of Decree), as He says elsewhere:
إِنَّا أَنزَلْنَـهُ فِى لَيْلَةِ الْقَدْرِ
(Verily, We have sent it down in the Night of Al-Qadr) (97:1). This was in the month of Ramadan, as Allah tells us:
شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِى أُنزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ
(The month of Ramadan in which was revealed the Qur'an) (2:185). We have already quoted the relevant Hadiths in (the Tafsir of) Surat Al-Baqarah, and there is no need to repeat them here.
إِنَّا كُنَّا مُنذِرِينَ
(Verily, We are ever warning.) means, telling them what is good for them and what is harmful for them, according to Shari`ah, so that the proof of Allah may be established against His servants.
فِيهَا يُفْرَقُ كُلُّ أَمْرٍ حَكِيمٍ
(Therein (that night) is decreed every matter, Hakim.) means, on Laylatul-Qadr, the decrees are transferred from Al-Lawh Al-Mahfuz to the (angelic) scribes who write down the decrees of the (coming) year including life span, provision, and what will happen until the end of the year. This was narrated from Ibn `Umar, Mujahid, Abu Malik, Ad-Dahhak and others among the Salaf.
حَكِيمٌ
(Hakim) means decided or confirmed, which cannot be changed or altered. Allah says:
أَمْراً مِّنْ عِنْدِنَآ
(As a command from Us.) meaning, everything that happens and is decreed by Allah and the revelation that He sends down -- it all happens by His command, by His leave and with His knowledge.
إِنَّا كُنَّا مُرْسِلِينَ
(Verily, We are ever sending,) means, to mankind, sending Messenger who will recite to them the clear signs of Allah. The need for this was urgent.
رَحْمَةً مِّن رَّبِّكَ إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ رَّبُّ السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا
((As) a mercy from your Lord. Verily, He is the All-Hearer, the All-Knower. The Lord of the heavens and the earth and all that is between them,) means, the One Who sent down the Qur'an is the Lord, Creator and Sovereign of the heavens and the earth and everything in between them.
إِن كُنتُمْ مُّوقِنِينَ
(if you (but) have a faith with certainty.) Then Allah says:
لاَ إِلَـهَ إِلاَّ هُوَ يُحْىِ وَيُمِيتُ رَبُّكُمْ وَرَبُّ ءَابَآئِكُمُ الاٌّوَّلِينَ
(La ilaha illa Huwa. He gives life and causes death -- your Lord and the Lord of your forefathers.) This is like the Ayah:
قُلْ يَأَيُّهَا النَّاسُ إِنِّى رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا الَّذِى لَهُ مُلْكُ السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ لا إِلَـهَ إِلاَّ هُوَ يُحْىِ وَيُمِيتُ
(Say: "O mankind! Verily, I am sent to you all as the Messenger of Allah -- to Whom belongs the dominion of the heavens and the earth. La ilaha illa Huwa. He gives life and causes death...) (7:158)
عظیم الشان قرآن کریم کا نزول اور ماہ شعبان اللہ تبارک وتعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ اس عظیم الشان قرآن کریم کو بابرکت رات یعنی لیلۃ القدر میں نازل فرمایا ہے۔ جیسے ارشاد ہے آیت (اِنَّآ اَنْزَلْنٰهُ فِيْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ ښ) 97۔ القدر :1) ہم نے اسے لیلۃ القدر میں نازل فرمایا ہے۔ اور یہ رات رمضان المبارک میں ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے (شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِيْٓ اُنْزِلَ فِيْهِ الْقُرْاٰنُ ھُدًى لِّلنَّاسِ وَ بَيِّنٰتٍ مِّنَ الْهُدٰى وَالْفُرْقَانِ01805) 2۔ البقرة :185) رمضان کا مہینہ وہ مہینہ ہے جس میں قرآن اتارا گیا۔ سورة بقرہ میں اس کی پوری تفسیر گذر چکی ہے اس لئے یہاں دوبارہ نہیں لکھتے بعض لوگوں نے یہ بھی کہا ہے کہ لیلہ مبارکہ جس مے قرآن شریف ہوا وہ شعبان کی پندرہویں رات ہے یہ قول سراسر بےدلیل ہے۔ اس لئے کہ نص قرآن سے قرآن کا رمضان میں نازل ہونا ثابت ہے۔ اور جس حدیث میں مروی ہے کہ شعبان میں اگلے شعبان تک کے تمام کام مقرر کر دئیے جاتے ہیں یہاں تک کہ نکاح کا اور اولاد کا اور میت کا ہونا بھی وہ حدیث مرسل ہے اور ایسی احادیث سے نص قرآنی کا معارضہ نہیں کیا جاسکتا ہم لوگوں کو آگاہ کردینے والے ہیں یعنی انہیں خیر و شر نیکی بدی معلوم کرا دینے والے ہیں تاکہ مخلوق پر حجت ثابت ہوجائے اور لوگ علم شرعی حاصل کرلیں اسی شب ہر محکم کام طے کیا جاتا ہے یعنی لوح محفوظ سے کاتب فرشتوں کے حوالے کیا جاتا ہے تمام سال کے کل اہم کام عمر روزی وغیرہ سب طے کرلی جاتی ہے۔ حکیم کے معنی محکم اور مضبوط کے ہیں جو بدلے نہیں وہ سب ہمارے حکم سے ہوتا ہے ہم رسل کے ارسال کرنے والے ہیں تاکہ وہ اللہ کی آیتیں اللہ کے بندوں کو پڑھ سنائیں جس کی انہیں سخت ضرورت اور پوری حاجت ہے یہ تیرے رب کی رحمت ہے اس رحمت کا کرنے والا قرآن کو اتارنے والا اور رسولوں کو بھیجنے والا وہ اللہ ہے جو آسمان زمین اور کل چیز کا مالک ہے اور سب کا خالق ہے۔ تم اگر یقین کرنے والے ہو تو اس کے باور کرنے کے کافی وجوہ موجود ہیں پھر ارشاد ہوا کہ معبود برحق بھی صرف وہی ہے اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہر ایک کی موت زیست اسی کے ہاتھ ہے تمہارا اور تم سے اگلوں کا سب کا پالنے پوسنے والا وہی ہے اس آیت کا مضمون اس آیت جیسا ہے (قُلْ يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ اِنِّىْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَيْكُمْ جَمِيْعَۨا01508) 7۔ الاعراف :158) ، یعنی تو اعلان کر دے کہ اے لوگو میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں وہ اللہ جس کی بادشاہت ہے آسمان و زمین کی جس کے سوا کوئی معبود نہیں جو جلاتا اور مارتا ہے۔
فِيهَا يُفۡرَقُ كُلُّ أَمۡرٍ حَكِيمٍ
During it are distributed all the works of wisdom.
اس (رات) میں ہر حکمت والے کام کا (جدا جدا) فیصلہ کر دیا جاتا ہے
Tafsir Ibn Kathir
Which was revealed in Makkah
In Musnad Al-Bazzar, it is recorded from Abu At-Tufayl `Amir bin Wathilah from Zayd bin Harithah that the Messenger of Allah ﷺ said to Ibn Sayyad:
«إِنِّي قَدْ خَبَأْتُ خَبْأً فَمَا هُوَ؟»
(I am concealing something, what is it) And the Messenger of Allah ﷺ was concealing Surat Ad-Dukhan from him. He (Ibn Sayyad) said: "It is Ad-Dukh." The Messenger of Allah ﷺ said,
«اخْسَأْ مَا شَاءَ اللهُ (كَانَ)»
(Be off with you! Whatever Allah wills happens.)
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـنِ الرَّحِيمِ
In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
The Qur'an was revealed on Laylatul-Qadr
Allah tells us that He revealed the Magnificent Qur'an on a blessed night, Laylatul-Qadr (the Night of Decree), as He says elsewhere:
إِنَّا أَنزَلْنَـهُ فِى لَيْلَةِ الْقَدْرِ
(Verily, We have sent it down in the Night of Al-Qadr) (97:1). This was in the month of Ramadan, as Allah tells us:
شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِى أُنزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ
(The month of Ramadan in which was revealed the Qur'an) (2:185). We have already quoted the relevant Hadiths in (the Tafsir of) Surat Al-Baqarah, and there is no need to repeat them here.
إِنَّا كُنَّا مُنذِرِينَ
(Verily, We are ever warning.) means, telling them what is good for them and what is harmful for them, according to Shari`ah, so that the proof of Allah may be established against His servants.
فِيهَا يُفْرَقُ كُلُّ أَمْرٍ حَكِيمٍ
(Therein (that night) is decreed every matter, Hakim.) means, on Laylatul-Qadr, the decrees are transferred from Al-Lawh Al-Mahfuz to the (angelic) scribes who write down the decrees of the (coming) year including life span, provision, and what will happen until the end of the year. This was narrated from Ibn `Umar, Mujahid, Abu Malik, Ad-Dahhak and others among the Salaf.
حَكِيمٌ
(Hakim) means decided or confirmed, which cannot be changed or altered. Allah says:
أَمْراً مِّنْ عِنْدِنَآ
(As a command from Us.) meaning, everything that happens and is decreed by Allah and the revelation that He sends down -- it all happens by His command, by His leave and with His knowledge.
إِنَّا كُنَّا مُرْسِلِينَ
(Verily, We are ever sending,) means, to mankind, sending Messenger who will recite to them the clear signs of Allah. The need for this was urgent.
رَحْمَةً مِّن رَّبِّكَ إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ رَّبُّ السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا
((As) a mercy from your Lord. Verily, He is the All-Hearer, the All-Knower. The Lord of the heavens and the earth and all that is between them,) means, the One Who sent down the Qur'an is the Lord, Creator and Sovereign of the heavens and the earth and everything in between them.
إِن كُنتُمْ مُّوقِنِينَ
(if you (but) have a faith with certainty.) Then Allah says:
لاَ إِلَـهَ إِلاَّ هُوَ يُحْىِ وَيُمِيتُ رَبُّكُمْ وَرَبُّ ءَابَآئِكُمُ الاٌّوَّلِينَ
(La ilaha illa Huwa. He gives life and causes death -- your Lord and the Lord of your forefathers.) This is like the Ayah:
قُلْ يَأَيُّهَا النَّاسُ إِنِّى رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا الَّذِى لَهُ مُلْكُ السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ لا إِلَـهَ إِلاَّ هُوَ يُحْىِ وَيُمِيتُ
(Say: "O mankind! Verily, I am sent to you all as the Messenger of Allah -- to Whom belongs the dominion of the heavens and the earth. La ilaha illa Huwa. He gives life and causes death...) (7:158)
عظیم الشان قرآن کریم کا نزول اور ماہ شعبان اللہ تبارک وتعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ اس عظیم الشان قرآن کریم کو بابرکت رات یعنی لیلۃ القدر میں نازل فرمایا ہے۔ جیسے ارشاد ہے آیت (اِنَّآ اَنْزَلْنٰهُ فِيْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ ښ) 97۔ القدر :1) ہم نے اسے لیلۃ القدر میں نازل فرمایا ہے۔ اور یہ رات رمضان المبارک میں ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے (شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِيْٓ اُنْزِلَ فِيْهِ الْقُرْاٰنُ ھُدًى لِّلنَّاسِ وَ بَيِّنٰتٍ مِّنَ الْهُدٰى وَالْفُرْقَانِ01805) 2۔ البقرة :185) رمضان کا مہینہ وہ مہینہ ہے جس میں قرآن اتارا گیا۔ سورة بقرہ میں اس کی پوری تفسیر گذر چکی ہے اس لئے یہاں دوبارہ نہیں لکھتے بعض لوگوں نے یہ بھی کہا ہے کہ لیلہ مبارکہ جس مے قرآن شریف ہوا وہ شعبان کی پندرہویں رات ہے یہ قول سراسر بےدلیل ہے۔ اس لئے کہ نص قرآن سے قرآن کا رمضان میں نازل ہونا ثابت ہے۔ اور جس حدیث میں مروی ہے کہ شعبان میں اگلے شعبان تک کے تمام کام مقرر کر دئیے جاتے ہیں یہاں تک کہ نکاح کا اور اولاد کا اور میت کا ہونا بھی وہ حدیث مرسل ہے اور ایسی احادیث سے نص قرآنی کا معارضہ نہیں کیا جاسکتا ہم لوگوں کو آگاہ کردینے والے ہیں یعنی انہیں خیر و شر نیکی بدی معلوم کرا دینے والے ہیں تاکہ مخلوق پر حجت ثابت ہوجائے اور لوگ علم شرعی حاصل کرلیں اسی شب ہر محکم کام طے کیا جاتا ہے یعنی لوح محفوظ سے کاتب فرشتوں کے حوالے کیا جاتا ہے تمام سال کے کل اہم کام عمر روزی وغیرہ سب طے کرلی جاتی ہے۔ حکیم کے معنی محکم اور مضبوط کے ہیں جو بدلے نہیں وہ سب ہمارے حکم سے ہوتا ہے ہم رسل کے ارسال کرنے والے ہیں تاکہ وہ اللہ کی آیتیں اللہ کے بندوں کو پڑھ سنائیں جس کی انہیں سخت ضرورت اور پوری حاجت ہے یہ تیرے رب کی رحمت ہے اس رحمت کا کرنے والا قرآن کو اتارنے والا اور رسولوں کو بھیجنے والا وہ اللہ ہے جو آسمان زمین اور کل چیز کا مالک ہے اور سب کا خالق ہے۔ تم اگر یقین کرنے والے ہو تو اس کے باور کرنے کے کافی وجوہ موجود ہیں پھر ارشاد ہوا کہ معبود برحق بھی صرف وہی ہے اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہر ایک کی موت زیست اسی کے ہاتھ ہے تمہارا اور تم سے اگلوں کا سب کا پالنے پوسنے والا وہی ہے اس آیت کا مضمون اس آیت جیسا ہے (قُلْ يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ اِنِّىْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَيْكُمْ جَمِيْعَۨا01508) 7۔ الاعراف :158) ، یعنی تو اعلان کر دے کہ اے لوگو میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں وہ اللہ جس کی بادشاہت ہے آسمان و زمین کی جس کے سوا کوئی معبود نہیں جو جلاتا اور مارتا ہے۔
أَمۡرٗا مِّنۡ عِندِنَآۚ إِنَّا كُنَّا مُرۡسِلِينَ
By a command from Us – indeed it is We Who send.
ہماری بارگاہ کے حکم سے، بیشک ہم ہی بھیجنے والے ہیں
Tafsir Ibn Kathir
Which was revealed in Makkah
In Musnad Al-Bazzar, it is recorded from Abu At-Tufayl `Amir bin Wathilah from Zayd bin Harithah that the Messenger of Allah ﷺ said to Ibn Sayyad:
«إِنِّي قَدْ خَبَأْتُ خَبْأً فَمَا هُوَ؟»
(I am concealing something, what is it) And the Messenger of Allah ﷺ was concealing Surat Ad-Dukhan from him. He (Ibn Sayyad) said: "It is Ad-Dukh." The Messenger of Allah ﷺ said,
«اخْسَأْ مَا شَاءَ اللهُ (كَانَ)»
(Be off with you! Whatever Allah wills happens.)
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـنِ الرَّحِيمِ
In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
The Qur'an was revealed on Laylatul-Qadr
Allah tells us that He revealed the Magnificent Qur'an on a blessed night, Laylatul-Qadr (the Night of Decree), as He says elsewhere:
إِنَّا أَنزَلْنَـهُ فِى لَيْلَةِ الْقَدْرِ
(Verily, We have sent it down in the Night of Al-Qadr) (97:1). This was in the month of Ramadan, as Allah tells us:
شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِى أُنزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ
(The month of Ramadan in which was revealed the Qur'an) (2:185). We have already quoted the relevant Hadiths in (the Tafsir of) Surat Al-Baqarah, and there is no need to repeat them here.
إِنَّا كُنَّا مُنذِرِينَ
(Verily, We are ever warning.) means, telling them what is good for them and what is harmful for them, according to Shari`ah, so that the proof of Allah may be established against His servants.
فِيهَا يُفْرَقُ كُلُّ أَمْرٍ حَكِيمٍ
(Therein (that night) is decreed every matter, Hakim.) means, on Laylatul-Qadr, the decrees are transferred from Al-Lawh Al-Mahfuz to the (angelic) scribes who write down the decrees of the (coming) year including life span, provision, and what will happen until the end of the year. This was narrated from Ibn `Umar, Mujahid, Abu Malik, Ad-Dahhak and others among the Salaf.
حَكِيمٌ
(Hakim) means decided or confirmed, which cannot be changed or altered. Allah says:
أَمْراً مِّنْ عِنْدِنَآ
(As a command from Us.) meaning, everything that happens and is decreed by Allah and the revelation that He sends down -- it all happens by His command, by His leave and with His knowledge.
إِنَّا كُنَّا مُرْسِلِينَ
(Verily, We are ever sending,) means, to mankind, sending Messenger who will recite to them the clear signs of Allah. The need for this was urgent.
رَحْمَةً مِّن رَّبِّكَ إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ رَّبُّ السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا
((As) a mercy from your Lord. Verily, He is the All-Hearer, the All-Knower. The Lord of the heavens and the earth and all that is between them,) means, the One Who sent down the Qur'an is the Lord, Creator and Sovereign of the heavens and the earth and everything in between them.
إِن كُنتُمْ مُّوقِنِينَ
(if you (but) have a faith with certainty.) Then Allah says:
لاَ إِلَـهَ إِلاَّ هُوَ يُحْىِ وَيُمِيتُ رَبُّكُمْ وَرَبُّ ءَابَآئِكُمُ الاٌّوَّلِينَ
(La ilaha illa Huwa. He gives life and causes death -- your Lord and the Lord of your forefathers.) This is like the Ayah:
قُلْ يَأَيُّهَا النَّاسُ إِنِّى رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا الَّذِى لَهُ مُلْكُ السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ لا إِلَـهَ إِلاَّ هُوَ يُحْىِ وَيُمِيتُ
(Say: "O mankind! Verily, I am sent to you all as the Messenger of Allah -- to Whom belongs the dominion of the heavens and the earth. La ilaha illa Huwa. He gives life and causes death...) (7:158)
عظیم الشان قرآن کریم کا نزول اور ماہ شعبان اللہ تبارک وتعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ اس عظیم الشان قرآن کریم کو بابرکت رات یعنی لیلۃ القدر میں نازل فرمایا ہے۔ جیسے ارشاد ہے آیت (اِنَّآ اَنْزَلْنٰهُ فِيْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ ښ) 97۔ القدر :1) ہم نے اسے لیلۃ القدر میں نازل فرمایا ہے۔ اور یہ رات رمضان المبارک میں ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے (شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِيْٓ اُنْزِلَ فِيْهِ الْقُرْاٰنُ ھُدًى لِّلنَّاسِ وَ بَيِّنٰتٍ مِّنَ الْهُدٰى وَالْفُرْقَانِ01805) 2۔ البقرة :185) رمضان کا مہینہ وہ مہینہ ہے جس میں قرآن اتارا گیا۔ سورة بقرہ میں اس کی پوری تفسیر گذر چکی ہے اس لئے یہاں دوبارہ نہیں لکھتے بعض لوگوں نے یہ بھی کہا ہے کہ لیلہ مبارکہ جس مے قرآن شریف ہوا وہ شعبان کی پندرہویں رات ہے یہ قول سراسر بےدلیل ہے۔ اس لئے کہ نص قرآن سے قرآن کا رمضان میں نازل ہونا ثابت ہے۔ اور جس حدیث میں مروی ہے کہ شعبان میں اگلے شعبان تک کے تمام کام مقرر کر دئیے جاتے ہیں یہاں تک کہ نکاح کا اور اولاد کا اور میت کا ہونا بھی وہ حدیث مرسل ہے اور ایسی احادیث سے نص قرآنی کا معارضہ نہیں کیا جاسکتا ہم لوگوں کو آگاہ کردینے والے ہیں یعنی انہیں خیر و شر نیکی بدی معلوم کرا دینے والے ہیں تاکہ مخلوق پر حجت ثابت ہوجائے اور لوگ علم شرعی حاصل کرلیں اسی شب ہر محکم کام طے کیا جاتا ہے یعنی لوح محفوظ سے کاتب فرشتوں کے حوالے کیا جاتا ہے تمام سال کے کل اہم کام عمر روزی وغیرہ سب طے کرلی جاتی ہے۔ حکیم کے معنی محکم اور مضبوط کے ہیں جو بدلے نہیں وہ سب ہمارے حکم سے ہوتا ہے ہم رسل کے ارسال کرنے والے ہیں تاکہ وہ اللہ کی آیتیں اللہ کے بندوں کو پڑھ سنائیں جس کی انہیں سخت ضرورت اور پوری حاجت ہے یہ تیرے رب کی رحمت ہے اس رحمت کا کرنے والا قرآن کو اتارنے والا اور رسولوں کو بھیجنے والا وہ اللہ ہے جو آسمان زمین اور کل چیز کا مالک ہے اور سب کا خالق ہے۔ تم اگر یقین کرنے والے ہو تو اس کے باور کرنے کے کافی وجوہ موجود ہیں پھر ارشاد ہوا کہ معبود برحق بھی صرف وہی ہے اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہر ایک کی موت زیست اسی کے ہاتھ ہے تمہارا اور تم سے اگلوں کا سب کا پالنے پوسنے والا وہی ہے اس آیت کا مضمون اس آیت جیسا ہے (قُلْ يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ اِنِّىْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَيْكُمْ جَمِيْعَۨا01508) 7۔ الاعراف :158) ، یعنی تو اعلان کر دے کہ اے لوگو میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں وہ اللہ جس کی بادشاہت ہے آسمان و زمین کی جس کے سوا کوئی معبود نہیں جو جلاتا اور مارتا ہے۔
رَحۡمَةٗ مِّن رَّبِّكَۚ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلۡعَلِيمُ
A mercy from your Lord; indeed He only is the All Hearing, the All Knowing.
(یہ) آپ کے رب کی جانب سے رحمت ہے، بیشک وہ خوب سننے والا خوب جاننے والا ہے
Tafsir Ibn Kathir
Which was revealed in Makkah
In Musnad Al-Bazzar, it is recorded from Abu At-Tufayl `Amir bin Wathilah from Zayd bin Harithah that the Messenger of Allah ﷺ said to Ibn Sayyad:
«إِنِّي قَدْ خَبَأْتُ خَبْأً فَمَا هُوَ؟»
(I am concealing something, what is it) And the Messenger of Allah ﷺ was concealing Surat Ad-Dukhan from him. He (Ibn Sayyad) said: "It is Ad-Dukh." The Messenger of Allah ﷺ said,
«اخْسَأْ مَا شَاءَ اللهُ (كَانَ)»
(Be off with you! Whatever Allah wills happens.)
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـنِ الرَّحِيمِ
In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
The Qur'an was revealed on Laylatul-Qadr
Allah tells us that He revealed the Magnificent Qur'an on a blessed night, Laylatul-Qadr (the Night of Decree), as He says elsewhere:
إِنَّا أَنزَلْنَـهُ فِى لَيْلَةِ الْقَدْرِ
(Verily, We have sent it down in the Night of Al-Qadr) (97:1). This was in the month of Ramadan, as Allah tells us:
شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِى أُنزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ
(The month of Ramadan in which was revealed the Qur'an) (2:185). We have already quoted the relevant Hadiths in (the Tafsir of) Surat Al-Baqarah, and there is no need to repeat them here.
إِنَّا كُنَّا مُنذِرِينَ
(Verily, We are ever warning.) means, telling them what is good for them and what is harmful for them, according to Shari`ah, so that the proof of Allah may be established against His servants.
فِيهَا يُفْرَقُ كُلُّ أَمْرٍ حَكِيمٍ
(Therein (that night) is decreed every matter, Hakim.) means, on Laylatul-Qadr, the decrees are transferred from Al-Lawh Al-Mahfuz to the (angelic) scribes who write down the decrees of the (coming) year including life span, provision, and what will happen until the end of the year. This was narrated from Ibn `Umar, Mujahid, Abu Malik, Ad-Dahhak and others among the Salaf.
حَكِيمٌ
(Hakim) means decided or confirmed, which cannot be changed or altered. Allah says:
أَمْراً مِّنْ عِنْدِنَآ
(As a command from Us.) meaning, everything that happens and is decreed by Allah and the revelation that He sends down -- it all happens by His command, by His leave and with His knowledge.
إِنَّا كُنَّا مُرْسِلِينَ
(Verily, We are ever sending,) means, to mankind, sending Messenger who will recite to them the clear signs of Allah. The need for this was urgent.
رَحْمَةً مِّن رَّبِّكَ إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ رَّبُّ السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا
((As) a mercy from your Lord. Verily, He is the All-Hearer, the All-Knower. The Lord of the heavens and the earth and all that is between them,) means, the One Who sent down the Qur'an is the Lord, Creator and Sovereign of the heavens and the earth and everything in between them.
إِن كُنتُمْ مُّوقِنِينَ
(if you (but) have a faith with certainty.) Then Allah says:
لاَ إِلَـهَ إِلاَّ هُوَ يُحْىِ وَيُمِيتُ رَبُّكُمْ وَرَبُّ ءَابَآئِكُمُ الاٌّوَّلِينَ
(La ilaha illa Huwa. He gives life and causes death -- your Lord and the Lord of your forefathers.) This is like the Ayah:
قُلْ يَأَيُّهَا النَّاسُ إِنِّى رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا الَّذِى لَهُ مُلْكُ السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ لا إِلَـهَ إِلاَّ هُوَ يُحْىِ وَيُمِيتُ
(Say: "O mankind! Verily, I am sent to you all as the Messenger of Allah -- to Whom belongs the dominion of the heavens and the earth. La ilaha illa Huwa. He gives life and causes death...) (7:158)
عظیم الشان قرآن کریم کا نزول اور ماہ شعبان اللہ تبارک وتعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ اس عظیم الشان قرآن کریم کو بابرکت رات یعنی لیلۃ القدر میں نازل فرمایا ہے۔ جیسے ارشاد ہے آیت (اِنَّآ اَنْزَلْنٰهُ فِيْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ ښ) 97۔ القدر :1) ہم نے اسے لیلۃ القدر میں نازل فرمایا ہے۔ اور یہ رات رمضان المبارک میں ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے (شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِيْٓ اُنْزِلَ فِيْهِ الْقُرْاٰنُ ھُدًى لِّلنَّاسِ وَ بَيِّنٰتٍ مِّنَ الْهُدٰى وَالْفُرْقَانِ01805) 2۔ البقرة :185) رمضان کا مہینہ وہ مہینہ ہے جس میں قرآن اتارا گیا۔ سورة بقرہ میں اس کی پوری تفسیر گذر چکی ہے اس لئے یہاں دوبارہ نہیں لکھتے بعض لوگوں نے یہ بھی کہا ہے کہ لیلہ مبارکہ جس مے قرآن شریف ہوا وہ شعبان کی پندرہویں رات ہے یہ قول سراسر بےدلیل ہے۔ اس لئے کہ نص قرآن سے قرآن کا رمضان میں نازل ہونا ثابت ہے۔ اور جس حدیث میں مروی ہے کہ شعبان میں اگلے شعبان تک کے تمام کام مقرر کر دئیے جاتے ہیں یہاں تک کہ نکاح کا اور اولاد کا اور میت کا ہونا بھی وہ حدیث مرسل ہے اور ایسی احادیث سے نص قرآنی کا معارضہ نہیں کیا جاسکتا ہم لوگوں کو آگاہ کردینے والے ہیں یعنی انہیں خیر و شر نیکی بدی معلوم کرا دینے والے ہیں تاکہ مخلوق پر حجت ثابت ہوجائے اور لوگ علم شرعی حاصل کرلیں اسی شب ہر محکم کام طے کیا جاتا ہے یعنی لوح محفوظ سے کاتب فرشتوں کے حوالے کیا جاتا ہے تمام سال کے کل اہم کام عمر روزی وغیرہ سب طے کرلی جاتی ہے۔ حکیم کے معنی محکم اور مضبوط کے ہیں جو بدلے نہیں وہ سب ہمارے حکم سے ہوتا ہے ہم رسل کے ارسال کرنے والے ہیں تاکہ وہ اللہ کی آیتیں اللہ کے بندوں کو پڑھ سنائیں جس کی انہیں سخت ضرورت اور پوری حاجت ہے یہ تیرے رب کی رحمت ہے اس رحمت کا کرنے والا قرآن کو اتارنے والا اور رسولوں کو بھیجنے والا وہ اللہ ہے جو آسمان زمین اور کل چیز کا مالک ہے اور سب کا خالق ہے۔ تم اگر یقین کرنے والے ہو تو اس کے باور کرنے کے کافی وجوہ موجود ہیں پھر ارشاد ہوا کہ معبود برحق بھی صرف وہی ہے اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہر ایک کی موت زیست اسی کے ہاتھ ہے تمہارا اور تم سے اگلوں کا سب کا پالنے پوسنے والا وہی ہے اس آیت کا مضمون اس آیت جیسا ہے (قُلْ يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ اِنِّىْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَيْكُمْ جَمِيْعَۨا01508) 7۔ الاعراف :158) ، یعنی تو اعلان کر دے کہ اے لوگو میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں وہ اللہ جس کی بادشاہت ہے آسمان و زمین کی جس کے سوا کوئی معبود نہیں جو جلاتا اور مارتا ہے۔
رَبِّ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَآۖ إِن كُنتُم مُّوقِنِينَ
The Lord of the heavens and the earth and all that is between them; if you people believe.
آسمانوں اور زمین کا اور جو کچھ اِن کے درمیان ہے (اُس کا) پروردگار ہے، بشرطیکہ تم یقین رکھنے والے ہو
Tafsir Ibn Kathir
Which was revealed in Makkah
In Musnad Al-Bazzar, it is recorded from Abu At-Tufayl `Amir bin Wathilah from Zayd bin Harithah that the Messenger of Allah ﷺ said to Ibn Sayyad:
«إِنِّي قَدْ خَبَأْتُ خَبْأً فَمَا هُوَ؟»
(I am concealing something, what is it) And the Messenger of Allah ﷺ was concealing Surat Ad-Dukhan from him. He (Ibn Sayyad) said: "It is Ad-Dukh." The Messenger of Allah ﷺ said,
«اخْسَأْ مَا شَاءَ اللهُ (كَانَ)»
(Be off with you! Whatever Allah wills happens.)
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـنِ الرَّحِيمِ
In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
The Qur'an was revealed on Laylatul-Qadr
Allah tells us that He revealed the Magnificent Qur'an on a blessed night, Laylatul-Qadr (the Night of Decree), as He says elsewhere:
إِنَّا أَنزَلْنَـهُ فِى لَيْلَةِ الْقَدْرِ
(Verily, We have sent it down in the Night of Al-Qadr) (97:1). This was in the month of Ramadan, as Allah tells us:
شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِى أُنزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ
(The month of Ramadan in which was revealed the Qur'an) (2:185). We have already quoted the relevant Hadiths in (the Tafsir of) Surat Al-Baqarah, and there is no need to repeat them here.
إِنَّا كُنَّا مُنذِرِينَ
(Verily, We are ever warning.) means, telling them what is good for them and what is harmful for them, according to Shari`ah, so that the proof of Allah may be established against His servants.
فِيهَا يُفْرَقُ كُلُّ أَمْرٍ حَكِيمٍ
(Therein (that night) is decreed every matter, Hakim.) means, on Laylatul-Qadr, the decrees are transferred from Al-Lawh Al-Mahfuz to the (angelic) scribes who write down the decrees of the (coming) year including life span, provision, and what will happen until the end of the year. This was narrated from Ibn `Umar, Mujahid, Abu Malik, Ad-Dahhak and others among the Salaf.
حَكِيمٌ
(Hakim) means decided or confirmed, which cannot be changed or altered. Allah says:
أَمْراً مِّنْ عِنْدِنَآ
(As a command from Us.) meaning, everything that happens and is decreed by Allah and the revelation that He sends down -- it all happens by His command, by His leave and with His knowledge.
إِنَّا كُنَّا مُرْسِلِينَ
(Verily, We are ever sending,) means, to mankind, sending Messenger who will recite to them the clear signs of Allah. The need for this was urgent.
رَحْمَةً مِّن رَّبِّكَ إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ رَّبُّ السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا
((As) a mercy from your Lord. Verily, He is the All-Hearer, the All-Knower. The Lord of the heavens and the earth and all that is between them,) means, the One Who sent down the Qur'an is the Lord, Creator and Sovereign of the heavens and the earth and everything in between them.
إِن كُنتُمْ مُّوقِنِينَ
(if you (but) have a faith with certainty.) Then Allah says:
لاَ إِلَـهَ إِلاَّ هُوَ يُحْىِ وَيُمِيتُ رَبُّكُمْ وَرَبُّ ءَابَآئِكُمُ الاٌّوَّلِينَ
(La ilaha illa Huwa. He gives life and causes death -- your Lord and the Lord of your forefathers.) This is like the Ayah:
قُلْ يَأَيُّهَا النَّاسُ إِنِّى رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا الَّذِى لَهُ مُلْكُ السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ لا إِلَـهَ إِلاَّ هُوَ يُحْىِ وَيُمِيتُ
(Say: "O mankind! Verily, I am sent to you all as the Messenger of Allah -- to Whom belongs the dominion of the heavens and the earth. La ilaha illa Huwa. He gives life and causes death...) (7:158)
عظیم الشان قرآن کریم کا نزول اور ماہ شعبان اللہ تبارک وتعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ اس عظیم الشان قرآن کریم کو بابرکت رات یعنی لیلۃ القدر میں نازل فرمایا ہے۔ جیسے ارشاد ہے آیت (اِنَّآ اَنْزَلْنٰهُ فِيْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ ښ) 97۔ القدر :1) ہم نے اسے لیلۃ القدر میں نازل فرمایا ہے۔ اور یہ رات رمضان المبارک میں ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے (شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِيْٓ اُنْزِلَ فِيْهِ الْقُرْاٰنُ ھُدًى لِّلنَّاسِ وَ بَيِّنٰتٍ مِّنَ الْهُدٰى وَالْفُرْقَانِ01805) 2۔ البقرة :185) رمضان کا مہینہ وہ مہینہ ہے جس میں قرآن اتارا گیا۔ سورة بقرہ میں اس کی پوری تفسیر گذر چکی ہے اس لئے یہاں دوبارہ نہیں لکھتے بعض لوگوں نے یہ بھی کہا ہے کہ لیلہ مبارکہ جس مے قرآن شریف ہوا وہ شعبان کی پندرہویں رات ہے یہ قول سراسر بےدلیل ہے۔ اس لئے کہ نص قرآن سے قرآن کا رمضان میں نازل ہونا ثابت ہے۔ اور جس حدیث میں مروی ہے کہ شعبان میں اگلے شعبان تک کے تمام کام مقرر کر دئیے جاتے ہیں یہاں تک کہ نکاح کا اور اولاد کا اور میت کا ہونا بھی وہ حدیث مرسل ہے اور ایسی احادیث سے نص قرآنی کا معارضہ نہیں کیا جاسکتا ہم لوگوں کو آگاہ کردینے والے ہیں یعنی انہیں خیر و شر نیکی بدی معلوم کرا دینے والے ہیں تاکہ مخلوق پر حجت ثابت ہوجائے اور لوگ علم شرعی حاصل کرلیں اسی شب ہر محکم کام طے کیا جاتا ہے یعنی لوح محفوظ سے کاتب فرشتوں کے حوالے کیا جاتا ہے تمام سال کے کل اہم کام عمر روزی وغیرہ سب طے کرلی جاتی ہے۔ حکیم کے معنی محکم اور مضبوط کے ہیں جو بدلے نہیں وہ سب ہمارے حکم سے ہوتا ہے ہم رسل کے ارسال کرنے والے ہیں تاکہ وہ اللہ کی آیتیں اللہ کے بندوں کو پڑھ سنائیں جس کی انہیں سخت ضرورت اور پوری حاجت ہے یہ تیرے رب کی رحمت ہے اس رحمت کا کرنے والا قرآن کو اتارنے والا اور رسولوں کو بھیجنے والا وہ اللہ ہے جو آسمان زمین اور کل چیز کا مالک ہے اور سب کا خالق ہے۔ تم اگر یقین کرنے والے ہو تو اس کے باور کرنے کے کافی وجوہ موجود ہیں پھر ارشاد ہوا کہ معبود برحق بھی صرف وہی ہے اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہر ایک کی موت زیست اسی کے ہاتھ ہے تمہارا اور تم سے اگلوں کا سب کا پالنے پوسنے والا وہی ہے اس آیت کا مضمون اس آیت جیسا ہے (قُلْ يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ اِنِّىْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَيْكُمْ جَمِيْعَۨا01508) 7۔ الاعراف :158) ، یعنی تو اعلان کر دے کہ اے لوگو میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں وہ اللہ جس کی بادشاہت ہے آسمان و زمین کی جس کے سوا کوئی معبود نہیں جو جلاتا اور مارتا ہے۔
لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ يُحۡيِۦ وَيُمِيتُۖ رَبُّكُمۡ وَرَبُّ ءَابَآئِكُمُ ٱلۡأَوَّلِينَ
There is no worship except for Him – He gives life and causes death; your Lord and the Lord of your forefathers.
اُس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہی زندگی دیتا اور موت دیتا ہے (وہ) تمہارا (بھی) رب ہے اور تمہارے اگلے آباء و اجداد کا (بھی) رب ہے
Tafsir Ibn Kathir
Which was revealed in Makkah
In Musnad Al-Bazzar, it is recorded from Abu At-Tufayl `Amir bin Wathilah from Zayd bin Harithah that the Messenger of Allah ﷺ said to Ibn Sayyad:
«إِنِّي قَدْ خَبَأْتُ خَبْأً فَمَا هُوَ؟»
(I am concealing something, what is it) And the Messenger of Allah ﷺ was concealing Surat Ad-Dukhan from him. He (Ibn Sayyad) said: "It is Ad-Dukh." The Messenger of Allah ﷺ said,
«اخْسَأْ مَا شَاءَ اللهُ (كَانَ)»
(Be off with you! Whatever Allah wills happens.)
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـنِ الرَّحِيمِ
In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
The Qur'an was revealed on Laylatul-Qadr
Allah tells us that He revealed the Magnificent Qur'an on a blessed night, Laylatul-Qadr (the Night of Decree), as He says elsewhere:
إِنَّا أَنزَلْنَـهُ فِى لَيْلَةِ الْقَدْرِ
(Verily, We have sent it down in the Night of Al-Qadr) (97:1). This was in the month of Ramadan, as Allah tells us:
شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِى أُنزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ
(The month of Ramadan in which was revealed the Qur'an) (2:185). We have already quoted the relevant Hadiths in (the Tafsir of) Surat Al-Baqarah, and there is no need to repeat them here.
إِنَّا كُنَّا مُنذِرِينَ
(Verily, We are ever warning.) means, telling them what is good for them and what is harmful for them, according to Shari`ah, so that the proof of Allah may be established against His servants.
فِيهَا يُفْرَقُ كُلُّ أَمْرٍ حَكِيمٍ
(Therein (that night) is decreed every matter, Hakim.) means, on Laylatul-Qadr, the decrees are transferred from Al-Lawh Al-Mahfuz to the (angelic) scribes who write down the decrees of the (coming) year including life span, provision, and what will happen until the end of the year. This was narrated from Ibn `Umar, Mujahid, Abu Malik, Ad-Dahhak and others among the Salaf.
حَكِيمٌ
(Hakim) means decided or confirmed, which cannot be changed or altered. Allah says:
أَمْراً مِّنْ عِنْدِنَآ
(As a command from Us.) meaning, everything that happens and is decreed by Allah and the revelation that He sends down -- it all happens by His command, by His leave and with His knowledge.
إِنَّا كُنَّا مُرْسِلِينَ
(Verily, We are ever sending,) means, to mankind, sending Messenger who will recite to them the clear signs of Allah. The need for this was urgent.
رَحْمَةً مِّن رَّبِّكَ إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ رَّبُّ السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا
((As) a mercy from your Lord. Verily, He is the All-Hearer, the All-Knower. The Lord of the heavens and the earth and all that is between them,) means, the One Who sent down the Qur'an is the Lord, Creator and Sovereign of the heavens and the earth and everything in between them.
إِن كُنتُمْ مُّوقِنِينَ
(if you (but) have a faith with certainty.) Then Allah says:
لاَ إِلَـهَ إِلاَّ هُوَ يُحْىِ وَيُمِيتُ رَبُّكُمْ وَرَبُّ ءَابَآئِكُمُ الاٌّوَّلِينَ
(La ilaha illa Huwa. He gives life and causes death -- your Lord and the Lord of your forefathers.) This is like the Ayah:
قُلْ يَأَيُّهَا النَّاسُ إِنِّى رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا الَّذِى لَهُ مُلْكُ السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ لا إِلَـهَ إِلاَّ هُوَ يُحْىِ وَيُمِيتُ
(Say: "O mankind! Verily, I am sent to you all as the Messenger of Allah -- to Whom belongs the dominion of the heavens and the earth. La ilaha illa Huwa. He gives life and causes death...) (7:158)
عظیم الشان قرآن کریم کا نزول اور ماہ شعبان اللہ تبارک وتعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ اس عظیم الشان قرآن کریم کو بابرکت رات یعنی لیلۃ القدر میں نازل فرمایا ہے۔ جیسے ارشاد ہے آیت (اِنَّآ اَنْزَلْنٰهُ فِيْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ ښ) 97۔ القدر :1) ہم نے اسے لیلۃ القدر میں نازل فرمایا ہے۔ اور یہ رات رمضان المبارک میں ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے (شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِيْٓ اُنْزِلَ فِيْهِ الْقُرْاٰنُ ھُدًى لِّلنَّاسِ وَ بَيِّنٰتٍ مِّنَ الْهُدٰى وَالْفُرْقَانِ01805) 2۔ البقرة :185) رمضان کا مہینہ وہ مہینہ ہے جس میں قرآن اتارا گیا۔ سورة بقرہ میں اس کی پوری تفسیر گذر چکی ہے اس لئے یہاں دوبارہ نہیں لکھتے بعض لوگوں نے یہ بھی کہا ہے کہ لیلہ مبارکہ جس مے قرآن شریف ہوا وہ شعبان کی پندرہویں رات ہے یہ قول سراسر بےدلیل ہے۔ اس لئے کہ نص قرآن سے قرآن کا رمضان میں نازل ہونا ثابت ہے۔ اور جس حدیث میں مروی ہے کہ شعبان میں اگلے شعبان تک کے تمام کام مقرر کر دئیے جاتے ہیں یہاں تک کہ نکاح کا اور اولاد کا اور میت کا ہونا بھی وہ حدیث مرسل ہے اور ایسی احادیث سے نص قرآنی کا معارضہ نہیں کیا جاسکتا ہم لوگوں کو آگاہ کردینے والے ہیں یعنی انہیں خیر و شر نیکی بدی معلوم کرا دینے والے ہیں تاکہ مخلوق پر حجت ثابت ہوجائے اور لوگ علم شرعی حاصل کرلیں اسی شب ہر محکم کام طے کیا جاتا ہے یعنی لوح محفوظ سے کاتب فرشتوں کے حوالے کیا جاتا ہے تمام سال کے کل اہم کام عمر روزی وغیرہ سب طے کرلی جاتی ہے۔ حکیم کے معنی محکم اور مضبوط کے ہیں جو بدلے نہیں وہ سب ہمارے حکم سے ہوتا ہے ہم رسل کے ارسال کرنے والے ہیں تاکہ وہ اللہ کی آیتیں اللہ کے بندوں کو پڑھ سنائیں جس کی انہیں سخت ضرورت اور پوری حاجت ہے یہ تیرے رب کی رحمت ہے اس رحمت کا کرنے والا قرآن کو اتارنے والا اور رسولوں کو بھیجنے والا وہ اللہ ہے جو آسمان زمین اور کل چیز کا مالک ہے اور سب کا خالق ہے۔ تم اگر یقین کرنے والے ہو تو اس کے باور کرنے کے کافی وجوہ موجود ہیں پھر ارشاد ہوا کہ معبود برحق بھی صرف وہی ہے اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہر ایک کی موت زیست اسی کے ہاتھ ہے تمہارا اور تم سے اگلوں کا سب کا پالنے پوسنے والا وہی ہے اس آیت کا مضمون اس آیت جیسا ہے (قُلْ يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ اِنِّىْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَيْكُمْ جَمِيْعَۨا01508) 7۔ الاعراف :158) ، یعنی تو اعلان کر دے کہ اے لوگو میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں وہ اللہ جس کی بادشاہت ہے آسمان و زمین کی جس کے سوا کوئی معبود نہیں جو جلاتا اور مارتا ہے۔
بَلۡ هُمۡ فِي شَكّٖ يَلۡعَبُونَ
Rather they are in doubt, playing.
بلکہ وہ شک میں پڑے کھیل رہے ہیں
Tafsir Ibn Kathir
Alarming the Idolators with News of the Day when the Sky will bring forth a visible Smoke
Allah says, these idolaters are playing about in doubt, i.e., the certain truth has come to them, but they doubt it and do not believe in it. Then Allah says, warning and threatening them:
فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَأْتِى السَّمَآءُ بِدُخَانٍ مُّبِينٍ
(Then wait you for the Day when the sky will bring forth a visible smoke.) It was narrated that Masruq said, "We entered the Masjid -- i.e., the Masjid of Kufah at the gates of Kindah -- and a man was reciting to his companions,
يَوْمَ تَأْتِى السَّمَآءُ بِدُخَانٍ مُّبِينٍ
(the Day when the sky will bring forth a visible smoke.) He asked them; `Do you know what that is' That is the smoke that will come on the Day of Resurrection. It will take away the hearing and sight of the hypocrites, but for the believers it will be like having a cold."' He said, "We came to Ibn Mas`ud, may Allah be pleased with him, and told him about that. He was lying down, and he sat up with a start and said, `Allah said to your Prophet
قُلْ مَآ أَسْـَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ وَمَآ أَنَآ مِنَ الْمُتَكَلِّفِينَ
(Say: "No wage do I ask of you for this, nor am I one of the pretenders.") (38:86). And it is part of knowledge that when a man does not know something, he should say, `Allah knows best.' I will tell you a Hadith about that. When the Quraysh did not respond to Islam and they grew stubborn, the Messenger of Allah ﷺ invoked Allah against them that they would have years like the years (of drought and famine) of Yusuf. They became so exhausted and hungry that they ate bones and dead meat. They looked at the sky, but they saw nothing but smoke."' According to another report: "A man would look at the sky and he would see nothing between him and the sky except a smoky haze, because of his exhaustion."
فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَأْتِى السَّمَآءُ بِدُخَانٍ مُّبِينٍ - يَغْشَى النَّاسَ هَـذَا عَذَابٌ أَلِيمٌ
(Then wait you for the Day when the sky will bring forth a visible smoke, covering the people, this is a painful torment) A man came to the Messenger of Allah ﷺ and said, "O Messenger of Allah! Pray to Allah to send rain to Mudar, for they are dying. So the Prophet prayed for rain for them, and they got rain. Then the Ayah was revealed:
إِنَّا كَاشِفُواْ الْعَذَابِ قَلِيلاً إِنَّكُمْ عَآئِدُونَ
(Verily, We shall remove the torment for a while. Verily, you will revert.) Ibn Mas`ud said, "Do you think that the torment will be removed for them on the Day of Resurrection When they were granted ease, they reverted to their former state. Then Allah revealed:
يَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَةَ الْكُبْرَى إِنَّا مُنتَقِمُونَ
(On the Day when We shall strike you with the Great Batshah. Verily, We will exact retribution.)" He said, "This means the day of Badr." Ibn Mas`ud said, "Five things have come to pass: the smoke, the (defeat of the) Romans, the (splitting of the) moon, the Batshah, and the torment." This Hadith was narrated in the Two Sahihs. It was also recorded by Imam Ahmad in his Musnad, and by At-Tirmidhi and An-Nasa'i in their (Books of) Tafsir, and by Ibn Jarir and Ibn Abi Hatim with a number of chains of narration. A number of the Salaf, such as Mujahid, Abu Al-`Aliyah, Ibrahim An-Nakha`i, Ad-Dahhak and `Atiyah Al-`Awfi concurred with Ibn Mas`ud's interpretation of this Ayah and his view that the smoke already happened. This was also the view of Ibn Jarir. According to the Hadith of Abu Sarihah, Hudhayfah bin Asid Al-Ghifari, may Allah be pleased with him, said, "The Messenger of Allah ﷺ looked out upon us from a room while we were discussing the Hour. He said:
«لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتْى تَرَوْا عَشْرَ آيَاتٍ: طُلُوعَ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا، وَالدُّخَانَ، وَالدَّابَّةَ، وَخُرُوجَ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ، وَخُرُوجَ عِيْسَى ابْنِ مَرْيَمَ وَالدَّجَّالَ، وَثَلَاثَةَ خُسُوفٍ: خَسْفٌ بِالْمَشْرِقِ، وَخَسْفٌ بِالْمَغْرِبِ، وَخَسْفٌ بِجَزِيرَةِ الْعَرَبِ، وَنَارًا تَخْرُجُ مِنْ قَعْرِ عَدَنَ تَسُوقُ النَّاسَ أَوْ تَحْشُرُ النَّاسَ تَبِيتُ مَعَهُمْ حَيْثُ بَاتُوا، وَتَقِيلُ مَعَهُمْ حَيْثُ قَالُوا»
(The Hour will not come until you see ten signs. The rising of the sun from the west; the smoke; the beast; the emergence of Ya'juj and Ma'juj; the appearance of `Isa bin Maryam; the Dajjal; three cases of the earth collapsing -- one in the east, one in the west, and one in the Arabian Peninsula; and a fire which will emerge from the bottom of Aden and will drive the people -- or gather the people -- stopping with them when they stop to sleep at night or rest during the day.)" This was recorded only by Muslim in his Sahih In the Two Sahihs it was recorded that the Messenger of Allah ﷺ said to Ibn Sayyad:
«إِنِّي خَبَأْتُ لَكَ خَبْأ»
(I am concealing something for you.) He said, It is Ad-Dukh. The Prophet said,
«اخْسَأْ فَلَنْ تَعْدُوَ قَدْرَك»
(Be off with you! You cannot get further than your rank.) He said, "The Messenger of Allah ﷺ was concealing from him the words,
فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَأْتِى السَّمَآءُ بِدُخَانٍ مُّبِينٍ
(Then wait you for the Day when the sky will bring forth a visible smoke.)"This indicates that the smoke is yet to appear. Ibn Sayyad was a fortune-teller who heard things through the Jinn, whose speech is unclear, therefore he said, "It is Ad-Dukh," meaning Ad-Dukhan (the smoke). When the Messenger of Allah ﷺ was sure what was happening, that the source of his information was the Shayatin, he said:
«اخْسَأْ فَلَنْ تَعْدُوَ قَدْرَك»
(Be off with you! You cannot get further than your rank.) There are numerous Marfu` and Mawquf Hadiths, Sahih, Hasan and others, which indicate that the smoke is one of the awaited signs (of the Hour). This is also the apparent meaning of Ayat in the Qur'an. Allah says:
فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَأْتِى السَّمَآءُ بِدُخَانٍ مُّبِينٍ
(Then wait you for the Day when the sky will bring forth a visible smoke.) meaning, clearly visible, such that all people will see it. According to Ibn Mas`ud's interpretation, this was a vision which they saw because of their intense hunger and exhaustion. He also interprets the Ayah
يَغْشَى النَّاسَ
(Covering mankind,) meaning, it covered them and overwhelmed them. But if it was only an illusion which happened to the idolators of Makkah, Allah would not have said "covering mankind."
هَـذَا عَذَابٌ أَلِيمٌ
(this is a painful torment.) means, this will be said to them by way of rebuke. This is like the Ayah:
يَوْمَ يُدَعُّونَ إِلَى نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّا - هَـذِهِ النَّارُ الَّتِى كُنتُم بِهَا تُكَذِّبُونَ
(The Day when they will be pushed down by force to the fire of Hell, with a horrible, forceful pushing. This is the Fire which you used to deny.) (52:13-14). Or some of them will say that to others.
رَّبَّنَا اكْشِفْ عَنَّا الْعَذَابَ إِنَّا مْؤْمِنُونَ
((They will say): "Our Lord! Remove the torment from us, really we shall become believers!") means, when the disbelievers witness the punishment of Allah, they will ask for it to be taken away from them. This is like the Ayat:
وَلَوْ تَرَى إِذْ وُقِفُواْ عَلَى النَّارِ فَقَالُواْ يلَيْتَنَا نُرَدُّ وَلاَ نُكَذِّبَ بِـَايَـتِ رَبِّنَا وَنَكُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ
(If you could but see when they will be held over the (Hell) Fire! They will say: "Would that we were but sent back (to the world)! Then we would not deny the Ayat of our Lord, and we would be of the believers!") (6:27)
وَأَنذِرِ النَّاسَ يَوْمَ يَأْتِيهِمُ الْعَذَابُ فَيَقُولُ الَّذِينَ ظَلَمُواْ رَبَّنَآ أَخِّرْنَآ إِلَى أَجَلٍ قَرِيبٍ نُّجِبْ دَعْوَتَكَ وَنَتَّبِعِ الرُّسُلَ أَوَلَمْ تَكُونُواْ أَقْسَمْتُمْ مِّن قَبْلُ مَا لَكُمْ مِّن زَوَالٍ
(And warn mankind of the Day when the torment will come unto them; then the wrongdoers will say: "Our Lord! Respite us for a little while, we will answer Your Call and follow the Messengers!" (It will be said): "Had you not sworn aforetime that you would not leave (the world for the Hereafter).) (14:44) Allah says here:
أَنَّى لَهُمُ الذِّكْرَى وَقَدْ جَآءَهُمْ رَسُولٌ مُّبِينٌ - ثُمَّ تَوَلَّوْاْ عَنْهُ وَقَالُواْ مُعَلَّمٌ مَّجْنُونٌ
(How can there be for them an admonition, when a Messenger explaining things clearly has already come to them. Then they had turned away from him and said: "(He is) one taught, a madman!") meaning, `what further admonition do they need when We have sent them a Messenger with a clear Message and warning Yet despite that, they turned away from him, opposed him and rejected him, and they said: (He is) one taught (by a human being), a madman.' This is like the Ayah:
يَوْمَئِذٍ يَتَذَكَّرُ الإِنسَـنُ وَأَنَّى لَهُ الذِّكْرَى
(On that Day will man remember, but how will that remembrance (then) avail him) (89:23)
وَلَوْ تَرَى إِذْ فَزِعُواْ فَلاَ فَوْتَ وَأُخِذُواْ مِن مَّكَانٍ قَرِيبٍ - وَقَالُواْ ءَامَنَّا بِهِ وَأَنَّى لَهُمُ التَّنَاوُشُ مِن مَّكَانِ بَعِيدٍ
(And if you could but see, when they will be terrified with no escape, and they will be seized from a near place. And they will say (in the Hereafter): "We do believe (now);" but how could they receive (faith and its acceptance by Allah) from a place so far off...) (34:51-52)
إِنَّا كَاشِفُواْ الْعَذَابِ قَلِيلاً إِنَّكُمْ عَآئِدُونَ
(Verily, We shall remove the torment for a while. Verily, you will revert.) means, `if We were to remove the torment from you for a while, and send you back to the world, you would go back to your former state of disbelief and denial.' This is like the Ayat:
وَلَوْ رَحِمْنَـهُمْ وَكَشَفْنَا مَا بِهِمْ مِّن ضُرٍّ لَّلَجُّواْ فِى طُغْيَـنِهِمْ يَعْمَهُونَ
(And though We had mercy on them and removed the distress which is on them, still they would obstinately persist in their transgression, wandering blindly.) (23:75)
وَلَوْ رُدُّواْ لَعَـدُواْ لِمَا نُهُواْ عَنْهُ وَإِنَّهُمْ لَكَـذِبُونَ
(But if they were returned (to the world), they would certainly revert to that which they were forbidden. And indeed they are liars) (6:28)
The Meaning of the "Great Batshah"
يَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَةَ الْكُبْرَى إِنَّا مُنتَقِمُونَ
(On the Day when We shall strike you with the great Batshah. Verily, We will exact retribution.) Ibn Mas`ud interpreted this to mean the day of Badr. This is also the view of a group who agreed with Ibn Mas`ud, may Allah be pleased with him, about the meaning of the smoke, as discussed above. It was also narrated from Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, in a report related to him from Al-`Awfi and from Ubayy bin Ka`b, may Allah be pleased with him. This is possible, but the apparent meaning is that it refers to the Day of Resurrection, although the day of Badr was also a day of vengeance. Ibn Jarir said, "Ya`qub narrated to me; Ibn `Ulayyah narrated to me, Khalid Al-Hadhdha' narrated to us, from `Ikrimah who said, `Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, said, "Ibn Mas`ud, may Allah be pleased with him, said that "the great Batshah" is the day of Badr, and I say that it is the Day of Resurrection." This chain of narration is Sahih to him. This is also the view of Al-Hasan Al-Basri and of `Ikrimah according to the more authentic of the two reports narrated from him. And Allah knows best.
دھواں ہی دھواں اور کفار فرماتا ہے کہ حق آچکا اور یہ شک شبہ میں اور لہو لعب میں مشغول و مصروف ہیں انہیں اس دن سے آگاہ کر دے جس دن آسمان سے سخت دھواں آئے گا حضرت مسروق فرماتے ہیں کہ ہم ایک مرتبہ کوفے کی مسجد میں گئے جو کندہ کے دروازوں کے پاس ہے تو دیکھا کہ ایک حضرت اپنے ساتھیوں میں قصہ گوئی کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اس آیت میں جس دھوئیں کا ذکر ہے اس سے مراد وہ دھواں ہے جو قیامت کے دن منافقوں کے کانوں اور آنکھوں میں بھر جائے گا اور مومنوں کو مثل زکام کے ہوجائے گا۔ ہم وہاں سے جب واپس لوٹے اور حضرت ابن مسعود سے اس کا ذکر کیا تو آپ لیٹے لیٹے بےتابی کے ساتھ بیٹھ گئے اور فرمانے لگے اللہ عزوجل نے اپنے نبی ﷺ سے فرمایا ہے میں تم سے اس پر کوئی بدلہ نہیں چاہتا اور میں تکلف کرنے والوں میں نہیں ہوں۔ یہ بھی علم ہے کہ انسان جس چیز کو نہ جانتا ہو کہہ دے کہ اللہ جانے سنو میں تمہیں اس آیت کا صحیح مطلب سناؤں جب کہ قریشیوں نے اسلام قبول کرنے میں تاخیر کی اور حضور ﷺ کو ستانے لگے تو آپ نے ان پر بددعا کی کہ یوسف کے زمانے جیسا قحط ان پر آپڑے۔ چناچہ وہ دعا قبول ہوئی اور ایسی خشک سالی آئی کہ انہوں نے ہڈیاں اور مردار چبانا شروع کیا۔ اور آسمان کی طرف نگاہیں ڈالتے تھے تو دھویں کے سوا کچھ دکھائی نہ دیتا تھا۔ ایک روایت میں ہے کہ بوجہ بھوک کے ان کی آنکھوں میں چکر آنے لگے جب آسمان کی طرف نظر اٹھاتے تو درمیان میں ایک دھواں نظر آتا۔ اسی کا بیان ان دو آیتوں میں ہے۔ لیکن پھر اس کے بعد لوگ حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنی ہلاکت کی شکایت کی۔ آپ کو رحم آگیا اور آپ نے جناب باری تعالیٰ میں التجا کی چناچہ بارش برسی اسی کا بیان اس کے بعد والی آیت میں ہے کہ عذاب کے ہٹتے ہی پھر کفر کرنے لگیں گے۔ اس سے صاف ثابت ہے کہ یہ دنیا کا عذاب ہے کیونکہ آخرت کے عذاب تو ہٹتے کھلتے اور دور ہوتے نہیں۔ حضرت ابن مسعود کا قول ہے کہ پانچ چیزیں گذر چکیں۔ دخان، روم، قمر، بطشہ، اور لزام (صحیحین) یعنی آسمان سے دھوئیں کا آنا۔ رومیوں کا اپنی شکست کے بعد غلبہ پانا۔ چاند کے دو ٹکڑے ہونا بدر کی لڑائی میں کفار کا پکڑا جانا اور ہارنا۔ اور چمٹ جانے والا عذاب بڑی سخت پکڑ سے مراد بدر کے دن لڑائی ہے حضرت ابن مسعود، نخعی، ضحاک، عطیہ، عوفی، وغیرہ کا ہے اور اسی کو ابن جریر بھی ترجیح دیتے ہیں۔ عبدالرحمن اعرج سے مروی ہے کہ یہ فتح مکہ کے دن ہوا۔ یہ قول بالکل غریب بلکہ منکر ہے اور بعض حضرات فرماتے ہیں یہ گذر نہیں گیا بلکہ قرب قیامت کے آئے گا۔ پہلے حدیث گزر چکی ہے کہ صحابہ قیامت کا ذکر کر رہے تھے اور حضور ﷺ آگئے۔ تو آپ نے فرمایا جب تک دس نشانات تم نہ دیکھ لو قیامت نہیں آئے گی سورج کا مغرب سے نکلنا، دھواں، یاجوج ماجوج کا آنا، مشرق مغرب اور جزیرۃ العرب میں زمین کا دھنسایا جانا، آگ کا عدن سے نکل کر لوگوں کو ہانک کر ایک جا کرنا۔ جہاں یہ رات گذاریں گے آگ بھی گذارے گی اور جہاں یہ دوپہر کو سوئیں گے آگ بھی قیلولہ کرے گی۔ (مسلم) بخاری و مسلم میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ابن صیاد کے لئے دل میں آیت (فَارْتَـقِبْ يَوْمَ تَاْتِي السَّمَاۗءُ بِدُخَانٍ مُّبِيْنٍ 10 ۙ) 44۔ الدخان :10) چھپا کر اس سے پوچھا کہ بتا میں نے اپنے دل میں کیا چھپا رکھا ہے ؟ اس نے کہا (دخ) آپ نے فرمایا بس برباد ہو اس سے آگے تیری نہیں چلنے کی۔ اس میں بھی ایک قسم کا اشارہ ہے کہ ابھی اس کا انتظار باقی ہے اور یہ کوئی آنے والی چیز ہے چونکہ ابن صیاد بطور کاہنوں کے بعض باتیں دل کی زبان سے بتانے کا مدعی تھا اس کے جھوٹ کو ظاہر کرنے کے لئے آپ نے یہ کیا اور جب وہ پورا نہ بتا سکا تو آپ نے لوگوں کو اس کی حالت سے واقف کردیا کہ اس کے ساتھ شیطان ہے کلام صرف چرا لیتا ہے اور یہ اس سے زیادہ پر قدرت نہیں پانے کا۔ ابن جریر میں ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں قیامت کے اولین نشانیاں یہ ہیں۔ دجال کا آنا اور عیسیٰ بن مریم (علیہما السلام) کا نازل ہونا اور آگ کا بیچ عدن سے نکلنا جو لوگوں کو محشر کی طرف لے جائے گی قیلولے کے وقت اور رات کی نیند کے وقت بھی ان کے ساتھ رہے گی اور دھویں کا آنا۔ حضرت حذیفہ نے سوال کیا کہ حضور ﷺ دھواں کیسا ؟ آپ نے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا یہ دھواں چالیس دن تک گھٹا رہے گا جس سے مسلمانوں کو تو مثل نزلے کے ہوجائے گا اور کافر بیہوش و بدمست ہوجائے گا اس کے نتھنوں سے کانوں سے اور دوسری جگہ سے دھواں نکلتا رہے گا۔ یہ حدیث اگر صحیح ہوتی تو پھر دخان کے معنی مقرر ہوجانے میں کوئی بات باقی نہ رہتی۔ لیکن اس کی صحت کی گواہی نہیں دی جاسکتی اس کے راوی رواد سے محمد بن خلف عسقلانی نے سوال کیا کہ کیا سفیان ثوری سے تو نے خود یہ حدیث سنی ہے ؟ اس نے انکار کیا پوچھا کیا تو نے پڑھی اور اس نے سنی ہے ؟ کہا نہیں۔ پوچھا اچھا تمہاری موجودگی میں اس کے سامنے یہ حدیث پڑھی گئی ؟ کہا نہیں کہا پھر تم اس حدیث کو کیسے بیان کرتے ہو ؟ کہا میں نے تو بیان نہیں کی میرے پاس کچھ لوگ آئے اس روایت کو پیش کی پھر جا کر میرے نام سے اسے بیان کرنی شروع کردی بات بھی یہی ہے یہ حدیث بالکل موضوع ہے ابن جریر اسے کئی جگہ لائے ہیں اور اس میں بہت سی منکرات ہیں خصوصًا مسجد اقصیٰ کے بیان میں جو سورة بنی اسرائیل کے شروع میں ہے واللہ اعلم۔ اور حدیث میں ہے کہ تمہارے رب نے تمہیں تین چیزوں سے ڈرایا، دھواں جو مومن کو زکام کر دے گا اور کافر کا تو سارا جسم پھلا دے گا۔ روئیں روئیں سے دھواں اٹھے گا دابتہ الارض اور دجال۔ اس کی سند بہت عمدہ ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں دھواں پھیل جائے گا مومن کو تو مثل زکام کے لگے گا اور کافر کے جوڑ جوڑ سے نکلے گا یہ حدیث حضرت ابو سعید خدری کے قول سے بھی مروی ہے اور حضرت حسن کے اپنے قول سے بھی مروی ہے حضرت علی فرماتے ہیں دخان گذر نہیں گیا بلکہ اب آئے گا۔ حضرت ابن عمر سے دھویں کی بابت اوپر کی حدیث کی طرح روایت ہے ابن ابی ملکیہ فرماتے ہیں کہ ایک دن صبح کے وقت حضرت ابن عباس کے پاس گیا۔ تو آپ فرمانے لگے رات کو میں بالکل نہیں سویا میں نے پوچھا کیوں ؟ فرمایا اس لئے کہ لوگوں سے سنا کہ دم دار ستارہ نکلا ہے تو مجھے اندیشہ ہوا کہ کہیں یہی دخان نہ ہو پس صبح تک میں نے آنکھ سے آنکھ نہیں ملائی۔ اس کی سند صحیح ہے اور (حبرالامتہ) ترجمان القرآن حضرت ابن عباس کے ساتھ صحابہ اور تابعین بھی ہیں اور مرفوع حدیثیں بھی ہیں۔ جن میں صحیح حسن اور ہر طرح کی ہیں اور ان سے ثابت ہوتا ہے کہ دخان ایک علامت قیامت ہے جو آنے والی ہے ظاہری الفاظ قرآن بھی اسی کی تائید کرتے ہیں کیونکہ قرآن نے اسے واضح اور ظاہر دھواں کہا ہے جسے ہر شخص دیکھ سکے اور بھوک کے دھوئیں سے اسے تعبیر کرنا ٹھیک نہیں کیونکہ وہ تو ایک خیالی چیز ہے بھوک پیاس کی سختی کی وجہ سے دھواں سا آنکھوں کے آگے نمودار ہوجاتا ہے جو دراصل دھواں نہیں اور قرآن کے الفاظ ہیں آیت (دخان مبین) کے۔ پھر یہ فرمان کہ وہ لوگوں کو ڈھانک لے گی یہ بھی حضرت ابن عباس کی تفسیر کی تائید کرتا ہے کیونکہ بھوک کے اس دھوئیں نے صرف اہل مکہ کو ڈھانپا تھا نہ کہ تمام لوگوں کو پھر فرماتا ہے کہ یہ ہے المناک عذاب یعنی ان سے یوں کہا جائے گا جیسے اور آیت میں ہے (يَوْمَ يُدَعُّوْنَ اِلٰى نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّا 13ۭ) 52۔ الطور :13) ، جس دن انہیں جہنم کی طرف دھکیلا جائے گا کہ یہ وہ آگ ہے جسے تم جھٹلا رہے تھے یا یہ مطلب کہ وہ خود ایک دوسرے سے یوں کہیں گے کافر جب اس عذاب کو دیکھیں گے تو اللہ سے اس کے دور ہونے کی دعا کریں گے جیسے کہ اس آیت میں ہے (وَلَوْ تَرٰٓي اِذْ وُقِفُوْا عَلَي النَّارِ فَقَالُوْا يٰلَيْتَنَا نُرَدُّ وَلَا نُكَذِّبَ بِاٰيٰتِ رَبِّنَا وَنَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ 27) 6۔ الانعام :27) ، یعنی کاش کے تو انہیں دیکھتا جب یہ آگ کے پاس کھڑے کئے جائیں گے اور کہیں گے کاش کے ہم لوٹائے جاتے تو ہم اپنے رب کی آیتوں کو نہ جھٹلاتے اور باایمان بن کر رہتے اور آیت میں ہے لوگوں کو ڈراوے کے ساتھ آگاہ کر دے جس دن ان کے پاس عذاب آئے گا اس دن گنہگار کہیں گے پروردگار ہمیں تھوڑے سے وقت تک اور ڈھیل دے دے تو ہم تیری پکار پر لبیک کہہ لیں اور تیرے رسولوں کی فرمانبرداری کرلیں پس یہاں یہی کہا جاتا ہے کہ ان کے لئے نصیحت کہاں ؟ ان کے پاس میرے پیغامبر آچکے انہوں نے ان کے سامنے میرے احکام واضح طور پر رکھ دئیے لیکن ماننا تو کجا انہوں نے پرواہ تک نہ کی بلکہ انہیں جھوٹا کہا ان کی تعلیم کو غلط کہا ان کی تعلیم کو غلط کہا اور صاف کہہ000دیا کہ یہ تو سکھائے پڑھائے ہیں، انہیں جنوں ہوگیا ہے جیسے اور آیت میں ہے اس دن انسان نصیحت حاصل کرے گا لیکن اب اس کے لئے نصیحت کہاں ہے ؟ اور جگہ فرمایا ہے آیت (وَّقَالُوْٓا اٰمَنَّا بِهٖ ۚ وَاَنّٰى لَهُمُ التَّنَاوُشُ مِنْ مَّكَانٍۢ بَعِيْدٍ 52ښ) 34۔ سبأ :52) ، یعنی اس دن عذابوں کو دیکھ کر ایمان لانا سراسر بےسود ہے پھر جو ارشاد ہوتا ہے اس کے دو معنی ہوسکتے ہیں ایک تو یہ کہ اگر بالفرض ہم عذاب ہٹا لیں اور تمہیں دوبارہ دنیا میں بھیج دیں تو بھی تم پھر وہاں جا کر یہی کرو گے جو اس سے پہلے کر کے آئے ہو جیسے فرمایا آیت (وَلَوْ رَحِمْنٰهُمْ وَكَشَفْنَا مَا بِهِمْ مِّنْ ضُرٍّ لَّـــلَجُّوْا فِيْ طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُوْنَ 75) 23۔ المؤمنون :75) ، یعنی اگر ہم ان پر رحم کریں اور برائی ان سے ہٹا لیں تو پھر یہ اپنی سرکشی میں آنکھیں بند کر کے منہمک ہوجائیں گے اور جیسے فرمایا آیت (وَلَوْ رُدُّوْا لَعَادُوْا لِمَا نُهُوْا عَنْهُ وَاِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ 28) 6۔ الانعام :28) ، یعنی اگر یہ لوٹائے جائیں تو قطعًا دوبارہ پھر ہماری نافرمانیاں کرنے لگیں گے اور محض جھوٹے ثابت ہوں گے۔ دوسرے معنی یہ بھی ہوسکتے ہیں کہ اگر عذاب کے اسباب قائم ہو چکنے اور عذاب آجانے کے بعد بھی گو ہم اسے کچھ دیر ٹھہرا لیں تاہم یہ اپنی بد باطنی اور خباثت سے باز نہیں آنے کے اس سے یہ لازم آتا کہ عذاب انہیں پہنچا اور پھر ہٹ گیا جیسے قوم یونس کی حضرت حق تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے کہ قوم یونس جب ایمان لائی ہم نے ان سے عذاب ہٹا لیا۔ گویا عذاب انہیں ہونا شروع نہیں ہوا تھا ہاں اس کے اسباب موجود و فراہم ہوچکے تھے ان تک اللہ کا عذاب پہنچ چکا تھا اور اس سے یہ بھی لازم نہیں آتا کہ وہ اپنے کفر سے ہٹ گئے تھے پھر اس کی طرف لوٹ گئے۔ چناچہ حضرت شعیب اور ان پر ایمان لانے والوں سے جب قوم نے کہا کہ یا تو تم ہماری بستی چھوڑ دو یا ہمارے مذہب میں لوٹ آؤ تو جواب میں اللہ کے رسول نے فرمایا کہ گو ہم اسے برا جانتے ہوں۔ جبکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس سے نجات دے رکھی ہے پھر بھی اگر ہم تمہاری ملت میں لوٹ آئیں تو ہم سے بڑھ کر جھوٹا اور اللہ کے ذمے بہتان باندھنے والا اور کون ہوگا ؟ ظاہر ہے کہ حضرت شعیب ؑ نے اس سے پہلے بھی کبھی کفر میں قدم نہیں رکھا تھا اور حضرت قتادہ فرماتے ہیں کہ تم لوٹنے والے ہو۔ اس سے مطلب اللہ کے عذاب کی طرف لوٹنا ہے بڑی اور سخت پکڑ سے مراد جنگ بدر ہے حضرت ابن مسعود اور آپ کے ساتھ کی وہ جماعت جو دخان کو ہوچکا مانتی ہے وہ تو (بطشہ) کے معنی یہی کرتی ہے بلکہ حضرت ابن عباس سے حضرت ابی بن کعب سے ایک اور جماعت سے یہی منقول ہے گو یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے لیکن بہ ظاہر تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مراد قیامت کے دن کی پکڑ ہے گو بدر کا دن بھی پکڑ کا اور کفار پر سخت دن تھا ابن جریر میں ہے حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ گو حضرت ابن مسعود اسے بدر کا دن بتاتے ہیں لیکن میرے نزدیک تو اس سے مراد قیامت کا دن ہے اس کی اسناد صحیح ہے حضرت حسن بصری اور عکرمہ سے بھی دونوں روایتوں میں زیادہ صحیح روایت یہی ہے واللہ اعلم۔
10
View Single
فَٱرۡتَقِبۡ يَوۡمَ تَأۡتِي ٱلسَّمَآءُ بِدُخَانٖ مُّبِينٖ
So you await the day when the sky will bring forth a visible smoke. –
سو آپ اُس دن کا انتظار کریں جب آسمان واضح دھواں ظاہر کر دے گا
Tafsir Ibn Kathir
Alarming the Idolators with News of the Day when the Sky will bring forth a visible Smoke
Allah says, these idolaters are playing about in doubt, i.e., the certain truth has come to them, but they doubt it and do not believe in it. Then Allah says, warning and threatening them:
فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَأْتِى السَّمَآءُ بِدُخَانٍ مُّبِينٍ
(Then wait you for the Day when the sky will bring forth a visible smoke.) It was narrated that Masruq said, "We entered the Masjid -- i.e., the Masjid of Kufah at the gates of Kindah -- and a man was reciting to his companions,
يَوْمَ تَأْتِى السَّمَآءُ بِدُخَانٍ مُّبِينٍ
(the Day when the sky will bring forth a visible smoke.) He asked them; `Do you know what that is' That is the smoke that will come on the Day of Resurrection. It will take away the hearing and sight of the hypocrites, but for the believers it will be like having a cold."' He said, "We came to Ibn Mas`ud, may Allah be pleased with him, and told him about that. He was lying down, and he sat up with a start and said, `Allah said to your Prophet
قُلْ مَآ أَسْـَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ وَمَآ أَنَآ مِنَ الْمُتَكَلِّفِينَ
(Say: "No wage do I ask of you for this, nor am I one of the pretenders.") (38:86). And it is part of knowledge that when a man does not know something, he should say, `Allah knows best.' I will tell you a Hadith about that. When the Quraysh did not respond to Islam and they grew stubborn, the Messenger of Allah ﷺ invoked Allah against them that they would have years like the years (of drought and famine) of Yusuf. They became so exhausted and hungry that they ate bones and dead meat. They looked at the sky, but they saw nothing but smoke."' According to another report: "A man would look at the sky and he would see nothing between him and the sky except a smoky haze, because of his exhaustion."
فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَأْتِى السَّمَآءُ بِدُخَانٍ مُّبِينٍ - يَغْشَى النَّاسَ هَـذَا عَذَابٌ أَلِيمٌ
(Then wait you for the Day when the sky will bring forth a visible smoke, covering the people, this is a painful torment) A man came to the Messenger of Allah ﷺ and said, "O Messenger of Allah! Pray to Allah to send rain to Mudar, for they are dying. So the Prophet prayed for rain for them, and they got rain. Then the Ayah was revealed:
إِنَّا كَاشِفُواْ الْعَذَابِ قَلِيلاً إِنَّكُمْ عَآئِدُونَ
(Verily, We shall remove the torment for a while. Verily, you will revert.) Ibn Mas`ud said, "Do you think that the torment will be removed for them on the Day of Resurrection When they were granted ease, they reverted to their former state. Then Allah revealed:
يَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَةَ الْكُبْرَى إِنَّا مُنتَقِمُونَ
(On the Day when We shall strike you with the Great Batshah. Verily, We will exact retribution.)" He said, "This means the day of Badr." Ibn Mas`ud said, "Five things have come to pass: the smoke, the (defeat of the) Romans, the (splitting of the) moon, the Batshah, and the torment." This Hadith was narrated in the Two Sahihs. It was also recorded by Imam Ahmad in his Musnad, and by At-Tirmidhi and An-Nasa'i in their (Books of) Tafsir, and by Ibn Jarir and Ibn Abi Hatim with a number of chains of narration. A number of the Salaf, such as Mujahid, Abu Al-`Aliyah, Ibrahim An-Nakha`i, Ad-Dahhak and `Atiyah Al-`Awfi concurred with Ibn Mas`ud's interpretation of this Ayah and his view that the smoke already happened. This was also the view of Ibn Jarir. According to the Hadith of Abu Sarihah, Hudhayfah bin Asid Al-Ghifari, may Allah be pleased with him, said, "The Messenger of Allah ﷺ looked out upon us from a room while we were discussing the Hour. He said:
«لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتْى تَرَوْا عَشْرَ آيَاتٍ: طُلُوعَ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا، وَالدُّخَانَ، وَالدَّابَّةَ، وَخُرُوجَ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ، وَخُرُوجَ عِيْسَى ابْنِ مَرْيَمَ وَالدَّجَّالَ، وَثَلَاثَةَ خُسُوفٍ: خَسْفٌ بِالْمَشْرِقِ، وَخَسْفٌ بِالْمَغْرِبِ، وَخَسْفٌ بِجَزِيرَةِ الْعَرَبِ، وَنَارًا تَخْرُجُ مِنْ قَعْرِ عَدَنَ تَسُوقُ النَّاسَ أَوْ تَحْشُرُ النَّاسَ تَبِيتُ مَعَهُمْ حَيْثُ بَاتُوا، وَتَقِيلُ مَعَهُمْ حَيْثُ قَالُوا»
(The Hour will not come until you see ten signs. The rising of the sun from the west; the smoke; the beast; the emergence of Ya'juj and Ma'juj; the appearance of `Isa bin Maryam; the Dajjal; three cases of the earth collapsing -- one in the east, one in the west, and one in the Arabian Peninsula; and a fire which will emerge from the bottom of Aden and will drive the people -- or gather the people -- stopping with them when they stop to sleep at night or rest during the day.)" This was recorded only by Muslim in his Sahih In the Two Sahihs it was recorded that the Messenger of Allah ﷺ said to Ibn Sayyad:
«إِنِّي خَبَأْتُ لَكَ خَبْأ»
(I am concealing something for you.) He said, It is Ad-Dukh. The Prophet said,
«اخْسَأْ فَلَنْ تَعْدُوَ قَدْرَك»
(Be off with you! You cannot get further than your rank.) He said, "The Messenger of Allah ﷺ was concealing from him the words,
فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَأْتِى السَّمَآءُ بِدُخَانٍ مُّبِينٍ
(Then wait you for the Day when the sky will bring forth a visible smoke.)"This indicates that the smoke is yet to appear. Ibn Sayyad was a fortune-teller who heard things through the Jinn, whose speech is unclear, therefore he said, "It is Ad-Dukh," meaning Ad-Dukhan (the smoke). When the Messenger of Allah ﷺ was sure what was happening, that the source of his information was the Shayatin, he said:
«اخْسَأْ فَلَنْ تَعْدُوَ قَدْرَك»
(Be off with you! You cannot get further than your rank.) There are numerous Marfu` and Mawquf Hadiths, Sahih, Hasan and others, which indicate that the smoke is one of the awaited signs (of the Hour). This is also the apparent meaning of Ayat in the Qur'an. Allah says:
فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَأْتِى السَّمَآءُ بِدُخَانٍ مُّبِينٍ
(Then wait you for the Day when the sky will bring forth a visible smoke.) meaning, clearly visible, such that all people will see it. According to Ibn Mas`ud's interpretation, this was a vision which they saw because of their intense hunger and exhaustion. He also interprets the Ayah
يَغْشَى النَّاسَ
(Covering mankind,) meaning, it covered them and overwhelmed them. But if it was only an illusion which happened to the idolators of Makkah, Allah would not have said "covering mankind."
هَـذَا عَذَابٌ أَلِيمٌ
(this is a painful torment.) means, this will be said to them by way of rebuke. This is like the Ayah:
يَوْمَ يُدَعُّونَ إِلَى نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّا - هَـذِهِ النَّارُ الَّتِى كُنتُم بِهَا تُكَذِّبُونَ
(The Day when they will be pushed down by force to the fire of Hell, with a horrible, forceful pushing. This is the Fire which you used to deny.) (52:13-14). Or some of them will say that to others.
رَّبَّنَا اكْشِفْ عَنَّا الْعَذَابَ إِنَّا مْؤْمِنُونَ
((They will say): "Our Lord! Remove the torment from us, really we shall become believers!") means, when the disbelievers witness the punishment of Allah, they will ask for it to be taken away from them. This is like the Ayat:
وَلَوْ تَرَى إِذْ وُقِفُواْ عَلَى النَّارِ فَقَالُواْ يلَيْتَنَا نُرَدُّ وَلاَ نُكَذِّبَ بِـَايَـتِ رَبِّنَا وَنَكُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ
(If you could but see when they will be held over the (Hell) Fire! They will say: "Would that we were but sent back (to the world)! Then we would not deny the Ayat of our Lord, and we would be of the believers!") (6:27)
وَأَنذِرِ النَّاسَ يَوْمَ يَأْتِيهِمُ الْعَذَابُ فَيَقُولُ الَّذِينَ ظَلَمُواْ رَبَّنَآ أَخِّرْنَآ إِلَى أَجَلٍ قَرِيبٍ نُّجِبْ دَعْوَتَكَ وَنَتَّبِعِ الرُّسُلَ أَوَلَمْ تَكُونُواْ أَقْسَمْتُمْ مِّن قَبْلُ مَا لَكُمْ مِّن زَوَالٍ
(And warn mankind of the Day when the torment will come unto them; then the wrongdoers will say: "Our Lord! Respite us for a little while, we will answer Your Call and follow the Messengers!" (It will be said): "Had you not sworn aforetime that you would not leave (the world for the Hereafter).) (14:44) Allah says here:
أَنَّى لَهُمُ الذِّكْرَى وَقَدْ جَآءَهُمْ رَسُولٌ مُّبِينٌ - ثُمَّ تَوَلَّوْاْ عَنْهُ وَقَالُواْ مُعَلَّمٌ مَّجْنُونٌ
(How can there be for them an admonition, when a Messenger explaining things clearly has already come to them. Then they had turned away from him and said: "(He is) one taught, a madman!") meaning, `what further admonition do they need when We have sent them a Messenger with a clear Message and warning Yet despite that, they turned away from him, opposed him and rejected him, and they said: (He is) one taught (by a human being), a madman.' This is like the Ayah:
يَوْمَئِذٍ يَتَذَكَّرُ الإِنسَـنُ وَأَنَّى لَهُ الذِّكْرَى
(On that Day will man remember, but how will that remembrance (then) avail him) (89:23)
وَلَوْ تَرَى إِذْ فَزِعُواْ فَلاَ فَوْتَ وَأُخِذُواْ مِن مَّكَانٍ قَرِيبٍ - وَقَالُواْ ءَامَنَّا بِهِ وَأَنَّى لَهُمُ التَّنَاوُشُ مِن مَّكَانِ بَعِيدٍ
(And if you could but see, when they will be terrified with no escape, and they will be seized from a near place. And they will say (in the Hereafter): "We do believe (now);" but how could they receive (faith and its acceptance by Allah) from a place so far off...) (34:51-52)
إِنَّا كَاشِفُواْ الْعَذَابِ قَلِيلاً إِنَّكُمْ عَآئِدُونَ
(Verily, We shall remove the torment for a while. Verily, you will revert.) means, `if We were to remove the torment from you for a while, and send you back to the world, you would go back to your former state of disbelief and denial.' This is like the Ayat:
وَلَوْ رَحِمْنَـهُمْ وَكَشَفْنَا مَا بِهِمْ مِّن ضُرٍّ لَّلَجُّواْ فِى طُغْيَـنِهِمْ يَعْمَهُونَ
(And though We had mercy on them and removed the distress which is on them, still they would obstinately persist in their transgression, wandering blindly.) (23:75)
وَلَوْ رُدُّواْ لَعَـدُواْ لِمَا نُهُواْ عَنْهُ وَإِنَّهُمْ لَكَـذِبُونَ
(But if they were returned (to the world), they would certainly revert to that which they were forbidden. And indeed they are liars) (6:28)
The Meaning of the "Great Batshah"
يَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَةَ الْكُبْرَى إِنَّا مُنتَقِمُونَ
(On the Day when We shall strike you with the great Batshah. Verily, We will exact retribution.) Ibn Mas`ud interpreted this to mean the day of Badr. This is also the view of a group who agreed with Ibn Mas`ud, may Allah be pleased with him, about the meaning of the smoke, as discussed above. It was also narrated from Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, in a report related to him from Al-`Awfi and from Ubayy bin Ka`b, may Allah be pleased with him. This is possible, but the apparent meaning is that it refers to the Day of Resurrection, although the day of Badr was also a day of vengeance. Ibn Jarir said, "Ya`qub narrated to me; Ibn `Ulayyah narrated to me, Khalid Al-Hadhdha' narrated to us, from `Ikrimah who said, `Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, said, "Ibn Mas`ud, may Allah be pleased with him, said that "the great Batshah" is the day of Badr, and I say that it is the Day of Resurrection." This chain of narration is Sahih to him. This is also the view of Al-Hasan Al-Basri and of `Ikrimah according to the more authentic of the two reports narrated from him. And Allah knows best.
دھواں ہی دھواں اور کفار فرماتا ہے کہ حق آچکا اور یہ شک شبہ میں اور لہو لعب میں مشغول و مصروف ہیں انہیں اس دن سے آگاہ کر دے جس دن آسمان سے سخت دھواں آئے گا حضرت مسروق فرماتے ہیں کہ ہم ایک مرتبہ کوفے کی مسجد میں گئے جو کندہ کے دروازوں کے پاس ہے تو دیکھا کہ ایک حضرت اپنے ساتھیوں میں قصہ گوئی کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اس آیت میں جس دھوئیں کا ذکر ہے اس سے مراد وہ دھواں ہے جو قیامت کے دن منافقوں کے کانوں اور آنکھوں میں بھر جائے گا اور مومنوں کو مثل زکام کے ہوجائے گا۔ ہم وہاں سے جب واپس لوٹے اور حضرت ابن مسعود سے اس کا ذکر کیا تو آپ لیٹے لیٹے بےتابی کے ساتھ بیٹھ گئے اور فرمانے لگے اللہ عزوجل نے اپنے نبی ﷺ سے فرمایا ہے میں تم سے اس پر کوئی بدلہ نہیں چاہتا اور میں تکلف کرنے والوں میں نہیں ہوں۔ یہ بھی علم ہے کہ انسان جس چیز کو نہ جانتا ہو کہہ دے کہ اللہ جانے سنو میں تمہیں اس آیت کا صحیح مطلب سناؤں جب کہ قریشیوں نے اسلام قبول کرنے میں تاخیر کی اور حضور ﷺ کو ستانے لگے تو آپ نے ان پر بددعا کی کہ یوسف کے زمانے جیسا قحط ان پر آپڑے۔ چناچہ وہ دعا قبول ہوئی اور ایسی خشک سالی آئی کہ انہوں نے ہڈیاں اور مردار چبانا شروع کیا۔ اور آسمان کی طرف نگاہیں ڈالتے تھے تو دھویں کے سوا کچھ دکھائی نہ دیتا تھا۔ ایک روایت میں ہے کہ بوجہ بھوک کے ان کی آنکھوں میں چکر آنے لگے جب آسمان کی طرف نظر اٹھاتے تو درمیان میں ایک دھواں نظر آتا۔ اسی کا بیان ان دو آیتوں میں ہے۔ لیکن پھر اس کے بعد لوگ حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنی ہلاکت کی شکایت کی۔ آپ کو رحم آگیا اور آپ نے جناب باری تعالیٰ میں التجا کی چناچہ بارش برسی اسی کا بیان اس کے بعد والی آیت میں ہے کہ عذاب کے ہٹتے ہی پھر کفر کرنے لگیں گے۔ اس سے صاف ثابت ہے کہ یہ دنیا کا عذاب ہے کیونکہ آخرت کے عذاب تو ہٹتے کھلتے اور دور ہوتے نہیں۔ حضرت ابن مسعود کا قول ہے کہ پانچ چیزیں گذر چکیں۔ دخان، روم، قمر، بطشہ، اور لزام (صحیحین) یعنی آسمان سے دھوئیں کا آنا۔ رومیوں کا اپنی شکست کے بعد غلبہ پانا۔ چاند کے دو ٹکڑے ہونا بدر کی لڑائی میں کفار کا پکڑا جانا اور ہارنا۔ اور چمٹ جانے والا عذاب بڑی سخت پکڑ سے مراد بدر کے دن لڑائی ہے حضرت ابن مسعود، نخعی، ضحاک، عطیہ، عوفی، وغیرہ کا ہے اور اسی کو ابن جریر بھی ترجیح دیتے ہیں۔ عبدالرحمن اعرج سے مروی ہے کہ یہ فتح مکہ کے دن ہوا۔ یہ قول بالکل غریب بلکہ منکر ہے اور بعض حضرات فرماتے ہیں یہ گذر نہیں گیا بلکہ قرب قیامت کے آئے گا۔ پہلے حدیث گزر چکی ہے کہ صحابہ قیامت کا ذکر کر رہے تھے اور حضور ﷺ آگئے۔ تو آپ نے فرمایا جب تک دس نشانات تم نہ دیکھ لو قیامت نہیں آئے گی سورج کا مغرب سے نکلنا، دھواں، یاجوج ماجوج کا آنا، مشرق مغرب اور جزیرۃ العرب میں زمین کا دھنسایا جانا، آگ کا عدن سے نکل کر لوگوں کو ہانک کر ایک جا کرنا۔ جہاں یہ رات گذاریں گے آگ بھی گذارے گی اور جہاں یہ دوپہر کو سوئیں گے آگ بھی قیلولہ کرے گی۔ (مسلم) بخاری و مسلم میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ابن صیاد کے لئے دل میں آیت (فَارْتَـقِبْ يَوْمَ تَاْتِي السَّمَاۗءُ بِدُخَانٍ مُّبِيْنٍ 10 ۙ) 44۔ الدخان :10) چھپا کر اس سے پوچھا کہ بتا میں نے اپنے دل میں کیا چھپا رکھا ہے ؟ اس نے کہا (دخ) آپ نے فرمایا بس برباد ہو اس سے آگے تیری نہیں چلنے کی۔ اس میں بھی ایک قسم کا اشارہ ہے کہ ابھی اس کا انتظار باقی ہے اور یہ کوئی آنے والی چیز ہے چونکہ ابن صیاد بطور کاہنوں کے بعض باتیں دل کی زبان سے بتانے کا مدعی تھا اس کے جھوٹ کو ظاہر کرنے کے لئے آپ نے یہ کیا اور جب وہ پورا نہ بتا سکا تو آپ نے لوگوں کو اس کی حالت سے واقف کردیا کہ اس کے ساتھ شیطان ہے کلام صرف چرا لیتا ہے اور یہ اس سے زیادہ پر قدرت نہیں پانے کا۔ ابن جریر میں ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں قیامت کے اولین نشانیاں یہ ہیں۔ دجال کا آنا اور عیسیٰ بن مریم (علیہما السلام) کا نازل ہونا اور آگ کا بیچ عدن سے نکلنا جو لوگوں کو محشر کی طرف لے جائے گی قیلولے کے وقت اور رات کی نیند کے وقت بھی ان کے ساتھ رہے گی اور دھویں کا آنا۔ حضرت حذیفہ نے سوال کیا کہ حضور ﷺ دھواں کیسا ؟ آپ نے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا یہ دھواں چالیس دن تک گھٹا رہے گا جس سے مسلمانوں کو تو مثل نزلے کے ہوجائے گا اور کافر بیہوش و بدمست ہوجائے گا اس کے نتھنوں سے کانوں سے اور دوسری جگہ سے دھواں نکلتا رہے گا۔ یہ حدیث اگر صحیح ہوتی تو پھر دخان کے معنی مقرر ہوجانے میں کوئی بات باقی نہ رہتی۔ لیکن اس کی صحت کی گواہی نہیں دی جاسکتی اس کے راوی رواد سے محمد بن خلف عسقلانی نے سوال کیا کہ کیا سفیان ثوری سے تو نے خود یہ حدیث سنی ہے ؟ اس نے انکار کیا پوچھا کیا تو نے پڑھی اور اس نے سنی ہے ؟ کہا نہیں۔ پوچھا اچھا تمہاری موجودگی میں اس کے سامنے یہ حدیث پڑھی گئی ؟ کہا نہیں کہا پھر تم اس حدیث کو کیسے بیان کرتے ہو ؟ کہا میں نے تو بیان نہیں کی میرے پاس کچھ لوگ آئے اس روایت کو پیش کی پھر جا کر میرے نام سے اسے بیان کرنی شروع کردی بات بھی یہی ہے یہ حدیث بالکل موضوع ہے ابن جریر اسے کئی جگہ لائے ہیں اور اس میں بہت سی منکرات ہیں خصوصًا مسجد اقصیٰ کے بیان میں جو سورة بنی اسرائیل کے شروع میں ہے واللہ اعلم۔ اور حدیث میں ہے کہ تمہارے رب نے تمہیں تین چیزوں سے ڈرایا، دھواں جو مومن کو زکام کر دے گا اور کافر کا تو سارا جسم پھلا دے گا۔ روئیں روئیں سے دھواں اٹھے گا دابتہ الارض اور دجال۔ اس کی سند بہت عمدہ ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں دھواں پھیل جائے گا مومن کو تو مثل زکام کے لگے گا اور کافر کے جوڑ جوڑ سے نکلے گا یہ حدیث حضرت ابو سعید خدری کے قول سے بھی مروی ہے اور حضرت حسن کے اپنے قول سے بھی مروی ہے حضرت علی فرماتے ہیں دخان گذر نہیں گیا بلکہ اب آئے گا۔ حضرت ابن عمر سے دھویں کی بابت اوپر کی حدیث کی طرح روایت ہے ابن ابی ملکیہ فرماتے ہیں کہ ایک دن صبح کے وقت حضرت ابن عباس کے پاس گیا۔ تو آپ فرمانے لگے رات کو میں بالکل نہیں سویا میں نے پوچھا کیوں ؟ فرمایا اس لئے کہ لوگوں سے سنا کہ دم دار ستارہ نکلا ہے تو مجھے اندیشہ ہوا کہ کہیں یہی دخان نہ ہو پس صبح تک میں نے آنکھ سے آنکھ نہیں ملائی۔ اس کی سند صحیح ہے اور (حبرالامتہ) ترجمان القرآن حضرت ابن عباس کے ساتھ صحابہ اور تابعین بھی ہیں اور مرفوع حدیثیں بھی ہیں۔ جن میں صحیح حسن اور ہر طرح کی ہیں اور ان سے ثابت ہوتا ہے کہ دخان ایک علامت قیامت ہے جو آنے والی ہے ظاہری الفاظ قرآن بھی اسی کی تائید کرتے ہیں کیونکہ قرآن نے اسے واضح اور ظاہر دھواں کہا ہے جسے ہر شخص دیکھ سکے اور بھوک کے دھوئیں سے اسے تعبیر کرنا ٹھیک نہیں کیونکہ وہ تو ایک خیالی چیز ہے بھوک پیاس کی سختی کی وجہ سے دھواں سا آنکھوں کے آگے نمودار ہوجاتا ہے جو دراصل دھواں نہیں اور قرآن کے الفاظ ہیں آیت (دخان مبین) کے۔ پھر یہ فرمان کہ وہ لوگوں کو ڈھانک لے گی یہ بھی حضرت ابن عباس کی تفسیر کی تائید کرتا ہے کیونکہ بھوک کے اس دھوئیں نے صرف اہل مکہ کو ڈھانپا تھا نہ کہ تمام لوگوں کو پھر فرماتا ہے کہ یہ ہے المناک عذاب یعنی ان سے یوں کہا جائے گا جیسے اور آیت میں ہے (يَوْمَ يُدَعُّوْنَ اِلٰى نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّا 13ۭ) 52۔ الطور :13) ، جس دن انہیں جہنم کی طرف دھکیلا جائے گا کہ یہ وہ آگ ہے جسے تم جھٹلا رہے تھے یا یہ مطلب کہ وہ خود ایک دوسرے سے یوں کہیں گے کافر جب اس عذاب کو دیکھیں گے تو اللہ سے اس کے دور ہونے کی دعا کریں گے جیسے کہ اس آیت میں ہے (وَلَوْ تَرٰٓي اِذْ وُقِفُوْا عَلَي النَّارِ فَقَالُوْا يٰلَيْتَنَا نُرَدُّ وَلَا نُكَذِّبَ بِاٰيٰتِ رَبِّنَا وَنَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ 27) 6۔ الانعام :27) ، یعنی کاش کے تو انہیں دیکھتا جب یہ آگ کے پاس کھڑے کئے جائیں گے اور کہیں گے کاش کے ہم لوٹائے جاتے تو ہم اپنے رب کی آیتوں کو نہ جھٹلاتے اور باایمان بن کر رہتے اور آیت میں ہے لوگوں کو ڈراوے کے ساتھ آگاہ کر دے جس دن ان کے پاس عذاب آئے گا اس دن گنہگار کہیں گے پروردگار ہمیں تھوڑے سے وقت تک اور ڈھیل دے دے تو ہم تیری پکار پر لبیک کہہ لیں اور تیرے رسولوں کی فرمانبرداری کرلیں پس یہاں یہی کہا جاتا ہے کہ ان کے لئے نصیحت کہاں ؟ ان کے پاس میرے پیغامبر آچکے انہوں نے ان کے سامنے میرے احکام واضح طور پر رکھ دئیے لیکن ماننا تو کجا انہوں نے پرواہ تک نہ کی بلکہ انہیں جھوٹا کہا ان کی تعلیم کو غلط کہا ان کی تعلیم کو غلط کہا اور صاف کہہ000دیا کہ یہ تو سکھائے پڑھائے ہیں، انہیں جنوں ہوگیا ہے جیسے اور آیت میں ہے اس دن انسان نصیحت حاصل کرے گا لیکن اب اس کے لئے نصیحت کہاں ہے ؟ اور جگہ فرمایا ہے آیت (وَّقَالُوْٓا اٰمَنَّا بِهٖ ۚ وَاَنّٰى لَهُمُ التَّنَاوُشُ مِنْ مَّكَانٍۢ بَعِيْدٍ 52ښ) 34۔ سبأ :52) ، یعنی اس دن عذابوں کو دیکھ کر ایمان لانا سراسر بےسود ہے پھر جو ارشاد ہوتا ہے اس کے دو معنی ہوسکتے ہیں ایک تو یہ کہ اگر بالفرض ہم عذاب ہٹا لیں اور تمہیں دوبارہ دنیا میں بھیج دیں تو بھی تم پھر وہاں جا کر یہی کرو گے جو اس سے پہلے کر کے آئے ہو جیسے فرمایا آیت (وَلَوْ رَحِمْنٰهُمْ وَكَشَفْنَا مَا بِهِمْ مِّنْ ضُرٍّ لَّـــلَجُّوْا فِيْ طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُوْنَ 75) 23۔ المؤمنون :75) ، یعنی اگر ہم ان پر رحم کریں اور برائی ان سے ہٹا لیں تو پھر یہ اپنی سرکشی میں آنکھیں بند کر کے منہمک ہوجائیں گے اور جیسے فرمایا آیت (وَلَوْ رُدُّوْا لَعَادُوْا لِمَا نُهُوْا عَنْهُ وَاِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ 28) 6۔ الانعام :28) ، یعنی اگر یہ لوٹائے جائیں تو قطعًا دوبارہ پھر ہماری نافرمانیاں کرنے لگیں گے اور محض جھوٹے ثابت ہوں گے۔ دوسرے معنی یہ بھی ہوسکتے ہیں کہ اگر عذاب کے اسباب قائم ہو چکنے اور عذاب آجانے کے بعد بھی گو ہم اسے کچھ دیر ٹھہرا لیں تاہم یہ اپنی بد باطنی اور خباثت سے باز نہیں آنے کے اس سے یہ لازم آتا کہ عذاب انہیں پہنچا اور پھر ہٹ گیا جیسے قوم یونس کی حضرت حق تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے کہ قوم یونس جب ایمان لائی ہم نے ان سے عذاب ہٹا لیا۔ گویا عذاب انہیں ہونا شروع نہیں ہوا تھا ہاں اس کے اسباب موجود و فراہم ہوچکے تھے ان تک اللہ کا عذاب پہنچ چکا تھا اور اس سے یہ بھی لازم نہیں آتا کہ وہ اپنے کفر سے ہٹ گئے تھے پھر اس کی طرف لوٹ گئے۔ چناچہ حضرت شعیب اور ان پر ایمان لانے والوں سے جب قوم نے کہا کہ یا تو تم ہماری بستی چھوڑ دو یا ہمارے مذہب میں لوٹ آؤ تو جواب میں اللہ کے رسول نے فرمایا کہ گو ہم اسے برا جانتے ہوں۔ جبکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس سے نجات دے رکھی ہے پھر بھی اگر ہم تمہاری ملت میں لوٹ آئیں تو ہم سے بڑھ کر جھوٹا اور اللہ کے ذمے بہتان باندھنے والا اور کون ہوگا ؟ ظاہر ہے کہ حضرت شعیب ؑ نے اس سے پہلے بھی کبھی کفر میں قدم نہیں رکھا تھا اور حضرت قتادہ فرماتے ہیں کہ تم لوٹنے والے ہو۔ اس سے مطلب اللہ کے عذاب کی طرف لوٹنا ہے بڑی اور سخت پکڑ سے مراد جنگ بدر ہے حضرت ابن مسعود اور آپ کے ساتھ کی وہ جماعت جو دخان کو ہوچکا مانتی ہے وہ تو (بطشہ) کے معنی یہی کرتی ہے بلکہ حضرت ابن عباس سے حضرت ابی بن کعب سے ایک اور جماعت سے یہی منقول ہے گو یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے لیکن بہ ظاہر تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مراد قیامت کے دن کی پکڑ ہے گو بدر کا دن بھی پکڑ کا اور کفار پر سخت دن تھا ابن جریر میں ہے حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ گو حضرت ابن مسعود اسے بدر کا دن بتاتے ہیں لیکن میرے نزدیک تو اس سے مراد قیامت کا دن ہے اس کی اسناد صحیح ہے حضرت حسن بصری اور عکرمہ سے بھی دونوں روایتوں میں زیادہ صحیح روایت یہی ہے واللہ اعلم۔
11
View Single
يَغۡشَى ٱلنَّاسَۖ هَٰذَا عَذَابٌ أَلِيمٞ
Which will envelop the people; this is a painful punishment.
جو لوگوں کو ڈھانپ لے گا (یعنی ہر طرف محیط ہو جائے گا)، یہ دردناک عذاب ہے
Tafsir Ibn Kathir
Alarming the Idolators with News of the Day when the Sky will bring forth a visible Smoke
Allah says, these idolaters are playing about in doubt, i.e., the certain truth has come to them, but they doubt it and do not believe in it. Then Allah says, warning and threatening them:
فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَأْتِى السَّمَآءُ بِدُخَانٍ مُّبِينٍ
(Then wait you for the Day when the sky will bring forth a visible smoke.) It was narrated that Masruq said, "We entered the Masjid -- i.e., the Masjid of Kufah at the gates of Kindah -- and a man was reciting to his companions,
يَوْمَ تَأْتِى السَّمَآءُ بِدُخَانٍ مُّبِينٍ
(the Day when the sky will bring forth a visible smoke.) He asked them; `Do you know what that is' That is the smoke that will come on the Day of Resurrection. It will take away the hearing and sight of the hypocrites, but for the believers it will be like having a cold."' He said, "We came to Ibn Mas`ud, may Allah be pleased with him, and told him about that. He was lying down, and he sat up with a start and said, `Allah said to your Prophet
قُلْ مَآ أَسْـَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ وَمَآ أَنَآ مِنَ الْمُتَكَلِّفِينَ
(Say: "No wage do I ask of you for this, nor am I one of the pretenders.") (38:86). And it is part of knowledge that when a man does not know something, he should say, `Allah knows best.' I will tell you a Hadith about that. When the Quraysh did not respond to Islam and they grew stubborn, the Messenger of Allah ﷺ invoked Allah against them that they would have years like the years (of drought and famine) of Yusuf. They became so exhausted and hungry that they ate bones and dead meat. They looked at the sky, but they saw nothing but smoke."' According to another report: "A man would look at the sky and he would see nothing between him and the sky except a smoky haze, because of his exhaustion."
فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَأْتِى السَّمَآءُ بِدُخَانٍ مُّبِينٍ - يَغْشَى النَّاسَ هَـذَا عَذَابٌ أَلِيمٌ
(Then wait you for the Day when the sky will bring forth a visible smoke, covering the people, this is a painful torment) A man came to the Messenger of Allah ﷺ and said, "O Messenger of Allah! Pray to Allah to send rain to Mudar, for they are dying. So the Prophet prayed for rain for them, and they got rain. Then the Ayah was revealed:
إِنَّا كَاشِفُواْ الْعَذَابِ قَلِيلاً إِنَّكُمْ عَآئِدُونَ
(Verily, We shall remove the torment for a while. Verily, you will revert.) Ibn Mas`ud said, "Do you think that the torment will be removed for them on the Day of Resurrection When they were granted ease, they reverted to their former state. Then Allah revealed:
يَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَةَ الْكُبْرَى إِنَّا مُنتَقِمُونَ
(On the Day when We shall strike you with the Great Batshah. Verily, We will exact retribution.)" He said, "This means the day of Badr." Ibn Mas`ud said, "Five things have come to pass: the smoke, the (defeat of the) Romans, the (splitting of the) moon, the Batshah, and the torment." This Hadith was narrated in the Two Sahihs. It was also recorded by Imam Ahmad in his Musnad, and by At-Tirmidhi and An-Nasa'i in their (Books of) Tafsir, and by Ibn Jarir and Ibn Abi Hatim with a number of chains of narration. A number of the Salaf, such as Mujahid, Abu Al-`Aliyah, Ibrahim An-Nakha`i, Ad-Dahhak and `Atiyah Al-`Awfi concurred with Ibn Mas`ud's interpretation of this Ayah and his view that the smoke already happened. This was also the view of Ibn Jarir. According to the Hadith of Abu Sarihah, Hudhayfah bin Asid Al-Ghifari, may Allah be pleased with him, said, "The Messenger of Allah ﷺ looked out upon us from a room while we were discussing the Hour. He said:
«لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتْى تَرَوْا عَشْرَ آيَاتٍ: طُلُوعَ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا، وَالدُّخَانَ، وَالدَّابَّةَ، وَخُرُوجَ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ، وَخُرُوجَ عِيْسَى ابْنِ مَرْيَمَ وَالدَّجَّالَ، وَثَلَاثَةَ خُسُوفٍ: خَسْفٌ بِالْمَشْرِقِ، وَخَسْفٌ بِالْمَغْرِبِ، وَخَسْفٌ بِجَزِيرَةِ الْعَرَبِ، وَنَارًا تَخْرُجُ مِنْ قَعْرِ عَدَنَ تَسُوقُ النَّاسَ أَوْ تَحْشُرُ النَّاسَ تَبِيتُ مَعَهُمْ حَيْثُ بَاتُوا، وَتَقِيلُ مَعَهُمْ حَيْثُ قَالُوا»
(The Hour will not come until you see ten signs. The rising of the sun from the west; the smoke; the beast; the emergence of Ya'juj and Ma'juj; the appearance of `Isa bin Maryam; the Dajjal; three cases of the earth collapsing -- one in the east, one in the west, and one in the Arabian Peninsula; and a fire which will emerge from the bottom of Aden and will drive the people -- or gather the people -- stopping with them when they stop to sleep at night or rest during the day.)" This was recorded only by Muslim in his Sahih In the Two Sahihs it was recorded that the Messenger of Allah ﷺ said to Ibn Sayyad:
«إِنِّي خَبَأْتُ لَكَ خَبْأ»
(I am concealing something for you.) He said, It is Ad-Dukh. The Prophet said,
«اخْسَأْ فَلَنْ تَعْدُوَ قَدْرَك»
(Be off with you! You cannot get further than your rank.) He said, "The Messenger of Allah ﷺ was concealing from him the words,
فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَأْتِى السَّمَآءُ بِدُخَانٍ مُّبِينٍ
(Then wait you for the Day when the sky will bring forth a visible smoke.)"This indicates that the smoke is yet to appear. Ibn Sayyad was a fortune-teller who heard things through the Jinn, whose speech is unclear, therefore he said, "It is Ad-Dukh," meaning Ad-Dukhan (the smoke). When the Messenger of Allah ﷺ was sure what was happening, that the source of his information was the Shayatin, he said:
«اخْسَأْ فَلَنْ تَعْدُوَ قَدْرَك»
(Be off with you! You cannot get further than your rank.) There are numerous Marfu` and Mawquf Hadiths, Sahih, Hasan and others, which indicate that the smoke is one of the awaited signs (of the Hour). This is also the apparent meaning of Ayat in the Qur'an. Allah says:
فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَأْتِى السَّمَآءُ بِدُخَانٍ مُّبِينٍ
(Then wait you for the Day when the sky will bring forth a visible smoke.) meaning, clearly visible, such that all people will see it. According to Ibn Mas`ud's interpretation, this was a vision which they saw because of their intense hunger and exhaustion. He also interprets the Ayah
يَغْشَى النَّاسَ
(Covering mankind,) meaning, it covered them and overwhelmed them. But if it was only an illusion which happened to the idolators of Makkah, Allah would not have said "covering mankind."
هَـذَا عَذَابٌ أَلِيمٌ
(this is a painful torment.) means, this will be said to them by way of rebuke. This is like the Ayah:
يَوْمَ يُدَعُّونَ إِلَى نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّا - هَـذِهِ النَّارُ الَّتِى كُنتُم بِهَا تُكَذِّبُونَ
(The Day when they will be pushed down by force to the fire of Hell, with a horrible, forceful pushing. This is the Fire which you used to deny.) (52:13-14). Or some of them will say that to others.
رَّبَّنَا اكْشِفْ عَنَّا الْعَذَابَ إِنَّا مْؤْمِنُونَ
((They will say): "Our Lord! Remove the torment from us, really we shall become believers!") means, when the disbelievers witness the punishment of Allah, they will ask for it to be taken away from them. This is like the Ayat:
وَلَوْ تَرَى إِذْ وُقِفُواْ عَلَى النَّارِ فَقَالُواْ يلَيْتَنَا نُرَدُّ وَلاَ نُكَذِّبَ بِـَايَـتِ رَبِّنَا وَنَكُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ
(If you could but see when they will be held over the (Hell) Fire! They will say: "Would that we were but sent back (to the world)! Then we would not deny the Ayat of our Lord, and we would be of the believers!") (6:27)
وَأَنذِرِ النَّاسَ يَوْمَ يَأْتِيهِمُ الْعَذَابُ فَيَقُولُ الَّذِينَ ظَلَمُواْ رَبَّنَآ أَخِّرْنَآ إِلَى أَجَلٍ قَرِيبٍ نُّجِبْ دَعْوَتَكَ وَنَتَّبِعِ الرُّسُلَ أَوَلَمْ تَكُونُواْ أَقْسَمْتُمْ مِّن قَبْلُ مَا لَكُمْ مِّن زَوَالٍ
(And warn mankind of the Day when the torment will come unto them; then the wrongdoers will say: "Our Lord! Respite us for a little while, we will answer Your Call and follow the Messengers!" (It will be said): "Had you not sworn aforetime that you would not leave (the world for the Hereafter).) (14:44) Allah says here:
أَنَّى لَهُمُ الذِّكْرَى وَقَدْ جَآءَهُمْ رَسُولٌ مُّبِينٌ - ثُمَّ تَوَلَّوْاْ عَنْهُ وَقَالُواْ مُعَلَّمٌ مَّجْنُونٌ
(How can there be for them an admonition, when a Messenger explaining things clearly has already come to them. Then they had turned away from him and said: "(He is) one taught, a madman!") meaning, `what further admonition do they need when We have sent them a Messenger with a clear Message and warning Yet despite that, they turned away from him, opposed him and rejected him, and they said: (He is) one taught (by a human being), a madman.' This is like the Ayah:
يَوْمَئِذٍ يَتَذَكَّرُ الإِنسَـنُ وَأَنَّى لَهُ الذِّكْرَى
(On that Day will man remember, but how will that remembrance (then) avail him) (89:23)
وَلَوْ تَرَى إِذْ فَزِعُواْ فَلاَ فَوْتَ وَأُخِذُواْ مِن مَّكَانٍ قَرِيبٍ - وَقَالُواْ ءَامَنَّا بِهِ وَأَنَّى لَهُمُ التَّنَاوُشُ مِن مَّكَانِ بَعِيدٍ
(And if you could but see, when they will be terrified with no escape, and they will be seized from a near place. And they will say (in the Hereafter): "We do believe (now);" but how could they receive (faith and its acceptance by Allah) from a place so far off...) (34:51-52)
إِنَّا كَاشِفُواْ الْعَذَابِ قَلِيلاً إِنَّكُمْ عَآئِدُونَ
(Verily, We shall remove the torment for a while. Verily, you will revert.) means, `if We were to remove the torment from you for a while, and send you back to the world, you would go back to your former state of disbelief and denial.' This is like the Ayat:
وَلَوْ رَحِمْنَـهُمْ وَكَشَفْنَا مَا بِهِمْ مِّن ضُرٍّ لَّلَجُّواْ فِى طُغْيَـنِهِمْ يَعْمَهُونَ
(And though We had mercy on them and removed the distress which is on them, still they would obstinately persist in their transgression, wandering blindly.) (23:75)
وَلَوْ رُدُّواْ لَعَـدُواْ لِمَا نُهُواْ عَنْهُ وَإِنَّهُمْ لَكَـذِبُونَ
(But if they were returned (to the world), they would certainly revert to that which they were forbidden. And indeed they are liars) (6:28)
The Meaning of the "Great Batshah"
يَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَةَ الْكُبْرَى إِنَّا مُنتَقِمُونَ
(On the Day when We shall strike you with the great Batshah. Verily, We will exact retribution.) Ibn Mas`ud interpreted this to mean the day of Badr. This is also the view of a group who agreed with Ibn Mas`ud, may Allah be pleased with him, about the meaning of the smoke, as discussed above. It was also narrated from Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, in a report related to him from Al-`Awfi and from Ubayy bin Ka`b, may Allah be pleased with him. This is possible, but the apparent meaning is that it refers to the Day of Resurrection, although the day of Badr was also a day of vengeance. Ibn Jarir said, "Ya`qub narrated to me; Ibn `Ulayyah narrated to me, Khalid Al-Hadhdha' narrated to us, from `Ikrimah who said, `Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, said, "Ibn Mas`ud, may Allah be pleased with him, said that "the great Batshah" is the day of Badr, and I say that it is the Day of Resurrection." This chain of narration is Sahih to him. This is also the view of Al-Hasan Al-Basri and of `Ikrimah according to the more authentic of the two reports narrated from him. And Allah knows best.
دھواں ہی دھواں اور کفار فرماتا ہے کہ حق آچکا اور یہ شک شبہ میں اور لہو لعب میں مشغول و مصروف ہیں انہیں اس دن سے آگاہ کر دے جس دن آسمان سے سخت دھواں آئے گا حضرت مسروق فرماتے ہیں کہ ہم ایک مرتبہ کوفے کی مسجد میں گئے جو کندہ کے دروازوں کے پاس ہے تو دیکھا کہ ایک حضرت اپنے ساتھیوں میں قصہ گوئی کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اس آیت میں جس دھوئیں کا ذکر ہے اس سے مراد وہ دھواں ہے جو قیامت کے دن منافقوں کے کانوں اور آنکھوں میں بھر جائے گا اور مومنوں کو مثل زکام کے ہوجائے گا۔ ہم وہاں سے جب واپس لوٹے اور حضرت ابن مسعود سے اس کا ذکر کیا تو آپ لیٹے لیٹے بےتابی کے ساتھ بیٹھ گئے اور فرمانے لگے اللہ عزوجل نے اپنے نبی ﷺ سے فرمایا ہے میں تم سے اس پر کوئی بدلہ نہیں چاہتا اور میں تکلف کرنے والوں میں نہیں ہوں۔ یہ بھی علم ہے کہ انسان جس چیز کو نہ جانتا ہو کہہ دے کہ اللہ جانے سنو میں تمہیں اس آیت کا صحیح مطلب سناؤں جب کہ قریشیوں نے اسلام قبول کرنے میں تاخیر کی اور حضور ﷺ کو ستانے لگے تو آپ نے ان پر بددعا کی کہ یوسف کے زمانے جیسا قحط ان پر آپڑے۔ چناچہ وہ دعا قبول ہوئی اور ایسی خشک سالی آئی کہ انہوں نے ہڈیاں اور مردار چبانا شروع کیا۔ اور آسمان کی طرف نگاہیں ڈالتے تھے تو دھویں کے سوا کچھ دکھائی نہ دیتا تھا۔ ایک روایت میں ہے کہ بوجہ بھوک کے ان کی آنکھوں میں چکر آنے لگے جب آسمان کی طرف نظر اٹھاتے تو درمیان میں ایک دھواں نظر آتا۔ اسی کا بیان ان دو آیتوں میں ہے۔ لیکن پھر اس کے بعد لوگ حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنی ہلاکت کی شکایت کی۔ آپ کو رحم آگیا اور آپ نے جناب باری تعالیٰ میں التجا کی چناچہ بارش برسی اسی کا بیان اس کے بعد والی آیت میں ہے کہ عذاب کے ہٹتے ہی پھر کفر کرنے لگیں گے۔ اس سے صاف ثابت ہے کہ یہ دنیا کا عذاب ہے کیونکہ آخرت کے عذاب تو ہٹتے کھلتے اور دور ہوتے نہیں۔ حضرت ابن مسعود کا قول ہے کہ پانچ چیزیں گذر چکیں۔ دخان، روم، قمر، بطشہ، اور لزام (صحیحین) یعنی آسمان سے دھوئیں کا آنا۔ رومیوں کا اپنی شکست کے بعد غلبہ پانا۔ چاند کے دو ٹکڑے ہونا بدر کی لڑائی میں کفار کا پکڑا جانا اور ہارنا۔ اور چمٹ جانے والا عذاب بڑی سخت پکڑ سے مراد بدر کے دن لڑائی ہے حضرت ابن مسعود، نخعی، ضحاک، عطیہ، عوفی، وغیرہ کا ہے اور اسی کو ابن جریر بھی ترجیح دیتے ہیں۔ عبدالرحمن اعرج سے مروی ہے کہ یہ فتح مکہ کے دن ہوا۔ یہ قول بالکل غریب بلکہ منکر ہے اور بعض حضرات فرماتے ہیں یہ گذر نہیں گیا بلکہ قرب قیامت کے آئے گا۔ پہلے حدیث گزر چکی ہے کہ صحابہ قیامت کا ذکر کر رہے تھے اور حضور ﷺ آگئے۔ تو آپ نے فرمایا جب تک دس نشانات تم نہ دیکھ لو قیامت نہیں آئے گی سورج کا مغرب سے نکلنا، دھواں، یاجوج ماجوج کا آنا، مشرق مغرب اور جزیرۃ العرب میں زمین کا دھنسایا جانا، آگ کا عدن سے نکل کر لوگوں کو ہانک کر ایک جا کرنا۔ جہاں یہ رات گذاریں گے آگ بھی گذارے گی اور جہاں یہ دوپہر کو سوئیں گے آگ بھی قیلولہ کرے گی۔ (مسلم) بخاری و مسلم میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ابن صیاد کے لئے دل میں آیت (فَارْتَـقِبْ يَوْمَ تَاْتِي السَّمَاۗءُ بِدُخَانٍ مُّبِيْنٍ 10 ۙ) 44۔ الدخان :10) چھپا کر اس سے پوچھا کہ بتا میں نے اپنے دل میں کیا چھپا رکھا ہے ؟ اس نے کہا (دخ) آپ نے فرمایا بس برباد ہو اس سے آگے تیری نہیں چلنے کی۔ اس میں بھی ایک قسم کا اشارہ ہے کہ ابھی اس کا انتظار باقی ہے اور یہ کوئی آنے والی چیز ہے چونکہ ابن صیاد بطور کاہنوں کے بعض باتیں دل کی زبان سے بتانے کا مدعی تھا اس کے جھوٹ کو ظاہر کرنے کے لئے آپ نے یہ کیا اور جب وہ پورا نہ بتا سکا تو آپ نے لوگوں کو اس کی حالت سے واقف کردیا کہ اس کے ساتھ شیطان ہے کلام صرف چرا لیتا ہے اور یہ اس سے زیادہ پر قدرت نہیں پانے کا۔ ابن جریر میں ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں قیامت کے اولین نشانیاں یہ ہیں۔ دجال کا آنا اور عیسیٰ بن مریم (علیہما السلام) کا نازل ہونا اور آگ کا بیچ عدن سے نکلنا جو لوگوں کو محشر کی طرف لے جائے گی قیلولے کے وقت اور رات کی نیند کے وقت بھی ان کے ساتھ رہے گی اور دھویں کا آنا۔ حضرت حذیفہ نے سوال کیا کہ حضور ﷺ دھواں کیسا ؟ آپ نے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا یہ دھواں چالیس دن تک گھٹا رہے گا جس سے مسلمانوں کو تو مثل نزلے کے ہوجائے گا اور کافر بیہوش و بدمست ہوجائے گا اس کے نتھنوں سے کانوں سے اور دوسری جگہ سے دھواں نکلتا رہے گا۔ یہ حدیث اگر صحیح ہوتی تو پھر دخان کے معنی مقرر ہوجانے میں کوئی بات باقی نہ رہتی۔ لیکن اس کی صحت کی گواہی نہیں دی جاسکتی اس کے راوی رواد سے محمد بن خلف عسقلانی نے سوال کیا کہ کیا سفیان ثوری سے تو نے خود یہ حدیث سنی ہے ؟ اس نے انکار کیا پوچھا کیا تو نے پڑھی اور اس نے سنی ہے ؟ کہا نہیں۔ پوچھا اچھا تمہاری موجودگی میں اس کے سامنے یہ حدیث پڑھی گئی ؟ کہا نہیں کہا پھر تم اس حدیث کو کیسے بیان کرتے ہو ؟ کہا میں نے تو بیان نہیں کی میرے پاس کچھ لوگ آئے اس روایت کو پیش کی پھر جا کر میرے نام سے اسے بیان کرنی شروع کردی بات بھی یہی ہے یہ حدیث بالکل موضوع ہے ابن جریر اسے کئی جگہ لائے ہیں اور اس میں بہت سی منکرات ہیں خصوصًا مسجد اقصیٰ کے بیان میں جو سورة بنی اسرائیل کے شروع میں ہے واللہ اعلم۔ اور حدیث میں ہے کہ تمہارے رب نے تمہیں تین چیزوں سے ڈرایا، دھواں جو مومن کو زکام کر دے گا اور کافر کا تو سارا جسم پھلا دے گا۔ روئیں روئیں سے دھواں اٹھے گا دابتہ الارض اور دجال۔ اس کی سند بہت عمدہ ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں دھواں پھیل جائے گا مومن کو تو مثل زکام کے لگے گا اور کافر کے جوڑ جوڑ سے نکلے گا یہ حدیث حضرت ابو سعید خدری کے قول سے بھی مروی ہے اور حضرت حسن کے اپنے قول سے بھی مروی ہے حضرت علی فرماتے ہیں دخان گذر نہیں گیا بلکہ اب آئے گا۔ حضرت ابن عمر سے دھویں کی بابت اوپر کی حدیث کی طرح روایت ہے ابن ابی ملکیہ فرماتے ہیں کہ ایک دن صبح کے وقت حضرت ابن عباس کے پاس گیا۔ تو آپ فرمانے لگے رات کو میں بالکل نہیں سویا میں نے پوچھا کیوں ؟ فرمایا اس لئے کہ لوگوں سے سنا کہ دم دار ستارہ نکلا ہے تو مجھے اندیشہ ہوا کہ کہیں یہی دخان نہ ہو پس صبح تک میں نے آنکھ سے آنکھ نہیں ملائی۔ اس کی سند صحیح ہے اور (حبرالامتہ) ترجمان القرآن حضرت ابن عباس کے ساتھ صحابہ اور تابعین بھی ہیں اور مرفوع حدیثیں بھی ہیں۔ جن میں صحیح حسن اور ہر طرح کی ہیں اور ان سے ثابت ہوتا ہے کہ دخان ایک علامت قیامت ہے جو آنے والی ہے ظاہری الفاظ قرآن بھی اسی کی تائید کرتے ہیں کیونکہ قرآن نے اسے واضح اور ظاہر دھواں کہا ہے جسے ہر شخص دیکھ سکے اور بھوک کے دھوئیں سے اسے تعبیر کرنا ٹھیک نہیں کیونکہ وہ تو ایک خیالی چیز ہے بھوک پیاس کی سختی کی وجہ سے دھواں سا آنکھوں کے آگے نمودار ہوجاتا ہے جو دراصل دھواں نہیں اور قرآن کے الفاظ ہیں آیت (دخان مبین) کے۔ پھر یہ فرمان کہ وہ لوگوں کو ڈھانک لے گی یہ بھی حضرت ابن عباس کی تفسیر کی تائید کرتا ہے کیونکہ بھوک کے اس دھوئیں نے صرف اہل مکہ کو ڈھانپا تھا نہ کہ تمام لوگوں کو پھر فرماتا ہے کہ یہ ہے المناک عذاب یعنی ان سے یوں کہا جائے گا جیسے اور آیت میں ہے (يَوْمَ يُدَعُّوْنَ اِلٰى نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّا 13ۭ) 52۔ الطور :13) ، جس دن انہیں جہنم کی طرف دھکیلا جائے گا کہ یہ وہ آگ ہے جسے تم جھٹلا رہے تھے یا یہ مطلب کہ وہ خود ایک دوسرے سے یوں کہیں گے کافر جب اس عذاب کو دیکھیں گے تو اللہ سے اس کے دور ہونے کی دعا کریں گے جیسے کہ اس آیت میں ہے (وَلَوْ تَرٰٓي اِذْ وُقِفُوْا عَلَي النَّارِ فَقَالُوْا يٰلَيْتَنَا نُرَدُّ وَلَا نُكَذِّبَ بِاٰيٰتِ رَبِّنَا وَنَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ 27) 6۔ الانعام :27) ، یعنی کاش کے تو انہیں دیکھتا جب یہ آگ کے پاس کھڑے کئے جائیں گے اور کہیں گے کاش کے ہم لوٹائے جاتے تو ہم اپنے رب کی آیتوں کو نہ جھٹلاتے اور باایمان بن کر رہتے اور آیت میں ہے لوگوں کو ڈراوے کے ساتھ آگاہ کر دے جس دن ان کے پاس عذاب آئے گا اس دن گنہگار کہیں گے پروردگار ہمیں تھوڑے سے وقت تک اور ڈھیل دے دے تو ہم تیری پکار پر لبیک کہہ لیں اور تیرے رسولوں کی فرمانبرداری کرلیں پس یہاں یہی کہا جاتا ہے کہ ان کے لئے نصیحت کہاں ؟ ان کے پاس میرے پیغامبر آچکے انہوں نے ان کے سامنے میرے احکام واضح طور پر رکھ دئیے لیکن ماننا تو کجا انہوں نے پرواہ تک نہ کی بلکہ انہیں جھوٹا کہا ان کی تعلیم کو غلط کہا ان کی تعلیم کو غلط کہا اور صاف کہہ000دیا کہ یہ تو سکھائے پڑھائے ہیں، انہیں جنوں ہوگیا ہے جیسے اور آیت میں ہے اس دن انسان نصیحت حاصل کرے گا لیکن اب اس کے لئے نصیحت کہاں ہے ؟ اور جگہ فرمایا ہے آیت (وَّقَالُوْٓا اٰمَنَّا بِهٖ ۚ وَاَنّٰى لَهُمُ التَّنَاوُشُ مِنْ مَّكَانٍۢ بَعِيْدٍ 52ښ) 34۔ سبأ :52) ، یعنی اس دن عذابوں کو دیکھ کر ایمان لانا سراسر بےسود ہے پھر جو ارشاد ہوتا ہے اس کے دو معنی ہوسکتے ہیں ایک تو یہ کہ اگر بالفرض ہم عذاب ہٹا لیں اور تمہیں دوبارہ دنیا میں بھیج دیں تو بھی تم پھر وہاں جا کر یہی کرو گے جو اس سے پہلے کر کے آئے ہو جیسے فرمایا آیت (وَلَوْ رَحِمْنٰهُمْ وَكَشَفْنَا مَا بِهِمْ مِّنْ ضُرٍّ لَّـــلَجُّوْا فِيْ طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُوْنَ 75) 23۔ المؤمنون :75) ، یعنی اگر ہم ان پر رحم کریں اور برائی ان سے ہٹا لیں تو پھر یہ اپنی سرکشی میں آنکھیں بند کر کے منہمک ہوجائیں گے اور جیسے فرمایا آیت (وَلَوْ رُدُّوْا لَعَادُوْا لِمَا نُهُوْا عَنْهُ وَاِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ 28) 6۔ الانعام :28) ، یعنی اگر یہ لوٹائے جائیں تو قطعًا دوبارہ پھر ہماری نافرمانیاں کرنے لگیں گے اور محض جھوٹے ثابت ہوں گے۔ دوسرے معنی یہ بھی ہوسکتے ہیں کہ اگر عذاب کے اسباب قائم ہو چکنے اور عذاب آجانے کے بعد بھی گو ہم اسے کچھ دیر ٹھہرا لیں تاہم یہ اپنی بد باطنی اور خباثت سے باز نہیں آنے کے اس سے یہ لازم آتا کہ عذاب انہیں پہنچا اور پھر ہٹ گیا جیسے قوم یونس کی حضرت حق تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے کہ قوم یونس جب ایمان لائی ہم نے ان سے عذاب ہٹا لیا۔ گویا عذاب انہیں ہونا شروع نہیں ہوا تھا ہاں اس کے اسباب موجود و فراہم ہوچکے تھے ان تک اللہ کا عذاب پہنچ چکا تھا اور اس سے یہ بھی لازم نہیں آتا کہ وہ اپنے کفر سے ہٹ گئے تھے پھر اس کی طرف لوٹ گئے۔ چناچہ حضرت شعیب اور ان پر ایمان لانے والوں سے جب قوم نے کہا کہ یا تو تم ہماری بستی چھوڑ دو یا ہمارے مذہب میں لوٹ آؤ تو جواب میں اللہ کے رسول نے فرمایا کہ گو ہم اسے برا جانتے ہوں۔ جبکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس سے نجات دے رکھی ہے پھر بھی اگر ہم تمہاری ملت میں لوٹ آئیں تو ہم سے بڑھ کر جھوٹا اور اللہ کے ذمے بہتان باندھنے والا اور کون ہوگا ؟ ظاہر ہے کہ حضرت شعیب ؑ نے اس سے پہلے بھی کبھی کفر میں قدم نہیں رکھا تھا اور حضرت قتادہ فرماتے ہیں کہ تم لوٹنے والے ہو۔ اس سے مطلب اللہ کے عذاب کی طرف لوٹنا ہے بڑی اور سخت پکڑ سے مراد جنگ بدر ہے حضرت ابن مسعود اور آپ کے ساتھ کی وہ جماعت جو دخان کو ہوچکا مانتی ہے وہ تو (بطشہ) کے معنی یہی کرتی ہے بلکہ حضرت ابن عباس سے حضرت ابی بن کعب سے ایک اور جماعت سے یہی منقول ہے گو یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے لیکن بہ ظاہر تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مراد قیامت کے دن کی پکڑ ہے گو بدر کا دن بھی پکڑ کا اور کفار پر سخت دن تھا ابن جریر میں ہے حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ گو حضرت ابن مسعود اسے بدر کا دن بتاتے ہیں لیکن میرے نزدیک تو اس سے مراد قیامت کا دن ہے اس کی اسناد صحیح ہے حضرت حسن بصری اور عکرمہ سے بھی دونوں روایتوں میں زیادہ صحیح روایت یہی ہے واللہ اعلم۔
12
View Single
رَّبَّنَا ٱكۡشِفۡ عَنَّا ٱلۡعَذَابَ إِنَّا مُؤۡمِنُونَ
Thereupon they will say, “O our Lord! Remove the punishment from us – we now accept faith.”
(اس وقت کہیں گے:) اے ہمارے رب! تو ہم سے (اس) عذاب کو دور کر دے، بیشک ہم ایمان لاتے ہیں
Tafsir Ibn Kathir
Alarming the Idolators with News of the Day when the Sky will bring forth a visible Smoke
Allah says, these idolaters are playing about in doubt, i.e., the certain truth has come to them, but they doubt it and do not believe in it. Then Allah says, warning and threatening them:
فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَأْتِى السَّمَآءُ بِدُخَانٍ مُّبِينٍ
(Then wait you for the Day when the sky will bring forth a visible smoke.) It was narrated that Masruq said, "We entered the Masjid -- i.e., the Masjid of Kufah at the gates of Kindah -- and a man was reciting to his companions,
يَوْمَ تَأْتِى السَّمَآءُ بِدُخَانٍ مُّبِينٍ
(the Day when the sky will bring forth a visible smoke.) He asked them; `Do you know what that is' That is the smoke that will come on the Day of Resurrection. It will take away the hearing and sight of the hypocrites, but for the believers it will be like having a cold."' He said, "We came to Ibn Mas`ud, may Allah be pleased with him, and told him about that. He was lying down, and he sat up with a start and said, `Allah said to your Prophet
قُلْ مَآ أَسْـَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ وَمَآ أَنَآ مِنَ الْمُتَكَلِّفِينَ
(Say: "No wage do I ask of you for this, nor am I one of the pretenders.") (38:86). And it is part of knowledge that when a man does not know something, he should say, `Allah knows best.' I will tell you a Hadith about that. When the Quraysh did not respond to Islam and they grew stubborn, the Messenger of Allah ﷺ invoked Allah against them that they would have years like the years (of drought and famine) of Yusuf. They became so exhausted and hungry that they ate bones and dead meat. They looked at the sky, but they saw nothing but smoke."' According to another report: "A man would look at the sky and he would see nothing between him and the sky except a smoky haze, because of his exhaustion."
فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَأْتِى السَّمَآءُ بِدُخَانٍ مُّبِينٍ - يَغْشَى النَّاسَ هَـذَا عَذَابٌ أَلِيمٌ
(Then wait you for the Day when the sky will bring forth a visible smoke, covering the people, this is a painful torment) A man came to the Messenger of Allah ﷺ and said, "O Messenger of Allah! Pray to Allah to send rain to Mudar, for they are dying. So the Prophet prayed for rain for them, and they got rain. Then the Ayah was revealed:
إِنَّا كَاشِفُواْ الْعَذَابِ قَلِيلاً إِنَّكُمْ عَآئِدُونَ
(Verily, We shall remove the torment for a while. Verily, you will revert.) Ibn Mas`ud said, "Do you think that the torment will be removed for them on the Day of Resurrection When they were granted ease, they reverted to their former state. Then Allah revealed:
يَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَةَ الْكُبْرَى إِنَّا مُنتَقِمُونَ
(On the Day when We shall strike you with the Great Batshah. Verily, We will exact retribution.)" He said, "This means the day of Badr." Ibn Mas`ud said, "Five things have come to pass: the smoke, the (defeat of the) Romans, the (splitting of the) moon, the Batshah, and the torment." This Hadith was narrated in the Two Sahihs. It was also recorded by Imam Ahmad in his Musnad, and by At-Tirmidhi and An-Nasa'i in their (Books of) Tafsir, and by Ibn Jarir and Ibn Abi Hatim with a number of chains of narration. A number of the Salaf, such as Mujahid, Abu Al-`Aliyah, Ibrahim An-Nakha`i, Ad-Dahhak and `Atiyah Al-`Awfi concurred with Ibn Mas`ud's interpretation of this Ayah and his view that the smoke already happened. This was also the view of Ibn Jarir. According to the Hadith of Abu Sarihah, Hudhayfah bin Asid Al-Ghifari, may Allah be pleased with him, said, "The Messenger of Allah ﷺ looked out upon us from a room while we were discussing the Hour. He said:
«لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتْى تَرَوْا عَشْرَ آيَاتٍ: طُلُوعَ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا، وَالدُّخَانَ، وَالدَّابَّةَ، وَخُرُوجَ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ، وَخُرُوجَ عِيْسَى ابْنِ مَرْيَمَ وَالدَّجَّالَ، وَثَلَاثَةَ خُسُوفٍ: خَسْفٌ بِالْمَشْرِقِ، وَخَسْفٌ بِالْمَغْرِبِ، وَخَسْفٌ بِجَزِيرَةِ الْعَرَبِ، وَنَارًا تَخْرُجُ مِنْ قَعْرِ عَدَنَ تَسُوقُ النَّاسَ أَوْ تَحْشُرُ النَّاسَ تَبِيتُ مَعَهُمْ حَيْثُ بَاتُوا، وَتَقِيلُ مَعَهُمْ حَيْثُ قَالُوا»
(The Hour will not come until you see ten signs. The rising of the sun from the west; the smoke; the beast; the emergence of Ya'juj and Ma'juj; the appearance of `Isa bin Maryam; the Dajjal; three cases of the earth collapsing -- one in the east, one in the west, and one in the Arabian Peninsula; and a fire which will emerge from the bottom of Aden and will drive the people -- or gather the people -- stopping with them when they stop to sleep at night or rest during the day.)" This was recorded only by Muslim in his Sahih In the Two Sahihs it was recorded that the Messenger of Allah ﷺ said to Ibn Sayyad:
«إِنِّي خَبَأْتُ لَكَ خَبْأ»
(I am concealing something for you.) He said, It is Ad-Dukh. The Prophet said,
«اخْسَأْ فَلَنْ تَعْدُوَ قَدْرَك»
(Be off with you! You cannot get further than your rank.) He said, "The Messenger of Allah ﷺ was concealing from him the words,
فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَأْتِى السَّمَآءُ بِدُخَانٍ مُّبِينٍ
(Then wait you for the Day when the sky will bring forth a visible smoke.)"This indicates that the smoke is yet to appear. Ibn Sayyad was a fortune-teller who heard things through the Jinn, whose speech is unclear, therefore he said, "It is Ad-Dukh," meaning Ad-Dukhan (the smoke). When the Messenger of Allah ﷺ was sure what was happening, that the source of his information was the Shayatin, he said:
«اخْسَأْ فَلَنْ تَعْدُوَ قَدْرَك»
(Be off with you! You cannot get further than your rank.) There are numerous Marfu` and Mawquf Hadiths, Sahih, Hasan and others, which indicate that the smoke is one of the awaited signs (of the Hour). This is also the apparent meaning of Ayat in the Qur'an. Allah says:
فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَأْتِى السَّمَآءُ بِدُخَانٍ مُّبِينٍ
(Then wait you for the Day when the sky will bring forth a visible smoke.) meaning, clearly visible, such that all people will see it. According to Ibn Mas`ud's interpretation, this was a vision which they saw because of their intense hunger and exhaustion. He also interprets the Ayah
يَغْشَى النَّاسَ
(Covering mankind,) meaning, it covered them and overwhelmed them. But if it was only an illusion which happened to the idolators of Makkah, Allah would not have said "covering mankind."
هَـذَا عَذَابٌ أَلِيمٌ
(this is a painful torment.) means, this will be said to them by way of rebuke. This is like the Ayah:
يَوْمَ يُدَعُّونَ إِلَى نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّا - هَـذِهِ النَّارُ الَّتِى كُنتُم بِهَا تُكَذِّبُونَ
(The Day when they will be pushed down by force to the fire of Hell, with a horrible, forceful pushing. This is the Fire which you used to deny.) (52:13-14). Or some of them will say that to others.
رَّبَّنَا اكْشِفْ عَنَّا الْعَذَابَ إِنَّا مْؤْمِنُونَ
((They will say): "Our Lord! Remove the torment from us, really we shall become believers!") means, when the disbelievers witness the punishment of Allah, they will ask for it to be taken away from them. This is like the Ayat:
وَلَوْ تَرَى إِذْ وُقِفُواْ عَلَى النَّارِ فَقَالُواْ يلَيْتَنَا نُرَدُّ وَلاَ نُكَذِّبَ بِـَايَـتِ رَبِّنَا وَنَكُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ
(If you could but see when they will be held over the (Hell) Fire! They will say: "Would that we were but sent back (to the world)! Then we would not deny the Ayat of our Lord, and we would be of the believers!") (6:27)
وَأَنذِرِ النَّاسَ يَوْمَ يَأْتِيهِمُ الْعَذَابُ فَيَقُولُ الَّذِينَ ظَلَمُواْ رَبَّنَآ أَخِّرْنَآ إِلَى أَجَلٍ قَرِيبٍ نُّجِبْ دَعْوَتَكَ وَنَتَّبِعِ الرُّسُلَ أَوَلَمْ تَكُونُواْ أَقْسَمْتُمْ مِّن قَبْلُ مَا لَكُمْ مِّن زَوَالٍ
(And warn mankind of the Day when the torment will come unto them; then the wrongdoers will say: "Our Lord! Respite us for a little while, we will answer Your Call and follow the Messengers!" (It will be said): "Had you not sworn aforetime that you would not leave (the world for the Hereafter).) (14:44) Allah says here:
أَنَّى لَهُمُ الذِّكْرَى وَقَدْ جَآءَهُمْ رَسُولٌ مُّبِينٌ - ثُمَّ تَوَلَّوْاْ عَنْهُ وَقَالُواْ مُعَلَّمٌ مَّجْنُونٌ
(How can there be for them an admonition, when a Messenger explaining things clearly has already come to them. Then they had turned away from him and said: "(He is) one taught, a madman!") meaning, `what further admonition do they need when We have sent them a Messenger with a clear Message and warning Yet despite that, they turned away from him, opposed him and rejected him, and they said: (He is) one taught (by a human being), a madman.' This is like the Ayah:
يَوْمَئِذٍ يَتَذَكَّرُ الإِنسَـنُ وَأَنَّى لَهُ الذِّكْرَى
(On that Day will man remember, but how will that remembrance (then) avail him) (89:23)
وَلَوْ تَرَى إِذْ فَزِعُواْ فَلاَ فَوْتَ وَأُخِذُواْ مِن مَّكَانٍ قَرِيبٍ - وَقَالُواْ ءَامَنَّا بِهِ وَأَنَّى لَهُمُ التَّنَاوُشُ مِن مَّكَانِ بَعِيدٍ
(And if you could but see, when they will be terrified with no escape, and they will be seized from a near place. And they will say (in the Hereafter): "We do believe (now);" but how could they receive (faith and its acceptance by Allah) from a place so far off...) (34:51-52)
إِنَّا كَاشِفُواْ الْعَذَابِ قَلِيلاً إِنَّكُمْ عَآئِدُونَ
(Verily, We shall remove the torment for a while. Verily, you will revert.) means, `if We were to remove the torment from you for a while, and send you back to the world, you would go back to your former state of disbelief and denial.' This is like the Ayat:
وَلَوْ رَحِمْنَـهُمْ وَكَشَفْنَا مَا بِهِمْ مِّن ضُرٍّ لَّلَجُّواْ فِى طُغْيَـنِهِمْ يَعْمَهُونَ
(And though We had mercy on them and removed the distress which is on them, still they would obstinately persist in their transgression, wandering blindly.) (23:75)
وَلَوْ رُدُّواْ لَعَـدُواْ لِمَا نُهُواْ عَنْهُ وَإِنَّهُمْ لَكَـذِبُونَ
(But if they were returned (to the world), they would certainly revert to that which they were forbidden. And indeed they are liars) (6:28)
The Meaning of the "Great Batshah"
يَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَةَ الْكُبْرَى إِنَّا مُنتَقِمُونَ
(On the Day when We shall strike you with the great Batshah. Verily, We will exact retribution.) Ibn Mas`ud interpreted this to mean the day of Badr. This is also the view of a group who agreed with Ibn Mas`ud, may Allah be pleased with him, about the meaning of the smoke, as discussed above. It was also narrated from Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, in a report related to him from Al-`Awfi and from Ubayy bin Ka`b, may Allah be pleased with him. This is possible, but the apparent meaning is that it refers to the Day of Resurrection, although the day of Badr was also a day of vengeance. Ibn Jarir said, "Ya`qub narrated to me; Ibn `Ulayyah narrated to me, Khalid Al-Hadhdha' narrated to us, from `Ikrimah who said, `Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, said, "Ibn Mas`ud, may Allah be pleased with him, said that "the great Batshah" is the day of Badr, and I say that it is the Day of Resurrection." This chain of narration is Sahih to him. This is also the view of Al-Hasan Al-Basri and of `Ikrimah according to the more authentic of the two reports narrated from him. And Allah knows best.
دھواں ہی دھواں اور کفار فرماتا ہے کہ حق آچکا اور یہ شک شبہ میں اور لہو لعب میں مشغول و مصروف ہیں انہیں اس دن سے آگاہ کر دے جس دن آسمان سے سخت دھواں آئے گا حضرت مسروق فرماتے ہیں کہ ہم ایک مرتبہ کوفے کی مسجد میں گئے جو کندہ کے دروازوں کے پاس ہے تو دیکھا کہ ایک حضرت اپنے ساتھیوں میں قصہ گوئی کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اس آیت میں جس دھوئیں کا ذکر ہے اس سے مراد وہ دھواں ہے جو قیامت کے دن منافقوں کے کانوں اور آنکھوں میں بھر جائے گا اور مومنوں کو مثل زکام کے ہوجائے گا۔ ہم وہاں سے جب واپس لوٹے اور حضرت ابن مسعود سے اس کا ذکر کیا تو آپ لیٹے لیٹے بےتابی کے ساتھ بیٹھ گئے اور فرمانے لگے اللہ عزوجل نے اپنے نبی ﷺ سے فرمایا ہے میں تم سے اس پر کوئی بدلہ نہیں چاہتا اور میں تکلف کرنے والوں میں نہیں ہوں۔ یہ بھی علم ہے کہ انسان جس چیز کو نہ جانتا ہو کہہ دے کہ اللہ جانے سنو میں تمہیں اس آیت کا صحیح مطلب سناؤں جب کہ قریشیوں نے اسلام قبول کرنے میں تاخیر کی اور حضور ﷺ کو ستانے لگے تو آپ نے ان پر بددعا کی کہ یوسف کے زمانے جیسا قحط ان پر آپڑے۔ چناچہ وہ دعا قبول ہوئی اور ایسی خشک سالی آئی کہ انہوں نے ہڈیاں اور مردار چبانا شروع کیا۔ اور آسمان کی طرف نگاہیں ڈالتے تھے تو دھویں کے سوا کچھ دکھائی نہ دیتا تھا۔ ایک روایت میں ہے کہ بوجہ بھوک کے ان کی آنکھوں میں چکر آنے لگے جب آسمان کی طرف نظر اٹھاتے تو درمیان میں ایک دھواں نظر آتا۔ اسی کا بیان ان دو آیتوں میں ہے۔ لیکن پھر اس کے بعد لوگ حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنی ہلاکت کی شکایت کی۔ آپ کو رحم آگیا اور آپ نے جناب باری تعالیٰ میں التجا کی چناچہ بارش برسی اسی کا بیان اس کے بعد والی آیت میں ہے کہ عذاب کے ہٹتے ہی پھر کفر کرنے لگیں گے۔ اس سے صاف ثابت ہے کہ یہ دنیا کا عذاب ہے کیونکہ آخرت کے عذاب تو ہٹتے کھلتے اور دور ہوتے نہیں۔ حضرت ابن مسعود کا قول ہے کہ پانچ چیزیں گذر چکیں۔ دخان، روم، قمر، بطشہ، اور لزام (صحیحین) یعنی آسمان سے دھوئیں کا آنا۔ رومیوں کا اپنی شکست کے بعد غلبہ پانا۔ چاند کے دو ٹکڑے ہونا بدر کی لڑائی میں کفار کا پکڑا جانا اور ہارنا۔ اور چمٹ جانے والا عذاب بڑی سخت پکڑ سے مراد بدر کے دن لڑائی ہے حضرت ابن مسعود، نخعی، ضحاک، عطیہ، عوفی، وغیرہ کا ہے اور اسی کو ابن جریر بھی ترجیح دیتے ہیں۔ عبدالرحمن اعرج سے مروی ہے کہ یہ فتح مکہ کے دن ہوا۔ یہ قول بالکل غریب بلکہ منکر ہے اور بعض حضرات فرماتے ہیں یہ گذر نہیں گیا بلکہ قرب قیامت کے آئے گا۔ پہلے حدیث گزر چکی ہے کہ صحابہ قیامت کا ذکر کر رہے تھے اور حضور ﷺ آگئے۔ تو آپ نے فرمایا جب تک دس نشانات تم نہ دیکھ لو قیامت نہیں آئے گی سورج کا مغرب سے نکلنا، دھواں، یاجوج ماجوج کا آنا، مشرق مغرب اور جزیرۃ العرب میں زمین کا دھنسایا جانا، آگ کا عدن سے نکل کر لوگوں کو ہانک کر ایک جا کرنا۔ جہاں یہ رات گذاریں گے آگ بھی گذارے گی اور جہاں یہ دوپہر کو سوئیں گے آگ بھی قیلولہ کرے گی۔ (مسلم) بخاری و مسلم میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ابن صیاد کے لئے دل میں آیت (فَارْتَـقِبْ يَوْمَ تَاْتِي السَّمَاۗءُ بِدُخَانٍ مُّبِيْنٍ 10 ۙ) 44۔ الدخان :10) چھپا کر اس سے پوچھا کہ بتا میں نے اپنے دل میں کیا چھپا رکھا ہے ؟ اس نے کہا (دخ) آپ نے فرمایا بس برباد ہو اس سے آگے تیری نہیں چلنے کی۔ اس میں بھی ایک قسم کا اشارہ ہے کہ ابھی اس کا انتظار باقی ہے اور یہ کوئی آنے والی چیز ہے چونکہ ابن صیاد بطور کاہنوں کے بعض باتیں دل کی زبان سے بتانے کا مدعی تھا اس کے جھوٹ کو ظاہر کرنے کے لئے آپ نے یہ کیا اور جب وہ پورا نہ بتا سکا تو آپ نے لوگوں کو اس کی حالت سے واقف کردیا کہ اس کے ساتھ شیطان ہے کلام صرف چرا لیتا ہے اور یہ اس سے زیادہ پر قدرت نہیں پانے کا۔ ابن جریر میں ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں قیامت کے اولین نشانیاں یہ ہیں۔ دجال کا آنا اور عیسیٰ بن مریم (علیہما السلام) کا نازل ہونا اور آگ کا بیچ عدن سے نکلنا جو لوگوں کو محشر کی طرف لے جائے گی قیلولے کے وقت اور رات کی نیند کے وقت بھی ان کے ساتھ رہے گی اور دھویں کا آنا۔ حضرت حذیفہ نے سوال کیا کہ حضور ﷺ دھواں کیسا ؟ آپ نے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا یہ دھواں چالیس دن تک گھٹا رہے گا جس سے مسلمانوں کو تو مثل نزلے کے ہوجائے گا اور کافر بیہوش و بدمست ہوجائے گا اس کے نتھنوں سے کانوں سے اور دوسری جگہ سے دھواں نکلتا رہے گا۔ یہ حدیث اگر صحیح ہوتی تو پھر دخان کے معنی مقرر ہوجانے میں کوئی بات باقی نہ رہتی۔ لیکن اس کی صحت کی گواہی نہیں دی جاسکتی اس کے راوی رواد سے محمد بن خلف عسقلانی نے سوال کیا کہ کیا سفیان ثوری سے تو نے خود یہ حدیث سنی ہے ؟ اس نے انکار کیا پوچھا کیا تو نے پڑھی اور اس نے سنی ہے ؟ کہا نہیں۔ پوچھا اچھا تمہاری موجودگی میں اس کے سامنے یہ حدیث پڑھی گئی ؟ کہا نہیں کہا پھر تم اس حدیث کو کیسے بیان کرتے ہو ؟ کہا میں نے تو بیان نہیں کی میرے پاس کچھ لوگ آئے اس روایت کو پیش کی پھر جا کر میرے نام سے اسے بیان کرنی شروع کردی بات بھی یہی ہے یہ حدیث بالکل موضوع ہے ابن جریر اسے کئی جگہ لائے ہیں اور اس میں بہت سی منکرات ہیں خصوصًا مسجد اقصیٰ کے بیان میں جو سورة بنی اسرائیل کے شروع میں ہے واللہ اعلم۔ اور حدیث میں ہے کہ تمہارے رب نے تمہیں تین چیزوں سے ڈرایا، دھواں جو مومن کو زکام کر دے گا اور کافر کا تو سارا جسم پھلا دے گا۔ روئیں روئیں سے دھواں اٹھے گا دابتہ الارض اور دجال۔ اس کی سند بہت عمدہ ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں دھواں پھیل جائے گا مومن کو تو مثل زکام کے لگے گا اور کافر کے جوڑ جوڑ سے نکلے گا یہ حدیث حضرت ابو سعید خدری کے قول سے بھی مروی ہے اور حضرت حسن کے اپنے قول سے بھی مروی ہے حضرت علی فرماتے ہیں دخان گذر نہیں گیا بلکہ اب آئے گا۔ حضرت ابن عمر سے دھویں کی بابت اوپر کی حدیث کی طرح روایت ہے ابن ابی ملکیہ فرماتے ہیں کہ ایک دن صبح کے وقت حضرت ابن عباس کے پاس گیا۔ تو آپ فرمانے لگے رات کو میں بالکل نہیں سویا میں نے پوچھا کیوں ؟ فرمایا اس لئے کہ لوگوں سے سنا کہ دم دار ستارہ نکلا ہے تو مجھے اندیشہ ہوا کہ کہیں یہی دخان نہ ہو پس صبح تک میں نے آنکھ سے آنکھ نہیں ملائی۔ اس کی سند صحیح ہے اور (حبرالامتہ) ترجمان القرآن حضرت ابن عباس کے ساتھ صحابہ اور تابعین بھی ہیں اور مرفوع حدیثیں بھی ہیں۔ جن میں صحیح حسن اور ہر طرح کی ہیں اور ان سے ثابت ہوتا ہے کہ دخان ایک علامت قیامت ہے جو آنے والی ہے ظاہری الفاظ قرآن بھی اسی کی تائید کرتے ہیں کیونکہ قرآن نے اسے واضح اور ظاہر دھواں کہا ہے جسے ہر شخص دیکھ سکے اور بھوک کے دھوئیں سے اسے تعبیر کرنا ٹھیک نہیں کیونکہ وہ تو ایک خیالی چیز ہے بھوک پیاس کی سختی کی وجہ سے دھواں سا آنکھوں کے آگے نمودار ہوجاتا ہے جو دراصل دھواں نہیں اور قرآن کے الفاظ ہیں آیت (دخان مبین) کے۔ پھر یہ فرمان کہ وہ لوگوں کو ڈھانک لے گی یہ بھی حضرت ابن عباس کی تفسیر کی تائید کرتا ہے کیونکہ بھوک کے اس دھوئیں نے صرف اہل مکہ کو ڈھانپا تھا نہ کہ تمام لوگوں کو پھر فرماتا ہے کہ یہ ہے المناک عذاب یعنی ان سے یوں کہا جائے گا جیسے اور آیت میں ہے (يَوْمَ يُدَعُّوْنَ اِلٰى نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّا 13ۭ) 52۔ الطور :13) ، جس دن انہیں جہنم کی طرف دھکیلا جائے گا کہ یہ وہ آگ ہے جسے تم جھٹلا رہے تھے یا یہ مطلب کہ وہ خود ایک دوسرے سے یوں کہیں گے کافر جب اس عذاب کو دیکھیں گے تو اللہ سے اس کے دور ہونے کی دعا کریں گے جیسے کہ اس آیت میں ہے (وَلَوْ تَرٰٓي اِذْ وُقِفُوْا عَلَي النَّارِ فَقَالُوْا يٰلَيْتَنَا نُرَدُّ وَلَا نُكَذِّبَ بِاٰيٰتِ رَبِّنَا وَنَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ 27) 6۔ الانعام :27) ، یعنی کاش کے تو انہیں دیکھتا جب یہ آگ کے پاس کھڑے کئے جائیں گے اور کہیں گے کاش کے ہم لوٹائے جاتے تو ہم اپنے رب کی آیتوں کو نہ جھٹلاتے اور باایمان بن کر رہتے اور آیت میں ہے لوگوں کو ڈراوے کے ساتھ آگاہ کر دے جس دن ان کے پاس عذاب آئے گا اس دن گنہگار کہیں گے پروردگار ہمیں تھوڑے سے وقت تک اور ڈھیل دے دے تو ہم تیری پکار پر لبیک کہہ لیں اور تیرے رسولوں کی فرمانبرداری کرلیں پس یہاں یہی کہا جاتا ہے کہ ان کے لئے نصیحت کہاں ؟ ان کے پاس میرے پیغامبر آچکے انہوں نے ان کے سامنے میرے احکام واضح طور پر رکھ دئیے لیکن ماننا تو کجا انہوں نے پرواہ تک نہ کی بلکہ انہیں جھوٹا کہا ان کی تعلیم کو غلط کہا ان کی تعلیم کو غلط کہا اور صاف کہہ000دیا کہ یہ تو سکھائے پڑھائے ہیں، انہیں جنوں ہوگیا ہے جیسے اور آیت میں ہے اس دن انسان نصیحت حاصل کرے گا لیکن اب اس کے لئے نصیحت کہاں ہے ؟ اور جگہ فرمایا ہے آیت (وَّقَالُوْٓا اٰمَنَّا بِهٖ ۚ وَاَنّٰى لَهُمُ التَّنَاوُشُ مِنْ مَّكَانٍۢ بَعِيْدٍ 52ښ) 34۔ سبأ :52) ، یعنی اس دن عذابوں کو دیکھ کر ایمان لانا سراسر بےسود ہے پھر جو ارشاد ہوتا ہے اس کے دو معنی ہوسکتے ہیں ایک تو یہ کہ اگر بالفرض ہم عذاب ہٹا لیں اور تمہیں دوبارہ دنیا میں بھیج دیں تو بھی تم پھر وہاں جا کر یہی کرو گے جو اس سے پہلے کر کے آئے ہو جیسے فرمایا آیت (وَلَوْ رَحِمْنٰهُمْ وَكَشَفْنَا مَا بِهِمْ مِّنْ ضُرٍّ لَّـــلَجُّوْا فِيْ طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُوْنَ 75) 23۔ المؤمنون :75) ، یعنی اگر ہم ان پر رحم کریں اور برائی ان سے ہٹا لیں تو پھر یہ اپنی سرکشی میں آنکھیں بند کر کے منہمک ہوجائیں گے اور جیسے فرمایا آیت (وَلَوْ رُدُّوْا لَعَادُوْا لِمَا نُهُوْا عَنْهُ وَاِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ 28) 6۔ الانعام :28) ، یعنی اگر یہ لوٹائے جائیں تو قطعًا دوبارہ پھر ہماری نافرمانیاں کرنے لگیں گے اور محض جھوٹے ثابت ہوں گے۔ دوسرے معنی یہ بھی ہوسکتے ہیں کہ اگر عذاب کے اسباب قائم ہو چکنے اور عذاب آجانے کے بعد بھی گو ہم اسے کچھ دیر ٹھہرا لیں تاہم یہ اپنی بد باطنی اور خباثت سے باز نہیں آنے کے اس سے یہ لازم آتا کہ عذاب انہیں پہنچا اور پھر ہٹ گیا جیسے قوم یونس کی حضرت حق تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے کہ قوم یونس جب ایمان لائی ہم نے ان سے عذاب ہٹا لیا۔ گویا عذاب انہیں ہونا شروع نہیں ہوا تھا ہاں اس کے اسباب موجود و فراہم ہوچکے تھے ان تک اللہ کا عذاب پہنچ چکا تھا اور اس سے یہ بھی لازم نہیں آتا کہ وہ اپنے کفر سے ہٹ گئے تھے پھر اس کی طرف لوٹ گئے۔ چناچہ حضرت شعیب اور ان پر ایمان لانے والوں سے جب قوم نے کہا کہ یا تو تم ہماری بستی چھوڑ دو یا ہمارے مذہب میں لوٹ آؤ تو جواب میں اللہ کے رسول نے فرمایا کہ گو ہم اسے برا جانتے ہوں۔ جبکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس سے نجات دے رکھی ہے پھر بھی اگر ہم تمہاری ملت میں لوٹ آئیں تو ہم سے بڑھ کر جھوٹا اور اللہ کے ذمے بہتان باندھنے والا اور کون ہوگا ؟ ظاہر ہے کہ حضرت شعیب ؑ نے اس سے پہلے بھی کبھی کفر میں قدم نہیں رکھا تھا اور حضرت قتادہ فرماتے ہیں کہ تم لوٹنے والے ہو۔ اس سے مطلب اللہ کے عذاب کی طرف لوٹنا ہے بڑی اور سخت پکڑ سے مراد جنگ بدر ہے حضرت ابن مسعود اور آپ کے ساتھ کی وہ جماعت جو دخان کو ہوچکا مانتی ہے وہ تو (بطشہ) کے معنی یہی کرتی ہے بلکہ حضرت ابن عباس سے حضرت ابی بن کعب سے ایک اور جماعت سے یہی منقول ہے گو یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے لیکن بہ ظاہر تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مراد قیامت کے دن کی پکڑ ہے گو بدر کا دن بھی پکڑ کا اور کفار پر سخت دن تھا ابن جریر میں ہے حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ گو حضرت ابن مسعود اسے بدر کا دن بتاتے ہیں لیکن میرے نزدیک تو اس سے مراد قیامت کا دن ہے اس کی اسناد صحیح ہے حضرت حسن بصری اور عکرمہ سے بھی دونوں روایتوں میں زیادہ صحیح روایت یہی ہے واللہ اعلم۔
13
View Single
أَنَّىٰ لَهُمُ ٱلذِّكۡرَىٰ وَقَدۡ جَآءَهُمۡ رَسُولٞ مُّبِينٞ
How is it possible for them to accept guidance, whereas a Noble Messenger who speaks clearly has already come to them?
اب اُن کا نصیحت ماننا کہاں (مفید) ہو سکتا ہے حالانکہ ان کے پاس واضح بیان فرمانے والے رسول آچکے
Tafsir Ibn Kathir
Alarming the Idolators with News of the Day when the Sky will bring forth a visible Smoke
Allah says, these idolaters are playing about in doubt, i.e., the certain truth has come to them, but they doubt it and do not believe in it. Then Allah says, warning and threatening them:
فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَأْتِى السَّمَآءُ بِدُخَانٍ مُّبِينٍ
(Then wait you for the Day when the sky will bring forth a visible smoke.) It was narrated that Masruq said, "We entered the Masjid -- i.e., the Masjid of Kufah at the gates of Kindah -- and a man was reciting to his companions,
يَوْمَ تَأْتِى السَّمَآءُ بِدُخَانٍ مُّبِينٍ
(the Day when the sky will bring forth a visible smoke.) He asked them; `Do you know what that is' That is the smoke that will come on the Day of Resurrection. It will take away the hearing and sight of the hypocrites, but for the believers it will be like having a cold."' He said, "We came to Ibn Mas`ud, may Allah be pleased with him, and told him about that. He was lying down, and he sat up with a start and said, `Allah said to your Prophet
قُلْ مَآ أَسْـَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ وَمَآ أَنَآ مِنَ الْمُتَكَلِّفِينَ
(Say: "No wage do I ask of you for this, nor am I one of the pretenders.") (38:86). And it is part of knowledge that when a man does not know something, he should say, `Allah knows best.' I will tell you a Hadith about that. When the Quraysh did not respond to Islam and they grew stubborn, the Messenger of Allah ﷺ invoked Allah against them that they would have years like the years (of drought and famine) of Yusuf. They became so exhausted and hungry that they ate bones and dead meat. They looked at the sky, but they saw nothing but smoke."' According to another report: "A man would look at the sky and he would see nothing between him and the sky except a smoky haze, because of his exhaustion."
فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَأْتِى السَّمَآءُ بِدُخَانٍ مُّبِينٍ - يَغْشَى النَّاسَ هَـذَا عَذَابٌ أَلِيمٌ
(Then wait you for the Day when the sky will bring forth a visible smoke, covering the people, this is a painful torment) A man came to the Messenger of Allah ﷺ and said, "O Messenger of Allah! Pray to Allah to send rain to Mudar, for they are dying. So the Prophet prayed for rain for them, and they got rain. Then the Ayah was revealed:
إِنَّا كَاشِفُواْ الْعَذَابِ قَلِيلاً إِنَّكُمْ عَآئِدُونَ
(Verily, We shall remove the torment for a while. Verily, you will revert.) Ibn Mas`ud said, "Do you think that the torment will be removed for them on the Day of Resurrection When they were granted ease, they reverted to their former state. Then Allah revealed:
يَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَةَ الْكُبْرَى إِنَّا مُنتَقِمُونَ
(On the Day when We shall strike you with the Great Batshah. Verily, We will exact retribution.)" He said, "This means the day of Badr." Ibn Mas`ud said, "Five things have come to pass: the smoke, the (defeat of the) Romans, the (splitting of the) moon, the Batshah, and the torment." This Hadith was narrated in the Two Sahihs. It was also recorded by Imam Ahmad in his Musnad, and by At-Tirmidhi and An-Nasa'i in their (Books of) Tafsir, and by Ibn Jarir and Ibn Abi Hatim with a number of chains of narration. A number of the Salaf, such as Mujahid, Abu Al-`Aliyah, Ibrahim An-Nakha`i, Ad-Dahhak and `Atiyah Al-`Awfi concurred with Ibn Mas`ud's interpretation of this Ayah and his view that the smoke already happened. This was also the view of Ibn Jarir. According to the Hadith of Abu Sarihah, Hudhayfah bin Asid Al-Ghifari, may Allah be pleased with him, said, "The Messenger of Allah ﷺ looked out upon us from a room while we were discussing the Hour. He said:
«لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتْى تَرَوْا عَشْرَ آيَاتٍ: طُلُوعَ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا، وَالدُّخَانَ، وَالدَّابَّةَ، وَخُرُوجَ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ، وَخُرُوجَ عِيْسَى ابْنِ مَرْيَمَ وَالدَّجَّالَ، وَثَلَاثَةَ خُسُوفٍ: خَسْفٌ بِالْمَشْرِقِ، وَخَسْفٌ بِالْمَغْرِبِ، وَخَسْفٌ بِجَزِيرَةِ الْعَرَبِ، وَنَارًا تَخْرُجُ مِنْ قَعْرِ عَدَنَ تَسُوقُ النَّاسَ أَوْ تَحْشُرُ النَّاسَ تَبِيتُ مَعَهُمْ حَيْثُ بَاتُوا، وَتَقِيلُ مَعَهُمْ حَيْثُ قَالُوا»
(The Hour will not come until you see ten signs. The rising of the sun from the west; the smoke; the beast; the emergence of Ya'juj and Ma'juj; the appearance of `Isa bin Maryam; the Dajjal; three cases of the earth collapsing -- one in the east, one in the west, and one in the Arabian Peninsula; and a fire which will emerge from the bottom of Aden and will drive the people -- or gather the people -- stopping with them when they stop to sleep at night or rest during the day.)" This was recorded only by Muslim in his Sahih In the Two Sahihs it was recorded that the Messenger of Allah ﷺ said to Ibn Sayyad:
«إِنِّي خَبَأْتُ لَكَ خَبْأ»
(I am concealing something for you.) He said, It is Ad-Dukh. The Prophet said,
«اخْسَأْ فَلَنْ تَعْدُوَ قَدْرَك»
(Be off with you! You cannot get further than your rank.) He said, "The Messenger of Allah ﷺ was concealing from him the words,
فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَأْتِى السَّمَآءُ بِدُخَانٍ مُّبِينٍ
(Then wait you for the Day when the sky will bring forth a visible smoke.)"This indicates that the smoke is yet to appear. Ibn Sayyad was a fortune-teller who heard things through the Jinn, whose speech is unclear, therefore he said, "It is Ad-Dukh," meaning Ad-Dukhan (the smoke). When the Messenger of Allah ﷺ was sure what was happening, that the source of his information was the Shayatin, he said:
«اخْسَأْ فَلَنْ تَعْدُوَ قَدْرَك»
(Be off with you! You cannot get further than your rank.) There are numerous Marfu` and Mawquf Hadiths, Sahih, Hasan and others, which indicate that the smoke is one of the awaited signs (of the Hour). This is also the apparent meaning of Ayat in the Qur'an. Allah says:
فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَأْتِى السَّمَآءُ بِدُخَانٍ مُّبِينٍ
(Then wait you for the Day when the sky will bring forth a visible smoke.) meaning, clearly visible, such that all people will see it. According to Ibn Mas`ud's interpretation, this was a vision which they saw because of their intense hunger and exhaustion. He also interprets the Ayah
يَغْشَى النَّاسَ
(Covering mankind,) meaning, it covered them and overwhelmed them. But if it was only an illusion which happened to the idolators of Makkah, Allah would not have said "covering mankind."
هَـذَا عَذَابٌ أَلِيمٌ
(this is a painful torment.) means, this will be said to them by way of rebuke. This is like the Ayah:
يَوْمَ يُدَعُّونَ إِلَى نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّا - هَـذِهِ النَّارُ الَّتِى كُنتُم بِهَا تُكَذِّبُونَ
(The Day when they will be pushed down by force to the fire of Hell, with a horrible, forceful pushing. This is the Fire which you used to deny.) (52:13-14). Or some of them will say that to others.
رَّبَّنَا اكْشِفْ عَنَّا الْعَذَابَ إِنَّا مْؤْمِنُونَ
((They will say): "Our Lord! Remove the torment from us, really we shall become believers!") means, when the disbelievers witness the punishment of Allah, they will ask for it to be taken away from them. This is like the Ayat:
وَلَوْ تَرَى إِذْ وُقِفُواْ عَلَى النَّارِ فَقَالُواْ يلَيْتَنَا نُرَدُّ وَلاَ نُكَذِّبَ بِـَايَـتِ رَبِّنَا وَنَكُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ
(If you could but see when they will be held over the (Hell) Fire! They will say: "Would that we were but sent back (to the world)! Then we would not deny the Ayat of our Lord, and we would be of the believers!") (6:27)
وَأَنذِرِ النَّاسَ يَوْمَ يَأْتِيهِمُ الْعَذَابُ فَيَقُولُ الَّذِينَ ظَلَمُواْ رَبَّنَآ أَخِّرْنَآ إِلَى أَجَلٍ قَرِيبٍ نُّجِبْ دَعْوَتَكَ وَنَتَّبِعِ الرُّسُلَ أَوَلَمْ تَكُونُواْ أَقْسَمْتُمْ مِّن قَبْلُ مَا لَكُمْ مِّن زَوَالٍ
(And warn mankind of the Day when the torment will come unto them; then the wrongdoers will say: "Our Lord! Respite us for a little while, we will answer Your Call and follow the Messengers!" (It will be said): "Had you not sworn aforetime that you would not leave (the world for the Hereafter).) (14:44) Allah says here:
أَنَّى لَهُمُ الذِّكْرَى وَقَدْ جَآءَهُمْ رَسُولٌ مُّبِينٌ - ثُمَّ تَوَلَّوْاْ عَنْهُ وَقَالُواْ مُعَلَّمٌ مَّجْنُونٌ
(How can there be for them an admonition, when a Messenger explaining things clearly has already come to them. Then they had turned away from him and said: "(He is) one taught, a madman!") meaning, `what further admonition do they need when We have sent them a Messenger with a clear Message and warning Yet despite that, they turned away from him, opposed him and rejected him, and they said: (He is) one taught (by a human being), a madman.' This is like the Ayah:
يَوْمَئِذٍ يَتَذَكَّرُ الإِنسَـنُ وَأَنَّى لَهُ الذِّكْرَى
(On that Day will man remember, but how will that remembrance (then) avail him) (89:23)
وَلَوْ تَرَى إِذْ فَزِعُواْ فَلاَ فَوْتَ وَأُخِذُواْ مِن مَّكَانٍ قَرِيبٍ - وَقَالُواْ ءَامَنَّا بِهِ وَأَنَّى لَهُمُ التَّنَاوُشُ مِن مَّكَانِ بَعِيدٍ
(And if you could but see, when they will be terrified with no escape, and they will be seized from a near place. And they will say (in the Hereafter): "We do believe (now);" but how could they receive (faith and its acceptance by Allah) from a place so far off...) (34:51-52)
إِنَّا كَاشِفُواْ الْعَذَابِ قَلِيلاً إِنَّكُمْ عَآئِدُونَ
(Verily, We shall remove the torment for a while. Verily, you will revert.) means, `if We were to remove the torment from you for a while, and send you back to the world, you would go back to your former state of disbelief and denial.' This is like the Ayat:
وَلَوْ رَحِمْنَـهُمْ وَكَشَفْنَا مَا بِهِمْ مِّن ضُرٍّ لَّلَجُّواْ فِى طُغْيَـنِهِمْ يَعْمَهُونَ
(And though We had mercy on them and removed the distress which is on them, still they would obstinately persist in their transgression, wandering blindly.) (23:75)
وَلَوْ رُدُّواْ لَعَـدُواْ لِمَا نُهُواْ عَنْهُ وَإِنَّهُمْ لَكَـذِبُونَ
(But if they were returned (to the world), they would certainly revert to that which they were forbidden. And indeed they are liars) (6:28)
The Meaning of the "Great Batshah"
يَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَةَ الْكُبْرَى إِنَّا مُنتَقِمُونَ
(On the Day when We shall strike you with the great Batshah. Verily, We will exact retribution.) Ibn Mas`ud interpreted this to mean the day of Badr. This is also the view of a group who agreed with Ibn Mas`ud, may Allah be pleased with him, about the meaning of the smoke, as discussed above. It was also narrated from Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, in a report related to him from Al-`Awfi and from Ubayy bin Ka`b, may Allah be pleased with him. This is possible, but the apparent meaning is that it refers to the Day of Resurrection, although the day of Badr was also a day of vengeance. Ibn Jarir said, "Ya`qub narrated to me; Ibn `Ulayyah narrated to me, Khalid Al-Hadhdha' narrated to us, from `Ikrimah who said, `Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, said, "Ibn Mas`ud, may Allah be pleased with him, said that "the great Batshah" is the day of Badr, and I say that it is the Day of Resurrection." This chain of narration is Sahih to him. This is also the view of Al-Hasan Al-Basri and of `Ikrimah according to the more authentic of the two reports narrated from him. And Allah knows best.
دھواں ہی دھواں اور کفار فرماتا ہے کہ حق آچکا اور یہ شک شبہ میں اور لہو لعب میں مشغول و مصروف ہیں انہیں اس دن سے آگاہ کر دے جس دن آسمان سے سخت دھواں آئے گا حضرت مسروق فرماتے ہیں کہ ہم ایک مرتبہ کوفے کی مسجد میں گئے جو کندہ کے دروازوں کے پاس ہے تو دیکھا کہ ایک حضرت اپنے ساتھیوں میں قصہ گوئی کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اس آیت میں جس دھوئیں کا ذکر ہے اس سے مراد وہ دھواں ہے جو قیامت کے دن منافقوں کے کانوں اور آنکھوں میں بھر جائے گا اور مومنوں کو مثل زکام کے ہوجائے گا۔ ہم وہاں سے جب واپس لوٹے اور حضرت ابن مسعود سے اس کا ذکر کیا تو آپ لیٹے لیٹے بےتابی کے ساتھ بیٹھ گئے اور فرمانے لگے اللہ عزوجل نے اپنے نبی ﷺ سے فرمایا ہے میں تم سے اس پر کوئی بدلہ نہیں چاہتا اور میں تکلف کرنے والوں میں نہیں ہوں۔ یہ بھی علم ہے کہ انسان جس چیز کو نہ جانتا ہو کہہ دے کہ اللہ جانے سنو میں تمہیں اس آیت کا صحیح مطلب سناؤں جب کہ قریشیوں نے اسلام قبول کرنے میں تاخیر کی اور حضور ﷺ کو ستانے لگے تو آپ نے ان پر بددعا کی کہ یوسف کے زمانے جیسا قحط ان پر آپڑے۔ چناچہ وہ دعا قبول ہوئی اور ایسی خشک سالی آئی کہ انہوں نے ہڈیاں اور مردار چبانا شروع کیا۔ اور آسمان کی طرف نگاہیں ڈالتے تھے تو دھویں کے سوا کچھ دکھائی نہ دیتا تھا۔ ایک روایت میں ہے کہ بوجہ بھوک کے ان کی آنکھوں میں چکر آنے لگے جب آسمان کی طرف نظر اٹھاتے تو درمیان میں ایک دھواں نظر آتا۔ اسی کا بیان ان دو آیتوں میں ہے۔ لیکن پھر اس کے بعد لوگ حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنی ہلاکت کی شکایت کی۔ آپ کو رحم آگیا اور آپ نے جناب باری تعالیٰ میں التجا کی چناچہ بارش برسی اسی کا بیان اس کے بعد والی آیت میں ہے کہ عذاب کے ہٹتے ہی پھر کفر کرنے لگیں گے۔ اس سے صاف ثابت ہے کہ یہ دنیا کا عذاب ہے کیونکہ آخرت کے عذاب تو ہٹتے کھلتے اور دور ہوتے نہیں۔ حضرت ابن مسعود کا قول ہے کہ پانچ چیزیں گذر چکیں۔ دخان، روم، قمر، بطشہ، اور لزام (صحیحین) یعنی آسمان سے دھوئیں کا آنا۔ رومیوں کا اپنی شکست کے بعد غلبہ پانا۔ چاند کے دو ٹکڑے ہونا بدر کی لڑائی میں کفار کا پکڑا جانا اور ہارنا۔ اور چمٹ جانے والا عذاب بڑی سخت پکڑ سے مراد بدر کے دن لڑائی ہے حضرت ابن مسعود، نخعی، ضحاک، عطیہ، عوفی، وغیرہ کا ہے اور اسی کو ابن جریر بھی ترجیح دیتے ہیں۔ عبدالرحمن اعرج سے مروی ہے کہ یہ فتح مکہ کے دن ہوا۔ یہ قول بالکل غریب بلکہ منکر ہے اور بعض حضرات فرماتے ہیں یہ گذر نہیں گیا بلکہ قرب قیامت کے آئے گا۔ پہلے حدیث گزر چکی ہے کہ صحابہ قیامت کا ذکر کر رہے تھے اور حضور ﷺ آگئے۔ تو آپ نے فرمایا جب تک دس نشانات تم نہ دیکھ لو قیامت نہیں آئے گی سورج کا مغرب سے نکلنا، دھواں، یاجوج ماجوج کا آنا، مشرق مغرب اور جزیرۃ العرب میں زمین کا دھنسایا جانا، آگ کا عدن سے نکل کر لوگوں کو ہانک کر ایک جا کرنا۔ جہاں یہ رات گذاریں گے آگ بھی گذارے گی اور جہاں یہ دوپہر کو سوئیں گے آگ بھی قیلولہ کرے گی۔ (مسلم) بخاری و مسلم میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ابن صیاد کے لئے دل میں آیت (فَارْتَـقِبْ يَوْمَ تَاْتِي السَّمَاۗءُ بِدُخَانٍ مُّبِيْنٍ 10 ۙ) 44۔ الدخان :10) چھپا کر اس سے پوچھا کہ بتا میں نے اپنے دل میں کیا چھپا رکھا ہے ؟ اس نے کہا (دخ) آپ نے فرمایا بس برباد ہو اس سے آگے تیری نہیں چلنے کی۔ اس میں بھی ایک قسم کا اشارہ ہے کہ ابھی اس کا انتظار باقی ہے اور یہ کوئی آنے والی چیز ہے چونکہ ابن صیاد بطور کاہنوں کے بعض باتیں دل کی زبان سے بتانے کا مدعی تھا اس کے جھوٹ کو ظاہر کرنے کے لئے آپ نے یہ کیا اور جب وہ پورا نہ بتا سکا تو آپ نے لوگوں کو اس کی حالت سے واقف کردیا کہ اس کے ساتھ شیطان ہے کلام صرف چرا لیتا ہے اور یہ اس سے زیادہ پر قدرت نہیں پانے کا۔ ابن جریر میں ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں قیامت کے اولین نشانیاں یہ ہیں۔ دجال کا آنا اور عیسیٰ بن مریم (علیہما السلام) کا نازل ہونا اور آگ کا بیچ عدن سے نکلنا جو لوگوں کو محشر کی طرف لے جائے گی قیلولے کے وقت اور رات کی نیند کے وقت بھی ان کے ساتھ رہے گی اور دھویں کا آنا۔ حضرت حذیفہ نے سوال کیا کہ حضور ﷺ دھواں کیسا ؟ آپ نے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا یہ دھواں چالیس دن تک گھٹا رہے گا جس سے مسلمانوں کو تو مثل نزلے کے ہوجائے گا اور کافر بیہوش و بدمست ہوجائے گا اس کے نتھنوں سے کانوں سے اور دوسری جگہ سے دھواں نکلتا رہے گا۔ یہ حدیث اگر صحیح ہوتی تو پھر دخان کے معنی مقرر ہوجانے میں کوئی بات باقی نہ رہتی۔ لیکن اس کی صحت کی گواہی نہیں دی جاسکتی اس کے راوی رواد سے محمد بن خلف عسقلانی نے سوال کیا کہ کیا سفیان ثوری سے تو نے خود یہ حدیث سنی ہے ؟ اس نے انکار کیا پوچھا کیا تو نے پڑھی اور اس نے سنی ہے ؟ کہا نہیں۔ پوچھا اچھا تمہاری موجودگی میں اس کے سامنے یہ حدیث پڑھی گئی ؟ کہا نہیں کہا پھر تم اس حدیث کو کیسے بیان کرتے ہو ؟ کہا میں نے تو بیان نہیں کی میرے پاس کچھ لوگ آئے اس روایت کو پیش کی پھر جا کر میرے نام سے اسے بیان کرنی شروع کردی بات بھی یہی ہے یہ حدیث بالکل موضوع ہے ابن جریر اسے کئی جگہ لائے ہیں اور اس میں بہت سی منکرات ہیں خصوصًا مسجد اقصیٰ کے بیان میں جو سورة بنی اسرائیل کے شروع میں ہے واللہ اعلم۔ اور حدیث میں ہے کہ تمہارے رب نے تمہیں تین چیزوں سے ڈرایا، دھواں جو مومن کو زکام کر دے گا اور کافر کا تو سارا جسم پھلا دے گا۔ روئیں روئیں سے دھواں اٹھے گا دابتہ الارض اور دجال۔ اس کی سند بہت عمدہ ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں دھواں پھیل جائے گا مومن کو تو مثل زکام کے لگے گا اور کافر کے جوڑ جوڑ سے نکلے گا یہ حدیث حضرت ابو سعید خدری کے قول سے بھی مروی ہے اور حضرت حسن کے اپنے قول سے بھی مروی ہے حضرت علی فرماتے ہیں دخان گذر نہیں گیا بلکہ اب آئے گا۔ حضرت ابن عمر سے دھویں کی بابت اوپر کی حدیث کی طرح روایت ہے ابن ابی ملکیہ فرماتے ہیں کہ ایک دن صبح کے وقت حضرت ابن عباس کے پاس گیا۔ تو آپ فرمانے لگے رات کو میں بالکل نہیں سویا میں نے پوچھا کیوں ؟ فرمایا اس لئے کہ لوگوں سے سنا کہ دم دار ستارہ نکلا ہے تو مجھے اندیشہ ہوا کہ کہیں یہی دخان نہ ہو پس صبح تک میں نے آنکھ سے آنکھ نہیں ملائی۔ اس کی سند صحیح ہے اور (حبرالامتہ) ترجمان القرآن حضرت ابن عباس کے ساتھ صحابہ اور تابعین بھی ہیں اور مرفوع حدیثیں بھی ہیں۔ جن میں صحیح حسن اور ہر طرح کی ہیں اور ان سے ثابت ہوتا ہے کہ دخان ایک علامت قیامت ہے جو آنے والی ہے ظاہری الفاظ قرآن بھی اسی کی تائید کرتے ہیں کیونکہ قرآن نے اسے واضح اور ظاہر دھواں کہا ہے جسے ہر شخص دیکھ سکے اور بھوک کے دھوئیں سے اسے تعبیر کرنا ٹھیک نہیں کیونکہ وہ تو ایک خیالی چیز ہے بھوک پیاس کی سختی کی وجہ سے دھواں سا آنکھوں کے آگے نمودار ہوجاتا ہے جو دراصل دھواں نہیں اور قرآن کے الفاظ ہیں آیت (دخان مبین) کے۔ پھر یہ فرمان کہ وہ لوگوں کو ڈھانک لے گی یہ بھی حضرت ابن عباس کی تفسیر کی تائید کرتا ہے کیونکہ بھوک کے اس دھوئیں نے صرف اہل مکہ کو ڈھانپا تھا نہ کہ تمام لوگوں کو پھر فرماتا ہے کہ یہ ہے المناک عذاب یعنی ان سے یوں کہا جائے گا جیسے اور آیت میں ہے (يَوْمَ يُدَعُّوْنَ اِلٰى نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّا 13ۭ) 52۔ الطور :13) ، جس دن انہیں جہنم کی طرف دھکیلا جائے گا کہ یہ وہ آگ ہے جسے تم جھٹلا رہے تھے یا یہ مطلب کہ وہ خود ایک دوسرے سے یوں کہیں گے کافر جب اس عذاب کو دیکھیں گے تو اللہ سے اس کے دور ہونے کی دعا کریں گے جیسے کہ اس آیت میں ہے (وَلَوْ تَرٰٓي اِذْ وُقِفُوْا عَلَي النَّارِ فَقَالُوْا يٰلَيْتَنَا نُرَدُّ وَلَا نُكَذِّبَ بِاٰيٰتِ رَبِّنَا وَنَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ 27) 6۔ الانعام :27) ، یعنی کاش کے تو انہیں دیکھتا جب یہ آگ کے پاس کھڑے کئے جائیں گے اور کہیں گے کاش کے ہم لوٹائے جاتے تو ہم اپنے رب کی آیتوں کو نہ جھٹلاتے اور باایمان بن کر رہتے اور آیت میں ہے لوگوں کو ڈراوے کے ساتھ آگاہ کر دے جس دن ان کے پاس عذاب آئے گا اس دن گنہگار کہیں گے پروردگار ہمیں تھوڑے سے وقت تک اور ڈھیل دے دے تو ہم تیری پکار پر لبیک کہہ لیں اور تیرے رسولوں کی فرمانبرداری کرلیں پس یہاں یہی کہا جاتا ہے کہ ان کے لئے نصیحت کہاں ؟ ان کے پاس میرے پیغامبر آچکے انہوں نے ان کے سامنے میرے احکام واضح طور پر رکھ دئیے لیکن ماننا تو کجا انہوں نے پرواہ تک نہ کی بلکہ انہیں جھوٹا کہا ان کی تعلیم کو غلط کہا ان کی تعلیم کو غلط کہا اور صاف کہہ000دیا کہ یہ تو سکھائے پڑھائے ہیں، انہیں جنوں ہوگیا ہے جیسے اور آیت میں ہے اس دن انسان نصیحت حاصل کرے گا لیکن اب اس کے لئے نصیحت کہاں ہے ؟ اور جگہ فرمایا ہے آیت (وَّقَالُوْٓا اٰمَنَّا بِهٖ ۚ وَاَنّٰى لَهُمُ التَّنَاوُشُ مِنْ مَّكَانٍۢ بَعِيْدٍ 52ښ) 34۔ سبأ :52) ، یعنی اس دن عذابوں کو دیکھ کر ایمان لانا سراسر بےسود ہے پھر جو ارشاد ہوتا ہے اس کے دو معنی ہوسکتے ہیں ایک تو یہ کہ اگر بالفرض ہم عذاب ہٹا لیں اور تمہیں دوبارہ دنیا میں بھیج دیں تو بھی تم پھر وہاں جا کر یہی کرو گے جو اس سے پہلے کر کے آئے ہو جیسے فرمایا آیت (وَلَوْ رَحِمْنٰهُمْ وَكَشَفْنَا مَا بِهِمْ مِّنْ ضُرٍّ لَّـــلَجُّوْا فِيْ طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُوْنَ 75) 23۔ المؤمنون :75) ، یعنی اگر ہم ان پر رحم کریں اور برائی ان سے ہٹا لیں تو پھر یہ اپنی سرکشی میں آنکھیں بند کر کے منہمک ہوجائیں گے اور جیسے فرمایا آیت (وَلَوْ رُدُّوْا لَعَادُوْا لِمَا نُهُوْا عَنْهُ وَاِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ 28) 6۔ الانعام :28) ، یعنی اگر یہ لوٹائے جائیں تو قطعًا دوبارہ پھر ہماری نافرمانیاں کرنے لگیں گے اور محض جھوٹے ثابت ہوں گے۔ دوسرے معنی یہ بھی ہوسکتے ہیں کہ اگر عذاب کے اسباب قائم ہو چکنے اور عذاب آجانے کے بعد بھی گو ہم اسے کچھ دیر ٹھہرا لیں تاہم یہ اپنی بد باطنی اور خباثت سے باز نہیں آنے کے اس سے یہ لازم آتا کہ عذاب انہیں پہنچا اور پھر ہٹ گیا جیسے قوم یونس کی حضرت حق تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے کہ قوم یونس جب ایمان لائی ہم نے ان سے عذاب ہٹا لیا۔ گویا عذاب انہیں ہونا شروع نہیں ہوا تھا ہاں اس کے اسباب موجود و فراہم ہوچکے تھے ان تک اللہ کا عذاب پہنچ چکا تھا اور اس سے یہ بھی لازم نہیں آتا کہ وہ اپنے کفر سے ہٹ گئے تھے پھر اس کی طرف لوٹ گئے۔ چناچہ حضرت شعیب اور ان پر ایمان لانے والوں سے جب قوم نے کہا کہ یا تو تم ہماری بستی چھوڑ دو یا ہمارے مذہب میں لوٹ آؤ تو جواب میں اللہ کے رسول نے فرمایا کہ گو ہم اسے برا جانتے ہوں۔ جبکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس سے نجات دے رکھی ہے پھر بھی اگر ہم تمہاری ملت میں لوٹ آئیں تو ہم سے بڑھ کر جھوٹا اور اللہ کے ذمے بہتان باندھنے والا اور کون ہوگا ؟ ظاہر ہے کہ حضرت شعیب ؑ نے اس سے پہلے بھی کبھی کفر میں قدم نہیں رکھا تھا اور حضرت قتادہ فرماتے ہیں کہ تم لوٹنے والے ہو۔ اس سے مطلب اللہ کے عذاب کی طرف لوٹنا ہے بڑی اور سخت پکڑ سے مراد جنگ بدر ہے حضرت ابن مسعود اور آپ کے ساتھ کی وہ جماعت جو دخان کو ہوچکا مانتی ہے وہ تو (بطشہ) کے معنی یہی کرتی ہے بلکہ حضرت ابن عباس سے حضرت ابی بن کعب سے ایک اور جماعت سے یہی منقول ہے گو یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے لیکن بہ ظاہر تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مراد قیامت کے دن کی پکڑ ہے گو بدر کا دن بھی پکڑ کا اور کفار پر سخت دن تھا ابن جریر میں ہے حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ گو حضرت ابن مسعود اسے بدر کا دن بتاتے ہیں لیکن میرے نزدیک تو اس سے مراد قیامت کا دن ہے اس کی اسناد صحیح ہے حضرت حسن بصری اور عکرمہ سے بھی دونوں روایتوں میں زیادہ صحیح روایت یہی ہے واللہ اعلم۔
14
View Single
ثُمَّ تَوَلَّوۡاْ عَنۡهُ وَقَالُواْ مُعَلَّمٞ مَّجۡنُونٌ
Whereas they had then turned away from him and said, “He is a madman, tutored!”?
پھر انہوں نے اس سے منہ پھیر لیا اور (گستاخی کرتے ہوئے) کہنے لگے: (وہ) سکھایا ہوا دیوانہ ہے
Tafsir Ibn Kathir
Alarming the Idolators with News of the Day when the Sky will bring forth a visible Smoke
Allah says, these idolaters are playing about in doubt, i.e., the certain truth has come to them, but they doubt it and do not believe in it. Then Allah says, warning and threatening them:
فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَأْتِى السَّمَآءُ بِدُخَانٍ مُّبِينٍ
(Then wait you for the Day when the sky will bring forth a visible smoke.) It was narrated that Masruq said, "We entered the Masjid -- i.e., the Masjid of Kufah at the gates of Kindah -- and a man was reciting to his companions,
يَوْمَ تَأْتِى السَّمَآءُ بِدُخَانٍ مُّبِينٍ
(the Day when the sky will bring forth a visible smoke.) He asked them; `Do you know what that is' That is the smoke that will come on the Day of Resurrection. It will take away the hearing and sight of the hypocrites, but for the believers it will be like having a cold."' He said, "We came to Ibn Mas`ud, may Allah be pleased with him, and told him about that. He was lying down, and he sat up with a start and said, `Allah said to your Prophet
قُلْ مَآ أَسْـَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ وَمَآ أَنَآ مِنَ الْمُتَكَلِّفِينَ
(Say: "No wage do I ask of you for this, nor am I one of the pretenders.") (38:86). And it is part of knowledge that when a man does not know something, he should say, `Allah knows best.' I will tell you a Hadith about that. When the Quraysh did not respond to Islam and they grew stubborn, the Messenger of Allah ﷺ invoked Allah against them that they would have years like the years (of drought and famine) of Yusuf. They became so exhausted and hungry that they ate bones and dead meat. They looked at the sky, but they saw nothing but smoke."' According to another report: "A man would look at the sky and he would see nothing between him and the sky except a smoky haze, because of his exhaustion."
فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَأْتِى السَّمَآءُ بِدُخَانٍ مُّبِينٍ - يَغْشَى النَّاسَ هَـذَا عَذَابٌ أَلِيمٌ
(Then wait you for the Day when the sky will bring forth a visible smoke, covering the people, this is a painful torment) A man came to the Messenger of Allah ﷺ and said, "O Messenger of Allah! Pray to Allah to send rain to Mudar, for they are dying. So the Prophet prayed for rain for them, and they got rain. Then the Ayah was revealed:
إِنَّا كَاشِفُواْ الْعَذَابِ قَلِيلاً إِنَّكُمْ عَآئِدُونَ
(Verily, We shall remove the torment for a while. Verily, you will revert.) Ibn Mas`ud said, "Do you think that the torment will be removed for them on the Day of Resurrection When they were granted ease, they reverted to their former state. Then Allah revealed:
يَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَةَ الْكُبْرَى إِنَّا مُنتَقِمُونَ
(On the Day when We shall strike you with the Great Batshah. Verily, We will exact retribution.)" He said, "This means the day of Badr." Ibn Mas`ud said, "Five things have come to pass: the smoke, the (defeat of the) Romans, the (splitting of the) moon, the Batshah, and the torment." This Hadith was narrated in the Two Sahihs. It was also recorded by Imam Ahmad in his Musnad, and by At-Tirmidhi and An-Nasa'i in their (Books of) Tafsir, and by Ibn Jarir and Ibn Abi Hatim with a number of chains of narration. A number of the Salaf, such as Mujahid, Abu Al-`Aliyah, Ibrahim An-Nakha`i, Ad-Dahhak and `Atiyah Al-`Awfi concurred with Ibn Mas`ud's interpretation of this Ayah and his view that the smoke already happened. This was also the view of Ibn Jarir. According to the Hadith of Abu Sarihah, Hudhayfah bin Asid Al-Ghifari, may Allah be pleased with him, said, "The Messenger of Allah ﷺ looked out upon us from a room while we were discussing the Hour. He said:
«لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتْى تَرَوْا عَشْرَ آيَاتٍ: طُلُوعَ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا، وَالدُّخَانَ، وَالدَّابَّةَ، وَخُرُوجَ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ، وَخُرُوجَ عِيْسَى ابْنِ مَرْيَمَ وَالدَّجَّالَ، وَثَلَاثَةَ خُسُوفٍ: خَسْفٌ بِالْمَشْرِقِ، وَخَسْفٌ بِالْمَغْرِبِ، وَخَسْفٌ بِجَزِيرَةِ الْعَرَبِ، وَنَارًا تَخْرُجُ مِنْ قَعْرِ عَدَنَ تَسُوقُ النَّاسَ أَوْ تَحْشُرُ النَّاسَ تَبِيتُ مَعَهُمْ حَيْثُ بَاتُوا، وَتَقِيلُ مَعَهُمْ حَيْثُ قَالُوا»
(The Hour will not come until you see ten signs. The rising of the sun from the west; the smoke; the beast; the emergence of Ya'juj and Ma'juj; the appearance of `Isa bin Maryam; the Dajjal; three cases of the earth collapsing -- one in the east, one in the west, and one in the Arabian Peninsula; and a fire which will emerge from the bottom of Aden and will drive the people -- or gather the people -- stopping with them when they stop to sleep at night or rest during the day.)" This was recorded only by Muslim in his Sahih In the Two Sahihs it was recorded that the Messenger of Allah ﷺ said to Ibn Sayyad:
«إِنِّي خَبَأْتُ لَكَ خَبْأ»
(I am concealing something for you.) He said, It is Ad-Dukh. The Prophet said,
«اخْسَأْ فَلَنْ تَعْدُوَ قَدْرَك»
(Be off with you! You cannot get further than your rank.) He said, "The Messenger of Allah ﷺ was concealing from him the words,
فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَأْتِى السَّمَآءُ بِدُخَانٍ مُّبِينٍ
(Then wait you for the Day when the sky will bring forth a visible smoke.)"This indicates that the smoke is yet to appear. Ibn Sayyad was a fortune-teller who heard things through the Jinn, whose speech is unclear, therefore he said, "It is Ad-Dukh," meaning Ad-Dukhan (the smoke). When the Messenger of Allah ﷺ was sure what was happening, that the source of his information was the Shayatin, he said:
«اخْسَأْ فَلَنْ تَعْدُوَ قَدْرَك»
(Be off with you! You cannot get further than your rank.) There are numerous Marfu` and Mawquf Hadiths, Sahih, Hasan and others, which indicate that the smoke is one of the awaited signs (of the Hour). This is also the apparent meaning of Ayat in the Qur'an. Allah says:
فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَأْتِى السَّمَآءُ بِدُخَانٍ مُّبِينٍ
(Then wait you for the Day when the sky will bring forth a visible smoke.) meaning, clearly visible, such that all people will see it. According to Ibn Mas`ud's interpretation, this was a vision which they saw because of their intense hunger and exhaustion. He also interprets the Ayah
يَغْشَى النَّاسَ
(Covering mankind,) meaning, it covered them and overwhelmed them. But if it was only an illusion which happened to the idolators of Makkah, Allah would not have said "covering mankind."
هَـذَا عَذَابٌ أَلِيمٌ
(this is a painful torment.) means, this will be said to them by way of rebuke. This is like the Ayah:
يَوْمَ يُدَعُّونَ إِلَى نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّا - هَـذِهِ النَّارُ الَّتِى كُنتُم بِهَا تُكَذِّبُونَ
(The Day when they will be pushed down by force to the fire of Hell, with a horrible, forceful pushing. This is the Fire which you used to deny.) (52:13-14). Or some of them will say that to others.
رَّبَّنَا اكْشِفْ عَنَّا الْعَذَابَ إِنَّا مْؤْمِنُونَ
((They will say): "Our Lord! Remove the torment from us, really we shall become believers!") means, when the disbelievers witness the punishment of Allah, they will ask for it to be taken away from them. This is like the Ayat:
وَلَوْ تَرَى إِذْ وُقِفُواْ عَلَى النَّارِ فَقَالُواْ يلَيْتَنَا نُرَدُّ وَلاَ نُكَذِّبَ بِـَايَـتِ رَبِّنَا وَنَكُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ
(If you could but see when they will be held over the (Hell) Fire! They will say: "Would that we were but sent back (to the world)! Then we would not deny the Ayat of our Lord, and we would be of the believers!") (6:27)
وَأَنذِرِ النَّاسَ يَوْمَ يَأْتِيهِمُ الْعَذَابُ فَيَقُولُ الَّذِينَ ظَلَمُواْ رَبَّنَآ أَخِّرْنَآ إِلَى أَجَلٍ قَرِيبٍ نُّجِبْ دَعْوَتَكَ وَنَتَّبِعِ الرُّسُلَ أَوَلَمْ تَكُونُواْ أَقْسَمْتُمْ مِّن قَبْلُ مَا لَكُمْ مِّن زَوَالٍ
(And warn mankind of the Day when the torment will come unto them; then the wrongdoers will say: "Our Lord! Respite us for a little while, we will answer Your Call and follow the Messengers!" (It will be said): "Had you not sworn aforetime that you would not leave (the world for the Hereafter).) (14:44) Allah says here:
أَنَّى لَهُمُ الذِّكْرَى وَقَدْ جَآءَهُمْ رَسُولٌ مُّبِينٌ - ثُمَّ تَوَلَّوْاْ عَنْهُ وَقَالُواْ مُعَلَّمٌ مَّجْنُونٌ
(How can there be for them an admonition, when a Messenger explaining things clearly has already come to them. Then they had turned away from him and said: "(He is) one taught, a madman!") meaning, `what further admonition do they need when We have sent them a Messenger with a clear Message and warning Yet despite that, they turned away from him, opposed him and rejected him, and they said: (He is) one taught (by a human being), a madman.' This is like the Ayah:
يَوْمَئِذٍ يَتَذَكَّرُ الإِنسَـنُ وَأَنَّى لَهُ الذِّكْرَى
(On that Day will man remember, but how will that remembrance (then) avail him) (89:23)
وَلَوْ تَرَى إِذْ فَزِعُواْ فَلاَ فَوْتَ وَأُخِذُواْ مِن مَّكَانٍ قَرِيبٍ - وَقَالُواْ ءَامَنَّا بِهِ وَأَنَّى لَهُمُ التَّنَاوُشُ مِن مَّكَانِ بَعِيدٍ
(And if you could but see, when they will be terrified with no escape, and they will be seized from a near place. And they will say (in the Hereafter): "We do believe (now);" but how could they receive (faith and its acceptance by Allah) from a place so far off...) (34:51-52)
إِنَّا كَاشِفُواْ الْعَذَابِ قَلِيلاً إِنَّكُمْ عَآئِدُونَ
(Verily, We shall remove the torment for a while. Verily, you will revert.) means, `if We were to remove the torment from you for a while, and send you back to the world, you would go back to your former state of disbelief and denial.' This is like the Ayat:
وَلَوْ رَحِمْنَـهُمْ وَكَشَفْنَا مَا بِهِمْ مِّن ضُرٍّ لَّلَجُّواْ فِى طُغْيَـنِهِمْ يَعْمَهُونَ
(And though We had mercy on them and removed the distress which is on them, still they would obstinately persist in their transgression, wandering blindly.) (23:75)
وَلَوْ رُدُّواْ لَعَـدُواْ لِمَا نُهُواْ عَنْهُ وَإِنَّهُمْ لَكَـذِبُونَ
(But if they were returned (to the world), they would certainly revert to that which they were forbidden. And indeed they are liars) (6:28)
The Meaning of the "Great Batshah"
يَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَةَ الْكُبْرَى إِنَّا مُنتَقِمُونَ
(On the Day when We shall strike you with the great Batshah. Verily, We will exact retribution.) Ibn Mas`ud interpreted this to mean the day of Badr. This is also the view of a group who agreed with Ibn Mas`ud, may Allah be pleased with him, about the meaning of the smoke, as discussed above. It was also narrated from Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, in a report related to him from Al-`Awfi and from Ubayy bin Ka`b, may Allah be pleased with him. This is possible, but the apparent meaning is that it refers to the Day of Resurrection, although the day of Badr was also a day of vengeance. Ibn Jarir said, "Ya`qub narrated to me; Ibn `Ulayyah narrated to me, Khalid Al-Hadhdha' narrated to us, from `Ikrimah who said, `Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, said, "Ibn Mas`ud, may Allah be pleased with him, said that "the great Batshah" is the day of Badr, and I say that it is the Day of Resurrection." This chain of narration is Sahih to him. This is also the view of Al-Hasan Al-Basri and of `Ikrimah according to the more authentic of the two reports narrated from him. And Allah knows best.
دھواں ہی دھواں اور کفار فرماتا ہے کہ حق آچکا اور یہ شک شبہ میں اور لہو لعب میں مشغول و مصروف ہیں انہیں اس دن سے آگاہ کر دے جس دن آسمان سے سخت دھواں آئے گا حضرت مسروق فرماتے ہیں کہ ہم ایک مرتبہ کوفے کی مسجد میں گئے جو کندہ کے دروازوں کے پاس ہے تو دیکھا کہ ایک حضرت اپنے ساتھیوں میں قصہ گوئی کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اس آیت میں جس دھوئیں کا ذکر ہے اس سے مراد وہ دھواں ہے جو قیامت کے دن منافقوں کے کانوں اور آنکھوں میں بھر جائے گا اور مومنوں کو مثل زکام کے ہوجائے گا۔ ہم وہاں سے جب واپس لوٹے اور حضرت ابن مسعود سے اس کا ذکر کیا تو آپ لیٹے لیٹے بےتابی کے ساتھ بیٹھ گئے اور فرمانے لگے اللہ عزوجل نے اپنے نبی ﷺ سے فرمایا ہے میں تم سے اس پر کوئی بدلہ نہیں چاہتا اور میں تکلف کرنے والوں میں نہیں ہوں۔ یہ بھی علم ہے کہ انسان جس چیز کو نہ جانتا ہو کہہ دے کہ اللہ جانے سنو میں تمہیں اس آیت کا صحیح مطلب سناؤں جب کہ قریشیوں نے اسلام قبول کرنے میں تاخیر کی اور حضور ﷺ کو ستانے لگے تو آپ نے ان پر بددعا کی کہ یوسف کے زمانے جیسا قحط ان پر آپڑے۔ چناچہ وہ دعا قبول ہوئی اور ایسی خشک سالی آئی کہ انہوں نے ہڈیاں اور مردار چبانا شروع کیا۔ اور آسمان کی طرف نگاہیں ڈالتے تھے تو دھویں کے سوا کچھ دکھائی نہ دیتا تھا۔ ایک روایت میں ہے کہ بوجہ بھوک کے ان کی آنکھوں میں چکر آنے لگے جب آسمان کی طرف نظر اٹھاتے تو درمیان میں ایک دھواں نظر آتا۔ اسی کا بیان ان دو آیتوں میں ہے۔ لیکن پھر اس کے بعد لوگ حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنی ہلاکت کی شکایت کی۔ آپ کو رحم آگیا اور آپ نے جناب باری تعالیٰ میں التجا کی چناچہ بارش برسی اسی کا بیان اس کے بعد والی آیت میں ہے کہ عذاب کے ہٹتے ہی پھر کفر کرنے لگیں گے۔ اس سے صاف ثابت ہے کہ یہ دنیا کا عذاب ہے کیونکہ آخرت کے عذاب تو ہٹتے کھلتے اور دور ہوتے نہیں۔ حضرت ابن مسعود کا قول ہے کہ پانچ چیزیں گذر چکیں۔ دخان، روم، قمر، بطشہ، اور لزام (صحیحین) یعنی آسمان سے دھوئیں کا آنا۔ رومیوں کا اپنی شکست کے بعد غلبہ پانا۔ چاند کے دو ٹکڑے ہونا بدر کی لڑائی میں کفار کا پکڑا جانا اور ہارنا۔ اور چمٹ جانے والا عذاب بڑی سخت پکڑ سے مراد بدر کے دن لڑائی ہے حضرت ابن مسعود، نخعی، ضحاک، عطیہ، عوفی، وغیرہ کا ہے اور اسی کو ابن جریر بھی ترجیح دیتے ہیں۔ عبدالرحمن اعرج سے مروی ہے کہ یہ فتح مکہ کے دن ہوا۔ یہ قول بالکل غریب بلکہ منکر ہے اور بعض حضرات فرماتے ہیں یہ گذر نہیں گیا بلکہ قرب قیامت کے آئے گا۔ پہلے حدیث گزر چکی ہے کہ صحابہ قیامت کا ذکر کر رہے تھے اور حضور ﷺ آگئے۔ تو آپ نے فرمایا جب تک دس نشانات تم نہ دیکھ لو قیامت نہیں آئے گی سورج کا مغرب سے نکلنا، دھواں، یاجوج ماجوج کا آنا، مشرق مغرب اور جزیرۃ العرب میں زمین کا دھنسایا جانا، آگ کا عدن سے نکل کر لوگوں کو ہانک کر ایک جا کرنا۔ جہاں یہ رات گذاریں گے آگ بھی گذارے گی اور جہاں یہ دوپہر کو سوئیں گے آگ بھی قیلولہ کرے گی۔ (مسلم) بخاری و مسلم میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ابن صیاد کے لئے دل میں آیت (فَارْتَـقِبْ يَوْمَ تَاْتِي السَّمَاۗءُ بِدُخَانٍ مُّبِيْنٍ 10 ۙ) 44۔ الدخان :10) چھپا کر اس سے پوچھا کہ بتا میں نے اپنے دل میں کیا چھپا رکھا ہے ؟ اس نے کہا (دخ) آپ نے فرمایا بس برباد ہو اس سے آگے تیری نہیں چلنے کی۔ اس میں بھی ایک قسم کا اشارہ ہے کہ ابھی اس کا انتظار باقی ہے اور یہ کوئی آنے والی چیز ہے چونکہ ابن صیاد بطور کاہنوں کے بعض باتیں دل کی زبان سے بتانے کا مدعی تھا اس کے جھوٹ کو ظاہر کرنے کے لئے آپ نے یہ کیا اور جب وہ پورا نہ بتا سکا تو آپ نے لوگوں کو اس کی حالت سے واقف کردیا کہ اس کے ساتھ شیطان ہے کلام صرف چرا لیتا ہے اور یہ اس سے زیادہ پر قدرت نہیں پانے کا۔ ابن جریر میں ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں قیامت کے اولین نشانیاں یہ ہیں۔ دجال کا آنا اور عیسیٰ بن مریم (علیہما السلام) کا نازل ہونا اور آگ کا بیچ عدن سے نکلنا جو لوگوں کو محشر کی طرف لے جائے گی قیلولے کے وقت اور رات کی نیند کے وقت بھی ان کے ساتھ رہے گی اور دھویں کا آنا۔ حضرت حذیفہ نے سوال کیا کہ حضور ﷺ دھواں کیسا ؟ آپ نے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا یہ دھواں چالیس دن تک گھٹا رہے گا جس سے مسلمانوں کو تو مثل نزلے کے ہوجائے گا اور کافر بیہوش و بدمست ہوجائے گا اس کے نتھنوں سے کانوں سے اور دوسری جگہ سے دھواں نکلتا رہے گا۔ یہ حدیث اگر صحیح ہوتی تو پھر دخان کے معنی مقرر ہوجانے میں کوئی بات باقی نہ رہتی۔ لیکن اس کی صحت کی گواہی نہیں دی جاسکتی اس کے راوی رواد سے محمد بن خلف عسقلانی نے سوال کیا کہ کیا سفیان ثوری سے تو نے خود یہ حدیث سنی ہے ؟ اس نے انکار کیا پوچھا کیا تو نے پڑھی اور اس نے سنی ہے ؟ کہا نہیں۔ پوچھا اچھا تمہاری موجودگی میں اس کے سامنے یہ حدیث پڑھی گئی ؟ کہا نہیں کہا پھر تم اس حدیث کو کیسے بیان کرتے ہو ؟ کہا میں نے تو بیان نہیں کی میرے پاس کچھ لوگ آئے اس روایت کو پیش کی پھر جا کر میرے نام سے اسے بیان کرنی شروع کردی بات بھی یہی ہے یہ حدیث بالکل موضوع ہے ابن جریر اسے کئی جگہ لائے ہیں اور اس میں بہت سی منکرات ہیں خصوصًا مسجد اقصیٰ کے بیان میں جو سورة بنی اسرائیل کے شروع میں ہے واللہ اعلم۔ اور حدیث میں ہے کہ تمہارے رب نے تمہیں تین چیزوں سے ڈرایا، دھواں جو مومن کو زکام کر دے گا اور کافر کا تو سارا جسم پھلا دے گا۔ روئیں روئیں سے دھواں اٹھے گا دابتہ الارض اور دجال۔ اس کی سند بہت عمدہ ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں دھواں پھیل جائے گا مومن کو تو مثل زکام کے لگے گا اور کافر کے جوڑ جوڑ سے نکلے گا یہ حدیث حضرت ابو سعید خدری کے قول سے بھی مروی ہے اور حضرت حسن کے اپنے قول سے بھی مروی ہے حضرت علی فرماتے ہیں دخان گذر نہیں گیا بلکہ اب آئے گا۔ حضرت ابن عمر سے دھویں کی بابت اوپر کی حدیث کی طرح روایت ہے ابن ابی ملکیہ فرماتے ہیں کہ ایک دن صبح کے وقت حضرت ابن عباس کے پاس گیا۔ تو آپ فرمانے لگے رات کو میں بالکل نہیں سویا میں نے پوچھا کیوں ؟ فرمایا اس لئے کہ لوگوں سے سنا کہ دم دار ستارہ نکلا ہے تو مجھے اندیشہ ہوا کہ کہیں یہی دخان نہ ہو پس صبح تک میں نے آنکھ سے آنکھ نہیں ملائی۔ اس کی سند صحیح ہے اور (حبرالامتہ) ترجمان القرآن حضرت ابن عباس کے ساتھ صحابہ اور تابعین بھی ہیں اور مرفوع حدیثیں بھی ہیں۔ جن میں صحیح حسن اور ہر طرح کی ہیں اور ان سے ثابت ہوتا ہے کہ دخان ایک علامت قیامت ہے جو آنے والی ہے ظاہری الفاظ قرآن بھی اسی کی تائید کرتے ہیں کیونکہ قرآن نے اسے واضح اور ظاہر دھواں کہا ہے جسے ہر شخص دیکھ سکے اور بھوک کے دھوئیں سے اسے تعبیر کرنا ٹھیک نہیں کیونکہ وہ تو ایک خیالی چیز ہے بھوک پیاس کی سختی کی وجہ سے دھواں سا آنکھوں کے آگے نمودار ہوجاتا ہے جو دراصل دھواں نہیں اور قرآن کے الفاظ ہیں آیت (دخان مبین) کے۔ پھر یہ فرمان کہ وہ لوگوں کو ڈھانک لے گی یہ بھی حضرت ابن عباس کی تفسیر کی تائید کرتا ہے کیونکہ بھوک کے اس دھوئیں نے صرف اہل مکہ کو ڈھانپا تھا نہ کہ تمام لوگوں کو پھر فرماتا ہے کہ یہ ہے المناک عذاب یعنی ان سے یوں کہا جائے گا جیسے اور آیت میں ہے (يَوْمَ يُدَعُّوْنَ اِلٰى نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّا 13ۭ) 52۔ الطور :13) ، جس دن انہیں جہنم کی طرف دھکیلا جائے گا کہ یہ وہ آگ ہے جسے تم جھٹلا رہے تھے یا یہ مطلب کہ وہ خود ایک دوسرے سے یوں کہیں گے کافر جب اس عذاب کو دیکھیں گے تو اللہ سے اس کے دور ہونے کی دعا کریں گے جیسے کہ اس آیت میں ہے (وَلَوْ تَرٰٓي اِذْ وُقِفُوْا عَلَي النَّارِ فَقَالُوْا يٰلَيْتَنَا نُرَدُّ وَلَا نُكَذِّبَ بِاٰيٰتِ رَبِّنَا وَنَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ 27) 6۔ الانعام :27) ، یعنی کاش کے تو انہیں دیکھتا جب یہ آگ کے پاس کھڑے کئے جائیں گے اور کہیں گے کاش کے ہم لوٹائے جاتے تو ہم اپنے رب کی آیتوں کو نہ جھٹلاتے اور باایمان بن کر رہتے اور آیت میں ہے لوگوں کو ڈراوے کے ساتھ آگاہ کر دے جس دن ان کے پاس عذاب آئے گا اس دن گنہگار کہیں گے پروردگار ہمیں تھوڑے سے وقت تک اور ڈھیل دے دے تو ہم تیری پکار پر لبیک کہہ لیں اور تیرے رسولوں کی فرمانبرداری کرلیں پس یہاں یہی کہا جاتا ہے کہ ان کے لئے نصیحت کہاں ؟ ان کے پاس میرے پیغامبر آچکے انہوں نے ان کے سامنے میرے احکام واضح طور پر رکھ دئیے لیکن ماننا تو کجا انہوں نے پرواہ تک نہ کی بلکہ انہیں جھوٹا کہا ان کی تعلیم کو غلط کہا ان کی تعلیم کو غلط کہا اور صاف کہہ000دیا کہ یہ تو سکھائے پڑھائے ہیں، انہیں جنوں ہوگیا ہے جیسے اور آیت میں ہے اس دن انسان نصیحت حاصل کرے گا لیکن اب اس کے لئے نصیحت کہاں ہے ؟ اور جگہ فرمایا ہے آیت (وَّقَالُوْٓا اٰمَنَّا بِهٖ ۚ وَاَنّٰى لَهُمُ التَّنَاوُشُ مِنْ مَّكَانٍۢ بَعِيْدٍ 52ښ) 34۔ سبأ :52) ، یعنی اس دن عذابوں کو دیکھ کر ایمان لانا سراسر بےسود ہے پھر جو ارشاد ہوتا ہے اس کے دو معنی ہوسکتے ہیں ایک تو یہ کہ اگر بالفرض ہم عذاب ہٹا لیں اور تمہیں دوبارہ دنیا میں بھیج دیں تو بھی تم پھر وہاں جا کر یہی کرو گے جو اس سے پہلے کر کے آئے ہو جیسے فرمایا آیت (وَلَوْ رَحِمْنٰهُمْ وَكَشَفْنَا مَا بِهِمْ مِّنْ ضُرٍّ لَّـــلَجُّوْا فِيْ طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُوْنَ 75) 23۔ المؤمنون :75) ، یعنی اگر ہم ان پر رحم کریں اور برائی ان سے ہٹا لیں تو پھر یہ اپنی سرکشی میں آنکھیں بند کر کے منہمک ہوجائیں گے اور جیسے فرمایا آیت (وَلَوْ رُدُّوْا لَعَادُوْا لِمَا نُهُوْا عَنْهُ وَاِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ 28) 6۔ الانعام :28) ، یعنی اگر یہ لوٹائے جائیں تو قطعًا دوبارہ پھر ہماری نافرمانیاں کرنے لگیں گے اور محض جھوٹے ثابت ہوں گے۔ دوسرے معنی یہ بھی ہوسکتے ہیں کہ اگر عذاب کے اسباب قائم ہو چکنے اور عذاب آجانے کے بعد بھی گو ہم اسے کچھ دیر ٹھہرا لیں تاہم یہ اپنی بد باطنی اور خباثت سے باز نہیں آنے کے اس سے یہ لازم آتا کہ عذاب انہیں پہنچا اور پھر ہٹ گیا جیسے قوم یونس کی حضرت حق تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے کہ قوم یونس جب ایمان لائی ہم نے ان سے عذاب ہٹا لیا۔ گویا عذاب انہیں ہونا شروع نہیں ہوا تھا ہاں اس کے اسباب موجود و فراہم ہوچکے تھے ان تک اللہ کا عذاب پہنچ چکا تھا اور اس سے یہ بھی لازم نہیں آتا کہ وہ اپنے کفر سے ہٹ گئے تھے پھر اس کی طرف لوٹ گئے۔ چناچہ حضرت شعیب اور ان پر ایمان لانے والوں سے جب قوم نے کہا کہ یا تو تم ہماری بستی چھوڑ دو یا ہمارے مذہب میں لوٹ آؤ تو جواب میں اللہ کے رسول نے فرمایا کہ گو ہم اسے برا جانتے ہوں۔ جبکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس سے نجات دے رکھی ہے پھر بھی اگر ہم تمہاری ملت میں لوٹ آئیں تو ہم سے بڑھ کر جھوٹا اور اللہ کے ذمے بہتان باندھنے والا اور کون ہوگا ؟ ظاہر ہے کہ حضرت شعیب ؑ نے اس سے پہلے بھی کبھی کفر میں قدم نہیں رکھا تھا اور حضرت قتادہ فرماتے ہیں کہ تم لوٹنے والے ہو۔ اس سے مطلب اللہ کے عذاب کی طرف لوٹنا ہے بڑی اور سخت پکڑ سے مراد جنگ بدر ہے حضرت ابن مسعود اور آپ کے ساتھ کی وہ جماعت جو دخان کو ہوچکا مانتی ہے وہ تو (بطشہ) کے معنی یہی کرتی ہے بلکہ حضرت ابن عباس سے حضرت ابی بن کعب سے ایک اور جماعت سے یہی منقول ہے گو یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے لیکن بہ ظاہر تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مراد قیامت کے دن کی پکڑ ہے گو بدر کا دن بھی پکڑ کا اور کفار پر سخت دن تھا ابن جریر میں ہے حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ گو حضرت ابن مسعود اسے بدر کا دن بتاتے ہیں لیکن میرے نزدیک تو اس سے مراد قیامت کا دن ہے اس کی اسناد صحیح ہے حضرت حسن بصری اور عکرمہ سے بھی دونوں روایتوں میں زیادہ صحیح روایت یہی ہے واللہ اعلم۔
15
View Single
إِنَّا كَاشِفُواْ ٱلۡعَذَابِ قَلِيلًاۚ إِنَّكُمۡ عَآئِدُونَ
We now remove the punishment for some days – so you will again commit the same.
بیشک ہم تھوڑا سا عذاب دور کیے دیتے ہیں (مگر) تم یقیناً (وہی کفر) دہرانے لگو گے
Tafsir Ibn Kathir
Alarming the Idolators with News of the Day when the Sky will bring forth a visible Smoke
Allah says, these idolaters are playing about in doubt, i.e., the certain truth has come to them, but they doubt it and do not believe in it. Then Allah says, warning and threatening them:
فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَأْتِى السَّمَآءُ بِدُخَانٍ مُّبِينٍ
(Then wait you for the Day when the sky will bring forth a visible smoke.) It was narrated that Masruq said, "We entered the Masjid -- i.e., the Masjid of Kufah at the gates of Kindah -- and a man was reciting to his companions,
يَوْمَ تَأْتِى السَّمَآءُ بِدُخَانٍ مُّبِينٍ
(the Day when the sky will bring forth a visible smoke.) He asked them; `Do you know what that is' That is the smoke that will come on the Day of Resurrection. It will take away the hearing and sight of the hypocrites, but for the believers it will be like having a cold."' He said, "We came to Ibn Mas`ud, may Allah be pleased with him, and told him about that. He was lying down, and he sat up with a start and said, `Allah said to your Prophet
قُلْ مَآ أَسْـَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ وَمَآ أَنَآ مِنَ الْمُتَكَلِّفِينَ
(Say: "No wage do I ask of you for this, nor am I one of the pretenders.") (38:86). And it is part of knowledge that when a man does not know something, he should say, `Allah knows best.' I will tell you a Hadith about that. When the Quraysh did not respond to Islam and they grew stubborn, the Messenger of Allah ﷺ invoked Allah against them that they would have years like the years (of drought and famine) of Yusuf. They became so exhausted and hungry that they ate bones and dead meat. They looked at the sky, but they saw nothing but smoke."' According to another report: "A man would look at the sky and he would see nothing between him and the sky except a smoky haze, because of his exhaustion."
فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَأْتِى السَّمَآءُ بِدُخَانٍ مُّبِينٍ - يَغْشَى النَّاسَ هَـذَا عَذَابٌ أَلِيمٌ
(Then wait you for the Day when the sky will bring forth a visible smoke, covering the people, this is a painful torment) A man came to the Messenger of Allah ﷺ and said, "O Messenger of Allah! Pray to Allah to send rain to Mudar, for they are dying. So the Prophet prayed for rain for them, and they got rain. Then the Ayah was revealed:
إِنَّا كَاشِفُواْ الْعَذَابِ قَلِيلاً إِنَّكُمْ عَآئِدُونَ
(Verily, We shall remove the torment for a while. Verily, you will revert.) Ibn Mas`ud said, "Do you think that the torment will be removed for them on the Day of Resurrection When they were granted ease, they reverted to their former state. Then Allah revealed:
يَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَةَ الْكُبْرَى إِنَّا مُنتَقِمُونَ
(On the Day when We shall strike you with the Great Batshah. Verily, We will exact retribution.)" He said, "This means the day of Badr." Ibn Mas`ud said, "Five things have come to pass: the smoke, the (defeat of the) Romans, the (splitting of the) moon, the Batshah, and the torment." This Hadith was narrated in the Two Sahihs. It was also recorded by Imam Ahmad in his Musnad, and by At-Tirmidhi and An-Nasa'i in their (Books of) Tafsir, and by Ibn Jarir and Ibn Abi Hatim with a number of chains of narration. A number of the Salaf, such as Mujahid, Abu Al-`Aliyah, Ibrahim An-Nakha`i, Ad-Dahhak and `Atiyah Al-`Awfi concurred with Ibn Mas`ud's interpretation of this Ayah and his view that the smoke already happened. This was also the view of Ibn Jarir. According to the Hadith of Abu Sarihah, Hudhayfah bin Asid Al-Ghifari, may Allah be pleased with him, said, "The Messenger of Allah ﷺ looked out upon us from a room while we were discussing the Hour. He said:
«لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتْى تَرَوْا عَشْرَ آيَاتٍ: طُلُوعَ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا، وَالدُّخَانَ، وَالدَّابَّةَ، وَخُرُوجَ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ، وَخُرُوجَ عِيْسَى ابْنِ مَرْيَمَ وَالدَّجَّالَ، وَثَلَاثَةَ خُسُوفٍ: خَسْفٌ بِالْمَشْرِقِ، وَخَسْفٌ بِالْمَغْرِبِ، وَخَسْفٌ بِجَزِيرَةِ الْعَرَبِ، وَنَارًا تَخْرُجُ مِنْ قَعْرِ عَدَنَ تَسُوقُ النَّاسَ أَوْ تَحْشُرُ النَّاسَ تَبِيتُ مَعَهُمْ حَيْثُ بَاتُوا، وَتَقِيلُ مَعَهُمْ حَيْثُ قَالُوا»
(The Hour will not come until you see ten signs. The rising of the sun from the west; the smoke; the beast; the emergence of Ya'juj and Ma'juj; the appearance of `Isa bin Maryam; the Dajjal; three cases of the earth collapsing -- one in the east, one in the west, and one in the Arabian Peninsula; and a fire which will emerge from the bottom of Aden and will drive the people -- or gather the people -- stopping with them when they stop to sleep at night or rest during the day.)" This was recorded only by Muslim in his Sahih In the Two Sahihs it was recorded that the Messenger of Allah ﷺ said to Ibn Sayyad:
«إِنِّي خَبَأْتُ لَكَ خَبْأ»
(I am concealing something for you.) He said, It is Ad-Dukh. The Prophet said,
«اخْسَأْ فَلَنْ تَعْدُوَ قَدْرَك»
(Be off with you! You cannot get further than your rank.) He said, "The Messenger of Allah ﷺ was concealing from him the words,
فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَأْتِى السَّمَآءُ بِدُخَانٍ مُّبِينٍ
(Then wait you for the Day when the sky will bring forth a visible smoke.)"This indicates that the smoke is yet to appear. Ibn Sayyad was a fortune-teller who heard things through the Jinn, whose speech is unclear, therefore he said, "It is Ad-Dukh," meaning Ad-Dukhan (the smoke). When the Messenger of Allah ﷺ was sure what was happening, that the source of his information was the Shayatin, he said:
«اخْسَأْ فَلَنْ تَعْدُوَ قَدْرَك»
(Be off with you! You cannot get further than your rank.) There are numerous Marfu` and Mawquf Hadiths, Sahih, Hasan and others, which indicate that the smoke is one of the awaited signs (of the Hour). This is also the apparent meaning of Ayat in the Qur'an. Allah says:
فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَأْتِى السَّمَآءُ بِدُخَانٍ مُّبِينٍ
(Then wait you for the Day when the sky will bring forth a visible smoke.) meaning, clearly visible, such that all people will see it. According to Ibn Mas`ud's interpretation, this was a vision which they saw because of their intense hunger and exhaustion. He also interprets the Ayah
يَغْشَى النَّاسَ
(Covering mankind,) meaning, it covered them and overwhelmed them. But if it was only an illusion which happened to the idolators of Makkah, Allah would not have said "covering mankind."
هَـذَا عَذَابٌ أَلِيمٌ
(this is a painful torment.) means, this will be said to them by way of rebuke. This is like the Ayah:
يَوْمَ يُدَعُّونَ إِلَى نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّا - هَـذِهِ النَّارُ الَّتِى كُنتُم بِهَا تُكَذِّبُونَ
(The Day when they will be pushed down by force to the fire of Hell, with a horrible, forceful pushing. This is the Fire which you used to deny.) (52:13-14). Or some of them will say that to others.
رَّبَّنَا اكْشِفْ عَنَّا الْعَذَابَ إِنَّا مْؤْمِنُونَ
((They will say): "Our Lord! Remove the torment from us, really we shall become believers!") means, when the disbelievers witness the punishment of Allah, they will ask for it to be taken away from them. This is like the Ayat:
وَلَوْ تَرَى إِذْ وُقِفُواْ عَلَى النَّارِ فَقَالُواْ يلَيْتَنَا نُرَدُّ وَلاَ نُكَذِّبَ بِـَايَـتِ رَبِّنَا وَنَكُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ
(If you could but see when they will be held over the (Hell) Fire! They will say: "Would that we were but sent back (to the world)! Then we would not deny the Ayat of our Lord, and we would be of the believers!") (6:27)
وَأَنذِرِ النَّاسَ يَوْمَ يَأْتِيهِمُ الْعَذَابُ فَيَقُولُ الَّذِينَ ظَلَمُواْ رَبَّنَآ أَخِّرْنَآ إِلَى أَجَلٍ قَرِيبٍ نُّجِبْ دَعْوَتَكَ وَنَتَّبِعِ الرُّسُلَ أَوَلَمْ تَكُونُواْ أَقْسَمْتُمْ مِّن قَبْلُ مَا لَكُمْ مِّن زَوَالٍ
(And warn mankind of the Day when the torment will come unto them; then the wrongdoers will say: "Our Lord! Respite us for a little while, we will answer Your Call and follow the Messengers!" (It will be said): "Had you not sworn aforetime that you would not leave (the world for the Hereafter).) (14:44) Allah says here:
أَنَّى لَهُمُ الذِّكْرَى وَقَدْ جَآءَهُمْ رَسُولٌ مُّبِينٌ - ثُمَّ تَوَلَّوْاْ عَنْهُ وَقَالُواْ مُعَلَّمٌ مَّجْنُونٌ
(How can there be for them an admonition, when a Messenger explaining things clearly has already come to them. Then they had turned away from him and said: "(He is) one taught, a madman!") meaning, `what further admonition do they need when We have sent them a Messenger with a clear Message and warning Yet despite that, they turned away from him, opposed him and rejected him, and they said: (He is) one taught (by a human being), a madman.' This is like the Ayah:
يَوْمَئِذٍ يَتَذَكَّرُ الإِنسَـنُ وَأَنَّى لَهُ الذِّكْرَى
(On that Day will man remember, but how will that remembrance (then) avail him) (89:23)
وَلَوْ تَرَى إِذْ فَزِعُواْ فَلاَ فَوْتَ وَأُخِذُواْ مِن مَّكَانٍ قَرِيبٍ - وَقَالُواْ ءَامَنَّا بِهِ وَأَنَّى لَهُمُ التَّنَاوُشُ مِن مَّكَانِ بَعِيدٍ
(And if you could but see, when they will be terrified with no escape, and they will be seized from a near place. And they will say (in the Hereafter): "We do believe (now);" but how could they receive (faith and its acceptance by Allah) from a place so far off...) (34:51-52)
إِنَّا كَاشِفُواْ الْعَذَابِ قَلِيلاً إِنَّكُمْ عَآئِدُونَ
(Verily, We shall remove the torment for a while. Verily, you will revert.) means, `if We were to remove the torment from you for a while, and send you back to the world, you would go back to your former state of disbelief and denial.' This is like the Ayat:
وَلَوْ رَحِمْنَـهُمْ وَكَشَفْنَا مَا بِهِمْ مِّن ضُرٍّ لَّلَجُّواْ فِى طُغْيَـنِهِمْ يَعْمَهُونَ
(And though We had mercy on them and removed the distress which is on them, still they would obstinately persist in their transgression, wandering blindly.) (23:75)
وَلَوْ رُدُّواْ لَعَـدُواْ لِمَا نُهُواْ عَنْهُ وَإِنَّهُمْ لَكَـذِبُونَ
(But if they were returned (to the world), they would certainly revert to that which they were forbidden. And indeed they are liars) (6:28)
The Meaning of the "Great Batshah"
يَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَةَ الْكُبْرَى إِنَّا مُنتَقِمُونَ
(On the Day when We shall strike you with the great Batshah. Verily, We will exact retribution.) Ibn Mas`ud interpreted this to mean the day of Badr. This is also the view of a group who agreed with Ibn Mas`ud, may Allah be pleased with him, about the meaning of the smoke, as discussed above. It was also narrated from Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, in a report related to him from Al-`Awfi and from Ubayy bin Ka`b, may Allah be pleased with him. This is possible, but the apparent meaning is that it refers to the Day of Resurrection, although the day of Badr was also a day of vengeance. Ibn Jarir said, "Ya`qub narrated to me; Ibn `Ulayyah narrated to me, Khalid Al-Hadhdha' narrated to us, from `Ikrimah who said, `Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, said, "Ibn Mas`ud, may Allah be pleased with him, said that "the great Batshah" is the day of Badr, and I say that it is the Day of Resurrection." This chain of narration is Sahih to him. This is also the view of Al-Hasan Al-Basri and of `Ikrimah according to the more authentic of the two reports narrated from him. And Allah knows best.
دھواں ہی دھواں اور کفار فرماتا ہے کہ حق آچکا اور یہ شک شبہ میں اور لہو لعب میں مشغول و مصروف ہیں انہیں اس دن سے آگاہ کر دے جس دن آسمان سے سخت دھواں آئے گا حضرت مسروق فرماتے ہیں کہ ہم ایک مرتبہ کوفے کی مسجد میں گئے جو کندہ کے دروازوں کے پاس ہے تو دیکھا کہ ایک حضرت اپنے ساتھیوں میں قصہ گوئی کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اس آیت میں جس دھوئیں کا ذکر ہے اس سے مراد وہ دھواں ہے جو قیامت کے دن منافقوں کے کانوں اور آنکھوں میں بھر جائے گا اور مومنوں کو مثل زکام کے ہوجائے گا۔ ہم وہاں سے جب واپس لوٹے اور حضرت ابن مسعود سے اس کا ذکر کیا تو آپ لیٹے لیٹے بےتابی کے ساتھ بیٹھ گئے اور فرمانے لگے اللہ عزوجل نے اپنے نبی ﷺ سے فرمایا ہے میں تم سے اس پر کوئی بدلہ نہیں چاہتا اور میں تکلف کرنے والوں میں نہیں ہوں۔ یہ بھی علم ہے کہ انسان جس چیز کو نہ جانتا ہو کہہ دے کہ اللہ جانے سنو میں تمہیں اس آیت کا صحیح مطلب سناؤں جب کہ قریشیوں نے اسلام قبول کرنے میں تاخیر کی اور حضور ﷺ کو ستانے لگے تو آپ نے ان پر بددعا کی کہ یوسف کے زمانے جیسا قحط ان پر آپڑے۔ چناچہ وہ دعا قبول ہوئی اور ایسی خشک سالی آئی کہ انہوں نے ہڈیاں اور مردار چبانا شروع کیا۔ اور آسمان کی طرف نگاہیں ڈالتے تھے تو دھویں کے سوا کچھ دکھائی نہ دیتا تھا۔ ایک روایت میں ہے کہ بوجہ بھوک کے ان کی آنکھوں میں چکر آنے لگے جب آسمان کی طرف نظر اٹھاتے تو درمیان میں ایک دھواں نظر آتا۔ اسی کا بیان ان دو آیتوں میں ہے۔ لیکن پھر اس کے بعد لوگ حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنی ہلاکت کی شکایت کی۔ آپ کو رحم آگیا اور آپ نے جناب باری تعالیٰ میں التجا کی چناچہ بارش برسی اسی کا بیان اس کے بعد والی آیت میں ہے کہ عذاب کے ہٹتے ہی پھر کفر کرنے لگیں گے۔ اس سے صاف ثابت ہے کہ یہ دنیا کا عذاب ہے کیونکہ آخرت کے عذاب تو ہٹتے کھلتے اور دور ہوتے نہیں۔ حضرت ابن مسعود کا قول ہے کہ پانچ چیزیں گذر چکیں۔ دخان، روم، قمر، بطشہ، اور لزام (صحیحین) یعنی آسمان سے دھوئیں کا آنا۔ رومیوں کا اپنی شکست کے بعد غلبہ پانا۔ چاند کے دو ٹکڑے ہونا بدر کی لڑائی میں کفار کا پکڑا جانا اور ہارنا۔ اور چمٹ جانے والا عذاب بڑی سخت پکڑ سے مراد بدر کے دن لڑائی ہے حضرت ابن مسعود، نخعی، ضحاک، عطیہ، عوفی، وغیرہ کا ہے اور اسی کو ابن جریر بھی ترجیح دیتے ہیں۔ عبدالرحمن اعرج سے مروی ہے کہ یہ فتح مکہ کے دن ہوا۔ یہ قول بالکل غریب بلکہ منکر ہے اور بعض حضرات فرماتے ہیں یہ گذر نہیں گیا بلکہ قرب قیامت کے آئے گا۔ پہلے حدیث گزر چکی ہے کہ صحابہ قیامت کا ذکر کر رہے تھے اور حضور ﷺ آگئے۔ تو آپ نے فرمایا جب تک دس نشانات تم نہ دیکھ لو قیامت نہیں آئے گی سورج کا مغرب سے نکلنا، دھواں، یاجوج ماجوج کا آنا، مشرق مغرب اور جزیرۃ العرب میں زمین کا دھنسایا جانا، آگ کا عدن سے نکل کر لوگوں کو ہانک کر ایک جا کرنا۔ جہاں یہ رات گذاریں گے آگ بھی گذارے گی اور جہاں یہ دوپہر کو سوئیں گے آگ بھی قیلولہ کرے گی۔ (مسلم) بخاری و مسلم میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ابن صیاد کے لئے دل میں آیت (فَارْتَـقِبْ يَوْمَ تَاْتِي السَّمَاۗءُ بِدُخَانٍ مُّبِيْنٍ 10 ۙ) 44۔ الدخان :10) چھپا کر اس سے پوچھا کہ بتا میں نے اپنے دل میں کیا چھپا رکھا ہے ؟ اس نے کہا (دخ) آپ نے فرمایا بس برباد ہو اس سے آگے تیری نہیں چلنے کی۔ اس میں بھی ایک قسم کا اشارہ ہے کہ ابھی اس کا انتظار باقی ہے اور یہ کوئی آنے والی چیز ہے چونکہ ابن صیاد بطور کاہنوں کے بعض باتیں دل کی زبان سے بتانے کا مدعی تھا اس کے جھوٹ کو ظاہر کرنے کے لئے آپ نے یہ کیا اور جب وہ پورا نہ بتا سکا تو آپ نے لوگوں کو اس کی حالت سے واقف کردیا کہ اس کے ساتھ شیطان ہے کلام صرف چرا لیتا ہے اور یہ اس سے زیادہ پر قدرت نہیں پانے کا۔ ابن جریر میں ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں قیامت کے اولین نشانیاں یہ ہیں۔ دجال کا آنا اور عیسیٰ بن مریم (علیہما السلام) کا نازل ہونا اور آگ کا بیچ عدن سے نکلنا جو لوگوں کو محشر کی طرف لے جائے گی قیلولے کے وقت اور رات کی نیند کے وقت بھی ان کے ساتھ رہے گی اور دھویں کا آنا۔ حضرت حذیفہ نے سوال کیا کہ حضور ﷺ دھواں کیسا ؟ آپ نے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا یہ دھواں چالیس دن تک گھٹا رہے گا جس سے مسلمانوں کو تو مثل نزلے کے ہوجائے گا اور کافر بیہوش و بدمست ہوجائے گا اس کے نتھنوں سے کانوں سے اور دوسری جگہ سے دھواں نکلتا رہے گا۔ یہ حدیث اگر صحیح ہوتی تو پھر دخان کے معنی مقرر ہوجانے میں کوئی بات باقی نہ رہتی۔ لیکن اس کی صحت کی گواہی نہیں دی جاسکتی اس کے راوی رواد سے محمد بن خلف عسقلانی نے سوال کیا کہ کیا سفیان ثوری سے تو نے خود یہ حدیث سنی ہے ؟ اس نے انکار کیا پوچھا کیا تو نے پڑھی اور اس نے سنی ہے ؟ کہا نہیں۔ پوچھا اچھا تمہاری موجودگی میں اس کے سامنے یہ حدیث پڑھی گئی ؟ کہا نہیں کہا پھر تم اس حدیث کو کیسے بیان کرتے ہو ؟ کہا میں نے تو بیان نہیں کی میرے پاس کچھ لوگ آئے اس روایت کو پیش کی پھر جا کر میرے نام سے اسے بیان کرنی شروع کردی بات بھی یہی ہے یہ حدیث بالکل موضوع ہے ابن جریر اسے کئی جگہ لائے ہیں اور اس میں بہت سی منکرات ہیں خصوصًا مسجد اقصیٰ کے بیان میں جو سورة بنی اسرائیل کے شروع میں ہے واللہ اعلم۔ اور حدیث میں ہے کہ تمہارے رب نے تمہیں تین چیزوں سے ڈرایا، دھواں جو مومن کو زکام کر دے گا اور کافر کا تو سارا جسم پھلا دے گا۔ روئیں روئیں سے دھواں اٹھے گا دابتہ الارض اور دجال۔ اس کی سند بہت عمدہ ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں دھواں پھیل جائے گا مومن کو تو مثل زکام کے لگے گا اور کافر کے جوڑ جوڑ سے نکلے گا یہ حدیث حضرت ابو سعید خدری کے قول سے بھی مروی ہے اور حضرت حسن کے اپنے قول سے بھی مروی ہے حضرت علی فرماتے ہیں دخان گذر نہیں گیا بلکہ اب آئے گا۔ حضرت ابن عمر سے دھویں کی بابت اوپر کی حدیث کی طرح روایت ہے ابن ابی ملکیہ فرماتے ہیں کہ ایک دن صبح کے وقت حضرت ابن عباس کے پاس گیا۔ تو آپ فرمانے لگے رات کو میں بالکل نہیں سویا میں نے پوچھا کیوں ؟ فرمایا اس لئے کہ لوگوں سے سنا کہ دم دار ستارہ نکلا ہے تو مجھے اندیشہ ہوا کہ کہیں یہی دخان نہ ہو پس صبح تک میں نے آنکھ سے آنکھ نہیں ملائی۔ اس کی سند صحیح ہے اور (حبرالامتہ) ترجمان القرآن حضرت ابن عباس کے ساتھ صحابہ اور تابعین بھی ہیں اور مرفوع حدیثیں بھی ہیں۔ جن میں صحیح حسن اور ہر طرح کی ہیں اور ان سے ثابت ہوتا ہے کہ دخان ایک علامت قیامت ہے جو آنے والی ہے ظاہری الفاظ قرآن بھی اسی کی تائید کرتے ہیں کیونکہ قرآن نے اسے واضح اور ظاہر دھواں کہا ہے جسے ہر شخص دیکھ سکے اور بھوک کے دھوئیں سے اسے تعبیر کرنا ٹھیک نہیں کیونکہ وہ تو ایک خیالی چیز ہے بھوک پیاس کی سختی کی وجہ سے دھواں سا آنکھوں کے آگے نمودار ہوجاتا ہے جو دراصل دھواں نہیں اور قرآن کے الفاظ ہیں آیت (دخان مبین) کے۔ پھر یہ فرمان کہ وہ لوگوں کو ڈھانک لے گی یہ بھی حضرت ابن عباس کی تفسیر کی تائید کرتا ہے کیونکہ بھوک کے اس دھوئیں نے صرف اہل مکہ کو ڈھانپا تھا نہ کہ تمام لوگوں کو پھر فرماتا ہے کہ یہ ہے المناک عذاب یعنی ان سے یوں کہا جائے گا جیسے اور آیت میں ہے (يَوْمَ يُدَعُّوْنَ اِلٰى نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّا 13ۭ) 52۔ الطور :13) ، جس دن انہیں جہنم کی طرف دھکیلا جائے گا کہ یہ وہ آگ ہے جسے تم جھٹلا رہے تھے یا یہ مطلب کہ وہ خود ایک دوسرے سے یوں کہیں گے کافر جب اس عذاب کو دیکھیں گے تو اللہ سے اس کے دور ہونے کی دعا کریں گے جیسے کہ اس آیت میں ہے (وَلَوْ تَرٰٓي اِذْ وُقِفُوْا عَلَي النَّارِ فَقَالُوْا يٰلَيْتَنَا نُرَدُّ وَلَا نُكَذِّبَ بِاٰيٰتِ رَبِّنَا وَنَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ 27) 6۔ الانعام :27) ، یعنی کاش کے تو انہیں دیکھتا جب یہ آگ کے پاس کھڑے کئے جائیں گے اور کہیں گے کاش کے ہم لوٹائے جاتے تو ہم اپنے رب کی آیتوں کو نہ جھٹلاتے اور باایمان بن کر رہتے اور آیت میں ہے لوگوں کو ڈراوے کے ساتھ آگاہ کر دے جس دن ان کے پاس عذاب آئے گا اس دن گنہگار کہیں گے پروردگار ہمیں تھوڑے سے وقت تک اور ڈھیل دے دے تو ہم تیری پکار پر لبیک کہہ لیں اور تیرے رسولوں کی فرمانبرداری کرلیں پس یہاں یہی کہا جاتا ہے کہ ان کے لئے نصیحت کہاں ؟ ان کے پاس میرے پیغامبر آچکے انہوں نے ان کے سامنے میرے احکام واضح طور پر رکھ دئیے لیکن ماننا تو کجا انہوں نے پرواہ تک نہ کی بلکہ انہیں جھوٹا کہا ان کی تعلیم کو غلط کہا ان کی تعلیم کو غلط کہا اور صاف کہہ000دیا کہ یہ تو سکھائے پڑھائے ہیں، انہیں جنوں ہوگیا ہے جیسے اور آیت میں ہے اس دن انسان نصیحت حاصل کرے گا لیکن اب اس کے لئے نصیحت کہاں ہے ؟ اور جگہ فرمایا ہے آیت (وَّقَالُوْٓا اٰمَنَّا بِهٖ ۚ وَاَنّٰى لَهُمُ التَّنَاوُشُ مِنْ مَّكَانٍۢ بَعِيْدٍ 52ښ) 34۔ سبأ :52) ، یعنی اس دن عذابوں کو دیکھ کر ایمان لانا سراسر بےسود ہے پھر جو ارشاد ہوتا ہے اس کے دو معنی ہوسکتے ہیں ایک تو یہ کہ اگر بالفرض ہم عذاب ہٹا لیں اور تمہیں دوبارہ دنیا میں بھیج دیں تو بھی تم پھر وہاں جا کر یہی کرو گے جو اس سے پہلے کر کے آئے ہو جیسے فرمایا آیت (وَلَوْ رَحِمْنٰهُمْ وَكَشَفْنَا مَا بِهِمْ مِّنْ ضُرٍّ لَّـــلَجُّوْا فِيْ طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُوْنَ 75) 23۔ المؤمنون :75) ، یعنی اگر ہم ان پر رحم کریں اور برائی ان سے ہٹا لیں تو پھر یہ اپنی سرکشی میں آنکھیں بند کر کے منہمک ہوجائیں گے اور جیسے فرمایا آیت (وَلَوْ رُدُّوْا لَعَادُوْا لِمَا نُهُوْا عَنْهُ وَاِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ 28) 6۔ الانعام :28) ، یعنی اگر یہ لوٹائے جائیں تو قطعًا دوبارہ پھر ہماری نافرمانیاں کرنے لگیں گے اور محض جھوٹے ثابت ہوں گے۔ دوسرے معنی یہ بھی ہوسکتے ہیں کہ اگر عذاب کے اسباب قائم ہو چکنے اور عذاب آجانے کے بعد بھی گو ہم اسے کچھ دیر ٹھہرا لیں تاہم یہ اپنی بد باطنی اور خباثت سے باز نہیں آنے کے اس سے یہ لازم آتا کہ عذاب انہیں پہنچا اور پھر ہٹ گیا جیسے قوم یونس کی حضرت حق تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے کہ قوم یونس جب ایمان لائی ہم نے ان سے عذاب ہٹا لیا۔ گویا عذاب انہیں ہونا شروع نہیں ہوا تھا ہاں اس کے اسباب موجود و فراہم ہوچکے تھے ان تک اللہ کا عذاب پہنچ چکا تھا اور اس سے یہ بھی لازم نہیں آتا کہ وہ اپنے کفر سے ہٹ گئے تھے پھر اس کی طرف لوٹ گئے۔ چناچہ حضرت شعیب اور ان پر ایمان لانے والوں سے جب قوم نے کہا کہ یا تو تم ہماری بستی چھوڑ دو یا ہمارے مذہب میں لوٹ آؤ تو جواب میں اللہ کے رسول نے فرمایا کہ گو ہم اسے برا جانتے ہوں۔ جبکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس سے نجات دے رکھی ہے پھر بھی اگر ہم تمہاری ملت میں لوٹ آئیں تو ہم سے بڑھ کر جھوٹا اور اللہ کے ذمے بہتان باندھنے والا اور کون ہوگا ؟ ظاہر ہے کہ حضرت شعیب ؑ نے اس سے پہلے بھی کبھی کفر میں قدم نہیں رکھا تھا اور حضرت قتادہ فرماتے ہیں کہ تم لوٹنے والے ہو۔ اس سے مطلب اللہ کے عذاب کی طرف لوٹنا ہے بڑی اور سخت پکڑ سے مراد جنگ بدر ہے حضرت ابن مسعود اور آپ کے ساتھ کی وہ جماعت جو دخان کو ہوچکا مانتی ہے وہ تو (بطشہ) کے معنی یہی کرتی ہے بلکہ حضرت ابن عباس سے حضرت ابی بن کعب سے ایک اور جماعت سے یہی منقول ہے گو یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے لیکن بہ ظاہر تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مراد قیامت کے دن کی پکڑ ہے گو بدر کا دن بھی پکڑ کا اور کفار پر سخت دن تھا ابن جریر میں ہے حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ گو حضرت ابن مسعود اسے بدر کا دن بتاتے ہیں لیکن میرے نزدیک تو اس سے مراد قیامت کا دن ہے اس کی اسناد صحیح ہے حضرت حسن بصری اور عکرمہ سے بھی دونوں روایتوں میں زیادہ صحیح روایت یہی ہے واللہ اعلم۔
16
View Single
يَوۡمَ نَبۡطِشُ ٱلۡبَطۡشَةَ ٱلۡكُبۡرَىٰٓ إِنَّا مُنتَقِمُونَ
The day when We will seize with the greatest seizure – We will indeed take revenge.
جس دن ہم بڑی سخت گرفت کریں گے تو (اس دن) ہم یقیناً انتقام لے ہی لیں گے
Tafsir Ibn Kathir
Alarming the Idolators with News of the Day when the Sky will bring forth a visible Smoke
Allah says, these idolaters are playing about in doubt, i.e., the certain truth has come to them, but they doubt it and do not believe in it. Then Allah says, warning and threatening them:
فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَأْتِى السَّمَآءُ بِدُخَانٍ مُّبِينٍ
(Then wait you for the Day when the sky will bring forth a visible smoke.) It was narrated that Masruq said, "We entered the Masjid -- i.e., the Masjid of Kufah at the gates of Kindah -- and a man was reciting to his companions,
يَوْمَ تَأْتِى السَّمَآءُ بِدُخَانٍ مُّبِينٍ
(the Day when the sky will bring forth a visible smoke.) He asked them; `Do you know what that is' That is the smoke that will come on the Day of Resurrection. It will take away the hearing and sight of the hypocrites, but for the believers it will be like having a cold."' He said, "We came to Ibn Mas`ud, may Allah be pleased with him, and told him about that. He was lying down, and he sat up with a start and said, `Allah said to your Prophet
قُلْ مَآ أَسْـَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ وَمَآ أَنَآ مِنَ الْمُتَكَلِّفِينَ
(Say: "No wage do I ask of you for this, nor am I one of the pretenders.") (38:86). And it is part of knowledge that when a man does not know something, he should say, `Allah knows best.' I will tell you a Hadith about that. When the Quraysh did not respond to Islam and they grew stubborn, the Messenger of Allah ﷺ invoked Allah against them that they would have years like the years (of drought and famine) of Yusuf. They became so exhausted and hungry that they ate bones and dead meat. They looked at the sky, but they saw nothing but smoke."' According to another report: "A man would look at the sky and he would see nothing between him and the sky except a smoky haze, because of his exhaustion."
فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَأْتِى السَّمَآءُ بِدُخَانٍ مُّبِينٍ - يَغْشَى النَّاسَ هَـذَا عَذَابٌ أَلِيمٌ
(Then wait you for the Day when the sky will bring forth a visible smoke, covering the people, this is a painful torment) A man came to the Messenger of Allah ﷺ and said, "O Messenger of Allah! Pray to Allah to send rain to Mudar, for they are dying. So the Prophet prayed for rain for them, and they got rain. Then the Ayah was revealed:
إِنَّا كَاشِفُواْ الْعَذَابِ قَلِيلاً إِنَّكُمْ عَآئِدُونَ
(Verily, We shall remove the torment for a while. Verily, you will revert.) Ibn Mas`ud said, "Do you think that the torment will be removed for them on the Day of Resurrection When they were granted ease, they reverted to their former state. Then Allah revealed:
يَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَةَ الْكُبْرَى إِنَّا مُنتَقِمُونَ
(On the Day when We shall strike you with the Great Batshah. Verily, We will exact retribution.)" He said, "This means the day of Badr." Ibn Mas`ud said, "Five things have come to pass: the smoke, the (defeat of the) Romans, the (splitting of the) moon, the Batshah, and the torment." This Hadith was narrated in the Two Sahihs. It was also recorded by Imam Ahmad in his Musnad, and by At-Tirmidhi and An-Nasa'i in their (Books of) Tafsir, and by Ibn Jarir and Ibn Abi Hatim with a number of chains of narration. A number of the Salaf, such as Mujahid, Abu Al-`Aliyah, Ibrahim An-Nakha`i, Ad-Dahhak and `Atiyah Al-`Awfi concurred with Ibn Mas`ud's interpretation of this Ayah and his view that the smoke already happened. This was also the view of Ibn Jarir. According to the Hadith of Abu Sarihah, Hudhayfah bin Asid Al-Ghifari, may Allah be pleased with him, said, "The Messenger of Allah ﷺ looked out upon us from a room while we were discussing the Hour. He said:
«لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتْى تَرَوْا عَشْرَ آيَاتٍ: طُلُوعَ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا، وَالدُّخَانَ، وَالدَّابَّةَ، وَخُرُوجَ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ، وَخُرُوجَ عِيْسَى ابْنِ مَرْيَمَ وَالدَّجَّالَ، وَثَلَاثَةَ خُسُوفٍ: خَسْفٌ بِالْمَشْرِقِ، وَخَسْفٌ بِالْمَغْرِبِ، وَخَسْفٌ بِجَزِيرَةِ الْعَرَبِ، وَنَارًا تَخْرُجُ مِنْ قَعْرِ عَدَنَ تَسُوقُ النَّاسَ أَوْ تَحْشُرُ النَّاسَ تَبِيتُ مَعَهُمْ حَيْثُ بَاتُوا، وَتَقِيلُ مَعَهُمْ حَيْثُ قَالُوا»
(The Hour will not come until you see ten signs. The rising of the sun from the west; the smoke; the beast; the emergence of Ya'juj and Ma'juj; the appearance of `Isa bin Maryam; the Dajjal; three cases of the earth collapsing -- one in the east, one in the west, and one in the Arabian Peninsula; and a fire which will emerge from the bottom of Aden and will drive the people -- or gather the people -- stopping with them when they stop to sleep at night or rest during the day.)" This was recorded only by Muslim in his Sahih In the Two Sahihs it was recorded that the Messenger of Allah ﷺ said to Ibn Sayyad:
«إِنِّي خَبَأْتُ لَكَ خَبْأ»
(I am concealing something for you.) He said, It is Ad-Dukh. The Prophet said,
«اخْسَأْ فَلَنْ تَعْدُوَ قَدْرَك»
(Be off with you! You cannot get further than your rank.) He said, "The Messenger of Allah ﷺ was concealing from him the words,
فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَأْتِى السَّمَآءُ بِدُخَانٍ مُّبِينٍ
(Then wait you for the Day when the sky will bring forth a visible smoke.)"This indicates that the smoke is yet to appear. Ibn Sayyad was a fortune-teller who heard things through the Jinn, whose speech is unclear, therefore he said, "It is Ad-Dukh," meaning Ad-Dukhan (the smoke). When the Messenger of Allah ﷺ was sure what was happening, that the source of his information was the Shayatin, he said:
«اخْسَأْ فَلَنْ تَعْدُوَ قَدْرَك»
(Be off with you! You cannot get further than your rank.) There are numerous Marfu` and Mawquf Hadiths, Sahih, Hasan and others, which indicate that the smoke is one of the awaited signs (of the Hour). This is also the apparent meaning of Ayat in the Qur'an. Allah says:
فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَأْتِى السَّمَآءُ بِدُخَانٍ مُّبِينٍ
(Then wait you for the Day when the sky will bring forth a visible smoke.) meaning, clearly visible, such that all people will see it. According to Ibn Mas`ud's interpretation, this was a vision which they saw because of their intense hunger and exhaustion. He also interprets the Ayah
يَغْشَى النَّاسَ
(Covering mankind,) meaning, it covered them and overwhelmed them. But if it was only an illusion which happened to the idolators of Makkah, Allah would not have said "covering mankind."
هَـذَا عَذَابٌ أَلِيمٌ
(this is a painful torment.) means, this will be said to them by way of rebuke. This is like the Ayah:
يَوْمَ يُدَعُّونَ إِلَى نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّا - هَـذِهِ النَّارُ الَّتِى كُنتُم بِهَا تُكَذِّبُونَ
(The Day when they will be pushed down by force to the fire of Hell, with a horrible, forceful pushing. This is the Fire which you used to deny.) (52:13-14). Or some of them will say that to others.
رَّبَّنَا اكْشِفْ عَنَّا الْعَذَابَ إِنَّا مْؤْمِنُونَ
((They will say): "Our Lord! Remove the torment from us, really we shall become believers!") means, when the disbelievers witness the punishment of Allah, they will ask for it to be taken away from them. This is like the Ayat:
وَلَوْ تَرَى إِذْ وُقِفُواْ عَلَى النَّارِ فَقَالُواْ يلَيْتَنَا نُرَدُّ وَلاَ نُكَذِّبَ بِـَايَـتِ رَبِّنَا وَنَكُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ
(If you could but see when they will be held over the (Hell) Fire! They will say: "Would that we were but sent back (to the world)! Then we would not deny the Ayat of our Lord, and we would be of the believers!") (6:27)
وَأَنذِرِ النَّاسَ يَوْمَ يَأْتِيهِمُ الْعَذَابُ فَيَقُولُ الَّذِينَ ظَلَمُواْ رَبَّنَآ أَخِّرْنَآ إِلَى أَجَلٍ قَرِيبٍ نُّجِبْ دَعْوَتَكَ وَنَتَّبِعِ الرُّسُلَ أَوَلَمْ تَكُونُواْ أَقْسَمْتُمْ مِّن قَبْلُ مَا لَكُمْ مِّن زَوَالٍ
(And warn mankind of the Day when the torment will come unto them; then the wrongdoers will say: "Our Lord! Respite us for a little while, we will answer Your Call and follow the Messengers!" (It will be said): "Had you not sworn aforetime that you would not leave (the world for the Hereafter).) (14:44) Allah says here:
أَنَّى لَهُمُ الذِّكْرَى وَقَدْ جَآءَهُمْ رَسُولٌ مُّبِينٌ - ثُمَّ تَوَلَّوْاْ عَنْهُ وَقَالُواْ مُعَلَّمٌ مَّجْنُونٌ
(How can there be for them an admonition, when a Messenger explaining things clearly has already come to them. Then they had turned away from him and said: "(He is) one taught, a madman!") meaning, `what further admonition do they need when We have sent them a Messenger with a clear Message and warning Yet despite that, they turned away from him, opposed him and rejected him, and they said: (He is) one taught (by a human being), a madman.' This is like the Ayah:
يَوْمَئِذٍ يَتَذَكَّرُ الإِنسَـنُ وَأَنَّى لَهُ الذِّكْرَى
(On that Day will man remember, but how will that remembrance (then) avail him) (89:23)
وَلَوْ تَرَى إِذْ فَزِعُواْ فَلاَ فَوْتَ وَأُخِذُواْ مِن مَّكَانٍ قَرِيبٍ - وَقَالُواْ ءَامَنَّا بِهِ وَأَنَّى لَهُمُ التَّنَاوُشُ مِن مَّكَانِ بَعِيدٍ
(And if you could but see, when they will be terrified with no escape, and they will be seized from a near place. And they will say (in the Hereafter): "We do believe (now);" but how could they receive (faith and its acceptance by Allah) from a place so far off...) (34:51-52)
إِنَّا كَاشِفُواْ الْعَذَابِ قَلِيلاً إِنَّكُمْ عَآئِدُونَ
(Verily, We shall remove the torment for a while. Verily, you will revert.) means, `if We were to remove the torment from you for a while, and send you back to the world, you would go back to your former state of disbelief and denial.' This is like the Ayat:
وَلَوْ رَحِمْنَـهُمْ وَكَشَفْنَا مَا بِهِمْ مِّن ضُرٍّ لَّلَجُّواْ فِى طُغْيَـنِهِمْ يَعْمَهُونَ
(And though We had mercy on them and removed the distress which is on them, still they would obstinately persist in their transgression, wandering blindly.) (23:75)
وَلَوْ رُدُّواْ لَعَـدُواْ لِمَا نُهُواْ عَنْهُ وَإِنَّهُمْ لَكَـذِبُونَ
(But if they were returned (to the world), they would certainly revert to that which they were forbidden. And indeed they are liars) (6:28)
The Meaning of the "Great Batshah"
يَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَةَ الْكُبْرَى إِنَّا مُنتَقِمُونَ
(On the Day when We shall strike you with the great Batshah. Verily, We will exact retribution.) Ibn Mas`ud interpreted this to mean the day of Badr. This is also the view of a group who agreed with Ibn Mas`ud, may Allah be pleased with him, about the meaning of the smoke, as discussed above. It was also narrated from Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, in a report related to him from Al-`Awfi and from Ubayy bin Ka`b, may Allah be pleased with him. This is possible, but the apparent meaning is that it refers to the Day of Resurrection, although the day of Badr was also a day of vengeance. Ibn Jarir said, "Ya`qub narrated to me; Ibn `Ulayyah narrated to me, Khalid Al-Hadhdha' narrated to us, from `Ikrimah who said, `Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, said, "Ibn Mas`ud, may Allah be pleased with him, said that "the great Batshah" is the day of Badr, and I say that it is the Day of Resurrection." This chain of narration is Sahih to him. This is also the view of Al-Hasan Al-Basri and of `Ikrimah according to the more authentic of the two reports narrated from him. And Allah knows best.
دھواں ہی دھواں اور کفار فرماتا ہے کہ حق آچکا اور یہ شک شبہ میں اور لہو لعب میں مشغول و مصروف ہیں انہیں اس دن سے آگاہ کر دے جس دن آسمان سے سخت دھواں آئے گا حضرت مسروق فرماتے ہیں کہ ہم ایک مرتبہ کوفے کی مسجد میں گئے جو کندہ کے دروازوں کے پاس ہے تو دیکھا کہ ایک حضرت اپنے ساتھیوں میں قصہ گوئی کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اس آیت میں جس دھوئیں کا ذکر ہے اس سے مراد وہ دھواں ہے جو قیامت کے دن منافقوں کے کانوں اور آنکھوں میں بھر جائے گا اور مومنوں کو مثل زکام کے ہوجائے گا۔ ہم وہاں سے جب واپس لوٹے اور حضرت ابن مسعود سے اس کا ذکر کیا تو آپ لیٹے لیٹے بےتابی کے ساتھ بیٹھ گئے اور فرمانے لگے اللہ عزوجل نے اپنے نبی ﷺ سے فرمایا ہے میں تم سے اس پر کوئی بدلہ نہیں چاہتا اور میں تکلف کرنے والوں میں نہیں ہوں۔ یہ بھی علم ہے کہ انسان جس چیز کو نہ جانتا ہو کہہ دے کہ اللہ جانے سنو میں تمہیں اس آیت کا صحیح مطلب سناؤں جب کہ قریشیوں نے اسلام قبول کرنے میں تاخیر کی اور حضور ﷺ کو ستانے لگے تو آپ نے ان پر بددعا کی کہ یوسف کے زمانے جیسا قحط ان پر آپڑے۔ چناچہ وہ دعا قبول ہوئی اور ایسی خشک سالی آئی کہ انہوں نے ہڈیاں اور مردار چبانا شروع کیا۔ اور آسمان کی طرف نگاہیں ڈالتے تھے تو دھویں کے سوا کچھ دکھائی نہ دیتا تھا۔ ایک روایت میں ہے کہ بوجہ بھوک کے ان کی آنکھوں میں چکر آنے لگے جب آسمان کی طرف نظر اٹھاتے تو درمیان میں ایک دھواں نظر آتا۔ اسی کا بیان ان دو آیتوں میں ہے۔ لیکن پھر اس کے بعد لوگ حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنی ہلاکت کی شکایت کی۔ آپ کو رحم آگیا اور آپ نے جناب باری تعالیٰ میں التجا کی چناچہ بارش برسی اسی کا بیان اس کے بعد والی آیت میں ہے کہ عذاب کے ہٹتے ہی پھر کفر کرنے لگیں گے۔ اس سے صاف ثابت ہے کہ یہ دنیا کا عذاب ہے کیونکہ آخرت کے عذاب تو ہٹتے کھلتے اور دور ہوتے نہیں۔ حضرت ابن مسعود کا قول ہے کہ پانچ چیزیں گذر چکیں۔ دخان، روم، قمر، بطشہ، اور لزام (صحیحین) یعنی آسمان سے دھوئیں کا آنا۔ رومیوں کا اپنی شکست کے بعد غلبہ پانا۔ چاند کے دو ٹکڑے ہونا بدر کی لڑائی میں کفار کا پکڑا جانا اور ہارنا۔ اور چمٹ جانے والا عذاب بڑی سخت پکڑ سے مراد بدر کے دن لڑائی ہے حضرت ابن مسعود، نخعی، ضحاک، عطیہ، عوفی، وغیرہ کا ہے اور اسی کو ابن جریر بھی ترجیح دیتے ہیں۔ عبدالرحمن اعرج سے مروی ہے کہ یہ فتح مکہ کے دن ہوا۔ یہ قول بالکل غریب بلکہ منکر ہے اور بعض حضرات فرماتے ہیں یہ گذر نہیں گیا بلکہ قرب قیامت کے آئے گا۔ پہلے حدیث گزر چکی ہے کہ صحابہ قیامت کا ذکر کر رہے تھے اور حضور ﷺ آگئے۔ تو آپ نے فرمایا جب تک دس نشانات تم نہ دیکھ لو قیامت نہیں آئے گی سورج کا مغرب سے نکلنا، دھواں، یاجوج ماجوج کا آنا، مشرق مغرب اور جزیرۃ العرب میں زمین کا دھنسایا جانا، آگ کا عدن سے نکل کر لوگوں کو ہانک کر ایک جا کرنا۔ جہاں یہ رات گذاریں گے آگ بھی گذارے گی اور جہاں یہ دوپہر کو سوئیں گے آگ بھی قیلولہ کرے گی۔ (مسلم) بخاری و مسلم میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ابن صیاد کے لئے دل میں آیت (فَارْتَـقِبْ يَوْمَ تَاْتِي السَّمَاۗءُ بِدُخَانٍ مُّبِيْنٍ 10 ۙ) 44۔ الدخان :10) چھپا کر اس سے پوچھا کہ بتا میں نے اپنے دل میں کیا چھپا رکھا ہے ؟ اس نے کہا (دخ) آپ نے فرمایا بس برباد ہو اس سے آگے تیری نہیں چلنے کی۔ اس میں بھی ایک قسم کا اشارہ ہے کہ ابھی اس کا انتظار باقی ہے اور یہ کوئی آنے والی چیز ہے چونکہ ابن صیاد بطور کاہنوں کے بعض باتیں دل کی زبان سے بتانے کا مدعی تھا اس کے جھوٹ کو ظاہر کرنے کے لئے آپ نے یہ کیا اور جب وہ پورا نہ بتا سکا تو آپ نے لوگوں کو اس کی حالت سے واقف کردیا کہ اس کے ساتھ شیطان ہے کلام صرف چرا لیتا ہے اور یہ اس سے زیادہ پر قدرت نہیں پانے کا۔ ابن جریر میں ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں قیامت کے اولین نشانیاں یہ ہیں۔ دجال کا آنا اور عیسیٰ بن مریم (علیہما السلام) کا نازل ہونا اور آگ کا بیچ عدن سے نکلنا جو لوگوں کو محشر کی طرف لے جائے گی قیلولے کے وقت اور رات کی نیند کے وقت بھی ان کے ساتھ رہے گی اور دھویں کا آنا۔ حضرت حذیفہ نے سوال کیا کہ حضور ﷺ دھواں کیسا ؟ آپ نے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا یہ دھواں چالیس دن تک گھٹا رہے گا جس سے مسلمانوں کو تو مثل نزلے کے ہوجائے گا اور کافر بیہوش و بدمست ہوجائے گا اس کے نتھنوں سے کانوں سے اور دوسری جگہ سے دھواں نکلتا رہے گا۔ یہ حدیث اگر صحیح ہوتی تو پھر دخان کے معنی مقرر ہوجانے میں کوئی بات باقی نہ رہتی۔ لیکن اس کی صحت کی گواہی نہیں دی جاسکتی اس کے راوی رواد سے محمد بن خلف عسقلانی نے سوال کیا کہ کیا سفیان ثوری سے تو نے خود یہ حدیث سنی ہے ؟ اس نے انکار کیا پوچھا کیا تو نے پڑھی اور اس نے سنی ہے ؟ کہا نہیں۔ پوچھا اچھا تمہاری موجودگی میں اس کے سامنے یہ حدیث پڑھی گئی ؟ کہا نہیں کہا پھر تم اس حدیث کو کیسے بیان کرتے ہو ؟ کہا میں نے تو بیان نہیں کی میرے پاس کچھ لوگ آئے اس روایت کو پیش کی پھر جا کر میرے نام سے اسے بیان کرنی شروع کردی بات بھی یہی ہے یہ حدیث بالکل موضوع ہے ابن جریر اسے کئی جگہ لائے ہیں اور اس میں بہت سی منکرات ہیں خصوصًا مسجد اقصیٰ کے بیان میں جو سورة بنی اسرائیل کے شروع میں ہے واللہ اعلم۔ اور حدیث میں ہے کہ تمہارے رب نے تمہیں تین چیزوں سے ڈرایا، دھواں جو مومن کو زکام کر دے گا اور کافر کا تو سارا جسم پھلا دے گا۔ روئیں روئیں سے دھواں اٹھے گا دابتہ الارض اور دجال۔ اس کی سند بہت عمدہ ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں دھواں پھیل جائے گا مومن کو تو مثل زکام کے لگے گا اور کافر کے جوڑ جوڑ سے نکلے گا یہ حدیث حضرت ابو سعید خدری کے قول سے بھی مروی ہے اور حضرت حسن کے اپنے قول سے بھی مروی ہے حضرت علی فرماتے ہیں دخان گذر نہیں گیا بلکہ اب آئے گا۔ حضرت ابن عمر سے دھویں کی بابت اوپر کی حدیث کی طرح روایت ہے ابن ابی ملکیہ فرماتے ہیں کہ ایک دن صبح کے وقت حضرت ابن عباس کے پاس گیا۔ تو آپ فرمانے لگے رات کو میں بالکل نہیں سویا میں نے پوچھا کیوں ؟ فرمایا اس لئے کہ لوگوں سے سنا کہ دم دار ستارہ نکلا ہے تو مجھے اندیشہ ہوا کہ کہیں یہی دخان نہ ہو پس صبح تک میں نے آنکھ سے آنکھ نہیں ملائی۔ اس کی سند صحیح ہے اور (حبرالامتہ) ترجمان القرآن حضرت ابن عباس کے ساتھ صحابہ اور تابعین بھی ہیں اور مرفوع حدیثیں بھی ہیں۔ جن میں صحیح حسن اور ہر طرح کی ہیں اور ان سے ثابت ہوتا ہے کہ دخان ایک علامت قیامت ہے جو آنے والی ہے ظاہری الفاظ قرآن بھی اسی کی تائید کرتے ہیں کیونکہ قرآن نے اسے واضح اور ظاہر دھواں کہا ہے جسے ہر شخص دیکھ سکے اور بھوک کے دھوئیں سے اسے تعبیر کرنا ٹھیک نہیں کیونکہ وہ تو ایک خیالی چیز ہے بھوک پیاس کی سختی کی وجہ سے دھواں سا آنکھوں کے آگے نمودار ہوجاتا ہے جو دراصل دھواں نہیں اور قرآن کے الفاظ ہیں آیت (دخان مبین) کے۔ پھر یہ فرمان کہ وہ لوگوں کو ڈھانک لے گی یہ بھی حضرت ابن عباس کی تفسیر کی تائید کرتا ہے کیونکہ بھوک کے اس دھوئیں نے صرف اہل مکہ کو ڈھانپا تھا نہ کہ تمام لوگوں کو پھر فرماتا ہے کہ یہ ہے المناک عذاب یعنی ان سے یوں کہا جائے گا جیسے اور آیت میں ہے (يَوْمَ يُدَعُّوْنَ اِلٰى نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّا 13ۭ) 52۔ الطور :13) ، جس دن انہیں جہنم کی طرف دھکیلا جائے گا کہ یہ وہ آگ ہے جسے تم جھٹلا رہے تھے یا یہ مطلب کہ وہ خود ایک دوسرے سے یوں کہیں گے کافر جب اس عذاب کو دیکھیں گے تو اللہ سے اس کے دور ہونے کی دعا کریں گے جیسے کہ اس آیت میں ہے (وَلَوْ تَرٰٓي اِذْ وُقِفُوْا عَلَي النَّارِ فَقَالُوْا يٰلَيْتَنَا نُرَدُّ وَلَا نُكَذِّبَ بِاٰيٰتِ رَبِّنَا وَنَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ 27) 6۔ الانعام :27) ، یعنی کاش کے تو انہیں دیکھتا جب یہ آگ کے پاس کھڑے کئے جائیں گے اور کہیں گے کاش کے ہم لوٹائے جاتے تو ہم اپنے رب کی آیتوں کو نہ جھٹلاتے اور باایمان بن کر رہتے اور آیت میں ہے لوگوں کو ڈراوے کے ساتھ آگاہ کر دے جس دن ان کے پاس عذاب آئے گا اس دن گنہگار کہیں گے پروردگار ہمیں تھوڑے سے وقت تک اور ڈھیل دے دے تو ہم تیری پکار پر لبیک کہہ لیں اور تیرے رسولوں کی فرمانبرداری کرلیں پس یہاں یہی کہا جاتا ہے کہ ان کے لئے نصیحت کہاں ؟ ان کے پاس میرے پیغامبر آچکے انہوں نے ان کے سامنے میرے احکام واضح طور پر رکھ دئیے لیکن ماننا تو کجا انہوں نے پرواہ تک نہ کی بلکہ انہیں جھوٹا کہا ان کی تعلیم کو غلط کہا ان کی تعلیم کو غلط کہا اور صاف کہہ000دیا کہ یہ تو سکھائے پڑھائے ہیں، انہیں جنوں ہوگیا ہے جیسے اور آیت میں ہے اس دن انسان نصیحت حاصل کرے گا لیکن اب اس کے لئے نصیحت کہاں ہے ؟ اور جگہ فرمایا ہے آیت (وَّقَالُوْٓا اٰمَنَّا بِهٖ ۚ وَاَنّٰى لَهُمُ التَّنَاوُشُ مِنْ مَّكَانٍۢ بَعِيْدٍ 52ښ) 34۔ سبأ :52) ، یعنی اس دن عذابوں کو دیکھ کر ایمان لانا سراسر بےسود ہے پھر جو ارشاد ہوتا ہے اس کے دو معنی ہوسکتے ہیں ایک تو یہ کہ اگر بالفرض ہم عذاب ہٹا لیں اور تمہیں دوبارہ دنیا میں بھیج دیں تو بھی تم پھر وہاں جا کر یہی کرو گے جو اس سے پہلے کر کے آئے ہو جیسے فرمایا آیت (وَلَوْ رَحِمْنٰهُمْ وَكَشَفْنَا مَا بِهِمْ مِّنْ ضُرٍّ لَّـــلَجُّوْا فِيْ طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُوْنَ 75) 23۔ المؤمنون :75) ، یعنی اگر ہم ان پر رحم کریں اور برائی ان سے ہٹا لیں تو پھر یہ اپنی سرکشی میں آنکھیں بند کر کے منہمک ہوجائیں گے اور جیسے فرمایا آیت (وَلَوْ رُدُّوْا لَعَادُوْا لِمَا نُهُوْا عَنْهُ وَاِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ 28) 6۔ الانعام :28) ، یعنی اگر یہ لوٹائے جائیں تو قطعًا دوبارہ پھر ہماری نافرمانیاں کرنے لگیں گے اور محض جھوٹے ثابت ہوں گے۔ دوسرے معنی یہ بھی ہوسکتے ہیں کہ اگر عذاب کے اسباب قائم ہو چکنے اور عذاب آجانے کے بعد بھی گو ہم اسے کچھ دیر ٹھہرا لیں تاہم یہ اپنی بد باطنی اور خباثت سے باز نہیں آنے کے اس سے یہ لازم آتا کہ عذاب انہیں پہنچا اور پھر ہٹ گیا جیسے قوم یونس کی حضرت حق تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے کہ قوم یونس جب ایمان لائی ہم نے ان سے عذاب ہٹا لیا۔ گویا عذاب انہیں ہونا شروع نہیں ہوا تھا ہاں اس کے اسباب موجود و فراہم ہوچکے تھے ان تک اللہ کا عذاب پہنچ چکا تھا اور اس سے یہ بھی لازم نہیں آتا کہ وہ اپنے کفر سے ہٹ گئے تھے پھر اس کی طرف لوٹ گئے۔ چناچہ حضرت شعیب اور ان پر ایمان لانے والوں سے جب قوم نے کہا کہ یا تو تم ہماری بستی چھوڑ دو یا ہمارے مذہب میں لوٹ آؤ تو جواب میں اللہ کے رسول نے فرمایا کہ گو ہم اسے برا جانتے ہوں۔ جبکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس سے نجات دے رکھی ہے پھر بھی اگر ہم تمہاری ملت میں لوٹ آئیں تو ہم سے بڑھ کر جھوٹا اور اللہ کے ذمے بہتان باندھنے والا اور کون ہوگا ؟ ظاہر ہے کہ حضرت شعیب ؑ نے اس سے پہلے بھی کبھی کفر میں قدم نہیں رکھا تھا اور حضرت قتادہ فرماتے ہیں کہ تم لوٹنے والے ہو۔ اس سے مطلب اللہ کے عذاب کی طرف لوٹنا ہے بڑی اور سخت پکڑ سے مراد جنگ بدر ہے حضرت ابن مسعود اور آپ کے ساتھ کی وہ جماعت جو دخان کو ہوچکا مانتی ہے وہ تو (بطشہ) کے معنی یہی کرتی ہے بلکہ حضرت ابن عباس سے حضرت ابی بن کعب سے ایک اور جماعت سے یہی منقول ہے گو یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے لیکن بہ ظاہر تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مراد قیامت کے دن کی پکڑ ہے گو بدر کا دن بھی پکڑ کا اور کفار پر سخت دن تھا ابن جریر میں ہے حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ گو حضرت ابن مسعود اسے بدر کا دن بتاتے ہیں لیکن میرے نزدیک تو اس سے مراد قیامت کا دن ہے اس کی اسناد صحیح ہے حضرت حسن بصری اور عکرمہ سے بھی دونوں روایتوں میں زیادہ صحیح روایت یہی ہے واللہ اعلم۔
17
View Single
۞وَلَقَدۡ فَتَنَّا قَبۡلَهُمۡ قَوۡمَ فِرۡعَوۡنَ وَجَآءَهُمۡ رَسُولٞ كَرِيمٌ
And before them We indeed tried the people of Firaun, and an Honourable Noble Messenger came to them.
اور در حقیقت ہم نے اِن سے پہلے قومِ فرعون کی (بھی) آزمائش کی تھی اور اُن کے پاس بزرگی والے رسول (موسٰی علیہ السلام) آئے تھے
Tafsir Ibn Kathir
The Story of Musa and Fir`awn, and how the Children of Israel were saved
Allah tells us, `before these idolators, We tested the people of Fir`awn, the copts of Egypt.'
وَجَآءَهُمْ رَسُولٌ كَرِيمٌ
(when there came to them a noble Messenger.) means, Musa, peace be upon him, the one to whom Allah spoke.
أَنْ أَدُّواْ إِلَىَّ عِبَادَ اللَّهِ
(Deliver to me the servants of Allah.) This is like the Ayah:
فَأَرْسِلْ مَعَنَا بَنِى إِسْرَءِيلَ وَلاَ تُعَذِّبْهُمْ قَدْ جِئْنَـكَ بِـَايَةٍ مِّن رَّبِّكَ وَالسَّلَـمُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى
(So let the Children of Israel go with us, and torment them not; indeed, we have come with a sign from your Lord! And peace will be upon him who follows the guidance!") (20:47)
إِنِّي لَكُمْ رَسُولٌ أَمِينٌ
(Verily, I am to you a Messenger worthy of all trust.) means, `what I convey to you is trustworthy.'
وَأَن لاَّ تَعْلُواْ عَلَى اللَّهِ
(And exalt not yourselves against Allah.) means, `and do not be too arrogant to follow His signs. Accept His proof and believe in His evidence.' This is like the Ayah:
إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِى سَيَدْخُلُونَ جَهَنَّمَ دَخِرِينَ
(Verily, those who scorn My worship they will surely enter Hell in humiliation!) (40:60)
إِنِّى ءَاتِيكُمْ بِسُلْطَانٍ مُّبِينٍ
(Truly, I have come to you with a manifest authority.) means, with clear and obvious proof. This refers to the clear signs and definitive evidence with which Allah sent him.
وَإِنِّى عُذْتُ بِرَبِّى وَرَبِّكُمْ أَن تَرْجُمُونِ
(And truly, I seek refuge with my Lord and your Lord, lest you should stone me.) Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, and Abu Salih said, "This refers to a verbal assault, which means insults." Qatadah said, "Meaning `stoning' in the literal sense, so that the meaning is: `I seek refuge with Allah, Who created me and you, from your making any harmful words or actions reach me."'
وَإِن لَّمْ تُؤْمِنُواْ لِى فَاعْتَزِلُونِ
(But if you believe me not, then keep away from me and leave me alone.) means, `then let us leave one another alone and live in peace until Allah judges between us.' After Musa, may Allah be pleased with him, had stayed among them for a long time, and the proof of Allah had been established against them, and that only increased them in disbelief and stubbornness, he prayed to his Lord against them, a prayer which was answered. Allah says:
وَقَالَ مُوسَى رَبَّنَآ إِنَّكَ ءاتَيْتَ فِرْعَوْنَ وَمَلاّهُ زِينَةً وَأَمْوَالاً فِى الْحَيَوةِ الدُّنْيَا رَبَّنَا لِيُضِلُّواْ عَن سَبِيلِكَ رَبَّنَا اطْمِسْ عَلَى أَمْوَلِهِمْ وَاشْدُدْ عَلَى قُلُوبِهِمْ فَلاَ يُؤْمِنُواْ حَتَّى يَرَوُاْ الْعَذَابَ الاٌّلِيمَ قَالَ قَدْ أُجِيبَتْ دَّعْوَتُكُمَا فَاسْتَقِيمَا
(And Musa said: "Our Lord! You have indeed bestowed on Fir`awn and his chiefs splendor and wealth in the life of this world, our Lord! That they may lead men astray from Your path. Our Lord! Destroy their wealth, and harden their hearts, so that they will not believe until they see the painful torment." Allah said: "Verily, the invocation of you both is accepted. So you both keep to the straight way.") (10:88-89) And Allah says here:
فَدَعَا رَبَّهُ أَنَّ هَـؤُلاَءِ قَوْمٌ مُّجْرِمُونَ
(So he (Musa) called upon his Lord (saying): "These are indeed the people who are criminals.") Whereupon Allah commanded him to bring the Children of Israel out from among them, without the command, consent or permission of Fir`awn. Allah said:
فَأَسْرِ بِعِبَادِى لَيْلاً إِنَّكُم مُّتَّبَعُونَ
(Depart you with My servants by night. Surely, you will be pursued.) This is like the Ayah:
وَلَقَدْ أَوْحَيْنَآ إِلَى مُوسَى أَنْ أَسْرِ بِعِبَادِى فَاضْرِبْ لَهُمْ طَرِيقاً فِى الْبَحْرِ يَبَساً لاَّ تَخَافُ دَرَكاً وَلاَ تَخْشَى
And indeed We revealed to Mu0sa0 (saying): Travel by night with My servants and strike a dry path for them in the sea, fearing neither to be overtaken nor being afraid (of drowning in the sea). )20:77(
وَاتْرُكِ الْبَحْرَ رَهْواً إِنَّهُمْ جُندٌ مُّغْرَقُونَ
(And leave the sea as it is (quiet and divided). Verily, they are a host to be drowned.) When Musa and the Children of Israel has crossed the sea, Musa wanted to strike it with his staff so that it would go back as it had been, and it would form a barrier between then and Fir`awn and prevent him from reaching them. But Allah commanded him to leave it as it was, quiet and divided, and gave him the glad tidings that they were a host to be drowned, and that he should not fear either being overtaken by Fir`awn or drowning in the sea. Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, said:
وَاتْرُكِ الْبَحْرَ رَهْواً
(And leave the sea as it is (quiet and divided).) means, leave it as it is and keep moving. Mujahid said:
رَهْواً
(as it is) means, a dry path, as it is. `Do not command it to go back; leave it until the last of them have entered it.' This was also the view of `Ikrimah, Ar-Rabi` bin Anas, Ad-Dahhak, Qatadah, Ibn Zayd, Ka`b Al-Ahbar, Simak bin Harb and others.
كَمْ تَرَكُواْ مِن جَنَّـتٍ وَعُيُونٍ وَزُرُوعٍ
(How many of gardens and springs that they left behind. And green crops) this refers to rivers and wells.
وَمَقَامٍ كَرِيمٍ
and goodly places, means, fine dwellings and beautiful places. Muja0hid and Sa 0d bin Jubayr said:
وَمَقَامٍ كَرِيمٍ
(and goodly places,) means elevated places.
وَنَعْمَةٍ كَانُواْ فِيهَا فَـكِهِينَ
(And comforts of life wherein they used to take delight!) means, a life which they were enjoying, where they could eat whatever they wanted and wear what they liked, with wealth and glory and power in the land. Then all of that was taken away in a single morning, they departed from this world and went to Hell, what a terrible abode!
كَذَلِكَ وَأَوْرَثْنَـهَا قَوْماً ءَاخَرِينَ
(Thus (it was)! And We made other people inherit them.) namely the Children of Israel.
فَمَا بَكَتْ عَلَيْهِمُ السَّمَآءُ وَالاٌّرْضُ
(And the heavens and the earth wept not for them, ) means, they had no righteous deeds which used to ascend through the gates of the heavens, which would weep for them when they died, and they had no places on earth where they used to worship Allah which would notice their loss. So they did not deserve to be given a respite, because of their disbelief, sin, transgression and stubbornness. Ibn Jarir recorded that Sa`id bin Jubayr said, "A man came to Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, and said to him: `O Abu Al-`Abbas, Allah says,
فَمَا بَكَتْ عَلَيْهِمُ السَّمَآءُ وَالاٌّرْضُ وَمَا كَانُواْ مُنظَرِينَ
(And the heavens and the earth wept not for them, nor were they given respite) -- do the heavens and the earth weep for anybody' He, may Allah be pleased with him, said, `Yes, there is no one who does not have a gate in the heavens through which his provision comes down and his good deeds ascend. When the believer dies, that gate is closed; it misses him and weeps for him, and the place of prayer on earth where he used to pray and remember Allah also weeps for him. But the people of Fir`awn left no trace of righteousness on the earth and they had no good deeds that ascended to Allah, so the heavens and the earth did not weep for them."' Al-`Awfi reported something similar from Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him.
وَلَقَدْ نَجَّيْنَا بَنِى إِسْرَءِيلَ مِنَ الْعَذَابِ الْمُهِينِ - مِن فِرْعَوْنَ إِنَّهُ كَانَ عَالِياً مِّنَ الْمُسْرِفِينَ
(And indeed We saved the Children of Israel from the humiliating torment from Fir`awn; verily, he was arrogant and was of the excessive. ) Here Allah reminds them of how He saved them from their humiliation and subjugation at the hands of Fir`awn, when they were forced to do menial tasks.
مِن فِرْعَوْنَ إِنَّهُ كَانَ عَالِياً
(From Fir`awn; verily, he was arrogant) means, he was proud and stubborn. This is like the Ayah:
إِنَّ فِرْعَوْنَ عَلاَ فِى الاٌّرْضِ
(Verily, Fir`awn exalted himself in the land) (28:4).
فَاسْتَكْبَرُواْ وَكَانُواْ قَوْماً عَـلِينَ
(but they behaved insolently and they were people self-exalting) (23:46). He was one of the excessive and held a foolish opinion of himself.
وَلَقَدِ اخْتَرْنَـهُمْ عَلَى عِلْمٍ عَلَى الْعَـلَمِينَ
(And We chose them above the nations (Al-`Alamin) with knowledge,) Mujahid said, "This means that they were chosen above those among whom they lived." Qatadah said, "They were chosen above the other people of their own time, and it was said that in every period there are people who are chosen above others." This is like the Ayah:
قَالَ يَمُوسَى إِنْى اصْطَفَيْتُكَ عَلَى النَّاسِ
((Allah) said: "O Musa I have chosen you above men.") (7:144), which means, above the people of his time. This is also like the Ayah:
وَاصْطَفَـكِ عَلَى نِسَآءِ الْعَـلَمِينَ
(and (Allah has) chosen you (Maryam) above the women of the nations (Al-`Alamin).) (3:42), i.e., Maryam was chosen above the women of her time. For Khadijah, may Allah be pleased with her, is higher than her in status or is equal to her, as was Asiyah bint Muzahim, the wife of Fir`awn. And the superiority of `A'ishah, may Allah be pleased with her, over all other women is like the superiority of Tharid over all other dishes.
وَءَاتَيْنَـهُم مِّنَ الاٌّيَـتِ
(And granted them signs) means clear proofs and extraordinary evidence.
مَا فِيهِ بَلَؤٌاْ مُّبِينٌ
(in which there was a plain trial.) means, an obvious test to show who would be guided by it.
قبطیوں کا انجام ارشاد ہوتا ہے کہ ان مشرکین سے پہلے مصر کے قبطیوں کو ہم نے جانچا ان کی طرف اپنے بزرگ رسول حضرت موسیٰ کو بھیجا انہوں نے میرا پیغام پہنچایا کہ بنی اسرائیل کو میرے ساتھ کردو انہیں دکھ نہ دو میں اپنی نبوت پر گواہی دینے والے معجزے اپنے ساتھ لایا ہوں اور ہدایت کے ماننے والے سلامتی سے رہیں گے مجھے اللہ تعالیٰ نے اپنی وحی کا امانت دار بنا کر تمہاری طرف بھیجا ہے میں تمہیں اس کا پیغام پہنچا رہا ہوں تمہیں رب کی باتوں کے ماننے سے سرکشی نہ کرنی چاہئے اس کے بیان کردہ دلائل و احکام کے سامنے سر تسلیم خم کرنا چاہئے۔ اس کی عبادتوں سے جی چرانے والے ذلیل و خوار ہو کر جہنم واصل ہوتے ہیں میں تو تمہارے سامنے کھلی دلیل اور واضح آیت رکھتا ہوں میں تمہاری بدگوئی اور اہتمام سے اللہ کی پناہ لیتا ہوں۔ ابن عباس اور ابو صالہ تو یہی کہتے ہیں اور قتادہ کہتے ہیں مراد پتھراؤ کرنا پتھروں سے مار ڈالنا ہے یعنی زبانی ایذاء سے اور دستی ایذاء سے میں اپنے رب کی جو تمہارا بھی مالک ہے پناہ چاہتا ہوں اچھا اگر تم میری نہیں مانتے مجھ پر بھروسہ نہیں کرتے اللہ پر ایمان نہیں لاتے تو کم از کم میری تکلیف دہی اور ایذاء رسانی سے تو باز رہو۔ اور اس کے منتظر رہو جب کہ خود اللہ ہم میں تم میں فیصلہ کر دے گا پھر جب اللہ کے نبی کلیم اللہ حضرت موسیٰ نے ایک لمبی مدت ان میں گذاری خوب دل کھول کھول کر تبلیغ کرلی ہر طرح کی خیر خواہی کی ان کی ہدایت کے لئے ہرچند جتن کر لئے اور دیکھا کہ وہ روز بروز اپنے کفر میں بڑھتے جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ سے انکے لئے بددعا کی جیسے اور آیت میں ہے کہ حضرت موسیٰ نے کہا اے ہمارے رب تو نے فرعون اور اس کے امراء کو دنیوی نمائش اور مال و متاع دے رکھی ہے اے اللہ یہ اس سے دوسروں کو بھی تیری راہ سے بھٹکا رہے ہیں تو ان کا مال غارت کر اور ان کے دل اور سخت کر دے تاکہ دردناک عذابوں کے معائنہ تک انہیں ایمان نصیب ہی نہ ہو اللہ کی طرف سے جواب ملا کہ اے موسیٰ اور اے ہارون میں نے تمہاری دعا قبول کرلی اب تم استقامت پر تل جاؤ یہاں فرماتا ہے کہ ہم نے موسیٰ سے کہا کہ میرے بندوں یعنی بنی اسرائیل کو راتوں رات فرعون اور فرعونیوں کی بیخبر ی میں یہاں سے لے کر چلے جاؤ۔ یہ کفار تمہارا پیچھا کریں گے لیکن تم بےخوف و خطر چلے جاؤ میں تمہارے لئے دریا کو خشک کر دوں گا اس کے بعد حضرت موسیٰ ؑ بنی اسرائیل کو لے کر چل پڑے فرعونی لشکر مع فرعون کے ان کے پکڑنے کو چلا بیچ میں دریا حائل ہوا آپ بنی اسرائیل کو لے کر اس میں اتر گئے دریا کا پانی سوکھ گیا اور آپ اپنے ساتھیوں سمیت پار ہوگئے تو چاہا کہ دریا پر لکڑی مار کر اسے کہہ دیں کہ اب تو اپنی روانی پر آجا تاکہ فرعون اس سے گزر نہ سکے وہیں اللہ نے وحی بھیجی کہ اسے اسی حال میں سکون کے ساتھ ہی رہنے دو ساتھ ہی اس کی وجہ بھی بتادی کہ یہ سب اسی میں ڈوب مریں گے۔ پھر تو تم سب بالکل ہی مطمئن اور بےخوف ہوجاؤ گے غرض حکم ہوا تھا کہ دریا کو خشک چھوڑ کر چل دیں (رھواً) کے معنی سوکھا راستہ جو اصلی حالت پر ہو۔ مقصد یہ ہے کہ پار ہو کہ دریا کو روانی کا حکم نہ دینا یہاں تک کہ دشمنوں میں سے ایک ایک اس میں آ نہ جائے اب اسے جاری ہونے کا حکم ملتے ہی سب کو غرق کر دے گا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے دیکھو کیسے غارت ہوئے۔ باغات کھتیاں نہریں مکانات اور بیٹھکیں سب چھوڑ کر فنا ہوگئے حضرت عبداللہ بن عمرو فرماتے ہیں مصر کا دریائے نیل مشرق مغرب کے دریاؤں کا سردار ہے اور سب نہریں اس کے ماتحت ہیں جب اس کی روانی اللہ کو منظور ہوتی ہیں تو تمام نہروں کو اس میں پانی پہنچانے کا حکم ہوتا ہے جہاں تک رب کو منظور ہو اس میں پانی آجاتا ہے پھر اللہ تبارک و تعالیٰ اور نہروں کو روک دیتا ہے اور حکم دیتا ہے کہ اب اپنی اپنی جگہ چلی جاؤ اور فرعونیوں کے یہ باغات دریائے نیل کے دونوں کناروں پر مسلسل چلے گئے تھے رسواں سے لے کر رشید تک اس کا سلسلہ تھا اور اس کی نو خلیجیں تھیں۔ خلیج اسکندریہ، دمیاط، خلیج سردوس، خلیج منصف، خلیج منتہی اور ان سب میں اتصال تھا ایک دوسرے سے متصل تھیں اور پہاڑوں کے دامن میں ان کی کھیتیاں تھیں جو مصر سے لے کر دریا تک برابر چلی آتی تھیں ان تمام کو بھی دریا سیراب کرتا تھا بڑے امن چین کی زندگی گذار رہے تھے لیکن مغرور ہوگئے اور آخر ساری نعمتیں یونہی چھوڑ کر تباہ کر دئیے گئے۔ مال اولاد جاہ و مال سلطنت و عزت ایک ہی رات میں چھوڑ گئے اور بھس کی طرح اڑا دئیے گئے اور گذشتہ کل کی طرح بےنشان کر دئیے گئے ایسے ڈبوئے گئے کہ ابھر نہ سکے جہنم واصل ہوگئے اور بدترین جگہ پہنچ گئے ان کی یہ تمام چیزیں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو دے دیں۔ جیسے اور آیت میں فرمایا ہے کہ ہم نے ان کمزوروں کو ان کے صبر کے بدلے اس سرکش قوم کی کل نعمتیں عطا فرمادیں اور بےایمانوں کا بھرکس نکال ڈالا یہاں بھی دوسری قوم جسے وارث بنایا اس سے مراد بھی بنی اسرائیل ہیں پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ان پر زمین و آسمان نہ روئے کیونکہ ان پاپیوں کے نیک اعمال تھے ہی نہیں جو آسمانوں پر چڑھتے ہوں اور اب ان کے نہ چڑھنے کی وجہ سے وہ افسوس کریں نہ زمین میں ان کی جگہیں ایسی تھیں کہ جہاں بیٹھ کر یہ اللہ کی عبادت کرتے ہوں اور آج انہیں نہ پا کر زمین کی وہ جگہ ان کا ماتم کرے انہیں مہلت نہ دی گئی۔ مسند ابو یعلی موصلی میں ہے ہر بندے کے لئے آسمان میں دو دروازے ہیں ایک سے اس کی روزی اترتی ہے دوسرے سے اس کے اعمال اور اس کے کلام چڑھتے ہیں۔ جب یہ مرجاتا ہے اور وہ عمل و رزق کو گم شدہ پاتے ہیں تو روتے ہیں پھر اسی آیت کی حضور ﷺ نے تلاوت کی ابن ابی حاتم میں فرمان رسول ﷺ ہے کہ اسلام غربت سے شروع ہوا اور پھر غربت پر آجائے گا یاد رکھو مومن کہیں انجام مسافر کی طرح نہیں مومن جہاں کہیں سفر میں ہوتا ہے جہاں اس کا کوئی رونے والا نہ ہو وہاں بھی اس کے رونے والے آسمان و زمین موجود ہیں پھر حضور ﷺ نے اس آیت کی تلاوت کر کے فرمایا یہ دونوں کفار پر روتے نہیں حضرت علی سے کسی نے پوچھا کہ آسمان و زمین کبھی کسی پر روئے بھی ہیں ؟ آپ نے فرمایا آج تو نے وہ بات دریافت کی ہے کہ تجھ سے پہلے مجھ سے اس کا سوال کسی نے نہیں کیا۔ سنو ہر بندے کے لئے زمین میں ایک نماز کی جگہ ہوتی ہے اور ایک جگہ آسمان میں اس کے عمل کے چڑھنے کی ہوتی ہے اور آل فرعون کے نیک اعمال ہی نہ تھے اس وجہ سے نہ زمین ان پر روئی نہ آسمان کو ان پر رونا آیا اور نہ انہیں ڈھیل دی گئی کہ کوئی نیکی بجا لاسکیں، حضرت ابن عباس سے یہ سوال ہوا تو آپ نے بھی قریب قریب یہی جواب دیا بلکہ آپ سے مروی ہے کہ چالیس دن تک زمین مومن پر روتی رہتی ہے حضرت مجاہد نے جب یہ بیان فرمایا تو کسی نے اس پر تعجب کا اظہار کیا آپ نے فرمایا سبحان اللہ اس میں تعجب کی کونسی بات ہے جو بندہ زمین کو اپنے رکوع و سجود سے آباد رکھتا تھا جس بندے کی تکبیر و تسبیح کی آوازیں آسمان برابر سنتا رہا تھا بھلا یہ دونوں اس عابد اللہ پر روئیں گے نہیں ؟ حضرت قتادہ فرماتے ہیں فرعونیوں جیسے ذلیل و خوار لوگوں پر یہ کیوں روتے ؟ حضرت ابراہیم فرماتے ہیں دنیا جب سے رچائی گئی ہے تب سے آسمان صرف دو شخصوں پر رویا ہے ان کے شاگرد سے سوال ہوا کہ کیا آسمان و زمین ہر ایمان دار پر روتے نہیں ؟ فرمایا صرف اتنا حصہ جس حصے سے اس کا نیک عمل چڑھتا تھا سنو آسمان کا رونا اس کا سرخ ہونا اور مثل نری کے گلابی ہوجانا ہے سو یہ حال صرف دو شخصوں کی شہادت پر ہوا ہے۔ حضرت یحییٰ کے قتل کے موقعے پر تو آسمان سرخ ہوگیا اور خون برسانے لگا اور دوسرے حضرت حسین کے قتل پر بھی آسمان کا رنگ سرخ ہوگیا تھا (ابن ابی حاتم) یزید ابن ابو زیاد کا قول ہے کہ قتل حسین کی وجہ سے چار ماہ تک آسمان کے کنارے سرخ رہے اور یہی سرخی اس کا رونا ہے حضرت عطا فرماتے ہیں اس کے کناروں کا سرخ ہوجانا اس کا رونا ہے یہ بھی ذکر کیا گیا ہے کہ قتل حسین کے دن جس پتھر کو الٹا جاتا تھا اس کے نیچے سے منجمند خون نکلتا تھا۔ اس دن سورج کو بھی گہن لگا ہوا تھا آسمان کے کنارے بھی سرخ تھے اور پتھر گرے تھے۔ لیکن یہ سب باتیں بےبنیاد ہیں اور شیعوں کے گھڑے ہوئے افسانے ہیں اس میں کوئی شک نہیں کہ نواسہ رسول ﷺ کی شہادت کا واقعہ نہایت درد انگیز اور حسرت و افسوس والا ہے لیکن اس پر شیعوں نے جو حاشیہ چڑھایا ہے اور گھڑ گھڑا کر جو باتیں پھیلا دی ہیں وہ محض جھوٹ اور بالکل گپ ہیں۔ خیال تو فرمائیے کہ اس سے بہت زیادہ اہم واقعات ہوئے اور قتل حسین سے بہت بڑی وارداتیں ہوئیں لیکن ان کے ہونے پر بھی آسمان و زمین وغیرہ میں یہ انقلاب نہ ہوا۔ آپ ہی کے والد ماجد حضرت علی بھی قتل کئے گئے جو بالاجماع آپ سے افضل تھے لیکن نہ تو پتھروں تلے سے خون نکلا اور کچھ ہوا۔ حضرت عثمان بن عفان کو گھیر لیا جاتا ہے اور نہایت بےدردی سے بلاوجہ ظلم و ستم کے ساتھ انہیں قتل کیا جاتا ہے فاروق اعظم حضرت عمر بن خطاب کو صبح کی نماز پڑھاتے ہوئے نماز کی جگہ ہی قتل کیا جاتا ہے یہ وہ زبردست مصیبت تھی کہ اس سے پہلے مسلمان کبھی ایسی مصیبت نہیں پہنچائے گئے تھے لیکن ان واقعات میں سے کسی واقعہ کے وقت اب میں سے ایک بھی بات نہیں جو شیعوں نے مقتل حسین کی نسبت مشہور کر رکھی ہے۔ ان سب کو بھی جانے دیجئے تمام انسانوں کے دینی اور دنیوی سردار سید البشر رسول اللہ ﷺ کو لیجئے جس روز آپ رحلت فرماتے ہیں ان میں سے کچھ بھی نہیں ہوتا اور سنئے جس روز حضور ﷺ کے صاحبزادے حضرت ابراہیم کا انتقال ہوتا ہے اتفاقاً اسی روز سورج گہن ہوتا ہے اور کوئی کہہ دیتا ہے کہ ابراہیم کے انتقال کی وجہ سورج کو گہن لگا ہے۔ تو حضور ﷺ گہن کی نماز ادا کر کے فوراً خطبے پر کھڑے ہوجاتے ہیں اور فرماتے ہیں سورج چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں کسی کی موت زندگی کی وجہ سے انہیں گہن نہیں لگتا اس کے بعد کی آیت میں اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل پر اپنا احسان جتاتا ہے کہ ہم نے انہیں فرعون جیسے متکبر حدود شکن کے ذلیل عذابوں سے نجات دی اس نے بنی اسرائیل کو پست و خوار کر رکھا تھا ذلیل خدمتیں ان سے لیتا تھا اور اپنے نفس کو تولتا رہتا تھا خودی اور خود بینی میں لگا ہوا تھا بیوقوفی سے کسی چیز کی حد بندی کا خیال نہیں کرتا تھا اللہ کی زمین میں سرکشی کئے ہوئے تھا۔ اور ان بدکاریوں میں اس کی قوم بھی اس کے ساتھ تھی پھر بنی اسرائیل پر ایک اور مہربانی کا ذکر فرما رہا ہے کہ اس زمانے کے تمام لوگوں پر انہیں فضیلت عطا فرمائی ہر زمانے کو عالم کہا جاتا ہے یہ مراد نہیں کہ تمام اگلوں پچھلوں پر انہیں بزرگی دی یہ آیت بھی اس آیت کی طرح ہے جس میں فرمان ہے آیت (قَالَ يٰمُوْسٰٓي اِنِّى اصْطَفَيْتُكَ عَلَي النَّاسِ بِرِسٰلٰتِيْ وَبِكَلَامِيْ ڮ فَخُذْ مَآ اٰتَيْتُكَ وَكُنْ مِّنَ الشّٰكِرِيْنَ01404) 7۔ الاعراف :144) اس سے بھی یہی مطلب ہے کہ اس زمانے کی تمام عورتوں پر آپ کو فضیلت ہے اس لئے کہ ام المومنین حضرت خدیجہ ان سے یقینا افضل ہیں یا کم ازکم برابر۔ اسی طرح حضرت آسیہ بنت مزاحم جو فرعون کی بیوی تھیں اور ام المومنین حضرت عائشہ کی فضیلت تمام عورتوں پر ایسی ہے جیسی فضیلت شوربے میں بھگوئی روٹی کی اور کھانوں پر پھر بنی اسرائیل پر ایک اور احسان بیان ہو رہا ہے کہ ہم نے انہیں وہ حجت وبرہان دلیل و نشان اور معجزات و کرامات عطا فرمائے جن میں ہدایت کی تلاش کرنے والوں کے لئے صاف صاف امتحان تھا۔
18
View Single
أَنۡ أَدُّوٓاْ إِلَيَّ عِبَادَ ٱللَّهِۖ إِنِّي لَكُمۡ رَسُولٌ أَمِينٞ
Who said, “Give the bondmen of Allah into my custody; I am indeed a trustworthy Noble Messenger for you.”
(انہوں نے کہا تھا) کہ تم بندگانِ خدا (یعنی بنی اسرائیل) کو میرے حوالے کر دو، بیشک میں تمہاری قیادت و رہبری کے لئے امانت دار رسول ہوں
Tafsir Ibn Kathir
The Story of Musa and Fir`awn, and how the Children of Israel were saved
Allah tells us, `before these idolators, We tested the people of Fir`awn, the copts of Egypt.'
وَجَآءَهُمْ رَسُولٌ كَرِيمٌ
(when there came to them a noble Messenger.) means, Musa, peace be upon him, the one to whom Allah spoke.
أَنْ أَدُّواْ إِلَىَّ عِبَادَ اللَّهِ
(Deliver to me the servants of Allah.) This is like the Ayah:
فَأَرْسِلْ مَعَنَا بَنِى إِسْرَءِيلَ وَلاَ تُعَذِّبْهُمْ قَدْ جِئْنَـكَ بِـَايَةٍ مِّن رَّبِّكَ وَالسَّلَـمُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى
(So let the Children of Israel go with us, and torment them not; indeed, we have come with a sign from your Lord! And peace will be upon him who follows the guidance!") (20:47)
إِنِّي لَكُمْ رَسُولٌ أَمِينٌ
(Verily, I am to you a Messenger worthy of all trust.) means, `what I convey to you is trustworthy.'
وَأَن لاَّ تَعْلُواْ عَلَى اللَّهِ
(And exalt not yourselves against Allah.) means, `and do not be too arrogant to follow His signs. Accept His proof and believe in His evidence.' This is like the Ayah:
إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِى سَيَدْخُلُونَ جَهَنَّمَ دَخِرِينَ
(Verily, those who scorn My worship they will surely enter Hell in humiliation!) (40:60)
إِنِّى ءَاتِيكُمْ بِسُلْطَانٍ مُّبِينٍ
(Truly, I have come to you with a manifest authority.) means, with clear and obvious proof. This refers to the clear signs and definitive evidence with which Allah sent him.
وَإِنِّى عُذْتُ بِرَبِّى وَرَبِّكُمْ أَن تَرْجُمُونِ
(And truly, I seek refuge with my Lord and your Lord, lest you should stone me.) Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, and Abu Salih said, "This refers to a verbal assault, which means insults." Qatadah said, "Meaning `stoning' in the literal sense, so that the meaning is: `I seek refuge with Allah, Who created me and you, from your making any harmful words or actions reach me."'
وَإِن لَّمْ تُؤْمِنُواْ لِى فَاعْتَزِلُونِ
(But if you believe me not, then keep away from me and leave me alone.) means, `then let us leave one another alone and live in peace until Allah judges between us.' After Musa, may Allah be pleased with him, had stayed among them for a long time, and the proof of Allah had been established against them, and that only increased them in disbelief and stubbornness, he prayed to his Lord against them, a prayer which was answered. Allah says:
وَقَالَ مُوسَى رَبَّنَآ إِنَّكَ ءاتَيْتَ فِرْعَوْنَ وَمَلاّهُ زِينَةً وَأَمْوَالاً فِى الْحَيَوةِ الدُّنْيَا رَبَّنَا لِيُضِلُّواْ عَن سَبِيلِكَ رَبَّنَا اطْمِسْ عَلَى أَمْوَلِهِمْ وَاشْدُدْ عَلَى قُلُوبِهِمْ فَلاَ يُؤْمِنُواْ حَتَّى يَرَوُاْ الْعَذَابَ الاٌّلِيمَ قَالَ قَدْ أُجِيبَتْ دَّعْوَتُكُمَا فَاسْتَقِيمَا
(And Musa said: "Our Lord! You have indeed bestowed on Fir`awn and his chiefs splendor and wealth in the life of this world, our Lord! That they may lead men astray from Your path. Our Lord! Destroy their wealth, and harden their hearts, so that they will not believe until they see the painful torment." Allah said: "Verily, the invocation of you both is accepted. So you both keep to the straight way.") (10:88-89) And Allah says here:
فَدَعَا رَبَّهُ أَنَّ هَـؤُلاَءِ قَوْمٌ مُّجْرِمُونَ
(So he (Musa) called upon his Lord (saying): "These are indeed the people who are criminals.") Whereupon Allah commanded him to bring the Children of Israel out from among them, without the command, consent or permission of Fir`awn. Allah said:
فَأَسْرِ بِعِبَادِى لَيْلاً إِنَّكُم مُّتَّبَعُونَ
(Depart you with My servants by night. Surely, you will be pursued.) This is like the Ayah:
وَلَقَدْ أَوْحَيْنَآ إِلَى مُوسَى أَنْ أَسْرِ بِعِبَادِى فَاضْرِبْ لَهُمْ طَرِيقاً فِى الْبَحْرِ يَبَساً لاَّ تَخَافُ دَرَكاً وَلاَ تَخْشَى
And indeed We revealed to Mu0sa0 (saying): Travel by night with My servants and strike a dry path for them in the sea, fearing neither to be overtaken nor being afraid (of drowning in the sea). )20:77(
وَاتْرُكِ الْبَحْرَ رَهْواً إِنَّهُمْ جُندٌ مُّغْرَقُونَ
(And leave the sea as it is (quiet and divided). Verily, they are a host to be drowned.) When Musa and the Children of Israel has crossed the sea, Musa wanted to strike it with his staff so that it would go back as it had been, and it would form a barrier between then and Fir`awn and prevent him from reaching them. But Allah commanded him to leave it as it was, quiet and divided, and gave him the glad tidings that they were a host to be drowned, and that he should not fear either being overtaken by Fir`awn or drowning in the sea. Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, said:
وَاتْرُكِ الْبَحْرَ رَهْواً
(And leave the sea as it is (quiet and divided).) means, leave it as it is and keep moving. Mujahid said:
رَهْواً
(as it is) means, a dry path, as it is. `Do not command it to go back; leave it until the last of them have entered it.' This was also the view of `Ikrimah, Ar-Rabi` bin Anas, Ad-Dahhak, Qatadah, Ibn Zayd, Ka`b Al-Ahbar, Simak bin Harb and others.
كَمْ تَرَكُواْ مِن جَنَّـتٍ وَعُيُونٍ وَزُرُوعٍ
(How many of gardens and springs that they left behind. And green crops) this refers to rivers and wells.
وَمَقَامٍ كَرِيمٍ
and goodly places, means, fine dwellings and beautiful places. Muja0hid and Sa 0d bin Jubayr said:
وَمَقَامٍ كَرِيمٍ
(and goodly places,) means elevated places.
وَنَعْمَةٍ كَانُواْ فِيهَا فَـكِهِينَ
(And comforts of life wherein they used to take delight!) means, a life which they were enjoying, where they could eat whatever they wanted and wear what they liked, with wealth and glory and power in the land. Then all of that was taken away in a single morning, they departed from this world and went to Hell, what a terrible abode!
كَذَلِكَ وَأَوْرَثْنَـهَا قَوْماً ءَاخَرِينَ
(Thus (it was)! And We made other people inherit them.) namely the Children of Israel.
فَمَا بَكَتْ عَلَيْهِمُ السَّمَآءُ وَالاٌّرْضُ
(And the heavens and the earth wept not for them, ) means, they had no righteous deeds which used to ascend through the gates of the heavens, which would weep for them when they died, and they had no places on earth where they used to worship Allah which would notice their loss. So they did not deserve to be given a respite, because of their disbelief, sin, transgression and stubbornness. Ibn Jarir recorded that Sa`id bin Jubayr said, "A man came to Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, and said to him: `O Abu Al-`Abbas, Allah says,
فَمَا بَكَتْ عَلَيْهِمُ السَّمَآءُ وَالاٌّرْضُ وَمَا كَانُواْ مُنظَرِينَ
(And the heavens and the earth wept not for them, nor were they given respite) -- do the heavens and the earth weep for anybody' He, may Allah be pleased with him, said, `Yes, there is no one who does not have a gate in the heavens through which his provision comes down and his good deeds ascend. When the believer dies, that gate is closed; it misses him and weeps for him, and the place of prayer on earth where he used to pray and remember Allah also weeps for him. But the people of Fir`awn left no trace of righteousness on the earth and they had no good deeds that ascended to Allah, so the heavens and the earth did not weep for them."' Al-`Awfi reported something similar from Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him.
وَلَقَدْ نَجَّيْنَا بَنِى إِسْرَءِيلَ مِنَ الْعَذَابِ الْمُهِينِ - مِن فِرْعَوْنَ إِنَّهُ كَانَ عَالِياً مِّنَ الْمُسْرِفِينَ
(And indeed We saved the Children of Israel from the humiliating torment from Fir`awn; verily, he was arrogant and was of the excessive. ) Here Allah reminds them of how He saved them from their humiliation and subjugation at the hands of Fir`awn, when they were forced to do menial tasks.
مِن فِرْعَوْنَ إِنَّهُ كَانَ عَالِياً
(From Fir`awn; verily, he was arrogant) means, he was proud and stubborn. This is like the Ayah:
إِنَّ فِرْعَوْنَ عَلاَ فِى الاٌّرْضِ
(Verily, Fir`awn exalted himself in the land) (28:4).
فَاسْتَكْبَرُواْ وَكَانُواْ قَوْماً عَـلِينَ
(but they behaved insolently and they were people self-exalting) (23:46). He was one of the excessive and held a foolish opinion of himself.
وَلَقَدِ اخْتَرْنَـهُمْ عَلَى عِلْمٍ عَلَى الْعَـلَمِينَ
(And We chose them above the nations (Al-`Alamin) with knowledge,) Mujahid said, "This means that they were chosen above those among whom they lived." Qatadah said, "They were chosen above the other people of their own time, and it was said that in every period there are people who are chosen above others." This is like the Ayah:
قَالَ يَمُوسَى إِنْى اصْطَفَيْتُكَ عَلَى النَّاسِ
((Allah) said: "O Musa I have chosen you above men.") (7:144), which means, above the people of his time. This is also like the Ayah:
وَاصْطَفَـكِ عَلَى نِسَآءِ الْعَـلَمِينَ
(and (Allah has) chosen you (Maryam) above the women of the nations (Al-`Alamin).) (3:42), i.e., Maryam was chosen above the women of her time. For Khadijah, may Allah be pleased with her, is higher than her in status or is equal to her, as was Asiyah bint Muzahim, the wife of Fir`awn. And the superiority of `A'ishah, may Allah be pleased with her, over all other women is like the superiority of Tharid over all other dishes.
وَءَاتَيْنَـهُم مِّنَ الاٌّيَـتِ
(And granted them signs) means clear proofs and extraordinary evidence.
مَا فِيهِ بَلَؤٌاْ مُّبِينٌ
(in which there was a plain trial.) means, an obvious test to show who would be guided by it.
قبطیوں کا انجام ارشاد ہوتا ہے کہ ان مشرکین سے پہلے مصر کے قبطیوں کو ہم نے جانچا ان کی طرف اپنے بزرگ رسول حضرت موسیٰ کو بھیجا انہوں نے میرا پیغام پہنچایا کہ بنی اسرائیل کو میرے ساتھ کردو انہیں دکھ نہ دو میں اپنی نبوت پر گواہی دینے والے معجزے اپنے ساتھ لایا ہوں اور ہدایت کے ماننے والے سلامتی سے رہیں گے مجھے اللہ تعالیٰ نے اپنی وحی کا امانت دار بنا کر تمہاری طرف بھیجا ہے میں تمہیں اس کا پیغام پہنچا رہا ہوں تمہیں رب کی باتوں کے ماننے سے سرکشی نہ کرنی چاہئے اس کے بیان کردہ دلائل و احکام کے سامنے سر تسلیم خم کرنا چاہئے۔ اس کی عبادتوں سے جی چرانے والے ذلیل و خوار ہو کر جہنم واصل ہوتے ہیں میں تو تمہارے سامنے کھلی دلیل اور واضح آیت رکھتا ہوں میں تمہاری بدگوئی اور اہتمام سے اللہ کی پناہ لیتا ہوں۔ ابن عباس اور ابو صالہ تو یہی کہتے ہیں اور قتادہ کہتے ہیں مراد پتھراؤ کرنا پتھروں سے مار ڈالنا ہے یعنی زبانی ایذاء سے اور دستی ایذاء سے میں اپنے رب کی جو تمہارا بھی مالک ہے پناہ چاہتا ہوں اچھا اگر تم میری نہیں مانتے مجھ پر بھروسہ نہیں کرتے اللہ پر ایمان نہیں لاتے تو کم از کم میری تکلیف دہی اور ایذاء رسانی سے تو باز رہو۔ اور اس کے منتظر رہو جب کہ خود اللہ ہم میں تم میں فیصلہ کر دے گا پھر جب اللہ کے نبی کلیم اللہ حضرت موسیٰ نے ایک لمبی مدت ان میں گذاری خوب دل کھول کھول کر تبلیغ کرلی ہر طرح کی خیر خواہی کی ان کی ہدایت کے لئے ہرچند جتن کر لئے اور دیکھا کہ وہ روز بروز اپنے کفر میں بڑھتے جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ سے انکے لئے بددعا کی جیسے اور آیت میں ہے کہ حضرت موسیٰ نے کہا اے ہمارے رب تو نے فرعون اور اس کے امراء کو دنیوی نمائش اور مال و متاع دے رکھی ہے اے اللہ یہ اس سے دوسروں کو بھی تیری راہ سے بھٹکا رہے ہیں تو ان کا مال غارت کر اور ان کے دل اور سخت کر دے تاکہ دردناک عذابوں کے معائنہ تک انہیں ایمان نصیب ہی نہ ہو اللہ کی طرف سے جواب ملا کہ اے موسیٰ اور اے ہارون میں نے تمہاری دعا قبول کرلی اب تم استقامت پر تل جاؤ یہاں فرماتا ہے کہ ہم نے موسیٰ سے کہا کہ میرے بندوں یعنی بنی اسرائیل کو راتوں رات فرعون اور فرعونیوں کی بیخبر ی میں یہاں سے لے کر چلے جاؤ۔ یہ کفار تمہارا پیچھا کریں گے لیکن تم بےخوف و خطر چلے جاؤ میں تمہارے لئے دریا کو خشک کر دوں گا اس کے بعد حضرت موسیٰ ؑ بنی اسرائیل کو لے کر چل پڑے فرعونی لشکر مع فرعون کے ان کے پکڑنے کو چلا بیچ میں دریا حائل ہوا آپ بنی اسرائیل کو لے کر اس میں اتر گئے دریا کا پانی سوکھ گیا اور آپ اپنے ساتھیوں سمیت پار ہوگئے تو چاہا کہ دریا پر لکڑی مار کر اسے کہہ دیں کہ اب تو اپنی روانی پر آجا تاکہ فرعون اس سے گزر نہ سکے وہیں اللہ نے وحی بھیجی کہ اسے اسی حال میں سکون کے ساتھ ہی رہنے دو ساتھ ہی اس کی وجہ بھی بتادی کہ یہ سب اسی میں ڈوب مریں گے۔ پھر تو تم سب بالکل ہی مطمئن اور بےخوف ہوجاؤ گے غرض حکم ہوا تھا کہ دریا کو خشک چھوڑ کر چل دیں (رھواً) کے معنی سوکھا راستہ جو اصلی حالت پر ہو۔ مقصد یہ ہے کہ پار ہو کہ دریا کو روانی کا حکم نہ دینا یہاں تک کہ دشمنوں میں سے ایک ایک اس میں آ نہ جائے اب اسے جاری ہونے کا حکم ملتے ہی سب کو غرق کر دے گا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے دیکھو کیسے غارت ہوئے۔ باغات کھتیاں نہریں مکانات اور بیٹھکیں سب چھوڑ کر فنا ہوگئے حضرت عبداللہ بن عمرو فرماتے ہیں مصر کا دریائے نیل مشرق مغرب کے دریاؤں کا سردار ہے اور سب نہریں اس کے ماتحت ہیں جب اس کی روانی اللہ کو منظور ہوتی ہیں تو تمام نہروں کو اس میں پانی پہنچانے کا حکم ہوتا ہے جہاں تک رب کو منظور ہو اس میں پانی آجاتا ہے پھر اللہ تبارک و تعالیٰ اور نہروں کو روک دیتا ہے اور حکم دیتا ہے کہ اب اپنی اپنی جگہ چلی جاؤ اور فرعونیوں کے یہ باغات دریائے نیل کے دونوں کناروں پر مسلسل چلے گئے تھے رسواں سے لے کر رشید تک اس کا سلسلہ تھا اور اس کی نو خلیجیں تھیں۔ خلیج اسکندریہ، دمیاط، خلیج سردوس، خلیج منصف، خلیج منتہی اور ان سب میں اتصال تھا ایک دوسرے سے متصل تھیں اور پہاڑوں کے دامن میں ان کی کھیتیاں تھیں جو مصر سے لے کر دریا تک برابر چلی آتی تھیں ان تمام کو بھی دریا سیراب کرتا تھا بڑے امن چین کی زندگی گذار رہے تھے لیکن مغرور ہوگئے اور آخر ساری نعمتیں یونہی چھوڑ کر تباہ کر دئیے گئے۔ مال اولاد جاہ و مال سلطنت و عزت ایک ہی رات میں چھوڑ گئے اور بھس کی طرح اڑا دئیے گئے اور گذشتہ کل کی طرح بےنشان کر دئیے گئے ایسے ڈبوئے گئے کہ ابھر نہ سکے جہنم واصل ہوگئے اور بدترین جگہ پہنچ گئے ان کی یہ تمام چیزیں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو دے دیں۔ جیسے اور آیت میں فرمایا ہے کہ ہم نے ان کمزوروں کو ان کے صبر کے بدلے اس سرکش قوم کی کل نعمتیں عطا فرمادیں اور بےایمانوں کا بھرکس نکال ڈالا یہاں بھی دوسری قوم جسے وارث بنایا اس سے مراد بھی بنی اسرائیل ہیں پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ان پر زمین و آسمان نہ روئے کیونکہ ان پاپیوں کے نیک اعمال تھے ہی نہیں جو آسمانوں پر چڑھتے ہوں اور اب ان کے نہ چڑھنے کی وجہ سے وہ افسوس کریں نہ زمین میں ان کی جگہیں ایسی تھیں کہ جہاں بیٹھ کر یہ اللہ کی عبادت کرتے ہوں اور آج انہیں نہ پا کر زمین کی وہ جگہ ان کا ماتم کرے انہیں مہلت نہ دی گئی۔ مسند ابو یعلی موصلی میں ہے ہر بندے کے لئے آسمان میں دو دروازے ہیں ایک سے اس کی روزی اترتی ہے دوسرے سے اس کے اعمال اور اس کے کلام چڑھتے ہیں۔ جب یہ مرجاتا ہے اور وہ عمل و رزق کو گم شدہ پاتے ہیں تو روتے ہیں پھر اسی آیت کی حضور ﷺ نے تلاوت کی ابن ابی حاتم میں فرمان رسول ﷺ ہے کہ اسلام غربت سے شروع ہوا اور پھر غربت پر آجائے گا یاد رکھو مومن کہیں انجام مسافر کی طرح نہیں مومن جہاں کہیں سفر میں ہوتا ہے جہاں اس کا کوئی رونے والا نہ ہو وہاں بھی اس کے رونے والے آسمان و زمین موجود ہیں پھر حضور ﷺ نے اس آیت کی تلاوت کر کے فرمایا یہ دونوں کفار پر روتے نہیں حضرت علی سے کسی نے پوچھا کہ آسمان و زمین کبھی کسی پر روئے بھی ہیں ؟ آپ نے فرمایا آج تو نے وہ بات دریافت کی ہے کہ تجھ سے پہلے مجھ سے اس کا سوال کسی نے نہیں کیا۔ سنو ہر بندے کے لئے زمین میں ایک نماز کی جگہ ہوتی ہے اور ایک جگہ آسمان میں اس کے عمل کے چڑھنے کی ہوتی ہے اور آل فرعون کے نیک اعمال ہی نہ تھے اس وجہ سے نہ زمین ان پر روئی نہ آسمان کو ان پر رونا آیا اور نہ انہیں ڈھیل دی گئی کہ کوئی نیکی بجا لاسکیں، حضرت ابن عباس سے یہ سوال ہوا تو آپ نے بھی قریب قریب یہی جواب دیا بلکہ آپ سے مروی ہے کہ چالیس دن تک زمین مومن پر روتی رہتی ہے حضرت مجاہد نے جب یہ بیان فرمایا تو کسی نے اس پر تعجب کا اظہار کیا آپ نے فرمایا سبحان اللہ اس میں تعجب کی کونسی بات ہے جو بندہ زمین کو اپنے رکوع و سجود سے آباد رکھتا تھا جس بندے کی تکبیر و تسبیح کی آوازیں آسمان برابر سنتا رہا تھا بھلا یہ دونوں اس عابد اللہ پر روئیں گے نہیں ؟ حضرت قتادہ فرماتے ہیں فرعونیوں جیسے ذلیل و خوار لوگوں پر یہ کیوں روتے ؟ حضرت ابراہیم فرماتے ہیں دنیا جب سے رچائی گئی ہے تب سے آسمان صرف دو شخصوں پر رویا ہے ان کے شاگرد سے سوال ہوا کہ کیا آسمان و زمین ہر ایمان دار پر روتے نہیں ؟ فرمایا صرف اتنا حصہ جس حصے سے اس کا نیک عمل چڑھتا تھا سنو آسمان کا رونا اس کا سرخ ہونا اور مثل نری کے گلابی ہوجانا ہے سو یہ حال صرف دو شخصوں کی شہادت پر ہوا ہے۔ حضرت یحییٰ کے قتل کے موقعے پر تو آسمان سرخ ہوگیا اور خون برسانے لگا اور دوسرے حضرت حسین کے قتل پر بھی آسمان کا رنگ سرخ ہوگیا تھا (ابن ابی حاتم) یزید ابن ابو زیاد کا قول ہے کہ قتل حسین کی وجہ سے چار ماہ تک آسمان کے کنارے سرخ رہے اور یہی سرخی اس کا رونا ہے حضرت عطا فرماتے ہیں اس کے کناروں کا سرخ ہوجانا اس کا رونا ہے یہ بھی ذکر کیا گیا ہے کہ قتل حسین کے دن جس پتھر کو الٹا جاتا تھا اس کے نیچے سے منجمند خون نکلتا تھا۔ اس دن سورج کو بھی گہن لگا ہوا تھا آسمان کے کنارے بھی سرخ تھے اور پتھر گرے تھے۔ لیکن یہ سب باتیں بےبنیاد ہیں اور شیعوں کے گھڑے ہوئے افسانے ہیں اس میں کوئی شک نہیں کہ نواسہ رسول ﷺ کی شہادت کا واقعہ نہایت درد انگیز اور حسرت و افسوس والا ہے لیکن اس پر شیعوں نے جو حاشیہ چڑھایا ہے اور گھڑ گھڑا کر جو باتیں پھیلا دی ہیں وہ محض جھوٹ اور بالکل گپ ہیں۔ خیال تو فرمائیے کہ اس سے بہت زیادہ اہم واقعات ہوئے اور قتل حسین سے بہت بڑی وارداتیں ہوئیں لیکن ان کے ہونے پر بھی آسمان و زمین وغیرہ میں یہ انقلاب نہ ہوا۔ آپ ہی کے والد ماجد حضرت علی بھی قتل کئے گئے جو بالاجماع آپ سے افضل تھے لیکن نہ تو پتھروں تلے سے خون نکلا اور کچھ ہوا۔ حضرت عثمان بن عفان کو گھیر لیا جاتا ہے اور نہایت بےدردی سے بلاوجہ ظلم و ستم کے ساتھ انہیں قتل کیا جاتا ہے فاروق اعظم حضرت عمر بن خطاب کو صبح کی نماز پڑھاتے ہوئے نماز کی جگہ ہی قتل کیا جاتا ہے یہ وہ زبردست مصیبت تھی کہ اس سے پہلے مسلمان کبھی ایسی مصیبت نہیں پہنچائے گئے تھے لیکن ان واقعات میں سے کسی واقعہ کے وقت اب میں سے ایک بھی بات نہیں جو شیعوں نے مقتل حسین کی نسبت مشہور کر رکھی ہے۔ ان سب کو بھی جانے دیجئے تمام انسانوں کے دینی اور دنیوی سردار سید البشر رسول اللہ ﷺ کو لیجئے جس روز آپ رحلت فرماتے ہیں ان میں سے کچھ بھی نہیں ہوتا اور سنئے جس روز حضور ﷺ کے صاحبزادے حضرت ابراہیم کا انتقال ہوتا ہے اتفاقاً اسی روز سورج گہن ہوتا ہے اور کوئی کہہ دیتا ہے کہ ابراہیم کے انتقال کی وجہ سورج کو گہن لگا ہے۔ تو حضور ﷺ گہن کی نماز ادا کر کے فوراً خطبے پر کھڑے ہوجاتے ہیں اور فرماتے ہیں سورج چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں کسی کی موت زندگی کی وجہ سے انہیں گہن نہیں لگتا اس کے بعد کی آیت میں اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل پر اپنا احسان جتاتا ہے کہ ہم نے انہیں فرعون جیسے متکبر حدود شکن کے ذلیل عذابوں سے نجات دی اس نے بنی اسرائیل کو پست و خوار کر رکھا تھا ذلیل خدمتیں ان سے لیتا تھا اور اپنے نفس کو تولتا رہتا تھا خودی اور خود بینی میں لگا ہوا تھا بیوقوفی سے کسی چیز کی حد بندی کا خیال نہیں کرتا تھا اللہ کی زمین میں سرکشی کئے ہوئے تھا۔ اور ان بدکاریوں میں اس کی قوم بھی اس کے ساتھ تھی پھر بنی اسرائیل پر ایک اور مہربانی کا ذکر فرما رہا ہے کہ اس زمانے کے تمام لوگوں پر انہیں فضیلت عطا فرمائی ہر زمانے کو عالم کہا جاتا ہے یہ مراد نہیں کہ تمام اگلوں پچھلوں پر انہیں بزرگی دی یہ آیت بھی اس آیت کی طرح ہے جس میں فرمان ہے آیت (قَالَ يٰمُوْسٰٓي اِنِّى اصْطَفَيْتُكَ عَلَي النَّاسِ بِرِسٰلٰتِيْ وَبِكَلَامِيْ ڮ فَخُذْ مَآ اٰتَيْتُكَ وَكُنْ مِّنَ الشّٰكِرِيْنَ01404) 7۔ الاعراف :144) اس سے بھی یہی مطلب ہے کہ اس زمانے کی تمام عورتوں پر آپ کو فضیلت ہے اس لئے کہ ام المومنین حضرت خدیجہ ان سے یقینا افضل ہیں یا کم ازکم برابر۔ اسی طرح حضرت آسیہ بنت مزاحم جو فرعون کی بیوی تھیں اور ام المومنین حضرت عائشہ کی فضیلت تمام عورتوں پر ایسی ہے جیسی فضیلت شوربے میں بھگوئی روٹی کی اور کھانوں پر پھر بنی اسرائیل پر ایک اور احسان بیان ہو رہا ہے کہ ہم نے انہیں وہ حجت وبرہان دلیل و نشان اور معجزات و کرامات عطا فرمائے جن میں ہدایت کی تلاش کرنے والوں کے لئے صاف صاف امتحان تھا۔
19
View Single
وَأَن لَّا تَعۡلُواْ عَلَى ٱللَّهِۖ إِنِّيٓ ءَاتِيكُم بِسُلۡطَٰنٖ مُّبِينٖ
And saying, “And do not rebel against Allah; I have brought a clear proof to you.”
اور یہ کہ اللہ کے مقابلے میں سرکشی نہ کرو، میں تمہارے پاس روشن دلیل لے کر آیا ہوں
Tafsir Ibn Kathir
The Story of Musa and Fir`awn, and how the Children of Israel were saved
Allah tells us, `before these idolators, We tested the people of Fir`awn, the copts of Egypt.'
وَجَآءَهُمْ رَسُولٌ كَرِيمٌ
(when there came to them a noble Messenger.) means, Musa, peace be upon him, the one to whom Allah spoke.
أَنْ أَدُّواْ إِلَىَّ عِبَادَ اللَّهِ
(Deliver to me the servants of Allah.) This is like the Ayah:
فَأَرْسِلْ مَعَنَا بَنِى إِسْرَءِيلَ وَلاَ تُعَذِّبْهُمْ قَدْ جِئْنَـكَ بِـَايَةٍ مِّن رَّبِّكَ وَالسَّلَـمُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى
(So let the Children of Israel go with us, and torment them not; indeed, we have come with a sign from your Lord! And peace will be upon him who follows the guidance!") (20:47)
إِنِّي لَكُمْ رَسُولٌ أَمِينٌ
(Verily, I am to you a Messenger worthy of all trust.) means, `what I convey to you is trustworthy.'
وَأَن لاَّ تَعْلُواْ عَلَى اللَّهِ
(And exalt not yourselves against Allah.) means, `and do not be too arrogant to follow His signs. Accept His proof and believe in His evidence.' This is like the Ayah:
إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِى سَيَدْخُلُونَ جَهَنَّمَ دَخِرِينَ
(Verily, those who scorn My worship they will surely enter Hell in humiliation!) (40:60)
إِنِّى ءَاتِيكُمْ بِسُلْطَانٍ مُّبِينٍ
(Truly, I have come to you with a manifest authority.) means, with clear and obvious proof. This refers to the clear signs and definitive evidence with which Allah sent him.
وَإِنِّى عُذْتُ بِرَبِّى وَرَبِّكُمْ أَن تَرْجُمُونِ
(And truly, I seek refuge with my Lord and your Lord, lest you should stone me.) Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, and Abu Salih said, "This refers to a verbal assault, which means insults." Qatadah said, "Meaning `stoning' in the literal sense, so that the meaning is: `I seek refuge with Allah, Who created me and you, from your making any harmful words or actions reach me."'
وَإِن لَّمْ تُؤْمِنُواْ لِى فَاعْتَزِلُونِ
(But if you believe me not, then keep away from me and leave me alone.) means, `then let us leave one another alone and live in peace until Allah judges between us.' After Musa, may Allah be pleased with him, had stayed among them for a long time, and the proof of Allah had been established against them, and that only increased them in disbelief and stubbornness, he prayed to his Lord against them, a prayer which was answered. Allah says:
وَقَالَ مُوسَى رَبَّنَآ إِنَّكَ ءاتَيْتَ فِرْعَوْنَ وَمَلاّهُ زِينَةً وَأَمْوَالاً فِى الْحَيَوةِ الدُّنْيَا رَبَّنَا لِيُضِلُّواْ عَن سَبِيلِكَ رَبَّنَا اطْمِسْ عَلَى أَمْوَلِهِمْ وَاشْدُدْ عَلَى قُلُوبِهِمْ فَلاَ يُؤْمِنُواْ حَتَّى يَرَوُاْ الْعَذَابَ الاٌّلِيمَ قَالَ قَدْ أُجِيبَتْ دَّعْوَتُكُمَا فَاسْتَقِيمَا
(And Musa said: "Our Lord! You have indeed bestowed on Fir`awn and his chiefs splendor and wealth in the life of this world, our Lord! That they may lead men astray from Your path. Our Lord! Destroy their wealth, and harden their hearts, so that they will not believe until they see the painful torment." Allah said: "Verily, the invocation of you both is accepted. So you both keep to the straight way.") (10:88-89) And Allah says here:
فَدَعَا رَبَّهُ أَنَّ هَـؤُلاَءِ قَوْمٌ مُّجْرِمُونَ
(So he (Musa) called upon his Lord (saying): "These are indeed the people who are criminals.") Whereupon Allah commanded him to bring the Children of Israel out from among them, without the command, consent or permission of Fir`awn. Allah said:
فَأَسْرِ بِعِبَادِى لَيْلاً إِنَّكُم مُّتَّبَعُونَ
(Depart you with My servants by night. Surely, you will be pursued.) This is like the Ayah:
وَلَقَدْ أَوْحَيْنَآ إِلَى مُوسَى أَنْ أَسْرِ بِعِبَادِى فَاضْرِبْ لَهُمْ طَرِيقاً فِى الْبَحْرِ يَبَساً لاَّ تَخَافُ دَرَكاً وَلاَ تَخْشَى
And indeed We revealed to Mu0sa0 (saying): Travel by night with My servants and strike a dry path for them in the sea, fearing neither to be overtaken nor being afraid (of drowning in the sea). )20:77(
وَاتْرُكِ الْبَحْرَ رَهْواً إِنَّهُمْ جُندٌ مُّغْرَقُونَ
(And leave the sea as it is (quiet and divided). Verily, they are a host to be drowned.) When Musa and the Children of Israel has crossed the sea, Musa wanted to strike it with his staff so that it would go back as it had been, and it would form a barrier between then and Fir`awn and prevent him from reaching them. But Allah commanded him to leave it as it was, quiet and divided, and gave him the glad tidings that they were a host to be drowned, and that he should not fear either being overtaken by Fir`awn or drowning in the sea. Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, said:
وَاتْرُكِ الْبَحْرَ رَهْواً
(And leave the sea as it is (quiet and divided).) means, leave it as it is and keep moving. Mujahid said:
رَهْواً
(as it is) means, a dry path, as it is. `Do not command it to go back; leave it until the last of them have entered it.' This was also the view of `Ikrimah, Ar-Rabi` bin Anas, Ad-Dahhak, Qatadah, Ibn Zayd, Ka`b Al-Ahbar, Simak bin Harb and others.
كَمْ تَرَكُواْ مِن جَنَّـتٍ وَعُيُونٍ وَزُرُوعٍ
(How many of gardens and springs that they left behind. And green crops) this refers to rivers and wells.
وَمَقَامٍ كَرِيمٍ
and goodly places, means, fine dwellings and beautiful places. Muja0hid and Sa 0d bin Jubayr said:
وَمَقَامٍ كَرِيمٍ
(and goodly places,) means elevated places.
وَنَعْمَةٍ كَانُواْ فِيهَا فَـكِهِينَ
(And comforts of life wherein they used to take delight!) means, a life which they were enjoying, where they could eat whatever they wanted and wear what they liked, with wealth and glory and power in the land. Then all of that was taken away in a single morning, they departed from this world and went to Hell, what a terrible abode!
كَذَلِكَ وَأَوْرَثْنَـهَا قَوْماً ءَاخَرِينَ
(Thus (it was)! And We made other people inherit them.) namely the Children of Israel.
فَمَا بَكَتْ عَلَيْهِمُ السَّمَآءُ وَالاٌّرْضُ
(And the heavens and the earth wept not for them, ) means, they had no righteous deeds which used to ascend through the gates of the heavens, which would weep for them when they died, and they had no places on earth where they used to worship Allah which would notice their loss. So they did not deserve to be given a respite, because of their disbelief, sin, transgression and stubbornness. Ibn Jarir recorded that Sa`id bin Jubayr said, "A man came to Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, and said to him: `O Abu Al-`Abbas, Allah says,
فَمَا بَكَتْ عَلَيْهِمُ السَّمَآءُ وَالاٌّرْضُ وَمَا كَانُواْ مُنظَرِينَ
(And the heavens and the earth wept not for them, nor were they given respite) -- do the heavens and the earth weep for anybody' He, may Allah be pleased with him, said, `Yes, there is no one who does not have a gate in the heavens through which his provision comes down and his good deeds ascend. When the believer dies, that gate is closed; it misses him and weeps for him, and the place of prayer on earth where he used to pray and remember Allah also weeps for him. But the people of Fir`awn left no trace of righteousness on the earth and they had no good deeds that ascended to Allah, so the heavens and the earth did not weep for them."' Al-`Awfi reported something similar from Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him.
وَلَقَدْ نَجَّيْنَا بَنِى إِسْرَءِيلَ مِنَ الْعَذَابِ الْمُهِينِ - مِن فِرْعَوْنَ إِنَّهُ كَانَ عَالِياً مِّنَ الْمُسْرِفِينَ
(And indeed We saved the Children of Israel from the humiliating torment from Fir`awn; verily, he was arrogant and was of the excessive. ) Here Allah reminds them of how He saved them from their humiliation and subjugation at the hands of Fir`awn, when they were forced to do menial tasks.
مِن فِرْعَوْنَ إِنَّهُ كَانَ عَالِياً
(From Fir`awn; verily, he was arrogant) means, he was proud and stubborn. This is like the Ayah:
إِنَّ فِرْعَوْنَ عَلاَ فِى الاٌّرْضِ
(Verily, Fir`awn exalted himself in the land) (28:4).
فَاسْتَكْبَرُواْ وَكَانُواْ قَوْماً عَـلِينَ
(but they behaved insolently and they were people self-exalting) (23:46). He was one of the excessive and held a foolish opinion of himself.
وَلَقَدِ اخْتَرْنَـهُمْ عَلَى عِلْمٍ عَلَى الْعَـلَمِينَ
(And We chose them above the nations (Al-`Alamin) with knowledge,) Mujahid said, "This means that they were chosen above those among whom they lived." Qatadah said, "They were chosen above the other people of their own time, and it was said that in every period there are people who are chosen above others." This is like the Ayah:
قَالَ يَمُوسَى إِنْى اصْطَفَيْتُكَ عَلَى النَّاسِ
((Allah) said: "O Musa I have chosen you above men.") (7:144), which means, above the people of his time. This is also like the Ayah:
وَاصْطَفَـكِ عَلَى نِسَآءِ الْعَـلَمِينَ
(and (Allah has) chosen you (Maryam) above the women of the nations (Al-`Alamin).) (3:42), i.e., Maryam was chosen above the women of her time. For Khadijah, may Allah be pleased with her, is higher than her in status or is equal to her, as was Asiyah bint Muzahim, the wife of Fir`awn. And the superiority of `A'ishah, may Allah be pleased with her, over all other women is like the superiority of Tharid over all other dishes.
وَءَاتَيْنَـهُم مِّنَ الاٌّيَـتِ
(And granted them signs) means clear proofs and extraordinary evidence.
مَا فِيهِ بَلَؤٌاْ مُّبِينٌ
(in which there was a plain trial.) means, an obvious test to show who would be guided by it.
قبطیوں کا انجام ارشاد ہوتا ہے کہ ان مشرکین سے پہلے مصر کے قبطیوں کو ہم نے جانچا ان کی طرف اپنے بزرگ رسول حضرت موسیٰ کو بھیجا انہوں نے میرا پیغام پہنچایا کہ بنی اسرائیل کو میرے ساتھ کردو انہیں دکھ نہ دو میں اپنی نبوت پر گواہی دینے والے معجزے اپنے ساتھ لایا ہوں اور ہدایت کے ماننے والے سلامتی سے رہیں گے مجھے اللہ تعالیٰ نے اپنی وحی کا امانت دار بنا کر تمہاری طرف بھیجا ہے میں تمہیں اس کا پیغام پہنچا رہا ہوں تمہیں رب کی باتوں کے ماننے سے سرکشی نہ کرنی چاہئے اس کے بیان کردہ دلائل و احکام کے سامنے سر تسلیم خم کرنا چاہئے۔ اس کی عبادتوں سے جی چرانے والے ذلیل و خوار ہو کر جہنم واصل ہوتے ہیں میں تو تمہارے سامنے کھلی دلیل اور واضح آیت رکھتا ہوں میں تمہاری بدگوئی اور اہتمام سے اللہ کی پناہ لیتا ہوں۔ ابن عباس اور ابو صالہ تو یہی کہتے ہیں اور قتادہ کہتے ہیں مراد پتھراؤ کرنا پتھروں سے مار ڈالنا ہے یعنی زبانی ایذاء سے اور دستی ایذاء سے میں اپنے رب کی جو تمہارا بھی مالک ہے پناہ چاہتا ہوں اچھا اگر تم میری نہیں مانتے مجھ پر بھروسہ نہیں کرتے اللہ پر ایمان نہیں لاتے تو کم از کم میری تکلیف دہی اور ایذاء رسانی سے تو باز رہو۔ اور اس کے منتظر رہو جب کہ خود اللہ ہم میں تم میں فیصلہ کر دے گا پھر جب اللہ کے نبی کلیم اللہ حضرت موسیٰ نے ایک لمبی مدت ان میں گذاری خوب دل کھول کھول کر تبلیغ کرلی ہر طرح کی خیر خواہی کی ان کی ہدایت کے لئے ہرچند جتن کر لئے اور دیکھا کہ وہ روز بروز اپنے کفر میں بڑھتے جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ سے انکے لئے بددعا کی جیسے اور آیت میں ہے کہ حضرت موسیٰ نے کہا اے ہمارے رب تو نے فرعون اور اس کے امراء کو دنیوی نمائش اور مال و متاع دے رکھی ہے اے اللہ یہ اس سے دوسروں کو بھی تیری راہ سے بھٹکا رہے ہیں تو ان کا مال غارت کر اور ان کے دل اور سخت کر دے تاکہ دردناک عذابوں کے معائنہ تک انہیں ایمان نصیب ہی نہ ہو اللہ کی طرف سے جواب ملا کہ اے موسیٰ اور اے ہارون میں نے تمہاری دعا قبول کرلی اب تم استقامت پر تل جاؤ یہاں فرماتا ہے کہ ہم نے موسیٰ سے کہا کہ میرے بندوں یعنی بنی اسرائیل کو راتوں رات فرعون اور فرعونیوں کی بیخبر ی میں یہاں سے لے کر چلے جاؤ۔ یہ کفار تمہارا پیچھا کریں گے لیکن تم بےخوف و خطر چلے جاؤ میں تمہارے لئے دریا کو خشک کر دوں گا اس کے بعد حضرت موسیٰ ؑ بنی اسرائیل کو لے کر چل پڑے فرعونی لشکر مع فرعون کے ان کے پکڑنے کو چلا بیچ میں دریا حائل ہوا آپ بنی اسرائیل کو لے کر اس میں اتر گئے دریا کا پانی سوکھ گیا اور آپ اپنے ساتھیوں سمیت پار ہوگئے تو چاہا کہ دریا پر لکڑی مار کر اسے کہہ دیں کہ اب تو اپنی روانی پر آجا تاکہ فرعون اس سے گزر نہ سکے وہیں اللہ نے وحی بھیجی کہ اسے اسی حال میں سکون کے ساتھ ہی رہنے دو ساتھ ہی اس کی وجہ بھی بتادی کہ یہ سب اسی میں ڈوب مریں گے۔ پھر تو تم سب بالکل ہی مطمئن اور بےخوف ہوجاؤ گے غرض حکم ہوا تھا کہ دریا کو خشک چھوڑ کر چل دیں (رھواً) کے معنی سوکھا راستہ جو اصلی حالت پر ہو۔ مقصد یہ ہے کہ پار ہو کہ دریا کو روانی کا حکم نہ دینا یہاں تک کہ دشمنوں میں سے ایک ایک اس میں آ نہ جائے اب اسے جاری ہونے کا حکم ملتے ہی سب کو غرق کر دے گا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے دیکھو کیسے غارت ہوئے۔ باغات کھتیاں نہریں مکانات اور بیٹھکیں سب چھوڑ کر فنا ہوگئے حضرت عبداللہ بن عمرو فرماتے ہیں مصر کا دریائے نیل مشرق مغرب کے دریاؤں کا سردار ہے اور سب نہریں اس کے ماتحت ہیں جب اس کی روانی اللہ کو منظور ہوتی ہیں تو تمام نہروں کو اس میں پانی پہنچانے کا حکم ہوتا ہے جہاں تک رب کو منظور ہو اس میں پانی آجاتا ہے پھر اللہ تبارک و تعالیٰ اور نہروں کو روک دیتا ہے اور حکم دیتا ہے کہ اب اپنی اپنی جگہ چلی جاؤ اور فرعونیوں کے یہ باغات دریائے نیل کے دونوں کناروں پر مسلسل چلے گئے تھے رسواں سے لے کر رشید تک اس کا سلسلہ تھا اور اس کی نو خلیجیں تھیں۔ خلیج اسکندریہ، دمیاط، خلیج سردوس، خلیج منصف، خلیج منتہی اور ان سب میں اتصال تھا ایک دوسرے سے متصل تھیں اور پہاڑوں کے دامن میں ان کی کھیتیاں تھیں جو مصر سے لے کر دریا تک برابر چلی آتی تھیں ان تمام کو بھی دریا سیراب کرتا تھا بڑے امن چین کی زندگی گذار رہے تھے لیکن مغرور ہوگئے اور آخر ساری نعمتیں یونہی چھوڑ کر تباہ کر دئیے گئے۔ مال اولاد جاہ و مال سلطنت و عزت ایک ہی رات میں چھوڑ گئے اور بھس کی طرح اڑا دئیے گئے اور گذشتہ کل کی طرح بےنشان کر دئیے گئے ایسے ڈبوئے گئے کہ ابھر نہ سکے جہنم واصل ہوگئے اور بدترین جگہ پہنچ گئے ان کی یہ تمام چیزیں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو دے دیں۔ جیسے اور آیت میں فرمایا ہے کہ ہم نے ان کمزوروں کو ان کے صبر کے بدلے اس سرکش قوم کی کل نعمتیں عطا فرمادیں اور بےایمانوں کا بھرکس نکال ڈالا یہاں بھی دوسری قوم جسے وارث بنایا اس سے مراد بھی بنی اسرائیل ہیں پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ان پر زمین و آسمان نہ روئے کیونکہ ان پاپیوں کے نیک اعمال تھے ہی نہیں جو آسمانوں پر چڑھتے ہوں اور اب ان کے نہ چڑھنے کی وجہ سے وہ افسوس کریں نہ زمین میں ان کی جگہیں ایسی تھیں کہ جہاں بیٹھ کر یہ اللہ کی عبادت کرتے ہوں اور آج انہیں نہ پا کر زمین کی وہ جگہ ان کا ماتم کرے انہیں مہلت نہ دی گئی۔ مسند ابو یعلی موصلی میں ہے ہر بندے کے لئے آسمان میں دو دروازے ہیں ایک سے اس کی روزی اترتی ہے دوسرے سے اس کے اعمال اور اس کے کلام چڑھتے ہیں۔ جب یہ مرجاتا ہے اور وہ عمل و رزق کو گم شدہ پاتے ہیں تو روتے ہیں پھر اسی آیت کی حضور ﷺ نے تلاوت کی ابن ابی حاتم میں فرمان رسول ﷺ ہے کہ اسلام غربت سے شروع ہوا اور پھر غربت پر آجائے گا یاد رکھو مومن کہیں انجام مسافر کی طرح نہیں مومن جہاں کہیں سفر میں ہوتا ہے جہاں اس کا کوئی رونے والا نہ ہو وہاں بھی اس کے رونے والے آسمان و زمین موجود ہیں پھر حضور ﷺ نے اس آیت کی تلاوت کر کے فرمایا یہ دونوں کفار پر روتے نہیں حضرت علی سے کسی نے پوچھا کہ آسمان و زمین کبھی کسی پر روئے بھی ہیں ؟ آپ نے فرمایا آج تو نے وہ بات دریافت کی ہے کہ تجھ سے پہلے مجھ سے اس کا سوال کسی نے نہیں کیا۔ سنو ہر بندے کے لئے زمین میں ایک نماز کی جگہ ہوتی ہے اور ایک جگہ آسمان میں اس کے عمل کے چڑھنے کی ہوتی ہے اور آل فرعون کے نیک اعمال ہی نہ تھے اس وجہ سے نہ زمین ان پر روئی نہ آسمان کو ان پر رونا آیا اور نہ انہیں ڈھیل دی گئی کہ کوئی نیکی بجا لاسکیں، حضرت ابن عباس سے یہ سوال ہوا تو آپ نے بھی قریب قریب یہی جواب دیا بلکہ آپ سے مروی ہے کہ چالیس دن تک زمین مومن پر روتی رہتی ہے حضرت مجاہد نے جب یہ بیان فرمایا تو کسی نے اس پر تعجب کا اظہار کیا آپ نے فرمایا سبحان اللہ اس میں تعجب کی کونسی بات ہے جو بندہ زمین کو اپنے رکوع و سجود سے آباد رکھتا تھا جس بندے کی تکبیر و تسبیح کی آوازیں آسمان برابر سنتا رہا تھا بھلا یہ دونوں اس عابد اللہ پر روئیں گے نہیں ؟ حضرت قتادہ فرماتے ہیں فرعونیوں جیسے ذلیل و خوار لوگوں پر یہ کیوں روتے ؟ حضرت ابراہیم فرماتے ہیں دنیا جب سے رچائی گئی ہے تب سے آسمان صرف دو شخصوں پر رویا ہے ان کے شاگرد سے سوال ہوا کہ کیا آسمان و زمین ہر ایمان دار پر روتے نہیں ؟ فرمایا صرف اتنا حصہ جس حصے سے اس کا نیک عمل چڑھتا تھا سنو آسمان کا رونا اس کا سرخ ہونا اور مثل نری کے گلابی ہوجانا ہے سو یہ حال صرف دو شخصوں کی شہادت پر ہوا ہے۔ حضرت یحییٰ کے قتل کے موقعے پر تو آسمان سرخ ہوگیا اور خون برسانے لگا اور دوسرے حضرت حسین کے قتل پر بھی آسمان کا رنگ سرخ ہوگیا تھا (ابن ابی حاتم) یزید ابن ابو زیاد کا قول ہے کہ قتل حسین کی وجہ سے چار ماہ تک آسمان کے کنارے سرخ رہے اور یہی سرخی اس کا رونا ہے حضرت عطا فرماتے ہیں اس کے کناروں کا سرخ ہوجانا اس کا رونا ہے یہ بھی ذکر کیا گیا ہے کہ قتل حسین کے دن جس پتھر کو الٹا جاتا تھا اس کے نیچے سے منجمند خون نکلتا تھا۔ اس دن سورج کو بھی گہن لگا ہوا تھا آسمان کے کنارے بھی سرخ تھے اور پتھر گرے تھے۔ لیکن یہ سب باتیں بےبنیاد ہیں اور شیعوں کے گھڑے ہوئے افسانے ہیں اس میں کوئی شک نہیں کہ نواسہ رسول ﷺ کی شہادت کا واقعہ نہایت درد انگیز اور حسرت و افسوس والا ہے لیکن اس پر شیعوں نے جو حاشیہ چڑھایا ہے اور گھڑ گھڑا کر جو باتیں پھیلا دی ہیں وہ محض جھوٹ اور بالکل گپ ہیں۔ خیال تو فرمائیے کہ اس سے بہت زیادہ اہم واقعات ہوئے اور قتل حسین سے بہت بڑی وارداتیں ہوئیں لیکن ان کے ہونے پر بھی آسمان و زمین وغیرہ میں یہ انقلاب نہ ہوا۔ آپ ہی کے والد ماجد حضرت علی بھی قتل کئے گئے جو بالاجماع آپ سے افضل تھے لیکن نہ تو پتھروں تلے سے خون نکلا اور کچھ ہوا۔ حضرت عثمان بن عفان کو گھیر لیا جاتا ہے اور نہایت بےدردی سے بلاوجہ ظلم و ستم کے ساتھ انہیں قتل کیا جاتا ہے فاروق اعظم حضرت عمر بن خطاب کو صبح کی نماز پڑھاتے ہوئے نماز کی جگہ ہی قتل کیا جاتا ہے یہ وہ زبردست مصیبت تھی کہ اس سے پہلے مسلمان کبھی ایسی مصیبت نہیں پہنچائے گئے تھے لیکن ان واقعات میں سے کسی واقعہ کے وقت اب میں سے ایک بھی بات نہیں جو شیعوں نے مقتل حسین کی نسبت مشہور کر رکھی ہے۔ ان سب کو بھی جانے دیجئے تمام انسانوں کے دینی اور دنیوی سردار سید البشر رسول اللہ ﷺ کو لیجئے جس روز آپ رحلت فرماتے ہیں ان میں سے کچھ بھی نہیں ہوتا اور سنئے جس روز حضور ﷺ کے صاحبزادے حضرت ابراہیم کا انتقال ہوتا ہے اتفاقاً اسی روز سورج گہن ہوتا ہے اور کوئی کہہ دیتا ہے کہ ابراہیم کے انتقال کی وجہ سورج کو گہن لگا ہے۔ تو حضور ﷺ گہن کی نماز ادا کر کے فوراً خطبے پر کھڑے ہوجاتے ہیں اور فرماتے ہیں سورج چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں کسی کی موت زندگی کی وجہ سے انہیں گہن نہیں لگتا اس کے بعد کی آیت میں اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل پر اپنا احسان جتاتا ہے کہ ہم نے انہیں فرعون جیسے متکبر حدود شکن کے ذلیل عذابوں سے نجات دی اس نے بنی اسرائیل کو پست و خوار کر رکھا تھا ذلیل خدمتیں ان سے لیتا تھا اور اپنے نفس کو تولتا رہتا تھا خودی اور خود بینی میں لگا ہوا تھا بیوقوفی سے کسی چیز کی حد بندی کا خیال نہیں کرتا تھا اللہ کی زمین میں سرکشی کئے ہوئے تھا۔ اور ان بدکاریوں میں اس کی قوم بھی اس کے ساتھ تھی پھر بنی اسرائیل پر ایک اور مہربانی کا ذکر فرما رہا ہے کہ اس زمانے کے تمام لوگوں پر انہیں فضیلت عطا فرمائی ہر زمانے کو عالم کہا جاتا ہے یہ مراد نہیں کہ تمام اگلوں پچھلوں پر انہیں بزرگی دی یہ آیت بھی اس آیت کی طرح ہے جس میں فرمان ہے آیت (قَالَ يٰمُوْسٰٓي اِنِّى اصْطَفَيْتُكَ عَلَي النَّاسِ بِرِسٰلٰتِيْ وَبِكَلَامِيْ ڮ فَخُذْ مَآ اٰتَيْتُكَ وَكُنْ مِّنَ الشّٰكِرِيْنَ01404) 7۔ الاعراف :144) اس سے بھی یہی مطلب ہے کہ اس زمانے کی تمام عورتوں پر آپ کو فضیلت ہے اس لئے کہ ام المومنین حضرت خدیجہ ان سے یقینا افضل ہیں یا کم ازکم برابر۔ اسی طرح حضرت آسیہ بنت مزاحم جو فرعون کی بیوی تھیں اور ام المومنین حضرت عائشہ کی فضیلت تمام عورتوں پر ایسی ہے جیسی فضیلت شوربے میں بھگوئی روٹی کی اور کھانوں پر پھر بنی اسرائیل پر ایک اور احسان بیان ہو رہا ہے کہ ہم نے انہیں وہ حجت وبرہان دلیل و نشان اور معجزات و کرامات عطا فرمائے جن میں ہدایت کی تلاش کرنے والوں کے لئے صاف صاف امتحان تھا۔
20
View Single
وَإِنِّي عُذۡتُ بِرَبِّي وَرَبِّكُمۡ أَن تَرۡجُمُونِ
“And I take the refuge of my Lord and yours, against your stoning me.”
اور بیشک میں نے اپنے رب اور تمہارے رب کی پناہ لے لی ہے اس سے کہ تم مجھے سنگ سار کرو
Tafsir Ibn Kathir
The Story of Musa and Fir`awn, and how the Children of Israel were saved
Allah tells us, `before these idolators, We tested the people of Fir`awn, the copts of Egypt.'
وَجَآءَهُمْ رَسُولٌ كَرِيمٌ
(when there came to them a noble Messenger.) means, Musa, peace be upon him, the one to whom Allah spoke.
أَنْ أَدُّواْ إِلَىَّ عِبَادَ اللَّهِ
(Deliver to me the servants of Allah.) This is like the Ayah:
فَأَرْسِلْ مَعَنَا بَنِى إِسْرَءِيلَ وَلاَ تُعَذِّبْهُمْ قَدْ جِئْنَـكَ بِـَايَةٍ مِّن رَّبِّكَ وَالسَّلَـمُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى
(So let the Children of Israel go with us, and torment them not; indeed, we have come with a sign from your Lord! And peace will be upon him who follows the guidance!") (20:47)
إِنِّي لَكُمْ رَسُولٌ أَمِينٌ
(Verily, I am to you a Messenger worthy of all trust.) means, `what I convey to you is trustworthy.'
وَأَن لاَّ تَعْلُواْ عَلَى اللَّهِ
(And exalt not yourselves against Allah.) means, `and do not be too arrogant to follow His signs. Accept His proof and believe in His evidence.' This is like the Ayah:
إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِى سَيَدْخُلُونَ جَهَنَّمَ دَخِرِينَ
(Verily, those who scorn My worship they will surely enter Hell in humiliation!) (40:60)
إِنِّى ءَاتِيكُمْ بِسُلْطَانٍ مُّبِينٍ
(Truly, I have come to you with a manifest authority.) means, with clear and obvious proof. This refers to the clear signs and definitive evidence with which Allah sent him.
وَإِنِّى عُذْتُ بِرَبِّى وَرَبِّكُمْ أَن تَرْجُمُونِ
(And truly, I seek refuge with my Lord and your Lord, lest you should stone me.) Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, and Abu Salih said, "This refers to a verbal assault, which means insults." Qatadah said, "Meaning `stoning' in the literal sense, so that the meaning is: `I seek refuge with Allah, Who created me and you, from your making any harmful words or actions reach me."'
وَإِن لَّمْ تُؤْمِنُواْ لِى فَاعْتَزِلُونِ
(But if you believe me not, then keep away from me and leave me alone.) means, `then let us leave one another alone and live in peace until Allah judges between us.' After Musa, may Allah be pleased with him, had stayed among them for a long time, and the proof of Allah had been established against them, and that only increased them in disbelief and stubbornness, he prayed to his Lord against them, a prayer which was answered. Allah says:
وَقَالَ مُوسَى رَبَّنَآ إِنَّكَ ءاتَيْتَ فِرْعَوْنَ وَمَلاّهُ زِينَةً وَأَمْوَالاً فِى الْحَيَوةِ الدُّنْيَا رَبَّنَا لِيُضِلُّواْ عَن سَبِيلِكَ رَبَّنَا اطْمِسْ عَلَى أَمْوَلِهِمْ وَاشْدُدْ عَلَى قُلُوبِهِمْ فَلاَ يُؤْمِنُواْ حَتَّى يَرَوُاْ الْعَذَابَ الاٌّلِيمَ قَالَ قَدْ أُجِيبَتْ دَّعْوَتُكُمَا فَاسْتَقِيمَا
(And Musa said: "Our Lord! You have indeed bestowed on Fir`awn and his chiefs splendor and wealth in the life of this world, our Lord! That they may lead men astray from Your path. Our Lord! Destroy their wealth, and harden their hearts, so that they will not believe until they see the painful torment." Allah said: "Verily, the invocation of you both is accepted. So you both keep to the straight way.") (10:88-89) And Allah says here:
فَدَعَا رَبَّهُ أَنَّ هَـؤُلاَءِ قَوْمٌ مُّجْرِمُونَ
(So he (Musa) called upon his Lord (saying): "These are indeed the people who are criminals.") Whereupon Allah commanded him to bring the Children of Israel out from among them, without the command, consent or permission of Fir`awn. Allah said:
فَأَسْرِ بِعِبَادِى لَيْلاً إِنَّكُم مُّتَّبَعُونَ
(Depart you with My servants by night. Surely, you will be pursued.) This is like the Ayah:
وَلَقَدْ أَوْحَيْنَآ إِلَى مُوسَى أَنْ أَسْرِ بِعِبَادِى فَاضْرِبْ لَهُمْ طَرِيقاً فِى الْبَحْرِ يَبَساً لاَّ تَخَافُ دَرَكاً وَلاَ تَخْشَى
And indeed We revealed to Mu0sa0 (saying): Travel by night with My servants and strike a dry path for them in the sea, fearing neither to be overtaken nor being afraid (of drowning in the sea). )20:77(
وَاتْرُكِ الْبَحْرَ رَهْواً إِنَّهُمْ جُندٌ مُّغْرَقُونَ
(And leave the sea as it is (quiet and divided). Verily, they are a host to be drowned.) When Musa and the Children of Israel has crossed the sea, Musa wanted to strike it with his staff so that it would go back as it had been, and it would form a barrier between then and Fir`awn and prevent him from reaching them. But Allah commanded him to leave it as it was, quiet and divided, and gave him the glad tidings that they were a host to be drowned, and that he should not fear either being overtaken by Fir`awn or drowning in the sea. Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, said:
وَاتْرُكِ الْبَحْرَ رَهْواً
(And leave the sea as it is (quiet and divided).) means, leave it as it is and keep moving. Mujahid said:
رَهْواً
(as it is) means, a dry path, as it is. `Do not command it to go back; leave it until the last of them have entered it.' This was also the view of `Ikrimah, Ar-Rabi` bin Anas, Ad-Dahhak, Qatadah, Ibn Zayd, Ka`b Al-Ahbar, Simak bin Harb and others.
كَمْ تَرَكُواْ مِن جَنَّـتٍ وَعُيُونٍ وَزُرُوعٍ
(How many of gardens and springs that they left behind. And green crops) this refers to rivers and wells.
وَمَقَامٍ كَرِيمٍ
and goodly places, means, fine dwellings and beautiful places. Muja0hid and Sa 0d bin Jubayr said:
وَمَقَامٍ كَرِيمٍ
(and goodly places,) means elevated places.
وَنَعْمَةٍ كَانُواْ فِيهَا فَـكِهِينَ
(And comforts of life wherein they used to take delight!) means, a life which they were enjoying, where they could eat whatever they wanted and wear what they liked, with wealth and glory and power in the land. Then all of that was taken away in a single morning, they departed from this world and went to Hell, what a terrible abode!
كَذَلِكَ وَأَوْرَثْنَـهَا قَوْماً ءَاخَرِينَ
(Thus (it was)! And We made other people inherit them.) namely the Children of Israel.
فَمَا بَكَتْ عَلَيْهِمُ السَّمَآءُ وَالاٌّرْضُ
(And the heavens and the earth wept not for them, ) means, they had no righteous deeds which used to ascend through the gates of the heavens, which would weep for them when they died, and they had no places on earth where they used to worship Allah which would notice their loss. So they did not deserve to be given a respite, because of their disbelief, sin, transgression and stubbornness. Ibn Jarir recorded that Sa`id bin Jubayr said, "A man came to Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, and said to him: `O Abu Al-`Abbas, Allah says,
فَمَا بَكَتْ عَلَيْهِمُ السَّمَآءُ وَالاٌّرْضُ وَمَا كَانُواْ مُنظَرِينَ
(And the heavens and the earth wept not for them, nor were they given respite) -- do the heavens and the earth weep for anybody' He, may Allah be pleased with him, said, `Yes, there is no one who does not have a gate in the heavens through which his provision comes down and his good deeds ascend. When the believer dies, that gate is closed; it misses him and weeps for him, and the place of prayer on earth where he used to pray and remember Allah also weeps for him. But the people of Fir`awn left no trace of righteousness on the earth and they had no good deeds that ascended to Allah, so the heavens and the earth did not weep for them."' Al-`Awfi reported something similar from Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him.
وَلَقَدْ نَجَّيْنَا بَنِى إِسْرَءِيلَ مِنَ الْعَذَابِ الْمُهِينِ - مِن فِرْعَوْنَ إِنَّهُ كَانَ عَالِياً مِّنَ الْمُسْرِفِينَ
(And indeed We saved the Children of Israel from the humiliating torment from Fir`awn; verily, he was arrogant and was of the excessive. ) Here Allah reminds them of how He saved them from their humiliation and subjugation at the hands of Fir`awn, when they were forced to do menial tasks.
مِن فِرْعَوْنَ إِنَّهُ كَانَ عَالِياً
(From Fir`awn; verily, he was arrogant) means, he was proud and stubborn. This is like the Ayah:
إِنَّ فِرْعَوْنَ عَلاَ فِى الاٌّرْضِ
(Verily, Fir`awn exalted himself in the land) (28:4).
فَاسْتَكْبَرُواْ وَكَانُواْ قَوْماً عَـلِينَ
(but they behaved insolently and they were people self-exalting) (23:46). He was one of the excessive and held a foolish opinion of himself.
وَلَقَدِ اخْتَرْنَـهُمْ عَلَى عِلْمٍ عَلَى الْعَـلَمِينَ
(And We chose them above the nations (Al-`Alamin) with knowledge,) Mujahid said, "This means that they were chosen above those among whom they lived." Qatadah said, "They were chosen above the other people of their own time, and it was said that in every period there are people who are chosen above others." This is like the Ayah:
قَالَ يَمُوسَى إِنْى اصْطَفَيْتُكَ عَلَى النَّاسِ
((Allah) said: "O Musa I have chosen you above men.") (7:144), which means, above the people of his time. This is also like the Ayah:
وَاصْطَفَـكِ عَلَى نِسَآءِ الْعَـلَمِينَ
(and (Allah has) chosen you (Maryam) above the women of the nations (Al-`Alamin).) (3:42), i.e., Maryam was chosen above the women of her time. For Khadijah, may Allah be pleased with her, is higher than her in status or is equal to her, as was Asiyah bint Muzahim, the wife of Fir`awn. And the superiority of `A'ishah, may Allah be pleased with her, over all other women is like the superiority of Tharid over all other dishes.
وَءَاتَيْنَـهُم مِّنَ الاٌّيَـتِ
(And granted them signs) means clear proofs and extraordinary evidence.
مَا فِيهِ بَلَؤٌاْ مُّبِينٌ
(in which there was a plain trial.) means, an obvious test to show who would be guided by it.
قبطیوں کا انجام ارشاد ہوتا ہے کہ ان مشرکین سے پہلے مصر کے قبطیوں کو ہم نے جانچا ان کی طرف اپنے بزرگ رسول حضرت موسیٰ کو بھیجا انہوں نے میرا پیغام پہنچایا کہ بنی اسرائیل کو میرے ساتھ کردو انہیں دکھ نہ دو میں اپنی نبوت پر گواہی دینے والے معجزے اپنے ساتھ لایا ہوں اور ہدایت کے ماننے والے سلامتی سے رہیں گے مجھے اللہ تعالیٰ نے اپنی وحی کا امانت دار بنا کر تمہاری طرف بھیجا ہے میں تمہیں اس کا پیغام پہنچا رہا ہوں تمہیں رب کی باتوں کے ماننے سے سرکشی نہ کرنی چاہئے اس کے بیان کردہ دلائل و احکام کے سامنے سر تسلیم خم کرنا چاہئے۔ اس کی عبادتوں سے جی چرانے والے ذلیل و خوار ہو کر جہنم واصل ہوتے ہیں میں تو تمہارے سامنے کھلی دلیل اور واضح آیت رکھتا ہوں میں تمہاری بدگوئی اور اہتمام سے اللہ کی پناہ لیتا ہوں۔ ابن عباس اور ابو صالہ تو یہی کہتے ہیں اور قتادہ کہتے ہیں مراد پتھراؤ کرنا پتھروں سے مار ڈالنا ہے یعنی زبانی ایذاء سے اور دستی ایذاء سے میں اپنے رب کی جو تمہارا بھی مالک ہے پناہ چاہتا ہوں اچھا اگر تم میری نہیں مانتے مجھ پر بھروسہ نہیں کرتے اللہ پر ایمان نہیں لاتے تو کم از کم میری تکلیف دہی اور ایذاء رسانی سے تو باز رہو۔ اور اس کے منتظر رہو جب کہ خود اللہ ہم میں تم میں فیصلہ کر دے گا پھر جب اللہ کے نبی کلیم اللہ حضرت موسیٰ نے ایک لمبی مدت ان میں گذاری خوب دل کھول کھول کر تبلیغ کرلی ہر طرح کی خیر خواہی کی ان کی ہدایت کے لئے ہرچند جتن کر لئے اور دیکھا کہ وہ روز بروز اپنے کفر میں بڑھتے جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ سے انکے لئے بددعا کی جیسے اور آیت میں ہے کہ حضرت موسیٰ نے کہا اے ہمارے رب تو نے فرعون اور اس کے امراء کو دنیوی نمائش اور مال و متاع دے رکھی ہے اے اللہ یہ اس سے دوسروں کو بھی تیری راہ سے بھٹکا رہے ہیں تو ان کا مال غارت کر اور ان کے دل اور سخت کر دے تاکہ دردناک عذابوں کے معائنہ تک انہیں ایمان نصیب ہی نہ ہو اللہ کی طرف سے جواب ملا کہ اے موسیٰ اور اے ہارون میں نے تمہاری دعا قبول کرلی اب تم استقامت پر تل جاؤ یہاں فرماتا ہے کہ ہم نے موسیٰ سے کہا کہ میرے بندوں یعنی بنی اسرائیل کو راتوں رات فرعون اور فرعونیوں کی بیخبر ی میں یہاں سے لے کر چلے جاؤ۔ یہ کفار تمہارا پیچھا کریں گے لیکن تم بےخوف و خطر چلے جاؤ میں تمہارے لئے دریا کو خشک کر دوں گا اس کے بعد حضرت موسیٰ ؑ بنی اسرائیل کو لے کر چل پڑے فرعونی لشکر مع فرعون کے ان کے پکڑنے کو چلا بیچ میں دریا حائل ہوا آپ بنی اسرائیل کو لے کر اس میں اتر گئے دریا کا پانی سوکھ گیا اور آپ اپنے ساتھیوں سمیت پار ہوگئے تو چاہا کہ دریا پر لکڑی مار کر اسے کہہ دیں کہ اب تو اپنی روانی پر آجا تاکہ فرعون اس سے گزر نہ سکے وہیں اللہ نے وحی بھیجی کہ اسے اسی حال میں سکون کے ساتھ ہی رہنے دو ساتھ ہی اس کی وجہ بھی بتادی کہ یہ سب اسی میں ڈوب مریں گے۔ پھر تو تم سب بالکل ہی مطمئن اور بےخوف ہوجاؤ گے غرض حکم ہوا تھا کہ دریا کو خشک چھوڑ کر چل دیں (رھواً) کے معنی سوکھا راستہ جو اصلی حالت پر ہو۔ مقصد یہ ہے کہ پار ہو کہ دریا کو روانی کا حکم نہ دینا یہاں تک کہ دشمنوں میں سے ایک ایک اس میں آ نہ جائے اب اسے جاری ہونے کا حکم ملتے ہی سب کو غرق کر دے گا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے دیکھو کیسے غارت ہوئے۔ باغات کھتیاں نہریں مکانات اور بیٹھکیں سب چھوڑ کر فنا ہوگئے حضرت عبداللہ بن عمرو فرماتے ہیں مصر کا دریائے نیل مشرق مغرب کے دریاؤں کا سردار ہے اور سب نہریں اس کے ماتحت ہیں جب اس کی روانی اللہ کو منظور ہوتی ہیں تو تمام نہروں کو اس میں پانی پہنچانے کا حکم ہوتا ہے جہاں تک رب کو منظور ہو اس میں پانی آجاتا ہے پھر اللہ تبارک و تعالیٰ اور نہروں کو روک دیتا ہے اور حکم دیتا ہے کہ اب اپنی اپنی جگہ چلی جاؤ اور فرعونیوں کے یہ باغات دریائے نیل کے دونوں کناروں پر مسلسل چلے گئے تھے رسواں سے لے کر رشید تک اس کا سلسلہ تھا اور اس کی نو خلیجیں تھیں۔ خلیج اسکندریہ، دمیاط، خلیج سردوس، خلیج منصف، خلیج منتہی اور ان سب میں اتصال تھا ایک دوسرے سے متصل تھیں اور پہاڑوں کے دامن میں ان کی کھیتیاں تھیں جو مصر سے لے کر دریا تک برابر چلی آتی تھیں ان تمام کو بھی دریا سیراب کرتا تھا بڑے امن چین کی زندگی گذار رہے تھے لیکن مغرور ہوگئے اور آخر ساری نعمتیں یونہی چھوڑ کر تباہ کر دئیے گئے۔ مال اولاد جاہ و مال سلطنت و عزت ایک ہی رات میں چھوڑ گئے اور بھس کی طرح اڑا دئیے گئے اور گذشتہ کل کی طرح بےنشان کر دئیے گئے ایسے ڈبوئے گئے کہ ابھر نہ سکے جہنم واصل ہوگئے اور بدترین جگہ پہنچ گئے ان کی یہ تمام چیزیں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو دے دیں۔ جیسے اور آیت میں فرمایا ہے کہ ہم نے ان کمزوروں کو ان کے صبر کے بدلے اس سرکش قوم کی کل نعمتیں عطا فرمادیں اور بےایمانوں کا بھرکس نکال ڈالا یہاں بھی دوسری قوم جسے وارث بنایا اس سے مراد بھی بنی اسرائیل ہیں پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ان پر زمین و آسمان نہ روئے کیونکہ ان پاپیوں کے نیک اعمال تھے ہی نہیں جو آسمانوں پر چڑھتے ہوں اور اب ان کے نہ چڑھنے کی وجہ سے وہ افسوس کریں نہ زمین میں ان کی جگہیں ایسی تھیں کہ جہاں بیٹھ کر یہ اللہ کی عبادت کرتے ہوں اور آج انہیں نہ پا کر زمین کی وہ جگہ ان کا ماتم کرے انہیں مہلت نہ دی گئی۔ مسند ابو یعلی موصلی میں ہے ہر بندے کے لئے آسمان میں دو دروازے ہیں ایک سے اس کی روزی اترتی ہے دوسرے سے اس کے اعمال اور اس کے کلام چڑھتے ہیں۔ جب یہ مرجاتا ہے اور وہ عمل و رزق کو گم شدہ پاتے ہیں تو روتے ہیں پھر اسی آیت کی حضور ﷺ نے تلاوت کی ابن ابی حاتم میں فرمان رسول ﷺ ہے کہ اسلام غربت سے شروع ہوا اور پھر غربت پر آجائے گا یاد رکھو مومن کہیں انجام مسافر کی طرح نہیں مومن جہاں کہیں سفر میں ہوتا ہے جہاں اس کا کوئی رونے والا نہ ہو وہاں بھی اس کے رونے والے آسمان و زمین موجود ہیں پھر حضور ﷺ نے اس آیت کی تلاوت کر کے فرمایا یہ دونوں کفار پر روتے نہیں حضرت علی سے کسی نے پوچھا کہ آسمان و زمین کبھی کسی پر روئے بھی ہیں ؟ آپ نے فرمایا آج تو نے وہ بات دریافت کی ہے کہ تجھ سے پہلے مجھ سے اس کا سوال کسی نے نہیں کیا۔ سنو ہر بندے کے لئے زمین میں ایک نماز کی جگہ ہوتی ہے اور ایک جگہ آسمان میں اس کے عمل کے چڑھنے کی ہوتی ہے اور آل فرعون کے نیک اعمال ہی نہ تھے اس وجہ سے نہ زمین ان پر روئی نہ آسمان کو ان پر رونا آیا اور نہ انہیں ڈھیل دی گئی کہ کوئی نیکی بجا لاسکیں، حضرت ابن عباس سے یہ سوال ہوا تو آپ نے بھی قریب قریب یہی جواب دیا بلکہ آپ سے مروی ہے کہ چالیس دن تک زمین مومن پر روتی رہتی ہے حضرت مجاہد نے جب یہ بیان فرمایا تو کسی نے اس پر تعجب کا اظہار کیا آپ نے فرمایا سبحان اللہ اس میں تعجب کی کونسی بات ہے جو بندہ زمین کو اپنے رکوع و سجود سے آباد رکھتا تھا جس بندے کی تکبیر و تسبیح کی آوازیں آسمان برابر سنتا رہا تھا بھلا یہ دونوں اس عابد اللہ پر روئیں گے نہیں ؟ حضرت قتادہ فرماتے ہیں فرعونیوں جیسے ذلیل و خوار لوگوں پر یہ کیوں روتے ؟ حضرت ابراہیم فرماتے ہیں دنیا جب سے رچائی گئی ہے تب سے آسمان صرف دو شخصوں پر رویا ہے ان کے شاگرد سے سوال ہوا کہ کیا آسمان و زمین ہر ایمان دار پر روتے نہیں ؟ فرمایا صرف اتنا حصہ جس حصے سے اس کا نیک عمل چڑھتا تھا سنو آسمان کا رونا اس کا سرخ ہونا اور مثل نری کے گلابی ہوجانا ہے سو یہ حال صرف دو شخصوں کی شہادت پر ہوا ہے۔ حضرت یحییٰ کے قتل کے موقعے پر تو آسمان سرخ ہوگیا اور خون برسانے لگا اور دوسرے حضرت حسین کے قتل پر بھی آسمان کا رنگ سرخ ہوگیا تھا (ابن ابی حاتم) یزید ابن ابو زیاد کا قول ہے کہ قتل حسین کی وجہ سے چار ماہ تک آسمان کے کنارے سرخ رہے اور یہی سرخی اس کا رونا ہے حضرت عطا فرماتے ہیں اس کے کناروں کا سرخ ہوجانا اس کا رونا ہے یہ بھی ذکر کیا گیا ہے کہ قتل حسین کے دن جس پتھر کو الٹا جاتا تھا اس کے نیچے سے منجمند خون نکلتا تھا۔ اس دن سورج کو بھی گہن لگا ہوا تھا آسمان کے کنارے بھی سرخ تھے اور پتھر گرے تھے۔ لیکن یہ سب باتیں بےبنیاد ہیں اور شیعوں کے گھڑے ہوئے افسانے ہیں اس میں کوئی شک نہیں کہ نواسہ رسول ﷺ کی شہادت کا واقعہ نہایت درد انگیز اور حسرت و افسوس والا ہے لیکن اس پر شیعوں نے جو حاشیہ چڑھایا ہے اور گھڑ گھڑا کر جو باتیں پھیلا دی ہیں وہ محض جھوٹ اور بالکل گپ ہیں۔ خیال تو فرمائیے کہ اس سے بہت زیادہ اہم واقعات ہوئے اور قتل حسین سے بہت بڑی وارداتیں ہوئیں لیکن ان کے ہونے پر بھی آسمان و زمین وغیرہ میں یہ انقلاب نہ ہوا۔ آپ ہی کے والد ماجد حضرت علی بھی قتل کئے گئے جو بالاجماع آپ سے افضل تھے لیکن نہ تو پتھروں تلے سے خون نکلا اور کچھ ہوا۔ حضرت عثمان بن عفان کو گھیر لیا جاتا ہے اور نہایت بےدردی سے بلاوجہ ظلم و ستم کے ساتھ انہیں قتل کیا جاتا ہے فاروق اعظم حضرت عمر بن خطاب کو صبح کی نماز پڑھاتے ہوئے نماز کی جگہ ہی قتل کیا جاتا ہے یہ وہ زبردست مصیبت تھی کہ اس سے پہلے مسلمان کبھی ایسی مصیبت نہیں پہنچائے گئے تھے لیکن ان واقعات میں سے کسی واقعہ کے وقت اب میں سے ایک بھی بات نہیں جو شیعوں نے مقتل حسین کی نسبت مشہور کر رکھی ہے۔ ان سب کو بھی جانے دیجئے تمام انسانوں کے دینی اور دنیوی سردار سید البشر رسول اللہ ﷺ کو لیجئے جس روز آپ رحلت فرماتے ہیں ان میں سے کچھ بھی نہیں ہوتا اور سنئے جس روز حضور ﷺ کے صاحبزادے حضرت ابراہیم کا انتقال ہوتا ہے اتفاقاً اسی روز سورج گہن ہوتا ہے اور کوئی کہہ دیتا ہے کہ ابراہیم کے انتقال کی وجہ سورج کو گہن لگا ہے۔ تو حضور ﷺ گہن کی نماز ادا کر کے فوراً خطبے پر کھڑے ہوجاتے ہیں اور فرماتے ہیں سورج چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں کسی کی موت زندگی کی وجہ سے انہیں گہن نہیں لگتا اس کے بعد کی آیت میں اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل پر اپنا احسان جتاتا ہے کہ ہم نے انہیں فرعون جیسے متکبر حدود شکن کے ذلیل عذابوں سے نجات دی اس نے بنی اسرائیل کو پست و خوار کر رکھا تھا ذلیل خدمتیں ان سے لیتا تھا اور اپنے نفس کو تولتا رہتا تھا خودی اور خود بینی میں لگا ہوا تھا بیوقوفی سے کسی چیز کی حد بندی کا خیال نہیں کرتا تھا اللہ کی زمین میں سرکشی کئے ہوئے تھا۔ اور ان بدکاریوں میں اس کی قوم بھی اس کے ساتھ تھی پھر بنی اسرائیل پر ایک اور مہربانی کا ذکر فرما رہا ہے کہ اس زمانے کے تمام لوگوں پر انہیں فضیلت عطا فرمائی ہر زمانے کو عالم کہا جاتا ہے یہ مراد نہیں کہ تمام اگلوں پچھلوں پر انہیں بزرگی دی یہ آیت بھی اس آیت کی طرح ہے جس میں فرمان ہے آیت (قَالَ يٰمُوْسٰٓي اِنِّى اصْطَفَيْتُكَ عَلَي النَّاسِ بِرِسٰلٰتِيْ وَبِكَلَامِيْ ڮ فَخُذْ مَآ اٰتَيْتُكَ وَكُنْ مِّنَ الشّٰكِرِيْنَ01404) 7۔ الاعراف :144) اس سے بھی یہی مطلب ہے کہ اس زمانے کی تمام عورتوں پر آپ کو فضیلت ہے اس لئے کہ ام المومنین حضرت خدیجہ ان سے یقینا افضل ہیں یا کم ازکم برابر۔ اسی طرح حضرت آسیہ بنت مزاحم جو فرعون کی بیوی تھیں اور ام المومنین حضرت عائشہ کی فضیلت تمام عورتوں پر ایسی ہے جیسی فضیلت شوربے میں بھگوئی روٹی کی اور کھانوں پر پھر بنی اسرائیل پر ایک اور احسان بیان ہو رہا ہے کہ ہم نے انہیں وہ حجت وبرہان دلیل و نشان اور معجزات و کرامات عطا فرمائے جن میں ہدایت کی تلاش کرنے والوں کے لئے صاف صاف امتحان تھا۔
21
View Single
وَإِن لَّمۡ تُؤۡمِنُواْ لِي فَٱعۡتَزِلُونِ
“And if you do not believe in me, then have no relation with me.”
اور اگر تم مجھ پر ایمان نہیں لاتے تو مجھ سے کنارہ کش ہو جاؤ
Tafsir Ibn Kathir
The Story of Musa and Fir`awn, and how the Children of Israel were saved
Allah tells us, `before these idolators, We tested the people of Fir`awn, the copts of Egypt.'
وَجَآءَهُمْ رَسُولٌ كَرِيمٌ
(when there came to them a noble Messenger.) means, Musa, peace be upon him, the one to whom Allah spoke.
أَنْ أَدُّواْ إِلَىَّ عِبَادَ اللَّهِ
(Deliver to me the servants of Allah.) This is like the Ayah:
فَأَرْسِلْ مَعَنَا بَنِى إِسْرَءِيلَ وَلاَ تُعَذِّبْهُمْ قَدْ جِئْنَـكَ بِـَايَةٍ مِّن رَّبِّكَ وَالسَّلَـمُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى
(So let the Children of Israel go with us, and torment them not; indeed, we have come with a sign from your Lord! And peace will be upon him who follows the guidance!") (20:47)
إِنِّي لَكُمْ رَسُولٌ أَمِينٌ
(Verily, I am to you a Messenger worthy of all trust.) means, `what I convey to you is trustworthy.'
وَأَن لاَّ تَعْلُواْ عَلَى اللَّهِ
(And exalt not yourselves against Allah.) means, `and do not be too arrogant to follow His signs. Accept His proof and believe in His evidence.' This is like the Ayah:
إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِى سَيَدْخُلُونَ جَهَنَّمَ دَخِرِينَ
(Verily, those who scorn My worship they will surely enter Hell in humiliation!) (40:60)
إِنِّى ءَاتِيكُمْ بِسُلْطَانٍ مُّبِينٍ
(Truly, I have come to you with a manifest authority.) means, with clear and obvious proof. This refers to the clear signs and definitive evidence with which Allah sent him.
وَإِنِّى عُذْتُ بِرَبِّى وَرَبِّكُمْ أَن تَرْجُمُونِ
(And truly, I seek refuge with my Lord and your Lord, lest you should stone me.) Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, and Abu Salih said, "This refers to a verbal assault, which means insults." Qatadah said, "Meaning `stoning' in the literal sense, so that the meaning is: `I seek refuge with Allah, Who created me and you, from your making any harmful words or actions reach me."'
وَإِن لَّمْ تُؤْمِنُواْ لِى فَاعْتَزِلُونِ
(But if you believe me not, then keep away from me and leave me alone.) means, `then let us leave one another alone and live in peace until Allah judges between us.' After Musa, may Allah be pleased with him, had stayed among them for a long time, and the proof of Allah had been established against them, and that only increased them in disbelief and stubbornness, he prayed to his Lord against them, a prayer which was answered. Allah says:
وَقَالَ مُوسَى رَبَّنَآ إِنَّكَ ءاتَيْتَ فِرْعَوْنَ وَمَلاّهُ زِينَةً وَأَمْوَالاً فِى الْحَيَوةِ الدُّنْيَا رَبَّنَا لِيُضِلُّواْ عَن سَبِيلِكَ رَبَّنَا اطْمِسْ عَلَى أَمْوَلِهِمْ وَاشْدُدْ عَلَى قُلُوبِهِمْ فَلاَ يُؤْمِنُواْ حَتَّى يَرَوُاْ الْعَذَابَ الاٌّلِيمَ قَالَ قَدْ أُجِيبَتْ دَّعْوَتُكُمَا فَاسْتَقِيمَا
(And Musa said: "Our Lord! You have indeed bestowed on Fir`awn and his chiefs splendor and wealth in the life of this world, our Lord! That they may lead men astray from Your path. Our Lord! Destroy their wealth, and harden their hearts, so that they will not believe until they see the painful torment." Allah said: "Verily, the invocation of you both is accepted. So you both keep to the straight way.") (10:88-89) And Allah says here:
فَدَعَا رَبَّهُ أَنَّ هَـؤُلاَءِ قَوْمٌ مُّجْرِمُونَ
(So he (Musa) called upon his Lord (saying): "These are indeed the people who are criminals.") Whereupon Allah commanded him to bring the Children of Israel out from among them, without the command, consent or permission of Fir`awn. Allah said:
فَأَسْرِ بِعِبَادِى لَيْلاً إِنَّكُم مُّتَّبَعُونَ
(Depart you with My servants by night. Surely, you will be pursued.) This is like the Ayah:
وَلَقَدْ أَوْحَيْنَآ إِلَى مُوسَى أَنْ أَسْرِ بِعِبَادِى فَاضْرِبْ لَهُمْ طَرِيقاً فِى الْبَحْرِ يَبَساً لاَّ تَخَافُ دَرَكاً وَلاَ تَخْشَى
And indeed We revealed to Mu0sa0 (saying): Travel by night with My servants and strike a dry path for them in the sea, fearing neither to be overtaken nor being afraid (of drowning in the sea). )20:77(
وَاتْرُكِ الْبَحْرَ رَهْواً إِنَّهُمْ جُندٌ مُّغْرَقُونَ
(And leave the sea as it is (quiet and divided). Verily, they are a host to be drowned.) When Musa and the Children of Israel has crossed the sea, Musa wanted to strike it with his staff so that it would go back as it had been, and it would form a barrier between then and Fir`awn and prevent him from reaching them. But Allah commanded him to leave it as it was, quiet and divided, and gave him the glad tidings that they were a host to be drowned, and that he should not fear either being overtaken by Fir`awn or drowning in the sea. Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, said:
وَاتْرُكِ الْبَحْرَ رَهْواً
(And leave the sea as it is (quiet and divided).) means, leave it as it is and keep moving. Mujahid said:
رَهْواً
(as it is) means, a dry path, as it is. `Do not command it to go back; leave it until the last of them have entered it.' This was also the view of `Ikrimah, Ar-Rabi` bin Anas, Ad-Dahhak, Qatadah, Ibn Zayd, Ka`b Al-Ahbar, Simak bin Harb and others.
كَمْ تَرَكُواْ مِن جَنَّـتٍ وَعُيُونٍ وَزُرُوعٍ
(How many of gardens and springs that they left behind. And green crops) this refers to rivers and wells.
وَمَقَامٍ كَرِيمٍ
and goodly places, means, fine dwellings and beautiful places. Muja0hid and Sa 0d bin Jubayr said:
وَمَقَامٍ كَرِيمٍ
(and goodly places,) means elevated places.
وَنَعْمَةٍ كَانُواْ فِيهَا فَـكِهِينَ
(And comforts of life wherein they used to take delight!) means, a life which they were enjoying, where they could eat whatever they wanted and wear what they liked, with wealth and glory and power in the land. Then all of that was taken away in a single morning, they departed from this world and went to Hell, what a terrible abode!
كَذَلِكَ وَأَوْرَثْنَـهَا قَوْماً ءَاخَرِينَ
(Thus (it was)! And We made other people inherit them.) namely the Children of Israel.
فَمَا بَكَتْ عَلَيْهِمُ السَّمَآءُ وَالاٌّرْضُ
(And the heavens and the earth wept not for them, ) means, they had no righteous deeds which used to ascend through the gates of the heavens, which would weep for them when they died, and they had no places on earth where they used to worship Allah which would notice their loss. So they did not deserve to be given a respite, because of their disbelief, sin, transgression and stubbornness. Ibn Jarir recorded that Sa`id bin Jubayr said, "A man came to Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, and said to him: `O Abu Al-`Abbas, Allah says,
فَمَا بَكَتْ عَلَيْهِمُ السَّمَآءُ وَالاٌّرْضُ وَمَا كَانُواْ مُنظَرِينَ
(And the heavens and the earth wept not for them, nor were they given respite) -- do the heavens and the earth weep for anybody' He, may Allah be pleased with him, said, `Yes, there is no one who does not have a gate in the heavens through which his provision comes down and his good deeds ascend. When the believer dies, that gate is closed; it misses him and weeps for him, and the place of prayer on earth where he used to pray and remember Allah also weeps for him. But the people of Fir`awn left no trace of righteousness on the earth and they had no good deeds that ascended to Allah, so the heavens and the earth did not weep for them."' Al-`Awfi reported something similar from Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him.
وَلَقَدْ نَجَّيْنَا بَنِى إِسْرَءِيلَ مِنَ الْعَذَابِ الْمُهِينِ - مِن فِرْعَوْنَ إِنَّهُ كَانَ عَالِياً مِّنَ الْمُسْرِفِينَ
(And indeed We saved the Children of Israel from the humiliating torment from Fir`awn; verily, he was arrogant and was of the excessive. ) Here Allah reminds them of how He saved them from their humiliation and subjugation at the hands of Fir`awn, when they were forced to do menial tasks.
مِن فِرْعَوْنَ إِنَّهُ كَانَ عَالِياً
(From Fir`awn; verily, he was arrogant) means, he was proud and stubborn. This is like the Ayah:
إِنَّ فِرْعَوْنَ عَلاَ فِى الاٌّرْضِ
(Verily, Fir`awn exalted himself in the land) (28:4).
فَاسْتَكْبَرُواْ وَكَانُواْ قَوْماً عَـلِينَ
(but they behaved insolently and they were people self-exalting) (23:46). He was one of the excessive and held a foolish opinion of himself.
وَلَقَدِ اخْتَرْنَـهُمْ عَلَى عِلْمٍ عَلَى الْعَـلَمِينَ
(And We chose them above the nations (Al-`Alamin) with knowledge,) Mujahid said, "This means that they were chosen above those among whom they lived." Qatadah said, "They were chosen above the other people of their own time, and it was said that in every period there are people who are chosen above others." This is like the Ayah:
قَالَ يَمُوسَى إِنْى اصْطَفَيْتُكَ عَلَى النَّاسِ
((Allah) said: "O Musa I have chosen you above men.") (7:144), which means, above the people of his time. This is also like the Ayah:
وَاصْطَفَـكِ عَلَى نِسَآءِ الْعَـلَمِينَ
(and (Allah has) chosen you (Maryam) above the women of the nations (Al-`Alamin).) (3:42), i.e., Maryam was chosen above the women of her time. For Khadijah, may Allah be pleased with her, is higher than her in status or is equal to her, as was Asiyah bint Muzahim, the wife of Fir`awn. And the superiority of `A'ishah, may Allah be pleased with her, over all other women is like the superiority of Tharid over all other dishes.
وَءَاتَيْنَـهُم مِّنَ الاٌّيَـتِ
(And granted them signs) means clear proofs and extraordinary evidence.
مَا فِيهِ بَلَؤٌاْ مُّبِينٌ
(in which there was a plain trial.) means, an obvious test to show who would be guided by it.
قبطیوں کا انجام ارشاد ہوتا ہے کہ ان مشرکین سے پہلے مصر کے قبطیوں کو ہم نے جانچا ان کی طرف اپنے بزرگ رسول حضرت موسیٰ کو بھیجا انہوں نے میرا پیغام پہنچایا کہ بنی اسرائیل کو میرے ساتھ کردو انہیں دکھ نہ دو میں اپنی نبوت پر گواہی دینے والے معجزے اپنے ساتھ لایا ہوں اور ہدایت کے ماننے والے سلامتی سے رہیں گے مجھے اللہ تعالیٰ نے اپنی وحی کا امانت دار بنا کر تمہاری طرف بھیجا ہے میں تمہیں اس کا پیغام پہنچا رہا ہوں تمہیں رب کی باتوں کے ماننے سے سرکشی نہ کرنی چاہئے اس کے بیان کردہ دلائل و احکام کے سامنے سر تسلیم خم کرنا چاہئے۔ اس کی عبادتوں سے جی چرانے والے ذلیل و خوار ہو کر جہنم واصل ہوتے ہیں میں تو تمہارے سامنے کھلی دلیل اور واضح آیت رکھتا ہوں میں تمہاری بدگوئی اور اہتمام سے اللہ کی پناہ لیتا ہوں۔ ابن عباس اور ابو صالہ تو یہی کہتے ہیں اور قتادہ کہتے ہیں مراد پتھراؤ کرنا پتھروں سے مار ڈالنا ہے یعنی زبانی ایذاء سے اور دستی ایذاء سے میں اپنے رب کی جو تمہارا بھی مالک ہے پناہ چاہتا ہوں اچھا اگر تم میری نہیں مانتے مجھ پر بھروسہ نہیں کرتے اللہ پر ایمان نہیں لاتے تو کم از کم میری تکلیف دہی اور ایذاء رسانی سے تو باز رہو۔ اور اس کے منتظر رہو جب کہ خود اللہ ہم میں تم میں فیصلہ کر دے گا پھر جب اللہ کے نبی کلیم اللہ حضرت موسیٰ نے ایک لمبی مدت ان میں گذاری خوب دل کھول کھول کر تبلیغ کرلی ہر طرح کی خیر خواہی کی ان کی ہدایت کے لئے ہرچند جتن کر لئے اور دیکھا کہ وہ روز بروز اپنے کفر میں بڑھتے جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ سے انکے لئے بددعا کی جیسے اور آیت میں ہے کہ حضرت موسیٰ نے کہا اے ہمارے رب تو نے فرعون اور اس کے امراء کو دنیوی نمائش اور مال و متاع دے رکھی ہے اے اللہ یہ اس سے دوسروں کو بھی تیری راہ سے بھٹکا رہے ہیں تو ان کا مال غارت کر اور ان کے دل اور سخت کر دے تاکہ دردناک عذابوں کے معائنہ تک انہیں ایمان نصیب ہی نہ ہو اللہ کی طرف سے جواب ملا کہ اے موسیٰ اور اے ہارون میں نے تمہاری دعا قبول کرلی اب تم استقامت پر تل جاؤ یہاں فرماتا ہے کہ ہم نے موسیٰ سے کہا کہ میرے بندوں یعنی بنی اسرائیل کو راتوں رات فرعون اور فرعونیوں کی بیخبر ی میں یہاں سے لے کر چلے جاؤ۔ یہ کفار تمہارا پیچھا کریں گے لیکن تم بےخوف و خطر چلے جاؤ میں تمہارے لئے دریا کو خشک کر دوں گا اس کے بعد حضرت موسیٰ ؑ بنی اسرائیل کو لے کر چل پڑے فرعونی لشکر مع فرعون کے ان کے پکڑنے کو چلا بیچ میں دریا حائل ہوا آپ بنی اسرائیل کو لے کر اس میں اتر گئے دریا کا پانی سوکھ گیا اور آپ اپنے ساتھیوں سمیت پار ہوگئے تو چاہا کہ دریا پر لکڑی مار کر اسے کہہ دیں کہ اب تو اپنی روانی پر آجا تاکہ فرعون اس سے گزر نہ سکے وہیں اللہ نے وحی بھیجی کہ اسے اسی حال میں سکون کے ساتھ ہی رہنے دو ساتھ ہی اس کی وجہ بھی بتادی کہ یہ سب اسی میں ڈوب مریں گے۔ پھر تو تم سب بالکل ہی مطمئن اور بےخوف ہوجاؤ گے غرض حکم ہوا تھا کہ دریا کو خشک چھوڑ کر چل دیں (رھواً) کے معنی سوکھا راستہ جو اصلی حالت پر ہو۔ مقصد یہ ہے کہ پار ہو کہ دریا کو روانی کا حکم نہ دینا یہاں تک کہ دشمنوں میں سے ایک ایک اس میں آ نہ جائے اب اسے جاری ہونے کا حکم ملتے ہی سب کو غرق کر دے گا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے دیکھو کیسے غارت ہوئے۔ باغات کھتیاں نہریں مکانات اور بیٹھکیں سب چھوڑ کر فنا ہوگئے حضرت عبداللہ بن عمرو فرماتے ہیں مصر کا دریائے نیل مشرق مغرب کے دریاؤں کا سردار ہے اور سب نہریں اس کے ماتحت ہیں جب اس کی روانی اللہ کو منظور ہوتی ہیں تو تمام نہروں کو اس میں پانی پہنچانے کا حکم ہوتا ہے جہاں تک رب کو منظور ہو اس میں پانی آجاتا ہے پھر اللہ تبارک و تعالیٰ اور نہروں کو روک دیتا ہے اور حکم دیتا ہے کہ اب اپنی اپنی جگہ چلی جاؤ اور فرعونیوں کے یہ باغات دریائے نیل کے دونوں کناروں پر مسلسل چلے گئے تھے رسواں سے لے کر رشید تک اس کا سلسلہ تھا اور اس کی نو خلیجیں تھیں۔ خلیج اسکندریہ، دمیاط، خلیج سردوس، خلیج منصف، خلیج منتہی اور ان سب میں اتصال تھا ایک دوسرے سے متصل تھیں اور پہاڑوں کے دامن میں ان کی کھیتیاں تھیں جو مصر سے لے کر دریا تک برابر چلی آتی تھیں ان تمام کو بھی دریا سیراب کرتا تھا بڑے امن چین کی زندگی گذار رہے تھے لیکن مغرور ہوگئے اور آخر ساری نعمتیں یونہی چھوڑ کر تباہ کر دئیے گئے۔ مال اولاد جاہ و مال سلطنت و عزت ایک ہی رات میں چھوڑ گئے اور بھس کی طرح اڑا دئیے گئے اور گذشتہ کل کی طرح بےنشان کر دئیے گئے ایسے ڈبوئے گئے کہ ابھر نہ سکے جہنم واصل ہوگئے اور بدترین جگہ پہنچ گئے ان کی یہ تمام چیزیں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو دے دیں۔ جیسے اور آیت میں فرمایا ہے کہ ہم نے ان کمزوروں کو ان کے صبر کے بدلے اس سرکش قوم کی کل نعمتیں عطا فرمادیں اور بےایمانوں کا بھرکس نکال ڈالا یہاں بھی دوسری قوم جسے وارث بنایا اس سے مراد بھی بنی اسرائیل ہیں پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ان پر زمین و آسمان نہ روئے کیونکہ ان پاپیوں کے نیک اعمال تھے ہی نہیں جو آسمانوں پر چڑھتے ہوں اور اب ان کے نہ چڑھنے کی وجہ سے وہ افسوس کریں نہ زمین میں ان کی جگہیں ایسی تھیں کہ جہاں بیٹھ کر یہ اللہ کی عبادت کرتے ہوں اور آج انہیں نہ پا کر زمین کی وہ جگہ ان کا ماتم کرے انہیں مہلت نہ دی گئی۔ مسند ابو یعلی موصلی میں ہے ہر بندے کے لئے آسمان میں دو دروازے ہیں ایک سے اس کی روزی اترتی ہے دوسرے سے اس کے اعمال اور اس کے کلام چڑھتے ہیں۔ جب یہ مرجاتا ہے اور وہ عمل و رزق کو گم شدہ پاتے ہیں تو روتے ہیں پھر اسی آیت کی حضور ﷺ نے تلاوت کی ابن ابی حاتم میں فرمان رسول ﷺ ہے کہ اسلام غربت سے شروع ہوا اور پھر غربت پر آجائے گا یاد رکھو مومن کہیں انجام مسافر کی طرح نہیں مومن جہاں کہیں سفر میں ہوتا ہے جہاں اس کا کوئی رونے والا نہ ہو وہاں بھی اس کے رونے والے آسمان و زمین موجود ہیں پھر حضور ﷺ نے اس آیت کی تلاوت کر کے فرمایا یہ دونوں کفار پر روتے نہیں حضرت علی سے کسی نے پوچھا کہ آسمان و زمین کبھی کسی پر روئے بھی ہیں ؟ آپ نے فرمایا آج تو نے وہ بات دریافت کی ہے کہ تجھ سے پہلے مجھ سے اس کا سوال کسی نے نہیں کیا۔ سنو ہر بندے کے لئے زمین میں ایک نماز کی جگہ ہوتی ہے اور ایک جگہ آسمان میں اس کے عمل کے چڑھنے کی ہوتی ہے اور آل فرعون کے نیک اعمال ہی نہ تھے اس وجہ سے نہ زمین ان پر روئی نہ آسمان کو ان پر رونا آیا اور نہ انہیں ڈھیل دی گئی کہ کوئی نیکی بجا لاسکیں، حضرت ابن عباس سے یہ سوال ہوا تو آپ نے بھی قریب قریب یہی جواب دیا بلکہ آپ سے مروی ہے کہ چالیس دن تک زمین مومن پر روتی رہتی ہے حضرت مجاہد نے جب یہ بیان فرمایا تو کسی نے اس پر تعجب کا اظہار کیا آپ نے فرمایا سبحان اللہ اس میں تعجب کی کونسی بات ہے جو بندہ زمین کو اپنے رکوع و سجود سے آباد رکھتا تھا جس بندے کی تکبیر و تسبیح کی آوازیں آسمان برابر سنتا رہا تھا بھلا یہ دونوں اس عابد اللہ پر روئیں گے نہیں ؟ حضرت قتادہ فرماتے ہیں فرعونیوں جیسے ذلیل و خوار لوگوں پر یہ کیوں روتے ؟ حضرت ابراہیم فرماتے ہیں دنیا جب سے رچائی گئی ہے تب سے آسمان صرف دو شخصوں پر رویا ہے ان کے شاگرد سے سوال ہوا کہ کیا آسمان و زمین ہر ایمان دار پر روتے نہیں ؟ فرمایا صرف اتنا حصہ جس حصے سے اس کا نیک عمل چڑھتا تھا سنو آسمان کا رونا اس کا سرخ ہونا اور مثل نری کے گلابی ہوجانا ہے سو یہ حال صرف دو شخصوں کی شہادت پر ہوا ہے۔ حضرت یحییٰ کے قتل کے موقعے پر تو آسمان سرخ ہوگیا اور خون برسانے لگا اور دوسرے حضرت حسین کے قتل پر بھی آسمان کا رنگ سرخ ہوگیا تھا (ابن ابی حاتم) یزید ابن ابو زیاد کا قول ہے کہ قتل حسین کی وجہ سے چار ماہ تک آسمان کے کنارے سرخ رہے اور یہی سرخی اس کا رونا ہے حضرت عطا فرماتے ہیں اس کے کناروں کا سرخ ہوجانا اس کا رونا ہے یہ بھی ذکر کیا گیا ہے کہ قتل حسین کے دن جس پتھر کو الٹا جاتا تھا اس کے نیچے سے منجمند خون نکلتا تھا۔ اس دن سورج کو بھی گہن لگا ہوا تھا آسمان کے کنارے بھی سرخ تھے اور پتھر گرے تھے۔ لیکن یہ سب باتیں بےبنیاد ہیں اور شیعوں کے گھڑے ہوئے افسانے ہیں اس میں کوئی شک نہیں کہ نواسہ رسول ﷺ کی شہادت کا واقعہ نہایت درد انگیز اور حسرت و افسوس والا ہے لیکن اس پر شیعوں نے جو حاشیہ چڑھایا ہے اور گھڑ گھڑا کر جو باتیں پھیلا دی ہیں وہ محض جھوٹ اور بالکل گپ ہیں۔ خیال تو فرمائیے کہ اس سے بہت زیادہ اہم واقعات ہوئے اور قتل حسین سے بہت بڑی وارداتیں ہوئیں لیکن ان کے ہونے پر بھی آسمان و زمین وغیرہ میں یہ انقلاب نہ ہوا۔ آپ ہی کے والد ماجد حضرت علی بھی قتل کئے گئے جو بالاجماع آپ سے افضل تھے لیکن نہ تو پتھروں تلے سے خون نکلا اور کچھ ہوا۔ حضرت عثمان بن عفان کو گھیر لیا جاتا ہے اور نہایت بےدردی سے بلاوجہ ظلم و ستم کے ساتھ انہیں قتل کیا جاتا ہے فاروق اعظم حضرت عمر بن خطاب کو صبح کی نماز پڑھاتے ہوئے نماز کی جگہ ہی قتل کیا جاتا ہے یہ وہ زبردست مصیبت تھی کہ اس سے پہلے مسلمان کبھی ایسی مصیبت نہیں پہنچائے گئے تھے لیکن ان واقعات میں سے کسی واقعہ کے وقت اب میں سے ایک بھی بات نہیں جو شیعوں نے مقتل حسین کی نسبت مشہور کر رکھی ہے۔ ان سب کو بھی جانے دیجئے تمام انسانوں کے دینی اور دنیوی سردار سید البشر رسول اللہ ﷺ کو لیجئے جس روز آپ رحلت فرماتے ہیں ان میں سے کچھ بھی نہیں ہوتا اور سنئے جس روز حضور ﷺ کے صاحبزادے حضرت ابراہیم کا انتقال ہوتا ہے اتفاقاً اسی روز سورج گہن ہوتا ہے اور کوئی کہہ دیتا ہے کہ ابراہیم کے انتقال کی وجہ سورج کو گہن لگا ہے۔ تو حضور ﷺ گہن کی نماز ادا کر کے فوراً خطبے پر کھڑے ہوجاتے ہیں اور فرماتے ہیں سورج چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں کسی کی موت زندگی کی وجہ سے انہیں گہن نہیں لگتا اس کے بعد کی آیت میں اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل پر اپنا احسان جتاتا ہے کہ ہم نے انہیں فرعون جیسے متکبر حدود شکن کے ذلیل عذابوں سے نجات دی اس نے بنی اسرائیل کو پست و خوار کر رکھا تھا ذلیل خدمتیں ان سے لیتا تھا اور اپنے نفس کو تولتا رہتا تھا خودی اور خود بینی میں لگا ہوا تھا بیوقوفی سے کسی چیز کی حد بندی کا خیال نہیں کرتا تھا اللہ کی زمین میں سرکشی کئے ہوئے تھا۔ اور ان بدکاریوں میں اس کی قوم بھی اس کے ساتھ تھی پھر بنی اسرائیل پر ایک اور مہربانی کا ذکر فرما رہا ہے کہ اس زمانے کے تمام لوگوں پر انہیں فضیلت عطا فرمائی ہر زمانے کو عالم کہا جاتا ہے یہ مراد نہیں کہ تمام اگلوں پچھلوں پر انہیں بزرگی دی یہ آیت بھی اس آیت کی طرح ہے جس میں فرمان ہے آیت (قَالَ يٰمُوْسٰٓي اِنِّى اصْطَفَيْتُكَ عَلَي النَّاسِ بِرِسٰلٰتِيْ وَبِكَلَامِيْ ڮ فَخُذْ مَآ اٰتَيْتُكَ وَكُنْ مِّنَ الشّٰكِرِيْنَ01404) 7۔ الاعراف :144) اس سے بھی یہی مطلب ہے کہ اس زمانے کی تمام عورتوں پر آپ کو فضیلت ہے اس لئے کہ ام المومنین حضرت خدیجہ ان سے یقینا افضل ہیں یا کم ازکم برابر۔ اسی طرح حضرت آسیہ بنت مزاحم جو فرعون کی بیوی تھیں اور ام المومنین حضرت عائشہ کی فضیلت تمام عورتوں پر ایسی ہے جیسی فضیلت شوربے میں بھگوئی روٹی کی اور کھانوں پر پھر بنی اسرائیل پر ایک اور احسان بیان ہو رہا ہے کہ ہم نے انہیں وہ حجت وبرہان دلیل و نشان اور معجزات و کرامات عطا فرمائے جن میں ہدایت کی تلاش کرنے والوں کے لئے صاف صاف امتحان تھا۔
22
View Single
فَدَعَا رَبَّهُۥٓ أَنَّ هَـٰٓؤُلَآءِ قَوۡمٞ مُّجۡرِمُونَ
He therefore prayed to his Lord, “These are a guilty nation!”
پھر انہوں نے اپنے رب سے دعا کی کہ بیشک یہ لوگ مجرم قوم ہیں
Tafsir Ibn Kathir
The Story of Musa and Fir`awn, and how the Children of Israel were saved
Allah tells us, `before these idolators, We tested the people of Fir`awn, the copts of Egypt.'
وَجَآءَهُمْ رَسُولٌ كَرِيمٌ
(when there came to them a noble Messenger.) means, Musa, peace be upon him, the one to whom Allah spoke.
أَنْ أَدُّواْ إِلَىَّ عِبَادَ اللَّهِ
(Deliver to me the servants of Allah.) This is like the Ayah:
فَأَرْسِلْ مَعَنَا بَنِى إِسْرَءِيلَ وَلاَ تُعَذِّبْهُمْ قَدْ جِئْنَـكَ بِـَايَةٍ مِّن رَّبِّكَ وَالسَّلَـمُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى
(So let the Children of Israel go with us, and torment them not; indeed, we have come with a sign from your Lord! And peace will be upon him who follows the guidance!") (20:47)
إِنِّي لَكُمْ رَسُولٌ أَمِينٌ
(Verily, I am to you a Messenger worthy of all trust.) means, `what I convey to you is trustworthy.'
وَأَن لاَّ تَعْلُواْ عَلَى اللَّهِ
(And exalt not yourselves against Allah.) means, `and do not be too arrogant to follow His signs. Accept His proof and believe in His evidence.' This is like the Ayah:
إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِى سَيَدْخُلُونَ جَهَنَّمَ دَخِرِينَ
(Verily, those who scorn My worship they will surely enter Hell in humiliation!) (40:60)
إِنِّى ءَاتِيكُمْ بِسُلْطَانٍ مُّبِينٍ
(Truly, I have come to you with a manifest authority.) means, with clear and obvious proof. This refers to the clear signs and definitive evidence with which Allah sent him.
وَإِنِّى عُذْتُ بِرَبِّى وَرَبِّكُمْ أَن تَرْجُمُونِ
(And truly, I seek refuge with my Lord and your Lord, lest you should stone me.) Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, and Abu Salih said, "This refers to a verbal assault, which means insults." Qatadah said, "Meaning `stoning' in the literal sense, so that the meaning is: `I seek refuge with Allah, Who created me and you, from your making any harmful words or actions reach me."'
وَإِن لَّمْ تُؤْمِنُواْ لِى فَاعْتَزِلُونِ
(But if you believe me not, then keep away from me and leave me alone.) means, `then let us leave one another alone and live in peace until Allah judges between us.' After Musa, may Allah be pleased with him, had stayed among them for a long time, and the proof of Allah had been established against them, and that only increased them in disbelief and stubbornness, he prayed to his Lord against them, a prayer which was answered. Allah says:
وَقَالَ مُوسَى رَبَّنَآ إِنَّكَ ءاتَيْتَ فِرْعَوْنَ وَمَلاّهُ زِينَةً وَأَمْوَالاً فِى الْحَيَوةِ الدُّنْيَا رَبَّنَا لِيُضِلُّواْ عَن سَبِيلِكَ رَبَّنَا اطْمِسْ عَلَى أَمْوَلِهِمْ وَاشْدُدْ عَلَى قُلُوبِهِمْ فَلاَ يُؤْمِنُواْ حَتَّى يَرَوُاْ الْعَذَابَ الاٌّلِيمَ قَالَ قَدْ أُجِيبَتْ دَّعْوَتُكُمَا فَاسْتَقِيمَا
(And Musa said: "Our Lord! You have indeed bestowed on Fir`awn and his chiefs splendor and wealth in the life of this world, our Lord! That they may lead men astray from Your path. Our Lord! Destroy their wealth, and harden their hearts, so that they will not believe until they see the painful torment." Allah said: "Verily, the invocation of you both is accepted. So you both keep to the straight way.") (10:88-89) And Allah says here:
فَدَعَا رَبَّهُ أَنَّ هَـؤُلاَءِ قَوْمٌ مُّجْرِمُونَ
(So he (Musa) called upon his Lord (saying): "These are indeed the people who are criminals.") Whereupon Allah commanded him to bring the Children of Israel out from among them, without the command, consent or permission of Fir`awn. Allah said:
فَأَسْرِ بِعِبَادِى لَيْلاً إِنَّكُم مُّتَّبَعُونَ
(Depart you with My servants by night. Surely, you will be pursued.) This is like the Ayah:
وَلَقَدْ أَوْحَيْنَآ إِلَى مُوسَى أَنْ أَسْرِ بِعِبَادِى فَاضْرِبْ لَهُمْ طَرِيقاً فِى الْبَحْرِ يَبَساً لاَّ تَخَافُ دَرَكاً وَلاَ تَخْشَى
And indeed We revealed to Mu0sa0 (saying): Travel by night with My servants and strike a dry path for them in the sea, fearing neither to be overtaken nor being afraid (of drowning in the sea). )20:77(
وَاتْرُكِ الْبَحْرَ رَهْواً إِنَّهُمْ جُندٌ مُّغْرَقُونَ
(And leave the sea as it is (quiet and divided). Verily, they are a host to be drowned.) When Musa and the Children of Israel has crossed the sea, Musa wanted to strike it with his staff so that it would go back as it had been, and it would form a barrier between then and Fir`awn and prevent him from reaching them. But Allah commanded him to leave it as it was, quiet and divided, and gave him the glad tidings that they were a host to be drowned, and that he should not fear either being overtaken by Fir`awn or drowning in the sea. Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, said:
وَاتْرُكِ الْبَحْرَ رَهْواً
(And leave the sea as it is (quiet and divided).) means, leave it as it is and keep moving. Mujahid said:
رَهْواً
(as it is) means, a dry path, as it is. `Do not command it to go back; leave it until the last of them have entered it.' This was also the view of `Ikrimah, Ar-Rabi` bin Anas, Ad-Dahhak, Qatadah, Ibn Zayd, Ka`b Al-Ahbar, Simak bin Harb and others.
كَمْ تَرَكُواْ مِن جَنَّـتٍ وَعُيُونٍ وَزُرُوعٍ
(How many of gardens and springs that they left behind. And green crops) this refers to rivers and wells.
وَمَقَامٍ كَرِيمٍ
and goodly places, means, fine dwellings and beautiful places. Muja0hid and Sa 0d bin Jubayr said:
وَمَقَامٍ كَرِيمٍ
(and goodly places,) means elevated places.
وَنَعْمَةٍ كَانُواْ فِيهَا فَـكِهِينَ
(And comforts of life wherein they used to take delight!) means, a life which they were enjoying, where they could eat whatever they wanted and wear what they liked, with wealth and glory and power in the land. Then all of that was taken away in a single morning, they departed from this world and went to Hell, what a terrible abode!
كَذَلِكَ وَأَوْرَثْنَـهَا قَوْماً ءَاخَرِينَ
(Thus (it was)! And We made other people inherit them.) namely the Children of Israel.
فَمَا بَكَتْ عَلَيْهِمُ السَّمَآءُ وَالاٌّرْضُ
(And the heavens and the earth wept not for them, ) means, they had no righteous deeds which used to ascend through the gates of the heavens, which would weep for them when they died, and they had no places on earth where they used to worship Allah which would notice their loss. So they did not deserve to be given a respite, because of their disbelief, sin, transgression and stubbornness. Ibn Jarir recorded that Sa`id bin Jubayr said, "A man came to Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, and said to him: `O Abu Al-`Abbas, Allah says,
فَمَا بَكَتْ عَلَيْهِمُ السَّمَآءُ وَالاٌّرْضُ وَمَا كَانُواْ مُنظَرِينَ
(And the heavens and the earth wept not for them, nor were they given respite) -- do the heavens and the earth weep for anybody' He, may Allah be pleased with him, said, `Yes, there is no one who does not have a gate in the heavens through which his provision comes down and his good deeds ascend. When the believer dies, that gate is closed; it misses him and weeps for him, and the place of prayer on earth where he used to pray and remember Allah also weeps for him. But the people of Fir`awn left no trace of righteousness on the earth and they had no good deeds that ascended to Allah, so the heavens and the earth did not weep for them."' Al-`Awfi reported something similar from Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him.
وَلَقَدْ نَجَّيْنَا بَنِى إِسْرَءِيلَ مِنَ الْعَذَابِ الْمُهِينِ - مِن فِرْعَوْنَ إِنَّهُ كَانَ عَالِياً مِّنَ الْمُسْرِفِينَ
(And indeed We saved the Children of Israel from the humiliating torment from Fir`awn; verily, he was arrogant and was of the excessive. ) Here Allah reminds them of how He saved them from their humiliation and subjugation at the hands of Fir`awn, when they were forced to do menial tasks.
مِن فِرْعَوْنَ إِنَّهُ كَانَ عَالِياً
(From Fir`awn; verily, he was arrogant) means, he was proud and stubborn. This is like the Ayah:
إِنَّ فِرْعَوْنَ عَلاَ فِى الاٌّرْضِ
(Verily, Fir`awn exalted himself in the land) (28:4).
فَاسْتَكْبَرُواْ وَكَانُواْ قَوْماً عَـلِينَ
(but they behaved insolently and they were people self-exalting) (23:46). He was one of the excessive and held a foolish opinion of himself.
وَلَقَدِ اخْتَرْنَـهُمْ عَلَى عِلْمٍ عَلَى الْعَـلَمِينَ
(And We chose them above the nations (Al-`Alamin) with knowledge,) Mujahid said, "This means that they were chosen above those among whom they lived." Qatadah said, "They were chosen above the other people of their own time, and it was said that in every period there are people who are chosen above others." This is like the Ayah:
قَالَ يَمُوسَى إِنْى اصْطَفَيْتُكَ عَلَى النَّاسِ
((Allah) said: "O Musa I have chosen you above men.") (7:144), which means, above the people of his time. This is also like the Ayah:
وَاصْطَفَـكِ عَلَى نِسَآءِ الْعَـلَمِينَ
(and (Allah has) chosen you (Maryam) above the women of the nations (Al-`Alamin).) (3:42), i.e., Maryam was chosen above the women of her time. For Khadijah, may Allah be pleased with her, is higher than her in status or is equal to her, as was Asiyah bint Muzahim, the wife of Fir`awn. And the superiority of `A'ishah, may Allah be pleased with her, over all other women is like the superiority of Tharid over all other dishes.
وَءَاتَيْنَـهُم مِّنَ الاٌّيَـتِ
(And granted them signs) means clear proofs and extraordinary evidence.
مَا فِيهِ بَلَؤٌاْ مُّبِينٌ
(in which there was a plain trial.) means, an obvious test to show who would be guided by it.
قبطیوں کا انجام ارشاد ہوتا ہے کہ ان مشرکین سے پہلے مصر کے قبطیوں کو ہم نے جانچا ان کی طرف اپنے بزرگ رسول حضرت موسیٰ کو بھیجا انہوں نے میرا پیغام پہنچایا کہ بنی اسرائیل کو میرے ساتھ کردو انہیں دکھ نہ دو میں اپنی نبوت پر گواہی دینے والے معجزے اپنے ساتھ لایا ہوں اور ہدایت کے ماننے والے سلامتی سے رہیں گے مجھے اللہ تعالیٰ نے اپنی وحی کا امانت دار بنا کر تمہاری طرف بھیجا ہے میں تمہیں اس کا پیغام پہنچا رہا ہوں تمہیں رب کی باتوں کے ماننے سے سرکشی نہ کرنی چاہئے اس کے بیان کردہ دلائل و احکام کے سامنے سر تسلیم خم کرنا چاہئے۔ اس کی عبادتوں سے جی چرانے والے ذلیل و خوار ہو کر جہنم واصل ہوتے ہیں میں تو تمہارے سامنے کھلی دلیل اور واضح آیت رکھتا ہوں میں تمہاری بدگوئی اور اہتمام سے اللہ کی پناہ لیتا ہوں۔ ابن عباس اور ابو صالہ تو یہی کہتے ہیں اور قتادہ کہتے ہیں مراد پتھراؤ کرنا پتھروں سے مار ڈالنا ہے یعنی زبانی ایذاء سے اور دستی ایذاء سے میں اپنے رب کی جو تمہارا بھی مالک ہے پناہ چاہتا ہوں اچھا اگر تم میری نہیں مانتے مجھ پر بھروسہ نہیں کرتے اللہ پر ایمان نہیں لاتے تو کم از کم میری تکلیف دہی اور ایذاء رسانی سے تو باز رہو۔ اور اس کے منتظر رہو جب کہ خود اللہ ہم میں تم میں فیصلہ کر دے گا پھر جب اللہ کے نبی کلیم اللہ حضرت موسیٰ نے ایک لمبی مدت ان میں گذاری خوب دل کھول کھول کر تبلیغ کرلی ہر طرح کی خیر خواہی کی ان کی ہدایت کے لئے ہرچند جتن کر لئے اور دیکھا کہ وہ روز بروز اپنے کفر میں بڑھتے جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ سے انکے لئے بددعا کی جیسے اور آیت میں ہے کہ حضرت موسیٰ نے کہا اے ہمارے رب تو نے فرعون اور اس کے امراء کو دنیوی نمائش اور مال و متاع دے رکھی ہے اے اللہ یہ اس سے دوسروں کو بھی تیری راہ سے بھٹکا رہے ہیں تو ان کا مال غارت کر اور ان کے دل اور سخت کر دے تاکہ دردناک عذابوں کے معائنہ تک انہیں ایمان نصیب ہی نہ ہو اللہ کی طرف سے جواب ملا کہ اے موسیٰ اور اے ہارون میں نے تمہاری دعا قبول کرلی اب تم استقامت پر تل جاؤ یہاں فرماتا ہے کہ ہم نے موسیٰ سے کہا کہ میرے بندوں یعنی بنی اسرائیل کو راتوں رات فرعون اور فرعونیوں کی بیخبر ی میں یہاں سے لے کر چلے جاؤ۔ یہ کفار تمہارا پیچھا کریں گے لیکن تم بےخوف و خطر چلے جاؤ میں تمہارے لئے دریا کو خشک کر دوں گا اس کے بعد حضرت موسیٰ ؑ بنی اسرائیل کو لے کر چل پڑے فرعونی لشکر مع فرعون کے ان کے پکڑنے کو چلا بیچ میں دریا حائل ہوا آپ بنی اسرائیل کو لے کر اس میں اتر گئے دریا کا پانی سوکھ گیا اور آپ اپنے ساتھیوں سمیت پار ہوگئے تو چاہا کہ دریا پر لکڑی مار کر اسے کہہ دیں کہ اب تو اپنی روانی پر آجا تاکہ فرعون اس سے گزر نہ سکے وہیں اللہ نے وحی بھیجی کہ اسے اسی حال میں سکون کے ساتھ ہی رہنے دو ساتھ ہی اس کی وجہ بھی بتادی کہ یہ سب اسی میں ڈوب مریں گے۔ پھر تو تم سب بالکل ہی مطمئن اور بےخوف ہوجاؤ گے غرض حکم ہوا تھا کہ دریا کو خشک چھوڑ کر چل دیں (رھواً) کے معنی سوکھا راستہ جو اصلی حالت پر ہو۔ مقصد یہ ہے کہ پار ہو کہ دریا کو روانی کا حکم نہ دینا یہاں تک کہ دشمنوں میں سے ایک ایک اس میں آ نہ جائے اب اسے جاری ہونے کا حکم ملتے ہی سب کو غرق کر دے گا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے دیکھو کیسے غارت ہوئے۔ باغات کھتیاں نہریں مکانات اور بیٹھکیں سب چھوڑ کر فنا ہوگئے حضرت عبداللہ بن عمرو فرماتے ہیں مصر کا دریائے نیل مشرق مغرب کے دریاؤں کا سردار ہے اور سب نہریں اس کے ماتحت ہیں جب اس کی روانی اللہ کو منظور ہوتی ہیں تو تمام نہروں کو اس میں پانی پہنچانے کا حکم ہوتا ہے جہاں تک رب کو منظور ہو اس میں پانی آجاتا ہے پھر اللہ تبارک و تعالیٰ اور نہروں کو روک دیتا ہے اور حکم دیتا ہے کہ اب اپنی اپنی جگہ چلی جاؤ اور فرعونیوں کے یہ باغات دریائے نیل کے دونوں کناروں پر مسلسل چلے گئے تھے رسواں سے لے کر رشید تک اس کا سلسلہ تھا اور اس کی نو خلیجیں تھیں۔ خلیج اسکندریہ، دمیاط، خلیج سردوس، خلیج منصف، خلیج منتہی اور ان سب میں اتصال تھا ایک دوسرے سے متصل تھیں اور پہاڑوں کے دامن میں ان کی کھیتیاں تھیں جو مصر سے لے کر دریا تک برابر چلی آتی تھیں ان تمام کو بھی دریا سیراب کرتا تھا بڑے امن چین کی زندگی گذار رہے تھے لیکن مغرور ہوگئے اور آخر ساری نعمتیں یونہی چھوڑ کر تباہ کر دئیے گئے۔ مال اولاد جاہ و مال سلطنت و عزت ایک ہی رات میں چھوڑ گئے اور بھس کی طرح اڑا دئیے گئے اور گذشتہ کل کی طرح بےنشان کر دئیے گئے ایسے ڈبوئے گئے کہ ابھر نہ سکے جہنم واصل ہوگئے اور بدترین جگہ پہنچ گئے ان کی یہ تمام چیزیں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو دے دیں۔ جیسے اور آیت میں فرمایا ہے کہ ہم نے ان کمزوروں کو ان کے صبر کے بدلے اس سرکش قوم کی کل نعمتیں عطا فرمادیں اور بےایمانوں کا بھرکس نکال ڈالا یہاں بھی دوسری قوم جسے وارث بنایا اس سے مراد بھی بنی اسرائیل ہیں پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ان پر زمین و آسمان نہ روئے کیونکہ ان پاپیوں کے نیک اعمال تھے ہی نہیں جو آسمانوں پر چڑھتے ہوں اور اب ان کے نہ چڑھنے کی وجہ سے وہ افسوس کریں نہ زمین میں ان کی جگہیں ایسی تھیں کہ جہاں بیٹھ کر یہ اللہ کی عبادت کرتے ہوں اور آج انہیں نہ پا کر زمین کی وہ جگہ ان کا ماتم کرے انہیں مہلت نہ دی گئی۔ مسند ابو یعلی موصلی میں ہے ہر بندے کے لئے آسمان میں دو دروازے ہیں ایک سے اس کی روزی اترتی ہے دوسرے سے اس کے اعمال اور اس کے کلام چڑھتے ہیں۔ جب یہ مرجاتا ہے اور وہ عمل و رزق کو گم شدہ پاتے ہیں تو روتے ہیں پھر اسی آیت کی حضور ﷺ نے تلاوت کی ابن ابی حاتم میں فرمان رسول ﷺ ہے کہ اسلام غربت سے شروع ہوا اور پھر غربت پر آجائے گا یاد رکھو مومن کہیں انجام مسافر کی طرح نہیں مومن جہاں کہیں سفر میں ہوتا ہے جہاں اس کا کوئی رونے والا نہ ہو وہاں بھی اس کے رونے والے آسمان و زمین موجود ہیں پھر حضور ﷺ نے اس آیت کی تلاوت کر کے فرمایا یہ دونوں کفار پر روتے نہیں حضرت علی سے کسی نے پوچھا کہ آسمان و زمین کبھی کسی پر روئے بھی ہیں ؟ آپ نے فرمایا آج تو نے وہ بات دریافت کی ہے کہ تجھ سے پہلے مجھ سے اس کا سوال کسی نے نہیں کیا۔ سنو ہر بندے کے لئے زمین میں ایک نماز کی جگہ ہوتی ہے اور ایک جگہ آسمان میں اس کے عمل کے چڑھنے کی ہوتی ہے اور آل فرعون کے نیک اعمال ہی نہ تھے اس وجہ سے نہ زمین ان پر روئی نہ آسمان کو ان پر رونا آیا اور نہ انہیں ڈھیل دی گئی کہ کوئی نیکی بجا لاسکیں، حضرت ابن عباس سے یہ سوال ہوا تو آپ نے بھی قریب قریب یہی جواب دیا بلکہ آپ سے مروی ہے کہ چالیس دن تک زمین مومن پر روتی رہتی ہے حضرت مجاہد نے جب یہ بیان فرمایا تو کسی نے اس پر تعجب کا اظہار کیا آپ نے فرمایا سبحان اللہ اس میں تعجب کی کونسی بات ہے جو بندہ زمین کو اپنے رکوع و سجود سے آباد رکھتا تھا جس بندے کی تکبیر و تسبیح کی آوازیں آسمان برابر سنتا رہا تھا بھلا یہ دونوں اس عابد اللہ پر روئیں گے نہیں ؟ حضرت قتادہ فرماتے ہیں فرعونیوں جیسے ذلیل و خوار لوگوں پر یہ کیوں روتے ؟ حضرت ابراہیم فرماتے ہیں دنیا جب سے رچائی گئی ہے تب سے آسمان صرف دو شخصوں پر رویا ہے ان کے شاگرد سے سوال ہوا کہ کیا آسمان و زمین ہر ایمان دار پر روتے نہیں ؟ فرمایا صرف اتنا حصہ جس حصے سے اس کا نیک عمل چڑھتا تھا سنو آسمان کا رونا اس کا سرخ ہونا اور مثل نری کے گلابی ہوجانا ہے سو یہ حال صرف دو شخصوں کی شہادت پر ہوا ہے۔ حضرت یحییٰ کے قتل کے موقعے پر تو آسمان سرخ ہوگیا اور خون برسانے لگا اور دوسرے حضرت حسین کے قتل پر بھی آسمان کا رنگ سرخ ہوگیا تھا (ابن ابی حاتم) یزید ابن ابو زیاد کا قول ہے کہ قتل حسین کی وجہ سے چار ماہ تک آسمان کے کنارے سرخ رہے اور یہی سرخی اس کا رونا ہے حضرت عطا فرماتے ہیں اس کے کناروں کا سرخ ہوجانا اس کا رونا ہے یہ بھی ذکر کیا گیا ہے کہ قتل حسین کے دن جس پتھر کو الٹا جاتا تھا اس کے نیچے سے منجمند خون نکلتا تھا۔ اس دن سورج کو بھی گہن لگا ہوا تھا آسمان کے کنارے بھی سرخ تھے اور پتھر گرے تھے۔ لیکن یہ سب باتیں بےبنیاد ہیں اور شیعوں کے گھڑے ہوئے افسانے ہیں اس میں کوئی شک نہیں کہ نواسہ رسول ﷺ کی شہادت کا واقعہ نہایت درد انگیز اور حسرت و افسوس والا ہے لیکن اس پر شیعوں نے جو حاشیہ چڑھایا ہے اور گھڑ گھڑا کر جو باتیں پھیلا دی ہیں وہ محض جھوٹ اور بالکل گپ ہیں۔ خیال تو فرمائیے کہ اس سے بہت زیادہ اہم واقعات ہوئے اور قتل حسین سے بہت بڑی وارداتیں ہوئیں لیکن ان کے ہونے پر بھی آسمان و زمین وغیرہ میں یہ انقلاب نہ ہوا۔ آپ ہی کے والد ماجد حضرت علی بھی قتل کئے گئے جو بالاجماع آپ سے افضل تھے لیکن نہ تو پتھروں تلے سے خون نکلا اور کچھ ہوا۔ حضرت عثمان بن عفان کو گھیر لیا جاتا ہے اور نہایت بےدردی سے بلاوجہ ظلم و ستم کے ساتھ انہیں قتل کیا جاتا ہے فاروق اعظم حضرت عمر بن خطاب کو صبح کی نماز پڑھاتے ہوئے نماز کی جگہ ہی قتل کیا جاتا ہے یہ وہ زبردست مصیبت تھی کہ اس سے پہلے مسلمان کبھی ایسی مصیبت نہیں پہنچائے گئے تھے لیکن ان واقعات میں سے کسی واقعہ کے وقت اب میں سے ایک بھی بات نہیں جو شیعوں نے مقتل حسین کی نسبت مشہور کر رکھی ہے۔ ان سب کو بھی جانے دیجئے تمام انسانوں کے دینی اور دنیوی سردار سید البشر رسول اللہ ﷺ کو لیجئے جس روز آپ رحلت فرماتے ہیں ان میں سے کچھ بھی نہیں ہوتا اور سنئے جس روز حضور ﷺ کے صاحبزادے حضرت ابراہیم کا انتقال ہوتا ہے اتفاقاً اسی روز سورج گہن ہوتا ہے اور کوئی کہہ دیتا ہے کہ ابراہیم کے انتقال کی وجہ سورج کو گہن لگا ہے۔ تو حضور ﷺ گہن کی نماز ادا کر کے فوراً خطبے پر کھڑے ہوجاتے ہیں اور فرماتے ہیں سورج چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں کسی کی موت زندگی کی وجہ سے انہیں گہن نہیں لگتا اس کے بعد کی آیت میں اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل پر اپنا احسان جتاتا ہے کہ ہم نے انہیں فرعون جیسے متکبر حدود شکن کے ذلیل عذابوں سے نجات دی اس نے بنی اسرائیل کو پست و خوار کر رکھا تھا ذلیل خدمتیں ان سے لیتا تھا اور اپنے نفس کو تولتا رہتا تھا خودی اور خود بینی میں لگا ہوا تھا بیوقوفی سے کسی چیز کی حد بندی کا خیال نہیں کرتا تھا اللہ کی زمین میں سرکشی کئے ہوئے تھا۔ اور ان بدکاریوں میں اس کی قوم بھی اس کے ساتھ تھی پھر بنی اسرائیل پر ایک اور مہربانی کا ذکر فرما رہا ہے کہ اس زمانے کے تمام لوگوں پر انہیں فضیلت عطا فرمائی ہر زمانے کو عالم کہا جاتا ہے یہ مراد نہیں کہ تمام اگلوں پچھلوں پر انہیں بزرگی دی یہ آیت بھی اس آیت کی طرح ہے جس میں فرمان ہے آیت (قَالَ يٰمُوْسٰٓي اِنِّى اصْطَفَيْتُكَ عَلَي النَّاسِ بِرِسٰلٰتِيْ وَبِكَلَامِيْ ڮ فَخُذْ مَآ اٰتَيْتُكَ وَكُنْ مِّنَ الشّٰكِرِيْنَ01404) 7۔ الاعراف :144) اس سے بھی یہی مطلب ہے کہ اس زمانے کی تمام عورتوں پر آپ کو فضیلت ہے اس لئے کہ ام المومنین حضرت خدیجہ ان سے یقینا افضل ہیں یا کم ازکم برابر۔ اسی طرح حضرت آسیہ بنت مزاحم جو فرعون کی بیوی تھیں اور ام المومنین حضرت عائشہ کی فضیلت تمام عورتوں پر ایسی ہے جیسی فضیلت شوربے میں بھگوئی روٹی کی اور کھانوں پر پھر بنی اسرائیل پر ایک اور احسان بیان ہو رہا ہے کہ ہم نے انہیں وہ حجت وبرہان دلیل و نشان اور معجزات و کرامات عطا فرمائے جن میں ہدایت کی تلاش کرنے والوں کے لئے صاف صاف امتحان تھا۔
23
View Single
فَأَسۡرِ بِعِبَادِي لَيۡلًا إِنَّكُم مُّتَّبَعُونَ
We commanded him, “Journey with My bondmen in a part of the night – you will be pursued.”
(ارشاد ہوا:) پھر تم میرے بندوں کو راتوں رات لے کر چلے جاؤ بیشک تمہارا تعاقب کیا جائے گا
Tafsir Ibn Kathir
The Story of Musa and Fir`awn, and how the Children of Israel were saved
Allah tells us, `before these idolators, We tested the people of Fir`awn, the copts of Egypt.'
وَجَآءَهُمْ رَسُولٌ كَرِيمٌ
(when there came to them a noble Messenger.) means, Musa, peace be upon him, the one to whom Allah spoke.
أَنْ أَدُّواْ إِلَىَّ عِبَادَ اللَّهِ
(Deliver to me the servants of Allah.) This is like the Ayah:
فَأَرْسِلْ مَعَنَا بَنِى إِسْرَءِيلَ وَلاَ تُعَذِّبْهُمْ قَدْ جِئْنَـكَ بِـَايَةٍ مِّن رَّبِّكَ وَالسَّلَـمُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى
(So let the Children of Israel go with us, and torment them not; indeed, we have come with a sign from your Lord! And peace will be upon him who follows the guidance!") (20:47)
إِنِّي لَكُمْ رَسُولٌ أَمِينٌ
(Verily, I am to you a Messenger worthy of all trust.) means, `what I convey to you is trustworthy.'
وَأَن لاَّ تَعْلُواْ عَلَى اللَّهِ
(And exalt not yourselves against Allah.) means, `and do not be too arrogant to follow His signs. Accept His proof and believe in His evidence.' This is like the Ayah:
إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِى سَيَدْخُلُونَ جَهَنَّمَ دَخِرِينَ
(Verily, those who scorn My worship they will surely enter Hell in humiliation!) (40:60)
إِنِّى ءَاتِيكُمْ بِسُلْطَانٍ مُّبِينٍ
(Truly, I have come to you with a manifest authority.) means, with clear and obvious proof. This refers to the clear signs and definitive evidence with which Allah sent him.
وَإِنِّى عُذْتُ بِرَبِّى وَرَبِّكُمْ أَن تَرْجُمُونِ
(And truly, I seek refuge with my Lord and your Lord, lest you should stone me.) Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, and Abu Salih said, "This refers to a verbal assault, which means insults." Qatadah said, "Meaning `stoning' in the literal sense, so that the meaning is: `I seek refuge with Allah, Who created me and you, from your making any harmful words or actions reach me."'
وَإِن لَّمْ تُؤْمِنُواْ لِى فَاعْتَزِلُونِ
(But if you believe me not, then keep away from me and leave me alone.) means, `then let us leave one another alone and live in peace until Allah judges between us.' After Musa, may Allah be pleased with him, had stayed among them for a long time, and the proof of Allah had been established against them, and that only increased them in disbelief and stubbornness, he prayed to his Lord against them, a prayer which was answered. Allah says:
وَقَالَ مُوسَى رَبَّنَآ إِنَّكَ ءاتَيْتَ فِرْعَوْنَ وَمَلاّهُ زِينَةً وَأَمْوَالاً فِى الْحَيَوةِ الدُّنْيَا رَبَّنَا لِيُضِلُّواْ عَن سَبِيلِكَ رَبَّنَا اطْمِسْ عَلَى أَمْوَلِهِمْ وَاشْدُدْ عَلَى قُلُوبِهِمْ فَلاَ يُؤْمِنُواْ حَتَّى يَرَوُاْ الْعَذَابَ الاٌّلِيمَ قَالَ قَدْ أُجِيبَتْ دَّعْوَتُكُمَا فَاسْتَقِيمَا
(And Musa said: "Our Lord! You have indeed bestowed on Fir`awn and his chiefs splendor and wealth in the life of this world, our Lord! That they may lead men astray from Your path. Our Lord! Destroy their wealth, and harden their hearts, so that they will not believe until they see the painful torment." Allah said: "Verily, the invocation of you both is accepted. So you both keep to the straight way.") (10:88-89) And Allah says here:
فَدَعَا رَبَّهُ أَنَّ هَـؤُلاَءِ قَوْمٌ مُّجْرِمُونَ
(So he (Musa) called upon his Lord (saying): "These are indeed the people who are criminals.") Whereupon Allah commanded him to bring the Children of Israel out from among them, without the command, consent or permission of Fir`awn. Allah said:
فَأَسْرِ بِعِبَادِى لَيْلاً إِنَّكُم مُّتَّبَعُونَ
(Depart you with My servants by night. Surely, you will be pursued.) This is like the Ayah:
وَلَقَدْ أَوْحَيْنَآ إِلَى مُوسَى أَنْ أَسْرِ بِعِبَادِى فَاضْرِبْ لَهُمْ طَرِيقاً فِى الْبَحْرِ يَبَساً لاَّ تَخَافُ دَرَكاً وَلاَ تَخْشَى
And indeed We revealed to Mu0sa0 (saying): Travel by night with My servants and strike a dry path for them in the sea, fearing neither to be overtaken nor being afraid (of drowning in the sea). )20:77(
وَاتْرُكِ الْبَحْرَ رَهْواً إِنَّهُمْ جُندٌ مُّغْرَقُونَ
(And leave the sea as it is (quiet and divided). Verily, they are a host to be drowned.) When Musa and the Children of Israel has crossed the sea, Musa wanted to strike it with his staff so that it would go back as it had been, and it would form a barrier between then and Fir`awn and prevent him from reaching them. But Allah commanded him to leave it as it was, quiet and divided, and gave him the glad tidings that they were a host to be drowned, and that he should not fear either being overtaken by Fir`awn or drowning in the sea. Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, said:
وَاتْرُكِ الْبَحْرَ رَهْواً
(And leave the sea as it is (quiet and divided).) means, leave it as it is and keep moving. Mujahid said:
رَهْواً
(as it is) means, a dry path, as it is. `Do not command it to go back; leave it until the last of them have entered it.' This was also the view of `Ikrimah, Ar-Rabi` bin Anas, Ad-Dahhak, Qatadah, Ibn Zayd, Ka`b Al-Ahbar, Simak bin Harb and others.
كَمْ تَرَكُواْ مِن جَنَّـتٍ وَعُيُونٍ وَزُرُوعٍ
(How many of gardens and springs that they left behind. And green crops) this refers to rivers and wells.
وَمَقَامٍ كَرِيمٍ
and goodly places, means, fine dwellings and beautiful places. Muja0hid and Sa 0d bin Jubayr said:
وَمَقَامٍ كَرِيمٍ
(and goodly places,) means elevated places.
وَنَعْمَةٍ كَانُواْ فِيهَا فَـكِهِينَ
(And comforts of life wherein they used to take delight!) means, a life which they were enjoying, where they could eat whatever they wanted and wear what they liked, with wealth and glory and power in the land. Then all of that was taken away in a single morning, they departed from this world and went to Hell, what a terrible abode!
كَذَلِكَ وَأَوْرَثْنَـهَا قَوْماً ءَاخَرِينَ
(Thus (it was)! And We made other people inherit them.) namely the Children of Israel.
فَمَا بَكَتْ عَلَيْهِمُ السَّمَآءُ وَالاٌّرْضُ
(And the heavens and the earth wept not for them, ) means, they had no righteous deeds which used to ascend through the gates of the heavens, which would weep for them when they died, and they had no places on earth where they used to worship Allah which would notice their loss. So they did not deserve to be given a respite, because of their disbelief, sin, transgression and stubbornness. Ibn Jarir recorded that Sa`id bin Jubayr said, "A man came to Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, and said to him: `O Abu Al-`Abbas, Allah says,
فَمَا بَكَتْ عَلَيْهِمُ السَّمَآءُ وَالاٌّرْضُ وَمَا كَانُواْ مُنظَرِينَ
(And the heavens and the earth wept not for them, nor were they given respite) -- do the heavens and the earth weep for anybody' He, may Allah be pleased with him, said, `Yes, there is no one who does not have a gate in the heavens through which his provision comes down and his good deeds ascend. When the believer dies, that gate is closed; it misses him and weeps for him, and the place of prayer on earth where he used to pray and remember Allah also weeps for him. But the people of Fir`awn left no trace of righteousness on the earth and they had no good deeds that ascended to Allah, so the heavens and the earth did not weep for them."' Al-`Awfi reported something similar from Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him.
وَلَقَدْ نَجَّيْنَا بَنِى إِسْرَءِيلَ مِنَ الْعَذَابِ الْمُهِينِ - مِن فِرْعَوْنَ إِنَّهُ كَانَ عَالِياً مِّنَ الْمُسْرِفِينَ
(And indeed We saved the Children of Israel from the humiliating torment from Fir`awn; verily, he was arrogant and was of the excessive. ) Here Allah reminds them of how He saved them from their humiliation and subjugation at the hands of Fir`awn, when they were forced to do menial tasks.
مِن فِرْعَوْنَ إِنَّهُ كَانَ عَالِياً
(From Fir`awn; verily, he was arrogant) means, he was proud and stubborn. This is like the Ayah:
إِنَّ فِرْعَوْنَ عَلاَ فِى الاٌّرْضِ
(Verily, Fir`awn exalted himself in the land) (28:4).
فَاسْتَكْبَرُواْ وَكَانُواْ قَوْماً عَـلِينَ
(but they behaved insolently and they were people self-exalting) (23:46). He was one of the excessive and held a foolish opinion of himself.
وَلَقَدِ اخْتَرْنَـهُمْ عَلَى عِلْمٍ عَلَى الْعَـلَمِينَ
(And We chose them above the nations (Al-`Alamin) with knowledge,) Mujahid said, "This means that they were chosen above those among whom they lived." Qatadah said, "They were chosen above the other people of their own time, and it was said that in every period there are people who are chosen above others." This is like the Ayah:
قَالَ يَمُوسَى إِنْى اصْطَفَيْتُكَ عَلَى النَّاسِ
((Allah) said: "O Musa I have chosen you above men.") (7:144), which means, above the people of his time. This is also like the Ayah:
وَاصْطَفَـكِ عَلَى نِسَآءِ الْعَـلَمِينَ
(and (Allah has) chosen you (Maryam) above the women of the nations (Al-`Alamin).) (3:42), i.e., Maryam was chosen above the women of her time. For Khadijah, may Allah be pleased with her, is higher than her in status or is equal to her, as was Asiyah bint Muzahim, the wife of Fir`awn. And the superiority of `A'ishah, may Allah be pleased with her, over all other women is like the superiority of Tharid over all other dishes.
وَءَاتَيْنَـهُم مِّنَ الاٌّيَـتِ
(And granted them signs) means clear proofs and extraordinary evidence.
مَا فِيهِ بَلَؤٌاْ مُّبِينٌ
(in which there was a plain trial.) means, an obvious test to show who would be guided by it.
قبطیوں کا انجام ارشاد ہوتا ہے کہ ان مشرکین سے پہلے مصر کے قبطیوں کو ہم نے جانچا ان کی طرف اپنے بزرگ رسول حضرت موسیٰ کو بھیجا انہوں نے میرا پیغام پہنچایا کہ بنی اسرائیل کو میرے ساتھ کردو انہیں دکھ نہ دو میں اپنی نبوت پر گواہی دینے والے معجزے اپنے ساتھ لایا ہوں اور ہدایت کے ماننے والے سلامتی سے رہیں گے مجھے اللہ تعالیٰ نے اپنی وحی کا امانت دار بنا کر تمہاری طرف بھیجا ہے میں تمہیں اس کا پیغام پہنچا رہا ہوں تمہیں رب کی باتوں کے ماننے سے سرکشی نہ کرنی چاہئے اس کے بیان کردہ دلائل و احکام کے سامنے سر تسلیم خم کرنا چاہئے۔ اس کی عبادتوں سے جی چرانے والے ذلیل و خوار ہو کر جہنم واصل ہوتے ہیں میں تو تمہارے سامنے کھلی دلیل اور واضح آیت رکھتا ہوں میں تمہاری بدگوئی اور اہتمام سے اللہ کی پناہ لیتا ہوں۔ ابن عباس اور ابو صالہ تو یہی کہتے ہیں اور قتادہ کہتے ہیں مراد پتھراؤ کرنا پتھروں سے مار ڈالنا ہے یعنی زبانی ایذاء سے اور دستی ایذاء سے میں اپنے رب کی جو تمہارا بھی مالک ہے پناہ چاہتا ہوں اچھا اگر تم میری نہیں مانتے مجھ پر بھروسہ نہیں کرتے اللہ پر ایمان نہیں لاتے تو کم از کم میری تکلیف دہی اور ایذاء رسانی سے تو باز رہو۔ اور اس کے منتظر رہو جب کہ خود اللہ ہم میں تم میں فیصلہ کر دے گا پھر جب اللہ کے نبی کلیم اللہ حضرت موسیٰ نے ایک لمبی مدت ان میں گذاری خوب دل کھول کھول کر تبلیغ کرلی ہر طرح کی خیر خواہی کی ان کی ہدایت کے لئے ہرچند جتن کر لئے اور دیکھا کہ وہ روز بروز اپنے کفر میں بڑھتے جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ سے انکے لئے بددعا کی جیسے اور آیت میں ہے کہ حضرت موسیٰ نے کہا اے ہمارے رب تو نے فرعون اور اس کے امراء کو دنیوی نمائش اور مال و متاع دے رکھی ہے اے اللہ یہ اس سے دوسروں کو بھی تیری راہ سے بھٹکا رہے ہیں تو ان کا مال غارت کر اور ان کے دل اور سخت کر دے تاکہ دردناک عذابوں کے معائنہ تک انہیں ایمان نصیب ہی نہ ہو اللہ کی طرف سے جواب ملا کہ اے موسیٰ اور اے ہارون میں نے تمہاری دعا قبول کرلی اب تم استقامت پر تل جاؤ یہاں فرماتا ہے کہ ہم نے موسیٰ سے کہا کہ میرے بندوں یعنی بنی اسرائیل کو راتوں رات فرعون اور فرعونیوں کی بیخبر ی میں یہاں سے لے کر چلے جاؤ۔ یہ کفار تمہارا پیچھا کریں گے لیکن تم بےخوف و خطر چلے جاؤ میں تمہارے لئے دریا کو خشک کر دوں گا اس کے بعد حضرت موسیٰ ؑ بنی اسرائیل کو لے کر چل پڑے فرعونی لشکر مع فرعون کے ان کے پکڑنے کو چلا بیچ میں دریا حائل ہوا آپ بنی اسرائیل کو لے کر اس میں اتر گئے دریا کا پانی سوکھ گیا اور آپ اپنے ساتھیوں سمیت پار ہوگئے تو چاہا کہ دریا پر لکڑی مار کر اسے کہہ دیں کہ اب تو اپنی روانی پر آجا تاکہ فرعون اس سے گزر نہ سکے وہیں اللہ نے وحی بھیجی کہ اسے اسی حال میں سکون کے ساتھ ہی رہنے دو ساتھ ہی اس کی وجہ بھی بتادی کہ یہ سب اسی میں ڈوب مریں گے۔ پھر تو تم سب بالکل ہی مطمئن اور بےخوف ہوجاؤ گے غرض حکم ہوا تھا کہ دریا کو خشک چھوڑ کر چل دیں (رھواً) کے معنی سوکھا راستہ جو اصلی حالت پر ہو۔ مقصد یہ ہے کہ پار ہو کہ دریا کو روانی کا حکم نہ دینا یہاں تک کہ دشمنوں میں سے ایک ایک اس میں آ نہ جائے اب اسے جاری ہونے کا حکم ملتے ہی سب کو غرق کر دے گا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے دیکھو کیسے غارت ہوئے۔ باغات کھتیاں نہریں مکانات اور بیٹھکیں سب چھوڑ کر فنا ہوگئے حضرت عبداللہ بن عمرو فرماتے ہیں مصر کا دریائے نیل مشرق مغرب کے دریاؤں کا سردار ہے اور سب نہریں اس کے ماتحت ہیں جب اس کی روانی اللہ کو منظور ہوتی ہیں تو تمام نہروں کو اس میں پانی پہنچانے کا حکم ہوتا ہے جہاں تک رب کو منظور ہو اس میں پانی آجاتا ہے پھر اللہ تبارک و تعالیٰ اور نہروں کو روک دیتا ہے اور حکم دیتا ہے کہ اب اپنی اپنی جگہ چلی جاؤ اور فرعونیوں کے یہ باغات دریائے نیل کے دونوں کناروں پر مسلسل چلے گئے تھے رسواں سے لے کر رشید تک اس کا سلسلہ تھا اور اس کی نو خلیجیں تھیں۔ خلیج اسکندریہ، دمیاط، خلیج سردوس، خلیج منصف، خلیج منتہی اور ان سب میں اتصال تھا ایک دوسرے سے متصل تھیں اور پہاڑوں کے دامن میں ان کی کھیتیاں تھیں جو مصر سے لے کر دریا تک برابر چلی آتی تھیں ان تمام کو بھی دریا سیراب کرتا تھا بڑے امن چین کی زندگی گذار رہے تھے لیکن مغرور ہوگئے اور آخر ساری نعمتیں یونہی چھوڑ کر تباہ کر دئیے گئے۔ مال اولاد جاہ و مال سلطنت و عزت ایک ہی رات میں چھوڑ گئے اور بھس کی طرح اڑا دئیے گئے اور گذشتہ کل کی طرح بےنشان کر دئیے گئے ایسے ڈبوئے گئے کہ ابھر نہ سکے جہنم واصل ہوگئے اور بدترین جگہ پہنچ گئے ان کی یہ تمام چیزیں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو دے دیں۔ جیسے اور آیت میں فرمایا ہے کہ ہم نے ان کمزوروں کو ان کے صبر کے بدلے اس سرکش قوم کی کل نعمتیں عطا فرمادیں اور بےایمانوں کا بھرکس نکال ڈالا یہاں بھی دوسری قوم جسے وارث بنایا اس سے مراد بھی بنی اسرائیل ہیں پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ان پر زمین و آسمان نہ روئے کیونکہ ان پاپیوں کے نیک اعمال تھے ہی نہیں جو آسمانوں پر چڑھتے ہوں اور اب ان کے نہ چڑھنے کی وجہ سے وہ افسوس کریں نہ زمین میں ان کی جگہیں ایسی تھیں کہ جہاں بیٹھ کر یہ اللہ کی عبادت کرتے ہوں اور آج انہیں نہ پا کر زمین کی وہ جگہ ان کا ماتم کرے انہیں مہلت نہ دی گئی۔ مسند ابو یعلی موصلی میں ہے ہر بندے کے لئے آسمان میں دو دروازے ہیں ایک سے اس کی روزی اترتی ہے دوسرے سے اس کے اعمال اور اس کے کلام چڑھتے ہیں۔ جب یہ مرجاتا ہے اور وہ عمل و رزق کو گم شدہ پاتے ہیں تو روتے ہیں پھر اسی آیت کی حضور ﷺ نے تلاوت کی ابن ابی حاتم میں فرمان رسول ﷺ ہے کہ اسلام غربت سے شروع ہوا اور پھر غربت پر آجائے گا یاد رکھو مومن کہیں انجام مسافر کی طرح نہیں مومن جہاں کہیں سفر میں ہوتا ہے جہاں اس کا کوئی رونے والا نہ ہو وہاں بھی اس کے رونے والے آسمان و زمین موجود ہیں پھر حضور ﷺ نے اس آیت کی تلاوت کر کے فرمایا یہ دونوں کفار پر روتے نہیں حضرت علی سے کسی نے پوچھا کہ آسمان و زمین کبھی کسی پر روئے بھی ہیں ؟ آپ نے فرمایا آج تو نے وہ بات دریافت کی ہے کہ تجھ سے پہلے مجھ سے اس کا سوال کسی نے نہیں کیا۔ سنو ہر بندے کے لئے زمین میں ایک نماز کی جگہ ہوتی ہے اور ایک جگہ آسمان میں اس کے عمل کے چڑھنے کی ہوتی ہے اور آل فرعون کے نیک اعمال ہی نہ تھے اس وجہ سے نہ زمین ان پر روئی نہ آسمان کو ان پر رونا آیا اور نہ انہیں ڈھیل دی گئی کہ کوئی نیکی بجا لاسکیں، حضرت ابن عباس سے یہ سوال ہوا تو آپ نے بھی قریب قریب یہی جواب دیا بلکہ آپ سے مروی ہے کہ چالیس دن تک زمین مومن پر روتی رہتی ہے حضرت مجاہد نے جب یہ بیان فرمایا تو کسی نے اس پر تعجب کا اظہار کیا آپ نے فرمایا سبحان اللہ اس میں تعجب کی کونسی بات ہے جو بندہ زمین کو اپنے رکوع و سجود سے آباد رکھتا تھا جس بندے کی تکبیر و تسبیح کی آوازیں آسمان برابر سنتا رہا تھا بھلا یہ دونوں اس عابد اللہ پر روئیں گے نہیں ؟ حضرت قتادہ فرماتے ہیں فرعونیوں جیسے ذلیل و خوار لوگوں پر یہ کیوں روتے ؟ حضرت ابراہیم فرماتے ہیں دنیا جب سے رچائی گئی ہے تب سے آسمان صرف دو شخصوں پر رویا ہے ان کے شاگرد سے سوال ہوا کہ کیا آسمان و زمین ہر ایمان دار پر روتے نہیں ؟ فرمایا صرف اتنا حصہ جس حصے سے اس کا نیک عمل چڑھتا تھا سنو آسمان کا رونا اس کا سرخ ہونا اور مثل نری کے گلابی ہوجانا ہے سو یہ حال صرف دو شخصوں کی شہادت پر ہوا ہے۔ حضرت یحییٰ کے قتل کے موقعے پر تو آسمان سرخ ہوگیا اور خون برسانے لگا اور دوسرے حضرت حسین کے قتل پر بھی آسمان کا رنگ سرخ ہوگیا تھا (ابن ابی حاتم) یزید ابن ابو زیاد کا قول ہے کہ قتل حسین کی وجہ سے چار ماہ تک آسمان کے کنارے سرخ رہے اور یہی سرخی اس کا رونا ہے حضرت عطا فرماتے ہیں اس کے کناروں کا سرخ ہوجانا اس کا رونا ہے یہ بھی ذکر کیا گیا ہے کہ قتل حسین کے دن جس پتھر کو الٹا جاتا تھا اس کے نیچے سے منجمند خون نکلتا تھا۔ اس دن سورج کو بھی گہن لگا ہوا تھا آسمان کے کنارے بھی سرخ تھے اور پتھر گرے تھے۔ لیکن یہ سب باتیں بےبنیاد ہیں اور شیعوں کے گھڑے ہوئے افسانے ہیں اس میں کوئی شک نہیں کہ نواسہ رسول ﷺ کی شہادت کا واقعہ نہایت درد انگیز اور حسرت و افسوس والا ہے لیکن اس پر شیعوں نے جو حاشیہ چڑھایا ہے اور گھڑ گھڑا کر جو باتیں پھیلا دی ہیں وہ محض جھوٹ اور بالکل گپ ہیں۔ خیال تو فرمائیے کہ اس سے بہت زیادہ اہم واقعات ہوئے اور قتل حسین سے بہت بڑی وارداتیں ہوئیں لیکن ان کے ہونے پر بھی آسمان و زمین وغیرہ میں یہ انقلاب نہ ہوا۔ آپ ہی کے والد ماجد حضرت علی بھی قتل کئے گئے جو بالاجماع آپ سے افضل تھے لیکن نہ تو پتھروں تلے سے خون نکلا اور کچھ ہوا۔ حضرت عثمان بن عفان کو گھیر لیا جاتا ہے اور نہایت بےدردی سے بلاوجہ ظلم و ستم کے ساتھ انہیں قتل کیا جاتا ہے فاروق اعظم حضرت عمر بن خطاب کو صبح کی نماز پڑھاتے ہوئے نماز کی جگہ ہی قتل کیا جاتا ہے یہ وہ زبردست مصیبت تھی کہ اس سے پہلے مسلمان کبھی ایسی مصیبت نہیں پہنچائے گئے تھے لیکن ان واقعات میں سے کسی واقعہ کے وقت اب میں سے ایک بھی بات نہیں جو شیعوں نے مقتل حسین کی نسبت مشہور کر رکھی ہے۔ ان سب کو بھی جانے دیجئے تمام انسانوں کے دینی اور دنیوی سردار سید البشر رسول اللہ ﷺ کو لیجئے جس روز آپ رحلت فرماتے ہیں ان میں سے کچھ بھی نہیں ہوتا اور سنئے جس روز حضور ﷺ کے صاحبزادے حضرت ابراہیم کا انتقال ہوتا ہے اتفاقاً اسی روز سورج گہن ہوتا ہے اور کوئی کہہ دیتا ہے کہ ابراہیم کے انتقال کی وجہ سورج کو گہن لگا ہے۔ تو حضور ﷺ گہن کی نماز ادا کر کے فوراً خطبے پر کھڑے ہوجاتے ہیں اور فرماتے ہیں سورج چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں کسی کی موت زندگی کی وجہ سے انہیں گہن نہیں لگتا اس کے بعد کی آیت میں اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل پر اپنا احسان جتاتا ہے کہ ہم نے انہیں فرعون جیسے متکبر حدود شکن کے ذلیل عذابوں سے نجات دی اس نے بنی اسرائیل کو پست و خوار کر رکھا تھا ذلیل خدمتیں ان سے لیتا تھا اور اپنے نفس کو تولتا رہتا تھا خودی اور خود بینی میں لگا ہوا تھا بیوقوفی سے کسی چیز کی حد بندی کا خیال نہیں کرتا تھا اللہ کی زمین میں سرکشی کئے ہوئے تھا۔ اور ان بدکاریوں میں اس کی قوم بھی اس کے ساتھ تھی پھر بنی اسرائیل پر ایک اور مہربانی کا ذکر فرما رہا ہے کہ اس زمانے کے تمام لوگوں پر انہیں فضیلت عطا فرمائی ہر زمانے کو عالم کہا جاتا ہے یہ مراد نہیں کہ تمام اگلوں پچھلوں پر انہیں بزرگی دی یہ آیت بھی اس آیت کی طرح ہے جس میں فرمان ہے آیت (قَالَ يٰمُوْسٰٓي اِنِّى اصْطَفَيْتُكَ عَلَي النَّاسِ بِرِسٰلٰتِيْ وَبِكَلَامِيْ ڮ فَخُذْ مَآ اٰتَيْتُكَ وَكُنْ مِّنَ الشّٰكِرِيْنَ01404) 7۔ الاعراف :144) اس سے بھی یہی مطلب ہے کہ اس زمانے کی تمام عورتوں پر آپ کو فضیلت ہے اس لئے کہ ام المومنین حضرت خدیجہ ان سے یقینا افضل ہیں یا کم ازکم برابر۔ اسی طرح حضرت آسیہ بنت مزاحم جو فرعون کی بیوی تھیں اور ام المومنین حضرت عائشہ کی فضیلت تمام عورتوں پر ایسی ہے جیسی فضیلت شوربے میں بھگوئی روٹی کی اور کھانوں پر پھر بنی اسرائیل پر ایک اور احسان بیان ہو رہا ہے کہ ہم نے انہیں وہ حجت وبرہان دلیل و نشان اور معجزات و کرامات عطا فرمائے جن میں ہدایت کی تلاش کرنے والوں کے لئے صاف صاف امتحان تھا۔
24
View Single
وَٱتۡرُكِ ٱلۡبَحۡرَ رَهۡوًاۖ إِنَّهُمۡ جُندٞ مُّغۡرَقُونَ
“And leave the sea as it is, parted in several places; indeed that army will be drowned.”
اور (خود گزر جانے کے بعد) دریا کو ساکن اور کھلا چھوڑ دینا، بیشک وہ ایسا لشکر ہے جسے ڈبو دیا جائے گا
Tafsir Ibn Kathir
The Story of Musa and Fir`awn, and how the Children of Israel were saved
Allah tells us, `before these idolators, We tested the people of Fir`awn, the copts of Egypt.'
وَجَآءَهُمْ رَسُولٌ كَرِيمٌ
(when there came to them a noble Messenger.) means, Musa, peace be upon him, the one to whom Allah spoke.
أَنْ أَدُّواْ إِلَىَّ عِبَادَ اللَّهِ
(Deliver to me the servants of Allah.) This is like the Ayah:
فَأَرْسِلْ مَعَنَا بَنِى إِسْرَءِيلَ وَلاَ تُعَذِّبْهُمْ قَدْ جِئْنَـكَ بِـَايَةٍ مِّن رَّبِّكَ وَالسَّلَـمُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى
(So let the Children of Israel go with us, and torment them not; indeed, we have come with a sign from your Lord! And peace will be upon him who follows the guidance!") (20:47)
إِنِّي لَكُمْ رَسُولٌ أَمِينٌ
(Verily, I am to you a Messenger worthy of all trust.) means, `what I convey to you is trustworthy.'
وَأَن لاَّ تَعْلُواْ عَلَى اللَّهِ
(And exalt not yourselves against Allah.) means, `and do not be too arrogant to follow His signs. Accept His proof and believe in His evidence.' This is like the Ayah:
إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِى سَيَدْخُلُونَ جَهَنَّمَ دَخِرِينَ
(Verily, those who scorn My worship they will surely enter Hell in humiliation!) (40:60)
إِنِّى ءَاتِيكُمْ بِسُلْطَانٍ مُّبِينٍ
(Truly, I have come to you with a manifest authority.) means, with clear and obvious proof. This refers to the clear signs and definitive evidence with which Allah sent him.
وَإِنِّى عُذْتُ بِرَبِّى وَرَبِّكُمْ أَن تَرْجُمُونِ
(And truly, I seek refuge with my Lord and your Lord, lest you should stone me.) Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, and Abu Salih said, "This refers to a verbal assault, which means insults." Qatadah said, "Meaning `stoning' in the literal sense, so that the meaning is: `I seek refuge with Allah, Who created me and you, from your making any harmful words or actions reach me."'
وَإِن لَّمْ تُؤْمِنُواْ لِى فَاعْتَزِلُونِ
(But if you believe me not, then keep away from me and leave me alone.) means, `then let us leave one another alone and live in peace until Allah judges between us.' After Musa, may Allah be pleased with him, had stayed among them for a long time, and the proof of Allah had been established against them, and that only increased them in disbelief and stubbornness, he prayed to his Lord against them, a prayer which was answered. Allah says:
وَقَالَ مُوسَى رَبَّنَآ إِنَّكَ ءاتَيْتَ فِرْعَوْنَ وَمَلاّهُ زِينَةً وَأَمْوَالاً فِى الْحَيَوةِ الدُّنْيَا رَبَّنَا لِيُضِلُّواْ عَن سَبِيلِكَ رَبَّنَا اطْمِسْ عَلَى أَمْوَلِهِمْ وَاشْدُدْ عَلَى قُلُوبِهِمْ فَلاَ يُؤْمِنُواْ حَتَّى يَرَوُاْ الْعَذَابَ الاٌّلِيمَ قَالَ قَدْ أُجِيبَتْ دَّعْوَتُكُمَا فَاسْتَقِيمَا
(And Musa said: "Our Lord! You have indeed bestowed on Fir`awn and his chiefs splendor and wealth in the life of this world, our Lord! That they may lead men astray from Your path. Our Lord! Destroy their wealth, and harden their hearts, so that they will not believe until they see the painful torment." Allah said: "Verily, the invocation of you both is accepted. So you both keep to the straight way.") (10:88-89) And Allah says here:
فَدَعَا رَبَّهُ أَنَّ هَـؤُلاَءِ قَوْمٌ مُّجْرِمُونَ
(So he (Musa) called upon his Lord (saying): "These are indeed the people who are criminals.") Whereupon Allah commanded him to bring the Children of Israel out from among them, without the command, consent or permission of Fir`awn. Allah said:
فَأَسْرِ بِعِبَادِى لَيْلاً إِنَّكُم مُّتَّبَعُونَ
(Depart you with My servants by night. Surely, you will be pursued.) This is like the Ayah:
وَلَقَدْ أَوْحَيْنَآ إِلَى مُوسَى أَنْ أَسْرِ بِعِبَادِى فَاضْرِبْ لَهُمْ طَرِيقاً فِى الْبَحْرِ يَبَساً لاَّ تَخَافُ دَرَكاً وَلاَ تَخْشَى
And indeed We revealed to Mu0sa0 (saying): Travel by night with My servants and strike a dry path for them in the sea, fearing neither to be overtaken nor being afraid (of drowning in the sea). )20:77(
وَاتْرُكِ الْبَحْرَ رَهْواً إِنَّهُمْ جُندٌ مُّغْرَقُونَ
(And leave the sea as it is (quiet and divided). Verily, they are a host to be drowned.) When Musa and the Children of Israel has crossed the sea, Musa wanted to strike it with his staff so that it would go back as it had been, and it would form a barrier between then and Fir`awn and prevent him from reaching them. But Allah commanded him to leave it as it was, quiet and divided, and gave him the glad tidings that they were a host to be drowned, and that he should not fear either being overtaken by Fir`awn or drowning in the sea. Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, said:
وَاتْرُكِ الْبَحْرَ رَهْواً
(And leave the sea as it is (quiet and divided).) means, leave it as it is and keep moving. Mujahid said:
رَهْواً
(as it is) means, a dry path, as it is. `Do not command it to go back; leave it until the last of them have entered it.' This was also the view of `Ikrimah, Ar-Rabi` bin Anas, Ad-Dahhak, Qatadah, Ibn Zayd, Ka`b Al-Ahbar, Simak bin Harb and others.
كَمْ تَرَكُواْ مِن جَنَّـتٍ وَعُيُونٍ وَزُرُوعٍ
(How many of gardens and springs that they left behind. And green crops) this refers to rivers and wells.
وَمَقَامٍ كَرِيمٍ
and goodly places, means, fine dwellings and beautiful places. Muja0hid and Sa 0d bin Jubayr said:
وَمَقَامٍ كَرِيمٍ
(and goodly places,) means elevated places.
وَنَعْمَةٍ كَانُواْ فِيهَا فَـكِهِينَ
(And comforts of life wherein they used to take delight!) means, a life which they were enjoying, where they could eat whatever they wanted and wear what they liked, with wealth and glory and power in the land. Then all of that was taken away in a single morning, they departed from this world and went to Hell, what a terrible abode!
كَذَلِكَ وَأَوْرَثْنَـهَا قَوْماً ءَاخَرِينَ
(Thus (it was)! And We made other people inherit them.) namely the Children of Israel.
فَمَا بَكَتْ عَلَيْهِمُ السَّمَآءُ وَالاٌّرْضُ
(And the heavens and the earth wept not for them, ) means, they had no righteous deeds which used to ascend through the gates of the heavens, which would weep for them when they died, and they had no places on earth where they used to worship Allah which would notice their loss. So they did not deserve to be given a respite, because of their disbelief, sin, transgression and stubbornness. Ibn Jarir recorded that Sa`id bin Jubayr said, "A man came to Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, and said to him: `O Abu Al-`Abbas, Allah says,
فَمَا بَكَتْ عَلَيْهِمُ السَّمَآءُ وَالاٌّرْضُ وَمَا كَانُواْ مُنظَرِينَ
(And the heavens and the earth wept not for them, nor were they given respite) -- do the heavens and the earth weep for anybody' He, may Allah be pleased with him, said, `Yes, there is no one who does not have a gate in the heavens through which his provision comes down and his good deeds ascend. When the believer dies, that gate is closed; it misses him and weeps for him, and the place of prayer on earth where he used to pray and remember Allah also weeps for him. But the people of Fir`awn left no trace of righteousness on the earth and they had no good deeds that ascended to Allah, so the heavens and the earth did not weep for them."' Al-`Awfi reported something similar from Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him.
وَلَقَدْ نَجَّيْنَا بَنِى إِسْرَءِيلَ مِنَ الْعَذَابِ الْمُهِينِ - مِن فِرْعَوْنَ إِنَّهُ كَانَ عَالِياً مِّنَ الْمُسْرِفِينَ
(And indeed We saved the Children of Israel from the humiliating torment from Fir`awn; verily, he was arrogant and was of the excessive. ) Here Allah reminds them of how He saved them from their humiliation and subjugation at the hands of Fir`awn, when they were forced to do menial tasks.
مِن فِرْعَوْنَ إِنَّهُ كَانَ عَالِياً
(From Fir`awn; verily, he was arrogant) means, he was proud and stubborn. This is like the Ayah:
إِنَّ فِرْعَوْنَ عَلاَ فِى الاٌّرْضِ
(Verily, Fir`awn exalted himself in the land) (28:4).
فَاسْتَكْبَرُواْ وَكَانُواْ قَوْماً عَـلِينَ
(but they behaved insolently and they were people self-exalting) (23:46). He was one of the excessive and held a foolish opinion of himself.
وَلَقَدِ اخْتَرْنَـهُمْ عَلَى عِلْمٍ عَلَى الْعَـلَمِينَ
(And We chose them above the nations (Al-`Alamin) with knowledge,) Mujahid said, "This means that they were chosen above those among whom they lived." Qatadah said, "They were chosen above the other people of their own time, and it was said that in every period there are people who are chosen above others." This is like the Ayah:
قَالَ يَمُوسَى إِنْى اصْطَفَيْتُكَ عَلَى النَّاسِ
((Allah) said: "O Musa I have chosen you above men.") (7:144), which means, above the people of his time. This is also like the Ayah:
وَاصْطَفَـكِ عَلَى نِسَآءِ الْعَـلَمِينَ
(and (Allah has) chosen you (Maryam) above the women of the nations (Al-`Alamin).) (3:42), i.e., Maryam was chosen above the women of her time. For Khadijah, may Allah be pleased with her, is higher than her in status or is equal to her, as was Asiyah bint Muzahim, the wife of Fir`awn. And the superiority of `A'ishah, may Allah be pleased with her, over all other women is like the superiority of Tharid over all other dishes.
وَءَاتَيْنَـهُم مِّنَ الاٌّيَـتِ
(And granted them signs) means clear proofs and extraordinary evidence.
مَا فِيهِ بَلَؤٌاْ مُّبِينٌ
(in which there was a plain trial.) means, an obvious test to show who would be guided by it.
قبطیوں کا انجام ارشاد ہوتا ہے کہ ان مشرکین سے پہلے مصر کے قبطیوں کو ہم نے جانچا ان کی طرف اپنے بزرگ رسول حضرت موسیٰ کو بھیجا انہوں نے میرا پیغام پہنچایا کہ بنی اسرائیل کو میرے ساتھ کردو انہیں دکھ نہ دو میں اپنی نبوت پر گواہی دینے والے معجزے اپنے ساتھ لایا ہوں اور ہدایت کے ماننے والے سلامتی سے رہیں گے مجھے اللہ تعالیٰ نے اپنی وحی کا امانت دار بنا کر تمہاری طرف بھیجا ہے میں تمہیں اس کا پیغام پہنچا رہا ہوں تمہیں رب کی باتوں کے ماننے سے سرکشی نہ کرنی چاہئے اس کے بیان کردہ دلائل و احکام کے سامنے سر تسلیم خم کرنا چاہئے۔ اس کی عبادتوں سے جی چرانے والے ذلیل و خوار ہو کر جہنم واصل ہوتے ہیں میں تو تمہارے سامنے کھلی دلیل اور واضح آیت رکھتا ہوں میں تمہاری بدگوئی اور اہتمام سے اللہ کی پناہ لیتا ہوں۔ ابن عباس اور ابو صالہ تو یہی کہتے ہیں اور قتادہ کہتے ہیں مراد پتھراؤ کرنا پتھروں سے مار ڈالنا ہے یعنی زبانی ایذاء سے اور دستی ایذاء سے میں اپنے رب کی جو تمہارا بھی مالک ہے پناہ چاہتا ہوں اچھا اگر تم میری نہیں مانتے مجھ پر بھروسہ نہیں کرتے اللہ پر ایمان نہیں لاتے تو کم از کم میری تکلیف دہی اور ایذاء رسانی سے تو باز رہو۔ اور اس کے منتظر رہو جب کہ خود اللہ ہم میں تم میں فیصلہ کر دے گا پھر جب اللہ کے نبی کلیم اللہ حضرت موسیٰ نے ایک لمبی مدت ان میں گذاری خوب دل کھول کھول کر تبلیغ کرلی ہر طرح کی خیر خواہی کی ان کی ہدایت کے لئے ہرچند جتن کر لئے اور دیکھا کہ وہ روز بروز اپنے کفر میں بڑھتے جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ سے انکے لئے بددعا کی جیسے اور آیت میں ہے کہ حضرت موسیٰ نے کہا اے ہمارے رب تو نے فرعون اور اس کے امراء کو دنیوی نمائش اور مال و متاع دے رکھی ہے اے اللہ یہ اس سے دوسروں کو بھی تیری راہ سے بھٹکا رہے ہیں تو ان کا مال غارت کر اور ان کے دل اور سخت کر دے تاکہ دردناک عذابوں کے معائنہ تک انہیں ایمان نصیب ہی نہ ہو اللہ کی طرف سے جواب ملا کہ اے موسیٰ اور اے ہارون میں نے تمہاری دعا قبول کرلی اب تم استقامت پر تل جاؤ یہاں فرماتا ہے کہ ہم نے موسیٰ سے کہا کہ میرے بندوں یعنی بنی اسرائیل کو راتوں رات فرعون اور فرعونیوں کی بیخبر ی میں یہاں سے لے کر چلے جاؤ۔ یہ کفار تمہارا پیچھا کریں گے لیکن تم بےخوف و خطر چلے جاؤ میں تمہارے لئے دریا کو خشک کر دوں گا اس کے بعد حضرت موسیٰ ؑ بنی اسرائیل کو لے کر چل پڑے فرعونی لشکر مع فرعون کے ان کے پکڑنے کو چلا بیچ میں دریا حائل ہوا آپ بنی اسرائیل کو لے کر اس میں اتر گئے دریا کا پانی سوکھ گیا اور آپ اپنے ساتھیوں سمیت پار ہوگئے تو چاہا کہ دریا پر لکڑی مار کر اسے کہہ دیں کہ اب تو اپنی روانی پر آجا تاکہ فرعون اس سے گزر نہ سکے وہیں اللہ نے وحی بھیجی کہ اسے اسی حال میں سکون کے ساتھ ہی رہنے دو ساتھ ہی اس کی وجہ بھی بتادی کہ یہ سب اسی میں ڈوب مریں گے۔ پھر تو تم سب بالکل ہی مطمئن اور بےخوف ہوجاؤ گے غرض حکم ہوا تھا کہ دریا کو خشک چھوڑ کر چل دیں (رھواً) کے معنی سوکھا راستہ جو اصلی حالت پر ہو۔ مقصد یہ ہے کہ پار ہو کہ دریا کو روانی کا حکم نہ دینا یہاں تک کہ دشمنوں میں سے ایک ایک اس میں آ نہ جائے اب اسے جاری ہونے کا حکم ملتے ہی سب کو غرق کر دے گا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے دیکھو کیسے غارت ہوئے۔ باغات کھتیاں نہریں مکانات اور بیٹھکیں سب چھوڑ کر فنا ہوگئے حضرت عبداللہ بن عمرو فرماتے ہیں مصر کا دریائے نیل مشرق مغرب کے دریاؤں کا سردار ہے اور سب نہریں اس کے ماتحت ہیں جب اس کی روانی اللہ کو منظور ہوتی ہیں تو تمام نہروں کو اس میں پانی پہنچانے کا حکم ہوتا ہے جہاں تک رب کو منظور ہو اس میں پانی آجاتا ہے پھر اللہ تبارک و تعالیٰ اور نہروں کو روک دیتا ہے اور حکم دیتا ہے کہ اب اپنی اپنی جگہ چلی جاؤ اور فرعونیوں کے یہ باغات دریائے نیل کے دونوں کناروں پر مسلسل چلے گئے تھے رسواں سے لے کر رشید تک اس کا سلسلہ تھا اور اس کی نو خلیجیں تھیں۔ خلیج اسکندریہ، دمیاط، خلیج سردوس، خلیج منصف، خلیج منتہی اور ان سب میں اتصال تھا ایک دوسرے سے متصل تھیں اور پہاڑوں کے دامن میں ان کی کھیتیاں تھیں جو مصر سے لے کر دریا تک برابر چلی آتی تھیں ان تمام کو بھی دریا سیراب کرتا تھا بڑے امن چین کی زندگی گذار رہے تھے لیکن مغرور ہوگئے اور آخر ساری نعمتیں یونہی چھوڑ کر تباہ کر دئیے گئے۔ مال اولاد جاہ و مال سلطنت و عزت ایک ہی رات میں چھوڑ گئے اور بھس کی طرح اڑا دئیے گئے اور گذشتہ کل کی طرح بےنشان کر دئیے گئے ایسے ڈبوئے گئے کہ ابھر نہ سکے جہنم واصل ہوگئے اور بدترین جگہ پہنچ گئے ان کی یہ تمام چیزیں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو دے دیں۔ جیسے اور آیت میں فرمایا ہے کہ ہم نے ان کمزوروں کو ان کے صبر کے بدلے اس سرکش قوم کی کل نعمتیں عطا فرمادیں اور بےایمانوں کا بھرکس نکال ڈالا یہاں بھی دوسری قوم جسے وارث بنایا اس سے مراد بھی بنی اسرائیل ہیں پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ان پر زمین و آسمان نہ روئے کیونکہ ان پاپیوں کے نیک اعمال تھے ہی نہیں جو آسمانوں پر چڑھتے ہوں اور اب ان کے نہ چڑھنے کی وجہ سے وہ افسوس کریں نہ زمین میں ان کی جگہیں ایسی تھیں کہ جہاں بیٹھ کر یہ اللہ کی عبادت کرتے ہوں اور آج انہیں نہ پا کر زمین کی وہ جگہ ان کا ماتم کرے انہیں مہلت نہ دی گئی۔ مسند ابو یعلی موصلی میں ہے ہر بندے کے لئے آسمان میں دو دروازے ہیں ایک سے اس کی روزی اترتی ہے دوسرے سے اس کے اعمال اور اس کے کلام چڑھتے ہیں۔ جب یہ مرجاتا ہے اور وہ عمل و رزق کو گم شدہ پاتے ہیں تو روتے ہیں پھر اسی آیت کی حضور ﷺ نے تلاوت کی ابن ابی حاتم میں فرمان رسول ﷺ ہے کہ اسلام غربت سے شروع ہوا اور پھر غربت پر آجائے گا یاد رکھو مومن کہیں انجام مسافر کی طرح نہیں مومن جہاں کہیں سفر میں ہوتا ہے جہاں اس کا کوئی رونے والا نہ ہو وہاں بھی اس کے رونے والے آسمان و زمین موجود ہیں پھر حضور ﷺ نے اس آیت کی تلاوت کر کے فرمایا یہ دونوں کفار پر روتے نہیں حضرت علی سے کسی نے پوچھا کہ آسمان و زمین کبھی کسی پر روئے بھی ہیں ؟ آپ نے فرمایا آج تو نے وہ بات دریافت کی ہے کہ تجھ سے پہلے مجھ سے اس کا سوال کسی نے نہیں کیا۔ سنو ہر بندے کے لئے زمین میں ایک نماز کی جگہ ہوتی ہے اور ایک جگہ آسمان میں اس کے عمل کے چڑھنے کی ہوتی ہے اور آل فرعون کے نیک اعمال ہی نہ تھے اس وجہ سے نہ زمین ان پر روئی نہ آسمان کو ان پر رونا آیا اور نہ انہیں ڈھیل دی گئی کہ کوئی نیکی بجا لاسکیں، حضرت ابن عباس سے یہ سوال ہوا تو آپ نے بھی قریب قریب یہی جواب دیا بلکہ آپ سے مروی ہے کہ چالیس دن تک زمین مومن پر روتی رہتی ہے حضرت مجاہد نے جب یہ بیان فرمایا تو کسی نے اس پر تعجب کا اظہار کیا آپ نے فرمایا سبحان اللہ اس میں تعجب کی کونسی بات ہے جو بندہ زمین کو اپنے رکوع و سجود سے آباد رکھتا تھا جس بندے کی تکبیر و تسبیح کی آوازیں آسمان برابر سنتا رہا تھا بھلا یہ دونوں اس عابد اللہ پر روئیں گے نہیں ؟ حضرت قتادہ فرماتے ہیں فرعونیوں جیسے ذلیل و خوار لوگوں پر یہ کیوں روتے ؟ حضرت ابراہیم فرماتے ہیں دنیا جب سے رچائی گئی ہے تب سے آسمان صرف دو شخصوں پر رویا ہے ان کے شاگرد سے سوال ہوا کہ کیا آسمان و زمین ہر ایمان دار پر روتے نہیں ؟ فرمایا صرف اتنا حصہ جس حصے سے اس کا نیک عمل چڑھتا تھا سنو آسمان کا رونا اس کا سرخ ہونا اور مثل نری کے گلابی ہوجانا ہے سو یہ حال صرف دو شخصوں کی شہادت پر ہوا ہے۔ حضرت یحییٰ کے قتل کے موقعے پر تو آسمان سرخ ہوگیا اور خون برسانے لگا اور دوسرے حضرت حسین کے قتل پر بھی آسمان کا رنگ سرخ ہوگیا تھا (ابن ابی حاتم) یزید ابن ابو زیاد کا قول ہے کہ قتل حسین کی وجہ سے چار ماہ تک آسمان کے کنارے سرخ رہے اور یہی سرخی اس کا رونا ہے حضرت عطا فرماتے ہیں اس کے کناروں کا سرخ ہوجانا اس کا رونا ہے یہ بھی ذکر کیا گیا ہے کہ قتل حسین کے دن جس پتھر کو الٹا جاتا تھا اس کے نیچے سے منجمند خون نکلتا تھا۔ اس دن سورج کو بھی گہن لگا ہوا تھا آسمان کے کنارے بھی سرخ تھے اور پتھر گرے تھے۔ لیکن یہ سب باتیں بےبنیاد ہیں اور شیعوں کے گھڑے ہوئے افسانے ہیں اس میں کوئی شک نہیں کہ نواسہ رسول ﷺ کی شہادت کا واقعہ نہایت درد انگیز اور حسرت و افسوس والا ہے لیکن اس پر شیعوں نے جو حاشیہ چڑھایا ہے اور گھڑ گھڑا کر جو باتیں پھیلا دی ہیں وہ محض جھوٹ اور بالکل گپ ہیں۔ خیال تو فرمائیے کہ اس سے بہت زیادہ اہم واقعات ہوئے اور قتل حسین سے بہت بڑی وارداتیں ہوئیں لیکن ان کے ہونے پر بھی آسمان و زمین وغیرہ میں یہ انقلاب نہ ہوا۔ آپ ہی کے والد ماجد حضرت علی بھی قتل کئے گئے جو بالاجماع آپ سے افضل تھے لیکن نہ تو پتھروں تلے سے خون نکلا اور کچھ ہوا۔ حضرت عثمان بن عفان کو گھیر لیا جاتا ہے اور نہایت بےدردی سے بلاوجہ ظلم و ستم کے ساتھ انہیں قتل کیا جاتا ہے فاروق اعظم حضرت عمر بن خطاب کو صبح کی نماز پڑھاتے ہوئے نماز کی جگہ ہی قتل کیا جاتا ہے یہ وہ زبردست مصیبت تھی کہ اس سے پہلے مسلمان کبھی ایسی مصیبت نہیں پہنچائے گئے تھے لیکن ان واقعات میں سے کسی واقعہ کے وقت اب میں سے ایک بھی بات نہیں جو شیعوں نے مقتل حسین کی نسبت مشہور کر رکھی ہے۔ ان سب کو بھی جانے دیجئے تمام انسانوں کے دینی اور دنیوی سردار سید البشر رسول اللہ ﷺ کو لیجئے جس روز آپ رحلت فرماتے ہیں ان میں سے کچھ بھی نہیں ہوتا اور سنئے جس روز حضور ﷺ کے صاحبزادے حضرت ابراہیم کا انتقال ہوتا ہے اتفاقاً اسی روز سورج گہن ہوتا ہے اور کوئی کہہ دیتا ہے کہ ابراہیم کے انتقال کی وجہ سورج کو گہن لگا ہے۔ تو حضور ﷺ گہن کی نماز ادا کر کے فوراً خطبے پر کھڑے ہوجاتے ہیں اور فرماتے ہیں سورج چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں کسی کی موت زندگی کی وجہ سے انہیں گہن نہیں لگتا اس کے بعد کی آیت میں اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل پر اپنا احسان جتاتا ہے کہ ہم نے انہیں فرعون جیسے متکبر حدود شکن کے ذلیل عذابوں سے نجات دی اس نے بنی اسرائیل کو پست و خوار کر رکھا تھا ذلیل خدمتیں ان سے لیتا تھا اور اپنے نفس کو تولتا رہتا تھا خودی اور خود بینی میں لگا ہوا تھا بیوقوفی سے کسی چیز کی حد بندی کا خیال نہیں کرتا تھا اللہ کی زمین میں سرکشی کئے ہوئے تھا۔ اور ان بدکاریوں میں اس کی قوم بھی اس کے ساتھ تھی پھر بنی اسرائیل پر ایک اور مہربانی کا ذکر فرما رہا ہے کہ اس زمانے کے تمام لوگوں پر انہیں فضیلت عطا فرمائی ہر زمانے کو عالم کہا جاتا ہے یہ مراد نہیں کہ تمام اگلوں پچھلوں پر انہیں بزرگی دی یہ آیت بھی اس آیت کی طرح ہے جس میں فرمان ہے آیت (قَالَ يٰمُوْسٰٓي اِنِّى اصْطَفَيْتُكَ عَلَي النَّاسِ بِرِسٰلٰتِيْ وَبِكَلَامِيْ ڮ فَخُذْ مَآ اٰتَيْتُكَ وَكُنْ مِّنَ الشّٰكِرِيْنَ01404) 7۔ الاعراف :144) اس سے بھی یہی مطلب ہے کہ اس زمانے کی تمام عورتوں پر آپ کو فضیلت ہے اس لئے کہ ام المومنین حضرت خدیجہ ان سے یقینا افضل ہیں یا کم ازکم برابر۔ اسی طرح حضرت آسیہ بنت مزاحم جو فرعون کی بیوی تھیں اور ام المومنین حضرت عائشہ کی فضیلت تمام عورتوں پر ایسی ہے جیسی فضیلت شوربے میں بھگوئی روٹی کی اور کھانوں پر پھر بنی اسرائیل پر ایک اور احسان بیان ہو رہا ہے کہ ہم نے انہیں وہ حجت وبرہان دلیل و نشان اور معجزات و کرامات عطا فرمائے جن میں ہدایت کی تلاش کرنے والوں کے لئے صاف صاف امتحان تھا۔
25
View Single
كَمۡ تَرَكُواْ مِن جَنَّـٰتٖ وَعُيُونٖ
How many gardens and water-springs they left behind!
وہ کتنے ہی باغات اور چشمے چھوڑ گئے
Tafsir Ibn Kathir
The Story of Musa and Fir`awn, and how the Children of Israel were saved
Allah tells us, `before these idolators, We tested the people of Fir`awn, the copts of Egypt.'
وَجَآءَهُمْ رَسُولٌ كَرِيمٌ
(when there came to them a noble Messenger.) means, Musa, peace be upon him, the one to whom Allah spoke.
أَنْ أَدُّواْ إِلَىَّ عِبَادَ اللَّهِ
(Deliver to me the servants of Allah.) This is like the Ayah:
فَأَرْسِلْ مَعَنَا بَنِى إِسْرَءِيلَ وَلاَ تُعَذِّبْهُمْ قَدْ جِئْنَـكَ بِـَايَةٍ مِّن رَّبِّكَ وَالسَّلَـمُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى
(So let the Children of Israel go with us, and torment them not; indeed, we have come with a sign from your Lord! And peace will be upon him who follows the guidance!") (20:47)
إِنِّي لَكُمْ رَسُولٌ أَمِينٌ
(Verily, I am to you a Messenger worthy of all trust.) means, `what I convey to you is trustworthy.'
وَأَن لاَّ تَعْلُواْ عَلَى اللَّهِ
(And exalt not yourselves against Allah.) means, `and do not be too arrogant to follow His signs. Accept His proof and believe in His evidence.' This is like the Ayah:
إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِى سَيَدْخُلُونَ جَهَنَّمَ دَخِرِينَ
(Verily, those who scorn My worship they will surely enter Hell in humiliation!) (40:60)
إِنِّى ءَاتِيكُمْ بِسُلْطَانٍ مُّبِينٍ
(Truly, I have come to you with a manifest authority.) means, with clear and obvious proof. This refers to the clear signs and definitive evidence with which Allah sent him.
وَإِنِّى عُذْتُ بِرَبِّى وَرَبِّكُمْ أَن تَرْجُمُونِ
(And truly, I seek refuge with my Lord and your Lord, lest you should stone me.) Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, and Abu Salih said, "This refers to a verbal assault, which means insults." Qatadah said, "Meaning `stoning' in the literal sense, so that the meaning is: `I seek refuge with Allah, Who created me and you, from your making any harmful words or actions reach me."'
وَإِن لَّمْ تُؤْمِنُواْ لِى فَاعْتَزِلُونِ
(But if you believe me not, then keep away from me and leave me alone.) means, `then let us leave one another alone and live in peace until Allah judges between us.' After Musa, may Allah be pleased with him, had stayed among them for a long time, and the proof of Allah had been established against them, and that only increased them in disbelief and stubbornness, he prayed to his Lord against them, a prayer which was answered. Allah says:
وَقَالَ مُوسَى رَبَّنَآ إِنَّكَ ءاتَيْتَ فِرْعَوْنَ وَمَلاّهُ زِينَةً وَأَمْوَالاً فِى الْحَيَوةِ الدُّنْيَا رَبَّنَا لِيُضِلُّواْ عَن سَبِيلِكَ رَبَّنَا اطْمِسْ عَلَى أَمْوَلِهِمْ وَاشْدُدْ عَلَى قُلُوبِهِمْ فَلاَ يُؤْمِنُواْ حَتَّى يَرَوُاْ الْعَذَابَ الاٌّلِيمَ قَالَ قَدْ أُجِيبَتْ دَّعْوَتُكُمَا فَاسْتَقِيمَا
(And Musa said: "Our Lord! You have indeed bestowed on Fir`awn and his chiefs splendor and wealth in the life of this world, our Lord! That they may lead men astray from Your path. Our Lord! Destroy their wealth, and harden their hearts, so that they will not believe until they see the painful torment." Allah said: "Verily, the invocation of you both is accepted. So you both keep to the straight way.") (10:88-89) And Allah says here:
فَدَعَا رَبَّهُ أَنَّ هَـؤُلاَءِ قَوْمٌ مُّجْرِمُونَ
(So he (Musa) called upon his Lord (saying): "These are indeed the people who are criminals.") Whereupon Allah commanded him to bring the Children of Israel out from among them, without the command, consent or permission of Fir`awn. Allah said:
فَأَسْرِ بِعِبَادِى لَيْلاً إِنَّكُم مُّتَّبَعُونَ
(Depart you with My servants by night. Surely, you will be pursued.) This is like the Ayah:
وَلَقَدْ أَوْحَيْنَآ إِلَى مُوسَى أَنْ أَسْرِ بِعِبَادِى فَاضْرِبْ لَهُمْ طَرِيقاً فِى الْبَحْرِ يَبَساً لاَّ تَخَافُ دَرَكاً وَلاَ تَخْشَى
And indeed We revealed to Mu0sa0 (saying): Travel by night with My servants and strike a dry path for them in the sea, fearing neither to be overtaken nor being afraid (of drowning in the sea). )20:77(
وَاتْرُكِ الْبَحْرَ رَهْواً إِنَّهُمْ جُندٌ مُّغْرَقُونَ
(And leave the sea as it is (quiet and divided). Verily, they are a host to be drowned.) When Musa and the Children of Israel has crossed the sea, Musa wanted to strike it with his staff so that it would go back as it had been, and it would form a barrier between then and Fir`awn and prevent him from reaching them. But Allah commanded him to leave it as it was, quiet and divided, and gave him the glad tidings that they were a host to be drowned, and that he should not fear either being overtaken by Fir`awn or drowning in the sea. Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, said:
وَاتْرُكِ الْبَحْرَ رَهْواً
(And leave the sea as it is (quiet and divided).) means, leave it as it is and keep moving. Mujahid said:
رَهْواً
(as it is) means, a dry path, as it is. `Do not command it to go back; leave it until the last of them have entered it.' This was also the view of `Ikrimah, Ar-Rabi` bin Anas, Ad-Dahhak, Qatadah, Ibn Zayd, Ka`b Al-Ahbar, Simak bin Harb and others.
كَمْ تَرَكُواْ مِن جَنَّـتٍ وَعُيُونٍ وَزُرُوعٍ
(How many of gardens and springs that they left behind. And green crops) this refers to rivers and wells.
وَمَقَامٍ كَرِيمٍ
and goodly places, means, fine dwellings and beautiful places. Muja0hid and Sa 0d bin Jubayr said:
وَمَقَامٍ كَرِيمٍ
(and goodly places,) means elevated places.
وَنَعْمَةٍ كَانُواْ فِيهَا فَـكِهِينَ
(And comforts of life wherein they used to take delight!) means, a life which they were enjoying, where they could eat whatever they wanted and wear what they liked, with wealth and glory and power in the land. Then all of that was taken away in a single morning, they departed from this world and went to Hell, what a terrible abode!
كَذَلِكَ وَأَوْرَثْنَـهَا قَوْماً ءَاخَرِينَ
(Thus (it was)! And We made other people inherit them.) namely the Children of Israel.
فَمَا بَكَتْ عَلَيْهِمُ السَّمَآءُ وَالاٌّرْضُ
(And the heavens and the earth wept not for them, ) means, they had no righteous deeds which used to ascend through the gates of the heavens, which would weep for them when they died, and they had no places on earth where they used to worship Allah which would notice their loss. So they did not deserve to be given a respite, because of their disbelief, sin, transgression and stubbornness. Ibn Jarir recorded that Sa`id bin Jubayr said, "A man came to Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, and said to him: `O Abu Al-`Abbas, Allah says,
فَمَا بَكَتْ عَلَيْهِمُ السَّمَآءُ وَالاٌّرْضُ وَمَا كَانُواْ مُنظَرِينَ
(And the heavens and the earth wept not for them, nor were they given respite) -- do the heavens and the earth weep for anybody' He, may Allah be pleased with him, said, `Yes, there is no one who does not have a gate in the heavens through which his provision comes down and his good deeds ascend. When the believer dies, that gate is closed; it misses him and weeps for him, and the place of prayer on earth where he used to pray and remember Allah also weeps for him. But the people of Fir`awn left no trace of righteousness on the earth and they had no good deeds that ascended to Allah, so the heavens and the earth did not weep for them."' Al-`Awfi reported something similar from Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him.
وَلَقَدْ نَجَّيْنَا بَنِى إِسْرَءِيلَ مِنَ الْعَذَابِ الْمُهِينِ - مِن فِرْعَوْنَ إِنَّهُ كَانَ عَالِياً مِّنَ الْمُسْرِفِينَ
(And indeed We saved the Children of Israel from the humiliating torment from Fir`awn; verily, he was arrogant and was of the excessive. ) Here Allah reminds them of how He saved them from their humiliation and subjugation at the hands of Fir`awn, when they were forced to do menial tasks.
مِن فِرْعَوْنَ إِنَّهُ كَانَ عَالِياً
(From Fir`awn; verily, he was arrogant) means, he was proud and stubborn. This is like the Ayah:
إِنَّ فِرْعَوْنَ عَلاَ فِى الاٌّرْضِ
(Verily, Fir`awn exalted himself in the land) (28:4).
فَاسْتَكْبَرُواْ وَكَانُواْ قَوْماً عَـلِينَ
(but they behaved insolently and they were people self-exalting) (23:46). He was one of the excessive and held a foolish opinion of himself.
وَلَقَدِ اخْتَرْنَـهُمْ عَلَى عِلْمٍ عَلَى الْعَـلَمِينَ
(And We chose them above the nations (Al-`Alamin) with knowledge,) Mujahid said, "This means that they were chosen above those among whom they lived." Qatadah said, "They were chosen above the other people of their own time, and it was said that in every period there are people who are chosen above others." This is like the Ayah:
قَالَ يَمُوسَى إِنْى اصْطَفَيْتُكَ عَلَى النَّاسِ
((Allah) said: "O Musa I have chosen you above men.") (7:144), which means, above the people of his time. This is also like the Ayah:
وَاصْطَفَـكِ عَلَى نِسَآءِ الْعَـلَمِينَ
(and (Allah has) chosen you (Maryam) above the women of the nations (Al-`Alamin).) (3:42), i.e., Maryam was chosen above the women of her time. For Khadijah, may Allah be pleased with her, is higher than her in status or is equal to her, as was Asiyah bint Muzahim, the wife of Fir`awn. And the superiority of `A'ishah, may Allah be pleased with her, over all other women is like the superiority of Tharid over all other dishes.
وَءَاتَيْنَـهُم مِّنَ الاٌّيَـتِ
(And granted them signs) means clear proofs and extraordinary evidence.
مَا فِيهِ بَلَؤٌاْ مُّبِينٌ
(in which there was a plain trial.) means, an obvious test to show who would be guided by it.
قبطیوں کا انجام ارشاد ہوتا ہے کہ ان مشرکین سے پہلے مصر کے قبطیوں کو ہم نے جانچا ان کی طرف اپنے بزرگ رسول حضرت موسیٰ کو بھیجا انہوں نے میرا پیغام پہنچایا کہ بنی اسرائیل کو میرے ساتھ کردو انہیں دکھ نہ دو میں اپنی نبوت پر گواہی دینے والے معجزے اپنے ساتھ لایا ہوں اور ہدایت کے ماننے والے سلامتی سے رہیں گے مجھے اللہ تعالیٰ نے اپنی وحی کا امانت دار بنا کر تمہاری طرف بھیجا ہے میں تمہیں اس کا پیغام پہنچا رہا ہوں تمہیں رب کی باتوں کے ماننے سے سرکشی نہ کرنی چاہئے اس کے بیان کردہ دلائل و احکام کے سامنے سر تسلیم خم کرنا چاہئے۔ اس کی عبادتوں سے جی چرانے والے ذلیل و خوار ہو کر جہنم واصل ہوتے ہیں میں تو تمہارے سامنے کھلی دلیل اور واضح آیت رکھتا ہوں میں تمہاری بدگوئی اور اہتمام سے اللہ کی پناہ لیتا ہوں۔ ابن عباس اور ابو صالہ تو یہی کہتے ہیں اور قتادہ کہتے ہیں مراد پتھراؤ کرنا پتھروں سے مار ڈالنا ہے یعنی زبانی ایذاء سے اور دستی ایذاء سے میں اپنے رب کی جو تمہارا بھی مالک ہے پناہ چاہتا ہوں اچھا اگر تم میری نہیں مانتے مجھ پر بھروسہ نہیں کرتے اللہ پر ایمان نہیں لاتے تو کم از کم میری تکلیف دہی اور ایذاء رسانی سے تو باز رہو۔ اور اس کے منتظر رہو جب کہ خود اللہ ہم میں تم میں فیصلہ کر دے گا پھر جب اللہ کے نبی کلیم اللہ حضرت موسیٰ نے ایک لمبی مدت ان میں گذاری خوب دل کھول کھول کر تبلیغ کرلی ہر طرح کی خیر خواہی کی ان کی ہدایت کے لئے ہرچند جتن کر لئے اور دیکھا کہ وہ روز بروز اپنے کفر میں بڑھتے جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ سے انکے لئے بددعا کی جیسے اور آیت میں ہے کہ حضرت موسیٰ نے کہا اے ہمارے رب تو نے فرعون اور اس کے امراء کو دنیوی نمائش اور مال و متاع دے رکھی ہے اے اللہ یہ اس سے دوسروں کو بھی تیری راہ سے بھٹکا رہے ہیں تو ان کا مال غارت کر اور ان کے دل اور سخت کر دے تاکہ دردناک عذابوں کے معائنہ تک انہیں ایمان نصیب ہی نہ ہو اللہ کی طرف سے جواب ملا کہ اے موسیٰ اور اے ہارون میں نے تمہاری دعا قبول کرلی اب تم استقامت پر تل جاؤ یہاں فرماتا ہے کہ ہم نے موسیٰ سے کہا کہ میرے بندوں یعنی بنی اسرائیل کو راتوں رات فرعون اور فرعونیوں کی بیخبر ی میں یہاں سے لے کر چلے جاؤ۔ یہ کفار تمہارا پیچھا کریں گے لیکن تم بےخوف و خطر چلے جاؤ میں تمہارے لئے دریا کو خشک کر دوں گا اس کے بعد حضرت موسیٰ ؑ بنی اسرائیل کو لے کر چل پڑے فرعونی لشکر مع فرعون کے ان کے پکڑنے کو چلا بیچ میں دریا حائل ہوا آپ بنی اسرائیل کو لے کر اس میں اتر گئے دریا کا پانی سوکھ گیا اور آپ اپنے ساتھیوں سمیت پار ہوگئے تو چاہا کہ دریا پر لکڑی مار کر اسے کہہ دیں کہ اب تو اپنی روانی پر آجا تاکہ فرعون اس سے گزر نہ سکے وہیں اللہ نے وحی بھیجی کہ اسے اسی حال میں سکون کے ساتھ ہی رہنے دو ساتھ ہی اس کی وجہ بھی بتادی کہ یہ سب اسی میں ڈوب مریں گے۔ پھر تو تم سب بالکل ہی مطمئن اور بےخوف ہوجاؤ گے غرض حکم ہوا تھا کہ دریا کو خشک چھوڑ کر چل دیں (رھواً) کے معنی سوکھا راستہ جو اصلی حالت پر ہو۔ مقصد یہ ہے کہ پار ہو کہ دریا کو روانی کا حکم نہ دینا یہاں تک کہ دشمنوں میں سے ایک ایک اس میں آ نہ جائے اب اسے جاری ہونے کا حکم ملتے ہی سب کو غرق کر دے گا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے دیکھو کیسے غارت ہوئے۔ باغات کھتیاں نہریں مکانات اور بیٹھکیں سب چھوڑ کر فنا ہوگئے حضرت عبداللہ بن عمرو فرماتے ہیں مصر کا دریائے نیل مشرق مغرب کے دریاؤں کا سردار ہے اور سب نہریں اس کے ماتحت ہیں جب اس کی روانی اللہ کو منظور ہوتی ہیں تو تمام نہروں کو اس میں پانی پہنچانے کا حکم ہوتا ہے جہاں تک رب کو منظور ہو اس میں پانی آجاتا ہے پھر اللہ تبارک و تعالیٰ اور نہروں کو روک دیتا ہے اور حکم دیتا ہے کہ اب اپنی اپنی جگہ چلی جاؤ اور فرعونیوں کے یہ باغات دریائے نیل کے دونوں کناروں پر مسلسل چلے گئے تھے رسواں سے لے کر رشید تک اس کا سلسلہ تھا اور اس کی نو خلیجیں تھیں۔ خلیج اسکندریہ، دمیاط، خلیج سردوس، خلیج منصف، خلیج منتہی اور ان سب میں اتصال تھا ایک دوسرے سے متصل تھیں اور پہاڑوں کے دامن میں ان کی کھیتیاں تھیں جو مصر سے لے کر دریا تک برابر چلی آتی تھیں ان تمام کو بھی دریا سیراب کرتا تھا بڑے امن چین کی زندگی گذار رہے تھے لیکن مغرور ہوگئے اور آخر ساری نعمتیں یونہی چھوڑ کر تباہ کر دئیے گئے۔ مال اولاد جاہ و مال سلطنت و عزت ایک ہی رات میں چھوڑ گئے اور بھس کی طرح اڑا دئیے گئے اور گذشتہ کل کی طرح بےنشان کر دئیے گئے ایسے ڈبوئے گئے کہ ابھر نہ سکے جہنم واصل ہوگئے اور بدترین جگہ پہنچ گئے ان کی یہ تمام چیزیں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو دے دیں۔ جیسے اور آیت میں فرمایا ہے کہ ہم نے ان کمزوروں کو ان کے صبر کے بدلے اس سرکش قوم کی کل نعمتیں عطا فرمادیں اور بےایمانوں کا بھرکس نکال ڈالا یہاں بھی دوسری قوم جسے وارث بنایا اس سے مراد بھی بنی اسرائیل ہیں پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ان پر زمین و آسمان نہ روئے کیونکہ ان پاپیوں کے نیک اعمال تھے ہی نہیں جو آسمانوں پر چڑھتے ہوں اور اب ان کے نہ چڑھنے کی وجہ سے وہ افسوس کریں نہ زمین میں ان کی جگہیں ایسی تھیں کہ جہاں بیٹھ کر یہ اللہ کی عبادت کرتے ہوں اور آج انہیں نہ پا کر زمین کی وہ جگہ ان کا ماتم کرے انہیں مہلت نہ دی گئی۔ مسند ابو یعلی موصلی میں ہے ہر بندے کے لئے آسمان میں دو دروازے ہیں ایک سے اس کی روزی اترتی ہے دوسرے سے اس کے اعمال اور اس کے کلام چڑھتے ہیں۔ جب یہ مرجاتا ہے اور وہ عمل و رزق کو گم شدہ پاتے ہیں تو روتے ہیں پھر اسی آیت کی حضور ﷺ نے تلاوت کی ابن ابی حاتم میں فرمان رسول ﷺ ہے کہ اسلام غربت سے شروع ہوا اور پھر غربت پر آجائے گا یاد رکھو مومن کہیں انجام مسافر کی طرح نہیں مومن جہاں کہیں سفر میں ہوتا ہے جہاں اس کا کوئی رونے والا نہ ہو وہاں بھی اس کے رونے والے آسمان و زمین موجود ہیں پھر حضور ﷺ نے اس آیت کی تلاوت کر کے فرمایا یہ دونوں کفار پر روتے نہیں حضرت علی سے کسی نے پوچھا کہ آسمان و زمین کبھی کسی پر روئے بھی ہیں ؟ آپ نے فرمایا آج تو نے وہ بات دریافت کی ہے کہ تجھ سے پہلے مجھ سے اس کا سوال کسی نے نہیں کیا۔ سنو ہر بندے کے لئے زمین میں ایک نماز کی جگہ ہوتی ہے اور ایک جگہ آسمان میں اس کے عمل کے چڑھنے کی ہوتی ہے اور آل فرعون کے نیک اعمال ہی نہ تھے اس وجہ سے نہ زمین ان پر روئی نہ آسمان کو ان پر رونا آیا اور نہ انہیں ڈھیل دی گئی کہ کوئی نیکی بجا لاسکیں، حضرت ابن عباس سے یہ سوال ہوا تو آپ نے بھی قریب قریب یہی جواب دیا بلکہ آپ سے مروی ہے کہ چالیس دن تک زمین مومن پر روتی رہتی ہے حضرت مجاہد نے جب یہ بیان فرمایا تو کسی نے اس پر تعجب کا اظہار کیا آپ نے فرمایا سبحان اللہ اس میں تعجب کی کونسی بات ہے جو بندہ زمین کو اپنے رکوع و سجود سے آباد رکھتا تھا جس بندے کی تکبیر و تسبیح کی آوازیں آسمان برابر سنتا رہا تھا بھلا یہ دونوں اس عابد اللہ پر روئیں گے نہیں ؟ حضرت قتادہ فرماتے ہیں فرعونیوں جیسے ذلیل و خوار لوگوں پر یہ کیوں روتے ؟ حضرت ابراہیم فرماتے ہیں دنیا جب سے رچائی گئی ہے تب سے آسمان صرف دو شخصوں پر رویا ہے ان کے شاگرد سے سوال ہوا کہ کیا آسمان و زمین ہر ایمان دار پر روتے نہیں ؟ فرمایا صرف اتنا حصہ جس حصے سے اس کا نیک عمل چڑھتا تھا سنو آسمان کا رونا اس کا سرخ ہونا اور مثل نری کے گلابی ہوجانا ہے سو یہ حال صرف دو شخصوں کی شہادت پر ہوا ہے۔ حضرت یحییٰ کے قتل کے موقعے پر تو آسمان سرخ ہوگیا اور خون برسانے لگا اور دوسرے حضرت حسین کے قتل پر بھی آسمان کا رنگ سرخ ہوگیا تھا (ابن ابی حاتم) یزید ابن ابو زیاد کا قول ہے کہ قتل حسین کی وجہ سے چار ماہ تک آسمان کے کنارے سرخ رہے اور یہی سرخی اس کا رونا ہے حضرت عطا فرماتے ہیں اس کے کناروں کا سرخ ہوجانا اس کا رونا ہے یہ بھی ذکر کیا گیا ہے کہ قتل حسین کے دن جس پتھر کو الٹا جاتا تھا اس کے نیچے سے منجمند خون نکلتا تھا۔ اس دن سورج کو بھی گہن لگا ہوا تھا آسمان کے کنارے بھی سرخ تھے اور پتھر گرے تھے۔ لیکن یہ سب باتیں بےبنیاد ہیں اور شیعوں کے گھڑے ہوئے افسانے ہیں اس میں کوئی شک نہیں کہ نواسہ رسول ﷺ کی شہادت کا واقعہ نہایت درد انگیز اور حسرت و افسوس والا ہے لیکن اس پر شیعوں نے جو حاشیہ چڑھایا ہے اور گھڑ گھڑا کر جو باتیں پھیلا دی ہیں وہ محض جھوٹ اور بالکل گپ ہیں۔ خیال تو فرمائیے کہ اس سے بہت زیادہ اہم واقعات ہوئے اور قتل حسین سے بہت بڑی وارداتیں ہوئیں لیکن ان کے ہونے پر بھی آسمان و زمین وغیرہ میں یہ انقلاب نہ ہوا۔ آپ ہی کے والد ماجد حضرت علی بھی قتل کئے گئے جو بالاجماع آپ سے افضل تھے لیکن نہ تو پتھروں تلے سے خون نکلا اور کچھ ہوا۔ حضرت عثمان بن عفان کو گھیر لیا جاتا ہے اور نہایت بےدردی سے بلاوجہ ظلم و ستم کے ساتھ انہیں قتل کیا جاتا ہے فاروق اعظم حضرت عمر بن خطاب کو صبح کی نماز پڑھاتے ہوئے نماز کی جگہ ہی قتل کیا جاتا ہے یہ وہ زبردست مصیبت تھی کہ اس سے پہلے مسلمان کبھی ایسی مصیبت نہیں پہنچائے گئے تھے لیکن ان واقعات میں سے کسی واقعہ کے وقت اب میں سے ایک بھی بات نہیں جو شیعوں نے مقتل حسین کی نسبت مشہور کر رکھی ہے۔ ان سب کو بھی جانے دیجئے تمام انسانوں کے دینی اور دنیوی سردار سید البشر رسول اللہ ﷺ کو لیجئے جس روز آپ رحلت فرماتے ہیں ان میں سے کچھ بھی نہیں ہوتا اور سنئے جس روز حضور ﷺ کے صاحبزادے حضرت ابراہیم کا انتقال ہوتا ہے اتفاقاً اسی روز سورج گہن ہوتا ہے اور کوئی کہہ دیتا ہے کہ ابراہیم کے انتقال کی وجہ سورج کو گہن لگا ہے۔ تو حضور ﷺ گہن کی نماز ادا کر کے فوراً خطبے پر کھڑے ہوجاتے ہیں اور فرماتے ہیں سورج چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں کسی کی موت زندگی کی وجہ سے انہیں گہن نہیں لگتا اس کے بعد کی آیت میں اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل پر اپنا احسان جتاتا ہے کہ ہم نے انہیں فرعون جیسے متکبر حدود شکن کے ذلیل عذابوں سے نجات دی اس نے بنی اسرائیل کو پست و خوار کر رکھا تھا ذلیل خدمتیں ان سے لیتا تھا اور اپنے نفس کو تولتا رہتا تھا خودی اور خود بینی میں لگا ہوا تھا بیوقوفی سے کسی چیز کی حد بندی کا خیال نہیں کرتا تھا اللہ کی زمین میں سرکشی کئے ہوئے تھا۔ اور ان بدکاریوں میں اس کی قوم بھی اس کے ساتھ تھی پھر بنی اسرائیل پر ایک اور مہربانی کا ذکر فرما رہا ہے کہ اس زمانے کے تمام لوگوں پر انہیں فضیلت عطا فرمائی ہر زمانے کو عالم کہا جاتا ہے یہ مراد نہیں کہ تمام اگلوں پچھلوں پر انہیں بزرگی دی یہ آیت بھی اس آیت کی طرح ہے جس میں فرمان ہے آیت (قَالَ يٰمُوْسٰٓي اِنِّى اصْطَفَيْتُكَ عَلَي النَّاسِ بِرِسٰلٰتِيْ وَبِكَلَامِيْ ڮ فَخُذْ مَآ اٰتَيْتُكَ وَكُنْ مِّنَ الشّٰكِرِيْنَ01404) 7۔ الاعراف :144) اس سے بھی یہی مطلب ہے کہ اس زمانے کی تمام عورتوں پر آپ کو فضیلت ہے اس لئے کہ ام المومنین حضرت خدیجہ ان سے یقینا افضل ہیں یا کم ازکم برابر۔ اسی طرح حضرت آسیہ بنت مزاحم جو فرعون کی بیوی تھیں اور ام المومنین حضرت عائشہ کی فضیلت تمام عورتوں پر ایسی ہے جیسی فضیلت شوربے میں بھگوئی روٹی کی اور کھانوں پر پھر بنی اسرائیل پر ایک اور احسان بیان ہو رہا ہے کہ ہم نے انہیں وہ حجت وبرہان دلیل و نشان اور معجزات و کرامات عطا فرمائے جن میں ہدایت کی تلاش کرنے والوں کے لئے صاف صاف امتحان تھا۔
26
View Single
وَزُرُوعٖ وَمَقَامٖ كَرِيمٖ
And fields and grand palaces!
اور زراعتیں اور عالی شان عمارتیں
Tafsir Ibn Kathir
The Story of Musa and Fir`awn, and how the Children of Israel were saved
Allah tells us, `before these idolators, We tested the people of Fir`awn, the copts of Egypt.'
وَجَآءَهُمْ رَسُولٌ كَرِيمٌ
(when there came to them a noble Messenger.) means, Musa, peace be upon him, the one to whom Allah spoke.
أَنْ أَدُّواْ إِلَىَّ عِبَادَ اللَّهِ
(Deliver to me the servants of Allah.) This is like the Ayah:
فَأَرْسِلْ مَعَنَا بَنِى إِسْرَءِيلَ وَلاَ تُعَذِّبْهُمْ قَدْ جِئْنَـكَ بِـَايَةٍ مِّن رَّبِّكَ وَالسَّلَـمُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى
(So let the Children of Israel go with us, and torment them not; indeed, we have come with a sign from your Lord! And peace will be upon him who follows the guidance!") (20:47)
إِنِّي لَكُمْ رَسُولٌ أَمِينٌ
(Verily, I am to you a Messenger worthy of all trust.) means, `what I convey to you is trustworthy.'
وَأَن لاَّ تَعْلُواْ عَلَى اللَّهِ
(And exalt not yourselves against Allah.) means, `and do not be too arrogant to follow His signs. Accept His proof and believe in His evidence.' This is like the Ayah:
إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِى سَيَدْخُلُونَ جَهَنَّمَ دَخِرِينَ
(Verily, those who scorn My worship they will surely enter Hell in humiliation!) (40:60)
إِنِّى ءَاتِيكُمْ بِسُلْطَانٍ مُّبِينٍ
(Truly, I have come to you with a manifest authority.) means, with clear and obvious proof. This refers to the clear signs and definitive evidence with which Allah sent him.
وَإِنِّى عُذْتُ بِرَبِّى وَرَبِّكُمْ أَن تَرْجُمُونِ
(And truly, I seek refuge with my Lord and your Lord, lest you should stone me.) Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, and Abu Salih said, "This refers to a verbal assault, which means insults." Qatadah said, "Meaning `stoning' in the literal sense, so that the meaning is: `I seek refuge with Allah, Who created me and you, from your making any harmful words or actions reach me."'
وَإِن لَّمْ تُؤْمِنُواْ لِى فَاعْتَزِلُونِ
(But if you believe me not, then keep away from me and leave me alone.) means, `then let us leave one another alone and live in peace until Allah judges between us.' After Musa, may Allah be pleased with him, had stayed among them for a long time, and the proof of Allah had been established against them, and that only increased them in disbelief and stubbornness, he prayed to his Lord against them, a prayer which was answered. Allah says:
وَقَالَ مُوسَى رَبَّنَآ إِنَّكَ ءاتَيْتَ فِرْعَوْنَ وَمَلاّهُ زِينَةً وَأَمْوَالاً فِى الْحَيَوةِ الدُّنْيَا رَبَّنَا لِيُضِلُّواْ عَن سَبِيلِكَ رَبَّنَا اطْمِسْ عَلَى أَمْوَلِهِمْ وَاشْدُدْ عَلَى قُلُوبِهِمْ فَلاَ يُؤْمِنُواْ حَتَّى يَرَوُاْ الْعَذَابَ الاٌّلِيمَ قَالَ قَدْ أُجِيبَتْ دَّعْوَتُكُمَا فَاسْتَقِيمَا
(And Musa said: "Our Lord! You have indeed bestowed on Fir`awn and his chiefs splendor and wealth in the life of this world, our Lord! That they may lead men astray from Your path. Our Lord! Destroy their wealth, and harden their hearts, so that they will not believe until they see the painful torment." Allah said: "Verily, the invocation of you both is accepted. So you both keep to the straight way.") (10:88-89) And Allah says here:
فَدَعَا رَبَّهُ أَنَّ هَـؤُلاَءِ قَوْمٌ مُّجْرِمُونَ
(So he (Musa) called upon his Lord (saying): "These are indeed the people who are criminals.") Whereupon Allah commanded him to bring the Children of Israel out from among them, without the command, consent or permission of Fir`awn. Allah said:
فَأَسْرِ بِعِبَادِى لَيْلاً إِنَّكُم مُّتَّبَعُونَ
(Depart you with My servants by night. Surely, you will be pursued.) This is like the Ayah:
وَلَقَدْ أَوْحَيْنَآ إِلَى مُوسَى أَنْ أَسْرِ بِعِبَادِى فَاضْرِبْ لَهُمْ طَرِيقاً فِى الْبَحْرِ يَبَساً لاَّ تَخَافُ دَرَكاً وَلاَ تَخْشَى
And indeed We revealed to Mu0sa0 (saying): Travel by night with My servants and strike a dry path for them in the sea, fearing neither to be overtaken nor being afraid (of drowning in the sea). )20:77(
وَاتْرُكِ الْبَحْرَ رَهْواً إِنَّهُمْ جُندٌ مُّغْرَقُونَ
(And leave the sea as it is (quiet and divided). Verily, they are a host to be drowned.) When Musa and the Children of Israel has crossed the sea, Musa wanted to strike it with his staff so that it would go back as it had been, and it would form a barrier between then and Fir`awn and prevent him from reaching them. But Allah commanded him to leave it as it was, quiet and divided, and gave him the glad tidings that they were a host to be drowned, and that he should not fear either being overtaken by Fir`awn or drowning in the sea. Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, said:
وَاتْرُكِ الْبَحْرَ رَهْواً
(And leave the sea as it is (quiet and divided).) means, leave it as it is and keep moving. Mujahid said:
رَهْواً
(as it is) means, a dry path, as it is. `Do not command it to go back; leave it until the last of them have entered it.' This was also the view of `Ikrimah, Ar-Rabi` bin Anas, Ad-Dahhak, Qatadah, Ibn Zayd, Ka`b Al-Ahbar, Simak bin Harb and others.
كَمْ تَرَكُواْ مِن جَنَّـتٍ وَعُيُونٍ وَزُرُوعٍ
(How many of gardens and springs that they left behind. And green crops) this refers to rivers and wells.
وَمَقَامٍ كَرِيمٍ
and goodly places, means, fine dwellings and beautiful places. Muja0hid and Sa 0d bin Jubayr said:
وَمَقَامٍ كَرِيمٍ
(and goodly places,) means elevated places.
وَنَعْمَةٍ كَانُواْ فِيهَا فَـكِهِينَ
(And comforts of life wherein they used to take delight!) means, a life which they were enjoying, where they could eat whatever they wanted and wear what they liked, with wealth and glory and power in the land. Then all of that was taken away in a single morning, they departed from this world and went to Hell, what a terrible abode!
كَذَلِكَ وَأَوْرَثْنَـهَا قَوْماً ءَاخَرِينَ
(Thus (it was)! And We made other people inherit them.) namely the Children of Israel.
فَمَا بَكَتْ عَلَيْهِمُ السَّمَآءُ وَالاٌّرْضُ
(And the heavens and the earth wept not for them, ) means, they had no righteous deeds which used to ascend through the gates of the heavens, which would weep for them when they died, and they had no places on earth where they used to worship Allah which would notice their loss. So they did not deserve to be given a respite, because of their disbelief, sin, transgression and stubbornness. Ibn Jarir recorded that Sa`id bin Jubayr said, "A man came to Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, and said to him: `O Abu Al-`Abbas, Allah says,
فَمَا بَكَتْ عَلَيْهِمُ السَّمَآءُ وَالاٌّرْضُ وَمَا كَانُواْ مُنظَرِينَ
(And the heavens and the earth wept not for them, nor were they given respite) -- do the heavens and the earth weep for anybody' He, may Allah be pleased with him, said, `Yes, there is no one who does not have a gate in the heavens through which his provision comes down and his good deeds ascend. When the believer dies, that gate is closed; it misses him and weeps for him, and the place of prayer on earth where he used to pray and remember Allah also weeps for him. But the people of Fir`awn left no trace of righteousness on the earth and they had no good deeds that ascended to Allah, so the heavens and the earth did not weep for them."' Al-`Awfi reported something similar from Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him.
وَلَقَدْ نَجَّيْنَا بَنِى إِسْرَءِيلَ مِنَ الْعَذَابِ الْمُهِينِ - مِن فِرْعَوْنَ إِنَّهُ كَانَ عَالِياً مِّنَ الْمُسْرِفِينَ
(And indeed We saved the Children of Israel from the humiliating torment from Fir`awn; verily, he was arrogant and was of the excessive. ) Here Allah reminds them of how He saved them from their humiliation and subjugation at the hands of Fir`awn, when they were forced to do menial tasks.
مِن فِرْعَوْنَ إِنَّهُ كَانَ عَالِياً
(From Fir`awn; verily, he was arrogant) means, he was proud and stubborn. This is like the Ayah:
إِنَّ فِرْعَوْنَ عَلاَ فِى الاٌّرْضِ
(Verily, Fir`awn exalted himself in the land) (28:4).
فَاسْتَكْبَرُواْ وَكَانُواْ قَوْماً عَـلِينَ
(but they behaved insolently and they were people self-exalting) (23:46). He was one of the excessive and held a foolish opinion of himself.
وَلَقَدِ اخْتَرْنَـهُمْ عَلَى عِلْمٍ عَلَى الْعَـلَمِينَ
(And We chose them above the nations (Al-`Alamin) with knowledge,) Mujahid said, "This means that they were chosen above those among whom they lived." Qatadah said, "They were chosen above the other people of their own time, and it was said that in every period there are people who are chosen above others." This is like the Ayah:
قَالَ يَمُوسَى إِنْى اصْطَفَيْتُكَ عَلَى النَّاسِ
((Allah) said: "O Musa I have chosen you above men.") (7:144), which means, above the people of his time. This is also like the Ayah:
وَاصْطَفَـكِ عَلَى نِسَآءِ الْعَـلَمِينَ
(and (Allah has) chosen you (Maryam) above the women of the nations (Al-`Alamin).) (3:42), i.e., Maryam was chosen above the women of her time. For Khadijah, may Allah be pleased with her, is higher than her in status or is equal to her, as was Asiyah bint Muzahim, the wife of Fir`awn. And the superiority of `A'ishah, may Allah be pleased with her, over all other women is like the superiority of Tharid over all other dishes.
وَءَاتَيْنَـهُم مِّنَ الاٌّيَـتِ
(And granted them signs) means clear proofs and extraordinary evidence.
مَا فِيهِ بَلَؤٌاْ مُّبِينٌ
(in which there was a plain trial.) means, an obvious test to show who would be guided by it.
قبطیوں کا انجام ارشاد ہوتا ہے کہ ان مشرکین سے پہلے مصر کے قبطیوں کو ہم نے جانچا ان کی طرف اپنے بزرگ رسول حضرت موسیٰ کو بھیجا انہوں نے میرا پیغام پہنچایا کہ بنی اسرائیل کو میرے ساتھ کردو انہیں دکھ نہ دو میں اپنی نبوت پر گواہی دینے والے معجزے اپنے ساتھ لایا ہوں اور ہدایت کے ماننے والے سلامتی سے رہیں گے مجھے اللہ تعالیٰ نے اپنی وحی کا امانت دار بنا کر تمہاری طرف بھیجا ہے میں تمہیں اس کا پیغام پہنچا رہا ہوں تمہیں رب کی باتوں کے ماننے سے سرکشی نہ کرنی چاہئے اس کے بیان کردہ دلائل و احکام کے سامنے سر تسلیم خم کرنا چاہئے۔ اس کی عبادتوں سے جی چرانے والے ذلیل و خوار ہو کر جہنم واصل ہوتے ہیں میں تو تمہارے سامنے کھلی دلیل اور واضح آیت رکھتا ہوں میں تمہاری بدگوئی اور اہتمام سے اللہ کی پناہ لیتا ہوں۔ ابن عباس اور ابو صالہ تو یہی کہتے ہیں اور قتادہ کہتے ہیں مراد پتھراؤ کرنا پتھروں سے مار ڈالنا ہے یعنی زبانی ایذاء سے اور دستی ایذاء سے میں اپنے رب کی جو تمہارا بھی مالک ہے پناہ چاہتا ہوں اچھا اگر تم میری نہیں مانتے مجھ پر بھروسہ نہیں کرتے اللہ پر ایمان نہیں لاتے تو کم از کم میری تکلیف دہی اور ایذاء رسانی سے تو باز رہو۔ اور اس کے منتظر رہو جب کہ خود اللہ ہم میں تم میں فیصلہ کر دے گا پھر جب اللہ کے نبی کلیم اللہ حضرت موسیٰ نے ایک لمبی مدت ان میں گذاری خوب دل کھول کھول کر تبلیغ کرلی ہر طرح کی خیر خواہی کی ان کی ہدایت کے لئے ہرچند جتن کر لئے اور دیکھا کہ وہ روز بروز اپنے کفر میں بڑھتے جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ سے انکے لئے بددعا کی جیسے اور آیت میں ہے کہ حضرت موسیٰ نے کہا اے ہمارے رب تو نے فرعون اور اس کے امراء کو دنیوی نمائش اور مال و متاع دے رکھی ہے اے اللہ یہ اس سے دوسروں کو بھی تیری راہ سے بھٹکا رہے ہیں تو ان کا مال غارت کر اور ان کے دل اور سخت کر دے تاکہ دردناک عذابوں کے معائنہ تک انہیں ایمان نصیب ہی نہ ہو اللہ کی طرف سے جواب ملا کہ اے موسیٰ اور اے ہارون میں نے تمہاری دعا قبول کرلی اب تم استقامت پر تل جاؤ یہاں فرماتا ہے کہ ہم نے موسیٰ سے کہا کہ میرے بندوں یعنی بنی اسرائیل کو راتوں رات فرعون اور فرعونیوں کی بیخبر ی میں یہاں سے لے کر چلے جاؤ۔ یہ کفار تمہارا پیچھا کریں گے لیکن تم بےخوف و خطر چلے جاؤ میں تمہارے لئے دریا کو خشک کر دوں گا اس کے بعد حضرت موسیٰ ؑ بنی اسرائیل کو لے کر چل پڑے فرعونی لشکر مع فرعون کے ان کے پکڑنے کو چلا بیچ میں دریا حائل ہوا آپ بنی اسرائیل کو لے کر اس میں اتر گئے دریا کا پانی سوکھ گیا اور آپ اپنے ساتھیوں سمیت پار ہوگئے تو چاہا کہ دریا پر لکڑی مار کر اسے کہہ دیں کہ اب تو اپنی روانی پر آجا تاکہ فرعون اس سے گزر نہ سکے وہیں اللہ نے وحی بھیجی کہ اسے اسی حال میں سکون کے ساتھ ہی رہنے دو ساتھ ہی اس کی وجہ بھی بتادی کہ یہ سب اسی میں ڈوب مریں گے۔ پھر تو تم سب بالکل ہی مطمئن اور بےخوف ہوجاؤ گے غرض حکم ہوا تھا کہ دریا کو خشک چھوڑ کر چل دیں (رھواً) کے معنی سوکھا راستہ جو اصلی حالت پر ہو۔ مقصد یہ ہے کہ پار ہو کہ دریا کو روانی کا حکم نہ دینا یہاں تک کہ دشمنوں میں سے ایک ایک اس میں آ نہ جائے اب اسے جاری ہونے کا حکم ملتے ہی سب کو غرق کر دے گا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے دیکھو کیسے غارت ہوئے۔ باغات کھتیاں نہریں مکانات اور بیٹھکیں سب چھوڑ کر فنا ہوگئے حضرت عبداللہ بن عمرو فرماتے ہیں مصر کا دریائے نیل مشرق مغرب کے دریاؤں کا سردار ہے اور سب نہریں اس کے ماتحت ہیں جب اس کی روانی اللہ کو منظور ہوتی ہیں تو تمام نہروں کو اس میں پانی پہنچانے کا حکم ہوتا ہے جہاں تک رب کو منظور ہو اس میں پانی آجاتا ہے پھر اللہ تبارک و تعالیٰ اور نہروں کو روک دیتا ہے اور حکم دیتا ہے کہ اب اپنی اپنی جگہ چلی جاؤ اور فرعونیوں کے یہ باغات دریائے نیل کے دونوں کناروں پر مسلسل چلے گئے تھے رسواں سے لے کر رشید تک اس کا سلسلہ تھا اور اس کی نو خلیجیں تھیں۔ خلیج اسکندریہ، دمیاط، خلیج سردوس، خلیج منصف، خلیج منتہی اور ان سب میں اتصال تھا ایک دوسرے سے متصل تھیں اور پہاڑوں کے دامن میں ان کی کھیتیاں تھیں جو مصر سے لے کر دریا تک برابر چلی آتی تھیں ان تمام کو بھی دریا سیراب کرتا تھا بڑے امن چین کی زندگی گذار رہے تھے لیکن مغرور ہوگئے اور آخر ساری نعمتیں یونہی چھوڑ کر تباہ کر دئیے گئے۔ مال اولاد جاہ و مال سلطنت و عزت ایک ہی رات میں چھوڑ گئے اور بھس کی طرح اڑا دئیے گئے اور گذشتہ کل کی طرح بےنشان کر دئیے گئے ایسے ڈبوئے گئے کہ ابھر نہ سکے جہنم واصل ہوگئے اور بدترین جگہ پہنچ گئے ان کی یہ تمام چیزیں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو دے دیں۔ جیسے اور آیت میں فرمایا ہے کہ ہم نے ان کمزوروں کو ان کے صبر کے بدلے اس سرکش قوم کی کل نعمتیں عطا فرمادیں اور بےایمانوں کا بھرکس نکال ڈالا یہاں بھی دوسری قوم جسے وارث بنایا اس سے مراد بھی بنی اسرائیل ہیں پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ان پر زمین و آسمان نہ روئے کیونکہ ان پاپیوں کے نیک اعمال تھے ہی نہیں جو آسمانوں پر چڑھتے ہوں اور اب ان کے نہ چڑھنے کی وجہ سے وہ افسوس کریں نہ زمین میں ان کی جگہیں ایسی تھیں کہ جہاں بیٹھ کر یہ اللہ کی عبادت کرتے ہوں اور آج انہیں نہ پا کر زمین کی وہ جگہ ان کا ماتم کرے انہیں مہلت نہ دی گئی۔ مسند ابو یعلی موصلی میں ہے ہر بندے کے لئے آسمان میں دو دروازے ہیں ایک سے اس کی روزی اترتی ہے دوسرے سے اس کے اعمال اور اس کے کلام چڑھتے ہیں۔ جب یہ مرجاتا ہے اور وہ عمل و رزق کو گم شدہ پاتے ہیں تو روتے ہیں پھر اسی آیت کی حضور ﷺ نے تلاوت کی ابن ابی حاتم میں فرمان رسول ﷺ ہے کہ اسلام غربت سے شروع ہوا اور پھر غربت پر آجائے گا یاد رکھو مومن کہیں انجام مسافر کی طرح نہیں مومن جہاں کہیں سفر میں ہوتا ہے جہاں اس کا کوئی رونے والا نہ ہو وہاں بھی اس کے رونے والے آسمان و زمین موجود ہیں پھر حضور ﷺ نے اس آیت کی تلاوت کر کے فرمایا یہ دونوں کفار پر روتے نہیں حضرت علی سے کسی نے پوچھا کہ آسمان و زمین کبھی کسی پر روئے بھی ہیں ؟ آپ نے فرمایا آج تو نے وہ بات دریافت کی ہے کہ تجھ سے پہلے مجھ سے اس کا سوال کسی نے نہیں کیا۔ سنو ہر بندے کے لئے زمین میں ایک نماز کی جگہ ہوتی ہے اور ایک جگہ آسمان میں اس کے عمل کے چڑھنے کی ہوتی ہے اور آل فرعون کے نیک اعمال ہی نہ تھے اس وجہ سے نہ زمین ان پر روئی نہ آسمان کو ان پر رونا آیا اور نہ انہیں ڈھیل دی گئی کہ کوئی نیکی بجا لاسکیں، حضرت ابن عباس سے یہ سوال ہوا تو آپ نے بھی قریب قریب یہی جواب دیا بلکہ آپ سے مروی ہے کہ چالیس دن تک زمین مومن پر روتی رہتی ہے حضرت مجاہد نے جب یہ بیان فرمایا تو کسی نے اس پر تعجب کا اظہار کیا آپ نے فرمایا سبحان اللہ اس میں تعجب کی کونسی بات ہے جو بندہ زمین کو اپنے رکوع و سجود سے آباد رکھتا تھا جس بندے کی تکبیر و تسبیح کی آوازیں آسمان برابر سنتا رہا تھا بھلا یہ دونوں اس عابد اللہ پر روئیں گے نہیں ؟ حضرت قتادہ فرماتے ہیں فرعونیوں جیسے ذلیل و خوار لوگوں پر یہ کیوں روتے ؟ حضرت ابراہیم فرماتے ہیں دنیا جب سے رچائی گئی ہے تب سے آسمان صرف دو شخصوں پر رویا ہے ان کے شاگرد سے سوال ہوا کہ کیا آسمان و زمین ہر ایمان دار پر روتے نہیں ؟ فرمایا صرف اتنا حصہ جس حصے سے اس کا نیک عمل چڑھتا تھا سنو آسمان کا رونا اس کا سرخ ہونا اور مثل نری کے گلابی ہوجانا ہے سو یہ حال صرف دو شخصوں کی شہادت پر ہوا ہے۔ حضرت یحییٰ کے قتل کے موقعے پر تو آسمان سرخ ہوگیا اور خون برسانے لگا اور دوسرے حضرت حسین کے قتل پر بھی آسمان کا رنگ سرخ ہوگیا تھا (ابن ابی حاتم) یزید ابن ابو زیاد کا قول ہے کہ قتل حسین کی وجہ سے چار ماہ تک آسمان کے کنارے سرخ رہے اور یہی سرخی اس کا رونا ہے حضرت عطا فرماتے ہیں اس کے کناروں کا سرخ ہوجانا اس کا رونا ہے یہ بھی ذکر کیا گیا ہے کہ قتل حسین کے دن جس پتھر کو الٹا جاتا تھا اس کے نیچے سے منجمند خون نکلتا تھا۔ اس دن سورج کو بھی گہن لگا ہوا تھا آسمان کے کنارے بھی سرخ تھے اور پتھر گرے تھے۔ لیکن یہ سب باتیں بےبنیاد ہیں اور شیعوں کے گھڑے ہوئے افسانے ہیں اس میں کوئی شک نہیں کہ نواسہ رسول ﷺ کی شہادت کا واقعہ نہایت درد انگیز اور حسرت و افسوس والا ہے لیکن اس پر شیعوں نے جو حاشیہ چڑھایا ہے اور گھڑ گھڑا کر جو باتیں پھیلا دی ہیں وہ محض جھوٹ اور بالکل گپ ہیں۔ خیال تو فرمائیے کہ اس سے بہت زیادہ اہم واقعات ہوئے اور قتل حسین سے بہت بڑی وارداتیں ہوئیں لیکن ان کے ہونے پر بھی آسمان و زمین وغیرہ میں یہ انقلاب نہ ہوا۔ آپ ہی کے والد ماجد حضرت علی بھی قتل کئے گئے جو بالاجماع آپ سے افضل تھے لیکن نہ تو پتھروں تلے سے خون نکلا اور کچھ ہوا۔ حضرت عثمان بن عفان کو گھیر لیا جاتا ہے اور نہایت بےدردی سے بلاوجہ ظلم و ستم کے ساتھ انہیں قتل کیا جاتا ہے فاروق اعظم حضرت عمر بن خطاب کو صبح کی نماز پڑھاتے ہوئے نماز کی جگہ ہی قتل کیا جاتا ہے یہ وہ زبردست مصیبت تھی کہ اس سے پہلے مسلمان کبھی ایسی مصیبت نہیں پہنچائے گئے تھے لیکن ان واقعات میں سے کسی واقعہ کے وقت اب میں سے ایک بھی بات نہیں جو شیعوں نے مقتل حسین کی نسبت مشہور کر رکھی ہے۔ ان سب کو بھی جانے دیجئے تمام انسانوں کے دینی اور دنیوی سردار سید البشر رسول اللہ ﷺ کو لیجئے جس روز آپ رحلت فرماتے ہیں ان میں سے کچھ بھی نہیں ہوتا اور سنئے جس روز حضور ﷺ کے صاحبزادے حضرت ابراہیم کا انتقال ہوتا ہے اتفاقاً اسی روز سورج گہن ہوتا ہے اور کوئی کہہ دیتا ہے کہ ابراہیم کے انتقال کی وجہ سورج کو گہن لگا ہے۔ تو حضور ﷺ گہن کی نماز ادا کر کے فوراً خطبے پر کھڑے ہوجاتے ہیں اور فرماتے ہیں سورج چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں کسی کی موت زندگی کی وجہ سے انہیں گہن نہیں لگتا اس کے بعد کی آیت میں اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل پر اپنا احسان جتاتا ہے کہ ہم نے انہیں فرعون جیسے متکبر حدود شکن کے ذلیل عذابوں سے نجات دی اس نے بنی اسرائیل کو پست و خوار کر رکھا تھا ذلیل خدمتیں ان سے لیتا تھا اور اپنے نفس کو تولتا رہتا تھا خودی اور خود بینی میں لگا ہوا تھا بیوقوفی سے کسی چیز کی حد بندی کا خیال نہیں کرتا تھا اللہ کی زمین میں سرکشی کئے ہوئے تھا۔ اور ان بدکاریوں میں اس کی قوم بھی اس کے ساتھ تھی پھر بنی اسرائیل پر ایک اور مہربانی کا ذکر فرما رہا ہے کہ اس زمانے کے تمام لوگوں پر انہیں فضیلت عطا فرمائی ہر زمانے کو عالم کہا جاتا ہے یہ مراد نہیں کہ تمام اگلوں پچھلوں پر انہیں بزرگی دی یہ آیت بھی اس آیت کی طرح ہے جس میں فرمان ہے آیت (قَالَ يٰمُوْسٰٓي اِنِّى اصْطَفَيْتُكَ عَلَي النَّاسِ بِرِسٰلٰتِيْ وَبِكَلَامِيْ ڮ فَخُذْ مَآ اٰتَيْتُكَ وَكُنْ مِّنَ الشّٰكِرِيْنَ01404) 7۔ الاعراف :144) اس سے بھی یہی مطلب ہے کہ اس زمانے کی تمام عورتوں پر آپ کو فضیلت ہے اس لئے کہ ام المومنین حضرت خدیجہ ان سے یقینا افضل ہیں یا کم ازکم برابر۔ اسی طرح حضرت آسیہ بنت مزاحم جو فرعون کی بیوی تھیں اور ام المومنین حضرت عائشہ کی فضیلت تمام عورتوں پر ایسی ہے جیسی فضیلت شوربے میں بھگوئی روٹی کی اور کھانوں پر پھر بنی اسرائیل پر ایک اور احسان بیان ہو رہا ہے کہ ہم نے انہیں وہ حجت وبرہان دلیل و نشان اور معجزات و کرامات عطا فرمائے جن میں ہدایت کی تلاش کرنے والوں کے لئے صاف صاف امتحان تھا۔
27
View Single
وَنَعۡمَةٖ كَانُواْ فِيهَا فَٰكِهِينَ
And favours amongst which they were rejoicing!
اور نعمتیں (اور راحتیں) جن میں وہ عیش کیا کرتے تھے
Tafsir Ibn Kathir
The Story of Musa and Fir`awn, and how the Children of Israel were saved
Allah tells us, `before these idolators, We tested the people of Fir`awn, the copts of Egypt.'
وَجَآءَهُمْ رَسُولٌ كَرِيمٌ
(when there came to them a noble Messenger.) means, Musa, peace be upon him, the one to whom Allah spoke.
أَنْ أَدُّواْ إِلَىَّ عِبَادَ اللَّهِ
(Deliver to me the servants of Allah.) This is like the Ayah:
فَأَرْسِلْ مَعَنَا بَنِى إِسْرَءِيلَ وَلاَ تُعَذِّبْهُمْ قَدْ جِئْنَـكَ بِـَايَةٍ مِّن رَّبِّكَ وَالسَّلَـمُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى
(So let the Children of Israel go with us, and torment them not; indeed, we have come with a sign from your Lord! And peace will be upon him who follows the guidance!") (20:47)
إِنِّي لَكُمْ رَسُولٌ أَمِينٌ
(Verily, I am to you a Messenger worthy of all trust.) means, `what I convey to you is trustworthy.'
وَأَن لاَّ تَعْلُواْ عَلَى اللَّهِ
(And exalt not yourselves against Allah.) means, `and do not be too arrogant to follow His signs. Accept His proof and believe in His evidence.' This is like the Ayah:
إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِى سَيَدْخُلُونَ جَهَنَّمَ دَخِرِينَ
(Verily, those who scorn My worship they will surely enter Hell in humiliation!) (40:60)
إِنِّى ءَاتِيكُمْ بِسُلْطَانٍ مُّبِينٍ
(Truly, I have come to you with a manifest authority.) means, with clear and obvious proof. This refers to the clear signs and definitive evidence with which Allah sent him.
وَإِنِّى عُذْتُ بِرَبِّى وَرَبِّكُمْ أَن تَرْجُمُونِ
(And truly, I seek refuge with my Lord and your Lord, lest you should stone me.) Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, and Abu Salih said, "This refers to a verbal assault, which means insults." Qatadah said, "Meaning `stoning' in the literal sense, so that the meaning is: `I seek refuge with Allah, Who created me and you, from your making any harmful words or actions reach me."'
وَإِن لَّمْ تُؤْمِنُواْ لِى فَاعْتَزِلُونِ
(But if you believe me not, then keep away from me and leave me alone.) means, `then let us leave one another alone and live in peace until Allah judges between us.' After Musa, may Allah be pleased with him, had stayed among them for a long time, and the proof of Allah had been established against them, and that only increased them in disbelief and stubbornness, he prayed to his Lord against them, a prayer which was answered. Allah says:
وَقَالَ مُوسَى رَبَّنَآ إِنَّكَ ءاتَيْتَ فِرْعَوْنَ وَمَلاّهُ زِينَةً وَأَمْوَالاً فِى الْحَيَوةِ الدُّنْيَا رَبَّنَا لِيُضِلُّواْ عَن سَبِيلِكَ رَبَّنَا اطْمِسْ عَلَى أَمْوَلِهِمْ وَاشْدُدْ عَلَى قُلُوبِهِمْ فَلاَ يُؤْمِنُواْ حَتَّى يَرَوُاْ الْعَذَابَ الاٌّلِيمَ قَالَ قَدْ أُجِيبَتْ دَّعْوَتُكُمَا فَاسْتَقِيمَا
(And Musa said: "Our Lord! You have indeed bestowed on Fir`awn and his chiefs splendor and wealth in the life of this world, our Lord! That they may lead men astray from Your path. Our Lord! Destroy their wealth, and harden their hearts, so that they will not believe until they see the painful torment." Allah said: "Verily, the invocation of you both is accepted. So you both keep to the straight way.") (10:88-89) And Allah says here:
فَدَعَا رَبَّهُ أَنَّ هَـؤُلاَءِ قَوْمٌ مُّجْرِمُونَ
(So he (Musa) called upon his Lord (saying): "These are indeed the people who are criminals.") Whereupon Allah commanded him to bring the Children of Israel out from among them, without the command, consent or permission of Fir`awn. Allah said:
فَأَسْرِ بِعِبَادِى لَيْلاً إِنَّكُم مُّتَّبَعُونَ
(Depart you with My servants by night. Surely, you will be pursued.) This is like the Ayah:
وَلَقَدْ أَوْحَيْنَآ إِلَى مُوسَى أَنْ أَسْرِ بِعِبَادِى فَاضْرِبْ لَهُمْ طَرِيقاً فِى الْبَحْرِ يَبَساً لاَّ تَخَافُ دَرَكاً وَلاَ تَخْشَى
And indeed We revealed to Mu0sa0 (saying): Travel by night with My servants and strike a dry path for them in the sea, fearing neither to be overtaken nor being afraid (of drowning in the sea). )20:77(
وَاتْرُكِ الْبَحْرَ رَهْواً إِنَّهُمْ جُندٌ مُّغْرَقُونَ
(And leave the sea as it is (quiet and divided). Verily, they are a host to be drowned.) When Musa and the Children of Israel has crossed the sea, Musa wanted to strike it with his staff so that it would go back as it had been, and it would form a barrier between then and Fir`awn and prevent him from reaching them. But Allah commanded him to leave it as it was, quiet and divided, and gave him the glad tidings that they were a host to be drowned, and that he should not fear either being overtaken by Fir`awn or drowning in the sea. Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, said:
وَاتْرُكِ الْبَحْرَ رَهْواً
(And leave the sea as it is (quiet and divided).) means, leave it as it is and keep moving. Mujahid said:
رَهْواً
(as it is) means, a dry path, as it is. `Do not command it to go back; leave it until the last of them have entered it.' This was also the view of `Ikrimah, Ar-Rabi` bin Anas, Ad-Dahhak, Qatadah, Ibn Zayd, Ka`b Al-Ahbar, Simak bin Harb and others.
كَمْ تَرَكُواْ مِن جَنَّـتٍ وَعُيُونٍ وَزُرُوعٍ
(How many of gardens and springs that they left behind. And green crops) this refers to rivers and wells.
وَمَقَامٍ كَرِيمٍ
and goodly places, means, fine dwellings and beautiful places. Muja0hid and Sa 0d bin Jubayr said:
وَمَقَامٍ كَرِيمٍ
(and goodly places,) means elevated places.
وَنَعْمَةٍ كَانُواْ فِيهَا فَـكِهِينَ
(And comforts of life wherein they used to take delight!) means, a life which they were enjoying, where they could eat whatever they wanted and wear what they liked, with wealth and glory and power in the land. Then all of that was taken away in a single morning, they departed from this world and went to Hell, what a terrible abode!
كَذَلِكَ وَأَوْرَثْنَـهَا قَوْماً ءَاخَرِينَ
(Thus (it was)! And We made other people inherit them.) namely the Children of Israel.
فَمَا بَكَتْ عَلَيْهِمُ السَّمَآءُ وَالاٌّرْضُ
(And the heavens and the earth wept not for them, ) means, they had no righteous deeds which used to ascend through the gates of the heavens, which would weep for them when they died, and they had no places on earth where they used to worship Allah which would notice their loss. So they did not deserve to be given a respite, because of their disbelief, sin, transgression and stubbornness. Ibn Jarir recorded that Sa`id bin Jubayr said, "A man came to Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, and said to him: `O Abu Al-`Abbas, Allah says,
فَمَا بَكَتْ عَلَيْهِمُ السَّمَآءُ وَالاٌّرْضُ وَمَا كَانُواْ مُنظَرِينَ
(And the heavens and the earth wept not for them, nor were they given respite) -- do the heavens and the earth weep for anybody' He, may Allah be pleased with him, said, `Yes, there is no one who does not have a gate in the heavens through which his provision comes down and his good deeds ascend. When the believer dies, that gate is closed; it misses him and weeps for him, and the place of prayer on earth where he used to pray and remember Allah also weeps for him. But the people of Fir`awn left no trace of righteousness on the earth and they had no good deeds that ascended to Allah, so the heavens and the earth did not weep for them."' Al-`Awfi reported something similar from Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him.
وَلَقَدْ نَجَّيْنَا بَنِى إِسْرَءِيلَ مِنَ الْعَذَابِ الْمُهِينِ - مِن فِرْعَوْنَ إِنَّهُ كَانَ عَالِياً مِّنَ الْمُسْرِفِينَ
(And indeed We saved the Children of Israel from the humiliating torment from Fir`awn; verily, he was arrogant and was of the excessive. ) Here Allah reminds them of how He saved them from their humiliation and subjugation at the hands of Fir`awn, when they were forced to do menial tasks.
مِن فِرْعَوْنَ إِنَّهُ كَانَ عَالِياً
(From Fir`awn; verily, he was arrogant) means, he was proud and stubborn. This is like the Ayah:
إِنَّ فِرْعَوْنَ عَلاَ فِى الاٌّرْضِ
(Verily, Fir`awn exalted himself in the land) (28:4).
فَاسْتَكْبَرُواْ وَكَانُواْ قَوْماً عَـلِينَ
(but they behaved insolently and they were people self-exalting) (23:46). He was one of the excessive and held a foolish opinion of himself.
وَلَقَدِ اخْتَرْنَـهُمْ عَلَى عِلْمٍ عَلَى الْعَـلَمِينَ
(And We chose them above the nations (Al-`Alamin) with knowledge,) Mujahid said, "This means that they were chosen above those among whom they lived." Qatadah said, "They were chosen above the other people of their own time, and it was said that in every period there are people who are chosen above others." This is like the Ayah:
قَالَ يَمُوسَى إِنْى اصْطَفَيْتُكَ عَلَى النَّاسِ
((Allah) said: "O Musa I have chosen you above men.") (7:144), which means, above the people of his time. This is also like the Ayah:
وَاصْطَفَـكِ عَلَى نِسَآءِ الْعَـلَمِينَ
(and (Allah has) chosen you (Maryam) above the women of the nations (Al-`Alamin).) (3:42), i.e., Maryam was chosen above the women of her time. For Khadijah, may Allah be pleased with her, is higher than her in status or is equal to her, as was Asiyah bint Muzahim, the wife of Fir`awn. And the superiority of `A'ishah, may Allah be pleased with her, over all other women is like the superiority of Tharid over all other dishes.
وَءَاتَيْنَـهُم مِّنَ الاٌّيَـتِ
(And granted them signs) means clear proofs and extraordinary evidence.
مَا فِيهِ بَلَؤٌاْ مُّبِينٌ
(in which there was a plain trial.) means, an obvious test to show who would be guided by it.
قبطیوں کا انجام ارشاد ہوتا ہے کہ ان مشرکین سے پہلے مصر کے قبطیوں کو ہم نے جانچا ان کی طرف اپنے بزرگ رسول حضرت موسیٰ کو بھیجا انہوں نے میرا پیغام پہنچایا کہ بنی اسرائیل کو میرے ساتھ کردو انہیں دکھ نہ دو میں اپنی نبوت پر گواہی دینے والے معجزے اپنے ساتھ لایا ہوں اور ہدایت کے ماننے والے سلامتی سے رہیں گے مجھے اللہ تعالیٰ نے اپنی وحی کا امانت دار بنا کر تمہاری طرف بھیجا ہے میں تمہیں اس کا پیغام پہنچا رہا ہوں تمہیں رب کی باتوں کے ماننے سے سرکشی نہ کرنی چاہئے اس کے بیان کردہ دلائل و احکام کے سامنے سر تسلیم خم کرنا چاہئے۔ اس کی عبادتوں سے جی چرانے والے ذلیل و خوار ہو کر جہنم واصل ہوتے ہیں میں تو تمہارے سامنے کھلی دلیل اور واضح آیت رکھتا ہوں میں تمہاری بدگوئی اور اہتمام سے اللہ کی پناہ لیتا ہوں۔ ابن عباس اور ابو صالہ تو یہی کہتے ہیں اور قتادہ کہتے ہیں مراد پتھراؤ کرنا پتھروں سے مار ڈالنا ہے یعنی زبانی ایذاء سے اور دستی ایذاء سے میں اپنے رب کی جو تمہارا بھی مالک ہے پناہ چاہتا ہوں اچھا اگر تم میری نہیں مانتے مجھ پر بھروسہ نہیں کرتے اللہ پر ایمان نہیں لاتے تو کم از کم میری تکلیف دہی اور ایذاء رسانی سے تو باز رہو۔ اور اس کے منتظر رہو جب کہ خود اللہ ہم میں تم میں فیصلہ کر دے گا پھر جب اللہ کے نبی کلیم اللہ حضرت موسیٰ نے ایک لمبی مدت ان میں گذاری خوب دل کھول کھول کر تبلیغ کرلی ہر طرح کی خیر خواہی کی ان کی ہدایت کے لئے ہرچند جتن کر لئے اور دیکھا کہ وہ روز بروز اپنے کفر میں بڑھتے جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ سے انکے لئے بددعا کی جیسے اور آیت میں ہے کہ حضرت موسیٰ نے کہا اے ہمارے رب تو نے فرعون اور اس کے امراء کو دنیوی نمائش اور مال و متاع دے رکھی ہے اے اللہ یہ اس سے دوسروں کو بھی تیری راہ سے بھٹکا رہے ہیں تو ان کا مال غارت کر اور ان کے دل اور سخت کر دے تاکہ دردناک عذابوں کے معائنہ تک انہیں ایمان نصیب ہی نہ ہو اللہ کی طرف سے جواب ملا کہ اے موسیٰ اور اے ہارون میں نے تمہاری دعا قبول کرلی اب تم استقامت پر تل جاؤ یہاں فرماتا ہے کہ ہم نے موسیٰ سے کہا کہ میرے بندوں یعنی بنی اسرائیل کو راتوں رات فرعون اور فرعونیوں کی بیخبر ی میں یہاں سے لے کر چلے جاؤ۔ یہ کفار تمہارا پیچھا کریں گے لیکن تم بےخوف و خطر چلے جاؤ میں تمہارے لئے دریا کو خشک کر دوں گا اس کے بعد حضرت موسیٰ ؑ بنی اسرائیل کو لے کر چل پڑے فرعونی لشکر مع فرعون کے ان کے پکڑنے کو چلا بیچ میں دریا حائل ہوا آپ بنی اسرائیل کو لے کر اس میں اتر گئے دریا کا پانی سوکھ گیا اور آپ اپنے ساتھیوں سمیت پار ہوگئے تو چاہا کہ دریا پر لکڑی مار کر اسے کہہ دیں کہ اب تو اپنی روانی پر آجا تاکہ فرعون اس سے گزر نہ سکے وہیں اللہ نے وحی بھیجی کہ اسے اسی حال میں سکون کے ساتھ ہی رہنے دو ساتھ ہی اس کی وجہ بھی بتادی کہ یہ سب اسی میں ڈوب مریں گے۔ پھر تو تم سب بالکل ہی مطمئن اور بےخوف ہوجاؤ گے غرض حکم ہوا تھا کہ دریا کو خشک چھوڑ کر چل دیں (رھواً) کے معنی سوکھا راستہ جو اصلی حالت پر ہو۔ مقصد یہ ہے کہ پار ہو کہ دریا کو روانی کا حکم نہ دینا یہاں تک کہ دشمنوں میں سے ایک ایک اس میں آ نہ جائے اب اسے جاری ہونے کا حکم ملتے ہی سب کو غرق کر دے گا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے دیکھو کیسے غارت ہوئے۔ باغات کھتیاں نہریں مکانات اور بیٹھکیں سب چھوڑ کر فنا ہوگئے حضرت عبداللہ بن عمرو فرماتے ہیں مصر کا دریائے نیل مشرق مغرب کے دریاؤں کا سردار ہے اور سب نہریں اس کے ماتحت ہیں جب اس کی روانی اللہ کو منظور ہوتی ہیں تو تمام نہروں کو اس میں پانی پہنچانے کا حکم ہوتا ہے جہاں تک رب کو منظور ہو اس میں پانی آجاتا ہے پھر اللہ تبارک و تعالیٰ اور نہروں کو روک دیتا ہے اور حکم دیتا ہے کہ اب اپنی اپنی جگہ چلی جاؤ اور فرعونیوں کے یہ باغات دریائے نیل کے دونوں کناروں پر مسلسل چلے گئے تھے رسواں سے لے کر رشید تک اس کا سلسلہ تھا اور اس کی نو خلیجیں تھیں۔ خلیج اسکندریہ، دمیاط، خلیج سردوس، خلیج منصف، خلیج منتہی اور ان سب میں اتصال تھا ایک دوسرے سے متصل تھیں اور پہاڑوں کے دامن میں ان کی کھیتیاں تھیں جو مصر سے لے کر دریا تک برابر چلی آتی تھیں ان تمام کو بھی دریا سیراب کرتا تھا بڑے امن چین کی زندگی گذار رہے تھے لیکن مغرور ہوگئے اور آخر ساری نعمتیں یونہی چھوڑ کر تباہ کر دئیے گئے۔ مال اولاد جاہ و مال سلطنت و عزت ایک ہی رات میں چھوڑ گئے اور بھس کی طرح اڑا دئیے گئے اور گذشتہ کل کی طرح بےنشان کر دئیے گئے ایسے ڈبوئے گئے کہ ابھر نہ سکے جہنم واصل ہوگئے اور بدترین جگہ پہنچ گئے ان کی یہ تمام چیزیں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو دے دیں۔ جیسے اور آیت میں فرمایا ہے کہ ہم نے ان کمزوروں کو ان کے صبر کے بدلے اس سرکش قوم کی کل نعمتیں عطا فرمادیں اور بےایمانوں کا بھرکس نکال ڈالا یہاں بھی دوسری قوم جسے وارث بنایا اس سے مراد بھی بنی اسرائیل ہیں پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ان پر زمین و آسمان نہ روئے کیونکہ ان پاپیوں کے نیک اعمال تھے ہی نہیں جو آسمانوں پر چڑھتے ہوں اور اب ان کے نہ چڑھنے کی وجہ سے وہ افسوس کریں نہ زمین میں ان کی جگہیں ایسی تھیں کہ جہاں بیٹھ کر یہ اللہ کی عبادت کرتے ہوں اور آج انہیں نہ پا کر زمین کی وہ جگہ ان کا ماتم کرے انہیں مہلت نہ دی گئی۔ مسند ابو یعلی موصلی میں ہے ہر بندے کے لئے آسمان میں دو دروازے ہیں ایک سے اس کی روزی اترتی ہے دوسرے سے اس کے اعمال اور اس کے کلام چڑھتے ہیں۔ جب یہ مرجاتا ہے اور وہ عمل و رزق کو گم شدہ پاتے ہیں تو روتے ہیں پھر اسی آیت کی حضور ﷺ نے تلاوت کی ابن ابی حاتم میں فرمان رسول ﷺ ہے کہ اسلام غربت سے شروع ہوا اور پھر غربت پر آجائے گا یاد رکھو مومن کہیں انجام مسافر کی طرح نہیں مومن جہاں کہیں سفر میں ہوتا ہے جہاں اس کا کوئی رونے والا نہ ہو وہاں بھی اس کے رونے والے آسمان و زمین موجود ہیں پھر حضور ﷺ نے اس آیت کی تلاوت کر کے فرمایا یہ دونوں کفار پر روتے نہیں حضرت علی سے کسی نے پوچھا کہ آسمان و زمین کبھی کسی پر روئے بھی ہیں ؟ آپ نے فرمایا آج تو نے وہ بات دریافت کی ہے کہ تجھ سے پہلے مجھ سے اس کا سوال کسی نے نہیں کیا۔ سنو ہر بندے کے لئے زمین میں ایک نماز کی جگہ ہوتی ہے اور ایک جگہ آسمان میں اس کے عمل کے چڑھنے کی ہوتی ہے اور آل فرعون کے نیک اعمال ہی نہ تھے اس وجہ سے نہ زمین ان پر روئی نہ آسمان کو ان پر رونا آیا اور نہ انہیں ڈھیل دی گئی کہ کوئی نیکی بجا لاسکیں، حضرت ابن عباس سے یہ سوال ہوا تو آپ نے بھی قریب قریب یہی جواب دیا بلکہ آپ سے مروی ہے کہ چالیس دن تک زمین مومن پر روتی رہتی ہے حضرت مجاہد نے جب یہ بیان فرمایا تو کسی نے اس پر تعجب کا اظہار کیا آپ نے فرمایا سبحان اللہ اس میں تعجب کی کونسی بات ہے جو بندہ زمین کو اپنے رکوع و سجود سے آباد رکھتا تھا جس بندے کی تکبیر و تسبیح کی آوازیں آسمان برابر سنتا رہا تھا بھلا یہ دونوں اس عابد اللہ پر روئیں گے نہیں ؟ حضرت قتادہ فرماتے ہیں فرعونیوں جیسے ذلیل و خوار لوگوں پر یہ کیوں روتے ؟ حضرت ابراہیم فرماتے ہیں دنیا جب سے رچائی گئی ہے تب سے آسمان صرف دو شخصوں پر رویا ہے ان کے شاگرد سے سوال ہوا کہ کیا آسمان و زمین ہر ایمان دار پر روتے نہیں ؟ فرمایا صرف اتنا حصہ جس حصے سے اس کا نیک عمل چڑھتا تھا سنو آسمان کا رونا اس کا سرخ ہونا اور مثل نری کے گلابی ہوجانا ہے سو یہ حال صرف دو شخصوں کی شہادت پر ہوا ہے۔ حضرت یحییٰ کے قتل کے موقعے پر تو آسمان سرخ ہوگیا اور خون برسانے لگا اور دوسرے حضرت حسین کے قتل پر بھی آسمان کا رنگ سرخ ہوگیا تھا (ابن ابی حاتم) یزید ابن ابو زیاد کا قول ہے کہ قتل حسین کی وجہ سے چار ماہ تک آسمان کے کنارے سرخ رہے اور یہی سرخی اس کا رونا ہے حضرت عطا فرماتے ہیں اس کے کناروں کا سرخ ہوجانا اس کا رونا ہے یہ بھی ذکر کیا گیا ہے کہ قتل حسین کے دن جس پتھر کو الٹا جاتا تھا اس کے نیچے سے منجمند خون نکلتا تھا۔ اس دن سورج کو بھی گہن لگا ہوا تھا آسمان کے کنارے بھی سرخ تھے اور پتھر گرے تھے۔ لیکن یہ سب باتیں بےبنیاد ہیں اور شیعوں کے گھڑے ہوئے افسانے ہیں اس میں کوئی شک نہیں کہ نواسہ رسول ﷺ کی شہادت کا واقعہ نہایت درد انگیز اور حسرت و افسوس والا ہے لیکن اس پر شیعوں نے جو حاشیہ چڑھایا ہے اور گھڑ گھڑا کر جو باتیں پھیلا دی ہیں وہ محض جھوٹ اور بالکل گپ ہیں۔ خیال تو فرمائیے کہ اس سے بہت زیادہ اہم واقعات ہوئے اور قتل حسین سے بہت بڑی وارداتیں ہوئیں لیکن ان کے ہونے پر بھی آسمان و زمین وغیرہ میں یہ انقلاب نہ ہوا۔ آپ ہی کے والد ماجد حضرت علی بھی قتل کئے گئے جو بالاجماع آپ سے افضل تھے لیکن نہ تو پتھروں تلے سے خون نکلا اور کچھ ہوا۔ حضرت عثمان بن عفان کو گھیر لیا جاتا ہے اور نہایت بےدردی سے بلاوجہ ظلم و ستم کے ساتھ انہیں قتل کیا جاتا ہے فاروق اعظم حضرت عمر بن خطاب کو صبح کی نماز پڑھاتے ہوئے نماز کی جگہ ہی قتل کیا جاتا ہے یہ وہ زبردست مصیبت تھی کہ اس سے پہلے مسلمان کبھی ایسی مصیبت نہیں پہنچائے گئے تھے لیکن ان واقعات میں سے کسی واقعہ کے وقت اب میں سے ایک بھی بات نہیں جو شیعوں نے مقتل حسین کی نسبت مشہور کر رکھی ہے۔ ان سب کو بھی جانے دیجئے تمام انسانوں کے دینی اور دنیوی سردار سید البشر رسول اللہ ﷺ کو لیجئے جس روز آپ رحلت فرماتے ہیں ان میں سے کچھ بھی نہیں ہوتا اور سنئے جس روز حضور ﷺ کے صاحبزادے حضرت ابراہیم کا انتقال ہوتا ہے اتفاقاً اسی روز سورج گہن ہوتا ہے اور کوئی کہہ دیتا ہے کہ ابراہیم کے انتقال کی وجہ سورج کو گہن لگا ہے۔ تو حضور ﷺ گہن کی نماز ادا کر کے فوراً خطبے پر کھڑے ہوجاتے ہیں اور فرماتے ہیں سورج چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں کسی کی موت زندگی کی وجہ سے انہیں گہن نہیں لگتا اس کے بعد کی آیت میں اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل پر اپنا احسان جتاتا ہے کہ ہم نے انہیں فرعون جیسے متکبر حدود شکن کے ذلیل عذابوں سے نجات دی اس نے بنی اسرائیل کو پست و خوار کر رکھا تھا ذلیل خدمتیں ان سے لیتا تھا اور اپنے نفس کو تولتا رہتا تھا خودی اور خود بینی میں لگا ہوا تھا بیوقوفی سے کسی چیز کی حد بندی کا خیال نہیں کرتا تھا اللہ کی زمین میں سرکشی کئے ہوئے تھا۔ اور ان بدکاریوں میں اس کی قوم بھی اس کے ساتھ تھی پھر بنی اسرائیل پر ایک اور مہربانی کا ذکر فرما رہا ہے کہ اس زمانے کے تمام لوگوں پر انہیں فضیلت عطا فرمائی ہر زمانے کو عالم کہا جاتا ہے یہ مراد نہیں کہ تمام اگلوں پچھلوں پر انہیں بزرگی دی یہ آیت بھی اس آیت کی طرح ہے جس میں فرمان ہے آیت (قَالَ يٰمُوْسٰٓي اِنِّى اصْطَفَيْتُكَ عَلَي النَّاسِ بِرِسٰلٰتِيْ وَبِكَلَامِيْ ڮ فَخُذْ مَآ اٰتَيْتُكَ وَكُنْ مِّنَ الشّٰكِرِيْنَ01404) 7۔ الاعراف :144) اس سے بھی یہی مطلب ہے کہ اس زمانے کی تمام عورتوں پر آپ کو فضیلت ہے اس لئے کہ ام المومنین حضرت خدیجہ ان سے یقینا افضل ہیں یا کم ازکم برابر۔ اسی طرح حضرت آسیہ بنت مزاحم جو فرعون کی بیوی تھیں اور ام المومنین حضرت عائشہ کی فضیلت تمام عورتوں پر ایسی ہے جیسی فضیلت شوربے میں بھگوئی روٹی کی اور کھانوں پر پھر بنی اسرائیل پر ایک اور احسان بیان ہو رہا ہے کہ ہم نے انہیں وہ حجت وبرہان دلیل و نشان اور معجزات و کرامات عطا فرمائے جن میں ہدایت کی تلاش کرنے والوں کے لئے صاف صاف امتحان تھا۔
28
View Single
كَذَٰلِكَۖ وَأَوۡرَثۡنَٰهَا قَوۡمًا ءَاخَرِينَ
That is what We did; and We made another nation their heirs.
اسی طرح ہوا، اور ہم نے اِن سب کا دوسرے لوگوں کو وارث بنا دیا
Tafsir Ibn Kathir
The Story of Musa and Fir`awn, and how the Children of Israel were saved
Allah tells us, `before these idolators, We tested the people of Fir`awn, the copts of Egypt.'
وَجَآءَهُمْ رَسُولٌ كَرِيمٌ
(when there came to them a noble Messenger.) means, Musa, peace be upon him, the one to whom Allah spoke.
أَنْ أَدُّواْ إِلَىَّ عِبَادَ اللَّهِ
(Deliver to me the servants of Allah.) This is like the Ayah:
فَأَرْسِلْ مَعَنَا بَنِى إِسْرَءِيلَ وَلاَ تُعَذِّبْهُمْ قَدْ جِئْنَـكَ بِـَايَةٍ مِّن رَّبِّكَ وَالسَّلَـمُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى
(So let the Children of Israel go with us, and torment them not; indeed, we have come with a sign from your Lord! And peace will be upon him who follows the guidance!") (20:47)
إِنِّي لَكُمْ رَسُولٌ أَمِينٌ
(Verily, I am to you a Messenger worthy of all trust.) means, `what I convey to you is trustworthy.'
وَأَن لاَّ تَعْلُواْ عَلَى اللَّهِ
(And exalt not yourselves against Allah.) means, `and do not be too arrogant to follow His signs. Accept His proof and believe in His evidence.' This is like the Ayah:
إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِى سَيَدْخُلُونَ جَهَنَّمَ دَخِرِينَ
(Verily, those who scorn My worship they will surely enter Hell in humiliation!) (40:60)
إِنِّى ءَاتِيكُمْ بِسُلْطَانٍ مُّبِينٍ
(Truly, I have come to you with a manifest authority.) means, with clear and obvious proof. This refers to the clear signs and definitive evidence with which Allah sent him.
وَإِنِّى عُذْتُ بِرَبِّى وَرَبِّكُمْ أَن تَرْجُمُونِ
(And truly, I seek refuge with my Lord and your Lord, lest you should stone me.) Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, and Abu Salih said, "This refers to a verbal assault, which means insults." Qatadah said, "Meaning `stoning' in the literal sense, so that the meaning is: `I seek refuge with Allah, Who created me and you, from your making any harmful words or actions reach me."'
وَإِن لَّمْ تُؤْمِنُواْ لِى فَاعْتَزِلُونِ
(But if you believe me not, then keep away from me and leave me alone.) means, `then let us leave one another alone and live in peace until Allah judges between us.' After Musa, may Allah be pleased with him, had stayed among them for a long time, and the proof of Allah had been established against them, and that only increased them in disbelief and stubbornness, he prayed to his Lord against them, a prayer which was answered. Allah says:
وَقَالَ مُوسَى رَبَّنَآ إِنَّكَ ءاتَيْتَ فِرْعَوْنَ وَمَلاّهُ زِينَةً وَأَمْوَالاً فِى الْحَيَوةِ الدُّنْيَا رَبَّنَا لِيُضِلُّواْ عَن سَبِيلِكَ رَبَّنَا اطْمِسْ عَلَى أَمْوَلِهِمْ وَاشْدُدْ عَلَى قُلُوبِهِمْ فَلاَ يُؤْمِنُواْ حَتَّى يَرَوُاْ الْعَذَابَ الاٌّلِيمَ قَالَ قَدْ أُجِيبَتْ دَّعْوَتُكُمَا فَاسْتَقِيمَا
(And Musa said: "Our Lord! You have indeed bestowed on Fir`awn and his chiefs splendor and wealth in the life of this world, our Lord! That they may lead men astray from Your path. Our Lord! Destroy their wealth, and harden their hearts, so that they will not believe until they see the painful torment." Allah said: "Verily, the invocation of you both is accepted. So you both keep to the straight way.") (10:88-89) And Allah says here:
فَدَعَا رَبَّهُ أَنَّ هَـؤُلاَءِ قَوْمٌ مُّجْرِمُونَ
(So he (Musa) called upon his Lord (saying): "These are indeed the people who are criminals.") Whereupon Allah commanded him to bring the Children of Israel out from among them, without the command, consent or permission of Fir`awn. Allah said:
فَأَسْرِ بِعِبَادِى لَيْلاً إِنَّكُم مُّتَّبَعُونَ
(Depart you with My servants by night. Surely, you will be pursued.) This is like the Ayah:
وَلَقَدْ أَوْحَيْنَآ إِلَى مُوسَى أَنْ أَسْرِ بِعِبَادِى فَاضْرِبْ لَهُمْ طَرِيقاً فِى الْبَحْرِ يَبَساً لاَّ تَخَافُ دَرَكاً وَلاَ تَخْشَى
And indeed We revealed to Mu0sa0 (saying): Travel by night with My servants and strike a dry path for them in the sea, fearing neither to be overtaken nor being afraid (of drowning in the sea). )20:77(
وَاتْرُكِ الْبَحْرَ رَهْواً إِنَّهُمْ جُندٌ مُّغْرَقُونَ
(And leave the sea as it is (quiet and divided). Verily, they are a host to be drowned.) When Musa and the Children of Israel has crossed the sea, Musa wanted to strike it with his staff so that it would go back as it had been, and it would form a barrier between then and Fir`awn and prevent him from reaching them. But Allah commanded him to leave it as it was, quiet and divided, and gave him the glad tidings that they were a host to be drowned, and that he should not fear either being overtaken by Fir`awn or drowning in the sea. Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, said:
وَاتْرُكِ الْبَحْرَ رَهْواً
(And leave the sea as it is (quiet and divided).) means, leave it as it is and keep moving. Mujahid said:
رَهْواً
(as it is) means, a dry path, as it is. `Do not command it to go back; leave it until the last of them have entered it.' This was also the view of `Ikrimah, Ar-Rabi` bin Anas, Ad-Dahhak, Qatadah, Ibn Zayd, Ka`b Al-Ahbar, Simak bin Harb and others.
كَمْ تَرَكُواْ مِن جَنَّـتٍ وَعُيُونٍ وَزُرُوعٍ
(How many of gardens and springs that they left behind. And green crops) this refers to rivers and wells.
وَمَقَامٍ كَرِيمٍ
and goodly places, means, fine dwellings and beautiful places. Muja0hid and Sa 0d bin Jubayr said:
وَمَقَامٍ كَرِيمٍ
(and goodly places,) means elevated places.
وَنَعْمَةٍ كَانُواْ فِيهَا فَـكِهِينَ
(And comforts of life wherein they used to take delight!) means, a life which they were enjoying, where they could eat whatever they wanted and wear what they liked, with wealth and glory and power in the land. Then all of that was taken away in a single morning, they departed from this world and went to Hell, what a terrible abode!
كَذَلِكَ وَأَوْرَثْنَـهَا قَوْماً ءَاخَرِينَ
(Thus (it was)! And We made other people inherit them.) namely the Children of Israel.
فَمَا بَكَتْ عَلَيْهِمُ السَّمَآءُ وَالاٌّرْضُ
(And the heavens and the earth wept not for them, ) means, they had no righteous deeds which used to ascend through the gates of the heavens, which would weep for them when they died, and they had no places on earth where they used to worship Allah which would notice their loss. So they did not deserve to be given a respite, because of their disbelief, sin, transgression and stubbornness. Ibn Jarir recorded that Sa`id bin Jubayr said, "A man came to Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, and said to him: `O Abu Al-`Abbas, Allah says,
فَمَا بَكَتْ عَلَيْهِمُ السَّمَآءُ وَالاٌّرْضُ وَمَا كَانُواْ مُنظَرِينَ
(And the heavens and the earth wept not for them, nor were they given respite) -- do the heavens and the earth weep for anybody' He, may Allah be pleased with him, said, `Yes, there is no one who does not have a gate in the heavens through which his provision comes down and his good deeds ascend. When the believer dies, that gate is closed; it misses him and weeps for him, and the place of prayer on earth where he used to pray and remember Allah also weeps for him. But the people of Fir`awn left no trace of righteousness on the earth and they had no good deeds that ascended to Allah, so the heavens and the earth did not weep for them."' Al-`Awfi reported something similar from Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him.
وَلَقَدْ نَجَّيْنَا بَنِى إِسْرَءِيلَ مِنَ الْعَذَابِ الْمُهِينِ - مِن فِرْعَوْنَ إِنَّهُ كَانَ عَالِياً مِّنَ الْمُسْرِفِينَ
(And indeed We saved the Children of Israel from the humiliating torment from Fir`awn; verily, he was arrogant and was of the excessive. ) Here Allah reminds them of how He saved them from their humiliation and subjugation at the hands of Fir`awn, when they were forced to do menial tasks.
مِن فِرْعَوْنَ إِنَّهُ كَانَ عَالِياً
(From Fir`awn; verily, he was arrogant) means, he was proud and stubborn. This is like the Ayah:
إِنَّ فِرْعَوْنَ عَلاَ فِى الاٌّرْضِ
(Verily, Fir`awn exalted himself in the land) (28:4).
فَاسْتَكْبَرُواْ وَكَانُواْ قَوْماً عَـلِينَ
(but they behaved insolently and they were people self-exalting) (23:46). He was one of the excessive and held a foolish opinion of himself.
وَلَقَدِ اخْتَرْنَـهُمْ عَلَى عِلْمٍ عَلَى الْعَـلَمِينَ
(And We chose them above the nations (Al-`Alamin) with knowledge,) Mujahid said, "This means that they were chosen above those among whom they lived." Qatadah said, "They were chosen above the other people of their own time, and it was said that in every period there are people who are chosen above others." This is like the Ayah:
قَالَ يَمُوسَى إِنْى اصْطَفَيْتُكَ عَلَى النَّاسِ
((Allah) said: "O Musa I have chosen you above men.") (7:144), which means, above the people of his time. This is also like the Ayah:
وَاصْطَفَـكِ عَلَى نِسَآءِ الْعَـلَمِينَ
(and (Allah has) chosen you (Maryam) above the women of the nations (Al-`Alamin).) (3:42), i.e., Maryam was chosen above the women of her time. For Khadijah, may Allah be pleased with her, is higher than her in status or is equal to her, as was Asiyah bint Muzahim, the wife of Fir`awn. And the superiority of `A'ishah, may Allah be pleased with her, over all other women is like the superiority of Tharid over all other dishes.
وَءَاتَيْنَـهُم مِّنَ الاٌّيَـتِ
(And granted them signs) means clear proofs and extraordinary evidence.
مَا فِيهِ بَلَؤٌاْ مُّبِينٌ
(in which there was a plain trial.) means, an obvious test to show who would be guided by it.
قبطیوں کا انجام ارشاد ہوتا ہے کہ ان مشرکین سے پہلے مصر کے قبطیوں کو ہم نے جانچا ان کی طرف اپنے بزرگ رسول حضرت موسیٰ کو بھیجا انہوں نے میرا پیغام پہنچایا کہ بنی اسرائیل کو میرے ساتھ کردو انہیں دکھ نہ دو میں اپنی نبوت پر گواہی دینے والے معجزے اپنے ساتھ لایا ہوں اور ہدایت کے ماننے والے سلامتی سے رہیں گے مجھے اللہ تعالیٰ نے اپنی وحی کا امانت دار بنا کر تمہاری طرف بھیجا ہے میں تمہیں اس کا پیغام پہنچا رہا ہوں تمہیں رب کی باتوں کے ماننے سے سرکشی نہ کرنی چاہئے اس کے بیان کردہ دلائل و احکام کے سامنے سر تسلیم خم کرنا چاہئے۔ اس کی عبادتوں سے جی چرانے والے ذلیل و خوار ہو کر جہنم واصل ہوتے ہیں میں تو تمہارے سامنے کھلی دلیل اور واضح آیت رکھتا ہوں میں تمہاری بدگوئی اور اہتمام سے اللہ کی پناہ لیتا ہوں۔ ابن عباس اور ابو صالہ تو یہی کہتے ہیں اور قتادہ کہتے ہیں مراد پتھراؤ کرنا پتھروں سے مار ڈالنا ہے یعنی زبانی ایذاء سے اور دستی ایذاء سے میں اپنے رب کی جو تمہارا بھی مالک ہے پناہ چاہتا ہوں اچھا اگر تم میری نہیں مانتے مجھ پر بھروسہ نہیں کرتے اللہ پر ایمان نہیں لاتے تو کم از کم میری تکلیف دہی اور ایذاء رسانی سے تو باز رہو۔ اور اس کے منتظر رہو جب کہ خود اللہ ہم میں تم میں فیصلہ کر دے گا پھر جب اللہ کے نبی کلیم اللہ حضرت موسیٰ نے ایک لمبی مدت ان میں گذاری خوب دل کھول کھول کر تبلیغ کرلی ہر طرح کی خیر خواہی کی ان کی ہدایت کے لئے ہرچند جتن کر لئے اور دیکھا کہ وہ روز بروز اپنے کفر میں بڑھتے جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ سے انکے لئے بددعا کی جیسے اور آیت میں ہے کہ حضرت موسیٰ نے کہا اے ہمارے رب تو نے فرعون اور اس کے امراء کو دنیوی نمائش اور مال و متاع دے رکھی ہے اے اللہ یہ اس سے دوسروں کو بھی تیری راہ سے بھٹکا رہے ہیں تو ان کا مال غارت کر اور ان کے دل اور سخت کر دے تاکہ دردناک عذابوں کے معائنہ تک انہیں ایمان نصیب ہی نہ ہو اللہ کی طرف سے جواب ملا کہ اے موسیٰ اور اے ہارون میں نے تمہاری دعا قبول کرلی اب تم استقامت پر تل جاؤ یہاں فرماتا ہے کہ ہم نے موسیٰ سے کہا کہ میرے بندوں یعنی بنی اسرائیل کو راتوں رات فرعون اور فرعونیوں کی بیخبر ی میں یہاں سے لے کر چلے جاؤ۔ یہ کفار تمہارا پیچھا کریں گے لیکن تم بےخوف و خطر چلے جاؤ میں تمہارے لئے دریا کو خشک کر دوں گا اس کے بعد حضرت موسیٰ ؑ بنی اسرائیل کو لے کر چل پڑے فرعونی لشکر مع فرعون کے ان کے پکڑنے کو چلا بیچ میں دریا حائل ہوا آپ بنی اسرائیل کو لے کر اس میں اتر گئے دریا کا پانی سوکھ گیا اور آپ اپنے ساتھیوں سمیت پار ہوگئے تو چاہا کہ دریا پر لکڑی مار کر اسے کہہ دیں کہ اب تو اپنی روانی پر آجا تاکہ فرعون اس سے گزر نہ سکے وہیں اللہ نے وحی بھیجی کہ اسے اسی حال میں سکون کے ساتھ ہی رہنے دو ساتھ ہی اس کی وجہ بھی بتادی کہ یہ سب اسی میں ڈوب مریں گے۔ پھر تو تم سب بالکل ہی مطمئن اور بےخوف ہوجاؤ گے غرض حکم ہوا تھا کہ دریا کو خشک چھوڑ کر چل دیں (رھواً) کے معنی سوکھا راستہ جو اصلی حالت پر ہو۔ مقصد یہ ہے کہ پار ہو کہ دریا کو روانی کا حکم نہ دینا یہاں تک کہ دشمنوں میں سے ایک ایک اس میں آ نہ جائے اب اسے جاری ہونے کا حکم ملتے ہی سب کو غرق کر دے گا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے دیکھو کیسے غارت ہوئے۔ باغات کھتیاں نہریں مکانات اور بیٹھکیں سب چھوڑ کر فنا ہوگئے حضرت عبداللہ بن عمرو فرماتے ہیں مصر کا دریائے نیل مشرق مغرب کے دریاؤں کا سردار ہے اور سب نہریں اس کے ماتحت ہیں جب اس کی روانی اللہ کو منظور ہوتی ہیں تو تمام نہروں کو اس میں پانی پہنچانے کا حکم ہوتا ہے جہاں تک رب کو منظور ہو اس میں پانی آجاتا ہے پھر اللہ تبارک و تعالیٰ اور نہروں کو روک دیتا ہے اور حکم دیتا ہے کہ اب اپنی اپنی جگہ چلی جاؤ اور فرعونیوں کے یہ باغات دریائے نیل کے دونوں کناروں پر مسلسل چلے گئے تھے رسواں سے لے کر رشید تک اس کا سلسلہ تھا اور اس کی نو خلیجیں تھیں۔ خلیج اسکندریہ، دمیاط، خلیج سردوس، خلیج منصف، خلیج منتہی اور ان سب میں اتصال تھا ایک دوسرے سے متصل تھیں اور پہاڑوں کے دامن میں ان کی کھیتیاں تھیں جو مصر سے لے کر دریا تک برابر چلی آتی تھیں ان تمام کو بھی دریا سیراب کرتا تھا بڑے امن چین کی زندگی گذار رہے تھے لیکن مغرور ہوگئے اور آخر ساری نعمتیں یونہی چھوڑ کر تباہ کر دئیے گئے۔ مال اولاد جاہ و مال سلطنت و عزت ایک ہی رات میں چھوڑ گئے اور بھس کی طرح اڑا دئیے گئے اور گذشتہ کل کی طرح بےنشان کر دئیے گئے ایسے ڈبوئے گئے کہ ابھر نہ سکے جہنم واصل ہوگئے اور بدترین جگہ پہنچ گئے ان کی یہ تمام چیزیں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو دے دیں۔ جیسے اور آیت میں فرمایا ہے کہ ہم نے ان کمزوروں کو ان کے صبر کے بدلے اس سرکش قوم کی کل نعمتیں عطا فرمادیں اور بےایمانوں کا بھرکس نکال ڈالا یہاں بھی دوسری قوم جسے وارث بنایا اس سے مراد بھی بنی اسرائیل ہیں پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ان پر زمین و آسمان نہ روئے کیونکہ ان پاپیوں کے نیک اعمال تھے ہی نہیں جو آسمانوں پر چڑھتے ہوں اور اب ان کے نہ چڑھنے کی وجہ سے وہ افسوس کریں نہ زمین میں ان کی جگہیں ایسی تھیں کہ جہاں بیٹھ کر یہ اللہ کی عبادت کرتے ہوں اور آج انہیں نہ پا کر زمین کی وہ جگہ ان کا ماتم کرے انہیں مہلت نہ دی گئی۔ مسند ابو یعلی موصلی میں ہے ہر بندے کے لئے آسمان میں دو دروازے ہیں ایک سے اس کی روزی اترتی ہے دوسرے سے اس کے اعمال اور اس کے کلام چڑھتے ہیں۔ جب یہ مرجاتا ہے اور وہ عمل و رزق کو گم شدہ پاتے ہیں تو روتے ہیں پھر اسی آیت کی حضور ﷺ نے تلاوت کی ابن ابی حاتم میں فرمان رسول ﷺ ہے کہ اسلام غربت سے شروع ہوا اور پھر غربت پر آجائے گا یاد رکھو مومن کہیں انجام مسافر کی طرح نہیں مومن جہاں کہیں سفر میں ہوتا ہے جہاں اس کا کوئی رونے والا نہ ہو وہاں بھی اس کے رونے والے آسمان و زمین موجود ہیں پھر حضور ﷺ نے اس آیت کی تلاوت کر کے فرمایا یہ دونوں کفار پر روتے نہیں حضرت علی سے کسی نے پوچھا کہ آسمان و زمین کبھی کسی پر روئے بھی ہیں ؟ آپ نے فرمایا آج تو نے وہ بات دریافت کی ہے کہ تجھ سے پہلے مجھ سے اس کا سوال کسی نے نہیں کیا۔ سنو ہر بندے کے لئے زمین میں ایک نماز کی جگہ ہوتی ہے اور ایک جگہ آسمان میں اس کے عمل کے چڑھنے کی ہوتی ہے اور آل فرعون کے نیک اعمال ہی نہ تھے اس وجہ سے نہ زمین ان پر روئی نہ آسمان کو ان پر رونا آیا اور نہ انہیں ڈھیل دی گئی کہ کوئی نیکی بجا لاسکیں، حضرت ابن عباس سے یہ سوال ہوا تو آپ نے بھی قریب قریب یہی جواب دیا بلکہ آپ سے مروی ہے کہ چالیس دن تک زمین مومن پر روتی رہتی ہے حضرت مجاہد نے جب یہ بیان فرمایا تو کسی نے اس پر تعجب کا اظہار کیا آپ نے فرمایا سبحان اللہ اس میں تعجب کی کونسی بات ہے جو بندہ زمین کو اپنے رکوع و سجود سے آباد رکھتا تھا جس بندے کی تکبیر و تسبیح کی آوازیں آسمان برابر سنتا رہا تھا بھلا یہ دونوں اس عابد اللہ پر روئیں گے نہیں ؟ حضرت قتادہ فرماتے ہیں فرعونیوں جیسے ذلیل و خوار لوگوں پر یہ کیوں روتے ؟ حضرت ابراہیم فرماتے ہیں دنیا جب سے رچائی گئی ہے تب سے آسمان صرف دو شخصوں پر رویا ہے ان کے شاگرد سے سوال ہوا کہ کیا آسمان و زمین ہر ایمان دار پر روتے نہیں ؟ فرمایا صرف اتنا حصہ جس حصے سے اس کا نیک عمل چڑھتا تھا سنو آسمان کا رونا اس کا سرخ ہونا اور مثل نری کے گلابی ہوجانا ہے سو یہ حال صرف دو شخصوں کی شہادت پر ہوا ہے۔ حضرت یحییٰ کے قتل کے موقعے پر تو آسمان سرخ ہوگیا اور خون برسانے لگا اور دوسرے حضرت حسین کے قتل پر بھی آسمان کا رنگ سرخ ہوگیا تھا (ابن ابی حاتم) یزید ابن ابو زیاد کا قول ہے کہ قتل حسین کی وجہ سے چار ماہ تک آسمان کے کنارے سرخ رہے اور یہی سرخی اس کا رونا ہے حضرت عطا فرماتے ہیں اس کے کناروں کا سرخ ہوجانا اس کا رونا ہے یہ بھی ذکر کیا گیا ہے کہ قتل حسین کے دن جس پتھر کو الٹا جاتا تھا اس کے نیچے سے منجمند خون نکلتا تھا۔ اس دن سورج کو بھی گہن لگا ہوا تھا آسمان کے کنارے بھی سرخ تھے اور پتھر گرے تھے۔ لیکن یہ سب باتیں بےبنیاد ہیں اور شیعوں کے گھڑے ہوئے افسانے ہیں اس میں کوئی شک نہیں کہ نواسہ رسول ﷺ کی شہادت کا واقعہ نہایت درد انگیز اور حسرت و افسوس والا ہے لیکن اس پر شیعوں نے جو حاشیہ چڑھایا ہے اور گھڑ گھڑا کر جو باتیں پھیلا دی ہیں وہ محض جھوٹ اور بالکل گپ ہیں۔ خیال تو فرمائیے کہ اس سے بہت زیادہ اہم واقعات ہوئے اور قتل حسین سے بہت بڑی وارداتیں ہوئیں لیکن ان کے ہونے پر بھی آسمان و زمین وغیرہ میں یہ انقلاب نہ ہوا۔ آپ ہی کے والد ماجد حضرت علی بھی قتل کئے گئے جو بالاجماع آپ سے افضل تھے لیکن نہ تو پتھروں تلے سے خون نکلا اور کچھ ہوا۔ حضرت عثمان بن عفان کو گھیر لیا جاتا ہے اور نہایت بےدردی سے بلاوجہ ظلم و ستم کے ساتھ انہیں قتل کیا جاتا ہے فاروق اعظم حضرت عمر بن خطاب کو صبح کی نماز پڑھاتے ہوئے نماز کی جگہ ہی قتل کیا جاتا ہے یہ وہ زبردست مصیبت تھی کہ اس سے پہلے مسلمان کبھی ایسی مصیبت نہیں پہنچائے گئے تھے لیکن ان واقعات میں سے کسی واقعہ کے وقت اب میں سے ایک بھی بات نہیں جو شیعوں نے مقتل حسین کی نسبت مشہور کر رکھی ہے۔ ان سب کو بھی جانے دیجئے تمام انسانوں کے دینی اور دنیوی سردار سید البشر رسول اللہ ﷺ کو لیجئے جس روز آپ رحلت فرماتے ہیں ان میں سے کچھ بھی نہیں ہوتا اور سنئے جس روز حضور ﷺ کے صاحبزادے حضرت ابراہیم کا انتقال ہوتا ہے اتفاقاً اسی روز سورج گہن ہوتا ہے اور کوئی کہہ دیتا ہے کہ ابراہیم کے انتقال کی وجہ سورج کو گہن لگا ہے۔ تو حضور ﷺ گہن کی نماز ادا کر کے فوراً خطبے پر کھڑے ہوجاتے ہیں اور فرماتے ہیں سورج چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں کسی کی موت زندگی کی وجہ سے انہیں گہن نہیں لگتا اس کے بعد کی آیت میں اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل پر اپنا احسان جتاتا ہے کہ ہم نے انہیں فرعون جیسے متکبر حدود شکن کے ذلیل عذابوں سے نجات دی اس نے بنی اسرائیل کو پست و خوار کر رکھا تھا ذلیل خدمتیں ان سے لیتا تھا اور اپنے نفس کو تولتا رہتا تھا خودی اور خود بینی میں لگا ہوا تھا بیوقوفی سے کسی چیز کی حد بندی کا خیال نہیں کرتا تھا اللہ کی زمین میں سرکشی کئے ہوئے تھا۔ اور ان بدکاریوں میں اس کی قوم بھی اس کے ساتھ تھی پھر بنی اسرائیل پر ایک اور مہربانی کا ذکر فرما رہا ہے کہ اس زمانے کے تمام لوگوں پر انہیں فضیلت عطا فرمائی ہر زمانے کو عالم کہا جاتا ہے یہ مراد نہیں کہ تمام اگلوں پچھلوں پر انہیں بزرگی دی یہ آیت بھی اس آیت کی طرح ہے جس میں فرمان ہے آیت (قَالَ يٰمُوْسٰٓي اِنِّى اصْطَفَيْتُكَ عَلَي النَّاسِ بِرِسٰلٰتِيْ وَبِكَلَامِيْ ڮ فَخُذْ مَآ اٰتَيْتُكَ وَكُنْ مِّنَ الشّٰكِرِيْنَ01404) 7۔ الاعراف :144) اس سے بھی یہی مطلب ہے کہ اس زمانے کی تمام عورتوں پر آپ کو فضیلت ہے اس لئے کہ ام المومنین حضرت خدیجہ ان سے یقینا افضل ہیں یا کم ازکم برابر۔ اسی طرح حضرت آسیہ بنت مزاحم جو فرعون کی بیوی تھیں اور ام المومنین حضرت عائشہ کی فضیلت تمام عورتوں پر ایسی ہے جیسی فضیلت شوربے میں بھگوئی روٹی کی اور کھانوں پر پھر بنی اسرائیل پر ایک اور احسان بیان ہو رہا ہے کہ ہم نے انہیں وہ حجت وبرہان دلیل و نشان اور معجزات و کرامات عطا فرمائے جن میں ہدایت کی تلاش کرنے والوں کے لئے صاف صاف امتحان تھا۔
29
View Single
فَمَا بَكَتۡ عَلَيۡهِمُ ٱلسَّمَآءُ وَٱلۡأَرۡضُ وَمَا كَانُواْ مُنظَرِينَ
So the heavens and the earth did not weep for them, and they were not given respite.
پھر نہ (تو) اُن پر آسمان اور زمین روئے اور نہ ہی انہیں مہلت دی گئی
Tafsir Ibn Kathir
The Story of Musa and Fir`awn, and how the Children of Israel were saved
Allah tells us, `before these idolators, We tested the people of Fir`awn, the copts of Egypt.'
وَجَآءَهُمْ رَسُولٌ كَرِيمٌ
(when there came to them a noble Messenger.) means, Musa, peace be upon him, the one to whom Allah spoke.
أَنْ أَدُّواْ إِلَىَّ عِبَادَ اللَّهِ
(Deliver to me the servants of Allah.) This is like the Ayah:
فَأَرْسِلْ مَعَنَا بَنِى إِسْرَءِيلَ وَلاَ تُعَذِّبْهُمْ قَدْ جِئْنَـكَ بِـَايَةٍ مِّن رَّبِّكَ وَالسَّلَـمُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى
(So let the Children of Israel go with us, and torment them not; indeed, we have come with a sign from your Lord! And peace will be upon him who follows the guidance!") (20:47)
إِنِّي لَكُمْ رَسُولٌ أَمِينٌ
(Verily, I am to you a Messenger worthy of all trust.) means, `what I convey to you is trustworthy.'
وَأَن لاَّ تَعْلُواْ عَلَى اللَّهِ
(And exalt not yourselves against Allah.) means, `and do not be too arrogant to follow His signs. Accept His proof and believe in His evidence.' This is like the Ayah:
إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِى سَيَدْخُلُونَ جَهَنَّمَ دَخِرِينَ
(Verily, those who scorn My worship they will surely enter Hell in humiliation!) (40:60)
إِنِّى ءَاتِيكُمْ بِسُلْطَانٍ مُّبِينٍ
(Truly, I have come to you with a manifest authority.) means, with clear and obvious proof. This refers to the clear signs and definitive evidence with which Allah sent him.
وَإِنِّى عُذْتُ بِرَبِّى وَرَبِّكُمْ أَن تَرْجُمُونِ
(And truly, I seek refuge with my Lord and your Lord, lest you should stone me.) Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, and Abu Salih said, "This refers to a verbal assault, which means insults." Qatadah said, "Meaning `stoning' in the literal sense, so that the meaning is: `I seek refuge with Allah, Who created me and you, from your making any harmful words or actions reach me."'
وَإِن لَّمْ تُؤْمِنُواْ لِى فَاعْتَزِلُونِ
(But if you believe me not, then keep away from me and leave me alone.) means, `then let us leave one another alone and live in peace until Allah judges between us.' After Musa, may Allah be pleased with him, had stayed among them for a long time, and the proof of Allah had been established against them, and that only increased them in disbelief and stubbornness, he prayed to his Lord against them, a prayer which was answered. Allah says:
وَقَالَ مُوسَى رَبَّنَآ إِنَّكَ ءاتَيْتَ فِرْعَوْنَ وَمَلاّهُ زِينَةً وَأَمْوَالاً فِى الْحَيَوةِ الدُّنْيَا رَبَّنَا لِيُضِلُّواْ عَن سَبِيلِكَ رَبَّنَا اطْمِسْ عَلَى أَمْوَلِهِمْ وَاشْدُدْ عَلَى قُلُوبِهِمْ فَلاَ يُؤْمِنُواْ حَتَّى يَرَوُاْ الْعَذَابَ الاٌّلِيمَ قَالَ قَدْ أُجِيبَتْ دَّعْوَتُكُمَا فَاسْتَقِيمَا
(And Musa said: "Our Lord! You have indeed bestowed on Fir`awn and his chiefs splendor and wealth in the life of this world, our Lord! That they may lead men astray from Your path. Our Lord! Destroy their wealth, and harden their hearts, so that they will not believe until they see the painful torment." Allah said: "Verily, the invocation of you both is accepted. So you both keep to the straight way.") (10:88-89) And Allah says here:
فَدَعَا رَبَّهُ أَنَّ هَـؤُلاَءِ قَوْمٌ مُّجْرِمُونَ
(So he (Musa) called upon his Lord (saying): "These are indeed the people who are criminals.") Whereupon Allah commanded him to bring the Children of Israel out from among them, without the command, consent or permission of Fir`awn. Allah said:
فَأَسْرِ بِعِبَادِى لَيْلاً إِنَّكُم مُّتَّبَعُونَ
(Depart you with My servants by night. Surely, you will be pursued.) This is like the Ayah:
وَلَقَدْ أَوْحَيْنَآ إِلَى مُوسَى أَنْ أَسْرِ بِعِبَادِى فَاضْرِبْ لَهُمْ طَرِيقاً فِى الْبَحْرِ يَبَساً لاَّ تَخَافُ دَرَكاً وَلاَ تَخْشَى
And indeed We revealed to Mu0sa0 (saying): Travel by night with My servants and strike a dry path for them in the sea, fearing neither to be overtaken nor being afraid (of drowning in the sea). )20:77(
وَاتْرُكِ الْبَحْرَ رَهْواً إِنَّهُمْ جُندٌ مُّغْرَقُونَ
(And leave the sea as it is (quiet and divided). Verily, they are a host to be drowned.) When Musa and the Children of Israel has crossed the sea, Musa wanted to strike it with his staff so that it would go back as it had been, and it would form a barrier between then and Fir`awn and prevent him from reaching them. But Allah commanded him to leave it as it was, quiet and divided, and gave him the glad tidings that they were a host to be drowned, and that he should not fear either being overtaken by Fir`awn or drowning in the sea. Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, said:
وَاتْرُكِ الْبَحْرَ رَهْواً
(And leave the sea as it is (quiet and divided).) means, leave it as it is and keep moving. Mujahid said:
رَهْواً
(as it is) means, a dry path, as it is. `Do not command it to go back; leave it until the last of them have entered it.' This was also the view of `Ikrimah, Ar-Rabi` bin Anas, Ad-Dahhak, Qatadah, Ibn Zayd, Ka`b Al-Ahbar, Simak bin Harb and others.
كَمْ تَرَكُواْ مِن جَنَّـتٍ وَعُيُونٍ وَزُرُوعٍ
(How many of gardens and springs that they left behind. And green crops) this refers to rivers and wells.
وَمَقَامٍ كَرِيمٍ
and goodly places, means, fine dwellings and beautiful places. Muja0hid and Sa 0d bin Jubayr said:
وَمَقَامٍ كَرِيمٍ
(and goodly places,) means elevated places.
وَنَعْمَةٍ كَانُواْ فِيهَا فَـكِهِينَ
(And comforts of life wherein they used to take delight!) means, a life which they were enjoying, where they could eat whatever they wanted and wear what they liked, with wealth and glory and power in the land. Then all of that was taken away in a single morning, they departed from this world and went to Hell, what a terrible abode!
كَذَلِكَ وَأَوْرَثْنَـهَا قَوْماً ءَاخَرِينَ
(Thus (it was)! And We made other people inherit them.) namely the Children of Israel.
فَمَا بَكَتْ عَلَيْهِمُ السَّمَآءُ وَالاٌّرْضُ
(And the heavens and the earth wept not for them, ) means, they had no righteous deeds which used to ascend through the gates of the heavens, which would weep for them when they died, and they had no places on earth where they used to worship Allah which would notice their loss. So they did not deserve to be given a respite, because of their disbelief, sin, transgression and stubbornness. Ibn Jarir recorded that Sa`id bin Jubayr said, "A man came to Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, and said to him: `O Abu Al-`Abbas, Allah says,
فَمَا بَكَتْ عَلَيْهِمُ السَّمَآءُ وَالاٌّرْضُ وَمَا كَانُواْ مُنظَرِينَ
(And the heavens and the earth wept not for them, nor were they given respite) -- do the heavens and the earth weep for anybody' He, may Allah be pleased with him, said, `Yes, there is no one who does not have a gate in the heavens through which his provision comes down and his good deeds ascend. When the believer dies, that gate is closed; it misses him and weeps for him, and the place of prayer on earth where he used to pray and remember Allah also weeps for him. But the people of Fir`awn left no trace of righteousness on the earth and they had no good deeds that ascended to Allah, so the heavens and the earth did not weep for them."' Al-`Awfi reported something similar from Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him.
وَلَقَدْ نَجَّيْنَا بَنِى إِسْرَءِيلَ مِنَ الْعَذَابِ الْمُهِينِ - مِن فِرْعَوْنَ إِنَّهُ كَانَ عَالِياً مِّنَ الْمُسْرِفِينَ
(And indeed We saved the Children of Israel from the humiliating torment from Fir`awn; verily, he was arrogant and was of the excessive. ) Here Allah reminds them of how He saved them from their humiliation and subjugation at the hands of Fir`awn, when they were forced to do menial tasks.
مِن فِرْعَوْنَ إِنَّهُ كَانَ عَالِياً
(From Fir`awn; verily, he was arrogant) means, he was proud and stubborn. This is like the Ayah:
إِنَّ فِرْعَوْنَ عَلاَ فِى الاٌّرْضِ
(Verily, Fir`awn exalted himself in the land) (28:4).
فَاسْتَكْبَرُواْ وَكَانُواْ قَوْماً عَـلِينَ
(but they behaved insolently and they were people self-exalting) (23:46). He was one of the excessive and held a foolish opinion of himself.
وَلَقَدِ اخْتَرْنَـهُمْ عَلَى عِلْمٍ عَلَى الْعَـلَمِينَ
(And We chose them above the nations (Al-`Alamin) with knowledge,) Mujahid said, "This means that they were chosen above those among whom they lived." Qatadah said, "They were chosen above the other people of their own time, and it was said that in every period there are people who are chosen above others." This is like the Ayah:
قَالَ يَمُوسَى إِنْى اصْطَفَيْتُكَ عَلَى النَّاسِ
((Allah) said: "O Musa I have chosen you above men.") (7:144), which means, above the people of his time. This is also like the Ayah:
وَاصْطَفَـكِ عَلَى نِسَآءِ الْعَـلَمِينَ
(and (Allah has) chosen you (Maryam) above the women of the nations (Al-`Alamin).) (3:42), i.e., Maryam was chosen above the women of her time. For Khadijah, may Allah be pleased with her, is higher than her in status or is equal to her, as was Asiyah bint Muzahim, the wife of Fir`awn. And the superiority of `A'ishah, may Allah be pleased with her, over all other women is like the superiority of Tharid over all other dishes.
وَءَاتَيْنَـهُم مِّنَ الاٌّيَـتِ
(And granted them signs) means clear proofs and extraordinary evidence.
مَا فِيهِ بَلَؤٌاْ مُّبِينٌ
(in which there was a plain trial.) means, an obvious test to show who would be guided by it.
قبطیوں کا انجام ارشاد ہوتا ہے کہ ان مشرکین سے پہلے مصر کے قبطیوں کو ہم نے جانچا ان کی طرف اپنے بزرگ رسول حضرت موسیٰ کو بھیجا انہوں نے میرا پیغام پہنچایا کہ بنی اسرائیل کو میرے ساتھ کردو انہیں دکھ نہ دو میں اپنی نبوت پر گواہی دینے والے معجزے اپنے ساتھ لایا ہوں اور ہدایت کے ماننے والے سلامتی سے رہیں گے مجھے اللہ تعالیٰ نے اپنی وحی کا امانت دار بنا کر تمہاری طرف بھیجا ہے میں تمہیں اس کا پیغام پہنچا رہا ہوں تمہیں رب کی باتوں کے ماننے سے سرکشی نہ کرنی چاہئے اس کے بیان کردہ دلائل و احکام کے سامنے سر تسلیم خم کرنا چاہئے۔ اس کی عبادتوں سے جی چرانے والے ذلیل و خوار ہو کر جہنم واصل ہوتے ہیں میں تو تمہارے سامنے کھلی دلیل اور واضح آیت رکھتا ہوں میں تمہاری بدگوئی اور اہتمام سے اللہ کی پناہ لیتا ہوں۔ ابن عباس اور ابو صالہ تو یہی کہتے ہیں اور قتادہ کہتے ہیں مراد پتھراؤ کرنا پتھروں سے مار ڈالنا ہے یعنی زبانی ایذاء سے اور دستی ایذاء سے میں اپنے رب کی جو تمہارا بھی مالک ہے پناہ چاہتا ہوں اچھا اگر تم میری نہیں مانتے مجھ پر بھروسہ نہیں کرتے اللہ پر ایمان نہیں لاتے تو کم از کم میری تکلیف دہی اور ایذاء رسانی سے تو باز رہو۔ اور اس کے منتظر رہو جب کہ خود اللہ ہم میں تم میں فیصلہ کر دے گا پھر جب اللہ کے نبی کلیم اللہ حضرت موسیٰ نے ایک لمبی مدت ان میں گذاری خوب دل کھول کھول کر تبلیغ کرلی ہر طرح کی خیر خواہی کی ان کی ہدایت کے لئے ہرچند جتن کر لئے اور دیکھا کہ وہ روز بروز اپنے کفر میں بڑھتے جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ سے انکے لئے بددعا کی جیسے اور آیت میں ہے کہ حضرت موسیٰ نے کہا اے ہمارے رب تو نے فرعون اور اس کے امراء کو دنیوی نمائش اور مال و متاع دے رکھی ہے اے اللہ یہ اس سے دوسروں کو بھی تیری راہ سے بھٹکا رہے ہیں تو ان کا مال غارت کر اور ان کے دل اور سخت کر دے تاکہ دردناک عذابوں کے معائنہ تک انہیں ایمان نصیب ہی نہ ہو اللہ کی طرف سے جواب ملا کہ اے موسیٰ اور اے ہارون میں نے تمہاری دعا قبول کرلی اب تم استقامت پر تل جاؤ یہاں فرماتا ہے کہ ہم نے موسیٰ سے کہا کہ میرے بندوں یعنی بنی اسرائیل کو راتوں رات فرعون اور فرعونیوں کی بیخبر ی میں یہاں سے لے کر چلے جاؤ۔ یہ کفار تمہارا پیچھا کریں گے لیکن تم بےخوف و خطر چلے جاؤ میں تمہارے لئے دریا کو خشک کر دوں گا اس کے بعد حضرت موسیٰ ؑ بنی اسرائیل کو لے کر چل پڑے فرعونی لشکر مع فرعون کے ان کے پکڑنے کو چلا بیچ میں دریا حائل ہوا آپ بنی اسرائیل کو لے کر اس میں اتر گئے دریا کا پانی سوکھ گیا اور آپ اپنے ساتھیوں سمیت پار ہوگئے تو چاہا کہ دریا پر لکڑی مار کر اسے کہہ دیں کہ اب تو اپنی روانی پر آجا تاکہ فرعون اس سے گزر نہ سکے وہیں اللہ نے وحی بھیجی کہ اسے اسی حال میں سکون کے ساتھ ہی رہنے دو ساتھ ہی اس کی وجہ بھی بتادی کہ یہ سب اسی میں ڈوب مریں گے۔ پھر تو تم سب بالکل ہی مطمئن اور بےخوف ہوجاؤ گے غرض حکم ہوا تھا کہ دریا کو خشک چھوڑ کر چل دیں (رھواً) کے معنی سوکھا راستہ جو اصلی حالت پر ہو۔ مقصد یہ ہے کہ پار ہو کہ دریا کو روانی کا حکم نہ دینا یہاں تک کہ دشمنوں میں سے ایک ایک اس میں آ نہ جائے اب اسے جاری ہونے کا حکم ملتے ہی سب کو غرق کر دے گا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے دیکھو کیسے غارت ہوئے۔ باغات کھتیاں نہریں مکانات اور بیٹھکیں سب چھوڑ کر فنا ہوگئے حضرت عبداللہ بن عمرو فرماتے ہیں مصر کا دریائے نیل مشرق مغرب کے دریاؤں کا سردار ہے اور سب نہریں اس کے ماتحت ہیں جب اس کی روانی اللہ کو منظور ہوتی ہیں تو تمام نہروں کو اس میں پانی پہنچانے کا حکم ہوتا ہے جہاں تک رب کو منظور ہو اس میں پانی آجاتا ہے پھر اللہ تبارک و تعالیٰ اور نہروں کو روک دیتا ہے اور حکم دیتا ہے کہ اب اپنی اپنی جگہ چلی جاؤ اور فرعونیوں کے یہ باغات دریائے نیل کے دونوں کناروں پر مسلسل چلے گئے تھے رسواں سے لے کر رشید تک اس کا سلسلہ تھا اور اس کی نو خلیجیں تھیں۔ خلیج اسکندریہ، دمیاط، خلیج سردوس، خلیج منصف، خلیج منتہی اور ان سب میں اتصال تھا ایک دوسرے سے متصل تھیں اور پہاڑوں کے دامن میں ان کی کھیتیاں تھیں جو مصر سے لے کر دریا تک برابر چلی آتی تھیں ان تمام کو بھی دریا سیراب کرتا تھا بڑے امن چین کی زندگی گذار رہے تھے لیکن مغرور ہوگئے اور آخر ساری نعمتیں یونہی چھوڑ کر تباہ کر دئیے گئے۔ مال اولاد جاہ و مال سلطنت و عزت ایک ہی رات میں چھوڑ گئے اور بھس کی طرح اڑا دئیے گئے اور گذشتہ کل کی طرح بےنشان کر دئیے گئے ایسے ڈبوئے گئے کہ ابھر نہ سکے جہنم واصل ہوگئے اور بدترین جگہ پہنچ گئے ان کی یہ تمام چیزیں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو دے دیں۔ جیسے اور آیت میں فرمایا ہے کہ ہم نے ان کمزوروں کو ان کے صبر کے بدلے اس سرکش قوم کی کل نعمتیں عطا فرمادیں اور بےایمانوں کا بھرکس نکال ڈالا یہاں بھی دوسری قوم جسے وارث بنایا اس سے مراد بھی بنی اسرائیل ہیں پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ان پر زمین و آسمان نہ روئے کیونکہ ان پاپیوں کے نیک اعمال تھے ہی نہیں جو آسمانوں پر چڑھتے ہوں اور اب ان کے نہ چڑھنے کی وجہ سے وہ افسوس کریں نہ زمین میں ان کی جگہیں ایسی تھیں کہ جہاں بیٹھ کر یہ اللہ کی عبادت کرتے ہوں اور آج انہیں نہ پا کر زمین کی وہ جگہ ان کا ماتم کرے انہیں مہلت نہ دی گئی۔ مسند ابو یعلی موصلی میں ہے ہر بندے کے لئے آسمان میں دو دروازے ہیں ایک سے اس کی روزی اترتی ہے دوسرے سے اس کے اعمال اور اس کے کلام چڑھتے ہیں۔ جب یہ مرجاتا ہے اور وہ عمل و رزق کو گم شدہ پاتے ہیں تو روتے ہیں پھر اسی آیت کی حضور ﷺ نے تلاوت کی ابن ابی حاتم میں فرمان رسول ﷺ ہے کہ اسلام غربت سے شروع ہوا اور پھر غربت پر آجائے گا یاد رکھو مومن کہیں انجام مسافر کی طرح نہیں مومن جہاں کہیں سفر میں ہوتا ہے جہاں اس کا کوئی رونے والا نہ ہو وہاں بھی اس کے رونے والے آسمان و زمین موجود ہیں پھر حضور ﷺ نے اس آیت کی تلاوت کر کے فرمایا یہ دونوں کفار پر روتے نہیں حضرت علی سے کسی نے پوچھا کہ آسمان و زمین کبھی کسی پر روئے بھی ہیں ؟ آپ نے فرمایا آج تو نے وہ بات دریافت کی ہے کہ تجھ سے پہلے مجھ سے اس کا سوال کسی نے نہیں کیا۔ سنو ہر بندے کے لئے زمین میں ایک نماز کی جگہ ہوتی ہے اور ایک جگہ آسمان میں اس کے عمل کے چڑھنے کی ہوتی ہے اور آل فرعون کے نیک اعمال ہی نہ تھے اس وجہ سے نہ زمین ان پر روئی نہ آسمان کو ان پر رونا آیا اور نہ انہیں ڈھیل دی گئی کہ کوئی نیکی بجا لاسکیں، حضرت ابن عباس سے یہ سوال ہوا تو آپ نے بھی قریب قریب یہی جواب دیا بلکہ آپ سے مروی ہے کہ چالیس دن تک زمین مومن پر روتی رہتی ہے حضرت مجاہد نے جب یہ بیان فرمایا تو کسی نے اس پر تعجب کا اظہار کیا آپ نے فرمایا سبحان اللہ اس میں تعجب کی کونسی بات ہے جو بندہ زمین کو اپنے رکوع و سجود سے آباد رکھتا تھا جس بندے کی تکبیر و تسبیح کی آوازیں آسمان برابر سنتا رہا تھا بھلا یہ دونوں اس عابد اللہ پر روئیں گے نہیں ؟ حضرت قتادہ فرماتے ہیں فرعونیوں جیسے ذلیل و خوار لوگوں پر یہ کیوں روتے ؟ حضرت ابراہیم فرماتے ہیں دنیا جب سے رچائی گئی ہے تب سے آسمان صرف دو شخصوں پر رویا ہے ان کے شاگرد سے سوال ہوا کہ کیا آسمان و زمین ہر ایمان دار پر روتے نہیں ؟ فرمایا صرف اتنا حصہ جس حصے سے اس کا نیک عمل چڑھتا تھا سنو آسمان کا رونا اس کا سرخ ہونا اور مثل نری کے گلابی ہوجانا ہے سو یہ حال صرف دو شخصوں کی شہادت پر ہوا ہے۔ حضرت یحییٰ کے قتل کے موقعے پر تو آسمان سرخ ہوگیا اور خون برسانے لگا اور دوسرے حضرت حسین کے قتل پر بھی آسمان کا رنگ سرخ ہوگیا تھا (ابن ابی حاتم) یزید ابن ابو زیاد کا قول ہے کہ قتل حسین کی وجہ سے چار ماہ تک آسمان کے کنارے سرخ رہے اور یہی سرخی اس کا رونا ہے حضرت عطا فرماتے ہیں اس کے کناروں کا سرخ ہوجانا اس کا رونا ہے یہ بھی ذکر کیا گیا ہے کہ قتل حسین کے دن جس پتھر کو الٹا جاتا تھا اس کے نیچے سے منجمند خون نکلتا تھا۔ اس دن سورج کو بھی گہن لگا ہوا تھا آسمان کے کنارے بھی سرخ تھے اور پتھر گرے تھے۔ لیکن یہ سب باتیں بےبنیاد ہیں اور شیعوں کے گھڑے ہوئے افسانے ہیں اس میں کوئی شک نہیں کہ نواسہ رسول ﷺ کی شہادت کا واقعہ نہایت درد انگیز اور حسرت و افسوس والا ہے لیکن اس پر شیعوں نے جو حاشیہ چڑھایا ہے اور گھڑ گھڑا کر جو باتیں پھیلا دی ہیں وہ محض جھوٹ اور بالکل گپ ہیں۔ خیال تو فرمائیے کہ اس سے بہت زیادہ اہم واقعات ہوئے اور قتل حسین سے بہت بڑی وارداتیں ہوئیں لیکن ان کے ہونے پر بھی آسمان و زمین وغیرہ میں یہ انقلاب نہ ہوا۔ آپ ہی کے والد ماجد حضرت علی بھی قتل کئے گئے جو بالاجماع آپ سے افضل تھے لیکن نہ تو پتھروں تلے سے خون نکلا اور کچھ ہوا۔ حضرت عثمان بن عفان کو گھیر لیا جاتا ہے اور نہایت بےدردی سے بلاوجہ ظلم و ستم کے ساتھ انہیں قتل کیا جاتا ہے فاروق اعظم حضرت عمر بن خطاب کو صبح کی نماز پڑھاتے ہوئے نماز کی جگہ ہی قتل کیا جاتا ہے یہ وہ زبردست مصیبت تھی کہ اس سے پہلے مسلمان کبھی ایسی مصیبت نہیں پہنچائے گئے تھے لیکن ان واقعات میں سے کسی واقعہ کے وقت اب میں سے ایک بھی بات نہیں جو شیعوں نے مقتل حسین کی نسبت مشہور کر رکھی ہے۔ ان سب کو بھی جانے دیجئے تمام انسانوں کے دینی اور دنیوی سردار سید البشر رسول اللہ ﷺ کو لیجئے جس روز آپ رحلت فرماتے ہیں ان میں سے کچھ بھی نہیں ہوتا اور سنئے جس روز حضور ﷺ کے صاحبزادے حضرت ابراہیم کا انتقال ہوتا ہے اتفاقاً اسی روز سورج گہن ہوتا ہے اور کوئی کہہ دیتا ہے کہ ابراہیم کے انتقال کی وجہ سورج کو گہن لگا ہے۔ تو حضور ﷺ گہن کی نماز ادا کر کے فوراً خطبے پر کھڑے ہوجاتے ہیں اور فرماتے ہیں سورج چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں کسی کی موت زندگی کی وجہ سے انہیں گہن نہیں لگتا اس کے بعد کی آیت میں اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل پر اپنا احسان جتاتا ہے کہ ہم نے انہیں فرعون جیسے متکبر حدود شکن کے ذلیل عذابوں سے نجات دی اس نے بنی اسرائیل کو پست و خوار کر رکھا تھا ذلیل خدمتیں ان سے لیتا تھا اور اپنے نفس کو تولتا رہتا تھا خودی اور خود بینی میں لگا ہوا تھا بیوقوفی سے کسی چیز کی حد بندی کا خیال نہیں کرتا تھا اللہ کی زمین میں سرکشی کئے ہوئے تھا۔ اور ان بدکاریوں میں اس کی قوم بھی اس کے ساتھ تھی پھر بنی اسرائیل پر ایک اور مہربانی کا ذکر فرما رہا ہے کہ اس زمانے کے تمام لوگوں پر انہیں فضیلت عطا فرمائی ہر زمانے کو عالم کہا جاتا ہے یہ مراد نہیں کہ تمام اگلوں پچھلوں پر انہیں بزرگی دی یہ آیت بھی اس آیت کی طرح ہے جس میں فرمان ہے آیت (قَالَ يٰمُوْسٰٓي اِنِّى اصْطَفَيْتُكَ عَلَي النَّاسِ بِرِسٰلٰتِيْ وَبِكَلَامِيْ ڮ فَخُذْ مَآ اٰتَيْتُكَ وَكُنْ مِّنَ الشّٰكِرِيْنَ01404) 7۔ الاعراف :144) اس سے بھی یہی مطلب ہے کہ اس زمانے کی تمام عورتوں پر آپ کو فضیلت ہے اس لئے کہ ام المومنین حضرت خدیجہ ان سے یقینا افضل ہیں یا کم ازکم برابر۔ اسی طرح حضرت آسیہ بنت مزاحم جو فرعون کی بیوی تھیں اور ام المومنین حضرت عائشہ کی فضیلت تمام عورتوں پر ایسی ہے جیسی فضیلت شوربے میں بھگوئی روٹی کی اور کھانوں پر پھر بنی اسرائیل پر ایک اور احسان بیان ہو رہا ہے کہ ہم نے انہیں وہ حجت وبرہان دلیل و نشان اور معجزات و کرامات عطا فرمائے جن میں ہدایت کی تلاش کرنے والوں کے لئے صاف صاف امتحان تھا۔
30
View Single
وَلَقَدۡ نَجَّيۡنَا بَنِيٓ إِسۡرَـٰٓءِيلَ مِنَ ٱلۡعَذَابِ ٱلۡمُهِينِ
And indeed We rescued the Descendants of Israel from a disgraceful torture.
اور واقعتہً ہم نے بنی اسرائیل کو ذِلّت انگیز عذاب سے نجات بخشی
Tafsir Ibn Kathir
The Story of Musa and Fir`awn, and how the Children of Israel were saved
Allah tells us, `before these idolators, We tested the people of Fir`awn, the copts of Egypt.'
وَجَآءَهُمْ رَسُولٌ كَرِيمٌ
(when there came to them a noble Messenger.) means, Musa, peace be upon him, the one to whom Allah spoke.
أَنْ أَدُّواْ إِلَىَّ عِبَادَ اللَّهِ
(Deliver to me the servants of Allah.) This is like the Ayah:
فَأَرْسِلْ مَعَنَا بَنِى إِسْرَءِيلَ وَلاَ تُعَذِّبْهُمْ قَدْ جِئْنَـكَ بِـَايَةٍ مِّن رَّبِّكَ وَالسَّلَـمُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى
(So let the Children of Israel go with us, and torment them not; indeed, we have come with a sign from your Lord! And peace will be upon him who follows the guidance!") (20:47)
إِنِّي لَكُمْ رَسُولٌ أَمِينٌ
(Verily, I am to you a Messenger worthy of all trust.) means, `what I convey to you is trustworthy.'
وَأَن لاَّ تَعْلُواْ عَلَى اللَّهِ
(And exalt not yourselves against Allah.) means, `and do not be too arrogant to follow His signs. Accept His proof and believe in His evidence.' This is like the Ayah:
إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِى سَيَدْخُلُونَ جَهَنَّمَ دَخِرِينَ
(Verily, those who scorn My worship they will surely enter Hell in humiliation!) (40:60)
إِنِّى ءَاتِيكُمْ بِسُلْطَانٍ مُّبِينٍ
(Truly, I have come to you with a manifest authority.) means, with clear and obvious proof. This refers to the clear signs and definitive evidence with which Allah sent him.
وَإِنِّى عُذْتُ بِرَبِّى وَرَبِّكُمْ أَن تَرْجُمُونِ
(And truly, I seek refuge with my Lord and your Lord, lest you should stone me.) Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, and Abu Salih said, "This refers to a verbal assault, which means insults." Qatadah said, "Meaning `stoning' in the literal sense, so that the meaning is: `I seek refuge with Allah, Who created me and you, from your making any harmful words or actions reach me."'
وَإِن لَّمْ تُؤْمِنُواْ لِى فَاعْتَزِلُونِ
(But if you believe me not, then keep away from me and leave me alone.) means, `then let us leave one another alone and live in peace until Allah judges between us.' After Musa, may Allah be pleased with him, had stayed among them for a long time, and the proof of Allah had been established against them, and that only increased them in disbelief and stubbornness, he prayed to his Lord against them, a prayer which was answered. Allah says:
وَقَالَ مُوسَى رَبَّنَآ إِنَّكَ ءاتَيْتَ فِرْعَوْنَ وَمَلاّهُ زِينَةً وَأَمْوَالاً فِى الْحَيَوةِ الدُّنْيَا رَبَّنَا لِيُضِلُّواْ عَن سَبِيلِكَ رَبَّنَا اطْمِسْ عَلَى أَمْوَلِهِمْ وَاشْدُدْ عَلَى قُلُوبِهِمْ فَلاَ يُؤْمِنُواْ حَتَّى يَرَوُاْ الْعَذَابَ الاٌّلِيمَ قَالَ قَدْ أُجِيبَتْ دَّعْوَتُكُمَا فَاسْتَقِيمَا
(And Musa said: "Our Lord! You have indeed bestowed on Fir`awn and his chiefs splendor and wealth in the life of this world, our Lord! That they may lead men astray from Your path. Our Lord! Destroy their wealth, and harden their hearts, so that they will not believe until they see the painful torment." Allah said: "Verily, the invocation of you both is accepted. So you both keep to the straight way.") (10:88-89) And Allah says here:
فَدَعَا رَبَّهُ أَنَّ هَـؤُلاَءِ قَوْمٌ مُّجْرِمُونَ
(So he (Musa) called upon his Lord (saying): "These are indeed the people who are criminals.") Whereupon Allah commanded him to bring the Children of Israel out from among them, without the command, consent or permission of Fir`awn. Allah said:
فَأَسْرِ بِعِبَادِى لَيْلاً إِنَّكُم مُّتَّبَعُونَ
(Depart you with My servants by night. Surely, you will be pursued.) This is like the Ayah:
وَلَقَدْ أَوْحَيْنَآ إِلَى مُوسَى أَنْ أَسْرِ بِعِبَادِى فَاضْرِبْ لَهُمْ طَرِيقاً فِى الْبَحْرِ يَبَساً لاَّ تَخَافُ دَرَكاً وَلاَ تَخْشَى
And indeed We revealed to Mu0sa0 (saying): Travel by night with My servants and strike a dry path for them in the sea, fearing neither to be overtaken nor being afraid (of drowning in the sea). )20:77(
وَاتْرُكِ الْبَحْرَ رَهْواً إِنَّهُمْ جُندٌ مُّغْرَقُونَ
(And leave the sea as it is (quiet and divided). Verily, they are a host to be drowned.) When Musa and the Children of Israel has crossed the sea, Musa wanted to strike it with his staff so that it would go back as it had been, and it would form a barrier between then and Fir`awn and prevent him from reaching them. But Allah commanded him to leave it as it was, quiet and divided, and gave him the glad tidings that they were a host to be drowned, and that he should not fear either being overtaken by Fir`awn or drowning in the sea. Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, said:
وَاتْرُكِ الْبَحْرَ رَهْواً
(And leave the sea as it is (quiet and divided).) means, leave it as it is and keep moving. Mujahid said:
رَهْواً
(as it is) means, a dry path, as it is. `Do not command it to go back; leave it until the last of them have entered it.' This was also the view of `Ikrimah, Ar-Rabi` bin Anas, Ad-Dahhak, Qatadah, Ibn Zayd, Ka`b Al-Ahbar, Simak bin Harb and others.
كَمْ تَرَكُواْ مِن جَنَّـتٍ وَعُيُونٍ وَزُرُوعٍ
(How many of gardens and springs that they left behind. And green crops) this refers to rivers and wells.
وَمَقَامٍ كَرِيمٍ
and goodly places, means, fine dwellings and beautiful places. Muja0hid and Sa 0d bin Jubayr said:
وَمَقَامٍ كَرِيمٍ
(and goodly places,) means elevated places.
وَنَعْمَةٍ كَانُواْ فِيهَا فَـكِهِينَ
(And comforts of life wherein they used to take delight!) means, a life which they were enjoying, where they could eat whatever they wanted and wear what they liked, with wealth and glory and power in the land. Then all of that was taken away in a single morning, they departed from this world and went to Hell, what a terrible abode!
كَذَلِكَ وَأَوْرَثْنَـهَا قَوْماً ءَاخَرِينَ
(Thus (it was)! And We made other people inherit them.) namely the Children of Israel.
فَمَا بَكَتْ عَلَيْهِمُ السَّمَآءُ وَالاٌّرْضُ
(And the heavens and the earth wept not for them, ) means, they had no righteous deeds which used to ascend through the gates of the heavens, which would weep for them when they died, and they had no places on earth where they used to worship Allah which would notice their loss. So they did not deserve to be given a respite, because of their disbelief, sin, transgression and stubbornness. Ibn Jarir recorded that Sa`id bin Jubayr said, "A man came to Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, and said to him: `O Abu Al-`Abbas, Allah says,
فَمَا بَكَتْ عَلَيْهِمُ السَّمَآءُ وَالاٌّرْضُ وَمَا كَانُواْ مُنظَرِينَ
(And the heavens and the earth wept not for them, nor were they given respite) -- do the heavens and the earth weep for anybody' He, may Allah be pleased with him, said, `Yes, there is no one who does not have a gate in the heavens through which his provision comes down and his good deeds ascend. When the believer dies, that gate is closed; it misses him and weeps for him, and the place of prayer on earth where he used to pray and remember Allah also weeps for him. But the people of Fir`awn left no trace of righteousness on the earth and they had no good deeds that ascended to Allah, so the heavens and the earth did not weep for them."' Al-`Awfi reported something similar from Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him.
وَلَقَدْ نَجَّيْنَا بَنِى إِسْرَءِيلَ مِنَ الْعَذَابِ الْمُهِينِ - مِن فِرْعَوْنَ إِنَّهُ كَانَ عَالِياً مِّنَ الْمُسْرِفِينَ
(And indeed We saved the Children of Israel from the humiliating torment from Fir`awn; verily, he was arrogant and was of the excessive. ) Here Allah reminds them of how He saved them from their humiliation and subjugation at the hands of Fir`awn, when they were forced to do menial tasks.
مِن فِرْعَوْنَ إِنَّهُ كَانَ عَالِياً
(From Fir`awn; verily, he was arrogant) means, he was proud and stubborn. This is like the Ayah:
إِنَّ فِرْعَوْنَ عَلاَ فِى الاٌّرْضِ
(Verily, Fir`awn exalted himself in the land) (28:4).
فَاسْتَكْبَرُواْ وَكَانُواْ قَوْماً عَـلِينَ
(but they behaved insolently and they were people self-exalting) (23:46). He was one of the excessive and held a foolish opinion of himself.
وَلَقَدِ اخْتَرْنَـهُمْ عَلَى عِلْمٍ عَلَى الْعَـلَمِينَ
(And We chose them above the nations (Al-`Alamin) with knowledge,) Mujahid said, "This means that they were chosen above those among whom they lived." Qatadah said, "They were chosen above the other people of their own time, and it was said that in every period there are people who are chosen above others." This is like the Ayah:
قَالَ يَمُوسَى إِنْى اصْطَفَيْتُكَ عَلَى النَّاسِ
((Allah) said: "O Musa I have chosen you above men.") (7:144), which means, above the people of his time. This is also like the Ayah:
وَاصْطَفَـكِ عَلَى نِسَآءِ الْعَـلَمِينَ
(and (Allah has) chosen you (Maryam) above the women of the nations (Al-`Alamin).) (3:42), i.e., Maryam was chosen above the women of her time. For Khadijah, may Allah be pleased with her, is higher than her in status or is equal to her, as was Asiyah bint Muzahim, the wife of Fir`awn. And the superiority of `A'ishah, may Allah be pleased with her, over all other women is like the superiority of Tharid over all other dishes.
وَءَاتَيْنَـهُم مِّنَ الاٌّيَـتِ
(And granted them signs) means clear proofs and extraordinary evidence.
مَا فِيهِ بَلَؤٌاْ مُّبِينٌ
(in which there was a plain trial.) means, an obvious test to show who would be guided by it.
قبطیوں کا انجام ارشاد ہوتا ہے کہ ان مشرکین سے پہلے مصر کے قبطیوں کو ہم نے جانچا ان کی طرف اپنے بزرگ رسول حضرت موسیٰ کو بھیجا انہوں نے میرا پیغام پہنچایا کہ بنی اسرائیل کو میرے ساتھ کردو انہیں دکھ نہ دو میں اپنی نبوت پر گواہی دینے والے معجزے اپنے ساتھ لایا ہوں اور ہدایت کے ماننے والے سلامتی سے رہیں گے مجھے اللہ تعالیٰ نے اپنی وحی کا امانت دار بنا کر تمہاری طرف بھیجا ہے میں تمہیں اس کا پیغام پہنچا رہا ہوں تمہیں رب کی باتوں کے ماننے سے سرکشی نہ کرنی چاہئے اس کے بیان کردہ دلائل و احکام کے سامنے سر تسلیم خم کرنا چاہئے۔ اس کی عبادتوں سے جی چرانے والے ذلیل و خوار ہو کر جہنم واصل ہوتے ہیں میں تو تمہارے سامنے کھلی دلیل اور واضح آیت رکھتا ہوں میں تمہاری بدگوئی اور اہتمام سے اللہ کی پناہ لیتا ہوں۔ ابن عباس اور ابو صالہ تو یہی کہتے ہیں اور قتادہ کہتے ہیں مراد پتھراؤ کرنا پتھروں سے مار ڈالنا ہے یعنی زبانی ایذاء سے اور دستی ایذاء سے میں اپنے رب کی جو تمہارا بھی مالک ہے پناہ چاہتا ہوں اچھا اگر تم میری نہیں مانتے مجھ پر بھروسہ نہیں کرتے اللہ پر ایمان نہیں لاتے تو کم از کم میری تکلیف دہی اور ایذاء رسانی سے تو باز رہو۔ اور اس کے منتظر رہو جب کہ خود اللہ ہم میں تم میں فیصلہ کر دے گا پھر جب اللہ کے نبی کلیم اللہ حضرت موسیٰ نے ایک لمبی مدت ان میں گذاری خوب دل کھول کھول کر تبلیغ کرلی ہر طرح کی خیر خواہی کی ان کی ہدایت کے لئے ہرچند جتن کر لئے اور دیکھا کہ وہ روز بروز اپنے کفر میں بڑھتے جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ سے انکے لئے بددعا کی جیسے اور آیت میں ہے کہ حضرت موسیٰ نے کہا اے ہمارے رب تو نے فرعون اور اس کے امراء کو دنیوی نمائش اور مال و متاع دے رکھی ہے اے اللہ یہ اس سے دوسروں کو بھی تیری راہ سے بھٹکا رہے ہیں تو ان کا مال غارت کر اور ان کے دل اور سخت کر دے تاکہ دردناک عذابوں کے معائنہ تک انہیں ایمان نصیب ہی نہ ہو اللہ کی طرف سے جواب ملا کہ اے موسیٰ اور اے ہارون میں نے تمہاری دعا قبول کرلی اب تم استقامت پر تل جاؤ یہاں فرماتا ہے کہ ہم نے موسیٰ سے کہا کہ میرے بندوں یعنی بنی اسرائیل کو راتوں رات فرعون اور فرعونیوں کی بیخبر ی میں یہاں سے لے کر چلے جاؤ۔ یہ کفار تمہارا پیچھا کریں گے لیکن تم بےخوف و خطر چلے جاؤ میں تمہارے لئے دریا کو خشک کر دوں گا اس کے بعد حضرت موسیٰ ؑ بنی اسرائیل کو لے کر چل پڑے فرعونی لشکر مع فرعون کے ان کے پکڑنے کو چلا بیچ میں دریا حائل ہوا آپ بنی اسرائیل کو لے کر اس میں اتر گئے دریا کا پانی سوکھ گیا اور آپ اپنے ساتھیوں سمیت پار ہوگئے تو چاہا کہ دریا پر لکڑی مار کر اسے کہہ دیں کہ اب تو اپنی روانی پر آجا تاکہ فرعون اس سے گزر نہ سکے وہیں اللہ نے وحی بھیجی کہ اسے اسی حال میں سکون کے ساتھ ہی رہنے دو ساتھ ہی اس کی وجہ بھی بتادی کہ یہ سب اسی میں ڈوب مریں گے۔ پھر تو تم سب بالکل ہی مطمئن اور بےخوف ہوجاؤ گے غرض حکم ہوا تھا کہ دریا کو خشک چھوڑ کر چل دیں (رھواً) کے معنی سوکھا راستہ جو اصلی حالت پر ہو۔ مقصد یہ ہے کہ پار ہو کہ دریا کو روانی کا حکم نہ دینا یہاں تک کہ دشمنوں میں سے ایک ایک اس میں آ نہ جائے اب اسے جاری ہونے کا حکم ملتے ہی سب کو غرق کر دے گا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے دیکھو کیسے غارت ہوئے۔ باغات کھتیاں نہریں مکانات اور بیٹھکیں سب چھوڑ کر فنا ہوگئے حضرت عبداللہ بن عمرو فرماتے ہیں مصر کا دریائے نیل مشرق مغرب کے دریاؤں کا سردار ہے اور سب نہریں اس کے ماتحت ہیں جب اس کی روانی اللہ کو منظور ہوتی ہیں تو تمام نہروں کو اس میں پانی پہنچانے کا حکم ہوتا ہے جہاں تک رب کو منظور ہو اس میں پانی آجاتا ہے پھر اللہ تبارک و تعالیٰ اور نہروں کو روک دیتا ہے اور حکم دیتا ہے کہ اب اپنی اپنی جگہ چلی جاؤ اور فرعونیوں کے یہ باغات دریائے نیل کے دونوں کناروں پر مسلسل چلے گئے تھے رسواں سے لے کر رشید تک اس کا سلسلہ تھا اور اس کی نو خلیجیں تھیں۔ خلیج اسکندریہ، دمیاط، خلیج سردوس، خلیج منصف، خلیج منتہی اور ان سب میں اتصال تھا ایک دوسرے سے متصل تھیں اور پہاڑوں کے دامن میں ان کی کھیتیاں تھیں جو مصر سے لے کر دریا تک برابر چلی آتی تھیں ان تمام کو بھی دریا سیراب کرتا تھا بڑے امن چین کی زندگی گذار رہے تھے لیکن مغرور ہوگئے اور آخر ساری نعمتیں یونہی چھوڑ کر تباہ کر دئیے گئے۔ مال اولاد جاہ و مال سلطنت و عزت ایک ہی رات میں چھوڑ گئے اور بھس کی طرح اڑا دئیے گئے اور گذشتہ کل کی طرح بےنشان کر دئیے گئے ایسے ڈبوئے گئے کہ ابھر نہ سکے جہنم واصل ہوگئے اور بدترین جگہ پہنچ گئے ان کی یہ تمام چیزیں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو دے دیں۔ جیسے اور آیت میں فرمایا ہے کہ ہم نے ان کمزوروں کو ان کے صبر کے بدلے اس سرکش قوم کی کل نعمتیں عطا فرمادیں اور بےایمانوں کا بھرکس نکال ڈالا یہاں بھی دوسری قوم جسے وارث بنایا اس سے مراد بھی بنی اسرائیل ہیں پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ان پر زمین و آسمان نہ روئے کیونکہ ان پاپیوں کے نیک اعمال تھے ہی نہیں جو آسمانوں پر چڑھتے ہوں اور اب ان کے نہ چڑھنے کی وجہ سے وہ افسوس کریں نہ زمین میں ان کی جگہیں ایسی تھیں کہ جہاں بیٹھ کر یہ اللہ کی عبادت کرتے ہوں اور آج انہیں نہ پا کر زمین کی وہ جگہ ان کا ماتم کرے انہیں مہلت نہ دی گئی۔ مسند ابو یعلی موصلی میں ہے ہر بندے کے لئے آسمان میں دو دروازے ہیں ایک سے اس کی روزی اترتی ہے دوسرے سے اس کے اعمال اور اس کے کلام چڑھتے ہیں۔ جب یہ مرجاتا ہے اور وہ عمل و رزق کو گم شدہ پاتے ہیں تو روتے ہیں پھر اسی آیت کی حضور ﷺ نے تلاوت کی ابن ابی حاتم میں فرمان رسول ﷺ ہے کہ اسلام غربت سے شروع ہوا اور پھر غربت پر آجائے گا یاد رکھو مومن کہیں انجام مسافر کی طرح نہیں مومن جہاں کہیں سفر میں ہوتا ہے جہاں اس کا کوئی رونے والا نہ ہو وہاں بھی اس کے رونے والے آسمان و زمین موجود ہیں پھر حضور ﷺ نے اس آیت کی تلاوت کر کے فرمایا یہ دونوں کفار پر روتے نہیں حضرت علی سے کسی نے پوچھا کہ آسمان و زمین کبھی کسی پر روئے بھی ہیں ؟ آپ نے فرمایا آج تو نے وہ بات دریافت کی ہے کہ تجھ سے پہلے مجھ سے اس کا سوال کسی نے نہیں کیا۔ سنو ہر بندے کے لئے زمین میں ایک نماز کی جگہ ہوتی ہے اور ایک جگہ آسمان میں اس کے عمل کے چڑھنے کی ہوتی ہے اور آل فرعون کے نیک اعمال ہی نہ تھے اس وجہ سے نہ زمین ان پر روئی نہ آسمان کو ان پر رونا آیا اور نہ انہیں ڈھیل دی گئی کہ کوئی نیکی بجا لاسکیں، حضرت ابن عباس سے یہ سوال ہوا تو آپ نے بھی قریب قریب یہی جواب دیا بلکہ آپ سے مروی ہے کہ چالیس دن تک زمین مومن پر روتی رہتی ہے حضرت مجاہد نے جب یہ بیان فرمایا تو کسی نے اس پر تعجب کا اظہار کیا آپ نے فرمایا سبحان اللہ اس میں تعجب کی کونسی بات ہے جو بندہ زمین کو اپنے رکوع و سجود سے آباد رکھتا تھا جس بندے کی تکبیر و تسبیح کی آوازیں آسمان برابر سنتا رہا تھا بھلا یہ دونوں اس عابد اللہ پر روئیں گے نہیں ؟ حضرت قتادہ فرماتے ہیں فرعونیوں جیسے ذلیل و خوار لوگوں پر یہ کیوں روتے ؟ حضرت ابراہیم فرماتے ہیں دنیا جب سے رچائی گئی ہے تب سے آسمان صرف دو شخصوں پر رویا ہے ان کے شاگرد سے سوال ہوا کہ کیا آسمان و زمین ہر ایمان دار پر روتے نہیں ؟ فرمایا صرف اتنا حصہ جس حصے سے اس کا نیک عمل چڑھتا تھا سنو آسمان کا رونا اس کا سرخ ہونا اور مثل نری کے گلابی ہوجانا ہے سو یہ حال صرف دو شخصوں کی شہادت پر ہوا ہے۔ حضرت یحییٰ کے قتل کے موقعے پر تو آسمان سرخ ہوگیا اور خون برسانے لگا اور دوسرے حضرت حسین کے قتل پر بھی آسمان کا رنگ سرخ ہوگیا تھا (ابن ابی حاتم) یزید ابن ابو زیاد کا قول ہے کہ قتل حسین کی وجہ سے چار ماہ تک آسمان کے کنارے سرخ رہے اور یہی سرخی اس کا رونا ہے حضرت عطا فرماتے ہیں اس کے کناروں کا سرخ ہوجانا اس کا رونا ہے یہ بھی ذکر کیا گیا ہے کہ قتل حسین کے دن جس پتھر کو الٹا جاتا تھا اس کے نیچے سے منجمند خون نکلتا تھا۔ اس دن سورج کو بھی گہن لگا ہوا تھا آسمان کے کنارے بھی سرخ تھے اور پتھر گرے تھے۔ لیکن یہ سب باتیں بےبنیاد ہیں اور شیعوں کے گھڑے ہوئے افسانے ہیں اس میں کوئی شک نہیں کہ نواسہ رسول ﷺ کی شہادت کا واقعہ نہایت درد انگیز اور حسرت و افسوس والا ہے لیکن اس پر شیعوں نے جو حاشیہ چڑھایا ہے اور گھڑ گھڑا کر جو باتیں پھیلا دی ہیں وہ محض جھوٹ اور بالکل گپ ہیں۔ خیال تو فرمائیے کہ اس سے بہت زیادہ اہم واقعات ہوئے اور قتل حسین سے بہت بڑی وارداتیں ہوئیں لیکن ان کے ہونے پر بھی آسمان و زمین وغیرہ میں یہ انقلاب نہ ہوا۔ آپ ہی کے والد ماجد حضرت علی بھی قتل کئے گئے جو بالاجماع آپ سے افضل تھے لیکن نہ تو پتھروں تلے سے خون نکلا اور کچھ ہوا۔ حضرت عثمان بن عفان کو گھیر لیا جاتا ہے اور نہایت بےدردی سے بلاوجہ ظلم و ستم کے ساتھ انہیں قتل کیا جاتا ہے فاروق اعظم حضرت عمر بن خطاب کو صبح کی نماز پڑھاتے ہوئے نماز کی جگہ ہی قتل کیا جاتا ہے یہ وہ زبردست مصیبت تھی کہ اس سے پہلے مسلمان کبھی ایسی مصیبت نہیں پہنچائے گئے تھے لیکن ان واقعات میں سے کسی واقعہ کے وقت اب میں سے ایک بھی بات نہیں جو شیعوں نے مقتل حسین کی نسبت مشہور کر رکھی ہے۔ ان سب کو بھی جانے دیجئے تمام انسانوں کے دینی اور دنیوی سردار سید البشر رسول اللہ ﷺ کو لیجئے جس روز آپ رحلت فرماتے ہیں ان میں سے کچھ بھی نہیں ہوتا اور سنئے جس روز حضور ﷺ کے صاحبزادے حضرت ابراہیم کا انتقال ہوتا ہے اتفاقاً اسی روز سورج گہن ہوتا ہے اور کوئی کہہ دیتا ہے کہ ابراہیم کے انتقال کی وجہ سورج کو گہن لگا ہے۔ تو حضور ﷺ گہن کی نماز ادا کر کے فوراً خطبے پر کھڑے ہوجاتے ہیں اور فرماتے ہیں سورج چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں کسی کی موت زندگی کی وجہ سے انہیں گہن نہیں لگتا اس کے بعد کی آیت میں اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل پر اپنا احسان جتاتا ہے کہ ہم نے انہیں فرعون جیسے متکبر حدود شکن کے ذلیل عذابوں سے نجات دی اس نے بنی اسرائیل کو پست و خوار کر رکھا تھا ذلیل خدمتیں ان سے لیتا تھا اور اپنے نفس کو تولتا رہتا تھا خودی اور خود بینی میں لگا ہوا تھا بیوقوفی سے کسی چیز کی حد بندی کا خیال نہیں کرتا تھا اللہ کی زمین میں سرکشی کئے ہوئے تھا۔ اور ان بدکاریوں میں اس کی قوم بھی اس کے ساتھ تھی پھر بنی اسرائیل پر ایک اور مہربانی کا ذکر فرما رہا ہے کہ اس زمانے کے تمام لوگوں پر انہیں فضیلت عطا فرمائی ہر زمانے کو عالم کہا جاتا ہے یہ مراد نہیں کہ تمام اگلوں پچھلوں پر انہیں بزرگی دی یہ آیت بھی اس آیت کی طرح ہے جس میں فرمان ہے آیت (قَالَ يٰمُوْسٰٓي اِنِّى اصْطَفَيْتُكَ عَلَي النَّاسِ بِرِسٰلٰتِيْ وَبِكَلَامِيْ ڮ فَخُذْ مَآ اٰتَيْتُكَ وَكُنْ مِّنَ الشّٰكِرِيْنَ01404) 7۔ الاعراف :144) اس سے بھی یہی مطلب ہے کہ اس زمانے کی تمام عورتوں پر آپ کو فضیلت ہے اس لئے کہ ام المومنین حضرت خدیجہ ان سے یقینا افضل ہیں یا کم ازکم برابر۔ اسی طرح حضرت آسیہ بنت مزاحم جو فرعون کی بیوی تھیں اور ام المومنین حضرت عائشہ کی فضیلت تمام عورتوں پر ایسی ہے جیسی فضیلت شوربے میں بھگوئی روٹی کی اور کھانوں پر پھر بنی اسرائیل پر ایک اور احسان بیان ہو رہا ہے کہ ہم نے انہیں وہ حجت وبرہان دلیل و نشان اور معجزات و کرامات عطا فرمائے جن میں ہدایت کی تلاش کرنے والوں کے لئے صاف صاف امتحان تھا۔
31
View Single
مِن فِرۡعَوۡنَۚ إِنَّهُۥ كَانَ عَالِيٗا مِّنَ ٱلۡمُسۡرِفِينَ
From Firaun; he was indeed proud, among the transgressors.
فرعون سے، بیشک وہ بڑا سرکش، حد سے گزرنے والوں میں سے تھا
Tafsir Ibn Kathir
The Story of Musa and Fir`awn, and how the Children of Israel were saved
Allah tells us, `before these idolators, We tested the people of Fir`awn, the copts of Egypt.'
وَجَآءَهُمْ رَسُولٌ كَرِيمٌ
(when there came to them a noble Messenger.) means, Musa, peace be upon him, the one to whom Allah spoke.
أَنْ أَدُّواْ إِلَىَّ عِبَادَ اللَّهِ
(Deliver to me the servants of Allah.) This is like the Ayah:
فَأَرْسِلْ مَعَنَا بَنِى إِسْرَءِيلَ وَلاَ تُعَذِّبْهُمْ قَدْ جِئْنَـكَ بِـَايَةٍ مِّن رَّبِّكَ وَالسَّلَـمُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى
(So let the Children of Israel go with us, and torment them not; indeed, we have come with a sign from your Lord! And peace will be upon him who follows the guidance!") (20:47)
إِنِّي لَكُمْ رَسُولٌ أَمِينٌ
(Verily, I am to you a Messenger worthy of all trust.) means, `what I convey to you is trustworthy.'
وَأَن لاَّ تَعْلُواْ عَلَى اللَّهِ
(And exalt not yourselves against Allah.) means, `and do not be too arrogant to follow His signs. Accept His proof and believe in His evidence.' This is like the Ayah:
إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِى سَيَدْخُلُونَ جَهَنَّمَ دَخِرِينَ
(Verily, those who scorn My worship they will surely enter Hell in humiliation!) (40:60)
إِنِّى ءَاتِيكُمْ بِسُلْطَانٍ مُّبِينٍ
(Truly, I have come to you with a manifest authority.) means, with clear and obvious proof. This refers to the clear signs and definitive evidence with which Allah sent him.
وَإِنِّى عُذْتُ بِرَبِّى وَرَبِّكُمْ أَن تَرْجُمُونِ
(And truly, I seek refuge with my Lord and your Lord, lest you should stone me.) Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, and Abu Salih said, "This refers to a verbal assault, which means insults." Qatadah said, "Meaning `stoning' in the literal sense, so that the meaning is: `I seek refuge with Allah, Who created me and you, from your making any harmful words or actions reach me."'
وَإِن لَّمْ تُؤْمِنُواْ لِى فَاعْتَزِلُونِ
(But if you believe me not, then keep away from me and leave me alone.) means, `then let us leave one another alone and live in peace until Allah judges between us.' After Musa, may Allah be pleased with him, had stayed among them for a long time, and the proof of Allah had been established against them, and that only increased them in disbelief and stubbornness, he prayed to his Lord against them, a prayer which was answered. Allah says:
وَقَالَ مُوسَى رَبَّنَآ إِنَّكَ ءاتَيْتَ فِرْعَوْنَ وَمَلاّهُ زِينَةً وَأَمْوَالاً فِى الْحَيَوةِ الدُّنْيَا رَبَّنَا لِيُضِلُّواْ عَن سَبِيلِكَ رَبَّنَا اطْمِسْ عَلَى أَمْوَلِهِمْ وَاشْدُدْ عَلَى قُلُوبِهِمْ فَلاَ يُؤْمِنُواْ حَتَّى يَرَوُاْ الْعَذَابَ الاٌّلِيمَ قَالَ قَدْ أُجِيبَتْ دَّعْوَتُكُمَا فَاسْتَقِيمَا
(And Musa said: "Our Lord! You have indeed bestowed on Fir`awn and his chiefs splendor and wealth in the life of this world, our Lord! That they may lead men astray from Your path. Our Lord! Destroy their wealth, and harden their hearts, so that they will not believe until they see the painful torment." Allah said: "Verily, the invocation of you both is accepted. So you both keep to the straight way.") (10:88-89) And Allah says here:
فَدَعَا رَبَّهُ أَنَّ هَـؤُلاَءِ قَوْمٌ مُّجْرِمُونَ
(So he (Musa) called upon his Lord (saying): "These are indeed the people who are criminals.") Whereupon Allah commanded him to bring the Children of Israel out from among them, without the command, consent or permission of Fir`awn. Allah said:
فَأَسْرِ بِعِبَادِى لَيْلاً إِنَّكُم مُّتَّبَعُونَ
(Depart you with My servants by night. Surely, you will be pursued.) This is like the Ayah:
وَلَقَدْ أَوْحَيْنَآ إِلَى مُوسَى أَنْ أَسْرِ بِعِبَادِى فَاضْرِبْ لَهُمْ طَرِيقاً فِى الْبَحْرِ يَبَساً لاَّ تَخَافُ دَرَكاً وَلاَ تَخْشَى
And indeed We revealed to Mu0sa0 (saying): Travel by night with My servants and strike a dry path for them in the sea, fearing neither to be overtaken nor being afraid (of drowning in the sea). )20:77(
وَاتْرُكِ الْبَحْرَ رَهْواً إِنَّهُمْ جُندٌ مُّغْرَقُونَ
(And leave the sea as it is (quiet and divided). Verily, they are a host to be drowned.) When Musa and the Children of Israel has crossed the sea, Musa wanted to strike it with his staff so that it would go back as it had been, and it would form a barrier between then and Fir`awn and prevent him from reaching them. But Allah commanded him to leave it as it was, quiet and divided, and gave him the glad tidings that they were a host to be drowned, and that he should not fear either being overtaken by Fir`awn or drowning in the sea. Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, said:
وَاتْرُكِ الْبَحْرَ رَهْواً
(And leave the sea as it is (quiet and divided).) means, leave it as it is and keep moving. Mujahid said:
رَهْواً
(as it is) means, a dry path, as it is. `Do not command it to go back; leave it until the last of them have entered it.' This was also the view of `Ikrimah, Ar-Rabi` bin Anas, Ad-Dahhak, Qatadah, Ibn Zayd, Ka`b Al-Ahbar, Simak bin Harb and others.
كَمْ تَرَكُواْ مِن جَنَّـتٍ وَعُيُونٍ وَزُرُوعٍ
(How many of gardens and springs that they left behind. And green crops) this refers to rivers and wells.
وَمَقَامٍ كَرِيمٍ
and goodly places, means, fine dwellings and beautiful places. Muja0hid and Sa 0d bin Jubayr said:
وَمَقَامٍ كَرِيمٍ
(and goodly places,) means elevated places.
وَنَعْمَةٍ كَانُواْ فِيهَا فَـكِهِينَ
(And comforts of life wherein they used to take delight!) means, a life which they were enjoying, where they could eat whatever they wanted and wear what they liked, with wealth and glory and power in the land. Then all of that was taken away in a single morning, they departed from this world and went to Hell, what a terrible abode!
كَذَلِكَ وَأَوْرَثْنَـهَا قَوْماً ءَاخَرِينَ
(Thus (it was)! And We made other people inherit them.) namely the Children of Israel.
فَمَا بَكَتْ عَلَيْهِمُ السَّمَآءُ وَالاٌّرْضُ
(And the heavens and the earth wept not for them, ) means, they had no righteous deeds which used to ascend through the gates of the heavens, which would weep for them when they died, and they had no places on earth where they used to worship Allah which would notice their loss. So they did not deserve to be given a respite, because of their disbelief, sin, transgression and stubbornness. Ibn Jarir recorded that Sa`id bin Jubayr said, "A man came to Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, and said to him: `O Abu Al-`Abbas, Allah says,
فَمَا بَكَتْ عَلَيْهِمُ السَّمَآءُ وَالاٌّرْضُ وَمَا كَانُواْ مُنظَرِينَ
(And the heavens and the earth wept not for them, nor were they given respite) -- do the heavens and the earth weep for anybody' He, may Allah be pleased with him, said, `Yes, there is no one who does not have a gate in the heavens through which his provision comes down and his good deeds ascend. When the believer dies, that gate is closed; it misses him and weeps for him, and the place of prayer on earth where he used to pray and remember Allah also weeps for him. But the people of Fir`awn left no trace of righteousness on the earth and they had no good deeds that ascended to Allah, so the heavens and the earth did not weep for them."' Al-`Awfi reported something similar from Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him.
وَلَقَدْ نَجَّيْنَا بَنِى إِسْرَءِيلَ مِنَ الْعَذَابِ الْمُهِينِ - مِن فِرْعَوْنَ إِنَّهُ كَانَ عَالِياً مِّنَ الْمُسْرِفِينَ
(And indeed We saved the Children of Israel from the humiliating torment from Fir`awn; verily, he was arrogant and was of the excessive. ) Here Allah reminds them of how He saved them from their humiliation and subjugation at the hands of Fir`awn, when they were forced to do menial tasks.
مِن فِرْعَوْنَ إِنَّهُ كَانَ عَالِياً
(From Fir`awn; verily, he was arrogant) means, he was proud and stubborn. This is like the Ayah:
إِنَّ فِرْعَوْنَ عَلاَ فِى الاٌّرْضِ
(Verily, Fir`awn exalted himself in the land) (28:4).
فَاسْتَكْبَرُواْ وَكَانُواْ قَوْماً عَـلِينَ
(but they behaved insolently and they were people self-exalting) (23:46). He was one of the excessive and held a foolish opinion of himself.
وَلَقَدِ اخْتَرْنَـهُمْ عَلَى عِلْمٍ عَلَى الْعَـلَمِينَ
(And We chose them above the nations (Al-`Alamin) with knowledge,) Mujahid said, "This means that they were chosen above those among whom they lived." Qatadah said, "They were chosen above the other people of their own time, and it was said that in every period there are people who are chosen above others." This is like the Ayah:
قَالَ يَمُوسَى إِنْى اصْطَفَيْتُكَ عَلَى النَّاسِ
((Allah) said: "O Musa I have chosen you above men.") (7:144), which means, above the people of his time. This is also like the Ayah:
وَاصْطَفَـكِ عَلَى نِسَآءِ الْعَـلَمِينَ
(and (Allah has) chosen you (Maryam) above the women of the nations (Al-`Alamin).) (3:42), i.e., Maryam was chosen above the women of her time. For Khadijah, may Allah be pleased with her, is higher than her in status or is equal to her, as was Asiyah bint Muzahim, the wife of Fir`awn. And the superiority of `A'ishah, may Allah be pleased with her, over all other women is like the superiority of Tharid over all other dishes.
وَءَاتَيْنَـهُم مِّنَ الاٌّيَـتِ
(And granted them signs) means clear proofs and extraordinary evidence.
مَا فِيهِ بَلَؤٌاْ مُّبِينٌ
(in which there was a plain trial.) means, an obvious test to show who would be guided by it.
قبطیوں کا انجام ارشاد ہوتا ہے کہ ان مشرکین سے پہلے مصر کے قبطیوں کو ہم نے جانچا ان کی طرف اپنے بزرگ رسول حضرت موسیٰ کو بھیجا انہوں نے میرا پیغام پہنچایا کہ بنی اسرائیل کو میرے ساتھ کردو انہیں دکھ نہ دو میں اپنی نبوت پر گواہی دینے والے معجزے اپنے ساتھ لایا ہوں اور ہدایت کے ماننے والے سلامتی سے رہیں گے مجھے اللہ تعالیٰ نے اپنی وحی کا امانت دار بنا کر تمہاری طرف بھیجا ہے میں تمہیں اس کا پیغام پہنچا رہا ہوں تمہیں رب کی باتوں کے ماننے سے سرکشی نہ کرنی چاہئے اس کے بیان کردہ دلائل و احکام کے سامنے سر تسلیم خم کرنا چاہئے۔ اس کی عبادتوں سے جی چرانے والے ذلیل و خوار ہو کر جہنم واصل ہوتے ہیں میں تو تمہارے سامنے کھلی دلیل اور واضح آیت رکھتا ہوں میں تمہاری بدگوئی اور اہتمام سے اللہ کی پناہ لیتا ہوں۔ ابن عباس اور ابو صالہ تو یہی کہتے ہیں اور قتادہ کہتے ہیں مراد پتھراؤ کرنا پتھروں سے مار ڈالنا ہے یعنی زبانی ایذاء سے اور دستی ایذاء سے میں اپنے رب کی جو تمہارا بھی مالک ہے پناہ چاہتا ہوں اچھا اگر تم میری نہیں مانتے مجھ پر بھروسہ نہیں کرتے اللہ پر ایمان نہیں لاتے تو کم از کم میری تکلیف دہی اور ایذاء رسانی سے تو باز رہو۔ اور اس کے منتظر رہو جب کہ خود اللہ ہم میں تم میں فیصلہ کر دے گا پھر جب اللہ کے نبی کلیم اللہ حضرت موسیٰ نے ایک لمبی مدت ان میں گذاری خوب دل کھول کھول کر تبلیغ کرلی ہر طرح کی خیر خواہی کی ان کی ہدایت کے لئے ہرچند جتن کر لئے اور دیکھا کہ وہ روز بروز اپنے کفر میں بڑھتے جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ سے انکے لئے بددعا کی جیسے اور آیت میں ہے کہ حضرت موسیٰ نے کہا اے ہمارے رب تو نے فرعون اور اس کے امراء کو دنیوی نمائش اور مال و متاع دے رکھی ہے اے اللہ یہ اس سے دوسروں کو بھی تیری راہ سے بھٹکا رہے ہیں تو ان کا مال غارت کر اور ان کے دل اور سخت کر دے تاکہ دردناک عذابوں کے معائنہ تک انہیں ایمان نصیب ہی نہ ہو اللہ کی طرف سے جواب ملا کہ اے موسیٰ اور اے ہارون میں نے تمہاری دعا قبول کرلی اب تم استقامت پر تل جاؤ یہاں فرماتا ہے کہ ہم نے موسیٰ سے کہا کہ میرے بندوں یعنی بنی اسرائیل کو راتوں رات فرعون اور فرعونیوں کی بیخبر ی میں یہاں سے لے کر چلے جاؤ۔ یہ کفار تمہارا پیچھا کریں گے لیکن تم بےخوف و خطر چلے جاؤ میں تمہارے لئے دریا کو خشک کر دوں گا اس کے بعد حضرت موسیٰ ؑ بنی اسرائیل کو لے کر چل پڑے فرعونی لشکر مع فرعون کے ان کے پکڑنے کو چلا بیچ میں دریا حائل ہوا آپ بنی اسرائیل کو لے کر اس میں اتر گئے دریا کا پانی سوکھ گیا اور آپ اپنے ساتھیوں سمیت پار ہوگئے تو چاہا کہ دریا پر لکڑی مار کر اسے کہہ دیں کہ اب تو اپنی روانی پر آجا تاکہ فرعون اس سے گزر نہ سکے وہیں اللہ نے وحی بھیجی کہ اسے اسی حال میں سکون کے ساتھ ہی رہنے دو ساتھ ہی اس کی وجہ بھی بتادی کہ یہ سب اسی میں ڈوب مریں گے۔ پھر تو تم سب بالکل ہی مطمئن اور بےخوف ہوجاؤ گے غرض حکم ہوا تھا کہ دریا کو خشک چھوڑ کر چل دیں (رھواً) کے معنی سوکھا راستہ جو اصلی حالت پر ہو۔ مقصد یہ ہے کہ پار ہو کہ دریا کو روانی کا حکم نہ دینا یہاں تک کہ دشمنوں میں سے ایک ایک اس میں آ نہ جائے اب اسے جاری ہونے کا حکم ملتے ہی سب کو غرق کر دے گا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے دیکھو کیسے غارت ہوئے۔ باغات کھتیاں نہریں مکانات اور بیٹھکیں سب چھوڑ کر فنا ہوگئے حضرت عبداللہ بن عمرو فرماتے ہیں مصر کا دریائے نیل مشرق مغرب کے دریاؤں کا سردار ہے اور سب نہریں اس کے ماتحت ہیں جب اس کی روانی اللہ کو منظور ہوتی ہیں تو تمام نہروں کو اس میں پانی پہنچانے کا حکم ہوتا ہے جہاں تک رب کو منظور ہو اس میں پانی آجاتا ہے پھر اللہ تبارک و تعالیٰ اور نہروں کو روک دیتا ہے اور حکم دیتا ہے کہ اب اپنی اپنی جگہ چلی جاؤ اور فرعونیوں کے یہ باغات دریائے نیل کے دونوں کناروں پر مسلسل چلے گئے تھے رسواں سے لے کر رشید تک اس کا سلسلہ تھا اور اس کی نو خلیجیں تھیں۔ خلیج اسکندریہ، دمیاط، خلیج سردوس، خلیج منصف، خلیج منتہی اور ان سب میں اتصال تھا ایک دوسرے سے متصل تھیں اور پہاڑوں کے دامن میں ان کی کھیتیاں تھیں جو مصر سے لے کر دریا تک برابر چلی آتی تھیں ان تمام کو بھی دریا سیراب کرتا تھا بڑے امن چین کی زندگی گذار رہے تھے لیکن مغرور ہوگئے اور آخر ساری نعمتیں یونہی چھوڑ کر تباہ کر دئیے گئے۔ مال اولاد جاہ و مال سلطنت و عزت ایک ہی رات میں چھوڑ گئے اور بھس کی طرح اڑا دئیے گئے اور گذشتہ کل کی طرح بےنشان کر دئیے گئے ایسے ڈبوئے گئے کہ ابھر نہ سکے جہنم واصل ہوگئے اور بدترین جگہ پہنچ گئے ان کی یہ تمام چیزیں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو دے دیں۔ جیسے اور آیت میں فرمایا ہے کہ ہم نے ان کمزوروں کو ان کے صبر کے بدلے اس سرکش قوم کی کل نعمتیں عطا فرمادیں اور بےایمانوں کا بھرکس نکال ڈالا یہاں بھی دوسری قوم جسے وارث بنایا اس سے مراد بھی بنی اسرائیل ہیں پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ان پر زمین و آسمان نہ روئے کیونکہ ان پاپیوں کے نیک اعمال تھے ہی نہیں جو آسمانوں پر چڑھتے ہوں اور اب ان کے نہ چڑھنے کی وجہ سے وہ افسوس کریں نہ زمین میں ان کی جگہیں ایسی تھیں کہ جہاں بیٹھ کر یہ اللہ کی عبادت کرتے ہوں اور آج انہیں نہ پا کر زمین کی وہ جگہ ان کا ماتم کرے انہیں مہلت نہ دی گئی۔ مسند ابو یعلی موصلی میں ہے ہر بندے کے لئے آسمان میں دو دروازے ہیں ایک سے اس کی روزی اترتی ہے دوسرے سے اس کے اعمال اور اس کے کلام چڑھتے ہیں۔ جب یہ مرجاتا ہے اور وہ عمل و رزق کو گم شدہ پاتے ہیں تو روتے ہیں پھر اسی آیت کی حضور ﷺ نے تلاوت کی ابن ابی حاتم میں فرمان رسول ﷺ ہے کہ اسلام غربت سے شروع ہوا اور پھر غربت پر آجائے گا یاد رکھو مومن کہیں انجام مسافر کی طرح نہیں مومن جہاں کہیں سفر میں ہوتا ہے جہاں اس کا کوئی رونے والا نہ ہو وہاں بھی اس کے رونے والے آسمان و زمین موجود ہیں پھر حضور ﷺ نے اس آیت کی تلاوت کر کے فرمایا یہ دونوں کفار پر روتے نہیں حضرت علی سے کسی نے پوچھا کہ آسمان و زمین کبھی کسی پر روئے بھی ہیں ؟ آپ نے فرمایا آج تو نے وہ بات دریافت کی ہے کہ تجھ سے پہلے مجھ سے اس کا سوال کسی نے نہیں کیا۔ سنو ہر بندے کے لئے زمین میں ایک نماز کی جگہ ہوتی ہے اور ایک جگہ آسمان میں اس کے عمل کے چڑھنے کی ہوتی ہے اور آل فرعون کے نیک اعمال ہی نہ تھے اس وجہ سے نہ زمین ان پر روئی نہ آسمان کو ان پر رونا آیا اور نہ انہیں ڈھیل دی گئی کہ کوئی نیکی بجا لاسکیں، حضرت ابن عباس سے یہ سوال ہوا تو آپ نے بھی قریب قریب یہی جواب دیا بلکہ آپ سے مروی ہے کہ چالیس دن تک زمین مومن پر روتی رہتی ہے حضرت مجاہد نے جب یہ بیان فرمایا تو کسی نے اس پر تعجب کا اظہار کیا آپ نے فرمایا سبحان اللہ اس میں تعجب کی کونسی بات ہے جو بندہ زمین کو اپنے رکوع و سجود سے آباد رکھتا تھا جس بندے کی تکبیر و تسبیح کی آوازیں آسمان برابر سنتا رہا تھا بھلا یہ دونوں اس عابد اللہ پر روئیں گے نہیں ؟ حضرت قتادہ فرماتے ہیں فرعونیوں جیسے ذلیل و خوار لوگوں پر یہ کیوں روتے ؟ حضرت ابراہیم فرماتے ہیں دنیا جب سے رچائی گئی ہے تب سے آسمان صرف دو شخصوں پر رویا ہے ان کے شاگرد سے سوال ہوا کہ کیا آسمان و زمین ہر ایمان دار پر روتے نہیں ؟ فرمایا صرف اتنا حصہ جس حصے سے اس کا نیک عمل چڑھتا تھا سنو آسمان کا رونا اس کا سرخ ہونا اور مثل نری کے گلابی ہوجانا ہے سو یہ حال صرف دو شخصوں کی شہادت پر ہوا ہے۔ حضرت یحییٰ کے قتل کے موقعے پر تو آسمان سرخ ہوگیا اور خون برسانے لگا اور دوسرے حضرت حسین کے قتل پر بھی آسمان کا رنگ سرخ ہوگیا تھا (ابن ابی حاتم) یزید ابن ابو زیاد کا قول ہے کہ قتل حسین کی وجہ سے چار ماہ تک آسمان کے کنارے سرخ رہے اور یہی سرخی اس کا رونا ہے حضرت عطا فرماتے ہیں اس کے کناروں کا سرخ ہوجانا اس کا رونا ہے یہ بھی ذکر کیا گیا ہے کہ قتل حسین کے دن جس پتھر کو الٹا جاتا تھا اس کے نیچے سے منجمند خون نکلتا تھا۔ اس دن سورج کو بھی گہن لگا ہوا تھا آسمان کے کنارے بھی سرخ تھے اور پتھر گرے تھے۔ لیکن یہ سب باتیں بےبنیاد ہیں اور شیعوں کے گھڑے ہوئے افسانے ہیں اس میں کوئی شک نہیں کہ نواسہ رسول ﷺ کی شہادت کا واقعہ نہایت درد انگیز اور حسرت و افسوس والا ہے لیکن اس پر شیعوں نے جو حاشیہ چڑھایا ہے اور گھڑ گھڑا کر جو باتیں پھیلا دی ہیں وہ محض جھوٹ اور بالکل گپ ہیں۔ خیال تو فرمائیے کہ اس سے بہت زیادہ اہم واقعات ہوئے اور قتل حسین سے بہت بڑی وارداتیں ہوئیں لیکن ان کے ہونے پر بھی آسمان و زمین وغیرہ میں یہ انقلاب نہ ہوا۔ آپ ہی کے والد ماجد حضرت علی بھی قتل کئے گئے جو بالاجماع آپ سے افضل تھے لیکن نہ تو پتھروں تلے سے خون نکلا اور کچھ ہوا۔ حضرت عثمان بن عفان کو گھیر لیا جاتا ہے اور نہایت بےدردی سے بلاوجہ ظلم و ستم کے ساتھ انہیں قتل کیا جاتا ہے فاروق اعظم حضرت عمر بن خطاب کو صبح کی نماز پڑھاتے ہوئے نماز کی جگہ ہی قتل کیا جاتا ہے یہ وہ زبردست مصیبت تھی کہ اس سے پہلے مسلمان کبھی ایسی مصیبت نہیں پہنچائے گئے تھے لیکن ان واقعات میں سے کسی واقعہ کے وقت اب میں سے ایک بھی بات نہیں جو شیعوں نے مقتل حسین کی نسبت مشہور کر رکھی ہے۔ ان سب کو بھی جانے دیجئے تمام انسانوں کے دینی اور دنیوی سردار سید البشر رسول اللہ ﷺ کو لیجئے جس روز آپ رحلت فرماتے ہیں ان میں سے کچھ بھی نہیں ہوتا اور سنئے جس روز حضور ﷺ کے صاحبزادے حضرت ابراہیم کا انتقال ہوتا ہے اتفاقاً اسی روز سورج گہن ہوتا ہے اور کوئی کہہ دیتا ہے کہ ابراہیم کے انتقال کی وجہ سورج کو گہن لگا ہے۔ تو حضور ﷺ گہن کی نماز ادا کر کے فوراً خطبے پر کھڑے ہوجاتے ہیں اور فرماتے ہیں سورج چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں کسی کی موت زندگی کی وجہ سے انہیں گہن نہیں لگتا اس کے بعد کی آیت میں اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل پر اپنا احسان جتاتا ہے کہ ہم نے انہیں فرعون جیسے متکبر حدود شکن کے ذلیل عذابوں سے نجات دی اس نے بنی اسرائیل کو پست و خوار کر رکھا تھا ذلیل خدمتیں ان سے لیتا تھا اور اپنے نفس کو تولتا رہتا تھا خودی اور خود بینی میں لگا ہوا تھا بیوقوفی سے کسی چیز کی حد بندی کا خیال نہیں کرتا تھا اللہ کی زمین میں سرکشی کئے ہوئے تھا۔ اور ان بدکاریوں میں اس کی قوم بھی اس کے ساتھ تھی پھر بنی اسرائیل پر ایک اور مہربانی کا ذکر فرما رہا ہے کہ اس زمانے کے تمام لوگوں پر انہیں فضیلت عطا فرمائی ہر زمانے کو عالم کہا جاتا ہے یہ مراد نہیں کہ تمام اگلوں پچھلوں پر انہیں بزرگی دی یہ آیت بھی اس آیت کی طرح ہے جس میں فرمان ہے آیت (قَالَ يٰمُوْسٰٓي اِنِّى اصْطَفَيْتُكَ عَلَي النَّاسِ بِرِسٰلٰتِيْ وَبِكَلَامِيْ ڮ فَخُذْ مَآ اٰتَيْتُكَ وَكُنْ مِّنَ الشّٰكِرِيْنَ01404) 7۔ الاعراف :144) اس سے بھی یہی مطلب ہے کہ اس زمانے کی تمام عورتوں پر آپ کو فضیلت ہے اس لئے کہ ام المومنین حضرت خدیجہ ان سے یقینا افضل ہیں یا کم ازکم برابر۔ اسی طرح حضرت آسیہ بنت مزاحم جو فرعون کی بیوی تھیں اور ام المومنین حضرت عائشہ کی فضیلت تمام عورتوں پر ایسی ہے جیسی فضیلت شوربے میں بھگوئی روٹی کی اور کھانوں پر پھر بنی اسرائیل پر ایک اور احسان بیان ہو رہا ہے کہ ہم نے انہیں وہ حجت وبرہان دلیل و نشان اور معجزات و کرامات عطا فرمائے جن میں ہدایت کی تلاش کرنے والوں کے لئے صاف صاف امتحان تھا۔
32
View Single
وَلَقَدِ ٱخۡتَرۡنَٰهُمۡ عَلَىٰ عِلۡمٍ عَلَى ٱلۡعَٰلَمِينَ
And We knowingly chose them, among all others of their time.
اور بیشک ہم نے ان (بنی اسرائیل) کو علم کی بنا پر ساری دنیا (کی معاصر تہذیبوں) پر چُن لیا تھا
Tafsir Ibn Kathir
The Story of Musa and Fir`awn, and how the Children of Israel were saved
Allah tells us, `before these idolators, We tested the people of Fir`awn, the copts of Egypt.'
وَجَآءَهُمْ رَسُولٌ كَرِيمٌ
(when there came to them a noble Messenger.) means, Musa, peace be upon him, the one to whom Allah spoke.
أَنْ أَدُّواْ إِلَىَّ عِبَادَ اللَّهِ
(Deliver to me the servants of Allah.) This is like the Ayah:
فَأَرْسِلْ مَعَنَا بَنِى إِسْرَءِيلَ وَلاَ تُعَذِّبْهُمْ قَدْ جِئْنَـكَ بِـَايَةٍ مِّن رَّبِّكَ وَالسَّلَـمُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى
(So let the Children of Israel go with us, and torment them not; indeed, we have come with a sign from your Lord! And peace will be upon him who follows the guidance!") (20:47)
إِنِّي لَكُمْ رَسُولٌ أَمِينٌ
(Verily, I am to you a Messenger worthy of all trust.) means, `what I convey to you is trustworthy.'
وَأَن لاَّ تَعْلُواْ عَلَى اللَّهِ
(And exalt not yourselves against Allah.) means, `and do not be too arrogant to follow His signs. Accept His proof and believe in His evidence.' This is like the Ayah:
إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِى سَيَدْخُلُونَ جَهَنَّمَ دَخِرِينَ
(Verily, those who scorn My worship they will surely enter Hell in humiliation!) (40:60)
إِنِّى ءَاتِيكُمْ بِسُلْطَانٍ مُّبِينٍ
(Truly, I have come to you with a manifest authority.) means, with clear and obvious proof. This refers to the clear signs and definitive evidence with which Allah sent him.
وَإِنِّى عُذْتُ بِرَبِّى وَرَبِّكُمْ أَن تَرْجُمُونِ
(And truly, I seek refuge with my Lord and your Lord, lest you should stone me.) Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, and Abu Salih said, "This refers to a verbal assault, which means insults." Qatadah said, "Meaning `stoning' in the literal sense, so that the meaning is: `I seek refuge with Allah, Who created me and you, from your making any harmful words or actions reach me."'
وَإِن لَّمْ تُؤْمِنُواْ لِى فَاعْتَزِلُونِ
(But if you believe me not, then keep away from me and leave me alone.) means, `then let us leave one another alone and live in peace until Allah judges between us.' After Musa, may Allah be pleased with him, had stayed among them for a long time, and the proof of Allah had been established against them, and that only increased them in disbelief and stubbornness, he prayed to his Lord against them, a prayer which was answered. Allah says:
وَقَالَ مُوسَى رَبَّنَآ إِنَّكَ ءاتَيْتَ فِرْعَوْنَ وَمَلاّهُ زِينَةً وَأَمْوَالاً فِى الْحَيَوةِ الدُّنْيَا رَبَّنَا لِيُضِلُّواْ عَن سَبِيلِكَ رَبَّنَا اطْمِسْ عَلَى أَمْوَلِهِمْ وَاشْدُدْ عَلَى قُلُوبِهِمْ فَلاَ يُؤْمِنُواْ حَتَّى يَرَوُاْ الْعَذَابَ الاٌّلِيمَ قَالَ قَدْ أُجِيبَتْ دَّعْوَتُكُمَا فَاسْتَقِيمَا
(And Musa said: "Our Lord! You have indeed bestowed on Fir`awn and his chiefs splendor and wealth in the life of this world, our Lord! That they may lead men astray from Your path. Our Lord! Destroy their wealth, and harden their hearts, so that they will not believe until they see the painful torment." Allah said: "Verily, the invocation of you both is accepted. So you both keep to the straight way.") (10:88-89) And Allah says here:
فَدَعَا رَبَّهُ أَنَّ هَـؤُلاَءِ قَوْمٌ مُّجْرِمُونَ
(So he (Musa) called upon his Lord (saying): "These are indeed the people who are criminals.") Whereupon Allah commanded him to bring the Children of Israel out from among them, without the command, consent or permission of Fir`awn. Allah said:
فَأَسْرِ بِعِبَادِى لَيْلاً إِنَّكُم مُّتَّبَعُونَ
(Depart you with My servants by night. Surely, you will be pursued.) This is like the Ayah:
وَلَقَدْ أَوْحَيْنَآ إِلَى مُوسَى أَنْ أَسْرِ بِعِبَادِى فَاضْرِبْ لَهُمْ طَرِيقاً فِى الْبَحْرِ يَبَساً لاَّ تَخَافُ دَرَكاً وَلاَ تَخْشَى
And indeed We revealed to Mu0sa0 (saying): Travel by night with My servants and strike a dry path for them in the sea, fearing neither to be overtaken nor being afraid (of drowning in the sea). )20:77(
وَاتْرُكِ الْبَحْرَ رَهْواً إِنَّهُمْ جُندٌ مُّغْرَقُونَ
(And leave the sea as it is (quiet and divided). Verily, they are a host to be drowned.) When Musa and the Children of Israel has crossed the sea, Musa wanted to strike it with his staff so that it would go back as it had been, and it would form a barrier between then and Fir`awn and prevent him from reaching them. But Allah commanded him to leave it as it was, quiet and divided, and gave him the glad tidings that they were a host to be drowned, and that he should not fear either being overtaken by Fir`awn or drowning in the sea. Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, said:
وَاتْرُكِ الْبَحْرَ رَهْواً
(And leave the sea as it is (quiet and divided).) means, leave it as it is and keep moving. Mujahid said:
رَهْواً
(as it is) means, a dry path, as it is. `Do not command it to go back; leave it until the last of them have entered it.' This was also the view of `Ikrimah, Ar-Rabi` bin Anas, Ad-Dahhak, Qatadah, Ibn Zayd, Ka`b Al-Ahbar, Simak bin Harb and others.
كَمْ تَرَكُواْ مِن جَنَّـتٍ وَعُيُونٍ وَزُرُوعٍ
(How many of gardens and springs that they left behind. And green crops) this refers to rivers and wells.
وَمَقَامٍ كَرِيمٍ
and goodly places, means, fine dwellings and beautiful places. Muja0hid and Sa 0d bin Jubayr said:
وَمَقَامٍ كَرِيمٍ
(and goodly places,) means elevated places.
وَنَعْمَةٍ كَانُواْ فِيهَا فَـكِهِينَ
(And comforts of life wherein they used to take delight!) means, a life which they were enjoying, where they could eat whatever they wanted and wear what they liked, with wealth and glory and power in the land. Then all of that was taken away in a single morning, they departed from this world and went to Hell, what a terrible abode!
كَذَلِكَ وَأَوْرَثْنَـهَا قَوْماً ءَاخَرِينَ
(Thus (it was)! And We made other people inherit them.) namely the Children of Israel.
فَمَا بَكَتْ عَلَيْهِمُ السَّمَآءُ وَالاٌّرْضُ
(And the heavens and the earth wept not for them, ) means, they had no righteous deeds which used to ascend through the gates of the heavens, which would weep for them when they died, and they had no places on earth where they used to worship Allah which would notice their loss. So they did not deserve to be given a respite, because of their disbelief, sin, transgression and stubbornness. Ibn Jarir recorded that Sa`id bin Jubayr said, "A man came to Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, and said to him: `O Abu Al-`Abbas, Allah says,
فَمَا بَكَتْ عَلَيْهِمُ السَّمَآءُ وَالاٌّرْضُ وَمَا كَانُواْ مُنظَرِينَ
(And the heavens and the earth wept not for them, nor were they given respite) -- do the heavens and the earth weep for anybody' He, may Allah be pleased with him, said, `Yes, there is no one who does not have a gate in the heavens through which his provision comes down and his good deeds ascend. When the believer dies, that gate is closed; it misses him and weeps for him, and the place of prayer on earth where he used to pray and remember Allah also weeps for him. But the people of Fir`awn left no trace of righteousness on the earth and they had no good deeds that ascended to Allah, so the heavens and the earth did not weep for them."' Al-`Awfi reported something similar from Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him.
وَلَقَدْ نَجَّيْنَا بَنِى إِسْرَءِيلَ مِنَ الْعَذَابِ الْمُهِينِ - مِن فِرْعَوْنَ إِنَّهُ كَانَ عَالِياً مِّنَ الْمُسْرِفِينَ
(And indeed We saved the Children of Israel from the humiliating torment from Fir`awn; verily, he was arrogant and was of the excessive. ) Here Allah reminds them of how He saved them from their humiliation and subjugation at the hands of Fir`awn, when they were forced to do menial tasks.
مِن فِرْعَوْنَ إِنَّهُ كَانَ عَالِياً
(From Fir`awn; verily, he was arrogant) means, he was proud and stubborn. This is like the Ayah:
إِنَّ فِرْعَوْنَ عَلاَ فِى الاٌّرْضِ
(Verily, Fir`awn exalted himself in the land) (28:4).
فَاسْتَكْبَرُواْ وَكَانُواْ قَوْماً عَـلِينَ
(but they behaved insolently and they were people self-exalting) (23:46). He was one of the excessive and held a foolish opinion of himself.
وَلَقَدِ اخْتَرْنَـهُمْ عَلَى عِلْمٍ عَلَى الْعَـلَمِينَ
(And We chose them above the nations (Al-`Alamin) with knowledge,) Mujahid said, "This means that they were chosen above those among whom they lived." Qatadah said, "They were chosen above the other people of their own time, and it was said that in every period there are people who are chosen above others." This is like the Ayah:
قَالَ يَمُوسَى إِنْى اصْطَفَيْتُكَ عَلَى النَّاسِ
((Allah) said: "O Musa I have chosen you above men.") (7:144), which means, above the people of his time. This is also like the Ayah:
وَاصْطَفَـكِ عَلَى نِسَآءِ الْعَـلَمِينَ
(and (Allah has) chosen you (Maryam) above the women of the nations (Al-`Alamin).) (3:42), i.e., Maryam was chosen above the women of her time. For Khadijah, may Allah be pleased with her, is higher than her in status or is equal to her, as was Asiyah bint Muzahim, the wife of Fir`awn. And the superiority of `A'ishah, may Allah be pleased with her, over all other women is like the superiority of Tharid over all other dishes.
وَءَاتَيْنَـهُم مِّنَ الاٌّيَـتِ
(And granted them signs) means clear proofs and extraordinary evidence.
مَا فِيهِ بَلَؤٌاْ مُّبِينٌ
(in which there was a plain trial.) means, an obvious test to show who would be guided by it.
قبطیوں کا انجام ارشاد ہوتا ہے کہ ان مشرکین سے پہلے مصر کے قبطیوں کو ہم نے جانچا ان کی طرف اپنے بزرگ رسول حضرت موسیٰ کو بھیجا انہوں نے میرا پیغام پہنچایا کہ بنی اسرائیل کو میرے ساتھ کردو انہیں دکھ نہ دو میں اپنی نبوت پر گواہی دینے والے معجزے اپنے ساتھ لایا ہوں اور ہدایت کے ماننے والے سلامتی سے رہیں گے مجھے اللہ تعالیٰ نے اپنی وحی کا امانت دار بنا کر تمہاری طرف بھیجا ہے میں تمہیں اس کا پیغام پہنچا رہا ہوں تمہیں رب کی باتوں کے ماننے سے سرکشی نہ کرنی چاہئے اس کے بیان کردہ دلائل و احکام کے سامنے سر تسلیم خم کرنا چاہئے۔ اس کی عبادتوں سے جی چرانے والے ذلیل و خوار ہو کر جہنم واصل ہوتے ہیں میں تو تمہارے سامنے کھلی دلیل اور واضح آیت رکھتا ہوں میں تمہاری بدگوئی اور اہتمام سے اللہ کی پناہ لیتا ہوں۔ ابن عباس اور ابو صالہ تو یہی کہتے ہیں اور قتادہ کہتے ہیں مراد پتھراؤ کرنا پتھروں سے مار ڈالنا ہے یعنی زبانی ایذاء سے اور دستی ایذاء سے میں اپنے رب کی جو تمہارا بھی مالک ہے پناہ چاہتا ہوں اچھا اگر تم میری نہیں مانتے مجھ پر بھروسہ نہیں کرتے اللہ پر ایمان نہیں لاتے تو کم از کم میری تکلیف دہی اور ایذاء رسانی سے تو باز رہو۔ اور اس کے منتظر رہو جب کہ خود اللہ ہم میں تم میں فیصلہ کر دے گا پھر جب اللہ کے نبی کلیم اللہ حضرت موسیٰ نے ایک لمبی مدت ان میں گذاری خوب دل کھول کھول کر تبلیغ کرلی ہر طرح کی خیر خواہی کی ان کی ہدایت کے لئے ہرچند جتن کر لئے اور دیکھا کہ وہ روز بروز اپنے کفر میں بڑھتے جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ سے انکے لئے بددعا کی جیسے اور آیت میں ہے کہ حضرت موسیٰ نے کہا اے ہمارے رب تو نے فرعون اور اس کے امراء کو دنیوی نمائش اور مال و متاع دے رکھی ہے اے اللہ یہ اس سے دوسروں کو بھی تیری راہ سے بھٹکا رہے ہیں تو ان کا مال غارت کر اور ان کے دل اور سخت کر دے تاکہ دردناک عذابوں کے معائنہ تک انہیں ایمان نصیب ہی نہ ہو اللہ کی طرف سے جواب ملا کہ اے موسیٰ اور اے ہارون میں نے تمہاری دعا قبول کرلی اب تم استقامت پر تل جاؤ یہاں فرماتا ہے کہ ہم نے موسیٰ سے کہا کہ میرے بندوں یعنی بنی اسرائیل کو راتوں رات فرعون اور فرعونیوں کی بیخبر ی میں یہاں سے لے کر چلے جاؤ۔ یہ کفار تمہارا پیچھا کریں گے لیکن تم بےخوف و خطر چلے جاؤ میں تمہارے لئے دریا کو خشک کر دوں گا اس کے بعد حضرت موسیٰ ؑ بنی اسرائیل کو لے کر چل پڑے فرعونی لشکر مع فرعون کے ان کے پکڑنے کو چلا بیچ میں دریا حائل ہوا آپ بنی اسرائیل کو لے کر اس میں اتر گئے دریا کا پانی سوکھ گیا اور آپ اپنے ساتھیوں سمیت پار ہوگئے تو چاہا کہ دریا پر لکڑی مار کر اسے کہہ دیں کہ اب تو اپنی روانی پر آجا تاکہ فرعون اس سے گزر نہ سکے وہیں اللہ نے وحی بھیجی کہ اسے اسی حال میں سکون کے ساتھ ہی رہنے دو ساتھ ہی اس کی وجہ بھی بتادی کہ یہ سب اسی میں ڈوب مریں گے۔ پھر تو تم سب بالکل ہی مطمئن اور بےخوف ہوجاؤ گے غرض حکم ہوا تھا کہ دریا کو خشک چھوڑ کر چل دیں (رھواً) کے معنی سوکھا راستہ جو اصلی حالت پر ہو۔ مقصد یہ ہے کہ پار ہو کہ دریا کو روانی کا حکم نہ دینا یہاں تک کہ دشمنوں میں سے ایک ایک اس میں آ نہ جائے اب اسے جاری ہونے کا حکم ملتے ہی سب کو غرق کر دے گا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے دیکھو کیسے غارت ہوئے۔ باغات کھتیاں نہریں مکانات اور بیٹھکیں سب چھوڑ کر فنا ہوگئے حضرت عبداللہ بن عمرو فرماتے ہیں مصر کا دریائے نیل مشرق مغرب کے دریاؤں کا سردار ہے اور سب نہریں اس کے ماتحت ہیں جب اس کی روانی اللہ کو منظور ہوتی ہیں تو تمام نہروں کو اس میں پانی پہنچانے کا حکم ہوتا ہے جہاں تک رب کو منظور ہو اس میں پانی آجاتا ہے پھر اللہ تبارک و تعالیٰ اور نہروں کو روک دیتا ہے اور حکم دیتا ہے کہ اب اپنی اپنی جگہ چلی جاؤ اور فرعونیوں کے یہ باغات دریائے نیل کے دونوں کناروں پر مسلسل چلے گئے تھے رسواں سے لے کر رشید تک اس کا سلسلہ تھا اور اس کی نو خلیجیں تھیں۔ خلیج اسکندریہ، دمیاط، خلیج سردوس، خلیج منصف، خلیج منتہی اور ان سب میں اتصال تھا ایک دوسرے سے متصل تھیں اور پہاڑوں کے دامن میں ان کی کھیتیاں تھیں جو مصر سے لے کر دریا تک برابر چلی آتی تھیں ان تمام کو بھی دریا سیراب کرتا تھا بڑے امن چین کی زندگی گذار رہے تھے لیکن مغرور ہوگئے اور آخر ساری نعمتیں یونہی چھوڑ کر تباہ کر دئیے گئے۔ مال اولاد جاہ و مال سلطنت و عزت ایک ہی رات میں چھوڑ گئے اور بھس کی طرح اڑا دئیے گئے اور گذشتہ کل کی طرح بےنشان کر دئیے گئے ایسے ڈبوئے گئے کہ ابھر نہ سکے جہنم واصل ہوگئے اور بدترین جگہ پہنچ گئے ان کی یہ تمام چیزیں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو دے دیں۔ جیسے اور آیت میں فرمایا ہے کہ ہم نے ان کمزوروں کو ان کے صبر کے بدلے اس سرکش قوم کی کل نعمتیں عطا فرمادیں اور بےایمانوں کا بھرکس نکال ڈالا یہاں بھی دوسری قوم جسے وارث بنایا اس سے مراد بھی بنی اسرائیل ہیں پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ان پر زمین و آسمان نہ روئے کیونکہ ان پاپیوں کے نیک اعمال تھے ہی نہیں جو آسمانوں پر چڑھتے ہوں اور اب ان کے نہ چڑھنے کی وجہ سے وہ افسوس کریں نہ زمین میں ان کی جگہیں ایسی تھیں کہ جہاں بیٹھ کر یہ اللہ کی عبادت کرتے ہوں اور آج انہیں نہ پا کر زمین کی وہ جگہ ان کا ماتم کرے انہیں مہلت نہ دی گئی۔ مسند ابو یعلی موصلی میں ہے ہر بندے کے لئے آسمان میں دو دروازے ہیں ایک سے اس کی روزی اترتی ہے دوسرے سے اس کے اعمال اور اس کے کلام چڑھتے ہیں۔ جب یہ مرجاتا ہے اور وہ عمل و رزق کو گم شدہ پاتے ہیں تو روتے ہیں پھر اسی آیت کی حضور ﷺ نے تلاوت کی ابن ابی حاتم میں فرمان رسول ﷺ ہے کہ اسلام غربت سے شروع ہوا اور پھر غربت پر آجائے گا یاد رکھو مومن کہیں انجام مسافر کی طرح نہیں مومن جہاں کہیں سفر میں ہوتا ہے جہاں اس کا کوئی رونے والا نہ ہو وہاں بھی اس کے رونے والے آسمان و زمین موجود ہیں پھر حضور ﷺ نے اس آیت کی تلاوت کر کے فرمایا یہ دونوں کفار پر روتے نہیں حضرت علی سے کسی نے پوچھا کہ آسمان و زمین کبھی کسی پر روئے بھی ہیں ؟ آپ نے فرمایا آج تو نے وہ بات دریافت کی ہے کہ تجھ سے پہلے مجھ سے اس کا سوال کسی نے نہیں کیا۔ سنو ہر بندے کے لئے زمین میں ایک نماز کی جگہ ہوتی ہے اور ایک جگہ آسمان میں اس کے عمل کے چڑھنے کی ہوتی ہے اور آل فرعون کے نیک اعمال ہی نہ تھے اس وجہ سے نہ زمین ان پر روئی نہ آسمان کو ان پر رونا آیا اور نہ انہیں ڈھیل دی گئی کہ کوئی نیکی بجا لاسکیں، حضرت ابن عباس سے یہ سوال ہوا تو آپ نے بھی قریب قریب یہی جواب دیا بلکہ آپ سے مروی ہے کہ چالیس دن تک زمین مومن پر روتی رہتی ہے حضرت مجاہد نے جب یہ بیان فرمایا تو کسی نے اس پر تعجب کا اظہار کیا آپ نے فرمایا سبحان اللہ اس میں تعجب کی کونسی بات ہے جو بندہ زمین کو اپنے رکوع و سجود سے آباد رکھتا تھا جس بندے کی تکبیر و تسبیح کی آوازیں آسمان برابر سنتا رہا تھا بھلا یہ دونوں اس عابد اللہ پر روئیں گے نہیں ؟ حضرت قتادہ فرماتے ہیں فرعونیوں جیسے ذلیل و خوار لوگوں پر یہ کیوں روتے ؟ حضرت ابراہیم فرماتے ہیں دنیا جب سے رچائی گئی ہے تب سے آسمان صرف دو شخصوں پر رویا ہے ان کے شاگرد سے سوال ہوا کہ کیا آسمان و زمین ہر ایمان دار پر روتے نہیں ؟ فرمایا صرف اتنا حصہ جس حصے سے اس کا نیک عمل چڑھتا تھا سنو آسمان کا رونا اس کا سرخ ہونا اور مثل نری کے گلابی ہوجانا ہے سو یہ حال صرف دو شخصوں کی شہادت پر ہوا ہے۔ حضرت یحییٰ کے قتل کے موقعے پر تو آسمان سرخ ہوگیا اور خون برسانے لگا اور دوسرے حضرت حسین کے قتل پر بھی آسمان کا رنگ سرخ ہوگیا تھا (ابن ابی حاتم) یزید ابن ابو زیاد کا قول ہے کہ قتل حسین کی وجہ سے چار ماہ تک آسمان کے کنارے سرخ رہے اور یہی سرخی اس کا رونا ہے حضرت عطا فرماتے ہیں اس کے کناروں کا سرخ ہوجانا اس کا رونا ہے یہ بھی ذکر کیا گیا ہے کہ قتل حسین کے دن جس پتھر کو الٹا جاتا تھا اس کے نیچے سے منجمند خون نکلتا تھا۔ اس دن سورج کو بھی گہن لگا ہوا تھا آسمان کے کنارے بھی سرخ تھے اور پتھر گرے تھے۔ لیکن یہ سب باتیں بےبنیاد ہیں اور شیعوں کے گھڑے ہوئے افسانے ہیں اس میں کوئی شک نہیں کہ نواسہ رسول ﷺ کی شہادت کا واقعہ نہایت درد انگیز اور حسرت و افسوس والا ہے لیکن اس پر شیعوں نے جو حاشیہ چڑھایا ہے اور گھڑ گھڑا کر جو باتیں پھیلا دی ہیں وہ محض جھوٹ اور بالکل گپ ہیں۔ خیال تو فرمائیے کہ اس سے بہت زیادہ اہم واقعات ہوئے اور قتل حسین سے بہت بڑی وارداتیں ہوئیں لیکن ان کے ہونے پر بھی آسمان و زمین وغیرہ میں یہ انقلاب نہ ہوا۔ آپ ہی کے والد ماجد حضرت علی بھی قتل کئے گئے جو بالاجماع آپ سے افضل تھے لیکن نہ تو پتھروں تلے سے خون نکلا اور کچھ ہوا۔ حضرت عثمان بن عفان کو گھیر لیا جاتا ہے اور نہایت بےدردی سے بلاوجہ ظلم و ستم کے ساتھ انہیں قتل کیا جاتا ہے فاروق اعظم حضرت عمر بن خطاب کو صبح کی نماز پڑھاتے ہوئے نماز کی جگہ ہی قتل کیا جاتا ہے یہ وہ زبردست مصیبت تھی کہ اس سے پہلے مسلمان کبھی ایسی مصیبت نہیں پہنچائے گئے تھے لیکن ان واقعات میں سے کسی واقعہ کے وقت اب میں سے ایک بھی بات نہیں جو شیعوں نے مقتل حسین کی نسبت مشہور کر رکھی ہے۔ ان سب کو بھی جانے دیجئے تمام انسانوں کے دینی اور دنیوی سردار سید البشر رسول اللہ ﷺ کو لیجئے جس روز آپ رحلت فرماتے ہیں ان میں سے کچھ بھی نہیں ہوتا اور سنئے جس روز حضور ﷺ کے صاحبزادے حضرت ابراہیم کا انتقال ہوتا ہے اتفاقاً اسی روز سورج گہن ہوتا ہے اور کوئی کہہ دیتا ہے کہ ابراہیم کے انتقال کی وجہ سورج کو گہن لگا ہے۔ تو حضور ﷺ گہن کی نماز ادا کر کے فوراً خطبے پر کھڑے ہوجاتے ہیں اور فرماتے ہیں سورج چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں کسی کی موت زندگی کی وجہ سے انہیں گہن نہیں لگتا اس کے بعد کی آیت میں اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل پر اپنا احسان جتاتا ہے کہ ہم نے انہیں فرعون جیسے متکبر حدود شکن کے ذلیل عذابوں سے نجات دی اس نے بنی اسرائیل کو پست و خوار کر رکھا تھا ذلیل خدمتیں ان سے لیتا تھا اور اپنے نفس کو تولتا رہتا تھا خودی اور خود بینی میں لگا ہوا تھا بیوقوفی سے کسی چیز کی حد بندی کا خیال نہیں کرتا تھا اللہ کی زمین میں سرکشی کئے ہوئے تھا۔ اور ان بدکاریوں میں اس کی قوم بھی اس کے ساتھ تھی پھر بنی اسرائیل پر ایک اور مہربانی کا ذکر فرما رہا ہے کہ اس زمانے کے تمام لوگوں پر انہیں فضیلت عطا فرمائی ہر زمانے کو عالم کہا جاتا ہے یہ مراد نہیں کہ تمام اگلوں پچھلوں پر انہیں بزرگی دی یہ آیت بھی اس آیت کی طرح ہے جس میں فرمان ہے آیت (قَالَ يٰمُوْسٰٓي اِنِّى اصْطَفَيْتُكَ عَلَي النَّاسِ بِرِسٰلٰتِيْ وَبِكَلَامِيْ ڮ فَخُذْ مَآ اٰتَيْتُكَ وَكُنْ مِّنَ الشّٰكِرِيْنَ01404) 7۔ الاعراف :144) اس سے بھی یہی مطلب ہے کہ اس زمانے کی تمام عورتوں پر آپ کو فضیلت ہے اس لئے کہ ام المومنین حضرت خدیجہ ان سے یقینا افضل ہیں یا کم ازکم برابر۔ اسی طرح حضرت آسیہ بنت مزاحم جو فرعون کی بیوی تھیں اور ام المومنین حضرت عائشہ کی فضیلت تمام عورتوں پر ایسی ہے جیسی فضیلت شوربے میں بھگوئی روٹی کی اور کھانوں پر پھر بنی اسرائیل پر ایک اور احسان بیان ہو رہا ہے کہ ہم نے انہیں وہ حجت وبرہان دلیل و نشان اور معجزات و کرامات عطا فرمائے جن میں ہدایت کی تلاش کرنے والوں کے لئے صاف صاف امتحان تھا۔
33
View Single
وَءَاتَيۡنَٰهُم مِّنَ ٱلۡأٓيَٰتِ مَا فِيهِ بَلَـٰٓؤٞاْ مُّبِينٌ
And We gave them signs in which lay clear favours.
اور ہم نے انہیں وہ نشانیاں عطا فرمائیں جن میں ظاہری نعمت (اور صریح آزمائش) تھی
Tafsir Ibn Kathir
The Story of Musa and Fir`awn, and how the Children of Israel were saved
Allah tells us, `before these idolators, We tested the people of Fir`awn, the copts of Egypt.'
وَجَآءَهُمْ رَسُولٌ كَرِيمٌ
(when there came to them a noble Messenger.) means, Musa, peace be upon him, the one to whom Allah spoke.
أَنْ أَدُّواْ إِلَىَّ عِبَادَ اللَّهِ
(Deliver to me the servants of Allah.) This is like the Ayah:
فَأَرْسِلْ مَعَنَا بَنِى إِسْرَءِيلَ وَلاَ تُعَذِّبْهُمْ قَدْ جِئْنَـكَ بِـَايَةٍ مِّن رَّبِّكَ وَالسَّلَـمُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى
(So let the Children of Israel go with us, and torment them not; indeed, we have come with a sign from your Lord! And peace will be upon him who follows the guidance!") (20:47)
إِنِّي لَكُمْ رَسُولٌ أَمِينٌ
(Verily, I am to you a Messenger worthy of all trust.) means, `what I convey to you is trustworthy.'
وَأَن لاَّ تَعْلُواْ عَلَى اللَّهِ
(And exalt not yourselves against Allah.) means, `and do not be too arrogant to follow His signs. Accept His proof and believe in His evidence.' This is like the Ayah:
إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِى سَيَدْخُلُونَ جَهَنَّمَ دَخِرِينَ
(Verily, those who scorn My worship they will surely enter Hell in humiliation!) (40:60)
إِنِّى ءَاتِيكُمْ بِسُلْطَانٍ مُّبِينٍ
(Truly, I have come to you with a manifest authority.) means, with clear and obvious proof. This refers to the clear signs and definitive evidence with which Allah sent him.
وَإِنِّى عُذْتُ بِرَبِّى وَرَبِّكُمْ أَن تَرْجُمُونِ
(And truly, I seek refuge with my Lord and your Lord, lest you should stone me.) Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, and Abu Salih said, "This refers to a verbal assault, which means insults." Qatadah said, "Meaning `stoning' in the literal sense, so that the meaning is: `I seek refuge with Allah, Who created me and you, from your making any harmful words or actions reach me."'
وَإِن لَّمْ تُؤْمِنُواْ لِى فَاعْتَزِلُونِ
(But if you believe me not, then keep away from me and leave me alone.) means, `then let us leave one another alone and live in peace until Allah judges between us.' After Musa, may Allah be pleased with him, had stayed among them for a long time, and the proof of Allah had been established against them, and that only increased them in disbelief and stubbornness, he prayed to his Lord against them, a prayer which was answered. Allah says:
وَقَالَ مُوسَى رَبَّنَآ إِنَّكَ ءاتَيْتَ فِرْعَوْنَ وَمَلاّهُ زِينَةً وَأَمْوَالاً فِى الْحَيَوةِ الدُّنْيَا رَبَّنَا لِيُضِلُّواْ عَن سَبِيلِكَ رَبَّنَا اطْمِسْ عَلَى أَمْوَلِهِمْ وَاشْدُدْ عَلَى قُلُوبِهِمْ فَلاَ يُؤْمِنُواْ حَتَّى يَرَوُاْ الْعَذَابَ الاٌّلِيمَ قَالَ قَدْ أُجِيبَتْ دَّعْوَتُكُمَا فَاسْتَقِيمَا
(And Musa said: "Our Lord! You have indeed bestowed on Fir`awn and his chiefs splendor and wealth in the life of this world, our Lord! That they may lead men astray from Your path. Our Lord! Destroy their wealth, and harden their hearts, so that they will not believe until they see the painful torment." Allah said: "Verily, the invocation of you both is accepted. So you both keep to the straight way.") (10:88-89) And Allah says here:
فَدَعَا رَبَّهُ أَنَّ هَـؤُلاَءِ قَوْمٌ مُّجْرِمُونَ
(So he (Musa) called upon his Lord (saying): "These are indeed the people who are criminals.") Whereupon Allah commanded him to bring the Children of Israel out from among them, without the command, consent or permission of Fir`awn. Allah said:
فَأَسْرِ بِعِبَادِى لَيْلاً إِنَّكُم مُّتَّبَعُونَ
(Depart you with My servants by night. Surely, you will be pursued.) This is like the Ayah:
وَلَقَدْ أَوْحَيْنَآ إِلَى مُوسَى أَنْ أَسْرِ بِعِبَادِى فَاضْرِبْ لَهُمْ طَرِيقاً فِى الْبَحْرِ يَبَساً لاَّ تَخَافُ دَرَكاً وَلاَ تَخْشَى
And indeed We revealed to Mu0sa0 (saying): Travel by night with My servants and strike a dry path for them in the sea, fearing neither to be overtaken nor being afraid (of drowning in the sea). )20:77(
وَاتْرُكِ الْبَحْرَ رَهْواً إِنَّهُمْ جُندٌ مُّغْرَقُونَ
(And leave the sea as it is (quiet and divided). Verily, they are a host to be drowned.) When Musa and the Children of Israel has crossed the sea, Musa wanted to strike it with his staff so that it would go back as it had been, and it would form a barrier between then and Fir`awn and prevent him from reaching them. But Allah commanded him to leave it as it was, quiet and divided, and gave him the glad tidings that they were a host to be drowned, and that he should not fear either being overtaken by Fir`awn or drowning in the sea. Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, said:
وَاتْرُكِ الْبَحْرَ رَهْواً
(And leave the sea as it is (quiet and divided).) means, leave it as it is and keep moving. Mujahid said:
رَهْواً
(as it is) means, a dry path, as it is. `Do not command it to go back; leave it until the last of them have entered it.' This was also the view of `Ikrimah, Ar-Rabi` bin Anas, Ad-Dahhak, Qatadah, Ibn Zayd, Ka`b Al-Ahbar, Simak bin Harb and others.
كَمْ تَرَكُواْ مِن جَنَّـتٍ وَعُيُونٍ وَزُرُوعٍ
(How many of gardens and springs that they left behind. And green crops) this refers to rivers and wells.
وَمَقَامٍ كَرِيمٍ
and goodly places, means, fine dwellings and beautiful places. Muja0hid and Sa 0d bin Jubayr said:
وَمَقَامٍ كَرِيمٍ
(and goodly places,) means elevated places.
وَنَعْمَةٍ كَانُواْ فِيهَا فَـكِهِينَ
(And comforts of life wherein they used to take delight!) means, a life which they were enjoying, where they could eat whatever they wanted and wear what they liked, with wealth and glory and power in the land. Then all of that was taken away in a single morning, they departed from this world and went to Hell, what a terrible abode!
كَذَلِكَ وَأَوْرَثْنَـهَا قَوْماً ءَاخَرِينَ
(Thus (it was)! And We made other people inherit them.) namely the Children of Israel.
فَمَا بَكَتْ عَلَيْهِمُ السَّمَآءُ وَالاٌّرْضُ
(And the heavens and the earth wept not for them, ) means, they had no righteous deeds which used to ascend through the gates of the heavens, which would weep for them when they died, and they had no places on earth where they used to worship Allah which would notice their loss. So they did not deserve to be given a respite, because of their disbelief, sin, transgression and stubbornness. Ibn Jarir recorded that Sa`id bin Jubayr said, "A man came to Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, and said to him: `O Abu Al-`Abbas, Allah says,
فَمَا بَكَتْ عَلَيْهِمُ السَّمَآءُ وَالاٌّرْضُ وَمَا كَانُواْ مُنظَرِينَ
(And the heavens and the earth wept not for them, nor were they given respite) -- do the heavens and the earth weep for anybody' He, may Allah be pleased with him, said, `Yes, there is no one who does not have a gate in the heavens through which his provision comes down and his good deeds ascend. When the believer dies, that gate is closed; it misses him and weeps for him, and the place of prayer on earth where he used to pray and remember Allah also weeps for him. But the people of Fir`awn left no trace of righteousness on the earth and they had no good deeds that ascended to Allah, so the heavens and the earth did not weep for them."' Al-`Awfi reported something similar from Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him.
وَلَقَدْ نَجَّيْنَا بَنِى إِسْرَءِيلَ مِنَ الْعَذَابِ الْمُهِينِ - مِن فِرْعَوْنَ إِنَّهُ كَانَ عَالِياً مِّنَ الْمُسْرِفِينَ
(And indeed We saved the Children of Israel from the humiliating torment from Fir`awn; verily, he was arrogant and was of the excessive. ) Here Allah reminds them of how He saved them from their humiliation and subjugation at the hands of Fir`awn, when they were forced to do menial tasks.
مِن فِرْعَوْنَ إِنَّهُ كَانَ عَالِياً
(From Fir`awn; verily, he was arrogant) means, he was proud and stubborn. This is like the Ayah:
إِنَّ فِرْعَوْنَ عَلاَ فِى الاٌّرْضِ
(Verily, Fir`awn exalted himself in the land) (28:4).
فَاسْتَكْبَرُواْ وَكَانُواْ قَوْماً عَـلِينَ
(but they behaved insolently and they were people self-exalting) (23:46). He was one of the excessive and held a foolish opinion of himself.
وَلَقَدِ اخْتَرْنَـهُمْ عَلَى عِلْمٍ عَلَى الْعَـلَمِينَ
(And We chose them above the nations (Al-`Alamin) with knowledge,) Mujahid said, "This means that they were chosen above those among whom they lived." Qatadah said, "They were chosen above the other people of their own time, and it was said that in every period there are people who are chosen above others." This is like the Ayah:
قَالَ يَمُوسَى إِنْى اصْطَفَيْتُكَ عَلَى النَّاسِ
((Allah) said: "O Musa I have chosen you above men.") (7:144), which means, above the people of his time. This is also like the Ayah:
وَاصْطَفَـكِ عَلَى نِسَآءِ الْعَـلَمِينَ
(and (Allah has) chosen you (Maryam) above the women of the nations (Al-`Alamin).) (3:42), i.e., Maryam was chosen above the women of her time. For Khadijah, may Allah be pleased with her, is higher than her in status or is equal to her, as was Asiyah bint Muzahim, the wife of Fir`awn. And the superiority of `A'ishah, may Allah be pleased with her, over all other women is like the superiority of Tharid over all other dishes.
وَءَاتَيْنَـهُم مِّنَ الاٌّيَـتِ
(And granted them signs) means clear proofs and extraordinary evidence.
مَا فِيهِ بَلَؤٌاْ مُّبِينٌ
(in which there was a plain trial.) means, an obvious test to show who would be guided by it.
قبطیوں کا انجام ارشاد ہوتا ہے کہ ان مشرکین سے پہلے مصر کے قبطیوں کو ہم نے جانچا ان کی طرف اپنے بزرگ رسول حضرت موسیٰ کو بھیجا انہوں نے میرا پیغام پہنچایا کہ بنی اسرائیل کو میرے ساتھ کردو انہیں دکھ نہ دو میں اپنی نبوت پر گواہی دینے والے معجزے اپنے ساتھ لایا ہوں اور ہدایت کے ماننے والے سلامتی سے رہیں گے مجھے اللہ تعالیٰ نے اپنی وحی کا امانت دار بنا کر تمہاری طرف بھیجا ہے میں تمہیں اس کا پیغام پہنچا رہا ہوں تمہیں رب کی باتوں کے ماننے سے سرکشی نہ کرنی چاہئے اس کے بیان کردہ دلائل و احکام کے سامنے سر تسلیم خم کرنا چاہئے۔ اس کی عبادتوں سے جی چرانے والے ذلیل و خوار ہو کر جہنم واصل ہوتے ہیں میں تو تمہارے سامنے کھلی دلیل اور واضح آیت رکھتا ہوں میں تمہاری بدگوئی اور اہتمام سے اللہ کی پناہ لیتا ہوں۔ ابن عباس اور ابو صالہ تو یہی کہتے ہیں اور قتادہ کہتے ہیں مراد پتھراؤ کرنا پتھروں سے مار ڈالنا ہے یعنی زبانی ایذاء سے اور دستی ایذاء سے میں اپنے رب کی جو تمہارا بھی مالک ہے پناہ چاہتا ہوں اچھا اگر تم میری نہیں مانتے مجھ پر بھروسہ نہیں کرتے اللہ پر ایمان نہیں لاتے تو کم از کم میری تکلیف دہی اور ایذاء رسانی سے تو باز رہو۔ اور اس کے منتظر رہو جب کہ خود اللہ ہم میں تم میں فیصلہ کر دے گا پھر جب اللہ کے نبی کلیم اللہ حضرت موسیٰ نے ایک لمبی مدت ان میں گذاری خوب دل کھول کھول کر تبلیغ کرلی ہر طرح کی خیر خواہی کی ان کی ہدایت کے لئے ہرچند جتن کر لئے اور دیکھا کہ وہ روز بروز اپنے کفر میں بڑھتے جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ سے انکے لئے بددعا کی جیسے اور آیت میں ہے کہ حضرت موسیٰ نے کہا اے ہمارے رب تو نے فرعون اور اس کے امراء کو دنیوی نمائش اور مال و متاع دے رکھی ہے اے اللہ یہ اس سے دوسروں کو بھی تیری راہ سے بھٹکا رہے ہیں تو ان کا مال غارت کر اور ان کے دل اور سخت کر دے تاکہ دردناک عذابوں کے معائنہ تک انہیں ایمان نصیب ہی نہ ہو اللہ کی طرف سے جواب ملا کہ اے موسیٰ اور اے ہارون میں نے تمہاری دعا قبول کرلی اب تم استقامت پر تل جاؤ یہاں فرماتا ہے کہ ہم نے موسیٰ سے کہا کہ میرے بندوں یعنی بنی اسرائیل کو راتوں رات فرعون اور فرعونیوں کی بیخبر ی میں یہاں سے لے کر چلے جاؤ۔ یہ کفار تمہارا پیچھا کریں گے لیکن تم بےخوف و خطر چلے جاؤ میں تمہارے لئے دریا کو خشک کر دوں گا اس کے بعد حضرت موسیٰ ؑ بنی اسرائیل کو لے کر چل پڑے فرعونی لشکر مع فرعون کے ان کے پکڑنے کو چلا بیچ میں دریا حائل ہوا آپ بنی اسرائیل کو لے کر اس میں اتر گئے دریا کا پانی سوکھ گیا اور آپ اپنے ساتھیوں سمیت پار ہوگئے تو چاہا کہ دریا پر لکڑی مار کر اسے کہہ دیں کہ اب تو اپنی روانی پر آجا تاکہ فرعون اس سے گزر نہ سکے وہیں اللہ نے وحی بھیجی کہ اسے اسی حال میں سکون کے ساتھ ہی رہنے دو ساتھ ہی اس کی وجہ بھی بتادی کہ یہ سب اسی میں ڈوب مریں گے۔ پھر تو تم سب بالکل ہی مطمئن اور بےخوف ہوجاؤ گے غرض حکم ہوا تھا کہ دریا کو خشک چھوڑ کر چل دیں (رھواً) کے معنی سوکھا راستہ جو اصلی حالت پر ہو۔ مقصد یہ ہے کہ پار ہو کہ دریا کو روانی کا حکم نہ دینا یہاں تک کہ دشمنوں میں سے ایک ایک اس میں آ نہ جائے اب اسے جاری ہونے کا حکم ملتے ہی سب کو غرق کر دے گا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے دیکھو کیسے غارت ہوئے۔ باغات کھتیاں نہریں مکانات اور بیٹھکیں سب چھوڑ کر فنا ہوگئے حضرت عبداللہ بن عمرو فرماتے ہیں مصر کا دریائے نیل مشرق مغرب کے دریاؤں کا سردار ہے اور سب نہریں اس کے ماتحت ہیں جب اس کی روانی اللہ کو منظور ہوتی ہیں تو تمام نہروں کو اس میں پانی پہنچانے کا حکم ہوتا ہے جہاں تک رب کو منظور ہو اس میں پانی آجاتا ہے پھر اللہ تبارک و تعالیٰ اور نہروں کو روک دیتا ہے اور حکم دیتا ہے کہ اب اپنی اپنی جگہ چلی جاؤ اور فرعونیوں کے یہ باغات دریائے نیل کے دونوں کناروں پر مسلسل چلے گئے تھے رسواں سے لے کر رشید تک اس کا سلسلہ تھا اور اس کی نو خلیجیں تھیں۔ خلیج اسکندریہ، دمیاط، خلیج سردوس، خلیج منصف، خلیج منتہی اور ان سب میں اتصال تھا ایک دوسرے سے متصل تھیں اور پہاڑوں کے دامن میں ان کی کھیتیاں تھیں جو مصر سے لے کر دریا تک برابر چلی آتی تھیں ان تمام کو بھی دریا سیراب کرتا تھا بڑے امن چین کی زندگی گذار رہے تھے لیکن مغرور ہوگئے اور آخر ساری نعمتیں یونہی چھوڑ کر تباہ کر دئیے گئے۔ مال اولاد جاہ و مال سلطنت و عزت ایک ہی رات میں چھوڑ گئے اور بھس کی طرح اڑا دئیے گئے اور گذشتہ کل کی طرح بےنشان کر دئیے گئے ایسے ڈبوئے گئے کہ ابھر نہ سکے جہنم واصل ہوگئے اور بدترین جگہ پہنچ گئے ان کی یہ تمام چیزیں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو دے دیں۔ جیسے اور آیت میں فرمایا ہے کہ ہم نے ان کمزوروں کو ان کے صبر کے بدلے اس سرکش قوم کی کل نعمتیں عطا فرمادیں اور بےایمانوں کا بھرکس نکال ڈالا یہاں بھی دوسری قوم جسے وارث بنایا اس سے مراد بھی بنی اسرائیل ہیں پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ان پر زمین و آسمان نہ روئے کیونکہ ان پاپیوں کے نیک اعمال تھے ہی نہیں جو آسمانوں پر چڑھتے ہوں اور اب ان کے نہ چڑھنے کی وجہ سے وہ افسوس کریں نہ زمین میں ان کی جگہیں ایسی تھیں کہ جہاں بیٹھ کر یہ اللہ کی عبادت کرتے ہوں اور آج انہیں نہ پا کر زمین کی وہ جگہ ان کا ماتم کرے انہیں مہلت نہ دی گئی۔ مسند ابو یعلی موصلی میں ہے ہر بندے کے لئے آسمان میں دو دروازے ہیں ایک سے اس کی روزی اترتی ہے دوسرے سے اس کے اعمال اور اس کے کلام چڑھتے ہیں۔ جب یہ مرجاتا ہے اور وہ عمل و رزق کو گم شدہ پاتے ہیں تو روتے ہیں پھر اسی آیت کی حضور ﷺ نے تلاوت کی ابن ابی حاتم میں فرمان رسول ﷺ ہے کہ اسلام غربت سے شروع ہوا اور پھر غربت پر آجائے گا یاد رکھو مومن کہیں انجام مسافر کی طرح نہیں مومن جہاں کہیں سفر میں ہوتا ہے جہاں اس کا کوئی رونے والا نہ ہو وہاں بھی اس کے رونے والے آسمان و زمین موجود ہیں پھر حضور ﷺ نے اس آیت کی تلاوت کر کے فرمایا یہ دونوں کفار پر روتے نہیں حضرت علی سے کسی نے پوچھا کہ آسمان و زمین کبھی کسی پر روئے بھی ہیں ؟ آپ نے فرمایا آج تو نے وہ بات دریافت کی ہے کہ تجھ سے پہلے مجھ سے اس کا سوال کسی نے نہیں کیا۔ سنو ہر بندے کے لئے زمین میں ایک نماز کی جگہ ہوتی ہے اور ایک جگہ آسمان میں اس کے عمل کے چڑھنے کی ہوتی ہے اور آل فرعون کے نیک اعمال ہی نہ تھے اس وجہ سے نہ زمین ان پر روئی نہ آسمان کو ان پر رونا آیا اور نہ انہیں ڈھیل دی گئی کہ کوئی نیکی بجا لاسکیں، حضرت ابن عباس سے یہ سوال ہوا تو آپ نے بھی قریب قریب یہی جواب دیا بلکہ آپ سے مروی ہے کہ چالیس دن تک زمین مومن پر روتی رہتی ہے حضرت مجاہد نے جب یہ بیان فرمایا تو کسی نے اس پر تعجب کا اظہار کیا آپ نے فرمایا سبحان اللہ اس میں تعجب کی کونسی بات ہے جو بندہ زمین کو اپنے رکوع و سجود سے آباد رکھتا تھا جس بندے کی تکبیر و تسبیح کی آوازیں آسمان برابر سنتا رہا تھا بھلا یہ دونوں اس عابد اللہ پر روئیں گے نہیں ؟ حضرت قتادہ فرماتے ہیں فرعونیوں جیسے ذلیل و خوار لوگوں پر یہ کیوں روتے ؟ حضرت ابراہیم فرماتے ہیں دنیا جب سے رچائی گئی ہے تب سے آسمان صرف دو شخصوں پر رویا ہے ان کے شاگرد سے سوال ہوا کہ کیا آسمان و زمین ہر ایمان دار پر روتے نہیں ؟ فرمایا صرف اتنا حصہ جس حصے سے اس کا نیک عمل چڑھتا تھا سنو آسمان کا رونا اس کا سرخ ہونا اور مثل نری کے گلابی ہوجانا ہے سو یہ حال صرف دو شخصوں کی شہادت پر ہوا ہے۔ حضرت یحییٰ کے قتل کے موقعے پر تو آسمان سرخ ہوگیا اور خون برسانے لگا اور دوسرے حضرت حسین کے قتل پر بھی آسمان کا رنگ سرخ ہوگیا تھا (ابن ابی حاتم) یزید ابن ابو زیاد کا قول ہے کہ قتل حسین کی وجہ سے چار ماہ تک آسمان کے کنارے سرخ رہے اور یہی سرخی اس کا رونا ہے حضرت عطا فرماتے ہیں اس کے کناروں کا سرخ ہوجانا اس کا رونا ہے یہ بھی ذکر کیا گیا ہے کہ قتل حسین کے دن جس پتھر کو الٹا جاتا تھا اس کے نیچے سے منجمند خون نکلتا تھا۔ اس دن سورج کو بھی گہن لگا ہوا تھا آسمان کے کنارے بھی سرخ تھے اور پتھر گرے تھے۔ لیکن یہ سب باتیں بےبنیاد ہیں اور شیعوں کے گھڑے ہوئے افسانے ہیں اس میں کوئی شک نہیں کہ نواسہ رسول ﷺ کی شہادت کا واقعہ نہایت درد انگیز اور حسرت و افسوس والا ہے لیکن اس پر شیعوں نے جو حاشیہ چڑھایا ہے اور گھڑ گھڑا کر جو باتیں پھیلا دی ہیں وہ محض جھوٹ اور بالکل گپ ہیں۔ خیال تو فرمائیے کہ اس سے بہت زیادہ اہم واقعات ہوئے اور قتل حسین سے بہت بڑی وارداتیں ہوئیں لیکن ان کے ہونے پر بھی آسمان و زمین وغیرہ میں یہ انقلاب نہ ہوا۔ آپ ہی کے والد ماجد حضرت علی بھی قتل کئے گئے جو بالاجماع آپ سے افضل تھے لیکن نہ تو پتھروں تلے سے خون نکلا اور کچھ ہوا۔ حضرت عثمان بن عفان کو گھیر لیا جاتا ہے اور نہایت بےدردی سے بلاوجہ ظلم و ستم کے ساتھ انہیں قتل کیا جاتا ہے فاروق اعظم حضرت عمر بن خطاب کو صبح کی نماز پڑھاتے ہوئے نماز کی جگہ ہی قتل کیا جاتا ہے یہ وہ زبردست مصیبت تھی کہ اس سے پہلے مسلمان کبھی ایسی مصیبت نہیں پہنچائے گئے تھے لیکن ان واقعات میں سے کسی واقعہ کے وقت اب میں سے ایک بھی بات نہیں جو شیعوں نے مقتل حسین کی نسبت مشہور کر رکھی ہے۔ ان سب کو بھی جانے دیجئے تمام انسانوں کے دینی اور دنیوی سردار سید البشر رسول اللہ ﷺ کو لیجئے جس روز آپ رحلت فرماتے ہیں ان میں سے کچھ بھی نہیں ہوتا اور سنئے جس روز حضور ﷺ کے صاحبزادے حضرت ابراہیم کا انتقال ہوتا ہے اتفاقاً اسی روز سورج گہن ہوتا ہے اور کوئی کہہ دیتا ہے کہ ابراہیم کے انتقال کی وجہ سورج کو گہن لگا ہے۔ تو حضور ﷺ گہن کی نماز ادا کر کے فوراً خطبے پر کھڑے ہوجاتے ہیں اور فرماتے ہیں سورج چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں کسی کی موت زندگی کی وجہ سے انہیں گہن نہیں لگتا اس کے بعد کی آیت میں اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل پر اپنا احسان جتاتا ہے کہ ہم نے انہیں فرعون جیسے متکبر حدود شکن کے ذلیل عذابوں سے نجات دی اس نے بنی اسرائیل کو پست و خوار کر رکھا تھا ذلیل خدمتیں ان سے لیتا تھا اور اپنے نفس کو تولتا رہتا تھا خودی اور خود بینی میں لگا ہوا تھا بیوقوفی سے کسی چیز کی حد بندی کا خیال نہیں کرتا تھا اللہ کی زمین میں سرکشی کئے ہوئے تھا۔ اور ان بدکاریوں میں اس کی قوم بھی اس کے ساتھ تھی پھر بنی اسرائیل پر ایک اور مہربانی کا ذکر فرما رہا ہے کہ اس زمانے کے تمام لوگوں پر انہیں فضیلت عطا فرمائی ہر زمانے کو عالم کہا جاتا ہے یہ مراد نہیں کہ تمام اگلوں پچھلوں پر انہیں بزرگی دی یہ آیت بھی اس آیت کی طرح ہے جس میں فرمان ہے آیت (قَالَ يٰمُوْسٰٓي اِنِّى اصْطَفَيْتُكَ عَلَي النَّاسِ بِرِسٰلٰتِيْ وَبِكَلَامِيْ ڮ فَخُذْ مَآ اٰتَيْتُكَ وَكُنْ مِّنَ الشّٰكِرِيْنَ01404) 7۔ الاعراف :144) اس سے بھی یہی مطلب ہے کہ اس زمانے کی تمام عورتوں پر آپ کو فضیلت ہے اس لئے کہ ام المومنین حضرت خدیجہ ان سے یقینا افضل ہیں یا کم ازکم برابر۔ اسی طرح حضرت آسیہ بنت مزاحم جو فرعون کی بیوی تھیں اور ام المومنین حضرت عائشہ کی فضیلت تمام عورتوں پر ایسی ہے جیسی فضیلت شوربے میں بھگوئی روٹی کی اور کھانوں پر پھر بنی اسرائیل پر ایک اور احسان بیان ہو رہا ہے کہ ہم نے انہیں وہ حجت وبرہان دلیل و نشان اور معجزات و کرامات عطا فرمائے جن میں ہدایت کی تلاش کرنے والوں کے لئے صاف صاف امتحان تھا۔
34
View Single
إِنَّ هَـٰٓؤُلَآءِ لَيَقُولُونَ
Indeed these disbelievers proclaim; –
بیشک وہ لوگ کہتے ہیں
Tafsir Ibn Kathir
Refutation of Those Who deny the Resurrection
Here Allah denounces the idolators for their denial of the Resurrection and their belief that there is nothing after this life and no life or resurrection after death, which they based on the fact that their forefathers had died and had not returned. They said, If the resurrection is true,
فَأْتُواْ بِـَابَآئِنَا إِن كُنتُمْ صَـدِقِينَ
(Then bring back our forefathers, if you speak the truth!) This is false evidence and a specious argument, for the resurrection will happen on the Day of Judgement, not in this world; it will happen when this world has ended and ceased to be. Allah will bring all creatures back, created anew. He will make the evildoers fuel for the fire of Hell, and on that Day you will be witnesses over mankind and the Messenger will be a witness over you. Then Allah threatens them and warns them of the irresistible torment other idolators like who denied the resurrection, suffered. Such as the people of Tubba`, i.e., Saba'. Allah destroyed them, wreaked havoc upon their land and scattered them here and there throughout the land, as we have already seen in Surah Saba'. This was brought about because the idolators denied the Resurrection. Here too, the idolaters are compared to them. They Tubba` were Arab descendants of Qahtan, just as these people (Quraysh) were Arab descendants of `Adnan. Among the people of Himyar -- who are also known as Saba' -- when a man became their king, they called him Tubba`, just as the title Chosroes was given to the king of Persia, Caesar to the king of the Romans, Fir`awn to the disbelieving ruler of Egypt, Negus to the king of Ethiopia, and so on among other nations. But it so happened that one of the Tubba` left Yemen and went on a journey of conquest until he reached Samarqand, expanding his kingdom and domain. He is the one who founded Al-Hirah. It is agreed that he passed through Al-Madinah during the days of Jahiliyyah. He fought its inhabitants but they resisted him; they fought him by day and supplied him with food by night, so he felt ashamed before them and refrained from harming them. He was accompanied by two Jewish rabbis who advised him and told him that he would never prevail over this city, for it would be the place to which a Prophet would migrate towards the end of time. So he retreated and took them (the two rabbis) with him to Yemen. When he passed by Makkah, he wanted to destroy the Ka`bah, but they told him not to do that either. They told him about the significance of this House, that it had been built by Ibrahim Al-Khalil, peace be upon him, and that it would become of great importance through that Prophet who would be sent towards the end of time. So he respected it, performed Tawaf around it, and covered it with a fine cloth. Then he returned to Yemen and invited its people to follow the religion of guidance along with him. At that time, the religion of Musa, peace be upon him, was the religion followed by those who were guided, before the coming of the Messiah, peace be upon him. So the people of Yemen accepted the religion of guidance along with him. `Abdur-Razzaq recorded that Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, said, "The Messenger of Allah ﷺ said:
«مَا أَدْرِي تُبَّعٌ نَبِيًّا كَانَ، أَمْ غَيْرَ نَبِي»
(I do not know whether Tubba` was a Prophet or not.) It was narrated that Tamim bin `Abdur-Rahman said: " `Ata' bin Abi Rabah said, `Do not revile Tubba`, for the Messenger of Allah ﷺ forbade reviling him."' And Allah knows best.
شہنشاہ تبع کی کہانی یہاں مشرکین کا انکار قیامت اور اس کی دلیل بیان فرما کر اللہ تعالیٰ اس کی تردید کرتا ہے ان کا خیال تھا کہ قیامت آنی نہیں مرنے کے بعد جینا نہیں۔ حشر اور نشر سب غلط ہے دلیل یہ پیش کرتے تھے کہ ہمارے باپ دادا مرگئے وہ کیوں دوبارہ جی کر نہیں آئے ؟ خیال کیجئے یہ کس قدر بودی اور بےہودہ دلیل ہے دوبارہ اٹھ کھڑا ہونا مرنے کے بعد جینا قیامت کو ہوگا نہ کہ دنیا میں پھر لوٹ کر آئیں گے۔ اس دن یہ ظالم جہنم کا ایندھن بنیں گے اس وقت یہ امت اگلی امتوں پر گواہی دے گی اور ان پر انکے نبی ﷺ گواہی دیں گے پھر اللہ تعالیٰ انہیں ڈرا رہا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہمارے جو عذاب اسی جرم پر اگلی قوموں پر آئے وہ تم پر بھی آجائیں اور ان کی طرح بےنام و نشان کر دئیے جاؤ۔ ان کے واقعات سورة سبا میں گذر چکے ہیں وہ لوگ بھی قحطان کے عرب تھے جیسے یہ عدنان کے عرب ہیں حمیر جو سبا کے تھے وہ اپنے بادشاہ کو تبع کہتے تھے جیسے فارس کے بادشاہ کو کسریٰ اور روم کے ہر بادشاہ کو قیصر اور مصر کے ہر بادشاہ کو فرعون اور حبشہ کے ہر بادشاہ کو نجاشی کہا جاتا ہے۔ ان میں سے ایک تبع یمن سے نکلا اور زمین پھرتا رہا سمرقند پہنچ گیا ہر جگہ کے بادشاہوں کو شکست دیتا رہا اور اپنا بہت بڑا ملک کرلیا زبردست لشکر اور بیشمار رعایا اس کے ماتحت تھی اس نے حیرہ نامی بستی بسائی یہ اپنے زمانے میں مدینے میں بھی آیا تھا اور یہاں کے باشندوں سے بھی لڑا لیکن اسے لوگوں نے اس سے روکا خود اہل مدینہ کا بھی اس سے یہ سلوک رہا کہ دن کو تو لڑتے تھے اور رات کو انکی مہمان داری کرتے تھے آخر اس کو بھی لحاظ آگیا اور لڑائی بند کردی اس کے ساتھ یہاں کے دو یہودی عالم ہوگئے تھے جو حضرت موسیٰ کے سچے دین کے عامل بھی تھے وہ اسے ہر وقت بھلائی برائی سمجھاتے رہتے تھے انہوں نے کہا کہ آپ مدینے کو تاخت و تاراج نہیں کرسکتے کیونکہ یہ آخر زمانے کے پیغمبر ﷺ کی ہجرت کی جگہ ہے۔ پس یہاں سے لوٹ گیا اور ان دونوں عالموں کو اپنے ساتھ لیتا چلا جب یہ مکہ پہنچا تو اس نے بیت اللہ کو گرانا چاہا لیکن ان دونوں عالموں نے اسے روکا اور اس پاک گھر کی عظمت و حرمت بیان کی اور کہا کہ اس کے بانی خلیل اللہ حضرت ابراہیم ہیں۔ اور اس نبی آخر الزمان کے ہاتھوں پھر اس کی اصلی عظمت آشکارا ہوجائے گی۔ چناچہ یہ اپنے ارادے سے باز آیا بلکہ بیت اللہ کی بڑی تعظیم و تکریم کی طواف کیا غلاف چڑھایا اور یہاں سے یمن واپس چلا گیا۔ خود حضرت موسیٰ کے دین میں داخل ہوا اور تمام یمن میں یہی دین پھیلایا اس وقت تک حضرت مسیح کا ظہور نہیں ہوا تھا اور اس زمانے والوں کے لئے یہی سچا دین تھا۔ اس طرح کے واقعات بہت تفصیل سے سیرۃ ابن اسحاق میں موجود ہیں۔ اور حافظ ابن عساکر بھی اپنی کتاب میں بہت تفصیل کے ساتھ لائے ہیں اس میں ہے کہ اس کا پائے تخت دمشق میں تھا اس کے لشکروں کی صفیں دمشق سے لے کر یمن تک پہنچتی تھیں۔ ایک حدیث میں ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں۔ میں نہیں جان سکا کہ حد لگنے سے گناہ کا کفارہ ہوجاتا ہے یا نہیں ؟ اور نہ مجھے یہ معلوم ہے کہ تبع ملعون تھا یا نہیں ؟ اور نہ مجھے یہ خبر ہے کہ ذوالقرنین نبی تھے یا بادشاہ اور روایت میں ہے کہ یہ بھی فرمایا حضرت عزیر پیغمبر تھے یا نہیں ؟ (ابن ابی حاتم) دار قطنی فرماتے ہیں اس حدیث کی روایت صرف عبدالرزاق سے ہی ہے اور سند سے مروی ہے کہ حضرت عزیر کا نبی ہونا مجھے معلوم نہیں نہ میں یہ جانتا ہوں کہ تبع پر لعنت کروں یا نہیں ؟ اسے وارد کرنے کے بعد حافظ ابن عساکر نے وہ روایتیں درج کی ہیں جن میں تبع کو گالی دینے اور لعنت کرنے سے ممانعت آئی ہے جیسے کہ ہم بھی وارد کریں گے انشاء اللہ۔ معلوم ایسا ہوتا ہے کہ یہ پہلے کافر تھے پھر مسلمان ہوگئے یعنی حضرت موسیٰ کلیم اللہ کے دین میں داخل ہوئے اور اس زمانے کے علماء کے ہاتھ پر ایمان قبول کیا۔ بعثت مسیح سے پہلے کا یہ واقعہ ہے جرہم کے زمانے میں بیت اللہ کا حج بھی کیا غلاف بھی چڑھایا اور بڑی تعظیم و تکریم کی چھ ہزار اونٹ نام اللہ قربان کئے اور بھی بہت بڑا طویل واقعہ ہے جو حضرت ابی بن کعب، حضرت عبداللہ بن عباس سے مروی ہے۔ اور اصل قصہ کا دارومدار حضرت کعب احبار اور حضرت عبداللہ بن سلام پر ہے۔ وہب بن منبہ نے بھی اس قصہ کو وارد کیا ہے حافظ ابن عساکر نے اس تبع کے قصے کے ساتھ دوسرے تبع کے قصے کو بھی ملا دیا ہے جو ان کے بہت بعد تھا اس کی قوم تو اس کے ہاتھ پر مسلمان ہوگئی تھی پھر ان کے انتقال کے بعد وہ کفر کیطرف لوٹ گئی۔ اور دوبارہ آگ اور بتوں کی پرستش شروع کردی۔ جیسے کہ سورة سباء میں مذکور ہے اسی کی تفسیر میں ہم نے بھی وہاں اس کی پوری تفصیل لکھ دی ہے فالحمد للہ۔ حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں اس تبع نے کعبے پر غلاف چڑھایا تھا آپ لوگوں کو منع کرتے تھے کہ اس تبع کو برا نہ کہو یہ درمیان کا تبع ہے اس کا نام اسعد ابو کرب بن ملکیرب یمانی ہے۔ اس کی سلطنت تین سو چھبیس سال تک رہی اس سے زیادہ لمبی مدت ان بادشاہوں میں سے کسی نے نہیں پائی۔ حضور ﷺ سے تقریبًا سات سو سال پہلے اس کا انتقال ہوا ہے مورخین نے یہ بھی بیان کیا ہے کہ ان دونوں موسوی عالموں نے جو مدینے کے تھے انہوں نے جب تبع بادشاہ کو یقین دلایا کہ یہ شہر نبی آخر الزمان حضرت احمد ﷺ کا ہجرت گاہ ہے تو اس نے ایک قصیدہ کہا تھا اور اہل مدینہ کو بطور امانت دے گیا تھا جو ان کے پاس ہی رہا اور بطور میراث ایک دوسرے کے ہاتھ لگتا رہا اور اس کی روایت سند کے ساتھ برابر چلی آتی رہی یہاں تک کہ حضور ﷺ کی ہجرت کے وقت اس کے حافظ ابو ایوب خالد بن زید عضی اللہ عنہ تھے اور اتفاق سے بلکہ بہ حکم اللہ آنحضرت ﷺ کا نزول اجلال بھی یہیں ہوا تھا اس قصیدے کے یہ اشعار ملاحظہ ہوں (شھدت علی احمد انہ رسول من اللہ باری النسیم فلو مد عمری الی عمرہ لکنت وزیر الہ و ابن عم وجاھدت بالسیف اعداءہ وفرجت عن صدرہ کل غم) یعنی میری تہ دل سے گواہی ہے کہ حضرت احمد مجتبیٰ ﷺ اس اللہ کے سچے رسول ہیں جو تمام جانداروں کا پیدا کرنے والا ہے۔ اگر میں اس کے زمانے تک زندہ رہا تو قسم اللہ کی آپ کا ساتھی اور آپ کا معاون بن کر رہوں گا اور آپ کے دشمنوں سے تلوار کے ساتھ جہاد کروں گا اور کسی کھٹکے اور غم کو آپ کے پاس تک پھٹکنے نہ دوں گا۔ ابن ابی الدنیا میں ہے کہ دور اسلام میں صفا شہر میں اتفاق سے قبر کھد گئی تو دیکھا گیا کہ دو عورتیں مدفون ہیں جن کے جسم بالکل سالم ہیں اور سرہانے پر چاندی کی ایک تختی لگی ہوئی ہے جس میں سونے کے حروف سے یہ لکھا ہوا ہے کہ یہ قبر حی اور لمیس کی ہے اور ایک روایت میں ان کے نام حبی اور تماخر ہیں یہ دونوں تبع کی بہنیں ہیں یہ دونوں مرتے وقت تک اس بات کی شہادت دیتی رہیں کہ لائق عبادت صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے یہ دونوں اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتی تھیں۔ ان سے پہلے کے تمام نیک صالح لوگ بھی اسی شہادت کے ادا کرتے ہوئے انتقال فرماتے رہے ہیں۔ سورة سباء میں ہم نے اس واقعہ کے متعلق سبا کے اشعار بھی نقل کر دئیے ہیں۔ حضرت کعب فرمایا کرتے تھے کہ تبع کی تعریف قرآن سے اس طرح معلوم ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی قوم کی مذمت کی ان کی نہیں کی حضرت عائشہ سے منقول ہے کہ تبع کو برا نہ کہو وہ صالح شخص تھا ابن ابی حاتم میں ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تبع کو گالی نہ دو وہ مسلمان ہوچکا تھا طبرانی اور مسند احمد میں بھی یہ روایت ہے عبدالرزاق میں حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ مجھے معلوم نہیں تبع نبی تھا یا نہ تھا ؟ اور روایت میں اس سے پہلے گذر چکی کہ میں نہیں جانتا تبع ملعون تھا یا نہیں ؟ فاللہ اعلم۔ یہی روایت حضرت ابن عباس سے بھی مروی ہے حضرت عطاء بن ابو رباح فرماتے ہیں تبع کو گالی نہ دو رسول اللہ ﷺ نے انہیں برا کہنا منع فرمایا ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔
35
View Single
إِنۡ هِيَ إِلَّا مَوۡتَتُنَا ٱلۡأُولَىٰ وَمَا نَحۡنُ بِمُنشَرِينَ
“There is nothing except our dying just once, and we will not be raised.”
کہ ہماری پہلی موت کے سوا (بعد میں) کچھ نہیں ہے اور ہم (دوبارہ) نہیں اٹھائے جائیں گے
Tafsir Ibn Kathir
Refutation of Those Who deny the Resurrection
Here Allah denounces the idolators for their denial of the Resurrection and their belief that there is nothing after this life and no life or resurrection after death, which they based on the fact that their forefathers had died and had not returned. They said, If the resurrection is true,
فَأْتُواْ بِـَابَآئِنَا إِن كُنتُمْ صَـدِقِينَ
(Then bring back our forefathers, if you speak the truth!) This is false evidence and a specious argument, for the resurrection will happen on the Day of Judgement, not in this world; it will happen when this world has ended and ceased to be. Allah will bring all creatures back, created anew. He will make the evildoers fuel for the fire of Hell, and on that Day you will be witnesses over mankind and the Messenger will be a witness over you. Then Allah threatens them and warns them of the irresistible torment other idolators like who denied the resurrection, suffered. Such as the people of Tubba`, i.e., Saba'. Allah destroyed them, wreaked havoc upon their land and scattered them here and there throughout the land, as we have already seen in Surah Saba'. This was brought about because the idolators denied the Resurrection. Here too, the idolaters are compared to them. They Tubba` were Arab descendants of Qahtan, just as these people (Quraysh) were Arab descendants of `Adnan. Among the people of Himyar -- who are also known as Saba' -- when a man became their king, they called him Tubba`, just as the title Chosroes was given to the king of Persia, Caesar to the king of the Romans, Fir`awn to the disbelieving ruler of Egypt, Negus to the king of Ethiopia, and so on among other nations. But it so happened that one of the Tubba` left Yemen and went on a journey of conquest until he reached Samarqand, expanding his kingdom and domain. He is the one who founded Al-Hirah. It is agreed that he passed through Al-Madinah during the days of Jahiliyyah. He fought its inhabitants but they resisted him; they fought him by day and supplied him with food by night, so he felt ashamed before them and refrained from harming them. He was accompanied by two Jewish rabbis who advised him and told him that he would never prevail over this city, for it would be the place to which a Prophet would migrate towards the end of time. So he retreated and took them (the two rabbis) with him to Yemen. When he passed by Makkah, he wanted to destroy the Ka`bah, but they told him not to do that either. They told him about the significance of this House, that it had been built by Ibrahim Al-Khalil, peace be upon him, and that it would become of great importance through that Prophet who would be sent towards the end of time. So he respected it, performed Tawaf around it, and covered it with a fine cloth. Then he returned to Yemen and invited its people to follow the religion of guidance along with him. At that time, the religion of Musa, peace be upon him, was the religion followed by those who were guided, before the coming of the Messiah, peace be upon him. So the people of Yemen accepted the religion of guidance along with him. `Abdur-Razzaq recorded that Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, said, "The Messenger of Allah ﷺ said:
«مَا أَدْرِي تُبَّعٌ نَبِيًّا كَانَ، أَمْ غَيْرَ نَبِي»
(I do not know whether Tubba` was a Prophet or not.) It was narrated that Tamim bin `Abdur-Rahman said: " `Ata' bin Abi Rabah said, `Do not revile Tubba`, for the Messenger of Allah ﷺ forbade reviling him."' And Allah knows best.
شہنشاہ تبع کی کہانی یہاں مشرکین کا انکار قیامت اور اس کی دلیل بیان فرما کر اللہ تعالیٰ اس کی تردید کرتا ہے ان کا خیال تھا کہ قیامت آنی نہیں مرنے کے بعد جینا نہیں۔ حشر اور نشر سب غلط ہے دلیل یہ پیش کرتے تھے کہ ہمارے باپ دادا مرگئے وہ کیوں دوبارہ جی کر نہیں آئے ؟ خیال کیجئے یہ کس قدر بودی اور بےہودہ دلیل ہے دوبارہ اٹھ کھڑا ہونا مرنے کے بعد جینا قیامت کو ہوگا نہ کہ دنیا میں پھر لوٹ کر آئیں گے۔ اس دن یہ ظالم جہنم کا ایندھن بنیں گے اس وقت یہ امت اگلی امتوں پر گواہی دے گی اور ان پر انکے نبی ﷺ گواہی دیں گے پھر اللہ تعالیٰ انہیں ڈرا رہا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہمارے جو عذاب اسی جرم پر اگلی قوموں پر آئے وہ تم پر بھی آجائیں اور ان کی طرح بےنام و نشان کر دئیے جاؤ۔ ان کے واقعات سورة سبا میں گذر چکے ہیں وہ لوگ بھی قحطان کے عرب تھے جیسے یہ عدنان کے عرب ہیں حمیر جو سبا کے تھے وہ اپنے بادشاہ کو تبع کہتے تھے جیسے فارس کے بادشاہ کو کسریٰ اور روم کے ہر بادشاہ کو قیصر اور مصر کے ہر بادشاہ کو فرعون اور حبشہ کے ہر بادشاہ کو نجاشی کہا جاتا ہے۔ ان میں سے ایک تبع یمن سے نکلا اور زمین پھرتا رہا سمرقند پہنچ گیا ہر جگہ کے بادشاہوں کو شکست دیتا رہا اور اپنا بہت بڑا ملک کرلیا زبردست لشکر اور بیشمار رعایا اس کے ماتحت تھی اس نے حیرہ نامی بستی بسائی یہ اپنے زمانے میں مدینے میں بھی آیا تھا اور یہاں کے باشندوں سے بھی لڑا لیکن اسے لوگوں نے اس سے روکا خود اہل مدینہ کا بھی اس سے یہ سلوک رہا کہ دن کو تو لڑتے تھے اور رات کو انکی مہمان داری کرتے تھے آخر اس کو بھی لحاظ آگیا اور لڑائی بند کردی اس کے ساتھ یہاں کے دو یہودی عالم ہوگئے تھے جو حضرت موسیٰ کے سچے دین کے عامل بھی تھے وہ اسے ہر وقت بھلائی برائی سمجھاتے رہتے تھے انہوں نے کہا کہ آپ مدینے کو تاخت و تاراج نہیں کرسکتے کیونکہ یہ آخر زمانے کے پیغمبر ﷺ کی ہجرت کی جگہ ہے۔ پس یہاں سے لوٹ گیا اور ان دونوں عالموں کو اپنے ساتھ لیتا چلا جب یہ مکہ پہنچا تو اس نے بیت اللہ کو گرانا چاہا لیکن ان دونوں عالموں نے اسے روکا اور اس پاک گھر کی عظمت و حرمت بیان کی اور کہا کہ اس کے بانی خلیل اللہ حضرت ابراہیم ہیں۔ اور اس نبی آخر الزمان کے ہاتھوں پھر اس کی اصلی عظمت آشکارا ہوجائے گی۔ چناچہ یہ اپنے ارادے سے باز آیا بلکہ بیت اللہ کی بڑی تعظیم و تکریم کی طواف کیا غلاف چڑھایا اور یہاں سے یمن واپس چلا گیا۔ خود حضرت موسیٰ کے دین میں داخل ہوا اور تمام یمن میں یہی دین پھیلایا اس وقت تک حضرت مسیح کا ظہور نہیں ہوا تھا اور اس زمانے والوں کے لئے یہی سچا دین تھا۔ اس طرح کے واقعات بہت تفصیل سے سیرۃ ابن اسحاق میں موجود ہیں۔ اور حافظ ابن عساکر بھی اپنی کتاب میں بہت تفصیل کے ساتھ لائے ہیں اس میں ہے کہ اس کا پائے تخت دمشق میں تھا اس کے لشکروں کی صفیں دمشق سے لے کر یمن تک پہنچتی تھیں۔ ایک حدیث میں ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں۔ میں نہیں جان سکا کہ حد لگنے سے گناہ کا کفارہ ہوجاتا ہے یا نہیں ؟ اور نہ مجھے یہ معلوم ہے کہ تبع ملعون تھا یا نہیں ؟ اور نہ مجھے یہ خبر ہے کہ ذوالقرنین نبی تھے یا بادشاہ اور روایت میں ہے کہ یہ بھی فرمایا حضرت عزیر پیغمبر تھے یا نہیں ؟ (ابن ابی حاتم) دار قطنی فرماتے ہیں اس حدیث کی روایت صرف عبدالرزاق سے ہی ہے اور سند سے مروی ہے کہ حضرت عزیر کا نبی ہونا مجھے معلوم نہیں نہ میں یہ جانتا ہوں کہ تبع پر لعنت کروں یا نہیں ؟ اسے وارد کرنے کے بعد حافظ ابن عساکر نے وہ روایتیں درج کی ہیں جن میں تبع کو گالی دینے اور لعنت کرنے سے ممانعت آئی ہے جیسے کہ ہم بھی وارد کریں گے انشاء اللہ۔ معلوم ایسا ہوتا ہے کہ یہ پہلے کافر تھے پھر مسلمان ہوگئے یعنی حضرت موسیٰ کلیم اللہ کے دین میں داخل ہوئے اور اس زمانے کے علماء کے ہاتھ پر ایمان قبول کیا۔ بعثت مسیح سے پہلے کا یہ واقعہ ہے جرہم کے زمانے میں بیت اللہ کا حج بھی کیا غلاف بھی چڑھایا اور بڑی تعظیم و تکریم کی چھ ہزار اونٹ نام اللہ قربان کئے اور بھی بہت بڑا طویل واقعہ ہے جو حضرت ابی بن کعب، حضرت عبداللہ بن عباس سے مروی ہے۔ اور اصل قصہ کا دارومدار حضرت کعب احبار اور حضرت عبداللہ بن سلام پر ہے۔ وہب بن منبہ نے بھی اس قصہ کو وارد کیا ہے حافظ ابن عساکر نے اس تبع کے قصے کے ساتھ دوسرے تبع کے قصے کو بھی ملا دیا ہے جو ان کے بہت بعد تھا اس کی قوم تو اس کے ہاتھ پر مسلمان ہوگئی تھی پھر ان کے انتقال کے بعد وہ کفر کیطرف لوٹ گئی۔ اور دوبارہ آگ اور بتوں کی پرستش شروع کردی۔ جیسے کہ سورة سباء میں مذکور ہے اسی کی تفسیر میں ہم نے بھی وہاں اس کی پوری تفصیل لکھ دی ہے فالحمد للہ۔ حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں اس تبع نے کعبے پر غلاف چڑھایا تھا آپ لوگوں کو منع کرتے تھے کہ اس تبع کو برا نہ کہو یہ درمیان کا تبع ہے اس کا نام اسعد ابو کرب بن ملکیرب یمانی ہے۔ اس کی سلطنت تین سو چھبیس سال تک رہی اس سے زیادہ لمبی مدت ان بادشاہوں میں سے کسی نے نہیں پائی۔ حضور ﷺ سے تقریبًا سات سو سال پہلے اس کا انتقال ہوا ہے مورخین نے یہ بھی بیان کیا ہے کہ ان دونوں موسوی عالموں نے جو مدینے کے تھے انہوں نے جب تبع بادشاہ کو یقین دلایا کہ یہ شہر نبی آخر الزمان حضرت احمد ﷺ کا ہجرت گاہ ہے تو اس نے ایک قصیدہ کہا تھا اور اہل مدینہ کو بطور امانت دے گیا تھا جو ان کے پاس ہی رہا اور بطور میراث ایک دوسرے کے ہاتھ لگتا رہا اور اس کی روایت سند کے ساتھ برابر چلی آتی رہی یہاں تک کہ حضور ﷺ کی ہجرت کے وقت اس کے حافظ ابو ایوب خالد بن زید عضی اللہ عنہ تھے اور اتفاق سے بلکہ بہ حکم اللہ آنحضرت ﷺ کا نزول اجلال بھی یہیں ہوا تھا اس قصیدے کے یہ اشعار ملاحظہ ہوں (شھدت علی احمد انہ رسول من اللہ باری النسیم فلو مد عمری الی عمرہ لکنت وزیر الہ و ابن عم وجاھدت بالسیف اعداءہ وفرجت عن صدرہ کل غم) یعنی میری تہ دل سے گواہی ہے کہ حضرت احمد مجتبیٰ ﷺ اس اللہ کے سچے رسول ہیں جو تمام جانداروں کا پیدا کرنے والا ہے۔ اگر میں اس کے زمانے تک زندہ رہا تو قسم اللہ کی آپ کا ساتھی اور آپ کا معاون بن کر رہوں گا اور آپ کے دشمنوں سے تلوار کے ساتھ جہاد کروں گا اور کسی کھٹکے اور غم کو آپ کے پاس تک پھٹکنے نہ دوں گا۔ ابن ابی الدنیا میں ہے کہ دور اسلام میں صفا شہر میں اتفاق سے قبر کھد گئی تو دیکھا گیا کہ دو عورتیں مدفون ہیں جن کے جسم بالکل سالم ہیں اور سرہانے پر چاندی کی ایک تختی لگی ہوئی ہے جس میں سونے کے حروف سے یہ لکھا ہوا ہے کہ یہ قبر حی اور لمیس کی ہے اور ایک روایت میں ان کے نام حبی اور تماخر ہیں یہ دونوں تبع کی بہنیں ہیں یہ دونوں مرتے وقت تک اس بات کی شہادت دیتی رہیں کہ لائق عبادت صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے یہ دونوں اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتی تھیں۔ ان سے پہلے کے تمام نیک صالح لوگ بھی اسی شہادت کے ادا کرتے ہوئے انتقال فرماتے رہے ہیں۔ سورة سباء میں ہم نے اس واقعہ کے متعلق سبا کے اشعار بھی نقل کر دئیے ہیں۔ حضرت کعب فرمایا کرتے تھے کہ تبع کی تعریف قرآن سے اس طرح معلوم ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی قوم کی مذمت کی ان کی نہیں کی حضرت عائشہ سے منقول ہے کہ تبع کو برا نہ کہو وہ صالح شخص تھا ابن ابی حاتم میں ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تبع کو گالی نہ دو وہ مسلمان ہوچکا تھا طبرانی اور مسند احمد میں بھی یہ روایت ہے عبدالرزاق میں حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ مجھے معلوم نہیں تبع نبی تھا یا نہ تھا ؟ اور روایت میں اس سے پہلے گذر چکی کہ میں نہیں جانتا تبع ملعون تھا یا نہیں ؟ فاللہ اعلم۔ یہی روایت حضرت ابن عباس سے بھی مروی ہے حضرت عطاء بن ابو رباح فرماتے ہیں تبع کو گالی نہ دو رسول اللہ ﷺ نے انہیں برا کہنا منع فرمایا ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔
36
View Single
فَأۡتُواْ بِـَٔابَآئِنَآ إِن كُنتُمۡ صَٰدِقِينَ
“Therefore bring back our forefathers, if you are truthful!”
سو تم ہمارے باپ دادا کو (زندہ کر کے) لے آؤ، اگر تم سچے ہو
Tafsir Ibn Kathir
Refutation of Those Who deny the Resurrection
Here Allah denounces the idolators for their denial of the Resurrection and their belief that there is nothing after this life and no life or resurrection after death, which they based on the fact that their forefathers had died and had not returned. They said, If the resurrection is true,
فَأْتُواْ بِـَابَآئِنَا إِن كُنتُمْ صَـدِقِينَ
(Then bring back our forefathers, if you speak the truth!) This is false evidence and a specious argument, for the resurrection will happen on the Day of Judgement, not in this world; it will happen when this world has ended and ceased to be. Allah will bring all creatures back, created anew. He will make the evildoers fuel for the fire of Hell, and on that Day you will be witnesses over mankind and the Messenger will be a witness over you. Then Allah threatens them and warns them of the irresistible torment other idolators like who denied the resurrection, suffered. Such as the people of Tubba`, i.e., Saba'. Allah destroyed them, wreaked havoc upon their land and scattered them here and there throughout the land, as we have already seen in Surah Saba'. This was brought about because the idolators denied the Resurrection. Here too, the idolaters are compared to them. They Tubba` were Arab descendants of Qahtan, just as these people (Quraysh) were Arab descendants of `Adnan. Among the people of Himyar -- who are also known as Saba' -- when a man became their king, they called him Tubba`, just as the title Chosroes was given to the king of Persia, Caesar to the king of the Romans, Fir`awn to the disbelieving ruler of Egypt, Negus to the king of Ethiopia, and so on among other nations. But it so happened that one of the Tubba` left Yemen and went on a journey of conquest until he reached Samarqand, expanding his kingdom and domain. He is the one who founded Al-Hirah. It is agreed that he passed through Al-Madinah during the days of Jahiliyyah. He fought its inhabitants but they resisted him; they fought him by day and supplied him with food by night, so he felt ashamed before them and refrained from harming them. He was accompanied by two Jewish rabbis who advised him and told him that he would never prevail over this city, for it would be the place to which a Prophet would migrate towards the end of time. So he retreated and took them (the two rabbis) with him to Yemen. When he passed by Makkah, he wanted to destroy the Ka`bah, but they told him not to do that either. They told him about the significance of this House, that it had been built by Ibrahim Al-Khalil, peace be upon him, and that it would become of great importance through that Prophet who would be sent towards the end of time. So he respected it, performed Tawaf around it, and covered it with a fine cloth. Then he returned to Yemen and invited its people to follow the religion of guidance along with him. At that time, the religion of Musa, peace be upon him, was the religion followed by those who were guided, before the coming of the Messiah, peace be upon him. So the people of Yemen accepted the religion of guidance along with him. `Abdur-Razzaq recorded that Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, said, "The Messenger of Allah ﷺ said:
«مَا أَدْرِي تُبَّعٌ نَبِيًّا كَانَ، أَمْ غَيْرَ نَبِي»
(I do not know whether Tubba` was a Prophet or not.) It was narrated that Tamim bin `Abdur-Rahman said: " `Ata' bin Abi Rabah said, `Do not revile Tubba`, for the Messenger of Allah ﷺ forbade reviling him."' And Allah knows best.
شہنشاہ تبع کی کہانی یہاں مشرکین کا انکار قیامت اور اس کی دلیل بیان فرما کر اللہ تعالیٰ اس کی تردید کرتا ہے ان کا خیال تھا کہ قیامت آنی نہیں مرنے کے بعد جینا نہیں۔ حشر اور نشر سب غلط ہے دلیل یہ پیش کرتے تھے کہ ہمارے باپ دادا مرگئے وہ کیوں دوبارہ جی کر نہیں آئے ؟ خیال کیجئے یہ کس قدر بودی اور بےہودہ دلیل ہے دوبارہ اٹھ کھڑا ہونا مرنے کے بعد جینا قیامت کو ہوگا نہ کہ دنیا میں پھر لوٹ کر آئیں گے۔ اس دن یہ ظالم جہنم کا ایندھن بنیں گے اس وقت یہ امت اگلی امتوں پر گواہی دے گی اور ان پر انکے نبی ﷺ گواہی دیں گے پھر اللہ تعالیٰ انہیں ڈرا رہا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہمارے جو عذاب اسی جرم پر اگلی قوموں پر آئے وہ تم پر بھی آجائیں اور ان کی طرح بےنام و نشان کر دئیے جاؤ۔ ان کے واقعات سورة سبا میں گذر چکے ہیں وہ لوگ بھی قحطان کے عرب تھے جیسے یہ عدنان کے عرب ہیں حمیر جو سبا کے تھے وہ اپنے بادشاہ کو تبع کہتے تھے جیسے فارس کے بادشاہ کو کسریٰ اور روم کے ہر بادشاہ کو قیصر اور مصر کے ہر بادشاہ کو فرعون اور حبشہ کے ہر بادشاہ کو نجاشی کہا جاتا ہے۔ ان میں سے ایک تبع یمن سے نکلا اور زمین پھرتا رہا سمرقند پہنچ گیا ہر جگہ کے بادشاہوں کو شکست دیتا رہا اور اپنا بہت بڑا ملک کرلیا زبردست لشکر اور بیشمار رعایا اس کے ماتحت تھی اس نے حیرہ نامی بستی بسائی یہ اپنے زمانے میں مدینے میں بھی آیا تھا اور یہاں کے باشندوں سے بھی لڑا لیکن اسے لوگوں نے اس سے روکا خود اہل مدینہ کا بھی اس سے یہ سلوک رہا کہ دن کو تو لڑتے تھے اور رات کو انکی مہمان داری کرتے تھے آخر اس کو بھی لحاظ آگیا اور لڑائی بند کردی اس کے ساتھ یہاں کے دو یہودی عالم ہوگئے تھے جو حضرت موسیٰ کے سچے دین کے عامل بھی تھے وہ اسے ہر وقت بھلائی برائی سمجھاتے رہتے تھے انہوں نے کہا کہ آپ مدینے کو تاخت و تاراج نہیں کرسکتے کیونکہ یہ آخر زمانے کے پیغمبر ﷺ کی ہجرت کی جگہ ہے۔ پس یہاں سے لوٹ گیا اور ان دونوں عالموں کو اپنے ساتھ لیتا چلا جب یہ مکہ پہنچا تو اس نے بیت اللہ کو گرانا چاہا لیکن ان دونوں عالموں نے اسے روکا اور اس پاک گھر کی عظمت و حرمت بیان کی اور کہا کہ اس کے بانی خلیل اللہ حضرت ابراہیم ہیں۔ اور اس نبی آخر الزمان کے ہاتھوں پھر اس کی اصلی عظمت آشکارا ہوجائے گی۔ چناچہ یہ اپنے ارادے سے باز آیا بلکہ بیت اللہ کی بڑی تعظیم و تکریم کی طواف کیا غلاف چڑھایا اور یہاں سے یمن واپس چلا گیا۔ خود حضرت موسیٰ کے دین میں داخل ہوا اور تمام یمن میں یہی دین پھیلایا اس وقت تک حضرت مسیح کا ظہور نہیں ہوا تھا اور اس زمانے والوں کے لئے یہی سچا دین تھا۔ اس طرح کے واقعات بہت تفصیل سے سیرۃ ابن اسحاق میں موجود ہیں۔ اور حافظ ابن عساکر بھی اپنی کتاب میں بہت تفصیل کے ساتھ لائے ہیں اس میں ہے کہ اس کا پائے تخت دمشق میں تھا اس کے لشکروں کی صفیں دمشق سے لے کر یمن تک پہنچتی تھیں۔ ایک حدیث میں ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں۔ میں نہیں جان سکا کہ حد لگنے سے گناہ کا کفارہ ہوجاتا ہے یا نہیں ؟ اور نہ مجھے یہ معلوم ہے کہ تبع ملعون تھا یا نہیں ؟ اور نہ مجھے یہ خبر ہے کہ ذوالقرنین نبی تھے یا بادشاہ اور روایت میں ہے کہ یہ بھی فرمایا حضرت عزیر پیغمبر تھے یا نہیں ؟ (ابن ابی حاتم) دار قطنی فرماتے ہیں اس حدیث کی روایت صرف عبدالرزاق سے ہی ہے اور سند سے مروی ہے کہ حضرت عزیر کا نبی ہونا مجھے معلوم نہیں نہ میں یہ جانتا ہوں کہ تبع پر لعنت کروں یا نہیں ؟ اسے وارد کرنے کے بعد حافظ ابن عساکر نے وہ روایتیں درج کی ہیں جن میں تبع کو گالی دینے اور لعنت کرنے سے ممانعت آئی ہے جیسے کہ ہم بھی وارد کریں گے انشاء اللہ۔ معلوم ایسا ہوتا ہے کہ یہ پہلے کافر تھے پھر مسلمان ہوگئے یعنی حضرت موسیٰ کلیم اللہ کے دین میں داخل ہوئے اور اس زمانے کے علماء کے ہاتھ پر ایمان قبول کیا۔ بعثت مسیح سے پہلے کا یہ واقعہ ہے جرہم کے زمانے میں بیت اللہ کا حج بھی کیا غلاف بھی چڑھایا اور بڑی تعظیم و تکریم کی چھ ہزار اونٹ نام اللہ قربان کئے اور بھی بہت بڑا طویل واقعہ ہے جو حضرت ابی بن کعب، حضرت عبداللہ بن عباس سے مروی ہے۔ اور اصل قصہ کا دارومدار حضرت کعب احبار اور حضرت عبداللہ بن سلام پر ہے۔ وہب بن منبہ نے بھی اس قصہ کو وارد کیا ہے حافظ ابن عساکر نے اس تبع کے قصے کے ساتھ دوسرے تبع کے قصے کو بھی ملا دیا ہے جو ان کے بہت بعد تھا اس کی قوم تو اس کے ہاتھ پر مسلمان ہوگئی تھی پھر ان کے انتقال کے بعد وہ کفر کیطرف لوٹ گئی۔ اور دوبارہ آگ اور بتوں کی پرستش شروع کردی۔ جیسے کہ سورة سباء میں مذکور ہے اسی کی تفسیر میں ہم نے بھی وہاں اس کی پوری تفصیل لکھ دی ہے فالحمد للہ۔ حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں اس تبع نے کعبے پر غلاف چڑھایا تھا آپ لوگوں کو منع کرتے تھے کہ اس تبع کو برا نہ کہو یہ درمیان کا تبع ہے اس کا نام اسعد ابو کرب بن ملکیرب یمانی ہے۔ اس کی سلطنت تین سو چھبیس سال تک رہی اس سے زیادہ لمبی مدت ان بادشاہوں میں سے کسی نے نہیں پائی۔ حضور ﷺ سے تقریبًا سات سو سال پہلے اس کا انتقال ہوا ہے مورخین نے یہ بھی بیان کیا ہے کہ ان دونوں موسوی عالموں نے جو مدینے کے تھے انہوں نے جب تبع بادشاہ کو یقین دلایا کہ یہ شہر نبی آخر الزمان حضرت احمد ﷺ کا ہجرت گاہ ہے تو اس نے ایک قصیدہ کہا تھا اور اہل مدینہ کو بطور امانت دے گیا تھا جو ان کے پاس ہی رہا اور بطور میراث ایک دوسرے کے ہاتھ لگتا رہا اور اس کی روایت سند کے ساتھ برابر چلی آتی رہی یہاں تک کہ حضور ﷺ کی ہجرت کے وقت اس کے حافظ ابو ایوب خالد بن زید عضی اللہ عنہ تھے اور اتفاق سے بلکہ بہ حکم اللہ آنحضرت ﷺ کا نزول اجلال بھی یہیں ہوا تھا اس قصیدے کے یہ اشعار ملاحظہ ہوں (شھدت علی احمد انہ رسول من اللہ باری النسیم فلو مد عمری الی عمرہ لکنت وزیر الہ و ابن عم وجاھدت بالسیف اعداءہ وفرجت عن صدرہ کل غم) یعنی میری تہ دل سے گواہی ہے کہ حضرت احمد مجتبیٰ ﷺ اس اللہ کے سچے رسول ہیں جو تمام جانداروں کا پیدا کرنے والا ہے۔ اگر میں اس کے زمانے تک زندہ رہا تو قسم اللہ کی آپ کا ساتھی اور آپ کا معاون بن کر رہوں گا اور آپ کے دشمنوں سے تلوار کے ساتھ جہاد کروں گا اور کسی کھٹکے اور غم کو آپ کے پاس تک پھٹکنے نہ دوں گا۔ ابن ابی الدنیا میں ہے کہ دور اسلام میں صفا شہر میں اتفاق سے قبر کھد گئی تو دیکھا گیا کہ دو عورتیں مدفون ہیں جن کے جسم بالکل سالم ہیں اور سرہانے پر چاندی کی ایک تختی لگی ہوئی ہے جس میں سونے کے حروف سے یہ لکھا ہوا ہے کہ یہ قبر حی اور لمیس کی ہے اور ایک روایت میں ان کے نام حبی اور تماخر ہیں یہ دونوں تبع کی بہنیں ہیں یہ دونوں مرتے وقت تک اس بات کی شہادت دیتی رہیں کہ لائق عبادت صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے یہ دونوں اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتی تھیں۔ ان سے پہلے کے تمام نیک صالح لوگ بھی اسی شہادت کے ادا کرتے ہوئے انتقال فرماتے رہے ہیں۔ سورة سباء میں ہم نے اس واقعہ کے متعلق سبا کے اشعار بھی نقل کر دئیے ہیں۔ حضرت کعب فرمایا کرتے تھے کہ تبع کی تعریف قرآن سے اس طرح معلوم ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی قوم کی مذمت کی ان کی نہیں کی حضرت عائشہ سے منقول ہے کہ تبع کو برا نہ کہو وہ صالح شخص تھا ابن ابی حاتم میں ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تبع کو گالی نہ دو وہ مسلمان ہوچکا تھا طبرانی اور مسند احمد میں بھی یہ روایت ہے عبدالرزاق میں حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ مجھے معلوم نہیں تبع نبی تھا یا نہ تھا ؟ اور روایت میں اس سے پہلے گذر چکی کہ میں نہیں جانتا تبع ملعون تھا یا نہیں ؟ فاللہ اعلم۔ یہی روایت حضرت ابن عباس سے بھی مروی ہے حضرت عطاء بن ابو رباح فرماتے ہیں تبع کو گالی نہ دو رسول اللہ ﷺ نے انہیں برا کہنا منع فرمایا ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔
37
View Single
أَهُمۡ خَيۡرٌ أَمۡ قَوۡمُ تُبَّعٖ وَٱلَّذِينَ مِن قَبۡلِهِمۡ أَهۡلَكۡنَٰهُمۡۚ إِنَّهُمۡ كَانُواْ مُجۡرِمِينَ
Are they better, or the people of Tubba? And those who were before them? We destroyed them; they were indeed criminals.
بھلا یہ لوگ بہتر ہیں یا (بادشاہِ یمن اسعد ابوکریب) تُبّع (الحمیری) کی قوم اور وہ لوگ جو اِن سے پہلے تھے، ہم نے اُن (سب) کو ہلاک کر ڈالا تھا، بیشک وہ لوگ مجرم تھے
Tafsir Ibn Kathir
Refutation of Those Who deny the Resurrection
Here Allah denounces the idolators for their denial of the Resurrection and their belief that there is nothing after this life and no life or resurrection after death, which they based on the fact that their forefathers had died and had not returned. They said, If the resurrection is true,
فَأْتُواْ بِـَابَآئِنَا إِن كُنتُمْ صَـدِقِينَ
(Then bring back our forefathers, if you speak the truth!) This is false evidence and a specious argument, for the resurrection will happen on the Day of Judgement, not in this world; it will happen when this world has ended and ceased to be. Allah will bring all creatures back, created anew. He will make the evildoers fuel for the fire of Hell, and on that Day you will be witnesses over mankind and the Messenger will be a witness over you. Then Allah threatens them and warns them of the irresistible torment other idolators like who denied the resurrection, suffered. Such as the people of Tubba`, i.e., Saba'. Allah destroyed them, wreaked havoc upon their land and scattered them here and there throughout the land, as we have already seen in Surah Saba'. This was brought about because the idolators denied the Resurrection. Here too, the idolaters are compared to them. They Tubba` were Arab descendants of Qahtan, just as these people (Quraysh) were Arab descendants of `Adnan. Among the people of Himyar -- who are also known as Saba' -- when a man became their king, they called him Tubba`, just as the title Chosroes was given to the king of Persia, Caesar to the king of the Romans, Fir`awn to the disbelieving ruler of Egypt, Negus to the king of Ethiopia, and so on among other nations. But it so happened that one of the Tubba` left Yemen and went on a journey of conquest until he reached Samarqand, expanding his kingdom and domain. He is the one who founded Al-Hirah. It is agreed that he passed through Al-Madinah during the days of Jahiliyyah. He fought its inhabitants but they resisted him; they fought him by day and supplied him with food by night, so he felt ashamed before them and refrained from harming them. He was accompanied by two Jewish rabbis who advised him and told him that he would never prevail over this city, for it would be the place to which a Prophet would migrate towards the end of time. So he retreated and took them (the two rabbis) with him to Yemen. When he passed by Makkah, he wanted to destroy the Ka`bah, but they told him not to do that either. They told him about the significance of this House, that it had been built by Ibrahim Al-Khalil, peace be upon him, and that it would become of great importance through that Prophet who would be sent towards the end of time. So he respected it, performed Tawaf around it, and covered it with a fine cloth. Then he returned to Yemen and invited its people to follow the religion of guidance along with him. At that time, the religion of Musa, peace be upon him, was the religion followed by those who were guided, before the coming of the Messiah, peace be upon him. So the people of Yemen accepted the religion of guidance along with him. `Abdur-Razzaq recorded that Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, said, "The Messenger of Allah ﷺ said:
«مَا أَدْرِي تُبَّعٌ نَبِيًّا كَانَ، أَمْ غَيْرَ نَبِي»
(I do not know whether Tubba` was a Prophet or not.) It was narrated that Tamim bin `Abdur-Rahman said: " `Ata' bin Abi Rabah said, `Do not revile Tubba`, for the Messenger of Allah ﷺ forbade reviling him."' And Allah knows best.
شہنشاہ تبع کی کہانی یہاں مشرکین کا انکار قیامت اور اس کی دلیل بیان فرما کر اللہ تعالیٰ اس کی تردید کرتا ہے ان کا خیال تھا کہ قیامت آنی نہیں مرنے کے بعد جینا نہیں۔ حشر اور نشر سب غلط ہے دلیل یہ پیش کرتے تھے کہ ہمارے باپ دادا مرگئے وہ کیوں دوبارہ جی کر نہیں آئے ؟ خیال کیجئے یہ کس قدر بودی اور بےہودہ دلیل ہے دوبارہ اٹھ کھڑا ہونا مرنے کے بعد جینا قیامت کو ہوگا نہ کہ دنیا میں پھر لوٹ کر آئیں گے۔ اس دن یہ ظالم جہنم کا ایندھن بنیں گے اس وقت یہ امت اگلی امتوں پر گواہی دے گی اور ان پر انکے نبی ﷺ گواہی دیں گے پھر اللہ تعالیٰ انہیں ڈرا رہا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہمارے جو عذاب اسی جرم پر اگلی قوموں پر آئے وہ تم پر بھی آجائیں اور ان کی طرح بےنام و نشان کر دئیے جاؤ۔ ان کے واقعات سورة سبا میں گذر چکے ہیں وہ لوگ بھی قحطان کے عرب تھے جیسے یہ عدنان کے عرب ہیں حمیر جو سبا کے تھے وہ اپنے بادشاہ کو تبع کہتے تھے جیسے فارس کے بادشاہ کو کسریٰ اور روم کے ہر بادشاہ کو قیصر اور مصر کے ہر بادشاہ کو فرعون اور حبشہ کے ہر بادشاہ کو نجاشی کہا جاتا ہے۔ ان میں سے ایک تبع یمن سے نکلا اور زمین پھرتا رہا سمرقند پہنچ گیا ہر جگہ کے بادشاہوں کو شکست دیتا رہا اور اپنا بہت بڑا ملک کرلیا زبردست لشکر اور بیشمار رعایا اس کے ماتحت تھی اس نے حیرہ نامی بستی بسائی یہ اپنے زمانے میں مدینے میں بھی آیا تھا اور یہاں کے باشندوں سے بھی لڑا لیکن اسے لوگوں نے اس سے روکا خود اہل مدینہ کا بھی اس سے یہ سلوک رہا کہ دن کو تو لڑتے تھے اور رات کو انکی مہمان داری کرتے تھے آخر اس کو بھی لحاظ آگیا اور لڑائی بند کردی اس کے ساتھ یہاں کے دو یہودی عالم ہوگئے تھے جو حضرت موسیٰ کے سچے دین کے عامل بھی تھے وہ اسے ہر وقت بھلائی برائی سمجھاتے رہتے تھے انہوں نے کہا کہ آپ مدینے کو تاخت و تاراج نہیں کرسکتے کیونکہ یہ آخر زمانے کے پیغمبر ﷺ کی ہجرت کی جگہ ہے۔ پس یہاں سے لوٹ گیا اور ان دونوں عالموں کو اپنے ساتھ لیتا چلا جب یہ مکہ پہنچا تو اس نے بیت اللہ کو گرانا چاہا لیکن ان دونوں عالموں نے اسے روکا اور اس پاک گھر کی عظمت و حرمت بیان کی اور کہا کہ اس کے بانی خلیل اللہ حضرت ابراہیم ہیں۔ اور اس نبی آخر الزمان کے ہاتھوں پھر اس کی اصلی عظمت آشکارا ہوجائے گی۔ چناچہ یہ اپنے ارادے سے باز آیا بلکہ بیت اللہ کی بڑی تعظیم و تکریم کی طواف کیا غلاف چڑھایا اور یہاں سے یمن واپس چلا گیا۔ خود حضرت موسیٰ کے دین میں داخل ہوا اور تمام یمن میں یہی دین پھیلایا اس وقت تک حضرت مسیح کا ظہور نہیں ہوا تھا اور اس زمانے والوں کے لئے یہی سچا دین تھا۔ اس طرح کے واقعات بہت تفصیل سے سیرۃ ابن اسحاق میں موجود ہیں۔ اور حافظ ابن عساکر بھی اپنی کتاب میں بہت تفصیل کے ساتھ لائے ہیں اس میں ہے کہ اس کا پائے تخت دمشق میں تھا اس کے لشکروں کی صفیں دمشق سے لے کر یمن تک پہنچتی تھیں۔ ایک حدیث میں ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں۔ میں نہیں جان سکا کہ حد لگنے سے گناہ کا کفارہ ہوجاتا ہے یا نہیں ؟ اور نہ مجھے یہ معلوم ہے کہ تبع ملعون تھا یا نہیں ؟ اور نہ مجھے یہ خبر ہے کہ ذوالقرنین نبی تھے یا بادشاہ اور روایت میں ہے کہ یہ بھی فرمایا حضرت عزیر پیغمبر تھے یا نہیں ؟ (ابن ابی حاتم) دار قطنی فرماتے ہیں اس حدیث کی روایت صرف عبدالرزاق سے ہی ہے اور سند سے مروی ہے کہ حضرت عزیر کا نبی ہونا مجھے معلوم نہیں نہ میں یہ جانتا ہوں کہ تبع پر لعنت کروں یا نہیں ؟ اسے وارد کرنے کے بعد حافظ ابن عساکر نے وہ روایتیں درج کی ہیں جن میں تبع کو گالی دینے اور لعنت کرنے سے ممانعت آئی ہے جیسے کہ ہم بھی وارد کریں گے انشاء اللہ۔ معلوم ایسا ہوتا ہے کہ یہ پہلے کافر تھے پھر مسلمان ہوگئے یعنی حضرت موسیٰ کلیم اللہ کے دین میں داخل ہوئے اور اس زمانے کے علماء کے ہاتھ پر ایمان قبول کیا۔ بعثت مسیح سے پہلے کا یہ واقعہ ہے جرہم کے زمانے میں بیت اللہ کا حج بھی کیا غلاف بھی چڑھایا اور بڑی تعظیم و تکریم کی چھ ہزار اونٹ نام اللہ قربان کئے اور بھی بہت بڑا طویل واقعہ ہے جو حضرت ابی بن کعب، حضرت عبداللہ بن عباس سے مروی ہے۔ اور اصل قصہ کا دارومدار حضرت کعب احبار اور حضرت عبداللہ بن سلام پر ہے۔ وہب بن منبہ نے بھی اس قصہ کو وارد کیا ہے حافظ ابن عساکر نے اس تبع کے قصے کے ساتھ دوسرے تبع کے قصے کو بھی ملا دیا ہے جو ان کے بہت بعد تھا اس کی قوم تو اس کے ہاتھ پر مسلمان ہوگئی تھی پھر ان کے انتقال کے بعد وہ کفر کیطرف لوٹ گئی۔ اور دوبارہ آگ اور بتوں کی پرستش شروع کردی۔ جیسے کہ سورة سباء میں مذکور ہے اسی کی تفسیر میں ہم نے بھی وہاں اس کی پوری تفصیل لکھ دی ہے فالحمد للہ۔ حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں اس تبع نے کعبے پر غلاف چڑھایا تھا آپ لوگوں کو منع کرتے تھے کہ اس تبع کو برا نہ کہو یہ درمیان کا تبع ہے اس کا نام اسعد ابو کرب بن ملکیرب یمانی ہے۔ اس کی سلطنت تین سو چھبیس سال تک رہی اس سے زیادہ لمبی مدت ان بادشاہوں میں سے کسی نے نہیں پائی۔ حضور ﷺ سے تقریبًا سات سو سال پہلے اس کا انتقال ہوا ہے مورخین نے یہ بھی بیان کیا ہے کہ ان دونوں موسوی عالموں نے جو مدینے کے تھے انہوں نے جب تبع بادشاہ کو یقین دلایا کہ یہ شہر نبی آخر الزمان حضرت احمد ﷺ کا ہجرت گاہ ہے تو اس نے ایک قصیدہ کہا تھا اور اہل مدینہ کو بطور امانت دے گیا تھا جو ان کے پاس ہی رہا اور بطور میراث ایک دوسرے کے ہاتھ لگتا رہا اور اس کی روایت سند کے ساتھ برابر چلی آتی رہی یہاں تک کہ حضور ﷺ کی ہجرت کے وقت اس کے حافظ ابو ایوب خالد بن زید عضی اللہ عنہ تھے اور اتفاق سے بلکہ بہ حکم اللہ آنحضرت ﷺ کا نزول اجلال بھی یہیں ہوا تھا اس قصیدے کے یہ اشعار ملاحظہ ہوں (شھدت علی احمد انہ رسول من اللہ باری النسیم فلو مد عمری الی عمرہ لکنت وزیر الہ و ابن عم وجاھدت بالسیف اعداءہ وفرجت عن صدرہ کل غم) یعنی میری تہ دل سے گواہی ہے کہ حضرت احمد مجتبیٰ ﷺ اس اللہ کے سچے رسول ہیں جو تمام جانداروں کا پیدا کرنے والا ہے۔ اگر میں اس کے زمانے تک زندہ رہا تو قسم اللہ کی آپ کا ساتھی اور آپ کا معاون بن کر رہوں گا اور آپ کے دشمنوں سے تلوار کے ساتھ جہاد کروں گا اور کسی کھٹکے اور غم کو آپ کے پاس تک پھٹکنے نہ دوں گا۔ ابن ابی الدنیا میں ہے کہ دور اسلام میں صفا شہر میں اتفاق سے قبر کھد گئی تو دیکھا گیا کہ دو عورتیں مدفون ہیں جن کے جسم بالکل سالم ہیں اور سرہانے پر چاندی کی ایک تختی لگی ہوئی ہے جس میں سونے کے حروف سے یہ لکھا ہوا ہے کہ یہ قبر حی اور لمیس کی ہے اور ایک روایت میں ان کے نام حبی اور تماخر ہیں یہ دونوں تبع کی بہنیں ہیں یہ دونوں مرتے وقت تک اس بات کی شہادت دیتی رہیں کہ لائق عبادت صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے یہ دونوں اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتی تھیں۔ ان سے پہلے کے تمام نیک صالح لوگ بھی اسی شہادت کے ادا کرتے ہوئے انتقال فرماتے رہے ہیں۔ سورة سباء میں ہم نے اس واقعہ کے متعلق سبا کے اشعار بھی نقل کر دئیے ہیں۔ حضرت کعب فرمایا کرتے تھے کہ تبع کی تعریف قرآن سے اس طرح معلوم ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی قوم کی مذمت کی ان کی نہیں کی حضرت عائشہ سے منقول ہے کہ تبع کو برا نہ کہو وہ صالح شخص تھا ابن ابی حاتم میں ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تبع کو گالی نہ دو وہ مسلمان ہوچکا تھا طبرانی اور مسند احمد میں بھی یہ روایت ہے عبدالرزاق میں حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ مجھے معلوم نہیں تبع نبی تھا یا نہ تھا ؟ اور روایت میں اس سے پہلے گذر چکی کہ میں نہیں جانتا تبع ملعون تھا یا نہیں ؟ فاللہ اعلم۔ یہی روایت حضرت ابن عباس سے بھی مروی ہے حضرت عطاء بن ابو رباح فرماتے ہیں تبع کو گالی نہ دو رسول اللہ ﷺ نے انہیں برا کہنا منع فرمایا ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔
38
View Single
وَمَا خَلَقۡنَا ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضَ وَمَا بَيۡنَهُمَا لَٰعِبِينَ
And We did not create the heavens and the earth, and all that is between them, just for play.
اور ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ اِن کے درمیان ہے اسے محض کھیلتے ہوئے نہیں بنایا
Tafsir Ibn Kathir
This World was created for a Wisdom
Here Allah tells us of His justice, and that He is far above mere play, folly and falsehood. This is like the Ayah:
وَمَا خَلَقْنَا السَّمَآءَ وَالاٌّرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا بَـطِلاً ذَلِكَ ظَنُّ الَّذِينَ كَفَرُواْ فَوَيْلٌ لِّلَّذِينَ كَفَرُواْ مِنَ النَّارِ
(And We created not the heaven and the earth and all that is between them without purpose! That is the consideration of those who disbelieve! Then woe to those who disbelieve from the Fire!) (38:27)
أَفَحَسِبْتُمْ أَنَّمَا خَلَقْنَـكُمْ عَبَثاً وَأَنَّكُمْ إِلَيْنَا لاَ تُرْجَعُونَ - فَتَعَـلَى اللَّهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ لاَ إِلَـهَ إِلاَّ هُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ
(Did you think that We had created you in play, and that you would not be brought back to Us So Exalted be Allah, the True King: La ilaha illa Huwa, the Lord of the Supreme Throne!) (23:115-116) Then Allah says:
إِنَّ يَوْمَ الْفَصْلِ مِيقَـتُهُمْ أَجْمَعِينَ
(Verily, the Day of Judgement is the time appointed for all of them) This is the Day of Resurrection, when Allah will judge between all creatures, and He will punish the disbelievers and reward the believers.
مِيقَـتُهُمْ أَجْمَعِينَ
(is the time appointed for all of them) means, He will gather all of them, the first and the last of them.
يَوْمَ لاَ يُغْنِى مَوْلًى عَن مَّوْلًى شَيْئاً
(The Day when a near relative cannot avail a near relative in aught,) means, no relative will be able to help another relative. This is like the Ayah:
فَإِذَا نُفِخَ فِى الصُّورِ فَلاَ أَنسَـبَ بَيْنَهُمْ يَوْمَئِذٍ وَلاَ يَتَسَآءَلُونَ
(Then, when the Trumpet is blown, there will be no kinship among them that Day, nor will they ask of one another.) (23:101)
وَلاَ يَسْـَلُ حَمِيمٌ حَمِيماً يُبَصَّرُونَهُمْ
(And no friend will ask a friend (about his condition). Though they shall be made to see one another) (70:10-11) which means, he will not ask his brother about how he is, even though he can see him with his own eyes.
وَلاَ هُمْ يُنصَرُونَ
(and no help can they receive,) means, no relative will help another, and no help will come to him from outside.
إِلاَّ مَن رَّحِمَ اللَّهُ
(Except him on whom Allah has mercy.) means, and nothing will be of any avail that Day except the mercy of Allah towards His creation.
إِنَّهُ هُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ
(Verily, He is the All-Mighty, the Most Merciful.) means, he is the Almighty, with immense mercy.
صور پھونکنے کے بعد یہاں اللہ عزوجل اپنے عدل کا بیان فرما رہا ہے اور بےفائدہ لغو اور عبث کاموں سے اپنی پاکیزگی کا اظہار فرماتا ہے جیسے اور آیت میں ارشاد ہے کہ ہم نے اپنی مخلوق کو باطل پیدا نہیں کیا ایسا گمان ہماری نسبت صرف ان کا ہے جو کفار ہیں اور جن کا ٹھکانا جہنم ہے اور ارشاد ہے آیت (افحسبتم انما خلقناکم عبثا وانکم الینا لا ترجعون) الخ، یعنی کیا تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ ہم نے تمہیں بیکار و عبث پیدا کیا ہے اور تم لوٹ کر ہماری طرف آنے ہی کے نہیں ؟ اللہ حق مالک بلندیوں اور بزرگیوں والا ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ عرش کریم کا رب ہے فیصلوں کا دن یعنی قیامت کا دن جس دن باری تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان حق فیصلے کرے گا کافروں کو سزا اور مومنوں کو جزا ملے گی۔ اس دن تمام اگلے پچھلے اللہ کے سامنے جمع ہوں گے یہ وہ وقت ہوگا کہ ایک دوسرے سے جدا ہوجائے گا رشتے دار رشتے دار کو کوئی نفع نہ پہنچا سکے گا جیسے اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا فرمان ہے آیت (فَاِذَا نُفِخَ فِي الصُّوْرِ فَلَآ اَنْسَابَ بَيْنَهُمْ يَوْمَىِٕذٍ وَّلَا يَتَسَاۗءَلُوْنَ01001) 23۔ المؤمنون :101) یعنی جب صور پھونک دیا جائے گا تو نہ تو کوئی نسب باقی رہے گا نہ پوچھ گچھ۔ اور آیت میں ہے کوئی دوست اس دن اپنے دوست کو پریشان حالی میں دیکھتے ہوئے بھی کچھ نہ پوچھے گا اور نہ کوئی اس دن کسی کی کسی طرح کی مدد کرے گا نہ اور کوئی بیرونی مدد آئے گی مگر ہاں اللہ کی رحمت جو مخلوق پر شامل ہے وہ بڑا غالب اور وسیع رحمت والا ہے۔
39
View Single
مَا خَلَقۡنَٰهُمَآ إِلَّا بِٱلۡحَقِّ وَلَٰكِنَّ أَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُونَ
We did not create them except with the truth, but most of them do not know.
ہم نے دونوں کو حق کے (مقصد و حکمت کے) ساتھ پیدا کیا ہے لیکن اُن کے اکثر لوگ نہیں جانتے
Tafsir Ibn Kathir
This World was created for a Wisdom
Here Allah tells us of His justice, and that He is far above mere play, folly and falsehood. This is like the Ayah:
وَمَا خَلَقْنَا السَّمَآءَ وَالاٌّرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا بَـطِلاً ذَلِكَ ظَنُّ الَّذِينَ كَفَرُواْ فَوَيْلٌ لِّلَّذِينَ كَفَرُواْ مِنَ النَّارِ
(And We created not the heaven and the earth and all that is between them without purpose! That is the consideration of those who disbelieve! Then woe to those who disbelieve from the Fire!) (38:27)
أَفَحَسِبْتُمْ أَنَّمَا خَلَقْنَـكُمْ عَبَثاً وَأَنَّكُمْ إِلَيْنَا لاَ تُرْجَعُونَ - فَتَعَـلَى اللَّهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ لاَ إِلَـهَ إِلاَّ هُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ
(Did you think that We had created you in play, and that you would not be brought back to Us So Exalted be Allah, the True King: La ilaha illa Huwa, the Lord of the Supreme Throne!) (23:115-116) Then Allah says:
إِنَّ يَوْمَ الْفَصْلِ مِيقَـتُهُمْ أَجْمَعِينَ
(Verily, the Day of Judgement is the time appointed for all of them) This is the Day of Resurrection, when Allah will judge between all creatures, and He will punish the disbelievers and reward the believers.
مِيقَـتُهُمْ أَجْمَعِينَ
(is the time appointed for all of them) means, He will gather all of them, the first and the last of them.
يَوْمَ لاَ يُغْنِى مَوْلًى عَن مَّوْلًى شَيْئاً
(The Day when a near relative cannot avail a near relative in aught,) means, no relative will be able to help another relative. This is like the Ayah:
فَإِذَا نُفِخَ فِى الصُّورِ فَلاَ أَنسَـبَ بَيْنَهُمْ يَوْمَئِذٍ وَلاَ يَتَسَآءَلُونَ
(Then, when the Trumpet is blown, there will be no kinship among them that Day, nor will they ask of one another.) (23:101)
وَلاَ يَسْـَلُ حَمِيمٌ حَمِيماً يُبَصَّرُونَهُمْ
(And no friend will ask a friend (about his condition). Though they shall be made to see one another) (70:10-11) which means, he will not ask his brother about how he is, even though he can see him with his own eyes.
وَلاَ هُمْ يُنصَرُونَ
(and no help can they receive,) means, no relative will help another, and no help will come to him from outside.
إِلاَّ مَن رَّحِمَ اللَّهُ
(Except him on whom Allah has mercy.) means, and nothing will be of any avail that Day except the mercy of Allah towards His creation.
إِنَّهُ هُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ
(Verily, He is the All-Mighty, the Most Merciful.) means, he is the Almighty, with immense mercy.
صور پھونکنے کے بعد یہاں اللہ عزوجل اپنے عدل کا بیان فرما رہا ہے اور بےفائدہ لغو اور عبث کاموں سے اپنی پاکیزگی کا اظہار فرماتا ہے جیسے اور آیت میں ارشاد ہے کہ ہم نے اپنی مخلوق کو باطل پیدا نہیں کیا ایسا گمان ہماری نسبت صرف ان کا ہے جو کفار ہیں اور جن کا ٹھکانا جہنم ہے اور ارشاد ہے آیت (افحسبتم انما خلقناکم عبثا وانکم الینا لا ترجعون) الخ، یعنی کیا تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ ہم نے تمہیں بیکار و عبث پیدا کیا ہے اور تم لوٹ کر ہماری طرف آنے ہی کے نہیں ؟ اللہ حق مالک بلندیوں اور بزرگیوں والا ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ عرش کریم کا رب ہے فیصلوں کا دن یعنی قیامت کا دن جس دن باری تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان حق فیصلے کرے گا کافروں کو سزا اور مومنوں کو جزا ملے گی۔ اس دن تمام اگلے پچھلے اللہ کے سامنے جمع ہوں گے یہ وہ وقت ہوگا کہ ایک دوسرے سے جدا ہوجائے گا رشتے دار رشتے دار کو کوئی نفع نہ پہنچا سکے گا جیسے اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا فرمان ہے آیت (فَاِذَا نُفِخَ فِي الصُّوْرِ فَلَآ اَنْسَابَ بَيْنَهُمْ يَوْمَىِٕذٍ وَّلَا يَتَسَاۗءَلُوْنَ01001) 23۔ المؤمنون :101) یعنی جب صور پھونک دیا جائے گا تو نہ تو کوئی نسب باقی رہے گا نہ پوچھ گچھ۔ اور آیت میں ہے کوئی دوست اس دن اپنے دوست کو پریشان حالی میں دیکھتے ہوئے بھی کچھ نہ پوچھے گا اور نہ کوئی اس دن کسی کی کسی طرح کی مدد کرے گا نہ اور کوئی بیرونی مدد آئے گی مگر ہاں اللہ کی رحمت جو مخلوق پر شامل ہے وہ بڑا غالب اور وسیع رحمت والا ہے۔
40
View Single
إِنَّ يَوۡمَ ٱلۡفَصۡلِ مِيقَٰتُهُمۡ أَجۡمَعِينَ
Indeed the Day of Decision is the appointment for all of them.
بیشک فیصلہ کا دن، اُن سب کے لئے مقررّہ وقت ہے
Tafsir Ibn Kathir
This World was created for a Wisdom
Here Allah tells us of His justice, and that He is far above mere play, folly and falsehood. This is like the Ayah:
وَمَا خَلَقْنَا السَّمَآءَ وَالاٌّرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا بَـطِلاً ذَلِكَ ظَنُّ الَّذِينَ كَفَرُواْ فَوَيْلٌ لِّلَّذِينَ كَفَرُواْ مِنَ النَّارِ
(And We created not the heaven and the earth and all that is between them without purpose! That is the consideration of those who disbelieve! Then woe to those who disbelieve from the Fire!) (38:27)
أَفَحَسِبْتُمْ أَنَّمَا خَلَقْنَـكُمْ عَبَثاً وَأَنَّكُمْ إِلَيْنَا لاَ تُرْجَعُونَ - فَتَعَـلَى اللَّهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ لاَ إِلَـهَ إِلاَّ هُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ
(Did you think that We had created you in play, and that you would not be brought back to Us So Exalted be Allah, the True King: La ilaha illa Huwa, the Lord of the Supreme Throne!) (23:115-116) Then Allah says:
إِنَّ يَوْمَ الْفَصْلِ مِيقَـتُهُمْ أَجْمَعِينَ
(Verily, the Day of Judgement is the time appointed for all of them) This is the Day of Resurrection, when Allah will judge between all creatures, and He will punish the disbelievers and reward the believers.
مِيقَـتُهُمْ أَجْمَعِينَ
(is the time appointed for all of them) means, He will gather all of them, the first and the last of them.
يَوْمَ لاَ يُغْنِى مَوْلًى عَن مَّوْلًى شَيْئاً
(The Day when a near relative cannot avail a near relative in aught,) means, no relative will be able to help another relative. This is like the Ayah:
فَإِذَا نُفِخَ فِى الصُّورِ فَلاَ أَنسَـبَ بَيْنَهُمْ يَوْمَئِذٍ وَلاَ يَتَسَآءَلُونَ
(Then, when the Trumpet is blown, there will be no kinship among them that Day, nor will they ask of one another.) (23:101)
وَلاَ يَسْـَلُ حَمِيمٌ حَمِيماً يُبَصَّرُونَهُمْ
(And no friend will ask a friend (about his condition). Though they shall be made to see one another) (70:10-11) which means, he will not ask his brother about how he is, even though he can see him with his own eyes.
وَلاَ هُمْ يُنصَرُونَ
(and no help can they receive,) means, no relative will help another, and no help will come to him from outside.
إِلاَّ مَن رَّحِمَ اللَّهُ
(Except him on whom Allah has mercy.) means, and nothing will be of any avail that Day except the mercy of Allah towards His creation.
إِنَّهُ هُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ
(Verily, He is the All-Mighty, the Most Merciful.) means, he is the Almighty, with immense mercy.
صور پھونکنے کے بعد یہاں اللہ عزوجل اپنے عدل کا بیان فرما رہا ہے اور بےفائدہ لغو اور عبث کاموں سے اپنی پاکیزگی کا اظہار فرماتا ہے جیسے اور آیت میں ارشاد ہے کہ ہم نے اپنی مخلوق کو باطل پیدا نہیں کیا ایسا گمان ہماری نسبت صرف ان کا ہے جو کفار ہیں اور جن کا ٹھکانا جہنم ہے اور ارشاد ہے آیت (افحسبتم انما خلقناکم عبثا وانکم الینا لا ترجعون) الخ، یعنی کیا تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ ہم نے تمہیں بیکار و عبث پیدا کیا ہے اور تم لوٹ کر ہماری طرف آنے ہی کے نہیں ؟ اللہ حق مالک بلندیوں اور بزرگیوں والا ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ عرش کریم کا رب ہے فیصلوں کا دن یعنی قیامت کا دن جس دن باری تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان حق فیصلے کرے گا کافروں کو سزا اور مومنوں کو جزا ملے گی۔ اس دن تمام اگلے پچھلے اللہ کے سامنے جمع ہوں گے یہ وہ وقت ہوگا کہ ایک دوسرے سے جدا ہوجائے گا رشتے دار رشتے دار کو کوئی نفع نہ پہنچا سکے گا جیسے اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا فرمان ہے آیت (فَاِذَا نُفِخَ فِي الصُّوْرِ فَلَآ اَنْسَابَ بَيْنَهُمْ يَوْمَىِٕذٍ وَّلَا يَتَسَاۗءَلُوْنَ01001) 23۔ المؤمنون :101) یعنی جب صور پھونک دیا جائے گا تو نہ تو کوئی نسب باقی رہے گا نہ پوچھ گچھ۔ اور آیت میں ہے کوئی دوست اس دن اپنے دوست کو پریشان حالی میں دیکھتے ہوئے بھی کچھ نہ پوچھے گا اور نہ کوئی اس دن کسی کی کسی طرح کی مدد کرے گا نہ اور کوئی بیرونی مدد آئے گی مگر ہاں اللہ کی رحمت جو مخلوق پر شامل ہے وہ بڑا غالب اور وسیع رحمت والا ہے۔
41
View Single
يَوۡمَ لَا يُغۡنِي مَوۡلًى عَن مَّوۡلٗى شَيۡـٔٗا وَلَا هُمۡ يُنصَرُونَ
The day on which, no friends will benefit each other at all, nor will they be helped. (Except those who are pious – see verse 43:67)
جس دن کوئی دوست کسی دوست کے کچھ کام نہ آئے گا اور نہ ہی اُن کی مدد کی جائے گی
Tafsir Ibn Kathir
This World was created for a Wisdom
Here Allah tells us of His justice, and that He is far above mere play, folly and falsehood. This is like the Ayah:
وَمَا خَلَقْنَا السَّمَآءَ وَالاٌّرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا بَـطِلاً ذَلِكَ ظَنُّ الَّذِينَ كَفَرُواْ فَوَيْلٌ لِّلَّذِينَ كَفَرُواْ مِنَ النَّارِ
(And We created not the heaven and the earth and all that is between them without purpose! That is the consideration of those who disbelieve! Then woe to those who disbelieve from the Fire!) (38:27)
أَفَحَسِبْتُمْ أَنَّمَا خَلَقْنَـكُمْ عَبَثاً وَأَنَّكُمْ إِلَيْنَا لاَ تُرْجَعُونَ - فَتَعَـلَى اللَّهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ لاَ إِلَـهَ إِلاَّ هُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ
(Did you think that We had created you in play, and that you would not be brought back to Us So Exalted be Allah, the True King: La ilaha illa Huwa, the Lord of the Supreme Throne!) (23:115-116) Then Allah says:
إِنَّ يَوْمَ الْفَصْلِ مِيقَـتُهُمْ أَجْمَعِينَ
(Verily, the Day of Judgement is the time appointed for all of them) This is the Day of Resurrection, when Allah will judge between all creatures, and He will punish the disbelievers and reward the believers.
مِيقَـتُهُمْ أَجْمَعِينَ
(is the time appointed for all of them) means, He will gather all of them, the first and the last of them.
يَوْمَ لاَ يُغْنِى مَوْلًى عَن مَّوْلًى شَيْئاً
(The Day when a near relative cannot avail a near relative in aught,) means, no relative will be able to help another relative. This is like the Ayah:
فَإِذَا نُفِخَ فِى الصُّورِ فَلاَ أَنسَـبَ بَيْنَهُمْ يَوْمَئِذٍ وَلاَ يَتَسَآءَلُونَ
(Then, when the Trumpet is blown, there will be no kinship among them that Day, nor will they ask of one another.) (23:101)
وَلاَ يَسْـَلُ حَمِيمٌ حَمِيماً يُبَصَّرُونَهُمْ
(And no friend will ask a friend (about his condition). Though they shall be made to see one another) (70:10-11) which means, he will not ask his brother about how he is, even though he can see him with his own eyes.
وَلاَ هُمْ يُنصَرُونَ
(and no help can they receive,) means, no relative will help another, and no help will come to him from outside.
إِلاَّ مَن رَّحِمَ اللَّهُ
(Except him on whom Allah has mercy.) means, and nothing will be of any avail that Day except the mercy of Allah towards His creation.
إِنَّهُ هُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ
(Verily, He is the All-Mighty, the Most Merciful.) means, he is the Almighty, with immense mercy.
صور پھونکنے کے بعد یہاں اللہ عزوجل اپنے عدل کا بیان فرما رہا ہے اور بےفائدہ لغو اور عبث کاموں سے اپنی پاکیزگی کا اظہار فرماتا ہے جیسے اور آیت میں ارشاد ہے کہ ہم نے اپنی مخلوق کو باطل پیدا نہیں کیا ایسا گمان ہماری نسبت صرف ان کا ہے جو کفار ہیں اور جن کا ٹھکانا جہنم ہے اور ارشاد ہے آیت (افحسبتم انما خلقناکم عبثا وانکم الینا لا ترجعون) الخ، یعنی کیا تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ ہم نے تمہیں بیکار و عبث پیدا کیا ہے اور تم لوٹ کر ہماری طرف آنے ہی کے نہیں ؟ اللہ حق مالک بلندیوں اور بزرگیوں والا ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ عرش کریم کا رب ہے فیصلوں کا دن یعنی قیامت کا دن جس دن باری تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان حق فیصلے کرے گا کافروں کو سزا اور مومنوں کو جزا ملے گی۔ اس دن تمام اگلے پچھلے اللہ کے سامنے جمع ہوں گے یہ وہ وقت ہوگا کہ ایک دوسرے سے جدا ہوجائے گا رشتے دار رشتے دار کو کوئی نفع نہ پہنچا سکے گا جیسے اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا فرمان ہے آیت (فَاِذَا نُفِخَ فِي الصُّوْرِ فَلَآ اَنْسَابَ بَيْنَهُمْ يَوْمَىِٕذٍ وَّلَا يَتَسَاۗءَلُوْنَ01001) 23۔ المؤمنون :101) یعنی جب صور پھونک دیا جائے گا تو نہ تو کوئی نسب باقی رہے گا نہ پوچھ گچھ۔ اور آیت میں ہے کوئی دوست اس دن اپنے دوست کو پریشان حالی میں دیکھتے ہوئے بھی کچھ نہ پوچھے گا اور نہ کوئی اس دن کسی کی کسی طرح کی مدد کرے گا نہ اور کوئی بیرونی مدد آئے گی مگر ہاں اللہ کی رحمت جو مخلوق پر شامل ہے وہ بڑا غالب اور وسیع رحمت والا ہے۔
42
View Single
إِلَّا مَن رَّحِمَ ٱللَّهُۚ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلۡعَزِيزُ ٱلرَّحِيمُ
Except those upon whom Allah has mercy; indeed He only is the Most Honourable, the Most Merciful.
سوائے اُن کے جن پر اللہ نے رحمت فرمائی ہے (وہ ایک دوسرے کی شفاعت کریں گے)، بیشک وہ بڑا غالب بہت رحم فرمانے والا ہے
Tafsir Ibn Kathir
This World was created for a Wisdom
Here Allah tells us of His justice, and that He is far above mere play, folly and falsehood. This is like the Ayah:
وَمَا خَلَقْنَا السَّمَآءَ وَالاٌّرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا بَـطِلاً ذَلِكَ ظَنُّ الَّذِينَ كَفَرُواْ فَوَيْلٌ لِّلَّذِينَ كَفَرُواْ مِنَ النَّارِ
(And We created not the heaven and the earth and all that is between them without purpose! That is the consideration of those who disbelieve! Then woe to those who disbelieve from the Fire!) (38:27)
أَفَحَسِبْتُمْ أَنَّمَا خَلَقْنَـكُمْ عَبَثاً وَأَنَّكُمْ إِلَيْنَا لاَ تُرْجَعُونَ - فَتَعَـلَى اللَّهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ لاَ إِلَـهَ إِلاَّ هُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ
(Did you think that We had created you in play, and that you would not be brought back to Us So Exalted be Allah, the True King: La ilaha illa Huwa, the Lord of the Supreme Throne!) (23:115-116) Then Allah says:
إِنَّ يَوْمَ الْفَصْلِ مِيقَـتُهُمْ أَجْمَعِينَ
(Verily, the Day of Judgement is the time appointed for all of them) This is the Day of Resurrection, when Allah will judge between all creatures, and He will punish the disbelievers and reward the believers.
مِيقَـتُهُمْ أَجْمَعِينَ
(is the time appointed for all of them) means, He will gather all of them, the first and the last of them.
يَوْمَ لاَ يُغْنِى مَوْلًى عَن مَّوْلًى شَيْئاً
(The Day when a near relative cannot avail a near relative in aught,) means, no relative will be able to help another relative. This is like the Ayah:
فَإِذَا نُفِخَ فِى الصُّورِ فَلاَ أَنسَـبَ بَيْنَهُمْ يَوْمَئِذٍ وَلاَ يَتَسَآءَلُونَ
(Then, when the Trumpet is blown, there will be no kinship among them that Day, nor will they ask of one another.) (23:101)
وَلاَ يَسْـَلُ حَمِيمٌ حَمِيماً يُبَصَّرُونَهُمْ
(And no friend will ask a friend (about his condition). Though they shall be made to see one another) (70:10-11) which means, he will not ask his brother about how he is, even though he can see him with his own eyes.
وَلاَ هُمْ يُنصَرُونَ
(and no help can they receive,) means, no relative will help another, and no help will come to him from outside.
إِلاَّ مَن رَّحِمَ اللَّهُ
(Except him on whom Allah has mercy.) means, and nothing will be of any avail that Day except the mercy of Allah towards His creation.
إِنَّهُ هُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ
(Verily, He is the All-Mighty, the Most Merciful.) means, he is the Almighty, with immense mercy.
صور پھونکنے کے بعد یہاں اللہ عزوجل اپنے عدل کا بیان فرما رہا ہے اور بےفائدہ لغو اور عبث کاموں سے اپنی پاکیزگی کا اظہار فرماتا ہے جیسے اور آیت میں ارشاد ہے کہ ہم نے اپنی مخلوق کو باطل پیدا نہیں کیا ایسا گمان ہماری نسبت صرف ان کا ہے جو کفار ہیں اور جن کا ٹھکانا جہنم ہے اور ارشاد ہے آیت (افحسبتم انما خلقناکم عبثا وانکم الینا لا ترجعون) الخ، یعنی کیا تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ ہم نے تمہیں بیکار و عبث پیدا کیا ہے اور تم لوٹ کر ہماری طرف آنے ہی کے نہیں ؟ اللہ حق مالک بلندیوں اور بزرگیوں والا ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ عرش کریم کا رب ہے فیصلوں کا دن یعنی قیامت کا دن جس دن باری تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان حق فیصلے کرے گا کافروں کو سزا اور مومنوں کو جزا ملے گی۔ اس دن تمام اگلے پچھلے اللہ کے سامنے جمع ہوں گے یہ وہ وقت ہوگا کہ ایک دوسرے سے جدا ہوجائے گا رشتے دار رشتے دار کو کوئی نفع نہ پہنچا سکے گا جیسے اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا فرمان ہے آیت (فَاِذَا نُفِخَ فِي الصُّوْرِ فَلَآ اَنْسَابَ بَيْنَهُمْ يَوْمَىِٕذٍ وَّلَا يَتَسَاۗءَلُوْنَ01001) 23۔ المؤمنون :101) یعنی جب صور پھونک دیا جائے گا تو نہ تو کوئی نسب باقی رہے گا نہ پوچھ گچھ۔ اور آیت میں ہے کوئی دوست اس دن اپنے دوست کو پریشان حالی میں دیکھتے ہوئے بھی کچھ نہ پوچھے گا اور نہ کوئی اس دن کسی کی کسی طرح کی مدد کرے گا نہ اور کوئی بیرونی مدد آئے گی مگر ہاں اللہ کی رحمت جو مخلوق پر شامل ہے وہ بڑا غالب اور وسیع رحمت والا ہے۔
43
View Single
إِنَّ شَجَرَتَ ٱلزَّقُّومِ
Indeed the tree of Zaqqum, –
بیشک کانٹے دار پھل کا درخت
Tafsir Ibn Kathir
The Condition of the Idolators and Their Punishment on the Day of Resurrection
Allah tells us how He will punish the disbelievers who deny the meeting with Him:
إِنَّ شَجَرَةَ الزَّقُّومِ - طَعَامُ الاٌّثِيمِ
(Verily, the tree of Zaqqum will be the food of the sinners.) Those who sinned by their words and in deeds. These are the disbelievers. More than one commentator stated that this referred to Abu Jahl; undoubtedly he is included among those referred to in this Ayah, but it is not specifically about him. Ibn Jarir recorded that Abu Ad-Darda' was reciting to a man:
إِنَّ شَجَرَةَ الزَّقُّومِ - طَعَامُ الاٌّثِيمِ
(Verily, the tree of Zaqqum will be the food of the sinners.) The man said, "The food of the orphan." Abu Ad-Darda', may Allah be pleased with him, said, "Say, the tree of Zaqqum is the food of the evildoer." i.e., he will not have any other food apart from that. Mujahid said, "If a drop of it were to fall on the earth, it would corrupt the living of all the people of earth." A similar Marfu` report has been narrated earlier.
كَالْمُهْلِ
(Like boiling oil,) means, like the dregs of oil.
كَالْمُهْلِ يَغْلِى فِى الْبُطُونِ - كَغَلْىِ الْحَمِيمِ
(it will boil in the bellies, like the boiling of scalding water.) means, because of its heat and rancidity.
خُذُوهُ
(Seize him) means the disbeliever. It was reported that when Allah says to the keepers of Hell, "Seize him," seventy thousand of them will rush to seize him.
فَاعْتِلُوهُ
(and drag him) means, drag him by pulling him and pushing him on his back. Mujahid said:
خُذُوهُ فَاعْتِلُوهُ
(Seize him and drag him) means, take him and push him.
إِلَى سَوَآءِ الْجَحِيمِ
(into the midst of blazing Fire.) means, into the middle of it.
ثُمَّ صُبُّواْ فَوْقَ رَأْسِهِ مِنْ عَذَابِ الْحَمِيمِ
(Then pour over his head the torment of boiling water.) This is like the Ayah:
هَـذَانِ خَصْمَانِ اخْتَصَمُواْ فِى رَبِّهِمْ فَالَّذِينَ كَفَرُواْ قُطِّعَتْ لَهُمْ ثِيَابٌ مِّن نَّارِ يُصَبُّ مِن فَوْقِ رُءُوسِهِمُ الْحَمِيمُ - يُصْهَرُ بِهِ مَا فِى بُطُونِهِمْ وَالْجُلُودُ
(boiling water will be poured down over their heads. With it will melt what is within their bellies, as well as (their) skins.) (22:19-20). The angel will strike him with a hooked rod of iron and split his head open, then he will pour boiling water over his head. It will go down through his body, melting through his stomach and intestines, until it goes through his heels; may Allah protect us from that.
ذُقْ إِنَّكَ أَنتَ الْعَزِيزُ الْكَرِيمُ
(Taste you (this)! Verily, you were (pretending to be) the mighty, the generous.) means, they (the keepers of Hell) will say that to him by way of ridicule and rebuke. Ad-Dahhak reported that Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, said: "This means, you are neither mighty nor generous." And Allah's saying:
إِنَّ هَـذَا مَا كُنتُمْ بِهِ تَمْتَرُونَ
(Verily, this is that whereof you used to doubt!) is like His saying:
يَوْمَ يُدَعُّونَ إِلَى نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّا - هَـذِهِ النَّارُ الَّتِى كُنتُم بِهَا تُكَذِّبُونَ - أَفَسِحْرٌ هَـذَا أَمْ أَنتُمْ لاَ تُبْصِرُونَ
(The Day when they will be pushed down by force to the fire of Hell, with a horrible, forceful pushing. This is the Fire which you used to deny. In this magic, or do you not see) (52: 13-15) Similarly Allah said:
إِنَّ هَـذَا مَا كُنتُمْ بِهِ تَمْتَرُونَ
(Verily, this is that where of you used to doubt!)
زقوم ابو جہل کی خوراک ہوگا منکرین قیامت کو جو سزا وہاں دی جائے گی اس کا بیان ہو رہا ہے کہ ان مجرموں کو جو اپنے قول اور فعل کو نافرمانی سے ملوث کئے ہوئے تھے آج زقوم کا درخت کھلایا جائے گا۔ بعض کہتے ہیں اس سے مراد ابو جہل ہے۔ گو دراصل وہ بھی اس آیت کی وعید میں داخل ہے لیکن یہ نہ سمجھا جائے کہ آیت صرف اسی کے حق میں نازل ہوئی ہے۔ حضرت ابو درداء ایک شخص کو یہ آیت پڑھا رہے تھے مگر اس کی زبان سے لفظ (اثیم) ادا نہیں ہوتا تھا اور وہ بجائے اس کے یتیم کہہ دیا کرتا تھا تو آپ نے اسے (طعام الفاجر) پڑھوایا یعنی اسے اس کے سوا کھانے کو اور کچھ نہ دیا جائے گا۔ حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ اگر زقوم کا ایک قطرہ بھی زمین میں ٹپک جائے تو تمام زمین والوں کی معاش خراب کر دے ایک مرفوع حدیث میں بھی یہ آیا ہے جو پہلے بیان ہوچکی ہے، یہ مثل تلچھٹ کے ہوگا۔ اپنی حرارت بدمزگی اور نقصان کے باعث پیٹ میں جوش مارتا رہے گا اللہ تعالیٰ جہنم کے داروغوں سے فرمائے گا کہ اس کافر کو پکڑ لو وہیں ستر ہزار فرشتے دوڑیں گے اسے اندھا کر کے منہ کے بل گھسیٹ لے جاؤ اور بیچ جہنم میں ڈال دو پھر اس کے سر پر جوش مارتا گرم پانی ڈالو۔ جیسے فرمایا آیت (يُصَبُّ مِنْ فَوْقِ رُءُوْسِهِمُ الْحَمِيْمُ 19ۚ) 22۔ الحج :19) ، یعنی ان کے سروں پر جہنم کا جوش مارتا گرم پانی بہایا جائے گا جس سے ان کی کھالیں اور پیٹ کے اندر کی تمام چیزیں سوخت ہوجائیں گی اور یہ بھی ہم پہلے بیان کر آئے ہیں کہ فرشتے انہیں لوہے کے ہتھوڑے ماریں گے جن سے ان کا دماغ پاش پاش ہوجائیں گے پھر اوپر سے یہ حمیم ان پر ڈالا جائے گا یہ جہاں جہاں پہنچے گا ہڈی کو کھال سے جدا کر دے گا یہاں تک کہ اس کی آنتیں کاٹتا ہوا پنڈلیوں تک پہنچ جائے گا۔ اللہ ہمیں محفوظ رکھے پھر انہیں شرمسار کرنے کے لئے اور زیادہ پشیمان بنانے کے لئے کہا جائے گا کہ لو مزہ چکھو تم ہماری نگاہوں میں نہ عزت والے ہو نہ بزرگی والے۔ مغازی امویہ میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ابو جہل ملعون سے کہا کہ مجھے اللہ کا حکم ہوا ہے کہ تجھ سے کہہ دوں تیرے لئے ویل ہے تجھ پر افسوس ہے پھر مکرر کہتا ہوں کہ تیرے لئے خرابی اور افسوس ہے۔ اس پاجی نے اپنا کپڑا آپ کے ہاتھ سے گھسیٹتے ہوئے کہا جا تو اور تیرا رب میرا کیا بگاڑ سکتے ہو ؟ اس تمام وادی میں سب سے زیادہ عزت و تکریم والا میں ہوں۔ پس اللہ تعالیٰ نے اسے بدر والے دن قتل کرایا اور اسے ذلیل کیا اور اس سے کہا جائے گا کہ لے اب اپنی عزت کا اور اپنی تکریم کا اور اپنی بزرگی اور بڑائی کا لطف اٹھا اور ان کافروں سے کہا جائے گا کہ یہ ہے جس میں ہمیشہ شک شبہ کرتے رہے۔ جیسے اور آیتوں میں ہے کہ جس دن انہیں دھکے دے کر جہنم میں پہنچایا جائے گا اور کہا جائے گا کہ یہ وہ دوزخ ہے جسے تم جھٹلاتے رہے کیا یہ جادو ہے یا تم دیکھ نہیں رہے ؟ اسی کو یہاں بھی فرمایا ہے کہ یہ جس میں تم شک کر رہے تھے۔
44
View Single
طَعَامُ ٱلۡأَثِيمِ
Is the food of the sinners.
بڑے نافرمانوں کا کھانا ہوگا
Tafsir Ibn Kathir
The Condition of the Idolators and Their Punishment on the Day of Resurrection
Allah tells us how He will punish the disbelievers who deny the meeting with Him:
إِنَّ شَجَرَةَ الزَّقُّومِ - طَعَامُ الاٌّثِيمِ
(Verily, the tree of Zaqqum will be the food of the sinners.) Those who sinned by their words and in deeds. These are the disbelievers. More than one commentator stated that this referred to Abu Jahl; undoubtedly he is included among those referred to in this Ayah, but it is not specifically about him. Ibn Jarir recorded that Abu Ad-Darda' was reciting to a man:
إِنَّ شَجَرَةَ الزَّقُّومِ - طَعَامُ الاٌّثِيمِ
(Verily, the tree of Zaqqum will be the food of the sinners.) The man said, "The food of the orphan." Abu Ad-Darda', may Allah be pleased with him, said, "Say, the tree of Zaqqum is the food of the evildoer." i.e., he will not have any other food apart from that. Mujahid said, "If a drop of it were to fall on the earth, it would corrupt the living of all the people of earth." A similar Marfu` report has been narrated earlier.
كَالْمُهْلِ
(Like boiling oil,) means, like the dregs of oil.
كَالْمُهْلِ يَغْلِى فِى الْبُطُونِ - كَغَلْىِ الْحَمِيمِ
(it will boil in the bellies, like the boiling of scalding water.) means, because of its heat and rancidity.
خُذُوهُ
(Seize him) means the disbeliever. It was reported that when Allah says to the keepers of Hell, "Seize him," seventy thousand of them will rush to seize him.
فَاعْتِلُوهُ
(and drag him) means, drag him by pulling him and pushing him on his back. Mujahid said:
خُذُوهُ فَاعْتِلُوهُ
(Seize him and drag him) means, take him and push him.
إِلَى سَوَآءِ الْجَحِيمِ
(into the midst of blazing Fire.) means, into the middle of it.
ثُمَّ صُبُّواْ فَوْقَ رَأْسِهِ مِنْ عَذَابِ الْحَمِيمِ
(Then pour over his head the torment of boiling water.) This is like the Ayah:
هَـذَانِ خَصْمَانِ اخْتَصَمُواْ فِى رَبِّهِمْ فَالَّذِينَ كَفَرُواْ قُطِّعَتْ لَهُمْ ثِيَابٌ مِّن نَّارِ يُصَبُّ مِن فَوْقِ رُءُوسِهِمُ الْحَمِيمُ - يُصْهَرُ بِهِ مَا فِى بُطُونِهِمْ وَالْجُلُودُ
(boiling water will be poured down over their heads. With it will melt what is within their bellies, as well as (their) skins.) (22:19-20). The angel will strike him with a hooked rod of iron and split his head open, then he will pour boiling water over his head. It will go down through his body, melting through his stomach and intestines, until it goes through his heels; may Allah protect us from that.
ذُقْ إِنَّكَ أَنتَ الْعَزِيزُ الْكَرِيمُ
(Taste you (this)! Verily, you were (pretending to be) the mighty, the generous.) means, they (the keepers of Hell) will say that to him by way of ridicule and rebuke. Ad-Dahhak reported that Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, said: "This means, you are neither mighty nor generous." And Allah's saying:
إِنَّ هَـذَا مَا كُنتُمْ بِهِ تَمْتَرُونَ
(Verily, this is that whereof you used to doubt!) is like His saying:
يَوْمَ يُدَعُّونَ إِلَى نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّا - هَـذِهِ النَّارُ الَّتِى كُنتُم بِهَا تُكَذِّبُونَ - أَفَسِحْرٌ هَـذَا أَمْ أَنتُمْ لاَ تُبْصِرُونَ
(The Day when they will be pushed down by force to the fire of Hell, with a horrible, forceful pushing. This is the Fire which you used to deny. In this magic, or do you not see) (52: 13-15) Similarly Allah said:
إِنَّ هَـذَا مَا كُنتُمْ بِهِ تَمْتَرُونَ
(Verily, this is that where of you used to doubt!)
زقوم ابو جہل کی خوراک ہوگا منکرین قیامت کو جو سزا وہاں دی جائے گی اس کا بیان ہو رہا ہے کہ ان مجرموں کو جو اپنے قول اور فعل کو نافرمانی سے ملوث کئے ہوئے تھے آج زقوم کا درخت کھلایا جائے گا۔ بعض کہتے ہیں اس سے مراد ابو جہل ہے۔ گو دراصل وہ بھی اس آیت کی وعید میں داخل ہے لیکن یہ نہ سمجھا جائے کہ آیت صرف اسی کے حق میں نازل ہوئی ہے۔ حضرت ابو درداء ایک شخص کو یہ آیت پڑھا رہے تھے مگر اس کی زبان سے لفظ (اثیم) ادا نہیں ہوتا تھا اور وہ بجائے اس کے یتیم کہہ دیا کرتا تھا تو آپ نے اسے (طعام الفاجر) پڑھوایا یعنی اسے اس کے سوا کھانے کو اور کچھ نہ دیا جائے گا۔ حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ اگر زقوم کا ایک قطرہ بھی زمین میں ٹپک جائے تو تمام زمین والوں کی معاش خراب کر دے ایک مرفوع حدیث میں بھی یہ آیا ہے جو پہلے بیان ہوچکی ہے، یہ مثل تلچھٹ کے ہوگا۔ اپنی حرارت بدمزگی اور نقصان کے باعث پیٹ میں جوش مارتا رہے گا اللہ تعالیٰ جہنم کے داروغوں سے فرمائے گا کہ اس کافر کو پکڑ لو وہیں ستر ہزار فرشتے دوڑیں گے اسے اندھا کر کے منہ کے بل گھسیٹ لے جاؤ اور بیچ جہنم میں ڈال دو پھر اس کے سر پر جوش مارتا گرم پانی ڈالو۔ جیسے فرمایا آیت (يُصَبُّ مِنْ فَوْقِ رُءُوْسِهِمُ الْحَمِيْمُ 19ۚ) 22۔ الحج :19) ، یعنی ان کے سروں پر جہنم کا جوش مارتا گرم پانی بہایا جائے گا جس سے ان کی کھالیں اور پیٹ کے اندر کی تمام چیزیں سوخت ہوجائیں گی اور یہ بھی ہم پہلے بیان کر آئے ہیں کہ فرشتے انہیں لوہے کے ہتھوڑے ماریں گے جن سے ان کا دماغ پاش پاش ہوجائیں گے پھر اوپر سے یہ حمیم ان پر ڈالا جائے گا یہ جہاں جہاں پہنچے گا ہڈی کو کھال سے جدا کر دے گا یہاں تک کہ اس کی آنتیں کاٹتا ہوا پنڈلیوں تک پہنچ جائے گا۔ اللہ ہمیں محفوظ رکھے پھر انہیں شرمسار کرنے کے لئے اور زیادہ پشیمان بنانے کے لئے کہا جائے گا کہ لو مزہ چکھو تم ہماری نگاہوں میں نہ عزت والے ہو نہ بزرگی والے۔ مغازی امویہ میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ابو جہل ملعون سے کہا کہ مجھے اللہ کا حکم ہوا ہے کہ تجھ سے کہہ دوں تیرے لئے ویل ہے تجھ پر افسوس ہے پھر مکرر کہتا ہوں کہ تیرے لئے خرابی اور افسوس ہے۔ اس پاجی نے اپنا کپڑا آپ کے ہاتھ سے گھسیٹتے ہوئے کہا جا تو اور تیرا رب میرا کیا بگاڑ سکتے ہو ؟ اس تمام وادی میں سب سے زیادہ عزت و تکریم والا میں ہوں۔ پس اللہ تعالیٰ نے اسے بدر والے دن قتل کرایا اور اسے ذلیل کیا اور اس سے کہا جائے گا کہ لے اب اپنی عزت کا اور اپنی تکریم کا اور اپنی بزرگی اور بڑائی کا لطف اٹھا اور ان کافروں سے کہا جائے گا کہ یہ ہے جس میں ہمیشہ شک شبہ کرتے رہے۔ جیسے اور آیتوں میں ہے کہ جس دن انہیں دھکے دے کر جہنم میں پہنچایا جائے گا اور کہا جائے گا کہ یہ وہ دوزخ ہے جسے تم جھٹلاتے رہے کیا یہ جادو ہے یا تم دیکھ نہیں رہے ؟ اسی کو یہاں بھی فرمایا ہے کہ یہ جس میں تم شک کر رہے تھے۔
45
View Single
كَٱلۡمُهۡلِ يَغۡلِي فِي ٱلۡبُطُونِ
Like molten copper; it churns in their bellies.
پگھلے ہوئے تانبے کی طرح وہ پیٹوں میں کَھولے گا
Tafsir Ibn Kathir
The Condition of the Idolators and Their Punishment on the Day of Resurrection
Allah tells us how He will punish the disbelievers who deny the meeting with Him:
إِنَّ شَجَرَةَ الزَّقُّومِ - طَعَامُ الاٌّثِيمِ
(Verily, the tree of Zaqqum will be the food of the sinners.) Those who sinned by their words and in deeds. These are the disbelievers. More than one commentator stated that this referred to Abu Jahl; undoubtedly he is included among those referred to in this Ayah, but it is not specifically about him. Ibn Jarir recorded that Abu Ad-Darda' was reciting to a man:
إِنَّ شَجَرَةَ الزَّقُّومِ - طَعَامُ الاٌّثِيمِ
(Verily, the tree of Zaqqum will be the food of the sinners.) The man said, "The food of the orphan." Abu Ad-Darda', may Allah be pleased with him, said, "Say, the tree of Zaqqum is the food of the evildoer." i.e., he will not have any other food apart from that. Mujahid said, "If a drop of it were to fall on the earth, it would corrupt the living of all the people of earth." A similar Marfu` report has been narrated earlier.
كَالْمُهْلِ
(Like boiling oil,) means, like the dregs of oil.
كَالْمُهْلِ يَغْلِى فِى الْبُطُونِ - كَغَلْىِ الْحَمِيمِ
(it will boil in the bellies, like the boiling of scalding water.) means, because of its heat and rancidity.
خُذُوهُ
(Seize him) means the disbeliever. It was reported that when Allah says to the keepers of Hell, "Seize him," seventy thousand of them will rush to seize him.
فَاعْتِلُوهُ
(and drag him) means, drag him by pulling him and pushing him on his back. Mujahid said:
خُذُوهُ فَاعْتِلُوهُ
(Seize him and drag him) means, take him and push him.
إِلَى سَوَآءِ الْجَحِيمِ
(into the midst of blazing Fire.) means, into the middle of it.
ثُمَّ صُبُّواْ فَوْقَ رَأْسِهِ مِنْ عَذَابِ الْحَمِيمِ
(Then pour over his head the torment of boiling water.) This is like the Ayah:
هَـذَانِ خَصْمَانِ اخْتَصَمُواْ فِى رَبِّهِمْ فَالَّذِينَ كَفَرُواْ قُطِّعَتْ لَهُمْ ثِيَابٌ مِّن نَّارِ يُصَبُّ مِن فَوْقِ رُءُوسِهِمُ الْحَمِيمُ - يُصْهَرُ بِهِ مَا فِى بُطُونِهِمْ وَالْجُلُودُ
(boiling water will be poured down over their heads. With it will melt what is within their bellies, as well as (their) skins.) (22:19-20). The angel will strike him with a hooked rod of iron and split his head open, then he will pour boiling water over his head. It will go down through his body, melting through his stomach and intestines, until it goes through his heels; may Allah protect us from that.
ذُقْ إِنَّكَ أَنتَ الْعَزِيزُ الْكَرِيمُ
(Taste you (this)! Verily, you were (pretending to be) the mighty, the generous.) means, they (the keepers of Hell) will say that to him by way of ridicule and rebuke. Ad-Dahhak reported that Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, said: "This means, you are neither mighty nor generous." And Allah's saying:
إِنَّ هَـذَا مَا كُنتُمْ بِهِ تَمْتَرُونَ
(Verily, this is that whereof you used to doubt!) is like His saying:
يَوْمَ يُدَعُّونَ إِلَى نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّا - هَـذِهِ النَّارُ الَّتِى كُنتُم بِهَا تُكَذِّبُونَ - أَفَسِحْرٌ هَـذَا أَمْ أَنتُمْ لاَ تُبْصِرُونَ
(The Day when they will be pushed down by force to the fire of Hell, with a horrible, forceful pushing. This is the Fire which you used to deny. In this magic, or do you not see) (52: 13-15) Similarly Allah said:
إِنَّ هَـذَا مَا كُنتُمْ بِهِ تَمْتَرُونَ
(Verily, this is that where of you used to doubt!)
زقوم ابو جہل کی خوراک ہوگا منکرین قیامت کو جو سزا وہاں دی جائے گی اس کا بیان ہو رہا ہے کہ ان مجرموں کو جو اپنے قول اور فعل کو نافرمانی سے ملوث کئے ہوئے تھے آج زقوم کا درخت کھلایا جائے گا۔ بعض کہتے ہیں اس سے مراد ابو جہل ہے۔ گو دراصل وہ بھی اس آیت کی وعید میں داخل ہے لیکن یہ نہ سمجھا جائے کہ آیت صرف اسی کے حق میں نازل ہوئی ہے۔ حضرت ابو درداء ایک شخص کو یہ آیت پڑھا رہے تھے مگر اس کی زبان سے لفظ (اثیم) ادا نہیں ہوتا تھا اور وہ بجائے اس کے یتیم کہہ دیا کرتا تھا تو آپ نے اسے (طعام الفاجر) پڑھوایا یعنی اسے اس کے سوا کھانے کو اور کچھ نہ دیا جائے گا۔ حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ اگر زقوم کا ایک قطرہ بھی زمین میں ٹپک جائے تو تمام زمین والوں کی معاش خراب کر دے ایک مرفوع حدیث میں بھی یہ آیا ہے جو پہلے بیان ہوچکی ہے، یہ مثل تلچھٹ کے ہوگا۔ اپنی حرارت بدمزگی اور نقصان کے باعث پیٹ میں جوش مارتا رہے گا اللہ تعالیٰ جہنم کے داروغوں سے فرمائے گا کہ اس کافر کو پکڑ لو وہیں ستر ہزار فرشتے دوڑیں گے اسے اندھا کر کے منہ کے بل گھسیٹ لے جاؤ اور بیچ جہنم میں ڈال دو پھر اس کے سر پر جوش مارتا گرم پانی ڈالو۔ جیسے فرمایا آیت (يُصَبُّ مِنْ فَوْقِ رُءُوْسِهِمُ الْحَمِيْمُ 19ۚ) 22۔ الحج :19) ، یعنی ان کے سروں پر جہنم کا جوش مارتا گرم پانی بہایا جائے گا جس سے ان کی کھالیں اور پیٹ کے اندر کی تمام چیزیں سوخت ہوجائیں گی اور یہ بھی ہم پہلے بیان کر آئے ہیں کہ فرشتے انہیں لوہے کے ہتھوڑے ماریں گے جن سے ان کا دماغ پاش پاش ہوجائیں گے پھر اوپر سے یہ حمیم ان پر ڈالا جائے گا یہ جہاں جہاں پہنچے گا ہڈی کو کھال سے جدا کر دے گا یہاں تک کہ اس کی آنتیں کاٹتا ہوا پنڈلیوں تک پہنچ جائے گا۔ اللہ ہمیں محفوظ رکھے پھر انہیں شرمسار کرنے کے لئے اور زیادہ پشیمان بنانے کے لئے کہا جائے گا کہ لو مزہ چکھو تم ہماری نگاہوں میں نہ عزت والے ہو نہ بزرگی والے۔ مغازی امویہ میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ابو جہل ملعون سے کہا کہ مجھے اللہ کا حکم ہوا ہے کہ تجھ سے کہہ دوں تیرے لئے ویل ہے تجھ پر افسوس ہے پھر مکرر کہتا ہوں کہ تیرے لئے خرابی اور افسوس ہے۔ اس پاجی نے اپنا کپڑا آپ کے ہاتھ سے گھسیٹتے ہوئے کہا جا تو اور تیرا رب میرا کیا بگاڑ سکتے ہو ؟ اس تمام وادی میں سب سے زیادہ عزت و تکریم والا میں ہوں۔ پس اللہ تعالیٰ نے اسے بدر والے دن قتل کرایا اور اسے ذلیل کیا اور اس سے کہا جائے گا کہ لے اب اپنی عزت کا اور اپنی تکریم کا اور اپنی بزرگی اور بڑائی کا لطف اٹھا اور ان کافروں سے کہا جائے گا کہ یہ ہے جس میں ہمیشہ شک شبہ کرتے رہے۔ جیسے اور آیتوں میں ہے کہ جس دن انہیں دھکے دے کر جہنم میں پہنچایا جائے گا اور کہا جائے گا کہ یہ وہ دوزخ ہے جسے تم جھٹلاتے رہے کیا یہ جادو ہے یا تم دیکھ نہیں رہے ؟ اسی کو یہاں بھی فرمایا ہے کہ یہ جس میں تم شک کر رہے تھے۔
46
View Single
كَغَلۡيِ ٱلۡحَمِيمِ
Like the churning of boiling water.
کھولتے ہوئے پانی کے جوش کی مانند
Tafsir Ibn Kathir
The Condition of the Idolators and Their Punishment on the Day of Resurrection
Allah tells us how He will punish the disbelievers who deny the meeting with Him:
إِنَّ شَجَرَةَ الزَّقُّومِ - طَعَامُ الاٌّثِيمِ
(Verily, the tree of Zaqqum will be the food of the sinners.) Those who sinned by their words and in deeds. These are the disbelievers. More than one commentator stated that this referred to Abu Jahl; undoubtedly he is included among those referred to in this Ayah, but it is not specifically about him. Ibn Jarir recorded that Abu Ad-Darda' was reciting to a man:
إِنَّ شَجَرَةَ الزَّقُّومِ - طَعَامُ الاٌّثِيمِ
(Verily, the tree of Zaqqum will be the food of the sinners.) The man said, "The food of the orphan." Abu Ad-Darda', may Allah be pleased with him, said, "Say, the tree of Zaqqum is the food of the evildoer." i.e., he will not have any other food apart from that. Mujahid said, "If a drop of it were to fall on the earth, it would corrupt the living of all the people of earth." A similar Marfu` report has been narrated earlier.
كَالْمُهْلِ
(Like boiling oil,) means, like the dregs of oil.
كَالْمُهْلِ يَغْلِى فِى الْبُطُونِ - كَغَلْىِ الْحَمِيمِ
(it will boil in the bellies, like the boiling of scalding water.) means, because of its heat and rancidity.
خُذُوهُ
(Seize him) means the disbeliever. It was reported that when Allah says to the keepers of Hell, "Seize him," seventy thousand of them will rush to seize him.
فَاعْتِلُوهُ
(and drag him) means, drag him by pulling him and pushing him on his back. Mujahid said:
خُذُوهُ فَاعْتِلُوهُ
(Seize him and drag him) means, take him and push him.
إِلَى سَوَآءِ الْجَحِيمِ
(into the midst of blazing Fire.) means, into the middle of it.
ثُمَّ صُبُّواْ فَوْقَ رَأْسِهِ مِنْ عَذَابِ الْحَمِيمِ
(Then pour over his head the torment of boiling water.) This is like the Ayah:
هَـذَانِ خَصْمَانِ اخْتَصَمُواْ فِى رَبِّهِمْ فَالَّذِينَ كَفَرُواْ قُطِّعَتْ لَهُمْ ثِيَابٌ مِّن نَّارِ يُصَبُّ مِن فَوْقِ رُءُوسِهِمُ الْحَمِيمُ - يُصْهَرُ بِهِ مَا فِى بُطُونِهِمْ وَالْجُلُودُ
(boiling water will be poured down over their heads. With it will melt what is within their bellies, as well as (their) skins.) (22:19-20). The angel will strike him with a hooked rod of iron and split his head open, then he will pour boiling water over his head. It will go down through his body, melting through his stomach and intestines, until it goes through his heels; may Allah protect us from that.
ذُقْ إِنَّكَ أَنتَ الْعَزِيزُ الْكَرِيمُ
(Taste you (this)! Verily, you were (pretending to be) the mighty, the generous.) means, they (the keepers of Hell) will say that to him by way of ridicule and rebuke. Ad-Dahhak reported that Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, said: "This means, you are neither mighty nor generous." And Allah's saying:
إِنَّ هَـذَا مَا كُنتُمْ بِهِ تَمْتَرُونَ
(Verily, this is that whereof you used to doubt!) is like His saying:
يَوْمَ يُدَعُّونَ إِلَى نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّا - هَـذِهِ النَّارُ الَّتِى كُنتُم بِهَا تُكَذِّبُونَ - أَفَسِحْرٌ هَـذَا أَمْ أَنتُمْ لاَ تُبْصِرُونَ
(The Day when they will be pushed down by force to the fire of Hell, with a horrible, forceful pushing. This is the Fire which you used to deny. In this magic, or do you not see) (52: 13-15) Similarly Allah said:
إِنَّ هَـذَا مَا كُنتُمْ بِهِ تَمْتَرُونَ
(Verily, this is that where of you used to doubt!)
زقوم ابو جہل کی خوراک ہوگا منکرین قیامت کو جو سزا وہاں دی جائے گی اس کا بیان ہو رہا ہے کہ ان مجرموں کو جو اپنے قول اور فعل کو نافرمانی سے ملوث کئے ہوئے تھے آج زقوم کا درخت کھلایا جائے گا۔ بعض کہتے ہیں اس سے مراد ابو جہل ہے۔ گو دراصل وہ بھی اس آیت کی وعید میں داخل ہے لیکن یہ نہ سمجھا جائے کہ آیت صرف اسی کے حق میں نازل ہوئی ہے۔ حضرت ابو درداء ایک شخص کو یہ آیت پڑھا رہے تھے مگر اس کی زبان سے لفظ (اثیم) ادا نہیں ہوتا تھا اور وہ بجائے اس کے یتیم کہہ دیا کرتا تھا تو آپ نے اسے (طعام الفاجر) پڑھوایا یعنی اسے اس کے سوا کھانے کو اور کچھ نہ دیا جائے گا۔ حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ اگر زقوم کا ایک قطرہ بھی زمین میں ٹپک جائے تو تمام زمین والوں کی معاش خراب کر دے ایک مرفوع حدیث میں بھی یہ آیا ہے جو پہلے بیان ہوچکی ہے، یہ مثل تلچھٹ کے ہوگا۔ اپنی حرارت بدمزگی اور نقصان کے باعث پیٹ میں جوش مارتا رہے گا اللہ تعالیٰ جہنم کے داروغوں سے فرمائے گا کہ اس کافر کو پکڑ لو وہیں ستر ہزار فرشتے دوڑیں گے اسے اندھا کر کے منہ کے بل گھسیٹ لے جاؤ اور بیچ جہنم میں ڈال دو پھر اس کے سر پر جوش مارتا گرم پانی ڈالو۔ جیسے فرمایا آیت (يُصَبُّ مِنْ فَوْقِ رُءُوْسِهِمُ الْحَمِيْمُ 19ۚ) 22۔ الحج :19) ، یعنی ان کے سروں پر جہنم کا جوش مارتا گرم پانی بہایا جائے گا جس سے ان کی کھالیں اور پیٹ کے اندر کی تمام چیزیں سوخت ہوجائیں گی اور یہ بھی ہم پہلے بیان کر آئے ہیں کہ فرشتے انہیں لوہے کے ہتھوڑے ماریں گے جن سے ان کا دماغ پاش پاش ہوجائیں گے پھر اوپر سے یہ حمیم ان پر ڈالا جائے گا یہ جہاں جہاں پہنچے گا ہڈی کو کھال سے جدا کر دے گا یہاں تک کہ اس کی آنتیں کاٹتا ہوا پنڈلیوں تک پہنچ جائے گا۔ اللہ ہمیں محفوظ رکھے پھر انہیں شرمسار کرنے کے لئے اور زیادہ پشیمان بنانے کے لئے کہا جائے گا کہ لو مزہ چکھو تم ہماری نگاہوں میں نہ عزت والے ہو نہ بزرگی والے۔ مغازی امویہ میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ابو جہل ملعون سے کہا کہ مجھے اللہ کا حکم ہوا ہے کہ تجھ سے کہہ دوں تیرے لئے ویل ہے تجھ پر افسوس ہے پھر مکرر کہتا ہوں کہ تیرے لئے خرابی اور افسوس ہے۔ اس پاجی نے اپنا کپڑا آپ کے ہاتھ سے گھسیٹتے ہوئے کہا جا تو اور تیرا رب میرا کیا بگاڑ سکتے ہو ؟ اس تمام وادی میں سب سے زیادہ عزت و تکریم والا میں ہوں۔ پس اللہ تعالیٰ نے اسے بدر والے دن قتل کرایا اور اسے ذلیل کیا اور اس سے کہا جائے گا کہ لے اب اپنی عزت کا اور اپنی تکریم کا اور اپنی بزرگی اور بڑائی کا لطف اٹھا اور ان کافروں سے کہا جائے گا کہ یہ ہے جس میں ہمیشہ شک شبہ کرتے رہے۔ جیسے اور آیتوں میں ہے کہ جس دن انہیں دھکے دے کر جہنم میں پہنچایا جائے گا اور کہا جائے گا کہ یہ وہ دوزخ ہے جسے تم جھٹلاتے رہے کیا یہ جادو ہے یا تم دیکھ نہیں رہے ؟ اسی کو یہاں بھی فرمایا ہے کہ یہ جس میں تم شک کر رہے تھے۔
47
View Single
خُذُوهُ فَٱعۡتِلُوهُ إِلَىٰ سَوَآءِ ٱلۡجَحِيمِ
“Seize him, and forcibly drag him right to the blazing fire.”
(حکم ہوگا:) اس کو پکڑ لو اور دوزخ کے وسط تک اسے زور سے گھسیٹتے ہوئے لے جاؤ
Tafsir Ibn Kathir
The Condition of the Idolators and Their Punishment on the Day of Resurrection
Allah tells us how He will punish the disbelievers who deny the meeting with Him:
إِنَّ شَجَرَةَ الزَّقُّومِ - طَعَامُ الاٌّثِيمِ
(Verily, the tree of Zaqqum will be the food of the sinners.) Those who sinned by their words and in deeds. These are the disbelievers. More than one commentator stated that this referred to Abu Jahl; undoubtedly he is included among those referred to in this Ayah, but it is not specifically about him. Ibn Jarir recorded that Abu Ad-Darda' was reciting to a man:
إِنَّ شَجَرَةَ الزَّقُّومِ - طَعَامُ الاٌّثِيمِ
(Verily, the tree of Zaqqum will be the food of the sinners.) The man said, "The food of the orphan." Abu Ad-Darda', may Allah be pleased with him, said, "Say, the tree of Zaqqum is the food of the evildoer." i.e., he will not have any other food apart from that. Mujahid said, "If a drop of it were to fall on the earth, it would corrupt the living of all the people of earth." A similar Marfu` report has been narrated earlier.
كَالْمُهْلِ
(Like boiling oil,) means, like the dregs of oil.
كَالْمُهْلِ يَغْلِى فِى الْبُطُونِ - كَغَلْىِ الْحَمِيمِ
(it will boil in the bellies, like the boiling of scalding water.) means, because of its heat and rancidity.
خُذُوهُ
(Seize him) means the disbeliever. It was reported that when Allah says to the keepers of Hell, "Seize him," seventy thousand of them will rush to seize him.
فَاعْتِلُوهُ
(and drag him) means, drag him by pulling him and pushing him on his back. Mujahid said:
خُذُوهُ فَاعْتِلُوهُ
(Seize him and drag him) means, take him and push him.
إِلَى سَوَآءِ الْجَحِيمِ
(into the midst of blazing Fire.) means, into the middle of it.
ثُمَّ صُبُّواْ فَوْقَ رَأْسِهِ مِنْ عَذَابِ الْحَمِيمِ
(Then pour over his head the torment of boiling water.) This is like the Ayah:
هَـذَانِ خَصْمَانِ اخْتَصَمُواْ فِى رَبِّهِمْ فَالَّذِينَ كَفَرُواْ قُطِّعَتْ لَهُمْ ثِيَابٌ مِّن نَّارِ يُصَبُّ مِن فَوْقِ رُءُوسِهِمُ الْحَمِيمُ - يُصْهَرُ بِهِ مَا فِى بُطُونِهِمْ وَالْجُلُودُ
(boiling water will be poured down over their heads. With it will melt what is within their bellies, as well as (their) skins.) (22:19-20). The angel will strike him with a hooked rod of iron and split his head open, then he will pour boiling water over his head. It will go down through his body, melting through his stomach and intestines, until it goes through his heels; may Allah protect us from that.
ذُقْ إِنَّكَ أَنتَ الْعَزِيزُ الْكَرِيمُ
(Taste you (this)! Verily, you were (pretending to be) the mighty, the generous.) means, they (the keepers of Hell) will say that to him by way of ridicule and rebuke. Ad-Dahhak reported that Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, said: "This means, you are neither mighty nor generous." And Allah's saying:
إِنَّ هَـذَا مَا كُنتُمْ بِهِ تَمْتَرُونَ
(Verily, this is that whereof you used to doubt!) is like His saying:
يَوْمَ يُدَعُّونَ إِلَى نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّا - هَـذِهِ النَّارُ الَّتِى كُنتُم بِهَا تُكَذِّبُونَ - أَفَسِحْرٌ هَـذَا أَمْ أَنتُمْ لاَ تُبْصِرُونَ
(The Day when they will be pushed down by force to the fire of Hell, with a horrible, forceful pushing. This is the Fire which you used to deny. In this magic, or do you not see) (52: 13-15) Similarly Allah said:
إِنَّ هَـذَا مَا كُنتُمْ بِهِ تَمْتَرُونَ
(Verily, this is that where of you used to doubt!)
زقوم ابو جہل کی خوراک ہوگا منکرین قیامت کو جو سزا وہاں دی جائے گی اس کا بیان ہو رہا ہے کہ ان مجرموں کو جو اپنے قول اور فعل کو نافرمانی سے ملوث کئے ہوئے تھے آج زقوم کا درخت کھلایا جائے گا۔ بعض کہتے ہیں اس سے مراد ابو جہل ہے۔ گو دراصل وہ بھی اس آیت کی وعید میں داخل ہے لیکن یہ نہ سمجھا جائے کہ آیت صرف اسی کے حق میں نازل ہوئی ہے۔ حضرت ابو درداء ایک شخص کو یہ آیت پڑھا رہے تھے مگر اس کی زبان سے لفظ (اثیم) ادا نہیں ہوتا تھا اور وہ بجائے اس کے یتیم کہہ دیا کرتا تھا تو آپ نے اسے (طعام الفاجر) پڑھوایا یعنی اسے اس کے سوا کھانے کو اور کچھ نہ دیا جائے گا۔ حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ اگر زقوم کا ایک قطرہ بھی زمین میں ٹپک جائے تو تمام زمین والوں کی معاش خراب کر دے ایک مرفوع حدیث میں بھی یہ آیا ہے جو پہلے بیان ہوچکی ہے، یہ مثل تلچھٹ کے ہوگا۔ اپنی حرارت بدمزگی اور نقصان کے باعث پیٹ میں جوش مارتا رہے گا اللہ تعالیٰ جہنم کے داروغوں سے فرمائے گا کہ اس کافر کو پکڑ لو وہیں ستر ہزار فرشتے دوڑیں گے اسے اندھا کر کے منہ کے بل گھسیٹ لے جاؤ اور بیچ جہنم میں ڈال دو پھر اس کے سر پر جوش مارتا گرم پانی ڈالو۔ جیسے فرمایا آیت (يُصَبُّ مِنْ فَوْقِ رُءُوْسِهِمُ الْحَمِيْمُ 19ۚ) 22۔ الحج :19) ، یعنی ان کے سروں پر جہنم کا جوش مارتا گرم پانی بہایا جائے گا جس سے ان کی کھالیں اور پیٹ کے اندر کی تمام چیزیں سوخت ہوجائیں گی اور یہ بھی ہم پہلے بیان کر آئے ہیں کہ فرشتے انہیں لوہے کے ہتھوڑے ماریں گے جن سے ان کا دماغ پاش پاش ہوجائیں گے پھر اوپر سے یہ حمیم ان پر ڈالا جائے گا یہ جہاں جہاں پہنچے گا ہڈی کو کھال سے جدا کر دے گا یہاں تک کہ اس کی آنتیں کاٹتا ہوا پنڈلیوں تک پہنچ جائے گا۔ اللہ ہمیں محفوظ رکھے پھر انہیں شرمسار کرنے کے لئے اور زیادہ پشیمان بنانے کے لئے کہا جائے گا کہ لو مزہ چکھو تم ہماری نگاہوں میں نہ عزت والے ہو نہ بزرگی والے۔ مغازی امویہ میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ابو جہل ملعون سے کہا کہ مجھے اللہ کا حکم ہوا ہے کہ تجھ سے کہہ دوں تیرے لئے ویل ہے تجھ پر افسوس ہے پھر مکرر کہتا ہوں کہ تیرے لئے خرابی اور افسوس ہے۔ اس پاجی نے اپنا کپڑا آپ کے ہاتھ سے گھسیٹتے ہوئے کہا جا تو اور تیرا رب میرا کیا بگاڑ سکتے ہو ؟ اس تمام وادی میں سب سے زیادہ عزت و تکریم والا میں ہوں۔ پس اللہ تعالیٰ نے اسے بدر والے دن قتل کرایا اور اسے ذلیل کیا اور اس سے کہا جائے گا کہ لے اب اپنی عزت کا اور اپنی تکریم کا اور اپنی بزرگی اور بڑائی کا لطف اٹھا اور ان کافروں سے کہا جائے گا کہ یہ ہے جس میں ہمیشہ شک شبہ کرتے رہے۔ جیسے اور آیتوں میں ہے کہ جس دن انہیں دھکے دے کر جہنم میں پہنچایا جائے گا اور کہا جائے گا کہ یہ وہ دوزخ ہے جسے تم جھٹلاتے رہے کیا یہ جادو ہے یا تم دیکھ نہیں رہے ؟ اسی کو یہاں بھی فرمایا ہے کہ یہ جس میں تم شک کر رہے تھے۔
48
View Single
ثُمَّ صُبُّواْ فَوۡقَ رَأۡسِهِۦ مِنۡ عَذَابِ ٱلۡحَمِيمِ
“Then pour on his head the punishment of boiling water.”
پھر اِس کے سَر پر کھولتے ہوئے پانی کا عذاب ڈالو
Tafsir Ibn Kathir
The Condition of the Idolators and Their Punishment on the Day of Resurrection
Allah tells us how He will punish the disbelievers who deny the meeting with Him:
إِنَّ شَجَرَةَ الزَّقُّومِ - طَعَامُ الاٌّثِيمِ
(Verily, the tree of Zaqqum will be the food of the sinners.) Those who sinned by their words and in deeds. These are the disbelievers. More than one commentator stated that this referred to Abu Jahl; undoubtedly he is included among those referred to in this Ayah, but it is not specifically about him. Ibn Jarir recorded that Abu Ad-Darda' was reciting to a man:
إِنَّ شَجَرَةَ الزَّقُّومِ - طَعَامُ الاٌّثِيمِ
(Verily, the tree of Zaqqum will be the food of the sinners.) The man said, "The food of the orphan." Abu Ad-Darda', may Allah be pleased with him, said, "Say, the tree of Zaqqum is the food of the evildoer." i.e., he will not have any other food apart from that. Mujahid said, "If a drop of it were to fall on the earth, it would corrupt the living of all the people of earth." A similar Marfu` report has been narrated earlier.
كَالْمُهْلِ
(Like boiling oil,) means, like the dregs of oil.
كَالْمُهْلِ يَغْلِى فِى الْبُطُونِ - كَغَلْىِ الْحَمِيمِ
(it will boil in the bellies, like the boiling of scalding water.) means, because of its heat and rancidity.
خُذُوهُ
(Seize him) means the disbeliever. It was reported that when Allah says to the keepers of Hell, "Seize him," seventy thousand of them will rush to seize him.
فَاعْتِلُوهُ
(and drag him) means, drag him by pulling him and pushing him on his back. Mujahid said:
خُذُوهُ فَاعْتِلُوهُ
(Seize him and drag him) means, take him and push him.
إِلَى سَوَآءِ الْجَحِيمِ
(into the midst of blazing Fire.) means, into the middle of it.
ثُمَّ صُبُّواْ فَوْقَ رَأْسِهِ مِنْ عَذَابِ الْحَمِيمِ
(Then pour over his head the torment of boiling water.) This is like the Ayah:
هَـذَانِ خَصْمَانِ اخْتَصَمُواْ فِى رَبِّهِمْ فَالَّذِينَ كَفَرُواْ قُطِّعَتْ لَهُمْ ثِيَابٌ مِّن نَّارِ يُصَبُّ مِن فَوْقِ رُءُوسِهِمُ الْحَمِيمُ - يُصْهَرُ بِهِ مَا فِى بُطُونِهِمْ وَالْجُلُودُ
(boiling water will be poured down over their heads. With it will melt what is within their bellies, as well as (their) skins.) (22:19-20). The angel will strike him with a hooked rod of iron and split his head open, then he will pour boiling water over his head. It will go down through his body, melting through his stomach and intestines, until it goes through his heels; may Allah protect us from that.
ذُقْ إِنَّكَ أَنتَ الْعَزِيزُ الْكَرِيمُ
(Taste you (this)! Verily, you were (pretending to be) the mighty, the generous.) means, they (the keepers of Hell) will say that to him by way of ridicule and rebuke. Ad-Dahhak reported that Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, said: "This means, you are neither mighty nor generous." And Allah's saying:
إِنَّ هَـذَا مَا كُنتُمْ بِهِ تَمْتَرُونَ
(Verily, this is that whereof you used to doubt!) is like His saying:
يَوْمَ يُدَعُّونَ إِلَى نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّا - هَـذِهِ النَّارُ الَّتِى كُنتُم بِهَا تُكَذِّبُونَ - أَفَسِحْرٌ هَـذَا أَمْ أَنتُمْ لاَ تُبْصِرُونَ
(The Day when they will be pushed down by force to the fire of Hell, with a horrible, forceful pushing. This is the Fire which you used to deny. In this magic, or do you not see) (52: 13-15) Similarly Allah said:
إِنَّ هَـذَا مَا كُنتُمْ بِهِ تَمْتَرُونَ
(Verily, this is that where of you used to doubt!)
زقوم ابو جہل کی خوراک ہوگا منکرین قیامت کو جو سزا وہاں دی جائے گی اس کا بیان ہو رہا ہے کہ ان مجرموں کو جو اپنے قول اور فعل کو نافرمانی سے ملوث کئے ہوئے تھے آج زقوم کا درخت کھلایا جائے گا۔ بعض کہتے ہیں اس سے مراد ابو جہل ہے۔ گو دراصل وہ بھی اس آیت کی وعید میں داخل ہے لیکن یہ نہ سمجھا جائے کہ آیت صرف اسی کے حق میں نازل ہوئی ہے۔ حضرت ابو درداء ایک شخص کو یہ آیت پڑھا رہے تھے مگر اس کی زبان سے لفظ (اثیم) ادا نہیں ہوتا تھا اور وہ بجائے اس کے یتیم کہہ دیا کرتا تھا تو آپ نے اسے (طعام الفاجر) پڑھوایا یعنی اسے اس کے سوا کھانے کو اور کچھ نہ دیا جائے گا۔ حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ اگر زقوم کا ایک قطرہ بھی زمین میں ٹپک جائے تو تمام زمین والوں کی معاش خراب کر دے ایک مرفوع حدیث میں بھی یہ آیا ہے جو پہلے بیان ہوچکی ہے، یہ مثل تلچھٹ کے ہوگا۔ اپنی حرارت بدمزگی اور نقصان کے باعث پیٹ میں جوش مارتا رہے گا اللہ تعالیٰ جہنم کے داروغوں سے فرمائے گا کہ اس کافر کو پکڑ لو وہیں ستر ہزار فرشتے دوڑیں گے اسے اندھا کر کے منہ کے بل گھسیٹ لے جاؤ اور بیچ جہنم میں ڈال دو پھر اس کے سر پر جوش مارتا گرم پانی ڈالو۔ جیسے فرمایا آیت (يُصَبُّ مِنْ فَوْقِ رُءُوْسِهِمُ الْحَمِيْمُ 19ۚ) 22۔ الحج :19) ، یعنی ان کے سروں پر جہنم کا جوش مارتا گرم پانی بہایا جائے گا جس سے ان کی کھالیں اور پیٹ کے اندر کی تمام چیزیں سوخت ہوجائیں گی اور یہ بھی ہم پہلے بیان کر آئے ہیں کہ فرشتے انہیں لوہے کے ہتھوڑے ماریں گے جن سے ان کا دماغ پاش پاش ہوجائیں گے پھر اوپر سے یہ حمیم ان پر ڈالا جائے گا یہ جہاں جہاں پہنچے گا ہڈی کو کھال سے جدا کر دے گا یہاں تک کہ اس کی آنتیں کاٹتا ہوا پنڈلیوں تک پہنچ جائے گا۔ اللہ ہمیں محفوظ رکھے پھر انہیں شرمسار کرنے کے لئے اور زیادہ پشیمان بنانے کے لئے کہا جائے گا کہ لو مزہ چکھو تم ہماری نگاہوں میں نہ عزت والے ہو نہ بزرگی والے۔ مغازی امویہ میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ابو جہل ملعون سے کہا کہ مجھے اللہ کا حکم ہوا ہے کہ تجھ سے کہہ دوں تیرے لئے ویل ہے تجھ پر افسوس ہے پھر مکرر کہتا ہوں کہ تیرے لئے خرابی اور افسوس ہے۔ اس پاجی نے اپنا کپڑا آپ کے ہاتھ سے گھسیٹتے ہوئے کہا جا تو اور تیرا رب میرا کیا بگاڑ سکتے ہو ؟ اس تمام وادی میں سب سے زیادہ عزت و تکریم والا میں ہوں۔ پس اللہ تعالیٰ نے اسے بدر والے دن قتل کرایا اور اسے ذلیل کیا اور اس سے کہا جائے گا کہ لے اب اپنی عزت کا اور اپنی تکریم کا اور اپنی بزرگی اور بڑائی کا لطف اٹھا اور ان کافروں سے کہا جائے گا کہ یہ ہے جس میں ہمیشہ شک شبہ کرتے رہے۔ جیسے اور آیتوں میں ہے کہ جس دن انہیں دھکے دے کر جہنم میں پہنچایا جائے گا اور کہا جائے گا کہ یہ وہ دوزخ ہے جسے تم جھٹلاتے رہے کیا یہ جادو ہے یا تم دیکھ نہیں رہے ؟ اسی کو یہاں بھی فرمایا ہے کہ یہ جس میں تم شک کر رہے تھے۔
49
View Single
ذُقۡ إِنَّكَ أَنتَ ٱلۡعَزِيزُ ٱلۡكَرِيمُ
Saying “Taste it! Indeed you only are the most honourable, the dignified!”
مَزہ چکھ لے، ہاں تُو ہی (اپنے گمان اور دعوٰی میں) بڑا معزّز و مکرّم ہے
Tafsir Ibn Kathir
The Condition of the Idolators and Their Punishment on the Day of Resurrection
Allah tells us how He will punish the disbelievers who deny the meeting with Him:
إِنَّ شَجَرَةَ الزَّقُّومِ - طَعَامُ الاٌّثِيمِ
(Verily, the tree of Zaqqum will be the food of the sinners.) Those who sinned by their words and in deeds. These are the disbelievers. More than one commentator stated that this referred to Abu Jahl; undoubtedly he is included among those referred to in this Ayah, but it is not specifically about him. Ibn Jarir recorded that Abu Ad-Darda' was reciting to a man:
إِنَّ شَجَرَةَ الزَّقُّومِ - طَعَامُ الاٌّثِيمِ
(Verily, the tree of Zaqqum will be the food of the sinners.) The man said, "The food of the orphan." Abu Ad-Darda', may Allah be pleased with him, said, "Say, the tree of Zaqqum is the food of the evildoer." i.e., he will not have any other food apart from that. Mujahid said, "If a drop of it were to fall on the earth, it would corrupt the living of all the people of earth." A similar Marfu` report has been narrated earlier.
كَالْمُهْلِ
(Like boiling oil,) means, like the dregs of oil.
كَالْمُهْلِ يَغْلِى فِى الْبُطُونِ - كَغَلْىِ الْحَمِيمِ
(it will boil in the bellies, like the boiling of scalding water.) means, because of its heat and rancidity.
خُذُوهُ
(Seize him) means the disbeliever. It was reported that when Allah says to the keepers of Hell, "Seize him," seventy thousand of them will rush to seize him.
فَاعْتِلُوهُ
(and drag him) means, drag him by pulling him and pushing him on his back. Mujahid said:
خُذُوهُ فَاعْتِلُوهُ
(Seize him and drag him) means, take him and push him.
إِلَى سَوَآءِ الْجَحِيمِ
(into the midst of blazing Fire.) means, into the middle of it.
ثُمَّ صُبُّواْ فَوْقَ رَأْسِهِ مِنْ عَذَابِ الْحَمِيمِ
(Then pour over his head the torment of boiling water.) This is like the Ayah:
هَـذَانِ خَصْمَانِ اخْتَصَمُواْ فِى رَبِّهِمْ فَالَّذِينَ كَفَرُواْ قُطِّعَتْ لَهُمْ ثِيَابٌ مِّن نَّارِ يُصَبُّ مِن فَوْقِ رُءُوسِهِمُ الْحَمِيمُ - يُصْهَرُ بِهِ مَا فِى بُطُونِهِمْ وَالْجُلُودُ
(boiling water will be poured down over their heads. With it will melt what is within their bellies, as well as (their) skins.) (22:19-20). The angel will strike him with a hooked rod of iron and split his head open, then he will pour boiling water over his head. It will go down through his body, melting through his stomach and intestines, until it goes through his heels; may Allah protect us from that.
ذُقْ إِنَّكَ أَنتَ الْعَزِيزُ الْكَرِيمُ
(Taste you (this)! Verily, you were (pretending to be) the mighty, the generous.) means, they (the keepers of Hell) will say that to him by way of ridicule and rebuke. Ad-Dahhak reported that Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, said: "This means, you are neither mighty nor generous." And Allah's saying:
إِنَّ هَـذَا مَا كُنتُمْ بِهِ تَمْتَرُونَ
(Verily, this is that whereof you used to doubt!) is like His saying:
يَوْمَ يُدَعُّونَ إِلَى نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّا - هَـذِهِ النَّارُ الَّتِى كُنتُم بِهَا تُكَذِّبُونَ - أَفَسِحْرٌ هَـذَا أَمْ أَنتُمْ لاَ تُبْصِرُونَ
(The Day when they will be pushed down by force to the fire of Hell, with a horrible, forceful pushing. This is the Fire which you used to deny. In this magic, or do you not see) (52: 13-15) Similarly Allah said:
إِنَّ هَـذَا مَا كُنتُمْ بِهِ تَمْتَرُونَ
(Verily, this is that where of you used to doubt!)
زقوم ابو جہل کی خوراک ہوگا منکرین قیامت کو جو سزا وہاں دی جائے گی اس کا بیان ہو رہا ہے کہ ان مجرموں کو جو اپنے قول اور فعل کو نافرمانی سے ملوث کئے ہوئے تھے آج زقوم کا درخت کھلایا جائے گا۔ بعض کہتے ہیں اس سے مراد ابو جہل ہے۔ گو دراصل وہ بھی اس آیت کی وعید میں داخل ہے لیکن یہ نہ سمجھا جائے کہ آیت صرف اسی کے حق میں نازل ہوئی ہے۔ حضرت ابو درداء ایک شخص کو یہ آیت پڑھا رہے تھے مگر اس کی زبان سے لفظ (اثیم) ادا نہیں ہوتا تھا اور وہ بجائے اس کے یتیم کہہ دیا کرتا تھا تو آپ نے اسے (طعام الفاجر) پڑھوایا یعنی اسے اس کے سوا کھانے کو اور کچھ نہ دیا جائے گا۔ حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ اگر زقوم کا ایک قطرہ بھی زمین میں ٹپک جائے تو تمام زمین والوں کی معاش خراب کر دے ایک مرفوع حدیث میں بھی یہ آیا ہے جو پہلے بیان ہوچکی ہے، یہ مثل تلچھٹ کے ہوگا۔ اپنی حرارت بدمزگی اور نقصان کے باعث پیٹ میں جوش مارتا رہے گا اللہ تعالیٰ جہنم کے داروغوں سے فرمائے گا کہ اس کافر کو پکڑ لو وہیں ستر ہزار فرشتے دوڑیں گے اسے اندھا کر کے منہ کے بل گھسیٹ لے جاؤ اور بیچ جہنم میں ڈال دو پھر اس کے سر پر جوش مارتا گرم پانی ڈالو۔ جیسے فرمایا آیت (يُصَبُّ مِنْ فَوْقِ رُءُوْسِهِمُ الْحَمِيْمُ 19ۚ) 22۔ الحج :19) ، یعنی ان کے سروں پر جہنم کا جوش مارتا گرم پانی بہایا جائے گا جس سے ان کی کھالیں اور پیٹ کے اندر کی تمام چیزیں سوخت ہوجائیں گی اور یہ بھی ہم پہلے بیان کر آئے ہیں کہ فرشتے انہیں لوہے کے ہتھوڑے ماریں گے جن سے ان کا دماغ پاش پاش ہوجائیں گے پھر اوپر سے یہ حمیم ان پر ڈالا جائے گا یہ جہاں جہاں پہنچے گا ہڈی کو کھال سے جدا کر دے گا یہاں تک کہ اس کی آنتیں کاٹتا ہوا پنڈلیوں تک پہنچ جائے گا۔ اللہ ہمیں محفوظ رکھے پھر انہیں شرمسار کرنے کے لئے اور زیادہ پشیمان بنانے کے لئے کہا جائے گا کہ لو مزہ چکھو تم ہماری نگاہوں میں نہ عزت والے ہو نہ بزرگی والے۔ مغازی امویہ میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ابو جہل ملعون سے کہا کہ مجھے اللہ کا حکم ہوا ہے کہ تجھ سے کہہ دوں تیرے لئے ویل ہے تجھ پر افسوس ہے پھر مکرر کہتا ہوں کہ تیرے لئے خرابی اور افسوس ہے۔ اس پاجی نے اپنا کپڑا آپ کے ہاتھ سے گھسیٹتے ہوئے کہا جا تو اور تیرا رب میرا کیا بگاڑ سکتے ہو ؟ اس تمام وادی میں سب سے زیادہ عزت و تکریم والا میں ہوں۔ پس اللہ تعالیٰ نے اسے بدر والے دن قتل کرایا اور اسے ذلیل کیا اور اس سے کہا جائے گا کہ لے اب اپنی عزت کا اور اپنی تکریم کا اور اپنی بزرگی اور بڑائی کا لطف اٹھا اور ان کافروں سے کہا جائے گا کہ یہ ہے جس میں ہمیشہ شک شبہ کرتے رہے۔ جیسے اور آیتوں میں ہے کہ جس دن انہیں دھکے دے کر جہنم میں پہنچایا جائے گا اور کہا جائے گا کہ یہ وہ دوزخ ہے جسے تم جھٹلاتے رہے کیا یہ جادو ہے یا تم دیکھ نہیں رہے ؟ اسی کو یہاں بھی فرمایا ہے کہ یہ جس میں تم شک کر رہے تھے۔
50
View Single
إِنَّ هَٰذَا مَا كُنتُم بِهِۦ تَمۡتَرُونَ
“Indeed this is what you used to doubt about.”
بیشک یہ وہی (دوزخ) ہے جس میں تم شک کیا کرتے تھے
Tafsir Ibn Kathir
The Condition of the Idolators and Their Punishment on the Day of Resurrection
Allah tells us how He will punish the disbelievers who deny the meeting with Him:
إِنَّ شَجَرَةَ الزَّقُّومِ - طَعَامُ الاٌّثِيمِ
(Verily, the tree of Zaqqum will be the food of the sinners.) Those who sinned by their words and in deeds. These are the disbelievers. More than one commentator stated that this referred to Abu Jahl; undoubtedly he is included among those referred to in this Ayah, but it is not specifically about him. Ibn Jarir recorded that Abu Ad-Darda' was reciting to a man:
إِنَّ شَجَرَةَ الزَّقُّومِ - طَعَامُ الاٌّثِيمِ
(Verily, the tree of Zaqqum will be the food of the sinners.) The man said, "The food of the orphan." Abu Ad-Darda', may Allah be pleased with him, said, "Say, the tree of Zaqqum is the food of the evildoer." i.e., he will not have any other food apart from that. Mujahid said, "If a drop of it were to fall on the earth, it would corrupt the living of all the people of earth." A similar Marfu` report has been narrated earlier.
كَالْمُهْلِ
(Like boiling oil,) means, like the dregs of oil.
كَالْمُهْلِ يَغْلِى فِى الْبُطُونِ - كَغَلْىِ الْحَمِيمِ
(it will boil in the bellies, like the boiling of scalding water.) means, because of its heat and rancidity.
خُذُوهُ
(Seize him) means the disbeliever. It was reported that when Allah says to the keepers of Hell, "Seize him," seventy thousand of them will rush to seize him.
فَاعْتِلُوهُ
(and drag him) means, drag him by pulling him and pushing him on his back. Mujahid said:
خُذُوهُ فَاعْتِلُوهُ
(Seize him and drag him) means, take him and push him.
إِلَى سَوَآءِ الْجَحِيمِ
(into the midst of blazing Fire.) means, into the middle of it.
ثُمَّ صُبُّواْ فَوْقَ رَأْسِهِ مِنْ عَذَابِ الْحَمِيمِ
(Then pour over his head the torment of boiling water.) This is like the Ayah:
هَـذَانِ خَصْمَانِ اخْتَصَمُواْ فِى رَبِّهِمْ فَالَّذِينَ كَفَرُواْ قُطِّعَتْ لَهُمْ ثِيَابٌ مِّن نَّارِ يُصَبُّ مِن فَوْقِ رُءُوسِهِمُ الْحَمِيمُ - يُصْهَرُ بِهِ مَا فِى بُطُونِهِمْ وَالْجُلُودُ
(boiling water will be poured down over their heads. With it will melt what is within their bellies, as well as (their) skins.) (22:19-20). The angel will strike him with a hooked rod of iron and split his head open, then he will pour boiling water over his head. It will go down through his body, melting through his stomach and intestines, until it goes through his heels; may Allah protect us from that.
ذُقْ إِنَّكَ أَنتَ الْعَزِيزُ الْكَرِيمُ
(Taste you (this)! Verily, you were (pretending to be) the mighty, the generous.) means, they (the keepers of Hell) will say that to him by way of ridicule and rebuke. Ad-Dahhak reported that Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, said: "This means, you are neither mighty nor generous." And Allah's saying:
إِنَّ هَـذَا مَا كُنتُمْ بِهِ تَمْتَرُونَ
(Verily, this is that whereof you used to doubt!) is like His saying:
يَوْمَ يُدَعُّونَ إِلَى نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّا - هَـذِهِ النَّارُ الَّتِى كُنتُم بِهَا تُكَذِّبُونَ - أَفَسِحْرٌ هَـذَا أَمْ أَنتُمْ لاَ تُبْصِرُونَ
(The Day when they will be pushed down by force to the fire of Hell, with a horrible, forceful pushing. This is the Fire which you used to deny. In this magic, or do you not see) (52: 13-15) Similarly Allah said:
إِنَّ هَـذَا مَا كُنتُمْ بِهِ تَمْتَرُونَ
(Verily, this is that where of you used to doubt!)
زقوم ابو جہل کی خوراک ہوگا منکرین قیامت کو جو سزا وہاں دی جائے گی اس کا بیان ہو رہا ہے کہ ان مجرموں کو جو اپنے قول اور فعل کو نافرمانی سے ملوث کئے ہوئے تھے آج زقوم کا درخت کھلایا جائے گا۔ بعض کہتے ہیں اس سے مراد ابو جہل ہے۔ گو دراصل وہ بھی اس آیت کی وعید میں داخل ہے لیکن یہ نہ سمجھا جائے کہ آیت صرف اسی کے حق میں نازل ہوئی ہے۔ حضرت ابو درداء ایک شخص کو یہ آیت پڑھا رہے تھے مگر اس کی زبان سے لفظ (اثیم) ادا نہیں ہوتا تھا اور وہ بجائے اس کے یتیم کہہ دیا کرتا تھا تو آپ نے اسے (طعام الفاجر) پڑھوایا یعنی اسے اس کے سوا کھانے کو اور کچھ نہ دیا جائے گا۔ حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ اگر زقوم کا ایک قطرہ بھی زمین میں ٹپک جائے تو تمام زمین والوں کی معاش خراب کر دے ایک مرفوع حدیث میں بھی یہ آیا ہے جو پہلے بیان ہوچکی ہے، یہ مثل تلچھٹ کے ہوگا۔ اپنی حرارت بدمزگی اور نقصان کے باعث پیٹ میں جوش مارتا رہے گا اللہ تعالیٰ جہنم کے داروغوں سے فرمائے گا کہ اس کافر کو پکڑ لو وہیں ستر ہزار فرشتے دوڑیں گے اسے اندھا کر کے منہ کے بل گھسیٹ لے جاؤ اور بیچ جہنم میں ڈال دو پھر اس کے سر پر جوش مارتا گرم پانی ڈالو۔ جیسے فرمایا آیت (يُصَبُّ مِنْ فَوْقِ رُءُوْسِهِمُ الْحَمِيْمُ 19ۚ) 22۔ الحج :19) ، یعنی ان کے سروں پر جہنم کا جوش مارتا گرم پانی بہایا جائے گا جس سے ان کی کھالیں اور پیٹ کے اندر کی تمام چیزیں سوخت ہوجائیں گی اور یہ بھی ہم پہلے بیان کر آئے ہیں کہ فرشتے انہیں لوہے کے ہتھوڑے ماریں گے جن سے ان کا دماغ پاش پاش ہوجائیں گے پھر اوپر سے یہ حمیم ان پر ڈالا جائے گا یہ جہاں جہاں پہنچے گا ہڈی کو کھال سے جدا کر دے گا یہاں تک کہ اس کی آنتیں کاٹتا ہوا پنڈلیوں تک پہنچ جائے گا۔ اللہ ہمیں محفوظ رکھے پھر انہیں شرمسار کرنے کے لئے اور زیادہ پشیمان بنانے کے لئے کہا جائے گا کہ لو مزہ چکھو تم ہماری نگاہوں میں نہ عزت والے ہو نہ بزرگی والے۔ مغازی امویہ میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ابو جہل ملعون سے کہا کہ مجھے اللہ کا حکم ہوا ہے کہ تجھ سے کہہ دوں تیرے لئے ویل ہے تجھ پر افسوس ہے پھر مکرر کہتا ہوں کہ تیرے لئے خرابی اور افسوس ہے۔ اس پاجی نے اپنا کپڑا آپ کے ہاتھ سے گھسیٹتے ہوئے کہا جا تو اور تیرا رب میرا کیا بگاڑ سکتے ہو ؟ اس تمام وادی میں سب سے زیادہ عزت و تکریم والا میں ہوں۔ پس اللہ تعالیٰ نے اسے بدر والے دن قتل کرایا اور اسے ذلیل کیا اور اس سے کہا جائے گا کہ لے اب اپنی عزت کا اور اپنی تکریم کا اور اپنی بزرگی اور بڑائی کا لطف اٹھا اور ان کافروں سے کہا جائے گا کہ یہ ہے جس میں ہمیشہ شک شبہ کرتے رہے۔ جیسے اور آیتوں میں ہے کہ جس دن انہیں دھکے دے کر جہنم میں پہنچایا جائے گا اور کہا جائے گا کہ یہ وہ دوزخ ہے جسے تم جھٹلاتے رہے کیا یہ جادو ہے یا تم دیکھ نہیں رہے ؟ اسی کو یہاں بھی فرمایا ہے کہ یہ جس میں تم شک کر رہے تھے۔
51
View Single
إِنَّ ٱلۡمُتَّقِينَ فِي مَقَامٍ أَمِينٖ
Indeed the pious are in a place of peace.
بیشک پرہیزگار لوگ اَمن والے مقام میں ہوں گے
Tafsir Ibn Kathir
The State of Those Who have Taqwa and the Delights
They will enjoy in Paradise When Allah describes the state of the doomed, He follows that with a description of the life of the blessed. For this reason the Qur'an is called Al-Mathani (i.e., oft-repeated).
إِنَّ الْمُتَّقِينَ
(Verily, those who have Taqwa,) i.e., those who fear Allah and are dutiful towards Him in this world,
فِى مَقَامٍ أَمِينٍ
(will be in place of security.) means, in the Hereafter, i.e., in Paradise, where they will be safe from death and the fear of leaving it, and from every kind of worry, grief, terror and exhaustion, and from the Shaytan and his wiles, and from all other troubles and disasters.
فِى جَنَّـتٍ وَعُيُونٍ
(Among Gardens and Springs). This is in direct contrast to the state of the doomed, who will have the tree of Zaqqum and boiling water.
يَلْبَسُونَ مِن سُندُسٍ
(Dressed in Sundus) means, the finest of silk, such as shirts and the like.
وَإِسْتَبْرَقٍ
(and Istabraq) means, silk which is woven with shiny threads, like a splendid garment which is worn over regular clothes.
مُّتَقَـبِلِينَ
(facing each other, ) means, sitting on thrones where none of them will sit with his back to anyone else.
كَذَلِكَ وَزَوَّجْنَـهُم بِحُورٍ عِينٍ
(So (it will be). And We shall marry them to Hur (fair females) with wide lovely eyes,) This will be a gift in addition to the beautiful wives given to them.
لَمْ يَطْمِثْهُنَّ إِنسٌ قَبْلَهُمْ وَلاَ جَآنٌّ
(with whom no man or Jinn has had Tamth (sexual intercourse) before them.) (55:56)
كَأَنَّهُنَّ الْيَاقُوتُ وَالْمَرْجَانُ
((In beauty) they are like rubies and Marjan.) (55:58)
هَلْ جَزَآءُ الإِحْسَـنِ إِلاَّ الإِحْسَـنُ
(Is there any reward for good other than good) (55:60)
يَدْعُونَ فِيهَا بِكلِّ فَـكِهَةٍ ءَامِنِينَ
(They will call therein for every kind of fruit in peace and security;) means, whatever kinds of fruit they ask for will be brought to them, and they will have the security of knowing that this supply will never come to an end or be withheld; these fruits will be brought to them whenever they want.
لاَ يَذُوقُونَ فِيهَا الْمَوْتَ إِلاَّ الْمَوْتَةَ الاٍّولَى
(They will never taste death therein except the first death, ) This is an exception which reinforces the negation. The meaning is that they will never taste death there. It was reported in the Two Sahihs that the Messenger of Allah ﷺ said:
«يُؤْتَى بِالْمَوْتِ فِي صُورَةِ كَبْشٍ أَمْلَحَ فَيُوقَفُ بَيْنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ، ثُمَّ يُذْبَحُ، ثُمَّ يُقَالُ: يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ خُلُودٌ فَلَا مَوْتَ، وَيَا أَهْلَ النَّارِ خُلُودٌ فَلَا مَوْت»
(Death will be brought forth in the image of a fine ram. It will be made to stand between Paradise and Hell, then it will be slaughtered. It will be said, "O people of Paradise, it is eternal, no more death; and O people of Hell, it is eternal, no more death.") This Hadith was already quoted in our discussion of Surah Maryam. `Abdur-Razzaq recorded that Abu Sa`id and Abu Hurayrah said, "The Messenger of Allah ﷺ said:
«يُقَالُ لِأَهْلِ الْجَنَّةِ: إِنَّ لَكُمْ أَنْ تَصِحُّوا فَلَا تَسْقَمُوا أَبَدًا، وَإِنَّ لَكُمْ أَنْ تَعِيشُوا فَلَا تَمُوتُوا أَبَدًا، وَإِنَّ لَكُمْ أَنْ تَنْعَمُوا فَلَا تَبْأَسُوا أَبَدًا، وَإِنَّ لَكُمْ أَنْ تَشِبُّوا فَلَا تَهْرَمُوا أَبَدًا»
(It will be said to the people of Paradise, "It is granted to you that you will be healthy and will never fall ill, you will live and never die, you will enjoy a life of luxury and will never be miserable, you will be youthful and will never grow old.")" This was recorded by Muslim. It was reported that Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, said, "The Messenger of Allah ﷺ said:
«مَنِ اتَّقَى اللهَ دَخَلَ الْجَنَّةَ، يَنْعَمُ فِيهَا وَلَا يَبْأَسُ، وَيَحْيَا فِيهَا فَلَا يَمُوتُ، لَا تَبْلَى ثِيَابُهُ، وَلَا يَفْنَى شَبَابُه»
(Whoever has Taqwa of Allah, he will enter Paradise and enjoy a life of luxury and he will never be miserable. He will live therein and never die, his clothes will never wear out and his youth will never fade.)"
وَوَقَـهُمْ عَذَابَ الْجَحِيمِ
(and He will save them from the torment of the blazing Fire,) means, along with this great and eternal blessing, He will also have saved them from the agonizing torment in the depths of Hell, so they will have achieved their desired aim and avoided the thing they feared. Allah says,
فَضْلاً مِّن رَّبِّكَ ذَلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ
(As a bounty from your Lord! That will be the supreme success!) meaning, that will be from His bounty and kindness towards them. It was reported in the Two Sahihs that the Messenger of Allah ﷺ said:
«اعْمَلُوا وَسَدِّدُوا وَقَارِبُوا، وَاعْلَمُوا أَنَّ أَحَدًا لَنْ يُدْخِلَهُ عَمَلُهُ الْجَنَّة»
(Work and strive hard, and know that no one will enter Paradise by virtue of his deeds.) They said, "Not even you, O Messenger of Allah" He said,
«وَلَا أَنَا، إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِيَ اللهُ بِرَحْمَةٍ مِنْهُ وَفَضْل»
(Not even me, unless Allah showers me with His mercy and grace.)
فَإِنَّمَا يَسَّرْنَـهُ بِلِسَـنِكَ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُونَ
(Certainly, We have made this easy in your tongue, in order that they may remember. ) means, `We have made this Qur'an, which We have sent down, easy, plain and clear, in your language which is the most eloquent, clear and beautiful of all languages.'
لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُونَ
(in order that they may remember.) means, in order that they may understand and know. Despite the fact that it is so plain and clear, there are still people who disbelieve, who stubbornly go against it. Allah says to His Messenger , consoling him and promising him victory, and warning those who reject him that they will be destroyed.
فَارْتَقِبْ إِنَّهُمْ مُّرْتَقِبُونَ
(Wait then; verily, they (too) are waiting.) meaning, `they will come to know who will be victorious and whose word will prevail in this world and in the Hereafter. For victory will be for you, O Muhammad, and for your brothers among the Prophets and Messengers, and for the believers who followed you,' as Allah says:
كَتَبَ اللَّهُ لاّغْلِبَنَّ أَنَاْ وَرُسُلِى
(Allah has decreed: "Verily, it is I and My Messengers who shall be the victorious.") (58:21)
إِنَّا لَنَنصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِينَ ءَامَنُواْ فِى الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُومُ الاٌّشْهَـدُ - يَوْمَ لاَ يَنفَعُ الظَّـلِمِينَ مَعْذِرَتُهُمْ وَلَهُمُ الْلَّعْنَةُ وَلَهُمْ سُوءُ الدَّارِ
(Verily, We will indeed make victorious Our Messengers and those who believe in this world's life and on the Day when the witnesses will stand forth, -- the Day when their excuses will be of no profit to wrongdoers. Theirs will be the curse, and theirs will be the evil abode.) (40:51-52) This is the end of the Tafsir of Surat Ad-Dukhan. All praise and thanks are due to Allah and in Him is all strength and protection.
جب موت کو ذبح کرایا جائے گا بدبختوں کا ذکر کر کے اب نیک بختوں کا حال بیان ہو رہا ہے۔ اسی لئے قرآن کریم کو مثانی کہا گیا ہے اس دنیا میں جو اللہ تعالیٰ مالک و خالق و قادر سے ڈرتے دبتے رہے وہ قیامت کے دن جنت میں نہایت امن وامان سے ہوں گے۔ موت سے وہاں سے نکلنے کے، غم و رنج، گھبراہٹ، مشکلوں، دکھ درد، تکلیف، مشقت، شیطان اور اس کے مکر سے رب کی ناراضگی سے غرض تمام آفتوں اور مصیبتوں سے نڈر بےفکر مطمئن اور بےاندیشہ ہوں گے۔ جہنمیوں کو تو زقوم کا درخت اور آگ جیسا گرم پانی ملے گا اور انہیں جنتیں اور نہریں ملیں گی مختلف قسم کے ریشمی پارچہ جات انہیں پہننے کو ملیں گے جن میں نرم باریک بھی ہوگا اور دبیز چمکیلا بھی ہوگا۔ یہ تختوں پر بڑے طمطراق سے تکئے لگائے بیٹھے ہوں گے اور کسی کی کسی کی طرف پیٹھ نہ ہوگی بلکہ سب ایک دوسرے کے سامنے بیٹھے ہوئے ہوں گے اس عطا کے ساتھ ہی انہیں حوریں دی جائیں گی جو گورے چٹے پنڈے کی بڑی بڑی رسیلی آنکھوں والی ہوں گی جن کے پاک جسم کو ان سے پہلے کسی نے چھوا بھی نہ ہوگا۔ وہ یاقوت و مرجان کی طرح ہوں گی۔ اور کیوں نہ ہو جب انہوں نے اللہ کا ڈر دل میں رکھا اور دنیا کی خواہشوں کی چیزوں سے محض فرمان اللہ کو مدنظر رکھ کر بچے رہے تو اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ یہ بہترین سلوک کیوں نہ کرتا ؟ ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ اگر ان حوروں میں سے کوئی کھاری سمندر میں تھوک دے تو اس کا سارا پانی میٹھا ہوجائے پھر وہاں یہ جس میوے کی طلب کریں گے موجود ہوگا جو مانگیں گے ملے گا ادھر ارادہ کیا ادھر موجود ہوا، خواہش ہوئی اور حاضر ہوا پھر نہایت بےفکری سے کمی کا خوف نہیں ہوگا ختم ہوجانے کا کھٹکا نہیں ہوگا پھر فرمایا وہاں انہیں کبھی موت نہیں آئے گی۔ پھر استثناء منقطع لا کر اس کی تاکید کردی۔ بخاری و مسلم میں ہے کہ موت کو بھیڑیے کی صورت میں لا کر جنت دوزخ کے درمیان ذبح کردیا جائے گا اور ندا کردی جائے گی کہ جنتیو اب ہمیشگی ہے کبھی موت نہیں۔ اور اے جہنمیو تمہارے لئے بھی ہمیشہ رہنا ہے کبھی موت نہ آئے گی۔ سورة مریم کی تفسیر میں بھی یہ حدیث گذر چکی ہے۔ صحیح مسلم وغیرہ میں ہے کہ جنتیوں سے کہہ دیا جائے گا کہ تم ہمیشہ تندرست رہو گے کبھی بیمار نہ پڑو گے اور ہمیشہ زندہ رہو گے کبھی مرو گے نہیں اور ہمیشہ نعمتوں میں رہو گے کبھی کمی نہ ہوگی اور ہمیشہ جوان بنے رہو گے کبھی بوڑھے نہ ہو گے اور حدیث میں ہے جو اللہ سے ڈرتا رہے گا جنت میں جائے گا جہاں نعمتیں پائے گا کبھی محتاج نہ ہوگا جئے گا کبھی مرے گا نہیں جہاں کپڑے میلے نہ ہوں گے اور جوانی فنا نہ ہوگی۔ حضور ﷺ سے سوال ہوا کہ کیا جنتی سوئیں گے بھی ؟ آپ نے فرمایا نیند موت کی بہن ہے جنتی سوئیں گے نہیں ہر وقت راحت و لذت میں مشغول رہیں گے۔ یہ حدیث اور سندوں سے بھی مروی ہے اور اس سے پہلے سندوں کا خلاف گذر چکا ہے واللہ اعلم۔ اس راحت و نعمت کے ساتھ یہ بھی بڑی نعمت ہے کہ انہیں پروردگار عالم نے عذاب جہنم سے نجات دے دی ہے۔ تو مطلوب حاصل ہے اور خوف زائل ہے اسی لئے ساتھ ہی فرمایا کہ یہ صرف اللہ تعالیٰ کا احسان و فضل ہے۔ صحیح حدیث میں ہے تم ٹھیک ٹھاک رہو قریب قریب رہو اور یقین مانو کہ کسی کے اعمال اسے جنت میں نہیں لے جاسکتے لوگوں نے کہا کیا آپ کے اعمال بھی ؟ فرمایا ہاں میرے اعمال بھی مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ کا فضل اور اسکی رحمت میرے شامل حال ہو ہم نے اپنے نازل کردہ اس قرآن کریم کو بہت سہل بالکل آسان صاف ظاہر بہت واضح مدلل اور روشن کر کے تجھ پر تیری زبان میں نازل فرمایا ہے جو بہت فصیح وبلیغ بڑی شیریں اور پختہ ہے تاکہ لوگ بہ آسانی سمجھ لیں اور بخوشی عمل کریں۔ باوجود اس کے بھی جو لوگ اسے جھٹلائیں نہ مانیں تو انہیں ہوشیار کر دے اور کہہ دے کہ اچھا اب تم بھی انتظار کرو میں بھی منتظر ہوں تم دیکھ لوگے کہ اللہ کی طرف سے تائید ہوتی ہے ؟ کس کا کلمہ بلند ہوتا ہے ؟ کسے دنیا اور آخرت ملتی ہے ؟ مطلب یہ ہے کہ اے نبی ﷺ تم تسلی رکھو فتح و ظفر تمہیں ہوگی میری عادت ہے کہ اپنے نبیوں اور ان کے ماننے والوں کو اونچا کروں جیسے ارشاد ہے آیت (كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِيْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ قَوِيٌّ عَزِيْزٌ 21) 58۔ المجادلة :21) ، یعنی اللہ تعالیٰ نے یہ لکھ دیا ہے کہ میں اور میرے رسول ہی غالب رہیں گے اور آیت میں ہے (اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُوْمُ الْاَشْهَادُ 51ۙ) 40۔ غافر :51) ، یعنی یقینا ہم اپنے پیغمبروں کی اور ایمان والوں کی دنیا میں بھی مدد کریں گے اور قیامت میں بھی جس دن گواہ قائم ہوں گے اور ظالموں کو ان کے عذر نفع نہ دیں گے ان پر لعنت ہوگی اور ان کے لئے برا گھر ہوگا۔
52
View Single
فِي جَنَّـٰتٖ وَعُيُونٖ
In Gardens and water-springs.
باغات اور چشموں میں
Tafsir Ibn Kathir
The State of Those Who have Taqwa and the Delights
They will enjoy in Paradise When Allah describes the state of the doomed, He follows that with a description of the life of the blessed. For this reason the Qur'an is called Al-Mathani (i.e., oft-repeated).
إِنَّ الْمُتَّقِينَ
(Verily, those who have Taqwa,) i.e., those who fear Allah and are dutiful towards Him in this world,
فِى مَقَامٍ أَمِينٍ
(will be in place of security.) means, in the Hereafter, i.e., in Paradise, where they will be safe from death and the fear of leaving it, and from every kind of worry, grief, terror and exhaustion, and from the Shaytan and his wiles, and from all other troubles and disasters.
فِى جَنَّـتٍ وَعُيُونٍ
(Among Gardens and Springs). This is in direct contrast to the state of the doomed, who will have the tree of Zaqqum and boiling water.
يَلْبَسُونَ مِن سُندُسٍ
(Dressed in Sundus) means, the finest of silk, such as shirts and the like.
وَإِسْتَبْرَقٍ
(and Istabraq) means, silk which is woven with shiny threads, like a splendid garment which is worn over regular clothes.
مُّتَقَـبِلِينَ
(facing each other, ) means, sitting on thrones where none of them will sit with his back to anyone else.
كَذَلِكَ وَزَوَّجْنَـهُم بِحُورٍ عِينٍ
(So (it will be). And We shall marry them to Hur (fair females) with wide lovely eyes,) This will be a gift in addition to the beautiful wives given to them.
لَمْ يَطْمِثْهُنَّ إِنسٌ قَبْلَهُمْ وَلاَ جَآنٌّ
(with whom no man or Jinn has had Tamth (sexual intercourse) before them.) (55:56)
كَأَنَّهُنَّ الْيَاقُوتُ وَالْمَرْجَانُ
((In beauty) they are like rubies and Marjan.) (55:58)
هَلْ جَزَآءُ الإِحْسَـنِ إِلاَّ الإِحْسَـنُ
(Is there any reward for good other than good) (55:60)
يَدْعُونَ فِيهَا بِكلِّ فَـكِهَةٍ ءَامِنِينَ
(They will call therein for every kind of fruit in peace and security;) means, whatever kinds of fruit they ask for will be brought to them, and they will have the security of knowing that this supply will never come to an end or be withheld; these fruits will be brought to them whenever they want.
لاَ يَذُوقُونَ فِيهَا الْمَوْتَ إِلاَّ الْمَوْتَةَ الاٍّولَى
(They will never taste death therein except the first death, ) This is an exception which reinforces the negation. The meaning is that they will never taste death there. It was reported in the Two Sahihs that the Messenger of Allah ﷺ said:
«يُؤْتَى بِالْمَوْتِ فِي صُورَةِ كَبْشٍ أَمْلَحَ فَيُوقَفُ بَيْنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ، ثُمَّ يُذْبَحُ، ثُمَّ يُقَالُ: يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ خُلُودٌ فَلَا مَوْتَ، وَيَا أَهْلَ النَّارِ خُلُودٌ فَلَا مَوْت»
(Death will be brought forth in the image of a fine ram. It will be made to stand between Paradise and Hell, then it will be slaughtered. It will be said, "O people of Paradise, it is eternal, no more death; and O people of Hell, it is eternal, no more death.") This Hadith was already quoted in our discussion of Surah Maryam. `Abdur-Razzaq recorded that Abu Sa`id and Abu Hurayrah said, "The Messenger of Allah ﷺ said:
«يُقَالُ لِأَهْلِ الْجَنَّةِ: إِنَّ لَكُمْ أَنْ تَصِحُّوا فَلَا تَسْقَمُوا أَبَدًا، وَإِنَّ لَكُمْ أَنْ تَعِيشُوا فَلَا تَمُوتُوا أَبَدًا، وَإِنَّ لَكُمْ أَنْ تَنْعَمُوا فَلَا تَبْأَسُوا أَبَدًا، وَإِنَّ لَكُمْ أَنْ تَشِبُّوا فَلَا تَهْرَمُوا أَبَدًا»
(It will be said to the people of Paradise, "It is granted to you that you will be healthy and will never fall ill, you will live and never die, you will enjoy a life of luxury and will never be miserable, you will be youthful and will never grow old.")" This was recorded by Muslim. It was reported that Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, said, "The Messenger of Allah ﷺ said:
«مَنِ اتَّقَى اللهَ دَخَلَ الْجَنَّةَ، يَنْعَمُ فِيهَا وَلَا يَبْأَسُ، وَيَحْيَا فِيهَا فَلَا يَمُوتُ، لَا تَبْلَى ثِيَابُهُ، وَلَا يَفْنَى شَبَابُه»
(Whoever has Taqwa of Allah, he will enter Paradise and enjoy a life of luxury and he will never be miserable. He will live therein and never die, his clothes will never wear out and his youth will never fade.)"
وَوَقَـهُمْ عَذَابَ الْجَحِيمِ
(and He will save them from the torment of the blazing Fire,) means, along with this great and eternal blessing, He will also have saved them from the agonizing torment in the depths of Hell, so they will have achieved their desired aim and avoided the thing they feared. Allah says,
فَضْلاً مِّن رَّبِّكَ ذَلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ
(As a bounty from your Lord! That will be the supreme success!) meaning, that will be from His bounty and kindness towards them. It was reported in the Two Sahihs that the Messenger of Allah ﷺ said:
«اعْمَلُوا وَسَدِّدُوا وَقَارِبُوا، وَاعْلَمُوا أَنَّ أَحَدًا لَنْ يُدْخِلَهُ عَمَلُهُ الْجَنَّة»
(Work and strive hard, and know that no one will enter Paradise by virtue of his deeds.) They said, "Not even you, O Messenger of Allah" He said,
«وَلَا أَنَا، إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِيَ اللهُ بِرَحْمَةٍ مِنْهُ وَفَضْل»
(Not even me, unless Allah showers me with His mercy and grace.)
فَإِنَّمَا يَسَّرْنَـهُ بِلِسَـنِكَ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُونَ
(Certainly, We have made this easy in your tongue, in order that they may remember. ) means, `We have made this Qur'an, which We have sent down, easy, plain and clear, in your language which is the most eloquent, clear and beautiful of all languages.'
لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُونَ
(in order that they may remember.) means, in order that they may understand and know. Despite the fact that it is so plain and clear, there are still people who disbelieve, who stubbornly go against it. Allah says to His Messenger , consoling him and promising him victory, and warning those who reject him that they will be destroyed.
فَارْتَقِبْ إِنَّهُمْ مُّرْتَقِبُونَ
(Wait then; verily, they (too) are waiting.) meaning, `they will come to know who will be victorious and whose word will prevail in this world and in the Hereafter. For victory will be for you, O Muhammad, and for your brothers among the Prophets and Messengers, and for the believers who followed you,' as Allah says:
كَتَبَ اللَّهُ لاّغْلِبَنَّ أَنَاْ وَرُسُلِى
(Allah has decreed: "Verily, it is I and My Messengers who shall be the victorious.") (58:21)
إِنَّا لَنَنصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِينَ ءَامَنُواْ فِى الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُومُ الاٌّشْهَـدُ - يَوْمَ لاَ يَنفَعُ الظَّـلِمِينَ مَعْذِرَتُهُمْ وَلَهُمُ الْلَّعْنَةُ وَلَهُمْ سُوءُ الدَّارِ
(Verily, We will indeed make victorious Our Messengers and those who believe in this world's life and on the Day when the witnesses will stand forth, -- the Day when their excuses will be of no profit to wrongdoers. Theirs will be the curse, and theirs will be the evil abode.) (40:51-52) This is the end of the Tafsir of Surat Ad-Dukhan. All praise and thanks are due to Allah and in Him is all strength and protection.
جب موت کو ذبح کرایا جائے گا بدبختوں کا ذکر کر کے اب نیک بختوں کا حال بیان ہو رہا ہے۔ اسی لئے قرآن کریم کو مثانی کہا گیا ہے اس دنیا میں جو اللہ تعالیٰ مالک و خالق و قادر سے ڈرتے دبتے رہے وہ قیامت کے دن جنت میں نہایت امن وامان سے ہوں گے۔ موت سے وہاں سے نکلنے کے، غم و رنج، گھبراہٹ، مشکلوں، دکھ درد، تکلیف، مشقت، شیطان اور اس کے مکر سے رب کی ناراضگی سے غرض تمام آفتوں اور مصیبتوں سے نڈر بےفکر مطمئن اور بےاندیشہ ہوں گے۔ جہنمیوں کو تو زقوم کا درخت اور آگ جیسا گرم پانی ملے گا اور انہیں جنتیں اور نہریں ملیں گی مختلف قسم کے ریشمی پارچہ جات انہیں پہننے کو ملیں گے جن میں نرم باریک بھی ہوگا اور دبیز چمکیلا بھی ہوگا۔ یہ تختوں پر بڑے طمطراق سے تکئے لگائے بیٹھے ہوں گے اور کسی کی کسی کی طرف پیٹھ نہ ہوگی بلکہ سب ایک دوسرے کے سامنے بیٹھے ہوئے ہوں گے اس عطا کے ساتھ ہی انہیں حوریں دی جائیں گی جو گورے چٹے پنڈے کی بڑی بڑی رسیلی آنکھوں والی ہوں گی جن کے پاک جسم کو ان سے پہلے کسی نے چھوا بھی نہ ہوگا۔ وہ یاقوت و مرجان کی طرح ہوں گی۔ اور کیوں نہ ہو جب انہوں نے اللہ کا ڈر دل میں رکھا اور دنیا کی خواہشوں کی چیزوں سے محض فرمان اللہ کو مدنظر رکھ کر بچے رہے تو اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ یہ بہترین سلوک کیوں نہ کرتا ؟ ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ اگر ان حوروں میں سے کوئی کھاری سمندر میں تھوک دے تو اس کا سارا پانی میٹھا ہوجائے پھر وہاں یہ جس میوے کی طلب کریں گے موجود ہوگا جو مانگیں گے ملے گا ادھر ارادہ کیا ادھر موجود ہوا، خواہش ہوئی اور حاضر ہوا پھر نہایت بےفکری سے کمی کا خوف نہیں ہوگا ختم ہوجانے کا کھٹکا نہیں ہوگا پھر فرمایا وہاں انہیں کبھی موت نہیں آئے گی۔ پھر استثناء منقطع لا کر اس کی تاکید کردی۔ بخاری و مسلم میں ہے کہ موت کو بھیڑیے کی صورت میں لا کر جنت دوزخ کے درمیان ذبح کردیا جائے گا اور ندا کردی جائے گی کہ جنتیو اب ہمیشگی ہے کبھی موت نہیں۔ اور اے جہنمیو تمہارے لئے بھی ہمیشہ رہنا ہے کبھی موت نہ آئے گی۔ سورة مریم کی تفسیر میں بھی یہ حدیث گذر چکی ہے۔ صحیح مسلم وغیرہ میں ہے کہ جنتیوں سے کہہ دیا جائے گا کہ تم ہمیشہ تندرست رہو گے کبھی بیمار نہ پڑو گے اور ہمیشہ زندہ رہو گے کبھی مرو گے نہیں اور ہمیشہ نعمتوں میں رہو گے کبھی کمی نہ ہوگی اور ہمیشہ جوان بنے رہو گے کبھی بوڑھے نہ ہو گے اور حدیث میں ہے جو اللہ سے ڈرتا رہے گا جنت میں جائے گا جہاں نعمتیں پائے گا کبھی محتاج نہ ہوگا جئے گا کبھی مرے گا نہیں جہاں کپڑے میلے نہ ہوں گے اور جوانی فنا نہ ہوگی۔ حضور ﷺ سے سوال ہوا کہ کیا جنتی سوئیں گے بھی ؟ آپ نے فرمایا نیند موت کی بہن ہے جنتی سوئیں گے نہیں ہر وقت راحت و لذت میں مشغول رہیں گے۔ یہ حدیث اور سندوں سے بھی مروی ہے اور اس سے پہلے سندوں کا خلاف گذر چکا ہے واللہ اعلم۔ اس راحت و نعمت کے ساتھ یہ بھی بڑی نعمت ہے کہ انہیں پروردگار عالم نے عذاب جہنم سے نجات دے دی ہے۔ تو مطلوب حاصل ہے اور خوف زائل ہے اسی لئے ساتھ ہی فرمایا کہ یہ صرف اللہ تعالیٰ کا احسان و فضل ہے۔ صحیح حدیث میں ہے تم ٹھیک ٹھاک رہو قریب قریب رہو اور یقین مانو کہ کسی کے اعمال اسے جنت میں نہیں لے جاسکتے لوگوں نے کہا کیا آپ کے اعمال بھی ؟ فرمایا ہاں میرے اعمال بھی مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ کا فضل اور اسکی رحمت میرے شامل حال ہو ہم نے اپنے نازل کردہ اس قرآن کریم کو بہت سہل بالکل آسان صاف ظاہر بہت واضح مدلل اور روشن کر کے تجھ پر تیری زبان میں نازل فرمایا ہے جو بہت فصیح وبلیغ بڑی شیریں اور پختہ ہے تاکہ لوگ بہ آسانی سمجھ لیں اور بخوشی عمل کریں۔ باوجود اس کے بھی جو لوگ اسے جھٹلائیں نہ مانیں تو انہیں ہوشیار کر دے اور کہہ دے کہ اچھا اب تم بھی انتظار کرو میں بھی منتظر ہوں تم دیکھ لوگے کہ اللہ کی طرف سے تائید ہوتی ہے ؟ کس کا کلمہ بلند ہوتا ہے ؟ کسے دنیا اور آخرت ملتی ہے ؟ مطلب یہ ہے کہ اے نبی ﷺ تم تسلی رکھو فتح و ظفر تمہیں ہوگی میری عادت ہے کہ اپنے نبیوں اور ان کے ماننے والوں کو اونچا کروں جیسے ارشاد ہے آیت (كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِيْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ قَوِيٌّ عَزِيْزٌ 21) 58۔ المجادلة :21) ، یعنی اللہ تعالیٰ نے یہ لکھ دیا ہے کہ میں اور میرے رسول ہی غالب رہیں گے اور آیت میں ہے (اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُوْمُ الْاَشْهَادُ 51ۙ) 40۔ غافر :51) ، یعنی یقینا ہم اپنے پیغمبروں کی اور ایمان والوں کی دنیا میں بھی مدد کریں گے اور قیامت میں بھی جس دن گواہ قائم ہوں گے اور ظالموں کو ان کے عذر نفع نہ دیں گے ان پر لعنت ہوگی اور ان کے لئے برا گھر ہوگا۔
53
View Single
يَلۡبَسُونَ مِن سُندُسٖ وَإِسۡتَبۡرَقٖ مُّتَقَٰبِلِينَ
They will be dressed in fine silk and embroidery, facing one another (on thrones).
باریک اور دبیز ریشم کا لباس پہنے ہوں گے، آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے
Tafsir Ibn Kathir
The State of Those Who have Taqwa and the Delights
They will enjoy in Paradise When Allah describes the state of the doomed, He follows that with a description of the life of the blessed. For this reason the Qur'an is called Al-Mathani (i.e., oft-repeated).
إِنَّ الْمُتَّقِينَ
(Verily, those who have Taqwa,) i.e., those who fear Allah and are dutiful towards Him in this world,
فِى مَقَامٍ أَمِينٍ
(will be in place of security.) means, in the Hereafter, i.e., in Paradise, where they will be safe from death and the fear of leaving it, and from every kind of worry, grief, terror and exhaustion, and from the Shaytan and his wiles, and from all other troubles and disasters.
فِى جَنَّـتٍ وَعُيُونٍ
(Among Gardens and Springs). This is in direct contrast to the state of the doomed, who will have the tree of Zaqqum and boiling water.
يَلْبَسُونَ مِن سُندُسٍ
(Dressed in Sundus) means, the finest of silk, such as shirts and the like.
وَإِسْتَبْرَقٍ
(and Istabraq) means, silk which is woven with shiny threads, like a splendid garment which is worn over regular clothes.
مُّتَقَـبِلِينَ
(facing each other, ) means, sitting on thrones where none of them will sit with his back to anyone else.
كَذَلِكَ وَزَوَّجْنَـهُم بِحُورٍ عِينٍ
(So (it will be). And We shall marry them to Hur (fair females) with wide lovely eyes,) This will be a gift in addition to the beautiful wives given to them.
لَمْ يَطْمِثْهُنَّ إِنسٌ قَبْلَهُمْ وَلاَ جَآنٌّ
(with whom no man or Jinn has had Tamth (sexual intercourse) before them.) (55:56)
كَأَنَّهُنَّ الْيَاقُوتُ وَالْمَرْجَانُ
((In beauty) they are like rubies and Marjan.) (55:58)
هَلْ جَزَآءُ الإِحْسَـنِ إِلاَّ الإِحْسَـنُ
(Is there any reward for good other than good) (55:60)
يَدْعُونَ فِيهَا بِكلِّ فَـكِهَةٍ ءَامِنِينَ
(They will call therein for every kind of fruit in peace and security;) means, whatever kinds of fruit they ask for will be brought to them, and they will have the security of knowing that this supply will never come to an end or be withheld; these fruits will be brought to them whenever they want.
لاَ يَذُوقُونَ فِيهَا الْمَوْتَ إِلاَّ الْمَوْتَةَ الاٍّولَى
(They will never taste death therein except the first death, ) This is an exception which reinforces the negation. The meaning is that they will never taste death there. It was reported in the Two Sahihs that the Messenger of Allah ﷺ said:
«يُؤْتَى بِالْمَوْتِ فِي صُورَةِ كَبْشٍ أَمْلَحَ فَيُوقَفُ بَيْنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ، ثُمَّ يُذْبَحُ، ثُمَّ يُقَالُ: يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ خُلُودٌ فَلَا مَوْتَ، وَيَا أَهْلَ النَّارِ خُلُودٌ فَلَا مَوْت»
(Death will be brought forth in the image of a fine ram. It will be made to stand between Paradise and Hell, then it will be slaughtered. It will be said, "O people of Paradise, it is eternal, no more death; and O people of Hell, it is eternal, no more death.") This Hadith was already quoted in our discussion of Surah Maryam. `Abdur-Razzaq recorded that Abu Sa`id and Abu Hurayrah said, "The Messenger of Allah ﷺ said:
«يُقَالُ لِأَهْلِ الْجَنَّةِ: إِنَّ لَكُمْ أَنْ تَصِحُّوا فَلَا تَسْقَمُوا أَبَدًا، وَإِنَّ لَكُمْ أَنْ تَعِيشُوا فَلَا تَمُوتُوا أَبَدًا، وَإِنَّ لَكُمْ أَنْ تَنْعَمُوا فَلَا تَبْأَسُوا أَبَدًا، وَإِنَّ لَكُمْ أَنْ تَشِبُّوا فَلَا تَهْرَمُوا أَبَدًا»
(It will be said to the people of Paradise, "It is granted to you that you will be healthy and will never fall ill, you will live and never die, you will enjoy a life of luxury and will never be miserable, you will be youthful and will never grow old.")" This was recorded by Muslim. It was reported that Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, said, "The Messenger of Allah ﷺ said:
«مَنِ اتَّقَى اللهَ دَخَلَ الْجَنَّةَ، يَنْعَمُ فِيهَا وَلَا يَبْأَسُ، وَيَحْيَا فِيهَا فَلَا يَمُوتُ، لَا تَبْلَى ثِيَابُهُ، وَلَا يَفْنَى شَبَابُه»
(Whoever has Taqwa of Allah, he will enter Paradise and enjoy a life of luxury and he will never be miserable. He will live therein and never die, his clothes will never wear out and his youth will never fade.)"
وَوَقَـهُمْ عَذَابَ الْجَحِيمِ
(and He will save them from the torment of the blazing Fire,) means, along with this great and eternal blessing, He will also have saved them from the agonizing torment in the depths of Hell, so they will have achieved their desired aim and avoided the thing they feared. Allah says,
فَضْلاً مِّن رَّبِّكَ ذَلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ
(As a bounty from your Lord! That will be the supreme success!) meaning, that will be from His bounty and kindness towards them. It was reported in the Two Sahihs that the Messenger of Allah ﷺ said:
«اعْمَلُوا وَسَدِّدُوا وَقَارِبُوا، وَاعْلَمُوا أَنَّ أَحَدًا لَنْ يُدْخِلَهُ عَمَلُهُ الْجَنَّة»
(Work and strive hard, and know that no one will enter Paradise by virtue of his deeds.) They said, "Not even you, O Messenger of Allah" He said,
«وَلَا أَنَا، إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِيَ اللهُ بِرَحْمَةٍ مِنْهُ وَفَضْل»
(Not even me, unless Allah showers me with His mercy and grace.)
فَإِنَّمَا يَسَّرْنَـهُ بِلِسَـنِكَ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُونَ
(Certainly, We have made this easy in your tongue, in order that they may remember. ) means, `We have made this Qur'an, which We have sent down, easy, plain and clear, in your language which is the most eloquent, clear and beautiful of all languages.'
لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُونَ
(in order that they may remember.) means, in order that they may understand and know. Despite the fact that it is so plain and clear, there are still people who disbelieve, who stubbornly go against it. Allah says to His Messenger , consoling him and promising him victory, and warning those who reject him that they will be destroyed.
فَارْتَقِبْ إِنَّهُمْ مُّرْتَقِبُونَ
(Wait then; verily, they (too) are waiting.) meaning, `they will come to know who will be victorious and whose word will prevail in this world and in the Hereafter. For victory will be for you, O Muhammad, and for your brothers among the Prophets and Messengers, and for the believers who followed you,' as Allah says:
كَتَبَ اللَّهُ لاّغْلِبَنَّ أَنَاْ وَرُسُلِى
(Allah has decreed: "Verily, it is I and My Messengers who shall be the victorious.") (58:21)
إِنَّا لَنَنصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِينَ ءَامَنُواْ فِى الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُومُ الاٌّشْهَـدُ - يَوْمَ لاَ يَنفَعُ الظَّـلِمِينَ مَعْذِرَتُهُمْ وَلَهُمُ الْلَّعْنَةُ وَلَهُمْ سُوءُ الدَّارِ
(Verily, We will indeed make victorious Our Messengers and those who believe in this world's life and on the Day when the witnesses will stand forth, -- the Day when their excuses will be of no profit to wrongdoers. Theirs will be the curse, and theirs will be the evil abode.) (40:51-52) This is the end of the Tafsir of Surat Ad-Dukhan. All praise and thanks are due to Allah and in Him is all strength and protection.
جب موت کو ذبح کرایا جائے گا بدبختوں کا ذکر کر کے اب نیک بختوں کا حال بیان ہو رہا ہے۔ اسی لئے قرآن کریم کو مثانی کہا گیا ہے اس دنیا میں جو اللہ تعالیٰ مالک و خالق و قادر سے ڈرتے دبتے رہے وہ قیامت کے دن جنت میں نہایت امن وامان سے ہوں گے۔ موت سے وہاں سے نکلنے کے، غم و رنج، گھبراہٹ، مشکلوں، دکھ درد، تکلیف، مشقت، شیطان اور اس کے مکر سے رب کی ناراضگی سے غرض تمام آفتوں اور مصیبتوں سے نڈر بےفکر مطمئن اور بےاندیشہ ہوں گے۔ جہنمیوں کو تو زقوم کا درخت اور آگ جیسا گرم پانی ملے گا اور انہیں جنتیں اور نہریں ملیں گی مختلف قسم کے ریشمی پارچہ جات انہیں پہننے کو ملیں گے جن میں نرم باریک بھی ہوگا اور دبیز چمکیلا بھی ہوگا۔ یہ تختوں پر بڑے طمطراق سے تکئے لگائے بیٹھے ہوں گے اور کسی کی کسی کی طرف پیٹھ نہ ہوگی بلکہ سب ایک دوسرے کے سامنے بیٹھے ہوئے ہوں گے اس عطا کے ساتھ ہی انہیں حوریں دی جائیں گی جو گورے چٹے پنڈے کی بڑی بڑی رسیلی آنکھوں والی ہوں گی جن کے پاک جسم کو ان سے پہلے کسی نے چھوا بھی نہ ہوگا۔ وہ یاقوت و مرجان کی طرح ہوں گی۔ اور کیوں نہ ہو جب انہوں نے اللہ کا ڈر دل میں رکھا اور دنیا کی خواہشوں کی چیزوں سے محض فرمان اللہ کو مدنظر رکھ کر بچے رہے تو اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ یہ بہترین سلوک کیوں نہ کرتا ؟ ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ اگر ان حوروں میں سے کوئی کھاری سمندر میں تھوک دے تو اس کا سارا پانی میٹھا ہوجائے پھر وہاں یہ جس میوے کی طلب کریں گے موجود ہوگا جو مانگیں گے ملے گا ادھر ارادہ کیا ادھر موجود ہوا، خواہش ہوئی اور حاضر ہوا پھر نہایت بےفکری سے کمی کا خوف نہیں ہوگا ختم ہوجانے کا کھٹکا نہیں ہوگا پھر فرمایا وہاں انہیں کبھی موت نہیں آئے گی۔ پھر استثناء منقطع لا کر اس کی تاکید کردی۔ بخاری و مسلم میں ہے کہ موت کو بھیڑیے کی صورت میں لا کر جنت دوزخ کے درمیان ذبح کردیا جائے گا اور ندا کردی جائے گی کہ جنتیو اب ہمیشگی ہے کبھی موت نہیں۔ اور اے جہنمیو تمہارے لئے بھی ہمیشہ رہنا ہے کبھی موت نہ آئے گی۔ سورة مریم کی تفسیر میں بھی یہ حدیث گذر چکی ہے۔ صحیح مسلم وغیرہ میں ہے کہ جنتیوں سے کہہ دیا جائے گا کہ تم ہمیشہ تندرست رہو گے کبھی بیمار نہ پڑو گے اور ہمیشہ زندہ رہو گے کبھی مرو گے نہیں اور ہمیشہ نعمتوں میں رہو گے کبھی کمی نہ ہوگی اور ہمیشہ جوان بنے رہو گے کبھی بوڑھے نہ ہو گے اور حدیث میں ہے جو اللہ سے ڈرتا رہے گا جنت میں جائے گا جہاں نعمتیں پائے گا کبھی محتاج نہ ہوگا جئے گا کبھی مرے گا نہیں جہاں کپڑے میلے نہ ہوں گے اور جوانی فنا نہ ہوگی۔ حضور ﷺ سے سوال ہوا کہ کیا جنتی سوئیں گے بھی ؟ آپ نے فرمایا نیند موت کی بہن ہے جنتی سوئیں گے نہیں ہر وقت راحت و لذت میں مشغول رہیں گے۔ یہ حدیث اور سندوں سے بھی مروی ہے اور اس سے پہلے سندوں کا خلاف گذر چکا ہے واللہ اعلم۔ اس راحت و نعمت کے ساتھ یہ بھی بڑی نعمت ہے کہ انہیں پروردگار عالم نے عذاب جہنم سے نجات دے دی ہے۔ تو مطلوب حاصل ہے اور خوف زائل ہے اسی لئے ساتھ ہی فرمایا کہ یہ صرف اللہ تعالیٰ کا احسان و فضل ہے۔ صحیح حدیث میں ہے تم ٹھیک ٹھاک رہو قریب قریب رہو اور یقین مانو کہ کسی کے اعمال اسے جنت میں نہیں لے جاسکتے لوگوں نے کہا کیا آپ کے اعمال بھی ؟ فرمایا ہاں میرے اعمال بھی مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ کا فضل اور اسکی رحمت میرے شامل حال ہو ہم نے اپنے نازل کردہ اس قرآن کریم کو بہت سہل بالکل آسان صاف ظاہر بہت واضح مدلل اور روشن کر کے تجھ پر تیری زبان میں نازل فرمایا ہے جو بہت فصیح وبلیغ بڑی شیریں اور پختہ ہے تاکہ لوگ بہ آسانی سمجھ لیں اور بخوشی عمل کریں۔ باوجود اس کے بھی جو لوگ اسے جھٹلائیں نہ مانیں تو انہیں ہوشیار کر دے اور کہہ دے کہ اچھا اب تم بھی انتظار کرو میں بھی منتظر ہوں تم دیکھ لوگے کہ اللہ کی طرف سے تائید ہوتی ہے ؟ کس کا کلمہ بلند ہوتا ہے ؟ کسے دنیا اور آخرت ملتی ہے ؟ مطلب یہ ہے کہ اے نبی ﷺ تم تسلی رکھو فتح و ظفر تمہیں ہوگی میری عادت ہے کہ اپنے نبیوں اور ان کے ماننے والوں کو اونچا کروں جیسے ارشاد ہے آیت (كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِيْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ قَوِيٌّ عَزِيْزٌ 21) 58۔ المجادلة :21) ، یعنی اللہ تعالیٰ نے یہ لکھ دیا ہے کہ میں اور میرے رسول ہی غالب رہیں گے اور آیت میں ہے (اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُوْمُ الْاَشْهَادُ 51ۙ) 40۔ غافر :51) ، یعنی یقینا ہم اپنے پیغمبروں کی اور ایمان والوں کی دنیا میں بھی مدد کریں گے اور قیامت میں بھی جس دن گواہ قائم ہوں گے اور ظالموں کو ان کے عذر نفع نہ دیں گے ان پر لعنت ہوگی اور ان کے لئے برا گھر ہوگا۔
54
View Single
كَذَٰلِكَ وَزَوَّجۡنَٰهُم بِحُورٍ عِينٖ
So it is; and We have wedded them to maidens with gorgeous eyes.
اسی طرح (ہی) ہوگا، اور ہم انہیں گوری رنگت والی کشادہ چشم حوروں سے بیاہ دیں گے
Tafsir Ibn Kathir
The State of Those Who have Taqwa and the Delights
They will enjoy in Paradise When Allah describes the state of the doomed, He follows that with a description of the life of the blessed. For this reason the Qur'an is called Al-Mathani (i.e., oft-repeated).
إِنَّ الْمُتَّقِينَ
(Verily, those who have Taqwa,) i.e., those who fear Allah and are dutiful towards Him in this world,
فِى مَقَامٍ أَمِينٍ
(will be in place of security.) means, in the Hereafter, i.e., in Paradise, where they will be safe from death and the fear of leaving it, and from every kind of worry, grief, terror and exhaustion, and from the Shaytan and his wiles, and from all other troubles and disasters.
فِى جَنَّـتٍ وَعُيُونٍ
(Among Gardens and Springs). This is in direct contrast to the state of the doomed, who will have the tree of Zaqqum and boiling water.
يَلْبَسُونَ مِن سُندُسٍ
(Dressed in Sundus) means, the finest of silk, such as shirts and the like.
وَإِسْتَبْرَقٍ
(and Istabraq) means, silk which is woven with shiny threads, like a splendid garment which is worn over regular clothes.
مُّتَقَـبِلِينَ
(facing each other, ) means, sitting on thrones where none of them will sit with his back to anyone else.
كَذَلِكَ وَزَوَّجْنَـهُم بِحُورٍ عِينٍ
(So (it will be). And We shall marry them to Hur (fair females) with wide lovely eyes,) This will be a gift in addition to the beautiful wives given to them.
لَمْ يَطْمِثْهُنَّ إِنسٌ قَبْلَهُمْ وَلاَ جَآنٌّ
(with whom no man or Jinn has had Tamth (sexual intercourse) before them.) (55:56)
كَأَنَّهُنَّ الْيَاقُوتُ وَالْمَرْجَانُ
((In beauty) they are like rubies and Marjan.) (55:58)
هَلْ جَزَآءُ الإِحْسَـنِ إِلاَّ الإِحْسَـنُ
(Is there any reward for good other than good) (55:60)
يَدْعُونَ فِيهَا بِكلِّ فَـكِهَةٍ ءَامِنِينَ
(They will call therein for every kind of fruit in peace and security;) means, whatever kinds of fruit they ask for will be brought to them, and they will have the security of knowing that this supply will never come to an end or be withheld; these fruits will be brought to them whenever they want.
لاَ يَذُوقُونَ فِيهَا الْمَوْتَ إِلاَّ الْمَوْتَةَ الاٍّولَى
(They will never taste death therein except the first death, ) This is an exception which reinforces the negation. The meaning is that they will never taste death there. It was reported in the Two Sahihs that the Messenger of Allah ﷺ said:
«يُؤْتَى بِالْمَوْتِ فِي صُورَةِ كَبْشٍ أَمْلَحَ فَيُوقَفُ بَيْنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ، ثُمَّ يُذْبَحُ، ثُمَّ يُقَالُ: يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ خُلُودٌ فَلَا مَوْتَ، وَيَا أَهْلَ النَّارِ خُلُودٌ فَلَا مَوْت»
(Death will be brought forth in the image of a fine ram. It will be made to stand between Paradise and Hell, then it will be slaughtered. It will be said, "O people of Paradise, it is eternal, no more death; and O people of Hell, it is eternal, no more death.") This Hadith was already quoted in our discussion of Surah Maryam. `Abdur-Razzaq recorded that Abu Sa`id and Abu Hurayrah said, "The Messenger of Allah ﷺ said:
«يُقَالُ لِأَهْلِ الْجَنَّةِ: إِنَّ لَكُمْ أَنْ تَصِحُّوا فَلَا تَسْقَمُوا أَبَدًا، وَإِنَّ لَكُمْ أَنْ تَعِيشُوا فَلَا تَمُوتُوا أَبَدًا، وَإِنَّ لَكُمْ أَنْ تَنْعَمُوا فَلَا تَبْأَسُوا أَبَدًا، وَإِنَّ لَكُمْ أَنْ تَشِبُّوا فَلَا تَهْرَمُوا أَبَدًا»
(It will be said to the people of Paradise, "It is granted to you that you will be healthy and will never fall ill, you will live and never die, you will enjoy a life of luxury and will never be miserable, you will be youthful and will never grow old.")" This was recorded by Muslim. It was reported that Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, said, "The Messenger of Allah ﷺ said:
«مَنِ اتَّقَى اللهَ دَخَلَ الْجَنَّةَ، يَنْعَمُ فِيهَا وَلَا يَبْأَسُ، وَيَحْيَا فِيهَا فَلَا يَمُوتُ، لَا تَبْلَى ثِيَابُهُ، وَلَا يَفْنَى شَبَابُه»
(Whoever has Taqwa of Allah, he will enter Paradise and enjoy a life of luxury and he will never be miserable. He will live therein and never die, his clothes will never wear out and his youth will never fade.)"
وَوَقَـهُمْ عَذَابَ الْجَحِيمِ
(and He will save them from the torment of the blazing Fire,) means, along with this great and eternal blessing, He will also have saved them from the agonizing torment in the depths of Hell, so they will have achieved their desired aim and avoided the thing they feared. Allah says,
فَضْلاً مِّن رَّبِّكَ ذَلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ
(As a bounty from your Lord! That will be the supreme success!) meaning, that will be from His bounty and kindness towards them. It was reported in the Two Sahihs that the Messenger of Allah ﷺ said:
«اعْمَلُوا وَسَدِّدُوا وَقَارِبُوا، وَاعْلَمُوا أَنَّ أَحَدًا لَنْ يُدْخِلَهُ عَمَلُهُ الْجَنَّة»
(Work and strive hard, and know that no one will enter Paradise by virtue of his deeds.) They said, "Not even you, O Messenger of Allah" He said,
«وَلَا أَنَا، إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِيَ اللهُ بِرَحْمَةٍ مِنْهُ وَفَضْل»
(Not even me, unless Allah showers me with His mercy and grace.)
فَإِنَّمَا يَسَّرْنَـهُ بِلِسَـنِكَ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُونَ
(Certainly, We have made this easy in your tongue, in order that they may remember. ) means, `We have made this Qur'an, which We have sent down, easy, plain and clear, in your language which is the most eloquent, clear and beautiful of all languages.'
لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُونَ
(in order that they may remember.) means, in order that they may understand and know. Despite the fact that it is so plain and clear, there are still people who disbelieve, who stubbornly go against it. Allah says to His Messenger , consoling him and promising him victory, and warning those who reject him that they will be destroyed.
فَارْتَقِبْ إِنَّهُمْ مُّرْتَقِبُونَ
(Wait then; verily, they (too) are waiting.) meaning, `they will come to know who will be victorious and whose word will prevail in this world and in the Hereafter. For victory will be for you, O Muhammad, and for your brothers among the Prophets and Messengers, and for the believers who followed you,' as Allah says:
كَتَبَ اللَّهُ لاّغْلِبَنَّ أَنَاْ وَرُسُلِى
(Allah has decreed: "Verily, it is I and My Messengers who shall be the victorious.") (58:21)
إِنَّا لَنَنصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِينَ ءَامَنُواْ فِى الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُومُ الاٌّشْهَـدُ - يَوْمَ لاَ يَنفَعُ الظَّـلِمِينَ مَعْذِرَتُهُمْ وَلَهُمُ الْلَّعْنَةُ وَلَهُمْ سُوءُ الدَّارِ
(Verily, We will indeed make victorious Our Messengers and those who believe in this world's life and on the Day when the witnesses will stand forth, -- the Day when their excuses will be of no profit to wrongdoers. Theirs will be the curse, and theirs will be the evil abode.) (40:51-52) This is the end of the Tafsir of Surat Ad-Dukhan. All praise and thanks are due to Allah and in Him is all strength and protection.
جب موت کو ذبح کرایا جائے گا بدبختوں کا ذکر کر کے اب نیک بختوں کا حال بیان ہو رہا ہے۔ اسی لئے قرآن کریم کو مثانی کہا گیا ہے اس دنیا میں جو اللہ تعالیٰ مالک و خالق و قادر سے ڈرتے دبتے رہے وہ قیامت کے دن جنت میں نہایت امن وامان سے ہوں گے۔ موت سے وہاں سے نکلنے کے، غم و رنج، گھبراہٹ، مشکلوں، دکھ درد، تکلیف، مشقت، شیطان اور اس کے مکر سے رب کی ناراضگی سے غرض تمام آفتوں اور مصیبتوں سے نڈر بےفکر مطمئن اور بےاندیشہ ہوں گے۔ جہنمیوں کو تو زقوم کا درخت اور آگ جیسا گرم پانی ملے گا اور انہیں جنتیں اور نہریں ملیں گی مختلف قسم کے ریشمی پارچہ جات انہیں پہننے کو ملیں گے جن میں نرم باریک بھی ہوگا اور دبیز چمکیلا بھی ہوگا۔ یہ تختوں پر بڑے طمطراق سے تکئے لگائے بیٹھے ہوں گے اور کسی کی کسی کی طرف پیٹھ نہ ہوگی بلکہ سب ایک دوسرے کے سامنے بیٹھے ہوئے ہوں گے اس عطا کے ساتھ ہی انہیں حوریں دی جائیں گی جو گورے چٹے پنڈے کی بڑی بڑی رسیلی آنکھوں والی ہوں گی جن کے پاک جسم کو ان سے پہلے کسی نے چھوا بھی نہ ہوگا۔ وہ یاقوت و مرجان کی طرح ہوں گی۔ اور کیوں نہ ہو جب انہوں نے اللہ کا ڈر دل میں رکھا اور دنیا کی خواہشوں کی چیزوں سے محض فرمان اللہ کو مدنظر رکھ کر بچے رہے تو اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ یہ بہترین سلوک کیوں نہ کرتا ؟ ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ اگر ان حوروں میں سے کوئی کھاری سمندر میں تھوک دے تو اس کا سارا پانی میٹھا ہوجائے پھر وہاں یہ جس میوے کی طلب کریں گے موجود ہوگا جو مانگیں گے ملے گا ادھر ارادہ کیا ادھر موجود ہوا، خواہش ہوئی اور حاضر ہوا پھر نہایت بےفکری سے کمی کا خوف نہیں ہوگا ختم ہوجانے کا کھٹکا نہیں ہوگا پھر فرمایا وہاں انہیں کبھی موت نہیں آئے گی۔ پھر استثناء منقطع لا کر اس کی تاکید کردی۔ بخاری و مسلم میں ہے کہ موت کو بھیڑیے کی صورت میں لا کر جنت دوزخ کے درمیان ذبح کردیا جائے گا اور ندا کردی جائے گی کہ جنتیو اب ہمیشگی ہے کبھی موت نہیں۔ اور اے جہنمیو تمہارے لئے بھی ہمیشہ رہنا ہے کبھی موت نہ آئے گی۔ سورة مریم کی تفسیر میں بھی یہ حدیث گذر چکی ہے۔ صحیح مسلم وغیرہ میں ہے کہ جنتیوں سے کہہ دیا جائے گا کہ تم ہمیشہ تندرست رہو گے کبھی بیمار نہ پڑو گے اور ہمیشہ زندہ رہو گے کبھی مرو گے نہیں اور ہمیشہ نعمتوں میں رہو گے کبھی کمی نہ ہوگی اور ہمیشہ جوان بنے رہو گے کبھی بوڑھے نہ ہو گے اور حدیث میں ہے جو اللہ سے ڈرتا رہے گا جنت میں جائے گا جہاں نعمتیں پائے گا کبھی محتاج نہ ہوگا جئے گا کبھی مرے گا نہیں جہاں کپڑے میلے نہ ہوں گے اور جوانی فنا نہ ہوگی۔ حضور ﷺ سے سوال ہوا کہ کیا جنتی سوئیں گے بھی ؟ آپ نے فرمایا نیند موت کی بہن ہے جنتی سوئیں گے نہیں ہر وقت راحت و لذت میں مشغول رہیں گے۔ یہ حدیث اور سندوں سے بھی مروی ہے اور اس سے پہلے سندوں کا خلاف گذر چکا ہے واللہ اعلم۔ اس راحت و نعمت کے ساتھ یہ بھی بڑی نعمت ہے کہ انہیں پروردگار عالم نے عذاب جہنم سے نجات دے دی ہے۔ تو مطلوب حاصل ہے اور خوف زائل ہے اسی لئے ساتھ ہی فرمایا کہ یہ صرف اللہ تعالیٰ کا احسان و فضل ہے۔ صحیح حدیث میں ہے تم ٹھیک ٹھاک رہو قریب قریب رہو اور یقین مانو کہ کسی کے اعمال اسے جنت میں نہیں لے جاسکتے لوگوں نے کہا کیا آپ کے اعمال بھی ؟ فرمایا ہاں میرے اعمال بھی مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ کا فضل اور اسکی رحمت میرے شامل حال ہو ہم نے اپنے نازل کردہ اس قرآن کریم کو بہت سہل بالکل آسان صاف ظاہر بہت واضح مدلل اور روشن کر کے تجھ پر تیری زبان میں نازل فرمایا ہے جو بہت فصیح وبلیغ بڑی شیریں اور پختہ ہے تاکہ لوگ بہ آسانی سمجھ لیں اور بخوشی عمل کریں۔ باوجود اس کے بھی جو لوگ اسے جھٹلائیں نہ مانیں تو انہیں ہوشیار کر دے اور کہہ دے کہ اچھا اب تم بھی انتظار کرو میں بھی منتظر ہوں تم دیکھ لوگے کہ اللہ کی طرف سے تائید ہوتی ہے ؟ کس کا کلمہ بلند ہوتا ہے ؟ کسے دنیا اور آخرت ملتی ہے ؟ مطلب یہ ہے کہ اے نبی ﷺ تم تسلی رکھو فتح و ظفر تمہیں ہوگی میری عادت ہے کہ اپنے نبیوں اور ان کے ماننے والوں کو اونچا کروں جیسے ارشاد ہے آیت (كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِيْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ قَوِيٌّ عَزِيْزٌ 21) 58۔ المجادلة :21) ، یعنی اللہ تعالیٰ نے یہ لکھ دیا ہے کہ میں اور میرے رسول ہی غالب رہیں گے اور آیت میں ہے (اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُوْمُ الْاَشْهَادُ 51ۙ) 40۔ غافر :51) ، یعنی یقینا ہم اپنے پیغمبروں کی اور ایمان والوں کی دنیا میں بھی مدد کریں گے اور قیامت میں بھی جس دن گواہ قائم ہوں گے اور ظالموں کو ان کے عذر نفع نہ دیں گے ان پر لعنت ہوگی اور ان کے لئے برا گھر ہوگا۔
55
View Single
يَدۡعُونَ فِيهَا بِكُلِّ فَٰكِهَةٍ ءَامِنِينَ
In it they will ask for all kinds of fruit, with safety.
وہاں (بیٹھے) اطمینان سے ہر طرح کے پھل اور میوے طلب کرتے ہوں گے
Tafsir Ibn Kathir
The State of Those Who have Taqwa and the Delights
They will enjoy in Paradise When Allah describes the state of the doomed, He follows that with a description of the life of the blessed. For this reason the Qur'an is called Al-Mathani (i.e., oft-repeated).
إِنَّ الْمُتَّقِينَ
(Verily, those who have Taqwa,) i.e., those who fear Allah and are dutiful towards Him in this world,
فِى مَقَامٍ أَمِينٍ
(will be in place of security.) means, in the Hereafter, i.e., in Paradise, where they will be safe from death and the fear of leaving it, and from every kind of worry, grief, terror and exhaustion, and from the Shaytan and his wiles, and from all other troubles and disasters.
فِى جَنَّـتٍ وَعُيُونٍ
(Among Gardens and Springs). This is in direct contrast to the state of the doomed, who will have the tree of Zaqqum and boiling water.
يَلْبَسُونَ مِن سُندُسٍ
(Dressed in Sundus) means, the finest of silk, such as shirts and the like.
وَإِسْتَبْرَقٍ
(and Istabraq) means, silk which is woven with shiny threads, like a splendid garment which is worn over regular clothes.
مُّتَقَـبِلِينَ
(facing each other, ) means, sitting on thrones where none of them will sit with his back to anyone else.
كَذَلِكَ وَزَوَّجْنَـهُم بِحُورٍ عِينٍ
(So (it will be). And We shall marry them to Hur (fair females) with wide lovely eyes,) This will be a gift in addition to the beautiful wives given to them.
لَمْ يَطْمِثْهُنَّ إِنسٌ قَبْلَهُمْ وَلاَ جَآنٌّ
(with whom no man or Jinn has had Tamth (sexual intercourse) before them.) (55:56)
كَأَنَّهُنَّ الْيَاقُوتُ وَالْمَرْجَانُ
((In beauty) they are like rubies and Marjan.) (55:58)
هَلْ جَزَآءُ الإِحْسَـنِ إِلاَّ الإِحْسَـنُ
(Is there any reward for good other than good) (55:60)
يَدْعُونَ فِيهَا بِكلِّ فَـكِهَةٍ ءَامِنِينَ
(They will call therein for every kind of fruit in peace and security;) means, whatever kinds of fruit they ask for will be brought to them, and they will have the security of knowing that this supply will never come to an end or be withheld; these fruits will be brought to them whenever they want.
لاَ يَذُوقُونَ فِيهَا الْمَوْتَ إِلاَّ الْمَوْتَةَ الاٍّولَى
(They will never taste death therein except the first death, ) This is an exception which reinforces the negation. The meaning is that they will never taste death there. It was reported in the Two Sahihs that the Messenger of Allah ﷺ said:
«يُؤْتَى بِالْمَوْتِ فِي صُورَةِ كَبْشٍ أَمْلَحَ فَيُوقَفُ بَيْنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ، ثُمَّ يُذْبَحُ، ثُمَّ يُقَالُ: يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ خُلُودٌ فَلَا مَوْتَ، وَيَا أَهْلَ النَّارِ خُلُودٌ فَلَا مَوْت»
(Death will be brought forth in the image of a fine ram. It will be made to stand between Paradise and Hell, then it will be slaughtered. It will be said, "O people of Paradise, it is eternal, no more death; and O people of Hell, it is eternal, no more death.") This Hadith was already quoted in our discussion of Surah Maryam. `Abdur-Razzaq recorded that Abu Sa`id and Abu Hurayrah said, "The Messenger of Allah ﷺ said:
«يُقَالُ لِأَهْلِ الْجَنَّةِ: إِنَّ لَكُمْ أَنْ تَصِحُّوا فَلَا تَسْقَمُوا أَبَدًا، وَإِنَّ لَكُمْ أَنْ تَعِيشُوا فَلَا تَمُوتُوا أَبَدًا، وَإِنَّ لَكُمْ أَنْ تَنْعَمُوا فَلَا تَبْأَسُوا أَبَدًا، وَإِنَّ لَكُمْ أَنْ تَشِبُّوا فَلَا تَهْرَمُوا أَبَدًا»
(It will be said to the people of Paradise, "It is granted to you that you will be healthy and will never fall ill, you will live and never die, you will enjoy a life of luxury and will never be miserable, you will be youthful and will never grow old.")" This was recorded by Muslim. It was reported that Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, said, "The Messenger of Allah ﷺ said:
«مَنِ اتَّقَى اللهَ دَخَلَ الْجَنَّةَ، يَنْعَمُ فِيهَا وَلَا يَبْأَسُ، وَيَحْيَا فِيهَا فَلَا يَمُوتُ، لَا تَبْلَى ثِيَابُهُ، وَلَا يَفْنَى شَبَابُه»
(Whoever has Taqwa of Allah, he will enter Paradise and enjoy a life of luxury and he will never be miserable. He will live therein and never die, his clothes will never wear out and his youth will never fade.)"
وَوَقَـهُمْ عَذَابَ الْجَحِيمِ
(and He will save them from the torment of the blazing Fire,) means, along with this great and eternal blessing, He will also have saved them from the agonizing torment in the depths of Hell, so they will have achieved their desired aim and avoided the thing they feared. Allah says,
فَضْلاً مِّن رَّبِّكَ ذَلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ
(As a bounty from your Lord! That will be the supreme success!) meaning, that will be from His bounty and kindness towards them. It was reported in the Two Sahihs that the Messenger of Allah ﷺ said:
«اعْمَلُوا وَسَدِّدُوا وَقَارِبُوا، وَاعْلَمُوا أَنَّ أَحَدًا لَنْ يُدْخِلَهُ عَمَلُهُ الْجَنَّة»
(Work and strive hard, and know that no one will enter Paradise by virtue of his deeds.) They said, "Not even you, O Messenger of Allah" He said,
«وَلَا أَنَا، إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِيَ اللهُ بِرَحْمَةٍ مِنْهُ وَفَضْل»
(Not even me, unless Allah showers me with His mercy and grace.)
فَإِنَّمَا يَسَّرْنَـهُ بِلِسَـنِكَ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُونَ
(Certainly, We have made this easy in your tongue, in order that they may remember. ) means, `We have made this Qur'an, which We have sent down, easy, plain and clear, in your language which is the most eloquent, clear and beautiful of all languages.'
لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُونَ
(in order that they may remember.) means, in order that they may understand and know. Despite the fact that it is so plain and clear, there are still people who disbelieve, who stubbornly go against it. Allah says to His Messenger , consoling him and promising him victory, and warning those who reject him that they will be destroyed.
فَارْتَقِبْ إِنَّهُمْ مُّرْتَقِبُونَ
(Wait then; verily, they (too) are waiting.) meaning, `they will come to know who will be victorious and whose word will prevail in this world and in the Hereafter. For victory will be for you, O Muhammad, and for your brothers among the Prophets and Messengers, and for the believers who followed you,' as Allah says:
كَتَبَ اللَّهُ لاّغْلِبَنَّ أَنَاْ وَرُسُلِى
(Allah has decreed: "Verily, it is I and My Messengers who shall be the victorious.") (58:21)
إِنَّا لَنَنصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِينَ ءَامَنُواْ فِى الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُومُ الاٌّشْهَـدُ - يَوْمَ لاَ يَنفَعُ الظَّـلِمِينَ مَعْذِرَتُهُمْ وَلَهُمُ الْلَّعْنَةُ وَلَهُمْ سُوءُ الدَّارِ
(Verily, We will indeed make victorious Our Messengers and those who believe in this world's life and on the Day when the witnesses will stand forth, -- the Day when their excuses will be of no profit to wrongdoers. Theirs will be the curse, and theirs will be the evil abode.) (40:51-52) This is the end of the Tafsir of Surat Ad-Dukhan. All praise and thanks are due to Allah and in Him is all strength and protection.
جب موت کو ذبح کرایا جائے گا بدبختوں کا ذکر کر کے اب نیک بختوں کا حال بیان ہو رہا ہے۔ اسی لئے قرآن کریم کو مثانی کہا گیا ہے اس دنیا میں جو اللہ تعالیٰ مالک و خالق و قادر سے ڈرتے دبتے رہے وہ قیامت کے دن جنت میں نہایت امن وامان سے ہوں گے۔ موت سے وہاں سے نکلنے کے، غم و رنج، گھبراہٹ، مشکلوں، دکھ درد، تکلیف، مشقت، شیطان اور اس کے مکر سے رب کی ناراضگی سے غرض تمام آفتوں اور مصیبتوں سے نڈر بےفکر مطمئن اور بےاندیشہ ہوں گے۔ جہنمیوں کو تو زقوم کا درخت اور آگ جیسا گرم پانی ملے گا اور انہیں جنتیں اور نہریں ملیں گی مختلف قسم کے ریشمی پارچہ جات انہیں پہننے کو ملیں گے جن میں نرم باریک بھی ہوگا اور دبیز چمکیلا بھی ہوگا۔ یہ تختوں پر بڑے طمطراق سے تکئے لگائے بیٹھے ہوں گے اور کسی کی کسی کی طرف پیٹھ نہ ہوگی بلکہ سب ایک دوسرے کے سامنے بیٹھے ہوئے ہوں گے اس عطا کے ساتھ ہی انہیں حوریں دی جائیں گی جو گورے چٹے پنڈے کی بڑی بڑی رسیلی آنکھوں والی ہوں گی جن کے پاک جسم کو ان سے پہلے کسی نے چھوا بھی نہ ہوگا۔ وہ یاقوت و مرجان کی طرح ہوں گی۔ اور کیوں نہ ہو جب انہوں نے اللہ کا ڈر دل میں رکھا اور دنیا کی خواہشوں کی چیزوں سے محض فرمان اللہ کو مدنظر رکھ کر بچے رہے تو اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ یہ بہترین سلوک کیوں نہ کرتا ؟ ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ اگر ان حوروں میں سے کوئی کھاری سمندر میں تھوک دے تو اس کا سارا پانی میٹھا ہوجائے پھر وہاں یہ جس میوے کی طلب کریں گے موجود ہوگا جو مانگیں گے ملے گا ادھر ارادہ کیا ادھر موجود ہوا، خواہش ہوئی اور حاضر ہوا پھر نہایت بےفکری سے کمی کا خوف نہیں ہوگا ختم ہوجانے کا کھٹکا نہیں ہوگا پھر فرمایا وہاں انہیں کبھی موت نہیں آئے گی۔ پھر استثناء منقطع لا کر اس کی تاکید کردی۔ بخاری و مسلم میں ہے کہ موت کو بھیڑیے کی صورت میں لا کر جنت دوزخ کے درمیان ذبح کردیا جائے گا اور ندا کردی جائے گی کہ جنتیو اب ہمیشگی ہے کبھی موت نہیں۔ اور اے جہنمیو تمہارے لئے بھی ہمیشہ رہنا ہے کبھی موت نہ آئے گی۔ سورة مریم کی تفسیر میں بھی یہ حدیث گذر چکی ہے۔ صحیح مسلم وغیرہ میں ہے کہ جنتیوں سے کہہ دیا جائے گا کہ تم ہمیشہ تندرست رہو گے کبھی بیمار نہ پڑو گے اور ہمیشہ زندہ رہو گے کبھی مرو گے نہیں اور ہمیشہ نعمتوں میں رہو گے کبھی کمی نہ ہوگی اور ہمیشہ جوان بنے رہو گے کبھی بوڑھے نہ ہو گے اور حدیث میں ہے جو اللہ سے ڈرتا رہے گا جنت میں جائے گا جہاں نعمتیں پائے گا کبھی محتاج نہ ہوگا جئے گا کبھی مرے گا نہیں جہاں کپڑے میلے نہ ہوں گے اور جوانی فنا نہ ہوگی۔ حضور ﷺ سے سوال ہوا کہ کیا جنتی سوئیں گے بھی ؟ آپ نے فرمایا نیند موت کی بہن ہے جنتی سوئیں گے نہیں ہر وقت راحت و لذت میں مشغول رہیں گے۔ یہ حدیث اور سندوں سے بھی مروی ہے اور اس سے پہلے سندوں کا خلاف گذر چکا ہے واللہ اعلم۔ اس راحت و نعمت کے ساتھ یہ بھی بڑی نعمت ہے کہ انہیں پروردگار عالم نے عذاب جہنم سے نجات دے دی ہے۔ تو مطلوب حاصل ہے اور خوف زائل ہے اسی لئے ساتھ ہی فرمایا کہ یہ صرف اللہ تعالیٰ کا احسان و فضل ہے۔ صحیح حدیث میں ہے تم ٹھیک ٹھاک رہو قریب قریب رہو اور یقین مانو کہ کسی کے اعمال اسے جنت میں نہیں لے جاسکتے لوگوں نے کہا کیا آپ کے اعمال بھی ؟ فرمایا ہاں میرے اعمال بھی مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ کا فضل اور اسکی رحمت میرے شامل حال ہو ہم نے اپنے نازل کردہ اس قرآن کریم کو بہت سہل بالکل آسان صاف ظاہر بہت واضح مدلل اور روشن کر کے تجھ پر تیری زبان میں نازل فرمایا ہے جو بہت فصیح وبلیغ بڑی شیریں اور پختہ ہے تاکہ لوگ بہ آسانی سمجھ لیں اور بخوشی عمل کریں۔ باوجود اس کے بھی جو لوگ اسے جھٹلائیں نہ مانیں تو انہیں ہوشیار کر دے اور کہہ دے کہ اچھا اب تم بھی انتظار کرو میں بھی منتظر ہوں تم دیکھ لوگے کہ اللہ کی طرف سے تائید ہوتی ہے ؟ کس کا کلمہ بلند ہوتا ہے ؟ کسے دنیا اور آخرت ملتی ہے ؟ مطلب یہ ہے کہ اے نبی ﷺ تم تسلی رکھو فتح و ظفر تمہیں ہوگی میری عادت ہے کہ اپنے نبیوں اور ان کے ماننے والوں کو اونچا کروں جیسے ارشاد ہے آیت (كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِيْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ قَوِيٌّ عَزِيْزٌ 21) 58۔ المجادلة :21) ، یعنی اللہ تعالیٰ نے یہ لکھ دیا ہے کہ میں اور میرے رسول ہی غالب رہیں گے اور آیت میں ہے (اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُوْمُ الْاَشْهَادُ 51ۙ) 40۔ غافر :51) ، یعنی یقینا ہم اپنے پیغمبروں کی اور ایمان والوں کی دنیا میں بھی مدد کریں گے اور قیامت میں بھی جس دن گواہ قائم ہوں گے اور ظالموں کو ان کے عذر نفع نہ دیں گے ان پر لعنت ہوگی اور ان کے لئے برا گھر ہوگا۔
56
View Single
لَا يَذُوقُونَ فِيهَا ٱلۡمَوۡتَ إِلَّا ٱلۡمَوۡتَةَ ٱلۡأُولَىٰۖ وَوَقَىٰهُمۡ عَذَابَ ٱلۡجَحِيمِ
They will not taste death again in it, except their former death; and Allah has saved them from the punishment of fire.
اس (جنت) میں موت کا مَزہ نہیں چکھیں گے سوائے (اس) پہلی موت کے (جو گزر چکی ہوگی) اور اللہ انہیں دوزخ کے عذاب سے بچا لے گا
Tafsir Ibn Kathir
The State of Those Who have Taqwa and the Delights
They will enjoy in Paradise When Allah describes the state of the doomed, He follows that with a description of the life of the blessed. For this reason the Qur'an is called Al-Mathani (i.e., oft-repeated).
إِنَّ الْمُتَّقِينَ
(Verily, those who have Taqwa,) i.e., those who fear Allah and are dutiful towards Him in this world,
فِى مَقَامٍ أَمِينٍ
(will be in place of security.) means, in the Hereafter, i.e., in Paradise, where they will be safe from death and the fear of leaving it, and from every kind of worry, grief, terror and exhaustion, and from the Shaytan and his wiles, and from all other troubles and disasters.
فِى جَنَّـتٍ وَعُيُونٍ
(Among Gardens and Springs). This is in direct contrast to the state of the doomed, who will have the tree of Zaqqum and boiling water.
يَلْبَسُونَ مِن سُندُسٍ
(Dressed in Sundus) means, the finest of silk, such as shirts and the like.
وَإِسْتَبْرَقٍ
(and Istabraq) means, silk which is woven with shiny threads, like a splendid garment which is worn over regular clothes.
مُّتَقَـبِلِينَ
(facing each other, ) means, sitting on thrones where none of them will sit with his back to anyone else.
كَذَلِكَ وَزَوَّجْنَـهُم بِحُورٍ عِينٍ
(So (it will be). And We shall marry them to Hur (fair females) with wide lovely eyes,) This will be a gift in addition to the beautiful wives given to them.
لَمْ يَطْمِثْهُنَّ إِنسٌ قَبْلَهُمْ وَلاَ جَآنٌّ
(with whom no man or Jinn has had Tamth (sexual intercourse) before them.) (55:56)
كَأَنَّهُنَّ الْيَاقُوتُ وَالْمَرْجَانُ
((In beauty) they are like rubies and Marjan.) (55:58)
هَلْ جَزَآءُ الإِحْسَـنِ إِلاَّ الإِحْسَـنُ
(Is there any reward for good other than good) (55:60)
يَدْعُونَ فِيهَا بِكلِّ فَـكِهَةٍ ءَامِنِينَ
(They will call therein for every kind of fruit in peace and security;) means, whatever kinds of fruit they ask for will be brought to them, and they will have the security of knowing that this supply will never come to an end or be withheld; these fruits will be brought to them whenever they want.
لاَ يَذُوقُونَ فِيهَا الْمَوْتَ إِلاَّ الْمَوْتَةَ الاٍّولَى
(They will never taste death therein except the first death, ) This is an exception which reinforces the negation. The meaning is that they will never taste death there. It was reported in the Two Sahihs that the Messenger of Allah ﷺ said:
«يُؤْتَى بِالْمَوْتِ فِي صُورَةِ كَبْشٍ أَمْلَحَ فَيُوقَفُ بَيْنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ، ثُمَّ يُذْبَحُ، ثُمَّ يُقَالُ: يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ خُلُودٌ فَلَا مَوْتَ، وَيَا أَهْلَ النَّارِ خُلُودٌ فَلَا مَوْت»
(Death will be brought forth in the image of a fine ram. It will be made to stand between Paradise and Hell, then it will be slaughtered. It will be said, "O people of Paradise, it is eternal, no more death; and O people of Hell, it is eternal, no more death.") This Hadith was already quoted in our discussion of Surah Maryam. `Abdur-Razzaq recorded that Abu Sa`id and Abu Hurayrah said, "The Messenger of Allah ﷺ said:
«يُقَالُ لِأَهْلِ الْجَنَّةِ: إِنَّ لَكُمْ أَنْ تَصِحُّوا فَلَا تَسْقَمُوا أَبَدًا، وَإِنَّ لَكُمْ أَنْ تَعِيشُوا فَلَا تَمُوتُوا أَبَدًا، وَإِنَّ لَكُمْ أَنْ تَنْعَمُوا فَلَا تَبْأَسُوا أَبَدًا، وَإِنَّ لَكُمْ أَنْ تَشِبُّوا فَلَا تَهْرَمُوا أَبَدًا»
(It will be said to the people of Paradise, "It is granted to you that you will be healthy and will never fall ill, you will live and never die, you will enjoy a life of luxury and will never be miserable, you will be youthful and will never grow old.")" This was recorded by Muslim. It was reported that Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, said, "The Messenger of Allah ﷺ said:
«مَنِ اتَّقَى اللهَ دَخَلَ الْجَنَّةَ، يَنْعَمُ فِيهَا وَلَا يَبْأَسُ، وَيَحْيَا فِيهَا فَلَا يَمُوتُ، لَا تَبْلَى ثِيَابُهُ، وَلَا يَفْنَى شَبَابُه»
(Whoever has Taqwa of Allah, he will enter Paradise and enjoy a life of luxury and he will never be miserable. He will live therein and never die, his clothes will never wear out and his youth will never fade.)"
وَوَقَـهُمْ عَذَابَ الْجَحِيمِ
(and He will save them from the torment of the blazing Fire,) means, along with this great and eternal blessing, He will also have saved them from the agonizing torment in the depths of Hell, so they will have achieved their desired aim and avoided the thing they feared. Allah says,
فَضْلاً مِّن رَّبِّكَ ذَلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ
(As a bounty from your Lord! That will be the supreme success!) meaning, that will be from His bounty and kindness towards them. It was reported in the Two Sahihs that the Messenger of Allah ﷺ said:
«اعْمَلُوا وَسَدِّدُوا وَقَارِبُوا، وَاعْلَمُوا أَنَّ أَحَدًا لَنْ يُدْخِلَهُ عَمَلُهُ الْجَنَّة»
(Work and strive hard, and know that no one will enter Paradise by virtue of his deeds.) They said, "Not even you, O Messenger of Allah" He said,
«وَلَا أَنَا، إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِيَ اللهُ بِرَحْمَةٍ مِنْهُ وَفَضْل»
(Not even me, unless Allah showers me with His mercy and grace.)
فَإِنَّمَا يَسَّرْنَـهُ بِلِسَـنِكَ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُونَ
(Certainly, We have made this easy in your tongue, in order that they may remember. ) means, `We have made this Qur'an, which We have sent down, easy, plain and clear, in your language which is the most eloquent, clear and beautiful of all languages.'
لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُونَ
(in order that they may remember.) means, in order that they may understand and know. Despite the fact that it is so plain and clear, there are still people who disbelieve, who stubbornly go against it. Allah says to His Messenger , consoling him and promising him victory, and warning those who reject him that they will be destroyed.
فَارْتَقِبْ إِنَّهُمْ مُّرْتَقِبُونَ
(Wait then; verily, they (too) are waiting.) meaning, `they will come to know who will be victorious and whose word will prevail in this world and in the Hereafter. For victory will be for you, O Muhammad, and for your brothers among the Prophets and Messengers, and for the believers who followed you,' as Allah says:
كَتَبَ اللَّهُ لاّغْلِبَنَّ أَنَاْ وَرُسُلِى
(Allah has decreed: "Verily, it is I and My Messengers who shall be the victorious.") (58:21)
إِنَّا لَنَنصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِينَ ءَامَنُواْ فِى الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُومُ الاٌّشْهَـدُ - يَوْمَ لاَ يَنفَعُ الظَّـلِمِينَ مَعْذِرَتُهُمْ وَلَهُمُ الْلَّعْنَةُ وَلَهُمْ سُوءُ الدَّارِ
(Verily, We will indeed make victorious Our Messengers and those who believe in this world's life and on the Day when the witnesses will stand forth, -- the Day when their excuses will be of no profit to wrongdoers. Theirs will be the curse, and theirs will be the evil abode.) (40:51-52) This is the end of the Tafsir of Surat Ad-Dukhan. All praise and thanks are due to Allah and in Him is all strength and protection.
جب موت کو ذبح کرایا جائے گا بدبختوں کا ذکر کر کے اب نیک بختوں کا حال بیان ہو رہا ہے۔ اسی لئے قرآن کریم کو مثانی کہا گیا ہے اس دنیا میں جو اللہ تعالیٰ مالک و خالق و قادر سے ڈرتے دبتے رہے وہ قیامت کے دن جنت میں نہایت امن وامان سے ہوں گے۔ موت سے وہاں سے نکلنے کے، غم و رنج، گھبراہٹ، مشکلوں، دکھ درد، تکلیف، مشقت، شیطان اور اس کے مکر سے رب کی ناراضگی سے غرض تمام آفتوں اور مصیبتوں سے نڈر بےفکر مطمئن اور بےاندیشہ ہوں گے۔ جہنمیوں کو تو زقوم کا درخت اور آگ جیسا گرم پانی ملے گا اور انہیں جنتیں اور نہریں ملیں گی مختلف قسم کے ریشمی پارچہ جات انہیں پہننے کو ملیں گے جن میں نرم باریک بھی ہوگا اور دبیز چمکیلا بھی ہوگا۔ یہ تختوں پر بڑے طمطراق سے تکئے لگائے بیٹھے ہوں گے اور کسی کی کسی کی طرف پیٹھ نہ ہوگی بلکہ سب ایک دوسرے کے سامنے بیٹھے ہوئے ہوں گے اس عطا کے ساتھ ہی انہیں حوریں دی جائیں گی جو گورے چٹے پنڈے کی بڑی بڑی رسیلی آنکھوں والی ہوں گی جن کے پاک جسم کو ان سے پہلے کسی نے چھوا بھی نہ ہوگا۔ وہ یاقوت و مرجان کی طرح ہوں گی۔ اور کیوں نہ ہو جب انہوں نے اللہ کا ڈر دل میں رکھا اور دنیا کی خواہشوں کی چیزوں سے محض فرمان اللہ کو مدنظر رکھ کر بچے رہے تو اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ یہ بہترین سلوک کیوں نہ کرتا ؟ ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ اگر ان حوروں میں سے کوئی کھاری سمندر میں تھوک دے تو اس کا سارا پانی میٹھا ہوجائے پھر وہاں یہ جس میوے کی طلب کریں گے موجود ہوگا جو مانگیں گے ملے گا ادھر ارادہ کیا ادھر موجود ہوا، خواہش ہوئی اور حاضر ہوا پھر نہایت بےفکری سے کمی کا خوف نہیں ہوگا ختم ہوجانے کا کھٹکا نہیں ہوگا پھر فرمایا وہاں انہیں کبھی موت نہیں آئے گی۔ پھر استثناء منقطع لا کر اس کی تاکید کردی۔ بخاری و مسلم میں ہے کہ موت کو بھیڑیے کی صورت میں لا کر جنت دوزخ کے درمیان ذبح کردیا جائے گا اور ندا کردی جائے گی کہ جنتیو اب ہمیشگی ہے کبھی موت نہیں۔ اور اے جہنمیو تمہارے لئے بھی ہمیشہ رہنا ہے کبھی موت نہ آئے گی۔ سورة مریم کی تفسیر میں بھی یہ حدیث گذر چکی ہے۔ صحیح مسلم وغیرہ میں ہے کہ جنتیوں سے کہہ دیا جائے گا کہ تم ہمیشہ تندرست رہو گے کبھی بیمار نہ پڑو گے اور ہمیشہ زندہ رہو گے کبھی مرو گے نہیں اور ہمیشہ نعمتوں میں رہو گے کبھی کمی نہ ہوگی اور ہمیشہ جوان بنے رہو گے کبھی بوڑھے نہ ہو گے اور حدیث میں ہے جو اللہ سے ڈرتا رہے گا جنت میں جائے گا جہاں نعمتیں پائے گا کبھی محتاج نہ ہوگا جئے گا کبھی مرے گا نہیں جہاں کپڑے میلے نہ ہوں گے اور جوانی فنا نہ ہوگی۔ حضور ﷺ سے سوال ہوا کہ کیا جنتی سوئیں گے بھی ؟ آپ نے فرمایا نیند موت کی بہن ہے جنتی سوئیں گے نہیں ہر وقت راحت و لذت میں مشغول رہیں گے۔ یہ حدیث اور سندوں سے بھی مروی ہے اور اس سے پہلے سندوں کا خلاف گذر چکا ہے واللہ اعلم۔ اس راحت و نعمت کے ساتھ یہ بھی بڑی نعمت ہے کہ انہیں پروردگار عالم نے عذاب جہنم سے نجات دے دی ہے۔ تو مطلوب حاصل ہے اور خوف زائل ہے اسی لئے ساتھ ہی فرمایا کہ یہ صرف اللہ تعالیٰ کا احسان و فضل ہے۔ صحیح حدیث میں ہے تم ٹھیک ٹھاک رہو قریب قریب رہو اور یقین مانو کہ کسی کے اعمال اسے جنت میں نہیں لے جاسکتے لوگوں نے کہا کیا آپ کے اعمال بھی ؟ فرمایا ہاں میرے اعمال بھی مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ کا فضل اور اسکی رحمت میرے شامل حال ہو ہم نے اپنے نازل کردہ اس قرآن کریم کو بہت سہل بالکل آسان صاف ظاہر بہت واضح مدلل اور روشن کر کے تجھ پر تیری زبان میں نازل فرمایا ہے جو بہت فصیح وبلیغ بڑی شیریں اور پختہ ہے تاکہ لوگ بہ آسانی سمجھ لیں اور بخوشی عمل کریں۔ باوجود اس کے بھی جو لوگ اسے جھٹلائیں نہ مانیں تو انہیں ہوشیار کر دے اور کہہ دے کہ اچھا اب تم بھی انتظار کرو میں بھی منتظر ہوں تم دیکھ لوگے کہ اللہ کی طرف سے تائید ہوتی ہے ؟ کس کا کلمہ بلند ہوتا ہے ؟ کسے دنیا اور آخرت ملتی ہے ؟ مطلب یہ ہے کہ اے نبی ﷺ تم تسلی رکھو فتح و ظفر تمہیں ہوگی میری عادت ہے کہ اپنے نبیوں اور ان کے ماننے والوں کو اونچا کروں جیسے ارشاد ہے آیت (كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِيْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ قَوِيٌّ عَزِيْزٌ 21) 58۔ المجادلة :21) ، یعنی اللہ تعالیٰ نے یہ لکھ دیا ہے کہ میں اور میرے رسول ہی غالب رہیں گے اور آیت میں ہے (اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُوْمُ الْاَشْهَادُ 51ۙ) 40۔ غافر :51) ، یعنی یقینا ہم اپنے پیغمبروں کی اور ایمان والوں کی دنیا میں بھی مدد کریں گے اور قیامت میں بھی جس دن گواہ قائم ہوں گے اور ظالموں کو ان کے عذر نفع نہ دیں گے ان پر لعنت ہوگی اور ان کے لئے برا گھر ہوگا۔
57
View Single
فَضۡلٗا مِّن رَّبِّكَۚ ذَٰلِكَ هُوَ ٱلۡفَوۡزُ ٱلۡعَظِيمُ
By the munificence of your Lord; this is the great success.
یہ آپ کے رب کا فضل ہے (یعنی آپ کا رب آپ کے وسیلے سے ہی عطا کرے گا)، یہی بہت بڑی کامیابی ہے
Tafsir Ibn Kathir
The State of Those Who have Taqwa and the Delights
They will enjoy in Paradise When Allah describes the state of the doomed, He follows that with a description of the life of the blessed. For this reason the Qur'an is called Al-Mathani (i.e., oft-repeated).
إِنَّ الْمُتَّقِينَ
(Verily, those who have Taqwa,) i.e., those who fear Allah and are dutiful towards Him in this world,
فِى مَقَامٍ أَمِينٍ
(will be in place of security.) means, in the Hereafter, i.e., in Paradise, where they will be safe from death and the fear of leaving it, and from every kind of worry, grief, terror and exhaustion, and from the Shaytan and his wiles, and from all other troubles and disasters.
فِى جَنَّـتٍ وَعُيُونٍ
(Among Gardens and Springs). This is in direct contrast to the state of the doomed, who will have the tree of Zaqqum and boiling water.
يَلْبَسُونَ مِن سُندُسٍ
(Dressed in Sundus) means, the finest of silk, such as shirts and the like.
وَإِسْتَبْرَقٍ
(and Istabraq) means, silk which is woven with shiny threads, like a splendid garment which is worn over regular clothes.
مُّتَقَـبِلِينَ
(facing each other, ) means, sitting on thrones where none of them will sit with his back to anyone else.
كَذَلِكَ وَزَوَّجْنَـهُم بِحُورٍ عِينٍ
(So (it will be). And We shall marry them to Hur (fair females) with wide lovely eyes,) This will be a gift in addition to the beautiful wives given to them.
لَمْ يَطْمِثْهُنَّ إِنسٌ قَبْلَهُمْ وَلاَ جَآنٌّ
(with whom no man or Jinn has had Tamth (sexual intercourse) before them.) (55:56)
كَأَنَّهُنَّ الْيَاقُوتُ وَالْمَرْجَانُ
((In beauty) they are like rubies and Marjan.) (55:58)
هَلْ جَزَآءُ الإِحْسَـنِ إِلاَّ الإِحْسَـنُ
(Is there any reward for good other than good) (55:60)
يَدْعُونَ فِيهَا بِكلِّ فَـكِهَةٍ ءَامِنِينَ
(They will call therein for every kind of fruit in peace and security;) means, whatever kinds of fruit they ask for will be brought to them, and they will have the security of knowing that this supply will never come to an end or be withheld; these fruits will be brought to them whenever they want.
لاَ يَذُوقُونَ فِيهَا الْمَوْتَ إِلاَّ الْمَوْتَةَ الاٍّولَى
(They will never taste death therein except the first death, ) This is an exception which reinforces the negation. The meaning is that they will never taste death there. It was reported in the Two Sahihs that the Messenger of Allah ﷺ said:
«يُؤْتَى بِالْمَوْتِ فِي صُورَةِ كَبْشٍ أَمْلَحَ فَيُوقَفُ بَيْنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ، ثُمَّ يُذْبَحُ، ثُمَّ يُقَالُ: يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ خُلُودٌ فَلَا مَوْتَ، وَيَا أَهْلَ النَّارِ خُلُودٌ فَلَا مَوْت»
(Death will be brought forth in the image of a fine ram. It will be made to stand between Paradise and Hell, then it will be slaughtered. It will be said, "O people of Paradise, it is eternal, no more death; and O people of Hell, it is eternal, no more death.") This Hadith was already quoted in our discussion of Surah Maryam. `Abdur-Razzaq recorded that Abu Sa`id and Abu Hurayrah said, "The Messenger of Allah ﷺ said:
«يُقَالُ لِأَهْلِ الْجَنَّةِ: إِنَّ لَكُمْ أَنْ تَصِحُّوا فَلَا تَسْقَمُوا أَبَدًا، وَإِنَّ لَكُمْ أَنْ تَعِيشُوا فَلَا تَمُوتُوا أَبَدًا، وَإِنَّ لَكُمْ أَنْ تَنْعَمُوا فَلَا تَبْأَسُوا أَبَدًا، وَإِنَّ لَكُمْ أَنْ تَشِبُّوا فَلَا تَهْرَمُوا أَبَدًا»
(It will be said to the people of Paradise, "It is granted to you that you will be healthy and will never fall ill, you will live and never die, you will enjoy a life of luxury and will never be miserable, you will be youthful and will never grow old.")" This was recorded by Muslim. It was reported that Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, said, "The Messenger of Allah ﷺ said:
«مَنِ اتَّقَى اللهَ دَخَلَ الْجَنَّةَ، يَنْعَمُ فِيهَا وَلَا يَبْأَسُ، وَيَحْيَا فِيهَا فَلَا يَمُوتُ، لَا تَبْلَى ثِيَابُهُ، وَلَا يَفْنَى شَبَابُه»
(Whoever has Taqwa of Allah, he will enter Paradise and enjoy a life of luxury and he will never be miserable. He will live therein and never die, his clothes will never wear out and his youth will never fade.)"
وَوَقَـهُمْ عَذَابَ الْجَحِيمِ
(and He will save them from the torment of the blazing Fire,) means, along with this great and eternal blessing, He will also have saved them from the agonizing torment in the depths of Hell, so they will have achieved their desired aim and avoided the thing they feared. Allah says,
فَضْلاً مِّن رَّبِّكَ ذَلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ
(As a bounty from your Lord! That will be the supreme success!) meaning, that will be from His bounty and kindness towards them. It was reported in the Two Sahihs that the Messenger of Allah ﷺ said:
«اعْمَلُوا وَسَدِّدُوا وَقَارِبُوا، وَاعْلَمُوا أَنَّ أَحَدًا لَنْ يُدْخِلَهُ عَمَلُهُ الْجَنَّة»
(Work and strive hard, and know that no one will enter Paradise by virtue of his deeds.) They said, "Not even you, O Messenger of Allah" He said,
«وَلَا أَنَا، إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِيَ اللهُ بِرَحْمَةٍ مِنْهُ وَفَضْل»
(Not even me, unless Allah showers me with His mercy and grace.)
فَإِنَّمَا يَسَّرْنَـهُ بِلِسَـنِكَ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُونَ
(Certainly, We have made this easy in your tongue, in order that they may remember. ) means, `We have made this Qur'an, which We have sent down, easy, plain and clear, in your language which is the most eloquent, clear and beautiful of all languages.'
لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُونَ
(in order that they may remember.) means, in order that they may understand and know. Despite the fact that it is so plain and clear, there are still people who disbelieve, who stubbornly go against it. Allah says to His Messenger , consoling him and promising him victory, and warning those who reject him that they will be destroyed.
فَارْتَقِبْ إِنَّهُمْ مُّرْتَقِبُونَ
(Wait then; verily, they (too) are waiting.) meaning, `they will come to know who will be victorious and whose word will prevail in this world and in the Hereafter. For victory will be for you, O Muhammad, and for your brothers among the Prophets and Messengers, and for the believers who followed you,' as Allah says:
كَتَبَ اللَّهُ لاّغْلِبَنَّ أَنَاْ وَرُسُلِى
(Allah has decreed: "Verily, it is I and My Messengers who shall be the victorious.") (58:21)
إِنَّا لَنَنصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِينَ ءَامَنُواْ فِى الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُومُ الاٌّشْهَـدُ - يَوْمَ لاَ يَنفَعُ الظَّـلِمِينَ مَعْذِرَتُهُمْ وَلَهُمُ الْلَّعْنَةُ وَلَهُمْ سُوءُ الدَّارِ
(Verily, We will indeed make victorious Our Messengers and those who believe in this world's life and on the Day when the witnesses will stand forth, -- the Day when their excuses will be of no profit to wrongdoers. Theirs will be the curse, and theirs will be the evil abode.) (40:51-52) This is the end of the Tafsir of Surat Ad-Dukhan. All praise and thanks are due to Allah and in Him is all strength and protection.
جب موت کو ذبح کرایا جائے گا بدبختوں کا ذکر کر کے اب نیک بختوں کا حال بیان ہو رہا ہے۔ اسی لئے قرآن کریم کو مثانی کہا گیا ہے اس دنیا میں جو اللہ تعالیٰ مالک و خالق و قادر سے ڈرتے دبتے رہے وہ قیامت کے دن جنت میں نہایت امن وامان سے ہوں گے۔ موت سے وہاں سے نکلنے کے، غم و رنج، گھبراہٹ، مشکلوں، دکھ درد، تکلیف، مشقت، شیطان اور اس کے مکر سے رب کی ناراضگی سے غرض تمام آفتوں اور مصیبتوں سے نڈر بےفکر مطمئن اور بےاندیشہ ہوں گے۔ جہنمیوں کو تو زقوم کا درخت اور آگ جیسا گرم پانی ملے گا اور انہیں جنتیں اور نہریں ملیں گی مختلف قسم کے ریشمی پارچہ جات انہیں پہننے کو ملیں گے جن میں نرم باریک بھی ہوگا اور دبیز چمکیلا بھی ہوگا۔ یہ تختوں پر بڑے طمطراق سے تکئے لگائے بیٹھے ہوں گے اور کسی کی کسی کی طرف پیٹھ نہ ہوگی بلکہ سب ایک دوسرے کے سامنے بیٹھے ہوئے ہوں گے اس عطا کے ساتھ ہی انہیں حوریں دی جائیں گی جو گورے چٹے پنڈے کی بڑی بڑی رسیلی آنکھوں والی ہوں گی جن کے پاک جسم کو ان سے پہلے کسی نے چھوا بھی نہ ہوگا۔ وہ یاقوت و مرجان کی طرح ہوں گی۔ اور کیوں نہ ہو جب انہوں نے اللہ کا ڈر دل میں رکھا اور دنیا کی خواہشوں کی چیزوں سے محض فرمان اللہ کو مدنظر رکھ کر بچے رہے تو اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ یہ بہترین سلوک کیوں نہ کرتا ؟ ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ اگر ان حوروں میں سے کوئی کھاری سمندر میں تھوک دے تو اس کا سارا پانی میٹھا ہوجائے پھر وہاں یہ جس میوے کی طلب کریں گے موجود ہوگا جو مانگیں گے ملے گا ادھر ارادہ کیا ادھر موجود ہوا، خواہش ہوئی اور حاضر ہوا پھر نہایت بےفکری سے کمی کا خوف نہیں ہوگا ختم ہوجانے کا کھٹکا نہیں ہوگا پھر فرمایا وہاں انہیں کبھی موت نہیں آئے گی۔ پھر استثناء منقطع لا کر اس کی تاکید کردی۔ بخاری و مسلم میں ہے کہ موت کو بھیڑیے کی صورت میں لا کر جنت دوزخ کے درمیان ذبح کردیا جائے گا اور ندا کردی جائے گی کہ جنتیو اب ہمیشگی ہے کبھی موت نہیں۔ اور اے جہنمیو تمہارے لئے بھی ہمیشہ رہنا ہے کبھی موت نہ آئے گی۔ سورة مریم کی تفسیر میں بھی یہ حدیث گذر چکی ہے۔ صحیح مسلم وغیرہ میں ہے کہ جنتیوں سے کہہ دیا جائے گا کہ تم ہمیشہ تندرست رہو گے کبھی بیمار نہ پڑو گے اور ہمیشہ زندہ رہو گے کبھی مرو گے نہیں اور ہمیشہ نعمتوں میں رہو گے کبھی کمی نہ ہوگی اور ہمیشہ جوان بنے رہو گے کبھی بوڑھے نہ ہو گے اور حدیث میں ہے جو اللہ سے ڈرتا رہے گا جنت میں جائے گا جہاں نعمتیں پائے گا کبھی محتاج نہ ہوگا جئے گا کبھی مرے گا نہیں جہاں کپڑے میلے نہ ہوں گے اور جوانی فنا نہ ہوگی۔ حضور ﷺ سے سوال ہوا کہ کیا جنتی سوئیں گے بھی ؟ آپ نے فرمایا نیند موت کی بہن ہے جنتی سوئیں گے نہیں ہر وقت راحت و لذت میں مشغول رہیں گے۔ یہ حدیث اور سندوں سے بھی مروی ہے اور اس سے پہلے سندوں کا خلاف گذر چکا ہے واللہ اعلم۔ اس راحت و نعمت کے ساتھ یہ بھی بڑی نعمت ہے کہ انہیں پروردگار عالم نے عذاب جہنم سے نجات دے دی ہے۔ تو مطلوب حاصل ہے اور خوف زائل ہے اسی لئے ساتھ ہی فرمایا کہ یہ صرف اللہ تعالیٰ کا احسان و فضل ہے۔ صحیح حدیث میں ہے تم ٹھیک ٹھاک رہو قریب قریب رہو اور یقین مانو کہ کسی کے اعمال اسے جنت میں نہیں لے جاسکتے لوگوں نے کہا کیا آپ کے اعمال بھی ؟ فرمایا ہاں میرے اعمال بھی مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ کا فضل اور اسکی رحمت میرے شامل حال ہو ہم نے اپنے نازل کردہ اس قرآن کریم کو بہت سہل بالکل آسان صاف ظاہر بہت واضح مدلل اور روشن کر کے تجھ پر تیری زبان میں نازل فرمایا ہے جو بہت فصیح وبلیغ بڑی شیریں اور پختہ ہے تاکہ لوگ بہ آسانی سمجھ لیں اور بخوشی عمل کریں۔ باوجود اس کے بھی جو لوگ اسے جھٹلائیں نہ مانیں تو انہیں ہوشیار کر دے اور کہہ دے کہ اچھا اب تم بھی انتظار کرو میں بھی منتظر ہوں تم دیکھ لوگے کہ اللہ کی طرف سے تائید ہوتی ہے ؟ کس کا کلمہ بلند ہوتا ہے ؟ کسے دنیا اور آخرت ملتی ہے ؟ مطلب یہ ہے کہ اے نبی ﷺ تم تسلی رکھو فتح و ظفر تمہیں ہوگی میری عادت ہے کہ اپنے نبیوں اور ان کے ماننے والوں کو اونچا کروں جیسے ارشاد ہے آیت (كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِيْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ قَوِيٌّ عَزِيْزٌ 21) 58۔ المجادلة :21) ، یعنی اللہ تعالیٰ نے یہ لکھ دیا ہے کہ میں اور میرے رسول ہی غالب رہیں گے اور آیت میں ہے (اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُوْمُ الْاَشْهَادُ 51ۙ) 40۔ غافر :51) ، یعنی یقینا ہم اپنے پیغمبروں کی اور ایمان والوں کی دنیا میں بھی مدد کریں گے اور قیامت میں بھی جس دن گواہ قائم ہوں گے اور ظالموں کو ان کے عذر نفع نہ دیں گے ان پر لعنت ہوگی اور ان کے لئے برا گھر ہوگا۔
58
View Single
فَإِنَّمَا يَسَّرۡنَٰهُ بِلِسَانِكَ لَعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّرُونَ
And We have made this Qur’an easy in your language, for them to understand.
بس ہم نے آپ ہی کی زبان میں اس (قرآن) کو آسان کر دیا ہے تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں
Tafsir Ibn Kathir
The State of Those Who have Taqwa and the Delights
They will enjoy in Paradise When Allah describes the state of the doomed, He follows that with a description of the life of the blessed. For this reason the Qur'an is called Al-Mathani (i.e., oft-repeated).
إِنَّ الْمُتَّقِينَ
(Verily, those who have Taqwa,) i.e., those who fear Allah and are dutiful towards Him in this world,
فِى مَقَامٍ أَمِينٍ
(will be in place of security.) means, in the Hereafter, i.e., in Paradise, where they will be safe from death and the fear of leaving it, and from every kind of worry, grief, terror and exhaustion, and from the Shaytan and his wiles, and from all other troubles and disasters.
فِى جَنَّـتٍ وَعُيُونٍ
(Among Gardens and Springs). This is in direct contrast to the state of the doomed, who will have the tree of Zaqqum and boiling water.
يَلْبَسُونَ مِن سُندُسٍ
(Dressed in Sundus) means, the finest of silk, such as shirts and the like.
وَإِسْتَبْرَقٍ
(and Istabraq) means, silk which is woven with shiny threads, like a splendid garment which is worn over regular clothes.
مُّتَقَـبِلِينَ
(facing each other, ) means, sitting on thrones where none of them will sit with his back to anyone else.
كَذَلِكَ وَزَوَّجْنَـهُم بِحُورٍ عِينٍ
(So (it will be). And We shall marry them to Hur (fair females) with wide lovely eyes,) This will be a gift in addition to the beautiful wives given to them.
لَمْ يَطْمِثْهُنَّ إِنسٌ قَبْلَهُمْ وَلاَ جَآنٌّ
(with whom no man or Jinn has had Tamth (sexual intercourse) before them.) (55:56)
كَأَنَّهُنَّ الْيَاقُوتُ وَالْمَرْجَانُ
((In beauty) they are like rubies and Marjan.) (55:58)
هَلْ جَزَآءُ الإِحْسَـنِ إِلاَّ الإِحْسَـنُ
(Is there any reward for good other than good) (55:60)
يَدْعُونَ فِيهَا بِكلِّ فَـكِهَةٍ ءَامِنِينَ
(They will call therein for every kind of fruit in peace and security;) means, whatever kinds of fruit they ask for will be brought to them, and they will have the security of knowing that this supply will never come to an end or be withheld; these fruits will be brought to them whenever they want.
لاَ يَذُوقُونَ فِيهَا الْمَوْتَ إِلاَّ الْمَوْتَةَ الاٍّولَى
(They will never taste death therein except the first death, ) This is an exception which reinforces the negation. The meaning is that they will never taste death there. It was reported in the Two Sahihs that the Messenger of Allah ﷺ said:
«يُؤْتَى بِالْمَوْتِ فِي صُورَةِ كَبْشٍ أَمْلَحَ فَيُوقَفُ بَيْنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ، ثُمَّ يُذْبَحُ، ثُمَّ يُقَالُ: يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ خُلُودٌ فَلَا مَوْتَ، وَيَا أَهْلَ النَّارِ خُلُودٌ فَلَا مَوْت»
(Death will be brought forth in the image of a fine ram. It will be made to stand between Paradise and Hell, then it will be slaughtered. It will be said, "O people of Paradise, it is eternal, no more death; and O people of Hell, it is eternal, no more death.") This Hadith was already quoted in our discussion of Surah Maryam. `Abdur-Razzaq recorded that Abu Sa`id and Abu Hurayrah said, "The Messenger of Allah ﷺ said:
«يُقَالُ لِأَهْلِ الْجَنَّةِ: إِنَّ لَكُمْ أَنْ تَصِحُّوا فَلَا تَسْقَمُوا أَبَدًا، وَإِنَّ لَكُمْ أَنْ تَعِيشُوا فَلَا تَمُوتُوا أَبَدًا، وَإِنَّ لَكُمْ أَنْ تَنْعَمُوا فَلَا تَبْأَسُوا أَبَدًا، وَإِنَّ لَكُمْ أَنْ تَشِبُّوا فَلَا تَهْرَمُوا أَبَدًا»
(It will be said to the people of Paradise, "It is granted to you that you will be healthy and will never fall ill, you will live and never die, you will enjoy a life of luxury and will never be miserable, you will be youthful and will never grow old.")" This was recorded by Muslim. It was reported that Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, said, "The Messenger of Allah ﷺ said:
«مَنِ اتَّقَى اللهَ دَخَلَ الْجَنَّةَ، يَنْعَمُ فِيهَا وَلَا يَبْأَسُ، وَيَحْيَا فِيهَا فَلَا يَمُوتُ، لَا تَبْلَى ثِيَابُهُ، وَلَا يَفْنَى شَبَابُه»
(Whoever has Taqwa of Allah, he will enter Paradise and enjoy a life of luxury and he will never be miserable. He will live therein and never die, his clothes will never wear out and his youth will never fade.)"
وَوَقَـهُمْ عَذَابَ الْجَحِيمِ
(and He will save them from the torment of the blazing Fire,) means, along with this great and eternal blessing, He will also have saved them from the agonizing torment in the depths of Hell, so they will have achieved their desired aim and avoided the thing they feared. Allah says,
فَضْلاً مِّن رَّبِّكَ ذَلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ
(As a bounty from your Lord! That will be the supreme success!) meaning, that will be from His bounty and kindness towards them. It was reported in the Two Sahihs that the Messenger of Allah ﷺ said:
«اعْمَلُوا وَسَدِّدُوا وَقَارِبُوا، وَاعْلَمُوا أَنَّ أَحَدًا لَنْ يُدْخِلَهُ عَمَلُهُ الْجَنَّة»
(Work and strive hard, and know that no one will enter Paradise by virtue of his deeds.) They said, "Not even you, O Messenger of Allah" He said,
«وَلَا أَنَا، إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِيَ اللهُ بِرَحْمَةٍ مِنْهُ وَفَضْل»
(Not even me, unless Allah showers me with His mercy and grace.)
فَإِنَّمَا يَسَّرْنَـهُ بِلِسَـنِكَ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُونَ
(Certainly, We have made this easy in your tongue, in order that they may remember. ) means, `We have made this Qur'an, which We have sent down, easy, plain and clear, in your language which is the most eloquent, clear and beautiful of all languages.'
لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُونَ
(in order that they may remember.) means, in order that they may understand and know. Despite the fact that it is so plain and clear, there are still people who disbelieve, who stubbornly go against it. Allah says to His Messenger , consoling him and promising him victory, and warning those who reject him that they will be destroyed.
فَارْتَقِبْ إِنَّهُمْ مُّرْتَقِبُونَ
(Wait then; verily, they (too) are waiting.) meaning, `they will come to know who will be victorious and whose word will prevail in this world and in the Hereafter. For victory will be for you, O Muhammad, and for your brothers among the Prophets and Messengers, and for the believers who followed you,' as Allah says:
كَتَبَ اللَّهُ لاّغْلِبَنَّ أَنَاْ وَرُسُلِى
(Allah has decreed: "Verily, it is I and My Messengers who shall be the victorious.") (58:21)
إِنَّا لَنَنصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِينَ ءَامَنُواْ فِى الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُومُ الاٌّشْهَـدُ - يَوْمَ لاَ يَنفَعُ الظَّـلِمِينَ مَعْذِرَتُهُمْ وَلَهُمُ الْلَّعْنَةُ وَلَهُمْ سُوءُ الدَّارِ
(Verily, We will indeed make victorious Our Messengers and those who believe in this world's life and on the Day when the witnesses will stand forth, -- the Day when their excuses will be of no profit to wrongdoers. Theirs will be the curse, and theirs will be the evil abode.) (40:51-52) This is the end of the Tafsir of Surat Ad-Dukhan. All praise and thanks are due to Allah and in Him is all strength and protection.
جب موت کو ذبح کرایا جائے گا بدبختوں کا ذکر کر کے اب نیک بختوں کا حال بیان ہو رہا ہے۔ اسی لئے قرآن کریم کو مثانی کہا گیا ہے اس دنیا میں جو اللہ تعالیٰ مالک و خالق و قادر سے ڈرتے دبتے رہے وہ قیامت کے دن جنت میں نہایت امن وامان سے ہوں گے۔ موت سے وہاں سے نکلنے کے، غم و رنج، گھبراہٹ، مشکلوں، دکھ درد، تکلیف، مشقت، شیطان اور اس کے مکر سے رب کی ناراضگی سے غرض تمام آفتوں اور مصیبتوں سے نڈر بےفکر مطمئن اور بےاندیشہ ہوں گے۔ جہنمیوں کو تو زقوم کا درخت اور آگ جیسا گرم پانی ملے گا اور انہیں جنتیں اور نہریں ملیں گی مختلف قسم کے ریشمی پارچہ جات انہیں پہننے کو ملیں گے جن میں نرم باریک بھی ہوگا اور دبیز چمکیلا بھی ہوگا۔ یہ تختوں پر بڑے طمطراق سے تکئے لگائے بیٹھے ہوں گے اور کسی کی کسی کی طرف پیٹھ نہ ہوگی بلکہ سب ایک دوسرے کے سامنے بیٹھے ہوئے ہوں گے اس عطا کے ساتھ ہی انہیں حوریں دی جائیں گی جو گورے چٹے پنڈے کی بڑی بڑی رسیلی آنکھوں والی ہوں گی جن کے پاک جسم کو ان سے پہلے کسی نے چھوا بھی نہ ہوگا۔ وہ یاقوت و مرجان کی طرح ہوں گی۔ اور کیوں نہ ہو جب انہوں نے اللہ کا ڈر دل میں رکھا اور دنیا کی خواہشوں کی چیزوں سے محض فرمان اللہ کو مدنظر رکھ کر بچے رہے تو اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ یہ بہترین سلوک کیوں نہ کرتا ؟ ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ اگر ان حوروں میں سے کوئی کھاری سمندر میں تھوک دے تو اس کا سارا پانی میٹھا ہوجائے پھر وہاں یہ جس میوے کی طلب کریں گے موجود ہوگا جو مانگیں گے ملے گا ادھر ارادہ کیا ادھر موجود ہوا، خواہش ہوئی اور حاضر ہوا پھر نہایت بےفکری سے کمی کا خوف نہیں ہوگا ختم ہوجانے کا کھٹکا نہیں ہوگا پھر فرمایا وہاں انہیں کبھی موت نہیں آئے گی۔ پھر استثناء منقطع لا کر اس کی تاکید کردی۔ بخاری و مسلم میں ہے کہ موت کو بھیڑیے کی صورت میں لا کر جنت دوزخ کے درمیان ذبح کردیا جائے گا اور ندا کردی جائے گی کہ جنتیو اب ہمیشگی ہے کبھی موت نہیں۔ اور اے جہنمیو تمہارے لئے بھی ہمیشہ رہنا ہے کبھی موت نہ آئے گی۔ سورة مریم کی تفسیر میں بھی یہ حدیث گذر چکی ہے۔ صحیح مسلم وغیرہ میں ہے کہ جنتیوں سے کہہ دیا جائے گا کہ تم ہمیشہ تندرست رہو گے کبھی بیمار نہ پڑو گے اور ہمیشہ زندہ رہو گے کبھی مرو گے نہیں اور ہمیشہ نعمتوں میں رہو گے کبھی کمی نہ ہوگی اور ہمیشہ جوان بنے رہو گے کبھی بوڑھے نہ ہو گے اور حدیث میں ہے جو اللہ سے ڈرتا رہے گا جنت میں جائے گا جہاں نعمتیں پائے گا کبھی محتاج نہ ہوگا جئے گا کبھی مرے گا نہیں جہاں کپڑے میلے نہ ہوں گے اور جوانی فنا نہ ہوگی۔ حضور ﷺ سے سوال ہوا کہ کیا جنتی سوئیں گے بھی ؟ آپ نے فرمایا نیند موت کی بہن ہے جنتی سوئیں گے نہیں ہر وقت راحت و لذت میں مشغول رہیں گے۔ یہ حدیث اور سندوں سے بھی مروی ہے اور اس سے پہلے سندوں کا خلاف گذر چکا ہے واللہ اعلم۔ اس راحت و نعمت کے ساتھ یہ بھی بڑی نعمت ہے کہ انہیں پروردگار عالم نے عذاب جہنم سے نجات دے دی ہے۔ تو مطلوب حاصل ہے اور خوف زائل ہے اسی لئے ساتھ ہی فرمایا کہ یہ صرف اللہ تعالیٰ کا احسان و فضل ہے۔ صحیح حدیث میں ہے تم ٹھیک ٹھاک رہو قریب قریب رہو اور یقین مانو کہ کسی کے اعمال اسے جنت میں نہیں لے جاسکتے لوگوں نے کہا کیا آپ کے اعمال بھی ؟ فرمایا ہاں میرے اعمال بھی مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ کا فضل اور اسکی رحمت میرے شامل حال ہو ہم نے اپنے نازل کردہ اس قرآن کریم کو بہت سہل بالکل آسان صاف ظاہر بہت واضح مدلل اور روشن کر کے تجھ پر تیری زبان میں نازل فرمایا ہے جو بہت فصیح وبلیغ بڑی شیریں اور پختہ ہے تاکہ لوگ بہ آسانی سمجھ لیں اور بخوشی عمل کریں۔ باوجود اس کے بھی جو لوگ اسے جھٹلائیں نہ مانیں تو انہیں ہوشیار کر دے اور کہہ دے کہ اچھا اب تم بھی انتظار کرو میں بھی منتظر ہوں تم دیکھ لوگے کہ اللہ کی طرف سے تائید ہوتی ہے ؟ کس کا کلمہ بلند ہوتا ہے ؟ کسے دنیا اور آخرت ملتی ہے ؟ مطلب یہ ہے کہ اے نبی ﷺ تم تسلی رکھو فتح و ظفر تمہیں ہوگی میری عادت ہے کہ اپنے نبیوں اور ان کے ماننے والوں کو اونچا کروں جیسے ارشاد ہے آیت (كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِيْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ قَوِيٌّ عَزِيْزٌ 21) 58۔ المجادلة :21) ، یعنی اللہ تعالیٰ نے یہ لکھ دیا ہے کہ میں اور میرے رسول ہی غالب رہیں گے اور آیت میں ہے (اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُوْمُ الْاَشْهَادُ 51ۙ) 40۔ غافر :51) ، یعنی یقینا ہم اپنے پیغمبروں کی اور ایمان والوں کی دنیا میں بھی مدد کریں گے اور قیامت میں بھی جس دن گواہ قائم ہوں گے اور ظالموں کو ان کے عذر نفع نہ دیں گے ان پر لعنت ہوگی اور ان کے لئے برا گھر ہوگا۔
59
View Single
فَٱرۡتَقِبۡ إِنَّهُم مُّرۡتَقِبُونَ
Therefore wait (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him) – they too are waiting.
سو آپ (بھی) انتظار فرمائیں، یقیناً وہ (بھی) انتظار کر رہے ہیں (آپ اُن کا حشر اور ہمارا انتقام دیکھیں گے اور وہ آپ کی شان اور آپ کے تصدّق سے مومنوں پر میرا انعام دیکھیں گے)
Tafsir Ibn Kathir
The State of Those Who have Taqwa and the Delights
They will enjoy in Paradise When Allah describes the state of the doomed, He follows that with a description of the life of the blessed. For this reason the Qur'an is called Al-Mathani (i.e., oft-repeated).
إِنَّ الْمُتَّقِينَ
(Verily, those who have Taqwa,) i.e., those who fear Allah and are dutiful towards Him in this world,
فِى مَقَامٍ أَمِينٍ
(will be in place of security.) means, in the Hereafter, i.e., in Paradise, where they will be safe from death and the fear of leaving it, and from every kind of worry, grief, terror and exhaustion, and from the Shaytan and his wiles, and from all other troubles and disasters.
فِى جَنَّـتٍ وَعُيُونٍ
(Among Gardens and Springs). This is in direct contrast to the state of the doomed, who will have the tree of Zaqqum and boiling water.
يَلْبَسُونَ مِن سُندُسٍ
(Dressed in Sundus) means, the finest of silk, such as shirts and the like.
وَإِسْتَبْرَقٍ
(and Istabraq) means, silk which is woven with shiny threads, like a splendid garment which is worn over regular clothes.
مُّتَقَـبِلِينَ
(facing each other, ) means, sitting on thrones where none of them will sit with his back to anyone else.
كَذَلِكَ وَزَوَّجْنَـهُم بِحُورٍ عِينٍ
(So (it will be). And We shall marry them to Hur (fair females) with wide lovely eyes,) This will be a gift in addition to the beautiful wives given to them.
لَمْ يَطْمِثْهُنَّ إِنسٌ قَبْلَهُمْ وَلاَ جَآنٌّ
(with whom no man or Jinn has had Tamth (sexual intercourse) before them.) (55:56)
كَأَنَّهُنَّ الْيَاقُوتُ وَالْمَرْجَانُ
((In beauty) they are like rubies and Marjan.) (55:58)
هَلْ جَزَآءُ الإِحْسَـنِ إِلاَّ الإِحْسَـنُ
(Is there any reward for good other than good) (55:60)
يَدْعُونَ فِيهَا بِكلِّ فَـكِهَةٍ ءَامِنِينَ
(They will call therein for every kind of fruit in peace and security;) means, whatever kinds of fruit they ask for will be brought to them, and they will have the security of knowing that this supply will never come to an end or be withheld; these fruits will be brought to them whenever they want.
لاَ يَذُوقُونَ فِيهَا الْمَوْتَ إِلاَّ الْمَوْتَةَ الاٍّولَى
(They will never taste death therein except the first death, ) This is an exception which reinforces the negation. The meaning is that they will never taste death there. It was reported in the Two Sahihs that the Messenger of Allah ﷺ said:
«يُؤْتَى بِالْمَوْتِ فِي صُورَةِ كَبْشٍ أَمْلَحَ فَيُوقَفُ بَيْنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ، ثُمَّ يُذْبَحُ، ثُمَّ يُقَالُ: يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ خُلُودٌ فَلَا مَوْتَ، وَيَا أَهْلَ النَّارِ خُلُودٌ فَلَا مَوْت»
(Death will be brought forth in the image of a fine ram. It will be made to stand between Paradise and Hell, then it will be slaughtered. It will be said, "O people of Paradise, it is eternal, no more death; and O people of Hell, it is eternal, no more death.") This Hadith was already quoted in our discussion of Surah Maryam. `Abdur-Razzaq recorded that Abu Sa`id and Abu Hurayrah said, "The Messenger of Allah ﷺ said:
«يُقَالُ لِأَهْلِ الْجَنَّةِ: إِنَّ لَكُمْ أَنْ تَصِحُّوا فَلَا تَسْقَمُوا أَبَدًا، وَإِنَّ لَكُمْ أَنْ تَعِيشُوا فَلَا تَمُوتُوا أَبَدًا، وَإِنَّ لَكُمْ أَنْ تَنْعَمُوا فَلَا تَبْأَسُوا أَبَدًا، وَإِنَّ لَكُمْ أَنْ تَشِبُّوا فَلَا تَهْرَمُوا أَبَدًا»
(It will be said to the people of Paradise, "It is granted to you that you will be healthy and will never fall ill, you will live and never die, you will enjoy a life of luxury and will never be miserable, you will be youthful and will never grow old.")" This was recorded by Muslim. It was reported that Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, said, "The Messenger of Allah ﷺ said:
«مَنِ اتَّقَى اللهَ دَخَلَ الْجَنَّةَ، يَنْعَمُ فِيهَا وَلَا يَبْأَسُ، وَيَحْيَا فِيهَا فَلَا يَمُوتُ، لَا تَبْلَى ثِيَابُهُ، وَلَا يَفْنَى شَبَابُه»
(Whoever has Taqwa of Allah, he will enter Paradise and enjoy a life of luxury and he will never be miserable. He will live therein and never die, his clothes will never wear out and his youth will never fade.)"
وَوَقَـهُمْ عَذَابَ الْجَحِيمِ
(and He will save them from the torment of the blazing Fire,) means, along with this great and eternal blessing, He will also have saved them from the agonizing torment in the depths of Hell, so they will have achieved their desired aim and avoided the thing they feared. Allah says,
فَضْلاً مِّن رَّبِّكَ ذَلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ
(As a bounty from your Lord! That will be the supreme success!) meaning, that will be from His bounty and kindness towards them. It was reported in the Two Sahihs that the Messenger of Allah ﷺ said:
«اعْمَلُوا وَسَدِّدُوا وَقَارِبُوا، وَاعْلَمُوا أَنَّ أَحَدًا لَنْ يُدْخِلَهُ عَمَلُهُ الْجَنَّة»
(Work and strive hard, and know that no one will enter Paradise by virtue of his deeds.) They said, "Not even you, O Messenger of Allah" He said,
«وَلَا أَنَا، إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِيَ اللهُ بِرَحْمَةٍ مِنْهُ وَفَضْل»
(Not even me, unless Allah showers me with His mercy and grace.)
فَإِنَّمَا يَسَّرْنَـهُ بِلِسَـنِكَ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُونَ
(Certainly, We have made this easy in your tongue, in order that they may remember. ) means, `We have made this Qur'an, which We have sent down, easy, plain and clear, in your language which is the most eloquent, clear and beautiful of all languages.'
لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُونَ
(in order that they may remember.) means, in order that they may understand and know. Despite the fact that it is so plain and clear, there are still people who disbelieve, who stubbornly go against it. Allah says to His Messenger , consoling him and promising him victory, and warning those who reject him that they will be destroyed.
فَارْتَقِبْ إِنَّهُمْ مُّرْتَقِبُونَ
(Wait then; verily, they (too) are waiting.) meaning, `they will come to know who will be victorious and whose word will prevail in this world and in the Hereafter. For victory will be for you, O Muhammad, and for your brothers among the Prophets and Messengers, and for the believers who followed you,' as Allah says:
كَتَبَ اللَّهُ لاّغْلِبَنَّ أَنَاْ وَرُسُلِى
(Allah has decreed: "Verily, it is I and My Messengers who shall be the victorious.") (58:21)
إِنَّا لَنَنصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِينَ ءَامَنُواْ فِى الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُومُ الاٌّشْهَـدُ - يَوْمَ لاَ يَنفَعُ الظَّـلِمِينَ مَعْذِرَتُهُمْ وَلَهُمُ الْلَّعْنَةُ وَلَهُمْ سُوءُ الدَّارِ
(Verily, We will indeed make victorious Our Messengers and those who believe in this world's life and on the Day when the witnesses will stand forth, -- the Day when their excuses will be of no profit to wrongdoers. Theirs will be the curse, and theirs will be the evil abode.) (40:51-52) This is the end of the Tafsir of Surat Ad-Dukhan. All praise and thanks are due to Allah and in Him is all strength and protection.
جب موت کو ذبح کرایا جائے گا بدبختوں کا ذکر کر کے اب نیک بختوں کا حال بیان ہو رہا ہے۔ اسی لئے قرآن کریم کو مثانی کہا گیا ہے اس دنیا میں جو اللہ تعالیٰ مالک و خالق و قادر سے ڈرتے دبتے رہے وہ قیامت کے دن جنت میں نہایت امن وامان سے ہوں گے۔ موت سے وہاں سے نکلنے کے، غم و رنج، گھبراہٹ، مشکلوں، دکھ درد، تکلیف، مشقت، شیطان اور اس کے مکر سے رب کی ناراضگی سے غرض تمام آفتوں اور مصیبتوں سے نڈر بےفکر مطمئن اور بےاندیشہ ہوں گے۔ جہنمیوں کو تو زقوم کا درخت اور آگ جیسا گرم پانی ملے گا اور انہیں جنتیں اور نہریں ملیں گی مختلف قسم کے ریشمی پارچہ جات انہیں پہننے کو ملیں گے جن میں نرم باریک بھی ہوگا اور دبیز چمکیلا بھی ہوگا۔ یہ تختوں پر بڑے طمطراق سے تکئے لگائے بیٹھے ہوں گے اور کسی کی کسی کی طرف پیٹھ نہ ہوگی بلکہ سب ایک دوسرے کے سامنے بیٹھے ہوئے ہوں گے اس عطا کے ساتھ ہی انہیں حوریں دی جائیں گی جو گورے چٹے پنڈے کی بڑی بڑی رسیلی آنکھوں والی ہوں گی جن کے پاک جسم کو ان سے پہلے کسی نے چھوا بھی نہ ہوگا۔ وہ یاقوت و مرجان کی طرح ہوں گی۔ اور کیوں نہ ہو جب انہوں نے اللہ کا ڈر دل میں رکھا اور دنیا کی خواہشوں کی چیزوں سے محض فرمان اللہ کو مدنظر رکھ کر بچے رہے تو اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ یہ بہترین سلوک کیوں نہ کرتا ؟ ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ اگر ان حوروں میں سے کوئی کھاری سمندر میں تھوک دے تو اس کا سارا پانی میٹھا ہوجائے پھر وہاں یہ جس میوے کی طلب کریں گے موجود ہوگا جو مانگیں گے ملے گا ادھر ارادہ کیا ادھر موجود ہوا، خواہش ہوئی اور حاضر ہوا پھر نہایت بےفکری سے کمی کا خوف نہیں ہوگا ختم ہوجانے کا کھٹکا نہیں ہوگا پھر فرمایا وہاں انہیں کبھی موت نہیں آئے گی۔ پھر استثناء منقطع لا کر اس کی تاکید کردی۔ بخاری و مسلم میں ہے کہ موت کو بھیڑیے کی صورت میں لا کر جنت دوزخ کے درمیان ذبح کردیا جائے گا اور ندا کردی جائے گی کہ جنتیو اب ہمیشگی ہے کبھی موت نہیں۔ اور اے جہنمیو تمہارے لئے بھی ہمیشہ رہنا ہے کبھی موت نہ آئے گی۔ سورة مریم کی تفسیر میں بھی یہ حدیث گذر چکی ہے۔ صحیح مسلم وغیرہ میں ہے کہ جنتیوں سے کہہ دیا جائے گا کہ تم ہمیشہ تندرست رہو گے کبھی بیمار نہ پڑو گے اور ہمیشہ زندہ رہو گے کبھی مرو گے نہیں اور ہمیشہ نعمتوں میں رہو گے کبھی کمی نہ ہوگی اور ہمیشہ جوان بنے رہو گے کبھی بوڑھے نہ ہو گے اور حدیث میں ہے جو اللہ سے ڈرتا رہے گا جنت میں جائے گا جہاں نعمتیں پائے گا کبھی محتاج نہ ہوگا جئے گا کبھی مرے گا نہیں جہاں کپڑے میلے نہ ہوں گے اور جوانی فنا نہ ہوگی۔ حضور ﷺ سے سوال ہوا کہ کیا جنتی سوئیں گے بھی ؟ آپ نے فرمایا نیند موت کی بہن ہے جنتی سوئیں گے نہیں ہر وقت راحت و لذت میں مشغول رہیں گے۔ یہ حدیث اور سندوں سے بھی مروی ہے اور اس سے پہلے سندوں کا خلاف گذر چکا ہے واللہ اعلم۔ اس راحت و نعمت کے ساتھ یہ بھی بڑی نعمت ہے کہ انہیں پروردگار عالم نے عذاب جہنم سے نجات دے دی ہے۔ تو مطلوب حاصل ہے اور خوف زائل ہے اسی لئے ساتھ ہی فرمایا کہ یہ صرف اللہ تعالیٰ کا احسان و فضل ہے۔ صحیح حدیث میں ہے تم ٹھیک ٹھاک رہو قریب قریب رہو اور یقین مانو کہ کسی کے اعمال اسے جنت میں نہیں لے جاسکتے لوگوں نے کہا کیا آپ کے اعمال بھی ؟ فرمایا ہاں میرے اعمال بھی مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ کا فضل اور اسکی رحمت میرے شامل حال ہو ہم نے اپنے نازل کردہ اس قرآن کریم کو بہت سہل بالکل آسان صاف ظاہر بہت واضح مدلل اور روشن کر کے تجھ پر تیری زبان میں نازل فرمایا ہے جو بہت فصیح وبلیغ بڑی شیریں اور پختہ ہے تاکہ لوگ بہ آسانی سمجھ لیں اور بخوشی عمل کریں۔ باوجود اس کے بھی جو لوگ اسے جھٹلائیں نہ مانیں تو انہیں ہوشیار کر دے اور کہہ دے کہ اچھا اب تم بھی انتظار کرو میں بھی منتظر ہوں تم دیکھ لوگے کہ اللہ کی طرف سے تائید ہوتی ہے ؟ کس کا کلمہ بلند ہوتا ہے ؟ کسے دنیا اور آخرت ملتی ہے ؟ مطلب یہ ہے کہ اے نبی ﷺ تم تسلی رکھو فتح و ظفر تمہیں ہوگی میری عادت ہے کہ اپنے نبیوں اور ان کے ماننے والوں کو اونچا کروں جیسے ارشاد ہے آیت (كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِيْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ قَوِيٌّ عَزِيْزٌ 21) 58۔ المجادلة :21) ، یعنی اللہ تعالیٰ نے یہ لکھ دیا ہے کہ میں اور میرے رسول ہی غالب رہیں گے اور آیت میں ہے (اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُوْمُ الْاَشْهَادُ 51ۙ) 40۔ غافر :51) ، یعنی یقینا ہم اپنے پیغمبروں کی اور ایمان والوں کی دنیا میں بھی مدد کریں گے اور قیامت میں بھی جس دن گواہ قائم ہوں گے اور ظالموں کو ان کے عذر نفع نہ دیں گے ان پر لعنت ہوگی اور ان کے لئے برا گھر ہوگا۔